پیر، 3 جولائی، 2023

06 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


06 سیرت سید الانبیاء ﷺ

طائف میں تبلیغ اور واقعہ معراج

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


طائف کا سفر، طائف والوں کے لئے دعا، جنوں کا قبول اسلام، معجزہ شق القمر، بیت المقدس میں انبیاء کرام کی امامت، سدرۃ المنتہیٰ، جنت اور جہنم کا مشاہدہ


ابو جہل اور ابولہب کی اسلام دشمنی

   اُم المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے چند ماہ پہلے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا تھا۔ اس طرح ایک برس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو بڑے غم اٹھانے پڑے۔ اس کے باوجود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا کام جاری رکھا۔ لیکن اب مشرکین مکہ مکرمہ کے حوصلے کافی بلند ہو گئے ۔ اور وہ ہر وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دینے کی کوشش کرنے لگے ۔ ان میں ابو جہل اور ابو لہب سب سے آگے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ایسے بازاروں میں اسلام کی دعوت دینے جاتے تھے جن میں باہر کے تجارتی قافلے اور تاجر آیا کرتے تھے۔ تو ان دونوں بد بختوں میں سے ایک نہ ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاتا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے جاتے تھے۔ اور کبھی ابولہب اور کبھی ابو جہل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلتے رہتے تھے اور کہتے رہتے تھے :’’لوگو! اس کی باتوں میں نہ آنا اور اسلام قبول کرنے سے روکتے رہتے تھے۔‘‘

تبلیغ ِ اسلام کے لئے طائف کا سفر

   مکہ مکرمہ کے کافر یعنی قریش مسلسل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی جدوجہد کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری لگن اور محنت کے ساتھ تبلیغ اسلام میں لگے ہوئے تھے اور قریش میں سے’’ سلیم القلب‘‘ حضرات اسلام قبول کر تے جا رہے تھے ۔اس کے علاوہ اسلام قبول کرنے والے صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین بھی اپنی حد تک اسلام کی تبلیغ میں لگے ہوئے تھے اور اس کے اچھے نتائج بھی سامنے آرہے تھے۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تبلیغ اسلام کا دائرہ وسیع کرنا مناسب سمجھا اور مکہ مکرمہ کے باہر کے شہروں اور علاقوں میں اسلام کی دعوت دینے کا ارادہ فرمایا۔ اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر انتخاب سب سے پہلے ہرے بھرے اور خوب صورت شہر طائف پر پڑی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر پید ل ہی طائف کی طرف چل پڑے۔ طائف مکہ مکرمہ سے ساٹھ 60کلو میٹرکے فاصلے پر ہے۔ راستے میں جو بستیاں ملتی جاتی تھیں انھیں بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دیتے جا رہے تھے۔

طائف کا اذیت ناک واقعہ

   عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ غزوہ اُحد کا دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہت ہی اذیت ناک گزرا ہے۔ لیکن ایک دن ایسا بھی سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا ہے جس کا تصور بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر برسوں بعد بھی کپکپی طاری کر دیتا تھا۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا غزوۂ احد والے دن سے بھی سخت دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیا ہے؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں نے تمہاری قوم (قریش) سے جو پایا وہ پایا۔ میں نے ابن عبد یا لیل بن عبد کلال کے سامنے اسلام اور اپنے رسول ہونے کو پیش کیا۔ لیکن اس نے وہ جواب نہیں دیا جو میں چاہتا تھا تو میں غم کی حالت میں جدھر منہ آیا چلا گیا۔ مجھے اس حالت سے اُس وقت افاقہ ہوا جب میں مقام قرن الثعالب میں پہنچا۔‘‘ ( صحیح بخاری، صحیح مسلم )یہ حدیث بھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ انشاء اللہ آگے اس حدیث کو مکمل کریں گے۔

طائف کے سرداروں کو اسلام کی دعوت

   سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پیدل سفر کر کے طائف پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ طائف میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے وہاں کے تین سردار بھائیوں کے پاس گئے۔ اُن تینوں کے نام عبد یا لیل بن عمرو، مسعود بن عمرو اور حبیب بن عمرو ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور انھیں اسلام کی دعوت دی اور فرمایا :’’ تم اسلام کی نصرت و تائید کے علمبردار بن جائو اور میرے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جائو‘‘ ( انشاء اللہ دنیا اور آخرت میں کامیابی پائو گے)

طائف کے سرداروں کا انکار

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے تینوں سردار بھائیوں کو اسلام کی دعوت دی تو اُن میں سے ایک نے کہا :’’میں خانہ کعبہ کے سامنے اپنی داڑھی منڈوائوں گا اگر تم کو اللہ نے رسول بنا یا ہو تو ۔‘‘ دوسرا بھائی بولا:’’ کیا اللہ تعالیٰ کو تمہارے علاوہ کوئی اور بھی رسول بنانے کے لئے نہیں ملا؟ تمہارے پاس تو سفر کے لئے سواری بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اگر رسول بنانا تھا تو کسی حاکم یا سردار کو رسول بنایا ہوتا۔‘‘ تیسرے نے کہا :’’ میں تم سے بات ہی نہیں کروں گا۔ کیوں کہ اگر تم اللہ کے رسول ہو تو یہ بہت خطرناک ہے کہ میں تمہارے بات کا انکار کروں اور اگر یہ سچ نہیں ہے تو پھر تم سے بات کرنا ہی بے کار ہے۔‘‘ اُن لوگوں سے ایسے جواب سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر تشریف لے جانے لگے تو فرمایا:’’ میں تم سے صر ف یہ چاہتا ہوں کہ اس بات کو اپنے تک محدود رکھو۔ اتنا فرما کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چلے آئے۔‘‘

اﷲ کے حبیب صلی اﷲ علیہ وسلم پر پتھروں کی بارش

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ دس دن طائف میں قیام کیا اور ان تینوں بھائیوں کے پاس سے اُٹھکر دوسرے سرداروں کے پاس گئے ۔ انھیں بھی اسلام کی دعوت دی لیکن کسی بھی سردار نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے بازاروں میں گھوم گھوم کر عام لوگوں کو سمجھانا شروع کیا اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ طائف کے لوگ اور سردار کئی دن تک یہ دیکھتے رہے تو انھوں نے آوارہ بدمعاش نوجوان لڑکوں کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا دیا۔ وہ لڑکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلتے رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دیتے جاتے تھے اور یہ لڑکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے جاتے تھے۔ دسویں دن تو انھوںنے حد کر دی۔ وہ بدمعاش آوارہ اور بد بخت لڑکے ( جو سینکڑوں کی تعدا د میں تھے) انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھروں کی بارش کر دی۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھروں سے بچانے کے لئے آگے آجاتے تھے اور انھیں پتھر لگ جاتا تھا۔ لیکن پتھرتو چاروں طرف سے آرہے تھے۔ کچھ دیر تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پتھر کھا کر بھی اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن جب بہت زیادہ پتھروں کی بارش ہوئی تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے خون نکلنے لگا تو سر چکرانے لگا۔ تب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دینی بند کر دی اور طائف سے واپسی کا راستہ اختیا رکیا۔

طائف کے باہر ایک باغ میں پناہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے باہر جانے کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن ان بدبخت آوارہ لڑکوں کا گروہ پیچھے لگا رہا اور پتھر مارتا رہا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چکر ا کر بیٹھ جاتے تویہ بدمعاش لڑکے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں میں ہاتھ ڈال کر اٹھاتے تھے۔ جب ہمت کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چلنے لگتے تو پھر سے پتھروں کی بارش کر نے لگتے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا لباس خون آلود ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے توریت میں ’’ وہ آخری نبی ‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ایک نشانی یہ بھی بتائی تھی کہ ’’ وہ آخری نبی‘‘ خون میں ڈوبا ہوا لباس پہنے ہوئے ہوگا (رحمت اللعالمین جلد نمبر1) وہ نشانی پوری ہو رہی تھی۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خون اتنا بہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیاں خون سے بھر گئیں۔ یہ تکلیف دہ سفر کئی کلو میٹر لمبا تھا۔ طائف سے باہر ربیعہ کے دو بیٹوں عتبہ اور شیبہ کا باغ تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جلدی سے اس باغ میں داخل ہو گئے۔ شور سن کر دونوں بھائی بھی باہر آگئے اور طائف کے اوباش لڑکوں کا پتھر مارنا اور دونوں حضرات کا احاطے میں داخل ہونا دیکھا۔ اُن اوباش لڑکوں نے جب دیکھا کہ دونوں حضرات احاطے میں داخل ہو گئے ہیں تو واپس چلے گئے۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم طائف کے باہر ایک باغ کے احاطے میں پناہ گزین ہوئے۔ جب ذرا اطمینان ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعا کی:’’ اے اللہ تعالیٰ !میں اپنی کمزوری اور لوگوں کے مقابلہ میں اپنی مجبوری پیش کرتا ہوں ۔ اے ارحم الراحمین ! تُو کمزوروں کا رب ہے ۔مجھے ایسے لوگوں کے حوالے نہ کر جو مجھ پر ظلم کریں اور نہ ہی میرے معاملے کو کسی دشمن کے حوالے کر ۔ اے اللہ تعالیٰ! اگر تُومجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے ان تکلیفوں اور مصائب کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور تیری حمایت سب سے زیادہ وسیع ہے ۔میں تیرے اس نور کا واسطہ دے کر جس سے تمام تاریکیاں روشن ہوگئی ہیں اور جس پر دنیا اور آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر نازل ہو ۔ بیشک جب تک تو چاہے تجھے عتاب کرنے کا حق ہے ۔‘‘ (تاریخ طبری ) امام عبد الملک بن ہشام نے اپنی کتاب سیرت النبی اتنا زیادہ لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں آگے فرمایا:’’ اے اللہ تعالیٰ ! میں تیری رضا طلب کرتا ہوں ،حتیٰ کہ تو مجھ سے راضی ہوجائے ۔ تیری ذات کے علاوہ میرے پاس کوئی طاقت و قوت نہیں ہے۔ ‘‘

جبرئیل علیہ السلام اور پہاڑ کے فرشتے کا حاضر ہونا

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انتہائی عاجزی سے دعا فرمائی ۔ سارا بدن زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی سر میں کئی زخم آئے۔ ام لمومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ میں نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا غزوۂ اُحد والے دن سے زیادہ سخت دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں نے تمھاری قوم سے جو پایا سو پایا ( یعنی ان سے جو دکھ ملا وہ اپنی جگہ) لیکن سب سے سخت (دکھ) وہ ہے جو عقبہ کے دن (طائف میں بنو ثقیف سے )پہونچا۔ میں نے عبد یا لیل بن عبد کلال کے سامنے اسلام کی دعوت دی اور اپنا رسول ہونا پیش کیا۔ لیکن اس نے وہ جواب نہیں دیا جو میں چاہتا تھا تو میں غم کی حالت میں جدھر منہ آیا چلا گیا۔ مجھے اس حالت سے اس وقت افاقہ ہوا جب میں (مقام)قرن الثعالب میں پہونچا۔ (اور دعا مانگی ۔ دعا کے بعد) میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک بادل مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھا۔ میں نے اس میں جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا۔ انھوں نے مجھے آواز دیتے ہوئے عرض کیا :’’اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کی بات کو سنا اور ان کا جواب بھی سن لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہاڑوں کے فرشتہ کو بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جو چاہیں حکم فرمائیں ۔‘‘پھر پہاڑوں کے فرشتہ نے مجھے آواز دی اور سلام کیا اور عرض کیا:’’ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو جواب دیا وہ اللہ تعالیٰ نے (دیکھ لیا) اور سن لیا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر بھیجا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں ۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو اخثبین پہاڑوں کو ان پر الٹ دوں ‘‘۔( جس سے یہ پس کر رہ جائیں ) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’( نہیں) !بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پشتوں سے ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں حضرت عداس

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عتبہ اور شیبہ کے انگوروں کے باغ میں تشریف فرما تھے اور آرام فر ما رہے تھے۔ وہ دونوں بھائی اس وقت اپنے باغ میں موجود تھے اور انھوں نے طائف والوں کی بد سلوکی بھی دیکھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خون میں لت پت اُن کے باغ میں پناہ لیتے دیکھا۔ حالانکہ وہ کافر تھے لیکن انسانیت کے ناطے انھیں رحم آگیا ۔ انھوں نے اپنے عیسائی غلام حضرت عداس کو بلایااور ان کے ہاتھوں اپنے باغ کے تازہ انگور توڑ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجے۔ حضرت عداس یہ انگور لے کر حاضر ہوئے ( اور بتایا کہ میرے مالکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھیجا ہے) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘بلند آواز سے پڑھا اور انگور کھانا شروع کیا۔ حضرت عداس نے جب’’ بسم اللہ‘‘ سنا تو چونک پڑے اور عرض کیا:’’ اس سر زمین پر تو کوئی اس کلمہ سے واقف نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیسے پڑھ لیا؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم کس سر زمین کے رہنے والے ہو اور تمہارا دین کیا ہے؟ ‘‘حضرت عداس نے جواب دیا:’’میں عیسائی ہوں اور نینوا کا رہنے والا ہوں۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اچھا تو تم صالح ترین اور نیک انسان حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کے شہر کے رہنے والے ہو۔‘‘ حضرت عداس حیرت میں پڑ گئے اور عرض کیا:’’ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں کہ حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کون ہیں اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے پتہ چلا؟اللہ کی قسم !جب میں اپنے شہر سے نکلا تھا تو دس آدمی بھی حضرت یونس بن متیٰ علیہ السلام کو نہیں جانتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کیسے جانتے ہیں؟جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُمّی ہیں ( یعنی کسی سے علم حاصل نہیں کیا) اور اُمی قو م میں رہتے ہیں‘‘۔ ( یعنی ایسی قوم جسے خود بھی علم نہیں ہے)سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’بے شک وہ میرے بھائی ہیں اور میری طرح نبی ہیں۔ ‘‘یہ سن کر حضرت عداس سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ، پائوں اور سر کو چومنے لگے۔ ( خیال رہے کہ پہلے کی اُمتوں میں یہ سب اورتعظیمی سجدہ جائز تھے۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں منع کر دیئے گئے)امام احمد بن محمد قسطلانی لکھتے ہیں کہ پھر حضرت عدا س نے اسلام قبول کر لیا۔

اس وقت روئے زمین پر ان سے بہتر کوئی شخص نہیں ہے

   سیر ت کی اکثر کتابوں میں علمائے کرام نے یہی لکھا ہے کہ حضرت عداس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ امام عبدالملک محمد بن ہشام اس کے آگے لکھتے ہیں ۔ جس وقت حضرت عداس سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کر رہے تھے تو عتبہ اور شیبہ دور سے یہ حیرت انگیز منظر دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔ اس کے بعد حضرت عداس اپنے مالکوں کے پاس واپس آگئے تو اُن دونوں نے کہا:’’یہ تم کیا کر رہے تھے اور اُن کو اتنی عزت کیوں دے رہے تھے ؟‘‘حضرت عداس نے کہا:’’ میرے آقا !آج روئے زمین پر ان سے افضل کوئی شخص نہیں ہے۔ انھوں نے مجھے ایسی بات بتائی ہے جو صرف ایک نبی ہی بتا سکتا ہے۔‘‘ دونوں بھائیوں نے کہا:’’ اے عداس !تجھے کیا ہو گیا ہے؟ کہیں یہ شخص تجھے تیرے دین سے نہ پھیر دے تیرا دین اس کے دین سے بہتر ہے۔‘‘ ان دونوں کے جواب میں حضرت عداس نے فرمایا:’’ اشھد انکٌ عبداللہِ ورسولہ ۔‘‘ ( میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں)

اللہ کے رسول ﷺ کے مقابلے پر مت جاؤ

   حکیم بن حزام روایت کرتے ہیں ۔ کچھ عرصہ بعد غزوہ بدر ہوا تو عتبہ اور شیبہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلہ کرنے کے لئے جا رہے تھے۔ تب حضرت عداس نے اُن کے پائوں پکڑ لئے اور رو رو کر کہنے لگے:’’ تم دونوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر مت جائو۔‘‘ اسی دوران عاص بن شیبہ وہاں سے گذرا۔ اس نے حضرت عداس کو روتے ہوئے دیکھا تو وجہ پوچھی تو حضرت عداس نے کہا:’’میں خود اپنے آپ پر اور اپنے دونوں سرداروں پر رو رہا ہوںکہ وہ اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر جا رہے ہیں۔‘‘عاص نے استہزائیہ انداز میں کہا:’’ وہ … بھلا اللہ کا رسول ہے؟‘‘ حضرت عداس اس استہزایہ انداز پر کانپ اٹھے اور فرمایا:’’ اللہ کی قسم !وہ اس پوری کائنات کے رسول ہیں۔‘‘

’’ رحمت اللعالمین‘‘ کی طائف والوں کے لئے رحمت

   اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے کہ ہم نے تمہیں تمام عالموں یعنی جہاں والوں کے لئے رحمت بنایا ہے۔ طائف میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آزمائش پتھروں سے ہوئی ۔اس آزمائش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کامیاب ہوئے تو دوسری آزمائش طائف والوں کی تباہی کو لیکر ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کے فرشتے کو حکم دیا کہ جائو اور میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرو۔اگر وہ طائف والوں کی تباہی کا حکم دے تو انھیں تباہ کردو۔ لیکنسیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف والوں کی تباہی کی بجائے ان کے لئے’’ رحمت‘‘ کو پسند فرمایا۔ طائف والوں کو پتہ بھی نہیں تھا کہ ان کی موت انتہائی قریب آگئی ہے۔ لیکن سیدالانبیاء کی’’ رحمت‘‘ کی وجہ سے ٹل گئی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آزمائش میں بھی کامیاب ہوئے اور طائف والوں کے لئے’’ رحمت‘‘ بن گئے۔ آزمائشوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی خصوصی مہر بانیاں کیں۔ ان میں سے دو یہ ہے۔ نمبر 1جناتوں کا قبول اسلام اور نمبر 2معراج کا سفر۔ان دونوں کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا۔ انشا اللہ ۔

جناتوں کا قبول اسلام

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی تھی جب کوئی اسلام قبول کرتا تھا۔در اصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی تمنا یہ تھی کہ تمام انسان اسلام کی نعمت سے سرفراز ہوں اور جنت کے حقدار بنیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کا خیال رکھا اور جناتوں کے قبول اسلام کا پہلا تحفہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ یہ سات جنات تھے ۔ان کے نام جس، مس ،شاصر ، اینا، الارد ، انسین اور احقم ہیں ۔ طائف سے واپسی پر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مقام’’ نخلہ‘‘ میں رکے اور وہیں رات میں تہجّدکی نماز پڑ ھ رہے تھے ۔ (اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے تلاوت فرماتے تھے اور نماز میں آہستہ پڑھنے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اُسی وقت یہ سات جنات وہاں سے گذرے ۔(اکثر روایات میں سات کی تعداد ذکر کی گئی ہے ) اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شیریں اور پر اثر تلاوت سن کر ٹھٹھک گئے اور ایک دوسرے کو خاموش کرکے پوری توجہ سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین تلاوت سننے لگے اور ایسا کھوئے کہ انھیں اپنا ہوش بھی نہیں رہا۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو یہی جنات ہوش میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔ اسکے بعد وہ اپنے علاقے میں گئے اور اسلام کی تبلیغ کی اور ان کی قوم کے بہت سے جنوں نے اسلام قبول کیا ۔ ان سب کو لیکر یہ سات جنات سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سب نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی ۔اسکا تفصیلی ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ احقاف کی آیت نمبر 29سے 34تک میں کیا ہے۔

 مکہ مکرمہ واپسی

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ’’وادی نخلہ ‘‘میں جناتوں نے اسلام قبول کیا۔ جب مکہ مکرمہ پہونچے تو معلوم ہوا کہ قریش کے مشرکین سرداروں نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ ، صلی اللہ علیہ وسلم !ہم مکہ مکرمہ میں کیسے داخل ہوسکتے ہیں ؟ جب کہ مکہ مکرمہ والوں نے ہی ہمیں نکالا ہے ۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ !اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے رہائی کی کوئی صورت ضرور پیدا فرمائے گااوراللہ ہی اپنے دین (اسلام)کا حامی و مد دگار ہے اور یقیناًوہ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سب پر غالب کرکے رہے گا۔ ‘‘پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں قیام فرمایا اور اخنس بن شریق کو پیغام بھیجا کہ’’ میں تمھاری پناہ میں مکہ مکرمہ داخل ہونا چاہتا ہوں ۔‘‘ اخنس نے کہا : ’’میں تو قریش کا حلیف ہوں ،اس لئے میں پنا ہ نہیں دے سکتا۔‘‘ اسکے بعد یہی پیغام سہیل بن عمرو کے پاس بھیجا تو اس نے کہا:’’ میں یعنی بنو عامر ،بنو کعب کے مقابلے میں پناہ نہیں دے سکتا۔‘‘ اسکے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مطعم بن عدی کو پیغام بھیجا کہ’’ میں تمھاری پناہ میں مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہتا ہوں ۔‘‘مطعم بن عدی نے پناہ دینا قبول کیا اور کہا:’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کل صبح میری پناہ میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوسکتے ہیں ۔‘‘دوسرے دن مطعم بن عدی نے اپنے بیٹوں اور قوم کے لوگوں حکم دیا کہ ہتھیار لگا کر حرم ( مکہ مکرمہ) کے دروازے پر کھڑے رہیں اور سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اس حال میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوا کہ وہ خود ہتھیار سجائے آگے آگے چل رہا تھا اور اس کے پیچھے اس کے بیٹے اور قوم والے حلقہ بنائے چل رہے تھے اور اس حلقے میں سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے۔ تمام قریش کے سرداران نے یہ قافلہ دیکھا۔مطعم بن عدی با آواز بلند کہہ رہا تھا:’’ اے گروہ قریش !میں نے محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو پناہ دی ہے۔ اس لئے کوئی اُن سے تعرض نہ کرے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کی پناہ میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ حجر اسود کو بوسہ دیا۔ ادھر مطعم بن عدی اپنی پناہ کا مسلسل اعلان کر رہا تھا۔ ابو جہل اور ابو سفیان نے کہا:’’ اے مطعم بن عدی !جس کو تم نے پناہ دی اُس کو ہم نے بھی پناہ دی۔ ‘‘یہ اطمینان دلانے کے بعد مطعم بن عدی اپنے بیٹوں اور قوم والوں کو لے کر چلا گیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لائے۔

معجزہ شق القمر ( چاند کے ٹکڑے)

   اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ القمر میں آیت نمبر1میں فرمایا: (ترجمہ ) ’’قیامت قریب آگئی اور چاند ٹکڑے ہو گیا یا چاند پھٹ گیا۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ’’ چاند دو ٹکڑے ہو ا ہم اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے اور ایک ٹکڑا آگے تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم گواہ رہنا ‘‘( صحیح بخاری صحیح مسلم)اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک رات قریش کے مشرکین سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئے۔ ان میں ولید بن مغیرہ ، ابوجہل، عاص بن وائل، عاص بن ہشام ، اسود بن عبد یغوث، اسو د بن مطلب، زمعہ بن اسود اور نضر بن حارث وغیرہ شامل تھے۔ ان لوگوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عجیب سی فرمائش کی۔ چودھویں کا چاند نکلا ہوا تھا۔ ان کم عقلوں نے فرمائش کی کہ اگر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چاند کے ٹکڑے کر دیں گے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے بہت حریص تھے کہ تمام انسان اسلام قبول کر کے دوزخ سے بچ جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر یہ معجزہ دکھلا دوں تو تم سب ایمان لے آئو گے؟ ‘‘لوگوں نے وعدہ کیا کہ ’’ہاں ہم ایمان لے آئیں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور اَنگشت ( اُنگلی) مبارک سے چاند کی طرف اشارہ کیا اور یہ دیکھ کر تمام حاضرین کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ اچانک چاند درمیان سے پھٹ گیا اور دو برابر برابر ٹکڑے ہو گیا۔ ایک ٹکڑا جبل( پہاڑ ) ابوقبیس پر تھااور دوسرا ٹکڑا جبل ( پہاڑ ) قیقعان پر تھا۔ مکہ مکرمہ کے تمام لوگوں ، کیا کافر کیا مسلمان سبھی لوگ حیرانی سے اس معجزے کو دیکھ رہے تھے۔ قریش کے کافروں اور سرداروں کا خاص طور سے ولید بن مغیرہ اور ابو جہل کا تو یہ عالم تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کو بار بار کپڑے سے پونچھ رہے تھے اور چاند کے دو ٹکڑوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ چاند کے بالکل صاف دو ٹکڑے نظر آرہے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بار بار فرما رہے تھے:’’ اشھد و اشھدو۔ اے لوگو !گواہ رہنا، اے لوگو! گواہ رہنا۔‘‘ ایسا نہیں ہو اکہ چاند کے دو ٹکڑے ہوئے اور پھر فوراً آکر مل گئے۔ بلکہ چاند کے یہ دونوں ٹکڑے الگ الگ ایک دوسرے سے کافی دور بہت دیر تک رہے۔ جتنا وقت عصر کی نماز اور مغرب کی نماز کے درمیان ہوتا ہے۔ اُتنی دیر تک چاند کے دو ٹکڑے ایک دوسرے سے دور رہے۔ اس کے بعد دونوں ٹکڑے قریب آکرایکدوسرے سے مل گئے اور چاند پھر اپنی اصلی شکل میں آگیا۔ قریش کے کافروں نے ایمان لانے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن وہ ایمان نہیں لائے اور کہنے لگے کہ’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے (نعوذ باللہ) ہم پر جادو کر دیا ہے۔‘‘ ( یعنی چاند کے دو ٹکڑے نہیں ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ جادو کی وجہ سے ہمیں ایسا نظر آیا تھا) ہم لوگ باہر سے آنے والے لوگوں کا انتظار کرتے ہیںاور اُن سے دریافت کریں گے۔ کیوں کہ انھوں نے چاند کے دو ٹکڑے دیکھے ہیں تو ہم مان لیں گے کہ واقعی چاند کے دو ٹکڑے ہوئے تھے۔ اگر وہ لوگ بھی یہ کہیں کہ چاند کے ٹکڑوں کو نہیں دیکھا ہے تو سمجھ لینا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ( نعوذ باللہ) ہم پر سحر ( جادو) کر دیا ہے۔ اس کے بعد جیسے جیسے باہر سے آنے والے آتے گئے تو ہر ایک سے قریش کے کافروں نے پوچھا اور ہر طرف سے آنے والے تمام مسافروں نے یہی بتایا کہ انھوں نے چاند کے دو ٹکڑے دیکھے تھے۔ اس کے با وجود قریش کے مشرکین ایمان نہیں لائے اور کہا :’’یہ سحر ِ مستمر ہے۔‘‘ یعنی عنقریب اس کا اثر زائل ہو جائے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی: ( ترجمہ)’’ قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ یہ اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ’’ سحر مستمر‘‘ ہے۔ (سورہ القمر آیت نمبر1اور نمبر2)

واقعہ معراج

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم معراج کے سفر پر تشریف لے گئے۔ اکثر علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ معراج طائف سے واپسی کے بعد اور پہلی بیعت ِ عقبہ سے پہلے ہوئی ہے۔ واقعہ معراج بہت طویل ہے۔ اور اس کے راوی بہت ہیں۔ اور لگ بھگ سیرت کی تمام کتابوں میں یہ واقعہ مذکور ہے۔ ہم الگ الگ راویوں کی الگ الگ احادیث کو جوڑ کر ایک مسلسل واقعہ کی شکل میں پیش کر نے کی کوشش کریں گے اور کوشش کریں گے کہ واقعہ معراج ایک مربو ط شکل میں آپ کے سامنے آئے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اُمِّ ھانی رضی اللہ عنہا کے گھر عشاء کی نماز پڑھی اور آرام فرمانے لگے۔ سیدہ اُمّ ہانی کا نام ’’ہند ‘‘ہے۔ وہ فرماتی ہیں :’’ نماز فجر سے کچھ دیر قبل سید الانبیاء صلیاللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیدار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ادا فرمائی ۔ ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی۔ پھر سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے اُم ّ ہانی! تم جانتی ہو؟ میں نے اس وادی میں تمہارے ساتھ عشا ء کی نماز ادا کی۔ پھر میں بیت المقدس گیا میں نے وہاں نماز اداکی۔ پھر میں نے صبح کی نماز تمہارے ساتھ ادا کی ۔‘‘ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جانے لگے تاکہ لوگوں کو اس واقعہ کے بارے میں بتائیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کے دامن کو پکڑ لیا اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کو اس واقعہ کے متعلق نہ بتائیں۔ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلائیں گے اور اذیت دیں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ کی قسم !میں انھیں یہ حیرت انگیز واقعہ ضرور بتائوں گا۔‘‘ میں نے اپنی حبشی خادمہ سے کہا:’’ تُو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے جااور غور سے دیکھ اور سن کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں اور لوگ اُن کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟‘‘ سیدا الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس پہنچے لوگوں کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ لوگوں نے تعجب کیا اور کہنے لگے اس حیرت انگیز سیر کا ثبوت کیا ہے؟سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں فلاں وادی میں فلاں کارواں کے پاس سے گزرا ۔ بُراق کی آہٹ نے انھیں ڈرادیا اور اُن کا ایک اونٹ بدک گیاتھا۔ میں نے اُن کی اس کی طرف راہ نمائی کی تھی اور میںملک شام کی طرف جا رہا تھا۔ واپسی پر میں وادی فجنان سے گزرا ۔ وہاں فلاں کاقافلہ خیمہ زن تھا اور قافلے والے سوئے ہوئے تھے۔ اُن کے ایک برتن میں پانی تھا وہ کسی چیز سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں نے وہ چیز ہٹا کر پانی پیا اور پھر اسے اسی طرح ڈھانپ دیا۔ یہ کارواں مقامِ بیضاء تنعیم کی گھاٹی پر پہنچ چکا ہے۔ اس کے آگے آگے ایک خاکی رنگ کا اونٹ چل رہا ہے۔ جس پر دو بورے لدے ہیں۔ ان بوروں میں سے ایک کالا ہے اور دوسردھاری دار ہے ۔قریش کے لوگ دوڑ کر اُس گھا ٹی تک گئے ،اونٹ تو آگے نکل گیا تھا لیکن قافلہ گزر رہا تھا ۔انہوں نے اہل ِ قافلہ سے پانی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے برتن بھر کر رکھا تھا اور ڈھانپا بھی تھا جب بیدار ہوئے تو دیکھا کہ وہ اسی طرح ڈھکا ہوا ہے لیکن اُس میں پانی نہیںتھا۔ جب دوسرا قافلہ جب مکہ مکرمہ پہنچا تو انھوں نے ان سے بھی پوچھا ۔ انھوں نے بتایا:’’ اللہ کی قسم! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سچ فرمارہے ہیں۔ ہم اُس وادی میں خوف زدہ ہوگئے تھے اور ہمارا ایک اونٹ بھی بدک گیا تھا۔ ہم نے ایک شخص کی آواز سنی جو اونٹ تک ہمارای رہنمائی کر رہا تھا۔ حتیٰ کہ اونٹ ہمیں مل گیا۔ ‘‘

بُرّاق کی سواری

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر آرام فرمارہے تھے۔ کہ اچانک چھت پھٹی اور جبرئیل علیہ السلام اترے۔ ان کے ساتھ اور بھی فرشتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جگایا اور مسجد حرام لے گئے۔ وہاں جاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں لیٹ گئے تو جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھایا اور زم زم کے کنویں پر لے گئے اور لٹا کر سینہ مبارک کو چیرا اور قلبِ مبارک ( دل) کو نکال کر دھویا۔ ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان اور حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ اس ایمان اور حکمت کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک میں بھر کر سی دیا گیا اور دونوں شانوں کے درمیان’’ مہر بنوت ‘‘لگادی گئی۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں’’بُرّاق‘‘ لایا گیا۔یہ جنت کا جانور ہے سفید رنگ کا ہے یہ خچر سے کچھ چھوٹا اور گدھے سے کچھ بڑا ہے۔ اس کی رفتار بے انتہا تیز ہے اور اسکا ایک قدم وہاں پڑتا ہے جہاں تک ہماری نظر جاتی ہے۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے تو خوشی کے مارے شوخی کرنے لگا۔ یعنی اچھلنے لگاتو جبرئیل امین علیہ السلام نے کہا :’’اے بُرّاق !یہ تم کیا کررہے ہو؟تیرے اوپر آج تک ان سے یعنی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ اللہ کا کوئی بھی مکرّم اور محترم بندہ سوار نہیں ہوا ہے۔ ‘‘(یعنی جتنے بھی انبیائے کرام علیہم السلام تجھ پر سوار ہوئے ہیں ۔ان میں سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیاد ہ ’’مکرم اور محترم ‘‘ہیں )۔یہ سن کر بُرّاق پسینے پسینے ہوگیا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر روانہ ہوا۔ جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں اور بائیں تھے۔ کئی روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام بھی بُرّاق پر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوئے۔

مدینہ منورہ ، وادی سینا، مدین اور بیت اللحم میں نماز

   حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ (بُرّاق پر سفر کے دوران ) راستے پر ایسی زمین پر سے گذر ہوا جس پر کھجور کے درخت بہت تھے۔ جبرئیل امین نے عرض کیا:’’ یہاں اتر کر نفل نماز پڑھ لیجئے۔‘‘ میں نے بُرّاق سے اتر کر نماز پڑھی۔ جبرئیل علیہ السلام نے پوچھا:’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں کہاں نماز پڑھی ہے؟ ‘‘میں نے کہا :’’ مجھے نہیں معلوم ۔ ‘‘ انھوں نے بتایا :’’ یہ یثرب (مدینہ منورہ ) ہے۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے آئیں گے۔‘‘ اسکے بعد ہم روانہ ہوئے اور ایک زمین پر پہونچے ۔جبرئیل امین نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہاں بھی اتر کر نماز پڑھیں ۔‘‘میں نے اتر کر نماز پڑھی تو جبرئیل امین نے عرض کیا:’’ یہ وادی سینا میں شجر موسیٰ ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایاتھا یعنی بات کی تھی۔‘‘ اسکے بعد آگے بڑھے اور ایک علاقے میں پہونچ کر جبرئیل امین علیہ السلام نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہاں بھی اتر کر نفل نماز پڑھیں ۔‘‘میں نے اتر کرنماز پڑھی۔جبرئیل علیہ السلام نے بتایا :’’یہ مدین ہے اور خطیب الانبیا ء حضرت شعیب علیہ السلام یہاں رہتے تھے۔‘‘ اسکے بعد وہاں سے روانہ ہوئے اور ایک اور علاقے میں پہونچے ۔جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا:’’ یہاں بھی نماز پڑھیں ۔‘‘میں نے نماز پڑھی تو جبرئیل علیہ السلام نے بتایا :’’یہ ’’بیت اللحم ‘‘ہے اور یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔‘‘

دنیا اور شیطان

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بُرّاق پر سوار جارہے تھے کہ راستے میں ایک بوڑھی عورت دکھائی دی ۔ اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز لگائی۔ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا :’’یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اسکی طرف توجہ نہ کریں اور آگے بڑھیں ۔‘‘جب اور آگے گئے تو ایک بوڑھا شخص دکھائی دیا۔ اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز لگائی۔ جبرئیل علیہ السلام نے پھر عرض کیا :’’یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اسکی طرف توجہ نہ کریں اور آگے بڑھیں۔‘‘جب اور آگے بڑھے تو ایک گروہ یا جماعت کے پاس سے گذرے ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں سلام کیا۔ اَلسّلَامُ عَلَیکَ یَا اَوّل،اَلسّلَامُ عَلَیکَ یَا آخر،اَلسّلَامُ عَلَیکَ یَا حاشر۔جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اِن کے سلام کا جواب دیں ۔‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سلام کا جواب دیا۔ اسکے بعد آگے بڑھے اور جبرئیل علیہ السلام نے بتایاکہ وہ بوڑھی عورت جو راستے کے کنارے کھڑے ہو کر آواز لگا رہی تھی ۔وہ دنیا تھی اور دنیا کی عمر اب بہت کم رہ گئی ہے۔ اسکے بعد جو بوڑھا شخص ملا اور آواز لگا رہا تھا۔ وہ شیطان ابلیس تھا۔ ان دونوں کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف مائل کرنا تھااور وہ گروہ یا جماعت جس نے سلام کیاتھا۔ وہ انبیائے کرام علیہم السلام تھے اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا یہ حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں ۔صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ سے روایت ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ شب ِ معراج میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے میرا گذر ہوا تو میں دیکھا کہ آپ علیہ السلام اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔‘‘

بیت المقدس میں پہنچے

   سیدالانبیاء ﷺ اپنے دونوں رفقائے سفر جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام’’ بیت المقدس‘‘ پہونچے اور برّاق سے اتر آئے۔ صحیح سلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے بُرّاق کو اس حلقہ سے باندھ دیا۔ جس حلقہ سے انبیاء کرام اپنی سواریاں باندھتے تھے اور امام بزار کی روایت میں ہے کہ جبرئیل امین علیہ السلام نے ایک پتھر میں انگلی سے سوراخ کرکے اس میں بُرّاق کو باندھ دیا۔ اسکے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز’’ تحیۃ المسجد‘‘ ادا فرمائی ۔یہ روایت صحیح مسلم میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پھر میں اور جبرئیل علیہ السلام دونوں بیت ا لمقدس میں داخل ہوئے اور ہم دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی ۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ نے انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں تمام انبیائے کرام علیہم السلام پہلے موجود تھے۔ ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی موجود تھے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے آگے فرمایا:’’ کچھ دیر بعد موذن نے اذان دی اور پھر اقامت کہی۔ ہم سن صف باندھکر کھڑے ہوگئے۔ سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھیں کون نماز پڑھاتا ہے؟ جبرئیل امین علیہ السلام نے مجھے آگے بڑھایا اور امامت کرنے درخواست کی ۔ میں نے سب کو نماز پڑھائی اورجب میں نماز سے فارغ ہوا تو جبرئیل علیہ السلام عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے کن لوگوں کی امامت فرمائی ہے؟‘‘ میں نے کہا :’’نہیں ! میں ان لوگوں کو نہیں جانتا ہوں ۔‘‘ جبرئیل امین علیہ السلام نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیائے کرام علیہم السلا م مبعوث فرمائے ہیں ۔ ان سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ ‘‘

سیدالانبیاء ﷺ نے ملائکہ(فرشتوں) کی بھی امامت فرمائی

   ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس میں داخل ہوئے تو انبیائے کرام کے ساتھ ساتھ ملائکہ (فرشتے ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں تھے اور جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ ساتھ ملائکہ (فرشتوں ) نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدار میں نماز ادا کی اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی امامت فرمائی ۔ جب نمازپوری ہوئی تو ملائکہ (فرشتوں ) نے جبرئیل امین علیہ السلام سے دریافت کیا:’’ یہ تمھارے ساتھ کون ہیں ؟ ‘‘جبرئیل امین علیہ السلام نے فرمایا:’’یہ محمد رسول اللہ خاتم النبیئن صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘ ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا:’’ یہ محمد رسول اللہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔‘‘فرشتوں نے دریافت کیا:’’ ان کو بھی بلانے کا پیغام بھیجا گیا تھا؟‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا :’’ہاں انھیں بلایا گیا ہے۔ ‘‘فرشتوں نے کہا:’’ اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے ،بڑے اچھے بھائی اور بڑے اچھے خلیفہ ہیں ۔‘‘اسکے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے ملاقات فرمائی اور سب نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ۔انبیائے کرام اور فرشتوں کی امامت سے یہ ثابت ہوا ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے ساتھ ساتھ فرشتوں اور جناتوں بلکہ تمام مخلوقات کے رسول ہیں ۔ اسکا اعتراف حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا ہے اسکا ذکر انشااللہ آگے آئے گا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خطبہ

   سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انبیائے کرام سے ملاقات کی۔ اس کے بعد تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے کھڑے ہو کر ایک کے بعد ایک اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور تقریر کی۔ یہاں ہم مختصر میں کچھ انبیائے کرام علیہم السلام کی حمد و ثنا اور تقریر ذکر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہم السلام نے ان الفاظ میں اللہ کی حمد و ثنا اور تقریر کی :’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کی ہیں جس نے مجھ کو اپنا’’ خلیل ‘‘بنایا اور مجھ کو ’’ملک عظیم ‘‘عطا فرمایا اور ’’امام اور پیشوا ‘‘بنایا اور آگ کو میرے حق میں گلزار اور سلامتی والی بنایا۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خطبہ

   حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی :’’ تمام تعریفیں اُ س اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھ سے بلا واسطہ کلام فرمایا اورقومِ فرعون کی ہلاکت اور تباہی اور بنی اسرائیل کی آزادی میرے ہاتھوں سے ظاہر فرمائی اور میری امت میں ایسی قوم بنائی جو حق پر ہے اور ہدایت اور عدل کرتی ہے۔‘‘

حضرت دائود علیہ السلام کا خطبہ

   حضرت داؤد علیہ السلام نے اس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی :’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ جس نے مجھ کر ملک عظیم عطا فرمایا اور زبور سکھائی اور لوہے کو میرے لئے نرم کیا اور پہاڑوں اور پرندوں کو میرے لئے مسخر کیا کہ میرے ساتھ اللہ کی تسبیح بیان کریں اور مجھ کو علم و حکمت اور تقریر دل پذیر عطا فرمائی۔‘‘

حضرت سلیمان علیہ السلام کا خطبہ

   حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی:’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے۔ جس نے ہوا اور شیاطین اور جنات کو میرے لئے مسخر کیا کہ میرے حکم پر چلیں اور پرندوں کو بولی مجھ کو سکھائی اور جن و اِنس اور چرند و پرند کا لشکر میرے لئے مسخر کیا اور ایسی سلطنت عطا کی کہ میرے بعد کسی کے لے مناسب نہیں ہوگی اور مجھ سے اس پر کوئی حساب کو کتاب نہیں ہوگا۔‘‘

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا خطبہ

   حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس طرح اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی:’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھ کو کلمہ بنایا اور حضرت آدم علیہ السلام کی طرح مجھ کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور پرندوں کو بنانے اور مُردوں کو زندہ کرنے اور پیدائشی ( مادرزاد) اندھے کو اچھا کرنے کے معجزے عطا فرمائے اور توریت اور انجیل کا علم عطا فرمایا اور مجھ کو اور میری والدہ کو شیطان کے اثر سے محفوظ رکھا اور مجھ کو آسمان پر اٹھایا اور کافروں کی صحبت سے پاک کیا۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کاخطبہ

   اس طرح تمام انبیائے کرام یکے بعد دیگرے کھڑے ہوتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان فرماتے رہے۔ ان میں سے کچھ مخصوص انبیائے کرام کا ہم نے مختصراً ذکر کیا ۔ سب سے آخر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا:’’ تمام تعریفیں اُس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے’’ رحمت اللعالمین‘‘ بنا کر بھیجا اور تمام عالم کے لئے بشیر و نذیر بنایا اور مجھ پر قرآن پاک نازل فرمایا۔ جس میں تمام امور ِ دینیہ کا صراحتہً یا اشارہ بیان فرمایاہے اور میری امت کو’’ بہترین امت‘‘ بنایا ہے اور میری اُمت کو’’ اوّلین اور آخرین‘‘ بنایا۔ یعنی ظہور( ظاہر ہونے میں) میں آخری امت اور مرتبہ میں اوّل بنایاہے اور میرے سینہ کو کھول دیا اور میرے ذکر کو بلند کیا اور مجھ کو’’ فاتح‘‘ اور ’’خاتم‘‘ بنایا۔ یعنی وجود ِ نطفی اور روحانی میں سب سے اول اور بعثت اور ظہور ِ جسمانی میں سب سے’’ آخر نبی‘‘ بنایاہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے خطبۂ تمحید سے فارغ ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام سے مخاطب ہو کر فرمایا:’’ ان ہی فضائل و کمالات کی وجہ سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے بڑھ گئے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ نے دین فطرت اختیار کیا

   اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل امین کے ساتھ میں’’ بیت المقدس‘‘ سے باہر تشریف لائے تو تین پیالے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں پیش کئے گئے۔ ایک میں پانی بھر ا ہوا تھا ۔ دوسرے میں دودھ بھرا ہوا تھا اور تیسرے میں شراب بھری ہوئی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ اٹھایا۔ جبرئیل امین علیہ السلام نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین فطرت اختیار فرمایا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم شراب کا پیالہ اٹھاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت گمراہ ہو جاتی اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کا پیالہ اٹھاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت غرق ہو جاتی ۔ بعض روایات میں ہے کہ شہد کا پیالہ بھی پیش کیا گیا۔

سید الانبیاء ﷺ کا آسمانوں کی جانب سفر

   اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل امین اور دوسرے مقرب فرشتوں کے ساتھ آسمانوں کی جانب سفر کے لئے تیار ہوئے۔ کئی روایات میں یہ آیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بُرّاق پر سوار ہو کر آسمان کی جانب روانہ ہوئے ۔ کئی روایات میں آیا ہے کہ بیت المقدس سے باہر آنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں جنت سے زمرّد اور زبرجد کی سیڑھی لائی گئی اور اس کے ذریعے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آسمانوں کی جانب روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ کے دائیں بائیں فرشتے سفر کر رہے تھے۔ حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:’’ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب میں بیت المقدس سے باہر آیا تو ایک سیڑھی لائی گئی میں نے اس سے بہتر سیڑھی نہیں دیکھی ہے۔ یہ وہ سیڑھی ہے جس پر سے اولادِ آدم کی ارواح آسمان کی طرف چڑھتی ہیں اور مرتے وقت میت ( مُردہ جان نکلتے وقت) اسی کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھتا ہے۔ ( جس کی وجہ سے آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں) جبرئیل امین علیہ السلام نے مجھے اس سیڑھی پر چڑھایا۔ یہاں تک کہ میں آسمان کے دروازے تک پہنچا جس کو ’’باب الحفظہ ‘‘کہتے ہیں۔ ‘‘

حضرت آدم علیہ السلام سے ملاقات

   سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کی معیت میں پہلے آسمان کے دروازے پر پہنچے تو جبرئیل علیہ السلام نے آواز لگائی۔ وہاں کے دربان نے دریافت کیا :’’ تمہارے ساتھ کون ہے؟‘‘ انھوں نے کہا:’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘ دربان نے پوچھا:’’ کیا انھیں بُلایا گیا ہے۔ ‘‘ انھوں نے کہا:’’ ہاں۔‘‘ یہ سُن کر پہلے آسمان کا دروازہ کھول دیا گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہلے آسمان میںداخل ہوئے اور وہاں موجود تمام فرشتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرحبا کہا۔ وہاں ایک نہایت بزرگ شخص موجود تھے۔ جبرئیل علیہ السلام نے ملاقات کرائی اور بتایا کہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور انھوں نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا:’’ خوش آمدید! صالح بیٹے اور صالح نبی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دعائے خیر کی۔ وہاں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ صورتیں حضرت آدم علیہ السلام کے دائیں جانب ہیں آپ علیہ السلام انھیںدیکھتے ہیں تو ہنستے ہیں اور کچھ صورتیں آپ علیہ السلام کے بائیں جانب ہیں۔ اُن کی طرف دیکھ کر آپ علیہ السلام روتے ہیں۔ جبرئیل امین علیہ السلام نے بتایا کہ دائیں طرف ان کی ’’نیک اولاد‘‘ یعنی’’ اہل جنّت‘‘ یعنی’’ اصحاب یمین ‘‘ہیں اور بائیں جانب ان کی’’ بُری اولاد ‘‘یعنی’’ اہل ِ جہنم ‘‘یعنی ’’اصحاب الشمال ‘‘ہیں۔ ‘‘

حضرت عیسیٰ ، حضرت ذکریا، حضرت یوسف ، حضرت عیسیٰ ، حضرت ادریس اور حضرت ہارون علیہم السلام سے ملاقات

   اسکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے آسمان کے دروازے پر پہنچے اور جبرئیل امین علیہ السلام سے سوال جواب کے بعد دروازہ کھول دیا گیا اور وہاں کے دربان اور فرشتوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ ایک روایت میں ہے کہ وہاں حضرت یحییٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت ذکریا علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے تینوں سے علیہم السلام سے ملاقات ہوئی ہو۔ انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور فرمایا:’’ خوش آمدید! ( مرحبا) صالح بھائی اور صالح نبی۔‘‘ پھر سوال و جواب کے بعد تیسرے آسمان کا دروازہ کھلوا کر داخل ہوئے اور وہاں کے دربان اور فرشتوں نے خوش آمدید کہا۔ وہاں حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو حسن جمال کا ایک بڑا حصہ عطا فرمایا ہے۔ پھر چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔ حضرت یوسف اور حضرت ادریس علیہم السلام نے خوش آمدید کہا اور فرمایا:’’ خوش آمدید !( مرحبا) صالح بھائی اور صالح نبی۔‘‘ پھر پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔ اُن کی داڑھی مبارک کے آدھے بال سفید تھے اور آدھے کالے تھے اور داڑھی ناف تک لمبی تھی۔ انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور فرمایا:’’خوش آمدید!( مرحبا) صالح بھائی اور صالح نبی۔ ‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات

   اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کولے کر جبرئیل علیہ السلام چھٹے آسمان پر پہنچے اور سوال و جواب کے بعد دروازہ کھول دیا گیا اور دربان اور فرشتوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا۔ وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔ ان کا قد لمبا ہے قبیلہ شنوہ کے مَردوں کی طرح ہیں۔ انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کہا اور فرمایا خوش آمدید! ( مرحبا) اے صالح بھائی اور صالح نبی۔‘‘ اور دعائے خیر دی۔ اس کے بعد فرمایا:’’ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کی بارگاہ میں موسیٰ علیہ السلام کا مرتبہ زیادہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مقام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ ہے۔‘‘ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام رو پڑے۔ وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:’’ یہ نوجوان ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے بعد مبعوث ہوئے لیکن ان کی امت میری اُمت سے زیادہ جنت میں داخل ہوگی۔ ‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات

   اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر ساتویں آسمان کا دروازہ کھلو ا کر داخل ہوئے وہاں کثرت کے ساتھ تسبیحات سنائی دیں اور اللہ تعالیٰ کے جلال و ہیبت کے آثار بھی نمایا ں تھے۔وہاں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ آپ علیہ السلام ’’بیت المعمور ‘‘سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ( بیت المعمور فرشتوں کا قبلہ ہے۔ ہر وقت ستّر ہزار فرشتے بیت المعمور کا باری باری طواف کرتے رہتے ہیں اور فرشتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک بار طواف کرنے کے بعد قیامت تک اُن کا نمبر نہیں آئے گا۔ بیت المعمور ٹھیک خانہ کعبہ کے اوپر ساتویں آسمان پر ہے۔ اگر بیت المعمور زمین پر گرے گا سیدھے خانہ کعبہ کے اوپر گرے گا ) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش آمدید کیا اور فرمایا:’’ خوش آمدید! ( مرحبا) اے صالح بیٹے اور صالح نبی۔‘‘ اس کے بعد فرمایا:’’ جنت کی مٹی بہت ہی زرخیز ہے اور جنت کی زمین بہت کشادہ ہے۔ اپنی اُمت سے کہنا جنت میں درخت اور پودے لگائے گی۔‘‘ انھوں نے بتایا :’’ سُبحان اللہ‘‘ کہنے پر اس کے نام سے ایک درخت لگے گا۔ اسی طرح’’ الحمد للہ‘‘ کہنے پر ایک اور’’ اللہ اکبر ‘‘کہنے پر ایک اور ’’لا حو ل ولا قوۃ الا باللہ‘‘ کہنے پر ایک اور ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہنے پر ایک درخت اس کے نام لگا دیا جائے گا۔ ‘‘

سدرۃُ المنتہیٰ ( انتہا کا درخت )

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرئیل علیہ السلام آگے بڑھے۔ یہاں تک کہ ’’سِدرۃ المنتہیٰ‘‘ تک پہنچ گئے۔ جو کچھ زمین سے جاتا ہے اس کی انتہا یہ ہے۔ اسی طرح جو کچھ’’ ملاء اعلیٰ‘‘ سے آتا ہے۔ وہ یہاں آکر ٹھہرجاتا ہے پھر نیچے اتارا جاتا ہے یہاں ایک درخت ہے۔ اس کے سایہ میں مسافر ستر سال تک چلتا رہے گا تو وہ سایہ ختم نہیں ہوگا۔ اس کے پھلوں کی بناوٹ حجر کے مٹکوں کی طرح ہے اور پتوں کی بناوٹ ہاتھی کے کانوں کی طرح ہے ۔ اس کا پتہ اتنا بڑا ہے کہ ایک پتہ پوری اُمت کو ڈھانپ سکتا ہے۔ اس کے ہر پتّے پر ایک فرشتہ ہے۔ اس درخت کے پتے ایسے رنگوں کے ہیں یا پھر ان پتوں کو ایسے رنگوں نے ڈھانپ رکھا ہے جس کا بیان ہی ہو سکتا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پر جبرئیل علیہ السلام کو اُن کی اصلی شکل میں دیکھا۔ اُن کے چھ سو پر ہیں وہ دیکھے اور ہر ایک پر اتنا بڑا ہے کہ پورے افق کو ڈھانپ لیتا ہے۔

نہر کوثر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ’’ سدرۃ المنتہیٰ‘‘ کی اصل(جڑ) سے ایک چشمہ پھوٹ رہا ہے۔ پوچھنے پر جبرئیل علیہ السلام نے بتایاکہ اس چشمے کا نام ’’سلسبیل ‘‘ہے۔ اس چشمے سے دو نہریں نکلی ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے بتا یا کہ ان دونوں نہروں میں سے ایک’’ نہر کوثر ‘‘ہے۔ ( قیامت کے دن ہر نبی کا حوض ہوگا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض میں اسی نہر سے پانی آکر گرے گا) اس نہر پر سبز پرندے ہیں اوراس کے برتن سونے چاندی کے ہیں۔ اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نہر میں سے برتن میں کچھ پانی لے کر پیا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد سے زیادہ میٹھا اور کستوری سے زیادہ خوشبو دار لگا۔ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہی وہ نہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محفوظ کر رکھا ہے۔ ‘‘

جنت کا مشاہد ہ

   جبرئیل علیہ السلام اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جنت کے دروازے پر آئے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جنت کے دروازوں پر’’ لا الہ الا اللہ‘‘ لکھا ہوا ہے۔‘‘ جنت کے دربان رضوان نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیااور جنت کا مشاہدہ کروایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی نعمتوں کا جائزہ لیا۔ وہ ایسی نعمتیں ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھی اور نہ ہی کسی کان نے سُنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل و دماغ میں اس کا تصور ہو سکتا ہے۔

دوزخ کا مشاہدہ

   اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر دوزخ کے دروازے پرپہنچے ۔ وہاں دوزخ کا دربان جس کا نام مالک ہے۔ اُ س نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا لیکن مسکرایا نہیں۔ بلکہ اس کے چہرے پر بدستور درشتی چھائی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل امین سے فرمایا:’’ مجھے جتنے بھی فرشتے ملے سب نے مسکرا کر استقبال کیا۔ یہاں تک کہ جنت کے دربان فرشتے رضوان نے بھی مسکرا کر استقبال کیا۔ لیکن اس فرشتے کے چہرے پر بدستور سنجیدگی ہے۔‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ دوزخ کا دربان ہے اور یہ کبھی نہیں مسکراتا۔‘‘ اس کے بعد دوزخ کا دروازہ کھول کر سیدا لانبیاء کو دوزخ کا مشاہدہ کروایا گیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کا غضب ، قہر اور ناراضگی کے مظاہر تھے۔ اگر اس میں پتھر یا لوہا ڈالا جائے تو سیکنڈوں میں جل کر بھسم ہو جائے گا۔ وہاں پر لوگ مُردار کھا رہے تھے۔ پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ بتایا گیا کہ یہ لوگ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھانے والے یعنی غیبت کرنے والے ہیں۔ ایک آدمی کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اُس کی سرخ اور پیلی آنکھیں ہیں۔ پوچھا یہ کون ہے؟ بتایا گیا یہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو کونچیں کاٹنے والا ہے۔ اس کے بعد دوزخ کو ڈھانپ دیا گیا۔ ‘‘

قلموں کی سر سراہٹ

   اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا عروج فرمایا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قلموں کے چلنے کی سر سراہٹ سنی۔ اسے’’ حریف الاقلام ‘‘کہا جاتا ہے۔ قلم سے لکھنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اُسے ’’حریف الاقلام‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس مقام پر قضا و قدر کی کتابت میں قلم مشغول تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اورحضرت ایوب ابو حبہ انصاری رضی اللہ عنہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے اتنا اونچا لے جایا گیا کہ مجھ پر مستوی ظاہر ہوا اور اس جگہ میں نے قلموں کی سر سراہٹ کی آواز سنی۔ ‘‘

سبز رفرف اور مقامِ قاب قوسین او ادنیٰ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اور اونچا اٹھایا اور اس کے لئے ایک’’ رفرف ‘‘یعنی ایک سبز مخملی مسند آئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے اور بارگاہ ِ دنیٰ فتدلّٰی فکان قاب قوسین اور ادنیٰ میں پہنچے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دنیٰ فتدلیٰ میں تقدیم و تاخیر اصل میں اس طرح ہے ۔ فتدلیٰ فدنا ۔اور معنی یہ ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے لئے شب معراج میں ایک’’ رفرف‘‘ اتری ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بلند کئے گئے۔ یہاں تک کہ پرور دگارِ کے قریب پہنچ گئے۔

پچاس وقت کی نماز کی فرضیت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے ۔ اس بارے میں بہت سی الگ الگ روایتیں ہیں اور علمائے کرام کے الگ الگ موقف ہیں۔ یہاں ہم صرف دو حدیث بیان کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔ کیوں کہ ہم مختصراً حالات بیان کر رہے ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے’’ نورِ اعظم‘‘ یعنی’’ نورِ الٰہی‘‘ کو دیکھا۔ پھر اللہ نے میری طرف وحی فرمائی جو اُس نے چاہا ۔ ‘‘صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت تین عطیے مرحمت فرمائے۔ (۱) پچاس وقت کی نماز کی فرضیت ۔ (۲) خواتیم ، یعنی سورہ بقرہ کی آخری آیتیں۔ ( ۳) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کے گنہ گار ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہیں گے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ ( صحیح مسلم ) ۔ پچاس وقت کی نمازوں کا حکم لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خوشی خوشی واپس آئے۔ واپسی میں سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملا قات ہوئی ۔ انھوں نے احکامات و فرائض اور نماز کی فرضیت کے بارے میں سُن کر خاموش رہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نماز کی تعداد کم کرائی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ساتویں آسمان پر ملاقات کرنے کے بعد چھٹے آسمان پر آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی ۔ انھوں نے نماز کی تعداد کے بارے میں دریافت فرمایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ دن رات میں پچاس وقت کی نماز کا حکم ہوا ہے۔ ‘‘حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:’’ میں بنی اسرائیل پر خوب تجربہ کر چکا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ضعیف اور کمزور ہے۔ وہ اس فریضہ کو انجام نہیں دے سکے گی۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں واپس جائیں اور اپنی اُمت کے لئے نماز کی تعداد میں کمی کی درخواست کریں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کمی کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی تعداد کم کر دی۔ پھر واپس آئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دوبارہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی نماز کی تعداد کم کر دی۔ اس طرح بار بار حضرت موسیٰ علیہ السلام ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجتے رہے اور اللہ تعالیٰ ہر بار پانچ وقت کی تعداد کم کرتے رہے۔ یہاں تک کہ صرف پانچ وقت کی نماز باقی رہ گئی۔ تب بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہی مشورہ دیا کہ اور کم کرا کے آئیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بار بار کم کرنے کی درخواست کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کمی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اب مجھے حیا آتی ہے۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اتنا فرما کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے تو غیب سے آواز آئی:’’ یہ پانچ وقت کی نمازیں ہیں۔ مگر ان کا ثواب ہم پچاس وقت کی نمازوں کا ہی دیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے قول میں کوئی تبدیلی نہیں کرتا۔‘‘

بے عمل ریا کار خطیب کا انجام

   حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ معراج کے مشاہدات میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگوں کے ہونٹ قینچی سے کاٹے جا رہے ہیں اور کٹے ہوئے ہونٹوں کی جگہ نئے ہونٹ پید اہو جاتے ہیں۔ ( اور پھر کاٹے جاتے ہیں) میں نے دریافت کیا:’’ یہ کون لوگ ہیں؟ ‘‘ مجھے بتایا گیا:’’ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے خطیب ( تقریر کرنے والے) ہیں جو دوسروں کو تبلیغ کرتے تھے۔ مگر خود عمل نہیں کرتے تھے۔ جن کی اندورنی ( پرائیوٹ ) زندگی اور اس کے معاملات اُن کی عوامی ( پبلک) زندگی سے متضاد ( اُلٹ ) ہوتی ہے۔ جو اپنی بد اخلاقیوں کو چھپاتے ہیں۔ اور تقویٰ اور خوش اخلاقی کا مصنوعی رنگ چڑھا کر لوگوں کو دکھا تے ہیں۔ ‘‘

قرض دینا صدقہ کرنے سے افضل ہے

   حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ معراج میں ،میں نے دیکھا کہ جنت کے دروازہ پر لکھا ہوا تھا۔ ’’صدقہ کی جزا اصل سے دس گنا زیادہ ہے اور قرض دینے والے کو قرض کی رقم سے اٹھارہ گنا زیادہ ثواب عطا کیا جائے گا۔‘‘ میں نے جبرئیل امین علیہ السلام سے پوچھا:’’ کیا وجہ ہے کہ قرض صدقہ سے افضل ہے؟‘‘ انھوں عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ اسلئے ہے کہ جب سائل سوال کرتا ہے تو اس کے پاس موجود ہوتا ہے اور قرض کا طالب اُسی وقت مانگتا ہے جب اُس کے پاس کچھ نہیں ہوتا ہے اور اسے سخت ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ ‘‘

سود خور کا انجام

   حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ معراج کی رات آسمانی مشاہدات کے سلسلے میںایک شخص کو آگ کی نہر میں غوطے لگاتے دیکھا اور پتھر نگلتے دیکھا۔‘‘ میں نے دریافت کیا :’’یہ کون ہے؟ جو اس درد ناک عذاب میں مبتلا ہے۔‘‘ جبرئیل امین علیہ السلام نے بتایا:’’یہ سودی کاروبار کرنے والا ہے۔‘‘

شبِ معراج اُمتوں کا مشاہدہ

   حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے پاس سے گزرے ۔ ان میںسے ہر ایک کے ساتھ اُن کی امتیں تھیں ۔ مگر چند انبیائے کرام علیہم السلام ایسے بھی تھے جن کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ پھر سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑی امت کے پاس سے گزرے تو دریافت کیا :’’یہ کون سی امت ہے؟‘‘ بتایا گیا :’’یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کی امت ہے۔‘‘ اس کے بعد کہا گیا:’’ اے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اُٹھائیے۔ ‘‘میں نے سر اٹھایا تو بہت بری اُمت ( جماعت) دیکھی۔ جس نے اُفق کے ایک سرے سے دوسرے سِرے کو گھیر رکھا تھا۔ مجھے بتایا گیا ’’یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہے اور اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( ایک خصوصی انعام یہ دیا گیا کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے ستر ہزار افراد ایسے ہیں جو بغیر حساب کتاب جنت میں جائیں گے۔ ‘‘

یاجو ج ماجوج کو اسلام کی دعوت

   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ معراج کی رات میں اللہ تعالیٰ نے مجھے’’ یاجوج ماجوج ‘‘کی طرف بھیجا۔ میں نے اُن کو دین ِ اسلام کی اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دی۔ مگر انھوں نے انکار کر دیا تو وہ سب اور اُن کے ساتھ مشرک بنی آدم اور ابلیس اور اس کی ذُرّیات ( اولاد) سب دوزخ میں جائیں گے۔ ‘‘

معراج کی تاریخ کے بارے میں روایات

   سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی۔ اس کے بارے میںکئی روایات ہیں۔ ایک روایت میںہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہجرت سے ایک سال قبل ہوئی۔ دوسری روایت ہے کہ ہجرت سے ایک سال قبل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس لے جایا گیا۔ تیسری روایت ہے کہ ہجرت سے سولہ مہینہ پہلے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوئی۔ اس کے علاوہ یہ روایت ہے کہ ہجرت سے لگ بھگ تین سال پہلے معراج ہوئی۔ زیادہ تر روایات اس بات کی ہیں کہ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج 12؁ نبوی میں ہوئی ۔ یعنی نبوت کے بارہویں سال میں ۔

یتیم کا مال کھانے والے سود خور

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:’’ شب معراج کے مشاہدات میںایسے آدمی دیکھے جن کے ہونٹ اونٹوں کے ہونٹوں کی طرح تھے۔ ان کے ہاتھوں میں پتھر وں کی طرح آگ کے انگارے تھے۔ وہ انھیں اپنے منہ میں ڈال رہے تھے۔ پھر وہ اُن کی پشتوں سے نکل رہے تھے۔ اور ایسے آدمی دیکھے جن کے پیٹ اتنے بڑے تھے کہ میں نے اس سے پہلے اتنے بڑے پیٹ نہیں دیکھے تھے۔ وہ آلِ فرعون کی راہ پر تھے۔ ( یعنی آگ پر پیش کئے جاتے تھے) جب وہ آگ پر پیش کئے جاتے تھے تو پیاسے اونٹوں کی طرح وہاں سے گزر جاتے تھے۔ وہ آگ کو روندتے جاتے تھے اور ادھرادھر ہٹنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ میںپوچھا:’’اے جبرئیل علیہ السلام !یہ لوگ کون ہیں؟‘‘ انھون نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ سود خور اور یتیموں کا مال کھانے والے ہیں۔ ‘‘

حرام کاری کرنے والوں کا انجام

   شبِ معراج کے مشاہدات میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ایسے آدمی دیکھے جن کے سامنے عمدہ اور قیمتی گوشت پڑا تھا اور اُن کے ایک طرف بدبو دار گندا گوشت پڑا تھا۔ وہ بد بو دار گوشت کھا رہے تھے اورعمدہ اور قیمتی صاف ستھر ے گوشت کو چھوڑ دے رہے تھے۔ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے جبرئیل امین علیہ السلام سے پوچھا:’’ یہ کون لو گ ہیں؟ ‘‘ انھوں نے بتایا۔’’ یہ اپنی بیویوں کو چھوڑ کر اُن عورتوں کے پاس جاتے تھے۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے حرام کیا تھا۔ ‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پھر میں نے ایسی عورتیں دیکھیں جو پستانوں کے بل لٹکی ہوئی تھیں۔ ‘‘میں نے پوچھا :’’یہ قسم کی عورتیں ہیں؟‘‘ انھوں نے بتایا :’’یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنے مَردوں میں ایسے بچوں کو شامل کرتی ہیں جو اُن کی اولاد نہیں ہوتے تھے۔ ‘‘

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو’’ الصدیق ‘‘کا لقب

   عبدا لملک محمد بن ہشام اپنی کتاب میں معراج کا واقعہ بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ لوٹ آئے۔ صبح ہوئی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے پاس تشریف لے گئے اور انھیں اس واقعہ کے متعلق بتایا۔ اکثر لوگوں نے کہا :’’ اللہ کی قسم !یہ ناممکن ہے۔ کارواں ( کئی قافلے مل کر چلتے ہیں) ایک مہینہ چلتا رہتا ہے تب جا کر ملک شام آتا ہے۔ ( اُس وقت فلسطین ملک شام میں آتا تھا) ۔ اسی طرح واپسی پر ایک مہینہ کی مدت درکار ہوتی ہے اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے وہ طویل فاصلہ رات بھر میں طے کر لیا۔ پھر واپس مکہ مکرمہ بھی واپس آگئے۔‘‘ بہت سے لوگوں کے ایمان ڈگمگا گئے۔ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے :’’ ابو بکر اپنے ساتھی محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ایک رات میں بیت المقدس گئے۔ وہاں نماز ادا کی پھر مکہ مکرمہ آگئے۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ تم لوگ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کر رہے ہو۔‘‘ لوگوں نے کہا :’’نہیں وہ مسجد میں تشریف فرما ہیںاور لوگوں کو اسی بارے میں بتا رہے ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’اگر یہ بات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے توپھر انھوں نے سچ فرمایا ہے۔ اس میں تعجب کی کون سی بات ہے۔ اللہ کی قسم! وہ مجھے فرماتے ہیں کہ دن رات کے کسی بھی وقت میں آسمان سے اُن کے پاس خبر آتی ہے۔ میں اُن باتوں کی تصدیق کرتا ہوں۔ یہ بات ( آسمانوںسے خبر آنے کی بات) اُس بات سے زیادہ حیرت انگیز ہے جس پر تم تعجب کر رہے ہو۔‘‘ پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔ (تمام قریش کے کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرے ہوئے تھے اور سوال کر رہے تھے) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیت المقدس تشریف لے گئے تھے؟ ‘‘سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہاں ! میں رات بیت المقدس گیا تھا۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ میں نے بیت المقدس کی زیارت کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کے اوصاف اور خاص باتیں بتائیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے تمام حجابات میرے سامنے سے اٹھا دیئے اور میں بیت المقدس کو دیکھنے لگا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی خاص خاص باتیں اور اوصاف بیان فرمانے لگے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہر مرتبہ فرماتے :’’ صَدقتَ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ یعنی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے سچ فرمایا:’’ اسی طرح ایک ایک کر کے بیت المقدس کی خوبیاں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے رہے اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہر مرتبہ یہی فرماتے :’’صَدَقتَ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘یہاں تک کہ بیت المقدس کا ذکر مکمل ہو گیا اور تمام قریش بھی مطمئن ہوگئے۔ تب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ کو’’الصدیق‘‘ کا لقب عطا فرمایا۔ اور حضرت ابو بکر صدیق کو جب سے لوگ ’’صدیق اکبر ‘‘کے نام سے پکارنے لگے۔ ‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


07 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


07 سیرت سید الانبیاء ﷺ

قبائل کو اسلام کی دعوت

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


دعوت اسلام روکنے کے لئے کافروں کی کمیٹیاں، ابو لہب کی مسلسل بدبختی، عرب کے قبائل کو اسلام کی دعوت، حضرت طفیل بن عمرو دوسی کا قبول اسلام، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے نکاح


اے قریش! تم بہت جلد اس دعوت ( اسلام ) میں شریک ہوگے

   معراج سے آنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ محنت اور لگن سے اسلام کی دعوت دینے لگے اور اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تبلیغ کا دائرہ بڑھا دیا اور مختلف قبائل کوبھی دعوت دینے لگے۔ اسی دوران ایک دن مسجد ِحرام ( خانہ کعبہ کے اطراف بنی ہوئی مسجد) میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو انھیں دیکھ کر ابوجہل نے اپنے ساتھ بیٹھے کافر قریش سے کہا:’’ اے بنی عبد مناف !یہ تمہارے نبی ہیں۔‘‘ اس پر عتبہ بن ربیعہ نے کہا:’’ مگر اس بات سے انکار کیوں کیا جائے کہ ہم میں کوئی نبی یا بادشاہ ہو۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تمام باتیں بتائی گئی یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام گفتگو سن لی تھی۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:’’ اے عتبہ بن ربیعہ !یہ بات تم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں نہیں کی ہے بلکہ اپنے قومی غرور کی وجہ سے کہی ہے اور اے ابو جہل بن ہشام !کچھ زیادہ زمانہ نہیں گزرے گا تب تُو ہنسے گا کم اور روئے گا بہت زیادہ اور اے قریش بہت جلد خوشی سے یا مجبوری سے تم اس دعوت ( اسلام کی دعوت) میںشریک ہوگے جس کا تم انکار کر رہے ہو۔ ‘‘

دعوت اسلام روکنے والی کمیٹیاں

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت و تبلیغ کا سلسلہ زور و شور سے جاری تھا اور قریش کو بہت زیادہ فکر ہوگئی تھی۔ کیونکہ حج کاوقت قریب آ رہا تھا اور مختلف علاقوں سے حج کے لئے قافلے آنے شروع ہو گئے تھے۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ آج جو سواریاں ہمیں میسر ہیں۔ اُس زمانے میں ان کا وجود بھی نہیںتھا۔ اور سب سے بہترین سواری چوپائے تھے۔ ان میں گھوڑے اور اونٹ بھی شامل ہیں اور لوگ انھیں کے ذریعے سفر کرتے تھے۔اس لئے لوگ کئی کئی مہینے پہلے سے اپنے گھروں سے حج کے لئے نکلتے تھے اور مکہ مکرمہ میںقیام بھی کافی لمبا ہوتا تھا۔ ) چونکہ حج کے لئے قافلے آنے شروع ہو گئے تھے۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل دعوت و تبلیغ میں مصروف رہتے تھے۔ قریش نے بھی اسلام کی دعوت روکنے کی تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ اس کے لئے کئی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ ان میں سے ایک کمیٹی میں قریش کے پچیس25سردار تھے اور ابو لہب اُن کا سربراہ تھا۔ اِن کمیٹیوں کی میٹنگ ہوئی کہ دور دراز سے آنے والے ( حج کیلئے) قافلوں کو کس طرح محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی دعوت ِ اسلام سننے سے روکا جائے؟ ایک نے کہا’’ہم کہیں گے وہ کاہن ہیں۔‘‘ ولید بن مغیرہ ان میں سب سے زیادہ بزرگ تھا اس نے کہا:’’ میں نے بہت سے کاہن دیکھے ہیں۔ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کلام ان سب سے بہتر ہے۔ اس طرح ہمارا جھوٹ پکڑا جائے گا۔ ‘‘دوسرے نے کہا:’’ہم اُسے دیوانہ کہیں گے۔‘‘ ولید بن مغیرہ بولا:’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اتنی سمجھ داری کی بات کرتے ہیں کہ ہم فوراً جھوٹے ثابت ہو جائیں گے۔ ‘‘تیسرے نے کہا :’’اچھا ہم انھیں شاعر کہیں گے۔‘‘ ولید بن مغیرہ نے کہا:’’ سارا عرب شعر و شاعری کو اچھی طرح سمجھتا ہے۔ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کلام سنتے ہی سمجھ جائے گا کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں۔ ‘‘چوتھے نے کہا:’’ہم کہیں گے وہ جادو گر ہے۔‘‘ ولید بن مغیر ہ نے کہا:’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )صاف اور سیدھا کلام سناتے ہیں۔ وہ جادوگروں کی طرح دَم نہیں کرتے اور نہ ہی پھونک مارتے ہیں۔ ‘‘سب نے عاجز ہو کر کہا:’’اب آپ ہی بتائیں! ہم کیا کہیں؟‘‘ ولید بن مغیرہ نے کہا:’’سچ تو یہ ہے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کلام ایسا ہے کہ اس کی وجہ سے باپ بیٹے میں ، بھائی بھائی میں اور شوہر بیوی میں جدائی ہو جاتی ہے۔‘‘

ابولہب کی بد بختی

   اسی حدیث کو اس سے پہلے مختصراً ہم نے اس سے پہلے پیش کیا تھا۔ یہاں ذرا تفصیل سے پیش کر رہے ہیں۔ ایامِ حج قریب آرہا تھا اور دور دراز کے مختلف علاقوں سے حاجیوں کے قافلے آنا شروع ہو گئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دینے اور تبلیغ کے لئے مختلف قبائل کے حاجیوں کے پڑائو میں تشریف لے جاتے تھے اور انھیں دعوتِ اسلام دیتے تھے۔ حضرت ربیعہ بن عبد اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں میں اُن دِنوں نوجوان تھااور اپنے والد کے ساتھ منیٰ میں قیام پذیر تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں تشریف لائے اور مختلف قبائل کے حاجیوں کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور فرمایا:’’ اے لوگو !میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر مبعوث ہوا ہوں۔ وہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو اور بُتوں کی پوجا کرنا چھوڑ دو۔ تم مجھ پر ایمان لائو میری تصدیق کرو میرا تحفظ کرو حتّیٰ کہ اللہ تعالیٰ اس دن ( اسلام ) کو غالب کر دے جس کیساتھ اس نے مجھے مبعوث کیا ہے۔‘‘ اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک بھینگا اور سفید چہرے والا شخص تھا اس کے بالوں کی دو مینڈھیاں تھیں۔ اس نے عدن کا حَلّہ پہن رکھا تھا جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعوت ِ اسلام سے فارغ ہوئے تو بھینگا شخص کہتا:’’اے لوگو!یہ شخص تمہیں دعوت دے رہا ہے کہ تم لات و عزیٰ ( عربوں کے بتوں کے نام )کی غلامی کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکو ۔ بنو مالک بن اقیش کے حلیف جنات کو چھوڑ دواور اس شخص کی بدعت اور گمراہی کو قبول کر لو جو یہ لے کر آیا ہے۔ اس کی اطاعت ہرگز نہ کرنا اور نہ ہی اس کی بات سننا۔‘‘ میں نے اپنے والد محترم سے پوچھا :’’یہ شخص کون ہے جو اسلام کی دعوت دے رہا ہے تو انھوں نے بتایا:’’ یہ بنو ہاشم کے محمد بن عبداللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں۔‘‘ پھر میں نے پوچھا:’’ اور یہ بھینگا شخص جو ان کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے اور ان کے ہر فرمان کو ردّ کر رہا ہے۔ یہ کو ن ہے؟‘‘ انھوں نے بتایا:’’ یہ اُن کا چچا عبد العزیٰ بن عبد المطلب ہے۔ اس کی کنیت ابو لہب ہے۔‘‘

عرب کے قبائل کو دعوتِ اسلام

   محمد بن اسحاق کہتے ہیں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے حج کے لئے آنے والے قبائل اور حاجیوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوتا کہ کوئی صاحبِ حیثیت اور سردار مکہ مکرمہ آیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس جاتے اور اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام سناتے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے۔

بنو کندہ اور بنو کلب کو دعوت اسلام

   محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ ابن شہاب امام زہری نے بیان کیا ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو کندہ کی خیمہ گاہوں کی طرف تشریف لے گئے اور اُن کے سردار کا نام ملیح تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قبیلے والوں اور سردار کو اسلام کی دعوت دی اور اپنے آپ کو پیش کیا۔ لیکن اُس نے اور اس کے قبیلے والوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پھر سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو کلب قبیلہ کی ایک شاخ بنو عبداللہ کے پاس تشریف لے گئے۔ انھیں اسلام کی دعوت دی اور اپنی ذات کے لئے مدد و اعانت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے بنو عبداللہ ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے باپ کانام کتنا عمدہ رکھا ہے۔ لیکن انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔

حضرت طفیل بن عَمرو دوسی کا قبول اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اسلام کی دعوت و تبلیغ کر رہے تھے اور قریش کے کافر اس دعوت کو روکنے کی سر توڑ کوشش کر رہے تھے۔ دو ر دراز سے آنے والے لوگوں کو سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ڈراتے۔ حضرت طفیل بن عَمرو دوسی رضی اللہ عنہ انھی میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ آیا تو اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ ( یعنی تب مدینہ منورہ ہجرت نہیں کی تھی) قریش کے چند سردار میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا:’’ اے طفیل ( رضی اللہ عنہ)! آپ اپنے قبیلے کے سردار ہیںاور شریف ، دانا، شاعر اور عقل مند انسان ہیں۔ یہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو ہمارے سامنے ہیں یہ ہم سے علحیدگی اختیا ر کر چکے ہیں۔ انھوں نے ہماری قوم میں تفرقہ ڈال دیا ہے اور ہم سب کو بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ ان کے کلام میں وہ جادو ہے کہ باپ بیٹے میں ، بھائی بھائی میں اور بیوی شوہر میں جدائی ڈال دیتا ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں آپ اور آپ کا قبیلہ ان کی وجہ سے مسائل کا شکار نہ ہو جائے۔ اس لئے آپ نہ تو ان سے کوئی گفتگو کریں اور نہ ہی کوئی بات کریں۔ ‘‘

سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام (قرآن پاک) کی تاثیر

   حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ قریش کے کافر سردار مجھے سمجھاتے رہے اور قائل کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ میں نے عزم کر لیا کہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بات ہی نہیں کروں گا اور نہ ہی اُن کی کوئی بات سنوں گا۔ اسی لئے جب بھی میں مسجد حرام ( خانہ کعبہ کے اطراف بنی مسجد ) میں جاتا تھا تو کانوں میں روئی ٹھونس لیتا تھا۔ تا کہ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات میرے کان تک نہ پہنچنے پائے۔ اسی طرح کانوں میں روئی ٹھونسے میں مسجد میں داخل ہوا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے۔ اتفاق سے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کا کلام جو وہ تلاوت فرما رہے تھے۔ ( یعنی قرآن پاک) مجھے سنا دیا۔ وہ بہت عمدہ کلام تھا میںنے دل میں کہا:’’ یہ میں کیا کر رہا ہوں؟ میں تو ایک دانشمند شاعر ہوں اوراچھا اور بُرا کلام پہچانتا ہوں تو پھر اس شخص کا کلام کیوں نہ سنوں ؟ اگر کلام اچھا ہوگا تو اسے قبول کرلوں گااور اگر بُرا کلام ہوا تو چھوڑ دوں گا۔ ‘‘میں وہیں رُکا رہا۔ حتیٰ کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی اور اپنے گھر کی طرف تشریف لے جانے لگے۔ میں بھی پیچھے پیچھے ہو لیا۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو میں نے آواز لگائی:’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !آپ کی قوم نے مجھے آپ سے ایسا ایسا ڈرایا۔ انھوں نے مجھے اتنا ڈرایا کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی۔ لیکن اللہ کی توفیق سے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا اور مجھے لگا یہ بہت ہی’’ احسن کلام‘‘ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن پاک کی تلاوت فرمائی اور مجھے اسلام کی دعوت دی۔ اللہ کی قسم !اتنا دل نشین کلام تھا کہ سید ھا دل میں اتر گیا اور میں نے اسلام قبول کر لیا۔ ‘‘

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلہ کو اسلام کی دعوت دی

   اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ میں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں اپنے قبیلے میں صاحب ِ حیثیت شخص ہوں۔ میری قوم میری اطاعت کرنے میں فخر محسوس کرتی ہے۔ میں اپنے قبیلے میں جا کر انشا ء اللہ انھیں اسلام کی دعوت دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ایسی کوئی نشانی عطا فرما دے جو وہاں ( اسلام کی دعوت) دینے میں میری مدد گار ہو۔‘‘ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی:’’ اے اللہ تعالیٰ ! اس کے لئے کوئی نشانی بنا دے۔‘‘ میری آنکھوں کے درمیان ایک نور روشن ہو گیا۔ میں نے عرض کیا:’’ میری قوم کہیں اسے عیب نہ سمجھیں۔ یہ دوسری جگہ آجائے‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے وہ نور میرے عصا میں منتقل کر دیا۔ میں نے اپنے قبیلے میں جا کر انھیں اسلام کی دعوت دی۔ میرے والد محترم اور میری بیوی نے اسلام قبول کیا اور قبیلے کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ باقی تمام قبیلے نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ میرے قبیلے نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اُن کی تباہی کے لئے بد دعا کر دیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی:’’ اے اللہ تعالیٰ !قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما۔‘‘ اور پھر مجھ سے کہا:’’ جائو اور صبر و تحمل سے اپنے قبیلے کو اسلام کی دعوت دیتے رہو۔‘‘ میں واپس آیا اور اسلام کی دعوت دیتا رہا۔ یہاں تک کہ جب مدینہ منورہ میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا فرمایاتو اس وقت میرے قبیلے نے بھی اسلام قبول کیا اور میں انھیں دیکر سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُن کے وصال تک ساتھ میں رہا۔‘‘ ( خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جنگ یمامہ میں آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تھے)

رکانہ پہلوان سے کُشتی

   قریش کا ایک مشہور پہلوان رکانہ نام کا تھا۔ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کی گھاٹی میں اس کی ملاقات سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا:’’ اے رکانہ! کیا تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ہواور میری دعوت کو قبول نہیں کرتے ہو؟‘‘رکانہ نے کہا :’’ اگر مجھے یقین ہو جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت بر حق ہے تو میں ضرور اسلام قبول کر لوں گا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر میںتجھے پچھاڑ دوں تو کیا تجھے یقین آئے گا کہ میرا پیغام حق ہے؟‘‘ اُس نے کہا:’’ ہاں !( یہ بالکل نا قابل یقین بات لگتی تھی کیونکہ رکانہ انتہائی لمبا چوڑا اور قوی تھااور اس کے مقابلے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی کمزور دکھائی دے رہے تھے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشہ بھی پہلوانی نہیں تھا) جب اُس نے ہاں کہا تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تو پھر مقابلے پر آجائو۔‘‘ رکانہ مقابلے پر آیا اور سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پٹخ دینے کے لئے زور آزمائی کرنے لگا۔ اچانک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا دائو لگایا جو اس کی سمجھ میں ہی نہیں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پٹخ دیا اور اسے اپنے بدن کا ہوش ہی نہیںرہا۔ اس نے کہا :’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! دوبارہ زور آزمائی کریں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ زمین پر چت گرا دیا۔ اُس نے کہا:’’ اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) !اللہ کی قسم !یہ بڑے تعجب کی بات ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )مجھے اٹھا کر پٹخ دے رہے ہیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر تم اسلام قبول کر و اور اللہ سے ڈرو تو میںتمہیں اس سے بھی زیادہ تعجب خیز معجزہ دکھا سکتا ہوں۔‘‘ رکانہ نے پوچھا:’’وہ حیرت انگیز واقعہ کیا ہے؟‘‘ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وہ درخت جو تمہیں نظر آرہا ہے۔ میں ابھی اسے تیرے لئے بلا لیتا ہوں۔ وہ فوراً میرے پاس آجائے گا۔ ‘‘رکانہ نے کہا:’’ اسے بلائیں۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آواز دی۔ وہ درخت زمین پھاڑتا ہوا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’واپس چلا جا۔ ‘‘تو وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا۔ رکانہ اپنے خاندان والوں کے پاس آیا اور بولا:’’ اے بنو عبد مناف !اپنے اس صاحب کی وجہ سے پوری دنیا پر غالب آجائو ۔ اللہ کی قسم !میں نے اس سے بڑا جادوگر نہیں دیکھا۔ اس حدیث میں رکانہ کا اسلام قبول کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ لیکن امام سہیلی اپنی کتاب ’’روض الانف‘‘ میں لکھتے ہیں کہ رکانہ نے اسلام قبول کیا اور شرف ِ صحابیت حاصل کیا۔

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :’’سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ میں نے تم کو دوبار خواب میں دیکھا۔ ایک مرتبہ مجھے دکھایا گیا کہ تم کو ایک شخص حریر کے کپڑے میںاٹھائے ہوئے ہے اور کہہ رہا ہے :’’ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں۔‘‘ وہ کپڑے کو ہٹا کر تمہارا چہرہ دکھا رہا تھا۔ میں نے اس کی بات سن کر کہا:’’اگر اللہ تعالیٰ کو یہی منظور ہے تو پھر وہ ایسا ہی کرے گا۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہوا۔ لیکن رخصتی ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں ہوئی۔

اُم المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا نام سکران بن عَمرو تھا۔ یہ سہیل بن عمرو کے بھائی تھے۔ دونوں میاں بیوی اسلام قبول کر چکے تھے۔ ایک دن سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور اُن کی گردن پر اپنا پیر رکھ دیا۔ یہ خواب انھوں نے اپنے شوہر حضرت سکران بن عمرو رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انھوں نے فرمایا:’’ اگر تمہارا خواب سچا ہے تو میرا انتقال ہو جائے گا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تم سے نکاح کریں گے۔ کچھ دنوں بعد حضرت سکران رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور اس کے چند مہینوں بعد اُم المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا۔

بنو عامر کو اسلام کی دعوت

   حج کے لئے بہت سے قبائل کے قافلے آئے ہوئے تھے۔ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مختلف قبائل کی قیام گاہوں پر جا کر اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کا م جاری رکھے ہوئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کبھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہوتے تھے اور کبھی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہوتے تھے۔ اسی سلسلے میںسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو عامر بن صعصعہ کی قیام گاہ پر تشریف لائے اور انھیں اسلام کی دعوت دی اور قرآن پاک کی تلاوت فرمائی۔ یہ سن کر اُن میں سے ایک شخص جس کانام بحیرہ بن فراس یا فراس بن عبداللہ تھا۔ اُ س نے کہا:’’ اللہ کی قسم ! اگر میں اس جوان کو قابو میں کر لوں تو اس کے ذریعے میں پورے عرب پر حکومت کر سکتا ہوں۔‘‘ پھر اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:’’ اگر ہم لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی اتباع اور مددکریں اور پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو اپنے مخالفین پر غلبہ نصیب ہو جائے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حکومت ہمیں ملے گی ؟‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ معاملہ تو اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ جسے چاہے گا حکومت عطا فرمائے گا۔ ‘‘یہ سن کر اس نے کہا:’’ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حفاظت کریں اور پوری عرب قوم کے سامنے کاٹنے کے لئے اپنے گلے پیش کریںاور جب اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو غالب کر دے تو حکومت کسی اور کو ملے۔ ہمیں آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی ضرورت نہیں ‘‘

بنو عامر کی بد قسمتی

   جب تمام لوگ حج سے فارغ ہو کر اپنے اپنے علاقوں میں چلے گئے اور بنو عامر بھی اپنے قبیلے میں پہنچے تو ایک عمر رسیدہ بزرگ جو سفر کی صعوبتیں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ وہ اُن کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ حج کے دوران کوئی نئی بات ہوئی تھی؟ انھوں نے بتایا کہ’’ قریش کے ایک خاندان بنو ہاشم کا ایک جوان ہمارے پاس آیا۔ اُس کا گمان تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا نبی ہے۔ اس نے ہمیں اسلام کی دعوت دی اور کہا کہ ہم اس کی حفاظت کریں۔ اس کے لئے دشمن کے سامنے ڈٹ جائیں اور اسے اپنے علاقے میں لے آئیں۔ ‘‘یہ سن کر اس بزرگ نے اپنے سر پر ہاتھ رکھ لئے اور کہا:’’ اے بنو عامر! یہ تم بہت بڑا نقصا ن کر کے آئے ہو۔ یہ اتنا بڑا خسارہ ہے کہ اسے پورا نہیںکیا جاسکتا۔ اللہ کی قسم! حضرت اسماعیل علیہ السلا م کی اولاد میں سے کسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیاہے۔ اُس شخص نے حق فرمایا۔ اُس وقت تمہاری عقل گھاس چرنے کہاں چلی گئی تھی۔‘‘

حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے گیارہویں سال ۱۱ ؁نبوی میں حج کے لئے آنے والے تمام دور دراز کے علاقوں سے آنے والے قبائل کے قافلوں کو دعوتِ اسلام دے رہے تھے اور مدد کی درخواست کر رہے تھے۔ اسی سال حج کے دوران مدینہ منورہ کی چھ6سعید روحوںنے اسلام قبول کیا تھا۔ ( اس کا ذکر آگے انشاء اللہ آئے گا) ان چھ لوگوں کے اسلام قبول کرنے سے کئی مہینے پہلے مدینہ منورہ سے قبیلہ اوس کا ایک وفد قریش سے اسلئے ملنے آیا تھا کہ وہ قبیلہ خزرج کے مقابلے میں قریش کو اپنا حامی اور حلیف بنا سکے۔ اس وفد میں حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس وفد کے پاس تشریف لائے اور فرمایا:’’ جس مقصد کے لئے تم لوگ آئے ہو۔ اس سے کہیں بہتر شئے میں تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں۔‘‘ ابو لحیسر ( اس وفد کا سربراہ) نے پوچھا:’’وہ کیا ہے؟ ‘‘سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لئے بھیجا ہے کہ میں اس کے بندوں کو اسلام کی دعوت دوں کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتاب ( قرآن پاک) نازل فرمائی۔ پھر کچھ آیتیں تلاوت فرمائی اور انھیں اسلام کی دعوت دی۔ حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اے میرے ساتھیو! اللہ کی قسم !ہم جس کام کے لئے آئے ہیں ۔یہ اس سے کہیں بہتر ہے۔‘‘ وہ اپنے ساتھیوںمیں سب سے کم عمر تھے۔ ابو الحیسر نے مٹھی بھر مٹی اٹھائی اور حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر مار دی اور کہا:’’ ہم اس کام کے لئے نہیں آئے ہیں۔ ‘‘حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے آئے۔ یہ لوگ اپنا کام کر کے مدینہ منورہ واپس آگئے۔ کچھ دنوںبعد حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا۔ مرتے وقت اُن کی زبان سے یہ کلمات اد اہو رہے تھے۔’’ لا الہ الا اللہ ، اور اللہ اکبر، اور سبحان اللہ اور الحمد اللہ‘‘ ، یہ کلمات وہ زور زور سے ادا کر رہتے تھے۔ جسے تمام حاضرین سن رہے تھے۔ کسی کو بھی اس میں شک نہیں تھا کہ وہ مسلمان مرے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

08 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


08 سیرت سید الانبیاء ﷺ

مدینہ منورہ میں اسلام اور دوسری بیعت عقبہ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


مدینہ منورہ کی چھ سعید روحوں کا قبول اسلام، پہلی بیعت عقبہ، مدینہ منورہ میں اسلام کی روشنی،  


چھ سعید روحوں کو اسلام کی دعوت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لئے آنے والے قبائل کو مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ حج ختم ہو چکا تھا اور الگ الگ قبائل کے قافلے ایک ایک کر کے واپس جا نے لگے۔ ابھی تک کسی بھی قبیلے نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا۔ اس کے باوجود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لگاتار اپنی کوشش میں لگے ہوئے تھے اور قریش بھی لگاتار اس دعوت کور وکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اب واپس جانے والے قبائل کے قافلوں میں رات میں چھپ چھپا کر جا کر اسلام کی دعوت دیتے تھے تا کہ قریش کوئی رکاوٹ نہ پیدا کر سکیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت ایک رات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کیساتھ بنو ذُہل اور بنو شیبان بن ثعلبہ کے ڈیروں سے گزر ے تو اُن کو اسلام کی دعوت دی۔ لیکن انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے تو چھ افراد سے ملاقات ہوئی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت کیا :’’ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘ انھوں نے عرض کیا :’’ہم یثرب ( مدینہ منورہ) سے آئے ہیں۔ ( مدینہ منورہ کا نام پہلے یثرب تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام یثرب سے بدل کر مدینہ منورہ رکھ دیا۔ اسی لئے ہم بھی مدینہ منورہ ہی کہیں گے) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:’’ آپ لوگ کس قبیلے کے ہیں؟‘‘ انھوںنے جواب دیا:’’ ہم قبیلہ خزرج کے ہیں۔‘‘ ( مدینہ منورہ میں دو بڑے قبیلے اوس اور خزرج تھے۔ ان دونوں میں اکثر جنگیں ہوا کرتی تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قبیلوں کو متحد کر دیا اور ان کی آپسی لڑائی ختم کر ادی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں قبائل کے افراد کو’’ انصار‘‘ کا لقب دیا) یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ آئو ذرا بیٹھ کر میری بات سنو ۔ اگر پسند آئے تو قبول کرلو ورنہ ردّ کر دینا۔ ‘‘( غالباً یہ چھ افراد جس قافلے کے ساتھ آئے تھے۔ وہ جا چکا تھا اور یہ لوگ کسی کام سے رک گئے تھے کہ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی تھی۔ )

یہ وہی نبی ﷺ ہیں

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ چھ افراد بیٹھ گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اسلام کی دعوت دی۔ صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے کو کہااور بتوں کی پوجا سے منع فرمایا اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے اور اُن کے سامنے قرآن پاک کی آیات تلاوت فرمائی۔ اس دلنشین کلام نے اُن چھ افراد کے دل اور دماغ پر بہت اثر کیا۔ ان چھ سعید روحوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا۔ در اصل مدینہ منورہ میں اوس اور خزرج کے پڑوسی یہودی ( بنی اسرائیل ) تھے۔ جب یہودیوں ( بنی اسرائیل) کا جھگڑا یا لڑائی یا جنگ ان دونوں قبائل سے ہوتی تھی تو یہودی ان دونوں قبائل سے کہتے تھے ۔ بہت جلد ’’ وہ آخری نبی ‘‘ آنے والے ہیں۔ ہم لوگ اُنپر ایمان لائیں گے اور اُن کی اتباع کریں گے اور اُن کے ساتھ مل کر تمہیں قومِ عاد اور ارم کی طرح ہلاک و برباد کر ڈالیں گے اور یہ بات یہودی ( بنی اسرائیل)اکثر اُن سے کہا کرتے تھے۔ اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے ہی ان چھ سعید روحوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول او ر نبی بنایا ہے تو انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیاکہ ’’ وہی آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کا یہودی اکثر ذکر کرتے رہتے تھے۔ ان چھ سعید روحوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہودیوں ( بنی اسرائیل) کے ایمان لانے سے پہلے ہم ان آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آتے ہیں۔ یہ مشورہ کرنے کے بعد ان چھ سعید روحوں نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کیا۔

اسلام قبول کرنے والی چھ سعید روحوں کے نام

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بنو خزرج کی جن چھ سعید روحوں نے اسلا م قبول کرنے کا شرف حاصل کیا اُن کے اسمائے گرامی ( نام ) یہ ہیں۔ (۱) حضرت اسعد بن زراہ رضی اللہ عنہ (۲) حضرت عوف بن حار ث رضی اللہ عنہ ( سیدہ عفرا رضی اللہ عنہا ان کی والدہ ہیں)(۳) حضرت رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ(۴) حضرت قطبہ بن عامر رضی اللہ عنہ (۵)حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ (۶) حضرت جابر بن عبد اللہ بن رُباب رضی اللہ عنہ( یہ وہ حضرت جابر بن عبداللہ نہیں ہیں جن کی احادیث کی کتابوں میں بہت سی روایات مروی ہیں۔ اُن کا نام حضر ت جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ ہے) سیرت النبی ابن ہشام میں یہ چھ نام درج ہیں۔ لیکن سیرت کا علم رکھنے والے بعض علمائے کرام نے حضرت جابر بن عبداللہ بن رُباب کی جگہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا نام درج کیا ہے۔

اگر ہم متحد رہے تو سیدالانبیاء ﷺ کی مدد کریں گے

   جب ان چھ سعید روحوں نے اسلام قبول کر لیا تو سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم لوگ ( یعنی مدینہ منورہ کے دونوں بڑے قبائل) میری مدد کرناحتیٰ کہ میں اپنے رب ( اللہ تعالیٰ) کا پیغام پہنچا دوں ۔‘‘ ( یعنی اسلام کو غلبہ ہو جائے) اُن چھ سعید روحوںنے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے درمیان یومِ بعاث ہے۔ ( کچھ عرصہ پہلے بعاث کے مقام مدینہ منورہ کے دونوں بڑے قبائل اوس اور خزرج کے درمیان بہت خوں ریز جنگ ہوئی تھی۔ جس میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑے سردار قتل ہوئے تھے۔ اس جنگ سے پہلے اوس کا وفد اسی جنگ ِ بعاث میں قریش کی حمایت لینے کے لئے آیا تھا جسمیں حضرت ایاس بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے۔) جس طرح جنگ بعاث ہوئی تھی اگر ایساہی کوئی معاملہ ہوا تو ہم ( یعنی دونوں قبیلے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھا نہیں ہو پائیں گے۔ ( یعنی دونوں قبیلوں میں سے کسی ایک کو مدد کے لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم چُن لیں)اب ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے علاقے میں واپس جائیں اور ہم اُن سب کو ( دونوں قبائل کو) اس بات ( اسلام) کی طرف دعوت دیں گے جس بات ( اسلام ) کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بلایا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان ( یعنی دونوں قبیلوں کے درمیان ) صلح کی صورتِ حال پید افرما دے اور اللہ تعالیٰ ان سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع کردے۔ ( یعنی دونوں قبائل اسلام قبول کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں) اگر ایسا ہوا تو انشاء اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غالب کوئی نہیں ہوگا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اگلے سال حج کے موقع پر آنے کا وعدہ کرتے ہیں اور وہ چھ سعید روحیں سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا وعدہ کر کے مدینہ منورہ واپس لوٹ گئے۔ ( اور انھوں نے مدینہ منورہ میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا ذکر کیا کہ )مدینہ منورہ میں انصار کا کوئی گر ایسا نہیں تھا جسمیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ ہوتا ہو۔

بارہ انصار کی بیعت کے لئے حاضری

۱۱ ؁نبوی یعنی نبوت کے گیارہویں سال حج کے موسم میں جن چھ سعید روحوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ وہ لوگ مدینہ منورہ جا کر خاموش نہیں بیٹھے بلکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک سب سے کرتے رہے اور اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ پورا سال یہ سعید روحیں مدینہ منورہ میں جدوجہد کرتی رہیں۔ اس جدو جہد میں کامیابی یہ ملی کہ دوسرے سال یعنی ۱۲ ؁نبوی میں حج کے موسم میں جب ان چھ افراد میں سے پانچ افراد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئے تو اُن کے ساتھ سات نئے افراد تھے۔ پچھلے سال اسلام قبول کر کے اس سال آنے والے پانچ افراد کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت اسعد بن زراہ رضی اللہ عنہ ،قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار کے ہیں ۔ (2) حضرت عوف بن حارث رضی اللہ عنہ ، ان کی والدہ محترمہ سیدہ عَفراء رضی اللہ عنہا ہیں۔ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو نجار کے ہیں۔ (3) حضرت رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو زریق کے ہیں۔ (4) حضرت قطبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یہ قبیلہ خزر ج کی شاخ بنو سلمہ کے ہیں۔ (5) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو حرام بن کعب کے ہیں۔ ان پانچوں کے ساتھ جو سات افراد آئے تھے اُن کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت معاذ بن حارث رضی اللہ عنہ ( یہ حضرت عوف بن حارث رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں۔ اور ان کی والدہ محترمہ سیدا عفرا رضی اللہ عنہا ہیں) (2) حضر ت ذکوان بن عبد القیس رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو زریق کے ہیں۔ (3) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو غنم کے ہیں۔ (4) حضرت یزید بن ثعلبہرضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو عنم کے حلیف ہیں۔ (5) حضرت عباد بن عبادہ بن نضلہ رضی اللہ عنہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنو سالم کے ہیں۔ (6) حضرت ابوالہشیم بن تیہان رضی اللہ عنہ قبیلہ اوس کی شاخ بنو عبد الاشہل کے ہیں۔ حضرت عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ قبیلہ اوس کی شاخ بنو عمرو بن عوف کے ہیں۔

بیعت ِ عقبہ اوّل ، 12 ؁نبوی

   عقبہ ، پہاڑ کی گھاٹی یعنی تنگ پہاڑی گزرگاہ ( راستے ) کو کہتے ہیں۔ مکہ مکرمہ سے منیٰ آتے وقت منیٰ کے مغربی کنارے پر ایک تنگ پہاڑی راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہی گزرگاہ ( راستہ) عقبہ کے نام سے مشہور ہے۔ ان بارہ افراد نے اسی عقبہ کی گھاٹی میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور پہلی مرتبہ آنے والے سات افراد نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر کلمہ ٔ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کیا اور ان بارہ افراد نے بیعت کی ۔ انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان پانچ باتوں کا پختہ وعدہ کیا اور ان پر سختی سے عمل کرنے کا وعدہ کیا۔ (1) ہم صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے ا ور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ (2) ہم چوری اور زنا کاری نہیں کریں گے۔ (3) ہم اپنی اولاد ( لڑکیوں ) کو قتل نہیں کریں گے۔ (4) ہم کسی پر جھوٹی تہمت نہیں لگائیں گے اور نہ کسی کی چُغلی کریں گے۔ (5) ہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کریں گے۔    ان پانچ باتوں پر ان بارہ افراد نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ چونکہ اُس وقت تک اللہ تعالیٰ نے جہاد فرض نہیں کیا تھا۔ اس لئے اُس پر بیعت نہیں لی گئی اور عورتوںوالی بیعت لی گئی۔ یعنی عورتوں سے انھی پانچ باتوںکی بیعت لی جاتی ہے۔ یہ ’’بیعت ِ عقبہ اوّل ‘‘کے نام سے مشہور ہوئی۔ بیعت مکمل ہوجانے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر تم نے اس بیعت کو پورا کیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت عطا فرمائے گا اور اگر کسی سے کوئی لغزش ہو گئی تو اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوگا۔ وہ چاہے گا تو معاف فرمادے گا اور چاہے گا تو عذاب دے گا۔‘‘ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر تم نے اس عہد کو پورا کیا تو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا اور اگرکسی نے گناہ کیا اور اسے اس کا خمیازہ دنیا میں بھگتنا پڑا تو وہ اس کا کفّارہ ہوگا اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی فرما دی توپھر معاملہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے کہ وہ چاہے تو صاف کرے اور چاہے تو عذاب دے۔‘‘ جب یہ بارہ افراد مدینہ منورہ واپس جانے لگے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ کر دیا۔ تاکہ آپ رضی اللہ عنہ انھیں قرآن پاک سکھلائیں اور اسلام کی تعلیم دیںاور مدینہ منورہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ اس طرح حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو اسلام کے ’’سب سے پہلے مُعلّم‘‘ اور’’ داعی‘‘ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ان کا ذکر تفصیل سے انشا ء اللہ آگے کریں گے۔

مدینہ منورہ میں اسلام

   مدینۂ منورہ کی چھ سعید روحوں نے اسلام قبول کیا اور اسکے بعد مدینۂ منورہ آکر پورا سال وہاں کے لوگوں کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتے رہے۔مدینہ منورہ کے پڑوس میں یہودیوں(بنی اسرائیل ) کے کئی قبائل آباد تھے اور ان لوگوں کے اکثر مدینہ منورہ والوںسے لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے اور اکثر یہودی کہا کرتے تھے۔ ہماری کتاب میں ’’وہ آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ذکر ہے اور ان کے اوصاف بھی مذکور ہیں ۔’’وہ آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایسے اور ایسے ہوں گے اور جب وہ آئیں گے تو ہم ان پر ایمان لائیں گے اور ان ساتھ ملکر تمہیں عاد اور ارم کی طرح ہلاک وبرباد کرکے رکھ دیں گے۔یہ باتیں یہودیوں (بنی اسرائیل) نے اتنی مرتبہ مدینہ منورہ والوں سے کی کہ ان کے بچے بچے کا ’’وہ آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم ) سے غائبانہ تعارف ہوگیا اور ایسا ہوا کہ وہ لوگ بھی یہودیوں کی طرح لاشعوری طور سے ’’وہ آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انتظار کرنے لگے۔ اسی کا نتیجہ یہ رہا کہ ان چھ سعید روحوں نے جب مدینہ منورہ والوں کوبتایا کہ ’’وہ آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم )مکہ مکرمہ میں’’ اعلان نبوت ‘‘فرما چکے ہیں تو لاشعوری طور سے تمام مدینہ منورہ والوں کا جھکائو ’’وہ آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم )کی طرف ہوگیا۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ کی مدد تھی کہ مدینہ منورہ کے لوگوں (بعد میں اللہ تعالیٰ نے’’ انصار‘‘ کا خطاب دیا ) کے دلوں میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نرم گوشہ پیدا ہوگیا اور وہ لوگ خوش قسمت ثابت ہوئے کہ وہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے’’ انصار‘‘ (مددگار) بنے۔ پورا سال محنت کرنے کے بعد ان چھ سعید روحوں سے پانچ افراد دوسرے سال حج کے موقع پر مکہ مکرمہ آئے اور ان کے ساتھ سات افراد اسلام قبول کرنے کے لئے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان بارہ سعید روحوں نے عقبہ کی گھاٹی میں سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی کہ اپنی زندگی کو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق گذاریں گے۔ اسے ’’بیعت عقبہ اول ‘‘یا ’’پہلی بیعت عقبہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ بیعت کرنے کے بعد ان بارہ سعید روحوں نے گذارش کی کہ ہمیں اسلام کی تعلیم دینے کے لئے کوئی’’ معلم ‘‘ساتھ کردیں تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ مدینہ منورہ بھیج دیا۔ (ایک روایت میں حضرت ابن ام مکتوم کا بھی ذکر ہے)

اسلام کے پہلے’’ معلم‘‘ (استاد )

   حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی ان بارہ سعید روحوں کے ساتھ مدینہ منورہ آگئے۔ آپ رضی اللہ عنہ’’ السابقون الاولون ‘‘میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد بہت امیر تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بڑے ناز ونعم میں پرورش پائی ۔زمانہ جاہلیت میں مکہ مکرمہ کے نوجوانوں کے’’ آئیڈیل‘‘ تھے۔ اسلام قبو ل کرنے کے بعد بہت سی مصیبتیں برداشت کیں۔ زیادہ وقت سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گذارا۔ اسلئے زیادہ تر قرآن حفظ تھا اور اسلامی تعلیمات سے آشنا تھے۔ ہجرت حبشہ بھی کرچکے تھے اور ایمان کے نشیب و فراز سے آگاہ تھے۔ مدینہ منورہ میں آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت ا سعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر قیام کیا اور وہیں مسلمانوں کی تعلیم و تربیت اور دعوتِ اسلام کا کام کرتے تھے۔مدینہ منورہ میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ’ ’مقریٰ ‘ ‘کے لقب سے مشہور ہوئے ۔ ’’مقریٰ ‘‘کا معنی ہے ’’پڑھانے والا‘‘۔ اس وقت معلم اور استاد کو مقریٰ کہا جاتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کے مسلمانوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے۔ کیونکہ اوس اور خزرج اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ ان میں سے کوئی دوسرے کو امامت کرائے۔

اوس اورخزرج کا مختصر تعارف

   مدینہ منورہ میں دو قبیلے آباد تھے۔ ان کے نام’’ اوس‘‘ اور’’خزرج ‘‘تھے۔’’ الخزرج ‘‘کے معنی ’’ٹھنڈی ہوا ‘‘ہے۔ اور’’ الاوس ‘‘کے معنی ’’عطیہ یا عوض ‘‘ہے ۔ یہ دونوں مدینہ منورہ کے بڑے قبائل ہیںاور باقی قبیلے انہی سے پھوٹی ہوئی شاخیں ہیں یا ان ہی سے نکلے ہوئے خاندان ہیں۔ یہ دونوں قبیلے مشرک تھے اور ان کے پڑوس میںیہود یوں کے قبائل آباد تھے۔ یہودیوں ( بنی اسرائیل) اور’’ اوس‘‘ اور’’ خزرج ‘‘میں اکثر لڑائی جھگڑے ہوتے تھے اور جب بھی ان لڑائیوں میں یہودیوں کو شکست ہوتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ ’’ وہ آخری نبی‘‘ مبعوث ہونے والے ہیںاور ہم لوگ اُن پر ایمان لا کر تم سب کو ’’عادو ارم ‘‘کی طرح قتل کر ڈالیں گے۔ یہو دیوں ( بنی اسرائیل) یہاںبھی اپنی سازشی ذہنیت کی وجہ سے اوس اور خزرج کو لڑانے میں کامیاب رہے۔ وہ ان دونوں کو لڑاتے تھے اور ان لوگوں کی مدد کرکے اپنا قرضدار بنالیتے تھے۔ اسطرح وہ’’ لڑاو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتے تھے۔ ان کی اسی پالیسی کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے اوس اور خزرج میں’’ بعاث‘‘ کے مقام پر خونریز جنگ ہوچکی تھی۔ جس میں دونوں قبائل کے بڑے بڑے سردار قتل ہوئے تھے۔ آخر اس قتل اور غارت گری سے تنگ آکر ان دونوں قبائل نے یہ طئے کیا تھا کہ اب لڑائی یا جنگ نہیں کریں گے۔ بلکہ مل کر رہیں گیاور دونوںقبائل کا مشترکہ سردار ہوگا۔اور اسکے لئے ’’عبداللہ بن ابی ‘‘کو سردار بنانا طے ہواتھا۔ جو یہودیوں (بنی اسرائیل ) کی کٹھ پتلی تھا۔ ابھی اسے دونوں قبائل کا مشترکہ سردار بنایا نہیں گیا تھا کہ مدینہ منورہ میں اسلام طلوع ہوگیا اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اسلام کے معلم کی حیثیت سے تشریف لے آئے۔

بنو عبدالاشہل کی طرف جانا

   حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے گھر قیام پذیر تھے ۔حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی کنیت’’ ابو امامہ ‘‘ہے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ انھیں کے گھر میں اسلام قبول کرنے والے بارہ افراد کو اسلام کی تعلیم دیتے تھے اور ان کے خاندان بنو بنجار اور قبیلے خزرج کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ ایک دن حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ قبیلہ اوس کی شاخ بنو عبدالاشہل کے سردار حضرت سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ ) میرے خالہ زاد بھائی ہیں۔ اگر وہ کسی طرح اسلام قبول کرلیں تو ان کی وجہ سے ان کا سارا خاندان یا قبیلہ یا تمام بنو عبدلاشہل اسلام قبول کرلیں گے اور انشااللہ اسلام کوکافی قوت عطا ہوگی۔ ‘‘یہ سن کر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ تو پھر چلو بنو عبدالاشہل کی طرف چلتے ہیں‘‘اور دونوں حضرات بنو عبدالاشہل کی طرف روانہ ہوگئے۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا غصّہ

   حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ’’ بنو عبدالاشہل‘‘ میں آئے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی حویلی کے سامنے بنو ظفر کے باغ میں ’’مرق‘‘ نام کے کنویں کے پاس بیٹھ گئے۔ ظفر کا نام کعب بن حارث ہے۔ یہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کادوست تھا۔ مسلمان ان کے پاس جمع ہونے لگے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنی حویلی کے صحن میں اپنے دوست حضرت اسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے حضرت اسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ سے کہا:’’ ان دونوں کے پاس جاؤ۔جو ہماری حویلی کے سامنے آکر بیٹھے ہوئے ہیںاور ہمارے لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ انھیں خوب ڈانٹو اور انھیں منع کرو کہ دوبارہ اس طرف آنے کی ہمت نہ کریں تاکہ یہ دونوں ہمارے کمزور لوگوں کو گمراہ نہ کرسکیں۔ اگر اسعد بن زرارہ میرے رشتہ دار نہ ہوتے تو میں ہی انھیں کافی ہوجاتا۔ وہ میرے خالہ زاد بھائی ہیں اور میں ان کے سامنے نہیں جانا چاہتا۔ ‘‘

حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے اپنا نیزہ لیا اور حضرت اسعد اور حضرت مصعب رضی اللہ عنہما کی طرف چل پڑے ۔حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے انھیں آتے دیکھا تو کہنے لگے :’’آپ رضی اللہ عنہ کے پاس اس قوم کا سردار آرہا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کے متعلق سچ کہنا۔ ‘‘حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اگر وہ بیٹھ گیا تو میں اس سے بات چیت کروں گا۔ ‘‘حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آکر انھیں پھٹکارنے لگے اور کہنے لگے:’’ کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ ہمارے کمزوروں کو بے وقوف بنائو۔ اگر تمھیں اپنی جانوں کی ضرورت ہے اور خیریت چاہتے ہو تو فوراًیہاں سے چلے جائو۔ ‘‘حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ ذرا بیٹھیں اور چند باتیں تو سنیں ۔ اگر کچھ پسند آّئے تو قبول کرلینا اور اگر پسند نہ آئے تو ردّ کر دینا۔ ‘‘حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ آپ نے انصاف کی بات کی ہے اور اپنا برچھا زمین میں گاڑ کر ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے انھیں قرآن پاک کی تلاوت سنائی ۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے بتایا اور اسلام کی دعوت دی ۔‘‘ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ہم دونوں نے حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کے چہرے پر اسلام کاا جالا دیکھ لیا تھا۔ پھر حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ یہ کلام (قرآن پاک) کتنا دلنشین ہے اس دین میں داخل ہونے کے لئے کیا کرنا پڑے گا؟‘‘حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ غسل کر کے پاک ہوجائو اور اپنے کپڑوں کو صاف کرو۔ اسلام قبول کرو اور پھر نماز پڑھو۔ ‘‘حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے غسل کرکے پاک کپڑے پہنے اور اسلام قبول کرکے دو رکعت نماز پڑھی۔

بھائی کی محبت میں دوڑ گئے

   اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میرے پیچھے ایک ایسا شخص ہے جس نے اگر اسلام قبول کرلیا تو پھر اس قوم کا ہر فرد اسلام قبول کرلے گا۔میں اسے تمھاری طرف بھیجتا ہوں۔ اسکا نام سعد بن معاذ ہے ۔ پھر وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کو انھوں نے آتے دیکھا تو فرمایا:’’ اللہ کی قسم! اُسید کا چہرہ وہ نہیں ہے جو یہاں سے لیکر گیا تھا۔‘‘ جب وہ آگئے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا:’’ اُن لوگوں کا کیا ہوا؟‘‘حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں نے اُن دونوں سے بات کی ہے اور خطرے کی کوئی بات نہیں ہے اور میں نے اُن دونوں کو منع کر دیا ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ ہم وہی کریں گے جو تم پسند کرو گے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ بنو حارثہ ( حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے دشمن) آپ کے بھائی حضرت اسعد( رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنے کی تیاری میں ہیں۔ وہ انھیں قتل کر کے آپ کو تکلیف دینا چاہتے ہیں۔‘‘ یہ سن کر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جلدی سے کھڑے ہو گئے اور انتہائی غصہ کے عالم میں اپنے ہاتھ میں برچھا لیا اور فرمایا:’’ اللہ کی قسم! تو نے کوئی فائدہ نہیں پہونچایا۔‘‘ اور فوراً دوڑتے ہوئے دونوں حضرات کی طرف گئے۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنے خالہ زاد بھائی کی محبت میں دوڑتے ہوئے بنو ظفر کے باغ میں داخل ہوئے۔ اور بیئر مرق(مرق کنواں) کے پاس پہونچے تو دیکھا کہ دونوں حضرات آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ فوراً سمجھ گئے کہ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ انھیں یہاں بھیجنا چاہتے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بہت غصے کے عالم میں تھے اور اپنے بھائی حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرکے فرمایا:’’ اے ابو امامہ! (یہ حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کیکنیت ہے) اگر میرے اور تمھارے درمیان رشتہ داری نہ ہوتی (تو میں تمھارا وہ حال کرتا کہ )پھر تم ایسی حرکت (اسلام کی دعوت) کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرسکتے تھے۔کیا تم ہمارے گھروں میں وہ چیز مسلط کرنا چاہتے ہوجسے ہم پسند نہیں کرتے؟ ‘‘حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ تمام باتیں انتہائی صبر و تحمل سے سنیں اور اسکے بعد فرمایا :’’کیا آپ ذرا بیٹھ کر ہماری باتین نہیں سنیں گے؟ آپ ذرا ہماری باتین سنیں ۔ اگر پسند آے تو قبول کرلینا اور اگر نہ پسند آئے تو چھوڑ دینا اور پھر ہم دونوں آپ کو دوبارہ کبھی دکھائی بھی نہیںدیں گے۔ ‘‘حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’تم نے سچ کہا‘‘ اور برچھا گاڑ کر بیٹھ گئے۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے قرآن پاک کی تلاوت فرمائی۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتایا اور اسلام کی دعوت دی ۔دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ ہماری بات پوری ہونے سے پہلے ہی ہم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر اسلام کا نور دیکھ لیا تھا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ جب تم اسلام قبول کرتے ہو اور اس دین میں داخل ہوتے ہو تو کیا کرتے ہو؟‘‘ انھوں نے بتایا کہ آپ رضی اللہ عنہ پہلے غسل کرین اور پاکی حاصل کرکے پاک صاف کپڑے پہنے۔ حق کی گواہی دیں (یعنی کلمہ شہادت پڑھیں) پھر دو رکعت نماز ادا کریں۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے غسل کرکے صاف کپڑے پہنے اور فرمایا:’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔‘‘ اور پھر دورکعت نماز پڑھی اور اپنا برچھا لیا اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لیکر اپنی قوم کے پاس آئے۔

بنو عبدالاشہل کا قبول اسلام

   حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اپنی قوم کو جمع کیا اور فرمایا:’’اے بنو عبدالاشہل !تم میں میری کیا حیثیت ہے؟‘‘ قوم کے لوگوں نے کہا:’’ آپ (رضی اللہ عنہ ) ہمارے سردار ہیں ۔ رائے کے اعتبارسے افضل اور عقل کے اعتبار سے دانا ہیں ۔‘‘حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ تو پھر میری بات غور سے سنو !تم تمام مرد اور عورتوں سے بات کرنا میرے لئے اس وقت تک حرام ہے جب تک کہ تم اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لے آئو۔‘‘ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ اور حضرت اسعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ اللہ کی قسم !شام تک بنو عبدالاشہل کے تمام مرد و خواتین اسلام قبول کرچکے تھے۔ صرف ایک شخص حضرت عمرو بن ثابت رضی اللہ عنہ جن کا لقب’’ اُصیرم ‘‘تھا۔ انھوںنے اسلام قبول نہیںکیا ۔ انھوں غزوۂ اُحد میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا اور جنگ میں شامل ہوگئے اور شہید ہوگئے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی جنتی ہونے کی بشارت دی۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بطور ’’معمہ‘‘ فرمایا کرتے تھے:’’ بتائو وہ کون شخص ہے جس نے ایک بھی نماز نہیں پڑھی اور جنت میں پہونچ گیا۔‘‘ جب لوگ جواب نہیں دے پاتے تو خود فرماتے تھے:’’ وہ بنو عبدالاشہل کے اُصیرم رضی اللہ عنہ ہیں ۔ ‘‘

مدینہ منورہ میں جمعہ کی نماز

   حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں مسلسل اسلام کی دعوت دینے میں لگے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ انھیں کامیابی بھی عطا فرمارہے تھے اور مدینہ منورہ کا کوئی گھر ایسا نہیں تھاجس میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہ ہوتا ہو۔ اسی دوران سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے خط و کتابت اور پیغام رسانی کا کام بھی چل رہا تھا۔ جب مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی تعداد اچھی خاصی ہوگئی تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے حکم بھیجا کہ جمعہ کی نماز قائم کی جائے۔ حضرت مُصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور جمعہ کی نماز ادا فرمائی۔ اس نماز جمعہ میں چالیس افراد شریک تھے۔ امام عبدالملک ابو محمد بن ہشام میں حضرت کعب بن مالک کی روایت بیان فرمائی ہے کہ مدینہ منورہ میں حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ یہودی (بنی اسرائیل) عیسائی (نصاریٰ ) اپنا اپنا خاص دن مناتے ہیں تو انھوں نے جمعہ کے دن مسلمانوں کو جمع کیا اور نماز جمعہ کا اہتمام کیا۔ اسکے کچھ دنوں بعد مکہ مکرمہ سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم آیا ۔ لیکن امام عبدالرحمٰن بن عبداللہ سہیلی نے اپنی کتاب روض الانف شرح سیرت النبی ابن ہشام میں فرمایا کہ زیادہ تر سیرت نگاروں نے یہی بیان کیا ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم سے مدینہ منورہ میں جمعہ کی نماز شروع ہوئی۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

دوسری بیعت عقبہ -بیعت عقبہ ثانیہ

   حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہم پورا سال مدینہ منورہ میں محنت کرتے رہے۔ ان کی کوششوں سے بہت سے افرا د نے اسلام قبول کیا ۔جب حج کا وقت آیا تو مسلمان حضرات میں سے ستر 70یا بہتر72لوگ مکہ مکرمہ جانے کیلئے تیار ہوئے۔ ان کے علاوہ مدینہ منورہ سے حج کے لئے جانے والے مشرکوں کا قافلہ تیار تھا۔ ان کی تعداد 500پانچ سو کے لگ بھگ تھی۔ یہ 72بہترافراد ان میں شامل ہوگئے۔ ان کے ساتھ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ یہ تمام افراد مکہ مکرمہ پہو نچے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وسط ایام تشریق یعنی بارہ ذی الحجہ کی رات میں ’’شعب ایمن‘‘ (جو منیٰ سے اترتے وقت عقبہ سے ہے)میں ملنے کا حکم دیا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تھا کہ نہ کسی سونے والے کو بیدار کریں اور نہ ہی کسی غیر حاضر کا انتظار کریں۔

انصار کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر

دوسری بیعت عقبہ میں حضرت جابر بن عبداللہ بن حرام رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔دس سال تک سیدلانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کے لوگوں اور باہر کے علاقوں کے لوگوں کے گھروں اور بازاروں اور میلوں میں جا جا کے اسلام کی دعوت دیتے رہے اور فرماتے رہے کہ’’ کون ہے جو مجھ کو ٹھکانہ دے؟ کون ہے جو میری مدد کرے ؟ یہاں تک کہ میں اللہ کو پیغام پہونچا سکوں اور اسکے لئے جنت ہے۔‘‘مگر کوئی ٹھکانہ دینے والا اور مدد کرنے والا نہیں ملتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو یثرب( مدینہ منورہ کا پرانا نام)سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بھیجا۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور اسلام قبول کیا۔ ہم میں سے جو شخص سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتاتھا وہ مسلمان ہوکر واپس آتا تھا۔ جب مدینہ منورہ کے گھر گھر میں اسلام پہنچ گیا تو ہم نے مشورہ کیا کہ آخر کب تک ہم سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکۂ مکرمہ کے پہاڑوں میں خوف ذرہ اور پریشان پھرتے رہیں ۔ ستر 70آدمی ہم میں سے حج کے موسم میں مکۂ مکرمہ آئے۔قافلہ جب مکۂ مکرمہ پہو نچا تو ہم نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خفیہ طور سے پیغام بھیجا کہ ہم قدم بوسی کا شرف حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے دوران میں منیٰ کی اسی مبارک گھاٹی پر رات میں ملنے کا وعدہ فرمایا۔ جہاں پچھلے سال بارہ افراد نے بیعت کرنے کا شرف حاصل کیا تھا۔ ‘‘

عقبہ کی گھاٹی میں اجتماع

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق مدینہ منورہ کے مسلمانوں نے مشرکوں کے ساتھ حج کے ارکان مکمل کئے اور بارہ ذی الحجہ کی رات میں اپنے قافلے کے مشرکوں کے ساتھ لیٹ گئے۔ جب تمام مشرک سوگئے تو مسلمان حضرات دھیرے دھیرے ایک ایک کر کے اٹھ کر جانے لگے اور عقبہ کی گھاٹی میں جمع ہونے لگے۔ اسی طرح خاموشی سے بہتر 72یا تہتر73لوگ جمع ہوئے اور دو خواتین تھیں ۔ اسطرح پچہتر 75جمع ہوگئے ۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی سے ان لوگوں کے انتظار میں اپنے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تشریف فرماتھے۔ حالانکہ اس وقت تک حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ اپنے بڑے بھائی ابو طالب کی طرح ہر موقع پر سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اور حفاظت کرتے تھے۔ اسی لئے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان پر اعتماد کرتے تھے اور وقتاً فوقتاًقریش کے مشرکوں کے معاملات میں بھی ان سے مشورہ کرتے تھے۔

حضرت عباس بن عبدالمطلب کی تقریر

   جب تمام افراد عقبہ کی گھاٹی میں جمع ہوگئے تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب کھڑے ہوئے اور فرمایا:’’ اے گروہ خزرج ! (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مدینہ منورہ کے تمام لوگوں کو گروہ ِخزرج ہی کہا جاتا ہے اس میں قبیلہ اوس کے لوگ بھی شامل ہوجاتے ہیں )تم یہ خوب جانتے ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہم میں کس حیثیت کے مالک ہیں ۔ ہم نے ان کا بھر پور تحفظ کیا ہے اور یہ اپنے شہر میں محفوظ ہیں۔ اس کے باوجود یہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر کے تمہارے درمیان جانا چاہتے ہیں۔ تم لوگ اگر یہ چاہتے ہو کہ یہ تمہارے ساتھ رہیں تو تمہیں ان کی اپنی جان سے بڑھ کر حفاظت کرنی پڑے گی۔ اب اس کے بعد تم یہ محسوس کرتے ہو کہ کہ تم ان سے کئے گئے عہد کو نبھا سکو گے۔ ان کے مخالفین سے ان کا تحفظ کر سکو گے تو بے شک انھیں لے جائو اور اگر تم سمجھتے ہو کہ تم انھیں ہجرت کے بعد دشمن کے حوالے کر دو گے اور انھیں رسوا ء کر دو گے تو پھر ابھی سے انھیں یہیں چھوڑ دو۔ یہ اپنی قوم میں اور اپنے شہر میں مکرم اور محفوظ ہیں۔‘‘

سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر

   حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اپنی تقریر ختم کرکے بیٹھ گئے تو انصار نے کہا :’’ ہم نے تمہاری بات سن لی اور سمجھ لی۔‘‘ اس کے بعد انصار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کیا:’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کیا کہتے ہیں ؟‘‘ان کے جواب میں سیدا لانبیاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھ سے اس بات کی بیعت کرو کہ میری سنو گے اور میرا حکم مانو گے۔ خوشی کی حالت میں بھی اور غم کی حالت میں بھی اور اللہ کے لئے خرچ کرو گے امیری میں بھی اور غریبی میں بھی اور نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے روکو گے۔ اللہ کی خاطر کلام کرو گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے اور اس بات کی بیعت کر و کہ جب میں تمہارے پاس مدینہ منورہ آئوں تو تم میری مدد کرو گے اور ہر اس چیز سے میری حفاظت کرو گے جس سے تم اپنا ،اپنی عورتوں اور بچو ں کی حفاظت کرتے ہو۔ اگرتم نے یہ بات نبھائی تو تمہیں جنت ملے گی۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کے لئے اس بات کی بیعت کرو کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو گے اور کسی کو اس کا شریک نہیں بنائو گے اور دشمن سے میری حفاظت کرو گے۔ جس طرح اپنی، اپنیاولاد اور عورتوں کی کرتے ہو۔ ‘‘یہ سن کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب ان شرطوں کو پورا کر لیں گے تو ہمیں کیا ملے گا؟ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس کے بدلے میں تمہیں جنت ملے گی۔‘‘ یہ سن کر انصار نے کہا:’’ یہ سودا بڑا نفع بخش ہے۔ نہ ہم خود اسے توڑیںگے اور نہ ہی کسی کو توڑنے دیں گے۔‘‘

حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی تقریر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے انصاران باتوں پر بیعت کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ تب حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا:’’ اے اہل یثرب!( مدینہ منورہ کا پرانا نام) ، جلدی نہ کرو ( بلکہ خوب سوچ سمجھ لو) ہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں اس لئے آئے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آج تمہارا ان کو یہاں سے نکال کر اپنے ساتھ لے جانا تمام عرب سے تمہارے تعلقات کو ختم کر دے گا۔ تمہارے اپنوں کو قتل کیا جائے گا اور تلواریں تمہارے جسموں کو زخمی کریں گی۔ اگر تم ایسے حالات میں صبر کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور ساتھ لے جائو۔ اس کا اجر تمہیں اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا اور اگر تمہیں اپنی جانوں کا خوف ہے کہ ہلاک کر دیئے جائو گے تو انھیں یہیں رہنے دو اور یہ بات سمجھ لو کہ ِاس وقت اللہ تعالیٰ تمہارا عُذر قبول کر لے گا۔

حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ اور حضڑت الھیشم بن تیھان رضی اللہ عنہ کی تقاریر

   حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے انصار کو معاملے کی اہمیت بتائی کہ یہ تمام باتیں سمجھ کر بیعت کرو۔ اس کے بعد حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک اپنے ہاتھوں میں لے کر عرض کیا:’’ جی ہاں! اُس ذات ( اللہ تعالیٰ)کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کیساتھ اپنا نبی بنا کر مبعوث فرمایاہے۔ ہم ہراس شئے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کریں گے جس سے اپنے اہل و عیال کی کرتے ہیں اور اب ہم سے بیعت لے لیں کیوں کہ ہم آزمودہ جنگ ہیں اور تلواروں کے سائے میں پلے ہیں۔‘‘ اُسی وقت حضرت ابو الھیشم بن تیھان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کچھ لوگوں کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے جسے ہم توڑنے والے ہیں۔ ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہمیں ان سے جنگ کرنا پڑے گی) ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہم یہ کر گذریں اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح عطا فرما دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی طرف واپس چلے جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں ۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔ در اصل یہ عربوں کی ایک بہت ہی بہترین صفت ہے کہ بات بالکل صاف صاف کہتے ہیں۔ حضرت ابو الہیشم بن تیھان رضی اللہ عنہ کے سوال پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا:’’تمہارا خون میرا خون ہے اور تمہاری عزت میری عزت ہے۔ میں تم سے ہوں تم مجھ سے ہو۔ جس سے تم جنگ کرو گے اس سے میں جنگ کروں گا اور جسے تم سلامتی دو گے اسے میںسلامتی دوں گا۔‘‘

بارہ نقباء کی تقرری

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مکمل ہونے کے بعد ان 75سلیم القلب افراد نے بیعت مکمل کی۔ ہم ان 75افراد کے نام جگہ کی کمی کی وجہ سے نہیں لکھ سکتے۔ اس کے لئے آپ سیرت کی معتبر کتابوں کی طرف رجوع کریں۔ بیعت مکمل ہوجانے کے بعد سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مجھے بارہ ایسے افراد دو جو تنازعہ یااختلاف کے وقت فیصلہ کر سکیں ۔‘‘ انصار نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارہ افراد کے نام پیش کئے۔ ان میں سے نو کا تعلق خزرج سے تھا اور تین کا تعلق اوس سے تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بارہ افراد کو انصار کا نقیب مقرر کیا۔ ان بارہ افراد کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت ابو امامہ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں اور بنو نجار کے نقیب بنائے گئے۔(2) سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ خزر ج کے ہیں۔ (3) حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیںاور بنو حارث کے نقیب بنائے گئے۔ (4) حضرت رافع بن مالک بن عجلان رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں بنو زریق کے نقیب بنائے گئے۔ (5) حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔ (6) حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔(مشہور صحابی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ کے والدہیں)۔(7) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔ (8) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔(9) حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ خزرج کے ہیں۔ یہ نو صحابہ کرام خزرج کے ہیں۔ ان کے علاوہ قبیلہ اوس کے تین افراد کو نقیب بنایا گیا۔ ان کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اوس کے ہیں۔ بنو عبد الاشہل کے نقیب بنائے گئے۔ (2) حضرت سعد بن خیشمہ رضی اللہ عنہ اوس کے ہیں۔ بنو عمرو بن عوف کے نقیب بنائے گئے۔ ( 3) حضرت رفاعہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ اوس کے ہیں۔ بنو عمرو بن عوف کے نقیب بنائے گئے۔    ان بارہ نقیبوں سے سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم اپنی اپنی قوم کے کفیل ہو۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ بن مریم کے بارہ حواری کفیل تھے اور میں تمہارا اور سب لوگوں کا کفیل ہوں۔ ‘‘طبقات ابن سعد میں ہے کہ جبرئیل علیہ السلام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑے تھے اور اشارہ کرتے جاتے تھے کہ اسے نقیب بنائیں۔

شیطان کا واویلا

   تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کر چکے تو عقبہ کی چوٹی سے بلند آواز سے شیطا ن چلایا ۔ یہ آواز اُن آوازوں سے کہیں زیادہ بلند تھی۔ جو عام طور سے سنی جاتی ہے۔ شیطان چلّا چِلّا کر کہہ رہا تھا:’’ اے اہل حباحب !کیا تمہیں مذمم اور صابیوں کے متعلق علم ہے؟ وہ تمہارے خلاف جنگ لڑنے کے لئے جمع ہو چکے ہیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ عقبہ کا شیطان ہے اور شیطان ازیب کا بیٹا ہے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا:’’ اے اللہ تعالیٰ کے دشمن سن لے! اللہ کی قسم !میں تیرے لئے ضرور فارغ ہوں گا۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اپنے اپنے پڑائو میں واپس چلے جائو۔ ‘‘حضرت عباس بن عبادہ بن نضلہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اُس ذات کی قسم !جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرمائیں تو ہم صبح ہی اہلِ منیٰ ( قریش) پر اپنی تلواروں سے حملہ کر دیں۔ ‘‘لیکن سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ابھی ہمیں اس کا ( جہاد کا) حکم نہیں دیا گیا ہے۔ تم تمام لوگ اپنے اپنے خیموں میں چلے جائو۔‘‘

قریش کا احتجاج

   بیعت عقبہ کی خبر جب قریش کوہوئی تو اُن میں کہرام مچ گیا اور وہ غم و غصہ میں بھر گئے۔ وہ جانتے تھے کہ اس قسم کی بیعت کا کیا انجام ہو سکتا ہے۔ صبح ہوتے ہی وہ لوگ مدینہ منورہ کے قافلے کے پڑائو کے پاس پہنچے۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ مدینہ منورہ سے حج کے لئے 500پانچ سو افراد پر مشتمل قافلہ مکہ مکرمہ آیا تھا اور ان میں یہ 75پچھتر مسلمان بھی شامل تھے۔ اس قافلے کا سردار عبداللہ بن اُبیّ تھا ۔اس کا ذکر آگے بہت آئے گا کیونکہ یہ آگے چل کر سب سے بڑا منافق بنا تھا اور اسے’’ رئیس المنافقین‘‘ کہا گیا ۔ قریش نے آکر عبد اللہ بن اُبیّ سے کہا:’’ اے خزرج کے لوگو! ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ ہمارے ان صاحب ( یعنی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہمارے درمیان سے نکال لے جانے کے لئے آئے ہو اور ہم سے جنگ کرنے کے لئے ان کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہو۔ حالانکہ عرب کا کوئی قبیلہ ایسا نہیں ہے جس سے جنگ کرنا ہمارے لئے اتنا زیادہ ناگوار ہو جتنا آپ حضرات سے ہے۔ ‘‘لیکن چونکہ قافلے کے مشرکین سرے سے کچھ جانتے ہی نہیں تھے کیوں کہ ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ بہت ہی رازداری سے کی گئی تھی۔ اسی لئے ان لوگوں نے قریش کو یقین دلانا شروع کر دیا۔ عبداللہ بن اُبیّ نے کہا:’’یہ جھوٹ ہے ایسا نہیں ہو سکتا اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ میری قوم مجھے چھوڑ کر اس طرح کا کام کر ڈالے ۔ (در اصل اُس وقت مدینہ منورہ کے تمام مشرکین نے عبد اللہ بن اُبیّ کی سرداری پر اتفاق کر لیا تھااور خزرج اور اوس دونوں قبائل بہت جلد اس کی تاج پوشی کر کے پورے مدینے کا بادشاہ بنانے والے تھے۔ اسی لئے وہ یہ بات اتنے اعتماد سے کہہ رہا تھا۔ ) اگر میں یثرب (مدینہ منورہ کا پرانا نام) میں ہوتا تب بھی میری قوم مجھ سے مشورہ کئے بغیر ایسا نہیں کرتی۔‘‘ باقی رہے مسلمان تو انھوں نے کنکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھا اور چپ سادھ لی۔ بس صرف زیر لب مسکراتے رہے۔ آخر کار قریش نے اس کی باتوں کا یقین کر لیا اور واپس چلے گئے۔ لیکن بعد میں انھیں معلوم ہوا تو قافلے کا پیچھا کیا لیکن قافلہ نکل چکا تھا۔ البتہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت منذر بھی عمرو رضی اللہ عنہ مل گئے۔ حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ تیز رفتاری سے نکل گئے۔ لیکن حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ پکڑ لئے گئے۔ قریش انھیں مارتے پیٹتے قید کر کے مکہ مکرمہ لائے وہاں مطعم بن عدی اور حارث بن حرب نے انھیں اپنی پناہ میں لے کر مدینہ منورہ بھیج دیا کیوں کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ انھیں مدینہ منورہ میں پناہ دیتے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں