پیر، 3 جولائی، 2023

12 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


12 سیرت سید الانبیاء ﷺ

یہودیوں کی امتحان میں ناکامی اورغزوۂ بدر

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


رسول اللہ ﷺ کی چاہت تبدیلیٔ قبلہ، تبدیلیٔ قبلہ کے ذریعے یہودیوں کا امتحان، اصحاب صفہ کا چبوترہ، روزوں کی فرضیت، غزوۂ بدر (یوم الفرقان) 


تبدیلی ٔ قبلہ یا تحویل قبلہ

   سَرِیہّ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ماہِ رجب ۲ ؁ھ میں پیش آیا تھا اورتبدیلی ٔ قبلہ یا تحویل قبلہ کا حکم اس کے کچھ دنوں بعد ماہِ شعبان ۲ ؁ھ میں آیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ لیکن مکہ مکرمہ میں یہ آسانی تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایسے رخ سے کھڑے ہوتے تھے کہ خانہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں سامنے ہوتے تھے۔ لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو دونوں قبلے ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے تھے۔ کیوں کہ ایک شمال میں تھا تو دوسرا جنوب میں تھا۔ اس لئے ایک کی طرف منہ کرتے تھے تو لازماً دوسرے کی طرف پیٹھ ہو جاتی تھی۔ مدینہ منورہ میں بھی قبلہ بیت المقدس ہی رہا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسجد نبوی کی بنیاد رکھی تو اس کا قبلہ بیت المقدس کی طرف ہی رکھا ۔ لیکن سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ پوری دنیا کا اصل قبلہ خانہ کعبہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا تھی کہ قبلہ خانہ کعبہ ہو۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر اپنی معرکتہ آراء تفسیر ابن کثیر میں سورہ البقرہ کی آیت نمبر142کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ منورہ میں) سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرمائی۔ لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت تھی کہ قبلہ خانہ کعبہ ہو۔

اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آرزو پوری کی

   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی تو سولہ 16مہینے تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ مگر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش اور آرزو یہ رہی کہ قبلہ خانہ کعبہ کو بنا دیا جائے۔ ( کیوں کہ اصل قبلہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے خانہ کعبہ رہا تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی رہا تھا۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آرزو تھی کہ قبلہ خانہ کعبہ ہو) اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا:’’ اے جبرئیل علیہ السلام !میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے رُخ کو یہودیوں کے قبلہ سے پھیر دے۔ ‘‘جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں تو صرف پیغام بر ( پیغام پہنچانے والا) ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رب اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں ۔‘‘ بہر حال جب بھی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوتے تھے تو پہلے آسمان کی طرف سرِ مبارک اٹھا کر دیکھتے تھے۔ ( پھر نماز کے لئے نیت باندھتے تھے) اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ اس آیت میں فرمایا۔ ( ترجمہ)’’ ہم دیکھ رہے ہیں ، بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے۔‘‘ ( سورہ البقرہ آیت نمبر144۔ )

تبدیلی ٔ قبلہ کی آیت کا نزول اور مسجد قبلتین

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تبدیلی ٔ قبلہ چاہتے تھے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو سلمہ کے محلے ( یاعلاقے) میں تشریف لے گئے۔ وہا ں دوپہر کے کھانے کی دعوت تھی۔ جب ظہر کی نماز کا وقت ہوا تو وہیں پر بنو سلمہ کی مسجد میں حسب معمول بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز کی نیت باندھی۔ جب دو رکعت ہوگئی تب وحی نازل ہوئی اور یہ آیت نازل ہوئی۔ ( ترجمہ) ’’ہم بار بارتمہارا آسمان کی طرف منہ کر نا دیکھ رہے ہیں تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں اس قبلہ کی طرف ، جس میں تمہاری خوشی ہے۔ پس اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا رخ ابھی مسجد حرام کی طرف کر لیںاور ( اے مسلمانو) تم جہاں کہیں بھی ہو اپنے چہرے اسی طرف کر لو۔‘‘( سورہ البقرہ آیت نمبر144) دوسری اور تیسری رکعت کے درمیانی وقفے میں ( غالباً تشہد میں ) یہ آیت نازل ہوئی۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری رکعت میں اپنا رخ بیت المقدس کی طرف سے پھیر کر خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ تمام صحابہ کرام اور صحابیات رضوا ن اللہ علیہم اجمعین نے بھی اپنا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر لیا۔ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں خواتین بھی مسجد میں آکر نماز پڑھتی تھیں) اس طرح مرد حضرات خواتین کی جگہ پر آگئے اور خواتین مرد حضرات کے پیچھے ان کی جگہ آگئیں اور باقی دو رکعت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھی ۔ اسی لئے اس مسجد کا نام ’’مسجد قبلتین ‘‘ہو گیا۔ یعنی ’’دو قبلوں والی مسجد۔‘‘ علامہ عماد الدین ابن کثیر اپنی معرکتہ آراء تفسیر ابن کثیر میں 142 آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر جب تبدیلیٔ قبلہ کی آیت نازل ہوئی تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو سلمہ کی مسجد میں ظہر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ دو رکعت اد ا فرما چکے تھے۔ ( ان کے بعد تبدیلی قبلہ کی آیت نازل ہوئی) پھر باقی دو رکعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ ( بیت اللہ ) کی طرف کر کے پڑھی۔ اسی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجد قبلتین پڑ گیا۔ یعنی دو قبلوں والی مسجد ۔

یہودیوں کا امتحان اور ان کی ناکامی

   اللہ تعالیٰ نے تبدیلیٔ قبلہ کے ذریعے مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کا امتحان لیا۔ مسلمانوں کی اکثریت کامیاب ہو گئی۔ حضرت نویلہ بنت مسلم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم لوگ اپنی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کر رہے تھے کہ دوران نماز ہمیں آواز آئی یعنی خبر ملی کہ قبلہ تبدیل ہوگیا۔ یعنی ’’بیت المقدس ‘‘کے بجائے ’’خانہ کعبہ ‘‘قبلہ ہوگیا ہے۔ ہم لوگ نماز میں ہی گھوم گئے۔ مرد عورتوں کی جگہ آگئے اور عورتیں مردوں کی جگہ آگئیں اور باقی نماز مکمل کی۔ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم میں کوئی شک نہیں کیا۔ لیکن یہودیوں کے امتحان کے لئے اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس سے قبلہ پھیر کر خانہ کعبہ کی طرف کر دیااور یہودی اس میں ناکام ہو گئے کیوں کہ جب قبلہ بیت المقدس تھا تب بھی ایمان نہیںلائے اور جب قبلہ’’ خانہ کعبہ ‘‘کو بنایا گیا جس کے بارے میں وہ یعنی یہودی( بنی اسرائیل) جانتے تھے کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’’قبلہ ‘‘ہے اور وہ لوگ یعنی یہود( بنی اسرائیل) حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حق پر اور اپنا سب سے بڑا رسو ل مانتے تھے اس کے بعد بھی ایمان نہیں لائے اور ناکام ہو گئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں قبلہ کا پہلا نسخ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو یہاں کے اکثر باشندے یہودی ( بنی اسرائیل) تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ یہود اس سے بہت خوش ہوئے۔ ( لیکن ایما ن نہیں لائے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی مہینوں تک اسی رخ پر نماز ادا فرماتے رہے۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خود کی چاہت قبلہ ٔ ابراہیمی ( خانہ کعبہ) تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتے تھے اور نگاہیں آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے۔ آخر کار سورہ البقرہ کی آیت نمبر144نازل ہوئی۔ ( اس کا ترجمہ اوپر پیش کیا جا چکا ہے) اس پر یہودیوں ( بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ اس قبلہ ( بیت المقدس) سے یہ کیوں ہٹ گئے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔(ترجمہ)’’ مشرق اور مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور فرمایا جدھر تمہارا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) منہ ہو اُدھر ہی اللہ کا منہ ہے۔‘‘ اور فرمایا:’’ پچھلا قبلہ( بیت المقدس) امتحان کے لئے تھا۔‘‘

مسجد نبوی میں تبدیلی اور اصحاب صُفّہ کا چبوترہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسجد نبوی تعمیر فرمائی تھی تو اس کا قبلہ بیت المقدس کی طرف رکھا تھااور قبلہ کے بالکل سامنے والی دیوار میں ایک صدر دروازہ بنوایا تھا اور مسجد نبوی میں کل تین صد دروازے بنوائے تھے۔ جب قبلہ کی تبدیلی کا حکم آیا تو بیت المقدس والے قبلہ کے بالکل سامنے والا دروازہ بند کروادیا اور وہاں یا اس کے آس پاس کئی سال بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر رکھا گیا۔ ( تب تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے ایک ستون سے ٹیک لگا کر جمعہ کا خطبہ دیا کرتے تھے جو چھت کو سہارا دینے کے لئے گاڑا گیا تھا) اور بیت المقدس کے قبلہ والی جگہ پر ’’اصحاب صُفّہ ‘‘کے لئے چبوترہ بنا دیا گیا۔ یہ چبوترہ اُن فقراء و غرباء کے ٹھہرنے کے لئے بنایا گیا جن کا کوئی گھر بار یا ٹھکانہ نہیں تھا۔یہ جگہ ( چبوترہ) صُفّہ کے نام سے منسوب ہوگئی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چبوترہ یا سائبان اس لئے بنوایا تھا کہ اس میں بے گھر مسلمان قیام کر سکیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے تھے جو دور دراز سے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آتے تھے اور اسلام قبول کرتے تھے۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے آنے والے بھی کئی حضرات ان میں تھے۔

اصحاب صُفَّہ کی عظمت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چبوترہ یا سائبان بنایا تھا۔ اس میں’’ اصحاب صفہ‘‘ رہتے تھے اُن کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہتی تھی۔ جب تک کسی نئے اسلا م قبول کرنے والے صحابی رضی اللہ عنہ کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوتا تھا تب تک وہ یہیں قیام کرتے تھے اور دھیرے دھیرے جب اُن کا سہار ا ہو جاتا یا گھر بن جاتا تھا تو وہ وہاں منتقل ہو جاتے تھے۔ کبھی کبھی اصحاب صفہ کی تعداد 400سے زیادہ ہو جاتی تھی اور کبھی کبھی 70ہوجاتی تھی۔ یعنی کم سے کم 70اصحاب صفہ ہر وقت مسجد نبوی میں موجود رہتے تھے اور یہ کوشش کرتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے تربیت حاصل کر سکیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے دوستونوں میں ایک رسی بندھوادی تھی۔ جس پر صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین کھجوریں اور پھل فروٹ وغیرہ لا کر ٹانگ دیا کرتے تھے اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نگراں بنا دیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں سے وہ اشیاء اصحاب صفہ میں تقسیم کرتے تھے۔ اس کے باوجود اصحاب صفہ کی آمد زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ اشیاء کم پڑ جاتی تھیں اور انھیں بھوکا رہنا پڑتا تھا۔ جس سے وہ نقاہت کا شکار ہو جاتے تھے اور جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہوتے تھے تو اصحاب صفہ میں سے کئی افراد بھوک اور کمزوری کی وجہ سے گر پڑتے تھے۔ اعرابی ( دیہات سے آئے لوگ) کہتے یہ لوگ پاگل ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی اصحاب صفہ میں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ کبھی کبھی ایسا ہوتا تھا کہ مجھ پر شدید غشی بھوک کی وجہ سے آجاتی تھی اور لوگ سمجھتے تھے کہ مجھے مِرگی کا دورہ پڑ گیا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب صفہ کے پاس تشریف لاتے اور ان سے فرماتے:’’ اگر تم کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کیا تیار کر رکھا ہے تو تم یہ تمنا کر تے کہ ہمارا یہ فقر و فاقہ اور بڑھ جائے۔ ‘‘

سیدالانبیاء ﷺ اور صحابہ کرام اصحاب صفہ کی مدد کرتے تھے

   حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :’’ میںنے 70ستر اصحاب صفہ کو دیکھا کہ ان کے پاس چادر تک نہیں تھی صرف تہہ بند تھا یا کمبل تھا۔ جس کو وہ اپنی گردنوں میں باندھ لیتے تھے اور کمبل بھی اتنا چھوٹا ہوتا تھا کہ کسی آدھی پنڈلیوں تک پہنچتا تھا اور کسی کے ٹخنوں تک اور ہاتھ سے اسے تھامے رکھتے تھے کہ کہیں ستر کھل نہ جائے۔‘‘ ( صحیح بخاری جلد نمبر2۔) حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں بھی اصحاب صفہ میں سے تھا۔ ہم میں سے کسی کے پاس ایک کپڑا بھی پورا نہیں تھا اور پسینہ کی وجہ سے بدن پر میل کچیل جما رہتا تھا۔ ‘‘حضرت عبدا لرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب صفہ فقیر تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تقسیم فرمادیتے تھے کہ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ ایک کو اور جس کے پاس تین آدمی کا کھانا ہو وہ دو اصحاب صفہ کو لے جائے۔ ( صحیح بخاری ) محمد بن سیر ین بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اصحاب صفہ کو لوگوں میں تقسیم فرمادیا کرتے تھے۔ کوئی دو کو ساتھ لے جاتا تھا۔ کوئی تین کو ساتھ لے جاتا تھا اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تو اَسّی اَسّی (80,80)اصحاب صفہ کو لے جاتے تھے اور ان کو کھانا کھلاتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں بھی اہل صفہ میں سے تھا۔ جب شام ہوتی تھی تو ہم سب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہو جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک ، دو، دو کو اغنیاء صحابہ کرام کے سپر د فرمادیتے تھے اور جو باقی رہ جاتے تھے انھیں اپنے ساتھ کھانے میں شریک فرما لیا کرتے تھے۔ کھانے سے فارغ ہو کر ہم لوگ رات میں مسجد میں سو جاتے تھے۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے سوال کو سمجھا

   حضرت مجاہد(جلیل القدر تابعی) فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے :’’قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ کبھی کبھی میں بھوک کی وجہ سے اپنا پیٹ زمین سے لگا دیتا تھا اور کبھی پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا تا کہ سیدھا کھڑا رہ سکوں۔ ایک دن میں راستے پر جا کر بیٹھ گیا۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گزرے میں نے ان سے قرآن پاک کی ایک آیت کا مطلب پوچھا اور میرا مقصد یہ تھا کہ وہ میری حالت اور بھوک کا اندازہ کر کے مجھے کھانے کے لئے اپنے گھر لے جائیں۔ لیکن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سمجھ نہیں سکے اور چلے گئے۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ گزرے ۔ ان سے بھی میں نے وہی سوال کیا۔ لیکن وہ بھی میری حالت کا اندازہ نہیں کر سکے اور سوال کا جواب دے کر چلے گئے۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے۔ انھوں نے مجھے دیکھتے ہی میری حالت کا اندازہ لگا لیا۔ مجھے دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا:’’ اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ‘‘میں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں حاضر ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’میرے ساتھ آئو۔‘‘

ایک پیالہ دودھ میں برکت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر اپنے گھر پہنچے دیکھا تو ایک دودھ کا پیالہ رکھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا :’’ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟‘‘ ( کسی اُم المومنین رضی اللہ عنہا نے ) گھر والوں نے بتایا کہ فلاں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ !جائو اصحاب صفہ کو بلا کر لائو۔‘‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں:’’ اصحاب صفہ اسلام کے مہمان تھے۔ نہ ان کا گھرانہ تھا اور نہ ان کے پاس مال تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کہیں سے صدقہ آتا تھا تو اصحاب صفہ میں بھیج دیتے تھے اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھاتے تھے اور اگر ہدیہ آتا تھا تو خود بھی نوش فرماتے تھے اور اصحاب صفہ کو بھی اس میں شریک کر لیا کرتے تھے۔ اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم دینا کہ اصحاب صفہ کو بلا لائو۔ میرے نفس کو شاق گزرا اور میں نے سوچا یہ ایک پیالہ دودھ کیا اصحاب صفہ کو کافی ہوگا۔ اس دودھ کا تو سب سے زیادہ حقدار میں تھاکہ کچھ پی کر طاقت اور توانائی حاصل کرتا۔ پھر یہ کہ اصحاب صفہ کے آنے کے بعد مجھ ہی کو حکم دیں گے کہ اس دودھ کو میں ان میں تقسیم کردوں اور تقسیم کے بعد مجھے امید نہیں ہے کہ میرے لئے اس میں سے کچھ بچ جائے۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔ بہر حال میں اصحاب صفہ کو بلا لایا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایک ایک کو پلانا شروع کر دیا۔ سب سیراب ہو گئے تو میری طرف دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا :’’ صرف تم اور میں باقی رہ گئے ہیں۔ ‘‘میں نے عرض کیا :’’ بالکل درست ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ بیٹھ جائو اور دودھ پینا شروع کرو۔‘‘ میں نے دودھ پینا شروع کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے رہے :’’ اور پیئو۔ اور پیئو۔‘‘یہاں تک کہ میں بول اٹھا ‘’’ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے۔ اب بالکل گنجائش نہیں ہے۔ ‘‘تب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ میرے ہاتھ سے لے لیا اور اسے پی کر ختم کر دیا۔‘‘ ( صحیح بخاری کتاب الرقاق)

رمضان کے روزوں کے فرض ہونے کا حکم

   اللہ تعالیٰ نے تحویل قبلہ کا حکم دینے کے کچھ دنوں بعد ماہِ شعبان ۲ ؁ ھ ہجری میں ہی رمضان المبارک یعنی ماہِ رمضان کے روزے بھی فرض کر دیئے اور یہ آیت نازل فرمائی۔ ( ترجمہ)’’ ماہِ رمضان وہ ہے جس میں قرآن پاک اتارا گیا۔ جو لوگوں کو ہدایت دینے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق اور باطل میں تمیز کرنے کی صاف صاف نشانیاں ہیں ۔تم میں سے جو شخص ( اپنے گھر میں) مقیم ہو۔ اسے روزہ رکھنا چاہیے۔ ہاں جو بیمار ہو یا مسافر ہو۔ اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کرنے کا ہے۔ سختی کا نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالیٰ کو دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں(عظمتیں) بیان کرو اور اس کا شکر اد ا کرو۔ ‘‘( سورہ البقرہ آیت نمبر185) اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس وقت تک ماہِ رمضان کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو صرف عاشورہ کے روزے رکھنے کا حکم دیا۔ لیکن جب ۲ ؁ ہجری ماہِ شعبان میں ماہِ رمضان کے روزے فرض ہونے کا حکم آگیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اب عاشورہ کے روزے کے متعلق اختیار ہے کہ وہ رکھیں یا نہ رکھیں۔ ‘‘

اسلام کی پہلی فیصلہ کن جنگ

   غزوہ ٔ بدر کُبریٰ اسلام کا پہلا فیصلہ کن غزوہ ہے۔ اس سے پہلے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مجاہدین کے ساتھ کئی غزوات پر تشریف لے گئے۔ لیکن یا تو مقابلہ نہیں ہوا یا پھر صلح ہوئی۔ لیکن غزوہ ٔ بدر کبریٰ پہلا غزوہ ہے۔ جس میں باقاعدہ جنگ ہوئی اور فیصلہ بھی ہوا اور یہاں سے اسلام کی عزت و شوکت کی ابتداء ہوئی۔ اور کفر اور شرک کی ذلّت کی شروعات ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین کی مدد فرمائی۔ اور ظاہری اور مادی اسباب کی کمی کے باوجود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجاہدین کی قلیل تعداد کو کافروں کی کثیر تعداد پر فتح عطا فرمائی۔ جب کہ قریش کے کافر تعداد میں زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ جنگ کے اسلحہ اور مال و اسباب سے لیس تھے۔ اور اس جنگ میں کافروں کی شکست سے کفر و شرک پر ایسی کاری ضرب لگی کہ اس کے بعد کفر و شرک سر نہیں اٹھا سکا۔ ۔ اس جنگ کے دن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ’’ یوم الفرقان ‘‘ کا دن فرمایا ہے۔ یعنی حق اور باطل کے درمیان فرق کا دن ۔ یہ جنگ رمضان المبارک میں ہوئی۔ اور روزے فرض ہونے کے بعد یہ پہلا ماہِ رمضان تھا۔

مقامِ’’ بدر‘‘ کا مختصر تعارف

   مدینہ منورہ سے لگ بھگ اسی 80کلومیٹر کے فاصلے پر مقام ’’بدر ‘‘واقع ہے۔ آج کل وہاں پر اچھی خاصی آبادی ہوگئی ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہاں ایک چھوٹا سا نخلستان ہوا کرتا تھا۔ اس نخلستان میں کئی کنویں تھے ۔ان میں سے ایک کنویں کا نام ’’بدر ‘‘ہے۔ یہ کافی مشہور تھا۔ اور بدر بن یخلد بن نضر بن کنانہ کے نام سے منسوب تھا۔(سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب نامہ ہم نے ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد ‘‘میں عدنان تک پیش کیا ہے۔ اس میں آپ کو نضر بن کنانہ کا نام نظر آئے کا۔ انھیں کا ایک پوتا بدر بن یخلد یہاں آکر بس گیاتھا۔) ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس کانام بدر بن حارث تھا۔ اس نے بدر کا کنواں کھودا تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ بدر کنویں کا نام ہے۔ جسے گول ہونے کی وجہ سے’’ بدر‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یا اسکا پانی اسقدر صاف ہے کہ اس میں چاند بھی نظر آتا ہے۔

عشیرہ کے قافلہ کی واپسی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جمادی الاول 2 ھ؁ ھجری میں غزوۂ عشیرہ پر گئے۔ یہ آپ کو یاد ہوگاکہ قریش کا ایک قافلہ مکہ مکرمہ سے شام اپنا تجارتی مال لیکر جارہا توسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ دوسو مجاہدین کو لیکر قافلے کے ارادے سے نکلے تھے۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشیرہ کے مقام پر پہونچے تو قافلہ نکل چکا تھا۔ اسلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آگئے تھے۔ اب لگ بھگ چار مہینے بعد وہی قافلہ ملک شام میں مال و اسباب فروخت کرکے منافع کما کر مکہ مکرمہ میں فروخت کر نے کیلئے کافی ما ل واسباب لیکر واپس آرہا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو قافلے کے حالات کا پتہ لگانے کیلئے شمال کی جانب (ملک شام کی طرف) روانہ فرمایا۔ یہ دونوں حضرات مقام ’’حورا ‘‘تک تشریف لے گئے اور وہیں ٹھہر ے رہے۔ جب ابو سفیان قافلہ لیکر وہاں سے گذرا تو یہ دونوں حضرات تیزی سے مدنہ منورہ پلٹے اور قافلے کو مدینہ منورہ کراس کرنے سے پہلے ہی مدینہ منورہ پہنچ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلے کا ارادہ فرمایا

   اس قافلے میں اہل مکہ مکرمہ کی بڑی دولت تھی۔ یعنی ایک ہزار اونٹ تھے جن پر کم سے کم پچاس ہزار دینار(دوسو ساڑھے باسٹھ کلو سونے) کی مالیت کا ساز و سامان لادا ہوا تھا اور ان کی حفاظت کے لئے چالیس آدمی تھے۔ اہل مدینہ کیلئے یہ سنہرا موقع تھا۔ جبکہ اہل مکہ مکرمہ کے لئے اس عظیم مال و دولت سے محرومی بڑی زبردست فوجی ،سیاسی، اور اقتصادی مار کی حیثیت رکھتی تھی۔ اسلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں اعلان فرمایا کہ قریش کا قافلہ مال ودولت لیکر آرہا ہے۔ اسلئے نکل پڑو۔ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بطور غنیمت تمھارے حوالے کردے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر روانگی ضروری قرار نہیں دی۔ بلکہ اسے محض رغبت پر چھوڑ دیا۔ کیونکہ اس اعلان کے وقت یہ توقع نہیں تھی کہ قافلے کی بجائے قریش کے لشکر کے ساتھ میدان بدر میں ایک نہایت پر زور ٹکر ہوجائے گی اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مدینہ منورہ میں ہی رہ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سفر گزشتہ عام فوجی مہمات سے مختلف نہ ہوگا اور اسی لئے اس غزوہ میں شریک نہ ہونے والوں سے کوئی باز پرس نہیں کی گئی۔

ابو سفیان نے مکہ مکرمہ والوں کو خبردی

   اس قافلہ کا سردار ابو سفیان تھا اسے اندیشہ لگا ہوا تھا کہ مدینہ منورہ سے قافلے پر حملہ ہوسکتا ہے۔ اسلئے جب وہ اپنے قافلے کے ساتھ حجاز میں داخل ہوا(عرب میں پہاڑی علاقہ ہے جو حجاز کہلاتا ہے اور میدانی علاقہ ہے اسے نجد کہتے ہیں)تو ہر راہ گیر اور مسافر سے مدینہ منورہ کے حالات اور خبریں دریافت کرتا تھا۔ یہاں تک کہ بعض مسافروں نے اسے بتایا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تیرے اس قافلے کے ارادے سے مدینہ منورہ سے نکلنے والے ہیں۔ ابو سفیان نے اسی وقت ضمضم غفاری کو اجرت دیکر مکہ مکرمہ روانہ کیا اور کہا کہ قریش سے کہنا جتنی جلدی ممکن ہو اپنے قافلے کی خبرلو اور اپنے سرمایہ کو بچانے کی کوشش کرو،کیو نکہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )اور اس کے ساتھی اس قافلے کے ارادے سے نکلے ہیں۔

 مکہ مکرمہ والوں کو خبر اور لشکر کا روانہ ہونا

   ضمضم غفاری بہت تیزی سے سفر کرتا ہوا مکہ مکرمہ پہونچا اور اپنے اونٹ کی کونچیں کاٹ دی اور اپنی قمیص پھاڑ دی اور زور زور سے آوازلگانے لگا۔ (یہ قاعدہ زمانہ جاہلیت میں تھاکہ جب کسی کو ہنگامی حالات میں بُری خبر تمام مکہ مکرمہ والوں کو سنانی ہوتی تھی تو وہ ایسا ہی کرتا تھا۔ )’’ا ے گروہ قریش !اپنے مال واسباب اور اونٹوں کو بچائو۔ جو ابو سفیان لے کر آرہا ہے۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس قافلے کوروکنے کے لئے نکلنے والے ہیںاورمجھے امیدنہیں ہے کہ تم اپنے قافلے کو بچا سکو گے۔ فریاد ۔ فریاد۔ ‘‘یہ سنتے ہی مکہ مکرمہ میں کہرام برپا ہو گیااور ہر گھر سے ایک ایک مرد ہتھیا ر کے ساتھ نکلنے لگااور قریش کا ہر فرد یہ کہہ رہا تھا :’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور اس کے ساتھی اس قافلے کو ابن حضرمی کے قافلے کی طرح سمجھ رہے ہیں۔ ( حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا سَرِیّہ آپ کو یاد ہوگا ۔ یہ اسی کا ذکر ہے) اللہ کی قسم ہر گز ایسا نہیں ہوگا۔ وہ لوگ اس مرتبہ اس کا برعکس پائیں گے۔‘‘ اب قریش کا لشکر تیار ہونے لگا۔ لگ بھگ اکثریت کا مال اس قافلے میں آرہا تھا۔ اس لئے جو لوگ اس لشکر کے ساتھ نہیں جا سکتے تھے انھوں نے پیسے دے کر اپنی جگہ کسی دوسرے کو بھیج دیا۔ ابو لہب نے اپنے بدلے عاص بن ہشام کو بھیجا اور بدلے میں اس پر چار ہزار درہم قرض تھے وہ ادا کر دیا۔ اس طرح ایک ہزار سے کچھ زیادہ کا لشکر مکہ مکرمہ سے نکلا۔ اس کا سپہ سالار ابو جہل تھا۔ قریش نہایت کر وفر او ر سامانِ عیش و طرب کے ساتھ گانے بجانے والی عورتوں اور طبلوں اور طبلچیوں کو ساتھ لے کر اکڑتے ہوئے اور اتراتے ہوئے روانہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے: ( ترجمہ)’’ اے مسلمانو! تم اُن کافروں کی طرح مت ہو جانا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور اپنی قوت و شوکت دکھاتے ہوئے نکلے۔‘‘ ( سورہ الانفال آیت نمبر 47)

سید الانبیاء ﷺ کی مدینہ منورہ سے روانگی

   ماہِ رمضان جاری تھا۔ اسلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اورتمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین روزے رکھ رہے۔ ماہِ رمضان کے روزے فرض ہونے کے بعد یہ پہلا رمضان تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ رمضان میں ہی قافلے کے ارادے سے مدینہ منورہ سے نکلے۔ محمد بن اسحاقکہتے ہیں کہ ماہِ رمضان کے چند روزے ہوجانے کے بعد نکلے اور عبدالملک بن ہشام کہتے ہیں کہ رمضان کے آٹھ روزے گذرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو نماز کا امام بنایا اور مجاہدین کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ مجاہدین کی تعداد کے بارے میں الگ الگ روایات ہیں۔ لیکن تمام روایات کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ غزوئہ بدر میں مجاہدین کی تعداد کم سے کم 313تین سو تیرہ تھی اور زیادہ سے زیادہ 320تین سو بیس تھی۔ ان میں لگ بھگ 86یا ایک دو کم زیادہ’’ مہاجرین ‘‘تھے اور باقی تمام’’ انصار ‘‘تھے۔ ان میں 61اکسٹھ یا ایک دو کم زیادہ’’ قبیلہ اوس‘‘ کے تھے اور170یا ایک دو کم زیادہ’’ قبیلہ خزرج ‘‘کے تھے۔ ان لوگوں کے پاس مکمل ہتھیار بھی نہیں تھے اور نہ ہی ہر ایک کے پاس سواری تھی۔ صرف دو گھوڑے تھے۔ ایک حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اور دوسرا حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ ستر اونٹ تھے ۔جن پر تین سو سے زیادہ افراد باری باری سوار ہوتے تھے۔سید ا لانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اونٹ پر باری باری دو صحابی رضی اﷲ عنہم سوار ہوتے تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدل چلنے کی باری آتی تو دونوں میں سے جس کی سواری کی باری ہوتی تھی تو وہ عرض کرتے تھے :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ سواری کریں، آپ کی جگہ ہم پیدل چل لیتے ہیں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے:’’ تم چلنے میں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور میں بھی اللہ تعالیٰ سے اجروثوا ب چاہتا ہوں۔‘‘(اور ان دونوں کو سوار کرکے خود پیدل چلتے تھے۔)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ

   سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم جب بیئرابی عنبہ (ایک کنواں جو مدینہ منورہ سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔) تک پہونچے تو تمام مجاہدین کا معائنہ فرمایا اور جو کم عمر تھے ان کو واپس دیا۔ پھر مقامِ روحا پر پہونچ کر حضرت ابو البابہ بن منذر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا حاکم بنا کر واپس بھیجا۔ اس لشکر میں تین علم (جھنڈے) تھے۔ ایک علم حضرت علی ابن ابی طالب کو (مہاجرین کا)سید الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا۔ دوسرا علم ایک انصار صحابی کو(انصار کا) عطا فرمایا اور تیسرا علم جو پورے لشکر کا علم تھا۔ وہ علم (جھنڈا) حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بہت شدید بیمار تھیں۔ اسلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ تم اپنی زوجہ کی تیمارداری کرو۔‘‘ اسلئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں ہی رک گئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکل کر پہاڑوں کے رمیان سفر کرتے ہوئے مقام عقیق تک پہونچے۔ وہاں سے ذی الحلیفہ تک گئے اور پھر اولات الجیش یا ذات الجیش تک پہانچے۔ اسکے بعد قربان کی طرف سفر کیا۔ پھر ملل ، مریپن، غمیش الحمام ،صخیرات الیمام، الیالہ، مٰج الروحاء سے گذرتے ہوئے شنوکہ تک پہونچے۔ جو عام راستے پر ہے۔ اسکے بعد عرق الظبیہ سے ہوتے ہوئے المنصرف پر پہونچے تو مہ مکرمہ کا راستہ چھوڑ دیا۔ اور دائیں طرف چلتے ہوئے النازیہ سے ہوکر الصفراء کے درمیان والی وادی میں قیام فرمایا۔ اس وادی کا نام رحقان ہے۔ اسکے بعد الصفراء کو بائیں جانب چھوڑ کر آگے بڑھے۔ اور ایک وادی(جس کا نام ذفران ہے) پار کرکے قیام فرما دیا۔ اس سے پہلے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صغراء کے مقام سے دو صحابہ کرام کو قافلے کی خبر لینے کے لئے آگے بھیج دیا تھا۔

ابو سفیان نے قافلے کا راستہ بدل دیا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قافلے کی خبر لانے کیلئے بھیجا تھا۔ وہ دونوں بدر کے کنویں کے پاس پہونچے اور قافلے کے بارے میں رپورٹ حاصل کرکے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹ آئے۔ ان کے بدر سے نکلتے ہی ابو سفیان قافلہ لیکر بدر پہونچا۔ ابو سفیان نے وہاں پر موجود مجدی بن عمرو سے پوچھا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے جاسوس کہیں دکھائی دئیے ہیں کیا؟ مجدی نے کہا مجھے تو سب ہی اجنبی دکھائی دئیے ہیں ۔ ہاں دو شخص کچھ جانے پہچانے لگ رہے تھے۔ انھوں نے وہاں قیام کیا تھا اور مجدی نے اس طرف اشارہ کیا جہاں دونوں صحابی رضی اللہ عنہم نے قیام کیا تھا۔ ابو سفیان اس جگہ پر گیا وہاں اونٹ کی مینگنیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اس نے چند مینگنیاں توڑیں تو ان میں کھجور کی گٹھلی نکلی۔ یہ دیکھ کر اس نے کہایہ مدینہ منورہ کا چارہ ہے اور وہ دونوں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے جاسوس تھے۔ اس نے فوراً قافلے کو کوچ کا حکم دیا۔ اور راستہ بدل کر ساحل کی طرف سے بہت تیزی سے مکہ مکرمہ ی طرف روانہ ہوگیا۔

سید الانبیاء ﷺ کا صحابہ کرام سے مشورہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کئی جاسوس روانہ فرمائے تھے۔ انھوں نے آکر بتایا کے ابو سفیان کا قافلہ بدر سے راستہ بدل کر ساحل کی طرف کے راستے سے مکہ مکرمہ جارہا ہے اور قریش کا ایک لشکر مکہ مکرمہ سے روانہ ہوچکا ہے اور دو یا تین دنوں میں مقام بدر تک پہنچ جائے گا۔ یہ تمام خبریں سن لینے کے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مجاہدین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کرکے تمام حالات ان کے سامنے رکھے اور بتایا کہ’’ اب ہمارے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ جو قافلے کی طرف جاتا ہے اور دوسرا قریش کے لشکر کی طرف جاتا ہے۔ اب تم سب لوگ مجھے مشورہ دو کہ ہمیں قافلے کی طرف چلنا چاہئے یا لشکر کی طرف چلنا چاہئے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں سے رائے مانگی فرمایا:’’ اے لوگو!مجھے مشورہ دو‘‘ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انتہائی خوبصورت انداز میں اپنے جانثاری کا اظہار فرمایااور عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جو بھی فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے ہم اسے دل و جان سے قبول کریں گے۔ ‘‘ اُن کے بعدحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے بھی اپنی جانثاری کا اظہار فرمایا اور عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی فیصلہ کریں گے ۔ ہم دل و جان سے اطاعت کریں گے۔ ‘‘

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی تقریر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے لوگو !مجھے مشورہ دو تو ان دونوں حضرات کے بعدحضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جس چیز کا ( یعنی قافلہ اور لشکرمیں سے جس کا )اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم دیا ہے۔ اس کو انجام دیں ۔ ہم سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں۔ اللہ کی قسم ! ہم بنی اسرائیل کی طرح ہر گز یہ نہیں کہیں گے کہ اے موسیٰ علیہ السلام !تم اور تمہارا رب جا کر لڑو۔ ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ بلکہ ہم بنی اسرائیل کے خلاف یہ کہیں گے کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پروردگار ( رب) جہاد اور قتال کریں گے تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جہاد اور قتال کریں گے۔ ‘‘صحیح بخاری میں اسکے آگے ہے کہ حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں سے بائیں آگے سے اور پیچھے سے لڑیں گے ۔‘‘ اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں نے دیکھا کہ اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور مسرت اور خوشی کی وجہ سے چمک اٹھا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد بن اسودرضی اﷲ عنہ کو دعائیں دیں ۔ مسند احمد میں یہ بھی ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین نے مل کر عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں کہیں گے۔ بلکہ ہم سب ہر حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں گے۔ ‘‘

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی تقریر    

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین کے جواب سے بہت خوش ہوئے ۔ اس کے باوجود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا:’’ اے لوگو!مجھے مشورہ دو۔‘‘ انصار کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے بہت اچھی عقل اور سمجھ سے نوازا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ کو سمجھ گئے۔ کیونکہ انصار نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات پر بیعت کی تھی کہ اگر کوئی مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرے گا تو ہم اس سے لڑیں گے۔ جب کہ یہاں معاملہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے باہردشمنوں کے لشکر سے مقابلہ کرنا تھا۔ یہ بات حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے سمجھ لی اور کھڑے ہو کر عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصار سے دریافت فرما رہے ہیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہاں‘‘ ( میں انصار سے مخاطب ہوں) یہ سن کر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ( انصار )آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور جاں نثاری کے بارے میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پختہ عہد اور میثاق دے چکے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے جس ارادے ( قافلہ) سے نکلے تھے اور اللہ تعالیٰ نے دوسری صورت ( قریش کے لشکر سے مقابلہ )پیدا فرمادی ہے تو اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو بہتر سمجھیں کریںاور جس سے چاہیں تعلقات ختم کرلیں اور جس سے چاہیں تعلقات قائم فرمالیں۔ جس سے چاہیں صلح کریں اور جس سے چاہیں جنگ کریں۔ ہم ہر حال میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیں گے۔ ہمارے مال میں سے جتنا چاہیں لے لیں اور جتنا چاہیں ہم کو عطا فرمائیں اور ہمارے مال کا جو حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیں گے وہ ہمارے لئے اس سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب ہوگا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے چھوڑدیں گے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ’’برک الغماد‘‘( حبشہ کا آخری علاقہ) تک جانے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جائیں گے۔ قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو سمندر میں کود پڑنے کا حکم دیں گے تو ہم اسی وقت سمندر میں کود پڑیں گے اور ہممیں کا ایک شخص بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ ہم دشمنوں سے مقابلہ کر نے میں جھجھکتے نہیں ہیں۔ بلکہ انشاء اللہ لڑائی کے وقت ہم بڑے سچے اور مقابلہ میں صبر کرنے والے ثابت ہوں گے اور ہم ( انصار) اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ چیز دکھا ئے گا کہ جس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی ہو ں گی۔ بس اللہ تعالیٰ کے نام پر ہم کو اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ ‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے میدان میں

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر بہت مسرت اور خوشی کا اظہار فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور پر سکون اوراطمینان ظاہر ہونے لگااور فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کی برکت کے ساتھ چلو۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھ سے دو جماعتوں (قافلہ اور لشکر) میں سے ایک (پر فتح) کا وعدہ فرمایا ہے۔ اللہ کی قسم!گویا اس وقت میں قوم (قریش) کی قتل گاہوں کو دیکھ رہا ہوں۔‘‘ اسکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ذفران ‘‘سے کوچ فرمایا اور آگے ان پہاڑوں پر سے چلے جن کانام’’ الاصافر ‘‘ہے۔ پھر وہاں سے’’ الدبہ ‘‘شہر سے ہوتے ہوئے ایک پہاڑ نما ٹیلے (اس کانام الحنان ہے)کو دائیں جانب چھوڑ کر بدر کے قریب جاکر قیام فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا: (ترجمہ)’’ اور اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تم سے وعدہ کیا تھاکہ کافروں کی دو جماعتوں میں سے (قافلہ یا لشکر میں سے) ایک جماعت تم کو دے گا(یعنی فتح عطا فرمائے گا۔ ) اور تم پسند کرتے تھے غیر ذی شوکت جماعت کو (یعنی قافلے کو) اور اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ حق کو اپنی آیات (نشانیوں )سے ثابت کرے۔ (یعنی غزوئہ بدر میں کافروں کو شکست دیکر ) اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ تاکہ حق کا حق ہونا ثابت ہوجائے اور باطل کا باطل ہونا ثابت ہوجائے۔‘‘ (سورہ الانفال آیت نمبر 7)

قریش کے لشکر کی تحقیقات

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے قریب قیام فرمانے کے بعد قریش کے لشکر کی تحقیقات کرنے نکلے۔ عبدالملک ابن ہشام لکھتے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور آس پاس کے علاقوں میں گھوم کر تحقیقات کرنے لگے۔ کچھ دور جاکر ایک بوڑھے سے ملاقات ہوئی تو اس سے قریش کے لشکر اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لشکر کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس بوڑھے نے کہا:’’ میں تمھیں اس وقت تک کوئی بات نہیں بتائوں گا۔ جب تک تم مجھے یہ نہ بتا دو کہ تم لوگ کن لوگوں (یعنی قریش کے ہو یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں ) میں سے ہو؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جب تم ہمیں بتا دو گے ہم تمھیں بتا دیں گے۔‘‘ (کہ ہم کن لوگوں میں سے ہیں) اس نے پوچھا:’’ کیا معاوضے میں بتائوگے؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ہاں۔ ‘‘ اس بوڑھے نے بتایا :’’ مجھے خبر ملی ہے کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) فلاں روز فلاں جگہ سے نکلے ہیں اور اگر یہ خبر سچ ہے تو محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )اوراسکے ساتھی آج فلاں مقام پر ہوں گے۔‘‘ اور اس نے وہی مقام بتایا جہاں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ قیام فرمایا تھا پھر اس نے آگے کہا :’’ مجھے خبر ملی ہے کہ قریش کا لشکر فلاں روز فلاں مقام سے آگے بڑھا ہے اور اگر یہ خبر سچ ہے تو آج قریش کا لشکر فلاں مقام پر قیام پذیر ہوگا۔‘‘ اسکے بعد اس نے پوچھا:’’ اب تم بتائو کن لوگوں میں سے ہو؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہم پانی سے ہیں‘‘ اور پلٹ آئے۔ اس بوڑھے نے پوچھا:’’ پانی سے ہیں ،کیا مطلب؟ کیا عراق کے پانی سے ہو؟‘‘ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیااور خاموشی سے چلے آئے۔

قریش کے لشکر کی تعداد کا اندازہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور چند صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو تحقیقات کیلئے بھیجا تو وہ دو افراد کو پکڑ کر لے آئے۔ اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرما رہے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان سے دریافت کیا :’’ تم کون ہو؟ ‘‘ انھوں نے بتایا :’’ ہم قریش کے غلاموں میں سے ہیں اور لشکر کے لئے پانی لینے آئے ہیں۔ ‘‘ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے سمجھا کہ یہ دونوں مذاق کررہے ہیں۔ اسلئے انھیں مارنے لگے اور کہنے لگے :’’ تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ تم دونوں ابو سفیان کے قافلے سے ہو۔‘‘ تو ان دونوں نے کہا:’’ ہاں ہم ابو سفیان کے قافلے سے ہیں۔‘‘ یہ سن کر انھیں مارنا چھوڑ دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا:’’ جب ان غلاموں نے سچ کہا تو تم نے انھیں مارا اور جب جھوٹ بولے تو چھوڑ دیا۔ اللہ کی قسم ! یہ قریش کے لشکر کے آدمی ہیں۔‘‘ اسکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا:’’ قریش (کا لشکر) اس وقت کہاں ہے؟ ‘‘ ان غلاموں نے کچھ دور پہاڑی یا ٹیلہ کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ ’’قریش کا لشکر اس ٹیلے یا پہاڑی کے پیچھے ہے‘‘۔پھر پوچھا’’ اُن کی تعداد کتنی ہے؟ ‘‘ان دونوں نے کہا :’’کتنی تعداد ہمیں اندازہ نہیں ہے۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اچھا یہ بتائو! وہ لوگ روز کھانے کیلئے کتنے اونٹ ذبح کرتے ہیں۔ ‘‘ ان دونوں نے بتایا :’’ ایک دن نو اونٹ ذبح کرتے ہیں اور ایک دن دس اونٹ ۔‘‘یہ جواب سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ان کی تعداد نو سو سے ہزار کے درمیان ہے۔‘‘ اسکے بعدسیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ان میں قریش کے کون کون سے سردار ہیں؟‘‘ ان دونوں نے بتایا :’’ ربیعہ کے بیٹے عتبہ اور شیبہ ہیں اور ابوالبختری بن ہشام ، حکیم بن حزام ، نوفل بن خویلد، حارث بن عامر ، نضر بن حارث، زمعہ بن اسود ، امیہ بن خلف اور حجاج کے دوبیٹے نبیہ اور منیہ ، سہیل بن عمرو ، عمرو بن عبدود اور ان سب کا سپہ سالار ابو جہل بن ہشام ہے۔‘‘ یہ تمام نام سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ آج مکہ مکرمہ نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو تمھاری طرف پھینک دیا ہے۔ ‘‘

ابو سفیان کا پیغام اور ابو جہل کی ضد

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام بدر پہو نچنے کے درمیان میں ابوسفیان تیزی سے راستہ بدل کر سفر کرتا ہوا مکہ مکرمہ کے قریب پہونچنے لگا تو اس نے تیز رفتار قاصد کو خط لکھ کر دیا کہ’’ تمھارا مال و اسباب حفاظت سے مکہ مکرمہ پہنچ چکا ہے۔ اسلئے تم لوگ واپس آجائو۔‘‘ جب ابو سفیان کا پیغام لیکر قاصد قریش کے لشکر میں پہونچا تو لشکر مقام بدر کے قریب پہونچ چکا تھا۔ اس قاصد نے ابو سفیان کا پیغام پہونچایا۔ اسکا پیغام سن کر بنو زہرہ اور قبیلہ بنو عدی کے سرداروں نے کہا :’’ اب ہمیں مسلمانوں سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارا مال و اسباب محفوظ ہے اسلئے ہمیں واپس جانا چاہئے۔‘‘ اسی دوران قریش کے لشکر کو یہ خبر ملی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مقام بدر کے قریب پہونچ رہے ہیں تو ابو جہل نے تمام سرداروں سے کہا:’’ اب تو اللہ کی قسم ! میں ہرگز واپس نہیں جائوں گا۔ بلکہ کل جب ہم ان سب کو قتل کر ڈالیں گے تو جس طرح عرب کے دوسرے علاقوں میں میلے لگتے ہیں۔ اس طرح ہم یہاں پر تین دن میلہ لگائیں گے اور کھانے کے لئے لاتعداد اونٹ ذبح کریں گے۔ شراب پئیں گے۔ ناچ گانے کی محفل سجائیں گے اور خوب عیش کریں گے۔ تاکہ تمام عرب قبائل پر ہماری عظمت اور شوکت کی دھاک بیٹھ جائے اور وہ ہمیشہ ہم سے ڈریں۔ ‘‘یہ سن کر تمام عرب قبائل ابو جہل کے ساتھ جانے کیلئے تیار ہوگئے۔ بنو زہرا اور بنو عدی واپس چلے گئے اور باقی تمام کافروں کا لشکر لیکر ان کا سپہ سالار ابوجہل بدر میں آیا اور ایک پہاڑی یا ٹیلے کے پیچھے پڑائو ڈال دیا۔

حضرت خباب بن منندر رضی اللہ عنہ کی رائے

   سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ میدان بدر میں پہو نچے اور ایک جگہ قیام فرمایا ۔ اس جگہ نہ کوئی کنواں تھا نہ کوئی چشمہ تھا اور وہاں کی زمین اتنی ریتیلی تھی کہ گھوڑوں کے پیر زمین میں دھنس رہے تھے۔ یہ دیکھکر حضرت خباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی الہ علیہ وسلم نے پڑائو کے لئے جس جگہ کو منتخب کیا ہے یہ اللہ کے حکم (یعنی وحی) سے کیا ہے؟ یہ پھر یہ کوئی جنگی تدبیر ہے؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں اس کے بارے میں کوئی وحی نہیں اتری ۔‘‘ یہ سن کر خباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جب کل قریش سے ہماری جنگ ہو گی تو اس کے لیئے ہمارا یہاں قیام کرمناسب نہیں ہو گا۔ بلکہ ہمارے لئے یہ بہتر ہو گا کہ ہم میدان بدر کے پار پڑائو ڈالیں۔ وہاں پانی قریب ہے ۔ ہم وہاں اس پانی کی کافی مقدارکے لئے اپنے لشکر کے بیچوں بیچ ایک حوض بنا لیں گے۔ جس سے ہمیں پانی کی کوئی تکلیف نہیں ہو گی اور قریش کے معاملے میں ہماری جنگی تدبیر انشاء اللہ بہتر ثابت ہو گی۔‘‘ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ابھی اس پر غور و فکر اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کر رہے تھے کہ جبرئیل علیہ السلام حاضر ہو ئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف کھڑے ہوئے اور عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خباب بن منذر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر عمل کریں ۔‘‘ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم خباب رضی اللہ تعالی عنہم کو جانتے ہو؟‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! انھیں تمام آسمان والے جانتے ہیں اور وہ واقعی سچے ہیں۔ ‘‘سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سن کر بہت خوشی ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خباب بن منذر رضی اللہ عنہ کے تدبیر پر عمل کرنے کا حکم دے دیا۔

قریش کا میدان بدر میں پڑائو

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خباب بن منذر رضی اللہ عنہ کے مشورے پر عمل کرنے کا حکم صحابہ کرا م رضی اﷲ عنہم کو دیا اور پڑائو اس جگہ پر ڈال دیا۔ جہا ں پر چشمے تھے۔ اللہ تعالی کیمدد آگئی اور بارش آگئی۔ اسی دوران قریش کے لشکر نے بھی میدان بدر میں ہنگامی پڑائو ڈالا اور ایک دو کنووں پر قبضہ کر لیا سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ نسبتا اونچے مقام پرتھے۔ اس لئے بارش کا پانی وہاں نہیں رکا۔ اور دوسرے دن زمین کچھ سخت ہو گئی۔ صحا بہ کرام نے لشکر کے درمیان بڑا حوض بنا لیا۔ جس کی وجہ سے اتنا پانی جمع ہو گیا کہ انھیں کئی دنوں تک کافی تھا۔ جبکہ قریش نے ایسا کو ئی انتظام نہیں کیا تھا اور وہ نسبتا نیچے علاقے میں تھے۔ اس لئے پانی نے قریش کے لشکر میں کیچڑ کا ماحول پیدا کر دیااور ان کا لشکر اتنا بڑا تھا کہ ایک دو کنواں ان کے لئے کافی نہیں تھا۔ اس طرح قریش کے مقابلے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نسبتا بہتر مقام پر تھے۔

کافروں کی قتل ہو نے کی جگہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنے چند جا نثار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ نکلے اور میدان بدر کا جائزہ لینے لگے۔ اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک چھڑی یا لکڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس چھڑی سے نشان لگاتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے :’’یہ فلاں کافر کے قتل ہونے کی جگہ ہے۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ’’ ہم نے جنگ ختم ہو نے کے بعد دیکھا کہ ٹھیک اسی جگہ پر اُن کافروں کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں جن جگہوں پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا۔ اُن میں سے کو ئی بھی لاش بال برابر آگے پیچھے نہیں تھا۔‘‘

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالی عنہ کی رائے

   بدر کے میدان میں دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے پڑائو ڈالے ہوئے تھے۔ اسی دوران حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کر کے سید الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ کسی اونچی جگہ ( کسی ٹیلے پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سائبان بنا دیا جائے۔‘‘ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمایا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یوں عرض کیا:’’ یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک سائبان بنا دیتے ہیں ۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھیں اور سواریاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تیار کھیں۔ پھر ہم دشمن سے جا کر مقابلہ کریں۔پس اللہ نے اگر ہم کو عزت دی اور دشمن پر غلبہ دیا تو یہ ہماری عین تمنا ہے اور اگر اللہ نہ چاہے اور دوسری صورت پیش آئی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہو کرہماری قوم کے باقی ماندہ افراد سے جا کر ملیں۔ہماری قوم کے جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں وہ ہم سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں ۔ اگر انھیں ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ جنگ ہونے والی ہے تو وہ ہرگز پیچھے نہیں رہتے اور شاید ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرماتااور نہایت اخلاص اور خیر خواہی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملکر کافروں سے لڑتے ۔‘‘ سید الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی رائے سن کر ان کی تعریف فرمائی اور ان کے لئے دعائے خیر کی۔ اسکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک سائبان بنایاگیا۔ یہ سائبان ایک ایسے ٹیلے پر بنایا گیا جہاں سے پورا جنگ کا میدان صاف دکھائی دے رہا تھا۔

سید الانبیاء ﷺ نے ساری رات دعا کرنے میں گذار دی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے صحابہ کرام نے جو سائبان بنایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں تشریف لے گئے اور صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ او رحضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ چند صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ باری باری سائبان پر پہرہ دیتے اور سوتے رہے۔ تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کی بشارت دی تھی۔ اسلئے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم مطمئن سوتے رہے۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات جاگتے رہے اور عبادت کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعا مانگتے رہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ بدر کی رات ہم میں سے ہر شخص سو رہا تھا۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام رات نماز اور دعا اور گریہ وزاری میں گذاردی اور اسی طرح صبح کردی۔ ‘‘یہ جمعرات اور جمعہ کے درمیان کی رات تھی اور ماہِ رمضان کی سترہ 17تاریخ تھی۔ فجر کے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نماز کیلئے آواز لگائی اور فجر کی نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کیلئے لڑنے اور جانبازی او ر سرفروشی کی ترغیب فرمائی۔ اسکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کی ترتیب فرمانے لگے۔

قریش کی تحقیق اور ان میں اختلاف

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ بدر میں اپنے لشکر کی ترتیب فرما رہے تھے تو اسی وقت قریش نے عمیر بن وہب جمعی کو مسلمانوں کے لشکر کی تحقیق کرنے کیلئے بھیجا۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوکر آیا۔ اور دور سے مسلمانوں کے گرد چکر لگاکر قریش کے لشکر کے پاس پہونچا اور بولا:’’وہ لوگ کم و بیش تین سو آدمی ہیں۔ لیکن ایک بات ان میں یہ نظر آرہی ہے کہ وہ لوگ مرنے سے نہیں ڈر رہے ہیں۔مان لو ہم نے ان سب کو قتل کردیا۔ لیکن مرنے سے پہلے ان لوگوں میں سے ہر آدمی نے ہمارے ایک آدمی کو مار ڈالا تو تین سو ہم میں سے بھی کم ہوجا ئیں گے تو پھر زندگی کا لطف نہیں رہے گا۔ اسلئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو۔‘‘ حکیم بن حزام بولا:’’یہ بالکل درست بات ہے‘‘ اور عتبہ سے کہا:’’ لوگوں کو واپس لے چلو اور حضرمی کا خون بہا تم ادا کر دو۔‘‘ عتبہ نے کہا:’’ ٹھیک ہے تم جاکر یہ خبر ابو جہل کو دے دو۔‘‘ حکیم بن حزام ابو جہل کے پاس پہونچا۔ وہ اس وقت زرہ پہن رہا تھا۔ اسے عتبہ کا پیغام دیا تو ابوجہل بہت غصّہ میں آگیا اور کہا :’’عتبہ بزدل ہوگیا ہے اور وہ اسلئے لڑنا نہیں چاہتا کہ اس کا بیٹا مسلمانوں کے لشکر میں ہے۔ اللہ کی قسم !اب ہم اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ ہمارے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے درمیان فیصلہ نہیں کردے گا۔‘‘ اور حضرمی کے بھائی کو بلاکر کہا :’’ عتبہ تیرے بھائی کا بدلہ لینا نہیں چاہتا۔‘‘ یہ سن کر حضرمی کا بھائی قریش کے لشکر سے فریاد کرنے لگا۔ جس سے قریش کے لشکر میں جوش پیدا ہوگیا۔

حضرت اسود بن غزیہ رضی اللہ عنہ کی محبت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو صف در صف کھڑا کیااور لشکر کی ترتیب فرمارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ میں ایک تیر تھا۔ اس سے صحابہ کرام کو آگے پیچھے کررہے تھے۔ حضرت سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ صف کے ذرا آگے کھڑے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ کو ازراہِ مذاق تیر ہلکا سا پیٹ میں چبھو یا اور فرمایا:’’ اے اسود رضی اللہ عنہ سیدھے صف میں کھڑے رہو۔ ‘‘حضرت اسود بن غزیہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے مجھے تکلیف پہونچائی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق دیکر بھیجا ہے اور عدل کا حکم فرمایا تو اب مجھے میرا بدلہ دیں ۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً تیر ان کے ہاتھ میں دے دیااور فرمایا:’’ تم بھی اسی طرح چبھو کر مجھ سے بدلہ لے لو۔ ‘‘حضرت اسود بن غزیہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ننگے پیٹ میں تیر چبھویا تھا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اپنی قمیص کو اوپر اٹھا کر اپنا پیٹ سامنے کر دیااور فرمایا:’’ تم بھی اسی طرح تیر چبھولو۔‘‘ حضرت اسودد بن غزیہ رضی اللہ عنہ فوراً سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور اپنا پیٹ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے پیٹ یا شکم مبارک سے رگڑ نے لگے۔ اسکے بعد عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !شاید یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میری آخری ملاقات ہواسلئے میں نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے اپنا جسم لگالوں ۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت خوشی ہوئی اور اسی خوشی میں پھر سے انھیں گلے لگالیا اور دعا ئیں دیں۔

وعدہ کی پابندی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب میدانِ بدر کی طرف تشریف لارہے تھے اور قریش کا لشکر بھی میدانِ بدر کی طرف بڑھ رہا تھا تو اتفاق سے انھوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو حیل رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا تھا اور کہنے لگے :’’ تم دونوں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد کرنے کیلئے جارہے ہو۔‘‘ ان دونوں نے انکار کیااور قریش کے شکر سے وعدہ کیا کہ ہم دونوں تم سے نہیں لڑیں گے۔ اس وعدے پر کافروں نے ان دونوں کو چھوڑ دیااور یہ دونوں حضرات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بیان کیا۔ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو صف سے نکال دیا اور فرمایا:’’تم نے کافروں سے وعدہ کیاہے تو ہم اس وعدے کی پابندی کریں گے اور تم دونوں قریش کے خلاف نہیں لڑسکتے۔ (بلکہ ایک طر ف کھڑے ہوکر جنگ دیکھو۔ حالانکہ مسلمانوں کی تعداد قریش کے لشکر کے مقابلے میں بہت کم تھی اسکے باوجود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو الگ کر کے فرمایا) ہم کو صرف اللہ تعالیٰ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘‘ غزوئہ بدر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی جالوت کے لشکر کے مقابلے کے وقت حضرت طالوت کے لشکر کی تھی۔

قریش کا میدان بدر میں آنا

   سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکر کی ترتیب اور صفیں درست کررہے تھے کہ قریش کا لشکر جس ٹیلے کے پیچھے تھا۔ وہ ٹیلہ عبور کرکے میدانِ بدر میں اتر نے لگا اور صف آرا ہونے لگا۔ یہ دیکھکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی:’’ اے اللہ تعالیٰ !یہ قریش کا لشکر ہے جو تکبر اور غرور کے ساتھ مقابلہ کرنے آیا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ !یہ تیری مخالفت کرتا ہے اور تیرے بھیجے ہو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو جھٹلاتا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ! (ہم مسلمانوںپر) اپنی وہ فتح اور مدد نازل فرما۔ جس کا تونے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے اور اے اللہ تعالیٰ !ان (کافروں ) کو ہلاک کردے۔ اسیدوران ابوجہل نے عتبہ کو اتنے طعنے دئیے تھے کہ عتبہ بھی ہتھیار سجا کر جنگ کیلئے تیار ہوگیا تھا اور قریش کے لشکر کے آگے آگے میدان بدر میں اتر رہا تھا۔ اسے دیکھکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ان لوگوں میں کسی میں بھلائی ہے تو وہ اس سرخ اونٹ والے (عتبہ بن ربیعہ اس وقت سرخ اونٹ پر سوار تھا)میں ہے۔ اگر یہ لوگ اس کی بات مان لیتے تو بچ جاتے۔‘‘ قارئین کرام !آپ کو یاد ہوگاکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں شر پسندوں سے بچنے کیلئے ایک باغ میں گھس گئے تھے۔ وہ باغ اسی عتبہ بن ربیعہ اور اسکے بھائی کا تھا۔ یہ بھی آپ کو یاد ہوگا کہ حضرت عداس رضی اللہ عنہ ان دونوں بھائیوں کے غلام تھے۔ انھوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور وہیں ہم نے یہ ذکر کیا تھا کہ جب یہ دونوں بھائی غزوئہ بدر کے لئے آرہے تھے تو حضرت عداس رضی اللہ عنہ ان دونوں بھائیوں کے پائوں پکڑ کر رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر مت جائو وہاں تم دونوں قتل ہوجائو گے۔

غزوئہ بدر کا پہلا قتل

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ بدر کے چشموں اور کنوئوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ قریش کے پاس ایک یا دو چھوٹے کنویں یا چشمے تھے۔ جو اتنے بڑے لشکر کے لئے ناکافی تھے۔ اسلئے قریش کے لوگ جب پانی کیلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دیا کہ’’ ان کو پانی دے دو۔ ‘‘جو لوگ پانی لینے آئے تھے ان میں اسود بن عبدالاسدمخزومی بھی تھا۔وہ بہت کینہ پرور آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا کہ وہ مسلمانوں کو ان کے حوض سے فائدہ اٹھانے نہیں دے گااور اسے توڑ ڈالے گا یا پھر اسی کوشش میں مر جائے گا۔ جب اس نے حوض کو توڑنے کی کوشش کی تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اسکاارادہ سمجھ گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ تیزی سے آگے بڑھے اور اسے پکڑکر کھینچا اور اس پر تلوار سے وار کیا تو اس نے بچنے کی کوشش کی اور تلوار اسکی ٹانگ پر پڑی اور ٹانگ کٹ گئی۔ اسکے بعد اس نے مقابلہ کرنے کی بجائے رینگ کر حوض تک پہونچنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی وہ حوض کے پاس پہونچا فوراً حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار سے اسکی گردن اڑادی۔

جنگ کی شروعات

   پہلے زمانے میں جنگوں میں یہ قاعدہ تھا کہ پہلے انفرادی (اکیلے اکیلے) مقابلے ہوتے تھے۔ اسکے بعد دونوں فوجیں اجتماعی طور سے ایکدوسرے سے بھڑ جاتی تھیں۔ ابو جہل نے عتبہ بن ربیعہ کو اتنا غلیظ طعنہ دیا تھا کہ وہ سن کر عتبہ بے انتہا غصہ میں آگیااور اس نے قریش کے لشکر کو مسلمانوں کے سامنے صف آرا کردیا اور اسی پر بس نہیں کیا ۔ بلکہ جنگ کی شروعات کے انفرادی مقابلوں کیلئے اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید بن عتبہ کو لیکر آگے بڑھا اور مسلمانوں کو مقابلے کی دعوت دی۔ ان تینوں سے مقابلہ کرنے کیلئے تین انصاری صحابی آگے بڑھے۔ ان تینوں میں حضرت عوف بن حارث رضی اللہ عنہ اور حضرت معوذ بن حارث رضی اللہ عنہ تھے۔ ان دونوں کی والدہ سیدہ عفراء رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تھے۔ عتبہ نے ان تینوں سے پوچھا :’’تم کون ہو؟ ‘‘انھوں نے بتایا :’’ ہم انصاری ہیں۔‘‘عتبہ نے کہا:’’ ہمیں انصاریوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔‘‘ اور بلند آواز سے بولا:’’اے محمد!(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے مقابلے کیلئے ہماری قوم میں سے ہی ہماری برابری کے لوگوں کو بھیجو۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ، اے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اے عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ آگے بڑھو۔‘‘ عتبہ کے مقابلے پر حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ ، شیبہ کے مقابلے پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور ولید بن عتبہ کے مقابلے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور پھر فریقین نے ایکدوسرے پر وار کیا۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہی وار میں شیبہ کی گردن اڑا دی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی ولید کا ایک ہی وار میں کام تمام کر دیا۔ لیکن حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ پوری طرح عتبہ پر حاوی نہ ہوسکے اور دونوں ایک دوسرے کو بری طرح زخمی کرکے گر پڑے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے فوراً آگے بڑھ کر عتبہ پر حملہ کرکے قتل کردیااور دونوں حضرات اپنے ساتھی حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لیکر آئے۔ عتبہ نے حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے پیر کاٹ دیے تھے۔ (یاد رہے حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد محترم حضرت عبداللہ کے سب سے بڑے بھائی حارث کے بیٹے ہیں۔ حارث تو آپ کو یاد ہی ہوں گے؟ چاہِ زمزم جب حضرت عبدالمطلب کھود رہے تھے تو صرف یہی حارث آپ کے ساتھ کھدائی میں مددگار تھے۔) حضرت عبیدہ بن حارث رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا مجھے شہیدوں میں شمار کیا جائے گا؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہاں ۔ ‘‘یہ سن کر حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا:’’کاش آج ابوطالب زندہ ہوتے تو دیکھتے انھوں نے جو شعر کہا تھا کہ ہم محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس وقت تک دشمنوں کے حوالے نہیں کریں گے جب تک ہم سب نہ قتل کردئیے جائیں اور اپنے بیٹوں اور بیویوں سے بے خبر ہوجائیں۔ اس شعر کے ہم زیادہ مستحق ہیں۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گریہ وازی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ اور شیبہ کے قتل کے بعد اپنی صفوں کو درست کیا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہدایت فرمائی کہ جب مشرکین تمھارے تیروں کی زد میں آئیں تب ہی تیر چلانا اور اپنے تیروں کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرنا اور جب تک وہ تمھارے تلوار کے وار کی زد میں نہ آئیں تب تک تلوار کا استعمال نہ کرنا۔‘‘ یہ ہدایات دینے کے بعد سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم سائبان کے نیچے تشریف فرما ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور سائبان کے باہر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہتھیار سے لیس پہریداری کر رہے تھے۔ سائبان کے اندر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دورکعت نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑا کر دعا مانگنے لگے اور فرمایا:’’ اے اللہ تعالیٰ !میں تیرے عہد اور وعدے کی وفا کی درخواست کرتا ہوں۔ اے اللہ! تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ ہوگی۔ اے اللہ تعالیٰ !تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ تعالیٰ ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو پھر زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر گریہ وزاری کی ایسی کیفیت طاری تھی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کبھی سجدے میں جاتے تو کبھی قاعدے میں بیٹھ کر سائلانہ اور فقیرانہ انداز میں اپنے دست مبارک پھیلا پھیلا کر دعا مانگتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگنے میں اتنے محو ہوگئے تھے کہ آس پاس کا کچھ ہوش نہیں تھا اور چادر مبارک گر گئی تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چادر اٹھا کر کاندھوں پر ڈالی اور پیچھے سے لپٹ کررونے لگے (صحیح مسلم) امام بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک پکڑ کرعرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !بس کریں !بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت زیادہ گریہ وزاری کرلی ہے۔‘‘

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی تاریخی برچھی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اِدھر سائبان میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا میں مصروف تھے۔ اُدھر میدانِ جنگ میں قریش کے لشکر میں سے سعید بن عاص کا بیٹا عبیدسر سے پائوں تک لوہے کے لباس اور ہتھیاروں سے چھپا ہوا لشکر سے باہر نکلا اور کہا :’’میں ابو کرش ہوں‘‘ اور مسلمانوں کو للکارنے لگا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ اپنی برچھی لیکر اسکے مقابلے پر مسلمانوں کی صف سے نکلے۔ انھوں نے دیکھا کہ دشمن کا پورا جسم لوہے کے لباس سے چھپا ہواہے اور صرف دونوں آنکھیں لوہے میں نہیں چھپی ہیں۔حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے نشانہ لیکر اتنی طاقت سے اپنی برچھی اسکی آنکھوں پر ماری کہ وہ آنکھوں سے پار اسکی کھوپڑی کی ہڈی میں گڑ گئی۔ وہ زمین پر گرا اورمر گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسکی لاش پر پیر رکھ کرپوری طاقت سے برچھی کو کھینچا تب وہ نکلی ۔ لیکن اسکی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ اس کا سرا مڑ گیا تھا۔ غزوئہ بدر ختم ہونے کے بعد سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برچھی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے طلب فرمالی تھی اور ہمیشہ اپنے پاس رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ برچھی خلفائے راشدین رضی اﷲ عنہم کے پاس رہی ۔ اسکے بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔ پھر جب ۷۳ ھ؁ میں حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کر دیا تو وہ برچھی’’ بنو اُمیہ‘‘ کے قبضہ میں چلی گئی۔ پھر اسکے بعد لاپتہ ہوگئی۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ادھر سائبان میں دعا کرتے جارہے تھے اور ادھر قریش نے ایک ساتھ مسلمانوں پر حملہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائوں کو قبول فرمایا اور فرشتوں کو حکم دیا اور سید الانبیاء کو تسلی دی: (ترجمہ) ’’میں(اللہ تعالیٰ) تمھارے ساتھ ہوں ۔ تم ایمان والوں کے قدم جمائو۔ میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈالتا ہوں۔‘‘ (سورہ انفال آیت نمبر ۲ ۱ ؎ )پھر اسکے بعد آگے فرمایا: (ترجمہ) ’’میں (اللہ تعالیٰ )ایک ہزار فرشتوں سے تمھاری مدد کروں گاجو آگے پیچھے (دائیں ، بائیں ) سے آئیں گے۔‘‘ (سورہ انفال آیت نمبر ۹؎ )۔اسکے بعد کچھ دیر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آنکھیں بند کیے خاموش بیٹھے رہے۔ پھر آنکھیں کھول کر سر اٹھایا اور فرمایا:’’ اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ !خوش ہوجائو! اللہ کی مدد آگئی ۔ یہ جبرئیل علیہ السلام (فرشتوں کے ساتھ ) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے چلے آرہے ہیں اور گردو غبار میں اٹے ہوئے ہیں۔‘‘ اسکے بعد سید الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم سائبان سے باہر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ پہن رکھی تھی اور آگے بڑھتے ہوئے فرما تے جارہے تھے:’’ بہت جلد یہ(قریش کا) گروہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا۔‘‘ اور میدانِ جنگ میں پہونچ گئے۔

سید الانبیاء ﷺ کا جوابی حملہ اور حضرت عمیر کا شوقِ شہادت

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میدان جنگ میں پہونچے تو مسلمان بڑھ بڑھ کر حملے کررہے تھے اور ان کی مدد فرشتے کررہے تھے۔ جبکہ قریش کی تعدادزیادہ ہوتے ہوئے بھی وہ سراسیمگی کا شکار تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو جوابی حملے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:’’ شُدُّو‘‘یعنی ’’مقابلہ کرو یا حملہ کرو یا چڑھ دوڑو۔ قسم ہے اس ذات کی کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے۔ ان (کافروں ) سے جو مسلمان ڈٹ کر ، ثواب کی نیت سے، آگے بڑھکر اور پیچھے نہ ہٹتے ہوئے لڑے کا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جنت میں داخل فرمائے گا۔ اس کی جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہوگی۔ ‘‘حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ نے سنا تو عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا جنت کی چوڑائی زمین و آسمان کے برابر ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد نے فرمایا:’’ ہاں۔‘‘ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا’’ واہ ، واہ بہت خوب۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے عمیر رضی اللہ عنہ !تم نے ایسا کس لئے کہا؟ ‘‘ انھوں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اس امید پر کہا کہ شاید اس جنت میں میرا داخلہ بھی ممکن ہو جائے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بشارت دیتے ہوئے فرمایا:’’ اے عمیر رضی اللہ عنہ !بیشک تم اس جنت میں داخل ہوگے۔‘‘ حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ نے جب یہ بشارت سنی تو اس وقت (جنگ کے دوارن کچھ مہلت کے وقت میں کھانا کھارہے تھے) کھجوریں کھارہے تھے۔ اس بشارت کے سنتے ہی کھجوریں رکھ دیں اور فرمایا:’’ اب میں اس جنت میں جلد از جلد داخل ہونا چاہتا ہوں اور میرے پاس اب کھجوروں کے کھانے کا وقت بھی نہیں ہے۔‘‘ (میرے اور اور جنت کے درمیان میں یہ کھانا آرہا ہے۔) اور میدانِ جنگ میں انتہائی جوش خروش سے کافروں پر حملہ کر دیااور مسلسل لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔

جنگ اپنے پورے شباب پر اور مسلمان حاوی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہو ش و حواس سے صرف دفاعی جنگ لڑنے کا حکم دیا تھا اور سائبان میں چلے گئے تھے۔ اسی لئے تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم صبر اور احتیاط اور ہوش سے میں رہ کر صرف مشرکوں کے وار سے بچ رہے تھے اور جب انھیں یہ یقین ہوتا کہ میرے اس حملے سے یہ مشرک مر جائے گاتب ہی حملہ کررہے تھے۔ جب کہ مشرکوں نے اندھا دھند صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم پر حملہ کردیا تھا اور مسلسل وار کرکے اپنے طاقت کو ضائع کررہے تھے۔ وہ لوگ صرف جوش سے لڑرہے تھے۔ کیونکہ انھیں یقین تھا کہ وہ پہلے ہی ہلّے میں مسلمانوں کا صفایا کردیں گے۔ ان مشرکوں کے مقابلے میں مسلمان ہوش میں رہ کر صبر سے اپنا بچائو کررہے تھے اسلئے مسلمان تازہ دم تھے جبکہ مشرکین تھکان کا شکار ہونے لگے۔ اسی وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سائبان سے باہر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زرہ پہنی ہوئی تھی اور مسلمانوں کو آگے بڑھ کر جوابی حملے کا حکم دے۔ (اسکا ذکر اوپر آچکا ہے) تو تازہ دم مسلمانوں نے انتہائی جوش سے ایک ساتھ حملہ کیا اور قریش کے کافروں کے سر کٹ کٹ کر گرنے لگے۔ صحابہ کرام رضوان ا للہ علیہم اجمعین صفوں کی صفیں درہم برہم کرتے جارہے تھے اور گردنیں کاٹتے جارہے تھے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس خود میدان جنگ میں موجود تھے اور مسلمانوں کو حوصلہ بڑھا رہے تھے اور مسلمان بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ فرشتے بھی حملے کررہے تھے اور کافروں کو قتل کرہے تھے۔

فرشتوں کے مقتول

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کافروں کو قتل کررہے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ فرشتے بھی کافروں کو قتل کررہے تھے۔ حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بدر کے دن ہم نے دیکھا کہ ہم میں کا کوئی شخص جب کسی مشرک پر تلوار پر حملہ کرتا تو تلوار اس مشرک تک پہونچنے سے پہلے ہی اس کا سر کٹ کر زمین پر گر جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان ایک مشرک کی طرف تلوار سے حملہ کرنے کیلئے دوڑا تو اوپر سے ایک کوڑا مارنے کی آواز آئی۔ ایک گھوڑے سوار کی آواز سنائی دی :’’ اے حیزوم! آگے بڑھ۔ ‘‘ (حیزوم جبرئیل علیہ السلام کے گھوڑے کا نام ہے)اسکے بعد جیسے ہی اس مشرک پر نظر پڑی تو دیکھتے ہیں کہ وہ مشرک زمین پر چت مرا پڑا ہے اور اسکی ناک اور چہرہ کوڑے کی ضرب سے پھٹ کر نیلا ہوگیا ہے۔ اس انصاری صحابی نے آکر تمام واقعہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ تیسرے آسمان کی مدد تھی۔‘‘ (فتح الباری) حضرت ابو داود مازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں ایک مشرک کو مارنے کیلئے دوڑا اور تلوار سے اس کی گردن پر وار کرنا چاہا تو میری تلوار اس کی گردن تک پہونچنے سے پہلے ہی اسکا سر کٹ کر گر گیا۔ میں سمجھ گیا کہ اسے میری بجائے کسی اور نے مارا ہے۔ ایک انصاری صحابی حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو قید کر کے لائے (حضرت عباس بن عبدالمطلب اس جنگ میں شامل ہونا نہیں چاہتے تھے ۔لیکن ابو جہل اور دوسرے قریشی سردار آپ رضی اللہ عنہ کو زبردستی ساتھ میں لیکر آئے تھے۔ اس وقت تک آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ) تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے :’’ اللہ کی قسم !اس نے مجھے قید نہیں کیا ہے۔ مجھے تو ایک بغیر بال والے آدمی نے قید کیاہے جو بہت خوبصورت تھا اور ایک چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا اور اب وہ مجھے تم لوگوں میں دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘ انصاری صحابی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !انھیں میں نے قیدکیاہے ۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ خاموش رہو!(انھیں قید کرنے میں )ا للہ تعالیٰ نے ایک بزرگ فرشتے کے ذریعے تمھاری مدد فرمائی ہے۔ ‘‘

حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی تلوار

   حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اس دن آگے بڑھ بڑھ کر اپنی تلوارسے حملہ کررہے تھے اور کافروں کو قتل کررہے تھے کہ ان کی تلوار ٹوٹ گئی ۔ وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ٹوٹی ہوئی تلوار بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلانے کے لئے استعمال کی جانے والی لکڑیوں میں سے ایک لکڑی عنایت فرمادی اور فرمایا :’’ اے عکاشہ! اِسی سے جنگ کرو۔‘‘ انھوں نے وہ لکڑی اپنے ہاتھ میں لی اور اُسے لہرایاتو یہ دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ گئے کہ وہ لکڑی ایک چمکتی ہوئی تلوار بن چکی تھی۔ اسکے بعد حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے اسی سے جنگ کی۔ انھوں نے اسکا نام’’ العون‘‘ رکھا۔ غزوۂ بدر ہوجانے کے بعد بھی آپ رضی اللہ عنہ اس تلوار کو ہمیشہ اپنے پاس ہی رکھتے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ ہر جنگ میں اسی تلوار کے ساتھ شریک ہوتے تھے۔ خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ مرتدوں سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے تب بھی وہ تلوار آپ رضی اللہ عنہ کے پاس تھی۔

ابوالبختری کا قتل

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی تھی کہ ابوالبختری بن ہشام کا قتل نہ کیا جائے بلکہ گرفتار کیا جائے۔ (اسکی وجہ یہ تھی کہ ابو البختری مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ضرور رہا لیکن اس نے کسی مخالفانہ سرگرمی میں حصہ نہیں لیا تھا) میدانِ جنگ میں اسکا سامنا حضرت مجذر بن ذیادبکوی رضی اللہ عنہ سے ہوا اور وہ آپ رضی اﷲ عنہ کے مقابلے پر آیا تو انھوں نے کہا:’’ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تمھیں قتل نہ کیا جائے ۔‘‘اس نے پوچھا :’’ میرے ساتھ میرا ساتھی میرے محافظ کی حیثیت سے ہے۔اسکے بارے میں کیا حکم ہے؟ ‘‘حضرت مجذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اسکے بارے میں کوئی حکم نہیں ہے۔‘‘ یہ سن کر ابوا لبختری بولا :’’ اگر میں نے اپنے ساتھی کو یوں ہی چھوڑ دیا اور وہ مارا گیا تو مکہ مکرمہ کی عورتیں کہیں گی کہ میں نے اپنے ساتھی کو تمھارے رحم و کرم پر چھوڑ دیا اور یہ میں نے اپنی جان بچانے کیلئے کیا۔‘‘ اتنا کہہ کر اس نے اور اسکے محافظ نے ایک ساتھ حضرت مجذر رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دونوں کا مقابلہ کیا اور دونوں کو قتل کردیااور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر تمام واقعہ عرض کردیا۔

شاہت الوجوہ

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب سائبان سے باہر آئے تو جنگ اپنے پورے شباب پر تھی۔ اس وقت تک قریش کے مشرکین بڑھ بڑھ حملے کر رہے تھے اور مسلمان اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق صرف اپنا بچائو کر رہے تھے۔ اس لئے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سائبان سے باہر آئے تو تب تک قریش کے کافر تھکان کا شکار ہونے لگے تھے اور ان کے مقابلہ میں مسلمانوں نے اپنی طاقت کو بچا کر رکھا تھا اسلئے وہ تازہ دم تھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی حملے کا حکم دیا اور مسلمان کی حوصلہ افزائی کرنے لگے تو مسلمانوں میں نیا جوش بھر گیا۔ وہ تھکے ہوئے مشرکین پر ٹوٹ پڑے اور اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرئیل امین کے ایک اشارے پر ایک مٹھی ریت(بالو)یا مٹی اٹھا کر قریش کے لشکر کی طرف پھینکی اور فرمایا: ’’شاہت الوجوہ‘‘ (چہرے بگڑ جائیں) وہ ایک مٹھی قریش کے لشکر کے ہر سپاہی کی آنکھ میں گئی اور نتیجہ یہ رہا کہ کافروں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بھاگنے لگے۔ مسلمان ان کا پیچھا کرکے قتل کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بارے میں قرآن پاک میں فرمایا:(ترجمہ) ’’وہ ایک مٹھی مٹی جو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پھینکی تھی۔دراصل وہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے نہیں پھینکی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی تھی۔‘‘ (سورہ الانفال آیت نمبر ۱۷؎)یعنی یہ کہ پھینکی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تھی لیکن کافروں کی آنکھوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے پہونچائی۔ کچھ روایات میں ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مٹی پھینکی تھی اور کچھ روایات میں ہے کہ تین مرتبہ پھینکی تھی۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

مدینہ منورہ کے دو نوجوان بہادرو ں کا ابوجہل پر حملہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے اسلام وہاں پہونچ چکا تھا اور مدینہ منورہ والوں کو یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ پچھلے دس بارہ برسوں سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ کے کافروں نے بہت ستایا ہے اور بہت تکلیفیں پہونچائی ہیں اور ان میں سب سے آگے ابوجہل تھا۔ دو نوجوان بھائی حضرت معاذ بن حارث رضی اللہ عنہ اور حضرت معوذبن حارث رضی اللہ عنہ (ان دونوں کی والدہ کا نام عفراء ہے)نے یہ فیصلہ کیا کہ جب بھی ہمیں موقع ملے گا ۔ ہم ضرور ابو جہل کو قتل کریں گے۔ غزوئہ بدر میں یہ دونوں نوجوان لڑکے شامل تھے اور ان دونوں کا مقصد صرف ابوجہل کو قتل کرنا تھا۔ چونکہ وہ دونوں شکل سے ابوجہل کو نہیں پہنچانتے تھے۔ اسلئے مہاجر مسلمانوں سے جنگ دوران پوچھ رہے تھے کہ ابوجہل کون ہے؟ اس وقت ابوجہل اپنے ’’حفاظتی دستے ‘‘(باڈی گارڈوں ) کے گھیرے میں تھا اور مسلمانوں کی کافی کوشش کے باوجود وہ محفوظ تھااور مسلمان اسے کوئی نقصان نہیں پہونچا پارہے تھے۔ صحیح بخاری میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ غزوئہ بدر میں صف کے درمیان کھڑا تھا۔ میرے دائیں بائیں دو نوجوان لڑکے کھڑے تھے۔ انھیں دیکھ کر مجھے حیا آئی کہ میں بچوں کے درمیان کھڑا ہوں۔ اسی وقت ایک نوجوان نے میرے کان میں کہا:’’ چچا جان !اگر آپ ابوجہل کو پہنچانتے ہیں تو مجھے بتائیے کہ وہ کون ہے ؟‘‘یہی بات دوسرے نوجوان نے بھی کہی۔ میں نے پوچھا :’’تمھیں ابوجہل سے کیا کام ہے؟ ‘‘ ان دونوں نوجوانوں نے الگ الگ ایک ہی بات کہی :’’ میں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیاہے کہ جب بھی موقع ملا تو ابو جہل کو ضرور قتل کروں گایا اس کے ہاتھوں خود مارا جائوں گا۔ اسلئے کہ مجھے (ان دونوں کو) خبر ملی ہے کہ مکہ مکرمہ میں ابو جہل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہونچانے میں سب سے آگے رہتا تھا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے۔ اگر ابوجہل کا اور میرا سامنا ہوگیا تو جب تک ہم دونوں میں سے ایک مر نہ جائے گا تب تک میںاس سے الگ نہیں ہوں گا۔‘‘ان دونوں نو جوان بچوں کی بات سن کے میرے دل میں یہ آرزو نکل گئی کہ کاش میں دولڑکوں کے بجائے دومردوں کے درمیان صف میں کھڑا ہوتا ۔ بلکہ ان نوجوانوں کا حوصلہ دیکھکر مجھے بے انتہا خوشی ہوئی۔ کچھ دیر بعد میں نے ابوجہل کو دیکھا (وہ اپنے حفاظتی دستے کے درمیان تھا۔ ) میں نے ان دونوں نوجوان کو ابو جہل کی طرف اشارہ کرکے بتایا کہ’’ یہ ابوجہل ہے۔‘‘ میرے اشارے کو دیکھتے ہی وہ دونوں نوجوان شکرے اور باز کی طرح صف توڑ کے نکل گئے اور ابو جہل تک پہونچنے کے لئے اس کے حفاظتی دستے پر ٹوٹ پڑے۔ ‘‘

ابوجہل پر تیسرے نوجوان کو حملہ

   سیرت النبی ابن ہشام اور تاریخ امم و الملوک (تاریخ طبری) میں ہے کہ حضرت معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے سنا کہ’’ ابوجہل کے حفاظتی دستے (باڈی گارڈوں) کی وجہ سے اس تک پہونچنا بہت مشکل ہے‘‘ تو انھوں نے طئے کر لیا کہ وہ ہر حال میں اس بد بخت کے گرد حفاظتی دستے کو توڑ کر ضرور اس تک پہونچے گے اور موقع پاتے ہی اس پر جھپٹ پڑے۔ یہ موقع انھیں اس وقت ملا جب دونوں بھائیوں نے ابوجہل کے حفاظتی دستے پر حملہ کیا تو ابوجہل کے گرد کا حفاظتی گھیرا ٹوٹ گیا اور ان دونوں نوجوانوں سے پہلے حضرت معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ اس بد بخت تک پہونچ گئے اور تلوار سے اس پر حملہ کیا جو ابوجہل کی ٹانگ پر پڑا اور اسکی ٹانگ کٹ گئی۔ ابو جہل کے بیٹے عکرمہ بن ابوجہل (فتح مکہ کے و قت اسلام قبول کیا) نے اپنے باپ کی کٹی ٹانگ دیکھی تو حضرت معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا اس وار سے حضرت معاذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا بازو کندھے سے لٹک گیا۔ انھوں نے پلٹ کر عکرمہ بن ابوجہل پر حملہ کیا تو وہ بھاگااور آپ رضی اللہ عنہ اسکے پیچھے دوڑے اسی دوران دونوں نوجوان بھائی حضرت معاذ بن حارث رضی اللہ عنہ اور حضرت معوذ بن حارث رضی اللہ عنہ ابو جہل تک پہونچ گئے اور اس پر لگاتار حملے کرنے لگے۔ وہ بدبخت اپنی کٹی ٹانگ کے ساتھ ان دونوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ ان دونوں کے وار اس پر برابر پڑتے رہے اور آخر کار وہ زمین پر گر گیا اور دونوں اپنی دانست میں اسے مرا ہوا سمجھ کر چھوڑ کر چلے گئے۔ حضرت معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ جب عکرمہ بن ابوجہل کو نہیں پاسکے تو واپس جنگ میں مصروف ہوگئے۔ ان کا کٹا ہوا ہاتھ لڑنے میں تکلیف دینے لگا تو کٹے ہوئے ہاتھ پر اپنا پیر رکھ کر کھینچا تو جس چمڑے سے ہاتھ لٹک رہا تھا وہ ٹوٹ گیا۔ اور آپ رضی اللہ عنہ پھر سے لڑنے میں مصروف ہوگئے۔اسی دوران ابوجہل کے پاس سے گذرے تو دیکھا کہ اس میں کچھ زندگی کی رمق باقی ہے تو اس پر وار کیا تو وہ بیہوش ہوگیا اور آپ رضی اللہ عنہ اپنی دانست سے اسے مرا ہوا سمجھ کر آگے بڑھ گئے۔ ہم نے یہ واقعہ تھوڑا تھوڑا صحیح بخاری ، تاریخ طبری ، سیرت النبی ابن ہشام سے لیکر مکمل کیاہے۔ ان روایتوں کی شرح میں حافظ علامہ عسقلانی نے لکھا ہے کہ عفراء کے دونوں بیٹوں (یعنی معاذ بن حارث اور معوذ بن حارث) کے ساتھ حضرت معاذ بن عمرو بن جموح بھی ابوجہل کے قتل میں شریک تھے۔ بلکہ زیادہ کاری وار انھوں نے کئے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ‘‘

ابوجہل کی لاش کی تلاش

   غزوہ ٔ بدر ختم ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولوں میں ابو جہل کی لاش تلاش کرنے کا حکم دیا تو تمام صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین اس کی لاش ڈھونڈنے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے فرمایا:’’ اگر وہ ( چہرے سے ) پہچانا نہ جاسکے تو اس کے گھٹنے پر ایک زخم کا نشان دیکھو۔ کیوں کہ لڑکپن میں ایک دن عبداللہ بن جدعان کے یہاں دعوت میں اس نے مجھ پر حملہ کر دیا تھا۔ حالانکہ میں اس وقت اس کے مقابلے میں دبلا پتلا تھا ۔ پھر بھی میں نے اپنا بچائو کر کے اسے دکھیلا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل گر گیا تھا اور اس کے ایک گھٹنے پر زخم آگیا تھا۔ جس کا نشان ابھی بھی اس کے گھٹنے پر موجود ہے۔‘‘ سب لوگ تلاش کرنے لگے تو وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ملا۔ انھوں نے غور سے دیکھا تو اس میں زندگی کی رمق باقی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ اسے دیکھ کر مجھے وہ دن یاد آگیا جب مکہ مکرمہ میں اس نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی تھی اور مُکّے مارے تھے۔ میں نے اس کی گردن پر پائوں رکھ دیا تو اس نے آنکھ کھول کر میری طرف دیکھا تو میں نے کہا :’’ اے اللہ کے دشمن !کیا اللہ تعالیٰ نے تجھے رسوا ء نہیں کیا؟ ‘‘ اس نے جواب دیا :’’ مجھے کس بات نے ذلیل کیا؟ کیا تم نے مجھ سے بھی زیادہ عزت والے کو اس سے پہلے کبھی قتل کیا ہے؟ ‘‘

ابو جہل کا گھمنڈ آخری وقت بھی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر جب ابو جہل کو تلاش کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے پاس پہنچے تو ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ میں ابوجہل کے سینہ پر چڑھ کر بیٹھ گیا تو اس نے آنکھیں کھولیں اور کہا:’’ اے بکریاں چرانے والے ! تُوبہت اونچے مقام پر چڑھ کر بیٹھ گیا ہے۔ ‘‘میں نے کہا : ’’ تمام تعریف اُس اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے مجھ کو یہ قدرت دی ہے۔‘‘ پھر اس نے پوچھا : ’’ کس کی فتح ہوئی ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا:’’ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح ہوئی ہے۔‘‘ اس نے پوچھا :’’ اب تیرا کیا ارادہ ہے؟ ‘‘ میں نے کہا :’’ تیرا سر کاٹنے کا ارادہ ہے۔ ‘‘ اس نے کہا :’’یہ میری تلوار ہے اس کی دھار بہت تیز ہے اِس سے میرا سر کاٹنا اِس سے تیری مراد اور مدعا جلدی پورا ہو گا اور میرا سر شانوں کے پاس سے کاٹنا تاکہ دیکھنے والوں کو ہیبتناک لگے اور دوسرے سروں سے اونچا ہو اور جب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس واپس جانا تو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ میرے دل میں آج کے دن پہلے سے بھی زیادہ ’’بغض و عداوت ‘‘اور’’ دشمنی ‘‘ہے۔‘‘ اس کے بعد میں نے اس کا سر کاٹ لیا اور لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور تمام واقعہ سنا کر اس کا پیغام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ اللہ اکبر ‘‘فرمایا اور آگے فرمایا: ’’ یہ میرا اور میری اُمت کا فرعون تھا جس کا شر اور فتنہ اور گھمنڈ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرعون سے زیادہ تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرعون نے تو مرتے وقت اللہ کو معبود اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسول تسلیم کر لیا تھا۔ مگر اس فرعون نے مرتے وقت بھی کفر اور تکبر و گھمنڈ اور اللہ کے رسول سے دشمنی کے کلمات کہے ہیں۔‘‘ اور ابوجہل کی تلوار حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی۔ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب ابو جہل کا سر لا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے یہ ابو جہل کا ہی سرہے ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے اسلام کو اور ایمان والوں کو عزت بخشی ۔ ‘‘بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ ٔ شکر بھی ادا فرمایا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔

اُمیہ بن خلف کے قتل کی پیشن گوئی

   اُمیہ بن خلف آپ کو یاد ہو گا۔ یہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا آقا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ پر بہت ظلم کرتا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خرید کر آزاد کر دیا تھا۔ یہ ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ یہ بھی آپ کو یاد ہو گا کہ یہ امیہ بن خلف ، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا دوست تھا اور جب آپ رضی اللہ عنہ عمرہ کرنے تشریف لائے تھے اور طواف کررہے تھے تو ابو جہل نے آپ رضی اللہ عنہ سے بحث کی تھی۔ یہ بھی ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ جب دونوں کی بحث چل رہی تھی تو امیہ بن خلف نے کہا تھا : ’’ اے سعد بن معاذ ! ( رضی اللہ عنہ ) ابو جہل سے اس طرح بات مت کرو یہ ہمارا سردار ہے۔ ‘‘حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا : ’’ اے امیہ بن خلف ! تُو ہمارے ہاتھوں جنگ میں مارا جائے گا۔کیوں کہ تیرے بارے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ہے۔‘‘ غزوۂ بدر کے لئے جب قریش نکلنے لگے تو وہ چلنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ ابو جہل نے اس سے کہا: ’’ اے ابو صفوان ! ( امیہ بن خلف کی کنیت ہے) تم اس وادی کے سردار ہو ۔ اگر تم پیچھے ہٹ جائو گے تو دوسرے لوگ بھی پیچھے ہٹ جائیں گے۔‘‘ ابو جہل مسلسل اصرار کرتارہا۔ آخر کار امیہ مجبور ہو گیا تو کہا :’’ اللہ کی قسم میں بہت تیزرفتار اونٹ خریدوں گا تا کہ موقع ملے تو راستہ ہی سے واپس آجائوں گا اور اپنی بیوی اُم صفوان سے کہا کہ سفر کی تیاری کردو تو اس نے کہا : ’’ تم اپنے یثربی ( مدینہ منورہ کے ) بھائی ( حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ) کی بات بھول گئے ہو کیا؟ ‘‘اُمیہ نے کہا : ’’ نہیں مجھے خوب یاد ہے۔ میں تھوڑی دور تک ساتھ جاتا ہوں اور پھر موقع پا کر واپس آجائوں گا۔ اسی طرح تمام منزلیں طے کرتا ہوا میدان بدر تک پہنچ گیا۔ ‘‘

اُمیہ بن خلف کا قتل

   غزوۂ بدر میں جب مسلمان حاوی ہوگئے اور قریش بھاگنے لگے ۔ اُس وقت اُمیہ بن خلف نے اپنی جان بچانے کے لئے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مدد مانگی۔ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ سے مکہ مکرمہ میں اس کی دوستی تھی۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ مالِ غنیمت کے طور پر چند زرہیں لے کر جا رہے تھے۔ انھوںنے زرہیں رکھ دیں اور اُمیہ کا ہاتھ پکڑ کر لے جانے لگے۔ اسی وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اُمیہ کو دیکھ لیا۔ اُمیہ مکہ ٔ مکرمہ میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بہت تکلیفیں دیتا تھا۔ اسے دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے انصار کو بلایا اور اُمیہ پر حملہ کر دیا۔ حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اُمیہ کو پیچھے کر لیا اور کہا : ’’ یہ میری پناہ میں ہے۔‘‘ لیکن حضرت بلال رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ تو حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اُمیہ کو زمین پر لٹا کر اس کے اوپر چھا گئے تاکہ وہ بچ جائے مگر انصار اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے ایسی حالت میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کے نیچے دبے ہوئے اُمیہ کو قتل کر دیا۔ حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ’’ اللہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے۔ میری زرہیں بھی گئیں اور قیدی بھی گیا۔ ‘‘

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا تاثر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سائبان کے نیچے تشریف فرما تھے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ حفاظت کے خیال سے داہنی طرف کھڑے ہوئے تھے اور میدانِ جنگ کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس وقت تک کافروں کے پیر اکھڑ چکے تھے۔ کیوں کہ ان کے بڑے بڑے سردار اور سپہ سالار قتل ہو چکے تھے۔ اس لئے وہ صرف اپنی جان بچانے کی فکر میں تھے اور مسلمان انھیں قتل کر رہے تھے اور گرفتار کر رہے تھے اور مالِ غنیمت جمع کر رہے تھے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمان کافروں کو گرفتار کر رہے ہیں تو اُن کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات ظاہر ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر نظر ڈالی تو اندازہ لگا لیا اور فرمایا: ’’ اے سعد ! ( رضی اللہ عنہ) ایسا لگتا ہے کہ قریش کو گرفتار کرنے سے تمہیں ناگواری ہو رہی ہے۔‘‘ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جی ہاں اللہ کی قسم !یہ پہلا موقع ہے جب اللہ تعالیٰ نے مشرکوں ( کافروں) کو ذلیل کیا ہے۔ ( اور مسلمانوں کو عزت بخشی ہے) میرے خیال میں اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں ( کافروں) کا قتل کرنا اُن لوگوں کو گرفتار کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور اُن کو قتل کرنا مجھے زیادہ پسند ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ کی طرف دیکھا اور مسکرا دیئے۔ در اصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم’’ رحمت اللعالمین ‘‘ہیں۔ اللہ تعالٰ نے انھیں تمام عالَموں کے لئے رحم کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دشمنوں کو بھی معاف کر دیتے تھے اور اُن پر رحم فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمانے والا بھی ہے اور جلال و الااور جبّار بھی ہے اور اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم بھی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ اپنے بندے کے جو گناہ چاہے معاف فرمادے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ہر گناہ کو معاف فرمادے گا۔ لیکن شرک معاف نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: (ترجمہ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ شرک معاف نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ دودسرے گناہ معاف کر دیتا ہے جس کو معاف کرناچاہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے( یعنی کُفر کیا) اس نے بہت ہی بڑا جُرم کیا۔‘‘ ( سورہ النساء آیت نمبر 48)

غزوۂ بدر میں فتح اور مسلمان شہدا ء

   غزئوہ بدر میں کافروں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ جن میں سے چند کا ذکر ہم نے اوپر کیاہے۔ اسکے بعد کافروں کے پیر اکھڑ گئے اور وہ بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے کچھ دور تک تعاقب کرکے کافروں کو قتل کیا اور گرفتار کیا۔ کل ملاکر کافروں کے لشکر میں سے 70لوگ قتل ہوئے اور 70لوگ قید کئے گئے۔ باقی تمام کافر مکہ مکرمہ واپس بھاگ گئے۔ یہ ماہ رمضان کی سترہ ۱۷ تاریخ تھی اور ۲ھ؁ھجری تھی اور اکثر روایات میں آیا ہے کہ جمعہ کا دن تھا۔جنگ ختم ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا کہ مسلمان شہداء کو تلاش کریں۔ تلاش کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ چودہ 14 صحابہ کرام رضی اللہ عنھم شہید ہوئے ہیں۔ ان میں چھ6مہاجرین اور آٹھ8انصار ہیں۔ ان کہ نام یہ ہیں۔ (1) حضرت عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ )یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔ عتبہ کے حملے سے ان کی ٹانگ کٹ گئیں تھی اسی کی وجہ انتقال ہوا۔ ) (2) حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ(یہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں۔ ان کی عمر سولہ سال سے بھی کم تھی۔ مدینہ منورہ سے کچھ دور آنے کے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کم عمر والوں کو واپس بھیج دیا ۔ لیکن حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مچل گئے اوررونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلنے کی اجازت دے دی۔ غزئوہ بدر سے پہلے کی رات میں انھوں نے اللہ تعالیٰ سے شہادت کی دعا کی تھی جو اللہ تعالیٰ نے قبول کی) (3) حضرت عاقل بن ابی بکیر رضی اللہ عنہ (4) حضرت مہجع رضی اللہ عنہ (یہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں۔ انھیں آپ رضی اللہ عنہ نے آزاد کردیا) (5) حضرت صفوان بن بیضاء رضی اللہ عنہ (6) حضرت مبشر بن عبدالمنندر رضی اللہ عنہ (7) حضرت حارث بن سراقہ رضی اللہ عنہ (8) حضرت عوف بن حارث رضی اللہ عنہ (ان کی والدہ سیدہ عفراء رضی اللہ عنہا ہیں۔انھیں عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ بھی کہا جاتا ہے (9)معوذ بن حارث رضی اللہ عنہ (یہ بھی سیدہ عفراء رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں اور انھیں بھی معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہیں) (10) حضر ت عمیر بن حمان رضی اللہ عنہ (انھوں نے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی بشارت سنی تو کھجوریں کھارہے تھے۔ انھوں نے کہا یہ کھجوریں میرے اور جنت کے درمیان حائل ہیںاور انھیں چھوڑ کر کافروں پر ٹوٹ پڑیاور شہید ہوگئے) (11) حضرت رافع بن معلی رضی اللہ عنہ (12) حضرت زید بن حارث بن فہم رضی اللہ عنہ (13) ان کا نام نہیں معلوم ہے۔ امام زرقانی نے شرح علی المواہب میں حضرت سعد بن خیشمہ کا نام ذکر کیا ہے۔

 کافروں کے مقتولین اور گرفتار شدگان کے نام

   غزوہ بدر میں ستر کافر قتل ہوئے اور ستر کو گرفتار کیا گیا۔ تمام لوگوں کے نام ہم یہاں نہیں دے سکتے۔ کیوں کہ ہم مختصراً سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر رہے ہیں۔ تمام ناموں کو جاننے کے لئے سیرت کی ضخیم کتابوں کی طرف رجوع کریں۔ ہم یہاں چند خاص لوگوں کے نام پیش کر دیتے ہیں۔ مقتولین میں عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، عاص بن ہشام، ابو جہل( نام عُمر) بن ہشام، ابو البختری ، حنظلہ بن ابو سفیان، حارث بن عامر ، طعیمہ بن عدی، زمعہ بن اسود، نوفل بن خویلد، نصر بن حارث، عقبہ بن ابی معیط، عاص بن ہشام بن مغیرہ، امیہ بن حلف، علی بن اُمیہ بن خلف، منبہ بن حجاج اور معبد بن وہب۔ جن کافروں کو قید کیا گیا اُن میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ نوفل بن حارث بن عبد المطلب، عقیل بن ابی طالب، ابو العاص بن ربیع، عدی بن خیار، ابو عزیر بن عُمیر، ولید بن ولید، عبداللہ بن ابی بن خلف، عمرو بن عبداللہ، وہب بن عمیر، ابو وداعہ بن خبیرہ، سہیل بن عمرو۔

حضرت مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ کی ایمانی طاقت    

   غزوہ بدر ختم ہونے کے بعد حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ایک انصاری صحابی اُن کے بھائی ابو عزیر بن عُمیر کے ہاتھ باندھ رہے ہیں۔ اُس وقت بھائی کی محبت نے جوش مارا تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔ لیکن پھر ایمان کی طاقت بھائی کی محبت پر حاوی ہو گئی اور آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً اپنے آنسو پونچھ کر سخت لہجے میں اُن انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا :’’ اس کافر کے ہاتھ ذرا مضبوطی سے باندھنا۔ اس کے ماں باپ بہت مال دار یعنی امیر ہیں تمہیں اچھا فدیہ ملے گا۔‘‘ اس پر ابو عزیر نے کہا :’’ بھائی ! کیا میرے بارے میں تمہاری یہی وصیت ہے؟‘‘ حضرت مصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ ہاں تمہارے بارے میں میری یہی رائے ہے اور تمہارے بجائے یہ انصاری صحابی رضی اللہ عنہ میرے بھائی ہیں۔‘‘

مشرکین کی لاشوں کو کنویں یا گڑھے میں ڈالنا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شہدا کی نماز جنازہ پڑھائی اور سب کو دفن فرمایا۔ مشرکوں کی لاشیں میدان بدر میں بکھری پڑی تھیں۔ چوں کہ تمام مشرکین بھاگ گئے تھے۔ اس لئے ان کے ساتھیوں کی لاشیں اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرامرضو ان اللہ عنہم کو حکم دیا کہ تمام مشرکوں کی لاشوں کو گڑھے یا کنویں (کچھ روایات میں کنواں لکھا اور اور کچھ روایات میں گڑھا ) میں ڈال دو۔ عتبہ بن ربیعہ کے بیٹے حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے والد کی لاش کو گڑھے میں ڈالتے دیکھا تو چہرے پر غم کے کچھ آثار ظاہر ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے چہرے کو دیکھ کر فرمایا :’’ اے ابو حذیفہ ! ( رضی اللہ عنہ ) کیا تم اپنے والد کے بارے میں کچھ محسوس کر رہے ہو؟ ‘‘ انھوں نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم ! مجھے اپنے باپ کے قتل ہونے کا کوئی افسوس نہیں ہے۔ بلکہ غم اس بات کا ہے کہ میں اسے دور اندیش ،عقل مند اور سوجھ بوجھ والا سمجھتا تھا اور امید رکھتا تھا کہ وہ اسلام قبول کر لے گا۔ لیکن کفر پر اس کا خاتمہ دیکھ کر افسوس ہو رہا ہے۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں تسلّی دی اور اُن کے لئے دعا فرمائی۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں کے گڑھے پر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قاعدہ تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین دنوں تک وہاں قیام فرماتے تھے ۔ تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کو مدینہ منورہ کو چ کرنے کا حکم دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور اس گڑھے کے کنارے پر رکے اور کافروں کے نام لے کر پکارنے لگے :’’ اے عتبہ، اے شیبہ، اے اُمیہ اور اے ابوجہل تم لوگوں کو اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت کرنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ بے شک جس چیز کا ہمارے رب ( اللہ تعالیٰ )نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس نے ہمیں عطا فرمایا۔ کیا تم نے بھی اپنے رب ( بتوں) کے وعدہ کو حق پایا ؟‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان بے جان لاشوں سے بات کر رہے ہیں ؟سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ میری بات کو تم اُن سے زیادہ نہیں سنتے ، مگر وہ لوگ جواب نہیں دے سکتے۔ ‘‘

مدینہ منورہ میں فتح کی خبر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد مدینہ منورہ روانہ ہو گئے اور دو قاصدوں کو مدینہ منورہ خبر دینے کے لئے روانہ فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو ’’عالیہ ‘‘علاقے ( مدینہ ٔ منورہ کا بلند علاقہ یا پہاڑی علاقہ ) کی طرف بھیجا اورحضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو’’ سافلہ‘‘ علاقے ( مدینہ منورہ کا نشیبی علاقہ یا میدانی علاقہ ) کی طرف بھیجا ۔ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ ہمیں فتح کی خبر اس وقت ملی جب ہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کو دفن کر کے آرہے تھے۔ ‘‘سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں اور جس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر کے لئے نکلے تھے تو اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی۔اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو غزوۂ بدر پر جانے سے منع فرما دیا تھے اور مدینہ منورہ میں رہ کر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کرنے کی ہدایت فرمائی تھی۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ ہمیں خبر ملی کہ میرے والد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آئے ہیں اور مسجد میں لوگوں کو جنگ کے حالات بتا رہے ہیں تو میں بھی وہاں پہنچ گیا۔‘‘ میرے والدفرما رہے تھے :’’ عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ابو جہل بن ہشام، زمعہ بن الاسود ابو لبختری عاص بن ہشام ، اُمیہ بن خلف اور حجاج کے دونوں بیٹے نبیہ اور منبہ مارے گئے۔‘‘ میں نے کہا :’’ ابا جان یہ سچ ہے؟ ‘‘ میرے والد نے کہا :’’ ہاں بیٹے ! اللہ کی قسم ! یہ سچ ہے۔ ‘‘

مجاہدین کا استقبال

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ فتح کی خبر پہنچانے کے لئے قاصد روانہ کر دیئے تھے۔ جب قاصدوں نے فتح کی خبر سنائی تو پورے مدینہ ٔ منورہ میں جشن کا ماحول ہو گیا اور تمام مسلمان خوشی کا اظہار کرنے لگے۔ لیکن یہودیوں کا حسد اور بڑھ گیا اور اُن کی دشمنی اور بڑھ گئی۔ مسلمانوں نے مجاہدین کے استقبال کے لئے مقامِ ’’روحا ‘‘پر جمع ہونا شروع کر دیا۔ ہر مسلمان کے قدم اسی جانب اٹھ رہے تھے۔ اِدھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کے ساتھ مدینہ منورہ آرہے تھے۔ راستے میں مقا مِ’’ صفراء ‘‘پر مال غنیمت کی تقسیم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرمائی اور پھر اسی مقام پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کی تقسیم کی اور اس میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا بھی حصہ لگایا اور آپ رضی اللہ عنہ کو’’ بدری صحابہ‘‘ میں سے ہونے کا شرف عطا فرمایا۔ ان کے علاوہ حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کو بھی’’ بدری صحابہ ‘‘ میں شمار فرمایا۔ کیوں کہ انھیں مدینہ منورہ میں اپنی جگہ’’ حاکم‘‘ بنا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر آتے ہوئے راستے میں سے واپس بھیجا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مجاہدین جب مقام ’’روحا‘‘ پر پہنچے تو مدینہ منورہ کے تمام مسلمان وہاں استقبال کے لئے موجو د تھے۔ انھوں نے شاندار استقبال کیا اور پورا علاقہ نعرہ تکبیر سے گونج اٹھا۔ تمام مسلمان فتح حاصل کر کے آنے والے مجاہدین کو مبار کباد دینے لگے تو حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ نے کہا :’’ تم ہمیں کس بات کی مبارک باد دے رہے ہو ؟اللہ کی قسم !ہم نے تو صرف چند چُندیا صاف بوڑھوں سے مقابلہ کیا ہے۔ جو قربانی کے ( بندھے ہوئے اونٹوں کی طرح تھے) اور ہم نے اُن کی قربانی کر دی۔‘‘ اُن کی یہ بات سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکر اپڑے اور حضرت سلمہ بن سلامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ بھائی میرے !وہی لوگ تو بڑے بڑے سردار اور قائد تھے۔‘‘

بد بخت گستاخ عقبہ بن ابی معیط دوزخ میں گیا

   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ عقبہ بن ابی معیط نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ( مکہ مکرمہ میں ) اپنے یہاں کھانے کی دعوت دی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر گئے اور فرمایا : ’’ اے عقبہ ! میں اُس وقت تک کھانا نہیں کھائوں گا جب تک کہ تو اللہ تعالیٰ کی توحید کی اور میری رسالت کی گواہی نہیں دے گا۔ ‘‘ عقبہ نے گواہی دی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نوش فرمالیا۔ کچھ دنوں بعد عقبہ کا ایک دوست باہر سے آیا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ عقبہ نے گواہی دی ہے تو وہ ملامت کرنے لگا اور اس سے ایسے اندا زمیں بات کی کہ عقبہ کی قومی اور قبائلی عصبیت بیدار ہو گئی۔ اس نے اپنے دوست سے کہا : ’’ مجھ کو شرمندہ کرنے والے میرے دوست ! اب یہ بتائو کہ میں کیا کروں کہ اس عمل کی وجہ سے قریش کے دِلوں میں میری طرف سے جو کدورت پید ا ہو گئی ہے وہ صاف ہو جائے اور میری گئی ہوئی عزت لوٹ آئے؟‘‘ اس کے دوست نے کہا: ’’ اس کی صورت یہ ہے کہ تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مجلس میں جا اور ( اللہ کی پناہ ) اُن کے چہرے پر ( اللہ کی پناہ) تھوک دے۔ ‘‘ بد بخت عقبہ دو زخی عقبہ نے ایسا ہی کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک کو صاف کیا اور فرمایا : ’’ اگر میں تجھے مکہ مکرمہ کے پہاڑو ں کے باہر پائوں گا تو تیری گردن صبر کے ہتھیار سے اڑادوں گا۔ ‘‘جب بد ر کی جنگ کے لئے قریش نکلنے لگے تو اس نے انکار کر دیا اور لوگوں کو بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ایسافرمایا تھا۔ اسی لئے میں مکہ مکرمہ سے باہر نہیں جائوں گا۔ لوگوں نے اسے سمجھایا کہ ہم تمہیں سرخ اونٹ ( یہ سب سے بہترین اونٹ ہوتا ہے) دیتے ہیں۔ پھر وہ کس طرح تمہیں مار سکیں گے۔ بہر حال اپنے ساتھیوں کے بہت سمجھانے پر وہ بدبخت گستاخ میدان ِ بدر پہنچ گیا۔ جب قریش کو شکست ہوئی اور وہ جان بچا کر بھاگنے لگے تو یہ بد بخت بھی اپنی اونٹنی پر سوار مکہ مکرمہ کی طرف بھاگا۔ لیکن اس اونٹنی نے مکہ مکرمہ کی طرف بھاگنے کے بجائے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی طرف لے کر بھاگی اور ان کے درمیان اس بدبخت گستاخ کو گرادیا۔ مسلمانوں نے اسے گرفتار کیا اور گردن اڑادی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’صبر نے اس کی گردن ماردی۔ ‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

13 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


13 سیرت سید الانبیاء ﷺ

پہلی عید الفطر اور غزوۂ بنو قینقاع اور پہلی عید الاضحیٰ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


مسلمانوں کی پہلی عید الفطر اور عیدالاضحیٰ، قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک، یہودیوں کی مکاری اور عیاری، غزوہ بنو قینقاع، سیدہ فاطمتہ الزہرہ اور حضرت علی کا نکاح 


مکہ مکرمہ میں قریش کی شکست کی خبر

   حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ ، حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کے غلام تھے۔ انھوں نے اور اُن کی مالکہ اُم الفضل ( حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی والدہ) رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا تھا لیکن اس کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ( بعد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ کو آزاد کر دیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ غزوہ اُحد اور بعد کے غزوات میں شریک تھے) یہی حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں۔ میں اپنی مالکہ ( اُم الفضل رضی اللہ عنہا) کے خیمے میں ان کے ساتھ بیٹھا کچھ کام کر رہا تھا کہ ابو لہب آکر ہمارے خیمے کے دروازے پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں ابو سفیان بن حارث بدر کے میدان سے مکہ مکرمہ پہنچے ۔ قریش کے لشکر میں سے سب سے پہلے پہنچے تھے۔ ابو لہب نے ان سے قریش کے لشکر کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا :’’ اللہ کی قسم ! ہم ( دشمن) قوم سے ملے تو ہم نے اُن کو اپنے کاندھے ( گردنیں) پیش کر دی کہ وہ جس طرح چاہیں ہمیں قتل کر یں اور جیسے چاہیں ہمیں قیدی بنا ئیں اور اللہ کی قسم ! اس کے باوجود ہم ملامت کے قابل نہیں ہیںکیوں کہ ہمارا مقابلہ ایسے لوگوں سے بھی تھا جو سفید رنگ کے مرد تھے۔ وہ چتکبرے ( یا سیاہ اور اور سفید رنگ والے ) گھوڑوں پر سوار تھے اور آسمان اور زمین کے درمیان تھے۔ اللہ کی قسم !اُن کے سامنے کوئی چیز ٹھہرتی نہیں تھی۔ ‘‘

ابو لہب دوزخی کا انجام

   حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ یہ سن کر میں نے کہا :’’ اللہ کی قسم !وہ فرشتے تھے۔‘‘ یہ سن کر ابو لہب نے غصے سے مجھے تھپڑ مارا تو اُم الفضل رضی اللہ عنہا اٹھیں اور لکڑی لے کر ابو لہب کے سر پر ماردی اور فرمایا :’’ جب اس کا مالک ( حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ ) غائب ہے تو اسے تُو نے کمزور سمجھ لیا۔‘‘ اس کے بعد حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ اللہ کی قسم !( اس کے بعد) وہ صرف سات راتیں زندہ رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عدسہ ( پُھنسی) میں مبتلا کر دیا۔ اسے عرب والے نحوست سمجھتے تھے اور یہ سخت متعدی بیماری ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے کوئیاس کے قریب کوئی نہیں جاتا تھااور اس کے بیٹے بھی اس سے دور بھاگتے تھے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کر دیا۔ وہ مرنے کے بعد تین دن تک وہیں پڑا رہا۔ کوئی شخص اس کی لاش کے قریب نہیں جاتا تھا اور نہ اسے دفن کرنے کو تیار تھا۔ جب ابو لہب کے بیٹوں کو یہ خوف محسوس ہوا کہ اسے ایسی حالت میں چھوڑنے پر لوگ طعنے ماریں گے تو ایک گڑھا کھود کر ایک لکڑی کے ذریعے ابو لہب کی لاش گڑھے میں دھکیل کر دور سے پتھر پھینک پھینک کر اسے ڈھانک دیا۔‘‘

قریش کے کافروں کی سراسیمگی

   غزوہ بدر میں شکست کھا کر بھاگنے والے قریش کے کافروں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح مکہ مکرمہ میں داخل ہوں ۔ تمام لوگ الگ الگ منہ چھپا کر مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے تھے۔ حیسمان بن عبداللہ خزاعی کھلے عام دن میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوا تو لوگوں نے اسے گھیر لیا اور جنگ کے حالات پوچھنے لگے۔ اس نے کہا :’’ عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ، ابو الحکم ( ابو جہل) بن ہشام، اُمیہ بن خلف اوردوسرے سرداروں کے نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ سب قتل کر دیئے گئے۔ ‘‘یہ سب سن کر اُمیہ بن خلف کے بیٹے صفوان بن اُمیہ ( جو حطیم میں بیٹھا ہو اتھا) نے کہا :’’ اللہ کی قسم ! اگر یہ ہوش میں ہے تو اس سے میرے متعلق پوچھو۔ ‘‘لوگوں نے پوچھا ! ’’صفوان بن اُمیہ کا کیا ہوا ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ وہ دیکھو وہ تو وہاں حطیم میں بیٹھا ہوا ہے۔ اللہ کی قسم ! اس کے باپ اور بھائی کو قتل ہوتے ہوئے میں نے خود دیکھا ہے۔‘‘ اس طرح مختلف ذرائع سے جب مکہ مکرمہ والوں کی شکست کی پختہ خبر ملی اور شکست خورد ہ لشکر کے لوگ آئے تو تمام سردار وں نے اعلان کر دیا کہ قتل ہونے پر نوحہ نہیں کیا جائے گا تا کہ مسلمانوں کو ان کے غم پر خوش ہونے کا موقع نہ ملے۔

قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے اور غزوہ بدر کے قیدی ایک دن بعد مدینہ منورہ پہنچے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قیدیوں کو صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تقسیم کر دیا اور ہدایت فرمائی کہ’’ قیدیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔‘‘ حضرت مصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ کا بھائی ابو عزیز قیدیوں میں تھا۔ ( اس کے بارے میں ہم پہلے بتا چکے ہیں) اس نے کہا : ’’ مسلمان جب ہمیں قید کر کے مدینہ منورہ لے کر آرہے تھے تو راستے میں جب وہ کھانا کھاتے تھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر وہ اتنی سختی سے عمل کرتے تھے کہ وہ اپنے حصے کی روٹی ہمیں دے دیتے تھے اور خود کھجور کھا کر گزارہ کر لیتے تھے۔ مجھے شرم آتی تھی تو میں انھیں واپس کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ لیکن وہ روٹی کو ہاتھ بھی نہیں لگا تے تھے۔ ‘‘ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جس طرح ہمارے یہاں گیہوں اور چاول بہت زیادہ پید اہوتے ہیںاور آسانی سے مل جاتے ہیں اس طرح عرب ممالک میں کھجور کی پیداوار بہت ہوتی ہے اور وہ آسانی سے مل جاتی ہے اور جس طرح ہمارے یہاں کھجور کی پیداوار بہت کم ہے اور وہ ہمارے لئے’’ نعمت‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح عرب ممالک میں گیہوں اور چاول اور دوسرے اناج کی پیداوار کم ہے اور وہ ان کے لئے ’’نعمت ‘‘کی حیثیت رکھتے ہیں)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی

   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ تمام قیدی رسیوں اور بیٹریوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ان میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ یعنی میرے والدِ محترم بھی تھے اور انھیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ذرا کس کر باندھ دیا تھا۔ ( حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ آپ کو یاد ہی ہوں گے کہ ابو طالب کے انتقال کے بعد انھوں نے ہر ممکن طریقے سے اپنے بھتیجے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تھی اور بیعت عقبہ ثانیہ کی وہ تقریر بھی آپ کو یاد ہو گی جو انھوں نے انصار کے سامنے کی تھی ۔ اس کا تفصیلی ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں) رسیاں کس کر باندھنے کی وجہ سے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو درد ہو رہا تھا اور وہ رات میں کراہ رہے تھے۔ ان کے کراہنے کی آواز سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بے چینی ہو رہی تھی اور نیند نہیں آرہی تھی۔ کافی رات گزرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قیدیوں کے پہریدار کے پاس آئے تو انھوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نیند نہیں آرہی ہے کیا؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ عباس بن عبد المطلب ( رضی اللہ عنہ ) کی کراہیں سن کر نیند نہیں آرہی ہے۔‘‘ پہریداروں میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ فوراً دوڑتے ہوئے گئے اور حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی رسیاں کھول دیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دعائیں دیں اور جا کر سکون سے سو گئے۔ ‘‘

قیدیوں کے بارے میں مشورہ

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے معاملے میں تمام صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا اور فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تم کو اِن پر قدرت دی ہے۔ اِن کے بارے میں مجھے مشورہ دو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے۔‘‘ چونکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے’’ رحمت اللعالمین‘‘ بنایا ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دوبارہ فرمایا : ’’ اے لوگو ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر قدرت دی ہے اور کل یہ تمہارے بھائی تھے۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دوبارہ کھڑے ہو ئے اور وہی عرض کیا :’’ ان کو قتل کر دیا جائے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسر ی مرتبہ فرمایا : ’’ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری رائے یہ ہے کہ یہ لوگ فدیہ لے کر چھوڑ دیئے جائیں ۔ ‘‘ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہر مسلمان اپنے رشتہ دار کو قتل کرے۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ وہ اپنے بھائی عقیل بن ابی طالب کو قتل کریں اور مجھ کو اجازت دیں کہ میں اپنے فلاں رشتہ دار کو قتل کروں۔ اسلئے کہ یہ لوگ کفر کے پیشواء اور سردار ہیں۔‘‘ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ لوگ ہماری ہی قوم کے لوگ ہیں۔ میری رائے یہ ہے کہ ان کو فدیہ لے کر آزاد فرمادیں۔ اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی نعمت سے سرفراز فرمادے اور پھر یہی لوگ کافروں کے مقابلے میں ہمارے معین اور مدد گار ثابت ہوں گے۔‘‘

حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم کی مثال    

   حضرت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں حضرات رضی اللہ عنہم کی رائیں سنی اور فرمایا : ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ ! تمہاری مثال حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے جیسی ہے۔ جنھوں نے اپنی اپنی قوم کے حق میں یہ دعا کی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی : ( ترجمہ ) ’’ اے پروردگار ! ( اللہ تعالیٰ ) زمین پر بسنے والے کافروں میں سے کسی کو زندہ مت چھوڑناکیوں کہ اگر تُوانھیں زندہ چھوڑ دے گا تو یہ لوگ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے اور ان کی اولاد بھی اگر پیدا ہوگی تو وہ بھی کافر ہوگی۔‘‘ ( سورہ نوح آیت نمبر27) اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا مانگی : ( ترجمہ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! ( اللہ تعالیٰ) ان کے مال و دولت کو ختم کر دے اور ان کے دلوں پر مہر لگا دے کہ یہ ایمان ہی نہ لائیں ۔ حتیٰ کہ تیرے در د ناک عذاب کو دیکھیں ۔‘‘ ( سورہ یونس آیت نمبر88) اور اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ! تمہاری مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جیسی ہے۔ جنھوں نے یہ دعا مانگی : ’’ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا فرمائی : ( ترجمہ) ’’ بے شک جس جس نے میری اتباع ( اطاعت ) کی وہ مجھ سے وابستہ ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو ( اے اللہ تعالیٰ ) آپ بہت زیادہ مغفرت کرنے والے کرنے والے اور بہت زیادہ رحم فرمانے والے ہیں۔‘‘ (سورہ ابراہیم آیت نمبر36) اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن فرمائیں گے : ( ترجمہ ) ’’ اے اللہ تعالیٰ !اگر آپ انھیں عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں اور آپ کے مالک ہیں اور اگر آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو بے شک آپ بڑے غالب اور حکمت والے ہیں ۔‘‘ ( سورہ المائدہ آیت نمبر 118) اتنا فرمانے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند فرمایا اور فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔

اللہ تعالیٰ کا حکم

   علامہ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں یہ حدیث حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ابھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرما رہے تھے اور کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو اپنا حکم دے کر بھیجا انھوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بدر کے قیدیوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اختیار دیں کہ چاہیں تو وہ انھیں قتل کر دیں یا چاہیں تو فدیہ لے کر آزاد کر دیں یہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ( البدایہ والنہایہ میں یہیں تک ذکر ہے) اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر فدیہ لے کر چھوڑ دیں گے تو اگلے سال تم میں سے اتنے ہی افراد شہید کئے جائیں گے۔ ( جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام کو اللہ کا حکم سنایا تو ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فدیہ لے کر قیدیوں کو چھور دینے اور اگلے سال میں شہید ہونے کے حکم کو اختیار کیا۔ ( جامع ترمذی، سنن نسائی ،صحیح ابن حبان ،المستدرک حاکم )

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا شوق ِ شہادت

   اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اختیار دیا کہ وہ یا تو قیدیوں کو قتل کر دیں یا فدیہ لے کر چھوڑ دیں اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ اگر قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑدیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان قیدیوں کے بدلے میں اتنے ہی مسلمانوں کو لے گا۔ یعنی اگلے سال میں ستر مسلمان شہید ہو ں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتائی تو صحابہ کرام کے اندر شہید ہونے کا اتنا شوق تھا کہ اُن صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم جنھوں نے قیدیوں کو قتل کرنے کا مشورہ دیا تھا انھوں نے بھی اس امید میں کہ شاید اُن’’ ستر شہداء ‘‘میں مجھے بھی شامل کر لیا جائے ۔ یہ کہا کہ قیدیوں کو چھوڑدو۔ اس طرح تمام صحابہ کرام اس بات پر متفق ہو گئے کہ قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور ہر صحابی رضی اللہ عنہ یہ سوچ رہا تھا اور دعا کر رہا تھا کہ اگلے سال جو ستر صحابہ کرام شہید ہونے والے ہیں اللہ تعالیٰ اُن میں اسے شامل فرما لے۔ امام محمد بن سعد لکھتے ہیں۔ عبیدہ سے مروی ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں جبرئیل علیہ السلام ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو قیدیوں کو قتل کر دیں اور اگر چاہیں تو ان سے فدیہ لے لیں۔ ہاں فدیہ لینے کی صورت میں قیدیوں کی تعداد کے برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم ’’شہید‘‘ ہو ں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوا ن اﷲ علیہم اجمعین کو مخاطب کر کے فرمایا : ’’ یہ جبرئیل علیہ السلام آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دونوں باتوں کا اختیار عطا فرمایاہے کہ یا تو قیدیوں کو سامنے لا کر قتل کردو یا پھر فدیہ لے کر انھیں چھوڑ دو۔ لیکن اس کے بعد قیدیوں کی تعداد کے برابر تم میں سے شہید کئے جائیں گے۔‘‘ ( اس سے پہلے تو صحابہ ٔ کرام رضی اﷲ عنہم میں اختلاف تھا کچھ لوگ قتل کرنا چاہتے تھے اور کچھ لوگ فدیہ لینا چاہتے تھے لیکن اس کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے قیدیوں کو چھوڑنا گوارا کیا اور بدلے میں شہادت قبول کرلی۔     

سید الانبیاء ﷺ اور مسلمانوں کی پہلی عید

ٍ   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ بدر میں فتح حاصل ہونے کے بعد اپنے مجاہدین کے ساتھ جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو ماہِ رمضان ختم ہونے میں چند روز باقی رہ گئے تھے۔ ان چند دنوں میں زکوٰۃ اور عیدالفطر کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمایا۔ زکوٰ ۃ اور فطرہ کی وجہ سے بہت سے غریب اور مستحق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مدد ہوئی۔ ماہِ رمضان مکمل ہوا اور یکم شوال کی صبح عید کی نماز پڑھنے کیلئے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات رضی اللہ عنہما نکلے ۔ یہ مسلمانوں کی پہلی عید تھی۔ اس وقت مدینہ منورہ میں عجیب سا سما ں تھا۔ کسی کے پاس نئے کپڑے نہیں تھے۔ کئی صحابہ نے ایک کمبل میں اپنے آپ کو لپیٹا ہوا تھااور گردن میں گانٹھ ماری ہوئی تھی۔ کئی صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم صرف جانور کی کھال لپیٹے ہوئے تھے۔ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا اور پٹی بندھی ہوئی تھی۔ کسی کا پیر کٹا ہوا تھا اور پٹی بندھی ہوئی تھی۔ لیکن تمام حضرات کے چہرے خوشی سے منور تھے اور سب خوشی خوشی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کرنے جارہے تھے۔ الرحیق المختوم میں مولانا صفی الرحمن مبارک پوری لکھتے ہیں ’’کتنی خوشگوار تھی یہ عید سعید ۔ جس کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اوپر فتح و عزت کا تاج رکھ دینے کے بعد نصیب فرمائی اور کتنا ایمان افزوں تھا اس نماز عید کا منظر ۔ جسے مسلمانوں نے اپنے گھروں سے نکل کرتکبیر و توحید اور تمحیدو تسبیح کی آوازیں بلند کرتے ہوئے میدان میں جاکر ادا فرمائی۔ اس وقت یہ حالت تھی کہ مسلمانوں کے دل اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں اور اسکی تائید اور مدد کے سبب (جو غزوئہ بدر میں کی تھی)اسکی رحمت اور شوق سے لبریز اور اسکی رغبت کے جذبات سے معمور تھے اور ان کی پیشانیاں اللہ کے شکر و سپاس کی ادائیگی کے لئے جھکی ہوئی تھیں۔ ‘‘

حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ تو آپ کو یاد ہی ہوں گے۔ میدان بدر میں جب مسلمانوں کا لشکر اور قریش کا لشکر ایک دوسرے کے مقابلے پر صف آراء ہورہے تھے تو قریش نے انھیں مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کا انداز لگانے کے لئے بھیجا تھا۔ انھوں نے اسلامی لشکر کا چکر لگایا تھا اور بالکل درست تعداد کا اندازہ لگایا تھا۔ غزوئہ بدر میں شکست کے بعد یہ بھاگ کر مکہ مکرمہ آگئے تھے۔ ایک دن صفوان بن امیہ کے ساتھ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ صفوان نے غزوئہ بدر میں قتل ہونے والے کافروں کا تذکرہ کرکے کہا :’’ ان لوگوں کے بغیر زندگی کا مزہ ہی ختم ہوگیا ہے۔ ‘‘یہ سن کر حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے کہا :’’ ہاں ! یہ بات تو ہے اگر میں قرضدار نہیں ہوتا اور مجھے میرے بیوی بچوں کی فکر نہیں ہوتی تو میں ابھی مدینہ منورہ جاکر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو(نعوذ باللہ ) قتل کرکے آتا۔‘‘ صفوان بن امیہ اسی موقع کی تلاش میں تھا۔ اس نے کہا : ’’ تیرا قرض میں ادا کر دیتا ہوں اور تیرے بیوی بچوں کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری لیتا ہوں تُو صرف یہ کام کر دے۔ ‘‘ صفوان بن اُمیہ نے ایک بہترین تلوار پر دھار لگا کر زہر میں بُجھا کر حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ کو دے دی۔ آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ پہنچے اور مسجد نبوی کے دروازے پر اپنے اونٹ کو باندھ رہے تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور اندازہ لگا لیا کہ یہ ضرور کسی ناپاک ارادے سے آیا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فوراً آگے بڑھے اور حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے جو تلوار اپنی گردن سے لٹکائی ہوئی تھی اسی کی نیام پکڑ کر پیچھے سے ان کے گلے پر دبادی اور اسی حال میں کھینچتے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اسے چھوڑ دو۔‘‘ اور حضرت عمیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ کیوں آئے ہو؟ ‘‘ انھوں نے جواب دیا : ’’ اپنے قیدی کو چھڑانے آیا ہوں۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ سچ کہو !کیا اسی لئے آئے ہو؟ ‘‘سچ بتائو کہ تم نے او رصفوان بن امیہ نے حطیم میں بیٹھ کر کیا مشورہ کیا تھا؟ ‘‘ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے حیرت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک دیکھتے ہوئے کہا : ’’ میں نے کیا مشورہ کیا تھا؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تم نے میرے قتل کا ذمہ اس شرط پر لیا تھا کہ صفوان تیرا قرض ادا کر دے گا اور تیرے گھر والوں کی دیکھ ریکھ کرے گا۔ ‘‘ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ کچھ دیر تک حیرت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھتے رہے اور پھر بے ساختہ پکار اٹھے : ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس واقعہ کا میرے اور صفوان کے علاوہ کسی اور کو علم نہیں تھا بے شک اللہ تعالیٰ نے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی ہے۔ پس میں دل سے اللہ پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں۔ ‘‘

حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں

   محمد بن اسحاق کی روایت میں اس کے آگے ہے کہ حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم !میں یقین سے کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع نہیں دی ہے۔ پس میں شکر ادا کرتا ہوں اس ذاتِ پاک ( اللہ تعالیٰ) کا جس نے مجھ کو اسلام کی نعمت عطا فرمانے کے لئے مجھے یہاں کھینچ لایا۔‘‘ اور کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : ’’ اپنے بھائی کو دین کی باتیں سمجھائو اور قرآن پاک پڑھائو اور اس کے قیدی کو چھوڑ دو۔‘‘ اسی وقت قیدی حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیاگیا۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے اللہ کے نور کو بجھانے کی بہت کوشش کی ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے دین کو قبول کیا تھا ان کو طرح طرح سے ستایا ہے۔ اب مجھ کو اجازت دیجئے کہ مکہ مکرمہ جا کر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوگوں کو بلائوں گااور اسلام کی دعوت دوں گا۔ شاید اللہ تعالیٰ اُن کو ہدایت نصیب فرمائے اور اجازت دیجئے کہ اللہ کے دشمنوں کو بھی اسی طرح ستائوں جیساکہ اللہ کے دوستوں کو ستایا کرتا تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ روانہ ہوئے ادھر صفوان بن امیہ مکہ مکرمہ میں لوگوں کو یہ کہتا پھر رہا تھا کہ بہت جلد تمہیں ایک ایسی خوش خبری سنائوں گا کہ بدر کی شکست کا صدمہ بھول جائو گے اور ہر آنے والے سے حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھتا تھا۔ لیکن جب اسے حضرت عمیر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی خبر ملی تو وہ اتنا غصہ ہوا کہ قسم کھائی عمیر سے کبھی بات نہیں کروں گا۔ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ پہنچے اور اسلام کی دعوت میں مصروف ہو گئے۔ بہت سے لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے مسلمان ہو گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کے دشمنوں کو خوب ستایا۔

حضرت نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   غزوہ ٔ بدر میں قید ہونیوالوں میں حضرت نوفل حارث رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فدیہ ادا کرنے کو فرمایا تو انھوں نے کہا میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ جو میں فدیہ میں دے سکوں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اُن نیزوں کے بارے میں کیا خیال ہے۔ جو تم جدہ میں چھوڑ آئے ہو؟ حضرت نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ حیرت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک دیکھتے رہے اور پھر عرض کیا : ’’ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کے بعد میرے سوا کسی کو بھی اس کا علم نہیں ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اس کے بعد حضرت نوفل بن حارث رضی اللہ عنہ نے وہ تمام نیزے جن کی تعداد ایک ہزار تھی اپنے فدیہ میں دے دیئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا رشتہ مواخات قائم فرمایا اور زمانہ ٔ جاہلیت میں بھی یہ دونوں دوست اور تجارتی پارٹنر تھے۔

عبداللہ بن اُبیّ کا دکھاوے کا قبول ِ اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ آنے سے پہلے مدینہ منورہ میں آس پاس آباد یہودی انصار کے دونوں بڑے قبیلے’’ اوس‘‘ اور’’ خزرج ‘‘کو آپس میں لڑا تے رہتے تھے اور فائدہ اٹھاتے رہتے تھے۔ جنگ بعاث کے بعد دونوں قبیلوں کے بڑوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ اب ہم مل کر رہیں گے اور کسی ایک کو دونوں قبیلوں ( یعنی پورے مدینہ منورہ) کا حکمراں بنا لیں گے۔ یہودیوں نے انصار کے دونوں بڑے قبیلوں میں اپنے کٹھ پتلی سردار بنا ئے ہوئے تھے اور ان میں سب سے بڑا سردار عبداللہ بن اُبیّ تھا۔ یہ یہودیوں کا بہت بڑا ہمدرد تھا۔ تمام سردار جب مل کر بیٹھے کہ کس کو پورے مدینہ منورہ کا حکمراں بنایا جائے تو کٹھ پتلی سرداروں نے عبداللہ بن اُبیّ کا مشورہ دیا۔ جسے تمام سرداروںنے قبول کر لیا اور یہودی اپنی سازش میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ابھی عبداللہ بن اُبیّ کی رسم تاج پوشی کے لئے تاج تیار کیا جا رہا تھا کہ مدینہ منورہ میں اسلام طلوع ہو گیا اور پھر دھیرے دھیر ے ہر گھر میں اسلام پہنچنے لگا اور انصار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ لانے کی تیاری میں لگ گئے۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو ہر کسی نے انھیں حکمراں تسلیم کر لیا۔ یہا ں تک یہودیوں نے بھی’’ میثاق مدینہ ‘‘پر دستخط کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمرانی کو تسلیم کر لیا۔ یہ دیکھ کر عبداللہ بن اُبی دل سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے نفرت کرنے لگا۔ لیکن ظاہری طور سے مخالفت نہیں کی۔ لیکن اسلام بھی قبول نہیں کیا ۔ غزوہ بدر میں فتح کے بعد یہودیوں نے اسے مشورہ دیا کہ اب تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم دیکھاوے کے طور پر اسلام قبول کر لو تا کہ مسلمانوں کا تم پر اعتماد قائم ہو جائے اور پھر ان کے درمیان رہ کر ان کی جڑیں کھوکھلی کرواور انھیں کمزور کرو۔ عبدا للہ بن اُبیّ کو یہ رائے پسند آئی اور ا س نے اپنے منافق ساتھیوں کے ساتھ مل کر دکھاوے کے لئے اسلام قبول کر لیا۔

عصمآ یہودیہ جہنم واصل ہوئی

   یہ ایک عورت تھی اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہمیشہ گستاخی کرتی تھی اور گستاخی بھرے اشعار کہتی تھی اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہچانے کی کوشش کرتی تھی۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ بدر میں مصروف تھے کہ اس نے پھر گستاخی بھرے اشعار کہے۔ یہ اشعار سن کر حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ (یہ اندھے تھے) نے عہد کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اگر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ بدر سے بخیریت واپس آئیں گے تو میں اس گستاخ کو قتل کر دوں گا۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیریت کے ساتھ غزوئہ بدر سے تشریف لے آئے تو رات میں کسی کو بتائے بغیر حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے ایک تلوار لی اور خاموشی سے گستاخ یہودیہ کے گھر میں داخل ہوئے۔ ٹٹول کر بچوں کو ہٹایا اور تلوار کی نوک گستاخ یہودیہ کے سینے پر رکھکر اتنی زور سے دبایا کہ تلوار پیٹھ سے باہر نکل گئی۔ صبح فجر کی نماز انھوں نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد نبوی میں پڑھی اور پورا واقعہ بتا کر عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس معاملے میری تو پکڑ نہیں ہوگی ؟ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں۔ ‘‘ اس بارے میں دو بھیڑوں کے سر ٹکرانے کے برابر بھی پوچھ نہیں ہوگی۔ ‘‘یہ واقعہ ماہِ رمضان کی 26ویں رات کو پیش آیا۔

حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ کی تعریف

   ایک روایت میں آیا ہے کہ یہ بد بخت عورت گندے اور خون آلود کپڑے مسجد میں لاکر ڈال دیا کرتی تھی۔ جب حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس بدبخت گستاخ عورت کو قتل کیا تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد خوشی ہوئی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہوکر فرمایا : ’’ اگر ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو جس نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غائبانہ مدد کی ہو تو حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے (مزاحاً)فرمایا : ’’اساعمیٰ(نابینا،اندھے) کو دیکھو تو سہی کہ کس طرح چھپ کر اللہ کی اطاعت کے لئے روانہ ہوا۔‘‘ حضرت عمیر بن عدی رضی اللہ عنہ مسکرانے لگے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ان کو اعمیٰ(نابینا ، اندھا) نہ کہو ۔ یہ تو بصیر (دیکھنے والے) ہیں ۔‘‘ یعنی ظاہری طور سے تو نابینا ہیں مگر دل کے بصیر اور بینا ہیں۔ رمضان المبارک کی پانچ راتیں باقی تھیں جب یہ بد بخت عورت جہنم واصل کی گئی ۔

غزوئہ بنی سلیم یا غزوئہ کدر

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو عیدالفطر کے فوراً بعد اطلا ع ملی کہ بنو سلیم اور بنو غطفان مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لئے جمع ہورہے ہیں۔ اس خبر کے ملتے ہیں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دوسو 200مجاہدین کو لیکر روانہ ہوئے اور اپنی جگہ مدینہ منورہ میں حضرت سباع بن عر فطہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ابن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو حکمراں بنایا۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ چشمئہ کدر پر پہونچے تو معلوم ہوا کہ دونوں قبائل نے جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مجاہدین کے مدینہ منورہ سے نکلنے کی خبر سنی تو اپنے اپنے علاقوں سے بھاگ گئے۔ تین دن تک سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں قیام فرمایا۔ لیکن کوئی بھی مقابلے کے لئے نہیں آیا۔ ایک روایت میں ہے کہ دونوں قبائل کے تعاقب میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا تو وہ مال غنیمت میں 500پانچ سو اونٹ لیکر واپس ہوئے۔ بہر حال اس غزوئہ میں کو ئی قتال نہیں ہوا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مجاہدین کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آگئے۔

ابی عفک یہودی جہنم واصل

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ کدر سے واپس آئے تو اطلاع ملی کہ ابو عفک یہودی نے ایک بار پھر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔ یہ بد بخت ایک سو بیس سال کا بوڑھا تھا اور جب سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تھے۔ تب سے یہ گستاخ لگاتار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا رہتا تھا اور گستاخی بھرے شعر کہتا رہتا تھا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :’’ کون ہے جو میرے لئے یعنی میری عزت و حرمت کے لئے اس خبیث کا کام تمام کرے ؟‘‘حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ نے دل میں پہلے ہی سے عہد کررکھاتھا کہ جب بھی موقع ملے گا تو اس بدبخت خبیث کا کام تمام کر دوں گا۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبیث کے بارے میں فرمایا تو حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے پہلے ہی سے عہد کر رکھا ہے کہ موقع ملتے ہی اس بد بخت خبیث کا کام تمام کر دوں گا یا خود مرجائوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کے قتل کی اجازت دیں ۔‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ اس کے بعد حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ مکمل اس بد بخت یہودی کی تاک میں رہے۔ ایک دن موقع مل گیا۔ گرمی کی وجہ سے وہ بد بخت یہودی باہر آکر سو گیا ۔ حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ ہوشیاری سے اسکے پاس پہونچے اور اسکے جگر پر تلوار رکھکر اتنی زور سے دبایا کہ تلوار چار پائی کے پار ہوگئی۔ اس بد بخت اللہ کے دشمن نے زور سے چینخ ماری ۔ حضرت سالم بن عمیر رضی اللہ عنہ تلوار نکال کر فوراً رفو چکر ہوگئے۔ تمام لوگ دوڑ تے ہوئے آئے تب تک وہ بد بخت مر چکا تھا۔

بنی اسرائیل (یہودیوں ) کی بدعہدی اور عیاری

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے اسلامی معاشرہ کی تشکیل فرمائی اور اسکے لئے’’ میثاق مدینہ ‘‘لکھوایا۔ (میثاقِ مدینہ کو تفصیلی ذکر پہلے گزر چکا ہے۔)اس میثاقِ میں مدینہ منورہ میں آباد اور مدینہ منورہ کے آس پاس آباد بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو بھی شامل فرمایا تھا اور انھوں نے بھی اس معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے میں یہ تحریر تھا کہ بنی اسرائیل یعنی یہودی نہ تو کبھی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کریں گے اور نہ ہی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ان کے کسی دشمن کی مدد کریں گے۔ لیکن اس معاہدے کے باوجود اس مکار ، عیار اور سازشی قوم نے اندرونی طور سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف محاذ بنائے رکھا اور اپنی مکاری اور عیاری سے انصار کو لڑانے کی کوشش کرتے رہے۔ اس مہم میں یہودیوں کا قبیلہ بنو قینقاع پیش پیش تھا۔ کیونکہ اس قبیلہ کی آبادی مدینہ منورہ سے متصل یعنی لگ کر تھی۔ اس کا ایک بوڑھا یہودی شاش بن قیس مسلمانوں سے بہت حسد رکھتا تھا۔ اس نے ایک مجلس میں اوس اور خزرج کے مسلمانوں کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھا تو اپنے ایک نو جوان یہودی کو سیکھاپڑھا کر بھیجا ۔اس یہودی نے مسلمانوں کی مجلس میں بیٹھ کر ’’جنگ بعاث ‘‘کا ذکر شروع کر دیا اور اوس اور خزرج کے سرداروں کی تعریف کچھ ایسے انداز میں کرنے لگا کہ دونوں قبیلوں کے مسلمان انصار اپنے اپنے قبیلے کی تعریف کرنے لگے اور تُو تُو میں میں ہونے لگی اور بات اتنی بڑھ گئی کہ دونوں قبیلوں کے مسلمانوں نے ہتھیار اٹھالئے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنگامی طور سے فوراً وہاں تشریف لائے۔ دونوں قبیلے کے مسلمان جنگ کیلئے’’ حرّہ ‘‘میں جمع ہوگئے تھے اور جنگ بالکل شروع ہونے والی تھی۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے با آواز بلند فرمایا : ’’ اے مسلمانو ! اللہ …اللہ …میرے رہتے ہوئے یہ جاہلیت کی پکار اور وہ بھی اسکے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمھیں اسلام کی ہدایت سے سرفرازفرما چکا ہے اور اسلام کے ذریعے تم سے’’ جاہلیت‘‘ کا معاملہ کاٹ کر اور تمھیں کفر سے نجات دیکر تمھارے دلوں کو جوڑ چکا ہے؟‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ نے انصار کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور وہ ندامت اور احساس شرمندگی سے رونے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قبائل کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے گلے سے لگوایا اور حکمت سے اللہ کے دشمن شاش بن قیس کی مکاری اور عیاری سے لگائی آگ بجھا دی۔

غزوئہ بنو قینقاع کی شروعات

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمت سے انصار کو لڑوانے کی سازش کو ناکام بنادیا ۔تحقیق کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس سازش کا سرغنہ شاش بن قیس یہودی ہے۔ اس طرح یہ بات سامنے آئی کہ بنی اسرائیل (یہودی) ظاہری طور سے مسلمانوں کی دوستی کا دم بھر تے ہیں۔ لیکن اندرونی طور سے مسلمانوں سے حسد اور نفرت کرتے ہیں اور انھیں آپس میں لڑوانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مدینہ منورہ میں یہودیوں (بنی اسرائیل ) کے کئی قبیلے رہتے تھے۔ لیکن ان میںسب سے زیادہ مشہور تین بڑے قبیلے ہیں۔ ان کانام بنو قریظہ ، بنو نضیر اور بنو قینقاع ہیں۔ بنو قینقاع کا محلہ یا علاقہ مدینہ منورہ سے متصل تھا اور سب سے پہلے اسی قبیلے نے کھلے عام بد عہدی کی۔ ہوا یوں کہ یہودیوں نے اپنا صراف بازار(جہاں سونے چاندی کی خرید وفروخت ہوتی ہے)بنایا ہوا تھا۔ یہ لوگ پیشے سے سنار اور بر تن ساز تھے۔ ان کے بازار میں مسلمان خواتین زیورات کی خریدی کیلئے جاتی تھیں۔ ایک یہودی سنار نے ایک مسلمان خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی اور بے عزتی کرنے کی کوشش کی۔ اس مسلم خاتون نے مدد کیلئے مسلمانوں کو بلایا تو ایک جذ باتی مسلمان نے اس یہودی سنار کو قتل کردیا۔ وہاں موجود تمام یہودیوں نے اسے شہید کردیا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انھیں سمجھانے کیلئے ان کے علاقے میں گئے تو انھیں جنگ کی دھمکی دی۔ آخر کار سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع پر حملے کی تیاری شروع کردی۔ یہ تمام واقعات انشا اللہ ہم آگے تفصیل سے پیش کریں گے۔

یہودیوں کی شرارت

   اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ مدینہ منورہ اور اسکے آس پاس بنی اسرائیل (یہودیوں) کے کئی قبائل آباد تھے۔ ان میں تین بڑے قبائل بنو قریظہ ، بنو نضیر اور بنو قینقاع مشہور تھے۔ دوسرے یہودی قبائل تو مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے۔ لیکن بنو قینقاع کی آبادی مدینہ منورہ کی آبادی سے متصل (یعنی لگ کر) تھی۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف لاتے ہی یہودیوں سے تحریری معاہدہ کر کے عہد لیا تھا کہ یہودی مسلمان سے جنگ نہیں کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں کی خلاف ان کے کسی دشمن کی مدد کریں گے۔ کیونکہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس قوم کی مکاری ، عیاری اور سازشی ذہنیت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اسکے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقتاً فوقتاً موقع کی مناسبت سے بنی اسرائیل یہودیوں کو اسلام کی دعوت بھی دیتے رہتے تھے۔ لیکن یہ بدبخت انکار کردیتے تھے اور اپنی سازشی زہنیت کے مطابق مسلمانوں کو لڑوانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اسکی مثال ہم نے اس سے پہلے والی کتاب میں پیش کی ہے۔ غزوئہ قینقاع کی شروعات ایک مسلمان خاتون کے ساتھ بدتمیزی سے ہوئی۔ جو ایک یہودی نے کی تھی۔

ایک یہودی کا مسلم خاتون سے بدتمیزی کرنا

   اصل واقعہ یوں ہے کہ ایک نقاب پوش مسلم خاتون بنو قینقاع کے صراف بازار میں اپنا کچھ سامان بیچنے آئی۔ اپنا سامان بیچ کر وہاں کے ایک یہودی سنار کے پاس زیور خریدنے بیٹھی۔ اس بدبخت یہودی سنار نے اس خاتون کو چہرہ بتانے کو کہا تو اس خاتون نے انکار کر دیا۔ سنار نے خاتون کی لاعلمی میں اس کی چادر کا کونہ ایسی جگہ باندھ دیاکہ جب وہ خاتون جانے کے لئے اٹھی تو اسکی چادر کھل گئی اور وہ بے نقاب ہوگئی ۔ یہ منظر دیکھکر وہاں موجود یہودیوں نے اسکا مذاق اڑایا اور ہنسنے لگے۔ وہ خاتون مدد کے لئے چلائی تو وہاں موجود ایک مسلمان نے اس سنار پر حملہ کر کے اسے قتل کردیا ۔وہاں موجود یہودیوں نے ملکر اس مسلمان پر حملہ کردیا ۔ کچھ دیر وہ مسلمان مقابلہ کرتا رہا لیکن آخر شہید ہوگیا۔ اس مسلمان کے ساتھیوں کو معلوم ہوا تو وہ حقیقتِ حال معلوم کرنے آئے تو یہودیوں نے ان پر حملہ کردیا۔ اور بنو قینقاع میں فساد کے حالات پیدا ہو گئے۔

بنو قینقاع کے یہودیوں نے جنگ کا الٹی میٹم دیا

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فساد کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بنو قینقاع کے بازار میں تشریف لائے۔ تمام بنی اسرائیل (یہودی ) سیدالانبیائصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے۔ ہر ایک ہتھیار سے لیس تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سمجھایا اور فرمایا: ’’ اے گروہِ یہود ! اسلام قبول کر لو ۔اللہ سے ڈرو۔ایسا نہ ہو کہ قریش کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے سزا دی ہے۔ کہیںتمھیں بھی ویسی سزا نہ ملے۔‘‘ (سیرت النبی ابن ہشام )تاریخ طبری میں ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے گروہ ِ یہود ! اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرلو۔ کہیں تم کو وہ ویسی ہی سزا نہ دے جیسی قریش کو دی ہے ۔ تم جانتے ہوکہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ وہ رسول جس کا ذکر خود تمھاری کتابوں میں ہے اور اس میثاق(عہد) میں ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم سے لیا ہے۔ تاریخ ابن کثیر میں ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے گروہ یہود ! تم مشرکین کے حال سے عبرت پکڑو۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے غرور کی سزا دی ہے اور تمھارے نبی مرسل ( بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام اور خاص طور سے حضرت موسیٰ علیہ السلام ) کے ذریعے اللہ نے (میری نبوت کے بارے میں) جو تمھیں خبر دی ہے۔ اسکے مطابق اسلام میں داخل ہوجائو اور اللہ کے حکم پر عمل کرو۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کلمات سن کر تمام بنو قینقاع کے یہودیوں نے ایک ساتھ کہا : ’’ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تم اپنی قوم قریش پر (جنگ بدرمیں ) فتح حاصل کر کے مغرور نہ ہوجائو۔ کیونکہ وہ لوگ تو حرب و ضرب اور جنگ کے ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں۔ لیکن اگر تم نے ہم سے مقابلے کا ارادہ کیا تو تم کو جنگ میں ہماری مہارت اور شجاعت دیکھکر ہماری مر دانگی کا پتہ چل جائے گا۔ ‘‘یہ الفاظ البدایہ و النہایہ میں تحریر ہیں ۔ جو بنو قینقاع کے یہودیوں نے جواب میں کہا تھا۔ سیرت النبی ابن ہشام اور تاریخ طبری میں اس سے ملتے جلتے الفاظ تحریر ہیں۔

غزوئہ بنو قینقاع

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے خاموشی سے چلے آئے اور ان بد بختوں کو کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (ترجمہ) : ’’ اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو کسی قوم سے خیانت (یعنی عہد شکنی)کا اندیشہ ہوتو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ان کے عہد کو مساوی طور پر واپس کردیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ ترجمہ اور آیت مکمل ہوئے۔بنو قینقاع نے جس طرح سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا تھا وہ کھلا اعلان جنگ تھا اور معاہدے کو توڑنے کا اعلان تھا۔ اسلئے اس آیت کے نازل ہونے کے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کر ام رضی اللہ عنہم کو جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بنو عوف کے ہیںاوروہ بنو قینقاع کے حلیف تھے اور ان کے تعلقات ان یہودیوں سے بڑے اچھے تھے۔ انھوں نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوکر یہودیوں کی دوستی سے دست برداری کا اعلان کردیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ہونے کا اعلان کیا اور سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں اور ایمان والوں سے محبت کرتا ہوں اور کافروں کی دوستی اور ان کے حلیف ہونے سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ اسکے بعد پندرہ شوال ۲ھ؁ کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ حضرت بشیر بن عبدالمنندر رضی اللہ عنہ (ان کی کنیت ابو البابہ ہے) مدینہ منورہ کا حکمراں بنایا اور مجاہدین کو لیکر بنو قنقاع کے علاقے میں پہونچے۔ اسلامی لشکر کا جھنڈا (عَلم) حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ کے ہاتھ میں دیا۔ بنو قینقاع کے یہودیوں نے بڑی بڑی ڈینگیں ماری تھیں۔ لیکن یہ لوگ اندر سے بہت بزدل ہوچکے تھے۔ اسلئے انھوں نے جب مسلمانوں کی جنگ کی تیاری کا حال سنا تو بے حد مرعوب ہوگئے اور جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر لیکر وہاں پہونچے تو وہ پہلے سے گڑھیوں میں قلعہ بند ہوچکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کرلیا۔

رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی سفارش

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ شوال بروز جمعہ کو بنو قینقاع کا محاصرہ کیا۔ یہ محاصرہ پندرہ دنوں تک چلا۔ یہودی اتنے بزدل ہوچکے تھے کہ کوئی بھی مقابلے پر نہیں آیا۔ منافقوں کا سردار عبداللہ بن ابی( جسے اسلام قبول کئے ہوئے چند دن ہی ہوئے تھے)۔ یہودیوں کا حلیف تھا۔ انھوں نے اس منافق کو پیغام بھیجا کہ ہم ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حوالے کررہے ہیں تم ان سے ہماری جان بخشی کروادو۔ جب مسلمان یہودیوں کو گرفتار کر رہے تھے تو عبداللہ بن ابی نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : ’’ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) میرے موالیوں (دوستوں) پر احسان کریں۔ یہ لوگ خزرج کے حلیف تھے۔‘‘ جب دیر تک سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا تو اس نے پھر کہا : ’’ میرے موالیوں پر احسان کریں۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی جواب نہیں دیا اور اسکی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اس منافق نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک پکڑ لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اسے چھوڑ دو۔ ‘‘ لیکن وہ پکڑے ہی رہا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرئہ مبارک پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس سے کہا : ’’ تجھ پر افسوس ہے میری چادر چھوڑ دے۔ ‘‘ مگر اس نے کہا : ’’ اللہ کی قسم ! میں اسے ہر گز اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا۔ جب تک تم میرے موالیوں پر احسان نہ کرو گے اور ان کی جان بخشی نہ کرو گے۔ ان میں چار سو غیر مسلح اور تین سو زرہ پوش ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ حبشیوں اور فارسیوں(ایرانیوں) سے مجھے بچایا ہے اور تم انھیں قتل کرنے والے ہو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر کوئی مصائب نہ آجائے ۔‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اچھا تمھاری خاطر میں نے انھیں چھوڑ دیا۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اچھا ان کو چھوڑ دو۔ ان پر (بنو قنقاع پر) اور اس پر (عبداللہ بن ابی پر) جو ان لوگوں کے ساتھ ہے اللہ کی لعنت ہو۔‘‘ (یہ الفاظ تاریخ طبری میں ہیں اور بقیہ کتابوں میں یہ واقعہ الگ الگ الفاظ میں بیان ہوا ہے۔)

بنو قنقاع کی جلا وطنی

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’رئیس المنافقین‘‘ (منا فقوں کا سردار ) عبداللہ بن ابی کے کہنے پر بنو قینقاع کے یہودیوں کہ جان بخشی کردی ۔ لیکن ساتھ ہی ان کی جلا وطنی کا حکم بھی دیااور فرمایا : ’’ تمام بنو قینقاع اپنی ہر چیزکو چھوڑ کر اپنی جان بچا کر چلے جائیں۔‘‘ یہاں پر ایک سچے صحابی رضی اللہ عنہ اور ایک منافق کا فرق بالکل واضح طور سے کھل کو سامنے آیا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بھی ماضی میں یہودیوں کے دوست تھے۔ لیکن جب انھوںنے دیکھا کہ یہ لوگ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کر رہے ہیں تو انھوں نے بھی ان سے دشمنی کرلی اور عبداللہ بن ابی یہ جانتا تھا کہ یہ یہودی غلط کررہے ہیں۔ پھر بھی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مجبور کیا کہ انھیں چھوڑ دیں اور اپنے منافقت کا ثبوت دیا۔ جبکہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ خود اپنی نگرانی میں ان بد بخت یہودیوں کو جلا وطن کر کے آئے ۔ ان میں کچھ یہودی بنو قریظہ چلے گئے اور کچھ بنو نضیر چلے گئے۔

پہلی عید قرباں (عیدالاضحٰی)

   یکم ذی القعدہ کو بنو قینقاع پر مسلمانوں کو فتح ملی۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں مالِ غنیمت میں سے پہلا خمس نکالا اور بقیہ چار حصوں کو صحابہ کرام یعنی مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔ اسکے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے اور پورا ماہِ ذی القعدہ مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم و تربیت کرتے رہے۔ پھر ماہِ ذی الحجہ شروع ہوا اس ماہ میں غزوئہ سویق پیش آیا۔ کچھ روایا ت میں ذکر ہے کہ غزوئہ سویق 5ذی الحجہ کو پیش آیا۔ بہر حال تمام روایات سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ غزوئہ سویق ماہ ذی الحجہ میں پیش آیا۔ اسکا تفصیلی ذکر انشا اللہ آگے کریں گے۔ 10ذی الحجہ کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ’’عید قرباں ‘‘ یا ’’عیدالاضحی ‘‘ منانے کا اعلان فرمایا۔یہ پہلی عید قرباں تھی اور 10ذی الحجہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور صحابیات رضی اللہ عنہما عید گاہ تشریف لے گئے اور وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صاحبِ حیثیت صحابہ کرام نے قربانی کی۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ غزوئہ قینقاع سے واپس آکر ہم نے دس ذی الحجہ کی صبح قربانی کی۔ یہ پہلی قربانی تھی جو مسلمانوں کے سامنے ہوئی۔ ہم نے بنو سلمہ میں قربانی کی۔ میں نے قربانیوں کا شمار کیا تو اس روز سترہ قربانیاں ہوئی تھیں۔

غزوئہ سویق

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مجاہدین کے ہاتھوں غزوئہ بدر میں قریش کے لشکر کی ذلت آمیز شکست کے بعد ابو سفیان نے قسم کھائی تھی کہ جب تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان ساتھیوں کا خون نہ بہالے گا۔ تب تک غسل نہیں کرے گا۔ اپنی قسم پوری کرنے کے لئے وہ قریش کے دو سو شُتر (اونٹ) سوار لیکر نکلا اور نجدیہ کا راستہ اختیار کیا۔ یہاں تک کہ نہر کے اوپر والے حصے میں ایک پہاڑ جس کا نام ثیب یا نیب ہے اس پر پڑائو ڈال دیا۔ یہ مدینہ منورہ سے ایک برید( چارفرسنح یا بارہ میل ، عام طور سے اس زمانے میں اتنے فاصلے کو ایک منزل کی مسافت کہا جاتا تھا)کے فاصلے پر تھا۔ ابو سفیان اپنے ساتھیوں کو وہیں چھوڑ کر اکیلا تیزی سے سفر کرتے ہوئے۔ رات کے اندھیرے میں بنو نضیر (یہودیوں کی بستی) میں آیا اور حی بن اخطب کے دروازے پر جاکر دستک دی تو وہ ڈر گیا اور دروازہ کھولنے سے انکار کردیا۔ ابو سفیان وہاں سے لوٹ کر سلام بن شکم کے پاس پہونچا۔ وہ اس زمانے میں بنو نضیر کا سردار اور خزانچی تھا۔ ابو سفیان نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو اس نے دیدی۔ اس نے ابو سفیان کو کھانا کھلایا اور شراب پلائی۔ ابو سفیان نے اسے آنے کا مقصد بتایا تو اس نے مدینہ منورہ کے بارے میں اسے بھر پور معلومات دے دی۔

سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کا تعاقب کیا

   اسکے بعد اسی رات ابو سفیان واپس اپنے ساتھیوں کے پاس پڑائو میں آگیا اور اس نے اپنے چند ساتھیوں کو مدینہ منورہ کی طرف ہدایت دے کر روانہ کیا۔ وہ مدینہ منورہ کے اس علاقے کیطرف آئے جسے ’’عریض ‘‘کہا جاتا تھا۔ یہ مدینہ منورہ کا نشیبی یا میدانی علاقہ تھا۔ وہاں ایک انصاری صحابی اپنے حلیف کے ساتھ کھجوروں کے باغ یا کھیت میں کاشتکاری کررہے تھے۔ انھوں نے ان دونوں کا قتل کردیا اور کھجوروں کے درخت کو آگ لگادی اور واپس ابوسفیان کی طرف بھاگے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے۔ حضرت ابوالبابہ بن عبدالمنندر کو اپنی جگہ مدینہ منورہ کا حکمراں بنایا۔ابو سفیان کے ساتھیوں نے اسکے پاس پہنچ کر بتایا کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعاقب میں آرہے ہیں تو ابوسفیان بڑے ہنگامی حالات میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف تیزی سے بھاگا اور جلدی راستہ طئے کرنے کے لئے جو سویق (سَتّو) کے تھیلے اپنے ساتھ کھانے کے لئے لائے تھے وہ پھینک کر چلے گئے۔ کیونکہ ان کا وزن تیز رفتاری میں رکاوٹ بن رہاتھا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسکے تعاقب میں قر قرۃ الکدر تک گئے۔ لیکن ابو سفیان تیز رفتاری سے نکل گیا اور’’ سویق ‘‘ (سَتو)کے بہت سارے تھیلے اسلامی لشکر کے ہاتھوں لگ گئے۔ اس لئے اس غزوئہ کا نام غزوئہ سویق پڑ گیا۔ یہ الفاظ سیرت النبی ابن ہشام کے ہیں اور طبقات ابن سعد میں ہے کہ ابو سفیان خود مدینہ منورہ کے علاقے عریض میں آیا اور وہاں آگ لگائی اور کام کرنے والے ایک مزدورکو قتل کیا اور سمجھا کہ قسم پوری ہوگئی اور بھاگ گیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صفر المظفر ۲ھ؁ ھجری میں اپنی سب سے چھوٹی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نکاح کا پیغام لیکر حاضر ہوئے۔ لیکن سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ تو دونوں حضرات رضی اﷲ عنہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور ان کو مشورہ دیا کہ وہ رشتہ طلب کریں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ جب ان دونوں حضرات نے مجھے یہ مشورہ دیا تو میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمھارے پاس کچھ ہے؟ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’ ایک گھوڑا اور ایک زرہ ہے۔ ‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جہا ں تک گھوڑے کا تعلق ہے تو وہ تمھارے لئے ضروری ہے۔ البتہ زرہ کو بیچ دو۔‘‘ میں نے وہ زرہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں 480چار سو اسی درہم میں بیچ دی۔ (بعد میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وہ زرہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲعنہ کو تحفے میں دے دی۔)میں رقم لیکر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے کچھ پیسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دئیے اور فرمایا ’’ اس سے خوشبو خرید کر لے آئو اور باقی پیسوں سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کرنے کا حکم دیا۔ اس حدیث کو روک کر ہم ایک دوسری حدیث پیش کرتے ہیں تاکہ تسلسل برقرار رہے۔

نکاح کی مقدس مجلس

   حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ پھر چند دنو ںبعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا :’’ اے انس (رضی اللہ عنہ) !حضرت ابو بکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلا لائو۔‘‘ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ دس سال کی عمر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کو ان کی والدہ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے انھیں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دے دیا تھا۔ تب سے لیکر مسلسل دس سال تک حضرت انس رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے رہے ) میں جاکر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلا لایا۔ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خطبہ پڑھا۔ اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ موجود نہیں تھے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں کے ولی تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہے جو اپنی نعمتوں کے سبب تعریف کیاگیا ۔ اپنی قدرت کے سبب معبود ہے۔ اسکے عذاب اور سطوت کے باعث اس سے خوف کھا یا جاتا ہے۔ اسکا حکم آسمانوں اور زمین پر نافذ ہے۔ اس نے اپنی قدرت سے مخلوق کو پیدا فرمایا اور اپنے احکام کے ذریعے ان کو ممتاز کیا۔ اپنے دین کے ساتھ ان کو عزت بخشی۔ اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ان کو مکرم اور محترم بنایا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کا نام برکت والا ہے اور اس کی عظمت بلند ہے۔ اس نے مصاحرت (سسرالی رشتہ) کو لاحق ہونے والا بنایا۔ (کہ اسکے ذریعے ایک نسب دوسرے نسب سے مل جاتا ہے) اور اسے لازم قرار دیا۔ جسکے ذریعے رحموں کو ملایا جاتا ہے اور اسے مخلوق پر لازم قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ’’ اور وہی ذات ہے جس نے پانی (مادئہ منویہ ) سے انسان کو پیدا فرمایا۔ پس اسے نسب اور سسرالی رشتہ میں منسلک کیا اور تمھارا رب اس پر قادر ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا حکم اس کی قضا کی طرف اور اسکی قضا اسکی قدر کی طرف جارہی ہے اور ہر قضا کیلئے ایک قدر ہے اور ہر قدر(تقدیر) کیلئے ایک وقت مقرر ہے اور ہر مقرر وقت لکھا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ مٹا دیتا ہے اور جو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اسکے پاس’’ ام الکتاب‘‘(لوحِ محفوظ ) ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کردوں ۔ پس تم لوگ گواہ رہنا میں نے چالیس مثقال چاندی پر ان کا نکاح کیا اگر اس پر راضی ہوں۔‘‘ پھر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجورو ںکا ایک تھال منگوایا اور فرمایا : ’’ اسے لوٹو۔ ‘‘ تو ہم نے اسے لوٹا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انھیں دیکھکر مسکرائے اور فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں چار سو مثقال چاندی پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تم سے کروں۔ کیا تم اس پر راضی ہو؟ ‘‘ انھوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس پر راضی ہوں۔‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تمھارے متفرق امور کو جمع کرے (یعنی دونوں میں اختلاف نہ ہو بلکہ اتفاق ہو۔) اور تمھاری کوشش کو معزز فرمائے۔‘‘ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو پاک اولاد (حضرت حسن ، حضرت حسین اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہما) عطا فرمائی۔‘‘ اب ہم اس حدیث کو مکمل کرتے ہیں جسے روک دیا تھا۔

سیدالانبیاء ﷺ نے ان دونوں کی اولاد کو اللہ کی پناہ میں دیا

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ کے پیسے لاکر دئیے تھے۔ یہ آپ پڑھ چکے ہیں اور ان پیسوں میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ پیسے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو خوشبو لانے کے لئے دئیے اور باقی سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کرنے کا حکم دیا۔ یہ بھی آپ پڑھ چکے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیسوں سے ہی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا جہیز تیار کرایا۔ ہم غور کریں کہ کیا ہم ایسا کرتے ہیں؟ بہر حال جہیز یہ تھا کہ ایک چار پائی بنائی گئی جو کھجور کے پتوں سے بنی گئی تھی اور ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ (اور ایک چادر اور ایک مشکیزہ تھا) سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تمھارے گھر آئیں تو ان سے کچھ نہ کہناجب تک میں تمھارے پاس نہ آجائوں۔ ‘‘ حضرت علی رضی اللہ فرماتے ہیں : ’’ (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ) سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا آئیں تھیں۔ وہ گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئیں اور میں دوسرے کونے میں بیٹھا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور دریافت فرمایا : ’’ یہاں میرا بھائی ہے؟ ‘‘ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی یہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کا نکاح ان سے کردیا ہے؟ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ہاں ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ پانی لائو۔ ‘‘ گھر میں پیالہ تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اس میں پانی لیکر آئیں۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پیالے میں سے کچھ پانی اپنے منہ میں لیکر واپس پیالے میں کلی کردی پھر فرمایا : ’’ آگے بڑھو ۔ ‘‘ وہ آگے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے اور سر پر پانی چھڑ کااور فرمایا : ’’ اے اللہ تعالیٰ ! میں اسے اور اسکی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’ پیٹھ پھیرو ۔ ‘‘ انھوں نے پیٹھ پھیری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے دونوں کاندھوں کے درمیان پانی چھڑکا۔ پھر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔ پھر فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام اور برکت سے اپنی زوجہ کے پاس سے جائو۔ ‘‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیںکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا(سے نکاح) پر ولیمہ کیا تو اس زمانے میں آپ کے ولیمہ سے افضل کوئی ولیمہ نہیں تھا۔ اس ولیمہ میں صاع جَواور کھجوریں اور حیس تھا۔ حیس(ایک قسم کا حلوہ ہوتا ہے جو) کھجور اور پنیر سے بنتا ہے۔

غزوئہ غطفان یا غزوئہ انمار یا غزوئہ ذی امر

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ ختم ہونے اور محرم الحرام کے کچھ دن گذرنے تک مدینہ منورہ میں ہی قیام پذیر رہے۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ بنو ثعلبہ اور بنو حارب (یہ قبیلہ غطفان کی شاخیں ہیں) نجد میں جمع ہورہے ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ مدینہ منورہ کے اطراف میں لوٹ مار کریں۔ دعثور غطفانی ان کا سردار تھا۔ یہ اطلاع ملتے ہی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کو جمع کیا اور مدینہ منورہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ حکمراں بنایا اور چار سو پچاس مجاہدین کے ساتھ محرم الحرام کے درمیانی یا آخری ایام (دنوں) غطفان کی طرف روانہ ہوئے۔ بنو غطفان کی دونوں شاخوں کے لوگ جو وہاں جمع تھے جیسے ہی انھیں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر کے آنے کی اطلاع ملی ۔وہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے اور منتشر ہوکر پہاڑوں میںچھپ گئے۔ بنو ثعبلہ کا ایک شخص گرفتار ہوا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔ محرم الحرام کے آخری چند دن اور صفر المظفر کا پورا مہینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں قیام پذیر رہے۔ لیکن کوئی بھی مقابلے کے لئے نہیں آیا۔ آخر کار سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے چشمہ ذی امر پر قیام فرمایا اسلئے اسے غزوئہ ذی امر بھی کہتے ہیں۔

دعثور کا قبول اسلام

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غطفان کے میدان میں لگ بھگ ایک مہینے سے زیادہ قیام فرمایا۔ اسی دوران دعثور کے قبول اسلام کا واقعہ پیش آیا۔ کئی علمائے کرام نے فرمایا کہ واقعہ اس غزوئہ میں نہیں بلکہ دوسرے غزوئہ میں پیش آیا۔ لیکن کئی علمائے کرام کا قول ہے کہ اسی قسم کا واقعہ دو مرتبہ پیش آیا۔ ایک تو اس غزوئہ میں اور دوسرا کسی اور غزوئہ میں پیش آیا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے کچھ دور تنہائی میں ایک درخت کے سائے میں آرام فرمارہے تھے اور بنو ثعلبہ اور بنو حارب کے لوگ ڈر کر بھاگ کر پہاڑوں میں چھپ گئے تھے۔ وہ پہاڑوں پر سے نیچے میدان میں دیکھ رہے تھے۔ انھوں نے اپنے سردار’’ دعثور‘‘ کو کہا کہ آپ بہت بہادر ہیں اور آپ دیکھ رہے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ساتھیوں سے کافی دور ایک درخت کے سائے میں اطمینان سے سورہے ہیں۔ موقع بہت اچھا ہے آپ جاکر انھیں قتل کر آئیں۔ دعثور نے ایک بہت تیز تلوار لی اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار تان کر کھڑا ہوگیا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو آنکھ کھل گئی۔ آنکھ کھلتے ہی دعثور دکھائی دیاجو حملے کیلئے تلوار سونتے کھڑا تھا۔ اُس نے کہا : ’’ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) بتائو آج تم کو میری تلوار سے کون بچائے گا ؟ ‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح اطمینان سے لیٹے رہے اور فرمایا : ’’ مجھے تجھ سے اللہ تعالیٰ بچائے گا۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ مکمل کئے تھے کہ جبرئیل علیہ السلام نے دعثور کے سینے پر مُکّہ مارا جس کی وجہ سے اسکے ہاتھ سے تلوار گر پڑی ۔ وہ حیرانی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھاکہ اسے کس نے مارا۔ اسی دوران سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پھرتی سے تلواراٹھالی اور اس کے اوپر تان کر فرمایا : ’’ اب تم بتائو کہ تمھیں مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ اب وہ حیران ہونے کی بجائے خوف کا شکار ہوگیا اور کہا : ’’ کوئی نہیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار ہٹالی اور اسے دے دی دعثور حیرانی سے کچھ دیر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا رہا پھر اس نے کہا : ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ اور اسلام قبول کرلیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف فوج جمع نہیںکروں گا۔ اسکے بعد حضرت دعثور رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے پاس واپس آئے ان کی قوم نے کہا : ’’ اے سردار ! جس کام کے لئے آپ گئے تھے اسکا کیا ہوا ؟ ‘‘ حضرت دعثور رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسکے بعد وہیں پورا واقعہ بیان کیا اور اپنے قوم کو اسلام کی دعوت دی۔

کعب بن اشرف یہودی کی گستاخی

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ غطفان سے ربیع الاوّل کے شروعاتی دنوں میں مدینہ منورہ تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ پر محرم الحرام ۳ھ؁ کو گئے تھے اور ربیع الاول ۳ ھ؁ ھجری کو واپس آئے اور ۱۴ ربیع الاوّل کی رات کعب بن اشرف یہودی کے قتل کا واقعہ پیش آیا۔ کعب بن اشرف ایک بہت امیر یہودی تھااور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’وہ آخری نبی ‘‘ہیں۔ جن کے بارے میں بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام نے بشارت دی ہے اور توریت اور انجیل میں ان کا ہی ذکر کیا گیا ہے۔ اسکے باوجود وہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا بلکہ حسد کرنے لگا اور دشمنی کرنے لگا۔ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بہکانے لگا اور گستاخی بھرے شعر کہنے لگا۔ غزوئہ بدر میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو جو فتح اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ اسکی خبر جب اس بدبخت یہودی کعب بن اشرف کو ملی تو اسے بہت صدمہ ہوا اور اس نے کہا : ’’ اگر یہ خبر صحیح ہے کہ مکہ مکرمہ کے بڑے بڑے سردار مارے گئے ہیں تو زمین کا بطن(یعنی قبر) اسکے ظہر (یعنی پشت یا اوپر)سے بہتر ہے۔‘‘ یعنی زندہ رہنے سے اچھا مر جانا ہے۔ لیکن جب اس خبر کی تصدیق ہوگئی تو غزوئہ بدر میں قتل ہونے والے کافروں کے رشتہ دار وں کے پاس تعزیت کیلئے یہ بد بخت یہودی مکہ مکرمہ گیااور بدر میں مارے گئے کافروں کے مرثیے لکھتا تھا اور پڑھ پڑ ھ لوگوں کو سناتا تھا اور خود بھی روتا اور دوسروں کو بھی رلاتا تھا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قریش کے کافروں کو جنگ کیلئے آمادہ کرنے کئی کوشش کرتا تھا ایک دن قریش کو لیکر حرم میں آیا اور خانہ کعبہ کا پر دہ تھام کر مسلمانوں سے جنگ کرنے کا حلف لیا، اسکے بعد مدینہ منورہ آیا اور مسلمان خواتین کے متعلق عشقیہ اشعار کہنے لگا۔

بد بخت کعب بن اشرف کے قتل کا حکم

   حضرت کعب بن مالک رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف بہت بڑا یہو دی شاعر تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بھرے شعر کہتا تھا اور مکہ مکرمہ کے کافروں کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کر نے کے لئے بھڑکاتا رہتا اور مسلمانوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے کی کو شش کرتا تھا ۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو مسلسل صبر و تحمل کا حکم دیتے تھے۔ لیکن جب اسکی گستاخیاں اور شرارتیں حد سے گذر گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم،دے دیا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی ایک اور روایت میںہے کہ ایک مرتبہ بد بخت کعب بن اشرف یہو دی نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت کے بہا نے بلایا اور کچھ یہودیوں کو متعین کر دیاکہ جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو تم لوگ حملہ کر کے انھیں قتل لر دینا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آکر بیٹھے ہی تھے کہ جبرئیل امین علیہ السلام نے آکر اس بد بخت یہودی کے ارادے کی خبر دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراََ وہاں سے اٹھ کر جبرئیل امین علیہ السلام کے پروں کے سائے میں باہر تشریف لائے اور واپس آکر اس بد بخت یہودی کے قتل کا حکم دیا۔

حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قتل کیا

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بد بخت یہو دی کعب بن اشرف کے قتل کا حکم دیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رو ایت ہے کہ سید الابنیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تم میں سے کون کعب بن اشرف کو قتل کرے گا ؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اذیت دی ہے۔ ‘‘یہ سنتے ہی حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے فر ما یا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اسے قتل کر دیا جائے؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : ’’ ہاں ۔‘‘ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر مجھ کو کچھ کہنے کی اجازت دیں۔‘‘ (یعنی ایسے الفاظ اورجملے کہنے کی اجازت دیں جس سے وہ بد بخت یہو دی خوش ہو کر جال میں پھنس جائے)سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمہیں اجازت ہے۔ ‘‘ اس حدیث کو روک کر ہم ایک دوسری روایت پیش کر رہے ہیں تا کہ پورا واقعہ صحیح سمجھ میں آجائے۔ امام ابن عبد البر کی روایت میں ہے کہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا تو کئی دن اسی غور فکر میں گزارے ۔ آخر کار کعب بن اشرف کے چچا زاد بھائی حضرت ابو نائلہ سلکان بن سلامہ بن رقش رضی اللہ عنہ ، حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ، حضرت حارث بن اوس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبس بن جبران رضی اللہ عنہ سے مل کر مشورہ کیا۔ سب نے آمادگی ظاہر کی اور ایک ساتھ سب نے کہا کہ ہم سب مل کر اس بد بخت کو قتل کریں گے۔ پھر سب مل کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :’’ وہاں جا کر کچھ نہ کچھ کہنا پڑے گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جو مناسب سمجھو کہنا میری طرف سے اجازت ہے۔ ‘‘ اب ہم حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو دوبارہ شروع کرتے ہیں۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ایک دن کعب بن اشرف سے ملنے گئے اور کہا :’’ یہ مرد ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم سے صدقہ اور زکوٰۃ مانگتا ہے اور اس شخص نے ہمیں مشقت میں ڈال دیا ہے۔ میں اس وقت آپ کے پاس قرض لینے آیا ہوں۔‘‘ بد بخت کعب بن اشرف نے کہا : ’’ ابھی کیا ہے آگے چل کر دیکھنا للہ کی قسم ! تم اس شخص سے اُکتا جائو گے۔ ‘‘ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اب تو ہم اُن کے پیرو ہو چکے ہیں اُن کا ساتھ چھوڑنا پسند نہیں کرتے اب دیکھیں کیا انجام ہوتا ہے۔ اس وقت ہم ہم چاہتے ہیں کہ کچھ غلّہ ( اناج ) ہم کو قرض کے طور پر دے دیں۔‘‘ کعب بن اشرف نے کہا : ’’ پہلے کوئی چیز رہن (گِروی) رکھ دو۔ ‘‘ انھوں نے کہا : ’’ آپ کیا چیز رہن رکھوانا چاہتے ہیں ؟ ‘‘ اس بد بخت یہودی نے کہا : ’’ اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو۔‘‘ اُن لوگوں ( حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بقیہ لوگ بھی آئے تھے) نے کہا : ’’ اپنی عورتوں کو کیسے رہن رکھ سکتے ہیں ؟ یہ ہماری غیرت اور حمیت گوارا نہیں کرتی۔ ‘‘ اُس بد بخت نے کہا : ’’ اپنے لڑکوں کو رہن رکھ دو۔‘‘ انھوں نے کہا : ’’ یہ تو ساری عمر کا عار ہے۔ ہماری اولاد ہم کو طعنہ دے گی ہم ایسا کر سکتے ہیں کہ اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ سکتے ہیں۔ ‘‘کعب بن اشرف نے کہا : ’’ ٹھیک ہے ! رات کو ہتھیار لے کر آنا اور غلّہ ( اناج ) لے کر جانا۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں کعب بن اشرف کا سر

   حضرت جابر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ابھی جاری ہے۔ بد بخت کعب بن اشرف نے اُن لوگوں کو رات میں اپنے گھر بلایا تھا کہ وہ ہتھیار لے کر آئیں اور رہن رکھ کر غلہ لے جائیں۔ وعدہ کے مطابق وہ لوگ رات کو اُس کے گھر پہنچے اور آواز لگائی ۔ کعب بن اشرف اپنے قلعہ سے اتر کر باہر آیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اسی درمیان اپنے ساتھیوں کو سمجھا دیا تھا کہ وہ بدبخت یہودی خوشبو کا استعمال بہت کرتا ہے۔ میں اس کا سر سونگھنے کے بہانے اس کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑلوں گا اور تم اس کا سر قلم کر دینا۔ کعب بن اشرف باہر آیا تو خوشبو سے معطر تھا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ آج تک میں نے ایسی خوشبو نہیں سونگھی ۔ ذرا اپنے سر کو سونگھنے کی اجازت دو۔ ‘‘ کعب بن اشرف نے اپنا سر جھکا کر آگے کر دیاتو حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بال مضبوطی سے پکڑ لئے اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا تو انھوں نے اس کا سر قلم کر دیا اور آناً فاناً اس کا خاتمہ ہو گیا۔ اسی رات وہ تمام لوگ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیکھتے ہی فرمایا : ’’ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے۔ ‘‘ ان لوگوں نے جواباً عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک ۔‘‘ ( کامیاب ہوا اور فلاح پائی) اور اس کے بعد بد بخت گستاخ کعب بن اشرف کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’الحمد اللہ ‘‘فرمایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ جب یہودیوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ سب مسلمانوں سے بہت زیادہ مرعوب اور خوف زدہ ہو گئے اور جب صبح ہوئی تو یہودیوں کی ایک جماعت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : ’’ ہمارا سردار اس طرح مارا گیا۔ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ وہ مسلمانوں کو طرح طرح سے اذیتیں دیتا تھا اور ہمارے دشمنوں کو ہمارے خلاف جنگ پر آمادہ کرتا تھا۔ ‘‘یہ سن کر وہ لوگ کوئی جواب نہیں دے سکے اور پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے یہ عہد نامہ لکھوا کر لے لیا کہ آئندہ کوئی بھی یہودی ایسی حرکت نہیں کرے گا۔

غزوہ ٔ بحران

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول اور ربیع الاخر کے مہینے مدینہ منورہ میں گزارے اور جمادی الاول میں غزوہ بحران کے لئے روانہ ہوئے۔ بحران ، فرع کے نواح میں ہے اور مدینہ ٔ منورہ اور فرع کے درمیان آٹھ برد ( 96میل) کا فاصلہ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تین سو مجاہدین کے ساتھ روانہ ہوئے اور اپنی جگہ حضرت ابن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا حکمراں بنایا ۔ اس غزوے کے سلسلے میں کچھ روایات میں آیا ہے کہ بنو سلیم ’’بحران ‘‘میں جنگ کے لئے جمع ہور ہے تھے ۔ یہ روایت امام محمد بن سعد وغیرہ نے بیان فرمائی ہے اور کچھ روایات میں آیا ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے قافلے کے ارادے سے نکلے تھے ۔ یہ روایت عبد الملک بن ہشام وغیرہ نے بیان فرمائی ہے اور علامہ ابن قیّم نے زادالمعاد میں اسی کو اختیار کیا ہے۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ بہر حال اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بحران تک کا سفر کیا تھا اور وہاں کم سے کم دس دن اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ سے کچھ زیادہ قیام فرمایا تھا اور بغیر جنگ وقتال کئے مدینہ منورہ واپس آگئے تھے۔

سریہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الاخر ۳ ؁ھ میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک سو (۱۰۰) مجاہدین کو قریش کے قافلے کے ارادے سے بھیجا۔ قریش غزوہ بد ر کی شکست کی وجہ سے اضطراب میں مبتلا تھے۔ اسی دوران گرمی کا موسم آگیا اور ملک شام سے تجارتی سفر کا وقت آگیا تو وہ اور بھی فکر میں مبتلا ہو گئے۔ بہر حال قریش نے ملک شام کی طرف تجارت کے لئے قافلے کو تیار کیا ور صفوان بن امیہ کو قافلے کا سردار ( میر کارواں ) بنایا۔ صفوان نے کہا : ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھیوں نے ہمارے تجارتی راستے کو بہت تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم اُن کے ساتھیوں سے کیسے نمٹیں۔ وہ ساحل چھوڑ کر ہٹتے ہیں نہیں ہیں اور ساحلی علاقے کے باشندوں نے اُن سے صلح کر لی ہے۔ عام لوگ بھی ان کے ساتھ ہو گئے ہیں اب سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کون سا راستہ اختیار کریں؟اگر ہم گھروں میں بیٹھے رہے تو اپنااصل مال بھی کھا جائیں گے اور کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ کیوں کہ ہم مکہ مکرمہ والوں کی زندگی کا دارو مدار اس پر ہے کہ گرمی میں ہم ملک شا م سے تجارت کریں اور سردی میں حبشہ سے تجارت کریں۔‘‘ صفوان بن اُمیہ کے اس سوال پر مکہ مکرمہ کے تمام سردار غور و خوض کرنے لگے۔ آخر اسود بن عبد المطلب نے صفوان سے کہا : ’’ تم ساحل کا راستہ چھوڑ کر عراق کے راستے سفر کرو۔ ‘‘یہ راستہ بہت لمبا تھا اور نجد سے ہو کرملک شام جاتا تھا اورمدینہ منورہ کے مشرق میں خاصے فاصلے سے گزرتا تھا۔ قریش اس راستے سے بالکل ناواقف تھے۔ اس لئے اسود بھی عبد المطلب نے صفوان بن اُمیہ کو مشورہ دیا کہ وہ فرات بن حیان کو ( جو قبیلہ بکر بن وائل کا تھا۔) راستہ بتانے کے لئے راہ نما رکھ لے۔ وہ اس سفر میں اس کی رہنمائی کرے گا۔

سید الانبیاء ﷺ کو قافلے کی اطلاع

   اسطرح مکمل انتظام کے ساتھ قریش کا تجارتی قافلہ صفوان بن امیہ کی قیادت میں نئے راستے سے روانہ ہوا۔ مگر اس تجارتی قافلے اور اسکے سفر کے پوری منصوبے کی خبر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچ گئی۔ وہ اسطرح کہ حضرت سلیط بن نعمان رضی اللہ عنہ جو مسلمان ہوچکے تھے ۔ نعیم بن مسعود کے ساتھ جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ یہ دونوں شراب پی رہے تھے۔ (یاد رہے اس وقت تک شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا) جب نعیم بن مسعود پر شراب کا غلبہ ہوا تو انھوں نے قافلے اور اسکے سفر کے پورے منصوبے کی تفصیل بیان کر ڈالی ۔ حضرت سلیط بن نعمان رضی اللہ عنہ بجلی کی سی تیز رفتاری سے مدینہ منورہ آئے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام تفصیل بیان کردی۔

قریش کو بڑا جھٹکا

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً حملے کی تیاری کی اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک سو مجاہدین کو قافلے کی طرف بھیجا۔ انھوں نے بہت تیزی سے راستہ طئے کیا اور قریش کا قافلہ قردہ نام کے ایک چشمے پر پڑائو ڈالنے کی تیاری کررہا تھا کہ اچانک حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مجاہدین کے ساتھ پہونچ گئے۔ انھیں آتے دیکھ کر صفوان بن امیہ اور دوسرے محافظین بھاگ گئے اور مسلمانوں نے فرات بن حیان اور مزید دو آدمیوں کو گرفتار کر لیا اور پورے تمام مال و اسباب پر قبضہ کرلیا اس میں چاندی کی اور ظروف کی بہت بڑی مقدار تھی۔ ایک لاکھ درہم سے زیادہ مال غنیمت حاصل ہوا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حمس نکال کر باقی تمام مجاہدین کی تقسیم کر دیا۔ اور فرات بن حیان نے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کرلیا۔ یہ قریش کیلئے سب سے بڑا جھٹکا تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں