پیر، 3 جولائی، 2023

23 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


سیرت سید الانبیاء ﷺ 23

بادشاہوں کو اسلام کی دعوت ۔ قسط 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


دشمن کی گواہی، انبیاء ایسے ہی ہوتے ہیں، حکومت کے لالچ میں ہرقل نے اسلام قبول نہیں کیا، مصر کے باشاہ مقوقش کو اسلام کی دعوت، کسریٰ سلطنت ِ فارس کے بادشاہ کے نام خط، کسریٰ کا مبارک خط کے ٹکڑے کرنا اور بھیانک انجام


سید الانبیاء ﷺ کے بارے میں ابو سفیان کی گواہی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قیصر روم روقل دریافت کرنے لگا۔ ابو سفیان آگے کہتے ہیں : ’’ ہرقل نے مجھ سے سب سے پہلا سوال کیا کہ وہ (یعنی نبوت کا اعلان کرنے والا) تم لوگوں میں نسب کے لحاظ سے کیسا ہے؟ ‘‘میں نے کہا وہ ہم میں اونچے نسب والا ہے۔ ہرقل نے پوچھا : ’’ تمہاری قوم میں سے اس سے پہلے کبھی کسی نے ایسا دعویٰ کیا ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا : ’’ نہیں۔‘‘ اس نے پوچھا : ’’ اس شخص کے آباو اجداد میں کوئی بادشاہ گذرا ہے؟ ‘‘میں نے کہا: ’’ نہیں ۔ ‘‘ہرقل نے پوچھا: ’’ اس کے پیرو کار وں میں بڑے لو گ (یعنی امیر لوگ اور سردار لوگ) زیادہ ہیں یا کمزور لوگ؟ ‘‘میں نے جواب دیا : ’’ کمزور لوگ۔ ‘‘ہرقل نے پھر پوچھا : ’’ اس کے ماننے والوںیعنی پیروکاروں کی تعدا دبڑھ رہی ہے یا کم ہو رہی ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا:’’بڑھ رہی ہے۔ ‘‘ہرقل نے پوچھا: ’’ اس کے دین میں داخل ہونے کے بعد کسی نے اس دین ( اسلام) کو چھوڑا ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا : ’’ نہیں ۔‘‘ اس نے پوچھا : ’’ کبھی اس شخص نے وعدہ خلافی کی ہے۔ ‘‘میں نے کہا: ’’نہیں ! ہاں البتہ آج کل اس کے ساتھ ایک معاہدہ چل رہا ہے۔ ( یعنی صلح حدیبیہ) دیکھیں وہ کیا کرتا ہے؟‘‘ ابو سفیان کہتے ہیں: ’’ مجھے ان باتوں کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا کہ کچھ اور کہوں۔‘‘ ہرقل نے پوچھا: ’’ کبھی اس سے جنگ ہوئی ہے۔ ‘‘میں نے کہا: ’’ہاں ۔ ‘‘ہرقل بولا:’’ نتیجہ کیا رہا؟ ‘‘میں نے کہا :’’ ہمارے درمیان جنگ ڈول کی طرح رہتی ہے۔ کبھی وہ بھر لیتے ہیں اور کبھی ہم۔‘‘ (یعنی کبھی وہ حاوی ہوتے ہیں کبھی ہم) ہرقل نے پوچھا : ’’ وہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کس بات کی دعوت دیتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’ وہ ایک اللہ کی عبادت اور بندگی کرنے کو کہتے ہیں اور شرک سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شرک آمیز باتیں جو تمہارے آباو اجداد کرتے تھے انہیں چھوڑ دو ۔ وہ ہمیں نماز ، سچائی، ( گناہوں سے) پرہیز گاری اور صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ ‘‘

انبیاء ایسے ہی ہوتے ہیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہرقل نے تفصیل سے ابو سفیان سے پوچھا۔اس کے بعد آگے ابو سفیان کہتے ہیں : ’’ہر قل نے کہا : ’’ میں نے تم سے ان ( صلی اللہ علیہ وسلم)کا نسب پوچھا تو تم نے ’’شریف النسب ‘‘بتایا اور واقعی تمام انبیاء اپنی قوم میں سب سے’’ عالی نسب‘‘ ہوا کرتے ہیں۔ میں نے تم سے دریافت کیا کہ تمہاری قوم میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو تم نے کہا نہیں۔ اگر ایسا دعویٰ اُن (صلی اللہ علیہ وسلم)سے پہلے کوئی کر چکا ہوتا تو میں سمجھتا یہ اس کی نقل کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا۔ ان کے آبائو اجداد میں کوئی بادشاہ گزرا ہے ؟تم نے کہا نہیں۔ اگر ان (صلی اللہ علیہ وسلم)کے والدین میں سے کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو میں کہتا کہ وہ اپنے آبائو اجداد کی سلطنت دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا کہ انہیں ’’اعلان ِ نبوت ‘‘سے پہلے کبھی جھوٹ بولتے دیکھاتو تم نے کہا۔ نہیں۔ تو مجھے یقین ہو گیا کہ جو شخص بندوں سے جھوٹ نہیں بولتا وہ اللہ پر جھوٹ نہیں بول سکتا۔ میں نے پوچھا اس کے پیرو کاروں میں ( اکثریت) امیر لوگوں کی ہے یا غریب لوگوں کی تو تم نے بتایا کہ کمزور لوگوں نے ان ( صلی اللہ علیہ وسلم)کی اطاعت کی ہے۔ (حقیقت یہ ہے کہ ) انبیائے کرام کی اطاعت (شروع میں ) کمزور لوگ ہی کرتے ہیں۔ میں نے تم سے پوچھا کہ ان (صلی اللہ علیہ وسلم)کے پیرو کار بڑھ رہے ہیں یا کم ہو رہے ہیں تو تم نے بتایا کہ روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ( حقیقت یہی ہے کہ) ایمان کے درجہ ٔ کمال تک پہنچنے کی کیفیت یہی ہوتی ہے۔ میں نے تم سے پوچھا کوئی ان(صلی اللہ علیہ وسلم)کے دین میں داخل ہونے کے بعد باہر آتا ہے کیا ؟ تو تم نے کہا ۔ نہیں۔ ایمان کی یہی صورت ہے کہ جب اس کی مسرت دل میں جذب ہو جاتی ہے تو باہر نہیں نکلتی۔ میں نے تم سے پوچھا کہ کیاوہ ( صلی اللہ علیہ وسلم)وعدہ خلافی کرتے ہیں تو تم نے جواب دیا ۔ نہیں۔ اور واقعی انبیاء کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتے۔ میں نے تم نے پوچھا وہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کیا کہتے ہیں۔ تم نے بتایا کہ وہ اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنے سے منع کرنے کا حکم دیتے ہیں اور پرہیز گاری ( گناہوں سے بچنے) کی تعلیم دیتے ہیں۔ اگر تمہاری بتائی ہوئی باتیں سچ ہیں تو عنقریب وہ (صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اطاعت کرنے والے مسلمان) اس جگہ کے مالک ہو جائیں گے۔ جہان آج یہ میرے پائوں ہیں۔‘‘ ( یعنی جس جگہ میں بیٹھا ہوا ہوں)

ہر قل نے تسلیم کیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اتنا کہنے کے بعد ہرقل نے آگے کہا۔ ابو سفیان آگے کہتے ہیں : ’’ ہر قل نے آگے کہا : ’’مجھے سابقہ کتابوں ( توریت اور انجیل) سے معلوم ہوا ہے کہ وہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ظاہر ہونے والے ہیں۔ البتہ یہ علم نہیں تھا کہ وہ (صلی اللہ علیہ وسلم )تم میں آئیں گے۔ اگر مجھے علم ہوتا کہ میں ان(صلی اللہ علیہ وسلم ) تک پہنچ سکوں گا تو میں اُن(صلی اللہ علیہ وسلم )سے ضرور ملتا اور اگر میں ان (صلی اللہ علیہ وسلم )کے پاس ہوتا تو ان کے پائوں دھو کر پیتا۔‘‘ اس کے بعد ہرقل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ خط جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں امیر بصرہ کے پاس بھیجا تھا اور امیر بصرہ نے اسے ہرقل کے پاس بھیج دیا تھا منگایا اور اسے پڑھوایا۔ ابو سفیان کہتے ہیں : ’’ وہ خط بلند آواز سے پڑھا گیا۔‘‘ ( صحیح بخاری کی اس حدیث میں پورا مضمون خط کا وہی لکھا ہے جو ہم اس سے پہلے آپ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں) خط مکمل ہونے کے بعد دربار میں ہلچل مچ گئی اور درباریوں اور روم کے علماء کی آوازیں بلند ہونے لگیںتو ہمیں (ابو سفیان اور ان کے ساتھیوں کو) دربار سے باہر نکال دیا گیا۔ (باہر آنے کے بعد) میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا:’’ ابو کیشہ کے بیٹے( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) کا مقام تو بہت بڑھ گیا ہے کہ سلطنت روم ( اس وقت کی سوپر پاور) کا بادشاہ بھی ڈرتا ہے۔ پس اس کے بعد سے مجھے یقین سا ہونے لگا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )ضرور غالب آئیں گے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔‘‘ ابو سفیان کا بیان یہاں مکمل ہوا۔ لیکن صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے۔

ہر قل کی تحقیق

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہرقل نے ابو سفیان سے جو تحقیق کی وہ ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کی۔ یہاں ابو سفیان کا بیان مکمل ہو گیا ہے۔ لیکن صحیح بخاری کی اس حدیث میں امام بخاری آگے لکھتے ہیں ۔ ابن ناطور جو ایلیا کا حاکم اور ہرقل کا درباری اورملک شام کے نصاریٰ ( عیسائیوں) کا سب سے بڑا پادری(جسے آج بھی عیسائی لوگ پوپ یا فادر کہتے ہیں) تھا۔ اس کا بیان ہے کہ ہرقل جب ایلیا ( بیت المقدس) آیا تو ایک دن صبح بیدار ہوا تو بہت افسردہ تھا۔ اس کے درباریوں نے افسردگی ( اداسی) کی وجہ پوچھی۔ ابن ناطور کا کہنا ہے کہ ہرقل خود بھی کاہن اور ماہر نجوم ( ستاروں کا عالم) تھا۔ درباریوں سے اداسی کی وجہ پوچھنے پر اس نے بتایا : ’’ کل رات میں نے ستاروں پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ایک ختنہ کرنے والا بادشاہ ( تمام دنیا یا بادشاہوں پر ) غالب آگیا ہے۔ ( تم لوگ یہ پتہ لگائو کہ) اس زمانے میں ختنہ کون لوگ کرواتے ہیں؟ ‘‘ درباریوں اور عیسائی علماء نے کہا: ’’ یہ یہودیوں کا طریقہ ہے۔ لیکن یہودیوں سے آپ کوئی خطرہ محسوس نہ کریں اور سلطنت روم کے تمام بڑے شہروں میں حکم بھیج دیں کہ تمام یہودیوں کو قتل کر دیا جائے۔ ‘‘( اس وقت سلطنت روم یعنی عیسائیوں کی حکومت آدھی دنیا سے زیادہ علاقوں پر تھی۔ امریکہ اس وقت دریافت نہیں ہوا تھا اور پورے یورپ اور لگ بھگ آدھے افریقہ پر عیسائیوں کی حکومت تھی اور عیسائی حکومتیں یہودیوں کو غلام جیسا بنا کر رکھتی تھیں۔ کیوں کہ عیسائیوں کو یقین تھا کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوا یا ہے) ابھی ہر قل اور اس کے درباری سوچ بچار میں تھے کہ غسّان کے گورنر کا بھیجا ہوا قاصد آیا اور اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتایا تو ہرقل نے اپنے درباریوں سے کہا: ’’ جائو اور دیکھو کہ اُن (صلی اللہ علیہ وسلم )کی قوم کے لوگ ختنہ کرتے ہیں یا نہیں؟ ‘‘ درباریوں نے کہا :’’ وہ (صلی اللہ علیہ وسلم )عرب کے ہیں اور عرب کے لوگ ختنہ کرتے ہیں۔ ‘‘یہ سن کر ہرقل بولا: ’’ یہی رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) آج کے دور کے بادشاہ ہیں جو ظاہر ہو چکے ہیں۔‘‘ صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے۔

حکومت کے لالچ میں ہرقل نے اسلام قبول نہیں کیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہرقل نے تحقیق کی اور تسلیم کر لیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حق پر ہیں۔ صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ ہرقل نے یہ تمام تفصیلات اپنے ایک دوست کو لکھ کر بھیجی وہ بھی علم نجوم میں ہرقل کا ہم پلّہ تھا۔ ہرقل حمص روانہ ہو گیا۔ ابھی وہ حمص میں ہی تھا کہ اس کے دوست کا جوابی خط آگیا اور اس نے لکھا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے سلسلہ میں ہر قل کی رائے سے متفق ہے اور یہ وہی ’’آخری نبی‘‘ ہیں۔ ہرقل نے فوراً دربار لگانے کا حکم دیااور تمام درباری اور عیسائی علماء دربار میں حاضر ہوگئے تو ہرقل نے حکم دیا کہ محل کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں ۔ تمام دروازے بند کر دیئے گئے تو ہرقل دربار میں آکر تخت پر بیٹھا اور کہا: ’’ رومیو !کیا ہدایت اور کامیابی میں تمہارا بھی کچھ حصہ ہے؟ اور تم پسند کرتے ہو کہ تمہاری حکومت بھی رہے؟ اگر یہ سب تمہیں منظور ہو تو اس نبی(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیعت کر لو۔‘‘ (یعنی اسلام قبول کرلو)۔ یہ سننا تھا کہ تمام درباری اور عیسائی علماء وحشی گدھوں کی طرح دروازے کی طرف لپکے تو دروازوں کو بند پایا۔ ہرقل نے انہیں (اسلام قبول کرنے سے) اتنا متنفر پایا تو ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو گیا تو کہا : ’’ انہیں پھر میرے پاس لائو ۔‘‘جب انہیں ہرقل کے پاس لایا گیا تو اس نے کہا: ’’ میں نے ابھی جو کہا تھا وہ صرف تم لوگوں کو آزمانے کے لئے کہا تھاکہ دیکھوں کہ تم لوگ اپنے عقیدے میں کتنے مضبوط ہو اور مجھے یقین ہو گیا ہے کہ تم اپنے دین پر مضبوطی سے جمے ہو۔ ‘‘پس انہوں نے ہرقل کو سجدہ کیا اور اس سے راضی ہو گئے اور ہرقل کی یہ آخری حالت ہے۔

مصر کے باشاہ مقوقش کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مصر کے بادشاہ مقوقش کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے جو خط لکھوایا اس کا مضمون یہ ہے: ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول کی طرف سے مقوقش عظیم قبط کے نام! ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ مصریوں کو قبطی کہا جاتا تھا۔ ) سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ (یعنی اسلام قبول کرنے والے پر سلام) ۔ میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام قبول کر لو۔ سلامت رہو گے اور اللہ تعالیٰ تم کو دوہرا اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور اس دعوت سے منہ پھیرا تو تمام قبطیوں ( یعنی مصر کی عوام) کے اسلام قبول نہیں کرنے کا گناہ تم پر ہوگا۔ اے اہل کتاب( مقوقش اور مصر کے لوگ عیسائی تھے ) آئو ایسی سیدھی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں(مشترک یا ایک جیسی) ہے۔ وہ یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہم میں سے ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ پس اگر اس کے بعد وہ منہ پھیر لیں۔ یعنی( اسلام قبول نہ کریں) تو کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔ یہ خط لکھوا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر مہر لگائی اور حضرت حاطب بن ابی بلتع رضی اللہ عنہ کو دے کر مصر کے بادشاہ مقوقش کے پاس روانہ فرمایا۔

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ مقوقش کے دربار میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو سفیر بنا کر مصر کے بادشاہ مقوقش کے پاس بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ ملک مصر پہنچے تو معلوم ہوا کہ مقوقش اسکندریہ میں ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ اسکندریہ پہنچے تو دیکھا کہ بادشاہ اپنے محل کے جھروکے میں بیٹھا ہوا ہے۔ وہ محل دریا سے لگ کر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے نیچے سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط بتایا تو بادشاہ مقوقش نے انہیں اندر بلانے کا حکم دیا۔ حضرت حاطب بن ابی بلتع رضی اللہ عنہ اندر پہنچے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط قریش کو پیش کیا۔ اس نے عزت اور احترام سے خط لیا اور پڑھا۔

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر کی مصر کے بادشاہ سے گفتگو

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مصر اور اسکندریہ کے بادشاہ مقوقش کی طرف بھیجا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر اس کے پاس پہنچا تو اس نے مجھے اپنے محل میں ٹھہرایا اور میں مہمان خانے میں مقیم رہا۔ پھر اس نے مجھے اپنے دربار میں بلایا۔ جہاں تمام سردار ، امراء اور علماء جمع تھے۔ مقوقش نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا: ’’ میں تم سے ایک بات کہتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ وہ بات تم مجھ سے سمجھ لو۔‘‘ میں نے کہا : ’’کہیئے کیا بات ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’مجھے تم اپنے آقا(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں بتائو۔ کیا واقعی وہ نبی ہیں؟ اور اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؟ ‘‘ میں نے جوابدیا: ’’ وہ یقینا نبی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘ اس نے کہا: ’’ پھر اُن (صلی اللہ علیہ وسلم )کو اس وقت کیا ہوا تھا جب اُن (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ان کی قوم نے ان کے شہر ( مکہ مکرمہ) سے دوسرے شہر ( مدینہ منورہ) کی طرف جانے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوںنے اپنی قوم کی ہلاکت کے لئے بد دعا کیوں نہیں کی؟ ‘‘ میں نے جواب دیا: ’’ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔‘‘ مقوقش نے جواب دیا: ’’ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔ ‘‘ میں نے کہا: ’’ ان کو اس وقت کیا ہوا تھا۔ جب اُن کی قوم ( بنی اسرائیل ) نے انہیں صلیب پر چڑھانا چاہا تھا۔ انہوں نے ان کے لئے بد دعا کیوں نہیں کی کہ اے اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کردے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں کی دنیا میں اپنے پاس بلا لیا۔ ‘‘یہ سن کر مقوقش نے کہا: ’’ تم عقلمند ہو اور عقلمند کے پاس سے آئے ہو۔ ‘‘

حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی تقریر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد مقوقش کے دربار میں ایک تقریر کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ (اے بادشاہ) آپ کو معلوم ہی ہے کہ ایک شخص اس ملک مصر میں گزرا ہے۔ جو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ ربّ اعلیٰ ہے۔ (یعنی فرعون) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو پکڑ لیا اور سزاد ی اور اسے ہلاک اور برباد کر دیا۔ تم اس سے عبرت حاصل کرو۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے تم سے عبرت حاصل کریں۔ ایک دین ہے جو تمہارے دین سے کہیں بہتر ہے۔ وہ دین اسلام ہے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایاہے کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے گا یا غلبہ عطا فرمائے گا۔ تمام ادیان ( دین کی جمع) اس کے سامنے ( یعنی اسلام کے سامنے) کمزور پڑ جائیں گے۔اللہ کے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مبعوث ہو کر لوگوں کو اس دین کی دعوت دی۔ اس بارے میں قریش سب سے سخت ثابت ہوئے۔ یہود ( بنی اسرائیل) سب سے زیادہ دشمن ثابت ہوئے اور نصاریٰ ( عیسائی) سب سے زیادہ قریب ثابت ہوئے۔ اللہ کی قسم ! حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی تھی۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی ہے اور ہمارا تم کو قرآن پاک کی طرف بلانا ایسا ہی ہے جیسے کہ تم اہل توریت کو انجیل کی طرف بلاتے ہو۔ ( یعنی یہودیوں کو) جو قوم جس نبی کو پائے وہ اس نبی کی امت ہے۔ ان کے ذمہ لازم ہے کہ وہ اس نبی کی اطاعت کریں۔ اور اے بادشاہ !تم بھی ان لوگوں میں ہو جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا۔ ہم تم کو دین مسیحی سے روکتے نہیں ہیں بلکہ حکم دیتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا اتباع کرو ۔‘‘ ( کیوں کہ وہ بھی دینِ اسلام ہی لے کر آئے تھے۔ )

مصر کے بادشاہ کے تاثرات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی تقریر کے جواب میں مصر کے بادشاہ مقوقش نے اپنے تاثرات بیان کئے اور کہا: ’’ میں نے ان بنی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں غور و فکر کیا تو یہ پایا کہ وہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) پسندیدہ باتوں اور کاموں کا حکم دیتے ہیں اور نا پسندیدہ باتوں اور کاموں سے روکتے ہیں۔ قابل نفرت چیزوں اور کاموں سے روکتے ہیں اور قابل رغبت چیزوں اور کاموں کا حکم دیتے ہیں۔ جادوگر اور گمراہ نہیں ہیں۔ کاہن اور جھوٹے نہیں ہیں۔ نبوت کی علامتیں میں ان میں پاتا ہوں۔ مثلاً ان کا غیب کی خبریں دینا۔ میں اس بارے میں غور کروں گا۔‘‘ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خط کو ہاتھی دانت کے ڈبہ میں بند کر کے اپنے خزانچی کو حکم دیا کہ اس کو حفاظت سے رکھے اور ایک کاتب کو بلا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کا جواب لکھوایا۔

سید الانبیاء ﷺ کے نام مصر کے بادشاہ کا خط اور تحفے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خط کے جواب میں مصر کے بادشاہ مقوقش نے کاتب کو بلوا کر جواب لکھوایا ۔ اس کا مضمون یہ ہے۔ ’’اللہ کے نام سے یہ خط محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے نام ہے۔ مقوقش سردار قبط کی طرف سے سلام ہو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )پر اما بعد ! میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے خط کو پڑھا اور اس کے مضمون کو سمجھا اور اس چیز کو سمجھا جس کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نے دعوت دی ہے۔ میں یقین سے جانتا ہوں کہ ایک نبی کا آنا باقی رہ گیا ہے۔ میرا گمان یہ تھا کہ شاید اس نبی کا ظہورملک شام سے ہوگا۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے قاصد کا اکرام اور احترام کیا۔ دو باندیاں ( کنیزیں) اور کچھ کپڑے اور خچر ہدیتاً آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کی خدمت میں بھیج رہا ہوں۔ والسلام‘‘ مقوقش نے تحفے میں جو دو کنیزیں بھیجی تھی۔ ان میں سے ایک کا نام ماریہ قبطیہ ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں داخل ہوئیں اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضر ت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں۔ دوسری کا نام سیرین ہے۔ سید الانبیاء صلیاللہ علیہ وسلم نے ان کو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عطا فرمادی اور خچر کا نام دُلدُل ہے۔ مقوقش نے اقرار کیا کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ لیکن اسلام قبول نہیں کیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ملک اور سلطنت کی وجہ سے اس نے اسلام قبول نہیں کیا ہے تو اس کا ملک اور سلطنت باقی نہیں رہ سکتی۔ ‘‘آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں پورا ہوا اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے مصر کو فتح کر کے اسلامی حکومت کا ایک صوبہ بنادیا۔

کسریٰ سلطنت ِ فارس کے بادشاہ کے نام خط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سلطنت فارس ( حالیہ ایران اور آس پاس کا علاقہ)کے بادشاہ کسریٰ کو خط لکھا۔ جس کا مضمون یہ ہے: ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم، محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسریٰ فارس کے بادشا ہ کے نام ۔ سلام ہے اُس شخص پر جو ہدایت کو تسلیم کرے اور اتباع کرے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ اکیلا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ میں تم کو اللہ کے حکم کے مطابق اس دین اسلام کی دعوت دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوں تمام لوگوں کی طرف ۔ تاکہ (اللہ کے عذاب سے ) ڈرائوں اس شخص کو جس کا دل زندہ ہے اور کافروں پراللہ کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حُجّت پوری ہو۔ اسلام قبول کرلو۔ سلامت رہو گے اور اگر تم نے منہ پھیرا ( یعنی اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا) تو تمام مجوس قوم کا گناہ تم پر ہوگا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو دے کر کسریٰ کی طرف روانہ فرمایا۔

کسریٰ نے مبارک خط کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط لے کر حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سفیر بن کر کسریٰ کے دربار میں پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط اسے دیا۔ کسریٰ نے خط پڑھنا شروع کیا اور خط کے شروع میں ہی اپنے نام سے پہلے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دیکھا تو گھمنڈ کی وجہ سے اس کو بہت غصہ آیا اور اس بد بخت نے مبارک خط کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ کے پاس اپنا مبارک خط بھیجا تو جب اس نے ( اپنے نام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام) پڑھا تو اسے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجوسیوں پر ان کا ملک (سلطنت فارس) پورے طور پر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔ ‘‘ ابن شہاب رحمتہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک خط جب کسریٰ کے پاس بھیجا تو اس بد بخت نے اسے پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کسریٰ نے اپنے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔‘‘

کسریٰ کا گھمنڈ اور اس کا قتل

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خط کے ساتھ بد بخت کسریٰ نے گستاخی کی اور اسی پر بس نہیں کیا۔ بلکہ یمن میں اپنے گورنر باذان کو خط لکھا اور حکم دیا کہ حجاز میں جو شخص ظاہر ہوا ہے۔ اس کے پاس اپنے دو بہادر آدمیوں کو روانہ کرو تاکہ وہ دونوں ان (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو میرے پاس لے کر آئیں تو باذان نے قہرمانہ اور ایک شخص کو بھیجا اور ان کے ہاتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ایک خط بھیجا اور اس میں لکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )ان دونوں کے ساتھ کسریٰ کے پاس تشریف لے جائیں۔ یہ دونوں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور باذان کا خط اور پیغام پہنچایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جائو کل صبح آنا۔‘‘ جب دوسرے دن صبح وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے کسریٰ کو قتل کرادیا ہے اور اس کے بیٹے شیرویہ کو اس پر غالب کر دیا ہے اور فلاں مہینے کی فلاں تاریخ کی رات کو شیرویہ نے اپنے باپ کسریٰ کو قتل کر دیا ہے اور خود کسریٰ بن گیا ۔‘‘ ان دونوں نے کہا: ’’ آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) جانتے ہیں کہ کیا فرما رہے ہیں؟ ہم یہ بات سلطنت فارس کے بادشاہ کسریٰ سے جا کر کہہ دیں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ضرور تم جا کر کہہ دینا اور میری طرف سے یہ بھی کہنا کہ میرا دین اور میری حکومت بہت جلد وہاں تک پہنچ جائے گی۔ جہاں تک کسریٰ کی حکومت ہے۔ یہی نہیں بلکہ جہاں تک گھوڑا سوار اور پیدل پہنچ سکتے ہیں۔ وہاں تک میرا دین اور میری حکومت پہنچے گی اور تم دونوں اس سے ( باذان سے) کہنا اگر تم اسلام قبول کر لو گے تو تمہاری حکومت تمہارے ہاتھ میں رہے گی۔‘‘

باذان کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک باذان کے پاس جا کر ان دونوں نے سنایا اور پورا واقعہ بیان کیا۔ یہ سن کر باذان حیرت زدہ رہ گیا اور بولا : ’’یہ کسی بادشاہ کا فرمان نہیں ہے اور جو کچھ انہوں نے ( یعنی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا ہے۔ ہم ضرور اسے آزمائیں گے کہ وہ ہوتا ہے یا نہیں۔ کچھ ہی دنوں بعد شیرویہ کا خط باذان کے پاس آیا۔ جس میں لکھا تھا : ’’ میں نے فارس کے فائدے کے لئے اپنے باپ کسریٰ کا قتل کر دیا ۔ اب اپنے عہدے داروں سے میری وفا داری کا عہد لو اور اس شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو غصہ نہ دلائو جس کے لئے کسریٰ نے تمہیں خط لکھا تھا۔‘‘ جب باذان نے یہ خط پڑھا تو کہا : ’’ بے شک !یہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی اور رسول ہے۔‘‘ اور اس نے اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھ بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ باذان نے قہر مانہ سے پوچھا : ’’ تم نے ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس شان میں دیکھا تھا؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ ان ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے گفتگو کرتے وقت ان (صلی اللہ علیہ وسلم )کا ایسا رعب مجھ پر طاری ہو ا کہ میں تھر تھر کانپ رہا تھا۔‘‘ باذان نے پوچھا : ’’ کیا اُن(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس نگہبان ( باڈی گارڈ) ہیں۔‘‘ قہرمانہ نے کہا: ’’ نہیں ۔‘‘

یمامہ کے حکمراں کو اسلام کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یمامہ کے حکمراں ہوذہ بن علی کے نام ایک خط لکھوایا۔ اس خط کا مضمون یہ ہے’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہوذہ بن علی کے نام ۔ سلام ہے اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے(یعنی اسلام قبول کرے) ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کا دین وہاں تک پہنچے گا جہاں تک گھوڑے اور اونٹ ( اور انسان) پہنچ سکتے ہیں۔ اسلام قبول کر لو۔ سلامتی میں رہو گے اور تمہارے علاقوں پر تم کو بدستور برقرار کھیں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط حضرت سُلیط بن عمرو رضی اللہ عنہ کو دے کر یمامہ کے حکمراں ہوذہ بن علی کی طرف روانہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ جب یمامہ پہنچے تو ہوذہ نے بہت عزت و احترام سے اپنے مہمان خانے میں ٹھہرایا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط لے کر پڑھا۔

یمامہ کے حکمراں کا جواب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط جب یمامہ کا حکمراں پڑھ چکا تو حضرت سُلیط بن عمر و رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے ہوذہ !تمہیں پرانی اور بوسیدہ ہڈیوں نے سردار بنا یا ہے۔ (یعنی تمہاری قوم کے بوڑھوں اور بزرگوں نے سردار بنایا ہے) اور حقیقت میں سردار وہ ہے جس نے اسلام قبول کیااور اللہ کا تقویٰ اختیار کیا۔ میں تمہیں ایک بہترین کام ( اسلام قبول کرنے) کا مشورہ دیتا ہوں اور ایک بُرے کام (بتوں کی پوجا ) سے منع کرتا ہوں۔ اگر تم اسے قبول کر و گے تو کامیاب ہو گے اور کوئی رنج و غم نہیں ہوگا۔ اگر انکار کرو گے تو قیامت کے دن رسو ا ہوگے۔‘‘ ہوذہ نے کہا : ’’ مجھے کچھ مہلت دو۔ ‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک خط کا جواب لکھوایا۔ وہ جواب یہ تھا: ’’ جس چیز کی طرف آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )بلا رہے ہیں وہ بہت ہی بہتر اور اچھی ہے۔ عرب میرے دبدبہ اور مرتبہ سے ڈرتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )مجھے کچھ اختیار دیں تو میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اتباع کروں گا۔ ‘‘یہ خط اور کچھ ہدیہ اور تحفہ سلیط بن عمرو رضی اللہ عنہ کو دیا۔ مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر حضرت سلیط بن عمرو نے سارا واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خط پڑھ کر فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! اگر ایک بالشت زمین بھی مانگے گا تو میں نہیں دے سکتا۔ وہ بھی ہلاک ہوا اور اس کا ملک بھی ہلاک ہوا۔‘‘ لگ بھگ دو برس بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ سے واپس ہوئے تو جبرئیل امین علیہ السلام نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوذہ کے مرنے کی اطلاع دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مرنے کی خبر سنا کر فرمایا: ’’ یمامہ میں عنقریب ایک کذاب ظاہر ہوگا جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے گا(مسیلمہ کذاب یمامہ کا ہے اور اس نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سا لاری میں مسلمانوں نے اسے قتل کیا اور یمامہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔)اور میرے بعد قتل ہوگا۔ ‘‘

دمشق کے گورنرحارث غسانی کو اسلام کی عوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دمشق کے گورنر حارث غسانی کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے خط لکھوایا۔ ( دمشق پر قیصر روم ہرقل کی حکومت تھی اور یہ سلطنت روم یا رومہ کا ایک حصہ تھا۔ حارث غسانی کو ہرقل نے دمشق کا گورنر بنایا تھا) اس خط کا مضمون یہ تھا: ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حارث بن ثمر غسانی کے نام ۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ ( یعنی اسلام قبول کر ے) اور اللہ پر ایمان لائے اور اللہ کے احکام کی تصدیق کرے۔ میں تمہیں اس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ تم اسلام قبول کر لو اور گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گواہی دو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں۔ اگر تم ایمان لے آئے تو تمہاری حکومتباقی رہے گی۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خط حضرت شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ کو دے کر دمشق بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ دمشق پہنچے تو حارث غسانی اس وقت قیصر روم ہر قل کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ اس وقت ہر قل سلطنت فارس پر فتح ملنے کی خوشی میں حمص سے پیدل چل کر بیت المقدس آیا ہوا تھا۔ حارث کے انتظار میں کئی روز گذر گئے تو حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ عنہ نے حارث کے دربان کو بتایا : ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سفیر ہوں اور دمشق کے گورنر سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ دربان نے کہا: ’’ وہ ایک دو دنوں میں دربار میں آئیں گے تو ملاقات ہو جائے گی۔ دربان کا نام مُری تھا اور وہ روم کا رہنے والا تھا۔ اس نے حضرت شجاع رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات دریافت کرنا شروع کئے۔ حضرت شجاع رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بتاتے جا رہے تھے اورمُری سن کر روتا جا رہا تھا۔ تما م حالات سن کر اس نے کہا: ’’ میں نے انجیل پڑھی ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں نے پڑھے ہیں۔ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہوں ۔‘‘

حارث غسانی کا گھمنڈ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سفیر حضرت شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ کو مُری نے اپنے گھر میں ٹھہرایا اور دل و جان سے خدمت کی۔ حارث غسانی نے جب دربار لگایا تو آپ رضی اللہ عنہ دربار میں آئے اور اسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک خط دیا۔ اس بد بخت نے خط پڑھ کر گھمنڈ کا اظہار کیا اور پھینک دیااور غصہ سے بولا: ’’کون ہے وہ شخص جو مجھ سے میر املک چھینے گا۔ میں خود اس کی طرف ( حملہ کرنے کے لئے ) جانے والا ہوں ۔‘‘اور گھوڑوں کو تیار کرنے کا حکم دیا اور قیصر روم کو خط لکھ کر اجازت طلب کی تو قیصر روم ہر قل نے جواب دیا : ’’ ( حملہ کرنے کا) ارادہ بد ل دو۔‘‘ اس جواب کے بعد حارث غسانی نے حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور سو100مثقال سونا ہدیہ دیا اور دربان مُری نے بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ تحفے دیئے اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا سلام کہنا۔ حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ عنہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام واقعہ بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس کا ملک ہلاک ہوا۔‘‘ اس کے بعد حضرت شجاع رضی اللہ عنہ نے دربان مُری کا سلام پہنچایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے سنتے رہے اور پھر فرمایا: ’’ اس نے سچ کہا ہے۔ ‘‘ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


24 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


24 سیرت سید الانبیاء ﷺ

فتح خیبر ۔ قسط 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


غزوہ ٔ خیبر کا سبب، گدھے کے گوشت کی ممانعت، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حملے، کل اس کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھوں اللہ خیبر کی فتح دے گا، تمام صحابۂ کرام کی تمنا، حضرت علی کو اعزاز


غزوہ خیبر   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ 6؁ ہجری میں قریش سے صلح حدیبیہ کی ۔ قریش سے صلح ہو جانے کے بعد ان کی طرف سے اطمیان ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا دائرہ وسیع کر دیا اور دنیا کے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی۔ اس کا تفصیلی ذکر ہم کر چکے ہیں ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دی۔ لیکن چونکہ ہم مختصراً سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کر رہے ہیں ۔ اس لئے کچھ ہی بادشاہوں کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ تفصیل کے لئے آپ سیرت کی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ ذی الحجہ 6 ؁ ہججری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے خطوط بھیجے ۔ اس کے بعد غزوہ خیبر پیش آئی۔ غزوہ خیبر کب ہوئی اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ لیکن اکثر علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ غزوہ خیبر محرم الحرام 7؁ ہجری میں ہوئی۔ خیبر ایک بہت بڑا شہر ہے۔ جہاں اس وقت بہت سے قلعے اور کھجور کے کھیت یا باغ تھے اور یہ مدینہ منورہ سے چھیانوے 96میل کے فاصلے پر ہے ۔خیبر مدینہ منورہ سے آٹھ منزل کی دوری پر ایک شہر ہے۔ایک انگریز سیاح نے لکھا ہے کہ خیبر مدینہ منورہ سے 320تین سو بیس کلو میٹر دور ہے۔ یہ بڑا زرخیز علاقہ تھا اور یہاں عمدہ کھجوریں بکثرت پیدا ہوتی تھیں۔ عرب میں یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز یہی خیبر تھا۔ یہاں کے یہودی عرب میں سب سے زیادہ مالدار اور جنگجو تھے اور ان کو اپنی مالی اور جنگی طاقتوں پر بڑا ناز اور گھمنڈ تھا۔ یہ اسلام اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے۔ یہاں یہودیوں نے بہت سے مضبوط قلعے بنا رکھے تھے۔ جن میں سے بعض کے آثار اب تک موجو د ہیں۔ ان میں سے آٹھ قلعے بہت مشہور ہیں۔ جن کے نام یہ ہیں۔ کُتیبہ ، ناعم، شق ، قموص ، نطاۃ، صعب، وطیخ اور سُلالِم۔ درحقیقت یہ آٹھوں قلعے آٹھ محلے کے برابر تھے۔ اور انہیں آٹھوں قلعوں کا مجموعہ’’ خیبر‘‘ کہلاتا تھا۔

غزوہ ٔ خیبر کا سبب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر غزوہ خندق یا احزاب میں تمام عرب کے قبائل نے مل کر حملہ کیا تھا۔ اُن میں خیبر کے یہودی بھی شامل تھے۔ بلکہ حقیقت میں اس حملے کے بانی اور سب سے محرک یہی یہودی تھے۔ بنو نضیر کے یہودیوں کو جب جلا وطن کیا گیا تھا تو وہ خیبر چلے گئے تھے۔ ان میں یہودیوں کے سردار حی بن اخطب اور ابو رافع سلام بن حقیق نے مکہ مکرمہ جا کر قریش کے کافروں کو مدینہ منورہ پر حملہ کر نے کے لئے اکسایا اور تمام عرب میں گھوم گھوم کر قبائل کو جوش دلا کر مدینہ منورہ پر حملہ کروایا اور حملہ آوروں کی مال و دولت سے بھی مدد کی تھی اور خیبر کے یہودیوں کے ساتھ یہ دونوں سردار بھی حملہ کرنے والوں میں شامل تھے۔ حی بن اخطب تو غزوہ بنو قریظہ میں قتل ہو گیا تھا اور ابو رافع سلام بن حقیق کو حضرت عبداللہ بن عتیک انصاری رضی اللہ عنہ نے اس کے محل میں داخل ہو کر قتل کر دیا تھا۔ لیکن ان سب واقعات کے بعد بھی خیبر کے یہودی خاموش نہیں بیٹھے۔ بلکہ اور زیادہ انتقام کی اور حسد کی آگ ان کے سینوں میںبھڑکنے لگی۔ اسی لئے یہ لوگ ( خیبر کے یہودی) مدینہ منورہ پر ایک دوسرا حملہ کرنے کی تیاریاں کرنے لگے۔ قریش نے تو صلح کر لی تھی۔ اس لئے اس مرتبہ ان یہودیوں نے بنو غطفان کو تیا رکیا۔ قبیلہ غطفان کی آبادی خیبر سے بالکل لگ کر تھی اور خیبر کے یہودی خود بھی عرب کے سب سے امیر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہی جنگجو اور تلوار کے دھنی تھے۔ ان دونوںکے گٹھ جو ڑسے ایک بڑی طاقتور فوج تیار ہو گئی اور ان لوگوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو تہس نہس کر دینے کا پلان بنا لیا۔

خیبر کی طرف اسلامی لشکر کی روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر کے یہودیوں کی سازش کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی طرف اسلامی لشکر کی روانگی کا اعلان فرمایا۔ لیکن منافقوں کو منع فرمادیا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم یہی تھا۔ صلح حدیبیہ سے واپسی پر سفر کے دوران اللہ تعالیٰ نے سورہ الفتح نازل فرمائی تھی اور اس میں فرمایا تھا : (ترجمہ) ’’ جب غنیمتیں لینے جانے لگو گے تو جھٹ سے یہ پیچھے بیٹھے ہوئے لوگ ( یعنی منافق) کہنے لگیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ لے چلئے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بد ل دیں۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ پہلے ہی فرماچکا ہے کہ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چلو گے۔ وہ اس کا جواب دیں گے کہ تم ہم سے حسد کرتے ہو۔ ( نہیں نہیں ) بلکہ تم ( منافق) ہم سے حسد کرتے ہو۔ ( اصل بات یہ ہے کہ ) وہ لوگ ( منافق) بہت ہی کم سمجھتے ہیں۔‘‘(سورہ الفتح آیت نمبر15 ) اللہ تعالیٰ کے اسی حکم کے مطابق سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کو منع فرمایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سولہ سو صحابہ کر ام رضی اللہ عنہم کا لشکر لے کر خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ انمیں چودہ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پید ل تھے اور دو سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم گھوڑے پر سوار تھے۔ مدینہ منورہ میں سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر فرمایا۔ یہ امام محمد بن سعد نے ایک روایت کیا ہے اور امام عبدالملک بن ہشام روایت کرتے ہیں کہ حضرت تمیلہ بن عبداللہ لیثی کو مدینہ منورہ میںاپنا نائب مقرر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جھنڈے تیار فرمائے۔ ایک جھنڈا حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور ایک جھنڈے کا عملبردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو بنایا اور خاص جھنڈا حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا اور ازواج مطہرات میں سے سید ہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لیا۔

حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کی حدی خوانی اور شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ ہم رات کے وقت سفر کر رہے تھے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے ( میرے بھائی) حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ اے عامر رضی اللہ عنہ ! آپ ہمیں کچھ اشعار سنائیں۔‘‘ حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ بہت اچھے شاعر تھے۔ وہ اپنی سواری سے اتر آئے اور بلند آواز سے یہ اشعار ترنم میں پڑھنے لگے اور حدی خوانی کرنے لگے : ’’ تُو اگر ہدایت نہ فرماتا میرے پروردگار !کیسے بن سکتے تھے ہم بندے اطاعت گزار۔ زندگی بھر دین پر قربان ہوتے ہیں ہم، دشمنوں کے بالمقابل دے ہمیں صبر و قرار۔ ہم پہ ناز ل کر سکینہ اے میرے ربِ غفور۔ کافروں کے دین باطل سے رہیں ہم درکنار۔ حملہ آور ہم پہ ہو جاتے ہیں ظالم بار بار۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کی خوش الحان آواز سنی تو فرمایا: ’’ یہ حدی خوانی کرنے والا کون ہے؟ ‘‘ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے۔‘‘ ہم میں سے ایک شخص ( حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) نے فرمایا: ’’ ان کے لئے ( اس جنگ میں) شہادت واجب ہو گئی۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان سے اور فائدہ اٹھالینے دیتے۔ ‘‘ بہر حال ہم خیبر پہنچ گئے اور ہم نے یہودیوں کا محاصر ہ کر لیا۔ جب مسلمانوں نے صف بندی کی تو حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی۔ جنگ کے دوران انہوں نے ایک یہودی کو تلوار ماری تو اس کی پنڈلی پر لگ کر اچٹ گئی اور وار کے جھٹکے سے ان کو لگ گئی جس سے وہ شہید ہو گئے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ ( غزوہ خیبر کے بعد )جب واپس لوٹنے لگے تو مجھے غمگین اوراداس دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’ تمہیں کیا ہو گیا ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں۔‘‘ بعض لوگوںکا خیال ہے کہ ( اپنے ہی ہتھیار سے مرنے کی وجہ سے) حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے اعمال ضائع ہو گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس نے بھی یہ کہا ہے اس نے غلط کہا ہے۔ حضرت عامر رضی اللہ عنہ کے لئے تو دوہرا اجر ہے۔‘‘ پھر اپنی دو انگلیوں کو جمع کر کے فرمایا: وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا مرد تھا اور عرب میںایسے جواں مرد کم ہیں۔ ‘‘

خیبر میں پڑائو اور گدھے کے گوشت کی ممانعت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم شروعات رات میں اسلامی لشکر کے ساتھ خیبر پہنچے اور پڑائو ڈالنے کا حکم دیا ۔ اسلامی لشکر میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب خیبر میں پڑائو ڈالنے کے بعد صبح ہوئی تو وہاں کے یہودی باشندے اپنی کلہاڑیاں ( اور کھیتی باڑی کا سامان ) وغیرہ لے کر نکلے ۔ لیکن جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر کو دیکھا تو ( زور زور سے) کہنے لگے: ’’ محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کی قسم ! یہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کا لشکر ہے۔‘‘ ان یہودیوں کی باتیں سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ اکبر! خیبر برباد ہوا کیوں کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو وہاں کے کافروں کی قسمت پھوٹ جاتی ہے۔‘‘ ( یعنی اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے ہیں تو بربادی ان کا مقدر یا تقدیر یا قسمت بن جاتی ہے) حضرت انس رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ وہاں ہمیں صرف گدھے کا گوشت ہی مل سکا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا اور لشکر میں اعلان کر وایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے کیوں کہ یہ ناپاک ہے۔ ‘‘

بنو عطفان کی واپسی اور اسلامی لشکر کا خیبر میں داخلہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلامی لشکر سے مقابلہ کے لئے اور خیبر کے یہودیوں کی مدد کے لئے بنو عطفان اپنا لشکر آگے آئے۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اصل راستہ چھوڑ کر غیر معروف اور دشوار راستہ اختیار فرمایا۔ جس کی وجہ سے بنو غطفان نے اپنے علاقے اور اہل و عیال کے لئے بے چینی محسوس کی اور اپنے علاقے میں واپس چلے گئے اور خیبر کے یہودیوں کو اکیلا چھوڑ دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے لشکر کے ساتھ خیبر کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: ’’ اے اللہ تعالی! اے ساتوں آسمان اور جن پر وہ سایہ فگن ہیں ،کے رب اور اے ساتوں زمینوں اور جن کو وہ اٹھائے ہوئے ہیں ، کے رب اور شیاطین اور جن کو انہوں نے گمراہ کیا ہے کے رب۔ ہم تجھ سے اس بستی کی بھلائی اس کے باشندوں کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں اور اس بستی کے شر سے اور اس کے باشندوں کے شر سے اور اس میں جو کچھ ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتے ہیں یا تیری پناہ میں آتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: ’’ چلو! اللہ تعالیٰ کے نام سے آگے بڑھو۔‘‘ راوی کہتے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس شہر میں بھی جاتے تھے تو یہی دعا پڑھتے تھے۔

خیبر کے قلعوں کی فتح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر پہنچے ۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ خیبر کی بستی قلعوں کا مجموعہ تھی اور ان میں آٹھ قلعے مشہور تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ ناعم ، شق، قموص ، نظاۃ ، صعب، وطیخ ،سلالم اور کتیبہ ۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے چل کر مقام عصر میں آئے۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسجد تیار کی گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام صھبا میں آئے۔ پھر ایک میدان ( جس کا نام رحیع ہے) میں رونق افروز ہوئے اور یہاں اترنے کی وجہ یہ ہوئی کہ بنو عطفان والوں نے خیبر کے یہودیوں کی مدد کا ارادہ کیا تھا اور اپنے شہر یا علاقے سے خیبر والوں کی مدد کے لئے چلے تھے۔ مگر پھر انہیں اپنے گھروں کی طرف سے کھٹکا محسوس ہوا تو وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر والوں کے مقابلے پر چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کر کے خیبر کے قلعوں کو فتح کرنا شروع کردیا۔ سب سے پہلے جو قلعہ فتح کیا اس کا نام حصن ( قلعہ) ناعم تھا۔ اسی قلعہ کے پاس ( یا دیوار کے نیچے) حضرت محمود بن مسلمہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔ یہودیوںمیں سے کسی نے قلعے کے اوپر سے ان کے سر پر چکی کا پاٹ ( پتھر ) گرا دیا تھا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حملے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قلعہ ناعم کی فتح کے بعد آگے بڑھے اور قلعہ قموص کا محاصرہ کر لیا۔ یہ قلعہ بہت مضبوط تھا۔ جب اس قلعے پر حملہ کیا گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم درد شقیقہ کی وجہ سے میدان میں تشریف نہیں لا سکے اور جھنڈا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو عنایت فرما کر اسلامی لشکر کا سپہ سالار بنایا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلامی لشکر کے ساتھ زبردست حملہ کیا۔ یہودیوں نے زبردست مقابلہ کیا۔ پورا دن زبردست جنگ کی نذر ہو گیا۔ شام کو دونوں فریق واپس ہو گئے اورفیصلہ نہیں ہو سکا۔ دوسرے دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو جھنڈا عنایت فرمایا اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں اسلامی لشکر آگے بڑھا اور حملہ کیا۔ دوسرے دن بھی یہودیوں نے زبردست مقابلہ کیا اور سار ا دن شدید جنگ ہوتی رہی۔ شام ہوئی تو دونوں فریقین واپس چلے گئے اور دوسرے دن بھی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ ( حالانکہ شیخین یعنی حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہم نے بہت بہترین کوششیں کی تھیں۔ لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا۔ )

وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخین ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ) کو لشکر دے کر بھیجا تھا۔ لیکن فیصلہ کن جنگ نہیں ہو سکی تھی۔ دوسرے دن شام میں اسلامی لشکر اپنے پڑائو میں واپس آیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا: ’’ کل صبح میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں سے قلعہ فتح کرادے گا اور وہ شخس جہاد سے بھاگنے والا نہیں ہے۔ ‘‘حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے روز فرمایا: ’’ کل یہ جھنڈا میں ایسے شخص کو دوں گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔

تمام صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنہم کی تمنا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کل میں جھنڈا یسے شخص کو دوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر ( قلعہ قموص) فتح عطا فرمائے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہ بہت بڑی بشارت ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ لوگوں نے یعنی تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رات بڑی بے چینی کے ساتھ گزاری کہ دیکھیں صبح جھنڈا کس کو عطا فرمایا جاتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو لوگ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوئے۔‘‘ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ اس رات میری شدید تمنا یہ تھی کہ صبح جھنڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاتھ میں عطا فرمائیں۔ ‘‘در اصل تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس رات یہی شدید تمنا تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صبح جھنڈا ان کے ہاتھ میں عطا فرمائیں اور یہ اس وجہ سے نہیں تھی کہ فتح ان کے ہاتھ ہو بلکہ اس بشارت کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور بشارت دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ یوں تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اللہ تعالیٰ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت سے آگے بڑھ کر عشق کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ لیکن صبح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم یہ خصوصی اعزاز عطا فرمانے والے تھے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شدید تمنا تھی کہ یہ اعزاز انہیں عطا ہو۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اعزاز

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ تمنا لے کر صبح حاضر ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھنڈا مجھے عطا فرمائیں۔ سب لوگ حاضر ہو گئے لیکن حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ صحیح بخاری کی حدیث آگے بڑھاتے ہیں۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہاں ہیں؟ ‘‘صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔‘‘ ( جس کی وجہ سے وہ حاضر نہیں ہو سکے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا۔ وہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک لعاب دہن ان کی آنکھ میں لگا دیا اور ان کے لئے دعا فرمائی تو ان کی آنکھیں فوراً اچھی ہو گئیں اور ایسا لگا جیسے ان کو کبھی یہ تکلیف نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں عنایت فرما یا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا میں ان کے ساتھ اس وقت تک لڑوں جب تک مسلمان نہ ہو جائیں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم چپ چاپ ان کے میدان میں جا کر اترو اور پھر انہیں اسلام کی دعوت دو اور انہیں بتائو کہ اللہ کا حق ہونے کے باعث ان پر کیا واجب ہے۔ پس اللہ کی قسم ! اگر ایک آدمی کو بھی اللہ تعالیٰ نے تمہاری وجہ سے ہدایت دے دی تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ ‘‘

مرحب کا قتل

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر کی قیادت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہعنہ کو دی اور آپ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر لیکر قلعہ کے صدر دروازے کے سامنے آئے اور جھنڈا گاڑ دیا اور یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے مسترد کر دی اور اپنے سردار مرحب کی قیادت میں جنگ لڑنے کے لئے تیار ہو گئے۔ مرحب بہت ہی طاقتور اور لڑاکو تھا اور اسے ایک ہزار مردوں کے برابر مانا جاتا تھا۔ سب سے پہلے وہ آگے بڑھا اور بولا : ’’ خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں۔ ہتھیار پوش، بہادر اور تجربہ کار ۔ جب جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہوں ۔ ‘‘حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم خیبر پہنچے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لے کر گھمنڈ سے اتراتا ہوا سامنے آیا تو اس کے مقابلے کے لئے میرے چچا ( یا بھائی) حضرت عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ’’ خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں۔ہتھیار پوش، شہ زور اور جنگجو ، ‘‘ پھر دونوں نے ایک دوسرے پر وار کیا۔ مرحب کی تلوار حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی ڈھال پر روکی تو وہ ڈھال میں گھس گئی اور آپ رضی اللہ عنہ نے اس کے نیچے سے وار کیا تو ان کی تلوار چھوٹی ہونے کی وجہ سے مرحب کی پنڈلیوں پر پڑ کر اُچٹ کر واپس ان کے گھٹنے پر آلگی جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں کو اکٹھا کر کے فرمایاکہ ان کے لئے دوہر ا اجر ہے۔ وہ بڑے جانباز مجاہد تھے اور ان جیسا کم ہی عرب کی روئے زمین پر ہوا ہوگا۔ اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا: ’’ میں وہ شخص ہوں کہ میری والدہ نے میرا نام حیدر ( شیر ) رکھا ہے۔ جنگل کے شیر کی طرح خوفناک۔ میں انہیں صاع کے بدلے نیزے کی ناپ پوری کروں گا۔‘‘ اور مرحب کے سر پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ تلوار سر کو کاٹتی ہوئی داڑھ تک پہنچ گئی اور وہ وہیں ختم ہو گیا۔

مرحب کے قتل کی ایک اور روایت

مرحب کے قتل کے بارے میں کئی روایتیں ہیں۔ ایک روایت میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ اس جنگ میںمرحب یہودی سامان جنگ سے آراستہ ہو کر ہتھیار لگائے اپنے قلعہ سے باہر نکل کر میدان میں آیا اور اپنی تعریف میں اشعار پڑھنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس کے مقابلے پر کون جواں مرد جائے گا؟ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجئے۔ کل میرا بھائی شہید ہوا تھا۔ آج میں اس کا قصاص لوں گا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ بہتر ہے۔ جائو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ ‘‘ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مرحب کے مقابلے پر آئے۔ میدان میں ایک درخت تھا۔ پہلے تو دونوں نے اس کی آڑ میں ہو کر ایک دوسرے پر وار کیا اور سپاہ گری کے ہنر بتائے اور ان کی تلوار کے واروں سے درخت کی تمام شاخیں کٹ گئیں۔ پھر دونوں آمنے سامنے ہوئے تو یہودی مرحب نے وار کیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ڈھال پر روکا تو تلوار ڈھال کو کاٹ کر اس میں پھنس گئی۔ یہودی نے زور لگایا مگر تلوار نہیں نکل سکی۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ایسا وار کیاکہ مرحب دوزخ میں پہنچ گیا۔ مرحب کے قتل کے بعد اس کا بھائی یا سر میدان میں آیا اور مقابلے کی دعوت دینے لگا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ وہ مقابلے کے لئے آگے بڑھے تو ان کی والدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیامیرا بیٹا مارا جائے گا؟ ‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ انشا اللہ !تمہارا بیٹا اس ( یہودی) کو مار دے گا۔ ‘‘ اور ایسا ہی ہوا۔ حضرت زیبر بن عوام رضی اللہ عنہ نے یاسر یہودوی کوایک ہی وار میں قتل کر دیا۔

قلعہ فتح ہو گیا

ا سکے بعد حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اسلامی لشکر کیساتھ آگے بڑھے اور قلعہ کے صدر دروازے کے قریب پہنچ گئے۔ قلعہ کے اوپر ایک یہودی نے پوچھا: ’’تم کون ہو؟‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ میں علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہ) ہوں۔‘‘ یہودی نے کہا : ’’قسم ہے اس کتاب کی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہو ئی ہے۔ بے شک تم غالب ہو گے۔ ‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت علی المرتضیٰ کے ہاتھ پر قلعہ فتح کر دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو خیبر کا قلعہ فتح کرنے بھیجا تو میںان کے ساتھ تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے پاس پہنچے اور مقابلہ اور مقاتلہ شروع ہوا تو ایک یہودی کے وار سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے ڈھال چھوٹ کر دو رجاگری تو آپ رضی اللہ عنہ نے قلعہ کا (صدر) دروازہ اکھاڑ لیا اور ڈھال کا کام لینے لگے اور آگے بڑھنے لگے۔ یہاں تک کہ جب آپ رضی اللہ عنہ جنگ سے فارغ ہو گئے اور قلعہ فتح ہو گیا تو اس دروازے کو آپ رضی اللہ عنہ نے پھینک دیا۔‘‘ ابو رافع کہتے ہیں: ’’ وہ دروازہ اتنا بھاری تھا کہ ہم آٹھ آدمی نے اسے پلٹنا چاہا مگر پلٹا نہیں سکے۔‘‘

جنت میں صرف مومن جائیں گے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ قموص کی فتح کے لئے بھیجا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے قلعہ فتح ہو گیا۔ اس قلعے سے جو قیدی ہاتھ لگے ان میںاُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے نکاح فرمالیا اور ان کی آزادی ہی ان کا مہر قرار پائی۔ ( اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر انشاء اللہ آگے آئے گا) اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم قلعہ صعب کی طرف متوجہ ہوئے۔ قلعہ قموص بیس دن کے محاصرے اور زبردست مقابلے کے بعد فتح ہوا۔ اب تک ترانوے 93یہودی قتل ہو چکے تھے اور پندرہ مسلمان شہید ہو چکے تھے۔خیبر میںجنگ کے دوران ایک واقعہ پیش آیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ’’ ہم خیبر میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر میں سے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ’’ یہ جہنمیوں یعنی دوزخیوں میں سے ہے۔ ‘‘ جب جنگ شروع ہوئی اور لڑنے کا وقت آیا تو وہ شخص بہت بہادری سے لڑا اور اسے شدید زخم آئے ۔ اس کی بہادری دیکھ کر قریب تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رشک کا شکار ہو جاتے۔ لیکن وہ زخموں کی تکلیف برداشت نہ کر سکا اور اس نے خود کشی کر لی۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ اس نے تلوار زمین پر کھڑی کر کے اس کی نوک پر اپنا سینہ رکھ کر اتنی طاقت لگائی کہ تلوار اس کے جسم سے پار ہو کر پشت سے نکل گئی اور اس طرح اپنی جان دے دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی خود کشی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات کو سچ کر دیا اور اس نے خود کشی کر لی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے بلال رضی اللہ عنہ اٹھو اور اعلان کر دو کہ مومن کے علاوہ کوئی جنت میں نہیں جائے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے دین ( اسلام ) کی مدد کسی فاجر سے بھی کروالتا ہے۔‘‘ ایک اور روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ایک شخص جنتیوں والے عمل کرتا ہے جو لوگوں کے سامنے ظاہر کرتا ہے۔ (یعنی لوگوں کو اس کا عمل دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ شخص جنتی ہے) لیکن وہ جہنمیوں یعنی دو زخیوں میں سے ہوتا ہے اور ایک شخص ظاہر ی طور پر جہنمیوں ( یعنی دوزخیوں ) والے اعمال کرتا ہے۔ لیکن وہ جنتیوں میں سے ہوتا ہے۔‘‘

حضرت اسودراعی رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام اور شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ ناعم اور قلعہ قموص فتح کر لیا۔ اسی دوران حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ حبشی تھے اور خیبر کے یہودیوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ جب یہودی جنگ کی تیاری کرنے لگے تو انہوں نے پوچھا: ’’ آخر تم لوگ کس سے جنگ کی تیاری کر رہے ہو؟‘‘ یہودیوں نے کہا : ’’ آج ہم اس شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جنگ کریں گے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ ‘‘یہ سن کر حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ کے دل میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کر نے کا جذبہ پیدا ہوااور آپ رضی اللہ عنہ بکریاں چرانے نکلے تو بکریاں لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ اگر میں اسلام قبول کر لوں تو اللہ تعالیٰ مجھے کیا اجر و ثواب عطا فرمائے گا؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم کو جنت اور اس کی نعمتیں ملیں گی۔‘‘ حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ نے فوراً کہا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بکریاں میرے پاس امانت ہیں۔ اب میں ان کا کیا کروں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم ان بکریوں کو قلعہ کی طرف ہانک دو اور ان کو کنکریوں سے مارو۔ یہ سب خود بخود اپنے اپنے مالک کے گھر پہنچ جائیں گی۔‘‘ انہوں نے بکریوں کو قلعہ کی طرف ہانک دیا اور وہ سب اپنے مالک کے گھر پہنچ گئیں۔

حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ کی شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ ا سکے بعد یہ خوش نصیب حبشی حضرت اسود راعی رضی اللہ عنہ ہتھیار سے لیس ہو کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی صف میں کھڑے ہو گئے اور جب جنگ ہوئی تو انتہائی جوش و خروش سے حملہ کرتے رہے اور مسلسل لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت کے مرتبے سے سرفراز فرمایا۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے شہید ہونے کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس شخص نے عمل بہت کم کیا ہے۔ اور اجرو ثواب بہت زیادہ پایا ہے۔ ‘‘پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی لاش کو اپنے خیمے میں لانے کا حکم دیا اور ان کی لاش کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ بشارت سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کالے چہرے کو حسین بنا دیا اور جسم کو خوشبو دار بنا دیا اور دو حوریں اس کوجنت میں ملیں اور اس شخص نے ایمان لانے اورجہاد کے سوا کوئی دوسرا عمل نہیں کیا۔ نہ ایک وقت کی نماز پڑھی نہ ہی ایک بھی روزہ رکھا نہ ہی حج کیا اور نہ ہی اسے زکوٰۃ دینے کا موقع ملا۔ مگر صرف ایمان لانے اور جہاد کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اتنا بلند مرتبہ عطا فرما دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


اتوار، 2 جولائی، 2023

25 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


25 سیرت سید الانبیاء ﷺ

فتح خیبر ۔ قسط 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


قلعہ صعب کی فتح، قلعہ قُلّہ ( زبیر) کی فتح، یہودیوں کی وعدہ خلافی، فتح خیبر کے ساتھ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی آمد کی خوشی، سید الانبیاء ﷺ کو زہر دیا گیا، یہودیوں کا جھوٹ اور سینہ زوری، 


قلعہ صعب کا محاصرہ اور یہودی مخبر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ ناعم اور قلعہ قموص کی فتح کے بعد قلعہ صعب بن معاذ کا محاصرہ کرلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی لشکر میں سے دستے متعین کر دیئے تھے۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ رات میں ان میں سے ایک دستہ گشت کرتا رہتا تھا اور اسلامی لشکر اور یہودیوں کی نگرانی کرتا رہتا تھا۔ محاصرے کی چھٹی رات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دستے کو گشت پر متعین فرمایا۔ گشت کے دوران آدھی رات کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی کو پکڑا اور اس کے قتل کا حکم دے دیا۔ اس یہودی نے فوراً کہا: ’’ مجھے اپنے نبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس لے چلو۔ میں ان سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ ‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس یہودی کو لے کر حاضر ہوئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نمازادا فرمارہے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی آواز سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر کر نماز مکمل کی اور انہیں( خیمے) کے اندر بلایا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے قلعہ کے اندر کے حالات دریافت فرمائے تو اس نے جان کی امان چاہی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمادی۔ اس نے بتا یا : ’’ یہودی نطات سے اپنے بیوی بچوں کو شق میں منتقل کر رہے ہیں۔‘‘ ( قلعہ ناعم اور قلعہ صعب اور ایک اور قلعہ قُلہ ۔ ان تینوں کو ملا کر نطات کہا جاتا ہے۔ اور قلعہ قُلّہ کو قلعہ زبیر کہا گیا اور قلعہ ابی یا قلعہ نزاء کو شق کہا جاتا تھا۔

قلعہ صعب کی فتح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد قلعہ صعب کے بارے میں یہودی سے دریافت فرمایا تو اس یہودی نے کہا: ’’ نطات کے قلعوں میں سے ایک قلعہ جس کانام صعب ہے اس میں تہہ خانہ ہے۔ اس کے اندر منجنیق ( اس سے پہلے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں منجنیق کے بارے میں تفصیل سے بتا چکے ہیں۔ یہاں مختصراً بتادیں منجنیق وہ آلہ ہے جس میں بہت بڑے بڑے پتھر رکھ کر قلعوں کی دیوار پر پھینکے جاتے ہیں جس سے دیوار ٹوٹ جاتی ہے) گوپسے ، زرہوں ار تلواروں کا ذخیرہ ہے اور اس کا پتہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بتا دیتا ہوںاور ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ منجنیق اپنے فتح شدہ قلعے پر نصب کریں اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لشکر کے لوگ دبا بوں ( دبابہ ایک ایسا جنگی ہتھیار ہے جس کے اندر لوگ داخل ہو جاتے تھے اور گھسیٹ کر قلعے کی دیوار سے ملا کر دیوار کو توڑتے ہیں اور قلعے کے اوپر سے دشمن کا کوئی بھی ہتھیار ان دبابوں پر اثر نہیں کرتا تھا۔ آسان زبان میں سمجھ لیں آج کل کاٹینک پرانے زمانے کے دبابہ کی جدید شکل ہے۔ ) کے سائے میں بیٹھ کر قلعہ کی دیوار کو توڑ دیں۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) قلعہ فتح کر لیں گے۔ اس کے بعد یہودی نے اپنے بیوی بچوں کی جان کی امان چاہی جو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمادی اور اسلام کی دعوت دی تو یہودی نے چند دنوں کی مہلت مانگی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی کے مشورے پر عمل کیا اور قلعہ صعب فتح ہو گیا۔ اس قلعہ میں غلّہ (اناج) اور چربی اور کھانے پینے کے دوسرے بہت سے سامان ہاتھ لگے۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں کے کھانے پینے کا مسئلہ حل ہو گیا۔ کیوں کہ ا ن دنوں کھانے کی بہت کمی ہو گئی تھی۔

قلعہ قُلّہ ( زبیر) کی فتح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے قلعہ صعب فتح کیا تو یہودیوں نے بھاگ کر قلعہ قُلّہ میں جا کر پناہ لی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کے ساتھ آگے بڑھ کر قلعہ قُلّہ کا محاصرہ کر لیا۔ یہ قطعہ بہت ہی مضبوط تھا ور پہاڑ کی چوٹی پر واقع تھا۔ اسی وجہ سے اس کا نام قلعہ قُلّہ تھا۔ بعد میں یہ’’ قلعہ زبیر‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ کیوں کہ مالِ غنیمت کی تقسیم میںیہ قلعہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ ابھی محاصرہ کو تین دن گذرے تھے کہ ایک یہودی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ اے ابوالقاسم !(صلی اللہ علیہ وسلم !یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے) اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) مہینہ بھر بھی قلعے کا محاصرہ کئے رہیں گے تب بھی یہودیوں کو کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔ کیونکہ ان کے پاس زمین کے نیچے پانی کے چشمے ہیں اور وہ رات کو نکلتے ہیں اور پانی لے کر محفوظ ہو جاتے ہیں۔ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر ان کا پانی بند کر دیں تو قلعہ فتح ہو سکتا ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کے مشورے پر عمل کیا۔ مجبور ہو کر یہودیوں کو قلعہ کے باہر آنا پڑا۔ بہت ہی سخت جنگ اور مقابلہ ہوا۔ دس یہودی مارے گئے اور کچھ مسلمان شہید ہو ئے اور قلعہ فتح ہو گیا۔ اس کے بعد قلعہ ابی کی طرف سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بڑھے اور شدید مقابلے کے بعد یہ بھی فتح ہو گیا۔ اس طرح نطات اور شق کے تمام قلعے فتح ہو گئے۔ اب صرف کُتیبہ کے قلعے وطیح او ر سلالم رہ گئے تھے۔

قلعہ وطیح اور سلالم کی فتح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نطاۃ اور شق کے علاقوں کے تمام قلعوں کو فتح کر کے کتیبہ کے علاقے میں پہنچے۔ اس سے پہلے ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ خیبر کی آبادی قلعوں اور حویلیوں پر مشتمل تھی۔ اور دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔ پہلا حصہ نطات اورشق کے نام سے مشہور تھا۔ اس میں پانچ بڑے قلعے تھے اور باقی چھوٹی حویلیاں اور گڑھیاں تھیں۔ دوسرا حصہ کتیبہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس میں قلعہ قموص اور قلعہ وطیح اور قلعہ سلالم تھے۔ قلعہ قموص تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی فتح کر چکے تھے۔ اس لئے اب صرف وطیح اور سلالم رہ گئے تھے۔ اس لئے تمام یہودی سمٹ کر ان دونوں قلعوں میں آگئے۔ اور ان میں پہلے ہی انہوں نے عورتوں اور بچوں کو پہنچا دیا تھا ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں قلعوں کا محاصرہ کر لیا۔ چودہ دنوں تک محاصرہ چلا اس کے بعد یہودیوںنے صلح کی درخواست کی۔ جسے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور کر لی۔یہودیوںنے ابن ابی حقیق کو صلح کی گفتگو کرنے کے لئے بھیجا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر تمام یہودیوں کی جان بخش دی کہ تمام یہودی خیبر کوخالی کر دیں۔ یعنی جلا وطن ہو جائیں اور سونا اور چاندی اور جنگ کے تمام سامان چھوڑ جائیں اور کسی چیز کو چھپا کر نہ لے جائیں۔ اگر اس معاہدہ کے خلاف ہو اتو اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس صلح سے بری ٔ الزماں ہوں گے۔

یہودیوں کی وعدہ خلافی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے جنگ کی اور انہوں نے بھی شدید جنگ کی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام قلعے فتح کر لئے۔ غزوہ خیبر میں پندرہ 15صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شہید ہوئے اور ترانوے یہودی قتل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایک کر کے تمام قلعوں پر مسلمانوں کو فتح عطا فرما دی۔ ان قلعوں کے نام یہ ہیں۔ نطات ، صعب، ناعم ، قُلّہ یا زبیر ، شق ، ابی ، برئی، قموص ، وطیح اور سلالم ۔ اس کے بعدیہودیوں نے صلح کر لی۔ لیکن یہ بہت ہی بد بخت شاطر ، سازشی اور وعدہ خلاف قوم ہے۔ صلح کے معاہدے میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ تمام سامان زیور وغیرہ چھوڑ کر جائیں۔ لیکن بد بخت یہودیوں نے حی بن اخطب کا چمڑے کا تھیلہ غائب کر دیا۔ اس میں زیور اور اشرفیاں بھری ہوئی تھی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے کنانہ بن ربع بن حقیق کو بلا کر اس تھیلے کے بارے میںدریافت تو اس نے کہا : ’’ جنگ میں خرچ ہو گیا۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’( اس تھیلے میں مال بھرے) ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے اور وہ مال بہت زیادہ ہے۔ ‘‘یہ امام محمد بن سعد کی روایت ہے۔ سنن ابو دائود کی روایت میں ہے کہ سعیدسے تھیلے کے بارے میں دریافت فرمایا۔ امام بہہقی اور امام محمد بن سعد کی دوسری روایت میں ہے کہ کنانہ بن ربیع او ر اس کے بھائی سے دریافت فرمایا اور سب نے یہی کہا کہ وہ تھیلہ خرچ ہو گیا ہے۔ ( در اصل یہودیوں نے صلح کرنے کے بعد وہ تھیلہ ایک جگہ گڑھا کھود کر دفن کر دیا تھا اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس وقت تو خالی ہاتھ چلے جائیں گے۔ لیکن بعد میں رات کے اندھیرے میں آکر خاموشی سے تھیلہ نکال کر لے جائیں گے) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر وہ تھیلہ بر آمد ہو گیا تو تمہارا قتل واجب ہو جائے گا۔‘‘ لیکن ان بدبختوں نے اقرار نہیں کیا اور کہا وہ تھیلہ نہیں ہے اور خرچ ہو گیا ہے۔ سید لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ جائو فلاں جگہ ایک درخت کی جڑ میں وہ تھیلہ دبایا گیا ہے۔‘‘ وہ صحابی رضی اللہ عنہ گئے اور درخت کی جڑ میں کھود کرتھیلہ نکال لائے ۔اس تھیلے میں جو سونا چاندی وغیرہ تھے اس کی قیمت دس ہزار دینا ر تھی۔ اس جرم میں ان جھوٹے لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ ان میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا شوہر گنانہ بن ربیع بھی تھا۔

فتح فدک

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے خیبر کے یہودیوں نے صلح کر لی۔ اس کی اطلاع فدک کے یہودیوں کو ہوئی تو انہوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ ہمیں بھی جان کی امان دی جائے۔ اور ہم تمام مال و اسباب چھوڑ کر جلا وطن ہو جائیں گے۔ سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا۔ بدبخت یہودیوں کی اسلام دشمنی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے جلا وطن ہونا یعنی بے گھر اور بے در ہونا قبول کیا۔ لیکن اسلام قبول کرکے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر عزت سے جینا قبول نہیں کیا۔ صحیصتہ بن مسعد کے ذریعے فدک والوں نے گفتگو کی اورفدک خالی کر کے چلے گئے۔ چوں کہ فدک بغیر کسی حملے یا بغیر مقابلے کے فتح ہو ا۔ اس لئے اسے مال غنیمت کے طور پر تقسیم نہیں کیا گیا۔ بلکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے تصرف میں رکھا۔ اور ضرور ت کے مطابق مسلمانوں پر خرچ فرماتے تھے۔

مخابرہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی مدد سے تمام خیبر فتح کر لیا اور تمام علاقے پر قبضہ ہو گیا تو یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس زمین پر رہنے دیں اور ہم زراعت کریں گے۔ ( یعنی کھجور وں کے باغات کی دیکھ ریکھ کریں گے) اور جو پیداوار ہو گی اس کا آدھا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اد اکریں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کی درخواست منظور کر لی۔ اور خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بات بھی صاف کر دی کہ جب تک ہم چاہیں گے تم کو خیبر میں رہنے دیں گے اور جب چاہیں گے نکال دیں گے۔ اس طرح کا معاملہ سب سے پہلے خیبر میں ہوا اس لئے اس کا نام’’ مخابرہ ‘‘ہو گیا۔ جب فصل تیار ہو جاتی تھی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حضر ت عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو بھیجتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تمام پیداور کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے تھے اور یہودیوں سے کہتے تھے: ’’ اس میں سے جو حصہ تم چاہو لے لو۔ ‘‘ یہودر اس عدل و انصاف کو دیکھ کر کہتے تھے۔ ایسے ہی عدل اور انصاف کی وجہ سے زمین اور آسمان قائم ہیں۔ ( لیکن وہ بد بخت اسلام قبول نہیں کرتے تھے) ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اُن سے فرماتے : ’’ اے گروہِ یہود! تم مخلوق میں تمام لوگوں سے زیادہ میرے نزدیک مبغوض ہو۔ تم نے ہی اللہ تعالیٰ کے انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل کیا ہے۔ تم نے ہی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے ۔ لیکن تم لوگوں سے اتنا بغض بھی مجھ کو کبھی اس پر آمادہ نہیں کر سکتا کہ میں تم پر ظلم کروں۔ ‘‘امام عبد الملک بن ہشام کے مطابق فدک والوں نے بھی مخابرہ کیا تھا۔

حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ہی تھے کہ حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ حبشہ کے مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں رضی اللہ عنہم کے ساتھ خیبر پہنچ گئے۔ اس سے پہلے بادشاہوں کو اسلام کی دعوت کے باب میں ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے پاس خط لے کر بھیجا تھا ۔ اس خط میں نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کو اسلام کی دعوت دی تھی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو حبشہ میں ٹھکانہ دینے پر حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کا شکریہ ادا کیا تھا اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ کرام کو مدینہ منورہ بھیج دینے کی درخواست کی تھی۔ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے مبارک ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا اور کشتیوں میں بٹھا کر مدینہ منورہ روانہ کر دیا تھا۔ خواتین اور بچوں کو حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ میں چھوڑا اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں اور مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ خود خیبر میں آکر سید الانبیاء سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے۔

فتح خیبر کے ساتھ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی آمد کی خوشی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر حبشہ کے تمام مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اشعری صحابہ رضی اللہ عنہم کا اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا استقبال کیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو بوسہ دے کر فرمایا: ’’ اللہ کی قسم !میں نہیں جانتا کہ مجھے کس بات کی زیادہ خوشی ہے۔ خیبر کی فتح کی یا حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے آنے کی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ یمن میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان نبوت کی اطلاع ملی تو ہم لوگ یعنی میں اور میرے دو بھائی اور ہماری قوم کے پچا س آدمی اپنے وطن سے ہجرت کر کے کشتی پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ لیکن ( راستے میں سمندری طوفان کی وجہ سے ) ہماری کشتی ملک حبشہ کے ساحل پر جا لگی۔ وہاں ہماری ملاقات حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے مہاجر ساتھیوں سے ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا ہے اور یہیں ٹھہرے رہنے کا حکم دیا ہے۔ اس لئے آپ لوگ بھی یہیں ہمارے ساتھ رک جائیں تو ہم ان کے پاس ہی رک گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس وقت پہنچے جب خیبر فتح ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت میں ہمارا بھی حصہ لگایا۔

سید الانبیاء ﷺ کو زہر دیا گیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں پر اتنا کرم فرمایا کہ ان کی درخواست پر انھیں خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی اور انھیں جلا وطن نہیں کیالیکن بنی اسرائیل یعنی یہودی قوم بہت ہی بدبخت سازشی اور دھوکے باز ، وعدہ خلاف ، پیچھے سے وار کرنے والی اور بزدل قوم ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دھوکے بازوں پر اعتبار کرکے انھیں سدھرنے کا ایک اور موقع دیالیکن یہودی قوم بدبختی میں اتنی بڑھ چکی ہے کہ پہلے کہ بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو اس بد بخت قوم نے’’ نا حق قتل‘‘ کیا ہی تھا۔ اب نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بد بختوں پر احسان کیا تو انہوں نے زہر دے کر’’ ا’س آخری نبی‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شہید کر نے کی بد بختی کی جن کا ذکروہ ہزاروںسال سے اپنے اپنی کتابوں میں پڑھتے آرہے تھے اور اپنی بد نصیبی پر آخری مہر لگا لی۔ خیبر کے یہودیوں نے تمام اسلامی لشکر کی دعوت کی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو بکر ی کا گوشت بھیجا اور اس میں بہت ہی خطرناک اور تیز زہر ملا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت بشر بن براء بن معرور رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے۔ انہوں نے ایک بوٹی کھالی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوٹی اٹھائی اور منہ میں ڈال کر چبانے لگے۔ لیکن فوراً اس بوٹی کو منہ سے نکال دیا اور حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ کو کھانے سے روک دیا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ یہاں کے تمام یہودیوں کو جمع کر کے میرے پاس لائو۔‘‘

یہودیوں کا جھوٹ اور سینہ زوری

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر تمام یہودی حاضر ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں تم سے ایک بات پوچھوں گا۔ کیا تم اس کا سچ سچ جواب دو گے؟ ‘‘یہودیوں نے کہا: ’’ ہاں ! اے ابو القاسم! ( یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کُنیت ہے) ہم سچ کہیں گے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ تمہارا باپ ( جدِّ اعلیٰ) کون ہے؟ ‘‘ یہودیوں نے جواب دیا: ’’ فلاں ہمارا باپ ( جد اعلیٰ) ہے۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم لوگوںنے جھوٹ کہا۔ تمہارا باپ ( جدِّ اعلیٰ) تو فلاں ہے۔‘‘ بد بخت یہودیوں نے کہا: ’’ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )نے سچ فرمایا اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی کرنے والے ہیں۔‘‘ اس کے بعد سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر میں ایک بات کے بارے میں تم سے پوچھوں تو سچ سچ بتائو گے؟ ‘‘یہودیوں نے کہا : ’’ اے محمد! (صلی اللہ علیہ وسلم )اے ابو القاسم!(صلی اللہ علیہ وسلم ) اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو جھوٹ معلوم ہو جائے گا۔ جیسا کہ ہمارے جدِّ اعلیٰ ( باپ ) کے بارے میں معلوم ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جہنم یعنی دوزخ والے کون لوگ ہیں؟ ‘‘ یہودیوں نے کہا: ’’ ہم تھوڑی مدت دوزخ میں رہیں گے۔ پھرآپ لوگ ہماری جگہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم ( یہود) اس میں (دوزخ میں ) ذلت کے ساتھ رہو۔ اللہ کی قسم ! ہم تمہاری جگہ کبھی نہیں جائیں گے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’ اگر میں تم سے ایک بات پوچھو ں تو سچ سچ بتائو گے؟ ‘‘ یہودیوں نے کہا: ’’جی ہاں ۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے یہ کام کیوں کیا؟‘‘ یہودیوں نے جواب دیا: ’’ ہم چاہتے تھے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں تو ہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے نجات پا جائیں گے اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سچے نبی ہیں تو یہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو نقصان نہیں کرے گا۔‘‘

زہر دینے والی یہودیہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ’’ خیبر میں ایک یہودیہ ( زینب بنت حارث یہ سلام بن مشکم کی بیوی تھی) نے بھنی ہوئی بکری میں زہرملایا۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانے کے لئے تحفے کے طور پر بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے لے کر کھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت نے بھی کھایا۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اپنے ہاتھ اٹھا لو۔‘‘ ( یعنی کھانا مت کھائو)اور یہودیہ کی طرف پیغام بھیجا کہ تم نے اسمیں زہر ملایاہے؟ اس یہودیہ نے پوچھا: ’’ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )کو کس نے بتایا؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مجھے بکری کے اس شانے ( کے گوشت ) نے بتایا جو اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔‘‘ اس یہودیہ نے کہا : ’’ ہاں ( میں نے زہر ملایا ہے) میں نے سوچا اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی ہیں تو یہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ہرگز نقصان نہیں کرے گا اور اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )نبی نہیں ہیں تو ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے چھٹکارہ مل جائے گا۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے معاف کر دیا اور کوئی سز نہیں دی۔ جن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کھایا تھا وہ سب انتقال کر گئے۔ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زہر کے سبب اپنے شانوں کے درمیان پپھنے لگوائے۔‘‘

یہودیہ کے ساتھ سازش میں تمام یہودی ( بنی اسرائیل) شریک تھے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دینے کی سازش میں یہودیہ کے ساتھ تمام بنی اسرائیل ( یعنی یہودی) شریک تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ سلام بن مشکم کی بیوی زینب بنت حارث پوچھنے لگی: ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بکری کا کون سا حصہ پسند ہے؟ ‘‘لوگوں نے کہا: ’’ اس کیدستی۔‘‘ ( یعنی بازو یا شانہ کا گوشت) اس نے ایک بکری کو ذبح کر کے بھونا ۔ پھر اس نے ایسے زہر کے بارے میں تحقیق کی جو جلدی اثر کرتا ہے اور فوراً ہلاک کر دیتا ہے۔ اس نے زہر کے بارے میں تمام بنی اسرائیل ( یہودیوں ) سے مشورہ کیا تو سب نے ایک خاص زہر پر اتفاق کیاکہ یہ زہر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے۔ اس یہودیہ نے بکری کے گوشت میں زہر ملا دیا اور شانے اور دونوں دستیوں میں زیادہ زہر ملادیا۔ پھرآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے میں حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ بھی شریک تھے اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ (غالباً تمام لشکر کی یہودیوں نے دعوت کی تھی اور سب کو کھانا دیا تھا۔ لیکن زہر صرف سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں ملایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ شریک تھے) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کا گوشت کھایا تو فرمایا: ’’ اپنے ہاتھ اٹھا لو۔ ‘‘( یعنی کھانا مت کھائو) لیکن اس وقت تک حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ ایک بوٹی نگل چکے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسی دستی نے مجھے بتایا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔‘‘ اس حدیث میں آگے یہ بھی ہے کہ حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ اس زہر کی وجہ سے شہید ہو گئے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس یہودیہ عورت کو حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ کے وارثوں کے حوالے کر دیا اور انہوں نے اسے ( قصاص میں ) قتل کر دیا۔ اس یہودیہ کو سزا دی گئی یا نہیں اس بارے میں مختلف روایتیں ہیں۔ امام زہری فرماتے ہیں کہ اس نے اسلام قبول کر لیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سید الانبیاء ﷺ کی خدمت میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قلعہ قموص فتح کیا تھا تو قیدیوں میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ یہ یہودیوں کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی تھیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خیبر پہنچینے سے پہلے ہی آپ رضی اللہ عنہا خیبر کے سردار کنانہ بن ربیع بن حقیق کی بیوی بن چکی تھیں۔ ایک رات آپ رضی اللہ عنہا نے خواب دیکھا کہ آسمان سے چاند اتر کر ان کی خواب گاہ میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ خواب انہوں نے اپنے شوہر کو سنایا تو اس نے ان کے منہ پر اتنی زور سے تھپڑ یا طمانچہ مارا کہ نشان پڑ گیااور کہا : ’’ کیا تم یثرب( مدینہ منورہ) کااشتیاق اور اس کے حکمراں ( سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آغوش کی تمنا کر رہی ہو؟‘‘ اس کے کچھ دنوں بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح کر لیا اور اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا شوہر قتل ہوا اور آپ رضی اللہ عنہا قیدی بن کر سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آگئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کو حضرت وحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے کنیز کے طور پر مانگا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عنایت فرما دی ۔

اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سیدہ صفیہ ( رضی اللہ عنہا) بنو نضیر ، بنو قریظہ کی شہزادی ہیں اور خیبر کی ملکہ ہیں۔ اس لئے مناسب یہ ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی کنیزی میںلے لیں۔ ( سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنو نضیر کے سردار حی بن اخطب کی بیٹی ہیں اور حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہیں) پھر اس کے بعد دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہی بات عرض کی اور اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی واپسی پر اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو بلا کر فرمایا: ’’ اگر تم بُرا محسوس نہ کرو تو اپنے لئے دوسری کنیز لے لو اور سیدہ صفیہ ( رضی اللہ عنہ ) کو مجھے واپس کر دو۔‘‘ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے خوشی سے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں دے دیا۔ سید لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ا نہیں اسلام کی دعوت دی تو اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کچھ مہلت مانگی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ ٹھہرادیا۔ انہوں نے ان کو سمجھایا ۔ یہا ں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت عطا فرمائی اور اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا اور ان کی آزادی کو ہی ان کا مہر قرار دیا۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیے دیا کہ اگر وہ چاہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزاد کر دیں اور وہ اپنے رشتہ داروں کے پاس واپس چلی جائیں یا پھر اسلام قبول کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنا قبول کر لیں تو اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ نہیں میں اپنے لئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب کرتی ہوں۔‘‘

ولیمہ کی د عوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہ کو اختیار دیا تھا کہ یا تو وہ بدستور یہودیہ رہیں اور یہودیوں کے ساتھ میں رہیں یا پھر اسلام قبول کر کے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کر لیا۔ اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا۔ خیبر سے واپسی میں اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ، سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا کے ساتھ سفر کرتی تھیں۔ جب مقام’’ صہبا‘‘ پر پہنچے اور وہاں قیام فرمایا تو اس وقت اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا حیض سے پاک ہو چکی تھیں۔ سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے انہیں سجا سنوار کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے میں بھیج دیا اور انہوں نے رات وہیں رات گزاری ۔اس رات میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر مار کا ہرا نشان دیکھا تواس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خواب کے بارے میں اور اپنے سابقہ شوہر کے طمانچے کے بار ے میں بتایا۔ جب صبح ہوئی تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ولیمہ کی دعوت دے دو۔‘‘ ( اسی دوران سیدہ اُم سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس یعنی کھجور اور پنیر کا حلوہ ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تھا )جب تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حاضر ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو ایک چمڑے کا دستر خوان ( بچھانے کا حکم دیا اور اس پر حیس رکھا دیا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سیرہو کر ولیمہ کی دعوت کھائی۔ پھر جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ روانہ ہونے لگے تو اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کا پردہ کرایا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سواری پر سوار کرایا۔ جس کی وجہ سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سمجھ گئے کہ اُم المومنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ازواجِ مطہرات میں داخل ہو چکی ہیں۔‘‘

خیبر میں حضرت طفیل بن عمرو اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے تمام یہودیوں کے ساتھ احسان اور بہترین سلوک کیا۔ لیکن اس کے جواب میں بد بخت یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دے کر ( نعوذ باللہ ) قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس احسان فراموش قو م کو خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی اور ان کی جان بخش دی۔ اس کے ساتھ ساتھ فدک کے یہودیوں کی جان بخش دی اور انہیں بھی فدک میں رہنے کی اجازت دے دی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ہی تشریف فرما ء تھے کہ حضرت طفیل بن عمر و دوسی رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ دوس کے ستر 70یا 80مسلمانوں کے ساتھ خیبر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ( حضرت طفیل بن عمر ودوسی رضی اللہ عنہ کے حالات تفصیل سے ہم آپ کی خدمت میں پیش کر چکے تھے ۔ یہاں قارئین کو ادھورا پن نہ لگے اس لئے ہم مختصراً ذکر کر دیتے ہیں) ان میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے مختصر حالات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ مکرمہ میں اعلان نبوت کیا تھا تو مشرکین اسلام کی دعوت کو ہر ممکن طریقے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ مکہ مکرمہ میں حج یا عمرہ یا تجارت کے لئے دور کے قبیلے کے لوگ آتے تھے تو مشرکین ان کے پاس جا کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکاتے تھے۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے دوس کے سردار تھے اور شاعر اور بہت ہی عقل مند تھے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ آئے تو قریش کے کافر سرداروں نے انہیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سننے سے منع کیا اور اتنا بھڑکایا کہ آپ رضی اللہ عنہ کانوں میں روئی ٹھونس کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جاتے تھے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام سنا دیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا اور اپنے قبیلے میں آکر اسلام کی دعوت دینے لگے۔ لیکن صرف ان کے والد اور بیوی نے اسلام قبول کیا اور قبیلے والوں نے انکار کر دیا۔ آپ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اوراپنے قبیلے والوں کے لئے بد دعا کرنے کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ دوس کی ہدایت کے لئے دعا کی اور حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ جائو اور صبر سے اپنے قبیلے والوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہو اور جب سنو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غلبہ عطا فرما دیا ہے تو ہمارے پاس حاضر ہوجانا۔ ‘‘

حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی اسلام کی دعوت اُن کی زبانی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے بارے میں حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں: ’’میں نے تمام قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ ان کے اس عمل سے مجھے بہت ہی صدمہ اور تکلیف ہوئی۔ میں مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلیاللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قبیلہ دوس نے اسلام قبول نہیں کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے لئے بد دعا فرمائیں۔ ‘‘میری بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا دیئے اور فرمایا: ’’ اے اللہ تعالیٰ! قبیلہ دوس کی ہدایت فرما اور انہیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔‘‘ اس کے بعد مجھ سے فرمایا: ’’ اپنے قبیلے میں واپس جائو اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئو۔ ‘‘میں اپنے قبیلے میں واپس آگیا اور انہیں اسلام کی دعوت دیتا رہا۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور غزوہ ٔ بدر ، غزوہ ٔ اُحد اور غزوۂ خندق بھی ہو گئے اور میں اپنے قبیلے میں اسلام کی تبلیغ کر تا رہا۔ یہاں تک کہ جب 70یا80گھرانوں نے اسلام قبول کر لیا تو مجھے کچھ اطمینان ہوا۔ میں ان گھرانوں کو لے کر مدینہ منورہ حاضر ہوا تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں یہودیوں سے جنگ کر رہے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کو مدینہ منورہ میں چھوڑ کر ہم مرد حضرات خیبر میں جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مال غنیمت میں سے عطا فرمایا۔‘‘ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام قبول کرکے آنے والوں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

خیبر سے واپسی اور وادی القریٰ میں جنگ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کی فتح کے بعد واپسی میں وادی القریٰ میں لشکر کے ساتھ تشریف لے گئے۔ وہاں بھی یہودیوں کی آبادی تھی۔ اور ان کیساتھ عرب کا ایک قبیلہ بھی شامل ہو گیا تھا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پڑائو ڈالنے لگے تو وہاں کے یہودیوں نے تیروں سے اسلامی لشکر کا استقبال کیا۔ وہ لوگ پہلے سے صف بندی کئے ہوئے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک غلام اونٹ کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ ایک تیر اسے آکر لگ گیا اور وہ مر گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ’’ اس کے لئے جنت مبارک ہو۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہرگز نہیں! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ اس غلام نے خیبر کے مال غنیمت میں سے ایک چادر چرائی تھی۔ وہ آگ بن کر اس کے اوپر بھڑک رہی ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سن کر ایک شخص ایک جوتے کا تسمہ یا دو تسمے لے کر حاضر ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ( اگر تم اسے واپس نہ کرتے تو) یہ ایک تسمہ یا دوتسمے آگ کے ہوتے۔‘‘

وادی ٔ القریٰ والوں کو اسلام کی دعوت اور مخابرہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ترتیب اور صف بندی کی ۔پورے اسلامی لشکر کا جھنڈا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو دیا ۔ ایک جھنڈا حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور ایک جھنڈا حضرت عبادہ بن بشر رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی القریٰ کے یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جو انہوں نے قبول نہیں کی اور ان کا ایک آدمی میدان جنگ میں مقابلے کے لئے آیا۔ اسلامی لشکر سے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر دوسرا آدمی نکلا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے بھی قتل کر دیا۔ اس کے بعد ایک اور آدمی میدان میں آیا۔ اس کے مقابلے کے لئے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نکلے اور اسے ایک ہی وار میں قتل کر دیا۔ اس طرح ایک ایک کر کے ان کے گیارہ آدمی مارے گئے۔ جب ایک آدمی قتل ہوتا تھا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم باقی یہودیوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اس دن جب نماز کا وقت ہوتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھاتے تھے۔ پھر پلٹ کر یہودیوں کے مقابلے پر جاتے اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اس طرح لڑتے لڑتے شام ہو گئی۔ دوسرے دن صبح پھر صف بندی کی گئی۔ لیکن کچھ دیر کے مقابلے کے بعد یہودیوں کی ہمت ٹوٹ گئی اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے وادی ٔ القریٰ کے یہودیوںنے بھی خیبر اور فدک کے یہودیوں کی طرح مخابرہ کر لیا اور اپنی پیداوار کا آدھا حصہ دینے کا معاہدہ کر کے اپنی جان بچا لی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے چار دنوں تک وادی القریٰ میں قیام فرمایا اور جو مالِ غنیمت حاصل ہوا۔ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم فرمادیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


26 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


26 سیرت سید الانبیاء ﷺ

عمرۃ القضاۃ

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


عمرۃ القضاۃ کے لئے روانگی، قریش کی گھبراہٹ، طواف کرنے کی کیفیت، حضرت حمزہ کی بیٹی، حضرت خالد بن ولید کا غو رو فکر، حضرت خالد بن ولید کا قبول اسلام، سید الانبیاء ﷺ کی خوشی اور مسرت، 


جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے مدینہ منورہ واپس آئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ خیبر کے راستے میں ہم لوگ ایک وادی میں پہنچے تو بلند آواز سے یہ تکبیر کہنے لگے۔’’ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ ‘‘یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اپنی جانوں پر نرمی کرو۔ ( یعنی اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالو) تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں سنا رہے ہو۔ بے شک تم اس ذات ( اللہ تعالیٰ) کو سنا رہے ہو۔ جو سننے والاہے اور قریب ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے میں چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے’’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ‘‘کہتے ہوئے سنا تو مجھ سے فرمایا: ’’ اے عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ! ( یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام ہے اور ابو موسیٰ کنیت ہے) میں نے فوراً عرض کیا: ’’ میں حاضر ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ایسا کلمہ بتائوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ضرور بتائیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ کلمہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ہے۔ ‘‘

غزوہ خیبر اور عمر ہ قضا کے درمیان کے سرایا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صفر المظفر 7 ؁ہجری میں غزوہ خبیر سے مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اس کے بعد عمر ہ قضا کے لئے مکہ مکرمہ ذی القعدہ 7 ؁ہجری میں مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ صفر المظفر سے لے کر ذی القعدہ تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مختلف سرایا پر بھیجتے رہے۔ ( غزوہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے ہیں اور سرِیہّ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔ سرایا جمع ہے اور سریہ واحد ہے) ان سرایا کا مختصرا ً ذکر ہم یہاں کر رہے ہیں۔ ربیع الاول 7ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت غالب بن عبداللہ لیشی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں قبیلہ بنو ملوح کی طرف بھیجا ۔ جمادی الآخر 7 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں پانچ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر حسمیٰ کی طر ف قبیلہ جذام کی سر کوبی کے لئے بھیجا۔ شعبان 7 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس30صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو تربہ کی طرف قبیلہ بنو ہوازن کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ شعبان المعظم 7 ؁ہجری میں ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بشر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس30صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بنو مرہ کی طرف فدک کے اطراف میں سریہ بھیجا۔ رمضان المبارک 7 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت غالب بن عبداللہ لیشی کی قیادت میں بنو عوال ، بنو عبدبن ثعلبہ اور بنو جہینہ قبائل کی طرف سریہ بھیجا۔ شوال 7 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بنو عطفان کی سرکوبی کے لئے خیبر کے اطراف میں بھیجا۔ شوال 7 ؁ہجری میں ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بشیر بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جہاد کی طرف بنو فزارہ اور بنو عذرہ کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔

عمرۃ القضاۃ کے لئے روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال ۷ ؁ہجری میں ہی عمرہ قضاء کی روانگی کی تیاری شروع کر دی تھی اور اعلان کروا دیا تھا کہ ہم ذی القعدہ ۷ ؁ہجری میں عمرئہ قضاء کے لئے روانہ ہونگے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی تیاری کر لی۔اس سے پہلے ہم آپ کو صلح حدیبیہ کے بارے میں بتا چکے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ ۶ ؁ہجری میں عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ کی طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ سفر کیا تھا۔ لیکن مکہ مکرمہ کے مشرکین نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کر لی تھی اور اس کی ایک شرط یہ تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس سال یہیں سے ( حدیبیہ کے مقام سے) واپس چلے جائیں اور اگلے سال مکہ مکرمہ آکر عمرہ کرلیںاور تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں رہ سکتے ہیںاور اس دوران مکہ مکرمہ کے مشرکین مکہ مکرمہ خالی کر کے پہاڑوں میں چلے جائیں گے اور تین دن بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کرضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ واپس چلے جائیں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر وادیا کہ پچھلے سال جو لوگ صلح حدیبیہ میں موجو دتھے وہ سب عمرہ قضا کے لئے چلیں۔ صلح حدیبیہ میں موجود تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عمرہ قضا کے لئے روانہ ہوئے۔ صرف وہ لوگ موجود نہیں تھے جن کا اس دوران انتقال ہو گیا تھا یا جو خیبر میں شہید ہو ئے تھے۔ اہل حدیبیہ کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی عمرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ اس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد دو ہزار یا کچھ زیادہ ہو گئی ۔ خواتین اور بچے ان کے علاوہ تھے۔

سید الانبیاء ﷺ نے احرام باندھا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نائب بنایا۔ امام قسطلانی نے ابودہم لکھا ہے اور امام محمد بن سعد نے ابو رحمن لکھا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور قربانی کے لئے ساٹھ اونٹ لئے۔ قربانی کے اونٹ حضرت ناجیہ بن جندبرضی اللہ عنہ کی نگرانی میں دیئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار ، زرہیں اور جنگی سامان بھی ساتھ لیا اور بشیر بن سعد کی نگرانی میں یہ سامان دے دیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو ذو الخلیفہ پہنچنے کے بعد 100سواروں کے ساتھ آگے روانہ کیا تا کہ قریش کے مشرکین اگر کوئی شرارت کریں تو انہیں روکا جائے۔ ادھر قریش کو بھی اطلاع مل چکی تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے روانہ ہونے والے ہیں۔ انہوں نے تحقیق کے لئے اپنے آدمی بھیجے۔

قریش کی گھبراہٹ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو آگے روانہ فرما دیاتھا۔ وہ جب مر الظران پہنچے تو انہیں قریش کے تحقیق کرنے والے آدمی ملے۔ انھوں نے حضرت محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھ 100سواروں کو جنگی لباس دیکھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لگ بھگ دو ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں اور انشا اللہ کل صبح تک یہاں پہنچ جائیں گے۔ قریش کے آدمیوں نے ان کے جنگی لباس کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پر حملہ کر نے کے لئے آرہے ہیں۔ وہ لوگ نہایت تیزی سے مکہ مکرمہ پہنچے اور بتایا کہ مسلمانوں کے پاس ہتھیار اور جنگی سامان ہیں۔ تمام مشرکین قریش یہ سن کر گھبرا گئے اور کہنے لگے : ’’ ہم نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کے خلاف کوئی ایسی ویسی حرکت بھی نہیں کی ہے۔ پھر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم پر حملہ کرنے کیوں آرہے ہیں؟ ‘‘ انہوں نے فوراً مکر ز بن حفص کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہا : ’’ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بچپن سے لے کر آج تک یہی دیکھا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) وعدہ اور معاہدہ کو پوری طرح نبھاتے ہیں۔ پھر آج یہ ہتھیار کس لئے ہیں؟ جب کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم سے وعدہ فرما چکے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں صرف مسافر کے ہتھیار( یعنی میان میں رکھی ہوئی تلوار) کے ساتھ داخل ہوں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں ان پر ہتھیار لے کر داخل نہیں ہوں گا۔‘‘ مکرز نے کہا: ’’ ہمیں آ پ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ایسی ہی امید ہے۔‘‘ اس کے بعد مکر ز نے آکر قریش کو بتایا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرنے نہیں بلکہ عمرہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔

سید الانبیاء ﷺ کا عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ میں داخلہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ جو ہتھیار اور جنگی سامان لائے تھے وہ بطن ناجح میں محفوظ رکھوادیئے اور دو سوافراد کو اس کی نگرانی کے لئے چھوڑ دیا اور ان کا امیر حضرت اوس بن خولی رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر اس گھاٹی میں داخل ہوئے جو حجون کی طرف نکلتی ہے اور اس کو ثنیتہ کدا ء کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تلبیہ پڑ ھ رہے تھے۔ ادھر مکہ مکرمہ کے مشرکین مکہ مکرمہ کو خالی کر کے پہاڑوں میں جا رہے تھے۔ کیوں کہ انہیں اس بات میں اپنی بے عزتی محسوس ہو رہی تھی کہ ان کے دشمن ان کی موجودگی میں ان کے شہر میں داخل ہوں ۔ اس لئے قریش کے بڑے بڑے سردار تو پہلے ہی مکہ مکرمہ سے نکل کر پہاڑوں میں چلے گئے تھے اور باقی قریش بھی مکہ مکرمہ خالی کر رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھیرے میں چلتے ہوئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔

طواف کرنے کی کیفیت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھیرے میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری قصوا کی مہار پکڑ ے ہوئے چل رہے تھے اور بلند آوازسے کہتے جا رہے تھے: ’’ اے کافرو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ چھوڑ دو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ بہترین قتل وہ ہے جو اللہ کے لئے ہو اور ہم نے تم سے جہاد اور قتال صرف ا س لئے کیاکہ تم اللہ کا حکم نہیں مانتے ہو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں اشعار پڑھ رہے ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسے پڑھنے دو۔ یہ اشعار کافروں پر تیر وں کی بارش سے زیادہ سخت ہیں۔ ‘‘مکہ مکرمہ کے مشرکین اکثر تو پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ لیکن کچھ کافر دارالندوہ کے پاس کھڑے دیکھ رہے تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ یہ مسلمان بھلا کیا طواف کریں گے۔ ان کو تو بھوک اور مدینہ منورہ کے بخار نے کچل کر رکھ دیا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ پہلے تین چکر طواف میں رمل کریں۔ یعنی خوب اکڑ کر شانوں کو ہلا کر طواف کریں اور باقی چکر عام حالت میں کریں۔ تا کہ کافروں کے سامنے مسلمانوں کی طاقت کا مظاہرہ ہو جائے۔ یہ سنت آج تک باقی ہے او ر انشا اللہ قیامت تک باقی رہے گی اور ہر طواف کرنے والا پہلے تین پھیروں یا چکر میں رمل کرتا ہے۔

اُ م المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف مکمل کرنے کے بعد صفا اورمروہ کے درمیان سعی فرمائی اور قربانی کر کے احرام اتار کر حلال ہو گئے۔ اس کے بعد کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ بطن ناجح چلے جائیں اور جو افراد ہتھیار وں اور جنگی سامان کی نگرانی کر رہے ہیں انہیں بھیج دیں تا کہ وہ بھی عمرہ کر لیں۔ اتنا فرما کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے اور ظہر کیوقت تک اندر ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کے پاس اذان دی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں تشریف فرما رہے۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ سید ہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنے نکاح کا اختیار اپنی بہن اُم فضل رضی اللہ عنہا کو دیا تھا۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی ہیں اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ انہوں نے وہ اختیار اپنے شوہر کو دیا اور ان کے شوہر نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور مہر چار سو درہم مقررہوا۔ جب تین دن پورے ہو گئے تو قریش نے حویطب بن عبدالعزیٰ کو چند قریش کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ اس نے کہا: ’’ مکہ مکرمہ میں تمہاری اقامت کی مدت پوری ہو گئی۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مدینہ منورہ واپسی کا حکم دیا۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے روانہ روانہ ہونے لگے تو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ( غزوہ ٔ احد میں شہید ہو ئے ) کی چھوٹی بیٹی پکارتی ہوئی دوڑتی ہوئی آئی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اٹھا لیا اور ان کے بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آگے بڑھے۔ تینوں حضرات رضی اﷲ عنہم حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی کی پرورش کرنا چا ہتے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ اس لئے میرے پاس رہے گی۔ ‘‘ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ میرے چچا کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ اس لئے یہ میرے پاس رہے گی۔ ‘‘اور حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ میری دینی ( اسلامی) بھائی کی بیٹی ہے۔ اس لئے میرے پاس رہے گی۔ ‘‘تینوں نے معاملہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ خالہ کا مقام ماںکے جیسا ہے۔ اس لئے یہ بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی۔‘‘ اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔

سید الانبیاء ﷺ کا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے کے لئے جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو قریش کے مشرکین مکہ مکرمہ خالی کر کے پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ ان میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ سے فارغ ہوئے تو حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ خالد بن ولید ( رضی اللہ عنہ ) دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘ ( حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں ۔ انہوں نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہ رہے تھے) حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ( امید ہے) بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے گا۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تعجب کی بات ہے کہ خالد جیسا عقلمند اور سمجھدار اسلام جیسے پاکیزہ مذہب سے بے خبر ہے اور اب تک دور ہے۔ اگر خالد بن ولید ( رضی اللہ عنہ ) مسلمانوں کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی مدد کرتا اور اہل باطل ( مشرکوں ) سے مقابلہ کرتا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوتا اور ہم اس کو دوسروں پر مقدم رکھتے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ بے چین ہو گئے اور بے تابی سے مکہ مکرمہ میں اپنے پیارے بھائی کو تلاش کرنے لگے۔ لیکن وہ تو پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ آخر کار جب تین دن پورے ہو نے لگے تو انہوں نے اپنے بھائی کے نام ایک خط لکھا اور ایک جان پہچان والے کو دے کر کہا: ’’ جب میرا بھائی خالد بن ولید ( رضی اللہ عنہ ) واپس آئے تو اسے دیدینا۔‘‘ اور مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سوچ کا رخ بدل گیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لائے اور تین دنوں بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔ اس دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پہاڑوں میں رہے۔ لیکن دل اسلام کی طرف مائل ہو چکا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کے نور کی کرن پید ا فرما دی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ کے اندر کشمکش پید ا ہو گئی تھی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت اور بھلائی سے سرفراز فرمانے کا ارادہ فرمایا تو اس نے میرے دل میں اسلام کی تڑپ پید ا فرمادی اور صحیح رخ پر سوچنے کا انداز عطا فرمایا۔ میں جب بھی قریش کی طرف سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے جاتا تھا تو دیکھتا تھا کہ ان کی تعداد ہم سے کم ہوتی تھی۔ ان کا اسلحہ ( ہتھیار اور جنگی سامان) ہم سے کم ہوتا تھا۔ ان کی رسد ( کھانے کا سامان) اوردوسرے ضروری سامان ہم سے کم ہوتے تھے۔ ان کے افراد میں جنگی تربیت اور جنگی صلاحیت ہم سے کم ہوتی تھی۔ ان تمام کو تاہیوں اور بظاہر محرومیوں کے باوجود ہر جنگ میں ، ہر موقعہ پر وہ لوگ ہم پر حاوی ہو جاتے تھے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے اندازہ ہوتا تھا کہ ضرور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہے اور مجھے احساس ہوتا تھا کہ میں ان لوگوں کے خلاف جو جنگ اور جد و جہد کر رہا ہوں۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ‘‘

صلح حدیبیہ سے صحیح رخ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے جنگ کے دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دل میں دھیرے دھیرے کفر و شرک سے بیزاری اور اسلام سے محبت لاشعوری طور پر پیدا ہونے لگی تھی۔ لیکن ان کے سامنے کوئی واضح سوچ نہیں تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام کے بارے میں صحیح رخ صلح حدیبیہ سے ملی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم 6 ؁ ہجری میں عمرہ کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ نکلے تو مکہ مکرمہ میں ہم قریش نے مشورہ کیا کہ اس سال تو کسی قیمت پر ان کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لئے مجھے لشکر دے کر روانہ کیا گیا کہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا راستہ روکوں ۔ میں لشکر لیکر تیزی سے روانہ ہوا اور مقام عسفان پر ہمارا سامنا ہوا۔ میں لشکر لے کر قریب پہنچا اور میر احملہ کرنے کا ارادہ تھا۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ارادے کی خبر ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ صلوۃ الخوف‘‘ پڑھائی۔ ( یعنی آدھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز پڑھنے لگے اور آدھے صف لگائے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈٹے رہے۔ دو رکعت کے بعد نماز پڑھنے والے آکر ڈٹ گئے اور باقی نے جا کر دو رکعت نماز ادا فرمائی) یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کیوں کہ میں نے یہی ارادہ کیا تھا کہ نماز پڑھنے کے دوران حملہ کروںگا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عام راستے سے ہٹ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو ئے اور ہم لوگ عام راستے کی ناکہ بندی کئے رہے۔ یہاں تک کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ حدیبیہ تک پہنچ گئے۔ اس کے بعد صلح حدیبیہ ہو گئی اور مسلمانوں سے جنگ کا راستہ بند ہو گیا۔ ‘‘

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا غو رو فکر

سیدا لا نبیاء صلی علیہ وسلم نے صلح حد یبیہ میں قریش کے مشرکوں سے یہ اقرار لے لیا تھا کہ وہ مسلمانوں سے دس سال تک جنگ نہیں کریں گے اور اس کے بعد دونوں فریقین امن سے رہنے لگے۔ لیکن یہ صلح حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جنگی طبیعت کے خلاف تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’پھر جب قریش سے صلح نامہ ہو گا اور حالات پر امن اور پر سکون ہو گئے تو میں نے سوچا کہ اب کون سی شئے باقی رہ گئی ہے اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ عزت اور کامرانی سے میں اور میری قوم بہت دور ہیں۔ حبشہ کے نجاشی نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اس کے ملک میں بھی مسلمان موجود ہیں۔ مجھے ہر قل کے پاس روم چلے جانا چاہئے اور مشرکانہ مذہب چھوڑ کر مجھے نصرانی یا پھر یہودی ہو جانا چاہئے یا پھر مجھے بھی باقی قریش کی طرح اپنے گھر میںپڑا رہنا چاہئے۔ ایک او رسوچ بار بار ذہن میں آرہی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نماز پڑھنے کا منظر یاد آجاتا تھا۔ میں اسی کشمکش میں تھا اور اپنی زندگی اور اس کے مقصد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکا تھا۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے لئے آنے کی اطلاع ملی تو میں پہاڑوں میں چلا گیا۔ ‘‘

بھائی کے خط نے زندگی بد ل دی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کر کے مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں واپس آئے تو انہیں اپنے بھائی کا خط ملا ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ آنے کی خبر سن کر میں قریش کے ساتھ پہاڑوں میں روپوش ہو گیا۔ میرا بھائی ولید بن ولید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آیا۔ اس نے مجھے تلاش کیامگر میں نہیں مل سکا۔ پھر بے چارے نے میرے نام اپنا خط چھوڑ دیا۔ اس میں لکھا تھا : ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم اما بعد! میں تم سے نہیں مل سکا اور اسلام کے بارے میں لگا تا ر تمہاری بے خبری اور غفلت پر مجھے حیرت بھی ہے او ر افسوس بھی ہے کہ تم جیسا عقلمند انسان اس پاکیزہ مذہب سے دور ہے۔ اب تو اسلام عملاً نافذ ہو چکا ہے اور اسکی خیر و برکت اور دوسرے بھلے نتائج کو لوگ دیکھ رہے ہیں اور محسوس کر رہے ہیں۔ تمہارے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : ’’ خالد دکھائی نہیں دے رہا ہے ؟ ‘‘میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ اسے لے آئے گا۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تعجب کی بات ہے کہ خالد جیسا عقلمند اور سمجھدار شخص اسلام جیسے پاکیزہ مذہب سے بے خبر ہے اور اب تک دور ہے۔ اگر خالد بن ولیدمسلمانوں کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی مدد کرتااور اہل باطل (کافروں اور مشرکوں) سے مقابلہ کرتا تو یہ اسکے لئے بہتر ہوتا اور ہم اسکو دوسروں پر مقدم رکھتے۔ ‘‘تو اے میرے پیارے بھائی! تم سے جو کچھ اس تاخیر( دیر کرنے) کی وجہ سے چھوٹ گیا ہے۔ اس کی تلافی ( یعنی پورا) کرنے کی کوشش کرو۔‘‘ سیرت الحلبیہ میں ہے اس لئے میرے بھائی اب بھی موقع ہے۔ جو کچھ تم کھو چکے ہو اسے پالو۔ تم بڑے اچھے مواقع کھو چکے ہو۔ میرے خط کو غور سے پڑھ کر تم آگے کا قدم اٹھائو۔‘‘ میرے بھائی کا خط پڑھتے ہی میرے ذہن کی دھند صاف ہو گئی اور میری کشمکس ختم ہو گئی اور اسلام کی حقانیت صاف نظر آنے لگی۔‘‘

دل اسلام کی طرف راغب اور خواب کے ذریعے رہنمائی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ِ مبارک اپنے بھائی کے خط میں پڑھ کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سوچ اور زندگی بدل گئی۔ ذہن پر چھائی ہوئی دھند صاف ہو گئی اور دل اسلام کی طرف راغب ہو گیا۔ انہیں اس بات نے بہت متاثر کیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور سے میرے بارے میں دریافت فرمایا اور انہیں میری اتنی فکر ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ میں اپنے بھائی کے خط سے بہت متاثر ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میرے بارے میں جو کچھ فرمایا اس سے مجھے بہت زیادہ خوشی اور مسرت ہوئی اور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اسی دوران میں نے خواب دیکھا کہ میں قحط زدہ اور تنگ شہروں سے نکل کر ہرے بھرے سر سبز و شاداب اور بارونق شہر کی طرف جا رہا ہوں۔ یہ خواب دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ خواب ایک بشارت ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی ہے۔ بعد میں جب میں نے یہ خواب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انہوں نے فرمایا: ’’ قحط زدہ اور تنگ شہر ’’کفر ‘‘ہے اور سر سبز و شاداب شہر’’ اسلام ‘‘ہے اور تمہار نکلنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔

دوستوں کو مدینہ منورہ چلنے کی دعوت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دل و دماغ میں اسلام کی شمع روشن کر دی اور خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی تو آپ رضی اللہ عنہ مدینہ ٔ منورہ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب میں نے مدینہ منورہ روانگی کا فیصلہ کیا تو یہ سوچا کہ اپنے دوستوں کو بھی مدینہ منورہ ساتھ چلنے کی دعوت دے دوں۔ اس لئے میں اپنے ایک دوست صفوان بن امیہ کے پا س گیا اور اس سے کہا: ’’ ابے ابو وہب ( یہ صفوان بن امیہ کی کنیت ہے) تم دیکھ رہے ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عرب اور عجم پر چھاتے جا رہے ہیں۔ اس لئے کیوں نہ ہم بھی ان کے پاس جا کر ان کی اطاعت قبول کر لیں۔ اس لئے کہ ان کی سر بلندی حقیقت میں خود ہماری ( قریش کی ) ہی سر بلندی ہو گی۔‘‘ صفوان نے جواب میں کہا: ’’ اگر میرے علاوہ ساری دنیا بھی ان کی اطاعت قبول کر لے گی تب بھی میں اُن ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت قبول نہیں کروں گا۔‘‘ میں نے اس کا جواب سن کر سوچا۔ جنگ بدرمیں اس شخص کا باپ اور بھائی قتل ہو چکے ہیں۔ اسی لئے یہ ایسا کہہ رہا ہے۔‘‘ ( صفوان بن امیہ نے فتح مکہ میں اسلام قبول کر لیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مالِ غنیمت میں سے اتنا زیادہ عطا فرمایا کہ وہ خوش ہو گیا) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں؛ ’’ اس کے بعد میں اپنے سب سے گہرے دوست عکرمہ بن ابو جہل کے پاس گیا اور اس سے بھی یہی بات کہی۔ جو میں نے صفوان بن امیہ سے کہی تھی ۔ اس نے بھی وہی بات کہی جو صفوان نے کہی تھی۔ ان دونوں سے میں نے کہا تھا کہ وہ میری بات کو راز میں رکھیں اور ان دونوں نے وعدہ کیا کہ کسی سے ذکر نہیں کریں گے۔ ( عکرمہ بن ابو جہل نے بھی فتح مکہ میں اسلام قبول کیا اس کے بعد ہر جنگی معرکے میں شامل رہے۔ خلیفہ ٔ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے)

ایک دوست ساتھ چلنے کو تیار ہوئے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے دوستوں کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دو دوستوں نے انکار کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہ کشمکش کا شکار ہو گئے کہ باقی دوستوں کو کہوں یا نہ کہوں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ دو دوستوں کے انکار کے بعد میں نے سوچا کہ اپنے ایک اور دوست عثمان بن طلحہ سے کہوں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ اس کا باپ اور چچا اور چار بھائی جنگ احد میں قتل ہو ئے تھے۔ اس لئے کہیں وہ بھی انکار نہ کر دے۔ پھر میں نے سوچا وہ میر اد وست ہے اور کہنے میں کیا حرج ہے؟ اس لئے میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہاجو میں نے اپنے دونوں دوستوں سے کی تھی۔ عثمان نے میری بات قبول کر لی اور تیار ہو گیا اور ہم نے طے کیا کہ اکیلے اکیلے روانہ ہوں گے اور ایک مخصوص جگہ طے کر لی کہ جو بھی وہاں پہلے پہنچ جائے گا وہ دوسرے کا انتظار کر ے گا۔ پھر جب دوسرا آجائے گا تو دونوں ایک ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوں گے۔ ‘‘

حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ہو گئے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضری کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں؛ ’’ اگلے دن صبح ہونے سے پہلے ہی ہم دونوں طے شدہ مقام پر آکر ملے اور مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب ہم مقام ’’ ھدہ ‘‘ پر پہنچے تو وہاں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ ملے۔ ہم دونوں کو دیکھ کر انہوں نے مرحبا ( خوش آمدید) کہا اور ہم دونوں نے بھی مرحبا کہا۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا: ’’ آپ دونوں حضرات کہا ں جا رہے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ ہم اسلام قبول کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’ میں بھی اسلام قبول کرنے جا رہا ہوں۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے پوچھا! اے ابو سلیمان !( یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘‘حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ’’ اللہ کی قسم میرے سامنے تو ( حق کا ) راستہ ظاہر ہو گیا ہے اور اسلام کا معاملہ صاف ہو گیا ہے۔ وہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم )یقینا اللہ کے نبی ہیں۔ اس لئے چلو اور مسلمان ہو جائو۔ آخر کب تک (ہم حق سے بھاگتے رہیں گے اور اسلام کو چھو ڑکر کفر و شرک کے اندھیرے میں بھٹکتے رہیں گے) ‘‘یہ سن کر میں نے کہا: ’’ میں تو خود بھی اسی ارادے سے نکلا ہوں ۔ ‘‘

سید الانبیاء ﷺ کی خوشی اور مسرت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کے لئے یہ تینوں حضرات رضی اللہ عنہم مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ تینوں حضرات قریش کے بہت بہادر جوا ن تھے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ قریش کی بہت بڑی طاقت تھے۔ اللہ تعالیٰ آج اس طاقت کو مدینہ منورہ کی طرف اس لئے رواں دواں کئے ہوئے تھا کہ یہ طاقت اسلام کو مستحکم کرنے میں بڑی مدد گار ہوگی اور آگے کے حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ ان تینوں حضرات رضی اللہ عنہم نے اسلام کے استحکام میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اس طرح ہم تینوں کا ساتھ ہو گیا اور ہم تینوں سفر کرتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور مقامِ’’ حرہ ‘‘میں اپنی سواریاں بٹھا کر خیمے لگا دیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے ہماری آمد کی اطلاع دے دی۔ یہ خبر سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہوئے اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ مکہ مکرمہ نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہارے سامنے ڈال دیئے ہیں۔ ‘‘اس کے بعد میں نے اور میرے ساتھیوں نے غسل کر کے بہترین کپڑے پہنے ۔ اسی دوران میرا بھائی ولید بن ولید رضی اللہ عنہ خوش خوش ہمارے پاس آیا اور بولا : ’’ جلدی کرو!کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم لوگوں کے آنے کی اطلاع مل گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہیں اور تمہاری آمد پر مسرت کا اظہار کیا ہے اور تم لوگوں کا انتظار فرما رہے ہیں۔ ‘‘

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام کی آغوش میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی اور اظہار مسرت اور انتظار کے بارے میںسن کر ان تینوں حضرات رضی اللہ عنہم کی عجیب حالت ہو گئی۔ ان کے اندر ایک ساتھ خوشی ، فخر اور شرمندگی کے احساسات پید ا ہو گئے اور وہ جلدی سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خد مت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہو گئے ۔ جیسے جیسے یہ حضرات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچتے جا رہے تھے ویسے ویسے ان کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ ( ان احساسات کا اظہار بعد میں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے کیاتھا) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اب ہم تیزی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوئے۔ جب میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے منور ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دور سے آتا دیکھ کر مسکرارہے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا؛ ’’ السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکراتے رہے اور پھر فرمایا ؛ ’’وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمام تعریفیں صرف اسی اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہیں ( اسلام قبول کرنے کی ) ہدایت فرمائی۔ میں جانتا تھا کہ تم ایک عقل مند آدمی ہو۔ اسی لئے میری آرزو تھی اور مجھے امید تھی کہ تم خیر(بھلائی) کی طرف ضرور آئو گے۔‘‘ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا؛ ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ میری ان غلطیوں کو معاف فرما دے جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر آکر کی تھیں۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسلام ( قبول کرنا پچھلی) تمام غلطیوں اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ میں نے پھر یہی درخواست کی؛ ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرمائیں۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! تُو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ان تمام غلطیوں اور خطائوں کو معاف فرما دے جو خالد نے تیری راہ کو روکنے کے لئے کی تھی۔ ‘‘

حضرت عثمان بن طلحہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم بھی اسلام کی آغوش میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسلام قبول کر لیا۔ ( حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی روایت پوری ہوئی) ایک اور روایت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ہم مدینہ منورہ پہنچے اور’’ حرہ ‘‘کے مقام پر ہم تینوں نے قیام کیا اور یہاں ہم نے غسل کر کے بہترین لباس پہنے اسی وقت عصر کی اذان ہو گئی۔ ہم لوگ وہاں سے روانہ ہو کر ( مسجد نبوی میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے جگمگا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور وہ سب بھی خوشی سے سرشار تھے۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے اسلام قبول کیا۔ پھر میں آگے بڑھا۔ اللہ کی قسم ! میرا شرمندگی کے مارے برا حال تھا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف میری نگاہیں نہیں اٹھ پا رہی تھیں۔‘‘ پھر میں نے بھی اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اس شرط پر بیعت کی کہ اللہ تعالیٰ میرے تمام پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسلام پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت بھی تمام گذشتہ غلطیوں کو دھو ڈالتی ہے۔‘‘ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اللہ کی قسم ! جب سے میں نے اور خالد نے اسلام قبول کیا۔ تب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مقدم رکھا اور خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی مقدم رکھا۔ پھر خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور میں نے ملک مصر فتح کیا۔ ‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں