منگل، 1 اگست، 2023

26 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


26 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 26

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ بصرہ کے گورنر، اہواز کی فتح، ہرمزان کی بد عہدی، رام ہرمز کی فتح، تشتر کا محاصرہ، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سپہ سالار، طویل محاصرہ، فتح تشتر، ہرمزان کی گرفتاری، تعاقب اور واپسی، ہرمزان مدینۂ منورہ میں، ہرمزان کی حیرانی، امیر المومنین نے اﷲ کا شکر ادا کیا، حیلے سے پناہ حاصل کرنا، ہرمزان نے اسلام قبول کر لیا، آگے بڑھنے کی اجازت، کسریٰ یزد گرد کا اصطخر کی طرف فرار، سباہ اور شیرویہ کا قبول اسلام

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ بصرہ کے گورنر

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 17 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا گورنر بنایا۔آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ کی کچھ شکایات ملی تھی،اِسی لئے انہیں معزول کر کے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کا بصرہ کا گورنر بنایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو بھیجا،اور فرمایا؛”اے ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ !میں تمہیں حاکم(گورنر) بنا کر ایسی سرزمین کی طرف بھیج رہا ہوں،جہاں شیطان نے انڈے دیئے ہیں،اور اُن میں سے چوزے نکل آئے ہیں۔اِس لئے جو طریقہ(سنتِ نبوی کا) تمہیں معلوم ہے،اُس کی پابندی کرنا۔اور تبدیل مت ہو جانا،ورنہ اﷲ بھی اپنا طریقہ تمہارے ساتھ تبدیل کر لے گا۔“حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا امیر المومنین !آپ رضی اﷲ عنہ میری معاونت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اﷲ عنہم کو میرے ساتھ بھیج کر کریں۔کیونکہ یہ صحابہ رضی اﷲ عنہم اِس اُمت اور اُس کے کاموں کے لئے ایسے ہیں،جیسے نمک۔جس کے بغیر کھانا درست نہیں رہتا ہو سکتا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جو صحابی رضی اﷲ عنہ تمہیں پسند ہوں انہیں لے جاو¿۔“انہوں نے اُنتیس(۹۲)صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کا انتخاب کیا۔جن میں حضرت انس بن مالک ،حضرت عمران بن حصین،اور حضرت ہشام بن عامر رضی اﷲ عنہم شامل تھے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ انہیں لیکر روانہ ہوئے،اور ”مرید“میں آکر قیام کیا۔حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے مرید میں آکر ملاقات کی۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی ا ﷲ عنہ نے انہیں امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کا خط دیا،جس میں لکھا تھا؛”مجھے ایک اہم خط موصول ہوا ہے،اِسی لئے حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ عنہ کو حاکم (گورنر) بنا کر بھیج رہا ہوں۔جو کچھ تمہارے قبضے میں ہے،وہ سب انہیں سپرد کر کے جلدی واپس آو¿۔“اور اہل بصرہ کو یہ خط تحری فرمایا؛”میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو تم پر حاکم بنا کر بھیجا ہے،تاکہ تمہارے کمزور انسان کو،طاقت ور انسان سے حق دلوائیں۔ اور تمہیں لیکر تمہارے دشمنوں کے خلاف جنگ کریں،اور تمہارے راستوں کو پاک و صاف کریں۔“

اہواز کی فتح

آپ یاد ہو گا کہ جنگ قادسیہ سے فارسیوں کا ایک سپہ سالار ہرمزان بھاگ کو ”اہواز“ چلا گیا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فارس کا سپہ سالار ہرمزان جنگ قادسیہ سے بھاگ کر اہواز کے دارالحکومت ”خوزستان “چلا گیا تھا،اور اُس کے ارد گرد شہروں پر قابض ہو کر عیسان،دشت عیسان،حدودِبصرہ ،مناذر،اور نہر تیری حدود اہواز تک کے علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔چونکہ خوزستان کی سرحد ”بصرہ“سے ملی ہوئی تھی،اور بغیر اُس کی فتح کے بصرہ میں پورے طور سے امن قائم نہیں ہو سکتا تھا۔اِسی وجہ سے حضرت عتبہ بن غزوان رضی ا ﷲعنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ سے فوجی امداد طلب کی۔انہوں نے حضرت نعیم بن مقرن اورحضرت نعیم بن مسعود کو لشکر دیکر حضرت عتبہ بن غزوان کی مدد کے لئے بصرہ اور اہواز کی حدود میں بھیجا۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے حضرت سلمیٰ بن قین اور حضرت حرملہ بن مریط کو بصرہ کی دوسری سرحد میسان کی طرف بھیج دیا۔انہوں نے بنو عُمر بن مالک کو جو خوزستان میں رہتے تھے،ملکی اور قومی جوش و غیرت دلا کر بلایا۔غائب وائلی اور کلیب وائلی اِس تحریک سے متاثر ہو کر ملنے آئے،اور یہ وعدہ کر لیاکہ جس وقت آپ لوگ مناذر اور نہر تیری پر حملہ کرو گے،ہم بھی شہر کے اندر سے ہرمزان کے سپاہیوں پر حملہ کر دیں گے۔وقت مقررہ پرایک طرف (بصرہ کی طرف)سے حرملہ،اور سلمیٰ نے حملہ کیا،دوسری طرف (کوفہ کی طرف)سے دونوں نعیم نے حملہ کیا۔مسلمان سپہ سالاروں نے دونوں طرف سے ہرمزان پر حملہ کیا،جنگ شروع ہوئی ،اور حسب وعدہ شہر کے اندر سے غالب اور کلیب حملہ آور ہوئے ،اور مناذر اور نہر تیری پر قبضہ کر لیا۔ہرمزان اِس اچانک واقعہ سے گھبرا گیا،اور اُس کی فوج کی ترتیب ختم ہو گئی۔ہرمزان کو شکست ہوئی ،اور وہ جان بچا کر بھاگامسلمانوں نے اُس کا تعاقب کیا،اور ہزاروں فارسیوں(ایرانیوں) کو قتل کیا۔دریائے دجیل پر پہنچ کر مسلمان رک گئے ،اور ہرمزان ”سوق اہواز“کے پل پر سے دریا پار کر کے بھاگ گیا۔لیکن اپنے آپ کو مسلمانوں سے کمزور پاکر دوسرے دن صلح کا پیام بھیجا،جسے مسلمانوں نے جزیہ کی شرط پر قبول کرلیا۔

ہرمزان کی بد عہدی

مسلمانوں نے ہرمزان پر اعتماد کر کے صلح کی،لیکن وہ بد ستور مسلمانوں کی جڑیں کھو کھلی کرنے کی کوشش میں لگا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ہرمزان بد عہدی پر کمر بستہ ہو گیا،اور کردوں کو جمع کر کے جنگ کی تیاری کرنے لگا۔حضرت عتبہ بن غزوان رضی اﷲ عنہ نے حضرت حرقوص بن زہیر کو لشکر دیکر اُس کے مقابلے پر روانہ کیا۔مقام ”سوق اہواز“پر دونوں لشکروں کو مقابلہ ہوا،ہرمزان کو شکست ہوئی ،اور وہ بھاگ کر رام ہرمز چلا گیا۔حضرت حرقوص نے سوق اہواز پر قبضہ کرلیا۔،اور اپنے دائرہ ¿ حکومت کو تشتر تک بڑھا لیا۔حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کو فتح کی خبر دی،اور ہرمزان کے تعاقب میں حضرت جز بن معاویہ کو روانہ کیا۔جو قریہ ¿ شغر اور دورق تک بڑھتے چلے گئے۔ہرمزان نے مجبور ہو کر پھر صلح کی درخواست کی۔ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی اِس شرط پر صلح ہوئی کہ ”جتنے شہروں پر مسلمانوں نے قبضہ کر لیا ہے ،وہ اُن کے قبضے میں رہیں گے۔اور باقی شہروں پر ہرمزان کا اِس شرط پر قبضہ رہے گا کہ وہ جزیہ ادا کرتا رہے۔اِس صلح کے بعد حضرت حرقوص نے ”جبل اہواز “پر پڑاو¿ ڈال دیا،اور ویران شدہ شہروں کو آباد کرنے میں مصروف ہو گئے۔

رام ہرمز کی فتح

مسلمانوں سے صلح کرنے کے بعد بھی ہرمزان اپنی فطرت کے مطابق دھیرے دھیرے جنگ کی تیاری کرنے لگا۔اِسی دوران کسریٰ یزد گرد ایک بڑا لشکر تیار کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل تمام حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِن واقعات کے دوران کسریٰ یزد گرد اہل فارس کو مسلمانوں کے خلاف ابھار رہا تھا،اور اہوازکی رعایا سے مسلمانوں کے خلاف عہد و اقرار لے رہا تھا۔رفتہ رفتہ ایک بہت بڑی عظیم فوج جمع ہو گئی،مسلمانوں نے تمام حالات دربار ِ خلافت میں لکھ بھیجے۔حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ کوفہ سے ایک بڑا لشکر حضرت نعمان بن مقرن کی سپہ سالاری میں ہرمزان کے مقابلہ پر روانہ کرو،تاکہ وہ آگے بڑھنے نہ پائے۔اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ بصرہ سے حضرت سعد بن عدی کو برادر سہیل ایک ایک لشکردے کر اہواز کی طرف بھیج دو۔جس کے مقدمة الجیش(ہر اول )دستے کا سپہ سالار حضرت عرفجہ بن ہرشمہ رضی اﷲ عنہ کو،میمنہ کا سپہ سالارحضرت براءبن مالک کو،اور میسرہ کا سپہ سالار حضرت مجراة بن ثور کو بنا کر بھیجو۔اور دونوں لشکروں کے سپہ سالار اعظم حضرت ابو سبرہ بن ابی رہم رضی اﷲ عنہ ہوں گے۔ہرمزان کو مسلمانوں کے لشکر کے آنے کی اطلاع ملی،تو وہ بھی لشکر لیکر نکلا،اور ”رام ہرمز “میں دونوں لشکروں کا سامنا ہو ا۔دونوں لشکر صف آرا ہوئے،اور ایکدوسرے پر حملہ کر دیا ۔مسلمانوں نے پہلا حملہ ہی اتنا زبردست کیا کہ ہرمزان کو شکست ہو گئی،اور وہ بھاگ نکلا۔حضرت نعمان نے رام ہر مز پر قبضہ کر لیا۔

تشتر کا محاصرہ

حضرت نعمان بن مقرن سے شکست کھا کر ہرمزان تشتر بھاگ گیا،اور وہاں لشکر جمع کرنے لگا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِدھر بصرہ سے مسلمانوں کا لشکر آیا،اور جب انہیں معلوم ہو گیا کہ حضرت نعمان نے رام ہرمز پر قبضہ کرلیا ہے،اور ہرمزان تشتر میں لشکر جمع کر کے مسلمانوں سے لڑنے کی تیاری کر رہا ہے،تو وہ تشتر کی طرف بڑھنے لگے۔وہاں فارسیوں(ایرانیوں) کا بہت بڑا اجتماع ہو رہا تھا،اور اہواز کے پہاڑوں سے بھاگ بھاگ کر تشتر میں جمع ہو رہے تھے۔ہرمزان نے شہر پناہ کی فصیل،برجوں، اور قلعے کی مرمت کروائی ،اور اُس کے اطراف میںخندق کھدوائی۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو جب فارسیوں کے انتظامات کی خبر ملی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ خود لشکر لیکر جائیں ،اور مسلمانوں کو اپنی سپہ سالاری میں جنگ کرائیں۔مسلمانوں نے نے تشتر کا محاصرہ کر لیا،محاصرہ کافی لمبا ہو گیا،اور مہینوں چلا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت سہل اہل بصرہ کو لیکر روانہ ہوئے،تاکہ وہ ”سوق الاہواز“میں فروکش ہوں۔وہ رام ہر مز کا قصد کر رہے تھے کہ انہیں اُس کے فتح ہونے کی خبر ملی ،اور یہ خبر بھی ملی کہ ہرمزان تشتر پہنچ گیا ہے۔اِسی لئے وہ سوق الاہواز سے سیدھے تشتر کی طرف روانہ ہوگئے۔حضرت نعمان بھی اہل کوفہ کو لیکر رام ہرمز کی فتح کے بعد تشتر کی طرف روانہ ہو گئے۔حضرات سلمیٰ،حرملہ،حرقص،اور جزءبھی روانہ ہوئے ،اور سب کے سب نے تشتر پہنچ کر محاصرہ کر لیا۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سپہ سالار

مسلمانوں نے تشتر کا محاصرہ کر لیا،ہرمزان نے شہر پناہ کی فصیل کی تعمیر کروا لی تھی،اور شہر پناہ کے اطرف خندق کھدو ا لی تھی۔جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت پریشانی اُٹھانی پڑ رہی تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت نعمان اہل کوفہ کی قیادت کر رہے تھے،اور حضرت سہل اہل بصرہ کے ساتھ اُن کی مدد کر رہے تھے۔اُن کے مقابلے پر ہرمزان کا لشکر تھا،جو اہل فارس،اہل جبال،اور اہل اہواز کے سپاہیوں پر مشتمل تھا،اُن لوگوں نے خندقیں کھود رکھیں تھیں۔حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اِس بارے میں لکھا،اور اُن سے امداد طلب کی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی مدد کے لئے خود حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیجا،اور وہ اُن کی طرف روانہ ہو گئے۔

طویل محاصرہ

مسلمان تشتر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور مسلسل حملے کر رہے تھے۔کبھی کبھی ہرمزان اپنا لشکر لیکر شہر سے باہر آتا ،اور شدید جنگ ہوتی تھی۔لیکن جیسے ہی وہ یہ دیکھتا تھا کہ مسلمان حاوی ہو رہے ہیں،تو وہ اپنے لشکر کو لیکر شہر کے اندر بھاگ جاتا تھا،اور شہر کے دروازے بند کر لیتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اب اہل کوفہ کے سپہ سالار حضرت نعمان تھے،اور اہل بصرہ کے سپہ سالار حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ تھے،اور دونوں لشکروں کے مشترکہ سپہ سالار اعظم حضرت ابو سبریٰ رضی ا ﷲ عنہ تھے۔مسلمانوں نے اہل فارس کا کئی مہینوں تک محاصرہ جاری رکھا،اور اِس دوران اُن کے بہت سے سپاہیوں کو قتل کیا۔حضرت برا¿ بن مالک رضی اﷲ عنہ نے اِس محاصرے کے دوران ایک سو فارسی سپاہیوں کو قتل کیا،حضرت مجزاہ بن ثور نے بھی اسی قدر سپاہیوں کو قتل کیا۔اِسی طرح حضرت کعب بن ثور،حضرت ابو تمیمہاور دوسرے اہل بصرہ اور اہل کوفہ نے بھی اسی قدر فارسی سپاہیوں کو قتل کیا۔اِن میں سے حضرت حبیب بن فرہ،حضرت ربعی بن عام،اور حضرت عامر بن عبد الاسود قابل ذکر ہیں۔تشتر کے محاصرے کے دوران اسی(۰۸) معرکے ہوئے،اور اِن میں زیادہ تر فارسیوں کو شکست ہوئی ،اور وہ شہر کے اندر بھاگے۔آخری حملے میں جب جنگ بہت سخت ہو گئی ،تو حضرت برا¿ بن مالک رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا؛”اے مسلمانو!تم اﷲ سے دعا مانگو کہ وہ ہمیں فتح عطا فرمائے،اور مجھے شہادت عطا فرمائے۔“مسلمانوں نے دعا کی؛”اے اﷲ !ہمیں فتح عطا فرما۔“اور زبردست حملہ کیا،اور فارسیوں پیچھے دھکیلتے چلے گئے،یہاں تک کہ فارسیوں نے شہر میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا،اور مسلمانوں نے خندقوں پر قبضہ جما لیا۔

فتح تشتر

مسلمان تشتر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور محاصرہ بہت طویل ہونے کی وجہ سے اُکتائے ہوئے تھے، کہ اﷲ کی مدد آئی،اور تشتر فتح ہو گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب مسلمان تشتر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور اس سے تنگ آگئے تھے،کیونکہ جنگ بہت طویل ہو گئی تھی۔اُس وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں خط لگا کر ایک تیر پھینکا گیا،جس میں لکھا تھا؛”مجھے آپ لوگوں پر بھروسہ اور اطمینان ہے، اسی وجہ سے میں آپ لوگوں سے پناہ کی شرط کا طالب ہوں۔اور میں آپ لوگوں کو وہ راستہ بتاو¿ں گا،جہاں سے آپ لوگ شہر میں داخل ہو سکیں گے۔اور یہ شہر فتح ہو جائے گا۔“مسلمانوں نے بھی خط لگا کر تیر پھینکا،جس میں اُسے پناہ دے دی۔اُس نے دوسرا تیر پھینک کر بتایا ؛”آپ لوگ پانی کے نکلنے کی جگہ پہنچ جائیں،وہاں سے عنقریب شہر کو فتح کر سکیں گے۔“پھر وہ شخص حضرت نعمان کے پاس آیا،اور اُس کے ساتھ حضرت عامر بن عبد قیس،حضرت کعب بن ثور،حضرت مجزاہ بن ثور،حضرت مسکة خبطی،حضرت سوید بن شعبہ،حضرت ورقا بن حارث،حضرت بشیر بن ربیعہ شعمی،حضرت نافع بن زید حمیری ،حضرت عبد اﷲ بن بشیر ہلالی گئے۔اور پانی کی نکاسی کے راستے سے حضرت سوید بن شعبہ،اور حضرت عبد اﷲ بن بشیر شہر میں گھس گئے،اور دروازہ کھول دیا۔باہر مسلمان پہلے سے تیار تھے،اندر کے مسلمانوں نے اور باہر کے مسلمانوں نے ایک ساتھ نعرہ¿ تکبیر بلند کیا،اور بے خبر فارسی سپاہیوں پر حملہ کردیا۔فارسیوں کو شکست ہوئی ،اور مسلمانوں نے شہر تشتر فتح کر لیا۔لیکن فتح ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی۔

ہرمزان کی گرفتاری

مسلمانوں نے تشتر شہر تو فتح کر لیا تھا،لیکن شہر کے اندر اپنے قلعے میں ہرمزان اپنے حفاظتی دستے کے ساتھ قلعہ بند ہو گیا۔مسلمانوں نے قلعے کا محاصرہ کر لیا،شہر کے اندر بہت بڑا لشکر تھا،اُس میں سے بہت سے فارسی قتل ہوئے ،اور بہت سے فرار ہو گئے۔ہرمزان کے قلعے میں بھی اچھے خاصے سپاہی تھے،اور ہرمزان خود اُن کے ساتھ مسلمانوں سے مقابلے میں شریک تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ہرمزان قلعہ کے اندر گھس گیا،مگر مسلمانوں نے جو شہر کے اندر گھس آئے تھے،اُس کا محاصرہ کر لیا۔(ہرمزان نے دست بدست جنگ شروع کردی،اور حضرت برا¿ بن مالک رضی ا ﷲ عنہ اور حضرت مجزاہ بن ثور رضی اﷲ عنہ کو اُس نے شہید کر دیا۔ابن کثیر)مسلمان ہرمزان کی طرف بڑھے تو وہ بولا؛”تم کیا دیکھ رہے ہو؟تم مجھے تنگی کی حالت میں دیکھ رہے ہو،مگر میرے ترکش میں ایک سو تیر ہیں۔اﷲ کی قسم!جب تک میرے ہاتھ میں ایک بھی تیر باقی رہے گا،اُس وقت تک تم مجھے پکڑ نہیں سکتے ہو،اور میری گرفتاری سے کیا فائدہ ہے؟جب کہ میں تمہارے سو آدمیوں کو نقصان پہنچاو¿ں،اور اِن میں سے کوئی زخمی ہو گا،اور کوئی مقتول ہوگا۔“مسلمانوں نے کہا؛”تم کیا چاہتے ہو؟“وہ بولا؛”میں اِس شرط پر اپنے آپ کو گرفتاری کے لئے پیش کر سکتا ہوںکہ میرے بارے میں تمہارے بادشاہ حضرت عُمر (رضی اﷲ عنہ) فیصلہ کریں گے۔“مسلمانوں نے کہا؛”تمہاری یہ خواہش پوری ہو گی۔“اِس پر اُس نے کمان پھینک دی،اور اپنے آپ کو اُن کے حوالے کر دیا۔مسلمانوں نے اُس کے ہاتھوں اور پیروں میں بیڑی ڈال دی۔

تعاقب اور واپسی

مسلمانوں نے تشتر فتح کرلیا،لیکن بہت سے فارسی بھاگ گئے تھے،مسلمانوں نے اُن کا ”سوس یا سویز“تک تعاقب کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فتح کے بعد مسلمانوں نے اُس شخص کو جس نے تیر کے ذریعے مسلمانوں کو پیغام بھیج کر بلایاتھا۔اور وہ شخص جو بذات خود نکل کر (رہنمائی کر رہا تھا)۔وہ دونوں آئے،اور کہنے لگے؛”کون ہے ؟جو ہمیں اور ہمارے ساتھیوں کو پناہ دے گا۔“مسلمانوں نے پوچھا ؛”تمہارے ساتھ کون ہے؟“وہ بولے؛”جس نے دروازہ کھولاتھا،جہاں سے آپ لوگ داخل ہوئے۔“لہٰذا اُن کو پناہ دے دی گئی ۔اِس جنگ میں کافی مسلمان شہید ہوئے،اور جن مسلمانوں کو ہرمزان نے خود شہید کیاتھا،اُن میں حضرت مجزاہ بن ثور اور حضرت برا¿ بن مالک رضی اﷲ عنہم شامل تھے۔اِس کے بعد مال غنیمت کی تقسیم ہوئی،اور ہر سوار کو تین ہزار درہم،اور ہر پیدل کو ایک ہزار درہم ملے۔اِس کے بعد حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر تشتر کے شکست خوردہ لوگوں کے تعاقب میں ”سوس“تک گئے۔اُن کے ساتھ حضرت نعمان بن مقرن اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہم بھی تھے،اور ہرمزان بھی ساتھ تھا۔یہ لوگ سوس تک پہنچ گئے،اور مسلمانوں نے اُن کا محاصرہ کر لیا،اور خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تمام صورت ِ حال سے مطلع کیا۔فاروق ِ اعظم رضی ا ﷲ عنہ نے تحریرفرمایا کہ حضرت عُمر بن سراقہ کو مدینہ منورہ روانہ کر دو،اور حضرت ابو ماسیٰ اشعری رضی ا ﷲ عنہ بصرہ واپس لوٹ جائیں،اور وہاں کے انتظامات سنبھالیں۔اور حضرت مقترب اسود بن ربیعہ رضی اﷲ عنہ کو بصرہ کا سپہ سالار مقرر فرمایا۔(حضرت اسود بن ربیعہ رضی اﷲ عنہ مہاجرین صحابہ میںسے ہیں۔جب رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو عرض کیا؛”میں اِس لئے آیا ہوں کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر اﷲ تعالیٰ کا قرب حاصل کروں۔“اسی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ کا لقب”مقترب“پڑ گیا تھا۔)

ہرمزان مدینۂ منورہ میں

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی ہدایات کے مطابق مسلمان واپس لوٹ آئے،اور حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ مال غنیمت کا خمس اور ہرمزان کو لیکر مدینۂ منورہروانہ ہوئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ نے حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اور حضرت احنف بن قیس رضی ا ﷲ عنہ کے ساتھ ہرمزان کو مدینہ¿ منورہ خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔جب وہ لوگ مدینہ¿ منورہ کے قریب پہنچے،تو انہوں نے ہرمزان کی بیڑیاں کھول دیں ۔اور اُس کو ریشمی لباس پہنایا،جو سونے سے مرصع تھا،اور اُس کے سر پر وہ تاج رکھا ،جو وہ پہنتا تھا،جو ”آذین“کہلاتا تھا،او ر یاقوت سے مرصع تھا۔اور اُسے اُس کے زیورات پہنائے،تاکہ فاروق ِاعظم اُسے اصلی حالت میں دیکھیں۔پھر وہ مدینہ¿ منورہ میں داخل ہوئے،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے گھر کی طرف چلے،اور راستے میں لوگوں کو دکھاتے جا رہے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ گھر پر نہیں تھے۔اُن کے بارے میں دریافت کیا گیا،تو معلوم ہوا کہ کوفہ سے ایک وفد آیا ہوا ہے ،اُس کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ سب مسجد گئے تو وہ وہاں بھی نہیں ملے،جب واپس لوٹنے لگے تو مدینہ¿ منورہ کے لڑکوں کے پاس سے گذرے،جو کھیل رہے تھے۔لڑکوں نے کہا؛”کیا آپ لوگ امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو ڈھونڈ رہے ہیں؟وہ تو مسجد کے دائیں طرف سوئے ہوئے ہیں،اور اپنی لمبی ٹوپی کو تکیہ بنائے ہوئے ہیں۔“

ہرمزان کی حیرانی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسجد کے دائیں طرف آرام فرما رہے تھے۔علامہ محمد بن جر یر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کوفہ کے ایک وفد سے ملاقات کرنے کے لئے لمبی ٹوپی پہنے ہوئے بیٹھے تھے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ اُن سے گفتگو کے بعد فارغ ہوئے ،تو وہیں اپنی ٹوپی کا تکیہ بنا کر لیٹ گئے تھے۔لڑکوں کے کہنے کے بعد حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ اُن کے پاس ہرمزان کو لیکر پہنچے،تو دیکھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ سوئے ہوئے ہیں۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس دُرّہ(کوڑا) رکھا ہوا تھا۔حضرت انس رضی اﷲ عنہ کے ساتھ آئے ہوئے لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس بیٹھ گئے۔اِس موقع پر ہرمزان نے پوچھا؛”تمہارے امیر المومنین (رضی اﷲ عنہ)کہاں ہیں؟“حضرت انس رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا؛”وہ یہ ہیں۔“ہرمزان نے پوچھا؛”اِن کے محافظ اور دربان کہاں ہیں؟“مسلمانوں نے کہا؛”اِن کا نہ کوئی محافظ ہے،اور نہ ہی کوئی دربان ہے۔نہ ہی کوئی سکریٹری ہے،اور نہ ہی کوئی دفتر ہے۔“ہرمزان بولا؛”پھر تو یہ پیغمبر ہیں۔“مسلمانوں نے کہا؛”یہ پیغمبر نہیں ہیں،مگر پیغمبروں جیسے کام کرتے ہیں۔“اتنے میں لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی ،اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اُن کی باتیںسن کر بیدار ہوگئے۔ہرمزان یہ سب دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔

امیر المومنین نے اﷲ کا شکر ادا کیا

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے اطراف بات کرنے کی آوازیں سن کر بیدار ہوئے ،اور جمع ہونے کی وجہ پوچھی۔علامہ محمد بن جریر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بیدار ہوئے ،اور اُٹھ کر بیٹھ گئے۔پھر انہوں نے ہرمزان کی طرف نگاہ کی،اور فرمایا؛”کیا یہ ہرمزان ہے؟“لوگوں نے کہا؛”جی ہاں۔“اِس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے غور سے دیکھا،اور پھر اُس کے لباس کو دیکھا،اور فرمایا؛”میں دوزخ کی آگ سے اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں،اور اُسی سے مدد کا طالب ہوں۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”اﷲکا شکر ہے کہ جس نے اسلام کے ذریعے اِس کو (ہرمزان کو)اور اِس کے ساتھیوں کو ذلیل کیا۔اے مسلمانو!تم اِس دین (اسلام) کی پابندی کرو،اور اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے طریقے سے ہدایت حاصل کرو۔تم دنیا حاصل کر کے مت اِتراو¿،کیونکہ یہ دھوکا دینے والی ہے۔“مسلمانوں نے عرض کیا؛”یہ اہواز کو بادشاہ ہے،اور آپ رضی اﷲ عنہ سے بات کرنا چاہتا ہے“

حیلے سے پناہ حاصل کرنا

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ اِسے عام لباس پہناو¿۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں اِس سے اُس وقت تک کوئی گفتگو نہیں کروں گاجب تک کہ اِس کے بدن پر کوئی بھی زیور ہو گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم پر ہرمزان کے تمام زیورات اور ریشمی لباس اُتار کر عام لباس پہنا دیا۔تب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ہرمزان سے فرمایا؛”اے ہرمزان !تمہیں اﷲ سے غداری اور اﷲ کے حکم سے نافرمانی کا انجام کیسا نظر آیا؟“ہرمزان نے کہا؛”اے عُمر(رضی اﷲ عنہ)!دورِ جاہلیت میں اﷲ تعالیٰ نے ہمیں تنہا چھوڑ رکھا تھا،تو ہم تم پر غالب تھے۔کیونکہ اُس وقت اﷲ نہ تمہارے ساتھ تھا،اور نہ ہمارے ساتھ تھا،مگر جب وہ آپ لوگوں کے ساتھ ہو گیا،تو آپ لوگ ہم پر غالب آ گئے۔“امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم دورِ جاہلیت میں ہم پر اِس لئے غالب آگئے تھے،کہ تم متحد تھے،اور ہم منتشر تھے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم نے بار بار عہد کر کے کیوں توڑا؟“ہرمزان بولا؛”مجھے ڈر ہے کہ اِس سے پہلے کہ میں آپ (رضی اﷲ عنہ ) کوکچھ بتاو¿ں،آپ (رضی اﷲ عنہ) مجھے قتل کروا دیں گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم اِس بات کا خوف مت کرو۔“اُس نے پانی مانگا ،تو اُسے ایک عام سے پیالے میں پانی دیا گیا،وہ بولا؛”اگر میں پیاس سے مر جاو¿ں،تب بھی اِس پیالے میں پانی نہیں پیوں گا۔“اُس کی پسند کے پیالے میں پانی لاکر دیا گیا۔پیالہ لیکر اُس کا ہاتھ کانپنے لگا،اُس نے کہا؛”مجھے اِس بات کا خوف ہے کہ مجھے پانی پیتے ہوئے قتل کر دیا جائے گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”جب تک تم پانی پی نہیں لو گے،تب تک تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔“یہ سُن کر ہرمزان نے پیالے کا پانی گرا دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اِسے پانی لا کر دو،تاکہ اِسے پیاس اور قتل دو چیزوں کی سزا نہ ملے۔“وہ بولا؛”اب مجھے پانی پینے کی کوئی خواہش نہیں ہے،بلکہ میرا مقصد یہ تھا کہ میں آپ(رضی اﷲ عنہ) سے پناہ حاصل کر لوں۔“امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں تمہیں قتل کردوں گا۔“اُس نے کہا؛”آپ (رضی اﷲ عنہ ) نے مجھے پناہ دی ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تم جھوٹ بول رہے ہو۔“

ہرمزان نے اسلام قبول کر لیا

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے ہرمزان نے حیلے سے پناہ حاصل کر لی۔جب اُن سے اُس نے عرض کیا کہ آپ رضی ا ﷲ عنہ نے مجھے پناہ دے دی ہے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔اِس پر حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”اے امیرالمومنین رضی اﷲ عنہ!یہ سچ کہہ رہا ہے،آپ رضی اﷲ عنہ نے اِسے پناہ دے دی ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے انس رضی اﷲ عنہ !کیا میں حضرت برا¿ بن مالک اور حضرت مجزاة بن ثور رضی اﷲ عنہم کے قاتل کو پناہ دے سکتا ہوں؟اﷲ کی قسم!تم ثبوت پیش کرو،ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔“حضرت انس بن مالک رضی ا ﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا امیرالمومنین رضی اﷲ عنہ !آپ رضی اﷲ عنہ نے ابھی اِس سے فرمایا ہے کہ تمہیں اُس وقت تک کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا،جب تک کہ تم پانی نہ پی لو۔اور یہ جب تک پانی نہیں پیئے گا،تب تک آپ رضی اﷲ عنہ کی پناہ میں ہے۔“یہ سن کر فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے ہرمزان سے فرمایا؛”تم نے مجھے فریب دیکر پناہ حاصل کی ہے،اب جب تک تم پانی نہیں پی لو گے ،تب تک میں تمہیں قتل نہیں کرسکتا۔لیکن پانی پینے کے بعد تم میری پناہ سے نکل جاو¿ گے،اور میں تمہارا قتل کر سکتا ہوں۔ہاں اگر اِس دوران تم نے اسلام قبول کر لیا،تو پھر میں تمہیں معاف کر دوں گا۔“ہرمزان یہ عدل ،سچائی ،اور عہد کی پابندی دیکھ کر حیران رہ گیا،اور اُس نے اسلام قبول کرلیا۔اور خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ سے درخواست کی کہ مجھے آپ رضی اﷲ عنہ اپنی رفاقت میں رکھیں ،تاکہ میں کچھ سیکھ سکوں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے مدینہ¿ منورہ میں رہنے کے لئے مکان دیا،اور دو ہزار کا وظیفہ جاری کیا۔

آگے بڑھنے کی اجازت

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے منع فرما دیا تھا۔(اِس کا ذکر آگے آ چکا ہے۔)اور مفتوحہ علاقوں میں ہی اسلام کی تبلیغ اور اسلامی احکامات کے نفاذ کا حکم دیا تھا۔اِسی وجہ سے مسلمان ملک عراق تک ہی محدود ہو گئے تھے،اور ملک ایران (عراق ،ایران بعد میں بنائے گئے،پہلے یہ پورا علاقہ اور اِس کے آس پاس کے علاقے ”سلطنت فارس “کہلاتے تھے)میں داخل ہونے سے رُک گئے تھے۔جبکہ ملک ایران میں سلطنت فارس کا دارالخلافہ تھا،اور کسریٰ وہاں سے ملک عراق میں فوجی امداد بھیجتا رہتا تھا،جس کی وجہ سے ملک عراق کے ذمی وقتاً فوقتاًصلح کے معاہدے توڑتے رہتے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کیا ،اور فرمایا؛”شاید مسلمان ذمیوں کو تکلیفیں دیتے ہیں،جس کی وجہ سے وہ عہد توڑتے ہیں۔“لوگوں نے کہا؛”جہاں تک ہمیں علم ہے،اُن کے ساتھ مسلمان اچھا سلوک اور ایفائے عہد کرتے ہیں۔“آپ رضی ا ﷲعنہ نے فرمایا؛”پھر اِس قسم کے واقعات کیوں رونما ہو رہے ہیں؟“حضرت احنف رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے ،اور عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !میں آپ رضی اﷲ عنہ کو بتاتا ہوںکہ اِس کی وجہ کیا ہے؟دراصل آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو سلطنت فارس میں آگے بڑھنے سے روک دیا ہے،اور حکم دیا ہے کہ ہم پنے مفتوحہ علاقوں میں رہیں۔حالانکہ اُن کا بادشاہ کسریٰ اُن کے ملک میں زندہ سلامت موجود ہے۔اور جب تک وہ موجود رہے گا،وہ لوگ ہم سے جنگ کرتے رہیں گے۔اور جب تک کہ ہم اُن کے بادشاہ اور اُس کی حکومت کا خاتمہ نہیں کریں گے،تب تک یہ واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔اِس لئے ہماری درخواست ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ ہمیں آگے بڑھنے ،اور حملہ کرنے اور پوری سلطنت فارس کو فتح کر کے بادشاہ کو ختم کرنے کی اجازت دے دیں۔تاکہ پھر کوئی ذمی عہد توڑنے کی ہمت نہ کر سکے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”آپ رضی ا ﷲ عنہ سچ فرماتے ہیں۔“اِس کے بعد مسلمانوں کوآگے بڑھنے،اور ملک ایران میں داخل ہو کر حملہ کرنے کی اجازت دے دی۔

کسریٰ یزد گرد کا اصطخر کی طرف فرار

اِس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے تھے کہ تشتر سے بھاگے ہوئے فارسی سپاہیوں کا تعاقب کرتے ہوئے مسلمان ”سوس یا سویز“تک پہنچ گئے تھے۔درمیان میں ہرمزان کے قبول اسلام کا واقعہ آگیا تھا،اب ہم پھر ملک عراق کی طرف لوٹتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب جلولا کی شکست خوردہ فوج یزگرد کے پاس پہنچی،تو اُس نے اپنے خاص لوگوں کو اور موبذ کو بلوایا،اور کہا؛”یہ فوج(مسلمانوں کا لشکر)جس فوج سے بھی مقابلہ کرتی ہے،تو اُسے شکست دے دیتی ہے،تمہاری کیا رائے ہے؟“موبذبولا؛”ہماری رائے یہ ہے کہ آپ یہاں سے نکل کر ”اصطخر“میں قیام کریں،کیونکہ یہ سلطنت کا مرکزی مقام ہے۔اور وہاں اپنے خزانے بھی لے جائیں،اور وہاں سے فوج روانہ کر دیں۔“کسریٰ بادشاہ نے اُس کی رائے پر عمل کیا،اور اصفہان چلا گیا۔وہاں اُس نے سباہ کو بلا کر اُس کے سات تین سو افراد بھیجے،جن میں ستر عظیم افراد تھے۔کسریٰ نے کہا کہ جس شہر سے گزرتے جاو¿ ،جس کو چاہے اپنے ساتھ لیتے جاو¿۔سباہ مسلمانوں کی طرف روانہ ہوا،اور کسریٰ اصطخر کی طرف روانہ ہوا۔اُس وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ ”سوس یا سویز“کا محاصرہ کر رہے تھے،اُس کا حکمراں ہرمزان کا بھائی شہر یار تھا۔سباہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ”کلبانیہ“میں مقیم ہو گیا۔اور اُسے مسلمانوں سے مقابلہ کرنا بہت دشوار لگ رہا تھا۔

سباہ اور شیرویہ کا قبول اسلام

مسلمان سوس یا سویز کا محاصرہ کئے ہوئے تھے،اور سباہ کلبانیہ سے چل کر رام ہرمز اور تشتر کے درمیانی علاقے میں آیا۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو اِس کی اطلاع ملی ،تو انہوں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کو اپنا قاصد بنا کر اُس کے پاس بھیجا۔اِدھر سباہ نے نے اُن سرداروں کو جمع کیا،جو اُس کے ساتھ اصفہان سے روانہ ہوئے تھے،اُس نے اُن سے کہا؛”تم جانتے ہو کہ ہم یہ گفتگو کرتے تھے کہ یہ قوم بد بخت اور پریشان ہے۔مگر یہ لوگ (مسلمان)عنقریب اس سلطنت فارس پر غالب آجائیں گے،اور اِن کے مویشی اصطخر کے محلوں اور کارخانوں میں لید کریں گے۔اور وہ اپنے گھوڑوں کو اُس درخت کے ساتھ باندھیں گے۔وہ اُن علاقوں پر غالب آگئے ہیں،جنہیں تم دیکھ رہے ہو۔جس لشکر سے مقابلہ کریں گے،اُس کو شکست دیں گے۔اور جس قلعہ کے پاس اُتریں گے،اُسے فتح کر کے چھوڑیں گے۔اب تم اپنے آپ اِس معاملے پر غور کر لو۔“لوگوں نے کہا؛”ہماری بھی وہی روئے ہے،جو آپ کی ہے۔“وہ بولا؛”تم میں سے ہر ایک کو اپنے تمام متعلقین کے ساتھ میر ساتھ دینا ہوگا۔میری رائے یہ ہے کہ ہم اُن کا مذہب قبول کرلیں۔“انہوں نے آپس میں طے کرکے شیرویہ کو دس بڑے سرداروں سمیت حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجا۔شیرویہ نے آپ رضی اﷲ عنہ سے کہا؛”ہم آپ لوگوں کا مذہب قبول کرنے پر آمادہ ہیں،اور اِس شرط پر مسلمان ہوتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ملکر اہل عجم سے جنگ کریں گے،مگر اہل عرب کے ساتھ جنگ نہیں کریں گے۔اور اگر اہل عرب میں سے کوئی ہمارے ساتھ جنگ کرے گا،تو آپ لوگ اُن کے خلاف ہمارا ساتھ دیں گے۔اور جہاں ہم چاہیں گے رہیں گے۔اور یہ معاہدہ ہم سے آپ لوگوں کے سب سے بڑے حاکم کریں گے۔“حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات اور اُن کی شرائط لکھ کر خلیفہ¿ دوم رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا،تو انہوں نے جواب دیا کہ اُن کی شرائط قبول کر لو،اور انہیں اسلام میں داخل کر لو۔اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

27 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


27 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 27

فتح سوس یا سویز، حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین، جندی شاپور کی فتح، پیش قدمی کے لئے سپہ سالاروں کا تقرر، 18 ہجری کی شروعات، شرابیوں کو سزا، قحط سالی، نماز استسقاء، رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے یاد دلایا، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسم کے چچا کے ذریعے تقرّب، لحضرت ابو جندل بن سہیل رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 19 ھجری

فتح سوس یا سویز

مسلمانوں نے سوس یا سویز کا محاصرہ کیا ہوا تھا،لیکن کسی طرح فتح نہیں ہو رہی تھی۔سباہ نے مسلمانوں کو ایک منصوبہ بتایا،اور انہوں نے اُسے اُس پر عمل کرنے کی اجازت دے دی۔اُس نے اہل عجم کا لباس پہنا،اور اُس پر خون لگا کر رات کے آخری حصے میں شہر کے دروازے پر آکر لیٹ گیا،اور کراہنے لگا۔(مسلمانوں اور شہر والوں میں جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں)صبح شہر والوں نے اُس کا لباس اور خون دیکھ کر خیال کیا کہ انہیں میں کا کوئی زخمی آدمی ہے۔انہوں نے شہر کادروازہ کھول کر اُسے اُٹھا کر اندر لے جانا چاہا۔دروازے کے اندر پہنتے ہی سباہ نے اُن پر حملہ کر دیا،اور قتل کرنے لگا۔یہ دیکھ کر پہریدار بھاگ گئے،اور اُس نے اکیلے شہر کا دروازہ کھول دیا۔مسلمان اندر داخل ہو گئے،اور سوس یا سویز فتح ہو گیا۔سوس یا سویز کی فتح کے بارے میں ایک روایت بڑی عجیب ہے،جس میں دجال کا ذکر ہے۔یہ روایت تاریخ طبری،تاریخ ابن کثیر( البدایہ والنہایہ)میں ذکر ہے۔جب حضرت ابو سبرہ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ سوس یا سویز کا محاصرہ کیا،تو اُس وقت ہرمزان کا بھائی شہر یار اہل سوس یا سویز کی قیادت کر رہا تھا۔اُن کے اور مسلمانوں کے درمیان کئی مرتبہ جنگ ہوئی ،اور مقابلہ لگ بھگ برابری کا رہا۔ایک دن اُن کے راہبوں اور مذہبی پیشواو¿ں نے کہا ؛”اے اہل عرب !ہمارے اہل علم اور بزرگوں نے خبر دی ہے کہ سوس (سویز) کو دجال یا اُس کی قوم فتح کرے گی،اگر تمہارے اندر دجال نہیں ہے تو تم اسے فتح نہیں کر سکو گے۔“مسلمانوں میں ایک شخص ”صاف “نام کا تھا،اُس نے شہر کے دروازے پر جا کر لات ماری ،اور بولا؛”کھل جا“تو دروازے کے تالے اور زنجیریں ٹوٹ گئیں ،اور دروازہ کھول کر مسلمان اندر داخل ہو گئے۔(بڑی عجیب روایت ہے)بہر حال سباہ کے ساتھ جب مسلمان اندر داخل ہوئے ،تو سوس یا سویز کے لوگوں نے ”صلح صلح“چلانا شروع کردیا۔اور مسلمانوں نے اُن کی مصالحت قبول کر لی۔

حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین

مسلمانوں نے جب سوس (سویز) کو فتح کیا،تو وہاں انہیں حضرت دانیال علیہ السلام کا جسم مبارک ملا۔ جسے بعد میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے دفن کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فتح سوس کے بعد حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ سے کہا گیا ؛”حضرت دانیال علیہ السلام پیغمبر کی لاش اِسی شہر میں ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہمیں اِس کا علم نہیں ہے۔“اور انہوں نے اُن کے جسم مبارک کوانہیں کے قبضے میں رہنے دیا۔جب حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ وہاں سے ”جندی شاپور“چلے گئے،اور کچھ عرصے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سوس(سویز) آئے۔ جب انہیں حضرت دانیال علیہ السلام کے جسم مبارک کے بارے میں معلوم ہوا۔تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اِس بارے میں خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے مشورہ کیا۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے تحریر فرمایا کہ حضرت دانیال علیہ السلام کے جسد مبارک کو دفن کر دیا جائے۔حکم کے مطابق آپ علیہ السلام کے جسم مبارک کو کفن دیکر دفن کر دیا گیا۔حضرت ابو موسیٰ رضی اﷲ عنہ نے حضرت دانیال علیہ السلام کی انگوٹھی کے بارے میں پوچھا کہ کیا کریں؟تو خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اُس انگوٹھی کو مہر کے طور پر استعمال کرو۔“

جندی شاپور کی فتح

حضرت ابو سبریٰ رضی اﷲ عنہ فتح سوس کے بعد آگے بڑھے ،اور جندی شاپور کا محاصرہ کرلیا۔روزآنہ جنگ ہوتی تھی۔حضرت عبد اﷲ بن کلیب بھی اِس جنگ میں اپنے لشکر کے ساتھ شامل تھے۔کئی دنوں کی جنگ کے بعد ایک دن اچانک شہر کی شہر پناہ کی فصیل سے ایک تیر پھینک کر یہ اطلاع دی گئی کہ مسلمانوں کے لشکر میں سے کسی نے شہر والوں کو پناہ دے دی ہے۔اور پھر شہر والوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے،اور شہر سے باہر نکل آئے۔مسلمانوں نے پوچھا کہ تمہیں کس نے پناہ دی ہے؟انہوں نے کہا؛”آپ لوگوں نے تیر اندازی کے ذریعے ہمیں امن و امان کا پیغام دیا ہے،جسے ہم نے قبول کر لیا ہے۔ہم جزیہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں،بشرطیکہ آپ ہماری حفاظت کریں۔“مسلمانوں نے کہا؛”ہم نے ایسا کوئی پیغام نہیں دیا ہے۔“وہ بولے؛”ہم جھوٹ نہیں بول رہے ہیں۔“تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ مکنف نام کے ایک غلام نے شہر والوں کو پناہ کا پیغام لکھ کر تیر کے ذریعے بھیجا تھا۔اِس کی اطلاع حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو دی گئی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ اﷲ تعالیٰ نے وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا ہے،اِس لئے شہر والوں سے صلح کر لو۔اِس طرح جندی شاپور فتح ہو گیا۔

پیش قدمی کے لئے سپہ سالاروں کا تقرر

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ۷۱ ہجری کے آواخر میں مسلمانوں کو سلطنت فارس میں پیش قدمی کی اجازت دے دی۔(اِس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ فیصلہ حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کے مشورہ پر کیا تھا،کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ اُن کی صداقت اور فضیلت سے واقف تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے الگ الگ لشکر اور اُن کے سپہ سالار مقرر کر دیئے۔اہل بصرہ کے لئے الگ،اور اہل کوفہ کے لئے الگ۔انہیں ۷۱ ہجری کے اواخرمیں پیش قدمی کا حکم دیا گیا،لیکن وہ ۸۱ ہجری اوائل میں روانہ ہو سکے تھے۔سب سے پہلے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ بصرہ سے روانہ ہو کر بصرہ کی آخری عمل داری تک پہنچ جائیں،اور اگلے حکم کے آنے تک وہیں مقیم رہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سپہ سالاروں کے جھنڈے (عَلم)تیار کئے،اور حضرت سہیل بن عدی کو دیکر روانہ فرمائے۔ایک جھنڈا حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کو دیکر ”خراسان“ کی طرف بھیجا۔ایک جھنڈا حضرت مجاشع بن مسعود سلمی کو دیکر” ارد شیر،خرہ اور سابور “کی طرف روانہ کیا۔ایک جھنڈا حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی کو دیکر” اصطخر “کی طرف روانہ فرمایا۔ ایک جھنڈا حضرت ساریہ بن زنیم کنانی کو دیکر ”فسائ،اور ذرا بجرد“کی طرف بھیجا۔ایک جھنڈا حضرت سہیل بن عدی کو دیکر ”کرمان“کی طرف بھیجا۔اورایک جھنڈا دیکر حضرت حکم بن عُمیر کو ”سجستان “کی طرف روانہ کیا،اِس لشکر میں حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ بھی تھے،جو صحابی ہیں۔اِن سپہ سالاروں کی امداد کے لئے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے معاون سپہ سالار بھی بھیجے۔حضرت سہیل بن عدی کی مدد کے لئے حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبان کو بھیجا۔حضرت احنف بن قیس رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے حضرت علقمہ بن نضر کو بھیجا۔اِس کے علاوہ الگ الگ سپہ سالاروں کی امداد کے لئے حضرت عبد اﷲ بن عقیل،حضرت ربعی بن عامر،اور ابن اُم غزل کو بھیجا۔حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے حضرت عبد اﷲ بن عُمر اشجعی کو بھیجا۔اور حضرت حکم بن عُمیر تغلبی کی مدد کے لئے حضرت شہاب بن مخارق کو بھیجا۔

18 ہجری کی شروعات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے 17 ہجری میں مسلمانوں کو حج کروایا۔اور اِس سال بھی وہی گورنر رہے،جو 17 ہجری میں تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے سب کو اُن کی جگہوں پر بر قرار رکھا،صرف حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کی جگہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی ا ﷲ عنہ کو بصرہ کو گورنر مقرر فرمایا۔اب ہم آپ کی خدمت میں 18 ہجری کے حالات پیش کریں گے۔انشاءاﷲ۔اِس سال میں مسلمانوں کو ملک عرب میں بہت سخت قحط اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اِسی وجہ سے اِس سال کا نام”عام الرمادہ“پڑ گیا۔امام محمد بن اسحاق کے مطابق عمواس کا طاعون بھی 18 ہجری میں آیا تھا۔

شرابیوں کو سزا

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے اِس سال میں چند شراب پینے والے مسلمانوں کو سزا دی۔چند مسلمانوں نے شراب پی تھی،آپ رضی ا ﷲ عنہ کو اِن کے بارے میں معلوم ہوا تو اس بارے میںتحقیق کروائی۔اور جب اُن کا جرم ثابت ہو گیا ،تو انہیں سر عام بھرے مجمع میں اسی (۰۸)کوڑے لگوائے۔اُن مسلمانوں نے توبہ کی،اور حیا کی وجہ سے لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا،تو انہیں سمجھا کر لوگوں سے ملنے جلنے کے لئے سمجھایا۔اور پھر انہیں جہاد پر جانے کی اجازت دے دی،اور ان میں سے کئی شہید ہوئے۔

قحط سالی

18 ھجری میں مدینہ منورہ اور آس پاس کے علاقوں میں بہت زبردست قحط پڑا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں مدینہ¿ منورہ اور آس پاس کے علاقوں میں قحط پڑا۔جب ہوا چلتی تھی،تو راکھ کی طرح مٹی اُڑتی تھی، اِسی وجہ سے یہ سال”عام الرمادہ“(راکھ کا سال) کہا جاتا تھا۔اِس موقع پر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے طے کر لیا تھا کہ وہ دودھ اور گوشت کا ذائقہ اُس وقت تک نہیں چکھیں گے،جب تک کہ مسلمان پہلی بارش سے فیضیاب نہ ہو جائیں۔یہ قحط اور خشک سالی 17 ہجری کے آخر اور 18 ہجری کے آغاز میں رونما ہوا تھا۔اُس وقت مدینۂ منورہ اور اُس کے آس پاس کے علاقوں کے لوگوں کو بھوک نے ہلاک کر دیا تھا۔اور یہ حالت ہو گئی تھی کہ وحشی جانور انسانوں کے پاس پناہ لینے کے لئے آتے تھے۔اور یہ حال ہو گیا تھا کہ اگر کوئی شخص ایک بکری ذبح کرتا تھا،تو اُس میں سے سوائے کھال اور ہڈیوں کے کچھ نہیں نکلتا تھا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک عراق اور ملک شام کے گورنروں کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے اناج اور کھانے پینے کی چیزیں روانہ کریں۔ہر طرف سے غلہ اور کھانے پینے کے سامان آنے لگے۔جس سے لوگوں کو کچھ راحت ہوئی۔

نماز استسقاء

مدینۂ منورہ اور آس پاس کے علاقوں میں قحط کی وجہ سے سب لوگ بہت پریشان تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔عام الرمادہ میں قبیلہ مزینہ کے ایک شخص نے اپنے گھر والوں کے لئے ایک بکری ذبح کی۔کیا دیکھتے ہیں کہ صرف کھال اور ہڈیاں ہیں۔اُس نے بڑی حسرت سے کہا؛”یا محمداہ“(مصیبت اورجنگ میںحملہ کے وقت یہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کا یہ مخصوص نعرہ تھا)اور جب رات کو وہ سویا تو خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”زندگی سے خوش ہو جاؤ،اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲعنہ کے پاس جا کر میرا سلام کہو۔اور انہیں یہ کہنا کہ میں نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کو عہد کا پورا کرنے والا اور عہد کا سختی سے پابند پایا ہے۔اے عُمر رضی اﷲ عنہ !عقل مندی سے کام لیں۔“وہ شخص خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دروازے پر آیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے غلام سے کہا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ سے کہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایلچی ملنا چاہتا ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ یہ سن کر گھبرا گئے،پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر مسلمانوں سے فرمایا؛”اے مسلمانو!میں اﷲ کے نام پر تم سے اپیل کرتا ہوں،جس نے آپ لوگوں کی اسلام کی طرف رہنمائی فرمائی ہے۔کیا تم نے مجھ سے کوئی ناپسندیدہ کام ہوتے دیکھا ہے؟“مسلمانوں نے کہا؛”نہیں،ایسا کوئی کام نہیں دیکھا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ حضرت بلال بن حارث رضی اﷲ عنہ ایسا پیغام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا لائے ہیں۔“مسلمان اصل بات سمجھ گئے،لیکن پریشانی اور اُلجھن کی وجہ سے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ اِس پر توجہ نہیں دے سکے۔مسلمانوں نے کہا؛”یا امیرا لمومنین رضی اﷲ عنہ !ہم نے نماز استسقاءپڑھنے میں دیر کر دی۔“آپ رضی اﷲ عنہ فوراً سمجھ گئے،اور لوگوں میںنماز استسقاءکا اعلان کروا دیا۔سب کو لیکر کھلے میدان میں پہنچے،مختصر خطبہ دیا،پھر نماز استسقاءپڑھنے کے بعد دعا فرمائی؛”اے اﷲ ! ہمارے مدد گارہم سے عاجز آگئے ہیں،اور ہماری قوت و طاقت بھی ہم سے عاجز آگئی ہے،اور ہمارے نفس بھی ہم سے عاجز آگئے ہیں۔اور تیرے سوا کوئی طاقت نہیں ہے،جو ہمیں سیراب کردے،اور بندوں اور شہروں کو زندہ کر دے۔“ایک اور روایت ابن کثیر لکھتے ہیں،کہ حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں قحط نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔تب ایک شخص رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر آیا،اور بولا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اپنی اُمت کے لئے اﷲ سے بارش کی دعا کریں،وہ تو ہلاک ہو رہے ہیں۔“پس اُس کے خواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم آئے ،اور فرمایا؛”حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ کے پاس جاکر میرا سلام کہو،اور انہیں بتاو¿ کہ وہ سیراب کئے جائیں گے۔اور انہیں کہنا کہ عقل مندی اختیار کریں۔“اُس شخص نے آکر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو بتایا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اے اﷲ!میں اُسی کام میں کوتاہی کرتا ہوں،جس سے میں عاجزآجاتا ہوں۔“

رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے یاد دلایا

قحط کی وجہ سے انسانوں ،جانوروں،درندوں پرندوں،اور کیڑوں مکوڑوں یعنی تمام مخلوق بے حال اور پریشان تھی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اُن سب کی پریشانی دیکھ کر خود پریشان ہو جاتے تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل بن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ تمام مخلوق کی پریشانی دیکھ کر شرمندہ اور پریشان تھے،کہ حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اﷲ عنہ (یہ ”بدو“یعنی دیہاتی ہیں،اور مدینہ¿ منورہ کے قریبی دیہاتی قبیلے مزینہ میں رہتے تھے)حاضر ہوئے،اور عرض کیا؛”یا امیر المومنین رضی اﷲ عنہ !میں آپ رضی اﷲ عنہ کی طرف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ایلچی ہوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا ہے ؛”میں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو عقل مند دیکھا ہے،اور آپ رضی اﷲ عنہ ہمیشہ سے ہی ایسے رہے ہیں۔اب آپ رضی اﷲ عنہ کا کیا حال ہے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایا؛”آپ رضی اﷲ عنہ نے یہ خواب کب دیکھا ہے؟“حضرت بلال بن حارث رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”پچھلی رات کو۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فوراًمدینہ¿ منورہ میں ”الصلاة الجامعة“کا اعلان کروایا۔جب سب لوگ جمع ہو گئے ،تو انہیں دو رکعت نماز پڑھائی ،اور فرمایا؛”اے مسلمانو!میں تم سے اﷲ کے نام پر اپیل کرتا ہوں ،کیا تم ایسا کوئی حکم جانتے ہو؟جو میرے حکم سے بہتر ہو۔“مسلمانوںنے جواب دیا ؛”نہیں“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”یہ حضرت بلال بن حارث مزنی رضی اﷲ عنہ ایسا کہہ رہے ہیں۔“مسلمانوں نے کہا؛”حضرت بلال بن حارث رضی اﷲ عنہ صحیح کہہ رہے ہیں،آپ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے لئے اﷲ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔“پس آپ رضی ا ﷲ عنہ نے نماز استسقاءکا اعلان فرما دیا۔اور ایک وسیع میدان میں سب لوگوں کے ساتھ جمع ہوئے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ بھی تھے،اور سب لوگ پید ل چل کر میدان میں جمع ہوئے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے نماز استسقاءپڑھائی،پھر مختصر خطبہ دیا،اور پھر گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے،اور دعا فرمائی؛”اے اﷲ تعالیٰ ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں،اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔اے اﷲ ہمیں بخش دے،اور ہم پر رحم فرما،اور ہم سے راضی ہو جا۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ سب کے ساتھ واپس آنے لگے،ابھی گھروں تک نہیں پہنچے تھے کہ بارش کی وجہ سے پانی کے گڑھے بھر گئے۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسم کے چچا کے ذریعے تقرّب

حضر ت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نماز ِ استسقاءکے لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نماز استسقاءکے لئے نکلے،اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے،اور دعا مانگی؛”اے اﷲ جب ہم اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے عہد قحط ذدہ ہوتے تھے،تو ہم اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے تجھ سے تقرّب حاصل کرتے تھے۔صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے یہ الفاظ روایت ہیں۔جب قحط پڑ جاتا تھا ،تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کے ذریعے بارش طلب کرتے تھے،اور دعا کرتے تھے؛”اے اﷲ !ہم اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے تیرا تقرّب حاصل کرتے تھے،اور تُو ہمیں سیراب کر دیتا تھا۔اور اب ہم اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا کے ذریعے تجھ سے تقرّب حاصل کرتے ہیں،ہمیں سیراب کردے۔“راوی کا بیان ہے کہ ہ سیراب ہو جاتے تھے۔

لحضرت ابو جندل بن سہیل رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت ابوجندل بن سہیل رضی اﷲ عنہ کا انتقال ملک شام میں طاعون عمواس سے ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کا نام ”عاص بن سہیل“تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کر لیا تھا۔لیکن اُنکے باپ سہیل بن عمرو نے انہیںہتھکڑی،اور بیڑیاں پہنا کر قید کر رکھا تھا،اور مدینہ¿ منورہ ہجرت کرنے نہیں دے رہا تھا۔صلح حدیبیہ کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ کو قید میں خبرملی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ ”حدیبہ “کے مقام تک آ گئے ہیں،تو آپ رضی اﷲ عنہ ہتھکڑی اور بیڑیوں سمیت قید سے بھاگے،اور لگ بھگ نو (9)کلو میٹر کا ہتھکڑی اور بیڑیوں سمیت پید ل سفر کر کے حدیبیہ پہنچے تھے۔لیکن چونکہ صلح حدیبیہ ہو چکی تھی،اور اُس کی قرار داد کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے باپ کے ساتھ جانا پڑا۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ مکہ¿ مکرمہ سے بھاگ کر حضرت ابو بصیر رضی اﷲ عنہ کے ساتھ شامل ہو گئے۔بعد میں قریش نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے گذارش کی کہ انہیں اپنے پاس بلا لیں۔اِس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں ملک شام چلے گئے،اور وہیں طاعون عمواس سے آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔

19 ھجری

سال 17 ہجری سے سال 19 ہجری تک کے واقعات لگ بھگ ملے جلے ہیں۔اور مورخین مکمل طور سے اتفاق نہیں کر سکے ہیں۔اور چند واقعات کے علاوہ اِن لگ بھگ تین برسوں میں کوئی خاص قابل ذکر واقعات پیش نہیں آئے ہیں۔ 18 ہجری میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”مقام ابراہیم“جو خانۂ کعبہ سے متصل تھا، اُسے دور ہٹا کراُس مقام پر کر دیا،جہاں آج ہے۔سال 19 ہجری میں امام محمد بن اسحاق اور امام واقدی کے مطابق الجزیرہ ، رہا ، حران، راس، عین،اور نصیبن کی فتوحات ہوئیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


28 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


28 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 28


20 ھجری، ملک مصر میں باب الیون کے لوگوں سے بات چیت، اسلام کی دعوت، مسلمانوں نے مہلت دی، باب الیون کی فتح، عین شمس کی طرف پیش قدمی، جنگ اور صلح، صلح نامہ یا عہد نامہ کا مضمون، جنگی قیدیوں کی واپسی، اسکندریہ کی فتح، ملک مصر میں مسلمانوں کے انتظامات، دریائے نیل کے متعلق مصریوں کا عقیدہ، خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا دریائے نیل کو حکم


20 ھجری

اِس سال 20 ھجری میں کئی بڑے بڑے واقعات پیش آئے۔حالانکہ اِن واقعات کی تاریخ میں بھی علمائے کرام میں کچھ اختلاف ہے۔لیکن جمہور علماءاِس بات پر متفق ہیں کہ یہ واقعات اِسی سال ہوئے ہیں۔اِس لئے ہم ۰۲ ہجری کے مفصل واقعات پیش کر رہے ہیں۔ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ جب خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ”بیت المقدس“کی فتح سے فارغ ہوئے تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کولشکر دیکر ”ملک مصر“ کی طرف روانہ کیا تھا۔اب ہم اس ذکر کو وہیں سے شروع کرتے ہیں۔

ملک مصر میں باب الیون کے لوگوں سے بات چیت

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر ملک مصر کی طرف روانہ فرمایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ”ایلیاہ“(بیت المقدس) کی فتح سے فارغ ہوئے ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے وہیں سے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ”ملک مصر“کی طرف روانہ کیا،اور یہ فرمایا؛”اگر اﷲ تعالیٰ تمہیں ملک مصر میں فتح عطا فرمائے،تو تم وہاں کے حاکم(گورنر) ہوگے۔اور اُن کے روانہ ہونے کے بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر اُن کی امداد کے لئے اُن کے پیچھے روانہ فرمایا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر ملک مصر پہنچے،اور ”باب الیون“کے قریب پڑاو¿ ڈال دیا،حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ بھی اپنے لشکر کے ساتھ آکر اُن سے مل گئے۔وہاں ابو مریم اور ملک مصر کا بشپ ملے،جنہیں مقوقس(ملک مصر کا بادشاہ)نے اپنے ملک کی حفاظت کے لئے بھیجا تھا۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے ،تو حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے انہیں بات چیت کی پیش کش کی۔جسے انہوں نے قبول کر لی،اور حضرت عمرو بن عاص،اور حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے بات کرنے ابو مریم اور بشپ(ملک مصر کا بادشاہ عیسائی تھا،اور بشپ عیسائیوں کا مذہبی رہنما تھا) فریقین نے ایکد وسرے کو پناہ دی،اور بات چیت شروع کی۔

اسلام کی دعوت

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے پہلے انہیں اسلام کی دعوت دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اُن دونوں سے فرمایا؛”تم دونوں اِس شہر کے راہب(عیسائی عالم)ہو تو سنو کہ اﷲ بزرگ و برتر نے حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو حق و صداقت کا پیغام دیکر بھیجا ہے۔اﷲ نے انہیں حکم دیا،اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ کے احکام ہم تک پہنچادیئے ۔ اِس کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے رب سے جاملے،اور جو فرض تھا ،اُس کی تکمیل فرما گئے ۔ اور نہیں اِس سرزمین پر چھوڑ گئے،انہوں نے ہمیں یہ بھی حکم دیا تھا کہ ہم لوگوں تک اسلام پہنچائیں ۔ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں،جو ہماری دعوت قبول کرے گا،وہ ہمارے برابر ہو جائے گا۔اور جو ہماری دعوت قبول نہیں کرے گا،اُس پر ہم جزیہ لگائیں گے،اور اِس صورت میں ہم اُس کی حفاظت کریں گے۔انہوں نے (رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے) پیشنگوئی کی ہے کہ ہم اِس ملک کو فتح کر لیں گے۔لیکن انہوںنے ازراہِ ہمدردی ہمیں تمہاری حفاظت کی بھی ہدایت کی ہے۔اِس لئے اگر تم ہماری بات مان لو گے ،تو تمہاری حفاظت کی ذمہ داری ہم پر ہو گی۔ہمارے امیر المومنین رضی ا ﷲ عنہ نے ہمیں یہ ہدایت کی ہے کہ ہم قبطیوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی ہمیں پہلے ہی نیک سلوک کرنے کی ہدایت کی تھی،کیونکہ آپ لوگوں کے ساتھ ہماری رشتہ داری ہے۔“

مسلمانوں نے مہلت دی

حضرت عمرو بن عاس رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر مصریوں (قبطیوں) نے مہلت مانگی،جو مسلمانوں نے دے دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اہل مصر نے کہا؛”ہاں بہت دور کی رشتہ داری ہے،جس کا انبیائے کرام علیہم السلام ہی خیال رکھتے ہیں۔وہ( سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا)بہت مشہور و معروف اور شریف خاتون تھیں۔وہ ہماری شہزادی تھیں،اور ”حنف“کی رہنے والی تھیں۔اُن کے خاندان میں بادشاہت رہی،یہاں تک کہ انقلاب آیا،اور اہل عین شمس نے اُن کے خاندان کو قتل کر دیا۔اور اُن سے سلطنت چھین کر انہیں جلا وطن کر دیا۔اِس وجہ سے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ فلسطین چلی گئی تھیں۔ہم اُن کا خیر مقدم کرتے ہیں۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”ہم تمہیں سوچنے اور غور و فکر کرنے کے لئے تین دنوں کی مہلت دیتے ہیں۔تاکہ تم غور کر سوکو،اور اپنی قوم سے بھی مشورہ کر سکو،ورنہ تیسری صورت میںہم تم سے جنگ کریں گے۔وہ دونوں بولے؛”آپ (رضی اﷲ عنہ) ہمیں اور مہلت دیں۔“اِس پر آپ رضی ا ﷲ عنہ نے ایک دن کی مہلت بڑھا دی۔

باب الیون کی فتح

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے انہیں مہلت دے دی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔یہاں سے وہ دونوں اُٹھ کر ملک مصر کے بادشاہ مقوقس کے پاس گئے،اور مسلمانوں کی دعوت کو پیش کیا۔لیکن ارطبون(آپ کو یاد ہو گا،ارطبون کو جب ملک شام میںمسلمانوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تھی ،تو وہ ملک مصر بھاگ گیا تھا)نے اُن کی بات ماننے سے انکار کر دیا،اور مسلمانوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا۔اِس کے بعد وہ دونوں اشخاص اہل مصر کے پاس پہنچے ،اور کہا؛”ہم کوشش کریں گے کہ تمہاری حفاظت کریں،اور اُن کی طرف نہ لوٹیں۔اب چار دن پاقی رہ گئے ہیں،اور اِس دوران تمہیں کوئی نقسان نہیں پہنچے گا۔“لیکن ارطبون نے مہلت کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی مصریوں کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔اور فرقب نے رات کے وقت اچانک مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بھی ہوشیار تھے،اور انہوں نے مسلمانوں کو ہر وقت جنگی حالت میں تیار رکھا تھا۔فرقب کی اُمید کے خلاف مسلمانوں نے اُن کا ڈٹ کا مقابلہ کیا۔اور اُسے اور اُس کے ساتھیوں کو قتل کردیا۔اِس طرح باب الیون فتح ہو گیا۔

عین شمس کی طرف پیش قدمی

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ”باب الیون “کی فتح کے بعد ”عین شمس“کی طرف لشکر لیکربڑھے۔اور ہر اول(مقدمة الجیش) کے طور پر حضرت ابرہ بن صباح کو عین شمس روانہ کیا۔اور حضرت عوف بن مالک کو ”اسکندریہ “کی طرف روانہ کیا۔جب مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ آپ رضی اﷲ عنہ عین شمس پہنچ گئے،اور پڑاو¿ ڈال دیا ،اُس وقت حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ بھی ساتھ تھے۔اہل مصر نے جب مسلمانوں کا لشکر دیکھا تو اپنے بادشاہ سے کہا؛”آپ اُس قوم سے جنگ کا ارادہ کر رہے ہیں،جنہوں نے قیصر و کسریٰ (سلطنت روم،اور سلطنت فارس کے بادشاہوں)کو شکست دے دی ہے۔اور اُن کے ملک پر قابض ہو گئے ہیں۔آپ اُن لوگوں سے صلح کر لیں،اور معاہدہ کرلیں کہ آپ اُن لوگوں سے مقابلہ نہیں کریں گے،اور نہ ہی ہمیں اُن سے مقابلے کے لئے بھیجیں گے۔“یہ بات انہوں نے چوتھے دن کہی،مگر بادشاہ نے اُن کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔

جنگ اور صلح

بادشاہ نے اہل مصر کی بات نہیں مانی،اور مسلمانوں کے مقابلے پر آگیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔بادشاہ مسلمانوں سے جنگ کے لئے تیار ہو گیا،اور انہوں نے جنگ کی۔جنگ کے دوران حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ شہر کی فصیل پر چڑھ گئے،اور مصریوں کو قتل کرنے لگے۔مسلمانوں نے مصریوں پر ہر طرف سے حملہ کردیا،ادھر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شہر میں داخل ہوگئے،اور قبضہ کرنے لگے۔مصریوں نے جب یہ حالت دیکھی ،تو جلدی سے شہر پناہ کا دروازہ کھول دیا،اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے صلح کرنے کی درخواست کی،جو انہوں نے قبول کر لی۔اُدھر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کو صلح کا کوئی علم نہیں تھا،اور وہ بدستور مصریوں کو قتل کر ہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے انہیں صلح کی خبر دی،اور مصریوں سے صلح کرلی۔

صلح نامہ یا عہد نامہ کا مضمون

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اہل مصر سے صلح کرلی،اُس صلح نامے یا عہد نامے کا مضمون یہ تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔صلح نامہ یا عہدنامہ کا مضمون یہ تھا۔”یہ وہ امان ہے،جوحضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اہل مصر کو جان و مال اور مذہب کی پناہ دے دی ہے۔اُن کے گرجے،صلیبیںاور خشکی اور تری کے مقامات محفوظ رہیں گے،بشرطیکہ وہ جزیہ ادا کرتے رہیں۔اور مجتمع ہو کر یہ صلح نامہ قبول کرلیں۔اُن سے مجموعی جزیہ پانچ کروڑ درہم کے قریب وصول کیا جائے گا۔اگر اُن میں سے کوئی جزیہ دینے سے انکار کرے گا،تو اُس سے جزیہ وصول نہیں کیا جائے گا،لیکن ہم اُس کی حفاظت کی ذمہ داری سے بری ہوں گے۔اگر اُن کی آمدنی مقررہ رقم سے کم ہوگی،تو اُسی قدر اندازے کے مطابق جزیہ کی رقم کم کر دی جائے گی۔روم و حبشہ کے باشندوں میں سے کوئی اِس صلح نامہ میں شامل ہونا چاہے ،تو اُن کے حقوق و فرائض بھی اہل مصر کے حقوق و فرائض کے برابر ہوں گے۔جو اِس سے انکار کرے گا،اور دوسری جگہ جانا چاہے گا،اُسے مکمل حفاظت سے اُس کے مطلوبہ مقام تک پہنچایا جائے گا۔جو کچھ اِس معاہدے میں لکھا ہے،اِس کے ذمہ دار اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ،اور مسلمانوں کے خلیفہ،اور تمام مسلمان ہیں۔اہل حبشہ میں سے جو اِس معاہدے کو قبول کریں،اُن کے لئے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اُسی قدر شخصی امداد کریں،اور گھوڑوں سے بھی امداد کریں،اور وہ جنگ نہ کریں،اور نہ ہی درآمد اور برآمد کی تجارت کو روکیں۔اِس معاہدے کے گواہ کے طور پر حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے دونوں بیٹے حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ اور محمد بن عمرو بن عاص تھے۔اِس کے کاتب وردان تھے،اور اِس معاہدہ میں تمام اہل مصر شامل ہو گئے تھے،اور انہوں نے صلح نامہ قبول کیا تھا۔

جنگی قیدیوں کی واپسی

عین شمس کی جنگ کے دوران مسلمانوں نے بہت سے مصریوں کو قید کر لیا تھا،مصری انہیں بھی واپس مانگ رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ابو مریم اور بشپ حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے،اور جنگی قیدیوں کی واپسی کی مانگ کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا ان کے بارے میں بھی کوئی عہد و پیمان ہوا ہے؟اُس وقت یہ قیدی ہم پر حملے کر رہے تھے۔“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں رخصت کر دیا۔وہ دونوں پھر آئے،اور بولے؛”جب ہم تم سے صلح کی گفت و شنید کر رہے تھے،اُس وقت تم لوگوں نے جو حاصل کیا،وہ تمہاری ذمہ داری میں آئے گا۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”کیا تم ہم پر حملے کرو گے،اُس وقت بھی ہماری ذمہ داری رہے گی؟“وہ دونوں بولے؛”ہاں“بہر حال آپ رضی اﷲ عنہ نے قیدی انہیں واپس نہیں کئے۔جب فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس لیکر قاصد خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا،اور تمام حالات بتائے۔اور قیدیوں کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ قیدیوں کو چھوڑ دو،اور اہل مصر کے حوالے کردو۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے حکم پر عمل کیا،اور قیدیوں کو اہل مصر کے حوالے کر دیا۔

اسکندریہ کی فتح

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد اسکندریہ کا محاصرہ کر لیا،یہاں اہل مصر کا بادشاہ مقوقس رہتا تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پھر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اسکندریہ لشکر بھیجا۔اور اِس سے قبل مقوقس حاکم اسکندریہ اپنے شہر اور ملک مصر کا خراج سلطنت روم کے قیصر یا سلطنت فارس کے کسریٰ کو ادا کیا کرتا تھا۔پس جب حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اسکندریہ کا محاصرہ کر لیا،تو اُس نے اپنے وزرائ،درباریوں اور پادریوں کو جمع کیا،اور بولا؛”اِن عربوں نے قیصر و کسریٰ کو مغلوب کر لیا ہے،اور سلطنت روم اور سلطنت فارس پر قبضہ کر لیا ہے۔اور ہم میں اِن سے مقابلے کی سکت نہیں ہے،میری رائے یہ ہے کہ ہم انہیں جزیہ دیا کریں۔پھر اُس نے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ میں اُن لوگوں کو خراج ادا کرتا رہا ہوں،جو تم سے بھی زیادہ مجھے مبغوض تھے۔یعنی سلطنت روم اور سلطنت فارس۔اِس لئے ہم آپ سے جزیہ پر صلح کرنا چاہتے ہیں۔پھر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اسکندریہ والوں سے بھی جزیہ پر صلح کرلی۔اور اِس طرح پورا ملک مصر مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔ایک روایت کے مطابق ملک مصر ۶۱ ہجری میں فتح ہوا،اور اس میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی۔جبکہ جمہور مورخین کے مطابق ملک مصر ۰۲ ہجری میں فتح ہوا۔اور اسکندریہ جنگ کر کے ۵۲ ہجری میں فتح ہوا۔اور بعض کا قول ہے کہ بارہ ہزار دینار پر صلح سے فتح ہوا۔

ملک مصر میں مسلمانوں کے انتظامات

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے پورا ملک مصر فتح ہوجانے کے بعد اُس کے انتظامات کئے،اور سب سے پہلے شہر فسطاط بسایا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ملک مصر میں چونکہ بہت گھوڑے سوار ہو گئے تھے،اِسی لئے حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ ”فسطاط“ کا شہر تعمیر کر لیا،اور وہاں مسلمان رہنے لگے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔میں کہتا ہوں،دیار ِمصر کو فسطاط کا نام ،حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے خیمے کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنا خیمہ اُس جگہ نصب کیا تھا،جہاں آج کل ملک مصر ہے۔اور مسلمانوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے خیمے کے ارد گرد مکان تعمیر کر لئے۔اور قدیم ملک مصر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے زمانے سے لیکر آج تک متروک ہے۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنا خیمہ وہاں سے اُٹھا لیا،اور وہاں پر ایک مسجد کی تعمیر کی،جو آج تک آپ رضی اﷲ عنہ کے نام پر منسوب ہے۔اِس کے علاوہ آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے ملک مصر میں فوجی انتظامات کئے،اور ملک مصر کی سرحدوں پر بھی فوجی چھاونیاں بنائیں۔ اور ہر جگہ عوام کے لئے مسافر خانے وغیرہ تعمیر کروائے۔

دریائے نیل کے متعلق مصریوں کا عقیدہ

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے ملک مصر فتح کر کے وہاں اسلامی حکومت قائم کر دی تھی۔لیکن اہل مصر ابھی بھی اپنے مذاہب پر قائم تھے،اور جزیہ ادا کر رہے تھے۔اُن کے اندر جاہلیت ابھی بھی تھی،اور دریائے نیل کے متعلق اُن کا عقیدہ تھا کہ یہ ہر سال ایک کنواری لڑکی کی جان لیکر روانی پر آتا تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب ملک مصر فتح ہوا،تو اُس کے باشندے عجم کے مہینوں میں سے بونہ کے مہینے میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے،اور کہا؛”ہمارے دریائے نیل کا ایک دستور ہے،اور وہ اُسی کے مطابق چلتا ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”وہ کیا ہے؟“انہوں نے کہا؛”جب اِس ماہ کی بارہ راتیں گزر جاتی ہیں،تو ہم ایک کنواری لڑکی کے والدین کے پاس جاتے ہیں۔اور انہیں راضی کرتے ہیں،اور لڑکی کو بہترین زیور اور کپڑے پہنا دیئے جاتے ہیں، پھر ہم اسے دریائے نیل میں پھینک دیتے ہیں۔جس کی وجہ سے دریائے نیل بھر کر چلنے لگتا ہے۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا؛”یہ سب جاہلانہ باتیں ہیں،اور اسلام میں اِن کی کوئی جگہ نہیں ہے،اور میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دوں گا۔“اُن لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی بات مان لی،اور تین مہینے تک رُکے رہے۔لیکن دریائے نیل کا پانی کم ہوتا جارہا تھا،یہاں تک کہ مصریوں نے ملک مصر چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا؛”میں ہمارے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں تمام حالات لکھ کر بھیجتا ہوں،اور وہ جو بھی حکم بھیجیں گے،اُن کے مطابق ہم عمل کریں گے۔اگر اِس کے بعد بھی دریائے نیل میں پانی نہیں بڑھا،تو تم لوگ ملک مصر چھو ڑ کر چلے جانا۔“

خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ کا دریائے نیل کو حکم

حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر اہل مصر رک گئے،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں لکھ کر بھیجے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات جاننے کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو لکھ کر بھیجا؛”تم نے جوکچھ کیا ،وہ بالکل ٹھیک کیا ہے۔میں اِس خط کے اندر ایک چھوٹی سی چٹھی لکھ کر بھیج رہا ہوں،تم یہ چٹھی دریائے نیل میں پھینک دینا۔“جب یہ خط حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا،اور انہوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق چٹھی پھینکنے سے پہلے اُسے کھول کر پڑھا،تو اُس میں لکھا ہوا تھا؛”اﷲ کے بندے عُمر،امیر المومنین کی طرف سے اہل مصر کے دریائے نیل کی طرف۔امابعد!اے دریائے نیل! اگر تُو اپنی مرضی سے بہتا ہے،تو آئندہ نہ بہنا،ہمیں تیری کوئی ضرورت نہیں ہے۔اور اگر تُو اﷲ واحد و قہار کے حکم سے بہتا ہے،تو وہ تجھے رواں اور قائم رکھے گا،اور ہم اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ تجھے رواںاور قائم رکھے۔“حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے یہ چٹھی دریائے نیل میں رات میں پھینک دی،اور صبح جب دیکھا تو پورا دریائے نیل بھر کر چل رہا تھا۔اور اِس طرح اﷲ تعالیٰ نے ایک جاہلانہ رسم کا خاتمہ کردیا۔تب سے لیکر اب تک دریائے نیل مسلسل بہہ رہا ہے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

29 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


29 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 29


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ پر جھوٹا الزام، اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت اُسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت بلال بن ابی رباح رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت سعید بن عامررضی اﷲ عنہ، حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کا انتقال، حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ عنہ کا انتقال، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی کا انتقال، حضرت عویم بن ساعدہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال، 21 ہجری، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی درخواست، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ہدایات، نہاوند میں فارسیوں کا اجتماع، دونوں لشکر آمنے سامنے، جنگ نہاوند، مسلمانوں کی چالاکی، سپہ سالار کی اطاعت، حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی شہادت، فتح نہاوند، فیرزان کا قتل


حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ پر جھوٹا الزام

اِس سال 20 ہجری میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کے خلاف کوفہ کے لوگوں نے خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں شکایت پیش کی۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے تحقیق کے لئے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ کو بھیجا،تو صرف ایک شخص نے آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف جھوٹی گواہی دی،جس کی وجہ سے دنیا میں وہ لوگوں کے لئے ”سامانِ عبرت“بن گیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔اور صحیح مسلم میںہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ پر لگے الزام کی تحقیق کے لئے ایک شخص(حضرت محمد بن مسلمہ رضی اﷲ عنہ) کو کوفہ بھیجا۔تو پورے کوفہ کے لوگوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ پر لگے الزام کو جھوٹا کہا،اور سب نے آپ رضی اﷲ عنہ کی تعریف کی۔صرف ایک شخص جس کا نام ابو سعدہ قتادہ بن اسامہ تھا ،اُس نے کھڑے ہو کر آپ رضی اﷲ عنہ کے خلاف جھوٹی گواہی دی،اور بولا؛”حضرت سعد رضی اﷲ عنہ برابر تقسیم نہیں کرتے ہیں،اور قضیہ(فیصلہ کرنے میں)میں عدل سے کام نہیں لیتے ہیں،اور لشکر کے ساتھ نہیں جاتے ہیں۔“حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے اُس کے متعلق فرمایا؛”اے اﷲ تعالیٰ!اگر تیرا یہ بندہ شہرت اور ریاکاری کے لئے کھڑا ہوا ہے،تو اِس کی عُمر لمبی کر،اور اِس کے فقر کو ہمیشہ رکھ،اور اِسے فتنوں کا نشانہ بنا۔“پس اُسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی بد دعا لگ گئی،اور وہ بہت بوڑھا ہوگیا۔اور اپنی دونوں آنکھوں سے پپوٹے اُٹھا تا ،اور راستوں میں لڑکیوں کوچھیڑتا تھا،اور انہیں آنکھیں مارتا تھا۔انجان لوگ اُس کے بارے میں پوچھتے تو اُسے جاننے والے لوگ انہیں بتاتے کہ یہ بوڑھا پاگل ہے،اور اِسے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کی بد دعا لگی ہے۔

اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہ کا انتقال

اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا کا انتقال 20 ہجری میں ہوا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد ”اُمہات المومنین“میں سے سب سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہاکا انتقال ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیرلکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ بنو اسد بن خزیمہ سے ہیں۔اُمہات المومنین رضی اﷲ عنہما میںسب سے پہلے وفات پانے والی ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہا کی والدی محترمہ امیمہ بنت عبد المطلب ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہا کا نام ”برہ“تھا،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہا کا نام ”زینب “رکھا۔آپ رضی اﷲ عنہا کی کنیت ”اُم الحکم“تھی،اور آپ رضی اﷲ عنہا کا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نکاح اﷲ تعالیٰ نے کروایا ہے۔اور آپ رضی اﷲ عنہا اِسی وجہ سے دوسری امہات المومنین رضی اﷲعنہما پر فخر کیا کرتی تھیں،اور فرمایا کرتی تھیں؛”تمہار ا نکاح تمہارے گھر والوں نے کیا ہے،اور میرا نکاح اﷲ تعالیٰ نے کیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہا بڑی دین دار ،پرہیز گار،عبادت گذار اور بہت صدقہ و خیرات کرنے والی تھیں۔اور اِسی کی طرف رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے۔کہ” تم میں سے سب سے پہلے مجھ سے وہ ملے گی،جو تم میں سب سے لمبے ہاتھوں والی ہے۔ “یعنی تم میں سے سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کرنے کے لحاظ سے۔آپ رضی اﷲ عنہا بہت ماہر کاریگر عورت تھیں،اور اپنے ہاتھوں سے کام کر کے فقیروںپر صدقہ کر دیا کرتی تھیں۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں؛”میں نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا سے بڑھ کر دین میںبہتر،اﷲ کا خوف رکھنے والی ،راست گفتار،صلہ رحم،امانت دار اور صدقہ کرنے والی عورت نہیں دیکھی ہے۔“آپ رضی اﷲ عنہا اور اُم المومنین سیدہ سودہ رضی اﷲ عنہا نے ”حجتہ الوداع“کے بعد کوئی حج نہیں کیا ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی ازواج ِ مطہرات رضی اﷲ عنہما سے فرمایا تھا؛”یہ حج ہے،پھر رکاوٹ ظاہر ہو گی۔“اور رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی بقیہ ازواج مطہرات رضی اﷲ عنہما حج کو جایا کرتی تھیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے سیدہ زینب بنت جحش رضی اﷲ عنہا کی طرف بارہ ہزار کا وظیفہ بھیجا،جو آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنے عزیزو اقارب میں خیرات کر دیا۔آپ رضی ا ﷲ عنہا کا نتقال ۰۲ ہجری میں ہوا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی،اور جنت البقیع میں آپ رضی اﷲ عنہا کو دفن کیا گیا۔

حضرت اُسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت اُسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ انصار میں سے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت اُسید بن حضیر بن سماک انصاری اشہلی رضی اﷲ عنہ انصار کے قبیلہ بنو اوس کی شاخ بنو عبد الاشہل سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو یحییٰ “ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ انصار کے بڑے سردار تھے،اور دوسرے بڑے سردار حضرت سعد بن مُعاذ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ حضرت مُصعب بن عُمیر رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔اور ”بیعت عقبہ ثانیہ“میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو بارہ نقیبوں میں ایک نقیب بنایا تھا۔آپ کو ”حضیر الکتائب“ کہا جاتا تھا۔جامع ترمذی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کیا ہی اچھے آدمی ہیں،عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کیا ہی اچھے آدمی ہیں،اُسید بن حضیر رضی اﷲ عنہ کیا ہی اچھے آدمی ہیں۔“آپ رضی ا ﷲ عنہ نے ۰۲ ہجری میں مدینۂ منورہ میں وفات پائی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جنازے کو کندھا دیا،اور نماز جنازہ پڑھائی،اور جنت البقیع میں دفن کیا۔

حضرت بلال بن ابی رباح رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت بلال بن رباح رضی اﷲ عنہ کا انتقال 20 ہجری میں ہوا۔آپ رضی اﷲ عنہ سچے عاشق ِرسول تھے،مکہ¿ مکرمہ کے ایک سردار کے غلام تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب اعلان ِ نبوت فرمایا،اور قریش کو اسلامی دعوت دینے لگے۔اُس وقت جب حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کا مالک انہیں کسی کام سے بھیجتا تھا،تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس جگہ پہنچ جاتے تھے،جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قریش کو اسلام کی دعوت دیتے رہتے تھے،اور خاموشی سے دور کھڑے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دیکھتے رہتے تھے۔جب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے گھر چلے جاتے تھے،تو آپ رضی اﷲ عنہ بھی کام کر کے واپس آتے تھے،اور دیر ہونے کی وجہ سے اُن کا مالک انہیں روز مارتا تھا۔ایک دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ سے رک کر حال چال پوچھا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا،اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہدایت کی کہ اپنے اسلام کو ابھی چھپائے رکھو۔کافی دنوں تک آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے اسلام کو چھپائے رکھا۔لیکن کچھ ایسے حالات ہوئے کہ اُن کے مالک کو پتہ چل گیا۔پھر تو وہ آپ رضی اﷲ عنہ پر بہت ظلم کرنے لگا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کو حضرت بلال بن حمامہ بھی کہا جاتا تھا،”حمامہ“آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام ہے۔آپ رضی ا ﷲعنہ نے بہت پہلے اسلام قبول کیا،اور اﷲ کی راہ میں بہت عذاب دیئے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی تکلیفیں دیکھ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو خرید کر آذاد کر دیا۔اِس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ ہمیشہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہے،اور ہر غزوہ میں شرکت کی۔مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ ہی اذان دیا کرتے تھے۔کبھی کبھی حضرت ابن اُم مکتوم رضی اﷲ عنہ بھی اذان دیا کرتے تھے۔فتح مکہ کے دن حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے خانہ¿ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دی۔بیت المقدس میں بھی پہلی اذان آپ رضی اﷲ عنہ نے دی ہے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرمایا کرتے تھے؛”حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہمارے سردار ہیں،اور انہوں نے ہمارے سردار حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کو آزاد کروایا ہے۔“(بخاری)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اذان نہیں دی،اور ملک شام جہاد پر چلے گئے۔”فتح بیت المقدس“کے وقت خلیفہ¿ دوم حضر ت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ملک شام تشریف لائے،توانہوں نے نماز کے لئے اذان دینے کی فرمائش کی۔جب حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے اذان دینی شروع کی،تو تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آگیا۔اور سب کے سب رونے لگے،خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ تو پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اﷲ عنہ سے فرمایا؛”میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سنی،مجھے بتاو¿،تم ایسا کون سا کام کرتے ہو کہ تمہیں اﷲ تعالیٰ نے یہ مقام عطا فرمایا ہے؟“ حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم !میں نے جب بھی وضو بنایا ہے،تو دو رکعت نماز ضرور پڑھی ہے۔“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”یہ اِسی وجہ سے ہے۔“مورخین کا بیان ہے کہ حضرت بلال رضی اﷲ عنہ بہت سیاہ(کالے) تھے،لمبے،دبلے پتلے،سر پر گھنے بال تھے،اور تھوڑی سی داڑھی آتی تھی۔امام ابن بکیر کے مطابق آپ رضی ا ﷲ عنہ کا انتقال طاعون عمواس سے 18 ہجری میں دمشق میں ہوا۔امام محمد بن اسحاق اور دوسرے مورخین کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال 20 ہجری میں ہوا۔امام واقدی کے مطابق آپ رضی ا ﷲ عنہ کو باب الضغر میں دفن کیا گیا۔دوسرے مورخین کے مطابق داریا میں انتقال ہوا،اور باب کیسان میں دفن کئے گئے۔بعض کے مطابق دراریا میں دفن کئے گئے۔بعض کے مطابق حلب میں انتقال ہوا۔واﷲ اعلم۔

حضرت سعید بن عامررضی اﷲ عنہ

اِسی سال حضرت سعید بن عامر رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی ا ﷲ عنہ بنو جمح کے سرداران میں سے تھے۔جنگ خیبر میں شامل ہوئے،آپ رضی اﷲ عنہ بہت بڑے زاہد اور عابد تھے۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ملک شام میں ”حمص “کا گورنر بنایا۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو یہ معلوم ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ بہت شدید زخمی ہوئے ہیں،تو ایک ہزار دینار بھیجے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وہ سب صدقہ کردیئے،اور اپنی بیوی سے فرمایا؛”امیر المومنین رضی اﷲ عنہ نے یہ دینار اِس لئے بھیجے کہ میں اسے تجارت میں لگاو¿ں،اب اِس سے بہترین تجارت کیا ہو سکتی ہے کہ اِسے اﷲ کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔“قیساریہ کی فتح میں ایک دستے کے کمانڈر آپ رضی اﷲ عنہ تھے۔

حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت عیاض بن غنم رضی ا ﷲ عنہ کا انتقال 20 ہجری میں ہوا۔خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ایک طرف سے ملک عراق میں داخل ہونے کا حکم دیا تھا،اور حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو دوسری طرف سے ملک عراق میں داخل ہونے کا حکم دیاتھا۔تب سے آپ رضی ا ﷲ عنہ ملک عراق میں مسلسل حالت ِ جنگ میں رہے،یہاں تک کہ ”الجزیرہ“(یہ ملک شام اور ملک عراق کی سرحد پر ہے)کو فتح کیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عیاض بن غنم فہری رضی اﷲ عنہ اولین مہاجرین میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو سعد“ہے۔ رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ¿ بدر اور اس کے بعد کے غزوات میں بھی شامل ہوئے۔آپ رضی ا ﷲ بہت ہی فیاض ،سخی ،اور شجاع تھے،اور ”الجزیرہ“آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی فتح کیا ہے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ ہی وہ پہلے سخص ہیں،جو جنگ کرتے ہوئے رومیوں کے بڑے دروازے سے گزر گئے۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ طاعون سے بیمار ہونے کے بعد حضرت عیاض بن غنم رضی ا ﷲ عنہ کو ملک شام میں اپنا نائب بنایا تھا۔خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو اِس عہدے پر قائم رکھا،یہاں تک کہ ۰۲ ہجری میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کا انتقال ہو گیا۔

حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ عنہ کا انتقال

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سب سے بڑے چچا حارث کے بیٹے حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ عنہ ہیں۔یہ وہ ابو سفیان نہیں ہیں،جو غزوۂ بدر کے وقت قریش کا قافلہ بچا کر لے گیاتھا،وہ ابو سفیان بن حرب ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب جب ”چاہِ زمزم“کھود رہے تھے،تو اُس وقت اُن کے ایک ہی بیٹے حضرت حارث تھے۔اور وہی اپنے والد کی مدد کر رہے تھے،یہ ابو سفیان انہیں کے بیٹے ہیں۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب ”فتح مکہ“کے لئے لشکر لیکر مکہ¿ مکرمہ کی طرف آرہے تھے،تو راستے میں آپ رضی اﷲ عنہ آکر ملے،اور اسلام قبول کیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اﷲ عنہ کا نام ”مغیرہ“ہے۔فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کیا،اور بہت ہی اچھے مسلمان ثابت ہوئے۔اور جب فتح مکہ کے لئے آتے ہوئے رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے چہرہ¿ مبارک پھیر لیا۔یہ دیکھ کر آپ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”اﷲ کی قسم !اگر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھے معاف نہیں کیا،تو میں اپنے اِس چھوٹے سے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر چلا جاو¿ں گا،اور کہاں جاو¿ں گا،یہ مجھے بھی معلوم نہیں ہے۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو آپ رضی ا ﷲ عنہ پر محبت اور ترس آگیا،اور معاف فرما دیا۔اِسکے بعد آپ رضی اﷲ عنہ غزوۂ حنین میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خچر کی لگام شروع سے آخر تک پکڑے رہے،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُن سے بہت محبت فرماتے تھے،اور فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اُمید ہے کہ یہ حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی کمی کو محسوس نہیں ہونے دیں گے۔مورخین کہتے ہیں کہ آپ رضی اﷲ عنہ حج کے لئے گئے،اور جب آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنا سرمنڈوایا،تو حجام کی غلطی سے آپ رضی اﷲ عنہ کے سر میں ایک مسہ تھا،وہ کٹ گیا۔جس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ کمزور ہوتے گئے،اور جب مدینہ¿ منورہ آئے ،تو انتقال ہو گیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے آپ رضی اﷲ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پھوپھی کا انتقال

رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی پھو پھی سیدہ صفیہ بنت عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کا انتقال ۰۲ ہجری میں ہوا۔آپ رضی اﷲ عنہا ،حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کی والدہ ہیں۔اور حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اﷲ عنہ کی سگی بہن ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہا کی والدہ کا نام ہالہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ ہے۔آپ رضی اﷲ عنہا مہاجر صحابیات میں سے ہیں،غزوہ¿ اُحد میں شریک ہوئیں،اور زخمیوں کو پانی پلایا،اور مرہم پٹی کی۔غزوہ¿ خندق میں تمام مسلمان عورتوں کی حفاظت کی،اور ایک یہودی کو قتل کیا۔آپ رضی اﷲ عنہا وہ پہلی خاتون ہیں،جس نے اﷲ کے لئے کسی مشرک کا قتل کیا۔تہتر(73)سال کی عُمر میں آپ رضی اﷲ عنہا کا 20 ہجری میں انتقال ہوا۔اور جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

حضرت عویم بن ساعدہ رضی اﷲ عنہ کا انتقال

حضرت عویم بن ساعدہ رضی اﷲ عنہ انصار کے اولین اسلام قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ”بیعت عقبہ اولیٰ“اور ”بیعت عقبہ ثانیہ“دونوں میں شامل رہے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ سب معرکوں میں شامل رہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ہی سب سے پہلے پانی سے استنجا کیا۔

21 ہجری

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے تمام مملکت اسلامیہ کو صوبوں میں تقسیم کیا،اور پوری مملکت کے نقشے بنوائے۔اُن کی شاہراہیں بنوائیں،ڈاک کانظام بنایا،تمام علاقوں پر اپنے گورنر مقرر فرمائے۔اور انہوں نے بہت اچھی طرح سے تمام انتظامات سنبھالے۔ 21  ہجری میں کئی اہم واقعات ہوئے،جن میں چند کا ذکر ہم یہاں کر رہے ہیں۔ 21 ہجری میں جنگ نہاوند ہوئی۔علامہ طبری،امام محمد بن اسحاق اور علامہ ابن کثیر کے مطابق جنگ نہاوند 21 ہجری میں ہوئی۔امام ابو معشر اور امام واقدی بھی یہی کہتے ہیں۔امام سیف کہتے ہیں 18 ہجری میں ہوئی۔

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی درخواست

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ملک عراق کا سب سے بڑا ”منتظم اعلیٰ“بنایا تھا۔حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ”کسکر “کا حاکم بنا دیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔انہوں نے خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تحریر کیا؛”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے مجھے کسکر کا حاکم بنادیا ہے،اور خراج وصول کرنے پر لگا دیا ہے،جبکہ میں جہاد میں شریک ہونا زیادہ پسند کرتا ہوں۔“خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو تحریر کیا ؛”حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ جہاد پر جانا چاہتے ہیں،اِس لئے تم انہیںنہاوند کی اہم جنگ پر روانہ کر دو۔“نہاوند کے مقام پر اہل عجم کا ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا تھا، اور اُن کا سپہ سالار ذوالحاجب تھا۔

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو ہدایات

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو بلا کر لشکر دیا۔اور خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ نے ایک خط حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے نام بھی بھیجاتھا،وہ خط بھی دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو یہ خط لکھا؛”امابعد!تم پر سلامتی ہو،میں اﷲ کی تعریف کرتا ہوں،جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔بعد حمد و ثناءکے واضح کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ اہل عجم کا ایک بڑا لشکر تمہارے مقابلے کے لئے” نہاوندشہر“میں جمع ہو گیا ہے۔جب تمہیں میرا یہ خط ملے،تو تم اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور اُس کی تائید و معونت کے ساتھ مسلمانوں کے لشکر کو لیکر روانہ ہو جاﺅ۔اور انہیں دشوار گذار راستے سے مت لے جانا،جس سے انہیں تکلیف ہو۔اور اُن کی حق تلفی نہیں کرنا،اور انہیں دلدلی راستے سے بھی نہیں لے جانا،کیونکہ مسلمانوں کا ایک ایک فرد میرے لئے ایک لاکھ دینار سے بھی زیادہ عزیز ہے۔والسلام“حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے جس لشکر کو لیکر روانہ ہوئے،اُس میں صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم بھی تھے۔اِن میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ،حضرت عبد اﷲ بن عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ،حضرت جریر بن عبد اﷲ بجلی رضی اﷲ عنہ،حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ،حضرت عمرو بن معدی کرب رضی اﷲ عنہ ،اور حضرت قیس بن مکثوح رضی اﷲ عنہ کے نام قابل ذکر ہیں۔اور حضرت طلیحہ بن خویلد اسدی بھی تھے،جنہوں نے جنگ قادسیہ سے پہلے کارنامے انجام دیئے تھے۔اور جنگ قادسیہ میں بھی بہادری سے لڑے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ کوفہ کے مجاہدین کے کمانڈر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ تھے۔اور بصرہ کے مجاہدین کے کمانڈر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ تھے۔

نہاوند میں فارسیوں کا اجتماع

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو اطلاع ملی تھی کہ نہاوند میں اہل فارس ایک بہت بڑا لشکر جمع کر رہے ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ایرانی(فارسی)ہر عمیق راستہ سے نہاوند میں جمع ہو گئے،حتیٰ کہ اُن کے ڈیڑھ لاکھ جانباز جمع ہو گئے۔ اور اُن کا سپہ سالار فیرزان تھا،اس کے نام بندار، اور ذوالحاجب بھی بیان کئے جاتے ہیں۔اور فارسیوںنے ایک دوسرے کو ملامت کی،اور کہنے لگے کہ محمد(صلی اﷲ علیہ وسلم)جو ملک عرب میں آئے،وہ ہمارے ملک کے درپے نہیں ہوئے۔اور اُن کے بعد کھڑے ہونے والے ابوبکر(صدیق رضی اﷲ عنہ)نے ہمارے دارالخلافہ سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی۔اور عُمر بن خطاب نے اپنی حکومت کے طویل کی وجہ سے ہماری بے حرمتی کی ہے،اور ہمارے ملک پر قبضہ کر لیا ہے۔اور وہ تم کو تمہارے ملک سے نکالے بغیر باز نہیں آئے گا۔پس انہوں نے آپس میں عہد و پیمان کئے،کہ ہم بصرہ اور کوفہ جائیں گے،اور عُمر بن خطاب کو اپنے ملک سے غافل کر دیں گے۔اور انہوں نے اپنے دلوں میں ٹھان لی،اور اپنے اوپر واجب کر لی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اہواز کی فتح ہونے کے بعد کسریٰ یزد گرد ”مرو“میں جاکر مقیم ہو گیا۔اور اُس نے باب،حلوان،طبرستان،جرجان،سند،خراسان،اصفہان اور ہمدان کے حاکموں کو خطوط لکھے،اور مسلمانوں کے خلاف مدد طلب کی۔چاروں طرف سے دفعتہ قومی جوش پھیل گیا،اور ڈیڑھ لاکھ کا ٹڈی دل لشکر نہاوند میں فیرزان کے پاس جمع ہو گیا۔

دونوں لشکر آمنے سامنے

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے ساتھ نہاوند میں فارسیوں کے مقابلے آئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ہر اول(مقدمة الجیش) پر آپ رضی اﷲ عنہ خود تھے، میمنہ (دائیں بازو)پر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو رکھا۔میسرہ(بائیں بازو)پر اپنے بھائی حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا،سواروں کا کمانڈر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔اور ساقہ پر حضرت مجاشع بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو رکھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فیرزان فارسی لشکر کا سپہ سالار تھا،اور اُس کے ساتھ شاہی جھنڈا ”درفش کاویانی“تھا،جس کو فارسی فتح و ظفر کی نیک فال سمجھتے تھے۔اِس کے لشکر کے میمنہ پر زروق تھا،میسرہ پر بہمن جازویہ تھا۔اِس جنگ میں فارسیوں (ایرانیوں) کے وہ سردار بھی شریک تھے،جو جنگ قادسیہ سے بھاگ کر اِدھر اُدھر جان بچاتے پھر رہے تھے۔

جنگ نہاوند

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ جب لشکر لیکر نہاوند پہنچے،تو فارسیوں نے شہر پناہ کے اطراف خندق کھود رکھی تھی،اور آس پاس لوہے کے کانٹے ڈال دیئے تھے۔مسلمانوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت نعمان بن مقرن رضی ا ﷲ عنہ نے مسلمان کمانڈروں سے مشورہ کیا،اور یہ طے پایا کہ جنگ چھیڑ دی جائے۔بدھ کے دن، دن بھر جنگ ہوتی رہی،جمعرات کو بھی دن بھر جنگ ہوتی رہی،لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔جمعہ کے دن لڑائی تو نہیں ہوئی،لیکن مسلمان کئی دن تک فارسیوں کا اُن کی خندقوں میں محاصرہ کئے رہے۔فارسیوں نے جنگ چھیڑنے سے پہلے میدان جنگ میں لوہے کے کانٹے بچھا دیئے تھے۔جس کی وجہ سے مسلمان آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔حضرت نعمان بن مقرن رضی ا ﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں کو مشورہ کے لئے اپنے خیمے میں بلایا۔

مسلمانوں کی چالاکی

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے مسلمان کمانڈروں کو مشورے کے لئے اپنے خیمے میں جمع کیا،اور اُن سے اگلے قدم کے بارے میں مشورہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر نہاوند پہنچے ،تو فارسیوں نے لوہے کے کانٹے ڈال دیئے تھے۔جب انہوں نے اپنے مخبروں کو بھیجا،تو انہیں لوہے کے کانٹوں کا علم نہیں تھا۔اِس لئے چلتے وقت جب انہوں نے گھوڑوں کو ہنکایا،تو اُن کے پاو¿ں میں لوہے کے کانٹے چبھ گئے،اور وہ ٹھہر گئے۔انہوں نے اُتر کر دیکھا تو گھوڑوں کے پیروں میں لوہے کے کانٹے چبھے ہوئے تھے۔لہٰذا وہ مخبر حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی حاضر ہوئے،اور تمام کانٹوں کے بارے میں بتایا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے اِس بارے میں مشورہ کیا،تو انہوں نے کہا؛”ہم اِس مقام سے دوسری جگہ منتقل ہو جائیں۔تاکہ وہ یہ خیال کریں کہ ہم اُن سے بھاگ کر چلے گئے ہیں،اِس طرح وہ ہمار ے تعاقب میں باہر نکلیں گے۔“حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اِس مشورے پر عمل کیا،اور اپنے لشکر کو لیکر دوسری جگہ منتقل ہو گئے۔جب اہل عجم(فارسیوں ) کو اِس بات کا علم ہوا تو انہوں نے لوہے کے کانٹوں کو صاف کر کے ہٹا دیا۔پھر اُن کے تعاقب میں نکل آئے۔

سپہ سالار کی اطاعت

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ اور مسلمان مجاہدین چالاکی سے فارسیوں کو اپنی من پسند جگہ لے آئے،لیکن اِس کی انہیں قیمت چکانی پڑی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت نعمان بن مقرن رضی ا ﷲ عنہ نے سرداران ِ لشکر اسلام کو اپنے خیمے میں مشورے کے لئے بلایا۔ہر ایک نے الگ الگ مشورے دیئے۔اور آخر میں یہ طے ہوا کہ فارسیوں کو شہر اور خندقوں سے باہر نکالا جائے۔اور حضرت طلیحہ اسدی کے مشورے کے مطابق تین حصہ اسلامی لشکر کو شہر نہاوند سے چھ سات میل دور لے جا کر صف بندی کر لی گئی۔اور ایک چوتھائی لشکر حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو دیا گیا،جو محاصرہ کئے ہوئے تھے۔یہ تمام کاروائی رات کے اندھیرے میں کی گئی،اور صبح ہوتے ہی حضرت قعقاع بن عمرو رضی ا ﷲ عنہ نے فارسیوں پر حملہ کر دیا،اور پھر منصوبے کے مطابق مجاہدین کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا۔فارسیوں کو تین حصہ اسلامی لشکر کم ہونے کا بالکل اندازہ نہیں ہوا۔اور جب انہوں نے مسلمانوں کو پیچھے ہٹتے دیکھا،تو تمام سپاہی شہر اور خندقوں سے باہر آنے لگے۔فارسی بڑے جوش و استقلال کے ساتھ مقابلہ کو نکلے،اوراِس کا بھی انتظام کیا کہ کوئی شخص پیچھے نہ ہٹے ،اور نہ ہی میدان جنگ سے بھاگے۔ اور اپنے لشکر کو چاروں طرف سے لوہے کی زنجیروںسے باندھ دیا،اور جس قدر آگے بڑھتے تھے،تو پیچھے لوہے کے کانٹے بچھا دیتے تھے۔حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے تھوڑی دیر لڑنے کے بعد اپنی رکاب کے لشکر کو سنبھالتے ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع کیا۔اور فارسی کامیابی کے جوش میں بڑھتے چلے آئے،یہاں تک کہ اُن کا آخری سپاہی بھی خندقوں سے باہر آگیا۔مسلمانوں کے تین حصہ لشکر نے فارسیوں کو ذد میں دیکھا،تو حملہ کرنا چاہا،لیکن حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے روک دیا۔مسلمانوںکے صبرو تحمل کا یہ حال تھا کہ فارسیوں کے تیر کا نشانہ بنتے جاتے تھے،اور مسلمان مجاہدین کام آ رہے تھے۔لیکن سپہ سالار کی اطاعت یہ تھی کہ کسی کے ہاتھ کو حملہ کی نیت سے ذرا بھی حرکت نہیں ہوتی تھی۔ 

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی شہادت

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو حملہ کرنے سے روک دیا تھا۔یہ جمعہ کا دن تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ سورج کے ڈھلنے کا انتظار کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔دراصل حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کر رہے تھے۔اور اُس وقت کا انتظار کر رہے تھے،جس وقت میںرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو جہاد کا آغاز کرنا زیادہ پسند تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِس دوران حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے،اور مسلمانوں کے سامنے تقریر فرمائی۔پہلے مجاہدین کو جوش دلایا،پھر اپنے لئے شہادت کی دعا کی،اور مجاہدین سے فرمایا؛”میری پہلی تکبیر پر تم لوگ مسلح اور جنگ پر آمادہ ہو جانا،اور دوسری تکبیر پر تلواریں نیام سے نکال کر حملے کے لئے تیار ہو جانا۔اور جب میں تیسری تکبیر کا نعرہ بلند کروں تو تم بھی تکبیر کے نعرے بلند کر کے حملہ کر دینا۔“اِس ہدایت کے مطابق زوال ِ آفتاب کے بعد حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی تیسری تکبیر پر مجاہدین نے بھی نعرہ¿ تکبیر بلند کر کے دفعتہ حملہ کر دیا،اور اِس بے جگری سے لڑے کہ عجمی(فارسی،ایرانی)لشکر شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگ نکلا۔کشتوں کے پُشتے لگ گئے،سوائے آہ و زاری یا مسلمان بہادروں کی تلوار کی جھنکار کے اور کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی۔یا کبھی کبھی کانوں میں”اﷲ اکبر“کی صدا آجاتی تھی ،جس سے سارا میدان جنگ گونج اُٹھتا تھا۔میدان جنگ میں اتنا خون بہا کہ چلنے والوں کے پاو¿ں پھسل جاتے تھے۔حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کا گھوڑا بھی پھسل کر گرا،اور ساتھ ہی خود بھی گرے۔آپ رضی اﷲ عنہ زخموں سے چور چور تھے،بعض کے مطابق حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ تیر کھا کر گرے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اپنے بھائی کے گرتے ہی جھپٹ کر جھنڈا ہاتھ میں لے لیا،اور اُن کے کپڑے پہن کر لڑنے لگے۔

فتح نہاوند

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ شہید ہو چکے تھے،اگر مسلمانوں کو اُن کی شہادت کی خبر ہو جاتی تو اُن کے حوصلے ٹوٹ سکتے تھے۔اِسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ اُن کے کپڑے پہن کر لڑنے لگے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ کی اِس تدبیر سے حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے شہید ہونے کا حال عام طور سے معلوم نہیں ہو سکا،اور جنگ بد ستور جاری رہی۔اِس عرصہ میں رات ہو گئی ،اور جو فارسی جان پر کھیل کر لڑ رہے تھے،وہ بھی اب ایسے گھبرا کر بھاگے کہ راستہ بھول گئے۔اور لوہے کے کانٹوں سے زخمی ہو کر سینکڑوں ہزاروں مر گئے۔اِس جنگ میں ایک لاکھ فارسی مارے گئے،جن میں سے تیس ہزار میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔اور ستر ہزار لوہے کے کانٹوں سے مرے۔فیرزان ہمدان کی طرف بھاگا،اور حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُس کا تعاقب کیا۔اور درہ کے قریب پہنچ کر فیرزان پیدل ہوکر پہاڑ پر چڑھ گیا۔لیکن حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ سے پہلے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ فارسی لشکر کے تعاقب میں پہلے ہی درہ میں پہنچ چکے تھے۔اسی لئے ایک چھوٹا سا معرکہ فارسیوں سے اِس مقام پر ہوا،اور جو بچ گئے،وہ جان بچا کر ہمدان میں داخل ہو گئے۔

فیرزان کا قتل

پہاڑ کے درّے میں ہوئے معرکے میں فیرزان بھی قتل ہوگیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔فیرزان بچ نکلا،اور بھگوڑی فوج کے ساتھ ہمدان کی طرف بھاگا۔حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے اُس کا تعاقب کیا،اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے آگے بڑھکر ہمدان کی گھاٹی میں جا پکڑا۔اُس وقت وہ گھاٹی اُن خچروں اور گدھوں کی وجہ سے مسدود ہو گئی تھی،جن پر شہد لدا ہوا تھا۔ان کی وجہ سے وہ اس گھاٹی میں رک گیا،تو حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ نے اُسے پکڑ کر اُسی گھاٹی میں مار ڈالا۔اُس وقت مسلمانوں نے کہا؛”اﷲ تعالیٰ نے شہد کی شکل میں (اپنا غیبی)لشکر بھیجا ہے۔“اِس کے بعد وہ شہد اور اس کے ساتھ کے تمام سازو سامان کو اپنے ساتھ لے گئے۔اِس واقعہ کی وجہ سے یہ گھاٹی”ثنیة العسل“کہلانے لگی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

30 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ Khilafat e Rashida 2


30 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی 

قسط نمبر 30

ہمدان کی فتح، جواہرات کا خزانہ، دینار کی صلح، حضرت حذیفہ بن یمان رضی ا ﷲ عنہ کے انتظامات، کوفہ کے حکام، ہرمزان سے مشورہ، حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان،اصفہان کے سپہ سالار، اصفہان کی طرف روانگی، اصفہان کی پہلی فتح، اصفہان کی دوسری فتح، حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کی آمد اور نئی ہدایات، حضرت مغیرہ بن شعبہ کوفہ کے گورنر(حاکم)، 21 ھجری کے متفرق واقعات، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال، سیف اﷲ(اﷲ کی تلوار)، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا افسوس، حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی وصیت، حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عن کا خراج عقیدت


ہمدان کی فتح

حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہ اور حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲ عنہ میدانِ جنگ سے بھاگتے ہوئے فارسیوں کا تعاقب کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔شکست خوردہ لشکر بھاگتا ہوا شہر ہمدان پہنچ گیا۔وہاں کا حکمراں خسرو شنوم تھا۔مسلمان بھگوڑے فارسیوں کا پیچھا کرتے ہوئے ہمدان میں داخل ہو گئے،اور آس پاس کی چیزوں پر قبضہ کر لیا۔جب خسرو شنوم نے یہ حالت دیکھی ،تو اُس نے صلح و امن کی درخواست کی۔اوراُس نے یہ تسلیم کر لیا کہ وہ ہمدان اور دستبی کے مقامات کا جزیہ مسلمانوں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔مسلمانوں نے اُس کی پیش کش کو قبول کر لیا،اور انہیں پناہ دے دی گئی،اِن میں بھگوڑے فوجی بھی شامل تھے۔

جواہرات کا خزانہ

حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نے یہ وصیت پہلے ہی کر دی تھی کہ اگر میں شہید ہو جاو¿ں ،تو میری جگہ مسلمانوں کے سپہ سالار حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو بنا دینا۔اِسی لئے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا دیا گیا۔اور فتح حاصل ہونے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر نہاوند میں داخل ہوئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جنگ نہاوند میں فارسیوں کی شکست مسلمان نہاوند شہر میں داخل ہوئے،اور جو کچھ اُس کے اندر تھا،اور جو کچھ اُس کے ارد گرد تھا،سب پر قبضہ کر لیا۔انہوں نے تمام سامان مال غنیمت کے افسر حضرت سائب بن اقرع رضی اﷲ عنہ کے پاس لا کر جمع کرا دیا۔اِس کے بعد تمام مسلمان مجاہدین اپنے اُن بھائیوں کا نتظار کرنے لگے،جو بھگوڑے فارسیوں کے تعاقب میں ہمدان گئے تھے،کہ کیا خبر لاتے ہیں۔اتنے میں آتش کدہ(فارسی یعنی ایرانی آگ کی پوجا کرتے تھے،اور ہر شہر میں انہوں نے ایک آتش کدہ بنایا ہوا تھا،جسے وہ ہر وقت جلائے رکھتے تھے۔اور اِس کے لئے وہ آدمیوں کی ڈیوٹیاں لگاتے تھے،اور اُن کا ایک بڑا منتظم اعلیٰ ہو تا تھا۔)کا منتظم اعلیٰ پناہ کے ارادے سے آیا،اُسے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچایا گیا،تو وہ بولا؛”کیا آپ (رضی اﷲ عنہ)مجھے اِس شرط پر پناہ دیں گے کہ کہ آپ کو اہم معلومات سے مطلع کروں؟“حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے اُسے پناہ دے دی ،تو اُس نے کہا؛”نخیر جان نے میرے پاس کسریٰ (فارس کا بادشاہ)کا خزانہ رکھوایاتھا،میں اسے نکال کر آپ لوگوں کو دوں گا،بشرطیکہ آپ مجھے پناہ دیں،اور اُن لوگوں کو بھی پناہ دیں ،جنہیں میں چاہوں۔“حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے اُس کی شرط مان لی،تو اُس نے کسریٰ کا خزانہ نکال کر دیا۔یہ اُن جواہرات پر مشتمل تھا،جو حادث زمانہ کے موقع کے لئے جمع کئے گئے تھے۔جب مسلمانوں نے اِسے دیکھا تو یہ طے کیا کہ یہ تمام جواہرات خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں مال غنیمت کے خمس کے ساتھ بھیج دیئے جائیں۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کی تقسیم کی،اور خمس نکالنے کے بعد ہر سوار کے حصے میں چھ ہزار اور ہر پیدل کے حصے میں دو ہزار آئے۔مال غنیمت کا خمس اور جواہرات کے ڈبے،اور فتح کی خوش خبری امیر المومنین رضی ا ﷲ کو دی گئی،آپ رضی اﷲ عنہ نے جواہرات کے ڈبے واپس کردیئے،اور حکم دیا کہ قاعدے کے مطابق اسے بھی مجاہدین میں خمس نکال کر تقسیم کرو۔

دینار کی صلح

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نہاوند میں ہی مقیم تھے،اور انہوں نے حضرت قعقاع بن عمرورضی اﷲ عنہ اور حضرت نعیم بن مقرن رضی اﷲعنہ کو ہمدان کے انتظامت سنبھالنے کے لئے وہیں بھیج دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب اہل ماہین کو یہ اطلاع ملی کہ مسلمانوں کا ہمدان پر قبضہ ہو گیا ہے۔اور حضرت نعیم بن مقرن اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اﷲ عنہم دونوں وہاں رہنے لگے ہیں۔تو انہوں نے بھی خسرو شنوم کے طرز عمل پر صلح کرنے کی درخواست حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیجی،جو انہوں نے قبول کر لی۔سب نے متفقہ طور پر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے پاس آنے کا ارادہ کیا،تو دینار جو کم درجے کا فارسی بادشاہ تھا،اُس نے اپنے سے اعلیٰ درجے کے بادشاہوں سے کہا کہ تم مسلمانوں سے اعلیٰ درجے کے لباس میں ملاقات نہ کرو،بلکہ معمولی لباس میں چلو،انہوں نے ایسا ہی کیا۔جبکہ خود دینار نے اعلیٰ درجے کا لباس پہنا،اِسی لئے مسلمانوں نے اسے فارسیوں کا بڑا سردار سمجھا،اور اُس سے صلح کر لی۔اِس وجہ سے اِس مقام کا نام ماہ دینار پڑ گیا۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی ا ﷲ عنہ کے انتظامات

نہاوند کی فتح کے بعد مسلمان ابھی وہیں مقیم تھے،اور آس پاس کے علاقوں                                                 کے حکمراں مسلمانوں کے پاس آکر صلح اور امان حاصل کر رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کی تقسیم میں اُن مسلمانوںکا بھی حصہ لگایا،جو مرج القلعہ میں رہ گئے تھے۔اور اُن کا بھی حصہ لگایا جو غضی درخت کے پاس مقیم تھے۔اِس کے علاوہ جو فوجی چھاونیوں پر مقرر مسلمان تھے،اُن کا بھی مال غنیمت میں حصہ لگایا۔کیونکہ یہ لوگ مسلمان لشکر کی امداد کے لئے متعین تھے،تاکہ دشمن کسی اور راستے سے مسلمانوں پر حملہ نہ کر دے ۔ نہاوند کے قیدیوں میں ابولولواةفیروز بھی تھا،جسے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ نے خریدا تھا۔اِسی نے آگے چل کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ شہید کیا تھا۔

کوفہ کے حکام

جب حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ نہاوند کے لئے لشکر لیکر روانہ ہوئے،تو اُس وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کوفہ کے حاکم(گورنر ) تھے۔پھر انہوں نے اپنے نائب حضرت عبد اﷲ بن عبد اﷲ بن عتبان کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ابھی جنگ نہاوند چل رہی تھی کہ حضرت عبداﷲ بن عبد اﷲ بن عتبان کو دوسرے محاذ پر لشکر دے کر بھیج دیا گیا،اور اُن کی جگہ حضرت زیاد بن حنظلہ کو کوفہ کا گورنر(حاکم) بنادیا گیا۔حضرت زیاد بن حنظلہ بار بار خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے درخواست کرتے تھے کہ انہیں کوفہ کی گورنری سے ہٹا کر میدان جنگ میں بھیجیں۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اُن کی درخواست قبول کی،اور اُن کی جگہ حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنا کر بھیجا۔اور اہل بصرہ کی امداد کے لئے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان کو لشکر دیکر بھیجا۔اور اہل کوفہ کی امداد کے لئے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیجا،اور اُن کی جگہ حضرت عُمر بن سراقہ کو بصرہ کا گورنر بنایا۔

ہرمزان سے مشورہ

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے جب سلطنت فارس میں آگے پیش قدمی کرنے کا حکم دینے کا ارادہ فرمایا،تو پہلے ہرمزان سے مشورہ کیا۔کیونکہ وہ وہیں کا رہنے والا تھا،اور کافی دنوں تک حکمراں بھی رہا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ہرمزان سے مشورہ کے طور پر دریافت فرمایا؛”تمہاری کیا رائے ہے،میں حملے کاآغاز فارس سے کروں،یا آذربائیجان سے یا اصفہان سے آغازکروں؟“ہرمزان بولا؛”فارس اور آذربائیجان سلطنت فارس کے بازو ہیں،اور اصفہان سر ہے۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ ایک بازو کاٹیں گے،تو دوسرا بازو کھڑا ہو جائے گا۔لیکن اگر سر کاٹ دیں گے،تو دونوں بازو گر جائیں گے،اِس لئے آپ رضی اﷲ عنہ سر سے حملے کا آغاز کریں۔“

حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان،اصفہان کے سپہ سالار

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اصفہان کی طرف ایک لشکر بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عبداﷲ عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ کوایک جھنڈا دیا ،اور لشکر کا سپہ سالار بنا کر حکم دیا کہ وہ اصفہان جائیں۔آپ رضی اﷲ عنہ اشراف صحابہ میں سے بہت بہادر اور دلیر انسان تھے۔اور انصار کے ایک معزز فرد تھے،اور قبیلہ بنو اسد کے حلیف تھے۔اُن کی مدد کے لئے بصرہ سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی ا ﷲ عنہ کو بھیجا گیا،اور اُن کی جگہ بصرہ کا گورنر حضرت عُمر بن سراقہ کو بنایا گیا۔جب حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو فتح نہاوند کی اطلاع ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فیصلہ کیا کہ وہ مسلمانوں کوپیش قدمی کی اجازت دیں۔اِسی لئے انہوں نے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ کو تحریر فرمایا؛”تم کوفہ سے روانہ ہوکر مدائن میں قیام کرو،اور لوگوں کو جہاد کے لئے بلاو¿،لیکن اُن کا نتخاب نہ کرو،بلکہ اِس کے بارے میں مجھے لکھو۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ انہیں اصفہان بھیجنا چاہتے تھے۔لہٰذا دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ حضرت عبدﷲ بن ورقا ریاحی اور حضرت عبداﷲ بن ورقا اسدی بھی ساتھ جانے کو تیار ہو گئے۔

اصفہان کی طرف روانگی

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ جب حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر تمہارے پاس آئیں تو تم اپنا لشکر انہیں دیکر تم دریائے دجلہ کے سیراب کردہ علاقے میں چلے جانا،اور وہاں کاا نتظام سنبھال لینا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عبدا ﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے ،تو انہوں نے اپنا لشکر بھی حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ کے حوالے کیا،اور اپنے مقرر کردہ علاقے کی طرف چلے گئے۔حضرت عبدا ﷲ بن عبداﷲ اپنے لشکر کے ساتھ پہلے والا لشکر بھی لیکر نہاوند سے اصفہان کی طرف روانہ ہوئے۔مسلمانوں سے مقابلے کے لئے اہل اصفہان کا ایک لشکر تیار تھا،جو استبدار کی زیر قیادت تھا۔اور اِسکے ہر اول (مقدمة الجیش)کا کمانڈر ایک بوڑھا شخص تھا،جس کا نام شہر بزار جاذویہ تھا،اُس کے ساتھ بہت بڑا لشکر تھا۔

اصفہان کی پہلی فتح

حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو لیکر اصفہان کی طرف بڑھے،تو ایک مقام پر شہربزار جاذویہ کے لشکر سے سامنا ہوا،اور دونوں فریقین نے ایکدوسرے کے سامنے صف بندی کر لی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسلمان اِس آگے کے لشکر(مقدمة الجیش)سے اصفہان کے ایک مقام پر نبرد آزما ہوئے،اور گھمسان کی جنگ ہوئی ۔بوڑھے کمانڈر نے مسلمانوں کو انفرادی مقابلے کی دعوت دی،تو اُس کے مقابلے پر حضرت عبداﷲ بن ورقا نمودار ہوئے،اور تلوار کے ایک ہی وار سے اُس کا سر اُڑا دیا۔یہ دیکھ کر اہل اصفہان کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ شکست کھا کر بھاگے۔مسلمانوں نے اِس علاقے کا نام ”استاق الشیخ“ (بوڑھے کے مرنے کا مقام)رکھا،جو آج تک اسی نام سے موسوم ہے۔حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ نے استبدار کو اسلام قبول کرنے،یا جزیہ دینے یا جنگ کرنے کی دعوت دی،تو اُس نے جزیہ دیکر صلح کرنا منظور کر لیا۔اِس طرح اصفہان کا پہلا ضلع فتح ہو گیا،اور حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ اپنے لشکر کو ”استاق الشیخ“سے لیکر ”جی“کے مقام کی طرف روانہ ہوئے۔

اصفہان کی دوسری فتح

حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو لیکر”جی“ کی طرف روانہ ہوئے۔اصفہان کے بادشاہ ”فاذوسفان“کو مسلمانوں کی پیش قدمی کی اطلاع مل چکی تھی،اِس لئے وہ بھی لشکر لیکر ”جی“کے میدان میں آگیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اُس زمانے میں اصفہان کا بادشاہ فاذوسفان تھا۔آخرکار وہ اپنا لشکر لیکر ”جی“کے مقام پر آگیا۔جب دونوں لشکر ایکدوسرے کے آمنے سامنے ہوئے،تو فاذوسفان نے حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے کہا؛”تم میرے ساتھیوں کو قتل نہ کرو ،اور میں تمہارے ساتھیوں کو قتل نہیں کروں گا،بلکہ تم خود مجھ سے مقابلہ کرنے آو¿۔اگر میں نے تمہیں قتل کر دیا،تو تمہارے ساتھی واپس چلے جائیں گے۔اور اگر تم نے مجھے قتل کر دیا ،تو میرے ساتھی تم سے صلح کر لیں گے۔“حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے چیلنج منظور کرلیا،اور مقابلے پر نکل آئے،اور فرمایا؛”پہلے تم مجھ پر حملہ کروگے یا میں تم پر حملہ کروں؟“اُس نے کہا؛”پہلے میں حملہ کرتا ہوں۔“پھر اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ پر نیزے سے حملہ کیا،جو اُن کے گھوڑے کی زین کے اگلے حصے پر لگا،اور زین ٹوٹ گئی،اور زین پر بیٹھے حضرت عبدا ﷲ بن عبداﷲ گھوڑے سے گرے،لیکن فوراًاُٹھ کر گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر سوار ہوگئے،اور فرمایا؛”اب تم ثابت قدم رہو،اور مقابلہ کرو۔“فاذوسفان بولا؛”میں تم سے جنگ نہیں کرنا چاہتا ہوں،کیونکہ میں نے تمہیں”مرد کامل“دیکھا۔اِس لئے میں تمہارے ساتھ تمہارے لشکر میں چلتا ہوں،اور صلح کر کے شہر تمہارے حوالے کردوں گا،اِس شرط پر کہ جو چاہے یہاں رہے اور جزیہ ادا کرے،اور اُس کا مال محفوظ رہے۔اور یہ بھی شرط ہے کہ تم نے جس کی زمین پر جنگ کر کے قبضہ کر لیا ہے،وہ بھی اِس معاہدہ میں شامل ہوگی،اگر اِس کے مالکان واپس آگئے۔اور جو ہمارے معاہدے میں شامل نہیں ہونا چاہے،تو وہ جہاں چاہے چلا جائے،اور اُس وقت تم اُس کی زمین پر قبضہ کر سکتے ہو۔“حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ نے انہی شرطوں پر صلح کرلی۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کی آمد اور نئی ہدایات

اِدھر اصفہان میں صلح ہو رہی تھی،اور اُدھر خلیفہ¿ دوم رضی اﷲ عنہ کا قاصد نئی ہدایات لیکر چل پڑا تھا،اور وہ اُس وقت پہنچا،جب صلح مکمل ہو چکی تھی۔اور اُسی وقت حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ اہواز کے راستے سے اُن کے پاس اُس وقت پہنچے۔جب فاذوسفان حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ سے صلح کر چکا تھا۔اِس لئے مسلمان وہاں سے روانہ ہو گئے،اور وہاں کے لوگ مسلمانوں کی امان میں آگئے،لیکن تیس لوگ بھگ کر کرمان چلے گئے،جہاں ایک لشکر پہلے سے تیار تھا۔حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہم ”جی“میں داخل ہوئے،جو اصفہان کاایک شہر تھا۔اور انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کا خمس روانہ کیا۔جواب میں امیر المومنین کا خط حضرت عبداﷲ بن عبداﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ کے نام آیا،جس میں حکم تھا؛”تم یہاں سے روانہ ہوجاو¿،اور حضرت سہیل بن عدی کے پاس پہنچو،اور اُن کے ساتھ ملکر کرمان والوں سے جنگ کرو۔”جی“شہر کے باقی ماندہ لوگوں کو چھوڑو،اور اصفہان پر حضرت سائب بن اقرع رضی اﷲ عنہ کو نائب بنا دو۔“

حضرت مغیرہ بن شعبہ کوفہ کے گورنر(حاکم)

21 ہجری میں کوفہ کے کئی گورنر(حاکم) ہوگئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ 21 ہجری میںحضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کوفہ کا گورنر(حاکم)مقرر کیا۔حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو بیت المال کا نگران مقرر کیا۔اور حضرت عثمان بن حنیف کو اراضی کی پیمائش کا افسر مقرر کیا۔اہل کوفہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کے خلاف شکایت کی،تو حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ نے امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو استعفا پیش کردیا۔خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ نے حضرت جبیر بن مطعم رضی ا ﷲ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنایا،لیکن پھر اُن کی جگہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ کو کوفہ کا حاکم (گورنر) بنا دیا۔

21 ھجری کے متفرق واقعات

21 ھجری میں اِن اہم واقعات کے علاوہ بھی کئی واقعات ہوئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ 21 ہجری میں حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے حضرت عقبہ بن نافع رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر روانہ کیا،انہوں نے ذدیلہ اور برقہ کے علاقوں کو صلح کر کے فتح کیا۔۱۲ ہجری میںحضرت عُمیر بن سعید رضی اﷲ عنہ دمشق،حمص،حوران،قنسرین،الجزیرہ کے گورنر(حاکم) تھے۔اور حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی ا ﷲ عنہ بلقائ،اردن،فلسطین،سواحل انطاکیہ،معرةمصرین اور قلقیہ پر گورنر مقرر تھے۔اِس موقع پرحضرت ابوہاشم بن عتبہ نے قلقیہ انطاکیہ اور مصرة مصرین کے علاقوں کو فتح کیا تھا،اور صلح کر لی تھی۔اِسی سال حضرت امام حسن بصری اور امام عامر شعمی پیدا ہوئے۔اِس سال حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حج کرایا،اور مدینۂ منورہ میں حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو نائب بنایا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال

21 ھجری میں ”اﷲ کی تلوار“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیرلکھتے ہیں۔اِس سال حضرت خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبداﷲ ،بن عُمر بن مخزوم بن یقظہ بن مُرہ کا انتقال ہوا۔مُرہ پرآکر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ¿ نسب رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام اسماءبنت حارث ہے۔جو لبابہ بنت حارث اور اُم المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اﷲ عنہا کی بہن ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی کنیت”ابو سلیمان“ہے،آپ رضی اﷲ عنہ کے ایک بیٹے کا نام سلیمان تھا،اُسی کے نام پر کنیت ہے۔

سیف اﷲ(اﷲ کی تلوار)

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اسلام کے عظیم سپہ سالاروں میں سے ایک ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اﷲ کے لئے سو(100)سے زائد جنگوں میں حصہ لیا،اور کسی میں شکست نہیں کھائی ہے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”سیف اﷲ“(ا ﷲ کی تلوار) کا خطاب دیا۔علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے 8 ہجری میں اسلام قبول کیا،اور اسلام کی طرف سے سب سے پہلے ”جنگ موتہ“میں شامل ہوئے۔اور اُس روز تینوں سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد کوئی سپہ سالار نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اپنا سپہ سالار بنالیا۔اُس جنگ میں آپ رضی اﷲ عنہ نے اتنی شدید جنگ کی،کہ جس کی مثال نہیں دیکھی گئی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ سے اُس جنگ میں نو(9)تلواریں ٹوٹی تھیں،اور صرف ایک یمنی چوڑی تلوار آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ میں سلامت رہ سکی تھی۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے جھنڈا لیا،اور شہید ہو گئے۔پھر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے جھنڈا لیا،تو وہ بھی شہید ہو گئے۔پھر حضرت عبد اﷲ بن رواحہ انصاری رضی ا ﷲ عنہ نے جھنڈا لیا،اور وہ بھی شہید ہو گئے۔پھر اﷲ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے جھنڈا لیا،اور اُس کے ہاتھوں پر اﷲ نے فتح عطا فرمائی۔“اور ”مسند احمد“میں حضرت وحشی بن حرب سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو سپہ سالار بنا کر بھیجتے وقت فرمایا؛”میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ ،اﷲ کے کیا ہی اچھے بندے ہیں،اور کیا ہی اچھے بھائی ہیں۔خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ،اﷲ کی تلوروں میں سے ایک تلوار ہیں،جسے اﷲ نے کافروں اور منافقوں پر سونتا ہے۔“

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے مبارک بال اور دعا

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک پیدائشی جنگجو اور سپہ سالار تھے۔مگر یہ حقیقت ہے کہ اُن کے تاریخی کارناموں کے پیچھے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا اور برکت شامل ہے۔جب حج کے موقع پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے بال ترشوائے،تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن میں سے کچھ مبارک بال اُٹھا لئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا؛”اے خالد رضی اﷲ عنہ !یہ کس لئے؟“تو انہوں نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !یہ مبارک بال میرے پاس رہیں گے،تو انشاءاﷲ اِن کی برکت سے میں ہر جنگ میں فتح حاصل کر سکوں گا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”ہاں یہ بال تمہارے پاس رہیں گے،اور میری دعا بھی تمہارے ساتھ رہے گی،اور انشاءاﷲ تم ہر جنگ میں فتح حاصل کر سکو گے۔“علامہ عماد الدین اسماعیل ابن کثیر لکھتے ہیں۔روایت میں ہے کہ جنگ یرموک میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی ٹوپی گر گئی تھی،اور وہ جنگ میں مشغول تھے۔جنگ چھوڑ کر آپ رضی اﷲ عنہ اُس کی تلاش میں لگ گئے،جب اِس کے بارے میں پوچھا گیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اس میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے کچھ مبارک بال ہیں،اور جس جنگ میں وہ ٹوپی میرے ساتھ ہوتی ہے،مجھے اُس میں فتح عطا ہوتی ہے۔“

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا افسوس

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا بستر پر انتقال ہوا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی یہ شدید آرزو تھی کہ وہ میدان جنگ میں شہید ہوں۔لیکن چونکہ آپ رضی ا ﷲ عنہ ”اﷲ کی تلوار “ہیں،اسی لئے دنیا کی ایسی کوئی طاقت نہیں ہے،جو اﷲ کی تلوار کو توڑ سکے یعنی شہید کر سکے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ رو پڑے،اور فرمایا؛”میں فلاں فلاں جنگ میں شامل ہوا،اور میرے جسم میں ایک بالشت جگہ ایسی نہیں ہے،جہاںتلوار کی ضرب یا نیزے اور تیر کی چوٹ نہ لگی ہو۔اور دیکھو،میں اب یہاں ایک بوڑھے اونٹ کی طرح اپنے بستر پر طبعی موت مر رہا ہوں۔پس بزدلوںکی آنکھوں کو راحت نصیب نہ ہو۔“یہ افسوس اُس مجاہد کا ہے،جس کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”سیف اﷲ “کا لقب عطا فرمایا۔انہوں نے سو(۰۰۱) سے زیادہ جنگ میں حصہ لیا،اور کسی بھی جنگ میں شکست نہیں کھائی۔اُن کے نام سے اُس وقت کی دو سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت فارس اور سلطنت روم پر دہشت طاری ہو جایا کرتی تھی۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی وصیت

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے مدینۂ منورہ واپس بلا لیا تھا۔کچھ دن مدینۂ منورہ میں رہنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ سے ملک شام جانے کی اجازت چاہی،جو انہوں نے دے دی۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ”حمص“کے قریب ایک بستی میں جا کر رہنے لگے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے اُس بستی میں وفات پائی،جو ”حمص“سے ایک میل کے فاصلے پر تھی۔اور حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ کو وصیت نافذ کرنے پر مقرر کیا۔اور دحیم وغیرہ کا بیان ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے مدینہ منورہ میں وفات پائی ہے،مگر پہلا قول صحیح ہے۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہونے لگا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”میں نے اُن مقامات پر شہید ہونے کی کوشش کی،جہاں مجھے شہید ہونے کا گمان تھا۔مگر میرے لئے اپنے بستر پرمرنا مقدر تھا،اور لاالٰہ الااﷲ کے بعد میرے اعمال میں سے کوئی چیز میرے نزدیک اُس رات سے زیادہ اُمید کے قابل نہیں ہے،جسے میں نے ڈھال باندھے گذارا ہو۔اور بارش صبح تک برس کر مجھے بھگاتی رہی ہو ،تاکہ کفار ہم پر حملہ کر دیں۔جب میں مرجاو¿ں تو میرے ہتھیار اور گھوڑے اﷲ کی راہ میں جنگ کا سامان بنا دینا۔“جب آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا،تو آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس صرف ایک گھوڑا ،جنگ کے ہتھیار اور ایک غلام تھا۔

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عن کا خراج عقیدت

خلیفۂ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ”سیف اﷲ“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے بہت محبت کرتے تھے۔اور اِس کا برملا اظہار انہوں نے کئی مرتبہ کیا ہے۔امیر المومنین رضی اﷲ عنہ کو اُن کی آخرت کی فکر تھی،اسی لئے وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روکا اور ٹوکا کرتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے انتقال کی خبر ملی،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اناﷲوانا الیہ راجعون پڑھا،اور فرمایا؛”اﷲ کی قسم!وہ دشمن کے سینوں کو روک دینے والے اور مبارک خیال والے آدمی تھے۔“اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انتقال کی خبر سن کر فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ ابو سلیمان رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے،ہم اُن کے متعلق بعض اُمور کا گمان کرتے تھے،جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھے۔“اور ہشام بن بحتری بنو مخزوم کے کچھ آدمیوں کے ساتھ خلیفہ¿ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے فرمایا؛”اے ہشام!مجھے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے بارے میں اشعار سناو¿۔“اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اشعار سنائے،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”تُو نے حضرت ابو سلیمان رضی اﷲ عنہ کی تعریف میں کوتاہی سے کام لیاہے۔وہ شرک اور مشرکین کی ذلت کو پسند کرتے تھے،اور اُن کی مصیبت پر خوش ہوتے تھے۔“پھر آگے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ حضرت ابو سلیمان رضی اﷲ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے،اﷲ کی بارگاہ میں اُن کے لئے جو کچھ ہے،وہ اُس سے بہتر ہے،جس میں وہ زندگی گذار رہے تھے۔انہوں نے خوش بختی میں وفات پائی،اور جب تک زندہ رہے،قابلِ تعریف حالت میں زندہ رہے۔“اِن تمام روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ”اﷲ کی تلوار “سے بہت محبت کرتے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں