جمعہ، 14 جولائی، 2023

10خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


10 خلافت ِ راشدہ_ 10خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 10


حضرت خالد بن ولید کی عراق(سلطنت فارس )کی طرف روانگی، ابن صلوہا کو امان نامہ، قبیصہ بن ایاس کی جزیہ پر مصالحت، حضرت مثنیٰ بن حارثہ کو حکم، اہل حیرہ سے جزیہ پر صلح، اہل مدائن اور ہرمز کے نام خط، ہرمزکی تیاری، دونوں لشکر آمنے سامنے، جنگ سلاسل(محرم 21 ھجری)، مدینہ منورہ میں ہاتھی کی نمائش


حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی عراق(سلطنت فارس )کی طرف روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ملک عرب کی طر ف سے مطمئن ہونے کے بعد اُس وقت کی دونوں ”سوپر پاور“ سلطنت ِ فارس اور سلطنت ِ روم کی طرف متوجہ ہوئے۔اس کے لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لشکر لیکر ملک عراق کی طرف جانے کا حکم دیا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں:جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یمامہ سے فارغ ہوئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ نے انہیں عراق جانے کا پیغام بھیجا اور حکم دیا کہ وہ فرج الہند یعنی ایلہ سے آغاز کریں ۔ عراق کے زیریں حصے داخل ہوں اور لوگوں سے دوستی کریں اور دعوت الی اﷲ دیں ۔پس اگر وہ قبول کریں تو فبہا۔ورنہ اُن سے جزیہ لیںاور اگر وہ دینے سے انکار کریں تو ان سے جنگ کریں۔ یہ حکم بھی دیا کہ کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنااور جس مسلمان کے پاس سے گذرنا،اُسے اپنے ساتھ لے لینا۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اُن کی مدد کے لئے لشکر جمع کر کے بھیجنے میں مصروف ہو گئے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں:محرم ۲۱ ھجری(۳۳۶ئ)میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو یمامہ کی مہم سے فارغ ہونے کے بعد عراق میں ایلہ کی طرف سے داخل ہونے کا حکم دیا ۔(ایلہ منتہائے بحر فارس پر جانب شمال بصرہ کے قریب واقع ہے۔)اور یہ بھی لکھا کہ اہل فارس اور ان لوگوں کی تالیف قلوب کرنا،جو اُن کے ملک میں دیگر مذہب و ملت کے آباد ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یمامہ کی مہم سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خد مت میں آئے۔ یہاں سے اُن کے حکم کے مطابق عراق کی طرف روانہ ہو کر با نقیاءباروسما اور الیس پہنچے۔اُن کے حکمرانوں جابان اور صلوبا نے حاضر ہو کر دس ہزار دینار سالانہ خراج پر مصالحت کر لی۔


ابن صلوہا کو امان نامہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خراج لیکر ابن صلوبا کو امان نامہ لکھ کر دیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں:حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عراق جانے کا حکم بھیجا۔آپ رضی اﷲ عنہ عراق روانہ ہوئے وہاں پہنچ کر سواءکی بستیوں بارو سما اور الیس میں اترے ۔یہاں کے باشندوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی اور جزیہ دینا منظور کیا۔یہ مصالحت ابن صلوبا نے کی تھی۔یہ واقعہ ۲۱ ھجری کا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُن لوگوں سے جزیہ لینا قبول کر لیااور حسب ذیل تحریر لکھ کر دی۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ وثیقہ خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ )کی طرف سے ابن صلوبا سوادی باشندہ ¿ ساحل فرات کے حق میں لکھ جا تا ہے۔چونکہ تم نے جزیہ دے کر جان بچائی ہے اس لئے تم کو اﷲ کی امان دی جاتی ہے۔تم نے جزیے کی رقم ایک ہزار درہم اپنی طرف سے اور اپنے خراج دہندوں اور جزیرے اور با نقیا،با رو سما کے باشندوں کی طرف سے ادا کی ہے ۔میں اسے قبول کرتا ہوںمیرے ساتھ کے تمام مسلمان اس تصفیے پر تم سے خوش ہیں۔آج تم کو اﷲ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی حفاظت میں لیا جاتا ہے۔“ہشام بن ولید نے اِس عہد نامے پر گواہ کی حیثیت سے دستخط کئے۔


قبیصہ بن ایاس کی جزیہ پر مصالحت


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ یہاں سے فارغ ہو کر اپنے لشکر کو لیکر حیرہ کے قریب پہنچے۔وہاں کے ذمہ داران قبیصہ بن ایاس کی سرکر دگی میں آپ رضی اﷲ عنہ سے ملنے آئے۔سلطنت ِفارس کے حکمراں کسریٰ نے نعمان بن منذر کی جگہ اُسے وہاں کا گورنر مقرر کیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُس سے فرمایا:”میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں،اگر تم اسے قبو ل کر لو گے تو مسلمانوں میں شامل ہو جاو¿ گے اور جو سہولتیں انہیں میسر ہونگی وہ تمہیں بھی ملیں گی اور جو ذمہ داریاں اُن پر ہوں گی ،وہ تم پر بھی ہوں گی اور اگر تم انکار کرو گے ،تو تمہیں جزیہ دینا پڑے گا۔میں تمہارے پاس ایسے لوگوں کے ساتھ آیا ہوںجو زندگی کے مقابلے میں تم سے بڑھ کر موت کی آرزو رکھتے ہیں۔ہم تم سے جہاد کریں گے حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا۔“قبیصہ بن ایاس نے کہا۔”ہمیں آپ(رضی اﷲ عنہ)سے جنگ کرنے کی کیا ضرورت ہے بلکہ ہم اپنے دین پر قائم رہیں گے اور تمہیں جزیہ ادا کریں گے۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کفر ایک گمراہ کن جنگل ہے،وہ شخص سب سے بڑا احمق ہے جو اِس جنگل میں چلتا ہے۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے نوے ہزار درہم پر مصالحت کر لی ۔ ایک روایت میں ہے کہ دو لاکھ درہم پر کی اور یہ پہلا جزیہ ہے جو عراق سے مو صول ہوا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ جزیہ خلیفہ اول کی خدمت میں مدینہ منورہ بھیج دیا۔


حضرت مثنیٰ بن حارثہ کو حکم


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جس وقت بزاخہ اور پھر یمامہ میں مصروف تھے۔اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ کون ہے جو سلطنت فارس سے مقابلے کے لئے جائے؟حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”میں تیار ہوں“۔خلیفہ اول نے انہیں عراق جانے کی اجازت دے دی۔وہ عراق کی سرحدوں پر آئے اور تب سے مسلسل حالت جنگ میں تھے۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بناج آئے تو اُس وقت حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ حفان میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے انہیں وہ خط بھیجا ،جس میں خلیفہ اول نے اُن کو حکم دیا تھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی اطاعت کرو۔یہ حکم پڑھتے ہی حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر اُن سے آملے۔اس کے بعد اسلامی لشکر آگے بڑھا تو الیس کا حکمراںجابان اپنا لشکر لیکر آیا۔اُسکے مقابلے کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو بھیجا۔دونوں لشکروں میں شدید جنگ ہوئی ،اور جابان کو شکست ہوئی۔اُس کے اتنے زیادہ سپاہی ندی کے کنارے مارے گئے کہ وہ”خون کی ندی “کے نام سے مشہور ہو گئی۔اس کے بعد جابان نے جزیہ دیکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی۔


اہل حیرہ سے جزیہ پر صلح


   حضرت خالد بن ولید اس کے بعد آگے بڑھ کر حیرہ کے قریب آئے توآذاذبہ کی فوجیں مقابلے کے لئے نکلیں۔آذاذبہ کسریٰ کی اُن تمام فوجی چوکیوں کا افسر تھا جو عراق اور ملک عرب کی سرحدوں پر تھیں۔ندیوں کے سنگم پر دونوں لشکروں کا مقابلہ ہوا۔حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے بڑھ کر دشمن پر ایسا شدید حملہ کیا کہ انہیں شکست ہوگئی۔یہ دیکھ کر اہل حیرہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے استقبال کے لئے نکلے۔اور ایک وفد آپ رضی اﷲ عنہ سے ملنے لشکر میں آیا۔آپ رضی ا ﷲ عنہ نے اپنے خیمے میںاُن سے بات کی۔اُن کے ساتھ عبد المسیح بن عمرو اور ہانی بن قبیصہ بھی تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے عبد المسیح سے پوچھا:”تم کہا ں سے آئے ہو؟“اُس نے جواب دیا:”اپنے باپ کی پشت سے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم کہاں سے نکلے ہو؟“اُس نے جواب دیا:”اپنی ماں کے پیٹ سے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم پر افسوس ہے ،یہ بتاو¿ تم کس چیز پر ہو؟“اُس نے کہا :”ہم زمین پر ہیں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ارے میاں!تم کس شے¿ میں ہو؟“اُس نے کہا :”اپنے کپڑوں میں ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:تم کچھ عقل سے بھی کام لیتے ہو؟“اُس نے کہا ہاں عقل سے بھی کام لیتا ہو ں اور قید سے بھی۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”میں تم سے سوال کر رہا ہوں۔“اُس نے کہا:”میں آپ کو جواب دے رہا ہوں۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم جنگ کرنا چاہتے ہو یا صلح کرنا چاہتے ہو؟“اُس نے کہا:”ہم صلح کرنا چاہتے ہیں“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:پھر اِن قلعوں سے تمہارا کیا ارادہ ہے؟“اُس نے کہا:”یہ قلعے ہم نے اِس لئے بنائے ہیں،کہ اگر کوئی بے وقوف آئے تو ہم اُسے قید کر لیں،اور کوئی سمجھ دار آئے تو اِن ست بچ کر چلا جائے۔“اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ عنہ نے وفد کے لوگوں سے فرمایا:” میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں،اور وہ یہ ہے کہ صرف ایک اﷲ کو اپنا معبود مانو،اور صرف اُسی کی عبادت کرو،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ کا رسول تسلیم کرو۔اگر تم نے اسلام قبول کر لیا تو ہمارے اور تمہارے حقوق برابر ہیں۔اور اگر اِس سے انکار ہی تو جزیہ دو،اگر یہ بھی نہیں تو یادرکھو!میں تم پر ایسی قوم لایا ہوں،جو موت کو اتنا ہی محبوب رکھتی ہے،جتنا تم شراب نوشی کو۔انہوں نے کہا کہ ہم آپ لوگوں سے لڑنا نہیں چاہتے۔اس کے بعد ایک لاکھ نوے ہزار درہم کے سالانہ جزیہ پر اہل حیرہ سے صلح کرلی۔اور اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ حیرہ کے لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے جاسوسی کریں گے،جسے انہوں نے منظور کر لیا۔جزیہ مدینہ منورہ روانہ کر دیا گیا۔


اہل مدائن اور ہرمز کے نام خط


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اہل مدائن اور ہرمز کے نام خط لکھا۔جس میں یہ لکھا تھا۔”خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) کی طرف سے سلطنت فارس کے سرداروں کے نام۔سلام ہے اُن پر جو ہدایت کی پیروی کریں۔اما بعد!اُس اﷲ کا شکر ہے جس نے تمہاری شوکت کا خاتمہ کر دیا،تمہارا ملک سلب کر لیا،اورتمہارے مکر کو ناکام کر دیا۔جو شخص ہماری طرح نماز پڑھے،ہمارے قبلے کی طرف رُخ کرے،اور ہمارے ہاتھ کا ذبیحہ کھائے،وہی مسلمان ہے۔اُس کے حقوق اور ہمارے حقوق برابر ہیں۔اِس خط کے پہنچتے ہی میرے پاس ضمانت بھیجو،اور اپنی حفاظت کی ذمہ داری کا اطمینان حاصل کر لو۔ورنہ اُس اﷲ کی قسم،جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔میں تمہارے مقابلے پر ایسی قوم کو لاو¿ں گا جو موت کی اُتنی ہی عاشق ہے،جتنا تم زندگی کے عاشق ہو۔“یہ خط پڑھ کر اہل فارس کو بے حد تعجب ہوا۔یہ ۲۱ ھجری کا واقعہ ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ہرمز کے نام جو خط لکھا،اُس میں یہ لکھا تھا۔”امابعد!اسلام قبول کرو ،تم سلامت رہو گے،یا اپنی اور اپنی قوم کی حفاظت کے لئے ضمانت حاصل کر لو،اور جزیہ دینے کا اقرار کرو۔ورنہ اس کے جو نتائج ہوں گے،اُن کے لئے سوائے اپنے آپ کے کسی اور کو ملامت نہیں کرسکو گے۔کیونکہ میں تمہارے مقابلے پر ایسی قوم کو لایا ہوں،جو موت ایسا ہی پسند کرتی ہے ،جیسا تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔“


اسلامی لشکر کی روانگی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد اسلامی لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔تینوں کو الگ الگ راستے سے روانہ کیا۔پہلے حصے کا کمانڈر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی ا ﷲ عنہ کو بنایا،اور روانہ کردیا،اُن کا راہ نما ظفر تھا ۔اُس کے ایک دن بعد حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اﷲ عنہ اور حضرت عاصم بن عمرو رضی اﷲ عنہ کو لشکر کے دوسرے حصے کا کمانڈر بنا کر دوسرے راستے سے روانہ کیا۔اں دونوں کے رہنمامالک بن عباد اور سالم بن نصر تھے۔اور دونوںحصوں کے کمانڈروں کو ہدایت فرمائی کہ اپنے راستے میں آنے والے دشمنوں سے جنگ کرتے ہوئے،حضیر کے مقام پر پہنچ کر پڑاو¿ ڈال دیں۔تیسرے دن آپ رضی اﷲ عنہ اپنے حصے کا لشکر لیکر تیسرے راستے سے روانہ ہوئے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کے لشکر کا رہنما رافع تھا۔اس طر ح آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی حکمت عملی سے دشمن کو پریشان کر دیا۔کیونکہ تین اطراف سے فارسیوں کو خبر مل رہی تھی کہ مسلمانوں کا لشکر آرہا ہے۔اور ہرمز بھی اسی پریشانی کا شکار ہو گیا تھا۔


ہرمزکی تیاری


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے تینوں حصوں کو حضیر میں جمع ہونے کا حکم دیا تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ علاقہ عرب اور عراق کی سرحد کے ایسے مقام پر تھا،جہاں ہندستان کا سمندر بھی ملتا تھا۔اس لئے اِس علاقے کا نام”فرج الہند“تھا۔سلطنت فارس نے اِس سرحدی علاقے کا گورنر یا کمانڈر ہرمز کو بنایا تھا۔ہرمز بہت ہی کمینہ خصلت اور خبیث شخص تھا۔یہ عربوں کا بد ترین پڑوسی تھا ،اور تمام سرحدی علاقے کے عربوں کو ستاتا رہتا تھا،اور سب عرب اُس سے جلے بیٹھے تھے۔اور خباثت میں اُس کو ضرب المثل بنا رکھا تھا۔ہرمز خشکی میں عربوں سے اور سمندر میں ہندستانیوں سے مقابلہ کرتا تھا۔جب اُسے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا خط ملا تو اُس نے اُسے پڑھ کر شیری بن کسریٰ اور ارد شیر بن شیری کی طرف بھیج دیا۔اور اپنی فوجیں جمع کیں،اور ایک تیز دستے کو لیکر فوراًخالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کے لئے کو زطم پہنچا۔اور اپنی فوج کو آگے بڑھایا،مگر یہاں آکر اُسے معلوم ہو کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا راستہ یہ نہیں ہے۔اور یہ اطلاع ملی کہ مسلمانوں کا لشکر حضیرمیں جمع ہو رہا ہے،اسی لئے پلٹ کا حضیر کی طرف جھپٹا۔وہاں پہنچتے ہی اپنی فوج کی صف آرائی کی،محفوظ فوج کے لئے اُن دو شہزادوں کو مقرر کیا جن کا سلسلہ نسب اردشیر اور شیری کے واسطوں سے ارد شیر اکبر تک پہنچتا تھا۔ان میں ایک کا نام قباذ تھا اور دوسرے کا انوشجان تھا۔


دونوں لشکر آمنے سامنے


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب ہرمز کے حضیر پہنچنے کی اطلاع ملی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کو کاظمہ کی طرف پلٹایا۔ہرمز کو اس کا پتہ چل گیا،اس لئے وہ فوراً کاظمہ پہنچ گیا ،اورپانی کے اوپر قبضہ کر کے پڑاو¿ ڈال دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ جب اسلامی لشکر لیکر کاظمہ پہنچے تو دیکھا کہ پانی پر فارسیوںکا قبضہ ہے۔تو انہیں ایسے مقام پر پڑاو ڈالنا پڑا ،جہاں پانی نہیں تھا۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔فارسیوں نے اِس خیال سے کہ کہیں میدان چھوڑ کر بھاگ نہ جائیںاپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا۔فریقین نے حضیر کے سامنے ایک میدان میں اپنی اپنی صفوں کو منظم کیا۔اتفاق سے اسلامی لشکر جواُن کے مقابلے پر تھا ،وہ ایسے مقام پر خیمے نصب کررہا تھا،جہاں پانی نہیں تھا۔لشکر کے مسلمانوں نے شکایت کی کہ لشکر پانی کے بغیر مر جائے گا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اﷲ تعالیٰ مسبب الاسباب ہے۔“یہ سُن کر خاموشی سے خیمے نصب کرنے لگے،اور اسباب اُتارنے لگے،تھوڑی دیر بعد اﷲ تعالیٰ کے حکم سے ایک بادل آیا اور اُن پر برسا۔جس سے اُن کے اِرد گِرد کے چشمے بھر گئے۔


جنگ سلاسل(محرم 21 ھجری)


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس اٹھارہ ہزار کا لشکر تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ بارش کاجو پانی آس پاس کے تالابوں میں جمع ہوا ہے وہ اتنے بڑے لشکر کے لئے ایک یا دو دن ہی چل سکے گا۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ چاہتے تھے کہ جلد سے جلد پانی پر قبضہ کر لیں یا پھر جنگ کا فیصلہ ہوجائے۔اسی لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراً لشکر کی صفیں مرتب کیں۔فارسیوں نے مسلمانوں کی بے جگری کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا،اسی لئے اپنے آپ کو زنجیروں میں جکڑ لیا تھا۔تاکہ اُن کے دل میں بھاگنے کا خیال نہ آئے۔اسی لئے اِس جنگ کا نام ”جنگ سلاسل “پڑ گیا۔صفیں مرتب ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور میدان میں آکر للکار کر اپنے مقابلے پر لڑنے والے کو طلب کیا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کی للکار سن کر ہرمز آگے آیا۔دونوں میں بہت زبردست مقابلہ ہوا،پھر دونوں اپنے اپنے گھوڑوں سے اُتر گئے ،اور پیدل لڑنے لگے۔آخر کار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ہرمز کی تلوار چھین لی،اور اُسے اُٹھا کر زمین پر پٹک دیا۔ہرمز کا حفاظتی دستہ(باڈی گارڈ)یہ دیکھ کر جلدی سے آگے بڑھے کہ ہر مز کو بچا لیں ،لیکن اُن کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی آپ رضی اﷲ عنہ نے ہرمز کی گردن اُڑا دی۔اور مسلمانوں کو ایک ساتھ حملہ کرنے کا حکم دیا۔ادھر سے حضرت قعقاع بن عمرو رضی ا ﷲ عنہ اپنے دستے کے ساتھ پہلے ہی آپ رضی اﷲ عنہ کی مدد کو پہنچ چکے تھے۔مسلمانوں نے فارسیوں پر شدید حملہ کیا۔زنجیروں میں بندھے ہونے کی وجہ سے انہیں لڑنے میں پریشانی ہو رہی تھی،اور وہ مسلمانوں کے حملوں کا خاطر خواہ جواب نہیں دے پا رہے تھے۔آخر کار فارسیوں(ایرانیوں )کو شکست ہوئی۔اور وہ لڑنے کے بجائے زنجیروں کو توڑ کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگے۔مسلمانوں نے انہیں چن چن کر قتل کردیا۔اِس جنگ میں بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا۔جس میں حاصل ہوئی زنجیروں کا وزن کیا گیا تو وہ ایک ہزار رطل (لگ بھگ پانچ سو کلو)تھیں۔اسی لئے اِس جنگ کو” ذات السلاسل“یعنی زنجیروں والی جنگ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔اس جنگ میں انوشجان اور قباذ جان بچا کر بھاگ گئے۔


مدینہ منورہ میں ہاتھی کی نمائش


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینہ منورہ بھیجا،اور باقی لشکر میں تقسیم کردیا۔اِس میں ہرمز کی ٹوپی بھی تھی۔اہل فارس کی ٹوپیاں اُس خاندانی اعزاز کے ساتھ ہوتی تھیں ،جو اُن کو اپنے خاندان میں حاصل ہوتا تھا۔جس کا اعزاز بدرجہ¿ کمال کو پہنچ جاتا تھا،اُس کی ٹوپی ایک لاکھ کی ہوتی تھی۔اور ہرمز یہ اعزاز حاصل کر چکا تھا،اور اُس کی ٹوپی ایک لاکھ کی تھی،اور جواہرات سے مرصع تھی۔اہل فارس میں کمال شرف یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی شخص اُن کے چوٹی کے سات مشہور خاندانوں میں سے ہو۔یہ ٹوپی بھی مدینہ منورہ بھیج دی گئی ،جسے تمام لوگ دیکھ کر حیرت کر رہے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ نے یہ ٹوپی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عطا فرما دی۔مال غنیمت میں ہاتھی بھی آیا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فتح کی خوش خبری اور مال غنیمت کے ساتھ میں ہاتھی بھی مدینہ منورہ بھیج دیا تھا۔جب حضرت زرین کلیب مال غنیمت اور ہاتھی کو لیکر مدینہ منورہ پہنچے تو لوگوں کے دیکھنے کے لئے ہاتھی کو سارے شہر میں گشت کرایا گیا۔مدینہ منورہ کی بوڑھی عورتیں اِس ہاتھی کو دیکھ کر بہت متعجب ہوئیں،اور کہنے لگیں ۔”کیا یہ واقعی اﷲ کی کوئی مخلوق ہے؟“وہ سمجھیں کہ یہ کوئی بناوٹی چیز ہے۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲعنہ نے حضرت زرین کلیب کے ساتھ ہاتھی کو واپس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔اس جنگ میں لشکر کے ہر سوار کے حصہ میں ایک ہزار درہم آئے،اور پیدل کے حصہ میں ساڑھے سات سو درہم آئے۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر آگے بڑھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

11 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida


11 خلافت ِ راشدہ_ 11 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 11


جنگ مذار(صفر المظفر 21 ھجری)، جنگ دلجہ، اُلیس میں دشمنوں کا اجتماع، جنگ اُلیس، خون کی ندی، خالد بن ولید جیسا بیٹا پیدا ہونا بہت مشکل ہے، امغیشیایا امعیشیا کی فتح، جنگ مقراور جنگ فرات باد قلی، حیرہ کے قلعوں کا محاصرہ، قصر ابیض پر حملہ، حیرہ کے نمائندے، اہل حیرہ کی اطاعت، حیرہ کی فتح پر شکرانہ



جنگ مذار(صفر المظفر 21 ھجری)


   حضرت خالد بن ولید اسلامی لشکر کو لیکر آگے بڑھے ،آپ رضی اﷲ عنہ نے کسانوںاور عام لوگوں سے کوئی تعرض نہیں کیا۔اور انہیں ذمی بنا لیا،لیکن جنگجوؤں کو قید کر لیا۔ادھر ہرمز کی مدد کے لئے کسریٰ نے قارن بن قربانس کولشکر دے کر بھیجا۔جب یہ مذار کے پاس پہنچا تو اسے ہرمز کی شکست کی اطلاع ملی،اور اس نے وہیں پڑاو¿ ڈال دیا ۔جنگ سلاسل سے بھاگ کر آنے والے فارسی فوجی اُس سے آکر ملے۔اور اس طرح اچھا خاصا لشکر جمع ہو گیا۔اور قارن نے انوشجان اور قباذ کو محفوظ دستے پرمقرر کیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو فارسی لشکر کے مذا ر میں جمع ہونے کی خبر ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اس کی اطلاع خلیفہ اول کو دی ۔اور اپنا لشکر لیکر مذار میں قارن کی فوجوں کے سامنے آئے ،اور لشکر کو صف آرا کردیا۔سلطنت فارس میں قارن کا بہت بڑا مقام تھا،اور بہت ہی عزت اور مرتبے والا تھا۔وہ اپنے لشکر سے نکلا ،اور مسلمانوں کو مقابلے کے لئے للکارا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اُس کے مقابلے پر نکلے ،لیکن اُن سے پہلے حضرت معقل بن اعشیٰ بن نباش پہنچ گئے۔اور قارن سے مقابلہ کرنے لگے،یہ دیکھکر آپ رضی اﷲ عنہ رک گئے۔کچھ دیر کے مقابلے کے بعد حضرت معقل نے قارن کو قتل کر دیا۔اب دونوں لشکر ایک دوسرے سے بھڑ گئے،اور زبر دست جنگ ہو نے لگی۔مسلمان کمانڈروں نے فارسی کمانڈروں کو تاک لیا،اور حضرت عدی بن حاتم طائی رضی اﷲ عنہ نے قباذ کو اور حضرت عاصم رضی اﷲ عنہ نے انوشجان کو قتل کردیا ۔اس کے بعد فارسی لشکر کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور فارسی یعنی ایرانی لوگ بھاگنے لگے،مسلمانوں نے اُن کا تعاقب کیا ۔اور قتل کرنے لگے،اُس روز فارسیوں کے تیس ہزار آدمی قتل ہو ئے اور بہت سے کشتیوں پر بیٹھ کر بھاگنے میں دریا کے پانی میں غرق ہوگئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ وہیں مذار میں ٹھہر گئے،اور مال غنیمت کو اکٹھا کر کے اُس کا خمس نکالا،اور باقی لشکر کے مجاہدین میں بانٹ دیا۔اور مال غنیمت کا خمس حضرت سعید بن نعمان رضی اﷲ عنہ کے زریعے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔یہ جنگ صفر المظفر ۲۱ ھجری میں ہوئی۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مفتوحہ علاقے پر فوج کا افسر حضرت سعید بن نعمان رضی اﷲ عنہ کو مقرر کیا،اور حضرت سوید بن مقرن مزنی رضی اﷲ عنہ کو جزیے کا افسر مقرر کیا۔اور فرمایا کہ حضیر جاو¿ اور لگان کے عہدے دار مقرر کر کے لگان وصول کرو۔


جنگ دلجہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی فتح اور قارن کے قتل اور فارسیوں کی شکست کی خبر جب ارد شیر کو ملی تو اُس نے اندر زغر (اندر زگر)کو فوج دیکر روانہ کیا۔یہ سواد میں پیدا ہوا تھا،اور یہ بھی بہت بڑا شہسوار اور جنگجو تھا۔وہ خراسان کی سرحدی چھاو¿نی پر مقرر تھا،وہ پہلے مدائن آیا،پھر کسکر پہنچا ،اور وہاں سے دلجہ کی طرف بڑھا۔اُس کے پیچھے ارد شیر نے بہمن جاذویہ کو ایک بڑا لشکر دے کر روانہ کیا ،اور اُسے حکم دیا کہ اندر زغر سے کترا کر جانا۔اندر زغر دلجہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا،اُس کے پاس آس پاس کے کسان اور عیسائی بھی آگئے ،اور اُس کے لشکر میں شامل ہو گئے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ اندر زغر دلجہ میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہے توآپ رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر نہر عبور کر کے اُس کے مقابلے پر آئے۔اور صف بندی کرنے سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ،ایک حصہ کو اپنے پیچھے چھپا دیا۔اور بقیہ دو حصے میں سے ایک حصے کو اپنے ساتھ رکھا۔اور دونوں حصوںنے ایک ساتھ فارسیوں کے لشکر پر حملہ کردیا۔اور پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت دونوں حصے پیچھے ہٹنے لگے۔فارسیوں نے سمجھا کہ وہ جنگ جیت رہے ہیں،اور مسلمان بھاگنے کی تیاری میں ہیں۔اسی لئے وہ جوش میں آگئے،اورہوش کھو کر زیادہ تیزی سے حملے کرنے لگے۔مسلمان پیچھے ہٹتے ہٹتے اُس جگہ سے بھی پیچھے ہٹ گئے،جہاں لشکر کا ایک حصہ چھپا ہو ا تھا۔جب فارسی لشکر آگے آگیا تو چھپا ہوا لشکر اُس کے پیچھے نمودار ہوا ،اور پیچھے سے حملہ کردیا۔اس اچانک حملے سے فارسی لشکر میں گھبراہٹ پھیل گئی،اور جب تک وہ سنبھلتے ،تب تک حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے حصے کے ساتھ کوس کا چکر کاٹ کر دائیں بازو پر آگئے،اور زور دار حملہ کر دیا۔ادھر سامنے والے حصے نے بھی پلٹ کر حملہ کر دیا۔اس طرح فارسی لشکرمسلمانوں کے گھیرے میں آگیا،اور اُن پر ہر طرف سے حملے ہونے لگے،اور اُن کی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔اور اُن کی اکثریت قتل ہو گئی۔اندر زغرہزیمت اُٹھا کر بھاگا ،اور پیاس کی تکلیف سے مر گیا۔


 اُلیس میں دشمنوں کا اجتماع


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جنگ دلجہ میں ایک ایسے ایرانی (فارسی) کو مقابلے کی دعوت دی ،اور قوت و طاقت میں ایک ہزار آدمیوں کے برابر تھا۔اور جب آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے قتل سے فارغ ہو گئے تو اُس کا تکیہ بنا کر بیٹھ گئے ،اور وپیں اپنا کھانا طلب کیا۔اِس جنگ میں بنو بکر بن وائل کے عیسائی قتل ہوئے تھے۔اِس کی وجہ سے عیسائیوں نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کی تیاری شروع کر دی،اورعجمیوں سے رابطہ قائم کر کے انہیں مدد کے لئے آنے کی درخواست دی۔اور وہ سب ”مقام اُلیس “میں جمع ہو گئے۔اُلیس دریائے فرات کے کنارے واقع ہے۔اور اپنا سپہ سالار عبد الاسود عجلی کو بنایا۔ارد شیر نے بہمن جاذویہ کو حکم دیا کہ تم اپنا لشکر لیکر عیسائیوں اور عجمیوں کی مدد کے لئے اُلیس پہنچو۔ادھر جابان نے بھی صلح نامہ توڑ دیا ،اور بہمن جاذویہ سے جاملا۔اُس نے جابان کو اُلیس کی طرف روانہ کیا ،اور حکم دیا کہ وہاں پہنچ کر لوگوں کے اندر جوش پیدا کرو۔لیکن میرے آنے تک دشمن سے جنگ شروع نہیں کرنا،ہاں اگر دشمن حملہ کر دے تو اُن سے جنگ کرنا۔اور پھر وہ ارد شیر سے ملنے چلا گیا ،تاکہ اُس سے مشورہ کرے ،اور مزید ہدایات حاصل کرے۔مگر وہاں جاکر دیکھا کہ ارد شیر بیمار پڑا ہوا ہے ،تو اُس کی تیمار داری میں لگ گیا ،اور اُلیس نہیں پہنچ سکا۔جابان جب اُلیس آیا تو اُس نے دیکھا کہ سرحدی چوکیوں کی فوجیںجو عربوں کے مقابلے پر متعین تھیں،اور بنو عجل کے عیسائی ،عربوں میں سے عبد الاسود،تیم الاب،ضبیعہ اور حیرہ کے خالص عرب ،یہ سب جمع ہیں،اور ایک عیسائی جابر بن بجیر اپنے عیسائی ساتھیوں کے ساتھ موجود ہے،تو اُس کا حوصلہ بڑھ گیا۔


جنگ اُلیس


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو عیسائیوں،عربی عیسائیوںکے لشکروں کے اُلیس میں جمع ہونے کی خبر ملی ،تو آپ رضی اﷲعنہ اپنا لشکر لیکر اُلیس کی طرف روانہ ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ جابان غداری کر چکا ہے ،اور معاہد ہ توڑ کر فارسیوں سے مل گیا ہے۔ آپ رضی اﷲ عنہ لشکر لیکر اُن کے سامنے آگئے ،اور لشکر نے سامان اُتارنا شروع کر دیا۔عیسائیوں نے مسلمانوں کو سامان اُتارتے دیکھا تو جابان سے کہا کہ انہیں سامان اُتار کر صفیں مرتب کرنے میں دیر لگے گی ۔تب تک ہمارالشکر اور ہم کھانا کھا لیتے ہیں۔جابان نے کہا کہ کھا نے کے بارے میں بھول جاو¿ ،اور اپنے لشکر کی صفیں مرتب کرو۔لیکن انہوں نے نہیں مانا ،اور کھانا لگا دیا گیا،اور سب کھانے بیٹھ گئے۔اُن کے کھانے سے پہلے ہی مسلمانوں نے سامان اُتار لیا ،اور صفیں مرتب کر لیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے ،اور بلند آواز سے للکارا:”اے جابر بن بجیرکہاں ہے؟اے عبد الاسودکہاں ہے؟اے مالک بن قیس کہاں ہے؟“یہ شخص بنو جذرہ سے تھا،باقی سب لوگ تو خاموش رہے ،لیکن مالک بن قیس میدان میںنکلا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُس سے کہا:”اے بد کار عورت کے بیٹے،اور باقی سب تو دبکے ہوئے ہیں ،تجھے مقابلے پر آنے کہ ہمت کیسے ہوئی؟تجھ میں کیا رکھا ہے؟“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک ہی وار میں اُس کی گردن اُڑا دی۔جابان نے یہ ماجرا دیکھا تو بولا کہ میں نے پہلے ہی تم سے کہا تھا کہ تم لوگ کھانا نہیں کھاسکو گے۔اﷲ کی قسم!مجھے کسی سپہ سالار سے ایسی دہشت نہیں ہوئی ،جیسی خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) سے ہو رہی ہے۔لوگوں نے کہا کہ کھانا یوں ہی چھوڑ دو،اور جنگ جیتنے کے بعد کھائیں گے۔جابان نے کہا کہ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ یہ کھانا ہمارے دشمن کھائیں گے،اس لئے تم ایسا کرو کہ کھانے میں زہر ملا دو۔تاکہ اگر ہم ہار جائیں تو یہ کھانا جب مسلمان کھائیں تو سب کے سب مر جائیں۔لیکن عیسائیوں اور باقی لوگوں کو اپنی فتح کا اتنا یقین تھا کہ انہوں نے زہر ملانے سے انکار کردیا۔اور لڑنے کے لئے میدان میں آگئے۔جابان نے میمنہ پر عبد الاسود کو اور میسرہ پر جابر بن بجیر کو کمانڈر بنایا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے پچھلی جنگ کی طرح ایک حصہ کو چھپا دیا،اور جنگ شروع کردی۔اور بڑے زور و شور سے لڑائی ہونے لگی،فارسیوں اور عیسائیوں کو بہمن جاذویہ کے آنے کی اُمید تھی ،اور اسی اُمید پر وہ بڑے حوصلے سے لڑ رہے تھے۔دونوں طرف سے جم کر مقابلہ ہو رہا تھا،اور حضرت خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ کو بھی شدید جنگ کرنی پڑ رہی تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے چالاکی سے دشمنوں کے لشکر کو گھیر لیا،اور ہر طرف سے حملے کرنے لگے۔


خون کی ندی


   حضرت خالد بن ولید نے دشمنوں کو ہر طرف سے گھرنے کے بعد نعرہ تکبیر لگایا، مسلمانوں کا مخصوص نعرہ”یا محمداہ“لگایا تو مسلمانوں نے سمجھ لیا کہ اب جنگ فیصلہ کن مرحلے میں پہنچ چکی ہے،اور دشمن پر آخری کاری ضرب لگانی ہے۔اسی لئے مسلمان بڑھ بڑھ کر حملے کرنے لگے،لیکن دشمن بھی پہمن جاذویہ کی اُمید پر ڈٹے ہوئے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے جب دشمنوں یہ ثابت قدمی دیکھی تو منت مانی:”اے اﷲ !میں تیرے نام سے منت مانتا کہ اِن میں سے جس کسی پر بھی ہم کو قابو حاصل ہو گا تو ،اُس کو زندہ نہیں رکھوں گا،اور ان کے خون سے ایک نہر جاری کر دوں گا۔“اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی ،اور دشمن بھاگنے لگے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے بلند آواز میں اعلان فرمایا: قید کرو،قید کرو۔“اور اسلامی فوجیں دشمنوں کو گرفتار کر کے ہانکتی ہوئی اُس جگہ لانے لگی،جہاں پر آپ رضی اﷲ عنہ نے کچھ لوگوں کو متعین کیا تھا کہ اُن کی گردنیں اُڑا کر خون کی ندی بہائیں۔یہ عمل ایک دن اور ایک رات تک ہوتا رہا،خون نکلتا اور کچھ دور جا کر جم جاتا تھا۔اگلے دن بھی قیدیوں کو لا لا کر گردن اُڑانے کا سلسلہ جاری رہا۔حضرت قعقاع رضی اﷲ عنہ اور دوسرے سمجھ دار لوگوں نے کہا:”اگر آپ رضی اﷲ عنہ پوری دنیا کے انسانوں کا قتل بھی کر دیں تو خون نہیں بہے گا،کیونکہ کچھ دور بہنے کے بعد وہ جم جاتا ہے۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ اِس خون پر پانی بہا دیں ،تو آپ رضی اﷲ عنہ کی قسم پوری ہو جائے گی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے ندی کا پانی روک رکھا تھا۔اور ندی میں خون بہانے کی کوشش کر رہے تھے۔اس لئے آپ رضی اﷲ عنہ نے دوبارہ ندی جاری کرنے کا حکم دیا،تو خالص سرخ خون بہتا ہوا نظر آنے لگا۔اس واقعہ کی وجہ سے یہ نہر یا ندی ”خون کی نہر یا ندی “کے نام سے مشہور ہو گئی۔


خالد بن ولید جیسا بیٹا پیدا ہونا بہت مشکل ہے


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فتح حاصل ہونے کے بعد کھانے کے پاس آکر کھڑے ہوئے۔کھاناستر ہزار(۰۰۰،۰۷)سے ذیادہ لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا،جبکہ مسلمانوں کی تعداد اٹھارہ ہزار یا بیس ہزار تھی۔اور اتنا کھانا اُن کے لئے کئی وقت کام آسکتا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں سے فرمایا:”یہ کھانا میں تم کو عطا کرتا ہوں،یہ تمہارا ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب کسی تیار کھانے پر قبضہ فرماتے تھے تو اسے اپنے لشکر کو بخش دیتے تھے۔“مسلمان جب کھانے بیٹھے تو سفید روٹیوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر حیرت سے دیکھنے لگے،کیونکہ انہوں نے ایسی سفید روٹیاںکبھی نہیں دیکھی تھیں۔وہ ایکدوسرے سے حیرت سے پوچھنے لگے کہ یہ سفید ٹکڑے کیسے ہیں؟ان میں سے جو لوگ روٹیوں کو جانتے تھے،انہوں نے مذاق سے کہا:”تم ”رقیق العیش“کے بارے میں سنا ہے؟“بقیہ لوگوں نے کہا:”ہاں سنا ہے۔“تو مذاق کرنے والوں نے کہا :”یہ وہی ہیں۔“اسی واقعہ کی وجہ سے روٹیوں کو ”رقاق“کہنے لگے۔حالانکہ اس سے پہلے عرب ان کو ”قریٰ“کہتے تھے۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے وہیں پڑاو¿ ڈال دیا،اور نہر میں پن چکی لگوا دی،اور تین دن تک اٹھارہ ہزار کے لشکر کے لئے ُسرخ پانی سے آٹا پیسا جاتا رہا تھا۔اُلیس کی جنگ میں ستر ہزار کے لگ بھگ فارسی اور عیسائی قتل ہوئے تھے،اور بے شمار مال غنیمت ہاتھ آیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے مال غنیمت کا خمس نکالا،اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کردیا۔اور جنگ کی پوری تفصیل ،اور فتح کی خوش خبری ،اور مال غنیمت کا خمس دے کر بنو عجل کے حضرت جندل عجلی کو مدینہ منورہ بھیجا۔انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اُلیس کی فتح کی خوش خبری ،مال غنیمت کی مقدار،قیدیوں کی تعداد،خمس میں جو چیزیں حاصل ہوئی تھیںاور جن لوگوں نے کار ہائے نمایاں انجام دیئے تھے۔اِن سب کی تفصیل بہت عمدگی سے بیان کی ۔ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو اُن کا یہ انداز بہت پسند آیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُن سے پوچھا:”تمہارا نام کیا ہے؟“تو انہوں نے عرض کیا:میرا نام جندل ہے۔“خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”واہ رے بلندال (بلندل عربی میں قیمتی پتھر کو کہتے ہیں)“پھر آپ رضی اﷲ عنہ نےاُن کو مال غنیمت میں سے ایک لونڈی بطور انعام عطا فرمائی،جس سے اُن کی اولاد ہوئی۔اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو مخاطب کر کے فرمایا:”اے گروہ ِ قریش!تمہارے شیر نے ایک شیر پر حملہ کیا ہے،اور اُس کی گپھا میں گھس کر اُس پر غالب آگیا ہے۔اب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جیسا بیٹا پیدا ہونا بہت مشکل ہے۔“ (ابن کثیر)جنگ اُلیس میں قتل ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد”امغیشیا“یا ”منیشیا“کے لوگوں کی تھی۔


امغیشیایا امعیشیا کی فتح


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب اُلیس کی فتح سے فارغ ہوئے تو امغیشیا کی طرف آئے۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ،اور امغیشیا کے لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کا ایسا رعب بِٹھا دیا کہ جب انہوں نے سنا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنا لشکر لیکر اِسی طرف آرہے ہیں ،تو وہ سب کے سب امغیشیا چھوڑ کر بھاگ گئے۔اور سوادمیں منتشرہو گئے،اُس روز سے سکرات ،سواد کے علاقے میں شامل ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے امغیشیا کے تمام مکانات منہدم کرادیئے۔امغیشیا ، حیرہ کے برابر کا شہر تھا۔فرات باد قلی اس کے پاس سے گذرتا تھا،اُلیس اِس مقام کی فوجی چوکی تھا۔امغیشیا میں مسلمانوں کواتنا مال غنیمت حاصل ہو کہ ملک عراق میں داخل ہونے سے لیکر ابھی تک کل ملا کر بھی اتنا مال غنیمت حاصل نہیں ہوا تھا۔امغیشیا کے مال غنیمت کا خمس نکال کر مدینہ منورہ روانہ کیا گیا،اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کیا گیا تو ہر سوار کے حصے میں پندرہ ہزار درہم آئے۔اِس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اب خالدبن ولید رضی اﷲ عنہ جیسا بہادر پیدا ہونا بہت مشکل ہے۔(طبری)


جنگ مقراور جنگ فرات باد قلی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جب امغیشیاکو فتح کرلیا تو آزاذبہ نے محسوس کیا کہ اب اُس کی خیر نہیں ہے،اِس لئے اُس نے آپ رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کی تیاریاں شروع کردیں ،اور اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ فرات کا پانی روک دو۔آزاذبہ خاندان کسریٰ کے عہد سے حیرہ کی امارت(گورنری)پر فائز تھا،یہ گورنر کسریٰ کی اجازت کے بغیر ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے تھے۔آزاذبہ کا اعزاز نصف درجے تک پہنچ چکا تھا،اور اُس کی ٹوپی پچاس ہزار کی تھی۔جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ امغیشیا سے روانہ ہوئے ۔اور پید ل فوج مع سامان اور مال غنیمت کشتیوں میں سوار کر دی گئی ،تو آپ رضی اﷲ عنہ کو یہ دیکھکر پریشانی ہوئی کہ دریائے فرات میں پانی اتنا کم ہو گیا ہے کہ کشتیاں زمین سے لگ رہی ہیں۔ملاحوں نے کہا کہ فارسیوں نے نہروں کو کھول دیا ہے ،جس کی وجہ سے فرات میں پانی کم ہو گیا ہے۔جب تک نہریں بند نہیں ہوں گی،تب تک فرات میں پانی نہیں بڑھے گا۔یہ سنتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک دستہ لیکر آزاذبہ کے لڑکے کی طرف بڑھے۔فم عتیق پر اُس کے ایک رسالے سے اچانک مڈ بھیڑ ہو گئی ،وہ لوگ اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی یورش سے بالکل بے فکر تھے۔طرفین میں جنگ ہوئی ،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اِن سب کا مقر میں خاتمہ کر دیا۔اور اس سے پہلے کہ آزاذبہ کے بیٹے کو ”مقر “کے حالات کا علم ہوتا،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرات باد قلی کے دہانے پر پہنچ کر اُس کے لشکر پر حملہ کر دیا،اور اُن سب کو قتل کر دیا ۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے تمام نہروں کو بند کر دیا،جس سے دریائے فرات میں پھر سے پانی جاری ہو گیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ دریائے فرات کو پار کیا۔آزاذبہ کو جب اپنے بیٹے کی موت کا علم ہوا،اور اسی دوران اُسے اطلاع ملی کہ ارد شیر اور شیری کو(اُس کے اُمراءنے) قتل کردیا گیا ہے ،تو وہ بغیرلڑے فرات عبور کر کے بھاگ گیا،اور اُس کی فوج غزیین اور قصر ابیض کے درمیان مقیم تھی۔


حیرہ کے قلعوں کا محاصرہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ تمام لشکر کو لیکر غزیین اور قصر ابیض کے درمیان اُس جگہ میدان میں پڑاو¿ ڈال دیا ،جہاں آزاذبہ کی فوج قلعوں میں مقیم تھیں۔اہل حیرہ قلعہ بند ہو گئے،اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے ایک رسالے کو حیرہ میں داخل کر دیا۔اور ہر محل پر اپنا ایک ایک کمانڈر متعین کر دیاکہ محل والوں کا محاصرہ کرلو،اور اُن سے لڑو۔حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ نے ”قصر ابیض“کا محاصرہ کر لیا، اس میں ایاس بن قبیصہ طائی تھا۔حضرت ضرار بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ”قصر عدسین“کا محاصرہ کر لیا،اس میں عدی بن عدی مقتولی تھا۔حضرت ضرار بن مقر مزنی رضی اﷲ عنہ جو اپنے دس بھائیوں میں سے ایک تھے،انہوں نے”قصر بنو مازن“کا محاصرہ کر لیا،اس میں ابن اکال تھا۔اور حضرت مثنی بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے”قصر بنو بقیلہ“کا محاصرہ کر لیا،اس میں عبد المسیح تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے تمام کمانڈروں کو حکم دیا کہ تمام قلعے والوں کو اسلام کی دعوت دو،اور انہیں ایک دن کی مہلت دو۔اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا ،تو بہت اچھی بات ہے،اور اگر وہ کفر پر اڑے رہے تو اُن کے حیلوں پر توجہ مت دو ۔بلکہ اُن سے لڑو،اور مسلمانوں کو دشمنوں کے ساتھ لڑنے میں تردد میں مبتلا مت کرو۔


قصر ابیض پر حملہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حیرہ کے قلعوں پر اپنے کمانڈروں کو لشکر دیکر متعین کردیا،اور خود بقیہ لشکر کے ساتھ میدان میں خیموں میںقیام پذیر تھے۔ سب سے پہلے قصر ابیض والوں سے جنگ ہوئی۔جب قلعے والے نیچے میدان میںجھانکنے لگے ،تو حضرت ضرار بن ازور نے انہیں تین باتوں کی پیش کش کی۔پہلی اسلام قبول کر لو،دوسری جزیہ دو،اور تیسری مقابلے کے لئے تیار ہو جاو¿۔قلعے والوں نے مقابلہ کرنا پسند کیا،اور بولے۔ابھی ہم تم پر غلے برساتے ہیں۔حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر سے کہا کہ ذرا پیچھے ہٹ جاو¿،اور دیکھو کہ ان کی بکواس کی اصلیت کیا ہے؟اچانک قصر کی فصیل آدمیوں سے بھر گئی ،اُن سب کے ہاتھوں میں غلیلیں تھیں،اور وہ مسلمانوں پر مٹی کے غلے برسانے لگے۔حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کی اِن پر تیر برساو¿،مسلمان آگے بڑھ کر تیر برسانے لگے تو فصیل سے سب آدمی غائب ہو گئے۔ا س کے بعد مسلمان قلعے کی فصیل پر چڑھ گئے،اور ہر ایک نے اپنے پاس کے دشمنوں کو قتل کر نا شروع کردیا۔اور بے شمار آدمی قتل ہوئے،اور تمام پادری اور راہب چلا اُٹھے کہ اے محلات والو!ہمارے قتل کا باعث تم ہو۔محلات والے چلا ئے کہ اے اہل عرب !ہم تین چیزوںمیں سے ایک کو قبول کرتے ہیں،ہمیں چھوڑ دو،اور ہمارے قتل سے باز آجاو¿،اور ہمیں خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ) کے پاس پہنچا دو۔


حیرہ کے نمائندے


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے کے خیمے باہر تشریف فرما تھے،جب حیرہ کے نمائندے قلعوں سے اُتر کر آئے ۔قبیصہ بن ایاس اور اُسکا بھائی حضرت ضرار بن ازور رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔اور عدی بن عدی اور زید بن عدی ،حضرت ضرار بن خطاب رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے۔عمرو بن عبد المسیح، حضرت ضرار بن مقرن رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا۔اور ابن اکال ،حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا۔اِن کمانڈروں نے اِن سب کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا ،اور خود اپنے اپنے لشکر کے ساتھ ڈٹے رہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اِن سے الگ الگ ملاقات کی۔سب سے پہلے عدی کے وفد سے ملے،اور اُن سے فرمایا:”تم کون ہو؟اگر تم عرب ہو تو عربوں سے عداوت کیوں ہے؟اور اگر عجمی ہو تو عدل و انصاف سے تمہیں دشمنی کیوں ہے؟“عدی نے جواب دیا :”ہم عرب عاربہ ہیں،اور دوسرے لوگ عرب مستعربہ ہیں۔اور ہمارے قول کی سچائی کا ثبوت یہ ہے کہ ہم عربی کے علاوہ کوئی زبان نہیں جانتے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم ٹھیک کہتے ہو،اب میں تمہیں کہتا ہوں کہ اسلام قبول کر لو،ہمارے برابر ہو جاو¿ گے۔یا پھر جزیہ دو،یا پھر مقابلے کے لئے تیار ہو جاو¿۔“اُن لوگوں نے کہا:”ہم جزیہ دینا منظور کرتے ہیں۔“حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”افسوس ہے تم پر۔“اور پھر ان سے ایک لاکھ نوے ہزار سالانہ جزیہ پر معاہدہ کر لیا۔اسی طرح دوسرے وفود نے بھی اُن کی تقلید میں جزیہ دینا منظور کر لیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے پوری رقم اور بہت سے تحائف دے کرحضرت ہذیل کابلی کے ذریعے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔خلیفہ اول نے یہ سب لے لیا،اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو لکھا کہ اب تم بقیہ رقم کو اپنے لشکر کی تقویت کے لئے کام میں لاو¿۔


اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے تمام قلعوں کے وفود سے ملاقات کی۔جب عمرو بن عبد المسیح آپ رضی اﷲ عنہ سے ملنے آیا تو اُس کے پاس یا اُسکے غلام کے پاس ایک تھیلی میں زہر کی پڑیا تھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ابن بقیلہ(عمرو بن عبد المسیح)کے ساتھ اُس کا ایک خادم تھا،جسکی کمر سے ایک تھیلی لٹکی ہوئی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے وہ تھیلی لے لی،اور اُس میں جو کچھ تھا ،اُسے اپنی ہتھیلی پر اُلٹ کرپوچھا:”اے عمرو !یہ کیا ہے؟“اُس نے کہا ،اﷲ کی امانت کی قسم!یہ زہرِ قاتل ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے پوچھا :”یہ ساتھ لئے کیوں پھرتے ہو؟“اُس نے کہا ،مجھے اندیشہ ہے کہ شاید تم لوگ ہمارے ساتھ کوئی توہین آمیز سلوک کرو،اور میں اپنی قوم اور اہل وطن کی توہین کے مقابلے میں موت کو ترجیح دینا پسند کرتا ہوں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”کوئی بھی اپنی موت سے پہلے نہیں مر سکتا،“اوریہ دعا پڑھی۔”اُس اﷲ کے نام سے،جس کے تمام نام بہترین ہیں،جو زمین و آسمان کا رب ہے،جس کے نام کی برکت سے ہم کو کوئی بھی بیماری مضرت نہیں پہنچا سکتی،جو رحمن ہے ،اور رحیم ہے۔“یہ دیکھ کر مسلمان جلدی سے جھپٹے کہ انہیں روک لیں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ نے جلدی سے وہ زہر اپنے منہ میں ڈال لیا،اور نگل گئے۔عمرو بن عبد المسیح یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا،اور بولا۔اے عربو!اﷲ کی قسم ،تم جس چیز کے چاہو مالک بن سکتے ہو۔اس کے باوجود وہ بد بخت ایمان نہیں لایا۔اور اپنی قوم میں گیا تو بولا،اقبال کی کھلی نشانی جیسی میں نے آج دیکھی ہے،اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔(طبری)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُس کے پاس ایک تھیلی دیکھی،اور فرمایا:”اِس میں کیا ہے؟“اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے کھولا، اور اُس میں کوئی چیز پائی۔ابن بقیلہ نے کہا،یہ فوراً ہلاک کر دینے والا زہر ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم نے اسے اپنے پاس کیوں رکھا ہے؟“اُس نے کہا،جب میں اپنی قوم کی بری حالت دیکھوں گا تو اسے کھالوں گا،اور موت مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا،اور فرمایا:”ہر جان اپنے مقررہ وقت پر ہی مرے گی۔“پھر فرمایا:”بسم اﷲ ،خیر الاسمائ،رب الارض والسمائ،الذی لیس یضرمع اسمہ ،و الرحمن الرحیم۔“اور مسلمان امراءآپ رضی اﷲ عنہ کو روکنے کے لئے آگے بڑھے ،لیکن اس سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے نگل لیا۔اور جب ابن بقیلہ نے یہ بات دیکھی تو کہنے لگا۔اے گروہِ عرب!اﷲ کی قسم،جب تک تم میں ایک آدمی بھی ایسا موجود ہے،تب تک تم ضرور اُس چیز پر قبضہ کر لو گے،جس پر قبضہ کرنا چاہو گے۔پھر اہل حیرہ کی طرف متوجہ ہو کر بولا۔میں نے آج تک اس سے واضح برتری نہیں دیکھی۔(ابن کثیر)علامہ عبد الرحمن ابن خلدون لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے یہ فرما کر کہ”جب تک موت نہیں آتی،اُس وقت تک کوئی شخص مر نہیں سکتا“۔اور ”بسم اﷲ لا یضر مع اسمہ شیئ....آخر تک)پڑھ کر اُس کو کھا گئے۔تھوڑے عرصہ بے ہو شی کے عالم میں پڑے رہے،اور پھر اُٹھ کر بیٹھ گئے۔اور اچھی طرح باتیں کرنے لگے۔ابن عبد المسیح نے یہ ماجرا دیکھ کرکہا۔اﷲ کی قسم!جب تک تم میں ایک بھی ایسا آدمی موجود رہے گا،تب تک تم جو چاہو گے ،حاصل کر لو گے۔(ابن خلدون)


اہل حیرہ کی اطاعت


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے اہل حیرہ نے مسلمانوںاور اسلامی حکومت کی اطاعت کا معاہد ہ کیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حسب ذیل معاہدہ لکھ کر دیا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔یہ معاہدہ خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) نے عدی کے دونوں بیٹوں عمر اور عدی سے،اور عمرو بن عبد المسیح سے،اور ایاس بن قبیصہ سے،اور حیری بن اکال سے کیا ہے۔یہ لوگ اہل حیرہ کے نقتب ہیں۔انہوں نے ان لوگوں کو اس معاہدے کی تکمیل کے لئے مجاز گردانا ہے،اور وہ اس معاہدے پر رضامند ہیں۔معاہدہ اس بات پر ہے کہ اہل حیرہ سے اور ان کے پادریوں اور راہبوں سے سالانہ ایک لاکھ نوے ہزار درہم جزیہ وصول کیا جائے گا۔مگر تارک الدنیا راہب اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔اس معاوضے کے بدلے میں ہم(مسلمان)ان کے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔اور جب حفاظت نہیں کر سکیں گے ،تو جزیہ نہیں لیا جائے گا۔اگر ان لوگوں نے اپنے کسی قول یا فعل سے اس کی خلاف ورزی کی تو یہ معاہدہ فسخ ہو جائے گا۔اور ہم ان کی حفاظت کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے۔“المرقوم ماہ ربیع الاول ۲۱ ھجری۔یہ تحریر اہل حیرہ کے حوالے کر دی گئی۔لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بعد اس علاقے کے لوگوں نے اس معاہدہ کو پھاڑ ڈالا۔ اور فار سیوں سے معاہدہ کر لیا۔جب حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ کو لشکر دیکر بھیجا ،تو ان لوگوں نے اس معاہدے کا ذکر کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وہ معاہدہ مانگا تو وہ پیش نہیں کر سکے۔اِس کا ذکر انشا ءاﷲ آگے آئے گا۔اس کے بعد صلوبا بن نسطونا نے سالانہ دس ہزر دینار اور کسری کے موتی کے جزیہ پر با نقیا اور باسما کی بستیوں کے بارے میں معاہد ہ لکھ کر دیا۔اور اہل حیرہ کے آس پاس کے قبائل اس بات کے منتظر تھے کہ دیکھیں کون میدان مارتا ہے۔جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان ہر جگہ حاوی ہو گئے ہیں تو انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کرجزیہ دینا منظور کر لیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سالانہ بیس لاکھ درہم جزیہ پر معاہدہ لکھ کر دیا۔


حیرہ کی فتح پر شکرانہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ کی فتح سے فارغ ہوگئے،اور تمام علاقہ مسلمانوں کے دست نگر آگیا۔ تو آپ رضی اﷲ عنہ نے شکرانے کی نماز پڑھی۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔جب حیرہ فتح ہو گیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے شکرانے کی نماز پڑھی،جس میں آٹھ رکعتیں ایک سلام سے ادا کیں۔اُس سے فارغ ہوئے تو فرمایا:”جنگ موتہ(رومی لشکر سے) میں جب میں لڑا تھا تو اُس وقت میرے ہاتھوں نو (۹)تلواریں ٹوٹی تھیں۔میںنے اہل فارس سے زیادہ بہادر قوم نہیں دیکھی ہے۔اور اِن میں بھی اہل اُلیس کو سب سے بڑھ کر بہادر پایا ہے۔ایک دوسری روایت میں یہی واقعہ مذکور ہے ،مگر اُس میں رکعتوں کا ذکر نہیں ہے۔قیس بن حازم جریر کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس آئے تھے۔اُن کا بیان ہے کہ ہم جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ اُس وقت وہ ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں،جسے انہوں نے اپنی گردن پر باندھ رکھا تھا،اورتنہا نماز پڑھ رہے تھے۔جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہنے لگے:”جنگ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو(۹)تلواریں ٹوٹی تھیں،صرف ایک یمنی تلوار میرے ہاتھ ایسی چڑھی کہ آج تک کام دے رہی ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں....!

12 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida



خلافت ِ راشدہ_12 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 12


مفتوحہ علاقوں پر عاملوں(گورنروں)اور فوجی افسروں کا تقرر، فارسیوں کے نام خطوط، سلطنت فارس کے شاہی خاندان میں ناچاقی، خلیفہ اول کے احکامات، خلیفہ اول کے حکم کی تعمیل، انبار کا محاصرہ، جنگ ذات العیون، خندق پر جانوروں کا پل، جنگ عن التمر، دومتہ الجندل کی طرف روانگی، جنگ دومتہ الجندل، فارسیوں کے لشکر، مصیخ میں کامیابی، ثنیٰ اور زمیل میں کامیابی


مفتوحہ علاقوں پر عاملوں(گورنروں)اور فوجی افسروں کا تقرر


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اس کے بعد صوبہ داروں(گورنروں)اور فوجی چوکیوں کے افسروں کا تقرر کیا۔فلالیج کے بالائی علاقے پر حضرت عبد اﷲ بن وثیمہ نصری کو بھیجا کہ وہ وہاں کے باشندوں کی حفاظت کریں،اور جزیہ وصول کرتے رہیں۔با نقیا اور باد سما پر حضرت جریر بن عبداﷲ کو مقرر کیا۔نہرین پر حضرت بشیر بن خصاصیہ کو مامور کیا،انہوں نے بانبورا میں کویفہ کو اپنا مستقر بنایا۔حضیر کی طرف حضرت سوید بن مقرن کو بھیجا،انہوں نے عقر میں قیام کیا،جو آج تک ”عقر سوید“کے نام سے مشہور ہے۔روذمستان کی طرف حضرت اط بن ابی اط کو بھیجا،انہوں نے نہر کو اپنا مستقر بنایا۔آج تک یہ نہر ”نہر اط “کے نام سے مشہور ہے۔یہ سب عامل (گورنر)تھے۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے سرحدی چوکیوں پر حضرت ضرار بن ازور،حضرت ضرار بن خطاب،حضرت مثنیٰ بن حارثہ،حضرت ضرار بن مقرن،حضرت قعقاع بن عمرو،حضرت بسر بن ابی رہم اور حضرت عتیبہ بن نہاس کو دستے دیکر متعین کیا۔آپ رضی ا ﷲعنہ نے حکم دیا کہ دشمن پر یورش کرتے رہنا،اور چین لینے نہیں دینا۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی سرحد سے آگے دجلہ کے کنارے تک تمام علاقہ دشمنوں سے چھین لیا تھا۔جس کا ذکر انشاءاﷲ آگے آئے گا۔


فارسیوں کے نام خطوط


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے مطمئن ہو گئے۔تب آپ رضی اﷲ عنہ نے دو خط تحریر کروائے،ایک خط سلطنت فارس کے مرکز کی طرف روانہ کیا،اور دوسرا خط الگ الگ علاقوں کے سرداروں یا حکمرانوں کی طرف روانہ کیا۔اس دوران سلطنت فارس کے مرکز میں ایرانیوں(فارسیوں )میں آپس میں اختلافات ہو گئے تھے۔اور کسریٰ ارد شیر اور اس کے بیٹے شیری کواُس کے خاندانی دشمنوں نے قتل کر دیا تھا۔اور ہر کوئی سلطنت فارس کی حکومت اپنے ہاتھ میں لینے سے ڈر رہا تھا،کہ کہیں میرا بھی قتل نہ ہو جائے۔اس لئے بڑے بڑے علاقوں کے گورنر (حکمراں)اس وقت مر کز میں جمع تھے۔اُن کے پاس حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا قاصد خط لیکر پہنچا۔جس میں لکھا تھا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ)کی طرف سے فارس کے بادشاہوں کے نام۔اما بعد۔اُس اﷲ کا شکر ہے کہ جس نے تمہارا نظام ابتر کر دیا ہے،جس نے تمہاری مکاری ناکام کر دی ہے۔جس نے تم میں اختلافات پیدا کر دیئے ہیں۔اگر اﷲ ایسا نہیں کرتا تو تمہارا نقصان تھا،لہٰذا تم ہماری حکومت قبول کر لو،اور ہم تم کو تمہاری سرزمین پر چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں گے۔ورنہ تم ایسی قوم کے ہاتھوں مغلوب ہو گے،جو موت کو اس سے بھی زیادہ پسند کرتی ہے،جتنا تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔“دوسرا خط جو آپ رضی اﷲ عنہ نے سلطنت فارس کی عوام اور چھوٹے سرداروں یا حکمرانوں کی طرف بھیجا تھا۔اس میں لکھا تھا۔”بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ) کی طرف سے سرداران ِ فارس (اور عوام )کے نام۔امابعد۔تم لوگ اسلام قبول کر لو ،سلامت رہو گے،یا جزیہ ادا کرو،اور ہمارے ذمی بن جاو¿۔ورنہ یاد رکھو کہ میں تم پر ایسی قوم چڑھا لایا ہوں،جو موت کو اتنا ہی پسند کرتی ہے،جتنا تم شراب کو پسند کرتے ہو۔“


سلطنت فارس کے شاہی خاندان میں ناچاقی


   حضرت خالد بن ولید ادھر مختلف علاقوں کو فتح کرتے جا رہے تھے،اور ادھر سلطنت فارس کے شاہی خاندان آپس میں لڑ رہے تھے۔شیری بن کسریٰ(اردشیر)نے کسریٰ بن قباذ کے خاندان کے ہر شخص کو موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔یہاں تک کہ بہرام گور تک کی اولاد کو بھی قتل کر دیا تھا۔اور کسریٰ بن قباذ کے ہمدرد سرداروں نے اُسے اور اس کے خاندان والوں کو قتل کردیا تھا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملتا تھا ،جس کو با الاتفاق اپنا بادشاہ بنا سکیں۔سلطنت فارس کے بڑے بڑے سردار حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے لڑنے میں مختلف الرائے تھے۔اور لڑائی کو ایک دوسرے پر ٹالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ہاں ان سب نے ملکر اتنا کیا تھا کہ بہمن جازویہ کو ایک لشکر دیکر مسلمانوں کی طرف روانہ کر دیا تھا۔جب آپ رضی اﷲ عنہ کا خط سلطنت فارس کے مرکز پہنچا تو شاہی خاندان کی عورتوں نے ملکر یہ فیصلہ کیا کہ جب تک تمام لوگوں کا ایک بادشاہ پر اتفاق نہیں ہو گا،تب تک کے لئے فرخ زاد کو سلطنت فارس کا نگران بادشاہ بنا دیا۔اس طر ح عارضی طور سے یہ مسئلہ حل ہو گیا۔


خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے احکامات


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جس وقت حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ تم عراق کے زیریں حصے داخل ہوں۔اُسی وقت حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا تھا کہ عراق کے بالائی حصے سے داخل ہوں۔اور دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم مسلسل آگے بڑھتے ہوئے حیرہ تک پہنچیں،اور آپس میں مل جائیں۔جو پہلے حیرہ پہنچے گاوہ اس کا حاکم ہو گا۔اور جب تم دونوں اﷲ کے حکم سے حیرہ میں اکٹھا ہو جاو¿ تو ملک عرب اور ملک عراق کی درمیانی چوکیوں کو توڑ دینا۔اور جب تمہیں اطمینان ہو جائے کہ اب مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ نہیں ہو گا،تو تب تک تم میں سے ایک حیرہ میں قیام کرے ۔اور دوسرا دشمن کے علاقے میں گھس کر اس کے ملک پر بزور ِ شمشیرقبضہ کرتا چلا جائے۔اور اﷲ تعالیٰ سے ہر وقت مدد چاہتے رہو،اور اُس سے ڈرتے رہو۔آخرت کے معاملے کو دنیا پر ترجیح دو،تمہیں دونوں مل جائیں گی۔اور دنیا کو آخرت پر کبھی ترجیح نہ دینا،ورنہ دونوں ہاتھ سے جاتے رہیں گے۔جن چیزوں سے اﷲ نے ڈرایا ہے،اُن سے ڈرتے رہو۔گناہوں سے بچتے رہو،اور توبہ میں جلدی کرنا۔گناہوں پر اصرارنہ کرنا ،اور توبہ کرنے میں تاخیر نہ کرنا۔اسی حکم کے مطابق حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ پہنچ گئے،اور فلالیج سے سواد اسفل تک کا تمام علاقہ اُن کے زیر حکومت آگیا۔تو انہوں نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کی تعمیل کے لئے اپنے تمام مفتوحہ علاقوں پر گورنر اور فوجی افسر مقرر کر کے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کی طرف بڑھے۔


خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کی تعمیل


   حضرت عیاض بن غنیم جب بالائی عراق میں داخل ہوئے تو آگے بڑھتے ہوئے دومة الجندل میں آپ رضی اﷲ عنہ کا سر بری طرح زخمی ہو گیا تھا،اس کی وجہ سے آپ رضی ا ﷲ عنہ کی آگے بڑھنے کی رفتار بہت دھیمی ہو گئی ۔اہل فارس کی ایک سرحدی چوکی العین میں،دوسری انبار میں،اور تیسری فراض میں تھی،اور تینوں میں ایک ایک لشکر تھے۔حضرت عیاض بن غنم انہیں کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے،اور آگے نہیں بڑھ سکے تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب حیرہ سے فارغ ہو گئے تو خلیفہ اول کے حکم کی تعمیل کے لئے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے سرحدی علاقوں کو فتح کرتے ہوئے دجلہ کے کنارے آگے بڑھے۔راستے میں آپ رضی اﷲ عنہ کا کربلا میں چند روز قیام ہوا ،تو حضرت عبد اﷲ بن وثیمہ نے مکھیوں کی شکایت کی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ذرا صبر کرو ،میں چاہتا ہوں کہ وہ تمام چوکیاں جن کے متعلق حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا گیا تھا، وہ دشمنوں سے خالی کرا لوں ۔تاکہ ہم ان میں مسلمانوں کو متعین کر دیں،اور مسلمانوں کے لشکر کو پیچھے سے دشمن کے حملہ آوار ہونے کا خطرہ نہ رہے،اور مسلمانوں کی آمدو رفت اطمینان سے ہو سکے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے،اور ان کی رائے اُمت کی فلاح و بہود کے لئے ہوتی ہے۔“اب ہم اِن حالات کو قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔


انبار کا محاصرہ


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲعنہ نے لشکر کے ”مقدمة الجیش“(اگلے حصے ) کے طور پر حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ کو لشکر کا ایک حصہ دیکر روانہ کیا۔اورخود پورا لشکر لیکر دوسرے دن روانہ ہوئے۔حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ نے انبار سے ایک منزل کے فاصلے پر قیام کیا تو وہاں اونٹینوں کے بچے پیدا ہو گئے۔جن کی وجہ سے آگے بڑھنا مشکل ہو گیا تھا،اور انبار وقت پر پہنچنا ضروری تھا۔ اسلئے یہ ترکیب نکالی کہ جن بچوں کو چلنے کی طاقت نہیں تھی،انہیں اُن کی ماو¿ں پر لاد دیا گیا۔اور اسی طرح لادے لادے انبار پہنچے۔انبا ر والے پہلے ہی قلعہ بند ہو گئے تھے،قلعے کے اطراف خندق کھدی ہوئی تھی،اور وہ قلعے کی فصیل سے جھانک جھانک کر دیکھ رہے تھے۔اُن کا سپہ سالار ساباط کا رئیس شیر زاذ تھا،وہ اپنے زمانے میں بڑا عقلمند ،معزز اور عرب و عجم میں ہر دلعزیز عجمی تھا۔انبار کے لوگوں نے فصیل پر سے چلا کر کہا :”آج کی صبح انبار کے حق میں بہت بری ہے،اونٹوں پر اُن کے بچے لدے ہوئے ہیں،جن کو وہ دودھ پلاتی ہیں۔“شیرزاذ نے پوچھا کہ یہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟لوگوں نے اُس کو اس کا مطلب سمجھایا،تو شیرزاذ نے کہا:”میں قسم کھا کر کہتا ہوںکہ اگر خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) یہاں سے کہیں اور طرف نہیں گئے تو میں اُن سے صلح کر لوں گا۔“حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ نے قلعے کا محاصرہ کرلیا۔


جنگ ذات العیون


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲعنہ جب انبار پہنچے ،اور دیکھا کہ انبار کے لوگ قلعہ بند ہو گئے ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے خندق کے اطراف ایک چکر لگایا ،اور جنگ شروع کردی۔اُن کی یہ عادت تھی کہ جہاں کہیں بھی کوئی موقع انہیں جنگ کرنے کا نظر آتا تھایا سن پاتے تھے تو ضبط نہیں کر پاتے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے تیر اندازوں کے پاس گئے،اور فرمایا:”میں سمجھتا ہو کہ یہ لوگ اصول جنگ سے بالکل نا آشنا ہیں،تم لوگ صرف اُن کی آنکھوں کو نشانہ بناو¿،اور اُس کے سوا کہیں بھی تیر نہیں مارنا۔“اس کے بعد خندق کے سامنے مٹی کی دیوار بنائی ،جس کے پیچھے چھپ کر تیر اندازوں نے قلعے کی فصیل پر تعینا ت سپاہیوں کی آنکھوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔کیونکہ اُن لوگوں کی صرف لوہے کی ٹوپیاں ہی دکھائی دے رہی تھیں،باقی جسم قلعے کی فصیل کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔جیسے ہی وہ نیچے جھانک کر دیکھنے کی کوشش کرتے تھے،ویسے ہی میدان میں مٹی کے پیچھے چھپے مسلمان اُس کی آنکھ پر تیر مار دیتے تھے۔مسلمان دن بھر تیر کی باڑھ مارتے رہے،اور جب شام ہوئی تو دشمنوں نے دیکھا کہ اُن کے ایک ہزارسے زیادہ سپاہیوںکی آنکھیں پھوٹ چکی ہیں۔یہ دیکھ کر دشمنوں میں شور مچ گیا کہ اہل انبار کی آنکیں جاتی رہیں۔اسی لئے اِس جنگ کا نام ”ذات العیون“پڑ گیا۔شیر زاذ نے جب اپنے سپاہیوں کا یہ حال دیکھا تو کہا کہ اب میں خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) سے صلح کروں گا۔اور اس کے لئے اپنے قاصد بھیجے ،لیکن ایسی شرائط پیش کیں،جنہیں آپ رضی اﷲ عنہ نے قبول نہیں کیا،اور قاصدوں کو واپس بھیج دیا۔


خندق پر جانوروں کا پل


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اس کے بعد خندق کے اطراف چکر لگانے لگے،اور خندق پار کرنے کا راستہ تلاش کرنے لگے۔ایک جگہ خندق کچھ کم چوڑی نظر آئی،لیکن پھر بھی اتنی چوڑی تھی کہ گھوڑے چھلانگ لگا کر اُسے نہیں پارکر سکتے تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ لشکر میں آگئے،اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر غور کرنے لگے کہ کس طرح خندق پار کی جائے۔آخر کار آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ لشکر کے بوڑھے اور بے کار اونٹوں کو جمع کرو،یہ کئی سو تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ ان سب کو اُس جگہ لائے ،جہاںخندق کم چوڑی تھی،اور حکم دیا کہ انہیں زبح کر کے خندق میں پھینکتے جاو¿۔فارسی سپاہی حیرت سے مسلمانوں کی اِس کاروائی کو فصیل کے اوپر سے کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے۔جب تک اُنہیں اِس کاروائی کا مطلب سمجھ میں آتا ،تب تک مسلمان اونٹوں کو زبح کر کے خندق کو بھر چکے تھے۔اور مزبوحہ جانوروں کا ایک پل تیار ہو گیا تھا۔یہ دیکھ کر فارسی سپاہیوں نے فصیل پر سے تیر اندازی شروع کر دی ،تاکہ مسلمان جانوروں کے پل کا استعمال کر کے خندق پار کر کے قلعے کی فصیل تک نہ پہنچ سکیں۔ادھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جانوروں کے پل کے پاس مٹی کی دیوار بنا کر تیر اندازوں کو بٹھا دیا۔اور حکم دیا کہ مسلسل تیر چلائیں،اور باقی لشکر کو حکم دیا کہ میرے پیچھے آو¿۔اس کے بعد آپ رضی ا ﷲ عنہ جانوروں کے پل پر تلوار لیکر آگے بڑھنے لگے۔دونوں اطراف سے تیر اندازی ہو رہی تھی،اور آپ رضی اﷲ عنہ کے آس پاس سے تیر جا رہے تھے۔دشمنوں کی طرف سے آنے والے تیروں کو اپنی تلوار سے کاٹتے ہوئے آپ رضی اﷲ عنہ نے جانوروں کا پل پار کرلیا۔پیچھے مسلمان بھی آرہے تھے۔یہاں تک کہ اچھے خاصے مسلمان فصیل تک پہنچ گئے ،اور دروازہ توڑنے کی تیاری کرنے لگے۔شیر زاذ نے پھر پیغام بیھجا کہ مجھے ایک دستے کے ساتھ نکل جانے دیں،آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے منظور کر لیا۔اور شیر زاذقلعہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔یہ دیکھ کر سب لوگوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔


اہل انبار اور آس پاس کے علاقوں سے صلح


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لئے اہل انبار نے قلعے کا دروازہ کھول دیا،کیونکہ اُن کا سربراہ اپنی جان بچا کر بھاگ گیا تھا۔انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کی جاں بخشی کر دی۔آپ رضی ا ﷲعنہ نے دیکھا کہ یہ لوگ عربی بولتے ،لکھتے اور پڑھتے ہیں تو دریافت کیا کہ تم لوگ عربی ہو یا فارسی ہو؟تو انہوں نے بتایا کہ بخت نصر نے جب عربوں پر حملہ کیا تھا تو وہ لوگ یہاں آکر آباد ہو گئے تھے۔اس کے بعد انبار کے لوگوں نے آپ رضی اﷲ عنہ سے صلح کر لی۔اور انبار کے آس پاس آباد لوگوں نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر صلح کر لی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے ان تمام علاقوں پر اپنے گورنر اور فوجی افسروں کو مقرر کردیا۔اور جزیہ کی رقم اور فتح کی خوش خبری حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیج دی۔


جنگ عن التمر


   حضرت خالد بن ولید رضی ا ﷲ کو جب انبار کی طرف سے اطمینا ن ہو گیا،اور وہ مکمل طور سے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت زبر قان بن بدر کو اپنا نائب بنایا ،اور خود عن التمرکی طرف لشکر لیکر روانہ ہوئے۔وہاں مہران بن بہرام عجمیوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ مقیم تھا۔اور عقہ بن ابی عقہ اپنے قبیلے کے ساتھ تھا،اس کے علاوہ بنو نمبر،بنو تغلب،اور بنو ایاد کے قبائل بھی اُس کے ساتھ تھے۔جب اِن لوگوں کو آپ رضی ا ﷲ عنہ کے آنے کی اطلاع ملی تو عقہ نے مہران سے کہا کہ ہم عرب ،عربوں سے لڑنے کا فن خوب جانتے ہیں،اس لئے تم کچھ نہ کرو،خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ) سے ہم نمٹ لیں گے۔مہران نے کہا کہ ٹھیک ہے ،تم ہی لڑو۔اگر ضرورت ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔جب عقہ میدان میں اپنا لشکر لیکر چلا گیاتو عجمیوں نے مہران سے کہاکہ تم نے اِس کتے سے ایسی بات کیوں کہی؟مہران نے کہا میں نے جو ارادہ کیا ہے تمہارا اِس میں فائدہ ہے،اور اُن کا نقصان ہے۔کیونکہ اِس وقت تمہارے مقابلے کے لئے ایک ایسا شخص آ رہا ہے،جس نے تمہارے سلاطین کو قتل کر دیا ہے۔اور تمہاری سطوت و شوکت کا خاتمہ کر دیا ہے۔اگر یہ عرب خالدبن ولید(رضی اﷲعنہ) کے مقابلے میں کامیاب ہو گئے تو تمہیں ایک بہت بڑے دشمن سے نجات مل جائے گی،اور اگر یہ ہار گئے تو دشمن اپنی طاقت کھو کر تمھارے پاس آئے گا،اور ہم طاقتور ہوں گے۔عقہ وہاں سے چلکر ایک دن کی مسافت کے فاصلے پرآیا،اور پڑاو¿ ڈال دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲجب وہاں پہنچے تو وہ اپنے لشکر کی صفیں مرتب کر رہا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اُسے دیکھتے ہی اپنے لشکر سے فرمایا:”میں اُس پر حملہ کرتا ہوں ،تم اُس کے لشکر کو سنبھالنا۔“اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھے،اور عقہ کو گرفتار کر کے اُس کے ہاتھ پاو¿ں باندھ دیئے۔یہ دیکھ کر اُس کے لشکر کے حوصلے ٹوٹ گئے،اور وہ بھاگنے لگے تو مسلمانوں نے اُن کا قتل عام شروع کردیا۔مہران کو مسلمانوں کی فتح کی خبر ملی تو وہ اپنے لشکر کو لیکر فرار ہو گیا،اور پورا قلعہ کھلا ہو پڑا تھا۔عقہ کے لشکر کے لوگ بھاگ کر آئے تو دیکھا کہ قلعہ کھلا ہے ،اور مہران اپنے لشکر کو لیکر بھاگ گیا ہے،تو اُن لوگوں نے قلعے میں پناہ لی ،اور دروازہ بند کر دیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ آئے،اور قلعے کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔اُن کے ساتھ عقہ اور عمرو بن صعق قید میں تھے۔قلعے کے اندر کے لوگوں نے مسلمانوں کو دوسرے لٹیروں کی طرح سمجھ لیا تھا،لیکن جب یہ دیکھا کہ یہ لوگ پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہیں تو امان طلب کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تمہیں ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے،اور قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے سب کو غلام اور لونڈی بنا لیا،اور عقہ اور عمرو بن صعق کو اُن کے سامنے قتل کر دیا۔


دومتہ الجندل کی طرف روانگی


   حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کی خدمت میں مال غنیمت اور جزیہ لیکر ولید بن عقبہ حاضر ہوا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کی مدد کے لئے اُن کے پاس بھیج دیا۔جب وہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ دشمنوں نے حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ کا راستہ روک رکھا ہے،تو اُس نے کہا کہ کبھی کبھی فوج کی کثرت کی تعداد کے مقابلے میں ایک عقل کی بات زیادہ کار گر ہوتی ہے۔اور میری تو رائے یہ ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ قاصد کو بھیج کر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے مدد طلب کییجیئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے ایسا ہی کیا۔اور جب قاصد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچا تو عن التمر فتح ہو چکا تھا ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عیاض رضی اﷲ عنہ کو جواب بھیجا کہ میں بہت جلدتمہارے پاس آتا ہوں۔ اور آپ رضی اﷲ عنہ نے عن التمر میں حضرت عویم بن کاہل کو اپنا نائب بنایا۔اور حالانکہ لشکر مسلسل جنگ اور سفر سے تھک چکا تھا،لیکن مسلمانوں میں ابھی بھی اسلامی خون کا جوش ویسا ہی تھا۔اسی لئے فوراً حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چل پڑا۔


جنگ دومتہ الجندل


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے لشکر لیکر آنے کی خبر جب دومتہ الجندل کے لوگوں کو ملی تو انہوں نے بنو بہراء،بنو کلب،بنو غسان، بنو تنوخ،اور بنو ضجاعم کے قبیلوں سے لشکر طلب کئے۔سب سے پہلے ودیعہ بنو کلب اور بنو بہراءکے لشکر لیکر آیا،پھر بقیہ قبائل بھی لشکر لیکر آئے۔اُن لاگوں کے دو سردار اکیدر بن عبد الملک اور جادی بن ربیعہ تھے۔ان دونوں میں اختلاف ہو گیا۔اکیدر کہنے لگا کہ میں خالد بن ولید (رضی اﷲ عنہ ) کو اچھی طرح جانتا ہوں،جنگ میں اُس سے زیادہ خوش قسمت شخص کوئی نہیں ہے۔اور نہ خود اُس سے زیادہ خوش قسمت کوئی ہے۔اور جس قوم نے بھی خالد بن ولید(رضی اﷲ عنہ ) کا چہرہ دیکھاہے،چاہے وہ تھوڑی ہو یا زیادہ،اُس نے شکست کھائی ہے۔پس میری بات مان لو ،اور ان لوگوں سے صلح کر لو۔مگر انہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔اُس نے کہا کہ میں خالد (رضی اﷲ عنہ) سے جنگ کرنے میں تمہاری ہر گز مدد نہیں کرو ں گا۔اور وہ اُن سے الگ ہو گیا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ راستے میں ہی تھے کہ اکیدر کے بارے میں اطلاع ملی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت عاصم بن عمرو کو اُس کا راستہ روکنے کے لئے بھیجا۔ایک روایت کے مطابق فریقین میں مقابلہ ہوا ،اور اکیدر مارا گیا۔اور دوسری روایت کے مطابق اسے گرفتار کر کے لایا گیا تو آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے دومتہ الجندل کے لشکر کے سامنے پڑاو¿ ڈال دیا۔اب دونوں طرف اسلامی لشکر تھے،اور درمیان میں اہل دومتہ الجندل اور اعرابیوں(دیہا تیوں) کا لشکر تھا۔جودی نے اپنے لشکر کو دو حصوں میں تقسیم کیا ۔اور دونوں سے جنگ شروع کر دی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اپنے سامنے والے لشکر پر ،اور حضرت عیاض بن غنم نے اپنے سامنے والے لشکر پر حملہ کر دیا۔اور دشمنوں کو رگیدنے لگے۔انہوں نے بھی جم کر مقابلہ کیا،بڑی شدید جنگ ہوئی اور گھمسان کا رن پڑا۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔اور دشمن شکست کھا کر قلعے کی طرف بھاگے۔اسی دوران حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے جودی کو اور حضرت اقرع بن حابس رضی اﷲ عنہ نے ودیعہ کو گرفتار کر لیا۔باقی لوگ قلعے میں جاکر گھس گئے،اور جب قلعہ بھر گیا تو دروازہ بند کر دیا۔کافی لوگ باہر رہ گئے،اور پریشانی کے عالم میں جان بچانے ے لئے بھاگنے لگے۔ایسے وقت میں حضرت عاصم بن عمرو نے مسلمانوں میں سے بنو تمیم سے کہا۔اے بنو تمیم!اپنے حلیف بنو کلب کی مدد کرو۔اور بنو تمیم نے بنو کلب کو اپنی پناہ میں لے لیا۔ادھر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ بھاگنے والوں کا پیچھا کر رہے تھے،اور اتنے آدمیوں کو قتل کیا کہ اُن کی لاشوں سے قلعے کا راستہ مسدود ہو گیا۔پھرقلعہ والوں سے کہا کہ دروازہ کھول دو۔ انہوں نے انکار کر دیا توجودی کو بلا کر اس کو اُن کے رو بروقلعے کے سامنے قتل کردیا،اور تمام قیدیوں کو بھی قتل کردیا۔صرف بنو کلب کے لوگ زندہ بچ سکے ،کیونکہ حضرت عاصم ،حضرت اقرع اور بنو تمیم کے لوگوں نے کہہ دیا تھا کہ ہم نے ان کو امان دے دی ہے۔حضرت خالد بن ولید نے اُن سے فرمایا:”تم کو کیا ہو گیا ہے کہ جاہلیت کے کاموں کی حفاظت کرتے ہو ،اور اسلام کے کام کو ضائع کرتے ہو؟“حضرت عاصم نے کہا:”آپ رضی اﷲ عنہ ان لوگوں کی عافیت پر حسد نہ کریں،شیطان ان کو اب نہیں ورغلائے گا۔“پھر آپ رضی اﷲ عنہ قلعے کے دروازے پر پہنچے ،اور اُس کے پیچھے ایسے پڑے کہ اُس کو توڑ کر ہی دم لیا۔مسلمان قلعے میں گھس گئے،اور لڑنے والوں کو قتل کیا ،باقی کو غلام اور لونڈی بنا لیا۔اس کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ دومتہ الجندل میں ٹھہر گئے،اور حضرت اقرع بن حابس کو انبار واپس بھیج دیا۔حیرہ سے دومتہ الجندل صرف ایک رات کی مسافت پر تھا۔


فارسیوں کے لشکر


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ دومتہ الجندل میں اپنے لشکر کے ساتھ کچھ دنوںکے لئے آرام کر رہے تھے۔اسی دوران فارسیوں نے آپ رضی اﷲ عنہ کی غیر موجودگی کا فائدہ اُٹھا کر حیرہ پر قبضہ کر لینا آسان کام سمجھ لیا تھا۔اور اپنے لشکر کو منظم کرنا شروع کر دیا تھا۔حیرہ کے عربوں نے عقہ کے قتل سے برہم ہو کر مسلمانوں کے خلاف ان کو ابھارا۔جزیرہ کے عربوں نے عجمیوں سے خط وکتابت اور ساز باز کر لی تھی۔اسی مقصد سے بغداد سے زر مہر اور اُس کے ساتھ روزبہ انبار کی طرف روانہ ہوئے،اور دونوں نے حصید اور خنافس پر ملنے کا وعدہ کیا۔حضرت زبر قان جو انبار کے گورنر تھے،انہوں نے اس کی اطلا ع حضرت قعقاع کو دی ،جو اُس وقت حیرہ میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے نائب تھے۔حضرت قعقاع نے اعبد بن فدکی سعدی کو لشکر دے کر حصید کی طرف روانہ کیا،اور عروہ بن جور کو خنافس کی طرف روانہ کیا۔اور دونوں کو ہدایت کی کہ اگر تمہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے تو بڑھ جانا۔یہ دونوں وہاں پہنچ کر درمیان میں ایسے مقام پر ٹھہرے کہ حصید اور خنافس کا ریف سے تعلق منقطع ہو گیا،اور اُن کے راستے مسدود ہو گئے۔زرمہر اور روزبہ مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے ربیعہ کے اُن لوگوں کا انتظار کر رہے تھے،جن سے وعدے وعید ہو چکے تھے۔


جنگ حصید


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ دومتہ الجندل سے حضرت عیاض بن غنم کے لشکر اور اپنے لشکر کو ساتھ لیکر حیرہ آئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کا اردہ حضرت عیاض بن غنم کو مفتوحہ علاقے سونپ کر مدائن پر حملہ کرنے کا تھا۔مگر جب حیرہ پہنچ کر انہیں تمام واقعات کا علم ہوا تو انہوں نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی ہدایت کے خلاف کام کرنا مناسب نہیں سمجھا۔اور فوراً حضرت قعقاع بن عمرو اورحضرت ابو لیلیٰ کو روزبہ اور زرمہر کے مقابلے پر بھیج دیا۔یہ دونوں آپ رضی اﷲ عنہ سے پہلے وہاں پہنچ گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس امرالقیس کلبی کا خط آیا کہ ہزیل بن عمرو نے مصیح میں ،ربیعہ بن بجیر نے ثنیٰ اور بشر میں فوجیں جمع کی ہیں۔یہ لوگ عقہ کے انتقام کے جوش میں زرمہر اورروزبہ کی طرف جا رہے ہیں۔یہ معلوم ہوتے ہی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حیرہ پر حضرت عیاض بن غنم رضی اﷲ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔اور خود لشکر لیکر روانہ ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے لشکر کے ”مقدمة الجیش“کے کمانڈر حضرت اقرع بن حابس تھے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے بھی خنافس جانے کے لئے وہی راستہ اختیار کیا،جس سے حضرت قعقاع اور حضرت ابو لیلیٰ گئے تھے۔مقام”عین“میں آکر آپ رضی اﷲ عنہ اِن دونوں سے مل گئے۔یہاں آکر حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت قعقاع کو ایک لشکر دے کر حصید روانہ کیا۔اور حضرت ابو لیلیٰ کو خنافس بھیجا،اور حکم دیا کہ دشمنوں کو اور ان کو بھڑکانے والوں کو گھیر کر ایک جگہ جمع کرو۔اور اگر وہ جمع نہ ہوں تو اُسی حالت میں اُن پر حملہ کر دو،مگر وہاں پہنچ کر انہوں نے توقف سے کام لیا۔حضرت قعقاع نے جب دیکھا کہ زرمہر ،اور روزبہ اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں ہیں،وہ روزبہ کی طرف روانہ ہوئے،جو حصید میں اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا۔روزبہ کو جب اطلاع ملی تو وہ گھبرا گیا ،اور زرمہر سے مدد طلب کی،اُس نے اپنی فوج پر مہوزان کو نائب بنایا،اور خود ایک دستہ لیکر روزبہ کی مدد کو آگیا۔حصید میں فریقین کا مقابلہ ہوا ،بڑی شدت کی جنگ ہوئی۔اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ،اور انہوں نے عجمیوں کو بہت بڑی تعداد میں قتل کیا۔اور بہت سے عجمی بھاگ کر خنافس میں جاکر جمع ہو گئے۔ اِس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ بے شمار مال غنیمت آیا۔


مصیخ میں کامیابی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابو لیلیٰ کو خنافس کی طرف روانہ کیا تھا،انہوں نے حملہ کرنے میں کچھ دیر کی،تب تک حصید سے بھاگے ہوئے لوگ مہوازن کے پاس پہنچ چکے تھے۔یہ دیکھکر حضرت ابو لیلیٰ لشکر لیکر آگے بڑھے تو مہوازن لڑنے کے بجائے لشکر لیکر مصیخ بھاگ گیا۔وہاں کا افسر ہزیل بن عمران تھا۔خنافس کی فتح کے لئے حضرت ابو لیلیٰ کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔اِن تمام فتوحات کی اطلاع حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو دی گئی۔آپ رضی اﷲ عنہ کو جب حصید کی فتح اور اہل خنافس کے بھاگنے کی اطلاع ملی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کے تمام لشکروں کو ایک مخصوص رات میں مصیخ پہنچنے کا حکم دیا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ بھی اپنے لشکر کو لیکر ”عین “سے مصیخ کی طرف روانہ ہو گئے۔مقررہ رات کو طے شدہ وقت پر تمام اسلامی لشکر جمع ہوا ۔اور حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے آتے ہی مصیخ میں جمع عجمیوں کے لشکر پر اچانک حملہ کر دیا۔ہذیل اور اُس کی فوج ،اور تمام بھاگے ہوئے فوجی سب پڑے سو رہے تھے۔مسلمانوں نے اچانک تین طرف سے گھیر کر حملہ کر دیا ،اور فارسیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ہذیل اپنے چند ساتھیوں کی مدد سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔باقی تمام لوگ قتل کردیئے گئے،لاشوں سے پورا میدان اِس طرح پٹ گیا،جیسے بکریاں ذبح کی ہوئی پڑی ہیں۔مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت آیا۔


ثنیٰ اور زمیل میں کامیابی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مصیخ کی فتح کے بعد حضرت قعقاع اور حضرت ابو لیلیٰ کو حکم دیا کہ اپنے اپنے لشکر لیکر روانہ ہو جاو¿،اور فلاں رات کو ثنیٰ میں ملو،جہاں ربیعہ بن بجیر اپنے لشکر کے ساتھ پڑاو¿ ڈالے ہوئے ہے۔اس کے بعد تینوں لشکر روانہ ہو گئے۔اُدھر عقہ کے انتقام کے جوش میں ربیعہ نے فوج تو جمع کرلی،لیکن زرمہر،اور زوابہ کا انجام دیکھکر اُس کی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔اور وہ ثنیٰ میں ہی قیام پذیر تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مصیخ سے چل کر حودان،پھر انق،پھر حماة پہنچے۔پھر زمیل آئے،اِس کا نام بشر بھی ہے،اور یہ ثنیٰ سے ملحق ہے۔یہاں تینوں اسلامی لشکر آکر مخصوص رات کو مل گئے،اور تینوں نے تین طرف سے ربیعہ کی فوج پر ،اور اُن لوگوں پر جو بڑی شان سے لڑنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔اُن پر شب خون مارا ،اور تلواریں سونت کر ایسا صفایا کیا کہ کوئی بھی بھاگ کر کہیں خبر بھی نہیں دے سکا۔بیت المال کے لئے مال غنیمت کا خمس حضرت نعمان بن عوف کے زریعے خلیفہ اول کی خدمت میں بھی دیا گیا۔اس کے بعد تینوں اسلامی لشکر زمیل کی طرف بڑھے۔یہاں مصیخ سے بھاگ کر ہذیل نے آ کر عتاب کی پناہ لی تھی۔عتاب ایک عظیم الشان لشکر کے ساتھ بشر(زمیل) میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھا۔اس سے پہلے کہ ربیعہ اور اس کے لشکر کے خاتمے کی خبر اُس تک پہنچے،حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے اُس پر تین طرف سے شب خون مار دیا۔اور اتنے فارسیوں کا قتل کیا کہ اس پہلے کبھی اتنا قتل نہیں ہوا تھا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ بنو تغلب کو اُن کے گھر میں گھس کر قتل کروں گا،یہ قسم اس وقت پوری ہو گئی۔بے حساب مال غنیمت حاصل ہوا ،آپ رضی اﷲ عنہ نے خمس نکال کر خلیفہ اول کی خدمت میں حضرت صباح بن فلان مزنی کے زریعے بھیج دیا۔اور باقی مال غنیمت لشکر میں تقسیم کر دیا۔اس کے بعد آپ رضی اﷲعنہ رضاب کی طرف بڑھے، وہاں کا افسر ہلا ل بن عقبہ تھا۔اُس کی فوج کو جب حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے کی اطلاع ملی تو وہ ہلال سے منحرف ہو گئی۔مجبورا!ہلال وہاں سے بھاگ گیا،اور رضاب بغیر کسی مقابلے کے فتح ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

13 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida



13 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 13


جنگ فراض، چپکے سے حج کی ادائیگی، حضرت خالد بن ولید کو ملک شام جانے کا حکم، 21 ھجری کے چند خاص واقعات، حضرت بشیر بن سعد بن ثعلبہ کی شہادت، حضرت ابو مرثد کا انتقال، حضرت ابو العاص بن ربیع کا انتقال، ملک شام کی طرف لشکروں کی روانگی(اوائل 21 ھجری)، حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ تیما میں، 


جنگ فراض


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ محرم 21 ھجری میں عراق میں داخل ہوئے تھے،اور مسلسل گیارہ مہینے سے عراق میں حالت ِ جنگ میں تھے۔بنو تغلب کے لشکرکو اچانک ختم کر کے اور رضاب پر قبضہ کر کے آپ رضی اﷲ عنہ ذی القعدہ ۲۱ ھجری میں ”فراض“پہنچے۔فراض پر ملک شام،ملک عراق اور جزیرہ کے راستے آ کر ملتے ہیں۔فراض میں مسلمانوں کا لشکر دیکھ کراہل روم کو یہ ڈر پیدا ہو کہ کہیں یہ لشکر اُن کے علاقے میں نہ گھس آئے۔انہوں نے اپنے قریب کی اہل فارس کی چوکیوںاور بنو تغلب ،بنو ایاد،اور بنو نمر سے امداد طلب کی۔اِن سب نے رومیوں کی مدد کی،اور ایک بہت بڑا لشکر جر ار تیار ہو گیا۔اس کے بعد یہ لوگ حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ سے لڑنے کے لئے آگے بڑھے۔جب دریائے فرات بیچ میں رہ گیا تو انہوں نے آپ رضی اﷲعنہ سے پوچھا کہ دریا پار کر کے تم اِس طرف آو¿گے؟یا ہم اُس طرف آئیں؟آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”تم ہی پار کر کے آجاو¿۔“اُنہوں نے کہا کہ اچھا تم سامنے سے ہٹ جاو¿۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”یہ نہیں ہو سکتا (لشکر کے لئے پانی بہت ضروری ہو تا ہے)البتہ تم ذرا آگے سے دریا پار کر لو۔“یہ واقعہ پندرہ ذی القعدہ ۲۱ ھجری کا ہے۔رومیوں اور فارسیوں میںدریا پار کرنے پر اختلاف ہو گیا۔ان میں سے بعض کی رائے یہ تھی کہ ہم کو اپنے ہی ملک میں رہ کر لڑنا چاہیئے،کیونکہ یہ شخص ملک اور حکومت کے نہیں بلکہ اپنے دین کی حمایت کے لئے لڑ رہا ہے۔وہ بڑا دانشمنداور صاحب ِ علم ہے،اﷲ کی قسم !وہ کامیاب ہو گا،اور ہم ناکام ہو کر ذلت اُٹھائیں گے۔مگر اِس رائے پر اُن لوگوں نے عمل نہیں کیا،اور تھوڑا آگے بڑھ کر دریا پار کیا۔جب سب لوگ پار ہو گئے تو رومیوں نے فارسیوں سے کہا کہ اب الگ الگ ہو جاو¿،تاکہ معلوم ہو جائے کہ اچھا یا برا نتیجہ کس کے سر ہے؟اس طرح یہ لوگ الگ الگ ہو گئے۔ایک طرف رومیوں،فارسیوں،اور اعرابی قبائل کا ایک لاکھ سے زیادہ ٹھاٹھیں مارتا انسانوں کا سمندر تھا۔اور دوسری طرف بیس سے پچیس ہزار مسلمان تھے،جن کا سپہ سالار سوائے اﷲ تعالیٰ کے کسی سے نہیں ڈرتا تھا۔اور جنگ کے دوران ایسے ایسے حربے استعمال کرتا تھا کہ سامنے والے حیران رہ جاتے تھے۔دونوں لشکروں میں جنگ شروع ہوئی ،اور بہت دیر تک شدید خون ریزی ہوتی رہی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ چھلاوہ بنے ہوئے تھے،کبھی فارسیوں کے لشکر پر شیر بن کر گرجتے ،تو کبھی رومیوں پر قہر بن کر ٹوٹتے تھے،تو کبھی اعرابیوں پر باز کی طرح جھپٹتے تھے۔اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔آپ رضی اﷲ کو دیکھکر مسلمانوں میں نیا جوش بھر جاتا تھا۔آخر کار اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی،اور دشمن میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو بلند آواز سے حکم دیا کہ دشمنوں کو مہلت بالکل مت دو،اور مسلسل قتل عام کرو۔اس حکم کے بعد ایک ایک رسالدار اپنے دستے کے تیروں سے دشمن کے بڑے بڑے گروہ کو گھیرتا تھا ،اور تلوار سے انہیں موت کے گھاٹ اتارتا تھا۔فراض کی جنگ میں عین لڑائی میں میدان میں اور پھر تعاقب میں ایک لاکھ آدمی قتل ہوئے۔


چپکے سے حج کی ادائیگی


   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فراض میں جنگ سے فارغ ہونے کے بعد اپنے لشکر کے ساتھ دس دنوں تک قیام پذیر رہے۔اور پھر پچیس(۵۲)ذی القعدہ ۲۱ ھجری کو لشکر کو حضرت عاصم بن عمرو کی سرکردگی میں حیرہ واپس چلنے کا حکم دیا ۔لشکر کے ساقہ کا کمانڈر حضرت شجرہ بن اغر کو متعین کیا،اور خود بظاہر ساقہ میں رہ کر سفر کرنے لگے۔پچیس ذی القعدہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے چند ساتھیوں کو لیکر چپکے سے حج کے لئے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔یہ راستہ اہل جزیرہ کے راستوں میں سے ایک تھا،اور اس قدر دشوار گذار اور عجیب راستہ پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے چند جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ تیزی سے سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے،اور حج کر کے تیزی سے واپس آگئے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی اپنے لشکر سے غیر حاضری صرف اتنی رہی کہ ابھی لشکر کا آخری حصہ حیرہ میں نہیں پہنچا تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ حج سے فارغ ہو کر اپنے بنائے ہوئے ساقہ سے آملے،اور اس کے ساتھ حیرہ میں داخل ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ اور چند ساتھی سر منڈائے ہوئے تھے۔ساقہ کے چند لوگوں کے سوا کسی کو بھی آپ رضی اﷲ عنہ کے حج کی مطلق خبر نہیں ہوئی۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی اس کی اطلاع بعد میں ہوئی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ پر عتاب یہ کیا کہ اُن کو ملک شام کی طرف جنگ کے لئے بھیج دیا۔(طبری)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو بھی اُس وقت پتہ چلا ،جب مدینہ منورہ کے حاجی حج کے اجتماع سے واپس آئے ،اور انہوں نے بتایا۔خلیفہ اول نے فوج سے الگ ہونے پر آپ رضی اﷲ عنہ کو عتاب نامہ بھیجا۔اور یہ سزا دی کہ ملک عراق میں سلطنت فارس کے محاذ کو چھو ڑ کرملک شام میں سلطنت روم سے مقابلہ کرنے کے لئے جانے کا حکم دیا۔( اُس وقت ملک شام میںحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی زیادہ ضرورت تھی ،اسی لئے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو اُس طرف بھیجا تھا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔)اور آپ رضی اﷲعنہ کو خط میں یہ لکھا :”بے شک فوجیں اﷲ کی مدد سے تمہارے غمگین ہونے سے غمگین نہیں ہوں گی۔اے ابو سلیمان!(حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کی کنیت ہے)تم کو نیت اور نصیبہ مبارک ہو،اپنا کام پورا کرو،اﷲ تعالیٰ تمہارے کام کی تکمیل کر دے گا۔تمہارے دل میں فخر و عجب پیدا نہ ہو،ورنہ ناکام و نامراد ہو جاو¿ گے۔اور کسی کام پر فخر کرنے سے اجتناب اختیار کرو،بے شک اﷲ احسان کرنے والا ہے،اور وہی جزا دینے والا ہے۔“(ابن کثیر)


حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ملک شام جانے کا حکم


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کی مہم پر جانے کا حکم دیا۔اس کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا سفر ِ حج تمام شہروں کو چھوڑتے ہوئے سیدھے مکہ مکرمہ کی طرف ہواتھا۔یہ راستہ اِس طرح گیا ہے کہ فراض سے ماءالعنبری کو ،پھر ثقب کو پھر ذات عرق کو ،اور وہاں سے مشرق کی طرف مُڑ کر عرفات پہنچا دیتا ہے۔یہ راستہ العبد کے نام سے موسوم ہے۔حج سے فارغ ہو کر آپ رضی اﷲ عنہ حیرہ جا رہے تھے کہ راستے میں اُن کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا حکم ملا کہ حیرہ سے دور اور ملک شام سے قریب ہوتے چلے جاو¿۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے اپنے خط میں حکم دیا کہ تم یہاں سے روانہ ہو کر یرموک میں مسلمانوں کے لشکر سے مل جاو¿،کیونکہ وہاں وہ دشمن کے نرغے میں گھِر گئے ہیں۔اور تم نے جو یہ حرکت کی ہے،آئندہ کبھی تم سے سرزد نہ ہو۔یہ اﷲ کا فضل ہے کہ تمہارے سامنے دشمن کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں،اور تم مسلمانوں کو دشمن کے نرغے میں سے صاف بچا لاتے ہو۔اے ابو سلیمان!میں تم کو تمہارے خلوص اور خوش قسمتی پر مبارک باد دیتا ہوں۔اِس مہم کو پایہ تکمیل تک پہنچاو¿،اﷲ تمہاری مدد کرے گا۔تمہارے دل میں فخر نہیں ہونا چاہیئے،کیونکہ فخر کا انجام خسارہ اور رسوائی ہے۔اور نہ اپنے کسی فعل پر نازاں ہونا۔کیونکہ فضل وکرم کرنے والا صرف اﷲ تعالیٰ ہی ہے،اور وہی اعمال کا صلہ دیتا ہے۔“(تاریخ طبری)


21 ھجری کے چند خاص واقعات


21 ھجری کا سال مکمل ہوا،اب ہم اس سال پیش آنے والے چند اہم واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس سال حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کو قرآن پاک ایک صحیفے پر جمع کرنے کا حکم دیا۔اور انہوں نے بڑی عرق ریزی سے یہ کام مکمل کیا۔اس سے پہلے قرآن پاک کھجور کی ٹہنیوں،کپڑوں،درخت کی چھالوں اور انسان کے سینوں تک ہی محدود تھا۔اس سال حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اپنے غلام اسلم کو خریدا،پھر وہ تابعین کے سادات میں سے ہو گئے۔اور اُن کے بیٹے حضرت زید بن اسلم بلند مقام ثقات میں سے تھے۔اس سال خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لوگوں کو حج کروایا،اور مدینہ منورہ میں اپنا نائب حضرت عثمان غنی بن عفان رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی خلافت میں حج نہیں کروایا ہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔


حضرت بشیر بن سعد بن ثعلبہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت


   حضرت بشیر بن سعد رضی اﷲ عنہ بیعت عقبہ ثانیہ اور غزوہ بدر اور اس کے بعد کے معرکوں میں شامل ہوئے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انصار میں سب سے پہلے آپ رضی اﷲ عنہ نے اسلام قبول کیا تھا۔اور سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار میں سے سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲعنہ خلافت پر بیعت کی تھی۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے،اور جنگ عن التمر میں شہید ہوئے۔آپ رضی اﷲ عنہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہ کے والد ہیں۔


حضرت ابو مرثد غنوی رضی اﷲ عنہ کا انتقال


   آپ رضی اﷲ عنہ کا نام معاذ بن حصین ہے۔ابو مرثد کنیت ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے بیٹے حضرت مرثد رضی اﷲ عنہ کے ساتھ غزوہ بدر میں شامل تھے۔اور اِن دونوں کے علاوہ کوئی بھی باپ بیٹے کی جوڑی اس غزوہ میں نہیں تھی۔آپ رضی اﷲ عنہ کے بیٹے نے ”رجیع کے درد ناک واقعہ“میں شہادت پائی۔آپ رضی اﷲ عنہ کے پوتے حضرت انیس بن مرثد رضی اﷲ عنہ بھی صحابی تھے۔جو فتح مکہ اور غزوہ حنین میں شامل تھے۔ ۲۱ ھجری میں آپ رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔


حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اﷲ عنہ کا انتقال


   حضرت ابو العاص بن ربیع بن عبد العزیٰ بن عبد شمس بن عبد مناف ،یہاں آ کر آپ رضی اﷲ عنہ کا سلسلہ نسب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے مل گیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ ،رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سب سے بڑے داماد ہیں،اور سب سے بڑی بیٹی سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کے شوہر ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اﷲ عنہاکے بھانجے ہیں۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کی والدہ کا نام ہالة بنت خویلد،اور ہند بنت خویلد بتایا جاتا ہے۔جب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو قریش نے آپ رضی اﷲ عنہ کو طلاق دینے کا مشورہ دیا تھا،تو آپ رضی اﷲ عنہ نے انکار کر دیا تھا۔غزوہ بدر میں قید ہوئے تو مکہ مکرمہ سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا نے اپنی امی کا دیا ہوا ہار فدیہ کے طور پر بھیجا تو ہار دیکھ کر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی آنکھ میں آنسو آگئے۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں اس شرط پر آزاد کر دیا کہ مکہ مکرمہ جا کر سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کو مدینہ منورہ پہنچا دیں گے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے وعدہ پورا کیا۔صلح حدیبیہ سے پہلے تجارتی قافلہ لیکر جار ہے تھے کہ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ نے تمام مال پر قبضہ کر لیا،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنی جان بچا کر مدینہ منورہ پہنچے ،اور سیدہ زینب رضی عنہا نے انہیں پناہ دے دی۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُن کی پناہ کو جائز قرار دیا،اور قافلے کا تمام مال انہیں عطا فرما دیا۔آپ رضی اﷲ عنہ تمام مال لیکر قریش کے پاس آئے ،اور ان کا سارا مال دیکر ان کے سامنے اسلام کا اظہار کیا۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔


ملک شام کی طرف لشکروں کی روانگی(اوائل 21 ھجری)


   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں پوری دنیا میں سب سے بڑی دو سوپر پاور سلطنت روم اور سلطنت فارس تھی۔(یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت امریکہ اور آسٹریلیا دریافت نہیں ہوئے تھے،اور دنیا صرف ایشیاء،افریقہ،اور یورپ پر مشتمل تھی)سلطنت فارس میں تو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ایک سال سے زلزلے پیدا کر رہے تھے،اور اُس کی بنیادوں کو ہلا رہے تھے۔اور ۲۱ ھجری کی آخری جنگ فراض میں تو آپ رضی ا ﷲ عنہ نے دونوں سوپر پاورکے سپاہیوں اور عرب کے اعرابیوں کا قتل عام کر ڈالا تھا۔اسی لئے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ اب سلطنت روم کی طرف متوجہ ہوئے،اور ملک شام کی طرف لشکر بھیجنے کی تیاری کرنے لگے۔اور ایک دن تما م صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کو جمع کر کے تقریر فرمائی۔”امابعد۔اﷲ تعالیٰ آپ لوگوں پر رحم فرمائے،آپ اس بات کو یاد رکھیں کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو اسلام جیسی نعمت عطا فرمائی ہے،اُمت محمد بنایاہے۔آپ کے ایمان اور یقین کو زیادہ کیا،اور کامل فتح بخشی۔اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:”میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کیا،اور تم پر اپنی تمام نعمتیں پوری کیں،اور اسلام کو تمہارے لئے میں نے دین پسند کیا۔“اور آپ لوگ سمجھ لیں کہ ہمارے آقا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک شام میں جہاد کرنے کا ارادہ فرما لیا تھا،اور چاہا تھا کہ وہاں کوشش اور ہمت سے کام لیا جائے۔مگر اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا،اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے اپنے پاس جگہ تجویز کر دی۔اب آپ لوگوں پر واضح رہنا چاہیئے کہ میں ارادہ کر چکا ہوںکہ مسلمانوں کا ایک لشکر ملک شام کی طرف بھیج دوں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وصال سے پہلے اِس بات کی خبر دے چکے تھے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:”مجھے زمین دکھلائی گئی ،اور میں نے مشرق اور مغرب کو دیکھا۔سو جو زمین مجھے دکھلائی گئی ہے،عنقریب وہ میری اُمت کی ملکیت میں آجائے گی۔“اب تم سب متفق ہو کر مجھے مشورہ دو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے متفق ہو کرجواب دیا:”یا خلیفہ رسول اﷲ !ہم آپ رضی اﷲ عنہ کے حکم کے تابع ہیں،جیسا بھی ارشاد فرمائیں،جہاں جانے کا حکم دیں،ہم اس کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔(فتوح الشام)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ اس سال حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ واپس آکر ملک شام کی طرف لشکر روانہ کئے۔محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ ۲۱ ھجری میں حج سے واپس آکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کی طرف فوجیں بھیجنے کا انتظام کیا۔اور حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ کو فلسطین (جو اُس وقت ملک شام میں تھا)کی جانب روانہ کیا۔انہوں نے معرقہ کا راستہ اختیار کیا،جو ایلہ پر سے گذرتا ہے۔اور حضرت یزید بن سفیان،حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو ملک شام کے بالائی حصے کی طرف راونہ کیا،اور حکم دیا کہ ملک شام کے بالائی علاقہ بلقاپر گذرتے ہوئے تبوکیہ چلے جاو¿۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ کو امدادی لشکر دے کر اُن کے پیچھے بھیجا۔اور ۳۱ ھجری کی ابتدا میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ملک شام کو فوجیں روانہ کیں،سب سے پہلے شخص حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ ہیں،مگر ان کے روانہ ہونے سے پہلے انہیں معزول کر کے یزید بن سفیان کو سپہ سالار بنا دیا۔اور ملک شام کی طرف روانہ ہونے والے سب سے پہلے سپہ سالار حضرت یزید بن سفیان ہیں۔یہ لوگ سات ہزار مجاہدین لیکر ملک شام گئے۔


حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ تیما میں


   آپ کو یاد ہوگاکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے ذی القصہ سے جو گیارہ لشکر روانہ فرمائے تھے،اُن میں سے ایک لشکر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کو دیکر ملک شام کے سرحدی علاقے تیما کی طرف روانہ کیا تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں تیما جانے کا حکم دیا تھا ،اور فرمایا کہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹنا،اور اطراف کے مسلمانوں کو (جو مرتد نہیں ہوئے)اپنے لشکر میں بھرتی کرنا،اور جب تک میری طرف سے اگلا حکم نہ ملے ،جنگ کا آغاز نہیں کرنا۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ تیما پہنچ کر مقیم ہو گئے،اور اطراف کے مسلمان آپ رضی اﷲ عنہ سے آکر ملنے لگے،اور اچھا خاصا لشکر جمع ہو گیا۔(اِس دوران حضرت خالد بن ولیدرضی ا ﷲعنہ بزاخہ اور یمامہ وغیرہ میں،اورحضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲعنہ بحرین اور یمن وغیرہ میں مرتدوں سے جنگ میں مصروف تھے۔)رومیوں کو مسلمانوں کے اس عظیم الشان لشکر کی خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے زیر اثر عربوں سے ملک شام کی طرف سے جنگ کرنے کے لئے فوجیں طلب کیں۔قبیلہ بنو بہرائ،بنو کلب ،بنو سلیح،بنو تنوخ،بنو لخم،بنو جزام،اور بنو غسانکی فوجیں”زیزائ“کے قریب مقام ”ثلث“میں جمع ہو گئیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


14 خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق 1 Khilafat e Rashida



14 خلافت ِ راشدہ_خلیفہ اوّل:حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمدابن عبد اللطیف آئمی

قسط نمبر 14


جیش البدال(لشکروں کی تبدیلی)، حضرت خالد بن سعیدکی جلد بازی، ہرقل کی جنگی تیاری، تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم، رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا، رومیوں سے طویل جنگ، حضرت خالد بن ولید کا جذبۂ جہاد، حضرت خالد بن ولید اور باہان میں جنگ، خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال، حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا کفن دفن، مسلمانوں میں سب سے زیادہ فہم قرآن، جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا


جیش البدال(لشکروں کی تبدیلی)

   حضرت خالد بن سعید رضی اﷲعنہ نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رومیوں کے عرب نژاد لشکر کے اجتماع کی خبر دی۔خلیفہ اول نے حکم دیا کہ تم آگے بڑھو،اور ذرا بھی مت گھبراو¿،اور اﷲ سے مدد طلب کرو ۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ یہ جواب ملتے ہی لشکر لیکر آگے بڑھے،مگر جب قریب پہنچے تو دشمن پر کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ سب اپنی جگہ چھوڑ کر اِدھر اُدھر منتشر ہو گئے،اور بھاگ گئے۔آپ رضی ا ﷲ عنہ دشمن کے مقام پر قابض ہو گئے،اور اکثر لوگ آپ رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔اِس کامیابی کی خبر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کو دی تو انہوں نے حکم دیا کہ تم آگے بڑھو،لیکن اتنا آگے نہ بڑھ جانا کہ پیچھے سے دشمن کو تم پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے۔آپ رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر اور تیماءسے ملے ہوئے لوگوں کو لیکر اُس مقام پر پہنچ کر پڑاو¿ ڈال دیا جو آبل،زیزائ،اور تسطل کے درمیان واقع ہے۔یہاں ایک رومی ہابان نامی پادری ،عیسایﺅں کا لشکر لیکر جنگ کرنے آیا۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے اسے زبردست شکست دی ،اور پادری کے ساتھ ساتھ اُس کے پورے لشکر کو قتل کر دیا۔اِس فتح کی اطلاع خلیفہ اول کو دی ،اور مزید کمک طلب کی۔اُس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے پاس ذوالکلاع وغیرہ قبائل کے لشکر آئے ہوئے تھے،اور حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ بھی تہامہ ،عمان ،بحرین سے جنگ میں کامیاب ہو کر آئے ہوئے تھے۔اور ان کے ساتھ ان علاقوں کے لوگوں کا اچھا خاصا لشکر تھا۔ان سب کے متعلق حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ جو لوگ تبدیلی کے خواہاں ہیں ،انہیں بدل دو،اور ان کی جگہ تازہ دم سپاہیوں کو متعین کر دو۔اسی لئے وہاں کے تمام لو گو ں کو بدلا گیا،اور اس فوج کانام ”جیش البدال“پڑ گیا۔ان فوجوں کو خلیفہ اول نے حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کے پاس بھیج دیا۔

حضرت خالد بن سعیدکی جلد بازی

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے حضرت عمرو بن عاص کو ایک لشکر دیکر فلسطین کی طرف بھیجا۔اور ولید بن عقبہ کو ایک لشکر دیکر اردن کی طرف بھیجا۔اور یزید بن سفیان کو ایک بڑا لشکر دیکر بھیجا،اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کو بھی ایک لشکر دے کر بھیجا۔اِن میں سے ولید بن عقبہ سب سے پہلے لشکر لیکر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کے پاس پہنچے،اور مسلمانوں کی امداد کے لئے وہ فوج بھی آگئی جو ”جیش البدال“کے نام سے موسوم ہوئی تھی۔ولید بن عقبہ نے یہ بھی بتایا کہ اور بھی لشکر آرہے ہیں۔یہ خبر سن کر حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ نے جلد بازی میں آگے بڑھ کر بقیہ لشکروں کے آنے سے پہلے رومیوں پر حملہ کر دیا،اور اپنی پشت خالی چھوڑ دی۔باہان اپنے لشکر کے ساتھ اُن کے سامنے سے ہٹ کر دمشق کی طرف پسپا ہو گیا،اور آپ رضی اﷲ عنہ دشمن کی فوج میں آگے تک گھستے چلے گئے۔اور مرج الصفر(جو واقوصہ اور دمشق کے درمیان واقع ہے)تک پہنچ گئے۔اُس وقت اُن کے ہمراہ ذولاکلاع ،عکرمہ اور ولید بھی تھے۔باہان کی فوجی چوکیوں نے ایک ساتھ ملکر مسلمانوں کے لشکر کو محصور کر لیا۔اور حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ کے بیٹے حضرت سعید بن خالد کو شہید کردیا۔اب انہیں اپنی غلطی کا اندازہ ہوا،اور وہ پیچھے ہٹ گئے،لیکن حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اﷲ عنہ اپنی جگہ ڈٹے رہے ،اور مسلمانوں کی مدد کرتے رہے۔یہاں حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ ہزیمت اُٹھا رہے تھے،اور ملک عراق میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ فراض میں رومیوں،فارسیوں اور اعرابیوں کو شکست دیکر قتل کر رہے تھے۔حضرت خالد بن سعید رضی اﷲ عنہ ذوالمرہ تک پیچھے ہٹ چکے تھے۔خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ نے انہیں واپس بلا لیا۔

ہرقل کی جنگی تیاری

   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام سپہ سالار اپنے لشکر لیکر مقررہ مقامات تک پہنچ گئے۔سلطنت روم کے حکمراںقیصر ہرقل کو جب مسلمانوں کے لشکروں کی آمد کی اطلاع ملی،تو اُس نے غیر معمولی جنگی تیاری شروع کردی۔اور وہ خود چل کر ”حمص“میں آیا۔اور رومیوں کا ایک بہت بڑا لشکر تیار کیا۔اُس کے پاس فوج کافی تھی،بلکہ بے اندازہ فوج تھی۔اس لئے اُس نے مسلمانوں کے ہر لشکر سے لڑنے کے لئے الگ الگ لشکر تیار کر کے روانہ کئے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ سے مقابلے کے لئے اپنے حقیقی بھائی تذارق کونوے ہزار(۰۰۰،۰۹)کا لشکر دیکر بھیجا۔اور اُس کے پیچھے ایک افسر کو ساقہ پر متعین کیا۔اُس کو بالائی فلسطین میں”ثنیتہ جلق“پر متعین کیا۔(یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت فلسطین،لبنان ،اور اردن ،ملک شام کا حصہ تھے۔)اور حضرت یزید بن سفیان کے مقابلے پر جرجہ بن توزرا کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت شرجیل بن حسنہ کے مقابلے پر دراقص کو لشکر دیکر بھیجا۔اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر فیطار بن نسطورا کو ساٹھ ہزار کا لشکر دیکر بھیجا۔یہ دیکھکر تمام سپہ سالاروں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو تمام حالات لکھ بھیجے،اور اگلی ہدایت کا انتظار کرنے لگے۔

تمام لشکروں کو ایک جگہ جمع کرنے کا حکم

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی اگلی ہدایت کے آنے کے درمیان میں تمام سپہ سالار ایکدوسرے سے خط و کتابت کے ذریعے صلاح مشورہ کر رہے تھے۔حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ نے سب کو یہ مشورہ دیا کہ ایک جگہ جمع ہو جائیں،تو ہمارے لئے زیادہ بہتر رہے گا۔کیونکہ دشمنوں نے ہر سپہ سالار پر بڑے بڑے لشکر مسلط کر دیئے ہیں۔تمام سپہ سالار اِس بات پر متفق ہو گئے کہ ایک جگہ جمع ہوا جائے،لیکن یہ طے نہیں کر پا رہے تھے کہ کہاں جمع ہوا جائے۔اسی دوران خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کاجواب بھی آ گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حکم دیا کہ تمام لشکر جمع ہو کر ایک لشکر ہو جائیں،اور ملکر دشمنوں سے جنگ کریں۔تم اﷲ کے سپاہی ہو،اﷲ تمہارا مدد گار ہے۔اﷲ اُس کو ذلیل کرتا ہے،جو اُس کا انکار کرتا ہے۔تم جیسے(اﷲ کو ماننے والے)لوگ تعداد کی قلت کی وجہ سے کبھی مغلوب نہیں ہو سکتے۔دس ہزار بلکہ اُس سے بھی کہیں زیادہ، اگرگناہوں کے طرفدار بن کر اُٹھیں گے تو وہ دس ہزار سے ضرور مغلوب ہوں جائیں گے۔لہٰذا تم گناہوں سے احتراز کرو ،اور یرموک میں مل کرجنگ کرنے کے لئے جمع ہو جاو¿ ۔تم میں سے ہر سپہ سالار اپنے اپنے لشکر کی امامت کرے ،اور نماز پڑھائے۔

رومی لشکروں کا واقوصہ میں جمع ہونا

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مسلمانوں کے تمام سپہ سالار اپنے اپنے لشکر لیکر یرموک میں آکر جمع ہونے لگے۔ہر قل کو جب مسلمان لشکروں کے اجتماع کی خبر ملی تو اُس نے اپنے پادریوں کو حکم دیا کہ تم بھی رومیوں کے ہر لشکر کوایک ایسی جگہ مسلمانوں کے سامنے جمع کرو۔جہاں کافی گنجائش اور وسعت ہو،اور بھاگنے والوں کے لئے راستہ تنگ ہو۔تمہاری فوج کا سپہ سالار تذارق کو مقرر کیا جاتا ہے۔مقدمة الجیش پر جرجہ کو،اور میمنہ اور میسرہ پر دراقص کو متعین کیا جائے،اور سپہ سالار اعظم فیقار کو بنایا جائے۔ میں تمہیں خوش خبری دیتا ہوں کہ باہان تمہارے عقب میں تمہاری مدد کے لئے موجود ہے۔پادریوں نے ہرقل کے حکم کی تعمیل کی،اور یرموک کے قریب ایک بہت بڑی اور وسیع وادی ”واقوصہ “میں تمام روم کے تمام لشکروں کو جمع کردیا۔رومیوں کے لشکر کے سامنے کی وادی نے اُن کے لئے خندق کا کام دیا۔جس کی وجہ سے وہ ایک ناقابل تسخیر وادی بن گئی۔باہان اور اُس کے ساتھیوں کی خواہش تھی کہ رومیوں کے دلوں سے مسلمانوں کی دہشت نکل جائے۔اور وہ اُن کو ہوا سمجھنا چھوڑ دیں۔

رومیوں سے طویل جنگ

   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق تمام مسلمان سپہ سالار اپنے لشکروں کے ساتھ یرموک میں پڑاو¿ ڈالے ہوئے تھے۔جب تمام رومی لشکروں کے سپہ سالار جب اپنے اپنے لشکر لیکر واقوصہ میں پہنچ گئے،تو مسلمان آگے بڑھ کر رومیوں کے لشکر کے مد مقابل پہنچ گئے۔رومیوں کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ بول اُٹھے۔مسلمانو!مبارک ہو،اﷲ کی قسم!رومی محصور ہو گئے ہیں،اب ان سے کچھ بن آنا مشکل ہے۔رومیوں کے پیچھے واقوصہ کی گھاٹی تھی،اور سامنے خندق نما گھاٹی تھی،جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت پریشانی ہو تی تھی۔ ماہ صفر المظفر ۳۱ ھجری میں دونوں لشکر ایکدوسرے کے سامنے آئے۔دونوں کے درمیان خندق نما گھاٹی تھی،روز جنگ ہوتی ،لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو رہا تھا۔یہاں تک کہ ماہ ربیع الاول آگیا۔اور یہ پورا مہینہ بھی گذر گیا ،اور جنگ کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔مسلمان سپہ سالاروں نے تمام حالات لکھ کر خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بھیجے،اورمزید کمک طلب کی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فوراًحضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ حیرہ میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو آدھا لشکر دے کرچھوڑ دو،اور آدھا لشکر لیکر تم جلد سے جلد ملک شام پہنچو۔وہاں تمہاری شدید ضرورت ہے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا جذبۂ جہاد

   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کا حکم ملتے ہی آدھا لشکر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو دیا۔اور آدھا لشکر لیکر ملک شام جانے کی تیاری کرنے لگے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ کون ہے جو ہمیں مختصر راستے سے ملک شام پہنچا دے۔حضرت رافع بن عمیرہ طائی آگے بڑھے،اور کہا کہ میں ایسا مختصر راستہ جانتا ہوں،لیکن آپ رضی اﷲ عنہ اتنے بڑے لشکر و اسباب کو لیکر اس راستے کو طے نہیں کر سکیں گے۔اﷲ کی قسم!تنہا سوار بھی اس مشکل اور تکلیف دہ راستے کو طے کرنے کی ہمت نہیں کرتا ہے،کیونکہ اس راستے پر پانچ دن و رات تک کسی مقام پر آپ رضی اﷲ عنہ کو پانی نہیں ملے گا۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”مجھ کو یہ راستہ طے کرنا بہت ضروری ہے،کیونکہ خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے حکم کے مطابق مجھے جلد سے جلد مسلمانوں کی مدد کے لئے ملک شام پہنچنا ہے۔اور تیرا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اُن کی مدد کو نہیں جاو¿ں؟میں نے جان اﷲ کی راہ میں وقف کر دی ہے۔اور اب تُم مجھے اِس راستے سے لیکر جاو¿ گے۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے لشکر کے کمانڈروں کو حکم دیا کہ تمام مجاہدین سے کہہ دو کہ پانچ دنوں کا پانی اپنے ساتھ لیکر چلیں۔اِس کے علاوہ اپنے اونٹوں کو بار بار پانی پلائیں(اونٹ کا ایک معدہ ایسا ہو تا ہے کہ بالکل صاف ستھرا پانی اُس میں محفوظ رہتا ہے،جسے پانی نہ ملنے کی صورت میں وہ استعمال میں لاتا ہے)تمام مسلمانوں نے چھاگلوں،مشکیزوںاور دوسرے برتنوں میں پانی بھر لیا۔اور اونٹوں کو وقفہ وقفہ سے بار بار پانی پلایا،اور اُن کے پاو¿ں پر کپڑے لپیٹ دیئے،تاکہ روزآنہ کے مسلسل سفر سے اُن کے پیر پھٹنے سے محفوظ رہیں۔اور کئی سو زائد اونٹ ساتھ لے لئے۔اس کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ لشکر کو لیکر اِس دشوار گذار سفر پر نکل پڑے۔اور مسلسل چار دنوں کے سفر کے بعدپانچویں روز علمین کے قریب پہنچے تو حضرت رافع نے لوگوں سے کہا:”ذرا دیکھو تو کہیں عوسج کا درخت نظر آرہاہے یا نہیں؟“لوگوں نے دیکھا تو ہر طرف صحراءاور ریت کے کچھ بھی نظر نہیں آرہا تھا۔جب عوسج کا درخت کہیں دکھائی نہیں دیا تو حضرت رافع نے انا ﷲوانا الیہ راجعون پڑھ کر کہا۔”افسوس تم بھی ہلاک ہوئے ،اور مجھے بھی ہلاک کیا۔،میں پہلے ہی کہتا تھا کہ یہ راستہ بہت دشوار گذار ہے۔“سب لو گ پیاس سے بے حال ہو رہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے جو زائد اونٹ ساتھ لئے ہیں ،انہیں ذبح کرو ،اور ان کے گوشت کھانے کے لئے،اور اُن کے معدوں کے اندر کا پانی پینے کے استعمال میں لاو¿۔سب نے ایسا ہی کیا ،اور گھوڑوں کو بھی پانی پلایا۔اس کے بعد جب اور آگے چلے تو لشکر کے آگے والے مسلمانوں کو عوسج کا درخت نظر آیا،اور انہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا۔حضرت رافع کے کہنے پر اس کی جڑ کے پاس کھودا گیا تو نیچے ایک پانی کا چشمہ تھا۔تمام لشکریوں نے سیر ہو کر پانی پیا ،اور اونٹوں کو بھی پلایا،اور چھاگلوںاور مشکیزوں کو بھی بھر لیا۔اس کے بعد وہ ”سویٰ“ پہنچ گئے۔یہی بنو بہراءکے رہنے کا مقام تھا۔یہ لوگ غفلت میں بیٹھے شراب پی رہے تھے،اور اُن کا ایک مغنی(گانے والا)گا رہا تھا۔مسلمانوں نے ان پر چھاپہ مارا اور ان کے سردار حرقوص بن نعمان بہرائی کو قتل کر کے ان کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔اور اس کے بعد سفر کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اپنے لشکر کو لیکر ماہ ربیع الثانی کے آخری دنوں میں مسلمانوں کے لشکر میں یرموک پہنچے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان میں جنگ

   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ جب یرموک پہنچے،تو اُسی وقت باہان بھی اپنا لشکر لیکر رومیوں کی مدد کے لئے آیا۔اُس نے اپنی فوج کے آگے آگے آفتاب پرستوں،راہبوں،اور پادریوں کو متعین کیا تھا،کہ وہ لوگ فوج کو جنگ کے لئے اکسائیں،اور ان کے دلوں میں جوش پیدا کریں۔اتفاق سے حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ اور باہان کی آمد بیک وقت ہوئی،اور باہان اِس انداز میں آگے بڑھا جیسے میدان اُسی کا ہے۔حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ باہان سے لڑنے لگے،اور دوسرے سپہ سالار اپنے اپنے مقابلے کے رومیوں سے لڑنے لگے۔باہان نے شکست کھائی ،اور رومیوں نے یکے بعد دیگرے ہزیمت اُٹھائی اور اپنی خندق میں گھس گئے۔رومیوں نے باہان کی آمد کو نیک فال تصور کیا تھا،اور مسلمانوں کو حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے خوشی ہوئی تھی،اور مسلمان خوب جوش سے لڑے،اوررومی بھی خوب جوش سے لڑے۔

خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال

   حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کے آنے سے تمام مسلمانوں اور اُن کے سپہ سالاروں کے حوصلے بہت بلند ہو گئے تھے۔ابھی یہ جنگ چل ہی رہی تھی کہ مدینہ منورہ میں جمادی الاول میں بیمار پڑ گئے،اور لگ بھگ پندرہ دن بیمار رہنے کے بعد آپ رضی اﷲ عنہ کا یرموک کی فتح سے دس دن پہلے وصال ہو گیا۔اس لئے اِس جنگ کا ذکر ہم یہیں روک دیتے ہیں،اور انشا ءاﷲخلیفہ دوم حضرت عُمرفاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں جنگ یرموک کے حالات تفصیل سے پیش کریں گے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بارے میں اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں۔کہ والد محترم کی بیماری کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ آپ رضی اﷲ عنہ نے (۷)سات جمادی الآخر بروزغسل فرمایا،اُس روز بہت سردی تھی۔پس آپ رضی اﷲ عنہ کو بخار آگیا ،اور پندر ہ تک آپ رضی اﷲ بیمار رہے ۔اس عرصہ میں نماز کے لئے بھی باہر تشریف نہیں لاسکے۔آخر کا ر اسی بخار کی وجہ سے (۲۲)جمادی الآخر ۳۱ ھجری میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا وصال ہو گیا۔(تاریخ الخلفائ)

حضرت ابو بکر صدیق ایک قسم کے شہید

   خلیفہ اول رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بارے میں امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی موت کا اصل سبب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال تھا۔اُس صدمے سے آپ رضی اﷲ عنہ کا جسم گھلنے لگا ،اور یہی آپ رضی اﷲ عنہ کے وصال کا باعث ہوا۔جلیل القدر تابعی ابن شہاب روایت کرتے ہیں کہ (حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کی موت کا ظاہری سبب یہ ہے کہ)آپ رضی اﷲ عنہ کے پاس کسی نے تحفے کے طور پر خزیرہ(قیمہ جس میں دال ڈالی ہو)بھیجا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ اور حضرت حارث بن کلدہ رضی اﷲ عنہ دونوں کھانے میں شریک تھے۔(کھانا کھانے کے دوران)حضرت حارث رضی اﷲ عنہ نے کہا:”اے خلیفة الر سول !ہاتھ روک لیجیئے ،(یعنی اسے نہ کھائیں)اِس میں زہر ہے،اور یہ وہ زہر ہے جس کا اثر ایک سال میں ظاہر ہوتا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ دیکھ لیجیئے گا کہ ایک سال کے اندر اندر میرا اور آپ رضی اﷲ عنہ کاانتقال ایک ہی دن ہوگا۔“یہ سن کر آپ رضی اﷲ عنہ نے کھانے سے ہاتھ روک لیا،لیکن زہر اپنا کام کر چکا تھا۔اور یہ دونوںاُسی دن سے بیمار رہنے لگے،اور ایک سال گذرنے کے بعد (اسی زہر کے اثر سے)ایک ہی دن میں دونوں انتقال کر گئے۔(تاریخ الخلفاء)

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ مقرر کر دیا تھا

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنے وصال کے وقت ایک وصیت لکھوا کر مُہر لگا کر دے دی تھی کہ اسے میرے وصال کے بعد کھولنا۔اور اس میں اپنے بعد کے خلیفہ کے بارے میں وصیت کردی تھی۔اس کے بارے میں ہم تفصیل سے انشاءاﷲ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے ذکر میں بتائیں گے۔ یہاں مختصراًپیش ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اپنی بیماری کے دوران دریچہ سے سر نکال کر لوگوں سے فرمایا:”اے لو گو!میں نے ایک شخص کو تم پر(خلیفہ)مقرر کیا ہے،کیا تم اِس انتخاب سے راضی ہو؟لوگوں نے بالاتفاق کہا:”اے خلیفة الرسول!ہم بالکل راضی ہیں۔“حضرت علی رضی اﷲ عنہ یہ سن کر کھڑے ہوئے ،اور فرمایا:”یا خلیفة الرسول!وہ شخص اگر حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نہیں ہیں تو ہم راضی نہیں ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”بے شک وہ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ ہی ہیں۔“

حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا کفن دفن

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا جس روز وصال ہوا ،اُس روز آپ رضی اﷲ عنہ نے دریافت فرمایاکہ آج کون سا دن ہے؟لوگوں نے عرض کیا:پیر کا دن ہے؛آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا: اگر آج رات میرا وصال ہو جائے تو میرے دفن میں کل تک کی تاخیر نہ کرنا۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس جتنی جلدی پہنچ جاو¿ں،اُتنا اچھا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے آخری وقت میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا:”اے بیٹی !میرے اِن دونوں استعمال شدہ کپڑوں کو دھو کر مجھے اِن میں کفن دے دینا،تمہارا باپ کوئی انوکھا شخص نہیں ہے۔اور اچھا یا خراب کفن دینے سے عزت و ذلت وابستہ نہیں ہے۔“وصال کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک اور منبر کے درمیان نماز جنازہ پڑھائی۔اور آپ رضی اﷲ عنہ نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو وصیت فرمائی تھی کہ انہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے۔اسی کے مطابق آپ رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پہلوئے مبارک میں دفن کیا گیا۔آپ رضی اﷲ عنہ کے سر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے شانے کے برابر رکھا گیا۔(تاریخ الخلفائ)حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ دو سال سات مہینے خلافت کے منصب پر فائز رہے۔

مسلمانوں میں سب سے زیادہ فہم قرآن

   اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ قرآن پاک کا علم اور سمجھ عطا فرمائی تھی۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سب سے زیادہ قرآن پاک کا علم رکھتے تھے۔اِسی لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آپ رضی اﷲ عنہ کو نماز میں صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کا ”امام“بنایا تھا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ قوم کا امام قرآن پاک کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہونا چاہیئے۔اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس قوم میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ موجود ہوں،اُن کے علاوہ دوسرا امامت نہیں کر سکتا۔اِسی کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ثابت ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ احکام ِ رسالت سے آگاہ تھے۔اِسی لئے بار بار صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم نے اُمور ِ سنت کے معاملے میں آپ رضی اﷲ عنہ سے رجوع کیا ہے۔آپ رضی اﷲ عنہ ایسی صورتوں میں ہمیشہ اُن کے سامنے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی حدیث پیش فرماتے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ کو بکثرت احادیث یاد تھیں ،جنہیں آپ رضی اﷲ عنہ ضرورت کے وقت بیان فرمادیا کرتے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ احادیث کا حافظ اور کون ہو سکتا تھا کہ آغاز رسالت سے وصال مبارک تک آپ رضی اﷲ عنہ سب سے زیادہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے۔اس کے علاوہ آپ رضی اﷲ عنہ کا حافظہ بہت ہی قوی تھا،اور آپ رضی اﷲ عنہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ ذکی اور ذی فہم تھے۔آپ رضی اﷲ عنہ سے زیادہ احادیث مروی نہیں ہونے کا ایک سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ بہت کم تابعی حضرات کی آپ رضی اﷲ عنہ سے ملاقات ہو سکی ہے۔کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے لگ بھگ ڈھائی سال تک ہی آپ رضی اﷲ عنہ زندہ رہے۔

قرآن اور احادیث کی طرف رجوع

   خلیفہ¿ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کسی بھی معاملے میں سب سے پہلے قرآن پاک اور پھر احادیث کی طرف رجوع کرتے تھے۔امام بغوی لکھتے ہیں۔جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے سامنے کوئی معاملہ یا مقدمہ پیش ہوتا تھا تو آپ رضی اﷲ عنہ سب سے پہلے اس کا حل قرآن پاک میں تلاش فرماتے تھے۔اور قرآن پاک کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔اگر وہاں کوئی صراحت سے نہیں ملتا تھا تواُن احادیث کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے،جو انہیں یاد تھیں۔اگر آپ رضی اﷲ عنہ کو اِس معاملے کی حدیث یاد نہیں ہوتی تھی تو صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کو جمع فرماتے اور اُن سے حدیث دریافت فرماتے تھے۔اگر کسی صحابی رضی اﷲ عنہ کو اِس مسئلہ کے بارے میں حدیث یاد ہوتی تھی تو وہ بیان فرما دیتے تھے۔اور آپ رضی اﷲ عنہ اُس کے مطابق فیصلہ کر دیا کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے،اﷲ کا شکر ہے کہ ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں،جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی احادیث کو یاد رکھتے ہیں۔اور اگر اِس مسئلے کے متعلق کوئی صحابی رضی اﷲ عنہ بھی حدیث پیش نہیں کر پاتے تھے، تو آپ رضی اﷲ عنہ صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم سے مشورہ کرتے،اور جس فیصلہ پر اتفاق ِ رائے ہوجاتا تھا،اُسی کے مطابق فیصلہ کر دیتے تھے۔

جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ”عشرہ¿ مبشرہ“میں سے ہیں۔یعنی وہ دس صحابہ¿ کرام رضی اﷲ عنہم میں سے ہیں،جنہیں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی فرما دیا تھا کہ تم جنتی ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛”جو شخص کسی چیز کا جوڑا اﷲ کے لئے خرچ کرے گانوہ جنت کے دروازوں سے اس طرح پکارا جائے گا۔اے اﷲ کے بندے اِس دروازے سے داخل ہوجا،یہ دروازہ اچھا ہے۔اِسی طرح نمازی شخص نماز کے دروازے سے پکارا جائے گا۔مجاہد شخص اہل جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا۔صاحب ِ صدقہ شخص صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا۔روزہ دار شخص روزے کے دروازے جس کا نام”ریان“ہے پکارا جائے گا۔“یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !وہ شخص کتنا خوش نصیب ہو گا،جو اِن تمام دروازوں سے پکارا جائے گا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”یقینا!اور اے ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ !مجھے پوری اُمید ہے کہ تم ایسے ہی لوگوں میں سے ہو گے۔“ 

اگلی کتاب

   خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کا ذکر مکمل ہوا۔اب انشاءاﷲ آپ کی خدمت میں ہم خلیفہ دوم حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ذکر پیش کریں گے ۔


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں