جمعہ، 14 جولائی، 2023

04 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


04 خلافت ِ راشدہ_ خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 4


لشکر اُسامہ کی فتح اور واپسی، حضرت علی کی گزارش مان لی، گیارہ لشکروں کی روانگی، سپہ سالاروں کے نام خط، طلیحہ کا لشکر جمع کرنا، حضرت عدی بن حاتم کی کامیابی، قبیلہ بنو طے کی اسلام میں واپسی، بنو غوث اور بنو جدیلہ کی اسلام میں واپسی، طلیحہ اسدی کا دعویٰ ، طلیحہ کی شکست


لشکر اُسامہ کی فتح اور واپسی


   حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر بیس دن کا سفر طے کرنے کے بعد حدودِ شام میں مقام بلقاءپہنچے۔بلقاءکے قریب ہی جنگ موتہ ہوئی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو وہیں پڑاو¿ ڈالنے کا حکم دیااور بنو آبل اور بنو قضاعہ کی طرف صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے دستے بھیجے ،اِس میں اُنہیں بہت زبردست کامیابی ملی۔بہت سے رومی قتل ہوئے اور بے شمار مال غنیمت حاصل ہوا۔ حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تمام ہدایتوں پر عمل کیا۔انہوں نے اپنے حملے رومی سرحدوں تک ہی محدود رکھے اور اندر داخل ہونے کی کوشش نہیں کی۔ فتح حاصل کرنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو فوراًواپس کوچ کرنے کا حکم دیا۔اس فتح نے اسلام کی شان و شوکت میں اضافہ کیا۔جب حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ فاتح لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام مہاجرین و انصار صحابہ رضی اﷲ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر آ کرپُر جوش استقبال کیا اور مدینہ منورہ میں ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔لشکر اُسامہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے لگ بھگ ستر (۰۷) دنوں بعد واپس آیا۔


حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی گزارش مان لی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اس فتح سے دوسرے قبائل پر بھی اثر پڑا ،اور وہ لوگ اپنی اپنی زکوٰة لے کر مدینہ منورہ آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔یہ جنگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے ساٹھ دن بعد ہوئی اور اس کے کچھ ہی دن بعد لشکر اُسامہ بھی واپس آگیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجاہدین کو آرام کرنے کا مشورہ دیااور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ پر اپنا قائم مقام بنا کر لشکر لیکر ذی القصہ آئے ۔وہاں مقرن کے تینوں بیٹے حضرت نعمان،حضرت عبداﷲ اور حضرت سوید رضی اﷲ عنہم اپنی پہلی پوزیشنوں پر موجود تھے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کا ارادہ باغیوں کی سرکوبی کا تھا،جب آپ رضی اﷲ عنہ اونٹ سوار ہوئے تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ اُس کی مہار پکڑے چل رہے تھے۔انہوں نے عرض کیا:”اے خلیفة الرسول!کہاں جانے کا ارادہ ہے؟میں آپ رضی اﷲ عنہ سے وہی بات کہتا ہوں جو (آپ نے)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے فرمائی تھی۔ہمیں مصیبت میں نہ ڈالیئے اور مدینہ منورہ واپس چلے جایئے۔اﷲ کی قسم!اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو کچھ ہو گیا تو ہمیشہ کے لئے اسلام کا نظام قائم نہیں ہو سکے گا۔“ایک اور روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ ”آپ رضی اﷲ عنہ اپنی جگہ کسی اور بہادر کو بھیج دیں ۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی بات مان لی اور ذی القصہ سے گیارہ لشکروں کو روانہ کیااور مدینہ منورہ واپس آ گئے۔(تاریخ ابن کثیر)


گیارہ لشکروں کی روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ایک ساتھ گیارہ لشکروں کو ہر طرف روانہ کیا۔ جب حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ اور اُن کے لشکر نے آرام کرلیااور اُن کی سواریاں بھی تازہ دم ہو گئیں۔اُسی زمانے میں اتنے زیادہ صدقات و زکوٰةمدینہ منورہ میں وصول ہو کر آئے کہ مسلمانوں کی ضرورت پوری ہو کر بچ گئے۔حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے گیارہ لشکر تیار کئے اور اُن کے سپہ سالار مقرر کر کے گیارہ مقامات کی طرف روانہ فرمایا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔(۱)اُمراءاور بہادر سرداروں کے سرخیل حضرت ابو سلیمان خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تھے۔امام احمد بن حنبل نے حضرت وحشی بن حرب کی روایت پیش کی کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مُرتدین سے جنگ کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے جھنڈا باندھا تو فرمایا:”میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ،اﷲ کا کیا ہی اچھا بندہ ہے اور ہمارا بھائی ہے جو اﷲ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔جسے اﷲ تعالیٰ نے کافروں اور منافقین کے خلاف سونتا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ذوالقصہ سے چلتے وقت آپ رضی اﷲ عنہ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ عنقریب اپنے ساتھی سپہ سالا روں سے خیبر کی جانب ملیں گے اور اعرابیوں کو ڈرانے والا مظاہرہ کریں گے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ سب سے پہلے طلیحہ اسدی کی طرف جائیں،پھر اس کے بعد بنو تمیم کی طرف جائیں۔(تاریخ ابن کثیر)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ پہلے طلیحہ بن خویلد اسدی کے مقابلے پر جائیں اور اُس سے فارغ ہو کربطاح میں مالک بن نویرہ سے لڑیں۔(۲)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عکرمہ بن ابی جہل کو بنایااور جھنڈادیکر انہیں حکم دیا کہ مسیلمہ کذاب کے مقابلے پر جائیں۔(۳)حضرت مہاجر بن ابی اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنایا اور جھنڈا دیکر آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ وہ اسود عنسی کی بچی کچی فوجوں کا مقابلہ کریںاور قیس بن مکثوح اور اُن دوسرے اہل یمن کے مقابلے میں جو ابناءسے لڑ رہے ہیں،اُن کے خلاف ابناءکی مدد کریںاور اُن سے فارغ ہو کر بنو کندہ سے مقابلہ کرنے کے لئے حضر موت چلے جائیں۔(۴)ایک لشکرکا سپہ سالار حضرت سعید بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کو بنایا(جو اُسی زمانے میں یمن میںپھیلی بد نظمی کی وجہ سے مدینہ منورہ واپس آ گئے تھے۔)اُن کو ایک جھنڈا دیکر حمقتین بھیجا،جوملک شام کی سرحد پر ہے۔(۵)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو جھنڈا دیکر بنو قضاعہ ،بنو ودیعہ اور بنو حارث کے مقابلے پر جانے کا حکم دیا۔(۶)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت حذیفہ بن محصن غطفانی کو بنایااور اُنہیںجھنڈا دیکر حکم دیا کہ وہ بنو دیا کے مقابلے پر جائیں۔(۷)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت عرفجحہ بن ہر شمہ کو بنایا۔اُنہیں جھنڈا دیکر مہرہ جانے کا حکم دیااور ہدایت کی کہ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مہر ہ میں اکٹھا ہو جائیں مگر جو جو علاقے اُنہیں دیئے گئے ہیں،اُن میں وہ ایک دوسرے پر امیر رہیں گے۔(۸)ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو بنایااور جھنڈا دیکر حکم دیا کہ تم حضرت عکرمہ بن ابی جہل کے پیچھے جاو¿ اور یمامہ سے فارغ ہو کر تم بنو قضاعہ چلے جانااور مُرتدین سے جنگ کے موقع پر تم اپنے لشکر کے آزاد سپہ سالار رہو گے۔(۹)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکرکاسپہ سالار حضرت طریفہ بن حاجز رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو حکم دیا کہ وہ بنو سلیم اور ان کے ساتھی بنو ہوازن کے مقابلے پر جائیں۔(۰۱)ایک لشکر کا سپہ سالارحضرت سوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو بنایااور اُن کو حکم دیا کہ وہ یمن کے علاقہ تہامہ کی طرف جائیں۔ (۱۱) ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت علاءالحضرمی رضی اﷲ عنہ کو بنایااور بحرین کی طرف جانے کا حکم دیا ۔یہ تمام سپہ سالاراپنے اپنے لشکر کے ساتھ ذی القصہ سے اپنی اپنی سمت روانہ ہوئے۔(تاریخ طبری)


سپہ سالاروں کے نام خط


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے تمام سپہ سالاروں کو ایک ایک خط دیا،سب کا مضمون حسب ذیل تھا۔”یہ فرمان ابو بکر صدیق خلیفہ رسول (رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلیفہ)کی طرف سے فلاں شخص(سپہ سالار) کے لئے لکھا گیا ہے۔جب انہوں نے اُسے مسلمانوں کی فوج کے ساتھ مُرتدین سے لڑنے کے لئے روانہ کیا۔میں نے اِ ن سپہ سالاروں کو اِس شرط پر یہ منصب دیا کہ وہ دل میں اور علانیہ جہاں تک ہو سکے ،ا ﷲ کے معاملے میں ڈرتے رہیںگے اور مرتدین کے مقابلے میں خلوص نیت کے ساتھ پوری سعی کریں گے اور اُن سے اﷲ کے لئے لڑیں گے۔ہاں مگر اِس سے پہلے وہ اُن کو اپنی اصلاح کا موقع دیں گے اور اسلام کی دعوت دیں گے تاکہ اگر وہ اسے قبول کریں تو اُن سے کوئی تعارض نہیں کیا جائے اور اگر انکار کر دیں تو فوراً اُن سے جنگ کی جائے۔یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کرلیں،تب اُن کو اُن کے حقوق و فرائض بتائے جائیںاور جو اُن پر واجب الادا ہو ،وہ وصول کیا جائے اور جس کے وہ مستحق ہوںوہ اُن کو دیا جائے۔اِس معاملے میں اُن کو ہر گز مہلت نہ دی جائے اور جب تک یہ اغراض حاصل نہ ہو جائیں تب تک مسلمانوں کو جہاد سے واپس نہ لایا جائے۔جو شخص اﷲکی بات تسلیم کر کے اُس کا اقرار کر لے،اُس کے ایمان کو قبول کر کے تپاک کے ساتھ دین پر قیام کے لئے اُس کی مدد کی جائے۔اور اُن لوگوں سے بھی جہاد کیا جائے جو ایک طرف اﷲ کے پیغام کا اقرار کرتے ہیں اور پھر اﷲ کے حکم سے انکار کرتے ہیں۔البتہ اگر وہ ہماری دعوت قبول کرلیں تو اُن سے کوئی تعارض نہیں کیا جائے ۔اگر انہوں نے نفاق سے کام لیا ہو گاتوایسی صورت میں اﷲ تعالیٰ آخرت میں اُن سے حساب لے گا۔اگراﷲ تعالیٰ فتح عطا فرمائے توجو مال غنیمت دستیاب ہو تواُس میں سے پانچواں حصہ الگ کر کے باقی مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے اور پانچواں حصہ ہمیں بھیج دیا جائے۔سپہ سالار کو چاہیئے کہ وہ اپنے سپاہیوں کو جلد بازی اور فساد سے روکے اور اِن میں غیر آدمی کو اُس وقت تک شامل نہ ہونے دے،جب تک کہ اُس کے بارے میں تحقیق کر کے اطمینان نہ کر لے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دشمن کا جاسوس ہو اور اس طرح بے خبری میں مسلمانوں پر کوئی حملہ ہو جائے۔سفر اور قیام میں مسلمانوں کے ساتھ نرمی اور میانہ روی اختیار کرے اور اُن کی خبر گیری کرتا رہے اور مسلمانوں کے ساتھ برتاو¿ اور گفتار میں ہمیشہ خوش خلقی اور ملائم لہجہ اختیار کرے۔“ (تاریخ طبری)


طلیحہ کا لشکر جمع کرنا


   ادھر مدینہ منورہ میں ہنگامی حالات چل رہے تھے،اور اُدھر جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا طلیحہ لشکر جمع کر رہا تھا اور اس کے لئے اُس نے اپنے آس پاس کے قبائل کو بھی اپنے لشکر میں شامل ہونے کی دعوت دی۔جسے قبول کر کے قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان،اور اُن کے ما تحت قبائل آکر اُس کے لشکر میں شامل ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جب بنو عبس،بنو ذیبان اور ان کے توابع بزاخہ میں جمع ہو گئے ۔ تب طلیحہ نے بنو جدیلہ اور بنو غوث کو کہلا بھیجا کہ تم میرے پاس آجاو¿۔ان قبائل کے کچھ لوگ تو فوراً ہی اُس کے پاس پہنچ گئے اور اپنی قوم والوں کو ہدایت دی کہ تم بھی ہم سے آ ملو اور وہ سب کے سب طلیحہ کے ساتھ ہو گئے۔(تاریخ طبری)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔طلیحہ بن خویلد اسدی اپنی قوم بنو اسد اور بنو غطفان میں تھا۔اور بنو عبس اور بنو ذیبان اُس کے ساتھ شامل ہو چکے تھے۔ حاتم طائی کے قبیلہ بنو طے،بنو غوث،اور بنو جدیلہ کو بھی طلیحہ نے اپنے لشکر میں شامل ہو نے کے لئے بلایا،تو انہوں نے اپنے جوانوں کو اُس کے لشکر میں شامل ہونے کے لئے بھیج دیا۔


حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ کی کامیابی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روانہ کر نے سے پہلے حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ (حا تم طائی کے بیٹے)کو اُن کے قبیلے بنو طے میں انہیں سمجھانے کے لئے بھیجا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔قبل اس کے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو روانہ کریں۔انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ سے فرمایا کہ تم فوراً اپنی قوم کے پاس جاو¿۔ایسا نہ ہو کہ اِس ہنگامے میں وہ برباد ہو جائیں۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ڈروہ اور غارب میں انہوں نے اُن کو روک لیا۔اُن کے بعد ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ روانہ ہوئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں حکم دیا تھا کہ پہلے وہ اکناف پر بنو طے سے شروع کریں،اور پھر بزاخہ کا رُخ کریںاور وہاں سے آخر میں بطاخ کی طرف جائیںاور جب وہ دشمن سے فارغ ہو جائیں،تو جب تک کہ نئے احکام موصول نہ ہوں وہ ان کا قصد نہ کریں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر روانہ ہوئے اور بزاخہ سے انہوں نے کنائی کاٹ کر آجا کا رُخ کیااور یہ ظاہر کیا کہ اب تو وہ خیبر جا رہے ہیں ،پھر وہاں سے اُن کے مقابلے پر پلٹیں گے۔اس خیال سے بنو طے اپنی جگہ بیٹھے رہے اور طلیحہ کے پاس نہیں گئے۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے کہا ؛”ہم ابو الفصیل کی کبھی بیعت نہیں کریں گے۔“حضرت عدی بن حاتم نے فرمایا:”تمہارے مقابلے پر ایسی فوج آرہی ہے کہ تمہارا گھر بار لوٹ کر برباد کر دے گی اور اُس وقت تم حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو” ابوالفحل الاکبر “کی کنیت سے یاد کرو گے۔میری بات نہیں مانتے تو تم جانو ،تم ہی اُس شخص سے نپٹ لینا۔“بنو طے کے لوگوں نے کہا ؛”اچھا تم اُس حملہ آور فوج سے جا کر ملواور اُسے ہم پر یورش کرنے سے روکو تاکہ اِس دوران میں ہم اپنے ان ہم قوم لوگوں کو جو بزاخہ میں ہیں واپس بلا لیں۔ یہ بات اِس لئے ضروری ہے کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اب جبکہ ہمارے لوگ طلیحہ کے ہاتھ میں ہیں ، اگر ہم نے ابھی طلیحہ کی مخالفت کا اعلان کر دیا تو وہ یا تو اُن سب کو قتل کردے گایا اُن کو یر غمال کی حیثیت سے قید میں رکھے گا۔


قبیلہ بنو طے کی اسلام میں واپسی


   حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ وہاں سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔جو اُس وقت تک لشکر لیکر ”مقام سخ“تک آچکے تھے۔انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے فرمایا:”مہر بانی فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ مجھے تین دن کی مہلت دیںاور میری قوم کے خلاف کاروائی شروع نہ کریں۔مجھے اُمید ہے کہ قبیلہ بنو طے کے پانچ سو جنگجو تمھارے ساتھ ہو جائیں گے،جن کے ساتھ تم دشمن کا مقابلہ کرنا اور یہ بات اس سے بہتر ہے کہ تم انہیں جہنم واصل کر دو اور اِس کے لئے اُن سے جنگ کرو۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن کی تجویز مان لی۔حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس واپس آئے ۔وہ لوگ پہلے ہی اپنی قوم کے لوگوں کو واپس بلانے کے لئے اپنے آدمی بھیج چکے تھے۔اُن لوگوں نے طلیحہ سے کہا کہ مسلمانوں کا لشکر ہو سکتا ہے ہم پر حملہ کردے ،اُن سے مقابلے کے لئے ہمارا اپنے قبیلے میں رہنا ضروری ہے۔اس طرح سب لوگ واپس آ گئے۔اگر یہ ترکیب نہ لگاتے تو مُرتدین انہیں واپس نہیں آنے دیتے۔اُن سب کو مسلمان بنا کر حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آ کر اُن کے اسلام میں واپس آنے کی اطلاع دی۔


بنو غوث اور بنو جدیلہ کی اسلام میں واپسی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جب قبیلہ بنو طے کے اسلام کی خبر سنی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے بنو جدیلہ سے مقابلے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔یہ دیکھ کر حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ نے جلدی سے کہا:”بنو طے کی مثال ایک پرندے کے جیسی ہے ،جس کے ایک بازو میں بنو جدیلہ رہتے ہیںاور دوسرے بازو میں بنو غوث رہتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ مجھے چند روز کی مہلت دیں،شاید اﷲ تعالیٰ انہیں بھی گمراہی سے نکال لے ،جیسے بنو غوث کو نکالا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسکرانے لگے اور تین دن کی مہلت دے دی۔حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ بنو جدیلہ کے پاس آئے اور انہیں سمجھاتے رہے۔انہوں نے آپ رضی ا ﷲ عنہ کی بات نہیں مانی لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا اور مسلسل سمجھاتے رہے۔آخر کار بات اُن کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے اسلام میں واپسی کی اور ایک ہزار شترسوار(اونٹ سوار)جنگجو دیئے۔حضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ انہیں لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کے اسلام لانے کی بشارت دی اور ایک ہزار شتر سوار جنگجو اسلامی لشکر کے لئے پیش کئے، جبکہ پانچ سو جنگجو بنو طے سے بھی لائے تھے۔ اس طرح حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ سے زیادہ با برکت اور موجب سعادت شخص بنو طے میں دوسرا پیدا نہیں ہوا۔


طلیحہ اسدی کا دعویٰ 


   رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانہ ¿ مبارک میں ہی طلیحہ بن خویلد اسدی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں طلیحہ اسدی مُرتد ہو کر سمیرا میں آکر مقیم ہو گیا تھا۔یہ کاہن تھا،اس نے دعوائے نبوت کیا تھااور بنی اسرائیل کے چند فرقے اس کے مطیع ہو گئے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کی سرکوبی کرنے کے لئے حضرت ضرار بن الازور رضی اﷲ عنہ کی سر کر دگی میں چند مسلمانوں کو روانہ فرمایا تھا۔ابھی طلیحہ کی سرکوبی نہیں ہونے پائی تھی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر مشہور ہو گئی۔جس سے طلیحہ کے کاموں میں ایک گونہ استحکام پیدا ہوااور بنو غطفان و بنو ہوازن اس کے حامی ہو گئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی زندگی میں ہی طلیحہ اسدی مُرتد ہو گیا تھا اور جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو عیینہ بن حصن ،بدر سے اُس کی مدد کو کھڑا ہو گیا اور اسلام سے مُرتد ہو گیا۔اُس نے اپنی قوم سے کہا:”ا ﷲ کی قسم ! بنو ہاشم کے نبی کی نسبت مجھے بنو اسد کا نبی زیادہ محبوب ہے۔محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کا وصال ہو گیا ہے اور یہ طلیحہ ہے ،اس کی اتباع کرو اور اُسکی قوم بنو فزارہ نے اُس کی بات سے اتفاق کیا۔


طلیحہ کی شکست


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حضرت عدی بن حاتم رضی اﷲ عنہ کے انتظار میں تھے تو اسی دوران گشتی دستے لشکر کے آس پاس گشت کرتے رہتے تھے۔ایسے ہی ایک گشت کے دوران حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہ اور حضرت عکاشہ بن محصن رضی اﷲ عنہ کا سامناطلیحہ اسدی اور اُسکے بھائی مسلمہ اسدی سے ہو گیاجو اتفاق سے وہ بھی گشت پر نکلے تھے۔فریقین میں زبردست مقابلہ ہوا اور حضرت عکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم رضی اﷲ عنہم شہید ہو گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو دونوں کی شہادت کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر طلیحہ اسدی کے مقابلے پرآئے اور بزاخہ میں اُس کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔آس پاس کے اعرابی قبائل بھی جمع ہوگئے لیکن وہ جنگ میں شامل نہیں ہوئے اور دور کھڑے دیکھ رہے تھے کہ کس کی فتح ہوتی ہے اور کس کی شکست؟طلیحہ اسدی اپنے قبیلہ اور دوسرے کئی قبائل کا لشکر لیکر میدان میں آیا۔اُس میں عیینہ بن حصن بھی بنو فزارہ کے سات سو جنگجوو¿ں کے ساتھ تھا۔ طلیحہ نے عیینہ کو سپہ سالار بنایااور جب جنگ شروع ہوئی تو اُس نے عیینہ سے کہا کہ تم جنگ لڑو ،میں اپنے خیمے میں وحی کا انتظار کرتا ہوںاور اپنے خیمے میں آکر چادر اوڑھ کر بیٹھ گیا۔عیینہ جنگ لڑتا رہااور اس کے لشکر کے سپاہی مرتے جارہے تھے۔وہ جلدی سے آیا اور طلیحہ سے پوچھا کہ کیا جبرئیل تمہارے پاس آیا ؟طلیحہ نے جواب دیا ؛”نہیں! تم ابھی جنگ پر توجہ دو۔“عیینہ چلا گیا لیکن ہر محاذپر اس کا لشکر مات کھا رہا تھا۔کچھ دیر بعد آکر اُس نے پر پوچھا تو جواب نہیں میں تھا۔تیسری مرتبہ آکر اُس نے پوچھا تو طلیحہ نے کہا ؛”یہ وحی آئی ہے کہ تیرے پاس بھی ویسی ہی چکی ہے جیسی مسلمانوں کے پاس ہے۔تیرا ذکر بھی ایسا ہے جسے تُو کبھی نہیں بھولے گا۔“عیینہ نے یہ بے تکے الفاظ سنے تو غصہ سے بے قابو ہو گیا اور بولا؛”بے شک اﷲ کو معلوم ہے کہ عنقریب ایسے واقعات پیش آئیں گے کہ تُو کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔“تاریخ ابن خلدون میں یہ الفاظ ہیں۔طلیحہ نے کہا:”جبرئیل مجھ سے کہہ گیا ہے کہ تیرے لئے جو قسمت میں لکھا ہے ،وہی ہو گا۔“یہ سُن کر عیینہ نے کہا :”اے بنو فزارہ !یہ شخص کذاب(جھوٹا) ہے۔“ اور اس کے بعدبنو فزارہ سے کہا کہ واپس چلو۔یہ سنتے ہی بنو فزارہ نے راہِ فرار اختیار کی ۔مسلمانوں نے اُن کا پیچھا کر کے گرفتارکرنا شروع کر دیا،عیینہ اور اُس کے بہت سے ساتھی گرفتار ہو ئے۔ادھر بنو فزارہ کے فرار کے بعد بقیہ لشکر طلیحہ کے گِرد جمع ہو گیااور پوچھا کہ اگلا حکم کیا ہے؟تو طلیحہ اسدی نے کہا کہ اپنی اپنی جان بچا کر بھاگواور اپنی بیوی کو لیکر گھوڑے پر سوار ہو کر ملک شام کی طرف بھاگ گیا۔مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور طلیحہ کی جھوٹی نبوت کا طلسم ٹوٹ گیا۔یہ دیکھکر اُس کے ساتھیوں نے ہتھیار رکھ دیئے اور اسلام قبول کر لیا۔گرفتار شدہ لوگوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مدینہ منورہ بھیج دیا۔جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں سمجھایا اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں رہا کردیا۔ادھر ملک شام میں جب طلیحہ کو معلوم ہوا کہ اُس کے ساتھیوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ،تو وہ بھی مسلمان ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

05 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


05 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 5


چھ قبیلوں کی اسلام میں واپسی، خلیفۂ اوّل کا خط، خلیفۂ اوّل  کا وظیفہ، اُم رمل یا زمل سلمیٰ بنت حاکم کا لشکر جمع کرنا، شمالی مشرقی عرب سے ارتداد کا خاتمہ، دھوکے باز ی اور غداری کی سزا، خلیفہ بننے کے بعد معمولات، مسیلمہ کذاب کی گستاخی، مسیلمہ کذاب کا جھوٹی نبوت کاجھوٹا دعویٰ


چھ قبیلوں کی اسلام میں واپسی


   حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ اور طلیحہ کی جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے اور جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔اِن میں بنو عامر،بنو سلیم اور دوسرے چار قبائل تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے طلیحہ اور بنو فزارہ کو بُری طرح شکست دی، تو اِن دونوں قبیلوں اور چھ اور قبیلوں نے خود سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضری دی اور کہنے لگے کہ ہم نے جس دین کو چھوڑا ہے ،اُس میں پھر سے داخل ہوتے ہیں اور ہم ا ﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی جان اور مال کے متعلق اﷲ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے اُن کی بات کو قبول کیا اور معاف کردیا۔اِن میں سے بہت سے جنگجو آپ رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔قبیلہ بنو طے ،بنو غوث اور بنو جدیلہ کے لگ بھگ دوہزار جنگجوحضرت عدی بن حاتم رضی ا ﷲ عنہ کی کوششوں سے پہلے ہی بغیر جنگ کے لشکر میں شامل ہو چکے تھے۔اس طرح آپ رضی اﷲ عنہ جو لشکر لیکر مدینہ منورہ سے چلے تھے،اُس میں کئی ہزار جنگجوو¿ں کا اضافہ ہو گیااور لشکر کافی بڑا ہو گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے لگ بھگ ایک مہینہ بزاخہ میں قیام کیا اور آس پاس کے مُرتدین کا چن چن کر قتل کرتے رہے۔یہ آپ رضی اﷲ عنہ نے اس لئے کیا تاکہ دوسرے مُرتدین پر مسلمانوں کی ہیبت طاری ہو جائے۔


خلیفۂ اوّل  کا خط


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد تمام قیدیوں کو مدینہ منورہ خلیفہ اول کی خدمت میں روانہ کیا اور ساتھ ہی ایک خط بھی روانہ کیا۔ اس میں لکھا کہ” اﷲ تعالیٰ نے طلیحہ کے مقابلے میں مسلمانوں فتح عطا فرمائی ہے اور بنو عامر اور کئی قبائل نے اسلام سے رو گردانی اور انتظار کے بعد خود حاضر ہو کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔جن قبائل سے میری جنگ ہوئی یا جن قبائل نے بغیر جنگ کے اسلام قبول کر لیا ہے۔اُن سب پر میں نے یہ شرط لازم کر دی ہے کہ وہ اُن تمام لوگوں کو جنہوں نے ارتداد کے زمانے میں مسلمانوں پر طرح طرح کے ظلم ڈھائے تھے،جب تک انہیں میرے حوالے نہیں کریں گے تب تک میں اُن سے مصالحت نہیں کرو ں گا۔انہوں نے میری شرط مان لی ہے اور ایسے تمام مجرموں کو میرے حوالے کر دیا ہے۔میںنے اُن کو طر ح طرح کے عذاب دے کر قتل کیا ہے تاکہ پھر کوئی شخص مسلمانوں پر ظلم کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔البتہ قیدیوں کو آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔“حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے جواب میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو خط لکھا کہ”جو کچھ تم نے کیا اور جو کامیابی تم کو حاصل ہوئی ،اﷲ تعالیٰ تم کو اس کی جزائے خیر عطا فرمائے ۔ تم ہر کام میں اﷲ سے ڈرتے رہوکیونکہ اﷲ اُن کے ساتھ ہے جو اُس سے ڈرتے اور نیکی کرتے رہتے ہیں۔تم اﷲ کے اِس کام میں پوری جد و جہد کرواور تساہلی نہیں کرنااور جس کسی ایسے شخص پر جس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہوتمہارا قابو چل جائے تو اُسے بے دریغ قتل کر کے دوسروں کے لئے باعث عبرت بنانااور جس شخص نے اﷲ کی مخالفت کی ہواور تم اسے قتل کردینے میں اسلام کی بھلائی سمجھتے ہو تو بے دریغ قتل کر دینا۔“(تاریخ طبری)


خلیفۂ اوّل  کا وظیفہ


   حضرت ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کو جب خلیفہ بنایا گیا تو لو گوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو ”یا خلفیة اﷲ“کہہ کر پکارا ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:میں تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں،یعنی ”خلیفة الرسول“اور یہی مجھے پسند ہے۔“(مسند احمد،تاریخ الخلفائ)خلیفہ بننے کے دوسرے روز حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کچھ چادریں لیکر تجارت کی غرض سے بازار جا رہے تھے ،کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مل گئے، اور عرض کیا:آپ رضی اﷲ عنہ کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟“انہوں نے فرمایا:”میں اپنے اہل و عیال کے لئے حلال رزق کمانے جارہا ہوں۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اب آپ رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کے خلیفہ ہو گئے ہیںاس لئے یہ کام چھوڑ دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر میں یہ کام چھوڑ دوں تو میرے اہل و عیال کہاں سے کھائیں اور پہنیں گے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”آپ رضی ا ﷲ عنہ واپس چلیئے اور پھر انہیں لیکر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن سے فرمایا کہ ایک اوسط درجے کے مہاجر کی خوراک کا اندازہ کر کے ، روزآنہ کی خوراک اور موسم سرما اور موسم گرما کا لباس اِن کے لئے (بیت المال) سے مہیا کریںلیکن اِس طرح کہ جب وہ پھٹ جائے تو اُسے واپس لیکر ہی نیا اُس کے عوض میں دیں۔اِن حضرات رضی اﷲ عنہم نے اُن کے لئے آدھی بکری کا گوشت ،تن ڈھانکنے کے لائق کپڑا اور پیٹ بھر روٹی مقرر کر دی۔امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ کا سالانہ یومیہ وظیفہ سال کا دوہزار درہم مقرر ہوا۔(روزآنہ لگ بھگ ساڑھے پانچ درہم)اس پر آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میرے گھر کے لوگ زیادہ ہیں،اتنے وظیفہ میں گزر اوقات نہیں ہو سکتی اور تم نے مجھ پر خلافت کا بوجھ ڈال کر تجارت کرنے سے بھی روک دیا ہے۔لہٰذا اِس میں کچھ اضافہ کرنا چاہیئے ۔“آپ رضی اﷲ عنہ کی اِس درخواست پر پانچ سودرہم (روزآنہ لگ بھگ سات درہم)سالانہ کا اضافہ کر دیا گیا۔(طبقات ابن سعد،تاریخ الخلفائ)


اُم رمل یا زمل سلمیٰ بنت حاکم کا لشکر جمع کرنا


   حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے بزاخہ میں مُرتدین کو شکست دی۔اُن میں سے بہت سے لوگ فرار ہو کر حواب میں جا کر جمع ہو گئے۔یہاں پر ایک عورت اُم رمل یا اُم زمل(تاریخ طبری میں اُم رمل ہے،اور تاریخ ابن کثیر میں اُم زمل ہے)سلمیٰ بنت مالک رہتی تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اس کے بعد قبائل بنو غطفان اور بنو سلیم وغیرہ کے بقیہ لوگ سلمیٰ بنت مالک کے پاس حواب میں جا کر جمع ہو گئے،اور اُسے اپنا پیشوا بنا لیا ۔یہ سلمیٰ وہی ہے جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں قید ہو کر آئی تھی۔اتفاق سے اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا سے ملاقات ہوئی تو آپ رضی اﷲ عنہا نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے اس کی سفارش کر کے آزاد کرادیا تھا۔اس کے بعد یہ اپنی قوم میں لوٹ آئی تو مُرتد ہو گئی ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔غرض یہ کہ یہ تمام مفرور لوگ سلمیٰ بنت مالک کے پاس جو عزت میں اُن کی ماں کے جیسی تھی جمع ہوگئے،اُس کے پاس اس کی ماں اُم فرقہ کا اونٹ تھا۔جب تمام بھگوڑے اُس کے پاس جمع ہوئے تو اُس نے ان لوگوں کو انکی شکست پر غیرت دلائی اور جنگ کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔اس کے بعد اُس نے خود بھی قبیلوں کا دورہ کیا اور قبائل میں گھو م گھوم کر اُن کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اُکسایا۔اس طرح اُس کے پاس ایک بہت بڑا لشکر جمع ہو گیا۔اُس نے لوگوں کو جمع کرنے کے لئے حواب سے بنو ظفر تک کے کئی چکر لگائے اور قبیلہ بنو غطفان،قبیلہ، بنو ہوازن،قبیلہ بنو سلیم ،قبہلہ بنو اسد اور قبیلہ بنو طے کے وہ تمام لوگ جو جنگ سے فرار ہو کر بے یار و مدد گار مصیبت کے دن بسر کر رہے تھے،اُس کے پاس ایک اور کوشش کے لئے جمع ہو گئے۔یہ تمام کاروائی اُس نے حضرت خالد بن ولید کے بزاخہ میں ایک مہینے کے قیام کے دوران مکمل کی۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔سلمیٰ بنت مالک اپنی ماں اُم فرقہ کی طرح سیدات العرب میں سے تھی اور کثرت ِاولاد اور قبیلے اور گھرانے کی عزت کی وجہ سے اُس کی ما ںکی مثال بیان کی جاتی تھی۔جب وہ اکٹھے ہو کر اُس کے پاس گئے تو اُس نے انہیں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خلاف جنگ کے لئے اُکسایا۔


شمالی مشرقی عرب سے ارتداد کا خاتمہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ میں قیام پذیر تھے اور آس پاس کے حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے اور آپ رضی اﷲ عنہ کے جاسوس سلمیٰ اور اُس کے لشکر کے بارے میں ایک ایک رپورٹ دے رہے تھے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اس کی اطلاع ملی،اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ مجرموں کی گرفتاری،زکوٰة کی وصولی،دعوت اسلام اور لوگوں کی تسکین میں منہمک تھے۔اس کے بعد اس عورت کے مقابلے کے لئے آگے بڑھے تب تک اُس کی شان و شوکت اور طاقت بہت بڑھ چکی تھی اور اُس کا مقابلہ آسان نہیں تھا۔دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا ،سلمیٰ خود اپنے اونٹ پر سوار میدان جنگ میں موجود تھی جسکی وجہ سے اُس کے سپاہیوں کا حوصلہ بہت بلند تھا اور بہت خوںریز جنگ ہو رہی تھی۔مسلمان بھر پور کوشش کر رہے تھے کہ اُس کے اونٹ تک پہنچ جائیں لیکن اُس کے اونٹ تک پہنچنا بہت مشکل ہورہا تھا۔آخر کار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے ساتھ ملکر اتنا شدید حملہ کیا کہ اُس کے گرد کا حفاظتی گھیرا ٹوٹ گیا اور بہت سے مُرتدوں کو قتل کرنے کے بعد مسلمان اُس کے اونٹ تک پہنچ گئے اور اُسے ذبح کر ڈالااور سلمیٰ کا قتل کردیا۔اُسکے قتل ہوتے ہی اُس کے حامیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہو گئی اور دشمنوں کو کامل شکست ہو گئی۔اس طر ح شمال مشرقی عرب سے ارتداد کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔حضرت خالد بن ولیدرضی اﷲ عنہ نے اِس فتح کی خوش خبری مدینہ منورہ بھیجی۔


دھوکے باز ی اور غداری کی سزا


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ اور حواب میں مصروف تھے۔اِسی دوران مدینہ منورہ میں حضرت ابو بکرصدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس بنو سُلیم کا ایک شخص فجاہ¿ ایاس بن عبداﷲ بن عبد یالیل آیا اور بولا:”میں مسلمان ہوں اور مُرتدوں سے جہاد کرنا چاہتا ہوں۔آپ رضی اﷲ عنہ سواری اور اسلحہ سے میری مدد کریںاور فوج دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اسے سواری ،اسلحہ اور فوج دی۔وہ مدینہ منورہ سے نکل کر جون یا جواءکے مقام پر پہنچا اور بنو شرید کے نجبة بن ابی المثنیٰ مُرتد سے مل گیااور یہ دونوں مسلمانوں پر شب خون مارنے لگے۔یہ وہاں سے چلکر مفصلات میں آیااور وہاں ہر آنے جانے مسلمان اور مُرتد سے زبردستی مال وصول کرنے لگا اور جو اُسے مال نہیں دیتا تھا تو وہ چاہے مسلمان ہو یا مُرتد اُسے یہ قتل کر دیتا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اسکی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت طریقہ بن حاجز کو خط لکھا کہ اﷲ کے دشمن فجاہ نے دھوکہ بازی کی اور جھوٹ بول کر مسلمانوں کا اسلحہ اور سواریاں لیںاور مسلمانوںکو ہی قتل کررہا ہے۔اس کے ساتھ بنوشرید کا نجبة بن ابی المثنیٰ ہے۔تم اپنے ساتھ مسلمانوں کو لیکر جاو¿ اور اس اﷲ کے دشمن کو قتل کردو یا پھر زندہ گرفتار کر کے میرے پاس بھیج دو۔حضرت طریقہ بن حاجز مسلمانوں کو لیکر اُس کے مقابلے پر گئے ۔دونوں لشکروں میں پہلے تیراندازی کا مقابلہ ہوا،مسلمانوں نے بہت زبردست تیر اندازی کی اور تیروں کی اتنی زبر دست بارش کی کہ پہلے ہی ہلے میں نجبة کو تیر لگا اور وہ ہلاک ہو گیا۔فجاہ نے مسلمانوں کی شجاعت ،سعی اور ثابت قدمی دیکھی تو وہ سہم گیا ۔پھر بھی اُس نے کہا۔اِس کام کے تم مجھ سے زیادہ حقدار نہیں ہو کیونکہ مجھے بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے امیر مقرر کیا ہے اور تمہیں بھی۔حضرت طریقہ بن حاجز نے فرمایاکہ اگر تو سچا ہے تو ہتھیار رکھ دے اور میرے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل۔اس طر ح حضرت طریقہ بن حاجز اُسے لیکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت طریقہ بن حاجز سے فرمایا کی اسے البقیع میں لے جاو¿ ،اور آگ میں جلا دو۔حضرت طریقہ اُسے عید گاہ لائے ،آگ جلوائی اور اِس میں اُسے زندہ جلا دیا۔تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت طریقہ نے اُسے جلایااور تاریخ ابن خلدون اور تاریخ ابن کثیر میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُسے جلایااور اﷲ تعالیٰ ،اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے دھوکہ اور غداری کی سزا دی تاکہ یہ واقعہ بقیہ لوگوں کے لئے عبرت ثابت ہو۔


خلیفہ بننے کے بعد معمولات


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے جو معمولات پہلے تھے ،خلیفہ بننے کے بعد بھی وہی معمولات رہے اور خلافت کی بھاری ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ساتھ آپ رضی اﷲ عنہ نے گھریلو اور معاشرتی ذمہ داریوں کو اُسی طرح نبھایا ،جیسے پہلے نبھاتے تھے۔امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔بیعت کے بعد بھی چھ مہینے تک حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ وہیں ”مقام سخ“(یہاں حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کی بیوی رہتی تھی اور یہ مقام مدینہ منورہ سے ایک کوس کے فاصلے پر ہے)میں مقیم رہے۔صبح کو کبھی کبھی پیدل مدینہ منورہ آتے اور اکثر گھوڑے پر سوار ہو کر آتے تھے۔ جسم پر تہبند اور چادرہوتی تھی،جو گیرو میں رنگی ہوتی تھی۔وہ مدینہ منورہ میں رہتے اور (خلافت کے اُمور نبٹانے کے ساتھ ساتھ)سب نمازیں لوگوں کو پڑھاتے جب (پانچوں وقت کی)نماز پڑھا کر فارغ ہو جاتے تو اپنے گھر والوں کے پاس ”سخ“واپس آجاتے۔ اگر کسی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ نماز کے وقت نہیں پہنچ پاتے تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔جمعہ کے روز دِن نکلنے تک ”سخ“میں ہی رہتے اور اپنے سر اور داڑھی کے بالوں کو مہندی (کے خضاب)میں رنگتے تھے۔اپنی بکریوں کی دیکھ بھال کرتے ،انہیں چارا دیتے اور اُن کے دودھ دُوہتے تھے۔خلیفہ بننے کے بعد محلے (یا قبیلے)کی ایک لڑکی نے کہا کہ اب ہمارے گھر کی اُونٹنیاںنہیں دوہی جائیں گی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب یہ سُنا تو مسکراتے ہوئے فرمایا:”کیوں نہیں!میں تمہارے لئے ضرور دُوہوں گااور مجھے اُمید ہے کہ جس چیز کو(خلافت کو) میںنے اختیار کیا ہے ،وہ مجھے اِس عادت سے نہیں روکے گی جس پر میں تھا۔“اکثر وہ اپنے محلے یا قبیلے کی لڑکیوں سے فرماتے کہ اے لڑکی !تُو کیا چاہتی ہے کہ میں تیرے دودھ میں پھین اُٹھا دوں یا اُسے بغیر پھین کے رہنے دوں۔جو وہ کہتی تھی آپ رضی اﷲ عنہ ویسا ہی کر دیتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ لگ بھگ چھ مہینے تک”سخ“میں رہے،اس کے بعد مدینہ منورہ میں آکر مقیم ہو گئے۔


مسیلمہ کذاب کی گستاخی


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیاتھا۔اسود عنسی کے قتل کی خبر خود آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم نے دی تھی لیکن مسیلمہ کذاب بدستور اپنی طاقت بڑھاتا رہا۔اسی دوران آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور اس کے بعد طلیحہ ،سلمیٰ اورسجاح نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیاتھا۔طلیحہ اور سلمیٰ کا انجام تو اوپر ذکر ہو چکا ہے اور سجاح کا ذکر ہم آگے کریں گے لیکن اُس سے پہلے مسیلمہ کذاب کے بارے میں بتا دیں ،تا کہ تسلسل قائم رہے۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کا وفد ۹ ھجری میں حاضر ہوا ۔اِس وفد میں مشہور چالاک ،فتنہ باز مُسیلمہ کِذّاب(جھوٹا )بھی تھا۔وفد کے تمام ارکان آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے لیکن وہ بد بخت کذاب گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے نہیں آیااور اونٹوں کے پاس ہی بیٹھا رہا۔آپ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو جب اس بد بخت کے بارے میں معلوم ہوا تو اُس کی دلجوئی کے خیال سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس کے پاس تشریف لے گئے۔ساتھ میں حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔اُس بد بخت جھوٹے مسیلمہ کذاب نے کہا کہ اگر آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم ) مجھ کو اپنی خلافت عطا فرمائیںاور اپنے بعد مجھ کو اپنا قائم مقام مقرر کریں تو میں بیعت کرنے کو تیار ہوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک میں اُس وقت کھجور کی چھڑی تھی۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :”اگر تُو یہ چھڑی بھی مانگے گا تو میں نہیں دوں گااور اﷲ تعالیٰ نے تیرے لئے جتنا مقدر فرما دیا ہے،اُتنا ہی ملے گا اور غالباًتُو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھااور یہ ثابت بن قیس رضی اﷲ عنہ تیری بات کا جواب دیں گے۔اتنا فرما کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔(فتح الباری،المواہب الدنیا)


دو کذابوں(جھوٹوں) کے بارے میں خواب 


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اُس جھوٹے بد بخت کے پاس سے تشریف لے آئے۔ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:”میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے دریافت کیا:” رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کو کون سا خواب دکھلایا گیا تھا؟“اُنہوں نے فرمایا:”رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے خواب دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن لا کر رکھے گئے جس سے میں گھبرا گیا۔خواب میں ہی مجھے کہا گیا کہ اِن پر پھونک مارو،میں نے پھونک ماری تو وہ فوراً اُڑ گئے۔جس کی تعبیر یہ ہے کہ دو کذاب(جھوٹے )ظاہر ہوں گے۔“حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں:”اِن دو کذابوں میں سے ایک کذاب مسیلمہ ہوا اور دوسرا کذاب اسود عنسی ہوا۔اسود عنسی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی قتل ہوا(آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس کے قتل کی خبر دے دی تھی،لیکن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے خلیفہ بننے کے چند دنوں بعد یمن سے قاصد نے آکر اُس کے قتل کی خبر دی اورقتل کی وہی تاریخ بتائی،جس تاریخ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس کے قتل کا اعلان فرمایا تھا۔)اوربد بخت مسیلمہ کذاب خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دور ِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے جنگ کرتے ہوئے قتل ہوا۔(فتح الباری ،المواہب الدنیا)


مسیلمہ کذاب کا جھوٹی نبوت کاجھوٹا دعویٰ


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بارگاہ سے جب بنو حنیفہ کا وفد یمامہ واپس گیا تو بد بخت مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کردیا۔امام عبد الملک بن ہشام لکھتے ہیں۔یہاں سے واپس جانے کے بعد (یمامہ میں ) مسیلمہ نے جھوٹی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیااور اپنے قبیلے کے لوگوں سے یہ جھوٹ بولا کہ رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مجھ کو (نبوت میں ) اپنا شریک بنا لیا ہے(سیرت النبی)اس کے بعد بد بخت مسیلمہ کذاب نے ۰۱ ھجری کے آخری مہینے میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کے پاس ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا تھا۔مسیلمہ(نعوذباﷲ )اﷲ کے رسول کی طرف سے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف! پس میں تمہارے کام (نبوت) میں شریک کر دیا گیا ہوں۔اس لئے آدھی زمین ہمارے لئے ہے اور آدھی زمین قریش کے لئے ہے مگر قریش انصاف نہیں کرتے ہیں۔والسلام۔اُس بد بخت جھوٹے کے خط کے جواب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ خط لکھوا کر بھیجا۔”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم،محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب (جھوٹے) کی طرف! سلام ہو اُس پر جو ہدایت (اسلام) کی اتباع کرے،بے شک زمین اﷲ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے عطا فرما تا ہے اور اچھا انجام اﷲ سے ڈرنے والوں کا ہے۔“یہ واقعہ ”حجة الوداع“سے واپسی کے بعد کا ہے۔(تاریخ ابن اثیر)علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ رجال بن عنقوہ(اِس کا نام نہار تھا،اوریہ بنو حنیفہ کے بڑے لوگوں میں سے تھا)نے مسیلمہ کذاب کی نبوت کی شہادت دی اور یمامہ کے لوگوں سے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے(نعوذ باﷲ )مسیلمہ کو حکومت میں شریک کر لیا ہے۔رجال کے اِس کہنے کا اثر لوگوں پر زیادہ اس لئے ہوا کہ وہ ہجرت کر کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں آگیا تھااور مدینہ منورہ میں رہ کر قرآن پاک اور دین کی باتیں سیکھی تھیں۔جب مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُسے اہل یمامہ کی تعلیم اور مسیلمہ کذاب کو سمجھانے کے لئے بھیجالیکن اِس بد بخت نے یمامہ پہنچ کر مسیلمہ کذاب کے دین کو اختیار کر لیا اور اُس کی اذان دینے لگااور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسیلمہ کذاب کی رسالت کا اقرار کر لیا۔مسیلمہ کذاب بہت سے فقرہ بنا بنا کر لوگوں کو سناتا اور کہتا تھاکہ یہ (نعوذ باﷲ)قرآن ہے اور چند خلاف عادات ِ انسانی باتیں لوگوں کو دکھلا کر اس کو معجزہ بتلاتا تھا۔(تاریخ ابن خلدون)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

06 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


06 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 6


بنو تمیم میں ارتداد، سجاع بنت حار ث کا جھوٹا دعوائے نبوت، سجاح اور مسیلمہ، سجاح کا فرار، حضرت خالد بن ولید کی بطاح کی طرف روانگی، مالک بن نویرہ کی گرفتاری، غلط فہمی میں قیدیوں کا قتل، میں اﷲ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا، معذرت قبول کی، حضرت عکرمہ اور حضرت شرجیل کے لشکر


بنو تمیم میں ارتداد


   جزیرہ نمائے ملک عرب کے مشرقی حصے میں بنو تمیم کے قبائل آباد تھے۔یہ مدینہ منورہ کے مشرق میں خلیج ِ فارس سے لیکر جزیرہ نمائے ملک عرب کے شمال مشرق میں دریائے عرفات کے دہانے تک آباد تھے۔بنو تمیم بہت بڑا قبیلہ تھا اور اُس کی بہت سی شاخیں تھیں۔جن میں بنو حنظلہ ،بنو دارم، بنو مالک،اور بنو یربوع کافی مشہور قبیلے تھے۔بنو تمیم کے زیادہ تر لوگ نصرانی(عیسائی)اور چاند کی پوجا کرنے والے تھے۔اپنی کثیر تعداد اور بہادری کی وجہ سے یہ کسی کی اطاعت قبول نہیں کرتے تھے۔لیکن جب تمام ملک عرب کے قبائل نے اسلام قبول کرنا شروع کیا تو اِنہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو تمیم کے قبیلوںبنو عوف اوربنو ابناءکی طرف زبرقان بن بدر کو عامل بنا کر بھیجا۔بنو مقاعس کی طرف قیس بن عاصم کو،وکیع بن مالک کو بنو مالک کی طرف،اور مالک بن نویرہ کو بنو یربوع کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا۔(اِن کے علاوہ اور بھی کئی لوگوں کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنو تمیم کے دوسرے قبائل کے عاملین بنا کر بھیجے تھےلیکن ہم ان کا خصوصی طور سے اِس لئے ذکر کر رہے ہیں کہ آگے چلکر ان کا ذکر آئے گا۔)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد بنو تمیم بھی ارتداد کا شکار ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ اِن میں آپس میں جنگ شروع ہو گئی ایک گروہ کہتا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو ذکوٰة بھیجی جائے اور دوسرا گروہ کہتا تھا کہ نہیں بھیجی جائے۔تیسرا گروہ مرتدین کا تھا۔یہ سب آپس میں لڑ رہے تھے کہ سجاع بن حارث لشکر لیکر پہنچ گئی۔


سجاع بنت حار ث کا جھوٹا دعوائے نبوت


   ملک عرب میں جیسے جھوٹے نبیوں کی وباءپھوٹ پڑی تھی اور مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر دیا تھا۔اِن میں بنو تغلب کی سجاع بنت حارث بھی تھی۔بنو تمیم کی ایک شاخ بنو یربوع کے بہت سے لوگ الجزیرہ میں آباد تھے،اِن میں بنو تغلب بھی تھے۔سجاع بنت حارث عیسائی تھی،بہت ہی حسین اور خوب صورت ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی تھی۔یہ بہت ماہر کاہنہ تھی،بنو تغلب اور بنو یربوع اس کی بہت عزت کرتے تھے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سُن کر اس بد بخت نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا۔الجزیرہ میں آباد بنو تغلب اور بنو یربوع نے تو اس کی فوراًاطاعت کرلی۔پھر اس نے بنو نمرد،بنو شیبان اور بنو ربیعہ کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا،اس طرح ایک بڑا لشکر لیکر بنو تمیم کے دوسرے قبائل کی طرف روانہ ہوئی۔اُس کا ارادہ تھا کہ بنو تمیم کے تمام قبائل کے ساتھ مل کر مدینہ منورہ پر حملہ کرے اور مسلمانوں کا خاتمہ کردے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔تمام بنو تمیم کے علاقے کا یہی حال تھاکہ ہر ایک کو اپنی پڑی تھی،اور وہ آپس میں دست و گریباں تھے۔اُن میں جو لوگ مسلمان تھے ،اُن کا واسطہ اُن لوگوں سے تھا جو متذبذب تھے۔اسی حالت میں سجاح بنت حارث الجزیرہ سے اُن کے پاس پہنچی ،یہ اور اُس کا خاندان بنو تغلب میں تھا۔ایک طرف تو پہلے سے خود ہی اِن قبائل میں خلفشار اور بد نظمی پھیلی ہوئی تھی تو دوسری طرف سجاح اور اُس کا کثیر لشکر اُن پر چڑھ آئے۔یہ واقعی بڑی پریشانی کی بات تھی جس میں سب مبتلا ہو گئے۔


سجاح اور مسیلمہ


   بنو تمیم کے لوگ پریشانی میں تھے۔مالک بن نویرہ نے سجاح کی اطاعت کرلی،علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جب وہ بلاد تمیم سے گزری تو اُس نے اُنہیںاپنے امر کی دعوت دی اور اُن کے عوام نے اُس کی بات کو قبول کر لیا۔ سجاح کے قبول کرنے والوں میں مالک بن نویرہ ،عطارد بن حاجب اور بنو تمیم کے سادات امراءکی ایک جماعت بھی شامل تھی۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔بنو تمیم میں اختلاف تو پہلے ہی سے تھا،سجاح کے خروج سے مخالفت اور زیادہ ہو گئی۔مالک بن نویرہ نے اُس سے مصالحت کرلی اور مدینہ منورہ پر فوج کشی کرنے سے روک کر بطون بنو تمیم پر حملہ کرنے کی تحریک دی۔بنو تمیم اُس کے مقابلے سے بھاگے لیکن وکیع بن مالک اُس سے مل گیا۔رباب و منبہ نے ملکر اُس سے جنگ کی تو سجاح کے لشکر کو شکست ہوئی اُس کے متعدد سپاہی قید کر لئے گئے۔اس کے بعد بحیثیت ِ کُل صلح کر لی گئی اور سجاح اپنے لشکر کو لیکر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو کر نباج پہنچی۔وہاں اوس بن خزیمہ نے بنو عمرو کو لیکر اُس پر حملہ کردیا ،فریقین میں سخت جنگ ہوئی ،سجاح کے لشکر میں سے ہذیل و عقبہ گرفتار کر لئے گئے۔پھر فریقین میں اِس شرط پر صلح ہوئی کہ اوس بن خزیمہ قیدیوں کو چھوڑ دے ،اور سجاح اوس کے شہروں میں کسی قسم کا تصرف نہیں کرے گی۔اس واقعہ کے بعد مالک بن نویرہ اور وکیع بن مالک اُس سے الگ ہو کر اپنی قوم سے جاملے اور سجاح اپنے لشکر کی کمزوری کی وجہ سے انہیں نہیں روک سکی۔اس کے بعد سجاح اپنا لشکر لیکر بنو حنیفہ کی طرف بڑھی ،تو مسیلمہ گھبرا گیا۔(کیونکہ وہ پہلے ہی مسلمانوں سے لڑ رہا تھا)مسیلمہ کذاب نے یہ خیال کر کے کہ اگر وہ سجاح سے جنگ کرے گا تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کو موقع مل جائے گا،اور حضرت شرجیل بن حسنہ اور اسلامی لشکر جو ابھی تک خاموش ہیں ،وہ بھی حملہ کر دیں گے۔اُس نے فوراً سجاح کی خدمت میں قیمتی تحائف بھیجے اور یہ کہلا بھیجا کہ پہلے ملک عرب کے کُل بلاد میں سے نصف ہمارا تھا اور نصف قریش کا تھالیکن چونکہ قریش نے بد عہدی کی ہے لہٰذا وہ نصف تمہیں دے دیا گیا۔


سجاح کا فرار


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ حواب سے روانہ ہو چکے تھے اور یہ سب واقعات اُن کے سفر کے دوران پیش آرہے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پھر سجاح نے اپنی فوجوں کے ساتھ یمامہ کا رُخ کیاتاکہ اُسے مسیلمہ کذاب سے چھین لے اور انہوں نے مسیلمہ سے جنگ کرنے کی ٹھان لی۔جب اُس نے سنا کہ وہ اس طرف آ رہی ہے تو وہ اُس سے اپنے علاقے کے بارے میں خوفزدہ ہو گیاکیونکہ وہ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگ میں مصروف تھا۔(حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ یمامہ کے ایک قبیلے کے سردار تھے،ارتداد کے زمانے میں اسلام پر قائم رہے اور یمامہ کے لوگوں کو سمجھاتے رہے،یمامہ کے تمام مسلمان اُن کے پاس جمع ہوگئے تھے اور وہ سب مسلسل مسیلمہ کذاب سے حالت ِ جنگ میں تھے۔)اور حضرت عکرمہ بن ابو جہل رضی اﷲ عنہ انہیں فوجی امداد دے رہے تھے اور اُسکے علاقے میں پڑاو¿ ڈالے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا انتظار کر رہے تھے جیساکہ آگے بیان ہو گا۔پس اُس نے سجاح کوصلح کا پیغام بھیجا اور کہا کہ اگر تم واپس چلی جاو¿ تو میں قریش کے حصے کی آدھی زمین تمہیں دے دوں گااور اس سلسلے میں تم سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔مسیلمہ کذاب اُس سے ملنے کو قلعہ سے نکل کر اُس خیمہ میں آیا جو ملاقات کے لئے سجایا گیا تھا۔محافظین خیمے سے نکال دیئے گئے،دونوں میں تھوڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی،جب مسیلمہ نے اپنے گھڑے ہوئے مر صع فقرے پڑھے تو سجاح نے اقرار نبوت کر لیا اور خود کو اُسکی زوجیت میں دے دیا۔تین دن تک اُس کے خیمہ میں مقیم رہی،چوتھے روز لوٹ کر اپنی قوم میں آئی تو اُس کی قوم اُسے بلا ادائے مہر نکاح کرنے پر لعنت ملامت کرنے لگی۔مجبور ہو کر سجاح مسیلمہ کے پاس پھر لوٹ آئی اور اُس سے مہر کا تقاضا کیا۔مسیلمہ کذاب نے کہا ،جا اپنی قوم سے کہہ دے کہ مسیلمہ (نعوذباﷲ) رسول اﷲ نے دو نمازیں یعنی فجر اور عشاءکی معاف کردیں،جن کو محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرض کیا تھا اور تیری قوم کو یمامہ کی نصف پیدا وار بھی دی۔اس کے بعد سجاح لشکر لیکر الجزیرہ واپس جانے لگی اور ہذیل اور عقبہ کو یمامہ کی آئندہ سال کی پیداوار لینے کے لئے چھوڑ گئی۔ راستے میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر سے سامنا ہوا ،جس سے اُس کا لشکر منتشر ہو گیا اور سجاح بھاگ کر الجزیرہ چلی گئی۔


حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کی بطاح کی طرف روانگی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بد ستور بزاخہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے اور خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے اگلے حکم کے انتظار میں تھے۔ادھر سجاح کے الجزیر ہ کی طرف روانہ ہونے کے بعد بنو تمیم کے سرداران کو بہت پشیمانی ہوئی ۔وکیع اور سماعہ کو احساس ہو کہ انہوں نے بہت ہی غلط حرکت کی ہے اسی لئے انہوں نے اپنے علاقے کے تمام افرادکے ساتھ خلوص سے اسلام قبول کیا اور زکوٰة کی رقم اپنے علاقے سے وصول کر کے اُسے لیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام ذکوٰة کی رقم پیش کی۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے جاسوس بھیج کر تمام حالات کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ تمام بنو تمیم اسلام پر لوٹ آئے ہیں۔البتہ مالک بن نویرہ اور اُس کے ساتھیوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے جب بنو ظفر ،بنو اسد، بنو غطفان،بنو طے ،اور بنو ہوازن کو درست کر چکے توانہوں نے کوچ کا ارادہ کیااور لشکر کو بطاح کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیاجو حزن سے ادھر واقع ہے اور جہاں مالک بن نویرہ مقیم تھا۔اُسکی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے معاملے میں سخت متردّد تھا۔(اور فیصلہ نہیں کرپارہا تھا کہ اسلام کی طرف لوٹ آئے یا نہیں)اس موقع پر انصار نے آگے بڑھنے سے انکار کردیااور کہا کہ خلیفہ نے ہدایت کی تھی کہ جب ہم بزاخہ سے فارغ ہو جائیں تو اُن کا دوسرا حکم آنے تک وہیں قیام کریں۔اس لئے ہم آپ رضی ا ﷲ عنہ کے ساتھ نہیں جائیں گے اور اُن کا دوسرا حکم آنے تک یہیں رُکیں گے۔حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ آپ لوگوں کو ایسا حکم دیا گیا ہومگر خلیفہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آگے بڑھوں۔تمام خبریں مجھے موصول ہوتی رہتی ہیںاور مجھے اس کے خلاف ابھی تک کوئی حکم موصول نہیں ہوا ہے اوراُن کا صاف حکم ملنے تک اگر مجھے دشمن کو زیر کرنے کا کوئی موقع ملے اور میں اُن کے حکم کے انتظار میں رہوں تو اس طرح یہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔میں تو ہر گز ایسا نہیں کروں گابلکہ فوراً موقع سے فائدہ اُٹھاو¿ں گااور اسی طر ح ہم اگر کسی مصیبت میں پھنس جائیں تو کیا ہم خلیفہ کے حکم کا انتظار کریں گے یا اُس مصیبت سے نکلنے کی اپنے طور پر کوئی کوشش کریں گے؟اب مالک بن نویرہ چونکہ ہمارے قریب موجود ہے تو میں اپنے لشکر کو لیکر آگے بڑھتا ہوںاور آپ لوگوں کو اپنے ساتھ آنے پر مجبور نہیں کرتا۔اُن کے جانے کے بعد انصار نے مشورہ کیا کہ اگر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو کامیابی ملی تو ہم ایک بھلائی سے محروم رہ جائیں گے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہوئے تو یہ انصار کے لئے رسوائی ہو گی ۔اسی لئے تمام انصار فوراً آپ رضی اﷲ عنہ سے آملے اور آپ رضی اﷲ عنہ نے بہت خوش ہو کر اُن کا استقبال کیا۔جب مسلمانوں کا لشکر بطاح پہنچا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔سجاح کا لشکر اُن کے آنے خبر سُن کر منتشر ہو گیا تھااور وہ خود الجزیرہ بھاگ گئی تھی جبکہ مالک بن نویرہ کا لشکر بھی منتشر ہو گیا تھا۔


مالک بن نویرہ کی گرفتاری


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے سفر کے دوران مالک بن نویرہ تردد میں تھا کہ کیا کرے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اس موقع پر مالک بن نویرہ نے اپنے ساتھیوں سے کہااے بنو یربوع!جب ہمارے امراءنے ہمیں اسلام کی دعوت دی تو ہم نے اُن کی بات نہیں مانی اور دوسرے لوگوں کو بھی اسلام قبول کرنے سے باز رکھا مگر ہمیں اِس معاملے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا،میں نے اِس معاملے پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اِس کام کو بغیر سوچے سمجھے اور بغیر مصلحت بینی کے اختیار کیا گیا ہے اور نہ اس کی رہبری کے لئے لوگ ہیں۔ایسی حالت میں تم اِس شورش سے الگ ہو جاو¿ اور اپنے اپنے علاقوں میں چلے جاو¿ اور جس کا دل چاہے وہ اسلام میں داخل ہو جائے۔مالک بن نویرہ کے اس مشورے کے بعد تمام لو گ اپنے اپنے علاقے میں چلے گئے۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح آئے اور وہاں کسی کو موجود نہیں پایا تو انہوں نے باغیوں کی تلاش کے لئے مختلف فوجی دستے اطراف میں روانہ کئے اور حکم دیا کہ جہاں بھی پہنچیں تو اذان دیں،جو اس کا جواب نہیں دے تو اُسے گرفتار کر لیںاور جو مقابلہ کرے تو اُسے قتل کر دیں۔جب تمام فوجی دستے واپس آئے تو اِن میں سے ایک فوجی دستے نے مالک بن نویرہ اور اُس کے چند ساتھیوں کو گرفتار کر کے لیکر آیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا۔اس فوجی دستے میں اختلاف ہو گیا اور دو گروہ بن گئے۔ایک گروہ کہتا تھا کہ قیدیوں نے اذان کے جواب میں اذان دی ،اقامت کہی اور نماز پڑھی،اس گروہ میں حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ انہوں نے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ سُن کر حکم دیا کہ انہیں قید میں رکھو،ہم انہیں خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیں گے،پھر وہ جو چاہیں فیصلہ کریں گے۔


غلط فہمی میں قیدیوں کا قتل


   حضرت خالد بن ولید نے گرفتار شدہ لوگوں کو قید میں رکھنے کا حکم دے دیالیکن اُسی رات قیدیوں کو غلط فہمی کی وجہ سے قتل کر دیا گیا۔ہوا یہ کہ رات میں بہت شدید سردی پڑی ،یہ دیکھ کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے خیمے کے اندر سے ہی لشکر کے کسی آدمی کو حکم دیا کہ قیدیوں کو گرم کرو،یعنی گرم کپڑے دو۔اُس نے آواز لگائی کہ قیدیوں کو گرم کرو۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اُس رات اِس قدر شدید سردی پڑی کہ کوئی چیز اُس کی تاب نہیں لاسکتی تھی۔جب سردی اور بڑھنے لگی تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے منادی کو حکم دیا کہ قیدیوں کو گر م کرو۔اُس نے بلند آواز سے چلا کرکہا کہ او فﺅاسرارکم(اپنے قیدیوں کو گرم کرو)بنو کنانہ کے محاورے میں اِس لفظ کے معنی قتل کرنے کے تھے۔دوسروں کے محاورے میں جب ادفہ کہیںتو قتل کے معنی سمجھے جاتے تھے۔ سپاہیوں نے اِس لفظ کا مفہوم مقامی محاورے کے اعتبار سے یہ سمجھ لیا کہ قیدیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اس لئے انہوں نے سب قیدیوں کو قتل کر ڈالا،حضرت ضراربن ازور رضی اﷲ عنہ نے مالک بن نویرہ کو قتل کیا۔(ایک اور روایت میں ہے کہ عبد بن ازور اسدی نے قتل کیا)حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب شور وغل کی آواز سنائی دی تو وہ خیمے کے باہر آئے مگر تب تک تمام قیدی قتل کئے جاچکے تھے۔یہ دیکھکر آپ رضی اﷲ عنہ رنجیدہ ہو گئے اور فرمایا:”اﷲ جس کام کو کرنا چاہتا ہے ،وہ بہر حال ہو کر رہتا ہے۔اس سے پہلے بھی لوگوں کا ان کے بارے میں اختلاف تھا۔“حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی ضد پر اڑے رہے اور دونوں میں کچھ تلخ کلامی ہو گئی اور حضرت ابوقتادہ رضی اﷲ عنہ ناراض ہو گئے۔


میں اﷲ کی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا


   حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ ناراض ہو کر بغیر اجازت لئے لشکر سے الگ ہو گئے،اور مدینہ منورہ آئے اور حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ سے ساری بات بیان کی۔ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام حالات سے آگاہ کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا :”آپ رضی اﷲ عنہ اپنے امیر(سپہ سالار) کی اجازت کے بغیر کیوں آئے؟“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اُن کی سفارش کی مگر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جب تک یہ اپنے امیر کے پاس واپس نہیں جائیں گے میں انہیں معاف نہیں کروں گا۔“حضرت ابو قتادہ رضی اﷲ عنہ لشکر میں واپس آگئے اور پھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آئے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول سے عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک مسلمان کے خون کے ذمہ دار ہیںاور اگر یہ بات ثابت نہ ہو سکے تب بھی اتنا تو ثابت ہے کہ جس کی وجہ سے ان کو قید کر دیا جائے۔“ امام طبری آگے ایک اور روایت میں بیان کرتے ہیں۔مالک بن نویرہ کا بھائی متمم بن نویرہ حضرت ابوبکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے پاس اپنے بھائی کا قصاص لینے آیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کا قصاص ادا کر دیا۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اصرار کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیا جائے کیونکہ اُن کی تلوار پر ایک بے گناہ مسلمان کا خون لگا ہے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اے عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ ! یہ نہیں ہو سکتا ،میں اُس تلوار کو جسے اﷲ نے کافروں کے لئے نیام سے برآمد کیا ہے پھرنیام میں واپس نہیں ڈال سکتا۔“


معذرت قبول کی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ لشکر کو اُسی حالت میں چھوڑ کر مدینہ منورہ آو¿۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو معزول کر دیجیئے،اُس کی تلوار میں ظلم پایا جاتا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں اُس تلوار کو نیام میں نہیں کروں گا ،جس اﷲ نے کافروں پر سونتا ہے۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو پیغام بھیجا اور آپ رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنی فولادی زرہ پہنے ہوئے تھے،جس پر خون کی کثرت کی وجہ سے زنگ لگ گیا تھااور عمامے میں خون سے لتھڑے ہوئے تیر لگائے ہوئے تھے۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو وہ خاموشی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور اپنا عذر پیش کر کے معذرت کی۔ خلیفہ اول نے معذرت قبول کی اور در گذر فرمایااور آئندہ احتیاط برتنے کا حکم دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔پھر جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ خلیفہ اول کے طلب کرنے پر مدینہ منورہ آئے تو حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ عنہ نے مالک بن نویرہ کے مقدمہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے قصاص لیںاور معزول کر دیں لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صاف الفاظ میں فرما دیا کہ ”میں اُس تلوار کو نیام میں نہیں کرنا چاہتا جسے اﷲ نے کافروں پر تان رکھا ہو۔اس کے بعد مالک بن نویرہ اور باقی قیدیوں کا خوں بہا بیت المال سے دے دیا اورحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کولشکر کی جانب لوٹا دیا۔(یہاں ایک بات یہ ذہن میں رکھیں کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ اور حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کے درمیان کوئی رنجش نہیں تھی بلکہ دونوں خالص اﷲ کے لئے کام کرتے تھے اور جو عجیب عجیب روایتیں اِن دونوں مقدس حضرات رضی اﷲ عنہم کے بارے میں پھیلائی گئی ہیںیہ دونوں اِس سے پاک ہیں۔)


حضرت عکرمہ اور حضرت شرجیل رضی ا ﷲ عنہم کے لشکر


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے۔ابھی تک ہم حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر کے احوال ہی پیش کرسکے ہیں۔اب بقیہ لشکروں کے حالات انشاءاﷲ اس طر ح پیش کریں گے کہ تسلسل بر قرار رہے۔جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بزاخہ میں مصروف تھے،اُس وقت حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ یمامہ میں مسیلمہ کذاب سے جنگ میں مصروف تھے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔جس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے گیارہ لشکر مُرتدین ِ عرب کی سرکوبی کے لئے روانہ کئے تھے،اُس وقت حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ کو مسیلمہ کذاب سے لڑنے کے لئے یمامہ کی طرف بھیجا تھا۔پھر اُن کے بعد حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو اُن کی مدد کے لئے روانہ کیا تھا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے عجلت کر کے حضرت شرجیل رضی اﷲ عنہ کے آنے سے پہلے ہی جنگ شروع کردی،جس میں انہیں شکست ہوئی ۔اس شکست سے جب حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کو مطلع کیا گیا تو انہوں نے حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجا کہ خود تم تو استادی جانتے ہی نہیں ہو اور شاگردوں میں عیب نکالتے ہو۔بغیر شرجیل رضی اﷲ عنہ کے آئے ہوئے تم نے حملہ کیوں کردیا؟خیر جو کچھ ہوا ،مدینہ منورہ کا رُخ نہ کرنا۔حضرت حذیفہ و حضرت عرفجہ رضی اﷲ عنہم کے پاس جاو¿ اور اُن کی ماتحتی میں مہرہ اور اہل عمان سے لڑو۔جب اُن کی جنگ سے فراغت حاصل ہو تو مع اپنے لشکر کے حضرت مہاجر بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کے پاس یمن اور حضر موت میں چلے جانااور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ تم حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر کا انتظار کرواور جب وہ آجائیں تو اُن کے ساتھ ملکر جنگ کرو۔پس جب وہاں سے فارغ ہو جانا تو بنو قضاعہ کی طرف چلے جانااور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کے ساتھ ملکر مرتدین سے لڑنا۔اس کے بعد جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح سے فارغ ہو کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی طلبی پر اُن کے پاس حاضر ہوئے ۔خلیفہ اول نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے جب اصل واقعات سنے تو اُن سے راضی ہو گئے۔تب انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو مسیلمہ کذاب سے جنگ کرنے کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیااور کافی تعداد میں لشکر بھی دیا۔مہاجرین میں سے حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زید رضی اﷲ عنہم اور انصار میں سے حضرت ثابت بن قیس اور حضرت براءبن عازب رضی اﷲ عنہم بھی ساتھ تھے۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....!

07 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


07 خلافت ِ راشدہ_ 07 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 7


حضرت خالد بن ولید کی یمامہ روانگی، مسیلمہ کذاب کی تیاری، مسیلمہ کذاب کی خرافات، مجاعہ کی گرفتاری، دونوں لشکر آمنے سامنے، حضرت زید بن خطاب، حضرت ثابت بن قیس بن شماس اور حضرت ابو حذیفہ کی شہادت، حضرت خالد بن ولید کی یلغار، مسیلمہ کذاب کا فرار، مرتدین”محکم الیمامہ میں، مسیلمہ کذاب کا قتل، جنگ یمامہ میں مہاجرین شہداء، جنگ یمامہ میں شہدائے انصار


حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی یمامہ روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے راضی ہو گئے تو میدان ِجنگ کے حالات پر بات چیت کی اور انہیں اور بھی لشکر دیا اور مسیلمہ کذاب سے جنگ کرنے کے لئے یمامہ کی طرف روانہ کیا کیونکہ مسیلمہ کذاب نے یمامہ میں لگ بھگ چالیس ہزارکا لشکر جمع کرلیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں مہاجرین اور انصار کے بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی اچھی خاصی تعداد تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب بطاح سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کے عرض حال اور معذرت خواہی کے بعد وہ اُن سے راضی ہو گئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُن کو مسیلمہ کذاب سے مقابلے کے لئے بھیجااور ایک بڑا لشکر انہیں دیا ۔اُن کے ساتھ اِس فوج میں جو انصار تھے ،اُن کے سپہ سالار حضرت ثابت بن قیس اور حضرت براءبن عازب رضی اﷲ عنہم تھے اور جو مہاجرین تھے اُن کے سپہ سالار حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زید رضی اﷲ عنہم تھے۔اِس طرح ہر قبیلے کا الگ الگ سپہ سالار تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بطاح میں اپنے لشکر کے پاس آئے اور پورا لشکر لیکر یمامہ کی طرف روانہ ہوئے۔


مسیلمہ کذاب کی تیاری


   حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ کی روانگی کی خبر جب مسیلمہ کذاب کو ملی،تو اُس نے بھی اپنی تیاری شروع کردی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور جب مسیلمہ کذاب نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی آمد کے متعلق سنا تو اُس نے یمامہ کی ایک جانب ایک جگہ جسے ”عقربائ“کہا جاتا تھاپڑاو¿ کر لیااور سبزہ زار اُن کے پیچھے تھااور اُس نے یمامہ کے لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسایا اور ایک بہت بڑا لشکر جمع کر لیا۔اُس نے اپنی فوج کے میمنہ اور میسرہ پر حکم بن طفیل کو اور رجال بن عنقوہ کو مقرر کیا۔یہ رجال اُس کا وہ دوست تھا ،جس نے اُس کے لئے یہ گواہی دی تھی کہ اُس نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو(نعوذ باﷲ )یہ فرماتے سنا ہے کہ مسیلمہ بن حبیب کذاب (جھوٹے)کو اُن کے ساتھ حکومت میں شریک کیا گیا ہے۔(رجال کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں)اور یہ ملعون اہل یمامہ کو سب سے بڑا گمراہ کرنے والا تھاحتیٰ کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب کی اتباع کر لی۔اﷲ تعالیٰ کی دونوں پر لعنت ہو۔ یہ رجال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا تھا اور سورہ البقرہ پڑھی تھی اور ارتداد کے زمانے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اس بد بخت کو یمامہ کی طرف بھیجا کہ وہ انہیں اسلام پر ثابت قدم رکھے لیکن یہ بد بخت یمامہ آکر مسیلمہ کذاب سے مل گیااور اُس کی جھوٹی نبوت کی گواہی دی۔حضرت ابو ہریرہ رضی ا ﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ ایک دن ہم لوگ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے اور ہم میں رجال بن عنقوہ بھی تھا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”بے شک تم میں ایک ایسا آدمی ہے جس کی داڑھ اُحد پہاڑ سے بھی بڑی ہے ،اور وہ آگ(جہنم)میں ہو گی۔“پس سب لوگ مر گئے اور میں اور رجال رہ گئے اور میں اِس بات سے خوفزدہ تھا حتیٰ کہ رجال نے مسیلمہ کا ساتھ دیا اور اُس کی نبوت کی گواہی دی اور رجال کا فتنہ مسیلمہ کے فتنہ سے بھی بڑا تھا۔


مسیلمہ کذاب کی خرافات


   بد بخت ملعون مسیلمہ کذاب خرافات بکتا تھا ،اوراُ سے الہام بتاتا تھا۔ویسے تو یہ سب بیان کرنے کے لائق نہیں ہے لیکن اُس کی بد بختی اور کم بختی پر ہنسنے کے لئے چند خرافات پیش ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔مسیلمہ اپنے متبعین کے سامنے اپنے الہامات پڑھتا تھا۔بنو تمیم کے متعلق اُس نے اپنا الہام پڑھا۔بنو تمیم پاک جوان مرد ہیں،ان میں کوئی برائی یا تساہل نہیں ہے۔ہم اپنی زندگی بھر ان کی لغزشوں کا احسان کر کے در گذر کرتے رہیں گے۔ہر شخص کے مقابلے میں اُن کی حفاظت کریں گے اور جب ہم مر جائیں گے تو پھر اُن کا معاملہ اﷲ رحمن سے ہے۔اسی طرح ایک الہام(خرافات) وہ یہ پڑھتا تھا۔قسم ہے بکری کی اور اُس کے رنگوں کی اور سب سے تعجب انگیزاُس کا سیاہ رنگ اور اُس کا دودھ ہے۔سیاہ بکری اور سفید دودھ کس قدر عجیب بات ہے،دودھ میں پانی ملانا حرام کر دیا گیا ہے،پھر تم کو شرم نہیں آتی۔ایک اور الہام(خرافات) یہ ہے۔اے مینڈکی،مینڈک کی بیٹی۔تو کس قدر پاک صاف ہے،تیرا بالائی حصہ پانی میں رہتا ہے،اور زیرین مٹی کیچڑ میں۔تُو نہ پانی پینے والوں کو روکتی ہے اور نہ پانی کو مکدر کرتی ہے۔ایک اور الہام(خرافات)یہ ہے۔قسم ہے کھیت میں بیج ڈالنے والوں ،فصل دور کرنے والوں،دانہ نکالنے والوں،پھر چکی میں آٹا پیسنے والوں،روٹی پکانے والوں،اُن کو چورہ کر کے ملیدہ بنانے والوںاور پھر لقمے بنا کر کھانے والوں کی جو چربی اور مکھن سے کھاتے ہیں۔اے ساکنان بادیہ!تم کو فضیلت دی گئی ہے اور شہری تم سے کسی بات میں آگے نہیں ہیں۔اپنے علاقے کی مدا فعت کرو،غریب کو پناہ دو اور بد معاش کو اپنے یہاں سے نکال دو۔(تاریخ طبری)اسی طر ح کی بہت سی خرافات وہ بد بخت بکتا رہتا تھا۔


مجاعہ کی گرفتاری


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یمامہ میں داخل ہونے کے بعد عقرباءسے ایک دن کی مسافت کے فاصلے پر آکر رُک گئے اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی ا ﷲ عنہ بھی اُن سے آ کر مل گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے آس پاس چند فوجی دستے گشت کرنے کے لئے بھیجے۔ایسے ہی ایک گشتی دستے نے مجاعہ اور اُس کے(تیس یا ساٹھ) ساتھیوں کو گرفتار کیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا۔یہ بنو حنیفہ کے لوگ تھے اور بنو تمیم سے انتقام لینے کے لئے گئے تھے کہ واپسی میں گرفتار کر لئے گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے مسیلمہ کذاب کو اپنا رسول بتایا۔یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کے قتل کا حکم دے دیا۔انہوں نے قتل ہونا منظور کیالیکن اسلام میں داخل ہونا منظور نہیں کیا۔البتہ انہوں نے کہا کہ مجاعہ کو قتل نہ کرنابلکہ اُسے یرغمال بنا کر رکھنا،ہو سکتا ہے کہ وہ آگے چلکر تمہارے کام آئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مجاعہ کو قتل نہیں کیااور اُسے بیڑیاں پہنا کر اپنے خیمے میں اپنی بیوی کی نگرانی میں رکھا۔


دونوں لشکر آمنے سامنے


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اس کے بعد آگے بڑھے اور عقرباءمیں مسیلمہ کذاب کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔مسلمانوں کے لشکر میںحضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ بھی تھے اور حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت براءبن مالک رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے اور حضرت وحشی بن حرب بھی تھے۔حضرت وحشی کو اِس بات کا ہمیشہ افسوس رہا تھا کہ حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کو انہوں نے اپنی آزادی حاصل کرنے کی مجبوری میں شہید کیا تھااور اسلام قبول کرنے کے بعد ہر جنگ میں اسی کی تلافی کرنے کی کوشش کرتے تھے۔مسلمانوں کا لشکر تیرہ ہزار تھا اور مسیلمہ کذاب کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ”مقدمة الجیش“پر حضرت خالد مخزومی کو سپہ سالار مقررکیا اور اپنے لشکر کے میمنہ پر حضرت زید رضی اﷲ عنہ کو اور میسرہ پر حضرت ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:مہاجرین صحابہ رضی اﷲ عنہم کے سردار اِس جنگ میں حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی ا ﷲعنہ تھے۔ مہاجرین نے کہا کہ ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کی جانب سے اپنے لئے اندیشہ معلوم ہوتا ہے۔انہوں نے فرمایا:”اگر میں بزدلی دکھاو¿ں تو میں قرآن کا بُرا حامل بنوں گااور یہ کیسے ہو سکتا ہے؟“انصار کے سردار حضرت قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ تھے اور دوسرے قبائل ِعرب اپنے اپنے سرداروں کے ماتحت تھے۔مجاعہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے میں اُن کی بیوی سیدہ اُم تمیم کی نگرانی میں بیڑیاں پہنے ہوئے تھا۔جنگ شروع ہوئی ،دونوں لشکر میں بہت زبردست مقابلہ ہوا،مسیلمہ کذاب کا لشکر مسلمانوں کے لشکر سے تین گُنی زیادہ تھااسی لئے پہلے حملے میں وہ مسلمانوں پر حاوی ہو گئے اور اسلامی لشکر کو دھکیلتے چلے گئے۔اسلامی لشکر سنبھلتے سنبھلتے ہوئے بھی اتنا پیچھے ہو گیا کہ بنو حنیفہ کے بعض لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے خیمے میں گھس آئے اور سیدہ اُم تمیم کو قتل کرنا چاہتے تھے کہ مجاعہ نے انہیں بچایا اور کہا کہ میں اُن کا ہمسایہ ہوںاور یہ بہت نیک بی بی ہیں۔اس طرح حملہ آوروں کو پلٹا دیا۔


حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ کی شہادت


   حضرت خالد بن ولید کا لشکر وقتی طور سے پیچھے ہٹا پھر مسلمان سنبھلے اور مقابلے پر جم گئے اور اتنا شدید حملہ کیا کہ یمامہ کے لشکر کے لوگ گھبرا گئے۔ مسلمانوں کے پیر جمانے میں سب سے بڑی کوشش مہاجرین اور انصار کے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے کی۔حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو پکارا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زید بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مسلمانو!مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاو¿اور دشمن کی طرف چلواور آگے بڑھو۔اﷲ کی قسم!میں میں تم سے بات نہیں کروں گایہاں تک کہ اﷲ دشمنوں کو شکست دیدیا میں اﷲ سے جاملوں اور اس سے اپنی دلیل کے ساتھ بات کروں گا۔“اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو لیکرشدید حملہ کیااور مسیلمہ کذاب کے لشکر کے مقدمةالجیش کے سپہ سالار رجال بن عنفوہ ملعون کو قتل کر دیااور اس کے بعد دشمنوں کو قتل کرتے ہوئے خود بھی شہید ہو گئے۔


حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ کی شہادت


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں موجود صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اسلامی لشکر میں سب سے آگے آگئے اور مرتدوں کو پیچھے دھکیلتے ہوئے واپس اُن کی جگہوں پر لے گئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:پھر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کی اور حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم نے اپنے مد مقابل کو بری بات کا عادی بنا دیا ہے۔“ انہوں نے ہر طرف سے آواز دی:”اے خالد رضی اﷲ عنہ ! ہمیں منتخب کرو۔“پس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مہاجرین اور انصار کی ایک پارٹی منتخب کی۔صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے فرمایا:”اے سورہ البقر ہ والو!آج جادو بے کار ہو گیا ہے۔“ حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اﷲ عنہ نے زمین میں اپنی نصف پنڈلیوں تک اپنے پاو¿ں کے لئے ریت میں گڑھا کھودا اور وہیں جم کر اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور دشمنوں سے زبردست مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔


حضرت ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر کے قلب پر لڑ رہے تھے اور شدید حملے کر کے مسلمانوں کے حوصلے بڑھا رہے تھے۔ادھر میمنہ اور میسرہ میں بھی مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم مسلسل پیش قدمی کر رہے تھے۔حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہ رضی اﷲ عنہ بھی بہادری سے ثابت قدم رہتے ہوئے حملے کر رہے تھے اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے جارہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مرتدوں کو قتل کرتے ہوئے اور آگے بڑھتے ہوئے فرمایا:”اے اہل قرآن!قرآن پاک کو اپنے افعال کے ساتھ زینت دو۔“اور مرتدوں پر بے تحاشہ ٹوٹ پڑے اور انہیں مسلسل قتل کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ بھی شہید ہو گئے۔


حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی یلغار


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسلسل بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے حتیٰ کہ مسیلمہ کذاب کے لشکر کو کاٹتے اور چیرتے ہوئے آپ رضی اﷲ عنہ اتنی اندر تک پہنچ گئے کہ مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچ گئے اور لڑتے ہوئے انتظار کرنے لگے کہ وہ بد بخت آئے تو اُسے قتل کریں۔اسی دوران بہت سے مرتدین کو قتل کیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حملہ کیا حتیٰ کہ اُن سے آگے نکل گئے اور مسیلمہ کذاب کے پہاڑوں کے پاس چلے گئے اور انتظار کرنے لگے کہ وہ آئے تو اُسے قتل کریں۔پھر آپ رضی اﷲ عنہ واپس ہوئے اور دونوں لشکر کی صفوں کے درمیان کھڑے ہو کر مبارزت طلب کی اور بلند آواز سے فرمایا:”میں ابن الولید العود ہوں،میں عامر اور زید کا بیٹا ہوں“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے نشان امتیاز سے پکارااور اُن کا نشان امتیاز ”یا محمداہ“تھا۔پس آپ رضی اﷲ عنہ نے تلوار لہرا کر بلند آواز سے پکارا:”یا محمداہ“۔اور جو کوئی بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر آرہا تھااُسے آپ رضی اﷲ عنہ قتل کررہے تھے اور جو چیز بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے قریب آتی تھی وہ فنا ہو جاتی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچے اور اسے اسلام کی دعوت دی اور سمجھایالیکن مسیلمہ کذاب کا شیطان اسے بر گشتہ کردیتا تھا۔اور وہ گردن کج کر کے آپ رضی اﷲ عنہ کی بات کو ٹھکرا دیتا تھا۔


مسیلمہ کذاب کا فرار


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جانتے تھے کہ جب تک مسیلمہ کذاب ڈٹا رہے گا تب تک جنگ کا فیصلہ نہیں ہو سکے گا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔اس کے بعد مسیلمہ کذاب کے قریب پہنچ کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُسے للکارا۔اُس کے متعلق رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک شیطان مسیلمہ کذاب کے تابع ہے،جب وہ اُس کے پاس آتا ہے تو اُس کے منہ سے اِس قدر کف جاری ہوتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے دونوں جبڑوں میں ناسور ہے اور جو بھلی بات کرنے کا ارادہ مسیلمہ کذاب کرتا ہے تو وہ شیطان اُسے کرنے سے روک دیتا ہے۔لہٰذا تمہیں اگر کبھی اُس کے خلاف موقع مل جائے تو اسے ہر گز ہاتھ سے جانے نہ دینا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُس کے قریب پہنچ کر اُس پر حملہ کرنے کا موقع تلاش کرنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ وہ اپنی جگہ جما ہوا ہے حالانکہ اب جنگ میں مسلمانوں کا پلہ بھاری ہو چکا تھا اور وہ مرتدین کو بے دریغ قتل کر رہے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اندازاہ لگایا کہ جب تک مسیلمہ کذاب اپنی جگہ سے نہیں ہٹے گا تب تک مرتدین بھی جمے رہیں گے۔انہوں نے موقع کی تلاش میں اُسے آواز دی،اُس نے جواب دیا۔اُس کی یہ عادت تھی کہ جب وہ کوئی جواب دینا چاہتا تو اپنا منہ شیطان سے مشورہ کرنے کے لئے پھیر لیتا تھا۔اسی لئے اِس گفتگو کے دوران اُس نے جب ایک مرتبہ منہ پھیرا تو آپ رضی اﷲ عنہ اُس پر ٹوٹ پڑے اور وہ سہم کر بھاگا،اُس کے بھاگتے ہی اُس کے تمام متبعین بھی بھاگنے لگے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو للکارا کہ خبردار !اب کوئی کوتاہی نہ کرنا،آگے بڑھو اور کسی کو بچ کر جانے نہ دو۔یہ سن کر مسلمان سب کے سب مرتدین پر پل پڑے۔   


مرتدین کا فرار


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اسلامی لشکر میں واپس آگئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کومرتدین کو قتل کرتا دیکھکر مسلمانوں میں اتنا جوش اور جذبہ بھر گیا اور حوصلے اتنے بلند ہو گئے کہ وہ بڑھ بڑھ کر حملے کرنے لگے اور مرتدین کو قتل کرنے لگے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔مسلمانوں کی چکی گھومنے لگی اور اِس میدان کار زار میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے جس استقلال کا مظاہرہ کیا ،اُس کی مثال دیکھی نہیں گئی اور وہ مسلسل اپنے دشمنوں کے سینوں کی طرف پیش قدمی کرتے رہے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں اُن پر فتح عطا فرمائی اور مرتدین پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ مسلمانوں نے اُن کو مارتے ہوئے اُن کا پیچھا کیااور اُن کی گردنوں پر جہاں چاہی تلوار ماری حتیٰ کہ مجبور کر کے موت کے باغیچے میں لے گئے۔


مرتدین”محکم الیمامہ میں


   اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور مرتدین فرار ہونے لگے۔مسیلمہ کذاب کے سپہ سالار محکم بن طفیل نے جب مرتدین کا بھاگتے دیکھا تو بلند آواز سے پکارا ۔”محکم الیمامہ“یعنی محکم(میرے)باغیچے میں داخل ہو جاو¿۔وہ مسلسل آواز لگا لگا کر مرتدین کو اپنے باغ میں بلا رہا تھا۔ادھر حضرت عبد الرحمن بن ابی ابکر صدیق رضی اﷲ عنہ اُس کی تاک میں تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس کو نشانہ لیکر ایسا تیر مارا کہ وہ بد بخت وہیں مر گیااور مرتدین نے باغ کا دروازہ بند کر دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور محکم الیمامہ،یعنی محکم بن طفیل نے انہیں باغیچے میں جانے کا مشورہ دیاتھااور اﷲ کا دشمن مسیلمہ کذاب پہلے ہی اس باغ میں چلا گیا تھا۔ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُسے تاک کر اُس وقت تیر مارا جب وہ تقریر کر رہا تھااور اُسے قتل کر دیا۔ بنو حنیفہ نے باغ کا دروازہ بند کردیا اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔


مسیلمہ کذاب کا قتل


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے حکم سے مسلمانوں نے باغ کا محاصرہ کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل باغ کے اطراف گھوڑا دوڑا رہے تھے اور حملہ کرنے کے لئے جائزہ لے رہے تھے۔ادھر مسلمان دروازہ توڑنے کی کوشش کر رہے تھے اور اندر سے مرتدین دروازے کو روکے ہوئے تھے۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ کے بھائی حضرت براءبن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اُٹھا کر باغ کے اندر پھینک دو ، دروازہ کھولنے کی ذمہ داری میری ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:حضرت براءبن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:اے گروہِ مسلمین!مجھے باغ کے اندر پہنچا دو۔“پس انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کو لاٹھیوں اور نیزوں پر بلند کر کے باغ کی دیوار کے اوپر پہنچا دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ دروازے کے آگے مسلسل مرتدین سے جنگ کرتے رہے حتیٰ کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے دروازہ کھول دیااور مسلمان باغ کے اندر داخل ہو کر مرتدین کو قتل کرنے لگے اور قتل کرتے کرتے مسیلمہ کذاب تک پہنچ گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ وہ دیوار کے ایک شگاف میں کھڑا ہے گویا کہ وہ خاکستری رنگ کا اونٹ ہے۔وہ اُس دیوار پر چڑھنا چاہتا تھااور غصے کی وجہ سے بے عقل ہو چکا تھا۔حضرت وحشی بن حرب نے دور سے ہی اُس کا نشانہ لیکر نیزہ اُس کی طرف پھینکاجو سیدھا اُسے جاکر لگا اور اُس کے پار ہو کر دوسری طرف نکل گیا۔عین اُسی وقت حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ اُس کے پاس پہنچے اور اُس کا سر کاٹ کر اُس کے قتل کا اعلان کیا۔(حضرت وحشی فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کی طرف جب میں نیزہ پھینکا تو مجھے یک گونہ اطمینان ہو ا کہ اِس بد بخت کو قتل کر کے میں حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی کچھ تلافی کر سکوں گالیکن یہ دیکھ کر میں بہت بری طرح گھبرا گیا کہ اسی وقت حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اﷲ عنہ بھی اُس بد بخت کے قریب پہنچ گئے۔ابھی نیزہ ہوا میں ہی تھااور میں نے سوچا کہ کہیں پھر مجھ سے ایک اور جلیل القدر صحابی رضی اﷲ عنہ کی شہادت نہ ہو جائے لیکن اﷲ کا شکر ہے کہ اُن کے پہنچنے سے کچھ لمحہ پہلے نیزہ مسیلمہ کذاب کو جا کرلگا۔)اور ایک عورت نے پکار کر کہا۔ہائے حسینوں کے امیر کو ایک سیاہ فام غلام نے قتل کر دیاہے۔جنگ اور باغ میں قتل ہونے والے مرتدین کی تعدادتقریباًدس ہزار تھی،بعض کا قول ہے کہ اکیس ہزار تھی اور مسلمانوں میں سے چھ سو شہید ہوئے،بعض کا قول ہے کہ پانچ سو شہید ہوئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فتح حاصل ہونے کے بعد قریب کی ایک وادی ”دبر“میں اپنے لشکر کے ساتھ قیام فرمایا۔


جنگ یمامہ میں مہاجرین شہداء


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی سپہ سالاری میں یمامہ میں مسیلمہ کذاب اور اُس کے متبعین سے جو جنگ ہوئی ۔اُس میں اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی لیکن اِس جنگ میں بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہو گئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جنگ یمامہ میں مجموعی طور سے ساڑھے چار سوحاملین قرآن اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم شہید ہوئے تھے۔اِن میں سے چند مہاجرین صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے نام یہ ہیں۔(1)حضرت مالک بن عمرو رضی اﷲ عنہ،بنو غنم کے حلیف بدری صحابی ہیں۔(3)حضرت یزید بن اقیش بن رباب اسدی رضی اﷲ عنہ ،بدری صحابی ہیں۔(3)حضرت حکم بن سعید بن عاص بن اُمیہ اُموی رضی اﷲ عنہ ۔(4)حضرت حسن بن مالک بن بحیفہ رضی اﷲ عنہ ،حضرت مالک بن ازدی کے بھائی،بنو مطلب بن عبد مناف کے حلیف۔(5)حضرت عامر بن بکر لیثی رضی اﷲ عنہ ،بنو عدی کے حلیف،بدری صحابی ہیں۔(6)حضر ت مالک بن ربیعہ رضی اﷲ عنہ،بنو عبد شمس کے حلیف ہیں۔(7)حضرت ابو اُمیہ صفوان بن اُمیہ بن عمرو رضی اﷲ عنہ ۔(7)حضرت یزید بن اوس رضی اﷲ عنہ ،بنو عبد الدار کے حلیف۔(9)حضرت حسبی معلی بن حارثہ ثقفی رضی اﷲ عنہ ،طائف کے قبیلہ بنو ثقیف کے ہیں۔(10)حضرت حبیب بن اُسید بن حارثہ ثقفی رضی اﷲ عنہ،طائف کے بنو ثقیف سے ۔(11)حضرت ولید بن عبد شمس مخزومی رضی اﷲ عنہ۔(12)حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن بجرہ عدوی رضی اﷲ عنہ۔(13)حضرت ابو قیس بن حارث بن قیس سہمی رضی اﷲ عنہ ،مہاجرین حبشہ میں سے ہیں۔(14)حضرت عبد اﷲ بن حارث بن قیس رضی اﷲ عنہ۔(15)حضرت عبد اﷲ بن مخرمہ بن عبد العزیٰ بن ابی قیس بن عبدود بن نصر عامری رضی اﷲ عنہ ،اولین مہاجرین میں سے ہیں۔بدری صحابی ہیں ،اور بعد کی سب جنگوں میںشریک ہوئے۔(16)حضرت عمرو بن اویس بن سعد بن ابی سرح عامری رضی اﷲ عنہ ۔(17)حضرت سُلیط بن عمرو عامری رضی اﷲ عنہ ۔(18)حضرت ربیعہ بن ابی خرشہ عامری رضی اﷲ عنہ ۔(19)حضرت عبد اﷲ بن حارث بن رحضہ عامری رضی اﷲ عنہ ۔


جنگ یمامہ میں شہدائے انصار


   جنگ یمامہ میں مدینہ منورہ کے انصار بھی اچھی خاصی تعداد میں شہید ہوئے۔اِن میں سے چند نام پیش خدمت ہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے انصار میں سے کچھ کے نام یہ ہیں۔(1)حضرت عمارہ بن خرم بن زید بن لوذان بخاری رضی اﷲ عنہ ،یہ حضرت عمرو بن خرم رضی ا ﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔فتح کے روز اُن کی قوم کا جھنڈا آپ رضی اﷲ عن کے ہاتھ میں تھا۔بدری صحابی ہیں۔(2)حضرت عقبہ بن عامر بن نابی بن زید بن حرام سلمی رضی اﷲ عنہ ،آپ رضی اﷲ عنہ بیعت عقبہ اولیٰ میں شامل تھے۔بدری صحابی ہیں۔(3)حضرت ثابت بن ہزارل رضی اﷲ عنہ ،بنو سالم بن عوف کے ہیں،بدری صحابی ہیں۔جنگ یمامہ کے دن ایک تیر آ کر آپ رضی اﷲ عنہ کو لگا ،جسے آپ رضی اﷲ عنہ نے کھنچ کر نکال دیا ۔پھر کمر کس لی،اور جنگ کرنے لگے،یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو بہت زخم لگے۔(4)حضرت عبد اﷲ بن عتیک رضی اﷲ عنہ۔(5)حضرت رافع بن سہل رضی اﷲ عنہ۔(6)حضرت حاجب بن یزید اشہلی رضی اﷲ عنہ ۔(7)حضرت سہل بن عدی رضی اﷲ عنہ ۔(8)حضرت مالک بن اوس رضی اﷲ عنہ۔(9)حضرت عمرو بن اوس رضی اﷲ عنہ۔(10)حضرت طلحہ بن عتبہ رضی اﷲ عنہ۔(11)حارث کے غلام حضرت رباح رضی اﷲ عنہ۔(12)حضرت جزءبن مالک بن عامر رضی اﷲ عنہ۔(13)حضرت ورقہ بن ایاس بن عمرو خزرجی رضی اﷲ عنہ،بدری صحابی ہیں۔(14)حضرت مروان بن عباس رضی اﷲ عنہ۔(15) حضرت عامر بن ثابت رضی اﷲ عنہ ۔(16)حضرت بشر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ۔(17)حضرت کلیب بن تمیم رضی اﷲ عنہ۔(18)حضرت عبد اﷲ بن عتبان رضی اﷲ عنہ۔(19)حضرت ایاس بن ودیعہ رضی اﷲ عنہ (20)حضرت اُسید بن یربوع رضی اﷲ عنہ۔(21)حضرت سعد بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ۔(22) حضرت سہل بن حمان رضی اﷲ عنہ۔(23)حضرت محاسن بن حمیر رضی اﷲ عنہ (24)حضرت سلمہ بن مسعود رضی اﷲ عنہ۔اور بعض کا قول ہے کہ یہ بھی شہید ہوئے۔(25)حضرت مسعود بن سنان رضی اﷲ عنہ۔(26)حضرت ضمرہ بن عیاض رضی اﷲ عنہ۔(27)حضرت عبد اﷲ بن اُنیس رضی اﷲ عنہ۔(28)حضرت ابو جتہ بن غزیہ مازنی رضی اﷲ عنہ ۔(29)حضرت خباب بن زید رضی اﷲ عنہ۔(30)حضرت حبیب بن عمرو بن محصن رضی اﷲ عنہ ۔(31)حضرت ثابت بن خالد رضی اﷲ عنہ۔(32)حضرت فروةبن نعمان رضی اﷲ عنہ۔(33)حضرت عائذ بن ماعص رضی اﷲ عنہ۔(34)حضرت یزید بن ثابت بن ضحاک رضی اﷲ عنہ،حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے بھائی ہیں۔جنگ یمامہ میں ایک روایت کے مطابق مہاجرین اور انصار کے شہدا کی تعدا د 85 ہے۔بقیہ ساڑھے چار سو اِن کے علاوہ ہیں۔اور مرتدین چالیس ہزار (40,000) سے زیادہ قتل ہوئے۔اصل تعداد کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

08 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


08 خلافت ِ راشدہ_ 08 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 8


قرآن پاک کے بارے میں حضرت عُمر فاروق ؓکی تشویش، حضرت ابو بکر صدیق کا شرح صدر، حضرت زید بن ثابت پر عظیم ذمہ داری، حضرت زید بن ثابت کا شرح صدر، قرآن پاک کا ایک مصحف میں جمع کرنا، بحرین میں ارتداد، حضرت جارود بن معلی کا قبول اسلام اور ثابت قدمی، بحرین میں اسلامی لشکر، دریا میں گھوڑے دوڑادیئے، بحرین سے ارتدا دکا خاتمہ


قرآن پاک کے بارے میں حضرت عُمر فاروق ؓکی تشویش


   حضرت خالد بن ولید کی سپہ سالاری میں جس لشکر نے یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے لشکر سے جنگ کی تھی اُس میں لگ بھگ پانچ سو یا چھ سو مسلمان شہید ہوئے تھے۔ان میں سے بہت سے مکمل قرآنِ پاک کے حافظ تھے۔اِن حافظوں کی شہادت کی وجہ سے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو تشویش ہوئی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا کہ جس طرح یمامہ کی جنگ میں قرآن پاک کے حافظین شہید ہوئے ہیں۔اگر اسی طرح حفاظ ِ کرام شہید ہو تے رہیں گے تو قرآن پاک کہیں ناپید نہ ہو جائے۔اسی لئے میری درخواست ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کردیں تاکہ آنے والے زمانوں کے مسلمانوں کو قرآن پاک محفوظ شکل میں مل سکے اور قرآن ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے۔


حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا شرح صدر


   حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ جب خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ سے قرآن پاک جمع کرنے کی رائے دی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ جس کام کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے اُس کام کو میں کیسے کر سکتا ہوں؟لیکن حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مسلسل اصرار کرتے رہے ،اصرار کرتے رہے ۔یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا سینہ اﷲ تعالیٰ نے کھول دیا اور آپ رضی اﷲ عنہ کو ”شرح صدر“ ہو گیا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بھی قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کرنے پر راضی ہو گئے۔اب دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مل کر اِس بات پر غور و فکر کرنے لگے کہ کِس صحابی رضی اﷲ عنہ کو یہ اہم ذمہ داری سونپی جائے؟بڑے غور و فکر کے بعد یہ طے ہوا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے ذمہ یہ اہم کام سونپا جائے کیونکہ وہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ”کاتب ِ وحی“رہ چکے ہیںاور سب سے زیادہ قرآن ِ پاک انہوں نے لکھا ہے۔اس کے علاوہ وہ جوان ہیں اور اُن کی یادداشت سب سے تیز بھی ہے اور خوش خطی سے قرآن پاک لکھ بھی سکتے ہیں۔اسی لئے خلیفہ اول نے یہ اہم ذمہ داری انہیں سونپی۔


حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ پر عظیم ذمہ داری


   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ”کاتب ِ وحی“حضرت زیدبن ثابت رضی اﷲ عنہ کو قرآن پاک ایک مصحف میں جمع کرنے کی ذمہ داری دی۔صحیح بخاری میں حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب سے جنگ کے کچھ دنوں بعد ایک دن خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجھے یاد فرمایا۔جس وقت میں وہاں پہنچا تو حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ پہلے سے تشریف فرما تھے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے فرمایا:”حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مجھ سے کہتے ہیں کہ جنگ یمامہ میں بہت سے مسلمان شہید ہو گئے ہیںاور مجھے خوف ہے کہ اگر اسی طرح مسلمان شہید ہوتے رہے تو حافظوں کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی نہ آٹھ جائے۔(کیونکہ وہ ابھی تک لوگوں کے سینوں میں ہی محفوظ ہے)لہٰذا میں سمجھتا ہو کہ قرآن پاک کو ایک مصحف میں جمع کر لیا جائے۔میں نے اِن سے (حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے )کہا تھا کہ بھلا میں اُس کام کو کیوں کر سکتا ہوںجسے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔تو اِس پر انہوں نے یہ جواب دیا کہ اﷲ کی قسم یہ نیک کام ہے اور اِس میں کوئی حرج نہیں ہے۔اُس وقت سے اب تک اِن کا صرار جاری ہے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا سینہ کھول دیا اور اِس معاملے میں مجھے شرح صدر ہوا ۔ میں سمجھ گیا کہ اس کی بڑی اہمیت ہے۔“حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ تمام باتیں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ خاموشی سے سن رہے تھے۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا :”اے زید رضی اﷲ عنہ!تم جوان اور دانشمند آدمی ہواور تم کسی بات میںاب تک متہم بھی نہیں ہوئے ہو۔(یعنی تم ثقہ ہو)اس کے علاوہ تم ”کاتبِ وحی “(رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے کاتب)بھی رہ چکے ہو لہٰذا تم تلاش و جستجو سے قرآن پاک کو ایک جگہ جمع کردو۔“


حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کا شرح صدر


   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی بات سن کر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ بری طر ح گھبرا گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیںکہ یہ بہت ہی عظیم کام تھااور مجھ پر بہت ہی شاق تھا۔اگر خلیفة الرسول رضی اﷲ عنہ مجھ کو پہاڑ اُٹھانے کا حکم دیتے تو میں اُس کو بھی اِس کام کے مقابلے میں ہلکا سمجھتا ۔لہٰذا میں نے عرض کیا کہ آپ دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم وہ کام کس طر ح کر سکتے ہیں جو کام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نہیں کیا ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے میرا یہ جواب سُن کر فرمایا کہ اِس میں کچھ حرج نہیں ہے۔مگر مجھے پھر بھی تامل رہا(کہ میں خود کو ایک عظیم کام کے انجام دینے کا اہل نہیں سمجھتا تھا) اور میں نے اِس پراصرار کیا۔یہاں تک کہ اﷲ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیااور مجھے” شرح صدر“ فرمایا۔اور اِس امر عظیم(عظیم کام) کی اہمیت مجھ پر بھی واضح ہو گئی۔


قرآن پاک کا ایک مصحف میں جمع کرنا


   حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کی سمجھ میں بھی یہ بات آگئی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آنے والی اُمت کے لئے قرآن پاک جمع کرنا کتنا اہم ہے۔اس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں۔پھر میں نے تفتیش اور تلاش کا کام شروع کیااور کاغذ کے پُرزوں اونٹ اور بکریوں کے شانوں کی ہڈیوں اور درختوں اور پتوں کو جن پر قرآن پاک کی آیات تحریر تھیں۔انہیں جمع کیا اور پھر لوگوں کے حفظ کی مدد سے قرآن پاک کو جمع کیا۔سورہ توبہ کی دو آیتیں لقد جاءکم....سے دونوں آیات کے آخر تک۔مجھے حضرت خذیمہ بن ثابت رضی اﷲ عنہ کے سوا کہیں اور سے نہیں مل سکیں۔اِس طرح میں نے قرآن پاک جمع کر کے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کردیاجو اُن کی وفات تک اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی ا ﷲ عنہا کے پاس رہا۔پھر حضرت عُمر فاروق رضی ا ﷲ کے دور خلافت میں اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اﷲ عنہا کے پاس رہا۔پھر حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں انہوں نے اس کی تین نقول تیار کر کے بڑے صوبوں میں بھیجااور اس کی نقل کر کے عالم اسلام میں پھیلانے کا حکم دیا۔ہمارے پاس جو قرآن پاک ہے وہ اسی کی نقل ہے۔اﷲ تعالیٰ تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو اجر عظیم عطا فرمائے اورجنت میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پڑوس عطا فرمائے،آمین۔


بحرین میں ارتداد


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جب بادشاہوں کوخطوط لکھے تھے اوراپنے قاصدوں کے ذریعے انہیں اسلام کی دعوت دی تھی ۔تب آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو خط دیکر بحرین روانہ فرمایا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے بحرین پہنچ کر وہاں کے بادشاہ منذر بن ساویٰ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خط دیا اور اسلام کی دعوت دی۔حضرت منذر بن ساویٰ نے اسلام قبول کیا اور بحرین کے تمام قبائل نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔یہ اتفاق کی بات ہے کہ جس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اُس وقت حضرت منذر بن ساویٰ کی طبیعت خراب تھی۔کچھ ہی دنوں بعد اُن کا انتقال ہو گیاجب تک وہ زندہ تھے تو اہل بحرین اسلام پر رہے لیکن اُن کے انتقال کے بعد بحرین میں بھی ارتداد پھیل گیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیرلکھتے ہیں:رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو بحرین کے بادشاہ حضرت منذر بن ساویٰ عبدی کے پاس بھیجا اور انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیااور ملک میں اسلام و عدل و انصاف کو قائم کیا۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہوا ،تو تھوڑے عرصے بعد حضرت منذر بن ساویٰ کا بھی انتقال ہو گیا۔اُن کے انتقال کے بعد بحرین کے باشندے مُرتد ہو گئے اور انہوں نے الغرور کو اپنا بادشاہ بنالیا۔اِس کا نام منذر بن نعمان بن منذر تھا۔بحرین میں صرف ایک بستی جس کا نام ”جواثا یا جوانا“تھا صرف وہیں کے لوگ اسلام پر قائم رہے۔


حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ کا قبول اسلام


   حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ ”جواثا یا جوانا“بستی میں رہتے تھے،آپ رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ حق کی تلاش میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے جارود !اسلام قبول کر لو۔“انہو ں نے عرض کیا:”میں خود اپنا دین رکھتا ہوں۔“آپ صلی ا ﷲعلیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارا دین کوئی حیثیت نہیں رکھتا ہے وہ مہمل ہے۔“حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اگر میں اسلام قبول کر لوں،تو جو خرابی بعد میں اسلام میں ہو گی اُس کی ذمہ داری آپ صلی اﷲ علیہ وسلم پر۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا:”ٹھیک ہے۔“(کیونکہ اسلا م میں کوئی خرابی ہے ہی نہیں اور نہ ہوگی)۔ حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور مدینہ منورہ میں ہی رہ کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کرتے رہے۔جب مسائل ِ دین سے اچھی طرح واقف ہو گئے تو انہوں نے گھر جانے کا ارادہ کیااور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے عرض کیاکہ سفر کے لئے اگر کوئی سواری ہو تو عنایت کیجیئے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تو کوئی سواری نہیں ہے،ہاں اگر تم کچھ دن اور رک جاو¿ تو ہو سکتا ہے کہ انتظام ہو جائے۔حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ اگر راستے میں کوئی بھٹکا ہوا جانور مل جائے تو میں اُسے لے لوں؟آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہر گز نہیں کرنا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ اپنی قوم کے پاس آئے اور انہیں اسلام کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کیا اور اُن کی پوری قوم مسلمان ہو گئی۔


حضرت جارود بن معلی رضی ا ﷲ عنہ کی ثابت قدمی


   حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ کی قوم کو اسلام قبول کئے ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیااور ملک عرب میں پھیلی ارتداد کی ہوا اُن کی قوم تک پہنچ گئی لیکن آپ رضی ا ﷲ عنہ نے بڑی حکمت سے اپنی قوم کو سمجھایااور اسلام پر قائم رکھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔تھورا ہی عرصہ گذرا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔اُن کے قبیلے عبد القیس نے کہا کہ اگر محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) نبی ہوتے تو کبھی اُن کا وصال نہ ہوتااور سب مُرتد ہو گئے۔حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ نے سب کو جمع کیا اور کھڑے ہو کر فرمایا:”اے گروہ ِ عبد القیس!میں تم سے ایک بات پو چھنا چاہتا ہوں،اگر تم اسے جانتے ہو تو بتانااور اگر نہیں جانتے ہو تو نہ بتانا۔“انہوں نے کہا :”ٹھیک ہے ،جو چاہو پوچھو۔“آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”کیا تم جانتے ہو کہ گذشتہ زمانے میں اﷲ کے انبیائے کرام علیہم السلام دنیا میں آچکے ہیں؟“انہوں نے جواب دیا :”ہاں! ہم جانتے ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم انہیں جانتے ہو یا انہیں دیکھا بھی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا:”نہیں،ہم نے ا ُن کو دیکھا تو نہیں ہے،لیکن ہم اُن کو جانتے ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”پھر کیا ہوا؟“انہوں نے جواب دیا:”پھر اُن سب کا وصال ہو گیا۔“حضرت جارود بن معلی رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”جس طرح گذشتہ انبیائے کرام علیہم السلام کا وصال ہوا ،اُسی طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا بھی وصال ہوا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اوربے شک محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اوررسول ہیں۔“ جب اُن کی قوم نے یہ سنا تو کہا کہ ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور بے شک محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اﷲ کے بندے اور رسول ہیںاور ہم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنا بر گزیدہ اور اپنا سردار تسلیم کر لیا۔اس کے بعد مُرتدین نے انہیں تکلیف دینا شروع کر دی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور یہ پہلی بستی تھی جس نے ارتداد کے زمانے میں نماز ِ جمعہ کو قائم کیا۔جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ مُرتدین نے اُن کا محاصرہ کر لیااور انہیں تنگ کرنے لگے اور اُن کا غلہ روک لیا۔ وہ سخت بھوکے ہو گئے اور اُن کے ایک شخص عبد اﷲ بن حذف نے جو بکر بن کلاب کا آدمی تھابھوک کی شدت سے تنگ آکر کہا۔”ارے کوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اور مدینہ منورہ کے جوانوں کو پیغام پہنچا دے کہ کیا تمہارے پاس اِن معزز لوگوں کے لئے کچھ ہے؟جو ”جواثا یا جوانا“میں محصور ہیںاور ہر راستے میں اُن کے خون سورج کی شعاع کی طرح دیکھنے والوں کو ڈھانکے ہوئے ہیں۔ہم نے تو اﷲ رحمن پر توکل کیا ہوا ہے اور ہم نے توکل کرنے والوں کے لئے صبر پایا ہے۔“بعد میں حضرت علا ءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے آکر بحرین میںارتداد کا خاتمہ کیا اور تب انہیں نجات ملی۔


بحرین میں اسلامی لشکر


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے،اُن میں سے تین کا ذکر ہو چکا ہے۔اب ہم چوتھے لشکر کا ذکر کرتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو لشکر دے کا بحرین کے مُرتدین کی سر کوبی کرنے کے لئے روانہ کیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ جب بلاد بنو تمیم سے گذر کر بحرین کے قریب پہنچے تو وہاں پر یمامہ سے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ اپنے ساتھیوں کو لیکر آئے اور آپ رضی ا ﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ابھی تک وہ مسیلمہ کذاب سے اپنی حد تک مسلسل لڑ رہے تھے۔جب انہوںنے حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ کے لشکر کے آنے کی خبر سنی تو یمامہ کی طرف سے اطمینان ہو گیا اورآپ رضی اﷲ عنہ اِدھر آگئے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے بحرین کی طرف حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کو بھیجا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ جب بحرین کے قریب پہنچے تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ اُن سے آکر مل گئے اور اُن کے نواح کے سب امراءبھی آکر حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کے لشکر میں شامل ہو گئے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور اُن کے ساتھ حُسن سلوک کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ ”مستجاب الدعوات“تھے،اِس سفر میں ایسا اتفاق ہوا کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک جگہ پڑاو¿ ڈالنے کا حکم دیااور سب لوگ اُتر پڑے ۔ ابھی سامان وغیرہ اُتارنے بھی نہیں پائے تھے کہ ایسا طوفان آیا کہ تمام اونٹ سامان سمیت بھاگ گئے۔رات انہوں نے بہت ہی تکلیف میں گذاری اور بہت غم زدہ ہو گئے اور ایک دوسرے کو وصیت کرنے لگے۔ (صحراءمیں سواری اور پانی نہ ہونے سے انسان کی موت ہو جاتی ہے) حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے سب لوگوں سے فرمایا:”اے لوگو!کیا تم مسلمان نہیں ہو؟کیا تم نے ا ﷲ کی راہ میں جہاد نہیں کیا؟کیا تم انصار اﷲ نہیں ہو؟“انہوں نے جواب دیا :”بے شک ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”خوش ہو جاو¿ ،اﷲ کی قسم!جس شخص کی بھی حالت تمہارے جیسی ہواﷲ تعالیٰ ا س کو بے یار و مدد گار نہیں چھوڑتا ہے۔“اس کے بعد فجر کی اذان دی گئی اور آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کو نماز پڑھائی ،دونوں ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنے لگے،اور دعا مانگتے مانگتے سورج نکل آیا۔پھر اﷲ تعالیٰ نے اُن کے لئے صحراءمیں خالص پانی کا ایک تالاب بنا دیا۔سب لوگوں نے اِس تالاب سے پانی پیااور غسل کیا،پانی


کی بو پاکر تمام اونٹ سامان سمیت پانی پینے کے لئے واپس آگئے اور انہوں نے اونٹوں کو بھی پانی پلایا۔


بحرین کے مرتدین سے جنگ


   اس کے بعد حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کی مدد کی اور اپنے ساتھ لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔پھر حضرت علا ءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے حضرت جارود بن معلی رضی اﷲ عنہ اور ایک دوسرے صاحب کو یہ حکم دے کر بھیجا کہ تم دونوں عبد القیس کو لیکر حطم کے مقابلے کے لئے جو اُس کے علاقے سے ملا ہوا ہے،وہاں پڑاو¿ ڈالواور خود حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ حطم کے مقابلے پر اُس علاقے میں آئے جو ”مقام ِ ہجر “سے ملا ہوا ہے۔اہل دارین کے علاوہ تمام مرتدین حطم کے پاس جمع ہو گئے ۔اسی طرح تمام مسلمان بھی حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کے لشکر سے آکر مل گئے۔دونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے اور دونوں لشکروں نے اپنے اپنے آگے خندق کھود لی۔اب وہ روزآنہ اپنی اپنی خندقوں سے برآمد ہو کر لڑتے تھے اور پھر اپنی اپنی خندقوں میں واپس چلے جاتے تھے۔ایک مہینے تک ایسے ہی جنگ ہوتی رہی،اس کے بعد ایک رات ایسا ہوا کہ مرتدین کے لشکر سے شور و غل کی آواز سنائی دی ۔حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے اپنے جاسوس کو رپورٹ لانے کے لئے بھیجا۔اُس نے آکر بتایا کہ مرتدین شراب پی رہے ہیں اور مستی کر رہے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کوتیار رہنے کا حکم دیااور فجر کے وقت آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دشمنوں پر ٹوٹ پڑو۔مسلمانوں نے اچانک حملہ کر دیا،مرتدین نشے میں دھت تھے۔اِن میں سے بہت کم بھاگ سکے ،اور اکثریت قتل ہوئی،بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا۔


دریا میں گھوڑے دوڑادیئے


   حضرت علاءبن حضرمی کی حکمت عملی کامیاب رہی اور اکثر مرتدین کا خاتمہ ہوالیکن وہ لشکر اتنا بڑا تھا کہ اچھے خاصے لوگ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اور کشتی میں بیٹھ کر فرار ہونے لگے۔ علامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: آپ رضی اﷲ عنہ اُن کو(لشکر کو)لیکر ساحل ِسمندر پر آگئے تاکہ وہ کشتیوں میں سوار ہوںلیکن جب آپ رضی اﷲ عنہ نے دیکھا کہ دور کی مسافت ہے اور کشتیوں پر سوار ہونے تک مرتدین بھاگ جائیں گے تو آپ رضی اﷲ عنہ اپنے گھوڑے سمیت سمندر میں اُتر گئے۔ آپ رضی اﷲ عنہ فرما رہے تھے:”یا ارحم الراحمین،یا حکیم،یا کریم،یا احد،یا صمد،یا حی،یا قیوم،یا ذوالجلال والاکرام،لا الہ الا انت ربنا“اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ کلمات پڑھیں اور سمندر میں گھس جائیں۔پورے لشکر نے بھی ایسا ہی کیااور آپ رضی اﷲ عنہ انہیں اﷲ کے حکم سے کھاڑی سے پار لے گئے اور وہ نرم نرم ریت پر چلتے تھے جس کے اوپر پانی تھاجو اونٹوں کے پاو¿ںاور گھوڑوں کے گھٹنوں تک بھی نہیں پہنچتا تھا۔اور کشتیوں کے لئے یہ سفر ایک دن اور ایک رات کا تھا،پس آپ رضی اﷲ عنہ نے دوسرے کنارے تک اسے طے کیااور دشمنوں سے جنگ کر کے اُن کو مغلوب کر لیااور مال ِ غنیمت سمیٹ کر پانی میں چلتے ہوئے پہلی جگہ پرواپس آ گئے اور یہ سب کچھ ایک دن میں ہوااور آپ رضی اﷲ عنہ نے دشمن کا ایک خنجر بھی نہیں چھوڑااور بچوں، چوپایوںاور اموال کو لیکر آئے اور مسلمانوں کی بھی سمندر میں کوئی چیز بھی ضائع نہیں ہوئی ہاں ایک مسلمان کے گھوڑے کا توبرہ گم ہو گیا تھاتو حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ واپس جا کر اُسے بھی لے آئے۔


بحرین سے ارتدا دکا خاتمہ


   حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے دارین پر حملہ کرنے سے پہلے یہ اطمینان کر لیا کہ تمام بحرین سے ارتداد کا خاتمہ ہو گیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ حطم میں ہی مقیم رہے اور ہر طرف اپنے قاصدوں کو بھیجا۔تمام قبائل نے اسلام دوبارہ قبول کر لیااور جو لوگ مرتد تھے وہ سب دارین میں جمع ہو نے لگے۔یہاں تک کہ پورے بحرین میں ایک بھی مرتد نہیں رہ گیااور تمام مرتدین سمندر پار بھاگ کر دارین میں جمع ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت علا ءبن حضرمی رضی اﷲعنہ بدستور مرتین کی فروگاہ(حطم) میں مقیم رہے اور بنو بکر بن وائل کو اسلام کی دعوت دی اور جب قاصد اُن کا جواب لیکر آیا کہ سب نے اسلام قبول کر لیا ہے اور لشکر کی امداد کے لئے سپاہی بھی بھیجے ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اطمینا ن ہو گیا کہ اب بحرین میں ایسی کوئی بات نہیں رونما ہو گی جس کا برا اثر پڑے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلامی لشکر کو جمع کر کے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ نے شیاطین کے گروہوں اور جنگ سے شکست کھائے ہوئے بھگوڑوں کو تمہارے ہاتھوں تباہ کرنے کے لئے اِس سمندر میں جمع کر دیا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے خشکی میں تم کو ایسی نشانیاں دِکھلا دی ہیں،جس سے تم سمندر میں اُس کی ذات پر بھروسہ کر سکو۔لہٰذا اپنے دشمن کی طرف آگے بڑھو اور سمندر پھاڑ کر اُن تک پہنچ جاو¿کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے اُن سب کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے اوریہ اُن کو تباہ کرنے کا بہترین موقع ہے۔“مسلمانوں نے کہا: ”ہم اِس کے لئے خوشی سے تیار ہیں۔“اس کے بعد حضرت علا بن حضرمی رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کو لیکر سمندر کے کنارے آئے اور سب کے سب گھوڑوں،اونٹوں،خچروں،پر سوار ہو کر اور پیدل سمندر میں گھس گئے۔اُس وقت حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ یہ دعا فرما رہے تھے اور تمام مسلمان اِس دعا کو دُہرا رہے تھے۔”اے ارحم الرحمین،اے کریم،اے احد ،اے صمد،اے حی ،اے محی الموتی ٰ،اے حی،اے قیوم،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اور تُو ہی ہمارا رب ہے۔“تمام مسلمانوں نے اﷲ کے حکم سے اِس خلیج کو بغیر کسی نقصان کے عبور کر لیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایسی نرم ریت پرچل رہے ہوں جس پر پانی چھڑکا گیاہو کیونکہ اُن کے اونٹوں کے پاو¿ ں تک نہیں ڈوبے۔ حالانکہ بعض موقعوں پر ساحل سے دارین تک کا سفر کشتیوں کے زریعے ایک دن اور ایک رات میں طے ہوتا تھا۔اب مسلمانوں اور مرتدین کے درمیان جنگ شروع ہوئی اور نہایت ہی خونریز معرکہ ہواجس میں تمام مرتدین اِس طرح مارے گئے کہ کوئی ان کی خبر دینے والا بھی نہیں بچا۔مسلمانوں نے اُن کے اہل و عیال کو غلام اور لونڈی بنا لیااور اُن کی املاک پر قبضہ کرلیااور اتنا مال غنیمت حاصل ہو کہ ہر مسلمان شہسوار کو چھ ہزار اور ہر پیدل مسلمان کو دو ہزار درہم ملے۔مسلمانوں کو ساحل سمندر سے اُن تک پہنچنے اور مقابلے میںپورا دن صرف ہو گیا۔پھر جس راستے سے وہ سب گئے تھے اُسی راستے سے واپس آئے اور اُسی طرح سمندر پار کیا۔اِس طرح پورے بحرین سے ارتداد کا خاتمہ ہو گیا۔حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکالا ،اور مدینہ منورہ بھیج دیا۔باقی مال غنیمت کو لشکر میں تقسیم کر دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

09 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


09 خلافت ِ راشدہ_ 09 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 9


ہجر کے راہب کا قبول اسلام، حضرت ثمامہ بن اثال کی شہادت، عمان میں اسلامی لشکر، عمان سے ارتداد کا خاتمہ، بلادِمہرہ (ساحل بحیرہ عرب )سے ارتداد کا خاتمہ، یمن سے ارتداد کا خاتمہ، بقیہ عالم عرب سے مرتدین کا صفایا، نجران کے عیساﺅں سے تجدید ِ معاہدہ، لشکر کے لئے بھرتی کا حکم، 


ہجر کے راہب کا قبول اسلام


   حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جب یہ واقعات پیش آنے والے اِن تمام واقعات کو وہاں ہجر میں مقیم ایک راحب نے دیکھا اور اسلام قبول کر لیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ہجر میں مسلمانوں کے ساتھ ایک راہب بھی تھاجس نے اُس دن اسلام قبول کرلیا۔لوگوں نے اُن سے پوچھا کہ آپ کے اسلام قبول کرنے کی وجہ کیا ہے؟اُنہوں نے کہا کہ تین چیزیںایسی ہیں جن کے واقع ہونے کے بعد میں ڈر گیا کہ اگر اب بھی اسلام قبول نہیں کروں گا توکہیں اﷲ تعالیٰ مجھے مسخ نہ کردے۔(۱) ریگستان میں چشمے کا جاری ہونا،(۲)سمندر کی پنہائی کا سمٹ جانا،(۳)اور وہ دعا جس کی گونج میں نے صبح کے وقت اُن کے پڑاو¿ سے آتی ہوئی فضا میں سنی۔لوگوں نے پوچھا کہ وہ دعا کیا تھی؟راہب نے کہا !وہ دعا یہ ہے۔”اے اﷲ !تُو رحیم ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔تُو ابتدا سے ہے،تجھ سے پہلے کوئی شے¿ نہیں تھی۔تُو ہروقت ہے،تجھ پر غفلت کبھی طاری نہیں ہوتی ،تُو ہی وہ زندہ ہے کہ جسے موت نہیں ہے،۔تُو ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے،چاہے وہ نظر آتی ہو یا نہیں نظر آتی ہو۔ہر روز تُو ایک نئی شان میں جلوہ افروز ہوتا ہے،تُو ہر چیز کو جانتا ہے،بغیر اس کے کہ تُو نے اس کو سیکھا ہو۔“اِس دعا سے مجھے معلوم ہوا کہ اگر یہ لوگ اﷲ کے حکم پر عمل پیرا نہیں ہوتے اور اُس کے دین پر نہ ہوتے تو فرشتے اُن کی امداد کے لئے نہیں بھیجے جاتے۔اُس زمانے کے بعد لوگ اِس واقعہ کو کو اِن ہجری راہب کی زبانی سنا کرتے تھے۔


حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کی شہادت


   حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ نے بھر پور کوشش سے بحرین میں مجموعی طور سے ارتداد کا خاتمہ کر دیا تھالیکن کچھ شر پسند عناصر چھپ کر تخریبی کاروائی کر رہے تھے،جن کی وجہ سے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیاحالانکہ بعد میں یہ شر پسند عناصر بھی ختم ہو گئے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت علاءبن حضرمی رضی اﷲ عنہ تمام لوگوں کو واپس لے آئے اور سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے وہیں پر قیام کرنے کو پسند کیا سب لوگ واپس آگئے۔ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ بھی واپس آگئے۔سب لوگ جب بنو قیس بن ثعلبہ کے چشمہ¿ آب پر مقیم تھے تو کچھ لوگوں کی نظر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ پر پڑی ۔انہوں نے حطم کا چوغہ اُن کے جسم پر دیکھاتو ایک شخص کو دریافت کے لئے بھیجا ۔ اُس سے کہا کہ جا کر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ سے دریافت کرو کہ یہ چوغہ تم کو کہاں سے ملا؟اور حطم کے متعلق دریافت کرو کہ کیا تم نے اُسے قتل کیا ہے،یا کسی اور نے ؟اُس شخص نے آکر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ سے چوغے کے بارے میں پوچھا۔انہوں نے فرمایا کہ یہ مجھے مال غنیمت میں ملا ہے۔اُس شخص نے کہا کہ کیا تم نے حطم کو قتل کیا ہے؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ نہیں،حالانکہ میری یہ تمنا تھی کہ میں اُس کو قتل کرتا۔اُس شخص نے کہا۔یہ چوغہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ اس کا جواب تمہیں میں پہلے بھی دے چکا ہوں ۔اُس شخص نے اپنے دوستوں سے آکر اس گفتگوکے بارے میں بتایا۔وہ سب کے سب آپ رضی ا ﷲ عنہ کے پاس آئے اور اُن کو گھیر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کیوں کیا ہے؟“اُن سب نے کہا کہ تم ہی حطم کے قاتل ہو۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے فرمایا:”تم جھوٹے ہومیں اُس کا قاتل نہیں ہوں....البتہ یہ چوغہ مجھے مال غنیمت میں بطور حصے کے ملا ہے۔“اُن لوگوں نے کہا کہ حصہ تو صرف قاتل ہی کو ملتا ہے۔حضرت ثمامہ بن اثال رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:یہ چوغہ اُس کے جسم پر نہیں تھابلکہ اُس کی قیام گاہ سے ہمیں حاصل ہوا ہے۔“اُن لوگوں نے کہا کہ تم جھوٹ بول رہے ہواور اُن پر حملہ کر دیا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن کا مقابلہ کیا ،لیکن وہ تعداد میں اتنے زیادہ تھے کہ آپ رضی اﷲ عنہ شہید ہو گئے۔


عمان میں اسلامی لشکر


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر بھیجے تھے،اُن میں سے چار لشکر کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔اب پانچویں اور چھٹے لشکر کا ذکر پیش ہے۔یہ دونوں لشکر عمان اور مہرہ(ساحل ،بحیرہ عرب) کی طرف روانہ ہوئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد یقط بن مالک اذدی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا تھااور عمان کی اکثریت مرتد ہو گئی۔حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم جو عمان اور مہرہ کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے انہیںپہاڑوں میں رو پوش ہونے پر مجبور کردیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اہل عمان میں ایک شخص نمودار ہوا جسے ذو التاج یقط بن مالک ازدی کہا جاتا تھااور زمانہ ¿ جاہلیت میں اس کا نام الحسبندی تھا۔اس نے بھی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیااور عمان کے جاہلوں نے اس کی اتباع کرلی اور وہ عمان پر غالب آ گیا۔اُس نے حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم کو پہاڑوں اور سمندر کے نواحی اطراف میں جانے پر مجبور کر دیا۔حضرت جیفر رضی اﷲ عنہ نے تمام حالات لکھ کر ایک قاصد کے ذریعے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی کے پاس بھیجا اور کمک مانگی۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے دو لشکر روانہ فرمائے۔ ایک لشکر کا سپہ سالار حضرت حذیفہ بن محصن غطفانی رضی اﷲ عنہ کو بنایااور دوسرے لشکر کا سپہ سالار حضرت عرفجة البارقی رضی اﷲ عنہ کو بنایا اور دونوں کو حکم دیا کہ اکٹھے رہیںاور عمان سے ابتدا کریں۔ حضرت حذیفہ رضی اﷲ عنہ عمان میں امیر ہوں گے اور حضرت عرفجة رضی ا ﷲ عنہ بلاد مہرہ میں امیر ہوں گے۔اس سے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عکرمہ بن ابو جہل رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ یمامہ کا محاذ چھوڑ کر اِن دونوں حضرات کے لشکر سے جاملیںاور عمان اور مہرہ سے ارتداد کے خاتمے کے بعد یمن اور حضر موت کی طرف اپنا لشکر لیکر چلے جائیں۔اسی حکم کے مطابق حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ ان دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم سے آملے۔


عمان سے ارتداد کا خاتمہ


   حضرت عکرمہ،حضرت حذیفہ،اور حضرت عرفجة رضی اﷲ عنہم لشکر لیکر جب عمان کے نزدیک پہنچے تو حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم کو خبر دی۔وہ دونوں حضرات اپنے اپنے لشکر لیکر ”مقام صحار “پر آگئے اور پڑاو¿ ڈال دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیںاور یقط بن مالک کو بھی اسلامی لشکر کی آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔پس وہ اپنی فوج لیکر نکلااور ”مقام دبا“پر پڑاو¿ ڈال دیا۔یہ مقام اس علاقے کا شہر اور بڑی منڈی تھا۔اُس نے عورتوں،بچوں اور اموال کو اپنے لشکر کے پیچھے رکھاتاکہ اُن کی جنگ کے لئے قوت کا باعث ہو۔ حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم مقام صحار پر اکٹھے ہو گئے اور وہیں پڑاو ڈال دیا۔پھر اسلامی لشکر سے آکر مل گئے۔اس کے بعد مسلمانوں اور مرتدین میں جنگ شروع ہوئی اور دونوں طرف سے شدید حملے ہو نے لگے۔جنگ اتنی شدید ہوئی کہ مسلمان آزمائش میں پڑ گئے اور قریب تھا کہ ہمت ہار دیں،کہ اُسی وقت اﷲ تعالیٰ کی مدد آئی ۔ اِس نازک گھڑی میں بنو ناجیہ اور بنو عبد القیس کے لشکر مسلمانوں کی مدد کے لئے پہنچ گئے۔ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور مرتدین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔مسلمانوں نے اُن کا پیچھا کیا اور ان میں سے دس ہزار بھگوڑوں کو قتل کر دیااور عورتوںاور بچوں کو قید کر لیااور اُن کے اموال پر قبضہ کر لیا۔مال غنیمت میں سے خمس نکال کر مدینہ منورہ روانہ کر دیااور باقی مال غنیمت لشکر میں بانٹ دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ ”مقد مة الجیش“پر تھے،اور میمنہ پر حضرت حذیفہ ،میسرہ پر حضرت عرفجة،اور قلب میں حضرت جیفر اور حضرت عباد رضی اﷲ عنہم اپنے اپنے لشکر کے ساتھ تھے۔ ادھر یقط اور اُس کا لشکر صف بہ صف کھڑے تھے اور اُن کے پیچھے عورتیں اور لڑکے تھے۔نماز فجر کے بعد جنگ شروع ہوئی ،دونوں فریقین نے جی توڑ کر لڑنا شروع کیا۔جنگ کا آغاز نہایت خطرناک نظر آ رہا تھا۔مسلمانوں کا لشکر نشیب میں تھا اور مرتدین کا لشکر بلندی پر تھا۔اس کے باوجود مسلمان جان ہتھیلی پر رکھ کر آگے بڑھتے رہے ۔یقط نے یہ رنگ دیکھ کر اپنی فوج کو للکارکر آگے بڑھایااور خود ایک ہاتھ میں پرچم اور دوسرے ہاتھ میں نیزہ لئے ہوئے گھوڑے کو مہمیز لگا کر آگے بڑھا۔مسلمان اِس اچانک اور مجموعی حملے سے گھبرا گئے اور قریب تھا کہ ہمت چھوڑ دیتے لیکن اُسی وقت بنو ناجیہ اور بنو عبد القیس اُن کی مدد کو آگئے،اسلامی لشکر کا حوصلہ اِس غیر متوقع امداد کی وجہ بڑھ گیا اور انہوں نے ایک ساتھ اﷲ اکبر کہہ کر حملہ کر دیا ۔مرتدین پیٹھ پھر کر بھاگے ،دس ہزار کے قریب مارے گئے۔قیدیوں کی تعداد کا اندازہ اِس بات سے لگتا ہے کہ مال غنیمت کا خمس(پانچواں حصہ)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجا گیا تو اُس میں آٹھ سو(۰۰۸)قیدی تھے۔جنگ ختم ہونے کے بعد حضرت حذیفہ تو اپنے لشکر کے ساتھ عمان میں ٹھہرے رہے اور حضرت عکرمہ باقی لشکر لیکر مہرہ روانہ ہو گئے۔اس طرح عمان سے بھی ارتداد کا خاتمہ ہو گیا۔


بلادِمہرہ (ساحل بحیرہ عرب )سے ارتداد کا خاتمہ


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے مطابق عمان میں پورے اسلامی لشکر کے سپہ سالار حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ رہے۔عمان میں فتح حاصل کرنے کے بعد اسلامی لشکر مہرہ کی طرف بڑھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں: جب عمان سے فارغ ہوئے تو حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی ا ﷲ عنہ لشکر کو لیکر بلاد ِمہرہ کی طرف بڑھے۔جب مہرہ میں داخل ہوئے تو مرتدین کو دو حصوں میں منقسم پایا۔ایک گروہ کا کمانڈر المصبح تھا جو بنو محارب کا تھااور دوسرے گروہ کا کمانڈر شخریت تھا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے ان دونوں کے اختلاف کا فائدہ اُٹھایااور شخریت کو اسلام کی دعوت دی تو اُس نے اپنے لشکر کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔اِس سے مسلمانوں کی طاقت بڑھ گئی اور المصبح اپنے آپ کو کمزور محسوس کرنے لگا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے اُسے بھی اسلام کی دعوت دی لیکن وہ شخریت کی دشمنی اور اپنے لشکر کی کثرت کی وجہ سے دھوکہ کھا گیااور اپنی سر کشی پر اصرار کرنے لگا۔حضرت عکرمہ رضی ا ﷲ عنہ لشکر لیکر آگے بڑھے اور مقام دبا کی جنگ سے بڑھ کر سخت جنگ ہوئی ۔گھمسان کا رن پڑا اور سخت جد وجہد کے بعد آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ مرتدین پیٹھ پھیر کر بھاگے اور المصبح اور اُسکے بے شمار ساتھی قتل ہوئے۔بے حساب مال غنیمت حاصل ہوا جن میں ایک ہزار عمدہ گھوڑیاں بھی تھیں۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینہ منورہ خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کیااور باقی مال غنیمت شخریت اور لشکر میں تقسیم کر دیا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں:اس جنگ سے مسلمانوں کو بہت مدد ملی۔اس کے بعد اطراف و جوانب کے کُل رہنے والے نجد،روضہ وساطی،جزایر،مرو لسان ،اہل جبرہ،ظہعر الشحر،فرات ،ذات الحمیم،اور فرہ کے تمام لوگ مسلمان ہو گئے۔اس طرح بلاد ِمہرہ سے بھی ارتداد کا خاتمہ ہوگیا۔حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ نے تمام واقعات حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو لکھ بھیجے اور خود اپنا لشکر لیکر اُن کی ہدایت کے مطابق یمن کی طرف روانہ ہو گئے۔


یمن سے ارتداد کا خاتمہ


   حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے جو گیارہ لشکر ذی القصہ سے روانہ کیا تھا ۔اُن میں سے ایک لشکر حضرت سُوید بن مقرن رضی اﷲ عنہ کو دے کر تہامہ یمن کی طرف روانہ کیا تھااور ایک اور لشکر حضرت مہاجر بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو دے کر یمن میں پہلے صنعاءاور پھر حضر موت کی طرف جانے کا حکم دیا تھا۔یمن کے اسود عنسی ،اور مرتدین کے بارے میں ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں۔اِن دونوں لشکروں کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پر موجود صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم لگاتار مرتدین سے مقابلہ کر رہے تھے۔ جب یہ دونوں لشکر وہاں پہنچے تو یمن سے لگ بھگ ارتداد خاتمے کے قریب تھااور پھر حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ بھی اپنا لشکر لیکر پہنچ گئے اور تینوں لشکروں نے چن چن کر یمن سے مرتدین کا صفایا کر دیا۔


بقیہ عالم عرب سے مرتدین کا صفایا


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر بھیجے تھے،اُن میں سے آٹھ لشکروں کا ہم ذکر کر چکے ہیں،بقیہ تین لشکر یہ ہیں۔حضرت طریف بن حاجز رضی اﷲ عنہ کو لشکر دے کر بنو سُلیم اور اُن کے حلیف بنو ہوازن کی طرف بھیجا۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دے کر بنو قضاعہ،بنو ودیعہ،اور بنوحارث کی طرف بھیجااور حضرت خالد بن سعید بن عاص رضی اﷲ عنہ کو ایک لشکر دیکر اطراف ملک شام بنو تیما کی طرف بھیجا۔ان تینوں لشکروں نے بھی مذکورہ علاقوں میں پہنچ کر آسانی سے ارتداد کا خاتمہ کر دیا۔اس طر ح تمام عالم ِ عرب سے ارتداد کا مکمل خاتمہ ہو گیا اور سب کے سب اسلام میں داخل ہو گئے۔تمام گیارہ لشکروں نے لگ بھگ چار مہینے میں پورے عالم عرب سے ۱۱ ھجری کا سال مکمل ہونے سے پہلے ہی مرتدین کا صفایا ہو گیااور عالم عرب میں مسلمانوں کے علاوہ صرف ذمی ہی رہ گئے تھے جو خلافت راشدہ کو اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے جزیہ ادا کرتے تھے۔


نجران کے عیساﺅں سے تجدید ِ معاہدہ


   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے نجران کے عیسائیوں نے معاہدہ کیا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب پورے ملک عرب میں ارتداد پھیلا تو اُس وقت نجران کے عیساﺅں کے پاس چالیس ہزار جنگجو تھے۔اِس کے باوجود جب انہیں اطلاع ملی کہ مسلمانوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو خلیفہ بنا لیا ہے تو انہوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں ایک وفد بھیجا اور معاہدے کی تجدید کی درخواست کی ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انہیں یہ فرمان لکھ کر دیا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ فرمان عبد اﷲ ابو بکر صدیق (رضی اﷲ عنہ ) خلیفہ ¿ رسول کی طرف سے اہل نجران کے لئے لکھا جاتا ہے۔میں نے اِن کو اپنی اور اپنی فوج کی طرف سے پناہ دی اور جو فرمان ِ معافی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اِن سے کیا تھامیں بھی اُسے تسلیم کرتا ہوںاور اس کی توثیق کرتا ہوں سوائے ان باتوں کے جن سے خود رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اﷲ کے حکم سے ان کے بارے میں رجوع کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ نہ صر ف ان کے علاقے میں بلکہ تمام عرب میں دو مذہب سکونت پذیر نہیں رہ سکتے ۔اس کے علاوہ ان کی جان ،مذہب ،املاک ،حاشیہ اور متعلقین چاہے وہ اِس وقت نجران میں ہوں یا باہر ہوں۔ان کے پادریوں ،راہب اور گرجا جہاںوہ بنے ہوئے ہیںاور تھوڑی یا زیادہ جس قدر ان کی املاک ہیں،ان سب کو ان کے حق میں رہنے دیا جاتا ہے۔بشرطیکہ جو سرکاری خراج مقرر ہے وہ ادا ہوتا رہے اور جب وہ اپنے واجبات پورے کریں تو نہ ان کو خارج البلد کیا جائے نہ ان سے عشر لیا جائے ۔نہ کسی پادری کو اس کے حلقے سے بدلا جائے اور نہ کسی راہب کو اُس کی خانقاہ سے نکالا جائے۔جو کچھ اِس تحریر میں لکھا گیا ہے اُس کے ایفا کے لئے محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ضمانت اور مسلمانوں کی نگہبانی کی ضمانت دی جاتی ہے۔اس کے ساتھ اہل نجران کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کے خیر خواہ اور وفادار رہیں۔“مشعر بن عمرو اور عمرو مولیٰ ابوبکر نے اِس تحریر پر اپنی گواہی کے دستخط کئے۔


لشکر کے لئے بھرتی کا حکم


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اﷲ کی مدد سے اور اپنی حکمت عملی سے پورے ملک عرب سے ارتداد کا خاتمہ کر دیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ اُس وقت کی دو سب سے بڑی سوپر پاور کی طرف متوجہ ہوئے لیکن اُن سے مقابلے کے لئے اور زیادہ لشکر کی ضرورت تھی۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے پورے ملک عرب پر اپنے مقرر کئے گورنروں کو حکم دیا کہ لشکر کے لئے مجاہدین کی بھرتی کریں۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ تم اہل طائف میں سے لشکر کے لئے مجاہدین کی بھرتی کرو۔ہر محلے سے اُن کی استطاعت کے مطابق مجاہدین لئے جائیں اور ان پر اپنے ایک خاص معتمد شخص کو کمانڈر مقرر کرو۔حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نے ہر محلے میں سے بیس بیس مجاہدین کی بھرتی کی اور اُن کے اوپر اپنے بھائی کو کمانڈر مقرر کر دیا۔اسی طر ح حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اہل مکہ مکرمہ اور اپنے ماتحت علاقوں سے پانچ سو مجاہدین کی بھرتی کر کے اُن پر اپنے کسی خاص معتمد کو کمانڈر مقرر کر دو۔حضرت عتاب بن اُسید رضی اﷲ عنہ نے حکم کی تعمیل کی اور اُن پر اپنے بھائی حضرت خالد بن اُسید رضی اﷲ عنہ کو کمانڈر مقرر کر دیا۔اب ہر لشکر اور اُن کے کمانڈر جہاد پر جانے کے لئے تیار ہو گئے کہ خلیفہ اول کا حکم جیسے ہی ملے گا وہ جہاد کے لئے نکل پڑیں گے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں