اتوار، 2 جولائی، 2023

26 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


26 سیرت سید الانبیاء ﷺ

عمرۃ القضاۃ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


عمرۃ القضاۃ کے لئے روانگی، قریش کی گھبراہٹ، طواف کرنے کی کیفیت، حضرت حمزہ کی بیٹی، حضرت خالد بن ولید کا غو رو فکر، حضرت خالد بن ولید کا قبول اسلام، سید الانبیاء ﷺ کی خوشی اور مسرت، 


جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے مدینہ منورہ واپس آئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ خیبر کے راستے میں ہم لوگ ایک وادی میں پہنچے تو بلند آواز سے یہ تکبیر کہنے لگے۔’’ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ ‘‘یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اپنی جانوں پر نرمی کرو۔ ( یعنی اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالو) تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں سنا رہے ہو۔ بے شک تم اس ذات ( اللہ تعالیٰ) کو سنا رہے ہو۔ جو سننے والاہے اور قریب ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے میں چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے’’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ‘‘کہتے ہوئے سنا تو مجھ سے فرمایا: ’’ اے عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ! ( یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام ہے اور ابو موسیٰ کنیت ہے) میں نے فوراً عرض کیا: ’’ میں حاضر ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ایسا کلمہ بتائوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ضرور بتائیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ کلمہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ہے۔ ‘‘

غزوہ خیبر اور عمر ہ قضا کے درمیان کے سرایا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صفر المظفر 7 ؁ہجری میں غزوہ خبیر سے مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اس کے بعد عمر ہ قضا کے لئے مکہ مکرمہ ذی القعدہ 7 ؁ہجری میں مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ صفر المظفر سے لے کر ذی القعدہ تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مختلف سرایا پر بھیجتے رہے۔ ( غزوہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے ہیں اور سرِیہّ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔ سرایا جمع ہے اور سریہ واحد ہے) ان سرایا کا مختصرا ً ذکر ہم یہاں کر رہے ہیں۔ ربیع الاول 7ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت غالب بن عبداللہ لیشی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں قبیلہ بنو ملوح کی طرف بھیجا ۔ جمادی الآخر 7 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں پانچ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر حسمیٰ کی طر ف قبیلہ جذام کی سر کوبی کے لئے بھیجا۔ شعبان 7 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس30صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو تربہ کی طرف قبیلہ بنو ہوازن کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ شعبان المعظم 7 ؁ہجری میں ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بشر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس30صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بنو مرہ کی طرف فدک کے اطراف میں سریہ بھیجا۔ رمضان المبارک 7 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت غالب بن عبداللہ لیشی کی قیادت میں بنو عوال ، بنو عبدبن ثعلبہ اور بنو جہینہ قبائل کی طرف سریہ بھیجا۔ شوال 7 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بنو عطفان کی سرکوبی کے لئے خیبر کے اطراف میں بھیجا۔ شوال 7 ؁ہجری میں ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بشیر بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جہاد کی طرف بنو فزارہ اور بنو عذرہ کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔

عمرۃ القضاۃ کے لئے روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال ۷ ؁ہجری میں ہی عمرہ قضاء کی روانگی کی تیاری شروع کر دی تھی اور اعلان کروا دیا تھا کہ ہم ذی القعدہ ۷ ؁ہجری میں عمرئہ قضاء کے لئے روانہ ہونگے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی تیاری کر لی۔اس سے پہلے ہم آپ کو صلح حدیبیہ کے بارے میں بتا چکے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ ۶ ؁ہجری میں عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ کی طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ سفر کیا تھا۔ لیکن مکہ مکرمہ کے مشرکین نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کر لی تھی اور اس کی ایک شرط یہ تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس سال یہیں سے ( حدیبیہ کے مقام سے) واپس چلے جائیں اور اگلے سال مکہ مکرمہ آکر عمرہ کرلیںاور تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں رہ سکتے ہیںاور اس دوران مکہ مکرمہ کے مشرکین مکہ مکرمہ خالی کر کے پہاڑوں میں چلے جائیں گے اور تین دن بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کرضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ واپس چلے جائیں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر وادیا کہ پچھلے سال جو لوگ صلح حدیبیہ میں موجو دتھے وہ سب عمرہ قضا کے لئے چلیں۔ صلح حدیبیہ میں موجود تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عمرہ قضا کے لئے روانہ ہوئے۔ صرف وہ لوگ موجود نہیں تھے جن کا اس دوران انتقال ہو گیا تھا یا جو خیبر میں شہید ہو ئے تھے۔ اہل حدیبیہ کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی عمرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ اس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد دو ہزار یا کچھ زیادہ ہو گئی ۔ خواتین اور بچے ان کے علاوہ تھے۔

سید الانبیاء ﷺ نے احرام باندھا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نائب بنایا۔ امام قسطلانی نے ابودہم لکھا ہے اور امام محمد بن سعد نے ابو رحمن لکھا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور قربانی کے لئے ساٹھ اونٹ لئے۔ قربانی کے اونٹ حضرت ناجیہ بن جندبرضی اللہ عنہ کی نگرانی میں دیئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار ، زرہیں اور جنگی سامان بھی ساتھ لیا اور بشیر بن سعد کی نگرانی میں یہ سامان دے دیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو ذو الخلیفہ پہنچنے کے بعد 100سواروں کے ساتھ آگے روانہ کیا تا کہ قریش کے مشرکین اگر کوئی شرارت کریں تو انہیں روکا جائے۔ ادھر قریش کو بھی اطلاع مل چکی تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے روانہ ہونے والے ہیں۔ انہوں نے تحقیق کے لئے اپنے آدمی بھیجے۔

قریش کی گھبراہٹ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو آگے روانہ فرما دیاتھا۔ وہ جب مر الظران پہنچے تو انہیں قریش کے تحقیق کرنے والے آدمی ملے۔ انھوں نے حضرت محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھ 100سواروں کو جنگی لباس دیکھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لگ بھگ دو ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں اور انشا اللہ کل صبح تک یہاں پہنچ جائیں گے۔ قریش کے آدمیوں نے ان کے جنگی لباس کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پر حملہ کر نے کے لئے آرہے ہیں۔ وہ لوگ نہایت تیزی سے مکہ مکرمہ پہنچے اور بتایا کہ مسلمانوں کے پاس ہتھیار اور جنگی سامان ہیں۔ تمام مشرکین قریش یہ سن کر گھبرا گئے اور کہنے لگے : ’’ ہم نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کے خلاف کوئی ایسی ویسی حرکت بھی نہیں کی ہے۔ پھر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم پر حملہ کرنے کیوں آرہے ہیں؟ ‘‘ انہوں نے فوراً مکر ز بن حفص کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہا : ’’ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بچپن سے لے کر آج تک یہی دیکھا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) وعدہ اور معاہدہ کو پوری طرح نبھاتے ہیں۔ پھر آج یہ ہتھیار کس لئے ہیں؟ جب کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم سے وعدہ فرما چکے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں صرف مسافر کے ہتھیار( یعنی میان میں رکھی ہوئی تلوار) کے ساتھ داخل ہوں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں ان پر ہتھیار لے کر داخل نہیں ہوں گا۔‘‘ مکرز نے کہا: ’’ ہمیں آ پ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ایسی ہی امید ہے۔‘‘ اس کے بعد مکر ز نے آکر قریش کو بتایا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرنے نہیں بلکہ عمرہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔

سید الانبیاء ﷺ کا عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ میں داخلہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ جو ہتھیار اور جنگی سامان لائے تھے وہ بطن ناجح میں محفوظ رکھوادیئے اور دو سوافراد کو اس کی نگرانی کے لئے چھوڑ دیا اور ان کا امیر حضرت اوس بن خولی رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر اس گھاٹی میں داخل ہوئے جو حجون کی طرف نکلتی ہے اور اس کو ثنیتہ کدا ء کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تلبیہ پڑ ھ رہے تھے۔ ادھر مکہ مکرمہ کے مشرکین مکہ مکرمہ کو خالی کر کے پہاڑوں میں جا رہے تھے۔ کیوں کہ انہیں اس بات میں اپنی بے عزتی محسوس ہو رہی تھی کہ ان کے دشمن ان کی موجودگی میں ان کے شہر میں داخل ہوں ۔ اس لئے قریش کے بڑے بڑے سردار تو پہلے ہی مکہ مکرمہ سے نکل کر پہاڑوں میں چلے گئے تھے اور باقی قریش بھی مکہ مکرمہ خالی کر رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھیرے میں چلتے ہوئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔

طواف کرنے کی کیفیت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھیرے میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری قصوا کی مہار پکڑ ے ہوئے چل رہے تھے اور بلند آوازسے کہتے جا رہے تھے: ’’ اے کافرو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ چھوڑ دو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ بہترین قتل وہ ہے جو اللہ کے لئے ہو اور ہم نے تم سے جہاد اور قتال صرف ا س لئے کیاکہ تم اللہ کا حکم نہیں مانتے ہو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں اشعار پڑھ رہے ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسے پڑھنے دو۔ یہ اشعار کافروں پر تیر وں کی بارش سے زیادہ سخت ہیں۔ ‘‘مکہ مکرمہ کے مشرکین اکثر تو پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ لیکن کچھ کافر دارالندوہ کے پاس کھڑے دیکھ رہے تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ یہ مسلمان بھلا کیا طواف کریں گے۔ ان کو تو بھوک اور مدینہ منورہ کے بخار نے کچل کر رکھ دیا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ پہلے تین چکر طواف میں رمل کریں۔ یعنی خوب اکڑ کر شانوں کو ہلا کر طواف کریں اور باقی چکر عام حالت میں کریں۔ تا کہ کافروں کے سامنے مسلمانوں کی طاقت کا مظاہرہ ہو جائے۔ یہ سنت آج تک باقی ہے او ر انشا اللہ قیامت تک باقی رہے گی اور ہر طواف کرنے والا پہلے تین پھیروں یا چکر میں رمل کرتا ہے۔

اُ م المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف مکمل کرنے کے بعد صفا اورمروہ کے درمیان سعی فرمائی اور قربانی کر کے احرام اتار کر حلال ہو گئے۔ اس کے بعد کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ بطن ناجح چلے جائیں اور جو افراد ہتھیار وں اور جنگی سامان کی نگرانی کر رہے ہیں انہیں بھیج دیں تا کہ وہ بھی عمرہ کر لیں۔ اتنا فرما کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے اور ظہر کیوقت تک اندر ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کے پاس اذان دی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں تشریف فرما رہے۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ سید ہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنے نکاح کا اختیار اپنی بہن اُم فضل رضی اللہ عنہا کو دیا تھا۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی ہیں اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ انہوں نے وہ اختیار اپنے شوہر کو دیا اور ان کے شوہر نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور مہر چار سو درہم مقررہوا۔ جب تین دن پورے ہو گئے تو قریش نے حویطب بن عبدالعزیٰ کو چند قریش کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ اس نے کہا: ’’ مکہ مکرمہ میں تمہاری اقامت کی مدت پوری ہو گئی۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مدینہ منورہ واپسی کا حکم دیا۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے روانہ روانہ ہونے لگے تو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ( غزوہ ٔ احد میں شہید ہو ئے ) کی چھوٹی بیٹی پکارتی ہوئی دوڑتی ہوئی آئی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اٹھا لیا اور ان کے بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آگے بڑھے۔ تینوں حضرات رضی اﷲ عنہم حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی کی پرورش کرنا چا ہتے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ اس لئے میرے پاس رہے گی۔ ‘‘ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ میرے چچا کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ اس لئے یہ میرے پاس رہے گی۔ ‘‘اور حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ میری دینی ( اسلامی) بھائی کی بیٹی ہے۔ اس لئے میرے پاس رہے گی۔ ‘‘تینوں نے معاملہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ خالہ کا مقام ماںکے جیسا ہے۔ اس لئے یہ بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی۔‘‘ اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔

سید الانبیاء ﷺ کا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے کے لئے جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو قریش کے مشرکین مکہ مکرمہ خالی کر کے پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ ان میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ سے فارغ ہوئے تو حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ خالد بن ولید ( رضی اللہ عنہ ) دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘ ( حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں ۔ انہوں نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہ رہے تھے) حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ( امید ہے) بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے گا۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تعجب کی بات ہے کہ خالد جیسا عقلمند اور سمجھدار اسلام جیسے پاکیزہ مذہب سے بے خبر ہے اور اب تک دور ہے۔ اگر خالد بن ولید ( رضی اللہ عنہ ) مسلمانوں کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی مدد کرتا اور اہل باطل ( مشرکوں ) سے مقابلہ کرتا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوتا اور ہم اس کو دوسروں پر مقدم رکھتے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ بے چین ہو گئے اور بے تابی سے مکہ مکرمہ میں اپنے پیارے بھائی کو تلاش کرنے لگے۔ لیکن وہ تو پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ آخر کار جب تین دن پورے ہو نے لگے تو انہوں نے اپنے بھائی کے نام ایک خط لکھا اور ایک جان پہچان والے کو دے کر کہا: ’’ جب میرا بھائی خالد بن ولید ( رضی اللہ عنہ ) واپس آئے تو اسے دیدینا۔‘‘ اور مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سوچ کا رخ بدل گیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لائے اور تین دنوں بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔ اس دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پہاڑوں میں رہے۔ لیکن دل اسلام کی طرف مائل ہو چکا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کے نور کی کرن پید ا فرما دی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ کے اندر کشمکش پید ا ہو گئی تھی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت اور بھلائی سے سرفراز فرمانے کا ارادہ فرمایا تو اس نے میرے دل میں اسلام کی تڑپ پید ا فرمادی اور صحیح رخ پر سوچنے کا انداز عطا فرمایا۔ میں جب بھی قریش کی طرف سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے جاتا تھا تو دیکھتا تھا کہ ان کی تعداد ہم سے کم ہوتی تھی۔ ان کا اسلحہ ( ہتھیار اور جنگی سامان) ہم سے کم ہوتا تھا۔ ان کی رسد ( کھانے کا سامان) اوردوسرے ضروری سامان ہم سے کم ہوتے تھے۔ ان کے افراد میں جنگی تربیت اور جنگی صلاحیت ہم سے کم ہوتی تھی۔ ان تمام کو تاہیوں اور بظاہر محرومیوں کے باوجود ہر جنگ میں ، ہر موقعہ پر وہ لوگ ہم پر حاوی ہو جاتے تھے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے اندازہ ہوتا تھا کہ ضرور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہے اور مجھے احساس ہوتا تھا کہ میں ان لوگوں کے خلاف جو جنگ اور جد و جہد کر رہا ہوں۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ‘‘

صلح حدیبیہ سے صحیح رخ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے جنگ کے دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دل میں دھیرے دھیرے کفر و شرک سے بیزاری اور اسلام سے محبت لاشعوری طور پر پیدا ہونے لگی تھی۔ لیکن ان کے سامنے کوئی واضح سوچ نہیں تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام کے بارے میں صحیح رخ صلح حدیبیہ سے ملی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم 6 ؁ ہجری میں عمرہ کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ نکلے تو مکہ مکرمہ میں ہم قریش نے مشورہ کیا کہ اس سال تو کسی قیمت پر ان کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لئے مجھے لشکر دے کر روانہ کیا گیا کہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا راستہ روکوں ۔ میں لشکر لیکر تیزی سے روانہ ہوا اور مقام عسفان پر ہمارا سامنا ہوا۔ میں لشکر لے کر قریب پہنچا اور میر احملہ کرنے کا ارادہ تھا۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ارادے کی خبر ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ صلوۃ الخوف‘‘ پڑھائی۔ ( یعنی آدھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز پڑھنے لگے اور آدھے صف لگائے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈٹے رہے۔ دو رکعت کے بعد نماز پڑھنے والے آکر ڈٹ گئے اور باقی نے جا کر دو رکعت نماز ادا فرمائی) یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کیوں کہ میں نے یہی ارادہ کیا تھا کہ نماز پڑھنے کے دوران حملہ کروںگا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عام راستے سے ہٹ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو ئے اور ہم لوگ عام راستے کی ناکہ بندی کئے رہے۔ یہاں تک کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ حدیبیہ تک پہنچ گئے۔ اس کے بعد صلح حدیبیہ ہو گئی اور مسلمانوں سے جنگ کا راستہ بند ہو گیا۔ ‘‘

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا غو رو فکر

سیدا لا نبیاء صلی علیہ وسلم نے صلح حد یبیہ میں قریش کے مشرکوں سے یہ اقرار لے لیا تھا کہ وہ مسلمانوں سے دس سال تک جنگ نہیں کریں گے اور اس کے بعد دونوں فریقین امن سے رہنے لگے۔ لیکن یہ صلح حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جنگی طبیعت کے خلاف تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’پھر جب قریش سے صلح نامہ ہو گا اور حالات پر امن اور پر سکون ہو گئے تو میں نے سوچا کہ اب کون سی شئے باقی رہ گئی ہے اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ عزت اور کامرانی سے میں اور میری قوم بہت دور ہیں۔ حبشہ کے نجاشی نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اس کے ملک میں بھی مسلمان موجود ہیں۔ مجھے ہر قل کے پاس روم چلے جانا چاہئے اور مشرکانہ مذہب چھوڑ کر مجھے نصرانی یا پھر یہودی ہو جانا چاہئے یا پھر مجھے بھی باقی قریش کی طرح اپنے گھر میںپڑا رہنا چاہئے۔ ایک او رسوچ بار بار ذہن میں آرہی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نماز پڑھنے کا منظر یاد آجاتا تھا۔ میں اسی کشمکش میں تھا اور اپنی زندگی اور اس کے مقصد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکا تھا۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے لئے آنے کی اطلاع ملی تو میں پہاڑوں میں چلا گیا۔ ‘‘

بھائی کے خط نے زندگی بد ل دی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کر کے مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں واپس آئے تو انہیں اپنے بھائی کا خط ملا ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ آنے کی خبر سن کر میں قریش کے ساتھ پہاڑوں میں روپوش ہو گیا۔ میرا بھائی ولید بن ولید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آیا۔ اس نے مجھے تلاش کیامگر میں نہیں مل سکا۔ پھر بے چارے نے میرے نام اپنا خط چھوڑ دیا۔ اس میں لکھا تھا : ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم اما بعد! میں تم سے نہیں مل سکا اور اسلام کے بارے میں لگا تا ر تمہاری بے خبری اور غفلت پر مجھے حیرت بھی ہے او ر افسوس بھی ہے کہ تم جیسا عقلمند انسان اس پاکیزہ مذہب سے دور ہے۔ اب تو اسلام عملاً نافذ ہو چکا ہے اور اسکی خیر و برکت اور دوسرے بھلے نتائج کو لوگ دیکھ رہے ہیں اور محسوس کر رہے ہیں۔ تمہارے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : ’’ خالد دکھائی نہیں دے رہا ہے ؟ ‘‘میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ اسے لے آئے گا۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تعجب کی بات ہے کہ خالد جیسا عقلمند اور سمجھدار شخص اسلام جیسے پاکیزہ مذہب سے بے خبر ہے اور اب تک دور ہے۔ اگر خالد بن ولیدمسلمانوں کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی مدد کرتااور اہل باطل (کافروں اور مشرکوں) سے مقابلہ کرتا تو یہ اسکے لئے بہتر ہوتا اور ہم اسکو دوسروں پر مقدم رکھتے۔ ‘‘تو اے میرے پیارے بھائی! تم سے جو کچھ اس تاخیر( دیر کرنے) کی وجہ سے چھوٹ گیا ہے۔ اس کی تلافی ( یعنی پورا) کرنے کی کوشش کرو۔‘‘ سیرت الحلبیہ میں ہے اس لئے میرے بھائی اب بھی موقع ہے۔ جو کچھ تم کھو چکے ہو اسے پالو۔ تم بڑے اچھے مواقع کھو چکے ہو۔ میرے خط کو غور سے پڑھ کر تم آگے کا قدم اٹھائو۔‘‘ میرے بھائی کا خط پڑھتے ہی میرے ذہن کی دھند صاف ہو گئی اور میری کشمکس ختم ہو گئی اور اسلام کی حقانیت صاف نظر آنے لگی۔‘‘

دل اسلام کی طرف راغب اور خواب کے ذریعے رہنمائی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ِ مبارک اپنے بھائی کے خط میں پڑھ کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سوچ اور زندگی بدل گئی۔ ذہن پر چھائی ہوئی دھند صاف ہو گئی اور دل اسلام کی طرف راغب ہو گیا۔ انہیں اس بات نے بہت متاثر کیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور سے میرے بارے میں دریافت فرمایا اور انہیں میری اتنی فکر ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ میں اپنے بھائی کے خط سے بہت متاثر ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میرے بارے میں جو کچھ فرمایا اس سے مجھے بہت زیادہ خوشی اور مسرت ہوئی اور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اسی دوران میں نے خواب دیکھا کہ میں قحط زدہ اور تنگ شہروں سے نکل کر ہرے بھرے سر سبز و شاداب اور بارونق شہر کی طرف جا رہا ہوں۔ یہ خواب دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ خواب ایک بشارت ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی ہے۔ بعد میں جب میں نے یہ خواب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انہوں نے فرمایا: ’’ قحط زدہ اور تنگ شہر ’’کفر ‘‘ہے اور سر سبز و شاداب شہر’’ اسلام ‘‘ہے اور تمہار نکلنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔

دوستوں کو مدینہ منورہ چلنے کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دل و دماغ میں اسلام کی شمع روشن کر دی اور خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی تو آپ رضی اللہ عنہ مدینہ ٔ منورہ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب میں نے مدینہ منورہ روانگی کا فیصلہ کیا تو یہ سوچا کہ اپنے دوستوں کو بھی مدینہ منورہ ساتھ چلنے کی دعوت دے دوں۔ اس لئے میں اپنے ایک دوست صفوان بن امیہ کے پا س گیا اور اس سے کہا: ’’ ابے ابو وہب ( یہ صفوان بن امیہ کی کنیت ہے) تم دیکھ رہے ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عرب اور عجم پر چھاتے جا رہے ہیں۔ اس لئے کیوں نہ ہم بھی ان کے پاس جا کر ان کی اطاعت قبول کر لیں۔ اس لئے کہ ان کی سر بلندی حقیقت میں خود ہماری ( قریش کی ) ہی سر بلندی ہو گی۔‘‘ صفوان نے جواب میں کہا: ’’ اگر میرے علاوہ ساری دنیا بھی ان کی اطاعت قبول کر لے گی تب بھی میں اُن ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت قبول نہیں کروں گا۔‘‘ میں نے اس کا جواب سن کر سوچا۔ جنگ بدرمیں اس شخص کا باپ اور بھائی قتل ہو چکے ہیں۔ اسی لئے یہ ایسا کہہ رہا ہے۔‘‘ ( صفوان بن امیہ نے فتح مکہ میں اسلام قبول کر لیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مالِ غنیمت میں سے اتنا زیادہ عطا فرمایا کہ وہ خوش ہو گیا) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں؛ ’’ اس کے بعد میں اپنے سب سے گہرے دوست عکرمہ بن ابو جہل کے پاس گیا اور اس سے بھی یہی بات کہی۔ جو میں نے صفوان بن امیہ سے کہی تھی ۔ اس نے بھی وہی بات کہی جو صفوان نے کہی تھی۔ ان دونوں سے میں نے کہا تھا کہ وہ میری بات کو راز میں رکھیں اور ان دونوں نے وعدہ کیا کہ کسی سے ذکر نہیں کریں گے۔ ( عکرمہ بن ابو جہل نے بھی فتح مکہ میں اسلام قبول کیا اس کے بعد ہر جنگی معرکے میں شامل رہے۔ خلیفہ ٔ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے)

ایک دوست ساتھ چلنے کو تیار ہوئے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے دوستوں کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دو دوستوں نے انکار کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہ کشمکش کا شکار ہو گئے کہ باقی دوستوں کو کہوں یا نہ کہوں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ دو دوستوں کے انکار کے بعد میں نے سوچا کہ اپنے ایک اور دوست عثمان بن طلحہ سے کہوں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ اس کا باپ اور چچا اور چار بھائی جنگ احد میں قتل ہو ئے تھے۔ اس لئے کہیں وہ بھی انکار نہ کر دے۔ پھر میں نے سوچا وہ میر اد وست ہے اور کہنے میں کیا حرج ہے؟ اس لئے میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہاجو میں نے اپنے دونوں دوستوں سے کی تھی۔ عثمان نے میری بات قبول کر لی اور تیار ہو گیا اور ہم نے طے کیا کہ اکیلے اکیلے روانہ ہوں گے اور ایک مخصوص جگہ طے کر لی کہ جو بھی وہاں پہلے پہنچ جائے گا وہ دوسرے کا انتظار کر ے گا۔ پھر جب دوسرا آجائے گا تو دونوں ایک ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوں گے۔ ‘‘

حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ہو گئے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضری کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں؛ ’’ اگلے دن صبح ہونے سے پہلے ہی ہم دونوں طے شدہ مقام پر آکر ملے اور مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب ہم مقام ’’ ھدہ ‘‘ پر پہنچے تو وہاں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ ملے۔ ہم دونوں کو دیکھ کر انہوں نے مرحبا ( خوش آمدید) کہا اور ہم دونوں نے بھی مرحبا کہا۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا: ’’ آپ دونوں حضرات کہا ں جا رہے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ ہم اسلام قبول کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’ میں بھی اسلام قبول کرنے جا رہا ہوں۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے پوچھا! اے ابو سلیمان !( یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘‘حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ’’ اللہ کی قسم میرے سامنے تو ( حق کا ) راستہ ظاہر ہو گیا ہے اور اسلام کا معاملہ صاف ہو گیا ہے۔ وہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم )یقینا اللہ کے نبی ہیں۔ اس لئے چلو اور مسلمان ہو جائو۔ آخر کب تک (ہم حق سے بھاگتے رہیں گے اور اسلام کو چھو ڑکر کفر و شرک کے اندھیرے میں بھٹکتے رہیں گے) ‘‘یہ سن کر میں نے کہا: ’’ میں تو خود بھی اسی ارادے سے نکلا ہوں ۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی خوشی اور مسرت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کے لئے یہ تینوں حضرات رضی اللہ عنہم مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ تینوں حضرات قریش کے بہت بہادر جوا ن تھے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ قریش کی بہت بڑی طاقت تھے۔ اللہ تعالیٰ آج اس طاقت کو مدینہ منورہ کی طرف اس لئے رواں دواں کئے ہوئے تھا کہ یہ طاقت اسلام کو مستحکم کرنے میں بڑی مدد گار ہوگی اور آگے کے حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ ان تینوں حضرات رضی اللہ عنہم نے اسلام کے استحکام میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اس طرح ہم تینوں کا ساتھ ہو گیا اور ہم تینوں سفر کرتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور مقامِ’’ حرہ ‘‘میں اپنی سواریاں بٹھا کر خیمے لگا دیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے ہماری آمد کی اطلاع دے دی۔ یہ خبر سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہوئے اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ مکہ مکرمہ نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہارے سامنے ڈال دیئے ہیں۔ ‘‘اس کے بعد میں نے اور میرے ساتھیوں نے غسل کر کے بہترین کپڑے پہنے ۔ اسی دوران میرا بھائی ولید بن ولید رضی اللہ عنہ خوش خوش ہمارے پاس آیا اور بولا : ’’ جلدی کرو!کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم لوگوں کے آنے کی اطلاع مل گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہیں اور تمہاری آمد پر مسرت کا اظہار کیا ہے اور تم لوگوں کا انتظار فرما رہے ہیں۔ ‘‘

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام کی آغوش میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی اور اظہار مسرت اور انتظار کے بارے میںسن کر ان تینوں حضرات رضی اللہ عنہم کی عجیب حالت ہو گئی۔ ان کے اندر ایک ساتھ خوشی ، فخر اور شرمندگی کے احساسات پید ا ہو گئے اور وہ جلدی سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خد مت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہو گئے ۔ جیسے جیسے یہ حضرات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچتے جا رہے تھے ویسے ویسے ان کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ ( ان احساسات کا اظہار بعد میں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے کیاتھا) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اب ہم تیزی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوئے۔ جب میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے منور ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دور سے آتا دیکھ کر مسکرارہے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا؛ ’’ السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکراتے رہے اور پھر فرمایا ؛ ’’وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمام تعریفیں صرف اسی اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہیں ( اسلام قبول کرنے کی ) ہدایت فرمائی۔ میں جانتا تھا کہ تم ایک عقل مند آدمی ہو۔ اسی لئے میری آرزو تھی اور مجھے امید تھی کہ تم خیر(بھلائی) کی طرف ضرور آئو گے۔‘‘ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا؛ ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ میری ان غلطیوں کو معاف فرما دے جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر آکر کی تھیں۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسلام ( قبول کرنا پچھلی) تمام غلطیوں اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ میں نے پھر یہی درخواست کی؛ ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرمائیں۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! تُو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ان تمام غلطیوں اور خطائوں کو معاف فرما دے جو خالد نے تیری راہ کو روکنے کے لئے کی تھی۔ ‘‘

حضرت عثمان بن طلحہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم بھی اسلام کی آغوش میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسلام قبول کر لیا۔ ( حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی روایت پوری ہوئی) ایک اور روایت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ہم مدینہ منورہ پہنچے اور’’ حرہ ‘‘کے مقام پر ہم تینوں نے قیام کیا اور یہاں ہم نے غسل کر کے بہترین لباس پہنے اسی وقت عصر کی اذان ہو گئی۔ ہم لوگ وہاں سے روانہ ہو کر ( مسجد نبوی میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے جگمگا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور وہ سب بھی خوشی سے سرشار تھے۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے اسلام قبول کیا۔ پھر میں آگے بڑھا۔ اللہ کی قسم ! میرا شرمندگی کے مارے برا حال تھا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف میری نگاہیں نہیں اٹھ پا رہی تھیں۔‘‘ پھر میں نے بھی اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اس شرط پر بیعت کی کہ اللہ تعالیٰ میرے تمام پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسلام پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت بھی تمام گذشتہ غلطیوں کو دھو ڈالتی ہے۔‘‘ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اللہ کی قسم ! جب سے میں نے اور خالد نے اسلام قبول کیا۔ تب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مقدم رکھا اور خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی مقدم رکھا۔ پھر خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور میں نے ملک مصر فتح کیا۔ ‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

27 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


27 سیرت سید الانبیاء ﷺ

جنگ موتہ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


جنگ موتہ کا سبب، رومیوں کا لاکھوں کا لشکر، حضرت خالد بن ولید کی نئی جنگی چال، اللہ کی تلوار نے نو تلواریں توڑیں، جنگ موتہ کے عالمی اثرات، سوپر پاور سلطنت روم کی ہزیمت


سریہ یا غزوہ ٔ موتہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ 7 ؁ہجری میں عمرہ قضا ادا کیا اور تین دن مکہ مکرمہ میں رہ کر واپس مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ اس کے بعد ذی الحجہ 7 ؁ہجری کا مہینہ او رجمادی الاخر 8 ؁ہجری تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی اور خطوط لے کر اپنے قاصدوں کو مختلف بادشاہوں کے پاس بھیجا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کچھ سرایا پر بھی بھیجا۔ جس میں وہ کامیابی حاصل کر کے آئے۔ جمادی الاخر 8 ؁ہجر ی میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں موتہ کی طرف سریہ بھیجا۔ اس دوران میں حضرت خالد بن ولید ، حضرت عثمان بن طلحہ اور حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہم اسلام قبول کر چکے تھے۔ اس جنگ کو سریہ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس جنگ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکت نہیں کی اور صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی گئے تھے۔ اس جنگ کو غزوہ بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں بیٹھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ کا آنکھوں دیکھا حال سنا رہے تھے۔ گو یا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آنکھوں سے جنگ کو دیکھ رہے ہوں۔

سریہ یا غزوہ ٔ موتہ کا سبب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنا قاصد بنا کر اپنے خطوط دے کر بادشاہوں کے پا س بھیجاتھا اور ان میں سے ایک قاصد کا قتل اِس جنگ کا سبب بنا ۔’’موتہ ‘‘کامقام آج کے’’ اُردن ‘‘میں ’’بلقاء ‘‘ کے قریب واقع ہے۔یہ مقام ’’بیت المقدس ‘‘ سے دو دن کی مسافت ( اس زمانے کے سفر کے حساب سے) پر واقع ہے۔ اس وقت یہ جگہ ( موتہ) ’’دمشق ‘‘کے قریب بلقا شہر کی عملداری میں آتا تھا۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت اُردن اور فلسطین ایک الگ ملک کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ بلکہ ملک شام کا ہی ایک حصہ تھے اور ملک شام کے علاقے کہلاتے تھے۔ بعد میں یہودیوں اور عیسائیوں نے انہیں شام سے الگ کر کے علحیدہ ملک کی حیثیت دے دی) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن عمری ازدی رضی اللہ عنہ کو اپنا قاصد بنا کر بصری کے حاکم کے پاس بھیجا۔ راستے میں آپ رضی اللہ عنہ نے ’’ موتہ ‘‘ کے مقام پر قیام کیا۔ وہاں کے گورنر( سلطنت روم کا حاکم قیصر ہر علاقے میں اپنے گورنر مقرر کر دیتا تھا) شرجیل بن عمرو غسانی کوجب معلوم ہو اکہ حضرت حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد یا سفیر ہیں تو اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ قاصد یا سفیر کا قتل ہر زمانے میں ایک بہت بڑا بد ترین جرم مانا جاتا ہے۔ ایک طرح سے یہ’’ اعلان جنگ ‘‘ہوتا ہے۔ اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حضرت حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ پر حملہ کی تیاری شروع کر دی۔ ‘‘

اسلامی لشکرکی موتہ روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سریہ موتہ کے لئے اعلان کر وا دیا۔ لگ بھگ تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر تیار ہوا۔ اب تک کا یہ سب سے بڑا لشکر تھاجو مدینہ منورہ سے باہر روانہ ہو رہا تھا۔ اس لشکر میں حضر ت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی ایک عام سپاہی کی حیثیت سے شامل تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سپہ سالار بنایا اور فرمایا: ’’ اگر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا لینا اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا نا اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو تم لوگ ( یعنی لشکر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) اپنے میں سے کسی ایک شخص پر راضی ہو جانا اور اسے اپنا سپہ سالار بنا لینا۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے لئے سفید جھنڈا بنایا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا اور وصیت کی کہ موتہ کے مقام پر جہاں حضرت حارثہ بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے ہیں وہاں جا کر ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا اگر وہ اسلام کی دعوت قبول کر لیں تو ٹھیک ہے ( اور ان سے مت لڑنا) لیکن اگر وہ جنگ کرنے کے لئے تیار ہو گئے تو صبر سے ان کا مقابلہ کرنا اور اللہ سے مدد مانگنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے ساتھ چل کر ثنیتہ الوداع کی پہاڑیوں تک آئے اور وہاں سے اسلامی لشکر کو رخصت کیا۔

رومیوں کا دو لاکھ کا لشکر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تین ہزار صحابہ کرام کا لشکر موتہ کی طر ف روانہ فرمایا۔ موتہ اس وقت ملک شام میں آتا تھا اور ملک شام پر ’’سلطنت روم ‘‘ کی حکومت تھی۔ اس وقت پوری دنیا میں ( امریکہ اس وقت دریافت نہیں ہوا تھا) دو سوپر پاور تھیں۔ ایک ’’سلطنت روم ‘‘ اور دوسری ’’سلطنت فارس ‘‘تھی۔ سلطنت فارس ایران اور آس پاس کے علاقوں پر تھی اور سلطنت روم شام ، مصر ، ترکی، اسپین اور پورے یورپ میں تھی۔ شرجیل بن عمرو غسانی بھی برابر معلومات لیتا رہتا تھا۔ اس نے قیصر روم سے مدد طلب کی تو اس نے ایک لاکھ کا لشکر اس کی مدد کے لئے بھیج دیا۔ اسلامی لشکر شام کے ایک مقام معان میں پہنچا تو وہیں پڑائو ڈال دیا اور شرجیل بن عمرو غسانی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے جاسوس روانہ کئے۔ وہ واپس آئے تو خبر دی کہ رومیوں کا دو لاکھ سے زیادہ کا لشکر بلقا کے مقام پر خیمہ زن یعنی پڑائو ڈالے ہوئے ہے۔حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر کے ساتھ وہاں دو راتیں گزاری اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ کیاتو اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ رائے ہوئی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام حالات کی اطلاع بھیجیں اور پھر جیسا حکم آئے اس پر عمل کریں۔ ‘‘

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا جوش

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرنے کے بارے میں مشورہ ہو رہا تھا کہ اچانک حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ’’ اے لوگو!, اللہ کی قسم !اب آپ لوگ اُس مقصد سے دامن بچا رہے ہو جس کے لئے اپنے وطن سے نکلے ہو اور وہ ہے اللہ کے لئے شہید ہونا۔ آپ لوگ شہادت کی تلاش میں نکلے ہو۔ اپنے دشمنوں کے خلاف ہم نہ تو تعداد کے بل پر لڑتے ہیں اور نہ ہی قوت او رکثرت کے بل پر جنگ کر تے ہیں۔ ہم صرف اس دین اسلام کے بل پر لڑتے ہیں اور اس کی اشاعت کے لئے لڑتے ہیں۔ جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بزرگی سے سرفراز فرمایا ہے اور شہادت ہماری آرزو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہمارا انتطار کر رہی ہے۔ یا تو ہم شہید ہو کر جنت میں جائیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ ہمیںفتح سے سرفراز فرمائے گا۔ پس’’ بسم اللہ‘‘ کر کے آگے قدم بڑھائو اور دو میں سے ایک کامیابی ضرور تمہیں حاصل ہوگی۔ ‘‘تمام لشکر نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تقریر سن کر کہا: ’’ اے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ! بے شک تم سچ کہہ رہے ہو۔‘‘ اس کے بعد اسلامی لشکر آگے روانہ ہوا اور رومیوں کے لشکر کے سامنے پڑائو ڈال دیا اور موتہ کے مقام پر دونوں لشکر وں نے صف بندی کر لی۔ ‘‘

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سلطنت روم سے مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا۔ موتہ کے گورنر شرجیل بن عمرو غسانی نے ایک لاکھ کا لشکر پہلے سے ہی جمع کر لیا تھااور قیصر روم ہر قل کو بھی مدد کے لئے فوج بھیجنے کی درخواست کی تو ہرقل خود ایک لاکھ کی فوج لے کر آگیا۔ اس طرح رومیوں کا لشکر دو لاکھ ہو گیا ۔ اس کے علاوہ قبائل لخم، جذام، بہراء، قین اور بلی کے لوگ بھی رومیوں کے لشکر سے آکر مل گئے۔ ان کی تعداد پچاس ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اس طرح ڈھائی لاکھ کا لشکر ہو گیا۔ موتہ کے مقام پر دونوں لشکر آمنے سامنے صف آرا ہوئے۔ ایک طرف صرف تین ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور دوسری طرف ڈھائی لاکھ انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے میمنہ پر حضرت قطبہ بن وذرہ رضی اللہ عنہ کو کمانڈر بنایا۔ ( میمنہ یعنی لشکر کا دایاں حصہ) اورمیسرہ ( لشکر کا بایاں حصہ ) پر حضرت عبا بر بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کو کمانڈر بنایا اور لشکر کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں رکھا۔ جنگ شروع ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے جوش و خروش سے حملہ کیااور مسلسل حملے کرتے رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو لگاتار تیر لگ رہے تھے۔ پھر بھی مقابلہ کرتے جا رہے تھے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو شہادت کے مرتبہ پر فائز فرمایا۔

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت

اسلامی لشکر اور رومیوں کے لشکر میں گھمسان کی جنگ ہو رہی تھی ۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھا لیااور رومیوں پر زبردست حملہ کیا اور رومیوں کو مسلسل قتل کر رہے تھے۔ رومی بھی آپ رضی اللہ عنہ پر مسلسل وار کر رہے تھے اور ساتھ ہی آپ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر بھی وار کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا گھوڑا زخموں کی وجہ سے لڑکھڑانے لگا توآپ رضی اللہ عنہ گھوڑے سے اتر پڑے اور اسے ذبح کر دیا۔ ( یہ ایک طرح سے گھوڑے کو تکلیف سے نجات بھی تھا اور یہ اشارہ بھی تھا کہ اب فتح یا شہادت کے لئے لڑوں گا) اور پیدل ہی رومیوں پر حملہ کر دیا۔ رومی بھی مسلسل وار کر رہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دائیں بازو کو کاٹ دیا جس میں جھنڈا پکڑا ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بائیں ہاتھ میں جھنڈا سنبھال لیا۔ لیکن رومیوں نے بایاں بازو بھی کاٹ دیا۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو 90سے زیادہ زخم لگے تھے اور سب کے سب سینے پر آگے تھے۔

حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بہادر ، دلیر اور شیر دل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہو چکے تھے اور گھمسان کی جنگ چل رہی تھی۔ اب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھا لیا اور آگے بڑھنے لگے کہ ان کے چچا زاد بھائی نے ایک گوشت کی بوٹی دی کہ بھائی اسے کھا لو تم کئی دنوں سے فاقے سے ہو۔ انہوں نے گوشت لے کر تھوڑا کھایا پھر پھینک کریا واپس دے کر کہا: ’’ اے ( عبدللہ بن رواحہ کے ) نفس !لوگ جہاد کر رہے ہیں اور تو دنیا میں مشغول ہے۔‘‘ اور جھنڈا لے کر آگے بڑھے اور رومیوں پر اتنی شدت سے حملہ کیا کہ رومیوں کو کاٹتے ہوئے مسلسل آگے تک چلے گئے اور رومیوں میں گھر گئے۔ اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ مسلسل حملہ کر کے دشمنوں کو قتل کر تے رہے۔ آخر کار اللہ کے لئے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔

حضر ت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے سپہ سالار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو روانہ کرتے وقت فرمایا تھا کہ اگر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو جائیں تو تمام مسلمان مل کر اپنے میں سے کسی ایک کو سپہ سالار بنا لیں۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جھنڈا نیچے گر گیا تو حضرت ثابت بن اقرم انصاری رضی اللہ عنہ نے تیزی سے آگے بڑھ کر جھنڈا اٹھا لیا اور بلند آواز سے پکارا: ’’ مسلمانو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ تینوں سپہ سالار شہید ہو چکے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق جلد سے جلد اپنا سپہ سالار مقر ر کر لو۔‘‘ مسلمانوں نے کہا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ ہی ہمارے سپہ سالار ہیں۔‘‘ حضرت ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں اپنے آپ کو اس لائقنہیں سمجھتا اور میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار ( اپنی جگہ) مقرر کرتا ہوں۔‘‘ اور جھنڈا ان کو دینے لگے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ آپ رضی اﷲ عنہ سپہ سالاری کے لائق ہیں اور میرے مقابلے میں آپ رضی اللہ عنہ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں۔ ‘‘حضرت ثابت بن اقرم رضی اللہ عنہ نے زبردستی انہیں جھنڈا تھماتے ہوئے فرمایا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ جنگ کے اصول اور فن میں مجھ سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔ اس لئے سپہ سالاری کے آپ رضی اللہ عنہ ہی لائق ہیں۔‘‘ تمام مسلمانوں نے بھی اصرار کیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا دیا۔

جھنڈا’’ اللہ کی تلوار ‘‘نے سنبھال لیا۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق موتہ میں مسلمانوں نے اپنے میں سے ایک شخص ( حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ) کو سپہ سالار بنا لیا۔ ادھر موتہ میں گھمسان کی جنگ چل رہی تھی اور ادھر مدینہ منورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے سب پردے ہٹا دیے اور میدان جنگ کو سامنے کر دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ کا آنکھوں دیکھا حال بیان فرما رہے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ ، حضرت جعفر بن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آنے سے پہلے ہی ہمیں ان کے شہید ہو نے کے متعلق بتا دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جھنڈا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے سنبھالا ہوا ہے لیکن وہ شہید ہو گئے۔ اب جھنڈا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سنبھالا تو وہ بھی شہید ہو گئے۔ پھر جھنڈا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے سنبھال لیا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔‘‘ یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے : ’’یہاں تک کہ’’ اللہ کی تلواروں ‘‘میں سے ’’ایک تلوار ‘‘نے جھنڈا سنبھال لیا ہے اور اس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ نے فتح مرحمت فرما دی۔ ‘‘

’’سیف اللہ‘‘ کا لقب

سید الابنیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ موتہ کا حال بیان فرما رہے تھے ۔ صحیح بخاری کی حدیث مختصر ہے۔ سیرت کی کتابوں میں دوسری روایت میں تفصیل بیان ہوئی ہے۔ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موتہ کی طرف اسلامی لشکر روانہ فرمایا۔ لشکر کو گئے ایک عرصہ ہو گیا اس کے بعد ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے اور اذان کا حکم دیا۔ جب سب صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ’’لوگو! خیر کا دروازہ ! خیر کا دروازہ !خیر کا دروازہ کھل گیا ہے۔ میں تمہیں تمہارے لشکر کے متعلق بتاتا ہوں۔ ان نمازیوں کے متعلق ۔ وہ لوگ یہاں سے رخصت ہو کر چلے یہاں تک کہ دشمن سے ان کا ٹکرائو ہوا اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بہادری سے لڑے اور شہید ہو گئے۔ ان کے لئے مغفرت کی دعا مانگو۔ پھر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جھنڈا لے لیا اور دشمن پر زبردست حملہ کر دیا۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ ان کے لئے بھی مغفرت کی دعا کرو۔ اب حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھالیا ہے اور نہایت ثابت قدمی سے لڑے۔ یہاں تک کہ وہ بھی شہید ہو گئے۔ ان کے لئے بھی مغفرت کی دعا کرو۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا اٹھا لیاہے۔ وہ لشکر کے امیر نہیں تھے بلکہ خود اپنی ذات کے امیر تھے۔ مگر وہ’’ اللہ کی تلواروں ‘‘میں سے’’ ایک تلوار‘‘ ( سیف اللہ) ہیں۔‘‘ ایک روایت میں یوں ہے کہ پھر جھنڈا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اٹھا لیا ہے۔ جو اللہ کے بہترین بندے ہیں۔ اپنے خاندانی بھائی ہیں اور’’ اللہ کی تلواروں ‘‘میں سے’’ ایک تلوار ‘‘( سیف اللہ ) ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں اور منافقوں پر سونت( تان) دیا ہے۔ انہوں نے امیر بنے بغیر جھنڈا سنبھالا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دشمن پر فتح عطا فرمائی۔‘‘ ایک اور روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کرتے ہوئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا؛ ’’ اے اللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تُو ا س کی مدد فرما۔‘‘ اسی دن سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا لقب ’’سیف اللہ ‘‘پڑ گیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انہیں’’ سیف اللہ‘‘ کہنے لگے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا زبردست حملہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں جنگ موتہ کا حال بیان فرما رہے تھے اور موتہ میں گھمسان کی جنگ چل رہی تھی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے سپہ سالار بنتے ہی سب پہلا کام یہ کیا کہ اسلامی لشکر کے لگ بھگ تین سو سواروں کو حکم دے دیا کہ وہ اسلامی لشکر کے پیچھے اپنے گھوڑے ادھر ادھر تیزی سے دوڑایں اور باقی تمام اسلامی لشکر کوحکم دیا کہ جیسے ہی میں آگے بڑھوں اسی وقت تم سب بھی میرے ساتھ آگے بڑھ کر بہت تیزی سے حملہ کردینا۔ کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ کونسی حکمت عملی ہے؟ بہر حال اسلامی لشکر کے پیچھے تین سو سواروں نے جب تیزی سے گھوڑے دوڑائے تو گردوغبار کا بادل اٹھا جس نے اسلامی لشکر کو ڈھانپ لیا۔ ادھر رومی لشکر کے لوگ حیرانی سے اسلامی لشکر کے پیچھے گرد و غبار کا بادل دیکھ رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ پیچھے سے اسلامی لشکر کی مدد کرنے کیلئے ایک بہت بڑا لشکر آگیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا اسلامی لشکر گردغبار کے بادل میں چھپ گیا۔ ایسے وقت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے زوردار نعرئہ تکبیر بلند کیا اور اپنے گھوڑے کو تیزی سے ایڑھ لگائی ۔ گھوڑا تیزی سے رومیوں کے لشکر کی طرف بڑھا اور ساتھ میں اسلامی لشکر بھی زور دار آواز میں نعرئہ تکبیر بلند کرتے ہوئے آگے بڑھا۔ رومی لشکر کے سپاہی حیرانی سے گردو غبار کے بادل کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک گردوغبار کا بادل پھٹا اور اس میں سے اسلامی لشکر نے نکل کر شدید تیزی سے حملہ کردیا۔ اس اچانک حملے سے رومیوں میں بہت زیادہ گھبراہٹ پھیل گئی اور وہ سمجھے کے ایک بہت بڑے اسلامی لشکر نے حملہ کردیا ہے اور ان کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اسی افراتفری کا فائدہ اٹھا کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ مسلسل حملہ کرتے اور رومیوں کو قتل کرتے ہوئے آگے بڑھے اور رومیوں کی گھبراہٹ کا فائدہ اٹھا کر بے شمار رومیوں کو قتل کردیا۔ اس سے پہلے کہ رومی سنبھلتے وہ اسلامی لشکر کو لیکر واپس گردغبارکے بادل میں جا چکے تھے۔ اسی دوران وہ تین سو سوار مسلسل گھوڑے دوڑا رہے تھے اور گرد غبار اڑا رہے تھے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے پہلے حملے میں رومیوں کے لشکر کے ایک حصہ پر حملہ کیا تھا۔ اسکے بعد گرد غبار میں چلتے ہوئے اسلامی لشکر کے ساتھ رومیوں کے لشکر کے دوسرے حصے کے سامنے اچانک گردوغبار سے نمودار ہوئے اور شدید حملہ کردیا۔ اس سے پہلے کہ اس حصہ کے رومی سنبھلتے آپ رضی اللہ عنہ نے بے شمار رومیوں کو قتل کر کے واپس گرد و غبار میں اسلامی لشکر کے ساتھ چلے گئے۔ اسطرح شام تک رومی لشکر پر مسلسل حملہ کرتے رہے۔ جب شام ہوئی دونوں لشکر اپنے اپنے پڑائو میں واپس چلے گئے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تین ہزار جانبازوں رضی اللہ عنہم کو رومیوں سے مقابلہ کے لئے موتہ بھیجا۔ سامنے دولاکھ سے زیادہ کا لشکر تھا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بہت چالاکی سے نفسیاتی جنگ لڑی۔ پورا دن نکل گیا اور رومی لشکر ان کی چالاکی کو نہیں سمجھ سکا اور دفاعی پوزیشن پر آگیا۔ دوسرے دن صبح جنگ شروع ہونے سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلامی لشکر کو صف آرا کیاتو ایک اورنفسیاتی چال چلی اور لشکر کے دائیں حصے کو بائیں جانب اور بائیں حصے کو دائیں جانب متعین کردیا اور پورے لشکر کی ترتیب بدل دی۔ جب رومیوں سے سامنا ہوا تو انھیںہر طرف نئے چہرے نظر آئے ۔ جسکی وجہ سے انھیں یقین ہوگیا کہ مسلمانوں کی مدد کیلئے کمک پہونچ گئی ہے۔ یعنی اور دوسرا نیا لشکر بھی آگیا ہے۔ اس سے ان پر اتنا رعب اور خوف طاری ہوا کہ وہ پھر کہ وہ آخر تک حملے کی پوزیشن میں نہیں آسکے اور صرف اپنی دفاع کرنے کی فکر میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ انھیں شکست ہوئی۔ امام محمد بن سعد لکھتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جھنڈا سنبھالا تو انھوں نے دشمن پر ایک زبردست حملہ کیا۔ جسکے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے دشمن کو بد ترین شکست دی۔ (اور جنگ کا پانسہ اسطرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہاتھ میں آگیا کہ) مسلمان جسکو اور جسطرح چاہتے تھے اپنی تلواروں سے قتل کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔

نو تلواریں ٹوٹیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ’’سیف اللہ ‘‘ یعنی ’’اللہ کی تلوار ‘‘کے لقب سے نوازااور اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو اس لقب کے لائق ثابت کرنے کی بھر پور کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی بھی عطا فرمائی۔ جنگ موتہ آپ رضی اللہ عنہ کی اسلام کی طرف سے کافروں کے خلاف پہلی جنگ تھی اور اس جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ مسلسل حملے کرتے رہے اور رومیوں کو قتل کرتے رہے۔ گردن کاٹتے کاٹتے تلوار کی دھار ٹوٹ جاتی تھی تو دشمنوں سے ہی ان کی تلوار چھین کر اس سے کاٹنا شروع کر دیتے تھے۔ اس طرح یہ جنگ لگ بھگ سات دنوں تک چلی اور اس دوران آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں نو ( 9) تلواریں ٹوٹی تھیں۔ صحیح بخاری میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ موتہ میں میرے ہاتھ سے نو تلواریں ٹوٹی تھیں اور میرے ہاتھ میں ایک بڑی سی یمنی تلوار ہی صحیح و سالم رہ سکی تھی۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ صرف ایک بڑی سی یمنی تلوار ہی میرے ہاتھ میں باقی رہ سکی تھی۔

موتہ میں فتح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار جانبازوںرضی اللہ عنہم نے رومیوں کے لشکر جرار کا زبردست مقابلہ کیا او ر دو لاکھ سے زیادہ رومیوں کا لشکر مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکا تھا۔ اس جنگ میں صرف 12مسلمان شہید ہوئے تھے اور بے شمار لا تعداد رومی قتل ہوئے تھے۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ جنگ میں کسی کو فتح ہوئی اور نہ ہی کسی کو شکست ہوئی۔ اس بارے میں علامہ علی بن برہان الدین حلبی لکھتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ اس جنگ میں مسلمانوں کو کامیابی ملی۔ اس کو فتح اور کامیابی کہنا ایک واضح بات ہے۔ کیوں کہ دشمنوں کی تعداد اتنی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو تقریباً گھیر لیا تھا۔ رومیوں کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ تھی۔ جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف تین ہزار تھے۔ ( اسی لئے ظاہر ہے ایسے مقابلہ میں دشمن کو روک دینا اور اس کی پیش قدمی بندکر دینا اور اسے دفاع کرنے پر مجبور کردینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے) قاعدے کے مطابق اور عادت کے لحاظ سے تو ایک بھی مسلمان بچنا نہیں چاہیے تھا جب کہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( اور ان کے لشکر ) نے بے شمار رومیوں کو قتل کیا تھا اور زبردست مقدارمیں مالِ غنیمت حاصل کیا۔

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو’’ طیار‘‘ کا لقب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس خود جنگ موتہ سے واپس آنے والے لشکر کے استقبال کیلئے مدینہ منورہ سے باہر آئے اور واپس آنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ملاقات فرمائی۔ مدینہ منورہ میں داخلے کے وقت بچوں نے گیت گا کر انہیں خوش آمدید کہا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار لوگوںکے ساتھ تشریف لا رہے تھے۔ بچوں کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ان بچوں کو اٹھا کر سواریوں پر بٹھا لو اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بیٹے کو مجھے دے دو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آگے سواری پر بٹھا لیا۔ خود حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ خوش ہو جائو! تمہارے والد فرشتوں کے ساتھ اڑتے پھرتے ہیں۔‘‘ ایک روایت میں یوں ہے کہ’’ جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام کے ساتھ اڑتے پھررہے ہیں۔ ان کے دو پنکھ ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے دونوں بازوئوں کے بدلے میں عطا فرمائے ہیں۔‘‘ عربی میں اڑنے کو اور پرندوں کو’’ طیر‘‘ کہا جاتا ہے اور اڑنے والی چیز کو’’ طیارہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان روایات کی وجہ سے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ’’جعفر طیار ‘‘کہا جانے لگاکہ وہ فرشتوں کے ساتھ جنت میں اڑتے پھرتے ہیں۔

جنگ موتہ کے عالمی اثرات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت’’ اعلانِ نبوت ‘‘فرمایا ۔ اس وقت پوری دنیا میں دو سوپر پاور تھیں۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت تک امریکہ دریافت نہیں ہوا تھا) ایک تو سلطنت روم یا تھی جو یورپ سے لیکر شام اور مصر تک تھی اور دوسری سوپر پاور سلطنت فارس تھی جو حالیہ ایران ، عراق اور اسکے آس پاس کے علاقوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم سے ٹکرانے کیلئے اپنے تین ہزار جانبازوں کو بھیجا تو مقابلہ لگ بھگ سوکے مقابلے میں ایک 100=1کا تھا ۔ کیونکہ تین ہزار کے مقابلے میں لگ بھگ ڈھائی لاکھ سے زیادہ رومی تھے اور یہ تمام دنیا کی تاریخ کا حیرت ناک واقعہ ہے کہ تین ہزار کے معمولی لشکر نے ڈٹ کر سات دنوں تک ڈھائی لاکھ کے رومی لشکر کا زبردست مقابلہ کیا اور اسکے صرف 12جانباز شہید ہوئے اور یہ سلطنت روم کے لئے انتہائی شرم ناک بات ہے کہ بیشمار سپاہیوں کو قتل کروانے اور اتنی تعداد ہونے کے باوجود وہ لوگ تمام مسلمانوں کو شہید نہیں کر سکے۔ بلکہ رومی لشکر صرف اپنی دفاع کرتا رہ گیا اور پیچھے ہٹ گیا۔ اس جنگ نے مسلمانوں کی شہرت اور ساکھ میں بہت زبر دست اضافہ کیا۔ اسکی وجہ سے تمام عرب نے اپنے دانتوں میں انگلیاں دبالیں اور حیرت اور رعب کا شکار ہوگئے۔ کیونکہ رومی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھے اور عرب سمجھتے تھے کہ رومیوں سے ٹکرانا خود کشی کرنے کے برابر ہے۔ اسکے بعد تمام عرب قبائل کو یقین ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اللہ کی مد د ہر وقت مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے عرب قبائل نے اس جنگ کے بعد اسلام قبول کر لیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

 

28 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


28 سیرت سید الانبیاء ﷺ

فتح مکہ ۔ قسط 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


سریہ سیف الجریا سریہ خبط، بنو خزاعہ اور بنوبکر کی دشمنی، قریش اور بنو بکر نے معاہدہ توڑ دیا، بنو خزاعہ مدد مانگنے مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے، یہ پاک بستر کافر کے لئے نہیں ہے، تمہارے بھتیجے کی سلطنت زبردست ہو گئی ہے


سریہ ذات السلاسل

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جمادی الثانی یا جمادی الآخر 8 ؁ ھجری میں حضرت عمرو بن عاص کی سپہ سالاری میں تین سو مجاہدین کا لشکر قبیلہ بنو قضاعہ اور قبیلہ بنو بلی کی طرف بھیجا۔ جنگ موتہ جمادی الاول 8 ؁ہجری میں ہوئی اور ا سکے ایک مہینے بعد ہی سریہ ذات السلاسل ہوا۔ اس سریہ کا سبب یہ ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ شام کی سرحد پر بنو بلی اور بنو قضاعہ کے علاقے میں ایک لشکر جمع ہو رہا ہے اور اس کا ارادہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنیکا ہے۔ ان دونوں قبائل میں سے بنو بلی قبیلہ کی خاتون حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی دادی ہیں۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سپہ سالار بنایا اور حکم دیا کہ اپنی دادی کے قبیلے والوں کو سمجھانے کی کوشش کرنا اور نہ مانیں تو جنگ کرنا۔ اس سریہ کا نام ذات السلاسل اس لئے پڑ ا کہ جہاں یہ جنگ ہوئی اس جگہ کا نام ذات السلاسل تھا۔ ایک روایت میں یہ ہے کہ یہ لشکر ایک چشمے پر اترا جس کا نام سلسل تھا۔ اسی لئے یہ نام پڑا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس جنگ میں دشمنوںنے اپنے آپ کو زنجیروں سے باندھ لیا تھا۔ اس لئے ذات السلاسل پڑا۔

آپس میں اختلاف نہ کرنا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تین سو مجاہدین کو روانہ فرمایا اور لشکر کے لئے سفید جھنڈا باندھا۔ جب یہ لشکر ذات السلاسل پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج کر مدد مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جرّاح رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دو سو مجاہدین کو روانہ فرمایا۔ ان میں شیخین یعنی حضر ت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ ’’ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے جا کر ملو اور آپس میں متفق رہنا اور اختلاف نہ کرنا۔‘‘ جب حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ وہاںپہنچے اور اپنے لشکر کو نماز پڑھانا چاہی تو حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا ؛ ’’ لشکر کا سپہ سالار میں ہوں اور تم میری مدد کے لئے آئے ہو۔‘‘ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپس میں اختلاف نہ کرنا۔ اس لئے میں تمہاری اطاعت کروں گا۔‘‘ ا سکے بعد سب نے مل کر بنو قضاعہ کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ تمام کافر مرعوب ہو کر بھاگ گئے۔ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے کچھ روز وہاں پر قیام کیا ور اطراف و جوانب میں سوار بھیجتے رہے۔ اس کے بعد مدینہ منورہ واپس چلے آئے۔

سریہ سیف الجریا سریہ خبط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب 8 ؁ہجری میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں تین سومجاہدین کے ساتھ سیف البحر ( سمندر کے ساحل) کی طرف قبیلہ جُھینہ کی طرف روانہ فرمایا۔ اس لشکر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ لشکر کے روانہ ہوتے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کاایک تھیلہ عنایت فرمایا۔ راستے میں لشکر ایسے علاقے میں پہنچا جہاں خوراک کی کمی تھی تو لشکر میں کھجوریں بانٹی گئیں۔ یہاں تک کہ کھجورووں کی گھٹلیاں بھی پانی میں بھگا کر چوس کرگزارہ کرتے رہے اور جب یہ بھی نہ رہی تودرختوں کے پتے توڑ کر پانی میں بھگا کر کھانے لگے۔ اسی وجہ سے اس سریہ کو ’’سریہ خبط ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ ’’خبط ‘‘کے معنی درختوں ے پتے توڑنا ہے۔ آخر کار لشکر جب سمندر کے ساحل ( سیف البحر) پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ مدد فرمائی اور سمندر سے اتنی بڑی مچھلی نکال دی کہ تمام لشکر نے اٹھارہ دنوںتک اس کا گوشت کھایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں؛ ’’ اسے کھا کر ہمارے جسم توانا اور تندرست ہو گئے۔ اس مچھلی کا نام’’ عنبر‘‘ تھا۔ بعد میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس مچھلی کی دو ہڈیوں کو کمان کی طرح گاڑا اورلشکر کا سب سے لمباآدمی چن کر اسے اونٹ پروار کر کے اس کے نیچے سے گزرا تو وہ آسانی سے گزر گیا اور اسکا سر ہڈی کو نہیں لگا۔ جب یہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اور اس مچھلی کا تذکرہ کیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے تمہارے لئے بھیجا تھا۔ اگر اس کا گوشت بچا ہو تومجھے بھی دو۔‘‘ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مچھلی کا گوشت سکھا کر رکھ لیا تھا۔ ) وہ گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا گیااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا۔ اس سریہ میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔

بنو خزاعہ اور بنوبکر کی دشمنی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے صلح حدیبیہ کی تھی۔ ( اس کا تفصیلی ذکر ہم کر چکے ہیں) اس صلح میںیہ شرط تھی کہ دونوں فریقین کی طرف سے عرب کے قبائل بھی اس صلح میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اس معاہدے میں قریش کی طرف سے بنو بکر شریک ہوئے تھے اور مسلمانوں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو خزاعہ شریک ہوئے تھے۔ اس طرح بنو خزاعہ اور بنو بکر میں بھی صلح ہو گئی تھی۔ ان دونوں قبائل میں زمانہ ٔ جاہلیت سے ہی دشمنی چلی آرہی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ بنو بکر کے تاجر تجارت کی غرض سے بنو خزاعہ کے بازار میں آئے ۔ خرید و فروخت کے دوران ایک تاجر کا بنو خزاعہ کے ایک آدمی سے تنازعہ ہو گیا۔ جو اتنا بڑھا کہ بنو بکر کے تاجر کا قتل ہو گیا۔ اس کے بعدبنو بکر والوں نے بنو خزاعہ کے ایک شخص کو موقع پا کر قتل کر دیا۔ اس طرح دونوں قبائل میں شدید دشمنی ہو گئی اور دونوں قبائل ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے رہتے تھے۔ لیکن صلح حدیبیہ میں شرکت کرنے کے بعد ان دونوں کے درمیان امن قائم ہو گیا ۔

قریش اور بنو بکر نے معاہدہ توڑ دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریش سے صلح حدیبیہ کی تو بنو خزاعہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ ذمہ داری عائد ہو گئی کہ جب بھی بنو خزاعہ مدد کے لئے پکاریں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لشکر لے کر مدد کے لئے پہنچنا پڑے گا اور یہی ذمہ داری بنو خزاعہ پر بھی عائد ہوئی۔ صلح حدیبیہ میں بنو بکر نے قریش کا ساتھ دیا تھا۔ بنو بکر اور بنو خزاعہ مکہ مکرمہ کے قریب ہی آباد تھے۔ صلح کا معاہدہ ہو جانے کے بعد بنو خزاعہ تو مطمئن ہو گئے لیکن بنو بکر پرانی دشمنی کو بھولے نہیں تھے اور موقعہ کی تلاش میں تھے۔ ان کا گمان تھا کہ ہمارے ساتھی قریش قریب میں ہیں اور بنو خزاعہ کے ساتھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان تو تین سو کلو میٹر دور ہیں۔ اس لئے قریش ہماری مدد کو جلدی پہنچ جائیں گے۔ بنو بکر نے قریش کے ساتھ مل کر منصوبہ بنایا اور ایک رات بنو خزاعہ کے لوگ ایک چشمہ جس کا نام ’’وتیرہ ‘‘ہے اس چشمے کے پاس سو رہے تھے کہ اچانک بنو بکر نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں منہ پر کپڑا باندھ کر قریش کے سرداران صفوان بن امیہ ، شیبہ بن عثمان، سہیل بن عمرو، حویطب بن عبد العزیٰ اور مکر ز بن حفص بھی شامل تھے اور بنو خزاعہ کے سوئے ہوئے لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ بنو خزاعہ کے لوگ جان بچانے کے لئے مکہ مکرمہ میں حرم شریف میں آئے لیکن بنو بکر اور قریش کے سرداروں نے وہاں بھی انھیں قتل کر دیا۔ بنو خزاعہ کے کچھ لوگ بدیل بن ورقا کے گھر میں گھس گئے تھے۔ وہاں گھس کر بھی ان لوگوں کو قتل کردیا گیا۔ جب صبح ہوئی تو قریش کو احساس ہوا کہ انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے کیا ہوا صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا ہے۔

بنو خزاعہ کی پکار کا سید الانبیاء ﷺ نے جواب دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس رات اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف فرما تھے۔ جس رات بنو بکر نے قریش کے ساتھ مل کر بنو خزاعہ پر شب خون مارا تھا۔ بنو خزاعہ کے لوگوں نے اسی وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو وہیں سے مدد کے لئے پکارا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما رہے تھے اور وضو کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ’’لبیک ۔‘‘ ( میں حاضر ہوں) اور تین مرتبہ فرمایا: ’’ نصرت۔‘‘( میں نے مدد کی ) میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کس سے بات کر رہے تھے؟ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی نہیں ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بنو کعب ( بنو خزاعہ کا ایک خاندان یا شاخ) کا ایک رجز پڑھنے والا مجھ سے مدد مانگ رہا تھا۔ اس کا خیال ہے کہ قریش نے ان کے خلاف ( بنو خزاعہ کے خلاف) بنو بکر کی مدد کی ہے۔‘‘

بنو خزاعہ مدد مانگنے مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ا سکے بعد اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف لائے اور فرمایا : ’’سفر کی تیاری کرو اور کسی کو نہیں بتانا۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ ( سفر کی تیاری کے دوران) میر ے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا: ’’ بیٹی یہ کیسی تیاری ہو رہی ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کیا : ’’مجھے خود بھی معلوم نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم !یہ بنو اصغر ( رومیوں کو بنو اصغر کہا جاتا تھا کیوں کہ ان کے جدّ امجد روم بن عیص بن اسحاق بن ابراہیم نے حبشہ کے بادشاہ کی بیٹی سے شادی کی تھی تو اس سے جو اولاد ہوئی اس کا رنگ سیاہ اور سفید تھا)سے جنگ کا زمانہ بھی نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدھر جانیکی تیاری کر رہے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’ مجھے خود بھی نہیں معلوم ۔‘‘ اس کے بعد اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ اس کے بعد تیسرے دن فجر کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تو میںنے ایک آواز سنی ۔ کوئی مسجد نبوی کے دروازے پر بلند آواز سے کہہ رہا تھا: ’’ اے میرے رب! میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو انکے باپ اور ان کے باپ ( حضرت عبدالمطلب کی بنو خزاعہ سے دوستی اور عہد تھا) کی پرانی آپس کی دوستی اور عہد یاد دلاتا ہوں۔ بے شک قریش نے وعدہ خلافی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہد ( صلح حدیبیہ کا معاہدہ ) توڑ دیا ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (ہماری مدد کے لئے ) کسی کو نہیںبلائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری دائمی ( ہمیشہ کی) اور مضبوط مدد فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندوںکو بلائیں ( یعنی مسلمانوں کو) کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ہماری) مدد کو آئیں اور جنگ کے لئے پوری طرح تیار ہوں۔ ‘‘محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ۔’’ انہوں نے ہم پر حملہ’’ وتیرہ ‘‘کے مقام پر کیا۔ جب ہم سوئے ہوئے تھے اور ہمیں رکوع او ر سجدہ کی حالت میں قتل کیا۔ ان کا خیال تھا کہ میں کسی فریاد سننے والے کو نہیں بلائوں گا اور وہ نہایت ذلیل اور تعداد میں بھی کم ہیں۔‘‘ یہ عمرو بن سالم خزاعی تھا جو فریاد کر رہا تھا۔ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عمرو بن سالم تمہیں مدد دی جائے گی۔ ‘‘

قریش نے معاہدہ حدیبیہ ختم کر دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دینے کے بعد قریش کو احساس ہوا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے۔ مدینہ منورہ میںسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن سالم سے دریافت فرمایا: ’’ کیا تمام بنو بکر حملے میں شامل تھے؟ ‘‘ اس نے بتایا : ’’ نہیں !بلکہ بنو بکر کے ایک خاندان یا شاخ ’’بنو نفاثہ‘‘ اور اس کے سردار نوفل نے حملہ کیا تھا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن سالم اور اس کے ساتھیوں سے فرمایا : ’’ بہت جلد ہم تمہاری مدد کو آرہے ہیں۔‘‘ تو وہ لوگ واپس چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک قاصد قریش کے پاس روانہ فرمایا اور قریش کو اختیار دیا کہ تین باتوںمیں سے ایک بات قبول کرلیں (1) بنو خزاعہ کے مقتولین کی دیت ادا کی جائے (2) بنو نفاثہ سے تعلقات توڑ لیں (3) معاہدہ حدیبیہ کو ختم کر دیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد نے جب قریش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا تو قرطہ بن عمرو جو ش میں آکر کھڑا ہوا اور قریش کی طرف سے جواب دیا : ’’ ہم بنو خزاعہ کے مقتولین کی دیت اد انہیں کریں گے اور بنو نفاثہ سے تعلقات بھی نہیں توڑیں گے۔ ہاں صلح حدیبیہ کا معاہدہ ختم کرنے پر ہم راضی ہیں۔ ‘‘لیکن قاصد کے مدینہ منورہ جانے کے بعد قریش کو احساس ہوا کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ابو سفیان کو مدینہ منورہ روانہ کیا کہ وہ پھر سے معاہدہ کی مدت صلح کو آگے بڑھانے کیلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرے۔

ابو سفیان مدینہ منورہ میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے تجدید صلح کے لئے ابو سفیان مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ روانہ ہوا۔ ادھر مدینہ منورہ میں قاصد نے آکر اطلاع دی کہ قریش نے معاہدہ حدیبیہ ختم کر دیا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خبر دی کہ قریش صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو ختم کر کے شرمندہ ہیں اور ابو سفیان صلح کی مدت بڑھانے اور معاہدہ کو مضبوط کرنے کے لئے آرہا ہے۔ ادھر ابو سفیان جب عسفان کے مقام پر پہنچا تو اس کی ملاقات بدیل بن ورقا خزاعی سے ہوئی۔ اس نے پوچھا : ’’ کہاں سے آرہے ہو؟ ‘‘ بدیل نے کہا: ’’ قریب کی وادی سے آرہا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ ابو سفیان کو خیال آیا کہ یہ ضرور مدینہ منورہ سے آرہا ہوگا۔اس نے اس جگہ جا کر دیکھا جہاں بدیل بن ورقا نے اونٹ باندھا تھا۔ اونٹ کی مینگنی توڑی تو کھجور کی گھٹلی نکلی۔ یہ دیکھ کر ابو سفیان نے کہا: ’’ یہ ضرور مدینہ منورہ سے آرہا ہے کیوں کہ یہ گٹھلیاں مدینہ منورہ کی کھجوروں کی ہے۔‘‘ بہر حال ابو سفیان خاموشی سے مدینہ منورہ میں داخل ہوا اور اپنی بیٹی اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں آیا۔

یہ پاک بستر کافر کے لئے نہیں ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے تجدید معاہدہ کے لئے ابو سفیان مدینہ منورہ آیا تو اس نے سوچا کہ میری بیٹی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ( بیوی) ہے اور وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے میں میری مدد ضرور کرے گی۔ اس لئے ابو سفیان اپنی بیٹی اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں آیا۔ وہاں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر بچھا ہوا تھا۔ ابو سفیان اس پر بیٹھنے لگا تو اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے جلدی سے بستر لپیٹ دیا۔ ابو سفیان حیران ہو گیا اور کہا: ’’اے بیٹی! تُو نے بستر لپیٹ دیا۔کیا بسترکو میرے قابل نہیں سمجھا یا پھر مجھے بستر کے قابل نہیں سمجھا۔‘‘ اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ ابو جان !یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک بستر ہے اور آپ کافر ہیں اور کافر ناپاک ہوتا ہے۔ اسی لئے اس پاک بستر پر ایک کافر جو شرک کی نجاست میں مبتلا ہو وہ نہیں بیٹھ سکتا۔‘‘ ابو سفیان نے جِھلّا کر کہا: ’’ اے بیٹی! اللہ کی قسم ! تُو میرے بعد شر ( برائی) میں مبتلا ہو گئی ہے۔‘‘ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ شر میں مبتلا نہیں ہوئی ہوں بلکہ کفر اورشرک کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کے نور کی روشنی میں آگئی ہوںاور آپ پر تعجب ہوتا ہے کہ آپ سردار ہو کر پتھروں کی پوجا کر تے ہیںجو نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔‘‘ ابو سفیان جھلا کر وہاں سے نکل گیا۔

ابو سفیان کی ناکام کوشش

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ٔمطہرہ اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے اٹھ کر ابو سفیان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور معاہدہ حدیبیہ کیتجدید کی درخواست کی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیااور چہرہ مبارک پھیر لیا۔ ابو سفیان نے پھر کوشش کی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہاں ناکام ہونے کے بعد وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا : ’’ آپ ( رضی اللہ عنہ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے میری سفارش کر دیں۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : ’’ ا ٓپ ( رضی اللہ عنہ ) محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے میری سفارش کر دیں ۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں ! اور تیری سفارش کروں؟اللہ کی قسم !اگرمیرے ہاتھ میں صرف ایک تِنکا رہے گا تو میں اس تنکے سے تم کافروں سے جنگ کروں گا۔‘‘ یہ جواب سن کر ابو سفیان خاموشی سے وہاں سے اٹھ گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ وہاںسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم، آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ ابو سفیان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ اے علی ابن ابو طالب! ( رضی اللہ عنہ) تم رشتہ داری میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب ہو اور میں ایک ضرورت مند بن کر تمہارے پاس آیا ہوں اور میں رسوا ہو کر واپس نہیں جائوں گا۔ تم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے میری سفارش کر دو۔‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں کوئی بھی تمہاری سفارش نہیں کر سکتا۔‘‘

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا مشورہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے ناکام ہو کر ابو سفیان چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے پاس گیا۔ لیکن انہوں نے بھی یہی کہا کہ کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے یہ جواب سننے کے بعد ابو سفیان نے خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے عرض کیا : ’’ آپ رضی اللہ عنہا اپنے والد سے سفارش کردیں ۔‘‘ انہوں نے فرمایا؛ ’’ میں بھی یہ نہیں کر سکتی۔ ‘‘یہ سن کر ابو سفیان نے حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم کی طرف اشارہ کر کے کہا؛ ’’ انہیں ہی کہہ دو کہ یہ اپنے نانا سے ہم قریش کی سفارش کر دیں۔‘‘ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا؛ ’’ یہ بچوں کا معاملہ نہیں ہے اور آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘ ابو سفیان نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا؛ ’’ معاملہ بہت بگڑ چکا ہے۔ آپ ( رضی اللہ عنہ) ہی کوئی تدبیر بتائیں۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میرا تو یہی مشورہ ہے کہ اگر تم اسے اپنے لئے فائدے مند سمجھو تو مسجد نبوی میں جا کر اعلان کر دو کہ میں معاہدہ حدیبیہ کی مدت بڑھاتا ہوں‘‘ اور یہ کہہ کر تم اپنے شہر واپس چلے جائو۔ ابو سفیان وہاں سے اٹھا اور مسجد نبوی میں آیا اور بلند آواز سے کہا؛ ’’ میں معاہدہ حدیبیہ کی مدت بڑھاتا ہوں‘‘ اور مکہ مکرمہ واپس آگیا۔ قریش نے جب پوچھا تو اس نے تمام واقعہ بیان کر دیا۔ قریش نے پوچھا ؛ ’’ جب تم نے اعلان کیا تو کسی نے کوئی جواب دیا تھا۔ ‘‘ ابو سفیان نے کہا : ’’ نہیں ۔‘‘قریش نے کہا : ’’یہ تو کچھ بھی نہیں ہوا اور علی بن ابی طالب ( رضی اللہ عنہ ) نے تم سے مذاق کیا ہے اور تم نے نہ تو صلح کی خبر لائی کہ اطمینان ہو جائے اور نہ ہی جنگ کی خبر لائی کہ جنگ کی تیاری کی جائے۔‘‘

اسلامی لشکر کی تیاری اور حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا خط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حکم دیا کہ راز داری سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو نے کی تیاری کریں۔ اور آس پاس کے دوست قبائل میں بھی راز داری سے خبر بھیج دی کہ مکہ مکرمہ کے سفر کی تیاری کریں۔ اس طرح دھیرے دھیرے قبائل مدینہ منورہ آنے لگے۔ان میں بنو اسلم ، بنو غفار، بنو مزینہ، اور بنو جہینہ قابل ذکر ہیں۔ اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! قریش کے مخبروں اور جاسوسوں کو روک دے تا کہ ہم انکے علاقے میں اچانک جا پہنچیں ۔ ادھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی اور راز داری سے مکہ مکرمہ کے سفر کی تیاری فرما رہے تھے اور حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ( قریشی) رضی اللہ عنہ نے قریش کے تین سرداروں سہیل بن عمرو، صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابو جہل کے نام ایک خط لکھا۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ خط ایک عورت کو دیا کہ وہ اسے قریش تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس خط کی خبر دے دی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو فرمایا۔ تم لوگ تیزی سے سفر کر کے مقام ’’فاخ ‘‘پر جائو۔ وہاں تمہیں ایک عورت ملے گی۔ اس کے پاس ایک خط ہے۔ اس سے وہ خط لے کر میرے پاس لائو۔ تینوںحضرات رضی اللہ عنہم تیزی سے روانہ ہوئے اور اس عورت کو جا کر پکڑلیا او ر اس سے خط مانگا تو اس نے کہا : ’’ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے۔‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات برحق ہے۔ اگر تم وہ خط ہمارے حوالے نہیں کروگی تو ہم تمہاری تلاشی لیں گے۔‘‘ یہ سن کر اس عورت نے اپنے بالوں کے جوڑے میں سے وہ خط نکال کر دیا۔ اسے لے کر یہ تینوں حضرات رضی اللہ عنہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس آئے اور خط پیش کر دیا۔

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو معاف کر دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں تینوں حضرات رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے اور خط پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور خط دکھا کر فرمایا: ’’ اے حاطب رضی اللہ عنہ ! تم نے یہ کیا کیا؟ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے معاملے میں جلدی نہ کریں۔ در اصل میرے گھر والے مکہ مکرمہ میں ہیں اور ان کا کوئی مدد گار قبیلہ نہیں ہے۔ جب کہ دوسرے مہاجرین کے مدد گار قبائل ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے گھر والے محفوظ ہیں۔ اس لئے میں نے چاہا کہ قریش پر احسان کر دوں۔ جس کے صلہ میں وہ میرے گھر والوں کی حفاظت کریں۔ اللہ کی قسم !میں نے مرتد ہو کر یا کفر پر راضی ہو کر یہ کام نہیں کیا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: ’’ یہ سچ کہہ رہا ہے۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اجازت دیں کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بے شک حاطب رضی اللہ عنہ غزوئہ بدر میں شریک ہوا ہے اور اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ !اللہ تعالیٰ نے’’ اہل بدر ‘‘کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان سے مواخذہ نہیں ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ غزوہ بدر میں جو صحابہ رضی اللہ عنہم شریک ہو ئے وہ منافق نہیں ہو سکتے) اور آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔‘‘

 مکہ مکرمہ کی طرف روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے راز داری سے تیاری کا حکم دے دیا تھا۔ آخر کار تمام تیاریاں مکمل ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کا اعلان کیا۔ مدینہ منورہ میںحضرت ابودہم کلثوم بن حصین بن عتبہ غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ لگ بھگ تمام سیرت کی کتابوں میںیہی نام مذکور ہے۔ صرف طبقات ابن سعد میں حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کا نام مذکو ر ہے۔ مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد لگ بھگ دس ہزار تھی۔ اس کے بعد جیسے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھتے گئے مختلف قبائل آکر ملتے گئے اور تعداد بارہ ہزارہو گئی۔ تمام مہاجرین اور تمام انصار صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور کوئی بھی پیچھے نہیں رہا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رمضان میںمدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اس پر تمام علمائے کرام متفق ہیں۔ لیکن تاریخ کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں ماہِ رمضان کی تین تاریخ ہے۔ دس تاریخ بھی ہے۔ سولہ تاریخ بھی ہے اور اٹھارہ تاریخ بھی ہے۔ لیکن اکثر علمائے کرام نے دس رمضان المبارک بیان فرمائی ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روانگی کے وقت روزہ رکھے ہوئے تھے۔ جب’’ کدید ‘‘کے چشمہ پر پہنچے تووہاں افطار فرمایا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتا کر روزہ افطار فرمایا اور پھرمہینے کے آخر تک روزہ نہیں رکھا۔ ( کیوں کہ سفر میں تھے) کدید کا چشمہ مقام عسفان اورمقام قدید کے درمیان واقع ہے۔ ان میں مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد سات سو 700تھی۔ ان کے ساتھ تین سو 300گھوڑے تھے۔ انصار کی تعداد چار ہزار 4000تھی۔ ان کے ساتھ پانچ سو 500گھوڑے تھے۔ بنو مزنیہ کی تعداد ایک ہزار تھی۔ ان کے ساتھ سو گھوڑے تھے۔ ایک روایت کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد تھی۔

حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام ’’جحفہ ‘‘پر پہنچے تو حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ اپنے گھر والوں کے ساتھ آکر ملے۔ آپ رضی اللہ عنہ ، ہجرت کر کے مدینہ منورہ آرہے تھے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ بدر کے بعد حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اور حج کے دوران سقایا( حاجیوں کو پانی پلانے) کی ذمہ داری بنو ہاشم کی تھی۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں ہی مقیم رہے اور وقتا فوقتاً قریش کی سرگرمیوں کی خبر بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے رہتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ’’چچا جان آپ مکہ مکرمہ میں رکیں اللہ تعالیٰ آپ پر ہجرت کو ختم فرمائے گا۔ جس طرح مجھ پر نبوت کو ختم فرمایا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچارضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ گھر والوں کو مدینہ منورہ روانہ کر دیجئے اور آپ رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ چلیں۔

حضرت ابو سفیان بن حارث اور ان کے بیٹے اور حضرت عبداللہ بن امیہ کی ملاقات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب سقیا اور عرج کے درمیان پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے جعفر بن ابو سفیان اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی عاتکہ بن عبدا لمطلب کے بیٹے حضرت عبداللہ بن امیہ رضی اللہ عنہ ملے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ مقام ابو اء پر آکر ملے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت ابو سفیان بن حارث وہ ابو سفیان نہیں ہیں جن کا ذکر ہم ابھی تک پڑھتے ہیں۔ ابو سفیان بن حرب کا ذکر آگے آئے گا انشاء اللہ۔ حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے چچا حارث بن عبدا لمطلب کے بیٹے ہیں۔ چاہِ زمزم جب حضرت عبدالمطلب کھود رہے تھے تو صرف حارث ہی ساتھ میں تھے کیونکہ کہ اس وقت حضرت عبدالمطلب کے دوسرے بیٹے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اسی حارث کے بیٹے حضرت ابو سفیان ہیں۔ انہوں نے سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں پرورش پائی تھی اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ دودھ شریک بھائی بھی ہیں۔ جب اِن تینوں حضرات نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرما دیا ۔

آج تم پر کوئی الزام اور ملامت نہیں اور اللہ تمہیں معاف فرمائے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سفیان بن حارث اور حضرت عبداللہ بن ابی امیہ سے ملاقات نہیں کی۔ اعلان ِ نبوت سے پہلے ابو سفیان بن حارث آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرتے تھے۔ لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو وہ دشمن بن گئے اور دشمنی کرنے لگے اور عبداللہ بن امیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ اگر تم سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائو اور چار فرشتے تمہارے ساتھ آکر تمہاری گواہی دیں تب بھی میں اسلام قبول نہیں کروں گا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ دونوں حضرات اپنے دوسرے بھائی حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : ’’اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں معاف نہیں فرمائیں گے تو ہم جنگلوں میں اپنے گھر والوں کو لے کر چلے جائیں گے اور اپنی جان دے دیں گے۔‘‘ حضر علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہی بات کہو جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہی تھی۔‘‘ ادھر ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اس سفر میں ساتھ تھیں۔ انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ’’ ایک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا بیٹا ہے اور دوسر اپھوپھی کا بیٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو’’ رحمت اللعالمین‘‘ بنایا ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں بھائیوں کے لئے بھی ’’رحمت ‘‘ ثابت ہوں گے۔ صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو ملاقات کی اجازت دی تو دونوں نے عرض کیا: ’’اللہ کی قسم ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم پر فضیلت دی ہے اور بے شک ہم قصور وار ہیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آج کے دن تم پر کوئی الزام اور ملامت نہیںہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ وہ سب رحم کرنے والوں میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔‘‘ اور دونوں بھائیوں کو گلے سے لگا لیا۔ دونوں حضرات نے اسلام قبول کیا۔

آپ میرے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی جگہ ہیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں بھائیوں کو معاف فرما دیا اور گلے سے لگا لیا۔ دونوں حضرات نے سچے دل سے توبہ کر لی اور اسلام قبول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام سے بے پناہ محبت بھر دی اور دونوں حضرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتنا ادب کرتے تھے کہ ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نظریں نیچی کئے رہتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’میری تمنا ہے کہ آپ میرے چچا حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کے جانشین ثابت ہوں کیوں کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کو ان کی جگہ دیتا ہوں ‘‘اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ’’ اے میرے چچا زاد بھائی! ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ !تمہاری مثال ایسی ہے جیسی عربی میں کہاوت ہے کہ بڑی حاجت پوری ہو جانے کے بعد آدمی چھوٹی حاجتوں کی پرواہ نہیں کرتا اور ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اسے نبھایااور غزوہ حنین میں سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی سوار ی کی رسی تھامے رہے اور ساتھ نہیں چھوڑا اس کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا۔

مرا الظہرا ن میں پڑاؤ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام کدید میں اسلامی لشکر کے لئے جھنڈے باندھے اور آگے بڑھے اور مسلسل سفر کرتے ہوئے عشاء کے وقت ’’مرا لظہران ‘‘پہنچے اور وہیں پڑائو ڈال دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ قریش کوہمارے آنے کی اطلاع نہ ہوسکے۔ وہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور مرا لظہران پہنچنے تک قریش کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔حالانکہ مکہ مکرمہ کے قریش مسلسل اسی کوشش میں تھے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا ہے تو اس کا کیا رد عمل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ اس کی ہمیں خبر مل جائے اور اس کے لئے قریش کے مختلف سردار مکہ مکرمہ کے آس پاس مسلسل گشت کرتے رہتے تھے۔ جس شام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مرا لظہران میں پڑائو ڈالا اس رات کو ابو سفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقا مکہ مکرمہ کے اطراف میں گشت کیلئے نکلے تو انہیں کافی دور آسمان میں مدینہ منورہ کی سمت آگ کا عکس نظر آیا تو تینوں تیزی سے گھوڑے دوڑاتے ہوئے اس طرف بڑھے ۔ادھر مر الظہران میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کو ہزار ہزار کی تعدا د میں تقسیم کر دیا تھا اور وہ سب آگ جلائے ہوئے تھے۔ جب یہ تینوں وہاں پہنچے اور اتنی بڑی تعدا دمیں آگ جلی ہوئی دیکھی تو وہ گھبرا گئے۔ ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ اللہ کی قسم! جتنے آگے کے لاوے ( مسلمانوں نے کھانا پکانے کے لئے جلائے تھے) آج میں دیکھ رہا ہوں اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے۔‘‘ بدیل بن ورقا نے کہا: ’’ یہ بنو خزاعہ کے آگ کے لاوے ہوں گے۔‘‘ ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ بنو خزاعہ اتنی تعداد میں نہیں ہیں کہ اتنے زیادہ چولہے جلا سکیں۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں ابو سفیان بن حرب

سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مر الظہران میں پڑاؤ ڈال دیا تھا۔ حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرا لظہران میں قیام فرمایا تو میں سوچنے لگا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچانک مکہ مکرمہ پر حملہ کریں گے تو ہو سکتا ہے بہت سے قریش مارے جائیں تو کیوں نہ میں ایسا کروں کہ کسی بھی طریقے سے قریش کو اطلاع کر دوں اور کہہ دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حملہ کرنے سے پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی جان کی امان مانگ لو۔ اس طرح قریش مارے نہیں جائیں گے۔ یہ سوچ کر میں ایک سفید خچر پر سوار ہو کر اسلامی لشکر سے باہر آیا اور اندھیرے میں کچھ دور آگیا تو ابو سفیان بن حرب اور بدیل بن ورقا کی باتیں کرنے کی آواز سنائی دی۔ بدیل نے کہا: ’’ یہ ضرور بنو خزاعہ کا لشکر ہے۔ ‘‘ اس کے جواب میں ابو سفیان بن حرب کی آواز سنائی دی: ’’ بنو خزاعہ کے پاس اتنا بڑا لشکر کہاں ہے جو اتنی روشنی ان کے لشکر کی ہوتی۔ ‘‘ میں نے پکار کر کہا: ’’ اے ابو سفیان ! یہ بنو خزاعہ کا لشکر نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ پڑائو ڈالے ہوئے ہیں۔‘‘ ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’یہ ابوالفضل ( حضرت عباس بن عبدالمطلب کی کنیت ہے) کی آواز لگتی ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’ ہاں میں ہی ہوں۔‘‘ وہ تینوں سامنے آگئے۔ ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ اس مصیبت سے بچنے کا کوئی راستہ ہے؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’ اگر مسلمانوں نے تمہیں دیکھ لیا تو قتل کر دیں گے۔تم ایسا کرو میرے پیچھے خچر پر سوار ہو جائو۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلتا ہوں۔ وہ تمہیں میری پناہ میں دے دیں گے اور تم دونوں واپس جا کر قریش سے کہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی جان کی امان طلب کریں تو امید ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں معاف فرما دیں گے۔‘‘ اس کے بعد وہ دونوں واپس چلے گئے اور ابو سفیان میرے ساتھ سوار ہو گیا۔ میں اسے لے کر اسلامی لشکر میں آیا جس خیمے کے پاس سے گزرتا تھا تو وہ لوگ پوچھتے کون ہے؟ اور مجھے دیکھ کر کہتے : ’’ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں‘‘ اور آگے جانے دیتے تھے۔ جب میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خیمے کے پاس سے گزرا تو وہ کھڑ ے ہو گئے اور میرے پیچھے ابو سفیان کو بیٹھا دیکھ کر فرمایا : ’’ یہ تو اللہ کا دشمن ابو سفیان ہے۔‘‘ میں نے فوراً کہا: ’’ میں نے اسے پناہ دی ہے۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں تو اسے ضرور قتل کروں گا۔‘‘ یہ دیکھ کر میں نے خچر تیزی سے دوڑایا اور تیزی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ پیچھے پیچھے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھاگتے آرہے تھے۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ابو سفیان بن حرب میری پناہ میں ہے۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے اجازت دیں کہ میں اس اللہ کے دشمن ابو سفیان بن حرب کی گردن اڑا دوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سمجھایا اور مجھ سے فرمایا: ’’ آج رات تم اسے اپنی پناہ میں رکھو اور کل صبح لے کر آنا۔‘‘

ابو سفیان بن حرب کا قبول اسلام   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان بن حرب کو حضرت عباس بن عبدالمطلب کی پناہ میں دے دیا تھا۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ میں نے ابو سفیانبن حرب کو رات بھر اپنے ساتھ رکھا اور صبح اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھتے ہی فرمایا: ’’ اے ابو سفیان ! کیا ابھی بھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانو۔‘‘ ابو سفیان نے کہا: ’’ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کتنے زیادہ صبر کرنے والے، در گزر کرنے والے ، کرم کرنے والے اور رشتہ جوڑنے والے ہیں۔ بے شک مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی معبود ہوتا تو وہ ضرور مجھے کچھ فائدہ پہنچاتا کیوں کہ میں اس کی پوجا کرتا تھا۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ افسوس ہے تم پر اے ابوسفیان! کیا تمہارے واسطے ابھی وقت نہیں آیا ہے کہ تم میری رسالت کو تسلیم کر و اور اقرار کرو۔‘‘ اس نے کہا: ’’ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر حکمت والے، کرم کرنے والے اور رشتہ کا خیال کرنے والے ہیں۔ اللہ کی قسم ! اس وقت میرے دل میں کچھ ہے ۔‘‘میں نے کہا: ’’ اے ابو سفیان بن حرب اسلام قبول کر لے۔ اس سے پہلے کہ تمہاری گردن اڑا دی جائے۔ ‘‘ ابو سفیان نے کہا : ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ اور اسلام قبول کر لیا۔

تمہارے بھتیجے کی سلطنت زبردست ہو گئی ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ابو سفیان بن حرب نے اسلام قبول کر لیا۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اس کے بعد میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ابو سفیان فخر کو پسند کرتا ہے ۔ اس کے لئے کوئی ایسا حکم دیں جس پر فخر کرے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوا اسے امان ہے۔ جو اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے اسے امان ہے اور جو مسجد حرام میں ہو گا اسے بھی امان ہے۔‘‘ اس کے آگے حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب ابو سفیان جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ چچاجان !اس کور استے کے ایک ٹیلہ پر کھڑ اکر کے اسلامی لشکر کے گزرنے کی سیر کرائو۔ ‘‘یہ سن کر میں ابو سفیان بن حرب کو لے کر ایک ٹیلے پر کھڑ اہو گیااور قبیلوں کی فوجیں ایک ایک کر گزرنے لگیں۔ جب کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان پوچھتا : ’’یہ کون سا قبیلہ ہے؟‘‘ میں اسے بتاتا : ’’ یہ فلاں قبیلہ اور اس کی فوج ہے۔ یہ فلاں قبیلہ اور یہ فلاں قبیلہ کی فوج ہے۔‘‘ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’سبز لشکر ‘‘کے ساتھ گزرے اور اس لشکر کو سبز اس لئے کہا گیا کہ تمام لوگ لوہے میں غرق تھے۔ یعنی زرہ بکتر اور خود ( لوہے کی ٹوپی) اور ہتھیاروں سے اس قدر مسلح اور مکمل تھے کہ صرف ان کی آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ ابو سفیان نے پوچھا’’ یہ کون لوگ ہیں؟ ‘‘ میں نے اسے بتایا : ’’ یہ مہاجرین اور انصار کا لشکر ہے اور ان کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کے اطراف حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت سعد بن ابی وقاص ، حضرت خالد بن ولید اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم ہیں۔‘‘ ابو سفیان بن حرب نے یہ سن کر کہا: ’’ سبحان اللہ !اے عباس بن عبدالمطلب !بھلا ان لوگوں سے مقابلہ کرنے کی کس میں طاقت اور تاب ہے؟ اللہ کی قسم !اے ابوالفضل !تمہارے بھتیجے کی سلطنت اب بڑی زبردست ہو گئی ہے۔‘‘ میں نے کہا: ’’ یہ سلطنت نہیں ہے بلکہ یہ نبوت ہے ۔‘‘ ابو سفیان نے کہا : ’’ ہاں بے شک یہ نبوت ہے۔ ‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

29 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


29 سیرت سید الانبیاء ﷺ

فتح مکہ ۔ قسط 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


سید الانبیاء ﷺ کا مکہ مکرمہ میں فاتح کی حیثیت سے داخلہ، فاتح کی حالت میں بھی تواضع اور انکساری، خانہ کعبہ کے اندر نماز، آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ۔ سب آزاد ہو، خانہ ٔ کعبہ کی چھت پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان


فتح مکہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوئے اور مقام ذی طویٰ میں پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی ترتیب فرمائی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو دائیں بازوپر رکھا اور حکم دیا : ’’ مکہ مکرمہ کے زیریں حصے ( نچلے حصے) سے داخل ہوں اور خود سے کسی پر حملہ نہ کرنا۔ ہاں اگر تم پر کوئی حملہ کرے تو اس سے لڑنا اور صفا پہاڑی کے پاس پہنچ کر میرا انتظار کرنا۔‘‘ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو بائیں بازو پر رکھا اور حکم دیا : ’’ مکہ مکرمہ بالائی حصے ( اوپری حصے) سے داخل ہوں اور حجون میں جھنڈا گاڑ کر وہیں میرا انتظار کرنا۔‘‘ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو لشکر کے درمیانی حصہ اور پیدل دستہ پر رکھا اور حکم دیا : ’’ مکہ مکرمہ کے درمیانی راستے داخل ہوں۔‘‘ بقیہ تمام راستوں پر تو کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ لیکن مکہ مکرمہ کے زیریں علاقے ( نچلے علاقے) میں سہیل بن عمرو، عکرمہ بن ابو جہل اور صفوان بن امیہ نے قبیلہ بنو بکر اور قریش کے اوباشوں کے ساتھ مقام’’ خندمہ ‘]میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے لشکر پر اچانک تیروں سے حملہ کر دیا ۔ جس کی وجہ سے ایک روایت کے مطابق دو صحابہ رضی اللہ عنہم اور دوسری روایت کے مطابق تین صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے۔ یہ دیکھ کر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اتنا زبر دست حملہ کیا کہ قریش کے کافروں کے قدم اکھڑ گئے اور بھاگ گئے۔ اس جنگ میں بنو بکر کے بیس افراد اور بنو ہذیل کے تین یا چار افراد قتل ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم کیوں لڑے جب کہ میں نے تمہیں منع فرمایا تھا۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کافروں نے لڑائی شروع کی تھی اور جہاں تک مجھ سے ممکن ہوا میں نے اپنا ہاتھ روکا۔‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ بہتر ہے۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کا مکہ مکرمہ میں فاتح کی حیثیت سے داخلہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی تیزی سے ابو سفیان بن حرب اپنی سواری کو دوڑاتے ہوئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ا ور بلند آواز سے پکارتے جا رہے تھے: ’’ اے قریش !محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں اور ایسا لشکر ان کے ساتھ ہے ۔ جس کے مقابلے کی تم طاقت نہیں رکھتے۔ سنو!جو میرے گھر میں داخل ہوا وہ امان میں ہے۔ جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا وہ امان میں ہے۔ جو مسجد حرام میں داخل ہوا وہ امان میں ہے۔ ‘‘یہ سنتے ہی سب لوگ اپنے گھروں کی طرف بھاگے اور مسجد حرام کی طرف بھی بھاگے۔ اسلامی لشکر مکہ مکرمہ میں ہر سمت سے داخل ہوا اور ہر طرف مسلمان پھیل گئے۔ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور’’ مقام کدا ‘‘سے گزرتے ہوئے مکہ مکرمہ کے بالائی جانب سے داخل ہوئے۔ ( مقام کدا وہ مقام ہے جہاں کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تمام انسانوں کو حج کے لئے پکارا تھا) تمام مسلمان راستے کے دونوں جانب کھڑے تھے اور قریش اپنے گھروں میں سے دیکھ رہے تھے کہ جس ’’رحمت اللعالمین ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے لگ بھگ آٹھ برس پہلے بے سرو سامانی کے عالم میں مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا آج وہی ’’انبیاء کے سردار‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے تھے۔

فاتح کی حالت میں بھی تواضع اور انکساری

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش نے لگ بھگ آٹھ برس پہلے ہجرت کرنے پر مجبور کیا تھا۔ آج وہی تمام انسانوں اور تمام انبیائے کرام کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے تھے اور قریش اپنے گھروں میں دُبکے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو داخل ہوتے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ آج محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) فاتح کی حیثیت سے آرہے ہیں اور نہ جانے ہمارے ساتھ کیسا سلوک کریں گے۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے’’ تمام جہانوں کے لئے رحمت ‘‘بنا یا ہے۔ انہوں نے طائف والوں کو معاف کر دیا۔ جن پر اللہ تعالیٰ قیامت صغریٰ برپا کرنے والے تھے۔ طائف والوں کو معلوم بھی نہیں تھا کہ جن کے اوپر انہوں نے پتھروں کی بارش کی تھی وہ ان لوگوں کے لئے ’’رحمت‘‘ ثابت ہونے والے تھے۔ مکہ مکرمہ میں داخلے کے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذرا بھی فخر کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عاجزی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ مکہ مکرمہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوتے ہوئے’’ انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا سرِ مبارک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ فتح مکہ کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناقہ ( اونٹنی) پر سوار ہیں اور خوش الحانی کے ساتھ سورہ’’ انا فتحنا‘‘ کی تلاوت فرما رہے ہیں۔ اس عظیم الشان فتح کے وقت مسرت اور نشاط اور خوشی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہو رہی تھی اور عاجزی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک اور گردن مبارک اتنے جھکے ہوئے تھے کہ داڑھی مبارک کجا وہ کی لکڑی کو چھو رہی تھی۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اونٹنی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے تو تمام لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے تھے۔ لیکن عاجزی اور انکساری کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر جھکائے ہوئے تھے۔‘‘ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ وہ فتح ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔‘‘ اور پھر سورہ’’ اذا جآ نصر اللہ والفتح‘‘ تلاوت فرمائی۔‘‘

اُم ہانی کے گھر

سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم فاتح کی حیثیت سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار تھے اور سیاہ ( کالے ) رنگ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر ِ مبارک پر ’’مغفر ‘‘ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف میں حضرت ابو بکر صدیق ، حضر ت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت اسید بن حضیر اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے اپنی چچا زاد بہن سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ یہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سگی بہن ہیں۔ سید الانبیائصلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے ۔ سیدہ اُم ہانی بنت ابو طالب رضی اللہ عنہا کی قسمت جاگ گئی اور انہوں نے دوڑ کر بے حد خوشی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا اور دوڑ دوڑ کر خدمت کرنے لگیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایااور پھر آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی۔ یہ چاشت کا وقت تھا۔ یہ نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر ادا فرمائی۔ لیکن رکوع اور سجدے وغیرہ مکمل طور پر ادا فرماتے رہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’ گھر میں کچھ کھانا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوکھی روٹی کے چند ٹکڑے ہیں۔ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرنے میں مجھے شرم آرہی ہے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لائو۔‘‘ پھر اپنے دست ِ مبارک سے ان سوکھی روٹی کے ٹکڑو ں کو پانی میں بھگو کر نرم کیا اور سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا نے سالن کے طور پر نمک پیش کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا گھر میں کوئی سالن نہیں ہے؟ ‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ میرے گھر میں سرکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سرکہ لے آئو۔‘‘ اور روٹی کو سرکہ میں لگا کر نوش فرمایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر اد ا کیا پھر فرمایا: ’’سرکہ بہترین سالن ہے اور جس گھر میں سرکہ ہو گا اس گھر میں محتاجی نہیں ہوں گی۔ ( یہ تھا تمام کائنات کی مخلوق کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کا فتح حاصل کرنے کے بعد کا کھانا۔ دنیا کے تمام امیروں اور بادشاہوں کے لئے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وہ لوگ ذرا سی خوشی پر ہزاروں روپے دعوت اور کھانے پر فضول خرچ کر کے خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور تمام کائنات کی مخلوقات کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم اتنی زبردست اور عظیم الشان فتح حاصل کر کے کتنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کر رہے ہیں)

جسے تم نے امان دی اسے ہم نے بھی امان دی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت سید ہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے گھر میں نماز ادا فرما رہے تھے۔ اس وقت حارث بن ہشام (ابو جہل کا بھائی) اور زہیر بن امیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے جان بچانے کے لئے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ کے گھر میں گھس آئے تھے۔سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ’’ یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے شوہر کے دو رشتہ داروں نے میرے گھر میں پناہ لی ہے اور میرے بھائی حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ان دونوں کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ (در اصل سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ان گیارہ لو گوں میں یہ دونوں بھی تھے۔اس لئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کر نے کے لئے حضرت علی مر تضیٰ رضی اللہ عنہ ان دو نوں کو قتل کر نا چاہتے تھے )سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس کو تم نے امان (پناہ) دی ہے ۔اسے ہم نے بھی امان دی۔جائو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ دو کہ ان دو نوں کو قتل نہ کریں۔‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے صحا بہ لرام رضوان علیہم اجمعین نے ایک دن پہلے ہی سے دریافت کر لیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں کہاں قیام فرمائیں گے ۔رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جہاں قریش اور کنانہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کو قید کیا تھا۔ (یعنی شعب ابی طالب میں)اس سے پہلے ہم آپ کی خد مت میں واقعہ تفصیل سے پیش کر چکے ہیں یہاں مختصراََ ذکر کر دیتے ہے۔مکہ مکرمہ میں جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کیا تھا توقریش کے کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو بہت اذیت دینے لگے تھے۔ نبوت کے ساتویں سال تمام قریش اور کنانہ نے ایک لکھا کہ بنو ہاشم اور بنو مطلب اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو نعوذ باللہ قتل کرنے کے لئے جب تک ہمارے حوالے نہیں کریں گے تب تک انہیں شعب ابی طالب میں قید کر دیا جائے اور کوئی بھی ان سے تعلقات نہیں رکھے گا۔ تین برس تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابو طالب اور ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اور تما م بنو ہاشم اور بنو مطلب شعب ابی طالب میں قید رہے۔ تین برس بعد اس معاہدے کو دیمک نے کھا لیا اور معاہدہ خود بخود ختم ہو گیا اور بنو ہاشم اور بنو مطلب کو رہائی ملی۔ شعب ابی طالب میں ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خیمہ لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوران وہیں قیام فرمایا۔ بعد میں یہاں ایک مسجد بنا دی گئی جس کا نام ’’ مسجد الفتح‘‘ رکھا گیا۔

بیت اللہ ( خانہ کعبہ کے اندر داخلہ)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہوئے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مستعد اور تیار کھڑے تھے کہ کہیں قریش کوئی شرارت نہ کریں۔ لیکن تمام قریش اپنے گھروں میں دبکے کھڑکیوں سے دیکھ رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار حرم شریف میں تشریف لائے اور خانہ کعبہ کا طواف کیا۔ طواف کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک ( ہاتھ مبارک) میں ایک چھڑی تھی جس سے ہر چکر میں حجر اسود کو استلام کر تے تھے۔ سات چکر پورا ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور عثمان بن طلحہ کو بلایا۔ ( اس کے پاس خانہ کعبہ کی چابی تھی) اور اس سے چابی طلب کی اور خانہ کعبہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے۔

تمام بُت گرتے جا رہے تھے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے۔ اندر لگ بھگ تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی بتوں کو لگاتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے۔’’ جآئَ الحَقّ وَزھَقَ البَا طِل ۔ اِنّ الباَطِلَ کَانَ زَھُوقاً ۔ ‘‘( سورہ بنی اسرائیل) ترجمہ ۔ ’’ حق آگیا اور باطل چلا گیا اور باطل جانے والی چیز ہے یا باطل جانے کے لئے ہے۔ ‘‘ یہ فرماتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس بت کو بھی چھڑی لگاتے تھے وہ گر جاتا تھا۔ ایک روایت میں تو یہاں تک ہے کہ چھڑی لگاتے ہی وہ بت ٹوٹ پھوٹ جاتا تھا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ خانہ کعبہ کے اندر تصویریں بنی تھیں۔ ان میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بھی تصویریں تھیں۔ جو فال گیری کا تیر لئے کھڑے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تصویروں کو دیکھ کر فرمایا۔ اللہ مشرکین کو ہلاک کرے۔ اللہ کی قسم !ان دونوں پاک انبیائے کرام علیہم السلام نے کبھی بھی فال کے تیر استعمال نہیں کئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تمام تصویروں کو مٹا دیا گیا اور تمام بت خانہ کعبہ سے نکال دیئے گئے اور بیت اللہ کو پاک کر دیا گیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر نماز ادا فرمائی۔

خانہ کعبہ کے اندر نماز

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تمام تصویروں کو مٹا دیا گیا اور تمام بتوں سے پاک کر دیا گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی خانہ کعبہ کے اندر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کے سامنے والی دیوار کی طرف رخ کیا اور آگے بڑھنے لگے۔ جب دیوار تین ہاتھ رہ گئی تو وہیں رک گئے۔ دو کھمبے ( ستون) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب تھے۔ ایک کھمبا( ستون) دائیں جانب تھا اور تین ستون ( کھمبے) پیچھے تھے۔ ان دنوں خانہ کعبہ میں چھ کھمبے ( ستون) تھے۔ پھر وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی۔ اس کے بعد بیت اللہ ( خانہ کعبہ) کے اندر چکر لگایا اور ہر کونے پر جا کر تکبیر اور توحید کے کلمات ادا فرمائے۔ ادھر خانہ کعبہ کے باہر دروازے کے پاس حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کھڑے تھے اور لوگوں کوآگے آنے سے روک رہے تھے۔ تمام قریش بھی اپنے اپنے گھروں سے نکل آئے تھے اور خانہ کعبہ کے اطراف جمع ہو گئے تھے اور دیکھ رہے تھے۔ اندر ہر کونے میں تکبیر اور توحید کے کلمات ادا کرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دروازہ کھول دیا اور باہر تشریف لے آئے۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو میں بالکل دروازے کے قریب کھڑ اتھا۔ جیسے ہی دروازہ کھول کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کے اندر نماز پڑھی ؟ ‘‘ا نہوں نے جواب دیا: ’’ ہاں۔ ‘‘ میں نے پوچھا : ’’ کہاں پڑھی ؟ ‘‘ انہوں نے اشارے سے بتایا: ’’ ان دونوں کھمبوں کے درمیان ۔ ‘‘لیکن میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ کتنی رکعت پڑھی۔‘‘

خانہ کعبہ ( بیت اللہ ) کے دروازے پر خطبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے باہر تشریف لائے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تمام قریش خانہ کعبہ کے چاروں طرف منتظر کھڑے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے اور با آواز بلند فرمایا: ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اس نے اپنے بندے ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) کی مدد کی اور ( کافروں کے ) تمام لشکر کو شکست دی۔ تمام پرانے خون بہا اور جاہلیت کی رسمیں سب میرے پیروں تلے ہے۔ ( یعنی جاہلیت کی تمام رسمیں اور قانون آج سے ختم کرتا ہوں) صرف خانہ کعبہ کی تولیت اور حاجیوں کو پانی پلانا،یہ دو اعزاز اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ اے قوم ِ قریش! اب جاہلیت کا فخر و غرور اور خاندانوں پر فخر کرنا یہ سب اللہ تعالیٰ نے ختم کر دیا ہے۔ تما م لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے ہیں۔ جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’ اے لوگو!ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا فرمایا اور تمہارے لئے قبیلے اور خاندان بنا دیئے ۔ تا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سیزیادہ شریف اور عزت دار وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ ( گناہوں سے بچنے ) والا ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ سب جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔‘‘

آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ۔ سب آزاد ہو

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کرلیاتھا اور فاتح کی حیثیت سے خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ فرما رہے تھے۔ تمام مہاجرین اور انصار اور تمام صحابہ کرام ہمہ تن گوش ہو کر پوری توجہ سے سن رہے تھے ۔ تمام قریش بھی سن رہے تھے۔ ان قریش میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت ظلم کیا تھا اور بہت زیادہ اذیتیں دی تھیں۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے شہید کر دیا تھااور ان کے ناک کان کاٹ کر ہار بنا ئے تھے اور دل نکال کر چبانے کی کوشش کی تھی۔ ان میں وہ لوگ بھی تھے جو غزوہ خندق میں مدینہ منورہ پر بہت بڑ الشکر جرار لے کر چڑھ دوڑے تھے۔ آج ہر کوئی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مجرم کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کوسن رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ آج فاتح کی حیثیت سے ہمارے ساتھ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ جانے کون سا سلوک کرنے والے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے اور قریش ڈر اور خوف سے کانپ رہے تھے کہ نہ جانے کب ہمارے قتل کا فرمان جاری ہو جائے۔ اچانک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے مخاطب ہو کر فرمایا: ’’ اے گروہ قریش !تمہیں کچھ معلوم ہے؟ آج میں تمہارے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟‘‘ اس سوال پر قریش بہت زیادہ گھبرا گئے لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج اور کردار کو جانتے تھے اور رحم کی امید رکھتے تھے۔ اس لئے صرف اتنا ان کی زبان سے نکلا: ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کرم کرنے والے بھائی ہیں اور کرم کرنے والے باپ کے بیٹے ہیں۔‘‘ اتنا کہہ تمام قریش امید بھری نظروں سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی سے گہری نظروں سے ہر طرف چہرہ مبارک گھما کر قریش کو دیکھ رہے تھے ۔ ہزاروں آدمیوں کا مجمع بالکل خاموش کھڑا تھا اور سب کی نظریں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر لگی ہوئی تھیں۔ اچانک سناٹے میں ’’رحمت اللعالمین ‘‘کی میٹھی اور سریلی آواز گونجی۔ ’’ آج تم پر کوئی الزام نہیں ہے۔ جائو تم سب آزاد ہو۔‘‘ اس میٹھی اور سریلی آواز اور الفاظ نے قریش کے کانوں میں رس گھول دیا۔ ایک جملے میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو معاف کر دینے کا اعلان کر دیا۔ اچانک ہزاروں آدمیوں کے مجمعے میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند آواز سے تعریف بیان کر رہے تھے اور قریش کا یہ عالم تھا کہ خوشی کے مارے رونے لگے تھے۔ کتنے قریش نے بلند آواز سے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور مسکراتے ہوئے چاروں طرف کا جائزہ لے رہے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور قریش کو مل جل کر باتیں کرتے دیکھ رہے تھے اور چہر ہ مبارک پر مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ اطمینان کا اظہار ہو رہا تھا۔

خانہ کعبہ ( بیت اللہ ) کی چابی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عام معافی کا اعلان فرما دیا اورپورے مکہ مکرمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم شریف میں تشریف فرما ہوئے اور خانہ کعبہ کی چابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں میں تھی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو ہاشم کے پاس سقایہ ( حاجیوں کو پانی پلانے کا ) کا محکمہ ہے۔ براہِ کرم یہ چابی بنو ہاشم کو عنایت فرما کر حجابہ ( یعنی خانہ کعبہ اور مسجد حرام کی صاف صفائی ) کا محکمہ بھی دے دیں۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ چونکہ حضرت عباس بن عبدالمطلب ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور حضر ت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے چچا) پہلے سے سقایہ کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ اس لئے وہ بھی آگے بڑھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ خانہ کعبہ کی چابی ہمیں عنایت فرمائیں ۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟‘‘ انہیں بلایا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چابی انہیں عنایت فرمائی اور فرمایا: ’’ یہ لو اپنی چابی !آج نیکی اور وفاداری کا دن ہے۔ ‘‘طبقات ابن سعد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے ہمیشہ کے لئے لے لو ( یعنی یہ چابی تمہاری نسل میں رہے گی) اور تم لوگوں سے اس چابی کو وہی چھینے گا جو ظالم ہوگا۔ اے عثمان رضی اللہ عنہ ! اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عشق

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد چاہِ زمزم کے کنویں پر تشریف لے گئے ۔ اس میں جھانک کر فرمایا: ’’ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بنو عبدالمطلب مغلوب ہو جائیں گے تو میں اس کنویں سے ایک ڈول پانی ضرور نکالتا۔‘‘ ( یعنی اگر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک ڈول پانی نکال لیتے تویہ سنت بن جاتی اور دوسرے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے کے لئے ایک ڈول پانی ضرور نکالنے کی کوشش کرتے ۔ جب کہ چاہِ زمزم سے پانی نکال کر پلانے کا اعزاز صرف ’’بنو عبدالمطلب ‘‘کو حاصل ہے )اس کے بعد حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے ایک ڈول زمزم کا پانی کھینچ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پانی نوش فرمایا اور پھر وضو کرنے لگے۔ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا اور جھپٹ جھپٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کا استعمال شدہ پانی لے رہے تھے اور زمین پر گرنے نہیں دے رہے تھے۔ جس کے ہاتھ میں زیادہ پانی آرہا تھا وہ پی لیتا تھا اور جس کے ہاتھ میں کم پانی آتا تھا تو وہ اپنے چہرے پر مل لیتا تھااور جسے پانی مل جاتا تھا وہ پیچھے ہٹ جاتا تھا اور دوسرا آگے بڑھتا تھا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی صحابی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ پا رہے تھے تو وہ اپنے ساتھی کے گیلے ہاتھ کو ہی اپنے چہرے پر مل رہے تھے۔ قریش حیرانی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم نے آج تک نہ دیکھا ہے اور نہ ہی سنا ہے کہ کوئی بادشاہ اس درجہ تک پہنچا ہو کہ اس کی عوام اس سے اتنا عشق کرے۔

خانہ ٔ کعبہ کی چھت پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وضو فرما چکے تو نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کی چھت پر جب اذان دینی شروع کی تو پورے مکہ مکرمہ پر ایک ایمان افروز روح پرور سماں طاری ہو گیا ا ور قریش کے سردار حیران و پریشان ہو گئے۔ ابو سفیان بن حرب ، عتاب بن اسید اور حارث بن ہشام خانہ کعبہ کے صحن میں بیٹھے تھے۔ اذان سن کر عتاب بن اسید نے کہا : ’’ اللہ تعالیٰ نے میرے باپ کی عزت رکھ لی اور اس آواز کو سننے سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیا۔ ‘‘حارث بن ہشام نے کہا: ’’ اللہ کی قسم! اگر مجھ کو یقین ہو جاتا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) حق پر ہیں تو ضرور میں ان کی اطاعت کرتا۔‘‘ ابو سفیان بن حرب نے کہا : ’’میں اس بارے میں کچھ نہیں کہوں گاکیوں کہ اگر میں نے کچھ کہا تو یہ سنگریز ے ( کنکریاں ) محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خبر دے دیں گی۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان تینوں کی گفتگو کی اطلاع دے دی۔ نماز کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گزرے تو ان کی گفتگو دہرا دی۔ یہ سن کر عتاب اور حارث نے کہا’’ ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوال کوئی معبود نہیں ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اس لئے کہ ہم میں سے کسی نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس گفتگو کے بارے میں نہیں بتایا۔‘‘ اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کا گورنر بنا دیا۔

میر ی زندگی اور وفات تمہارے ساتھ ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد صفا پہاڑی پر تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ مبارک اٹھا کر دعا مانگ رہے تھے تو اس وقت انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ کھٹکا پید ا ہوا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب اپنی قوم قریش کے پاس مکہ مکرمہ میں ہی نہ رک جائیں تو انصار نے ایک دوسرے سے کہا : ’’ تمہار ا کیا خیال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے شہر اور زمین کی فتح عطا فرمائی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب یہیں رہنے لگ جائیں گے اور ہمیں چھوڑ دیں گے۔‘‘ اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر کھڑے دعا مانگ رہے تھے۔ دعا سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصارسے فرمایا: ’’ تم آپس میں کیا بات کر رہے تھے؟ ‘‘انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ایسی کوئی اہم بات نہیں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل دریافت فرماتے رہے۔ یہاں تک کہ انصار نے اپنے دل کا شک بتا دیا۔ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ میری زندگی اور وفات تمہارے ساتھ ہے۔‘‘ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ خوش خبری سن کر انصار کی آنکھوں میں خوشی کے مارے آنسو آگئے اور تمام انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم لوگوں نے جو کچھ سوچا اور جو کچھ کہا اس کی وجہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت ہے۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کا تصور ہی ہمارے لئے نا قابل برداشت ہو رہا تھا۔ ‘‘

بیعت ِ اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد صفا پہاڑی پر ہی بیٹھ گئے اور قریش کے مردوں اور عورتوں سے اسلام کی بیعت لینے لگے۔ مردوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دستِ مبارک پر ان کا ہاتھ رکھوا کر بیعت لے رہے تھے اور عورتوں سے زبانی بیعت لے رہے تھے۔ قریش کے لوگ آ کر اسلام قبول کرتے جا رہتے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرتے جا رہے تھے۔ انمیں حضرت امیر معاویہ بن ابو سفیان بھی تھے اور ان کے والد ابو سفیان بن حرب اور والدہ ہندہ بنت عتبہ بھی تھیں۔ مردوں سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور جہاد پر بیعت لی اور عورتوں سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر بیعت لی۔ عورتوں سے بیعت کی ایک روایت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے کا ایک کونہ پکڑتے تھے اور دوسرا کونہ بیعت لینے والی خاتون پکڑتی تھی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ پیالے میں اپنی انگلیاں ڈال کر نکال لیتے تھے۔ پھر بیعت لینے والی خاتون پیالے میں انگلیاں ڈال کر تر کر لیتی تھی اس طرح بیعت پختہ ہو جاتی تھی۔

فتح مکہ کے بعد دوسرا خطبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن خطبہ عام دیا۔ لگ بھگ تمام قریش اسلام قبول کر چکے تھے اور اس خطبے کے وقت کوئی مشرک نہیں تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس کھڑے ہوئے ا ور حرم کعبہ کے احکام و آداب کی تعلیم دی کہ حرم میں خون بہا نا، جانوروں کا شکار کرنا، درخت کاٹنا، اذخر گھاس کے سوا کوئی بھی گھاس کاٹنا حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گھڑی بھر کے لئے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو حرم ( مکہ مکرمہ) میں جنگ کرنے کی اجازت دی تھی ۔ پھر قیامت تک کے لئے حرم میں جنگ کرنا حرام کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر مکہ مکرمہ کو حرم بنا دیا ہے نہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے اس شہر میں خون ریزی حلال تھی اور نہ میرے بعد قیات تک کسی کے لئے حلال کی جائیگی ۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عزیٰ بت کو توڑ دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ میں تشریف فرما تھے۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر دے کر مقام نخلہ پر عزیٰ بت کو توڑنے کے لئے بھیجا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تیس سواروں کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اس وقت ماہِ رمضان المبارک کی پانچ راتیں باقی تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں پہنچ کر اس بت کو توڑ دیا اور واپس مکہ مکرمہ آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے وہاں کوئی چیز دیکھی؟ ‘‘ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ نہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ٍ تم نے پھر عزی کا بت نہیں توڑا ۔ دوبارہ جائو اور اسے توڑو۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ دوبارہ گئے اور اس بت کے نیچے ( تہہ خانے میں ) ایک بت تھا ( اوپر کا بت پہلے توڑا تھا) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے تلوار نکالی اور اس بت کو توڑنے لگے تو دیکھا کہ ایک کالی عورت جس کے بال بکھرے ہوئے اور وہ برہنہ تھی۔ وہ باہر نکلی اور چیخ رہی تھی اور اس کا پجاری بھی چیخ رہا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے تلوار مار کر اس کالی عورت کے دوٹکڑے کر دیئے اور بت کو توڑ ڈالا اور واپس آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام واقعہ بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں یہ عزیٰ تھی اور وہ اس بات سے مایوس ہو گئی تھی کہ اب اس شہر میں کبھی بھی اس کی پوجا نہیں ہوگی۔ ‘‘

حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے سواعِ بت توڑ دیا   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو قبیلہ ہذیل کے بت سواع کو توڑنے کے بھیجا ۔ یہ مکہ مکرمہ سے تین میل کے فاصلے پر ہے۔ انہیں بھی ماہِ رمضان المبارک میں بھیجا گیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں وہاں پہنچا تو مندر کے پجاری نے پوچھا : ’’ کس لئے آئے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بت کو توڑنے کے لئے بھیجا ہے۔‘‘ اس نے کہا: ’’ تم ایسا انہیں کر سکتے۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’ کیوں ؟ کون روکے گا مجھے ؟ ‘‘اس پجاری نے جواب دیا: ’’یہ بت روکے گا۔ ‘‘میں نے کہا: ’’تجھ پر افسوس ہے۔‘‘ اور آگے بڑھ کر بت کو توڑنے لگا۔ جب پورا بت ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو گیا تو میں نے اس پجاری سے کہا: ’’ تم نے دیکھ لیا کہ یہ بت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکا ۔‘‘ اس پجاری نے کہا: ’’ میں اللہ تعالیٰ کے لئے اسلام قبول کرتا ہوں۔‘‘

حضرت سعد بن زید اشہلی نے مناۃ بت توڑا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رمضان میں ہی حضرت سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ کو مناۃ بُت کوتوڑنے کیلئے بھیجا۔ یہ مثلل کے مقام پر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ بیس سواروں کے ساتھ وہاں پہنچے تو مندر کے پجاری نے کہا: ’’ کیا ارادہ ہے؟ ‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مناۃ کو توڑنے کے لئے بھیجا ہے۔‘‘ اس نے کہاـ: ’’ آپ کو اختیار ہے۔‘‘ حضرت سعد بن زید رضی اللہ عنہ بت کو توڑنے لگے تو ایک کالی بکھرے بالوں والی عورت نکلی۔ وہ کہہ رہی تھی ہائے خرابی اور سینہ پیٹ رہی تھی۔ حضرت سعد بن زید رضی اللہ عنہ نے تلوار کی ایک ضرب لگاکر اسے ہلاک کر دیا اور پھر بت کو توڑ دیا اور مکہ مکرمہ واپس آگئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں