پیر، 3 جولائی، 2023

14 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


14 سیرت سید الانبیاء ﷺ

غزوۂ احد میں نہ کسی کی شکست، نہ کسی کی فتح

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


قریش کی جنگی تیاری، حضرت حمزہ بن عبد المطلب کی شہادت کی پلاننگ، منافقین کی دھوکہ دہی اور واپسی، حضرت خالد بن ولی کا پلٹ وار، رسول اللہ ﷺ کی ثابت قدمی، صحابۂ کرام کی بہادری، جنگ برابر رہی، 


غزوئہ احد

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ بدر کے بعد جو سب سے بڑی جنگ لڑی وہ غزوئہ احد ہے۔ غزوئہ احد شوّال ۳ھ؁ ھجری میں ہوا۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کا سریہ جمادی الاخر یا جمادی الثانی ۳ھ؁ ھجر میں ہوا۔ اسکے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم رجب شعبان اور رمضان کے مہینے میں مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے۔ کئی روایات میں ہے کہ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ ام اکلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ہوااور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ انشاء اللہ ان دونوں کے نکاح کا ذکر آگے آئے گا۔’’ غزوئہ احد‘‘ ، احد پہاڑ کے دامن میں پیش آیا۔ (یہ بات یاد رکھیں جس جنگ میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس شریک ہوتے ہیں اسے غزوئہ کہتے ہیں۔ اور جس جنگ میں صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شریک رہتے ہیں اسے’’ سریہ ‘‘کہتے ہیں)احد پہاڑ مدینہ منورہ سے ایک فرسنخ سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔ ایک فر سنخ چار میل کا ہوتا ہے اور احد پہاڑ تین میل کے فاصلے پر اس وقت تھا۔ آج کل مدینہ منورہ اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ لگ بھگ احد پہاڑ تک اسکی آبادی پھیل گئی ہے اور اُحد پہاڑ مدینہ منورہ سے متصل ہوگیا ہے۔ اس پہاڑ کو اُحد کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ پہاڑ وہاں کے دوسرے پہاڑوں سے الگ تھلگ ہے۔ اس کو’’ ذو عنین ‘‘بھی کہا جاتا ہے۔ احد پہاڑ کا نام اتنا مشہور ہے کہ اس پورے علاقے کو ہی’’ اُحد‘‘ کہا جانے لگا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہاڑ کے بارے میں فرمایا : ’’ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم احد پہاڑ سے محبت کرتے ہیں ۔ ‘‘حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ غزوئہ بدر کے ایک سال بعد غزوئہ احد ہوا۔

قریش کی جنگی تیاری

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان مجاہدین نے غزوئہ بدر میں قریش کے لشکر کو ذلت آمیز شکست دی تھی اور قریش کے 70 بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے اور وہ لوگ بدلے آگ میں جل رہے تھے۔ اسی کا نتیجہ غزوئہ سویق وغیرہ تھے۔ لیکن سریہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی وجہ سے تو قریش بلبلا پڑے۔ یہ سریہ جمادی الثانی میں پیش آیاتھا۔ جب صفوان بن امیہ اور اسکے ساتھیوں نے مکہ مکرمہ واپس جاکر قافلے کو مال و اسباب کے چھن جانے کا ذکر کیا تو عکرمہ بن ابو جہل، عبداللہ بن ابی ربیعہ اور صفوان بن امیہ نے ابو سفیان کے ساتھ مل کر مشورہ کیا کہ غزوئہ بدر کے وقت جو قافلہ ابو سفیان بچا کر مکہ مکرمہ لے آیا تھا۔ وہ سب ’’دار الندوہ ‘‘میں رکھا ہوا تھا۔ اس قافلے کے مال و اسباب کی اصل رقم ان کے مالکوں کو لوٹا دی جائے اور منافع سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے ہتھیار اور خوراک اور جنگ کیلئے ضروریات خرید لی جائے۔ اس رائے کو تمام مکہ مکرمہ کے لوگوں نے منظور کر لیا اور اس قافلے سے ہوا منافع مسلمانوں کے خلاف جنگ کیلئے مخصوص کر دیا گیا۔ یہ منافع ایک ہزار اونٹ اور پچاس ہزار 50000دینار تھا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا : (ترجمہ)’’ بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ۔ وہ اپنے مال کو اس لئے خرچ کرتے ہیں ۔تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکیںتو اب وہ جوبھی خرچ کریں گے۔ وہ ان کے لئے حسرت کا باعث بنے گا۔ پھر پچھتائیں گے اور مغلوب ہوگیں اور کافروں کو دوزخ کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ (سورۃ الانفال آیت نمبر 36)۔

آس پاس کے قبائل کو قریش کے لشکر میں شامل ہونے کی دعوت

   سریہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ جمادی الثانی میں ہوا تھا۔ تب سے ہی قریش نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیا ری شروع کر دی اورلگاتار تین مہینے رجب المرجب ، شعبان المعظم اور رمضان المبارک ،میں جنگ کی تیاری کر رہے تھے اور لشکر اور ہتھیار جمع کر رہے تھے اور آس پاس کے قبائل کو بھی قریش کے لشکر میں شامل ہو نے کی دعوت دی۔اس کے لیے ابو عزہ شاعر اور منافع بن عبد مناف جمحی شاعر کو یہ مہم سونپی گئی۔(ابو عزہ بدر کے قیدیوں میں تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی غریبی اور مفلسی کا خیال کر کے اسے بغیر فدیہ لیے آزاد کر دیا تھا اور اس سے وعدہ لیا تھا کہ آئندہ وہ مسلمانوں کے خلاف کو ئی کام نہیں کرے گا ۔لیکن اس بد بخت نے لالچ میں آکروعدہ توڑ دیا ) ان دونوں نے آس پاس کے قبیلوں میں گھوم گھوم کر اپنے اشعار کے ذریعے انھیں بھڑکانا شروع کر دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آس پاس کے قبائل بھی قریش کے لشکر میں شامل ہو گئے۔ ان میں اہل تہامہ قابل ذکر ہیں ۔ غرض یہ کہ ان تینوں مہینوں میں قریش نے ایک بہت بڑا لشکر جمع کیا۔

قریش کا لشکر

   ماہ رمضان المبارک ختم ہو تے ہوتے اور ماہ شوال ۳ ھجری کی شرو عات تک قریش کی جنگی تیاریاں مکمل ہو گئیں اور قریش اورآس پاس کے قبائل کے کو ملا کر مجموعی طور سے تین ہزار کا لشکر تیار ہو گیا۔ سواری اور بار برداری ( بوجھ اٹھانے کے لئے ) تین ہزار اونٹ تھے اور’’ رسالے‘‘ کیلئے دوسو گھوڑے تھے۔ ان گھوڑوں کو تازہ دم رکھنے کیلئے انھیں پورے راستے بازو میں چلایا گیا ۔ یعنی ان پر سواری نہیںکی گئی۔ حفاظتی ہتھیاروں میں تین سو زرہیں تھیں۔ ابو سفیان کو لشکر کا سپہ سالار بنایا گیا۔ ’’رسالے ‘‘کی کمان حضرت خالد بن ولید کو دی گئی اور عکرمہ بن ابو جہل کو ان کا نائب یعنی معاون بنایاگیا۔ لشکر کا جھنڈا یا پرچم یا علم ’’بنو عبدالدار‘‘ کے ہاتھ میں دیا گیا۔ اس لشکر میں عورتوں کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یہ کل پندرہ عورتیں تھیں۔ ان میں چند کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ لشکر کے سپہ سالار ابو سفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ ساتھ میں تھی۔ (یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہے)۔ عکرمہ بن ابوجہل کی بیوی ام حکیم بنت حارث بھی تھی۔ حارث بن ہشام نے اپنی بیوی فاطمہ بنت ولیدکو ساتھ لیا۔ صفوان بن امیہ نے اپنی بیوی برزہ بنت مسعود کو ساتھ لیا یہ عبد اللہ بن صفوان کی ماں تھی۔ طلحہ بن ابو طلحہ نے اپنی بیوی سلافہ بنت سعد کو ساتھ لیا۔ اسکے تین بیٹے مسافع ، جلاس اور کلاب غزوئہ بدر میں قتل ہوچکے تھے۔ خناسہ بنت مالک اپنے بیٹے ابو عزیز بن عمیر کے ساتھ تھیں۔ یہ اسلام کے مدینہ منورہ میں پہلے’’ معلم‘‘ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی والدہ ہے اور عمرہ بنت علقمہ یہ قبیلہ بنو حارث کی ہے۔ یہ بھی لشکر کے ساتھ تھی۔

وحشی کی آزادی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت مقرر کی گئی

   آپ کو یاد ہوگا کہ غزوئہ بدر میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے انفرادی مقابلے میں عتبہ بن ربیعہ کو قتل کیا تھا۔ یہ عتبہ بن ربیعہ ، ابو سفیان کی بیوی ہندہ کا باپ تھا۔ اسلئے ہندہ نے قسم کھائی تھی کہ میں حضرت حمزہ (رضی اللہ عنہ) کا دل نکال کر کھائوں گی۔ اسکے لئے ہندہ نے جبیر بن مطعم کے غلا م’’ وحشی ‘‘ کو چنا۔ وحشی بھالا پھینکنے میں بہت ماہر تھا، اتنا ماہر تھا کہ اسکا نشانہ اکثر صحیح لگتا تھا۔ جبیر بن مطعم کے چچا طعیمہ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے غزوئہ بدر میں قتل کیا تھا۔ ہندہ نے اسے بھڑکایا کہ وہ اپنے چچا کا بدلہ لینے کے لئے وحشی کو قریش کے لشکر کے ساتھ بھیجے اور اسے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے لئے مقرر کر دے۔ جبیر بن مطعم نے وحشی کو کہا کہ تم قریش کے لشکر کے ساتھ جائو اور اگر تم نے حمزہ ( رضی اللہ عنہ) کو شہید کر دیا تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔ اس طرح وحشی بھی قریش کے لشکر میں شامل ہو گیا۔ جب یہ لشکر مدینہ منورہ کی طرف جا رہا تھا تو جب بھی ہندہ کی ملاقات وحشی سے ہوتی تھی تو وہ اسے کہتی تھی۔ اے ابو وسمہ ( وحشی کی کنیت ہے) تو میرا دل ٹھنڈا کر اور اپنا دل بھی ٹھنڈا کر ۔ اسی طرح وہ راستے بھر وحشی کو اکسا تی رہی۔

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے لشکر کی اطلاع مدینہ منورہ بھیجی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب غزوۂ بدر میں قید ہوئے تھے اور مدینہ منورہ میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ فدیہ ادا کر کے مکہ مکرمہ آگئے تھے اور وہیں رہائش پذیر تھے۔ قریش کی اس ساری نقل و حرکت اور جنگی تیاریوں کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کر رہے تھے اور جیسے ہی قریش کا لشکر مدینہ منورہ روانہ ہوا آپ رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کی مکمل تفصیل ایک خط میں لکھ کر اپنے قاصدکے ذریعے مدینہ منورہ بھیج دیا۔ یہ قاصد بہت پھرتیلا ثابت ہواا ور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کا سفر صرف تین دن میں طے کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد قبا میں تشریف فرما تھے۔ یہ خط حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ نے پڑھ کر سنایا۔ انھیں راز داری برتنے کی تاکید کر کے فوراً سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف لائے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مشورے کے لئے جمع کیا۔

جاسوسوں کی اطلاع

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً لشکر کی خبر لینے کے لئے اپنے جاسوس دوڑائے یہ حضرت انس اور مونس رضی اللہ عنہم فضالہ کے بیٹے ہیں اور انطفری ہیں۔ انھیں پانچ شوال المکرم ۳؁ھ ہجری کی رات میں بھیجا گیا۔ وہ دونوں خبر لے کر آئے کہ قریش کا لشکر اتنا بڑا ہے کہ انھوں نے اپنے اپنے گھوڑے اور اونٹ عریض کی کھیتی میں ( مدینہ منورہ کا نشیبی یا میدانی علاقہ ) چھوڑے تو وہاں کی گھاس ختم ہو گئی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حباب بن منذررضی اللہ عنہ کو قریش کے لشکر کی طرف روانہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کے لشکر میں داخل ہوئے اور لشکر کا اندازہ کیا ور مکمل خبر لیکر حاضر ہوئے۔ قریش کا لشکر وادی قناۃ کے مدینہ منورہ سے متصلہ کنارے پر بطن جنحہ کے پہاڑ میں مقام’’ عنین‘‘ پر آکر پڑا ئو ڈال دیا۔ قریش اُحد کے پہاڑ کے میدان میں بدھ کے د ن آکر اترے اور جمعرات اور جمعہ کو وہیں ٹھہرے رہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ

   قریش کے لشکر کی خبر سن کر مدینہ منورہ میں جنگی کیفیت پیدا ہوگئی۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اچانک کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہر وقت ہتھیار سے لیس رہنے لگے۔ یہاں تک کہ نماز میں بھی ہتھیار ساتھ رکھے جاتے تھے۔ انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ایک چھوٹا سا دستہ اس میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ، حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ دستہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی کے لئے تعینات ہو گیا۔ یہ لوگ ہتھیار پہن کر ساری ساری رات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر گذاردیتے تھے۔ کچھ اور دستے مدینہ منورہ کے داخلی راستوں پر تعینات ہو گئے اور نگرانی کرنے لگے۔ جمعہ کی صبح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا اور فرمایا: ’’ میں نے رات میں ( جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات) ایک خواب دیکھا کہ میں ایک مضبوط زرہ میں ہوں اور ایک گائے ذبح کی گئی ہے۔جس کی تعبیر یہ ہے کہ مدینہ منورہ ایک مضبوط زرہ کی طرح ہے اور گائے کے ذبح کا مطلب یہ ہے کہ میرے کچھ صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم شہید ہوں گے اور میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا تو اس کے سامنے کا کچھ حصہ ٹوٹ گیا۔ پھر اسی تلوار کو ہلایا تو وہ پہلے سے زیادہ عمدہ ہو گئی ‘‘ جس کی تعبیر یہ ہے کہ صحابہ کرم کی مثال تلوار کی سی ہے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں پر وار کرتے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنگ پر لے جانا تلوار کا ہلانا ہے اور غزوہ ٔاحد میں ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا شہید ہونا تلوار کا سامنے کا کچھ حصہ ٹوٹنا ہے اور پھر تلوار کا ہلانا صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا جمع ہو کر کافروں پر حملہ کرنا ہے اور عمدہ ہو جانے کا مطلب آخر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان ہی غالب رہیں گے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ تلوار کے سامنے کے کچھ حصہ کو ٹوٹنے کا مطلب ہے میرے اہل بیت میں سے کوئی شہید ہوگا۔ ( جیسا کہ حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب شہید ہوئے) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مناسب تو یہی ہوگا کہ ہم مدینہ منورہ سے باہر نہ نکلیں اور شہر میں ہی قلعہ بند ہو جائیں۔ اب اگر قریش وہیں ( احد کے میدان میں ) رہے تو ان کا قیام بے مقصد اور بُرا ہو گا اور اگر مدینہ منورہ پر حملہ کرتے ہیں تو مسلمان ان سے جنگ کریں گے اور عورتیں چھتوں کے اوپر سے پتھر برسائیں گے۔ عبداللہ بن اُبیّ رئیس المنافقین ( منافقوں کا سردار) خزرج کے نمائندے کی حیثیت سے موجود تھا۔ اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اتفاق کیا اور تائید کی۔ لیکن دراصل وہ جنگ کرنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ جیسا کہ آگے ذکر آئے گا۔

صحابہ ٔ کرام کی شہادت کی تمنّا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتایا کہ اگر ہم مدینہ منورہ سے باہر نکل کر لڑیں گے تو کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوںگے۔ اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شہید ہونے کی تمنا اتنی شدید تھی کہ انھوں نے جن کو شہادت کے مرتبے پر فائز ہونا تھا اور جو لوگ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے وہ سب عرض کرنے لگے : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کو ساتھ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمنوں کے مقابلے پر چلیں۔ اگر ہم اُن کے مقابل نہیں جائیں گے تو وہ سمجھیں گے کہ ہم اُن سے ڈر گئے اور ہم کمزور ہیں اور ہم تو اسی دن کی تمنا کیا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگاکر تے تھے۔ اب اللہ نے موقع فراہم کر دیا ہے اور میدان میں نکلنے کا وقت آگیا ہے۔ ان گرم جوش حضرات میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ سب سے آگے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کتاب نازل فرمائی۔ میں کوئی غذا نہیں چکھوں گاجب تک کہمدینہ منورہ سے باہر اپنی تلوار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے دو دو ہاتھ نہ کرلوں۔ ‘‘

مسلمانوں کا اظہار ندامت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جمعہ پڑھائی اور خطبے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوکوشش اور جہاد کرنے کا حکم دیا کہ جب تک صبر کر وگے تو تمہاری مدد ہو گی اور مسلمانوں کو مقابلے کے لئے روانہ ہونے کی تیاری کرنے کا حکم دیا تو لوگ خوش ہو گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو عصر کی نماز پڑھائی۔ ( کیوں کہ تب تک تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مکمل تیاری کر کے حاضر ہو گئے تھے) نماز کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مکان میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔ دونوں اصحاب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوعمامہ باندھااور جنگی لباس پہنایا۔ باہر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انتظار میں کھڑے تھے اور صف باندھے ہوئے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے باہر پہریداری پر تھے۔ اُن دونوں نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا : ’’ تم لوگوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زبردستی کی ہے۔ حالانکہ اس کام( مدینہ منورہ سے باہر جانا یا وہیں رکنا ہے) کے بارے میں مناسب یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آسمان سے ( یعنی اللہ کی طرف سے ) حکم نازل ہو جاتا۔ بہر حال اب تم لوگ اس معاملے کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ہی سپرد کردو۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح باہر آئے کہ زرہ پہنے ہوئے تھے اور چمڑے کی پیٹی باندھی ہوئی تھی۔ جو تلوار لٹکانے کے لئے تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمامہ باندھے ہوئے اور تلوار لٹکائے ہوئے تھے اور پشت پر ڈھال بندھی ہوئی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح جنگی لباس میں دیکھ کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ندامت ہوئی کہ اُن کی ضد کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف میں مبتلا ہونا پڑ رہا ہے۔ انھوں نے فوراً عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں یہ حق نہیں ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کریں۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو مناسب سمجھیں کریں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کسی نبی کو یہ مناسب نہیں ہے کہ جب وہ اپنی زرہ پہن لے تو اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے درمیان فیصلہ کرنے سے پہلے اتار دے۔ اب اللہ کے نام پر روانہ ہو جائو۔ تمہاری ہی مدد ہو گی جب تک تم صبر کرو گے۔‘‘

لشکر کی ترتیب اور روانگی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تین نیزے طلب فرمائے اور تین جھنڈے (عَلم) بنائے ۔ قبیلہ اوس کا جھنڈا حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ کو دیا۔ قبیلہ خزرج کا جھنڈا حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیا۔ مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی المرتضیٰ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیا اور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو دیا۔ مدینہ منورہ میں اپنی جگہ حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو حکمراں بنایا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے۔ کمان کو کاندھے پر ڈالا اور ایک نیزہ ہاتھ میں لیا۔ لشکر میں صرف سو (100) مسلمانوں کے پاس زرہ تھی۔ ( باقی سادہ لباس میں تھے) حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اور حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ( حفاظت کے خیال سے) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دوڑتی ہوئی سواری کے آس پاس ہی اپنے گھوڑے دوڑا رہے تھے۔ کبھی دائیں بائیں اور کبھی آگے پیچھے ہو جاتے تھے۔ ( یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو اسلامی لشکر چل رہا تھا اس کی تعداد لگ بھگ ایک ہزار (1000) تھی اور اسلامی لشکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں اور اور پیچھے چل رہا تھا۔ جب’’ شیخین‘‘ کے مقام پر پہنچا تو وہیں پڑائو ڈالنے کا حکم دیا۔

کم سِن اور نو عمر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی واپسی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخین یا شیخان پر ہی رات گزارنے کا فیصلہ کیا اور پڑائو ڈالنے کے بعد لشکر کا معائنہ فرمایا تو ان میں سے جو نو عمر اور کم سن تھے انھیں واپس مدینہ منورہ بھیج دیا گیا۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سترہ صحابی ؓ ایسے پیش ہوئے جن کی عمر چودہ سال تھی۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نا بالغ قرار دے کر مدینہ منورہ واپس بھیج دیا ۔لیکن جب ایک سال بعد پندرہ سال کی عمر میں یہ صحابہ ؓ پیش ہو ئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ان سترہ صحا بہ ؓ میں چند صحابہؓ کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت اسامہ بن زید ؓ (یہ حضرت زید بن حارثہ ؓ کے بیٹے ہیں)۔ (2) حضرت زید بن ثابتؓ انہیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں قرآن پک جمع کرنے کا حکم دیا تھا) (3) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ۔ (یہ حضرت عمر ؓ فاروق ؓکے بیٹے ہیں ) ۔(4) حضرت ابو سعید خدریؓ ۔(5)حضرت اسید بن ظہیر ؓ ۔(6)حضرت عرابستہ بن اویس ؓ ۔(7) حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ ( 8) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ۔

 کم سِن مجاہدین

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم شیخین کے مقام پر لشکر کا معائنہ کر کے نو عمر اور کم سِن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو واپس کر رہے تھے۔ یہاں ہم آپ کو یہ بتا تے چلیں کہ مدینہ منورہ اور احد پہاڑ کے درمیان دو چھوٹے پہاڑی ٹیلے اس وقت تھے۔ ان دونوں ٹیلوں کے قریب ایک اندھا بوڑھا یہودی اور ایک اندھی بڑھیا یہودن رہا کرتے تھے۔ ان کی بزرگی کا اوس اور خزرج احترام کرتے تھے۔ (زمانہ جاہلیت میں ) اور ان دونوں کی نسبت سے ان دونوں ٹیلوں کے آس پاس کے علاقے کو شیخین کہا جاتا تھا۔ ان کم سنوں اور نو عمروں میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انھوں نے یہ ہوشیاری کی کہ پنجوں یا انگوٹھوں کے بل کھڑے ہو گئے تا کہ ان کا قد لمبا معلوم ہو۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں لشکر کے ساتھ غزوہ بدر میں چلنے کی اجازت دے دی کیوں کہ وہ بہت اچھے تیر انداز تھے۔ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ ان کے ہم عمر تھے۔ لیکن تھوڑے ناٹے ہونے کی وجہ سے کم عمر لگتے تھے اور انھیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ واپس جانے کی ہدایت فرمائی تھی۔ وہ رونے لگے اور حسرت بھرے لہجے میں حضرت مُری بن سنان رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’ چچا جان !رافع کو اجازت مل گئی اور میں رہ گیا حالانکہ میں اُن سے زیادہ طاقتور ہوں اور رافع کو کشتی میں پچھاڑ سکتا ہوں۔ ‘‘ حضرت مری بن سنان رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کی کشتی کا اہتمام کرایا۔ پورا لشکر دائرہ بنا کر جمع ہو گیا ۔ درمیان میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور دونوں کی کشتی کے لئے جگہ خالی تھی۔ دونوں کی کشتی ہر کوئی دیکھ رہا تھااور واقعی حضرت سمرہ بند جندب رضی اللہ عنہ نے کشتی میں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو پچھاڑ دیا۔ پورا لشکر عش عش کر اٹھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو غزوہ احد میں شریک ہونے کی اجازت دے دی۔

منافقین کی واپسی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوع فجر سے کچھ پہلے لشکر کو روانگی کا حکم دیااور مقام مشوط پر پہنچ کر نماز فجر پڑھائی۔ اب دشمن بالکل قریب تھے۔ ایسے وقت میں ’’رئیس المنافقین ‘‘( منافقوں کا سردار) عبداللہ بن اُبیّ نے منافقت کا ثبوت دیا اور اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر اسلامی لشکر سے الگ ہو گیا اور کہا :’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے میری بات نہیں مانی اور مدینہ منورہ میں رہ کر جنگ نہیں کی اس لئے میں اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس جا رہا ہوں کون خوامخوہ جان دے۔‘‘ اور اپنے تین سو (300) ساتھیوں یعنی منافقوں کو لے کر الگ ہو گیا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس کے منافق ساتھیوں سے فرمایا : ’’ اے قوم( کے لوگو) ! کیا تم اللہ کو بھول گئے۔ جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو چھوڑ کر جا رہے ہو۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب دشمن سامنے موجود ہے۔‘‘ عبداللہ بن اُبیّ اور اس کے منافق ساتھیوں نے کہا : ’’ ہم یہ نہیں سمجھے تھے کہ تم جنگ کرنے نکلے ہو۔ اگر ہمیں یہ خبر ہوتی تو ہرگز ہم تمہارے ساتھ نہیں آتے۔‘‘ جب حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ یہ منافق واپس جا رہے ہیں تو فرمایا : ’’ اے اللہ کے دشمنو ! اللہ تعالیٰ تم کو ہم سے دور کر ے۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے بے پرواہ کر دے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کے بارے میں قرآن پاک میں ، ایمان والوں سے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا : (ترجمہ ) ’’ اور تمہیں اس د ن (غزوہ اُحد کے دن )جو کچھ نقصان پہنچا جس دن دو جماعتوں لشکروں میں مڈ بھیڑ ہو ئی تھی۔ وہ سب اللہ کے حکم سے تھا اور اس لئے ( تھا ) کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جان لے اور منافقوں کو بھی معلوم کرے جن سے کہا کہ آئو اللہ کی راہ میں جہاد کرویا کافروں کو ہٹائو تو وہ کہنے لگے اگر ہم لڑائی جانتے ہوتے تو ضرور ساتھ دیتے وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر کے زیادہ قریب تھے۔ اپنے منہ سے وہ باتیں سناتے تھے جو اُن کے دلوں میں نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے ہیں۔ ( سورہ آل عمران آیت نمبر166 اور 167۔)

منافقوں کی سازش اور ایمان والوں کی مضبوطی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر کا ساتھ منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبیّ اور اس کے تین سو (300) منافقین ساتھیوں نے ایسے وقت چھوڑا جب دشمن بالکل قریب تھے۔ در اصل ان منافقوں کا ارادہ یہ تھا کہ ایسے نازک وقت میں ہم اسلامی لشکر کا ساتھ چھوڑ یں گے تو لشکر میں مایوسی اور بے چینی پھیل جائے گی۔ در اصل یہ سب یہودیوں کی منصوبہ بندی تھی اور منافقین ان کے مُہرے تھے۔ ان منافقوں کے واپس جانے سے ان منافقوں کے خیال میں یہ تھا کہ پہلے تو اسلامی لشکر کی تعداد کم ہو جائے گی اور دوسرے ان کے اس عمل کو کو دیکھ کر ایمان والوںمیں مایوسی اور بے چینی پھیل گیاور وہ بھی واپس ہو جائیں گے یا جنگ سے جان چُرائیں گے اور اگر جنگ میں شامل ہوئے بھی تو یکسو ہو کر جنگ نہیں کر سکیں گے اور بہت حد تک وہ منافقین اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو گئے تھے۔ قبیلہ خزرج کے بنو سلمہ اور قبیلہ اوس کے بنو حارثہ کے لوگ بھی گڑ بڑا گئے تھے اور واپسی کے بارے میں سوچنے لگے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اُن کو بچا لیا اور وہ جس کشمکش کا شکار تھے اس سے نکال کر ان کے دل ایمان پر مضبوط کر دیئے اور انھوں نے بھی منافقوں کو دھتکار دیا۔ انھیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا : (ترجمہ) ’’ اور یاد کرو اُس وقت کو جب ہمت ہار دی تھی تم میں کے دو گروہوں نے اور اللہ تعالیٰ ان کا مدد گار تھا۔ اس لئے وہ واپسی سے محفوظ رہے اورتمام مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہیئے۔‘‘( سورہ آل عمران آیت نمبر122)

لشکر کی ترتیب

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم منافقوں کے واپس چلے جانے کے بعد اسلامی لشکر کو لے کر قریش کے لشکر کے مقابل آئے۔ اس وقت اسلامی لشکر کی تعداد سات سو تھی۔ جب کہ مشرکین کی تعداد تین ہزار تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کے قیام کے لئے ایسی جگہ کو منتخب فرمایاجو جنگی نقطہ نظر سے میدان جنگ کا سب سے بہترین مقام تھا۔ یہ میدان میں سب سے اونچی جگہ تھی اور سنگین حالات میں پناہ لینے کے لئے بہترین جگہ تھی اور دشمن کو وہاں تک پہنچنے میں بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی صف بندی کی ۔ حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کو لشکر کے میمنہ ( دائیں بازو) کا کمانڈر بنایا۔ حضرت ابو سلمہ بن عبدا لاسد مخزومی رضی اللہ عنہ کو میسرہ ( بائیں بازو) کا کمانڈر بنایا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو مقدمہ ( اگلے حصہ ) کا کمانڈر بنایا اور حضرت مقداد بن عمر رضی اللہ عنہ کو ساقہ (پچھلے حصہ) کا کمانڈر بنایا۔ صف بندی کے وقت اُحد پہاڑ کو پشت پر رکھا۔ اور’’ کوہِ عنین‘‘ کو جو ’’وادی قناۃ ‘‘میں ہے اسے اپنے بائیں طرف رکھا۔ اس طرح لگ بھگ تین طرف پہاڑ تھے اور سامنے قریش کا لشکر تھا۔

دَرّہ پر تیر اندازوں کی تعیناتی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی صف بندی اور ترتیب کے بعد پچاس ماہر تیر اندازوں کو لشکر سے الگ نکالا۔ اسلامی لشکر کے پیچھے ایک پہاڑی درّہ تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُن پچاس ماہر تیر اندازوں کو لے کر درہ پر پہنچے اور ان تیر اندازوں کو اس درے پر تعینات کیا اور حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو ان تیر اندازوں کا کمانڈر بنایا اور فرمایا : ’’ شہسواروں کو تیر مار کر ہم سے دور رکھناکہ وہ پیچھے سے ہم پر حملہ نہ کرسکیں۔ ہم جیت جائیں یا ہار جائیں تم ہر حال میں اپنی جگہ پر جمے رہنا اور کوشش یہی کرنا کہ دشمن تمہاری طرف سے ہم پر حملہ نہ کر سکیں۔ ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیراندازوں کو مخاطب کر کے فرمایا : ’’ ہماری پیچھے سے حفاظت کرنا اگر دیکھو کہ ہم مارے جا رہے ہیں تو بھی ہماری مدد کو نہیں آنا اور اگر دیکھو کہ ہم لوگ مالِ غنیمت جمع کر رہے ہیں تو بھی ہمارے ساتھ شریک نہ ہونا۔ ‘‘ اور فرمایا : ’’ اگر تم دیکھو کہ ہمیں پرندے اچک رہے ہیں تو بھی اپنی جگہ مت چھوڑنا۔ یہاں تک کہ میں خود تمہیں بلا لوں اور اگر تم لوگ دیکھو کہ ہم نے دشمنوں کو شکست دے دی ہے اور انھیں کچل دیا ہے تو بھی اپنی جگہ نہ چھوڑنا یہاں تک کہ میں خود تمہیں بلا لوں۔ ‘‘ اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑوں کی بلندی سے دائیں بازو اور پشت کو محفوظ کر لیااور بائیں بازو کے پہاڑوں پر جو درّہ تھا اسے تیر اندازوں کے ذریعے بند کر دیا۔

قریش کے لشکر کی ترتیب

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ادھر اسلامی لشکر کی ترتیب فرما رہے تھے تو اُدھر قریش کے مشرکین کے لشکر کی ترتیب ابو سفیان کر رہا تھا۔ اس نے میمنہ کا کمانڈر خالد بن ولید کو بنایا اور میسرہ کا کمانڈر عکرمہ بن ابو جہل کو بنایا۔ لشکر کے دونوں کناروں یعنی دائیں بازوں میمنہ اور بائیں بازو میسرہ پر دوسو (200) گھوڑے تھے صفوان بن اُمیہ کو سواروں کا کمانڈر مقرر کیا اور پیادوں پر عَمرو بن عاص کو کمانڈر بنایا۔ تیر اندازوں کا کمانڈر عبداللہ بن ابی ربیعہ کو بنایا۔ جھنڈا طلحہ بن ابو طلحہ کو دیا جو بنو عبدالدار کا تھا۔

حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ کو اعزاز

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کی صف بندی کرنے اور تیر اندازوں کو درّہ پر تعینات کر نے کے بعد ( اپنی تلواروں میں سے ایک نکالی ) اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا : ’’ یہ تلوار مجھ سے اس کے حق کے ساتھ کون لیتا ہے؟ بہت سے لوگ اس کو لینے کے لئے کھڑے ہوئے تھے ( ان میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، حضرت علی المرتضیٰ بن ابو طالب رضی اللہ عنہ ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو دجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ بھی تھے) حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ بنو ساعدہ کے ہیں انھوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس تلوار کا حق کیا ہے؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اس تلوار سے دشمن کو اتنا قتل کرو کہ یہ تلوار ٹیڑھی ہو جائے ۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ( انشاء اللہ ) اس کا حق اادا کروں گا۔ ‘‘حضر ت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ بہت بہادراور بہت زبردست جنگجو تھے۔ جب جنگ کیواسطے نکلتے تھے تو ’’سرخ عمامہ‘‘ باندھ لیا کرتے تھے۔ اور جب بھی آپ رضی اللہ عنہ سرخ عمامہ باند ھ کر میدان جنگ میں اترتے تھے تو ان کے ساتھی سمجھ جاتے تھے کہ اب دشمن کی خیر نہیں ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو وہ تلوار عطا فرمائی ۔ یہ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو اعزاز ملا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس لائق سمجھا۔ تلوار لے کر آپ رضی اللہ عنہ نے سرخ عمامہ باندھااور گردن اکڑ کر سینہ تان کر صفوں کے درمیان چلنے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اس چال سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ لیکن ایسے موقع پر نہیں۔ ‘‘ ( یعنی اللہ کے دشمنوں کے سامنے اور ان سے لڑتے وقت یہ جائز ہے۔)

حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کی بہادری

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تلوار دینے کے لئے آواز لگائی تو جن صحابہ کرام نے اس تلوار کو لینے کا اظہار کیا تھا ۔ ان میں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فر ما تے ہیں : ’’ جب میں نے سیدا لانبیاء صلی ا للہ علیہ و سلم سے تلو ار ما نگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہ دیتے ہوئے وہ تلوار حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی تو میں نے سوچا کہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا پھوپھی زاد بھائی ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہیں) ہوں۔ پھر بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو کیوں عطا فرمائی؟ میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ آخر اُن میں کون سی خوبی ہے۔ جس کی بنا ء پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ اعزاز بخشا۔ اسی لئے میں اُن پر نظر رکھنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ انھوں نے ’’سُرخ عمامہ‘‘ نکال کر باندھ لیا یہ دیکھ کر انصار کہنے لگے :’’ اب حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ جنگ کے لئے تیار ہو گئے ہیں اور ’’موت کا عمامہ ‘‘باندھ لیا ہے۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر جب جنگ زوروں پر آگئی اور میں نے دیکھا کہ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے مشرکین پر اس طرح حملہ کیا کہ جو بھی سامنے آیا اسے کاٹتے چلے گئے۔ میں نے دیکھا کہ مشرکین میں ایک کمینہ شریر شخص تھا وہ جس کو بھی زخمی دیکھتا تھا اسے شہید کر دیتا تھا۔ اتفاق سے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ ادھر سے گزرے میں دعا کر رہا تھا کہ ان دونوں کا مقابلہ ہو جائے۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ دوسرے مشرک کو قتل کر کے پلٹے ہی تھے کہ اس شریر مشرک نے آپ رضی اللہ عنہ پر حملہ کر دیا۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال پر فوراً پھرتی سے اس کے وار کو روکا اور پھر اسی عطا کردہ تلوار سے ایسا وار کیا کہ اس شریر مشرک کے دو ٹکٹرے ہو گئے ۔ میں نے اس وقت دل میں سوچا کہ بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ واقعی حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ ہی اس تلوار کا حق ادا کر نے کے قابل ہیں۔ ‘‘

قبیلہ اوس کے انصار نے ابو عامر فاسق کو دھتکارا

   دونوں لشکر آگے بڑھتے بڑھتے ایک دوسرے کے بالکل قریب آگئے تو قریش کے لشکر میں سے ابو عامر فاسق باہر آیا۔ اس کا نام عَمرو بن صیفی تھا۔ زمانہ ٔ جاہلیت میں یہ قبیلہ اوس کا سردار تھا اور اتنا زیادہ عبادت گزار اور نیک تھا کہ لوگ اسے راہب کہتے تھے۔ لیکن جب مدینہ منورہ میں اسلام کا نور چمکا تو اسے اپنی نیک نامی اور پارسائی خطرے میں نظر آنے لگی۔ اس لئے اس کے دل میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شدید عداوت بھر گئی اور وہ مکہ مکرمہ چلا گیا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے ’’ فاسق ‘‘ نام تجویز فرمایا۔ اس فاسق نے مکہ مکرمہ والوں کو جنگ پر آمادہ کیا اور کہا کہ قبیلہ اوس کے لوگ مجھے دیکھیں گے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ساتھ چھوڑ کر ہمارے ساتھ ہو جائیں گے۔ جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے تو ابو عامر فاسق قریش کے لشکر سے باہر آیا اور بلند آواز سے بولا : ’’ا ے گروہِ اوس ! میں ابو عامر ہوں۔اللہ تعالیٰ قبیلہ اوس پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔‘‘ انھوں نے فوراً جواب دیا: ’’ اے اللہ کے نافرمان اور فاسق ! اللہ کبھی تیری آنکھیں ٹھنڈی نہ کرے۔‘‘ ابو عامر نے اتنا سخت جواب سنا تو واپس قریش کے لشکر میں چلا گیا اور کہا: ’’ میرے بعد میری قوم کی حالت بدل گئی ہے۔ ‘‘

قریش کے عَلم برداروں ( جھنڈا اٹھانے والوں ) کا قتل

   قریش کا جھنڈا ہمیشہ بنو عبدا لدار اٹھاتے رہے تھے۔ ابو سفیان نے اُن سے کہا: ’’ جنگ بدر میں اے عبد الدار !تم نے جھنڈا ٹھا رکھا تھا لیکن تمہارے نضر بن حارث کے گرفتار ہو نے کے بعد تم نے دیکھا کہ کس طرح ہم ہارے تھے۔در اصل فوج پر جھنڈے کی جانب سے ہی حملہ ہوتا ہے۔ اسلئے آپ لوگ ٹھیک طور سے جھنڈے کو سنبھالیں ۔ ورنہ ہم دوسرا انتظام کر لیں گے۔ ‘‘یہ سن کر بنو عبدا لدار کو بے حد جوش آگیا اور انھوں نے کہا: ’’ ہم اپنا جھنڈا نہیں دیں گے اور کل جب جنگ ہو گی تو دیکھ لینا ہم کیا کرتے ہیں۔‘‘ غزوہ اُحد سنیچر کی صبح شروع ہوئی اور قریش کا عَلم بردار ( جھنڈا اٹھانے والا ) طلحہ بن ابی طلحہ میدان میں آیا اور للکار کر کہا : ’’ اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھیو !تمہارا یہ گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو تمہاری تلواروں کے ذریعے جلدی دوزخ میں پہنچاتا ہے اور ہماری تلواروں کے ذریعے تم کو جلدی جنت میں پہنوچاتا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ہے جس کو میری تلوار جنت میں پہنچا دے یا اس کی تلوار مجھے دوزخ میں پہنچا دے ؟ ‘‘یہ سنتے ہی حضرت علی المرتضیٰ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اس پر حملہ کیا۔ جس سے اس کا پیر کٹ گیا اور وہ منہ کے بل گر پرا اور اس کا ستر ( شرم گاہ ) کھل گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ شرما کر پیچھے ہٹ گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے علی رضی اللہ عنہ !تم پیچھے کیوں ہٹ گئے ؟ ‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ اس کے سَتر کھل جانے سے مجھے شرم آگئی۔‘‘ اس کے بعد اس نے اپنا کپڑا برابر کر کے کھڑے ہو کر حملہ کرنے کی کوشش کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پلٹ کر اس کے سر پرتلوار سے وار کیاا س کے سر کے دو حصے ہو گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی ہوئی اور بے ساختہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ اللہ اکبر ‘‘فرمایا اور مسلمانوں نے زور سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ اس کے بعد عثمان بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا اور یہ کہتا ہوا میدان میں آیا کہ علم برداروں کا یہ فرض ہے کہ لڑتے لڑتے اس کا نیزہ دشمن کے خون سے رنگین ہو جائے یا ٹوٹ جائے۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اس پر حملہ کیا اور اس کے دونوں ہاتھ اس کے شانے سے کاٹ دیئے اور تھوڑی دیر بعد اس کا کام تمام ہو گیا۔ اس کے بعد ابو سعد بن ابی طلحہ نے جھنڈا اٹھایا تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فوراً نشانہ لگا کر اسے حلق میں ایسا تیر مارا کہ اس کی زبان باہر آگئی آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد مسافع بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا ٹھایا۔ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک ہی وار میں اس کا قتل کر دیا۔ اس کے بعد حارث بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا پنے ہاتھ میں لیا ۔ اس کوبھی حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ایک ہی وار میں قتل کیا اور کئی روایات میں ہے کہ اسے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔ پھر کلاب بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈ اٹھایا تو حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔ اس کے بعد جلاس بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا ہاتھ میں لیا تو فوراً حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔ پھر شریح بن قانط جھنڈا اٹھا کر آگے بڑھا تو اسے بھی قتل کر دیا گیا۔ اسے کس نے قتل کیا یہ معلوم نہ ہو سکا اس کے بعد عبدا لدار کے غلام جس کا نام صُواب تھا وہ جھنڈا لے کر آگے بڑھاتو حضرت سعد بن ابی وقاص یا حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب یا حضرت علی رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے قتل کر دیا ۔ اسی دوران جنگ شرو ع ہو چکی تھی اور دونوں طرف کی فوجیں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑی تھیں۔ حالانکہ مسلمان کم تھے لیکن پھر بھی وہ کافروں پر حاوی تھے اور ان کے بائیس ( 22) سرداروں کو قتل کر چکے تھے۔ ان بائیس سرداروں کے نام امام عبدا لملک بن ہشام نے اپنی کتاب میں درج کئے ہیں اور یہ بھی بتایا ہے کہ کس سردار کو کس صحابی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا۔

جنگ پر مسلمان حاوی ہو گئے اور قریش بھاگ پڑے

   میدانِ اُحد میں جنگ اپنے شباب پر تھی۔حالانکہ قریش کا لشکر 3000 تین ہزار کا تھا اور مسلمان صرف سات سو تھے۔ اس کے باو جود مسلمان آگے بڑھ بڑھ کر حملہ کر رہے تھے۔ کیونکہ وہ شہید ہو کر جنت میں جانے کی تمنا کر رہے تھے۔ ان کے مقابلے میں قریش کے کافروں میں وہ جوش و خروش نہیں تھا۔ اس لیے وہ سراسیمگی کا شکار تھے۔ سب سے زیادہ بہادری سے حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ عنہ لڑ رہے تھے ۔حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ عنہ کا یہ عالم تھا کہ آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل کافروں کو کاٹتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے اور جو بھی مشرک سامنے آتا اسے لاش میں تبدیل کر دیتے۔ اسی طرح آپ رضی اﷲ عنہ کافروں کو لاش میں تبدیل کر تے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ ابو سفیان کی بیوی ہندہ بنت عتبہ آگے آ گئی۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اسے مرد سمجھ کر تلوار اٹھائی تھی کہ وہ مدد کے لیے اپنے ساتھیوں کو پکارنے لگی تو ابو دجانہ رضی اﷲ عنہ چونک پڑے اور تلوارروک لی اور واپس ہو گئے ۔کیو نکہ ان کے دل نے یہ گوارا نہیں کیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار سے کسی عورت کو قتل کیا جائے ۔حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ شیر کیطرح بڑھ بڑھ کر حملہ کر رہے تھے۔ جس پر بھی تلوار اٹھاتے اس کی لاش زمین پر گری نظر آتی۔ جنگ کے دوران سباع بن عبد العزیٰ یہ پکارتا ہوا آگے بڑھا ہے کوئی مجھ سے مقابلہ کرنے والا ۔ حضرت حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ نے اس کی للکار سنی تو فرمایا: ’’ اے سباع ! اے عورتوں کی ختنہ کرنے والی عورت کے بچے تو اللہ اور اس کے رسول کو مقابلے کے لئے للکارتا ہے۔‘‘ یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ نے ایک ہی وار میں کیا اور اسے قتل کر دیا۔

اللہ کے شیر حضرت حمزہ ؓ کی شہادت

   اس سے پہلے قریش کے لشکر کی رو انگی کا حال بتاتے ہو ئے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ جبیر بن مطعم کا غلام وحشی خنجر ( یا نیزہ) پھینکنے میں بہت ماہر تھا اورہندہ بن عتبہ ( ابو سفیان کی بیوی اور جبرین بن مطعم نے وحشی کو پیش کش کی کہ وہ اگر حمزہ (رضی اﷲ عنہ ) شہید کردے تو اسے آزاد کردیا جائے گا۔ اس لئے وحشی بھی قریش کے لشکر میں شامل ہو گیا تھا اور راستے میںہندہ بن عتبہ اسے بار بار اکساتی رہی۔غزوہ احد جب شروع ہوئی تو وحشی نے جنگ میں حصہ نہیں لیا اور صرف حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ کی تاک میں بیٹھا رہا اور اسے جیسے ہی موقع ملا اس نے حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ پر وار کیا اور واپس قریش کے لشکر کے پیچھے آکر بیٹھ گیا۔ فتح مکہ کے بعد اس نے اسلام قبول کیا اور سیدالا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آکر تمام واقعہ بتا یا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ’’مجھے ایک ہزار کافروں کو قتل کر نے سے زیادہ پسند یہ بات ہے کہ ایک کافر اسلام قبول کر لے۔ بہرحال اب تم میرے سامنے مت آنا۔کیو نکہ تمہیں دیکھ کر مجھے میرے چچا حضرت حمزہ رضی اﷲ عنہ یاد آئیں گے۔‘‘اس کے بعد حضرت وحشی جب بھی سید الا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آ تے تو پیچھے چھپ کر بیٹھتے تھے۔ بعد میں حضرت وحشی نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’’ غزوہ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اس طرح بڑھ بڑھ کر حملہ کر رہے تھے کہ قریش کے مشرکین کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ میں اُن کی تاک میں لگا ہوا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جس طرف بھی تلوار کرتے تھے اس طرف قریش کے مشرکین کی لاشیں گر جاتی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے قریش کاغذ کے انسان ہوںاور وہ کسی مست اونٹ سے ڈر کر ادھر ادھر بھاگ رہے ہوں۔ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی گھات میں بیٹھا ہوا تھا اور اُن کے قریب آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ جب وہ اتنے قریب آگئے کہ اب میں پکا نشانہ لگا سکتا تھا تو میں نے نشانہ لگا کر خنجر(یا نیزہ) اُن کے سینے کی طرف پھینکا اورمیں نے دیکھا کہ میر ا نشانہ خالی نہیں گیا۔ میں یہ نہیں دیکھ سکا کہ خنجر(یا نیزہ) انھیں کہاں لگا ہے۔ بس صرف اتنا دیکھا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ خنجر کے لگتے ہی جھکتے چلے گئے اور آخر کار گر پڑے۔ میں سمجھ گیا کہ میر امقصد پورا ہو چکا ہے۔ اس لئے میں مسلمانوں سے بچتے ہوئے قریش کے لشکر کے پیچھے چلا گیا۔ ‘‘ حضرت وحشی فرماتے ہیں : ’’ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی وجہ سے ہمیشہ شرمندہ رہا اور میں اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا رہا اور مسلمانوں کے ساتھ ہر جنگ میں شریک ہوتا رہا۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے مجھے موقع عنایت فرمایا۔ خلیفہ اوّل حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں انھوں نے مسیلمہ کذاب کے خلاف ( مسیلمہ کو ’’کذاب‘‘ یعنی جھوٹا کا لقب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا کیوں کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں جو اسلامی لشکر بھیجا تھا میں اس میں شامل تھا۔ اس جنگ میں بھی میں صرف مسیلمہ کذاب کی تاک میں تھا اور جیسے ہی وہ بد بخت میرے نشانے پر آیا میں نے نشانہ لگا کر خنجر(یا نیزہ) اس پر پھینکا وہ مسیلمہ کذاب کو جا لگا لیکن اسی دوران میری جان نکل گئی کیوں کہ اسی وقت حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ مسیلمہ کذاب کو قتل کرنے کے لئے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہ بال بال میرے خنجر سے بچے ، اگر انہیں کچھ ہو جاتا تو میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر پاتا ۔ بہر حال مسیلمہ کذاب کو قتل کر نے کے بعد مجھے تھوڑا اطمینان ہونے لگا۔‘‘

غسیل ُ الملائکہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کی شہادت

   حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کا باپ ابو عامر فاسق تھا۔ وہی ابو عامر فاسق جو جنگ کی شروعات میں قبیلہ اوس کو بھڑکانے آیا تھا اور ناکام قریش کے لشکر میں لوٹ گیا تھا۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے اس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ میں اپنے باپ ابو عامر کو قتل کروں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت نہیں دی۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ بڑھ بڑھ کر قریش کے لشکر پر حملہ کر رہے تھے اور صفوں کو چیرتے ہوئے قریش کے لشکر کے قلب میں پہنچ گئے۔ وہاں ابو سفیان اپنے’’ حفاظتی دستے‘‘ کے ساتھ تھا۔ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان پر حملہ کر دیا اور قریب تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ کا وار کام کر جاتا لیکن پیچھے سے شداد بن اسود نے ایسا وار کیا کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ حنظلہ رضی اللہ عنہ کو ابر کے پانی سے غسل دے رہے ہیں۔‘‘ ان کی بیوی ( اُن کی بیوی کا نام جمیلہ ہے یہ بھی صحابیہ ہیں ۔ رئیس المنافقین عبدا للہ بن اُبیّ کی بہن ہیں)سے دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ حالت جنابت میں ہی جہاد کے لئے روانہ ہو گئے تھے اوراسی حالت میں شہید ہوئے تھے۔جس روز حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تھے۔جس روز حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ شہید ہونے والے تھے۔ اسی رات اُن کی بیوی سیدہ جمیلہ رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ آسمان کا دروازہ کھلا اور حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ اس میں داخل ہو گئے اور ان کے داخلہونے کے بعد وہ دروازہ بند کر دیا گیا۔ سیدہ جمیلہ رضی اللہ عنہا اس خواب سے سمجھ چکی تھیں کہ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ اس دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں۔جنگ ختم ہو نے کے بعد اُن کی لاش تلاش کی گئی تو اس سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ اسی وجہ سے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ غسیل الملائکہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔

قریش شکست کھا کر بھاگنے لگے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلامی لشکر تھا۔ حالانکہ قریش کے مقابلے میں ان کی تعداد کم تھی۔ اس کے باوجود مسلمان اتنی جواں مردی سے حملہ اور مقابلہ کر رہے تھے کہ قریش کے لشکر کے قدم اکھڑ گئے۔ حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق ، حضرت علی المرتضیٰ ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت مصعب بن عمیر ، حضرت طلحہ بن عبیداللہ ، حضرت عبداللہ بن جحش، حضرت سعد بن معاذ، حضرت سعد بن عبادہ ، حضرت سعد بن ربیع اور حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہم اتنی بہادر ی اور جاں بازی سے لڑ رہے تھے کہ قریش کے حوصلے ٹوٹ رہے تھے اور ان کی قوتِ بازو جواب دے رہی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی میدانِ جنگ میں موجود تھے اور ان کی موجودگی سے تمام مسلمانوں کے حوصلے بلند تھے۔ علامہ احمد بن محمد قسطلانی لکھتے ہیں ۔پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر مدد نازل فرمائی تو انھوں نے کافروں کو یوں قتل کیا کہ جڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیا اور ان کو لشکر سے بھگا دیا اور شکست دی۔ کافر اس طرح بھاگنے لگے کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ رہے تھے اور اُن کی عورتیں ’’ ہائے خرابی ، ہائے خرابی‘‘ پکار رہی تھیں۔ مسلمان کافروں کا پیچھا کر رہے تھے انھیں دوڑا کر پکڑ کر قتل کر رہے تھے اور اُن کا مال غنیمت کے طور پر رکھ رہے تھے۔ قریش کے کافروں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے اور اُن کا جھنڈا گرا پڑا تھا۔ کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ گرے ہوئے جھنڈے کو اٹھائے بلکہ وہ اپنی جان بچانے کے لئے بھاگے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ قریش کی عورتیں بھی بھاگی جا رہی تھیں۔

تیر انداز درّہ چھوڑ کر ہٹ گئے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ میدان ِ جنگ میں ڈٹے ہوئے تھے اور مسلسل آگے بڑھ رہے تھے ۔ قریش کے کافروں کے پیر اکھڑ گئے تھے اور وہ بھاگ رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان آگے بڑھتے بڑھتے قریش کے لشکر کی جگہ پہنچ گئے تھے اور مسلمانوں کی فتح صاف نظر آرہی تھی اور میدان میں مسلمان مال غنیمت جمع کر نے لگے۔ یہ دیکھ کر درّے پر تعینات تیر انداز بھی درّے سے اترنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں ڈانٹا اورفرمایا: ’’ اپنی جگہ ڈٹے رہو۔‘‘ اُن لوگوں نے کہا :’’ جنگ اب ختم ہو گئی ہے اور کافر بھاگ رہے ہیں اور فتح ہماری ہو گئی ہے۔ ہمارے ساتھی مال غنیمت جمع کر رہے ہیں اس لئے ہمیں بھی مال غنیمت جمع کرنے چلنا چاہیئے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے انھیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات یاد دلائے اور فرمایا : ’’ کیا تم لوگ بھول گئے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کیا حکم دیا تھا؟ ‘‘لیکن اکثریت نے اُن کی بات نہیں مانی اور بولے : ’’ہم تو ضرور جائیں گے اور مال غنیمت ضرور حاصل کریں گے۔‘‘ اور لگ بھگ چالیس تیر انداز درّہ چھوڑ کر میدان میں آگئے اور مال غنیمت جمع کرنے لگے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا حملہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر اندازوں کو درّہ پر تعینات کرتے وقت فرمایا تھا کہ کسی بھی حال میں درّہ چھوڑ کر نہیں آنا اور وہیں ڈٹے رہنااور انھوں نے ابھی تک اطاعت کی تھی ۔ اِدھر مسلمان میدان ِ اُحد میں کافروں کا زبردست مقابلہ کر رہے تھے اور اُدھر درّہ پر تیر انداز مستعد تھے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا اور قریش کے کافروں کے لشکر کے میمنہ کے کمانڈر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بہت زبردست جنگی صلاحیت اور جنگی دماغ عطا فرمایا تھا۔ وہ یہ سمجھ چکے تھے کہ وہ درّہ ہی ایسی جگہ ہے جہاں سے مسلمانوں پر کاری وار پڑ سکتا ہے اور اس کے لئے انھوں نے کوشش بھی کی تھی ۔لیکن حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھی پچاس تیر اندازوں نے اتنے زبردست طریقے سے تیر برسائے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو پسپا ہونا پڑا۔ اس طرح وہ تین بار درّہ میں گھسنے کی کوشش کر چکے تھے اور پسپا ہو کر پیچھے ہٹے تھے۔ لیکن اس مرتبہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ درّہ پر صرف دس تیر انداز تعینات ہیں اور باقی چالس مالِ غنیمت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں تو انھوں نے اس سنہرے موقع کا فائدہ اٹھا یا اور درّہ پر فوراً حملہ کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ اُن پر تیر برسانا شروع کر دیا۔ لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس زیادہ تیر انداز تھے۔ اس لئے وہ حاوی ہو گئے اور حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ اپنے دس ساتھیوں کے ساتھ شہید ہو گئے ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے درّہ پار کر کے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور زور سے نعرہ لگایا۔

حضرت مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ کی شہادت

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے روانگی کے وقت مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی المرتضیٰ بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ لیکن غزوہ ٔ احد کی صبح اسلامی لشکر کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جب مسلمانوں کے لشکر پر پیچھے سے حملہ کیا اور نعرہ لگایا تو اسے سن کر بھاگتے ہوئے قریش کے مشرکین رک گئے اور پلٹ کر دیکھنے لگے۔ جب انھوں نے اسلامی لشکر کے پیچھے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو دیکھا تو پلٹ کر وہ بھی مسلمانوں پر حملہ کرنے لگے۔ اس طرح اسلامی لشکر دونوں طرف سے کافروں کے نرغے میں آگیا اور صف بندی ٹوٹ گئی ۔ اسی دوران ایک کافرہ عورت عمرہ بنت علقمہ حارثیہ نے آگے بڑھ کر مشرکین قریش کے لشکر کا جھنڈا ٹھا لیا اور انھیں بلانے لگی۔ مسلمانوں کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اٹھایا ہوا تھا۔ ان کی شکل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتی جلتی تھی۔ انھیں قیمہ لیشی نے شہید کیا اور سمجھا کہ یہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور پلٹ کر زور زور سے چلانے لگا : ’’ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نعوذ باللہ قتل ہو گئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو جھنڈا ٹھانے کا حکم دیا اور انھوں نے جھنڈا اٹھا لیا۔ میدانِ جنگ میں جب یہ افواہ پھیلی کہ ( نعوذ باللہ ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم ( نعوذ باللہ ) قتل ہو گئے تو کافروں میں جوش پیدا ہو گیا اور مسلمانوں میں مایوسی پھیل گئی۔

سید الانبیاء ﷺ کی ثابت قدمی

   حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے اچانک حملے سے بڑے بڑے دلیر سورمائوں کے قدم اکھڑ گئے۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح ثابت قدم رہے کہ آپ کے قدم استقلال میں ذرّہ برابر بھی تزلزل نہیں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کافروں کے مقابلے پر ڈٹے رہے اور مقابلہ کرتے رہے۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دیکر بھیجا ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک ایک بالشت ( یعنی چند انچ) بھی پیچھے نہیں ہٹے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھی اور کبھی جاتی تھی۔ بعض اوقات میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس کھڑے ہو کر تیر اندازی اور سنگ باری فرما رہے تھے۔ یہاں تک کہ دشمن پیچھے ہٹ گئے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کا چہرہ ٔ مبارک زخمی اور دندان ِ مبارک شہید

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ثابت قدمی سے کافروں کا مقابلہ کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزرہیں پہن رکھی تھیں اور سر پر لوہے کا خود ( ٹوپی) پہنے ہوئے تھے جس کی کڑیاں لٹک رہی تھیں ۔ چونکہ میدانِ جنگ میں سید الانبیاء کے ( نعوذ باللہ ) قتل کی افواہ پھیل گئی تھی۔ اس کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں مایوسی پھیل گئی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے محسوس کر لیا تھا ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکوں کے قریب تھے اور اگرانھیں معلوم ہوجاتا کہ یہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان پہنچانے کی بھر پور کوشش کرتے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوصلے بڑھانا اور مایوسی ختم کرنا بہت ضروری تھا۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے باآواز بلند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پکارا اور بتایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں نئی جان آگئی اور پورے میدان میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کافروں کو مارتے کاٹتے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگے۔ لیکن سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دلیرانہ اقدام کا نقصان یہ ہوا کہ کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیااور حملے کرنے لگے۔ عبداللہ بن قمیہ قریش کا بہت مشہور پہلوان تھا۔ اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بڑا پتھر پھینک کر مارا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خود پر لگا اور خود ( لوہے کی ٹوپی) کی کڑیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسارِ مبارک میں گُھس گئیں۔ عبداللہ بن شہاب نے پتھر مار کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی ٔ مبارک زخمی کر دی اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بھائی عتبہ بن ابی وقاص نے پتھر مارا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو دندانِ مبارک بھی شہید ہو گئے۔ ابن قمیہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو زخمی کرنے کے بعد کہا : ’’لو اسے میں ابن قمیہ ہوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ تجھ کو ذلیل و خوار اور ہلاک کرے۔‘‘ چند دنوں بعد اللہ تعالیٰ نے ایک پہاڑی بکرا اس پر مسلط کر دیا جس نے اپنی سینگوں سے مار مار کر ابن قمیہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ مبارک سے خون بہنے لگا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جاں نثار ی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین میں گھرے ہوئے اُن کا مقابلہ کر رہے تھے اور صحابہکرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کی بھر پور کوشش کر رہے تھے اور مشرکین پر لگاتار حملے کرتے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچتے جا رہے تھے۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ پہنچے ۔ اس وقت تک مشرکین سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گڑھے میں گرا چکے تھے۔ جو ابوعامر فاسق نے مسلمانوں کو گرانے کے لے کھودا تھا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے کمر تھام کر سہارا دیا ( دو ذرہوں کے وزن کی وجہ سے پریشانی ہو رہی تھی) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ۔ اسی درمیان میں مشرکوں کا گھیرا توڑ کر اور بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پہنچ گئے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے گر گھیرا بنا لیا ۔ان میں سات انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم تھے اور سات مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہم تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کا جھنڈا اٹھانے کا حکم دیا تھا۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھیرے میں دیکھا تو جھنڈا لے کر کافروں سے لڑنے لگے اور وہاں سے دور ہوگئے ۔ جو سات مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے ان کے نام یہ ہیں۔ (1)حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (2) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ (3) حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ (4) حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ (5) حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ (6) حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ (7) حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ۔ انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام یہ ہیں۔ (1) حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ (2) حضرت حباب بن منذر رضی اللہ (3) حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ (4) حضرت حارث بن صمّہ رضی اللہ عنہ (5) حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ (6) حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ (7) حضرت اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ ۔ یہ چودہ اصحاب رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ لیکن ان میں سے بعض حضرات مشرکوں سے لڑتے ہوئے یا دوسری ضرورتوں کے تحت کبھی کبھی ہٹ جاتے تھے۔ مگر جلد ہی واپس ہو جاتے تھے۔ اسی لئے ہمیں مختلف روایات ملتی ہیں۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت برابن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت میں بارہ اصحاب رضی اللہ عنہم کا ذکر ہے اور سنن نسائی اور اور دلائل بیہقی میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں گیارہ اصحاب رضی اللہ عنہم کا ذکر ہے اور صحیح مسلم میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں سات اصحاب رضی اللہ عنہم کا ذکر ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ صحابہ کرام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتے جاتے رہتے تھے۔

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی محبت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا تھا اور خود کی دو کڑیاں رخسارِ مبارک میں گھس گئی تھیں۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد حضرت مالک ابن سنان رضی اللہ عنہ وہاں آگئے انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا خون چوس کر صاف کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہیں دوزخ کی آگ ہرگز نہیں چھوئے گی۔ اب خود کی دو کڑیاں نکالنی تھی جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسارِ مبارک میں گھسی ہوئی تھیں اب حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اپنے دانتوں سے پکڑ کر اس کڑی کو کھینچنے لگے تو پہلی کڑی نکالنے میں ایک دانت ٹوٹ گیا۔ دوسری کڑی نکالنے کے لئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے تو حضرت ابو عبیدہ بن جراّح رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یہ بھی مجھے نکالنے دیں اور دوسری کڑی نکالنے میں دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا۔

انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جاں نثاری

   حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اُحد کے روز سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سات انصار صحابہ رضی اللہ عنہم اور دو قریشی صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ الگ تھلگ رہ گئے تھے۔ یہ صحیح مسلم کی روایت ہے جب قریش کے کافر بالکل قریب پہنچ گئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کون ہے جو ان کو دفع کرے ( یعنی لڑتے ہوئے دور لے جائے) اس کے لئے جنت ہے یا ( یہ فرمایا کہ ) وہ جنت میں میر ا رفیق ہو گا۔‘‘ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آگے بڑھتے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے ۔ اس کے بعد پھر مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب آگئے تو دوسرے انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور لڑتے ہوئے مشرکین کو دھکیلتے ہوئے دور تک لے گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ اس طرح باری باری ساتوں انصاری صحابی رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اس پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔‘‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شریک تھے اور اس جنگ میں اُن کے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ شہید ہو ئے تھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ مشرکین نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کون ہے جو ان سے نمٹے؟ ‘‘حضرت طلحہ بن عبیدا للہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں (ان سے نمٹوں گا) ۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں روک دیا اور ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور مشرکوں سے لڑتے ہوئے اور انھیں دھکیلتے ہوئے دور تک لے گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ اس طرح تمام انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے۔انصاری صحابی رضی اللہ عنہم میں آخری شہید ہونے والے حضرت زیاد بن سکن رضی اللہ عنہ تھے۔ انھیں یہ شرف حاصل ہے کہ جب وہ بہت زیادہ زخمی ہو گئے اور گر پڑے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ ان کو میرے قریب لائو جب انھیں قریب لایا گیا تو انھوںنے اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پر رکھ دیا اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں پہنچ گئے۔

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی جاں نثاری

   حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جاری ہے۔ جب تمام انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عہنم شہید ہو گئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ تیزی سے مشرکوں پر حملہ آور ہوئے اور لڑتے لڑتے انھیں دھکیلتے ہوئے دور تک لے گئے اور پھر بھاگ کر آکر چاروں ہاتھوں پیروں کے بل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پیٹھ پر اپنا پیر رکھا اور اوپر چڑھے اس طرح آپ رضی اللہ عنہ کافروں سے لڑتے ہوئے دو ر تک لے جاتے تھے اور واپس آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر چڑھاتے اور جب مشرکین قریب آتے تو پھر انھیں لڑتے ہوئے دور تک لے جاتے ۔ اس طرح حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے گیارہ آدمیوں کے برابر تنہا جنگ کی آپ رضی اللہ عنہ مشرکوں کے وار کو اپنے ہاتھ پر روک رہے تھے ۔ مشرکوں کی ایک تلوار ان کی انگلیوں پر لگی جس سے انگلیاں کٹ گئیں۔ اس پر حضرت طلحہ بن عبیدا للہ رضی اللہ عنہ کے منہ سے ’’سی‘‘ یا ’’حس‘‘ کی آواز نکلی۔ ( جیسا کہ لاشعوری طور سے زخم لگتے وقت ہمارے منہ سے آواز نکلتی ہے) تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اگر تم بسم اللہ یا اللہ اکبر کہتے تو فرشتے تمہیں اٹھا لیتے اور لوگ دیکھتے ۔

اگر کسی شہید کو دیکھنا چاہو تو طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھو

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو محفوظ جگہ پہنچانے کے بعد حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ مشرکوں پر ٹوٹ پڑے اور ان پر اتنا شدید حملہ کیا کہ مشرکین بھاگنے لگے۔ اس دن حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو 35پینتیس یا انتالیس 39زخم آئے اور اُن کی بیچ والی اور شہادت کی انگلیاں شل ہو گئیں۔ حضرت قس بن حازم روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : ’’میں نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ دیکھا کہ وہ شل تھا ۔ جس سے انھوں نے احد کے دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا یا تھا۔‘‘ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جب بھی غزوہ احد کا ذکر فرماتے تو کہتے کہ جنگ احد کُل کی کُل طلحہ کے لئے تھی اور یہ فرماتے تھے : ’’ اے طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ !تمہارے لئے جنتیں واجب ہو گئیں اور تم نے اپنے یہاں حورعین کا ٹھکانہ بنا لیا۔‘‘ کیوںکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی پہاڑ پر چڑھنے کا ارادہ کرتے تھے تو ( خون بہہ جانے کی وجہ سے ) ضعف اور نقاہت کا شکار تھے اور دوزرہوں کے بوجھ کی وجہ سے چڑھ نہیں پاتے تھے ایسے وقت میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیٹھ جاتے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر پیر رکھ کر اوپر چڑھ جاتے۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا :’’ طلحہ نے اپنے لئے جنت واجب کر لی۔‘‘ یہ محمد بن اسحاق کی روایت ہے ۔ ترمذی کی روایت میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے روز فرمایا : ’’ جو شخص کسی شہید کو زمین پر چلتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے وہ طلحہ بن عبیدا للہ رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔ ‘‘

اے اللہ ، میری قوم کو ہدایت دے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک جب زخمی ہو ا اور خون بہنے لگا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرہ مبارک سے خون پونچھتے جار ہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : ’’ وہ قوم کیسے کامیاب ہو سکتی ہے جس نے اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے چہرے کو زخمی کر دیا اس کا دانت توڑ دیا۔ حالانکہ وہ انھیں اللہ کی طرف بلا رہا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری )اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (ترجمہ)’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( ان کے بارے میں ) اختیار نہیں ہے۔ اللہ چاہے تو انھیں توبہ کی توفیق دے اور چاہے تو عذاب دے کہ وہ ظالم ہیں۔‘‘ ( سورہ آل عمران آیت نمبر128) طبرانی کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے روز فرمایا: ’’ اس قوم پر اللہ کا عذاب ہو جس نے اپنے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا چہرہ خون آلود کر دیا۔ ‘‘پھر تھوڑی دیر رک کر فرمایا: ’’ اے اللہ تعالیٰ !میری قوم کو بخش دے۔ وہ نہیں جانتی ۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار یہی فرمارہے تھے : ’’ اے میرے پروردگار میری قوم کوبخش دے وہ نہیں جانتی ( صحیح مسلم )اور’’ الشفا ‘‘میں یہ الفاظ ہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: ’’ اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے وہ نہیں جانتی۔‘‘

میرے ماں باپ تم پر فِدا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب نسبتاً اونچے مقام پرپہنچ گئے تو اس وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ تیر چلانے میں بہت ماہر تھے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکش کے تمام تیر نکال کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے سامنے پھیلا دیئے اور فرمایا: ’’ اے سعد رضی اللہ عنہ !تیر چلا !میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے سوائے حضرت سعد بن ابی وقاص کے کسی اور کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے نہیں سنا کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔ ‘‘ امام حاکم روایت کرتے ہیں کہ احد کے دن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک ہزار تیر چلائے ۔ اس دن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک تیر سے تین کافروں کو قتل کیا۔ ہوا یہ کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک کافر کو تیر مارا جس سے وہ مر گیا۔ دوسرے کافر نے وہ تیر نکال کر سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی طرف مارا۔ دونوں حضرات نے اپنے آپ کو بچایا اور پھر آپ رضی اللہ عنہ نے وہی تیر اٹھا کر دوسرے کافر کو مارا جس سے وہ قتل ہو گیاتو ایک اور کافر نے وہ تیر نکال کر دونوں حضرات کو مارا ۔ انھوں نے اپنے آپ کو بچا یا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تیر اٹھا کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو دیا اور انھوں نے وہ تیر تیسرے کافر کو مار ا جس سے وہ مر گیا۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بارش

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نسبتاً اونچے مقام پر تھے۔ اس لئے کافر ان پر تلوار سے وار نہیں کر سکتے تھے اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ لگاتار تیر چلا کر انھیں اوپر آنے سے روک رہے تھے۔ ایسے وقت میں کافروں نے طے کیا کی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر تیروں کی بارش کی جائے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تیر برسانے لگے۔ جن سے دونوں حضرات جھکائی دے کر بچنے لگے۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ قریب ہی مشرکوں سے لڑ رہے تھے۔ انھوں نے تیروں کی برسات دیکھی تو فوراً آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر چھا گئے۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ لمبے چوڑے تھے اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انھوں نے پوری طرح چھپا لیا تھا۔ مشرکین آپ رضی اللہ عنہ کی پیٹھ ( پشت) پر تیر برسا رہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھال بنے ہوئے تھے اور اس اندیشے سے بالکل حرکت نہیں کر رہے تھے کہ کہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تیر نہ لگ جائے۔ حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد کے بعد کافی دنوں تک زندہ رہے اور مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ ِ یمامہ میں شریک ہوئے اور اسی جنگ میں شہید ہو ئے۔

حضرت یمان رضی اللہ عنہ کی شہادت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ حالات پیش آرہے تھے اور اسی دوران میدان احد میں دوسرے واقعات بھی پیش آرہے تھے۔ چند واقعات ہم پیش کرتے ہیں۔ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ کیا اور زور سے نعرہ لگایا تو بھاگنے والے کافروں نے بھی پلٹ کر حملہ کر دیا اس طرح مسلمان دو طرفہ نشانے پر آگئے۔ ایسے وقت میں مسلمانوں اور کافروں کی صفیں ٹوٹ گئیں اور وہ گذ مڈ ہو گئے اور زرہ اور خود ( لوہے کی ٹوپی) کی وجہ سے پہچان میں نہیں آرہے تھے۔ اسی کشمکش میں مسلمانوں نے حضرت یمان رضی اللہ عنہ کو کافر سمجھ کر حملہ کر دیا۔ ان کے بیٹے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ دور سے دیکھ کر چلائے کہ یہ میرے والد ہیں لیکن تب تک حضر ت یمان رضی اللہ عنہ شہید ہو چکے تھے۔ بعد میں مسلمانوں کو شرمندگی ہوئی تو انھوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے معافی مانگی تو انھوں نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کرے وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دیت دینا چاہی لیکن حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے معذرت کر لی۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ان کی عزت اور بڑھ گئی۔

انصار صحابہ رضی اللہ عنہم کی ثابت قدمی اور شہادت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ( نعوذ باللہ ) قتل کی خبر جب میدان اُحد میں پھیلی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں مایوسی پھیل گئی اور غم کی وجہ سے لڑنے پر سے اُن کی توجہ ہٹ گئی۔ انصار کی ایک جماعت اسی کشمکش کا شکار تھی کہ ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا : ’’ اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( نعوذ باللہ) قتل کر دیئے گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ تو زندہ ہے۔ وہ نہیں مر سکتا۔ تم اپنے دین اسلام اور اللہ کے لئے لڑو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں فتح اور مدد عطا فرمائے گا۔ ‘‘یہ سن کر انصار کی وہ جماعت اٹھ کھڑی ہوئی ۔ حضرت ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ مل کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( اس وقت کافر تھے) اور ان کے کافر ساتھیوں پر حملہ کر دیا اور لڑتے لڑتے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں نیزے کھا کے شہید ہو گئے۔ ان کے ساتھ وہ انصار کی جماعت بھی شہید ہو گئی ۔ ایک مہاجر صحابی رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے وہ خون میں لت پت زخمی پڑے تھے۔ مہاجر نے کہا: ’’ بھئی فلاں ! آپ کو معلوم ہے کہ ( نعوذ باللہ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے ہیں ۔‘‘اُن زخمی خون میں لت پت انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے مہاجر صحابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اگر ( نعوذ باللہ ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قتل کر دیئے گئے ہیں تو وہ اللہ کا دین پہنچا چکے ہیں۔ اب ہمارا کام ہے کہ ہم اس دین ( اسلام) کی حفاظت کے لئے لڑیں۔ ‘‘

حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کی شہادت

   حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کو غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے کا بہت رنج تھا۔ ایک مرتبہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے افسوس ہے کہ میں مشرکین کے خلاف اسلام کی پہلی جنگ میں شریک نہ ہو سکا۔ اگر اللہ تعالیٰ مجھے آئندہ کسی جنگ میں شریک ہونے کی توفیق دے گا توا للہ دیکھ لے گا کہ میں اللہ کے لئے کیسی جدو جہد اور جاں بازی اور سرفروشی دکھاتا ہوں۔‘‘ جب غزوہ احد میں مسلمان ہمت ہار بیٹھے تو انھوں نے فرمایا: ’’ اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( نعوذ باللہ) شہید ہو گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ تو زندہ ہے۔ جس چیز پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جنگ کر رہے تھے ۔ اسی چیز پر اللہ کے لئے جنگ کرو اور اسی پر شہید ہو جائو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہ کر کیا کرو گے۔‘‘ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے اللہ تعالیٰ! میں مسلمانوں کے فعل پر معافی مانگتا ہوں اور جو کچھ مشرکین نے کیا ہے اس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ اور تلوار لے کر آگے بڑھے کہ اتفاق سے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سامنے آگئے۔ ان کو دیکھ کر حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ! کہاں جا رہے ہو؟بے شک میں احد پہاڑ کے درمیان جنت کی خوشبو سونگھ رہا ہوں۔‘‘ ( یہ الفاظ صحیح بخاری کی کتاب المغازی کی روایت میں ہے اور صحیح بخاری کی کتاب الجہاد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں)’’ اے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ !یہ ہے جنت۔ قسم ہے نضر کے پروردگار کی۔ بے شک میں جنت کی خوشبو کو احد پہاڑ کے نیچے پا رہا ہوں۔‘‘ اور مشرکین سے بھڑ گئے اور اتنا زبردست حملہ کیا کہ بہت سے مشرکوں کو قتل کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ بہادری اوربے باکی سے لڑتے رہے۔ آخر کار شہید ہو گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر تیر اور تلوار کے اسّی (80) سے زیادہ زخم تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں قرآن پاک میں آیت نازل فرمائی: ( ترجمہ ) ’’ مسلمانوں میں سے بعض ایسے مرد ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد باندھا ( کیا) تھا اس کو سچ کر دکھایا ۔ ‘‘( سورہ الاحزاب آیت نمبر23)

سید الانبیاء ﷺ کو سب سے پہلے دیکھنے والے صحابی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی (نعوذ باللہ ) قتل کی خبر پھیلنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ الگ الگ ہو گئے تھے۔(جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ ) ایسے وقت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں ہمت اور حوصلہ اور جوش جگانے کے لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دلیرانہ اور بہادری سے بھرا قدم اٹھایا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان خطر میں پڑ سکتی تھے اور کافربھی متوجہ ہو سکتے تھے۔لیکن مسلمانوں میں نئی روح اور نئی جان پھونکنا ضروری تھا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطرہ اٹھانا منظور کر لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آواز لگائی۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ قریب ہی تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن کر پہچان گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے لگے۔ خود پہننے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے پہچانااور اسی وقت بلند آواز سے پکار پکار کر کہنے لگے : ’’ اے مسلمانوں بشارت ہو ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ دبا کر اشارہ کیا کہ خاموش رہو۔ لیکن کافروں اور مسلمانوں دونوں کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کا علم ہو گیا تھا اور جنگ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف ہونے لگی۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ میں نے پہن لی اور میری زرہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنا دی۔ دشمنوں نے مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر مجھ پر تیر برسانا شروع کر دیئے مجھے بیس سے زیادہ زخم آئے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کو سب سے پہلے دیکھنے والے صحابی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی (نعوذ باللہ ) قتل کی خبر پھیلنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ الگ الگ ہو گئے تھے۔(جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں آپ پڑھ چکے ہیں۔ ) ایسے وقت میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں ہمت اور حوصلہ اور جوش جگانے کے لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ دلیرانہ اور بہادری سے بھرا قدم اٹھایا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان خطر میں پڑ سکتی تھے اور کافربھی متوجہ ہو سکتے تھے۔لیکن مسلمانوں میں نئی روح اور نئی جان پھونکنا ضروری تھا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطرہ اٹھانا منظور کر لیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آواز لگائی۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ قریب ہی تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سن کر پہچان گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے لگے۔ خود پہننے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے پہچانااور اسی وقت بلند آواز سے پکار پکار کر کہنے لگے : ’’ اے مسلمانوں بشارت ہو ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ دبا کر اشارہ کیا کہ خاموش رہو۔ لیکن کافروں اور مسلمانوں دونوں کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کا علم ہو گیا تھا اور جنگ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف ہونے لگی۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ میں نے پہن لی اور میری زرہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنا دی۔ دشمنوں نے مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ کر مجھ پر تیر برسانا شروع کر دیئے مجھے بیس سے زیادہ زخم آئے۔ ‘‘

حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کی آنکھ اچھی ہو جانا

   حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اُحد کے دن میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور اپنا چہرہ دشمنوں کے سامنے کر دیا۔ تا کہ دشمنوں کے تیر میرے چہرے پر لگیںاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک محفوظ رہے۔ دشمنوں کا آخری تیر میری آنکھ پر لگا جس سے میری آنکھ کا ڈھیلا باہر نکل آیا۔ وہ میں نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آب دیدہ ( آنکھوں میں آنسو) ہو گئے۔ اور میرے لئے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ !جس طرح قتادہ رضی اللہ عنہ نے تیرے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی حفاظت فرمائی اسی طرح تو بھی اس کے چہرے کو محفوظ رکھ اور اس آنکھ کو دوسری آنکھ سے بھی زیادہ خوب صورت اور تیز نظر بنا۔ ‘‘اور آنکھ کو اسی جگہ رکھ دیا۔ اسی وقت میری آنکھ بالکل صحیح اور سالم ہو گئی اور پہلے سے بہتر اور تیز ہو گئی۔‘‘

حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کی جاں نثاری

   حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اُحد کے دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ڈھال بنے ہوئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ بہت ماہر تیر انداز تھے۔ اس دن دو یا تین کمانیں توڑ ڈالیں۔ جو مسلمان بھی ترکش لئے ادھر سے گزرتا تھا اس سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ’’یہ ترکش ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے لئے چھوڑ جائو۔‘‘ اور جب حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تیر چلاتے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں گیا تو حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے تھے : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر نہ اٹھائیں ۔ مجھے ڈر ہے کہ کوئی تیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ لگ جائے۔ میرا سینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ڈھال ہے۔ ‘‘

حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کی شہادت

   حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اُحد کے دن جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ’’ آئو ہم دونوں لوگوں سے الگ تھوڑی دیر بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں اور ایک دوسرے کی دعا پر آمین کہیں۔‘‘ میں نے کہا : ’’ ٹھیک ہے چلو۔‘‘ ہم دونوں لوگوں سے کچھ دور ایک طرف بیٹھ گئے۔ میں نے پہلے دعا مانگی : ’’ اے اللہ !میرا آج ایسے دشمن سے مقابلہ ہو جو نہایت شجاع ، دلیر اور بہادر ہو ، کچھ دیر تک میں اس کا مقابلہ کروں اور وہ میرا مقابلہ کرے ۔ پھر اس کے بعد اے اللہ مجھ کو اس پر فتح نصیب فرما۔ یہاں تک کہ میں اسے قتل کروں اور اس کا سامان مال غنیمت میں حاصل کروں۔ ‘‘میری اس دعا پر حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے آمین کہا: ’’ اور اس کے بعد انھوں نے دعا مانگی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! آج میرا ایسے دشمن سے مقابلہ ہو جو بڑا ہی سخت اور اور طاقتور ہو۔ میں تیرے لئے اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے اورآخر کار مجھے قتل کردے اور میری ناک اور کان کاٹے( یعنی مشلہ کرے) اور اے میرے پروردگار !جب میں تجھ سے ملوں اور تو دریافت فرمائے کہ اے عبداللہ بن جحش ( رضی اللہ عنہ ) یہ تیرے ناک اور کان کہاں کٹے؟ تو میں عرض کروں : ’’ اے اللہ تعالیٰ! تیرے لئے اور تیرے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کٹے‘‘ اور اے اللہ تعالیٰ! تُو اس وقت فرمائے کہ تو نے سچ کہا۔‘‘ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ ( اس کے بعد مجھے ہمیشہ یہی احساس رہا کہ ) ان کی دعا میری دعا سے بہتر ( اور اچھی) تھی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد میں نے دیکھا کہ اُن کے ناک اور کان کٹے ہوئے تھے۔ ‘‘حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے میری بھی دعا قبول کی اور میں نے بھی ایک بڑے سخت کافر کو قتل کیا اور اس کا سامان مالِ غنیمت کے طور پر لے لیا۔‘‘ اسی وجہ سے حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ’’ مَجدّع فی اللہ ‘‘ ( یعنی وہ شخص جس کے ناک اور کان اللہ کی راہ میں یا اللہ کے لئے کاٹے گئے ) کے لقب سے مشہور ہوئے۔یہ تھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اللہ تعالیٰ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ۔

حضرت عبداللہ بن عَمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کی شہادت اور اعزاز

   حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت عبداللہ بن عَمرو بن حرام رضی اللہ عنہ بھی غزوہ احد میں شہید ہوگئے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ غزوہ احد میں میرے والد شہید ہو گئے تھے اور کافروں نے ان کا مشلہ کیا تھا۔ جب ان کی لاش سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھی گئی تو میں نے میرے والد کے منہ پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھنا چاہا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے منع فرمایا۔ ( اس وقت حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نوجوان تھے) میں نے دوبارہ چہرہ دیکھنا چاہا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پھر منع کیا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ ( چہرہ دیکھ کر ) میری پھوپھی رونے لگی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ روتی کیوں ہو؟ اس پر تو فرشتے سایہ کئے ہوئے ہیں پھر میرے والد کا جنازہ اٹھایا گیا۔ غزوہ کے بعد میں بہت فکر مند رہنے لگا۔ (کیوں کہ ان کی لگ بھگ نو ( 9) بہنیں تھیں اور ان سب کی ذمہ داری ان پر آگئی تھی) ایک دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ! ( کیا بات ہے) میں تمہیں بہت غمگین دیکھ رہا ہوں؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے ہیں اور کئی بہنیں اور قرض ادا کرنے کی ذمہ داری مجھ پر آگئی ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تمہیں ایک خوش خبری سنائوں ؟‘‘میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیوں نہیں !ضرور سنائیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے بغیر پردہ کے کسی سے بات نہیں کی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور بغیر پردہ کے بالکل سامنے آکر بات کی اور یہ فرمایا: ’’ اے میرے بندے !اپنی کوئی تمنا میرے سامنے بیان کر تو تمہارے والد نے عرض کیا: ’’ اے اللہ تعالیٰ! اے پروردگار !میری تمنا یہ ہے کہ میں پھر زندہ ہوں اور تیری راہ میں یا تیرے لئے پھر دوبارہ ماراجائوں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ یہ نہیں ہو سکتا؟ اس لئے کہ یہ مقدر ہو چکا ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ واپسی نہیں ہے۔‘‘ غزوہ اُحد سے پہلے حضرت عبداللہ بن عَمرورضی اللہ عنہ نے خواب میں حضرت مبشر بن عبدالمنذر کو دیکھا ۔ وہ کہہ رہے تھے : ’’ اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ !تم بھی بہت جلد ہمارے پاس آنے والے ہو۔‘‘ ( حضرت مبشر بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تھے) حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ نے پوچھا : ’’ تم کہاں ہو؟ ‘‘ انھوں نے جواب دیا : ’’ہم جنت میں ہیں ۔ جہاں چاہتے ہیں سیر و تفریح کرتے ہیں ۔ ‘‘ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا :’’ تم تو غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تھے۔ ‘‘انھوں نے کہا : ’’ ہاں لیکن پھر زندہ کر دیا گیا۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ نے یہ خواب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس کی تعبیر شہادت ہے۔‘‘

حضرت عمر و بن جموح رضی اللہ عنہ کی شہادت

   حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ کے بہنوئی حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ بھی اس غزوئہ احد میں شہید ہوئے۔ حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ لنگڑے تھے اور بہت زیادہ لنگڑے تھے۔ (یہ پیدائشی لنگ تھا۔)آپ رضی اللہ عنہ کے چار بیٹے تھے۔ جو ہر غزوہ میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے۔ جب ان کے بیٹے غزوئہ احد میں جانے لگے تو انھوں نے بیٹوں سے کہا : ’’ میں بھی تمھارے ساتھ جہاد پر چلتا ہوں۔‘‘ بیٹوں نے کہا : ’’ ابا جان! آپ رضی اللہ عنہ معذور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو رخصت عطا فرمائی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ یہیں رہیں۔‘‘لیکن آپ رضی اللہ عنہ کو شہید ہونے کی اتنی زبردست تمنا تھی کہ آپ رضی اللہ عنہ لنگڑاتے ہوئے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بیٹے مجھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جنگ پر) جانے نہیں دے رہیں ہیں۔ اللہ کی قسم !میں اسی طرح لنگڑاتے ہوئے جنت میں جانا چاہتا ہوں۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ معذور ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر جہاد فرض نہیں فرمایا ہے۔‘‘ اسکے بعد ان کے بیٹوں کو فرمایا: ’’ کیا حرج ہے اگر تم ان کو نہ روکو۔ ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ ان کو شہادت عطا فرمائے۔‘‘ اور حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ بھی احد میں شریک ہوئے اور شہید ہوئے۔

حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کی دعا کی قبولیت

   حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ جب اسلامی لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ سے نکلے تو قبلہ رو (خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے) ہوکر یہ دعا مانگی : ’’ اے اللہ تعالیٰ! مجھکو شہادت نصیب فرما اور گھر واپس نہ بھیجنا ۔‘‘ حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کا ایک بیٹا حضرت خلاد بن عمرو رضی اللہ عنہ مسلسل لگا رہا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو شہادت کے اعزاز سے نوازا۔ حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کی بیوی (یہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی پھو پھی ہیں ) انھوں نے ارادہ کیا تھا کہ اپنے شوہر، اپنے بیٹے اور اپنے بھائی کی لاش کو مدینہ منورہ میں لے جاکر دفن کریں۔ اسلئے تینوں کو ایک اونٹ پر ڈال کے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئیں تو اونٹ میدان احد کے باہر نہیں جارہا تھا۔ بلکہ میدان احد کے باہر فوراً بیٹھ جاتا اور جب احد پہاڑ کی طرف اسکا رخ کرتیں تو چلنے لگتا تھا۔ انھوں نے آکر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا ماجرا عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ سے نکلتے وقت کچھ کہا تھا۔ ‘‘ان کی بیوی رضی اللہ عنہا نے وہ دعا بتائی جو انھوں نے مدینہ منورہ سے نکلتے وقت کی تھی۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضئہ قدرت میں میری جان ہے۔ بیشک تم میں ایسے لوگ ہیں جو اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کرتا ہے اور حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ انھیں میں سے ایک ہیں اور بیشک میں ان کو جنت میں اسی لنگ کے ساتھ چلتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن جموحرضی اللہ عنہ کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا ۔

حضرت مخریق رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام اور شہادت

   حضرت مخریق رضی اللہ عنہ ایک بہت ہی مالدار یہودی تھے اور بہت بڑے نخلستان کے مالک تھے۔ بنی اسرائیل (یہودیوں) کے بہت بڑے عالم تھے اور توریت کا علم ہونے کی وجہ سے سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’وہ آخری نبی ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ جن کا ذکر توریت میں جگہ جگہ ہے اور بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام نے ان کی آمد کی بشارت دی ہے۔ لیکن ان کے دل پر اپنے مذہب کی محبت غالب تھی ۔ اسی لئے اسلام قبول نہیں کر رہے تھے۔ لیکن جب غزوئہ احد ہوا تو ان کے دل میں اسلام اور اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت پیدا ہوگئی اور یہ محبت ایسی شدید پیدا ہوئی کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فوراً جنگی لباس پہنا۔ ہتھیار اپنے بدن پر سجائے اور بنی اسرائیل (یہودیوں) کی عبادت گاہ میں پہنچ گئے۔ ( غزوئہ بدر سنیچر کے دن ہوئی تھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں یہ حکم تھا کہ سنیچر کو بنی اسرائیل کوئی کام نہیں کریں گے بلکہ صرف عبادت کریں گے)اور فرمایا: ’’ اے گروہ یہود! اللہ کی قسم !تم خوب جانتے ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کی مدد کرنا تم پر فرض ہے۔‘‘ یہودیوں نے کہا: ’’ آج سنیچر کا دن ہے۔‘‘ حضرت مخریق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اب تمہارے لئے سنیچر کے روز ( کی کوئی اہمیت) کچھ نہیں ہے۔ ‘‘پھر آپ رضی اللہ عنہ ہتھیار لے کر اپنی سواری پر اُحد کے میدان پہنچے اور اسلام قبول کیا اور وصیت کر دی کہ’’ اگر آج میں مارا جائوں تو میری تمام ملکیت ( جائیداد) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔ وہ ان میں سے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق استعمال کریں۔‘‘ پھر جب غزوہ احد شروع ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے بہت بہادری سے کافروں کا مقابلہ کیا اور شہادت سے سرفراز ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ’’ مخیریق رضی اللہ عنہ یہودیوں میں بہترین فرد تھے۔‘‘ سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمام جائیداد کا استعمال مدینہ منورہ کے عام صدقات میں کیا۔

حضرت اُصیرم عمرو بن ثابت رضی اللہ عنہ کی شہادت

   حضرت عمرو بن ثابت رضی اللہ عنہ کا لقب اُصیرم تھا۔ انصار کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی طرف رغبت نہیں دکھائی تھی۔ احد کے دن ان کے دل میں اسلام اتر آیا تھا اور ہتھیار کے ساتھ میدان اُحد میں پہنچے ( اسلام قبول کیا) اور بڑی بہادری سے بہت سے کافروں کو قتل کیا۔ یہاں تک کہ زخمی ہو کر اور بے دم ہو کر گر پڑے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا کہ اُصیرم ہیں تو بہت تعجب ہوا اور پوچھا: ’’ اے عمرو بن ثابت ! تم کس لئے لڑ رہے ہو؟ اسلام کی رغبت سے یا اپنی قوم کی غیرت و حمیت کی وجہ سے ۔‘‘ حضرت اُصیرم رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ’’ میرے دل میں اسلام کی رغبت پیدا ہوئی اور میں اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور مسلمان ہوا اور تلوار لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر دشمنوں سے قتال کیایہاں تک کہ مجھے یہ زخم لگے۔ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی بات پوری کی اور جان نکل گئی۔ بے شک وہ جنت والوں میں سے ہیں۔ یہ روایت محمد بن اسحاق کی ہے اور اس کی سند حسن ہے اور حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اکثر معمہ کے طور پر فرمایا کرتے تھے: ’’ بتائو وہ کون شخص ہے جس نے ایک بھی نماز نہیں پڑھی اور جنت میں پہنچ گیا۔ ‘‘پھر خود ہی جواب میں یہ حدیث سنا کر فرماتے تھے : ’’ وہ صحابی حضرت اُصیرم رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

حضرت خیثمہ رضی اللہ عنہ کی شہادت

   حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ آپ کو یاد ہوں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت عقبہ ثانی یا دوسری بیعت عقبہ میں انصار کے بارہ نقیب بنائے تھے۔ ان میں سے ایک حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شہید ہو گئے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت خیثمہ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے بے حد افسوس ہے کہ میں غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکا۔جب کہ میں غزوہ بدر میں شرکت کا بڑا ہی حریص اور مشتاق تھا۔ یہاں تک کہ اس میں شرکت کے لئے میں نے اور میرے بیٹے حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ نے قرعہ اندازی کی اور قرعہ میرے بیٹے کے نام کھلا اور اللہ تعالیٰ نے اسے شہادت سے سرفراز فرمایا اور میں رہ گیا۔ آج رات میں نے اپنے بیٹے کو خواب میں دیکھا ۔ وہ نہایت ہی حسین و جمیل شکل میں ہے اور جنت کے باغات میں سیر و تفریح کرتا پھرتا ہے۔ مجھ سے کہہ رہا تھا : ’’ اے ابّا جان ! تم بھی یہیں آجائو دونوں مل کر جنت میں ساتھ میں رہیں گے۔ میرے پروردگار ( اللہ تعالیٰ) نے جو مجھ سے وعدہ کیا تھا وہ میں نے بالکل حق پایا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اس وقت میں اپنے بیٹے سے ملنے کا تمنائی ہوں۔ ( یعنی مشتاق ہوں) بوڑھا ہو گیا ہوں ، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ۔ اب تمنا یہ ہے کہ کسی طرح اپنے رب سے جا ملوں ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو شہادت نصیب فرمائے اور جنت میں میرے بیٹے سعد رضی اللہ عنہ کا ساتھ عطا فرمائے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کی اور حضرت خیثمہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شہید ہوئے۔

حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی شہادت اور وصیت

   حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ بھی بیعتِ عقبہ ثانیہ میں بنائے گئے بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شریک تھے اور بہت بہادری سے لڑے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حکم دیا : ’’ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کو تلاش کرواور مل جائیں تو ان سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے ہیں کہ تم اس وقت کیسا محسوس کر رہے ہو؟‘‘ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں ڈھونڈتا ہوا حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ زخموں سے چور ہیں۔ (آپ رضی اللہ عنہ کے جسم پر تیر اور تلوار کے ستّر (70) سے زیادہ زخم تھے) اور زندگی کی کچھ رمق باقی ہے۔ میں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچایا اور سوال بھی بتایا۔ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا: ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی سلام ہو اور تم پر بھی سلام ہو ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک میرا یہ پیغام پہنچا دینا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں اس وقت جنت کی خوشبو سونگھ رہا ہوں اور میری قوم انصار سے کہنا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچی اور تم میں ( انصار میں ) سے ایک آنکھ بھی موجود ہوئی ( یعنی انصار میں سے ایک شخص بھی زندہ ہو) تو سمجھ لینا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارا کوئی بھی عذر قبول نہیں ہوگا۔‘‘ اتنا فرما کر آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ( سلام کہنے کے بعد) خبر دینا کہ اس وقت میں مررہا ہوں اور میری طرف سے سلام کہنے کے بعد کہنا کہ سعد کہتا ہے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف سے اور تمام ( پوری) امت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ کیوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو حق کا راستہ ( اسلام ) بتانے کے لئے بہت جدو جہد اور محنت کی اور تکلیفیں اٹھائیں یا برداشت کیں۔‘‘ حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ سے روایت ہے کہ ( حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں واپس آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کا پیغام پہنچایا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمائے۔ زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا خیر خواہ رہے اور مرتے وقت بھی ۔‘‘

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سید الانبیاء ﷺ کے پاس پہنچنا

   یہ وہ حالات اور واقعات ہیں جو میدان ِ اُحد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دور پیش آرہے تھے۔ اب آئیے ہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس چلتے ہیں۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلامی لشکر پر پیچھے سے حملہ کیا تو کافر اور مسلمان گڈ مڈ ہو گئے تھے اس درمیان میں حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہو ئے ۔ کسی کافر نے بلند آواز سے پکار کر کہا کہ نعوذ باللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ قتل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اسلامی لشکر کا جھنڈا دیا ( کیوں کہ جھنڈا اٹھانے والے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے تھے) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نعوذ باللہ قتل کی خبر سے مسلمان غمزدہ ہو گئے ۔ ایسے وقت میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی ہمت بڑھانے کے لئے پکارا کہ میں زندہ ہوں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب اس وقت کافر تھے۔ وہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہو گئے اور مسلمانوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی اور ان میں نئی جان آگئی اور وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے لگے۔ اسی دوران کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دیا۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیااور دندانِ مبارک شہید ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافروں کے کھودے ہوئے گڑھے میں گر گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو گڑھے سے نکالا اسی وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سات انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آگئے ۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں چونکہ اسلامی لشکر کا جھنڈا تھا۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے ہٹ گئے کیوں کہ اکثر جنگ میں جھنڈے کے آس پاس ہی شدید لڑائی ہوتی تھی۔ اسی لئے آپ رضی اللہ عنہ وہاں سے ہٹے تاکہ کافروں کی توجہ سید الانبیاء پر سے ہٹ جائے ۔ سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی آنکھوں کی وجہ سے پہچانا۔کیوں کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو زرہیں اور خود ( لوہے کی ٹوپی) پہنے ہوئے تھے۔ انھوں نے نے مسلمانوں کو آواز لگائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں پر ہیں۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لپکے۔ سب سے پہلے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پہنچے اور ان کے بعد تمام صحابہ کرام پہنچنے لگے۔ لیکن تب تک سات انصاری صحابہ رضی عنہم شہید ہو چکے تھے اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بچانے کی جان توڑ کوشش کر رہے تھے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی روایت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پہونچے اور پھرحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ،حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ پہونچ گئے اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف گھیرا لگا لیا اور حفاظت کرنے لگے۔ اب ہم آپ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زبانی آگے کا واقعہ سناتے ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے والد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غزوئہ احد کے بارے میں بتاتے ہو ئے فرمایا: ’’ اُحد کے دن سارے لوگ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے پلٹ گئے۔ (یعنی چند حفاظت کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین لڑائی کے لئے اگلی صفوں میں چلے گئے تھے۔ پھر جب کافروں نے حملہ کیا تو اگلی صف والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پلٹے اور)میں پہلا شخص تھا جو پلٹ کر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میں نے دیکھا کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ایک شخص ڈٹا ہوا ہے اور کافروں سے مقابلہ کر رہا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا رہا ہے۔ میں نے غور سے دیکھا تو وہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے دل ہی دل میں کہا:’’ اے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔اے طلحہ تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ ‘‘ اتنے میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ میرے پاس آگئے ۔ میں نے دیکھا کہ وہ اس طرح دوڑ رہے ہیں جیسے چڑیا (اڑ رہی ) ہو۔ یہاں تک کہ وہ مجھ سے آملے۔ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑے تو دیکھا کہ سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بچھے پڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اپنے بھائی (حضرت طلحہ) کو سنبھالو۔ اس نے( اپنے لئے جنت )واجب کرلی ہے۔‘‘ میں نے دیکھا کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک زخمی ہوچکا ہے اور خُود( لوہے کی جنگی ٹوپی) کی دو کڑیاں آنکھ کے نیچے رخسار میں دھنس چکی ہیں۔ میں نے انھیں نکالنا چاہا تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میںآپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں مجھے نکالنے دیں‘‘ اسکے بعد انھوں نے دانت سے ایک کڑی پکڑی اور آہستہ آہستہ نکالنی شروع کی تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ ہو۔ آخر کار ایک کڑی نکال دی۔ لیکن اسے نکالنے سے ان کا نچلا دانت ٹوٹ گیا۔ اب دوسری میں نے نکالنی چاہی تو انھوں نے پھر کہا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کا واسطہ، مجھے نکالنے دیں۔‘‘ اسکے بعد انھوں نے دوسری کڑی آہستہ آہستہ نکالی۔ لیکن اسے نکالنے میں ان کا دوسرا نچلا دانت ٹوٹ گیا۔ اسکے بعد پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اپنے بھائی طلحہ کو سنبھالو۔ (اس نے جنت) واجب کرلی ہے۔‘‘ تب ہم حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور انھیں سنبھالا۔ ان کو دس سے زیادہ (بہت گہرے) زخم آچکے تھے۔

سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا گھیرا

   اسی دوران اچھے خاصے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاچکے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف یعنی گرد گھیرا ڈال لیا تھا۔ اب جنگ کا مر کز وہ جگہ بن گئی تھی۔ جہاں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھیرا ڈالے ہوئے تھے ۔وہ اچھے خاصے تھے۔ ہم صرف چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نام پیش کرتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق ، حضرت علی بن ابی طالب ، حضرت سہیل بن حنیف، حضرت مالک بن سنان (حضرت سعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد) حضرت قتادہ بن نعمان ، حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہم ۔( حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہم کا ذکر ہم پہلے ہی کر چکے ہیںاور حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا ذکر بھی پہلے کر چکے ہیں ) ان کے علاوہ ایک صحابیہ مجاہدہ سیدہ ام عمارہ ، نسیبیہ بنت کعب مازنیہ رضی اللہ عنہما بھی تھیں۔ (سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی( نعوذ باللہ) قتل کی خبر مدینہ منورہ پہنچ گئی تھی اور مدینہ منورہ سے خواتین بھی آگئی تھیں۔ ان میں سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں )

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی خواہش

   اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بھائی عتبہ بن ابی وقاص کافر تھااور قریش کے لشکر کے ساتھ مسلمانوں سے لڑنے کیلئے آیا تھا۔ اسی بد بخت نے سیدالانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا پتھر پھینک کر مارا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دندانِ مبارک شہید ہوگیاتھا۔ اس وقت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے کافروں پر مسلسل تیر چلارہے تھے۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے کافر بھائی عتبہ بن ابی وقاص کو قتل کریں۔ لیکن انھیں اس کی طرف پلٹنے کا موقع ہی نہیں ملا کہ عتبہ بن ابی وقاص بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اس کا پیچھا کیااور اتنی زور سے تلوار کا وار کیا کہ اس بد بخت کا سر کٹ کرچھٹک کر دور تک لڑھکتا چلا گیا۔ پھر اسکے گھوڑے اور مال غنیمت پر قبضہ کرلیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی شدیدخواہش کو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے پورا کیا۔

سیدالانبیاء ﷺ کے اطراف جنگ اور مسلمانوں پر سکینہ کا نزول 

         سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھیرا ڈالے ہوئے تھے۔ اورو دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی ایک ایک کر کے کافروں سے لڑتے ہوئے آرہے تھے اور گھیرے میں شامل ہوتے جارہے تھے۔ جب تیس سے زیادہ مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف جمع ہوگئے تو دھیرے دھیرے مسلمانوں کے پڑائو کی طرف سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر چلنے لگے۔ اسی دوران مشرک بھی بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے ۔ مشرکین میں سے ایک گھوڑا سوار عثمان بن عبداللہ یہ کہتے ہوئے آگے بڑھا کہ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) رہے گا یا تو میں رہوں گا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مقابلہ کرنے کیلئے رک گئے اور اسکے قریب آنے کا انتظار کرنے لگے۔ وہ تیزی سے گھوڑا دوڑاتا ہوا سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا۔ لیکن راستے میں ہی لوگوں کا کھودا ہوا گڑھا آگیا اور وہ اپنے گھوڑے سمیت گر گیا۔ حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اس پر حملہ کیا اور قتل کردیا اور اسکا ہتھیار لے لیا اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آنے لگے تو مشرکوں میں سے ایک گھوڑا سوار تیزی سے گھوڑا دوڑاتے ہوئے آیا اور پیچھے سے تلوار کا حملہ کیا ۔ جو آپ رضی اللہ عنہ کے کندھے پر لگی اور آپ رضی اللہ عنہ گر پڑے ۔ مسلمانوں نے فوراً آپ رضی اللہ عنہ کو لپک کر اٹھالیا اور حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ جنھوں نے سرخ عمامہ باندھ رکھا تھا۔ وہ اس کافر عبداللہ بن جابر پر ٹوٹ پڑے اور تلوار کے ایک ہی وار میں اسکا سر اڑا دیا۔ ایسے خوفناک وقت میں بھی مسلمانوں کو جھپکیاں آرہی تھیں اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآان پاک میں بتایا کی یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سکینہ یعنی سکون و اطمینان کا نزول تھا۔ حضرت ابو طلحہ بتاتے ہیں کہ غزوئہ احد کے دوران مجھے جھپکیاں آرہی تھی اور تلوار کئی مرتبہ میرے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔

ابیّ بن خلف کا قتل

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے گھیرے میں لئے ہوئے پڑائو تک پہنچے اور وہیں صفیں بنا لیں اور دوسرے صحابہ کرام بھی آکر اسلامی لشکر سے ملنے لگے۔ کچھ ہی دیر میں تمام مسلمان آکر صفیں بنا کر لڑنے لگے اور اس طرح حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حملے کو ناکام بنا دیا۔ قریش کے مشرکوں کے حملے میں بھی اب و ہ تیزی نہیں رہ گئی تھی۔ اچانک قریش کے لشکر میں سے اُبی بن خلف یہ کہتا ہوا آگے آیا کہ آج محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )نہیں یا میں نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حملہ کرنے کا ارادہ بنا یا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے آنے دو۔‘‘ جب وہ قریب آیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ سے ایک چھوٹا سا نیزہ لیا اور اُبیّ بن خلف کے سامنے آگئے۔ اس نے زرہ اور خود پہنی ہوئی تھی اور پورا لوہے میں غرق تھا۔ صرف زرہ اور خود کے درمیان حلق کے پاس تھوڑی سی جگہ کھلی دکھائی دے رہی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ ہلکا سا نیزے سے کچوکا دیا تو وہ گھوڑے پر سے گر پڑااور فوراً اٹھا اور گھوڑے پر سوار ہو کر واپس بھاگنے لگا تو پھر گر پڑا۔ پھر اٹھ کر گھوڑے پر سوار ہواا ور پھر گر پڑا۔ جیسے تیسے قریش کے مشرکوں کے پاس پہنچا تو درد کی وجہ سے بری طرح چلّا رہا تھااور تڑپ رہا تھا اور بار بار کہہ رہا تھا : ’’ اللہ کی قسم !محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )نے مجھے قتل کر دیا۔‘‘ لوگوں نے دیکھا کہ اس کی گردن پر کوئی بڑی خراش بھی نہیں ہے۔ صرف ایک چھوٹا سا زخم ہے۔ جس سے خون بھی نہیں بہہ رہا ہے توا س سے کہا : ’’تمہیں کوئی خاص چوٹ نہیں آئی ہے بلکہ خوف کی وجہ سے تم نے ہمت ہار دی ہے۔ ‘‘اس نے کہا : ’’وہ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) مکہ مکرمہ میں بہت پہلے مجھے کہہ چکا تھا کہ میں تمہیں قتل کروں گا۔ اس لئے اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھ پر تھوک بھی دیتا تو میں مرجاتا۔‘‘ آخر کار مکہ مکرمہ واپس جاتے ہوئے مقامِ ’’سرف‘‘ پر پہنچ کر یہ مرگیا۔

غزوہ احد میں خواتین کی شرکت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ( نعوذ باللہ) شہادت کی خبر مدینہ منورہ تک پہنچ گئی تو مسلمان مرد اور خواتین بے چین ہو کر مدینہ منورہ سے باہر نکل آئے اور چند خواتین تو آگے بڑھ کرمیدانِ اُحد تک پہنچ گئیں اور زخمیوں کو پانی پلانے لگیں اور مرہم پٹی کرنے لگیں۔ ان خواتین میں سے چند کے نام یہ ہیں۔ سیدہ فاطمہ زہرا ء رضی اللہ عنہا ، سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، سید ہ ام سلیم رضی اللہ عنہا اور سیدہ اُم عمارہ نسیبہ بنت کعب مازنینہ ۔ ان میں سے صرف سیدہ اُم عمارہ رضی اللہ عنہا نے کافروں سے مقابلہ کیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیںکہ اُحد کے دن میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور میری والدہ ام سلیم کو دیکھا کہ وہ پائچے چڑھاتے ہوئے پانی کی مشک بھر بھر کر لا رہی تھیں اور زخمیوں کو اور مجاہدین کو پلا رہی تھیں۔ جب مشک خالی ہو جاتی تو پھر بھر کر لاتی تھیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ اُم سلیط رضی اللہ عنہا ہمار ے لئے احد کے دن پانی بھر بھر کر لاتی تھیں۔

سیدہ اُمِ عمارہ نسیبہ بنت کعب رضی اللہ عنہا کی بہادری

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ( نعوذ باللہ ) شہادت کی خبر سن کر میدان احد میں آنے والی خواتین کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیریت سے ہونے کی اطلاع ملی تو وہ مجاہدوں اور زخمیوں کو پانی پلانے لگیں۔ لیکن اُم عمارہ رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتی ہوئی اُن تک پہنچ گئیں اور جب دیکھا کہ کافر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر رہے ہیں تو وہ خود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے لڑنے لگیں۔ ابن قیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لئے آگے بڑھا تو سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا نے تلوار سے اس کے کندھے پر وار کیا۔ اس بد بخت نے دوزرہیں پہن رکھی تھیں۔ اس لئے اسے زیادہ نقصان نہیں پہنچ سکا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہا نے اس پر کئی وار کئے۔ اس بد بخت نے سیدہ اُم ِ عمارہ رضی اللہ عنہا کے کندھے پر تلوار سے وار کیا جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہا لڑکھڑائیں اور کندھے پر گہر ازخم آیا۔

ایک انصاری خاتون کی بے چینی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سن کر مدینہ منورہ کے مسلمان مرد اور خواتین اپنے گھروں سے نکل کر مدینہ منورہ کے باہر آگئے اور غزوہ احد کے حالات معلوم کرنے لگے۔ ان میں ایک انصاری خاتون کا بھائی، شوہر اور بیٹا بھی غزوہ احد میں شریک تھے۔ ان انصاری صحابیہ رضی اللہ عنہا نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی خبر سنی تو انھیں یقین نہیں آیا وہ فوراً مدینہ منورہ سے نکل کر میدان ِ احد کی طرف جانے لگیں۔ راستے میں کچھ لوگ ملے تو ان سے کہا کہ تمہارا بھائی شہید ہو گیا ہے تو انھوں نے فوراً کہا : ’’ مجھے یہ بتائو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں ؟ ‘‘کسی نے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ بے چینی اور بے تابی سے آگے بڑھیں تو کچھ اور لوگ ملے۔ اُن میں سے کسی نے کہا ۔ تمہارا بیٹا شہید ہو گیا ہے تو انھوں نے پھر پوچھا : ’’ مجھے یہ بتائو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں؟ ‘‘ تو کسی نے کہا کہ وہ خیریت سے ہیں لیکن ان انصار ی صحابیہ رضی اللہ عنہا کے بے چینی ختم نہیں ہوئی اور آپ رضی اللہ عنہا تیزی سے میدانِ احد کی طرف بڑھیں وہاں لوگوں سے دریافت کیا تو کسی نے بتایا کہ تمہارے شوہر بھی شہید ہو گئے ہیں۔ یہ سن کر ان انصاری صحابیہ نے فرمایا: ’’ مجھے یہ بتائو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہیں ؟‘‘ انھیں لوگوں نے بتایا کہ وہ خیریت سے ہیں توا نھوں نے فرمایا : ’’مجھے ان کے پاس لے چلو۔‘‘ لوگ انھیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے۔ جب انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو زندہ دیکھا تو فرمایا: ’’ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور خیریت کے بعد مجھ پر ہر مصیبت چھوٹی ہے۔‘‘ ( یعنی مجھے سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت اور سلامتی مطلوب ہے۔)

غزوہ احد میں سید ہ اُمِ ایمن رضی اللہ عنہا کی شرکت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خبر سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا بھی تیزی سے میدان احد میں آئیں اور سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خیریت سے دیکھ کر سکون کا سانس لیا اور زخمیوں کو پانی پلانے لگیں۔ حبان بن عرقہ نے آپ رضی اللہ عنہا پر تیر چلایا اور آپ رضی اللہ عنہا گر پڑی اور پردہ کھل گیا۔ یہ دیکھ اس بد بخت اللہ کے دشمن نے بھر پور قہقہہ لگا یا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک بغیر انی کا تیر دے کر فرمایا : ’’اسے چلائو۔ ‘‘حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے تیر چلایا تو وہ حبان کے حلق پر جاکر لگا اور وہ چت گر گیا اور اسکا پردہ کھل گیا۔ یہ دیکھ کر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے اور اتنا ہنسے کہ دندان مبارک کی جڑیں دیکھائی دینے لگیں۔ اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ام ایمن رضی اللہ عنہا کا بدلہ چکا لیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعائوں کو قبول کرے۔

سیدالانبیاء ﷺ کے زخم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دھوئے

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی میان احد میں آگئیں تھیں۔ یہ بات ہم آپ کو پہلے ہی بتا چکے ہیں۔ دوسری خواتین تو مجاہدین اور زخمیوں کو پانی پلانے میں لگ گئیںاور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے والد سید الانبیاصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگ گئیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ مجھے معلوم ہے کہ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم کس نے دھویا؟ اور پانی کس نے بہایا ؟اور علاج کس چیز سے کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم دھورہی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے ڈھال میں پانی بھر کر لاکر بہا رہے تھے۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھاکہ پانی کی وجہ سے خون بہتا جارہا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا اور جلا کر چپکا دیا جس سے خون رک گیا۔

مشرکین کا آخری حملہ

   سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے (جیسا کہ ہم نے شروع میں بتایا تھا۔ )میدان احدمیں سب سے بہترین جگہ کا انتخاب اسلامی لشکر کے پڑائو کے لئے کیا تھا۔ یہ پورے میدان میں سب سے اونچی جگہ تھی اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے حملے بعد سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر نے یہیں پر صف بندی کی اور کافروں کا مقابلہ کیا اور اسکی وجہ سے کافر مسلمانوں پر حاوی نہیں ہوسکے۔ حالانکہ وہ مسلسل کوشش کررہے تھے کہ اوپر چڑھ کر مسلمانوں پر حملہ کریں۔ لیکن مسلمان بھی پوری طرح چوکس تھے اور اوپر سے حملہ کر کے انھیں نیچے ہی روک دے رہے تھے۔ آخر کار تمام کافروں نے ابو سفیان اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں آخری زور دار حملہ کیا اور اوپر چڑھنے لگے تو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی : ’’ اے اللہ تعالیٰ !یہ اوپر نہ آنے پائیں۔‘‘ اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کے ساتھ مل کر اوپر چڑھنے والے کافروں پر اتنا شدید حملہ کیا کہ ان کے پیر اکھڑ گئے اور وہ واپس اپنے پڑائو میں چلے گئے۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ اور دوسرے شہداء کا مشلہ

   سیدالانبیاصلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کا یہ آخری حملہ تھا۔ اسکے بعد وہ اپنے پڑائو میں چلے گئے اور واپسی کی تیاری کرنے لگے۔ اسی دوران مشرک مرد اور عورتیں مسلمان شہداء کا مشلہ میں مشغول ہوگئیں۔ یعنی شہیدوں کے ناک کان کاٹ لئے اور ان کے پیٹ چیر دئیے۔ ان میں ابو سفیان کی بیوی ہندہ بھی تھی۔ اس نے غزوئہ بدر میں اپنے باپ عتبہ بن ربیعہ کے قتل کے بعد قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے والد کے قاتل حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا مشلہ کرے گی اور ان کا دل نکال کر چبائے گی۔ اسلئے اس نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ناک کان کاٹ کر ہار بنا کر پہن لیا اور پیٹ چیر کر دل نکالا اور منہ میں ڈال کر چبایا اور نگلنا چاہا ۔ لیکن نگل نہیں سکی تو تھوک دیا۔

مشلہ کرنے والے کافر کا قتل

   مسلمان شہداء کا کافر مشلہ کررہے تھے۔ اسی دوران ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ اس کے بعد مشرکوں نے مشلہ نہیں کیا اور اپنے پڑائو میں واپس بھاگ گئے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں اُن مسلمانوں میں تھا جو گھاٹی ( میدان اُحد ) سے باہر ( اونچائی پر ) آگئے تھے۔ وہاں سے جب میں نے دیکھا کہ مسلمان شہداء کا مشلہ کیا جا رہا ہے تو میں رک گیا۔ ( اور میدان احدمیں واپس جانے کے لئے ) پھر آگے بڑھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مشرک جو بھاری بھرکم زرہ میں ملبوس تھا وہ شہیدوں کے درمیان گھوم رہا تھا اور کہتا جا رہا تھا کہ بکریوں کی طرح ڈھیر ہو گئے ہیں اور ایک مسلمان اس کے انتظار میں کھڑا ہوا تھا وہ بھی زرہ پہنے ہوئے تھا۔ میں چند قدم اور آگے بڑھ کر اس کے قریب ہو گیا۔ پھر کھڑے ہو کر مسلمان اور کافر کو آنکھوں ہی آنکھوں میں تولنے لگا۔ مجھے محسوس ہوا کہ مسلمان کے مقابلے میں کافر اپنے ڈیل ڈول اور ساز و ساما ن ( ہتھیار) دونوں کے لحاظ سے بہتر ہے۔ اب میں دونوں کے ٹکرائو کا انتظار کرنے لگا۔ آخر کار دونوں کی ٹکر ہو گئی۔ مقابلہ بہت زبردست تھا۔ دونوں جنگ میں ماہر تھے اور حملہ اور بچائو بہترین طریقے سے کر رہے تھے۔ اچانک مسلمان نے ایسے عجیب طریقے سے تلوار گھما کر ماری کی کافر کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا اور تلوار اس کے سر سے گزرتی ہوئی پائوں تک کاٹتی چلی گئی اور مشرک دو ٹکڑے ہو کر گر گیا۔ پھر مسلمان نے اپنا چہرہ کھولا اور میری طرف دیکھ کر بولا : ’’ اوکعب رضی اللہ عنہ ! کیسی رہی؟ میں ابو دجانہ ( رضی اللہ عنہ ) ہوں ۔‘‘

حضرت عمر فارو ق رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان کی بکواس کا جواب دیا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ٹھنڈا اور میٹھا پانی پیش کیا۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا اور انھیں دعائے خیر دی۔ زخموں کی وجہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی بیٹھ کر نماز ادا کی۔ مشرکین نے واپسی کی تیاری مکمل کر لی تھی تو ابوسفیان آگے آیا اور بلند آواز سے بولا: ’’ کیا تم میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں ؟ ‘‘( در اصل زرہوں ا ور خود کی وجہ سے چہرے پہچانے نہیں جا سکتے تھے) تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ کیوں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دینے سے منع فرمایا تھا۔ اسنے پھر پوچھا : ’’ کیا تم میں ابو قحافہ کے بیٹے ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) ہیں؟ ‘‘ لوگوں نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے پھر سوال کیا : ’’ کیا تم میں عمر بن خطاب ( رضی اللہ عنہ ) ہیں؟‘‘ لوگوں نے اس مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔ جب کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے کہا: ’’ چلو تینوں سے فرصت ملی ۔‘‘ یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو برداشت نہیں ہوا اور آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ او اللہ کے دشمن ! جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیںاور ابھی تک اللہ نے تیری رسوائی کا سامان باقی رکھا ہے۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان بولا: ’’ تمہارے مقتولین کا مُشلہ ہوا ہے۔ میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا اور نہ ہی اس کا برا مانا ہے۔‘‘ پھر نعرہ لگایا۔’’ ھبل بلند ہو۔ ‘‘( یہ مکہ مکرمہ کے مشرکوں کا بُت تھا) ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اب تم جواب دو۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : ’’ہم کیاجواب دیں؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ اعلیٰ اور برتر ہے۔ ‘‘( تمام صحابہ کرام نے بلند آواز سے کہا : ’’ اللہ اعلیٰ اور بر تر ہے۔ ‘‘پھر ابو سفیان نے نعرہ لگایا۔ ’’ہمارے لئے عُزّیٰ ہے اور تمہارے لئے عُزّیٰ نہیں ہے۔‘‘ ( یہ بھی مکہ مکرمہ کے مشرکوں کاا یک بت تھا) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم کہو اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں ہے۔‘‘ ( تمام صحابہ کرام نے بلند آواز سے کہا : ’’ اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں ہے۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان نے کہا : ’’ کتنا اچھا کارنامہ رہا۔ آج کا دن جنگ ِ بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی برابری پر آگئی۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ برابری بالکل نہیں ہے۔ ہمارے مقولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین دوزخ یعنی جہنّم میں ہیں۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان نے کہا۔’’ عمر! ( رضی اللہ عنہ) میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا ہم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ( نعوذ باللہ) قتل کر دیا ہے؟ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم نہیں !بلکہ اس وقت وہ تمہاری باتیں سن رہے ہیں ۔‘‘ابو سفیان نے کہا: ’’تم میرے نزدیک ابن قمیہ ( اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ میدانِ جنگ میں پھیلائی تھی) سے زیادہ سچے اور راست باز ہو۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان نے کہا: ’’ آئندہ سال بدر میں پھر لڑنے کا وعدہ ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس سے کہہ دو ٹھیک ہے ! اب یہ بات ہمارے اور تمہارے درمیان طے رہی۔ ‘‘

قریش کی واپسی کی تحقیق

   سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابو سفیان کے چیلنج کو قبول کیا اور قریش واپس جانے لگے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’ تم جا کر دیکھو کہ یہ مشرکین کس طرف جا رہے ہیں؟ اگر یہ مکہ کی طرف جا رہے ہیں تو کوئی بات نہیں اور اگر مدینہ منورہ پر حملے کی نیت سے اس طرف جائیں گے تو پھر ہم بھی ان کے مقابلے کے لئے چلتے ہیں۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں مشرکین کے لشکر کے پیچھے گیا تو دیکھا کہ مکہ مکرمہ کی طرف جار ہے ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آکر ان کے مکہ مکرمہ کی طرف جانے کی خبر دی۔ ‘‘

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ اور تدفین

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اپنے چچا حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب کی لاش کے پاس پہنچے اور انھیں ایک چادر اڑھا نے کا حکم دیا۔ پھر ان کی نماز جنازہ پڑھی اور سات تکبیریں کہیں ۔ پھر دوسرے شہداء کو لا لا کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس رکھا جاتا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ) نمازِ جنازہ پڑھتے۔ (ہر شہید کے لا کر رکھنے پر نماز پڑھتے) اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ 72مرتبہ پڑھی۔طبقات ابن سعد میں ہے کہ 70مرتبہ پڑھی۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی یعنی حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کی بہن سید ہ صفیہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا تشریف لائیں تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پھوپھی زاد بھائی یعنی ان کے بیٹے حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ تم اپنی والدہ کو واپس لے جائو تا کہ وہ اپنے بھائی کی ( اتنی خراب ) حالت میں نہ دیکھ سکیں۔‘‘حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے جاکر اپنی والدہ سے عرض کیا : ’’امی جان !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ آپ ( رضی اللہ عنہا) واپس چلی جائیں۔‘‘ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ’’کیوں ؟ میں نے سنا ہے کہ میرے بھائی کا مشلہ کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کی راہ میں شہیدہوا ہے۔ اس لئے میں صبر کروں گی ۔‘‘ حضرت زبیر رضی اللہ نے آکر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ٹھیک ہے انھیں آنے دو ۔ ‘‘سیدہ صفیہ بنت عبدا لمطلب رضی اللہ عنہا آئیں اور اپنے بھائی کو دیکھا اور نماز پڑھی اور دعائے مغفرت کر کے چلی گئیں۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا۔ ایک ایک قبر میں دو دو شہداء کو دفن کیا گیا۔ بہت سے شہداء کے رشتہ دار اُن کی لاشیں لینے کے لئے آئے کہ انھیں مدینہ منورہ میں دفن کریں ۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور فرمایا : ’’ شہید کو وہیں دفن کروجہاں وہ شہید ہوئے ہیں۔‘‘ اور حضرت عبداللہ بن عَمرو بن حرام رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کو ایک ہی قبر میں دفن فرما دیا اور فرمایا : ’’ یہ دونوں دنیا میں دوست تھے ۔‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر کی مدینہ منورہ واپسی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ا س کے بعد اسلامی لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آئے اور اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکو اپنی تلوار عنایت فرمائی اور فرمایا : ’’اس پر سے خون دھولو۔کیونکہ اس نے آج مجھ کو خوب اپنا جو ھر دکھایا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تلوار کا نام ’’ذوالفقار‘‘ تھا۔پھر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے بھی اپنی تلوار دی اور کہا : ’’اس کو بھی دھو لو اس نے بھی آج خوب اپنا جو ھر دکھایا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ’’اگر آج تم نے جنگ میںخوب جو ھر دکھا یا ہے تو حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ عنہ اور حضرت سہل بن حنیف رضی اﷲ عنہ نے بھی تمہارے ساتھ خوب جوھر دکھا یا ہے۔ ابن ہشام کہتے ہیں بعض اہل علم نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ احد کی جنگ کے روز ایک غیبی آواز آئی کہ’’ ذوالفقار‘‘ کے جیسی کوئی تلوار نہیں ہے اور حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ جیسا کوئی جوا ن نہیں ہے اور پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہ سے فرمایا: ’’ اب مشرکین انشاء اللہ ہم کو ایسی مصیبت نہیں پہونچا سکیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ ہم کو فتح نصیب فرمائے گا۔‘‘

صحابہ ؓ کی اللہ اور اس کے رسول سے محبت اور شوق شہادت

   غزؤ احد میں معاملہ غیر فیصلہ کن جنگ کا رہا۔ نہ تو کافروں کو فتح مل سکی اور نہ ہی مسلمانوں کو مکمل فتح مل سکی ۔جنگ کے شروع میں اللہ تعالیٰ کی مدد سے تو مسلمان حاوی ہو گئے تھے اور کافروں کے پیر اکھڑ گئے تھے اور وہ بھاگ نکلے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مؤ منوں کی آزمائش کی اور حضرت خالد بن ولید ؓ نے پیچھے سے حملہ کیا۔ لیکن آفرین ہے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم پر کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر ایسے نازک وقت میں بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم جمے رہے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر جان نچھاور کر دی۔ آپ پوری غزوۂ احد کے واقعہ کو غور سے دیکھیں۔ آپ کو ہر جگہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا شوق شہادت اور اللہ اور اس کے رسول سے بے انتہاء محبت نظر آئے گی۔ اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی عزیمت نظر آئے گی۔ جب مشکل حالات میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو یہ خو شخبری ملی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں تو تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی کو شش یہی تھی کہ کسی طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تک پہونچ جائیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان نچھاور کر دیں اور اپنی کو شش میں وہ لوگ کامیاب بھی رہے۔پھر اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کا مرکز بن گئے اور اللہ تعالیٰ کی اس آزمائش میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کامیاب رہے اور ستر یا بہتر صحابہؓ شھادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے۔ در اصل غزوۂ احد کا فروں کی شکست ہے۔ کیونکہ ان کے بھی اتنے ہی یا اس سے زیادہ لو گ قتل ہوئے تھے اور وہ سب جہنم میں گئے اور جو صحابہ کرام ؓ شہید ہوئے تھے وہ سب جنت میں گئے اور شھادت ہر مؤمن کی سب سے بڑی تمنا ہو تی ہے۔ کیو نکہ شہید کو مرتے وقت وہ تکلیف بھی نہیں ہو تی۔ جو ہر جا ندار کو مرتے وقت اٹھا نی پڑ تی ہے اور مشرکین کو یہ ڈر تھا کہ کہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر منظم ہو کر ان پر حملہ نہ کر دیں۔ اسی لیئے وہ اسی دن سے میدان احد سے چلے گئے۔ جبکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓ وہیں رہے اور شھدا ء کی نماز جنازہ پڑھی اور انھیں دفن کیا ۔ پھر مدینہ منورہ واپس آئے، مشرکین کو جو ڈر تھا وہ انشا اء اللہ ہم آگے بتائیں گے۔

سید الانبیاء ﷺ اسلامی لشکر کے ساتھ مشرکین کے تعاقب میں

   غزوہ اُحد سنیچر کے دن ہو ئی۔ دوسرے دن اتوار کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ تمام صحا بہ کرا م رضی اﷲ عنہم جمع ہو جا ئیں جو کل جنگ میں شریک تھے۔ تاکہ مشرکین کا تعاقب کیا جائے اور کو ئی نیا آدمی نہ آئے۔ حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ( یہ غز ؤ ہ احد میں شریک نہیں ہو ئے تھے ۔) یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کل جنگ میں میرے والد شریک ہوئے تھے۔ ( ان کے والد حضرت عبدا للہ بن عمرو بن حرام ؓ غزؤہ احد میں شہید ہو گئے تھے۔)اور مجھے میری سات بہنوں کے پاس چھوڑ دیا تھا اور یہ کہا تھا : ’’ اے میرے بیٹے !مجھ کو اور تجھ کو جہاد کو با لکل چھوڑنا نہیں چاہئے۔ مگر تم اپنی بہنوں کے پاس جا کر ٹھہرو۔ کیو نکہ ان کے پاس کو ئی مرد نہیں ہے۔ اس مجبوری کی وجہ سے کل میں جنگ میں شرکت نہ کر سکا۔ اس لیے آج مجھ کو شریک ہونے کی اجازت عنایت فرمائیں۔ ( یہ جذبہ تھا صحابہ کرام ؓ کا کہ کل والد شہید ہوئے ہیں اور آج بیٹا درخواست کر رہا ہے کہ اسے جنگ میں شریک کر کے شہید ہونے کا موقع عنایت فرمائیں) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی۔اس مرتبہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے مشرکین کے تعاقب میں نکلے تھے کہ مشرکین یہ نہ سمجھیں کہ مسلمان کمزور ہو گئے ہیںاور دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر وہ دوبارہ حملے کے لئیآرہے ہوں تو ان کا مقابلہ کیا جائے اور اگر وہ حملہ کرنے کے لئے آنے کی تیاری کر رہے ہوں تو ان پر مسلمانوں کا رعب طاری ہو جائے۔ بنو عبدا لا شہل کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں اور میرا بھائی ہم دونوں غزوہ احد میں زخمی ہو گئے تھے ۔ جب ہم نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے تعاقب کے لئے بلا رہے ہیں تو میں نے اپنے بھائی سے یا اس نے مجھ سے کہا: ’’ بڑے افسوس کی بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کا یہ جہاد ہم سے چھوٹ رہا ہے۔ ہم سخت زخمی ہیں اور ہمارے پاس سواری بھی نہیں ہے۔ جس پر سوار ہو کر ہم دشمن کا مقابلہ کریں۔‘‘ اس کے باوجود ہم دونوں بھائی ( رضی اللہ عنہم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( پیدل ہی ) چلے۔ میر ا زخم میرے بھائی رضی اللہ عنہ کے زخم سے ہلکا تھا۔ جب اس سے چلا نہیں جاتا تھا تو میں اسے سہارا لے کر چلاتا تھا۔ یہاں تک کہ ہم اس جگہ تک پہنچے جہاں تک تمام مسلمانوں کا لشکر گیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کا یہ تعاقب مدینہ منورہ سے آٹھ (8) میل دور مقام حمراء الاسد تک کیا اور مدینہ منورہ میں حضرت عبداللہ بن مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا اور پیر منگل بدھ تین دنوں تک حمراء الاسد میں قیام فرمایا۔ اسی دوران معبد بن ابی معبد خزاعی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کے پاس سے ( اپنا قافلہ لے کر ) گزرا۔ یہ اس وقت مشرک تھا اس نے کہا: ’’ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم )ہم کو تمہارے اصحاب (رضی اللہ عنہم ) کے شہید ہونے کا بہت دکھ ہوا اور ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو عافیت کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب کے درمیان قائم رکھے۔‘‘

مشرکین ڈر کر مکہ واپس چلے گئے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے کے بعد معبد بن ابی معبد ( ایک روایت میں ہے کہ اس نے وہیں حمرا ء الاسد میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن اکثر روایات سے معلوم ہوا کہ اس وقت وہ مشرک ہی تھا۔ لیکن بنو ہاشم کا حلیف ہونے کی وجہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمدردی رکھتا تھا۔ ) خزاعی ابو سفیان کے پاس سے گزرا۔ وہ مشرکین کے لشکر کے ساتھ مقامِ روحا پر پڑائو ڈالے ہوئے تھا اور قریش کے مشرکین سے مشورہ کر رہا تھا کہ ہم نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے اچھے خاصے اصحاب (رضی اللہ عنہم) کو مار ڈالا ہے۔ اب جو تھوڑے بچے ہیںانھیں بھی چل کر ختم کر دیتے ہیںکہ اسی وقت معبد بن ابی معبد وہاں سے گزرا تو ابو سفیان نے اس سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو اس نے ( نمک مرچ لگا کر ) کہا: ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اپنے اصحاب (رضی اللہ عنہم) کے ساتھ تمہاری تلاش میں نکلے ہیں اور اتنے خوں خوار لشکر ِ جرّار کے ساتھ ہیں کہ اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھا اور وہ لوگ بھی ہیں جو احد کی جنگ میں شامل نہیں تھے اور احد کی غیر حاضری پر پچھتا رہے ہیں اور نہایت غضب ناک ہو رہے ہیں۔‘‘ ( یہ سن کر قریش کا لشکر اور ابو سفیان ڈر گئے اور واپسی کا ارادہ بنا لیا) ابو سفیان نے کہا: ’’ اے معبد یہ تو کیا کہہ رہا ہے ؟ ‘‘معبد بن ابی معبد خزاعی نے کہا: ’’ اگر تجھے یقین نہیں تو خود جا کر دیکھ لے۔‘‘ ابو سفیان نے کہا : ’’ہم تو یہ ارادہ کر رہے تھے کہ دوبارہ حملہ کر کے ان کا صفایا کر دیں ۔‘‘ معبد نے کہا: ’’ ایسی غلطی کبھی مت کرنا۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان اور اس کے لشکر کے پاس سے بنو عبدا لقیس کا قافلہ گزرا تو اس نے ان سے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟ تو انھوں نے کہا۔ ہم مدینہ منورہ جا رہے ہیں تا کہ وہاں سے غلہ ( اناج) خرید کر لے آئیں۔ ابو سفیان نے کہا۔ اگر تم میرا پیغام محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں تک پہنچا دو گے تو میں اس کے معاوضے میں تمہیں سوق عکاظ ( عکاظ کے بازار) کے اندر تم کو کئی اونٹ کشمش بھر کر دوں گا۔ ( در اصل قریش کا لشکر اور ابو سفیان بہت ڈر گئے تھے لیکن اپنی کمزوری کو چھپانے کے لئے وہ یہ جھوٹا پیغام بھیج رہا تھا) اس کے بعد ابو سفیان نے کہا۔ تم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے اصحاب سے جا کر کہنا کہ قریش بہت سے ہتھیاروں اور سازو سامان سے لیس ہو کر تم پر حملہ کرنے کے لئے آرہے ہیں۔ جب بنو عبدالقیس کے لوگوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بڑا اچھا کار ساز ہے۔‘‘ اس کے بعد ابو سفیان نے قریش کے لشکر سے مشورہ کیا تو صفوان بن اُمیہ بولاکہ کل ہی ہم نے جنگ کی ہے اور اگر آج پھر جنگ کریں تو کہیں ہمیں صاف شکست نہ ہو جائے۔ اس لئے مکہ مکرمہ واپس چلنا بہتر ہے ۔تمام لوگ واپسی پر متفق ہو گئے اور مکہ مکرمہ واپس چلے گئے۔ ادھر حمراء الاسد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھروں کے نشان لگا دیئے تھے کہ جب قریش کا لشکر یہاں سے گذر ے گا تو اس کے آدمی یہاں قتل ہو ں گے۔ لیکن تین دنوں تک انتظار کر نے کے بعد بھی قریش کا لشکر نہیں آیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی مکہ مکرمہ واپسی کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آگئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


15 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


15 سیرت سید الانبیاء ﷺ

واقعہ رجیع، واقعہ بیئر معونہ، غزوۂ بنو نضیر

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


سیدہ ام حفصہ سے نکاح، واقعہ رجیع، بلیع الارض ‘‘حضرت خبیب، واقعی بیئر معونہ، رسول اللہ ﷺ پر یہودیوں کا قاتلانہ حملہ، غزوۂ بنو نضیر، انصار صحابہ کا ایثار، حضرت حسین بن علی کی پیدائش


منافقوں کے سردار کی تذلیل اور ضد

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رئیس المنافقین ( منافقوںکا سردار) عبداللہ بن اُبیّ بھی غزوہ احد کے لئے مدینہ منورہ سے نکلا تھا اور میدانِ اُحد کے قریب یا میدان احد میں اپنے تین سو منافق ساتھیوں کے ساتھ الگ ہو گیا تھا۔ ( اس کا تفصیلی ذکر ہم غزوہ اُحد میں کر چکے ہیں) غزوہ بدر کے بعد اس نے ( دکھاوے کا ) اسلام قبول کیا تھا۔ تب سے اس کا معمول تھا کہ جمعہ کے دن سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم خطبہ پڑھ چکتے تو یہ کھڑا ہوتا تھا اور کہتا تھا : ’’ اے لوگو!یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اندر موجود ہیں۔ تم کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بزرگی اور عزت عنایت فرمائی ہے۔ اس لئے تم کو لازم ہے کہ ان کی مدد اور اعانت کرو‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعریف کرتا تھا۔ غزوہ احد کے بعد کے جمعہ کو جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ مکمل کر چکے تو یہ منافقوں کا سردار کھڑا ہوا تو اس کے آس پاس بیٹھے مسلمانوں نے چاروں طرف سے اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچا اور کہا: ’’ اے اللہ کے دشمن بیٹھ جا۔‘‘تُو اس بات کا اہل نہیں ہے اور جیسے کام تو نے کئے ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔‘‘ پس عبداللہ بن اُبی ذلیل ہو کر وہاں سے لوگوں کو الانگتا پھلانگتا مسجد نبوی کے باہر نکل آیا اور یہ کہتا جا رہا تھا کہ میں تو ان کے کام میں پختگی چاہتا تھااور میرا اس کے علاوہ اور کیا مطلب تھا؟ ‘‘انصار میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کو مسجد نبوی کے دروازے پر ملے اور پوچھا : ’’کیا ہوا؟ ‘‘ وہ کہنے لگا : ’’میں تو کھڑے ہو کر ان کے کام کے پختہ ہونے کے واسطے تقریر بیان کر تا تھا۔ مگر انھیں کے چند صحابیوں نے میرے کپڑے کھینچ کر مجھے روک دیا۔‘‘ اُن انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ چلو میرے ساتھ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری مغفرت کی دعا کرائوں گا۔‘‘ اس بدبخت نے کہا: ’’ مجھے اُن کی دعا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں ۔ اُحد کا دن مسلمانوں کی آزمائش اور شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے کا دن تھا۔ اس روز اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شہادت کے مرتبے سے سرفراز فرمایا اور منافقین کا نفاق ظاہر کر کے ذلیل اور رسواء کیا۔

اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۳ ؁ ہجری کے بقیہ دو مہینے ذی القعدہ اور ذی الحجہ مدینہ منورہ میں گذارے ۔ اسی دوران ۳؁ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا سے ہوا۔ غزوہ بدر کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پہلی زوجہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی سیدہ رقیّہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا اور اسی دوران سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا کہ وہ ان کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیں۔ انھوں نے کوئی جواب نہیں دیاتو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کا پیغام دیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حفصہ رضی اللہ عنہا کو عثمان رضی اللہ عنہ سے اچھا شوہر ملے گا اور عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہا سے بہتر بیوی ملے گی۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے عرض کیا : ’’میں کچھ سمجھا نہیں۔ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیتا ہوں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی صاحبزادی سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا سے کر دیتا ہوں۔‘‘ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام دیا تو وہ خاموش رہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پیغام دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ روز کی مہلت مانگی اور بعد میں فرمایا کی ابھی میرا نکاح کا ارادہ نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تمام واقعہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیتا ہوں۔ ‘‘بعد میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے واقف تھا۔ اسی لئے خاموش رہاکیوں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مشورہ فرمایا تھا۔‘‘ اسی سال ۳؁ہجری ماہ رمضان المبارک میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ پید اہوئے ۔ اسی سال ۳ ہجری میں ماہِ شوال میں شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوا۔

سریہ حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدا لاسد رضی اللہ عنہا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ خویلد کے بیٹے طلیحہ اور سلمہ اپنی قوم کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے کے لئے جمع کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدا لاسد رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 150دیڑھ سو مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ یہ سریہ قطن کی جاب ہوا۔ قطن ایک پہاڑ ہے جو فیدکے مضافات میں ہے۔ وہاں بنو اسد بن خزیمہ کا چشمہ ٔ آب ( پانی کا چشمہ) ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سریہ یکم ( ایک ) محرم الحرام ۴؁ھجری میں بھیجا اور ان سے فرمایا: ’’ جائو یہاں تک کہ بنو اسد کے علاقہ میں پہنچو اور اس سے پہلے کہ بنو اسد کی جماعتیں تم پر حملہ کر یں۔ تم ان پر حملہ کردو۔‘‘ وہ تیز رفتاری سے روانہ ہوئے اور اصل راستے کو چھوڑ کر الاخبارسے گزرتے ہوئے قطن کے قریب پہنچ کر میدان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیااور تین غلاموں کو گرفتار کر لیا اور باقی بھاگ کر بنو اسد کے لشکر کے پاس جا کر انھیں خبر دی تو وہ سب منتشر ہو کر بھاگ گئے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو تین جماعتوں میں تقسیم کر کے الگ الگ سمتوں میں بھیجا ۔ اُن تینوں جماعتوں سے کسی نے مقابلہ نہیں کیا اور وہ اچھا خاصا مال ِ غنیمت لے کر آئے۔ ان میں بہت ساری بکریاں اور اونٹ تھے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ یہ سب لے کر مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مالِ غنیمت کو خمس نکالنے کے بعد ہر ایک کے حصہ میں سات اونٹ اور سات بکریاں حاضر آئیں۔

سریہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ محرم الحرام کو یہ اطلاع ملی کہ خالد بن سفیان ہذلی ولحیانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے لئے لشکر جمع کر رہا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ انیس رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دے کر روانہ کیا کہ خالد بن سفیان کا سر لے کر آئو۔ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اس سے جا کر ملے اور موقع پا کر اسے قتل کر کے اس کا سر کاٹ لیا اور ایک غار میں جا کر چھپ گئے۔ وہاں ایک مکڑی نے جالا تان دیا۔ خالد بن سفیان کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کی تلاش میںوہاں پہنچے اور مکڑی کا جالا دیکھ کر واپس ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اس غار سے نکلے اور رات میں سفر کرتے اور دن میں چھپ جاتے تھے۔ اس طرح 23محرم الحرام کو مدینہ منورہ پہنچے اور خالد بن سفیان کا سرسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد خوشی ہوئی اور ایک عصا انعام میں دیااور یہ ارشاد فرمایا: ’’اس عصا کو پکڑ کر جنت میں چلنا اور جنت میں عصا لے کر چلنے والے بہت کم لوگ ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا :’’یہ عصا قیامت کے دن تیرے اور میرے درمیان ایک نشانی ہوگی۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ ساری زندگی اس عصا کی حفاظت فرماتے رہے اور مرتے وقت وصیت کی تھی کہ یہ عصا میرے کفن میں رکھ دینا تو ایسا ہی کیا گیا۔

واقعہ رجیع

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے بعد سے مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے اور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت فرماتے رہے۔ صفر المظفر ۴ ہجری میں قبیلہ عَضل اورقارہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا: ’’ ہمارے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس لئے ہماری تعلیم و تربیت کے لئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہمارے ساتھ بھیج دیں کہ وہ ہمیں قرآن پاک کی تعلیم دیں گے اور ہمیں قرآن پڑھائیں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ جن میں سے چند نام یہ ہیں۔ (۱) حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ (۲) حضرت مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ (۳) حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ (۴) حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ ( ۵) حضرت زید بن وثنہ رضی اللہ عنہ (۶) حضرت خالد بن بکیر رضی اللہ عنہ (۷) حضرت معتب بن عبید رضی اللہ عنہ ( یہ حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ کے علاقائی بھائی ہیں) اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عضل اورقارہ کے لوگوں پر بھروسہ کر کے ان کے ساتھ اپنے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیج دیا۔ لیکن ان غداروں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکے بازی کی اور قبیلہ بنو لحیان کے لوگوں کو خبر کر دی اور بن لحیان کے لوگ 200مسلح افراد کا لشکر لے کرا ٓئے اس لشکر میں 100تیر انداز تھے۔ جب بنو لحیان کے لوگ آئے تو قبیلہ عضل اور قارہ کے لوگ ان سے مل گئے یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے اور وہاں سے مقابلہ کر نے لگے۔ چونکہ بنو لحیان نیچے تھے اس لئے ان کے آدمی زیادہ قتل ہو رہے تھے۔ اس لئے قبیلہ بنو لحیان کے لوگوں نے کہا: ’’ تم لوگ نیچے اتر آئو ۔ ہم تمہیں پناہ دیتے ہیں۔‘‘ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں کافر کی پناہ کبھی نہیں لوں گا۔‘‘ اور یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حال کی خبر کر دے۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرمائی اور اسی وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فرشتے کے ذریعے ) خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خبر دی۔

حضرت عاصم اور سات صحابہ رضی اللہ عنہم کی شہادت اور دو کی گرفتاری

   حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کافروں کی پناہ لینے کی بجائے ان سے لڑنا اور شہید ہونا پسند فرمایا اور مقابلہ کرتے رہے۔ لیکن جب ان کے تیر ختم ہو گئے تو بنو لحیان کو ٹیلے پر چڑھنے کا موقعہ مل گیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تلوار کھینچ کے مقابلہ شروع کر دیا۔ لڑتے لڑتے حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے اور تین صحابہ حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے کافروں کی پناہ کو قبول کر لیا۔ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی : ’’ اے اللہ تعالیٰ! آج میں تیرے دین کی حفاظت کر رہا ہوں ، تُومیرے گوشت ( یعنی جسم) کی حفاظت فرمانا۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے جسم کی حفاظت فرمائی۔ وہ کافروں کو نہیں مل سکا۔ بقیہ تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہتھیار ڈال دیا تو وہ ان کے ہاتھ باندھنے لگے تو حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ پہلے ہی قدم پر بد عہدی کر رہے ہو۔ لیکن کافروں نے ان کو باندھ کر گرفتار کر لیا اور لے کر چلے۔

حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضرت زید اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہم کی فروختگی

   بنو لحیان کے کافر ان تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گرفتار کر کے مکہ مکرمہ کی طرف چلے۔ جب مرا لظہران تک پہنچے تو حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ رسی سے چھڑا لیا اور تلوار لے کر مقابلے پر ڈٹ گئے۔ لیکن ان بدبخت کافروں نے چاروں طرف سے دور سے گھر لیا اور کوئی قریب نہیں آیا۔ بلکہ دور سے چاروں طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر پتھر برسانے لگے۔ یہاں تک کہ پتھر وں کی مار سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ اس کے بعد کافر حضرت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو لے کر مکہ مکرمہ آئے اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو صفوان بن اُمیہ نے خرید لیا۔ تا کہ اپنے باپ کے قتل کے بد لہ میں انھیں شہید کرے اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو حجیر بن ابو رہاب نے اپنے بھانجے عقبہ بن حارث کے لئے خرید ا کہ وہ انھیں اس کے باپ کے بدلہ میں شہید کرے اور ان دونوں کو اشہر حرام ( وہ مہینے جن میں لوگ قتل اور جنگ حرام سمجھتے تھے) نکل جانے تک انھیں قید میں رکھا۔

حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور محبت

   حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو صفوان بن امیہ نے خریدا تھا ۔ اس نے اپنے غلام فسطاس کو حکم دیا کہ حرم کے باہر ( مکہ مکرمہ کے باہر) لے جا کر حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دے۔ وہ غلام آپ رضی اللہ عنہ کو لے کر چلا تو مکہ مکرمہ کے مشرکین بھی قتل کا تماشہ دیکھنے کے لئے پیچھے پیچھے ہو لئے۔ ان میں ابو سفیان بن حرب بھی تھا۔ جب حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا جانے لگا تو ابو سفیان آگے آیا اور بولا: ’’ اے زید! ( رضی اللہ عنہ) میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ۔ کیا تم یہ پسند کرو گے کہ ہم تم کو چھوڑ دیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تمہارے بدلہ میں قتل کر دیں اور تم آرام سے اپنے گھر میں رہو۔ ‘‘یہ سن کر حضرت زید رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے اور فرمایا: ’’ اللہ کی قسم !مجھ کر یہ بھی گوار انہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کانٹا یا پھانس چھبے اور میں اپنے گھر میںبیٹھا رہوں۔ ‘‘یہ سن کر ابو سفیان نے کہا: ’’ اللہ کی قسم !میں نے کسی کو کسی کا اتنا مخلص ، جاں نثار اور محبت کرنے والا نہیں دیکھا جتنی محبت اور خلوص اور جاں نثاری محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھیوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے واسطے دیکھی ہے۔‘‘ اس کے بعد فسطاس نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ بعد میں یہ غلام فسطاس مسلمان ہو گیاتھا۔

اس سے بہتر ( اچھا ) قیدی نہیں دیکھا

   حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے غزوہ بد رمیں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ اسی لئے اپنے باپ کے قتل کے بدلہ میں حار ث کے بیٹے آپ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ قید کے دوران حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے حارث کی بیٹی زینب سے بال صاف کرنے کے لئے استرا مانگا۔ وہ استرا دیکر اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔ ( زینب نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا) زینب بتاتی ہے کہ میں نے دیکھا کہ میرا بچہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی گود میں بیٹھا ہے اور استرا اُن کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ منظر دیکھ کر میںبے انتہا گھبرا گئی اور ڈر گئی کہ کہیں میرے بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا: ’’ کیا تجھ کو یہ اندیشہ ہو گیا کہ میں اس بچے کو قتل کردوں گا؟ ہرگز نہیں۔ انشاء اللہ مجھ سے ایسا کام کبھی نہیں ہوگا اور ہم لوگ ( مسلمان لوگ) عذر نہیں کرتے۔‘‘ زینب اکثر یہ کہا کرتی تھیں : ’’میں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر ( اچھا) کوئی قیدی نہیں دیکھا بے شک میں نے ان کو انگور کھاتے دیکھا۔ حالانکہ اس وقت مکہ مکرمہ میں انگور کا کہیں نام و نشان نہیں تھا اور وہ خود بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور کہیں جا کر لا نہیں سکتے تھے۔بے شک اُن کے پاس یہ رزق اللہ تعالیٰ کے پاس سے آتا تھا۔‘‘

حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی شہید ہونے سے پہلے دو رکعت نماز

   حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو حارث کے بیٹے قتل کے لئے مکہ مکرمہ سے باہر لے جانے لگے تو مشرکین بھی پیچھے پیچھے ہولئے۔ حضرت بُریدہ بن سفیان اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو جب حارث کے خاندان والے شہید کرنے کے لئے لے جا رہے تھے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ’’ اے رب ِ کائنات ! اے اللہ تعالیٰ !میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کسے قاصد بنائوں ؟ اور وہ میرا آخری سلام تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جائے۔ پس اے واحد و بے ہمتا! الرحم الراحمین معبود !تُو ہی اس کام کو کر دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فوراً حضرت خُبیب رضی اللہ عنہ کا سلام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں پہنچایا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ واعلیکم السلام ‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس کے سلام کا جواب عطا فرما رہے ہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے بھائی خبیب رضی اللہ عنہ کو کافر قتل کرنے کے لئے لے جا رہے ہیں اور وہ ایک آخری سلام خلوص و محبت سے کر رہے ہیں۔ ‘‘اس کے بعد حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے اپنی قتل گاہ پر پہنچ کر فرمایا: ’’مجھ کو اتنی مہلت دو کہ میں دو رکعت نماز ادا کر سکوں۔‘‘ لوگوں نے اجازت دی۔ تمام قریش کے مشرکین دیکھ رہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کرنے کے بعد فرمایا: ’’ میں نے نماز کو اس لئے طویل نہیں کیا کہ تم کہیں یہ گمان نہ کرنے لگو کہ میں موت کے ڈر سے ایسا کر رہا ہوں‘‘ اور یہ فرمایا: ’’مجھ کو ( موت کی ) کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ( بلکہ پرواہ اس بات کی ہے کہ ) میں مسلمان بن کر شہید ہوئوں اور میرا بچھڑنا اور ملنا خالص اللہ کے لئے ہو اور اللہ تعالیٰ چاہے تو میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے جوڑوں میں برکت نازل فرما سکتا ہے ۔‘‘ اس کے بعدحضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور یہ سنت قائم فر ماگئے کہ جو شخص قتل ہونے لگے وہ دو رکعت نماز پڑھے۔

’’بلیع الارض ‘‘حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا لقب

   حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کے مشرکین نے آپ رضی اللہ عنہ کی لاش کو ویسے ہی لٹکتا چھوڑ دیا تھا اور چالیس افراد دن رات پہرہ دیتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’جو شخص حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی لاش سُولی سے اتارے گا ۔ اس کے لئے جنت واجب ہے۔‘‘ یہ بشارت سن کر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے لاش کو سُولی سے اتارنے کی اجازت مانگی جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دی۔ یہ دونوں حضرت راتوں کو سفر کرتے اور دن میں چھپ کر مقامِ تنہم ( جہاں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تھے) پہنچے ۔ وہاں پہرے دار موجود تھے۔ دونوں حضرات موقع کی تلاش میں رہے اور جب پہرے دار غافل ہوئے تو لاش سولی سے اتار کر گھوڑے پر رکھی وہ ابھی بھی ویسی ہی ترو تازہ تھی ۔ جب کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو شہید ہوئے چالیس دن گزر چکے تھے۔ پہریداروں کی آنکھ کھلی تو انھوں نے لاش کو غائب پایا تو اطراف میں گھوڑسواروں کو دوڑایا اورآخر کار حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچنے لگے۔ دونوں حضرات نے جب تعاقب کرنے والوں کو دیکھا تو لڑنے کے لئے تیار ہو گئے اور لاش اتار کر زمین پر رکھ دی۔ لاش زمین پر رکھتے ہی زمین پھٹ گئی اور لاش اندر چلی گئی اور زمین برابر ہو گئی۔ دونوں حضرات نے یہ منظر دیکھا تو لڑنے کا ارادہ ترک کر کے مدینہ منورہ روانہ ہو گئے اور مشرکین خالی ہاتھ واپس گئے۔ اسی وجہ سے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ ’’ بلیع الارض ‘‘ ( جس کو زمین نگل گئی) کے لقب سے مشہور ہوئے۔

واقعہ بیرمعونہ ( قاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ )

   ابھی دردناک واقعہ رجیع تازہ ہی تھا کہ اسی ما ہ صفر المظفر ۴؁ ہجری میں دوسرا دردناک واقعہ بیئر معونہ پیش آیا اور لگ بھگ 70قاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے شہید کر دیا گیا۔ اسی مہینہ صفر المظفر میں عامر بن مالک جس کی کنیت ابو براء تھی وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہدیہ پیش کیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا او ر اسے اسلام کی دعوت دی جو اس نے قبول نہیں کی اور نہ ہی انکار کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب رضی اللہ عنہم کو اہل نجد کی طرف اسلام کی دعوت دینے کی غرض سے روانہ فرمائیں تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس دعوت کو قبول کر لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اہل نجد کی طرف سے اندیشہ ہے ( کہ کہیں وہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو نقصان نہ پہنچائیں) عامر بن مالک ابو براء نے کہا میں ان کی ضمانت لیتا ہوں۔ ( اس پر اعتبار کر کے ) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 70صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمادیا۔ یہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ’’ قراء‘‘ ( قرآن کے قاری) کہلاتے تھے اور ان کا امیر حضرت منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ کو بنایا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن مالک پر بھروسہ کر کے 70قاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا ۔ یہ نہایت مقدس اور پاک باز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت تھی۔ یہ دن میں لکڑیاں چنتے تھے اور شام کو اسے فروخت کر کے اصحاب صُفہ رضی اللہ عنہم کے لئے لئے کھانا لاتے تھے۔ ( اصحاب صُفہ کے بارے میں تفصیل سے ہم اس سے پہلے بتا چکے ہیں) اور رات کا کچھ حصہ قرآن پاک سیکھنے اور سکھانے اور درس قرآن میں گزار تے تھے اور کچھ حصہ رات میں ( نماز میں ) قیام اور تہجد ادا کرنے میں گزارتے تھے۔ یہ لوگ مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر بیئرمعونہ ( معونہ کا کنواں) کے پاس پہنچے اور وہیں قیام کر دیا۔ معونہ کا کنواں مکہ مکرمہ اور عسفان کے درمیان قبیلہ ہذیل کے علاقوں میں واقع ہے اور اس کے آس پاس بنو رعل اور بنو سلیم اور بنو ذکوان ( بنو سلیم کی ایک شاخ) کے قبائل آباد تھے اور سب سے قریب بنو عامر کا قبیلہ رہتا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عامر کے سردار عامر بن طفیل کے نام ایک خط لکھوا کر ( یہ بنو عامر کے بڑے سردار عامر بن مالک ابو براء کا بھتیجا تھا) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ماموں حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ جب یہ لوگ بیئر معونہ ( معونہ کے کنواں ) کے پاس پہنچے تو حضرت احرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو عامر بن طفیل کے پاس بھیجا ۔ انھوں نے عامر بن طفیل کو سید ا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط دیا تو اس بد بخت نے خط کھول کر پڑھنے کی بجائے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ اس نے حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے نیزہ مارا جو پار ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ـ ’’ اللہ اکبر!!قسم ہے کعبہ کے پروردگار کی !میں کامیاب ہو گیا۔‘‘ اور شہید ہو گئے۔

صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت

   حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے قتل کرنے کے بعد بد بخت عامر بن طفیل نے بنو عامر کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر حملہ کرنے کا حکم دیا تو قبیلہ بنو عامر کے لوگوں نے کہا ۔ تمہارے چچا نے ان لوگوں کو پناہ دی ہے اس لئے ہم ان پر حملہ نہیں کر سکتے اور انکار کر دیا۔ قبیلہ بنو عامر سے مایوس ہونے کے بعد اس بد بخت عامر بن طفیل نے قبیلہ بنو سلیم، قبیلہ رعل ، قبیلہ ذکوان اور قبیلہ عصیّہ سے مدد مانگی تو وہ حملے کے لئے تیار ہو گئے اور ایک بڑا لشکر لے کر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گھیر لیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ اللہ کی قسم !ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ بلکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حاجت ( قرآن پاک پڑھانے ) کے لئے بھیجا ہے۔‘‘ اس کے باوجود انھوں نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہید کر دیا۔ صرف حضرت کعب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی اس لئے انھیں مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ بعد میں یہ ہوش میں آئے اور زندہ رہے اور غزوہ خندق میں شہید ہوئے۔ دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مویشیوں کو چَرانے گئے ہوئے تھے۔ انھوں نے یکا یک آسمان کی طرف پرندے اڑتے دیکھے تو کہا ضرور کوئی بات ہے۔ جب دونوں دوڑتے ہوئے بیئر معونہ پہنچے تو ان کے ساتھی خون میں نہائے شہید ہو چکے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن اُمیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چلو مدینہ منورہ واپس چلتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتے ہیں۔ حضرت منذر بن محمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خبر ہوتی ہی رہے گی میں کیوں شہادت کا موقع چھوڑ دوں‘‘ اور تلوار نکال کر کافروں پر ٹوٹ پڑے اور کئی کافروں کو قتل کر تے ہوئے شہید ہو گئے۔ جب کہ حضرت عمر بن اُمیہ رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرلیا گیا اور عامر بن طفیل نے اُن کے سر کے بال کاٹے اور یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر مانی ہے اس لئے میں تم کو آزاد کر تا ہوں۔

حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت

   حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ آپ کو یاد ہوں گے۔ سیدا لا نبیاء صلی ا للہ علیہ وسلم کی ہجرت کے ذکر میں ہم آپ کو بتا چکے ہیںکہ غارِ ثور سے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر ؓرضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہجرت کے سفر پر روانہ ہوئے تو ساتھ میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔ یہ غلام بھی تھے۔ انھیں حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے آزاد کر دیا تھا۔ اس درد ناک واقعہ میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ بھی شامل تھے۔ جب انھیں شہید کیا گیاتو ان کی لاش آسمان کی طرف اٹھا لی گئی۔ یہ دیکھ کر عامر بن طفیل نے کہا: ’’ مسلمانوں میں وہ کون مرد ہے کہ قتل ہوا تو میں نے دیکھا کہ اسے زمین اور اور آسمان کے درمیان اٹھا لیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ آسمان نیچے رہ گیا۔‘‘صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ عامر بن طفیل نے کہامیں اس شخص( حضرت عامر بن فہیرہ ؓ) کو دیکھا کہان کی لاش آسمان کی طرف اٹھا لی گئی ہے اور زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہی اور پھر زمین پر رکھ دی گئی۔ ‘‘ جبار بن سلمیٰ نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ جب میں نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ کو نیزہ مارا تو اس وقت ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے: ’’ اللہ کی قسم! میں مراد کو پہونچا؟‘‘ اس نے حضرت ضحاک بن سفیان رضی اﷲ عنہ کی خد مت میں آکر واقعہ بتایا اور پو چھا تو انھوں نے بتایا : ’’ اس کا مطلب یہ کہ انھوں نے جنت کو پا لیا۔ ‘‘میں نے یہ سن کر اسلام قبول کر لیا۔‘‘ حضرت ضحاک بن سفیان رضی اﷲ عنہ نے یہ واقعہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کی خد مت میں لکھ کر بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ فرشتوں نے ان کے حبثہ کو چھپا لیا اور علیین میں اتا رے گئے۔‘‘ صحیح بخاری میں ہے کہ ان 70صحا بہ کرام کے ساتھ ہو ئے درد ناک واقعے کا سید ا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا شدید صدمہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیس دنوں تک نماز میں دعائے قنوت پڑھتے رہے اور دعائے قنوت کی ابتداء یہیں سے ہو ئی۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ روایت کر تے ہیں : ’’ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنا غمگین نہیں دیکھا۔جتنا بئرِ معونہ کے دردناک واقعہ پر دیکھا۔‘‘

غلط فہمی میں قتل

   اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ بنو عامر نے عامر بن طفیل کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھااور70صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی شہادت میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اسی قبیلہ بنو عامر کے دو شخص کی ملاقات حضرت عمرو بن امیہ رضی اﷲ عنہ سے ہو ئی۔ جو مدینہ منورہ واپس ہو رہے تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے ستر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا صدمہ تھا اور عامر بن طفیل کے رویہ سے بنو عامر پر بھی غصہ تھا۔ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ بنو عامر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہے ۔ انھوں نے ان دوآدمیوں کا قتل کر دیا اور سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں آکر تمام واقعہ بتا یا تو آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے فر مایا : ’’ بنو عامر سے ہمارا معاہدہ ہے اس لیئے ہمیں ان دو آدمیوں کے دیت (خوں بہا) دینا پڑے گا (یہ یاد رہے کہ دو آدمیوں کی دیت دو سو اونٹ ہے) اور میں اسے ادا کروں گا۔‘‘

یہو دیوں کا قاتلانہ حملہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان دو آدمیوں کی دیت کا انتظام کر نے لگے۔جنھیں لا علمی میں حضرعمرو بن امیہ رضی اﷲ عنہ نے قتل کر دیا تھا۔چونکہ بنو نضیر کے یہو دیوں کا بھی بنو عامر سے معا ہدہ تھا اور وہ ان کے حلیف تھے اور سید الا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی معاہدہ ہوا تھا۔ اس لیے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ حضرت ابو بکر ،حضرت عمر فاروق ،حضرت عثمان غنی ، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت عبد الر حمٰن بن عوف، حضرت سعد بن معاذ ، حضرت اسید بن حضیر اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ میں لے کر بنو نضیر کے علاقے میں پہنچے اور دیت کے سلسلہ میں بات چیت کی۔ بنو نضیر کے سرداروں نے کہا: ’’ اے ابو القاسم! ( یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )جس طرح چاہیں گے ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی مدد کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک دیوار کے سائے میں بٹھا کر مشورہ کرنے کے لئے اجازت لے کر الگ جا کر مشورہ کرنے لگے۔ ان لوگوں نے آپس میں کہا : ’’ اس سے بہتر موقع ابو القاسم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرنے کا نہیں ملے گا۔ اس وقت وہ ہمارے مکانات کی دیوار کے سائے میں ٹیک لگا ئے تشریف فرما ہیں اور ہمیں چاہیئے کہ اوپر سے بڑا پتھر گر ا کر ان سے نجات حاصل کرلیں۔‘‘ اس کام کے لئے عَمرو بن حجاش بن کعب تیار ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر گرانے کے لئے اوپر چڑھا۔ امام محمد بن سعد کی روایت میں ہے کہ سلام بن مشکم نے کہا: ’’ ایسا نہ کرو! اللہ تعالیٰ انھیں تمہارے اس ارادے کی خبر دے دے گا اور ہمارے اور ان کے درمیان جو معاہدہ ہے یہ اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ان ( یہودیوں ) نے جو ارادہ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نعوذ باللہ قتل کا ) بنایا تھا اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ( جبرئیل علیہ السلام کو بھیج کر ) دے دی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اچانک کسی حاجت کا فرما کر فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔

غزوہ ٔ بنو نضیر ۴ ؁ ہجری

   بنی اسرائیل ( یہودی) یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’ وہ آخری نبی ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کا ذکر ان کی کتاب ( توریت) میں ہے۔ لیکن حسد کی وجہ سے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے تھے۔ کھلے عام تو ان کی ہمت نہیں پڑتی تھی اس لئے در پردہ سازشیں کرتے تھے اور ان کا سب سے بڑا ساتھی منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی تھا۔ اس کے علاوہ جب ان بد بخت بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کو موقع ملتا تھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور بنو نضیر کے یہودیوں نے بھی پتھر گر اکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن عین وقت پر اللہ تعالیٰ نے خبر کر دی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر مدینہ منورہ چلے آئے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہیں بیٹھے رہے۔ یہودیوں ( بنی اسرائیل ) کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح اٹھ کر چلے جانے کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ شرمندہ ہوئے اور کنانہ بن حویئرا یہودی نے کہا : ’’تم کو معلوم نہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کیوں اٹھ کر چلے گئے؟ اللہ کی قسم! ان کو تمہاری غداری کا پتہ چل گیا ہے اور اللہ کی قسم! وہ اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں ۔‘‘ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہاں سے اٹھ کر مدینہ منورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی غداری کی اطلاع دی اور بنو نضیر پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔

بنو نضیر کی جلا وطنی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنایا اور اسلامی لشکر لے کر بنو نضیر پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا۔ بنو نضیر کے یہودیوں نے اپنے قلعوں میں گھس کر دروازے بند کر لئے۔ انھیں اپنے مضبوط قلعوں پر بہت گھمنڈ تھا اس کے علاوہ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے انھیں پیغام دیا کہ ہم ہم تمہارے ساتھ ہیں اس کے باوجود ان کی مقابلے پر آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ البتہ بنو نضیر کے یہودیوں نے ایک سازش اور کی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ آئیں اور ہمارے تین علماء سے گفتگو کریں ۔ اگر وہ ایمان لے آئیں تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے اور اپنے تینوں علماء کو ہتھیار دے کر یہ ہدایت کی کہ اپنے کپڑوں میں یہ چھپا کر لے جائو اور گفتگو کے دوران محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر حملہ کر کے انھیں ( نعوذ باللہ) قتل کر دینا۔ مگر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی مکاری اور عیاری کا پتہ چل گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ اور سخت کر دیا۔ پندرہ دنوں تک محاصرہ چلا اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا : ’’ دس دنوں کے اندر یہ علاقہ خالی کر کے چلے جائو اور جو لے جا سکتے ہو وہ لے کر جائو۔ دس دنوں بعد اس علاقے میں نظر آئے تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔‘‘ یہودیوں نے مال و دولت کے ساتھ ساتھ تمام سامان بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ یہاں تک کہ اپنے مکانوں کے دروازوں کو بھی اکھاڑ کر لے لیااور علاقہ خالی کر دیا۔ ان میں سے بہت سے ملک شام چلے گئے اور بہت سے بنو قریظہ میں جا کر آباد ہو گئے۔ ان میں اُن کا سردار حی بن اخطب، کنانہ بن ربیع اور سلام بن ابی حقیق تھے۔ یہ سب خیبر میں جا کر بنو قریظہ میں رہنے لگے۔

مالِ غنیمت کی تقسیم اور انصار کا جذبہ ٔ ایثار

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بنو نضیر کے یہودیوں ( بنی اسرائیل) کے چلے جانے کے بعد تمام مالِ غنیمت کی تقسیم کا ارادہ فرمایا تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ’’ اے گروہ انصار! اگر تم چاہو تو میں بنو نضیر کے مالِ غنیمت کو تم میں اور مہاجرین میں برابر تقسیم کر دوں اور مہاجرین حسبِ سابق تمہارے شریک حال رہیں۔( یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ مہاجرین بالکل خالی ہاتھ ہجرت کر کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئے تھے اور مدینہ منورہ کے انصار نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا تھااور انہیں اپنے گھروں میں رہنے کی جگہ دی تھی اور اپنے کاروبار اور ( کھجور کے باغات کی ) کھیتی میں شریک کر لیا تھا اور ہر ممکن طریقے سے مہاجرین کے کام آنے کی کوشش کرتے تھے) اور اگر تم چاہو تو میں یہ مالِ غنیمت صرف مہاجرین میں تقسیم کر دوں اور وہ تمہارے گھروں کو خالی کر دیں۔‘‘ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نہایت خوشی سے اس بات پر راضی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مالِ غنیمت مہاجرین میں تقسیم فرمادیں اور مہاجرین پہلے کی طرح ہمارے گھروں میں ہی رہیں اور ہمارے کھانے پینے اور کاروبار اور ( کھجور کے باغات) کی کھیتی میں بھی شریک رہیں ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ انصار نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ مالِ غنیمت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مہاجرین میں تقسیم فرمادیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے مال و دولت اور جائداد میں سے جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں مہاجرین کو عطا فرما دیں۔ ہم نہایت خوشی سے اس پر راضی ہیں۔ ‘‘انصار کا یہ ایثار اور پیار و محبت دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بے انتہا خوشی اور مسرت ہوئی۔ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بھر آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو دعا دی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! انصار پر اور انصار کی اولاد پر اپنی خاص مہربانی اور رحمت فرما۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اے گروہ انصار ! اللہ تعالیٰ تم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اللہ کی قسم !تم نے ہمارا بہت خیال رکھا اور ہماری مدد اور اعانت سے نہیں اکتائے۔ جب کہ ہماری والدہ بھی اگر تمہاری جگہ ہوتی تو شاید وہ بھی اکتا جاتی ۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مالِغنیمت مہاجرین میں تقسیم فرمادیا اور انصار میں سے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو بھی اس میں سے حصہ عطا فرمایا۔ کیوں کہ وہ دونوں بہت غریب اور تنگدست تھے۔ غزوہ بنو نضیر ربیع الاول ۴؁ ہجری میں ہوا۔

غزوہ نجدیا غزوہ ذات الرقاع

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو نضیر سے فارغ ہو کر ماہِ ربیع الاول اور ربیع الآخر اور ماہِ جمادی الاول کے کچھ دن مدینہ منورہ میں گزارے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ نجد یا غزوہ ذات الرقاع کے لئے روانہ ہوئے۔ اس غزوہ کی تاریخ کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف روایات ہیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ بنو نضیر کے غزوہ کے بعد یہ غزوہ جمادی الاول ۴ ہجری میں ہوا۔ امام ابن سعد اور امام ابن حبان کے مطابق ہجرت کے پانچویں سال کے پہلے مہینے محرم الحرام ۵ ہجری میں ہوا۔امام محمد بن اسماعیل بخاری کے مطابق غزوہ خیبر کے بعد یہ غزوہ ہوا۔ لیکن اس کے باوجود امام بخاری نے اس غزوہ کو غزوہ خیبر سے سے پہلے ذکر فرمایا۔ اب یہ غزوہ کب ہوا ؟ اس کا صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے اور یہ تمام تفصیل المواہب الدنیا میں مذکور ہے۔ امام زرقانی نے شرح علی المواہب میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔

غزوہ کا نام

   اکثر علماء کرام نے اس غزوہ کو غزوہ ذات الرقاع ہی فرمایا ہے اور کچھ علمائے کرام نے غزوہ نجد فرمایا ہے۔ امام عبدا لملک بن ہشام فرماتے ہیں کہ اس غزوہ کو غزوہ ذات الرقاع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس غزوہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے جھنڈوں میں پیوند لگا ئے تھے۔ ( یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ غزوہ ذات الرقاع کا معنی یہ ہوتا ہے ۔ چیتھڑوں یا پیوند وں والا غزوہ) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جگہ ایک درخت تھا ( جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا) اس درخت کا نام ذات الرقاع تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ جس جگہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پڑائو ڈالا تھا وہاں زمین کا ایک حصہ سفید اور ایک حصہ سیاہ تھا۔ گویا اس زمین میں مختلف پیوند لگے ہوئے تھے۔ اسی لئے اسے غزوہ ٔ ذات الرقاع کہا گیا۔ امام عبدا لرحمن بن عبداللہ سہیلی روضی الانف شرح سیرت النبی ابن ہشام میں لکھتے ہیں ۔ سب سے زیادہ صحیح وہ قول ہے جو امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہمارے درمیان ایک اونٹ تھا۔ جس پر ہم باری باری سوار ہو رہے تھے ۔ ہمارے قدم گِھس گئے ( یعی پیروں میں چھالے پر کر پھوٹ گئے اور پیر زخمی ہو گئے) اور ناخن تک جھڑ گئے ( یعنی ناخن گِھس کر ٹوٹ کر نکل گئے) ہم اپنے پائوں میں پٹیاں باندھتے تھے اسی لئے اس غزوہ کا نام غزوہ ذات الرقاع کہا گیا ۔ کیوں کہ ہم نے کپڑوں کے ٹکڑے پٹیوں کے طور پر پائوں میں باندھے تھے۔

غزوہ ٔ ذات الرقاع کی وجہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ بنو عطفان کی دو شاخیں بنو محارب اور بنو ثعلبہ نجد میں اپنی افواج ( لشکروں) کو جمع کر رہے ہیں۔ تا کہ مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کیا۔ اس کے بعد چار سو ( 400)مجاہدین کو لے کر نجد کی طرف روانہ ہو ئے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ سات سو (700) مجاہدین کے ساتھ روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ نجد میں عطفان کے علاقے میں ایک مقام نخل پر پڑائو ڈالا وہاں ایک لشکر سے سامنا ہوا اور دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے۔ لڑائی تو نہیں ہوئی یعنی جنگ کی نوبت نہیں آئی لیکن چونکہ دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اس لئے دونوں لشکر خوف کا شکار ہو گئے۔ اسی درمیان نماز کا وقت ہوا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ صلوٰۃ الخوف‘‘ پڑھائی۔ یعنی آدھے لشکر سے فرمایاکہ وہ دشمن کے سامنے ڈٹا رہے اور جب آدھا لشکر دو رکعت نماز پڑھ کر آکر ان کی جگہ پر ڈٹ جائے تو بقیہ آدھا لشکر آکر دو رکعت نماز ادا کرے۔ دو رکعت ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں ہی بیٹھے رہے اور آدھا لشکر دور کعت نماز پڑھ کر چلا گیا اور دشمنوں کے سامنے ڈٹ گیا تو بقیہ آدھے لشکر نے آکر نماز کی نیت باندھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دو رکعت نماز پڑھا کر چار رکعت نماز مکمل کی۔ اس کے بعد دشمنوں کا لشکر واپس چلا گیااور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں کچھ وقت گزار کر مجاہدین کے ساتھ واپس ہوئے۔ امام محمد بن سعد فرماتے ہیں کہ یہ پہلی صلوٰۃ الخوف تھی اور آگے یہ بھی لکھتے ہیں کہ دشمنوں کی کچھ خواتین گرفتار ہوئیں اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے اور علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک خاتون اپنے شوہر کو ڈھونڈتی ہوئی اسلامی لشکر میں آئی اور کچھ دور تک اسلامی لشکر کے پیچھے آئی اور پھر غائب ہو گئی یعنی نہ جانے کہاں چلی گئی ۔

غورث بن حارث کا قبول اسلام

   اس غزوہ سے واپسی پر ایک واقعہ پیش آیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ ہم غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے تو اسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا۔ ( اور کچھ دور پر پڑائو ڈالا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار درخت کے ساتھ لٹکا دی تھی کہ ایک مشرک اعرابی ( دیہاتی غورث بن حارث) آیا اور تلوار میان سے نکال کر تان لی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا: ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )مجھ سے ڈر رہے ہیں ؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا: ’’ نہیں ۔‘‘ اس نے کہا : ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ ۔‘‘ ابو عوانہ کے مطابق اس کی تلوار اتنا سنتے ہی گر پڑی۔ امام واقدی کے مطابق جب اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس کی کمر میں درد اٹھا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اس کے آگے امام بہیقی لکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھا لی اور فرمایا: ’’ اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )اچھے لینے والے ہو جائیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کا رسول ہوں؟‘‘ اس اعرابی نے کہا: ’’میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں لڑوں گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا ساتھ دوں گا۔‘‘ راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ اپنی قوم کے پاس آیا تو کہنے لگا : ’’ میں تمہارے پاس سب سے بہتر انسان کے پاس سے آیا ہوں۔ ‘‘ امام بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سزانہیں دی۔ امام بخاری نے ابو یمان کی روایت سے نقل فرمایا کہ اس اعرابی نے تین مرتبہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ امام بخاری نے فرمایا کہ مسدد نے ابو عوانہ سے اور انھوں نے ابو البشر سے روایت کیا کہ اس شخص کا نام غورث بن حارث تھا اور امام واقدی لکھتے ہیں کہ وہ شخص مسلمان ہو گیا اور اپنی قوم کی طرف گیا اور اس کے ذریعے بہت سے لوگوں نے ہدایت پائی۔ اسی قسم کا ایک واقعہ غزوہ غطفان ۳ ؁ ہجری میں پیش آیا تھا۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں دونوں ایک ہی واقعہ ہے اور بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز

   حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک مشرک عورت کسی مسلمان کے قبضہ میں آگئی اس وقت اس کا شوہر موجود نہیں تھا۔ ( غالباً یہ اسی عورت کا ذکر ہے جو اپنے شوہر کو ڈھونڈتی ہوئی اسلامی لشکر میں آئی تھی اور کچھ دور اسلامی لشکر کے پیچھے آنے کے بعد نہ جانے کہاںچلی گئی تھی) جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آنے لگے تو اس کے شوہر کو اس واقعہ کا علم ہوا تو اس نے قسم کھائی کہ جب تک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کسی ساتھی کو قتل نہیں کروں گا تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ اسی نیت سے وہ اسلامی لشکر کے پیچھے چل پڑا۔ رات میں سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پہاڑ کی گھاٹی ( نشیب کا میدان) میں قیام فرمایا۔ یعنی پڑائو ڈال دیا اور فرمایا : ’’آج رات ہماری نگہبانی ( پہریداری) کون کرے گا؟‘‘ا یک مہاجر صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری صحابی عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں پہاڑ کے درّے پر تعینات فرمادیا۔ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہم نے طے کیا کہ ایک آدھی رات پہرہ دے گا اور دوسرا آرام کرے گا۔ پھر دوسرا پہرہ دے گا اور پہلا آرام کرے گا۔ انصاری صحابی حضرت عباد بن بشر نے فرمایا: ’’ پہلے میں جاگتا ہوں اور آپ رضی اللہ عنہ سو جائیں۔ ‘‘ مہاجر صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سو گئے اور انصاری صحابی نماز پڑھنے لگے۔ اس عورت کے شوہر نے جب انھیں دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ اسلامی لشکر کے پہرے دار ہیں۔ اس نے تیر چلایا جو انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کو لگا۔ انھوں نے وہ تیر نکال کر زمین پر ڈال دیا اور نماز پڑھتے رہے۔ اس شخص نے دوسرا تیر چلایا جو انھیں لگا تو انھوں نے اسے بھی نکال کر زمین پر ڈال دیا اور نماز جاری رکھی۔ جب اس نے تیسرا تیر مارا تو انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے رکوع اور سجدہ کر کے نماز مکمل کی اور اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فوراً اٹھے اس شخص نے جب ایک سے زیادہ آدمی دیکھے تو سمجھ گیا کہ یہ لوگ چوکنا ہیں اور وہ بھاگ گیا۔ ادھر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کے جسم سے خون نکلتا اور بہتا دیکھا تو فرمایا: ’’ سبحان اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ نے غضب کیا۔ جب پہلا تیر لگا تب آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے کیوں نہیں جگایا؟ ‘‘ حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں اللہ کے کلام (قرآن پاک) کی ایک سورہ تلاوت کر رہا تھا اور مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ اس سورہ کو ادھوری چھوڑ دوں ۔ مگر جب متواتر تیر لگنے لگے تو میں نے محسوس کیا کہ کہیں اس سورہ کو مکمل کرنے سے پہلے میری جان نہ نکل جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مقام کی نگرانی کا حکم دیا ہے کہیں وہ غیر محفوظ نہ ہو جائے۔ اسی لئے مجھے آپ رضی اللہ عنہ کو جگانا پڑا۔‘‘

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ

   حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوئہ ذات الرقاع میں گیا۔ واپسی میں میرا اونٹ بہت ضعیف اور کمزور ہونے کی وجہ اسلامی لشکر سے پیچھے رہ جاتا تھا ۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا اونٹ نہیں چل رہاہے۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے بٹھائو اور کسی درخت سے ایک لکڑی توڑ کر مجھے لاکر دو ۔‘‘ میں نے لکڑی لاکر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اس پر سوار ہوجائو۔‘‘ میں سوار ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لکڑی ہلکے سے دو تین مرتبہ اس اونٹ کو ماری۔ پھر تو وہ اونٹ اتنا تیز چلنے لگا کہ بار بار اسلامی لشکر سے آگے نکل جاتا تھا۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے بھی آگے نکل جاتا تھا اور بار بار مجھے اسے روکنا پڑتا تھا تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلوں۔ صحیح بخاری میں یہ واقعہ امام بخاری نے دس سے زیادہ جگہوں پر ذکر فرمایا ہے۔ لیکن یہ بات ذکر نہیں فرمائی کہ یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں پیش آیا ہے۔ امام عبد الملک بن ہشام نے سیرت النبی ابن ہشام میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں پیش آیا ہے۔

سید الانبیاء ﷺ نے اونٹ خریدا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ ساتھ میرا اونٹ چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ! یہ اونٹ ہمارے ہاتھ فروخت کرتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ اونٹ ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نذر کرتا ہوں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایسے نہیں بلکہ میرے ہاتھوں فروخت کرو۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیمت تو بتائیں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک درہم میں خرید لوں گا۔‘‘ میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بہت تھوڑی قیمت ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اچھا دو درہم لے لو۔ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’یہ بھی کم ہے۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیمت بڑھاتے بڑھاتے ایک اوقیہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں ایک اوقیہ پر راضی ہوں اور یہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گیا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں یہ اونٹ میں نے لے لیا۔‘‘ ( یہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور اپنے پیچھے اپنے بیٹے کی ذمہ سات یا نو بہنیں چھوڑ گئے تھے۔ خرچ زیادہ تھا اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اکیلے کمانے والے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حالات جانتے تھے اور مدد کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ خود دار ہیں۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مدد فرما رہے تھے کہ ان کی خود داری کو ٹھیس نہ لگے۔

سید الانبیاء ﷺ نے اونٹ ہبہ کر دیا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا سودا کرنے کے بعد مجھ سے فرمایا: ’’ اے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ! تم نے نکاح کر لیا ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’ باکرہ ہے یا تبیہ ہے؟‘‘ میںنے عرض کیا: ’’ تبیہ ہے۔‘‘ ( باکرہ کے معنی کنواری ہے۔ اور تبیہ کے معنی طلا ق شدہ یا بیوہ ہوتے ہیں) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ باکرہ سے کیوں نہیں کیا؟ ‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے ہیں اور انھوں نے میری کئی بہنیں چھوڑ ی ہیں۔ میںنے یہ سوچا کہ ایسی عورت سے نکاح کروں جو میری بہنوں کو سنبھال سکے اور ان کی دیکھ ریکھ کر سکے۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے اچھا کیا۔ انشاء اللہ برکت ہوگی۔‘‘ شام کوہم مدینہ منورہ پہنچے اور رات میں سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ میں بھی اپنے گھر آگیا۔ صبح وہ اونٹ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اونٹ دروازے پر باندھ کر مسجد کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے باہر تشریف لائے تو اونٹ دیکھ کر فرمایا: ’’یہ اونٹ کس کا ہے؟ ‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ’’ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ لائے ہیں۔‘‘ مجھے بلوایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے میرے بھائی کے بیٹے! اپنے اونٹ کو لے جائو یہ تمہارا ہی ہے اور پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا : ’’ جابر ( رضی اللہ عنہ ) کو لے جا کر ایک اوقیہ دے دو۔‘‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مجھ کو ایک اوقیہ سے کچھ زیادہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ وہ مال بڑھتا ہی رہا۔ یہاں تک کہ حرہ کی جنگ ہوئی۔‘‘

غزوہ بدر موعد یا دوسری غزوہ بدر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع سے واپس آنے کے بعد جمادی الآخر اور رجب المرجب مدینہ منورہ میں گزارے اور ماہ ِ شعبان میںوعدہ کے مطابق دوسری غزوہ بدر کے لئے روانہ ہو ئے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ احد میں ابو سفیان نے وعدہ کیا تھا کہ اگلے سال میدان بدر میں ایک اور جنگ ہمارے درمیان ہو گی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ ہمارا پختہ وعدہ رہا کہ اگلے سال میدانِ بدر میں مقابلہ ہوگا۔ ابو سفیان نے کہنے کو تو کہہ دیا تھا لیکن اندر سے اس کا دل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے مرعوب تھا اور وہ چاہتا تھا کہ بدر میں دوسری جنگ نہ ہو۔ لیکن چیلنج اس نے کیا تھا۔ اسلئے شرمندگی اور ندامت سے بچنے کے لئے اس نے جھوٹے پروپیگنڈہ کا سہارا لیا۔ اس نے نعیم بن مسعود نام کے ایک شخص کو کافی مال و دولت دیا۔ وہ اپنے کام سے مدینہ منورہ جا رہا تھا۔ اس سے کہا کہ وہ مدینہ منورہ میں جا کر یہ جھوٹی خبر زور و شور سے پھیلائے کہ مکہ مکرمہ والوں نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے بہت بڑا لشکر جرّار جمع کیا ہے۔ تا کہ مسلمان ڈر جائیں اور جنگ کے لئے بدر کے میدان میں نہ آئیں اور الزام مسلمانوں پر آ جائے۔ لیکن اس پروپیگنڈے کا اثر الٹا ہوا اور مسلمان اور زیادہ زور و شور سے دوسری جنگ بدر کی تیاری کرنے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان میں غزوہ بدر موعد یعنی دوسری غزوہ بدر کے لئے مدینہ منورہ سے پندرہ سو (1500)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر لے کر روانہ ہو ئے۔ اور مدینہ منورہ میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبیّ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ بدر میں پہنچے اور پڑائو ڈال دیا۔ ان دنوں بدر کے میدان میں بہت بڑا بازار لگتا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قریش کے لشکر کے انتظار میں تھے اور وہاں لگے ہوئے بازار میں تجارت بھی کر رہے تھے۔ ادھر مکہ مکرمہ سے لشکر لے کر ابو سفیان میدان بدر کی طرف روانہ ہوا۔ لیکن مقامِ ظہران یا عسفان میں آکر اس کی ہمت جواب دے گئی۔ حالانکہ قریش کا لشکر دو ہزار 2000تھا۔ اس کے باوجود ابو سفیان نے کہا : ’’یہ سال خشک ہے اورموسم خشکی کا ہے۔ ہمیں ایسے موسم میں جنگ کرنا چاہیئے۔ جس میں ہم اپنے جانورورں کو چرا سکیں اور دودھ پی سکیں۔ اس لئے واپس چلو اور وہیں سے واپس ہو گئے۔ مکہ مکرمہ والوں نے اس لشکر کا نام’’ جیش سویق‘‘ رکھا تھا۔ کیوں کہ انھوں نے اس سفر میں بہت ستو کھائے اور پیتے تھے۔ ( سَتّو کو عربی میں سویق کہتے ہیں) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ یا دس دن قریش کے لشکر کا انتظارکیا اس کے بعد مدینہ منورہ واپسی کا حکم دے دیا۔ اسی دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وہاں لگے بازار میں تجارت کر کے کافی منافع کما لیا تھا اور یہ سفر بہت ہی منافع بخش ثابت ہوا۔

حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ کا انتقال

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۴ ؁ہجری کی شروعات میں یکم ( ایک) محرم الحرام کو ڈیڑھ سو 150مہاجرین اور انصار کا لشکر روانہ فرمایا تھا اور حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد کو اس لشکر کا سپہ سالار بنایا تھا یہ سب آپ کو یاد ہو گا ۔ کچھ روایات میں ایسا ہے کہ اس سریہ میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو زخم لگا تھا اور کچھ روایات میں ہے کہ غزوہ احد میں آپ رضی اللہ عنہ شدید زخمی ہوئے تھے اور زخم ابھی پوری طرح سے اچھے نہیں ہو پائے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ اس سریہ پر چلے گئے ۔ جس سے زخم پھر سے کھل گئے۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اسی دوران ان کی بیوی اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک خواب دیکھا ۔ جب انھوں نے اپنے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انھوں نے فرمایا: ’’ جہاں تک مجھے اس خواب کی تعبیر سمجھ میں آتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ میرا انتقال ہو جائے گا اور تمہارا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگا۔‘‘ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا کچھ ہفتوں بعد انتقال ہو گیا۔ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ہیں۔ ان دونوں کو سیدہ ثوبیہ رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حبشہ ہجرت کی تھی۔ پھر مدینہ منورہ ہجرت کی۔ حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو جمادی الاول 4ہجری کا مہینہ ختم ہو نے میں تین روز باقی تھے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان ۴ ؁ہجری میں غزوہ بدر موعد یا دوسری جنگ بدر کے لئے میدانِ بدر تک گئے تھے۔ قریش تو نہیں آئے تھے لیکن وہاں ایک بہت بڑا بازار لگا ہوا تھا جس میں تجارت کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خوب منافع کمایا تھا۔ اسی ماہِ شعبان 4 ؁ہجری میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پید اہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے لگ بھگ ایک سال کے چھوٹے ہیں یا ایک سال سے کچھ کم چھوٹے ہیں۔

سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر موعد یا دوسری جنگ بدر سے واپس آنے کے بعد ماہِ شعبان کا بقیہ حصہ اور ماہِ رمضان المبارک اور ماہِ شوال بھی مدینہ منورہ میں گزارا۔ اسی دوران ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ ام المومنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا وہی ہیں جنہیں ’’ اُم المساکین ‘‘ کا لقب دیا گیاتھا۔ یعنی مسکینوں کی والدہ ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہا مسکینوں یا مساکین پر بہت زیادہ مہربان تھیں اور انھیں ہمیشہ صدقات اور خیرات سے نوازتی رہتی تھیں اورماہِ رمضان المبارک میں تو یہ صدقات اور خیرات بہت زیادہ بڑھ جاتی تھیں۔

سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ شوال ۴ ؁ہجری میں سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کو یاد ہو ں گی۔ اُن کا ذکر ِہجرت اس سے پہلے آچکا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کرنے آرہی تھیں کہ ان کے بھائیوں اور رشتہ داروں نے آکر انھیں روک لیا اور حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا اکیلے مدینہ منورہ جائو۔ پھر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بھائی اور رشتہ دار آگئے انھوں نے بچے کو چھین لیا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے انھیں بہت سمجھایا لیکن وہ نہ مانے آخر آپ رضی اللہ عنہ اکیلے ہی مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا اسی جگہ روز آکر بیٹھ جاتیں اور مدینہ منورہ کے راستے کو دیکھ کر روتی رہتی تھیں۔ اس طرح ایک سال گزر گیا۔ آخر کار اُن کے رشتہ داروں کو ان پر رحم آیا اور ان کا بچہ انھیں لا کر دیا اور مدینہ منورہ دونوں کو بھیج دیا۔ یہ واقعہ تفصیل سے ہم اس سے پہلے پیش کر چکے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے بارے میں اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ ایک روز حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر آئے اورمجھے بتایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب کسی مسلمان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے اور وہ گھبراتا نہیں بلکہ صبر کرتا ہے اور نا اُمید نہیں ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ مجھے اس مصیبت میں صبر کی توفیق دے اور اس کا اس سے بہتر اجر دے تو اﷲاُس سے بہترعطا فرماتاہے ۔‘‘اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ پھر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو انھوں نے جو دعا مجھے بتائی تھی وہ دعامیں نے مانگی۔ (عدت کے دوران) میں اکثر سوچتی تھی کہ اُن کی وفات پر جو میں نے صبر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی اس سے بہتر جزا کے لئے جو دعا مانگی ہے تو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر آخر مجھے کیا مل سکتا ہے؟ پھر جب ( عدت ختم ہونے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو پہلے تو میں نے منع کر دیا۔ پھر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا تو مان گئی۔ نکاح ہو جانے کے کچھ دنوں بعد ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے معاف فرمادیں۔ میں پہلے یہ سوچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح پر راضی نہیں تھی کہ میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی دوسرے مرد کی بیوی کیسے بنوں ؟ کیوں کہ میری غیرت مجھے روکتی تھی۔ اس کے علاوہ مجھے اپنی زیادہ عمر کی وجہ سے حیا آتی تھی اور بچوں کا بھی خیال تھا کہ میرے نکاح کے بعد ان کا کیا ہوگا؟ لیکن پھر میں نے سوچا کہ کہیں میں اپنی اس سوچ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کی مستحق نہ ہو جائوں۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی اجازت دے دی۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ غیرت و حمیت کے اظہار پر اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے گا اور نہ تمہاری عمر کا مجھے خیال تھا اور نہ میں نے اس کاذکر کیا تھاکیوں کہ خود میری عمر بھی کچھ کم نہیں تھی۔‘‘ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ میں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات پرصبر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ سے بہتر اُمید رکھی تھی تو وہ اس صورت میں پوری ہوئی کہ مجھے حضرت ابوسلمہ رضی اللہ سے بہتر شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں عطا فرمادیا۔‘‘

غزوہ دُومتہ الجندل

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ذی القعدہ اور ذی الحجہ یعنی 4 ؁ہجری کے ختم ہونے تک مدینۂ منورہ میں تشریف فرما رہے اور ماہ ِربیع الاول 5 ؁ہجری میں غزوہ دومتہ الجندل کے لئے روانہ ہو ئے۔ دومتہ الجندل مدینہ منورہ سے پندرہ یاسولہ راتوں کی مسافت پر ہے۔ ( یہ بات ذہن میں رکھیں کہ پہلے زمانے میں کلو میٹر یا میل سے فاصلے ناپے نہیں جاتے تھے۔ بلکہ ایک گھوڑا یا اونٹ ایک رات میں جتنا سفر طے کرتا تھا۔ اسے ایک رات کی مسافت کہا جاتا تھا) اورملک شام کی راجدھانی ( دارالخلافہ) دمشق سے پانچ راتوں کی مسافت پر ہے۔ دومی بن اسماعیل نام کا ایک شخص وہاں رہتا تھا۔ اسی کے نام پر دومتہ الجندل شہر کا نام رکھا گیا۔ یہ شہر ملک شام کے تجارتی راستے پر واقع ہے۔ اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ دومتہ الجندل میں ایک بہت بڑی جماعت ہے جوآنے جانے والے قافلوں کو لوٹ لیتی ہے اور ان کا ارادہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کاہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور 25ربیع الاول 5ہجری کو ایک ہزار 1000صحابہ کرام کا لشکر لے کر دومتہ الجندل کی طرف روانہ ہوئے اور بن عذرہ میں سے ایک شخص جس کا نام ’’مذکور‘‘ تھااسے راستہ بتانے کے لئے مقرر فرمایا۔ دومتہ الجندل کے قریب میدان میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کے ساتھ پڑائو ڈالا۔ اسلامی لشکر کو دیکھ کر لٹیرے فرار ہو گئے اور دومتہ الجندل شہر کے لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف میں چھوٹے چھوٹے لشکر روانہ کئے ۔ دومتہ الجندل شہر میں ایک شخص گرفتار ہوا۔ اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس گئے۔

غزوہ بنو مریسیع یا غزوہ بنی مصطلق

   اس غزوہ کی تاریخ میں علمائے کرام میں اختلاف ہے اور کچھ سیرت لکھنے والوں نے اسے غزوہ خندق یا احزاب سے پہلے بیان فرمایا ہے اور کچھ نے اس کے بعد بیان فرمایا ہے۔ کچھ علمائے کرام اور سیرت نگاروں کے مطابق یہ غزوہ ماہِ شعبان 5 ؁ہجری میں ہوا اور کچھ علمائے کرام اور سیرت نگاروں کے مطابق یہ غزوہ ماہِ شعبان 6؁ہجری میں ہوا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ بنو مصطلق ( یہ قبیلہ بنو خزاعہ کی ایک شاخ ہے) کا سردار حارث بن ابی ضرار اپنے قبیلے اور دوسرے چند چند عرب قبائل کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑنے کی دعوت دی اور ایک بڑے لشکر کی تیاری کرنے لگا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کو اس اطلاع کی تحقیق کے لئے بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور حارث بن ضرار سے ملاقات کر کے اس سے گفتگو کی اور مکمل معلومات حاصل کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تمام معلومات پیش کردیں۔

سید الانبیاء ﷺ اسلامی لشکر کے ساتھ مریسیع پہنچے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام معلومات ملنے کے بعد مدینہ منورہ میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا اور غزوہ کے لئے لشکر کی تیاری کا حکم دیا۔ ایک بڑا لشکر تیار ہو گیا۔جس میں تیس (30) گھوڑے تھے۔ اس لشکر میں منافقین بہت بڑی تعداد میں تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک روایت کے مطابق حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایااور ایک روایت کے مطابق حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو اور ایک اور روایت کے مطابق حضرت نمیلہ بن عبداللہ لیشی کو نائب مقرر فرمایا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر روانہ ہوئے اور ازواج مطہرات میں سے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا ساتھ تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے لشکر کے ساتھ سفر کر تے ہوئے چشمۂ مریسیع یا بیر ( کنواں) مریسیع کے پاس پہنچے اور پڑائو ڈال دیا۔ یہ کنواں یا چشمہ بنو مطصطلق والے استعمال کرتے تھے۔

مقابلہ اور مسلمانوں کی فتح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑائو ڈالنے کے بعد لشکر کی ترتیب شروع کر دی۔ ادھر دوسرے قبائل نے حارث بن ضرار کا ساتھ چھوڑ دیاتھا۔ پھر بھی وہ اپنے قبیلے کا لشکر لے کر مقابلے پر آگیا۔ دونوں لشکروں کا سامنا ساحل سمندر کے کنارے ساحل پر مقامِ قدید کے کنارہ پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کی صف بندی کی اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیا اور انصار کا جھنڈا حضر ت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیا۔ جنگ شروع ہوئی اور کچھ دیر تیرا ندازی ہوتی رہی۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کو حکم دیا کہ یکبارگی سب ایک ساتھ حملہ کر دیں۔ سب نے ایک ساتھ حملہ کیا اور مشرکین کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور وہ مشرکین کو گرفتار کرنے لگے اور مال غنیمت جمع کرنے لگے۔ مشرکین میں سے دس افراد قتل ہوئے اور مسلمانوں میں سے صرف ایک مسلمان شہید ہوئے۔ اس جنگ میں بہت بڑی تعداد میں اونٹ ، گائے اور بکریاں وغیرہ مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوئے۔ ا س کے علاوہ قیدی بھی بہت زیادہ تھے۔ ان میں عورتیں بھی تھیں۔

مال غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مال غنیمت اور قیدیوں کو اسلامی لشکر میں تقسیم فرما دیا۔ مال غنیمت میں دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریا ں تھیں اور بہت سا گھر کا سامان تھا۔ قیدی دو سو گھر والے تھے۔ ان میں قیدیوں میں بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی سیدہ جو یریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ یہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئی۔ انھوں نے ان دونوں سے مکاتبت ( یعنی معاوضہ دے کر آزادی حاصل کرنا) کی بات کی تو ان دونوں نے نواوقیہ سونے پر ان سے مکاتبت کر لی ۔ اس کے بعد سیدہ جویرہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔

سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنا مجھے ناگوار محسوس ہوا۔ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہا بہت خوبصورت اور ملاحت والی تھیں۔ انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی ہوں اور جو مصیبت مجھ پر آئی ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقف ہیں۔ میں جن کے حصے میں آئی تھی ان سے میں نے مکاتبت کر لی ہے اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لئے آئی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکاتبت کے مال میں میری مدد فرمائیں۔‘‘ ( در اصل قید کے دوران سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا تھا) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے جویریہ ! ( رضی اللہ عنہا ) اس سے بہتر بات کی تمہیں ضرورت ہے۔ ‘‘سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’ وہ کیا بات ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ وہ یہ ہے کہ تمہاری مکاتبت میں ادا کر دیتا ہوں ( اور اسلام قبول کر کے ) تم مجھ سے نکاح کر لو۔ ‘‘سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے قبول ہے۔‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے نکاح کر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب یہ معلوم ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی قبیلہ بنو مصطلق سے رشتہ داری ہو گئی ہے تو اس رشتہ کی وجہ سے انھوں نے تمام قیدیوں کو چھوڑ دیا اور اسی روز سو سے زیادہ قیدی آزاد کر دیئے گئے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ اُم المومنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عورت اپنے قبیلے کے لئے با برکت ثابت نہیں ہوئی۔‘‘

حارث بن ابی ضرار کا قبول اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں قیدیوں کا فدیہ مقرر فرمایا تھا۔ حضرت عبداللہ بن زیاد سے روایت ہے کہ غزوہ بنی مصطلق میں اُم المومنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو قیدیوں میں ملیں۔ ان کے والد حارث بن ابنی ضرار جو بنو مصطلق کے سردار تھے وہ فدیہ لے کر آرہے تھے۔جب وادی مصطلق میں پہنچے تو اونٹوں پر نظر ڈالی تو دو اونٹ بہت اچھے لگے جو ہر لحاظ سے عمدہ تھے۔ پھر انھوں نے ان دونوں اونٹوں کو’’ وادی عقیق‘‘ میں باندھ دیا اور باقی اونٹ لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ میری بیٹی کو میرے حوالے کر دیجئے اور فدیہ میںیہ اونٹ لے لیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ اونٹ کب لائو گے جو تم کو زیادہ پسند تھے اور تم انھیں وادی عقیق میں باندھ آئے ہو؟ ‘‘ حارث بن ابی ضرار کچھ دیر حیرت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے رہے اور پھر بول اٹھے : ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ راز میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔‘‘ اور اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد حضرت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہ ، بہت ہی مخلص اور با صلاحیت مسلمان ثابت ہوئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں