پیر، 3 جولائی، 2023

04 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


04 سیرت سید الانبیاء ﷺ

بعثت سے پہلی ہجرت ِ حبشہ تک

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


بعثت کے وقت دنیا کے حالات، پہلی وحی کی کیفیت، اعلان نبوت، السابقون الاولون کا قبول اسلام، کافروں کا ظلم و ستم اور پہلی ہجرت حبشہ


بعثت کے وقت دنیا کے حالات

   رسول اللہ ﷺ  پر وحی نازل ہونے سے پہلے ابتداء میں رویائے صالحہ یعنی سچے خواب دکھائی دینے لگے۔ ان خوابوں کی وجہ سے آپ ﷺ غورو فکر کرنے لگے اور اس کے لئے غارِ حرا میں تنہائی اختیار فرمائی اور زیادہ وقت غارِ حرا میں تنہائی میں گزارنے لگے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو غارِ حرا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منصبِ نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ ہزاروں برسوں سے اپنی آسمانی کتابوں میں کرتا رہا اور تمام انبیائے کرام کو حکم دیتا رہا کہ وہ اپنی اپنی امتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتائیںکہ اگر وہ یعنی اُن کی اُمتیں اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پائیں تو انھیں نبی اور رسول تسلیم کریں۔ اُن پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام کو بھی حکم دیا تھا کہ اگر تمہاری زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اعلانِ نبوت کردیں تو تم بھی ان کی اتباع کرنااور ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا۔ جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان ِ نبوت کیا اس وقت کوئی نبی یا رسول موجود نہیں تھے ،لیکن اُن کی امُتیںموجود تھیں۔ یوں تو پوری دنیا میں جو امتیں تھیں وہ شرک و بت پرستی میں مبتلاء ہو چکی تھیں۔ لیکن دو امتیں ایسی تھیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا دعویٰ کرتی تھیں اور وہ یہود ( بنی اسرائیل) اور نصاریٰ ( عیسائی ) تھیں۔ انہیں’’ اہلِ کتاب‘‘ کہا جاتا تھا۔ ان لوگوں نے بھی اپنی اپنی آسمانی کتابوں میں ملاوٹ کر دی تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہپوری طرح حق کو چھپا نہیں سکے تھے۔ چونکہ یہ دونوں امتیں اپنی اپنی کتا ب کے محفوظ ہونے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ ( حالانکہ ان کی بھی اصل کتابیں محفوظ نہیں تھیں) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے’’ اعلانِ نبوت ‘‘کی منتظر تھیں۔ اس لئے مختصراً کچھ واقعات پیش کرکے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے کے بارے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان ِ نبوت کا تفصیلی ذکر کریں گے۔ انشاء اللہ

یہود( بنی اسرائیل ) رسول اللہ ﷺ  کے منتظر تھے

   محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ احبار ( یہودیوں کے بڑے عالم) اور رحبان ( عیسائیوں کے بڑے عالم ) اہلِ کتاب میں سے ہیں، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خوب پہچانتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عرب کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔ کیوں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اپنی اپنی کتابوں میں تفصیل سے پاتے تھے۔ جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرماے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اُن کی کتابوں میں محفوظ اور ثابت تھا ۔ ( لیکن حسد کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے’’ اعلان نبوت ‘‘کے بعد انھوں نے اپنی کتابوں میں سے مٹا دیا تھا) اور ان لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ’’عہد و میثاق‘‘ لیا جا چکا تھا۔ ان کے انبیائے کرام کے عہد میں اور ان کی کتابوں میں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ( نقل) اور ایمان لانے اور مدد کرنے کا ’’میثاق ‘‘لیا گیا تھااور اسی بنا پر وہ مشرکوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے غلبہ حاصل کر نا چاہتے تھے اور اسی کی دعا کرتے تھے۔ وہ لوگ مشرکین کو اس بات کی خبر دیا کرتے تھے کہ’’ ایک نبی ‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم) مبعوث ہونے والے ہیں۔ ’’ دین ابراہیم‘‘ کے ساتھ مبعوث ہوں گے۔ اُن کا نام’’ احمد‘‘ ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہوگا۔

رسول اللہ ﷺ  کی خبر انصار کو ایک یہودی نے دی

   مدینہ منورہ میں’’ انصار‘‘ رہتے تھے۔ ان کے دو بڑے قبیلے’’ اوس‘‘ اور’’ خزرج ‘‘نام کے تھے۔ قبیلہ اوس کی ایک شاخ یا خاندان کا بنو عبد الاشہل ہے۔ اس شاخ یا خاندان سے حضرت سلمہ بن سلامتہ بن دقش رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ بدری صحابی ہیں محمد بن اسحاق ، حضرت سلمہ بن سلامتہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا:’’ ایک یہودی شخص ہمارا پڑوسی تھا، وہ اپنے گھر سے نکل کر ایک روز ہمارے پاس آیا۔ بنی عبدا لاشہل کے لوگ ( انصار) بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سب سے کم عمر میں تھا اور اپنے گھر کے صحن میں لیٹا اُن کی باتیں سن رہا تھا۔ اُس شخص نے قیامت ، حساب ، میزان ، جنت اور دوزخ کا ذکر کیا۔ اس وقت انصار شرک میں مبتلا تھے اور مرنے کے بعد کی زندگی کے قائل نہیں تھے۔ انھوں نے حیرت سے پوچھا:’’ کیا ایسا ہوگا؟‘‘ اس یہودی نے کہا :’’ یقینا ہوگا اور دوزخ کی آگ اتنی شدید ہے کہ اس کے مقابلے میں تم دنیا کی آگ میں جلنا پسند کرو گے۔ ‘‘ بنو عبدالاشہل کے انصار نے پوچھا:’’ اس کی نشانی کیا ہے؟ ‘‘ اس یہودی نے مکہ مکرمہ اور یمن کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا کہ ان شہروں میں سے کسی ایک شہر سے’’ ایک نبی ‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم ) اٹھایا جائے گا۔‘‘ انھوں نے پوچھا :’’ وہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )کب اٹھایا جائے گا؟‘‘ اس یہودی نے میری طرف دیکھا اور کہا:’’ ہو سکتا ہے یہ لڑکا’’ اُن آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا زمانہ پالے گا۔ ‘‘حضرت سلمہ بن سلامتہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ لیکن وہ یہودی شخص گھمنڈ اورحسد کی وجہ سے ایمان نہیں لایا۔ ہم نے اس سے کہا:’’ تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے ہی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتایا اور اب تو خود ان کا انکار کر رہا ہے۔ ‘‘ اس نے کہا:’’ہاں میں نے ہی تمہیں بتایا تھا۔ لیکن یہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) وہ نہیں ہیں۔‘‘

عیسائی ( نصرانی ) بھی رسول اللہ ﷺ  کے منتظر تھے

   اس سے پہلے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کے حالات میں بحیریٰ راہب کا ذکر کر چکے ہیں کہ وہ کس بے چینی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا منتظر تھا اور لگ بھگ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 12بارہ برس تھی تو اس نے خدمت کرنے کا شرف بھی حاصل کیا۔ اس کے بعد اعلان ِ نبوت سے پہلے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں آپ نسطورا راہب کا واقعہ بھی پڑھ چکے ہیں۔ انجیل میں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت تفصیل سے ذکر ہے۔ ہم یہاں قرآن پاک کی وہ آیت پیش کر رہے ہیں جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا م نے اپنی امت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بشارت دی۔ ( ترجمہ) ’’اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں اور مجھ سے پہلے جو توریت نازل ہوئی ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ میرے بعد ایک’’ عظیم الشان رسول ‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم ) تشریف لائیں گے۔ جن کا نام’’ احمد‘‘ ہے۔ ( سورہ الصف آیت نمبر 61) اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے توریت اور انجیل میں اتنے زیادہ اوصاف بیان فرمائے ہیں کہ اگر انھیں تحریر کریں تو ایک بہت ضخیم کتاب بن جائے گی ۔ اس لئے ہم یہاں مختصر میں انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان تحریر کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔ انجیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:’’پس کاش’’ منحمنا‘‘( محمد) آگئے ہوتے ،جن کو اللہ تعالیٰ تمہاری طرف بھیجے گااور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئیں گے اور میری تصدیق کریں گے۔‘‘ یہاں ہم آپ کو بتا دیں کہ’’ منحمنا ‘‘سِریانی زبان کالفظ ہے۔ جس کا عربی معنی اور مفہوم ’’محمد‘‘ ہوتا ہے۔اسی طرح رومی زبان کا لفظ’’ پر قلیطس‘‘ یا ’’فار قلیط‘‘ ہے۔ جس کا معنی اور مفہوم عربی زبان میں ’’محمد‘‘ اور’’ احمد ‘‘ہے۔

رسول اللہ ﷺ  پر وحی کا نزول اور کیفیت

   امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری اپنی صحیح لکھتے ہیں۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟ ‘‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کبھی تو گھنٹی کی آواز کی مانند ہوتی ہے اور یہ میری طبیعت پر بہت گراں ( بوجھ) محسوس ہوتی ہے۔ پھر میں وہ پیغام یاد کر لیتا ہوں تو یہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔ کبھی فرشتہ ( جبرئیل علیہ السلام) انسان کی صورت میں آتے ہیں اور مجھ سے بات کرتے ہیں اور جو وہ کہتے ہیں میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔ اس کے بعد ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ میں نے کڑاکے کی سردیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے دیکھی ہے۔ جب وحی ختم ہو جاتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ بہہ نکلتا تھا۔

رسول اللہ ﷺ  کی خدمت ِ اقدس میں جبرئیل علیہ السلام کا آنا

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلے پہل جو وحی اترنا شروع ہوئی وہ اچھے خواب ہوتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی خواب دیکھتے تھے ۔ و ہ صبح کی روشنی کی طرح ظاہر ہو جاتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت ( تنہائی) پسند بنتے گئے اور غارِ حرا میں قیام کرنے لگے۔ وہاں کئی راتیں غور و فکر میں بسر کرتے ، جب کھانے پینے کا سامان ختم ہو جاتا تو گھر آکر لے لیتے تھے۔ ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا تو شہ تیار کر دیتی تھیںاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر غارِ حرا میں تشریف لے جاتے ۔ غارِ حرا مکہ مکرمہ سے لگ بھگ تین میل کے فاصلے پر ہے۔ اسی جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غور و فکر کرتے بیٹھے تھے کہ فرشتہ ( جبرئیل علیہ السلام) آیا اور کہا کہ پڑھیئے۔‘‘

پہلی وحی ، سورہ علق کی ابتدائی آیتیں

رسول اللہ ﷺ غارِ حرا میں تشریف فرما تھے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی وحی نازل فرمائی۔ جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:’’ پڑھیئے۔ ‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں پڑھا ہو ا نہیں ہوں۔ ‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گلے لگایا اور دبایا پھر چھوڑ کر کہا:’’ پڑھیئے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا:’’ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔‘‘ فرشتے نے دوبارہ گلے لگایا اور دبایا اور چھوڑ کر کہا:’’ پڑھیئے۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:’’ میں پڑھا ہو ا نہیں ہوں۔ ‘‘تیسری مرتبہ جبرئیل علیہ السلام نے گلے لگا کر دبایا اور چھوڑ کر عرض کیا:’’ پڑھیئے اپنے رب کے نام سے ،جس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھیے اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا رب بڑی عزتوں والا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کو دہرایا۔ اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام چلے گئے۔

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تسلّی

   رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً غارِ حرا سے نکلے اور اپنے گھر تشریف لائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا:’’ مجھے کمبل اڑھا دو۔‘‘ انھوں نے کمبل اُڑھادیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر اسی حالت میں بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ دل کی دھڑکن معمول پر آگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سکون ہو گئے ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سارا واقعہ سنایا اور فرمایا:’’ مجھے اپنی جان کا خطرہ لگتا ہے۔‘‘ ( در اصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے اتنا بڑا کام لینے والا ہے جس کو پورا کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنے دشمن پیدا ہوں گے کہ جان خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جن الفاظ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی۔ اُن الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں بھی معاملے کی گہرائی کا اندازہ تھا) یہ سن کر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:’’ ہرگز نہیں! اللہ کی قسم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو صلہ رحمی کرنے والے ہیں، مہمان نوازی کرنے والے ہیں،راہِ حق میں مصیبتیں سہنے والے ہیں۔ ‘‘(صحیح بخاری جلد نمبر۱ کتاب الوحی حدیث نمبر ۳ ) یہ حدیث ابھی جاری ہے۔

ورقہ بن نوفل نے رسول اللہ ﷺ  کی تصدیق کی

   صحیح بخاری کی طویل حدیث جاری ہے۔ آگے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں’’ پھر ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے کر گئیں۔ یہ نصرانی ( عیسائی) ہو چکے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھتے تھے۔ ورقہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے اور نابینا ( اندھے ) ہو چکے تھے۔ اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اُن سے کہا:’’ اے میرے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بات سنو! انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جبرئیل علیہ السلام سے ملاقات کا ) پورا واقعہ بیان فرما دیا۔ تمام واقعہ سننے کے بعد ورقہ بن نوفل نے کہا:’’ یہی و ہ ناموس ( اسلام یا فرشتہ ) ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا، کاش میں جوان ہوتا، کاش میں اس قت زندہ رہتا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر سے نکال دے گی۔ ‘‘یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟‘‘ ورقہ بن نوفل نے کہا :’’ ہاں !جو پیغام ( اسلام ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔ ایسا پیغام جب بھی کوئی لایا ہے تو اس سے دشمنی کی گئی ہے۔ اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پائوں گا تو ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کروں گا۔‘‘ ( لیکن کچھ دنوں بعد ورقہ بن نوفل کا انتقال ہو گیا) ( صحیح بخاری جلد نمبر ۱ کتاب الوحی حدیث نمبر۳)یہ طویل حدیث ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ انشاء اللہ آگے ہم اس حدیث کو مکمل کریں گے۔

جبرئیل علیہ السلام کا گواہی دینا

   سید الانبیاء ﷺ سے ورقہ بن نوفل نے کہا تھا:’’ اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )! اب اگر وہ آواز سنائی دے ( یا وہ فرشتہ دکھائی دے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں رکے رہیں اورتوجہ سے اس کی بات سنیں۔ حقیقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہو جائے گی۔ ‘‘لیکن اللہ تعالیٰ نے کچھ وقت کے لئے وحی روک دی۔ تا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وحی سے مانوس ہو جائیں اور وحی کا انتظار فرمائیں۔ صحیح بخاری کی طویل حدیث کو ہم آگے بڑھاتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وحی کے رک جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں ایک مرتبہ جا رہا تھا کہ آسمان سے ایک آواز سنی۔ میں نے اوپر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا جو غارِ حرا میں میرے پاس آتا تھا۔ وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ ( صحیح بخاری جلد نمبر ۱ کتاب الوحی حدیث نمبر۳) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کی بات یاد تھی۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں رکے رہے۔ طبقات ابن سعد میں حضرت عمر و بن شرجیل سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز آئی:’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اسی واقعہ کو فتح الباری شرح صحیح بخاری میں امام ابن حجر عسقلانی نے جلد نمبر۱۲ میں پیش کیا ہے۔ کہ وحی رک جانے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کووحی کاانتظا ررہنے لگا اور ساتھ ہی یہ غم ہوا کہ کہیں اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض تو نہیں ہیں۔ ایسے وقت میں جبرئیل علیہ السلام ظاہر ہوتے تھے اور عرض کرتے تھے :’’ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یقینا بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے رسول ِ برحق ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو اطمینان اور سکون حاصل ہو جاتا تھا۔ روض الانف میں امام سہیلی لکھتے ہیں ۔ ورقہ بن نوفل کے یہ کہنے پر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں رکیں اور غور سے سنیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک کر سننے لگے تو مکمل سورہ الفاتحہ نازل ہوئی، یہ پہلی سورہ ہے، جو مکمل نازل ہوئی۔ اس سے پہلے متفرق آیات نازل ہوتی تھیں۔

نماز کا حکم

   جب رسول اللہ ﷺ  وحی سے مانوس ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب (دل ) کو اطمینان نصیب ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،جبرئیل علیہ السلام سے بھی مانوس ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب (دل) میں بس گئی تو اللہ تعالیٰ نے عبادت کا طریقہ بتایا اور نماز کا حکم دیا۔ جبرئیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور زمین پر اپنی ایڑی سے ٹھوکر ماری تو پانی کا ایک چشمہ جاری ہوگیا۔ جبرئیل علیہ السلام نے وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وضو کیا۔ پھر جبرئیل علیہ السلام نے نماز (زور کی آواز سے )پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے رہے اور سنتے رہے ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح نماز پڑھی ۔اس بات پر تو تمام علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ پانچ وقت کی نماز کا حکم معراج میں ہوا۔ اس سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کتنے وقت کی نماز پڑھتے تھے ؟اس میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ بہر حال اتنا تو تمام علمائے کرام تسلیم کرتے ہیں کہ معراج سے پہلے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نماز پڑھتے تھے۔

اسلام کی’’ خاتون اول ‘‘ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہ

   ابو محمدعبد الملک بن ہشام لکھتے ہیں ۔ وہ ہستی جو سب سے پہلے اسلام کی دولت سے مالا مال ہوئی۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ انھوں نے قرآن پاک کی تصدیق کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر معاملے میں مدد کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس اعانت کی وجہ سے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بوجھ کو ہلکا فرمایا۔ جب کفار کے جھٹلانے اور انکار کرنے کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہونچتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غمزدہ ہو جاتے تھے تو اللہ تعالیٰ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کوہی تسلی کا اور اطمینان کا سبب بناتا تھا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حوصلہ بڑھاتیںاور بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتیں اور لوگو ں کی اذیتوں پر ثابت قدم رہنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر طرح سے تعاون کرتیں ۔

حضرت علی بن ابی طالب کا قبول اسلام

   اس سے پہلے ہم آپ کو یہ بتا چکے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے چچا ابوطالب کے معاشی بوجھ کو کچھ ہلکا کرنے کیلئے ان کے ایک بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر لے آئے تھے۔ اور وہ وہیں رہنے لگے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نماز پڑھتے دیکھا تو حیرت سے دریافت کیا:’’ یہ کیا ہے ؟‘‘حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’یہ اللہ کا دین ہے، یہی دین لیکر تمام انبیاء دنیا میں آئے ہیں۔ میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں، اسی کی عبادت کرو اور بتوں کا انکار کردو۔‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت لگ بھگ دس برس کی تھی ،انھوں نے کہا:’’ یہ بالکل نئی چیز ہے، جب تک میں اپنے والد ابو طالب سے مشورہ نہ کرلوں ،تب تک میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔‘‘ اس وقت علانیہ تبلیغ کا حکم نہیں ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ تبلیغ کررہے تھے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے علی (رضی اللہ عنہ )!اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے تو اسکا ذکر بھی کسی سے مت کرو۔ ‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموشی سے اپنے کمرے میںآگئے۔ ایک رات بھی گذرنے نہ پائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کا دل اسلام کی طرف مائل کردیا۔ جب صبح ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اسکا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ ‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گواہی دی اور اسلام قبول کرلیااور کافی عرصے تک اپنے اسلام کو اپنے والد ابو طالب سے بھی چھپائے رکھا۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا قبول ِاسلام

   حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں تفصیل سے ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت سے پہلے کتاب میں کر چکے ہیں، بہت مختصراً یہاں پیش کرتے ہیں۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ بہت خوبصورت اور سمجھ دار تھے۔ بچپن میں اپنی والدہ کے ساتھ ان کے میکے جارہے تھے کہ لٹیروں نے ان کے قافلے پر حملہ کر کے سب کچھ لوٹ لیا اور حضرت زید بن حارثہ کو ان کی والدہ سے چھین کر شام کے بازار میں لے جاکر بیچ دیا۔ وہاں سے سیدہ خدیجہ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے آپ رضی اللہ عنہ کو خرید لیااور مکہ مکرمہ لی آئے اور اپنی پھوپھی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں دے دیا۔ آپ رضی اللہ عنہا حضرت زیدبن حارثہ کو لیکر آئیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دے دیا۔ ادھر ان کی والدہ نے گھر واپس جاکر ان کے والد کو بتایا کہ لٹیرے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو لے گئے ہیں۔ ان کے والد ان کی تلاش میں نکل پڑے اور تمام قافلے والوں سے کہتے تھے۔ جس علاقے میں بھی جانا میرا یہ پیغام وہاں کے لوگوں کو پہونچا دینا۔ اس پیغام میں حضرت زید بن حارثہ کی تلاش اور درد اشعار میں بیان کیا تھا۔ مکہ مکرمہ میں حضرت زید بن حارثہ کو اپنے والد کا پیغام ملا تو انھوں نے قافلہ والوں کے ذریعے اپنا پتہ اور تمام حال والد تک پہونچا دیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد اور چچا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ فدیہ لیکر میرے بیٹے کو چھوڑدیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر یہ آپ لوگوں کے ساتھ جانا چاہے تو بغیر کسی معاوضے کے لے جائیں ۔ ‘‘حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں رہنا پسند فرمایا۔ یہ دیکھکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں آزاد کردیا اور اپنا بیٹا بنالیا۔ لوگ انھیں حضرت زید بن محمد کے نام سے پکارنے لگے اور آپ رضی اللہ عنہ ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے بن کر ان کے گھر میں رہنے لگے۔ بعثت کے بعد آپ رضی اللہعنہ نے تینو ں حضرات کو نماز پڑھتے دیکھا تو دریافت کیا:’’یہ کیا ہے؟‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اسلام پیش کیا اور انھوں نے اسلام قبو ل کیا۔پھرجب قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا کہ منہ بولا بیٹا اصل بیٹا نہیں ہوتاتو پھر سے تمام لوگ انھیں حضرت زید بن حارثہ کے نام سے پکارنے لگے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قبول ِاسلام

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی محلے میں رہتے تھے۔ اور لگ بھگ ہم عمر تھے۔ دونوں کے مزاج میں ہم آہنگی تھی۔ اس لئے دونوں میں بہت گہری دوستی تھی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی اپنے دوست حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح شروع سے ہی بت پرستی سے بیزار تھے۔ شراب سے بھی نفرت تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعثت سے کچھ عرصہ پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک خواب دیکھا کہ ایک نورِ عظیم مکہ مکرمہ پر نازل ہوا اور مکہ مکرمہ کا ہر گھر اُس نور سے روشن ہو گیا۔ اس کے بعد وہ نور اکٹھا ہو کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں آگیا اور انھوں نے دروازہ بند کر لیا۔ صبح کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی احبار ( عالِم) کو اپنا خواب سنایا۔ اس نے کہا:’’ اس خواب کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ تجارتی سفر پر شام گئے اور وہاں ایک عیسائی راہب ( عالم) کو اپنا خواب بتایا۔ اس نے آپ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ ، شہر اور پیشہ کے بارے میں پوچھا اور پھر کہا:’’ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں سچا خواب دکھایا ہے تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہارے قبیلے میں’’ ایک نبی‘‘ مبعوث ہوگا۔ وہ’’ اعلان نبوت ‘‘کر ے گا تو تم اس کے’’ وزیر‘‘ اور اس کے وصال کے بعد اس کے’’ خلیفہ‘‘ ہوگے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والے یعنی’’ اہل بیت‘‘ اسلام قبول کر چکے تھے ۔ اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سب سے قریبی دوست حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اسلام کی دعوت دیناچاہتے تھے ،لیکن تجارتی سفر پر شام گئے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ جیسے ہی شام کے تجارتی سفر سے واپس آئے فوراً اپنے دوست صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اسلام کی دعوت دی اور انھوں نے فوراً قبول کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو بکر ( رضی اللہ عنہ)! اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا یا ہے۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا :’’ میں مانتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اسلام قبول کرنے سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ کا نام عبدا لکعبہ تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبد الکعبہ سے بد ل کر ’’عبداللہ ‘‘رکھ دیا۔

السابقون الاولون

   امامِِ اعظم ابو حنیفہ سے جب دریافت کیا گیا کہ سب سے پہلے کس نے اسلام قبول کیا تو انھوں نے فرمایا:’’آزاد مردوں میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، خواتین میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا، غلاموں میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور لڑکوں میں حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ کسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے اسلام قبول کیا یا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ پہلی بات یہ کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور دوسری بات یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی ۔ تیسری بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غارِ ثور میں رہے اور چوتھی بات یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ کھلے عام مکہ مکرمہ میں نماز پڑھتے رہے۔ جبکہ میں اس وقت شعیب ابی طالب میں محصور تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے دوستوں اور جان پہچان والوں کو اسلام کی دعوت دینی شروع کر دی اور آپ رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے ان حضرات نے اسلام قبول کیا۔ 1) حضرت عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ ،2) حضرت زبیر بن عوام ر ضی اللہ عنہ ، 3) حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ، 4) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ، 5) حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ ۔ ان تمام حضرات کا شمار’’ السابقون الاولون‘‘ میں ہوتا ہے۔پھر حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ ان کا نام عبداللہ بن عبدالاسدہے۔ پھر حضرت ارقم بن ابو ارقم رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ ان کے بعد حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ محترمہ(یہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں) نے اسلام قبول کیا۔ ان کا نام فاطمہ بنت خطاب رضی اللہ عنہا ہے۔ پھر سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ یہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسلام قبو ل کیا۔پھر حضرت مسعود بن قاری رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت سلیط بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عیاش بن ابی ربیعہ اور ان کی زوجہ سیدہ اسماء بنت سلامہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عبداللہ جحش رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی حضرت ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ ان کے بعد حضرت جعفربن ابو طالب رضی اللہ عنہ (یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی ہیں۔دس سال بڑے تھے) اور ان کی زوجہ محترمہ سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا۔ ان کے بعد حضرت حاطب بن حار ث رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ محترمہ فاطمہ بنت مجلل رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیااور ان کے بھائی حضرت خطاب بن حارث رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ فکیہہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا۔ ان کے بعد حضرت معمر بن حارث رضی اللہ عنہ ، حضرت سائب بن عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت مطّلب بن ازہر رضی اللہ عنہ ، اور ان کی زوجہ سیدہ رملہ بنت ابی عوف رضی اللہ عنہا ، حضرت نعیم نحام بن عبداللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ ان کو نحام اس لئے کہا جاتا تھا کہ ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کے کھانسنے کی آواز جنت میں سنی ہے۔ پھر حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ ان کے بعد حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ محترمہ امینہ بنت خلف نے اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت حاطب بن عمرورضی اللہ عنہ اور حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ امام ابو محمد عبدا لملک بن ہشام کہتے ہیں ان کا نام مہشم بن عتبہ تھا۔ یہ تمام حضرات’’ السابقون الاوّلون ‘‘میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے بعد حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ یہ حضرات بھی’’ السابقون الاولون ‘‘میں شامل ہیں۔

حضرت عفیف کندی رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عفیف کندی کا نام شراحیل ہے اور عفیف لقب ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ یمن کے ہیں اورعطر کے تاجر تھے۔حضرت عباس بن عبد المطلب بھی عطر کے تاجر تھے اور تجارت کے سلسلے میں یمن جاتے رہتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں منیٰ میں اپنے دوست حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ہر طرف خیمے لگے ہوئے تھے اچانک میں نے دیکھا کہ ایک بے انتہا خوبصورت اور روشن چہرے والا شخص ایک خیمے سے باہر آیااور نماز کے لئے کھڑ اہو گیا۔ ابھی میں اس خوبصورت اور معصوم شخص کو دیکھ رہا تھا کہ ایک عورت خیمے سے نکل کر آئی اور اس بے انتہا خوب صورت شخص کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگی پھر میں نے دیکھا کہ ایک گیارہ سالہ لڑکا باہر آیا اور اس بے انتہا خوب صورت روشن چہرے والے شخص کے دائیں طرف ذرا سا پیچھے کھڑا ہوگیا اور نماز شروع کر دی۔ میں حیرت سے اپنے دوست حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کودیکھنے لگا تو انھوں نے مجھے بتایا:’’ یہ جو بے انتہا خوبصورت شخص کو دیکھ رہے ہو، یہ میرے بھائی حضرت عبداللہ کا بیٹا محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ نے انھیں دین اسلام دیکر بھیجا ہے اور یہ خاتون ان کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ یہ اپنے شوہر پر ایمان لے آئی ہیں اور وہ گیارہ سالہ لڑکا حضرت علی بن ابو طالب ہے ،میرے بھائی ابو طالب کا بیٹا، یہ بھی مسلمان ہو گیا ہے۔ ‘‘اس کے بعد حضرت عفیف کندی فرماتے ہیں :’’ اس منظر نے میرے دل پر بہت گہرا اثرکیا تھالیکن اس وقت میں پوری طرح اسلام کی سچائی کو سمجھ نہیں پایا تھا۔ بعد میں جب میں نے اسلام قبول کیا تو مجھ سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور اس بات کا مجھے ہمیشہ افسوس رہا ہے کہ کاش اگر میں اسی وقت اسلام قبول کر لیتا تو شاید میں چوتھا مسلمان ہوتا۔ ‘‘

حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ مردوں میں چوتھے یا پانچویں مسلمان ہیں۔ انھوں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک آگ کی بہت گہری اور بڑی خندق کے کنارے وہ کھڑے ہیں اور اُن کا باپ انھیں آگ کی خندق میں دھکیل کر گرانے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اچانک حضو رصلی اللہ علیہ وسلم کہیں سے آئے اور اُن کی کمر پکڑ کر کھینچ لیا۔ خواب سے بیدار ہوئے تو انھوں نے کہا :’’اللہ کی قسم یہ خواب سچا ہے۔ ‘‘حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اُن کے دوست تھے۔ اُن کے پاس آئے اور خواب بیان کیا۔ انھوں نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے۔ تمہارا باپ بُت پرستی تم سے کروا کر دوزخ کی آگ میں گرانا چاہتا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر تم اسلام قبول کر لو تو دوزخ کی آگ سے بچ جائو گے۔ آئو میرے ساتھ۔ ‘‘حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ انھیں ساتھ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اسلام کی دعوت دی اور فرمایا :’’ میں تم کو اللہ کی طرف بلاتا ہوں، جو ایک ہے، کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ بت پرستی چھوڑ دو۔ جو کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کون ان کی پوجا کررہا ہے اور کو ن نہیں کر رہا ہے۔‘‘ حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں‘‘ اور اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے باپ کو معلوم ہوا تو چھڑی سے مارنے لگا یہاں تک چھڑی ٹوٹ گئی اور آپ رضی اللہ عنہ کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ با پ نے کہا :’’تُو اُس محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات مانتا ہے جو ہمارے معبودوں ( بُتوں) کو برا کہتا ہے اور ہمارے آبائو اجداد کو احمق بتاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل سچ فرمایا ہے۔‘‘ باپ کو اور غصہ آگیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو گھر سے نکال دیا۔

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضر ت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں اپنا تجارتی سامان لیکر بصریٰ گیا ہوا تھا۔ ایک دن بصریٰ کے بازار میں تھا کہ ایک راہب( عیسائی عالم) اپنے صومعہ (عبادت گاہ ) سے پکار رہا تھا:’’ کوئی حرم( مکہ مکرمہ) کا رہنے والا ہے؟میں نے کہا کہ میں حرم شریف (مکہ مکرمہ )کا رہنے والا ہوں ۔ ‘‘ راہب نے کہا :’’کیا احمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ظہور ہو گیا؟ ‘‘میں نے پوچھا :’’کون احمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ؟‘‘ راہب نے کہا:’’ عبد اللہ بن عبد المطلب کے بیٹے۔ یہ مہینہ ان کے ظہور کا ہے۔ وہ حرم شریف (مکہ مکرمہ) میں ظاہر ہوں گے ۔ ایک پتھریلی اور نخلستانی زمین ( مدینہ منورہ )کی طرف ہجرت کریں گے۔ وہ ’’خاتم النبین‘‘ اور’’ آخری رسول ‘‘ہیں۔ دیکھو تم پیچھے نہ رہنا ۔‘‘راہب کی گفتگو مجھے یاد رہی ۔ جب میں مکہ مکرمہ آیا اورحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور راہب کا واقعہ انھیں بتایا۔ انھوں نے فرمایا:’’یہ سچ ہے‘‘ اور مجھے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ اسلام قبول کرنے سے تین راتوں پہلے میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں شدید تاریکی اور اندھیرے میں ہوں ۔اچانک اس اندھیرے میں چاند نکلتادکھائی دیا، میں اس روشنی کی طرف بڑھنے لگا۔ جب اس روشنی کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ مجھ سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ پہنچ چکے ہیںاور کھڑے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا :’’آپ لو گ کب آئے؟ ‘‘ انھوں نے کہا :’’بس ابھی ابھی آئے ہیںاور میری آنکھ کھل گئی۔ ‘‘میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اپنا خواب بیان کیا۔ انھوں نے کہا:’’ تم نے جو اندھیرا دیکھا وہ کفر ہے اور جو روشنی رکھی وہ اسلا م ہے ۔ میں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کر چکے ہیں اور مجھے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور میں نے کہا :’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘

حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تجارت کی غرض سے یمن جایا کرتے تھے ۔ وہاں عسکلان حُمیری سے اکثر ملاقات ہوتی تھی اور وہ مکہ مکرمہ ، خانہ کعبہ اور چاہِ زمزم کے بارے میںپوچھتا رہتا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :’’ ایک مرتبہ میں تجارت کی غرض سے یمن گیا اور اُن سے ملاقات کی ۔ وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور تکلیف میں مبتلا تھے۔ لیکن مجھے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے بیٹوں ، پوتوں اور نواسوں کو بھی بلالیا اور کہا :’’ اے عبد الرحمن ! میں تمہیں ایک ایسی بشارت نہ دوں جو تمہارے لئے نفع مند تجارت سے بہتر ہو؟ ‘‘میں نے کہا :’’ضرور! میں منتظر ہوں۔‘‘ انھوں نے کہا :’’ اے عبد الرحمن! تُو سفر میں ہے، لیکن تیرے شہر مکہ مکرمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک ’’برگزیدہ نبی ‘‘کو مبعوث فرما دیا ہے اور انھیں کتاب ِ ہدایت( قرآن پاک) دے دی ہے۔ وہ بت پرستی سے روکتے ہیں اور اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور خود بھی عمل کرتے ہیں ۔ برائی سے روکتے ہیں اور خود بھی رکتے ہیں۔ اے عبدالرحمن! تمہارا خاندان’’ اس نبی ‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم) کا ننھیال ہے۔ فوراً واپس جائواور اُن پر ایمان لائو۔ اِسی میں بھلائی ہے اور میرا یہ پیغام اُن تک پہنچا دو ۔ میں اللہ تعالیٰ کوگواہ بنا کر کہتا ہوں جو رات و دن کا خالق اور مالک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے سربرآوردہ فرد ہیں۔‘‘(اِس کے بعد انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس جاکر میرا یہ پیغام پہنچا دینا)’’ اے حضرت عبدا للہ کے بیٹے صلی اﷲ علیہ وسلم ! جن کے بدلے میں اونٹ ذبح کئے گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان و یقین کی دعوت دیتے ہیں اور حق اور کامیابی کا راستہ بتا تے ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ ربِّ موسیٰ علیہ السلام کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اے مخلوق کو نجات اور کامیابی کی طرف بلانے والے رسول! اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری بھی شفاعت فرما ئیں۔ ‘‘یہ سن کر میں بے تاب ہو گیا اور جلدی سے اپنا مال فروخت کرکے مکہ مکرمہ واپس پہنچا۔ گھر جانے کی بجائے اپنے دوست حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور تمام باتیں بتائیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ سعادت اور ہمیشہ کی کامیابی تمہارا انتظار کر رہی ہے، وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، دیر نہ کروورنہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہو جائو گے۔ میرے ساتھ چلو اور ایمان لے آئو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما ہیں۔ ‘‘میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی اورمیں نے اسلام قبول کر لیا۔ پھر عسکلان حمیری کا پیغام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کودیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بے شک قبیلہ حمیر کا یہ شخص خاص مومنین میں سے ہے۔ ‘‘پھر فرمایا:’’کئی ایسے لوگ ہیں جو مومن ہیں۔ لیکن انھوں نے ہمیں دیکھا نہیں ہے اور کئی لوگ ایسے ہیں جو ہماری تصدیق کرنے والے ہیں مگر وہ ہم سے مل نہیں سکے یہی لوگ ہمارے بھائی ہیں۔ ‘‘

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں ایک مرتبہ گھر آیا تو میر ی خالہ سعدی کو بیٹھادیکھاوہ میری والدہ اور گھر والوں سے باتیں کر رہی تھیں ۔ میری خالہ کہا نت کرتی تھی، مجھ کو دیکھتے ہی کہا :’’ اے عثمان تجھ کو بشارت ہو سلامتی کی بار بار دس بار، تُوبھلائی سے ملے گا اور برائی سے محفوظ ہو جائے گا۔ اللہ کی قسم !تُو ایک نہایت پاک دامن حسین عورت سے نکاح کرے گا۔‘‘ یہ سن کر مجھے بہت تعجب ہوااور میں نے کہا :’’ اے خالہ یہ کیا کہہ رہی ہو؟ ‘‘انھوں نے کہا :’’اے عثمان ! تیرے لئے جمال بھی ہے اور شان بھی ہے، یہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے ساتھ نبوت و رسالت کے دلائل اور نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حق دے کر بھیجا ہے، اُن پر اللہ کا کلام ( قرآن پاک) اترتا ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتا ہے۔ پس تو اُن کی اتباع کر کہیں بُت تجھ کو گمراہ نہ کردیں۔‘‘ میں نے کہا :’’اے خالہ آپ ایسی بات کا ذکر کر رہی ہیں جس کا شہر میں کہیں تذکرہ نہیں سنا ۔خالہ نے جواب دیا:’’ عبداللہ کے بیٹے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اللہ کی طرف سے وہ اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کا قول نجات اور کامیابی ہے، وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں چیخ و پکار فائدہ نہیں دے گی۔ چاہے کتنی ہی تلواریں اور نیزے اُن کے مقابلے میں چلائی جائیں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلی گئیں، مگر میں غور و فکر میں پڑ گیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے میرے تعلقات تھے۔ میں اُن کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ انھوں نے مجھے متفکر دیکھا تو وجہ پوچھی۔ میں نے اپنی خالہ سے جو سنا تھا وہ ان سے کہہ دیا۔ انھوں نے فرمایا:’’ اے عثمان ( رضی اللہ عنہ)! ماشاء اللہ تم ہوشیار اور سمجھ دار ہو، حق اور باطل کے فرق کو سمجھ سکتے ہو۔ یہ بُت جن کی پوجا میں ہماری قوم مبتلا ہے، یہ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ نہ ہمیں نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ‘‘میں نے کہا :’’بے شک یہ ایسے ہی ہیں جیساآپ رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم !تمہاری خالہ نے بالکل سچ کہا ہے۔ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا پیغام دے کر تمام مخلوق کی طرف بھیجا ہے۔ تم اگر مناسب سمجھو تو اُن کا کلام ضرور سنو۔‘‘ اتفاق سے اسی وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم آتے دکھائی دیئے ،اُن کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ ( ابھی لڑکے تھے) بھی تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ عرض کیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے اور مجھ سے فرمایا:’’ اے عثمان ( رضی اللہ عنہ)! اللہ تعالیٰ جنت کی دعوت دیتا ہے، تم اللہ کی دعوت قبول کر لو اور میں اللہ کا رسول ہوں جو تمہاری طرف اور تمام مخلوق کی طرف بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنتے ہی میں ایسا بے خود ہواکہ فوراً اسلام قبول کرلیا اور یہ کلمات ادا کئے۔ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ کچھ روز گزرنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے میرا نکاح ہوا تو میر ی خالہ نے مجھے مبارکباد دی اور کہا:’’ اللہ نے اپنے بندے عثمان کو ہدایت دی اور اللہ ہی حق کی ہدایت دیتا ہے۔ پس عثمان نے اپنی صحیح رائے سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کیا۔ آخر ارویٰ کا بیٹا ہے۔ ( ارویٰ بنت کریز حضرت عثمان غنی کی والدہ کا نام ہے) سمجھ سے کام لیااور حق کو قبول کیا اور اس پیغمبر برحق نے اپنی ایک بیٹی اس کے نکاح میں دے دی۔ پس یہ ایسا ہوا جیسے چاند اور سورج جمع ہو ئے ہوں۔ اے ہاشم کے بیٹے محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری جان آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہو۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم امین ہیں اور مخلوق کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ ‘‘

ابو طالب کو اسلام کی دعوت

   خفیہ تبلیغ کا سلسلہ جاری تھا اور ایک ایک کر کے مسلمان ہوتے جا رہے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر لگ بھگ گیارہ برس ہو چکی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ لگے رہتے تھے۔ جب نماز پڑھنا ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہاڑوں کے درمیان کسی گھاٹی یا درّہ میں جا کر پوشیدہ نماز پڑھتے ۔ ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت علی رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ اتفاق سے ابو طالب ادھر سے گزرے ۔ وہ حیرت سے کھڑے اپنے بھتیجے اور بیٹے کو قیام ، رکوع ، سجدہ ،قعدہ کرتے اور سلام پھیرتے دیکھتے رہے۔ جب دونوں حضرات نماز سے فارغ ہو گئے تو انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:’’ اے بھتیجے !وہ کون سا دین ہے جسمیں ایسی عبادت کی جاتی ہے ؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’پیاے چچا !وہ اللہ کا دین اسلام ہے، اُس کے فرشتوں اوررسولوں کا دین ہے اور ہمارے جدامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دین کے ساتھ تمام بندوں کی طرف بھیجا ہے اور اے میرے پیارے چچا !آپ سب سے زیادہ اس بات کے حق دارہیں کہ میں آپ کو اس دین کی دعوت دوں اور ہدایت کی طرف بلائوں۔ آپ کا بھی یہ حق بنتا ہے کہ آپ اس دعوت کو قبول کریں اور اس کی دعوت و تبلیغ میں میری مدد کریں۔‘‘

ابو طالب کی حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو تاکید

   سید الانبیاء ﷺ کی دعوت کو سن کر ابو طالب نے جواب دیا:’’ اے میرے پیارے بھتیجے ! میں اپنے آبائو اجداد کا دین اور ان کا طریقہ نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں تمہاری ہر ممکن مدد کرتا رہوں گا اور کوشش کروں گا کہ تمہیں کوئی دکھ یا تکلیف نہ پہنچے ۔‘‘ اس کے بعد ابوطالب نے اپنے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا :’’ اے پیارے بیٹے !یہ کون سادین ہے جو تم نے اختیار کیا ہے؟ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:’’ پیارے ابا جان !میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں اور اُن کی تعلیمات ( جو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں) کو دل و جان سے قبول کرتا ہوں اور اللہ کی رضا کے لئے ان کے ساتھ مل کر عبادت(نماز) کرتا ہوں۔‘‘ یہ سن کر ابو طالب نے کہا:’’ اے میرے پیارے بیٹے !بے شک تمہارا بھائی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہیں بھلائی اور کامیابی کی طرف لے جائے گا ۔ اس لئے ہر حال میں اپنے بھائی کا ساتھ نبھانا اور اس کا ساتھ کبھی مت چھوڑنا۔ ‘‘

حضرت جعفر طیاّر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام

   حضرت جعفر طیّار بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے چھوٹے بھائی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے دس سال کے بڑے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت ہی سلیم الفطرت تھے۔ ہر وقت اپنے والد صاحب کی خدمت میں حاضر رہتے تھے۔ اسلام کی حقانیت سے دل منور ہو چکا تھا، لیکن والد صاحب کی اجازت کے انتظار میں تھے۔ ایک دن اپنے والد کے ساتھ جارہے تھے کہ وہیں سے گزر ہوا جہاں اُن کے بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز اد ا کر رہے تھے۔ ابو طالب کھڑے ہو کر ان کی عبادت دیکھنے لگے اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بھی دیکھنے لگے۔ ابو طالب نے جب اپنے بیٹے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کودیکھا تو چونک پڑے۔ انھیں اندازہ ہو گیا کہ بیٹے کے دل میں اسلام کی شمع جل چکی ہے۔ انھوں نے حضرت جعفر بنابی طالب رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر کہا:’’ بیٹے تم بھی اپنے بھائی علی کی طرح اپنے چچا زاد بھائی کے قوتِ بازو بن جائو۔ علی دائیں طرف نماز پڑھ رہے ہیں،تم بائیں طرف کھڑے ہو جائو اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو جائو۔‘‘ اتنا سننا تھا کہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔ آپ رضی اللہ عنہ خوشی خوشی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے والے چھبیسویں 26ویں یا بتیسویں 32ویں صحابی ہیں۔

خفیہ تبلیغ کے تین سال اور مسلمانوں کا ’’مرکز‘‘ دار ارقم

   رسول اللہ ﷺ  اسلام کی خفیہ تبلیغ کرتے رہے اور اس میں اسلام قبول کرنے والے صحابہ کرام بھی ساتھ دیتے رہے۔ خاص طور سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خفیہ تبلیغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی کوششوں سے کئی حضرات نے اسلام قبول کیا۔ جب مسلمانوں کی تعداد تیس30سے زیادہ ہو گئی تو یہ ضرورت پیش آئی کہ مسلمانوں کا کوئی ایسا ’’مرکز‘‘ ہو جہاں سب مسلمان جمع ہو ں اور رائے مشورہ کریں۔ اسلام کی تعلیمات ایک دوسرے کو دیں اور آگے کا لائحہ عمل طے کریں۔ تمام صحابہ کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مرکز بنانے کی درخواست کی۔ حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے اپنا مکان پیش کر دیا ان کا مکان’’ صفا‘‘ پہاڑی کے دامن میں تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غور و خوض کرنے کے بعد اس تجویز کو منظور کر لیا اور حضرت ارقم بن ابی الارقم رضی اللہ عنہ کے مکان کو مسلمانوں کا مرکز بنا دیا۔ اس کے بعد جب بھی کوئی واقعہ یا بات ہوتی تو تمام مسلمان وہاں جمع ہو جاتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی مسلمانوں کا ایک دوسرے سے رابطے کا ذریعہ یہی مرکز تھا۔

رشتہ داروں اور خاندان والوں کو اسلام کی دعوت

   اللہ تعالیٰ کے حکم سے تین برس تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ دعوت و تبلیغ کرتے رہے۔ اور اس میں کامیابی بھی ملی۔ لیکن کامیابی کی یہ رفتار دھیمی تھی۔ جب تین برس ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی (ترجمہ )’’ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرائیں ( اسلام کی دعوت دیں) اپنے قریبی رشتہ داروں کو‘‘ ( سورہ الشعرا ء آیت نمبر214) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ جب یہ آیت ’’ وانذرعشیرتک الاقربین ‘‘( اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں) نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا کہ ایک صاع غلّہ (اناج) اور بکری کا ایک دست ( گوشت) اور دودھ کا ایک پیالہ مہیا کرو۔ ( یعنی کھانے پینے کا انتظام کرو) اور بنو ہاشم کو کھانے کی دعوت دو اور جمع کرو( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام چچائوں اور ان کی اولاد اور پھوپھیوں اور ان کی اولاد کو کھانے کی دعوت دی) میں نے خاندان ِ ہاشم ( یہ یاد رہے کہ عبد المطلب کے والد کا نام ہاشم ہے) کو کھانے کی دعوت دی اور کم و بیش چالیس40افراد جمع ہو گئے ۔‘‘ (حضرت علی رضی اﷲ عنہ اُس وقت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی کفالت میں تھے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ اُن کے گھر میں ہی رہتے تھے۔اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ کی عُمر بہ مشکل تیرہ 13سال کی تھی۔)

ابو لہب نے سننے سے منع کر دیا

   حضرت علی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :’’جب تمام لوگ آگئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو کھانے کے لئے بٹھایا۔ ان میں ابو طالب ، حضرت حمزہ ، حضرت عباس اور ابولہب بھی تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے سب کو کھانا کھلایا۔ تمام لوگ پیٹ بھر کر کھا چکے تھے پھر بھی وہ کھانا اُتنا ہی رہا جتنا پہلے تھا۔ اس کے بعد حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ اٹھایا اور مجھ سے فرمایا :’’ اے علی ( رضی اللہ عنہ) ! ان سب کو دودھ پلائو۔‘‘ دودھ کا پیالہ دیتے رہے ،سب نے دودھ پیا، پھر بھی پیالے میں دودھ اتنا ہی تھا۔ جب تمام لوگ فارغ ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تقریر کرنے کے لئے کھڑے ہو ئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ابو لہب کھڑا ہو گیا اور بولا :’’ لوگو !دیکھا تم نے! اس شخص نے تم پر کیسا جادو کیا ہے اور جادو کا تماشہ تمہیں دکھایا ہے‘‘ اس کا اشارہ کھانے اور دودھ کے برتن کی طرف تھا۔ اتنا کہہ کر وہ جانے لگا تو تمام لوگ بھی اٹھ کر چلے گئے۔ دوسرے دن پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کھانے اور پینے کا انتظام کرنے اور تمام رشتہ داروں کو دعوت دینے کا حکم دیا۔دوسرے دن بھی سب نے کھایا اور پیا ۔ لیکن جیسے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کہنے کے لئے کھڑے ہو ئے تو پھر ابو لہب نے وہی حرکت کی اور سب چلے گئے۔ ‘‘

اپنے گھرانے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر

   حضرت علی رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :’’سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسرے دن مجھ سے کھانے پینے کا انتظام کرنے اور تمام رشتہ داروں کو دعوت دینے کا حکم دیا۔ تیسرے دن بھی تمام لوگوں کے کھانے اور پینے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کہنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو لہب پھر وہی بکواس کرنے لگا۔ لیکن اس مرتبہ تمام لوگ بیٹھے رہے اور ابو لہب کی بکواس پر توجہ نہیں کی۔ یہ دیکھ کر ابولہب بھی خاموش بیٹھ گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام حاضرین سے مخاطب ہو کر فرمایا:’’ میں تم سب کے لئے دنیا اور آخرت کی کامیابی لے کر آیا ہوں اور عرب میں اس سے بہتر اور افضل شئے کوئی نہیں لایا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں آپ لوگوں کو اس کی ( اسلام کی ) دعوت دوں۔ بتلائو تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا۔ یہ سن کر تمام لوگ خاموش رہے۔ بلکہ کچھ لوگ تو اٹھنے کی بھی تیاری کرنے لگے۔ میں نے جب یہ دیکھا تو کھڑے ہو کر کہا:’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور حمایت کے لئے تیار ہوں۔ ‘‘( حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت لگ بھگ تیرہ برس کی تھی) یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کلائی تھام کر فرمایا:’’یہ میرا بھائی اور میرا وزیر ہے۔ اب تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر سب لوگ ہنسنے لگے اور ابو طالب سے بولے:’’ کیا اب ہمیں ( تمہارے بھتیجے کے علاوہ) تمہارے کم سِن بیٹے کی بات سننی اور اطاعت کرنی پڑے گی۔ ‘‘ علامہ ابن کثیر نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں یہ حدیث پیش کرکے اس کے راویوں میں سے ایک راوی پر جرح کی ہے۔ لیکن اسی کتاب میں آگے اسی مضمون کی حدیث کو دوسرے راویوں سے پیش کی ہے اور ان پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مضمون پورا یہی ہے۔ اس حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام رشتہ داروں پر اسلام پیش کیا اور فرمایا :’’ تم سب میرے قریبی عزیز ہولیکن تم میں سے کون شخص میرا بھائی بن کر اشاعتِ اسلام میں میری مدد کرے گا۔؟‘‘تو سب لوگ خاموش رہے۔ جب دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سوال دہرایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں‘‘ ( آپ کی مد د کروں گا) ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیرت سے دیکھا اور فرمایا:’’تم ؟‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ میری عمر اس وقت کم ہے لیکن میں جسمانی طور سے صحت مند ہوں۔ میری بات سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے۔ ‘‘

 مکۂ مکرمہ والوں کودعوتِ اسلام

   اپنے رشتہ داروں ، گھر انے اور خاندان والوں کو اسلام کی دعوت دینے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھلے عام ہر ایک کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے کوہِ صفا پر چڑھے اس سے پہلے ہم آپ کو’’ حلف الفضول ‘‘میں بتا چکے ہیں کہ مکہ مکرمہ میںیہ قاعدہ تھا کہ جب کسی شخص کو پورے مکہ مکرمہ والوں تک اپنی بات پہنچانا ہوتی تھی تو وہ کوہِ صفا یا کوہِ مروہ اور کسی قریبی پہاڑی پر چڑھ کر قریش کے خاندانوں یا قبیلوں کے نام لے کر زور زور سے پکارتا تھا۔ جس سے تمام مکہ مکرمہ والوں کو پتہ چل جاتا تھا کہ کوئی شخص تمام مکہ مکرمہ والوں سے کوئی اہم بات کرنا چاہتا ہے اور تمام لوگ فوراً جمع ہو کر اس کی بات سنتے تھے۔ اسی قاعدے کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ صفا پر چڑھے اور قریش کے ایک ایک خاندان یا قبیلے کا نام لے کر پکارنے لگے۔ پور ے مکہ مکرمہ میں کہرام مچ گیا کیوں کہ حضور صلی اللہعلیہ وسلم کی عزت مکہ مکرمہ کا بچہ بچہ کرتا تھا۔ جب تمام لوگ جمع ہو گئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ بتائو اگر میں تمہیں بتائوں کہ دشمن کے سوار اس پہاڑ کے دامن سے نکل کر تم پر حملہ کرنے والے ہیں تو کیا تم مجھے سچا مانو گے۔ ‘‘لوگوں نے جواب دیا :’’یقینا ہم سچا مانیں گے کیوں کہ ہم نے آپ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں سنا ہے۔‘‘ ( اور اسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’صادق‘‘ اور ’’امین‘‘ کا لقب دے رکھا ہے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں تمہیں اس عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے سامنے موجود ہے۔‘‘ (یعنی اگر تم لوگ بُتوں کی پوجا کرتے رہو گے اور اسلام قبول نہیں کرو گے تو اﷲ کے عذاب کا آخرت میں شکار ہو جاؤ گے)

اﷲ تعالیٰ نے ابو لہب کی مذمت کی

   سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم مکۂ مکرمہ والوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور اﷲ کے عذاب سے ڈرا رہے تھے ،اس مجمع میں ابولہب بھی موجود تھا۔ اُس نے جب دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دے رہے ہیں اور لوگ اُن کی بات مان بھی سکتے ہیںتو اس نے وہی حرکت کی جو تین دنوں تک کھانے کے بعد کرتا رہا تھا۔ اس نے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا:’’اے محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) ! تُونے ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا‘‘ اور واپس جانے لگا۔ اسے جاتا دیکھ کر تمام لوگ واپس چلے گئے۔ ( جب ہم کسی کی بات کو فضول ثابت کرنا چاہتے ہیں تو ہاتھ سے اس کی طرف اشارہ کر کے ہاتھ جھٹک دیتے ہیں اور کہتے ہیں اتنی فضول بات تم کر رہے ہو) ابولہب نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی اہمیت کم کرنے کے لئے اور اثر زائل کرنے کے لئے ہاتھ جھٹکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو اس کی یہ حرکت بہت ناگوار گزر ی اور قرآن پاک میں سورہ لہب ( ترجمہ) ’’ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور وہ برباد ہو گیا…… ۔ آخر تک ۔ ‘‘نازل ہوئی(صحیح بخاری حدیث نمبر 4971)علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں مسند امام احمد بن حنبل کی حدیث پیش کی ہے۔ اس میں ہے کہ ابو لہب نے کہا۔:’’ تُو ہمیشہ برباد رہے۔‘‘ ( نعوذ باللہ ) کیا تُونے بس یہ سنانے کے لئے بلایا تھا۔‘‘ اس کے ناز یبا الفاظ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے سورہ لہب میں فرمایا :’’ ٹوٹ جائیں ابولہب کے ہاتھ اور وہ برباد ہوگیا…آخر تک ۔‘‘ نازل فرمائی۔

ابولہب کی اسلام دشمنی

   ابو لہب کا نام عبدا لعزیٰ بن عبد المطلب ہے۔ اس کی بیوی اُم جمیل کا نام ارویٰ بنت حرب ہے ،یہ ابو سفیان کی بہن ہے۔ ابولہب بہت سخت کافر تھا، اسے اسلام سے اور خاص طور سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت نفرت تھی۔ اسی لئے وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر ممکن تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتا تھا۔ قبیلہ ویل کے ربیعہ بن عبادکہتے ہیں ( یہ بعد میں مسلمان ہوگئے تھے اور اسلام قبول کرنے کے بعد بتایا) :’’زمانہ جاہلیت میں ایک روز ذی المجاز کے بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :’’ اے لوگو !تم لا الہ الا اللہ کہو تو فلاح ( کامیابی ) پا ئو گے اور اسی بازار میں ایک دوسرا شخص جو بھینگا تھا اور اس کے رخساروں پر گڑھے پڑے ہوئے تھے، یہ کہہ رہا تھا :’’ لوگو! اِس کی باتوں میں نہ آنا، یہ دیوانہ ہے‘‘ ( نعوذ باللہ) اور جو چاہتا تھا بکتا رہتا تھا۔ یہ دوسرا شخص وہی ابو لہب تھا جس نے اس سے قبل اپنے خاندان والوں سے کہا تھا:’’ لوگو !تم اس کھانے اور دودھ کی ذراسی مقدار سے سیر ہو کر کھانے پینے سے اندازہ لگا لو کہ یہ شخص ( نعوذ باللہ) کتنا بڑا جادو گر ہے۔ ‘‘یہ حدیث امام احمد بن حنبل نے’’ مسند احمد‘‘ میں بیان فرمائی ہے اور امام بیہقی’’ دلائل النبوۃ ‘‘میں او’’ر شعب الایمان‘‘ میں اِنہی ربیعہ ویلی کی روایت بیان کی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی المجاز کے بازار میں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے:’’ لوگو! لا الہ الا اللہ کہو تم فلاح پائو گے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے ایک شخص کہتا جا رہا تھا :’’ لوگو !یہ شخص تمہیں اپنے آبائو اجداد کے دین سے پھیر نہ دے، تم اس کی بات مت سنو۔ ‘‘میں نے لوگوں سے پوچھا :’’یہ شخص کون ہے؟ ‘‘ وہ بولے :’’یہ ابولہب ہے۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے اور اسلام کی دعوت دیتے جا رہے تھے اور ابولہب پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی پھینکتا جا رہا تھا اور کہتا جا رہا تھا :’’ لوگو !یہ شخص تمہیں تمہارے آبائو اجداد کے دین سے پھیر نہ دے۔ تم لات و عزیٰ کی عبادت کو مت چھوڑنا ۔ ‘‘

ابو لہب کی بیوی اُم جمیل کی اسلام دشمنی

   سید الانبیاء ﷺ کا پڑوسی ابولہب تھا۔وہ اور اسکی بیوی ام ِجمیل اسلام دشمنی میں بہت آگے آگے رہتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ام جمیل انتظار میں رہتی تھی اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلتے تو ان کے راستے میں کانٹے پھیلا دیتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ لہب میں دونوں میاں بیوی کا انجام بیان کر دیا۔(ترجمہ):’’ ٹوٹ جائیں ابو لہب کے ہاتھ اور وہ برباد ہوگیا۔ اسکامال اور جو کچھ اس نے کمایا اسے فائدہ نہیں پہونچائے گا۔ عنقریب جلد ہی وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا اور اسکی بیوی بھی( بھڑ کتی آگ میں ڈالی جائے گی)جو لکڑیوں کا گھڑا اٹھا کر لاتی ہے اور اسکی گردن میں منج (کجھور کی بٹی ہوئی)رسی ہوگی۔‘‘ (سورہ لہب)جب یہ سورہ نازل ہوئی تو ابو لہب اور اسکی بیوی کے ہوش اڑگئے۔ کیونکہ ان دونوں کا یقین تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو فرمادیتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ ام جمیل تو پاگل ہوگئی اور ایک بڑا پتھر اٹھا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈے لگی اور غصہ سے کہتی جارہی تھی کہ آج میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)کا(نعوذباللہ )سر پھوڑ کر رہوں گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حرم شریف میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اس عورت کو آتے دیکھاتو گھبرا گئے اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بڑی بد زبان عورت ہے اور پتھر لئے آرہی ہے۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم آرام سے بیٹھو وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گی۔‘‘ وہ غصہ سے بھری ہوئی سیدھا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑی ہوئی اور پوچھا :’’تمھارے وہ صاحب کہاں ہیں؟ آج میں اسکا سر پھوڑ دوں گی۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ کیا وہ تمھیں دکھائی نہیں دے رہے ہیں؟‘‘ وہ بولی :’’مجھے پاگل سمجھتے ہو‘‘اور بکواس کرتی ہوئی چلی گئی۔

سید الانبیاء ﷺ کی اعلانیہ دعوت اسلام اور قریش کی دشمنی

   اب سید الانبیاء ﷺ اعلانیہ دعوتِ اسلام دینے لگے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے لگے۔ شروع میں تو قریش نے کوئی توجہ نہیں کی ۔ لیکن دھیرے دھیرے ان کو اندازہ ہونے لگا کہ اسلام ان کے’’ معبودِ باطلہ‘‘ یعنی بتوں کی جڑ کاٹ دے گا۔ کیوں کہ بہت سی نیک روحوں نے اسلام قبول کیا اور بتوں کی پوجا سے نفرت کا اظہار کیا اور ان کے گھر والے اس(ان کے مطابق) نئے مذہب اسلام کے متعلق اس غلط فہمی کا شکا ہوگئے کہ یہ باپ بیٹے ،بھائی بھائی ، میاں بیوی، اور ماں بیٹے میں دشمنی ڈال دیتا ہے۔ ابو طالب مکہ مکرمہ کے بڑے سردار تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرتے تھے۔اسلئے قریش کے دوسرے سردار حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان پر بن آئے۔ لیکن انھوں نے طئے کیا کہ سب ملکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا پریشان کریں کہ وہ اسلام کی دعوت سے باز آجائیں اور وہ لوگ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں کانٹے بچھا دیتے۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نجاست (گندگی ) پھینک دیتے۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دھکا دیتے اور زبان سے برا کہہ کر تکلیف پہونچانے کی کوشش کرتے۔ لیکن ہر تکلیف کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر نئے عزم کے ساتھ اسلام کی دعوت دینے لگتے۔

سید الانبیاء ﷺ کی دشمنی میں پیش پیش لوگ

   یوں تو مکہ مکرمہ کا ہر کافر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھتا تھا۔لیکن کچھ لو گدشمنی میں بہت سخت اور آگے آگے تھے۔ ان کے نام آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ کیونکہ آگے یہ نام بار بار آئیں گے ۔ ۱) ابو لہب ، ۲) ابو جہل اسکا نام عمر بن ہشام ہے، ۳) اسود بن عبد یغوث، ۴) حارث بن قیس، ۵) ولید بن مغیرہ ، ۶) امیہ بن خلف، ۷) ابی بن خلف ، ۸) ابو قیس، ۹) عاص بن وائل ، ۱۰) نصر بن حارث، ۱۱) عقبہ بن ابی معیط۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحب زادیوں کا نکاح ابولہب کے دو بیٹوں سے ہوا تھا۔ لیکن رخصتی ابھی نہیں ہوئی تھی اور دونوں صاحبزادیاں اپنے والد کے گھر ہی رہتی تھیں۔ ابو لہب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے لئے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں بیٹیوںکو طلاق دے دیں تو اسکے دونو ںبیٹوں نے طلاق دے دی۔ح

ضرت بلال بن ر باح رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام او ر صبر

   حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ حبشہ کے ہیں۔ السراۃ کے خالص عربوں میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام حمامہ ہے۔ جو بنو جمح میں کسی کی مملوکہ(باندی ) تھیں۔آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ’’ سابق الحبشہ‘‘ ہیں۔ (یعنی حبشیوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے ہیں)۔آپ رضی اللہ عنہ امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ان کا مالک انھیں کسی بھی کام کے لئے بھیجتا تو وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جاتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم شریف میں نماز پڑھ رہے ہوتے یا کسی کو دعوت اسلام دیتے رہتے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ خاموشی سے دور کھڑے ہوکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرتے رہتے تھے۔ جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود رہتے ۔تب تک یہ خاموشی سے کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے رہتے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اپنے گھر تشریف لے جاتے تھے۔ تب حضرت بلال رضی اللہ عنہ اپنا کام کر کے واپس آتے تو ان کا مالک امیہ بن خلف دیر ہوجانے کی وجہ سے ناراض ہوتا تھا اور سزا دیتا تھا اور یہ روز کا معمول بن گیا تھا۔ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو ئے اور اسلام کی دعوت دی ۔ جسے حضرت بلال نے فوراً قبول کرلی اور اسلام کی نعمت سے سرفراز ہوگئے۔ امیہ بن خلف کو جب آپ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کا علم ہوا تو اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو سزائیں دینا شروع کردیں تاکہ آپ رضی اللہ عنہ اسلام کو چھوڑ دیں۔ مگر آپ رضی اللہ عنہ سختی سے اسلام پر قائم رہے اور ایک بھی کفریہ لفظ نہیں کہا جو امیہ بن خلف چاہتا تھا۔ جب امیہ بن خلف اور اسکے بیٹے حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر عذاب کی شدت کرتے اور آپ رضی اللہ عنہ کو تپتی ریت پر ڈال دیتے اور اوپر سے گائے کی کھال ڈال کر دبائے رکھتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے بدن کا پانی سوکھنے لگتاتھا تو پانی پانی فرماتے ۔ ان کا مالک اور اسکے بیٹے کہتے کہ تمھارا رب لات و عزیٰ ہے یہ کہو تو پانی ملے گا۔ مگر آپ رضی اللہ عنہ اللہ احد اللہ احد اﷲ احد بار بار فرماتے تھے۔ سزا دینے کا ان کا روز کا معمول ہوگیا تھا۔

سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں

   سید الانبیاء ﷺ اورحضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس ظلم کو دیکھتے اور اللہ تعالیٰ سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی نجات کی دعا کرتے ۔ ایک دن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے امیہ بن خلف سے کہا:’’ کب تک تم اس شخص پر عذاب کرو گے۔ کیا اسے میرے ہاتھوں بیچنا پسند کرو گے؟‘‘ امیہ بن خلف بہت لالچی آدمی تھا ،اُس نے سودا کیا اور بہت مہنگی قیمت لی۔اُس نے حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کوسات اوقیہ ( تقریباً 23تولہ سونا ) سونے کے عوض حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں بیچ دیا۔ یہ محمد کی روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو سات اوقیہ سونا میں خریدا۔ اور قیس کی روایت ہے کہ پانچ اوقیہ سونا میں خریدا اور آزاد کردیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آزاد ہوتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک ساتھ ہی رہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہمارے ’’سردار ‘‘ہیں۔ اور انھوں نے ہمارے ’’سردار ‘‘حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آزاد کروایا ہے۔

مکہ مکرمہ کے کافروں کے ظلم ستم

   مکہ مکرمہ کے کافروں نے دیکھا کہ اسلام تیزی سے پھیلتا جارہا ہے اور لوگ مسلمان ہوتے جارہے ہیںتو ان کے سرداروں نے طئے کیا کہ ہر طرح کا ظلم وستم ان مسلمانوں پرکیا جائے اور انھیں ہر طرح سے مجبور کیا جائے کہ یہ لوگ اسلام چھوڑدیں۔ جو غلام مسلمان ہوتے تھے ان کے مالک ان پرطرح طرح کے ظلم و ستم کرتے تھے اور جو آزاد لوگ اسلام قبول کرتے تھے تو ان کے گھر والے انھیں اسلام چھوڑ دینے پر مجبور کرتے تھے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی والدہ نے قسم کھائی کہ جب تک حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اسلام نہیں چھوڑیں گے تب تک میں دھوپ میں بیٹھی رہوں گی۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کی خوشامد کرتے اور سمجھاتے تھے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی والدہ نے قسم کھائی کے جب تک حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اسلام نہیں چھوڑیں گے تب تک وہ نہ کھائیں گی اور نہ سر میں تیل لگائیں گی۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ان کے والد حضرت یاسر رضی اللہ عنہ اور والدہ سیدہ سمیّہ رضی اللہ عنہا غلام تھے ان کے مالکوں نے ان پر ظلم کی انتہا کردی۔

سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والے

   حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ سب سے پہلے جنھوں نے اسلام کو ظاہر کیا وہ سات لوگ ہیں 1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 2) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 3) حضرت بلال رضی اللہ عنہ 4) حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ 5) حضرت صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ 6) حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ 7) حضرت سمیّہ رضی اللہ عنہا(حضرت عمار بن یاسر کی والدہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ابو طالب نے کی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حفاظت ان کے قبیلہ یا خاندان والوں نے کی ۔ باقی دوسرے صحابہ کرام کو پکڑ لیا گیا، انھیں لوہے کی زرہ پہنا کر تپتی دھوپ میں ڈال دیا جاتاتھا،کنویں میں الٹا لٹکا کر پانی میں غچکہ دیئے جاتے تھے ،حضرت عمار بن یاسررضی اﷲ عنہ کو کنویں میں الٹا لٹکایا گیا۔حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کو کوئلے دہکا کر ان پر لٹا دیا گیا، پہلے چمڑی جلی، پھر چھچھڑا جلا، پھر چربی پگھلنے لگی تو کوئلے کچھ ٹھنڈے پڑے۔بیس، پچیس برس بعد جب حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ کرام کو جب اپنی پیٹھ دکھائی تو ان کی پیٹھ پر جلنے کے نشان دیکھ کر تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کانپ گئے ۔ حضرت عمار کی والدہ سید ہ سمیّہ رضی اللہ عنہا کو بد بخت ابو جہل نے برچھی مار کر شہید کردیا ،یہ اسلام کی پہلی شہید ہیں۔

اسلام کے لئے پہلا حملہ

   مکہ مکرمہ کے کافر مسلمانوں پر ظلم ستم کر رہے تھے۔ اسلئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام یا تو دار ارقم میں چھپ کر نماز ادا کرتے تھے یا پھر مکہ مکرمہ کے باہر پہاڑیوںکی گھاٹیوں میں جاکر نماز ادا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ پہاڑیوں کے درمیان وادی یا گھاٹی میں نماز ادا کرتے وقت اچانک کافروں کا ایک گروہ اُدھر آگیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں اور اسلام کا مذاق اڑانے لگے اور نوبت یہاں تک پہونچی کہ مار پیٹ پر اتر آئے۔ نوجوان صحابہ کرام نے بھی جوابی حملہ کیا، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے قریب پڑی ہو ئی اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھائی اور پوری طاقت سے سامنے والے مشرک کے سر پر ماردی۔ اسکا سر پھٹ گیااور خو ن بہنے لگا۔ یہ دیکھ کر تمام مشرکین بھاگ گئے ۔ اسلام کے لئے کیا گیا یہ پہلا حملہ ہے۔

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے گھرانہ کو تکلیفیں

   حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے والد حضرت یاسر رضی اللہ عنہ قحطان کے رہنے والے تھے۔ اپنے گمشدہ بھائی کی تلاش میںاپنے دو بھائیوںکے ساتھ مکہ مکرمہ آئے تھے۔ مکہ مکرمہ حضرت یاسر رضی اللہ عنہ کو پسند آیا اور یہیں ابو حذیفہ کے پڑوس میں آباد ہوگئے۔ ان کے دونوں بھائی قحطان واپس چلے گئے۔ ابو حذیفہ نے اپنی کنیز سمیّہ رضی اللہ عنہا سے ان کا نکاح کردیا۔ ان سے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ یہ لوگ ابو حدیفہ کے انتقال تک اسکے ساتھ رہے۔ اسکے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو حضرت یاسر ، سیدہ سمیّہ ، حضرت عمار اور ان کے بھائی حضرت عبداللہ بن یاسر ان سب نے اسلام قبول کیا۔چونکہ مکہ مکرمہ میں ان کا کوئی قبیلہ یا خاندان نہیں تھاجو اُن کی طرف سے قریش کے سینہ سُپر ہوتا، اس لئے مکہ مکرمہ کے کافروں نے ان سب کو بہت تکلیف دی۔ عین دوپہر میں تپتی ریت پر لٹاتے اور اتنا مارتے کہ بے ہوش ہوجا تے، کبھی پانی میں غوطے دیتے ،کبھی انگاروں پر لٹاتے۔آل یاسر یعنی حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ کے گھر والے اِن تمام تکلیفوں کو برداشت کرتے تھے ،لیکن اسلام کو چھوڑنا گوارا نہیں کرتے تھے۔

سید الانبیاء ﷺ کی بے چینی اور تسلی

   حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہ پر اُن کے والدین پر اور اُن کے بھائی پر مسلسل تشدد کر رہے تھے اور انہیں مسلسل تکلیفیں دے رہے تھے ۔ایسے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم انھیں دیکھتے تو یہ فرماتے:’’ اے آگ تو عمار پر سلامتی بن جا، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام پر سلامتی بن گئی تھی ۔ ‘‘ اور فرماتے :’’ اے آل یاسر صبر کرو۔‘‘ اور کبھی دعا فرماتے :’’ اے اللہ ! تُو آل یاسر کی مغفرت فرما ‘‘ اور کبھی حضرت یاسر ، سیدہ سمیّہ ، حضرت عمار اور حضرت عبداللہ رضی اﷲ عنہم سے فرماتے:’’ اے آل یاسر ! تم کو بشارت ہو جنت تمھارا انتظار کررہی ہے۔‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سر سے پیر تک ایمان سے بھرا ہوا ہے۔ حضرت یاسر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا اور سیدہ سمیّہ رضی اللہ عنہا کو ابو جہل نے شہید کردیا۔

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ

   حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ’’ السابقون اوّلون ‘‘میں سے ہیں اور اسلام قبول کرنے والے چھٹے مسلمان کہے جاتے ہیں۔ام انمار کے غلام تھے ،جب آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو ام انمار نے آپ رضی اللہ عنہ کو بہت سخت تکلیفیں دیں۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا اور تلواریں بنایا کرتا تھا۔ایک بار عاص بن وائل کے لئے تلوار بنائی ۔ جب پیسے لینے گیا تو اس نے کہا:’’ جب تک تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار نہیں کروگے اور اسلام کو نہیںچھوڑو گے تب تک میں تمھیں پیسے نہیں دوں گا۔ ‘‘حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فر ما یا:’’ اگر تو مر جائے اور پھر زندہ ہوجائے تب بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کروں گا۔ ‘‘ عاص نے کہا :’’کیا میں مرنے کے بعد زندہ کیا جائوں گا ؟‘‘ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ ہاں ! اللہ تعالیٰ سب کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ ‘‘یہ سن کر عاص بن وائل نے کہا:’’ ٹھیک ہے ! جب میں دوبارہ زندہ ہوں گا تو میرا مال میرے ساتھ رہے گا۔ تب میں تمھارے پیسے ادا کردوں گا۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ مریم میں یہ آیتیں نازل فرمائی (ترجمہ):’’ بھلا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے اس شخص کو دیکھا ہے !جو ہماری آیتوں کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے آخرت میں مجھ کو مال اور اولاد دیئے جائیں گے۔ کیا وہ غیب پر مطلع ہوگیاہے یا اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد لیا ہے؟ ہر گز نہیں !بالکل غلط کہتا ہے۔ ہم اسکو لکھ لیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن حجت قائم ہو اور اس پرعذاب بڑھاتے جائیں گے ۔ اور جس مال و اولاد کو وہ کہتا ہے اس سب کے وارث ہم ہوں گے اور وہ ہمارے پاس مال اور اولاد سے خالی ہاتھ آئے گا۔‘‘ (سورہ مریم آیت 77سے 80تک)

حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ پر تکلیفیں

   حضرت خباب بن ارت رضی اﷲ عنہ کا بھی کوئی مدد گار قبیلہ یا خاندان نہیںتھا اور آپ رضی اﷲ عنہ بالکل اکیلے تھے۔ایسے میں مکۂ مکرمہ کے کافروں کے لئے اُن کو تکلیفیں اور اذیت دینا بہت آسان ہو گیا تھا اور وہ آپ رضی اﷲ عنہ پر ظلم کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔لگ بھگ بیس سال بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت خباب رضی اللہ عنہ ان سے ملاقات کے لئے گئے تو انھوں نے اپنی مسند(بیٹھنے کے بچھائی ہوئی چیز) پراپنے ساتھ بٹھایا اور فرمایا:’’ اس مسند کا آپ رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے زیادہ حقدارکوئی نہیں ہے۔ ‘‘یہ سن کر حضرت خباب رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمایا:’’ امیر المومنین !جب ہم دونوں پر مشرکوں نے مصائب اور مظالم کئے ، اُس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ ،حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی حمایت میں تھے، لیکن میرا حامی کوئی نہیں تھا۔ ایک روز مشرکینِ مکہ نے مجھے دہکتے ہوئے انگاروں پر چت لٹادیاتھا اور سب نے اپنے پیر میرے اوپر رکھکر دبائے رکھاتاکہ میں حرکت نہ کرسکوں،آگ نے میری پیٹھ کو جلانا شروع کر دیا ۔پہلے چمڑی جلی ، چھچھڑا جلا، پھر چربی پگھلی اور اسکی وجہ سے آگ کچھ ٹھنڈی ہوئی۔‘‘ اسکے بعد اپنی قمیص اٹھاکر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بتائی۔ پیٹھ پر سفید سفید چھچھڑوں کو دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کانپ اٹھے۔ آپ رضی اللہ عنہ پر رقت طاری ہوگئی اور بے ساختہ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

رسول اللہ ﷺ  پر مکہ مکرمہ کے کافروں کا ظلم و تشدد

   محمد بن اسحاق کہتے ہیں۔ پھر مکہ مکرمہ کے کافروں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین پر ظلم و تشدد بہت شدید کردیا ۔انھوں نے اپنے احمقوں کو نبی ٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکسایا۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا، اذیت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شاعر ، کاہین اور مجنون ہونے کے الزامات لگائے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم صبر سے اسلام کی تبلیغ فرماتے رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کی نا پسندیدگی کے باوجود انھیں بتوں کی پوجا سے منع فرماتے رہے۔

پہلی حجرت حبشہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سال تک خفیہ اسلام کی دعوت دی۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبوت کے چوتھے سال اعلانیہ اسلام کی دعوت دینے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر اور مسلمانوں پر مکہ مکرمہ کے کافروں نے چوتھے سال کے درمیان یا آخر میں ظلم و تشدد کا سلسلہ شروع کیا۔ یہاں تک کہ نبوت کے پانچویں سال میں یہ سلسلہ اتنا بڑھ گیا کہ مسلمانوں کا مکہ مکرمہ میں رہنا دوبھر ہوگیا اور انھیں اس ظلم و ستم اور تشدد سے نجات کی تدبیر سوچنے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ ایسے وقت میں سورہ کہف نازل ہوئی۔ ( اسکے بارے میں انشااللہ آگے کچھ تفصیل پیش کریں) ۔سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسلمانوں پر زیادہ ظلم وستم ہوتے دیکھا تو انھیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا مشورہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم تھا کہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی(اصل نام اصمحہ ہے ) ایک عادل اوررحم دل انسان ہے۔

حضرت ابراہیم اور لوط علیہم السلام کے بعد ہجرت کرنے والا پہلا جوڑا

   اسکے بعد ایک طئے شدہ پروگرام کے مطابق رجب 5 ؁ نبوی میں صحابہ کرام کے پہلے گروہ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔اس گروہ میں بارہ مرد اور چار عورتیں (ایک دوسری روایت کے مطابق گیارہ مرد اور پانچ عورتیں) تھیں۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا ۔ ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی زوجہ (بیوی ) تھیں۔سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوڑے کے بارے میں فرمایا:’’ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کے بعدیہ پہلا گھرانہ (جوڑا) ہے جس نے اللہ کے لئے ہجرت کی۔‘‘

پہلی حجرت حبشہ کرنے والوں کے نام

   یہ لوگ رات کی تاریکی میں چپکے سے نکل کر اپنی نئی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ رازداری کا مقصد یہ تھا کہ قریش کو اسکا علم نہ ہوسکے۔ رخ ’’بحر احمر‘‘ کی بندرگاہ ’’شعیبہ‘‘ کی طرف تھا۔ خوش قسمتی سے وہاں دو تجارتی کشتیاں موجود تھیںجو انھیں لیکر سمندر کے اس پار’’ ملک حبشہ ‘‘چلی گئیں۔ مکہ مکرمہ کے کافروں کو کسی قدر بعد میں ان کی روانگی کا علم ہوسکا۔ تاہم انھوں نے پیچھا کیا اور ساحل تک پہونچے ، لیکن مسلمان نکل چکے تھے۔حبشہ میںمسلمان وہاں آرام سے رہنے لگے۔ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں گیارہ مرد اور پانچ عورتوں کے نام لکھے ہیں ۔ وہ ہم یہاں پیش کرتے ہیں۔ مرد حضرات(1)حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، (2) حضرت عبدالرحمٰن بن عو ف رضی اللہ عنہ، (3) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، (4) حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ، (5) حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ، (6) حضرت ابو مسلمہ بن عبدلاسد رضی اللہ عنہ، (7) حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ، (8) حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، (9) حضرت سہیل بن بیضا رضی اللہ عنہ، (10) ابو سبرۃ بن ابی رہم عامری، (11) حضرت حاطب بن عمرو رضی اللہ عنہ۔ خواتین عورتوں کے نام (1) سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر) ، (2) سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا، (3) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا(حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفا ت کے بعد ان سے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور انھیں ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہوا)(4) سیدہ لیلیٰ بنت ابی حشمہ رضی اللہ عنہا(یہ عامر بن ربیعہ کی بیوی ہیں)(5) سیدہ ام کلثوم بنت سہیل رضی اللہ عنہا(یہ ابو سبرہ کی بیوی ہیں) ۔ جو لوگ ہجرت کر کے حبشہ گئے وہ وہاں سکون سے رہنے لگے۔ لیکن یہاں مکہ مکرمہ میں مسلمانوں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر کافروں کا ظلم جاری تھا۔ اس کے باوجود سلیم الفطرت لوگ اسلام کی طرف مائل ہو رہے تھے اور لگاتار اسلام قبول کر تے جا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر مکہ مکرمہ کے کافر بہت پریشان ہو گئے اور کافی سوچ بچار کے بعد انھوں نے ابو طالب سے ملنے کا فیصلہ کیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

05 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


05 سیرت سید الانبیاء ﷺ

ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے انتقال تک

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


حضرت حمزہ، ابوذرغفاری، عُمر فاروق کا قبول اسلام، دوسری ہجرت حبشہ، ام المومنین سیدہ خدیجہ اور ابو طالب کا انتقال 


ابو طالب کی سرپرستی

   مکہ مکرمہ کے کافر وں نے فیصلہ کیا کہ ابو طالب سے بات کریں کہ یاتو وہ اپنے بھتیجے کو روکیں یا پھر اپنی سرپرستی ہٹا لیں۔ اس کے لئے کافروں کے سردار مل کر ابو طالب کے پاس آئے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ ابو جہل ( اس کا نام عمر بن ہشام ہے اور کنیت ابو الحکم ہے’’ ابو جہل‘‘ کا لقب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، ابو جہل کے معنی ہے’’ جاہلوں کا باپ‘‘) ابو سفیان بن حرب ( ابو سفیان کا نام صخر بن حرب ہے) ۔ ابو البختری ( اس کا نام عاص بن ہاشم ہے) ۔ عاص بن وائل اور ربیعہ بن عبد شمس کے دو بیٹے عتبہ اور شیبہ۔ یہ لوگ اور ان کے ساتھ دوسرے لوگ ابو طالب کے پاس آئے اور کہا:’’ اے ابو طالب !تمہارا بھتیجہ ہمارے بُتوں کی پوجا کرنے سے منع کرتا ہے، ہمارے دین میں عیب نکالتا ہے۔ وہ ہمیں نادان اور کم عقل کہتا ہے، حتیٰ کہ ہمارے آبائو اجداد کو بُرا بھلا کہتا ہے یا تو اسے منع کریں کہ وہ ایسے کاموں سے رُک جائے یا پھر آپ ہمارے درمیان سے ہٹ جائیں۔ کیوں کہ تمہارا بھی وہی دین ہے جو ہمارا دین ہے۔ ہم اس کے لئے تمہاری طرف سے بھی کافی ہو جائیں گے۔‘‘ ابو طالب نے ان کے ساتھ انتہائی نرمی سے گفتگو کی اور خوب صورت انداز سے ٹال کر انھیں واپس بھیج دیا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی جانفشانی سے اسلام کی دعوت دینے میں مصروف رہے۔

اگر یہ چاند اور سورج دے دیں تب بھی اسلام کی دعوت دیتا رہوں گا

   سید الانبیاء ﷺ مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے اور مکہ مکرمہ کے کافروں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کور وکنے کی بھر پور کوشش کی۔ وہ لوگوں کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاتے اور مخالفت پر اکساتے ۔ لیکن ان کی بھر پور کوششوں کے باوجود لوگ اسلام قبول کرتے جا رہے تھے۔ اسلئے مکہ مکرمہ کے کافردوبارہ ابو طالب کے پاس آئے اور بہت سخت الفاظ کہہ کر واپس چلے گئے۔ ابو طالب نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بلوایا اور کہا:’’ اے میرے پیارے بھتیجے !ابھی ابھی ہماری قوم میرے پاس آئی تھی اور انھوں نے اس طرح تکلیف دہ گفتگو کی ہے۔ آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )میرے اوپر رحم کریں اور خود اپنی ذات پر بھی ترس کھائیں اور مجھ پر وہ بوجھ نہ ڈالیں جو میں نہ اٹھا سکوں۔‘‘ اپنے پیارے چچا کی بات سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اے میرے محترم چچا ! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں ہاتھ پر رکھ دیںاور چاند کو میرے بائیں ہاتھ پر رکھ دیں اور کہیں کہ میں اسلام کی دعوت چھوڑ دوں تب بھی میں اسلام کی دعوت دیتا رہوں گا۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس دین ( اسلام) کو غالب کر دے گا یا پھر میں اسلام کی دعوت دیتے دیتے شہید کر دیا جائوں گا۔‘‘ اتنا فرماتے فرماتے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز رُندھ گئی اور مقدس آنکھوں سے آنسورواں ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر جانے لگے۔ دروازے تک پہنچے تو ابو طالب نے پکارا:’’ اے میرے پیارے بھتیجے! میرے پاس آئو۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو ابو طالب نے کہا :’’ٹھیک ہے! تم جس طرح چاہو اپنی دعوتِ اسلام کو جاری رکھو، اللہ کی قسم !میں کبھی بھی تمہیں کسی کے حوالے نہیں کروں گا۔‘‘

 مکہ مکرمہ کے کافروں کا سید الانبیاء ﷺ کو اذیت دینا

   پھر مکہ مکرمہ کے کافروں کی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت شدت اختیار کر گئی۔ انھوں نے اپنے اپنے احمقوں کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکسایا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اورشاعر، جادوگر، کاہن، مجنوں ہونے کے الزامات لگائے۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے اور کافروں کی نا پسند یدگی کے باوجود انھیں بُتوں کی پوجا سے منع فرماتے رہے اور ان کے کفر سے اظہار نفرت کرتے رہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کافروں کو نقصان سے بچانے کی فکر میں تھے اور انھیں بار بار سمجھاتے تھے کہ’’ اللہ کی عبادت کرو، ہمیشہ کی جنت کی عیش و آرام کی زندگی پائو گے۔ اِن بتوں کی عبادت مت کرو ،اِن کی عبادت ہمیشہ کی دوزخ کی تکلیف دہ زندگی میں لے جائے گی، اپنے آپ کو اس عظیم نقصان سے بچائو۔ ‘‘لیکن مکہ مکرمہ کے نادان کافر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سمجھنے کے بجائے دشمنی کرتے رہے اور مسلسل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیتے رہے۔ اس عنوان کے تحت امام سہیلی لکھتے ہیں ۔ محمد بن اسحاق، و اقدی، التیمی اور ابن عقبہ وغیرہ نے اس ضمن میں کئی واقعات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔ ان کے الفاظ اور معانی ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ ان روح فرسا تکالیف میں سے قریش کے بے وقوف سرداروں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر گوبر ، لید اور خون پھینکنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنڈیا میں بکری کو اوجھڑی پھینکنا ، امیہ بن خلف کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ انور پر تھوکنا، عقبہ بن ابی معیط کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک کو روندنا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس سجدے کی حالت میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں تکلیف کی شدت سے باہر آنے لگیں تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر ِ مبارک اور داڑھی مبارک کے بال کھینچنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدزبانی کرنا اور بُرے القاب سے پکارنا۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں لیکن ہم چونکہ مختصراً سیرت کے حالات بیان کر رہے ہیں ۔ اسلئے انھیں مختصراً بیان کر دیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ  کا مذاق اڑانے والوں کا انجام

   مکہ مکرمہ کے کافروں میں پانچ سردار ایسے تھے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے میں اور مذاق اڑانے میں مبالغہ کرتے تھے۔ یہ پانچ سردار ولید بن مغیرہ ، عاص بن وائل ، حارث بن قیس ، اسود بن عبد یغوث اور اسود بن مطلب تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حرم شریف میں تشریف فرما تھے اور یہ پانچوں سردار کچھ دور پر موجود تھے۔ جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ ان پانچوں کے مقابلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کروں۔‘‘ پھر ولید بن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اشارہ کیا۔ وہ تیر بنانے والے کے پاس سے گزرا تو اس کے کپڑے میں تیر لٹک گیا۔ وہ اپنی انا کی وجہ سے تیر نکالنے نہیں جھکا اور وہ تیر اس کی ایڑی کی رگ میں گھس گیا جس کی وجہ سے وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرا۔ عاص بن وائل کے تلوے کی طرف اشارہ کیا تو اسمیں کانٹا چبھا۔ جس سے پائوں پھول کر چکی کی طرح ہو گیا اور وہ بھی تڑپ تڑپ کر مر ا۔ حارث کی ناک کی طرف اشارہ کیاتو اس سے پیپ بہنے لگی اور وہ اسی تکلیف میں تڑپ تڑپ کر مرا۔ اسود بن یغوث درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے چہرے کی طرف اشارہ کیا ۔ اُ س کا چہرہ درخت کے کانٹوں سے ٹکرایا اور وہ شدید زخمی ہوا اور ان زخموں کی وجہ سے انتہائی تکلیف کے عالم میں مرا۔ اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اشارہ کیا تو وہ اندھا ہو گیا اور اسی اندھے پن میں تکلیف اٹھا کر مرا۔ یہ سب ان تکلیفوں میں کافی دنوں تک مبتلا رہے، اُس کے بعد مرے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام سے دشمنی آخر وقت تک کرتے رہے۔ چونکہ یہ کافی دن زندہ رہے اسلئے آگے بھی ان کا ذکرآئے گا۔ یہاں صرف ان کا انجام بتایا گیا ہے۔

حضرت حمزہ بن عبد المطلب کا قبول اسلام

   حضرت حمزہ بن عبد المطلب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اورلگ بھگ ہم عمر ہیں۔ ان دونوں نے سیدہ ثوبیہ کا دودھ پیا ہے، اسی لحاظ سے دونوں رضاعی بھائی بھی ہیں۔ حضرت حمزہ بن عبد المطلب قریش کے معزز سردار تھے اور انتہائی بہادر، دلیر اور غصہ والے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو شکار کا بہت شوق تھا۔ بہت مالدار تھے، نوکر چاکر کاروبار ( تجارت کا ) سنبھالتے تھے اورآپ رضی اللہ عنہ کا زیادہ وقت شکار میں گزرتا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کیا تو غیر جانب رہے ۔ نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کی اور نہ ہی مخالفت کی۔ لا اُبالی اور اپنے آپ میں مگن رہنے والے تھے اور کوئی سنجیدہ سوچ نہیں تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نبوت ( بعثت ) کے چھٹے سال 6 ؁نبوی میں اسلام قبول کیا اور اسلام قبول کرنے کی وجہ ایک خاص واقعہ بنا۔ اسی واقعے نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو ایک سنجیدہ سوچ اور صحیح رُخ بھی مل گیا۔

سید الانبیاء ﷺ سے ابو جہل کی بد تمیزی

   سید الانبیاء ﷺ کوہِ صفا کے دامن میںتشریف فرما تھے۔ ابو جہل وہاں پہنچا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے لگا اور بد زبانی کرنے لگا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بہت صبر اور تحمل سے سنتے رہے۔ بد بخت ابو جہل کے منہ میں جو آیا بکتا گیا اور اس بار تو اس نے حد کر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی بھی کوشش کی۔ ایک روایت میں تو یہ بھی ہے کہ بد بخت ابو جہل نے پتھر پھینک ماراجو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لگا اور خون بہنے لگا۔ جب ابو جہل نے خون بہتا دیکھا تو بکتا جھکتا ہوا خانہ کعبہ کے پاس چوپال میں جا بیٹھا۔ جہاں دوسرے سردار بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے جانے کے بعد کچھ دیر تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رکے اور پھر اپنے گھر چلے گئے۔ قریب ہی عبداللہ بن جدعان کا گھر تھا اور اس کی لونڈی یہ سب دیکھ اور سن رہی تھی۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے بدلہ لیا

   حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شکار پر گئے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد آپ رضی اللہ عنہ اپنا شکار اور تیر کمان لئے ہوئے ادھر سے گزرے تو عبداللہ بن جدعان کی لونڈی نے کہا:’’ آج تو بہت برا ہوا۔‘‘ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:’’ کیا ہوا؟ ‘‘ اُ س نے تمام واقعہ تفصیل سے بیان کر دیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ محبت تھی۔ تمام واقعہ سن کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غصہ سے بے قابو ہو گئے اور اپنے شکار کو وہیں پھینکا اور سیدھے چوپال میں پہنچے۔ ابو جہل وہاں بیٹھا اپنی بڑائی ہانک رہا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پہنچتے ہی اپنی کمان ابو جہل کے سر پر دے ماری۔ اس کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جلا ل بھر ی آواز میں کہا:’’ تُو میرے بھتیجے کے ساتھ بد تمیزی کرتا ہے اور اُ س پر حملہ کرتا ہے، میں کہتا ہوں ۔ میں بھی اُ س کے دین پر ہوں ، اب بول کیا کرے گا؟ لوگ ابو جہل کی مدد کے لئے کھڑے ہوئے تو ابو جہل نے کہا:’’رُک جائوغلطی میری ہی تھی، میں نے آج ان کے بھتیجے کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔

اسلام قبول کرتے تو زیادہ خوشی ہوتی

   حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اپنی سمجھ کے مطابق اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کا بدلہ لے لیا اور خوشی خوشی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :’’ بھتیجے ! ابو جہل نے جو غلط حرکت تمہارے ساتھ کی تھی میں نے اس کا بدلہ لے لیا ہے اور اس کا سر پھاڑ دیا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ چچا جان ! اگر بدلہ لینے کی بجائے آپ ( رضی اللہ عنہ ) اسلام قبول کرلیتے تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ سن کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر خاموشی سے چلے آئے۔ لیکن سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ اُن کے روح میں اتر گئے ۔ پوری رات بے چینی سے کروٹ بدلتے گزری ۔ جب کسی طرح اضطراب اور بے چینی دور نہیں ہوئی تو خانہ کعبہ کے پاس پہنچ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی:’’ اے اللہ تعالیٰ !حق کے لئے میرا سینہ کھول دے اور اس شک اور تردد کو دور فرما ۔‘‘ اُن کی دعا پوری ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیا اور حق آپ رضی اللہ عنہ پر واضح ہو گیا۔ صبح ہوتے ہی سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے تاثرات

   حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو دیکھا اور قرآن پاک کی تلاوت سنی تو دل میں اسلام کی حقانیت کا نور بھر گیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے تاثرات اس طرح بیان کئے:’’ میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں کہ اُس نے دین ِ حنیف اسلام کو قبول کرنے کے لئے میرے دل کو ہدایت دی۔ وہ دین جو رب کریم کی طرف سے آیا ہے۔ وہ رب کریم عزت والا ہے اور اپنے بندوں کے حالات سے باخبر ہے اور اُن کے ساتھ لطف و احسان کرنے والا ہے۔ جب اس کے ( اللہ تعالیٰ) کے پیغاموں ( قرآن پاک کی آیات) کی ہم پر تلاوت کی جاتی ہے تو ہر عقل مند اور زیرک انسان کے آنسو ٹپکنے لگتے ہیں۔ یہ ایسے پیغامات ہیں جو’’ احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ‘‘صلی اﷲ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں۔ ایسی آیات کے ساتھ جن کے حروف روشن ہیں۔’’ احمد مجتبیٰ محمد مصطفی‘‘صلی اﷲ علیہ وسلم وہ ہیں جن کی ہم اطاعت کرتے ہیں اور کوئی کمزور بات اور عقل و فہم سے گری ہوئی بات سے وہ پاک ہیں۔ اللہ رب العزت کی قسم ! ہم انھیں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) دشمن کے حوالے ہرگز نہیں کریں گے اور ہم نے ابھی تک ان کے درمیان تلواروں سے فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ہم اُن کے مقتولوں کو ہموار زمین پر پھینک دیں گے۔ ان پر ایسے پرندے آئیں گے جو چکر لگانے والے لشکر کی مانند ہوں گے۔ ‘‘

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا سبب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک معجزہ بنا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرارہا تھا۔ (اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر لگ بھگ سترہ یا اٹھارہ برس تھی) کہ سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہاں سے گذرے مجھ سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’اے لڑکے !کیا تمھارے پاس دودھ ہے؟‘‘میں نے کہا :’’ہاں دودھ ہے لیکن وہ میرے پاس امانت کے طور پر ہے اور میں امانت میں خیانت نہیں کرتا۔‘‘ یہ سن کر سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اچھا ایسی کوئی بکری لے آئو جو دودھ نہیں دیتی ہو۔‘‘ میں یہ سن کر حیران رہ گیا اور سوچنے لگا جو بکری دودھ نہیں دیتی ہو اُس بکری کا یہ کیا کریں گے۔ خیر میں ایسی بکری لے آیا۔ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیراتو یہ دیکھکر میں بہت حیران رہ گیا کہ اسکے تھن میںدودھ اتر آیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن میں اسکا دودھ نکالا۔ خود پیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا۔ پھر سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے تھن پر ہاتھ پھیر کر فرمایا ’’سکڑ جا ۔‘‘تو وہ سکڑ گیا۔ یہ دیکھکر میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ مجھے بھی یہ کلام سکھادیں۔‘‘سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھکر مسکرائے اور فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے ،تُو تو سیکھا سیکھایا ہے۔‘‘ پھر سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور میں نے اسلام قبو ل کیا۔‘‘ امام بہقی نے دلائل النبوۃ میں اسی مضمون کی حدیث پیش کی ہے۔ اس میں اتنا ذیادہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں ایک سال سے کم عمر کا بچہ سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی ٹانگوں کواپنی اپنی ٹانگوں کے درمیان دبایا۔ پھر اسکے تھن پر ہاتھ پھیر کر دعا فرمائی اور دودھ نکال کر خود بھی پیا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی دیا۔‘‘ اسکے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسلسل سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔

مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے با آواز ِ بلند تلاوت کرنے والے صحابی

   یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کا مرکز’’ دار ارقم‘‘ تھا اور وہیں ان کا اجتماع ہوتا تھا۔ عمرو سے مروی ہے کہ سب سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود نے مکہ مکرمہ میں بلند آواز سے قرآن پاک کی تلاوت کی ۔ اسکا واقعہ یہ ہے کہ ایک دن صحابہ کرام ( دار ارقم میں) جمع تھے اور آپس میں مشورہ کررہے تھے کہ ابھی تک مکہ مکرمہ کے کافروں نے اللہ تعالیٰ کے کلام (قرآنِ پاک )کو نہیں سناہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انھیں کون سنائے۔ یہ سن کر نوجوان حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا:’’میں سناتا ہوں۔ ‘‘صحابہ کرام نے انھیں دیکھا اور فرمایا:’’ وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم ڈرتے ہیں کہ مکہ مکرمہ کے کافر تمہیں نقصان نہ پہنچائیں۔ کیوں کہ مکہ مکرمہ میں تمہارا نہ کوئی خاندا ن ہے اور نہ ہی کوئی ایسا قبیلہ ہے جو اِن کافروں کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ مجھے اس بات کی اجازت دو ۔ میری حفاظت اللہ تعالیٰ کرے گا۔ ‘‘

 کافروں کا تشدد

   دوسرے دن چاشت کے وقت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کے پاس مقامِ ابراہیم پر آکر کھڑے ہوئے۔ اس وقت مکہ مکرمہ کے کافرچوپال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ الرحمن کی بسمہ اللہ کر کے تلاوت شروع کر دی اور تلاوت کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ کافر سرداروں نے تلاوت سنی تو چونک پڑے اور توجہ سے سننے لگے اور اُن کے دل پر اثر ہونے لگا۔ لیکن بد بخت ابو جہل زور سے بولا:’’ یہ لونڈی کا بچہ کیا کہہ رہا ہے۔‘‘ تب لوگ چونکے اور ابو جہل بولا :’’ یہ تو وہ چیز پڑھ رہا ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم)پر نازل ہوتی ہے‘‘ اور آگے بڑھ کر ایک زور دار طمانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو مارا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے منہ میں خون بھر گیا۔ انھوں نے خون تھوکا اور زور زور سے پھر تلاوت شروع کر دی۔ یہ دیکھ کر تمام کافر ایک ایک کر کے آپ رضی اللہ عنہ کو طمانچے مارتے جارہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے جا رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اتنی قرآن پاک کی تلاوت کی جتنی اللہ تعالیٰ نے چاہی اور جتنی تکلیف برداشت کرنے کی آپ رضی اللہ عنہ میں طاقت تھی۔ اس کے بعد دارِ ارقم واپس آگئے۔

 کافروں سے حقیر کوئی نہیں ہے

   حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دار ارقم میں واپس آئے تو چہرے پر چوٹوں اور طمانچوں کے نشانات تھے۔ یہ دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ مغموم ہوئے اور فرمایا:’’ ہم کو تمہارے لئے اسی بات کا اندیشہ تھا ۔‘‘ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمایا:’’ آج سے پہلے میں کسی حد تک کافروں سے ڈرتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے اندر اتنی ہمت پیدا فرمادی ہے کہ آج ان کافروں سے زیادہ حقیر میری نگاہوں میں کوئی نہیں ہے اور یہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ آپ لوگ کہیں تو کل پھر میں علی الاعلان قرآن پاک کی تلاوت کروں۔‘‘اُن سے کہا گیا۔نہیں اتنا کافی ہے۔ جتنا تم نے اُن کو سنادیا۔ جب کہ وہ سننا ہی نہیں چاہتے تھے۔

ابو جہل نے کہا ہم کبھی ایمان نہیں لائیں گے

   محمد بن اسحاق امام زہری سے روایت کرتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب، ابو جہل بن ہشام اور اخنس بن شریق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت پوری رات سنتے رہتے تھے۔ صبح کے اجالے میں ایک دوسرے کو دیکھا تو ملامت کیا۔ لیکن دوسری رات پھر آئے پھر صبح ملامت کی لیکن تیسری رات پھر آئے اور رات بھر سننے کے بعد صبح کے وقت اخنس بن شریق ایک ڈنڈا لے کر ابو سفیان کے پاس پہنچا اور کہا::’’ مجھے اُس کلام ( قرآن پاک) کے بارے میں رائے دو۔ جو ہم تین راتوں سے محمد سے سن رہے ہیں۔‘‘ ابو سفیان نے کہا:؛’’ اللہ کی قسم ! اس کلام میں سے بہت سی باتوں کو میں نے سمجھ لیا ہے اور بہت سی باتوں کو نہیں سمجھ پایا ہوں۔‘‘ اخنس نے کہا :’’ اللہ کی قسم میری بھی یہی کیفیت ہے۔ ‘‘پھر وہ ابو جہل کے پاس پہنچا اور پوچھا :’’تیری کیا رائے ہے؟‘‘ ابو جہل نے کہا:’’ ہم نے ہر چیز میں بنو عبد مناف سے برابری کی ہے۔ لیکن اُن میں اب ایک’’ نبی‘‘ پیدا ہو گیاہے اور اس معاملے میں وہ ہم سے آگے نکل گئے۔ بے شک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) سچے ہیں۔ لیکن ہم اُن پر کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی تلاوت اور کافروں کا سجدہ

   خانہ کعبہ کے قریب مکہ مکرمہ کے کافروں کا بڑا مجمع لگا ہوا تھا۔ ان میں لگ بھگ تمام سردار تھے۔ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حرم شریف میں داخل ہوئے اور سورہ النجم کی با آواز بلند تلاوت شروع کی دی۔ ان کافروں کا قاعدہ یہ تھا کہ قرآن کو مت سنو اور اس میں خلل ڈالو( یعنی شور مچائو) تا کہ تم غالب رہو۔ لیکن جب سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے تلاوت شروع کی تو اُن کے کانوں میں ایک ناقابل بیان رعنائی و دلکشی اور عظمت لئے ہوئے کلام الٰہی کی آواز پڑی تو انھیں کچھ ہوش نہ رہا۔ سب کے سب خاموشی سے تلاوت سنتے رہے اور اللہ کے کلام کی تاثیر اُن پر چھا گئی اور جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم کی آخری آیت تلاوت فرمائی جو’’ آیت ِ سجدہ ‘‘ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیااور تمام کافروں نے بھی سجدہ کر دیا۔کسی کو اپنے آپ پر قابو نہیں تھا اور اللہ کے کلام کی تاثیر اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت نے وہ اثر پیدا کیا کہ بے اختیار سب سجدے میں گر گئے۔ بعد میں کافروں کو احساس ہوا کہ انھوں نے وہ حرکت کر دی جس سے لوگوں کو منع کرتے تھے تو ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ادھر مشرکین کی سجدہ کرنے کی خبر ملک حبشہ میں اس طرح پہنچی کہ تمام مکہ مکرمہ والوںنے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس لئے مسلمان حبشہ سے مکہ مکرمہ واپس آگئے ہیں۔ ایک دن سے کم کا فاصلہ رہ گیا تو انھیں حقیقت معلوم ہوئی۔ کچھ لوگ حبشہ واپس لوٹ گئے اور کچھ لوگ چھپ چھپا کر کسی کی پناہ لے کرمکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔

دوسری ہجرت ِ حبشہ

   مسلمانوں پر کافروں کا ظلم و ستم جاری تھابلکہ اب تو اور بڑھ گیا تھا۔ اسلئے سید الانبیا ء صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو دوبارہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا مشورہ دیا۔ ا ن میں 83مرد اور 17 خواتین تھیں۔جگہ کی کمی کی وجہ سے ہم تمام 83مرد اور 17خواتین کے نام نہیں دے سکتے ۔اسکے لئے آپ سیرت کی بڑی ضخیم کتابوںکی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔ ہاں کچھ خاص نام یہاں پیش کر دیتے ہیں۔حضرت عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ اور آپ کی زوجہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ان کا بھائی عبیداللہ بن جحش یہ ملک حبشہ جاکر عیسائی ہوگیا تھا اور وہیں انتقال ہوگیا ۔اسکے ساتھ اسکی زوجہ ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا تھیں۔ان کا نکاح سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے پڑھایاتھا اس نکاح کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ،ان تمام حضرات نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ۔ لیکن اس مرتبہ مکہ مکرمہ کے کافر چوکنا تھے اور ایسی کوشش کو ناکام بنانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ لیکن مسلمان ان سے کہیں زیادہ مستعد ثابت ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سفر آسان بنادیا اور وہ قریش کے کافروں کی گرفت میں آنے سے پہلے حبشہ پہنچ گئے۔

قریش کے کافروںکے نمائندے حبشہ میں

   مکہ مکرمہ کے قریش کے کافروں نے جب یہ دیکھا کہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ ملک حبشہ میں مطمئن زندگی گذار رہے ہیںتو انھوں نے عمروبن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو نجاشی (حبشہ کے بادشاہ کا نام اصمحہ تھا اور لقب نجاشی تھا۔ حبشہ کے ہر بادشاہ کا لقب ’’نجاشی‘‘ ہوتا تھا۔ جیسے رومیوں کے بادشاہ کا لقب’’ قیصر‘‘ اور فارسیوں کے بادشاہ کا لقب’’ کسریٰ‘‘ اور مصر کے بادشاہ کا لقب’’ فرعون‘‘ ہوتا تھا) اور اسکے درباریوں کے لئے تحائف دیکر بھیجا ۔یہ دونوں بہت سمجھدار تھے انھوںنے نجاشی کے درباریوں کو تحائف دیکر اپنا ہم خیال بنا لیا کہ وہ کوشش کریں کہ نجاشی مسلمانوں سے کوئی بات کئے بغیر ان کے حوالے کردے۔ اسی لئے جب ان دونوں نے نجاشی کے دربار میں اسے تحفے دئے اور مسلمانوں کو ان کے حوالے کردینے کے لئے کہا تو تمام درباریوں نے ان دونوں کی حمایت کی اور کہا کہ جو لوگ مکہ مکرمہ سے بھاگ کر آئے ہیں ۔وہ باغی ہیں اور انھیں ان دونوں کے حوالے کردیا جائے ۔ان کے اصرار پر نجاشی کو غصہ آگیا اور اس نے کہا :’’میں ان سے بات کئے بغیر انھیں ان کے حوالے نہیں کردوں گا۔‘‘

حضرت جعفر بن ابو طالب کی تقریر

   نجاشی بادشاہ نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو دربار میں بلایا۔ اس وقت کسی نے پوچھا :’’بادشاہ کے سامنے کیا کہیں گے کیونکہ وہ عیسائی ہیں اور ہم مسلمان ہیں‘‘ تو آپس میں طئے ہوا کہ ہم وہی کہیں گے جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو سکھایا اور بتایا ہے۔ دربار میں پہونچے تو صرف سلام کیا اور بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا۔ (پہلے کی امتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھالیکن سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں اللہ تعالیٰ نے تعظیمی سجدہ بھی حرام کردیاہے) درباریوں میں سے کسی نے کہا :’’تم نے ہمارے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟‘‘ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا:’’آپ ہی ہماری طرف سے بات کریں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے اور ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہم کو یہ حکم دیا کہ ہم اللہ کے سوا کسی کو سجدہ نہ کریں۔‘‘ نجاشی نے پوچھا:’’یہ کون سا دین ہے جو عیسائیت اور بت پرستی کے علاوہ ہے۔‘‘ یہ سن کرحضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’اے بادشاہ ! ہم سب جاہل اور نادان تھے، بتوں کی پوجا کرتے تھے اور مردار کھاتے تھے ،قسم قسم کی بے حیائیوں میں مبتلا تھے۔ رشتہ داری کو توڑتے تھے اور پڑوسیوں کو تکلیف دیتے تھے۔ ہم میں سے جو طاقتور ہوتا تھا وہ کمزور کو دبا تا تھا۔ ہم اسی حالت میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحم فرمایا اور ہم پر فضل کیا کہ ہم میں اپنا ایک رسول صلی اﷲ علیہ وسلم بھیجا۔ جسکا حسب و نسب اور پاکدامنی اور عفت ہم سب سے بہتر ہے۔ اس نے ہم کو اللہ کی طرف بلایاکہ ہم اسکو ایک مانیں ایک جانیں اور ایک سمجھیں۔ صرف اللہ کی عبادت کریں اور بندگی کریں اور بتوں کی پوجا چھوڑ دیں۔ سچ بولنے ، امانت ادا کرنے ،رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے اچھاسلوک کرنے کا حکم دیا۔ قتل و خون اور حرام کاموں سے بچنے کا حکم دیا۔ تمام بے حیائیوں سے اور غلط بات کہنے سے اور یتیم کا مال کھانے اور کسی معصوم و بے قصور پر تہمت لگانے سے ہم کو منع کیا اور حکم دیا کہ ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور روزہ رکھیں ۔اپنے جان اور مال کو اللہ کے لئے خرچ کردیں ۔‘‘اتنا کہنے کے بعد حضر ت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ ہم نے ان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائے اور جو کچھ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے اسکی اتباع اور پیروی کی۔ اسلئے ہماری قوم نے ہم کو ستایا اور ہم کو ہر تکلیف دی تاکہ ہم اللہ کی عبادت چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرنے لگیں جب ہم ان کے ظلموں سے تنگ آگئے تو ہم نے اپنا وطن چھوڑ دیا۔ اور آپ پر بھروسہ کرکے آپ کے ملک میں آگئے۔‘‘

تلا وت قران اوربادشاہ نجاشی کے آنسو

   حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے تقریر مکمل کی تو بادشاہ نجاشی نے پوچھا :’’ تمھارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو پیغام(قرآن پاک) اللہ تعالیٰ کی طرف سے لیکر آئے ہیں۔ اس میں سے تم کو کچھ یاد ہے؟‘‘حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ جی ہاں !مجھے یاد ہے۔‘‘ نجاشی نے کہا :’’اس میں سے کچھ سنائو۔‘‘ حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے سورہ مریم کی ابتدائی کچھ آیات تلاوت فرمائی۔قرآن پاک کی تلاوت کا یہ اثر ہوا کہ تمام درباری اور بادشاہ نجاشی کے آنسو نکل آئے۔ تمام لوگ رونے لگے۔ نجاشی کا تو یہ حال تھا کہ اسکی داڑھی آنسوئوں سے تر ہوگئی۔ جعفر بن ابی طالب نے تلاوت مکمل کی تو بادشاہ نجاشی نے کہا:’’یہ کلام اور وہ کلام جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام لیکر آئے ، دونوں ایک ہی شمع دان سے نکلے ہوئے ہیں اور عمرو بن عاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ سے صاف کہہ دیا کہ یہ لوگ میری پناہ میں ہیں اور انھیں میں تمھارے حوالے نہیں کروں گا۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں

   عمرو بن عاص اور عبد اللہ بن ابی ربیعہ ناکام دربار سے باہر آئے۔ اگلے روز یہ دونوں پھر نجاشی کے دربار میں پہونچ کر اس سے کہا:’’ اے بادشاہ !جو لوگ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔‘‘ نجاشی نے تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کو بلوایا۔ تمام لوگ حاضر ہوگئے۔نجاشی نے کہا:’’ تم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو؟‘‘ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ ہم ان کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور اللہ کی طرف سے خاص روح اور اللہ کا خاص کلمہ ہیں۔‘‘ یہ سن کر نجاشی اپنے تخت سے اترا اور ایک تنکا اٹھا کر یہ کہا :’’ اللہ کی قسم !مسلمانوں نے جو کہا ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس سے ایک تنکے کی مقدار بھی ذیادہ نہیں ہیں‘‘ اور مسلمانوں سے کہا :’’تم یہاں آرام سے رہو اور حکم دیا کہ قریش کے کافروں کے تحفے ان کو واپس کردو۔ مجھے ایسے رشوت والے تحفے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ سلطنت بغیر کسی رشوت کے عطا فرمائی ہے اور قریش کے سفیر نامراد حبشہ سے واپس آگئے۔

سیدالانبیاء ﷺ سے مکہ مکرمہ کے کافروں کی گفتگو

   ملک حبشہ میں مسلمان وہاں کے بادشاہ نجاشی کی مہمان نوازی کی وجہ سے امن اور سکون سے رہنے لگے۔ مکہ مکرمہ کے کافروں کے نمائندے مایوس واپس آگئے۔ اس ناکامی کے بعد انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کا ارادہ بنایا۔ اور عتبہ بن ربیعہ ،شیبہ بن بیعہ ،ابوسفیان بن حرب ، نصر بن حارث ، بنو عبدالدار کے چند افراد، ابو البختری بن ہشام ، اسود بن مطلب بن اسد ، زمعہ بن اسود ، ولید بن مغیرہ ، ابو جہل بن ہشام ، عبداللہ بن ابی امیہ ، عاص بن وائل اور امیہ بن خلف اور دوسرے کافر سردار وں نے طئے کیا کہ سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجو اور وہ جب آئیں تو ان سے بات چیت کرو۔انھوں نے پیغام بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے معززین جمع ہوئے ہیں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔

سیدالانبیاء ﷺ کی تمنا کہ پورے مکہ مکرمہ والے اسلام قبول کرلیں

   جب سیدالانبیاء ﷺ کو ان لوگوں کا پیغام ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی ان کے پاس تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے کہ انھوں نے اسلام کی حقیقت اور کامیابی کا راز پالیا ہے۔ دراصل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان (کافروں ) کے ایمان کے بڑے حریص تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہدایت کے خواہاں تھے اور ان پر کوئی مصیبت پڑنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تکلیف ہوتی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا تھی کہ پورے مکہ مکرمہ والے اسلام قبول کرلیںاور کوئی بھی دوزخ میں نہ جائے ۔ اس لئے خوشی خوشی مجلس میں آکر تشریف فرما ہوئے۔

قریش (مکہ مکرمہ کے کافروں )کی پیش کش

   جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو انھوں نے کہا:’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ہم عرب کے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس نے اپنی قوم کو اسطرح مصیبت سے دوچار کیا ہو جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے کیا ہے۔ آپ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے ہمارے آباء و اجداد کو احمق کہا ہے، ہمارے دین کو برا کہا۔ ہمارے بتوں کی پوجا سے منع کیا اور ہماری جمیعت کو توڑا۔ اگر اس کام(اسلام کی دعوت )سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مقصد مال و دولت حاصل کرناہے تو ہم آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے اتنا مال جمع کر دیں گے کہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) سب سے ذیادہ مال و دولت والے ہوجائیں گے ۔اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس سے سرداری کی تمنا کر رہے ہیں تو ہم سب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں ۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) حکومت اور سلطنت چاہتے ہیں تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بادشاہ بنا لیتے ہیں اور اگرآپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) پر کسی جنات نے قبضہ کرلیا ہے تو ہم سب مل کر اپنا مال و دولت خرچ کر کے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو شفا یاب کرائیں گے۔ ‘‘

مجھے دنیا کی حکومت نہیں تمھاری دوزخ سے آزادی چاہئیے

   سردارانِ قریش کی یہ تکلیف دہ گفتگو سن کر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دکھ ہوا اور ’’داعی اعظم‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے ہر گز ایسی کوئی تکلیف نہیں ہے ۔جس کا تم تذکرہ کررہے ہو اور نہ ہی میں تمھارا سردار بننا چاہتا ہوں اور نہ ہی دنیا کی حکومت اور بادشاہی چاہتا ہوں۔ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے مجھ پر کتاب (قرآن پاک) نازل کی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ(اسلام قبول کرنے پر )جنت کی بشارت دوں اور( انکار کرنے پر دوزخ کے عذاب سے )ڈرائوں۔اللہ تعالیٰ کے پیغامات تم تک پہونچاؤں اور تمھارے لئے خلوص کا مجسمہ بن جاؤں۔ اگر تم میرے پیغام کو قبول کرو گے تو یہ دنیا اور آخرت میں تمھاری کامیابی ہوگی اور مجھے تمھاری دوزخ سے آزادی چاہئیے۔ اگر تم نے میرا انکار کردیا تو پھر میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر صبر کروں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمھارے اور میرے درمیان فیصلہ فرمادے۔ ‘‘

پچھلی قوموں کی طرح قر یش کے کافروں کی عجیب فرمائش

   سیدالانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم سے صاف صاف اللہ کا پیغام سننے کے بعد قریش کے کافروں نے ویسی ہی عجیب عجیب فرمائشیں کیں۔ جیسی عجیب عجیب فرمائشیں پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام سے ان کی قومیں کیا کرتی تھیں۔ قریش کے کافروں نے کہا :’’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہماری طرف سے کسی پیش کش کو قبول نہیں کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) جانتے ہیں کہ ہمارا شہر (مکہ مکرمہ) دوسرے شہروں سے تنگ ہے۔ ہمیں سب سے کم پانی ملتا ہے اور ہماری زندگی بہت مشقت والی ہے ۔آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کریںکہ وہ ہم پر سے ان پہاڑوں کو ہٹا دے۔ جنہوں نے ہمارے شہر کو تنگ کردیا ہے اور وہ (اللہ تعالیٰ ) ہمارے لئے ہمارے شہر کو وسیع کردے ۔ ان میں نہریں رواں فرمادے جیسی ملک عراق اور ملک شام میں رواں دواں ہیں اور ہمارے پچھلے آباء واجداد کو زندہ کردے ۔ خاص طور سے قصی بن کلاب کو ،وہ سچے انسان تھے۔ ہم ان سے آپ کے پیغام کے بارے میں پوچھیں گے کہ کیا یہی سچ ہے یا جھوٹ ہے ؟ اگر انھوں نے کہا سچ ہے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے مطالبات پورے کردیں گے تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا مقام ہے اور ہم سمجھ جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو مبعوث فرمایا ہے اور ہم اسلام قبول کرلیں گے۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو عجیب فرمائشیں تم کر رہے ہو ،میں تمھاری طرف یہ سب کرنے کے لئے مبعوث نہیں ہوا ہوں ۔ بلکہ میں تو صرف اللہ تعالیٰ کا وہی پیغام لے کر آیا ہوں جسکے لئے اس نے مجھے مبعوث کیا ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا وہ پیغام پہو نچادیاہے ۔ اگر تم قبول کرو گے تو کامیابی حاصل کرو گے اور اگر قبول کرنے سے انکار کروگے تو میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق صبر کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ فرمادے ۔‘‘ قریش کے کافر اسطرح کے عجیب سوالات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے رہے کہ اللہتعالیٰ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تصدیق کے لئے آسمان سے فرشتہ اتار دے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دولت مند بنا دے اور آسمان سے کوئی ٹکڑا ہم پر گرا دے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) جس عذاب سے ڈرارہے ہیں ۔ وہ لے آئیں۔ ایسے تمام احمقانہ سوالوں کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی جواب دیتے رہے کہ’’ میرا کام اللہ کا پیغام تم تک پہونچادینا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ وہ تمھیں عذاب کرے یا نہ کرے۔‘‘ اسی طرح نازیبا گفتگو وہ کرتے ہیں رہے تو آخر کار سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے تو بنو مخزوم کا عبداللہ بن ابی امیہ کھڑا ہوا اور بولا:’’ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی قوم نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے سامنے چند چیزیں رکھیں ۔لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے قبول نہیں کیا۔ پھر انھوں نے چند چیزیں طلب کی ۔ وہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے نہیں مانی۔ پھر انھوں نے اس عذاب کا مطالبہ کیا ۔ جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ڈراتے ہیں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے عذاب کے لئے بد دعا نہیں کی۔ اللہ کی قسم !میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ہر گز اس وقت تک ایمان نہیں لاؤں گا جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک سیڑھی لگا کر آسمان پر جائیں اور چار فرشتے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نبوت کی گواہی دیں ۔‘‘اسطرح یہ گفتگو ناکام رہی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے آئے۔

بد بخت ابوجہل کی سید الانبیاء ﷺ سے دشمنی

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غمزدہ ہو کر قریش کے کافروں کی مجلس سے اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی آرزو تھی کہ وہ لوگ اسلام قبول کرکے اپنے آپ کو دوزخ گے عذاب سے بچاتے ۔ لیکن ان کی بے رخی دیکھکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی دکھ ہوا۔ سیدالانبیاء کے چلے جانے کے بعد بد بخت ابو جہل نے کہا:’’ اے گروہ قریش :’’ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمارے مطالبات کو ماننے سے انکار کردیا اور ہم سے دشمنی کی ۔ میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرتا ہوں کل میں ان کے لئے ایک بہت بڑا اور بھاری پتھر لیکر بیٹھوں گا اور جب وہ اپنی نماز میں سجدے میں جائیں گے تو میں وہ پتھر ان کے سر پر دے ماروں گا۔ اس وقت چاہے تو مجھے ان کے رشتہ داروں کے سپر د کردینا یا پھر میرا تحفظ کرنا۔ اسکے بعد بنو عبدمناف جو چاہیںکریں۔‘‘ سردارانِ قریش نے کہا :’’اللہ کی قسم ! ہم تجھے کسی کے سپرد نہیں کریںگے جو تو چاہتا ہے وہ کر گذر ۔‘‘ صبح کے وقت بد بخت ابوجہل ایک بھاری پتھر لیکر بیٹھ گیا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم رکن یمانی اور حجراسود کے درمیان نماز ادا فرماتے تھے۔ اسطرح خانہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں جانب رخ ہوجاتا تھا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کرنے کھڑے ہوگئے۔ قریش کے کافر سردار اپنی اپنی جگہ بیٹھے انتظار کررہے تھے کہ بد بخت ابو جہل کیا کرتا ہے۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو اس بد بخت نے پتھر اٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہونچا۔ لیکن پتھر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر مارنے کی بجائے وہ پیچھے کی طرف ہٹا۔ 

لوگوں نے دیکھاکہ اسکے چہرے پر بے انتہا خوف تھا۔ وہ واپس بھاگا اور پتھر اسکے ہاتھ سے گِر گیا ۔ یہ منظر دیکھکر قریش کے کافروں نے اس سے پوچھا:’’ اے ابو الحکم ! (ابو جہل کی کنیت ہے) تجھے کیا ہوگیا؟‘‘ اس نے کہا:’’ جب میں پتھر لیکر ان کے قریب پہونچا تو مجھے ایک نر اونٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے اس سے پہلے اتنی جسامت والا اور اتنی موٹی گردن والا اوراتنے موٹے موٹے جبڑوں والا اونٹ نہیں دیکھا تھا۔ وہ مجھے نگل جانا چاہتا تھا۔‘‘ راوی نے آگے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’وہ جبرئیل علیہ السلام تھے اگر ابو جہل اور قریب آتا تو وہ اسے پکڑ لیتے۔‘‘ اسکی شرح سے امام سہیلی روض الانف میں حدیث بیان کرتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابو جہل سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے واپس پلٹا تو لوگوں نے پوچھا ۔تمھیں کیا ہوگیا ہے تو اس نے کہا ان کے قریب مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے اور ان کے درمیان آگ کی خندق ہے۔ سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر وہ میرے اور قریب ہوتا تو فرشتے اسکا جوڑ جوڑ الگ کردیتے ۔‘‘

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

 مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر کافروں کا ظلم و تشدد جاری تھا۔ ایسے وقت میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام کا واقعہ پیش آیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انھیں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اپنے قبول اسلام کا واقعہ بیان کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’ میں قبیلہ بنو غفار کا ایک فرد ہوں۔ ہمیں یہ خبر ملی کہ مکہ مکرمہ میں ایک شخص نے’’ اعلان نبوت‘‘ کیا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا:’’ بھائی! آپ جاکر اُن ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے گفتگو کریں اور مجھے بھی اُن کے متعلق آکر بتائیں۔ میرے بڑے بھائی مکہ مکرمہ گئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر کے واپس آئے۔ میں نے تمام حالات پوچھے تو انھوں نے بتایا کہ اللہ کی قسم ! میں نے ایسے آدمی کو دیکھا ، جو بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ ‘‘میں نے کہا :’’مجھے آپ کی خبر سے دل کو اطمینان نصیب نہیں ہواہے۔ میں خود جا کر تحقیق کرتا ہوں۔‘‘

 مکہ مکرمہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات

   میں خود اپنا توشہ ( کھانے پینے کا سامان )اور عصا لے کر اپنی سواری پر مکہ مکرمہ کی طرف چل پڑا۔ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوا تو وہاں کسی سے میری جان پہچان نہیں تھی اور کسی سے پوچھنے میں مجھے شرم آتی تھی۔ اس لئے مسجد حرام ( وہ مسجد جو خانہ کعبہ کے اطراف میں ہے) میں پڑا رہتا اور اپنے توشہ میں سے کھاتا اور زمزم پی کر گزاراکرتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔ ( یاد رہے اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر لگ بھگ پندرہ 15یا سولہ16برس تھی) وہ رُک گئے اور مجھ سے فرمایا:’’ ایسا لگتا ہے آپ مسافر ہیں؟‘‘ میں نے ہاں میں جواب دیا تو انھوںنے فرمایا:’’ میرے گھر چلئے۔‘‘ میں اُن کے ساتھ اُن کے گھر گیا اور رات گزاری لیکن نہ انھوں نے کچھ پوچھا اور نہ میں نے کچھ بتایا۔ جب صبح ہوئی تو میں پھر سے مسجد حرام پہنچ گیا۔ تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کسی سے دریافت کروں۔

آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے

   لیکن مجھے پورا دن کوئی بھی ایسا شخص نظر نہیں آیا جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ بتاتا۔ میں سارا دن وہیں بیٹھا رہا۔ پھر میں نے دیکھا کہ دوبارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور فرمایا:’’ کیا آپ کو اپنی منزل مقصود کا ابھی تک پتہ نہیں لگا؟‘‘میں نے کہا:’’ میں جو کچھ آپ کو بتائوں گا آپ اسے راز میں رکھنے کا وعدہ کریں۔ ‘‘انھوں نے فرمایا:’’میں ایسا ہی کروں گا۔‘‘ میں نے کہا :’’ ہمارے قبیلہ بنو غِفار میں یہ خبر پہنچی ہے کہ یہاں کے کسی شخص نے’’ اعلانِ نبوت‘‘ کیا ہے۔ اسلئے میں اُن سے ملاقات کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔ ‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور مسکرا ئے اور فرمایا:’’ اگر یہی بات ہے تو آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ ‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی احتیاطی تدبیر

   حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آگے فرمایا:’’میں خود اُن کے پاس جا رہا ہوں، لہٰذا آپ بھی میرے ساتھ چلیں۔ جہا ں میں جائوں وہیں میرے پیچھے پیچھے آپ بھی آئیں اور اگر میں کسی کو دیکھوں کہ اُس سے خطرہ ہے تو میں کسی دیوار کے پاس کھڑا ہو جائوں گاجیسے کہ میں اپنا جوتا درست کر رہا ہوں۔ (حضرت علی رضی اللہ عنہ اتنی احتیاط اس لئے کر رہے تھے کہ اس وقت مکہ مکرمہ کے مشرکین مسلمانوں کو طرح طرح سے اذیتیں اور تکلیفیں دے رہے تھے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں کو اپنا ایمان چھپائے رکھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ تاکہ وہ تکلیف اور پریشانیوں کا شکار نہ ہوں)اور آپ آگے نکل جائیں ۔‘‘ وہ چل پڑے اور میں بھی اُن کے پیچھے پیچھے چل پڑا ۔یہاں تک کہ وہ ایک مکان میں داخل ہوئے اور ان کے پیچھے میں بھی مکان میں داخل ہو گیا۔

قبول اسلام اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین

   جب میں اندر داخل ہوا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ جب میں نے انھیں دیکھا تو مجھے اتنا اچھا محسوس ہوا کہ میں بتا نہیں سکتا۔ دل کے اندر سے ایک آواز اٹھی یہ ضرور اپنے دعوائے نبوت میں سچے ہیں۔ میں نے سلام کیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا اور اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بتایا اور قرآن پاک کی آیات تلاوت فرمائی ۔ وہ سُن کر میرا دل ایمان سے منور ہو گیا اور بے ساختہ میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے :’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیںہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ اور اسلام قبول کرلیا۔ اس کے بعد سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو ذر (رضی اللہ عنہ)! ابھی اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کرنا اور اپنے قبیلہ میں واپس لوٹ جائو۔ جب تم ہمارے غلبہ( اسلام کے غالب آجانے) کی خبر سننا تو ہمارے پاس آجانا۔ ‘‘

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا اعلان اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کا حکم سر آنکھوں پر ،لیکن مجھے اسلام کی نعمت ملنے کے بعد اتنی خوشی اور اتنا اطمینان نصیب ہوا ہے کہ میں یہ نعمت لوگوںمیں بانٹ کر انھیں بھی خوشی اور اطمینان کی دولت سے مالا مال کرنا چاہتا ہوں۔ یا رسولللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ میں اسلام کی نعمت کو ڈنکے کی چوٹ پر ظاہر کروں گا‘‘ اور میں وہاں سے مسجد حرام میں آیا وہاں سردارانِ قریش جمع تھے۔ میں نے بلند آواز سے کہا:’’ اے قریشیو!میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ وہ لوگ اتنا سننے کے بعد کہنے لگے:’’ اس بے دین کی خبر لو۔‘‘ اور وہ لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مارنے لگے۔ یہاں تک کہ مجھے ادھ مرا کر دیا مجھ پر نیم بے ہوشی طاری ہو نے لگی۔ اُسی وقت حضرت عباس بن عبد المطلب ( اُس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور عطریات کے بہت بڑے تاجر تھے) رضی اللہ عنہ وہاں آگئے۔ انھوںنے مجھے دیکھا اور پہچان لیا ۔ انھوں نے فوراً مجھے سرداران قریش سے چھڑا یا اور بولے:’’ تمہاری خرابی ہو! کیا تم قبیلہ غِفار کے فرد کو قتل کر رہے ہو؟ جب کہ تمہاری تجارتی منڈی اور راستے میں قبیلہ بنو غفار پڑتا ہے۔‘‘ یہ سن کر انھوں نے مجھے چھوڑ دیا۔ اگلی صبح ہوئی تو میں پھر مسجد حرام میں گیا اور پھر سے بلند آواز کلمۂ شہادت پڑھنے لگا۔ ایک مرتبہ پھر لوگ مجھ پر ٹوٹ پڑے اور مارنا شروع کر دیا۔ اس مرتبہ پھر حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے مجھے بچایا اور سمجھاتے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سمجھایا کہ ابھی یہاں حالات مناسب نہیں ہیں تم ابھی اپنے قبیلے واپس چلے جائو جب حالات سازگار ہوجائیں گے تو آجانا اور میں اپنے قبیلے میں واپس لوٹ آیا۔( اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدینہ ٔ منورہ میں اسلام اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا تو حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور پھر آخر تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے)حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اکثر فرماتے تھے :’’ اللہ تعالیٰ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ یہ اُن کی اسلام میں پہلی منزل تھی۔‘‘

بد بخت ابولہب کے بیٹے کی گستاخی اور سزا

   عام مسلمانوں پر تو قریش کے کافر سرداروں کا ظلم و ستم جاری تھا۔ دوسرے سرداران قریش تو ابو طالب کی وجہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ تشدد نہیں کر پا رہے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ دار بد بخت ابولہب ( جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پڑوسی تھا) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا تھا۔ اس کے دو بیٹوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں کا نکاح ہوا تھا۔ لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی اور وہ اپنے والد کے گھر ہی تھیں۔ بد بخت ابولہب نے دونو ں بیٹوں سے کہہ کر طلاق دلوادیا تھا۔ تا کہ اس سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت ہو۔ لیکن یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں کے لئے بہت بہتر ہو گیا اور اللہ تعالیٰ اُن بد بختوں سے انھیں بچا لیا۔ بد بخت ابو لہب کے ان ہی دو بیٹوں میں سے ایک بیٹا مُتیبہ( اور ایک روایت میں ہے کہ لہب) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا۔ میں والنجم اذا ھوی اور ثم دنا فتدلّٰی کے ساتھ کفر کرتا ہوں۔ اس کے بعد اُس بد بخت نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر تھوکنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ تھوک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں پڑا اور وہ ہاتھا پائی پر اتر آیا جس سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس پھٹ گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے اللہ !اس پر اپنے کتّوں میں سے کوئی کتّا مسلط کر دے۔‘‘ کچھ دنوں بعد قریش کے تجارتی قافلے کے ساتھ شام گیا۔ مقام ِ زرقا پر پڑائو ڈالا تو ایک شیر کو خیموں کے اطراف گھومتے ہوئے دیکھ کر اس نے قافلے کے قریشیوں سے کہا:’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دعا کی تھی لگتا ہے یہ شیر مجھے مارڈالے گا۔ دیکھومیںملک شام میں ہوں اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے مجھے مارڈالے گا۔ تمام قافلے والے اس کے چاروں طرف سوئے اور اسے درمیان میں سلایا۔ شیر سب کو پھلانگتا ہوا آیااور اس کا نرخرہ چبا کر اسے جہنم واصل کر دیا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ قبیلہ قریش کے خاندان یا شاخ بنو عدی کے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلۂ نسب یوں ہے۔ عمر بن خطاب بن نفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لویٔ بن فہر بن مالک ۔آپ رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے سب سے طاقتور جوانوں میںسے تھے اور ہر کوئی آپ رضی اللہ عنہ کے غصہ سے خو ف کھاتا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے ایک دعا فرمائی تھی۔ اسی دعا کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا اور یہ دعا آپ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا ذریعہ بنی۔

اے اللہ !دو عُمر میں سے ایک کو اسلام سے سرفراز فرما

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ مکہ مکرمہ میں دو عُمر بہت طاقتور ہیں۔ ایک تو حضرت عُمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرا بدبخت عُمر بن ہشام( ابو جہل ) تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:’’ اے اللہ تعالیٰ عمر بن خطاب اور عمر بن ہشام میں سے تجھے جو پسند ہو اسے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما اور اسلام کو قوت عطا فرما‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا رجحان حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا کو پوری کیااور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر اپنا فضل کیا۔ کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ حق پسند تھے اور ظلم و نا انصافی کو نا پسند کرتے تھے۔ جبکہ بد بخت ابوجہل حق کو جانتے ہوئے انکار کرتا تھا اور ظلم و نا انصافی اور تشدد اسے پسندتھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کا دل اسلام کی طرف مائل کردیا۔ امام ابن عساکر تاریخ دمشق میں فرماتے ہیں کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی کے ذریعے منکشف ہوا کہ اابوجہل اسلام قبو ل نہیں کرے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی :’’اے اللہ !عمر بن خطاب سے اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما۔‘‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دل اسلام کی طرف مائل

   اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول فرمائی اور ان کے سامنے ایسے کئی واقعات پیش آئے ۔ جس سے اسلام کی حقانیت آپ رضی اللہ عنہ پر واضح ہوگئی اور دل اسلام کی طرف مائل ہوگیا اور آخر کار آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا۔ اس بارے میں خود حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ایک مرتبہ خانہ کعبہ کے پاس پہونچا تو دیکھا کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں ۔ (اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں زور آواز سے تلاوت کرتے تھے، دھیرے پڑھنے کا حکم بعد میں نازل ہوا۔ ) میں نے سوچا کہ دیکھوں تو یہ کیا کہتے ہیں اور میں ان کے قریب خانہ کعبہ کی پردے کی آڑ میں چھپ کر سننے لگا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کی تلاوت فرما رہے تھے۔ یہ اتنا فصیح و بلیغ کلام تھا کہ میں حیرت زدہ ر ہ گیا ۔ میں نے سوچا کہ اللہ کی قسم یہ شاعر ہیں ۔ جیسا کہ قریش ان کے بارے میں کہتے ہیں ۔ اسی وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمائی:(ترجمہ) ’’یہ ایک بزرگ رسول کا کہا ہوا (قول) ہے ۔یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے اور تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو ۔‘‘(سورہ الحاقہ آیت 41-40) یہ سننے کے بعد میں نے سوچا : شاید یہ کاہن ہیں ۔اتنے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمائی: (ترجمہ)’’ یہ کسی کاہن کا قول نہیں ہے۔ تم لوگ کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ تو اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔‘‘(سورہ الحاقہ آیت 43-42)اتنا سننا تھا کہ میرے دل میں یہ خیا ل پیدا ہوا کہ اسلام ہی حق ہے اور یہ احساس لگا تار بڑھتا جا رہا تھا۔ میں وہاں سے چلا آیا۔ لیکن دل ودماغ میں وہ دلنشین اور خوبصورت کلام گونج رہا تھا۔

فرشتہ یا جنات کی گواہی

   اس واقعہ کی وجہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام کا بیج پڑ چکا تھا۔ اوراسلام دھیرے دھیرے آپ رضی اللہ عنہ کے دل میں جڑ پکڑ نے لگا ۔ لیکن چونکہ آپ رضی اللہ عنہ بہت غصہ ور اور گہری طبیعت کے مالک تھے ۔ اس لئے اس احساس کو اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دے رہے تھے۔ لیکن لاشعور میں اسلام کی حقانیت کا احساس بیٹھ چکا تھا اور اسی وجہ سے اکثر غور وفکر میں مبتلا رہنے لگے ۔ اسی دوران دوسرا واقعہ پیش آیا ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ ایک دن میں (قربان گاہ کے پاس )اسی غور وفکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ایک بچھڑا لیکر آیا اوراسے ذبح کیا۔ اس بچھڑے نے زور کی چینخ ماری اور اسکے اندر سے آواز آئی :’’اے ذریح !(عرب میں بہادر اور دلیر شخص کو ذریح کہا جاتا ہے۔ ) معاملہ کامیابی کا ہے ۔ایک آدمی صاف صاف زبان سے کہہ رہا ہے’’ لا الہ الااللہ‘‘ میں حیرت سے کھڑا ہوگیااور اس کٹے ہوئے بچھڑے کو دیکھنے لگا اس سے پھر آواز آئی ’’ وہی شخص آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ‘‘یہ کوئی نیک جن یا فرشتہ تھا جو بچھڑے کے اندر سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مخاطب تھا۔

پہلے اپنے گھر کی خبر لو

   اس واقعہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر بہت گہرا اثر ڈالا۔لیکن چونکہ ضدیطبیعت کے مالک تھے۔ اس لئے اپنی ضد پر اڑے رہے۔ اس کے بعد وہ واقعہ پیش آیا جس نے آپ رضی اللہ عنہ کی ضد کو توڑ دیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی بدل گئی۔ ہو ا یوں کہ قریش کے کافر سردار خانہ کعبہ کے صحن میں جمع تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مشورہ کر رہے تھے کہ اُن کا کیا کریں۔ بدبخت ابو جہل نے مجلس میں اعلان کیا کہ جو شخص محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو (نعوذ باللہ) قتل کر ڈالے گا میں اسے سو100اونٹ دوں گا اور اس کی ضمانت لیتا ہوں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مجلس میںبیٹھے تھے اور کشمکش کا شکار تھے۔ بد بخت ابو جہل کی بات سن کر آپ رضی اللہ عنہ کی ضدی طبیعت حاوی ہو گئی اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’یہ کام میں کروں گا۔ ‘‘یہ سنتے ہی تمام سردارانِ قریش نے کہا:’’ اے عمر بن خطاب !بے شک تم ہی یہ کام کر سکتے ہواور ہم سب تمہاری حفاظت کریں گے‘‘ اور آپ رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں ننگی تلوار لے کر چل پڑے۔ معلوم ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ دارِ ارقم میں جمع ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ اُسی طرف جانے لگے۔ راستے میں حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ ( یہ اسلام قبول کر چکے تھے لیکن اپنے اسلام کو ظاہر نہیں کیا تھا) انھوں نے پوچھا:’’ اے عمر! ( رضی اللہ عنہ) بہت غصہ میں دکھائی دے رہے ہو اور یہ تلوار لے کر کہاں جا رہے ہو؟‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں اُس شخص (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جا رہا ہوں جس نے قریش کے گھر گھر میں جھگڑا لگا دیا ہے اور ہمارے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کی طرف بلا رہا ہے۔ آج وہ نہیں یا میں نہیں۔ ‘‘حضرت نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’اے عمر !تم غلط راستے پر جا رہے ہواور اللہ کی قسم تم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہو۔ کیا تم بنو عدی ( یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا خاندان یا قبیلہ تھا) کو برباد کرنا چاہتے ہو؟ تمہارا کیا خیال ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو قتل کر و گے تو بنو عبد مناف ( یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان یا قبیلہ کا نام ہے) تمہیں زندہ چھوڑ دیں گے؟ ‘‘یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میرا اندازہ ہے کہ تو بھی صابی( بے دین) ہو گیا ہے۔ ( جو شخص اسلام قبول کرتا تھا تو قریش اسے صابی کہتے تھے) اگر ایسا ہے تو تجھے قتل کر کے اس کی شروعات کر تا ہوں۔ ‘‘حضرت نعیم بن عبداللہ نے جب یہ دیکھا کہ اُن کی جان پر بن آئی ہے تو انھوں نے فرمایا:’’ میں تم سے کہتا ہوں کہ پہلے اپنے گھر والوں کی فکر کرو۔ کیوں کہ کئی لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں۔ ‘‘

بہن اور بہنوئی کے گھر

   حضر ت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پوچھا :’’وہ کو ن کون ہیں؟‘‘ انھوں نے جواب دیا:’’ تمہارے بہنوئی ، تمہاری بہن اور تمہارا چچا زاد بھائی۔ ‘‘اتنا سننا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ اپنے بہنوئی کے گھر کی طرف چل پڑے۔ آپ رضی اللہ عنہ غصہ کی حالت میں اپنے بہنوئی کے گھر پہنچے تو انھیں قرآن پاک کی تلاوت کرنے کی آواز آئی۔ اندر حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سورہ طٰہٰ کی آیات دونوں کو پڑھا رہے تھے اوریہ حال ہی میں نازل ہوئی تھیں۔ تلاوت کی آواز سن کر آپ رضی اللہ عنہ کا غصہ اور بڑھ گیا اور زور زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے پوچھا گیا:’’ کون ہے؟ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:’’ عمر بن خطاب ( رضی اللہ عنہ) ۔ ‘‘یہ سن کر حضرت خباب ابن ارت رضی اللہ عنہ فوراً چھپ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ کے بہنوئی حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اندر داخل ہوتے ہی اپنے بہنوئی پر حملہ کر دیااور مارنے لگے اور فرمانے لگے:’’ تو صابی ہو گیا ہے۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت طاقتور تھے۔ بہن نے جب دیکھا کہ اُن کے بھائی اُن کے شوہر کو مارتے ہی جا رہے ہیں تو وہ شوہر کو بچانے کے لئے درمیان میں آگئیں۔ بہن کے درمیان میں آتے ہی ایک ہاتھ بہن کو پڑ گیا اور وہ گر پڑی اس کے منہ سے خون نکلنے لگا۔

بہن کی محبت نے ضد توڑ دی

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بہن کے منہ سے خون نکلنے لگا۔ یہ دیکھ کر بہن کو غصہ آگیا۔ وہ بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بہن تھیںاور جوش اور غصہ انھیں بھی وراثت میں ملا تھا۔ غصہ کی حالت میں آپ رضی اللہ عنہا کھڑی ہوئیں اور زور دار بلند آواز میں کہا:’’ اے اللہ کے دشمن !کیا تو ہمیں اس لئے مار رہا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کر تے ہیں؟ تو سُن، میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اب تجھے جو کرنا ہے کر لے۔ ہم اسلام نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب بہن کی رُعب دار غصہ بھری آواز سنی تو اس کی طر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ بہن کے منہ سے خون نکل رہا ہے۔ خون دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کو جھٹکا لگا اور اس پر بہن کا پر عزم لہجہ اور الفاظ نے اُن کے دل پر اثر کر دیا اور تمام غصہ اور ضد ختم ہوگئی۔ انھیں احساس ہوا کہ اسلام قبو ل کرنے کے بعد اسلام کی حقانیت سے دل اتنا منوّر ہو جاتا ہے کہ انسان بڑی سے بڑی مصیبت کا مردانہ وار مقابلہ کر لیتا ہے کہ جو بہن میر ادب کرتی تھی آج مجھے للکار رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نرم پڑ گئے اور بہن سے فرمایا:’’ اچھا یہ بتائو تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ ‘‘بہن نے کہا :’’میں نہیں بتائوں گی۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میری بہن !تمہارے رویہ اور تمہارے الفاظ سے میرا دل بہت متاثر ہو گیا ہے اور میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کون سی نعمت ہے جس کے ملنے پر میری پیاری بہن مجھ پر ناراض ہو گئی ہے۔

قرآن کی حقانیت

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بات سن کر بہن نے کہا:’’ تم ناپاک ہو، اس لئے اسے چھو نہیں سکتے۔ جائو غسل کر کے آئو اور وضو کرلو۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے غسل کیا اور وضو کیا توبہن نے صحیفہ دیا۔ اس میں سورہ طٰہٰ اور دوسری کچھ سورہ تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسمیں بسم اللہ الرحمن الرحیم دیکھا اور جب پڑھتے ہوئے’’ الرحمن الرحیم‘‘ پر پہنچے تو کانپ اٹھے۔ پھر خود کو سنبھالا اور آگے پڑھنے لگے۔ ( ترجمہ)’’ طٰہٰ ۔ ہم نے یہ قرآن آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اسلئے نہیں اتارا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مشقت میں پڑ جائیں ۔ بلکہ یہ اُس کے لئے نصیحت ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ اِس کا اتارنا اُس کی طرف سے ہے جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیاجو ’’رحمن ‘‘ہے عرش پر قائم ہے۔ جس کی ملکیت آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور نیچے ہر ایک چیز ہے۔ اگر تو اونچی بات کہے تو وہ ہر ایک پوشیدہ بلکہ پوشیدہ سے پوشیدہ چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے بہترین نام اسی کے ہیں۔ ‘‘( سورہ طٰہٰ ، آیت نمبر 1سے نمبر8تک) ان آیات نے آپ رضی اللہ عنہ کے دل پر بہت اثر کیا۔

یہ اﷲ کا کلام ہے

   اتنا پڑھنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ اپنی بہن اور بہنوئی کو دیکھتے ہوئے بولے:’’ کیا قریش اس ( کلام) سے بھاگتے ہیں؟ ‘‘کسی نے کوئی جواب نہیں دیا توآپ رضی اللہ عنہ آگے پڑھنے لگے اور جب ان آیات پر پہنچے ( ترجمہ) ’’بے شک میں ہی اللہ ہوںمیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تُومیری عبادت کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔ یقینا قیامت آنے والی ہے جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں۔ تاکہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیا جائے جس کے لئے اس نے کوشش کی ہے۔ پس اس یقین سے تجھے کوئی شخص روک نہ دے جو اس پر ایمان نہ رکھتا ہو اور اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہو ۔ پس وہ ہلاک ہو جائے۔‘‘ (سورہ طٰہٰ آیات نمبر14سے 16تک) آپ رضی اللہ عنہ نے جیسے ہی ان آیات کی تلاوت کی تو بے ساختہ پکار اٹھے :’’یہ اللہ کا کلام ہے اور بے شک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سچے ہیں۔ ‘‘

اے عُمر (فاروق) !مبارک ہو

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کو سن کر حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ جو چھپے ہوئے تھے وہ باہر نکل آئے اور فرمایا:’’ اے عمر بن خطاب ( رضی اللہ عنہ) !تمہیں مبارک ہو اور خوش ہو جائو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تھی کہ اے اللہ دو عمر میںسے جو تیرے نزدیک بہتر ہو اس کے ذریعے اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا تمہارے حق میں قبول کر لی ہے۔ ‘‘

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے چلو۔‘‘ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ خوشی خوشی انھیں لے کر صفا پہاڑی کے دامن میں ’’دارِ ارقم ‘‘تک پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ موجود تھے۔ اندر سے پوچھا گیا :’’کون ہے؟ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں عمر بن خطاب ( رضی اللہ عنہ ) ہوں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم تک حضرت عمر فاروق کے ارادے کی خبر پہنچ چکی تھی۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس وقت تک اسلام قبول کر چکے تھے اور بہت بہادر اور دلیر تھے۔ انھوں نے فرمایا۔ اگر عمر بن خطاب کسی غلط ارادے سے آیا ہے تو آج ضرور میرے ہاتھوں اس کا قتل ہوگا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دروازہ کھول دو اگراللہ تعالیٰ نے اس کے لئے بھلائی چاہی ہے تو یہ اسلام قبول کر لے گا اور اگر اس کے علاوہ اس کا کوئی ارادہ ہے تو اس کو قتل کرنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا۔‘‘ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور دروازہ کھول کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دونوں بازوئوں میں جکڑ لیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ اسے چھوڑ دواور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی چادر پکڑ کر فرمایا:’’ اے خطاب کے بیٹے! تم باز نہیں آئو گے ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کسی مصیبت میں مبتلا کر دے۔ اب بتائو کیا ارادہ لے کر آئے ہو؟‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔‘‘ اتنا سننا تھا کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اتنی زور سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا کہ صفا پہاڑی اس نعرے سے گونج اٹھی۔ ( اور قریش کے کافر سردار چونک پڑے) اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا۔ ‘‘

الفاروق کا لقب

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تو سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر انھیں گلے سے لگایا اور تمام صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین نے اُن سے خوش ہو کر معانقہ کیا۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہم زندہ یا مردہ دونوں حالت میں حق پر نہیںہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ بیشک ہم حق پر ہیںچاہے وفات پا جائیں یا زندہ رہیں۔‘‘ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !پھر چھپنا کیوں؟ قسم ہے اُ س ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایاہے۔ ہم ضرور کھلے عام نکلیں گے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کھلے عام کریں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ اب تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دارِ ارقم سے دو صف بنا کر نکلے۔ ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری صف میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے اور دونوں صفوں کے درمیان سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے۔ اس طرح یہ لوگ خانہ کعبہ کے صحن میں داخل ہوئے۔ جب قریش کے کافروں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو حیرت زدہ ہو گئے اور انھیں بہت صدمہ ہوا ۔ کسی کو ہمت نہیں ہوئی کہ وہ صحن ِ کعبہ میں مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکے۔ اُس دن سے مسلمان کھلے عام نماز ادا کرنے لگے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو’’ الفاروق‘‘ کا لقب دیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبوت کے چھٹے سال ۶ ؁ نبوی میں اسلام قبول کیا۔

بنو ہاشم کا بائیکاٹ

   مکہ مکرمہ کے کافروں یعنی مشرکین قریش نے جب دیکھا کہ حبشہ میں مسلمان آرام سے رہ رہے ہیں اور یہاں مکہ مکرمہ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا ہے اور ان کی وجہ سے مسلمان طاقتور ہو گئے ہیں اور اسلام قبول کرنیوالوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے تو تمام سردارانِ قریش اور مکہ مکرمہ کے دوسرے کافروں نے یہ اسکیم بنائی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جائے۔ ان لوگوں کو کسی تنگ و تاریک جگہ میں محصور کر کے ان کا دانہ پانی بند کر دیا جائے تا کہ یہ لوگ مکمل طور سے تباہ وبرباد ہو جائیں۔ اس خوفناک تجویز کے تحت تما م قبائل ِ قریش نے آپس میں یہ معاہدہ کیا کہ جب تک بنی ہاشم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے ہمارے حوالے نہیں کریں گے تب تک (1) کوئی شخص بنی ہاشم کے خاندان سے نکاح نہیں کرے گا۔ (2) کوئی شخص ان لوگوں کے ساتھ کسی قسم کے سامان کی خریدو فروخت نہ کرے۔ ( 3) کوئی شخص ان لوگوں سے میل جول، سلام کلام اور ملاقات اور بات چیت نہ کرے۔(4) کوئی شخص ان لوگوں کے پاس کھانے پینے کا کوئی سامان نہ جانے دے۔ منصور بن عکرمہ نے اس معاہد ہ کو لکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا ہاتھ شل کر دیا۔ تمام سردارانِ قریش نے اس پر دستخط کر کے خانہ کعبہ کے اندر آویزاں کر دیا۔

بنو ہاشم اور بنومطلب شعب ابی طالب میں محصور

   قریش نے بنو ہاشم کا مکمل بائیکاٹ کر دیا اور اس کے بدلے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ کی اور کہا:’’ اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو ہمارے حوالے کر دو گے تو ہم تمہارا بائیکاٹ ختم کر دیں گے۔ ‘‘ابو طالب نے تمام بنو ہاشم اور بنو مطلب ( ہاشم اور مطلب کے والد عبد مناف تھے۔ اور اُن کی اولاد بنو ہاشم اور بنو مطلب کہلائی) کو جمع کیا اور سب کو لے کر شعب ابوطالب( ایک پہاڑ ی کی گھاٹی) میں پناہ گزیں ہو گئے۔ تمام رشتہ دار وںنے ( کافر اور مسلمان سب نے ) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو طالب کا ساتھ دیا اور سب کے سب پہاڑ کے اس تنگ درّہ میں محصور ہو کر قیدیوں کی زندگی بسر کرنے لگے۔ صرف بد بخت ابو لہب قریش کے کافروں کے ساتھ رہا۔ شعب ابی طالب میں بنو ہاشم اور بنو مطلب پر بہت کٹھن زمانہ گزرا۔ یہاں تک کہ وہ لوگ درختوں کی پتیاں کھا کر اور سوکھے چمڑے پانی میں بھگا کر چوس کر گزارہ کرتے رہے۔ اُن کے بچے بھوک اور پیاس کی شدت سے تڑپ تڑپ کر دن رات روتے رہتے تھے۔ او ر سنگ دل کافروں نے شعب ابی طالب کے چاروں طرف پہرہ لگا دیا تھا کہ کہیں سے کوئی کھانا پانی نہ پہنچا دے۔

معاہدہ کو کیڑوں نے کھا لیاصرف اللہ کا نام سلامت رہا

   اس طرح انتہائی تکلیف ،بھوک اور پیاس میں تین سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے چچا ابو طالب سے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ معاہدے کو کیڑوں نے کھا لیا ہے اور صرف اللہ کا نام سلامت ہے۔‘‘ ابو طالب سرداران ِ قریش کو یہ بتانے کے لئے نکلے تو دیکھا کہ قریش کی مجلس جمی ہوئی ہے۔ ابو طالب وہاں خاموشی سے بیٹھ گئے۔ زُہیر جو عبدا لمطلب کے نواسے ہیں انھوں نے کہا:’’ اے لوگو !یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہم لوگ تو آرام سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور خاندان بنو ہاشم اور بنو مطلب کے بچے بھوک پیاس سے بلبلا رہے ہیں۔ اللہ کی قسم !جب تک اس وحشیانہ معاہدے کو پھاڑ کر پائوں سے روند نہ دیا جائے تب تک میںچین سے نہیں بیٹھوں گا۔‘‘ یہ سن کر ابو جہل اچھل کر کھڑا ہوگیا اور بولا:’’ خبردار !ہرگز اس معاہدے کو ہاتھ نہ لگانا۔ ‘‘زمعہ نے ابو جہل کو اتنی زور سے ڈانٹا کہ اس کی بولتی بند ہو گئی۔ اسی طرح مطعم بن عدی اور ہشام بن عمرو نے بھی ابو جہل کو جھڑک دیا اور ابو البختری نے تو صاف کہہ دیا :’’ ابو جہل ! اس ظالمانہ معاہدہ سے نہ ہم پہلے راضی تھے اور نہ اب اس کے پابند ہیں۔ ایسے وقت ابو طالب کھڑے ہوئے اور کہا:’’ اے لوگو! میرے بھتیجے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتے ہیں اس معاہدہ کی دستاویز کو کیڑوں نے کھالیا ہے اور جہا ں اللہ کا نام لکھا ہوا ہے وہ کیڑوں نے چھوڑ دیا ہے۔ تم لوگ اس دستاویز کو نکال کر دیکھو۔ اگر واقعی اس کو کیڑوں نے کھا لیا ہے تو یہ معاہد خود بخود ختم ہو گیا اور اگر میرے بھتیجے کا کہنا غلط ثابت ہوا تو میں اسے تمہارے حوالے کر دوں گا۔‘‘ یہ سن کر مطعم بن عدی خانہ کعبہ کے اندر گیا اور دستاویز اتار کر لایا اور سب لوگوں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے نام کو چھوڑ کر پوری دستاویز کو کیڑوں نے کھا لیا تھا۔ معطم بن عدی نے اس معاہدے کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ پھر قریش کے چند بہادر ( حالانکہ وہ کافر تھے) شعب ابی طالب میں پہنچے اور خاندان بنی ہاشم اور بنی مطلب کے ایک ایک فرد کو وہاں سے نکال لائے اور اُن کو اُن کے مکانوں میں آباد کیا۔ ۷؁ نبوی یعنی نبوت کے ساتویں سال قریش نے پابندی لگائی تھی اور ۱۰؁ نبوی یعنی نبوت کے دسویں سال معاہدہ منسوخ ہو گیا۔

ابو طالب کا انتقال

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شعب ابی طالب سے نکلنے کے بعد حسب معمول دعوت و تبلیغ کا کام شروع کر دیا اور اب مشرکین نے حالانکہ بائیکاٹ ختم کر دیا تھا۔ لیکن وہ بھی حسب معمول مسلمانوں پر دبائو ڈالنے اور اللہ کی راہ سے روکنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔ ابو طالب اسی طرح اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کے سرپرست بنے ہوئے تھے۔ لیکن اُن کی عمر اب لگ بھگ ستاسی87سال ہو چکی تھی اور شعب ابی طالب کی تین سال کی بھوک و مشقت نے انتہائی کمزور کر دیا تھا۔ شعب ابی طالب سے نکلنے کے چند مہینے بعد اُن کا انتقال ہو گیا۔ اُن کے مسلم اور غیر مسلم ہونے کے بارے میں علمائے کرام کی الگ الگ رائے ہے اور یہ ایک الگ بحث ہے اور یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ ہاں ہم یہ بات یقین سے کہتے ہیں کہ ابو طالب جب تک زندہ رہے تب تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دل و جان سے حمایت اور حفاظت کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اُن کی یہی تمنا رہی تھی کہ میرے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دُکھ اور تکلیف نہ پہنچے۔ ابو طالب کے انتقال کا تفصیل سے ذکر لگ بھگ سیرت کی تمام کتابوں میں آیا ہے ۔ ہم چونکہ مختصراً ذکر کر رہے ہیں۔ اسلئے اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔

اسلام کی خاتونِ اوّل رضی اﷲ عنہ کا انتقال

   ابو طالب کے انتقال کے چند روز بعد ہی اسلام کی خاتونِ اوّل اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی زوجہ ٔمحترمہ ہیں۔ نکاح کے وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک چالیس برس تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پچیس 25برس تھی۔ نکاح کے بعد اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی تمام محبت اور اپنی تمام مال و دولت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر نچھاور دی اور لگ بھگ پچیس 25 برسوں تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دل و جان سے خدمت کرتی رہیں۔ ہر مشکل مرحلے پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حوصلے بلند کر تی رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب تک آپ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں تب تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ محمد بن اسحاق حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو خوش خبری دوں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے جنت میں’’ موتیوں سے بنا ہوایک محل‘‘ مخصوص کیا ہے۔ جس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ ہی کوفت۔‘‘ عبد الملک بن ہشام کہتے ہیں کہ مجھے اُس شخص نے بیان کیا ہے جس پر مجھے اعتما د ہے کہ جبرئیل علیہ السلام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام کہتا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے خدیجہ رضی اللہ عنہا !یہ جبرئیل علیہ السلام آئے ہیں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچا رہے ہیں۔ ‘‘سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے اور سب کو اسی کی بارگاہ سے سلامتی ملتی ہے۔ اس لئے میں جواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر اور جبرئیل علیہ السلام پر سلام بھیجتی ہوں۔‘‘ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دنیا میں ہی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنتی ہونے کی بشارت دے دی تھی۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی بشارات ہیں۔ لیکن ہم اتنا پیش کر سکتے ہیں۔ اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا لگ بھگ پچیس 25برس تک سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں چلی گئیں۔ انتقال کے وقت اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک پینسٹھ65برس تھی۔ ایک ہی سال میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دو عزیز ہستیوں کا انتقال ہو ا۔ اسی لئے ۱۰؁نبوی کو عام الحُزن یعنی حزن کا سال کہا گیا ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں