اتوار، 2 جولائی، 2023

30 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


30 سیرت سید الانبیاء ﷺ

غزوۂ حنین

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

مشرکین کا چھپا ہوا لشکر، مسلمانوں پر اچانک حملہ، سید الانبیاء ﷺ کی ثابت قدمی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت، کافر کمانڈر کا قتل اور مسلمانوں کی فتح، سریہ اوطاس، سریہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ

غزوۂ حنین

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں ہی تشریف فرما تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ حُنین کے مقام پر قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف مل کر لشکر جمع کر رہے ہیں۔ حنین ذوالمجاز کے قریب ایک وادی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک چشمہ ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے تین راتوں کی مسافت کے فاصلے پر ہے اور طائف کے قریب ہے۔ اس غزوہ کو غزوۂ حنین کے علاوہ غزوۂ ہوازن بھی کہا جاتا ہے۔

غزوۂ حُنین کے اسباب مختلف قبائل کا اجتماع

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مسلسل کا میابیاں حاصل ہو رہی تھیں۔ یہ دیکھ کر عرب کے دوسرے قبائل چوکنے ہو گئے تھے اور ایک دوسرے کے اختلافات بھلا کر آپس میں راہ و رسم بڑھا رہے تھے۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ کی طرف دس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ روانہ ہوئے تو قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف ( طائف کا قبیلہ) مل کر تیاری کرنے لگے اور ان لوگوں نے یہ سمجھ لیاکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد ہم پر حملہ کریں گے۔ قبیلہ ہوازن کے مالک بن عوف کے پاس قبیلہ جثم ، قبیلہ بنو سعد بن بکر ، قبیلہ بنو ہلالی اور قبیلہ بنو ثقیف کے سرداران جمع ہوئے اور لشکر جمع کرنا شروع کیا۔ اس میںقبیلہ ہوازن کی شاخ کعب اور کلاب کے لوگ شامل نہیں ہوئے۔ جس وقت یہ لشکر اوطاس میں پہنچا تو ورید بن صمتہ نے ملاک بن عوف کو بہت سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ نہیں مانا اور لشکر لے کر آگے بڑھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ اور اس کے معاملات کی درستگی سے فارغ ہوئے اور قریش کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا تو قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف کے سرداران ایک دوسرے سے ملے اور مسلمانوں سے لڑنے کیلئے لشکر جمع کیا اور ان کاسپہ سالار مالک بن عوف نصری کو بنایا۔

سید الانبیاء ﷺ کے جاسوس

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو جب قبیلہ بنو ہوازن اور قبیلہ بنو ثقیف کے لشکر کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن ابی حدود اسلمی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تم جا کر ہواز ن اور ثقیف کے لشکر کی خبر لائو۔ آپ رضی اللہ عنہ دشمنوں کے لشکر میں گئے اور مکمل معلومات حاصل کر کے آئے اور تمام تفصیلات آکربتائیں ۔ اس دوران ایک شخص سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں فلاں پہاڑ پر چڑھا تو دیکھا کہ بنو ہوازن کا پورا قبیلہ جمع ہے اور ان کے ساتھ عورتیں بچے، مال و دولت اور نوجوان سب حنین میں جمع ہیں۔ ( در اصل قبیلہ ہوازن کا سردار مالک بن عوف لشکر کے ساتھ قبیلے کی عورتوںکو بھی لے آیا تھا۔ تا کہ لشکر کے جوان اپنی مائوں ، بہنوں اور بیویوں کی عزت بچانے کے لئے لڑیں) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لشکر تیار کرنے لگے تو کسی نے کہا: ’’ صفوان بن امیہ کے پاس زرہیں کافی تعداد میں ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ’’ وہ زرہیں اسلامی لشکر کے لئے دے۔ تا کہ وہ دشمن سے ان کے ذریعے جنگ کریں۔‘‘ صفوان بن امیہ نے اس وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اس نے کہا: ’’ آپ میرا مال ضبط کرنا چاہتے ہیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں !میں تم سے امانت کے طور پر مانگ رہا ہوں۔ جنگ ختم ہونے کے بعد تم کو واپس دے دیں گے۔‘‘ صفوان بن امیہ نے سو زرہیں تمام ہتھیاروں سمیت دیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ چار سو زرہیں تمام ہتھیاروں کے ساتھ دیں۔

اسلامی لشکر کی روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر تیار فرمایا۔ اس لشکر میں دس ہزار تو وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ مدینہ منورہ سے آئے تھے اور دو ہزار قریش میں سے تھے۔ جنہوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا تھا۔ ان کے علاوہ قریش کے 80کافر بھی ساتھ تھے۔ ( یعنی ابھی تک انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ان میں صفوان بن امیہ بھی تھا۔ مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتاب بن اُسید رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ نائب مقرر فرمایا اور شوال کی چھ تاریخ 8؁ ہجری کو حنین کے لئے روانہ ہوئے۔ دس شوال المکرم کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ حنین پہنچے۔

مشرکین کا چھپا ہوا لشکر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دس شوال المکرم کی صبح حنین پہنچے اس سے کئی دن پہلے سے قبیلہ ہوازن اور ثقیف کا لشکر حنین پہنچ گیا تھا۔ مشرکین کے لشکر کا سپہ سالار مالک بن عوف تھا اور اس کا مشیر خاص ایک بہت بزرگ عمر دراز درید بن صمہ تھا۔ اس نے مالک بن عوف سے کہا کہ اپنا لشکر میدان میں رکھنے کی بجائے آس پاس کے پہاڑوں اور گڑھوں میں چھپا دو اور تھوڑا سا لشکر میدان میں رکھو تا کہ مسلمان دھوکہ کھا جائیں۔ جب مسلمان تمہارے میدا ن والے لشکر کے مقابلے پر آئیں توتمہارا پہاڑوں اور گڑہیوں میں چھپا ہوا لشکر ان کے دائیں بائیں اور پیچھے سے حملہ آور ہو جائے گا اور اسی وقت تم میدان والے لشکر کے ساتھ آگے بڑھ کر مسلمانوں پر حملہ کر دینا اور اگر پہلا حملہ تم کرو گے تو مسلمانوں کو بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں ملے گا۔ کیوں کہ تمہارے ساتھی پیچھے سے نکل کر ان کا راستہ روک دیں گے اور اس طرح تمہارے پورے لشکر کا متحدہ حملہ مسلمانوں کو شکست دے گا۔ مالک بن عوف کے پاس 20ہزار کا لشکر تھا۔ اس نے پانچ ہزار کا لشکر میدانمیں رکھا اور پندرہ ہزار کا لشکر آپ پاس کی پہاڑیوں اور گھڑہیوں میں چھپا دیا اور مسلمانوں پر اچانک حملے کے لئے تیار ہو گئے۔

مسلمانوں پر اچانک حملہ

سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دس شوال 8 ؁ہجری کی صبح تڑکے وادیٔ حنین میں پہنچے ۔ میدان میں پانچ ہزار کا مشرکین کا لشکر نظر آرہا تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ جب ہم وادی حنین کے سامنے آئے تو تہامہ کی وادیوں میں سے ایک نہایت گہری وادی میں اترے۔ اتار اس قدر سیدھا تھا کہ ہم خود بخود بلا اختیار اس میں اترتے چلے گئے۔ یہ صبح تڑکے کا وقت تھا۔ دشمن ہم سے پہلے ہی اس وادی میں آکر اس کے پر پیچ و خم نشیبوں اور موڑوںمیں ہماری گھات لگائے بیٹھا ہوا تھا اور جنگ کے لئے پوری طرح مسلح ہتھیار لئے تیار بیٹھا تھا اور حملہ کے لئے آمادہ تھا۔ ہم بے خبر وادی میں اتر رہے تھے کہ اچانک دشمن کی فوجو ںنے اپنی کمین گاہوں سے بر آمد ہو کر ایک ساتھ ہم پر حملہ کر دیا۔ مسلمان ابھی پوری طرح پڑائو بھی نہیں ڈال سکے تھے اور صف بندی بھی نہیں کر سکے تھے۔ اس اچانک حملے سے مسلمان سراسیمگی کا شکار ہو گئے اور نئے نئے مسلمان ہوئے لوگ بھاگنے کی کوشش کرنے لگے ۔ لیکن بھاگنے کا راستہ بھی بند ہو چکا تھا۔

سید الانبیاء ﷺ کی ثابت قدمی

سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان ابھی پوری طرح وادی حنین میں اتر کر سکون کاسانس بھی نہیں لے پائے تھے کہ دشمنوں نے اچانک ہر طرف سے حملہ کر دیا۔ جس کی وجہ سے مسلمان افراتفری کا شکار ہو گئے۔ پوری وادی انسانوں سے بھر گئی اور جگہ اتنی کم ہو گئی کہ اونٹ پلٹانے کی جگہ بھی نہیں تھی۔ اب جو جہاں جس پوزیشن میں تھا وہیں اسے دشمن سے لڑنا پڑ رہا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت وادی کے داہنی سمت تھے اور خچر دلدل پر سوار تھے۔ دوزرہیں اور لوہے کی ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف چچا زاد بھائی حضرت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ تھے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری دلدل کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ تھے۔ اس افراتفری کے عالم میں بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ثابت قد م رہے اور لگاتار آگے بڑھتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو آگے بڑھاتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : ’’ میں اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، میں محمد بن عبداللہ ہوں، میں اللہ کا بندہ ہوں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔ اے مسلمانو!میں یہاں ہوں، میرے پاس آو ۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کے قریب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پکارا تو اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو سفیان بن حارث ، حضرت عباس بن عبدالمطلب، حضرت فضل بن عباس اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم بالکل قریب تھے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرا بنا لیا۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا اور اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کیوں کہ مجھے خوف تھا کہ کہیں دشمن کے درمیان نہ پہنچ جائیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دشمن کی جانب پیش قدمی کئے جا رہے تھے اور حضڑت ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سواری کی رکاب تھامے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پکارا تو قریب کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو آگئے لیکن جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو ر تھے اُن تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں پہنچ سکی۔ میری آواز بہت بھاری ہے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’چچا جان! آپ آواز لگائیں۔‘‘ میں نے زور سے آواز لگائی تو تمام اسلامی لشکر نے سنا اور چونک کر جواب دیا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلانے کے لئے آواز لگانے کے لئے فرمایا۔ اچانک دشمن کے حملے کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو صفیں مرتب کرنے کا موقع بھی نہیں ملا ۔ بلکہ جو جہاں تھا وہیں وہ اپنے سامنے والے دشمن سے بھڑ گیا اور دست بدست جنگ چل رہی تھی۔ اچانک حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی گونج دار آواز وادی ٔ حنین میں گونجی: ’’ اے گروہ ِ انصار! تمام انصار صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: ’’ لبیک ‘‘( ہم حاضر ہیں) حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی آواز پھر گونجی : ’’ اے بیعت ِ رضوان والو! اے سورہ بقرہ والو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہیں۔‘‘ اب حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مسلسل پکار رہے تھے اور ان کی آواز مسلسل گونج رہی تھی۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کی آواز سن کر اس طرف متوجہ ہوئے اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔ جیسے ایک ماں اپنے بچے کی طرف تیزی سے دوڑتی ہے۔ ہر صحابی رضی اللہ عنہ کی زبان پر یہی تھا۔’’ لبیک لبیک‘‘ ( ہم حاضر ہیں ، ہم حاضر ہیں) تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے۔ جگہ کی کمی کی وجہ سے جو صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے اونٹوں کو نہیں موڑ سکتے تھے تو وہ اس سے کود کر نیچے اترے اور بھاگتے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے جو صحابی رضی اللہ عنہم پہونچ جاتے تھے ۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد گھیرے میں شامل ہوجاتے تھے۔ بہت کم وقت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دشمن کا گھیرا توڑ کر سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہونچ گئے اور تیزی سے صفیں لگا لیں ۔ اب دونوں دشمن آمنے سامنے تھے اور مسلمان اچانک حملے سے تھوڑا سا نقصان اٹھا کر سنبھل چکے تھے۔

اب جنگ شباب پر آئی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صفیں لگا لیں۔ غزوئہ حنین پر روانہ ہونے سے پہلے کچھ لوگوں نے اتنے بڑے لشکر پر فخر کا اظہار کیا تھا۔ جسے سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھا محسوس نہیں ہوا تھا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ توبہ کی آیت نمبر 25؎ میں فرمایا :ترجمہ ’’ اور حنین کے دن جب تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے تو وہ (کثرت ) تمھارے کچھ کام نہیں آئی اور زمین اتنی وسیع ہوکر بھی تم پر اتنی تنگ ہوگئی تھی کہ تم پیٹھ دکھا کر پھیرنے لگے۔‘‘ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صفیں لگالیں تو سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اب حملہ کرو اور ہمت سے کام لو۔ ‘‘ حکم سنتے ہی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دشمنوں پر ٹوٹ پڑے اور انھیں کاٹنے اور قتل کرنے لگے اور دشمنوں پر برا وقت آگیا اور وہ گھبراہٹ کا شکار ہونے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اب تنور گرم ہوگیا ہے۔‘‘ (تنور میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ اور جب وہ خوب اچھا گرم ہوتا ہے تو روٹیاں جلدی جلدی اور اچھی پکتی ہیں۔) یعنی اب جنگ اپنے شباب پر آئی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کنکریاں یا مٹی اٹھائی۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وہ صحرائی علاقہ تھا اور وہاں ریت تھی۔ جسے ہم بالو کہتے ہیں۔ اسلئے وہ کنکریاں بھی تھیں اور بالو بھی تھی) اور دشمنوںکی طرف پھینکی۔

شاہت الوجوہ -چہرے بگڑ جائیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مٹھی کنکر یا مٹی اٹھا کر دشمنوں کے لشکر پر پھینکی اور فرمایا:’’ شاہۃ الوجوہ ۔ ‘‘(چہرے بگڑ جائیں ) کافروں کے لشکر کے ہر کافر کی آنکھوں میں وہ کنکر یا مٹی گھس گئی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مدد تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر کافر کی آنکھوں میں اس کنکر یا مٹی کو ڈال دیا۔ حضرت ابو عبدالرحمن فہری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب مسلمان ( اچانک حملے کی وجہ سے ) پیٹھ پھیر گئے جیسا کہ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اس کے بعد ( جب تمام صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔‘‘ اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور ایک مٹھی مٹی اٹھائی اور کافروں کے مونہوں پر ماری اور فرمایا: ’’ شاہۃ الوجوہ‘‘ چہرے بگڑ جائیں ۔ اسی کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خچر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک طرف جھک گیا تو اس کی زین بھی ایک طرف ہو گئی۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلندی عطا فرمائے، اوپر ہو جائیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجھے ایک مٹھی مٹی دو۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی کافروں کے مونہوں پر دے ماری تو تمام کافروں کی آنکھوں میں وہ مٹی بھر گئی اور مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسلسل اپنی تلواروں سے وار کر رہے تھے۔ ( اور وہ اس طرح بار بار چمک رہی تھیں) گویا وہ ( تلواریں) شہابِ ثاقب ہیں۔ پس مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔‘‘

کافر کمانڈر کا قتل اور مسلمانوں کی فتح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری یا مٹی کافروں کی طرف پھینکی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ اب حملہ کرو۔‘‘ اسی دوران کافروں کی صفوں کے آگے سرخ اونٹ پر سوار ایک شخص تھا۔ اس کے ہاتھ میں سیاہ ( کالا) جھنڈا تھا۔ یہ جھنڈا اس نے ایک بہت لمبے نیزے میں باندھا ہواتھا۔ بنو ہوازن کے لوگ اس کے پیچھے تھے۔ اگر کوئی مسلمان اس کی زد میں آجاتا تھا تو وہ اسے نیزہ مار کر شہید کر دیتا تھااور اگر وہ نیزے کی زد سے بچ جاتا تو وہ اپنے پیچھے والوں کے لئے نیزہ اٹھا کر اشارہ کر تاتھا اور وہ لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ ( اور اس سرخ اونٹ والے کے پیچھے پیچھے رہتے) یہ شخص اسی طرح حملے کرتا پھر رہا تھا کہ اچانک حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور دونوں ایک ساتھ آگے بڑھے اور اس سرخ اونٹ والے پر حملہ کر دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وار کیا تو اس کا اونٹ الٹے منہ گر گیا۔ ( اور وہ شخص بھی اونٹ سے نیچے گر پڑا) اسی وقت انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے اس پر چھلانگ لگائی اور ایسا سخت وار کیا کہ اسکی ٹانگ آدھی پنڈلی سے کٹ گئی۔ اسی وقت مسلمانوں ے ایک ساتھ کافروں پر حملہ کر دیا اور یہ حملہ اتنا سخت تھا کہ کافروں کے پیر اکھڑ گئے اور وہ بھاگنے لگے تو مسلمان ان کا پیچھا کر کے انہیں قتل کرنے لگے۔حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ غزوہ حنین میں،میں نے ایک مسلمان اور ایک مشرک کو لڑتے ہوئے دیکھا۔ اچانک اس مشرک نے ایک دوسرے مشرک کو مدد کے لئے بلایا تا کہ دونوں مل کر مسلمان کو شہید کر دیں۔ میں نے یہ صورتِ حال دیکھی تو فوراً اس مسلمان کی مدد کو پہنچ گیا اور جاتے ہی اس مشرک کے ہاتھ پر تلوار ماری تو اس کا ہاتھ کٹ کر گر گیا۔ اس مشرک نے فوراً دوسرا ہاتھ میری گردن میں ڈال کر میری گردن دبانے لگا۔ میرا دم گھٹنے لگا۔ میں بھر پور کوشش کی لیکن اس کے ہاتھ سے اپنی گردن کو نہیں چھڑا سکا۔ آخر کار خون زیادہ نکلنے کی وجہ سے وہ بے دم ہو کر گر پڑا تو میری گردن اس کے ہاتھ سے آزاد ہوئی تو میں نے اسے قتل کر دیا۔‘‘

فتح کے بعد لشکر کا جائزہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اتنا زبردست حملہ کیا کہ کافروں کے پیر اکھڑ گئے اور وہ بھاگ پڑے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان کا تعاقب کر کے انہیں قتل کرنے لگے۔ کافروں کا پیچھا مسلمانوں نے وادی حنین کے باہر تک کیا۔ جو پیدل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے وہ فتح حاصل ہونے کے بعد وادی حنین میں ہی رک گئے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے۔ انہوں نے کافروں کا تعاقب کر کے انہیں قتل کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم زخمی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جائزہ لے رہے تھے۔ حضرت عائد بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ غزوہ حنین میں ایک تیر میر ی پیشانی پر آکر لگا اور میرے چہرے اور سینے پر خون بہنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری پیشانی( چہرے ) اور سینے سے پیٹ تک پھیرا۔ جس کی وجہ سے اسی وقت خون بند ہو گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے دعا فرمائی۔ اسی طرح غزوہ حنین میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی زخمی ہو گئے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے غزوہ حنین میں کافروں کو شکست دے دی اور مسلمان ان کا پیچھا کر کے قتل کر نے لگے اور گرفتار کرنے لگے۔ جب ہم لوگ پڑائو میں واپس آئے تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے درمیان گھوم رہے تھے اور فرما رہے تھے : ’’ کوئی ہے جو مجھے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے تک پہنچا دے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں پہنچا دیا گیا۔ ( میں بھی ساتھ میں تھا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کجاوے کے پچھلے حصے سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں اور شدید زخمی ہیں اور زخموں کی وجہ سے بے حد کمزور ہو گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے زخموں پر اپنا لعاب دہن لگا دیا۔ جس کی وجہ سے زخم اچھے ہو گئے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پھر سے طاقت محسوس کرنے لگے اور اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ( سیرت حلبیہ )

مالِ غنیمت اور قیدیوں کی روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل زخمیوں کے درمیان گھوم رہے تھے اور ان کا علاج کر رہے تھے کیوں کہ اس جنگ میں شہید تو بہت کم مسلمان ہوئے تھے ( ایک روایت کے مطابق صرف چار مسلمان شہید ہوئے تھے) لیکن زخمی بہت زیادہ ہوئے تھے۔ جب کہ کافروں کو شکست ہوئی اور ستر70کافر شہید ہوئے تھے۔ جب کہ قیدی بے شمار ہاتھ لگے۔ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بے شمار لوگوں کو گرفتار کیا۔ ان میں عورتوں اور بچوں کی تعداد زیادہ تھی۔ کیوں کہ قبیلہ بنو ہواز ن والے اپنے بیوی بچوں سمیت جنگ کرنے آئے تھے اور جب شکست ہوئی تو انہیں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان میں سے بہت سے طائف بھاگ گئے۔ ان کے ساتھ ان کا سپہ سالار مالک بن عوف بھی تھا اور بہت سے اوطاس بھاگ گئے اور بہت سے نخلہ بھاگ گئے۔ ان میں قبیلہ بنو ثقیف کے لوگ تھے۔ مالِ غنیمت میں ہتھیاروں اور زرہوں کے علاوہ بے شمار اونٹ ، بھیڑیں، اور بکریاں ملیں۔ قیدیوں کی تعداد چھ ہزار تھی ، چوبیس ہزار اونٹ تھے۔ چالیس ہزار بکریاں تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قیدیوں اور تمام مالِ غنیمت کو جعرانہ کے مقام پر بھیج دیا۔ تما م قیدی اور مال غنیمت اس وقت تک جعرانہ کے مقام پر رکھے گئے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ فائف سے فارغ ہو کر نہیں آگئے۔ وہاں سے واپس آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کی تقسیم فرمائی۔ قیدیوں میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن شیما بھی تھی۔ ( شیما کا ذکر،’سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن‘ نام کی کتاب میں آیا ہے)یہ شیما قبیلہ بنو سعد کی دائی حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں۔

سریہ اوطاس

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وادیٔ حنین میں ہی تشریف فرما تھے۔ تمام قیدیوں اور مال غنیمت کو مقامِ جعرانہ پر بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ان کافروں کی طرف مسلمانوں کا لشکر بھیجا جو اوطاس کی طرف بھاگ گئے تھے۔ حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ مشہور صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے چچا ہیں۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ چچا نہیں ہیں۔ بلکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ اوطاس ایک وادی ہے۔ جو ہوازن کے قریب ہے۔ حضرت ابو عامررضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اوطاس میں پہنچے تو بھگوڑے کا فرو وہاں جمع تھے۔ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی لیکن ان لوگوں نے اسلام قبول کر نے کی بجائے جنگ کرنا قبول کیا۔ قاعدے کے مطابق جنگ کی شروعات میں انفرادی مقابلے کے لئے حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ ایک شخص مقابلے کے لئے آیا۔ اسے آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی دعوت دی۔ جواب میں اس نے تلوار سے حملہ کیا۔ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے اللہ تو گواہ رہنااور ایک ہی وار میں اس کی گردن اڑا دی۔ پھر اس کا دوسر ابھائی آیا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک لگاتار نو بھائی آئے اور ہر ایک کو آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی دعوت دی اور ہر بار فرماتے تھے: ’’ اے اللہ ! تو گواہ رہنا۔‘‘ جب دسواں بھائی آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے بھی اسلام کی دعوت دی اور فرمایا: ’’ اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ ‘‘ اس نے جواب میں کہا: ’’ اے اللہ! تو مجھ پر گواہ نہ ہونا۔ ‘‘یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ رک گئے اور وہ بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے اسلام قبول کیا اور ایک اچھا مسلمان ثابت ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی اسے دیکھتے تو فرماتے تھے: ’’ یہ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ کا بھگایا ہوا ہے۔‘‘ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ کو حارث کے دو بیٹوں علاء اور اوفی نے اسی دوران دھوکے سے تیر مارا۔ ایک کا تیر دل میں جا کر لگا اور دوسرے کا گھٹنے میں لگا۔ حضرت ابو عامر اشعری رضی اللہ عنہ نے شہید ہونے سے پہلے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو اپنی جگہ سپہ سالار بنا دیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اتنی تیزی سے حملہ کیا کہ کافروں نے گھبرا کر ہتھیار ڈال دیئے اور مسلمانوں کو فتح ہوئی او ر سب کو گرفتار کر کے لے آئے۔

سریہ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی حنین سے ہی حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر دے کر ذو الکفین کا بت جلانے کے لئے بھیجا ۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ آپ کو یاد ہو ں گے۔ انہوں نے کافروں کے بہکاوے میں آکر کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی آیات انہیں سنوادی تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور برسوں اپنے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دیتے رہے اور غزوہ ٔ خیبر میں اپنے قبیلے کے مسلمانوں کو لے کر حاضر ہوئے تھے۔ ان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جن سے سب سے زیادہ احادیث مروی ہیں۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ذوالکفین کا بت جلانے کے لئے بھیجنے لگے تو فرمایا : ’’ ہم لوگ طائف کی طرف روانہ ہو رہے ہیں اور تم اس بت کو تباہ کر کے ہم سے طائف میں آکر ملو۔‘‘ حضرت طفیل بن عمر ودوسی رضی اللہ عنہ تیزی سے ذو الکفین کا بت تباہ کرنے کے لئے روانہ ہوئے۔ یہ لکڑی کا ایک بت تھا اور بنو عمر و بن جحمہ کا بت تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس بت کو گرا دیا اور اس کے منہ میں آگ ڈالتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : ’’ اے ذوالکفین !میں تیرے پجاریوں میں سے نہیں ہوںاور ہماری ( انسانوں کی ) پیدائش تیری بناوٹ سے پہلے سے ہے اور میں نے تیرے دل میں آگ بھر دی ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے چار سو افراد کے ساتھ تیزی سے روانہ ہوئے اور طائف میں آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار دن پہلے ہی طائف پہنچ چکے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

31 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


31 سیرت سید الانبیاء ﷺ

غزوۂ طائف اور جعرانہ میں انصار سے خطاب

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

 جعرانہ میں مال غنیمت کی تقسیم، مال غنیمت کی تقسیم اور تالیف قلب، انصار پر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احسانات، لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے جاؤ، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، میں انصار کے ساتھ چلنا پسند کروں گا

غزوہ ٔ طائف

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین میں فتح حاصل ہونے کے بعد طائف کی طرف روانہ ہوئے۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حنین میں بنو ثقیف کے شکست خوردہ لوگوں نے وہاں سے طائف کا رخ کیا اور اس شہر میں گویا اپنے نزدیک مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیا۔ انہوں نیوہاں ایسے اسلحہ جنگ بھی تیار کر لئے جن کے متعلق عروہ بن مسعود اور غیلان بن سلمہ کہتے ہیں کہ اس سے قبل حنین یا طائف میں ان کی نظر سے نہیں گزرے۔ مثلاً منجنیق ، دبابے اور قلعہ کی دیواروں تک پہنچنے کے آلات وغیرہ ۔ ( منجنیق ایک بہت بڑی غلیل کی طرح ہوتا ہے جس میں بڑے بڑے پتھر ڈال کر پھینکا جاتا تھا۔ جس سے قلعہ کی دیوار ٹوٹ جاتی تھی اور دبابہ یوں سمجھ لیں آج کے زمانے کا ٹینک تھا۔ اس کے اندر کئی آدمی اسے اٹھا کر قلعے کی دیوار تک لاتے تھے اور دیوار توڑتے تھے) بنو ثقیف کی طائف میں ان تیاریوں کا حال سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اور دوسرے مجاہدین کو ساتھ لے کر طائف کی طرف روانہ ہو ئے۔

طائف کی طرف روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف روانہ ہوئے۔ محمد بن اسحاق آگے لکھتے ہیں کہ حنین سے طائف کی طرف سفر کرتے ہہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نخلہ یمانیہ پہنچے ۔ وہاں سے آگے قرن پہنچے پھر ملیح اور پھر وہاں سے آگے بڑھ کر لیحہ کے بحر الرغا میں قیام فرمایا۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد کی بنیاد ڈال کر وہیں نماز ادا فرمائی اور وہیں قتل کے ایک مقدمہ کا فیصلہ فرمایا ۔ ہوا یہ تھا کہ بنو لیث کے ایک شخص نے بنو ہذیل کے ایک شخص کا قتل کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل کے قتل کا حکم دیا۔ اس کے آگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیقہ کے راستے پر آگے چلے۔ اور پھر لخب سے آگے بڑھ کر ایک درخت کے سایہ میں قیام فرمایا۔ جسے صادرہ کہا جاتا ہے۔ یہ درخت اور آس پاس کی زمین بنو ثقیف کے ایک شخص کی تھی۔

قوم ثمود کا ایک شخص

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ طائف کی طرف سفر فرما رہے تھے کہ راستے میں ایک قبر کے پاس گزرے۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’جب ہم حنین سے طائف کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے تو راستے میں ایک ایسی جگہ سے گزرے جہاں کسی کی قبر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: ’’ یہ قبر بنو ثقیف کے ایک شخص ابو رغال کی ہے جو پہلے قوم ثمود کے ساتھ رہتا تھا۔ جب قوم ثمود پر اللہ کا عذاب آیا تھا تو وہ بھاگ کر مکہ مکرمہ میں آگیا تھا اور یہیں اپنے قیام گاہ تعمیر کر لی تھی۔ ‘‘علامہ علی بن برہان الدین حلبی لکھتے ہیں ( طائف کے سفر کے دوران) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ قبر ابو رغال کی ہے۔ یہ ابو رغال ثقیف کا باپ تھا اور حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود میں سے تھا۔ یہ شخص بھی آسمانی عذاب میں گرفتار ہو گیا تھاجو اس کی قوم ثمو د کے اوپر آیا تھا او ریہیں ہلاک ہو کر دفن ہو گیا۔ اس آسمانی عذاب کے وقت یہ شخص حرم میں یعنی مکہ مکرمہ میں گیا ہوا تھا۔ اس لئے عذاب سے محفوظ رہا۔ مگر جیسے ہی یہ شخص حرم سے نکل کر آیا تو یہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہو اور اسے یہاں موت آئی تو یہیں دفن کر دیا گیا۔ ‘‘

طائف کا محاصرہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کی روانگی کے وقت حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالار ی میں ایک دستے کو آگے روانہ فرما دیا تھا۔ یہ سو گھوڑے سواروں کا دستہ تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لشکر کے ہر اول دستے’’مقدمۃ الجیش‘‘ کے طور پر بھیجا تھا۔ طائف خود ایک بہت ہی محفوظ شہر تھا۔ جس کے چاروں طرف شہر پناہ ( فصیل ) کی دیوار بنی ہوئی تھی اور یہاں ایک مضبوط قلعہ بھی تھا۔ یہاں کا سردار عمرو بن مسعود ثقفی تھا جو ابو سفیان کا داماد تھا۔ کافروں کی تمام فوجیں سال بھر کا راشن لے کر طائف میں پناہ گزیں ہو گئی تھیں۔ اسلامی افواج نے طائف پہنچ کر شہر کا محاصرہ کر لیا۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی للکار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کر لیا۔ جب مسلمان فصیل کے قریب جانے کی کوشش کرتے تو ان پر فصیل کے اوپر سے تیروں کی بارش کی جاتی اور مسلمانو ں کو پیچھے ہٹنا پڑتا تھا۔ اسی دوران ایک دن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر سے آگے بڑھے اور بلند آواز سے دشمنوں کو للکارا: ’’ کوئی ہے جو میرے مقابلے پر آئے۔‘‘ مگر وہاں سے کوئی نہیں آیا۔ دشمن کے سپاہی قلعہ بند ہو کر بیٹھے رہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی للکار کے جواب میں فصیل کے اوپر عبد یا لیل آیا اور بولا : ’’ہم میں سے کوئی بھی شخص قلعہ سے اتر کر تمہارے پاس نہیں آئے گا ۔ ہم قلعہ بند رہیں گے۔ ہمارے اتنا زیادہ رسد ( کھانے پینے کا سامان) ہے جو ہمارے لئے برسوں کافی ہو سکتا ہے۔ اس لئے اگر تم لوگ اتنے دنوں تک ٹھہر سکو کہ ہماری رسد اور کھانے پینے کا سامان ختم ہو جائے تو ضرور ہم اپنی تلوار یں سنبھال کر نکل آئیں گے اور اس وقت تک لڑیں گے جب تک ہمارا آخری آدمی بھی ختم نہ ہو جائے۔

منجنیق اور دبابے کا استعمال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے محاصرے کے دوران اس جگہ اپنا خیمہ لگوایا جہاں آج ’’مسجد طائف‘‘ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس غزوے میں دو ام المومنین رضی اللہ عنہا ساتھ تھیں۔ ایک اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا تھی اور دوسری اُم المومنین سید زینب رضی اللہ عنہا تھیں۔ ان دونوں کے لئے دو خیمے نصب کئے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم محاصرے کے دوران دونوں خیموں کے درمیان نماز ادا کرتے تھے۔ بعد میں جب طائف کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو اسی جگہ مسجد بنائی جو’’ مسجد طائف ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔ محاصرے کے دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار منجنیق کا استعمال فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ منجنیق حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ ذو الکفین کے بت کو جلانے کے بعد لے کر آئے تھے ۔دوسری روایت میں ہے کہ غزوہ خیبر کے دوران جو منجنیق مالِ غنیمت کے طور پر ملی تھی اس کا استعمال کیا۔ تیسری روایت میں ہے کہ یہ منجنیق حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بنائی تھی۔ اس کے علاوہ غزوہ طائف میں دبابوں کا استعمال بھی کیا گیا۔ دبابہ لکڑی پر چمڑے کا بنایا ہو ا گھر ہوتا تھا اور کبھی کبھی لوہے کی چادر بھی چڑھا دی جاتی تھی۔ اس میں نیچے پہیئے لگے ہوتے تھے اور اس میں بیس سے لے کر پچاس آدمی آتے تھے۔ جو دبابے کو کھینچ کر قلعے کی دیوار تک لے جاتے تھے اور دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتے تھے) جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دو دبابوں میں داخل ہو کر فصیل تک پہنچے۔ تو بنو ثقیف نے اوپر سے ان پر گرم گرم جلتی ہوئی لوہے کی سلاخیں پھینکی مجبوراً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دبابوں سے نکلنا پڑا۔ ان کے نکلتے ہی اوپر سے تیروں کی بارش کر دی گئی۔ جس کی وجہ سے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے۔

اللہ کے لئے آزاد کر دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرے کے دوران اعلان کیا کہ جو غلام قلعہ سے اتر کر ہمارے پاس آجائے گاوہ ( اللہ کے لئے ) آزاد کر دیا جائے گا۔ یہ اعلان سن کر 23آدمی قلعہ سے نکل کر مسلمانوں سے آکر ملے۔ ان میں حضرت ابو بکر ہ رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ وہ قلعہ کی دیوار پر سے ایک چرخی یا گراری کی مدد سے لٹک کر نیچے آئے تھے۔ عربی میں چرخی یا گراری( جس سے کنویں سے پانی کھینچا جاتا ہے) کو ’’بکرہ ‘‘کہا جاتا ہے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابو بکرہ رکھ دی اور حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے اس لقب سے اتنی خوشی ہوتی تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو ہمیشہ اسی لقب سے کہلوانا پسند کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو آزاد کر دیا اور ہر ایک کو ایک مسلمان کے حوالے کیا کہ وہ مسلمان اس کی مدد کرے۔ اس سے طائف والوں کو بہت صدمہ ہوا۔ بعد میں جب بنو ثقیف نے اسلام قبول کیا تو ان غلاموں کو واپس مانگا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس دینے سے منع فرما دیا۔ اب یہ تو اللہ کے لئے آزاد ہو چکے ہیں۔

غزوہ طائف سے واپسی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ اٹھارہ یا بیس روز طائف کا محاصرہ جاری رکھا۔ صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محاصرہ چالیس دن تک جاری رہا۔ لیکن اکثر سیرت لکھنے والوں نے بیس دن کے محاصرے کا ذکر کیا ہے۔ بعض نے دس دن بتائی۔ بعض نے پندرہ دن بتائی اور بعض نے اٹھارہ دن بتائی۔ جب محاصرہ لمبی مدت تک کھنچ گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت نوفل بن معاویہ ویلمی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، لومڑی اپنے بھٹ میں گھس گئی ہے۔ اگر کوشش جاری رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم محاصرے پر ڈٹے رہے تو پکڑ لیں گے اور اگر اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر چلے گئے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ ختم کر نے کا فیصلہ کیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اسلامی لشکر میں واپسی کا اعلان کر دیں۔ انہوں نے واپسی کا اعلان کیا تو کچھ نوجوان جو شیلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اصرار کیا کہ ہم کوشش کر کے فتح حاصل کریں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: ’’ ٹھیک ہے کل صبح کوشش کر لینا۔‘‘ دوسرے دن مسلمانوں نے حملہ کیا اور بہت خوں ریز مقابلہ ہوا اور اس مقابلے میں بہت سے مسلمان زخمی ہوئے لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ شام کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ انشاء اللہ کل ہم واپس جائیں گے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ سن کر خوش ہو گئے۔ ( اور وہ جو شیلے نوجوان صحابہ رضی اللہ عنہم بھی واپسی کی تیاری کرنے لگے) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو واپسی کی تیاری کرتے دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔

جعرانہ کی طرف روانگی   

غزوہ ٔطائف میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کافی دنوں تک طائف کا محاصرہ جاریرکھا۔اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو واپسی کا حکم دیا۔کیو نکہ طائف کی شہر پناہ (فصیل)کے اندر اتنا زیادہ رسد اور کھانے پینے کا سامان تھا کہ طائف والے ایک سال تک آرام سے اسکو استعمال کر سکتے۔یعنی اگر ایک سال تک طائف کا محاصرہ جاری رکھا جاتا تھا۔تب بھی طائف والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی کا حکم دیا اور اسلامی لشکر طائف سے جعرانہ کی طرف روانہ ہوئے۔جہاں مالِ غنیمت جمع تھا۔ غزؤہ طائف میں بارہ مسلمان شہید ہوئے تھے۔ ان میں سات قریشی تھے۔ ایک بنو لیث کے اورچار انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔طائف سے روانگی کے وقت سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ اسکاوعدہ سچا ہے۔اس نے اپنے (رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم) کی مدد فرمائی اور اس اکیلے نے (یعنی اللہ تعا لیٰ نے)تما م کا فروں کے لشکر کو شکست دی۔‘‘اس کے بعد جب روانہ ہو کر آگے بڑھے تو فرمایا: ’’ہم لوٹنے والے ہیں،تو بہ کر نے والے ہیں اوراپنے رب (اللہ تعالیٰ) کی عبادت کرنے والے ہیںاور اس کی تعر یفیں بیان کر نے والے ہیں۔‘‘ راستے میں کچھ لوگوں نے سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم !طا ئف کے بنو ثقیف کے لیے بد دعا فر مائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک اٹھا ئے اور فرمایا: ’’اے اللہ بنو ثقیف کے لوگوں کو ہدا یت عطا فرما اور انھیں اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمااور انیھیںہما رے پاس بھیج دے۔‘‘

جعرانہ میں مال غنیمت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ طائف سے واپس جعرانہ میں تشریف لائے ۔ کیونکہ غزوئہ حنین میں بے شمار مال و دولت اور قیدی حاصل ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمام مال غنیمت ان میں 6چھ ہزار قیدی تھے۔ اونٹ 24چوبیس ہزار تھے ۔ بکریاں اور بھیڑیں چالیس 40ہزار سے زیادہ تھیں اور لگ بھگ چار ہزار اوقیہ چاندی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ دس دنوں تک بنو ہوازن کا انتظار فرمایا۔ اسکے بعد قیدیوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔

قیدیوں میں رضاعی بہن شیما

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دس دنوں تک قبیلہ بنو ہوازن کے لوگوں کا انتظار کرنے کے بعد قیدیوں کو حاضر کرنے کا حکم دیا۔ تمام قیدی حاضر کئے گئے۔ ان قیدیو ں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن شیما بھی تھی۔ ( شیما کے بارے میں جاننے کیلئے ہماری کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن پڑھیں) انھوں نے آگے بڑھ کر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ میں تمھاری رضاعی ( دودھ شریک ) بہن شیما ہوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو سعد بن بکر کی سیدہ حلیمہ سعدیہ کا دودھ پیا تھا اور بچپن قبیلہ بنو سعد ہی میں گذرا تھا۔ اس وقت شیما اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گود میں لیتی تھیں اور پیٹھ پر لاد کر بھی چلتی تھیں۔ جب انھو ں نے آگے بڑھ کر عرض کیا کہ میں تمھاری رضاعی بہن شیما ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہچان نہیں سکے ۔ کیونکہ ان کی شکل لگ بھگ بدل چکی تھی۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ’’ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ تم ہی شیما ہو؟‘‘

سید ہ شیما رضی اللہ عنہا کا قبول اسلام    

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ شیما رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ تم ہی میری رضاعی بہن شیما ہو تو انھوں نے بتایا کہ بچپن میں ایک مرتبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پیٹھ پر لاد کر لے جارہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیٹھ پر دانت کاٹ لیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کیا کہ یہ بات صرف میری رضاعی بہن شیما اور میں ہی جانتے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے دانت کاٹنے کے نشان بتائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی عزت و تکریم کیلئے فوراً اپنی چادر بچھا دی اور بیٹھنے کیلئے فرمایا۔ کچھ دیر تک دونوں بھائی بہن باتیں کرتے رہے پھر سیدہ شیماہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کرلیا۔ اسکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے میری پیاری بہن !اگر تم میرے رہنا چاہو گی تو میں بہت محبت اور عزت سے تم کو رکھوں گا اور اگر گھر جانا چاہتی ہو تو تمھیں واپس بھیجنے کا بندوبست کردوں گا۔ انھوں نے کہا بھائی میں گھر واپس جانا چاہتی ہوں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حفاظت سے گھر بھیجنے کا انتظام فرمایا اور کچھ اونٹ اور بکریاں اور تین غلام اور ایک کنیز بھی عطا فرمائی ۔ تاریخ طبری میں ایک غلام اور ایک کنیز کا ذکر ہے۔

مالِ غنیمت کی تقسیم کرنے پر اصرار

سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم اس انتظار میں تھے کہ ہوسکتا ہے کہ قبیلہ بنو ہوازن کے جو لوگ غزوئہ حنین میں شکست کھاکر بھاگے تھے۔ وہ واپس آئیں کیونکہ ان کی بیوی بچے مسلمانوں کی قید میں تھے۔ لیکن لگ بھگ دس دن انتظار کرنے کے باوجود قبیلہ بنو ہوازن کے لوگ نہیں آئے۔ ادھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو نو مسلم (نئے مسلمان) اور اعرابی (دیہاتی) تھے۔ ان کا اصرار بڑھتا جارہا تھا کہ مال غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم کی جائے۔ ایک دن اُن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا اور مالِ غنیمت کی تقسیم پر اصرار کرنے لگے اور دبائو ڈالنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں سمجھاتے ہوئے پیچھے ہٹتے جارہے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مباک ایک جھاڑی میں الجھ کر چھوٹ گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے لوگو! میری چادر تو مجھے دے دو۔ اللہ کی قسم! اگر میرے پاس اتنے اونٹ بھی ہوں گے ۔ جتنے تہامہ میں درخت ہیں تو میں ان سب کو تم میں تقسیم کر دوں گااور تم مجھے بخیل ،بز دل اور جھو ٹا نہیں پاو گے۔‘‘اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس آئے ـاور اسکے کو ہا ن میں سے ایک مٹھی بال پکڑ ے اور فر مایا: ’’ اے لو گو!تمھا ر ی غنیمت میں سے یہ بال میرا پانچواں حصہ ہے۔میں وہ بھی تم لوگوں پر خر چ کر تا ہوں۔‘‘(یعنی سارااونٹ اگر مالــ غنیمت ہے تو جتنے بال مٹھی میں ہیں و ہی سیدالانبیا ء کا حصہ ہے۔یعنی خمس ہے۔)قا عدہ یہ تھا کہ مال غنیمت کے پانچ حصے کیے جا تے تھے ۔چار حصے مجا ہدوں میں بانٹ دئے جا تے تھے اور خمس یعنی پانچواں حصہ’’ بیت المال‘‘ میں جمع کر دیا جاتا تھا۔سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفئہ اول حضر ت ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ کے ز مانے میں خمس یعنی پانچواں حصہ بھی تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ لیکن خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میںاتنا زیادہ مال غنیمت آیا کہ تمام مسلما نوں کو دیکر بھی بچ جاتا تھاتو انھوں نے بیت المال قائم کر دیا۔

مال غنیمت کی تقسیم اور تالیف قلب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد مال غنیمت کی تقسیم فرمانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نئے اسلام قبول کرنے والوں اور جنگ میں شریک ساتھی قبائل کو بہت زیادہ مال غنیمت عطا فرمایا اور جلیل القدر مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کونہیں عطا فرمایا۔ نئے مسلمان اور دوسروں کو’’ تالیف قلب ‘‘کے لئے عطا فرمایا۔ ابو سفیان بن حرب کو سو اونٹ اور چالیس اوقیہ چاندی عطا فرمایا۔ ابو سفیان بن حرب نے کہا : ’’ میرے بیٹے یزید بن ابو سفیان کو بھی کچھ عطا فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی سو اونٹ اور چالیس اوقیہ چاندی عطا فرمائی پھر ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ میرا دوسرا بیٹا معاویہ بن ابو سفیان بھی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ بن ابو سفیان کو بھی سو اونٹ اور چالیس اوقیہ چاندی عطا فرمائی۔ اس کے بعد ابو سفیان بن حرب نے کہا: ’’ یا رسول اللہ !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ اورامن( یعنی دشمنی اور دوستی) دونوں حالتوںمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم شریف ہیں۔‘‘ اسی طرح حکیم بن حزام کو بھی سو اونٹ عطا فرمائے۔ انہوں نے مزید درخواست کی تو سو اونٹ اور عطا فرمائے کتا ب امتاع میں یوں ہے کہ تیسری مرتبہ بھی درخواست کی تو سو اونٹ اور عطا فرما دیئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ اوپر والا ہاتھ ( دینے والا) نیچے والے ہاتھ ( لینے والے) سے بہتر ہے۔‘‘ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے دو سو اونٹ واپس کر دیئے اور صرف وہی سو اونٹ رکھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سے عطا فرمائے تھے اور پھر ساری زندگی کسی سے کچھ نہیں لیا۔ اسی طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع بن حابس اور عینہ بن حصن کو بھی سو سو اونٹ عطا فرمائے اور عباس بن مرداس کو چالیس اونٹ عطا فرمائے۔ انہوں نے شکایت کی تو انہیں بھی سو اونٹ عطافرمائے۔ صفوان بن امیہ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا اسے اتنا مال غنیمت عطا فرمایا کہ اس نے خوش ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اسی طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مالِ غنیت تقسیم فر مادیئے اور حضرت جعیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں عطا فرمایا۔ کسی نے شکایت کی: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقرع بن حابس اور عینہ بن حصن کو عطا فرمایا۔ جب کہ وہ دونوں شریرہیں اور جعیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں عطا فرمایا۔ جب کہ وہ غریب ہیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ قسم ہے اس ذات کی ( اللہ تعالیٰ کی ) جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ جعیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ میرے لئے ان دونوں سے بہتر ہیں۔ مگر بات یہ ہے کہ میں نے ان دونوں کی’’ تالیف ِ قلوب‘‘کے لئے کی ہے کہ اس طرح وہ دونوں اسلام قبول کر لیں اور حضرت جعیل بن سراقہ رضی اللہ عنہ تو پہلے سے ہی اسلام کی دولت سے مالا مال ہیں۔

’’ تالیف قلب‘‘ کا مقصد اور قِسمیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بہت عطا فرمایا اور کسی کو کچھ نہیں عطا فرمایا۔ اس سے ہم کم عقلوں کو غلط فہمی پید ا ہو سکتی ہے۔ در اصل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی’’ نگاہ ِ نبوت‘‘ جو دیکھ رہی تھی وہ دوسرے انسان نہیں دیکھ سکتے۔ ایک حدیث میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں اپنے ایک محبوب شخص کو چھوڑ کر کسی دوسرے شخص کو مال دیدیتا ہوں۔ جو صرف اس ڈر سے کہ وہ دوسرا آدمی دوزخ میں الٹے منہ پھینک نہ دیا جائے۔ ( سیرت حلبیہ) یعنی جسے دیتا ہوں اس کا ایمانکمزور ہے اور مال سے اس کی مدد کر کے ایمان مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور جسے نہیں دیتا ہوں اس کا پہلے سے ہی ایمان مضبوط ہے اور جہاں تک’’ تالیف قلب‘‘ یا ’’مولفتہ القلوب‘‘ کا تعلق ہے تو اس کی تین قسم ہے۔ پہلی قسم کے وہ لوگ ہیں جن کی دلداری اور مالی امداد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے فرمائی تاکہ وہ لوگ اسلام قبول کر لیں۔ جیسے صفوان بن امیہ ، دوسری قسم کے وہ ہیں جن کی دلداری اور مالی امداد اس لئے کی گئی کہ ان کے شر (برائی) سے محفوظ رہیں۔ جیسے عینہ بن حصن، اقرع بن حابس اورعباس بن مرداس وغیرہ ۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے نیا نیا اسلام قبول کیا ہے اور ابھی بھی ایمان مضبوطی سے قلب( دل) میں جما نہیں ہے۔ جیسے ابو سفیان بن حرب وغیرہ ۔

ایک گستاخ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مالِ غنیمت کی تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک گستاخ آکر سامنے کھڑا ہو گیا۔ ابو القاسم ( عبداللہ بن حارث کے مولیٰ)بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور تلید بن کلاب لیشی حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے۔ وہ اس وقت اپنے جوتے ہاتھ میں اٹھائے ہوئے بیت اللہ کی خدمت اقدس میں حاضرتھے۔ ہم نے ان سے پوچھا : ’’آپ رضی اللہ عنہ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے؟ جب حنین میں تمیمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عطاکے متعلق گفتگو کی تھی۔‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ ہاں بنو تمیم کا ایک شخص ذو الخو یصرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر کھڑ اہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو ( مال غنیمت ) عطا فرما رہے تھے۔ اس نے کہا: ’’ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آج جو کچھ تم نے کیا ہے میں نے اسے دیکھا ۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پھر کیا دیکھا؟‘‘ اس (بد بخت ) نے ( بد تمیزی ) سے کہا: ’’ ( نعوذ باللہ) تم نے عدل نہیں کیا ۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے اللہ کے بندے! عدل اگر میرے یہاں نہیں ہوگا تو کہا ں ہوگا؟ ‘‘ ( ایک دوسری روایت میں ذرا اور تفصیل سے ہے۔ اس بد بخت گستاخ نے کہا: ’’ اللہ سے ڈریے ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تجھے اللہ سے ڈرنا کس نے سکھایا؟‘‘ اس کے بعد وہ بد بخت گستاخ منہ پھیر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیٹھ کر کے جانے لگا۔ (جب کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف سے کبھی منہ نہیں پھیرتے تھے) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اجازت دیں کہ میں اس کو قتل کردوں۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بھی یہی الفاظ دہرائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ نہیں! اسے چھوڑ دو۔ ممکن ہے اس کی طرح اور لوگ بھی ہوں گے اور وہ اس طرح دین ( اسلام) میں نکتہ چینی کریں گے اور برگشتہ ہو جائیں گے اور دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔‘‘ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے بھی یہ واقعہ اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے بھی اس بد بخت گستاخ کا نام ذوا لخو بصیرہ بیان کیا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات ذو الخو یصرہ نے اس مال کی تقسیم کے وقت کی تھی جو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں یمن سے بھیجا تھا۔

انصار کے نوجوانوں کا تردّد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کی جعرانہ میں تقسیم فرمائی اور نئے مسلمانوں کی تالیف قلب کے لئے انہیںعطا فرمایا اور انصار کو نہیں دیا تو ان کے نوجوانوں کو تردد ہو ااور انہوں نے آپس میں کہا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو اس قدر عطا فرما رہے ہیں اور ہم لوگوں کا کچھ بھی خیال نہیں فرما رہے ہیں حالانکہ ہماری تلواروں سے خون ٹپک رہا ہے۔‘‘ اور کچھ نوجوانوں نے یہ بھی کہا: ’’ جب شدید جنگ کا موقعہ ہوتا ہے تو ہم انصار کو پکارا جاتا ہے اور غنیمت دوسروں کو دی جا رہی ہے۔ ‘‘جب بہت قیل و قال ہوئی تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں تو اس بات میں ان کا شریک نہیں ہوں۔ مگر میری قوم کی یہ گفتگو ہے ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم جا کر انصار کو ایک خطیرہ میں جمع کرو۔ ‘‘حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے جا کر سب انصار کو ایک خطیرہ میں جمع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔

انصار پر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے احسانات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے درمیان تشریف فرما ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے سوا کسی کو نہیں بلایا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے دریافت فرمایا : ’’ مجھے ایسی اطلاع ملی ہے کہ تم ایسا اور ایسا کہہ رہے ہو؟‘‘ انصار کے سمجھ دار افراد نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے عمر رسیدہ ( یعنی بڑی عمر ) کے لوگوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی ۔ ہاں بعض نو عمر لڑکوں نے ایسی بات کہی ہے۔ ‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار !کیا تم لوگ گمراہ نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تمہاری ہدایت فرمائی؟‘‘ انصار نے عرض کیا: ’’ بے شک ہم پر اللہ تعالیٰ کا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ احسان ہے ۔ ‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار !کیا تم بکھرے ہوئے نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے تمہیں متحد فرمایااور الفت پیدا فرمائی۔ ‘‘ انصار نے عرض کیا : ’’بے شک یہ اللہ تعالیٰ کا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر احسان ہے ۔ ‘‘ اس کے بعد تیسری مرتبہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار!کیا تم تنگ دست اور غریب نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے تمہیں غنی فرما دیا۔‘‘ انصار نے عرض کیا: ’’بے شک !یہ بھی ہم پر اللہ تعالیٰ کا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہے۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ اور ا س کے رسول ﷺ کے ’’انصار‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار! تم میری بات کا جواب دو۔‘‘ انصار نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم کیا جواب دیں؟ ہم تو بس صرف یہی کہتے ہیں کہ ہم پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت بڑا احسان اور فضل ہوا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے گروہ ِ انصار!اگر تم چاہو تو یہ جواب دے سکتے ہو اور اس جواب میں تم سچے ہو گے اور میں بھی تمہارے جواب کی تصدیق کروں گا۔ تم مجھے یہ جواب دے سکتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دوسروں نے جھٹلایا اور انکار کیا ۔ اس وقت ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور ایمان لائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب نے چھوڑ دیا۔ تب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔ (یہ سن کر تمام انصار رونے لگے) تم یہ کہہ سکتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے نکال دیئے گئے تھے اور تم یہ بھی کہہ سکتے ہو اور یہ سچ ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت مند تھے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعانت کی اور ٹھکانہ دیا۔ (اب انصار باقاعدہ زور زور سے رونے لگے تھے) تمام انصار نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اتنا ہی عرض کیا : ’’ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا یہ ہم پر بڑا احسان اور فضل ہوا کہ انہوں نے ہمیں ’’انصار ‘‘(مدد گار) بنایا۔ ‘‘

لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے جاؤ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ اور الفاظ نے انصار پر اتنا گہرا ثر کیا کہ وہ باقاعدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے گروہِ انصار !دنیا کی ایک حقیر شئے ( مال و دولت) کے لئے تم مجھ سے کبیدہ خاطر ہو گئے اور وسوسوں کا شکار ہو کر تردد میں پڑ گئے۔ میں نے اس مال و دولت ( بکریاں اور اونٹوں) سے بعض لوگوں کی’’ تالیف قلب ‘‘کرنا چاہی تا کہ وہ مسلمان ہو جائیں اور تم کو میں نے تمہارے اسلام کے سپرد ( حوالے ) کر دیا ہے۔ اے گروہِ انصار کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ ( یعنی مال ودولت ) لے کر جائیں اور تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر لے کر جائو؟ ‘‘ انصار روتے رہے اور کہا : ’’ ہمیں مال و دولت کی نہیں بلکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت ہے اور ہم اس بات پر راضی اور خوش ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ ہیں۔ ‘‘

اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کا یہ محبت بھرا جواب سن کر فرمایا: ’’ اللہ کی قسم ! جو چیز تم لے کر جائو گے( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لوگ لے کر جائیں گے ۔ قسم ہے اس ذات پاک ( اللہ تعالیٰ کی) جس کے قبصے میںمیری جان ہے۔ اگر ہجرت کی فضیلت نہ ہوتی تو میں انصار میں پیدا ہونا پسند کرتا اور انصار کا ایک فرد ہوتا۔ اے اللہ تعالیٰ! انصار پر رحم فرمااور ان کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما اور ان کی اولاد پر اور ان کی اولاد پر اور ان کی اولاد پر بھی اپنی رحمت نازل فرما۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا پر تمام انصار دھاڑیں مار کر رونے لگے۔

میں انصار کے ساتھ چلنا پسند کروں گا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے لئے دعا فرما رہے تھے اور تمام انصار کے صبر و ضبط کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا اور وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے گروہ انصار! اگر (تمام دنیا کے ) لوگ ایک میدان یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسرے میدان یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کے ساتھ چلنا پسند کروں گا۔ انصار’’ استر‘‘ ہیں اور دوسرے لوگ ’’ابرا ‘‘ہیں۔ میرے بعد تم لوگ ( یعنی انصار ) دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی تو صبر سے کام لینا۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو۔‘‘ صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’ میرے بعد تم ( انصار) اپنے ساتھ بڑی ناانصافی دیکھو گے تو اس پر صبر کرنا۔ یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملو اور میں حوضِ کوثر پر ملوں گا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سن کر انصار اتنا روئے کہ ان کی داڑھیاں آنسوسے تر ہو گئیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

32 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


32 سیرت سید الانبیاء ﷺ

جعرانہ سے عمرہ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

مالک بن عوف کا قبول اسلام، حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام، مسجد نبوی میں منبر رکھاگیا، استن حنانہ (کھجور کے سوکھے تنے) کا رونا، حاتم طائی کے بیٹے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام، زکوٰۃ کی وصولی

قبیلہ بنو ہوازن کے لوگوں کی حاضری

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ دس دن تک قبیلہ بنو ہوازن کے لوگوں کا انتظار فرمایا۔ ادھر نو مسلموں اور ساتھی قبیلوں نے بھی مال غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم کے لئے دبائو ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم فرما دی۔ اس کے کئی دنوں بعد قبیلہ بنو ہوازن کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر احسان کریںاور قبیلہ ہوازن کی شاخ یا خاندان بنو سعد بن بکر ( سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کا قبیلہ) کے ایک شخص زہیر بن صرد نے کھڑے ہو کر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیدیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھیاں ، خالائیں اور وہ دایائیں ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کیا کرتی تھیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے تمہارا کافی انتظار کیا ۔ اس کے بعد قیدیوں اور مالِ غنیمت کی تقسیم فرمائی۔ اب تم دو میں سے ایک چیز لے لو۔ یا تو مالِ غنیمت لے لو یا قیدیوں کو واپس لے لو۔ ‘‘قبیلہ بنو ہوازن کے لوگوں نے عرض کیا: ’’ ہمارے رشتہ دار ہمیں واپس دے دیں اور مال دو دولت رکھ لیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کی واپسی کا حکم دیا تو بنو ہاشم اور بنو مطلب اور مہاجرین اور انصار نے تمام قیدیوں کو واپس کر دیا اور نو مسلموں اور دوسرے قبائل کو جیسے جیسے معلوم ہوتا گیا وہ قیدیوں کو لا کر واپس دیتے رہے۔ جن لوگوں نے قیدیوں کی واپسی کو منظور نہیں کیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کے خمس میں سے ان قیدیوں کو فدیہ ادا کر کے انہیں قبیلہ بنو ہوازن کے حوالے کر دیا۔

مالک بن عوف کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قیدیوں کو قبیلہ ہوازن کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد ان سے دریافت کیا : ’’ مالک بن عوف کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے بتایا : ’’ وہ بنو ثقیف کے ساتھ طائف میں ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مالک سے کہہ دو کہ اگر وہ آکر میرے پاس اسلام قبول کر لے تو میں اس کے گھر والوں کو اور اس کے مال کو اسے واپس دے دوں گا اور سو اونٹ بھی دوں گا۔‘‘ مالک بن عوف کو اس کی اطلاع دی گئی تو اس نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ لیکن اسے بنو ثقیف سے اندیشہ تھا کہ اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کا علم ہو گیا تو اسے روک لیں گے۔ اس لئے اس نے ایک خاص مقام پر اپنی سواری تیار رکھنے کا حکم دیا اور گھوڑ ے کو طائف میں طلب کیا اور رات میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر تیزی سے وہاں سے نکل آیا اور اپنی سواری پر سوار ہو کر جعرانہ یا مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے گھر والے اور مال و دولت اور سو اونٹ عطا فرمائے اور طائف کے آس پاس کے قبائل ہوازن ، ثمالہ ، سلمہ ، اور فہم کا گورنر بنا دیا۔ ان سب نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ بعد میں حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ سچے مسلمان بنے اور قبیلہ بنوثقیف سے لڑنے لگے۔

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام جعرانہ میں ہی تھا کہ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے ساتھ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ہجرت کے سفر کے دوران حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعاقب کیا تھا اور وہ جب بالکل قریب پہنچ گئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گھوڑے کی ٹانگوں کو زمین میں دھنسا دیا تھا اور انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کی درخواست کی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے آزادی ملی اور انہوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے امان کی تحریر لکھ کر دے دیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عامر بن فہیرہ یا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک نے امان کی تحریرلکھ کر دے دی۔ جعرانہ میں حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اسلامی لشکر کے درمیان سے گزرتے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے امان نامے کو ہاتھ میں اٹھا رکھا تھا۔ اور زور زور سے پکارتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور ان کے ساتھ ان کے قبیلے والے بھی چل رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے: ’’ میں سراقہ ہوں اور یہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’امان نامہ ‘‘ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سن کر فرمایا۔: ’’آج وفا اور محبت کا دن ہے اور وعدے پورے کرنے کا دن ہے۔ اس کو میرے قریب لائو۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کو حاضر کیا انہوں نے اپنے قبیلے والوں کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے قرآن پاک اور اسلام کی تعلیم حاصل کی۔

جعرانہ سے عمرہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ تیرہ (13)دن جعرانہ میں قیام فرمایا اور پھر وہاں سے عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے۔ پہلا عمرہ حدیبیہ کا ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں احرام اتار کر اور حلق ( سر منڈوا کر) وہیں سے واپس آگئے تھے ۔ ( اکثر علمائے کرام کا کہنا ہے کہ حدیبیہ کا مقام بھی حرم میں شامل ہے) دوسرا عمرہ دوسرے سال کیا اور مکہ مکرمہ میں تین دن قیام فرمایا۔ اسے ’’عمرہ قضا‘‘ یا ’’عمرہ تامہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی پچھلے سال کا حدیبیہ کے ادھورے عمرہ کو مکمل فرمایا۔ اس لئے اسے’’ عمرہ تامہ‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ عمرہ پچھلے سال کے حدیبیہ والے عمرہ کی قضا ہے۔ اس لئے اسے ’’عمرہ قضا ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ تیسرا عمرہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ سے کیا اور چوتھا عمرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ ادا فرمایا۔ جعرانہ ایک مقام ہے جو مکہ مکرمہ سے لگ بھگ ایک برید یعنی بارہ میل کے فاصلہ پر ہے اور دوسری روایت کے مطابق دیڑھ برید یعنی اٹھارہ میل کے فاصلے پر ہے۔

حضرت عتاب بن اُسید رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے گورنر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ میں آئے اور عمرہ سے فارغ ہو کر حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ کا گورنر مقرر فرمایا اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو قریش کی تعلیم و تربیت کے لئے چھوڑ دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتاب بن اُسید رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ کا حاکم بنا نے کے بعد ایک درہم روزانہ ان کی تنخواہ مقرر فرمائی۔ انہوں نے لوگوں کو جمع کر کے خطبہ دیا اور بیان کیا : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مکہ مکرمہ کا حاکم مقرر فرمایا ہے اور ایک درہم روزانہ میری تنخواہ مقرر کی ہے۔ اے لوگو!جس کو ایک درہم روز ملے اور پھر بھی وہ بھوکا رہے تو اللہ تعالیٰ کبھی اس کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ اس لئے اب مجھ کو کسی سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد لگ بھگ دو مہینے اور سولہ دن بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ آئے تو ذی القعدہ کی چھ راتیں باقی تھیںاور ۸؁ ہجری کا سال تھا۔ اس سال حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو حج کر ایا۔

8 ؁ ہجری کے کچھ خاص واقعات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 8ہجری کا بقیہ وقت مدینہ منورہ میں گزرا ۔اس سال سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا۔ ان کے شوہر کا نام حضرت ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ ہے ۔ اسی سال مدینہ منورہ میں اناج بہت مہنگا ہو گیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اناج کا بھائو مقرر کر دیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ ہی بھائو مقرر کرنے والا ہے۔ وہی روزی کو تنگ کرنے والا ہے اور کشادہ کرنے والا ہے اور لوگوں کی روزی عطا فرمانے والا ہے۔ ‘‘اسی سال ذی الحجہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کانام سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال دیڑھ برس کی عمر میں ہوگیا۔

مسجد نبوی میں منبر رکھاگیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اسی سال 8 ؁ ہجری میں مسجد نبوی میںمنبر رکھا گیا۔ کچھ روایات میں ہے کہ منبر 8 ؁ہجری میں رکھا گیا اور کچھ روایات میں ہے کہ 7 ؁ہجری میں رکھا گیا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ جب مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی تب سے لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھجور کے سوکھے تنے سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ ایک انصاری خاتون صحابیہ رضی اللہ عنہا کا بیٹا بڑھئی ( مستری جو لکڑی کی کرسی اور میز وغیرہ بناتے ہیں) تھا۔ اس انصاری خاتون نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اجازت دیں تو میرا بیٹا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک منبر بنا دے ۔ جس پر بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیا کریں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور ایک لکڑی کا منبر بنا کر مسجد نبوی رکھا گیا۔ یہ منبر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چاروں خلفائے راشدین کے دورِ خلافت میں بھی اسی طرح رکھا رہا۔ ان کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ حکومت کے دوران یہ چاہا کہ میں اس منبر کو تبّر کا ’’ملک شام لے جاوں مگر انہوں نے جب اس منبر کو اس کی جگہ سے ہٹا یا تو اچانک سارے شہر میں ایسا اندھیرا چھا گیا کہ دن میں تارے نظر آنے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بہت شرمندہ ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے معذرت کی اور انہوں نے اس منبر کے نیچے تین سیڑھیوں کا اضافہ کر دیا۔ جس سے منبر نبوی کی تین پرانی سیڑھیاں اوپر ہو گئیں۔ تا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین جن سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تھے اب دوسرا کوئی خطیب ان پر قدم نہ رکھے۔ جب یہ منبر بہت زیادہ پرانا ہو کر انتہائی کمزور ہو گیا تو عباسیہ خاندان کے حکمرانوں نے اس کی مرمت کروائی۔

استن حنانہ (کھجور کے سوکھے تنے) کا رونا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جب منبر بنا کر رکھ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دینے کے لئے منبر کی طرف تشریف لے جانے لگے تو کھجور کا وہ سوکھا تنہ جو مسجد کی چھت کو سنبھالنے کے لئے لگایا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ٹیک لگا کر خطبہ فرمایا کرتے تھے وہ زور زور سے رونے لگا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ کھجور کا تنہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دیتے وقت) ٹیک لگایا کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے منبر بنایا گیا تو ہم نے کھجور کے اس ستون سے ایسی فریاد کی آواز سنی جیسی فریاد حاملہ اونٹنی بوجھ لادنے کے وقت کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اپنا دست مبارک اس کے اوپر رکھا تو وہ خاموش ہوا۔ (صحیح بخاری) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے ایک ستون سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے منبر رکھا ۔ جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ دینے کے لئے ) منبر پر تشریف لے جانے لگے تو اس وقت وہ ستون بچوں کی طرح رونے کی مانند فریاد کرنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اسے سینے سے لگایا اور وہ ستون روتے روتے اس طرح ٹھہر گیا جیسے کوئی بچہ روتے روتے چپ ہو تا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ ستون اس لئے رو رہا تھا کہ اس کے پاس جو ذکر ہو تا تھا وہ اسے سنا کرتا تھا۔

حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام اور شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ طائف سے واپس جعرانہ آئے اور جعرانہ سے عمرہ کیا اور عمرہ کے بعد مدینہ منورہ تشریف لا رہے تھے کہ راستے میں حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ آکر ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں طائف میں جا کر اپنے قبیلے بنو ثقیف کو اسلام کی دعوت دوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے محاصرے کے دوران بنو ثقیف کی سختی کے بارے میں اندازہ لگالیا تھا۔ اسی لئے ان سے فرمایا: ’’ وہ لوگ تمہاری بات نہیں مانیں گے۔‘‘ حضرت عرو ہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میری قوم ( یا قبیلے) والے مجھے بہت پسند کرتے ہیں اور میری بات مانتے ہیں۔‘‘ اور یہ حقیقت بھی تھی کہ بنو ثقیف انہیں بہت چاہتے تھے۔ حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ طائف آئے۔ ان کا خیال تھا کہ چونکہ ان کے قبیلے والے ان کی بہت عزت اور اکرام کرتے ہیں ۔اس لئے ان کی دعوت پر اسلام قبول کر لیں گے۔ آپ رضی اللہ عنہ اسی مقصد کے لئے اپنے مکان کی چھت( کوٹھے) پر چڑھے اور اپنی قوم یا قبیلے والوں کو آواز لگائی۔ تمام لوگ جمع ہو گئے تو انہیں بتایا کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور انہیں بھی اسلام کی دعوت دی۔ آپ رضی اللہ عنہ کی قوم نے چاروں طرف سے تیروں کی بارش کر دی۔ جس کی وجہ سے آپ رضی اﷲ عنہ شہیدہو گئے۔ مرتے وقت کسی نے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اپنی موت کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ’’ یہ میرے لئے بڑی عزت اور اکرام والی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شہادت سے سرفراز فرمایا۔ میری وصیت ہے کہ مجھے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دفن کیاجائے جو طائف کے محاصرے کے وقت شہید ہو ئے تھے اور انہیں اسی جگہ دفن کر دیا گیا تھا۔‘‘ ان کی وصیت کے مطابق انہیں مسلمان شہداء کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کی مثال ان کی قوم میں ویسی ہی ہے جیسی ان صاحب کی ہے جن کے بارے میں سورہ یاسین میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ان کی قوم نے انہیں شہید کر دیا تھا۔‘‘

قبیلہ طی کا بُت توڑنا   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ذی القعدہ 8 ہجری میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ واپس تشریف لائے اور ماہِ رجب المرجب تک مدینہ منورہ میں ہی تشریف فرما رہے۔ ان سات مہینوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی وصولی اور جزیہ کی وصولی کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمایا۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قیادت میں مختلف سرایا بھی بھیجے۔ ان تمام سرایا میں کامیابی حاصل ہوئی۔ ان سرایا میں سے ایک سریہ ایسا ہے جس کا ذکر کرنا ضروری ہے اور وہ قبیلہ بنو طی کے بت کو توڑنے والا سریہ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاخر یا ربیع الثانی 9 ہجری میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ڈیڑھ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو طی پہنچے اور وہاں کے بت فلس ( کچھ روایات میں قلس بھی آیا ہے) تو ڑ دیا اور قیدیوں کو گرفتار کر کے مدینہ منورہ لے آئے۔ ان قیدیوں میں حاتم طائی کی بیٹی سفانہ بھی تھی۔ یہ حاتم طائی مشہور سخی ہے۔ اس کا انتقال ہو چکا تھا۔ چو نکہ وہ قبیلہ بنو طی کا حکمراں یا سردار تھا۔ اسی لئے اس کے نام حاتم کے ساتھ طائی لگا ہو اہے۔ حاتم طائی کا بیٹا عدی بن حاتم ان دنوں قبیلہ بنو طی کا حکمراں یا سردار تھا۔ جب اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر کے آنے کی خبر سنی تو اپنی بیوی اور بچوں کو لے کرملک شام بھاگ گیا تھا۔ بعد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور صحابی ہونے کا درجہ حاصل کیا۔ ان کے قبول اسلام کا واقعہ ہم آگے انہیں کی زبانی بیان کریں گے۔ انشاء اللہ ۔

حاتم طائی کی بیٹی سفانہ رضی اللہ عنہا کا قبول اسلام اور رہائی   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے تمام قیدیوں کو پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو مسجد نبوی کے دروازے کے پاس والے کمرے میں رکھنے کا حکم دیا۔ جہاں قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے وہاں سے گزرے تو سفانہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میر ے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور جس سے امید تھی ( یعنی حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ) وہ غائب ہو چکا ہے۔ اس لئے مجھ پر احسان فرمائیے ۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان فرمائے گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تجھے کس سے امید تھی؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ میرے بھائی عدی بن حاتم سے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اچھا اس اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بھاگنے والے سے امید تھی۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے آگے بڑھ گئے۔ دوسرے دن بھی سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا نے یہی کہا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہی فرمایا اور آگے بڑھ گئے۔ تیسرے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے لیکن وہ مایوس ہو چکی تھیں اس لئے سوچا کہ آج میں خاموش رہوں گی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلنے والے ایک شخص نے اشارے سے کہاکہ پھر کہو تو انہوں نے پھر اپنے الفاظ دہرائے۔: ’’ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر احسان فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان فرمائے گا ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے تم پر احسان کیا۔ تم اس وقت جانے کی جلد ی نہ کرو۔ جب تک تمہیں ایسا قابل اعتماد شخص نہ مل جائے جو تمہیں تمہارے علاقے تک پہنچا دے۔ جب مل جائے تو مجھے اطلاع کرنا۔‘‘ سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا نے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اشارہ کیا تھا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس کے بعد سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا۔ جب سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا کو قابل اعتماد لوگ مل گئے تو انہوں نے پیسے دیئے اور وہ اپنے بھائی کے پاس شام آگئیں۔

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حاتم طائی کی بیٹی سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا پر احسان فرمایا اور انہیں اپنے بھائی کے پاس بھیج دیا۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں عربوں سے سنا تو مجھے ان سے بہت نفرت محسوس ہوئی ۔ میں ایک عزت دار آدمی تھا اور نصرانی تھا۔( ایک روایت میں آیا ہے کہ رکو سی تھا) اور اپنی قوم سے چوتھا حصہ لیا کرتا تھا۔ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ( فتح مکہ) کے بارے میں سنا تو اپنے غلام کو حکم دیا کہ میرے اور میرے بیو ی بچوں کے لئے موٹے تازے اونٹ تیار رکھو۔ ایک دن مجھے خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر قبیلہ بنو طی کی طرف آرہا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی میں نے اپنے بیو ی بچوں کو موٹے تازے اونٹوں پر سوار کرایا اور انہیں لے کر ملک شام کی طرف روانہ ہو گیا اور اپنی بہن کو وہیں چھوڑ دیا۔ میں ملک شام میں آکر وہیں رہنے لگا۔ ادھر مجھے خبر ملی کہ میری بہن کو میرے قبیلہ والوں کے ساتھ گرفتار کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا ہے۔ کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت پالکی میں سوار ہمارے گھر کی طرف آرہی ہے۔ قریب آکر وہ عورت پالکی کے باہر آئی تو وہ میری بہن سفانہ تھی۔ اس نے میرے پاس آکر کہا : ’’ ارے ظالم اور رشتہ توڑنے والے! تُو اپنے بیوی بچوں کو لے کر یہاں آگیا ہے اور اپنے باپ حاتم طائی کی اولاد اور شرم کو چھوڑ کر آگیا۔’’ میں نے کہا: ’’ اے میری بہن !مجھے اس طرح ذلیل مت کرو۔ اللہ کی قسم !میں تمہارے سامنے کوئی عذر پیش نہیں کروں گا۔ بلکہ اپنا جرم تسلیم کرتا ہوں۔ میری بہن نے مجھے معاف کر دیا اور میرے گھر میں رہنے لگی۔ میں نے اپنی بہن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی کیا رائے ہے؟ میری بہن نے کہا: ’’ بھائی !میری تو رائے یہ ہے کہ تم جلد سے جلد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا ئو۔ کیوں کہ اگر وہ نبی ہیں تو ان کی طرف سبقت کرنے والے کے لئے فضیلت ہے اور اگر بادشاہ ہیں تو تم اپنے قبیلے کی حکمرانی یا سرداری کو نہیں بچا پائو گے۔ باقی تم جانو اور تمہارا کام۔‘‘ میں نے کہا: ’’ میری بھی یہی رائے ہے۔‘‘ اس کے بعد میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اپنی بہن سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ آگے آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے۔ میں نے سلام عرض کیا تو فرمایا: ’’ تم کون ہو؟ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’ عدی بن حاتم ہوں ۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور مجھے اپنے گھر لے گئے۔ اللہ کی قسم !جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر لے جا رہے تھے تو راستے میں ایک بڑی عمر کی ضعیف عورت ملی۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا اور اپنی ضروریات کی متعلق گفتگو کرنے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیر تک کھڑے ہو کر اس کے سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ میں نے سوچا’’ اللہ کی قسم !یہ بادشاہ نہیں ہیں۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے لے کر اپنے گھر میں آئے اور بیٹھنے کے لئے ایک چمڑے کا تکیہ جس میں خشک گھاس بھری ہوئی تھی پیش کیا۔ میں بیٹھ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے۔ میں نے سوچا ’’ اللہ کی قسم !یہ تو بادشاہوں والا کام نہیں ہے۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عدی بن حاتم !کیا تم رکوسی( عیسائیوں اور صابیوں کے بین بین ایک دین کا نام ) نہیں ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا: ’’بیشک ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا تم اپنی قوم سے چوتھا حصہ نہیں لیتے ہو؟ ‘‘میں نے کہا : ’’بے شک لیتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ اور یہ تمہارے دین کی رو سے تمہارے لئے جائز نہیں ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا: ’’بے شک جائز نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عدی بن حاتم !شاید تم اس لئے اسلام قبول نہیں کر رہے ہو کہ تم مسلمانوں کو محتاج اور غریب دیکھ رہے ہو۔ اللہ کی قسم !تم دیکھو گے کہ بہت جلد مسلمانوں کے پاس اتنا مال ہو گا کہ اسے لینے والا کوئی نہیں ہوگا یا پھر تمہیں مسلمانوں کے دشمن کی کثرت اور مسلمانوں کی قلت اسلام قبول کرنے سے روک رہی ہے۔ اللہ کی قسم! تم بہت جلد ایک عور ت کے متعلق سنو گے جو قادسیہ ( ملک عراق کا ایک علاقہ ) سے اپنے اونٹ پر اکیلی چلے گی اور بے خوف سفر کر کے خانہ کعبہ کی زیارت کر ے گی ( یعنی قادسیہ تک اسلامی حکومت تم دیکھو گے) اور شاید تمہیں اسلام قبول کرنے سے یہ بات روک رہی ہے کہ تم اقتدار اور حکومت دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھ رہے ہو۔ اللہ کی قسم !بہت جلد تم دیکھو گے کہ بابل کے سفید محلات مسلمانوں کے لئے مفتوح ہو جائیں گے۔ ‘‘حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ پھر میں نے اسلام قبول کر لیا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو باتیں تو پوری ہو گئی ہیں اور تیسری رہ گئی ہے اور اللہ کی قسم! وہ بھی ضرور پوری ہو گی۔ میں نے بابل کے سفید محلات کو مفتوح دیکھ لیا ہے اور قادسیہ سے عورت کو اونٹ پر چلتے اور بے خوف ہو کر بیت اللہ ( خانہ کعبہ) کا طوا ف کرتے دیکھا ہے اور اب اللہ کی قسم تیسری بات بھی پوری ہو گی اور مسلمانوں کے پاس مال اتنا زیادہ ہو گا کہ اسے لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔‘‘

رسول اللہ ﷺ کے مقرر کئے ہوئے تحصیل دار ِ زکوٰۃ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۹؁ہجری میں زکوٰۃ کی وصولی کے لئے اپنے تحصیل دار مقرر کئے اور انہیں الگ الگ علاقوں کی طرف روانہ فرمایا۔ چونکہ اسلامی حکومت منظم اور مستحکم ہوتی جا رہی تھی اور عرب کے زیادہ تر قبائل اسلام قبول کرتے جا رہے تھے ۔ اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو زکوٰ ۃ اور جزیہ کی وصولی کے لئے تحصیل دار بنا کر بھیجا۔ یہ تحصیل دار ( زکوٰۃ اور جزیہ وصول کرنے والے) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کرتے تھے۔ اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کرتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۹ ؁ہجری میں اپنے تحصیل دار بھیجے۔ اس کے علاوہ اپنے وصال تک تحصیل دار بھیجتے رہے۔ ہم نے یہاں کوشش کی ہے کہ جتنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ اور جزیہ کی وصولی کے لئے بھیجا تھا ان سب کے نام آجائیں ۔ پھر بھی ہو سکتا ہے کچھ نام رہ گئے ہوں۔ (1) حضرت عینیہ بن حصن رضی اللہ عنہ کو بنو تیمم کی طرف بھیجا (2) حضرت یزید بن حصین رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو اسلم اور بنو غفار کی طرف بھیجا (3) حضرت عباد بن بشر اشہلی رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو سلیم اور قبیلہ بنو مزینہ کی طرف بھیجا (4) حضرت رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ کو قبیلہ جہینہ کی طرف بھیجا (5) حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو فزارہ کی طرف بھیجا(6) حضرت ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ کو بنو کلاب کی طرف بھیجا (7) حضرت بشیر بن سفیان رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو کعب کی طرف بھیجا (8) حضرت ابن تسبیہ ازدی رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو ذبیان کی طرف بھیجا (9) حضرت مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ کو شہر صنعا کی طرف بھیجا (10) حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کو علاقہ حضر موت کی طرف بھیجا (11) حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو طی اور قبیلہ بنو اسد کی طرف بھیجا (12) حضرت مالک بن نویرہ رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو حنظلہ کی طرف بھیجا(13) حضرت زبر قان بن بدر رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو سعد کی ایک شاخ کے پاس بھیجا (14) حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کو قبیلہ بنو سعد کی طرف بھیجا (15) حضرت علا بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو بحرین کی طرف بھیجا (16) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو نجران کی طرف بھیجا ۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ان میں سے بعض حضرات کو کافی تاخیر سے بھیجا گیا۔ بہر حال تحصیل دار زکوٰۃ ( زکوۃ وصول کرنے ) والوں کا سلسلہ محرم الحرام 9 ہجری سے شروع ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک جاری رہا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

33 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


33 سیرت سید الانبیاء ﷺ

غزوۂ تبوک۔ قسط نمبر 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


غزوہ تبوک کا سبب، غزوہ تبوک کی تیاری، منافقین کی بہانے بازی اور انکار، دو انصاری صحابی رضی اللہ عنہم کا جذبہ، حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ کا جذبہ، حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ کی محبت،قومِ ثمود پر عذاب کی جگہ ( مقامِ حجر)، 

غزوہ تبوک

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ ،غزوہ حنین ، غزوہ طائف اور جعرانہ سے عمرہ کرنے کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے اور ذی الحجہ ۸ ؁ ہجری سے لے کر رجب المرجب ۹؁ ہجری تک مدینہ منورہ میں ہی تشریف فرما رہے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی معاشرہ کو مستحکم کرتے رہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم و تربیت کرنے کے ساتھ اسلامی حدود کو نافذ کرتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے تحصیل دار بھیجتے رہے اور مختلف علاقو ں میں سرایا بھی بھیجتے رہے۔ فتح مکہ کے بعد تمام عرب قبائل نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی اور اسلام کی برتری کو تسلیم کر لیا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب قبائل کے وفود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔ ان کا ذکر ہم غزوہ تبوک کے بعد کریں گے ۔ انشاء اللہ ۔ اسلام اور مسلمان عرب علاقوں کی سب سے بڑی طاقت بن چکے تھے۔ اس وقت پوری دنیا میں دو بڑی سوپر پاور ( بڑی طاقت) تھیں۔ پہلی’’ سلطنت روم‘‘ تھی جس کی حکومت پورے یورپ کے علاوہ ملک شام ( یہ یاد رکھیں کہ اس وقت ملک شام بہت بڑا تھا اور فلسطین ،لبنان، اردن بھی اسی میں شامل تھے اور عرب علاقے میں تبوک تک سرحد تھی) پر تھی۔ اس کے علاوہ ملک مصر بھی سلطنت روم کا ماتحت تھا۔سلطنت روم کے حکمراں کا لقب ’’قیصر‘‘تھا۔ دوسری سوپر پاور’’سلطنت فارس‘‘ تھی اس کی حکومت ایران عراق کے آس پاس ہونے کیساتھ ساتھ افغانستان اور مشرقی ایشاء کوچک یعنی سمر قند اور نجارا تک تھی اور روس کے سرحدی علاقے بھی شامل تھے۔ سلطنت فارس کے حکمراں کا لقب ’’کسریٰ‘‘ تھا اور وہاں خاندانی جھگڑے کی بنا پر حکمرانوں کو قتل کیا جا رہا تھا۔ اسی لئے ان کی توجہ اسلام اور مسلمانوں پر نہیں تھی۔ لیکن سلطنت روم بہت مستحکم تھی اور اس کے حکمراں قیصر ہر قل کو اندیشہ تھا کہ اگر اسلام اور مسلمان اگر ایک بڑی طاقت بن گئے تو یقینا سلطنت روم کے لئے سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو ںگے۔

غزوہ تبوک کا سبب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اورمسلمان عرب میں ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر رہے تھے اور ان کے حوصلے اتنے بلند تھے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت سے بھی ٹکرا نے میں ہچکچانہیں رہے تھے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت جنگ موتہ تھی۔ جس میں مسلمان صرف تین ہزار کی تعدادمیں ہوتے ہوئے بھی لگ بھگ ڈھائی لاکھ کے سلطنت روم کے لشکر سے ٹکرا گئے تھے اور پوری دنیا نے حیرت سے اس جنگ کو دیکھا۔ کیوں کہ مسلمان کے شہداء کی تعداد پندرہ سے بھی کم تھی اور رومی لشکر کے بے شمار سپاہی قتل ہو ئے تھے اور ان کے قدم اکھڑ گئے تھے۔ یہ سلطنت روم جیسی سوپر پاور کے لئے بے حد شرم کی بات تھی کہ ان کا اتنا بڑا لشکر جرار مسلمانوں کے مٹھی بھر لشکر کو شکست نہیں دے سکا تھا۔ اس کی وجہ سے ان کی پوری دنیا میں بڑی بدنامی ہورہی تھی۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت امریکہ دریافت نہیں ہوا تھا اور پوری دنیا صرف ایشاء افریقہ اور یورپ تھی) اسی لئے قیصر روم ہرقل نے شام کے سرحدی علاقے تبوک میں لشکر جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ تاکہ مسلمانوں پر ایک فیصلہ کن حملہ کر کے انہیں شکست دے کر اس بدنامی کے داغ کو دھو سکے جو سلطنت روم پر موتہ میں لگا تھا۔

غزوہ تبوک کی تیاری

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل عرب کی طرف سے اطمینان ہو گیا تھا۔ اس لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کی سوپر پاورہ سلطنت روم کی طرف متوجہ ہوئے اور برابر اس کی نقل و حرکت کے بارے میں اپنے جاسوسوں سے رپورٹ لیتے رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ رومیوںکا ایک بہت بڑا لشکر جرّار مسلمانوں سے مقابلے کے آرہا ہے اور اس کا ’’مقدمتہ الجیش ‘‘ (یعنی ہر اول دستہ یا لشکر کاا گلا حصہ )’’بلقاء ‘‘کے مقام تک آچکا ہے ۔ یہ سنتے ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں غزوہ تبوک پر جانے کے لئے اعلان کر وادیا۔ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو دشمنوں کے نام کا اعلان نہیں فرماتے تھے کہ کہیں دشمن چوکنا نہ ہو جائیں۔ لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور’’ سلطنت روم ‘‘سے جنگ کے لئے ہمیں نکلنا ہے اور اسی کے مطابق اپنی اپنیتیاریاں کر لو۔ چونکہ اس وقت گرمیوں کا موسم چل رہا تھا اور پھل فروٹ اور کھجور وغیرہ کی فصلیں بھی تیار ہو چکی تھیں اور انہیں اگر مناسب وقت پر توڑا نہیں گیا تو فصلیں خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔ اسی لئے اس بے انتہا گرم موسم میں عام طور سے تمام عرب کے لوگ اور خاص طور سے مدینہ منورہ کے لوگ سفر نہیں کرتے تھے۔ اسی لئے غزوہ تبوک ایک آزمائشی جنگ بھی بن گئی۔ اس آزمائش میں مسلمان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کامیاب ہوگئے اور منافقین ناکام ہو گئے۔

منافقین کی بہانے بازی اور انکار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی تیاری کا حکم دیا اور مدینہ منورہ میں اعلان کروا دیا کہ رومیوں سے مقابلہ کے لئے سلطنت روم کے سر حدی علاقے ( جو ملک شام کا بھی علاقہ ہے) تبوک پر پہنچنا ہے۔ یہ اعلان سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خلوص دل سے سفر کی تیاری کر نے لگے۔ لیکن منافقین کے ہوش اڑ گئے۔ کیوں کہ سخت جھلسا دینے والی گرمی پڑ رہی تھی اور ا س غزوہ کے لئے نکلنا بڑی مشقت اور تکلیف کا کام تھا۔ منافقوں کے لئے یہ بڑا صبر آزما مرحلہ تھا۔ اِن لوگوں نے دل سے اسلام قبول نہیں کیا تھا بلکہ دکھاوے کے لئے اور اپنے مفادات کے لئے اسلام قبول کر لیا تھا اور مسلمانوں کی صف میں شامل ہو گئے تھے۔ ورنہ حقیقت میں یہ لوگ دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی انہیں اسلام یا مسلمانوں سے کوئی دلچسپی تھی۔ یہ لوگ اپنے نقاق کو چھپائے رکھتے تھے۔ لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اچانک غزوہ تبوک کے لئے تیاری کا حکم دیا تو منافقو ں کے لئے اپنا نفاق چھپانا بہت مشکل ہو گیا۔ کیوں کہ اپنے آپ کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے اس غزوہ پر جانا ضروری تھا اور اگر ساتھ نہ جائیں گے تو ان کا پول کھل جائے گا۔ آخر کار منافقوں نے غزہ تبوک پر نہ جانے کا فیصلہ کیا اور گرمی اور فصل کا بہانہ کر کے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ منافقین کا گروہ مسلمانوں کیساتھ دکھاوے کے لئے اسلامی لشکر کے ساتھ روانہ ہوا۔ لیکن ثنیتہ الوداع میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبیّ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ الگ پڑائو ڈالا اور یہیں سے بہانے بازی کر کے یہ سب منافقین مدینہ منورہ واپس آگئے۔

منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت جھلسا دینے والی گرمی میں غزوہ تبوک کے لئے سفر کرنے کا اعلان فرمایا تو منافقین کا نقاق کھل کر سامنے آگیا۔ ایک منافق جذ بن قیس سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ اے جذ!تم بھی رومیوں سے مقابلے کے لئے چلو گے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ حضور (صلی اللہ علیہ وسلم)مجھے معاف فرمائیں اور فتنہ میں نہ ڈالیں۔ میری قوم جانتی ہے کہ میں عورتوں کا بہت رسیا ہوں۔ اگر میں نے رومی عورتوں کو دیکھا تو صبر نہ کر سکوں گا۔ ‘‘یہ جواب سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا۔ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: (ترجمہ) ’’منافقوں میں سے ایک وہ شخص ہے جو کہتا ہے کہ مجھے معاف کر دیں اور فتنہ میں نہ ڈالیں۔ خبر دار یہ لوگ ہی فتنہ میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘ یعنی یہ جو رومی عورتوں کے فتنہ میں پڑنے کی بات کر رہا ہے یہ تو اس سے بڑے فتنہ میں پڑ چکا ہے اور وہ فتنہ یہ ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے سے انکار کر رہا ہے اور بے شک دوزخ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے اور منافقوں نے آپس میں بات کی کہ تم گرمی کے سخت جھلسا دینے والے موسم میں سفر کر کے اپنے آپ کو کیوں تکلیف دے رہے ہو؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ( ترجمہ )’’ اور منافقوں نے کہا کہ اس گرمی کے موسم میں جہاد پر نہ جائو۔ ان سے کہہ دو ۔ دوزخ کی آگ کی گرمی بہت سخت ہے۔ اگر وہ اس کا شعور رکھتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ اپنے کاموں پر جو وہ کرتے ہیں۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور ایثار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کا اعلان فرما دیا اور آس پاس کے قبائل میں بھی اعلان کروادیا۔ معاملہ چونکہ سوپر پاور سلطنت روم سے ٹکرانے کا تھا اور ان دنوں پریشانی کا وقت چل رہا تھا۔ اس کے باوجود لگ بھگ تیس ہزار کا لشکر جمع ہو گیا ۔ اب اتنے بڑے لشکر کے لئے سواریوں اور سامانِ جنگ اور کھانے پینے کا انتظام کرنا ایک کٹھن مرحلہ تھا۔ کیوں کہ ان دنوں قحط پڑا ہوا تھا اور لوگ انتہائی مفلوک الحال اور عُسرت ( تنگی) کا شکار تھے۔ ایسے حالات میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور ایثار کے بہت سے مظاہرے سامنے آئے۔ یہاں تک کہ خواتین صحابیات نے اپنی چوڑیاں اور زیورات تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیئے۔ منافقین یہ سب دیکھ کر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے کہ خود تو فقیری کی حالت میں ہیں اور چلے ہیں سوپر پاور سلطنت روم سے مقابلہ کرنے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی نیکی میں سبقت کی حِرص

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لشکر کے لئے مال جمع کرنے کی ترغیب دی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لینے لگے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں دیکھا کرتا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اکثر نیکیوں میں مجھ پر سبقت لے جایا کرتے تھے۔ میں نے سوچا کہ آج انشاء اللہ میں ان پر ضرور سبقت لے جائوں گا۔ میں نے اپنے تمام مال کے دو حصے کئے۔ ایک حصہ گھر میں چھوڑ دیا اور دوسرا حصہ لے کر خوشی خوشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا سارامال دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ! بہت سارا مال لے آئے ہو گھر پر بھی کچھ چھوڑا ہے یا نہیں ؟ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آدھا مال گھر پر چھوڑ آیا ہوں اور آدھا لے آیا ہوں۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہوئے اور تمام مال لے کر رکھ لیا۔ اتنے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت سارا مال لے کر آتے دکھائی دیئے۔ قریب آکر آپ رضی اللہ عنہ نے تمام مال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ! سارا مال لے آئے ہو یا گھر پر بھی کچھ چھوڑا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !سارا مال لے آیا ہوں اور گھر پر صرف اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام چھوڑ ا ہے ۔‘‘ یہ سن کر میں نے سوچا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آج بھی مجھ پر سبقت لے گئے۔‘‘

اے اللہ ! تُو عثمان ( غنی) رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو لشکر کے لئے مال جمع کرنے کی ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے لشکر کے لئے سو اونٹ ہتھیار اور کھانے کے سامان سمیت دینے کا اعلان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعا ئے خیر دی۔ اور پھر ترغیب دی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اور سو اونٹ دینے کا اعلان کیا۔ اس طرح کرتے کرتے آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار اونٹ سواری کے لئے اور ستر 70گھوڑے سواری کے لئے دیئے۔ ایک روایت میں ہے کہ ہر اونٹ ہتھیار اور کھانے کے سامان اور لباس کے ساتھ تھا۔ یہاں تک کہ اونٹ باندھنے کی رسی بھی آپ رضی اللہ عنہ نے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے لئے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ!تُو عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے راضی ہو جا کیوں کہ میں اس سے خوش ہو گیا ہوں۔‘‘ اس کے علاوہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار دینا ر( سونے کی اشرفیاں) بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیناروں کو الٹ پلٹ کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: ’’ آج کے بعد کوئی عمل عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ‘‘

دو انصاری صحابی رضی اللہ عنہم کا جذبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ترغیب دینے پر تمام مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دل کھول کر لشکر کے لئے مال جمع کیا۔ جس کی جتنی طاقت تھی اتنی اس نے مدد کی۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، چالیس ہزار درہم لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سارا مال لائے ہو یا کچھ گھر پر بھی چھوڑا ہے؟‘‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !گھر میں چالیس ہزار درہم چھوڑ آیا ہوں اور چالیس ہزار درہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لایا ہوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اس مال میں بھی برکت عطا فرمائے جو تم لے کر آئے ہواور اس مال میں بھی برکت عطا فرمائے جو تم گھر چھوڑ آئے ہو۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا یہ اثر ہوا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بہت مالد ار ہو گئے۔ حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ یا کھیت تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نوے 90وسق یعنی ساڑھے تیرہ ہزار کلو کھجوریں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسرت اور خوشی سے اسے قبول کیا اور حضرت عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے لئے دعائے خیر کی۔

حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ کا جذبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ترغیب دینے پر ہر صحابی رضی اللہ عنہم اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کچھ نہ کچھ پیش کر رہے تھے۔ ان میں ایک مفلس صحابی حضرت ابو عقیل رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ کا ایک ہاتھ نہیں تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھروں والوں سے کہا: ’’ہر کوئی کچھ نہ کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر رہا ہے ، میں بھی اس نیک کام میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے کہا: ’’ آپ کیا کر سکتے ہیں؟ آپ تو معذور ہیں ۔ ‘‘ یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے باہر آئے اور ایک یہودی کے پاس گئے۔ اس یہودی نے کہا : ’’ تم میرے کھجوروں کے باغ میں پانی دو اور ہر ڈول (بالٹی) پر تمہیں ایک کھجور دوں گا۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے کنویں سے پانی کھینچنااور باغ میں ڈالنا شروع کیا۔ ایک ہاتھ سے ڈول کھینچتے تھے اور دوسرا ہاتھ نہ ہونے کی وجہ سے دانت سے رسی کو پکڑتے تھے۔ اس کوشش میں آپ رضی اللہ عنہ کے دانت گرنے لگے۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ ساری رات پانی نکالتے رہے۔ اس طرح رات بھر پانی کھینچنے پر اس یہودی نے آپ رضی اللہ عنہ کو دو صاع کھجوریں دیں۔ ایک صاع آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر والوں کو دیا اور ایک صاع کھجور لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تم نے کہاں سے لائے؟ ‘‘ جواب دینے کے لئے حضرت ابو عقیل انصاری رضی اللہ عنہ نے منہ کھولا تو منہ سے خون نکل آیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا جذبہ دیکھ کر انہیں گلے سے لگایا اور دعائے خیر دی اور ان کی ایک صاع کھجور کو تمام مال کے اوپر رکھ دیا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا جذبہ جہاد اور غم

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( تبوک کے سفر کے لئے) ان کے لئے سواریوں کا سوال کروں۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے میرے ساتھیوں نے بھیجا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو سواریاں عنایت فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس وقت تو میرے پاس تمہیں دینے کے کوئی سواری نہیں ہے ۔‘‘ میں غمگین ہو کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور انہیں تمام بات بتائی۔ ہمیں غم اس بات کا تھا کہ ہمیں سواریاں نہیں مل سکیں اور ساتھ ہی اس بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے ناراض نہ ہو گئے ہوں۔ اسی غم میں ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ تھوڑی دیر بعد میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی آواز سنی۔ وہ زور سے پکار رہے تھے: ’’ حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کانام ہے) کہاں ہیں؟‘‘ میں فوراً اٹھ کر ان کے پاس پہنچا۔ انہوں نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں یاد کر رہے ہیں۔ ‘‘ میں جلدی جلدی ان کے ساتھ چلتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ یہ دو اونٹ اور دو اونٹنیاں میں نے ابھی ا بھی چھ اونٹوں کے ساتھ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدے ہیں۔ انہیں اپنے ساتھیوں کے لئے لے جائو اور کہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان پر سوار کیا ہے۔‘‘

غمگین صحابہ رضی اللہ عنہم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے علاوہ کچھ اور مفلس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے۔ امام قسطلانی نے ان کی تعداد اٹھارہ 18بیان کی ہے۔ یہ تعداد کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان میں حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک پر چلنے کے لئے سواریاں مانگی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میرے پاس اس وقت تمہیں دینے کے لئے سواری کے جانور نہیں ہیں۔‘‘ یہ سن کر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ اسی حال میں واپس چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں قرآن پاک میں سورہ توبہ میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ اور وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ انہیں دُکھ اس بات کا تھا کہ ان کے پاس ( اللہ کے لئے ) خرچ کے لئے کچھ نہیں تھا۔‘‘ ( سورہ توبہ آیت نمبر92) یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی حال میں روتے ہوئے واپس جا رہے تھے کہ راستے میں انہیں حضرت یامین بن عمرو نضری رضی اللہ عنہ ملے۔ انہوں نے رونے کا سبب دریافت کیا توانہوں نے بتایا : ’’ نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کے جانور ہیں اور نہ ہی ہمارے پاس اتنی طاقت ہے کہ ہم سواریوں اور سفرکے سامان کا انتظام کر سکیں۔ اسی لئے ہمیں غم ہے کہ ہم غزوہ تبوک میں شرکت نہیں کر پا رہے ہیں۔ ‘‘حضرت یامین رضی اللہ عنہ کا دل بھر آیا اور انہوںنے اسی وقت ان کے لئے سواری اور سفر کے سامان کا انتظام کر کے دیا۔

اسلامی لشکر کی روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس 30ہزار کا اسلامی لشکر تیار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روایت کے مطابق حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ امام عبدالملک بن ہشام نے دونوں کے نا م کو لکھا ہے۔ اس کے علاوہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اہل بیت کی حفاظت اور دیکھ ریکھ کے لئے مدینہ منورہ چھوڑ دیا اور اسلامی لشکر کو لے کر’’ ثنیتہ الوداع‘‘ پر پہنچ کر پڑائو ڈال دیا۔ کچھ علمائے کرام لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو حاکم بنایا اور حضرت سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو کوتوال بنایا۔ ’’ثنیتہ الوداع ‘‘میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی ّ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ الگ پڑائو ڈالا اور جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے روانہ ہوئے تو وہ اپنے منافق ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گیا اور اسلامی لشکر کے ساتھ نہیں گیا۔

تمہاری حیثیت حضرت ہارون علیہ السلام جیسی ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کومدینہ منورہ میں ٹھہرنے کا حکم دیا تا کہ اہل بیت کی دیکھ ریکھ ہو سکے اور غزوہ تبوک کے لئے اسلامی لشکر لے کرروانہ ہوگئے۔ ادھر مدینہ منورہ میں منافقین نے افواہ اڑائی کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بن گئے ہیں۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا ہے۔ یہ افواہیں سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بدن پر ہتھیار سجائے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تیزی سے روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقامِ’’ جرف ‘‘پر جا کر ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عورتوں اور بچوں کے درمیان چھوڑ کر آگئے اور منافقین اس طرح کی افواہیں مدینہ منورہ میں پھیلا رہے ہیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ لوگ جھوٹے ہیں اور تم میرے لئے ایسے ہو جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے حضرت ہارون علیہ السلام تھے۔ ( ہاں اتنا ضرور ہے کہ ) میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ کی محبت   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر لے کر تبوک کی طرف روانہ ہو گئے اور مدینہ منورہ میں صرف منافقین رہ گئے۔ ان پیچھے رہ جانے والوں میں چار صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ ان کے نام یہ ہیں (1) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ (2) حضرت مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ (3) حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ (4) حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ ۔ سیرت النبی عیون الثر میں پانچ صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام ہیں اور پانچواں نام حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کا ہے۔ (لیکن دوسری روایات سے معلوم ہوا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے تھے لیکن ان کا اونٹ کمزور تھا اس لئے پیچھے رہ گئے تھے۔ آخر کار پیدل ہی سفر کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچے تھے) ادھر مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک کی طرف روانہ ہونے کے کئی دن بعد ایک دن حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ اپنے گھر آئے ۔ اس دن بہت سخت گرمی پڑ رہی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیویوں نے باغ کے سائبانوں میں خوب اچھی طرح پانی چھڑک کر اسے ٹھنڈا کر رکھا تھا۔ ( حضرت ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ کا کھجوروں کا باغ تھا اور گھر اسی میں تھا) اور دونوں کھانا تیار کر کے انتظار میں بیٹھی تھیں آپ رضی اللہ عنہ سخت گرمی سے پریشان تھے لیکن ٹھنڈے سائبان میں آکر بہت راحت محسوس ہوئی۔ گرمی اور راحت کا یہ احساس کر کے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اتنی شدید گرمی میں سفر کر رہے ہیں اور ابو خثیمہ یہاں ٹھنڈے سائبان میں پانی کی فراوانی اور عورتوں کے ساتھ کا لطف اٹھا رہا ہے۔ یہ ہرگز انصاف کی بات نہیں ہے۔‘‘ اور اسی وقت سفر کے لئے سواری اور کھانے کا انتظام کر کے ہتھیار لے کر روانہ ہو گئے اور تبوک میں جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ لشکر کے قریب پہنچے تو مسلمانوں نے کسی سوار کو دور سے آتے دیکھ کر کہا: ’’ کوئی سوار آرہا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یقینا ابو خثیمہ رضی اللہ عنہ ہوں گے۔‘‘ جب وہ قریب آئے تو مسلمانوں نے پہچان لیا اور کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ابوخثیمہ رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔‘‘ انہوں نے اونٹنی کو بٹھایا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا اور تما م واقعہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ’’تمہارے لئے یہی زیادہ بہتر تھا۔‘‘ اور دعائے خیر دی۔

حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا شوقِ جہاد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کو لے کر تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ کا اونٹ بہت کمزور تھا۔ اس لئے وہ پورے سفر میں آپ رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہ دے سکا اور اس کی رفتار لشکر کے مقابلے میں دھیمی ہوتی جا رہی تھی۔ اس طرح آپ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر سے کافی پیچھے رہ گئے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ اونٹ نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بہت کوشش کی۔ لیکن اونٹ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ مجبورا ً آپ رضی اللہ عنہ نے اونٹ کو وہیں چھوڑ دیا اور تمام سامان اپنے اوپر لاد کر پیدل ہی اسلامی لشکر کی طرف روانہ ہوئے اور تبوک میں جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مل گئے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچے تو مسلمانوں نے کہا: ’’کوئی پیدل شخص اکیلے ہی آرہا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ یہ ابو ذر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔‘‘ قریب آنے پر مسلمانوں نیپہچان لیا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ یہ آج اکیلے چل رہے ہیں اورانتقال کے وقت بھی اکیلے ہوں گے اور اکیلے ہی اٹھائے جائیں گے۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں ربذہ میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو بسا دیا ۔ وہاں ان کے ساتھ صرف ان کی بیوی اور غلام تھے۔ وہیں آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا۔ انتقال کے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ جب میر اانتقال ہو جائے تو مجھے غسل دے کے اور کفن پہنا کر راستے پر رکھ دینا اور جو بھی قافلہ گذرے اس سے کہنا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ لہٰذا انہیں دفن کرنے میں ہماری مدد کرو۔‘‘ اور ایسا ہی ہوا۔ جو قافلہ گزرا اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے ۔انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی لاش کو دیکھ کر فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا۔‘‘ او روہیں دفن کر دیا۔

قومِ ثمود پر عذاب کی جگہ ( مقامِ حجر)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ تبوک جا رہے تھے کہ راستے میں مقام حجر سے گزرے ۔ مقامِ حجر وہی جگہ ہے جہاں قومِ ثمود پر عذاب آیا تھا۔ اس مقام پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرۂ مبارک پر کپڑا ڈال لیا تھا اور اپنی سواری کو تیز چلانے لگے اور فرمایا: ’’ ان لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہونا۔ جنہوں نے ( یعنی قوم ثمود نے ) اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور اگر مجبوراً داخل ہونا پڑے تو روتے ہوئے داخل ہونا اور اس بات سے ڈرنا کہ کہیں تمہیں وہ عذاب نہ پہنچے جو ان لوگوں کو پہنچا ہے۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ رات میں تم پر سخت آندھی چلے گی۔ اس لئے کوئی بھی نہ اٹھے اور اپنے اپنے جانوروں کی رسیاں مضبوطی سے باندھ دیں۔ ‘‘رات میں آندھی آئی۔ اس وقت ایک شخص وادی میں تھا تو ہوا نے اسے اڑا کر قبیلہ بنو طی کے دو پہاڑوں کے درمیان ڈال دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا : ’’ اس علاقے کا پانی بالکل مت پینا اور جن لوگوں نے یہاں کے پانی سے آٹا گوندھ لیا ہے وہ اپنے جانوروں کو وہ آٹا کھلا دیں اور کہیں بھی دو آدمی ساتھ میں جانا اور اکیلے مت جانا۔‘‘ بنو ساعدہ کا ایک آدمی اپنے اونٹ کی تلاش میں اکیلا نکل گیا اور دوسر ا آدمی رفع حاجت ( سنڈاس) کے لئے اکیلا چلا گیا۔ اسے رفع حاجت کی جگہ گلا دبا کر بے ہوش کر دیا گیا اور اونٹ کی تلاش کرنے والے کو قبیلہ بنو طی کے دو پہاڑوں کے درمیان پھینک دیا گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بے ہوش آدمی تو لایا گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے تم لوگوں کو منع کیا تھا۔‘‘ پھر اس کے لئے دعا مانگی تو وہ ہوش میں آگیا اور دوسرے آدمی کو قبیلہ طے والوں نے اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس تشریف لے آئے تھے۔

ایک منافق کی گستاخی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کی طرف سفر فرمارہے تھے کہ راستے میں ایک مقام پر پڑائو ڈالا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو اونٹنی کو تلاش کر نے کا حکم دیا تو ایک منافق زید بن صلت نے کہا: ’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )تو اپنے آپ کو نبی بتاتے ہیں اور تمہیں آسمان کی خبریں دیتے ہیں۔ حالانکہ ان کو یہ بھی ( نعوذ باللہ ) معلوم نہیں ہے کہ ان کی اونٹنی کہاں ہے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منافق کی بات بتائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک شخص ایسا کہہ رہا ہے۔ ‘‘پھر اس کی گفتگو ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ’’ میں وہی بات جانتا ہوں جو اللہ تعالیٰ مجھے بتاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ میری اونٹنی فلاں گھاٹی میں پھنسی ہوئی ہے۔ اس کی مہار ایک پیڑیا جھاڑی میں پھنس گئی ہے۔جس کی وجہ سے وہ یہاں تک نہیں آسکتی ہے۔ جائو وہاں سے اسے لے کر آئو۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فوراً وہاں گئے اور اونٹنی کو لے کر آئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں