پیر، 3 جولائی، 2023

15 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


15 سیرت سید الانبیاء ﷺ

واقعہ رجیع، واقعہ بیئر معونہ، غزوۂ بنو نضیر

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


سیدہ ام حفصہ سے نکاح، واقعہ رجیع، بلیع الارض ‘‘حضرت خبیب، واقعی بیئر معونہ، رسول اللہ ﷺ پر یہودیوں کا قاتلانہ حملہ، غزوۂ بنو نضیر، انصار صحابہ کا ایثار، حضرت حسین بن علی کی پیدائش


منافقوں کے سردار کی تذلیل اور ضد

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رئیس المنافقین ( منافقوںکا سردار) عبداللہ بن اُبیّ بھی غزوہ احد کے لئے مدینہ منورہ سے نکلا تھا اور میدانِ اُحد کے قریب یا میدان احد میں اپنے تین سو منافق ساتھیوں کے ساتھ الگ ہو گیا تھا۔ ( اس کا تفصیلی ذکر ہم غزوہ اُحد میں کر چکے ہیں) غزوہ بدر کے بعد اس نے ( دکھاوے کا ) اسلام قبول کیا تھا۔ تب سے اس کا معمول تھا کہ جمعہ کے دن سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم خطبہ پڑھ چکتے تو یہ کھڑا ہوتا تھا اور کہتا تھا : ’’ اے لوگو!یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اندر موجود ہیں۔ تم کو اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بزرگی اور عزت عنایت فرمائی ہے۔ اس لئے تم کو لازم ہے کہ ان کی مدد اور اعانت کرو‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعریف کرتا تھا۔ غزوہ احد کے بعد کے جمعہ کو جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ مکمل کر چکے تو یہ منافقوں کا سردار کھڑا ہوا تو اس کے آس پاس بیٹھے مسلمانوں نے چاروں طرف سے اس کا کپڑا پکڑ کر کھینچا اور کہا: ’’ اے اللہ کے دشمن بیٹھ جا۔‘‘تُو اس بات کا اہل نہیں ہے اور جیسے کام تو نے کئے ہیں وہ سب کو معلوم ہے۔‘‘ پس عبداللہ بن اُبی ذلیل ہو کر وہاں سے لوگوں کو الانگتا پھلانگتا مسجد نبوی کے باہر نکل آیا اور یہ کہتا جا رہا تھا کہ میں تو ان کے کام میں پختگی چاہتا تھااور میرا اس کے علاوہ اور کیا مطلب تھا؟ ‘‘انصار میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ اس کو مسجد نبوی کے دروازے پر ملے اور پوچھا : ’’کیا ہوا؟ ‘‘ وہ کہنے لگا : ’’میں تو کھڑے ہو کر ان کے کام کے پختہ ہونے کے واسطے تقریر بیان کر تا تھا۔ مگر انھیں کے چند صحابیوں نے میرے کپڑے کھینچ کر مجھے روک دیا۔‘‘ اُن انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ چلو میرے ساتھ! میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری مغفرت کی دعا کرائوں گا۔‘‘ اس بدبخت نے کہا: ’’ مجھے اُن کی دعا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں ۔ اُحد کا دن مسلمانوں کی آزمائش اور شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونے کا دن تھا۔ اس روز اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شہادت کے مرتبے سے سرفراز فرمایا اور منافقین کا نفاق ظاہر کر کے ذلیل اور رسواء کیا۔

اُم المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۳ ؁ ہجری کے بقیہ دو مہینے ذی القعدہ اور ذی الحجہ مدینہ منورہ میں گذارے ۔ اسی دوران ۳؁ہجری میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا سے ہوا۔ غزوہ بدر کے بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی پہلی زوجہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صاحبزادی سیدہ رقیّہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا اور اسی دوران سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا کہ وہ ان کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیں۔ انھوں نے کوئی جواب نہیں دیاتو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا کا پیغام دیا تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حفصہ رضی اللہ عنہا کو عثمان رضی اللہ عنہ سے اچھا شوہر ملے گا اور عثمان رضی اللہ عنہ کو حفصہ رضی اللہ عنہا سے بہتر بیوی ملے گی۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ نے عرض کیا : ’’میں کچھ سمجھا نہیں۔ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیتا ہوں اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا نکاح اپنی صاحبزادی سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا سے کر دیتا ہوں۔‘‘ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام دیا تو وہ خاموش رہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پیغام دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ روز کی مہلت مانگی اور بعد میں فرمایا کی ابھی میرا نکاح کا ارادہ نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تمام واقعہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیتا ہوں۔ ‘‘بعد میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے سے واقف تھا۔ اسی لئے خاموش رہاکیوں کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مشورہ فرمایا تھا۔‘‘ اسی سال ۳؁ہجری ماہ رمضان المبارک میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ پید اہوئے ۔ اسی سال ۳ ہجری میں ماہِ شوال میں شراب کے حرام ہونے کا حکم نازل ہوا۔

سریہ حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدا لاسد رضی اللہ عنہا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ خویلد کے بیٹے طلیحہ اور سلمہ اپنی قوم کے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مقابلے کے لئے جمع کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدا لاسد رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 150دیڑھ سو مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ یہ سریہ قطن کی جاب ہوا۔ قطن ایک پہاڑ ہے جو فیدکے مضافات میں ہے۔ وہاں بنو اسد بن خزیمہ کا چشمہ ٔ آب ( پانی کا چشمہ) ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سریہ یکم ( ایک ) محرم الحرام ۴؁ھجری میں بھیجا اور ان سے فرمایا: ’’ جائو یہاں تک کہ بنو اسد کے علاقہ میں پہنچو اور اس سے پہلے کہ بنو اسد کی جماعتیں تم پر حملہ کر یں۔ تم ان پر حملہ کردو۔‘‘ وہ تیز رفتاری سے روانہ ہوئے اور اصل راستے کو چھوڑ کر الاخبارسے گزرتے ہوئے قطن کے قریب پہنچ کر میدان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیااور تین غلاموں کو گرفتار کر لیا اور باقی بھاگ کر بنو اسد کے لشکر کے پاس جا کر انھیں خبر دی تو وہ سب منتشر ہو کر بھاگ گئے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو تین جماعتوں میں تقسیم کر کے الگ الگ سمتوں میں بھیجا ۔ اُن تینوں جماعتوں سے کسی نے مقابلہ نہیں کیا اور وہ اچھا خاصا مال ِ غنیمت لے کر آئے۔ ان میں بہت ساری بکریاں اور اونٹ تھے۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ یہ سب لے کر مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مالِ غنیمت کو خمس نکالنے کے بعد ہر ایک کے حصہ میں سات اونٹ اور سات بکریاں حاضر آئیں۔

سریہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پانچ محرم الحرام کو یہ اطلاع ملی کہ خالد بن سفیان ہذلی ولحیانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے لئے لشکر جمع کر رہا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ انیس رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دے کر روانہ کیا کہ خالد بن سفیان کا سر لے کر آئو۔ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اس سے جا کر ملے اور موقع پا کر اسے قتل کر کے اس کا سر کاٹ لیا اور ایک غار میں جا کر چھپ گئے۔ وہاں ایک مکڑی نے جالا تان دیا۔ خالد بن سفیان کے ساتھی آپ رضی اللہ عنہ کی تلاش میںوہاں پہنچے اور مکڑی کا جالا دیکھ کر واپس ہو گئے۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اس غار سے نکلے اور رات میں سفر کرتے اور دن میں چھپ جاتے تھے۔ اس طرح 23محرم الحرام کو مدینہ منورہ پہنچے اور خالد بن سفیان کا سرسید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد خوشی ہوئی اور ایک عصا انعام میں دیااور یہ ارشاد فرمایا: ’’اس عصا کو پکڑ کر جنت میں چلنا اور جنت میں عصا لے کر چلنے والے بہت کم لوگ ہوں گے۔‘‘ اور فرمایا :’’یہ عصا قیامت کے دن تیرے اور میرے درمیان ایک نشانی ہوگی۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ ساری زندگی اس عصا کی حفاظت فرماتے رہے اور مرتے وقت وصیت کی تھی کہ یہ عصا میرے کفن میں رکھ دینا تو ایسا ہی کیا گیا۔

واقعہ رجیع

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے بعد سے مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے اور مسلمانوں کی تعلیم و تربیت فرماتے رہے۔ صفر المظفر ۴ ہجری میں قبیلہ عَضل اورقارہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا: ’’ ہمارے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس لئے ہماری تعلیم و تربیت کے لئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہمارے ساتھ بھیج دیں کہ وہ ہمیں قرآن پاک کی تعلیم دیں گے اور ہمیں قرآن پڑھائیں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ جن میں سے چند نام یہ ہیں۔ (۱) حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ (۲) حضرت مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ (۳) حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ (۴) حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ ( ۵) حضرت زید بن وثنہ رضی اللہ عنہ (۶) حضرت خالد بن بکیر رضی اللہ عنہ (۷) حضرت معتب بن عبید رضی اللہ عنہ ( یہ حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ کے علاقائی بھائی ہیں) اور حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ عضل اورقارہ کے لوگوں پر بھروسہ کر کے ان کے ساتھ اپنے دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیج دیا۔ لیکن ان غداروں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکے بازی کی اور قبیلہ بنو لحیان کے لوگوں کو خبر کر دی اور بن لحیان کے لوگ 200مسلح افراد کا لشکر لے کرا ٓئے اس لشکر میں 100تیر انداز تھے۔ جب بنو لحیان کے لوگ آئے تو قبیلہ عضل اور قارہ کے لوگ ان سے مل گئے یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک اونچے ٹیلے پر چڑھ گئے اور وہاں سے مقابلہ کر نے لگے۔ چونکہ بنو لحیان نیچے تھے اس لئے ان کے آدمی زیادہ قتل ہو رہے تھے۔ اس لئے قبیلہ بنو لحیان کے لوگوں نے کہا: ’’ تم لوگ نیچے اتر آئو ۔ ہم تمہیں پناہ دیتے ہیں۔‘‘ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں کافر کی پناہ کبھی نہیں لوں گا۔‘‘ اور یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے حال کی خبر کر دے۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرمائی اور اسی وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فرشتے کے ذریعے ) خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خبر دی۔

حضرت عاصم اور سات صحابہ رضی اللہ عنہم کی شہادت اور دو کی گرفتاری

   حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کافروں کی پناہ لینے کی بجائے ان سے لڑنا اور شہید ہونا پسند فرمایا اور مقابلہ کرتے رہے۔ لیکن جب ان کے تیر ختم ہو گئے تو بنو لحیان کو ٹیلے پر چڑھنے کا موقعہ مل گیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تلوار کھینچ کے مقابلہ شروع کر دیا۔ لڑتے لڑتے حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ساتھ چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہو گئے اور تین صحابہ حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے کافروں کی پناہ کو قبول کر لیا۔ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی : ’’ اے اللہ تعالیٰ! آج میں تیرے دین کی حفاظت کر رہا ہوں ، تُومیرے گوشت ( یعنی جسم) کی حفاظت فرمانا۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ کے جسم کی حفاظت فرمائی۔ وہ کافروں کو نہیں مل سکا۔ بقیہ تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہتھیار ڈال دیا تو وہ ان کے ہاتھ باندھنے لگے تو حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ پہلے ہی قدم پر بد عہدی کر رہے ہو۔ لیکن کافروں نے ان کو باندھ کر گرفتار کر لیا اور لے کر چلے۔

حضرت عبداللہ بن طارق رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حضرت زید اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہم کی فروختگی

   بنو لحیان کے کافر ان تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گرفتار کر کے مکہ مکرمہ کی طرف چلے۔ جب مرا لظہران تک پہنچے تو حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ رسی سے چھڑا لیا اور تلوار لے کر مقابلے پر ڈٹ گئے۔ لیکن ان بدبخت کافروں نے چاروں طرف سے دور سے گھر لیا اور کوئی قریب نہیں آیا۔ بلکہ دور سے چاروں طرف سے آپ رضی اللہ عنہ پر پتھر برسانے لگے۔ یہاں تک کہ پتھر وں کی مار سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ۔ اس کے بعد کافر حضرت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو لے کر مکہ مکرمہ آئے اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو صفوان بن اُمیہ نے خرید لیا۔ تا کہ اپنے باپ کے قتل کے بد لہ میں انھیں شہید کرے اور حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو حجیر بن ابو رہاب نے اپنے بھانجے عقبہ بن حارث کے لئے خرید ا کہ وہ انھیں اس کے باپ کے بدلہ میں شہید کرے اور ان دونوں کو اشہر حرام ( وہ مہینے جن میں لوگ قتل اور جنگ حرام سمجھتے تھے) نکل جانے تک انھیں قید میں رکھا۔

حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کی شہادت اور محبت

   حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو صفوان بن امیہ نے خریدا تھا ۔ اس نے اپنے غلام فسطاس کو حکم دیا کہ حرم کے باہر ( مکہ مکرمہ کے باہر) لے جا کر حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دے۔ وہ غلام آپ رضی اللہ عنہ کو لے کر چلا تو مکہ مکرمہ کے مشرکین بھی قتل کا تماشہ دیکھنے کے لئے پیچھے پیچھے ہو لئے۔ ان میں ابو سفیان بن حرب بھی تھا۔ جب حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا جانے لگا تو ابو سفیان آگے آیا اور بولا: ’’ اے زید! ( رضی اللہ عنہ) میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ۔ کیا تم یہ پسند کرو گے کہ ہم تم کو چھوڑ دیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تمہارے بدلہ میں قتل کر دیں اور تم آرام سے اپنے گھر میں رہو۔ ‘‘یہ سن کر حضرت زید رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے اور فرمایا: ’’ اللہ کی قسم !مجھ کر یہ بھی گوار انہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کانٹا یا پھانس چھبے اور میں اپنے گھر میںبیٹھا رہوں۔ ‘‘یہ سن کر ابو سفیان نے کہا: ’’ اللہ کی قسم !میں نے کسی کو کسی کا اتنا مخلص ، جاں نثار اور محبت کرنے والا نہیں دیکھا جتنی محبت اور خلوص اور جاں نثاری محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھیوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے واسطے دیکھی ہے۔‘‘ اس کے بعد فسطاس نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ بعد میں یہ غلام فسطاس مسلمان ہو گیاتھا۔

اس سے بہتر ( اچھا ) قیدی نہیں دیکھا

   حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے غزوہ بد رمیں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا۔ اسی لئے اپنے باپ کے قتل کے بدلہ میں حار ث کے بیٹے آپ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ قید کے دوران حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے حارث کی بیٹی زینب سے بال صاف کرنے کے لئے استرا مانگا۔ وہ استرا دیکر اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔ ( زینب نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا) زینب بتاتی ہے کہ میں نے دیکھا کہ میرا بچہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی گود میں بیٹھا ہے اور استرا اُن کے ہاتھ میں ہے ۔ یہ منظر دیکھ کر میںبے انتہا گھبرا گئی اور ڈر گئی کہ کہیں میرے بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا: ’’ کیا تجھ کو یہ اندیشہ ہو گیا کہ میں اس بچے کو قتل کردوں گا؟ ہرگز نہیں۔ انشاء اللہ مجھ سے ایسا کام کبھی نہیں ہوگا اور ہم لوگ ( مسلمان لوگ) عذر نہیں کرتے۔‘‘ زینب اکثر یہ کہا کرتی تھیں : ’’میں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر ( اچھا) کوئی قیدی نہیں دیکھا بے شک میں نے ان کو انگور کھاتے دیکھا۔ حالانکہ اس وقت مکہ مکرمہ میں انگور کا کہیں نام و نشان نہیں تھا اور وہ خود بیڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے اور کہیں جا کر لا نہیں سکتے تھے۔بے شک اُن کے پاس یہ رزق اللہ تعالیٰ کے پاس سے آتا تھا۔‘‘

حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی شہید ہونے سے پہلے دو رکعت نماز

   حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو حارث کے بیٹے قتل کے لئے مکہ مکرمہ سے باہر لے جانے لگے تو مشرکین بھی پیچھے پیچھے ہولئے۔ حضرت بُریدہ بن سفیان اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو جب حارث کے خاندان والے شہید کرنے کے لئے لے جا رہے تھے تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: ’’ اے رب ِ کائنات ! اے اللہ تعالیٰ !میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کسے قاصد بنائوں ؟ اور وہ میرا آخری سلام تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جائے۔ پس اے واحد و بے ہمتا! الرحم الراحمین معبود !تُو ہی اس کام کو کر دے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فوراً حضرت خُبیب رضی اللہ عنہ کا سلام سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں پہنچایا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان تشریف فرما تھے۔ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ واعلیکم السلام ‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کس کے سلام کا جواب عطا فرما رہے ہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے بھائی خبیب رضی اللہ عنہ کو کافر قتل کرنے کے لئے لے جا رہے ہیں اور وہ ایک آخری سلام خلوص و محبت سے کر رہے ہیں۔ ‘‘اس کے بعد حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے اپنی قتل گاہ پر پہنچ کر فرمایا: ’’مجھ کو اتنی مہلت دو کہ میں دو رکعت نماز ادا کر سکوں۔‘‘ لوگوں نے اجازت دی۔ تمام قریش کے مشرکین دیکھ رہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کرنے کے بعد فرمایا: ’’ میں نے نماز کو اس لئے طویل نہیں کیا کہ تم کہیں یہ گمان نہ کرنے لگو کہ میں موت کے ڈر سے ایسا کر رہا ہوں‘‘ اور یہ فرمایا: ’’مجھ کو ( موت کی ) کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ( بلکہ پرواہ اس بات کی ہے کہ ) میں مسلمان بن کر شہید ہوئوں اور میرا بچھڑنا اور ملنا خالص اللہ کے لئے ہو اور اللہ تعالیٰ چاہے تو میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے جوڑوں میں برکت نازل فرما سکتا ہے ۔‘‘ اس کے بعدحضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے اور یہ سنت قائم فر ماگئے کہ جو شخص قتل ہونے لگے وہ دو رکعت نماز پڑھے۔

’’بلیع الارض ‘‘حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا لقب

   حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد مکہ مکرمہ کے مشرکین نے آپ رضی اللہ عنہ کی لاش کو ویسے ہی لٹکتا چھوڑ دیا تھا اور چالیس افراد دن رات پہرہ دیتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’جو شخص حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی لاش سُولی سے اتارے گا ۔ اس کے لئے جنت واجب ہے۔‘‘ یہ بشارت سن کر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے لاش کو سُولی سے اتارنے کی اجازت مانگی جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دی۔ یہ دونوں حضرت راتوں کو سفر کرتے اور دن میں چھپ کر مقامِ تنہم ( جہاں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تھے) پہنچے ۔ وہاں پہرے دار موجود تھے۔ دونوں حضرات موقع کی تلاش میں رہے اور جب پہرے دار غافل ہوئے تو لاش سولی سے اتار کر گھوڑے پر رکھی وہ ابھی بھی ویسی ہی ترو تازہ تھی ۔ جب کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو شہید ہوئے چالیس دن گزر چکے تھے۔ پہریداروں کی آنکھ کھلی تو انھوں نے لاش کو غائب پایا تو اطراف میں گھوڑسواروں کو دوڑایا اورآخر کار حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچنے لگے۔ دونوں حضرات نے جب تعاقب کرنے والوں کو دیکھا تو لڑنے کے لئے تیار ہو گئے اور لاش اتار کر زمین پر رکھ دی۔ لاش زمین پر رکھتے ہی زمین پھٹ گئی اور لاش اندر چلی گئی اور زمین برابر ہو گئی۔ دونوں حضرات نے یہ منظر دیکھا تو لڑنے کا ارادہ ترک کر کے مدینہ منورہ روانہ ہو گئے اور مشرکین خالی ہاتھ واپس گئے۔ اسی وجہ سے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ ’’ بلیع الارض ‘‘ ( جس کو زمین نگل گئی) کے لقب سے مشہور ہوئے۔

واقعہ بیرمعونہ ( قاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ )

   ابھی دردناک واقعہ رجیع تازہ ہی تھا کہ اسی ما ہ صفر المظفر ۴؁ ہجری میں دوسرا دردناک واقعہ بیئر معونہ پیش آیا اور لگ بھگ 70قاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دھوکے سے شہید کر دیا گیا۔ اسی مہینہ صفر المظفر میں عامر بن مالک جس کی کنیت ابو براء تھی وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہدیہ پیش کیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا او ر اسے اسلام کی دعوت دی جو اس نے قبول نہیں کی اور نہ ہی انکار کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند اصحاب رضی اللہ عنہم کو اہل نجد کی طرف اسلام کی دعوت دینے کی غرض سے روانہ فرمائیں تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس دعوت کو قبول کر لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اہل نجد کی طرف سے اندیشہ ہے ( کہ کہیں وہ میرے اصحاب رضی اللہ عنہم کو نقصان نہ پہنچائیں) عامر بن مالک ابو براء نے کہا میں ان کی ضمانت لیتا ہوں۔ ( اس پر اعتبار کر کے ) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 70صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمادیا۔ یہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ’’ قراء‘‘ ( قرآن کے قاری) کہلاتے تھے اور ان کا امیر حضرت منذر بن عمرو ساعدی رضی اللہ عنہ کو بنایا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ دھوکہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن مالک پر بھروسہ کر کے 70قاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھیجا ۔ یہ نہایت مقدس اور پاک باز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت تھی۔ یہ دن میں لکڑیاں چنتے تھے اور شام کو اسے فروخت کر کے اصحاب صُفہ رضی اللہ عنہم کے لئے لئے کھانا لاتے تھے۔ ( اصحاب صُفہ کے بارے میں تفصیل سے ہم اس سے پہلے بتا چکے ہیں) اور رات کا کچھ حصہ قرآن پاک سیکھنے اور سکھانے اور درس قرآن میں گزار تے تھے اور کچھ حصہ رات میں ( نماز میں ) قیام اور تہجد ادا کرنے میں گزارتے تھے۔ یہ لوگ مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر بیئرمعونہ ( معونہ کا کنواں) کے پاس پہنچے اور وہیں قیام کر دیا۔ معونہ کا کنواں مکہ مکرمہ اور عسفان کے درمیان قبیلہ ہذیل کے علاقوں میں واقع ہے اور اس کے آس پاس بنو رعل اور بنو سلیم اور بنو ذکوان ( بنو سلیم کی ایک شاخ) کے قبائل آباد تھے اور سب سے قریب بنو عامر کا قبیلہ رہتا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عامر کے سردار عامر بن طفیل کے نام ایک خط لکھوا کر ( یہ بنو عامر کے بڑے سردار عامر بن مالک ابو براء کا بھتیجا تھا) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ماموں حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو دیا تھا۔ جب یہ لوگ بیئر معونہ ( معونہ کے کنواں ) کے پاس پہنچے تو حضرت احرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو عامر بن طفیل کے پاس بھیجا ۔ انھوں نے عامر بن طفیل کو سید ا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط دیا تو اس بد بخت نے خط کھول کر پڑھنے کی بجائے اپنے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ اس نے حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے نیزہ مارا جو پار ہو گیا اور آپ رضی اللہ عنہ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے ـ ’’ اللہ اکبر!!قسم ہے کعبہ کے پروردگار کی !میں کامیاب ہو گیا۔‘‘ اور شہید ہو گئے۔

صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم کی شہادت

   حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے قتل کرنے کے بعد بد بخت عامر بن طفیل نے بنو عامر کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر حملہ کرنے کا حکم دیا تو قبیلہ بنو عامر کے لوگوں نے کہا ۔ تمہارے چچا نے ان لوگوں کو پناہ دی ہے اس لئے ہم ان پر حملہ نہیں کر سکتے اور انکار کر دیا۔ قبیلہ بنو عامر سے مایوس ہونے کے بعد اس بد بخت عامر بن طفیل نے قبیلہ بنو سلیم، قبیلہ رعل ، قبیلہ ذکوان اور قبیلہ عصیّہ سے مدد مانگی تو وہ حملے کے لئے تیار ہو گئے اور ایک بڑا لشکر لے کر ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گھیر لیا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ اللہ کی قسم !ہم لڑنے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ بلکہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حاجت ( قرآن پاک پڑھانے ) کے لئے بھیجا ہے۔‘‘ اس کے باوجود انھوں نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو شہید کر دیا۔ صرف حضرت کعب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی اس لئے انھیں مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا۔ بعد میں یہ ہوش میں آئے اور زندہ رہے اور غزوہ خندق میں شہید ہوئے۔ دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مویشیوں کو چَرانے گئے ہوئے تھے۔ انھوں نے یکا یک آسمان کی طرف پرندے اڑتے دیکھے تو کہا ضرور کوئی بات ہے۔ جب دونوں دوڑتے ہوئے بیئر معونہ پہنچے تو ان کے ساتھی خون میں نہائے شہید ہو چکے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمرو بن اُمیہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چلو مدینہ منورہ واپس چلتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیتے ہیں۔ حضرت منذر بن محمد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو خبر ہوتی ہی رہے گی میں کیوں شہادت کا موقع چھوڑ دوں‘‘ اور تلوار نکال کر کافروں پر ٹوٹ پڑے اور کئی کافروں کو قتل کر تے ہوئے شہید ہو گئے۔ جب کہ حضرت عمر بن اُمیہ رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرلیا گیا اور عامر بن طفیل نے اُن کے سر کے بال کاٹے اور یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی نذر مانی ہے اس لئے میں تم کو آزاد کر تا ہوں۔

حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت

   حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ آپ کو یاد ہوں گے۔ سیدا لا نبیاء صلی ا للہ علیہ وسلم کی ہجرت کے ذکر میں ہم آپ کو بتا چکے ہیںکہ غارِ ثور سے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر ؓرضی اﷲ عنہ کے ساتھ ہجرت کے سفر پر روانہ ہوئے تو ساتھ میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔ یہ غلام بھی تھے۔ انھیں حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے آزاد کر دیا تھا۔ اس درد ناک واقعہ میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ بھی شامل تھے۔ جب انھیں شہید کیا گیاتو ان کی لاش آسمان کی طرف اٹھا لی گئی۔ یہ دیکھ کر عامر بن طفیل نے کہا: ’’ مسلمانوں میں وہ کون مرد ہے کہ قتل ہوا تو میں نے دیکھا کہ اسے زمین اور اور آسمان کے درمیان اٹھا لیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ آسمان نیچے رہ گیا۔‘‘صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ عامر بن طفیل نے کہامیں اس شخص( حضرت عامر بن فہیرہ ؓ) کو دیکھا کہان کی لاش آسمان کی طرف اٹھا لی گئی ہے اور زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہی اور پھر زمین پر رکھ دی گئی۔ ‘‘ جبار بن سلمیٰ نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ کو شہید کیا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ جب میں نے حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ عنہ کو نیزہ مارا تو اس وقت ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلے: ’’ اللہ کی قسم! میں مراد کو پہونچا؟‘‘ اس نے حضرت ضحاک بن سفیان رضی اﷲ عنہ کی خد مت میں آکر واقعہ بتایا اور پو چھا تو انھوں نے بتایا : ’’ اس کا مطلب یہ کہ انھوں نے جنت کو پا لیا۔ ‘‘میں نے یہ سن کر اسلام قبول کر لیا۔‘‘ حضرت ضحاک بن سفیان رضی اﷲ عنہ نے یہ واقعہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کی خد مت میں لکھ کر بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ فرشتوں نے ان کے حبثہ کو چھپا لیا اور علیین میں اتا رے گئے۔‘‘ صحیح بخاری میں ہے کہ ان 70صحا بہ کرام کے ساتھ ہو ئے درد ناک واقعے کا سید ا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا شدید صدمہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیس دنوں تک نماز میں دعائے قنوت پڑھتے رہے اور دعائے قنوت کی ابتداء یہیں سے ہو ئی۔حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ روایت کر تے ہیں : ’’ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اتنا غمگین نہیں دیکھا۔جتنا بئرِ معونہ کے دردناک واقعہ پر دیکھا۔‘‘

غلط فہمی میں قتل

   اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ بنو عامر نے عامر بن طفیل کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھااور70صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی شہادت میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اسی قبیلہ بنو عامر کے دو شخص کی ملاقات حضرت عمرو بن امیہ رضی اﷲ عنہ سے ہو ئی۔ جو مدینہ منورہ واپس ہو رہے تھے۔ آپ رضی اﷲ عنہ کو اپنے ستر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا صدمہ تھا اور عامر بن طفیل کے رویہ سے بنو عامر پر بھی غصہ تھا۔ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ بنو عامر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہے ۔ انھوں نے ان دوآدمیوں کا قتل کر دیا اور سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خد مت میں آکر تمام واقعہ بتا یا تو آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے فر مایا : ’’ بنو عامر سے ہمارا معاہدہ ہے اس لیئے ہمیں ان دو آدمیوں کے دیت (خوں بہا) دینا پڑے گا (یہ یاد رہے کہ دو آدمیوں کی دیت دو سو اونٹ ہے) اور میں اسے ادا کروں گا۔‘‘

یہو دیوں کا قاتلانہ حملہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان دو آدمیوں کی دیت کا انتظام کر نے لگے۔جنھیں لا علمی میں حضرعمرو بن امیہ رضی اﷲ عنہ نے قتل کر دیا تھا۔چونکہ بنو نضیر کے یہو دیوں کا بھی بنو عامر سے معا ہدہ تھا اور وہ ان کے حلیف تھے اور سید الا نبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی معاہدہ ہوا تھا۔ اس لیے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ حضرت ابو بکر ،حضرت عمر فاروق ،حضرت عثمان غنی ، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت عبد الر حمٰن بن عوف، حضرت سعد بن معاذ ، حضرت اسید بن حضیر اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ میں لے کر بنو نضیر کے علاقے میں پہنچے اور دیت کے سلسلہ میں بات چیت کی۔ بنو نضیر کے سرداروں نے کہا: ’’ اے ابو القاسم! ( یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )جس طرح چاہیں گے ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی مدد کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ایک دیوار کے سائے میں بٹھا کر مشورہ کرنے کے لئے اجازت لے کر الگ جا کر مشورہ کرنے لگے۔ ان لوگوں نے آپس میں کہا : ’’ اس سے بہتر موقع ابو القاسم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرنے کا نہیں ملے گا۔ اس وقت وہ ہمارے مکانات کی دیوار کے سائے میں ٹیک لگا ئے تشریف فرما ہیں اور ہمیں چاہیئے کہ اوپر سے بڑا پتھر گر ا کر ان سے نجات حاصل کرلیں۔‘‘ اس کام کے لئے عَمرو بن حجاش بن کعب تیار ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر گرانے کے لئے اوپر چڑھا۔ امام محمد بن سعد کی روایت میں ہے کہ سلام بن مشکم نے کہا: ’’ ایسا نہ کرو! اللہ تعالیٰ انھیں تمہارے اس ارادے کی خبر دے دے گا اور ہمارے اور ان کے درمیان جو معاہدہ ہے یہ اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔‘‘ محمد بن اسحاق کہتے ہیں ان ( یہودیوں ) نے جو ارادہ ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نعوذ باللہ قتل کا ) بنایا تھا اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ( جبرئیل علیہ السلام کو بھیج کر ) دے دی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اچانک کسی حاجت کا فرما کر فوراً وہاں سے اٹھ کر مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔

غزوہ ٔ بنو نضیر ۴ ؁ ہجری

   بنی اسرائیل ( یہودی) یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’ وہ آخری نبی ‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کا ذکر ان کی کتاب ( توریت) میں ہے۔ لیکن حسد کی وجہ سے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے تھے۔ کھلے عام تو ان کی ہمت نہیں پڑتی تھی اس لئے در پردہ سازشیں کرتے تھے اور ان کا سب سے بڑا ساتھی منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی تھا۔ اس کے علاوہ جب ان بد بخت بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کو موقع ملتا تھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کرتے تھے اور بنو نضیر کے یہودیوں نے بھی پتھر گر اکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن عین وقت پر اللہ تعالیٰ نے خبر کر دی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر مدینہ منورہ چلے آئے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہیں بیٹھے رہے۔ یہودیوں ( بنی اسرائیل ) کو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس طرح اٹھ کر چلے جانے کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ شرمندہ ہوئے اور کنانہ بن حویئرا یہودی نے کہا : ’’تم کو معلوم نہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کیوں اٹھ کر چلے گئے؟ اللہ کی قسم! ان کو تمہاری غداری کا پتہ چل گیا ہے اور اللہ کی قسم! وہ اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں ۔‘‘ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہاں سے اٹھ کر مدینہ منورہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی غداری کی اطلاع دی اور بنو نضیر پر حملہ کرنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا۔

بنو نضیر کی جلا وطنی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر پر حملہ کرنے کے لئے لشکر جمع کیا اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا نائب بنایا اور اسلامی لشکر لے کر بنو نضیر پہنچ کر ان کا محاصرہ کر لیا۔ بنو نضیر کے یہودیوں نے اپنے قلعوں میں گھس کر دروازے بند کر لئے۔ انھیں اپنے مضبوط قلعوں پر بہت گھمنڈ تھا اس کے علاوہ منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی نے انھیں پیغام دیا کہ ہم ہم تمہارے ساتھ ہیں اس کے باوجود ان کی مقابلے پر آنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ البتہ بنو نضیر کے یہودیوں نے ایک سازش اور کی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ آئیں اور ہمارے تین علماء سے گفتگو کریں ۔ اگر وہ ایمان لے آئیں تو ہم بھی ایمان لے آئیں گے اور اپنے تینوں علماء کو ہتھیار دے کر یہ ہدایت کی کہ اپنے کپڑوں میں یہ چھپا کر لے جائو اور گفتگو کے دوران محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر حملہ کر کے انھیں ( نعوذ باللہ) قتل کر دینا۔ مگر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی مکاری اور عیاری کا پتہ چل گیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاصرہ اور سخت کر دیا۔ پندرہ دنوں تک محاصرہ چلا اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا : ’’ دس دنوں کے اندر یہ علاقہ خالی کر کے چلے جائو اور جو لے جا سکتے ہو وہ لے کر جائو۔ دس دنوں بعد اس علاقے میں نظر آئے تو تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔‘‘ یہودیوں نے مال و دولت کے ساتھ ساتھ تمام سامان بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ یہاں تک کہ اپنے مکانوں کے دروازوں کو بھی اکھاڑ کر لے لیااور علاقہ خالی کر دیا۔ ان میں سے بہت سے ملک شام چلے گئے اور بہت سے بنو قریظہ میں جا کر آباد ہو گئے۔ ان میں اُن کا سردار حی بن اخطب، کنانہ بن ربیع اور سلام بن ابی حقیق تھے۔ یہ سب خیبر میں جا کر بنو قریظہ میں رہنے لگے۔

مالِ غنیمت کی تقسیم اور انصار کا جذبہ ٔ ایثار

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام بنو نضیر کے یہودیوں ( بنی اسرائیل) کے چلے جانے کے بعد تمام مالِ غنیمت کی تقسیم کا ارادہ فرمایا تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ’’ اے گروہ انصار! اگر تم چاہو تو میں بنو نضیر کے مالِ غنیمت کو تم میں اور مہاجرین میں برابر تقسیم کر دوں اور مہاجرین حسبِ سابق تمہارے شریک حال رہیں۔( یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ مہاجرین بالکل خالی ہاتھ ہجرت کر کے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ آئے تھے اور مدینہ منورہ کے انصار نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا تھااور انہیں اپنے گھروں میں رہنے کی جگہ دی تھی اور اپنے کاروبار اور ( کھجور کے باغات کی ) کھیتی میں شریک کر لیا تھا اور ہر ممکن طریقے سے مہاجرین کے کام آنے کی کوشش کرتے تھے) اور اگر تم چاہو تو میں یہ مالِ غنیمت صرف مہاجرین میں تقسیم کر دوں اور وہ تمہارے گھروں کو خالی کر دیں۔‘‘ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نہایت خوشی سے اس بات پر راضی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مالِ غنیمت مہاجرین میں تقسیم فرمادیں اور مہاجرین پہلے کی طرح ہمارے گھروں میں ہی رہیں اور ہمارے کھانے پینے اور کاروبار اور ( کھجور کے باغات) کی کھیتی میں بھی شریک رہیں ۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ انصار نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، یہ مالِ غنیمت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مہاجرین میں تقسیم فرمادیں اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے مال و دولت اور جائداد میں سے جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں مہاجرین کو عطا فرما دیں۔ ہم نہایت خوشی سے اس پر راضی ہیں۔ ‘‘انصار کا یہ ایثار اور پیار و محبت دیکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بے انتہا خوشی اور مسرت ہوئی۔ سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بھر آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو دعا دی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! انصار پر اور انصار کی اولاد پر اپنی خاص مہربانی اور رحمت فرما۔‘‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ اے گروہ انصار ! اللہ تعالیٰ تم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اللہ کی قسم !تم نے ہمارا بہت خیال رکھا اور ہماری مدد اور اعانت سے نہیں اکتائے۔ جب کہ ہماری والدہ بھی اگر تمہاری جگہ ہوتی تو شاید وہ بھی اکتا جاتی ۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مالِغنیمت مہاجرین میں تقسیم فرمادیا اور انصار میں سے حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اور حضرت سہیل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو بھی اس میں سے حصہ عطا فرمایا۔ کیوں کہ وہ دونوں بہت غریب اور تنگدست تھے۔ غزوہ بنو نضیر ربیع الاول ۴؁ ہجری میں ہوا۔

غزوہ نجدیا غزوہ ذات الرقاع

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو نضیر سے فارغ ہو کر ماہِ ربیع الاول اور ربیع الآخر اور ماہِ جمادی الاول کے کچھ دن مدینہ منورہ میں گزارے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ نجد یا غزوہ ذات الرقاع کے لئے روانہ ہوئے۔ اس غزوہ کی تاریخ کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف روایات ہیں۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ بنو نضیر کے غزوہ کے بعد یہ غزوہ جمادی الاول ۴ ہجری میں ہوا۔ امام ابن سعد اور امام ابن حبان کے مطابق ہجرت کے پانچویں سال کے پہلے مہینے محرم الحرام ۵ ہجری میں ہوا۔امام محمد بن اسماعیل بخاری کے مطابق غزوہ خیبر کے بعد یہ غزوہ ہوا۔ لیکن اس کے باوجود امام بخاری نے اس غزوہ کو غزوہ خیبر سے سے پہلے ذکر فرمایا۔ اب یہ غزوہ کب ہوا ؟ اس کا صحیح علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے اور یہ تمام تفصیل المواہب الدنیا میں مذکور ہے۔ امام زرقانی نے شرح علی المواہب میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے۔

غزوہ کا نام

   اکثر علماء کرام نے اس غزوہ کو غزوہ ذات الرقاع ہی فرمایا ہے اور کچھ علمائے کرام نے غزوہ نجد فرمایا ہے۔ امام عبدا لملک بن ہشام فرماتے ہیں کہ اس غزوہ کو غزوہ ذات الرقاع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس غزوہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے جھنڈوں میں پیوند لگا ئے تھے۔ ( یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ غزوہ ذات الرقاع کا معنی یہ ہوتا ہے ۔ چیتھڑوں یا پیوند وں والا غزوہ) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جگہ ایک درخت تھا ( جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا) اس درخت کا نام ذات الرقاع تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ جس جگہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پڑائو ڈالا تھا وہاں زمین کا ایک حصہ سفید اور ایک حصہ سیاہ تھا۔ گویا اس زمین میں مختلف پیوند لگے ہوئے تھے۔ اسی لئے اسے غزوہ ٔ ذات الرقاع کہا گیا۔ امام عبدا لرحمن بن عبداللہ سہیلی روضی الانف شرح سیرت النبی ابن ہشام میں لکھتے ہیں ۔ سب سے زیادہ صحیح وہ قول ہے جو امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہمارے درمیان ایک اونٹ تھا۔ جس پر ہم باری باری سوار ہو رہے تھے ۔ ہمارے قدم گِھس گئے ( یعی پیروں میں چھالے پر کر پھوٹ گئے اور پیر زخمی ہو گئے) اور ناخن تک جھڑ گئے ( یعنی ناخن گِھس کر ٹوٹ کر نکل گئے) ہم اپنے پائوں میں پٹیاں باندھتے تھے اسی لئے اس غزوہ کا نام غزوہ ذات الرقاع کہا گیا ۔ کیوں کہ ہم نے کپڑوں کے ٹکڑے پٹیوں کے طور پر پائوں میں باندھے تھے۔

غزوہ ٔ ذات الرقاع کی وجہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ بنو عطفان کی دو شاخیں بنو محارب اور بنو ثعلبہ نجد میں اپنی افواج ( لشکروں) کو جمع کر رہے ہیں۔ تا کہ مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کیا۔ اس کے بعد چار سو ( 400)مجاہدین کو لے کر نجد کی طرف روانہ ہو ئے۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ سات سو (700) مجاہدین کے ساتھ روانہ ہوئے۔ حتیٰ کہ نجد میں عطفان کے علاقے میں ایک مقام نخل پر پڑائو ڈالا وہاں ایک لشکر سے سامنا ہوا اور دونوں لشکر آمنے سامنے آگئے۔ لڑائی تو نہیں ہوئی یعنی جنگ کی نوبت نہیں آئی لیکن چونکہ دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اس لئے دونوں لشکر خوف کا شکار ہو گئے۔ اسی درمیان نماز کا وقت ہوا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ صلوٰۃ الخوف‘‘ پڑھائی۔ یعنی آدھے لشکر سے فرمایاکہ وہ دشمن کے سامنے ڈٹا رہے اور جب آدھا لشکر دو رکعت نماز پڑھ کر آکر ان کی جگہ پر ڈٹ جائے تو بقیہ آدھا لشکر آکر دو رکعت نماز ادا کرے۔ دو رکعت ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی حالت میں ہی بیٹھے رہے اور آدھا لشکر دور کعت نماز پڑھ کر چلا گیا اور دشمنوں کے سامنے ڈٹ گیا تو بقیہ آدھے لشکر نے آکر نماز کی نیت باندھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دو رکعت نماز پڑھا کر چار رکعت نماز مکمل کی۔ اس کے بعد دشمنوں کا لشکر واپس چلا گیااور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں کچھ وقت گزار کر مجاہدین کے ساتھ واپس ہوئے۔ امام محمد بن سعد فرماتے ہیں کہ یہ پہلی صلوٰۃ الخوف تھی اور آگے یہ بھی لکھتے ہیں کہ دشمنوں کی کچھ خواتین گرفتار ہوئیں اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے اور علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک خاتون اپنے شوہر کو ڈھونڈتی ہوئی اسلامی لشکر میں آئی اور کچھ دور تک اسلامی لشکر کے پیچھے آئی اور پھر غائب ہو گئی یعنی نہ جانے کہاں چلی گئی ۔

غورث بن حارث کا قبول اسلام

   اس غزوہ سے واپسی پر ایک واقعہ پیش آیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ ہم غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب ہم ایک سایہ دار درخت کے پاس پہنچے تو اسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے چھوڑ دیا۔ ( اور کچھ دور پر پڑائو ڈالا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار درخت کے ساتھ لٹکا دی تھی کہ ایک مشرک اعرابی ( دیہاتی غورث بن حارث) آیا اور تلوار میان سے نکال کر تان لی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا: ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )مجھ سے ڈر رہے ہیں ؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے جواب دیا: ’’ نہیں ۔‘‘ اس نے کہا : ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطمینان سے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ ۔‘‘ ابو عوانہ کے مطابق اس کی تلوار اتنا سنتے ہی گر پڑی۔ امام واقدی کے مطابق جب اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس کی کمر میں درد اٹھا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اس کے آگے امام بہیقی لکھتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار اٹھا لی اور فرمایا: ’’ اب تجھے مجھ سے کون بچائے گا؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )اچھے لینے والے ہو جائیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کا رسول ہوں؟‘‘ اس اعرابی نے کہا: ’’میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں لڑوں گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کا ساتھ دوں گا۔‘‘ راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ اپنی قوم کے پاس آیا تو کہنے لگا : ’’ میں تمہارے پاس سب سے بہتر انسان کے پاس سے آیا ہوں۔ ‘‘ امام بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سزانہیں دی۔ امام بخاری نے ابو یمان کی روایت سے نقل فرمایا کہ اس اعرابی نے تین مرتبہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے کون بچائے گا؟ امام بخاری نے فرمایا کہ مسدد نے ابو عوانہ سے اور انھوں نے ابو البشر سے روایت کیا کہ اس شخص کا نام غورث بن حارث تھا اور امام واقدی لکھتے ہیں کہ وہ شخص مسلمان ہو گیا اور اپنی قوم کی طرف گیا اور اس کے ذریعے بہت سے لوگوں نے ہدایت پائی۔ اسی قسم کا ایک واقعہ غزوہ غطفان ۳ ؁ ہجری میں پیش آیا تھا۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں دونوں ایک ہی واقعہ ہے اور بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز

   حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم غزوہ ذات الرقاع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ایک مشرک عورت کسی مسلمان کے قبضہ میں آگئی اس وقت اس کا شوہر موجود نہیں تھا۔ ( غالباً یہ اسی عورت کا ذکر ہے جو اپنے شوہر کو ڈھونڈتی ہوئی اسلامی لشکر میں آئی تھی اور کچھ دور اسلامی لشکر کے پیچھے آنے کے بعد نہ جانے کہاںچلی گئی تھی) جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس آنے لگے تو اس کے شوہر کو اس واقعہ کا علم ہوا تو اس نے قسم کھائی کہ جب تک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کسی ساتھی کو قتل نہیں کروں گا تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ اسی نیت سے وہ اسلامی لشکر کے پیچھے چل پڑا۔ رات میں سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پہاڑ کی گھاٹی ( نشیب کا میدان) میں قیام فرمایا۔ یعنی پڑائو ڈال دیا اور فرمایا : ’’آج رات ہماری نگہبانی ( پہریداری) کون کرے گا؟‘‘ا یک مہاجر صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری صحابی عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں پہاڑ کے درّے پر تعینات فرمادیا۔ دونوں صحابہ رضی اللہ عنہم نے طے کیا کہ ایک آدھی رات پہرہ دے گا اور دوسرا آرام کرے گا۔ پھر دوسرا پہرہ دے گا اور پہلا آرام کرے گا۔ انصاری صحابی حضرت عباد بن بشر نے فرمایا: ’’ پہلے میں جاگتا ہوں اور آپ رضی اللہ عنہ سو جائیں۔ ‘‘ مہاجر صحابی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سو گئے اور انصاری صحابی نماز پڑھنے لگے۔ اس عورت کے شوہر نے جب انھیں دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہ اسلامی لشکر کے پہرے دار ہیں۔ اس نے تیر چلایا جو انصاری صحابی رضی اللہ عنہ کو لگا۔ انھوں نے وہ تیر نکال کر زمین پر ڈال دیا اور نماز پڑھتے رہے۔ اس شخص نے دوسرا تیر چلایا جو انھیں لگا تو انھوں نے اسے بھی نکال کر زمین پر ڈال دیا اور نماز جاری رکھی۔ جب اس نے تیسرا تیر مارا تو انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے رکوع اور سجدہ کر کے نماز مکمل کی اور اپنے مہاجر ساتھی کو جگایا۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فوراً اٹھے اس شخص نے جب ایک سے زیادہ آدمی دیکھے تو سمجھ گیا کہ یہ لوگ چوکنا ہیں اور وہ بھاگ گیا۔ ادھر حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کے جسم سے خون نکلتا اور بہتا دیکھا تو فرمایا: ’’ سبحان اللہ ! آپ رضی اللہ عنہ نے غضب کیا۔ جب پہلا تیر لگا تب آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے کیوں نہیں جگایا؟ ‘‘ حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں اللہ کے کلام (قرآن پاک) کی ایک سورہ تلاوت کر رہا تھا اور مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ اس سورہ کو ادھوری چھوڑ دوں ۔ مگر جب متواتر تیر لگنے لگے تو میں نے محسوس کیا کہ کہیں اس سورہ کو مکمل کرنے سے پہلے میری جان نہ نکل جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس مقام کی نگرانی کا حکم دیا ہے کہیں وہ غیر محفوظ نہ ہو جائے۔ اسی لئے مجھے آپ رضی اللہ عنہ کو جگانا پڑا۔‘‘

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا اونٹ

   حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوئہ ذات الرقاع میں گیا۔ واپسی میں میرا اونٹ بہت ضعیف اور کمزور ہونے کی وجہ اسلامی لشکر سے پیچھے رہ جاتا تھا ۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا اونٹ نہیں چل رہاہے۔ ‘‘سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے بٹھائو اور کسی درخت سے ایک لکڑی توڑ کر مجھے لاکر دو ۔‘‘ میں نے لکڑی لاکر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اس پر سوار ہوجائو۔‘‘ میں سوار ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لکڑی ہلکے سے دو تین مرتبہ اس اونٹ کو ماری۔ پھر تو وہ اونٹ اتنا تیز چلنے لگا کہ بار بار اسلامی لشکر سے آگے نکل جاتا تھا۔یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے بھی آگے نکل جاتا تھا اور بار بار مجھے اسے روکنا پڑتا تھا تا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلوں۔ صحیح بخاری میں یہ واقعہ امام بخاری نے دس سے زیادہ جگہوں پر ذکر فرمایا ہے۔ لیکن یہ بات ذکر نہیں فرمائی کہ یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں پیش آیا ہے۔ امام عبد الملک بن ہشام نے سیرت النبی ابن ہشام میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ غزوہ ذات الرقاع میں پیش آیا ہے۔

سید الانبیاء ﷺ نے اونٹ خریدا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ ساتھ میرا اونٹ چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ! یہ اونٹ ہمارے ہاتھ فروخت کرتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ اونٹ ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نذر کرتا ہوں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایسے نہیں بلکہ میرے ہاتھوں فروخت کرو۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قیمت تو بتائیں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک درہم میں خرید لوں گا۔‘‘ میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بہت تھوڑی قیمت ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اچھا دو درہم لے لو۔ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’یہ بھی کم ہے۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیمت بڑھاتے بڑھاتے ایک اوقیہ پر پہنچے تو میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں ایک اوقیہ پر راضی ہوں اور یہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گیا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں یہ اونٹ میں نے لے لیا۔‘‘ ( یہ تو آپ کو یاد ہی ہو گا کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے والد حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رضی اللہ عنہ غزوہ احد میں شہید ہو گئے تھے اور اپنے پیچھے اپنے بیٹے کی ذمہ سات یا نو بہنیں چھوڑ گئے تھے۔ خرچ زیادہ تھا اور حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اکیلے کمانے والے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حالات جانتے تھے اور مدد کرنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ خود دار ہیں۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح مدد فرما رہے تھے کہ ان کی خود داری کو ٹھیس نہ لگے۔

سید الانبیاء ﷺ نے اونٹ ہبہ کر دیا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کا سودا کرنے کے بعد مجھ سے فرمایا: ’’ اے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ! تم نے نکاح کر لیا ہے؟ ‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’ باکرہ ہے یا تبیہ ہے؟‘‘ میںنے عرض کیا: ’’ تبیہ ہے۔‘‘ ( باکرہ کے معنی کنواری ہے۔ اور تبیہ کے معنی طلا ق شدہ یا بیوہ ہوتے ہیں) یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ باکرہ سے کیوں نہیں کیا؟ ‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے والد غزوہ احد میں شہید ہو گئے ہیں اور انھوں نے میری کئی بہنیں چھوڑ ی ہیں۔ میںنے یہ سوچا کہ ایسی عورت سے نکاح کروں جو میری بہنوں کو سنبھال سکے اور ان کی دیکھ ریکھ کر سکے۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم نے اچھا کیا۔ انشاء اللہ برکت ہوگی۔‘‘ شام کوہم مدینہ منورہ پہنچے اور رات میں سب اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ میں بھی اپنے گھر آگیا۔ صبح وہ اونٹ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اونٹ دروازے پر باندھ کر مسجد کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے باہر تشریف لائے تو اونٹ دیکھ کر فرمایا: ’’یہ اونٹ کس کا ہے؟ ‘‘ لوگوں نے عرض کیا: ’’ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ لائے ہیں۔‘‘ مجھے بلوایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے میرے بھائی کے بیٹے! اپنے اونٹ کو لے جائو یہ تمہارا ہی ہے اور پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا : ’’ جابر ( رضی اللہ عنہ ) کو لے جا کر ایک اوقیہ دے دو۔‘‘ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے مجھ کو ایک اوقیہ سے کچھ زیادہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ وہ مال بڑھتا ہی رہا۔ یہاں تک کہ حرہ کی جنگ ہوئی۔‘‘

غزوہ بدر موعد یا دوسری غزوہ بدر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع سے واپس آنے کے بعد جمادی الآخر اور رجب المرجب مدینہ منورہ میں گزارے اور ماہ ِ شعبان میںوعدہ کے مطابق دوسری غزوہ بدر کے لئے روانہ ہو ئے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ احد میں ابو سفیان نے وعدہ کیا تھا کہ اگلے سال میدان بدر میں ایک اور جنگ ہمارے درمیان ہو گی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ ہمارا پختہ وعدہ رہا کہ اگلے سال میدانِ بدر میں مقابلہ ہوگا۔ ابو سفیان نے کہنے کو تو کہہ دیا تھا لیکن اندر سے اس کا دل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے مرعوب تھا اور وہ چاہتا تھا کہ بدر میں دوسری جنگ نہ ہو۔ لیکن چیلنج اس نے کیا تھا۔ اسلئے شرمندگی اور ندامت سے بچنے کے لئے اس نے جھوٹے پروپیگنڈہ کا سہارا لیا۔ اس نے نعیم بن مسعود نام کے ایک شخص کو کافی مال و دولت دیا۔ وہ اپنے کام سے مدینہ منورہ جا رہا تھا۔ اس سے کہا کہ وہ مدینہ منورہ میں جا کر یہ جھوٹی خبر زور و شور سے پھیلائے کہ مکہ مکرمہ والوں نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے بہت بڑا لشکر جرّار جمع کیا ہے۔ تا کہ مسلمان ڈر جائیں اور جنگ کے لئے بدر کے میدان میں نہ آئیں اور الزام مسلمانوں پر آ جائے۔ لیکن اس پروپیگنڈے کا اثر الٹا ہوا اور مسلمان اور زیادہ زور و شور سے دوسری جنگ بدر کی تیاری کرنے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان میں غزوہ بدر موعد یعنی دوسری غزوہ بدر کے لئے مدینہ منورہ سے پندرہ سو (1500)صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر لے کر روانہ ہو ئے۔ اور مدینہ منورہ میں منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبیّ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ بدر میں پہنچے اور پڑائو ڈال دیا۔ ان دنوں بدر کے میدان میں بہت بڑا بازار لگتا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قریش کے لشکر کے انتظار میں تھے اور وہاں لگے ہوئے بازار میں تجارت بھی کر رہے تھے۔ ادھر مکہ مکرمہ سے لشکر لے کر ابو سفیان میدان بدر کی طرف روانہ ہوا۔ لیکن مقامِ ظہران یا عسفان میں آکر اس کی ہمت جواب دے گئی۔ حالانکہ قریش کا لشکر دو ہزار 2000تھا۔ اس کے باوجود ابو سفیان نے کہا : ’’یہ سال خشک ہے اورموسم خشکی کا ہے۔ ہمیں ایسے موسم میں جنگ کرنا چاہیئے۔ جس میں ہم اپنے جانورورں کو چرا سکیں اور دودھ پی سکیں۔ اس لئے واپس چلو اور وہیں سے واپس ہو گئے۔ مکہ مکرمہ والوں نے اس لشکر کا نام’’ جیش سویق‘‘ رکھا تھا۔ کیوں کہ انھوں نے اس سفر میں بہت ستو کھائے اور پیتے تھے۔ ( سَتّو کو عربی میں سویق کہتے ہیں) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ یا دس دن قریش کے لشکر کا انتظارکیا اس کے بعد مدینہ منورہ واپسی کا حکم دے دیا۔ اسی دوران صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وہاں لگے بازار میں تجارت کر کے کافی منافع کما لیا تھا اور یہ سفر بہت ہی منافع بخش ثابت ہوا۔

حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ کا انتقال

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ۴ ؁ہجری کی شروعات میں یکم ( ایک) محرم الحرام کو ڈیڑھ سو 150مہاجرین اور انصار کا لشکر روانہ فرمایا تھا اور حضرت ابو سلمہ عبداللہ بن عبدالاسد کو اس لشکر کا سپہ سالار بنایا تھا یہ سب آپ کو یاد ہو گا ۔ کچھ روایات میں ایسا ہے کہ اس سریہ میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کو زخم لگا تھا اور کچھ روایات میں ہے کہ غزوہ احد میں آپ رضی اللہ عنہ شدید زخمی ہوئے تھے اور زخم ابھی پوری طرح سے اچھے نہیں ہو پائے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ اس سریہ پر چلے گئے ۔ جس سے زخم پھر سے کھل گئے۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اسی دوران ان کی بیوی اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے ایک خواب دیکھا ۔ جب انھوں نے اپنے شوہر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انھوں نے فرمایا: ’’ جہاں تک مجھے اس خواب کی تعبیر سمجھ میں آتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ میرا انتقال ہو جائے گا اور تمہارا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگا۔‘‘ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کا کچھ ہفتوں بعد انتقال ہو گیا۔ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی ہیں۔ ان دونوں کو سیدہ ثوبیہ رضی اللہ عنہا نے دودھ پلایا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حبشہ ہجرت کی تھی۔ پھر مدینہ منورہ ہجرت کی۔ حضرت ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو جمادی الاول 4ہجری کا مہینہ ختم ہو نے میں تین روز باقی تھے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان ۴ ؁ہجری میں غزوہ بدر موعد یا دوسری جنگ بدر کے لئے میدانِ بدر تک گئے تھے۔ قریش تو نہیں آئے تھے لیکن وہاں ایک بہت بڑا بازار لگا ہوا تھا جس میں تجارت کر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خوب منافع کمایا تھا۔ اسی ماہِ شعبان 4 ؁ہجری میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ پید اہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے بڑے بھائی حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے لگ بھگ ایک سال کے چھوٹے ہیں یا ایک سال سے کچھ کم چھوٹے ہیں۔

سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر موعد یا دوسری جنگ بدر سے واپس آنے کے بعد ماہِ شعبان کا بقیہ حصہ اور ماہِ رمضان المبارک اور ماہِ شوال بھی مدینہ منورہ میں گزارا۔ اسی دوران ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ ام المومنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا وہی ہیں جنہیں ’’ اُم المساکین ‘‘ کا لقب دیا گیاتھا۔ یعنی مسکینوں کی والدہ ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہا مسکینوں یا مساکین پر بہت زیادہ مہربان تھیں اور انھیں ہمیشہ صدقات اور خیرات سے نوازتی رہتی تھیں اورماہِ رمضان المبارک میں تو یہ صدقات اور خیرات بہت زیادہ بڑھ جاتی تھیں۔

سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہِ شوال ۴ ؁ہجری میں سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کو یاد ہو ں گی۔ اُن کا ذکر ِہجرت اس سے پہلے آچکا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت کرنے آرہی تھیں کہ ان کے بھائیوں اور رشتہ داروں نے آکر انھیں روک لیا اور حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے کہا اکیلے مدینہ منورہ جائو۔ پھر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بھائی اور رشتہ دار آگئے انھوں نے بچے کو چھین لیا۔ حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے انھیں بہت سمجھایا لیکن وہ نہ مانے آخر آپ رضی اللہ عنہ اکیلے ہی مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا اسی جگہ روز آکر بیٹھ جاتیں اور مدینہ منورہ کے راستے کو دیکھ کر روتی رہتی تھیں۔ اس طرح ایک سال گزر گیا۔ آخر کار اُن کے رشتہ داروں کو ان پر رحم آیا اور ان کا بچہ انھیں لا کر دیا اور مدینہ منورہ دونوں کو بھیج دیا۔ یہ واقعہ تفصیل سے ہم اس سے پہلے پیش کر چکے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے بارے میں اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ ایک روز حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر آئے اورمجھے بتایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب کسی مسلمان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے اور وہ گھبراتا نہیں بلکہ صبر کرتا ہے اور نا اُمید نہیں ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اے اللہ تعالیٰ مجھے اس مصیبت میں صبر کی توفیق دے اور اس کا اس سے بہتر اجر دے تو اﷲاُس سے بہترعطا فرماتاہے ۔‘‘اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ پھر حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو انھوں نے جو دعا مجھے بتائی تھی وہ دعامیں نے مانگی۔ (عدت کے دوران) میں اکثر سوچتی تھی کہ اُن کی وفات پر جو میں نے صبر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی اس سے بہتر جزا کے لئے جو دعا مانگی ہے تو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر آخر مجھے کیا مل سکتا ہے؟ پھر جب ( عدت ختم ہونے کے بعد ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا تو پہلے تو میں نے منع کر دیا۔ پھر بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا تو مان گئی۔ نکاح ہو جانے کے کچھ دنوں بعد ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے معاف فرمادیں۔ میں پہلے یہ سوچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح پر راضی نہیں تھی کہ میں حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے بعد کسی دوسرے مرد کی بیوی کیسے بنوں ؟ کیوں کہ میری غیرت مجھے روکتی تھی۔ اس کے علاوہ مجھے اپنی زیادہ عمر کی وجہ سے حیا آتی تھی اور بچوں کا بھی خیال تھا کہ میرے نکاح کے بعد ان کا کیا ہوگا؟ لیکن پھر میں نے سوچا کہ کہیں میں اپنی اس سوچ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کی مستحق نہ ہو جائوں۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی اجازت دے دی۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ غیرت و حمیت کے اظہار پر اللہ تعالیٰ تمہیں عذاب دے گا اور نہ تمہاری عمر کا مجھے خیال تھا اور نہ میں نے اس کاذکر کیا تھاکیوں کہ خود میری عمر بھی کچھ کم نہیں تھی۔‘‘ اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ میں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی وفات پرصبر کیا تھا اور اللہ تعالیٰ سے بہتر اُمید رکھی تھی تو وہ اس صورت میں پوری ہوئی کہ مجھے حضرت ابوسلمہ رضی اللہ سے بہتر شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں عطا فرمادیا۔‘‘

غزوہ دُومتہ الجندل

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد ذی القعدہ اور ذی الحجہ یعنی 4 ؁ہجری کے ختم ہونے تک مدینۂ منورہ میں تشریف فرما رہے اور ماہ ِربیع الاول 5 ؁ہجری میں غزوہ دومتہ الجندل کے لئے روانہ ہو ئے۔ دومتہ الجندل مدینہ منورہ سے پندرہ یاسولہ راتوں کی مسافت پر ہے۔ ( یہ بات ذہن میں رکھیں کہ پہلے زمانے میں کلو میٹر یا میل سے فاصلے ناپے نہیں جاتے تھے۔ بلکہ ایک گھوڑا یا اونٹ ایک رات میں جتنا سفر طے کرتا تھا۔ اسے ایک رات کی مسافت کہا جاتا تھا) اورملک شام کی راجدھانی ( دارالخلافہ) دمشق سے پانچ راتوں کی مسافت پر ہے۔ دومی بن اسماعیل نام کا ایک شخص وہاں رہتا تھا۔ اسی کے نام پر دومتہ الجندل شہر کا نام رکھا گیا۔ یہ شہر ملک شام کے تجارتی راستے پر واقع ہے۔ اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ دومتہ الجندل میں ایک بہت بڑی جماعت ہے جوآنے جانے والے قافلوں کو لوٹ لیتی ہے اور ان کا ارادہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کاہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور 25ربیع الاول 5ہجری کو ایک ہزار 1000صحابہ کرام کا لشکر لے کر دومتہ الجندل کی طرف روانہ ہوئے اور بن عذرہ میں سے ایک شخص جس کا نام ’’مذکور‘‘ تھااسے راستہ بتانے کے لئے مقرر فرمایا۔ دومتہ الجندل کے قریب میدان میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کے ساتھ پڑائو ڈالا۔ اسلامی لشکر کو دیکھ کر لٹیرے فرار ہو گئے اور دومتہ الجندل شہر کے لوگ شہر چھوڑ کر بھاگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطراف میں چھوٹے چھوٹے لشکر روانہ کئے ۔ دومتہ الجندل شہر میں ایک شخص گرفتار ہوا۔ اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت دی اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس گئے۔

غزوہ بنو مریسیع یا غزوہ بنی مصطلق

   اس غزوہ کی تاریخ میں علمائے کرام میں اختلاف ہے اور کچھ سیرت لکھنے والوں نے اسے غزوہ خندق یا احزاب سے پہلے بیان فرمایا ہے اور کچھ نے اس کے بعد بیان فرمایا ہے۔ کچھ علمائے کرام اور سیرت نگاروں کے مطابق یہ غزوہ ماہِ شعبان 5 ؁ہجری میں ہوا اور کچھ علمائے کرام اور سیرت نگاروں کے مطابق یہ غزوہ ماہِ شعبان 6؁ہجری میں ہوا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ بنو مصطلق ( یہ قبیلہ بنو خزاعہ کی ایک شاخ ہے) کا سردار حارث بن ابی ضرار اپنے قبیلے اور دوسرے چند چند عرب قبائل کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لڑنے کی دعوت دی اور ایک بڑے لشکر کی تیاری کرنے لگا۔ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ کو اس اطلاع کی تحقیق کے لئے بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ وہاں گئے اور حارث بن ضرار سے ملاقات کر کے اس سے گفتگو کی اور مکمل معلومات حاصل کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تمام معلومات پیش کردیں۔

سید الانبیاء ﷺ اسلامی لشکر کے ساتھ مریسیع پہنچے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام معلومات ملنے کے بعد مدینہ منورہ میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا اور غزوہ کے لئے لشکر کی تیاری کا حکم دیا۔ ایک بڑا لشکر تیار ہو گیا۔جس میں تیس (30) گھوڑے تھے۔ اس لشکر میں منافقین بہت بڑی تعداد میں تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک روایت کے مطابق حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایااور ایک روایت کے مطابق حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو اور ایک اور روایت کے مطابق حضرت نمیلہ بن عبداللہ لیشی کو نائب مقرر فرمایا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر روانہ ہوئے اور ازواج مطہرات میں سے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا ساتھ تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے لشکر کے ساتھ سفر کر تے ہوئے چشمۂ مریسیع یا بیر ( کنواں) مریسیع کے پاس پہنچے اور پڑائو ڈال دیا۔ یہ کنواں یا چشمہ بنو مطصطلق والے استعمال کرتے تھے۔

مقابلہ اور مسلمانوں کی فتح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑائو ڈالنے کے بعد لشکر کی ترتیب شروع کر دی۔ ادھر دوسرے قبائل نے حارث بن ضرار کا ساتھ چھوڑ دیاتھا۔ پھر بھی وہ اپنے قبیلے کا لشکر لے کر مقابلے پر آگیا۔ دونوں لشکروں کا سامنا ساحل سمندر کے کنارے ساحل پر مقامِ قدید کے کنارہ پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کی صف بندی کی اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیا اور انصار کا جھنڈا حضر ت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیا۔ جنگ شروع ہوئی اور کچھ دیر تیرا ندازی ہوتی رہی۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کو حکم دیا کہ یکبارگی سب ایک ساتھ حملہ کر دیں۔ سب نے ایک ساتھ حملہ کیا اور مشرکین کے قدم اکھڑ گئے اور مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور وہ مشرکین کو گرفتار کرنے لگے اور مال غنیمت جمع کرنے لگے۔ مشرکین میں سے دس افراد قتل ہوئے اور مسلمانوں میں سے صرف ایک مسلمان شہید ہوئے۔ اس جنگ میں بہت بڑی تعداد میں اونٹ ، گائے اور بکریاں وغیرہ مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوئے۔ ا س کے علاوہ قیدی بھی بہت زیادہ تھے۔ ان میں عورتیں بھی تھیں۔

مال غنیمت اور قیدیوں کی تقسیم

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مال غنیمت اور قیدیوں کو اسلامی لشکر میں تقسیم فرما دیا۔ مال غنیمت میں دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریا ں تھیں اور بہت سا گھر کا سامان تھا۔ قیدی دو سو گھر والے تھے۔ ان میں قیدیوں میں بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی سیدہ جو یریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ یہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کے چچا زاد بھائی کے حصہ میں آئی۔ انھوں نے ان دونوں سے مکاتبت ( یعنی معاوضہ دے کر آزادی حاصل کرنا) کی بات کی تو ان دونوں نے نواوقیہ سونے پر ان سے مکاتبت کر لی ۔ اس کے بعد سیدہ جویرہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔

سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنا مجھے ناگوار محسوس ہوا۔ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہا بہت خوبصورت اور ملاحت والی تھیں۔ انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی ہوں اور جو مصیبت مجھ پر آئی ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم واقف ہیں۔ میں جن کے حصے میں آئی تھی ان سے میں نے مکاتبت کر لی ہے اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس لئے آئی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکاتبت کے مال میں میری مدد فرمائیں۔‘‘ ( در اصل قید کے دوران سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا دل اسلام کی طرف مائل ہو گیا تھا) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے جویریہ ! ( رضی اللہ عنہا ) اس سے بہتر بات کی تمہیں ضرورت ہے۔ ‘‘سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’ وہ کیا بات ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ وہ یہ ہے کہ تمہاری مکاتبت میں ادا کر دیتا ہوں ( اور اسلام قبول کر کے ) تم مجھ سے نکاح کر لو۔ ‘‘سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے قبول ہے۔‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے نکاح کر لیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب یہ معلوم ہوا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی قبیلہ بنو مصطلق سے رشتہ داری ہو گئی ہے تو اس رشتہ کی وجہ سے انھوں نے تمام قیدیوں کو چھوڑ دیا اور اسی روز سو سے زیادہ قیدی آزاد کر دیئے گئے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ اُم المومنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی عورت اپنے قبیلے کے لئے با برکت ثابت نہیں ہوئی۔‘‘

حارث بن ابی ضرار کا قبول اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں قیدیوں کا فدیہ مقرر فرمایا تھا۔ حضرت عبداللہ بن زیاد سے روایت ہے کہ غزوہ بنی مصطلق میں اُم المومنین سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو قیدیوں میں ملیں۔ ان کے والد حارث بن ابنی ضرار جو بنو مصطلق کے سردار تھے وہ فدیہ لے کر آرہے تھے۔جب وادی مصطلق میں پہنچے تو اونٹوں پر نظر ڈالی تو دو اونٹ بہت اچھے لگے جو ہر لحاظ سے عمدہ تھے۔ پھر انھوں نے ان دونوں اونٹوں کو’’ وادی عقیق‘‘ میں باندھ دیا اور باقی اونٹ لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ میری بیٹی کو میرے حوالے کر دیجئے اور فدیہ میںیہ اونٹ لے لیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ اونٹ کب لائو گے جو تم کو زیادہ پسند تھے اور تم انھیں وادی عقیق میں باندھ آئے ہو؟ ‘‘ حارث بن ابی ضرار کچھ دیر حیرت سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے رہے اور پھر بول اٹھے : ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں اور یہ راز میرے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔‘‘ اور اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد حضرت حارث بن ابی ضرار رضی اللہ عنہ ، بہت ہی مخلص اور با صلاحیت مسلمان ثابت ہوئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

16 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


16 سیرت سید الانبیاء ﷺ

واقعہ افک اور غزوۂ خندق

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


اے میرے باپ تُوذلیل ہے، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کے تقدس کی گواہی، غزوۂ خندق میں یہودیوں کی سازش اور غداری،  


منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبیّ کی گستاخی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی میں ایک پانی کے چشمے یا کنویں کے پاس پڑائو ڈالنے کا حکم دیا۔ اس چشمے یا کنویں پر پانی لینے کے لئے ایک مہاجر صحابی رضی اللہ عنہ اور ایک انصار صحابی رضی ا للہ عنہ کے درمیان بحث ہو گئی۔ منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبیّ نے فوراً اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور انصار کو بھڑکانے لگا اور کہنے لگا : ’’ تم لوگوں نے ان مہاجرین کو اپنے شہر اور اپنے گھر میں جگہ دی اور ان کو کھلایا پلایا۔ اللہ کی قسم !اب جو مدینہ منورہ پہنچیں گے تو ضرور عزت والا ذلت والے کو مدینہ منورہ سے نکال دے گا۔‘‘ اس کے بعد پھر انصار کو مخاطب ہو کر بولا: ’’یہ سب تمہارا ہی قصور ہے۔ تم نے اپنے مالوں میں انھیں حصہ دیا اوراپنے گھروں میں رکھا۔ اگر تم لوگ ان کی مدد نہ کرتے اوراپنے ہاتھ روک لیتے تو یہ لوگ ( مہاجرین) کہیں اور چلے جاتے۔‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تشریف فرماتھے جس وقت منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبیّ یہ بکواس کر کے انصار کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہاں ایک نوعمر صحابی حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب عبداللہ بن اُبی بکواس کر چکا تو یہ نوجوان صحابی رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اس منافق کی ساری بکواس لفظ بہ لفظ سنادی۔ حضرت عمر فارق رضی اللہ عنہ یہ بکواس سنتے ہی جلال میںآگئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس منافق کو قتل کرنے کا حکم دیں ۔ ‘‘لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ !رہنے دو۔ لوگ ( اصل حقیقت کو نہیں سمجھیں گے اور) کہیں گے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ مگر میں اس وقت یہاں سے کوچ کرنے ( آگے بڑھنے یا پھر پڑائو اٹھا کر چلنے ) کا حکم دیتا ہوں۔ ‘‘حالانکہ یہ کوچ کرنے کا نہیں بلکہ آرام کرنے کا وقت تھا۔ عبداللہ بن اُبی منافق کو جب یہ معلوم ہوا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام باتیں بتا دی ہیں تو وہ اسی وقت دوڑتا ہواء سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور جھوٹی صفائی دینے لگا اور جھوٹی قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔ انصار صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کچھ وہاں موجود تھے۔ لیکن جب عبداللہ بن اُبی بکواس کر رہا تھا تو وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ اس لئے انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! زیدہبن ارقم ( رضی اللہ عنہ) بچہ ہے ہو سکتا ہے اس کے سننے میں کوئی غلطی ہوگئی ہو۔‘‘

حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی حق گوئی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بے وقت کو چ کرنے کا حکم اس لئے دیا کہ منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی اپنی سازش میں کامیاب نہ ہو سکے اور معاملہ بڑھنے کے بجائے رفع دفع ہو جائے۔ حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو اچانک لشکر کے کوچ کرنے کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ اچانک لشکر کے کوچ کرنے کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا جب کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کرنے کا وقت ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم نے اپنے ساتھی کی بات نہیں سنی کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ ‘‘ حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس ساتھی کی؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عبداللہ بن اُبیّ کی۔ ‘‘ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ وہ کیا کہتا ہے ؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’وہ کہتا ہے کہ جب وہ مدینہ منورہ پہنچے گا تو عزت والا ذلیل کو نکال دے گا۔‘‘ حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بس تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اُس ( منافق) کو مدینہ منورہ سے نکالیں گے۔ اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی عزت والے ہیں اور وہ بد بخت ذلیل ہے۔ ‘‘ پھر کچھ دیر بعد حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! در اصل مدینہ منورہ والے عبداللہ بنی اُبیّ کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے تھے اور اس کے لئے تاج بھی بنا لیا گیا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نے سے و ہ یہ خیال کرتا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات پر توجہ نہ فرمائیں۔‘‘


منافقوں کے سردار کے بیٹے کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت


   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس کے بعد منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبی ّ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم !مجھے ایسی خبر ملی ہے کہ میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ضروری خیال کرتے ہیں کہ میرے باپ کو قتل کر دیا جائے تو میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گذارش ہے کہ مجھے حکم دیں کہ میں اپنے باپ کو قتل کر دوں۔ ( یہ ہے اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کہ وقت پڑے تو باپ کے قتل کے لئے بھی تیار ہو جائے) اللہ کی قسم !خزرج ( تمام انصار کو خزرج کہا جاتا تھا) جانتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ کوئی شخص اپنے باپ سے محبت اور نیکی کرنے والا نہیں ہے۔ اسی لئے مجھے خوف ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسرے مسلمان کو حکم دیا کہ وہ میرے باپ کو قتل کرے اور اس نے قتل کر دیا تو ہو سکتا ہے اپنے باپ کے قتل کے بدلہ میں اس شخص کو قتل کر دوں اور ایک مسلمان کو کافر ( میرا باپ) کے بدلہ میں قتل کر کے میں دوزخ میں چلا جائوں ۔ اس لئے میری یہ درخواست ہے کہ میرے باپ کو قتل کرنے کا حق صرف مجھے دیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اﷲ عنہ کو دیکھ کر مسکرائے اور ان کا کندھا تھپتھپا کر فرمایا:’’ ہم اُس کو ( تمہارے باپ کو) قتل نہیں کرائیں گے۔ بلکہ اس کی صحبت کو اپنے ساتھ اچھا سمجھتے ہیں۔‘‘

اے میرے باپ تُوذلیل ہے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوںکے سردار کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ تمہارے باپ کو معاف کر دیا گیا ہے۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ کو اطمینان نہیں ہو رہا تھا۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ لشکر سے تیز چل کر لشکر کے پہنچنے سے پہلے مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے اورمدینہ منورہ کے داخلی راستے پر کھڑے ہو کر اپنے باپ کا انتظار کرنے لگے۔ جب لشکر قریب پہنچا توتلوار نکال کر اسے تان کر کھڑے ہو گئے۔ جب اُن کا باپ منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی ان کے پاس سے گذرا تو اسے روک لیا اور تلوار اس پر تان کر فرمایا: ’’ اے میرے باپ، بو ل توذلیل ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں۔ ‘‘عبداللہ بن اُبیّ ڈر گیا اور بیٹے کی خوشامد کرنے لگا۔ وہاں سے گزرنے والے لوگ بھی آپ رضی اللہ عنہ کو سمجھانے لگے۔ لیکن حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بار بار یہی فرما رہے تھے : ’’ بو ل توُ ذلیل ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں۔‘‘ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچے تو حالت یہ تھی کہ حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جلال میں تلوار اپنے باپ پر تانے فرما رہے تھے : ’’ بول تو ذلیل ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں۔‘‘ اور تمام مدینہ منورہ والے دیکھ رہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کو سمجھا رہے تھے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب پہنچے تو لوگ دونوں باپ بیٹے کے پاس سے ہٹ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اپنے باپ کو چھوڑ دواور اسے جانے دو۔ اللہ کی قسم !جب تک وہ ( تمہارے باپ ) ہم میںرہیں گے۔ ہم ان کے ساتھ حسن اخلاق سے ہی پیش آئیں گے۔‘‘

واقعہ اِفک

   اسی دوران واقعہ اِفک ( اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاپر منافقوں کی طرف سے جھوٹا الزام لگانے کا واقعہ) پیش آیا ۔اس واقعہ کو امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان فرمایا ہے۔ و ہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ درمیان میں ہم کچھ تشریح بھی کرتے جائیں گے انشاء اللہ ۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواجِ مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے کہ کس کو ساتھ لے جانا ہے؟ جس کے نام قرعہ نکل آتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر جاتی تھیں۔ حسب معمول اس غزوہ پر جانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ ڈالا تو میر ا نام نکل آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ لے لیا۔ اس کے بعد کہ پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ پس میں پردے کے ساتھ ہودج میں سوار کرائی گئی اور اس میں بیٹھ گئی۔ ہم نے ( لشکر کے ساتھ ) سفر کیا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے واپس لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب آگئے تو پڑائو ڈال دیا۔‘‘

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا لشکر سے بچھڑ گئیں

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں ۔ اس منزل سے ( پڑائو اٹھا کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات (صبح صادق )میں چلنے کا حکم دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کرنے کا حکم د یا تو اس وقت میں قضائے حاجت کے لئے لشکر سے دور گئی ہوئی تھی۔ جب میں فارغ ہو کر اپنی سواری کے پاس آئی تو معلوم ہوا کہ میرا ہار گم ہو گیا ہے۔ میں اپنے ہار کو تلاش کرنے واپس گئی اور مجھے اس کی تلاش میں کافی دیر ہو گئی۔ ادھر لشکر میں جن لوگوں کے سپر د مجھے سوار کروانے کا کام تھا وہ آگے بڑھے اور انھوں نے میرے ہودج کو اٹھا کر اس سواری ( اونٹ ) پر رکھ دی جس پر میں سوار ہوتی تھی۔ وہ یہی سمجھے کہ میں ہودج کے اندر ہوں کیوں میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی اور دبلی پتلی تھی اور میرا وزن کم تھا اس لئے انھیں لگا کہ میں اندر ہوں۔ اور انھیں ہودج کو اونٹ پر رکھتے ہوئے محسو س نہیں ہوا کہ میں اندر نہیں ہوں۔ ہار مجھے اس وقت ملا جب لشکر کوچ کر چکا تھا اور ( پڑائو کی جگہ) بالکل خالی پڑی ہوئی تھی۔ میں اسی جگہ آکر بیٹھ گئی جہاں میری سواری بندھی تھی اور یہ خیال کیا کہ جب وہ ( لشکر والے) مجھے نہیں پائیں گے تو واپس میری تلاش میں آئیں گے۔ اسی دوران بیٹھے بیٹھے میری آنکھ بند ہونے لگی اور میں سو گئی۔

حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے لشکر تک پہنچایا

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے رہا کرتے تھے۔ ( یہاں ہم آپ کو یہ بتا دیں کہ پہلے زمانے میںجب قافلے یا لشکر چلتے تھے تو ایک شخص کو پیچھے رکھا جاتا تھا۔ اس کا کام یہ ہوتا تھا کہ قافلے یا لشکر کے گرے ہوئے سامان اٹھا تا جائے اور پڑائو کی جانے والی جگہ کا مکمل جائزہ لے اور کام کا سامان ہو تو اٹھا لے۔ اس سفر میں حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کا یہ کام تھا۔ وہ صبح کے وقت میرے نزدیک آئے کیوں کہ انھوں نے دور سے دیکھا کہ کوئی آدمی سویا ہوا ہے۔ انھوں نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ کیوں کہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے زور سے انَّ للہ وَاِنّا اِلیہِ راجِعُون پڑھا۔ اُن کی زبان سے یہ الفاظ سن کر میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے انھیں دیکھ کر اپنی چادر سے پردہ کر لیا اور اللہ کی قسم ! اس کے بعد نہ انھوں نے کچھ کہا اور نہ میں نے کچھ کہا۔ وہ اپنی سواری سے اترے اور سواری کے پیر باندھ کر ( کچھ دور) ہٹ گئے۔ پھر میں کھڑی ہوئی اور اس پر سوار ہو گئی۔ ( انھوں نے خاموشی سے آکر سواری کے پیر کھولے اور اسے اٹھا کر مُہار پکڑ کر چل پڑے) وہ آگے آگے پیدل چلتے ہوئے مجھے لے چلے۔ یہاں تک کہ ہم سخت گرمی کے وقت دوپہر دن چڑھے لشکر میں جا پہنچے۔ انھوں نے وہاں پڑائو ڈالا ہوا تھا۔

منافقوں کا الزام لگانا اور افواہ پھیلانا

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں کہ جس کو ہلاک ہونا تھا وہ بہتان یا الزام لگا کر ہلاک ہو گیااور جس نے اس بہتان یا الزام کو سب سے زیا دہ ہوا دی۔ (یعنی افواہ پھیلائی)وہ منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی بن سلول تھا۔ اس حدیث کے راوی حضرت عمروہ بن زبیر (حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ، اُ م المومنین سید عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے بھانجے ہیں اور حضرت زیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں )فرماتے ہیں : ’’ مجھے معلوم ہوا کہ جب اس بد بخت منافقوں کے سردار کے پاس اس بہتان یا الزام کا ذکر ہوتا تو وہ بڑی دلچسپی سے اس کا ذکر کرتا تھا اور اس بہتان اور الزام کو حقیقت قرار دیتا تھا اور اسے بڑے غور سے سنتا تھا اور بیان کرتا تھا۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ، حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا( یہ تینوں مقدس ہستیاں منافقوں کے جھوٹے پروپیگنڈے اور افواہ پھیلانے کا شکار ہو گئے تھے) کے سوا کسی اور نام کا علم نہیں ہے۔ ہاں اُن ( منافقوں )کی ایک جماعت تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ( سورہ النور میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بہتان یا الزام سے بَری کرنے والی آیات میں ) فرمایا ہے اور اُن (منافق) لوگوں کی قیادت عبداللہ بن اُبی بن سلول کرر ہا تھا۔ عروہ بن زبیر فرماتے ہیں : ’’ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس بات کو نا پسند فرماتی تھیں کہ کوئی شخص حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بُرا بھلا کہے۔ ‘‘

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بہتان کا پتہ چلا

   اُ م المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو میں بیمار پڑ گئی اور ایک مہینہ بیمار رہی اور لوگوں میں بہتان کا چرچا ہوتا رہا۔ حالانکہ مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رویہ سے مجھے شک ہوتا تھا۔ ( کہ ضرور کوئی نہ کوئی بات ہے) میری بیماری کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ، سلام کرتے اور حال دریافت کر کے چلے جاتے تھے۔ یہ بات مجھے شک میں تو ڈالتی تھی لیکن ( منافقوں نے ) جو طوفانِ بد تمیزی اٹھایا ہوا تھا اس کا مجھے کوئی علم ہی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ کچھ صحت یاب ہوئی تو حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کی والدہ کے ساتھ رفع حاجت کے لئے باہر نکلی اور ہمارا معمول تھا کہ اس مقصد کے لئے ہم رات میں باہر جاتے تھے۔ جب ہم فارغ ہو کر واپس لوٹے تو ان کا پیر چادر میں الجھ گیا اور وہ گر پڑیں ۔ انھوں نے اٹھتے ہوئے کہا : ’’مسطح ( رضی اللہ عنہ) کا بُرا ہو۔ ‘‘میں نے کہا : ’’آپ یہ بُری بات کہہ رہی ہیں اور ایک ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔‘‘ انھوں نے کہا : ’’اے اللہ کی بندی ! شاید آپ رضی اللہ عنہا نے سنا ہی نہیں کہ اس نے کیا کہا ہے؟ ‘‘ میں نے پوچھا : ’’ بتائو! انھوں نے کیا کہا ہے؟ ‘‘حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کی والدہ نے بہتان تراشنے والوں کی بات بتائی۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ پھر تو ( صدمے کی وجہ سے) میری بیماری اور بڑھ گئی۔ جب میں گھر پہنچی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ۔ سلام کیا اور فرمایا : ’’ تمہارا کیسا حال ہے؟ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’میں اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت چاہتی ہوں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ سے آکر دریافت کیا: ’’ امی جان !لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ ‘‘ انھوں نے کہا: ’’ بیٹی اس بات کا غم نہ کرو۔ اللہ کی قسم !یہ تو ہوتا ہی آیا ہے۔ کیوں کہ جب کوئی عورت خوب صورت ہواور اس کا شوہر اسے بہت چاہتا ہو تو لوگ ایسی باتیں کرتے ہی ہیں۔‘‘ میں نے کہا : ’’ سبحان اللہ ! لوگ اتنی بڑی بات منہ پر لانے لگے ہیں ۔‘‘پھر تو میں ساری رات روتی رہی۔ نہ تو میرے آنسو تھمے اور نہ ہی صبح تک نیند آئی اور صبح کے وقت بھی میں رو رہی تھی۔ ‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیق

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو مشورہ کے لئے بلایا۔ کیونکہ وحی نہیں آئی تھی۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ کی پاک دامنی سے خوب واقف ہیں ا ور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں پایا۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی خادمہ ( اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ) بریرہ سے اُن کے بارے میں تحقیق کر لیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا اور فرمایا : ’’ اے بریرہ !کیا تم نے شبہ والی کوئی باتدیکھی؟‘‘ بریرہ نے عرض کیا: ’’ قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے تو شک و شبہ والی قطعاً کوئی بات نہیں دیکھی۔ سوائے اس کے کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں ۔یہاں تک کہ آٹا گوندھ کر سوجاتی ہیں اور بکری آکر کھا لیتی ہے۔‘‘

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی جاں نثاری

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کون ہے جو اس شخص سے بدلہ لے جس نے میری زوجہ ( بیوی) کے بارے میں مجھے تکلیف پہنچائی ہے اور اللہ کی قسم ! میں اپنی زوجہ میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں پاتا اور جس شخص ( حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ ) کا ( یہ منافق) ذکر کرتے ہیں اس کے اندر بھی میں بھلائی کے سواکچھ نہیں پاتا۔ میرے گھر میں صرف میرے ساتھ ہی داخل ہوتا ہے۔ ‘‘یہ سن کر بنو عبداشہل کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدلہ میں لوں گا۔ اگر وہ شخص قبیلہ اوس ( یہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ ہے) کا ہوا تو میں خود اس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر قبیلہ خزرج سے ہے تو ہمارے بھائیوں میں سے ہے تو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرمائیں گے اس کی تعمیل کی جائے گی۔ ‘‘اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ پھر خزرج والوں میں سے ایک شخص کھڑے ہوئے وہ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے اور یہ بڑے نیک تھے۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ غلط کہہ رہے ہیں نہ آپ اسے قتل کریں گے اور نہ آپ اُسے قتل کرسکتے ہیں اور اس معاملے میں اوس اور خزرج میں بحث شروع ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں خاموش کرا یا اور سب لوگ خاموش ہو گئے۔

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے والدین کی پریشانی

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ اُس دن بھی میں سار ا دن روتی رہی۔ نہ میرے آنسو رکتے تھے اور نہ ہی مجھے نیند آتی تھی اور میرے والدین میری وجہ سے پریشان تھے۔ مجھے لگاتار روتے ہوئے دو راتیں اور ایک دن گزر چکا تھا اور مجھے ایسا لگا کہ اتنا رونے سے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ میرے والدین میرے پاس ہی تشریف فرما تھے۔ میں رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ اسے اجازت دی گئی تو وہ بھی میرے پاس بیٹھ کر رونے لگی۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور سلام کر کے بیٹھ گئے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ جب سے مجھ پر بہتان لگایا گیا تھا اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے نہیں تھے۔ قریباً ایک مہینے سے وحی کا نزول بھی بند تھا کہ میرے متعلق کوئی حکم فرمایا جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے ہوئے کلمہ ٔ شہادت پڑھا اور اس کے بعد فرمایا: ’’ اے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا !مجھے تمہارے متعلق یہ افواہ پہنچی ہے ۔ اگر تم پاک دامن ہو تو بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہیں بَری فرمادے گا اور اگر کوئی ایسی ویسی بات ہو گئی ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور توبہ کرلو۔ کیوں کہ بندہ جب ( سچے دل سے ) توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات مکمل کر چکے تو میں نے اپنے والد محترم ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) سے عرض کیا : ’’ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیں۔ ‘‘ میرے والد محترم نے فرمایا : ’’اللہ کی قسم ! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا جواب دوں ۔ ‘‘پھر میں نے اپنی والدہ محترمہ سے گذارش کی : ’’ آپ کچھ جواب دیں ۔ ‘‘ میری والدہ محترمہ نے فرمایا: ’’ میری بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کیا جواب دوں ۔ ‘‘ میں خود جواب دینے کو تیار ہو گئی۔ حالانکہ میں نو عمر لڑکی تھی اور قرآن پاک کابھی زیادہ علم نہیں تھا۔ اس کے باوجود میں نے کہا: ’’ بے شک !اللہ کی قسم !میرے علم میں بھی وہ بات آگئی ہے جو آپ حضرات نے سنی ہے۔ اب جب کہ وہ بات آپ لوگوں کے دلوں میں سما گئی تو اگر میں کہوں کہ میں اس بہتان سے پاک ہوں تب بھی آپ لوگ میری بات کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ( یعنی یقین نہیں کریں گے) اور اگر میں اس گناہ کا اعتراف کر لوں ( جو میں نے نہیں کیا) اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے پاک ہوں تو ضرورمیری تصدیق کی جائے گی۔ ( یعنی یقین کیا جائے گا) پس اللہ کی قسم !میری اور آپ حضرات کی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے والد محترم جیسی ہے اور انھوں نے فرمایا تھا: ’’ صبر ہی اچھا ہے! اور ان باتوں پر جو بتا رہے ہو میں اللہ سے ہی مدد چاہتا ہوں۔‘‘ پھر میں خاموش ہو کر بستر پر لیٹ گئی۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ نے بہتان یا الزام سے بَری فرمایا

   اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ میں نے یہ سوچا تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس بہتان یا جرم سے بَری ہوں اور اللہ تعالیٰ میری پاک دامنی ظاہر فرمادے گا۔ لیکن اللہ کی قسم !یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ میری شان میں وحی فرمائے گا۔ ( یعنی قرآن پاک میں آیات نازل فرمائے گا) کیوں کہ میری حیثیت اتنی تو نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کلام فرمائے گا۔ ہاں مجھے یہ اُمید ضرور تھی کہ اللہ تعالیٰ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری پاک دامنی دکھا دے گا۔ لیکن اللہ کی قسم ! اسی دوران میں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے اور کوئی بھی فرد باہر نہیں گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہونے لگا اور وہی حالت طاری ہو گئی جو وحی کے وقت ہوتی تھی اور کلام کی ثقالت ( وزن ، بوجھ) کی وجہ سے سردی کے دنوں میں بھی پسینہ موتیوں کی طرح جاری ہو جاتا تھا۔ ( جب وحی ختم ہوئی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلی بات جو فرمائی وہ یہ تھی : ’’ اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس الزام سے بَری فرما دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر میری والدہ محترمہ نے مجھ سے فرمایا: ’’ کھڑی ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو۔‘‘ میں نے ( ناز سے ) کہا : ’’میں کیوں ان کا شکریہ ادا کروں میں تو اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کروں گی۔ ‘‘اس کے بعد آگے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ بے شک جن لوگوں نے بہتان باندھا… ( سور ہ النور آیت نمبر11سے آیت نمبر20تک اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ( آیات نازل فرما کر ) مجھے اس بہتان یا الزام سے پاک قرار دیا۔ ‘‘

اُ م المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی پر قرآن میں آیات

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ( ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کے بارے میں ) یہ آیات نازل فرمائی ہے: (ترجمہ) ’’ جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں (یعنی جو منافقین نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا یا ہے) یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروہ ( یعنی منافقین کا گروہ) ہیں۔ تم اسے اپنے لئے بُرا نہ سمجھو۔ بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ہاں ان میں سے ( منافقوں میں سے ) ہر شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا ہے۔ ان ( منافقوں ) میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سر انجام ( الزام لگانے اور افواہ پھیلانے میں سب سے آگے رہا) اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے۔ اسے ( اس الزام کو ) سنتے ہی مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمانی کیوں نہ کی اور کیوں نہیں کہہ دیا کہ یہ کھلم کھلا صریح بہتان ہے۔ وہ ( منافقین الزام لگانے والے) اس پر چار گواہ کیوں نہیں لائے اور جب گواہ نہیں لائے تو یہ بہتان باز لوگ یقینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتا تو یقینا تم نے جس بات کے چرچے شروع کر رکھے تھے اس بارے میں تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا ۔ جب کہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منہ سے ایسی بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق ( بالکل ) خبر نہ تھی۔ گو ( جب کہ ) تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔ تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منہ سے نکالنی بھی لائق نہیں ۔ یا اللہ !تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا۔ اگر تم سچے مومن ہو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے اور اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔ جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے ۔ ( یہ بات نہ ہوتی) اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بڑی شفقت رکھنے والا مہربان ہے۔ ( سورہ النور آیت نمبر11سے آیت نمبر20تک ۔) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر سے مسجد نبوی میں تشریف لائے اور مجمع عام میں خطبہ دیا اور اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بے قصور ہونے اور پاک دامن ہونے کی جو آیات نازل ہوئی تھیں وہ سب کے سامنے تلاوت فرمائی۔ اس فتنہ کے اصل بانی تو منافقین تھے اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس بہتان میں شریک نہیں تھا۔ صرف تین مسلمان اپنی سادہ دلی اور بھولے پن کی وجہ سے منافقین کے دھوکے میں آگئے تھے۔ ( انھوں نے خود سزا کی درخواست کی تھی تو) اُن پر حد جاری کی گئی اور منافقوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا گیا اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقوں کے سردار پر بھی حد جاری کی گئی تھی۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

غزوہ ٔ خندق یا غزوہ ٔ احزاب کی شروعات

   غزوہ خندق یا غزوہ احزاب شوال 5؁ ہجری میں ہوئی۔ اسے غزوہ احزاب اس لئے کہاجاتا ہے کہ اس میں مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے عرب کے تمام قبیلوں یعنی گروہوں نے مل کر حملہ کیا تھا۔’’ حزب ‘‘کا معنی گروہ ہے اور’’ احزاب ‘‘جمع ہے۔ اس کے علاوہ اس کا نام غزوہ خندق بھی ہے۔ کیوں کہ اس جنگ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے مدینہ منورہ کے اطراف میں خندق کھدوائی تھی۔ اس لئے اس کا نام غزوہ خندق بھی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ اُحد میں قریش نے مسلمانوں سے اگلے سال بدر میں جنگ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وعدہ کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تو میدان بدر پہنچے تھے لیکن قریش کی ہمت نہیں ہوئی اور آدھے راستے تک آکر وہ واپس چلے گئے تھے۔ جس سے اُن کی بہت بدنامی ہوئی تھی اور اب وہ اس بدنامی کے داغ کو دھونا چاہتے تھے۔ اس کا فائدہ سازشی قوم یہودیوں نے اٹھایا۔ بنو قینقاع اور بنو نضیر کے بہت سے یہودی جلاوطن ہو کر خیبر میں بنو قریظہ کے پا س چلے گئے تھے۔ اب ان یہودیوں کا ایک وفد قریش کے پاس آیا اور انھیں غیرت دلا کر جنگ پر آمادہ کرنے لگا۔ اس کے بعد یہ یہودیوں کا وفد پورے عرب کے تمام قبائل میں گھوم گھوم کر مسلمانوں کے خلاف انھیں بھڑکانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے تمام قبیلوں نے مل کر مدینہ منورہ پر حملہ کیا۔ ان کی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی ۔ جب کہ پورے مدینہ منورہ کی کل آبادی بھی ( ان میں عورتیں بچے ملا کر ) دس ہزار نہیں تھی۔

یہودیوں (بنی اسرائیل ) کی سازش

   آپ کو یاد ہو گا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع اور بنو نضیر کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا تھا۔ اور ان میں سے اکثر یہودی خیبر میں بنو قریظہ کے پا س چلے گئے تھے۔ یہ یہودی جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’وہ آخری نبی‘‘ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بہت تفصیل سے ان کی کتاب توریت میں کیا ہے۔ اس کے باوجود وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے تھے اور ہر طرح سے دشمنی کرتے تھے۔ یہ سازشی ذہنیت کے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کھل کر مقابلہ کرنے کی ہمت انمیں نہیں تھی۔ اس لئے در پردہ سازشیں کرتے تھے۔ اسی سلسلے میں سلام بن ابی حقیق ، حی بن اخطب، کنانہ بن ربیع بن ابی حقیق ، ہوذہ بن قیس اور ابو عمار وائلی کی قیادت میں 20سے کچھ زیادہ یہودیوں کا وفد مکہ مکرمہ جا کر قریش سے ملا اور انھیں مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے بھڑکانے لگا۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ابو سفیان کی قیادت میں غزوہ اُحد کے بعد قریش نے مسلمانوں کو چیلنج کیا تھا کہ اگلے سال بدر کے میدان میں پھر سے جنگ ہوگی ۔ وعدہ کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلامی لشکر کے ساتھ میدان بدر میں تشریف لائے تھے اور دس دنوں تک انتظار بھی کیا تھا ۔ لیکن قریش کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ میدان بدر میں آکر مسلمانوں کا مقابلہ کرے۔ اس لئے وہ آدھے راسے سے ہی مکہ مکرمہ واپس چلے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کی بہت بدنامی ہوئی تھی اور وہ مسلمانوں کو شکست دے کر اس بدنامی کے داغ کو دھونا چاہتے تھے۔ لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ بنی اسرائیل ( یہودی) بہت ہی مطلب پرست ، سازشی ، دوغلے اور وعدہ خلافی کرنے والی قوم ہے۔ اس لئے قریش ان پر اعتبار نہیں کرتے تھے۔

یہودی (بنی اسرائیل)وفد کا شرک کرنا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف یہودیوں نے قریش کو اکسایا اور کہا: ’’ ہم آخر تک تمہارا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں تا کہ ہم ان کا استحصال ہی کر دیں۔ یعنی ہم سب مل کر مسلمانوں کا خاتمہ ہی کر دیں۔ ‘‘قریش نے کہا : ’’ تم پہلی کتاب والے ہو اور مذہب کا علم رکھتے ہو پہلے اس کا تصفیہ کر و کہ مذہب کے متعلق ہمارا اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کا جو اختلاف ہے اس میں کون حق پر ہے ہمارا دین اچھا یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کا ؟‘‘ اُن بد بخت یہودیوں نے کہا : ’’تمہارا دین اُن کے دین سے بہتر ہے اور تم ہی اس کے زیادہ مستحق ہو۔‘‘ ( طبری) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ قریش کے جواب میں ان بدبخت یہودیوں نے کہا: ’’ ہمارے نزدیک تمہارا قدیم مذہب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے نئے دین سے بہتر ہے اور اس کے علاوہ ہم انھیں اللہ کا نبی مانتے ہی نہیں ہیں۔‘‘ ایک روایت کے مطابق ابو سفیان نے ان ( یہودیوں ) سے کہا: ’’ مگر ہم تم پر اس وقت تک بھروسہ نہیں کر سکتے جب تک تم ہمارے معبودوں ( بتوں ) کو سجدہ نہ کر لو۔ تاکہ ہمارے دل مطمئن ہو جائیں۔‘‘ ان بدبخت یہودیوں نے فوراً ہی قریش کے بتوں کو سجدہ بھی کر لیا۔ بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کے اس عمل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے انھیں دیکھا جنھیں کتا ب کا کچھ حصہ ملا ہے۔ ( یعنی بنی اسرائیل یہودی) اور جو بُت کا اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ ( یعنی عقیدہ رکھتے ہیں) اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ راہ راست ( سیدھے راستے ) پر ہیں۔‘‘ ( سورہ النساء آیت نمبر 51ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی) قریش اس طرح مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ قریش سے معاہدہ کرنے کے بعد یہودیوں کا یہ وفد بنو غطفان کے پاس گیا اور انھیں بھی مسلمانوں سے جنگ کرنے پر آمادہ کر لیا۔ وہ بھی تیار ہو گئے۔ پھر وفد نے پورے عرب میں گھوم گھوم کر تمام قبائل کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کی ترغیب دی اور بہت سے قبیلے جنگ کے لئے تیار ہو گئے۔ اس سازشی یہودیوں نے اپنی مکارانہ سیاست کے ذریعے پورے عرب میں اسلام دشمنی اور مسلمان دشمنی کا ماحول پیدا کر دیا۔

سید الانبیاء ﷺ کا مسلمانوں سے مشورہ اور خندق کی کھدائی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کے اس خوفناک پلان اور سازشوں سے بے خبر نہیں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاسوس مسلسل حرکت میں تھے اور قریش اور یہودیوں کے وفد کی سرگرمیوں کی مسلسل رپورٹ بھیجتے رہتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے ہی تمام عرب کے قبائل کی جنگی سرگرمیوں کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا: ’’ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات پر متفق ہو گئے کہ مدینہ منورہ میں رہ کر کافروں کے لشکر کا مقابلہ کیا جائے۔ ‘‘حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مکاتبت کر کے کچھ ہی دنوں پہلے اپنے یہودی مالک کی غلامی سے آزاد ہو ئے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہتے تھے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق کھودنے کی تجویز پیش کی۔ آپ رضی اللہ عنہ فارس ( آج کا ایران) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !فارس میں جب ہمارا محاصرہ کیا جاتا تھا تو ہم اپنے گرد خندق کھود لیا کرتے تھے۔ ‘‘خندق ایسی چیز تھی جس سے اہل عرب واقف نہیں تھے اور یہ بالکل نئی چیز ان کے لئے تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور خندق کھودنے کا حکم دے دیا۔

اے اللہ مہاجرین اور انصار کو بخش دے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودنے کی تیاری کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دس صحابہ رضی اللہ عنہم کو چالیس چالیس ہاتھ خندق کھودنے کا کام سونپ دیااور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پوری محنت اور لگن سے خندق کھودنے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حوصلہ بڑھاتے اور خود بھی خندق کھودنے میں حصہ لیتے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق میں تھے۔ لوگ کھدائی کر رہے تھے اور ہم کندھوں پر مٹی ڈھو رہے تھے۔ اسی دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے اللہ تعالیٰ ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے۔ پس مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔‘‘ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ مہاجرین اور انصار ایک ٹھنڈی صبح میں ( خندق) کھودنے کا کام کر رہے تھے۔ ان کے پاس غلام نہیں تھے کہ ان کے بجائے غلام یہ کام کر دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی مشقت اور بھوک دیکھ کر فرمایا: ’’ اے اللہ ! یقینا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔‘‘ انصار اور مہاجرین نے اس کے جواب میں عرض کیا: ’’ ہم وہ ہیں کہ ہم نے ہمیشہ کے لئے جب تک باقی رہیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لگن اور منافقوں کا جان چرانا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسلسل محنت اور لگن سے خندق کھود رہے تھے۔ سردی کا موسم تھا اور سرد ہوائیں چل رہی تھی۔ کئی کئی دن کا فاقہ تھا مگر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت ہی محنت اور لگن سے خندق کھود رہے تھے۔ مسلمانوں کا یہ قاعدہ تھا کہ جب کسی کو سخت ضرورت ہوتی تھی اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔ تب وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے کام کو جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی: ( ترجمہ)’’ بے شک مومن وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اورجب رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے ساتھ کسی امر جامع پر ہوتے ہیں( یعنی کسی کام کے لئے جمع ہوتے ہیں) تو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاتے۔ اے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )جو لوگ تم سے اجازت لیتے ہیں وہی اللہ اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس جب تم سے اپنی کسی ضرورت کے واسطے اجازت مانگیں تو ان میں سے جس کو چاہو اجازت دو اور اللہ سے ان کے واسطے بخشش مانگو۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور منافقوں کا یہ قاعدہ تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائے بغیر اپنے گھروں میں اجازت لئے بغیر چھپ کر بھاگ جاتے تھے۔ ان منافقوں کے چپکے چپکے کھسک کر بھاگ جانے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ( ترجمہ)’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے کو ایسا نہ سمجھو جیسے تم میں سے ایک دوسرے کو بلاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے چپکے چپکے کھسک جاتے ہیں۔ پس جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس بات سے خوف کرنا چاہیئے کہ ان کو فتنہیا دردناک عذاب نہ پہنچے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی شرکت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں خندق کی کھدائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور پھینک رہے ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے کپڑے ، چہرہ اور )شکم مبارک ( پیٹ مبارک ) گرد آلود ہو گیا۔ ( یعنی گرد و غبار لگ گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی پھینکتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ’’ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی توفیق نہ ہوتی توہم کبھی ہدایت نہیں پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اے اللہ !ہم پر سکون اور اطمینان نازل فرما اور لڑائی ( جنگ) کے وقت ہم کو ثابت قدم رکھ۔ ان لوگوں ( کافروں اور یہودیوں) نے ہم پر بڑا ظلم کیا۔ یہ جب کبھی ہم کو کسی فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو ہم کبھی اس کو قبول نہیں کرتے‘‘ اور ’’قبول نہیں کرتے ‘‘بلند آواز سے بار بار فرماتے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی بشارت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے۔ مدینہ منورہ کے دو اطراف پہاڑیوں کا سلسلہ تھا جو کافی لمبا تھا اور اسے پار کر پانا مشکل کام تھا۔ پیچھے کی طرف میدانی علاقہ تھا اور یہودیوں کی بستیاں تھیںاور کھجور کے باغات تھے۔ دونوں پہاڑی سلسلوں کے درمیان کا سامنے کا علاقہ جس طرف سے قریش اور تمام عرب کے قبائل حملہ کرنے والے تھے اس طرف خندق کھودنے کا کام جار ی تھا۔ خندق کافی گہری کھودی جا رہی تھی اور کافی لمبی تھی ۔ یعنی ایک پہاڑی سلسلے سے لے کر دوسرے پہاڑی سلسلے تک خندق کھودی جا رہی تھی۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی خندق کھو دنے میں مصروف تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خندق کھودتے کھودتے ایک سخت چٹان آگئی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری جگہ خندق کی کھدائی میں مصروف تھے) ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس چٹان کے بارے میں) عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ٹھہرو میں خود وہاں اتر کر دیکھتا ہوں اور بھوک کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا اور ہم نے بھی تین دنوں سے کوئی چیز نہیں چکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اپنے دست مبارک ( ہاتھوں ) میں پکڑی اور چٹان پر ماری تو وہ چٹان بُھر بُھری ریت کی طرح ٹوٹ گئی۔‘‘ یہ حدیث مسند احمد اور سنن نسائی میں تفصیل سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ بسم اللہ‘‘ کر کے پہلی کدال ماری تو چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ اکبر !مجھ کو ملک شام کی کنجیاں عطا کر دی گئیں۔ اللہ کی قسم !شام کے سرخ محلوں کو اس وقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ ‘‘پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار کدال ماری چٹان کا دو تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ اکبر !فارس کی کنجیاں مجھے عطا کر دی گئیں۔ اللہ کی قسم ! مدائن کے قصرا بیض( سفید محلات) کو اس وقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ ‘‘تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بسم اللہ‘‘ کر کے کدال ماری تو بقیہ پوری چٹان ٹوٹ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ اکبر، مجھے یمن کی کنجیاں عطا کر دی گئیں۔ اللہ کی قسم !میں صنعا کے دروازوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی قوتِ برداشت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھوک کی شدت برداشت کر کے خندق کھودنے کا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ بھوک جب برداشت کے باہر ہو جاتی تھی تو پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے۔ اس کیو جہ سے بھوک کا احساس نہیں ہوتا تھا اور پیٹ بھرا ہوا لگتا تھا۔ لیکن جب پیٹ پر پتھر باندھنے کے بعد بھی بھوک نا قابل برداشت ہو گئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بھوک کے بارے میں بتایا۔صحیح بخاری میں حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں پہنچے اور اپنے بھوکے ہونے کے بارے میں بتایا اور ہم سب نے اپنے اپنے چادر یا کپڑے ہٹا کر اپنے پیٹ پر بندھے ہوئے پتھر بتائے سب نے ایک ایک پتھر پیٹ پر باندھا ہو اتھا۔( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو دیکھ کر مسکرائے) اور اپنی چادر ہٹا کر اپنا پیٹ مبارک بتایا تو دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ ‘‘صحابہ کرام نے حیرانی سے دو پتھر دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ برداشت دیکھ کر ان کے اندر نئی طاقت پیدا ہو گئی اور وہ نئے جوش سے کھدائی میں مصروف ہوگئے۔

سید الانبیاء ﷺ کی دعوت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے شکم مبارک پر دو پتھر بندھے دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں نیا جوش پیدا ہو گیا اور کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تڑپ اٹھے۔ ان میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ غریب تھے ، اکیلے کمانے والے تھے اور سات بہنوں اور بیوی کی ذمہ داری اُن پر تھی۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک کی شدت دیکھ کر انھوں نے طے کر لیا کہ آج میرے گھر میں جو کچھ بھی ہے میں اُسی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرور دعوت کروں گا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے گھر جانے کی اجازت عطافرمائی جائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ میں اپنے گھر آیا اور میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) سے کہا: ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بھوک کی حالت میں دیکھا ہے جو میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ( بس ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیں گے) بتائو! کیا ہمارے گھر میں کچھ کھانے کو ہے؟ ‘‘ میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے کہا: ’’ تھوڑے سے جَو ( گیہوں کی طرح ہوتا ہے) ہیں اور ایک بکری کا بچہ ہے۔‘‘ انھوں نے اناج کی بوری جھٹک کر جَو نکالا تو وہ ایک صاع ( چند کلو) نکلے۔ میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے جَو پیس کر رکھے۔ ( پہلے زمانے میں گھروں میں ہاتھ سے چلانے والی چکی ہوتی تھی) اور میں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور اسے بنایا۔ میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے آٹا گوندھ لیا اور گوشت کو ہانڈی پر چڑھا دیا اورمیں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ کھانا پکایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دو حضرات لے کر چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ہے۔‘‘ امام بخاری نے اس کے بعد بھی اسی مضمون کی ایک اور حدیث بیان فرمائی اور اس میں ذرا تفصیل سے ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگا تو میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے مجھ سے کہا: ’’ دیکھو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے سامنے شرمندہ نہ کرنا۔‘‘ ( یعنی اتنے زیادہ لوگوں کو نہ لے کر آجانا کہ کھانا گھٹ جائے) میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سرگوشی میں (یعنی اتنی دھیرے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سن سکیں) کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ہمارے پاس ایک صاع جَو کا آٹا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند حضرات کے ساتھ تشریف لے چلیں۔ ‘‘

اے لوگو حضرت جابررضی اللہ عنہ نے تمہیں دعوت دی ہے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تو بہت اچھا ہے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: ’’ اے خندق( کھودنے ) والو!حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تمہارے لئے ضیافت کا بندوبست کیا ہے اور دعوت دی ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور پریشانی سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے۔ سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ’’ اپنی بیوی ( رضی اللہ عنہا) سے جا کر کہو کہ ہانڈی چولہے پر سے نہ اتارے اور آٹے کو ویسے ہی رہنے دیں ۔‘‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کو لے کر میرے گھر کی طرف چل پڑے اور میں گھبرا یا ہوا تیزی سے اپنی بیوی ( رضی اللہ عنہا) کی طرف آیا اور اُن سے بولا: ’’ اے اللہ کی بندی !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ ‘‘میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے گھبراکر کہا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ نے تو وہی بات کر دی جس کا مجھے ڈر تھا۔ ‘‘پھر کہنے لگیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمایا تھا؟ ‘‘ میں نے بتا دیا تو انھوں نے کہا: ’’ پھر ٹھیک ہے۔‘‘

کھانے میں برکت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ ہانڈی کو چولہے پر سے نہ اتارنا اور آٹے کو بھی ویسے ہی رہنے دینا جب تک میں نہ آئوں روٹیاں مت بنانا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اپنی بیوی ( رضی اللہ عنہا) کو بتائی تو انھیں اطمینان ہو گیا۔ اس کے آگے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے اور آٹے میں اپنا لعاب دہن ( ہماری زبان میں تھوک) ڈالا اور برکت کی دعا مانگی۔ پھر ہانڈی میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد فرمایا: ’’ ایک روٹی پکانے والی اور بلا لو تا کہ میرے سامنے روٹیاں پکاتی جائیں اور ہانڈی سے گوشت اور سالن نکال کر دیتی جائیں اور دیکھو ہانڈی کو نیچے نہ اتارنا۔ ‘‘اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ دس دس صحابہ رضی اللہ عنہم آتے جائو اور پیٹ بھر کر کھاتے جائو۔‘‘ دونوں خواتین رضی اللہ عنہماروٹیاں پکاتی جا رہی تھیں اور گوشت اور سالن نکال نکال کر دیتی جا رہی تھیں اور دس دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آکر پیٹ بھر کر کھاتے تھے اور چلے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ تمام حضرات رضی اللہ عنہم نے پیٹ بھر کر کھانا کھالیا اور آٹا اور گوشت اور سالن اتنا ہی رہا جتنا پہلے تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آ گے فرماتے ہیں : ’’کھانا کھانے والوں کی تعداد ایک ہزار تھی اور سب نے پیٹ بھر کھانا کھایا اور کھانا پھر بھی اتنا ہی رہا جتنا پہلے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ’’ اب تم بھی کھا لو اور جن کے لئے کھانا بھیجنا ہے ان کو بھی بھیج دوکیوں کہ آج کل ( مدینہ منورہ ) میں لوگوں کو بھوک نے ستایا ہوا ہے۔ امام بخاری نے کتاب المغازی میںایک کے بعد ایک دو حدیث اس مضمون کی پیش کی ہے۔ ہم نے دونوں احادیث کو ملا کر ایک مربوط واقعہ کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔

کھجوروں میں برکت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مسلسل خندق کھودنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش یہ تھی کہ قریش اور اس کے ساتھی قبائل کا لشکر آنے سے پہلے پہلے خندق کا کام مکمل ہو جائے۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھوک اور پیا س کی پرواہ کئے بغیر مسلسل خندق کی کھدائی میں لگے ہوئے تھے۔ اسی دوران کھجوروں میں برکت کا واقعہ پیش آیا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھوکے تھے اور کھدائی کا کام کر رہے تھے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی بہن اپنے باپ اور اپنے ماموں کے لئے کھجوریں لے کر آئیں۔ کھجوریں اتنی تھیں کہ بہت مشکل سے دو آدمیوں کا پیٹ بھر سکتا تھا۔ اتفاق سے وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر انھوں نے بتایا کہ اپنے باپ اور ماموںکے لئے کھانا لائی ہوں۔ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ انکے والد اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ماموںتھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ کھجوریں لے کر ایک چادر یا کپڑے پر پھیلا دیں۔ پھر خندق کھودنے والے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کھانے کی دعوت دی۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باری باری آتے گئے اور کھاتے گئے۔ یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر چلے گئے اور کھجوریں اتنی تھی کہ کپڑے کے کناروں سے گر رہی تھیں۔

مشرکوں کا لشکر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی مسلسل جدو جہد اور کوشش میں کامیاب رہے اور مشرکین کا لشکر آنے سے پہلے خند ق کھودنے کا کام مکمل کر لیا اور خندق مکمل ہو گئی۔ اُدھر ابو سفیان بن حرب نے قریش کا لشکر تیار کر لیا تھا اور چار ہزارکا لشکر جَرّار لے کر مکہ مکرمہ سے نکلا۔ اس لشکر میں قریش کے حلیف قبائل بھی تھے۔ دار الندوہ میں جھنڈا تیار کیا گیا اور اسے عثمان بن طلحہ نے اٹھایا۔ لشکر میں قریش کے تین سو 300گھوڑے اور پندرہ سو اونٹ تھے۔ جب یہ لشکر مرا الظہران پہنچا تو بنو سلیم بھی اس لشکر میں آکر شامل ہو گئے۔ یہ تعداد میں سات سو تھے۔ان کا سردار سفیان بن عبد شمس تھا۔ یہ لشکر آگے بڑھا تو بنو اسد بھی اسمیں آکر شامل ہو گئے۔ ان کا سردار طلحہ بن خویلد تھا۔ اس کے بعد بنو فرازہ بھی اس لشکرمیں آکر شامل ہو گئے۔ ان کیساتھ ایک ہزار اونٹ تھے۔ ان کا سردار عینیہ بن حصن تھا ۔ اس کے بعد بنو اشجع بھی اس لشکر میں آکر شامل ہو گئے ان کی تعداد چار سو تھی اوران کا سردار مسعود بن رخیلہ تھا۔ اور پھر کچھ اور آگے چل کر بنو مرہ بھی آکر مل گئے یہ چار سوتھے۔ اور ان کا سردار حارث بن عوف تھا۔ ان کے علاوہ بھی دوسرے قبائل کے لشکر ان میں آکر ملے اور اس عظیم الشان لشکر کی تعداد دس ہزار تھی۔ ان کے بہت سے گروہ تھے اور وہ تین بڑے لشکروں میںتقسیم تھے اور تمام لشکر کا سپہ سالار ابو سفیان بن تھا۔

مشرکوں کے لشکر کا پڑائو

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ مل کر خندق کھودنے کا کام مکمل کر لیا تھا۔ اس کے کچھ دنوں بعد مشرکوں کا لشکر پہنچا اور جب انھوں نے خندق کو دیکھا تو حیران ہو گئے کیوں کہ یہ ان کے لئے بالکل نئی چیز تھی۔ اس سے پہلے ہم آپ کو خندق کہاں کھودی گئی یہ بتا چکے ہیں ۔ لیکن ایک مرتبہ پھر آپ کو بتا دیتے ہیں تا کہ سمجھنے میںآسانی ہو۔ مدینہ منورہ کے دو اطراف میں وسیع پہاڑی سلسلہ ہے اور یہ پہاڑی سلسلے آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان مدینہ منورہ بسا ہوا ہے۔ پیچھے کا حصہ میدانی علاقہ ہے اور اس علاقے میں کھجوروں کے باغات اور جنگلات تھے اور یہودیوں کی بستیاںتھیں اور سامنے کا حصہ کی طرف احد پہاڑ تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے کافی آگے( احد پہاڑ کی طرف آکر ) بڑھ کر دونوں پہاڑی سلسلوں کے درمیان خندق کھدائی تھی۔ اس طرح سامنے اور دائیں بائیں سے مدینہ منورہ محفوظ ہو گیا تھا۔ صرف پیچھے سے ایک خدشہ تھا کہ کہیں بنو قریظہ کے یہودی غداری کر کے پیچھے سے مدینہ منورہ پر حملہ نہ کردیں۔ بہر حال سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودنے کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھا کہ قریش اور اس کے ساتھی مشرکوں کے لشکر کے لئے خندق کے سامنے ہی پڑائو ڈالنا پڑا اور جس جگہ مشرکوں کے لشکر نے پڑائو ڈالا وہاں سیلاب کا پانی جمع ہوتا تھا۔ اسی لئے اس مقام کو ’’مقامِ مجتمع الاسیال ‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ مقام زمین رومہ میں جرف اور زغالہ کے درمیان واقع ہے۔قریش اور اس کے حلیف اس علاقے میں ٹھہرے اور بنو غطفان و بنو سلیم اور ان کے حلیف اُحد کی طرف اترے۔

مسلمانوں کا لشکر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا اور تین ہزار کا مسلمانوں کا لشکر لے کر مدینہ منورہ سے باہر خندق کے پاس تشریف لائے اور لشکر کی ترتیب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی پشت پر سلع پہاڑ کو رکھا اور سامنے خندق کو رکھا۔ اور خندق مسلمانوں کے لشکر اور مشرکوں کے لشکر کے درمیان تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کا جھنڈاحضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو دیا اور انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو قلعوں ، گڑھیوں اور ٹیلوں میں بھیج دیا۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف حفاظت کرنے والوں کو بھیجتے رہتے تھے کیوں کہ یہودیوں ( بنو قریظہ) کی طرف سے خدشہ تھا ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ثابت قدمی اور منافقین کی گھبراہٹ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تین ہزار کے لشکر کے ساتھ خندق کے اس طرف ڈٹ گئے اور خندق کے دوسری طرف مشرکین کا دس ہزار کا لشکر تھا۔ مشرکوں کا لشکر اتنا بڑا تھا کہ اس وقت کی مدینہ منورہ کی کل آبادی سے زیادہ تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور منافقین نے اتنے بڑے لشکر کو دیکھا تو حیران و پریشان ہو گئے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ احزاب میں فرمایا: ( ترجمہ) ’’ جب کہ ( دشمن) تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ یہیں مومن ( اور منافق) آزمائے گئے اور پوری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیئے گئے۔‘‘ ( سورہ احزاب آیت نمبر10اور 11) یہ وقت ہی ایسا تھا کہ مشرکوں کا اتنا بڑا لشکر دیکھ کر وقتی طور سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پریشانی کا شکار ہو گئے ۔ لیکن پھر ان کے دل ایمان پر جم گئے اور وہ جانبازی اور جاں نثاری سے مشرکوں کے مقابلے پر کھڑ ے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں قرآن پا ک میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ اور ایمان داروں ( والوں ) نے جب ( کافروں کے ) لشکر کو دیکھا ( تو بے ساختہ) کہہ اٹھے کہ انھیں کا وعدہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا اور اس چیز( یعنی کافروں کے لشکر) نے اُن کے ایمان میں اور شیوہ فرما ں برداری میں اور اضافہ کر دیا۔‘‘ ( سورہ احزاب آیت نمبر22) اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے برخلاف منافقین بہت زیادہ گھبراہٹ ، بے چینی اور پریشانی کا شکار ہو گئے اور وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے بہانے بنانے لگے۔ منافقوں کے اس رویہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ اور اس وقت منافق اور و ہ لوگ جن کے دلوں میں ( شک) کا روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعدہ کیا تھا۔ اُن ہی کی ایک جماعت نے ہانک لگائی کہ اے مدینہ منورہ والو! تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں ہے۔ چلو لوٹ چلو اور ان کی ایک اور جماعت یہ کہہ کر رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔ ( لیکن ) اُن کا پختہ ارادہ بھاگ کھڑے ہونے کا تھا۔‘‘ ( سورہ احزاب آیت نمبر12اور 13)

بنو قریظہ کے یہودیوں کی بد عہدی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ مشرکوں کے لشکر کے سامنے ڈٹ گئے۔ دونوں لشکروں کے درمیان خندق حائل تھی اور مشرکین خندق کو دیکھ کر حیران و پریشان ہو رہے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح خندق کو پار کریں۔ مشرکوں کے لشکر کے ساتھ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر کا سردار حی بن اخطب بھی تھا۔ اس نے مشرکوں کے سپہ سالار ابو سفیان بن حرب اور دوسرے قبیلوں کے سپہ سالاروں یا سرداروں سے مشورہ کیا اور کہا: ’’ مدینہ منورہ کے پیچھے بنو قریظہ کے یہودیوں کی آبادی ہے اور میں جا کر انھیں اس بات کے لئے تیار کرتا ہوں کہ وہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )سے کئے ہوئے عہد کو توڑ دیں اور ہمارے ساتھ مل جائیں اور مدینہ منورہ پر پیچھے سے حملہ کردیں۔‘‘ اس کے بعد حی بن اخطب بنو قریظہ کے سردار کے پاس آیا اس نے اسے دیکھتے ہی اپنے قلعے کا دروازہ بند کر دیا اور کہا : ’’تو ایک منحوس شخص ہے اور میں تجھے اپنے گھر میں بلانا نہیں چاہتا اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے میرا عہد ہو چکا ہے اور میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو باوفا اورعہد پورا کرنے والا پایا ہے۔‘‘ حی بن اخطب مسلسل اس کی خوشامد کرتا رہا یہاں تک کہ وہ یعنی بنو قریظہ کا سردار کعب بن اسددروازہ کھولنے پر راضی ہو گیا۔ حی بن اخطب نے اس سے کہا: ’’ اے کعب بن اسد !میں تمہارے پاس دنیا بھر کی عزت اور خوبی کو لے کر آیا ہوں۔ تمام قریش اور بنو غطفان اور عرب کے سبھی قبیلے میری امدا د کو آئے ہیں اور ان کے لشکر نے احد کے پاس پڑائو ڈالا ہوا ہے اور مجھ سے عہد اور اقرار کر لیا ہے کہ ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے ساتھیوں کو ختم کئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ ‘‘لیکن کعب بن اسد نے انکار کیا۔ اس کے باوجود حی بن اخطب اسے سمجھاتا رہا اورآخر کار اس نے قائل کر لیا اور بنو قریظہ کا سردار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے دھوکہ بازی اور غداری کرنے اور مشرکوں کی مدد کرنے پر تیار ہو گیا۔

بنو قریظہ کی بد عہدی کی تحقیق

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو قریظہ کی بد عہدی کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اوس کے بنو عبد اشہل کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ( بنو قریظہ قبیلہ اوس کے حلیف تھے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بھائی رضی اللہ عنہ اور حضرت خواث بن جبیر رضی اللہ عنہ کو اس خبر کی تحقیق اور تصدیق کرنے کے لئے بھیجا اور ہدایت فرمائی : ’’ اگر خبر جھوٹ ہوئی تو اعلانیہ کہہ دینا اور اگرخبر سچ ہوئی تو تم لوگ یہ بات چپکے سے مجھ سے کہہ دینا۔‘‘ یہ لوگ تصدیق کے لئے کعب بن اسد کے یہاں گئے تو انھوں نے بد عہدی کی جو خبر سنی تھی ا س سے زیادہ بنو قریظہ کے سردار اوریہودیوں کو خباثت اور شرارت پر آمادہ پایااور اُن بد بختوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بھی کر دی اور صاف کہہ دیا : ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اور ہمارے درمیان کوئی عہدو پیماں نہیں ہے۔ ‘‘حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اُن بدبختوں سے بحث کرنے لگے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا: ’’ اِن سے بحث کر کے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لئے واپس چلئے اب اس صورت حال پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ان کی بد عہدی سے پیدا ہو گئی ہے۔ ‘‘یہ حضرات رضی اللہ عنہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ایک مثال کے ذریعے یہ بات بتادی کہ بنو قریظہ نے عہد و پیمان توڑ دیا ہے اور ہم سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ اللہ اکبر‘‘ فرمایا اور آگے فرمایا: ’’ اے مسلمانو! اللہ بہت بڑا ہے تم خوش ہو جائو۔‘‘

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خندق کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اور مشرکین بھی محاصرہ کیے ہو ئے تھے۔ خندق درمیان میں ہو نے کی وجہ سے دو بدو جنگ لڑنے کی نو بت نہیں آئی۔ البتہ دو نوں اطراف سے تیر اندازی ہو تی رہی۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم پو ری طرح چو کس تھے اور خندق کے اس طرف جب مشرکین قریب آنے کی کو شش کر تے تو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم تیروں کی با رش کر کے انھیں بھگا دیتے تھے۔ اس طرح لگ بھگ بیس راتیں گزر گئیں۔ آخر کار سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غطفان کے سرداروں کو یہ پیغام دیا کہ تم یہاں سے چلے جائو اور بدلے میں ہم تمہیں مدینہ منورہ کی ایک تہائی پیداوار دیں گے۔ بنو غطفان کے دو نوں قبیلے اس بات پر راضی ہوگئے اور ایک عہد نامہ لکھا گیا۔ لیکن ابھی فریقین کی طرف سے دستخط نہیں ہو ئی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ(انصار کے قبیلہ اوس کے سردار) اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ (انصار کے قبیلہ خزرج کے سردار)سے مشورہ کیا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ دونوں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں حکم دیا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہماری تنگی کودیکھ کر) اپنے رائے سے یہ فیصلہ فرمایا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے تو اس کا حکم نہیں فرمایا ہے۔ مگر میںنے خود تم لو گوں کی تنگی اور شدت کی پریشانی دیکھ کر یہ فیصلہ لیا ہے۔ کیو نکہ تمام عرب تمہارے دشمن ہو گئے ہیں اور اس حکمت سے تمہارے دشمنوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ ‘‘حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب ہم لوگ ( انصار) اور وہ لوگ (مشرکین) ایک جیسے تھے۔ (یعنی مشرک تھے) بتوں کو پو جتے تھے اور اللہ کو پہچانتے نہیں تھے۔ اس وقت یہ لوگ سوائے مہمان نوازی کے ہم سے ایک کھجور بھی نہیں لے سکے ہیں اور اب تو اللہ نے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہماری عزت افزائی فر مائی ہے تو اب ہم ان سے دب کر اپنا مال انھیں کیسے دے دیں؟ اللہ کی قسم !ہم تو ان کو تلوار کے بنا کچھ بھی نہیں دیں گے۔ (یعنی تلوار سے مقابلہ کریں گے)اللہ تعالیٰ جب چاہے گا ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔‘‘ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بہت خوش ہو ئیاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اچھا تم کو اختیار ہے۔‘‘ پھر حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ نے اس معاہدے کو رد کر دیا۔

عمرو بن عبدود کا حملہ اور خاتمہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ خندق پر ڈٹے ہوئے تھے۔ خندق بہت لمبی ( ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی تک) کھدی ہوئی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل خندق کے ایک سرے سے دوسرے تک حرکت کرتے رہتے تھے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری خندق پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو متعین کر دیا تھا۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل گھوم گھوم کر پوری خندق کی نگرانی کر رہے تھے اور ضرورت کے مطابق ہدایات دیتے رہتے تھے۔ مشرکین خندق کی وجہ سے عاجر آگئے تھے اور لگ بھگ تین ہفتے گزرنے کے باوجود کوئی فیصلہ کن حملہ نہیں کر سکے تھے۔ ایک دن عمرو بن عبدود ، عکرمہ بن ابی جہل، نوفل بن عبداللہ، ضرار بن خطاب اور ہبیرہ بن وہب خندق کے قریب آئے اور خندق کے ساتھ ساتھ اپنے گھوڑے دوڑانے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر نظر رکھے ہوئے تھے اور ان کافروں کے ساتھ خندق کے اس پار حرکت میں تھے۔ ایک جگہ کافروں کو خندق کی چوڑائی کم دکھائی دی تو انھوں نے اپنے گھوڑے اس پار کدا دیئے اور خندق پار کر کے مسلمانوں کی طرف آگئے۔ سب سے آگے عمرو بن عبدود تھا۔ یہ اگر چہ نوے برس کا خرانٹ بڈھا تھا مگر ایک ہزار سواروں کے برابر بہادر مانا جاتا تھا۔ جنگ بدر میں زخمی ہو کر بھاگ نکلا تھا اور اس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے بدلہ نہیں لے لوں گا تب تک بالوں میں تیل نہیں لگائوں گا۔ یہ آگے بڑھا اور تین مرتبہ چیلنج کیا کہ کون ہے جو میرے مقابلہ پر آتا ہے اور تینوں مرتبہ حضرت علی شیر ِ خدا نے اٹھ کر جواب دیا: ’’ میں ‘‘ ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا : ’’ اے علی رضی اللہ عنہ !یہ عمرو بن عبدود ہے۔ ‘‘حضرت شیر خدا رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ جی ہاں! میں جانتا ہوں کہ یہ عمرو بن عبدود ہے لیکن میں اس سے لڑوں گا ۔‘‘یہ سن کر تاجدار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاص تلوار’’ ذوالفقار‘‘ اپنے دست مبارک سے حیدر کرّار رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں دے دی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور یہ دعا فرمائی : ’’ یااللہ !تُو علی رضی اللہ عنہ کی مدد فرما ۔‘‘ حضرت اسد اللہ الغالب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مجاہدانہ شان سے اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ’’ اے عمر وبن عبدود ! ’’ مسلمان ہو جا ۔‘‘ اس نے کہا: ’’ یہ مجھ سے ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتا۔‘‘ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’پھر لڑائی سے واپس چلاجا۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’ یہ مجھے منظور نہیں ہے۔ ‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ پھر مجھ سے جنگ کر۔‘‘ یہ سن کر وہ ہنسنے لگا اور پوچھا: ’’ تمہارا نام کیا ہے؟ ‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنا نام بتایا تو اس نے کہا: ’’ اے بھتیجے تم ابھی کم عمر ہو۔ ( مجھے تم پر ترس آتاہے) میں تمہارا خون بہانا پسند نہیں کرتا۔ ‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’لیکن میں تمہارا ( تم جیسے کافروں کا ) کا خون بہانا بہت پسند کرتا ہوں۔ ‘‘عمرو بن عبدود خون کھولادینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصے کے آپے سے باہر ہوگیا۔ حضرت شیر خدا رضی اللہ عنہ پیدل تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھا ۔ اس پر جو غیرت سوار ہوئی تو اپنے گھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے اس کے پائوں کاٹ ڈالے اور اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر پر وار کیا۔ وار بہت بھر پور تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال پر وار روکا لیکن تلوار ڈھال کو کاٹتی ہوئی عمامہ تک آئی اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی۔ حالانکہ زخم گہرا نہیں تھا۔ پھر بھی اس کا نشان یادگار بن کر رہ گیا۔ حضرت علی شیرا خدا رضی اللہ عنہ نے تڑپ کر للکار ا :’’ اے عمرو سنبھل جا! اب میری باری ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اسد اللہ الغالب رضی اللہ عنہ نے ذوالفقار کا ایسا جچا تُلا ہاتھ مارا کہ تلوار دشمن کے شانے کو کاٹنی ہوئی کمر سے پار ہو گئی اور وہ تلملا کر زمین پر گر ا اور مر کر دوزخ میں گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کرنے کے بعد منہ پھیرکر واپس آگئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ !آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی زرہ کیوں نہیں اتارلی؟ سارے عرب میں اس کی زرہ سے اچھی زرہ کوئی نہیں ہے۔ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ذوالفقار کی مار سے جب وہ زمین پر گرا تو اس کی شرم گاہ گھل گئی۔ اس لئے حیا کیوجہ سے میں منہ پھیر کر واپس آگیا۔‘‘

نوفل کی لاش

   حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس پلٹے تو اسکے بعد نوفل غصے میں بھرا ہوا میدان میں نکلا اور پکارنے لگا : ’’ میرے مقابلے کے لئے کون آتا ہے؟‘‘ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس پر بجلی کی طرح جھپٹے اور ایسی تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہوگیا اور تلوار زین کو کاٹتی ہوئی گھوڑے کی کمر تک پہنچ گئی۔ لوگوں نے کہا: ’’ اے زبیر رضی اللہ عنہ !تمھاری تلوار کی تو مثال نہیں مل سکتی۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمایا: ’’ تلوار کے ساتھ ساتھ کلائی میں دم خم اور ضرب میں کمال ہونا چاہئے۔‘‘ ہیبرہ اور ضرار بھی آگے بڑھے لیکن ذوالفقار کا وار دیکھکر واپس بھاگے۔کافروں کے باقی گھڑ سوار بھی واپس بھاگے۔ ابو جہل کا بیٹا عکرمہ تو اتنا بد حواس ہوا کہ اپنا نیزہ پھینک کر بھاگا اور خندق کے پار جاکر دم لیا ۔بعض مورخین کا قول ہے کہ نوفل کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا اور بعض نے یہ کہا کہ نوفل، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کیلئے اپنے گھوڑے کو کُداکر خندق کو پار کرنا چاہتا تھاکہ خود ہی خندق میں گرپڑاا ور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا۔ مکہ مکرمہ کے کافروں نے دس ہزار درہم دے کر اس کی لاش لینی چاہی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے رقم لینے سے انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا : ’’ ہم کو اس مشرک کی لاش سے کوئی غرض نہیں ہے۔ مشرکین اس کو ایسے ہی لے جائیں ۔‘‘ علامہ عبدالمصطفیٰ کے الفاظ مکمل ہوئے۔ ( سیرت المصطفیٰ علامہ عبدالمصطفیٰ ، شرح علی المواہب امام زرقانی) یہ واقعہ مختلف الفاظ میں ان کتابوں میں بھی درج ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مشرکین نے عمرو بن عبدود کی لاش بارہ ہزار دینا ر دے کر لینی چاہی تو سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور لاش ویسے ہی دے دی۔

نماز عصر کی قضا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مشرکین کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے تھے۔ اُس دن کا حملہ بہت ہی سخت تھا۔ دن بھر لڑائی جاری رہی اور دونوں طرف سے تیر اندازی اور پتھر بازی کا سلسلہ برابر جاری رہا اور کسی مجاہد کا اپنی جگہ سے ہٹنا ناممکن تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا) نے اپنی فوج کے ساتھ ایک جگہ سے خندق کو پار کر لیا اور بالکل ہی ناگہاں ( اچانک ہی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ اقدس پر حملہ آور ہو ئے۔ مگر حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور دو سو مجاہدین کو لے کر دو ڑ پڑے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دستہ کے ساتھ دست بدست کی لڑائی میں ٹکرا گئے اور خوب جم کر لڑے۔ اس لئے کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ تک نہیں پہنچ سکے۔ اس گھمسان کی لڑائی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر قضا ہو گئی۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ میں نے بھی ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی ہے۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی ٔ بُطحان میں سورج غروب ہو جانے کے بعد نماز عصر قضا پڑھی۔ پھر اس کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی اور کافروں کے حق میں یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ ! ان مشرکوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔ ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ سے روک دیا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دوران یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ ! اے کتاب ناز ل فرمانے والے! جلد حساب لینے والے! تُو ان کافروں کو شکست دیدے ۔ اے اللہ ان کو شکست دے ۔ اور انھیں جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ ‘‘

میرا حواری حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ خندق پر مشرکوں سے مقابلہ کر رہے تھے اور مسلمان خواتین اور بچوں کو مدینہ منورہ میں قلعوں میں محفوظ مقام پر رکھا ہو اتھا۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی فکر لگی رہتی تھی اور بنو قریظہ کی بد عہدی کے بعد تو یہ اندیشہ اور زیادہ ہو گیا تھا کہ وہ بد بخت یہودی ( بنی اسرائیل) پیچھے سے حملہ کر کے خواتین اور بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ اس کے لئے ان بد بخت یہودیوں پر بھی نظر رکھنی ضروری تھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ احزاب کے دن ( اس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پانچویں سال میں لگے تھے۔ یعنی عمر چار ساڑھے چار یا پونے پانچ سال تھی) میں اور عمرو بن سلمہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پتھروں سے بنے ہوئے قلعے میں خواتین کے ساتھ تھے۔ میں نے دیکھا کہ میرے والد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ دو یا تین مرتبہ اپنے گھوڑے پر بنو قریظہ کی طرف تشریف لے گئے۔ ( جنگ ختم ہونے کے بعد) میں قلعے سے واپس (گھر) آیا تو میں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا ابا جان، میں نے آپ رضی اللہ عنہ ( بنو قریظہ کی طرف کئی بار) آتے جاتے دیکھا ہے۔ انھوں نے فرمایا: ’’ بیٹا تم نے مجھے دیکھا تھا؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ جی ہاں۔ ‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کون شخص بنو قریظہ کے پاس جائے گا تا کہ وہ ان کی خبر میرے پاس لائے۔‘‘ تو میں وہاں گیااور جب واپس آکر ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو رپورٹ دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ( اے زبیر رضی اللہ عنہ) تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ ہر نبی کے لئے حواری ( خاص مدد گار) ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہے۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی پھوپھی کی بہادری

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو مدینہ منورہ کے قلعوں میں محفوظ رکھا ہوا تھا۔ بنو قریظہ نے جب مسلمانوں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہد توڑ دیا تو یہ اندیشہ پیدا ہو ا کہ یہ بد بخت یہودی کہیں خواتین اور بچوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور ایسا ہوا بھی۔ ان بد بخت یہودیوں نے قلعوں کے پاس اپنے جاسوس بھیجے تا کہ وہ اس بارے میں رپورٹ آکر دیں تو آگے کی کاروائی کی جائے لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ بنت عبدا لمطلب کی بہادری سے ان کی ہمت ٹوٹ گئی۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے پوتے ( یاد رہے کہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں) حضرت عباد بن عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اس جنگ ( غزوہ خندق یا احزاب میں ) سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ فارع میں رکھی گئی تھیں۔سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی ( بہت بوڑھے ہونے کی وجہ سے ) ہمارے ساتھ قلعہ میں تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک یہودی آیا اور قلعہ کے گرد و اطراف گھومنے لگا۔ ( یہ یہودیوں کی طرف سے بھیجا ہوا جاسوس تھا) اس سے پہلے یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہدو پیماں توڑ دیا تھا اور اس وقت کوئی نہیں تھا کہ ہم کو اس ( یہودی) سے بچاتا کیوں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کے ساتھ ( خندق پر) دشمن سے مقابلہ کر رہے تھے۔ اس لئے اگر ہم پر کوئی حملہ کر دیتا تو ان میں سے کوئی بھی ہماری مدد کے لئے نہیں آسکتا تھا۔ میں نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’ یہ یہودی قلعہ کا چکر کاٹ رہا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ہمارے قلعے میں گھسنے کا کوئی راستہ تلاش کر رہا ہے تا کہ جا کر اپنے دوسرے یہودی ساتھیوں کو اس بارے میں خبر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے ساتھ لڑنے میں مصروف ہیں۔ اس لئے اب ہمیں ہی کچھ کرنا چاہئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نیچے جا کر اسے قتل کر دیں۔‘‘ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے عبدالمطلب کی بیٹی رضی اللہ عنہا !اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہا کا اقبال بلند کرے۔ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ پھر میں نے خود گرز لیا اور قلعہ سے اتر کر اسے پاس گئی اور گرز سے مار مار کر اسے قتل کر دیا اور پھر قلعہ میں آگئی۔‘‘ اس طرح جب دوسرے یہودی جاسوس وہاں پہنچے اور اپنے ساتھی کی لاش دیکھی تو گھبرا گئے اور بنو قریظہ کے یہودیوں کو جا کر اطلاع دی کہ مسلمانوں نے قلعوں میں بھی فوج رکھی ہے اور انھوں نے ہمارے ایک ساتھی جاسوس کو قتل کر دیا ہے۔ یہ سن کر یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور انھوں نے قلعوں میں مسلمان خواتین اور بچوں پر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ مسلسل خندق کے ساتھ ساتھ حرکت میں تھے اور خندق کے دوسری طرف سے جہاں بھی مشرکین حملہ کرتے تھے وہاں موجود مجاہدین کے پاس سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ جاتے تھے اور مجاہدین کے ساتھ مل کر تیر اندازی کر کے مشرکوں کے حملے کو ناکام کر دیتے تھے۔ مشرکین مٹی ڈال کر خندق کو پاٹنے کی کوشش کرتے تھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ مل کر اتنی زبردست تیر اندازی کر تے تھے کہ مشرکین کو خندق چھوڑ کر پسپا ہونا پڑتا تھا۔ حالانکہ اس دوران میں مشرکین کی طرف سے بھی تیر اندازی ہو تی تھی جس کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی تیر لگ جایا کرتے تھے ۔ ایسے ہی ایک حملے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی ایک تیر لگ گیا۔ غزوہ خندق میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بنو حارثہ کے قلعہ میں مقیم تھیں ۔ یہ قلعہ مدینہ منورہ کے تمام قلعوںمیں سب سے زیادہ محفوظ تھا اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی والدہ اس قلعہ میں ان کے ساتھ تھیں۔ ( اسی دوران حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے ملاقات کرنے کے لئے آئے) اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس وقت پردہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو ایک چھوٹی زرہ وہ پہنے ہوئے تھے اور اس میں سے ان کے بازو نکلے ہوئے تھے۔ اُن کے ہاتھ میں بھالا تھا جسے وہ زمین پر مار کر فرما رہے تھے : ’’ ذرا ٹھہر ابھی لڑائی میں حملہ کرتا ہوا شرکت کرتا ہوں اور اگر ( موت کا ) وقت آگیا تو موت سے کیا ڈرنا؟ ‘‘ ان کی والدہ محترمہ نے فرمایا: ’’ بیٹے تم کو پہلے ہی دیر ہو گئی ہے۔ تم فوراً مسلمانوں میں جا کر شامل ہو جائو۔‘‘ میں نے ان کی والدہ سے کہا: ’’ اے اُم سعد! میں نے دیکھا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی زرہ چھوٹی ہے ۔‘‘ ان کی والدہ نے فرمایا : ’’ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کے کھلے ہوئے حصہ پر کوئی تیر نہ لگ جائے۔‘‘ اور وہی ہوا۔ ایک تیر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو کھلے ہاتھ پر نبض والی رگ پر آکر لگا۔ یہ تیر قیس بن عرقہ نے چلایا تھا۔ جب تیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو لگا تو اس بد بخت نے کہا : ’’ یہ لے میں ابن عرقہ ہوں۔ ‘‘حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ دوزخ میں تیرا منہ پسینے پسینے کر دے۔ ‘‘

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی دعا

   حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے لمبے اور چوڑیتھے۔ اسی لئے زرہ کی آستین انھیں چھوٹی پڑ رہی تھی۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ کھلے ہوئے تھے اور بد بخت ابن عرقہ نے ایسا تاک کر نشانہ لگا کر تیر مارا کہ وہ تیر آپ رضی اللہ عنہ کے زرہ سے باہر نکلے ہوئے ہاتھ میں لگا اور نبض کی رگ کٹ گئی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے زخم کا معائنہ کیا تو جب یہ دیکھا کہ نبض کی رگ کٹ گئی ہے تو انھوں نے کہا جس کی یہ رگ کٹ جاتی ہے وہ زندہ نہیں بچتا ۔ اُسی (رگ) سے جسم کا تمام خون بہہ جاتا ہے اور آدمی سفید ہو کر مر جاتا ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی : ’’ اے اللہ تعالیٰ! اگر قریش سے ابھی جنگ باقی ہے تو مجھے اس کے لئے زندہ رکھ۔ اے اللہ تعالیٰ! تُوجانتا ہے کہ میں قریش سے زیادہ کسی اور سے لڑنے کا تمنائی نہیں ہوں کیوں کہ انھوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ستا یا ہے۔ ان کا انکار کیا ہے اور ان کو ان کے وطن ( مکہ مکرمہ ) سے نکال دیا ۔ ( اس لئے ان سے لڑنے کی میری شدید تمنا ہے) اور اگر قریش سے ہماری جنگ ختم ہو گئی ہے تو اسی زخم سے مجھے شہادت نصیب ہو۔ہاں مجھے اتنی مہلت ضرور عطا فرماکہ بنو قریظہ ( جنھوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا دیا ہے) کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرمائی اور اس زخم کو اچھا کر دیا۔ لیکن بنو قریظہ کی شکست کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر اس زخم کو کھول دیا اور خون جاری ہو گیا اور اسی زخم کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو ئے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر ہم انشاء اللہ موقع کی مناسبت سے ضرور کریں گے۔

غزوہ ٔ خندق یا احزاب میں سید الانبیاء ﷺ کی دعائیں

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشرکین کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے تھے اور جب مشرکین نے مدینہ منورہ کا جو محاصرہ کیا تھا اسے لگ بھگ ایک مہینہ ہو گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست کی اور دعائیں کیں۔ حضرت عبداللہ بن اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب ( مشرکین کے گروہوں یا لشکروں ) کے خلاف دعا فرمائی : ’’اے اللہ ! اے کتاب نازل فرمانے والے اور جلد حساب لینے والے ! تو احزاب کو شکست دے، ان کے منصوبے کو خاک میں ملا دے ، اور ان کو ہلا مار۔‘‘ علامہ ابن کثیر نے یہ دعا لکھنے کے بعد آگے لکھا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔’’ اے اللہ تعالیٰ! انہیں شکست دے اور ہمیں اُن پر فاتح بنا دے۔‘‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب یا خندق کے دوران مسجد میں پیر، منگل ، اور بدھ کے روز دعائیں کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تیسرے روز ظہر اور عصر کے درمیان قبول کر لی گئی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر چمک اور مسرت کے آثار دیکھ کر پہچان لیا ( کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرما لیا )

اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء کی ہوا سے مدد کی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرمایا اور ہوا سے مدد فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت ( اللہ تعالیٰ نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرمایا )اور احزاب کی رات ہوئی تو شمالی ہوا سے کہا جنوب کی طرف جا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں ( مسلمانوں) کی مدد کر۔ تو جنوبی ہوا نے کہا۔ رات کو گرم ہوا نہیں چلتی ہے۔ تو کافروں پر صبا کو بھیجا گیااور اس نے اُن کی آگ بجھا دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ صبا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو دبور سے ہلاک کیا گیا۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی) نے فارسلنا علیہم ریحا ( سورہ حٰم السجدہ) ترجمہ ’’ تو ہم نے اُن پر ایک آندھی بھیجی ۔‘‘کی تفسیر میں روایت کی کہ اس ریح یعنی ہوا کی نوعیت صَبا تھی۔ جو غزوہ خندق یا احزاب کے موقع پر مختلف کافروں کے گروہوں ( احزاب ِ کفر) پر بھیجی گئی۔ ان کے سالن کے دیگ چولہوں پر سے اڑ گئے۔ خیموں کی رسیاں ٹوٹ گئیں اور وہ پتنگوں کی طرح ہوا میں لہرانے لگے۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی سعادت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ نے ہواس سے مدد فرمائی اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ خندق کے اس پار جہاں مسلمان ڈٹے ہوئے تھے وہاں انتہائی پر سکون اور آرام دہ ہوا چل رہی تھی۔ ہاں صرف اتنا فرق پڑا تھا کہ موسم سرد ہو گیاتھا۔ویسے بھی یہ سردیوں کا موسم ہی چل رہا تھا۔ اس لئے مسلمانوں کو ایسا لگا کہ سردیوں کی یہ ایک بہت سرد رات ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ خندق کے اس پار سے لے کر احد پہاڑ تک ( اسی علاقے میں مشرکین کے گروہوں اور لشکروں ( احزاب) کے پڑائو تھے) انتہائی شدید سرد اور انتہائی تیز آندھی چل رہی تھی اور کافروں کے پڑائو میں قیامت برپا ہو گئی تھی۔ ہر طرف گرد اور ریت ( ہماری زبان میں بالو) اڑ رہی تھی۔ مشرکوں کے خیمے اکھڑ کر ہوا میں اڑ رہے تھے ۔ ان کے سامان یہاں تک کہ کھانے کے برتن بھی ادھر ادھر لڑھک رہے تھے۔ یہ تمام باتیں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صاف سمجھ میں آرہا ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’غزوہ احزاب یا خندق کی آخری رات بہت زیادہ سرد تھی اور طوفانی ہوا چل رہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کون ہے جو ابھی جائے اور مشرکین احزاب ( مشرکین کے گروہوں) کے ارادوں اور حالات کی خبریں لا کر ہمیں دے اور قیامت کے روز میری معیت ( ساتھ) قبول کرے؟ ‘‘ اس بات کا ہم میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔( در اصل خندق کو پارکر کے اس پار مشرکوں کے پڑائو میں جانا تھا جہاں بے حد طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں) ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ بھی یہ بات ارشاد فرمائی۔ لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ تیسری مرتبہ بھی فرمایا۔ اس کے بعد مجھ سے مخاطب ہو ئے اور فرمایا: ’’ اے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تم اٹھو اوریہ کام تم کر کے آئو۔‘‘ ( حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نوجوان اور دلیر تھے) حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میںجب کافروں کے لشکروں کے پڑائو میں پہنچا تو یوں محسوس ہوا جیسے حمام میں پہنچ گیا ہوںاور جب واپس آیا تو ایسا لگا جیسے طائف کے نخلستان میں رات کا موسم ہے۔ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے دونوں جگہ کا موسم مثال دے کر بتایا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کافروں کے پڑائو میں موسم انتہائی سرد اور طوفانی تھا اور مسلمانوںکے پڑائو میں موسم بالکل نارمل اور معتدل ( درمیانہ) تھا۔ آگے انشاء اللہ دوسری حدیث میں تفصیل پیش کی جائے گی۔

اللہ کی مدد اور مشرکوں کی حالت

   اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد فرمائی اور مشرکوں کے گروہوں ( احزاب) پر شدید سرد اور طوفانی ہوا بھیجی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا’’ احزاب الکفر ( کافروں کے گروہوںیا لشکروں)میں اضطراب پید ا ہواہے ۔ تم وہاں جا کر حالات کا جائزہ لو اور پھر مجھے وہا ں کی خبر یں لا کر دو۔‘‘ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں لوگوںمیں کم ہمت تھا ( حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات انکساری سے فرمائی۔) اور میرے اعصاب میں سردی کا احساس بھی زیادہ تھا۔ پھر بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و تعمیل کے جذبہ سے روانہ ہوا اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کیلئے اپنے مبارک لبوں کو حرکت دی اور فرمایا: ’’ اے رب العالمین ! حذیفہ ( رضی اللہ عنہ ) کو اس کے آگے سے ، اس کے پیچھے سے ، اس کے داہنے سے ، اس کے اوپر سے اور اس کے نیچے سے محفوظ رکھ۔‘‘ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کافوراً اثر ہوا) اور مجھ میں بہت زیادہ ہمت پید اہو گئی اور میرے اندر بہت سکون اور اطمینان کی کیفیت پید ہو گئی اور سردی کا تو احساس ہی غائب ہو گیا۔ میں کافروں کے لشکر میں پہنچا تو میں نے سنا لوگ کہہ رہے تھے ’’کوچ کرو۔ کوچ کرو۔ ‘‘( یعنی یہاں سے چلو) کوئی کہہ رہا تھا۔ ’’ہم یہاں نہیں ٹہر سکتے۔ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ میں نے دیکھا کہ وہاں ( کافروں کے پڑائو میں ) ہوائوں کا شدید ترین طوفان تمام کافروں کے لشکر اور ان کے سامان کو تہس نہس اور تباہ و برباد کر چکا تھا۔ یہ سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد میں واپس ہو رہا تھا کہ مجھے کچھ سوار ملے۔ اُن کے سروں پر عمامے تھے اور ان کی تعداد شاید بیس ہو گی۔ مجھے دیکھ کر رک گئے اور کہنے لگے: ’’ اپنے امام اور سردار (صلی اللہ علیہ وسلم )سے کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اشرار ( کافروں یا مشرکوں) سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو محفوظ رکھا۔ ‘‘( یہ غالباً ہوائوں پر مقرر کئے ہوئے فرشتے تھے) ۔ اس کے بعد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوا ۔( اور تمام واقعہ اور حالات بتائے) تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ ترجمہ ۔ اے ایمان والو اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر لشکر آئے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہیں آئے۔ ‘‘( سورہ احزاب آیت نمبر9)

مشرکین میدان چھوڑ کر بھاگے

   اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد فرمائی اور مشرکین کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ۔ اہل کوفہ میں سے ایک شخص نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ اور ان کی صحبت میں رہے ہیں؟ ‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’ ہاں۔ ‘‘اس شخص نے کہا :’’ آپ لوگ کس طرح کام کرتے تھے؟ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہم بڑی محنت کرتے تھے۔ ‘‘ اس شخص نے کہا : ’’اگر ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی زمین پر چلنے نہیں دیتے اور اپنی گردنوں پر سوار رکھتے۔ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کچھ دیر تک اس شخص کو دیکھ کر مسکراتے رہے پھر فرمایا: ’’ اے میرے پیارے بھتیجے !میں غزوہ خندق میں رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد ہم صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’کون شخص ہے جو ہم کو مشرکین کی خبر لا کر دیاور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس شخص کو جنت میں میرا رفیق ( پڑوسی ) بنائے۔ ‘‘خوف اور بھوک اور سردی کی شدت کی وجہ سے کوئی شخص کھڑا نہیں ہوا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا تو میں کھڑ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اے حذیفہ رضی اللہ عنہ !تم جا کر دیکھو کہ مشرک کیا کر رہے ہیں اور کسی سے کچھ نہ کہنا ( اور نہ کچھ کرنا) بلکہ سیدھے ہمارے پاس چلے آنا۔‘‘ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’( اے میرے پیارے بھتیجے)! میں جب مشرکوں کے لشکر میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آندھی نے سب کو پریشان کر رکھا ہے۔ نہ آگ جلا پا رہے ہیں اور نہ ہی خیموں کو کھڑ اکر پا رہے ہیں۔ پھر اسی وقت ابو سفیان کھڑا ہوا اور بولا: ’’ اے قریش ! اللہ کی قسم !تم ایسی جگہ آکر ٹھہر ے ہو کہ جہاں جوتیاں تک ٹوٹ گئی ہیں اور بنو قریظہ نے ہمارے ساتھ وعدہ خلافی کی اور ہوا نے ہم کو ایسا پریشان کیا ہے کہ کسی طرح کا ہم کو اطمینان نہیں ہے۔ نہ آگ جل رہی ہے اور نہ خیمہ قائم رہ پا رہا ہے۔ پس میں تو مناسب سمجھتا ہوں کہ اب تم مکہ مکرمہ واپس چلے چلو۔‘‘ اور پھر ابو سفیان اپنے اونٹ کے پاس آیا اس کے پیکڑہ ( زمین میں کھونٹا گاڑ کر اونٹ کے پیروں میں پہنائے ہوئے کڑوں کو رسی کے ذریعے اس کھونٹے سے باندھ دیا جاتا تھا) بندھا ہوا تھا۔ ابو سفیان اتنا بد حواس تھا کہ ویسے ہی اونٹ پر سوار ہو کر اس کو چلنے کے لئے مارنے لگا۔ یہ دیکھ کر ایک دوسرے شخص نے اس کے اونٹ کا پیکڑہ کھول دیا اور ابو سفیان تیزی سے مکہ مکرمہ کی طرف اونٹ کو دوڑانے لگا۔ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آ گے فرماتے ہیں: ’’ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو منع نہیں کیا ہوتا تو ضرور میں ابو سفیان کو تیر مار کر قتل کر دیتا۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہوئے ایک چادر اوڑھے نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو اپنے پیروں میں مجھو کو داخل کر لیا اور چادر مجھ پر ڈال دی۔ پھر رکوع اور سجدہ کر کے سلام پھیرا تو میں نے سارا واقعہ سنادیا۔ اس کے بعد قریش کے واپس جانے کی خبر سنتے ہی بنو غطفان اوردوسرے قبائل کے گروہ بھی واپس چلے گئے۔

اب قریش ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشرکوں کے تمام لشکروں کے چلے جانے کے بعد بھی کچھ عرصہ خندق کے پاس ہی ٹھہرے رہے ۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب میں فرمایا: ’’ اس جارحیت کے بعد قریش کبھی منظم اور بھر پور جنگ اور جارحانہ کاروائی نہیں کر سکیں گے۔‘‘ حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب یا خندق کے وقت جب کافروں کی فوجیں نظر آئیں تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ اب ہم ان پر چڑھائی ( حملہ) کریں گے۔ یہ ہم پر چڑھائی ( حملہ ) نہیں کر سکں گے۔ بلکہ ہم ان کی جانب ( حملہ کرنے کے لئے ) چل کر جایا کریں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق یا احزاب سے بدھ کے دن جب کہ ذی القعدہ کی چار راتیں باقی تھیں واپس مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ خندق کے مقام پر پندرہ دن ٹھہرے اور ایک روایت کے مطابق چوبیس24دن تشریف فرما رہے اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ اس سال کے بعد قریش تم سے کبھی لڑائی نہیں کریں گے۔‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں