09 سیرت سید الانبیاء ﷺ
ہجرت
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
ہجرت کی اجازت، اولین ہجرت کرنے والے مہاجرین، رسول اللہ ﷺ کے قتل کا منصوبہ، رسول اللہ ﷺ کا محاصرہ توڑ کر نکلنا، غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق کی راجدھانی، ام معبد کی بکری، سراقہ بن مالک کا تعاقب، اسلام کا پہلا پرچم
سید الانبیاء ﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کی اجازت دی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے معراج کے سفر سے پہلے خواب میں ایک کھجوروں کے باغات کا ہرا بھرا اور سر سبز علاقہ دکھایا تھا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت گاہ ہے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اس سر زمین (مکہ مکرمہ) سے ایک ایسی سر زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں ۔جہاں کھجوروں کے باغات ہیں ۔لہٰذا پہلے میرا خیال یمامہ یا ہجر کی طرف گیا۔ لیکن وہ یثرب ہے۔‘‘ اسکے بعد اللہ تعالیٰ نے معراج پر بلایا تو معراج کے سفر کے دوران جبرئیل علیہ السلام نے مدینہ منورہ کی نشاندہی کی ۔ اسکے بعد مدینہ کے انصار نے اسلام قبول کیا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ آنے کی دعوت دی تو یہ واضح ہوگیا کہ مستقبل میں مدینہ منورہ اسلام اور مسلمانوں کا ’’مرکز‘‘ بننے والا ہے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مدینہ منورہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ ایک روایت میں اتنے الفاظ زیادہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے انصار کو تمھارا بھائی بنایا ہے اور مدینہ منورہ میں امن قائم رہے گا۔
مدینہ منورہ کو اوّلین ہجرت کرنے والے مہاجرین
ؑ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کی اجازت ملنے کے بعد مکہ مکرمہ میں قریش کے ظلم و ستم سہہ رہے صحابہ کرام نے پوشیدہ اور کھلے عام مدہنہ منورہ کی طر ف ہجرت کرنی شروع کرد ی اور ایک ایک یا دو دو کی تعداد میں یا قافلوں کی شکل میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ لیکن ہجرت کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ کیونکہ قریش ان مسلمانوں کو روکنے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی جیسے تیسے ان کی چنگل سے بچ جاتا تھا تو اسے انتہائی دشوار گذار اور تکلیف دہ سفر کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مدینہ منورہ مکہ مکرمہ سے لگ بھگ 300تین سو کلو میٹر سے زیادہ دو ر ہے اور اس وقت سب سے بہترین سواری اونٹ یا گھوڑا تھا اس لئے سفر بہت ہی تکلیف دہ اورصبر آزما ہوتا تھا اور کئی دنوں کا ہوتا تھا۔ لیکن ان تمام تکالیف کے باجود صحابہ کرام کا ہجرت کرنے کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔اس سلسلے میں کچھ صحابہ کرام کی ہجرت کے واقعات پیش خدمت ہیں۔
حضرت ابو سلمہ ( عبداللہ) اور سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کی ہجرت
ہجرت کرنے میں حضرت ابو سلمہ رضی اللہ اور سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو جو تکلیفیں پیش آئیں وہ مختصراً آپ کی خدمت میں پیش ہے ۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اس سے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کر چکے تھے اور جب مکہ مکرمہ واپس آئے تو قریش نے پھر سے ظلم و ستم شروع کر دیا۔ جب مدینہ منورہ کے انصار نے اسلام قبول کر لیا تو انھوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا ارادہ بنایا۔ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عبد الاسد ہے۔ ہجرت کا واقعہ سیدہ ام سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اور میرے شوہر نے جب ہجرت کا ارادہ بنایا تو تمام سامان پیک کر کے اونٹ پر لادا اور مجھے اور ہمارے بیٹے کو اونٹ پر سوار کیا اور مکہ مکرمہ سے نکل کر مدینہ منورہ کے راستے پر چل پڑے۔ مقامِ ’’ابطح‘‘ پر میرے گھرو الے آگئے اور ہم دونوں کو روک لیا۔ مجھے اونٹ پر سے اتار لیا اور مجھے اور میرے بچے کو لے کر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا:’’ تمہیں مدینہ منورہ جانا ہے تو جائو لیکن ہماری بہن اور بھانجہ ہمارے پاس رہیں گے۔‘‘ اسی دوران میرے شوہر کے گھر والے بھی آگئے۔ انھوں نے جب یہ دیکھا تو کہا تم ہمارے بھائی کی بیوی کو چھین رہے ہو تو ہم بھی اپنے بھتیجے کو تمہارے پاس نہیں رہنے دیں گے‘‘ اور بچہ مجھ سے چھین لیا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے دونوں گھر والوں کو بہت سمجھایا۔ لیکن دونوں ضد پر اڑے رہے مجبوراً آپ رضی اللہ عنہ اکیلے ہی مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ ‘‘
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا ہجرت کرنا
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آگے بتاتی ہیں:’’ میرے شوہر اکیلے ہی مدینہ منورہ ہجرت کر گئے۔ ان کے گھر والے میرے بیٹے کو لے کر چلے گئے اور مجھے میرے گھر والے اپنے ساتھ لے گئے۔ میں روزانہ مقامِ’’ ابطح‘‘ پر آکر بیٹھ جاتی تھی۔ جہاں میرے شوہر اور میرا بچہ مجھ سے الگ کر دیا گیا تھا اور مدینہ منورہ کی طرف جانے والے راستے کو تکتی رہتی تھی اور روتی رہتی تھی۔ لوگ آتے جاتے تھے مجھے حیرت سے دیکھتے رہتے تھے۔ اس طرح ایک سال کا عرصہ گزر گیا تو ان لوگوں کو مجھ پر رحم آگیا۔ میرے گھر والوں نے مجھے سفر کے لئے ایک اونٹ تیار کر کے دیا اور میرے شوہر کے گھر والوں نے میرے بچے کو لا کر مجھے دے دیا اور میں اکیلے اپنے بیٹے کو لے کر مدینہ منورہ روانہ ہو گئی۔ ‘‘
حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ پہنچا دیا
سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ میں اپنے بیٹے کے ساتھ اکیلی سفر کر رہی تھی کہ مقامِ تنعیم میں میری ملاقات حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ( اس وقت انھوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا) مجھے تنہا دیکھ کر انھوں نے پوچھا:’’ تم کہاں جا رہی ہو؟ ‘‘میں نے بتایا:’’اپنے شوہر کے پاس مدینہ منورہ جا رہی ہوں۔‘‘ انھوں نے پوچھا تمہارے ساتھ کوئی نہیں ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا :’’ اللہ کی قسم !اللہ تعالیٰ اور میرے بیٹے کے علاوہ میرے ساتھ کوئی نہیں ہے۔‘‘ یہ سن کر ان کا د ل بھر آیا اور وہ میرے اونٹ کی مہار پکڑ کر مجھے لے چلے۔ جب کہیں ٹھہرنا ہوتا تھا تو اونٹ کو بٹھا کر خود پیچھے ہٹ جاتے تھے۔ جب میں اتر جاتی تھی تو اونٹ کو لے جا کر کسی سایہ دار جگہ میں باندھ دیتے تھے اور خود بھی وہیں لیٹ جاتے تھے۔ جب چلنے کا وقت ہوتا تھا تو اونٹ کومیرے پاس لا کر بٹھا دیتے تھے اور خود پیچھے ہٹ کر کہتے تھے :’’سوار ہو جائو۔‘‘ جب میں سوار ہو جاتی تھی تو اونٹ کی مہار پکڑ کر چلنے لگتے تھے۔ اسی طرح چلتے چلتے جب’’ قباء‘‘ ( مدینہ منورہ کا مضافاتی علاقہ) کے مکانات دکھائی دینے لگے تو انھوں نے کہا :’’ اسی بستی میں تمہارے شوہر مل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی برکت کے ساتھ اس بستی میں داخل ہو جائو۔‘‘ اور میرے شوہر کے پاس پہنچا کر واپس چلے گئے۔ اللہ کی قسم !میں نے حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بہت شریف پایا۔‘‘ ( یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ ہماری اَمّی اُم المومنین اُم سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا تھا۔)
بنو حجش کی ہجرت
حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بعد حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اور ان کی زوجہ ٔ محترمہ سیدہ لیلیٰ بنت ابی خیشمہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی۔ ان کے بعد حضرت عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے خاندان ’’بنو حجش ‘‘کے ساتھ ہجرت کی۔ ان کے ساتھ حضرت ابو احمد عبدبن حجش رضی اللہ عنہ تھے یہ نابینا تھے۔ یہ پورا خاندان اپنے گھر کو ایسے ہی چھوڑ کر مدینہ منورہ ہجرت کر گیا۔ حضرت عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی عبیداللہ بن حجش تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس کی بیوی اُم حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا تھیں۔ ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ لیکن حبشہ جا کر عبید اللہ بن حجش نصرانی (عیسائی) ہوگیا اور شراب پینے لگا۔ جس کی وجہ سے اس کو موت ہو گئی تھی۔ بعد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اﷲ عنہا سے نکاح کر لیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن حجش کی بہن سیدہ زینب بنت حجش نے بھی ان کے ساتھ ہجرت کی۔ یہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ بعد میں انھیں حضرت زید رضی اللہ عنہ نے طلاق دے دیا تھا۔ تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کر لیا تھا۔ بنو حجش کا گھر خالی پڑا تھا۔ اس گھر کے پاس سے ایک مرتبہ عتبہ بن ربیعہ اور ابو جہل گزرے تو اس ویران اور خالی گھر کو دیکھ کر عتبہ بن ربیعہ نے ٹھنڈی سانس لی اور ابو جہل سے بولا:’’ تمام گھروں کو کتنی ہی لمبی سلامتی ملے۔ لیکن ایک دن ویران ہو جاتا ہے۔‘‘ اس کے جواب میں ابو جہل نے کہا:’’ یہ سب تمہارے بھتیجے( یعنی سیدالانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا دھرا ہے۔ اس نے ہماری جماعت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ ہمارے درمیان دراڑ ڈال دی ہے اور تعلقات ختم کر دیئے ہیں۔ ‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ہجرت
اس کے بعد مدینہ منورہ ہجرت کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا اور مسلمان لگاتار مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ تمام حضرات کے سفر ہجرت بیان کر نے کے لئے جگہ کی کمی ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں کے سفر ہجرت کے واقعات ضرورت کے مطابق بیان کرتے جائیں گے۔ ان میں قابل ذکر نام حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی ہجرت کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ’’علی الاعلان ‘‘کھلے عام چیلنج کر کے ہجرت کی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اور حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ نے یہ طے کیا کہ کل صبح تینوں حضرات سرف کے اوپر بنو غفار کے اضات کے قریب کانٹے والے درختوں کے پاس ملیں گے اور اگر کوئی پہنچ نہ سکا تو انتظار کرنے کی بجائے باقی دو افراد ہجرت پر روانہ ہو جائیں گے۔ حضرت ہشام بن عاص رضی اللہ عنہ نہیں پہنچ سکے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’میری دانست میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی نے ’’علی الاعلان ‘‘ہجرت نہیں کی ہے۔ بلکہ قریش کے ظلم و ستم سے محفوظ رہنے کے لئے پوشیدہ ہجرت کی ہے۔ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہجرت کے لئے نکلے تو تلوار، تیر کمان اور نیزے سے مسلح ہو کر یہ تمام ہتھیار اپنے بدن پر سجا لئے اور خانہ کعبہ کا طواف کرنے کے لئے حرم شریف میں تشریف لائے۔ قریش وہاں موجود تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ رہے تھے۔ کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ آگے بڑھ کر آپ رضی اللہ عنہ سے کچھ کہے۔ طواف سے فارغ ہو کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے’’ مقامِ ابراہیم ‘‘پر دو رکعت نماز ادا کی۔ اس کے بعد تمام قریش کے سامنے کھڑے ہو ئے اور فرمایا:’’ میں ہجرت کرکے مدینہ منورہ جا رہا ہوں۔ تم میں سے جس کی کی یہ خواہش ہو کہ اس کی ماں اس کے اوپر روئے۔ اورا س کی بیوی بیوہ ہو جائے اور اس کے بچے یتیم ہو جائیں تو وہ اس پہاڑ کے دوسری طرف مجھ سے آکر ملے۔ ‘‘( اور مجھے ہجرت سے روکنے کی کوشش کرے) حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا چیلنج تمام قریش نے سنا لیکن کسی کی ہمت اور جرأت نہیں ہوئی کہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کا راستہ روکتا۔ طے شدہ مقام پر جب آپ رضی اللہ عنہ پہنچے تو حضرت عیاش بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو منتظر پایا۔ دونوں حضرات مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ بعد میں ابو جہل بن ہشام اور حارث بن ہشام مدینہ منورہ آئے اور حضرت عیاش بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو کہا کہ تمہاری والدہ کی حالت بہت خراب ہے۔ والدہ کی محبت میں آ پ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ ان دونوں کے ساتھ روانہ وہ گئے۔ راستے میں ابو جہل نے آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پائوں باندھ لئے اور مکہ مکرمہ لے جا کر قید کر دیا اور قریش سے کہا :’’ اے اہل مکہ ! جس طرح میں نے اس احمق کے ساتھ کیا ہے۔ تم ان بے وقوفوں کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ ‘‘
ہجرت کرنے والے کچھ صحابہ کرام کے نام
مدینہ منورہ کی طرف جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہجرت کی ان میں سے کچھ خاص نام یہاں ذکر کر رہے ہیں۔ چونکہ ہم مختصر حالات پیش کر رہے ہیں۔ اس لئے تمام صحابہ کرام کے نام جاننے کے لئے آپ سیرت کی ضخیم اور معتبر کتابوں کی طرف رجوع کریں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پیچھے ان کے بڑے بھائی حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ سُراقہ کے دونوں بیٹے حضرت عمرو بن سراقہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت واقد بن عبدا للہ تمیمی حضرت خولی بن خولی اور بکیر کے چاروں بیٹے حضرت ایاس بن بکیر ، حضرت عامر بن بُکیر ، حضرت عاقل بن بکیر اور حضرت خالد بن بکیر رضوان اللہ علیہم اجمعین مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ ان کے بعد حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ، حضرت صُہیب بن سنان رضی اللہ عنہ ، حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مدینہمنورہ پہنچے۔ ان کے بعد حضرت ابو مرثہ کنانہ بن حصن ، حضرت انسہ ، حضرت کبشہ ، حضرت عبیدہ بن حارث اور ان کے دونوں بھائی حضرت طفیل بن حارث اور حضرت حصین بن حارث رضوا ن اللہ علیہم اجمعین مدینہ منورہ پہنچے۔ ان کے بعد حضرت مسطح بن اثاثہ ، حضرت سویبط بن سعد اور حضرت طلیب بن عمیر رضی اللہ عنہم مدینہ منورہ پہنچے۔ اور پھر حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ ، حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ، اور حضرت عثمان بن عفان ( ذوالنورین) رضی اللہ عنہ بھی مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ ان میںسے زیاد تر افراد مدینہ منورہ کے مضافاتی علاقہ قباء میں ہی رک گئے۔ حالانکہ مدینہ منورہ کے انصار بہت زیادہ امیر نہیں تھے۔ لیکن اس کے باوجود وہ مکہ مکرمہ کے اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی دل و جان سے خدمت کر رہے تھے۔ ادھر مکہ مکرمہ سے زیادہ تر مسلمان مدینہ منورہ جا چکے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ رہ گئے تھے ۔ ان کے علاوہ چند مجبور اور کمزور مسلمان رہ گئے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو قریش کے پنجے میں پھنسے ہوئے تھے یعنی قید میں تھے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت کی تیاری
دھیرے دھیرے لگ بھگ تمام مسلمان مدینہ منورہ ہجرت کر کے چلے گئے اور مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روک لیا۔ ان کے علاوہ مکہ مکرمہ میں وہی مسلمان رہ گئے تھے۔ جو انتہائی مجبور تھے اور ہجرت نہیں کر سکتے تھے۔ ان میں سے کچھ قیدکی وجہ سے مجبور تھے اور کچھ غلام ہونے کی وجہ سے مجبور تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اجازت مانگی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جلدی نہ کرو! ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ کسی کو تمہارا ساتھی بنا دے۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے۔سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ خود انھی کی طرف ہے۔ اس لئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دو انٹنیاں خرید لیں اور انھیں دیکھ ریکھ کر نے کے لئے عبداللہ بن اریقط کے حوالے اُجرت پر کیا۔ وہ ایک راہ نما تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جب بھی سفر پر جاتے تھے تو وہ راہنمائی کرتا تھا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کر کے فرمایا :’’ مقررہ مدت تک ان کی حفاظت کرو۔ ‘‘ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ خود چارہ دیتے تھے اور روض الانف میں ہے کہ عبداللہ بن اریقط کے حوالے کر دیا تھا۔
’’ دار الندوہ ‘‘میں قریش کی مشاورت
مکہ مکرمہ کے کافروں (قریش ) نے دیکھا کہ مکہ مکرمہ لگ بھگ مسلمانوں سے خالی ہوچکا ہے اور اب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی مکہ مکرمہ میں رہ گئے ہیں ۔انھیں یہ اندازہ ہوچکا تھا کہ مسلمانوں کو ایک ’’مرکز‘‘ (مدینہ منورہ ) مل چکا ہے۔ اگر سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مرکز میں پہنچ گئے تو یقیناً یہ لوگ قریش سے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے اور اس وقت طاقتور بھی ہوچکے ہوں گے۔ اسی لئے قریش ’’دارالندوہ‘‘ (یہ مکہ مکرمہ کا ہماری زبان میں پارلمنٹ ہائوس یا اسمبلی ہال تھا۔ جسے قصی بن کلاب نے قائم کیا تھا) میں جمع ہوئے۔ قریش کے تمام خاندان یا شاخوں کے سردار اس میں شریک ہوئے۔ ان میں سے کچھ نام یہ ہیں۔ عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ ، ابو سفیان بن حرب ، جبیر بن مطعم، نضر بن حارث اور ابو جہل ان کے علاوہ بھی لوگ تھے۔ ابلیس شیطان بھی ایک بہت ہی خوبصورت بوڑھے کی شکل میں آیا اور دارالندوہ کے دروازے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے ایک موٹی سی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ جب قریش مکہ نے اسے دیکھا تو پوچھا:’’ تم کون ہو؟ اور کہاں سے ہو؟‘‘ ابلیس نے کہا:’’ میں شیخ نجدی ہوں، میں نے تمھارے مشورے (میٹنگ)کے بارے میں سنا تو آگیا کہ تمھاری باتیں سنو اور ہوسکتا ہے میں کوئی اچھا مشورہ بھی دے سکوں۔‘‘قریش نے کہا:’’ ٹھیک ہے اندر آجائو۔‘‘ اور ابلیس بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے( نعوذ بااللہ) قتل کا منصوبہ
جب تمام لوگ بیٹھ گئے تو مشورہ شروع ہوا۔ ایک نے کہا:’’ اس شخص(سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم) کے عمل کا سب مشاہدہ کر چکے ہیں۔ اللہ کی قسم !اب ہمیں یہ خطرہ ہے کہ وہ ہم پر حملہ آور ہوجائے گا اور دوسرے لوگ ہمارے مقابلے کے لئے اس کے معاون ومددگار ہوں گے۔ اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اس کے متعلق ہم کوئی ایک رائے قائم کر لیں۔‘‘ ایک شخص نے تجویز پیش کی:’’ اسے لوہے کی زنجیروں میں قید کرلو پھر دروازہ بند کر دو اور اس کے انجام کا انتظار کرو۔ حتیٰ کہ موت اسکا خاتمہ کردے۔ ‘‘شیخ نجدی (ابلیس شیطان )بولا:’’نہیں !یہ رائے درست نہیں ہے۔ اگر تم نے اسے قید کردیا تو اسکے ساتھیوں تک یہ خبر پہنچ جائے گی اور وہ آکر اسے چھڑا لیں گے۔‘‘ دوسرے شخص نے کہا :’’ ہم اسے جلا وطن کردیتے ہیں۔‘‘ شیخ نجدی نے کہا :’’یہ مشورہ بھی درست نہیں ہے تم جانتے ہی ہو اس کی گفتگو میں کتنی مٹھاس ہے ۔ وہ بہت سے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنالے گا اور تم پر حملہ کرکے تمھیں تباہ کردے گا۔‘‘ آخر کار ابو جہل بولا:’’میرا ایک مشورہ ہے۔ اللہ کی قسم !اسکے بعد تمھیں کسی اور مشورے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘ تمام لوگوںنے پوچھا:’’اے ابوالحکم !(ابو جہل کی کنیت ہے)وہ رائے کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا :’’میری رائے یہ ہے کہ ہم ہر قبیلے سے ایک ایک نوجوان حسب ونسب والے کو لیں اور ہر جوان تلوار پکڑا دیں ۔ وہ اس شخص کی طرف جائیں اور سب مل کر ایک ساتھ حملہ کردیں اوراسے (نعوذ با اللہ)قتل کردیں۔اس طرح ہم اس سے نجات پاجائیں گے اور کسی ایک پر الزام بھی نہیں آئے گااور ہم سب ملکر اسکا خون بہا بنو عبد مناف کو دے دیں گے۔ ‘‘یہ رائے سن کر شیخ نجدی (ابلیس شیطان ) نے کہا:’’ یہ بالکل درست رائے ہے اور سب لوگ یہی کریں ۔‘‘اور محفل برخاست ہوگئی۔
سید الا نبیاء ﷺ کو ہجرت کی اجازت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسی انتظار میں مکہ مکرمہ میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے کی اجازت دیں گے تب مکہ مکرمہ چھوڑ یں گے۔ ادھر’’ دارالندوہ ‘‘میں قریش سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے( نعوذ باللہ)قتل کا مشورہ کر رہے تھے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا یہ حکم لے کر آئے کہ آج رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر نہ سوئیں۔ ( بلکہ ہجرت کے لئے نکل جائیں) ۔ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فوراًحضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر روانہ ہوگئے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر صبح کے وقت یا شام کے وقت تشریف لاتے تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی اجازت مرحمت فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت ہمارے گھر تشریف لائے۔ عام طور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسو قت تشریف نہیں لاتے تھے۔ میرے والد ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ) نے کہا:’’ ضرور کوئی خاص واقعہ رونما ہوا ہے۔ ‘‘جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو میرے والد چارپائی پر سے اٹھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر بٹھا کر خود کھڑے رہے۔ اس وقت میرے والد کے ساتھ میں ، میں اور میری بڑی بہن سیدہ اسما بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہا تھیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں تم سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ میرے والد نے کہا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے پاس یہ دو بیٹیاں ہی ہیں۔ میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ، مناسب ہو تو بات بتا دیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت دے دی ہے۔‘‘ میرے والد نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل سکتا ہوں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ہاں تم بھی میرے ساتھ چلو گے۔‘‘ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ اللہ کی قسم !اس سے پہلے مجھے معلوم نہ تھا کہ کوئی خوشی کی وجہ سے بھی کوئی رو سکتا ہے۔ میں نے میرے والد کو مسرت اور خوشی سے روتے دیکھا۔ پھر میر ے والد نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے دو اونٹنیاں اسی مقصد کے لئے خریدی تھیں۔ جن کی دیکھ ریکھ عبدا للہ بن اریقط کر رہا ہے۔
سید الانبیاء ﷺ کے گھر کا محاصرہ
ادھر قریش نے ’’دار الندوہ‘‘ میں طے کر لیا تھا کہ رات میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا جائے گا اور پروگرام کے مطابق گیارہ بڑے سرداروں نے محاصرہ کیا۔ جن کے نام یہ ہیں (۱) ابو جہل بن ہشام (۲) عقبہ بن ابی معیط (۳) حکم بن عاص (۴) نضر بن حارث (۵) اُمیہ بن خلف (۶) زمعہ بن اسود (۷) طعیمہ بن عدی (۸)ابو لہب بن عبد المطلب (۹) اُبّی بن خلف (۱۰) نُبیہ بن حجاج (۱۱) منبہ بن حجاج ۔ یہ لوگ گھات لگا کر بیٹھ گئے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سو جائیں تو سب لوگ اچانک حملہ کر دیں ۔ ان لوگوں کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا۔ اسی لئے ابو جہل نے بڑے گھمنڈی لہجے میں کہا:’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتا ہے کہ اگر تم لوگ اس دین ( اسلام) میں داخل ہو کر اس کی بات مانو گے تو عرب و عجم کے بادشاہ بن جائو گے۔ پھر مرنے کے بعد اٹھائے جائو گے تو تمہارے لئے جنتیں ہیںاور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اُن کی طرف سے ( مسلمانوں کی طرف سے ) قتل کئے جائو گے۔ پھر مرنے کے بعد اٹھائے جائو گے تو تمہارے لئے آگ ہوگی جس میں جلائے جائو گے۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ سید الانبیاء ﷺ کے بستر پر
قریش کے کافر سردار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور دو جاں نثار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر جان قربان دینے کے لئے تیار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے باہر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کے سفر کی تیاری کر رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے اندر حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگے ہوئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’میرے بستر پر سو جائو اور میری سبز حضری چادر اوڑھ لو۔ انشاء اللہ دشمنوں سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔‘‘ در اصل قریش کے کافر اپنی امانتیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ صبح تماملوگوں کی امانتیں انھیں واپس لوٹا دیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بسم اللہ کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر لیٹ گئے اور سکون کی نیند سو گئے۔ باہر قریش کے کافر ہتھیاروں سے لیس تیار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ دونوں جا کر علی (رضی اللہ عنہ ) کی پہریداری کرو۔ دونوں فرشتے آئے اور جبرئیل علیہ السلام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سرہانے کھڑے ہو گئے اور میکائیل علیہ السلام پیروں کی جانب کھڑے ہو گئے۔ دونوں فرشتے یہ فرما رہے تھے :’’ مبارک ہو !اے ابو طالب کے بیٹے! تمہیں مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کے درمیان تم پر فخر فرما رہے ہیں۔ ( سیرۃ الحلبیہ )
محاصرہ کرنے والوں کے سر پر خاک ( مٹی ) ڈال کر نکل گئے
قریش کے کافر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے( نعوذ باللہ )قتل کی تیاری کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کی تدبیر کر رہا تھا۔ اسی طرف اللہ تعالیٰ نے سورہ الانفال کی آیت نمبر30میں اشارہ فرمایا ہے۔ ( ترجمہ):’’ اور وہ وقت یاد کرو جب کافر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کر دیں یا ( نعوذ باللہ) قتل کر دیں۔ اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور اللہ سب سے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔‘‘ ( سورہ الانفال آیت نمبر30) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر سلا کر گھر سے باہر سورہ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھتے ہوئے باہر نکلے۔ اللہ تعالیٰ نے قریش کے کافروں کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اس آیت پر پہنچے( ترجمہ) :’’پس ہم نے اُن پر پردہ ڈال دیا جس کی وجہ سے وہ دیکھ نہیں سکتے۔‘‘ تو مٹھی بھر خاک اٹھا کر اُن کافروں کے سروں پر ڈال دی اور ان کے درمیان سے گزرتے چلے گئے۔ تمام کافر دم بخود ( مجسمہ بنے ہوئے) کھڑے رہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے درمیان سے صاف نکال لیااور وہ کچھ نہ کر سکے۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے کافروں کے سروں پر خاک( مٹی) ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل آئے اور ہر کافر کے سر پر خاک پڑی ہوئی تھی۔ وہاں سے نکل کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے۔ وہاں آپ رضی اللہ عنہ بالکل تیار تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوب کی سمت چلنے کو فرمایا۔ جب کہ مدینہ منورہ شمال کی سمت تھا۔ جب’’ جبلِ ثور ‘‘کے پاس پہنچے تو رات کے اندھیرے میں دونوں حضرات جبلِ ثور پر چڑھنے لگے۔ جبلِ ثور کی چڑھائی بہت مشکل تھی اور راستہ نوکیلے پتھر اور کنکر تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں مبارک کو زخمی کر رہے تھے۔ اندھیرے میں ٹھوکر لگ رہی تھی ۔ آخر کار عاشقِ رسول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رہا نہیں گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کاندھوں پر اٹھا لیا اور جبلِ ثور پر چڑھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت انھیں بے پناہ طاقت عطا فرمادی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر غارِ ثور تک پہنچ گئے۔
قریش کے کافروں کا شدید ردّ عمل
ادھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غارِ ثور میں بہ حفاظت پہنچ گئے اور ادھر قریش کے کافر سردار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصر ہ کئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے ایک شخص ادھر سے گزرا ۔ اس نے ان لوگوں کو کھڑے دیکھا تو پوچھا :’’آپ لوگ یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘ ان لوگوں نے جواب دیا:’’ ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ اس شخص نے کہا:’’ میں ابھی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کو دیکھ کر آرہا ہوں۔ وہ ابو بکر صدیق ( رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ مکہ مکرمہ سے باہر جا رہے تھے اور انھوںنے تمہارے سر وں پر مٹی دال دی ہے۔ ذرا اپنے سروں کو دیکھو۔‘‘ جب ان لوگوں نے اپنے سروں پر ہاتھ پھیرا تو ہر ایک کے سر پر مٹی ہی مٹی تھی۔ وہ تمام لوگ جلدی سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جھانک کر دیکھنے لگے تو انھیں کوئی سبز حضرمی چادر اوڑھے ہوئے سویا نظر آیا۔ ( جو دراصل حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے) ان لوگوںنے کہا:’’ اللہ کی قسم !محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو یہ سوئے ہوئے ہیں اوروہ لوگ صبح تک محاصرہ کئے کھڑے رہے۔ صبح حضرت علی ابن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور گھر کے باہر نکلے تو وہ لوگ حیران ہو گئے۔ ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو ہٹایا اور اندر داخل ہو کر ہر جگہ دیکھا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نظر نہیں آئے ۔ انھوں نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا:’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟‘‘ قریش غصہ اور ندامت کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے اور مارنے لگے۔خانہ کعبہ تک لے کر آئے تھوڑی دیر تک روک کر رکھا پھر چھوڑ دیا۔ اب وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو سیدہ اسما ء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہا باہر نکلیں۔ ابو جہل نے پوچھا:’’ لڑکی تیرا باپ کہاں ہے؟‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ وہ رات کو گھر سے نکل گئے اور اس وقت کہاں ہیں میں نہیں بتا سکتی۔‘‘ بد بخت ابو جہل نے اتنی زور سے آپ رضی اللہ عنہا کو طمانچہ مارا کہ آپ رضی اللہ عنہا کے کان کی بالی گر گئی۔
غارِ ثور میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جاں نثاری
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ سے نکلنے اور غارِ ثور میں رکنے کے واقعہ کو علامہ عبد المصطفیٰ نے بڑے خوب صورت الفاظ میں بیان کیا۔ آپ لکھتے ہیں ۔ رحمت ِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دولت خانہ سے نکل کر مقامِ’’ حزورہ ‘‘کے پاس کھڑے ہو گئے اور بڑی حسرت کے ساتھ ’’خانہ کعبہ‘‘ کو دیکھا اور فرمایا:’’ اے شہر مکہ !تُومجھ کو بہت پیارا ہے۔ اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی اور جگہ سکونت پذیر نہ ہوتا۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ساتھ تھے۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پائوں مبارک زخمی ہو رہے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کاندھوںپر سوار کر لیا اور اسی طرح کانٹے دار جھاڑیوں اور نوک دار پتھروں والی پہاڑیوں کو روندتے ہوئے اسی رات غارثور تک پہنچے۔یہ حوالہ دینے کے بعد علامہ عبد المصطفیٰ آگے لکھتے ہیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پہلے خود غارِ ثور میں داخل ہوئے اور اچھی طرح غار کی صفائی کی اور اپنے بدن کے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر غار کے تمام سوراخوں کو بند کیا۔ کپڑا ختم ہو گیا اور ایک سوراخ باقی رہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس سوراخ پر اپنی ایڑی رکھ دی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آجائیے اور میرے زانوپر سر رکھ کر آرام فرمائیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے ’’صدیق اکبر ‘‘رضی اللہ عنہ کے زانو پر سر مبارک رکھ کر سو گئے۔ سوراخ کے اندر اسے ایک سانپ نے بار بار آپ رضی اللہ عنہ کو کاٹا مگر صدیق اکبر نے اس خیال سے حرکت نہیں کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام میں خلل نہ پڑجائے اور درد کو برداشت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اسی کوشش میں آپ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور یہ آنسو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر گرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونک کر بیدار ہو گئے ۔ اپنے یارِ غار کو روتا ہوا دیکھ کر بے قرار ہو اٹھے اور دریافت فرمایا:’’ اے ابو بکر رضی اللہ عنہ !کیا ہوا؟‘‘ انھوں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن لگا دیا۔ جس سے درد فوراً ختم ہوگیا۔
ابو بکر صدیق کی ایک رات عُمر فاروق کی ساری زندگی سے بہتر
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں کچھ آدمیوں کا تذکرہ ہوا کہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے افضل مانتے ہیں۔ جب یہ بات حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اللہ کی قسم !حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک رات عُمر فاروق کی ساری زندگی سے بہتر ہے۔‘‘ اور پھر ہجرت کی رات کا وہ واقعہ بیان فرمایا:’’ مکہ مکرمہ سے نکلنے کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کبھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلتے تھے اور کبھی آگے چلتے تھے اور بار بار چاروں طرف نظریں دوڑاتے رہتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بے قراری دیکھی تو فرمایا:’’ اے ابو بکر رضی اللہ عنہ کیا ہوا؟ ‘‘ انھوں نے عرض کیا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !جب مجھے لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے خطرہ ہے تو میںپیچھے آجاتا ہوں اور جب لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگے سے خطرہ ہے تو آگے آجاتا ہوں۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ !کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ کوئی میرے بجائے تمہیں نقصان پہنچائے۔‘‘ انھوں نے عرض کیا :’’جی ہاںیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوحق دے کر بھیجا ہے، اگر کوئی بھی مصیبت آئے تو میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے میرے اوپر آئے۔‘‘ اس کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دونوں حضرات کے غارِ تک پہنچنے اور غار ثور کی صفائی اور اس رات صدیق اکبر پر جو کچھ گزرا ( یہ سب ہم پہلے بیان کر چکے ہیں) وہ سب بیان کر کے فرمایا:’’ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وہ رات عمر(فاروق رضی اللہ عنہ ) کی ساری زندگی سے بہتر ہے۔
100اونٹوں کا انعا م
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ غارِ ثور میں جاکر مقیم ہو گئے۔ ادھر مکہ مکرمہ میں قریش کے کافروں کا اجلاس ہوا کہ دونوں حضرات تو مکہ مکرمہ سے نکل چکے ہیں اور ہماری چال نا کام ہو چکی ہے۔ اس لئے اب اُن دونوں کو گرفتار کر نے کی بھر پور کوشش کی جائے۔ اس کے لئے سب سے پہلے یہ طے ہوا کہ دونوں حضرات کو گرفتار کر کے لانے والے کو یاکسی ایک کو بھی گرفتار کر کے لانے والے کو یا قتل کرنے والے کو 100اونٹ انعام دیئے جائیں گے۔ اس کا اعلان مکہ مکرمہ اور آس پاس کے علاقوں میں کروایا گیا۔ اعلان سن کر بہت سے لوگ گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار ہو کر اور بہت سے پیدل ہی ان دونوں حضرات کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ان میں قدموں کے نشانات کے ماہر کھوجی بھی شامل تھے اور یہ سب لوگ پہاڑوں ، وادیوں اور نشیب و فراز میں ہر طرف پھیل گئے۔ جہاں جہاں پانی کے گھاٹ تھے وہاں وہاں تحقیق کے لئے آدمیوں کو بھیجا گیا۔ کچھ لوگ تلاش کرتے کرتے غارِ ثور تک بھی پہنچ گئے تھے۔
غارِ ثور میں تین دن قیام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تین دن تک’’ غارِ ثور‘‘میں قیام فرمایا۔ اس دوران حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرتعبداللہ بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قریش کی جاسوسی پر مقرر کر دیا تھا۔ وہ دن بھر قریش کی مجلسوں میں شریک رہتے تھے اور رات کے وقت چھپتے چھپاتے غار میں آکر خبریں دیتے تھے۔ حضرت عامر بن فُہیرہ رضی اللہ عنہ ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خرید کر آزاد کر دیاتھا) دن بھر آس پاس بکریاں چراتے رہتے تھے اور حضرت عبداللہ بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے جانے کے بعد ان کے ’’نشان قدم‘‘ پر بکریوں کو لے کر جاتے تھے۔ تا کہ قدموں کے نشان مٹ جائیں۔
اللہ تعالیٰ نے حفاظت فرمائی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غارِ ثور میں مقیم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مکڑی کو حکم دیا تو اس نے غار کے دہانے پر جالا تان دیااور دو جنگلی کبوتر بھیجے ۔ وہ غار کے دہانے پرٹھہر گئے اور گھونسلہ بنا لیا۔ تا کہ مشرکین سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت ہو ۔ حرم شریف کے کبوتر ان ہی دو کبوتروں کی نسل سے ہیں۔پھر قریش کے نوجوان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈتے ہوئے لاٹھیاں ، ڈنڈے اور تلواریں لے کر آئے اور ان میں سے کسی نے غار میںدیکھا تو اسے کچھ نظر نہیں آیااور وہ اپنے ساتھوں کی طرف واپس لوٹ گیا۔ اس کے ساتھیوں نے پوچھا کیا ہوا؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں نے دو وحشی کبوتر دیکھے تو میں سمجھ گیا کہ یہاں کوئی نہیں ہے۔ دوسرے نے کہا غار میں داخل ہو جائو۔ تو امیہ بن خلف نے کہا۔ دیکھتے نہیں وہاں مکڑی کا جالا ہے اور وہ اتنا پرانا لگ رہا ہے کہ جیسے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیدائش سے پہلے کا ہے۔ اندرغار میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس خیال سے بے چین تھے کہ کہیں یہ لوگ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میںتھا۔ سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگوں کے پائوں نظر آرہے ہیں ۔میں نے عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر ان میں سے کوئی شخص اپنی نگاہ نیچی کر ے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے ابو بکر رضی اللہ عنہ !( تمہارا) ایسے دو آدمیوںکے بارے میں کیا خیال ہے جن ( کے ساتھ) تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ ‘‘ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت فرمائی اور قریش کے کافر چند قدم کے فاصلے پر ہوتے ہوئے بھی ان دونوں حضرات کو نہیں دیکھ سکے۔
مدینہ منورہ کی طرف روانگی
جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو غارِ ثور میں قیام کے تین دن گزر گئے تو قریش کا جوش و خروش اور تلاش میں کمی آگئی تھی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے مطابق عبداللہ بن اریقط دونوں تندرست اونٹنیاں لے کر حاضرہو گیا۔ وہ غیر مسلم (کافر ) تھا۔ لیکن قابل اعتماد تھا اور راستے کا ماہر تھا۔ اسی لئے اسے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے راستہ بتانے یعنی راہ نمائی کے لئے اجرت پر رکھا تھا۔ یہ باتیں اس سے پہلے بھی ہم آپ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔ سیدہ اسماء بنت ابو بکررضی اللہ عنہا کو بھی تیسرے دن معلوم ہوا کہ دونوں حضرات غارثور میں مقیم ہیںتو روانگی کے وقت وہ ان حضرات کے لئے راستے کا کھانا بنا کر لے کر آئیںلیکن رسی لانا بھول گئیں۔ اس لئے اپنے کمر بند کے دو حصے کئے اور ایک سے کھانے کا سامان باندھ دیا اور ایک اپنی کمر پر باندھ لیا۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہا کا لقب ’ ’ذات النطاقین ‘‘ پڑ گیا۔ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اونٹنی پیش کی ۔ ( اس سے پہلے ہم یہ بتا چکے ہیں کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے پہلے سے یہ دو اونٹنیاں خرید کر عبد اللہ بن ارقط کے حوالے کر دی تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت دریافت کی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی ہے۔‘‘ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قیمت ادا کر کے ہی اس اونٹنی کی سواری کی۔ ایک اونٹنی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور دوسری پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور اپنے ساتھ حضرت عامر بن فہیرہ کو بٹھا لیا اور تیسری اونٹنی پر عبد اللہ بن اریقط سوار تھا اور راستہ بتانے کے لئے ساتھ چل رہا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہدایت فرمائی کہ وہ عام راستے سے ہٹ کر ویران راستے سے چلے۔
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا راستہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق عبداللہ بن ارقط اصل راستے سے ہٹ کر چلا۔ غار ثور سے نکل کر ان لوگوں کو لے کر مغرب اور شمال کی سمت مکہ مکرمہ کے نچلے علاقے سے ساحل کی طرف چلااو ر ’’عسفان ‘‘سے ذرا پہلے اصل راستے کو کاٹتے ہوئے اس کے دائیں طرف ہو گیا۔ وہاں سے یہ قافلہ شمال کی طرف چلتے ہوئے’’ امج ‘‘نام کے مقام کے نچلے حصے سے گزرا اور اصل راستے کے بائیں طرف آگیا۔ اس کے بعد’’ قدید‘‘ نام کی بستی سے ذرا آگے چل کر اصل راستے کو کاٹتے ہوئے دائیں طرف ہو گیا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں ’’اُم معبد ‘‘کی سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تھی۔ ( اس کا ذکر انشا ء اللہ آگے آئے گا) قدید کے بعد’’ جحفہ ‘‘سے ذرا پہلے اس قافلے نے اصل راستے کو پھر کاٹا اور بائیں طرف آکر’’ خرار‘‘ کے مقام پر پہنچا۔ یہ قریش کے حلقۂ اثر کا آخری علاقہ تھا۔ اس مقام سے یہ قافلہ اصل راسے کے بائیں طرف اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ یہاں تک کر’’ مد لحجہ‘‘ نام کے دیہات تک پہنچا۔ یہاں سے مغرب کی طرف مڑ کر’’ عبابید یا عبابیب‘‘ تک یہ قافلہ پہنچا۔ اس کے بعد جب ’’عرج ‘‘کے مقام تک یہ قافلہ پہنچا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اوس بن حجر نام کے ایک شخص کو مدینہ منورہ بھیجا تا کہ وہ انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع کر دے۔ اس کے بعد عبداللہ بن اریقط اس مختصر سے قافلے کو لے کر ’’رتم ‘‘سے گزرتے ہوئے ’’قبا‘‘ تک لے آیا۔
غارِ ثور کے بعد پہلا پڑاؤ
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ہم لوگ ( غار ثور سے شام کے وقت نکلے اور ) رات بھر چلتے رہے اور دن میں دوپہر تک چلتے رہے۔ جب سورج کی روشنی کی گرمی ناقابل برداشت ہو گئی اور راستہ خالی ہو گیا اور کوئی گزرنے والا نہیں رہا تو ہمیںایک لمبی چٹان دکھائی دی۔ جس کے سائے میں ہم اتر پڑے۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لیٹنے کی جگہ صاف اور برابر کی اور اس پر ایک پوستین بچھا کر گذارش کی کہ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو جائیں۔ میں ذرا آس پاس نظر رکھتا ہوں۔‘‘ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمانے لگے اور میں آس پاس نظر دوڑانے لگا ۔ اچانک مجھے ایک چرواہا دکھائی دیا۔ جو اپنی بکریاں لئے اسی چٹان کی طرف چلا آرہا تھا۔ شاید وہ بھی چٹان کے سائے میںکچھ وقت گذارنا چاہتا تھا۔ میںنے اس سے پوچھا :’’ اے نوجوان !تم کس ( علاقے) کے آدمی ہو؟‘‘ اس نے مکہ مکرمہ یا مدینہ منورہ کے آس پاس کا علاقہ بتایا۔ میں نے پوچھا:’’ دودھ مل سکتا ہے؟ ‘‘اس نے کہا:’’ ہاں ۔‘‘ اور ایک بکری پکڑی۔ میں نے کہا:’’ اپنے ہاتھوں اور تھن کو اچھی طرح صاف کر لو۔ ‘‘پھر اس نے ایک کاب میں دودھ نکالا۔ میرے پاس ایک چرمی لوٹا تھا جو میںنے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے اور وضو کر نے کے لئے رکھ لیا تھا۔ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ پھر میں نے دودھ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے پانی کا استعمال کیا۔ یہاں تک کہ اس کا نچلا حصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ٹھنڈا دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا اور مجھے بے حد خوشی ہوئی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیا ابھی چلنے کا وقت نہیں ہوا ہے ؟‘‘میں نے عرض کیا :’’کیوں نہیں ۔ ‘‘پھر ہم سب لوگ چل پڑے۔ ‘‘
اُم معبد رضی اللہ عنہا کی قسمت جاگ گئی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ہجرت کا سفر جاری تھا۔ اسی سفر کے دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُم معبد رضی اللہ عنہ کے خیمے کے پاس سے گزرے ۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے باہر چادر اوڑھے بیٹھی ہوئی تھیں۔ (کئی سیرت نگاروں نے اُم معبد رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے پہلے حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کیا ہے۔ اب کون سا واقعہ پہلے پیش آیا اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کوہے) وہ بڑی مہمان نواز تھیںلیکن انھیں اندازہ نہیں تھا کہ انبیاء علیہم السلام کے ’’سردار ‘‘جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام عالموں ( جہانوں ) کے لئے ’’رحمت ‘‘بنا کر بھیجا ہے وہ ان کے مہمان بننے والے ہیں۔ ام معبد رضی اللہ عنہا کا یہی کام تھا کہ مسافروں کے انتظار میںبیٹھی رہتی تھیں اور ہر آنے جانے والے مسافر کو کھلاتی پلاتی رہتی تھیں۔ لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو قحط کا زمانہ ہونے کی وجہ سے ان مسافروں کو کھلانے کے لئے آپ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ نہیں تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا:’’ تمہارے پاس کچھ ہے؟ ‘‘اُم معبد رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:’’ اللہ کی قسم ! اس وقت تو کچھ نہیں ہے میرے پاس کچھ ہوتا تو آپ لوگوں کی خدمت کرنا میں اپنی خوش نصیبی سمجھتی ۔ میرے شوہر بکریوں کو چرانے کے لئے بہت دور گئے ہوئے ہیں کیوں کہ قحط کا زمانہ ہونے کی وجہ سے چارہ بھی آسانی سے میسر نہیں آتا ہے۔ اگر وہ قریب ہوتے تو میں بکریوں کے دودھ سے آپ لوگوں کی ضرور خدمت کرتی۔‘‘
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ
اُم معبد رضی اللہ عنہا کانام ’’عاتکہ بنت خالد ‘‘ہے۔’’ اُم معبد‘‘ کُنّیت ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا قبیلہ بنو خزاعہ کی ہیں۔ جب انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آس پاس نظریں دوڑانے لگے تو دیکھا کہ خیمے کے ایک کونے ( گوشے) میں ایک بکری بندھی ہوئی ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بکری کے متعلق دریافت فرمایا تو ام معبد رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:’’ یہ بکری بہت کمزور ہے اور کمزوری کی وجہ سے چرنے نہیں جاسکتی ہے۔ اس لئے یہاں بندھی ہوئی ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم اجازت دو تو میں اس میں سے دودھ نکال لوں۔‘‘ اُم معبد رضی اللہ عنہا نے حیرانی سے کہا:’’ یہ بکری دودھ نہیں دیتی۔ پھر بھی تم اپنے اطمینان کے لئے کوشش کر لو۔‘‘ اور بکری کھول کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں لے آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بسم اللہ ‘‘کر کے بکری کے تھن پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی ۔بکری نے اپنے پیر پھیلا دیئے اور تھن میں بھر پور دود ھ اتر آیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم معبد رضی اللہ عنہا سے ایک بڑا برتن لانے کو فرمایا۔ وہ بڑا برتن لے آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ دوہناشروع کیا۔ وہ بڑا برتن دودھ سے بھر تا جا رہا تھا اور اُم معبد رضی اللہ عنہا حیرانی سے آنکھیں پھاڑے اس معجزے کو دیکھ رہی تھیں۔ برتن بھر جانے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برتن اُم معبد رضی اللہ عنہا کو دے دیا اور پینے کی فرمائش کی۔ انھوں نے خوب سیر( پیٹ بھر کر) ہو کر دودھ پیا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قافلے کے تمام افراد کو دودھ پلایا اور آخر میں خود نوش فرمایا اور اُم معبد رضی اللہ عنہا کے گھر کے تمام برتن منگا کر دودھ سے بھر دیئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔
ایک مبارک آدمی آیا تھا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام برتنوں کو دودھ سے بھر کر اپنے ہجرت کے سفرپر آگے بڑھ گئے اور اُم معبد رضی اللہ عنہا حیرانی اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے کبھی بکری کو دیکھتی تھیں اور کبھی دودھ سے بھرے برتنوں کو دیکھ رہی تھیں کہ اتنے میں ان کے شوہر ابو معبد رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور برتنوںکو دودھ سے بھرا ہوا دیکھ کر حیرت میں پڑ گئے اور پوچھا:’’ اری نیک بخت! اتنا سارا دودھ کہاں سے آیا؟‘‘جب کہ بکریاں میں لے کر گیا ہوا تھا۔ اُم معبد رضی اللہ عنہا نے کہا:’’ اللہ کی قسم ! ایک نیک بخت بہت ہی مبارک آدمی یہاں سے گزرا ‘‘اور پھر تمام واقعہ بیان کر دیا۔ پورا واقعہ سننے کے بعد حضرت ابو معبد رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’یہ وہی صاحب قریش معلوم ہوتے ہیں جنھیں قریش تلاش کر رہے ہیں۔ اچھا ذرا اُن کا حلیہ تو بتائو؟‘‘ اُم معبد رضی اللہ عنہا نے اتنے دلکش اور خوب صورت انداز میںسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ انتہائی تفصیل سے بیا ن کیا کہ’’ ابو معبد‘‘ کو یوں لگا جیسے وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہے ہوں۔ سب سننے کے بعد حضرت ابو معبدنے فرمایا:’’ اللہ کی قسم! یہ وہی صاحب قریش ہیں جن کے بارے میں لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ میرا ارادہ ہے کہ میں ان کی رفاقت اختیار کروں ۔ مجھے جب بھی ایسا کوئی راستہ یا موقع ملا تو میںایسا ضرو ر کروں گا۔ ‘‘ اس کے بعد جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میںرہائش اختیار کی تو دونوں میاں بیوی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور اسلام قبول کیا۔ امام بغوی روایت کرتے ہیں کہ اُم معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ’’جس بکری کا دودھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نکالا تھا۔ وہ بکری حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت تک زندہ رہی ۔ اور ہمیشہ وہ ہر حالت میںصبح اور شام کثیر تعداد میں دودھ دیتی رہی۔ ‘‘
حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تعاقب کیا
قریش نے اعلان کیا تھا کہ جو شخص بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو زندہ یا ( نعوذ باللہ) مردہ لے کر آئے گا تو ان میں سے سے ایک ایک کے بدلے سو ، سو اونٹ انعام میںدیئے جائیں گے۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا ابھی ابھی میں نے ان دو افراد کو گزرتے دیکھا ہے۔ جن پر قریش نے سو اونٹوں کا انعام رکھا ہے۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ یہ سن کر وہاں سے اٹھے اور اپنا گھوڑا تیار کیا۔ اور تیر سے فال نکالاکہ میں یہ کام کروں یا نہیں ( زمانہ جاہلیت میں یہ فال نکالنے کا طریقہ تھا کہ کسی کام کا جب ارادہ کرتے تھے تو ایک تیر پر ہاں اور ایک تیر پر نہیں اور اس کے علاوہ بھی کئی تیر ایک کپڑے میں لپیٹ کر ایک تیر کھینچتے تھے ۔ اگر ہاں کا تیر نکلتا تو وہ کام کرتے تھے ۔ اور نہیں کا تیر نکلتا تھا تو اس کام کو نہیں کرتے تھے۔ فال کا یہ طریقہ ہم نے مختصر میں بتایا ہے) تو فال یہ نکلا کہ میں اُن کا پیچھا نہیں کروں ۔ لیکن اس کے باوجود حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ اس طرف بڑھتے گئے ۔ جدھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے ساتھی حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کو دکھائی دینے لگے اور وہ تیزی سے گھوڑا ان کی طرف دوڑانے لگے۔ اچانک گھوڑنے نے ٹھوکر کھائی اور حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ گر پڑے۔ انھوں نے پھر فال نکالا تو’’ نہیں‘‘ کا نکلا۔ لیکن سو اونٹوں کے لالچ میں پھر آگے بڑھ گئے۔
مجھ غریب پر رحم فرمائیں
ادھر حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آگے بڑھے چلے آرہے تھے۔ ادھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہے تھے۔ اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگے نظریں جمائے مسلسل بڑھتے جا رہے تھے۔ آخر کار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بدوی ( دیہاتی) ہمارے بہت قریب آگیا ہے۔ کہیں وہ ہمیں نقصان نہ پہنچائے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ فکر نہ کرو! اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو ایک مرتبہ پھر حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ گر پڑے۔ اس کے بعد پھر گھوڑے پر بیٹھ کر آگے بڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو اس مرتبہ گھوڑے کے پیر زمین میں دھنس گئے اور پیٹ زمیں کو چھونے لگا۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے گھوڑے کو زمین سے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ مجبور ہو کر آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کرنے لگے اور وعدہ کرنے لگے کہ میں لوگوں کو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تک پہنچنے سے روکوں گا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو گھوڑے کی ٹانگیں زمین سے نکل آئیں۔ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غالب ہو کر رہیں گے۔ اسی لئے انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ مجھ غریب بدوی( دیہاتی) پر رحم فرمائیں اور ایک’’ امان نامہ‘‘ لکھ کر دے دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم غریب کہاں ہو۔ میں تو تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن دیکھ رہا ہوں۔‘‘ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اے سراقہ! ( رضی اللہ عنہ) تمہارا اسو قت کیا حال ہوگا جب تمہارے ہاتھوں میں کسریٰ کے کنگن ہوںگے۔ ‘‘اس کے بعد حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:’’ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے اگر معافی نامہ یا امان نامہ لکھ کر دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ سے’’ امان نامہ‘‘ لکھنے کو فرمایا اور آپ رضی اللہ عنہ نے امان نامہ ایک چمڑے پر لکھ کرحضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیا۔ جو انھوںنے لے کر اپنے ترکش میں رکھ لیا اور واپس چلے گئے اور راستے میں پوچھنے والوں سے کہتے اس طرف نہ جائو۔ حضرت سراقہ بن مالک نے اس وقت تواسلام قبول نہیں کیا۔لیکن جب سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کیا اور اسکے بعد حنین اور طائف کی فتح کے مقا م جعرانہ میں تشریف فرما تھے تو حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ مدلج والوں کے ساتھ حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا۔
حضرت سراقہ بن مالک کے لئے سونا حلال ہے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ ہے۔ ایران و عراق فتح ہوچکے ہیں اور بے شمار مال غنیمت آیاہے۔ تمام مال غنیمت مسجد نبوی کے صحن میں ڈھیر کردیا گیا ہے۔ تمام لوگ اسی انتظار میں کھڑ ے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مال غنیمت کی تقسیم شروع کریں ۔ امیر المومنین مال غنیمت کو الٹ پلٹ کر رہے ہیں اور گھوم گھوم کر کچھ تلاش کر رہے ہیں ۔کسی نے پوچھا:’’ امیر المومنین !آپ کیا تلاش کر رہے ہیں؟‘‘ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ کسریٰ کے کنگن تلاش کر رہا ہوں ۔‘‘کسی نے کہا :’’یہ کسریٰ کے کنگن ہیں۔‘‘ اور سونے کے دو کنگن آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کئے۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سونے کے کنگن لئے اور آواز لگائی:’’ سراقہ یہاں آئو۔‘‘ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ آگے آئے اور امیر المومنین رضی اللہ عنہ کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کسریٰ کے کنگن حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے دونوں ہاتھوں میں پہنادئیے ۔کسی نے کہا:’’ امیرالمومنین رضی اللہ عنہ !سونا پہننا مردوں کے لئے حرام ہے۔‘‘ امیرالمونین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ بے شک سونا پہننا مردوں کے لئے حرام ہے ۔لیکن حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے لئے حلال ہے ۔ کیونکہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے سراقہ تمھارا اس وقت کیا حال ہوگاجب تمھیں کسریٰ کے کنگن پہنائے جائیں گے۔‘‘ اس کے بعد حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ اے سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ! اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اسکی حمد و ثنا بیان کرو جس نے تم جیسے بدّو(دیہاتی) کو کسریٰ کے کنگن پہنائے ہیں۔‘‘ حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کی۔
اسلام کا پہلا پر چم
سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا سفر جاری تھااور مدینہ منورہ قریب آتا جارہا تھا۔ مدینہ منورہ کے مضافات میں لگ بھگ تین کلو میٹر دور’’ قبا ‘‘ہے اور مکہ مکرمہ سے آنے والے قافلے مدینہ منورہ میں داخل ہونے سے پہلے’’ قبا ‘‘میں داخل ہوتے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب’’ قبا‘‘سے کچھ دوررہ گئے توحضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے اپنے70ستر ساتھیو ں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا ۔ حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بھی انعام کی لالچ میں مسلسل سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہے تھے اور آخر کار’’ قبا ‘‘سے کچھ دور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا ۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:’’تم کون ہو؟‘‘ انھوں نے جواب دیا:’’ میرا نام بریدہ ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ہمارا کام ٹھنڈا اور درست ہوا۔‘‘(یعنی اس سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔) اسکے بعد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا:’’تم کس قبیلے سے ہو ؟ ‘‘ انھوں نے جواب دیا:’’ میں قبیلہ اسلم کا ہوں۔‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:’’ ہم سلامت رہے۔‘‘ اسکے بعد فرمایا :’’ قبیلہ اسلم کی کس شاخ سے ہو؟‘‘ انھوں نے جواب دیا:’’ بنو سہم سے ہوں ۔‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تمہارا حصہ نکل آیا۔ ‘‘یعنی تم کو اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوگا ۔ حضرت بُریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ حیرانی سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے روشن اور انتہائی خوب صورت چہرہ مبارک کو دیکھ رہے تھے کہ ستر70مسلح سواروں کے گھیرے میں بھی ان کے چہرہ انور پر کوئی پریشانی کے آثار نہیں ہیں۔ بلکہ یہ تو بالکل اطمینان سے باتیں کر رہے ہیں۔ آخر آپ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ ہی لیا:’’ آپ کون ہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں عبداللہ کا بیٹا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں اور اللہ کارسول ہوں۔‘‘ اتنی دیر میں حضرت بُریدہ رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام کی شمع روشن ہو چکی تھی۔ انھوں نے عرض کیا :’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے70ساتھیوں نے بھی اسلام قبول کر لیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبا کی طرف چل پڑے۔ قبا کے قریب پہنچ کر حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قبا میں داخل ہوتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پرچم ( جھنڈا) ہونا چاہیئے۔‘‘ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عمامہ اتار کر حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے نیزہ سے باندھ دیا اور انھیں دے دیا۔ جس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں داخل ہوئے تو اس قت حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ جھنڈا اپنے ہاتھ میں اٹھا ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چل رہے تھے۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!


