17 سیرت سید الانبیاء ﷺ
غزوہ بنو قریظہ اور حضرت سعد بن معاذ کا فیصلہ
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
یہودیوں کو غداری کی سزا، حضرت ابولبابہ کی توبہ کی قبولیت، سیدہ زینب بنت جحش سے نکاح، حضرت ثمامہ بن اثال کا قبول اسلام،
غزوہ بنو قریظہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ خندق کے پاس صبح تک رکے ۔ صبح کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ مدینہ منورہ واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اپنے ہتھیار اور زرہیں اتار کر رکھ دیں اور آرام فرمانے لگے۔ جب ظہر کا وقت آیاتو جبرائیل امین علیہ السلام ایک خچر ( یہ گھوڑے سے قد میں چھوٹا اور گدھے سے قد میں بڑا ہوتا ہے) پر سواور عمامہ باندھے ہوئے تشریف لائے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتا ر دیئے ہیں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں۔‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: ’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرشتوں نے تو ابھی ہتھیار نہیں کھولے ہیں اور نہ ہی وہ ابھی تک واپس گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوں اور خود میں ( فرشتوں کے ساتھ ) بنو قریطہ کی طرف جا رہا ہوں اور وہاں جا کر ان کو متزلزل کر تا ہوں۔ ‘‘ صحیح بخاری میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ احزاب یا خندق) سے واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر غسل فرمایا تو جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتا ر دیئے۔ لیکن اللہ کی قسم ! ہم ( فرشتوں) نے ابھی ہتھیار نہیں اتار ے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ’’ اب کدھر کا ارادہ ہے؟ ‘‘ جبرئیل علیہ السلام نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔
نماز عصر بنو قریظہ میں پڑھیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا حکم سن کر فوراً مدینہ منورہ میں اعلان کروا دیا کہ جو شخص ( اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ) سننے اور ماننے والا ہے وہ نماز عصر بنو قریظہ میں پڑھے۔ در اصل یہ اعلان اس لئے تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جلد از جلد بنو قریظہ پہنچنے کی کوشش کریں۔ صحیح بخاری حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب ( سے واپسی) کے روز فرمایاکہ ہر کوئی عصر کی نماز بنو قریظہ میں پڑھے۔ ( یا پڑھنے کی کوشش کرے) پس بعض حضرات کو راستے میں عصر کا وقت ہو گیا تو وہ کہنے لگے کہ ہم منزل مقصود ( بنو قریظہ) میں ہی پہنچ کر نماز عصر پڑھیں گیاور بعض حضرات نے راستے میں نماز پڑھ لی اور کہا کہ ہمیں نماز پڑھنے سے تو منع نہیں فرمایا گیا ہے۔ اس صورت حال کا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی فریق پر ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔
بنو قریظہ کا محاصرہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا حکم ملتے ہی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جلد از جلد بنو قریظہ میں پہنچنے کا اعلان کر دیا اور اسی وقت جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تیار ہو کر پہنچ گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کا سپہ سالار بنا کر مقدمتہ الجیش ( لشکر کا سب سے آگے والا حصہ) کے طور پر بھیج دیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کو لے کر چلے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد تین ہزار تھی اور چھتیس36گھوڑے تھے اور بدھ کا دن تھااور ذی القعدہ کی سات راتیں باقی تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میںحضرت عبداللہ بن اُم مکتوم کو اپنا نائب بنایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب بنو قریظہ میں پہنچے تو یہودیوںنے انہیں برا بھلا کہا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی۔ ( جو ایک ناقابل معافی جرم ہے) کچھ دیر بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنو قریظہ پہنچے اور ایک کنویں کے پاس پڑائو ڈال دیا اور جو صحابہ کرام دیر سے تیار ہو کر مدینہ منورہ سے نکلے تھے وہ آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ملتے جا رہے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آنے کا سلسلہ عشاء کی نماز تک چلتا رہا۔ جب تمام اسلامی لشکر پہنچ گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کا محاصرہ کرنے کا حکم دیا۔ بنو قریظہ کے یہودیوں نے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا لشکر دیکھا تو اپنے قلعوںمیں اپنے آپ کو قلعہ بند کر لیا تھا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا محاصرہ کیا۔
یہودیوں کا مشورہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کے ساتھ بنو قریظہ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ لگ بھگ پچیس 25دنوں تک چلا۔ محمد بن اسحاق کے مطابق 25راتیں محاصرہ چلا، محمد بن سعد کے مطابق پندرہ 15راتیں محاصرہ چلا اور موسی بن عقبہ کے مطابق دس 10راتیں محاصرہ چلا۔جب محاصرہ کی شدت یہودیوں کی برداشت سے باہر ہو گئی تو ان کے سردار کعب بن اسد نے ان سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا : ’’ اے بنی اسرائیل! اے گروہِ یہود !تم دیکھ رہے ہو کہ ہم کس پریشانی میں مبتلا ہیں؟ میں تمہارے سامنے تین باتیں پیش کرتا ہوں ۔ ان میں سے جو بات چاہو قبول کرو۔‘‘ یہودیوں نے پوچھا: ’’ وہ کیا ہے؟‘‘ اس نے کہا : ’’ پہلی بات یہ کہ ہم اس شخص ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اتباع کریں اور تصدیق کریں۔ ( یعنی اسلام قبول کر لیں) اللہ کی قسم یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہی ’’ وہ آخری نبی ‘‘ ہیں ۔جن کا ذکر ہم اپنی کتابوں میں پاتے ہیں اور ہمارے انبیائے کرام علیہم السلام نے جن کے آنیکی بشارت دی ہے۔ اس طرح ( اسلام قبول کرنے سے ) تمہاری جانیں، مال ، اولاد اور عورتیں محفوظ ہو جائیں گی۔ ‘‘لیکن یہودیوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا:’’ اگر تم یہ بات نہیں مانتے تو دوسری بات یہ ہے کہ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو قتل کر کے تمام مرد ہتھیار لے کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اور مسلمانوں پر حملہ کر دیں۔ اگر ہم ہلاک ہوئے تو ہمارے پیچھے کوئی نہیں ہوگا۔ جس ہمیں ڈر ہواور اگر ہم جیت گئے تو عورتیں اور بچے اور آجائیں گے۔ ‘‘یہودیوں نے کہا : ’’ اولاد اور عورتوں کو ہم قتل نہیں کر سکتے۔‘‘ پھر کعب بن اسد نے کہا: ’’ اگر ان دوباتوں کو نہیں مانتے تو تیسری بات یہ ہے کہ آج سنیچر کی رات ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اور ان کے ساتھی غافل ہو ں گے ۔ کیوں کہ وہ یہ سمجھ رہے ہوں گے کہ سبت کی وجہ سے تم ان پر حملہ نہیں کرو گے ( سبت کا قانون یہودیوں پر نافذ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے توریت میں حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل ( جو اپنے آپ کو یہودی کہلواتے ہیں) سنیچر کی رات اور دن کوئی کام نہیں کریں گے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔لیکن یہ قانون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی منسوخ ہو گیا ہے) تو تم اپنے قلعوں سے اترو اور اچانک ان پر غفلت میں حملہ کر دو۔ اس طرح تم کامیاب ہو جائو گے۔ ‘‘یہودیوں نے کہا : ’’ اگر ہم ایسا کریں گے تو سبت کا قانون توڑیں گے اور تم جانتے ہو کہ جن لوگوں نے سبت کا قانون توڑا ان کے چہرے مسخ ہو گئے تھے۔‘‘
تین یہودی نوجوان کا قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کے یہودیوں کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور بنو قریظہ کا سردار اپنے قبیلے کے یہودیوں سے مشورہ کر رہا تھا۔ جب اس نے کہا کہ یہ ’’وہی آخری نبی ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم )ہیں تو بنو قریظہ کے تین یہودی نوجوان حضرت ثعلبہ بن سعید ، حضرت اُسید بن سعید اور حضرت اسد بن عبید نے کہا: ’’ کیا یہ’ وہی آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ؟‘‘ تو تمام یہودیوں نے جواب دیا:’’ ہاں ۔ ‘‘ ان تینوں نوجوانوں نے کہا: ’’ تم خوب اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ان کے اوصاف ہمارے علماء اور بنو نضیر کے علماء نے بیان کئے ہیںاور ابن ہیبان نے بھی مرتے وقت تم سے کہا تھا کہ اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا۔ ‘‘( ابن ہیبان یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرنے اور ایمان لانے کے لئے شام میں اپنا سب کچھ بیچ کر بنو قریظہ کے پڑوس میں آکر آباد ہو گیا تھا) لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ ہجرت فرما کر تشریف لانے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا تھا۔ یہودیوں نے کہا : ’’یہ سب درست ہے لیکن ہم توریت کو نہیں چھوڑ سکتے۔ ‘‘جب ان تینوں نوجوانوں نے دیکھا کہ تمام یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر رہے ہیں تو یہ تینوں قلعہ سے باہر مسلمانوں کے لشکر میں آئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں اپنے ساتھ رکھ لیا اور مدد کی۔
حضرت ابو البابہ بشیر بن منذر رضی اللہ عنہ کی پشیمانی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلامی لشکر کے محاصرے سے گھبرا کر یہودیوں نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ ہم ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ہم حضرت ابو البابہ بشیر بن منذر رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ( ابو البابہ کنیت ہے اور بشیر بن منذر نام ہے) حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ بنو قریظہ کے حلیف تھے اور ان کے تعلقات ان لوگوں سے بہت اچھے تھے اور ان کے کھجور کے باغات یا کھیتیاں اور گھر یہ سب بنو قریظہ کے پڑوس میں تھے۔ حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ جب قلعہ کے اندر بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس پہنچے تو تمام مرد ، عورتیں اور بچے دوڑ کر ان کے پاس آئے اور عورتیں انھیں دیکھ کر زور زور سے رونے لگیں۔ انہیں روتا دیکھ کر بچے بھی رونے لگے۔ یہودیوں نے ان سے پوچھا: ’’ کیا ہم ہتھیار ڈال دیں؟ ‘‘ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہاں۔‘‘ اور ساتھ ہی اشارے سے حلق پر ہاتھ پھیر کر بتایا کہ تمہیں ذبح کر دیا جائے گا۔ لیکن فوراً ہی حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کو یہ احساس ہو گیا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کر دی ہے۔ (یعنی اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جس بات کا حکم نہیں دیا تھا یا جس بات کے بارے میں ابھی حکم نہیں آیا تھا وہ بات اشارے سے کہہ دی ) اور اسی وقت وہاں سے سیدھا مسجد نبوی میں آئے اور اپنے آپ کو ستون ( مسجد نبوی کی چھت کو سنبھالنے کے لئے گاڑے گئے کھجور کے تنوں میں سے ایک تنے) سے اپنے آپ بندھوا لیا اور عہد کیا کہ جب تک اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول نہیں کرے گا تب تک اسی طرح بندھا رہوں گا اور بنو قریظہ میں جہا ں میں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیانت کی ہے وہاں نہیں جائوں گا۔ جب حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کو واپسی میں دیر ہوئی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں دریافت فرمایا تو پورا واقعہ بتایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو البابہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا۔ اب انھوں نے خود اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی ہے تو جب تک اللہ تعالیٰ انھیں معاف نہیں فرمائے گا تب تک میں بھی انھیں ستون سے نہیں کھول سکتا۔ ‘‘
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حَکم ( فیصلہ کرنے والا) بنایا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کے ساتھ بنو قریظہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے بندھوا لیا تھا۔ ( حضرت ابو البابہ کا ذکر آگے آئے گا) ادھر بنو قریظہ نے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق یہودیوں کے تمام مردوں کے ہاتھ پائوں بندھوادیئے تھے اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ( جو پہلے یہودی تھے لیکن جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تب اسلام قبول کر لیا تھا) کو عورتو ں اور بچوں کا نگراں بنایا گیا تھا۔ بنو قریظہ کے یہودیوں کے قبیلہ اوس کے انصار سے بہت اچھے اور پرانے تعلقات تھے۔ اس لئے اوس کے لوگوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بنو قینقاع کے یہودیوں کی طرح انہیں بھی جلا وطن کر دیا جائے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر ان لوگوں کا فیصلہ تمہارے سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کریں گے تو تم تسلیم کر لو گے؟ ‘‘قبیلہ اوس کے لوگوں نے ( اور یہودیوں نے ) کہا: ’’ ہم اپنے سردار کے فیصلہ کو قبول کریں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ٹھیک ہے !سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلائو بنو قریظہ کے یہودیوں کا فیصلہ وہی کریں گے۔‘‘ آپ کو یاد ہو گا کہ غزوہ خندق میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک تیر آکر لگا تھا جس کی وجہ سے ان کی نبض کی رگ کٹ گئی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو علاج کی خاطر مدینہ منورہ میں ہی چھوڑ دیا تھا۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے حکم پر بنو قریظہ قلعہ سے نیچے آئے تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لئے پیغام بھیجا۔ پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے خچر پر سوار ہو کر چل پڑے اور جب ( بنو قریظہ میں ) مسجد کے قریب آگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ’’ اپنے سردار یا اپنے بہترین فرد کے لئے کھڑے ہو جائو۔‘‘ ( یا اپنے سردار یا بہترین فرد کو کھڑے ہو کر سواری سے اتارو۔ کیوں کہ آپ رضی اللہ عنہ زخم سے خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے کمزوری کا شکار ہو گئے تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ یہ لوگ تمہارے حکم پر قلعہ سے اتر آئے ہیں ان کا فیصلہ کر دو۔‘‘ انھوں نے فیصلہ دیا کہ جو افراد لڑنے کے قابل ہیں ان کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور یہ بھی فرماتے کہ فرشتہ کے حکم کے مطابق۔‘‘ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کے ( بنو قریظہ کے یہودیوں کے ) بارے میں وہ فیصلہ فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر فیصلہ فرمایا ہے۔‘‘ ایک اور روایت میںحضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے سعد رضی اللہ عنہ ! ان کا فیصلہ کریں ۔ ‘‘ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے درمیان فیصلہ کریں۔ ‘‘
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی شہادت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر عمل کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کو لے کر مدینہ منورہ واپس آئے اور مسجد نبوی کے صحن میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا خیمہ لگا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس تیمار داری کر رہے تھے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ غزوہ خندق میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو قریش کے ایک کافر حبان بن عرقہ کا تیر لگ گیا تھا جو ان کی رگِ نبض میں لگا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے مسجد نبوی میں خیمہ لگوادیا۔ تا کہ تیمار داری میں آسانی رہے۔ غزوہ بنو قریظہ میں قیدیوں کا فیصلہ کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو بلوایا کیوں کہ فریقین نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو حَکم ( فیصلہ کرنیوالا) تسلیم کر لیا تھا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا کہ جو لڑنے کے قابل مرد ہیں انھیں قتل کر دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی اور غلام بنالیا جائے اور ان کے مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس کے بعد ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آ گے فرماتی ہیں: ’’ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یو ںدعا کی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! تُو جانتا ہے کہ مجھے اس بات سے زیادہ پیاری کوئی چیز نہیں ہے کہ میں اس قوم سے جہاد کرتا رہوں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا۔ ( یعنی رسول ماننے سے انکار کر دیا) اور انہیں وطن سے نکال دیا۔ میرے خیال سے تو نے ہمارے اور قریش کے کافروں کے درمیان لڑائی ختم کر دی ہے۔ اگر قریش سے لڑنا ابھی باقی ہے تو مجھے زندگی عطا فرما تا کہ میں تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ان سے جہاد کروں اور اگر تو نے ان کے ساتھ ہماری لڑائی ختم فرمادی ہے تو میرے اسی زخم کو جاری کر دے اور اسی زخم کے ذریعے مجھے شہادت کی موت عطا فرما۔‘‘ پس ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا۔ جو مسجد میں ان کے خیمے سے بنو غفار کی طرف بہہ کر آنے لگا۔ وہ لوگ کہنے لگے : ’’ اے خیمے والو !یہ تمہاری طرف سے کیا چیز بہہ کر آرہی ہے؟ ‘‘پھر انہیں معلوم ہوا کہ یہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا خون ہے اور وہ اسی زخم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ گئے۔
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر فرشتوں کی حاضری
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنو قریظہ سے واپس آئے مدینہ منورہ آئے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا خیمہ مسجد نبوی کے صحن میں لگوایا تا کہ اپنی نگرانی میں ان کا علاج کروائیں ۔ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ جس وقت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا وہ رات کا وقت تھا۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام استبرق کا عمامہ باندھے ہوئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسے کون سے بزرگ کا انتقال ہو ا ہے کہ جس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ’عرش ِ اعظم‘‘ ہل گیا ہے؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فوراً اٹھے اور اپنی چادر لپیٹتے ہوئے تیزی سے مسجد نبوی کے صحن میں لگے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے خیمے میں پہنچ کر دیکھا تو آپ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو چکا تھا۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ایک مرتبہ حضرت اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے ( حج یا عمرہ کر کے ) واپس آرہی تھیں کہ راستے میں حضرت اُسید رضی اللہ عنہ کو ایک عورت کے انتقال کی خبر ملی تو آپ رضی اللہ عنہ بہت غمگین ہو گئے یہ دیکھ کر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ اے اُسید بن حضیر رضی اللہ عنہ! تم ایک عورت کے انتقال پر اتنے غمگین ہو گئے ہو جب کہ تمہارے چچا زاد بھائی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو ا تھا تو ’’عرشِ اعظم ‘‘ہل گیا تھا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی) روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ایک جسیم ( لمبے چوڑے ) آدمی تھے۔ جب لوگوں نے ان کا جنازہ اٹھایا تو اس کو بہت ہلکا پایا۔ مسلمان کہنے لگے : ’’ اللہ کی قسم ! اتنے جسیم آدمی کا اس قدر ہلکا جنازہ اس سے پہلے نہیں دیکھا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی یہ گفتگو سنی تو فرمایا: ’’ اس جنازے کو اٹھانے والے تم لوگوں کے علاوہ اور لوگ ( فرشتے) بھی ہیں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ملائکہ ( فرشتے) حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی روح کے ساتھ بشارت حاصل کر رہے ہیں اور عرش ہل گیا ہے۔ ‘‘حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جس وقت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا اس وقت ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تسبیح پڑھی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تسبیح پڑھی۔ انھوں نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی تکبیر کہی۔ پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !تسبیح اور تکبیر کس لئے؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس نیک بندہ پر قبر تنگ ہو رہی تھی۔ ( اس لئے تسبیح اور تکبیر پڑھی) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کشادہ کر دیا۔ ‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ ہر شخص پر قبر تنگ ہوتی ہے۔ ( انبیائے کرام کے علاوہ) اگر اس سے نجات پانے والا کوئی تھا تو وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے۔‘‘ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت سے عرش ہل گیا۔‘‘ ( صحیح بخاری ) ایک روایت میں ہے کہ آسمان کے تمام دروازے کھول دیئے گئے اور آسمانوں کے فرشتے ان کی روح کے چڑھنے سے مسرور ہوئے۔ ( فتح الباری) اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازہ میں شریک ہوئے جو اس سے پہلے کبھی زمین پر نہیں آئے تھے۔ ( البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر)
حضرت ابو البابہ بشیر بن منذر رضی اللہ عنہ کی توبہ کی قبولیت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس دن غزوہ بنو قریظہ سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اس کے چھٹے دن یا چھ دن بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوالبابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ کو قبول کیا۔ ( آپ کو یاد ہو گا کہ حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو اشارے سے بتایا تھا کہ ذبح کئے جائو گے اور پھر انھیں احساس ہوا کہ میں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیانت کی ہے تو انھوں نے مسجد نبوی میں ایک ستون سے بندھوا لیا تھا۔ حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ ستون سے بندھے رہتے تھے جب نماز کا وقت ہوتا تھا تو ان کی بیوی ( رضی اللہ عنہا) انھیں کھول دیتی تھیں اور نماز کے بعد باندھ دیا کرتی تھیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے انکی توبہ کی قبولیت کی آیت نازل فرمائی تو اس وقت رات کا وقت تھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُم المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے تو ام المومنین سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے دریافت کرنے پر بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کی توبہ قبول فرما لی ہے۔ اُم المومنین رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ مسکراتا رکھے۔‘‘ اس وقت پردے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس لئے اُم المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ خوش خبری مجھے سنانے کی اجازت دی جائے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حجرے کا دروازہ کھولا جو مسجد نبوی میں کھلتا تھا ( تمام اُمہات المومنین کے حجرے مسجد نبوی کی دیوار سے لگ کر تھے اور ہر اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے حجرے کا ایک دروازہ مسجد نبوی میں کھلتا تھا۔ تا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں آنے جانے کی آسانی رہے) اور حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کو توبہ قبول ہونے کی خوش خبری دی۔ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس وقت مسجد نبوی میں موجود تھے وہ حضرت ابوا لبابہ رضی اللہ عنہ کو کھولنے کیلئے دوڑ پڑے۔ حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ کوئی مجھے نہ کھولے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے دستِ مبارک سے کھولیں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز کے لئے مسجد نبوی میں آئے تو حضرت ابو البابہ رضی اللہ عنہ کو کھولا۔
اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ذی القعدہ 5 ہجری میں غزوہ بنو قریظہ سے مدینہ منورہ واپس آئے اور اُم المومنین سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ اس نکاح کی تاریخ میں مختلف روایات ہیں کچھ روایات میں ہے کہ نکاح 3 ہجری میں ہوا اور کچھ روایات میں ہے کہ نکاح 5 ہجری میں ہوا۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اُم المومنین سید ہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی اُمیمہ بنت عبدا لمطلب کی بیٹی ہیں۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا تو انھوں نے دو رکعت نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی: ’’ اے اللہ تعالیٰ ! تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ اگر میں تیرے نزدیک ان کی زوجہ ( بیوی) بننے کے لائق ہوں تو اے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ میرا نکاح فرما دے۔‘‘ اللہ تعا لیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور سورہ احزاب کی آیت نمبر 37نازل فرمائی ۔ اس آیت کے نزول کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا :’’ کون ہے جو زینب رضی اللہ عنہا کے پاس جائے اور اسے یہ خوش خبری سنائے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نکاح ان کے ساتھ فرما دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر ایک خادمہ دوڑتی ہوئی سیدہ زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور یہ آیت سنا کر خوش خبری دی۔ انھوں نے خوش ہو کر اس خادمہ کو اپنا زیور اتا ر کر انعام میں دیا اور خود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر پڑیں۔ اور شکرانے کے طور پر لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔
سریہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ 6 ہجری
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بنو قریظہ کے بعد سے مدینہ منورہ میں ہی تشریف فرما رہے اور پانچ ہجری 5 کا ذی القعدہ اور ذی الحجہ کے مہینے مدینہ منورہ میں گزارے۔ محرم الحرام6 ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنا کر تیس مجاہدین کا لشکر دے کر قرطا کی جانب روانہ فرمایا۔ انھوں نے وہاں جا کر حملہ کیا۔ کافروں کے دس آدمی قتل ہوئے اور باقی بھاگ گئے۔ مالِ غنیمت کے طور پر مسلمانوں کے ہاتھ ڈیڑھ سو150اونٹ اور تین ہزار بکریاں لگیں۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ یہ سب لے کر اُنیس 19دنوں بعد 29محرم الحرام کو مدینہ منورہ پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم فرمائی اور ایک اونٹ کو دس بکریوں کے قرار دیا۔
حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں جو سریہ بھیجا تھا ان سے مقابلے کے دوران قبیلہ بنو حنیف کے سردار حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ گرفتار ہو گئے تھے اور مسلمان انہیں لے کر مدینہ منورہ آئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ لوگ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر کے لائے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی کے ایک ستون سے باندھنے کا حکم دیااور آپ رضی اللہ عنہ کو باندھ دیا گیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے ان کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ’’ اے ثمامہ ( رضی اللہ عنہ) میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ میرا گمان یا خیال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اچھا ہے۔‘‘ ( یعنی میں خیال کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ اچھا سلوک کریں گے) اور آگے عرض کیا: ’’ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے قتل کریں گے تو ایک خونی کو قتل کریں گے جو یقینا قتل کا مستحق ہے اور اگر احسان اور انعام فرمائیں گے تو یہ شکر ادا کرنے والے پر احسا ن ہو گااور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( فدیہ میں ) مال چاہیئے تو جتنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں گے میں حاضر کر دوں گا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموشی سے نماز پڑھانے چلے گئے۔ دوسرے دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان سے دریافت فرمایا تو انھوں نے صرف اتنا کہا : ’’ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسان فرمائیں تو یہ ایک شکر ادا کرنے والے پر احسان ہوگا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر پھر خاموشی سے چلے گئے۔ تیسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سوال دہرایا تو انھوںنے وہی جواب دیا اور صرف اتنا عرض کیا : ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر احسان کردیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ ثمامہبن اثال ( رضی اللہ عنہ) کو کھول دو۔ ‘‘( یہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے ۔ اور محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ ) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اے ثمامہ ( رضی اللہ عنہ) میں نے تم کو معاف کیا اور آزاد کر دیا۔‘‘ حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا دل تین دونوںمیں اسلام کی طرف مائل ہو گیا تھا اس لئے آزاد ہو تے ہی وہ مسجد نبوی کے قریب ایک نخلستان میں گئے اور وہاں غسل کیا اور پھر واپس مسجد میں آئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ ‘‘اور اسلام قبول کر لیا۔
سید الانبیاء ﷺ کے حکم پر کافروں پر احسان کیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا تو عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زیادہ مبغوض چہرہ کوئی نہیں تھا اور آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے زیادہ پیارا اور محبوب کوئی چہرہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین ( اسلام) سے زیادہ مبغوض کوئی دین نہیں تھااور آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین ( اسلام) سے زیادہ پیارا اور محبوب دین مجھے کوئی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر سے زیادہ مبغوض شہر کوئی نہیں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر مجھے سب سے زیادہ پیار ااور محبوب ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میرا عمرہ کرنے کا ارادہ تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں کہ میں کیا کروں؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم مکہ مکرمہ جا کر عمرہ کرواور بشارت دی‘‘( یعنی تم محفوظ رہو گے اور تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ آئے تو کسی کافر نے آپ رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ تُوبے دین ہو گیا ہے؟‘‘انھوں نے جواب میں فرمایا: ’’ ہرگز نہیں!میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمان ہو گیا ہوں اور کفر اور شرک کوئی دین نہیں ہے بلکہ ایک لغو اور بے ہودہ خیال ہے اور اسلام اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے۔ یہ دین قبول کر کے میں اللہ تعالیٰ کا اطاعت گذار اور فرماں بردار بندہ بن گیا ہوں اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے اور سپرد کردیا ہوں۔ اللہ کی قسم! اب کفر اورشرک کی طرف کبھی رجوع نہیں کروں گا اور خوب سمجھ لو کہ یمامہ سے جو غلّہ تمہارے پاس آتا ہے اب ایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں آئے گا اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں گے تب ہی تمہارے پاس غلہ بھیجا جائے گا۔‘‘اور یمامہ جا کر مکہ مکرمہ کی طرف جانے والا غلہ بند کر وا دیا۔ قریش نے مجبور ہو کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گزارش لکھ کر بھیجی : ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو صلہ رحمی ( یعنی لوگوں پر رحم کرنے ) کا حکم دیتے ہیںاور ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ دار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم !حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیں کہ غلّہ کی روانگی جاری کر دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کو خط لکھوا کر بھیجا کہ قریش کو غلہ روانہ کر دیں۔ ( تو آپ رضی اللہ عنہ دوبارہ قریش کو غلہ بھیجنے لگے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مسیلمہ کذاب نے اپنی جھوٹی نبوت کا اعلان کیا اور یمامہ کے لو گ مرتد ہو گئے تو حضرت ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ نے سورہ المومن کی آیت نمبر3تلاوت فرمائی اور لوگوں کو سمجھایا توا ن اخلاص میں ڈوبے کلمات کا کافی لوگوں پر اثر ہوا اور تین ہزار سے زیادہ لوگ مسیلمہ کذاب کا ساتھ چھوڑ کر اسلام کی آغوش میں آگئے۔
غزوہ بنو لحیان
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سو مجاہدین کو لیا اور مدینہ منورہ میں حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا اور یکم ربیع الاول 6 ہجری کو روانہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے نکل کر ضراب ، فحیض اور البہترا کے راستے سے ہوتے ہوئے ذات الیسار کی طرف گھومے پھر صخیرات الشمام سے ہوتے ہوئے السیالہ کی سیدھا راستہ اختیار کیا اور غمران میں اترے جہان بنو لحیان کے مکانات تھے۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہو ا کہ بنو لحیان کے لوگ اپنے مکانات کو چھوڑ کر پہاڑوں میں روپوش ( چھپ ) ہو گئے۔ اس کے بعد یہاں سے چل کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وادی عسفان میں جا کر اترے ۔ اس کے بعد مدینہ منورہ واپس آگئے۔ مدینہ منورہ واپس ہوتے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : ’’ ہم رجوع کرنے والے ہیں۔ توبہ کرنے والے ہیں۔ اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں اور اپنے رب ( اللہ تعالیٰ کی حمد کرنے والے ہیں۔‘‘ یہ سفر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے اختیار کیا تھا۔ جنھوں نے اصحاب رجیع کو شہید کیا ۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!




