بدھ، 26 جولائی، 2023

حقوق العباد Human Writes


حقوق العباد

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

حقوق مسلم، سات حقوق دوران حیات، سات حقوق بعد ازوفات، والدین کے ایصال ثواب کی دعا، پڑوسیوں کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، اہل وعیال پر خرچ بھی موجبِ ثواب ہے، رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا ثواب، ناراض رشتہ دار پرخرچ کی فضیلت، مال دار عورت کا غریب شوہر اور بچوں پر خرچ کرنا ، والدین پر شفقت کی نظر ڈالنے کا عظیم ثواب، والدین کے دوستوں سے تعلقات اچھے رکھنا


 حقوق مسلم 


جو چیز اپنے لئے پسند کرے وہی دوسروں کےلئے بھی پسند کرے[ مشکوٰۃ ۴۲۲]

تواضع سے پیش آئے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۳]

بڑوں کا ادب چھوٹوں پر شفقت کرے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۳]

علماء دین کی قدر کرے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۳]

ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۷]

دو جھگڑنے والوں میں صلح کرائے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۸]

نہ چغلی کرے نہ چغلخور کی بات کا اعتبار کرے

کسی دُنیاوی زنجش کی بنا پر تین دن سے زیادہ قطع تعلق نہ کرے۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۷]

 کسی کا عیب تلاش نہ کرے۔ [ متفق علیہ]

تہمت کی جگہ سے بچے

سلام میں سبقت کرے۔ [ ابوداؤد ۷۰۶]

مسلمانوں کی حاجت روائی میں کوشش کرے اور اس کی عدم موجودگی میں اس کے اہل وعیال کی مدد کرے۔ [ اصلاحی نصاب ۴۳۶]

جب کوئی مسلمان بیمار ہوجائے تو اس کی عیادت کرے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

مسلمانوں کے سلام کا جواب دے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب وہ پکارے تو جواب دے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب دعوت دے تو قبول کرے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب وہ چھینکے اور الحمدللہ کہے تو یرحمک اللہ کہے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب وہ مرجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

جب وہ مشورہ طلب کرے تو اچھا مشورہ۔ [ مشکوٰۃ ۱۳۳]

خالہ کا حق بھی ماں کے حق کی طرح ہے۔ [ ترمذی ۲/ ۱۲]

چا کا حق مثل باپ کے ہے۔ [ اصلاحی نصاب ۴۳۲]

بڑے بھائی کا حق مثل باپ کے ہے۔ [ اصلاحی نصاب ۴۳۳]

اولاد کا حق یہ ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے علم دین ولیاقت سکھلائے جب جوان ہوجائے تو اس کا نکاح کردے۔ [ مجمع الزوائد ۸/ ۱۴۹ اصلاحی نصاب ۴۳۳]

اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچانا یہ اپنی ذات کا حق ہے۔

سات حقوق دوران حیات

عظمت:—— ان کا احترام۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۲]

محبت:—— ان سے الفت واُنسیت رکھنا۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۲]

اطاعت:—— ان کی فرماں برداری کرنا۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۱]

خدمت:—— ان کا کام کرنا ان کے کام آنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۱]

فکرِراحت:—— ان کو آرام پہنچانا۔ [ مشکوٰۃ ۴۱۹]

رفع حاجت:—— ان کی ضروریات کو پورا کرنا۔ [ ترغیب ۳/ ۳۱۶]

 گاہے گاہے ملاقات وزیارت۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۳]

سات حقوق بعد ازوفات

دعائے مغفرت:—— ان کےلئے اللہ سے معافی اور رحمت کی درخواست کرنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۰]

ایصال ثواب:—— ان کو ایصال ثواب کرنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۰]

اکرام اعزاء واحباب واہل قرابت:—— ان کے رشتہ دار دوست واحباب کی عزت کرنا۔ [ ادب المفرد ۳۱ رقم ۴۱  الدرالمنثور ۴/  ۱۷۴]

اعانت اعزاء احباب واہل قرابت:—— ان کے رشتہ دار دوست احباب کی جس قدر ہوسکے مدد کرنا۔ [ ترمذی ۲/ ۱۲]

ادائے دین وامانت:—— ان کی امانت وقرض ادا کرنا۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۴]

تنفیذ جائز وصیت:—— ان کی جائز وصیت کو نافذ کرنا۔ [ مشکوٰۃ ۴۲۰]

گاہ گاہ ان کے قبر کی زیارت کرنا۔ [ الدرالمنثور ۴/  ۱۷۴]

والدین کے ایصال ثواب کی دعا

علامہ عینیؒ نے شرحِ بخاری میں ایک حدیث نقل کی ہے جوشخص ایک مرتبہ یہ دعا پڑھے ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَا لَمِينَ  رَبِّ ٱلسَّمَٰوٰتِ وَرَبِّ ٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَلَهُ ٱلْكِبْرِيَآءُ فِى ٱلسَّمَٰوٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ لِلّٰهِ ٱلْحَمْدُ رَبِّ ٱلسَّمَٰوٰتِ وَرَبِّ ٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَلَهُ الْمَظْمَةُ فِیْ  ٱلسَّمَٰوٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ وَلَهُ النُّوْرُ فِیْ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 

اس کے بعد یہ دعا کرے یا اللہ اس کا ثواب میرے والدین کو پہنچادے اس نے والدین کا حق ادا کردیا۔ [ فضائل صدقات ۲۰۶]

پڑوسیوں کے حقوق

امام غزالیؒ نے اربعین میں یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم جانتے بھی ہوکہ پڑوسی کا حق کیا ہے۔

اگر وہ پڑوسی تم سے مدد چاہے تو تم اس کی مدد کرو

اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو

اگر وہ محتاج ومفلس ہو تو اس کو کچھ دو

اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو

اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جاؤ

اگر اس کو کوئی خوشی حاصل ہو تو اس کو مبارک باد دو

اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کو تسلی دو مثلاً اس کے ہاں کوئی موت ہوجائے تو اس کے گھر جا کر تعزیت کرو

اس کے مکان کے پاس اونچا مکان نہ بناؤ کہ اس کی ہوا وغیرہ رک جائے مگر یہ اس کی اجازت سے ہو

اگر تم پھل وغیرہ خرید وتو تحفہ کے طور پر اس کے یہاں بھی بھجوا دو اور ممکن نہ ہو سکے تو پھر تم اس (پھل وغیرہ) کو گھر میں پوشیدہ طور پر لے آؤ اور اپنے بچوں کو بھی تاکید کرو اس کو لےکر گھر سے باہر نہ نکلیں تاکہ تمہارے پڑوسی کے بچے رنج وافسوس نہ کریں 

اور تم اپنی ہانڈی (چولھے) کے دھوئیں سے اس کو تکلیف نہ پہنچاؤ

اور یہ کہ اس ہانڈی میں سے کچھ اس کے یہاں بھی بھجواؤ اور کیا تم جانتے ہو پڑوسی کا حق کیا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اپنے پڑوسی کا حق وہی شخص پہچانتا ہے جس پر اللہ تعالٰی کی رحمت ہوتی ہے۔ [ مظاہرحق ۵/ ۱۱۳]

جب تم گوشت خریدو یا سالن کی ہانڈی پکاؤ تو شور بہ بڑھا دیا کرو اور اس میں سے کچھ نکال کر اپنے پڑوسی کو دے دیا کرو۔ [ کنزل العمال ۱۵/ ۲۸۱]

وہ شخص کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جو خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔ [ الترغیب عن الطبرانی ۳/ ۳۵۸]

اگر وہ تمہاری دعوت کرے تو اسے قبول کرو۔ [ کنز۹/ ۲۵۴]

 کوئی پڑوسن اپنے پڑوسن کے ہدیہ کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ وہ بکری کے کھر کا ایک ٹکڑاہی کیوں نہ ہو۔ [ بخاری ۲/ ۸۸۹]

اگر وہ ننگا ہو تو اسے کپڑا پہنائے اس کے گھر کا راستہ تنگ نہ کرے اس کے صحن میں نالہ یا کچرا ڈال کر ایذاء نہ دے دیوار یا چھت سے اس کے مکان میں نہ جھانکے اس کی بیوی اور خادمہ سے نگاہیں نیچی رکھے اس کے بچوں کے ساتھ مہربانی شفقت کا معاملہ کرے اور اگر وہ کسی دنیوی یا دینی نقصان کی طرف قدم بڑھا رہا ہو تو اسے روک دے اور صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کرے۔ [ احیاءالعلوم ۲/ ۳۳۷]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اس کے ساتھ اچھا کیا تو یقیناً تم نے اچھا کیا اور جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے برا کیا تو یقیناً تم نے بُرا کیا۔ [ منتخب احادیث ۵۶۷] 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے حق کے بارے میں اس قدر وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔ [ بخاری ۲/ ۸۸۹]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندوں کے حقوق میں سب سے پہلا معاملہ پڑوسیوں کا پیش ہوگا۔ [ الترغیب ۳/ ۳۵۵]

وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوسکے گا جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ [ مسلم ۱/ ۵۰]

ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے پڑوسی کی شکایت لے کر حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دے کر بھیجا کہ وہ مسجد کے دروازے پر یہ اعلان کردے کہ چالیس گھر پڑوسی ہیں۔ [ ترغیب ۳/ ۳۵۳]

امام زہریؒ نے چالیس کی تشریح کی ہے کہ صرف ایک ہی جانب کی چالیس گھر مراد نہیں بلکہ چاروں طرف کے چالیس چالیس گھر مراد ہیں۔[ احیاءالعلوم ۲/ ۳۳۶]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے دو پڑوسی ہیں ایک کا دروازہ میرے گھر کے قریب ہے اور دوسرے کا گھر ذرا فاصلہ پر واقع ہے بعض اوقات میرے پاس کوئی چیز ہوتی ہے لیکن اتنی نہیں ہوتی کہ دونوں کےلئے کافی ہو آپ کے نزدیک ان دونوں میں سے کون زیادہ حق دارہے فرمایا وہ شخص جس کا دروازہ تمہارے گھر کے قریب ہے۔ [ بخاری ۲/ ۸۹۰]

 کہتے ہیں کہ قیامت کے دن مفلس پڑوسی اپنے مالدار پڑوسی کا داممن پکڑ کر باری تعالٰی سے عرض کرےگا یاللہ اس سے پوچھئے کہ اس نے مجھے اپنے حسن سکوک  سے کیوں محروم رکھا۔ [ الترغیب ۳/ ۳۵۹]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پڑوسی تین طرح کے ہیں

ایک وہ جس کا صرف ایک حق ہے

دوسرا وہ جس کے دو حق ہیں

تیسرا وہ جس کے تین حقوق ہیں

مسلمان رشتہ دار پڑوسی کے تین حقوق ہیں پڑوسی کا حق اسلام کا رشتہ رشتہ داری کا حق

مسلمان پڑوسی کے صرف دو حق ہیں حق اسلام اور حق جوار

 کافر پڑوسی کا صرف ایک حق ہے حق جوار یعنی پڑوسی ہونے کا حق

[ احیاءالعلوم بحوالۂ بزارب۲/ ۳۳۵]

بُرے پڑوسی سے پناہ مانگنے کی دعا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے

اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ جَارِ السُّوٓءِ فِیْ دَارِ الْمُقَامَةِ فَاِنَّ جَارَالْبَادِيَةَ يَتَحَوَّلُ 

ترجمہ:—— اے اللہ میں گھر کے بُرے پڑوسی سے پناہ مانگتاہوں۔[ ترغیب ۳/ ۳۵۵]

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پاک مسلمان صالح پڑوسی کی وجہ سے سوگھروں کی مصیبتوں کو دور کرتا ہے۔[ ترغیب ۳/ ۳۶۳] 

رشتہ داروں کے حقوق   

تیسری ہدایت یہ کی گئی ہے کہ: ”انسان اپنے عزیز واقارت کی مالی مدد کرتا رہے“، یہ بات اگرچہ ” احسان“ کے عمومی مفہوم میں داخل تھی؛ لیکن اہمیت کے پیش نظر اسے الگ سے ذکر کرنا مناسب سمجھا گیا۔ اسلام کی اخلاقی اور معاشرتی تعلیمات میں رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی بڑی تاکید کی گئی ہے، خود قرآن کریم میں متعدد جگہ اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ نصرت وحمایت کا معاملہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے: وَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ 

اور رشتہ داروں کو اس کا حق دو۔

 گوکہ آیت بالا میں ” حق“ عام ہے، جس میں ہر طرح کے حقوق شامل ہیں؛ لیکن مالی حقوق کی اس باب میں خاص اہمیت ہے؛ اسی لئے اللہ تعالٰی نے جہاں نیکی کے خصوصی اعمال شمار کرائے، تو ان میں رشتہ داروں پر مال خرچ کرنے کو خصوصیت سے ذکر فرمایا، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:

 لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ ۚ وَ اٰتَی الۡمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الۡقُرۡبٰی۔ [ سورۃ البقرۃ ۱۷۷]

صرف یہی نیکی نہیں کہ اپنا رخ مشرق یا مغرب کی طرف کرو؛ لیکن بڑی نیکی تویہ ہے کہ جو کوئی ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور پیغمبروں پر اور مال کی محبت کے باوجود اسے رشتہ داروں پر خرچ کرے۔

اسی طرح کئی جگہ حسن سلوک کا حکم دیتے ہوئے والدین کے بعد متصلاً اہل قرابت کے ساتھا اچھا برتاؤ کرنے کی تاکیدکی گئی، اور ان پر خرچ کرنے کو مال کا ِبہترین مصرف قرار دیا گیا۔

ایک جگہ ارشاد ہوا  قُلۡ مَآ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ فَلِلۡوَالِدَيۡنِ وَالۡاَقۡرَبِيۡنَ وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ‌ؕ وَمَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيۡمٌ [ سورۃ البقرۃ ۲۱۵]

آپ فرما دیجئے جو کچھ تم مال خرچ کرو سو ماں باپ کےلئے اور قرابت والوں کےلئے اور مسکین، یتیم اورمسافر کےلئے، اور جو بھی تم نیکی کرتے ہو اللہ تعالٰی کو اس کا علم ہے۔

یہی نہیں؛ بلکہ رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی سابقہ آسمانی مذاہب میں بھی تاکید کی جاتی رہی ہے، جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی کیا گیا، سورۂ بقرہ میں آیت نازل ہوئی 

اِذۡ اَخَذۡنَا مِیۡثَاقَ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰہَ ۟ وَ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ ذِی ‌الۡقُرۡبٰی [ سورۃ البقرۃ ۸۳] 

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے یہ قرار لیا کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کرنا اور ماں باپ اور کنبہ والوں کے ساتھ احسان کرنا۔

مال خرچ کرنے کی نبوی ترتیب  

صحیح حدیث میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ قبیلہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر بنا دیا (یعنی کسی شرط پر اس کی آزادی کو معلق کردیا جائے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی خبر ملی تو آپ نے ان صاحب کو بلاکر پوچھا کہ کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے پاس کچھ مال ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”نہیں“ تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس مدبر (مقید) غلام کی نیلامی کا اعلان فرمادیا۔ چنانچہ ایک دوسرے صحابی حضرت نعیم ابن عبداللہ العدوی نے اسے ۸۰۰/ درہم میں خرید لیا، اس کے بعد یہ رقم پیغمبر علیہ السلام نے مالک کو دیتے ہوئے ہدایت فرمائی: إِبْدَأَبِنَفْسِكَ فَإِنْ فَضُلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ فَإِنْ فَضُلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِيْ قَرَابَتِكَ شَيْءٌ فَهٰكَذَا وَهٰكَذا، يَقُوْلُ: فَبَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِيْنِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ [ مسلم ۱/ ۱۲۲ رقم: ۹۹۷]

سب سے پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو، پھر اگر بچ جائے تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرو، پھر جو مال بچے تو رشتہ داروں پر خرچ کرو، اور رشتہ داروں پر خرچ کے بعد جو بچ جائے تو آپ نے ہاتھ کے اشارے سے سامنے اور دائیں بائیں خرچ کرنے کا حکم دیا۔ (یعنی دیگر جائز ضرورتوں اور ضرورت مندوں پر خرچ کرو)

اس واضح روایت سے معلوم ہوگیا کہ مال کے خرچ میں کیا ترتیب رہنی چاہئے؟ لیکن یہ یاد رہے کہ اپنی ذات یا گھر والوں پر خرچ میں کفایت شعاری پسندیدہ ہے، اور اسراف وفضول خرچی اور تعیش شریعت میں پسند نہیں ہے۔ خود حدیث بالا کی پر داز یہ بتلا رہی ہے کہ آدمی کو قناعت پسند ہونا چاہئے؛ کیوں کہ اگر قناعت پسندی نہ ہوگی تو مال کتناہی زائد ہو وہ دوسروں کےلئے بچ ہی نہیں پائے گا، اور ہمیشہ آدمی چٹور پن اور تفریحات کی ادھیڑبن ہی لگا رہے گا۔

اہل وعیال پر خرچ بھی موجبِ ثواب ہے  

انسان کے مال کے اولین مستحق اس کے گھر والے ہیں، ان پر خرچ کا ثواب بھی صدقہ کے برابر ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ المُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقُ عَلیٰ أَهْلِهٖ نَفْقَةً وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهٗ صَدَقَةٌ [ مسلم ۱/ ۳۲۴ رقم: ۱۰۰۲]

لہذا بچوں پر خرچ کرتے ہوئے یہ نیت رہنی چاہئے کہ اللہ تعالٰی نے ہم پر جو ذمہ داری عائد کی ہے اس کو ادا کررہے ہیں تو یقیناً اس خرچ پر صدقہ کا ثواب ملے گا۔

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اَفْضَلُ دِيْنَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهٗ عَلیٰ عَيَالِهٖ وَ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهٗ عَلیٰ دَابَّتِهٖ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ دِيْنَارٌ يُنْفِقُهٗ عَلیٰ أَصْحَابِهٖ فِیْ سَبِيْلِ اللّٰهِ  [ مسلم ۱/ ۳۲۲ رقم: ۹۹۴]

خرچ میں سب سے افضل دینار وہ ہے جو آدمی اپنے بچوں پر خرچ کرتاہے اور وہ دینار ہے جو جہاد میں اپنی سواری پر خرچ کرتاہے، اور وہ دینار ہے جو سفر جہاد میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتاہے۔

اس روایت کے راوی حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ پیغمبر علیہ السلام نے بچوں پر خرچ کو سب سے ذکر فرمایا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے زیادہ ثواب کا مستحق کون ہوگا جو چھوٹے بچوں کی ضرورتوں پر خرچ کرے؛ تاکہ انہیں سوال کی ذلت سے بچائے یا اللہ تعالٰی اس کے ذریعہ ان بچوں کو نفع پہنچائے یا مستغنی فرما دے۔ [ مسلم شریف ۱/ ۳۲۲ حدیث: ۹۹۴، المتجر الرابح ۳۵]

مطلب یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کی ضرورتوں کو اگر باپ پورا نہیں کرے گا تو اور کون کرےگا؟ اگر باپ توجہ نہ دے تو ظاہر ہے کہ بچے بھیک مانگنے پر مجبور ہوں گے یا بھوکے ختم ہوجائیں گے، اس لئے شرعاً باپ پر یہ فرض ہے کہ وہ ان بچوں کی خبر گیری کرے، اور فرض کا ثواب یقیناً نفلی عطایا سے زیادہ ہی ہوتاہے، اسی بنا پر پیغمبر علیہ والسلام نے ایک روایت میں متعدد مصارف خیر ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: أَعْظَمُهَا أَجْراً الَّذِیْ أَنْفَقْتَهٗ عَلیٰ أَهْلِهٖ [ مسلم شریف ۱/ ۳۲۲ رقم: ۹۹۵]

سب سے زیادہ ثواب اس خرچ میں ہے جو تم نے اپنے گھر والوں پر خرچ کیا۔

اور ایک روایت میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد عالی منقول ہے: أَوَّلُ مَايُوْضَعُ فِيْ مِيْزَانِ الْعَيْدِ نَفْقَتُهٗ عَلیٰ أَهْلِهٖ [ الطبرانی فی الاوسط الترغیب والترھیب ۲/ ۶۸۹ رقم: ۳۰۴۳]

آخرت میں نیکیوں کے پلے میں سب سے پہلے انسان کے اپنے گھر والوں پر خرچ کے عمل کو رکھا جائے گا۔

رشتہ داروں پر خرچ کرنے کا ثواب

عام طور پر یہ سمجھا جاتاہے کہ مسجد، مدرسہ یا دیگر لوگوں پر صدقہ کرنا ہی کارِ ثواب ہے، حالانکہ قرآن وحدیث سے یہ معلوم ہوتاہے کہ اپنے قریبی اعزاء پر ضرورت کے وقت خرچ کرنا بھی صدقہ کا ثواب رکھتاہے، بلکہ اس کا ثواب عام صدقات سے دو گنا ملتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلیٰ ذِیْ قَرَابَةٍ يُضَعِّفُ أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ [ الطبرانی ۸/ ۲۰۶، المتجرالرابح ۳۴۸]

رشتہ دار پر صدقہ اس کے ثواب کو دو گنا کر دیتا ہے۔

اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَلصَّدَقَةُ عَلَی الْمِسْكِيْنِ صَدَقَةٌ وَعَلیٰ ذِیْ الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ [ المتجرالربح ۳۴۸]

غیر رشتہ دار مسکین پر صدقہ ایک صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین پر صدقہ ڈبل صدقہ ہے، ایک عام صدقہ دوسرے صلہ رحمی۔

حضرت میمونہ بنت الحارث رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے دورِ نبوت میں ایک باندی کو آزاد کیا تھا، جب اس بات کا تذکرہ پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:  لَوْأَعْطَيْتِهَا أَخْوَالَكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ [ بخاری ۱/ ۳۵۳ رقم ۲۵۹۲، مسلم ۱/ ۳۲۳ رقم: ۹۹۹]

اگر تم اپنے ماموؤں کو یہ باندی دے دیتی تو اس میں تمہارے لئے ثواب زیادہ ہوتا۔

خادم رسول سیدنا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ مدینہ کے بڑے مال دار شخص تھے، اور ان کا سب سے پسندیدہ مال ”بیرحاء“ (کھجور کا ایک بڑا باغ) تھا، یہ مسجد نبوی کے بالکل قریب تھا اور پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کبھی کبھی وہاں شریف لے جاتے اور اس کنویں کا بہترین پانی نوش جان فرماتے تھے، جب یہ آیت: لَنۡ تَنَالُوا الۡبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ  [ سورۂ آل عمران ۹۲] (یعنی اس وقت تک تم نیکی میں کمال حاصل نہیں کرسکتے، جب تک کہ اپنے پسندیدہ مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو) نازل ہوئی، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی ہے اور میرا سب سے پسندیدہ مال یہ باغ (بیرحاء) ہے، میں اسے ثواب کی امید پر اللہ کےلئے صدقہ کرنا چاہتاہوں، آپ اسے قبول فرمالیں اور جہاں مناسب ہو صرف فرمائیں، تو رسول اللہ ﷺ نے بہت مسرت کا اظہار فرمایا اور حضرت ابوطلحہ کو مبارک با دویتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ”واہ واہ! بہت نفع کا سودا ہے، بہت نفع کا سوداہے“۔ پھر فرمایا کہ میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کردو، چنانچہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فوراً حکم کی تعمیل فرمائی اور وہ پورا باغ اپنے چچا زاد بھائیوں اور دیگر قریبی عزیزوں میں تقسیم فرمادیا۔ [ بخاری ۱/ ۱۹۷ حدیث ۱۴۶۱]

اس سے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں پر خرچ کرنا بسا اوقات عام صدقہ سے بھی افضل ہوتاہے، اسی لئے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس کا مشورہ دیا، جس کی آں موصوف نے فوراً تعمیل فرمائی، فَجَزَاهُمُ اللّٰهُ تَعَالیٰ خَيْرَالْجَزَاءِ۔

ناراض رشتہ دار پرخرچ کی فضیلت

خاص طور پر ایسا صدقہ جو کسی ایسے رشتہ دار پر کیا جائے جس سے دل نہ ملتا ہو؛ بلکہ وہ رشتہ دار برابر درپئے آزار رہتا ہو، پھر بھی محض رشتہ داری کی بنیاد پر اسے عطا کیا جائے اور اس پر نوازش جاری رکھی جائے، تو اس صدقہ کو صدقہ کو حدیث میں ”افضل ترین صدقہ“ کہا گیا ہے۔

ارشاد نبوی ہے:  أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ: اَلصَّدَقَةُ عَلیٰ ذِيْ الرَّحِمِ الْكَاشِحِ [ الطبرانی ۳۵/ ۸۰، وغیرہ، المتجرالرابح ۳۴۸]

سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو دل میں کدورت والے رشتہ پر کیا جائے۔

احادیث وسیر کی کتابوں میں مذکورہے کہ جب ”واقعۂ افک“ پیش آیا اور رام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر منافقین نے طوفان بدتمیزی مچایا، تو ایک سادہ لوح مہاجر بدری صحابی حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ بھی پیروپیگنڈہ سے متأثر ہوگئے، یہ ایک غریب صحابی تھے، اور حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے خالہ زاد بھائی تھے، اس رشتہ کی بنا پرحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ ان کی گاہے گاہے مالی مدد فرماتے رہتے تھے، جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ علم ہوا وہ بھی افک میں دلچسپی لینے والوں میں ہیں، تو آپ کو شدید ناگواری ہوئی اور ان کی مالی مدد کا سلسلہ بند فرما دیا، اور قسم کھائی کہ اب ان پر کچھ خرچ نہ کروں گا، تو اس پر قرآن کریم یہ آیت تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی: وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الۡفَضۡلِ مِنۡکُمۡ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤۡتُوۡۤا اُولِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنَ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۪ۖ وَ لۡیَعۡفُوۡا وَ لۡیَصۡفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ [ سورۃ النور ۲۲] 

اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔

جب یہ آیت اتری تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ بلاتامل فوراً بول اٹھے: ”اللہ کی قسم اے ہمارے رب! ہم یہی چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں بخش دیں“ اور پھر حضرت مسطح کا وظیفہ نہ صرف یہ کہ جاری کیا؛ بلکہ پہلے سے دو گنا کردیا۔ (روح المعانی ۱۸/ ۱۸۵) رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ 

◆☜ اس سے معلوم ہواکہ معمولی کشیدگیوں کی بنا پر رشتہ داریوں میں ہدیہ کا لین دین بند نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ اس سلسلہ کو بہر حال جاری رکھنا چاہئے۔

 مال دار عورت کا غریب شوہر اور بچوں پر خرچ کرنا 

اسی طرح اگر کسی عورت کے پاس مال ہو اور اس کا شوہر اور بچے غریب ہوں تو ایسی عورت کے صدقہ کا بہترین مصرف اس کا شوہر اور بچے ہی ہوتے ہیں۔

صحیح روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں میں وعظ فرمایا اور انہیں صدقہ خیرات کی ترغیب دی، جس سے متأثر ہوکر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے پیغمبر علیہ السلام سے مسئلہ پوچھا کہ میرے پاس زیورات ہیں اور میں انہیں اللہ کے تاستہ میں صدقہ کرنا چاہتی ہوں، اور میرے شوہر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (جو ایک غریب شخص ہیں) کہتے ہیں  کہ تمہارے صدقہ کے ہم زیادہ مستحق ہیں، تو میں کیا کروں؟ تو پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا: صَدَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ زَوْجُكَ وَوَلَدُكَ اَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهٖ عَلَيْهِمْ [ بخاری ۱/ ۱۹۷ رقم: ۱۴۶۲]

ابن مسعود نے سچ کہا تمہارے صدقہ کے سب سے زیادہ مستحق تمہارے شوہر اور بچے ہیں۔

تنبیہ:—— اس صدقہ سے فرض زکوٰۃ مراد نہیں؛ بلکہ نفلی صدقہ مراد ہے؛ کیوں کہ فرض زکوٰۃ شوہر یا بچوں کو دینے سے ادانہیں ہوتی۔ [ حاشیہ بخاری شریف ۱/ ۱۹۷]

اہل قرابت کے حقوق کی ادائیگی میں خاص حکمت یہ ہے کہ اسی میں ساری دنیا کا امن وامان منحصر ہے، اگر رشتہ داروں میں باہم میل ملاپ اور انسیت ومحبت کے جذبات بر قرار رہیں تو فتنہ وفساد جڑ نہیں پکڑ سکتا، عموماً فتنوں کے پھیلاؤ میں اہل قرابت کی باہمی رنجشیں بڑا بھیانک کردار ادا کرتی ہیں؛ اس لئے اسلام نے اس فتنہ کو جڑ سے مٹانے کی تلقین فرمائی ہے، جو اسلام کے دین فطرت اور انسانیت نواز مذہب ہونے کی کھلی دلیل ہے۔ 

 صلہ رحمی کا حکم 

رحم مادر... سارے رشتوں کی اصل بنیاد ہے، اس لئے اس بنیاد کو صحیح سالم رکھنا انسانیت کی عظیم خدمت ہے۔ اسی وجہ سے قرآن وحدیث میں ”صلہ رحمی“ کو ایک قابل تعریف اور باعت فضیلت صفت کی حیثیت سے متعارف کرایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں قابل رشک جنتی لوگوں کی صفات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا: وَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَ يَخَافُوۡنَ سُوۡۤءَ الۡحِسَابِ [ سورۃ الرعد ۲۱]

اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں، اور اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں۔

اور احادیث شریفہ میں بکثرت صلہ رحمی کے فضائل وترغیبات وارد ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُّبْسَطَ لَهٗ فِيْ رِزْقِهٖ وَأَنْ يُّنْسَأَلَهٗ فِیْ أَجَلِهٖ فَلِيَصِلْ رَحِمَه ٗ [ بخاری ۱/ ۲۷۷ رقم: ۲۰۶۷، ومسلم: ۲/ ۳۱۵ رقم: ۲۵۵۷]

جسے یہ بات اچھی لگے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اسے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے۔

صلہ رحمی کرنے پر جن دو بشارتوں کا حدیث میں ذکر ہواہے یہ دونوں باتیں فطری طور پر انسان کو پسند ہوتی ہیں، آدمی یہ چاہتاہے کہ اسے روزی میں وسعت ملے، اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کی عمر میں برکت ہو، تو ان مقاصد کے حصول کےلئے ”صلہ رحمی “ کی شرط کو پورا کرنے کا اہتمام ضروری ہے، ورنہ محض نری تمنا سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔

ایک دوسری روایت میں پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے مزیدوضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا: تَعَلَّمُوْا أَنْسَابَكُمْ مَاتَصِلُوْنَ بِهٖ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِيْ الأَهْلِ، مَثْرَاةٌ فِيْ الْمَالِ، مَنْسَأَةٌ فِيْ الْأَثَرِ [ سنن الترمذی ۲/ ۱۹] 

اپنے نسبی تعلقات کے بارے میں معلومات رکھو، تاکہ اس کے ذریعہ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرسکو؛ کیوں کہ صلہ رحمی خاندانوں میں محبت کا، مال میں اضافہ کا اور عمر میں برکت کا سبب ہے۔

اس روایت میں عمر اور رزق میں برکت کے ساتھ خاندانوں میں محبت کا بھی وعدہ کیا گیا ہے، جو بجائے خود ایک عظیم سعادت ہے، اور پر سکون زندگی کی ضمانت ہے، اور صلہ رحمی سے عمر میں برکت کی جو بات فرمائی گئی اس کی وضاحت رئیس المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی رائے میں یہ ہے کہ ہر انسان  کےلئے دو مدتیں ہوتی ہیں، ایک پیدائش سے موت تک، دوسرے موت سے لے کر قیامت تک (پس اگر انسان صلہ رحمی کرنے والا ہوتاہے تو اس کی دنیوی زندگی بڑھادی جاتی ہے، اور برزخی زندگی میں اس کے بقدر کمی کردی جاتی ہے، اور) اگر قطع رحمی کرنے والا فاجر ہوتاہے تو اس کی دنیوی عمر تو گھٹ جاتی ہے، جب کہ برزخی عمر بڑھادی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔ [ الترغیب والترہیب للیافعی ۱۱۳]

اور برکت کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس کی عمر فضول کاموں میں ضائع نہیں ہوتی؛ بلکہ کم عمری کے باوجود اس سے ایسے ایسے کام انجام پاتے ہیں جس کےلئے عموماً بڑی بڑی عمریں درکار ہوتی ہیں، تو یہ بھی برکت کی ہی ایک صورت ہے۔

علاوہ ازیں پیغمبرعلیہ الصلوٰۃ والسلام نے صلہ رحمی کو بہترین اور افضل اعمال میں شمار فرمایا ہے، چنانچہ ایک صحابیہ دُرّۃ بنت ابی لہبؓ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ: مَنْ خَيْرُالنَّاسِ؟ (یعنی سب سے اچھا آدمی کون ہے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أَتْقَاهُمْ لِلّٰهِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ وَاٰمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ [ الترغیب للیافعی ۱۱۴، مسنداحمد ۶/ ۴۳۲] 

سب سے اچھا انسان وہ ہے  جو ان میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا  اور ان میں سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا اور سب سے زیادہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والا ہو۔

نیز ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلہ رحمی کو جنت سے قریب کرنے والے اور جہنم سے دور کرنے والے مبارک اعمال میں شامل فرمایا ہے۔

اور ایک ضعیف روایت کے الفاظ یہ ہیں: اَلْبِرُّ وَالصِّلَةُ وَحُسْنُ الْجِوَارِ عِمَارَ ةٌ فِی الدُّنْيَا وَزِيَادَةٌ فِيْ الأَعْمَارِ [ مکارم الأخلاق:۱۵۹] 

حسن سلوک، صلہ رحمی اور پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ دنیا کی آبادی اور عمروں میں اضافہ کا سبب ہیں۔

اور بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ صلہ رحمی من جملہ ان اعمال میں سے ہے جن سے انسان بری موت سے محفوظ رہتا ہے، چنانچہ سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ سَرَّهٗ أَنْ يُّمَدَّلَهٗ فِيْ عُمْرِهٖ وَيُوَسَّعَ لَهٗ فِيْ رِزْقِهٖ وَيُدْفَعَ عَنْهُ مِيْتَةَ السُّوْءِ فَلِيَتَّقِ اللّٰهَ وَلِيَصِلْ رَحِمَهٗ [ مسندالبزار والحاکم ۴/ ۱۶۰ بحوالہ الترغیب والترھیب مکمل ۵۴۰ رقم: ۳۸۲۱] 

جو اس بات سے خوش ہوکہ اس کی عمر میں اضافہ اور رزق میں وسعت ہو اور وہ بری موت سے محفوظ رہے، تو اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرتا رہے اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کرے۔

صحیح روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سفر میں اونٹنی پر تشریف لے جارہے تھے، اچانک ایک دیہاتی شخص سامنے آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑلی اور سوال کرنے لگاکہ ”اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم) مجھے ایسی باتیں بتائیے جو مجھے جنت قریب اور جہنم سے دور کردیں“، اس کایہ اندازِ گفتگو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ: ”اس شخص کو خاص توفیق عطا ہوئی ہے“ (کہ اس نے اتنا معقول سوال کیا) پھر آپ نے اس دیہاتی سے کہا کہ اپنا سوال  دہراؤ، چنانچہ اس نے پھر وہی درخواست دہرائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:

اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھیراؤ

نماز قائم کرو

زکوٰۃ ادا کرو

صلہ رحمی کرو۔

یہی وہ اعمال ہیں جو جنت سے قریب اور جہنم سے دور کرنے والے ہیں پھر فرمایا: ” اچھا! اب اونٹنی کی لگام چھوڑ دو “ جب وہ دیہاتی وہاں سے چلا گیا تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ سے فرمایا کہ:  إِنْ تَمَسَّكَ بِمَا أَمَرْتُهٗ بِهٖ دَخَلَ الْجَنَّةَ [ البخاری ۲/ ۸۸۵ رقم: ۵۹۸۳، مسلم ۲/ ۳۱۵ رقم: ۱۸، الترغیب: ۵۴۱، المتجرالرابح ۳۴۳] 

اگر یہ شخص میرے بتائے ہوئے حکم پر مضبوطی سے عامل رہا تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔

والدین پر شفقت کی نظر ڈالنے کا عظیم ثواب  

بعض ضعیف روایات میں سیدنا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَامِنْ رَخُلٍ بَارٍّيَنْظُرُ وَالِدَيْهِ أَوْ وَالِدَتَهٗ نَظْرَةَ رَحْمَةٍ إِلاَّ كَتَبَ اللّٰهُ تِلْكَ النَّظْرَةَ حَجَّةً مُتَقَبَّلَةً مَبْرُوْرَةً جو فرماں بردار شخص اپنے والدین یا اپنی والدہ پر شفقت کی ایک نظر ڈالتا ہے تو اللہ تعالٰی اس نظر کے عوض اس کےلئے ایک حج مقبول ومبرور کا ثواب لکھ دیتے ہیں۔

یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ: ”اے اللہ کے رسول! کیا اگر وہ لڑکا ایک دن میں سو مرتبہ والدین پر نظر ڈالے تب بھی یہ ثواب ملےگا“ ؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اَللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ أَكْبَرُ مِنْ ذٰلِكَ۔یعنی اللہ تعالٰی اس سے زیادہ ثواب دینے پر قادر ہے۔[ مکارم الأخلاق ۱۶۲]

اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ  نے ارشاد فرمایا کہ ”جو باپ بیٹے پر نظر ڈالے اور بیٹا اپنے عمل سے اس کے دل کو خوش کردے تو بیٹے کو باپ کی ہر نظر کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملےگا، چاہے دن میں تین سو ساٹھ مرتبہ یہ بات پیش آئے“۔

[ مکارم الاخلاق ۱۶۳] 

والدین کی قبر کی زیارت کا ثواب 

ایک ضعیف روایت میں یہ بھی واردہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ زَارَ قَبْرَوَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا مِنْ كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً غُفِرَلَهٗ وَكُتِبَ بَرًّا [ مجمع الزوائد ۳/ ۵۹، مکارم الأخلاق ۱۷۹]

اس لئے انسان کو نہ صرف زندگی میں والدین کو خوش رکھنا چاہئے اور ان کی خدمت کرنی چاہئے؛ بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی ایصال ثواب اور ان کی قبروں کی زیارت کا اہتمام رکھنا چاہئے؛ کیوں کہ بعض روایات سے ثابت ہے کہ جب کوئی عزیز قریب میت کی قبر پر جاتاہے تو اس میت کو اس کی آمد سے ایسی ہی مسرت ہوتی ہے جیسے زندگی میں ملاقات سے خوشی ہوتی ہے۔ [ مستفاد: تفسیرابن کثیرمکمل ۱۰۳۳، درتفسیرآیت:اِنَّكَ لَاتُسْمِعُ الْمَوْتٰی، الروم ۵۳] 

والدین کے دوستوں سے تعلقات اچھے رکھنا

صلہ رحمی کا ایک جزویہ بھی ہے کہ والدین کی وفات کے بعد ان کے ملنے جلنے والوں سے تعلقات اچھے رکھے جائیں۔ حضرت مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ایک شخص نے آکر عرض کیا کہ:”اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسی نیکی باقی ہے جسے میں والدین کی وفات کے بعد ان کے حق میں اختیار کروں“ تو نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: نَعَمْ الصَّلاَةُ عَلَيْهِمَا وَالاسْتِغْفَارُ لَهُمَا وَإِنْقَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَإِكْرَامُ صَدِيْقِهِمَا وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِيْ لأَتُوْصَلُ إِلاَّبِهِمَا [ ابوداؤد ۲/ ۶۹۹حدیث: ۵۱۴۲، الترغیب والترھیب للیافعی ۱۰۸ الاحادیث المنتخبۃ ۲۸۴، رقم: ۱۰۷۲] 

جی ہاں! ان کی وفات کے بعد درج ذیل نیکیاں کی جاسکتی ہیں

اُن کےلئے دعاء خیر کرنا

ان کےلئے مغفرت طلب کرنا

انہوں نے اگر کوئی عہد کر رکھا ہے تو ان کی وفات کے بعد اسے پورا کرنا

ان کے دوستوں کا اکرام کرنا

اور صلہ رحمی کرنا جوان کے تو سط کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

اور ایک روایت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ إِنَّ مِنْ أَبَرِّ الْبِرِّ أَنْ يَّصِلَ الرَّجُلُ أَهْلَ وُدِّأَبِيْهِ [ مسلم ۲/ ۳۱۴ رقم: ۲۵۵۲، ترمذی ۲/ ۱۲] 

نیکی پر نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے ملنے جلنے والوں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔

ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ مکہ معظّمہ جارہے تھے راستہ میں ایک دیہاتی شخص سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے اس کا بہت اکرام فرمایا اور اسے اپنا عمامہ اتار کر پہنا دیا، اور ساتھ میں حمار کی سواری اسے ہدیہ کردی، تو آپ کے بعض رفقاء سفر نے عرض کیا کہ یہ دیہاتی لوگ ہیں، تھوڑے بہت ہدیہ پر بھی راضی ہوجاتے ہیں، آپ نے اسے نہ صرف عمامہ عطا کیا؛ بلکہ اپنی وہ سواری بھی دے دی جس پر سوار ہوکر آپ دل بہلاتے تھے، تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا کہ اس دیہاتی شخص کا باپ میرے والد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دوستوں میں سے تھا، اور میں نے نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ سنا ہے کہ: ”بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرے“۔ [ مسلم شریف ۲/ ۳۱۴]

نیز ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  إِحْفَظْ وُدَّأَبِيْكَ وَلاَ تَقْطَعْهُ فَيُطْفِئُ اللّٰهُ نُوْرَكَ [ رواہ الطبرانی باسناد حسن، مجمع الزوائد ۸/ ۱۴۷] 

اپنے والد کے دوستوں سے تعلقات بنائے رکھو اور ان سے مت بگاڑو، ورنہ اللہ تعالٰی تمہارے نور کو بجھادیں گے۔

درج بالا روایات سے معلوم ہواکہ کہ جن لوگوں سے خاندانی روابط آباء واجداد کے زمانہ سے چلے آتے ہیں، بچوں کو نہ صرف ان سے واقفیت رہنی چاہئے؛ بلکہ ان روابط کو مزید مضبوط بنانا چاہئے، یہ بھی آباء واجداد کے ساتھ صلہ رحمی میں داخل ہے۔

رشتہ داروں کی زیارت وملاقات 

شریعت کا ایک اہم حکم یہ بھی ہے کہ آدمی موقع بموقع رشتہ داروں سے ملاقات کا قصداً اہتمام رکھے۔ نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے: صِلُوْا أَرْحَامَكُمْ وَلَوْ بِالسَّلاَمِ [ الترغیب والترھیب للیافعی ۱۰۹]

اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو اگرچہ ان کو سلام کر کے ہی کیوں نہ ہو؟

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا: مَامِنْ خُطْوَةٍ أَحَبَّ إِلَی اللّٰهِ مِنْ خُطْوَةٍ إِلٰی صَلاَةٍ أَوْ فَرِيْضَةٍ وَخُطْوَةٍ إِلٰی ذِيْ الْقَرَابَةِ [ الترغیب والترھیب للیافعی ۱۱۴]

 کوئی بھی قدم اللہ تعالٰی کو اس قدم سے زیادہ پسند نہیں جو نماز یا کسی فرض کی ادائیگی یا رشتہ دار کی ملاقات کےلئے اٹھا یا جائے۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ اسلام میں رشتہ داری کے تعلق کو مضبوط رکھنے پر کس قدرت زور دیا گیا ہے؛ اور مضبوطی ملنے جلنے اور آنے جانے کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی؛ لہٰذا بالخصوص آج کل کے دور میں گاہے بگاہے غمی یا خوشی کے موقع پر محض اس نیت سے شرکت کرنی چاہئے کہ اعزہ سے یکجا ملاقات کا موقع مل جائے گا، یہ بھی ایک ثواب کا کام ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کار خیر میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائیں، آمِينْ يَا رَبَّ الْعَالَمِين۔ 


شیطان سے بچاؤ کے حفاظتی ذرائع Shaitaan se bachana


شیطان سے بچاؤ کے حفاظتی ذرائع

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر کرنا

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا : جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تو یہ دعا پڑھے: (اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ خَيْرَ الْمَوْلِجِ وَخَيْرَ الْمَخْرَجِ باسْمِ اللَّهِ وَلجْنا، وباسْمِ اللَّهِ خَرَجْنا، وَعَلى اللَّهِ رَبِّنا تَوََكَّلْنا، ثُمَّ ليُسَلِّمْ على أهْلِهِ) اے اللہ میں تجھ سے (گھر میں) داخل ہونے اور نکلنے کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں, اللہ کے نام کے ساتھ ہم (گھر میں ) داخل ہوئے اور اللہ کے نام کے ساتھ نکلے , اور اپنے پروردگار پرہم نے توکل کیا ‘‘پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے. (سنن ابو داؤد ج/4ص325,علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ,دیکھئے :الکلم الطیب حاشیہ نمبر4)

اہل خانہ سے سلا م کرنا

امام نووی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں مستحب یہ ہے کہ (آدمی گھر میں داخل ہوتے وقت )بسم اللہ پڑھے اور بکثرت ذکر الہی کرے ,اور سلام کرے چاہے گھر میں آدمی ہوں یا نہ ہوں ,کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللَّهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً ﴾[النّور:61] جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کرلیا کروجو اللہ کی جانب سے مبارک اور پاکیزہ سلام ہے ‘‘۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ كا بيان ہے کہ رسول ﷺنے (ان سے )کہا : (يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُنْ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ) قَالَ أَبُو عِيسَي:(هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ) اے میرے بیٹے جب اپنے اہل کے پاس جاؤتو انہیں سلام کرو جو تم پر اور اہل خانہ پر برکت کا سبب ہوگا ‘‘۔(سنن ترمذی ,ج 4ص161,امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح غریب کہا ہے ).

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیﷺنے فرمایا :تین اشخاص ایسے ہیں جو اللہ تعالىٰ کی ضمانت میں ہیں۔

پہلا (1)وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلے تو وہ اللہ کی ضمانت میں ہے یہاں تک کہ فوت ہو جائے ,اللہ تعالى ٰاسے جنت میں داخل کرے,یا اجروغنیمت کے ساتھ لوٹادے ۔

دوسرا (2)وہ شخص جو گھر سے مسجد جانے کے لئے نکلے وہ بھی اللہ تعالىٰ کی ضمانت میں ہے یہاں تک کہ فوت ہوجائے اللہ تعالىٰ اسے جنت میں داخل کرے یا اجروثواب کے سا تھ لو ٹا دے ۔

تیسرا (3)وہ شخص جو اپنے گھر میں سلام کرکے داخل ہو تو وہ اللہ کی ضمانت میں ہے ۔ (امام ابوداؤد نے اس حدیث کو حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے جیسا کہ نوویؒ نے اذکار میں بیان کیا ہے).

امام نووی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ضامن علی اللہ کا مفہوم ہے ضمانت والا, گارنٹی پانےوالا , اورضمان کہتے ہیں کسی چیز کی حفاظت ونگرانی کرنے کو ,تو گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا شخص اللہ کی حفاظت ونگرانی میں ہے . اور اس سے بہتر انعام اور کیا ہو سکتا ہے کہ آدمی ہمیشہ ہمیش کے لئے اللہ کی حفاظت اور نگرانی میں رہے .

کھاتے اور پیتے وقت اللہ کا ذکر کرنا

حضرت جابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول ﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’جب آدمی اپنے گھر میں داخل ہو تے وقت اور کھاتے وقت اللہ کا نا م لیتا ہے تو شیطان (اپنے ساتھی شیطانوں سے)کہتا ہے ,کہ تمہارے لئے یہاں شب بسر کرنے کی جگہ نہیں ہے اور نہ کھانا ہے, اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت آدمی اللہ کا نام نہیں لیتا, تو شیطان (اپنے ساتھی شیطانوں سے )کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنےکی جگہ پالی , اور جب کھانا کھاتے ہوئے بھی اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے شب بسر کرنے اور کھانا کھانے کی جگہ پالی۔‘‘ (صحیح مسلم )

آپ نے دیکھا کہ اللہ کا ذکر شیطان کو کس طرح گھر سے بھگا دیتا ہے ,پھر وہ آپ کے ساتھ کھانے پینے اور سونے میں شریک نہیں ہوتا ,اورکس طرح ذکرالہی سے غفلت شیطان کو قیمتی فرصت مہیا کرتی ہے کہ وہ اپنا ٹھکانہ اورکھانے پینے کا انتظام آپ کے پاس کرلیتا ہے , اور اس میں وہ تنہا نہیں ہوتا ,بلکہ اسکے ساتھ شیطانوں کی ایک ٹولی ہوتی ہے ,پھر یہ ٹولی گھر میں رہ کرانڈے بچے دیتی ہے .

اس لئے!غفلت سے بچئے اورذکرالہی کو لازم جانئے, کیوں کہ ذکر الہی مضبوط رسی اور بہترین راستہ ہے .

 گھر میں کثرت سے قرآن کی تلاوت کرنا

اور یہ اس لئے کہ قرآن گھر کو خوشبو داراور پاک و صاف رکھتا ہے ,اور شیطان کو گھر سے نکال بھگاتا ہے, چنانچہ حضرت ابو موسىٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : ’’قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنگترے (نارنجی) جیسی ہے کہ اسکا ذائقہ بھی عمدہ ہوتا ہے اور خوشبو بھی عمدہ, اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے, کہ اسکا ذائقہ تو عمدہ ہوتا ہے مگر اس میں خوشبو نہیں ہوتی ,اورقرآن پڑھنے والے منافق کی مثال گل ریحان کی سی ہے کہ اس کی خوشبو عمدہ ہوتی ہے مگر ذائقہ کڑوا ہوتا ہے , اورقرآن نہ پڑھنے والےمنافق کی مثال اندرائن (کے پھل) جیسی ہے کہ اس کا ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے اور اس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی ‘‘۔ ( صحیح بخاری ومسلم)

اسی طرح گھر میں خشوع وخضوع کے ساتھ قرآن پڑھنے سےفرشتے گھر کے قریب آتے ہیں ,چنانچہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے کھلیان (کھجور جمع کرنے کی جگہ) میں قرآن پڑھ رہے تھے کہ اچانک ان کی گھوڑی بدکنے لگی (وہ خاموش ہوگئے تو پھر وہ گھوڑی ٹہرگئی ) پھر وہ پڑھنے لگے تو پھروہ گھوڑی بدکنے لگی (اس کے بعد پھر وہ پڑھنے سے رک گئے ) پھر وہ پڑھنے لگے تو پھر وہ گھوڑی بدکنے لگی ,حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں ڈر گیا کہ کہیں گھوڑی (میرے بچے ) کو کچل نہ ڈالے , پھر میں اس گھوڑی کی طرف بڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان سا میرے سر پر ہے ,اور اس میں چراغ جیسی روشنی ہے ,پھر وہ روشنی فضا میں بلند ہونے لگی یہاں تک کہ میں نے پھر اس کو نہیں دیکھا ,میں رسول ﷺکی خدمت میں صبح کو حاضر ہوا, اور عرض کیا یارسول اللہ! گزشتہ رات میں اپنےکھلیان میں قرآن پڑہ رہا تھا کہ میری گھوڑی بدکنے لگی ,تورسول ﷺنے فرمایا: اے ابن حضیر! پڑھتے رہو, ابن حضیر کا بیان ہے کہ پھر میں پڑھنے لگا ,پھر وہ گھوڑی بدکنے لگی , پھر رسول ﷺنے فرمایا :اے ابن حضیر!پڑھتے رہو ,ابن حضیر کہنے لگے کہ میں ہی رک گیا ,کیونکہ یحیٰ گھوڑی کے پاس تھا ,میں ڈرا کہ کہیں یحیٰ کو کچل نہ ڈالے ,چنانچہ مین نے ایک سائبان سا دیکھا جس میں چراغ جیسی روشنی تھی ,پھر وہ فضا میں بلند ہونے لگی یہاں تک کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا ,تب رسول ﷺنے فرمایا : ’’يہ فرشتےتھے جوتمہاری قراءت سن رہے تھے اگر تم پڑھتے پڑھتے صبح کردیتے تو لوگ ان فرشتوں کو دیکھ لیتے اور وہ ان کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہتے ۔‘‘

گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کرنا

جب آپ یہ محسوس کریں کہ آپ کے گھر میں مشکلات بڑہ گئی ہیں ,آوازیں بلند ہونے لگی ہیں ,اور سرکشی وعناد پیدا ہوگئی ہے تویہ جان لیں کہ شیطان وہاں ضرور موجود ہے ,اسلئے آپ کو چاہیے کہ اسے بھگانے اور دور کرنے کی کوشش کریں ,لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کیسے بھاگے گا, اس سوال کا جواب آپ کو اللہ کے رسول ﷺدے رہے ہیں ,آپ نے فرمایا : (إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامًا وَسَنَامُ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ خَرَجَ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ) ہرچیز کی کوئی چوٹی ہوتی ہے (جو سب سے اوپراور بالاتر ہوتی ہے )اورقرآن کی چوٹی سورۂ بقرہ ہے اور شیطان جب سورۂ بقرہ کی تلاوت ہوتے ہوئے سنتا ہے تو اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جہاں سورۂ بقرہ کی تلاوت ہوتی ہے ‘‘۔ (امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور حافظ ذہبی نے اس کی تائید کی ہے ,اور علامہ البانی نے اپنی کتاب السلسلۃ الصحیحۃ ح/558میں اس حدیث کو حسن کہا ہے ).

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺنے فرمایا :(لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ) اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ(بلکہ اپنے گھروں کو تلاوت قرآن سے معمور رکھو)کیونکہ جس گھر میں سورۂ بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہے اس گھر میں شیطان نہیں آسکتا ‘‘۔

شيطانی آواز سے گھر کوپاک رکھنا

فرمان باری تعالى ٰہے: ﴿وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ ﴾ اور ان ميں سے تو جسے بھی اپنی آواز سے بہکا سکتا ہے بہکالے ‘‘۔ (سورۂ اسراء:64)

مجاهد رحمة الله عليہ کہتے ہیں کہ: ’’شیطان کی آوازگانا ہے‘‘۔

حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا : (لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا يُعْزَفُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْمُغَنِّيَاتِ يَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمْ الْأَرْضَ وَيَجْعَلُ مِنْهُمْ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ) ’’ البتہ ضرور میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے اس کا نام بدل دیں گے ’ان کے سروں پر گلوکارائیں گائیں گی اورآلات طرب بجائے جائیں گے ,اللہ تعالىٰ انہیں زمین میں دھنسا دے گا , اور ان میں سے بعض افراد کو بندر اور سور بنادیگا ‘‘۔(سنن ابن ماجہ 2/1333,اس حدیث کی سند حسن ہے, دیکھئے :علامہ ابن قیم رحمہ اللہ کی کتاب (اغاثہ اللہفان )۔

رسول ﷺنے فرمایا :(لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ ) ’’میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا , ریشم , شراب اور آلات موسیقی کو حلال سمجھ لیں گے ‘‘(صحیح بخاری 10/51مع الفتح)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’گانا دل میں اس طر ح نفاق پیدا کرتا ھے جیسے پانی سبزہ اگاتا ہے ۔ ‘‘

اور یزید بن ولید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :لوگو! گانے سننے سے بچو ,کیونکہ گانا سننا شرم وحیا کو کم کردیتا ہے ,شہوت کو بڑھاتا ہے ,مروّت کو ملیا میٹ کردیتا ہے, شراب کی نیابت کرتا ہے , انسان پر ویسا ہی اثر کرتا ہے جس طرح نشہ آور چیز۔‘‘

امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : گانا سننا فسق ہے ,اورامام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے جب گانے کےبارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :گانا سننا فاسقوں فاجروں کا کا م ہے ۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :گانا سننا ایک ناجائز فعل ہے, اوراس کا عادی احمق ہے, اور اسکی گواہی قبول نہیں کی جائے گی .

امام احمد ابن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :گانے سننےسے دل میں نفاق پیدا ہوتا ہے جو مجھے پسند نہیں ۔

مسلمان بھائیو اور بہنو!

گانے کی حرمت آپ پر واضح ہوگئی اوریہ بھی واضح ہوا کہ گانا شیطانی آواز ہے ,اور جب شیطان کسی گھر میں آواز دیتا ہے تو شیطان کا لشکرہر جگہ سے پہنچ کر اس گھر میں جمع ہوتا ہے ,پھر اس گھر میں فساد پھیلاتا ہے اور اس گھر میں رہنے والوں کے دلوں میں شقاق واختلاف ,بغض وکینہ پیدا کردیتا ہے , اور جب گھر میں گانا بجانا زیادہ بڑھ جاتا ہے تو پھر شیاطین اس گھر میں اپنا گھونسلہ بنا کر اس کو اپنا مسکن بنا لیتےہیں , اس لئے مسلمان بھائیو! آپ کے لئے ضروری ہے کہ اپنے گھروں کو گانے وغیرہ سے پاک وصاف رکھیں ,چاہے وہ گانا ریڈیو سے آرہا ہو, یا ٹیلی ویزن کے ذریعہ سے.

گھنٹیوں سے گھر کو پاک رکھنا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا : ( الْجَرَسُ مَزَامَيرُ الشَّيْطَانِ) ’’گھنٹی شیطان کے باجے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم ,سنن ابوداؤد)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی ایک دوسری روایت ہے جس میں ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا: (لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلبٌ، أَوْجَرَسٌ) ’’فرشتے ان مسافروں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ گھنٹا یا کتا ہو۔‘‘ (صحیح مسلم , ابوداؤد , ترمذی ,اوراما م ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے )

فرشتے اللہ کی فوج ہیں اور وہ ہمیشہ شیطانی فوج کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں،جب رحمانی فوجیں ان سے علیحدہ ہوتی ہیں تو پھران پر شیطانی فوجیں مسلط ہوجاتی ہیں .

لیکن گھنٹی سےمرا د وہ ممنوعہ گھنٹی ہے جو آوازکی شکل میں گرجا گھروں کے ناقوس کے مشابہ ہو ,اس سے موجودہ ٹیلی فون کی گھنٹی کا حکم مستثنىٰ ہے ,اسی طرح گھروں میں لگائی جانے والی گھنٹیاں بھی اس سے خارج ہیں , الاّ یہ کہ وہ گھنٹیاں آواز میں گرجاگھروں کے ناقوس کے مشابہ ہوں ,جس طرح وہ گھنٹی جو ایک دفعہ بجے پھر بند ہوجائے , اس طرح بجتی اوربند ہوتی رہے .

اسی طرح ممنوعہ گھنٹی میں دیوار گھڑی کی وہ گھنٹی بھی شامل ہے جو بنڈول کے نام سے جانی جاتی ہے ,اسلئے کہ یہ آواز میں گرجا گھر کے ناقوس کے متشابہ ہوتی ہے ,اور یہاں پر ایک بات اچھی طرح جان لیں کہ موسیقی کی گھنٹی جو حرام ہے اس کی حرمت اس وجہ سے نہیں ہےکہ وہ عیسائیوں کےناقوس کے متشابہ ہے, بلکہ اس کی حرمت اس وجہ سے ہے, کہ یہ شیطانی باجے ہیں ,جس کی نشاندہی سطور بالا میں کی جا چکی ہے .

صلیب[كراس نشان ] سے گھر کو پاک رکھنا

اسلئےکہ صلیب نصارىٰ کاشعار ہے ,اورہمیں یہودونصاریٰ کی مشابہت سے روکا گیا ہے , لیکن ہائے افسوس !آج صلیبیں مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہوچکی ہیں ,مسلمانوں کے جس گھر میں داخل ہوں گے صلیب آپ کو ضرور ملے گا ,جا نماز میں ,یا پردے میں یا دیوار کے نقش ونگار میں ,بلکہ یہ صلیبیں اللہ کے گھروں (مسجدوں ) میں داخل ہو چکی ہیں ,کتنی مسجدیں ہیں کہ اگر اس کے جانمازوں کے نقش ونگار کو بنظرغائر دیکھا جائے تو آپ کو صلیبیں صاف صاف نظر آئیں گی ,اور ایسا کیوں نہ ہو جب کہ یہ جا نمازیں اور قالینیں عیسائی ملکوں سے درآمد کئے جاتے ہیں ,گویاکہ یہ نیا صلیبی حملہ ہے جو ہر گھر پر حملہ آور ہے , اسلئے اے مسلمان بھائیو !آپ محتاط رہیں ,اورکپڑا ,بستر ,قالین ,جانماز وغیرہ خریدتے وقت گہری نظرڈالیں ,اوریہ نہ کہیں کہ بلا تعمّد یہ صلیبیں آگئی ہیں ,کیونکہ نبی کریم ﷺجوصلیب بھی اپنے گھرمیں پاتے اس کو توڑ ڈالتے , کیا کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺکے گھر میں عمداً صلیب لائی گئی تھی .

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : (أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ) ’’آپ ﷺگھر میں جب کوئی ایسی چیز دیکھتے جس پر صلیب کی تصویر یں ہوتیں تو اس کو توڑ ڈالتے ‘‘۔(صحیح بخاری ,سنن ابو داؤد).

 گھر کو تصویروں ,مجسموں اور مورتیوں سے پا ک رکھنا

ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے گھر کو مجسموں اور مورتیوں سے پاک رکھے ,سوائے ان کے جن کا استثناء حدیث میں آیا ہوا ہے , اوروہ لڑکیوں کا گڑیا ہے ,اسی طرح تصویروں سے بھی (گھرکوپاک رکھے) بجز ان تصویروں کے جو ضرورت کے لئے ہوں جیسے پاسپورٹ , شناختی کارڈ اور سرکاری کاغذات وغیرہ .

اس لئے کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر اورمجسمے ہوں , اورجیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا کہ فرشتے جس گھر سے نکل جاتے ہیں شیطان اس گھر میں اپنا مسکن بنالیتا ہے , چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے انہوں نے ایک توشک خریدی جس میں تصویریں تھیں ,جب رسول ﷺنے اس کو دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے رہے اوراندر نہ گئے ,میں نے آپ کے چہرۂ مبارک سےناراضگی کو پہچان لیا,میں نے کہا یارسول اللہ !میں توبہ کرتی ہوں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے میرا کیا گناہ ہے؟

آپ نے فرمایا :یہ توشک کیسی ہے ؟ میں نے کہا اس کو میں نے خریدا ہے تاکہ آپ بیٹھیں اور ٹیک لگائیں , آپ نے فرمایا: ان تصویروں کو بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائیگا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جنہیں پیدا کیا انہیں زندہ کرو ,آپ نے مزید فرمایا کہ جس گھر میں تصویرہو وہاں (رحمت کے) فرشتے داخل نہیں ہوتے ‘‘۔(صحیح بخاری ومسلم )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا  :( لاَ تَدْخُلُ المَلاَئِكَةُ بَيْتاً فِيهِ تَمَاثِيلُ، أوْتَصَاوِيْر) ’’جس گھر میں مجسمے اور تصاویر ہوں وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے ‘‘۔ (صحیح مسلم )

یہاں یہ بات بھی اچھی طرح جان لیں کہ یہ حرمت عام اور ہر قسم کی تصویروں کو شامل ہے, چاہے وہ فوٹو ہو, یا مجسم تصویر ہو , اس کا سایہ ہو یانہ ہو, یا وہ تصویر ہاتھ سے بنائی گئی ہو یا کیمرہ وغیرہ سے .

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس میں کوئی فرق نہیں چاہے ان تصویروں کے سایے ہوں یانہ ہوں ,اس مسئلہ میں یہی ہمارے لئے منع کی گئی چیزوں کا خلاصہ ہے اور اسی مفہوم کو جمہور علماء صحابہ ,تابعین اور تبع تابعین اور بعد کے لوگوں نے بیان کیا ہے ,یہی سفیان ثوری ,امام مالک وامام ابو حنیفہ رحمہم اللہ وغیرہم کا مسلک ہے ,اس حرمت سے وہ تصویریں مستثنیٰ ہیں جس میں جان نہ ہو جیسے درخت ,نہریں ,کھیتیاں اور جمادات وغیرہ .

حضرت سعید بن ابی الحسن رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اورکہا اے ابن عباس! میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی صنعت ہے اور میں یہ تصویریں بنایا کرتا ہوں تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے رسول ﷺکو جوفرماتے ہوئے سنا ہے وہی میں تم سے بیان کرتا ہوں ,آپﷺنے فرمایا :’’جوشخص دنیا میں کوئی تصویر بنائے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس کے اندر جان ڈالے مگروہ اس میں جان نہ ڈال سکے گا ‘‘وہ آدمی غصہ سے پھٹنے لگا تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’تم پر افسوس ہے اگر تم ایسا ہی کرنا چاہتے ہو, تو درخت اور بے جان چیزوں کی تصویریں بناؤ‘‘۔(متفق علیہ روایت ہے اور لفظ بخاری کے ہیں)

 گھر کا کُتّوں سے پاک رکھنا

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا:( لاَ تَدْخُلُ المَلاَئِكَةُ بَيْتاً فِيهِ كَلْبٌ، وَلاَ صُورَةٌ) ’’[ رحمت كے ]فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو ۔ ‘‘(صحیح بخاری وصحیح مسلم )

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ جبرئیل علیہ السلام نے رسول ﷺ کے پاس ایک متعین وقت میں آنے کا وعدہ کیا , وقت گزرگیا لیکن جبرئیل علیہ السلام نہ آئے ,اس وقت رسول ﷺکے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی, آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا اور فرمایا :’’کہ اللہ تعالىٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا نہ اس کے قاصد وعدہ خلافی کرتے ہیں, پھر آپ نے اِدھر اُدھر دیکھا تو ایک پِلاّ ( یعنی کتے کا بچّہ) آپ کی چارپائی کے نیچے دکھائی دیا , آپ نے فرمایا اے عائشہ! یہ پِلاّ اس جگہ کب آیا ؟ انہوں نے کہا اللہ کی قسم !مجھے علم نہیں ,آپ نے حکم دیا وہ باہر نکالا گیا , پھر جب جبرئیل آئے تو رسول ﷺنے فرمایا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اور میں آپ کے انتظارمیں بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے ,تو جبرئیل نے کہا یہ کتّا جو آپ کے گھر میں تھا اسنے مجھے روک رکھا تھا, جس گھر میں کتّا اور تصویر ہو ہم وہاں داخل نہیں ہوتے ۔‘‘ (صحیح بخاری ومسلم )

اس حکم سے صرف شکاری, یا حفاظتی کتے مستثنىٰ ہیں بشرطیکہ کتّاکا لا نہ ہو, اس لئے کہ نبی کریمﷺنے فرمایا : ( الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ) ’’ سیاہ کتا شیطان ہے ۔‘‘ اورسیاہ کتے کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہوئے آپ ﷺنے فرمایا : (عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ ) ’’ تم دو نقطوں والے کالے سیاہ کتے کو مارو کیونکہ وہ شیطان ہے۔‘‘(صحیح مسلم)

ایک دوسری روایت جو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے , ان کا بیان ہے کہ میں نے رسولﷺکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:(مَنْ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ) ’’جو شخص مویشی یا شکاری کتے کے علاوہ کوئی اور کتا پالے تواس کے ثواب میں سے روزانہ دوقیراط گھٹتے جائیں گے ۔‘‘ (بخاری ومسلم )

 گھر میں نفلی نمازوں کا بکثرت اہتما م کرنا

حضرت عبد اللہ بن عمرورضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا :(اجْعَلُوا فِي بُيُوتِكُمْ مِنْ صَلَاتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا) ’’اپنی نمازوں کا کچھ حصہ اپنے گھروں میں ادا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ‘‘۔(صحیح بخاری ومسلم ) اور یہ بات معلوم ہے کہ قبرستان ,بیابان اور ویران مقامات شیطانوں کے اڈے ہوتے ہیں ,گویا کہ آپ ﷺکا ہم سے یہ مطالبہ ہےکہ شیطانوں کو اپنے گھروں سے بگھانے کے لئے نفل نماز کا کچھ حصہ اپنے گھرمیں پڑھ لیا کریں .

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: گھر میں نماز پڑھنے کی ترغیب اس لئے دی جارہی ہے کہ یہ کام آسان اور اس میں ریاکاری سے دوری اور اعمال کی بربادی سے بچاؤ ہے ,نیز اس وجہ سے بھی کہ اس سے گھر میں برکت کا حصول ہوتا ہے ,رحمت نازل ہوتی ہے ,فرشتے آتے ہیں اورشیطان گھر سے بھاگتا ہے ,ا.ھ.( شرح مسلم للنووی )

ایک دوسری حدیث میں نفل نماز کی ترغیب دیتے ہوئے آپ ﷺنے فرمایا: (صَلُّواأَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ, ‌‌‏فَإِنَّ أفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ) ’’ اے لوگو! اپنےگھروں میں (نفل ) نماز پڑھو کیونکہ فرض کے علاوہ آدمی کی افضل نماز وہ ہے جو گھر میں پڑھی جائے ‘‘۔(امام نسائی نے اس حدیث کو جید سند سے بیان کیا ہے ,دیکھئے " الترغیب والترہیب" للمنذری ,علامہ البانی نے بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ,دیکھئے(صحیح الترغیب :ج 1/178)

حضرت ابوموسىٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺنے فرمایا : (مَثل الْبَيْتِ الَّذِي يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ ، وَالبَيْتِ الَّذِي لَا يُذْكَرُ اللَّهُ فِيهِ ، مثل الْحَيِّ وَالْمَيِّتِ ) ’’جس گھر میں اللہ کا ذکر ہوتا ہو اور جس گھرمیں اللہ کا ذکرنہ ہوتا ہوان کی مثال زندہ اورمردہ کی سی ہے ‘‘۔(صحیح مسلم )

اچھی بات اورخندہ پیشانی

آپ کویہ معلوم ہے کہ شیطان مسلم معاشرے کو تہس نہس کرنے کے لئے تدبیریں کرتا , چال چلتا اورمنصوبے بناتا ہے, اس کےمنصوبے میں مسلم خاندان کی بنیاد کو اکھاڑپھینکنا بھی شامل ہے, کیوں کہ معاشرے کی تعمیر میں یہ پہلی اینٹ ہے, جس کی وضاحت حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث کررہی ہے , رسول ﷺنے فرمایا : (إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ مَا صَنَعْتَ شَيْئًا قَالَ ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ قَالَ فَيُدْنِيهِ مِنْهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أَنْتَ!) ’’ابلیس اپنا تخت پانی پر رکھتا ہے ,پھر وہاں سے وہ اپنا لشکر (دنیا میں فساد برپا کرنے کے لئے )بھیجتا ہے , ابلیس کے سب سے قریب وہ شیطان ہوتا ہے جوسب سے بڑا فتنہ برپا کرے،چنانچہ ان میں سے ایک (شیطان)آکر کہتا ہے کہ میں نے ایسا ایسا کیا،توابلیس کہتا ہے کہ تونے کچھ نہیں کیا،پھران میں سے ایک (دوسرا شیطان)آکر کہتا ہےکہ میں فلاں بیوی کے پیچھے پڑا رہا یہاں تک کہ ان دونوں میں علیحد گی پید ا کردی ,راوی کہتے ہیں کہ:ابلیس اسے اپنے قریب کرلیتا ہے اورکہتا ہے: تو بہت خوب ہے!(یعنی تونے بہت اچھاکام کیا) ‘‘۔(صحیح مسلم )

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تفرقہ ڈالنا معاشرہ کی بنیاد کو جڑسے اکھاڑپھینکنا ہے , اوریہ ابلیس لعین کا خاص ہدف ہے ۔

اسلئے شوہر کے لئے ضروری ہے کہ اپنی بیوی سے حسن سلوکی سے پیش آئے ,اور اچھی بات اختیار کرے, تاکہ شیطان اس کے اوراسکی بیوی کے درمیان فساد برپا نہ کرسکے, فرمان باری تعالى ہے: ﴿وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُواْ الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ﴾ [الإسراء:53] ’’میرے بندوں سے کہدیجئے کہ وہ بہت ہی اچھی بات منہ سے نکالا کریں کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے ‘‘۔ (سورۂ اسراء:53)

اچھی بات دل کو خوش کردیتی ,میل جول کو برقرار رکھتی, اور میاں بیوی کے درمیان خوش بختی کو عام کرتی ہے, اوراس سکون و آرام کو ثابت کردیتی ہے جس مقصد کے لئے عورتیں مردوں کے لئے پیدا کی گئی ہیں , محبت اورمودّت کےروابط اورمیاں بیوی کے درمیان ہمدردی کے رشتوں کو مضبوط بنا دیتی ہے , فرمان الہی ہے: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ ’’اوراس كی نشانيوں میں سے ہے کہ تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ, اوراسنے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی قائم کردی ,یقیناً غوروفکر کرنے والوں کے لئے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔‘‘ (سورۂ روم:20)

اہل خانہ کی حفاظت

حضرت عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سےروایت ہے کہ رسول ﷺنے فرمایا: (إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوِ اشْتَرَى خَادِمًا ، فَلْيَقُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ ، ,(وفي رواية )ثم لْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وليدعُ بالبركة في المرأةِ والخَادمِ ،وَإِذَا اشْتَرَى بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ فَلْيَقُلْ ذَلِكَ) ’’تم ميں سے کوئی جب کسی عورت سے شادی کرے, یا کوئی غلام خریدے, تو یہ دعا کرے (اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ) ’’اے اللہ میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس چیز کی بھلائی چاہتا ہوں جس پر تونے اس کو پیدا کیا , اورتجھ سے اس کی برائی ,اوراس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں جس پر تونے اس کو پیدا کیا ‘‘ (سنن ابی داؤد ,علامہ البانی رحمۃ اللہ نے الکلم الطیب کی تخریج میں اس حدیث کی سند کو حسن کہا ہے)

ایک دوسری روایت میں ہے:’’ اس کی پیشانی پکڑے, اوربیوی اورخادم کے بارے میں برکت کی دعا کرے , اور جب اونٹ خریدے تو اس کی کوہان کی چوٹی کو پکڑ کراوپر کی دعا پڑھے .

اور دولہا کو چاہئے کہ شب زفاف میں اپنی بیوی کے ساتھ دورکعت نماز پڑھے ایسا کرنے سے دونوں کی ازدواجی زندگی ہر نا پسند یدہ چیز سے محفوظ رہے گی .

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ کا بیان ہے کہ’’جب تمہاری بیوی تمہارے پاس آئے تو تم اسے کہو, کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے, اور یہ دعا کرو(اللَّهُمَّ ، بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي ، وبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ ، اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي مِنْهُمْ ، وارْزُقْهُمْ مِنِّي ، اللَّهُمَّ ، اجْمَعْ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ ، وفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ ) ’’اے اللہ 1میرے لئے میرے اہل میں برکت عطا فرما . اور ان کے لئے مجھ میں برکت عطا فرما , اے اللہ!جب تک ہمیں اکھٹا رکھے خیر پر اکھٹا رکھ, اورجب ہمارے اندر جدائی ہو تو خیر ہی پر جدائی کر ۔‘‘ (طبرانی ,علامع البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اثرکوحسن کہا ہے )

اولاد کی شیطان سے حفاظت

مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ ہمبستری کی دعاؤں کا اہتمام کرے , ایسا کرنے سے بچہ شیطان کے اثر سے محفوظ رہے گا , حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: (لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ ،اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ،وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَقضى بَيْنهُمَا وَلَدٌ، لَمْ يَضُرُّه الشَيْطَانُ أَبَدًا) ’’اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے جماع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے : (بِسْمِ اللَّهِ ،اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ،وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا) ’’اے اللہ !تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ, اور تو ہمیں جو اولاد عطا کر اسے بھی شیطان سے بچانا ‘‘ تو ان کے یہاں جو بچہ پیدا ہوگا شیطان اسے کبھی ضرر نہیں پہنچا سکے گا ‘‘۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم )

اذان سے شیطان بھاگتا ہے اس لئے مسلمان کو چا ہئے کہ بچے کی ولادت کے وقت نو مولود کے کان میں اذان دے , حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو رسول ﷺ نے ان کے کان میں اذان کہی‘‘(سنن ابوداؤد ,ترمذی ,اورامام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے )([2] )

اولاد کو زہریلے جانوروں[سانپ ,بچھو] اور حسد سےبچاؤ

صبح وشام کے وقت اپنی اولا د کو جمع کریں, اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرکر یہ دعا پڑھیں: (أُعِيذُكُمْ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ،‏ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ) ’’ میں تمہیں اللہ کی کلمات تامہ کے ساتھ ہر شیطان, زہریلے جانوراور نظر بد سے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں۔‘‘

اور یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺحضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہما کو مذکورہ بالا دعا کے ساتھ دم کیا کرتے تھے, اورفرماتے کہ تمہارے جد امجد ابراہیم علیہ السلام اسی دعا کے ساتھ اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام کو دم کیا کرتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری ,سنن ترمذی )

خاتِمَہ

پچھلے صفحات میں شیطان سے بچنے کے پندرہ حفاظتی وسائل بیان کئے گئےہیں ,جس نے ان وسائل کو اپنا لیا تو اس نے اپنے گھر سے شیطان کو مار بھگایا ,اور رحمن کی حفاظت ونگرانی میں آگیا۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری یہ باتیں خالص اپنی رضامندی کے لئے بنائے ,مجھے اورتمام مسلمان بھائیوں کو اس سے فائدہ پہنچائے, اور دینی امور میں ہمیں بصیرت عطا فرمائے ۔

اے اللہ !تو پاک ہے, ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لئے ہے ,میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرےسوا کوئی معبود برحق نہیں , میں تجھ ہی سے مغفرت چاہتا ہوں اورتیری جناب میں توبہ کرتا ہوں۔ وصلی اللہ علی نبینا محمد وعلى آلہ وأصحابہ أجمعین



جمعہ، 14 جولائی، 2023

01 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


01 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 1


اتفاق ِ رائے سے خلیفہ اول، حضرت ابوبکر رضی عنہ کا خاندان، نام اور سلسلہ نسب، لقب عتیق، لقب صدیق، قبول اسلام سے پہلے، قبول اسلام، قوم فرعون کے مرد مومن سے بہتر، حضرت ابو بکر صدیق کی شجاعت، اُمت کے سب سے بڑے عالم، بیعت سقیفہ بنو ساعدہ


اتفاق ِ رائے سے خلیفہ اول

   تمام مسلمانوں نے اتفاق ِ رائے سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ اول منتخب کر لیا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت میں آپ رضی اﷲ عنہ سب سے افضل ہیں اور آپ رضی اﷲ عنہ کی موجودگی میں کسی اور کو خلیفہ بنانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کا پورا دور خلافت اس بات کا گواہ ہے کہ آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا ہے۔اﷲ تعالیٰ ”خلیفہ ¿ اول“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔آمین۔آپ رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت کے حالات بیان کرنے سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کا نام ،لقب ،سلسلہ نسب اور حالات زندگی مختصراً پیش کررہے ہیں۔اس کے بعد انشاءاﷲ دور خلافت کے حالات پیش کریں گے۔اﷲ کی مدد سے۔

حضرت ابوبکر رضی عنہ کا خاندان

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ قبیلہ قریش کی شاخ یا خاندان”بنو تیم“میں سے ہیں۔سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتویں دادا ”حضرت مُرّہ بن کعب“کے تین بیٹے تھے۔ایک کانام”کلاب بن مُرّہ“ہے،ان کی نسل میں سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔دوسرے کا نام”تیم بن مُرّہ“ہے،ان کی نسل میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پیدا ہوئے۔تیسرے بیٹے کا نام”یقنطہ بن مُرّہ“ہے،ان کی نسل میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ پیدا ہوئے۔قبیلہ بنو تیم ،یا خاندان بنو تیم،قریش کے معزز خاندانوں میں سے ایک ہے۔قریش نے مختلف قبیلوں یا خاندانوں میں مختلف عہدے بانٹ رکھے تھے۔مقدموں کے فیصلے کا محکمہ ”بنو تیم “کے پاس تھا۔اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ قریش کے ”جج“تھے۔

نام اور سلسلہ نسب

   حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کا نام اسلام قبول کرنے سے پہلے ”عبد الکعبہ“تھا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تو سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کا نام ”عبد اﷲ “ رکھ دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے ایک بیٹے کا نام ”بکر“ہے ،اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ کی کنیت ”ابو بکر“ہے۔

سلسلۂ نسب اس طرح ہے۔حضرت ابوبکر(نام عبد اﷲ)صدیق رضی اﷲ عنہ بن ابو قحافہ(نام عثمان)بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مُرہ۔یہاں آکر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم سلسلہ نسب سے مل گیا ہے۔

لقب عتیق

   حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کا ایک لقب”عتیق “ہے اور یہ لقب زیادہ مشہور نہیں ہے۔کچھ علمائے کرام اسے نام بھی کہتے ہیں۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں۔”میں ایک دن گھرکے دالان میں بیٹھی ہوئی تھی اور دالان میں پردہ پڑا ہوا تھا۔صحن میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے۔اتنے میں والد ِ محترم تشریف لائے اُنہیں آتا دیکھ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:جو کوئی ”عتیق من النار“(دوزخ سے آزاد)شخص کو دیکھنا چاہتا ہو وہ ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کو دیکھ لے۔تب سے آپ رضی اﷲ عنہ کا نام یا لقب ”عتیق“مشہور ہوگیا۔“(مسند ابو یعلیٰ،المستدرک امام حاکم،)اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ روایت کرتی ہیں۔”ایک روز میرے والد محترم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ!اﷲ تعالیٰ نے تم کو”عتیق من النار“(آگ سے بری) فرما دیا ہے۔“اُسی دن سے آپ رضی اﷲ عنہ ”عتیق “کے لقب یا نام سے مشہور ہو گئے۔(جامع ترمذی،المستدرک)

ّلقب صدیق

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ایک اور لقب”صدیق“ہے۔اس لقب کے بارے میں کئی روایات ہیںلیکن اس بات پر اکثرعلمائے کرام کا اتفاق ہے کہ ”سفرِ معراج “کی تصدیق کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ ”صدیق “کے لقب سے زیادہ مشہور ہوئے۔جب آپ رضی اﷲ عنہ کو ”سفر معراج“کے بارے میں معلوم ہوا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ مشرکین آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہنس رہے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ آکر بیٹھے تو قریش کے مشرکین نے کہا ۔اِن کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک رات میں ”بیت المقدس “جا کر واپس آئے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم!میں نے اور یہاں پر موجود کئی لوگوں نے ”بیت المقدس“دیکھا ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بارے میں بتائیں۔“اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے ”بیت المقدس “کردیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُسکی نشانیاں بتانے لگے اور ہر نشانی پر حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ عرض کرتے ”صَدَّقتَ “یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم“ ۔اِس طرح آپ رضی اﷲ عنہ کی تصدیق سے قریش لاجواب ہو گئے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”صدیق“کا لقب عطا فرمایا۔امام محمد بن اسحاق اور حضرت قتادہ رحمتہ اﷲ علیہم کا بیان ہے کہ ”شب معراج “کی صبح سے ہی آپ رضی اﷲ عنہ ”صدیق “کے لقب سے مشہور ہو گئے۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ قریش کے مشرکین نے میرے والد ِ محترم کے پاس آکر کہاکہ آپ کو کچھ خبر ہے کہ آپ کے دوست یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ رات کو ”بیت المقدس“پہنچائے گئے تھے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”کیا واقعی وہ ایسا ہی فرماتے ہیں؟“انہوں نے کہا:”ہاں وہ یہی کہتے ہیں“۔یہ سن کر آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”تب تو بے شک وہ سچ فرما رہے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تو ہمیں صبح شام آسمانوں کی خبریں دیتے ہیں اور میںاُ ن کی تصدیق کرتا ہوں۔“اسی بنا پر آپ رضی اﷲ عنہ کو ”صدیق “کہا جاتا ہے۔(المستدرک،امام حاکم)اسی حدیث کو امام طبرانی نے اپنی ”المعجم “میں حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہم کی روایت سے بیان کیا ہے۔

قبول اسلام سے پہلے

   حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کی اسلام قبول کرنے سے پہلے کی زندگی انتہائی صاف ستھری ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے کبھی جھوٹ نہیں کہا،اور ہمیشہ سچ ہی فرمایا۔شراب کو کبھی ہات نہیں لگایااور نہ ہی کبھی زمانہ¿ جاہلیت میں عربوں کی طرح شعرو شاعری کی۔ہر ایک کی مدد فرماتے تھے۔ کمزوروں کی مدد کرنا اور ظالموں سے مقابلہ کرنا آپ رضی اﷲ عنہ کا شیوہ تھا۔نہ زبان سے کوئی بُری بات نکالی اور نہ کسی کو کبھی لعنت و ملامت کی۔ہمیشہ اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کی،خاص طور سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریب بچپن میں بھی رہے،جوانی میں بھی رہے اور آخری وقت تک ساتھ رہے۔تجارتی قافلوں کے ساتھ ملک شام،ملک حبشہ اور دوسرے ممالک کا سفر بھی کیا۔قریش آپ رضی اﷲ عنہ کی بہت عزت کرتے تھے ۔ آپ رضی اﷲ عنہ اُن کے جج تھے اور اُن کے مقدمات کے فیصلے کرتے تھے۔عام طور سے قریش کا پیشہ تجارت تھا اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے بھی یہی پیشہ اپنایا۔دیانت داری اور سلیم الطبع فطرت کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ بہت جلد مکہ مکرمہ کے ممتاز تاجر بن گئے اور بہت بڑے پیمانے پر کپڑوں کی تجارت کرنے لگے۔ اس سلسلہ میں کئی مرتبہ ملک شام اور ملک یمن کے سفر بھی کئے۔مکہ مکرمہ کے مشرکانہ ماحول میں پرورش پانے کے بعد بھی آپ رضی اﷲ عنہ شرک سے بہت دور رہے۔ کبھی بت پوجا نہیں کی اور مشرکانہ رسوم و رواج میں بھی کبھی حصہ نہیں لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کا مکان بنو جمح کے محلہ میں تھاجہاں قریش کے ممتا ز تاجر سکونت پذیر تھے۔وہیں اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا کا بھی مکان تھا۔نکاح کے بعد آپ صلی اﷲ علیہ وسلم یہیں منتقل ہو گئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے سے ہی مراسم تھے۔یہاں منتقل ہونے کے بعد اور قریبی تعلقات ہوگئے۔

قبول اسلام

   حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔بعض علمائے کرام حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا نام ذکر کرتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے پہلے اسلام قبول کیالیکن اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ مرد نہیں بلکہ بچے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر دس یا گیارہ سال تھی جبکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی عُمر چالیس سال کے آس پاس تھی۔امام ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ کے مطابق خواتین میں سب سے پہلے اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے اسلام قبول کیا۔مَردوں میں سب سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا۔غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا اور بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو جیسے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراًاسلام قبول کرلیااور ایک منٹ بھی نہیں سوچا۔حضرت عباس رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے جس کو بھی اسلام کی دعوت دی،اُس نے میرے کلام کو لوٹا دیا(یعنی انکار کیا یا پھر غورو فکر کے لئے وقت مانگا)سوائے ابن ابی قحافہ(حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ) کے۔میں نے جیسے ہی اُن کو اسلام کی دعوت دی ،انہوں نے فوراً قبول کر لیااور اُس پر ثابت قدم رہے۔(دلائل النبوة،امام ابو نعیم،تاریخ ابن عساکر)حضرت ابو الدردا¿ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے لو گو!کیا تم میرے دوست(حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ)کو چھوڑنا چاہتے ہو،جبکہ میں نے لوگوں سے کہا کہ میں اﷲ کا رسول ہوں ،تو لوگوں نے مجھے جھٹلایا،تو اُس وقت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے میری تصدیق کی۔(صحیح بخاری)

قوم فرعون کے مرد مومن سے بہتر

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب اسلام قبول کیا تو اُس وقت حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی عُمر دس یا بارہ سال تھی اور اُن کو رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہی پال پوس رہے تھے۔اسی لئے حضرت علی رضی اﷲ عنہا ہروقت آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔بچے ہونے کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتے تھے اورصرف دیکھتے رہتے تھے۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ ،خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بہادری کا ایک واقعہ سناتے ہیںکہ ایک مرتبہ قریش کے مشرکین نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو نرغے میں لے لیا اور مارنے پیٹنے لگے۔ وہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو گھسیٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ تم ہی وہ ہو جو کہتے ہو کہ اﷲ ایک ہے۔اﷲ کی قسم ! کسی کو اِن مشرکین سے مقابلہ کرنے کی جرا¿ت نہیں ہوئی لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور مشرکین کو مار مار کر دھکے دے دے کر ہٹاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے۔تم پر افسوس ہے کہ تم ایسے شخص کو ایذا(تکلیف) پہنچا رہے ہوجو یہ کہتا ہے کہ ”میرا رب صرف ایک اﷲ ہے“۔اتنا فرما کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ اپنی چادر پر منہ رکھ کر اتنا روئے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی داڑھی انسوو¿ں سے تر ہو گئی۔پھر فرمایا:”اے لو گو!اﷲ تمہیں ہدایت دے! بتاو¿ کہ قوم فرعون کے مرد مومن اچھے تھے یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ اچھے تھے؟“(قوم فرعون کے مرد مومن کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے سورہ المومن میں تفصیل سے کیا ہے۔)یہ سن کر لوگ خاموش رہے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”لوگو!جواب کیوں نہیں دیتے؟اﷲ کی قسم!حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی ایک ساعت قوم فرعون کے مرد مومن کی ہزار ساعتوں سے بہتر اور برتر ہے۔اس لئے کہ وہ اپنا ایمان(ڈر کی وجہ سے)چھپاتے تھے،اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے ایمان کا اظہار علی الاعلان کیا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی شجاعت

   حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے لوگوں سے دریافت فرمایا:”بتاو¿ سب سے زیادہ بہادر کون ہے؟“لوگوں نے جواب دیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ بہادر ہیں۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تو ہمیشہ اپنے برابر کے جوڑ سے لڑتا ہوں،پھر میں سب سے بہادر کیسے ہوا؟“تم یہ بتاو¿ کہ سب سے بہادر کون ہے؟“لوگوں نے کہا کہ حضرت ہمیں نہیں معلوم،آپ رضی اﷲ عنہ ہی بتائیں۔حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”سب سے زیادہ بہادر اور شجاع حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ ہیں۔سنو!غزوہ ¿ بدر میں ہم نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے سائبان بنایاتھا۔ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ (اس سائبان کے نیچے)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ کون رہے گا؟کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مشرک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر حملہ کردے۔اﷲ کی قسم !ہم میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھاتھا کہ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ شمشیر برہنہ ہاتھ میں لیکر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہو گئے اور پھر کسی مشرک کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آنے کی ہمت نہیں پڑی۔اگر کسی نے ایسی جر ا¿ت کی بھی توآپ رضی اﷲ عنہ فوراً اُس پر ٹوٹ پڑے۔اس لئے آپ رضی اﷲ عنہ ہی سب سے بہادر ہیں۔(مسند البزار)

اُمت کے سب سے بڑے عالم

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ صحابہ کرام رضی اﷲعنہم میں سب سے بڑے عالم تھے۔علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میں سب سے زیادہ قرآن پاک کا علم رکھتے تھے۔اسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی ا ﷲعنہ کو نماز میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا امام بنایا تھا۔رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امام قرآن پاک کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہونا چاہیئے۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جس قوم میں ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ موجود ہوں اُن کے سوا کوئی دوسرا امامت نہیں کر سکتا ۔(جامع ترمذی)آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ احکام رسالت سے آگاہ تھے اور بکثرت احادیث یاد تھیں،جنہیں بوقت ضرورت بیان فرما دیا کرتے تھے۔کیونکہ سب سے زیادہ آپ رضی ا ﷲ عنہ ہی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے قریب رہے ہیں ۔اس کے علاوہ یاداشت بھی بہت اچھی تھی۔اس کے باوجود آپ رضی اﷲ عنہ سے کم احادیث مروی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ بمشکل تین(۳)سال زندہ رہے ،اور بہت کم تابعی آپ رضی اﷲ عنہ سے ملاقات کر سکے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ کی خلافت کی طرف اشارہ

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ملنے لگا تھا۔حضرت حذیفہ بن یمان رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”میرے بعد تم ابو بکر اورعُمر رضی اﷲ عنہم کی پیروی کرنا۔(جامع ترمذی،المستدرک )حضرت جبیر بن مطعم رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خد مت اقدس میں ایک خاتون (کسی کام سے)آئیں (کام پورا ہونے کے بعد )رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا©:(اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو)پھر آنا۔اُن خاتون نے عرض کیا کہ اگر میںآئی ،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو نہیں پایا تو؟آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر تم مجھے نہ پاو¿ تو ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آنا۔(صحیح بخاری،صحیح مسلم)یہ حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خلافت کی طرف واضح اشارہ ہے۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ سے اپنی علالت کے دوران فرمایا:”تم اپنے والد اور بھائی کو بلالو تاکہ میں کچھ انہیں لکھ کر دے دوں کیونکہ مجھے خوف ہے کہ میرے بعد کوئی خواستگار ِخلافت نہ کھڑا ہوجائے۔“پھر فرمایا:”رہنے دو(مت بلاو¿)کیونکہ ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنانا حق ہے اور اﷲ تعالیٰ اور مومنین ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے سوا کسی اور کو خلیفہ نہیں مانیں گے۔(صحیح مسلم)امام احمد بن حنبل اور دوسرے محدثین اِس حدیث کو اِن الفاظ میں روایت کرتے ہیں کہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں مجھ سے ارشاد فرمایا کہ عبد الرحمن بن ابو بکر کو بلالو،تاکہ میں ابو بکر رضی اﷲ عنہ کے لئے وصیت لکھ دوںتاکہ میرے بعد اُن سے کوئی اختلاف نہ کرے۔“پھر فرمایا:”اچھا رہنے دو! اﷲ نہ کرے کہ ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے معاملہ میں مومنین اختلاف کریں۔(مسند احمد)

بیعت سقیفہ بنو ساعدہ

   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ہوش و حواس اُڑ گئے تھے اور ایسے سنگین وقت میں صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ہوش وحواس قائم تھے۔اس کے بارے میں ہم سلسلہ نمبر ۱ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مدنی زندگی میں تفصیل سے پیش کر چکے ہیںاور اُس میں ہم نے یہ بتایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسجد نبوی میں جو خطبہ دیا تو اُس سے تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو یقین آگیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔اب یہیں سے آگے بڑھاتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اسی خطبے کے دوران میں ایک صحابی رضی اﷲ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور کہا کہ دیکھو انصار بنو ساعدہ میں جمع ہو کر کسی ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیںاور وہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے ایک امیر ہو اور مہاجرین میں سے ایک امیر ہو۔اس اطلاع پر حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جلدی سے وہاں پہنچے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے چاہا کہ وہ تقریر کریں مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں روک دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”بہتر ہے! میں نہیں چاہتا کہ ایک دن میں دو مرتبہ آپ رضی ا ﷲ عنہ کی نافرمانی کروں۔“حضرت ابوبکر صدیق نے انصار کو خطاب کیا اور جو جو اُن کے فضائل قرآن پاک سے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی زبانی معلوم تھے،وہ سب بیان کئے اور فرمایا :” تم کو معلوم ہے کہ رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے یہاں تک تمہارے متعلق فرمایا ہے کہ اگر دوسرے لوگ ایک راستہ اختیار کریں اور انصار دوسرا راستہ اختیار کریں تو میں انصار کے ساتھ چلنا پسند کروں گا۔اے حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ !تم خود جانتے ہو کہ تم موجود تھے اور تمھارے سامنے رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ خلافت کے وارث قریش ہیں۔نیک نیکوں کی اقتداءکریں گے اور بد کار بُروں کی اقتداءکریں گے۔“حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا©:”بے شک !آپ رضی ا ﷲ عنہ سچ فرما رہے ہیں۔لہٰذا اب یہ ہونا چاہیئے کہ ہم وزیر رہیں اور آپ لوگ امیر ہوں۔“حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”اپنا ہاتھ لایئے! میں بیعت کروں گا۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”نہیں بلکہ آپ ہاتھ لایئے ،کیونکہ اِس منصب کے اُٹھانے کی قوت آپ میں مجھ سے زیادہ ہے۔“کیونکہ ان دونوں میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ زیادہ قوی تھے مگر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتا تھا اور زبردستی ایکدوسرے کا ہاتھ کھول رہے تھے۔آخر کار حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ کھول لیا اور فرمایا:”میری بیعت قبول کرو اور میری قوت بھی آپ کی قوت کے ساتھ ہے۔“اس کے بعد وہاں موجود سب لوگوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی بیعت کی۔(تاریخ طبری جلد دوم،حصہ اول)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

02 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


02 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 2


بیعت ِ عامہ، منبر پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جگہ نہیں بیٹھے، اسلام پر سنگین بحران، تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے، فتنوں کے پیدا ہونے کی وجوہات، لشکر اُسامہ کی روانگی، رسول اللہ ﷺ کے حکم کو ہر حال میں پورا کروں گا، لشکر اُسامہ کو اپنی نگرانی میں روانہ کیا


بیعت ِ عامہ


   سقیفہ بنو ساعدہ کے چوپال میں مخصو ص لو گو ں نے بیعت کی تھی۔دوسرے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیعت عامہ کے لئے مسجد نبوی میںبیٹھے ۔امام محمد بن اسحاق سیرت میں لکھتے ہیںکہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جب بیعت ثقیفہ ہو چکی تو دوسرے دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف لے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے تقریر کرنے سے پہلے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور حمد و صلوة کے بعد فرمایا:”لو گو !اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحب خاص اور یار غار پر متفق کر دیا ہے جو تم میں سب سے بہتر اور اچھے ہیں۔اس لئے کھڑے ہو جاو¿ اور بیعت عام کر لو۔تمام لوگوں نے اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ سے بیعت عام کی ۔یہ بیعت ”بیعت سقیفہ“کے بعد ہوئی۔اِس بیعت عام کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور حمدو ثنا کے بعد فرمایا:”مسلمانو!تم نے مجھے اپنا امیر بنایا ہے حا لانکہ میں اس قابل نہیں ہوں۔اب اگر میں بھلائی کروں تو تم میری مدد کرنااور اگر میںبُرائی کروں تو مجھے سیدھا کر دینا۔سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔تم میں سے جو ضعیف ہےںوہ میرے نزدیک اُس وقت تک قوی ہیں جب تک میں اُن کا حق نہ دلوا دوں۔(انشاءاﷲ)یاد رکھو!جو قوم جہاد فی سبیل اﷲ (اﷲ کے لئے لڑنا)چھوڑ دیتی ہے اﷲ اُس کو ذلیل وخوار کر دیتا ہے اور جس قوم میں بد کاری پھیل جاتی ہے اﷲ تعالیٰ اُن کو بلاو¿ں میں گرفتار کر دیتا ہے۔مسلمانو!جب تک میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت کروں،تب تک تم بھی میری اطاعت اور اتباع کرنا اور جب میں اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے رو گردانی کروں تو پھر میری اطاعت تم پر واجب نہیں رہے گی۔پس !اب چلونماز پڑھو !اﷲ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔“امام موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب ”مغازی“میں لکھا ہے اور امام حاکم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُس دن خطبہ میں ارشاد فرمایا:”اﷲ کی قسم!مجھے دن رات میں کبھی امارت کا شوق نہیں ہوااور نہ میں نے کبھی اس کی حرص کی نہ میں نے اﷲ تعالیٰ سے اس کے لئے ظاہر و باطن میں دعامانگی۔(یعنی خلافت کی کبھی تمنا یا دعا نہیں کی)اصل (بات)یہ ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں فتنہ برپا نہ ہو جائے۔میرے لئے خلافت میں کو ئی راحت و سکون نہیں ہے ۔میرے کندھوں پر بھاری بوجھ رکھ دیا گیا ہے۔انشاءاﷲ! اﷲ تعالیٰ کی مدد سے اس دشوار کام کو انجام دینے کی کوشش کروں گا۔مجھے اﷲ کی طاقت اور قوت پر پورا پورا بھروسہ ہے۔“یہ تقریر سن کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہمیں ندامت ہے کہ ہم مشورہ ¿ خلافت میں آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ نہیں تھے۔حالانکہ ہم خوب جانتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہی تمام لوگوں میں خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیںکیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ، رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے یار غار ہیں۔ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کے شرف اور بزرگی کا علم ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کو امامت کا حکم فرمایا تھا۔“


منبر پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جگہ نہیں بیٹھے


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بیعت عامہ کے بعد خطبہ کے بارے میں امام محمد بن سعد لکھتے ہیںکہ حضرت مالک بن عُروہ رضی اﷲعنہ نے فرمایاکہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حمد و صلوة کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا:”لوگو!میں اگرچہ تمہارا امیر ہو گیا ہوںلیکن میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔قرآن پاک نازل ہو چکا ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی سنتوں پر چلنا سکھا دیا ہے۔ہم اچھی طرح (احکام ِ شریعت) جان گئے ہیں۔پس اے لوگو!سمجھ لو کہ دانشمند وہی ہے جو متقی ہے اور سب سے زیادہ فاسق و فاجر وہ ہے جو(گناہوں سے بچنے میں)سب سے زیادہ عاجز ہے۔میرے نزدیک تم میں جو سب سے زیادہ کمزور ہے ،وہ اُس وقت تک قوی ہے جب تک کہ اُس کا حق قوی سے نہ دلوا دوں اور میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ قوی اُس وقت تک ضعیف ہے ،جب تک کہ اس سے لوگوں کا حق نہ لے لوں۔لو گو !میں سنت کی پیروی کرنے والا ہوں،دین میں نئی نئی باتیں پیدا کرنے والا نہیں ہوں۔پس میں نیکی کروں تو مجھ سے تعاون کرنااور اگر میں غلطی کروں تو مجھے سیدھے راستے پر لے آنا۔بس مجھے اتنا ہی کہنا ہے۔ اب میں اپنے اور تمہارے سب کے لئے مغفرت چاہتا ہوں۔“(طبقات ابن سعد)حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پوری زندگی منبر پر اُس جگہ نہیں بیٹھے جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے۔اسی طر ح حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،پوری زندگی اُس جگہ پر نہیں بیٹھے جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پوری زندگی اُس جگہ پر نہیں بیٹھے جہاں حضرت عُمر رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے۔(المعجم الاوسط،امام طبرانی)


اسلام پر سنگین بحران


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال سے اسلام کے لئے بہت ہی سنگین بحران پیدا ہو گیا۔ ملک عرب کے بہت سے قبیلے اسلام چھوڑ کر مُرتد ہوگئے۔بہت قبیلوں نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا۔کئی لوگوں نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔پورے ملک عرب میں بے یقینی اور بے چینی کا ماحول تھا۔ہر قبیلے کے صحیح مسلمان حیران و پریشان تھے اور اپنے اپنے قبیلے والوں کو سمجھا رہے تھے۔لوگوں کو مُرتد ہونے سے روک رہے تھے۔جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کی اتباع کرنے سے روک رہے تھے اور ذکوٰة روکنے والوں کو بھی سمجھا رہے تھے۔ہر قبیلے کے سچے مسلمان اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو سمجھا رہے تھے۔ایسے سنگین حالات میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا خلیفہ بنایا گیااور آپ رضی اﷲ عنہ پر اسلام کو بحران سے نکالنے اور دنیا والوں تک پہنچانے کی عظیم ذمہ داری ڈال دی گئی ۔


تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انتہائی سنگین حالات میں خلافت کی ذمہ داری سنبھالی اور آپ رضی اﷲ عنہ کا دور ِ خلافت بہت ہی ہنگامہ خیز تھا ۔رسول ا ﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جو طوفان اُٹھا وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے پہلی آزمائش سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کی وہ مجلس تھی جس میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جا نشینی کا مسئلہ طے ہونا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اِس آزمائش میں پورے اُترے ۔اس کے بعد فتنہ¿ ارتداد کی وبا نے تقریباًسارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کے ساتھ ساتھ منکرین ذکوٰة کا فتنہ الگ انتشار پیدا کرر ہا تھا۔رہی سہی کسر جھوٹے مدعیان ِنبوت نے پوری کر دی۔اِ ن نا مساعد حالات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بہت سے قبائلی سرداروں نے بھی بغاوت کر دی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد عالم اسلام کی ذمہ داریوں اور اُمت کی قیادت کا بوجھ بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے کاندھوں پر آگیا۔انہوں نے کمال بصیرت و دانائی سے پہلے صحابہ ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے زخمی دلوں پر پھایا رکھاجو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال سے بد حال ہو رہے تھے۔ اُسی وقت سقیفہ بنو ساعدہ میں پہنچے اور اپنی خدا داد فراست و تدبر سے انتہائی بگڑے ہوئے حالات پر قابو پایامگر یہاں مشکلات کا خاتمہ نہیں ہوابلکہ یہ تو آغاز تھا۔اُن مصائب کا جن سے آپ رضی اﷲ عنہ کو دوچار ہو نا تھا۔حالات انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکے تھے لیکن اس طوفانی دور میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے استقلال کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اُن کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے مسلک سے ایک انچ بھی ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔حالانکہ بعض مواقع پر بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم کی رائے آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے سے مختلف تھی۔خاص طور سے منکرین ذکوٰة اور لشکر ِ اُسامہ کے بارے میں ۔لیکن بعد میں حالات نے ثابت کیا اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے بھی تسلیم کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے اور فیصلہ دُرست تھااور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی فراست اور تدبر سے جھوٹے نبیوں کا بھی خاتمہ کیا ،منکرین زکوٰة کو بھی اسلام پر عمل کرایا،مرتدین کو بھی دوبارہ حلق بگوش اسلا م کیااور باغیوںکی بھی سرکوبی کی اور ان سب معا ملات کو کنٹرول کرنے کے لئے اُنہوں نے ”اﷲ کی تلوار“یعنی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا بہت خوبی سے استعمال کیا۔یہ اجمالی حالات ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔اب انشاءاﷲ تمام حالات تفصیل سے پیش کریں گے۔اﷲ ہمارا حامی و ناصر ہو۔


فتنوں کے پیدا ہونے کی وجوہات


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو اُس وقت مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور طائف کے تمام لوگ اسلام پر قائم رہے۔ان کے علاوہ قبیلہ مزنیہ،قبیلہ بنو غفار ،قبیلہ بنو جہینہ،قبیلہ بنو اشجع،قبیلہ بنو اسلم،اور قبیلہ بنو خزاعہ کی اکثریت اسلام پر قائم رہی صرف چند افراد مُرتد ہوئے تھے۔اِن کے علاوہ پورے ملک عرب میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی تھی۔وہ لوگ جن کے دل قبائلی عصبیت سے پاک نہیں ہوئے تھے اور وہ لوگ جن کے دل میں اسلام راسخ نہیں ہوا تھاوہ مُرتد ہو گئے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ۹ ھجری اور ۰۱ ھجری میں پورے ملک عرب سے وفود نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھااور چند ہفتے یا چند مہینے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے قبیلے میں جا کر اسلام کی تعلیم دی۔اس طرح دور دور کے قبائل میں اسلام راسخ نہیں ہو سکا تھااور وہ ہوا کے رخ پر بہہ گئے۔دوسرا گروہ ”مانعین زکوٰة“ کا تھا۔یہ مدینہ منورہ کے قریب آباد قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان،قبیلہ بنو کنانہ ،قبیلہ بنو غطفان اور قبیلہ بنو فزارہ تھے۔انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بھیجے ہوئے تحصیلداروں کو زکوٰة دینے سے انکار کر دیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان قبائل کے اندر جاہلی تصور پیدا ہو گیا تھااور اُنہوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ چونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا جا نشین مقرر نہیں کیا ۔اس لئے ہم پر مہاجرین و انصار کے منتخب خلیفہ کی اطاعت لازم نہیں ہے اور ہمیں بھی یہ اختیار ہے کہ اپنا امیر مقرر کر لیں اور اسلام پر کاربند رہتے ہوئے اپنے امیر کی پیروی کریں۔زکوٰة کو یہ لوگ جزیہ سمجھتے تھے۔تیسرا گروہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کا تھا۔اِن جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں میں (۱) اسود عنسی (یمن) (۲) مسیلمہ کذاب (یمامہ) (۳) طلیحہ (بنو اسد) (۴) سجاع(بنو تمیم) (۵)ذوالتاج لقیط بن مالک(عمان)سرِفہرست تھے۔اِن تینوں گروہوں کے علاوہ چوتھا گروہ مسلح باغیوں کا تھا۔


لشکر اُسامہ کی روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلا حکم یہ دیا کہ لشکر اُسامہ کو روانہ کیا جائے۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تمام عرب کے قبائل یا تو سب کے سب مُرتد ہو گئے تھے یا اُن میں سے کچھ لوگ مرتد ہو چکے تھے۔صرف طائف کا قبیلہ بنو ثقیف ایسا تھاجو اسلام پر قائم رہے ،نہ تو انہوں نے فرار اختیار کیا اور نہ ہی مرتد ہوئے۔دوسرے کئی قبائل نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا تھا۔جس لشکر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک شام میں بلقاءکی ملحقہ سرحد پر( جہاں جنگ موتہ ہوئی تھی )جانے کا حکم دیا تھا۔وہ مقام ”جرف“پر جا خیمہ زن ہو گیا تھا۔اُن لوگوں میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز پڑھانے کے لئے مستثنیٰ کر لیا تھا۔چونکہ ہر طرف نفاق پھوٹ پڑا تھا اور اب یہود و نصاریٰ بھی للچائی ہوئی نظروں سے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے اور خود مسلمانوں کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت کی وجہ سے اُن بھیڑ بکریوں کی طرح ہو گئی تھی جو موسم سرما کی برساتی رات میں حیران ہو گئی ہوں۔ایسے وقت میں جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے کہا کہ اب لے دے کے صرف یہی مسلمان ہیں جو آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ہیںاور عربوں کے ارتداد کی جو حالت ہے وہ تو آپ رضی ا ﷲ عنہ جانتے ہی ہیں۔اس لئے اب مناسب نہیں ہے کہ لشکر اُسامہ کو بھیجا جائے۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”جس لشکر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا،میں اُسے ضرور بھیجوں گا۔اﷲ کی قسم! اگر میرے پاس ایک شخص بھی نہ رہے اور مجھے اندیشہ ہو کہ درندے اُٹھا لے جائیں تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا اور لشکر اُسامہ کو اُس کی مہم پر روانہ کروں گا۔ اگر تمام بستیوں میں میرے سوا کوئی نہ رہے تو میں تنہا ہی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا۔“اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ مقام جرف پر جاکر پڑاو¿ ڈالے ہوئے لشکر کو کوچ کے لئے تیار کریں۔


رسول اللہ ﷺ کے حکم کو ہر حال میں پورا کروں گا


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ کو بھیجنے کا پختہ فیصلہ کرلیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔امام حسن بن حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پہلے ایک لشکر روانہ کیا اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو اُس کا سپہ سالار مقرر کیا۔اس لشکر میں حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ بھی تھے،ابھی لشکر نے خندق کو پوری طرح پار بھی نہیں کیا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سب کے ساتھ ٹھہر گئے اور انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے عرض کیاکہ آپ رضی اﷲ عنہ جایئے اور خلیفہ ¿ رسول رضی اﷲ عنہ سے میری واپسی کی اجازت لے آیئے۔کیونکہ تمام اکابر اور جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میرے ساتھ ہیںاور مجھے خلیفہ ¿ رسول رضی اﷲ عنہ اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں کی جانوں کا اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن اچانک سب کو قتل نہ کردیں۔اِس لشکر کے کچھ مجاہدین نے کہا۔اگر خلیفہ رسول رضی اﷲ عنہ واپسی کی اجازت نہ دیں اور لشکر کے جانے کا اصرار کریں تو اُن سے ہماری طرف سے کہہ دینا کہ وہ ہمارا سپہ سالارکسی ایسے شخص کو مقرر کر دیں جوحضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سے زیادہ عُمر والا ہو۔(یہ نو جوان تھے)حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ آئے اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کی درخواست سنائی۔حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر کتے اور بھیڑیئے تنہائی کی وجہ سے مجھے کھا لیں ،تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کروں گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ لشکر کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سپہ سالار کسی زیادہ عُمر والے کو بنا دیں۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ جو بیٹھے ہوئے تھے،غصے سے کھڑے ہو گئے اور آگے بڑھکر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی داڑھی پکڑ لی اور فرمایا:”اے خطاب کے بیٹے !یہ کہنے سے پہلے تم مر کیوں نہیں گئے کہ جس شخص کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس منصب پر فائز کیا ہے ،میں اُسے ہٹا دوں۔“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر لشکر اُسامہ کے پاس آئے۔


لشکر اُسامہ کو اپنی نگرانی میں روانہ کیا


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اس کے بعد مقام جرف میں پہنچے۔تب تک پورا لشکر کوچ کی تیاری کر چکا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ پیدل ہی لشکر کے ساتھ چلنے لگے(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ اُن کا گھوڑا لیکر ساتھ میں چل رہے تھے۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اے خلیفہ رسول رضی اﷲ عنہ !یا تو آپ رضی اﷲ عنہ گھوڑے پر سوار ہو جائیںیا پھر مجھے بھی پیدل چلنے دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:”دونوں باتیں نہیں ہو سکتیں!میں اِس وقت اس لئے پیدل چل رہا ہوں کہ اﷲ کی راہ میں کچھ دیر چل کر اپنے قدم خاک آلود کر لوںکیونکہ مجاہد کے ہر قدم کے عوض میں سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیںاور سات سو درجے بڑھائے جاتے ہیںاور سات سو خطائیں معاف کی جاتی ہیں۔چلتے چلتے جب وہ ٹھہرے تو فرمایا:”بہتر ہوتا کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو میرے پاس چھوڑ جاتے۔“حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :”ٹھیک ہے!آپ رضی اﷲ عنہ اُنہیں اپنے ساتھ رکھیں۔“اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر سے بلند آواز میں خطاب کیا۔”میں تمہیں دس باتوں کی نصیحت کرتا ہوں!اچھی طرح یاد رکھنا(1)خیانت نہ کرنا۔(2)نفاق نہ برتنا۔(3)مثلہ نہ کرنا،یعنی اعضائے جسم کو کاٹ کر الگ نہ کرنا۔(4)کبھی چھوٹے بچے کو ،بوڑھے مرد کو،اور کسی عورت کو قتل نہ کرنا۔(5)کسی کھجور کے درخت کو نہ کاٹنا،اور نہ جلانا۔(6)کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا،سوائے کھانے کی ضرورت کے۔(7)تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے ،جو ترک ِدنیا کر کے خانقاہوں میں بیٹھ گئے ہیں،اُن سے کوئی تعارض نہ کرنا۔(8)بعض لوگ تمہارے لئے کھانوں کے خوان لائیں گے،اگر تم اُن میں سے کچھ کھانا چاہوتو اﷲ کا نام لیکر کھانا۔(9)ایسے لوگوں سے تمہارا مواجہہ ہوگا جن کی سر کی چندیا صاف ہو گی ،اور اُس کے گرد بالوں کی پٹیاں جمی ہوں گی ،ایسے لوگوں کی خبر تلوار سے لینا۔(10)اچھا اب اﷲ کا نام لیکر جاو¿ ،اﷲ تمہاری نیزے کی ضرب سے اور طاعون سے حفاظت کرے۔(تاریخ طبری)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

03 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


03 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 3


ملک یمن میں عاملوں(گورنروں)کا تقرر، اسود عنسی کی بغاوت، اسود عنسی کا انجام، خلیفۂ اول کو پہلی خوش خبری ملی، نبوت کے جھوٹے دعویدار، مُرتدین کے نام تفصیلی خط، باغیوں کو صاف جواب، باغیوں سے جنگ، مسلمانوں کی فتح


ملک یمن میں عاملوں(گورنروں)کا تقرر


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حجتہ الوداع“ہونے کے بعد مدینہ منورہ پہنچتے ہی ملک یمن کی امارت کا انتظام فرمایا۔اسے کئی اشخاص میں تقسیم کردیا اور ہر شخص کو ملک یمن کے خاص خاص رقبوں کا عامل(گورنر)مقرر فرما دیا۔ اسی طرح آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حضر موت “میں بھی گورنروں کا تقرر کیا۔حضرت عمرو بن حزم رضی اﷲ عنہ کو نجران کا گورنر مقرر کیا۔حضرت خالد بن سعیدبن عاص رضی اﷲ عنہ کو بحران،رمع اور زبید کے درمیانی علاقے کا والی مقرر فرمایا۔حضرت عامر بن شہر رضی اﷲ عنہ کو ہمدان کا والی مقرر کیا۔حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ کو صنعاءکا والی مقرر کیا۔حضرت طاہر بن ابی ہالہ کو عک اور اشعرین کاوالی،حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو مارب کا والی،اور حضرت یعلیٰ بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو جند کا والی مقرر فرمایا تھا۔اسی طرح حضر موت میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے والی(گورنر)مقرر فرمائے تھے۔حضرت عکاشہ بن ثور رضی اﷲ عنہ کو عکاسک اور سکون کا والی مقرر فرمایااور حضرت عبد اﷲ بن مہاجر کو بنو معاویہ بن کندہ کا والی مقرر فرمایا تھا،جو بیماری کی وجہ سے نہیں جاسکے تھے۔اُن کی جگہ عارضی طور سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت زیاد بن لبید رضی اﷲ عنہ کو والی مقرر کیا تھا۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد اُنہیں بھیجا۔ان سب کے علاوہ حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک یمن اور حضر موت کا معلم(اسلام کی تعلیمات دینے والا) بنایا تھا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل ملک یمن اور حضر موت کا دورہ کرتے رہتے تھے ،اور اسلام کی اور قرآن پاک کی تعلیم دیتے رہتے تھے۔(تاریخ طبری ،تاریخ ابن کثیر)


اسود عنسی کی بغاوت


   اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سب سے پہلے اسود عنسی نے مسلح بغاوت کی۔اس کا نام عبہلةبن کعب بن غوث ہے اور اُس کے شہر کو کہف حنان کہا جاتا تھا۔علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں۔عبید بن مخر سے مروی ہے کہ ہم جند میں تھے اور ہم نے وہاں کے باشندوں کا معقول انتظام کرلیا تھااور اُن سے معاہدے لکھوا لئے تھے کہ اتنے میں اسود عنسی کا خط ہمارے پاس آیا۔جس میں لکھا تھا کہ ”اے لوگو!جو ہمارے ملک میں گھس آئے ہو اُس علاقے کو جس پر تم نے قبضہ کرلیا ہے ہمارے حوالے کر دو۔ جو کچھ تم نے جمع کیا ہے وہ ہمیں دے جاو¿ کیونکہ ہم اس کے حقدار ہیںاور تم کو کوئی حق نہیں ہے۔“ہم نے اُس کے پیامبر سے پوچھا کہ تم کہاں سے آرہے ہو؟اُس نے کہا ۔کہف حنان سے۔اس کے بعد اسود نے نجران کی طرف رُخ کیا اور اپنے خروج کے دس دن بعد اُس نے نجران پر قبضہ کر لیا۔مذحج کے عوام اُس کے ساتھ ہو گئے۔ہم ابھی اپنی حالت پر غور کر رہے تھے اور اپنی جماعت کو جمع کر رہے تھے کہ ہمیں اطلاع ملی کہ اسود ”شغوب “میں آچکا ہے اور حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ اُس کے مقابلے پر نکل چکے ہیں۔یہ اسود کے خروج کے بیس دنوں بعد کا واقعہ ہے۔ہم اُن دونوں کے مقابلے کے نتیجے کے منتظر تھے کہ دیکھیں کسے شکست ہوتی ہے؟کہ ہمیں خبر ملی کہ اسود عنسی نے حضرت شہر بن باذام کو شہید کر دیا ہے اور ابناءکو شکست ہوئی ہے۔اسود عنسی نے اپنے خروج کے پچیس دنوں بعد صنعاءپر بھی قبضہ کر لیا ہے اور حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ وہاں سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے جو ”مارب “میں تھے۔ وہ دونوں یمن کو چھوڑ کر حضر موت میں داخل ہو گئے۔حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ قبیلہ سکون میں ٹھہر گئے اور حضرت ابو بوسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ عکاسک کے پاس اُس علاقے میں جو مفور اور مغازہ جو اُن کے اور مارب کے درمیان متصل تھاوہاں فروکش ہو گئے۔حضرت عمرو اور حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہم مدینہ منورہ لوٹ آئے اور بقیہ یمن کے عاملین حضرت طاہررضی اﷲعنہ کے پاس چلے آئے۔وہ اُس وقت صنعا کے گرد ”عک“کے علاقے کے وسط میں مقیم تھے۔اُس وقت تک حضر موت کے صحراءصہیہ سے لیکر طائف کے علاقے سے عدن کی جانب بحرین تک کا علاقہ اسود عنسی کے قبضے میں آ چکا تھا۔پورا یمن اُس کے ساتھ ہو گیا تھا۔البتہ تہامہ کے قبائل ”عک“اُس کے مخالف تھے۔اُس کی کیفیت ایک جہاں سوز آگ کے جیسی تھی،کہ جدھر بھی اُس نے رُخ کیا سب کو جلا دیا۔اُس کی حکومت قائم ہو گئی تھی اور اُس کی شان و شوکت بہت بڑھ گئی تھی۔سواحل میں سے حاز،شارجہ،حردہ،غلافقہ،عدن اور جند پر اُس کا قبضہ ہو گیا تھا۔ممالک میں صنعاءسے لیکر طائف کی جانب اخسیہاور علیب تک کا علاقہ اُس کے قبضے میں تھا۔مسلمانوں نے اُس سے رحم کی درخواست کر کے امان حاصل کی اور مرتدین نے اُس سے کفر اور اسلام کو چھوڑ دینے کے وعدے پر معاملہ کرلیا۔مذحج میں اُس کا نائب عمرو بن معدی کرب تھا،اسی طرح اُس نے اپنے اُمور سلطنت کو کئی آدمیوں کو تفویض کیا تھا۔(تاریخ طبری جلد ،تاریخ ابن کثیر)


اسود عنسی کا انجام


   یمن میں اسود عنسی اپنی حکومت قائم کرچکا تھا۔قیش بن عبد یغوث اُس کی فوج کا سپہ سالار تھا،ابناءکی سرداری فیروز اور دازویہ کے سپرد تھی۔یہاں اسود عنسی نے ایک بہت بڑی غلطی کی۔اس نے حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ کی بیوہ سے شادی کرلی۔جس کی وجہ سے فیروز اُس سے بد ظن ہو گیاکیونکہ وہ فیروز کی چچا زاد بہن تھی۔دوسری بڑی غلطی اُس نے یہ کی کہ قیس اور دازویہ پر باغی ہونے کا شک کرنے لگا۔ہم اسی پریشانی میں حضر موت میں مقیم تھے اور ہم اس اندیشے میں مبتلا تھے کہ پتہ نہیں اسود خود ہم پر حملہ کرے گا یاہمارے مقابلے پر فوج بھیجے گایا پھر حضر موت میں بھی کوئی شخص اسود کی طرح جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے خروج کرے گا۔ہم حیران وپریشان تھے کہ ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط ملا۔جشیش بن الدیلمی سے مروی ہے کہ حضرت دبر بن یحسنس رضی اﷲ عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط لیکر ہمارے پاس آئے۔اس خط میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم اسلام پر قائم رہیںاور لڑائی یا حیلے سے اسود کے خلاف جنگی کاروائی کریں اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پیغام کو اُن لوگوں تک بھی پہنچائیں جو اِس وقت اسلام پر جمے ہوئے ہیں۔حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ عنہ اُسی وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنے نکل پڑے اور گھوم گھوم کر راسخ مسلمانوں کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچانے لگے۔ہم نے فیروزاور قیس سے ملکر اُنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔فیروز تو پہلے ہی اسود سے بد ظن تھا۔ادھر حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کی کوششوں سے اچھے خاصے مسلمان ایک جگہ اکٹھا ہو گئے۔اسود عنسی پر اس کا بہت اثر ہوا ،اور اُسے اپنی موت نظر آنے لگی۔


خلیفۂ اول کو پہلی خوش خبری ملی


   ادھر یمن میں مسلمانوں کی کاروائی جاری تھی۔جشیش بن الدیلمی آگے فرماتے ۔ہم لوگ قیس سے ملے اور اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا۔وہ بہت خوش ہوا کیونکہ وہ اسود عنسی کے برتاو¿ کی وجہ سے اُس سے بد ظن ہو گیا تھا۔فیروز اور قیس کو بلا کر اسود عنسی نے کہا کہ تم مسلمانوں سے مل گئے ہواور قتل کی دھمکی دی۔(یہاں ہم مختصر ذکر کر رہے ہیں،مفصّل ذکر آپ تاریخ طبری اور تاریخ ابن کثیر میں پڑھ سکتے ہیں۔)اس کے بعد فیروز نے طے کرلیا کہ کسی بھی صورت میں اسود عنسی کو قتل کردے گا۔اس کے لئے وہ اپنی چچا زاد بہن سے ملا اور اُسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پیغام سنایااور یہ بتایا کہ اگر میں اسود کو قتل نہیں کروں گا تو وہ مجھے قتل کردے گا۔وہ اسود کی بیوی تھی لیکن سچی مسلمان تھی،اُس نے بتایا کہ محل میں بہت زبردست پہرہ رہتا ہے لیکن یہاں میرے محل کی پچھلی دیوار پر پہرہ نہیں رہتا ہے۔ فلاں رات کو اسودعنسی میرے پاس آئے گا،اُس رات کو تم پچھلی دیوار میں نقب لگا کر آجانا اور اُسے قتل کر دینا۔اس کے بعد فیروز ہمارے پاس آیا اور اس نے ساری منصوبہ بندی بتائی۔قیس اور دازویہ اُس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔یہ تینوں رات میں نقب لگا کر اندر پہنچے۔فیروز کی چچا زاد بہن نے اُن کی مدد کی۔اسود عنسی بہت طاقتور اور سخت جان تھا اور اُس نے بہت مزاحمت کی لیکن ان چاروں نے ملکر کسی نہ کسی طر ح اُسے قتل کردیا ۔صبح دازویہ نے اذان دی تو سب لوگ حیران ہو کر محل کے اطراف جمع ہو گئے (کیونکہ اسود نے اذان بند کرا دی تھی)فیروز محل کی فصیل پر اسود کا سر لیکر کھڑا ہوا اور بلند آواز سے پکارا:”میں اعلان کرتا ہو ں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور یہ بد بخت اسود عنسی عبہلہ کذاب(جھو ٹا)تھا۔“پھر اُس نے اسود کا سر اُن کے سامنے ڈال دیا۔حضرت عبد اﷲ بن عمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔جس رات اسود عنسی مارا گیا اُسی وقت اُسکے قتل کی اطلاع اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو دے دی تھی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے صبح ہم کو بشارت دی کہ کل رات اسود عنسی کو قتل کردیا گیا ہے۔اُسے ایک مبارک آدمی جو ایک مبارک خاندان کا فرد ہے نے قتل کیا ہے۔ہم نے عرض کیا :”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !وہ کون ہے؟“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:فیروز!فیروز کامیاب ہوا۔“لیکن باقاعدہ قاصد کے ذریعے اسود کے قتل کی اطلاع خلیفہ ءاول کو اُس وقت ملی جب آپ رضی اﷲ عنہ لشکر اُسامہ کو بھیج چکے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ماہ ربیع الاول کے آخری دنوں میں لشکر اُسامہ کو روانہ کیا تھا ۔اور اس کے بعد ہی اسود عنسی کے خاتمے کی خبر لیکر یمن سے قاصد آیا۔لشکر اُسامہ کے جانے کے بعد یہ پہلی فتح کی بشارت تھی جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں ملی۔(تاریخ طبری)


نبوت کے جھوٹے دعویدار


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ بھیجنے کے بعدحالات پر نظر رکھے ہوئے تھے۔اس دوران کئی نبوت کے جھوٹے دعویدار پیدا ہوگئے ۔اسود عنسی کا انجام ذکر ہو چکا ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ اپنے والد محترم حضرت زبیر بن عوام رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال اورلشکرِاُسامہ کی روانگی کے بعدتمام خاص و عام عرب مرتدہوگئے۔مسیلمہ اور طلیحہ نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا،اُن کی جماعت اور طاقت بہت بڑھ گئی،قبیلہ بنو طے اور بنو اسد، طلیحہ اسدی کے ساتھ ہو گئے۔ اسی طر ح بنو اشجع اور بنو غطفان کے بعض خاندانوں کے خاص لوگوں کے علاوہ تمام غطفان مرتد ہوگئے۔قبیلہ بنو ہوازن متردد تھے،انہوں نے بھی ذکوٰة کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔البتہ بنو ثقیف اسلام پر قائم رہے اور اُن کی اقتداءمیں بنو جدلہ اور بنو اعجاز بھی عام طور پر اسلام پر قائم رہے ۔لیکن بنو سلیم کے خواص مرتد ہو گئے اور یہی حال تمام قبائل عرب کا تھا۔یمن ،یمامہ اور بنو اسد کے علاقوں سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے عاملین(گورنروں)اور اُن اشخاص کے نمائندے جن کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اسود ،مسیلمہ اور طلیحہ کی مدافعت اور مقاو مت کا حکم بھیجا تھا،آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس واقعات اور خطوط کے ساتھ آئے ۔یہ سب خط اُنہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو دیئے اور زبانی تمام حالات بیان کئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں ذرائع سے اُن سب کا مقابلہ شروع کیا جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم استعمال کر چکے تھے۔کہ مراسلت شروع کی ۔جو قاصد اب آئے تھے اُن کو تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے حکم سے واپس بھیج دیا،مگر اُن کے عقب میں اپنے دوسرے قاصد اس غرض کے لئے روانہ کئے۔(تاریخ طبری)


مُرتدین کے نام خط


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مرتد قبائل کو ایک ہی مضمون کا خط لکھا اور اپنے قاصدوں کو دیکر الگ الگ علاقوں میں بھیجا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ”قطع حجت “کے لئے مرتدین کی طرف بھی ایک ایک خط روانہ کیا تھا۔یہ تمام خطوط ایک ہی مضمون کے تھے،جس میں بسم اﷲ کے بعد یہ لکھا تھا۔”یہ ابوبکر خلیفة الرسول(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی طرف سے! اُس شخص کے لئے ہدایت ہے جس کے پاس یہ فرمان پہنچے۔چاہے وہ عام ہو یا خاص اور اسلام پر قائم ہو یا نہ ہو۔اُس پر سلام ہو !جس نے ہدایت کی اتباع کی اور گمراہی اور خواہش نفس کی طرف نہیں لوٹا۔اُس اﷲ کی تعریف ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور جو اکیلا ہے ،اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور میں گواہ ہو ں کہ محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور اُس کے رسول ہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم جو دین لیکر آئے ہیںاُس پر ایمان لاتا ہوں اور انکار کرنے والے کو مردود سمجھتا ہوں اور اُس سے جہاد کے لئے تیار ہوں۔(اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے نبوت اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کو عمدہ طریقے سے بیان کیا اور خوب خوب نصیحتیں کیں۔)پھر لکھا ۔میں فلاں کو مہاجرین اور انصار اور تابعین کے لشکر کا سپہ سالار بنا کر بھیجنے والا ہوں۔ میرا حکم ہے کہ وہ کسی سے نہ لڑے اور کسی کو نہ مارے،جب تک کہ اسلام کی دعوت نہ دیدے۔پھر جس نے کلمہ پڑھ لیا ،اسلام قبول کر لیااور برائیوں سے رُک گیا اور نیک اعمال میں لگ گیا،اُس کا اسلام قابل قبول ہے اُس کی مدد کی جائے گی اور جو اسلام سے انکار کرے گا،اُس سے لڑنے کی اجازت اُس وقت تک ہے،جب تک کہ اُس میں کفر کا اثر باقی ہے۔پھر جو اسلام لے آئے گا اُس کے لئے بہتری ہے اور جو اسلام نہیں لائے گا تو وہ اﷲ کو عاجز کرنے سے رہا۔میں نے قاصد کو حکم دے دیا ہے کہ وہ یہ خط مجمع ¿ عام میں پڑھ کر سنائے اور تمہاری اذان کے ذریعے دعوت دے ۔پھر اگر مسلمان کی اذان سُن کر لوگ بھی اذان دینے لگیں تو اُن سے رُک جاو¿ اور اگر اذان نہ دیں تو اُن سے اذان نہ دینے کی وجہ پوچھو۔اگر وہ انکار کر دیں تو اُن کے بارے میں جلدی کرو اور اگر یہ اقرار و توبہ کرلیںتو اُن کی توبہ قبول کر لی جائے اور اُن کے لئے مناسب احکام جاری کر دیئے جائیں۔ (تاریخ ابن خلدون،جلد ۱)


مُرتدین کے نام تفصیلی خط


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مُرتدین کے نام ایک ہی طرح کا خط لکھا تھا۔اوپر ہم نے جو علامہ عبد الرحمن ابن خلدون کی روایت کا خط پیش کیا ،وہ مختصر تھا۔اس خط کو علامہ محمد بن جریر طبری نے بڑی تفصیل سے پیش کیا ہے۔وہ بھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔امام طبری لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مُرتدین کو ایک ہی مضمون کا خط لکھا،وہ حسب ذیل ہے۔”بسمہ ا ﷲ الرحمن الرحیم۔یہ خط ابو بکر خلیفہ ¿ رسول اﷲ(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی جانب سے! اُن تمام عام اور خاص لوگوں کے نام ہے۔جن کو یہ موصول ہو،چاہے وہ اسلام پر قائم ہوں یا مُرتد ہو گئے ہوں۔سلامتی ہو اُن پر جنہوں نے راہِ راست کی اتباع کی اور ہدا یت کے بعد گمراہی اختیار نہیں کی۔میں تمہارے سامنے اُس معبود ِ حقیقی کی جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے تعریف کرتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ اﷲ وحدہُ لا شریک ہے اور محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے بندے اور رسول ہیں۔اﷲ کا جو پیام وہ ہمارے لئے لائے ہیںہم اُس کا اقرار کرتے ہیں اور جو انکار کرے ہم اُسے کافر سمجھتے ہیں اور اُس سے جہاد کریں گے۔ا ﷲ تعالیٰ نے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو واقعی اپنی جانب سے اپنی مخلوق کے لئے بشارت دینے والا اور ڈرانے والااور اﷲ کی جانب سے اُس کے حکم کی دعوت دینے والا اور ایک روشن شمع بنا کر مبعوث فرمایا ہے تاکہ وہ جو زندہ ہوںاُن کو اﷲ کا خوف دلائیں اور اس طرح منکرین کے خلاف بات پکی ہو جائے۔جس نے اُن (صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی بات مانی اﷲ نے اُسے راہ راست بتا دی اور جس نے انکار کیا،رسول اﷲ صلی ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ کے حکم سے اُسے اچھی طرح سزا دی۔یہاں تک کی اُس نے خوشی سے یا بادل نخواستہ اسلام قبول کر لیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا مگر وہ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) اﷲ تعالیٰ کے حکم کو پوری طرح نافذ کر چکے تھے اور اِس اُمت کے ساتھ مخلصانہ خیر خواہی کر چکے ہیں۔(اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وسال کے بارے میں قرآن پاک کی آیات لکھیں،اس کے بعد آگے فرمایا)میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم اﷲ سے ڈرتے رہو اور اس طرح اپنا حصہ اور نصیبہ اُس سے حاصل کرتے رہو۔تاکہ تمہارے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم جو اﷲ کا پیغام تمہارے پاس لائے ہیں اُس سے بہرہ ور ہو سکو،اور اﷲ کی ہدایت پر گامزن رہو۔ جسے اﷲ نے گمراہ کر دیاوہ بالکل گمراہ ہے اور جب تک کوئی اسلام قبول نہ کرلے نہ دنیا میں اُس کا کوئی عمل قبول ہو گااور نہ آخرت میں کوئی بدلہ یا معاوضہ قبول کیا جائے گا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے لوگ اسلام لانے اور اُس پر عمل پیرا ہونے کے بعد اُس سے مُرتد ہو گئے ہیں۔اُن کو یہ جسارت اس لئے ہوئی کہ انہوں نے اﷲ تعالیٰ کے متعلق غلط اندازہ قائم کیا ہے اور اُس کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہیںاور انہوں نے شیطان کے اغوا کو قبول کرلیا۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”بے شک شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔اُس کی جماعت تم کو اس لئے اغوا کرتی ہے کہ تم دوزح میں جاو¿۔“میں نے فلاں شخص کو مہاجرین، انصار اور تابعین کی جمیعت کے ساتھ تمہارے پاس بھیجا ہے اور اُن کو حکم دیا ہے کہ جب تک وہ اﷲ کا پیغام تم تک نہ پہنچا دیںتب تک نہ تو کسی سے جنگ کریں اور نہ ہی کسی کو قتل کریں۔لہٰذا جو اِس دعوت کو قبول کرکے اس کا اقرار کرلے اور اپنے موجودہ طرز عمل سے باز آ جائے ،اور عمل صالح کرنے لگے تو اس کے اقرار اور عمل کو قبول کر کے اُس پر بقاءاور قیام کے لئے اُس شخص کی اعانت کی جائے۔ جو اِس پیغام کو رد کردے ،اُس کے متعلق میں نے حکم دیا ہے کہ اِس انکار کی وجہ سے اُس سے جنگ کی جائے اور پھر جس پر قابو چلے ،اُس کے ساتھ ذرا بھی رحم نہ کیا جائے اور بُری طرح قتل کیا جائے۔اُس کے اہل و عیال کو غلام اور لونڈی بنا لیا جائے اور اسلام کے سوا کسی بات کو قبول نہیں کیا جائے۔جو اسلام کی اتباع کرے گاوہ اُس کے لئے بہتر ہے اور جو انکار کرے تو اسے سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ اﷲ سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔میں نے اپنے پیامبر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اِس خط کو ہر مجمع میں پڑھ کر سنا دیںاور ہمارا شعار اذان ہے،لہٰذا جب مسلمان اذان دیں اور مرتدین بھی اذان دیں تو خاموشی اختیار کی جائے۔ اگر وہ اذان نہ دیں تو فوراً اُن کی خبر لی جائے اور اذان دینے کے بعد بھی اُن سے دریافت کیا جائے کہ وہ کس مسلک پر ہیں؟اگر وہ اسلام سے انکار کریں تو فوراً اُن سے جنگ شروع کر دی جائے اور اگر وہ اسلام کا اقرار کر لیں تواُن کے بیان کو قبول کر کے اُن پر اسلام کی خدمت عائد کی جائے۔“


باغیوں کو صاف جواب


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ شدید بے چینی سے لشکر اُسامہ کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے۔اسی دوران قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان ،بنو اسد،اور بنو کنانہ اچھا خاصہ لشکر لیکر آئے اور مدینہ منورہ کے قریب پڑاو¿ ڈال دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں،قبیلہ بنو عبس اور بنوذیبان جوش مردانگی سے اُبل پڑے بنو عبس نے” ابرق “میں اور بنو ذیبان نے ”ذی القصہ “میں پڑاو¿ ڈال دیا۔اُن کے ساتھ بنو اسد اور بنو کنانہ کے بھی کچھ لوگ تھے۔اُن لوگوںنے متفق ہو کر چند آدمیوں کو بطور وفد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔اس وفد نے نماز کی کمی اور ذکوٰة کی معافی کی درخواست کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم!اگر ایک عقال(جس رسی سے اونٹ کے پاو¿ں باندھتے ہیں۔)بھی کم دیں گے تو میں تم سے جنگ کروں گا اور پانچ وقت کی نماز میں سے ایک رکعت کی بھی کمی نہیں کی جائے گی ۔(تاریخ ابن خلدون،جلد نمبر ۲)امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرما تے ہیںکہ جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو ملک عرب کے بعض لوگ مرتد ہو گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن ذکوٰة نہیں دیں گے۔پس میں خلیفہ¿ اول کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا:”یا خلیفہ¿ رسول !لوگوں کی تالیف قلوب کیجیئے اور اُن کے ساتھ مرو¿ت اور نرمی کا برتاو¿ کیجیئے“۔یہ سُن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھے توتم سے بھر پور تعاون کی اُمید تھی اور تُم مجھے ہی پست کئے دے رہے ہو۔تم زمانہءجاہلیت(اسلام سے پہلے)میں تو بڑے جری اور بہادر تھے ، اسلام قبول کرنے کے بعد اس قدر کمزور پڑ گئے۔بتاو¿ میں کس طرح اُن کی تالیف قلب کروں؟اُن کے ساتھ باتیں بناو¿ں یا اُن پر افسوں اور جادو کر دوں؟افسوس صد افسوس،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے رب سے جاملے ہیں اور وحی کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔اﷲ کی قسم!جب تک میرے ہاتھ میں تلوار ہے ،میں ذکوٰة نہ دینے والوں سے اُس وقت تک جنگ کرتا رہوں گا،جب تک کہ وہ ذکوٰة دینے میں راضی نہ ہو جائیں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اِس معاملہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو میں اپنے سے ذیادہ مستعد اور اجرائے احکام پر سخت پایا ہے۔امام ذہبی بیان کرتے ہیںکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر جب چاروں طرف عام ہوئی توملک عرب کے بہت سے قبیلے مُرتد ہو گئے اور ادائیگی زکوٰة سے گریز کرنے لگے۔یہ صورت حال دیکھکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُن سے جنگ کا ارادہ کیا۔اُس وقت حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے مشورہ دیا کہ اِس وقت اِن سے جنگ کرنا مناسب نہیں ہے۔یہ سُن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ کی قسم!اگر یہ لوگ ایک رسی یا ایک بکری کا بچہ بھی جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں زکوٰة میں دیا کرتے تھے ،اب اُسے دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا۔“اِس پر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”آپ رضی اﷲ عنہ کس طرح اُن لوگوں سے کس طرح جنگ کریں گے جب کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم یہ فرما چکے ہیں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اُس وقت تک لڑوں ،جب تک وہ لا الٰہ الا ا ﷲ نہ کہیں(یعنی ایمان نہ لے آئیں)اور جس نے یہ کلمہ پڑھ لیا(یعنی ایمان لے آئے)اُس کا مال ،اُس کی جان اور اُس کا خون بہانامجھ پر منع کر دیا گیا ہے۔سوائے ادائے حق کے اور اُس کا حساب اﷲ کے ذمہ ہے۔جب یہ حکم موجود ہے تو آپ رضی اﷲ عنہ ان سے کس طرح جنگ کر سکتے ہیں؟“اس کے جواب میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ا ﷲ کی قسم !میں اُن سے نماز اور زکوٰة میں فرق کرنے کی وجہ سے جنگ کروں گاکیونکہ زکوٰة بھی بیت المال کا حق ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ حق پر جنگ کی جائے۔“یہ سُن کر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”اﷲ کی قسم !مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ حق پر ہیںاور اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کے دل کواِس جنگ کے لئے آگاہ کر دیا ہے۔(تاریخ الخلفائ،امام جلا ل الدین سیوطی،تاریخ ابن کثیر)


باغیوں سے جنگ


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا دو ٹوک جواب سُن کر باغیوںاور منکرین زکوٰة کا وفد واپس چلا گیا اور ساتھ ہی یہ جائزہ بھی لیتا گیا کہ مدینہ منورہ میں بہت کم مسلمان ہیں۔(کیونکہ زیادہ تر لشکر اُسامہ کے ساتھ گئے تھے۔)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ ءکرام رضی اﷲ عنہم کو جمع کر کے فرمایا:”تمہارے چاروں طرف دشمن ڈیرے ڈالے ہوئے ہے اور اُسے تمہاری کمزوریوں کا علم ہو گیا ہے۔نہ معلوم دن اور رات کے کس حصے میں وہ تم پر چڑھ آئیں،وہ تم اے ایک منزل کے فاصلے پر خیمہ زن ہیں۔ابھی تک وہ اِس اُمید میں تھے کہ شاید تم اُن کی شرائط قبول کر لو گے لیکن اب ہم نے اُن کی شرائط ماننے سے انکار کر دیا ہے۔اس لئے وہ ضرور ہم پر حملہ کرنے کی تیاریاں کریں گے،تم بھی اپنے آپ کو لڑائی کے لئے تیار رکھو۔“(صدیق اکبر،خلفائے راشدین)اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب،حضرت طلحہ بن عبید اﷲ ،حضرت سعد بن ابی وقاص ،حضرت زبیر بن عوام،اور حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہم کو ایک دستہ دے کر مدینہ منورہ کے بیرونی راستوں پرمتعین کر دیااور باقی تمام لوگوں کوجنگ کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا۔ اس طرح مدینہ منورہ کا ہر فرد ہنگامی حالات کے لئے تیار تھا اور باغی بھی تاک میں تھے۔آخرکا ر تین دنوں بعد باغیوں نے اچانک مدینہ منورہ پر حملہ کردیا۔بیرونی راستوں پر متعین دستوں نے فورا ً آپ رضی اﷲ عنہ کو خبر کردی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ہنگامی طور سے جنگ کا اعلان کروا دیا اورفوراً مسلمانوں کا لشکر تیار ہو گیا۔ باغیوں اور منکرین زکوٰة کا خیال تھا کہ مسلمان غفلت میں ہوں گے اور ہم انہیں آسانی سے قتل کر دیں گے لیکن اُن کا استقبال مسلمانوں کے تیار اور تر وتازہ لشکر نے کیا۔جس کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو سکے اور انہیں میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔مسلمانوں نے ذی حشب تک اُن کا پیچھا کیا۔وہاں باغیوں کی تازہ کمک موجود تھی۔


مسلمانوں کی فتح


   علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمادی الآخر میں ذی القصہ پہنچے تو بنو عبس،بنو ذیبان،بنو مرہ،اور بنو کنانہ سے سامنا ہوا ۔اور طلیحہ نے اپنے بیٹے حبال کے ذریعے اُنہیں مدد دی۔جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو انہوں نے دھوکہ بازی کی اور لڑنے کے بجائے آس پاس کے پہاڑوں میں چھپ گئے اور اوپر سے آگ جلا جلا کر نیچے پھینکنے لگے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے اونٹ اور گھوڑے اتنی بُری طرح سے بھڑکے کہ سیدھے مدینہ منورہ پہنچ کر ہی دم لیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُنہی کا وار اُنہی پر پلٹانے کا منصوبہ بنایااور لشکر تیار کر کے خاموشی سے ذی القصہ تک پہنچے اور صبح تڑکے اچانک اُن پر حملہ کردیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے میمنہ پر حضرت نعمان بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا،میسرہ پر اُن کے بھائی حضرت عبد اﷲ بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا اور ساقہ پراُن دونوں کے بھائی حضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو رکھا۔دشمنوں کو کوئی آہٹ بھی محسوس نہیں ہوئی اور مسلمان اُن پر ٹوٹ پڑے اور قتل کرنے لگے۔ابھی سورج طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ دشمن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کی زیادہ تر سواریوں پر قبضہ کر لیااور حبال قتل ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کی خلافت میں یہ پہلی فتح تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں