اتوار، 2 جولائی، 2023

34 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


34 سیرت سید الانبیاء ﷺ

غزوۂ تبوک۔ قسط نمبر 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

سید الانبیاء ﷺ کا رعب، غزوہ تبوک کے اثرات، رومی لشکر ڈر کر بھاگ گیا، عیسائیوں نے صلح کی اور جزیہ دینا منظو ر کر لیا، مسجد ضِرار ( منافقوں کی مسجد)، غزوہ تبوک کا ملک عرب پر اثر، اسلام کو پوری دنیا میں پہنچانا ہے

تبوک میں پڑاؤ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بالآخر تیس ہزار کا لشکر لے کر تبوک پہنچ گئے اور پڑائو ڈال دیا۔ تبوک ایک مشہور مقام ہے اور یہ ملک شام کی سرحد پر واقع ہے اور دمشق اور مدینہ منورہ کے آدھے راستے پر ہے۔ اس وقت وہاں ایک پانی کا چشمہ ہو اکرتا تھا۔ جس کانام ’’تبوک‘‘ تھا۔ آج وہاں اچھا خاصا بڑا شہر آباد ہے۔ تبوک کا چشمہ اتنا بڑا نہیں تھا کہ تیس ہزار کے لشکر کے لئے کافی ہوتا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ہی فرما دیا تھا : ’’ کل تم لوگ انشا ء اللہ تبوک کے چشمہ پر پہنچ جائوگے۔ اس لئے جو شخص بھی چشمہ کے پاس پہنچے وہ میرے وہاں پہنچنے تک پانی کو ہاتھ نہ لگائے۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تو حکم کی پابندی کی اور پیاس کی شدت کو برداشت کرتے رہے۔ لیکن منافقین نے پانی لینا شروع کر دیا۔ ( یاد رہے کہ اکثر منافقین تو ثینتہ الوداع سے عبداللہ بن ابیّ کے ساتھ واپس ہو گئے تھے۔ لیکن تیس ہزار کے اسلامی لشکر میں کچھ منافقین بھی تبوک تک آئے تھے اور یہ کچھ منافقین کئی سو بھی ہو سکتے ہیں) جس کی وجہ سے ایسا ہوا کہ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے چشمے پر پہنچے تو پانی لگ بھگ ختم ہو چکا تھا اور پانی قطرہ قطرہ کر کے رس رہا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پانی نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قطرہ قطرہ پانی کو جمع کرنے کا حکم دیا۔ جب اتنا پانی جمع ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو بنا سکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور پانی کی کلّی چشمہ میں کر دی۔ تھوڑی دیر بعد اس چشمے سے پانی نکلنے لگا اور اتنا پانی نکلا کہ تیس ہزار کا لشکر بیس 20دنوں تک کھل کر اس پانی کو استعمال کرتا رہا۔ اس کے باوجود پانی ویسے ہی جاری رہا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ اے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ! اگر تمہاری عمر نے وفا کی تو تم دیکھو گے کہ یہ علاقہ سر سبز اور ہرا بھرا باغ و بہار بن جائے گا۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کا رعب

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور سے جنگ کرنے کے لئے ’’تبوک ‘‘ کے مقام پر پہنچے ۔یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ملک عرب میں تو اسلام پھیل چکا تھا۔اس کے بعد بھی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی جد وجہد جاری رکھی تھی اور لگ بھگ ساٹھ (60)یا اکسٹھ(61)سال کی عمر میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت سے ٹکرانے کے لئے اتنا خطرناک سفر کیاجس سفر کو کرنے سے نوجوان بھی گھبراتے تھے۔اس سفر سے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ ہمیں بھی آخری وقت تک اﷲ کے دین کو قائم کرنے کی جد و جہد کرتے رہنا چاہیئے۔سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم لگ بھگ تیس ہزار (30,000)کا لشکر لیکر تبوک کی طرف روانہ ہوئے۔مدینہ منورہ سے روانہ ہونے والا اب تک کا یہ سب سے بڑا لشکر تھا۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ رومیوں سے اُن کے ہی علاقے میں مقابلہ کیا جائے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے چھ (6)ایسی چیزیں عطا فرمائیں ،جو کسی نبی علیہ السلام کو ایک ساتھ نہیں ملیں۔اِن میں سے ایک چیز یہ تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ایسا رعب عطا فرمایا تھا کہ ایک مہینے کی مسافت کی دوری پر ہی کافروں پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہیبت طاری ہو جاتی تھی اور غزوہ تبوک اس کی سب سے بہترین مثال ہے۔رومیوں کو جب یہ پتہ چلا کہ سید الانبیا ء صلی اﷲ علیہ وسلم تیس ہزار(30,000) ہزار کا لشکر لیکر آرہے ہیں تو اُن پر بہت زیادہ ہیبت طاری ہو گئی۔صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا خیال تھا کہ تبوک میں ایک بہت بڑے لشکر سے سامنا ہو گالیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔رومیوں کا جو لشکر تبوک میں جمع تھا اُسے جب معلوم ہوا کہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے ساتھ بہ نفس نفیس تشریف لا رہے ہیںتو بہت بُری طرح لرز گئے اور اِس ڈر کا شکار ہو گئے کہ پچھلی مرتبہ مسلمانوں کے ایک معمولی لشکر نے اپنے سے تیس(30) گُنی زیادہ لشکر کو بکھیر کر رکھ دیا تھا۔جب اُس کا یہ عالم تھا تو اب تو اُن کے آقا صلی اﷲ علیہ وسلم بذات ِ خود تشریف لا رہے ہیںتو اُن کا کیا عالم ہو گا؟رومیوں پر اتنی ہیبت طاری ہوئی کہ وہ مسلمانوں کے بار بار للکارنے اور مقابلے کی دعوت دینے کے باوجود بغیر لڑے بھاگ کھڑے ہوئے۔لگ بھگ بیس(20)دنوں تک آپ صلی اﷲ علیہ وسلم تبوک میں قیام پذیر رہے۔اس دوران دنیا کی سب سے بڑی طاقت سلطنت روم اور اُسکے ماتحت قبائل پر آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوںکاایسا رعب طاری ہوا کہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت تسلیم کر لیااور کئی قبائل نے سلطنت روم سے اپنے معاہدے توڑ دیئے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم سے معاہدے کئے۔

غزوہ تبوک کے اثرات

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں ایک مرکز مل گیا۔اس کے بعد اسلام اور مسلمان ایک بڑی طاقت کے طور پر اُبھرنے لگے اورا ُن کا سب سے پہلے ٹکراؤ قریش سے ہوا۔قبیلہ قریش کا ملک عرب میں ایک بہت بڑا مقام تھااور تمام عرب کی نگاہیں قریش اور مسلمانوں پر لگی ہوئی تھیں۔جب مکہ مکرمہ فتح ہوا اور تمام قریش نے اسلام قبول کر لیا تو تمام عرب قبائل نے سمجھ لیا کہ اب اسلام اور مسلمان عرب کی سب سے بڑی طاقت بن چکے ہیں ۔اس کے باوجود کچھ قبیلوں نیمقابلہ کرنے کی کوشش کی،جس کے نتیجے میں غزوہ حنین اور غزوہ طائف ہوئے۔اس کے بعد سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم عرب قبائل سے آگے بڑھکر اُس وقت کی سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم سے مقابلے کے لئے اُن کے سرحدی مقام تبوک تک پہنچے اور وہاں لگ بھگ بیس(20) دنوں تک رومی لشکر کا انتظار کیا،لیکن رومی مقابلے کے لئے نہیں آئے اور تمام عرب کے ساتھ ساتھ تمام دنیا پر بھی سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمانوں کا دبدبہ قائم ہو گیا۔غزوہ تبوک دراصل مسلمانوں کے لئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کاایک اشارہ تھا کہ اسلام کو صرف ملک عرب تک ہی محدود نہیں رکھنا ہے۔بلکہ اسے ساری دنیا تک پہنچانا ہے اور پوری دنیا پر نافذ کرنا ہے اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے اس عمل کے لئے اپنی پوری زندگیاں وقف کردیں۔

رومی لشکر ڈر کر بھاگ گیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے لئے ملک شام اور حجاز کی سرحد پر رومیوں کا ایک لشکر جمع ہوا تھا۔ قیصر روم ہرقل نے بھی چالیس ہزار کا لشکر بھیجا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومیوں کے لشکر کے جمع ہونے کی خبر سن کر رومیوں سے مقابلے کے لئے تیس ہزار کا لشکر لے کر چلے۔ ادھر رومیوں کو اسلامی لشکر کے روانہ ہونے کی اطلاع ملی تو ان پر ہیبت طاری ہو گئی۔ در اصل وہ جنگ موتہ کو نہیں بھول پائے تھے۔ جس میں لگ بھگ ڈھائی لاکھ کے رومی لشکر کو صر ف تین ہزار کے اسلامی لشکر نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں زمین چٹا دی تھی۔ رومی یہ سوچ رہے تھے کہ مسلمانوں کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس دس گنا بڑے لشکر کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں ۔ ان پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا رعب طاری ہو اکہ وہ تبوک سے بھاگ گئے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک پہنچے تو مقابلے کے لئے کوئی نہیں تھا۔

عیسائیوں نے صلح کی اور جزیہ دینا منظو ر کر لیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دنوں تک تبوک میں قیام فرمایا۔ اس دوران دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم اور اس کے ماتحت قبائل پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ایسا رعب طاری ہو ا کہ انہوں نے مسلمانوں کو سلطنت روم سے بڑی طاقت تسلیم کر لیا۔ اور سلطنت روم سے معاہدے توڑ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر صلح کے معاہدے کرنے لگے اور جزیہ دینا منظور کر لیا۔ ایلہ کا بادشاہ یوحنا بن روبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ( یہ عیسائی بادشاہ تھا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول کی اور صلح کر کے جزیہ دینا منظور کیا۔ اس کے بعد جرباء اور اذرح کے عیسائی بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اطاعت قبول کر کے جزیہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان نامہ لکھ کر دیا۔ جس کی رو سے وہ لوگ مسلمانوں کی حفاظت میں ہوں گے اور اپنے گرد و پیش کے سمندر سے ہر قسم کا فائدہ حاصل کر سکیں گے۔ یو حنا نے ایک سفید خچر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی چادرِ مبارک عطا فرمائی۔

دومتہ الجندل کے حاکم کی گرفتاری اور امان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک میں بیس دن کے قیام کے دوران مختلف قبائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے اور صلح کرتے رہے۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو چار سو سے کچھ زیادہ کا لشکر دے کر دومتہ الجندل کی طرف روانہ فرمایا اور فرمایا : ’’ دومتہ الجندل کا حکمراں اکیدر تمہیں شکار کھیلتا ہوا ملے گا۔ اسے گرفتار کر کے میرے پاس لے آئو اور اگر وہ انکار کر دے تو اسے قتل کر دینا۔ سلطنت روم کے قیصر ہر قل نے اکیدر کو دمتہ الجندل کا حکمراں اور فرماں روا بنایا تھا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چاندنی رات میں دومتہ الجندل پہنچے ۔ اکیدر اپنے بھائی حسان اور ساتھیوں کے ساتھ شکار کر رہا تھا۔ حسان نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کر دیا اور مار ا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اکیدر سے کہا: ’’ میں تمہاری جان بخش سکتا ہوں۔ شرط یہ ہے کہ تم میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو نا منظور کر و۔‘‘ اکیدر نے منظور کر لیا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اکیدر نے دو ہزار اونٹ، آٹھ سو گھوڑے ، چار سو زرہیں اورچا ر سو نیزے دے کر صلح کر لی اور اطاعت قبول کر لی۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنت میں ہیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اکیدر کو لانے سے پہلے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس کی قبا بھیج دی تھی۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب اکیدر کی قبا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے ہاتھ لگا لگا کر دیکھنے لگے اور اس کی خوش نمائی اور ملائمت پر تعجب کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ’’تم اتنی سی شئے پر تعجب کر رہے ہو!قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے !وہ مندیلیں جو اس وقت حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ پہنے ہوئے ہیں وہ اس قبا سے کہیں زیادہ اعلیٰ اور خوش نما اور ملائم ہیں۔‘‘

مسجد ضِرار ( منافقوں کی مسجد)   

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بیس20دنوں تک تبوک میں قیام کرنے کے بعد مدینہ منورہ واپس آئے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ’’ ذی آوان‘‘ پر پہنچے یہاں سے مدینہ منورہ ایک گھنٹے کے راستہ پر رہ جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مالک بن دخشم رضی اللہ عنہ اور حضرت معن بن عدی رضی اللہ عنہ کو مسجد ضرار کے منہدم کرنے اور جلانے کے لئے آگے بھیجا۔ یہ مسجد منافقین نے اس لئے بنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اس میں بیٹھ کر مشورے کریں۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جا رہے تھے اس وقت منافقین نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ ہم نے بیماروں اور معذوروں کے لئے ایک مسجد بنائی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر ایک مرتبہ اس میں نماز پڑھا دیں تا کہ وہ مقبول اور متبرک ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس وقت تو میں تبوک جا رہا ہوں واپسی کے بعد دیکھا جائے گا۔‘‘ غزوہ تبوک سے واپسی کے دوران یہ آیات نازل ہوئیں:( ترجمہ)’’ اور جن لوگوں نے ایک مسجد بنائی مسلمانوں کو ضرر ( نقصان ، تکلیف) پہنچانے کے لئے اور کفر کرنے کے لئے اور ( سازشوں کے لئے ) قیام گاہ بنانے کے لئے اور اس شخص کے لئے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے سے ہی لڑ رہاہے اور قسمیں کھائیں گے کہ ہماری نیت بھلائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد میں جا کر کبھی کھڑے بھی نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے یعنی مسجد قبا ۔ وہ واقعی اس لائق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں جا کر کھڑے ہوں اس میں ایسے مرد ہیں کہ جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ‘‘( سورہ توبہ آیت نمبر107اور 108) ان آیات کے نزول کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اس مسجد کو منہدم کر دیں اور جلا دیں۔ سیرت النبی ابن ہشام میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سویلم یہودی کے مکان کو بھی جلانے کا حکم دیا۔ جس میں منافقین جمع ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ جا کر اس مکان کو بھی جلا دیا۔

سید الانبیاء ﷺ کی مدینہ منورہ آمد اور منافقین کا عذر پیش کرنا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کے آخری دنوںیا ماہ رمضان کے شروع کے دنوں میں 9 ؁ہجری میں غزوہ تبوک سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے۔ مدینہ منورہ والوں کو اسلامی لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو تمام عورتیں اور بچے استقبال کے لئے نکل پڑے اور لڑکیاں اور لڑکے یہ اشعار گا رہے تھے۔’’ طلع البدر و علینا ۔ من ثنیات الوداع ، وجب الشکر علینا۔ مادعا للّٰلہِ داع ، ایھا المبعوث فینا جئت بالامرالمطاع۔ ‘‘جب مدینہ منورہ کے مکانات نظر آنے لگے تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ھٰذہِ طابہ‘‘ ’’ یہ مدینہ طیبہ ہے۔‘‘ اور احد پہاڑ پر نظر پڑی تو فرمایا: ’’ یہ پہاڑ ہم کو محبوب رکھتا ہے اور ہم اس کو محبوب رکھتے ہیں۔‘‘ اس طرح جلوس کی شکل میں سب لوگ مسجد نبوی میں پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوئے۔ منافقین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مختلف بہانے بنانے لگے اور عذر پیش کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری طور پر منافقین نے عذر پیش کیا وہ قبول کیا اور ان کے دلوں کے حال کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا۔ غزوہ تبوک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری غزوہ ہے۔

حضرت کعب بن مالک کی زبانی توبہ کا واقعہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے تو ہم نے پہلے ہی آپ کو بتا یا تھا کہ تین صحابہ رضی اللہ عنہم پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، حضرت مرارہ بن ربعی رضی اللہ عنہ اور حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ، صحیح بخاری میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ بہت تفصیل سے بیان فرمایا ہے ۔ یوں تو یہ واقعہ سیرت کی لگ بھگ سبھی کتابوں میں بیان ہوا ہے۔ لیکن ہم صرف صحیح بخاری میں بیان کیا ہوا واقعہ پیش کر رہے ہیں۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں غزوہ تبوک میں شرکت نہ کر سکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں ہر غزوہ میں شریک رہا۔ صرف غزوہ بدر اور غزوہ تبوک میں شرکت نہ کر سکا۔ غزوہ بدر میں شامل نہ ہونے والوں میں سے کسی پر اللہ تعالیٰ نے عتاب نہیں فرمایا تھا۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قافلہ قریش کے ارادے سے نکلے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نیفریقین کو ایک جگہ جمع کر کے بغیر کسی ارادے کے ان کا ٹکرائو کروادیا تھا۔ میں ’’بیعت ِ عقبہ ‘‘میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ ہم نے اسلام پر ثابت قدم رہنے کا عہد کیا تھا۔ بیعتِ عقبہ کی شمولت کے برابر مجھے غزوہ بدر کی شمولیت بھی پیاری نہیں ہے۔ حالانکہ لوگوں میں اس کا بہت چرچا ہے۔ رہی غزوہ تبوک میں بچھڑنے کی بات تو اس سے پہلے میں اتنا طاقتور اور مال دار پہلے کبھی نہیںتھا جتنا اُس وقت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ معمول تھا کہ کسی غزوہ پر جاتے وقت منزل مقصود کی صاف نشاندہی نہیں فرماتے تھے بلکہ راز میں رکھتے تھے۔

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ شامل نہ ہو سکے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ صاف بتا دیا تھا کہ تبوک تک سفر کرنا ہے۔ اس لئے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ مطمئن تھے کہ وہ وقت پرتیاری کر لیں گے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں۔ غزوہ تبوک کے وقت شدید جھلسا دینے والی گرمی تھی۔ دور دراز راستے کا سفر تھا۔ غیر آباد جنگل اور قدم قدم پر دشمن موجود تھے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف بتا دیا تھا ۔ تا کہ تمام لوگ اسی کے مطابق تیاریاں کر لیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کثیر تعداد میں مسلمان تھے۔ لیکن کسی رجسٹر پر ان کے نام لکھے ہوئے نہیں تھے۔ اس کے باوجود ہر مسلمان جنگ میں شریک ہوتا تھا۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ جنگ میں شامل نہیں ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دیں گے۔ غزوہ تبوک کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت حکم دیا۔ جب پھل تیار ہو چکے تھے اور شدید گرمی کی وجہ سے لوگ سائے میں رہنا پسند کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے تیاری مکمل کر لی اور میں روزآنہ یہی کہتا رہا کہ میں ان کے ساتھ تیاری کر لوں گا۔ اس طرح دن گزرتے رہے اور میں نے کچھ نہیں کیا۔ پھر میں نے سوچا کہ میں فوراً تیاری کرنے پر قادر ہوں۔ اسی سوچ بچار میں باقی دن بھی گزر گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کیساتھ تبوک کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب کہ میں نے ذرا بھی تیاری نہیں کی تھی۔ پھر میں نے سوچا کہ میںایک دو دنوں میں تیاری کر کے لشکر سے جا ملوں گا۔ اس طرح کئی دن گزر گئے اور لشکر کافی دور نکل گیا۔ میں نے ارادہ کیا کہ فوراً تیاری کر کے ان سے جاملوں ۔ کاش میں نے ایسا کیا ہوتا ۔ لیکن یہ بات میری تقدیر میں نہیں تھی اور میں غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گیا۔ ( شامل نہ ہو سکا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں گھر سے باہر نکلتا تو مدینہ منورہ میں صرف منافقوں اور معذوروں کو دیکھتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تبوک پہنچنے تک یاد نہیں کیا۔

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سچ کہا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچ کر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت فرمایا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما ہوئے تو فرمایا: ’’کعب بن مالک ( رضی اللہ عنہ ) کہاں ہیں؟‘‘ بنو سلمہ کے ایک شخص نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لگتا ہے انہیں حسن و جمال کے ناز نے روک لیا ہے۔‘‘ حضر ت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں اچھی بات نہیں کہی ہے۔ اللہ کی قسم !ہم توا نہیں بہت اچھا آدمی مانتے ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا اور خاموش رہے۔ مجھے غزوہ تبوک پر نہیں جانے کا بہت غم ہو رہا تھا۔ پھر جب مجھے خبرملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ واپس آرہے ہیں تو میرے غم میں اضافہ ہونے لگا۔ جھوٹے خیالات دل میں آنے لگے کہ اسلامی لشکر میں شامل نہ ہونے کی یہ وجہ اور یہ وجہ بیان کروں گا۔ جس کے باعث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصہ ختم ہو جائے گا ۔ اس بارے میں گھر کے سمجھد ار لوگوں سے مشورہ بھی کیا۔ لیکن جب یہ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب آگئے ہیں تو تمام جھوٹے خیالات دماغ سے نکل گئے اور میںنے سچ بولنے کی ٹھان لی۔ اگلی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب بھی سفر سے لوٹتے تھے تو مسجد نبوی میں ضرور تشریف لے جاتے تھے اور دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد کچھ دیر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی خاطر بیٹھ جاتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما ہوئے تو پیچھے رہ جانے والے ( منافقین) حاضر ہو کر عذربیان کرنے لگے اور قسمیں کھانے لگے۔ ایسے افراد اسّی(80) سے زیادہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عذر قبول فرما لئے اور ان کی بیعت کو قبول فرمالیا۔ اور ان کے دلوں کے حال کو اللہ تعالیٰ کے سپر د کر دیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ میں نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا کر مجھے دیکھنے لگے۔ لیکن اس مسکراہٹ میں غصہ کا تاثر تھا اور فرمایا: ’’ادھر آئو۔‘‘ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم پیچھے کیوں رہے؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں جانتا ہوں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتا اور اگر میں جھوٹ بول کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کر لوں گا تو اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو جائے گا اور ساتھ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھ سے ناراض ہو جائیں گے۔ لیکن اگر میں سچ کہوں گا تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دے گا۔ اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا مال و دولت عطا فرمایا ہے کہ میں غزوہ تبوک پر جا سکتا تھا اس کے باوجود میں پیچھے رہ گیا۔‘‘

تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بائیکاٹ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے سچ بات بتا دی۔ آپ رضی اللہ عنہ آگے فرما تے ہیں: ’’میری بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم نے چونکہ سچ بات کہہ دی ہے۔ اس لئے کھڑے ہو جائو اورا پنے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کرو ۔‘‘ میں اٹھ کر باہر آیا تو بنو سلمہ کے کچھ لوگ میرے پیچھے آئے اور کہنے لگے: ’’ کیا آپ رضی اللہ عنہ دوسرے لوگوں کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عذر پیش نہیں کر سکتے تھے؟ ‘‘ وہ لوگ برابر مجھے مجبور کرتے رہے کہ میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عذر پیش کروں۔ میں نے ان سے پوچھا : ’’ کیا میری طرح کسی اور نے بھی سچ کہا ہے ؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’ ہاں دو صحابہ رضی اللہ عنہم نے تمہاری طرح سچ کہا ہے۔‘‘ میں نے پوچھا : ’’ وہ کون ہیں؟‘‘ انہوں نے بتایا : ’’ وہ حضرت مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ اور حضرت ہلال بن اُمیہ رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘ انہوں نے دو ایسے نیک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نام لئے جو’’ غزوہ بدر‘‘ میں شرکت فرما چکے تھے۔ مجھے ان دونوں کی اقتداء کرنا اچھا لگا اور میں نے طے کر لیا کہ میں ان دونوں کی اتباع میں سچ پر ہی قائم رہوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مسلمانوں سے فرمایا : ’’ جب تک اللہ تعالیٰ ان تینوں کے متعلق کوئی حکم نہیں دے گا ۔ تب ان تینوں سے کوئی بات نہ کرے۔ ‘‘یعنی ہمارا سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا۔

 تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر زمین تنگ ہو گئی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بات کرنے کو منع فرما دیا۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اس کے بعد لوگوں نے ہم سے بات کرنا بند کر دی اور لوگ اس طرح بدل گئے۔ جیسے ہمیں پچانتے ہی نہیں ہیں۔ ایسا لگ رہا تھا ساری کائنات ہی بدل گئی ہے۔ پچاس روز ( دنوں ) تک ہماری ایسی ہی حالت رہی۔ میرے دونوں ساتھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے تھے اور ہر وقت روتے رہتے تھے۔ لیکن میں کچھ سخت جان تھا۔ لہٰذا ہمت سے کام لیتا رہا۔ اسی لئے میں گھر سے باہر نکلتا اور مسلمانوں کے ساتھ نماز ادا کرتا تھا اور بازاروں میں بھی جاتا تھا۔ حالانکہ کوئی بھی مجھ سے بات نہیں کرتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر سلام عرض کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے درمیان اس وقت تشریف فرما ہوتے تھے۔ میں خاموشی سے سب سے پیچھے بیٹھ جاتا تھا اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتا تھا کہ میرے سلام کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹوں نے حرکت کی ہے یا نہیں۔میں جب نماز پڑھتا تھاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس درمیان میری طرف دیکھتے رہتے تھے۔ اور جب میں سلام پھیر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک مجھ سے پھیر لیتے تھے۔ اس حال میں لگ بھگ ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔ لیکن مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کئی صدیاں گزر گئی ہوں اور لوگوں کے اس سلوک سے میں تنگ آگیا تھا۔ آخر ایک دن میں اپنے چچا زاد بھائی حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچا وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔ میں نے ان سے کہا: ’’ اے پیارے بھائی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ! میں آپ رضی اللہ عنہ کو اللہ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہوں؟‘‘ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور خاموش رہے۔ میں نے دوسری مرتبہ قسم دے کر اپنی بات دہرائی۔ وہ خاموش رہے۔ جب میں نے تیسری مرتبہ قسم دے کر یہ بات پوچھی تو انہوں نے صرف اتنا کہا : ’’ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں روتا ہوا وہاں سے اٹھ کر اپنے گھر واپس آگیا۔ مجھے ایسا لگنے لگا کہ یہ کائنات اتنی وسیع ہونے کے باوجود بہت چھوٹی ہو گئی ہے اور زمین مجھ پر تنگ ہو گئی ہے۔ ‘‘

خوش خبری ( بشارت) ملی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر پابندی جاری تھی۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’جب چالیس 40روز ( دن ) گزر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے ذریعے پیغام بھیجا : ’’ اب اپنی بیوی سے الگ ہوجائو۔‘‘ میں نے دریافت کیا: ’’ طلاق دے دوں یا پھر صرف کنارہ کشی اختیار کر لوں؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بھیجا : ’’ طلاق مت دو۔ بلکہ اس سے دور رہو۔ ‘‘یعنی نزدیک مت جائو۔ یہی پیغام میرے دونوں ساتھیوں کو بھی بھیجا گیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: ’’ تم اپنے میکے چلی جائو اور اس وقت تک وہاں رہو جب تک اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں فر مادیتا ۔‘‘ وہ اپنے میکے چلی گئی۔ ادھر حضرت ہلا ل بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے شوہر بہت بوڑھے ہیں اور ان کا کوئی خاد م بھی نہیں ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض نہ ہوں تو میں ان کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ٹھیک ہے خدمت کرو۔ لیکن وہ تمہارے نزدیک نہ آنے پائیں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ جب سے ان کا بائیکاٹ کیا گیا ہے ان کے دن رات صرف روتے ہوئے گزررہے ہیں اور انہوں نے تب سے میری طرف توجہ نہیں کی ہے۔‘‘ انہیں اجازت مل گئی۔ مجھ سے بھی لوگوں نے کہا کہ میں بھی ان کی طرح اجازت لے لوں۔لیکن میں نے کہا: ’’ میں اس بات کی اجازت نہیں لوں گا۔ کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ اس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کو اور بڑھا دوں گا۔ ویسے بھی میں جوان آدمی ہوں۔ اپنا کام خود کر سکتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد دس بہت بڑے طویل دن اور گزر گئے۔ پچاسویں دن میں نے فجر کی نماز پڑھی اور اپنے گھر کی چھت پر ( آج کل ٹیرس یا بالکنی کہتے ہیں) بیٹھا ہوا تھا اور مجھ پر بہت غمگین حالت طاری تھی میری حالت یہ ہو گئی تھی کہ جینا دو بھر ہو گیا تھا اورزمین مجھ پر تنگ ہو چکی تھی۔ اچانک سلع پہاڑ پر سے کسی نے آواز لگائی: ’’ اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ !تمہیں بشارت ہو تمہارے لئے خوش خبری ہے۔ ‘‘میں فوراً سجدے میں گر پڑا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگا اور میں نے جان لیا کہ اب خوش ہونے کا وقت آگیا ہے۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مبارکباد دینے لگے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے خوش خبری ( بشارت ) دی کہ اللہ تعالیٰ ان تینوں سے راضی اور خوش ہو گیا ہے اور یہ خوش خبری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سنائی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مبارکباد دینے کے لئے ان تینوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف دوڑ پڑے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’فجر کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم تینوں کو معاف کر دیا ہے۔ یہ سنتے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہم تینوں کو مبارکباد دینے کے لئے دوڑ پڑے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہو کر تیزی سے دوڑاتے ہوئے میرے پاس آئے اور بنو اسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہو کر آنے والے سے پہلے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ گئے انہوں نے آواز لگائی اور ان کی آواز پہلے مجھ تک پہنچ گئی۔ جب گھوڑے سوار صحابی رضی اللہ عنہ نے آکر مجھے خوش خبری اور مبارکباد تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر انہیں دے دیئے۔ میرے پاس اس وقت وہی دو کپڑے تھے ۔ میں نے ادھار دو کپڑے لے کر پہنے اور مسجد نبوی کی طرف چل پڑا ۔ راستے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فوج درفوج کی طرح ملے اور تمام لوگ مجھے مبارکباد دے رہے تھے اور کہتے تھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کی قبولیت کا انعام مبارک ہو۔ آخر کار میں مسجد نبوی میں داخل ہو گیا۔ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اطراف میں بیٹھے تھے۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے میری طرف لپکے ۔ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی ۔ میں ان کا یہ احسان کبھی نہیں بھلا سکتا۔‘‘

سید الانبیاء ﷺ کا چہرہ مبارک جگمگا رہا تھا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ حاضرہوئے اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر مبارکباد دی۔ آپ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’میں آگے بڑھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو خوشی اور مسرت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اس طرح جگمگا رہا تھا جیسے چاند چمک رہا ہو۔ میں نے فوراً سلام عرض کیا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے مسکراتے ہوئے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ’’ اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ !آج کا دن تمہیں مبارک ہو۔ تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک تمہارے لئے ایسی خبر اور خوبی والا دن نہیں گزرا ہوگا ۔ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ معافی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ میری بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: ’’یہ معافی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔‘‘ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک جگمگانے لگتا تھا۔ گویا وہ چاند ہے اور اس سے ہم اندازہ لگا لیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہیں۔ اس کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا اور عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم ! اس خوشی میں اپنا سارا مال میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں صدقہ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمام مال صدقہ نہ کرو بلکہ کچھ اپنے لئے رکھ لو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’ میں خیبر والا مال رکھتا ہوں اور باقی اللہ کی راہ میں صدقہ کر تا ہوں۔‘‘ پھر میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی وجہ سے مجھ پر اپنی مہربانی فرمائی ہے۔ اللہ کی قسم ! میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جس پر اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کے باعث ایسی مہربانی کی ہو جیسی مجھ پر فرمائی ہے۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے میری بات سن رہے تھے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا فرمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شدید جھلسا دینے والی گرمی میں غزوہ تبوک پر نکلے۔ تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیچھے رہ گئے۔ ان سب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں فرمایا: ( ترجمہ)’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی توجہ فرمائی۔ جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔ اس کے بعد کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل پیدا ہو گیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ بے شک اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق اور مہربان ہے۔ اور تین شخصوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ زمین وسیع ہونے کے باوجود ان پر تنگ ہونے لگی اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔ سوائے اس کے کہ اللہ کی طرف ہی رجوع کیا جائے۔ پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی تا کہ وہ آئندہ بھی توبہ کر سکیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ( سورہ توبہ آیت نمبر117اور 118)

غزوہ تبوک کا ملک عرب پر اثر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تیس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر لے کر غزوہ تبوک پر روانہ ہوئے اور سلطنت روم کی سرحد پر جا کر پڑائو ڈال دیا۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی سوپر پاور کے لئے کھلا چیلنج تھا ۔ تمام دنیا حیرانی سے آنکھیں پھاڑے دیکھتی رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ رومیوں کا لشکر لے کر قیصر روم ہر قل آئے گا اور مسلمانوںکا نام و نشان مٹا دے گا۔ لیکن سلطنت روم کی افواج دُم دبائے بیٹھی رہی اور جو چالیس ہزار کی رومی فوج سلطنت روم کی سرحد پر جمع تھی وہ اسلامی لشکر کے تبوک پہنچنے سے پہلے بھاگ گئی۔ اس طرح تمام عرب اورتمام دنیا کے لوگوں نے سمجھ لیا کہ مسلمانوں سے مقابلے کی ہمت کسی میں نہیں ہے۔ اس غزوہ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ تمام دنیا نے مسلمانوں کو ایک بہت بڑی طاقت تسلیم کر لیا۔ خاص طور سے عرب قبائل نے یہ تسلیم کر لیا اور لگ بھگ ہر قبیلے کے وفد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو نے لگے۔

اسلام کو پوری دنیا میں پہنچانا ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو مدینہ منورہ میں ایک مرکز مل گیا تھا۔ اس کے بعد اسلام اور مسلمان ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر نے لگے اور ان کا سب سے بڑاٹکرائو قریش سے ہوا۔ قبیلہ قریش کا عرب میں ایک مقام تھا اور تمام عرب کی نگاہیں قریش اور مسلمانوں کے مقابلوں پر لگی ہوئی تھیں ۔ جب مکہ فتح ہوا اور لگ بھگ تمام قریش نے اسلام قبول کر لیا تو تمام عرب قبائل نے سمجھ لیا کہ اب اسلام اور مسلمان عرب کی سب سے بڑی طاقت بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود کچھ قبیلوں نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجے میں غزوہ ٔ حنین اور غزوۂ طائف پیش آئے۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب قبائل سے آگے بڑھ کر اس وقت کی سب سے بڑی سوپر پاور سلطنت روم سے مقابلے کے لئے ان کے سرحدی مقام تبوک تک پہنچے اور وہاں لگ بھگ بیس دنوں تک رومی لشکر کا انتظار کیا۔ لیکن رومی مقابلے کے لئے نہیں آئے اور تمام عرب کے ساتھ ساتھ تمام دنیا پر بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمانوں کا دبدبہ قائم ہو گیا۔ غزوۂ تبوک کے بعد تمام عرب قبائل نے اسلام اور مسلمانوں کو ایک بڑی طاقت کے طور پر تسلیم کر لیا اور گروہ در گروہ اور فوج د ر فوج کی شکل میں عرب قبائل کے وفود ( وفد کی جمع) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔ غزوہ تبوک در اصل مسلمانوں کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اشارہ تھا کہ اسلام کو صرف عرب تک محدود نہیں رکھنا ہے۔ بلکہ اسے ساری دنیا تک پہنچانا ہے او ر پوری دنیا میں اسلام کو نافذ کرنا ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر عمل کرنے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

 

35 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


35 سیرت سید الانبیاء ﷺ

سنہ الوفود (وفود کی آمد کا سال) قسط نمبر 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان، وفد بنو ثقیف کی آمد، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حج، وفد بنو عبدالقیس، نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) کے وفد کی آمد، اُمت کے امین، وفد مزینہ، وفد اشعر یین، وفد بنو فزارہ اور وفد بنو مُرّہ کی آمد

ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلاء

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رجب 9 ؁ہجری میں غزوہ تبوک کیلئے روانہ ہوئے تھیاور ماہِ شعبان کے آخری دنوں یا ماہ رمضان کے شروعاتی دنوں میں مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ غزوہ تبوک سے پہلے یا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے’’ ایلاء ‘‘کیا۔ ایلاء کے معنی قسم کھانا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک ازواج مطہرات سے دور رہنے کی قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پہلو چھل گیا تھا یا زخمی ہو گیا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے تھے یا سواری کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی یا کاندھے کو نقصان پہنچا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بالا خانے میںتشریف فرما ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا سے کھجور کی شاخوں سے سایہ دار بنایا۔‘‘ اُم المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ ( کمرہ) میںایک بالا خانہ بنایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ وہیں مقیم رہے اور وہیں سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی۔ انتیس29دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے سے اترے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے قسم کھائی تھی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مہینہ انتیس29دنوں کا بھی ہوتا ہے۔‘‘

منافقوں کے سردار کا انتقال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے بعد مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے۔ ذی القعدہ 9 ؁ہجری میں منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبیّ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بیٹے ایک سچے صحابی رضی اللہ عنہ تھے۔ ( ان کا نام حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہے ) ان کے بارے تفصیل سے پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں۔ وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اپنی قیمیص مبارک مجھے عطا فرمائیں۔ تا کہ میں اسے کفن کے طور پر اپنے باپ کو پہنائوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قمیص عطا فرمادی۔ پھر انہوںنے عرض کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ منافق ہے۔ ‘‘

منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب منافقوںکے سردار کی نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ منافق ہے اور منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ( ترجمہ)’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( منافقین) کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( منافقوں) کے لئے ستر 70مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ( سورہ توبہ آیت نمبر80) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں جانتا ہوں ستر 70مرتبہ بخشش مانگنے پر بھی اللہ تعالیٰ نہیں بخشے گا ۔ اس کے باوجود مجھے اختیار دیا ہے کہ میں بخشش مانگوں یا نہ مانگوں۔ لہٰذا میں اس کے لئے ستر 70مرتبہ سے زیادہ بخشش مانگوں گا اور نماز جنازہ پڑھا دی۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’ (ترجمہ ) ’’اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( منافقوں) میں سے کسی کی نمازجنازہ نہ پڑھیں جو کبھی بھی مر جائے اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ بے شک انہوں ( منافقوں) نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اور فسق کی حالت میں مر گئے۔‘‘ (سورہ توبہ آیت نمبر84) در اصل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کے لئے’’ رحمت‘‘ بنا ئے گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید تمنا تھی کہ تمام انسان جنت میں جائیں۔ اسی لئے منافقوںکے سردار کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا صاف حکم آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کی قبر پر کھڑے ہو نا بھی بند کر دیا۔

حضرت اصحمہ (نجاشی حبشہ کے بادشاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت اصحمہ نجاشی حبشہ کے بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ ایمان لے آئے تھے۔ ۹ ؁ہجری میں انکاانتقال ہو ا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کی خبر دی اور غائبانہ نماز جنازہ کا اعلان فرمایا۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ صحابی نہیںہیںبلکہ تابعی ہیں۔ اپنی حکومت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں کر سکے تھے۔ جب انہوں نے حضر ت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اور اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیخدمت میں مدینہ منورہ بھیجا تھا تو درخواست کی تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو میںمدینہ منورہ حاضر ہو جائوں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔

سید ہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سید ہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا 9 ؁ہجری میں انتقال ہوا۔ سید الانیباء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح اپنے چچا ابو لہب کے بیٹے سے کر دیا تھا۔ لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی اور آپ رضی اللہ عنہا اپنے والد کے گھر ہی تھیں۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ اعلان ِ نبوت‘‘ فرمایا تو بد بخت الو لہب کے حکم پر اس کے بیٹے نے سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تا کہ ان کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ غزوہ بدر کے وقت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ اس طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پوری کائنات کے اکیلے انسان ہیں جن کے نکاح میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں آئیں۔ جب سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اگر میری اور بیٹی ہوتی تو اسے بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔‘‘

وفد بنو ثقیف کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ماہ رمضان المبارک 9 ؁ہجری میں طائف کے بنو ثقیف کا وفد حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔ آپ کو یا د ہوگا کہ غزوہ طائف میںچند دنوں تک محاصرہ کرنیکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ اٹھالیا تھااور جعرانہ واپس آگئے تھے اور غزوہ حنین کے شکست خودرہ حضرت مالک بن عوف ( قبیلہ ہوازن کے حکمراں) رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے آس پاس کے علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا اور آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ طائف کے بنو ثقیف کی ایک شاخ کے سردار حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف اور مکہ مکرمہ کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لارہے تھے پھر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے طائف میں جا کر بنو ثقیف کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تھا۔ انکی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت ابو ملیح بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت قارب بن اسود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور اسلام قبول کیا اور وہیں رک گئے۔ حالانکہ حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بنو ثقیف پر سختی کر رہے تھے۔ ان کی تجارت کی آمدو رفت بند کر رکھی تھی۔ ان کے مویشی چھین لئے تھے اور ضرورت کے وقت ان کے آدمیوں سے بیگاری کا کام لیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود بنو ثقیف کے دل اسلام کی طرف مائل نہیں ہو رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب بنو ثقیف کو خبر ملی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ٔ تبوک سے کامیاب واپس تشریف لے آئے ہیں اور سوپر پاور سلطنت روم نے بھی ان سے ٹکرانے کی ہمت نہیں کی ہے تو بنو ثقیف کے لوگ سمجھ گئے کہ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمان اتنی بڑی طاقت بن چکے ہیں کہ تمام عرب میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیںہے۔ اسی لئے بنو ثقیف نے اپنے مختلف خاندانوں یا شاخوں کے سرداروں کو مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔

وفد بنو ثقیف کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ماہ رمضان المبارک 9 ؁ہجری میں طائف کے بنو ثقیف کا وفد حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔ آپ کو یا د ہوگا کہ غزوہ طائف میںچند دنوں تک محاصرہ کرنیکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ اٹھالیا تھااور جعرانہ واپس آگئے تھے اور غزوہ حنین کے شکست خودرہ حضرت مالک بن عوف ( قبیلہ ہوازن کے حکمراں) رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے آس پاس کے علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا اور آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ طائف کے بنو ثقیف کی ایک شاخ کے سردار حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف اور مکہ مکرمہ کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لارہے تھے پھر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے طائف میں جا کر بنو ثقیف کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تھا۔ انکی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت ابو ملیح بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت قارب بن اسود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور اسلام قبول کیا اور وہیں رک گئے۔ حالانکہ حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بنو ثقیف پر سختی کر رہے تھے۔ ان کی تجارت کی آمدو رفت بند کر رکھی تھی۔ ان کے مویشی چھین لئے تھے اور ضرورت کے وقت ان کے آدمیوں سے بیگاری کا کام لیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود بنو ثقیف کے دل اسلام کی طرف مائل نہیں ہو رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب بنو ثقیف کو خبر ملی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ٔ تبوک سے کامیاب واپس تشریف لے آئے ہیں اور سوپر پاور سلطنت روم نے بھی ان سے ٹکرانے کی ہمت نہیں کی ہے تو بنو ثقیف کے لوگ سمجھ گئے کہ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمان اتنی بڑی طاقت بن چکے ہیں کہ تمام عرب میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیںہے۔ اسی لئے بنو ثقیف نے اپنے مختلف خاندانوں یا شاخوں کے سرداروں کو مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔

بنو ثقیف کی شرائط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو ثقیف کا وفد حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیںمسجد نبوی میں ایک خیمے میں ٹھہرایا اور حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف سے وکیل بنایا ۔جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو ثقیف کے لئے کھانا آتا تو وہ لوگ کھانا چیک کرنے کے لئے پہلے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو کھلاتے تھے پھر خود کھاتے تھے۔ ان لوگوں نے تین شرائط پیش کیں ۱) پہلی یہ کہ تین برس تک لات( بنو ثقیف کے بت کا نام) کو نہ توڑا جائے۔ اس لئے کہ ان کی اولادیں اور عورتیں اس سے بہت عقیدت کرتے ہیں۔ جب ان کے دل اسلام کی طرف راغب ہو جائیں اور اسلام کی محبت پیدا ہو جائے تو تب بت کو توڑ ا جائے ۲) دوسری شرط بنو ثقیف نے یہ رکھی کہ ہماری نماز معاف کر دی جائے ۳) اور تیسری شرط یہ رکھی کہ ہمارے بت ہمارے ہاتھوں سے نہ تڑوائے جائیں ۔ ان شرائط کو سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ انور پر ناگواری کے تاثرات ظاہر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ طائف میں موجود تمام بتوں کو فوراً منہدم کیا جائے گا اور نماز بھی معاف نہیں کی جائے گی۔ کیوں کہ اس دین میں کوئی بہتری نہیں ہیجس میں نماز نہیں ہے۔ ہاں تمہاری تیسر ی شرط ہم مانتے ہیں کہ اپنے بتوں کو تم مت توڑنابلکہ مغیرہ بن شعبہ ( یہ بنو ثقیف کے ہی ہیں اور صلح حدیبیہ سے کافی پہلے اسلام قبول کرچکے تھے) رضی اللہ عنہ توڑیں گے۔‘‘ اس کے بعد بنو ثقیف کے وفد نے اپنے سربراہ عبدیالیل سمیت اسلام قبول کر لیا۔ اس وفد کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس وفد کے ساتھ طائف میں آئے اور ابو سفیان بن حرب کسی وجہ سے طائف نہیں پہنچ سکے۔ جب وہ طائف پہنچے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ طائف کے سب سے بڑے مندر کے بت (لات ) کو منہدم کر چکے تھے۔ بنو ثقیف دورسے حیرت اور خوف کی آنکھوں سے اس ماجرے کو دیکھ رہے تھے۔ بت خانہ (مندر ) سے جو خزانہ ملا۔ اس سے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کا قرض اداکیا گیا۔ جیسا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اس کے بعد باقی خزانہ مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حج

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 ؁ہجری میں مکہ مکرمہ فتح فرمایا تھا اور حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ کا گورنر(حاکم) بنایا تھا۔ اس سال انکی قیادت میں ہی مسلمانوں نے حج کیا تھا۔ لیکن 9 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قائد بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا اور ان کی قیادت میں مسلمانوں نے حج کیا۔ ( یہ توآپ جانتے ہی ہیں کہ اس زمانے میں سب سے بہترین سواری اونٹ یا گھوڑا ہوتی تھی اور کئی دنوں یا ہفتوں یا مہینوں کا سفرہوتا تھا۔ اس لئے پہلے سے سفر پر نکلنا پڑتا تھا) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قافلہ لے کر ذی القعدہ 9 ؁ہجری میں مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء نے امیر حج بنا کر بھیجا۔ یہ’’ حجتہ الوداع‘‘ سے پہلے والا حج ہے۔ اس میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ اعلان کریں گے کہ اگلے سال سے کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور نہ ہی کوئی برہنہ( ننگا ) ہو کر طواف کرے۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کوا علان کرنے کے لئے بھیجا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ کیوں کہ عرب کا قاعدہ تھا کہ عہد ومعاہدہ کے بارے میں یاتو عہد کرنے والا شخص اعلان کرتا ہے یا پھر اس کے خاندان کا کوئی شخص اعلان کرتا ہے۔ اس لئے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنی اونٹنی ’’عضبآ‘‘ پر سوار کر کے بھیجا اور فرمایا : ’’ سورہ برأت (توبہ) کی چالیس آیات تم سنانا اور اعلان کرنا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے روانہ ہونے کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں بہر حال حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب قافلے کے قریب پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی اونٹنی کی آواز سن کر فرمایا: ’’ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی آواز ہے۔ ‘‘اور رک کر انتظا رکرنے لگے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قریب آئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ امیر بن کرآئے ہو یاما مور بن کر ۔‘‘انہوں نے فرمایا: ’’ مامور بن کر آیا ہوں۔ صرف سورہ (توبہ) برأت کی آیات سنا نا ہے۔‘‘ مکہ مکرمہ آکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا اور جس مقام پر وہ حج کا خطبہ دیتے تھے تو ان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کھڑے ہوتے اور سورہ برأت یا توبہ کی چالیس آیات تلاوت فرماتے تھے اور اعلان کر تے تھے کہ اگلے سال سے صرف مسلمان حج کرنے آسکیں گے اور اب کوئی بھی مشرک حرم شریف میں داخل نہیں ہو سکتااور کوئی بھی برہنہ طواف نہیں کرے گا اور کافروں اور مشرکین کو چار مہینوں کی مہلت ہے اس کے بعد ان کی امان ختم کر دی جائیں گی۔ پھر یا تو وہ اسلام قبول کریں یا پھر جزیہ دیں یا پھر جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضر ت علی المرتضیٰ کی مدد کے لئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دیئے تھے۔ ان میںحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان حضرات نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اعلان کو اتنی زور زور سے اتنی بار ہر جگہ دہرایا کہ ان لوگوں کا گلہ بیٹھ گیا۔ اس اعلان کے بعد کافر اور مشرک فوج کی فوج آکر اسلام قبول کرنے لگے۔

10؁ہجری سنۃ الوفود( وفودکے آنے کا سال 10ہجری)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ 9 ؁ہجری کے حج کا امیر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا اور حج کے دنوں کے دوران پور ے عرب کے قبائل کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنا دیا تھا۔ جو سورہ توبہ یا برأت کی چالیس آیات پر مشتمل تھا۔ اس طرح تمام عرب پر اللہ کی حکومت قائم ہو گئی اور پورے عرب کے قبائل نے اسلام اور مسلمانوں کی برتری تسلیم کر لی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام عرب قبائل وفد کی شکل میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو نے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے۔ ان میں سے وفد بنو ہوازن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ جو جعرانہ میں ۸ ؁ ہجری میں حاضر ہو ئے تھے اور بنو ثقیف کے وفد کا ذکر بھی ہو چکا ہے۔ جو ماہِ رمضان المبارک ۹ ؁ہجری میں حاضر ہوئے تھے۔

وفد بنو عبدالقیس

یہ بحرین کا بہت بڑ اقبیلہ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس قبیلے کا وفد5 ؁ہجری یا اس سے پہلے حاضر ہوا تھا۔ ہم نے اس وفد کی آمد کا ذکر اس وقت نہیں کیا تھا ۔ اس وفد میں تیرہ یا چودہ افراد تھے ان سب نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اسلام قبول کرنے سے بے حد خوشی اور مسرت ہوئی اور جب اس وفد نے بتایا کہ پورا قبیلہ بنو عبدالقیس اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسرت سے فرمایا: ’’مرحبا ہے اس قوم کو جو نہ رسواء ہوئی اور نہ شرمندہ ہوئی۔‘‘ یعنی خوشی سے اپنی رضا مندی سے مسلمان ہوئے۔ لڑکر ہارنے کے بعد مسلمان نہیںہوئے۔ جس کی وجہ سے انہیں شرمندگی یا ندامت ہوتی۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ بات چیت 5 ؁ہجری میںہو رہی ہے ۔ جب قریش مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور طاقتور تھے) اس کے بعد اس وفد نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاقوں کے درمیان قبیلہ مضر کا علاقہ پڑتا ہے اور وہ ہمارے قافلے کولوٹ لیتے ہیں۔ اس لئے ہم صرف حرام مہینوں میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ ( عربوں کا یہ قاعدہ تھا کہ سال کے چار مہینوں میں لوٹ مار اور جنگ کرنا حرام سمجھتے تھے۔ اس لئے انہیں حرام مہینے کہا جاتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست ہے کہ ہمیں ایسا جامع عمل بتادیں جس کو کرنے سے ہم جنت میں داخل ہو سکیں اور ہمارے قبیلے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیںہے اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور چار برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فر ما دیا۔‘‘

حِلم اور وقار و تمکنت اللہ کی پسند یدہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب یہ وفد حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار اور ملاقات کے شوق میں وفد کے لوگ جلدی سے اپنی اپنی سواریوں سے کود پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دستِ مبارک کے بوسے لینے لگے۔ اس وفد میں حضرت اشج عبد القیس مبہی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کا نام منذر ہے اور یہ سب سے کم عمر تھے۔ انہوں نے پہلے تو تمام اونٹوں کو قاعدے سے ایک جگہ بٹھایا اور سب لوگوں کا سامان ایک جگہ جمع کر کے حفاظت سے رکھا۔ پھر اپنے سامان میں سے دو سفید دھلے ہوئے کپڑے نکالے۔ پھر وہ پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مصافحہ کیا اور دست ِ مبارک کو بوسہ دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں دو خصلتیں ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں۔ ایک حِلم اور دوسری وقار و تمکنت۔‘‘ حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ دونوں خصلتیں مجھ میں بطور تصنّع ( دکھاوے کے لئے ) ہیں یا فطری ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ( یہ تصنع کے طور پر نہیں ہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان خصلتوں پر ہی پیدا فرمایا ہے۔ ‘‘حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھے ایسی دو خصلتوں پر پیدا فرمایا۔ جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے ہیں۔‘‘یہ وفد 5 ؁ہجری کے آس پاس حاضر ہوا تھا۔ اس وفد میں لگ بھگ چالیس افراد تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ملاقات کرنے کے بعد فرمایا: ’’ کیا بات ہے تمہارے چہروں کے رنگ بدلے ہوئے نظر آرہے ہیں۔‘‘

وفد دوس کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ دوس کا وفد حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 7 ؁ہجری میں اس وقت حاضر ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر میں مصروف تھے۔ غزوہ خیبر کے ذکر میں ہم اس وفد کے بارے میں بتا چکے ہیں۔ جس وقت قریش کے کافر مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر ظلم کر رہے تھے اس وقت حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ تجارتی غرض سے یا حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے تھے اور اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے سردار ہیں۔ انہوں نے اپنے قبیلے میں جا کر اسلام کی تبلیغ کی تو صرف ان کے والد اور بیوی نے اسلام قبول کیا تھا او رقبیلے والے بدستور شرک پر قائم رہے۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ واپس آئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : ’’ قبیلہ دوس نے اسلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہلاکت کی دعا کریں۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ‘‘اور حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’جائو!اور صبر اور نرمی سے اپنے قبیلے والوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہو۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں جا کر لگ بھگ دس برس تک اسلام کی دعوت دیتے رہے اور 7 ؁ہجری میں 70یا 80گھرانوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کو لے کر مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے تو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ہیں تو عورتوں اور بچوں کو مدینہ منورہ میں چھوڑا اور مرد حضرات خیبر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے۔ انمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) کے وفد کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں 9 ؁ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا وفد حاضر ہوا ۔ نجران ایک بہت بڑا شہر ہے۔ جو ملک یمن میں واقع ہے۔ مکہ مکرمہ سے سات منزل کے فاصلہ پر ہے۔ تہتر73قصبے اور گائوں اس کے تابع اور ملحق ہیں۔ یہاں سب سے پہلے نجران بن زید بن یشجب بن یعرب بن قحطان آکر آباد ہوا۔ اسی کے نام پر اس شہر کا نام ’’نجران‘‘ ہے۔ سورہ البروج میں جن’’ اصحاب ِ اخدود‘‘ کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے۔ وہ یہیں ہوا تھا۔ نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں کے اس وفد میں ساٹھ60عیسائی تھے اور ان میں سے چودہ افراد سردار تھے ا ور ان کا سربراہ امیر قافلہ عبدا لمسیح عاقب تھا۔ سید ایہم مشیر اور متظم تھا اور ابو حارثہ بن علقمہ اس وفد کا اسقف (سب سے بڑا پادری) تھا۔ یہ عرب کا تھا اور قبیلہ بکر بن وائل کا تھا اور عیسائی مذہب قبول کیا تھا۔ سلطنت روم کے حکمراں اس کی بہت عزت و اکرام کر تے تھے اور اسے بڑی بڑی جاگیریں دے رکھی تھیں اور گرجا ( عیسائیوں کی مسجد) کا امام بنا رکھا تھا۔ یہ وفد بڑی شان و شوکت کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ کچھ دیر بعد جب (مغرب) نماز کا وقت آیا تو ان لوگوں نے اپنی نماز پڑھنی چاہی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو روکنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پڑھنے دو۔ ‘‘ان لوگوں نے خانہ کعبہ کے علاوہ دوسری طرف منہ کر کے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کی۔ اس وفد سے کئی مسائل پر گفتگو ہوئی۔

آیاتِ مباہلہ کا نزول

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) کو اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں نے کہا: ’’ ہم تو پہلے سے ہی مسلمان ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارا اسلام کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ جب کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے ( نعوذ باللہ) بیٹا تجویز کرتے ہو اور صلیب کی پرستش کرتے ہو اور خنزیر ( بد جانور ) کھاتے ہو۔ ‘‘نجران کے نصاریٰ نے کہا: ’’آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بندہ بتاتے ہیں۔ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام جیسا کسی کو دیکھا یا سنا بھی ہے؟ ‘‘اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی: (ترجمہ) ’’بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ہے کہ مٹی سے ان کو بنایا اور فرمایا ہو جا تو وہ ہو گیا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہے۔ پس ( اے سننے والے ) شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔ اب اس علم اور حقیقت کو جان لینے بعد بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کوئی جھگڑا کرے تو یہ کہہ دو کہ آئو بُلائیں اپنے بیٹو ں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمہاری جانوں کو اورمباہلہ کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ رو کر دعا مانگیں اورجھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔‘‘

نصاریٰ ( عیسائیوں ) کا مباہلہ سے انکار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کے نازل ہونے کے بعد نجران کے نصاریٰ کو مباہلہ کرنے کی دعوت دی جو ان لوگوں نے قبول کر لی۔ اگلے روز سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کو لے کر تشریف لائے۔ نجران کے نصاریٰ ان مبارک اور نورانی چہروں کو دیکھ کر مرعوب ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مہلت مانگی : ’’ ہم آپس میں مشورہ کر لیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے پا س حاضر ہوں گے ۔‘‘ الگ جاکر سید ایہم جو مشیر تھا اس نے وفد کے سردار عاقب عبدالمسیح سے کہا: ’’ اللہ کی قسم! تم کو خوب معلوم ہے کہ یہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی اور رسول ہے۔ تم نے اگر ان سے مباہلہ کیا تو بالکل ہلاک اور برباد ہوجائو گے۔ اللہ کی قسم !یہ ایسے مبارک چہرے ہیں کہ اگر یہ پہاڑ کے چلنے کی دعا مانگیں تو پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگ جائیں گے۔ تم نے ان کی نبوت اور رسالت کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔ ( کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انہیں کی بشارت دی ہے ) حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہی سچ ہے۔ اللہ کی قسم !کسی قوم نے کبھی کسی نبی سے مباہلہ کیا ہے تو وہ قوم ہلاک ہو گئی ہے۔ لہٰذا تم مباہلہ کر کے اپنے آپ کو ہلاک مت کرو۔ اگر تم اپنے ہی دین پر قائم رہنا چاہتے ہو تو صلح کر کے واپس ہو جائو۔ ‘‘یہ مشورہ کرنے کے بعد وفد کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مباہلہ کرنے سے انکار کردیا اور سالانہ جزیہ دینا منظور کرلیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میںمیری جان ہے۔ اہلِ نجران کے سروں پر عذاب آگیا تھا۔ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو بندر اور سور بنا دیئے جاتے اور تمام نجران پر آگ برستی اور تمام اہل نجران ہلاک ہو جاتے ۔ یہاں تک کہ درختوں پر کوئی پرندہ بھی باقی نہیں رہتا۔ ‘‘

نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) سے عہد نامہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے نجران کے وفد کے عیسائیوں نے مباہلہ نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیہ دینا منظور کر لیا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں نجران میں دو قسم کے لوگ آباد تھے۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو عیسائی نہیں تھے۔ انہیں اُمّیین کہا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثریت نے اسلام قبول کیا اور دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا تھا۔ انہوںنے اسلام قبول نہیں کیا اور جزیہ دینا منظور کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عہد نامہ لکھوا کر انہیں دیا اور دوسرا اپنے پاس رکھا۔ جس کی شرائط یہ ہیں ۱) اہل نجران کو سالانہ دو ہزار حلہ ادا کرنے ہوں گے۔ ایک ہزار ماہ رجب میں اور ایک ہزار ماہ صفر میں اور ہر جگہ کی قیمت ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم ہوگی ۲) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کی مہمان نوازی ایک مہینے تک کرنا اہل نجران پر لازم ہوگا۳) یمن میں اگر کوئی شور ش یافتنہ برپا ہو تو اہل نجران کو اس شورش یا فتنہ کو ختم کرنے میں اسلامی لشکر کی مدد کرنی ہو گی اور تیس زرہیں، تیس گھوڑے اور تیس اونٹ عاریتاً دینے ہوں گے جو بعد میں انہیںواپس کر دیئے جائیں گے اور اگر کوئی شئے گم یا ضائع ہو گی تو اس کی ضمانت مسلمانوں پر ہوگی ۴) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ( اہل نجران کے ) جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے اور ان کے اموال و املاک ، ان کی زمین جائیداد ، ان کے حقوق ، ان کے مذہب و ملت ، ان کے علماء و راہب ، ان کے خاندان اور ان کے متبعین میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں کی جائیگی۔ جاہلیت کے کسی خون کا ان سے مطالبہ نہیں ہوگا اور ان کی سر زمین پر کوئی لشکر داخل نہیں ہوگا ۵) جو شخص ان سے حق کا مطالبہ کرے گا تو ظالم اور مظلوم کے درمیان انصاف کیا جائے گا ۶) جو شخص سود کھائے گا۔ اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان پر نہیں ہوگی اور وہ اس کی ذمہ داری سے بری ہو ں گے ۷) اگر کوئی شخص ظلم او رزیادتی کرے گا تو اسے سزا دی جائے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ذمہ ہے۔ اس عہد نامہ پر حضرت ابو سفیان بن حرب ، عیلان بن عمرو حضرت مالک بن عوف ، اقرع بن حابس اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم نے دستخط کئے۔

اُمت کے امین

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کا عہد نامہ نجران کے نصاریٰ کے وفد نے کیا اور یہ فرمان لے کر جب نجران واپس جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی :’’ کسی امانت دار شخص یعنی’’ امین‘‘ شخص کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تا کہ وہ ہم سے مالِ صلح لے کر واپس آجائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں بہت ہی امانت دار شخص کو تمہارے ساتھ کروں گا۔‘‘ یہ فرما کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں نجران کے وفد کے ساتھ جانے کا حکم دیا اور نجران کے وفد سے فرمایا: ’’ یہ اس ’’امت کا امین‘‘ ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ’’ عشرۂ مبشرہ‘‘ میں سے ہیں۔ یعنی دس اُن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں جن کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ تم جنتی ہو۔

حضرت کر ز بن علقمہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان لے کر یہ وفد نجران روانہ ہو گیا۔ جب نجران ایک منزل کے فاصلے پر رہ گیا تو وہاں کے پادریوں ( عیسائی علماء) اور معززین نے اس وفد کا استقبال کیا ۔وفد نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بڑے پادری کے حوالے کر دیا اور وہ اسے پڑھنے لگا۔اسی دوران ابو حارثہ بن علقمہ کی سواری نے ٹھوکر کھائی تو ا س کے بھائی حضرت کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’ ( نعوذ باللہ) وہ کمبخت ہلاک ہو۔‘‘ اشارہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا تو ابو حارثہ بن علقمہ کو بہت غصہ آیا اور اس نے غصہ سے کہا: ’’ تُوہی کمبخت ہے۔ اللہ کی قسم !وہ سچے نبی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہ’’ وہی آخری نبی‘‘ ہیں جن کی بشارت توریت اور انجیل میں دی گئی ہے۔‘‘ حضرت کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’ پھر ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ ابو حارثہ بن علقمہ نے کہا: ’’ ان ( عیسائی) بادشاہوں نے ہم کو جو کچھ مال و دولت دے رکھا ہے وہ سب واپس لے لیں گے۔‘‘ حضرت کر ز بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم: ’’ اب میں تو اپنی ناقہ ( اونٹنی) کو مدینہمنورہ جا کر ہی روکوں گا۔‘‘ اور بڑے زوق شوق سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اشعار پڑھتے ہوئے مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور وہیں رہنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ چند دنوں بعد سید ایہم اور عاقب عبدا لمسیح رضی اللہ عنہم بھی مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر ٹھہرایا۔

 یک رکنی وفد حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو سعد کی طرف سے 9 ؁ہجری میں حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ایک رکنی وفد کی شکل میں حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو مسجد نبوی کے صدر دروازے پر باندھا اور اندر داخل ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟‘‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تکیہ سے ٹیک لگائے تشریف فرما تھے۔ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے بتایا : ’’ وہ جو تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘ حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچے اور عرض کیا: ’’اے عبد المطلب کے بیٹے!( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام کے بارے میں بہت کچھ میں نے سنا ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں او ر سختی سے سوال کروں گا اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض مت ہونا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پوچھو! کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ ‘‘حضر ت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں۔ ‘‘یہ سن کر انہوں نے کہا : ’’ اے اللہ! تو گواہ رہنا ‘‘( کہ میں ایمان لایا) پھر انہوں نے دریافت کیا : ’’کیا اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازوں کا، سال بھر میں ایک مہینہ کے روزوں کا ، مالداروں سے زکوٰۃ لے کرمستحقین میں تقسیم کرنے کا ( صاحب استطاعت پر حج کا) حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں۔‘‘ یہ سن کر پھر انہوں نے کہا: ’’ اے اللہ! تو گواہ رہنا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے ہیں ۔ میں ان سب پر ایمان لاتا ہوں اور میں اپنی قوم ( بنو سعد ) کا قاصد اور نمائندہ ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔‘‘ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا ہی ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اس شخص (حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے ) نے کہا: ’’ قسم ہے اس ذات ( اللہ تعالیٰ) کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے میں اس میں نہ کوئی کمی کروں گااور نہ ہی زیادتی کروں گا۔ ‘‘( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا ہے اس پر برابر عمل کروں گا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر اس نے سچ کہا( یعنی جو کہہ رہا ہے اس پر قائم رہا) تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

تمام بنو سعد کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوکر حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں اپنی قوم کے پاس پہنچے اور تمام بنو سعد کو جمع کر کے تقریر فرمائی اور سب سے پہلا جملہ یہ فرمایا: ’’ لات اور عُزّیٰ بہت بُرے ہیں۔‘‘ ( یہ دونوں عربوں کے قدیم بت تھے) ان کے قبیلے والوں نے کہا: ’’ اے ضمام بن ثعلبہ! ایسے الفاظ زبان سے مت نکالو۔ کہیں تم مجنوں اور کوڑھی نہ ہو جائو۔ ‘‘حضر ت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ تم لوگوں پر افسوس ہے صد افسوس ہے اللہ کی قسم!لات اور عزیٰ تم کو نہ ہی کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک رسول کو بھیجا ہے اور اس پر کتاب نازل فرمائی ہے۔ جس نے تم کو ان خرافات سے بچا لیا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اور یہ احکام سیکھ کر آیا ہوں۔‘‘ ( اور آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ والوں کو اسلام کی تعلیم دینے لگے) شام ہونے سے پہلے پہلے پورے قبیلہ بنو سعد نے اسلام قبول کر لیا اور پورے قبیلہ میں کوئی مرد اور کوئی عورت ایسا باقی نہ رہاجو مسلمان نہ ہو گیا ہو۔ حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے : ’’ ہم نے کسی قوم کے قاصد اور وافد( وفد والے ) کو حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے افضل اور بہتر نہیں پایا۔‘‘

وفد مزینہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں سب سے پہلا جو وفد حاضر ہوا تھا وہ وفد قبیلہ مزینہ کا تھا۔ یہ وفد5 ؁ہجری میں حاضر ہوا تھا۔ لیکن ہم نے اس کے ذکر کو روک لیا تھا تا کہ وفود والی کتاب میں اسے درج کریں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں 5 ؁ہجری میں قبیلہ مزینہ کے چار سو افراد حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ واپسی کے وقت ان لوگوں نے سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : ’’ ہمارے پاس زادِ راہ نہیں ہے۔ اس لئے کچھ کھانے پینے کا سامان ہمیں عطا فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ ان کو زادِ راہ دے دو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے پاس تھوڑی بہت کھجوریں ہیں جو شاید ان لوگوں کے لئے کافی نہیں ہو پائیں گی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ’’ جائو ان کو توشہ دے دو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کو اپنے گھر لے گئے ۔ سب نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں ا س کے باوجود وہ کھجوریں اتنی کی اتنی ہی رہیں۔ اور کچھ کم نہیں ہوئیں۔

وفد اشعر یین

سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اشعر یین کا وفد7 ؁ہجری میں حاضر ہواتھا۔ ا س میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کا نام عبداللہ بن قیس ہے اور ابو موسیٰ کنیت ہے۔ اشعر یین کا وفد اسلام قبول کرنے کے بعد واپس چلا گیا تھا۔ لیکن حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ہی رہنے لگے تھے۔ اشعریین یمن کا ایک معزز اور بہت بڑا قبیلہ ہے۔ جو اپنے جد امجد اشعر کی طرف منسوب ہے۔ اشعر جب پیدا ہوا تو اس کے بدن پر بہت زیادہ بال تھے۔ اسی لئے اسے اشعر ( یعنی بہت زیادہ بالوں والا) کہا جانے لگا۔ اشعریین کا وفد یہ اشعار پڑھتا ہوا مدینہ منورہ آیا: ’’ کل دوستوں سے جا ملیں گے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گروہ سے ۔‘‘ ادھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اطلاع دی : ’’ ایک جماعت آرہی ہے جو بہت رقیق القلب اور نرم دل ہے۔‘‘ اس لئے جب اشعر یین کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اہل یمن آگئے ہیں۔ جن کے دل نہایت نرم اور رقیق ہیں (یعنی سخت دلی قساوت سے بالکل پاک ہیں۔ اور حق کو فوراً قبول کرتے ہیں) ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔‘‘ اہل یمن اکثر بکریاں رکھتے تھے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ سکون اور اطمینان ، وقار اور تواضع بکریوں والوں میں ہے اور فخر اونٹ والوں میں ہے۔‘‘ اشعر یین کے وفد نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم اسلام کی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سب سے پہلے اللہ تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ پھر زمین و آسمان کو پید ا کیا اور ہر چیز کو’’ لوح محفوظ ‘‘میں لکھ دیا۔‘‘ اس کے بعد اشعریین اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد اپنے علاقے میں واپس چلے گئے۔ اس کے بعد فقہ اشعریین میں نسل در نسل جاری رہا۔ فقہ کے بہت بڑے امام ابو الحسن اشعری ہیں۔ یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں

وفد بنو فزارہ اور وفد بنو مُرّہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں 9 ؁ہجری میں بنو فزارہ کا وفد اور بنو مُرّہ کا وفد حاضر ہوئے۔ وفد بنو فزارہ میں چودہ افراد تھے۔ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاقے کا حال دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قحط کی وجہ سے ہمارا علاقہ تباہ ہو گیا ہے۔‘‘ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے بارش کی دعا فرمائی۔ بنو مُرہ کے وفد میں تیس30 افراد تھے ۔ حضرت حارث بن عوف رضی اللہ عنہ اس وفد کے سردار تھے۔ ان لوگوں نے عرض کیا: ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی قوم کے ہیں اور لوئی بن غالب کی اولاد سے ہیں۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور ان کے علاقے کا حال دریافت فرمایا ان لوگوںنے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قحط کی وجہ سے ہمارے علاقے میں تباہی پھیلی ہوئی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت ان کے علاقے میں بارش ہونے کی دعا فرمائی۔ جب یہ وفد اپنے گھر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ جس دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی اسی دن پانی برسا تھا اور تمام علاقہ اس کی وجہ سے سر سبز و شاداب ہو گیا تھا۔ واپسی کے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کے ہر فرد کو دس دس اوقیہ چاندی عطا فرمائی تھی اور حضرت حارث بن عوف رضی اللہ عنہ کو بارہ اوقیہ چاندی عطا فرمائی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

36 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


36 سیرت سید الانبیاء ﷺ

سنہ الوفود (وفود کی آمد کا سال) قسط نمبر 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


وفد عُذرہ کی آمد، وفد بَلّی کی آمد، وفد بنو اسد کی آمد، وفد بنو حنیفہ کی آمد، دو کِذّابوں ( جھوٹوں) کے بارے میں خواب، وفد بنو صحارب کی آمد، وفد بنو کندہ کی آمد، وفد بنو تُجیب کی آمد، وفد بنو ھُذیم کی آمد، وفد بنو خولان کی آمد، وفد بنو طی اور وفد بنو سلامان کی آمد


وفد بنو صد آء کی آمد اور قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم 8 ؁ہجری میں جعرانہ سے واپس آکر حضر ت مہاجر بن اُمیہ رضی اللہ عنہ کو صنعا ء کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کو حضرِ موت کی طرف روانہ فرمایا اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہ خزرجی رضی اللہ عنہ کو چار سو 400سواروں کے ساتھ قناۃ کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ یمن کے علاوہ قبیلہ صدا ٓء کی طرف بھی ضرور جائیں۔ حضرت زیاد بن حارث صُدآئی رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا تو وہ خود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میںحاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں اپنی قوم اور اپنے قبیلے کے اسلام کا کفیل اور ذمہ دار ہوں۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کو واپس بلا لیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو واپس بلالیا۔ حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے پندرہ افراد کا وفد لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سب نے اسلام قبول کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا: ’’ اے زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ !تیری قوم تیری بہت مطیع اور فرماں بردار ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مجھ پر احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ان کو ہدایت عطا فرمائی۔‘‘ یہ وفد واپس آیا اور اسلام کی تبلیغ کی تو پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا ۔ اس قبلے کے 100لوگ حجتہ الوداع میں شریک ہوئے۔

وفد عُذرہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عُذرہ کا ایک وفد9 ؁ہجری میں حاضر ہوا۔ اس وفد میں بارہ افراد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید فرمایا۔ اس وفد کے لوگوں نے دریافت کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ اکیلا معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے او ر صرف اسی کی عبادت کرو اور گواہی دوکہ میں ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کا بندہ اور رسول تمام لوگوں کی طرف ( یعنی کائنات کی تمام مخلوق کی طرف) بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اسلام کے فرائض اور تعلیمات کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ سب اطمینان بخش طریقے سے بتایا۔ اس کے بعد اس وفد کے تمام ارکان نے اسلام قبول کر لیا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسلام کی دعوت دی۔ وہ ہم نے قبول کی۔ ہم دل و جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعوان اور انصار او ر مدد گا ر ہیں ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تجارت کے لئے ملک شام جاتے ہیں۔ جہاں ہرقل رہتا ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شام عنقریب فتح ہو جائے گا اور ہرقل وہاں سے بھاگ جائے گا۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ہدایت دی : ’’ کاہنوں سے سوال نہ کرنا اور نہ ہی ان کا ذبیحہ کھانا اور تم اللہ کے لئے ہی قربانی کرنا۔‘‘ اس کے بعد یہ وفد اپنے علاقے کی طرف واپسی کے لئے ٍروانہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایا اور تحفے عطا فرمائے۔

وفد بَلّی کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں 9 ؁ہجری میں قبیلہ بنو بَلّی کا ایک وفد حاضر ہوا اور وفد کے تمام ارکان نے اسلام قبول کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد سے فرمایا: ’’ تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے تمہیں ہدایت بخشی اور اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔ بے شک اگر تمہیں اس حالت میں موت آجاتی کہ تم اسلام قبول نہیں کرتے تو آگ میں داخل کئے جاتے۔‘‘ اس کے بعد وفد کے سربراہ حضرت ابو الضبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھ کو مہمان نوازی کا بہت شوق ہے۔ کیا اس میں میرے لئے کوئی اجر ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اس میں اجر ہے اور غنی یا فقیر جس پر بھی تم احسان کرو گے اس میں بھی اجر ہے اور یہ سب صدقہ ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مہمان نوازی کی مدت کتنی ہے؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مہمان نوازی کی مدت تین دن ہے۔ اس کے بعد صدقہ ہے اور مہمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ میزبان کو تنگی میں ڈالے ۔‘‘ اس کے بعد یہ وفد اپنے قبیلے میں واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ذادِ راہ عطا فرمایا۔

وفد بنو اسد کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں 9 ؁ہجری میں قبیلہ بنو اسد کا وفد حاضر ہوا۔ اس وفد میں دس افراد تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے۔ اس وفد نے حاضر ہو کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیںاور ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر بلائے خود بخود حاضر ہو گئے ہیں۔ ‘‘اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ( ترجمہ) ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے اسلام قبول کرنے کا احسان جتلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیں کہ مجھ پر اپنے اسلام قبول کرنے کا احسان مت جتلائو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا ہے کہ تم کو ایمان کی توفیق دی۔ اگر تم سچے ہو۔‘‘ ( سورہ الحجرات آیت نمبر17) اس کے بعد اس وفد کے لوگوں نے کہا ۔ نت اور رمل کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا۔

حضرت فروۃ بن عمرو جذامی رضی اللہ عنہ کی شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حکمرانوں کو خطوط بھیجے اور اسلام کی دعوت دی۔ ان میں حضرت فروۃ بن عمرو جذامی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہیںسلطنت روم کے حکمراںنے معان اور آس پاس کے علاقے کا گورنر یا حکمراں بنایا تھا۔ جب ان کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ملا تو اسے پڑھ کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ایک قاصد کو کچھ ہدایات دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ رومیوں کو جب حضرت فروۃ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی خبر ہوئی تو فوراً انہیں معزول کر دیا اور دوسرے کوحکمراںبنا دیا۔ اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کوپھانسی پر لٹکا یا جانے لگا تو یہ فرمایا: ’’ مسلمانوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دو کہ میں مسلمان ہوں اور میر ی ہڈیاں اور جائے قیام سب اللہ کی اطاعت گزار ( مطیع) ہیں۔‘‘

وفد بنو حنیفہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میںیمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کا وفد 9 ؁ہجری میں حاضر ہوا۔ اس وفد میںمشہور چالاک فتنہ باز مسیلمہ کذاب (مسیلمہ جھوٹا) بھی تھا۔ پورے وفد کے تمام ارکان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔لیکن وہ بد بخت کِذّاب گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے نہیںآیا او ر اونٹوں اور سامان کے پاس بیٹھا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بد بخت کے بارے میں معلوم ہوا تو اس کی دلجوئی کے خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے۔ ساتھ میں حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے۔ اُس بد بخت جھوٹے مسیلمہ کذاب نے کہا: ’’ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنی خلافت عطا فرما ئیں اور اپنے بعد مجھ کو اپنا قائم مقام مقرر کر یں تو میں بیعت کرنے کیلئے تیار ہوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں اس وقت کھجور کی چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر تو یہ چھڑی بھی مانگے گا تو میں نہیں دوں گا اور اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے جتنا مقدر فرما دیا ہے ۔ اتنا ہی تجھے ملے گا اور غالباً تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا اور یہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تجھ کو جواب دیں گے۔‘‘ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔

دو کِذّابوں ( جھوٹوں) کے بارے میں خواب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس جھوٹے بد بخت مسیلمہ کذاب کے پاس سے تشریف لے آئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیاکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا خواب دکھایا گیا تھا؟ انہوںنے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں دو سونے کے کنگن لا کر رکھے گئے۔ جس سے میں گھبرا گیا۔ خواب میںہی مجھے کہا گیا کہ ان پر پھونک مارو۔ میں نے پھونک ماری تو وہ فوراً اڑ گئے۔ جس کی تعبیر یہ ہے کہ دو کِذّاب ( جھوٹے) ظاہر ہوں گے۔ ‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ ان دو میں سے ایک کذاب مسیلمہ ہوا اور دوسرا اسود عنسی ہوا۔ اسود عنسی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے ہی قتل ہوا اور مسیلمہ خلیفہ ٔ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جنگ کرتے ہوئے قتل ہوا۔

مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بنو حنیفہ کا وفد واپس چلا گیا ۔ امام عبدالملک بن ہشام لکھتے ہیں ۔ یہاں سے واپس جانے کے بعد ( یمامہ) میںمسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیااور اپنے قبیلے کے لوگوں سے یہ جھوٹ بولا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ( نبوت میں ) اپنا شریک بنا لیا ہے۔ اس کے بعد 10 ؁ہجری میں بد بخت مسیلمہ کذاب نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا تھا۔ مسیلمہ ( نعوذ باللہ ) اللہ کے رسول کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف !پس میں تمہارے کام ( نبوت ) میں شریک کر دیا گیا ہوں۔ اس لئے آدھی زمین ہمارے لئے ہے اور آدھی زمین قریش کے لئے ہے۔ مگر قریش انصاف نہیں کرتے ہیں۔ والسلام ۔ اس بد بخت جھوٹے کے خط کے جواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوا کر بھیجا’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب ( جھوٹے ) کی طرف ! سلام ہو ا س پر جو ہدایت ( اسلام ) کی اتباع کرے! بے شک زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اچھا انجام اللہ سے ڈرنے والوں کا ہے۔‘‘ یہ واقعہ ’’حجتہ الوداع ‘‘سے واپسی کے بعد کا ہے۔

وفد ازد کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں قبیلہ بنو ازد کا وفد حاضر ہوا۔ اس میں پندرہ افراد تھے۔ ان میں حضرت صرد بن عبداللہ ازدی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اس وفد کے تمام ارکان نے اسلام قبول کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صرد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ان کا سربراہ بنایااور حکم دیا کہ آس پاس کے مشرکین سے جہاد کرو۔ حضرت صرد رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے کے مسلمانوں کا ایک لشکر لے کر قبیلہ بنوجرش کا محاصرہ کیا۔ ایک مہینہ تک محاصرہ جاری رکھنے کے بعد کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو آپ رضی اللہ عنہ نے محاصرہ اٹھا لیا اور لشکر کی واپسی کا حکم دیا۔ قبیلہ بنوجرش والوں نے مسلمانوں کا تعاقب کیا۔ حضرت صرد بن عبداللہ ازدی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں کو ’’جبل ِ شکر‘‘ تک پیچھے آنے دیا اور وہاں پہنچ کر مسلمانوں کو حکم دیا کہ پلٹ کر حملہ کردو۔ اس حملے میں قبیلہ بنو جرش والوںکو شکست ہو گئی۔ اس سے پہلے قبیلہ بنوجرش والوں نے معلومات حاصل کرنے کے لئے اپنے دو آدمیوں کو مدینہ منورہ بھیجا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن ان دونوں آدمیوں کو فرمایا کہ قبیلہ بنو ازد والوں نے’’ جبل ِ شکر‘‘ کے پاس تمہارے قبیلہ والوں کو شکست دے دی ہے اور جنگ کی پوری تفصیل بیان فرمائی۔ ان دونوں آدمیوں نے قبیلہ بنو جرش والوں کو واپس جا کر تمام تفصیل سنائی تو پورے قبیلہ بنو جرش نے اسلام قبول کر لیا اور ایک وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔

وفد بنو صحارب کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو صحارب کا وفد حاضر ہوا ۔ اس وفد میں حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ وفد بنو صحارب کی حاضری کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ میں بازارذی المجاز میں تھا تو دیکھا کہ ایک شخص لوگوں سے کہتا جا رہا ہے: ’’ اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہو۔ فلاح ( کامیابی ) پائو گے۔‘‘ اور ایک دوسرا شخص اس شخص کے پیچھے سے پتھر مارتا جا رہا ہے اور یہ کہتا جا رہا ہے : ’’ اے لوگو!یہ ( نعوذ باللہ ) جھوٹا ہے۔ اس کی تصدیق مت کرنا۔ ‘‘( یعنی اس کی بات مت ماننا) میں نے پوچھا : ’’یہ آگے والا شخص کون ہے؟ ‘‘لوگوں نے مجھے بتایا : ’’یہ بنو ہاشم کا محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ اللہ کا رسول ہے اور یہ پیچھے سے پتھر مارنے والا شخص اس کا سگا چچا ابو لہب ہے۔‘‘ حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب لوگ اسلام میں داخل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو گئے تو ہم مدینہ منورہ کی کھجوریں خریدنے کے لئے زبدہ سے چلے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر ایک باغ میں اترنے کا ارادہ کر رہے تھے کہ ایک شخص دوپرانی چادریں اوڑھے ہوئے ہمارے پاس آیا اور سلام کیا اور ہم سے دریافت کیا : ’’ ہم کہاں سے آرہے ہیں؟ ‘‘ ہم نے بتایا : ’’ زبدہ سے آرہے ہیں اور مدینہ منورہ کی کھجوریں خریدنے آئے ہیں۔‘‘ ہمارے پاس سرخ اونٹوں میں سے ایک سرخ اونٹ اس شخص نے پسند کیا اور پوچھا : ’’اس سرخ اونٹ کو کتنی کھجوروں کے معاوضے میں بیچتے ہو؟‘‘ ہم نے کہا: ’’ اتنی کھجوریں اس کے معاوضہ میں لیں گے۔‘‘ اس شخص نے اسی قیمت کو منظور کر لیا اور قیمت کم نہیں کروائی اور اونٹ لے کر چلا گیا۔ ہم آپس میں باتیں کرنے لگے کہ’’ ہم تو اس شخص کو پہچانتے بھی نہیں ہیں اور بغیر قیمت لئے اونٹ اس کے حوالے کر دیا۔‘‘ ہم میں سے ایک ھودج نشین عورت نے کہا: ’’میں نے اس شخص کے چہرہ کو دیکھا ہے۔ اللہ کی قسم! اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ تم گھبرائو نہیں اس کی قیمت کی میں ذمہ دار ہوں۔ ‘‘یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ ایک شخص آیا اور کہا: ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں۔ انہوں نے یہ کھجوریں بھیجی ہیں اور فرمایا ہے کہ ان میں سے سیر ہو کر کھائو اور پھر ماپ لو۔‘‘ ہم نے وہ کھجوریں خوب سیر ہو کر ( پیٹ بھر کر ) کھائیں اور پھر مانپا تو اونٹ کی قیمت کے برابر پائی۔‘‘ اگلے روز ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور ہم نے یہ کلمات سنے ۔ ’’صدقہ اور خیرات کرو۔ اونچا ہاتھ ( اوپر والا ہاتھ) نیچے ہاتھ سے بہتر ہے۔ ماں ، باپ ، بھائی ، بہن اور قریبی رشتہ داروں کا زیادہ خیال رکھو۔‘‘

وفد بنو کندہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بنو کندہ کا وفد حاضر ہوا ۔ اس وفد کے سردار اشعث بن قیس تھے۔ قبیلہ بنو کندہ یمن کے اطراف میں آباد تھے۔ 10 ؁ہجری میں 80سواروں پر مشتمل یہ وفد مدینہ منورہ میں داخل ہو ا تو ان کے بڑے ٹھاٹ باٹ تھے۔ بالوں میں خوب کنگھی کئے ہوئے تھے اور ریشمی گوٹ لگے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ہتھیار اپنے بدن پر سجائے ہوئے تھے۔ جب یہ وفد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پھر تم لوگوں نے یہ ریشمی جُبّے کیوں پہن رکھے ہیں؟‘‘ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنے لباس پر لگی ریشمی گوٹ کو پھاڑ کر نکال دیا۔

وفد بنو تُجیب کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں قبیلہ بنو تُجیب کا وفد حاضر ہوا۔ قبیلہ بنو تجیب یمن میں قبیلہ بنو کندہ کی ایک شاخ ہے۔ اس وفد میں تیرہ افراد تھے اور یہ لوگ صدقات کا مال لے کر حاضر ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ’’ تم اپنے صدقات اور زکوٰۃ کا مال لے جائو اور اپنے غریبوں اور فقیروں میں تقسیم کر دو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ہمارے غریبوں اور محتاجوں کو دینے کے بعد بچ گیا ہے۔‘‘ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مال لے لیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !تجیب جیسا وفد آج تک کوئی نہیں آیا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا سینہ ایمان کے لئے کھول دیتا ہے۔‘‘ان لوگوں نے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے متعدد سوالات کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جوابات دیئے جو انہوں نے لکھ کر رکھ لئے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے تاکید فرمائی کہ ان کی اچھی مہمان نوازی کرنا ۔ چند دنوں بعد اس وفد نے واپسی کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جلدی کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !دل تو یہ چاہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار پر نور اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ہمیشہ رہیں۔ لیکن اسلام کی تعلیمات اپنی قوم تک پہچا نا ہم پر فرض ہے۔ اس لئے واپسی کی اجازت دیں۔‘‘

میرے لئے غنا کی دعا کردیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ وفد رخصت ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انعام و اکرام سے نوازا اور فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی باقی تو نہیں رہ گیا ہے؟ ‘‘وفد کے ارکان نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان لڑکا رہ گیا ہے۔ اسے ہم نے سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیا تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے بلائو۔ ‘‘وہ نوجوان حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے قبیلے والوں کی حاجتیں پوری کی ہیں۔ میری بھی ایک حاجت ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ حاجت کیا ہے؟‘‘ اس نوجوان نے کہا: ’’ میں صرف اس لئے اپنے گھر سے نکلا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمائے اور مجھ پر رحم فرمائے اور میرے دل کو غنی(دنیا کی ہر شئے سے بے پرواہی) فرما دے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مسرت اور خوشی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اس کے دل میں استغنا پید فرمادے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو بھی انعام و اکرام دے کر رخصت فرمایا۔ 10 ؁ہجری میں قبیلہ بنو تجیب کے لوگ حج کرنے آئے اور منیٰ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کا حال دریافت فرمایا: ’’ لوگوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے زہد و قناعت کا یہ حال ہے کہ کتنا ہی مال و دولت اس کے سامنے تقسیم ہوتا ہے مگر وہ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب اہلِ یمن میں ارتداد پھیلنے لگا تو اس نوجوان نے مسلسل محنت کر کے لوگوں تک پہنچ کر انہیں سمجھایا اور وہ اسلام پر قائم رہے اور کوئی شخص مرتد نہیں ہوا۔ خلیفہ ٔ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یمن کے گورنر کو اس نوجوان کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیا۔

وفد بنو ھُذیم کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں قبیلہ بنو ھُذیم کا وفد حاضر ہوا ۔ جس وقت یہ وفد مسجد نبوی میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی نماز جنازہ پڑھا رہے تھے۔ یہ لوگ الگ بیٹھ گئے اور نماز مکمل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ نماز سے فارغ ہو کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کو بلوایا اور فرمایا: ’’ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پھر اپنے بھائی کی نماز جنازہ میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے یہ گمان کیا کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہ کرلیں۔ اس وقت تک نماز جنازہ میں شرکت کرنا ہمارے لئے جائز نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم جہاں بھی ہو ، جیسے بھی ہو، مسلمان ہو۔‘‘ اس کے بعد اس وفد کے ارکان نے بیعت کی ۔ ایک نوجوان کو سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیا تھا ۔ ایک شخص نے جا کر اسے بھیجا تا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کر لے۔ وہ نوجوان آیا اور بیعت کی تو وفد کے ایک بزرگ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہم میں سب سے چھوٹا ہے اور ہمارا خدمت گار ہے۔ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قوم میں کا چھوٹا اپنے بزرگوں کا خدمت گار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ پر اپنی برکتیں نازل فرمائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے طفیل وہ نوجوان قرآن پاک کا بہت بڑا عالم بنا ۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو اس کی قوم کا سردار بنادیا اور امام مقرر کر دیا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس وفد کے ارکان کو انعام و اکرام سے نوازیں۔ اس وفد نے اپنے قبیلے میں پہنچ کر اسلام کی دعوت دی تو پورا قبیلہ بنو ھُذیم مسلمان ہو گیا۔

وفد بنو خولان کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں 10 ؁ہجری میں یمن سے قبیلہ بنو خولان کا وفد حاضر ہوا۔ اس وفد میں دس افراد تھے۔ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے ۔ ہم لوگ اتنی دور دراز سے سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے شوق میں حاضر ہوئے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارا سفر ضائع نہیں ہوا ہے اور ہر قدم پر تمہارے لئے ایک نیکی ہے اور جو شخص میری زیارت کے لئے مدینہ منورہ حاضر ہو گا وہ قیامت کے دن میری پناہ اور امان میں ہوگا۔‘‘ اس کے بعد قبیلہ بنو خولان کے بت کے متعلق دریافت فرمایا تو اس وفد نے عرض کیا: ’’ الحمد للّٰلہ !آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور تعلیم پر پورا قبیلہ بنو خولان عمل کر رہا ہے۔ صرف چند بوڑھے مرد اور عورتیں اس بُت کی پوجا کر رہے ہیں۔ انشاء اللہ یہاں سے جانے کے بعد ہم اس بت کا نام و نشان مٹا دیں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد والوںکو اسلام کی تعلیمات سکھائیں اور نصیحت فرمائی : ’’ عہد اور وعدہ کو پورا کرنا ۔ امانت ادا کرنا۔ پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور کسی پر ظلم نہ کرنا ‘‘ اور رخصت کرتے وقت بارہ اوقیہ چاندی ان کو عطا فرمائی ۔ اس وفد نے واپسی کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ قبیلہ خولان کے بُت کو منہدم کر دیا۔

وفد بنو طی اور وفد بنو سلامان کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں قبیلہ بنو طی کا وفد حاضر ہوا۔ ( آپ کو یاد ہو گا ۔ قبیلہ بنو طی کا سردارحاتم طائی تھا اور اس کے بیٹے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے اور بیٹی سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس کا ذکر تفصیل سے ہم کر چکے ہیں) اس وفد میں پندرہ ارکان تھے۔ ان کا سربراہ حضرت زید الخیل رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور سب نے خوشی خوشی اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید الخیل کا نام بد کر حضرت زید الخیر رضی اللہ عنہ رکھ دیااور فرمایا: ’’عرب میں سے جس شخص کی بھی تعریف میں نے سنی اس کو اس تعریف سے کم پایا ہے۔ لیکن تمہاری جتنی تعریف سنی ہے تمہیں اس سے زیادہ پایا ہے۔‘‘ 10 ؁ہجری میں قبیلہ بنو سلامان کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وفد میں سات افراد تھے ۔ ان سب نے اسلام قبول کیا اور بتایا : ’’ ہمارے علاقے میں قحط نے بہت زبردست تباہی مچائی ہے اور قبیلہ بنو سلامان بد حالی کا شکار ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے اور بارش کے لئے دعا فرمائی۔ اس کے بعد زادِ راہ دے کر اس وفد کو رخصت کیا۔ اپنے قبیلے میں پہنچ کر اس وفد کے ارکان کو معلوم ہوا کہ جس روز اور جس وقت سیدالانبیاء نے دعا فرمائی تھی۔ اسی وقت قبیلہ سلامان پر بارش ہوئی تھی۔ وفد کے ارکان نے قبیلے بنو سلامان والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں بتایا تو پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا۔

وفد بنو عبس کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں قبیلہ بنو عبس کا وفد حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے مبلغین نے ہمیں بتایا کہ جو ہجرت نہیں کرے گا اس کا اسلام مقبول نہیں ہوگا۔ اسی لئے ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ اپنا سارا مال و متاع اور مویشی بیچ کر ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے آئیں۔ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم لوگوں کے لئے ہجرت ضروری نہیں ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ تم جہاں بھی رہو۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور اسلام پر عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے اجر میں کمی نہیں کرے گا۔‘‘

وفد بنو حارث کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 ؁ہجری میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو نجران کے ایک معزز قبیلہ بنو حارث کی طرف بھیجا اور فرمایا: ’’ تین دنوں تک انہیں اسلام کی دعوت دینا اگر اس کے بعد بھی اسلام قبول نہ کریں تو ان سے جنگ کرنا۔‘‘ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنو حارث میں پہنچ کر اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اطراف و جوانب میں بھی مبلغین اسلام بھیجے ۔ انہوں نے اسلام کی دعوت دی تو ہر جگہ اسلام قبول کیا گیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ خوش خبری لکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھو ا کر بھیجا کہ ان کا ایک وفد لے کر یہاں آئو۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو حارث کا ایک وفد لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اس وفد میں حضر ت قیس بن حصین ، حضرت یزید بن مجمل اور حضرت شداد بن عبداللہ رضی اللہ عنہم تھے۔ جب یہ وفد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ یہ کون لوگ ہیں؟ ایسا لگتا ہے ہندوستان کے آدمی ہیں۔‘‘(یا ہندوستان کے رہنے والوں کی طرح ہیں)

اتحاد کی برکت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیلہ بنو حارث کے وفد نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم قبیلہ بنو حارث سے ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ ‘‘یہ لوگ بڑے بہادر تھے۔ اس لئے اپنے مقابل پر ہمیشہ غالب رہتے تھے۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم لوگ کس وجہ سے لوگوں پر غالب رہتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ہمیشہ متحد اور متفق رہتے ہیں اور آ پس میں اختلاف نہیں کرتے اور آپس میں حسد بھی نہیں کرتے اور کسی پر خود سے ظلم نہیں کرتے اور سختی اور تنگی میں مل جل کر صبر کرتے ہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم سچ کہتے ہو۔ بے شک اتحاد میں برکت ہے ۔‘‘اور حضرت قیس بن حصین رضی اللہ عنہ کو ان کا سربراہ مقرر فرمایا اور اس وفد کی واپسی کے بعد حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو اسلام کی تعلیمات دے کر صدقات وصول کرنے کے لئے ان کی طرف روانہ فرمایا اور ’’کتاب الصدقات ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھوا کر ان کو دی۔ اس میں صدقات اور زکوٰۃ کے احکام تھے۔ یہ وفد ماہ ِ شوال یا ماہ ذی القعدہ 10 ؁ہجری میں واپس ہوا اور لگ بھگ چار مہینے بعد ماہِ ربیع الاول 11 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔

کچھ اور وفود کے نام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بے شمار وفود حاضر ہوئے۔ اگر تمام وفود کے حالات بیان کرنے لگیں گے تو ایک بہت موٹی کتاب بن جائے گی۔ چونکہ ہم مختصرا ً سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کر رہے ہیں۔ اس لئے کچھ وفود کا ذکر ہم نے کر دیا ہے اور کچھ وفود کے نام پیش کر رہے ہیں۔آپ اگر وفود کے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں تو سیرت کی مستند کتابوں کی طرف رجوع کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے چند وفود کے نام یہ ہیں 1) وفد بنو عامر بن معصعہ 2) وفد بنو ہمدان 3) وفد بنو بہرآئَ 4) وفد بنع صحارب 5) وفد بنو غسّان 6) وفد بنو غامد 7) وفد بنو المنتفق 8) وفد بنو نخع 9) وفد بنو البکّاء 10) وفد بنو کنانہ 11) وفد بنو ہلال 12) وفد بنو دارم ۔ یہ کچھ وفود کے نام ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے وفود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

درندوں کا وفد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بھیڑیا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر بھونکا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تمہاری طرف درندوں کے وفد کا نمائندہ بنا کر آیا ہے۔ اگر تم پسند کرو تو اس کے لئے کچھ مقرر کر دو اور اسے کسی دوسرے کی طرف نہ بھیجو اور اگر تم چاہو تو اسے چھوڑ دو اور اس سے احتیاط کرو۔ پس جو وہ ( درندے) لے لیں گے۔ وہ ان کا رزق ہو گا۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارا دل اس کے لئے کسی چیز کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ یعنی ان کو اچک سکتے ہو۔ وہ بھیڑیا یہ اشارہ دیکھنے کے بعد خوشی کا اظہار کرتا ہوا چلا گیا۔ ایک بھیڑیے نے ریوڑ میں کی ایک بکری کو پکڑ لیا۔ چرواہے نے دیکھا تو پیچھا کر کے اس سے بکری چھین لی۔ بھیڑیا اپنے پچھلے دونوں پیروں پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : ’’ کیا تو اللہ سے نہیں ڈرتا ہے اور مجھ سے میرا رزق چھینتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔‘‘ اس چرواہے نے کہا: ’’یہ تو عجیب بات ہے کہ ایک بھیڑیا اپنے پچھلے پیروں پر بیٹھ کر انسانوں کی طرح گفتگو کر رہا ہے۔ ‘‘بھیڑیے نے کہا: ’’میں تمہیں اس سے عجیب بات بتاتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ’’ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ یثرب ( مدینہ منورہ) میں لوگوں کو پچھلی اور اگلی باتوں کی خبر دیتے ہیں۔ وہ چرواہا بکریوں کو لے کر مدینہ منورہ آیا اور بکریوں کو ایک جگہ باندھ کر سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کروادیا۔ سب لوگ جمع ہو گئے تو اس بدّو ( دیہاتی ) چرواہے سیفرمایا : ’’انہیں بھی اپنا واقعہ سنائو۔‘‘ اس نے تمام واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اس نے سچ کہا ہے اور قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے گفتگو نہیں کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا سِرا (نوک) بات کریگا اور اسکی جوتی کا تسمہ اس سے گفتگو کر ے گا اور جو کچھ اس کے اہل وعیال اس کے پیچھے ( اس کے باہر جانے کے بعد گھر میں ) کرتے رہے ہوں گے ۔ اس کی ران اس کے متعلق خبر دے گی۔ ‘‘

جِنّات کے وفد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں جنات کا پہلا وفد اس وقت حاضر ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دینے طائف گئے تھے تو طائف والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھروں کی بارش کر کے طائف سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ( اس کی پوری تفصیل ہم نے اِس سے پہلے پیش کر چکے ہیں ) طائف سے مکہ مکرمہ واپسی کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ’’ نخلہ ‘‘میں رات میں با آواز بلند تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے تو سات جنات وہاں سے گزرے ۔ وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پر اثر تلاوت سن کر ٹھٹھک گئے اور ایک دوسرے کو خاموش کر کے پوری توجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین تلاوت سننے لگے اور ایسا کھوئے کہ انہیں اپنا ہوش بھی نہیں رہا۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو یہ جنات ہوش میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔ اس کے بعد وہ اپنے علاقے میں گئے اور اسلام کی تبلیغ کی اور ان کی قوم کے بہت سے جنات نے اسلام قبول کیا۔ ان سب کو لے کر یہ ساتوں جنات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ِ مبارک پر بیعت کی۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ احقاف کی آیت نمبر29سے 34تک میں کیا ہے۔

جنات کی دعوت پر حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا اور بتایا کہ میں ایک کاہن تھا۔ (کاہن کے قبضہ میں جن ہوتے ہیں۔ یا ان کے دوست ہوتے ہیںجو انہیں مختلف خبریں لا کر دیتے ہیں تو وہ لوگوں کو بتاتے ہیں) ایک رات میر اجن میرے پاس آیا اور کہنے لگا : ’’ کیا تو نے جنات اور ان کے غم کو نہیں دیکھا؟ کیا تو نے دین سے ان کی مایوسی کا مشاہدہ نہیں کیا؟ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ کنوئوں اور جنگلات میں کس طرح بھاگ گئے؟ ‘‘در اصل میرا جن نیک تھا اور اس نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں ’’ہاشمی خاندان‘‘ کے ایک شخص’’ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘نے’’ اعلان ِ نبوت ‘‘ کیا ہے اور تمام بُرے جنات مایوس ہو کر کنوئوں اور جنگلات میں چھپ گئے ہیں۔ حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ آگے بتاتے ہیں: ’’ پھر میرا نیک جن مجھے بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دیتا رہا۔ ایک رات وہ میرے پاس آیا اور بولا: ’’ اے سواد بن قارب ! اٹھو اور میری بات غور سے سنو! اگر صاحبِ دانش ہو تو اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ لوئی بن غالب سے مبعوث ہو چکے ہیں۔ (لوئی بن غالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد میں سے ہیں) اور وہ اللہ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔

جنات کے وفود کی مسلسل آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ اپنے نیک جن کے بارے میں بتا رہے تھے اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دم بخود بیٹھے ان کی داستان سن رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے آگے بتایاکہ میرے جن نے بار بار آکر مجھے خبر دی کہ جنات کے وفود مسلسل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں اور اسلام قبول کررہے ہیں۔ ایک رات میرا جن میرے پاس آیا اور بولا : ’’ مجھے ( نیک) جنات اور ان کی جستجو پر تعجب ہو رہا ہے اور مجھے ان کے اونٹوں پر کجاوے کسنے پر تعجب ہو رہا ہے۔ وہ (نیک جنات ) ہدایت کی جستجو میں مکہ مکرمہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ وہ سچے ( نیک) جنات ہیں اور جھوٹے جناتوں کی طرح نہیں ہیں۔ اے سواد! تو بھی بنو ہاشم کے برگزیدہ شخص ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سفر کر۔ جن کا مستقبل ان کے ماضی سے کہیں زیادہ درخشاں ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ وہ جن مجھ سے بار بار درخواست کرتا رہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلوں۔‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں