پیر، 3 جولائی، 2023

16 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


16 سیرت سید الانبیاء ﷺ

واقعہ افک اور غزوۂ خندق

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


اے میرے باپ تُوذلیل ہے، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ کے تقدس کی گواہی، غزوۂ خندق میں یہودیوں کی سازش اور غداری،  


منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبیّ کی گستاخی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے واپسی میں ایک پانی کے چشمے یا کنویں کے پاس پڑائو ڈالنے کا حکم دیا۔ اس چشمے یا کنویں پر پانی لینے کے لئے ایک مہاجر صحابی رضی اللہ عنہ اور ایک انصار صحابی رضی ا للہ عنہ کے درمیان بحث ہو گئی۔ منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبیّ نے فوراً اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور انصار کو بھڑکانے لگا اور کہنے لگا : ’’ تم لوگوں نے ان مہاجرین کو اپنے شہر اور اپنے گھر میں جگہ دی اور ان کو کھلایا پلایا۔ اللہ کی قسم !اب جو مدینہ منورہ پہنچیں گے تو ضرور عزت والا ذلت والے کو مدینہ منورہ سے نکال دے گا۔‘‘ اس کے بعد پھر انصار کو مخاطب ہو کر بولا: ’’یہ سب تمہارا ہی قصور ہے۔ تم نے اپنے مالوں میں انھیں حصہ دیا اوراپنے گھروں میں رکھا۔ اگر تم لوگ ان کی مدد نہ کرتے اوراپنے ہاتھ روک لیتے تو یہ لوگ ( مہاجرین) کہیں اور چلے جاتے۔‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ تشریف فرماتھے جس وقت منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبیّ یہ بکواس کر کے انصار کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہاں ایک نوعمر صحابی حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ جب عبداللہ بن اُبی بکواس کر چکا تو یہ نوجوان صحابی رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور اس منافق کی ساری بکواس لفظ بہ لفظ سنادی۔ حضرت عمر فارق رضی اللہ عنہ یہ بکواس سنتے ہی جلال میںآگئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس منافق کو قتل کرنے کا حکم دیں ۔ ‘‘لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ !رہنے دو۔ لوگ ( اصل حقیقت کو نہیں سمجھیں گے اور) کہیں گے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ مگر میں اس وقت یہاں سے کوچ کرنے ( آگے بڑھنے یا پھر پڑائو اٹھا کر چلنے ) کا حکم دیتا ہوں۔ ‘‘حالانکہ یہ کوچ کرنے کا نہیں بلکہ آرام کرنے کا وقت تھا۔ عبداللہ بن اُبی منافق کو جب یہ معلوم ہوا کہ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام باتیں بتا دی ہیں تو وہ اسی وقت دوڑتا ہواء سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور جھوٹی صفائی دینے لگا اور جھوٹی قسم کھا کر کہنے لگا کہ میں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔ انصار صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے کچھ وہاں موجود تھے۔ لیکن جب عبداللہ بن اُبی بکواس کر رہا تھا تو وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ اس لئے انھوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! زیدہبن ارقم ( رضی اللہ عنہ) بچہ ہے ہو سکتا ہے اس کے سننے میں کوئی غلطی ہوگئی ہو۔‘‘

حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی حق گوئی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بے وقت کو چ کرنے کا حکم اس لئے دیا کہ منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی اپنی سازش میں کامیاب نہ ہو سکے اور معاملہ بڑھنے کے بجائے رفع دفع ہو جائے۔ حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کو اچانک لشکر کے کوچ کرنے کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ اچانک لشکر کے کوچ کرنے کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا جب کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کرنے کا وقت ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم نے اپنے ساتھی کی بات نہیں سنی کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ ‘‘ حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس ساتھی کی؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ عبداللہ بن اُبیّ کی۔ ‘‘ حضرت اُسید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ وہ کیا کہتا ہے ؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’وہ کہتا ہے کہ جب وہ مدینہ منورہ پہنچے گا تو عزت والا ذلیل کو نکال دے گا۔‘‘ حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بس تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اُس ( منافق) کو مدینہ منورہ سے نکالیں گے۔ اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی عزت والے ہیں اور وہ بد بخت ذلیل ہے۔ ‘‘ پھر کچھ دیر بعد حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! در اصل مدینہ منورہ والے عبداللہ بنی اُبیّ کو اپنا بادشاہ بنانا چاہتے تھے اور اس کے لئے تاج بھی بنا لیا گیا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نے سے و ہ یہ خیال کرتا ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نعوذ باللہ اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات پر توجہ نہ فرمائیں۔‘‘


منافقوں کے سردار کے بیٹے کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت


   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس کے بعد منافقوں کے سردار عبداللہ بن اُبی ّ کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم !مجھے ایسی خبر ملی ہے کہ میرے باپ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ضروری خیال کرتے ہیں کہ میرے باپ کو قتل کر دیا جائے تو میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گذارش ہے کہ مجھے حکم دیں کہ میں اپنے باپ کو قتل کر دوں۔ ( یہ ہے اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کہ وقت پڑے تو باپ کے قتل کے لئے بھی تیار ہو جائے) اللہ کی قسم !خزرج ( تمام انصار کو خزرج کہا جاتا تھا) جانتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ کوئی شخص اپنے باپ سے محبت اور نیکی کرنے والا نہیں ہے۔ اسی لئے مجھے خوف ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسرے مسلمان کو حکم دیا کہ وہ میرے باپ کو قتل کرے اور اس نے قتل کر دیا تو ہو سکتا ہے اپنے باپ کے قتل کے بدلہ میں اس شخص کو قتل کر دوں اور ایک مسلمان کو کافر ( میرا باپ) کے بدلہ میں قتل کر کے میں دوزخ میں چلا جائوں ۔ اس لئے میری یہ درخواست ہے کہ میرے باپ کو قتل کرنے کا حق صرف مجھے دیں۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اﷲ عنہ کو دیکھ کر مسکرائے اور ان کا کندھا تھپتھپا کر فرمایا:’’ ہم اُس کو ( تمہارے باپ کو) قتل نہیں کرائیں گے۔ بلکہ اس کی صحبت کو اپنے ساتھ اچھا سمجھتے ہیں۔‘‘

اے میرے باپ تُوذلیل ہے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوںکے سردار کے بیٹے حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ تمہارے باپ کو معاف کر دیا گیا ہے۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ کو اطمینان نہیں ہو رہا تھا۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ لشکر سے تیز چل کر لشکر کے پہنچنے سے پہلے مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گئے اورمدینہ منورہ کے داخلی راستے پر کھڑے ہو کر اپنے باپ کا انتظار کرنے لگے۔ جب لشکر قریب پہنچا توتلوار نکال کر اسے تان کر کھڑے ہو گئے۔ جب اُن کا باپ منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی ان کے پاس سے گذرا تو اسے روک لیا اور تلوار اس پر تان کر فرمایا: ’’ اے میرے باپ، بو ل توذلیل ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں۔ ‘‘عبداللہ بن اُبیّ ڈر گیا اور بیٹے کی خوشامد کرنے لگا۔ وہاں سے گزرنے والے لوگ بھی آپ رضی اللہ عنہ کو سمجھانے لگے۔ لیکن حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بار بار یہی فرما رہے تھے : ’’ بو ل توُ ذلیل ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں۔‘‘ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آپ رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچے تو حالت یہ تھی کہ حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ جلال میں تلوار اپنے باپ پر تانے فرما رہے تھے : ’’ بول تو ذلیل ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے ہیں۔‘‘ اور تمام مدینہ منورہ والے دیکھ رہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کو سمجھا رہے تھے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب پہنچے تو لوگ دونوں باپ بیٹے کے پاس سے ہٹ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اپنے باپ کو چھوڑ دواور اسے جانے دو۔ اللہ کی قسم !جب تک وہ ( تمہارے باپ ) ہم میںرہیں گے۔ ہم ان کے ساتھ حسن اخلاق سے ہی پیش آئیں گے۔‘‘

واقعہ اِفک

   اسی دوران واقعہ اِفک ( اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاپر منافقوں کی طرف سے جھوٹا الزام لگانے کا واقعہ) پیش آیا ۔اس واقعہ کو امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زبانی بیان فرمایا ہے۔ و ہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ درمیان میں ہم کچھ تشریح بھی کرتے جائیں گے انشاء اللہ ۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی ازواجِ مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے کہ کس کو ساتھ لے جانا ہے؟ جس کے نام قرعہ نکل آتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر جاتی تھیں۔ حسب معمول اس غزوہ پر جانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ ڈالا تو میر ا نام نکل آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ لے لیا۔ اس کے بعد کہ پردے کا حکم نازل ہو چکا تھا۔ پس میں پردے کے ساتھ ہودج میں سوار کرائی گئی اور اس میں بیٹھ گئی۔ ہم نے ( لشکر کے ساتھ ) سفر کیا۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوہ سے واپس لوٹے اور مدینہ منورہ کے قریب آگئے تو پڑائو ڈال دیا۔‘‘

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا لشکر سے بچھڑ گئیں

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں ۔ اس منزل سے ( پڑائو اٹھا کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات (صبح صادق )میں چلنے کا حکم دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کرنے کا حکم د یا تو اس وقت میں قضائے حاجت کے لئے لشکر سے دور گئی ہوئی تھی۔ جب میں فارغ ہو کر اپنی سواری کے پاس آئی تو معلوم ہوا کہ میرا ہار گم ہو گیا ہے۔ میں اپنے ہار کو تلاش کرنے واپس گئی اور مجھے اس کی تلاش میں کافی دیر ہو گئی۔ ادھر لشکر میں جن لوگوں کے سپر د مجھے سوار کروانے کا کام تھا وہ آگے بڑھے اور انھوں نے میرے ہودج کو اٹھا کر اس سواری ( اونٹ ) پر رکھ دی جس پر میں سوار ہوتی تھی۔ وہ یہی سمجھے کہ میں ہودج کے اندر ہوں کیوں میں اس وقت نو عمر لڑکی تھی اور دبلی پتلی تھی اور میرا وزن کم تھا اس لئے انھیں لگا کہ میں اندر ہوں۔ اور انھیں ہودج کو اونٹ پر رکھتے ہوئے محسو س نہیں ہوا کہ میں اندر نہیں ہوں۔ ہار مجھے اس وقت ملا جب لشکر کوچ کر چکا تھا اور ( پڑائو کی جگہ) بالکل خالی پڑی ہوئی تھی۔ میں اسی جگہ آکر بیٹھ گئی جہاں میری سواری بندھی تھی اور یہ خیال کیا کہ جب وہ ( لشکر والے) مجھے نہیں پائیں گے تو واپس میری تلاش میں آئیں گے۔ اسی دوران بیٹھے بیٹھے میری آنکھ بند ہونے لگی اور میں سو گئی۔

حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے لشکر تک پہنچایا

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں : ’’ حضرت صفوان بن معطل سلمی ذکوانی رضی اللہ عنہ لشکر کے پیچھے رہا کرتے تھے۔ ( یہاں ہم آپ کو یہ بتا دیں کہ پہلے زمانے میںجب قافلے یا لشکر چلتے تھے تو ایک شخص کو پیچھے رکھا جاتا تھا۔ اس کا کام یہ ہوتا تھا کہ قافلے یا لشکر کے گرے ہوئے سامان اٹھا تا جائے اور پڑائو کی جانے والی جگہ کا مکمل جائزہ لے اور کام کا سامان ہو تو اٹھا لے۔ اس سفر میں حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کا یہ کام تھا۔ وہ صبح کے وقت میرے نزدیک آئے کیوں کہ انھوں نے دور سے دیکھا کہ کوئی آدمی سویا ہوا ہے۔ انھوں نے مجھے دیکھتے ہی پہچان لیا۔ کیوں کہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے۔ انھوں نے زور سے انَّ للہ وَاِنّا اِلیہِ راجِعُون پڑھا۔ اُن کی زبان سے یہ الفاظ سن کر میری آنکھ کھل گئی۔ میں نے انھیں دیکھ کر اپنی چادر سے پردہ کر لیا اور اللہ کی قسم ! اس کے بعد نہ انھوں نے کچھ کہا اور نہ میں نے کچھ کہا۔ وہ اپنی سواری سے اترے اور سواری کے پیر باندھ کر ( کچھ دور) ہٹ گئے۔ پھر میں کھڑی ہوئی اور اس پر سوار ہو گئی۔ ( انھوں نے خاموشی سے آکر سواری کے پیر کھولے اور اسے اٹھا کر مُہار پکڑ کر چل پڑے) وہ آگے آگے پیدل چلتے ہوئے مجھے لے چلے۔ یہاں تک کہ ہم سخت گرمی کے وقت دوپہر دن چڑھے لشکر میں جا پہنچے۔ انھوں نے وہاں پڑائو ڈالا ہوا تھا۔

منافقوں کا الزام لگانا اور افواہ پھیلانا

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں کہ جس کو ہلاک ہونا تھا وہ بہتان یا الزام لگا کر ہلاک ہو گیااور جس نے اس بہتان یا الزام کو سب سے زیا دہ ہوا دی۔ (یعنی افواہ پھیلائی)وہ منافقوں کا سردار عبداللہ بن اُبی بن سلول تھا۔ اس حدیث کے راوی حضرت عمروہ بن زبیر (حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنہ ، اُ م المومنین سید عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے بھانجے ہیں اور حضرت زیر بن عوام رضی اﷲ عنہ کے بیٹے ہیں )فرماتے ہیں : ’’ مجھے معلوم ہوا کہ جب اس بد بخت منافقوں کے سردار کے پاس اس بہتان یا الزام کا ذکر ہوتا تو وہ بڑی دلچسپی سے اس کا ذکر کرتا تھا اور اس بہتان اور الزام کو حقیقت قرار دیتا تھا اور اسے بڑے غور سے سنتا تھا اور بیان کرتا تھا۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ، حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا( یہ تینوں مقدس ہستیاں منافقوں کے جھوٹے پروپیگنڈے اور افواہ پھیلانے کا شکار ہو گئے تھے) کے سوا کسی اور نام کا علم نہیں ہے۔ ہاں اُن ( منافقوں )کی ایک جماعت تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ( سورہ النور میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بہتان یا الزام سے بَری کرنے والی آیات میں ) فرمایا ہے اور اُن (منافق) لوگوں کی قیادت عبداللہ بن اُبی بن سلول کرر ہا تھا۔ عروہ بن زبیر فرماتے ہیں : ’’ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس بات کو نا پسند فرماتی تھیں کہ کوئی شخص حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بُرا بھلا کہے۔ ‘‘

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بہتان کا پتہ چلا

   اُ م المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تو میں بیمار پڑ گئی اور ایک مہینہ بیمار رہی اور لوگوں میں بہتان کا چرچا ہوتا رہا۔ حالانکہ مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رویہ سے مجھے شک ہوتا تھا۔ ( کہ ضرور کوئی نہ کوئی بات ہے) میری بیماری کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ، سلام کرتے اور حال دریافت کر کے چلے جاتے تھے۔ یہ بات مجھے شک میں تو ڈالتی تھی لیکن ( منافقوں نے ) جو طوفانِ بد تمیزی اٹھایا ہوا تھا اس کا مجھے کوئی علم ہی نہیں تھا۔ یہاں تک کہ کچھ صحت یاب ہوئی تو حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کی والدہ کے ساتھ رفع حاجت کے لئے باہر نکلی اور ہمارا معمول تھا کہ اس مقصد کے لئے ہم رات میں باہر جاتے تھے۔ جب ہم فارغ ہو کر واپس لوٹے تو ان کا پیر چادر میں الجھ گیا اور وہ گر پڑیں ۔ انھوں نے اٹھتے ہوئے کہا : ’’مسطح ( رضی اللہ عنہ) کا بُرا ہو۔ ‘‘میں نے کہا : ’’آپ یہ بُری بات کہہ رہی ہیں اور ایک ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔‘‘ انھوں نے کہا : ’’اے اللہ کی بندی ! شاید آپ رضی اللہ عنہا نے سنا ہی نہیں کہ اس نے کیا کہا ہے؟ ‘‘ میں نے پوچھا : ’’ بتائو! انھوں نے کیا کہا ہے؟ ‘‘حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کی والدہ نے بہتان تراشنے والوں کی بات بتائی۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ پھر تو ( صدمے کی وجہ سے) میری بیماری اور بڑھ گئی۔ جب میں گھر پہنچی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ۔ سلام کیا اور فرمایا : ’’ تمہارا کیسا حال ہے؟ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’میں اپنے والدین کے گھر جانے کی اجازت چاہتی ہوں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ میں نے اپنی والدہ محترمہ سے آکر دریافت کیا: ’’ امی جان !لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں؟ ‘‘ انھوں نے کہا: ’’ بیٹی اس بات کا غم نہ کرو۔ اللہ کی قسم !یہ تو ہوتا ہی آیا ہے۔ کیوں کہ جب کوئی عورت خوب صورت ہواور اس کا شوہر اسے بہت چاہتا ہو تو لوگ ایسی باتیں کرتے ہی ہیں۔‘‘ میں نے کہا : ’’ سبحان اللہ ! لوگ اتنی بڑی بات منہ پر لانے لگے ہیں ۔‘‘پھر تو میں ساری رات روتی رہی۔ نہ تو میرے آنسو تھمے اور نہ ہی صبح تک نیند آئی اور صبح کے وقت بھی میں رو رہی تھی۔ ‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیق

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو مشورہ کے لئے بلایا۔ کیونکہ وحی نہیں آئی تھی۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ کی پاک دامنی سے خوب واقف ہیں ا ور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں پایا۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی خادمہ ( اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خادمہ) بریرہ سے اُن کے بارے میں تحقیق کر لیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو بلایا اور فرمایا : ’’ اے بریرہ !کیا تم نے شبہ والی کوئی باتدیکھی؟‘‘ بریرہ نے عرض کیا: ’’ قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے تو شک و شبہ والی قطعاً کوئی بات نہیں دیکھی۔ سوائے اس کے کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں ۔یہاں تک کہ آٹا گوندھ کر سوجاتی ہیں اور بکری آکر کھا لیتی ہے۔‘‘

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی جاں نثاری

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کون ہے جو اس شخص سے بدلہ لے جس نے میری زوجہ ( بیوی) کے بارے میں مجھے تکلیف پہنچائی ہے اور اللہ کی قسم ! میں اپنی زوجہ میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں پاتا اور جس شخص ( حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ ) کا ( یہ منافق) ذکر کرتے ہیں اس کے اندر بھی میں بھلائی کے سواکچھ نہیں پاتا۔ میرے گھر میں صرف میرے ساتھ ہی داخل ہوتا ہے۔ ‘‘یہ سن کر بنو عبداشہل کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدلہ میں لوں گا۔ اگر وہ شخص قبیلہ اوس ( یہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا قبیلہ ہے) کا ہوا تو میں خود اس کی گردن اڑا دوں گا اور اگر قبیلہ خزرج سے ہے تو ہمارے بھائیوں میں سے ہے تو جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرمائیں گے اس کی تعمیل کی جائے گی۔ ‘‘اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ پھر خزرج والوں میں سے ایک شخص کھڑے ہوئے وہ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ تھے اور یہ بڑے نیک تھے۔ انھوں نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ غلط کہہ رہے ہیں نہ آپ اسے قتل کریں گے اور نہ آپ اُسے قتل کرسکتے ہیں اور اس معاملے میں اوس اور خزرج میں بحث شروع ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں خاموش کرا یا اور سب لوگ خاموش ہو گئے۔

اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے والدین کی پریشانی

   اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’ اُس دن بھی میں سار ا دن روتی رہی۔ نہ میرے آنسو رکتے تھے اور نہ ہی مجھے نیند آتی تھی اور میرے والدین میری وجہ سے پریشان تھے۔ مجھے لگاتار روتے ہوئے دو راتیں اور ایک دن گزر چکا تھا اور مجھے ایسا لگا کہ اتنا رونے سے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ میرے والدین میرے پاس ہی تشریف فرما تھے۔ میں رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ اسے اجازت دی گئی تو وہ بھی میرے پاس بیٹھ کر رونے لگی۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور سلام کر کے بیٹھ گئے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ جب سے مجھ پر بہتان لگایا گیا تھا اس وقت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس بیٹھے نہیں تھے۔ قریباً ایک مہینے سے وحی کا نزول بھی بند تھا کہ میرے متعلق کوئی حکم فرمایا جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھتے ہوئے کلمہ ٔ شہادت پڑھا اور اس کے بعد فرمایا: ’’ اے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا !مجھے تمہارے متعلق یہ افواہ پہنچی ہے ۔ اگر تم پاک دامن ہو تو بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہیں بَری فرمادے گا اور اگر کوئی ایسی ویسی بات ہو گئی ہو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اور توبہ کرلو۔ کیوں کہ بندہ جب ( سچے دل سے ) توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات مکمل کر چکے تو میں نے اپنے والد محترم ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) سے عرض کیا : ’’ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کا جواب دیں۔ ‘‘ میرے والد محترم نے فرمایا : ’’اللہ کی قسم ! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا جواب دوں ۔ ‘‘پھر میں نے اپنی والدہ محترمہ سے گذارش کی : ’’ آپ کچھ جواب دیں ۔ ‘‘ میری والدہ محترمہ نے فرمایا: ’’ میری بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کیا جواب دوں ۔ ‘‘ میں خود جواب دینے کو تیار ہو گئی۔ حالانکہ میں نو عمر لڑکی تھی اور قرآن پاک کابھی زیادہ علم نہیں تھا۔ اس کے باوجود میں نے کہا: ’’ بے شک !اللہ کی قسم !میرے علم میں بھی وہ بات آگئی ہے جو آپ حضرات نے سنی ہے۔ اب جب کہ وہ بات آپ لوگوں کے دلوں میں سما گئی تو اگر میں کہوں کہ میں اس بہتان سے پاک ہوں تب بھی آپ لوگ میری بات کی تصدیق نہیں کریں گے۔ ( یعنی یقین نہیں کریں گے) اور اگر میں اس گناہ کا اعتراف کر لوں ( جو میں نے نہیں کیا) اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے پاک ہوں تو ضرورمیری تصدیق کی جائے گی۔ ( یعنی یقین کیا جائے گا) پس اللہ کی قسم !میری اور آپ حضرات کی مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے والد محترم جیسی ہے اور انھوں نے فرمایا تھا: ’’ صبر ہی اچھا ہے! اور ان باتوں پر جو بتا رہے ہو میں اللہ سے ہی مدد چاہتا ہوں۔‘‘ پھر میں خاموش ہو کر بستر پر لیٹ گئی۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ نے بہتان یا الزام سے بَری فرمایا

   اُم المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ میں نے یہ سوچا تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس بہتان یا جرم سے بَری ہوں اور اللہ تعالیٰ میری پاک دامنی ظاہر فرمادے گا۔ لیکن اللہ کی قسم !یہ بات میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ میری شان میں وحی فرمائے گا۔ ( یعنی قرآن پاک میں آیات نازل فرمائے گا) کیوں کہ میری حیثیت اتنی تو نہیں تھی کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کلام فرمائے گا۔ ہاں مجھے یہ اُمید ضرور تھی کہ اللہ تعالیٰ خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری پاک دامنی دکھا دے گا۔ لیکن اللہ کی قسم ! اسی دوران میں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے اور کوئی بھی فرد باہر نہیں گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول ہونے لگا اور وہی حالت طاری ہو گئی جو وحی کے وقت ہوتی تھی اور کلام کی ثقالت ( وزن ، بوجھ) کی وجہ سے سردی کے دنوں میں بھی پسینہ موتیوں کی طرح جاری ہو جاتا تھا۔ ( جب وحی ختم ہوئی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلی بات جو فرمائی وہ یہ تھی : ’’ اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس الزام سے بَری فرما دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر میری والدہ محترمہ نے مجھ سے فرمایا: ’’ کھڑی ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو۔‘‘ میں نے ( ناز سے ) کہا : ’’میں کیوں ان کا شکریہ ادا کروں میں تو اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کروں گی۔ ‘‘اس کے بعد آگے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ بے شک جن لوگوں نے بہتان باندھا… ( سور ہ النور آیت نمبر11سے آیت نمبر20تک اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ( آیات نازل فرما کر ) مجھے اس بہتان یا الزام سے پاک قرار دیا۔ ‘‘

اُ م المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی پر قرآن میں آیات

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ( ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کے بارے میں ) یہ آیات نازل فرمائی ہے: (ترجمہ) ’’ جو لوگ یہ بہت بڑا بہتان باندھ لائے ہیں (یعنی جو منافقین نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگا یا ہے) یہ بھی تم میں سے ہی ایک گروہ ( یعنی منافقین کا گروہ) ہیں۔ تم اسے اپنے لئے بُرا نہ سمجھو۔ بلکہ یہ تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ ہاں ان میں سے ( منافقوں میں سے ) ہر شخص پر اتنا گناہ ہے جتنا اس نے کمایا ہے۔ ان ( منافقوں ) میں سے جس نے اس کے بہت بڑے حصے کو سر انجام ( الزام لگانے اور افواہ پھیلانے میں سب سے آگے رہا) اس کے لئے عذاب بھی بہت ہی بڑا ہے۔ اسے ( اس الزام کو ) سنتے ہی مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے حق میں نیک گمانی کیوں نہ کی اور کیوں نہیں کہہ دیا کہ یہ کھلم کھلا صریح بہتان ہے۔ وہ ( منافقین الزام لگانے والے) اس پر چار گواہ کیوں نہیں لائے اور جب گواہ نہیں لائے تو یہ بہتان باز لوگ یقینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تم پر دنیا اور آخرت میں نہ ہوتا تو یقینا تم نے جس بات کے چرچے شروع کر رکھے تھے اس بارے میں تمہیں بہت بڑا عذاب پہنچتا ۔ جب کہ تم اسے اپنی زبانوں سے نقل در نقل کرنے لگے اور اپنے منہ سے ایسی بات نکالنے لگے جس کی تمہیں مطلق ( بالکل ) خبر نہ تھی۔ گو ( جب کہ ) تم اسے ہلکی بات سمجھتے رہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔ تم نے ایسی بات کو سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ ہمیں ایسی بات منہ سے نکالنی بھی لائق نہیں ۔ یا اللہ !تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے اور تہمت ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا۔ اگر تم سچے مومن ہو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے اپنی آیتیں بیان فرما رہا ہے اور اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔ جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے کے آرزو مند رہتے ہیں ان کے لئے اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور تم کچھ بھی نہیں جانتے ۔ ( یہ بات نہ ہوتی) اگر تم پر اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت نہ ہوتی اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ بڑی شفقت رکھنے والا مہربان ہے۔ ( سورہ النور آیت نمبر11سے آیت نمبر20تک ۔) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر سے مسجد نبوی میں تشریف لائے اور مجمع عام میں خطبہ دیا اور اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بے قصور ہونے اور پاک دامن ہونے کی جو آیات نازل ہوئی تھیں وہ سب کے سامنے تلاوت فرمائی۔ اس فتنہ کے اصل بانی تو منافقین تھے اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس بہتان میں شریک نہیں تھا۔ صرف تین مسلمان اپنی سادہ دلی اور بھولے پن کی وجہ سے منافقین کے دھوکے میں آگئے تھے۔ ( انھوں نے خود سزا کی درخواست کی تھی تو) اُن پر حد جاری کی گئی اور منافقوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا گیا اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقوں کے سردار پر بھی حد جاری کی گئی تھی۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

غزوہ ٔ خندق یا غزوہ ٔ احزاب کی شروعات

   غزوہ خندق یا غزوہ احزاب شوال 5؁ ہجری میں ہوئی۔ اسے غزوہ احزاب اس لئے کہاجاتا ہے کہ اس میں مسلمانوں سے مقابلہ کرنے کے لئے عرب کے تمام قبیلوں یعنی گروہوں نے مل کر حملہ کیا تھا۔’’ حزب ‘‘کا معنی گروہ ہے اور’’ احزاب ‘‘جمع ہے۔ اس کے علاوہ اس کا نام غزوہ خندق بھی ہے۔ کیوں کہ اس جنگ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے مدینہ منورہ کے اطراف میں خندق کھدوائی تھی۔ اس لئے اس کا نام غزوہ خندق بھی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ اُحد میں قریش نے مسلمانوں سے اگلے سال بدر میں جنگ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وعدہ کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تو میدان بدر پہنچے تھے لیکن قریش کی ہمت نہیں ہوئی اور آدھے راستے تک آکر وہ واپس چلے گئے تھے۔ جس سے اُن کی بہت بدنامی ہوئی تھی اور اب وہ اس بدنامی کے داغ کو دھونا چاہتے تھے۔ اس کا فائدہ سازشی قوم یہودیوں نے اٹھایا۔ بنو قینقاع اور بنو نضیر کے بہت سے یہودی جلاوطن ہو کر خیبر میں بنو قریظہ کے پا س چلے گئے تھے۔ اب ان یہودیوں کا ایک وفد قریش کے پاس آیا اور انھیں غیرت دلا کر جنگ پر آمادہ کرنے لگا۔ اس کے بعد یہ یہودیوں کا وفد پورے عرب کے تمام قبائل میں گھوم گھوم کر مسلمانوں کے خلاف انھیں بھڑکانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عرب کے تمام قبیلوں نے مل کر مدینہ منورہ پر حملہ کیا۔ ان کی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی ۔ جب کہ پورے مدینہ منورہ کی کل آبادی بھی ( ان میں عورتیں بچے ملا کر ) دس ہزار نہیں تھی۔

یہودیوں (بنی اسرائیل ) کی سازش

   آپ کو یاد ہو گا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قینقاع اور بنو نضیر کے یہودیوں کو جلا وطن کر دیا تھا۔ اور ان میں سے اکثر یہودی خیبر میں بنو قریظہ کے پا س چلے گئے تھے۔ یہ یہودی جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’وہ آخری نبی‘‘ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے بہت تفصیل سے ان کی کتاب توریت میں کیا ہے۔ اس کے باوجود وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرتے تھے اور ہر طرح سے دشمنی کرتے تھے۔ یہ سازشی ذہنیت کے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کھل کر مقابلہ کرنے کی ہمت انمیں نہیں تھی۔ اس لئے در پردہ سازشیں کرتے تھے۔ اسی سلسلے میں سلام بن ابی حقیق ، حی بن اخطب، کنانہ بن ربیع بن ابی حقیق ، ہوذہ بن قیس اور ابو عمار وائلی کی قیادت میں 20سے کچھ زیادہ یہودیوں کا وفد مکہ مکرمہ جا کر قریش سے ملا اور انھیں مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے بھڑکانے لگا۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ابو سفیان کی قیادت میں غزوہ اُحد کے بعد قریش نے مسلمانوں کو چیلنج کیا تھا کہ اگلے سال بدر کے میدان میں پھر سے جنگ ہوگی ۔ وعدہ کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلامی لشکر کے ساتھ میدان بدر میں تشریف لائے تھے اور دس دنوں تک انتظار بھی کیا تھا ۔ لیکن قریش کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ میدان بدر میں آکر مسلمانوں کا مقابلہ کرے۔ اس لئے وہ آدھے راسے سے ہی مکہ مکرمہ واپس چلے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے ان کی بہت بدنامی ہوئی تھی اور وہ مسلمانوں کو شکست دے کر اس بدنامی کے داغ کو دھونا چاہتے تھے۔ لیکن یہ بھی جانتے تھے کہ بنی اسرائیل ( یہودی) بہت ہی مطلب پرست ، سازشی ، دوغلے اور وعدہ خلافی کرنے والی قوم ہے۔ اس لئے قریش ان پر اعتبار نہیں کرتے تھے۔

یہودی (بنی اسرائیل)وفد کا شرک کرنا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف یہودیوں نے قریش کو اکسایا اور کہا: ’’ ہم آخر تک تمہارا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں تا کہ ہم ان کا استحصال ہی کر دیں۔ یعنی ہم سب مل کر مسلمانوں کا خاتمہ ہی کر دیں۔ ‘‘قریش نے کہا : ’’ تم پہلی کتاب والے ہو اور مذہب کا علم رکھتے ہو پہلے اس کا تصفیہ کر و کہ مذہب کے متعلق ہمارا اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کا جو اختلاف ہے اس میں کون حق پر ہے ہمارا دین اچھا یا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )کا ؟‘‘ اُن بد بخت یہودیوں نے کہا : ’’تمہارا دین اُن کے دین سے بہتر ہے اور تم ہی اس کے زیادہ مستحق ہو۔‘‘ ( طبری) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ قریش کے جواب میں ان بدبخت یہودیوں نے کہا: ’’ ہمارے نزدیک تمہارا قدیم مذہب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے نئے دین سے بہتر ہے اور اس کے علاوہ ہم انھیں اللہ کا نبی مانتے ہی نہیں ہیں۔‘‘ ایک روایت کے مطابق ابو سفیان نے ان ( یہودیوں ) سے کہا: ’’ مگر ہم تم پر اس وقت تک بھروسہ نہیں کر سکتے جب تک تم ہمارے معبودوں ( بتوں ) کو سجدہ نہ کر لو۔ تاکہ ہمارے دل مطمئن ہو جائیں۔‘‘ ان بدبخت یہودیوں نے فوراً ہی قریش کے بتوں کو سجدہ بھی کر لیا۔ بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کے اس عمل کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے انھیں دیکھا جنھیں کتا ب کا کچھ حصہ ملا ہے۔ ( یعنی بنی اسرائیل یہودی) اور جو بُت کا اور باطل معبود کا اعتقاد رکھتے ہیں۔ ( یعنی عقیدہ رکھتے ہیں) اور کافروں کے حق میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں سے زیادہ راہ راست ( سیدھے راستے ) پر ہیں۔‘‘ ( سورہ النساء آیت نمبر 51ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی) قریش اس طرح مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ قریش سے معاہدہ کرنے کے بعد یہودیوں کا یہ وفد بنو غطفان کے پاس گیا اور انھیں بھی مسلمانوں سے جنگ کرنے پر آمادہ کر لیا۔ وہ بھی تیار ہو گئے۔ پھر وفد نے پورے عرب میں گھوم گھوم کر تمام قبائل کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کی ترغیب دی اور بہت سے قبیلے جنگ کے لئے تیار ہو گئے۔ اس سازشی یہودیوں نے اپنی مکارانہ سیاست کے ذریعے پورے عرب میں اسلام دشمنی اور مسلمان دشمنی کا ماحول پیدا کر دیا۔

سید الانبیاء ﷺ کا مسلمانوں سے مشورہ اور خندق کی کھدائی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کے اس خوفناک پلان اور سازشوں سے بے خبر نہیں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاسوس مسلسل حرکت میں تھے اور قریش اور یہودیوں کے وفد کی سرگرمیوں کی مسلسل رپورٹ بھیجتے رہتے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے ہی تمام عرب کے قبائل کی جنگی سرگرمیوں کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً مسجد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا: ’’ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بات پر متفق ہو گئے کہ مدینہ منورہ میں رہ کر کافروں کے لشکر کا مقابلہ کیا جائے۔ ‘‘حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مکاتبت کر کے کچھ ہی دنوں پہلے اپنے یہودی مالک کی غلامی سے آزاد ہو ئے تھے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہتے تھے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے خندق کھودنے کی تجویز پیش کی۔ آپ رضی اللہ عنہ فارس ( آج کا ایران) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !فارس میں جب ہمارا محاصرہ کیا جاتا تھا تو ہم اپنے گرد خندق کھود لیا کرتے تھے۔ ‘‘خندق ایسی چیز تھی جس سے اہل عرب واقف نہیں تھے اور یہ بالکل نئی چیز ان کے لئے تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور خندق کھودنے کا حکم دے دیا۔

اے اللہ مہاجرین اور انصار کو بخش دے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودنے کی تیاری کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دس صحابہ رضی اللہ عنہم کو چالیس چالیس ہاتھ خندق کھودنے کا کام سونپ دیااور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پوری محنت اور لگن سے خندق کھودنے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا حوصلہ بڑھاتے اور خود بھی خندق کھودنے میں حصہ لیتے۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق میں تھے۔ لوگ کھدائی کر رہے تھے اور ہم کندھوں پر مٹی ڈھو رہے تھے۔ اسی دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے اللہ تعالیٰ ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے۔ پس مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔‘‘ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ مہاجرین اور انصار ایک ٹھنڈی صبح میں ( خندق) کھودنے کا کام کر رہے تھے۔ ان کے پاس غلام نہیں تھے کہ ان کے بجائے غلام یہ کام کر دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی مشقت اور بھوک دیکھ کر فرمایا: ’’ اے اللہ ! یقینا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔‘‘ انصار اور مہاجرین نے اس کے جواب میں عرض کیا: ’’ ہم وہ ہیں کہ ہم نے ہمیشہ کے لئے جب تک باقی رہیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ہے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی لگن اور منافقوں کا جان چرانا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسلسل محنت اور لگن سے خندق کھود رہے تھے۔ سردی کا موسم تھا اور سرد ہوائیں چل رہی تھی۔ کئی کئی دن کا فاقہ تھا مگر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بہت ہی محنت اور لگن سے خندق کھود رہے تھے۔ مسلمانوں کا یہ قاعدہ تھا کہ جب کسی کو سخت ضرورت ہوتی تھی اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔ تب وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے کام کو جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کی شان میں یہ آیت نازل فرمائی: ( ترجمہ)’’ بے شک مومن وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اورجب رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )کے ساتھ کسی امر جامع پر ہوتے ہیں( یعنی کسی کام کے لئے جمع ہوتے ہیں) تو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جاتے۔ اے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم )جو لوگ تم سے اجازت لیتے ہیں وہی اللہ اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس جب تم سے اپنی کسی ضرورت کے واسطے اجازت مانگیں تو ان میں سے جس کو چاہو اجازت دو اور اللہ سے ان کے واسطے بخشش مانگو۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ اور منافقوں کا یہ قاعدہ تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائے بغیر اپنے گھروں میں اجازت لئے بغیر چھپ کر بھاگ جاتے تھے۔ ان منافقوں کے چپکے چپکے کھسک کر بھاگ جانے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ( ترجمہ)’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے کو ایسا نہ سمجھو جیسے تم میں سے ایک دوسرے کو بلاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے چپکے چپکے کھسک جاتے ہیں۔ پس جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس بات سے خوف کرنا چاہیئے کہ ان کو فتنہیا دردناک عذاب نہ پہنچے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی شرکت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں خندق کی کھدائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے اور پھینک رہے ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے کپڑے ، چہرہ اور )شکم مبارک ( پیٹ مبارک ) گرد آلود ہو گیا۔ ( یعنی گرد و غبار لگ گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی پھینکتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ’’ اللہ کی قسم! اگر اللہ کی توفیق نہ ہوتی توہم کبھی ہدایت نہیں پاتے اور نہ صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اے اللہ !ہم پر سکون اور اطمینان نازل فرما اور لڑائی ( جنگ) کے وقت ہم کو ثابت قدم رکھ۔ ان لوگوں ( کافروں اور یہودیوں) نے ہم پر بڑا ظلم کیا۔ یہ جب کبھی ہم کو کسی فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو ہم کبھی اس کو قبول نہیں کرتے‘‘ اور ’’قبول نہیں کرتے ‘‘بلند آواز سے بار بار فرماتے۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی بشارت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خندق کھودنے میں لگے ہوئے تھے۔ مدینہ منورہ کے دو اطراف پہاڑیوں کا سلسلہ تھا جو کافی لمبا تھا اور اسے پار کر پانا مشکل کام تھا۔ پیچھے کی طرف میدانی علاقہ تھا اور یہودیوں کی بستیاں تھیںاور کھجور کے باغات تھے۔ دونوں پہاڑی سلسلوں کے درمیان کا سامنے کا علاقہ جس طرف سے قریش اور تمام عرب کے قبائل حملہ کرنے والے تھے اس طرف خندق کھودنے کا کام جار ی تھا۔ خندق کافی گہری کھودی جا رہی تھی اور کافی لمبی تھی ۔ یعنی ایک پہاڑی سلسلے سے لے کر دوسرے پہاڑی سلسلے تک خندق کھودی جا رہی تھی۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی خندق کھو دنے میں مصروف تھے۔ صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خندق کھودتے کھودتے ایک سخت چٹان آگئی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری جگہ خندق کی کھدائی میں مصروف تھے) ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس چٹان کے بارے میں) عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ٹھہرو میں خود وہاں اتر کر دیکھتا ہوں اور بھوک کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا اور ہم نے بھی تین دنوں سے کوئی چیز نہیں چکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اپنے دست مبارک ( ہاتھوں ) میں پکڑی اور چٹان پر ماری تو وہ چٹان بُھر بُھری ریت کی طرح ٹوٹ گئی۔‘‘ یہ حدیث مسند احمد اور سنن نسائی میں تفصیل سے ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ بسم اللہ‘‘ کر کے پہلی کدال ماری تو چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ اکبر !مجھ کو ملک شام کی کنجیاں عطا کر دی گئیں۔ اللہ کی قسم !شام کے سرخ محلوں کو اس وقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ ‘‘پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار کدال ماری چٹان کا دو تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ اکبر !فارس کی کنجیاں مجھے عطا کر دی گئیں۔ اللہ کی قسم ! مدائن کے قصرا بیض( سفید محلات) کو اس وقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ ‘‘تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’بسم اللہ‘‘ کر کے کدال ماری تو بقیہ پوری چٹان ٹوٹ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ اکبر، مجھے یمن کی کنجیاں عطا کر دی گئیں۔ اللہ کی قسم !میں صنعا کے دروازوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی قوتِ برداشت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھوک کی شدت برداشت کر کے خندق کھودنے کا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ بھوک جب برداشت کے باہر ہو جاتی تھی تو پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے۔ اس کیو جہ سے بھوک کا احساس نہیں ہوتا تھا اور پیٹ بھرا ہوا لگتا تھا۔ لیکن جب پیٹ پر پتھر باندھنے کے بعد بھی بھوک نا قابل برداشت ہو گئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بھوک کے بارے میں بتایا۔صحیح بخاری میں حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں پہنچے اور اپنے بھوکے ہونے کے بارے میں بتایا اور ہم سب نے اپنے اپنے چادر یا کپڑے ہٹا کر اپنے پیٹ پر بندھے ہوئے پتھر بتائے سب نے ایک ایک پتھر پیٹ پر باندھا ہو اتھا۔( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو دیکھ کر مسکرائے) اور اپنی چادر ہٹا کر اپنا پیٹ مبارک بتایا تو دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔ ‘‘صحابہ کرام نے حیرانی سے دو پتھر دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ برداشت دیکھ کر ان کے اندر نئی طاقت پیدا ہو گئی اور وہ نئے جوش سے کھدائی میں مصروف ہوگئے۔

سید الانبیاء ﷺ کی دعوت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے شکم مبارک پر دو پتھر بندھے دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں نیا جوش پیدا ہو گیا اور کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تڑپ اٹھے۔ ان میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ غریب تھے ، اکیلے کمانے والے تھے اور سات بہنوں اور بیوی کی ذمہ داری اُن پر تھی۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بھوک کی شدت دیکھ کر انھوں نے طے کر لیا کہ آج میرے گھر میں جو کچھ بھی ہے میں اُسی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرور دعوت کروں گا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے گھر جانے کی اجازت عطافرمائی جائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ میں اپنے گھر آیا اور میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) سے کہا: ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بھوک کی حالت میں دیکھا ہے جو میرے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ( بس ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دیں گے) بتائو! کیا ہمارے گھر میں کچھ کھانے کو ہے؟ ‘‘ میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے کہا: ’’ تھوڑے سے جَو ( گیہوں کی طرح ہوتا ہے) ہیں اور ایک بکری کا بچہ ہے۔‘‘ انھوں نے اناج کی بوری جھٹک کر جَو نکالا تو وہ ایک صاع ( چند کلو) نکلے۔ میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے جَو پیس کر رکھے۔ ( پہلے زمانے میں گھروں میں ہاتھ سے چلانے والی چکی ہوتی تھی) اور میں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور اسے بنایا۔ میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے آٹا گوندھ لیا اور گوشت کو ہانڈی پر چڑھا دیا اورمیں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ کھانا پکایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دو حضرات لے کر چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ہے۔‘‘ امام بخاری نے اس کے بعد بھی اسی مضمون کی ایک اور حدیث بیان فرمائی اور اس میں ذرا تفصیل سے ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگا تو میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے مجھ سے کہا: ’’ دیکھو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے سامنے شرمندہ نہ کرنا۔‘‘ ( یعنی اتنے زیادہ لوگوں کو نہ لے کر آجانا کہ کھانا گھٹ جائے) میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سرگوشی میں (یعنی اتنی دھیرے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سن سکیں) کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ہمارے پاس ایک صاع جَو کا آٹا ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند حضرات کے ساتھ تشریف لے چلیں۔ ‘‘

اے لوگو حضرت جابررضی اللہ عنہ نے تمہیں دعوت دی ہے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تو بہت اچھا ہے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: ’’ اے خندق( کھودنے ) والو!حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تمہارے لئے ضیافت کا بندوبست کیا ہے اور دعوت دی ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور پریشانی سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے لگے۔ سیدالا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُن کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: ’’ اپنی بیوی ( رضی اللہ عنہا) سے جا کر کہو کہ ہانڈی چولہے پر سے نہ اتارے اور آٹے کو ویسے ہی رہنے دیں ۔‘‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم کو لے کر میرے گھر کی طرف چل پڑے اور میں گھبرا یا ہوا تیزی سے اپنی بیوی ( رضی اللہ عنہا) کی طرف آیا اور اُن سے بولا: ’’ اے اللہ کی بندی !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ ‘‘میری بیوی ( رضی اللہ عنہا) نے گھبراکر کہا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ نے تو وہی بات کر دی جس کا مجھے ڈر تھا۔ ‘‘پھر کہنے لگیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ فرمایا تھا؟ ‘‘ میں نے بتا دیا تو انھوں نے کہا: ’’ پھر ٹھیک ہے۔‘‘

کھانے میں برکت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ ہانڈی کو چولہے پر سے نہ اتارنا اور آٹے کو بھی ویسے ہی رہنے دینا جب تک میں نہ آئوں روٹیاں مت بنانا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات اپنی بیوی ( رضی اللہ عنہا) کو بتائی تو انھیں اطمینان ہو گیا۔ اس کے آگے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لائے اور آٹے میں اپنا لعاب دہن ( ہماری زبان میں تھوک) ڈالا اور برکت کی دعا مانگی۔ پھر ہانڈی میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور برکت کی دعا کی۔ اس کے بعد فرمایا: ’’ ایک روٹی پکانے والی اور بلا لو تا کہ میرے سامنے روٹیاں پکاتی جائیں اور ہانڈی سے گوشت اور سالن نکال کر دیتی جائیں اور دیکھو ہانڈی کو نیچے نہ اتارنا۔ ‘‘اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ دس دس صحابہ رضی اللہ عنہم آتے جائو اور پیٹ بھر کر کھاتے جائو۔‘‘ دونوں خواتین رضی اللہ عنہماروٹیاں پکاتی جا رہی تھیں اور گوشت اور سالن نکال نکال کر دیتی جا رہی تھیں اور دس دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آکر پیٹ بھر کر کھاتے تھے اور چلے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ تمام حضرات رضی اللہ عنہم نے پیٹ بھر کر کھانا کھالیا اور آٹا اور گوشت اور سالن اتنا ہی رہا جتنا پہلے تھا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آ گے فرماتے ہیں : ’’کھانا کھانے والوں کی تعداد ایک ہزار تھی اور سب نے پیٹ بھر کھانا کھایا اور کھانا پھر بھی اتنا ہی رہا جتنا پہلے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ’’ اب تم بھی کھا لو اور جن کے لئے کھانا بھیجنا ہے ان کو بھی بھیج دوکیوں کہ آج کل ( مدینہ منورہ ) میں لوگوں کو بھوک نے ستایا ہوا ہے۔ امام بخاری نے کتاب المغازی میںایک کے بعد ایک دو حدیث اس مضمون کی پیش کی ہے۔ ہم نے دونوں احادیث کو ملا کر ایک مربوط واقعہ کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔

کھجوروں میں برکت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مسلسل خندق کھودنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش یہ تھی کہ قریش اور اس کے ساتھی قبائل کا لشکر آنے سے پہلے پہلے خندق کا کام مکمل ہو جائے۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھوک اور پیا س کی پرواہ کئے بغیر مسلسل خندق کی کھدائی میں لگے ہوئے تھے۔ اسی دوران کھجوروں میں برکت کا واقعہ پیش آیا۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھوکے تھے اور کھدائی کا کام کر رہے تھے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی بہن اپنے باپ اور اپنے ماموں کے لئے کھجوریں لے کر آئیں۔ کھجوریں اتنی تھیں کہ بہت مشکل سے دو آدمیوں کا پیٹ بھر سکتا تھا۔ اتفاق سے وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت کرنے پر انھوں نے بتایا کہ اپنے باپ اور ماموںکے لئے کھانا لائی ہوں۔ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ انکے والد اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ ماموںتھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے وہ کھجوریں لے کر ایک چادر یا کپڑے پر پھیلا دیں۔ پھر خندق کھودنے والے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کھانے کی دعوت دی۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باری باری آتے گئے اور کھاتے گئے۔ یہاں تک کہ سب لوگ کھا کر چلے گئے اور کھجوریں اتنی تھی کہ کپڑے کے کناروں سے گر رہی تھیں۔

مشرکوں کا لشکر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی مسلسل جدو جہد اور کوشش میں کامیاب رہے اور مشرکین کا لشکر آنے سے پہلے خند ق کھودنے کا کام مکمل کر لیا اور خندق مکمل ہو گئی۔ اُدھر ابو سفیان بن حرب نے قریش کا لشکر تیار کر لیا تھا اور چار ہزارکا لشکر جَرّار لے کر مکہ مکرمہ سے نکلا۔ اس لشکر میں قریش کے حلیف قبائل بھی تھے۔ دار الندوہ میں جھنڈا تیار کیا گیا اور اسے عثمان بن طلحہ نے اٹھایا۔ لشکر میں قریش کے تین سو 300گھوڑے اور پندرہ سو اونٹ تھے۔ جب یہ لشکر مرا الظہران پہنچا تو بنو سلیم بھی اس لشکر میں آکر شامل ہو گئے۔ یہ تعداد میں سات سو تھے۔ان کا سردار سفیان بن عبد شمس تھا۔ یہ لشکر آگے بڑھا تو بنو اسد بھی اسمیں آکر شامل ہو گئے۔ ان کا سردار طلحہ بن خویلد تھا۔ اس کے بعد بنو فرازہ بھی اس لشکرمیں آکر شامل ہو گئے۔ ان کیساتھ ایک ہزار اونٹ تھے۔ ان کا سردار عینیہ بن حصن تھا ۔ اس کے بعد بنو اشجع بھی اس لشکر میں آکر شامل ہو گئے ان کی تعداد چار سو تھی اوران کا سردار مسعود بن رخیلہ تھا۔ اور پھر کچھ اور آگے چل کر بنو مرہ بھی آکر مل گئے یہ چار سوتھے۔ اور ان کا سردار حارث بن عوف تھا۔ ان کے علاوہ بھی دوسرے قبائل کے لشکر ان میں آکر ملے اور اس عظیم الشان لشکر کی تعداد دس ہزار تھی۔ ان کے بہت سے گروہ تھے اور وہ تین بڑے لشکروں میںتقسیم تھے اور تمام لشکر کا سپہ سالار ابو سفیان بن تھا۔

مشرکوں کے لشکر کا پڑائو

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ مل کر خندق کھودنے کا کام مکمل کر لیا تھا۔ اس کے کچھ دنوں بعد مشرکوں کا لشکر پہنچا اور جب انھوں نے خندق کو دیکھا تو حیران ہو گئے کیوں کہ یہ ان کے لئے بالکل نئی چیز تھی۔ اس سے پہلے ہم آپ کو خندق کہاں کھودی گئی یہ بتا چکے ہیں ۔ لیکن ایک مرتبہ پھر آپ کو بتا دیتے ہیں تا کہ سمجھنے میںآسانی ہو۔ مدینہ منورہ کے دو اطراف میں وسیع پہاڑی سلسلہ ہے اور یہ پہاڑی سلسلے آمنے سامنے ہیں۔ ان کے درمیان مدینہ منورہ بسا ہوا ہے۔ پیچھے کا حصہ میدانی علاقہ ہے اور اس علاقے میں کھجوروں کے باغات اور جنگلات تھے اور یہودیوں کی بستیاںتھیں اور سامنے کا حصہ کی طرف احد پہاڑ تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے کافی آگے( احد پہاڑ کی طرف آکر ) بڑھ کر دونوں پہاڑی سلسلوں کے درمیان خندق کھدائی تھی۔ اس طرح سامنے اور دائیں بائیں سے مدینہ منورہ محفوظ ہو گیا تھا۔ صرف پیچھے سے ایک خدشہ تھا کہ کہیں بنو قریظہ کے یہودی غداری کر کے پیچھے سے مدینہ منورہ پر حملہ نہ کردیں۔ بہر حال سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودنے کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھا کہ قریش اور اس کے ساتھی مشرکوں کے لشکر کے لئے خندق کے سامنے ہی پڑائو ڈالنا پڑا اور جس جگہ مشرکوں کے لشکر نے پڑائو ڈالا وہاں سیلاب کا پانی جمع ہوتا تھا۔ اسی لئے اس مقام کو ’’مقامِ مجتمع الاسیال ‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ مقام زمین رومہ میں جرف اور زغالہ کے درمیان واقع ہے۔قریش اور اس کے حلیف اس علاقے میں ٹھہرے اور بنو غطفان و بنو سلیم اور ان کے حلیف اُحد کی طرف اترے۔

مسلمانوں کا لشکر

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا اور تین ہزار کا مسلمانوں کا لشکر لے کر مدینہ منورہ سے باہر خندق کے پاس تشریف لائے اور لشکر کی ترتیب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کی پشت پر سلع پہاڑ کو رکھا اور سامنے خندق کو رکھا۔ اور خندق مسلمانوں کے لشکر اور مشرکوں کے لشکر کے درمیان تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کا جھنڈاحضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو دیا اور انصار کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو قلعوں ، گڑھیوں اور ٹیلوں میں بھیج دیا۔ اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کی طرف حفاظت کرنے والوں کو بھیجتے رہتے تھے کیوں کہ یہودیوں ( بنو قریظہ) کی طرف سے خدشہ تھا ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ثابت قدمی اور منافقین کی گھبراہٹ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تین ہزار کے لشکر کے ساتھ خندق کے اس طرف ڈٹ گئے اور خندق کے دوسری طرف مشرکین کا دس ہزار کا لشکر تھا۔ مشرکوں کا لشکر اتنا بڑا تھا کہ اس وقت کی مدینہ منورہ کی کل آبادی سے زیادہ تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور منافقین نے اتنے بڑے لشکر کو دیکھا تو حیران و پریشان ہو گئے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ احزاب میں فرمایا: ( ترجمہ) ’’ جب کہ ( دشمن) تمہارے پاس اوپر سے اور نیچے سے چڑھ آئے اور جب کہ آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آگئے اور تم اللہ تعالیٰ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ یہیں مومن ( اور منافق) آزمائے گئے اور پوری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیئے گئے۔‘‘ ( سورہ احزاب آیت نمبر10اور 11) یہ وقت ہی ایسا تھا کہ مشرکوں کا اتنا بڑا لشکر دیکھ کر وقتی طور سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پریشانی کا شکار ہو گئے ۔ لیکن پھر ان کے دل ایمان پر جم گئے اور وہ جانبازی اور جاں نثاری سے مشرکوں کے مقابلے پر کھڑ ے ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کے بارے میں قرآن پا ک میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ اور ایمان داروں ( والوں ) نے جب ( کافروں کے ) لشکر کو دیکھا ( تو بے ساختہ) کہہ اٹھے کہ انھیں کا وعدہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا اور اس چیز( یعنی کافروں کے لشکر) نے اُن کے ایمان میں اور شیوہ فرما ں برداری میں اور اضافہ کر دیا۔‘‘ ( سورہ احزاب آیت نمبر22) اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے برخلاف منافقین بہت زیادہ گھبراہٹ ، بے چینی اور پریشانی کا شکار ہو گئے اور وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے طرح طرح کے بہانے بنانے لگے۔ منافقوں کے اس رویہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ اور اس وقت منافق اور و ہ لوگ جن کے دلوں میں ( شک) کا روگ تھا کہنے لگے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے محض دھوکا فریب کا ہی وعدہ کیا تھا۔ اُن ہی کی ایک جماعت نے ہانک لگائی کہ اے مدینہ منورہ والو! تمہارے لئے ٹھکانہ نہیں ہے۔ چلو لوٹ چلو اور ان کی ایک اور جماعت یہ کہہ کر رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )سے اجازت مانگنے لگی کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔ ( لیکن ) اُن کا پختہ ارادہ بھاگ کھڑے ہونے کا تھا۔‘‘ ( سورہ احزاب آیت نمبر12اور 13)

بنو قریظہ کے یہودیوں کی بد عہدی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ مشرکوں کے لشکر کے سامنے ڈٹ گئے۔ دونوں لشکروں کے درمیان خندق حائل تھی اور مشرکین خندق کو دیکھ کر حیران و پریشان ہو رہے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح خندق کو پار کریں۔ مشرکوں کے لشکر کے ساتھ یہودیوں کے قبیلے بنو نضیر کا سردار حی بن اخطب بھی تھا۔ اس نے مشرکوں کے سپہ سالار ابو سفیان بن حرب اور دوسرے قبیلوں کے سپہ سالاروں یا سرداروں سے مشورہ کیا اور کہا: ’’ مدینہ منورہ کے پیچھے بنو قریظہ کے یہودیوں کی آبادی ہے اور میں جا کر انھیں اس بات کے لئے تیار کرتا ہوں کہ وہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )سے کئے ہوئے عہد کو توڑ دیں اور ہمارے ساتھ مل جائیں اور مدینہ منورہ پر پیچھے سے حملہ کردیں۔‘‘ اس کے بعد حی بن اخطب بنو قریظہ کے سردار کے پاس آیا اس نے اسے دیکھتے ہی اپنے قلعے کا دروازہ بند کر دیا اور کہا : ’’تو ایک منحوس شخص ہے اور میں تجھے اپنے گھر میں بلانا نہیں چاہتا اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے میرا عہد ہو چکا ہے اور میں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو باوفا اورعہد پورا کرنے والا پایا ہے۔‘‘ حی بن اخطب مسلسل اس کی خوشامد کرتا رہا یہاں تک کہ وہ یعنی بنو قریظہ کا سردار کعب بن اسددروازہ کھولنے پر راضی ہو گیا۔ حی بن اخطب نے اس سے کہا: ’’ اے کعب بن اسد !میں تمہارے پاس دنیا بھر کی عزت اور خوبی کو لے کر آیا ہوں۔ تمام قریش اور بنو غطفان اور عرب کے سبھی قبیلے میری امدا د کو آئے ہیں اور ان کے لشکر نے احد کے پاس پڑائو ڈالا ہوا ہے اور مجھ سے عہد اور اقرار کر لیا ہے کہ ہم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے ساتھیوں کو ختم کئے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ ‘‘لیکن کعب بن اسد نے انکار کیا۔ اس کے باوجود حی بن اخطب اسے سمجھاتا رہا اورآخر کار اس نے قائل کر لیا اور بنو قریظہ کا سردار سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے دھوکہ بازی اور غداری کرنے اور مشرکوں کی مدد کرنے پر تیار ہو گیا۔

بنو قریظہ کی بد عہدی کی تحقیق

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو قریظہ کی بد عہدی کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اوس کے بنو عبد اشہل کے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ( بنو قریظہ قبیلہ اوس کے حلیف تھے اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ان کے بہت اچھے تعلقات تھے) حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ حضرت سعد بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بھائی رضی اللہ عنہ اور حضرت خواث بن جبیر رضی اللہ عنہ کو اس خبر کی تحقیق اور تصدیق کرنے کے لئے بھیجا اور ہدایت فرمائی : ’’ اگر خبر جھوٹ ہوئی تو اعلانیہ کہہ دینا اور اگرخبر سچ ہوئی تو تم لوگ یہ بات چپکے سے مجھ سے کہہ دینا۔‘‘ یہ لوگ تصدیق کے لئے کعب بن اسد کے یہاں گئے تو انھوں نے بد عہدی کی جو خبر سنی تھی ا س سے زیادہ بنو قریظہ کے سردار اوریہودیوں کو خباثت اور شرارت پر آمادہ پایااور اُن بد بختوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بھی کر دی اور صاف کہہ دیا : ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اور ہمارے درمیان کوئی عہدو پیماں نہیں ہے۔ ‘‘حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اُن بدبختوں سے بحث کرنے لگے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اُن سے فرمایا: ’’ اِن سے بحث کر کے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس لئے واپس چلئے اب اس صورت حال پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے جو ان کی بد عہدی سے پیدا ہو گئی ہے۔ ‘‘یہ حضرات رضی اللہ عنہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ایک مثال کے ذریعے یہ بات بتادی کہ بنو قریظہ نے عہد و پیمان توڑ دیا ہے اور ہم سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ اللہ اکبر‘‘ فرمایا اور آگے فرمایا: ’’ اے مسلمانو! اللہ بہت بڑا ہے تم خوش ہو جائو۔‘‘

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحا بہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خندق کے سامنے ڈٹے ہوئے تھے اور مشرکین بھی محاصرہ کیے ہو ئے تھے۔ خندق درمیان میں ہو نے کی وجہ سے دو بدو جنگ لڑنے کی نو بت نہیں آئی۔ البتہ دو نوں اطراف سے تیر اندازی ہو تی رہی۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم پو ری طرح چو کس تھے اور خندق کے اس طرف جب مشرکین قریب آنے کی کو شش کر تے تو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم تیروں کی با رش کر کے انھیں بھگا دیتے تھے۔ اس طرح لگ بھگ بیس راتیں گزر گئیں۔ آخر کار سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غطفان کے سرداروں کو یہ پیغام دیا کہ تم یہاں سے چلے جائو اور بدلے میں ہم تمہیں مدینہ منورہ کی ایک تہائی پیداوار دیں گے۔ بنو غطفان کے دو نوں قبیلے اس بات پر راضی ہوگئے اور ایک عہد نامہ لکھا گیا۔ لیکن ابھی فریقین کی طرف سے دستخط نہیں ہو ئی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ(انصار کے قبیلہ اوس کے سردار) اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ (انصار کے قبیلہ خزرج کے سردار)سے مشورہ کیا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ عنہ دونوں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں حکم دیا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہماری تنگی کودیکھ کر) اپنے رائے سے یہ فیصلہ فرمایا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے تو اس کا حکم نہیں فرمایا ہے۔ مگر میںنے خود تم لو گوں کی تنگی اور شدت کی پریشانی دیکھ کر یہ فیصلہ لیا ہے۔ کیو نکہ تمام عرب تمہارے دشمن ہو گئے ہیں اور اس حکمت سے تمہارے دشمنوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ ‘‘حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جب ہم لوگ ( انصار) اور وہ لوگ (مشرکین) ایک جیسے تھے۔ (یعنی مشرک تھے) بتوں کو پو جتے تھے اور اللہ کو پہچانتے نہیں تھے۔ اس وقت یہ لوگ سوائے مہمان نوازی کے ہم سے ایک کھجور بھی نہیں لے سکے ہیں اور اب تو اللہ نے آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہماری عزت افزائی فر مائی ہے تو اب ہم ان سے دب کر اپنا مال انھیں کیسے دے دیں؟ اللہ کی قسم !ہم تو ان کو تلوار کے بنا کچھ بھی نہیں دیں گے۔ (یعنی تلوار سے مقابلہ کریں گے)اللہ تعالیٰ جب چاہے گا ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا۔‘‘ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر بہت خوش ہو ئیاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اچھا تم کو اختیار ہے۔‘‘ پھر حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ نے اس معاہدے کو رد کر دیا۔

عمرو بن عبدود کا حملہ اور خاتمہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ خندق پر ڈٹے ہوئے تھے۔ خندق بہت لمبی ( ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی تک) کھدی ہوئی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل خندق کے ایک سرے سے دوسرے تک حرکت کرتے رہتے تھے۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری خندق پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو متعین کر دیا تھا۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل گھوم گھوم کر پوری خندق کی نگرانی کر رہے تھے اور ضرورت کے مطابق ہدایات دیتے رہتے تھے۔ مشرکین خندق کی وجہ سے عاجر آگئے تھے اور لگ بھگ تین ہفتے گزرنے کے باوجود کوئی فیصلہ کن حملہ نہیں کر سکے تھے۔ ایک دن عمرو بن عبدود ، عکرمہ بن ابی جہل، نوفل بن عبداللہ، ضرار بن خطاب اور ہبیرہ بن وہب خندق کے قریب آئے اور خندق کے ساتھ ساتھ اپنے گھوڑے دوڑانے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر نظر رکھے ہوئے تھے اور ان کافروں کے ساتھ خندق کے اس پار حرکت میں تھے۔ ایک جگہ کافروں کو خندق کی چوڑائی کم دکھائی دی تو انھوں نے اپنے گھوڑے اس پار کدا دیئے اور خندق پار کر کے مسلمانوں کی طرف آگئے۔ سب سے آگے عمرو بن عبدود تھا۔ یہ اگر چہ نوے برس کا خرانٹ بڈھا تھا مگر ایک ہزار سواروں کے برابر بہادر مانا جاتا تھا۔ جنگ بدر میں زخمی ہو کر بھاگ نکلا تھا اور اس نے یہ قسم کھا رکھی تھی کہ جب تک مسلمانوں سے بدلہ نہیں لے لوں گا تب تک بالوں میں تیل نہیں لگائوں گا۔ یہ آگے بڑھا اور تین مرتبہ چیلنج کیا کہ کون ہے جو میرے مقابلہ پر آتا ہے اور تینوں مرتبہ حضرت علی شیر ِ خدا نے اٹھ کر جواب دیا: ’’ میں ‘‘ ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا : ’’ اے علی رضی اللہ عنہ !یہ عمرو بن عبدود ہے۔ ‘‘حضرت شیر خدا رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ جی ہاں! میں جانتا ہوں کہ یہ عمرو بن عبدود ہے لیکن میں اس سے لڑوں گا ۔‘‘یہ سن کر تاجدار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاص تلوار’’ ذوالفقار‘‘ اپنے دست مبارک سے حیدر کرّار رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں دے دی اور اپنے مبارک ہاتھوں سے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور یہ دعا فرمائی : ’’ یااللہ !تُو علی رضی اللہ عنہ کی مدد فرما ۔‘‘ حضرت اسد اللہ الغالب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مجاہدانہ شان سے اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور فرمایا: ’’ اے عمر وبن عبدود ! ’’ مسلمان ہو جا ۔‘‘ اس نے کہا: ’’ یہ مجھ سے ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتا۔‘‘ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’پھر لڑائی سے واپس چلاجا۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’ یہ مجھے منظور نہیں ہے۔ ‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ پھر مجھ سے جنگ کر۔‘‘ یہ سن کر وہ ہنسنے لگا اور پوچھا: ’’ تمہارا نام کیا ہے؟ ‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنا نام بتایا تو اس نے کہا: ’’ اے بھتیجے تم ابھی کم عمر ہو۔ ( مجھے تم پر ترس آتاہے) میں تمہارا خون بہانا پسند نہیں کرتا۔ ‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’لیکن میں تمہارا ( تم جیسے کافروں کا ) کا خون بہانا بہت پسند کرتا ہوں۔ ‘‘عمرو بن عبدود خون کھولادینے والے یہ گرم گرم جملے سن کر مارے غصے کے آپے سے باہر ہوگیا۔ حضرت شیر خدا رضی اللہ عنہ پیدل تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھا ۔ اس پر جو غیرت سوار ہوئی تو اپنے گھوڑے سے اتر پڑا اور اپنی تلوار سے اس کے پائوں کاٹ ڈالے اور اپنی تلوار لے کر آگے بڑھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر پر وار کیا۔ وار بہت بھر پور تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال پر وار روکا لیکن تلوار ڈھال کو کاٹتی ہوئی عمامہ تک آئی اور عمامہ کو کاٹتی ہوئی پیشانی پر لگی۔ حالانکہ زخم گہرا نہیں تھا۔ پھر بھی اس کا نشان یادگار بن کر رہ گیا۔ حضرت علی شیرا خدا رضی اللہ عنہ نے تڑپ کر للکار ا :’’ اے عمرو سنبھل جا! اب میری باری ہے۔‘‘ یہ کہہ کر اسد اللہ الغالب رضی اللہ عنہ نے ذوالفقار کا ایسا جچا تُلا ہاتھ مارا کہ تلوار دشمن کے شانے کو کاٹنی ہوئی کمر سے پار ہو گئی اور وہ تلملا کر زمین پر گر ا اور مر کر دوزخ میں گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کرنے کے بعد منہ پھیرکر واپس آگئے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ !آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی زرہ کیوں نہیں اتارلی؟ سارے عرب میں اس کی زرہ سے اچھی زرہ کوئی نہیں ہے۔ ‘‘آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ذوالفقار کی مار سے جب وہ زمین پر گرا تو اس کی شرم گاہ گھل گئی۔ اس لئے حیا کیوجہ سے میں منہ پھیر کر واپس آگیا۔‘‘

نوفل کی لاش

   حضرت علی رضی اللہ عنہ واپس پلٹے تو اسکے بعد نوفل غصے میں بھرا ہوا میدان میں نکلا اور پکارنے لگا : ’’ میرے مقابلے کے لئے کون آتا ہے؟‘‘ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس پر بجلی کی طرح جھپٹے اور ایسی تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہوگیا اور تلوار زین کو کاٹتی ہوئی گھوڑے کی کمر تک پہنچ گئی۔ لوگوں نے کہا: ’’ اے زبیر رضی اللہ عنہ !تمھاری تلوار کی تو مثال نہیں مل سکتی۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہ مسکرائے اور فرمایا: ’’ تلوار کے ساتھ ساتھ کلائی میں دم خم اور ضرب میں کمال ہونا چاہئے۔‘‘ ہیبرہ اور ضرار بھی آگے بڑھے لیکن ذوالفقار کا وار دیکھکر واپس بھاگے۔کافروں کے باقی گھڑ سوار بھی واپس بھاگے۔ ابو جہل کا بیٹا عکرمہ تو اتنا بد حواس ہوا کہ اپنا نیزہ پھینک کر بھاگا اور خندق کے پار جاکر دم لیا ۔بعض مورخین کا قول ہے کہ نوفل کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتل کیا اور بعض نے یہ کہا کہ نوفل، حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کیلئے اپنے گھوڑے کو کُداکر خندق کو پار کرنا چاہتا تھاکہ خود ہی خندق میں گرپڑاا ور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا۔ مکہ مکرمہ کے کافروں نے دس ہزار درہم دے کر اس کی لاش لینی چاہی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے رقم لینے سے انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا : ’’ ہم کو اس مشرک کی لاش سے کوئی غرض نہیں ہے۔ مشرکین اس کو ایسے ہی لے جائیں ۔‘‘ علامہ عبدالمصطفیٰ کے الفاظ مکمل ہوئے۔ ( سیرت المصطفیٰ علامہ عبدالمصطفیٰ ، شرح علی المواہب امام زرقانی) یہ واقعہ مختلف الفاظ میں ان کتابوں میں بھی درج ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مشرکین نے عمرو بن عبدود کی لاش بارہ ہزار دینا ر دے کر لینی چاہی تو سیدا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے رقم لینے سے انکار کر دیا اور لاش ویسے ہی دے دی۔

نماز عصر کی قضا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مشرکین کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے تھے۔ اُس دن کا حملہ بہت ہی سخت تھا۔ دن بھر لڑائی جاری رہی اور دونوں طرف سے تیر اندازی اور پتھر بازی کا سلسلہ برابر جاری رہا اور کسی مجاہد کا اپنی جگہ سے ہٹنا ناممکن تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ( اس وقت اسلام قبول نہیں کیا تھا) نے اپنی فوج کے ساتھ ایک جگہ سے خندق کو پار کر لیا اور بالکل ہی ناگہاں ( اچانک ہی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ اقدس پر حملہ آور ہو ئے۔ مگر حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور دو سو مجاہدین کو لے کر دو ڑ پڑے اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دستہ کے ساتھ دست بدست کی لڑائی میں ٹکرا گئے اور خوب جم کر لڑے۔ اس لئے کفار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ تک نہیں پہنچ سکے۔ اس گھمسان کی لڑائی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز عصر قضا ہو گئی۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ میں نے بھی ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی ہے۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی ٔ بُطحان میں سورج غروب ہو جانے کے بعد نماز عصر قضا پڑھی۔ پھر اس کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی اور کافروں کے حق میں یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ ! ان مشرکوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے۔ ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ سے روک دیا۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے دوران یہ دعا مانگی: ’’ اے اللہ ! اے کتاب ناز ل فرمانے والے! جلد حساب لینے والے! تُو ان کافروں کو شکست دیدے ۔ اے اللہ ان کو شکست دے ۔ اور انھیں جھنجھوڑ کر رکھ دے۔ ‘‘

میرا حواری حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ خندق پر مشرکوں سے مقابلہ کر رہے تھے اور مسلمان خواتین اور بچوں کو مدینہ منورہ میں قلعوں میں محفوظ مقام پر رکھا ہو اتھا۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی فکر لگی رہتی تھی اور بنو قریظہ کی بد عہدی کے بعد تو یہ اندیشہ اور زیادہ ہو گیا تھا کہ وہ بد بخت یہودی ( بنی اسرائیل) پیچھے سے حملہ کر کے خواتین اور بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ اس کے لئے ان بد بخت یہودیوں پر بھی نظر رکھنی ضروری تھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ احزاب کے دن ( اس وقت حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پانچویں سال میں لگے تھے۔ یعنی عمر چار ساڑھے چار یا پونے پانچ سال تھی) میں اور عمرو بن سلمہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پتھروں سے بنے ہوئے قلعے میں خواتین کے ساتھ تھے۔ میں نے دیکھا کہ میرے والد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ دو یا تین مرتبہ اپنے گھوڑے پر بنو قریظہ کی طرف تشریف لے گئے۔ ( جنگ ختم ہونے کے بعد) میں قلعے سے واپس (گھر) آیا تو میں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا ابا جان، میں نے آپ رضی اللہ عنہ ( بنو قریظہ کی طرف کئی بار) آتے جاتے دیکھا ہے۔ انھوں نے فرمایا: ’’ بیٹا تم نے مجھے دیکھا تھا؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ جی ہاں۔ ‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کون شخص بنو قریظہ کے پاس جائے گا تا کہ وہ ان کی خبر میرے پاس لائے۔‘‘ تو میں وہاں گیااور جب واپس آکر ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو رپورٹ دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ( اے زبیر رضی اللہ عنہ) تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ ہر نبی کے لئے حواری ( خاص مدد گار) ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہے۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی پھوپھی کی بہادری

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین اور بچوں کو مدینہ منورہ کے قلعوں میں محفوظ رکھا ہوا تھا۔ بنو قریظہ نے جب مسلمانوں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہد توڑ دیا تو یہ اندیشہ پیدا ہو ا کہ یہ بد بخت یہودی کہیں خواتین اور بچوں کو نقصان نہ پہنچائیں اور ایسا ہوا بھی۔ ان بد بخت یہودیوں نے قلعوں کے پاس اپنے جاسوس بھیجے تا کہ وہ اس بارے میں رپورٹ آکر دیں تو آگے کی کاروائی کی جائے لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ بنت عبدا لمطلب کی بہادری سے ان کی ہمت ٹوٹ گئی۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے پوتے ( یاد رہے کہ سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا ، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں) حضرت عباد بن عبداللہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اس جنگ ( غزوہ خندق یا احزاب میں ) سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قلعہ فارع میں رکھی گئی تھیں۔سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی ( بہت بوڑھے ہونے کی وجہ سے ) ہمارے ساتھ قلعہ میں تھے۔ میں نے دیکھا کہ ایک یہودی آیا اور قلعہ کے گرد و اطراف گھومنے لگا۔ ( یہ یہودیوں کی طرف سے بھیجا ہوا جاسوس تھا) اس سے پہلے یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ہوا عہدو پیماں توڑ دیا تھا اور اس وقت کوئی نہیں تھا کہ ہم کو اس ( یہودی) سے بچاتا کیوں کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کے ساتھ ( خندق پر) دشمن سے مقابلہ کر رہے تھے۔ اس لئے اگر ہم پر کوئی حملہ کر دیتا تو ان میں سے کوئی بھی ہماری مدد کے لئے نہیں آسکتا تھا۔ میں نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’ یہ یہودی قلعہ کا چکر کاٹ رہا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ہمارے قلعے میں گھسنے کا کوئی راستہ تلاش کر رہا ہے تا کہ جا کر اپنے دوسرے یہودی ساتھیوں کو اس بارے میں خبر دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کے ساتھ لڑنے میں مصروف ہیں۔ اس لئے اب ہمیں ہی کچھ کرنا چاہئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نیچے جا کر اسے قتل کر دیں۔‘‘ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے عبدالمطلب کی بیٹی رضی اللہ عنہا !اللہ تعالیٰ آپ رضی اللہ عنہا کا اقبال بلند کرے۔ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’ پھر میں نے خود گرز لیا اور قلعہ سے اتر کر اسے پاس گئی اور گرز سے مار مار کر اسے قتل کر دیا اور پھر قلعہ میں آگئی۔‘‘ اس طرح جب دوسرے یہودی جاسوس وہاں پہنچے اور اپنے ساتھی کی لاش دیکھی تو گھبرا گئے اور بنو قریظہ کے یہودیوں کو جا کر اطلاع دی کہ مسلمانوں نے قلعوں میں بھی فوج رکھی ہے اور انھوں نے ہمارے ایک ساتھی جاسوس کو قتل کر دیا ہے۔ یہ سن کر یہودیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے اور انھوں نے قلعوں میں مسلمان خواتین اور بچوں پر حملہ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ مسلسل خندق کے ساتھ ساتھ حرکت میں تھے اور خندق کے دوسری طرف سے جہاں بھی مشرکین حملہ کرتے تھے وہاں موجود مجاہدین کے پاس سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہنچ جاتے تھے اور مجاہدین کے ساتھ مل کر تیر اندازی کر کے مشرکوں کے حملے کو ناکام کر دیتے تھے۔ مشرکین مٹی ڈال کر خندق کو پاٹنے کی کوشش کرتے تھے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ مل کر اتنی زبردست تیر اندازی کر تے تھے کہ مشرکین کو خندق چھوڑ کر پسپا ہونا پڑتا تھا۔ حالانکہ اس دوران میں مشرکین کی طرف سے بھی تیر اندازی ہو تی تھی جس کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی تیر لگ جایا کرتے تھے ۔ ایسے ہی ایک حملے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی ایک تیر لگ گیا۔ غزوہ خندق میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بنو حارثہ کے قلعہ میں مقیم تھیں ۔ یہ قلعہ مدینہ منورہ کے تمام قلعوںمیں سب سے زیادہ محفوظ تھا اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی والدہ اس قلعہ میں ان کے ساتھ تھیں۔ ( اسی دوران حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ سے ملاقات کرنے کے لئے آئے) اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس وقت پردہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ آئے تو ایک چھوٹی زرہ وہ پہنے ہوئے تھے اور اس میں سے ان کے بازو نکلے ہوئے تھے۔ اُن کے ہاتھ میں بھالا تھا جسے وہ زمین پر مار کر فرما رہے تھے : ’’ ذرا ٹھہر ابھی لڑائی میں حملہ کرتا ہوا شرکت کرتا ہوں اور اگر ( موت کا ) وقت آگیا تو موت سے کیا ڈرنا؟ ‘‘ ان کی والدہ محترمہ نے فرمایا: ’’ بیٹے تم کو پہلے ہی دیر ہو گئی ہے۔ تم فوراً مسلمانوں میں جا کر شامل ہو جائو۔‘‘ میں نے ان کی والدہ سے کہا: ’’ اے اُم سعد! میں نے دیکھا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی زرہ چھوٹی ہے ۔‘‘ ان کی والدہ نے فرمایا : ’’ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کے کھلے ہوئے حصہ پر کوئی تیر نہ لگ جائے۔‘‘ اور وہی ہوا۔ ایک تیر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو کھلے ہاتھ پر نبض والی رگ پر آکر لگا۔ یہ تیر قیس بن عرقہ نے چلایا تھا۔ جب تیر حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو لگا تو اس بد بخت نے کہا : ’’ یہ لے میں ابن عرقہ ہوں۔ ‘‘حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ دوزخ میں تیرا منہ پسینے پسینے کر دے۔ ‘‘

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی دعا

   حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سب سے لمبے اور چوڑیتھے۔ اسی لئے زرہ کی آستین انھیں چھوٹی پڑ رہی تھی۔ جس کی وجہ سے ان کے ہاتھ کھلے ہوئے تھے اور بد بخت ابن عرقہ نے ایسا تاک کر نشانہ لگا کر تیر مارا کہ وہ تیر آپ رضی اللہ عنہ کے زرہ سے باہر نکلے ہوئے ہاتھ میں لگا اور نبض کی رگ کٹ گئی ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے زخم کا معائنہ کیا تو جب یہ دیکھا کہ نبض کی رگ کٹ گئی ہے تو انھوں نے کہا جس کی یہ رگ کٹ جاتی ہے وہ زندہ نہیں بچتا ۔ اُسی (رگ) سے جسم کا تمام خون بہہ جاتا ہے اور آدمی سفید ہو کر مر جاتا ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے دعا مانگی : ’’ اے اللہ تعالیٰ! اگر قریش سے ابھی جنگ باقی ہے تو مجھے اس کے لئے زندہ رکھ۔ اے اللہ تعالیٰ! تُوجانتا ہے کہ میں قریش سے زیادہ کسی اور سے لڑنے کا تمنائی نہیں ہوں کیوں کہ انھوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ستا یا ہے۔ ان کا انکار کیا ہے اور ان کو ان کے وطن ( مکہ مکرمہ ) سے نکال دیا ۔ ( اس لئے ان سے لڑنے کی میری شدید تمنا ہے) اور اگر قریش سے ہماری جنگ ختم ہو گئی ہے تو اسی زخم سے مجھے شہادت نصیب ہو۔ہاں مجھے اتنی مہلت ضرور عطا فرماکہ بنو قریظہ ( جنھوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا دیا ہے) کی تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول فرمائی اور اس زخم کو اچھا کر دیا۔ لیکن بنو قریظہ کی شکست کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر اس زخم کو کھول دیا اور خون جاری ہو گیا اور اسی زخم کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو ئے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر ہم انشاء اللہ موقع کی مناسبت سے ضرور کریں گے۔

غزوہ ٔ خندق یا احزاب میں سید الانبیاء ﷺ کی دعائیں

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشرکین کے مقابلے پر ڈٹے ہوئے تھے اور جب مشرکین نے مدینہ منورہ کا جو محاصرہ کیا تھا اسے لگ بھگ ایک مہینہ ہو گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست کی اور دعائیں کیں۔ حضرت عبداللہ بن اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب ( مشرکین کے گروہوں یا لشکروں ) کے خلاف دعا فرمائی : ’’اے اللہ ! اے کتاب نازل فرمانے والے اور جلد حساب لینے والے ! تو احزاب کو شکست دے، ان کے منصوبے کو خاک میں ملا دے ، اور ان کو ہلا مار۔‘‘ علامہ ابن کثیر نے یہ دعا لکھنے کے بعد آگے لکھا ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں۔’’ اے اللہ تعالیٰ! انہیں شکست دے اور ہمیں اُن پر فاتح بنا دے۔‘‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب یا خندق کے دوران مسجد میں پیر، منگل ، اور بدھ کے روز دعائیں کیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تیسرے روز ظہر اور عصر کے درمیان قبول کر لی گئی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر چمک اور مسرت کے آثار دیکھ کر پہچان لیا ( کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرما لیا )

اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء کی ہوا سے مدد کی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرمایا اور ہوا سے مدد فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت ( اللہ تعالیٰ نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو قبول فرمایا )اور احزاب کی رات ہوئی تو شمالی ہوا سے کہا جنوب کی طرف جا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں ( مسلمانوں) کی مدد کر۔ تو جنوبی ہوا نے کہا۔ رات کو گرم ہوا نہیں چلتی ہے۔ تو کافروں پر صبا کو بھیجا گیااور اس نے اُن کی آگ بجھا دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ صبا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد کو دبور سے ہلاک کیا گیا۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی) نے فارسلنا علیہم ریحا ( سورہ حٰم السجدہ) ترجمہ ’’ تو ہم نے اُن پر ایک آندھی بھیجی ۔‘‘کی تفسیر میں روایت کی کہ اس ریح یعنی ہوا کی نوعیت صَبا تھی۔ جو غزوہ خندق یا احزاب کے موقع پر مختلف کافروں کے گروہوں ( احزاب ِ کفر) پر بھیجی گئی۔ ان کے سالن کے دیگ چولہوں پر سے اڑ گئے۔ خیموں کی رسیاں ٹوٹ گئیں اور وہ پتنگوں کی طرح ہوا میں لہرانے لگے۔

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی سعادت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اللہ تعالیٰ نے ہواس سے مدد فرمائی اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ خندق کے اس پار جہاں مسلمان ڈٹے ہوئے تھے وہاں انتہائی پر سکون اور آرام دہ ہوا چل رہی تھی۔ ہاں صرف اتنا فرق پڑا تھا کہ موسم سرد ہو گیاتھا۔ویسے بھی یہ سردیوں کا موسم ہی چل رہا تھا۔ اس لئے مسلمانوں کو ایسا لگا کہ سردیوں کی یہ ایک بہت سرد رات ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ خندق کے اس پار سے لے کر احد پہاڑ تک ( اسی علاقے میں مشرکین کے گروہوں اور لشکروں ( احزاب) کے پڑائو تھے) انتہائی شدید سرد اور انتہائی تیز آندھی چل رہی تھی اور کافروں کے پڑائو میں قیامت برپا ہو گئی تھی۔ ہر طرف گرد اور ریت ( ہماری زبان میں بالو) اڑ رہی تھی۔ مشرکوں کے خیمے اکھڑ کر ہوا میں اڑ رہے تھے ۔ ان کے سامان یہاں تک کہ کھانے کے برتن بھی ادھر ادھر لڑھک رہے تھے۔ یہ تمام باتیں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی حدیث سے صاف سمجھ میں آرہا ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’غزوہ احزاب یا خندق کی آخری رات بہت زیادہ سرد تھی اور طوفانی ہوا چل رہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کون ہے جو ابھی جائے اور مشرکین احزاب ( مشرکین کے گروہوں) کے ارادوں اور حالات کی خبریں لا کر ہمیں دے اور قیامت کے روز میری معیت ( ساتھ) قبول کرے؟ ‘‘ اس بات کا ہم میں سے کسی نے جواب نہیں دیا۔( در اصل خندق کو پارکر کے اس پار مشرکوں کے پڑائو میں جانا تھا جہاں بے حد طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں) ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری مرتبہ بھی یہ بات ارشاد فرمائی۔ لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ تیسری مرتبہ بھی فرمایا۔ اس کے بعد مجھ سے مخاطب ہو ئے اور فرمایا: ’’ اے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ تم اٹھو اوریہ کام تم کر کے آئو۔‘‘ ( حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نوجوان اور دلیر تھے) حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میںجب کافروں کے لشکروں کے پڑائو میں پہنچا تو یوں محسوس ہوا جیسے حمام میں پہنچ گیا ہوںاور جب واپس آیا تو ایسا لگا جیسے طائف کے نخلستان میں رات کا موسم ہے۔ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے دونوں جگہ کا موسم مثال دے کر بتایا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کافروں کے پڑائو میں موسم انتہائی سرد اور طوفانی تھا اور مسلمانوںکے پڑائو میں موسم بالکل نارمل اور معتدل ( درمیانہ) تھا۔ آگے انشاء اللہ دوسری حدیث میں تفصیل پیش کی جائے گی۔

اللہ کی مدد اور مشرکوں کی حالت

   اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد فرمائی اور مشرکوں کے گروہوں ( احزاب) پر شدید سرد اور طوفانی ہوا بھیجی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا’’ احزاب الکفر ( کافروں کے گروہوںیا لشکروں)میں اضطراب پید ا ہواہے ۔ تم وہاں جا کر حالات کا جائزہ لو اور پھر مجھے وہا ں کی خبر یں لا کر دو۔‘‘ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں لوگوںمیں کم ہمت تھا ( حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات انکساری سے فرمائی۔) اور میرے اعصاب میں سردی کا احساس بھی زیادہ تھا۔ پھر بھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و تعمیل کے جذبہ سے روانہ ہوا اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کیلئے اپنے مبارک لبوں کو حرکت دی اور فرمایا: ’’ اے رب العالمین ! حذیفہ ( رضی اللہ عنہ ) کو اس کے آگے سے ، اس کے پیچھے سے ، اس کے داہنے سے ، اس کے اوپر سے اور اس کے نیچے سے محفوظ رکھ۔‘‘ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کافوراً اثر ہوا) اور مجھ میں بہت زیادہ ہمت پید اہو گئی اور میرے اندر بہت سکون اور اطمینان کی کیفیت پید ہو گئی اور سردی کا تو احساس ہی غائب ہو گیا۔ میں کافروں کے لشکر میں پہنچا تو میں نے سنا لوگ کہہ رہے تھے ’’کوچ کرو۔ کوچ کرو۔ ‘‘( یعنی یہاں سے چلو) کوئی کہہ رہا تھا۔ ’’ہم یہاں نہیں ٹہر سکتے۔ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ میں نے دیکھا کہ وہاں ( کافروں کے پڑائو میں ) ہوائوں کا شدید ترین طوفان تمام کافروں کے لشکر اور ان کے سامان کو تہس نہس اور تباہ و برباد کر چکا تھا۔ یہ سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد میں واپس ہو رہا تھا کہ مجھے کچھ سوار ملے۔ اُن کے سروں پر عمامے تھے اور ان کی تعداد شاید بیس ہو گی۔ مجھے دیکھ کر رک گئے اور کہنے لگے: ’’ اپنے امام اور سردار (صلی اللہ علیہ وسلم )سے کہہ دینا کہ اللہ تعالیٰ نے اشرار ( کافروں یا مشرکوں) سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو محفوظ رکھا۔ ‘‘( یہ غالباً ہوائوں پر مقرر کئے ہوئے فرشتے تھے) ۔ اس کے بعد میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوا ۔( اور تمام واقعہ اور حالات بتائے) تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ ترجمہ ۔ اے ایمان والو اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم پر لشکر آئے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور وہ لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہیں آئے۔ ‘‘( سورہ احزاب آیت نمبر9)

مشرکین میدان چھوڑ کر بھاگے

   اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مدد فرمائی اور مشرکین کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا ۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ۔ اہل کوفہ میں سے ایک شخص نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ اور ان کی صحبت میں رہے ہیں؟ ‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’ ہاں۔ ‘‘اس شخص نے کہا :’’ آپ لوگ کس طرح کام کرتے تھے؟ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہم بڑی محنت کرتے تھے۔ ‘‘ اس شخص نے کہا : ’’اگر ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی زمین پر چلنے نہیں دیتے اور اپنی گردنوں پر سوار رکھتے۔ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کچھ دیر تک اس شخص کو دیکھ کر مسکراتے رہے پھر فرمایا: ’’ اے میرے پیارے بھتیجے !میں غزوہ خندق میں رسولاللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد ہم صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’کون شخص ہے جو ہم کو مشرکین کی خبر لا کر دیاور میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اس شخص کو جنت میں میرا رفیق ( پڑوسی ) بنائے۔ ‘‘خوف اور بھوک اور سردی کی شدت کی وجہ سے کوئی شخص کھڑا نہیں ہوا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا تو میں کھڑ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اے حذیفہ رضی اللہ عنہ !تم جا کر دیکھو کہ مشرک کیا کر رہے ہیں اور کسی سے کچھ نہ کہنا ( اور نہ کچھ کرنا) بلکہ سیدھے ہمارے پاس چلے آنا۔‘‘ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’( اے میرے پیارے بھتیجے)! میں جب مشرکوں کے لشکر میں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ آندھی نے سب کو پریشان کر رکھا ہے۔ نہ آگ جلا پا رہے ہیں اور نہ ہی خیموں کو کھڑ اکر پا رہے ہیں۔ پھر اسی وقت ابو سفیان کھڑا ہوا اور بولا: ’’ اے قریش ! اللہ کی قسم !تم ایسی جگہ آکر ٹھہر ے ہو کہ جہاں جوتیاں تک ٹوٹ گئی ہیں اور بنو قریظہ نے ہمارے ساتھ وعدہ خلافی کی اور ہوا نے ہم کو ایسا پریشان کیا ہے کہ کسی طرح کا ہم کو اطمینان نہیں ہے۔ نہ آگ جل رہی ہے اور نہ خیمہ قائم رہ پا رہا ہے۔ پس میں تو مناسب سمجھتا ہوں کہ اب تم مکہ مکرمہ واپس چلے چلو۔‘‘ اور پھر ابو سفیان اپنے اونٹ کے پاس آیا اس کے پیکڑہ ( زمین میں کھونٹا گاڑ کر اونٹ کے پیروں میں پہنائے ہوئے کڑوں کو رسی کے ذریعے اس کھونٹے سے باندھ دیا جاتا تھا) بندھا ہوا تھا۔ ابو سفیان اتنا بد حواس تھا کہ ویسے ہی اونٹ پر سوار ہو کر اس کو چلنے کے لئے مارنے لگا۔ یہ دیکھ کر ایک دوسرے شخص نے اس کے اونٹ کا پیکڑہ کھول دیا اور ابو سفیان تیزی سے مکہ مکرمہ کی طرف اونٹ کو دوڑانے لگا۔ ‘‘حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ آ گے فرماتے ہیں: ’’ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو منع نہیں کیا ہوتا تو ضرور میں ابو سفیان کو تیر مار کر قتل کر دیتا۔ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہوئے ایک چادر اوڑھے نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو اپنے پیروں میں مجھو کو داخل کر لیا اور چادر مجھ پر ڈال دی۔ پھر رکوع اور سجدہ کر کے سلام پھیرا تو میں نے سارا واقعہ سنادیا۔ اس کے بعد قریش کے واپس جانے کی خبر سنتے ہی بنو غطفان اوردوسرے قبائل کے گروہ بھی واپس چلے گئے۔

اب قریش ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مشرکوں کے تمام لشکروں کے چلے جانے کے بعد بھی کچھ عرصہ خندق کے پاس ہی ٹھہرے رہے ۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب میں فرمایا: ’’ اس جارحیت کے بعد قریش کبھی منظم اور بھر پور جنگ اور جارحانہ کاروائی نہیں کر سکیں گے۔‘‘ حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ احزاب یا خندق کے وقت جب کافروں کی فوجیں نظر آئیں تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’ اب ہم ان پر چڑھائی ( حملہ) کریں گے۔ یہ ہم پر چڑھائی ( حملہ ) نہیں کر سکں گے۔ بلکہ ہم ان کی جانب ( حملہ کرنے کے لئے ) چل کر جایا کریں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق یا احزاب سے بدھ کے دن جب کہ ذی القعدہ کی چار راتیں باقی تھیں واپس مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ خندق کے مقام پر پندرہ دن ٹھہرے اور ایک روایت کے مطابق چوبیس24دن تشریف فرما رہے اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ اس سال کے بعد قریش تم سے کبھی لڑائی نہیں کریں گے۔‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

17 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


17 سیرت سید الانبیاء ﷺ

غزوہ بنو قریظہ اور حضرت سعد بن معاذ کا فیصلہ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


یہودیوں کو غداری کی سزا، حضرت ابولبابہ کی توبہ کی قبولیت، سیدہ زینب بنت جحش سے نکاح، حضرت ثمامہ بن اثال کا قبول اسلام، 


غزوہ بنو قریظہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ خندق کے پاس صبح تک رکے ۔ صبح کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اپنے ہتھیار اور زرہیں اتار کر رکھ دیں اور آرام فرمانے لگے۔ جب ظہر کا وقت آیاتو جبرائیل امین علیہ السلام ایک خچر ( یہ گھوڑے سے قد میں چھوٹا اور گدھے سے قد میں بڑا ہوتا ہے) پر سواور عمامہ باندھے ہوئے تشریف لائے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتا ر دیئے ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں۔‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: ’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرشتوں نے تو ابھی ہتھیار نہیں کھولے ہیں اور نہ ہی وہ ابھی تک واپس گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوں اور خود میں ( فرشتوں کے ساتھ ) بنو قریطہ کی طرف جا رہا ہوں اور وہاں جا کر ان کو متزلزل کر تا ہوں۔ ‘‘ صحیح بخاری میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ احزاب یا خندق) سے واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر غسل فرمایا تو جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتا ر دیئے۔ لیکن اللہ کی قسم ! ہم ( فرشتوں) نے ابھی ہتھیار نہیں اتار ے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ’’ اب کدھر کا ارادہ ہے؟ ‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔

نماز عصر بنو قریظہ میں پڑھیں

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا حکم سن کر فوراً مدینہ منورہ میں اعلان کروا دیا کہ جو شخص ( اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ) سننے اور ماننے والا ہے وہ نماز عصر بنو قریظہ میں پڑھے۔ در اصل یہ اعلان اس لئے تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جلد از جلد بنو قریظہ پہنچنے کی کوشش کریں۔ صحیح بخاری حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب ( سے واپسی) کے روز فرمایاکہ ہر کوئی عصر کی نماز بنو قریظہ میں پڑھے۔ ( یا پڑھنے کی کوشش کرے) پس بعض حضرات کو راستے میں عصر کا وقت ہو گیا تو وہ کہنے لگے کہ ہم منزل مقصود ( بنو قریظہ) میں ہی پہنچ کر نماز عصر پڑھیں گیاور بعض حضرات نے راستے میں نماز پڑھ لی اور کہا کہ ہمیں نماز پڑھنے سے تو منع نہیں فرمایا گیا ہے۔ اس صورت حال کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی فریق پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔

بنو قریظہ کا محاصرہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا حکم ملتے ہی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جلد از جلد بنو قریظہ میں پہنچنے کا اعلان کر دیا اور اسی وقت جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تیار ہو کر پہنچ گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کا سپہ سالار بنا کر مقدمتہ الجیش ( لشکر کا سب سے آگے والا حصہ) کے طور پر بھیج دیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کو لے کر چلے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد تین ہزار تھی اور چھتیس36گھوڑے تھے اور بدھ کا دن تھااور ذی القعدہ کی سات راتیں باقی تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میںحضرت عبداللہ بن اُم مکتوم کو اپنا نائب بنایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب بنو قریظہ میں پہنچے تو یہودیوںنے انہیں برا بھلا کہا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی۔ ( جو ایک ناقابل معافی جرم ہے) کچھ دیر بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنو قریظہ پہنچے اور ایک کنویں کے پاس پڑائو ڈال دیا اور جو صحابہ کرام دیر سے تیار ہو کر مدینہ منورہ سے نکلے تھے وہ آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملتے جا رہے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آنے کا سلسلہ عشاء کی نماز تک چلتا رہا۔ جب تمام اسلامی لشکر پہنچ گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کرنے کا حکم دیا۔ بنو قریظہ کے یہودیوں نے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا لشکر دیکھا تو اپنے قلعوںمیں اپنے آپ کو قلعہ بند کر لیا تھا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا۔

یہودیوں کا مشورہ

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کے ساتھ بنو قریظہ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ لگ بھگ پچیس 25دنوں تک چلا۔ محمد بن اسحاق کے مطابق 25راتیں محاصرہ چلا، محمد بن سعد کے مطابق پندرہ 15راتیں محاصرہ چلا اور موسی بن عقبہ کے مطابق دس 10راتیں محاصرہ چلا۔جب محاصرہ کی شدت یہودیوں کی برداشت سے باہر ہو گئی تو ان کے سردار کعب بن اسد نے ان سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا : ’’ اے بنی اسرائیل! اے گروہِ یہود !تم دیکھ رہے ہو کہ ہم کس پریشانی میں مبتلا ہیں؟ میں تمہارے سامنے تین باتیں پیش کرتا ہوں ۔ ان میں سے جو بات چاہو قبول کرو۔‘‘ یہودیوں نے پوچھا: ’’ وہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا : ’’ پہلی بات یہ کہ ہم اس شخص ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اتباع کریں اور تصدیق کریں۔ ( یعنی اسلام قبول کر لیں) اللہ کی قسم یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہی ’’ وہ آخری نبی ‘‘ ہیں ۔جن کا ذکر ہم اپنی کتابوں میں پاتے ہیں اور ہمارے انبیائے کرام علیہم السلام نے جن کے آنیکی بشارت دی ہے۔ اس طرح ( اسلام قبول کرنے سے ) تمہاری جانیں، مال ، اولاد اور عورتیں محفوظ ہو جائیں گی۔ ‘‘لیکن یہودیوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا:’’ اگر تم یہ بات نہیں مانتے تو دوسری بات یہ ہے کہ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو قتل کر کے تمام مرد ہتھیار لے کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اور مسلمانوں پر حملہ کر دیں۔ اگر ہم ہلاک ہوئے تو ہمارے پیچھے کوئی نہیں ہوگا۔ جس ہمیں ڈر ہواور اگر ہم جیت گئے تو عورتیں اور بچے اور آجائیں گے۔ ‘‘یہودیوں نے کہا : ’’ اولاد اور عورتوں کو ہم قتل نہیں کر سکتے۔‘‘ پھر کعب بن اسد نے کہا: ’’ اگر ان دوباتوں کو نہیں مانتے تو تیسری بات یہ ہے کہ آج سنیچر کی رات ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے ساتھی غافل ہو ں گے ۔ کیوں کہ وہ یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ سبت کی وجہ سے تم ان پر حملہ نہیں کرو گے ( سبت کا قانون یہودیوں پر نافذ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے توریت میں حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل ( جو اپنے آپ کو یہودی کہلواتے ہیں) سنیچر کی رات اور دن کوئی کام نہیں کریں گے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔لیکن یہ قانون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی منسوخ ہو گیا ہے) تو تم اپنے قلعوں سے اترو اور اچانک ان پر غفلت میں حملہ کر دو۔ اس طرح تم کامیاب ہو جائو گے۔ ‘‘یہودیوں نے کہا : ’’ اگر ہم ایسا کریں گے تو سبت کا قانون توڑیں گے اور تم جانتے ہو کہ جن لوگوں نے سبت کا قانون توڑا ان کے چہرے مسخ ہو گئے تھے۔‘‘

تین یہودی نوجوان کا قبول اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کے یہودیوں کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور بنو قریظہ کا سردار اپنے قبیلے کے یہودیوں سے مشورہ کر رہا تھا۔ جب اس نے کہا کہ یہ ’’وہی آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم )ہیں تو بنو قریظہ کے تین یہودی نوجوان حضرت ثعلبہ بن سعید ، حضرت اُسید بن سعید اور حضرت اسد بن عبید نے کہا: ’’ کیا یہ’ وہی آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؟‘‘ تو تمام یہودیوں نے جواب دیا:’’ ہاں ۔ ‘‘ ان تینوں نوجوانوں نے کہا: ’’ تم خوب اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کے اوصاف ہمارے علماء اور بنو نضیر کے علماء نے بیان کئے ہیںاور ابن ہیبان نے بھی مرتے وقت تم سے کہا تھا کہ اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا۔ ‘‘( ابن ہیبان یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے اور ایمان لانے کے لئے شام میں اپنا سب کچھ بیچ کر بنو قریظہ کے پڑوس میں آکر آباد ہو گیا تھا) لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ ہجرت فرما کر تشریف لانے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا تھا۔ یہودیوں نے کہا : ’’یہ سب درست ہے لیکن ہم توریت کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ‘‘جب ان تینوں نوجوانوں نے دیکھا کہ تمام یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر رہے ہیں تو یہ تینوں قلعہ سے باہر مسلمانوں کے لشکر میں آئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں اپنے ساتھ رکھ لیا اور مدد کی۔

حضرت ابو البابہ بشیر بن منذر رضی اللہ عنہ کی پشیمانی

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلامی لشکر کے محاصرے سے گھبرا کر یہودیوں نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہم ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ہم حضرت ابو البابہ بشیر بن منذر رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ( ابو البابہ کنیت ہے اور بشیر بن منذر نام ہے) حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ بنو قریظہ کے حلیف تھے اور ان کے تعلقات ان لوگوں سے بہت اچھے تھے اور ان کے کھجور کے باغات یا کھیتیاں اور گھر یہ سب بنو قریظہ کے پڑوس میں تھے۔ حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ جب قلعہ کے اندر بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس پہنچے تو تمام مرد ، عورتیں اور بچے دوڑ کر ان کے پاس آئے اور عورتیں انھیں دیکھ کر زور زور سے رونے لگیں۔ انہیں روتا دیکھ کر بچے بھی رونے لگے۔ یہودیوں نے ان سے پوچھا: ’’ کیا ہم ہتھیار ڈال دیں؟ ‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہاں۔‘‘ اور ساتھ ہی اشارے سے حلق پر ہاتھ پھیر کر بتایا کہ تمہیں ذبح کر دیا جائے گا۔ لیکن فوراً ہی حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کو یہ احساس ہو گیا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کر دی ہے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کا حکم نہیں دیا تھا یا جس بات کے بارے میں ابھی حکم نہیں آیا تھا وہ بات اشارے سے کہہ دی ) اور اسی وقت وہاں سے سیدھا مسجد نبوی میں آئے اور اپنے آپ کو ستون ( مسجد نبوی کی چھت کو سنبھالنے کے لئے گاڑے گئے کھجور کے تنوں میں سے ایک تنے) سے اپنے آپ بندھوا لیا اور عہد کیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہیں کرے گا تب تک اسی طرح بندھا رہوں گا اور بنو قریظہ میں جہا ں میں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کی ہے وہاں نہیں جائوں گا۔ جب حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کو واپسی میں دیر ہوئی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں دریافت فرمایا تو پورا واقعہ بتایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو البابہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا۔ اب انھوں نے خود اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی ہے تو جب تک اللہ تعالیٰ انھیں معاف نہیں فرمائے گا تب تک میں بھی انھیں ستون سے نہیں کھول سکتا۔ ‘‘

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حَکم ( فیصلہ کرنے والا) بنایا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کے ساتھ بنو قریظہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے بندھوا لیا تھا۔ ( حضرت ابو البابہ کا ذکر آگے آئے گا) ادھر بنو قریظہ نے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق یہودیوں کے تمام مردوں کے ہاتھ پائوں بندھوادیئے تھے اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ( جو پہلے یہودی تھے لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تب اسلام قبول کر لیا تھا) کو عورتو ں اور بچوں کا نگراں بنایا گیا تھا۔ بنو قریظہ کے یہودیوں کے قبیلہ اوس کے انصار سے بہت اچھے اور پرانے تعلقات تھے۔ اس لئے اوس کے لوگوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بنو قینقاع کے یہودیوں کی طرح انہیں بھی جلا وطن کر دیا جائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر ان لوگوں کا فیصلہ تمہارے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کریں گے تو تم تسلیم کر لو گے؟ ‘‘قبیلہ اوس کے لوگوں نے ( اور یہودیوں نے ) کہا: ’’ ہم اپنے سردار کے فیصلہ کو قبول کریں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ٹھیک ہے !سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلائو بنو قریظہ کے یہودیوں کا فیصلہ وہی کریں گے۔‘‘ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ خندق میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک تیر آکر لگا تھا جس کی وجہ سے ان کی نبض کی رگ کٹ گئی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو علاج کی خاطر مدینہ منورہ میں ہی چھوڑ دیا تھا۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے حکم پر بنو قریظہ قلعہ سے نیچے آئے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے پیغام بھیجا۔ پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے خچر پر سوار ہو کر چل پڑے اور جب ( بنو قریظہ میں ) مسجد کے قریب آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ’’ اپنے سردار یا اپنے بہترین فرد کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘ ( یا اپنے سردار یا بہترین فرد کو کھڑے ہو کر سواری سے اتارو۔ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ زخم سے خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہو گئے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ یہ لوگ تمہارے حکم پر قلعہ سے اتر آئے ہیں ان کا فیصلہ کر دو۔‘‘ انھوں نے فیصلہ دیا کہ جو افراد لڑنے کے قابل ہیں ان کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور یہ بھی فرماتے کہ فرشتہ کے حکم کے مطابق۔‘‘ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے ( بنو قریظہ کے یہودیوں کے ) بارے میں وہ فیصلہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر فیصلہ فرمایا ہے۔‘‘ ایک اور روایت میںحضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے سعد رضی اللہ عنہ ! ان کا فیصلہ کریں ۔ ‘‘ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے درمیان فیصلہ کریں۔ ‘‘

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی شہادت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر عمل کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کو لے کر مدینہ منورہ واپس آئے اور مسجد نبوی کے صحن میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا خیمہ لگا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس تیمار داری کر رہے تھے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ غزوہ خندق میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو قریش کے ایک کافر حبان بن عرقہ کا تیر لگ گیا تھا جو ان کی رگِ نبض میں لگا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مسجد نبوی میں خیمہ لگوادیا۔ تا کہ تیمار داری میں آسانی رہے۔ غزوہ بنو قریظہ میں قیدیوں کا فیصلہ کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلوایا کیوں کہ فریقین نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حَکم ( فیصلہ کرنیوالا) تسلیم کر لیا تھا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا کہ جو لڑنے کے قابل مرد ہیں انھیں قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی اور غلام بنالیا جائے اور ان کے مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس کے بعد ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آ گے فرماتی ہیں: ’’ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یو ںدعا کی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! تُو جانتا ہے کہ مجھے اس بات سے زیادہ پیاری کوئی چیز نہیں ہے کہ میں اس قوم سے جہاد کرتا رہوں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا۔ ( یعنی رسول ماننے سے انکار کر دیا) اور انہیں وطن سے نکال دیا۔ میرے خیال سے تو نے ہمارے اور قریش کے کافروں کے درمیان لڑائی ختم کر دی ہے۔ اگر قریش سے لڑنا ابھی باقی ہے تو مجھے زندگی عطا فرما تا کہ میں تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان سے جہاد کروں اور اگر تو نے ان کے ساتھ ہماری لڑائی ختم فرمادی ہے تو میرے اسی زخم کو جاری کر دے اور اسی زخم کے ذریعے مجھے شہادت کی موت عطا فرما۔‘‘ پس ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا۔ جو مسجد میں ان کے خیمے سے بنو غفار کی طرف بہہ کر آنے لگا۔ وہ لوگ کہنے لگے : ’’ اے خیمے والو !یہ تمہاری طرف سے کیا چیز بہہ کر آرہی ہے؟ ‘‘پھر انہیں معلوم ہوا کہ یہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا خون ہے اور وہ اسی زخم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر فرشتوں کی حاضری

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنو قریظہ سے واپس آئے مدینہ منورہ آئے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا خیمہ مسجد نبوی کے صحن میں لگوایا تا کہ اپنی نگرانی میں ان کا علاج کروائیں ۔ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ جس وقت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا وہ رات کا وقت تھا۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام استبرق کا عمامہ باندھے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے کون سے بزرگ کا انتقال ہو ا ہے کہ جس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ’عرش ِ اعظم‘‘ ہل گیا ہے؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اٹھے اور اپنی چادر لپیٹتے ہوئے تیزی سے مسجد نبوی کے صحن میں لگے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے خیمے میں پہنچ کر دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے ( حج یا عمرہ کر کے ) واپس آرہی تھیں کہ راستے میں حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کو ایک عورت کے انتقال کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ بہت غمگین ہو گئے یہ دیکھ کر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ اے اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ! تم ایک عورت کے انتقال پر اتنے غمگین ہو گئے ہو جب کہ تمہارے چچا زاد بھائی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو ا تھا تو ’’عرشِ اعظم ‘‘ہل گیا تھا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی) روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ایک جسیم ( لمبے چوڑے ) آدمی تھے۔ جب لوگوں نے ان کا جنازہ اٹھایا تو اس کو بہت ہلکا پایا۔ مسلمان کہنے لگے : ’’ اللہ کی قسم ! اتنے جسیم آدمی کا اس قدر ہلکا جنازہ اس سے پہلے نہیں دیکھا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی یہ گفتگو سنی تو فرمایا: ’’ اس جنازے کو اٹھانے والے تم لوگوں کے علاوہ اور لوگ ( فرشتے) بھی ہیں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ملائکہ ( فرشتے) حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی روح کے ساتھ بشارت حاصل کر رہے ہیں اور عرش ہل گیا ہے۔ ‘‘حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جس وقت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا اس وقت ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسبیح پڑھی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تسبیح پڑھی۔ انھوں نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !تسبیح اور تکبیر کس لئے؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس نیک بندہ پر قبر تنگ ہو رہی تھی۔ ( اس لئے تسبیح اور تکبیر پڑھی) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کشادہ کر دیا۔ ‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر شخص پر قبر تنگ ہوتی ہے۔ ( انبیائے کرام کے علاوہ) اگر اس سے نجات پانے والا کوئی تھا تو وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے۔‘‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت سے عرش ہل گیا۔‘‘ ( صحیح بخاری ) ایک روایت میں ہے کہ آسمان کے تمام دروازے کھول دیئے گئے اور آسمانوں کے فرشتے ان کی روح کے چڑھنے سے مسرور ہوئے۔ ( فتح الباری) اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازہ میں شریک ہوئے جو اس سے پہلے کبھی زمین پر نہیں آئے تھے۔ ( البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر)

حضرت ابو البابہ بشیر بن منذر رضی اللہ عنہ کی توبہ کی قبولیت

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس دن غزوہ بنو قریظہ سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اس کے چھٹے دن یا چھ دن بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوالبابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ کو قبول کیا۔ ( آپ کو یاد ہو گا کہ حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو اشارے سے بتایا تھا کہ ذبح کئے جائو گے اور پھر انھیں احساس ہوا کہ میں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کی ہے تو انھوں نے مسجد نبوی میں ایک ستون سے بندھوا لیا تھا۔ حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ ستون سے بندھے رہتے تھے جب نماز کا وقت ہوتا تھا تو ان کی بیوی ( رضی اللہ عنہا) انھیں کھول دیتی تھیں اور نماز کے بعد باندھ دیا کرتی تھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے انکی توبہ کی قبولیت کی آیت نازل فرمائی تو اس وقت رات کا وقت تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے تو ام المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے دریافت کرنے پر بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول فرما لی ہے۔ اُم المومنین رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ مسکراتا رکھے۔‘‘ اس وقت پردے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس لئے اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ خوش خبری مجھے سنانے کی اجازت دی جائے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرے کا دروازہ کھولا جو مسجد نبوی میں کھلتا تھا ( تمام اُمہات المومنین کے حجرے مسجد نبوی کی دیوار سے لگ کر تھے اور ہر اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے حجرے کا ایک دروازہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا۔ تا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں آنے جانے کی آسانی رہے) اور حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کو توبہ قبول ہونے کی خوش خبری دی۔ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وقت مسجد نبوی میں موجود تھے وہ حضرت ابوا لبابہ رضی اللہ عنہ کو کھولنے کیلئے دوڑ پڑے۔ حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ کوئی مجھے نہ کھولے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے دستِ مبارک سے کھولیں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز کے لئے مسجد نبوی میں آئے تو حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کو کھولا۔

اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ذی القعدہ 5 ؁ہجری میں غزوہ بنو قریظہ سے مدینہ منورہ واپس آئے اور اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ اس نکاح کی تاریخ میں مختلف روایات ہیں کچھ روایات میں ہے کہ نکاح 3 ؁ہجری میں ہوا اور کچھ روایات میں ہے کہ نکاح 5 ؁ہجری میں ہوا۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اُم المومنین سید ہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی اُمیمہ بنت عبدا لمطلب کی بیٹی ہیں۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا تو انھوں نے دو رکعت نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی: ’’ اے اللہ تعالیٰ ! تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ اگر میں تیرے نزدیک ان کی زوجہ ( بیوی) بننے کے لائق ہوں تو اے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ میرا نکاح فرما دے۔‘‘ اللہ تعا لیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور سورہ احزاب کی آیت نمبر 37نازل فرمائی ۔ اس آیت کے نزول کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا :’’ کون ہے جو زینب رضی اللہ عنہا کے پاس جائے اور اسے یہ خوش خبری سنائے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح ان کے ساتھ فرما دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر ایک خادمہ دوڑتی ہوئی سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور یہ آیت سنا کر خوش خبری دی۔ انھوں نے خوش ہو کر اس خادمہ کو اپنا زیور اتا ر کر انعام میں دیا اور خود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر پڑیں۔ اور شکرانے کے طور پر لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔

سریہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ 6 ؁ہجری

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنو قریظہ کے بعد سے مدینہ منورہ میں ہی تشریف فرما رہے اور پانچ ہجری 5 ؁کا ذی القعدہ اور ذی الحجہ کے مہینے مدینہ منورہ میں گزارے۔ محرم الحرام6 ؁ ؁؁ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا کر تیس مجاہدین کا لشکر دے کر قرطا کی جانب روانہ فرمایا۔ انھوں نے وہاں جا کر حملہ کیا۔ کافروں کے دس آدمی قتل ہوئے اور باقی بھاگ گئے۔ مالِ غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ ڈیڑھ سو150اونٹ اور تین ہزار بکریاں لگیں۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ یہ سب لے کر اُنیس 19دنوں بعد 29محرم الحرام کو مدینہ منورہ پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم فرمائی اور ایک اونٹ کو دس بکریوں کے قرار دیا۔

حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جو سریہ بھیجا تھا ان سے مقابلے کے دوران قبیلہ بنو حنیف کے سردار حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ گرفتار ہو گئے تھے اور مسلمان انہیں لے کر مدینہ منورہ آئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ لوگ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر کے لائے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھنے کا حکم دیااور آپ رضی اللہ عنہ کو باندھ دیا گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ’’ اے ثمامہ ( رضی اللہ عنہ) میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ میرا گمان یا خیال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اچھا ہے۔‘‘ ( یعنی میں خیال کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اچھا سلوک کریں گے) اور آگے عرض کیا: ’’ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قتل کریں گے تو ایک خونی کو قتل کریں گے جو یقینا قتل کا مستحق ہے اور اگر احسان اور انعام فرمائیں گے تو یہ شکر ادا کرنے والے پر احسا ن ہو گااور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فدیہ میں ) مال چاہیئے تو جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے میں حاضر کر دوں گا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی سے نماز پڑھانے چلے گئے۔ دوسرے دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان سے دریافت فرمایا تو انھوں نے صرف اتنا کہا : ’’ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان فرمائیں تو یہ ایک شکر ادا کرنے والے پر احسان ہوگا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر پھر خاموشی سے چلے گئے۔ تیسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سوال دہرایا تو انھوںنے وہی جواب دیا اور صرف اتنا عرض کیا : ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر احسان کردیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ ثمامہبن اثال ( رضی اللہ عنہ) کو کھول دو۔ ‘‘( یہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے ۔ اور محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ ) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اے ثمامہ ( رضی اللہ عنہ) میں نے تم کو معاف کیا اور آزاد کر دیا۔‘‘ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا دل تین دونوںمیں اسلام کی طرف مائل ہو گیا تھا اس لئے آزاد ہو تے ہی وہ مسجد نبوی کے قریب ایک نخلستان میں گئے اور وہاں غسل کیا اور پھر واپس مسجد میں آئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ ‘‘اور اسلام قبول کر لیا۔

سید الانبیاء ﷺ کے حکم پر کافروں پر احسان کیا

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تو عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زیادہ مبغوض چہرہ کوئی نہیں تھا اور آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زیادہ پیارا اور محبوب کوئی چہرہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین ( اسلام) سے زیادہ مبغوض کوئی دین نہیں تھااور آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین ( اسلام) سے زیادہ پیارا اور محبوب دین مجھے کوئی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے زیادہ مبغوض شہر کوئی نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر مجھے سب سے زیادہ پیار ااور محبوب ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میرا عمرہ کرنے کا ارادہ تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں کہ میں کیا کروں؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم مکہ مکرمہ جا کر عمرہ کرواور بشارت دی‘‘( یعنی تم محفوظ رہو گے اور تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ آئے تو کسی کافر نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ تُوبے دین ہو گیا ہے؟‘‘انھوں نے جواب میں فرمایا: ’’ ہرگز نہیں!میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمان ہو گیا ہوں اور کفر اور شرک کوئی دین نہیں ہے بلکہ ایک لغو اور بے ہودہ خیال ہے اور اسلام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے۔ یہ دین قبول کر کے میں اللہ تعالیٰ کا اطاعت گذار اور فرماں بردار بندہ بن گیا ہوں اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے اور سپرد کردیا ہوں۔ اللہ کی قسم! اب کفر اورشرک کی طرف کبھی رجوع نہیں کروں گا اور خوب سمجھ لو کہ یمامہ سے جو غلّہ تمہارے پاس آتا ہے اب ایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں آئے گا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں گے تب ہی تمہارے پاس غلہ بھیجا جائے گا۔‘‘اور یمامہ جا کر مکہ مکرمہ کی طرف جانے والا غلہ بند کر وا دیا۔ قریش نے مجبور ہو کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش لکھ کر بھیجی : ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو صلہ رحمی ( یعنی لوگوں پر رحم کرنے ) کا حکم دیتے ہیںاور ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم !حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ غلّہ کی روانگی جاری کر دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو خط لکھوا کر بھیجا کہ قریش کو غلہ روانہ کر دیں۔ ( تو آپ رضی اللہ عنہ دوبارہ قریش کو غلہ بھیجنے لگے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسیلمہ کذاب نے اپنی جھوٹی نبوت کا اعلان کیا اور یمامہ کے لو گ مرتد ہو گئے تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے سورہ المومن کی آیت نمبر3تلاوت فرمائی اور لوگوں کو سمجھایا توا ن اخلاص میں ڈوبے کلمات کا کافی لوگوں پر اثر ہوا اور تین ہزار سے زیادہ لوگ مسیلمہ کذاب کا ساتھ چھوڑ کر اسلام کی آغوش میں آگئے۔

غزوہ بنو لحیان

   سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سو مجاہدین کو لیا اور مدینہ منورہ میں حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور یکم ربیع الاول 6 ؁ہجری کو روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکل کر ضراب ، فحیض اور البہترا کے راستے سے ہوتے ہوئے ذات الیسار کی طرف گھومے پھر صخیرات الشمام سے ہوتے ہوئے السیالہ کی سیدھا راستہ اختیار کیا اور غمران میں اترے جہان بنو لحیان کے مکانات تھے۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہو ا کہ بنو لحیان کے لوگ اپنے مکانات کو چھوڑ کر پہاڑوں میں روپوش ( چھپ ) ہو گئے۔ اس کے بعد یہاں سے چل کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وادی عسفان میں جا کر اترے ۔ اس کے بعد مدینہ منورہ واپس آگئے۔ مدینہ منورہ واپس ہوتے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : ’’ ہم رجوع کرنے والے ہیں۔ توبہ کرنے والے ہیں۔ اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب ( اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے والے ہیں۔‘‘ یہ سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے اختیار کیا تھا۔ جنھوں نے اصحاب رجیع کو شہید کیا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں