پیر، 3 جولائی، 2023

09 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


09 سیرت سید الانبیاء ﷺ

ہجرت

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


ہجرت کی اجازت، اولین ہجرت کرنے والے مہاجرین، رسول اللہ ﷺ کے قتل کا منصوبہ، رسول اللہ ﷺ کا محاصرہ توڑ کر نکلنا، غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق کی راجدھانی، ام معبد کی بکری، سراقہ بن مالک کا تعاقب، اسلام کا پہلا پرچم


سید الانبیاء ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کی اجازت دی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے معراج کے سفر سے پہلے خواب میں ایک کھجوروں کے باغات کا ہرا بھرا اور سر سبز علاقہ دکھایا تھا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ ہے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس سر زمین (مکہ مکرمہ) سے ایک ایسی سر زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔جہاں کھجوروں کے باغات ہیں ۔لہٰذا پہلے میرا خیال یمامہ یا ہجر کی طرف گیا۔ لیکن وہ یثرب ہے۔‘‘ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے معراج پر بلایا تو معراج کے سفر کے دوران جبرئیل علیہ السلام نے مدینہ منورہ کی نشاندہی کی ۔ اسکے بعد مدینہ کے انصار نے اسلام قبول کیا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ آنے کی دعوت دی تو یہ واضح ہوگیا کہ مستقبل میں مدینہ منورہ اسلام اور مسلمانوں کا ’’مرکز‘‘ بننے والا ہے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مدینہ منورہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ ایک روایت میں اتنے الفاظ زیادہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے انصار کو تمھارا بھائی بنایا ہے اور مدینہ منورہ میں امن قائم رہے گا۔

مدینہ منورہ کو اوّلین ہجرت کرنے والے مہاجرین

ؑ   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت ملنے کے بعد مکہ مکرمہ میں قریش کے ظلم و ستم سہہ رہے صحابہ کرام نے پوشیدہ اور کھلے عام مدہنہ منورہ کی طر ف ہجرت کرنی شروع کرد ی اور ایک ایک یا دو دو کی تعداد میں یا قافلوں کی شکل میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ لیکن ہجرت کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ کیونکہ قریش ان مسلمانوں کو روکنے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی جیسے تیسے ان کی چنگل سے بچ جاتا تھا تو اسے انتہائی دشوار گذار اور تکلیف دہ سفر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے لگ بھگ 300تین سو کلو میٹر سے زیادہ دو ر ہے اور اس وقت سب سے بہترین سواری اونٹ یا گھوڑا تھا اس لئے سفر بہت ہی تکلیف دہ اورصبر آزما ہوتا تھا اور کئی دنوں کا ہوتا تھا۔ لیکن ان تمام تکالیف کے باجود صحابہ کرام کا ہجرت کرنے کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔اس سلسلے میں کچھ صحابہ کرام کی ہجرت کے واقعات پیش خدمت ہیں۔

حضرت ابو سلمہ ( عبداللہ) اور سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی ہجرت

   ہجرت کرنے میں حضرت ابو سلمہ رضی اللہ اور سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو جو تکلیفیں پیش آئیں وہ مختصراً آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اس سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے اور جب مکہ مکرمہ واپس آئے تو قریش نے پھر سے ظلم و ستم شروع کر دیا۔ جب مدینہ منورہ کے انصار نے اسلام قبول کر لیا تو انھوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ بنایا۔ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عبد الاسد ہے۔ ہجرت کا واقعہ سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور میرے شوہر نے جب ہجرت کا ارادہ بنایا تو تمام سامان پیک کر کے اونٹ پر لادا اور مجھے اور ہمارے بیٹے کو اونٹ پر سوار کیا اور مکہ مکرمہ سے نکل کر مدینہ منورہ کے راستے پر چل پڑے۔ مقامِ ’’ابطح‘‘ پر میرے گھرو الے آگئے اور ہم دونوں کو روک لیا۔ مجھے اونٹ پر سے اتار لیا اور مجھے اور میرے بچے کو لے کر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا:’’ تمہیں مدینہ منورہ جانا ہے تو جائو لیکن ہماری بہن اور بھانجہ ہمارے پاس رہیں گے۔‘‘ اسی دوران میرے شوہر کے گھر والے بھی آگئے۔ انھوں نے جب یہ دیکھا تو کہا تم ہمارے بھائی کی بیوی کو چھین رہے ہو تو ہم بھی اپنے بھتیجے کو تمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے‘‘ اور بچہ مجھ سے چھین لیا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے دونوں گھر والوں کو بہت سمجھایا۔ لیکن دونوں ضد پر اڑے رہے مجبوراً آپ رضی اللہ عنہ اکیلے ہی مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ ‘‘

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا ہجرت کرنا

   سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آگے بتاتی ہیں:’’ میرے شوہر اکیلے ہی مدینہ منورہ ہجرت کر گئے۔ ان کے گھر والے میرے بیٹے کو لے کر چلے گئے اور مجھے میرے گھر والے اپنے ساتھ لے گئے۔ میں روزانہ مقامِ’’ ابطح‘‘ پر آکر بیٹھ جاتی تھی۔ جہاں میرے شوہر اور میرا بچہ مجھ سے الگ کر دیا گیا تھا اور مدینہ منورہ کی طرف جانے والے راستے کو تکتی رہتی تھی اور روتی رہتی تھی۔ لوگ آتے جاتے تھے مجھے حیرت سے دیکھتے رہتے تھے۔ اس طرح ایک سال کا عرصہ گزر گیا تو ان لوگوں کو مجھ پر رحم آگیا۔ میرے گھر والوں نے مجھے سفر کے لئے ایک اونٹ تیار کر کے دیا اور میرے شوہر کے گھر والوں نے میرے بچے کو لا کر مجھے دے دیا اور میں اکیلے اپنے بیٹے کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہو گئی۔ ‘‘

حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ پہنچا دیا

   سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ میں اپنے بیٹے کے ساتھ اکیلی سفر کر رہی تھی کہ مقامِ تنعیم میں میری ملاقات حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ( اس وقت انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا) مجھے تنہا دیکھ کر انھوں نے پوچھا:’’ تم کہاں جا رہی ہو؟ ‘‘میں نے بتایا:’’اپنے شوہر کے پاس مدینہ منورہ جا رہی ہوں۔‘‘ انھوں نے پوچھا تمہارے ساتھ کوئی نہیں ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا :’’ اللہ کی قسم !اللہ تعالیٰ اور میرے بیٹے کے علاوہ میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔‘‘ یہ سن کر ان کا د ل بھر آیا اور وہ میرے اونٹ کی مہار پکڑ کر مجھے لے چلے۔ جب کہیں ٹھہرنا ہوتا تھا تو اونٹ کو بٹھا کر خود پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ جب میں اتر جاتی تھی تو اونٹ کو لے جا کر کسی سایہ دار جگہ میں باندھ دیتے تھے اور خود بھی وہیں لیٹ جاتے تھے۔ جب چلنے کا وقت ہوتا تھا تو اونٹ کومیرے پاس لا کر بٹھا دیتے تھے اور خود پیچھے ہٹ کر کہتے تھے :’’سوار ہو جائو۔‘‘ جب میں سوار ہو جاتی تھی تو اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتے تھے۔ اسی طرح چلتے چلتے جب’’ قباء‘‘ ( مدینہ منورہ کا مضافاتی علاقہ) کے مکانات دکھائی دینے لگے تو انھوں نے کہا :’’ اسی بستی میں تمہارے شوہر مل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی برکت کے ساتھ اس بستی میں داخل ہو جائو۔‘‘ اور میرے شوہر کے پاس پہنچا کر واپس چلے گئے۔ اللہ کی قسم !میں نے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بہت شریف پایا۔‘‘ ( یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ ہماری اَمّی اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا تھا۔)

بنو حجش کی ہجرت

   حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بعد حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ ٔ محترمہ سیدہ لیلیٰ بنت ابی خیشمہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی۔ ان کے بعد حضرت عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے خاندان ’’بنو حجش ‘‘کے ساتھ ہجرت کی۔ ان کے ساتھ حضرت ابو احمد عبدبن حجش رضی اللہ عنہ تھے یہ نابینا تھے۔ یہ پورا خاندان اپنے گھر کو ایسے ہی چھوڑ کر مدینہ منورہ ہجرت کر گیا۔ حضرت عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی عبیداللہ بن حجش تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس کی بیوی اُم حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا تھیں۔ ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ لیکن حبشہ جا کر عبید اللہ بن حجش نصرانی (عیسائی) ہوگیا اور شراب پینے لگا۔ جس کی وجہ سے اس کو موت ہو گئی تھی۔ بعد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اﷲ عنہا سے نکاح کر لیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن حجش کی بہن سیدہ زینب بنت حجش نے بھی ان کے ساتھ ہجرت کی۔ یہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ بعد میں انھیں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دیا تھا۔ تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر لیا تھا۔ بنو حجش کا گھر خالی پڑا تھا۔ اس گھر کے پاس سے ایک مرتبہ عتبہ بن ربیعہ اور ابو جہل گزرے تو اس ویران اور خالی گھر کو دیکھ کر عتبہ بن ربیعہ نے ٹھنڈی سانس لی اور ابو جہل سے بولا:’’ تمام گھروں کو کتنی ہی لمبی سلامتی ملے۔ لیکن ایک دن ویران ہو جاتا ہے۔‘‘ اس کے جواب میں ابو جہل نے کہا:’’ یہ سب تمہارے بھتیجے( یعنی سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا دھرا ہے۔ اس نے ہماری جماعت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے درمیان دراڑ ڈال دی ہے اور تعلقات ختم کر دیئے ہیں۔ ‘‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہجرت

   اس کے بعد مدینہ منورہ ہجرت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا اور مسلمان لگاتار مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ تمام حضرات کے سفر ہجرت بیان کر نے کے لئے جگہ کی کمی ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں کے سفر ہجرت کے واقعات ضرورت کے مطابق بیان کرتے جائیں گے۔ ان میں قابل ذکر نام حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ہجرت کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ’’علی الاعلان ‘‘کھلے عام چیلنج کر کے ہجرت کی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اور حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ نے یہ طے کیا کہ کل صبح تینوں حضرات سرف کے اوپر بنو غفار کے اضات کے قریب کانٹے والے درختوں کے پاس ملیں گے اور اگر کوئی پہنچ نہ سکا تو انتظار کرنے کی بجائے باقی دو افراد ہجرت پر روانہ ہو جائیں گے۔ حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ نہیں پہنچ سکے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میری دانست میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی نے ’’علی الاعلان ‘‘ہجرت نہیں کی ہے۔ بلکہ قریش کے ظلم و ستم سے محفوظ رہنے کے لئے پوشیدہ ہجرت کی ہے۔ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہجرت کے لئے نکلے تو تلوار، تیر کمان اور نیزے سے مسلح ہو کر یہ تمام ہتھیار اپنے بدن پر سجا لئے اور خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لئے حرم شریف میں تشریف لائے۔ قریش وہاں موجود تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہے تھے۔ کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ آگے بڑھ کر آپ رضی اللہ عنہ سے کچھ کہے۔ طواف سے فارغ ہو کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے’’ مقامِ ابراہیم ‘‘پر دو رکعت نماز ادا کی۔ اس کے بعد تمام قریش کے سامنے کھڑے ہو ئے اور فرمایا:’’ میں ہجرت کرکے مدینہ منورہ جا رہا ہوں۔ تم میں سے جس کی کی یہ خواہش ہو کہ اس کی ماں اس کے اوپر روئے۔ اورا س کی بیوی بیوہ ہو جائے اور اس کے بچے یتیم ہو جائیں تو وہ اس پہاڑ کے دوسری طرف مجھ سے آکر ملے۔ ‘‘( اور مجھے ہجرت سے روکنے کی کوشش کرے) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا چیلنج تمام قریش نے سنا لیکن کسی کی ہمت اور جرأت نہیں ہوئی کہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کا راستہ روکتا۔ طے شدہ مقام پر جب آپ رضی اللہ عنہ پہنچے تو حضرت عیاش بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو منتظر پایا۔ دونوں حضرات مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ بعد میں ابو جہل بن ہشام اور حارث بن ہشام مدینہ منورہ آئے اور حضرت عیاش بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو کہا کہ تمہاری والدہ کی حالت بہت خراب ہے۔ والدہ کی محبت میں آ پ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ ان دونوں کے ساتھ روانہ وہ گئے۔ راستے میں ابو جہل نے آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پائوں باندھ لئے اور مکہ مکرمہ لے جا کر قید کر دیا اور قریش سے کہا :’’ اے اہل مکہ ! جس طرح میں نے اس احمق کے ساتھ کیا ہے۔ تم ان بے وقوفوں کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ ‘‘

ہجرت کرنے والے کچھ صحابہ کرام کے نام

   مدینہ منورہ کی طرف جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہجرت کی ان میں سے کچھ خاص نام یہاں ذکر کر رہے ہیں۔ چونکہ ہم مختصر حالات پیش کر رہے ہیں۔ اس لئے تمام صحابہ کرام کے نام جاننے کے لئے آپ سیرت کی ضخیم اور معتبر کتابوں کی طرف رجوع کریں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پیچھے ان کے بڑے بھائی حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ سُراقہ کے دونوں بیٹے حضرت عمرو بن سراقہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت واقد بن عبدا للہ تمیمی حضرت خولی بن خولی اور بکیر کے چاروں بیٹے حضرت ایاس بن بکیر ، حضرت عامر بن بُکیر ، حضرت عاقل بن بکیر اور حضرت خالد بن بکیر رضوان اللہ علیہم اجمعین مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ ان کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ، حضرت صُہیب بن سنان رضی اللہ عنہ ، حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہمنورہ پہنچے۔ ان کے بعد حضرت ابو مرثہ کنانہ بن حصن ، حضرت انسہ ، حضرت کبشہ ، حضرت عبیدہ بن حارث اور ان کے دونوں بھائی حضرت طفیل بن حارث اور حضرت حصین بن حارث رضوا ن اللہ علیہم اجمعین مدینہ منورہ پہنچے۔ ان کے بعد حضرت مسطح بن اثاثہ ، حضرت سویبط بن سعد اور حضرت طلیب بن عمیر رضی اللہ عنہم مدینہ منورہ پہنچے۔ اور پھر حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ، اور حضرت عثمان بن عفان ( ذوالنورین) رضی اللہ عنہ بھی مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ ان میںسے زیاد تر افراد مدینہ منورہ کے مضافاتی علاقہ قباء میں ہی رک گئے۔ حالانکہ مدینہ منورہ کے انصار بہت زیادہ امیر نہیں تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ مکہ مکرمہ کے اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی دل و جان سے خدمت کر رہے تھے۔ ادھر مکہ مکرمہ سے زیادہ تر مسلمان مدینہ منورہ جا چکے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رہ گئے تھے ۔ ان کے علاوہ چند مجبور اور کمزور مسلمان رہ گئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قریش کے پنجے میں پھنسے ہوئے تھے یعنی قید میں تھے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت کی تیاری

   دھیرے دھیرے لگ بھگ تمام مسلمان مدینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے اور مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روک لیا۔ ان کے علاوہ مکہ مکرمہ میں وہی مسلمان رہ گئے تھے۔ جو انتہائی مجبور تھے اور ہجرت نہیں کر سکتے تھے۔ ان میں سے کچھ قیدکی وجہ سے مجبور تھے اور کچھ غلام ہونے کی وجہ سے مجبور تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اجازت مانگی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جلدی نہ کرو! ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ کسی کو تمہارا ساتھی بنا دے۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے۔سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ خود انھی کی طرف ہے۔ اس لئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دو انٹنیاں خرید لیں اور انھیں دیکھ ریکھ کر نے کے لئے عبداللہ بن اریقط کے حوالے اُجرت پر کیا۔ وہ ایک راہ نما تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب بھی سفر پر جاتے تھے تو وہ راہنمائی کرتا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کر کے فرمایا :’’ مقررہ مدت تک ان کی حفاظت کرو۔ ‘‘ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود چارہ دیتے تھے اور روض الانف میں ہے کہ عبداللہ بن اریقط کے حوالے کر دیا تھا۔

’’ دار الندوہ ‘‘میں قریش کی مشاورت

   مکہ مکرمہ کے کافروں (قریش ) نے دیکھا کہ مکہ مکرمہ لگ بھگ مسلمانوں سے خالی ہوچکا ہے اور اب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی مکہ مکرمہ میں رہ گئے ہیں ۔انھیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ مسلمانوں کو ایک ’’مرکز‘‘ (مدینہ منورہ ) مل چکا ہے۔ اگر سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مرکز میں پہنچ گئے تو یقیناً یہ لوگ قریش سے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس وقت طاقتور بھی ہوچکے ہوں گے۔ اسی لئے قریش ’’دارالندوہ‘‘ (یہ مکہ مکرمہ کا ہماری زبان میں پارلمنٹ ہائوس یا اسمبلی ہال تھا۔ جسے قصی بن کلاب نے قائم کیا تھا) میں جمع ہوئے۔ قریش کے تمام خاندان یا شاخوں کے سردار اس میں شریک ہوئے۔ ان میں سے کچھ نام یہ ہیں۔ عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ابو سفیان بن حرب ، جبیر بن مطعم، نضر بن حارث اور ابو جہل ان کے علاوہ بھی لوگ تھے۔ ابلیس شیطان بھی ایک بہت ہی خوبصورت بوڑھے کی شکل میں آیا اور دارالندوہ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے ایک موٹی سی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ جب قریش مکہ نے اسے دیکھا تو پوچھا:’’ تم کون ہو؟ اور کہاں سے ہو؟‘‘ ابلیس نے کہا:’’ میں شیخ نجدی ہوں، میں نے تمھارے مشورے (میٹنگ)کے بارے میں سنا تو آگیا کہ تمھاری باتیں سنو اور ہوسکتا ہے میں کوئی اچھا مشورہ بھی دے سکوں۔‘‘قریش نے کہا:’’ ٹھیک ہے اندر آجائو۔‘‘ اور ابلیس بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔

سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے( نعوذ بااللہ) قتل کا منصوبہ

   جب تمام لوگ بیٹھ گئے تو مشورہ شروع ہوا۔ ایک نے کہا:’’ اس شخص(سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم) کے عمل کا سب مشاہدہ کر چکے ہیں۔ اللہ کی قسم !اب ہمیں یہ خطرہ ہے کہ وہ ہم پر حملہ آور ہوجائے گا اور دوسرے لوگ ہمارے مقابلے کے لئے اس کے معاون ومددگار ہوں گے۔ اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس کے متعلق ہم کوئی ایک رائے قائم کر لیں۔‘‘ ایک شخص نے تجویز پیش کی:’’ اسے لوہے کی زنجیروں میں قید کرلو پھر دروازہ بند کر دو اور اس کے انجام کا انتظار کرو۔ حتیٰ کہ موت اسکا خاتمہ کردے۔ ‘‘شیخ نجدی (ابلیس شیطان )بولا:’’نہیں !یہ رائے درست نہیں ہے۔ اگر تم نے اسے قید کردیا تو اسکے ساتھیوں تک یہ خبر پہنچ جائے گی اور وہ آکر اسے چھڑا لیں گے۔‘‘ دوسرے شخص نے کہا :’’ ہم اسے جلا وطن کردیتے ہیں۔‘‘ شیخ نجدی نے کہا :’’یہ مشورہ بھی درست نہیں ہے تم جانتے ہی ہو اس کی گفتگو میں کتنی مٹھاس ہے ۔ وہ بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنالے گا اور تم پر حملہ کرکے تمھیں تباہ کردے گا۔‘‘ آخر کار ابو جہل بولا:’’میرا ایک مشورہ ہے۔ اللہ کی قسم !اسکے بعد تمھیں کسی اور مشورے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘ تمام لوگوںنے پوچھا:’’اے ابوالحکم !(ابو جہل کی کنیت ہے)وہ رائے کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا :’’میری رائے یہ ہے کہ ہم ہر قبیلے سے ایک ایک نوجوان حسب ونسب والے کو لیں اور ہر جوان تلوار پکڑا دیں ۔ وہ اس شخص کی طرف جائیں اور سب مل کر ایک ساتھ حملہ کردیں اوراسے (نعوذ با اللہ)قتل کردیں۔اس طرح ہم اس سے نجات پاجائیں گے اور کسی ایک پر الزام بھی نہیں آئے گااور ہم سب ملکر اسکا خون بہا بنو عبد مناف کو دے دیں گے۔ ‘‘یہ رائے سن کر شیخ نجدی (ابلیس شیطان ) نے کہا:’’ یہ بالکل درست رائے ہے اور سب لوگ یہی کریں ۔‘‘اور محفل برخاست ہوگئی۔

سید الا نبیاء ﷺ کو ہجرت کی اجازت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسی انتظار میں مکہ مکرمہ میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے کی اجازت دیں گے تب مکہ مکرمہ چھوڑ یں گے۔ ادھر’’ دارالندوہ ‘‘میں قریش سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے( نعوذ باللہ)قتل کا مشورہ کر رہے تھے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا یہ حکم لے کر آئے کہ آج رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہ سوئیں۔ ( بلکہ ہجرت کے لئے نکل جائیں) ۔ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فوراًحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر روانہ ہوگئے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر صبح کے وقت یا شام کے وقت تشریف لاتے تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت ہمارے گھر تشریف لائے۔ عام طور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسو قت تشریف نہیں لاتے تھے۔ میرے والد ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) نے کہا:’’ ضرور کوئی خاص واقعہ رونما ہوا ہے۔ ‘‘جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو میرے والد چارپائی پر سے اٹھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر بٹھا کر خود کھڑے رہے۔ اس وقت میرے والد کے ساتھ میں ، میں اور میری بڑی بہن سیدہ اسما بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا تھیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں تم سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ میرے والد نے کہا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے پاس یہ دو بیٹیاں ہی ہیں۔ میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ، مناسب ہو تو بات بتا دیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت دے دی ہے۔‘‘ میرے والد نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل سکتا ہوں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہاں تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔‘‘ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ اللہ کی قسم !اس سے پہلے مجھے معلوم نہ تھا کہ کوئی خوشی کی وجہ سے بھی کوئی رو سکتا ہے۔ میں نے میرے والد کو مسرت اور خوشی سے روتے دیکھا۔ پھر میر ے والد نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے دو اونٹنیاں اسی مقصد کے لئے خریدی تھیں۔ جن کی دیکھ ریکھ عبدا للہ بن اریقط کر رہا ہے۔

سید الانبیاء ﷺ کے گھر کا محاصرہ

   ادھر قریش نے ’’دار الندوہ‘‘ میں طے کر لیا تھا کہ رات میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا جائے گا اور پروگرام کے مطابق گیارہ بڑے سرداروں نے محاصرہ کیا۔ جن کے نام یہ ہیں (۱) ابو جہل بن ہشام (۲) عقبہ بن ابی معیط (۳) حکم بن عاص (۴) نضر بن حارث (۵) اُمیہ بن خلف (۶) زمعہ بن اسود (۷) طعیمہ بن عدی (۸)ابو لہب بن عبد المطلب (۹) اُبّی بن خلف (۱۰) نُبیہ بن حجاج (۱۱) منبہ بن حجاج ۔ یہ لوگ گھات لگا کر بیٹھ گئے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سو جائیں تو سب لوگ اچانک حملہ کر دیں ۔ ان لوگوں کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا۔ اسی لئے ابو جہل نے بڑے گھمنڈی لہجے میں کہا:’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتا ہے کہ اگر تم لوگ اس دین ( اسلام) میں داخل ہو کر اس کی بات مانو گے تو عرب و عجم کے بادشاہ بن جائو گے۔ پھر مرنے کے بعد اٹھائے جائو گے تو تمہارے لئے جنتیں ہیںاور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اُن کی طرف سے ( مسلمانوں کی طرف سے ) قتل کئے جائو گے۔ پھر مرنے کے بعد اٹھائے جائو گے تو تمہارے لئے آگ ہوگی جس میں جلائے جائو گے۔‘‘

حضرت علی رضی اللہ عنہ سید الانبیاء ﷺ کے بستر پر

   قریش کے کافر سردار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور دو جاں نثار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر جان قربان دینے کے لئے تیار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے باہر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کے سفر کی تیاری کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگے ہوئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’میرے بستر پر سو جائو اور میری سبز حضری چادر اوڑھ لو۔ انشاء اللہ دشمنوں سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘ در اصل قریش کے کافر اپنی امانتیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ صبح تماملوگوں کی امانتیں انھیں واپس لوٹا دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بسم اللہ کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹ گئے اور سکون کی نیند سو گئے۔ باہر قریش کے کافر ہتھیاروں سے لیس تیار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ دونوں جا کر علی (رضی اللہ عنہ ) کی پہریداری کرو۔ دونوں فرشتے آئے اور جبرئیل علیہ السلام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑے ہو گئے اور میکائیل علیہ السلام پیروں کی جانب کھڑے ہو گئے۔ دونوں فرشتے یہ فرما رہے تھے :’’ مبارک ہو !اے ابو طالب کے بیٹے! تمہیں مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے درمیان تم پر فخر فرما رہے ہیں۔ ( سیرۃ الحلبیہ )

محاصرہ کرنے والوں کے سر پر خاک ( مٹی ) ڈال کر نکل گئے

   قریش کے کافر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے( نعوذ باللہ )قتل کی تیاری کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کی تدبیر کر رہا تھا۔ اسی طرف اللہ تعالیٰ نے سورہ الانفال کی آیت نمبر30میں اشارہ فرمایا ہے۔ ( ترجمہ):’’ اور وہ وقت یاد کرو جب کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کر دیں یا ( نعوذ باللہ) قتل کر دیں۔ اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘ ( سورہ الانفال آیت نمبر30) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سلا کر گھر سے باہر سورہ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھتے ہوئے باہر نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے قریش کے کافروں کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اس آیت پر پہنچے( ترجمہ) :’’پس ہم نے اُن پر پردہ ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ دیکھ نہیں سکتے۔‘‘ تو مٹھی بھر خاک اٹھا کر اُن کافروں کے سروں پر ڈال دی اور ان کے درمیان سے گزرتے چلے گئے۔ تمام کافر دم بخود ( مجسمہ بنے ہوئے) کھڑے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے درمیان سے صاف نکال لیااور وہ کچھ نہ کر سکے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کافروں کے سروں پر خاک( مٹی) ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل آئے اور ہر کافر کے سر پر خاک پڑی ہوئی تھی۔ وہاں سے نکل کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے۔ وہاں آپ رضی اللہ عنہ بالکل تیار تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوب کی سمت چلنے کو فرمایا۔ جب کہ مدینہ منورہ شمال کی سمت تھا۔ جب’’ جبلِ ثور ‘‘کے پاس پہنچے تو رات کے اندھیرے میں دونوں حضرات جبلِ ثور پر چڑھنے لگے۔ جبلِ ثور کی چڑھائی بہت مشکل تھی اور راستہ نوکیلے پتھر اور کنکر تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں مبارک کو زخمی کر رہے تھے۔ اندھیرے میں ٹھوکر لگ رہی تھی ۔ آخر کار عاشقِ رسول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رہا نہیں گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا اور جبلِ ثور پر چڑھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت انھیں بے پناہ طاقت عطا فرمادی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر غارِ ثور تک پہنچ گئے۔

قریش کے کافروں کا شدید ردّ عمل

   ادھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غارِ ثور میں بہ حفاظت پہنچ گئے اور ادھر قریش کے کافر سردار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصر ہ کئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے ایک شخص ادھر سے گزرا ۔ اس نے ان لوگوں کو کھڑے دیکھا تو پوچھا :’’آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘ ان لوگوں نے جواب دیا:’’ ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ اس شخص نے کہا:’’ میں ابھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو دیکھ کر آرہا ہوں۔ وہ ابو بکر صدیق ( رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ مکہ مکرمہ سے باہر جا رہے تھے اور انھوںنے تمہارے سر وں پر مٹی دال دی ہے۔ ذرا اپنے سروں کو دیکھو۔‘‘ جب ان لوگوں نے اپنے سروں پر ہاتھ پھیرا تو ہر ایک کے سر پر مٹی ہی مٹی تھی۔ وہ تمام لوگ جلدی سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانک کر دیکھنے لگے تو انھیں کوئی سبز حضرمی چادر اوڑھے ہوئے سویا نظر آیا۔ ( جو دراصل حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے) ان لوگوںنے کہا:’’ اللہ کی قسم !محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو یہ سوئے ہوئے ہیں اوروہ لوگ صبح تک محاصرہ کئے کھڑے رہے۔ صبح حضرت علی ابن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور گھر کے باہر نکلے تو وہ لوگ حیران ہو گئے۔ ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو ہٹایا اور اندر داخل ہو کر ہر جگہ دیکھا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آئے ۔ انھوں نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا:’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟‘‘ قریش غصہ اور ندامت کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے اور مارنے لگے۔خانہ کعبہ تک لے کر آئے تھوڑی دیر تک روک کر رکھا پھر چھوڑ دیا۔ اب وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو سیدہ اسما ء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا باہر نکلیں۔ ابو جہل نے پوچھا:’’ لڑکی تیرا باپ کہاں ہے؟‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ وہ رات کو گھر سے نکل گئے اور اس وقت کہاں ہیں میں نہیں بتا سکتی۔‘‘ بد بخت ابو جہل نے اتنی زور سے آپ رضی اللہ عنہا کو طمانچہ مارا کہ آپ رضی اللہ عنہا کے کان کی بالی گر گئی۔

غارِ ثور میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جاں نثاری

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ سے نکلنے اور غارِ ثور میں رکنے کے واقعہ کو علامہ عبد المصطفیٰ نے بڑے خوب صورت الفاظ میں بیان کیا۔ آپ لکھتے ہیں ۔ رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دولت خانہ سے نکل کر مقامِ’’ حزورہ ‘‘کے پاس کھڑے ہو گئے اور بڑی حسرت کے ساتھ ’’خانہ کعبہ‘‘ کو دیکھا اور فرمایا:’’ اے شہر مکہ !تُومجھ کو بہت پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور جگہ سکونت پذیر نہ ہوتا۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ساتھ تھے۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں مبارک زخمی ہو رہے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کاندھوںپر سوار کر لیا اور اسی طرح کانٹے دار جھاڑیوں اور نوک دار پتھروں والی پہاڑیوں کو روندتے ہوئے اسی رات غارثور تک پہنچے۔یہ حوالہ دینے کے بعد علامہ عبد المصطفیٰ آگے لکھتے ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پہلے خود غارِ ثور میں داخل ہوئے اور اچھی طرح غار کی صفائی کی اور اپنے بدن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا۔ کپڑا ختم ہو گیا اور ایک سوراخ باقی رہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس سوراخ پر اپنی ایڑی رکھ دی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آجائیے اور میرے زانوپر سر رکھ کر آرام فرمائیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے ’’صدیق اکبر ‘‘رضی اللہ عنہ کے زانو پر سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ سوراخ کے اندر اسے ایک سانپ نے بار بار آپ رضی اللہ عنہ کو کاٹا مگر صدیق اکبر نے اس خیال سے حرکت نہیں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام میں خلل نہ پڑجائے اور درد کو برداشت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی کوشش میں آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور یہ آنسو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر گرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونک کر بیدار ہو گئے ۔ اپنے یارِ غار کو روتا ہوا دیکھ کر بے قرار ہو اٹھے اور دریافت فرمایا:’’ اے ابو بکر رضی اللہ عنہ !کیا ہوا؟‘‘ انھوں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن لگا دیا۔ جس سے درد فوراً ختم ہوگیا۔

ابو بکر صدیق کی ایک رات عُمر فاروق کی ساری زندگی سے بہتر

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کچھ آدمیوں کا تذکرہ ہوا کہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل مانتے ہیں۔ جب یہ بات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اللہ کی قسم !حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک رات عُمر فاروق کی ساری زندگی سے بہتر ہے۔‘‘ اور پھر ہجرت کی رات کا وہ واقعہ بیان فرمایا:’’ مکہ مکرمہ سے نکلنے کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کبھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلتے تھے اور کبھی آگے چلتے تھے اور بار بار چاروں طرف نظریں دوڑاتے رہتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بے قراری دیکھی تو فرمایا:’’ اے ابو بکر رضی اللہ عنہ کیا ہوا؟ ‘‘ انھوں نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جب مجھے لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے خطرہ ہے تو میںپیچھے آجاتا ہوں اور جب لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے خطرہ ہے تو آگے آجاتا ہوں۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ !کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ کوئی میرے بجائے تمہیں نقصان پہنچائے۔‘‘ انھوں نے عرض کیا :’’جی ہاںیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوحق دے کر بھیجا ہے، اگر کوئی بھی مصیبت آئے تو میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے میرے اوپر آئے۔‘‘ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دونوں حضرات کے غارِ تک پہنچنے اور غار ثور کی صفائی اور اس رات صدیق اکبر پر جو کچھ گزرا ( یہ سب ہم پہلے بیان کر چکے ہیں) وہ سب بیان کر کے فرمایا:’’ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وہ رات عمر(فاروق رضی اللہ عنہ ) کی ساری زندگی سے بہتر ہے۔

100اونٹوں کا انعا م

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غارِ ثور میں جاکر مقیم ہو گئے۔ ادھر مکہ مکرمہ میں قریش کے کافروں کا اجلاس ہوا کہ دونوں حضرات تو مکہ مکرمہ سے نکل چکے ہیں اور ہماری چال نا کام ہو چکی ہے۔ اس لئے اب اُن دونوں کو گرفتار کر نے کی بھر پور کوشش کی جائے۔ اس کے لئے سب سے پہلے یہ طے ہوا کہ دونوں حضرات کو گرفتار کر کے لانے والے کو یاکسی ایک کو بھی گرفتار کر کے لانے والے کو یا قتل کرنے والے کو 100اونٹ انعام دیئے جائیں گے۔ اس کا اعلان مکہ مکرمہ اور آس پاس کے علاقوں میں کروایا گیا۔ اعلان سن کر بہت سے لوگ گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار ہو کر اور بہت سے پیدل ہی ان دونوں حضرات کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ان میں قدموں کے نشانات کے ماہر کھوجی بھی شامل تھے اور یہ سب لوگ پہاڑوں ، وادیوں اور نشیب و فراز میں ہر طرف پھیل گئے۔ جہاں جہاں پانی کے گھاٹ تھے وہاں وہاں تحقیق کے لئے آدمیوں کو بھیجا گیا۔ کچھ لوگ تلاش کرتے کرتے غارِ ثور تک بھی پہنچ گئے تھے۔

غارِ ثور میں تین دن قیام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تین دن تک’’ غارِ ثور‘‘میں قیام فرمایا۔ اس دوران حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرتعبداللہ بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قریش کی جاسوسی پر مقرر کر دیا تھا۔ وہ دن بھر قریش کی مجلسوں میں شریک رہتے تھے اور رات کے وقت چھپتے چھپاتے غار میں آکر خبریں دیتے تھے۔ حضرت عامر بن فُہیرہ رضی اللہ عنہ ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خرید کر آزاد کر دیاتھا) دن بھر آس پاس بکریاں چراتے رہتے تھے اور حضرت عبداللہ بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے جانے کے بعد ان کے ’’نشان قدم‘‘ پر بکریوں کو لے کر جاتے تھے۔ تا کہ قدموں کے نشان مٹ جائیں۔

اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غارِ ثور میں مقیم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا تو اس نے غار کے دہانے پر جالا تان دیااور دو جنگلی کبوتر بھیجے ۔ وہ غار کے دہانے پرٹھہر گئے اور گھونسلہ بنا لیا۔ تا کہ مشرکین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہو ۔ حرم شریف کے کبوتر ان ہی دو کبوتروں کی نسل سے ہیں۔پھر قریش کے نوجوان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈتے ہوئے لاٹھیاں ، ڈنڈے اور تلواریں لے کر آئے اور ان میں سے کسی نے غار میںدیکھا تو اسے کچھ نظر نہیں آیااور وہ اپنے ساتھوں کی طرف واپس لوٹ گیا۔ اس کے ساتھیوں نے پوچھا کیا ہوا؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں نے دو وحشی کبوتر دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہاں کوئی نہیں ہے۔ دوسرے نے کہا غار میں داخل ہو جائو۔ تو امیہ بن خلف نے کہا۔ دیکھتے نہیں وہاں مکڑی کا جالا ہے اور وہ اتنا پرانا لگ رہا ہے کہ جیسے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش سے پہلے کا ہے۔ اندرغار میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس خیال سے بے چین تھے کہ کہیں یہ لوگ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میںتھا۔ سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگوں کے پائوں نظر آرہے ہیں ۔میں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ان میں سے کوئی شخص اپنی نگاہ نیچی کر ے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو بکر رضی اللہ عنہ !( تمہارا) ایسے دو آدمیوںکے بارے میں کیا خیال ہے جن ( کے ساتھ) تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ ‘‘ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی اور قریش کے کافر چند قدم کے فاصلے پر ہوتے ہوئے بھی ان دونوں حضرات کو نہیں دیکھ سکے۔

مدینہ منورہ کی طرف روانگی

   جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو غارِ ثور میں قیام کے تین دن گزر گئے تو قریش کا جوش و خروش اور تلاش میں کمی آگئی تھی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق عبداللہ بن اریقط دونوں تندرست اونٹنیاں لے کر حاضرہو گیا۔ وہ غیر مسلم (کافر ) تھا۔ لیکن قابل اعتماد تھا اور راستے کا ماہر تھا۔ اسی لئے اسے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے راستہ بتانے یعنی راہ نمائی کے لئے اجرت پر رکھا تھا۔ یہ باتیں اس سے پہلے بھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکررضی اللہ عنہا کو بھی تیسرے دن معلوم ہوا کہ دونوں حضرات غارثور میں مقیم ہیںتو روانگی کے وقت وہ ان حضرات کے لئے راستے کا کھانا بنا کر لے کر آئیںلیکن رسی لانا بھول گئیں۔ اس لئے اپنے کمر بند کے دو حصے کئے اور ایک سے کھانے کا سامان باندھ دیا اور ایک اپنی کمر پر باندھ لیا۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہا کا لقب ’ ’ذات النطاقین ‘‘ پڑ گیا۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اونٹنی پیش کی ۔ ( اس سے پہلے ہم یہ بتا چکے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پہلے سے یہ دو اونٹنیاں خرید کر عبد اللہ بن ارقط کے حوالے کر دی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت دریافت کی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہے۔‘‘ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت ادا کر کے ہی اس اونٹنی کی سواری کی۔ ایک اونٹنی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور دوسری پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور اپنے ساتھ حضرت عامر بن فہیرہ کو بٹھا لیا اور تیسری اونٹنی پر عبد اللہ بن اریقط سوار تھا اور راستہ بتانے کے لئے ساتھ چل رہا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت فرمائی کہ وہ عام راستے سے ہٹ کر ویران راستے سے چلے۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا راستہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق عبداللہ بن ارقط اصل راستے سے ہٹ کر چلا۔ غار ثور سے نکل کر ان لوگوں کو لے کر مغرب اور شمال کی سمت مکہ مکرمہ کے نچلے علاقے سے ساحل کی طرف چلااو ر ’’عسفان ‘‘سے ذرا پہلے اصل راستے کو کاٹتے ہوئے اس کے دائیں طرف ہو گیا۔ وہاں سے یہ قافلہ شمال کی طرف چلتے ہوئے’’ امج ‘‘نام کے مقام کے نچلے حصے سے گزرا اور اصل راستے کے بائیں طرف آگیا۔ اس کے بعد’’ قدید‘‘ نام کی بستی سے ذرا آگے چل کر اصل راستے کو کاٹتے ہوئے دائیں طرف ہو گیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں ’’اُم معبد ‘‘کی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی۔ ( اس کا ذکر انشا ء اللہ آگے آئے گا) قدید کے بعد’’ جحفہ ‘‘سے ذرا پہلے اس قافلے نے اصل راستے کو پھر کاٹا اور بائیں طرف آکر’’ خرار‘‘ کے مقام پر پہنچا۔ یہ قریش کے حلقۂ اثر کا آخری علاقہ تھا۔ اس مقام سے یہ قافلہ اصل راسے کے بائیں طرف اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ یہاں تک کر’’ مد لحجہ‘‘ نام کے دیہات تک پہنچا۔ یہاں سے مغرب کی طرف مڑ کر’’ عبابید یا عبابیب‘‘ تک یہ قافلہ پہنچا۔ اس کے بعد جب ’’عرج ‘‘کے مقام تک یہ قافلہ پہنچا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اوس بن حجر نام کے ایک شخص کو مدینہ منورہ بھیجا تا کہ وہ انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع کر دے۔ اس کے بعد عبداللہ بن اریقط اس مختصر سے قافلے کو لے کر ’’رتم ‘‘سے گزرتے ہوئے ’’قبا‘‘ تک لے آیا۔

غارِ ثور کے بعد پہلا پڑاؤ

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ہم لوگ ( غار ثور سے شام کے وقت نکلے اور ) رات بھر چلتے رہے اور دن میں دوپہر تک چلتے رہے۔ جب سورج کی روشنی کی گرمی ناقابل برداشت ہو گئی اور راستہ خالی ہو گیا اور کوئی گزرنے والا نہیں رہا تو ہمیںایک لمبی چٹان دکھائی دی۔ جس کے سائے میں ہم اتر پڑے۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لیٹنے کی جگہ صاف اور برابر کی اور اس پر ایک پوستین بچھا کر گذارش کی کہ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جائیں۔ میں ذرا آس پاس نظر رکھتا ہوں۔‘‘ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمانے لگے اور میں آس پاس نظر دوڑانے لگا ۔ اچانک مجھے ایک چرواہا دکھائی دیا۔ جو اپنی بکریاں لئے اسی چٹان کی طرف چلا آرہا تھا۔ شاید وہ بھی چٹان کے سائے میںکچھ وقت گذارنا چاہتا تھا۔ میںنے اس سے پوچھا :’’ اے نوجوان !تم کس ( علاقے) کے آدمی ہو؟‘‘ اس نے مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کے آس پاس کا علاقہ بتایا۔ میں نے پوچھا:’’ دودھ مل سکتا ہے؟ ‘‘اس نے کہا:’’ ہاں ۔‘‘ اور ایک بکری پکڑی۔ میں نے کہا:’’ اپنے ہاتھوں اور تھن کو اچھی طرح صاف کر لو۔ ‘‘پھر اس نے ایک کاب میں دودھ نکالا۔ میرے پاس ایک چرمی لوٹا تھا جو میںنے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے اور وضو کر نے کے لئے رکھ لیا تھا۔ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ پھر میں نے دودھ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے پانی کا استعمال کیا۔ یہاں تک کہ اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ٹھنڈا دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا اور مجھے بے حد خوشی ہوئی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیا ابھی چلنے کا وقت نہیں ہوا ہے ؟‘‘میں نے عرض کیا :’’کیوں نہیں ۔ ‘‘پھر ہم سب لوگ چل پڑے۔ ‘‘

اُم معبد رضی اللہ عنہا کی قسمت جاگ گئی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت کا سفر جاری تھا۔ اسی سفر کے دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُم معبد رضی اللہ عنہ کے خیمے کے پاس سے گزرے ۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے باہر چادر اوڑھے بیٹھی ہوئی تھیں۔ (کئی سیرت نگاروں نے اُم معبد رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے پہلے حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کیا ہے۔ اب کون سا واقعہ پہلے پیش آیا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کوہے) وہ بڑی مہمان نواز تھیںلیکن انھیں اندازہ نہیں تھا کہ انبیاء علیہم السلام کے ’’سردار ‘‘جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام عالموں ( جہانوں ) کے لئے ’’رحمت ‘‘بنا کر بھیجا ہے وہ ان کے مہمان بننے والے ہیں۔ ام معبد رضی اللہ عنہا کا یہی کام تھا کہ مسافروں کے انتظار میںبیٹھی رہتی تھیں اور ہر آنے جانے والے مسافر کو کھلاتی پلاتی رہتی تھیں۔ لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو قحط کا زمانہ ہونے کی وجہ سے ان مسافروں کو کھلانے کے لئے آپ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ نہیں تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا:’’ تمہارے پاس کچھ ہے؟ ‘‘اُم معبد رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:’’ اللہ کی قسم ! اس وقت تو کچھ نہیں ہے میرے پاس کچھ ہوتا تو آپ لوگوں کی خدمت کرنا میں اپنی خوش نصیبی سمجھتی ۔ میرے شوہر بکریوں کو چرانے کے لئے بہت دور گئے ہوئے ہیں کیوں کہ قحط کا زمانہ ہونے کی وجہ سے چارہ بھی آسانی سے میسر نہیں آتا ہے۔ اگر وہ قریب ہوتے تو میں بکریوں کے دودھ سے آپ لوگوں کی ضرور خدمت کرتی۔‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ

   اُم معبد رضی اللہ عنہا کانام ’’عاتکہ بنت خالد ‘‘ہے۔’’ اُم معبد‘‘ کُنّیت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا قبیلہ بنو خزاعہ کی ہیں۔ جب انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آس پاس نظریں دوڑانے لگے تو دیکھا کہ خیمے کے ایک کونے ( گوشے) میں ایک بکری بندھی ہوئی ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے متعلق دریافت فرمایا تو ام معبد رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:’’ یہ بکری بہت کمزور ہے اور کمزوری کی وجہ سے چرنے نہیں جاسکتی ہے۔ اس لئے یہاں بندھی ہوئی ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم اجازت دو تو میں اس میں سے دودھ نکال لوں۔‘‘ اُم معبد رضی اللہ عنہا نے حیرانی سے کہا:’’ یہ بکری دودھ نہیں دیتی۔ پھر بھی تم اپنے اطمینان کے لئے کوشش کر لو۔‘‘ اور بکری کھول کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں لے آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بسم اللہ ‘‘کر کے بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی ۔بکری نے اپنے پیر پھیلا دیئے اور تھن میں بھر پور دود ھ اتر آیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم معبد رضی اللہ عنہا سے ایک بڑا برتن لانے کو فرمایا۔ وہ بڑا برتن لے آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ دوہناشروع کیا۔ وہ بڑا برتن دودھ سے بھر تا جا رہا تھا اور اُم معبد رضی اللہ عنہا حیرانی سے آنکھیں پھاڑے اس معجزے کو دیکھ رہی تھیں۔ برتن بھر جانے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برتن اُم معبد رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور پینے کی فرمائش کی۔ انھوں نے خوب سیر( پیٹ بھر کر) ہو کر دودھ پیا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قافلے کے تمام افراد کو دودھ پلایا اور آخر میں خود نوش فرمایا اور اُم معبد رضی اللہ عنہا کے گھر کے تمام برتن منگا کر دودھ سے بھر دیئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔

ایک مبارک آدمی آیا تھا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام برتنوں کو دودھ سے بھر کر اپنے ہجرت کے سفرپر آگے بڑھ گئے اور اُم معبد رضی اللہ عنہا حیرانی اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے کبھی بکری کو دیکھتی تھیں اور کبھی دودھ سے بھرے برتنوں کو دیکھ رہی تھیں کہ اتنے میں ان کے شوہر ابو معبد رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور برتنوںکو دودھ سے بھرا ہوا دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے اور پوچھا:’’ اری نیک بخت! اتنا سارا دودھ کہاں سے آیا؟‘‘جب کہ بکریاں میں لے کر گیا ہوا تھا۔ اُم معبد رضی اللہ عنہا نے کہا:’’ اللہ کی قسم ! ایک نیک بخت بہت ہی مبارک آدمی یہاں سے گزرا ‘‘اور پھر تمام واقعہ بیان کر دیا۔ پورا واقعہ سننے کے بعد حضرت ابو معبد رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’یہ وہی صاحب قریش معلوم ہوتے ہیں جنھیں قریش تلاش کر رہے ہیں۔ اچھا ذرا اُن کا حلیہ تو بتائو؟‘‘ اُم معبد رضی اللہ عنہا نے اتنے دلکش اور خوب صورت انداز میںسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ انتہائی تفصیل سے بیا ن کیا کہ’’ ابو معبد‘‘ کو یوں لگا جیسے وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے ہوں۔ سب سننے کے بعد حضرت ابو معبدنے فرمایا:’’ اللہ کی قسم! یہ وہی صاحب قریش ہیں جن کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ میرا ارادہ ہے کہ میں ان کی رفاقت اختیار کروں ۔ مجھے جب بھی ایسا کوئی راستہ یا موقع ملا تو میںایسا ضرو ر کروں گا۔ ‘‘ اس کے بعد جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میںرہائش اختیار کی تو دونوں میاں بیوی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور اسلام قبول کیا۔ امام بغوی روایت کرتے ہیں کہ اُم معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’جس بکری کا دودھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نکالا تھا۔ وہ بکری حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک زندہ رہی ۔ اور ہمیشہ وہ ہر حالت میںصبح اور شام کثیر تعداد میں دودھ دیتی رہی۔ ‘‘

حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تعاقب کیا

   قریش نے اعلان کیا تھا کہ جو شخص بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زندہ یا ( نعوذ باللہ) مردہ لے کر آئے گا تو ان میں سے سے ایک ایک کے بدلے سو ، سو اونٹ انعام میںدیئے جائیں گے۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا ابھی ابھی میں نے ان دو افراد کو گزرتے دیکھا ہے۔ جن پر قریش نے سو اونٹوں کا انعام رکھا ہے۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ یہ سن کر وہاں سے اٹھے اور اپنا گھوڑا تیار کیا۔ اور تیر سے فال نکالاکہ میں یہ کام کروں یا نہیں ( زمانہ جاہلیت میں یہ فال نکالنے کا طریقہ تھا کہ کسی کام کا جب ارادہ کرتے تھے تو ایک تیر پر ہاں اور ایک تیر پر نہیں اور اس کے علاوہ بھی کئی تیر ایک کپڑے میں لپیٹ کر ایک تیر کھینچتے تھے ۔ اگر ہاں کا تیر نکلتا تو وہ کام کرتے تھے ۔ اور نہیں کا تیر نکلتا تھا تو اس کام کو نہیں کرتے تھے۔ فال کا یہ طریقہ ہم نے مختصر میں بتایا ہے) تو فال یہ نکلا کہ میں اُن کا پیچھا نہیں کروں ۔ لیکن اس کے باوجود حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ اس طرف بڑھتے گئے ۔ جدھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھی حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کو دکھائی دینے لگے اور وہ تیزی سے گھوڑا ان کی طرف دوڑانے لگے۔ اچانک گھوڑنے نے ٹھوکر کھائی اور حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ گر پڑے۔ انھوں نے پھر فال نکالا تو’’ نہیں‘‘ کا نکلا۔ لیکن سو اونٹوں کے لالچ میں پھر آگے بڑھ گئے۔

مجھ غریب پر رحم فرمائیں

   ادھر حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آگے بڑھے چلے آرہے تھے۔ ادھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہے تھے۔ اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے نظریں جمائے مسلسل بڑھتے جا رہے تھے۔ آخر کار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بدوی ( دیہاتی) ہمارے بہت قریب آگیا ہے۔ کہیں وہ ہمیں نقصان نہ پہنچائے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ فکر نہ کرو! اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو ایک مرتبہ پھر حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گر پڑے۔ اس کے بعد پھر گھوڑے پر بیٹھ کر آگے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو اس مرتبہ گھوڑے کے پیر زمین میں دھنس گئے اور پیٹ زمیں کو چھونے لگا۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے گھوڑے کو زمین سے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ مجبور ہو کر آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کرنے لگے اور وعدہ کرنے لگے کہ میں لوگوں کو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تک پہنچنے سے روکوں گا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو گھوڑے کی ٹانگیں زمین سے نکل آئیں۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غالب ہو کر رہیں گے۔ اسی لئے انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ مجھ غریب بدوی( دیہاتی) پر رحم فرمائیں اور ایک’’ امان نامہ‘‘ لکھ کر دے دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم غریب کہاں ہو۔ میں تو تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔‘‘ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے سراقہ! ( رضی اللہ عنہ) تمہارا اسو قت کیا حال ہوگا جب تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوںگے۔ ‘‘اس کے بعد حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے اگر معافی نامہ یا امان نامہ لکھ کر دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ سے’’ امان نامہ‘‘ لکھنے کو فرمایا اور آپ رضی اللہ عنہ نے امان نامہ ایک چمڑے پر لکھ کرحضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیا۔ جو انھوںنے لے کر اپنے ترکش میں رکھ لیا اور واپس چلے گئے اور راستے میں پوچھنے والوں سے کہتے اس طرف نہ جائو۔ حضرت سراقہ بن مالک نے اس وقت تواسلام قبول نہیں کیا۔لیکن جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کیا اور اسکے بعد حنین اور طائف کی فتح کے مقا م جعرانہ میں تشریف فرما تھے تو حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ مدلج والوں کے ساتھ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔

حضرت سراقہ بن مالک کے لئے سونا حلال ہے

   حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ ہے۔ ایران و عراق فتح ہوچکے ہیں اور بے شمار مال غنیمت آیاہے۔ تمام مال غنیمت مسجد نبوی کے صحن میں ڈھیر کردیا گیا ہے۔ تمام لوگ اسی انتظار میں کھڑ ے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مال غنیمت کی تقسیم شروع کریں ۔ امیر المومنین مال غنیمت کو الٹ پلٹ کر رہے ہیں اور گھوم گھوم کر کچھ تلاش کر رہے ہیں ۔کسی نے پوچھا:’’ امیر المومنین !آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟‘‘ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ کسریٰ کے کنگن تلاش کر رہا ہوں ۔‘‘کسی نے کہا :’’یہ کسریٰ کے کنگن ہیں۔‘‘ اور سونے کے دو کنگن آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کئے۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سونے کے کنگن لئے اور آواز لگائی:’’ سراقہ یہاں آئو۔‘‘ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آگے آئے اور امیر المومنین رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کے کنگن حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے دونوں ہاتھوں میں پہنادئیے ۔کسی نے کہا:’’ امیرالمومنین رضی اللہ عنہ !سونا پہننا مردوں کے لئے حرام ہے۔‘‘ امیرالمونین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ بے شک سونا پہننا مردوں کے لئے حرام ہے ۔لیکن حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے لئے حلال ہے ۔ کیونکہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے سراقہ تمھارا اس وقت کیا حال ہوگاجب تمھیں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ اس کے بعد حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ اے سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ! اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اسکی حمد و ثنا بیان کرو جس نے تم جیسے بدّو(دیہاتی) کو کسریٰ کے کنگن پہنائے ہیں۔‘‘ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی۔

اسلام کا پہلا پر چم

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا سفر جاری تھااور مدینہ منورہ قریب آتا جارہا تھا۔ مدینہ منورہ کے مضافات میں لگ بھگ تین کلو میٹر دور’’ قبا ‘‘ہے اور مکہ مکرمہ سے آنے والے قافلے مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے’’ قبا ‘‘میں داخل ہوتے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب’’ قبا‘‘سے کچھ دوررہ گئے توحضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے اپنے70ستر ساتھیو ں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا ۔ حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بھی انعام کی لالچ میں مسلسل سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہے تھے اور آخر کار’’ قبا ‘‘سے کچھ دور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا ۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:’’تم کون ہو؟‘‘ انھوں نے جواب دیا:’’ میرا نام بریدہ ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ہمارا کام ٹھنڈا اور درست ہوا۔‘‘(یعنی اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔) اسکے بعد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا:’’تم کس قبیلے سے ہو ؟ ‘‘ انھوں نے جواب دیا:’’ میں قبیلہ اسلم کا ہوں۔‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ ہم سلامت رہے۔‘‘ اسکے بعد فرمایا :’’ قبیلہ اسلم کی کس شاخ سے ہو؟‘‘ انھوں نے جواب دیا:’’ بنو سہم سے ہوں ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تمہارا حصہ نکل آیا۔ ‘‘یعنی تم کو اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوگا ۔ حضرت بُریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ حیرانی سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن اور انتہائی خوب صورت چہرہ مبارک کو دیکھ رہے تھے کہ ستر70مسلح سواروں کے گھیرے میں بھی ان کے چہرہ انور پر کوئی پریشانی کے آثار نہیں ہیں۔ بلکہ یہ تو بالکل اطمینان سے باتیں کر رہے ہیں۔ آخر آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ ہی لیا:’’ آپ کون ہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں عبداللہ کا بیٹا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں اور اللہ کارسول ہوں۔‘‘ اتنی دیر میں حضرت بُریدہ رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام کی شمع روشن ہو چکی تھی۔ انھوں نے عرض کیا :’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے70ساتھیوں نے بھی اسلام قبول کر لیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبا کی طرف چل پڑے۔ قبا کے قریب پہنچ کر حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قبا میں داخل ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پرچم ( جھنڈا) ہونا چاہیئے۔‘‘ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عمامہ اتار کر حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے نیزہ سے باندھ دیا اور انھیں دے دیا۔ جس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں داخل ہوئے تو اس قت حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ جھنڈا اپنے ہاتھ میں اٹھا ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چل رہے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

10 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


10 سیرت سید الانبیاء ﷺ

مسجد نبوی کی تعمیر  اور اذان کی شروعات

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


انصار کا والہانہ استقبال، رسول اللہ ﷺ کا مدینہ منورہ میں پہلا جمعہ، اللہ نے ایک ہزار سال پہلے گھر بنوایا، مسجد نبوی کی تعمیر، مواخات، اذان کی شروعات، مسجد نبوی میں پہلا خطبہ


سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی قبا میں آمد

   مکہ مکرمہ کے شمال میں لگ بھگ تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر مدینہ منورہ ہے۔ مدینہ منورہ کے دو طرف مشرق اور مغرب میں پہاڑ ہیں ۔ جنھیں ’’حرّ تین یا لاء تین ‘‘کہا جاتا ہے۔ جنوب میں کھجور کے گھنے جنگلات یا باغ ہیں اور شمال کی سمت کھلی ہوئی ہے۔ مشرق اورمغرب میں سیاہ پتھریلے پہاڑ ہیں ۔ یہ کم بلندی والے ہیں ۔ان کے دامن میں پتھریلا میدانی علاقہ ہے جسے’’ میدان حرّہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’حرہ ‘‘بہت دور تک پھیلا ہوا ہے۔ مدینہ منورہ کے جنوب کی سمت لگ بھگ تین کلومیڑ کے فاصلے پر ’’قبا ‘‘کی بستی ہے اور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آنے والے سب سے پہلے جس بستی میں داخل ہوتے ہیں وہ قبا کی بستی ہے۔’’ قبا ‘‘کو مدینہ منورہ کی مضافاتی بستی کہا جاتا ہے۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے والے زیادہ تر مسلمان اسی بستی میں ٹھہرے ہوئے تھے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کررہے تھے۔ قبا میں اکثریت بنو عمرو بن عوف کی آباد تھی۔ اور ان کے سردار حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ تھے۔ جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے لئے مکہ مکرمہ سے نکلے تو یہ خبر مدینہ منورہ پہنچ گئی تھی۔ اور روزآنہ مدینہ منورہ کے مسلمان اور مکہ مکرمہ کے مہاجرین نماز فجر کے بعد’’ حرہ ‘‘کی پہاڑی کے پاس جمع ہوجاتے تھے اور سیدلانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ پر آنکھیں بچھائے رہتے تھے اور جب دھوپ تیز ہوجاتی تو واپس چلے جاتے تھے۔ تیسرے دن تمام حضرات انتظار کررہے تھے۔ جب دھوپ نا قابل برداشت ہوگئی توبوجھل دلوں کے ساتھ واپس لوٹنے لگے ۔ اسی دوران ایک یہودی ایک ٹیلے پر چڑھا اور اس نے سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے قافلے کو دیکھا۔کچھ دیر تو مبہوت ہوا دیکھتا رہا۔ پھر زور سے چلا پڑا:’’ اے گروہ عرب !یہ تمھارے ساتھی آرہے ہیں جن کا تم انتظار کررہے ہو۔ اے بنو قیلہ! (انصار کا ایک قبیلہ)یہ تمھارے بزرگوار(رہنما) آرہے ہیں ۔ اچانک مایوسی اور بوجھل دلوں میں جان آگئی اور تمام مسلمان حرہ کی پہاڑی کی طرف دوڑ پڑے ۔ جس پر سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا قافلہ اتر رہا تھا۔ مدینہ منورہ والے اسی پہاڑی کو ’’ثنیتہ الوداع‘‘ بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ حج کے لئے مکہ مکرمہ جانے والوں کو اس پہاڑی تک’’ ودداع ‘‘کرنے آتے تھے اور یہیں انھیں’’ الوداع‘‘ کہتے تھے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پہاڑی سے اترتا دیکھ کر تمام مسلمان ایک دوسرے کو اطلاع اور مبارکباد دے رہے تھے اور ہر طرف شور مچ گیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لارہے ہیں ۔ تمام مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کر رہے تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے کپڑے سے سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا ہوا تھا۔ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کرسیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر چلنے کی دعوت دی۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کی ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت خبیب بن اساف رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر ٹھہرنے کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کرلی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے گھر ٹھہرے اور تمام مسلمان وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کیلئے آنے لگے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ہجرت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ کے گھر قیام فرمایا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضر ت سعد بن حیثمہ کے گھر پر بھی چلے جاتے تھے۔ کیونکہ ان کا گھر کھلا ہوا تھا اور ان کے بیوی بچے نہیں تھے ۔ اسلئے ملاقات کے لئے آنے والے لوگوں کو آسانی ہوجاتی تھی۔ ادھر مکہ مکرمہ میں سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کو رخصت کرنے کے بعد حضرت علی تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں رہے اور لوگوں کی امانتیں لوٹاتے رہے۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ بھی مدینہ منورہ کے لئے ہجرت پر پیدل ہی نکل پڑے ۔ آپ رضی اللہ عنہ رات میں سفر کرتے اور دن میں کسی گھاٹی میں چھپ جاتے ۔ مسلسل چلتے رہنے سے پیروں میں چھالے پڑ گئے تھے۔ پھر بھی آپ رضی اللہ عنہ نے سفر جاری رکھا۔ جیسے تیسے’’ قبا ‘‘پہنچے تو دونوں پیر اتنے سوج گئے تھے کہ چل نہیں پا رہے تھے۔ چونکہ آپ رضی اللہ عنہ سیدھے اصل راستے پر سے آئے تھے اسلئے سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے پہنچ گئے ۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف فرما ہوئے تو بتایا گیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی قبا میں موجود ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انھیں بلالائو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ چل نہیں سکتے ۔ یہ سن کے سید الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم خود ان سے ملنے گئے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو آتا دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہونے لگے اور اسی کوشش میں گرنے لگے تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے آگے بڑھ کر انھیں تھام لیا اور گلے لگا لیا اور دونوں حضرات آبدیدہ ہوگئے۔ اسکے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن ان کے پیروں میں مرہم کی طرح لگایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دونوں پیر بالکل اچھے ہو گئے ۔اور پھر ساری عمر کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔(سیرت حلبیہ)

اسلام کی پہلی مسجد

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں رونق افروز ہونے کے بعد تین دنوں تک گھر پر نماز پڑھاتے رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا میں ایک مسجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اللہ عنہ نے مسجد بنانے کے لئے اپنی زمین پیش کی جو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کرلی اور سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پتھر لاکر قبلہ رخ رکھکر اسکی بنیاد رکھی ۔ پھر دوسرا پتھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ نے رکھا اور پھر تیسرا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رکھا اور تعمیر کا کام جاری ہوگیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی پتھر اٹھا کر لاتے تھے۔ صحابہ کرام عرض کرتے تھے:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم رہنے دیں‘‘ تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرا دیتے اور دوسرا پتھر اٹھا لیتے تھے۔ کئی برسوں کے اس مسجد کی شان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(ترجمہ)’’ البتہ جس مسجد کی بنیاد پہلے ہی دن تقویٰ پر رکھی گئی ہے ۔وہ مسجد اسکی پوری مستحق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں جاکر کھڑے ہوں (یعنی نماز پڑھیں) اس مسجد میں ایسے مرد ہیں ۔جو ظاہری اور باطنی طہارت اور پاکی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی ایسے پاک و صاف رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘ (سورہ التوبہ آیت نمبر 108) ۔جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عمرو بن عوف والوں سے دریافت فرمایا :’’ وہ کونسی طہارت اور پاکی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری حمد و ثنا کی ‘‘ تو انھوں نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم ڈھیلے سے استنجا کرنے کے بعد (اسی پر مطمئن نہیں ہوجاتے بلکہ )پانی سے بھی طہارت کرتے ہیں ۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ہمارے اس عمل کو پسند فرمایا ہو۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہاں یہی وہ عمل ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے تمھاری حمد و ثنا کی ہے۔ تم لوگ اسکو لازم پکڑ لو اور اسکے پابند رہو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عُمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہر شنبہ کو مسجد قبا کبھی پیدل کبھی سوار جاتے تھے اور دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے۔ حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جو شخص اپنے گھر وضو کر کے چلے اور مسجد قبا میں جاکر دو رکعت نماز ادا کرے تو ایک عمرہ کا ثواب پائے گا۔

سفر ہجرت کا آخری حصہ اور نماز جمعہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قبا میں قیام کی مدت امام محمد بن اسماعیل بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں دس راتوں سے زیادہ لکھا ہے۔ امام مسلم بن حجاج نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں چودہ دن لکھی ہے۔ اس دوران مدینہ منورہ سے انصار آتے رہے اور اسلام قبول کرتے رہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی ملاقات کے لئے آئے۔ ( ان کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا) مدینہ منورہ کے آس پاس کے علاقوں کے یہودی بھی ملاقات کے لئے آئے( یہ ذکر بھی آگے اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ذکر میں آئے گا انشاء اللہ) جمعہ کے دن صبح سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قبا سے اپنے سفر ہجرت کے’’ آخری حصہ ‘‘کی شروعات کی۔ قبا سے لے کر مدینہ منورہ تک انصار راستے کے دونوں اطراف کھڑے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کر رہے تھے۔ راستے میں جو قبیلے کی بستی ملتی تو اس کے سردار اور قبیلے والے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑ کر اُن کی بستی میں قیام کی درخواست کرتے لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے فرماتے :’’میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین ہے۔ ( یعنی اللہ تعالیٰ اس اونٹنی کو چلا رہے ہیں) جہاں یہ اونٹنی رکے گی میں وہیں قیام کروں گا۔ ‘‘راستے میں ملنے والی ہر بستی والوں کی درخواست کے جواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے جا رہے تھے۔ راستے میں جب بنو سالم قبیلے کی بستی میں پہنچے تو جمعہ کی نماز کا وقت ہو گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ناقہ ( اونٹنی) سے اتر پڑے اور وہاں نماز جمعہ ادا فرمائی۔ یہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا’’ پہلا جمعہ‘‘ اور ’’پہلا خطبہ ‘‘ہے۔ جسے تمام مہاجرین و انصار نے سنا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور وہ آگے چل پڑی۔ بعد میں اس جگہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جمعہ ادا فرمائی تھی اس جگہ ’’مسجد جمعہ‘‘ بنا دی گئی۔

انصار کا والہانہ استقبال

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو سالم میںنماز جمعہ پڑھنے کے بعد اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنا’’ ردیف‘‘ بنایا ( یعنی اپنی اونٹنی پر اپنے ساتھ بٹھایا) اور اونٹنی چل پڑی۔ انصار، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا والہانہ استقبال کر رہتے تھے۔ ہر طرف سے’’ مرحبا یا رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں۔ لڑکیاں گھروں کی چھتوں پر کھڑی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آمد کے گیت گا رہی تھیں۔ جس کے بو ل یہ ہیں ۔ طَلَعَ البدرُ عَلَیناَ ۔مِن ثَنِیاَۃِ الوَدَاعِی۔ وَجَبَ الشّکرعَلَیناَ ۔ مَا دَعَا اللہ ِ دَاعِ۔ اَیُّھَاالمَبعُوثُ فِیْنَا ۔ جِئتَ بِالاَمرِ المُطَاعِ۔ ( ترجمہ) ’’ثنیاۃِ الوداع‘‘ کی پہاڑی پر سے ہم پر چاند طلوع ہوا۔ جب تک اللہ کو کوئی پکارنے والا باقی رہے گا تب تک ہم پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہو گیا۔ اے وہ ذات مبارک ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جو ہم میں پیغمبر بنا کر بھیجے گئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے احکامات لے کر آئے جن کا ماننا اور اطاعت کرنا واجب ہے۔ ‘‘ترجمہ مکمل ہوا۔ ثنیاۃ الوداع اس پہاڑی کو مدینہ منورہ والے کہتے ہیں جس پہاڑی تک وہ لوگ حاجیوں کو چھوڑنے جاتے تھے۔ اور وہیں سے انھیں الوداع کہتے تھے۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسی پہاڑی سے اتر کر قبا میںتشریف لائے تھے۔ قاضی سلیمان منصور پوری نے’’ رحمت اللعالمین ‘‘میں اور صفی الرحمن مبار ک پوری نے’’ الرحیق المختوم ‘‘میں طَلَعَ کی جگہ اَشرَقَ لکھا ہے۔

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے مہمان

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار تھے اور اس کی مہار کو چھوڑ دیا تھا اور اونٹنی آہستہ آہستہ چلی جا رہی تھی۔ تمام انصار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کے لئے راستوں کے دونوں طرف کھڑے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی عمراس وقت لگ بھگ دس برس تھی۔ وہ فرماتے ہیں اس وقت مدینہ منورہ میں مجھے بہت رونق لگ رہی تھی۔ تمام انصار نے نئے لباس پہنے تھے۔ ہم سب بچے خوشی سے بھاگ دوڑ رہے تھے۔ ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو سب لوگ گھیرے ہوئے تھے اوروہ آہستہ آہستہ چل رہی تھی اور سب لوگ اس کے ساتھ چل رہے تھے۔ جب ہم بچوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو دیکھا تو چھپ گئے اور چھپ کرسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرنے لگے۔ ( جامع ترمذی) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کے بعد اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے تو بنو سالم کے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے اونٹنی کی مہار پکڑ کر عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے یہاں رہائش اختیار کریں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میری اونٹنی کی مہار چھوڑ دو ۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین ہے جہاں یہ رکے گی وہیں میں قیام کروںگا۔‘‘ پھر اونٹنی چلتے چلتے بنو بیاضہ کے محلہ میں پہنچی تو حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ اور حضرت فردہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رہائش کی درخواست کی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے یہی فرمایا۔ پھر اونٹنی بنو ساعدہ میں پہنچی اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت منذر بن عمرونے درخواست کی تو انھیں بھی یہی جواب ملا۔ پھر اونٹنی بنو حارث بن خزرج کے علاقے میں پہنچی تو حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ، حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے درخواست کی تو انھیں بھی یہی جواب ملا۔ پھر اونٹنی بنو عدی بن نجار کے علاقے سے گزرنے لگی تو حضرت سلیط بن قیس اور حضرت اُسیرہ بن ابی خارجہ اپنے قبیلے کے افراد کے ساتھ پہنچے اور رہائش کی درخواست کی تو انھیں بھی یہی جواب ملا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بنو مالک بن نجار کے علاقے میں پہنچی تو س جگہ بیٹھ گئی جہاں آج ’’مسجد نبوی ‘‘ہے۔ لیکن اس پر سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نیچے نہیں اترے۔ کچھ دیر بعد اونٹنی اٹھی تھوڑی دور آگے گئی پھر واپس آکر اسی جگہ بیٹھ گئی۔ یہ کھلی جگہ تھی اور اس کے سامنے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سامان اٹھانے کو فرمایا اور اونٹنی سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا۔

’’وہ آخری نبی ‘‘یہاں ہجرت کر کے آنے والے ہیں

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے ایک ہزار سال پہلے یمن کا ایک بادشاہ ’’تُبع ‘‘تھا۔ ( تبع یمن کے بادشاہوں کا لقب ہوتا تھا جیسے مصر کے بادشاہوں کا فرعون اور رومیوں کے بادشاہوں کا قیصر لقب ہوتا تھا) تُبع کے راستے میں مدینہ منورہ پڑتا تھا اور اس نے اہل مدینہ کو کبھی تکلیف نہیں دی۔ ایک سفر کے دوران اس کے بیٹے کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اس نے اسے مدینہ منورہ میں چھوڑ دیا ۔ کسی نے اس کو دھوکے سے قتل کر دیا۔ تبع جب سفر سے واپس آیا تو اسے بیٹے کے قتل کی اطلاع ملی۔ اس نے اپنی فوج کے ساتھ مدینہ منورہ پر حملہ کر دیا ۔ مدینہ منورہ والے دن میں اس کا مقابلہ کرتے تھے اور رات میں جنگ ختم ہونے کے بعد اس کی فوج کے لئے کھانا بھیجتے تھے۔ تبع حیران تھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں ۔ کئی دنوں تک جنگ ہونے کے بعد تبع کی خدمت میں یہودی عالموں کا ایک وفد آیا اور اس نے تبع سے کہا:’’ تم اس شہر کو فتح نہیں کر سکتے اور ہمیں ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کہیں عذاب میں نہ مبتلا کر دے۔ ‘‘تبع بادشاہ نے پوچھا :’’اس کی وجہ کیا ہے؟ ‘‘ ان یہودی عالموں کے سربراہ نے کہا:’’ وہ آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہجرت کر کے آنے والے ہیں ۔ اُن کا ظہور ( ولادت) حرم شریف (مکہ مکرمہ) میں قبیلہ قریش میں ہوگی۔ وہ ہجرت کر کے یہاں تشریف لائیں گے اور یہاں رہائش اختیار کریں گے اور یہیں پر ان کا’’ روضہ اطہر‘‘ ہوگا۔‘‘ بادشاہ نے یہ سن کر جنگ بند کر نے کا اعلان کر دیا۔

ایک ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ نے گھر بنوایا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بارے میں جب تبع بادشاہ نے سنا تو اُن یہودیوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کرید کرُید کر پوچھتا رہا اور وہ اسے جواب دیتے رہے۔ اس نے نام پوچھا تو انھوں نے بتایاکہ اُن کا نام’’ احمد‘‘ اور’’ محمد‘‘ ہوگا۔ اس نے پوچھا:’’ ان کے دشمن کون ہوں گے؟‘‘ انھوںنے جواب دیا:’’ ان کی قوم! اور وہ ان سے لڑیں گے اور آخر میں ان پر غالب ہوں گے۔‘‘ وہ سوال کرتا رہا اور وہ یہودی عالم جواب دیتے رہے اور ہر جواب پر اس کے دل میں ’’ وہ آخری نبی‘‘ کی محبت بڑھتی جاتی رہی۔ آخر کار اس نے اعلان کر دیا :’’میں گواہی دیتا ہوں کہ احمد مجبتیٰ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اُس اللہ کے رسول ہیںجو تمام روحوں کو پیدا فرمانے والا ہے۔ اگر میری عمر نے ’’ آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے تک وفا کی تو میں ’’ ان آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’وزیر‘‘ ثابت ہوں گااور ایک چچا زاد بھائی کی طرح ان کا معاون و مددگار بنوں گا۔ میں شمشیر بے نیام کے ساتھ ان کے دشمنوں سے مقابلہ کروں گا اور ان کے سینہ ٔ اقدس سے ہر دکھ مٹانے کی کوشش کروں گا۔‘‘ اس کے بعد اس نے ایک گھر بنوایا اور اپنی فوج کے انتہائی نیک دل انسان کو اس میں بسا دیا اور ایک خط میں اوپر مذکورہ الفاظ کو لکھوایا۔ اسے دے دیا اور ہدایت کی کہ اگر تمہاری زندگی میں ’’ وہ آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم آئیںتو تم یہ خط انھیں میری طرف سے دے دینا اور اگر تمہاری زندگی میں ہجرت کر کے نہیں آئیں تو اپنی اولاد کو دے دینا اور انھیں اس کی ہدایت کر دینا۔ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ اسی نیک آدمی کی اولاد میں سے ہیں اور وہ گھر وہی ہے جو تبع نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک ہزار سال پہلے بنوایا تھا۔ ایک اور روایت میں یہ ہے کہ تبع کے ساتھ چار سو یہودی علماء تھے۔ اس نے اُن چار سو علمائوں کے لئے چار سو گھر بنوائے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک گھر بنوایا اور ان علمائوں کے سربراہ کو اس گھر میں بسا دیا اور ُمہر لگا کر خط دے دیا۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اسی’’ سربراہ عالم ‘‘کی اولاد ہیں اور تمام انصار انھیں چار سو علماء کی اولاد ہیں۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی اسی مکان کے سامنے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جا کر بیٹھی جو تبع نے ایک ہزار سال پہلے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بنوایا تھا۔ اس کے بعد حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وہ خط سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خط کھولا اس میں یہ لکھا ہوا تھا۔ ’’میں تبع ایمان لاتا ہوں احمد صلی اللہ علیہ وسلم پر‘‘ اور آگے پورا مضمون وہی ہے جو اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ خط کے آخر میں تبع نے لکھا تھا کہ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ جب بھی یہاں تشریف لائیں تو اسی گھر میں قیام فرمائیں۔ ‘‘

مسجد نبوی کے لئے جگہ

   سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار کا ہر قبیلہ یہ چاہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہی کے یہاں قیام فرما ہوں۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میری اونٹنی کی مُہار چھوڑ دو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین اور مامور ہے۔ یہ جہاں رکے گی اور بیٹھ جائے گی میں وہیں قیام کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہر قبیلے کے علاقے سے گزرتی رہی اور قبیلے کے سردار اور قبیلے والوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ وہ اُن کے یہاں قیام فرمائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یہی جواب دیتے رہے جو اوپر گزر چکا ہے۔ یہاں تک کہ اونٹنی قبیلہ بنو نجار کے علاقے میں پہنچی۔ بنو نجار قبیلے کے لوگ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا حضرت عبد المطلب کے ماموں تھے۔ اس لئے وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ننیھال والے بھی کہلائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی بنو نجار کے کھلے میدان میں جا کر بیٹھی۔ وہاں کھجور سکھانے کے لئے پھیلائی جا تی تھی۔ اس کے سامنے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا گھر تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس جگہ اونٹنی بیٹھی ہے وہاں مسجد اور میرے لئے گھر بنایا جائے۔ تب تک میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیام کروں گا۔‘‘

مسجد نبوی کی بنیاد اور تعمیر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصار ی رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا اور جس جگہ اونٹنی بیٹھی تھی اس جگہ کے متعلق دریافت فرمایا تو حضرت معاذ بن عفرا رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ زمین دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی ہے اور یہ دونوں بچے میری کفالت میں ہیں۔ میں انھیں راضی کر لوں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں مسجد بنا لیں۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ یہاں کھجور کے کچھ درخت تھے اور کھیتی ہوتی تھی اور چند قبریں تھیں اور یہ زمین بنو نجار کی تھی۔ بہر حال دونوں روایتوں میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمین کو خرید کر مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر اس جگہ کی صاف صفائی کی۔ پھر مسجد کے احاطے کے نشان لگائے۔ ( انھیں میں اُمہات المومنین کے حجرات ( کمروں) کے بھی نشان لگائے۔ واضح رہے کہ تمام امہات المومنین کے حجرے مسجد نبوی کی دیوار سے متصل ( لگ کر) تھے اور ہر ایک اُم المومنین کے حُجرے ( کمرے) کا ایک دروازہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لے جاتے تھے ۔مسجد نبوی کی بنیادوں کی کھدائی صحابہ کرام کر رہے تھے اور ٹوکریوں میں مٹی اٹھا کر پھینک رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ لگے رہتے تھے اور کبھی کھدائی کرتے اور کبھی مٹی اٹھا کر پھینکنے لگتے تھے۔ صحابہ کرام عرض کرتے :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ رہنے دیں تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرا کر رہ جاتے اور پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتے۔ کھدائی کے ساتھ ساتھ کچی اینٹیں بنانے کا کام بھی چل رہا تھا۔ جب بنیاد رکھنے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا اور انھوں نے مسجد کا قبلہ بتایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں پر پہلی اینٹ رکھ کر بنیاد ڈالی اور تعمیر کا کام شروع کر دیا۔ مسجد نبوی کی دیواریں کچی اینٹوں اور کھجور کے تنوں سے کھڑی کی گئی۔ یعنی کھجور کے تنوں کو گاڑ کر ان کے درمیان کچی اینٹیں چُنی گئیں اور چھت کھجور کے تنوں اور شاخوں اور پتیوں کی بنائی اور پھر مٹی ڈال دی گئی۔

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو ایک باغی گروہ شہید کر ے گا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کا کام شروع کر دیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کچی اینٹیں اٹھانے لگے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تم اینٹیں نہ اٹھائو بلکہ گارہ گھولو( بنائو) کیوں کہ تم اس کام سے خوب واقف ہو۔‘‘ یہ حکم سن کر حضرت علی رضی اللہ عنہ پھاوڑا لے کر گاراگھولنے ( بنانے ) لگے۔ تعمیر کے دوران کبھی کبھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تھوڑا مذاق کا ماحول بھی ہو جاتا تھا۔ عبد الملک بن ہشام نے لکھا کہ صحابہ کرام نے ( مذاق کے طور ) حضرت عمار بن یاسر کے کاندھوں پر ایک سے زیادہ اینٹیں رکھ دیں اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اسی حال میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے تو عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ( یہ انھوں نے مزاح کے طور پر عرض کیا) انھوں نے ( صحابہ کرام نے ) مجھے ہلاک کر ڈالا اور مجھ پر زیادہ بوجھ ڈال دیا۔‘‘ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا وہیں موجود تھیں۔ وہ فرماتی ہیں:’’ میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زُلفوں (بالوں) پر سے مٹی جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے :’’ اے سُمیہ کے نورِ نظر!( حضرت سُمیہ رضی اللہ عنہا حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں اور مکہ مکرمہ میں قریش کے کافروں نے شہید کر دیا تھا) یہ لوگ( صحابہ کرام) تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ تمہیں تو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔‘‘ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ( مسجد نبوی بناتے وقت ) صحابہ کرام ایک ایک اینٹ اٹھا کر لاتے تھے اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو اینٹ اٹھا کر لاتے تھے۔ ایک اینٹ اپنی طرف سے اور دوسری اینٹ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ لوگوں کے لئے ایک اجر ہے۔ تمہارے لئے دو اجر ہیں۔ اور تمہاری آخری خوراک دودھ کا گھونٹ ہوگا۔ اور تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔‘‘

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے مہمان

   اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں قیام فرمایا۔حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مہمان بنے تو نیچے والی منزل میں رہنا پسند فرمایا اور میں اور اُم ایوب رضی اللہ عنہا اوپر والی منزل میںتھے۔ میں نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں۔ میری یہ گذارش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر والی منزل میں رہیں کیونکہ میں اسے گستاخی سمجھتا ہوں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اوپر والی منزل پر رہوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو ایوب! ( رضی اللہ عنہ) مجھ سے ملا قات کرنے کے لئے بہت سے لوگ آتے ہیں۔ اُن کی آسانی کے لئے میرا نیچے والی منزل پر رہنا ہی بہتر ہے۔ اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اوپر ی منزل پر ہی رہنے کا حکم دیا۔ ایک مرتبہ پانی کا گھڑا پھوٹ گیا تو میں نے اور میری بیوی نے فوراً سونے کے لئے استعمال ہونے والا لحاف لے کر اس میں پانی جذب کر نے لگے اور ہمارے پاس صرف ایک ہی لحاف تھا۔ لیکن ہمیں بس یہی فکر تھی کہ کہیں پانی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر نہ گر جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تکلیف اور اذیت کا باعث بن جائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہم کھانا بنا کر پیش کرتے تھے۔ جب کھانا بچ کر واپس آتا تھا تو ہم لوگ اسی جگہ سے برکت کے لئے کھانا شروع کرتے تھے جس جگہ سید الا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک لگا ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم نے لہسن اور پیاز ڈال کر کھانا پکایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نہیں کھایا اور واپس کر دیا۔ میں نے گھبرا کر عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ۔ آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نوش نہیں فرمایا؟‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اس میں پیاز اور لہسن کی بُو ہے اور مجھ سے سرگوشی کی جاتی ہے ( یعنی مجھ سے ملاقات کے لئے فرشتے آتے ہیں اور بات کرتے ہیں) اس لئے میں یہ نہیں کھا سکتا۔ہاں تم کھالو۔ ‘‘ہم نے وہ کھانا کھا لیا اور اس کے بعد کھانے میں پیاز یا لہسن نہیں ڈالا۔ ‘‘

اہلِ بیت کی مدینہ منورہ ہجرت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے گھر قیام پذیر تھے اور مسجد نبوی کا تعمیری کام جاری تھا۔ اسی دوران اہل بیت اطہار بھی ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئے۔ ان میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ اُم المومنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا اور سیدہ فاطمہ الزھرارضی اللہ عنہا تھیں۔ ان کے علاوہ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ( ان کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے مکہ مکرمہ میں ہو چکا تھا لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی) اور سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئیں۔ ان سب کو لے کر حضرت عبداللہ بن ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ آئے تھے۔ آپ کو یاد ہو گا یہ وہی حضرت عبداللہ بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جو غارثور میں آکر قریش کے دن بھر کے کاموں کی رپورٹ دیتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا مدینہ منورہ نہیں آسکیں کیوں کہ اُن کے شوہر حضرت ابو العاص رضی اللہ عنہ ( اس وقت تک انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا) نے انھیں مکہ مکرمہ میں ہی روک لیا تھا اور آپ رضی اللہ عنہا غزوہ بدر کے بعد مدینہ منورہ آسکی تھیں۔ جب کہ سیدہ رُقیہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہلے حبشہ ہجرت کرکے گئیں تھیں پھر ہجرت کر کے مدینہ منورہ آگئیں۔

ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کے حالات

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت مدینہ منورہ ہجرت کر کے تشریف لائے اس وقت مدینہ منورہ کے جو حالات تھے ان کے بارے میں ہم آپ کو مختصر میں بتادیں۔ تا کہ آگے کے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس وقت مدینہ منورہ میں پانچ قسم کے لوگ تھے۔ (1)پہلی قسم، مہاجرین اور انصار کی جو ایمان لے آئے تھے اور اسلام قبول کر لیا تھا وہ تھی۔ یہ لوگ دل و جان سے سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔(2) دوسری قسم ان انصار کی تھی جو ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے۔ لیکن بعد میں ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور سچے مسلمان بن گئے۔(3) تیسری قسم منافقین کی تھی۔ یہ لوگ دکھاوے کے لئے اسلام میں داخل ہو گئے تھے اور دکھاوے کے لئے ایمان لے آئے تھے۔ لیکن اندر سے وہ اسلام اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف تھے اور در پردہ (اندرونی طور پر ) اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانیکی کوشش کرتے تھے۔ ان کا سردار عبداللہ بن اُبی تھا جو ’’ رئیس المنافقین‘‘ کے لقب سے مشہو رہوا۔ اس کا تفصیلی ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا۔(4) چوتھی قسم عیسائیوں کی تھی لیکن یہ بہت کم تعداد میں تھے اور(5) پانچویں قسم یہودیوں کی تھی ۔ مدینہ منورہ کے آس پاس یہودیوں ( بنی اسرائیل )کی کئی بستیاں آباد تھیں ۔ ان میں سے یہودیوں کا ذکر ہم پہلے کرتے ہیں۔

مدینہ منورہ کے یہود

   مدینہ منورہ کے آس پاس یہودیوں کی جو بستیاں تھیں وہ بہت پرانی تھی اور ان یہودیوں کے آبا و اجداد سینکڑوں برس پہلے اس امید پرآباد ہو ئے تھے کہ ’’وہ آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے یہیں تشریف لائیں گے اور ہم لوگ ان پر ایمان لا کر کامیاب ہو جائیں گے اور اس کے بارے میں اپنی اولاد کو بھی بتا تے تھے۔ بلکہ یہودیوں کی بستیوں میں ایسے مدرسے قائم تھے جن میں صرف ’’وہ آخری نبی‘‘ کے اوصاف بتائے جاتے تھے جو اﷲ تعالیٰ نے توریت میں بیان فرمائے تھے۔ اسی وجہ سے ہر یہودی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی طرح پہچانتا تھا اور اتنا ذکر کرتے تھے کہ مدینہ منورہ کے مشرکین ( انصار) بھی لاشعوری طور سے ’’ وہ آخری نبی‘‘ کے انتظار میں رہنے لگے تھے۔ یہودی قوم اپنے آپ کو تمام دنیا کے لوگوں سے برتر سمجھتی ہے اور اپنے علاوہ ہر انسان کو گولم ( جانور) سمجھتی ہے۔ ( یہودی پروٹو کولز) یہی سوچ اور ذہنیت مدینہ منورہ کے یہودیوں کی بھی تھی۔ وہ عربوں کو بہت حقیر سمجھتے تھے۔ اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور عربوں کو اُمّی ( اَن پڑھ) سمجھتے تھے۔ اُن کا عقیدہ تھا کہ عربوں کا مال اُن کے لئے حلال ہے۔ وہ جیسے چاہے کھائیں اور ان یہودیوں کے پاس دین نام کی کوئی چیز رہ گئی تھی تو وہ فال گیری ، جادو اور جھاڑ پھونک تھی اور ان کی بدولت وہ اپنے آپ کو بہت بڑا عالم اور پیشوا سمجھتے تھے۔ یہودی ہر زمانے میں دولت مند رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ دنیا کی معیشت پر اپنی دولت اور سود خوری کی وجہ سے کنٹرول رکھتے ہیں۔ مدینہ منورہ کے یہودی بھی غلہ ، کھجور، شراب اور کپڑے پر اپنا کنٹرول بنائے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ یہودی سازشی اور جنگ بھڑکانے میں بھی ماہر ہیں۔ مدینہ منورہ کے یہودی دونوں مشرک قبیلوں اوس اور خزرج کو لڑاتے رہتے تھے۔ جس کا ثبوت کچھ ہی دن پہلے ہوئی ’’جنگ بعاث ‘‘تھی۔ مدینہ منورہ کے آس پاس یہودیوں کی تین بڑی بستیاں آباد تھیں ۔ پہلی بستی ’’بنو قینقاع‘‘ ہے ۔ یہ لوگ مدینہ کے اندر بھی آباد تھے اور باہر بھی آباد تھے۔ یہ قبیلہ’’ خزرج ‘‘کے حلیف تھے۔ دوسری بستی’’ بنو نضیر‘‘ کی اور تیسری بستی’’ بنو قریظہ‘‘ کی تھی۔ یہ دونوں بستیاں قبیلہ’’ اوس‘‘ کی حلیف تھیں اور یہ مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھیں۔

جب تک جان ہے مخالفت کرتا رہوں گا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کے وقت کے یہودیوں کے بہت سے واقعات ہیں ان میں سے دو یا تین واقعات ہم پیش کرتے ہیں۔ اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا خیبر کے یہودیوں کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی ہیں۔ خیبر فتح ہونے کے بعد آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح فرمایا لیا تھا ۔ ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو دوسرے دن میرے باپ حی بن اخطب اور چچا ابو یاسر بن اخطب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر نے گئے۔ جب دونوں واپس آئے تو میرے چچا نے میرے باپ سے کہا:’’ کیا ’’ وہ آخری نبی ‘‘ یہی ہیں؟‘‘میرے باپ نے کہا :’’ہاں اللہ گواہ ہے کہ یہ ’’ وہ آخری نبی ‘‘ ہیں۔ ‘‘میرے چچا نے پوچھا :’’تم نے تمام نشانیاں ان میں دیکھیں؟‘‘ میرے باپ نے کہا :’’مجھے پورا یقین ہے کہ اُن میں تما م نشانیاں موجود ہیں۔‘‘ میرے چچا نے پوچھا :’’پھر اب کیا ارادہ ہے؟ ‘‘میرے باپ نے کہا :’’ جب تک جان میں جان ہے میں اُن کی مخالفت کرتا رہوں گا اور میرے دل میں (اُن صلی اﷲ علیہ وسلم کے خلاف )عداوت ہے اور عداوت رہے گی۔‘‘(کیونکہ وہ ’’بنی اسرائیل‘‘ میں نہیں بلکہ ’’بنی اسماعیل‘‘ میں آئے ہیں)

یہودی کے سوالات

   حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک یہودی حاضر ہوا اور سوال پوچھا:’’ جس روز اس زمین کو ایک دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا تو اس وقت بنی آدم ( تمام انسان ) کہاں ہوں گے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پُل کے قریب ظلمت (اندھیرے) میں ۔‘‘ اُس نے دوسرا سوال پوچھا:’’ سب سے پہلے جو لوگ پُل (صراط) پر سے گزریں گے وہ کون لوگ ہوں گے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وہ فقراء اور مہاجرین ہوں گے۔‘‘ اس نے تیسرا سوال پوچھا:’’ جنتیوں کا سب سے پہلا کھانا کیا ہوگا؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مچھلی کا جگر ہوگا۔‘‘ اس نے چوتھا سوال پوچھا:’’ جنتیوں کا صبح کا کھانا کیا ہوگا؟ ‘‘ اس کے جواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جنت کا وہ بیل جو جنت میں آزاد انہ چرتا رہتا ہے۔‘‘ اس نے پانچواں سوال پوچھا:’’ ناشتہ کے بعد وہ کیا پیئیں گے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ نہر سلسبیل کا پانی پیئیں گے۔‘‘ اس کے بعد اس نے لڑکے اور لڑکی کے اسباب پیدائش کے بارے میں سوال کیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے درست جواب دیا۔ پھر وہ چلا گیا۔

( بنی اسرائیل ) یہودی ، سید الانبیاء ﷺ سے حسد کرتے ہیں

   حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صوریا سے دریافت فرمایا:’’کیا تم نہیں جانتے ہوکہ اللہ تعالیٰ نے توریت میں شادی شدہ زانی کو رجم (پتھر مار مار کر مار ڈالنا) کرنے کا حکم دیا ہے ؟‘‘ ابن صوریا نے جواب دیا :’’ ہاں اللہ گواہ ہے یہی حکم ہے۔‘‘ پھر کہا :’’اے ابو القاسم! (سید لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت) یہود (بنی اسرائیل )خوب اچھی طرح جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔مگر وہ قومی عصبیت کے بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حسد کرتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ یہودی تھے اور یہود کے بڑے علماء میں سے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ حضرت یوسف علیہ السلا م کی اولادمیں سے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نام ’’حصین بن سلام ‘‘تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حصین ‘‘سے نام بدل کر’’ عبداللہ‘‘ رکھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’جب سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو اکثر لوگ پہلی فرصت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہورہے تھے میں بھی گیا۔ جب میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو مجھے یقین ہوگیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے ’’سچے نبی ‘‘ہیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے :’’ ایلوگو !کھانا کھلائو ، کھل کر سلام کرو، صلہ رحمی کرو ، راتوں کو نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں تا کہ سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوسکو۔‘‘

بنی اسرائیل (یہود) جھوٹی اور بہتان باندھنے والی قوم

   اسکے بعد آگے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور صفت اور حلیہ پہلے ہی سے جانتا تھا۔ مگر کسی پر ظاہر نہیں کرتا تھا۔ اس لئے جب سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم اپنا خطبہ مکمل کر چکے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میری قوم یہود(بنی اسرائیل )بہت بڑی جھوٹی اور بہتان باز قوم ہے ۔ ان کے علماء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آرہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دوسرے کمرے میں چھپا کر ان سے میرے متعلق دریافت فرمائیں۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوسرے کمرے میں بھیج دیا۔ جب یہودی علماء آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے گروہ ِ یہود! اللہ سے ڈرو! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبودنہیںہے۔ تم لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسو ل ہوں اور حق لیکر آیا ہوں ۔ پس تم اسلام قبول کر لو۔‘‘ یہود کے علماء نے کہا :’’ ہم اس بارے میں نہیں جانتے۔ ‘‘تین مرتبہ سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال دہرایا اور تینوں مرتبہ بد بخت یہودی علماء نے یہی جواب دیا۔ آ خر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’عبداللہ بن سلام تم میں کیسا شخص ہے؟‘‘ یہود نے کہا:’’ ہمارے سردار کا بیٹا ہے ،ہمارا سردار ہے اور ہمارا سب سے بڑا عالم ہے اور سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہے اور ہم میں سب سے بہتر اور سب سے بہتر کا بیٹا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اگر عبداللہ بن سلام مجھ پر ایمان لے آئے تو مجھے برحق تسلیم کرلو گے ؟یہودی علماء نے کہا :’’عبداللہ بن سلام کبھی اسلام قبول کر ہی نہیں سکتا۔ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابن سلام باہر نکل آئو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے باہر آئے۔’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اور یہودی علماء سے مخاطب ہوکر فرمایا:’’ تم خوب جانتے ہو کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حق( قرآن اور اسلام)لیکر آئے ہیں ۔‘‘ یہ سنتے ہی یہودی علماء نے کہا:’’ تو جھوٹا اور کذاب ہے اور ہم میں سب سے بُرا ہے اور سب سے بُرے کا بیٹا ہے۔ ‘‘

منافقوں کا سردار، عبداللہ بن اُبی

   اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیںکہ مدینہ منورہ میں منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا۔ یہ لوگ سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف سخت کینہ اور عداوت چھپائے ہوئے تھے۔ لیکن انھیں کھل کر سامنے آنے کی ہمت نہیں تھی۔ بلکہ اپنے قبیلے والوں کے ساتھ انھوں نے دکھاوے کے لئے ا سلام قبول کر لیا تھا اورسیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت کا اظہار کرتے تھے۔ لیکن پوشیدہ طور سے نفرت کرتے تھے اور یہودیوں ،عیسائیوں اور کافروں سے پوشیدہ طور سے ملے ہوئے تھے اور ان کے اشارے پر مسلمانوں میں تفرقہ اور تنازعہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان میں سب سے اوپر عبداللہ بن اُبی تھا۔ یہی آگے چل کر منافقوں کا سردار بنا۔ جنگ بعاث مدینہ منورہ کے دو قبیلوں او س اور خزرج کے درمیان ہوئی تھی۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے۔ ا س جنگ کو بھڑکانے میں یہودیوں کا ہاتھ تھا اور جنگ بعاث میں انھوں نے بے شمار دولت کمائی تھی۔ اس جنگ کے بعد دونوں قبیلوں کے بچے کچے سرداروں نے ملکر یہ طیٔ کیا کہ اب ہمیں لڑنے کی بجائے مل کر رہنا چاہئے اور دونوں قبیلوں کا الگ الگ حکمراں ہونے کی بجائے ایک مشترکہ حکمراں ہونا چاہئے۔ مدینہ منورہ کے دونوں قبیلوں اوس اور خزرج پر یہودیوں کا کافی کنٹرول تھااور عبداللہ بن ابی یہودیوں کا بہت ہی قریبی تھا۔ اس لئے یہودیوں نے د ونوں قبیلوںپر اثر اور سوخ کا فائدہ اٹھا کر طے کروالیا کہ دونوں قبیلوں کا مشترکہ حکمراں عبداللہ بن ابی ہوگا۔ در اصل یہودی اسے اپنا کٹھ پتلی حکمراں بنانا چاہتے تھے اور اسکے ذریعے پوشیدہ طور سے مدینہ منورہ پروہ خود حکومت کرنا چاہتے تھے۔ لیکن عبداللہ بن ابی کو حکمراں بنانے سے پہلے ہی مدینہ منورہ میں اسلام کا اجالا پھیل گیا اور دونوں قبیلے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا بڑا ماننے لگے اور عبداللہ بن ابی کے بادشاہ یا حکمراں بننے سے پہلے ہی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے آئے ۔ چونکہ اسکے خیال میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی بادشاہت چھین لی۔ اس لئے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن بن گیا۔ غزوئہ بدر تک وہ مشرک رہا ۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ غزوئہ بدر میں قریش جیسی بڑی طاقت کو شکست ہوگئی تو اس نے اپنے یہودی آقائوں کے کہنے پر دکھاوے کے لئے اسلام قبول کرلیا اور دھیرے دھیرے منافقوں کا ایک گروہ بنا کر اسلام اور مسلمانوں کی جڑوں کو کھودنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس منافقوں کے سردار کا ذکر ضرورت کے وقت آگے آئیگا۔ یہاں مختصراً اسکے بارے میں بتا دیا تاکہ قارئینِ کرام کو آگے الجھن نہ ہو۔

مدینہ منورہ کی وبا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں آئے۔ دونوں شہروں کے موسم میں فرق تھا۔ اسی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیمار ہوگئے اور انھیں مکہ مکرمہ یاد آنے لگا۔ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا مانگی:’’ اے اللہ تعالیٰ !ہمیں مدینہ منورہ کی محبت عطا فرما۔ جیسی ہمارے دل میں مکہ مکرمہ کی محبت ہے۔ ویسی محبت بلکہ اس سے زیادہ مدینہ منورہ سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اے اللہ تعالیٰ !ہمارے صاع اور مد (وزن کرنے یا ناپنے کے آلات ) میں برکت عطا فرما اور ان کو ہمارے لئے درست کردے اور یہاں کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر دے۔

مسجد بنوی کی تعمیر مکمل

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ سات مہینے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر قیام فرمایا۔ اسی دوران مسجد نبوی کی تعمیر کا کام جاری رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ اُمہات المومنین کے حجرات (کمرے) اور مہاجرین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے گھر بھی مسجد نبوی کے آس پاس تعمیر ہوتے رہے ۔ جب ان تمام کی تعمیر مکمل ہوگئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مہاجرین اپنے اپنے گھروں میں منتقل ہوگئے۔ تب تک وہ انصار صحابہ کرام علیہم اجمعین کے گھروں میں مہمان بن کر رہ رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کیسی بنائی تھی۔ اس کے بارے بہت مختصر میں آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ مسجد بنوی کا قبلہ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا۔ (کیونکہ اس وقت بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم تھا۔ بعد میں خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ ا نشا اللہ اسکے بارے میں ہم آگے بتائیں گے)۔ مسجد کے تین صدر دروازے بنائے گئے ۔ ایک دروازہ مسجد کے آخر میں رکھا گیا۔ دوسرے دروازے کو بابِ رحمت کہا گیا۔ اور تیسرا دروازہ جس سے مسجد میں داخل ہوتے تھے۔ مسجد کی لمبائی اور چوڑائی لگ بھگ برا بر تھی۔ لمبائی سو ہاتھ تھی اور چوڑائی کچھ کم تھی۔ مسجد کی بنیاد تین ہاتھ رکھی گئے چھت کھجور کی شاخوں اور تنوں سے بنائے گئے ۔ مسجد کے ایک اطراف امہات المومنین کے حجرات تھے۔ ہر حجرے کا ایک دروازہ مسجد کے اندر کھلتا تھا۔ اور باقی اطراف میں مہاجرین صحابہ کرام کے گھر تھے۔

مواخات (بھائی بھائی )

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کرائی ۔ دراصل مکہ مکرمہ سے جو مہاجرین مدینہ منورہ آئے تھے۔ وہ انصار کے یہاں مہمان تھے اور انصار ان کی دل و جان سے خدمت کرتے تھے اور اپنی حد تک انھیں آرام دینے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکنمہاجرین بھی کچھ کرنا چاہتے تھے۔مہاجرین کا زریعۂ معاش تجارت تھی اور انصار کا ذریعہ معاش زراعت تھی۔ یعنی وہ کھجوروں کی ذراعت کرتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان’’ مواخات‘‘ اس لئے کرائی کہ دونوں ایک دوسرے کی مد د کر سکیں اور ایک دوسرے کے بوجھ کو ہلکا کرسکے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ مواخات‘‘ کب کرائی ۔ اس بارے میں کچھ روایات ہیں کہ مسجدِ نبوی کی تعمیر کے دوران حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں کرائی۔ اور کچھ روایات میں ہے کہ مسجدِ نبوی کی تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد مواخات کرائی۔ مواخات کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ تاجر پیشہ مہاجرین نے انصار کی مدد سے مدینہ منورہ میں دکانیں کھولیں۔ اس کے علاوہ انصار کی کھجوروں کو بہت ہی مناسب دام میں فروخت کرواتے تھے۔جب کہ اس سے پہلے یہودی ان سے بہت سستے داموں میں کھجوریں خریدتے تھے۔ امام محمد بن سعد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور مہاجرین کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم کیا تو وہ با لکل حقیقی رشتے کی طرح بن گیا۔ انصار اپنے سگے بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں سے زیادہ اپنے مہاجر بھائی کا خیال رکھنے لگے اور ان کی دل جوئی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ مدینہ منورہ کے انصار نے ایثار و قربانی کی لازوال مثالیں قائم کیںکہ پوری انسانی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی یہاں تک کہ کوئی انصاری بھائی کا انتقال ہونے لگتا تو وہ اپنے مہاجر بھائی کو وارث کر جاتا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہاجر صحابی کو بلاتے اور ایک انصار صحابی کو بلاتے تھے اور انصار کے ہاتھ میں مہاجر کا ہاتھ دیکر فرماتے تھے یہ تمھارابھائی ہے۔ اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ 88اٹھاسی یا90نوے افراد کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ ان صحابہ کرام کے نام آپ کو سیرت کی مستند کتابوں میں مل جائیں گے۔ ہم جگہ کی کمی کی وجہ سے نہیں دے سکیں گے۔ مواخات کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہااور جب بھی کوئی صحابی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لاتے تھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم انھیں کسی بھی انصاری صحابی کا بھائی بنا دیتے تھے۔

مہاجرین اور انصار کی ایک دوسرے سے بے انتہا محبت

   انصار وار مہاجرین دونوں اللہ کے لئے اور آخرت میں کامیابی کے لئے ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور انصار تو اپنے مہاجرین بھائیوں پر اپنا سب کچھ لٹا کر خوشی محسوس کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر مہاجرین نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جس قوم (انصار) پر ہم اترے ہیں۔ ان سے بڑھ کر کسی قوم کو ہم نے ہمدرد اور مددگار اور مخلص اور تنگی میں بھی غمکسار اور فراخی میں بھی مدد کرنے والا نہیں دیکھا۔ ہم کو یہ اندیشہ ہے کہ سارا اجر و ثواب ہمارے انصار بھائی لے جائیں گے اور ہم محروم نہ رہ جائیں ۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نہیں !(تمھیں بھی اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا جتنا انصار کو ملتا ہے پر شرط یہ ہے کہ )تم ان کے لئے دعا کرتے رہو۔ ‘‘اکثر روایات میں ہے کہ مواخات دو مرتبہ ہوئی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں مہاجرین کے درمیان اور دوسری مرتبہ مدینہ منورہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان ہوئی۔

اذان کیلئے مشورہ

   جب مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہوگئی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کرکے مشورہ کیا کہ مسلمانوں کو نماز کے لئے کسطرح بلایا جائے۔ (کچھ روایات میں ہے کہ معراج میں سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کی تعلیم دی گئی تھی۔) حضرت عبد اللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو (مسجد نبوی کی تعمیرتک)جب نماز کا وقت ہوتا تھاتو تمام مسلمان خود بخود جمع ہوجاتے تھے۔ (مسجد ِنبوی کی تعمیر کے بعد) سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کیا کہ نماز کے لئے کسطرح بلایا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ ناقوس بجادیا جائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں سے مشابہت نہ ہونے کہ بنا پر منع فرمایا ۔ کسی نے کہا بوق بجادیا کریں۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے مشابہت ہونے کے بنا پر منع فرمادیا۔ کسی نے کہا کسی اونچی جگہ پر آگ جلا دی جائے۔ جسے دیکھ کر لوگ جمع ہو جایا کریں۔ (یہ مجوسیوں یعنی آگ کی پوجا کرنے والوں کا طریقہ تھا۔)سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجوسیوں سے مشابہت ہونے کے بناپر منع فرماد یا۔ حضرت عمر فاروق نے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کو مقرر کیا جائے کہ وہ آواز لگا کر لوگوں کو نماز کے لئے بلائے۔ یہ مشورہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے بلال اٹھو اورنماز کیلئے لوگوں کو آواز دو۔

اذان کے متعلق حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا خواب

   امام محمد بن سعد اپنی کتاب طبقات ابن سعد میں لکھتے ہیں کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز کے لئے ان الفاظ میں بلاتے تھے۔ ’’اَلصَّلوٰۃُ الجَامِعَہ‘‘(نماز کھڑی ہونے والی ہے نماز کے لئے جمع ہوجائو۔)حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میں اللہ تعالیٰ کاشکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے اذان کی نعمت عطا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس ایک بشیر (بشارت یا خوش خبری دینے والا ) آیا اور کیسا اچھا بشارت دینے والا تھا۔ مسلسل تین رات تک اللہ تعالیٰ کا بشیر آیا اور برا بر میری عزت میں اضافہ کرتا رہا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ) حضرت عبداللہ بن زید بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک سبز پوش ( ہرے کپڑے پہنے ہوئے) شخص میرے پاس سے گذرا۔اس کے ہاتھ میں نا قوس تھا۔ میں نے اس سے پوچھا :’’کیا تم اس ناقوس کو بیچو گے؟‘‘اس سبز پوش شخص نے کہا :’’تم اسکو خرید کر کیا کرو گے؟‘‘میں نے کہا:’’اس کو بجا کر نماز کے لئے بلایا کریں گے۔ ‘‘سبز پوش نے کہا:’’ میں تم کو اس سے بہتر اور عمدہ تدبیر بتائوں؟‘‘میں نے کہا :’’ضرور بتاؤ۔‘‘اس شخص نے اذان کے کلمات ادا کئے اور پھر ذرا ہٹ کر تلقین کی کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو تب بھی یہی کلمات دہراؤ ۔ اور ’’حی علی الفلاح ‘‘کے بعد دو مرتبہ’’ قد قا مت الصلوٰۃ‘‘کا اضافہ کیا۔ صبح میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پورا خواب بیان کیا۔ یہ سنتے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’بیشک یہ خواب بالکل سچا ہے ۔انشا اللہ تعالیٰ ۔‘‘اسکے بعد ارشاد فرمایا :’’اے بلال رضی اللہ عنہ اٹھو اور اذان دو۔‘‘ اور مجھ سے فرمایا:’’تم بولتے جائو اور بلال اذان دیتے جائیں گے۔ کیونکہ تمھارے مقابلے میں ان کی آواز بلند ہے۔‘‘ میں اذان کے کلمات کہتا جاتا تھا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان کہتے جاتے تھے۔ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے اذان سنی تو فوراً اپنی چادر لپیٹے اتنی ہڑ بڑاہٹ میں آئے کہ چادر گھسٹ رہی تھی۔ اور فرمانے لگے:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قسم ہے اس ذات کی ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجامیں نے بھی خواب میں یہی کلمات سنے ہیں ۔ (فتح الباری )المعجم الاوسط میں امام طبرانی نے بیان کیا ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اذان کا خواب دیکھا ۔مغلطائی کی سیرت النبی میں ہے کہ سات انصار نے اذان کا خواب دیکھا۔ فتح الباری میں علامہ ابن جحر عسقلانی نے لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور سے اذان کا خواب ثابت نہیں ہے۔ اور بعض روایات میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا ہے ۔ اب حقیقت کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔

نماز کی رکعتوں میں اضافہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائی بعثت سے ہی دو وقت فجر اور عصر کی نماز پڑھتے تھے۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہی عمل تھا۔ معراج میں پانچ وقت کی نمازیں فرض ہوئی تو صرف مغرب کی نماز میں تین رکعت پڑھنے کا حکم تھا اور باقی نمازیں دو دو رکعت تھیں ۔ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد ہجرت کے پہلے سال یعنی 1 ؁ہجری میں مسافر کی نماز تو ویسی ہی رکھی گئی۔ لیکن مقیم کے لئے ظہر ، عصر اور عشاء کی نماز کی چار چار رکعت کر دی گئی۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ نمازکی دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں ۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے (مدینہ منورہ کی طرف )ہجرت کی تو چار رکعتیں فرض ہوئیں اور فجر کی نماز کو طویل ہونے کے بعد ہونے اور مغرب کی نماز کو وتر ہونے کی وجہ سے ویسی ہی حالت میں چھوڑ دیا گیا اور سفر کی حالت بر قرار رہی۔

سید الانبیاء ﷺ کا مسجد ِ نبوی میں پہلا خطبہ

   مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے ایک تنے سے ٹیک لگا کر پہلا خطبہ دیا۔ (سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے منبر کئی سال بعد بنایا گیا تھا۔ اسکا ذکر انشا اللہ آگے آئے گا۔) چونکہ مسجد نبوی کی چھت کو سنبھالنے کے لئے جگہ جگہ کھجور کے تنوں کے ستون گاڑے گئے تھے ۔اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پڑھنے کی جگہ کے قریب جو کھجور کے تنے کا ستون گاڑا ہوا تھا اس سے ٹیک لگا کر خطبہ دیا کرتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خطبے کے خطبۂ اولیٰ میں فرمایا۔ تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجد نبوی میں جمع تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا کی اور فرمایا: (ترجمہ ) ’’اے لوگو!اپنے لئے عمدہ افعال (نیک کام) سر انجام دے لو۔ تم سب کو خوب جان لینا چاہئے کہ اللہ کی قسم تم میں سے ہر ایک کو صاعقہ(قیامت) کا سامنا کرنا ہے۔ پھر وہ اپنی بھیڑوں کو ایسی حالت میں چھوڑ دے گا کہ ان کو چروانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ پھر اسکا رب (قیامت کے دن) اس سے ضرور پوچھے گا اور اس وقت نہ کوئی ترجمان ہوگا اور نہ ہی کوئی پردہ ان کے درمیان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا (اے بندے) کیا تیرے پاس میرے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے تھے؟ اور تجھے تبلیغ نہیں کی تھے؟کیا میں نے مال عطا نہیں فرمایا تھا؟ اور تجھ پر اپنا فضل و کرم قائم نہیں کیا تھا؟ (بتا) تونے اپنے نفس کیلئے آگے کیا بھیجا ہے؟ وہ شخص دائیں بائیں دیکھے گا۔ کوئی چیز نہیں پائے گا۔ پھر وہ سامنے دیکھے گا تو اسے دوزخ کے علاوہ کوئی اور چیز نظر نہیں آئے گی۔ جو (بھی) طاقت رکھتا ہے کہ اپنے آپ کو آگ سے بچائے ۔اسے ضرور آگ سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ چاہے اسکے لئے وہ کھجور کا ٹکڑا بھی دے سکے ۔ (تو اسے دیکر اپنے آ پ کو آگ سے بچا ئے)اور جس کے پاس کھجور کا ٹکڑا بھی نہ ہوتو اسے اسے عمدہ (یعنی نیک بات ) گفتگو کر کے دوزخ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بیشک عمدہ گفتگو (نیکی کا حکم) کا بھی اجر دیا جائے گا۔ نیکی کا اجر دس گنا سے سو گنا تک ہے۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔‘‘ یہاں پر پہلے خطبے کا خطبۂ اولیٰ مکمل ہوا۔ اسکے بعدسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خطبے کا خطبۂ ثانیہ فرمایا: (ترجمہ)’’ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ۔ میں اسکی ثنا و ستائش کرتا ہوں اور اسی سے مدد طلب کرتا ہوں ۔ ہم اپنے نفسوںکی برائیوں سے اسی کی پناہ مانگتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے صرف اسی کی پناہ حاصل کر تے ہیں ۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے۔ اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ کردے( یا رہنے دے) اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن پاک ) بہترین کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کے دل کو اس (قرآن پاک) سے مزین کردیاوہ کامیاب ہوگیا۔ جسے کفر کے بعد اسلام میں داخل کر دیا وہ کامیاب ہوگیا۔ وہ شخص جس نے اس کتاب (قرآن پاک ) دوسروں کی باتوں پر تر جیح دی وہ کامران و کامیاب ہوگیا۔ یہ کتاب (قرآن پاک) تمام کلاموں میں عمدہ کلام ہے اور فصیح و بلیغ کلام ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے تم بھی اس سے پیار کرو۔ اللہ تعالیٰ سے دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے محبت کرو۔ اللہ تعالیٰ کے کلام(قرآن پاک ) اور اسکے ذکر سے اکتا نہ جائو۔ تمھارے دل اس سے بیزاری کا اظہار نہ کریں ۔ کیونکہ یہ کلام ان اشیاء میں ہے جنھیں اللہ تعالیٰ بر گزیدہ اور منتخب فرمالیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اعمال میں سے بہترین ، بندوں میں سے ’’مصطفیٰ ‘‘اور گفتگو میں سے ’’صالح‘‘ کا نام دیا ہے۔ جو کچھ لوگوں کو عطا کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ حلال اور کچھ حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو۔ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرو۔ جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق سچ کہو ۔ یہ بہترین بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے آپس میں محبت کرو۔ اللہ تعالیٰ اس (بات ) سے ناراض ہوتا ہے کہ اس سے کیا ہوا وعدہ توڑا جائے۔‘‘ یہاں پر پہلے خطبے کا خطبۂ ثانیہ مکمل ہوا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

11 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


11 سیرت سید الانبیاء ﷺ

میثاق مدینہ 

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


میثاقِ مدینہ، حضرت سلمان فارسی کا قبول اسلام، جہاد کی اجازت، پہلا مال غنیمت، تبدیلیٔ قبلہ


میثاقِ مدینہ (اللہ کے قانون کا نفاذ)

   مدینہ منورہ اسلام اور مسلمانوں کا مرکز بن چکا تھا۔ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ِ نبوی کی تعمیر کے فوراً بعد اللہ کے قانون کو نافذکرنے کے عمل کی شروعات کردی اور اس سلسلے میں سب سے پہلا مرحلہ ’’میثاق مدینہ ‘‘ہے ۔ بہت سے علماء کرام نے اسے ’’میثاقِ مدینہ ‘‘فرمایا ۔ اور بہت سے علمائے کرام نے ’’یہودیوں سے معاہدہ‘‘ فرمایا اور بہت سے علمائے کرام نے اسے اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں پہلا قدم بتایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تحریر ی معاہدہ لکھوایا ۔ وہ تفصیل سے آ پ کو سیرت مبارکہ کی دوسری مستند کتابوں میں ملے گا۔ یہاں ہم کچھ قرار دادیں مختصر میں پیش کر رہے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا ۔ بسمہ اللہ رحمٰن الرحیم ۔ یہ عہد نامہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قریش کے مسلمانوں اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں ، ان کی اتباع کرنے والوں ، ان کے حلیفوں (یہود)اور ان کے ساتھ ملکر جہاد کرنے والوں کے درمیان ہے۔ وہ دوسرے لوگوں کے علاوہ ایک امت ہیں ۔ اور ہر فریق اپنے اپنے مذہب پر قائم رہ کر اِن امور یا ضابطوں کا پابند ہوگا۔ (1) قصاص اور خون بہا کے جو طریقے قدیم زمانے سے چلے آرہے ۔وہ عدل اور انصاف کے ساتھ بدستور قائم رہیں گے۔(2) یہود اپنے اخراجات کے ذمہ دار ہوں گے اور مسلمان اپنے اخراجات کے ذمہ دار ہو ں گے۔(3) اگر کوئی طاقت اس معاہدے کے کسی فریق سے جنگ کرے گی تو سب لوگ اس کے خلاف آپس میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گے۔ (4) اس معاہدے کے شرکاء کے آپسی تعلقات بھلائی، خیر اندیشی اور ایک دوسرے کی مدد کی بنیاد پر ہوں گے۔ گناہ پر نہیں ہونگے۔(5) کوئی آدمی اپنے حلیف کی وجہ سے مجرم نہیں ٹھہریا جائے گا۔ (6) مظلوم کی مدد کی جائے گی۔ (7) جب تک جنگ برپا رہے گی یہود بھی مسلمانوں کے ساتھ خرچ بر داشت کریں گے۔ (8) اس معاہدے کے تمام فریقوں پر مدینہ منورہ میں ہنگامہ آرائی کرنا اور ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا کرنا اور خون بہانا حرام ہوگا۔ (9) ہر فریق کو عدل و انصاف کے ساتھ اپنی جماعت کا فدیہ دینا ہوگا۔ یعنی قبیلے کا قیدی ہوگا۔ اسے چھڑانے کی ذمہ داری اسی قبیلے کی ہوگی۔ (10) ظلم ،گناہ، برائی اور فساد کے خلاف سب متفق رہیں گے۔ اس بارے میں کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی جائے گی۔ چاہے وہ کسی کا بیٹا ہی نہ ہو۔ (11) کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کافرکے مقابلے میں قتل کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔ اور نہ کسی مسلمان کے مقابلے میں کسی کافر کی کسی قسم کی مدد کی جائے گی۔(12) ایک ادنیٰ سے مسلمان کو بھی پناہ دینے کا وہی حق ہوگا جو ایک بڑے رتبے والے مسلمان کو ہوگا۔(13) جو یہود مسلمانوں کے تابع ہوکر رہیں گے۔ ان کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہوگی ۔ ان پر کسی قسم کا ظلم نہیں ہوگا۔ اورنہ ان کے مقابلے میں ان کے کسی دشمن کی مدد کی جائے گی۔(14) کسی کافر اور مشرک اور یہود کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں قریش کے کسی جان یا مال کو پناہ دے سکے یا قریش اور مسلمانوں کے درمیان دخل اندازی کرے۔(15) جنگ کے وقت یہودیوں کو اپنے جان و مال سے مسلمانوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ اور مسلمانوں کے خلاف دوسروں کی مدد کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ (16) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دشمن اگر مدینہ منورہ پر حملہ کرے گا تو یہودیوں کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کریں ۔(17) جو قبائل یا فریق اس عہد اور حلف میں شریک ہیں ۔ اگر ان میں سے کوئی قبیلہ یا فریق اس عہد اور حلف سے الگ ہونا چاہئے تو اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر الگ ہونے کا اختیار نہیں ہوگا۔ (18) مسلمان اگر کسی سے صلح کریں گے تو یہودیوں کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ بھی صلح میںشریک ہوں۔(19) جو کسی مسلمان کو قتل کرے گا اور اسکے خلاف ثبوت موجود ہوگا تو اس کا قصاص لیا جائے گا۔ لیکن مقتول کے ولی یا رشتہ دار دیت وغیرہ پر راضی ہوجائیں تو دیت دی جائے گی۔ (20) جب کبھی فریقین میں آپس میں جھگڑا یا کوئی اختلاف پیش آئے گا تو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو فیصلہ فرمائیں گے۔ اسے سب کو قبول کرنا ہوگا۔ ‘‘

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مکہ مکرمہ میں ہی ہوگیا تھا۔ لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی اور آپ رضی اللہ عنہا اپنے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہ رہی تھیں ۔ مسجد نبوی کی تعمیرکے بعد جب امہات المومنین کے حجرات (کمرے )بھی تیار ہوگئے تو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی رخصتی ہوگئی اور آپ رضی اللہ عنہا اپنے والد کے گھر سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آگئیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دودھ کے پیالے سے ولیمہ کی دعوت کی۔ جو تمام لوگوں نے پیٹ بھر کر پیا اور پیالے میں دودھ اسی طرح موجود تھا۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کنواں خرید کر مسلمانوں کو وقف کیا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ میں آئے تو اس وقت مدینہ منورہ کے تمام کنوئوں کا پانی کھارا تھا۔ صرف ایک کنواں ’’بیئررومہ‘‘ کا پانی میٹھا تھا۔ اس کا مالک ایک یہودی تھاجو بغیر قیمت لئے پانی نہیں دیتا تھا۔ اس سے غریب مسلمانوں کو بہت پریشانی ہوتی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کون ہے جو مسلمانوں کے لئے یہ کنواں خریدے اور بدلے میں جنت کا ایک چشمہ پائے۔ ‘‘حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وہ کنواں خرید لیااور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیااور مسلمانوں کے لئے وقف کردیا کہ جس کا جی چاہے اس میں سے پانی لے۔

تین صحابہ کرام کا انتقال اور بنو نجار کی خوش قسمتی

   ہجرت کے پہلے سال یعنی ۱ ؁ھجری میں تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا انتقال ہوا۔ حضرت کلثوم بن ہدم رضی اﷲ عنہ کا انتقال ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ بنو عوف کے ہیں اور قبا میں رہتے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے پہلے میز بان ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں سب سے پہلے ان کے یہاں ٹھہرے تھے۔ دوسرے حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا ۔ آپ رضی اللہ عنہ دونوں بیعت یعنی بیعت عقبیٰ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک رہے۔ بیعت عقبہ ثانیہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر سب سے پہلے بیعت کی اور یہ اپنے قبیلہ خزرج کے نقیبوں میں سے تھے۔ تیسری شخصیت حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی ہے۔ ان کا انتقال مسجد نبوی کی تعمیر مکمل ہوجانے کے بعد ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ بھی دونوں بیعت میں شریک تھے۔ اور بنو نجار کے نقیب تھے۔ حضرت اسعد بن زرارہ نے ہی اسلام کے پہلے’’ معلم‘‘ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر میں ٹھہرا یاتھا اور انھیں لیکر بنو عبد الاشہل میں گئے تھے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ پور ے بنو عبد الاشہل نے ایک ہی دن میں اسلام قبول کرلیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد بنو نجار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:’’ ہمارے نقیب کا انتقال ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو ہمارا نقیب مقرر فرما دیں ۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم میرے ماموں ہو۔ میں تم سے ہوں اور میں تمھارا نقیب ہوں۔‘‘ یہ بنو نجار کے لئے بڑی خوش قسمتی کی بات تھی اور وہ اکثر اس پر فخر کرتے تھے کہ ہمارے نقیب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔

حضرت سلمان فارسی کا قبول اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کے جنازے کے ساتھ قبرستان میں موجود تھے تو وہیں آکر حضرت سلمان فارسی نے اپنے پوری داستان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سنائی اور اسلام قبول کرلیا۔ لیکن چونکہ آپ رضی اللہ عنہ اس وقت ایک یہودی کے غلام تھے۔ اس لئے مجبور اً اُسی کے پاس چلے گئے اور غزوئہ بدر اور غزوئہ احد میں شریک نہیں ہوسکے ۔ غزوئہ خندق سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ اس یہودی کی غلامی سے آزاد ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوگئے اور آخر تک ساتھ میں رہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی داستان لگ بھگ سیرت کی تمام کتابوں میں مذکورہے ۔ لیکن کسی میں مختصراً ہے اور کسی میں کچھ واقعات کم ہیں ۔ ہم نے کئی کتابوں سے الگ الگ واقعات کو جمع کرکے مکمل داستان پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔

حق کی تلاش

   حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خود اپنی حق کی تلاش کی داستان بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں :’’میں اہل فارس (ایرانیوں ) میں سے ایک شخص تھا۔’’ اصبہان ‘‘کے قریب ایک’’ حبی‘‘ نام کی بستی میں رہتا تھا۔ میرا باپ اپنی بستی کا ایک زمین دار تھا اور بہت امیر تھا۔ میں اسے سب سے زیادہ پیارا تھااور اس کی محبت دن بہ دن بڑھتی جارہی تھی۔ جس طرح دو شیزاوں کو پابند کیا جاتا ہے۔ ویسی ہی پابندی میرے باپ نے مجھ پر لگا رکھی تھی اور مجھے کہیں باہر آنے جانے نہیں دیتا تھا۔ وہ آتش پرست(آگ کی پوجا کرنے والا) تھا ۔ میں نے بھی اس کے حکم پر آتش پرستی میں اتنی محنت کی کہ مجھے آگ جلائے رکھنے کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ ایک دن میرا باپ کسی عمارت کی تعمیر میں لگا ہوا تھا۔ تو اس نے مجھ سے کہا:’’پیارے بیٹے! آج میں اس عمارت کی تعمیر میں مشغول ہونے کی وجہ سے ہماری زمینوں پر نہیں جا سکتا۔ تم ہماری زمینوں پر جائوں اور فلاں کام کر کے آئو۔ لیکن وہاں زیادہ دیر نہ لگانا۔ اگر تم نے زیادہ دیر لگائی تو مجھے زمینوں سے زیادہ تمھاری فکر ہوجائے گی۔‘‘اسکے بعد آگے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔’’ میں اس مقصد کے لئے گھر سے روانہ ہوا تو عیسائیوں کے گر جا گھر سے گذرا۔ وہاں مجھے کچھ آوازیں سنائی دیں تو میں تحقیق کے لئے اندر چلا گیا۔ وہاں میں نے ان لوگوں(عیسائیوں) کو عبادت کرتے دیکھا تو و ہ مجھے بہت انوکھی لگی۔ میں نے دل میں کہا کہ یہ دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ اور میرا رجحان عیسائی مذہب کی طرف ہوگیا۔ پھر میں غروب آفتاب تک وہیں رہا۔ میں نہ تو والدکی زمین کی طرف گیااور نہ ہی مجھے اسکا خیال آیا۔ میں نے عیسائیوں سے پوچھا:’’ اس دین کا سر چشمہ اور مرکزکہا ں ہے؟‘‘انھوں نے بتایا :’’شام میں ہے۔ ‘‘میں اپنے والد کے پاس واپس آیا تو انھوںنے میری تلاش میں آدمی دوڑا ئے تھے اور ان کے تمام کام رکے ہوئے تھے۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انھوں نے دریافت کیا:’’ میں دن بھر کہاں تھا۔ ‘‘ میں نے اپنے والد کو بتایا کہ میری ملاقات عیسائیوں سے ہوئی اور ان کا دین اور عبادت مجھے بہت پسند آئی اور شام تک وہیں رہا۔ میرے والد نے مجھے سمجھایا:’’ بیٹاان کے دین میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور ہمارا دین ان کے دین سے بہتر ہے۔‘‘ میں نے کہا :’’ نہیں ابا جان !وہ دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ میری بات سن کر میرے والد خوف زدہ ہوگئے اور انھوں نے میرے ہاتھوں اور پائوں میں بیڑیاں ڈال کر مجھے گھر میں قید کر دیا۔

شام کا سفر

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنی داستان جاری رکھتے ہوئے آگے فرماتے ہیں :’’ پھر میں نے عیسائیوں کی طرف پیغام بھیجا کہ اگر شام سے کوئی قافلہ تمھارے پاس آئے تو مجھے اطلاع کردینا۔ کچھ عرصے بعد مجھے اطلاع ملی کہ شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آیا ہوا ہے۔ میں نے پیغامدیا کہ جب وہ لوگ تمام سامان فروخت کرکے واپس جانے لگیں تو مجھے اطلاع کردینا۔ جب عیسائی تاجروں کا قافلہ واپسی کے لئے تیار ہورہا تھا تو عیسائیوں نے مجھے اطلاع دی۔ میں نے اپنے ہاتھوں اور پیروں کی بیڑیاں توڑڈالیں اور قافلے کے ساتھ ملک شام کی طرف روانہ ہوگیا۔ شام پہونچنے پر میں نے ان تاجروں سے میں نے پوچھا:’’ اس دین کا سب سے بڑا عالم کون ہے ؟ انھوں نے بتایا کہ گرجا گھر کا پادری ہمارا سب سے بڑا عالم ہے۔ ‘‘

حضرت سلمان فارسی اور ملک شام کا پادری

   میں اس گرجا گھر کے پادری( انھیں فادر بھی کہا جاتا ہے) کے پاس آیا اور کہا:’’میں اس دین میں رغبت رکھتا ہوں اور تمھاری خدمت میں رہ کر اس دین کی معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ میں تم سے علم حاصل کروں گا اور تمھارے ساتھ ساتھ نماز پڑھوں گا۔ اس نے اجازت دے دی اور میں اس کے ساتھ رہنے لگا۔ وہ پادری ایک برا انسان تھا۔ وہ لوگوں کو صدقات اور خیرات کرنے کا حکم دیتا تھا ۔ اللہ کے لئے خرچ کرنے کی ترغیب دلاتا تھا۔ مگر ان سے مال و دولت اکھٹی کر کے خود رکھ لیتا تھا اور ضرورت مندوں اور مستحقین میں تقسیم نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے سونے چاندی کے سات گھڑے بھر لئے تھے۔ مجھے اسکے اس بُرے کام پر شدید غصہ آتا تھا۔ پھر وہ پادری مر گیا۔ تمام عیسائی اسکی تجہیز و تدفین کے لئے جمع ہوئے ۔ میں نے ان سے کہا :’’ تمھارا یہ پادری تمھیں صدقات و خیرات کرنے کا حکم دیتا تھا اور جب تم اسے دیتے تھے تو وہ اپنے پاس رکھ لیتا تھا اور غریبوں اور مسکینوں میں خرچ نہیں کرتا تھا۔‘‘ لوگوں نے پوچھا ’’تمھیں اسکا علم کیسے ہوا؟ ‘‘میں نے انھیں اس پادری کا جمع کیا ہوا خزانہ بتایا۔ جب انھوں نے پادری کا یہ دھوکا اور فریب دیکھا تو کہا:’’اللہ کی قسم !ہم اسے دفن نہیں کریں گے ‘‘اور انھوں نے اسے سولی پر لٹکا دیااور اسے پتھروں سے مارا۔ ‘‘

ملک شام کا نیک پادری

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں :’’پھر اس پادری کی جگہ ایک دوسرے پادری کو نامزد کردیا گیا اور میں اس کی خدمت کرنے لگا۔ میں نے پانچ نمازیں پڑھنے والوں (مسلمانوں ) کے علاوہ کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو اس سے افضل ہو اور شب وروز میں اس پادری سے زیادہ نیک کاموں اور عبادات کا پابندہو۔ میں اس سے دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے محبت کرنے لگا۔ میں ایک طویل عرصے تک اس کے ساتھ رہا۔ جب اسکی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے کہا:’’ میں عرصۂ دراز سے آپ کے ساتھ رہا۔ دل کی گہرائیوں سے آپ سے پیار کیا۔ اب آپ کا آخری وقت قریب آگیا ہے۔ آپ مجھے وصیت کیجئے کہ میں کس کے پاس جائوں ؟‘‘ اس نے مجھ سے کہا:’’ اے میرے بیٹے ! اللہ کی قسم !آج میں اس خصوصیات کا حامل کسی انسان کو نہیں پاتا جو مجھ میں ہیں ۔ اب تو لوگ تباہ ہوچکے ہیں ۔ انھوں نے مذہب کو چھوڑ دیا ہے۔ مگر موصل میں ایک شخص ہے جو انھیں اوصاف سے متصف ہے۔ میرے بعد ان کے پاس چلے جانا۔ ‘‘

موصل اور نصیبن کے پادری

   حضرت سلمان فارسی آگے فرماتے ہیں:’’ جب وہ پادری مر گیاتو اسے دفنانے کے بعد میں موصل کے پادری کے پاس چلاگیا۔ میں اس سے کہا:’’ اے فلاں پادری !مجھے فلاں پادری نے مرتے وقت یہ وصیت کی کہ میں تمھارے پاس رہوں اور تم ان صفات سے مزین ہو جن سے وہ تھا۔‘‘ اس پادری نے مجھے اپنے پاس ٹھہرنے کی اجازت دے دی ۔ میں اسکے ساتھ رہنے لگا۔ وہ بھی پچھلے پادری کی طرح عمدہ اوصاف کو مالک تھا۔ کافی مدت اس کے ساتھ رہا ۔ پھر اسکا بھی آخری وقت آگیا۔ میں اس سے پوچھا :’’ اب میں کس کے پاس جائوں ؟ ‘‘تو اس نے مجھے نصیبن کے پادری کا پتہ بتادیا۔ میں نصیبن کے پادری کے پاس پہونچا اور اسے پچھلے دونوں پادریوں کے بارے میں بتا کر رہنے کی اجازت مانگی جو اس نے دے دی۔ وہ بھی نیک انسان تھا۔ پھر اسکا بھی آخری وقت آگیا۔ میں نے اس سے پوچھا:’’ اب میں کس کے پاس جائوں ؟ ‘‘تو اس نے مجھے عموریہ کے پادری کے پاس بھیجا۔

’’وہ آخری نبی ‘‘ کے ظاہر ہونے کا وقت آگیا ہے

   اسکے آگے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں عموریہ کے پادری کے پاس پہونچا اور اسے تمام حالات سے آگاہ کیا تو اس نے کہا:’’ تم میرے ساتھ رہ سکتے ہو ۔وہ ایک عمدہ شخص تھا اور سابقہ تین پادریوں کی طرح بے حد نیک تھا۔ پھر میں روز گار میں مصروف ہوگیا۔ میرے پاس بہت سی گائیں اور بھیڑیں جمع ہوگئیں۔ پھر اس کا بھی آخری وقت آگیا۔ میں نے اس سے کہا:’’ اب آپ مجھے کس کے پاس جانے کا حکم دیتے ہیں ؟‘‘ اس نے کہا :’’اے میرے بیٹے !اللہ کی قسم !آج اس دنیا میں میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جسکی تم کو تلاش ہے۔ ہاں میں تمھیں ایک بات بتا سکتا ہوں ۔ ’’وہ آخری نبی‘‘ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ظاہر ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ وہ دین ابراہیمی پر مبعوث ہوں گے اور سر زمین ِ عرب میں ظاہر ہوں گے اور وہ ’’آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم)دہ سنگلاخ چٹانوں کی طرف ہجرت فرمائیں گے۔ ان چٹانوں کے درمیان نخلستان ہوگا۔(مدینہ منورہ کے دو اطراف پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔ ) ’’وہ آخری نبی‘‘ کی علامات اتنی عیاں ہوں گی کہ کسی پر مخفی نہیں رہیں گی۔ وہ ہدیہ تناول فرمائیں گے اور صدقہ ہر گز نہیں کھائیں ۔ ان کی شانوں کے درمیان ’’ختم نبوت‘‘ کی مہر لگی ہوگی ۔ اگرتم میں ان کے شہر تک جانے کی طاقت ہوتو ضرور جائو۔‘‘

تیرے عشق میں ……وادی القریٰ میں بک گئے

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنی عشق محبت اور حق کی تلاش کی داستان میں آگے فرماتے ہیں :’’ پھر عموریہ کے پادری کی وفات ہوگئی اور میں سر زمین عرب جانے کی تگ و دو میں لگ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا میں عموریہ میں رہا۔ پھر میرے پاس سے بنو کلب کے تاجر گذرے۔ میں نے ان سے کہا:’’ مجھے عرب کی سر زمین تک لے چلو اسکے بدلے میں میری تمام گائیں اور بکریاں لے لو۔‘‘ انھوں نے حامی بھرلی۔ میں اپنی تمام گائیں اور بکریاں اور بھیڑیںانھیں دے دی۔ انھوں نے مجھے اپنے ساتھ سوار کر لیا۔ جب ہم وادیٔ القریٰ پہونچے تو انھوں نے مجھے غلام کی طرح ایک یہودی کے ہاتھوں بیچ دیا۔ اب میں یہودی کے پاس رہنے لگا۔ میں نے کھجوروں کے درخت دیکھے اور مجھے امید پیداہوگئی کہ شاید یہ وہی شہر ہو جسکے بارے میں عموریہ کے پادری نے بتایا تھا اور ’’وہ آخری نبی ‘‘ سے بھی ملاقات ہوجائے ۔ لیکن میرے دل نے تصدیق نہیں کی۔ ‘‘

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں:’’ میں اس یہودی کی غلامی کرنے لگا۔ ایک دن اسکا چچا زاد بھائی آیا۔ اسکا تعلق مدینہ منورہ کے بنو قریظہ سے تھا۔ اس نے میری محنت اور لگن دیکھکر اپنے بھائی سے مجھے خرید لیااور اپنے ساتھ مدینہ منورہ لے آیا۔ اللہ کی قسم !جب میں نے اس مقدس شہر کی زیارت کی تو مجھے اس میں وہ تمام اوصاف نظر آئے۔ جو عموریہ کے پادری نے مجھے بتائے تھے۔ میں وہیں مقیم رہا۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ اعلان نبوت‘‘ کیا۔ مجھے یہ معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ کے ایک شخص نے’’ اعلان نبوت ‘‘کیا ہے۔ لیکن میں چونکہ ایک معمولی غلام تھا اور میری زندگی میرے آقا کے گھر تک محدود تھی۔ اس لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں زیادہ تفصیل نہیں جان سکا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں مقیم رہے۔ لیکن مجھے ایک بات کا یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نہ ایک دن مدینہ منورہ ضرور تشریف لائیں گے اور میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کر سکوں گا۔ میں اکثر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتا رہتا کہ اے اللہ تعالیٰ! مجھے اتنی زندگی عطا فرما کہ میں ’’وہ آخری نبی ‘‘صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرسکوںاور ان پر ایمان لا سکوں ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے سینکڑوں سال کی زندگی عطا فرمائی ۔ میں نے تیرہ طویل سال مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں گذارے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی مدینہ منورہ آمدکی خبر

   حضرت سلمان فارسی آگے فرماتے ہیں :’’پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اور قبا میں ٹھہرے ۔اللہ کی قسم !جس وقت مجھے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ منورہ آمد کی خبر ملی۔ اس وقت میری جو کیفیت ہوئی وہ میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ۔ میں اپنے مالک کی کھجوروں کے باغ میں ایک درخت پر چڑھ کر کھجوریں توڑ رہا تھا اور میرا مالک وہیں موجود تھا کہ اسکا چچا زاد بھائی آگیا اور میرے مالک سے کہنے لگا:’’ اے میرے چچا زاد بھائی! اللہ بنو قیلہ کو ہلاک کرے وہ لوگ ’’قبا‘‘ میں جمع ہیں اور ایک ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت کر رہے۔ جو مکہ مکرمہ سے آیا ہے اور گمان کرتا ہے کہ وہ نبی ہے۔‘‘ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’جب میں نے اپنے مالک کے بھائی سے یہ بات سنی تو مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا۔ پورا بدن خوشی اور سنسنی سے کپکپانے لگا۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے لگا جیسے اپنے مالک کے اوپر گر جائوں گا۔ میں جیسے تیسے نیچے اترا اور اپنے مالک کے بھائی سے بے تابی سے کہا:’’ ابھی آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟‘‘ ابھی آپ کیا کہہ رہے تھے؟‘‘ میرے مالک نے مجھ سے ناراض ہوکر شدید غصے کی حالت میں مجھے ایک بہت سخت مکہ رسید کیا اور کہنے لگا:’’ تجھے اس نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے کیا مطلب ؟ تو اپنے کام سے کام رکھ۔‘‘ میں نے کہا :’’ میرا ان سے کیا تعلق ہوسکتاہے؟ میں صرف تفصیل سننا چاہتا تھا۔‘‘

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی تحقیق

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں :’’ اب میں جلد از جلد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا۔ تاکہ دیکھ سکوں کہ ان کے بارے میں مجھے جو نشانیاں بتائی گئی ہیں وہ ان میں ہیں یا نہیں ؟ میرے پاس کچھ کھجوریں رکھی ہوئی تھیں۔ شام کو میں وہ لیکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوااور عرض کیا:’’مجھے خبر ملی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک پاک باز آدمی ہیں اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غریب اور حاجت مند ساتھی ہیں۔ میرے پاس یہ صدقہ کا کچھ مال ہے اور کوئی شخص نہیں ملا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ صدقہ کا مستحق ہو۔ ‘‘یہ کہہ کر میں نے وہ مال سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے کہا:’’ کھائو۔ ‘‘لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک ہاتھ کھانے کے لئے نہیں بڑھایا۔ میں نے دل میں کہا ’’علاماتِ نبوت‘‘ میں سے ایک علامت پوری ہوئی۔ میں واپس آگیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دن قبامیں آرام فرمانے کے بعد بنو نجار کی بستی میں آگئے۔ ایک دن پھر میں نے کھجوریں جمع کیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ لیکر حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ میں نے دیکھا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کا مال نہیں کھاتے ہیں ۔ اب میں ہدیہ کامال لیکر حاضر ہوا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبول فرمائیں۔‘‘میں نے دیکھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال قبول کر لیا اور خود بھی کھائے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی کھلایا۔ میں نے دل میں سوچا کہ’’ علامات نبوت ‘‘میں سے دو علامات پوری ہوگئیں۔ اب تیسری علامت ’’مہر نبوت‘‘ دیکھنا باقی ہے۔‘‘

حضرت سلما ن فار سی رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں :’’ پھر میں یہ کوشش کرنے لگا کہ کسی طرح’’ مہر نبوت‘‘ دیکھوں ۔ تیسری مرتبہ جب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع (مدینہ منورہ کا قبرستان ) میں تشریف فرما تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ (یہ غالباً حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو دفنانے کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نماز جنازہ ادافر ما رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان تشریف فرما ہوئے تو میں نے سلام عرض کیا اور ’’مہر نبوت ‘‘ دیکھنے کیلئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جاکر بیٹھ گیا۔ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ گئے کہ میں کس جستجو میں ہوں؟ اور انھوں نے اسی وقت اپنی پشت مبارک سے چادر ہٹا دی۔ میں نے ’’مہر نبوت ‘‘ کو دیکھا اور اسے پہچان بھی لیا اور خوشی اور محبت کے جذبات سے ایسا مغلوب ہوا کہ رو پڑا۔ میں روتا جارہا تھا اور’’ مہر نبوت ‘‘کو چھوتا جا رہا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اب آگے آجائو۔‘‘ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آگر بیٹھ گیا اور اپنے غم و عشق سے بھر پور’’ حق کی تلاش‘‘ کی داستان سنا دی:’’ اے ابن عباس(حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ) میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ویسی ہی داستان سنائی تھی جیسی تمھیں سنا رہا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو بھی متوجہ کر دیا تھا کہ وہ بھی میرے داستان سنیں ۔ پھر میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا۔‘‘

آزادی کے لئے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی مکاتبت

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ مکمل ہوچکا ہے اور آپ رضی اللہ عنہ اس کے بعد کئی سال بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہر وقت موجود رہ سکے۔ تب تک آپ رضی اللہ عنہ غلام ہونے کی وجہ سے یہودی کے پاس ہی رہے۔ لیکن چونکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنی داستان ابھی بیان فرما رہے ہیں اس لئے اسے ہم مکمل کریں گے پھر آگے بڑھیں گے۔ آپ رضی اللہ آگے فرماتے ہیں :’’ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی میں اپنے یہودی مالک کا غلام بنا رہا اور اس کے گھر رہا۔ اسی دوران غزوہ بدر اور غزوہ احد ہوئے اور میں ان میں شرکت نہ کر سکا۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں برابر حاضر ہوتا رہا۔ ایک دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے سلمان رضی اللہ عنہ! اپنے مالک سے مکاتبت کرلو۔ میں نے اپنے مالک سے مکاتبت کی بات کی تو وہ مجھے آزاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لئے ایسی شرط میری آزادی کی رکھی جو میں کبھی پوری نہیں کرسکتا تھا۔ اس نے میری آزادی کی قیمت یہ لگائی کہ میں اسے چالیس اوقیہ سونا دوں اور تین سو کھجور کے درخت پھل کے ساتھ دوں تب وہ مجھے آزاد کرے گا۔‘‘ میں انتہائی مایوسی کے عالم میںسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے مالک کی کڑی شرط کو بتایا۔ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا:’’اپنے بھائی کی مدد کرو۔ ‘‘تمام صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کرنے کے لئے دوڑ پڑے اور کسی نے دس پودے ، کسی نے بیس پودے لا کر دیئے۔ اس طرح تمام حضرات پودے لے کر آئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین سو سے زیادہ کھجو ر کے پودے آگئے۔‘‘

سید الانبیا ء ﷺ نے اپنے دستِ اقدس سے پودے لگائے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو پودوں کا انتخاب کیا اور مجھ سے فرمایا:’’ اے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جاؤ اور ان پودوں کے لئے گڑھے کھودو اور جب تین سو گڑھے ہو جائیں تو مجھے اطلاع کرنا۔ میں اپنے ہاتھوں سے ان پودوں کو لگاؤں گا۔‘‘ میں نے گڑھے کھودے اور صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین نے اس میں میری مدد کی اور گڑھے کھودے۔ جب تین سو گڑھے ہو گئے تو میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !تمام گڑھے کھودے جا چکے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ روانہ ہوئے اور اس مقام پر پہنچ کر اپنے دستِ اقدس سے تمام پودے لگائے۔ اے ابن عباس ( حضرت عبداللہ بن عباس) رضی اللہ عنہ اللہ کی قسم ، جس کے قبضہ میں قدرت میںسلمان کی جان ہے۔ ان میں ایک بھی پودا مرجھایا نہیں ۔ سب کے سب پھل دار ہوئے اور اس طرح میں نے اپنے مالک کو پورے تین سو پھل دار کھجور کے درخت دے کر پہلی شرط کو پورا کر دیا۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی دعا سے سونے میں برکت

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں:’’اب مجھ پر چالیس اوقیہ سونا باقی تھا۔ ایک دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں کسی صحابی نے مرغی کے انڈے کے برابر سونا پیش کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مکاتبت کرنے والے سلمان رضی اللہ عنہ کو بلا لائو۔‘‘ صحابہ کرام رضوا ن اللہ علیہم اجمعین مجھے بلا کر لے آئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے سلمان رضی اللہ عنہ !یہ سونا لے جائو اور اپنی مکاتبت کی شرط پوری کردو۔ ‘‘میں نے عرض کیا ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے تھوڑے سے سونے سے اتنی بڑی مقدار کیسے پوری ہوگی؟‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اسے لے لو۔ اللہ تعالیٰ تمہارا تمام قرض اسی سے ادا فرمائے گا۔‘‘ ( اور اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی) میں نے وہ سونا لے لیا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں سلمان کی جان ہے اسی سونے میں اللہ تعالیٰ نے اتنی برکت دی کہ میں نے چالیس اوقیہ سونا اسی سے ادا کیا۔ ‘‘ (حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت مکمل ہوئی۔)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن سے برکت

   محمد بن اسحاق اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونا عطا فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ اس تھوڑے سے سونے سے میرا تمام قرض کیسے ادا ہوگا؟ تو اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سونے کو اپنی زبان اقدس پر رکھا۔ اسے لعاب دہن لگایا پھر فرمایا:’’ اسے لو اور اس سے جا کر اپنا قرض ادا کر دو۔ ‘‘میں نے وہ سونا لیا اور اس سے تمام قرض ادا کر دیا۔ اس کے بعد حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہے۔ غزوہ خندق میں انھیں کے مشورے سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھدوائی تھی۔ جو کہ عربوں کے لئے بالکل نئی چیز تھی۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عمر

   حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عمر کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ پایا تھا اور بعض روایتوں میں ہے کہ ان کے کسی حواری کا زمانہ پایا تھا۔ حافظ امام ذہبی کہتے ہیں کہ جتنی بھی روایتیں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عمر کے بارے میں ہیں ان میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کی عمر ڈھائی سو سال سے زیادہ تھی۔ ابو الشیخ طبقات الاصبہانین میںلکھتے ہیںکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی عمر ساڑھے تین سو برس کا اتفاق ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’مجھے دس سے زیادہ مرتبہ فروخت کیا گیا تھا۔ ‘‘

مختلف قبائل کو مِشاقِ مدینہ میں شامل کرنا

   اس سے پہلے ہم آ پ کی خدمت میں میثاقِ مدینہ کے بارے میں کچھ تفصیل سے بتا چکے ہیں۔ جب اس معاہدے پر مدینہ منورہ کے تمام قبائل اور یہودیوں کے دستخط ہو گئے اور ہر فریق راضی ہو گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے باہر کافی دور ، دور جو قبائل آباد تھے۔ ان کو راضی کرنے اور اس معاہدے پر دستخط کرانے کے لئے ان قبائل کا دورہ فرمایا اور ان کے قبائل کو اس کے دو بہت بڑے فائدے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے۔ (۱) قبائل کے درمیان جو ہمیشہ جنگیں ہوتی رہتی ہیں اور ان کی وجہ سے بے شمار انسانی جانوں کا خون بہتا ہے اور ہر سال ہزاروں انسان بے وجہ مارے جاتے ہیں۔ اس معاہدے کی وجہ سے وہ جنگیں ہونا بند ہو جائیں گی اور قبائل اس معاہدے کے پابند ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کا خون بہانے کی بجائے ایک دوسرے کی مدد کریں گے اور امن قائم ہو جائے گا۔ (۲) جو قبیلے اس معاہدے میں شامل ہو جائیں گے۔ وہ قریش کی شرارتوں سے محفوظ ہو جائیں اور قریش کے مقابلے میں مسلمانوں کے مدد گارثابت ہوں گے۔ اس مبارک اور امن کے ارادے سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے پہلے ہی سال میں ودّان تک ( جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے) کا دورہ اور سفر کیا اور قبیلہ بنو حمزہ بن بکر کو اس معاہدے میں شامل کر لیا اور اس عہد نامہ پر عمرو بن فحشی الضمری نے بھی دستخط کر دئیے۔ اسی ارادہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول میں رفوی کی طرف سفر کیا اور ’’ کوہ بواط‘‘ کے لوگو ں کو میثاق مدینہ میں شریک کیا۔ اسی سال (ہجرت کے پہلے سال) جمادی الاول میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ’’ذی العشیرہ‘‘ تشریف لے گئے۔ یہ مقام ینبوع اور مدینہ منورہ کے درمیان ہے اور بنو مدلج سے معاہدہ کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے۔

 کافر سرداروں کی موت اور حضرت عبدا للہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش

   ہجرت کے پہلے سال یعنی 1 ؁ھ ہجری میں قریش کے دو کافر سرداروں ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل کا انتقال ہوا۔ یہ دونوں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی دشمنی میں بہت سخت تھے۔ ولید بن مغیرہ ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا باپ تھا اور عاص بن وائل ، حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا باپ تھا۔ ادھر مکہ مکرمہ میں ان دو کافر سرداروں کا انتقال ہوا۔ ادھر مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی زوجۂ محترمہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی بیٹی۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا کے گھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی۔ ہجرت کے بعد مسلمانوں میں پیدا ہونے والے یہ سب سے پہلے بچے ہیں۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہافرماتی ہیں۔ کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی تو میں اور (حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) اسے لیکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں لٹایا اور کھجور منگوا کر اپنے منہ میں رکھ کر چبا کر نرم کیا اور پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے منہ میں ڈال دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ اسے شوق سے چوسنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو’’ بنو امیہ‘‘ کے دور حکومت میں اس وقت کے حکمراں عبدالملک بن مروان کے سپہ سالار’’ حجاج بن یوسف‘‘ نے شہید کیا تھا۔

جہاد کی اجازت اور سَرِ یّہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ

   مکہ مکرمہ میں مسلمان کمزور تھے لیکن مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا ایک مر کز قائم ہوگیا تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی حکومت قائم کردی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم نازل فرمایا اور مسجد نبوی کی تعمیر سے فارغ ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے سات ماہ بعد ماہِ رمضان المبارک میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی سپہ سالای میں تیس مہاجرین کا سَرِیّہ بھیجا۔ (سَرِیّہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس جنگ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم شریک نہیں ہوئے ہوں اور غزوہ اس جنگ کو کہتے جس میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم شریک ہوئے ہیں۔ ) ان تیس مجاہدین میں انصار نہیں تھے۔ کیونکہ انصار نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کریں گے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اپنے لشکر کو لیکر قریش کے قافلے کو روکنے کے لئے نکلے تھے۔ اس قافلے میں ابو جہل بھی تھا۔ مقام عیص میں سمندر کے کنارے دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔ قریش کے لوگ تین سو تھے جب کہ مسلمان تیس تھے۔ مجدی بن عمرو جہنی نے دونوں لشکر وں کو سمجھایا اور جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے لئے سفید جھنڈا عطا فرمایا۔

سَرِیّہ حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سریہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ایک مہینے بعد یعنی شوال المکرم کے مہینے میں حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنایا۔ اور ساٹھ مجاہدین کالشکر دے کر بطن رابغ کی طرف روانہ فرمایا۔ ان کے لئے بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سفیدجھنڈا بنا کر دیا۔ جسے حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ نے اٹھا رکھا تھا۔ ان کا سامنا ابوسفیان بن حرب سے ہوا جو مشرکین کا سپہ سالار تھا۔ کسی نے کہا ہے کہ مکرز بن حفص اور کسی نے کہا کہ عکرمہ بن ابو جہل سپہ سالار تھا۔ ان کی تعداد دو سو تھی۔ ان دونوں لشکروں کے درمیان بہت بڑی لڑائی نہیں ہوئی البتہ کچھ تیر اندازی ہوئی اور مسلمانوں کی طرف سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے تیر چلایا۔ یہ اسلام کی طرف سے کفر کے خلاف چلایا گیا پہلا تیر تھا۔

سریہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ

   اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے نو مہینے بعد یعنی سریہ حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے ایک مہینے بعد ذی القعدہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو بیس مجاہدین کا سپہ سالار بنا کر’’ خرار‘‘ کی طرف بھیجا اور سفید جھنڈا عطا فرمایا۔ جسے حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اٹھایا۔’’ خرار‘‘ حجاز کی ایک وادی ہے جو جحفہ میں آکر ملتی ہے۔ سریہ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ قریش کے ایک تجارتی قافلے کو روکنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ لیکن جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے مجاہدین کو لیکر وہاں پہونچے تو ایک دن پہلے ہی قافلہ وہاں سے گذر چکا تھا۔ بعض علامائے کرام نے بیان کیا ہے کہ یہ تینوں سرایا 2 ھ؁ ھجری میں ہوئے محمد بن اسحاق کی روایت میں یہی ہے اور سیرت النبی ابن ہشام میں عبدالملک بن ہشام نے بھی یہی بیان کیا ہے ۔

غزوئہ ابواء یا غزئہ ودان

   یہ پہلا غزوہ ہے جس میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ۔ صفر المظفر 2ھ؁ ھجری میں ساتھ مجاہدین کو لیکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلہ قریش اور بنو ضمرہ پر حملہ کر نے کے لئے ابواء یا ودان کی طرف روانہ ہوئے۔ ان مجاہدین میں ایک بھی انصار نہیں تھا۔ مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ حضرت بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو حاکم مقرر فرمایا۔ اس غزوہ میں جھنڈا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوا یا ودان پہونچے تو قافلہ نکل چکا تھا۔ بنو ضمرو کے سردار مخشی بن عمرو سے صلح کر کے واپس ہوئے۔ صلح کے شرائط یہ تھیں کہ بنو ضمرو مسلمان سے جنگ نہیں کریں گے اور مسلمان کے کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں کو دھوکا دیںگے اور ضرورت کے وقت مسلمانوں کی مدد کریں گے۔ اس غزوہ کو غزوئہ ابوا اور غزوئہ ودان کہا جاتا ہے۔ ابواء اور ودان کے درمیان صرف چھ میل کا فاصلہ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے بغیر قتال کئے پندرہ دن بعد مدینہ منورہ واپس آئے۔

غزوئہ بواط

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ربیع الاول میں ہجرت کے تیرہ مہینے بعد دو سو مجاہدین کو لیکر بواط کی طرف روانہ ہوئے۔ مدینہ منورہ میں حضرت سائب بن عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ قریش کے اس قافلے میں ڈھائی ہزار اونٹ تھے اور امیہ بن خلف اپنے سو آدمیوں کے ساتھ تھا۔ بواط پہنچ کر معلوم ہواکہ قافلہ نکل چکا ہے۔ اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغیر قتال کئے مدینہ منورہ واپس آگئے۔

غزوئہ عشیرہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جمادی الاول 2 ھ؁ھجری میں یعنی ہجرت کے پندر ہ مہینے بعد دوسو مجاہدین کو لیکر قریش کے قافلے پر حملہ کرنے کیے لئے عشیرہ کی طرف روانہ ہوئے اور مدینہ منورہ میں حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد کو اپنا نائب بنایا۔ مجاہدین کی سواری کے لئے تین اونٹ تھے۔ جن پر صحابہ کرام باری باری سوار ہوتے تھے۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے عشیرہ پہنچنے سے پہلے قافلہ نکل چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند روز وہاں قیام کرنے کے بعد مدینہ منورہ واپس آئے اور دوران قیام

بنو مدلج سے صلح کا معاہدہ کیا۔

غزوئہ سفوان یا غزوئہ بدر اول

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ عشیرہ سے واپس آئے ۔ اسکے لگ بھگ دس یا بارہ دن بعد قریش کے کرز بن جابر فہری نے مدینہ منورہ کی باہری چراگاہوں پر ڈاکا ڈالا اور بہت سے اونٹ لیکر فرار ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ وہ مدینہ منورہ کی سرحد پر ایک غار میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑائو ڈالے ہوئے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ کا نائب مقرر کیا اور مجاہدین کے ساتھ کرز بن جابر فہری کے طرف بڑھے۔ اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نکلنے کی پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی۔ اسلئے وہ مکہ مکرمہ کی طرف فرار ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ وادیٔ سفوان ‘‘تک اسکا تعاقب کیا۔ لیکن وہ کافی آگے جا چکا تھا۔ سفوان چونکہ بدر کے قریب ایک دیہات ہے۔ اس لئے اسے ’’غزوئہ سفوان ‘‘بھی کہا گیا ۔ اور’’ غزوئہ بدر اول‘‘ بھی کہا گیا۔ اس غزوہ میں جھنڈا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں تھا۔

قریش کا دھمکی آمیز خط عبداللہ بن اُبی کو

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مسلمانوں کے ساتھ مکہ مکرمہ میں تھے۔ تب تک قریش ان پر ظلم و ستم کرتے رہے۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان مدینہ منورہ پہونچ گئے تو قریش کو یہ اندازہ ہوگیا کہ اگر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان مدینہ منورہ میں مضبوطی سے جم گئے اور وہاں کے لوگوں نے ان کا ساتھ دیاتو یہ لوگ بہت بڑی طاقت بن جائیںگے۔ قریش نے ان پر جو مظالم کئے ہیں تو ان کے بدلہ میںیہ لوگ قریش کا جینامشکل کردیں گے اور سب مل کر حملہ آور ہوںگے۔ قریش ابھی تک یہی سمجھ رہے تھے کہ مدینہ منورہ کا کنٹرول عبداللہ بن اُبی کے ہاتھوں میں ہے۔ کیونکہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ کے لوگ اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ عبداللہ بن ابی کو حکمراں بنایا جائے۔ اس لئے قریش نے اسے خط لکھا اور اس خط میں لکھا:’’ تم (مدینہ منورہ )کے لوگوں نے ہمارے صاحب(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو (اور ان کے ساتھی مسلمانوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ ہم (قریش) اللہ کی قسم کھاکر کہتے ہیں کہ یا تو انھیں قتل کردو یا مدینہ منورہ سے نکال دو۔ ورنہ ہم سب مل کر تم پر حملہ کردیں گے اور تمھارے لڑنے والے نوجوانوں کو قتل کردیں گے اور تمھاری عورتوں کی حرمت کو پامال کر دیں گے۔

عبداللہ بن اُبی کا مدینہ منورہ میں جنگ کا ماحول بنانا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانو ں کو ابھی آئے ہوئے زیادہ دن نہیں ہوئے تھے اور مدینہ منورہ کے اچھے خاصے لوگ ابھی بھی مشرک تھے اور عبداللہ بن اُبی بھی مشرک تھا۔ اس نے انصار کے مشرکوں کو بھڑکانا شروع کردیا اور قریش کا دھمکی آمیز خط بتا کرکہنا شروع کردیاکہ اگر تم لوگ ان مسلمانوں کو اگر مدینہ منورہ سے باہر نہیں نکالو گے تو قریش تمام قبائل کے ساتھ ملکر تم پر حملہ کردیں گے اور تم لوگ تباہ و برباد ہوکر رہ جائو گے۔ انصار کے مشرکین اس کے ساتھ ہوگئے اور ہتھیار لیکر تیار ہوگئے کہ مسلمانوں کو باہر نکال دیا جائے یا پھر قتل کر دیا جائے۔

سید الانبیاء ﷺ نے حکمت سے جنگ ٹال دی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عبد اﷲ بن اُبی پہلے سے ہی اپنے دل میں کینہ اور حسد رکھے ہوئے تھا۔ اسکے خیال میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکی بادشاہت چھین لی تھی۔ اسی لئے وہ خط اسکے لئے ایک اچھا ہتھیار ثابت ہوااور نتیجے میں انصار نے ہتھیار اٹھا لیا ۔ انصار کے مسلمانوں نے جب یہ دیکھاکہ یہ لوگ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھالیا ہے توانھوں نے بھی ہتھیار اٹھالیا اور دونوں آمنے سامنے آگئے اور جنگ کا ماحول بن گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہو ئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراًموقع پر پہونچے اور انصار کے مشرکین کو حکمت سے سمجھانے لگے اور فرمایا:’’ قریش کی (معمولی) دھمکی تم لوگوں پر کیا اثرکر گئی ہے اور تملوگ(آپس میں لڑ کر) خود اپنے آپ کو جتنا نقصان پہونچانا چاہتے ہو اتنا نقصان قریش تمھیں کبھی نہیں پہونچا پائیں گے۔ کیا تم اپنے بیٹوں اور بھائیوں سے خود لڑنا چاہتے ہو؟ ‘‘سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی بات انصار کے مشرکین کی سمجھ میں آگئی اور وہ لوگ خاموشی سے چلے گئے اور عبداللہ بن اُبی کی سازش ناکام ہوگئی۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی بہادری

   اسی دوران قبیلہ اوس کے کے سردارحضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ گئے۔ (حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ ہم پچھلے صفحات میں بیان کرچکے ہیں) وہ اپنے پرانے دوست امیہ بن خلف کے مہمان تھے۔ انھوں نے خانہ کعبہ کے طواف کا اردہ ظاہر کیا تو امیہ بن خلف نے کہا:’’ دوپہر میں مکہ مکرمہ کے لوگ دھوپ کی وجہ سے باہر نہیں نکلتے ہیںاس وقت تم طواف کر لینا۔‘‘ جب دوپہر میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے تو اچانک وہاں ابو جہل آگیا اور امیہ بن خلف سے پوچھا :’’ یہ کون خانہ کعبہ کا طواف کر رہا ہے؟‘‘ اس نے بتایا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ( حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مکہ مکرمہ والوں کو معلوم ہو چکا تھا کہ وہ اسلام قبول کر چکے ہیں)۔ یہ سن کر ابو جہل کو غصہ آگیا ور وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے بولا:’’ اچھا تو یہ اوس کے بنو عبد الاشہل کا سردا ر ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ تم بڑے اطمینان سے طواف کر رہے ہو ۔ حالانکہ تم لوگوں نے بے دینیوں (مسلمانوں) کو پناہ دے رکھی ہے اور یہ اراد ہ بھی رکھتے ہو کہ ان کی مدد اور اعانت کر و گے۔ سنو ! اللہ کی قسم !اگر تم ابو صفوان ( امیہ بن خلف کی کنیت ہے) کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر پلٹ کر صحیح سلامت نہیں جا سکتے تھے۔‘‘ اس پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے فرمایا:’’ اے کافر سن! اللہ کی قسم !اگر تو نے مجھے روکا تومیں تجھے ایسی چیز سے روک لگا دوں گا جوتجھ پر اس سے بھی زیادہ بھاری اور تکلیف دہ ثابت ہوگی اور وہ ہے مدینہ منورہ کے پاس سے گزرنے والا تیرا تجارتی راستہ ۔ ‘‘

سرِیہّ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ رجب 2 ؁ ھ میں حضرت عبد اللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا کر گیارہ مجاہدین کے ساتھ سَرِیہّ بھیجا ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سَرِیہّ پر بھیجنے کا ارادہ کیا تو فرمایا:’’ میں تم پر ایسے مرد کو امیر ( سپہ سالار) بنائوں گا جو تم میں سب سے زیادہ بھوک اور پیاس برداشت کرنے والا ہوگا۔‘‘ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر بنایا اور یہ اسلام کے پہلے امیر تھے۔ حضرت جندب بجلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو سیریہ کا امیربنا کر روانہ فرمایا تو انھیں ایک خط لکھ کر دیااور حکم دیا کہ دو دن کا راستہ طے کر لینے کے بعد اس خط کو کھول کر دیکھنا اور جو اس میں لکھا ہوا ہے اُس پر عمل کرنا۔ اور اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو مجبور نہ کرنا۔ جب دو دن کا سفر طے کر لینے کے بعد حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے اس خط کو کھول کر دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا’’ تم برابر آگے بڑھتے چلے جائو۔ یہاں تک کہ مکہ مکرمہ اورطائف کے درمیان مقامِ’’ نخلہ‘‘ میں جا کر قیام کرو اور قریش کا انتظار کرو اور ان کی خبر ہمیں پہنچاتے رہو۔‘‘ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے یہ خط پڑھ کر فرمایا:’’ اس خط میں ایسا لکھا ہے اور میں تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا اور میں تم میں سے کسی کو مجبور نہیں کروں گا ۔ ہاں! جس کو شہید ہونے کی آرزو ہو وہ میرے ساتھ چلے۔‘‘ تمام مجاہدین خوشی سے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہو گئے۔ راستے میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ کا اونٹ بیٹھ گیا۔ اسے اٹھانے اور لانے میں یہ دونوں حضرات پیچھے رہ گئے اور باقی حضرات نے نخلہ میں پہنچ کر قیام کر لیا۔

پہلا مالِ غنیمت

   قریش کا ایک تجارتی قافلہ ملک شام سے مکہ مکرمہ واپس آرہا تھا۔ اس دن رجب المرجب کی آخری تاریخ تھی۔ ( حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ذی القعدہ ، ذی الحجہ، محرم اور رجب ان چار مہینوں میں قتل و قتال حرام تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مسلمان ،مکہ مکرمہ کے مشرکین اور یہودی( بنی اسرائیل) اور عیسائی ( نصاریٰ) سب ہی اپنا بڑا مانتے تھے۔ اس لئے ان چار مہینوں میں جنگ و قتل و غارت گری نہیں کرتے تھے) اور حضرت عبداللہ بن جحش اور ان کے ساتھیوں نے اس شبہ میں کہ ماہ شعبان کی ایک تاریخ ہے قریش کے اس قافلے پر حملہ کر دیا ۔ حضرت واقد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قافلے کے سردار عمرو بن حضرمی کو ایک تیرمار ا جس سے وہ مر گیا۔ اس کے مرتے ہی قافلے والے بھاگ گئے اور مسلمانوں نے تمام مال و اسباب اپنے قبضے میں لے لیا اور عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کو گرفتار کر لیا۔ اس وقت تک مال غنیمت کی تقسیم کے متعلق کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس لئے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے اپنے اجتہاد سے اس مال غنیمت کے پانچ حصے کئے ۔ چار حصے انھوں نے آپس میں بانٹ لئے اور پانچواں حصہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لا کر پیش کر دیا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں نے تم کو شہر حرام ( حرام مہینے) میں قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔ اب جب تک اس معاملے میں وحی نازل نہ ہو جائے تب تک اس مال کو اور قیدیوں کو تم اپنے پاس رکھو۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجاہدین کی حمایت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجاہدین سے فرمایا کہ اب وحی کا انتظار کرو تو مجاہدین بہت زیادہ پشیمان اور نادم ہوئے اور ڈر گئے کہ پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا حکم نازل ہو ۔ ادھر مشرکین اور یہودیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے ساتھیو ں نے حرام کے مہینے میں قتل و قتال کو حلال کر لیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: (ترجمہ) ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ماہِ حرام میں قتال کرنے کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب میں فرمادیں کہ بے شک ماہِ حرام میں جان بوجھ کر قتال کرنا بڑا گناہ ہے۔ لیکن اللہ کے راستے سے روکنا اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنا اور مسجد حرام ( خانہ کعبہ) سے روکنا اور اہل حرم کو حرم( مکہ مکرمہ) سے نکالنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ جرم ان سب جرموں سے زیادہ سخت اور بڑا ہے اور کفر اور شرک کا فتنہ اس قتل سے کہیں بڑھ کر ہے اور یہ کافر تم سے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے تاکہ تم کو تمہارے دین سے ہٹا دیں اگر ان میں طاقت ہو تو۔‘‘ ( سورہ البقرہ آیت نمبر217) اس آیت کے نازل ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت کا پانچواں حصہ قبول فرمالیا اور باقی مالِ غنیمت مجاہدین میں تقسیم فرمادیا۔ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ کے مجاہدین کی اللہ تعالیٰ نے حمایت فرمائی اور وہ اس آیت سے خوش ہو گئے۔ اس کے بعد انھیں اجر و ثواب کی فکر ہوئی تو انھوں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا اس سریہ پر ہم کچھ اجر و ثواب کی امید کر سکتے ہیں؟‘‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (ترجمہ) ’’بے شک جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا ۔ ایسے لوگ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کر سکتے ہیں اور کیوں نہیں اللہ تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔‘‘ ( سورہ البقرہ آیت نمبر210) یہ اسلام کی پہلی مال غنیمت تھی اور مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہونے والا پہلا شخص عمر و بن حضرمی ہے۔ قریش نے عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کا فدیہ بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب تک میرے ساتھی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ واپس نہیں آجاتے تب تک میں تمہارے ساتھیوں کو آزاد نہیں کروں گا۔ کیوں کہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم ان کو قتل نہ کر دو۔‘‘ اس کے چند دنوں کیبعد دونوں حضرات واپس آگئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے کر دونوں کو چھوڑ دیا۔ عثمان بن عبداللہ تو رہا ہو کر مکہ مکرمہ چلا گیا اور وہیں کافر مرا اور حضرت حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا اور مدینہ منورہ میں ہی رہے۔ یہاں تک کہ ’’بیر معونہ ‘‘کے درد ناک واقعہ میں شہید ہوئے۔ اللہ انھیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔

تبدیلی ٔ قبلہ یا تحویل قبلہ

   سَرِیہّ حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ماہِ رجب 2؁ھ میں پیش آیا تھا اورتبدیلی ٔ قبلہ یا تحویل قبلہ کا حکم اس کے کچھ دنوں بعد ماہِ شعبان 2 ؁ھ میں آیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ لیکن مکہ مکرمہ میں یہ آسانی تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایسے رخ سے کھڑے ہوتے تھے کہ خانہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں سامنے ہوتے تھے۔ لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آئے تو دونوں قبلے ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے تھے۔ کیوں کہ ایک شمال میں تھا تو دوسرا جنوب میں تھا۔ اس لئے ایک کی طرف منہ کرتے تھے تو لازماً دوسرے کی طرف پیٹھ ہو جاتی تھی۔ مدینہ منورہ میں بھی قبلہ بیت المقدس ہی رہا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مسجد نبوی کی بنیاد رکھی تو اس کا قبلہ بیت المقدس کی طرف ہی رکھا ۔ لیکن سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ پوری دنیا کا اصل قبلہ خانہ کعبہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا تھی کہ قبلہ خانہ کعبہ ہو۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اسے پورا کیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر اپنی معرکتہ آراء تفسیر ابن کثیر میں سورہ البقرہ کی آیت نمبر142کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ منورہ میں) سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرمائی۔ لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت تھی کہ قبلہ خانہ کعبہ ہو۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں