پیر، 3 جولائی، 2023

18 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


18 سیرت سید الانبیاء ﷺ

مختلف سرایا۔ قسط 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


ام المومنین سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان سے نکاح، نجاشی نے نکاح پڑھایا، سریہ عکاشہ بن محسن، سریہ محمد بن مسلمہ، 


غزوہ ذی قرد 6 ؁ہجری یا غزوہ غابہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنو لحیان سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ آئے تو چند راتوں کے گزرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ عینہ بن حصن جو غزوہ بنو لحیان کے وقت اپنیگروہ کو لے کر پہاڑوں میں چھپ گیا تھا وہ وہاں سے اتر کر غابہ میں آیا ۔ یہیں پر چشمۂ ذی قرد بھی ہے۔ یہاں پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیوں کی چراگاہ ہے۔ عینہ بن حصن فزاری نے اس چراگاہ پر چھاپا مارا اور اونٹنیوں کو پکڑ کر لے گیا۔حضرت ابو ذر غِفاری رضی اللہ عنہ کے بیٹے اونٹنیوں کی حفاظت پر متعین تھے۔ انھوں نے مقابلہ کیا لیکن کافروں نے انہیں شہید کر دیا اور ان کی والدہ یعنی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی بیوی کو پکڑ کر لے گئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اطلاع ملتے ہی اکیلے تیزی سے اُن کے تعاقب میں روانہ ہوئے اور ایک ٹیلہ پر کھڑے ہو کر’’ یا صباحاہ‘‘ کے تین نعرے لگائے جس سے تمام مدینہ منورہ گونج اٹھا۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بہت اچھے تیر انداز تھے۔ تیزی سے پیچھا کر کے عینہ بن حصن اور اس کے ساتھیوں کو پانی کے ایک چشمہ پر پکڑا۔ آپ رضی اللہ عنہ اُن پر تیر برساتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ’’ میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کے دن معلوم ہو جائے گا کہ کس نے شریف عورت کا دودھ پیا ہے اور کون کمینہ ہے۔‘‘ ادھر مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ کی حفاظت کے لئے چھوڑا اور چہرے پر رومال باندھے ہوئے’’ الحدید‘‘ کی طرف روانہ ہوئے۔ سب سے پہلے جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے وہ حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ زرہ اور خود ( لوہے کی ٹوپی) پہنے ہوئے تھے اور ننگی تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے نیزے پر جھنڈا باندھ دیا اور فرمایا : ’’ جائو یہاں تک کہ تمہیں لشکر ملیں گے اور میں بھی تمہارے نقش قدم پر آرہا ہوں ۔ ‘‘ حضرت مقداد بن عمر و رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں تیزی سے آگے بڑھا اور مقابلے کی جگہ پہنچا تو دیکھا کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ دشمنوں سے مقابلہ کر رہے ہیں اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ تیر اندازی کر رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر میں بھی مقابلے میں شریک ہو گیا۔‘‘ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے مسعدہ کو قتل کیا ۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے اثار بن عمر و کو قتل کیا۔ حضرت مقداد بن عمر و رضی اللہ عنہ عمرو بن حبیب بن عینہ کو قتل کیا۔ مشرکین تمام اونٹنیاں اور قیدی اور اپنا سامان چھوڑ کر بھاگے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ پیدل ہی دوڑتے ہوئے اُن کا پیچھا کرتے جا رہے تھے اور تیر چلاتے جا رہے تھے۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پانچ سو یا سات سو کا لشکر لے کر وہاں پہنچ گئے تو حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے واپس آکر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اُن کو فلاں جگہ پیاسا چھوڑ کر آیا ہوں۔ اگر سو مجاہدین مجھے مل جائیں تو میں ان سب کو گرفتار کر کے لائوں گا ۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابن اکوع رضی اللہ عنہ! جب تم اُن پر قابو پائو گے تو نرمی کرنا۔ ‘‘مشرکین شکست کھا کربھاگ گئے اور تمام اونٹنیاں اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بھی چھوڑ گئے اور ساتھ ہی اُن کی تیس یمنی چادریں مالِ غنیمت کے طور پر ملیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ایک دن اور ایک رات قیام فرمایا اور’’ صلوٰۃ الخوف ‘‘پڑھی اور پانچ دنوں بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ اس غزوہ کو غزوۂ غابہ بھی کہا جاتا ہے۔ اور غزوہ ذی قرد بھی کہا جاتا ہے۔

اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

غزوہ غابہ یا ذی قرد ربیع الاول 6؁ھجری میں ہوا تھا۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔ اس نکاح کی تاریخ میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ یہ نکاح 5 ؁ہجری میں ہوا۔ کچھ روایات میں ہے کہ 6 ؁ہجری میں ہوا ۔ کچھ روایات میں ہے کہ 7 ؁ہجری میں ہوا۔ اور کچھ روایات میں یہاں تک آیا ہے کہ فتح مکہ کے بعد یہ نکاح ہوا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ہم یہاں اس نکاح کا ذکر اس لئے کر رہے ہیں تاکہ تسلسل برقرار رہے کیوں کہ آگے چل کر صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ذکر آنے والا ہے اور اس وقت آپ کے ذہن میں سوال پیدا نہ ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا نکاح کب ہوا تھا۔ اسی لئے ہم یہاں اس نکاح کا ذکر کر رہے ہیں۔

اُ م المومنین سیدہ اُم حبیبہ رملہ بنت ابو سفیان کی ہجرت ِ حبشہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ میں’’ اعلان نبوت‘‘ فرمایا تھا تو اس وقت جن سعادت مندوں نے اسلام قبول کیا اُن میں اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا’’ السابقون الاولون ‘‘میں سے ہیں ۔ آپ رضی اللہ عنہا کا نام’’ رملہ بنت ابو سفیان‘‘ ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں۔ ہندہ بنت عتبہ والدہ ہے اور ابو سفیان بن حرب والد ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کی عمر اعلان ِ نبوت کے وقت 17سترہ برس تھی۔ آپ رضی اللہ عنہا کا شوہر عبید اللہ بن جحش تھا۔ ( یہ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہا کا بھائی تھا)۔ سید اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ان کے شوہر نے شروع میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور قریش کیمظالم سے تنگ آکر دونوں نے حبشہ کی ہجرت کی تھی۔ وہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام حبیبہ رکھا گیا۔ اسی کے نام پر آپ رضی اللہ عنہا کی کنیت ’’اُم حبیبہ ‘‘ہے۔ حبشہ جا کر عبید اللہ بن جحش عیسائی ہو گیا اور شراب پینے لگا۔ مگر سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا اسلام پر قائم رہیں آخر کا ر اسی شراب نوشی کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ حبیبہ جن کے نام پر سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کی کنیت ہے وہ مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں یا حبشہ میں پیدا ہوئیں اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سیدالانبیاء ﷺ کے وکیل

سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ سیدہ اُم حبیبہ رضی ا للہ عنہا کے شوہر نے عیسائی مذہب قبول کر لیا ہے اور آپ رضی اللہ عنہا بدستور اسلام پر قائم ہیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا کہ سید ہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کی دلجوئی کی جائے ۔ ادھر حبشہ میں عدت کے دوران سید ہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص انھیں ’’یا اُم المومنین ‘‘کہہ رہا ہے۔ اس خواب سے آپ رضی اللہ عنہا بہت گھبرائیں اور عدت ختم ہونے کے بعد یکا یک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کا پیغام آپہنچا۔ ادھر مدینہ منورہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عَمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی ( یاد رہے کہ نجاشی اصمحہ ہے اور لقب نجاشی ہے۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ جس طرح رومیوں کے ہر بادشاہ کا لقب ’’قیصر ‘‘ہوتا تھا اور مصریوں کے ہر بادشاہ کا لقب’’ فرعون ‘‘ ہوتا تھا اور فارسیوں کے ہر بادشاہ کا لقب’’ کسریٰ ‘‘ہوتا تھا ۔ا سی طرح حبشہ کے ہر بادشاہ کا لقب ’’نجاشی‘‘ ہوتا تھا) کے پاس یہ کہلا بھیجا کہ اگر سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا مجھ سے نکاح کرنا چاہیں تو تم میری طرف سے’’ وکیل ‘‘بن کر نکاح پڑھوا کر انھیں میرے پاس بھیج دو ۔ ( خیال رہے کہ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکے تھے اور اسلام قبول کر چکے تھے) حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کنیز’’ ابرہ ‘‘کو سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا کہ میرے پاس اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا ہے۔ اگر تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کرنا منظور ہو تو اپنی طرف سے کسی کو وکیل بنا لو۔ ‘‘

حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے نکاح پڑھایا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کے ذریعے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا اس پیغام کو سن کر اتنی خوش ہوئیں کہ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کی کنیز ابرہ کو اپنے کچھ زیورات انعام کے طور پر دے دیئے اور حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ ( اُن کے ماموں کے لڑکے ہیں یعنی ماموں زاد بھائی ہیں) کو اپنے نکاح کا ’’وکیل ‘‘بنا کر حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھیج دیا۔ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے شاہی محل میں نکاح کی مجلس منعقد کی اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم کو جو اس وقت حبشہ میں موجود تھے ان سب کو اس نکاح کی مجلس میں بلایا اور خود ہی خطبہ پڑھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کر دیا اور چار سو دینار مہر اپنے پاس سے ادا کیا جو اسی وقت حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی گئی۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مجلس سے اٹھنے لگے تو حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ’’ آپ لوگ بیٹھے رہیئے انبیاء علیہم السلام کا یہ طریقہ ہے کہ نکاح کے وقت کھانا کھلایا جاتا ہے ‘‘ یہ کہہ کر حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے کھانا منگایا اور سب کی دعوت کی ۔ تمام حضرات نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔

حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کا خطبہ ٔ نکاح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے کیا۔ انھوں نے یہ خطبہ نکاح پڑھا: ’’ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تما م کائنات کا مالک ہے۔ قدوس ہے ، السلام ہے۔ غالب ہے۔ عزیز ہے اور جبّار ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم’’ وہی نبی ‘‘ہیں جن کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی تھی۔ اما بعد ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو یہ تحریر فرمایا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے کردوں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا سے چار سو دینا رمہر پر کیا۔‘‘ اس کے بعد چار سو دینا ر سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے وکیل حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیئے گئے۔ اس کے بعد حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور تقریرفرمائی: ’’ تمام تعریف اللہ کے لئے ہے میں اللہ کی حمد و ثنا کر تا ہوں اور اس سے مغفرت مانگتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیںہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تا کہ اس دین ( اسلام ) کو تمام دینوں پر غالب کردے۔ چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار گزرے اما بعد!میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو قبول کیااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دیا۔ اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے۔‘‘ اس کے بعد نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے دعوت کھلائی۔

سید الانبیاء ﷺ کی خدمتِ اقدس میں سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کر دینے کے بعد حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیجنے کی تیاری شروع کر دی۔ ادھر اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو جب مہر کی رقم ملی تو انھوں نے ابرہ کو بلا کر پچاس 50دینا ر اور دیئے لیکن ابرہ نے وہ پچاس دینا ر اور پہلے کے لئے ہوئے زیورات واپس کر تے ہوئے عرض کیا: ’’ بادشاہ ( حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ ) نے مجھ کو تاکید کی ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہا سے کچھ نہ لوںاور آپ رضی اللہ عنہا یقین کریں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا چکی ہوں اور اسلام قبول کر چکی ہوں۔ آج بادشاہ نے اپنی تمام بیگمات کو حکم دیا ہے کہ ان کے پاس جو بھی عطر یا خوشبو ہوں۔ اس میں سے ضرور آپ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ بھیجیں۔‘‘ دوسرے دن ابرہ وہ تمام خوشبویات لے کر حاضر ہوئیں ۔ اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ (تب تک حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روانگی کی تیاری مکمل کر لی تھی اور حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ انھیں مدینہ منورہ روانہ کر دیا تھا) میں نے وہ تمام خوشبویا ت رکھ لی اور اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں لے کر آئی۔ خوشبویات دیتے وقت ابرہ نے مجھ سے کہا تھا : ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سلام کہنا اور عرض کردینا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئی ہوںاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اختیار کر لیا ہے۔ میری روانگی تک بار بار ابرہ یہ کہتی رہی کہ دیکھو میری درخواست کو بھول نہ جانا۔ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں پہنچی تو تمام حالات اور واقعات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے رہے اور اپنا سرِ مبارک ہلاتے رہے۔ آخر میں جب میں نے ابرہ کا سلام عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وعلیھا السلام ورحمتہ اللہ وبر کاتہُ۔‘‘

سریہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ماہ ربیع الاول 6 ؁ہجری میں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی قیادت میں چالیس40مجاہدین کو غمر کی طرف روانہ فرمایا۔ غمر ، مرزوق کی جانب ہے۔ جو فید سے مدینہ منورہ کے راستے میں دو رات کی مسافت پر بنو اسد کا پانی کا گھاٹ ہے۔ ان کی رفتار بہت تیز تھی لیکن ان لوگوں نے تاڑ لیا تھا اور پہاڑوں میں جا کر چھپ گئے۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے اطراف میں آدمی دوڑائے تو ایک شخص گرفتار ہوا اسے امن دیا گیا تو اس نے وہاں کا پتہ دیا جہاں اونٹ چھپائے گئے تھے۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور اونٹوں کی جگہ پر چھا پا مارا تو دو سو اونٹ ہاتھ لگے۔ یہ سب لے کر آپ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئے اور جنگ کی نوبت نہیں آئی۔

سریہ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول 6 ؁ہجری میں ہی حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دس مجاہدین کو بنو ثعلبہ اور بنو عوال کی طرف بھیجا ۔ یہ لوگ ذی القصہ میں جمع تھے۔ ذی القصہ مدینہ منورہ سے چوبیس 24میل کے فاصلے پر الذبدیہ کے راستے پر واقع ہے۔ جب یہ مجاہدین وہاں پہنچے تو دونوں قبیلے کے سو سے زیادہ آدمی وہاں موجود تھے۔ انھوں نے ان مجاہدین کو گھیر لیا۔ دونوں طرف سے تیر اندازی ہوئی۔ جب مسلمانوں کے تیر ختم ہو گئے تو تلوار سے مقابلہ کرنے لگے۔ آس پاس کے اعرابی بھی دشمنوں کی مدد کے لئے آئے۔ بہت زبر دست مقابلے کے بعد تمام صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بھی شدید زخمی تھے اور بے ہوش ہو کر گر گئے۔ دشمنوں نے سمجھا کہ شہید ہو گئے ہیں تو وہ سب چلے گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ہو ش آیا تو اتفاق سے ایک مسلمان وہاں سے گزر رہے تھے انھوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچادیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں چالیس مجاہدین کو بھیجا کہ دشمنوں کا مقابلہ کیا جائے۔ لیکن وہ بھاگ گئے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


19 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


19 سیرت سید الانبیاء ﷺ

مختلف سرایا۔ قسط 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


سریہ ابو عبیدہ بن جراح، سریہ حضرت زید بن حارثہ، سریہ حضرت عبدالرحمن بن عوف، سریہ حضرت علی، سریہ حضرت عبداللہ بن رواحہ، سریہ حضرت عمر و بن اُمیہ ضمری


سریہ ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ربیع الآخر 6 ؁ہجری میں اطلاع ملی کہ بنو ثعلبہ ، بنو انحار اور بنو حلبمقامِ حیضہ کی چراگاہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ ہوا یہ کہ قبیلہ بنو ثعلبہ، قبیلہ انحار اور قبیلہ حلب کے تالاب خشک ہو گئے۔ اس لئے یہ تینوں قبیلے المراض کے خشک تالاب پر جمع ہوئے تو انھوں نے طے کیا کہ مدینہ منورہ سے سات میل کے فاصلے پر مسلمانوں کے مویشی حیضہ کی چراگاہ میں چرتے ہیں۔ وہاں حملہ کر کے ان مویشیوں کو لوٹ لیا جائے۔ اطلاع ملتے ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 40مجاہدین کو روانہ فرمایا۔ راتوں رات سفر کر کے صبح ہوتے وقت آپ رضی اللہ عنہ مجاہدین کے ساتھ وہاں پہنچے تو دشمن بھاگ کر پہاڑوں میں چھپ گئے۔ ایک شخص گرفتار ہوا ۔ اس نے اسلام قبول کر لیا تو اسے چھوڑ دیا اور دشمنوں کے اونٹ اور مویشی جو وہ چھوڑ کر بھاگ گئے تھے وہ لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کا خمس نکال کر تقسیم فرمادیا۔

سریہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الآخر 6 ؁ہجری میں حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مجاہدین کو بنو سلیم کی طرف بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ مجاہدین کے ساتھ الجموم میں پہنچے۔ یہ بطن نخل کے بائیں جانب مضافات میں ہے اور بطن نخل ، مدینہ منورہ سے چار برد ( 48میل) کے فاصلے پر ہے۔ وہاں قبیلہ مزینہ کے ایک عورت ملی۔اس نے وہاںبنو سلیم کے ٹھہرنے کے مقامات میں سے ایک مقام کی نشاندہی کی۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے وہاں حملہ کیا تو اونٹ اور بکریاں ملیں اور کچھ لوگوں کو قیدی بنا یا۔ ان قیدیوں میں اس عورت کا شوہر بھی تھا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سب کو لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے شوہر کو اس عورت کے حوالے کر دیا اور ہبہ کر دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 70ستر مجاہدین کو قریش کے قافلے کی طرف جمادی الاول 6ہجری میں روانہ فرمایا۔ اس قافلے کے ذمہ دار حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد) تھے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے قافلے کے تمام سامان پر قبضہ کر لیا اور حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ آئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دُختر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ( حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ کی بیوی) نے پناہ دی۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ( حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کا تفصیل سے ذکر ہم نے غزوہ بدر میں کیا ہے) غزوہ بدر کے قیدیوں کے فدیہ میں ہم نے تفصیل سے بتایا ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے قافلے کا تمام مال حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا تھا اورآپ رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ والوں کا تمام سامان انھیں لوٹا دیا تھا اور وہیں مکہ مکرمہ میں قریش کے مشرکین کے سامنے اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور پھر مدینہ منورہ لوٹ آئے۔

سب سے بہتر اور سمجھدار مسلمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرماتھے۔ اور ان کی تعلیم و تربیت فرما رہے تھے۔ کہ ایک انصاری نوجوان مسجد نبوی میں داخل ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے اور حضرت ابو بکر صدیق ، میرے والد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی ، حضر ت علی المرتضیٰ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت حذیفہ بن یمان ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنم اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری نوجوان مسجد نبوی میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سلام کیا اور ہمارے ساتھ بیٹھ گیا۔ ( کچھ دیر بعد) اس نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !سب سے بہتر کون سا مسلمان ہے؟ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ جس کے اخلاق سب سے بہتر ہوں ۔‘‘ اس کے بعد اس نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کون سا مسلمان سب سے زیادہ سب سے زیادہ ہوشیار اور سمجھدار ہے ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرنے والا ہے اور موت کے آنے سے پہلے سب سے زیادہ موت کی تیاری کرنے والا ہے۔ اس قسم کا مسلمان سب سے زیادہ سمجھدار اور ہوشیار ہے۔ ‘‘

پانچ خطرناک برائیاں

سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سن کر وہ انصاری نوجوان ساکت ہو گیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس میں بیٹھے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’ پانچ خصلتیں نہایت خطرناک ہیں (1) جس قوم میں کھلم کھلا بے حیائی پھیل جاتی ہے تو اس قوم میں طاعون اور ایسی ایسی بیماریاں پھیلتی ہیںجو پہلے کبھی ظاہر نہیں ہوتی تھیں (2) جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے وہ قحط سالی اور مشقتوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور ظالم بادشاہ ان پر مسلط کر دیا جاتا ہے (3) جو قوم اپنے مال کی زکوۃ نہیں نکالتی ان سے بارش روک لی جاتی ہے۔اگر جانور نہ ہوتے تو بالکل بارش سے محروم کر دیئے جاتے (4) جو قوم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا عہد توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ اجنبی دشمنوں کو ان پر مسلط کر دیتا ہے اور وہ غیر قوم کے لوگ ان کے ہاتھوں سے سب کچھ چھین لیتے ہیں (5) اور جب پیشواء ( علمائے کرام) اور حکام اللہ کی کتاب کے خلاف فیصلہ کرنے لگیں اور متکبر اور سر کش ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان میں آپ میں پھوٹ ڈال دیتا ہے۔ ‘‘

سریہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ تم تیاری کر لو میں تمہیں ایک مہم پر آج کل میں بھیجنے والا ہوں۔ ‘‘یہ ماہ ِشعبان 6 ؁ہجری چل رہا تھا۔ اس سے پہلے رجب 6 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بنو فزارہ کی سرکوبی کے لئے وادی القریٰ میں بھیجا تھا۔ دوسرے دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو بلایا اور اپنے سامنے بٹھا کر اپنے دست مبارک ( مبارک ہاتھوں سے ) سے ایک سیاہ عمامہ اُن کے سر پر باندھا اور چار انگشت ( انگلیوں ) کا شملہ پیچھے چھوڑا اور فرمایا: ’’ اے ابن عوف رضی اللہ عنہ! اسی طرح عمامہ باندھا کرو۔ اس طرح بہت بھلا معلوم ہوتا ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا : ’’ ایک جھنڈا لا کر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو دو ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور اپنے اوپر درود پڑھا اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ یہ جھنڈا لے کر اللہ کی راہ میںجہاد کے لئے جائو۔ جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان سے قتال کرو اور نہ تو خیانت کرنا اور نہ ہی بد عہدی کرنا اور نہ کسی بچے کو قتل کرنا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات سو(700) مجاہدین کے ساتھ انھیں دومتہ الجندل میں قبیلہ’’بنو کلب‘‘ کی طرف روانہ کیا اور فرمایا : ’’ اگر وہ لوگ تمہاری دعوت کو قبول کر لیں ( یعنی اسلام قبول کر لیں) تو وہاں کے سردار کی بیٹی سے نکاح کر لینا۔ ‘‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ شعبان 6 ؁ہجری میں مجاہدین کے ساتھ دومتہ الجندل کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر تین دنوں تک مسلسل انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ تیسرے روز قبیلہ کے سردار اصبع بن عمر کلبی نے اسلام قبول کیا۔ جو مذہباً نصرانی ( عیسائی) تھااور اس کے ساتھ بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سردار کی بیٹی تُما ضِر بنت اصبع سے نکاح کر لیا اور مدینہ منورہ ساتھ لے آئے اور یہی حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن کی والدہ ہیں۔ ‘‘

سریہ حضرت علی رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ خیبر کے یہودیوں کی مدد کرنے کے لئے بنو سعد جمع ہو رہے ہیں۔ ان کی سرکوبی کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی قیادت میں سو100مجاہدین کو روانہ کیا۔ جب یہ لوگ مقام ’’النح ‘‘پر پہنچے تو قبیلہ بنو سعد کا ایک جاسوس ملا ۔ مقام النح ایک پانی کا چشمہ ہے۔ جو خیبر اور فدک کے درمیان ہے اور فدک کا فاصلہ مدینہ منورہ سے چھ رات کا راستہ ہے۔ بنو سعد کے جاسوس نے جان کی امان کی شرط پر بنو سعد کے پڑائو کا پتہ بتایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اچانک وہاں حملہ کیا۔ لیکن بنو سعد اور ان کا سردار دبر بن علیم اسلامی لشکر کو دیکھ کر بھاگ گئے اور جاتے جاتے بار برداری کے اونٹوں کو بھی بھگا لے گئے۔ اس کے باوجود مال غنیمت کے طور پر پانچ سو 500اونٹ اور دو ہزار 2000بکریاں حاصل ہوئیں۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یہ سب لے کر مدینہ منورہ واپس آئے اور جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ یہ سریہ شعبان 6 ؁ہجری میں ہوا۔

سریہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو تجارتی قافلے کا ذمہ دار بنا کر شام کی طرف روانہ کیا۔ اس قافلے میں مدینہ منورہ کے مسلمانوں کا تجارتی مال تھا۔ راستے میں وادی القریٰ میں بنو بدر کی ایک شاخ بنو قزارہ کے لوگوں نے حملہ کیا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چند مسلمان تھے انھوں نے مقابلہ کیا لیکن تجارتی قافلے کے سامان کو نہ بچا سکے اور زخمی ہو گئے اور بنو قزارہ کے لوگوں نے تمام سامان لوٹ کر لے گئے۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے زخم اچھے ہو گئے تو آپ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مجاہدین کا لشکر دیا۔ اسے لے کر آپ رضی اللہ عنہ نے وادی ٔ القریٰ میں بنو قزارہ پر حملہ کیا اور تجارتی قافلے کا تمام سامان اور ساتھ میں مال غنیمت بھی لے کر مدینہ منورہ واپس آئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گلے سے لگا لیا۔ وادی القریٰ مدینہ منورہ سے سات رات کے فاصلے پر ہے۔ یہ سریہ ماہِ رمضان 6 ؁ہجری میں پیش آیا۔

 گستاخِ رسول ابو رافع کا قتل

سید لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رمضان 6 ؁ہجری میں خیبر کی طرف گستاخ رسول ابو رافع سلام بن ابی حقیق ( اسے عبداللہ بن ابی حقیق بھی کہا جاتا تھا) کو قتل کرنے کے لئے حضرت عبداللہ بن عتیک ، حضرت عبداللہ بن انیس ، حضرت ابو قتادہ اسود بن خزاعی اور حضرت مسعود بن سنان رضی اللہ عنہم کو روانہ کیا۔ یہ لوگ خیبر پہنچ کر پوشیدہ ہو گئے۔ابو رافع سلام بن ابی حقیق کا قتل کب ہوا؟ اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں آیا کہ یہ واقعہ 3 ؁ہجری میں ہوا۔ کچھ روایات میں آیا کہ 5 ؁ ہجری میں ہوا اور کچھ روایات میں آیا کہ 6 ؁ ہجری میں ہوا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ کچھ روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ غزوہ خندق کے لئے تمام عرب کے مشرکوں کو مسلمانوں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاکر لانے والے یہودیوں میںیہ گستاخ بھی شامل تھا اور غزوہ خندق کے بعد خیبر کے یہودیوں کے پاس بھاگ گیا تھا۔صحیح بخاری میں ہے کہ ابو رافع گستاخی کرتا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچاتا تھااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دشمنوں کی مدد کرتا تھا۔ وہ اپنے قلعے میں تھا جب یہ لوگ اس کے قریب پہنچے سورج غروب ہو گیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ’’ تم یہیں بیٹھو! میں قلعہ کے اندر جانے کی کوئی تدبیر کرتا ہوں۔ ‘‘ جب قلعہ کے صدر دروازے کے قریب پہنچا تو میں اس طرح بیٹھ گیا جیسے کوئی قضائے حاجت کرتا ہو۔ دربان نے یہ سمجھ کر ہمارا ہی کوئی آدمی ہے اور آواز دی : ’’ اللہ کے بندے اگر اندر آنا ہے تو جلدی آجائو، میں دروازہ بند کر رہا ہوں۔‘‘ میں فوراً اندر داخل ہو گیا اور ایک طرف چھپ کر بیٹھ گیا۔ یہ حدیث ابھی جاری ہے۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ

صحیح بخاری کی حدیث جاری ہے۔ حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ ابو رافع بالا خانے ( اوپری منزل) پر رہتا تھا اور رات میں قصہ گوئی ( کہانیاں سنانے ) کا پروگرام چلتا تھا۔ جب یہ پروگرام ختم ہو گیا اور لوگ اپنے گھر واپس چلے گئے تو دربان نے دروازہ بند کر کے کنجیوں کا حلقہ ایک کھونٹی میں ٹانگ دیا۔ جب سب سو گئے تو میں اٹھا اور کھونٹی سے کنجیوں کا حلقہ اتار کر دروازہ کھولتا ہوا بالا خانہ پہ پہنچا اور جو دروازہ کھولتا تھا اسے اندر سے بند کردیتا تھا۔ تا کہ لوگوں کو اگر میری خبر بھی ہو جائے تب بھی میں اپنا کام کر گزروں جب میں بالا خانے پر پہنچا تو ابو رافع اپنے گھر والوں کے ساتھ سور ہا تھا اور وہاں اندھیرا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ بد بخت کہاں سور رہا ہے؟ میں نے آواز دی: ’’ اے ابو رافع !‘‘ اس نے پوچھا : ’’ کون ہے؟ ‘‘ میں نے اندازے سے آواز کی طرف تلوار ماری مگر وار کامیاب نہیں ہوا۔ اس بد بخت نے چیخ ماری تو میں نے آواز بدل کر ہمدرانہ لہجے میں پوچھا : ’’ اے ابو رافع! یہ کیسی آواز تھی؟ ‘‘ اس نے جواب دیا : ’’ ابھی کسی نے مجھ پر تلوار سے حملہ کیا تھا۔ ‘‘ یہ سنتے ہی میں نے اس کی آواز کی طرف بھر پور حملہ کیا۔ اس بار وار کامیاب رہا۔ اس کے بعد میں نے تلوار اس کے پیٹ پر رکھ کر اتنی زور سے دبائی کہ وہ اس کی پشت تک پہنچ گئی میں سمجھ گیا کہ اب میرا کام پورا ہو گیا اور تیزی سے ایک ایک دروازہ کھولتا ہو ا باہر آیا۔ جب سیڑھی سے اترنے لگا تو آخری زینے پر مجھے ایسا اندازہ ہو ا کہ سیڑھی ختم ہو گئی ہے اور زمین آگئی ہے اور اترنے میں میں گر پڑا اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ چاندنی رات تھی ، میں نے اپنا عمامہ کھول کر ٹانگ کو باندھا اور اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور ان سے کہا : ’’ تم لوگ چلو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوش خبری سنائو میں یہیں بیٹھا ہوں اور اس کی موت اور قتل کا اعلان سن کر آئوں گا۔‘‘ جب صبح ہوئی اور مرغ نے بانگ دی تو خبر دینے والے نے قلعہ کی فصیل سے اس کی موت کا اعلان کیا تو میں وہاں سے تیزی سے روانہ ہوا اور اپنے ساتھیوں سے آملا اور کہا : ’’ تیز چلو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخ کو ہلاک کر دیا۔ ‘‘ ہم وہاں سے چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور خوش خبری دی اور پورا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ’’ اپنی ٹانگ پھیلائو۔ ‘‘ میں نے اپنی ٹانگ پھیلا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ مبارک ( مبارک ہاتھ) ٹانگ کے ٹوٹے ہوئے حصے پر پھیر ا تو ایسا لگا جیسے کبھی ٹوٹی ہی نہیں تھی۔‘‘ ( یعنی بالکل درست ہو گئی اور تمام درد ختم ہو گیا)

سریہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے گستاخ ِ رسول ابو رافع سلام یا عبداللہ بن ابی حقیق کو دوزخ میں پہنچا دیا تو خیبر کے یہودیوں نے اسیر بن زارم کو اپنا سردار بنا لیا اور وہ بد بخت بھی بنو غطفان اور دوسرے عرب قبائل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے لگا اور جنگ کے لئے آمادہ کرنے لگا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خفیہ طور پر تین صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ تحقیق کے لئے بھیجا ۔ ان لوگوں نے آکر خبر دی کہ اطلاع درست ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس مجاہدین کو روانہ فرمایا اور فرمایا : ’’ انہیں بلا لائو تا کہ ان سے بات کی جائے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اسیر بن زارم کو جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا تو وہ تیس آدمیوں کو لے کر ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ ایک ایک اونٹ پر دو دو آدمی تھے۔ ایک یہودی اور ایک مسلمان ۔ لیکن راستے میں یہودیوں کی نیت بدل گئی اور انھوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہا تو مسلمانوں نے انہیں قتل کر دیا۔ اسیر بن زارم نے دو مرتبہ اپنے ساتھ بیٹھے حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ پر دو مرتبہ حملہ کیا جو آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کی اور زخمی بھی ہوئے۔ جب تمام مسلمان مدینہ منورہ آئے اور پورا واقعہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے تم کو ظالموں سے نجات دی۔‘‘ اور حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے زخم پر اپنا لعابِ مبارک لگا دیا تو وہ فوراً چھا ہو گیااور چہرہ پر ہاتھ پھرکر دعا فرمائی۔

ابو سفیان اور ایک اعرابی ( دیہاتی) کا منصوبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل جدو جہد اور کوشش سے مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرہ بہت مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتا جا رہا تھا اورمکہ مکرمہ کے مشرکین مدینہ منورہ کی بڑھتی ہوئی اسلامی طاقت سے خوفزدہ تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم مسلمانوں کے اولین دشمن ہیں۔ اسی لئے انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ( نعوذ باللہ) قتل کی سازش کی۔ ابو سفیان بن حرب نے قریش کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا : ’’ کیا کوئی ایسا نہیں ہے جو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو (نعوذ باللہ) دھوکے سے قتل کر دے کیوں کہ وہ بازاروں میں اور ہر جگہ کھلے عام اکیلے گھومتے ہیں۔‘‘ ( اور کوئی باڈی گارڈ نہیں ہوتا ہے) ایک اعرابی آگے آیا اور اس نے کہا : ’’ میں اپنے آپ کو (اس کام کے لئے) سب سے زیادہ تیز مضبوط اور اپنے دل کو مطمئن پاتا ہوں اور اگر تو مجھے قوت دے ( یعنی مال و دولت سے میری اور میرے گھر والوں کی ذمہ داری سنبھال لے) تو میں ان کی جانب روانہ ہو جائوں گا اور دھوکہ سے قتل کر دوں گا۔ میرے پاس ایک خنجر ہے جو گِدھ کے پر کی طرح ہے۔ اس سے میں ان پر حملہ کروں گا ۔ پھر میں کسی قافلہ میں مل جائوں گا اور بھاگ کر اس جماعت سے آگے بڑھ جائوں گا کیوں کہ میں راستے سے خوب واقف ہوں اور اسے خوب جانتا ہوں۔ ‘‘

اعرابی کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اعرابی کی بات سن کر ابو سفیان نے کہا: ’’ تُو ہمارا دوست ہے اور اسے اونٹ اور خرچ دیا (ا ور گھر والوں کی ذمہ داری لی) اور کہا : ’’ اپنے کام کو پوشیدہ رکھنا ۔‘‘ و ہ رات میں روانہ ہوا اور مسلسل پانچ رات سفر کر کے چھٹی صبح ظہر الحرہ میں پہنچا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ بتا دیا گیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کے یہاں آئے ہوئے تھے اور وہاں کی مسجد میں تشریف فرما تھے۔ اس نے مسجد کے دروازے پر اپنی سواری کو باندھا اور مسجد میں داخل ہونے لگا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: ’’ اس شخص کا برا ارادہ ہے ۔ ‘‘ وہ آگے بڑھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرے اسی وقت حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ تیزی سے آگے بڑھے اور اس کی تہمند کا ابدر کا حصہ پکڑ کر کھینچا تو اتفاق سے خنجر پر ہاتھ پڑ گیا۔ وہ اعرابی گھبرا گیا ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سختی سے اس کا گریبان پکڑ کر جھنجھوڑا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ سچ بتاتُوکون ہے؟ ‘‘ اس اعرابی نے جان کی امان چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جان کی امان دے دی تو اس نے پورا واقعہ بیان کر دیا کہ کس طرح ابو سفیان کے منصوبے کے مطابق آیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا اور چھوڑ دیا۔ ( وہ حیرانی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کچھ دیر دیکھتا رہا) پھر اس نے اسلام قبول کر لیا۔

سریہ حضرت عمر و بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس اعرابی نے اسلام قبول کر لیا اور تمام واقعہ پوری تفصیل سے بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابی کاروائی کے طور پر حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ اور حضرت سلمہ بن اسلم انصاری رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ بھیجا۔ دونوں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور رات کے وقت خانہ کعبہ کا طواف کرنے لگے تو حضرت معاویہ بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ ( انھوں نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا) نے دیکھا اور حضرت عمرو بن اُمیہ رضی اللہ عنہ کو پہچان لیا اور قریش کو خبر کر دی۔ قریش کو ان سے اندیشہ ہوا اور ان کی تلاشی لی۔ زمانہ جاہلیت میں بھی آپ رضی اللہ عنہ بہت بہادر تھے۔ ( اسی لئے مکہ مکرمہ کے لوگ آپ رضی اللہ عنہ سے خوف زدہ تھے اور کوئی نقصان پہنچانے کی ہمت نہ کر سکے۔ حالانکہ ابو سفیان بار بار کہہ رہا تھا کہ یہ مجھے قتل کرنے کے ارادے سے آئے ہیں)حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے یہ حالات دیکھے تو حضرت سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ ان حالات میں ہمارا واپس جانا بہتر ہے۔‘‘ دونوں حضرات مدینہ منورہ واپسآنے لگے۔ راستے میں انہیں قریش کے دو جاسوس ملے۔ مقابلہ ہوا اور ایک جاسوس مارا گیا اور ایک کوگرفتا ر کر کے مدینہ منورہ لے آئے۔ حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ تمام گزرے حالات بیان کر رہے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے سنتے جا رہے تھے۔ آخر میں ہنس پڑے اور دعائے خیر دی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


20 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


20 سیرت سید الانبیاء ﷺ

صلح حدیبیہ قسط ۔ 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


رسول اللہ ﷺ کی عمرہ کے لئے روانگی، مکہ مکرمہ میں ہنگامی حالات، بد یل بن ورقہ خزاعی کی سفارت، عروہ بن مسعود کی تجویز، حضرت خراش بن اُمیہ خزاعی کی سفارت


سید الانبیاء ﷺ کا عمرہ کا خواب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان ، ماہ رمضان اور ماہِ شوال 6 ؁ہجری کے یہ تینوں مہینے مدینہ منورہ میں گزارے۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں امن کے ساتھ داخل ہوئے اور عمرہ کر کے بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے سر منڈائے اور بعض صحابہ کرام نے بال کٹوائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ خواب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سنایا تو مہاجرین صحابہ کرام کے ساتھ ساتھ انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی خانہ کعبہ کی زیارت کے لئے بے چین ہو گئے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ جانتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب سچا ہوتا ہے۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں اور جو چیز وہ خواب میں دیکھتے ہیں وہ حقیقت میں ضرور ہوتی ہے۔ لیکن کب یہ خواب حقیقت میں ظاہر ہوگا اس کا وقت مقرر نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے اس خواب کو حقیقت کی شکل میں ظاہر فرما دیتا ہے۔جیسا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خواب حقیقت کی شکل میں اگلے سال ظاہر ہوا اور اگلے سال سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں امن سے داخل ہوئے اور عمرہ کیا اور بال کٹوائے یا سر منڈائے)

سید الانبیاء ﷺ کی عمرہ کے لئے روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے جا رہے ہیں۔اس لئے جو بھی ساتھ چلنا چاہتا ہے وہ بھی عمرہ کے لئے تیاری کر لے اورساتھ چل سکتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تیاری مکمل کر کے حاضر ہو گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف لے گئے ۔ غسل فرمایا۔ دو کپڑے پہنے اور باہر تشریف لائے اور اپنی سواری ’’ قصویٰ ‘‘ پر سوار ہو کر روانہ ہو ئے۔ ذی القعدہ 6 ؁ہجری کا پیر کا دن تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں اپنا نائب حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ امام عبدالملک بن ہشام کے مطابق حضرت نمیلہ بن عبداللہ لیشی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے کہ کوئی بھی جنگی سامان ساتھ میں نہیں تھا۔ صرف تلواریں ساتھ میں تھیں وہ بھی میانوں کے اندر رکھی ہوئی تھیں اور قربانی کے اونٹ ساتھ تھے۔ اس سفر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سفر کر رہی تھیں۔

 مکہ مکرمہ میں ہنگامی حالات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ عمرہ کے لئے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تو آس پاس کے قبائل کے لوگ بھی عمرہ کے لئے ساتھ ہو لئے۔ اس طرح ایک بہت بڑا کارواں تیار ہو گیا۔ اس میں صحابہ کرام کی تعداد کے بارے میں الگ الگ روایات ہیں۔ کچھ روایات میں تیرہ سو، کچھ میں چودہ سو، کچھ میں سو ا پندرہ سو، کچھ میں سولہ سو اور کچھ روایات میں تو اٹھارہ سو کی تعداد بھی آئی ہے۔ اب اصل تعداد کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ بہر حال اتنا تو طے ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بہت بڑا لشکر تھا اور جب اتنے بڑے کارواں کی خبر مکہ مکرمہ پہنچی تو قریش کے مشرکین میں بہت زیادہ گھبراہٹ پیدا ہو گئی اور مکہ مکرمہ میں جنگ کے لئے ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا اور قریش جنگ کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ فوراً حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا) کو دو سو سواروں کا ایک لشکر دے کر’’ مقدمتہ الجیش ‘‘( لشکر کا اگلا حصہ) کے طور پر روانہ کر دیا گیا اور نائب سپہ سالار عکرمہ بن ابو جہل کوبنایا گیا۔ یہ لوگ تیزی سے سفر کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ مکہ مکرمہ کے قریش کا ارادہ تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے۔

سید الانبیاء ﷺ اور مسلمانوں کا احرام باندھنا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر اپنے ساتھیوں کے ساتھ’’ ذی الحلیفہ ‘‘میں پڑھی اور قربانی کے اونٹ منگا کر ان پر قربانی کا نشان ( جسے ھدی کا قلاوہ کہا جاتا ہے) لگایا اور عمرہ کا احرام باندھا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی احرام باندھ لیا ۔ قربانی کے اونٹوں کی تعداد ستر70 تھی ۔ جن میں ابو جہل کا وہ اونٹ بھی تھا جو غزوہ بدر میں مال ِ غنیمت کے طور پر ملا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بشر بن سفیان خزاعی رضی اللہ عنہ کو جاسوسی کے لئے مکہ مکرمہ بھیجا اور اپنا سفر جاری رکھا۔ وہ تیزی سے مکہ مکرمہ پہنچے اور قریش کی باتیں سنیں۔ ان کی رائے معلوم کی اور حالات کا جائزہ لیکر تیز ی سے واپس ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ’’عذیر الاشطاط ‘‘میں ملے۔ جو وادیٔ عسفان کے پیچھے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام معلومات فراہم کیں ۔ا سی دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کو لے کر پہنچ گئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اپنے لشکر کو لے کر آگے بڑھیں اور مقابلے کے لئے تیار رہیں۔ وہ آگے بڑھے اور اپنے لشکر کو قریش کے لشکر کے سامنے صف بستہ کر دیا۔ اسی دوران ظہر کی نماز کا وقت ہو ا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو صلوٰۃ الخوف پڑھائی۔

سید الانبیاء ﷺ نے راستہ بد ل دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت بشر بن سفیا ن رضی اللہ عنہ عسفان کے پاس آکر ملے اور بتایا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کی خبر سن کر درندوں کی کھالیں پہن لی ہیںاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے کے لئے مقام ذی طویٰ ( مکہ مکرمہ کا مضافاتی مقام) تک آکر وہاں ٹھہرے ہوئے ہیں اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبر کو سن کر فرمایا : ’’ قریش کو کیا ہو گیا ہے؟ حالانکہ جنگ اُن کو کھا گئی ہے۔ ( یعنی انھوں نے جان و مال کا بہت نقصان اٹھایا ہے) پھر بھی یہ باز نہیں آرہے ہیں اگر یہ لوگ مجھے تمام عرب کے مقابلے پر چھوڑ دیں اور خود الگ ہو جائیں تو ( ان کے لئے ) بہتر ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھے عرب پر غالب کرے گا تو ان کو اختیار ہو گا کہ چاہے اسلام قبول کریں یا جنگ کریں اور اگر میں عرب میں مغلوب ہو گیا تو ان کا مطلب انھیں مفت میں حاصل ہو جائے گا۔ پس قریش کیا خیال کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم !میں اس دین ( اسلام ) کی اشاعت کے واسطے جہاد کرتا رہوں گا۔ جس دین ( اسلام) کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو غالب کر دے۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایسا کون شخص ہے ؟ جو ہم کو ایسا راستہ بتائے جس راستے سے قریش سے ٹکرائو نہ ہو۔‘‘ ( یعنی عام راستے سے ہٹ کر راستہ بتائے) بنو اسلم میں سے ایک شخص نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا راستہ میں جانتا ہوں۔‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ بد ل دیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کو راستہ بدلتے دیکھا تو واپس قریش کے پا س آگئے۔

حدیبیہ میں پڑائو

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے راستہ بدل دیااور اس راستے سے ہٹ گئے جس راستے پر قریش انتظار کر رہے تھے اور پہاڑوں کی گھاٹیوں کا بہت ہی دشوار گزار راستہ اختیار کیا۔ قبیلہ بنو اسلم کا شخص انھیں پہاڑوں اور گھاٹیوں کے بہت ہی تکلیف دہ اور کٹھن راستے سے گزار کر ایک نرم زمین کی طرف لایا۔ اس راستے سے گزر کر نرم زمین تک پہنچنے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت زیادہ تکلیفیں اٹھانا پڑیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نرم زمین پر پہنچ کر فرمایا: ’’ اے مسلمانو!کہو کہ ہم اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں۔‘‘ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ الفاظ کہہ کر دعا مانگی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارا کہنا ایسا ہے جیسے بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ لفظ’’ حِطّۃ‘‘کہو۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کہا تھا۔‘‘ ( یعنی بنی اسرائیل کو جو لفظ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا تو انھوں نے بدل کر کہا تھا۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وہی الفاظ کہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے۔ اس لئے بنی اسرائیل ناکام ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامیاب ہوئے۔) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ دائیں طرف سے مقام حمض کے پیچھے سے ہو کر’’ ثنییۃ الحرار ‘‘کے راستے سے مکہ مکرمہ کے نچلے علاقے میں ’’حدیبیہ‘‘ پہنچے تو راستے میں قریش کے جاسوسوں نے دیکھا اور جا کر اطلاع دی کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )’’ثنیۃ الحرار‘‘ کے راستے سے گزر رہے ہیں اور شاید ’’حدیبیہ ‘‘کے مقام سے مکہ مکرمہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ ’’حدیبیہ‘‘ میں پہنچتے ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی’’ قصوا ‘‘بیٹھ گئی۔ لوگ کہنے لگے: ’’ اونٹنی تھک گئی ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تھکی نہیں ہے اور نہ ہی اس طرح بیٹھ جانا اس کی عادت ہے۔ بلکہ اس کو اس نے ( یعنی اللہ تعالیٰ نے) روکا ہے۔ جس نے اصحاب ِ فیل کو روکا تھا۔ آج قریش صلہ رحمی کے جو حقوق مجھ سے طلب کریں گے میں ان کو دوں گا۔ پھر اسی جگہ پڑائو ڈالنے کا حکم دے دیا۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جگہ مسلمانوں کو پڑائو ڈالنے کا حکم دیا تھا وہ وسیع میدان تھا اور وہاں ایک پانی کا چشمہ یا کنواں یا پانی کا گڑھا تھا۔ کچھ روایات کے مطابق اس چشمے یا کنویں یا گڑھے کا نام حدیبیہ ہے۔ اسی لئے اس میدان کو یا مقام کو حدیبیہ کہا جاتا ہے اور ایک روایت کیمطابق وہاں ایک درخت تھا اور اس کا نام حدیبیہ تھا اور اسی مناسبت سے اس جگہ کا نام حدیبیہ رکھا گیا۔ یہ ایک بستی ہے جو مکہ مکرمہ کے قریب ہے اور اس کا زیادہ تر حصہ حرم شریف میں داخل ہے۔ حدیبیہ مکہ مکرمہ سے نومیل (9)کے فاصلے پر ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے روزرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو یا اس سے بھی کہیں زیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ پس ہم نے ایک کنویں کے پاس پڑائو ڈالا۔ جب ہم اس کنویں کا سارا پانی نکال چکے (یعنی کنویں میں اتنا کم پانی تھا کہ تمام مسلمانوں کو نہیں مل سکا تھا اور ختم ہو گیا تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ( اور کنویں کا پانی ختم ہونے کے بارے میں بتایا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لائے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پانی کا ایک ڈول لائو۔‘‘ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا پھر دعا فرمائی۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک برتن منگایا ۔ وضو کیا ، کُلّی فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا فرمائی اور بچا ہو ا پانی کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر میں اتنا پانی( اس کنویں میں ) جمع ہو گیا کہ ہم اور ہماری سواریاں سیراب ہو گئیں۔ اور واپس ہونے تک ہم سب استعمال کرتے رہے۔

سید الانبیاء ﷺ کا ایک اور معجزہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے’’ سفرِ عمرہ‘‘ میں کئی معجزات پیش آئے۔ ان میں سے ایک اور معجزہ ہم پیش کر تے ہیں۔ غالباً یہ معجزہ حدیبیہ کی طرف آتے وقت یا حدیبیہ سے مدینہ منورہ واپس کے سفر میں پیش آیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ ( یہ وہی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں جنھوں نے غزوہ خندق یا احزاب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی دعوت کی تھی۔ اس کا تفصیلی ذکر ہم غزوہ خندق میں کر چکے ہیں) حدیبیہ کے روز ہم سب لوگ پیاس سے بے چین ہو گئے۔ ( کیوں کہ سب کے پا س پانی ختم ہو گیا تھا صرف تھوڑا سا پانی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن میں پانی لے کر وضو کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا حال دریافت فرمایا تو ہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس وضو کرنے اور پینے کے لئے پانی نہیں ہے۔ بس اتنا ہی پانی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برتن میں ہے اور ہم نے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کر دیاہے۔‘‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ ( اتنا سننے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی میں اپنی مبارک انگلیاں ڈال دیں۔ ( اور یہ دیکھ کر ہم سب حیران رہ گئے کہ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے نکل رہے تھے۔ ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔‘‘ ( اور تمام پانی کے برتن بھی بھر لئے ) حدیث سننے والوں میں سے کسی نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ’’ اس روز آپ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد کتنی تھی؟‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی سب کے لئے کافی ہو جاتا ۔ لیکن ہم اس وقت پندرہ سو تھے۔‘‘

بد یل بن ورقہ خزاعی کی سفارت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ حدیبیہ ‘‘کے مقام پر پڑائو ڈال دیا تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ حدیبیہ کے چشمہ یا کنواں یا گڑھے میں پانی کم تھا ( جو تمام افراد کے لئے کافی نہ ہو سکا) اور ختم ہو گیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے پانی کے بارے میں عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر دیا اور فرمایا: ’’ اس تیر کو اس گڑھے میں گاڑ دو جس کا پانی ختم ہو گیا ہے۔‘‘ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وہ اس گڑھے میں گاڑ دیا۔ راوی کہتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم !اس میں اتنا پانی جوش مارنے لگا ( اور نکلنے لگا) کہ تمام مسلمان اس کا پانی استعمال کر تے رہے۔ یوں لگا جیسے گڑھے میں پانی کے کئی سوتے پھوٹ گئے تھے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں ہی قیام فرما رہے۔اسی دوران قریش کی جانب سے بدیل بن ورقا آیا ۔ یہ قبیلہ بنو خزاعہ کا سردار تھا اور اپنے قبیلے کے چند افراد کے ساتھ آیا تھا۔ اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر کہا: ’’ میں نے بنو کعب اور بنو عامر بن لوی کو حدیبیہ کے چشموں پر پڑائو ڈالے ہوئے دیکھا ہے۔ ان کے ساتھ دودھ دینے والی اونٹنیاں ہیں۔ ( یہ اشارہ ہے کہ وہ لمبی لڑائی لڑیں گے) اور وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کی زیارت کرنے سے روکیں گے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہم کسی سے لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ بلکہ ہم عمرہ کرنے آئے ہیں اورقریش کو جنگ نے نقصان پہونچایا ہے اور کمزور کر دیا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں ان کے لئے ایک مدت مقرر کر دیتا ہوں کہ وہ ہمارے کاموں اور سرگرمیوں میں رکاوٹ نہ ڈالیں اور ہمارے اور دوسرے عرب قبائل کے درمیان سے ہٹ جائیں۔ اگر اس مدت میں ہم کامیاب اور غالب ہو جائیں تو قریش کو اختیار ہو گا کہ اسلام قبول کر کے نیک نیتی سے ہم میں شامل ہو جائیں اور اگر ہم مغلوب ہو گئے تو وہ ہم سے جنگ کئے بغیر اپنا مطلب حاصل کر لیں گے۔ اب اگر قریش نے میری یہ پیش کش ٹھکرادی اور ہم پر جنگ مسلط کر دی تو قسم ہے اس ذات ِ اعلی کی ( اللہ تعالیٰ کی ) جس کے قبصہ میں میری جان ہے۔ میں اللہ کے دین ( اسلام ) کے لئے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں گا جب تک میں زندہ ہوں۔ یا پھر اللہ کا دین ( اسلام ) غالب ہوجائے۔ اور اللہ کا حکم نافذ ہو جائے۔‘‘

عروہ بن مسعود کی تجویز

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کش سن کر بدیل بن ورقا نے کہا: ’’ ٹھیک ہے ! میں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بات قریش تک پہنچادیتا ہوں۔‘‘ اور بدیل بن ورقا نے واپس آکر قریش سے کہا: ’’ میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے ایسی اور ایسی بات کہی ۔ لیکن وہ مرعوب نہیں ہوئے۔ ہاں انھوں نے تمہارے سامنے ایک دوسری تجویز رکھی ہے۔ ‘‘ یہ سن کر قریش کے کچھ جذباتی نوجوانوں نے کہا: ’’ہمیں ان کی کسی تجویز کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن بزرگ اور سمجھ دار قریش نے انہیں ڈانٹا اور بدیل بن ورقا سے پوچھا : ’’ انھوں نے کون سی تجویز پیش کی ہے ۔ ‘‘ بدیل بن ورقہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کش اور تمام گفتگو بتادی۔ عروہ بن مسعود نے یہ پیش کش سننے کے بعد کہا: ’’ اے لائق احترام قریشیو! میرے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔‘‘ قریش نے کہا : ’’ تم بہت ہی سمجھ دار اور قابل اعتبار ہو۔‘‘ یہ سن کر عروہ بن مسعود نے کہا : ’’ میرے خیال میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )نے تمہیں جو پیش کش کی ہے وہ اچھی ہے۔ اسے قبول کر لو اور مجھے اجازت دو کہ میں اس بارے میں کچھ اور تفصیل سے بات کر کے آئوں۔ قریش نے کہا۔ ٹھیک ہے۔‘‘

قریش کے دو سفیر ( ایلچی)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش کش سننے کے بعد قریش نے اپنے دو سفیر ایک کے بعد ایک بھیجے اوپر ہم نے صحیح بخاری کی حدیث پیش کی اسمیں عروہ بن مسعود کا ذکر ہے۔ لیکن دوسری سیرت کی کتابوں میں عروہ بن مسعود سے پہلے قریش کے دو اور سفیروں کا ذکر ہے۔ اس لئے ان دو سفیروں کا ذکر کر کے ہم پھر انشاء اللہ صحیح بخاری کی حدیث کو آگے بڑھائیں گے۔ بدیل بن ورقہ کی بات سننے کے بعد قریش نے مکر زبن حفص عامری کو اپنا سفیر بنا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آتے دیکھا تو فرمایا: ’’ یہ شخص عذر کرنے والا ہے۔‘‘ جب یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا جو بدیل بن ورقا کو فرمایا تھاکہ ہم صرف خانہ کعبہ کی زیارت اور عمرہ کے لئے آئے ہیں۔ اس نے واپس آکر قریش کو وہی بات بتائی جو بدیل بن ورقا خزاعی نے بتائی تھی۔ اس کے بعد قریش نے حلیس بن علقمہ یا ابن زیان کو جو مختلف قبیلوں کی فوج کا سردا ر تھا اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔ یہ قبیلہ بنو حارث بن عبد مناۃ کا تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ کے دیہاتی علاقوں میں آباد تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے آتا دیکھا تو فرمایا: ’’ یہ ان لوگوں میں سے ہے جو اللہ کو ماننے والے ہیں ۔ اس کو قربانی کے اونٹ دکھا دو تا کہ اس کو ہماری بات کا زیادہ اعتبار ہو۔ جب اس نے قربانی کے اونٹ دیکھے تو وہیں سے قریش کے پاس واپس چلا گیا اور قریش سے سارا قصہ بیان کیا کہ یہ لوگ لڑنے نہیں آئے ہیں۔ قریش نے کہا تو ایک دیہاتی آدمی ہے تو ان باتوں کو کیا سمجھے جا اپنی جگہ پر بیٹھ جا۔ یہ بات سن کر حلیس کو غصہ آگیا اور کہا: ’’ اے قریش !ہم نے تم سے اس بات پر عہد نہیں کیا ہے کہ لوگوں کو خانہ کعبہ کی زیارت اور عمرہ کرنے سے روکیں گے۔ اللہ کی قسم !یا تو تم لوگ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو خانہ کعبہ کی زیارت اور عمرہ کرنے دو یا پھر میں اپنا تمام لشکر لے کر چلا جاتا ہوں۔‘‘ قریش نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فوراً کہا : ’’ دیکھو تم برا مت مانو۔ ہم خود اس کوشش میں ہیں کہ تم خوش ہو جائو۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہو نے سے روکنے کی قریش کوشش کر رہے تھے اور اس سلسلے میں انھوں نے عروہ بن مسعود کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ (اب صحیح بخاری کی حدیث کی طرف واپس آتے ہیں) عروہ بن مسعود نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی وہی پیش کش کی جو اس سے پہلے کے تین سفیروں کو کر چکے تھے۔ عروہ بن مسعود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر کہا:’’ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )!مجھے بتائیے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم (قریش ) کو بالکل ہلاک کر دیں تو کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے اہل عرب میں سے کسی ایسے شخص کے بارے میں سنا ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اپنی قوم کو ہلاک کیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہوئی ( یعنی پورے عرب سے لڑنا پڑا) تو میں آپ(صلی اللہ علیہ وسلم )کے لئے ایسے بااعتماد لوگ نہیں دیکھتا ۔ میں کچھ ملے جلے لوگوں ( یعنی الگ الگ قبائل کے لوگوں) کو دیکھ رہا ہوںاور ایسا لگتا ہے کہ جنگ کے وقت یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ ‘‘یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سے اس کے بُت لات (جس کی وہ پوجا کرتا تھا) کے بارے میں سخت بات کہہ کر فرمایا: ’’ کیا ( تو سمجھتا ہے کہ ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟ ‘‘ عروہ نے پوچھا : ’’ یہ کون ہیں؟ ‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ’’ یہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔‘‘ اس نے کہا: ’’ اللہ کی قسم ! اگر آپ (رضی اللہ عنہ)کا مجھ پر احسان نہ ہوتا جس کا میں نے ابھی تک بدلہ نہیں چکا یا ہے تو میں آپ ( رضی اللہ عنہ) کو جواب دیتا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ عروہ بن مسعود اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا اور دوران گفتگو اپنا ہاتھ بڑھا کر بار بار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی پکڑنے کی کوشش کرتا تھا اور ہر بار حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے۔ وہ عروہ بن مسعود کے ہاتھ پر اپنی تلوار کا دستہ مارتے اور داڑھی کو ہاتھ لگانے سے منع کرتے تھے اور فرماتے تھے : ’’ اپنے ہاتھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک سے ہٹا۔‘‘ ( علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اہل عرب کی یہ عادت تھی کہ چاپلوسی یا خوشامد کرتے وقت داڑھی کو ہاتھ لگاتے تھے ) اس لئے خوشامد کے طور پر عروہ بن مسعود جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرتا تھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی اور تعظیم کے خیال سے اسے جھڑک دیتے تھے۔ عروہ بن مسعود ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا بات کر رہا تھا ۔ جب کئی مرتبہ ایسا ہوا تو اس نے سر اٹھا کر حضرت مغیرہ بن ثعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اس وقت زرہ اور خود (لوہے کی ٹوپی) پہنے ہوئے تھے۔ اس لئے وہ پہچان نہ سکا اور پوچھا : ’’ یہ کون ہیں؟ ‘‘ اسے بتایاگیا کہ یہ حضرت مغیرہ بن ثعبہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ عروہ بن مسعود کے بھتیجے ہیں اور انھوں نے کئی کافروںکو قتل کر دیا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا اور ان کافروں کی دیت چچا ہونے کی حیثیت سے عروہ بن مسعود نے ادا کی تھی۔ اس نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھ کر کہا : ’’ اوبے وفا !کیا میں نے تیری مدد نہیں کی تھی؟‘‘ اس کے بعد پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا۔

ایسے ساتھی اور محبت اور ادب کرنے والے کہیں نہیں دیکھے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عروہ بن مسعود نے کافی دیر گفتگو کی ۔ اسی دوران وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی جائزہ لیتا رہا اور دیکھتا رہا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور بہت ہی ادب سے نظریں نیچی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی حکم دیتے تو سبھی دوڑ کر اسے پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ادب سے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے اور ادب کی وجہ سے دھیمی آواز میں بات کرتے تھے اور اپنی آواز کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی نہیں ہونے دیتے تھے۔ یہ سب دیکھنے کے بعد عروہ بن مسعود واپس قریش کے پاس آیا اور بولا: ’’ اے گروہ ِ قریش! اللہ کی قسم! میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں اللہ کی قسم ! میں نے ان میں سے کسی بادشاہ کو اس طر ح نہیں دیکھا کہ اس کے درباری اس کی اتنی تعظیم اور ادب اور محبت کرتے ہوں جتنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھی ان کی تعظیم اور ادب اورمحبت کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم !اگر وہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )تھوکتے بھی ہیں تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے ہاتھ آگے کر دیتے ہیں اور ان کا تھوک ان کے کسی نہ کسی ساتھی کے ہاتھ پر گرتا ہے اور وہ اسے اپنے چہرے پر مَل لیتا ہے۔ جب محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )ان کو کسی بات کا حکم دیتے ہیں تو سب کے سب اس کی تعمیل کرنے کے لئے دوڑ پڑتے ہیں اور جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )وضو کرتے ہیں تو لوگ ان کے وضو کا استعمال شدہ پانی نیچے گرنے نہیں دیتے ہیں اور اپنے ہاتھوں میں لے کر اپنے چہروں پر مَلتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے استعمال شدہ وضو کے پانی کے لئے ایک دوسرے سے لڑ پڑتے ہیں۔ ( اور اگو کسی کو پانی نہیں مل پاتا ہے تو وہ دوسرے صحابی کے گیلے ہاتھ پر ہاتھ پھیر کر اپنے چہرے پر مَل لیتا ہے) اور جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )ان سے گفتگو کرتے ہیں تو سب کے سب انتہائی ادب سے سر جھکا کر سنتے ہیں اور جب کوئی بات انہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )سے کہنی ہوتی تو ادب اور تعظیم کی وجہ سے دھیمی آواز میں سر جھکا کر نظریں نیچی کر کے کہتے ہیں اور ادب اور تعظیم کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کا کوئی بھی ساتھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے نظریں ملا کر بات نہیں کرتا ہے۔ میری تو رائے یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )نے تمہیں بہت اچھی پیش کش کی ہے۔ اسے قبول کر لو۔‘‘

حضرت خراش بن اُمیہ خزاعی کی سفارت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سفیروں کو یہی پیش کش کی کہ وہ قریش سے ہی کہیں کہ قریش ان کے راسے سے ہٹ جائیں اور ہر سفیر نے قریش کو یہی سمجھایا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کی بات مان لولیکن قریش نے کوئی جواب نہیں دیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خراش بن اُمیہ خزاعی کو اپنا سفیر بنا کر قریش کی طرف بھیجا کہ وہ انھیں سمجھائیں۔ حضرت خراش بن امیہ خزاعی قریش کے پاس پہنچے تو قریش نے ان سے بات کرنا بھی گوارہ نہیں کیا اور انہیں گرفتار کر کے ان کے اونٹ کو ذبح کر ڈالا اور ان کو بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے قبیلے کے مشرکوں ( جو قریش کے ساتھ تھے) نے درمیان میں پڑ کر ان کی جان بچائی اور حضرت خراش بن امیہ خزاعی رضی اللہ عنہ پیدل ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں واپس آئے اور تمام واقعہ بیان کیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!



21 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


21 سیرت سید الانبیاء ﷺ

صلح حدیبیہ قسط ۔ 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سفارت، بیعتِ رضوان، موت پر بیعت، صلح کی شرائط، صلح حدیبیہ فتح مبین، صحابہ کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے محبت اور دشمنی


حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی سفارت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خراش بن اُمیہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے تمام واقعہ سننے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیا کہ کسے سفارت کے لئے بھیجا جائے۔ تو یہ طے ہوا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھیجا جائے۔ حضرت عمر فارو ق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قریش سے میری سخت عداوت ہے۔ کیونکہ میں ان پر بہت سختی کرتا تھا۔ ( اسی لئے وہ مجھ سے بات کرنے کی بجائے سیدھا حملہ کر دیں گے) اور اس وقت میرے قبیلے بنو عدی میں سے قریش میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے بچا لے۔ اس لئے میری تو رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بھیجیں کیوں کہ تمام قریش انہیں پسند کرتے ہیں اور ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کا قبیلہ یا خاندان بنو امیہ قریش میں بہت اثر رکھتا ہے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مشورے کو پسند فرمایا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بلا کر انہیں تمام باتیں سمجھا کر قریش کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ قریش کے پاس گئے اور انہیںبار بار سمجھایا۔ لیکن قریش نے اُن کی بات نہیں مانی اور ابو سفیان اور دوسرے سرداروں نے کہا : ’’ اگر تم چاہو تو خانہ کعبہ کو طواف ( اور عمرہ ) کر لو۔ لیکن ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے ساتھیوں کو مکہ مکرمہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ ‘‘حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر تو ہرگز میں خانہ کعبہ کا طواف نہیں کروں گا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کریں گے تو تب میں بھی کروں گا۔‘‘ قریش نے جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ضد دیکھی تو آپ رضی اللہ عنہ کو روک لیا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کو قریش نے حرم شریف میں قید کر دیا۔ اِدھر مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو قریش نے ( نعوذ باللہ ) شہید کر دیا ہے۔

بیعتِ رضوان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنا سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا ۔ انھیں واپس آنے میں بہت دیر ہو گئی۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو یہ خبر ملی کہ ( نعوذ باللہ ) حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے ۔ یہ خبر سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کا اعلان کر دیا اور حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی ا للہ عنہم تو عمرہ اور زیارت ِ خانہ کعبہ کی نیت سے آئے تھے لیکن قریش نے جنگ کو مسلط کر دیا تھا۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کا اعلان کر دیا کہ اب ہم جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور جنگ کرتے رہیں گے ۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے یا شہید ہو جائیں۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس ( مبارک ہاتھ) پر اپنا ہاتھ رکھ رک بیعت کی اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ پر دوسرے ہاتھ کر رکھ کر بیعت کی۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ( ترجمہ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ایمان والوں سے جب وہ درخت کے نیچے ( تمہارے ہاتھ پر) بیعت کر رہے تھے۔ ‘‘ ( سورہ الفتح آیت نمبر18) یزد بن ابو عبید روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : ’’ حدیبیہ کے روز آپ حضرات رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟‘‘ انھوں نے جواب میں فرمایا: ’’ موت پر ۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کس بات پر بیعت کی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے بیٹھے اور بیعت کا اعلان ہوا تو سب سے پہلے حضرت ابو سنان اسدی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم !بیعت کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کس بات پر بیعت کر رہے ہو؟ ‘‘ حضرت ابو سنان اسدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس بات پر بیعت کر رہا ہوں جو میرے دل میں ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تیرے دل میں کیا بات ہے؟ ‘‘حضرت ابو سنان اسدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے دل میں یہ بات ہے کہ میں اس وقت تک تلوار چلاتا رہوں ( یعنی اللہ کے لئے لڑتا رہوں ) جب تک اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غلبہ عطا فرمائے یا پھر میں لڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لئے شہید ہو جائوں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: ’’ ٹھیک ہے! اسی بات پر بیعت کرو۔‘‘ اور اپنا دست ِ مبارک آگے بڑھایا تو حضرت ابو سنان رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسی بات کی بیعت کی اور پھر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے باری باری اپنا ہاتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارت پر رکھ کر اسی بات کی بیعت کی۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اپنا ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔ ایک مرتبہ ابتداء میں دوسری مرتبہ درمیان میں اور تیسری مرتبہ آخر میں ۔جب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیعت کر لی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ مبارک کو دائیں ہاتھ مبارک پر رکھ کر فرمایا: ’’ یہ بیعت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے۔‘‘ داہنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تھا اور بایاں ہاتھ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ جب بھی اس واقعہ کا ذکر فرماتے تھے تو ساتھ میں یہ بھی فرمایا کرتے تھے : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بایا ں ہاتھ مبارک میرے دائیں ہاتھ سے بہت بہتر ہے ۔‘‘

صلح حدیبیہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے میدان میں ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت لی ۔ قریش کو جب اس بیعت کی خبر ملی تو وہ گھبرا گئے اور جلدی سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو آزاد کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیج دیا۔ اس بیعت سے قریش بہت مرعوب اور خوف زدہ ہو گئے اور فوراً صلح کے لئے مشورے کرنے لگے۔ اور آخر کار یہ طے ہوا سہیل بن عمرو کو صلح کرنے کے لئے بھیجا جائے اور ایسی اور ایسی شرائط پر صلح کی جائے۔ اسی دوران حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ واپس آئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے جنگ کا ارادہ ترک کر دیا۔ کچھ دیر بعد سہیل بن عمروآتا دکھائی دیاتو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ اب تمہارا معاملہ کچھ سہل ( آسان) ہو گیا ہے۔‘‘ یعنی اب تمہیں جنگ کرنے کی تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی اور صلح ہو سکتی ہے۔

صلح کی شرائط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں قریش نے سہیل بن عمرو کو صلح کرنے کے لئے بھیجا اور تاکید کر دی کہ صلح کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ضرور ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اس سال مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہونے پائیں۔ سہیل بن عمرو، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور صلح کی گفتگو کرنے لگا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہماری پہلی شرط یہ ہے کہ قریش ہمیں مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے نہ روکیں اور ہمیں خانہ کعبہ کی زیارت اور عمرہ کرنے دیں۔ ‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا : ’’ ہم یہ طعنہ گوارہ نہیں کرسکتے کہ لوگ ہمیں یہ کہیں اور سارے عرب میں ہماری بدنامی ہو کہ ہمارے دشمن زبردستی مکہ مکرمہ میں آکر عمرہ کر کے گئے۔ ہاں اگر مسلمان اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )چاہیں تو اگلے سال آکر عمرہ کر سکتے ہیں۔‘‘ اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور سہیل بن عمرو کے درمیان تمام شرائط طے پا گئیں اور ان پر اتفاق کر لیا گیا۔ وہ شرائط یہ ہیں۔ (1) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اس سال مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہوں اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہیں سے مدینہ منورہ واپس چلے جائیں اور اگلے سال عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ میں آئیں اور اپنے ساتھ صرف تلوار لے کر آئیں اور وہ بھی نیاموں یا غلافوں کے اندر ہو اور مکہ مکرمہ میں صرف تین دن رکیں گے اور عمرہ کر کے واپس چلے جائیں گے۔ (2) قریش کا کوئی بھی شخص اپنے آقا یا ولی ( ذمہ دار جیسے باپ، چچا، دادا وغیرہ ) کی اجازت کے بغیر مدینہ منورہ مسلمانوں کے پاس جائے گا تو اسے واپس کر دیا جائے گا۔چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔ (3) جو شخص مسلمانوں میں سے مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آئے گا اُسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ (4) دس 10سالوں تک قریش کے مشرکین اور سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے۔ (5) ان دس سالوںمیں دونوں فریقین میں سے کوئی بھی ایک دوسرے پر تلوار نہیں اُٹھائے گا اور نہ ہی دونوںمیںسے کوئی فریق خیانت نہیں کرے گا۔ (6) تمام عرب کے قبائل کو اختیار ہو گا کہ دونوں فریق میں سے جس کے ساتھ چاہیں مل جائیں اور اس کے ساتھ صلح کے معاہدے میں شریک ہو جائیں۔ ( اس صلح کے معاہدے میں قبیلہ بنو خزاعہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا اور قبیلہ بنو بکر نے قریش کا ساتھ دیا۔ اس طرح بنو خزاعہ اور بنو بکر میں بھی صلح ہو گئی۔ ان دونں قبائل کا ہم خصوصیت سے اس لئے ذکر کر رہے ہیں کیوں کہ آگے چل کر ان کا ذکر آئے گا۔)ان شرائط پر صلح حدیبیہ طے ہوئی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بے چینی   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح کی شرائط طے ہو رہی تھیں اور اسی دوران حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو شدید بے چینی ہو رہی تھی ۔ کیوں کہ سر سری طور سے اگر صلح کی شرائط پر نظردوڑائیں تو ایسا لگتا ہے کہ ( نعوذ باللہ) مسلمان دب کر صلح کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ان شرائط کو گہرائی سے دیکھیںاور غور کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ ان شرائط سے مسلمانوںکو بہت فائدہ ہونے والا تھا۔ لیکن چونکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان شرائط پر غور نہیں کیا تھا اس لئے انہیں لگ رہا تھا کہ مسلمان دب کر صلح کر رہے ہیں اور یہ آپ رضی اللہ عنہ کو برداشت نہیں تھا۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ کو بے چینی ہو رہی تھی۔ آخر کار آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول نہیں ہیں ؟ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ’’بے شک میں اللہ کا سچا رسول ہوں۔‘‘ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم مسلمان نہیں ہیں؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بے شک ہم مسلمان ہیں۔‘‘ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا وہ لوگ (قریش) مشرک اور اللہ کے دین ( اسلام) کے دشمن نہیں ہیں؟‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بے شک وہ لوگ شرک کرنے والے اور اللہ کے دین کے دشمن ہیں اور کفر اور سر کشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔‘‘ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انتہائی ادب اور تعظیم سے گزارش کی : ’’ اے اللہ کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے یہ بتائیے کہ جب ہم حق پر ہیں تو پھر ہم اللہ کے دین کے معاملے میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ! میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کے حکم کے خلاف نہیں کر سکتا اور اللہ تعالیٰ مجھے انشاء اللہ عزت سے سرفراز فرمائے گا۔ ‘‘ بعد میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صلح کی شرائط پر غور کیا تو اس کے فائدے نظر آئے اور آپ رضی اللہ عنہ پشیمان ہوئے اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرتے رہے۔ حالانکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بے چینی صرف اللہ کی محبت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی وجہ سے تھی۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اعتماد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بے تابی سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور فرمایا: ’’ اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ !کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ کے سچے رسول نہیں ہیں؟‘‘ انھوں نے جواب میں فرمایا: ’’ بے شک وہ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پرنہیں ہے؟ ‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ بے شک ہم حق پر ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ تو ہم کیوں اللہ کے دین کے معاملے میں ذلت کو اختیار کریں؟ ‘‘ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ! وہ اللہ کے رسول ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدد گار ہے۔ اسی لئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے اور حکم کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔ اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایاتھا کہ ہم خانہ کعبہ کا طواف اور عمرہ کریں گے؟‘‘حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہاں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ لیکن کیا انھوں نے تم سے یہ فرمایا تھا کہ ہم اسی سال عمرہ اور طواف کریں گے ؟ ‘‘ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ نہیں ! انھوں نے ایسا نہیں کہا تھا۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ بے شک تم عمرہ اور طواف ( اگلے سال) کرو گے۔‘‘

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی محبت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح کی تمام شرائط طے ہو گئیں تو صلح نامہ لکھوانے پر اتفاق ہو گیا اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو صلح نامہ لکھنے کا حکم دیا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو: ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘‘یہ سن کر سہیل بن عمرو نے کہا: ’’ اللہ کی قسم !میں رحمن اور رحیم کو نہیں جانتا۔ تم یوں لکھو۔’’ بسمک اللہم ‘‘( اللہ تیرے نام سے ) جس طرح عرب لوگ لکھتے ہیں۔ ‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ’’ ہم تو بسم اللہ الرحمن الرحیم ہی لکھیں گے۔‘‘ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بسمک اللھم‘‘ لکھ دو۔‘‘ اور آگے فرمایا: ’’ ( آگے لکھو) اللہ کیرسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے۔‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا: ’’ اگر ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو رسول مانتے تو عمرہ کرنے اور طواف کرنے سے کیوں روکتے؟ اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے جنگ کیوں کرتے؟ اسے اس طرح لکھوائیں۔ محمد بن عبداللہ کی طرف سے ۔‘‘ ( اسی دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ ، ’’رسول اللہ‘ ‘لکھ چکے تھے) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن عمرو کی بات سن کر فرمایا۔ اللہ کی قسم ! میں اللہ کا رسول ہوں۔ چاہے تم لوگ کتنا بھی جھٹلائو۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ رسو ل اللہ کا لفظ مٹا کر محمد بن عبداللہ لکھ دو : ’’ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری اتنی ہمت نہیں ہے کہ میں ’’رسول اللہ ‘‘کا لفظ مٹا سکوں۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجھے بتائو کہاں لکھا ہے؟ ‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے وہ جگہ بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مٹا دیا۔

صلح نامہ کی تحریر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے صلح نامہ لکھا گیا۔ اس صلح نامہ کی تحریر یہ ہے۔ ’’یہ وہ صلح نامہ ہے ۔ جس پر محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو نے صلح کی۔ دونوں نے دس سال تک ہتھیاررکھ دینے کا عہد کیا۔ یہ لوگ امن سے رہیں ایک دوسرے سے تعرض نہ کریں۔ ( یعنی تکلیف نہ پہنچائیں)اس طرح سے کہ نہ خفیہ چوری ہو اور نہ خیانت ہو۔ یہ معاہدہ ہمارے درمیان ( فتنہ کو بند کرنے کے لحاظ سے) ایک بند صندوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو(شخص یا قبیلہ ) چاہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی ذمہ داری میں داخل ہو تو اسے اجازت ہے اور جو شخص ( یا قبیلہ) قریش کے عہد میں داخل ہو تو اسے اجازت ہے۔ ان ( قریش) میں سے جو شخص بغیر اپنے ولی ( ذمہ دار یا بزرگ ) کی اجازت کے بغیر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کے پاس آئے گا تو اس کو وہ اس کے ولی کے پاس واپس کر دیں گے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )کے ساتھیوں میں سے جو قریش کے پاس آئے گا تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے۔ اس سال محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )ہمارے پاس سے واپس چلے جائیں اور اگلے سال اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس طرح مکہ مکرمہ میں تین دن قیام کریں کہ ہمارے یہاں سوائے ان ہتھیاروں کے کوئی ہتھیار لے کر داخل نہ ہوں گے۔ جو مسافر کے ہتھیار ہوتے ہیں اور وہ تلواریں ہیں جو چمڑوں کے نیاموں میں رکھی ہوتی ہیں ۔‘‘ اس معاہدہ صلح نامہ پر گواہ کے طور پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ، حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ، حویطب بن عبد العزیٰ اور مکر ز بن حفص نے دستخط کئے۔

حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کی آمد اور واپسی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور سہیل بن عمرو کے درمیان صلح نامہ لکھا جا چکا تھا۔ لیکن ابھی فریقین اور گواہوں کے دستخط نہیں ہوئے تھے کہ زنجیروں میں بندھے حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ گرتے پڑتے جیسے تیسے مکہ مکرمہ سے نومیل کا فاصلہ طے کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حدیبیہ میں حاضر ہوئے۔ ( حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تھا اور انہیں ان کے باپ سہیل بن عمرو نے زنجیروں میں باندھ کر قید کر رکھا تھا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جیسے ہی حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو ان کی مدد کے لئے دوڑ پڑے اور ان کی مدد کر کے لانے لگے۔ سہیل بن عمرو نے اپنے جوان بیٹے کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دیکھا تو اس نے کہا : ’’ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم) یہ اس صلح نامہ کی پہلی شرط ہے جس کا میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے یوں فیصلہ چاہتا ہوں کہ اسے میری طرف لوٹا دیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابھی صلح نامہ کی تحریر مکمل نہیں ہوئی ہے اور گواہوں کے دستخط ہونا باقی ہیں۔‘‘ اُس نے کہا : ’’ ( اگر میرے بیٹے کو واپس نہ کریں گے) اللہ کی قسم! تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے صلح نہیں کروں گا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے ( ابو جندل رضی اللہ عنہ کو) میرے حوالے کر دو۔ ‘‘ سہیل بن عمرو نے کہا: ’’ میں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اجازت دے دے۔‘‘ اس نے کہا: ’’ میں اجازت نہیں دوں گا۔‘‘ آخر کار حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو اس کے باپ سہیل بن عمرو کے حوالے کر دیا گیا۔ اس نے بیٹے کو طمانچہ مارا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا خون کھول اٹھا اور وہ تیزی سے آگے بڑھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک دیا۔ حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ انھوں نے فرمایا: ’’ اے مسلمانوںکی جماعت ! مجھے مشرکین کی طرف لوٹا یا جا رہا ہے۔ حالانکہ میں مسلمان ہو کر آیا ہوں۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں نے کس قدر تکلیف برداشت کی ہے اور مجھے اللہ کے راستے میں سخت عذاب دیا گیا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابو جندل رضی اللہ عنہ ! چند روز صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب طلب کرو۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا اور رہائی کا راستہ پید ا فرما دے گا۔ میں مجبور ہوں کہ میں نے عہد ( صلح ) کر لیا ہے اور میں عہد کے خلاف نہیں کر سکتا۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اٹھ کر حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور فرمایا: ’’ اے ابو جندل رضی اللہ عنہ !تم چند روز صبر کرو۔ یہ مشرک لوگ ہیں اور انمیں سے ہر ایک خون ایسا ہے جیسے کُتّے کا خون ۔‘‘ یہ واقعہ تھوڑا تھوڑا سیرت کی کتابوں میں مختلف الفاظ میں مذکور ہے۔ ہم نے ان الفاظ کو بہت حد تک آسان کر کے لکھا ہے اور پورے واقعہ کو ایک مربوط شکل دینے کی کوشش کی ہے۔

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے محبت اور دشمنی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عہد کو نبھایا اور حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کو واپس بھیج دیا۔ اس واقعہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت غمگین تھے۔ اس واقعہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت کرنے اور دشمنی کرنے کا بہترین نمونہ سامنے آیا ہے۔ نہ تو سہیل بن عمرو سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کوئی دشمنی تھی اور نہ ہی حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے کوئی قریبی رشتہ دار تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے ان سے محبت کی اور ان کے دکھ اور تکلیف کو دیکھ کر غمگین ہو گئے۔ یہ تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سہیل بن عمرو جو کہ حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کا باپ تھا اس سے دشمنی صرف اس لئے کر رہے تھے کہ وہ مشرک تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکار کر رہا تھا۔ یہ ہے اللہ کے لئے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت اور دشمنی کہ بیٹے سے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محبت کر رہے ہیں ۔ کیوں کہ وہ مسلمان ہیں اور باپ سے دشمنی کر رہے ہیں کیوں کہ وہ کافر اور مشرک ہے۔ اب ذرا ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے محبت اور دشمنی کر رہے ہیں یا نہیں ۔یا پھر اپنے مطلب اور فائدے کی زندگی گزار رہے ہیں۔

قربانی اور سر منڈوانا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ کی اصل اپنے پاس رکھی اور ایک نقل لکھوا کر سہیل بن عمرو کو دے دی اور وہ صلح نامہ کی کاپی اور اپنے بیٹے حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو لے کر واپس چلا گیا اور صلح حدیبیہ مکمل ہو گئی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : ’’ اٹھو! قربانی کرو اور سر منڈائو۔‘‘ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش بیٹھے رہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری اور تیسری مرتبہ فرمایا۔ لیکن (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اتنے غمگین تھے کہ ) کوئی نہیں اٹھا۔ ( در اصل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ امید تھی کہ ہو سکتا ہے کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ارادہ بدل دیں) یہ دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے میں تشریف لائے اور اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے صورت حال کا تذکرہ کیا۔ ( اس سفر میں اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں ۔ا س کا ذکر ہم اس سے پہلے کر چکے ہیں۔ ) اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے مشورہ دیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے کچھ نہ کہیں اور خاموشی سے جا کر اپنی قربانی کر دیں اور سر مونڈھنے والے کو بلا کر سر منڈا لیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے مشورے پر عمل کیا اور خاموشی سے جا کر قربانی کر دی اور حضرت خراش بن اُمیہ رضی اللہ عنہ سے سر منڈانے لگے۔ ( یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سمجھ گئے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ پر قائم رہیں گے) تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی قربانی کی اور ایک دوسرے سے سر منڈوائے۔

فتح مبین

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دس یا بیس دنوں تک حدیبیہ میں ٹھہرے رہے۔ اس کے بعد مدینہ منورہ کی طرف واپس روانہ ہوئے ۔ امام زہری ( جلیل القدر تابعی) فرماتے ہیں۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آرہے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان پہنچے توا للہ تعالیٰ نے سورہ فتح نازل فرمائی اور فرمایا: ترجمہ ’’ بے شک ( اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم )ہم نے تمہیں روشن اور کھلم کھلا فتح عطا فرما دی۔‘‘ ( سور ہ فتح آیت نمبر1)(اللہ تعالیٰ نے مکمل سورہ فتح نازل فرمائی تھی ۔ لیکن ہم یہاں موقع کی مناسبت سے کچھ ہی آیات ذکر کریں گے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو مکمل سورہ فتح سنائی اور فرمایا کہ ’’صلح حدیبیہ ‘‘در اصل ’’فتح مبین‘‘ ہے تو انھوں نے تعجب سے دریافت کیا: ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا یہ فتح مبین ہے؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !قسم ہے اُس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ بے شک یہ ’’عظیم الشان فتح ‘‘ہے۔‘‘ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ ’’ بے شک جن لوگوں نے تم سے بیعت کی ا نھوں نے اللہ سے بیعت کی۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ پھر جو اس بیعت کو توڑے گاتو اس کا وبال اس کے اوپر ہے اور جو اس عہد ( بیعت ) کو جو اس نے اللہ سے کیا ہے اسے پورا کرے گا تو بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کو اجر عظیم عنایت فرمائے گا۔‘‘ ( سورہ فتح آیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بہت بڑی بشارت ( خوش خبری) سنائی ہے۔ اس کے بعدا للہ تعالیٰ نے اس سے بھی بڑی بشارت دی اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے: ( ترجمہ) ’’بے شک اللہ تعالیٰ مومنوں سے راضی ہو گیا۔ جب وہ تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے۔ پس جان لیا اُس ( اللہ تعالیٰ ) نے وہ بات جو اُن کے دلوں میں تھی۔ پھر اُن پر اس نے چین اور اطمینا ن نازل فرمایا اور جلد ملنے والی فتح انہیں عنایت فرمائی۔‘‘ ( سورہ فتح آیت نمبر18) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ خوش خبری دی کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا ہے اور فتح مبین یعنی صلح حدیبیہ کی وجہ سے بہت جلد اللہ تعالیٰ ایک اور فتح عطا فرمائے گا اور کچھ ہی دنوں بعدا للہ تعالیٰ نے’’ خیبر کی فتح‘‘ عطا فرمائی۔

صلح حدیبیہ’’ فتح مبین‘‘ کیوں ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کو’’ فتح مبین‘‘ فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ فتح مبین سے مراد حدیبییہ کی فتح ہے یا صلح حدیبیہ ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ آپ حضرات (تابعین حضرات ) انا فتحنا لک فتحا ً مبینا ۔ (یعنی فتح مبین) سے مراد’’ فتح مکہ‘‘ کو لیتے ہیں۔ جب کہ فتح مکہ کے فتح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ لیکن حدیبیہ کے روز جو’’ بیعت رضوان‘‘ ہوئی ہم ’’فتح مبین‘‘ اس کو شمار کرتے ہیں۔ اس بارے میں امام زہری ( جلیل القدر صحابی) فرماتے ہیں کہ صلح حدیبیہ ایسی’’ عظیم الشان فتح ‘‘ہے کہ اس سے پہلے اس شان کی فتح نصیب نہیں ہوئی تھی۔ کیوں کہ جنگ کی وجہ سے ایک دوسرے سے ( مسلمان اور کافر) مل جل نہیں سکتے تھے۔ صلح کی وجہ سے لڑائی ختم ہو گئی اور امن قائم ہو گیا اور جو لو گ اسلام کو ظاہر نہیں کر سکتے تھے وہ لوگ اعلانیہ طور پر اسلام کے احکام بجا لانے لگے۔ آپس کی منافرت اور کشیدگی دور ہوئی۔ بات چیت کا موقع ملا۔ مسائل ِ اسلامیہ پر گفتگو اور مناضرہ کا موقعہ ملا۔ قرآن پاک کو سنا گیا اور سنایا گیا جس کا اثر یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ سے لے کر فتح مکہ کے درمیان اس قدر کثرت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا کہ اعلانِ نبوت سے لے کر اس وقت تک اتنے لوگوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔

اللہ پر ایمان اور ستاروں پر ایمان

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے سفر پر 6 ؁ہجری میں نکلے تو سفر کے دوران رات کے وقت بارش ہونے لگی۔ پس صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں نماز پڑھا دی تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو کہ ایسا کیوں ہوا ؟ ‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ میرے بندے نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ مجھ پر ایمان بھی رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر بھی کرتا ہے۔ پس جو یہ کہتا ہے کہ ہم پر اللہ کی رحمت سے ، اللہ کے برسانے سے اور اللہ کے فضل و کرم سے بارش برسی وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے اور ستاروں کی تاثیر کا منکر ہے۔ لیکن جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی تو وہ ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرا منکر ( یعنی میرا انکار کرنے والا ) ہے۔ ‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

22 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


22 سیرت سید الانبیاء ﷺ

بادشاہوں کا اسلام کی دعوت ۔ قسط 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


حبشہ کے بادشاہ نجاشی ( اصحمہ) کو اسلام کی دعوت، نجاشی کا قبول اسلام، ہر قل قیصر روم کو اسلام کی دعوت، قیصڑ روم ہرقل اور ابو سفیان کی گفتگو


حضرت ابو البصیر عتبہ بن اُسید رضی اللہ عنہ کی مدینہ منورہ آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے بعد مدینہ منور ہ واپس تشریف لے آئے۔ یہ ذی القعدہ 6 ؁ ہجری کا واقعہ تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمانوں اور قریش کے درمیان دس سال کے لئے جنگ بند کر دی گئی تھی اور دونوں فریقوں سے سکون اور اطمینا ن کا سانس لیا اور امن قائم ہو گیا۔ اب مسلمان اور قریش ایک دوسرے سے ملنے لگے اور ایک دوسرے کے یہاں آزادی سے آنے جانے لگے۔ اسی دوران حضرت ابو البصیر عتبہ بن اُسید رضی اللہ عنہ کا واقعہ پیش آیا۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کا نام عتبہ بن اُسید رضی اللہ عنہ ہے اور ابو البصیر کنیت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو ثقیف کے ہیں اور یہ قبیلہ قریش کی شاخ بنو زہرہ کا حلیف ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن قریش نے آپ رضی اللہ عنہ کو قید کررکھا تھا۔ صلح حدیبیہ کے کچھ ہی دنوں بعد قریش کی قید سے آزادی حاصل کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے ۔بنو زہرہ کے ازہر بن عوف اور بنو ثقیف کے اخنس بن شریق نے ایک خط لکھ کر بنو عامر کے ایک شخص کو اس کے غلام کے ساتھ مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔

حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کی واپسی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور اُن کے پیچھے پیچھے بنو عامر کا شخص اپنے غلام کے ساتھ حاضر ہوا اور ازہر بن عوف اور اخنس بن شریق کا خط دیا۔ اس میں انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ صلح حدیبیہ کے معاہدے کے تحت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کو ان دونوں کے ساتھ واپس بھیج دیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خط پڑھ کر حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تمہیں ان دونوں کے ساتھ واپس جانا ہوگا۔‘‘ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں مشرکوں کے پاس واپس چلا جائوں؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہم نے ان لوگوں سے جو عہد و معاہدہ کیا ہے اس کے بارے میں تو تم جانتے ہی ہو۔ ہم اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے ساتھ مجبور مسلمانوں کیلئے ضرور کشادگی فرمائے گا۔‘‘ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ لوگ ( مشرکین) میرے دین ( اسلام) کے متعلق مجھے فتنہ میں ڈالتے ہیں۔ ( یعنی اسلام چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابو البصیر رضی اللہ عنہ ! تم ان کے ساتھ واپس مکہ مکرمہ چلے جائو۔ انشااللہ ، اللہ تعالیٰ بہت جلد تمہارے لئے راستہ پیدا فرما دے گا اور آزادی عطا فرمائے گا۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ ان دونوں مشرکوں کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے۔

حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ ساحلی علاقے میں قیام پذیر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ ان دونوں مشرکین کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ مقامِ’’ ذو الحلیفہ‘‘ پہنچ کر ان لوگوں نے پڑائو ڈال دیا اور کھانے پینے اور آرام کرنے لگے۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نے کھانے کے دوران بنو عامر کے شخص سے کہا: ’’ تمہاری تلوار تو بہت خوبصورت ہے۔ کیا میں اسے دیکھ سکتا ہوں؟‘‘ اس نے میان سمیت تلوار انہیں دے دی اور کہا : ’’ لو دیکھ لو۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے میان سمیت تلوار لے لی اور دیکھنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار میان سے نکال کر بنو عامر کے شخص پر تلوار سے وار کیا اور ایک ہی وار میں اس کی گردن اڑا دی۔ یہ دیکھ کر اس کا غلام بے انتہا خوف زدہ ہو گیا اور وہاں سے اٹھ کر بھاگتا ہوا سیدھا مسجد نبوی میں آیا جہاں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ’’یہ شخص بہت گھبرایا ہوا لگ رہا ہے۔‘‘ اتنے میں وہ شخص ہانپتا کانپتا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا : ’’ تجھے کیا ہوگیا ہے؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نے میرے مالک کا قتل کر دیا ہے۔‘‘ اسی وقت حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ تلوار ہاتھ میں لئے حاضر ہوئے جس پر خون لگا ہوا تھا۔ انھوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کو پورا کیا۔ ( یعنی ان کے ساتھ واپس چلا گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایسی قوم کے حوالے کیا تھا جو مجھ کو میرے دین پر قائم نہیں رہنے دیتی۔ میں نے اپنے دین کو بچا لیا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تو بڑ ا لڑاکو اور لڑائی ( جنگ) کی آگ بھڑکانے والا ہے۔‘‘ (یعنی یہ کہ تمہارے اس عمل سے مسلمانوں اور قریش کے درمیان پھر سے جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ بھی سمجھ گئے کہ ان کی وجہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان مصیبتوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال میں صلح حدیبیہ کے معاہدے کو نبھائیں گے) حضرت ابوالبصیر رضی اللہ عنہ فوراً وہاں سے نکل کر مدینہ منورہ سے باہر آئے اور ایک طرف روانہ ہو گئے۔ چلتے چلتے آپ رضی اللہ عنہ مقام ’’عیص ‘‘تک پہنچے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے۔

قریش کی درخواست ۔ انہیں اپنے پاس بلا لو

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے وہ مشرک شخص مکہ مکرمہ میں قریش کے پاس آیا ور انہیں تمام واقعہ سنایا اور بتایا کہ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ نہ جانے کہاں چلے گئے ہیں۔ ادھر حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ چلتے چلتے ایک ساحلی علاقے میں پہنچے اور وہاں مقام ’’عیص‘‘ میںرہنے لگے۔ یہ مقام’’ ذی مروہ‘‘ کے پاس ہے اور قریش کے تجارتی راستے پر واقع ہے۔ مکہ مکرمہ والوں کو ان کے وہاں قیام کرنے کی خبر ملی تو جو مسلمان مکہ مکرمہ میں مجبور اور قید میں تھے وہ مکہ مکرمہ سے بھاگ کر مقامِ ’’عیص ‘‘میں حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر آباد ہونے لگے۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ سے اکیلے نکلے تھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ’’ کاش اس کیساتھ اور آدمی ہوتے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مکہ مکرمہ کے مسلمانوں تک پہنچا تو وہ لوگ اچھی خاصی تعداد میں حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر آباد ہو گئے اور ستر 70کے قریب یا اس سے زیادہ مسلمان وہاں رہنے لگے۔ ان لوگوں نے قریش کے تجارتی قافلوں کا گزرنامشکل کر دیا اور تجارتی قافلوں پر حملے کرنے لگے۔ آخر کار قریش مجبو ر ہو گئے اور انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہوسلم سے درخواست کی کہ ہم صلح حدیبیہ کے معاہدے کی اس شرط کو ختم کر دیتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رشتہ داری اور رحم کا واسطہ دے کر یہ درخواست کی کہ ہم کو ان لوگوں کی کوئی ضرورت نہیںہے۔ مہربانی کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے پاس بلا لیں۔ تب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس مدینہ منورہ میں بلا لیا۔اُن میں حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کا انتقال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک روایت کے مطابق قریش نے ابو سفیان کو بھیجا ۔ علامہ عبد المصطفیٰ اپنی معرکتہ آراء کتاب سیرت المصطفیٰ میں لکھتے ہیں۔ یہ بھی روایت ہے کہ قریش نے خود ابو سفیان کو مدینہ منورہ بھیجا کہ ہم صلح نامہ کی اپنی شرط سے دست بردار ہوتے ہیں اور واپس لیتے ہیں۔ براہِ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ اپنے پاس واپس بلا لیں تا کہ ہمارے تجارتی قافلے محفوظ ہو جائیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوالبصیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر بھیجا: ’’ تم اپنے ساتھیوں سمیت مقام عیص سے مدینہ منورہ چلے آئو۔‘‘ مگر افسوس !کہ فرمانِ رسالت اُن کے پاس ایسے وقت پہنچا جب وہ نزع کی حالت میں تھے۔ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ) مقدس خط کو انھوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر سر اور آنکھوں پر رکھا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان کی تجہیز و تکفین کا انتظا م کیااور دفن کے بعد ان کی قبر شریف کے پاس یاد گار کے لئے ایک مسجد بنا دی ۔ پھر فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بمو جب یہ سب لوگ مدینہ منورہ میں آکر آباد ہو گئے۔ علامہ عبدالمصطفیٰ کے الفاظ مکمل ہوئے ۔ اس واقعہ کے بارے میں مولانا محمد ادریس کاندھلوی اپنی معرکتہ آراء کی کتاب سیرت المصطفیٰ میں لکھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک والا نامہ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کو لکھوا کر روانہ کیا۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا والا نامہ پہنچا اُس وقت حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ اس دنیا سے رخصت ہو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا والا نامہ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ کو دے دیا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ پڑھتے جاتے تھے اور خوش ہوتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ جاں بحق تسلیم ہو ئے اور والا نامہ ان کے سینہ پر تھا۔ اورایک روایت میں ہے کہ ہاتھ میں تھا۔ حضرت ابو جندل بن سہیل رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو البصیر رضی اللہ کی تجہیز و تکفین کی اور اسی جگہ ان کو دفن کر دیا اور قریب میں ایک مسجد بنا دی اور بعد ازاں ابو جندل اپنے تمام رفقاء کو لے کر مدینہ منورہ حاضر ہوئے۔

مسلمان خواتین کو واپس نہیں کیا گیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں جو بھی مسلمان مرد مکہ مکرمہ آتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے صلح حدیبیہ کے عہد نامے کے مطابق واپس کر دیتے تھے۔ حضرت ابو البصیر رضی اللہ عنہ بھی ان ہی میں شامل تھے۔ جن کا واقعہ ہم نے تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ اسی واقعہ کے دوران میں سیدہ اُم کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں تو ان کے دو بھائی عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط اور ولید بن عقبہ بن ابی معیط مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اپنی بہن ( سیدہ اُم کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ) کی واپسی کا مطالبہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ( ترجمہ)’’ اے ایمان والو!جب مسلمان عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کا امتحان کر لو۔ در اصل ان کے ایمان کو بخوبی جاننے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اگر امتحان لینے کے بعد تمہیں معلوم ہو جائے کہ واقعی میں یہ مسلمان ( یا مومنہ ) ہیں تو پھر انہیںکافروں کی طرف واپس مت لوٹائو۔ اب یہ عورتیں ان کا فروں کیلئے حلا ل نہیں ہیں اور نہ وہ کافر ان کیلئے حلال ہیں۔… آیت کے آخر تک ۔ ( سورہ الممتحنہ آیت نمبر10) اس آیت کے نزول کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سدہ اُم کلثوم بن عقبہ بن ابی معیط کو ان کے بھائیوں کے ساتھ واپس نہیں بھیجا۔

بادشاہوں کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ذی القعدہ 6 ؁ہجری میں صلح حدیبیہ کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اب چونکہ قریش کی طرف سے اطمینان ہو چکا تھا اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت کو عالمی پیمانے پر وسیع کرنے کی جدو جہد میں مصروف ہو گئے اور دنیا کے بادہشاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کا لائحہ عمل مرتب کرنے لگے۔ اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا تو انہیوں نے مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہر بنوالیں کیوں کہ بادشاہوں کا یہ قاعدہ ہے کہ وہ ُمہر لگے ہوئے خطوط ہی لیتے ہیں۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کر کے مُہر بنوائی۔ یہ چاندی کی ایک انگوٹھی تھی۔ اس انگوٹھی پر’’ محمد رسول اللہ‘‘ نقش کیا گیا تھا۔ یہ نقش تین سطروں میں تھا۔ سب سے اوپر والی سطر میں’’ اللہ ‘‘لکھا ہوا تھا۔ اس کے نیچے والی سطر میں ’’رسول‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اور سب سے نیچے والی سطر میں’’ محمد‘‘ لکھا ہوا تھا۔ یہاں بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا خیال رکھا کہ اللہ تعالیٰ کا نام سب سے اوپر رکھا۔ اس انگوٹھی پر یہ نقش اس طرح تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کے نام خطوط لکھوئے اور ان پر اس انگوٹھی سے مُہر لگا کر بادشاہوں کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ( سلطنت فارس کا حکمراں) قیصر( سلطنت روم یا رومہ کا حکمراں) نجاشی( حبشہ کا حکمراں) اور تمام دنیاوی بادشاہوں کے نام خطوط روانہ فرمائے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ( اسلام کی ) دعوت دی۔ یہ نجاشی حبشہ کا وہی بادشاہ ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غائبانہ) نماز جنازہ پڑھی تھی۔

سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ ذی الحجہ 6ہجری میں دنیا کے بادشاہوں کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے خطوط لکھ کر اپنے سفیروں کے ذریعے بھیجے۔ بادشاہوں کو خطوط بھیجنے کی تاریخ میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ 6 ؁ہجری میں بھیجے اور کچھ روایات میں ہے کہ 7 ؁ہجری میں بھیجے۔ اب اصل اور صحیح تاریخ کا علم تو صر ف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ یوں تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا ۔اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کون کون حضرات ان خطوط کو لے کر کن کن بادشاہوں کے دربار میں گئے۔ ان کی فہرست کافی طویل ہے۔ مگر ایک ہی دن چھ خطوط لکھوا کر اور اپنی مُہر لگا کر جن چھ قاصدوں ( سفیروں) کو جہاں جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا وہ یہ ہیں(1) حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو سلطنت روم یا رومہ کے بادشاہ قیصرِ روم ہر قل کے پاس بھیجا۔(سلطنت روم کا مرکز اُس وقت ملک شا م تھا ) (2) حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو سلطنت فارس کے بادشاہ کسریٰ خسرو پرویز کے پاس بھیجا۔ (سلطنت فارس کا مرکز حالیہ ایران تھا) (3) حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس بھیجا۔ (4) حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کو عزیز مصر ( مصر کے بادشاہ) مقوقش کے پاس بھیجا۔ (5) حضرت سُلیط بن عمر رضی اللہ عنہ کو یمامہ کے حکمراں ہوزہ کے پاس بھیجا۔ (6) حضرت شماع بن وہب رضی اللہ عنہ کو غسّان کے گورنر حارث غسانی کے پاس بھیجا۔

حبشہ کے بادشاہ نجاشی ( اصحمہ) کے نام خط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 6 ؁ہجری ذی الحجہ میں جس نجاشی کو خط لکھا تھا اس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ( اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ حبشہ کے ہر بادشاہ کا لقب نجاشی ہو ا کرتا تھا) اس کا نام اصحمہ تھا۔ اور اس کا انتقال 9 ؁ہجری میں ہو گیا تھا اور اسی کی غائبانہ نماز جنازہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی۔ اس کے بعدجو دوسرا نجاشی بادشاہ بنا تو اسے بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھا تھا اور اسلام کی دعوت دی تھی۔ اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں ۔ اس بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔ مشہور ہے کہ یہ دونوں مقدس خطوط اب تک حبشہ کے بادشاہوں کے پاس موجود ہیں اوروہ لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔یہ دونوں خطوط ہم آپ کی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں۔ اب ان دونوں میں سے کون سا خط پہلے نجاشی کو بھیجا اور کون سا خط بعد والے نجاشی کو بھیجا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

نجاشی کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں نجاشی کو جو دو خطوط لکھے ان دونوں خطوط کا اردو ترجمہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ ان میں ایک ترجمہ یہ ہے۔’’ یہ خط ہے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام ! سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے اورا للہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ نہ اس کی بیوی ہے اور نہ ہی اولاد ہے اور یہ بھی گواہی دے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ میں تم کو اللہ کی طرف ( یعنی اسلام کی ) دعوت دیتا ہوں۔ بے شک میں اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اسلام قبول کرلو۔ سلامتی میں رہو گے۔ اے اہل کتاب ! آئو ایک صاف اور سیدھی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے بعض ، بعض کو ( ایک دوسرے کو) رب نہ بنائیں۔ پس اگر وہ منہ پھیرلیں تو کہہ دو کہ گواہ رہنا ہم مسلمان اور اللہ کے فرماں بردا ر بندے ہیں۔ اے نجاشی اگر تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا تو تمہاری قوم کے تمام نصاریٰ ( عیسائیوں) کا گناہ تم پر ہوگا۔‘‘ ( کیوں کہ بادشاہ رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے) ایک خط کااردو ترجمہ مکمل ہوا۔ اب ہم آپ کی خدمت میں ایک اور خط کا اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔’’ یہ خط اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے نام ! تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہارے سامنے اس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جو بادشاہ ہے۔ ہر عیب سے پاک ہے۔ سراسر سلامتی ہے۔ امن دینے والا ہے۔ اور سب کی خبر رکھنے والا ہے اور اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ کلمہ ہیں جو اللہ نے پاک دامن اور طاہرہ سیدہ مریم صدیقہ کی طرف ڈالا اور وہ حاملہ ہو گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ( بغیر باپ کے) اسی طرح پیدا فرمایا جس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو ( بغیر ماں باپ کے) پیدا فرمایا۔ میں تمہیں اللہ کی طرف ( یعنی اسلام کی ) دعوت دیتا ہوں جو اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور تمہیں اللہ کی اطاعت اور محبت کی طرف بلاتا ہوں اور تم میری پیروی کرو اور اُس قرآن پاک پر ایمان لائو جو اللہ تعالیٰ نے مجھ نازل فرمایا ہے۔ بے شک میں اللہ تعالیٰ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ میں تمہارے پاس اپنے چچا زاد بھائی جعفر کو بھیج رہا ہوں ۔ اُن کے ساتھ مسلمانوں کی ایک جماعت ہے۔ جب یہ تمہارے پاس پہنچیں تو تم ان کے سامنے اسلام قبول کر نا۔ میں تمہیں اور تمہارے لشکر کو اسلام کی دعوت دے رہا ہوں۔ میں نے تم تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور نصیحت کر دی۔ پس میری نصیحت قبول کرو۔ اس پر سلامتی ہو جو ہدایت ( اسلام) کی پیروی یا اتباع کرے۔‘‘

حضرت نجاشی ( اصحمہ ) کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت عمرو بن اُمیہ رضی اللہ عنہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے دربار میں پہنچے ( غالباً حضرت عمر و بن اُمیہ رضی اللہ عنہ پہلے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے ہوں گے اور پھر وہ انہیں نجاشی کے دربار میں لے گئے ہوں گے۔ اب حقیقت کیاہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے) اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا۔ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ اپنے تخت سے نیچے اتر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر اپنی آنکھوں سے لگایا اور زمین پر بیٹھ کر حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے مبارک ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور حق کی گواہی دی۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا جواب لکھوایا۔

حضرت نجاشی کا خط سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے جواب میں حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے جو خط لکھا اس کا اردو ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔’’ اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام یہ خط نجاشی اصحمہ بن الحر کی طرف سے ہے! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی ہو اور اللہ تعالیٰ کی برکتیں اور رحمتیں ہوں۔ اللہ کا شکر ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے کہ اس نے مجھے اسلام کی ہدایت عطا فرمائی۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط مجھے مل گیا ۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے۔ اللہ کی قسم !میں اپنی رائے سے اس میں اضافہ نہیں کروں گا۔ بے شک جیسا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ویسے ہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس شریعت کو لے کر مبعوث ہوئے ہیں اُسے میں نے پہچان لیا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ( حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ ) اور ان کے ساتھیوں کے سامنے کلمہ پڑھ لیا ہے اورمجھے یقین ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور پہلی کتابوںمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی ہے اور تصدیق بھی ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی کے واسطے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے مسلمان ہو گیا ہوں۔ اب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے ارخا بن اصحمہ کو بھیج رہا ہوں۔ مجھے بجز اپنے کسی اور پر اعتماد نہیں ہے۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلائیں گے تو میں خدمت ِ اقدس میں حاضر ہو جائوں گا۔ کیوں کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا یقین ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرماتے ہیں وہ بالکل حق ہے۔ سلامتی ہو آپ پر یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ‘‘

ہر قل قیصر روم کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر روم کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے خط لکھ کر حضرت وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو دے کر اس کے پاس بھیجا۔ اس خط کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے۔’’ یہ خط ہے محمد اللہ کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرقل قیصر روم کے نام! سلام ہے اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔اما بعد !میں تم کو دعوت دیتا ہوں اس کلمہ کی جو اسلام کی طرف لانے والا ہے یعنی کلمہ ٔ طیبہ کی۔ اسلام قبول کرلو سلامت رہوگے اور اللہ تعالیٰ تمہیں دوہر ا اجر دے گا۔ جیسا کہ اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ ( اُولٰٓئِکَ یُوْتُونَ اَجرَہُم مَرَّتَیْن ) ،پس اگر تم اسلام سے منہ پھیرو گے تو تمام رعایا کے اسلام قبول نہیں کرنے کا گناہ تم پر ہوگا کہ تیری اتباع کر کے انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اور اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں (مشترک) ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور نہ ہی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کریں اور اللہ کے سوا ایک دوسرے کو اپنا معبود اور رب نہیں بنائیں۔ اب اگر وہ اسلام قبول نہ کرو گے تو گواہ رہنا کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خط لے کر حضرت وحید کلبی رضی اللہ عنہ قیصر روم کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ اس وقت سلطنت فارس پر فتح حاصل ہونے کا شکریہ ادا کرنے’’ حمص‘‘ سے پیدل چل کر’’ بیت المقدس‘‘ آیا ہوا تھا۔ آ پ رضی اللہ عنہ محرم 7 ؁ہجری میں بیت المقدس پہنچے اور بصریٰ کے امیر کے توسط سے قیصر روم کے دربار میں پہنچ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پیش کیا۔

قیصر روم کے دربارمیں حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کی تقریر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ جب قیصر روم کے دربار میں پہنچے تو انھوں نے فرمایا: ’’ اے قیصر روم ہرقل ! جس نے مجھ کو آپ کی طرف سفیر بنا کر بھیجا ہے۔ وہ آپ سے کہیں بہتر ہے اور جس ذات ِ بابرکت نے ان ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو رسول بنا کر بھیجا ہے وہ سب ہی سے اعلیٰ اور ارفع ہے (یعنی اللہ تعالیٰ)۔ اس لئے جو کچھ میں عرض کروں گا اسے تواضع کے ساتھ سننا اور اخلاص سے جواب دینا۔‘‘ قیصر روم ہر قل نے کہا: ’’ فرمائیے۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ آپ کو معلوم ہے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھتے تھے؟ ‘‘ (رومی اور قیصر روم عیسائی تھے) اس نے جواب دیا : ’’ ہاں !بے شک نماز پڑھتے تھے۔‘‘ یہ سن کر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ میں آپ کو اس ذات پاک ( اللہ تعالیٰ) کی طرف بلاتا ہوں جس کے لئے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام نماز پڑھتے تھے اور جس کے سامنے پیشانی ٹیکتے تھے اور جس نے مسیح کو ان کی والدہ کے بطن میں بنایا اور جس نے تمام زمین اور آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ اس کے بعد میں آپ کو اس نبی ٔ اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بلاتا ہوں جس کی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی۔ پھر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام نے بشارت دی اور آپ کو ان ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے بارے میں پورا علم ہے اور پوری خبر ہے۔ ( توریت اور انجیل کے ذریعے) اگر آپ اس دعوت ( اسلام )کو قبول کریں گے تو آپ کے لئے دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی ہے۔ ورنہ آخرت تو آپ کی برباد ہو ہی جائے گی اور دنیا میں بھی دوسرے لوگ آپ کے شریک ہوں گے اور یقین جانیئے کہ آپ کا ایک پروردگار ہے۔ جو منکر ین کو کچل ڈالتا ہے اور اپنی نعمتوں کو بدلتا رہتا ہے۔‘‘ اتنا فرما کر آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط قیصر روم ہر قل کو دیا۔ اس نے خط لے کر اپنی آنکھوں سے لگایا اور سر پر رکھا اور بوسہ دیا۔ اس کے بعد کھول کر پڑھا اور کہا: ’’ میں آپ کو سوچ کر کل جواب دوں گا۔‘‘

عیسائی عالم نے تصدیق کی اور ایمان لایا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر قیصر روم ہرقل نے دربار برخاست کر نے کا حکم دیا اور سب لوگ چلے گئے۔ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اس کے بعد اس نے مجھے بلوایا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تفصیل سے پوچھا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سارا حال بیان کر دیا۔ پھر قیصر روم ہرقل نے کسی کو اسقف( عیسائیوں کا سب سے بڑا عالم) کو بلانے کے لئے بھیجا۔ یہ اسقف ملک شام کا سب سے بڑا اسقف تھا اور اس کی بات اور اس کی رائے کو لوگ تسلیم کرتے تھے۔ جب اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پڑھا تو بے ساختہ کہا : ’’ اللہ کی قسم !یہ وہی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں جن کی بشارت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہمیں دی ہے اور ہم تو’’ اُن آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا انتظار کر رہے تھے۔ قیصر روم ہرقل نے کہا: ’’ اب میرے لئے تمہارا کیا حکم ہے؟ ‘‘ اسقف نے کہا: ’’ جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ۔میں ان کی ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ) تصدیق کرتا ہوں اور ان کی پیروی اختیار کرتا ہوں۔‘‘ یہ سن کر قیصر روم ہر قل نے کہا: ’’ بے شک میں بھی یہ تسلیم کرتا ہوں لیکن میں ایسا کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ اگر میں نے ان آخری نبی (صلی اللہ علیہ وسلم )کی اتباع قبول کی۔ (یعنی اسلام قبول کر لیا) تو میری حکومت جاتی رہے گی اور اہل روم مجھے قتل کر دیں گے۔‘‘

ابو سفیان ،قیصر روم ہر قل کے دربار میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مکمل تحقیق اور اطمینان کرنے کے بعد قیصر روم ہر قل نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ جو لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم )کی قوم کے میرے ملک میں آئے ہوئے ہیں اُن کو میرے دربار میں حاضر کیا جائے۔ تا کہ بھرے دربار میں ان سے تمام حالات معلوم کروں۔ اتفاق سے ابو سفیان قریش کی ایک جماعت کے ساتھ اس وقت تجارتی قافلہ لے کر شام آیا ہوا تھا اور غزہ میں مقیم تھا۔ قیصر کے خادموں نے غزہ سے بیت المقدس قیصر روم کے دربار میںابو سفیان کو حاضر کیا۔ قیصر روم ہرقل نے بڑی شان و شوکت سے دربار کا انعقاد کیا تھا اور تمام درباریوں اور وزیروں کے ساتھ ساتھ تمام علمائے روم قسیسین اور رہبان بھی حاضر تھے۔ قیصر روم ہرقل شاہی تاج پہن کر تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ جب ابو سفیان اور اس کے ساتھی دربار میں آگئے تو ہر قل نے شاہی محل کے دروازے بند کر دینے کا حکم دیا اور ترجمان کو بلوایا اور اس کے ذریعے گفتگو شروع کی۔

قیصڑ روم ہرقل اور ابو سفیان کی گفتگو

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مجھے ابو سفیان بن حرب نے بتایا ( ابو سفیان نے اسلام قبول کرنے کے بعد یہ واقعہ بتایا) کہ ہرقل نے میرے پاس اپنے آدمیوں کو بھیجا ۔ جب میں تاجر کی حیثیت سے قریش کے تجارتی قافلے کے ساتھ ملک شام گیا ہوا تھا۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ملک فلسطین اس وقت ملک شام کا ایک حصہ تھا) یہ بات صلح حدیبیہ کے بعد کی ہے۔ میں اور تمام مشرکین قریش ہرقل کے دربار میں حاضر ہوئے ۔اس کے دربار میں سلطنت روم کے تمام سردار ان اور علمابیٹھے ہوئے تھے۔ قیصر روم ہرقل نے ہمیں قریب بلایا اور ترجمان کو طلب کیا اور اس کے ذریعے ہم سے کہا: ’’ تمہاری قوم کے ایک شخص نے’’ اعلان ِ نبوت‘‘ کیا ہے اور ان کا ایک خط میرے پاس آیا ہے۔ تم میں سے اُن ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا سب سے قریبی رشتہ دار کون ہے؟‘‘ ابو سفیان کہتے ہیں میں نے کہا : ’’ میں اُن کا سب سے قریبی رشتہ دار ہوں۔ ‘‘ہرقل نے کہا: ’’ ابو سفیان کو آگے کر دو اور اس کے ساتھیوں کو اس کے پیچھے اس کے قریب ہی کردو۔‘‘ اس کے بعد میرے ساتھیوں سے کہا: ’’ میں ابو سفیان سے ان شخص کے بارے میں دریافت کروں گا۔ اگر یہ جھوٹ کہے یا غلط بتائے تو فوراً اسے جھٹلا دینا۔‘‘ ابو سفیان کہتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم ! اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ بعد میں مجھے جھوٹا کہیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا۔ ‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں