اتوار، 2 جولائی، 2023

35 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


35 سیرت سید الانبیاء ﷺ

سنہ الوفود (وفود کی آمد کا سال) قسط نمبر 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان، وفد بنو ثقیف کی آمد، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حج، وفد بنو عبدالقیس، نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) کے وفد کی آمد، اُمت کے امین، وفد مزینہ، وفد اشعر یین، وفد بنو فزارہ اور وفد بنو مُرّہ کی آمد

ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلاء

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رجب 9 ؁ہجری میں غزوہ تبوک کیلئے روانہ ہوئے تھیاور ماہِ شعبان کے آخری دنوں یا ماہ رمضان کے شروعاتی دنوں میں مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ غزوہ تبوک سے پہلے یا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے’’ ایلاء ‘‘کیا۔ ایلاء کے معنی قسم کھانا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک ازواج مطہرات سے دور رہنے کی قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پہلو چھل گیا تھا یا زخمی ہو گیا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے تھے یا سواری کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی یا کاندھے کو نقصان پہنچا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بالا خانے میںتشریف فرما ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا سے کھجور کی شاخوں سے سایہ دار بنایا۔‘‘ اُم المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ ( کمرہ) میںایک بالا خانہ بنایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ وہیں مقیم رہے اور وہیں سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی۔ انتیس29دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے سے اترے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے قسم کھائی تھی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مہینہ انتیس29دنوں کا بھی ہوتا ہے۔‘‘

منافقوں کے سردار کا انتقال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے بعد مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے۔ ذی القعدہ 9 ؁ہجری میں منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبیّ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بیٹے ایک سچے صحابی رضی اللہ عنہ تھے۔ ( ان کا نام حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہے ) ان کے بارے تفصیل سے پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں۔ وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اپنی قیمیص مبارک مجھے عطا فرمائیں۔ تا کہ میں اسے کفن کے طور پر اپنے باپ کو پہنائوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قمیص عطا فرمادی۔ پھر انہوںنے عرض کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ منافق ہے۔ ‘‘

منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب منافقوںکے سردار کی نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ منافق ہے اور منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ( ترجمہ)’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( منافقین) کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( منافقوں) کے لئے ستر 70مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ( سورہ توبہ آیت نمبر80) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں جانتا ہوں ستر 70مرتبہ بخشش مانگنے پر بھی اللہ تعالیٰ نہیں بخشے گا ۔ اس کے باوجود مجھے اختیار دیا ہے کہ میں بخشش مانگوں یا نہ مانگوں۔ لہٰذا میں اس کے لئے ستر 70مرتبہ سے زیادہ بخشش مانگوں گا اور نماز جنازہ پڑھا دی۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’ (ترجمہ ) ’’اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( منافقوں) میں سے کسی کی نمازجنازہ نہ پڑھیں جو کبھی بھی مر جائے اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ بے شک انہوں ( منافقوں) نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اور فسق کی حالت میں مر گئے۔‘‘ (سورہ توبہ آیت نمبر84) در اصل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کے لئے’’ رحمت‘‘ بنا ئے گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید تمنا تھی کہ تمام انسان جنت میں جائیں۔ اسی لئے منافقوںکے سردار کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا صاف حکم آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کی قبر پر کھڑے ہو نا بھی بند کر دیا۔

حضرت اصحمہ (نجاشی حبشہ کے بادشاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت اصحمہ نجاشی حبشہ کے بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ ایمان لے آئے تھے۔ ۹ ؁ہجری میں انکاانتقال ہو ا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کی خبر دی اور غائبانہ نماز جنازہ کا اعلان فرمایا۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ صحابی نہیںہیںبلکہ تابعی ہیں۔ اپنی حکومت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں کر سکے تھے۔ جب انہوں نے حضر ت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اور اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیخدمت میں مدینہ منورہ بھیجا تھا تو درخواست کی تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو میںمدینہ منورہ حاضر ہو جائوں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔

سید ہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سید ہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا 9 ؁ہجری میں انتقال ہوا۔ سید الانیباء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح اپنے چچا ابو لہب کے بیٹے سے کر دیا تھا۔ لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی اور آپ رضی اللہ عنہا اپنے والد کے گھر ہی تھیں۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ اعلان ِ نبوت‘‘ فرمایا تو بد بخت الو لہب کے حکم پر اس کے بیٹے نے سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تا کہ ان کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ غزوہ بدر کے وقت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ اس طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پوری کائنات کے اکیلے انسان ہیں جن کے نکاح میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں آئیں۔ جب سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اگر میری اور بیٹی ہوتی تو اسے بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔‘‘

وفد بنو ثقیف کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ماہ رمضان المبارک 9 ؁ہجری میں طائف کے بنو ثقیف کا وفد حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔ آپ کو یا د ہوگا کہ غزوہ طائف میںچند دنوں تک محاصرہ کرنیکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ اٹھالیا تھااور جعرانہ واپس آگئے تھے اور غزوہ حنین کے شکست خودرہ حضرت مالک بن عوف ( قبیلہ ہوازن کے حکمراں) رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے آس پاس کے علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا اور آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ طائف کے بنو ثقیف کی ایک شاخ کے سردار حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف اور مکہ مکرمہ کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لارہے تھے پھر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے طائف میں جا کر بنو ثقیف کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تھا۔ انکی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت ابو ملیح بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت قارب بن اسود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور اسلام قبول کیا اور وہیں رک گئے۔ حالانکہ حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بنو ثقیف پر سختی کر رہے تھے۔ ان کی تجارت کی آمدو رفت بند کر رکھی تھی۔ ان کے مویشی چھین لئے تھے اور ضرورت کے وقت ان کے آدمیوں سے بیگاری کا کام لیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود بنو ثقیف کے دل اسلام کی طرف مائل نہیں ہو رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب بنو ثقیف کو خبر ملی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ٔ تبوک سے کامیاب واپس تشریف لے آئے ہیں اور سوپر پاور سلطنت روم نے بھی ان سے ٹکرانے کی ہمت نہیں کی ہے تو بنو ثقیف کے لوگ سمجھ گئے کہ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمان اتنی بڑی طاقت بن چکے ہیں کہ تمام عرب میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیںہے۔ اسی لئے بنو ثقیف نے اپنے مختلف خاندانوں یا شاخوں کے سرداروں کو مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔

وفد بنو ثقیف کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ماہ رمضان المبارک 9 ؁ہجری میں طائف کے بنو ثقیف کا وفد حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔ آپ کو یا د ہوگا کہ غزوہ طائف میںچند دنوں تک محاصرہ کرنیکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ اٹھالیا تھااور جعرانہ واپس آگئے تھے اور غزوہ حنین کے شکست خودرہ حضرت مالک بن عوف ( قبیلہ ہوازن کے حکمراں) رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے آس پاس کے علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا اور آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ طائف کے بنو ثقیف کی ایک شاخ کے سردار حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف اور مکہ مکرمہ کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لارہے تھے پھر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے طائف میں جا کر بنو ثقیف کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تھا۔ انکی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت ابو ملیح بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت قارب بن اسود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور اسلام قبول کیا اور وہیں رک گئے۔ حالانکہ حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بنو ثقیف پر سختی کر رہے تھے۔ ان کی تجارت کی آمدو رفت بند کر رکھی تھی۔ ان کے مویشی چھین لئے تھے اور ضرورت کے وقت ان کے آدمیوں سے بیگاری کا کام لیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود بنو ثقیف کے دل اسلام کی طرف مائل نہیں ہو رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب بنو ثقیف کو خبر ملی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ٔ تبوک سے کامیاب واپس تشریف لے آئے ہیں اور سوپر پاور سلطنت روم نے بھی ان سے ٹکرانے کی ہمت نہیں کی ہے تو بنو ثقیف کے لوگ سمجھ گئے کہ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمان اتنی بڑی طاقت بن چکے ہیں کہ تمام عرب میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیںہے۔ اسی لئے بنو ثقیف نے اپنے مختلف خاندانوں یا شاخوں کے سرداروں کو مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔

بنو ثقیف کی شرائط

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو ثقیف کا وفد حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیںمسجد نبوی میں ایک خیمے میں ٹھہرایا اور حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف سے وکیل بنایا ۔جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو ثقیف کے لئے کھانا آتا تو وہ لوگ کھانا چیک کرنے کے لئے پہلے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو کھلاتے تھے پھر خود کھاتے تھے۔ ان لوگوں نے تین شرائط پیش کیں ۱) پہلی یہ کہ تین برس تک لات( بنو ثقیف کے بت کا نام) کو نہ توڑا جائے۔ اس لئے کہ ان کی اولادیں اور عورتیں اس سے بہت عقیدت کرتے ہیں۔ جب ان کے دل اسلام کی طرف راغب ہو جائیں اور اسلام کی محبت پیدا ہو جائے تو تب بت کو توڑ ا جائے ۲) دوسری شرط بنو ثقیف نے یہ رکھی کہ ہماری نماز معاف کر دی جائے ۳) اور تیسری شرط یہ رکھی کہ ہمارے بت ہمارے ہاتھوں سے نہ تڑوائے جائیں ۔ ان شرائط کو سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ انور پر ناگواری کے تاثرات ظاہر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ طائف میں موجود تمام بتوں کو فوراً منہدم کیا جائے گا اور نماز بھی معاف نہیں کی جائے گی۔ کیوں کہ اس دین میں کوئی بہتری نہیں ہیجس میں نماز نہیں ہے۔ ہاں تمہاری تیسر ی شرط ہم مانتے ہیں کہ اپنے بتوں کو تم مت توڑنابلکہ مغیرہ بن شعبہ ( یہ بنو ثقیف کے ہی ہیں اور صلح حدیبیہ سے کافی پہلے اسلام قبول کرچکے تھے) رضی اللہ عنہ توڑیں گے۔‘‘ اس کے بعد بنو ثقیف کے وفد نے اپنے سربراہ عبدیالیل سمیت اسلام قبول کر لیا۔ اس وفد کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس وفد کے ساتھ طائف میں آئے اور ابو سفیان بن حرب کسی وجہ سے طائف نہیں پہنچ سکے۔ جب وہ طائف پہنچے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ طائف کے سب سے بڑے مندر کے بت (لات ) کو منہدم کر چکے تھے۔ بنو ثقیف دورسے حیرت اور خوف کی آنکھوں سے اس ماجرے کو دیکھ رہے تھے۔ بت خانہ (مندر ) سے جو خزانہ ملا۔ اس سے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کا قرض اداکیا گیا۔ جیسا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اس کے بعد باقی خزانہ مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حج

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 ؁ہجری میں مکہ مکرمہ فتح فرمایا تھا اور حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ کا گورنر(حاکم) بنایا تھا۔ اس سال انکی قیادت میں ہی مسلمانوں نے حج کیا تھا۔ لیکن 9 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قائد بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا اور ان کی قیادت میں مسلمانوں نے حج کیا۔ ( یہ توآپ جانتے ہی ہیں کہ اس زمانے میں سب سے بہترین سواری اونٹ یا گھوڑا ہوتی تھی اور کئی دنوں یا ہفتوں یا مہینوں کا سفرہوتا تھا۔ اس لئے پہلے سے سفر پر نکلنا پڑتا تھا) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قافلہ لے کر ذی القعدہ 9 ؁ہجری میں مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء نے امیر حج بنا کر بھیجا۔ یہ’’ حجتہ الوداع‘‘ سے پہلے والا حج ہے۔ اس میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ اعلان کریں گے کہ اگلے سال سے کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور نہ ہی کوئی برہنہ( ننگا ) ہو کر طواف کرے۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کوا علان کرنے کے لئے بھیجا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ کیوں کہ عرب کا قاعدہ تھا کہ عہد ومعاہدہ کے بارے میں یاتو عہد کرنے والا شخص اعلان کرتا ہے یا پھر اس کے خاندان کا کوئی شخص اعلان کرتا ہے۔ اس لئے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنی اونٹنی ’’عضبآ‘‘ پر سوار کر کے بھیجا اور فرمایا : ’’ سورہ برأت (توبہ) کی چالیس آیات تم سنانا اور اعلان کرنا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے روانہ ہونے کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں بہر حال حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب قافلے کے قریب پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی اونٹنی کی آواز سن کر فرمایا: ’’ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی آواز ہے۔ ‘‘اور رک کر انتظا رکرنے لگے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قریب آئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ امیر بن کرآئے ہو یاما مور بن کر ۔‘‘انہوں نے فرمایا: ’’ مامور بن کر آیا ہوں۔ صرف سورہ (توبہ) برأت کی آیات سنا نا ہے۔‘‘ مکہ مکرمہ آکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا اور جس مقام پر وہ حج کا خطبہ دیتے تھے تو ان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کھڑے ہوتے اور سورہ برأت یا توبہ کی چالیس آیات تلاوت فرماتے تھے اور اعلان کر تے تھے کہ اگلے سال سے صرف مسلمان حج کرنے آسکیں گے اور اب کوئی بھی مشرک حرم شریف میں داخل نہیں ہو سکتااور کوئی بھی برہنہ طواف نہیں کرے گا اور کافروں اور مشرکین کو چار مہینوں کی مہلت ہے اس کے بعد ان کی امان ختم کر دی جائیں گی۔ پھر یا تو وہ اسلام قبول کریں یا پھر جزیہ دیں یا پھر جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضر ت علی المرتضیٰ کی مدد کے لئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دیئے تھے۔ ان میںحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان حضرات نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اعلان کو اتنی زور زور سے اتنی بار ہر جگہ دہرایا کہ ان لوگوں کا گلہ بیٹھ گیا۔ اس اعلان کے بعد کافر اور مشرک فوج کی فوج آکر اسلام قبول کرنے لگے۔

10؁ہجری سنۃ الوفود( وفودکے آنے کا سال 10ہجری)

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ 9 ؁ہجری کے حج کا امیر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا اور حج کے دنوں کے دوران پور ے عرب کے قبائل کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنا دیا تھا۔ جو سورہ توبہ یا برأت کی چالیس آیات پر مشتمل تھا۔ اس طرح تمام عرب پر اللہ کی حکومت قائم ہو گئی اور پورے عرب کے قبائل نے اسلام اور مسلمانوں کی برتری تسلیم کر لی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام عرب قبائل وفد کی شکل میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو نے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے۔ ان میں سے وفد بنو ہوازن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ جو جعرانہ میں ۸ ؁ ہجری میں حاضر ہو ئے تھے اور بنو ثقیف کے وفد کا ذکر بھی ہو چکا ہے۔ جو ماہِ رمضان المبارک ۹ ؁ہجری میں حاضر ہوئے تھے۔

وفد بنو عبدالقیس

یہ بحرین کا بہت بڑ اقبیلہ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس قبیلے کا وفد5 ؁ہجری یا اس سے پہلے حاضر ہوا تھا۔ ہم نے اس وفد کی آمد کا ذکر اس وقت نہیں کیا تھا ۔ اس وفد میں تیرہ یا چودہ افراد تھے ان سب نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اسلام قبول کرنے سے بے حد خوشی اور مسرت ہوئی اور جب اس وفد نے بتایا کہ پورا قبیلہ بنو عبدالقیس اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسرت سے فرمایا: ’’مرحبا ہے اس قوم کو جو نہ رسواء ہوئی اور نہ شرمندہ ہوئی۔‘‘ یعنی خوشی سے اپنی رضا مندی سے مسلمان ہوئے۔ لڑکر ہارنے کے بعد مسلمان نہیںہوئے۔ جس کی وجہ سے انہیں شرمندگی یا ندامت ہوتی۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ بات چیت 5 ؁ہجری میںہو رہی ہے ۔ جب قریش مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور طاقتور تھے) اس کے بعد اس وفد نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاقوں کے درمیان قبیلہ مضر کا علاقہ پڑتا ہے اور وہ ہمارے قافلے کولوٹ لیتے ہیں۔ اس لئے ہم صرف حرام مہینوں میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ ( عربوں کا یہ قاعدہ تھا کہ سال کے چار مہینوں میں لوٹ مار اور جنگ کرنا حرام سمجھتے تھے۔ اس لئے انہیں حرام مہینے کہا جاتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست ہے کہ ہمیں ایسا جامع عمل بتادیں جس کو کرنے سے ہم جنت میں داخل ہو سکیں اور ہمارے قبیلے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیںہے اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور چار برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فر ما دیا۔‘‘

حِلم اور وقار و تمکنت اللہ کی پسند یدہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب یہ وفد حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار اور ملاقات کے شوق میں وفد کے لوگ جلدی سے اپنی اپنی سواریوں سے کود پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دستِ مبارک کے بوسے لینے لگے۔ اس وفد میں حضرت اشج عبد القیس مبہی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کا نام منذر ہے اور یہ سب سے کم عمر تھے۔ انہوں نے پہلے تو تمام اونٹوں کو قاعدے سے ایک جگہ بٹھایا اور سب لوگوں کا سامان ایک جگہ جمع کر کے حفاظت سے رکھا۔ پھر اپنے سامان میں سے دو سفید دھلے ہوئے کپڑے نکالے۔ پھر وہ پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مصافحہ کیا اور دست ِ مبارک کو بوسہ دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں دو خصلتیں ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں۔ ایک حِلم اور دوسری وقار و تمکنت۔‘‘ حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ دونوں خصلتیں مجھ میں بطور تصنّع ( دکھاوے کے لئے ) ہیں یا فطری ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ( یہ تصنع کے طور پر نہیں ہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان خصلتوں پر ہی پیدا فرمایا ہے۔ ‘‘حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھے ایسی دو خصلتوں پر پیدا فرمایا۔ جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے ہیں۔‘‘یہ وفد 5 ؁ہجری کے آس پاس حاضر ہوا تھا۔ اس وفد میں لگ بھگ چالیس افراد تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ملاقات کرنے کے بعد فرمایا: ’’ کیا بات ہے تمہارے چہروں کے رنگ بدلے ہوئے نظر آرہے ہیں۔‘‘

وفد دوس کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ دوس کا وفد حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 7 ؁ہجری میں اس وقت حاضر ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر میں مصروف تھے۔ غزوہ خیبر کے ذکر میں ہم اس وفد کے بارے میں بتا چکے ہیں۔ جس وقت قریش کے کافر مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر ظلم کر رہے تھے اس وقت حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ تجارتی غرض سے یا حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے تھے اور اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے سردار ہیں۔ انہوں نے اپنے قبیلے میں جا کر اسلام کی تبلیغ کی تو صرف ان کے والد اور بیوی نے اسلام قبول کیا تھا او رقبیلے والے بدستور شرک پر قائم رہے۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ واپس آئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : ’’ قبیلہ دوس نے اسلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہلاکت کی دعا کریں۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ‘‘اور حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’جائو!اور صبر اور نرمی سے اپنے قبیلے والوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہو۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں جا کر لگ بھگ دس برس تک اسلام کی دعوت دیتے رہے اور 7 ؁ہجری میں 70یا 80گھرانوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کو لے کر مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے تو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ہیں تو عورتوں اور بچوں کو مدینہ منورہ میں چھوڑا اور مرد حضرات خیبر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے۔ انمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) کے وفد کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں 9 ؁ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا وفد حاضر ہوا ۔ نجران ایک بہت بڑا شہر ہے۔ جو ملک یمن میں واقع ہے۔ مکہ مکرمہ سے سات منزل کے فاصلہ پر ہے۔ تہتر73قصبے اور گائوں اس کے تابع اور ملحق ہیں۔ یہاں سب سے پہلے نجران بن زید بن یشجب بن یعرب بن قحطان آکر آباد ہوا۔ اسی کے نام پر اس شہر کا نام ’’نجران‘‘ ہے۔ سورہ البروج میں جن’’ اصحاب ِ اخدود‘‘ کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے۔ وہ یہیں ہوا تھا۔ نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں کے اس وفد میں ساٹھ60عیسائی تھے اور ان میں سے چودہ افراد سردار تھے ا ور ان کا سربراہ امیر قافلہ عبدا لمسیح عاقب تھا۔ سید ایہم مشیر اور متظم تھا اور ابو حارثہ بن علقمہ اس وفد کا اسقف (سب سے بڑا پادری) تھا۔ یہ عرب کا تھا اور قبیلہ بکر بن وائل کا تھا اور عیسائی مذہب قبول کیا تھا۔ سلطنت روم کے حکمراں اس کی بہت عزت و اکرام کر تے تھے اور اسے بڑی بڑی جاگیریں دے رکھی تھیں اور گرجا ( عیسائیوں کی مسجد) کا امام بنا رکھا تھا۔ یہ وفد بڑی شان و شوکت کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ کچھ دیر بعد جب (مغرب) نماز کا وقت آیا تو ان لوگوں نے اپنی نماز پڑھنی چاہی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو روکنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پڑھنے دو۔ ‘‘ان لوگوں نے خانہ کعبہ کے علاوہ دوسری طرف منہ کر کے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کی۔ اس وفد سے کئی مسائل پر گفتگو ہوئی۔

آیاتِ مباہلہ کا نزول

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) کو اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں نے کہا: ’’ ہم تو پہلے سے ہی مسلمان ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارا اسلام کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ جب کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے ( نعوذ باللہ) بیٹا تجویز کرتے ہو اور صلیب کی پرستش کرتے ہو اور خنزیر ( بد جانور ) کھاتے ہو۔ ‘‘نجران کے نصاریٰ نے کہا: ’’آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بندہ بتاتے ہیں۔ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام جیسا کسی کو دیکھا یا سنا بھی ہے؟ ‘‘اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی: (ترجمہ) ’’بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ہے کہ مٹی سے ان کو بنایا اور فرمایا ہو جا تو وہ ہو گیا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہے۔ پس ( اے سننے والے ) شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔ اب اس علم اور حقیقت کو جان لینے بعد بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کوئی جھگڑا کرے تو یہ کہہ دو کہ آئو بُلائیں اپنے بیٹو ں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمہاری جانوں کو اورمباہلہ کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ رو کر دعا مانگیں اورجھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔‘‘

نصاریٰ ( عیسائیوں ) کا مباہلہ سے انکار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کے نازل ہونے کے بعد نجران کے نصاریٰ کو مباہلہ کرنے کی دعوت دی جو ان لوگوں نے قبول کر لی۔ اگلے روز سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کو لے کر تشریف لائے۔ نجران کے نصاریٰ ان مبارک اور نورانی چہروں کو دیکھ کر مرعوب ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مہلت مانگی : ’’ ہم آپس میں مشورہ کر لیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے پا س حاضر ہوں گے ۔‘‘ الگ جاکر سید ایہم جو مشیر تھا اس نے وفد کے سردار عاقب عبدالمسیح سے کہا: ’’ اللہ کی قسم! تم کو خوب معلوم ہے کہ یہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی اور رسول ہے۔ تم نے اگر ان سے مباہلہ کیا تو بالکل ہلاک اور برباد ہوجائو گے۔ اللہ کی قسم !یہ ایسے مبارک چہرے ہیں کہ اگر یہ پہاڑ کے چلنے کی دعا مانگیں تو پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگ جائیں گے۔ تم نے ان کی نبوت اور رسالت کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔ ( کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انہیں کی بشارت دی ہے ) حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہی سچ ہے۔ اللہ کی قسم !کسی قوم نے کبھی کسی نبی سے مباہلہ کیا ہے تو وہ قوم ہلاک ہو گئی ہے۔ لہٰذا تم مباہلہ کر کے اپنے آپ کو ہلاک مت کرو۔ اگر تم اپنے ہی دین پر قائم رہنا چاہتے ہو تو صلح کر کے واپس ہو جائو۔ ‘‘یہ مشورہ کرنے کے بعد وفد کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مباہلہ کرنے سے انکار کردیا اور سالانہ جزیہ دینا منظور کرلیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میںمیری جان ہے۔ اہلِ نجران کے سروں پر عذاب آگیا تھا۔ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو بندر اور سور بنا دیئے جاتے اور تمام نجران پر آگ برستی اور تمام اہل نجران ہلاک ہو جاتے ۔ یہاں تک کہ درختوں پر کوئی پرندہ بھی باقی نہیں رہتا۔ ‘‘

نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) سے عہد نامہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے نجران کے وفد کے عیسائیوں نے مباہلہ نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیہ دینا منظور کر لیا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں نجران میں دو قسم کے لوگ آباد تھے۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو عیسائی نہیں تھے۔ انہیں اُمّیین کہا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثریت نے اسلام قبول کیا اور دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا تھا۔ انہوںنے اسلام قبول نہیں کیا اور جزیہ دینا منظور کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عہد نامہ لکھوا کر انہیں دیا اور دوسرا اپنے پاس رکھا۔ جس کی شرائط یہ ہیں ۱) اہل نجران کو سالانہ دو ہزار حلہ ادا کرنے ہوں گے۔ ایک ہزار ماہ رجب میں اور ایک ہزار ماہ صفر میں اور ہر جگہ کی قیمت ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم ہوگی ۲) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کی مہمان نوازی ایک مہینے تک کرنا اہل نجران پر لازم ہوگا۳) یمن میں اگر کوئی شور ش یافتنہ برپا ہو تو اہل نجران کو اس شورش یا فتنہ کو ختم کرنے میں اسلامی لشکر کی مدد کرنی ہو گی اور تیس زرہیں، تیس گھوڑے اور تیس اونٹ عاریتاً دینے ہوں گے جو بعد میں انہیںواپس کر دیئے جائیں گے اور اگر کوئی شئے گم یا ضائع ہو گی تو اس کی ضمانت مسلمانوں پر ہوگی ۴) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ( اہل نجران کے ) جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے اور ان کے اموال و املاک ، ان کی زمین جائیداد ، ان کے حقوق ، ان کے مذہب و ملت ، ان کے علماء و راہب ، ان کے خاندان اور ان کے متبعین میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں کی جائیگی۔ جاہلیت کے کسی خون کا ان سے مطالبہ نہیں ہوگا اور ان کی سر زمین پر کوئی لشکر داخل نہیں ہوگا ۵) جو شخص ان سے حق کا مطالبہ کرے گا تو ظالم اور مظلوم کے درمیان انصاف کیا جائے گا ۶) جو شخص سود کھائے گا۔ اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان پر نہیں ہوگی اور وہ اس کی ذمہ داری سے بری ہو ں گے ۷) اگر کوئی شخص ظلم او رزیادتی کرے گا تو اسے سزا دی جائے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ذمہ ہے۔ اس عہد نامہ پر حضرت ابو سفیان بن حرب ، عیلان بن عمرو حضرت مالک بن عوف ، اقرع بن حابس اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم نے دستخط کئے۔

اُمت کے امین

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کا عہد نامہ نجران کے نصاریٰ کے وفد نے کیا اور یہ فرمان لے کر جب نجران واپس جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی :’’ کسی امانت دار شخص یعنی’’ امین‘‘ شخص کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تا کہ وہ ہم سے مالِ صلح لے کر واپس آجائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں بہت ہی امانت دار شخص کو تمہارے ساتھ کروں گا۔‘‘ یہ فرما کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں نجران کے وفد کے ساتھ جانے کا حکم دیا اور نجران کے وفد سے فرمایا: ’’ یہ اس ’’امت کا امین‘‘ ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ’’ عشرۂ مبشرہ‘‘ میں سے ہیں۔ یعنی دس اُن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں جن کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ تم جنتی ہو۔

حضرت کر ز بن علقمہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان لے کر یہ وفد نجران روانہ ہو گیا۔ جب نجران ایک منزل کے فاصلے پر رہ گیا تو وہاں کے پادریوں ( عیسائی علماء) اور معززین نے اس وفد کا استقبال کیا ۔وفد نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بڑے پادری کے حوالے کر دیا اور وہ اسے پڑھنے لگا۔اسی دوران ابو حارثہ بن علقمہ کی سواری نے ٹھوکر کھائی تو ا س کے بھائی حضرت کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’ ( نعوذ باللہ) وہ کمبخت ہلاک ہو۔‘‘ اشارہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا تو ابو حارثہ بن علقمہ کو بہت غصہ آیا اور اس نے غصہ سے کہا: ’’ تُوہی کمبخت ہے۔ اللہ کی قسم !وہ سچے نبی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہ’’ وہی آخری نبی‘‘ ہیں جن کی بشارت توریت اور انجیل میں دی گئی ہے۔‘‘ حضرت کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’ پھر ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ ابو حارثہ بن علقمہ نے کہا: ’’ ان ( عیسائی) بادشاہوں نے ہم کو جو کچھ مال و دولت دے رکھا ہے وہ سب واپس لے لیں گے۔‘‘ حضرت کر ز بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم: ’’ اب میں تو اپنی ناقہ ( اونٹنی) کو مدینہمنورہ جا کر ہی روکوں گا۔‘‘ اور بڑے زوق شوق سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اشعار پڑھتے ہوئے مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور وہیں رہنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ چند دنوں بعد سید ایہم اور عاقب عبدا لمسیح رضی اللہ عنہم بھی مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر ٹھہرایا۔

 یک رکنی وفد حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو سعد کی طرف سے 9 ؁ہجری میں حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ایک رکنی وفد کی شکل میں حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو مسجد نبوی کے صدر دروازے پر باندھا اور اندر داخل ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟‘‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تکیہ سے ٹیک لگائے تشریف فرما تھے۔ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے بتایا : ’’ وہ جو تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘ حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچے اور عرض کیا: ’’اے عبد المطلب کے بیٹے!( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام کے بارے میں بہت کچھ میں نے سنا ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں او ر سختی سے سوال کروں گا اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض مت ہونا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پوچھو! کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ ‘‘حضر ت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں۔ ‘‘یہ سن کر انہوں نے کہا : ’’ اے اللہ! تو گواہ رہنا ‘‘( کہ میں ایمان لایا) پھر انہوں نے دریافت کیا : ’’کیا اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازوں کا، سال بھر میں ایک مہینہ کے روزوں کا ، مالداروں سے زکوٰۃ لے کرمستحقین میں تقسیم کرنے کا ( صاحب استطاعت پر حج کا) حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں۔‘‘ یہ سن کر پھر انہوں نے کہا: ’’ اے اللہ! تو گواہ رہنا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے ہیں ۔ میں ان سب پر ایمان لاتا ہوں اور میں اپنی قوم ( بنو سعد ) کا قاصد اور نمائندہ ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔‘‘ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا ہی ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اس شخص (حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے ) نے کہا: ’’ قسم ہے اس ذات ( اللہ تعالیٰ) کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے میں اس میں نہ کوئی کمی کروں گااور نہ ہی زیادتی کروں گا۔ ‘‘( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا ہے اس پر برابر عمل کروں گا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر اس نے سچ کہا( یعنی جو کہہ رہا ہے اس پر قائم رہا) تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔‘‘

تمام بنو سعد کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوکر حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں اپنی قوم کے پاس پہنچے اور تمام بنو سعد کو جمع کر کے تقریر فرمائی اور سب سے پہلا جملہ یہ فرمایا: ’’ لات اور عُزّیٰ بہت بُرے ہیں۔‘‘ ( یہ دونوں عربوں کے قدیم بت تھے) ان کے قبیلے والوں نے کہا: ’’ اے ضمام بن ثعلبہ! ایسے الفاظ زبان سے مت نکالو۔ کہیں تم مجنوں اور کوڑھی نہ ہو جائو۔ ‘‘حضر ت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ تم لوگوں پر افسوس ہے صد افسوس ہے اللہ کی قسم!لات اور عزیٰ تم کو نہ ہی کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک رسول کو بھیجا ہے اور اس پر کتاب نازل فرمائی ہے۔ جس نے تم کو ان خرافات سے بچا لیا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اور یہ احکام سیکھ کر آیا ہوں۔‘‘ ( اور آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ والوں کو اسلام کی تعلیم دینے لگے) شام ہونے سے پہلے پہلے پورے قبیلہ بنو سعد نے اسلام قبول کر لیا اور پورے قبیلہ میں کوئی مرد اور کوئی عورت ایسا باقی نہ رہاجو مسلمان نہ ہو گیا ہو۔ حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے : ’’ ہم نے کسی قوم کے قاصد اور وافد( وفد والے ) کو حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے افضل اور بہتر نہیں پایا۔‘‘

وفد مزینہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں سب سے پہلا جو وفد حاضر ہوا تھا وہ وفد قبیلہ مزینہ کا تھا۔ یہ وفد5 ؁ہجری میں حاضر ہوا تھا۔ لیکن ہم نے اس کے ذکر کو روک لیا تھا تا کہ وفود والی کتاب میں اسے درج کریں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں 5 ؁ہجری میں قبیلہ مزینہ کے چار سو افراد حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ واپسی کے وقت ان لوگوں نے سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : ’’ ہمارے پاس زادِ راہ نہیں ہے۔ اس لئے کچھ کھانے پینے کا سامان ہمیں عطا فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ ان کو زادِ راہ دے دو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے پاس تھوڑی بہت کھجوریں ہیں جو شاید ان لوگوں کے لئے کافی نہیں ہو پائیں گی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ’’ جائو ان کو توشہ دے دو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کو اپنے گھر لے گئے ۔ سب نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں ا س کے باوجود وہ کھجوریں اتنی کی اتنی ہی رہیں۔ اور کچھ کم نہیں ہوئیں۔

وفد اشعر یین

سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اشعر یین کا وفد7 ؁ہجری میں حاضر ہواتھا۔ ا س میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کا نام عبداللہ بن قیس ہے اور ابو موسیٰ کنیت ہے۔ اشعر یین کا وفد اسلام قبول کرنے کے بعد واپس چلا گیا تھا۔ لیکن حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ہی رہنے لگے تھے۔ اشعریین یمن کا ایک معزز اور بہت بڑا قبیلہ ہے۔ جو اپنے جد امجد اشعر کی طرف منسوب ہے۔ اشعر جب پیدا ہوا تو اس کے بدن پر بہت زیادہ بال تھے۔ اسی لئے اسے اشعر ( یعنی بہت زیادہ بالوں والا) کہا جانے لگا۔ اشعریین کا وفد یہ اشعار پڑھتا ہوا مدینہ منورہ آیا: ’’ کل دوستوں سے جا ملیں گے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گروہ سے ۔‘‘ ادھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اطلاع دی : ’’ ایک جماعت آرہی ہے جو بہت رقیق القلب اور نرم دل ہے۔‘‘ اس لئے جب اشعر یین کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اہل یمن آگئے ہیں۔ جن کے دل نہایت نرم اور رقیق ہیں (یعنی سخت دلی قساوت سے بالکل پاک ہیں۔ اور حق کو فوراً قبول کرتے ہیں) ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔‘‘ اہل یمن اکثر بکریاں رکھتے تھے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ سکون اور اطمینان ، وقار اور تواضع بکریوں والوں میں ہے اور فخر اونٹ والوں میں ہے۔‘‘ اشعر یین کے وفد نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم اسلام کی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سب سے پہلے اللہ تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ پھر زمین و آسمان کو پید ا کیا اور ہر چیز کو’’ لوح محفوظ ‘‘میں لکھ دیا۔‘‘ اس کے بعد اشعریین اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد اپنے علاقے میں واپس چلے گئے۔ اس کے بعد فقہ اشعریین میں نسل در نسل جاری رہا۔ فقہ کے بہت بڑے امام ابو الحسن اشعری ہیں۔ یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں

وفد بنو فزارہ اور وفد بنو مُرّہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں 9 ؁ہجری میں بنو فزارہ کا وفد اور بنو مُرّہ کا وفد حاضر ہوئے۔ وفد بنو فزارہ میں چودہ افراد تھے۔ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاقے کا حال دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قحط کی وجہ سے ہمارا علاقہ تباہ ہو گیا ہے۔‘‘ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے بارش کی دعا فرمائی۔ بنو مُرہ کے وفد میں تیس30 افراد تھے ۔ حضرت حارث بن عوف رضی اللہ عنہ اس وفد کے سردار تھے۔ ان لوگوں نے عرض کیا: ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی قوم کے ہیں اور لوئی بن غالب کی اولاد سے ہیں۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور ان کے علاقے کا حال دریافت فرمایا ان لوگوںنے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قحط کی وجہ سے ہمارے علاقے میں تباہی پھیلی ہوئی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت ان کے علاقے میں بارش ہونے کی دعا فرمائی۔ جب یہ وفد اپنے گھر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ جس دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی اسی دن پانی برسا تھا اور تمام علاقہ اس کی وجہ سے سر سبز و شاداب ہو گیا تھا۔ واپسی کے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کے ہر فرد کو دس دس اوقیہ چاندی عطا فرمائی تھی اور حضرت حارث بن عوف رضی اللہ عنہ کو بارہ اوقیہ چاندی عطا فرمائی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

36 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


36 سیرت سید الانبیاء ﷺ

سنہ الوفود (وفود کی آمد کا سال) قسط نمبر 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


وفد عُذرہ کی آمد، وفد بَلّی کی آمد، وفد بنو اسد کی آمد، وفد بنو حنیفہ کی آمد، دو کِذّابوں ( جھوٹوں) کے بارے میں خواب، وفد بنو صحارب کی آمد، وفد بنو کندہ کی آمد، وفد بنو تُجیب کی آمد، وفد بنو ھُذیم کی آمد، وفد بنو خولان کی آمد، وفد بنو طی اور وفد بنو سلامان کی آمد


وفد بنو صد آء کی آمد اور قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم 8 ؁ہجری میں جعرانہ سے واپس آکر حضر ت مہاجر بن اُمیہ رضی اللہ عنہ کو صنعا ء کی طرف روانہ فرمایا۔ حضرت زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ کو حضرِ موت کی طرف روانہ فرمایا اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہ خزرجی رضی اللہ عنہ کو چار سو 400سواروں کے ساتھ قناۃ کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ یمن کے علاوہ قبیلہ صدا ٓء کی طرف بھی ضرور جائیں۔ حضرت زیاد بن حارث صُدآئی رضی اللہ عنہ کو جب معلوم ہوا تو وہ خود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میںحاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں اپنی قوم اور اپنے قبیلے کے اسلام کا کفیل اور ذمہ دار ہوں۔ اس لئے میری درخواست ہے کہ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کو واپس بلا لیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو واپس بلالیا۔ حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے پندرہ افراد کا وفد لے کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سب نے اسلام قبول کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا: ’’ اے زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ !تیری قوم تیری بہت مطیع اور فرماں بردار ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مجھ پر احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ان کو ہدایت عطا فرمائی۔‘‘ یہ وفد واپس آیا اور اسلام کی تبلیغ کی تو پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا ۔ اس قبلے کے 100لوگ حجتہ الوداع میں شریک ہوئے۔

وفد عُذرہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ عُذرہ کا ایک وفد9 ؁ہجری میں حاضر ہوا۔ اس وفد میں بارہ افراد تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید فرمایا۔ اس وفد کے لوگوں نے دریافت کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ اکیلا معبود ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے او ر صرف اسی کی عبادت کرو اور گواہی دوکہ میں ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کا بندہ اور رسول تمام لوگوں کی طرف ( یعنی کائنات کی تمام مخلوق کی طرف) بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اسلام کے فرائض اور تعلیمات کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وہ سب اطمینان بخش طریقے سے بتایا۔ اس کے بعد اس وفد کے تمام ارکان نے اسلام قبول کر لیا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسلام کی دعوت دی۔ وہ ہم نے قبول کی۔ ہم دل و جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعوان اور انصار او ر مدد گا ر ہیں ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تجارت کے لئے ملک شام جاتے ہیں۔ جہاں ہرقل رہتا ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’شام عنقریب فتح ہو جائے گا اور ہرقل وہاں سے بھاگ جائے گا۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ہدایت دی : ’’ کاہنوں سے سوال نہ کرنا اور نہ ہی ان کا ذبیحہ کھانا اور تم اللہ کے لئے ہی قربانی کرنا۔‘‘ اس کے بعد یہ وفد اپنے علاقے کی طرف واپسی کے لئے ٍروانہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایا اور تحفے عطا فرمائے۔

وفد بَلّی کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں 9 ؁ہجری میں قبیلہ بنو بَلّی کا ایک وفد حاضر ہوا اور وفد کے تمام ارکان نے اسلام قبول کیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد سے فرمایا: ’’ تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے تمہیں ہدایت بخشی اور اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔ بے شک اگر تمہیں اس حالت میں موت آجاتی کہ تم اسلام قبول نہیں کرتے تو آگ میں داخل کئے جاتے۔‘‘ اس کے بعد وفد کے سربراہ حضرت ابو الضبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھ کو مہمان نوازی کا بہت شوق ہے۔ کیا اس میں میرے لئے کوئی اجر ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اس میں اجر ہے اور غنی یا فقیر جس پر بھی تم احسان کرو گے اس میں بھی اجر ہے اور یہ سب صدقہ ہے۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مہمان نوازی کی مدت کتنی ہے؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ مہمان نوازی کی مدت تین دن ہے۔ اس کے بعد صدقہ ہے اور مہمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ میزبان کو تنگی میں ڈالے ۔‘‘ اس کے بعد یہ وفد اپنے قبیلے میں واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ذادِ راہ عطا فرمایا۔

وفد بنو اسد کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں 9 ؁ہجری میں قبیلہ بنو اسد کا وفد حاضر ہوا۔ اس وفد میں دس افراد تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے۔ اس وفد نے حاضر ہو کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر ان میں سے ایک شخص نے کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیںاور ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر بلائے خود بخود حاضر ہو گئے ہیں۔ ‘‘اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ( ترجمہ) ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے اسلام قبول کرنے کا احسان جتلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیں کہ مجھ پر اپنے اسلام قبول کرنے کا احسان مت جتلائو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا ہے کہ تم کو ایمان کی توفیق دی۔ اگر تم سچے ہو۔‘‘ ( سورہ الحجرات آیت نمبر17) اس کے بعد اس وفد کے لوگوں نے کہا ۔ نت اور رمل کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا۔

حضرت فروۃ بن عمرو جذامی رضی اللہ عنہ کی شہادت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف حکمرانوں کو خطوط بھیجے اور اسلام کی دعوت دی۔ ان میں حضرت فروۃ بن عمرو جذامی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہیںسلطنت روم کے حکمراںنے معان اور آس پاس کے علاقے کا گورنر یا حکمراں بنایا تھا۔ جب ان کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ملا تو اسے پڑھ کر انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ایک قاصد کو کچھ ہدایات دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ رومیوں کو جب حضرت فروۃ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کی خبر ہوئی تو فوراً انہیں معزول کر دیا اور دوسرے کوحکمراںبنا دیا۔ اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کوپھانسی پر لٹکا یا جانے لگا تو یہ فرمایا: ’’ مسلمانوں کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچا دو کہ میں مسلمان ہوں اور میر ی ہڈیاں اور جائے قیام سب اللہ کی اطاعت گزار ( مطیع) ہیں۔‘‘

وفد بنو حنیفہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میںیمامہ کے قبیلہ بنو حنیفہ کا وفد 9 ؁ہجری میں حاضر ہوا۔ اس وفد میںمشہور چالاک فتنہ باز مسیلمہ کذاب (مسیلمہ جھوٹا) بھی تھا۔ پورے وفد کے تمام ارکان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔لیکن وہ بد بخت کِذّاب گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے نہیںآیا او ر اونٹوں اور سامان کے پاس بیٹھا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بد بخت کے بارے میں معلوم ہوا تو اس کی دلجوئی کے خیال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے۔ ساتھ میں حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ تھے۔ اُس بد بخت جھوٹے مسیلمہ کذاب نے کہا: ’’ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو اپنی خلافت عطا فرما ئیں اور اپنے بعد مجھ کو اپنا قائم مقام مقرر کر یں تو میں بیعت کرنے کیلئے تیار ہوں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں اس وقت کھجور کی چھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر تو یہ چھڑی بھی مانگے گا تو میں نہیں دوں گا اور اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے جتنا مقدر فرما دیا ہے ۔ اتنا ہی تجھے ملے گا اور غالباً تو وہی ہے جو مجھے خواب میں دکھایا گیا تھا اور یہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ تجھ کو جواب دیں گے۔‘‘ یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آئے۔

دو کِذّابوں ( جھوٹوں) کے بارے میں خواب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس جھوٹے بد بخت مسیلمہ کذاب کے پاس سے تشریف لے آئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیاکہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا خواب دکھایا گیا تھا؟ انہوںنے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں دو سونے کے کنگن لا کر رکھے گئے۔ جس سے میں گھبرا گیا۔ خواب میںہی مجھے کہا گیا کہ ان پر پھونک مارو۔ میں نے پھونک ماری تو وہ فوراً اڑ گئے۔ جس کی تعبیر یہ ہے کہ دو کِذّاب ( جھوٹے) ظاہر ہوں گے۔ ‘‘حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ ان دو میں سے ایک کذاب مسیلمہ ہوا اور دوسرا اسود عنسی ہوا۔ اسود عنسی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلمکے سامنے ہی قتل ہوا اور مسیلمہ خلیفہ ٔ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے جنگ کرتے ہوئے قتل ہوا۔

مسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بنو حنیفہ کا وفد واپس چلا گیا ۔ امام عبدالملک بن ہشام لکھتے ہیں ۔ یہاں سے واپس جانے کے بعد ( یمامہ) میںمسیلمہ کذاب نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیااور اپنے قبیلے کے لوگوں سے یہ جھوٹ بولا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ( نبوت میں ) اپنا شریک بنا لیا ہے۔ اس کے بعد 10 ؁ہجری میں بد بخت مسیلمہ کذاب نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خط بھیجا۔ جس میں لکھا تھا۔ مسیلمہ ( نعوذ باللہ ) اللہ کے رسول کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف !پس میں تمہارے کام ( نبوت ) میں شریک کر دیا گیا ہوں۔ اس لئے آدھی زمین ہمارے لئے ہے اور آدھی زمین قریش کے لئے ہے۔ مگر قریش انصاف نہیں کرتے ہیں۔ والسلام ۔ اس بد بخت جھوٹے کے خط کے جواب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوا کر بھیجا’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسیلمہ کذاب ( جھوٹے ) کی طرف ! سلام ہو ا س پر جو ہدایت ( اسلام ) کی اتباع کرے! بے شک زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اچھا انجام اللہ سے ڈرنے والوں کا ہے۔‘‘ یہ واقعہ ’’حجتہ الوداع ‘‘سے واپسی کے بعد کا ہے۔

وفد ازد کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں قبیلہ بنو ازد کا وفد حاضر ہوا۔ اس میں پندرہ افراد تھے۔ ان میں حضرت صرد بن عبداللہ ازدی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اس وفد کے تمام ارکان نے اسلام قبول کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صرد بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ان کا سربراہ بنایااور حکم دیا کہ آس پاس کے مشرکین سے جہاد کرو۔ حضرت صرد رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے کے مسلمانوں کا ایک لشکر لے کر قبیلہ بنوجرش کا محاصرہ کیا۔ ایک مہینہ تک محاصرہ جاری رکھنے کے بعد کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو آپ رضی اللہ عنہ نے محاصرہ اٹھا لیا اور لشکر کی واپسی کا حکم دیا۔ قبیلہ بنوجرش والوں نے مسلمانوں کا تعاقب کیا۔ حضرت صرد بن عبداللہ ازدی رضی اللہ عنہ نے دشمنوں کو ’’جبل ِ شکر‘‘ تک پیچھے آنے دیا اور وہاں پہنچ کر مسلمانوں کو حکم دیا کہ پلٹ کر حملہ کردو۔ اس حملے میں قبیلہ بنو جرش والوںکو شکست ہو گئی۔ اس سے پہلے قبیلہ بنوجرش والوں نے معلومات حاصل کرنے کے لئے اپنے دو آدمیوں کو مدینہ منورہ بھیجا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن ان دونوں آدمیوں کو فرمایا کہ قبیلہ بنو ازد والوں نے’’ جبل ِ شکر‘‘ کے پاس تمہارے قبیلہ والوں کو شکست دے دی ہے اور جنگ کی پوری تفصیل بیان فرمائی۔ ان دونوں آدمیوں نے قبیلہ بنو جرش والوں کو واپس جا کر تمام تفصیل سنائی تو پورے قبیلہ بنو جرش نے اسلام قبول کر لیا اور ایک وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔

وفد بنو صحارب کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو صحارب کا وفد حاضر ہوا ۔ اس وفد میں حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ وفد بنو صحارب کی حاضری کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ میں بازارذی المجاز میں تھا تو دیکھا کہ ایک شخص لوگوں سے کہتا جا رہا ہے: ’’ اے لوگو! لا الہ الا اللہ کہو۔ فلاح ( کامیابی ) پائو گے۔‘‘ اور ایک دوسرا شخص اس شخص کے پیچھے سے پتھر مارتا جا رہا ہے اور یہ کہتا جا رہا ہے : ’’ اے لوگو!یہ ( نعوذ باللہ ) جھوٹا ہے۔ اس کی تصدیق مت کرنا۔ ‘‘( یعنی اس کی بات مت ماننا) میں نے پوچھا : ’’یہ آگے والا شخص کون ہے؟ ‘‘لوگوں نے مجھے بتایا : ’’یہ بنو ہاشم کا محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے اور یہ کہتا ہے کہ یہ اللہ کا رسول ہے اور یہ پیچھے سے پتھر مارنے والا شخص اس کا سگا چچا ابو لہب ہے۔‘‘ حضرت طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب لوگ اسلام میں داخل ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہو گئے تو ہم مدینہ منورہ کی کھجوریں خریدنے کے لئے زبدہ سے چلے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر ایک باغ میں اترنے کا ارادہ کر رہے تھے کہ ایک شخص دوپرانی چادریں اوڑھے ہوئے ہمارے پاس آیا اور سلام کیا اور ہم سے دریافت کیا : ’’ ہم کہاں سے آرہے ہیں؟ ‘‘ ہم نے بتایا : ’’ زبدہ سے آرہے ہیں اور مدینہ منورہ کی کھجوریں خریدنے آئے ہیں۔‘‘ ہمارے پاس سرخ اونٹوں میں سے ایک سرخ اونٹ اس شخص نے پسند کیا اور پوچھا : ’’اس سرخ اونٹ کو کتنی کھجوروں کے معاوضے میں بیچتے ہو؟‘‘ ہم نے کہا: ’’ اتنی کھجوریں اس کے معاوضہ میں لیں گے۔‘‘ اس شخص نے اسی قیمت کو منظور کر لیا اور قیمت کم نہیں کروائی اور اونٹ لے کر چلا گیا۔ ہم آپس میں باتیں کرنے لگے کہ’’ ہم تو اس شخص کو پہچانتے بھی نہیں ہیں اور بغیر قیمت لئے اونٹ اس کے حوالے کر دیا۔‘‘ ہم میں سے ایک ھودج نشین عورت نے کہا: ’’میں نے اس شخص کے چہرہ کو دیکھا ہے۔ اللہ کی قسم! اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ تم گھبرائو نہیں اس کی قیمت کی میں ذمہ دار ہوں۔ ‘‘یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ ایک شخص آیا اور کہا: ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد ہوں۔ انہوں نے یہ کھجوریں بھیجی ہیں اور فرمایا ہے کہ ان میں سے سیر ہو کر کھائو اور پھر ماپ لو۔‘‘ ہم نے وہ کھجوریں خوب سیر ہو کر ( پیٹ بھر کر ) کھائیں اور پھر مانپا تو اونٹ کی قیمت کے برابر پائی۔‘‘ اگلے روز ہم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور ہم نے یہ کلمات سنے ۔ ’’صدقہ اور خیرات کرو۔ اونچا ہاتھ ( اوپر والا ہاتھ) نیچے ہاتھ سے بہتر ہے۔ ماں ، باپ ، بھائی ، بہن اور قریبی رشتہ داروں کا زیادہ خیال رکھو۔‘‘

وفد بنو کندہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بنو کندہ کا وفد حاضر ہوا ۔ اس وفد کے سردار اشعث بن قیس تھے۔ قبیلہ بنو کندہ یمن کے اطراف میں آباد تھے۔ 10 ؁ہجری میں 80سواروں پر مشتمل یہ وفد مدینہ منورہ میں داخل ہو ا تو ان کے بڑے ٹھاٹ باٹ تھے۔ بالوں میں خوب کنگھی کئے ہوئے تھے اور ریشمی گوٹ لگے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور ہتھیار اپنے بدن پر سجائے ہوئے تھے۔ جب یہ وفد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پھر تم لوگوں نے یہ ریشمی جُبّے کیوں پہن رکھے ہیں؟‘‘ یہ سنتے ہی ان لوگوں نے اپنے لباس پر لگی ریشمی گوٹ کو پھاڑ کر نکال دیا۔

وفد بنو تُجیب کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں قبیلہ بنو تُجیب کا وفد حاضر ہوا۔ قبیلہ بنو تجیب یمن میں قبیلہ بنو کندہ کی ایک شاخ ہے۔ اس وفد میں تیرہ افراد تھے اور یہ لوگ صدقات کا مال لے کر حاضر ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ’’ تم اپنے صدقات اور زکوٰۃ کا مال لے جائو اور اپنے غریبوں اور فقیروں میں تقسیم کر دو۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ ہمارے غریبوں اور محتاجوں کو دینے کے بعد بچ گیا ہے۔‘‘ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مال لے لیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !تجیب جیسا وفد آج تک کوئی نہیں آیا ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کا سینہ ایمان کے لئے کھول دیتا ہے۔‘‘ان لوگوں نے اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے متعدد سوالات کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جوابات دیئے جو انہوں نے لکھ کر رکھ لئے ۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے تاکید فرمائی کہ ان کی اچھی مہمان نوازی کرنا ۔ چند دنوں بعد اس وفد نے واپسی کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جلدی کیا ہے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !دل تو یہ چاہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار پر نور اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ہمیشہ رہیں۔ لیکن اسلام کی تعلیمات اپنی قوم تک پہچا نا ہم پر فرض ہے۔ اس لئے واپسی کی اجازت دیں۔‘‘

میرے لئے غنا کی دعا کردیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جب یہ وفد رخصت ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انعام و اکرام سے نوازا اور فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی باقی تو نہیں رہ گیا ہے؟ ‘‘وفد کے ارکان نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان لڑکا رہ گیا ہے۔ اسے ہم نے سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیا تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسے بلائو۔ ‘‘وہ نوجوان حاضر ہوا اور عرض کیا:’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے قبیلے والوں کی حاجتیں پوری کی ہیں۔ میری بھی ایک حاجت ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ حاجت کیا ہے؟‘‘ اس نوجوان نے کہا: ’’ میں صرف اس لئے اپنے گھر سے نکلا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمائے اور مجھ پر رحم فرمائے اور میرے دل کو غنی(دنیا کی ہر شئے سے بے پرواہی) فرما دے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مسرت اور خوشی ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرما اور اس کے دل میں استغنا پید فرمادے۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو بھی انعام و اکرام دے کر رخصت فرمایا۔ 10 ؁ہجری میں قبیلہ بنو تجیب کے لوگ حج کرنے آئے اور منیٰ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کا حال دریافت فرمایا: ’’ لوگوں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے زہد و قناعت کا یہ حال ہے کہ کتنا ہی مال و دولت اس کے سامنے تقسیم ہوتا ہے مگر وہ نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب اہلِ یمن میں ارتداد پھیلنے لگا تو اس نوجوان نے مسلسل محنت کر کے لوگوں تک پہنچ کر انہیں سمجھایا اور وہ اسلام پر قائم رہے اور کوئی شخص مرتد نہیں ہوا۔ خلیفہ ٔ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یمن کے گورنر کو اس نوجوان کا خاص خیال رکھنے کا حکم دیا۔

وفد بنو ھُذیم کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں قبیلہ بنو ھُذیم کا وفد حاضر ہوا ۔ جس وقت یہ وفد مسجد نبوی میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی نماز جنازہ پڑھا رہے تھے۔ یہ لوگ الگ بیٹھ گئے اور نماز مکمل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ نماز سے فارغ ہو کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کو بلوایا اور فرمایا: ’’ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پھر اپنے بھائی کی نماز جنازہ میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم نے یہ گمان کیا کہ جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نہ کرلیں۔ اس وقت تک نماز جنازہ میں شرکت کرنا ہمارے لئے جائز نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم جہاں بھی ہو ، جیسے بھی ہو، مسلمان ہو۔‘‘ اس کے بعد اس وفد کے ارکان نے بیعت کی ۔ ایک نوجوان کو سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیا تھا ۔ ایک شخص نے جا کر اسے بھیجا تا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کر لے۔ وہ نوجوان آیا اور بیعت کی تو وفد کے ایک بزرگ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہم میں سب سے چھوٹا ہے اور ہمارا خدمت گار ہے۔ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قوم میں کا چھوٹا اپنے بزرگوں کا خدمت گار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تجھ پر اپنی برکتیں نازل فرمائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے طفیل وہ نوجوان قرآن پاک کا بہت بڑا عالم بنا ۔ پھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان کو اس کی قوم کا سردار بنادیا اور امام مقرر کر دیا اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اس وفد کے ارکان کو انعام و اکرام سے نوازیں۔ اس وفد نے اپنے قبیلے میں پہنچ کر اسلام کی دعوت دی تو پورا قبیلہ بنو ھُذیم مسلمان ہو گیا۔

وفد بنو خولان کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں 10 ؁ہجری میں یمن سے قبیلہ بنو خولان کا وفد حاضر ہوا۔ اس وفد میں دس افراد تھے۔ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے ۔ ہم لوگ اتنی دور دراز سے سفر کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے شوق میں حاضر ہوئے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارا سفر ضائع نہیں ہوا ہے اور ہر قدم پر تمہارے لئے ایک نیکی ہے اور جو شخص میری زیارت کے لئے مدینہ منورہ حاضر ہو گا وہ قیامت کے دن میری پناہ اور امان میں ہوگا۔‘‘ اس کے بعد قبیلہ بنو خولان کے بت کے متعلق دریافت فرمایا تو اس وفد نے عرض کیا: ’’ الحمد للّٰلہ !آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اور تعلیم پر پورا قبیلہ بنو خولان عمل کر رہا ہے۔ صرف چند بوڑھے مرد اور عورتیں اس بُت کی پوجا کر رہے ہیں۔ انشاء اللہ یہاں سے جانے کے بعد ہم اس بت کا نام و نشان مٹا دیں گے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد والوںکو اسلام کی تعلیمات سکھائیں اور نصیحت فرمائی : ’’ عہد اور وعدہ کو پورا کرنا ۔ امانت ادا کرنا۔ پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور کسی پر ظلم نہ کرنا ‘‘ اور رخصت کرتے وقت بارہ اوقیہ چاندی ان کو عطا فرمائی ۔ اس وفد نے واپسی کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ قبیلہ خولان کے بُت کو منہدم کر دیا۔

وفد بنو طی اور وفد بنو سلامان کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں قبیلہ بنو طی کا وفد حاضر ہوا۔ ( آپ کو یاد ہو گا ۔ قبیلہ بنو طی کا سردارحاتم طائی تھا اور اس کے بیٹے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے اور بیٹی سیدہ سفانہ رضی اللہ عنہا نے اسلام قبول کیا تھا۔ اس کا ذکر تفصیل سے ہم کر چکے ہیں) اس وفد میں پندرہ ارکان تھے۔ ان کا سربراہ حضرت زید الخیل رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور سب نے خوشی خوشی اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید الخیل کا نام بد کر حضرت زید الخیر رضی اللہ عنہ رکھ دیااور فرمایا: ’’عرب میں سے جس شخص کی بھی تعریف میں نے سنی اس کو اس تعریف سے کم پایا ہے۔ لیکن تمہاری جتنی تعریف سنی ہے تمہیں اس سے زیادہ پایا ہے۔‘‘ 10 ؁ہجری میں قبیلہ بنو سلامان کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وفد میں سات افراد تھے ۔ ان سب نے اسلام قبول کیا اور بتایا : ’’ ہمارے علاقے میں قحط نے بہت زبردست تباہی مچائی ہے اور قبیلہ بنو سلامان بد حالی کا شکار ہے۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے اور بارش کے لئے دعا فرمائی۔ اس کے بعد زادِ راہ دے کر اس وفد کو رخصت کیا۔ اپنے قبیلے میں پہنچ کر اس وفد کے ارکان کو معلوم ہوا کہ جس روز اور جس وقت سیدالانبیاء نے دعا فرمائی تھی۔ اسی وقت قبیلہ سلامان پر بارش ہوئی تھی۔ وفد کے ارکان نے قبیلے بنو سلامان والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں بتایا تو پورے قبیلے نے اسلام قبول کر لیا۔

وفد بنو عبس کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگا ہ میں قبیلہ بنو عبس کا وفد حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے مبلغین نے ہمیں بتایا کہ جو ہجرت نہیں کرے گا اس کا اسلام مقبول نہیں ہوگا۔ اسی لئے ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ اپنا سارا مال و متاع اور مویشی بیچ کر ہجرت کر کے مدینہ منورہ چلے آئیں۔ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حکم ہے؟ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم لوگوں کے لئے ہجرت ضروری نہیں ہے۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ تم جہاں بھی رہو۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور اسلام پر عمل کرتے ہوئے زندگی بسر کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے اجر میں کمی نہیں کرے گا۔‘‘

وفد بنو حارث کی آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 10 ؁ہجری میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو نجران کے ایک معزز قبیلہ بنو حارث کی طرف بھیجا اور فرمایا: ’’ تین دنوں تک انہیں اسلام کی دعوت دینا اگر اس کے بعد بھی اسلام قبول نہ کریں تو ان سے جنگ کرنا۔‘‘ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنو حارث میں پہنچ کر اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے فوراً اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اطراف و جوانب میں بھی مبلغین اسلام بھیجے ۔ انہوں نے اسلام کی دعوت دی تو ہر جگہ اسلام قبول کیا گیا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ خوش خبری لکھ کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھو ا کر بھیجا کہ ان کا ایک وفد لے کر یہاں آئو۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو حارث کا ایک وفد لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اس وفد میں حضر ت قیس بن حصین ، حضرت یزید بن مجمل اور حضرت شداد بن عبداللہ رضی اللہ عنہم تھے۔ جب یہ وفد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ یہ کون لوگ ہیں؟ ایسا لگتا ہے ہندوستان کے آدمی ہیں۔‘‘(یا ہندوستان کے رہنے والوں کی طرح ہیں)

اتحاد کی برکت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے قبیلہ بنو حارث کے وفد نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم قبیلہ بنو حارث سے ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ ‘‘یہ لوگ بڑے بہادر تھے۔ اس لئے اپنے مقابل پر ہمیشہ غالب رہتے تھے۔ اسی لئے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم لوگ کس وجہ سے لوگوں پر غالب رہتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم ہمیشہ متحد اور متفق رہتے ہیں اور آ پس میں اختلاف نہیں کرتے اور آپس میں حسد بھی نہیں کرتے اور کسی پر خود سے ظلم نہیں کرتے اور سختی اور تنگی میں مل جل کر صبر کرتے ہیں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تم سچ کہتے ہو۔ بے شک اتحاد میں برکت ہے ۔‘‘اور حضرت قیس بن حصین رضی اللہ عنہ کو ان کا سربراہ مقرر فرمایا اور اس وفد کی واپسی کے بعد حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو اسلام کی تعلیمات دے کر صدقات وصول کرنے کے لئے ان کی طرف روانہ فرمایا اور ’’کتاب الصدقات ‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھوا کر ان کو دی۔ اس میں صدقات اور زکوٰۃ کے احکام تھے۔ یہ وفد ماہ ِ شوال یا ماہ ذی القعدہ 10 ؁ہجری میں واپس ہوا اور لگ بھگ چار مہینے بعد ماہِ ربیع الاول 11 ؁ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔

کچھ اور وفود کے نام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بے شمار وفود حاضر ہوئے۔ اگر تمام وفود کے حالات بیان کرنے لگیں گے تو ایک بہت موٹی کتاب بن جائے گی۔ چونکہ ہم مختصرا ً سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کر رہے ہیں۔ اس لئے کچھ وفود کا ذکر ہم نے کر دیا ہے اور کچھ وفود کے نام پیش کر رہے ہیں۔آپ اگر وفود کے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہتے ہیں تو سیرت کی مستند کتابوں کی طرف رجوع کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے چند وفود کے نام یہ ہیں 1) وفد بنو عامر بن معصعہ 2) وفد بنو ہمدان 3) وفد بنو بہرآئَ 4) وفد بنع صحارب 5) وفد بنو غسّان 6) وفد بنو غامد 7) وفد بنو المنتفق 8) وفد بنو نخع 9) وفد بنو البکّاء 10) وفد بنو کنانہ 11) وفد بنو ہلال 12) وفد بنو دارم ۔ یہ کچھ وفود کے نام ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے وفود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

درندوں کا وفد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بھیڑیا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر بھونکا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ تمہاری طرف درندوں کے وفد کا نمائندہ بنا کر آیا ہے۔ اگر تم پسند کرو تو اس کے لئے کچھ مقرر کر دو اور اسے کسی دوسرے کی طرف نہ بھیجو اور اگر تم چاہو تو اسے چھوڑ دو اور اس سے احتیاط کرو۔ پس جو وہ ( درندے) لے لیں گے۔ وہ ان کا رزق ہو گا۔‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارا دل اس کے لئے کسی چیز کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تین انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ کر دیا۔ یعنی ان کو اچک سکتے ہو۔ وہ بھیڑیا یہ اشارہ دیکھنے کے بعد خوشی کا اظہار کرتا ہوا چلا گیا۔ ایک بھیڑیے نے ریوڑ میں کی ایک بکری کو پکڑ لیا۔ چرواہے نے دیکھا تو پیچھا کر کے اس سے بکری چھین لی۔ بھیڑیا اپنے پچھلے دونوں پیروں پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا : ’’ کیا تو اللہ سے نہیں ڈرتا ہے اور مجھ سے میرا رزق چھینتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔‘‘ اس چرواہے نے کہا: ’’یہ تو عجیب بات ہے کہ ایک بھیڑیا اپنے پچھلے پیروں پر بیٹھ کر انسانوں کی طرح گفتگو کر رہا ہے۔ ‘‘بھیڑیے نے کہا: ’’میں تمہیں اس سے عجیب بات بتاتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ’’ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ یثرب ( مدینہ منورہ) میں لوگوں کو پچھلی اور اگلی باتوں کی خبر دیتے ہیں۔ وہ چرواہا بکریوں کو لے کر مدینہ منورہ آیا اور بکریوں کو ایک جگہ باندھ کر سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا واقعہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کروادیا۔ سب لوگ جمع ہو گئے تو اس بدّو ( دیہاتی ) چرواہے سیفرمایا : ’’انہیں بھی اپنا واقعہ سنائو۔‘‘ اس نے تمام واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اس نے سچ کہا ہے اور قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے گفتگو نہیں کریں گے اور آدمی سے اس کے کوڑے کا سِرا (نوک) بات کریگا اور اسکی جوتی کا تسمہ اس سے گفتگو کر ے گا اور جو کچھ اس کے اہل وعیال اس کے پیچھے ( اس کے باہر جانے کے بعد گھر میں ) کرتے رہے ہوں گے ۔ اس کی ران اس کے متعلق خبر دے گی۔ ‘‘

جِنّات کے وفد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں جنات کا پہلا وفد اس وقت حاضر ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت دینے طائف گئے تھے تو طائف والوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھروں کی بارش کر کے طائف سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ( اس کی پوری تفصیل ہم نے اِس سے پہلے پیش کر چکے ہیں ) طائف سے مکہ مکرمہ واپسی کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ’’ نخلہ ‘‘میں رات میں با آواز بلند تہجد کی نماز پڑھ رہے تھے تو سات جنات وہاں سے گزرے ۔ وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پر اثر تلاوت سن کر ٹھٹھک گئے اور ایک دوسرے کو خاموش کر کے پوری توجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہترین تلاوت سننے لگے اور ایسا کھوئے کہ انہیں اپنا ہوش بھی نہیں رہا۔ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز مکمل کی تو یہ جنات ہوش میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے۔ اس کے بعد وہ اپنے علاقے میں گئے اور اسلام کی تبلیغ کی اور ان کی قوم کے بہت سے جنات نے اسلام قبول کیا۔ ان سب کو لے کر یہ ساتوں جنات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست ِ مبارک پر بیعت کی۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورہ احقاف کی آیت نمبر29سے 34تک میں کیا ہے۔

جنات کی دعوت پر حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا اور بتایا کہ میں ایک کاہن تھا۔ (کاہن کے قبضہ میں جن ہوتے ہیں۔ یا ان کے دوست ہوتے ہیںجو انہیں مختلف خبریں لا کر دیتے ہیں تو وہ لوگوں کو بتاتے ہیں) ایک رات میر اجن میرے پاس آیا اور کہنے لگا : ’’ کیا تو نے جنات اور ان کے غم کو نہیں دیکھا؟ کیا تو نے دین سے ان کی مایوسی کا مشاہدہ نہیں کیا؟ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ کنوئوں اور جنگلات میں کس طرح بھاگ گئے؟ ‘‘در اصل میرا جن نیک تھا اور اس نے بتایا کہ مکہ مکرمہ میں ’’ہاشمی خاندان‘‘ کے ایک شخص’’ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘نے’’ اعلان ِ نبوت ‘‘ کیا ہے اور تمام بُرے جنات مایوس ہو کر کنوئوں اور جنگلات میں چھپ گئے ہیں۔ حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ آگے بتاتے ہیں: ’’ پھر میرا نیک جن مجھے بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دیتا رہا۔ ایک رات وہ میرے پاس آیا اور بولا: ’’ اے سواد بن قارب ! اٹھو اور میری بات غور سے سنو! اگر صاحبِ دانش ہو تو اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ لوئی بن غالب سے مبعوث ہو چکے ہیں۔ (لوئی بن غالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد میں سے ہیں) اور وہ اللہ کی طرف اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دے رہے ہیں۔

جنات کے وفود کی مسلسل آمد

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ اپنے نیک جن کے بارے میں بتا رہے تھے اور آ پ صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دم بخود بیٹھے ان کی داستان سن رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے آگے بتایاکہ میرے جن نے بار بار آکر مجھے خبر دی کہ جنات کے وفود مسلسل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں اور اسلام قبول کررہے ہیں۔ ایک رات میرا جن میرے پاس آیا اور بولا : ’’ مجھے ( نیک) جنات اور ان کی جستجو پر تعجب ہو رہا ہے اور مجھے ان کے اونٹوں پر کجاوے کسنے پر تعجب ہو رہا ہے۔ وہ (نیک جنات ) ہدایت کی جستجو میں مکہ مکرمہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ وہ سچے ( نیک) جنات ہیں اور جھوٹے جناتوں کی طرح نہیں ہیں۔ اے سواد! تو بھی بنو ہاشم کے برگزیدہ شخص ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سفر کر۔ جن کا مستقبل ان کے ماضی سے کہیں زیادہ درخشاں ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت سواد بن قارب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ وہ جن مجھ سے بار بار درخواست کرتا رہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرلوں۔‘‘

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

37 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


37 سیرت سید الانبیاء ﷺ

حجتہ الوداع یا حجتہ البلاغ یا حجتہ اسلام

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


حج کی فرضیت، حجتہ الوداع یا حجتہ البلاغ یا حجتہ اسلام، سید الانبیاء ﷺ کی حج کی تیاری، سید الانبیاء ﷺ کی حج کے لئے روانگی، ذو الحلیفہ سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ میں داخلہ، خانہ کعبہ کی زیارت اور طواف، مقامِ ابراہیم پر نماز اور صفا ، مروہ کی سعی، خطبہ حجتہ الوداع، قرآن اور سنت چھوڑے جا رہا ہوں، جو حاضر ہیں وہ اُن تک پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں، آج اسلام مکمل ہو گیا، تعلیمی حج


حج کی فرضیت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے 10 ؁ہجری میں حج کیا۔ حج کی فرضیت کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف رائے ہے۔ اکثر علمائے کرام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ 6 ؁ ہجری میں حج فرض کر دیا گیا تھا۔ علامہ رافعی نے باب سیر میں اسی قول کو درست قرار دیا ہے اور علامہ نووی نے بھی اسی قول کی پیروی کی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ حج 9 ؁ہجری میں فرض ہوا اور ایک قول کے مطابق10 ؁ہجری میں فرض ہوا۔امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے اسی قول کو لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فوراً ہی اس فرض کی ادائیگی ہوئی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ہجرت سے پہلے حج فرض ہو چکا تھا۔ مگر یہ قول بہت غریب ہے۔

یمن کی طرف امراء ( گورنروں ) کو بھیجنا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں مختلف قبائل کے وفود آنے کا سلسلہ جاری تھا۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو امراء ( گورنر ) بنا کر بھیجا۔ یمن میں دو بڑے صوبے ( ریاست) تھے۔ اور دونوں حضرات کو الگ الگ صوبوںمیں روانہ فرمایا اور ان دونوں سے فرمایا: ’’ تم دونوں آپس میں آسانی پیدا کرنا، تنگی نہ کرنا، اور بشارت دینا نفرت پید ا نہ کرنا۔ ‘‘ایک اور روایت میں ہے کہ فرمایا: ’’ ایک دوسرے کی بات ماننا اور اختلاف نہ کرنا۔ ‘‘پھر دونوں اپنے اپنے علاقے کی طرف چل دیئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’ تم اہل کتاب ( عیسائیوں) کے پاس جا رہے ہو۔ پس جب ان کے پاس پہنچنا تو انہیں اسلام کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں اور اسلام قبول کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض کیں ہیں۔ پھر وہ اس بات کو مان لیں تو انہیں یہ بھی بتانا کہ ان پر صدقہ ( زکوٰۃ) فرض کیا گیا ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے غریبوں اور فقراء کو دیا جائے گا۔ پھر اگر وہ تمہاری بات مان جائیں تو ان کے بہترین اموال سے بچنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا۔ کیوں کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب ( رکاوٹ) نہیں ہوتی ہے۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث مکمل ہوئی۔ آگے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں: ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف روانہ فرمایاتو مجھے سواری پر سوار کروایا اور پیدل میرے ساتھ وصیت کرتے ہوئے نکلے۔ میں نے ادب کی خاطر سواری سے اترنا چاہا تو مجھے روک دیا اور سوار رہنے کا اشارہ کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصیت سے فارغ ہو گئے تو مجھ سے فرمایا: ’’ اے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ! ممکن ہے اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو سکے اور شاید جب تم آئو تو تمہارا گزر میری مسجد اور قبر پر سے ہو۔ ‘‘یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھڑنے کا خوف کر کے رونے لگا۔ مجھے روتا ہوا دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک مدینہ منورہ کی طرف کر کے فرمایا: ’’میرے سب سے قریب وہ لوگ ہیں جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور متقی ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ کہیں بھی ہوں۔‘‘ ایک اور روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ !مت رو، رونے کے وقت ہوتے ہیں۔‘‘

فیصلہ کس طرح کرو گے؟

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے ہوئے بہت سی وصیتیں کیں۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آ گے فرماتے ہیں: ’’ اپنی وصیت میں دس باتوں کی مجھے تاکید کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ 1) کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ بنانا۔ چاہے تمہیں قتل کر دیا جائے، یا جلا دیا جائے 2) اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا۔ چاہے وہ تجھے اپنا مال اور بیو ی بچے چھوڑ دینے کا حکم دیں 3) فرض نماز کو جان بوجھ کر نہیں چھوڑنا ۔ بے شک جو شخص فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ذمہ داری سے بری ہو جاتا ہے 4) شراب نوشی نہیں کرنا۔ بے شک یہ ہر برائی کی جڑ ہے 5) معصیت سے بچنا، کیوں کہ معصیت اللہ کی ناراضگی کو جائز کرتی ہے 6) جنگ میں فرار اختیار کرنے سے بچنا۔ چاہے (سب) لوگ ہلاک ہو جائیں 7) جب لوگوںکو موت آئے اور تم ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہنا۔ 8) اپنے اہل و عیال پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا 9) اپنے عصا کو ادب کی خاطر نہ اٹھانا 10) اور اللہ کی خاطر ان سے محبت لوگوں سے محبت کرنا۔‘‘ اس کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یمن روانہ فرمانے لگے تو فرمایا: ’’اے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ !اگر تمہیں کوئی فیصلہ کرنا پڑے تو تم کیا کرو گے؟ ‘‘میں نے جواب دیا : ’’میں کتاب اللہ ( قرآن پاک) کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر وہ چیز کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو کیا کرو گے؟ ‘‘ میں نے عرض کیا: ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر وہ چیز سنت ِ رسول میں بھی موجود نہ ہو تو کیا کرو گے؟ ‘‘میں نیعرض کیا: ’’ پھر میں بغیر کوتاہی کئے اجتہاد کروں گا۔ ‘‘یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ’’ اس اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )کے ایلچی کو اس بات کی توفیق دی کہ جس سے اللہ کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) راضی ہوتا ہے۔‘‘

سریہّ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن کی طرف

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع سے پہلے ماہِ رمضان 10 ؁ہجری میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر دے کر یمن کی جانب روانہ فرمایا اور خود اپنے دست مبارک سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سرپر عمامہ باندھا۔ جس کے تین پیچ تھے۔ عمامہ کا ایک کنارہ بقدر ایک ہاتھ کے سامنے لٹکایا اور بقدر ایک بالشت کے پیچھے چھوڑا اور یہ فرمایا: ’’ سیدھے چلے جائو اور کسی جانب توجہ مت کرنااور وہاں جا کر جنگ شروع مت کرنا۔ بلکہ پہلے اسلام کی دعوت دینا۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو جنگ مت کرنا۔ اللہ کی قسم !تمہارے ہاتھ سے ایک شخص بھی ہدایت پا جائے تو یہ دنیا اور آخرت سے بہتر ہے۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ تین سو سواروں کو لے کر روانہ ہوئے اور مقامِ’’ قناۃ ‘‘پر جا کر پڑائو ڈالا اور اسی جگہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مختلف لشکر مختلف اطراف و جوانب میں روانہ فرمائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا پہلا لشکر مذجج میں داخل ہوا اور مالِ غنیمت میں بہت سے بچے ، عورتیں اونٹ اور بکریاں لے کر آئے۔ ان سب کو ایک جگہ جمع کر دیا گیا۔ پھر ایک دوسرے قبیلہ سے مقابلہ ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی ۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مسلمانوں پر پتھر برسائے۔ تب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حملہ کیا۔ جس میں ان کے بیس آدمی مارے گئے اور یہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ وقفہ بعد ان کا تعاقب کیا اور دوبار ہ اسلام کی دعوت دی جو ان لوگوں نے قبول کر لی اور وعدہ کیا کہ اللہ کا حق ادا کریں گے اور صدقات ادا کریں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا اور انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی عجلت میں مکہ مکرمہ روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ماہِ رمضان المبارک 10 ؁ ہجری میں یمن کی جانب روانہ فرمایا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ لگ بھگ ڈھائی تین مہینے یمن میں مصروف رہے۔ اسی دوران سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم ’’حجتہ الوداع ‘‘کے لئے روانہ ہوئے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کی اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے مالِ غنیت جمع کر کے اس کا خمس نکالا اور باقی چار حصے لشکر میں تقسیم کر دیئے اور اپنے بجائے دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سپہ سالار مقرر کر کے عجلت کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے اور لشکر سے فرمایاکہ وہ بھی مکہ مکرمہ پہنچ جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ تیزی سے سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ حجتہ الوداع میں شریک ہوئے۔

حجتہ الوداع یا حجتہ البلاغ یا حجتہ اسلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان کے آخری دنوں یا ماہِ رمضان کے شروعاتی دنوں میں غزوہ تبوک سے 9 ؁ہجری میں واپس مدینہ منورہ آئے۔ غزوہ تبوک نے پوری دنیا میں اور خاص طور سے عالم عرب میں یہ ثابت کر دیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمان دنیا کی سب سے بڑی طاقت( سوپر پاور) بن چکے ہیں۔ اس بات کو ہر کوئی سمجھ چکا تھا۔ اس لئے غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد پورے عالم عرب سے قبیلوں کے وفود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد یعنی ماہِ رمضان 9 ؁ ہجری سے لے کر ذی القعدہ 10 ؁ ہجری تک لگ بھگ پندرہ 15مہینے مدینہ منورہ میں ہی تشریف فرما رہے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبیلوں کے وفود سے ملاقات کرتے رہے۔ ساتھ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور وفود کے اراکین کی تعلیم و تربیت کرتے رہے اور جن علاقوں کے قبیلے شورش پر آمادہ تھے ان کی طرف سرایا بھیجتے رہے۔ اسی دوران 9 ؁ ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق کی امارت میں حج کروایا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت آچکی تھی اور مکہ مکرمہ فتح ہو چکا تھا۔ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔ کفر اور شرک بالکل خاتمے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ قبیلوں کے وفود دور دراز سے آ ا ٓکر کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید اور رسالت کا اقرار کر چکے تھے۔ فرائض نبوت مکمل ہو چکے تھے اور احکام اسلام کی قولاً اور عملاً تعلیم مکمل ہو چکی تھی۔ 9 ؁ ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھیج کر خانہ کعبہ کو جاہلیت کی رسموں سے بالکل پاک کر دیا تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس حج کے فرض کو ادا کریں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حج کو’’ حجتہ الوداع‘‘ کہا گیا ۔’’ حجتہ البلاغہ ‘‘بھی کہا گیا اور’’ حجتہ الاسلام ‘‘بھی کہا گیا ہے۔ اسے حجتہ الوداع ( حج الوداع) اس لئے کہا گیا کہ اس حج میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے’’ وداع‘‘ ( رخصت ) ہوئے اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حج نہیں کیا ( کیوں کہ چند ماہ بعد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں چلے گئے) ’’حجتہ البلاغہ‘‘ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس حج میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے تمام انسانوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور تمام ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وصیت کی کہ پوری دنیا میں اللہ کا پیغام ( اسلام ) پہنچائیں۔ ’’حجتہ الاسلام ‘‘ اس لئے کہا گیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حج میں اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان فرمایا۔

سید الانبیاء ﷺ کی حج کی تیاری

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس مقصد کے لئے لگ بھگ 23برسوں سے مسلسل جدو جہد کر رہے تھے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا پیغام اسلام تمام لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور عملاً اسلام نافذ ہو چکا تھا ۔ اب وقت آگیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حج کے فریضہ کو خود عملی طور پر انجام دیں تا کہ امت کو ہمیشہ کے لئے معلوم ہو جائے کہ حج کس شان سے ہونا چاہیے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا کیا طریقہ تھا ۔’’ مناسک حج ‘‘میں اول سے آخر تک توحید اور اللہ کو راضی کرنے کا عمل تھا اور شرکیہ کلمات اور جاہلیت کی رسول سے بالکل پاک تھا ۔ اسی وجہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ میں لا شریک لک کا لفظ خاص طور سے فرماتے تھے۔ تاکہ شرک کا شک و شبہ بھی نہ رہ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ اس طرح پڑھتے تھے۔ لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ اور تمام قبائل میں پہلے سے ہی اعلان کروادیا تھا کہ اس سال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس حج کے لئے تشریف لے جانے والے ہیں۔ اس لئے مدینہ منورہ کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ساتھ آس پاس کے تمام قبائل سے مسلمان آ آکر مدینہ منورہ میں جمع ہونے لگے۔ تا کہ وہ بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں حج کرنے کا شرف حاصل کر سکیں۔ صرف آس پاس کے قبائل ہی نہیں بلکہ پورے عالم عرب سے مسلمان آکر مدینہ منورہ کے آس پاس پڑائو ڈالنے لگے۔

سید الانبیاء ﷺ کی حج کے لئے روانگی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا اعلان فرمایا تو تمام عالم عرب سے انسانوں کا سیلاب امڈ پڑا ۔ ہزاروں لوگ روزانہ آکر مدینہ منورہ کے آس پاس پڑائو ڈالنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی لگاتار بغیر تھکے اور بغیر رکے محنت اور جدو جہد کا نتیجہ تھا کہ لگ بھگ 23برس پہلے پوری دنیا میں اکیلے تنِ تنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت کو لے کر کھڑے ہوئے ۔ اس وقت پوری دنیا میں کفر اور ظلمت کا اندھیر چھایا ہوا تھا۔ ہر طرف سے مخالفین کا حملہ تھا۔ مسلسل محنت اور جدو جہد کے بعد لگ بھگ چودہ سال بعد غزوہ بدر کے وقت چند ہزار صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم تھے۔ ان میں سے لگ بھگ 320نے اسلام کی پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل نہ تھکنے والی جدو جہد جاری رہی اور جب اعلان ِ نبوت کے بعد لگ بھگ 21برس بعد مکہ مکرمہ فتح ہو ا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار 10,000سے زیادہ جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور آج جب لگ بھگ تیئیس 23برس بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حج کی تیاری کر رہے ہیں تو مدینہ منورہ اور آس پاس میں ایک لاکھ چودہ ہزار1,14,000کے لگ بھگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ساتھ جانے کے لئے موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت ابودجانہ سماک بن حرشہ رضی اللہ عنہ یا حضرت سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا۔

ذو الحلیفہ سے احرام باندھا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ مہینے کے آخری دنوںمیں جمعرات کے دن غسل فرما کر تہبند اور چادر زیب تن فرمائی اور نماز ظہر مسجد نبوی میں پڑھ کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا اور تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہما کو ساتھ میں لیا۔ مدینہ منورہ سے لگ بھگ چھ میل دور اہل مدینہ کی میقات ،’’ ذو الحلیفہ ‘‘ پر پہنچے ا ور رات بھر وہیں قیام فرمایا۔ پھر احرام کے لئے صبح غسل فرمایا اور دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر احرام باندھا اور بلند آواز سے تلبیہلبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہی : ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے سر اٹھا کر چاروں طرف نظر دوڑائی تو آگے پیچھے دائیں بائیں جہاں تک نظر جا رہی تھی انسان ہی انسان نظرآرہے تھے۔ امام احمد بن حسین بیہقی کی روایت میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سفر کر رہے تھے اور دوسری روایتوں میں ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم’’ حجتہ الوداع ‘‘میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی۔

 مکہ مکرمہ میں داخلہ، خانہ کعبہ کی زیارت اور طواف

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم 4ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے ۔ فجر کی نماز مقامِ ’’ذی طوی‘‘ میں پڑھی اور غسل فرمایا پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان بنو ہاشم کے لڑکوں نے تشریف آوری کی خبر سنی تو خوشی سے دوڑتے ہوئے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت محبت اور پیار سے کسی کو آگے ، کسی کو پیچھے اور کسی کو دائیں اور بائیں اپنی اونٹنی پر بٹھا لیا۔ چاشت کے وقت یعنی جب سورج بلند ہو گیا تھا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے ۔ جب خانہ کعبہ پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے اللہ تعالیٰ!تُو سلامتی دینے والا ہے۔ اے ہمارے رب ہمیں سلامتی کیساتھ زندہ رکھ۔ اے اللہ تعالیٰ! اس گھر کی عظمت و شرف اور عزت و ہیبت اور زیادہ کر اور جو اس گھر کا حج اور عمرہ کرے تو اس کی بزرگی اور شرف و عظمت کو زیادہ کر۔‘‘اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس تشریف لے گئے تو حجر اسود پر ہاتھ رکھ کر اس کو بوسہ دیا اور پھر خانہ کعبہ کا طواف شروع کیا۔ شروع کے تین چکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’رمل‘‘ کیا۔ یعنی سینہ تان کر تین پھیرے کئے اور باقی چار پھیرے عام انداز میں پورے کئے۔ ہر چکر یا پھیرے میں جب حجر اسود کے پاس پہنچتے تھے تو کبھی چھڑی سے حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے چھڑی کو چوم لیتے تھے اور کبھی ہاتھ سے حجر اسود کو چھو کر ہاتھ کو چوم لیتے تھے اور کبھی حجر اسودپر اپنے ہونٹ مبارک رکھ کر چوم لیتے تھے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھڑی سے بھی استلام کیا ، ہاتھ سے بھی استلام کیا، اور لب مبارک سے بھی استلام کیا اور کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن یمانی کا بھی استلام کیا۔

مقامِ ابراہیم پر نماز اور صفا ، مروہ کی سعی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کی طرف آئے اور اس کے پیچھے دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ پھر’’ وتخدو من مقام ابراہیم مصلیٰ‘‘ کی تلاوت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رکعتوں میں قل ہو اللہ احد اور قل یا یھا لکٰفرون کی تلاوت فرمائی۔ پھر حجر اسود کو استلام فرمایا اور سامنے کے دروازے سے صفا اور مروہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی: ( ترجمہ) ’’بیشک صفا اور مروہ اللہ کی دین کی نشانیوں میں سے ہے۔ پھر فرمایا: ’’ جس سے اللہ نے آغاز فرمایا۔ ہم بھی اس سے آغاز کرتے ہیں اور صفا پہاڑی پر چڑھ گئے۔ چڑھنے کے بعد’’ خانہ کعبہ‘‘ یعنی’’ بیت اللہ‘‘ کی طر ف دیکھا اور تکبر کہی پھر کہا ۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئٍ قدیر لا الہ الا اللہ وحدہ انجر وعدہ ونصر عبدہ وھرم الاحزاب وحدہ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ پھر اسی کلام کو پڑھنے لگے۔ پھر صفا پہاڑی سے نیچے اترنے لگے اور جب نیچے وادی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیر مبارک ٹکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑنے لگے اور مروہ کے قریب پہنچ کر عام حالت میں چڑھنے لگے۔ مروہ پہاڑی پر چڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کیطرف دیکھا اور تکبیر کہی اور وہی پڑھا جو صفا پہاڑی پر پڑھا تھا اور دعامانگی۔ پھر مروہ سے اترے اور صفا پر چڑھے۔ اس طرح سات مرتبہ دونوں پہاڑیوں پر چڑھے جب ساتویں چکر میں مروہ پہاڑی پر آئے تو فرمایا’’ جو قربانی کا جانور ساتھ نہیں لائے ہوں۔ وہ احرام کھول دیں۔‘‘

مِنیٰ اور عرفات میں قیام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آٹھویں ذی الحجہ جمعرات کے دن منیٰ میں تشریف لے گئے اور پانچ نمازیں ظہر ، عصر ، مغر ب ،عشاء اور فجر منیٰ میں ادا فرما کر نویں ذی الحجہ جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں تشریف لائے۔ زمانہ جاہلیت میں چونکہ قریش اپنے آپ کو سارے عرب میں افضل اوراعلیٰ شمار کرتے تھے۔ اس لئے وہ میدان ِ عرفات کے بجائے مزدلفہ میںقیام کرتے تھے اور دوسرے تمام عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسلام میں مساوات کی تعلیم فرمائی ہے۔ اس لئے قریش کے لئے یہ خصوصیت گوارا نہیں فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ۔ ثم افیضو من حیث افاض الناس : (ترجمہ)’’ تم بھی وہیں سے پلٹ آئو جہاں سے سب لوگ پلٹ کر آتے ہیں۔‘‘ یعنی قریش بھی تمام لوگوںکے ساتھ میدان عرفات میں ہی قیام کریں۔ میدان عرفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لئے مسلسل دعائیں مانگتے رہے۔

خطبہ حجتہ الوداع

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان ِعرفات میں پہنچ کر ایک کمبل کے خیمے میں قیام فرمایا اور مسلسل دعائوں میں مصروف رہے۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ہر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا فرمائی اور اس کے بعد سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مجمع سے خطاب فرمایا: ’’ اے لوگو! میری بات غور سے سن لو۔ کیوں کہ شاید اس سال کے بعد اس مقام پر پھر کبھی میر ی تم سے ملاقات نہ ہو۔ اے لوگو!قیامت تک کے لئے تمہار ا( تمام انسانوں کا ) خون اور مال ( ایک دوسرے پر ) اسی طرح حرام ہے جس طرح آج کا دن اور یہ مہینہ تم پر حرام ہے۔ ( یعنی غلط اور نا جائز طریقے سے خون اور مال حرام ہے) تم اپنے رب سے ضرور ملو گے اور وہ تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔میں نے اس کا پیغام ( اسلام اور قرآن پاک) پہنچا دیا ۔جس کے پاس کسی کی امانت رکھی ہو۔ اسے چاہئے کہ اس کے مالک کو لوٹا دے۔ ہر قسم کا سود ختم کر دیا گیا ہے۔ البتہ اصل رقم تم لے سکتے ہوتا کہ تم پر ظلم نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے اور سود بالکل ہی ساقط ہے اور سب سے پہلے میں اپنے چچا حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کا سود ختم کرتا ہوں۔ ( جنہوں نے ان سے قرض لیا ہے وہ صرف قرض ہی ادا کریں) اسی طرح زمانہ جاہلیت میں جتنے خون ہوئے ہیں وہ سب بھی ساقط کر دیئے گئے ہیں اور اب کوئی بھی زمانہ جاہلیت کے خون کا بدلہ اور انتقام نہیں لے گا۔ اور سب سے پہلے میں اپنے رشتہ دار ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا خون معاف کرتا ہوں۔ ‘‘

شیطان ابلیس کی مایوسی اور خواتین کے حقوق

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ جاری تھا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دم بخود بیٹھے سن رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے لوگو!اب شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لئے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری اس سر زمین ( مکہ مکرمہ ) میں اللہ واحد کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے۔ البتہ اس کے سوا تمہارے جو اعمال ہیں جن کو تم معمولی درجے کا سمجھتے ہو ان کے متعلق وہ اس بات سے مطمئن ہے کہ تم اس کی بات کو مانو گے۔ اسی لئے اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کیلئے ہمیشہ شیطان سے ہوشیار رہو۔ اے لوگو! جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اسی دن اس نے اپنی کتاب میں بارہ مہینے مقرر کر کے لکھ دیئے تھے۔ ان میں چار مہینے حرام ہیں۔ تین مہینے مسلسل ہیں۔ ( یعنی ذی القعدہ ، ذی الحجہ اور محرم الحرام) اور رجب المرجب ہے۔ اے لوگو! تمہاری بیویوں پر تمہار احق ہے اور تم پر ان کا حق ہے۔ ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ تمہاری مرضی کے خلاف تمہارے گھر کوئی غیر نہ آئے اور ان پر یہ فرض ہے کہ وہ بدکاری نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کریں تو اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم ان کی خواب گاہوں کو چھوڑ دو اور ان سے واسطہ نہ رکھو اور معمولی مار مارو کہ بدن پر نشان نہ پڑے۔ اگر اس سزا سے وہ باز آجائیں تو تم فراخ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرو اور کھلاؤ پلاؤ اور پہناؤ اور اچھا سلوک کرو اور ہمیشہ ایک دوسرے کو عورتوں کیساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کرتے رہو۔ وہ تمہاری دست ِ نگر ہیں۔ ( یعنی تمہاری نگرانی میں ہیں) خود اپنا کچھ نہیں رکھتیں اور تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر اپنے نکاح میں لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ساتھ ان کی فروج کو حلال کیا ہے۔

قرآن اور سنت چھوڑے جا رہا ہوں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ جاری تھا اور پروانہ رسالت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پوری توجہ سے سن رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے لوگو! اچھی طرح میری باتوں کو سمجھ لو اور غور سے سن لو۔ میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے اور تم میں ،میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر اس پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی سیدھے راستے سے نہیں بھٹکو گے اور وہ اللہ کی کتاب ( قرآن پاک) ہے اور اللہ کے رسول کی سنت ( حدیث) ہے۔ اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سن لو۔ میںنے اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اورتمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کسی شخص کے لئے اپنے بھائی کی چیز زبردستی لینا جائز نہیں ہے۔ ہاں وہ اپنی مرضی اور خوشی سے دے تو لے لیا کرے اور اپنے اوپر ظلم نہ کرنا۔ اے اللہ تعالیٰ ! کیا میں نے تیرا پیغام پوری طرح پہنچا دیا ہے؟‘‘ تمام لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام کا مجمع ایک پکار اٹھا: ’’بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا پیغام پورا پہنچا دیا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: ’’ اے اللہ !تُو گواہ رہنا۔‘‘

جو حاضر ہیں وہ اُن تک پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حجتہ الوداع کے خطبے کے بارے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ حرمت والے چار مہینوں کے بارے میں بتانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ’’ یہ کون سا مہینہ ہے؟‘‘ہم نے عرض کیا : ’’ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے گمان کیا کہ شاید اس مہینے کا نام دوسرا فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟‘‘ہم نے عرض کیا: ’’ بے شک کیوں نہیں ۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ کون سا شہر ہے؟ ‘‘ہم نے عرض کیا: ’’اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہمیں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ دوسرا نام ارشاد فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا یہ شہر مکہ مکرمہ نہیں ہے؟ ‘‘ہم نے عرض کیا: ’’بے شک شہر مکہ مکرمہ ہے۔ ‘‘پھر فرمایا: ’’آج کون سا دن ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا : ’’اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے تو ہم سمجھے کہ شاید دوسرا نام بتائیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا آج یوم النحر نہیں ہے؟‘‘ ہم نے کہا : ’’بے شک ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری آبروایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے، جیسے ان دن کی حرمت ہے۔ اس شہر کی حرمت ہے اور اس مہینے کی حرمت ہے اور بہت جلدتم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ کیا تم میرے بعد گمراہی کی جانب پلٹ کر ایک دوسرے کی گردن اڑانے لگو گے؟ سن لو جو یہاں حاضر ہے ۔ وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیںجو حاضر نہیں ہیں۔ کیوں کہ بعض اوقات پہچانے والے سے زیادہ سننے والا یاد رکھتا ہے۔‘‘علامہ عماد الدین ابن کثیر نے تاریخ ابن کثیر میں لکھا ہے کہ یہ خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا۔

آج اسلام مکمل ہو گیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں اپنی اونٹنی قصویٰ پر بیٹھے لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کا نزول کیا اور یہ آیت نازل ہوئی: (ترجمہ ) ’’ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہے۔‘‘ یہودیوں میں سے بعض لوگوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو اس دن کو ( جس دن یہ آیت نازل ہوئی) ہم ضرور عید کے طور پر مناتے۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔: ’’کون سی آیت کے بارے میں کہتے ہو؟ ‘‘ یہودیوں نے جواب دیا: ( ترجمہ )’’ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔ ‘‘( سورہ المائدہ آیت نمبر3) اس آیت کے متعلق کہتے ہیں ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ مجھے اچھی طرح معلوم ہے یہ آیت کس جگہ نازل ہوئی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میدانِ عرفات میں قیام فرما تھے۔‘‘

مزدلفہ میں قیام اور منیٰ میں کنکریاں مارنا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ مکمل کرنے کے بعد ظہر اور عصر کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں سے ادا فرمائی۔ پھر ’’ موقف ‘‘ تشریف لے گئے اور جبلِ رحمت کے نیچے سورج ڈوبنے تک امت کے لئے دعائوں میں مصروف رہے۔ سورج ڈوبنے کے بعد میدانِ عرفات سے لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ’’مزدلفہ‘‘ پہنچے۔ یہاں پہلے مغرب پھر عشاء کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں سے ادا فرمائی اور ’’ مشعر حرام‘‘ کے پاس رات بھر امت کے لئے دعائیں مانگتے رہے۔ اور سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کے لئے روانہ ہو گئے اور وادیٔ مُحَسّر کے راستہ سے منیٰ میں ’’جمرہ‘‘ کے پاس تشریف لائے اور کنکریاں ماریں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: ’’ حج کے مسائل کو سیکھ لو ۔ میں نہیں جانتا کہ شاید اس کے بعد دوسرا حج کر سکوں گا۔‘‘

قربانی اور بال اتروانا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں بھی ایک طویل خطبہ دیا ۔ جس میں عرفات کے خطبہ کی طرح بہت سے مسائل و احکام کا اعلان فرمایا اور فرمایا: ’’ اے لوگو!بے شک تمہارا رب ایک ( اللہ تعالیٰ) ہے اور بے شک تمہارا باپ ( حضرت آدم علیہ السلام ) ایک ہے۔ سن لو ، کسی عربی کو کسی عجمی پر ، کسی سرخ کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ فضیلت صرف اس کی ہے جو تقویٰ والا ہے یعنی متقی ہے۔ یعنی اس کی فضیلت تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ ( ہم نے اوپر جو صحیح بخاری کا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی روایت والا خطبہ پیش کیا ہے غالباً وہ منیٰ میں دیئے گئے خطبہ کا ایک حصہ ہے کیوں کہ اس میں’’ یوم النحر‘‘ کا ذکر ہے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر نے تاریخ ابن کثیر میں لکھا ہے کہ یہ خطبہ منیٰ میں دیا گیا تھا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے لئے سو اونٹ لائے تھے۔ تریسٹھ 63اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قربان کئے اور باقی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو سونپ دیئے اور گوشت و ہڈیاں ، جھول ، نکیل سب کو خیرات کر دینے کا حکم دیااور فرمایا قصائی کی مزدوری بھی اس سے نہیں اد ا کی جائے۔ بلکہ الگ سے دی جائے۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال اتروائے۔ حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال اتارے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کا کچھ حصہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور باقی بال تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دینے کا حکم دیا۔

زمزم کا نوش فرمانا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد مکہ مکرمہ تشریف لائے اور ’’طوافِ زیارت‘‘ فرمایا۔’’ طواف زیارت‘‘ مکمل کرنے کے بعد چاہِ زمزم کے کنویں پر تشریف لائے۔ خاندانِ عبدالمطلب کے لوگ ڈول سے پانی کھینچ کھینچ کر لوگوں کو زمزم پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ مجھے ایسا کرتے دیکھ کر لوگ سنت سمجھ لیں گے اور تمہارے ہاتھوں سے ڈول چھین کر خود اپنے ہاتھوں سے پانی بھر کر پینے لگیں گے تو میں خود اپنے ہاتھوں سے ایک ڈول ضرور نکالتا۔ ‘‘حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے زمزم پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی طر ف رخ کر کے کھڑے کھڑے زمزم کو نوش فرمایا۔ پھر منیٰ واپس تشریف لے گئے اور بارہ ذی الحجہ تک منیٰ میں مقیم رہے اور ہر روز سورج ڈھلنے کے بعد جمروں کو کنکریاں مارتے رہے۔ تیرہ ذی الحجہ منگل کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد منیٰ سے روانہ ہو کر ’’محصب‘‘ میں رات بھر مقیم رہے اور صبح کو نماز فجر مسجد حرام میں ادا کر کے’’ طواف ِ وداع ‘‘کیا اور مہاجرین اورانصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔

تعلیمی حج

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ارکان ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیم بھی دیتے جا رہے تھے۔ عرفہ یعنی میدان عرفات میں ٹھہر کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ مقام اس پہاڑ کا جس پریہ واقع ہے ’’موقف ‘‘ہے۔ اور تمام عرفہ یعنی تمام میدان ِ عرفات ’’موقف ‘‘ہے۔‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو قزح پر قیام فرمایا اور یہ فرمایا : ’’ یہ’’ موقف ‘‘ہے اور تمام مزدلفہ ’’موقف ‘‘ہے۔ ‘‘اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربان گاہ میں قربانی کی تو فرمایا: ’’یہ ’’قربان گا ہ ‘‘ہے اور پورا منیٰ’’ قربان گاہ ‘‘ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج پورا کیا اور تمام مسلمانوں کو حج کے سب مناسک سمجھا اور بتا دیئے اور حج کے موقع پر مواقف، رمی جمار، خانہ کعبہ کے طواف اور سعٔی میں جو فرائض ہیں وہ بتائے اور حج میں کن باتوں کو حلال کیا گیا ہے اور کن باتوں کو حرام کیا گیا ہے۔ وہ تفصیل سے بتائے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حج صرف حج نہیں ہوا بلکہ پوری امت کے لئے’’ تعلیمی حج‘‘ ہوا ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حکم

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تین سو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ یمن بھیجا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حج کے لئے روانگی کی اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنا کر لشکر کا سپہ سالار بنا دیا اور ان سے کہا کہ تم معمول کی رفتار سے آئو اور خود تیز رفتاری سے مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے اور وقت پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا۔ جن صحابی رضی اللہ عنہ کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے نائب بنایا تھا ۔ انہوں نے جزیہ میں جو اعلیٰ درجے کے کپڑے وصول ہوئے تھے ان سب کو بھنڈار خانے سے نکلوا کر اپنی فوج کو پہنا دیئے۔ جب یہ فوج مکہ مکرمہ آئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ پورا لشکر بہترین لباس میں ملبوس ہے۔ یعنی یمن کے حلّے پہنے ہوئے ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے نائب سے اس بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا: ’’ میں نے یہ حلّے انہیں اس لئے پہنا دیئے کہ جب یہ سامنے سے گزریں تو بھلے معلوم ہوں۔ ‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’یہ کوئی وجہ نہیں ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچنے سے پہلے تم لوگ ان حلّوں کو اتار دو۔‘‘ اور وہ تمام بہترین لباس لشکر سے اتروا کر توشتہ خانے میں رکھوا دیئے۔ یہ بات لشکر کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ناگوار گزری تو انہوں نے اس کا شکوہ کیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کی راہ میں بہت سخت ہیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے لشکر کے پہنے ہوئے یمن کے حلّے ( بہترین لباس) اتروا دیئے۔ یہ بات لشکر کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نا گوار گزری تو انہوں نے سید ا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ ان میں حضرت بُریدہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن پر حملہ کیااور میں نے ان سے بد سلوکی محسوس کی۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو حضرت علی الرمرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے بریدہ رضی اللہ عنہ ! کیا میں مومنین کو ان کی جانوں سے عزیز ( پیارا ) نہیں ہوں؟ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک ایسا ہی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جسے میں محبوب ہوں اسے علی رضی اللہ عنہ بھی محبوب ہے۔‘‘ ( یعنی جو مجھ سے محبت کرتا ہے ۔ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی محبت کرنا چاہیئے) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے لوگو! حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شکایت مت کرو۔ اللہ کی قسم !وہ اللہ کے لئے اللہ کی راہ میں بہت سخت ہیں۔ ‘‘

حج کے دوران سید الانبیاء ﷺ کے خطبے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کیا۔ اس حج کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ خطبے دیئے۔ پہلا خطبہ ذی الحجہ کی سات تاریخ کو مکہ مکرمہ میں دیا۔ دوسرا خطبہ عرفہ کے دن میدان ِ عرفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔ تیسرا خطبہ منیٰ میں یوم النحر یعنی قربانی کے دن دیا۔ چوتھا خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہی یومِ قر کے دن دیا۔ اور پانچواں خطبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہی یوم نفر اول کے دن دیا۔ یہ کل پانچ خطبے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے دوران دیئے۔ یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ خطبہ غدیر خم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے واپسی کے دوران دیا تھا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں