26 سیرت سید الانبیاء ﷺ
عمرۃ القضاۃ
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
عمرۃ القضاۃ کے لئے روانگی، قریش کی گھبراہٹ، طواف کرنے کی کیفیت، حضرت حمزہ کی بیٹی، حضرت خالد بن ولید کا غو رو فکر، حضرت خالد بن ولید کا قبول اسلام، سید الانبیاء ﷺ کی خوشی اور مسرت،
جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے مدینہ منورہ واپس آئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ خیبر کے راستے میں ہم لوگ ایک وادی میں پہنچے تو بلند آواز سے یہ تکبیر کہنے لگے۔’’ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ ‘‘یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اپنی جانوں پر نرمی کرو۔ ( یعنی اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالو) تم کسی بہرے یا غیر حاضر کو نہیں سنا رہے ہو۔ بے شک تم اس ذات ( اللہ تعالیٰ) کو سنا رہے ہو۔ جو سننے والاہے اور قریب ہے۔ وہ تمہارے ساتھ ہے۔‘‘ اس کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے میں چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے’’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ‘‘کہتے ہوئے سنا تو مجھ سے فرمایا: ’’ اے عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ! ( یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام ہے اور ابو موسیٰ کنیت ہے) میں نے فوراً عرض کیا: ’’ میں حاضر ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ایسا کلمہ بتائوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ ‘‘میں نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ضرور بتائیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ وہ کلمہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ہے۔ ‘‘
غزوہ خیبر اور عمر ہ قضا کے درمیان کے سرایا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صفر المظفر 7 ہجری میں غزوہ خبیر سے مدینہ منورہ تشریف لائے۔ اس کے بعد عمر ہ قضا کے لئے مکہ مکرمہ ذی القعدہ 7 ہجری میں مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ صفر المظفر سے لے کر ذی القعدہ تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں ہی مقیم رہے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مختلف سرایا پر بھیجتے رہے۔ ( غزوہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خود شریک ہوئے ہیں اور سرِیہّ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں صرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوتے تھے۔ سرایا جمع ہے اور سریہ واحد ہے) ان سرایا کا مختصرا ً ذکر ہم یہاں کر رہے ہیں۔ ربیع الاول 7ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت غالب بن عبداللہ لیشی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں قبیلہ بنو ملوح کی طرف بھیجا ۔ جمادی الآخر 7 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں پانچ سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر حسمیٰ کی طر ف قبیلہ جذام کی سر کوبی کے لئے بھیجا۔ شعبان 7 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس30صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو تربہ کی طرف قبیلہ بنو ہوازن کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ شعبان المعظم 7 ہجری میں ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بشر بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس30صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بنو مرہ کی طرف فدک کے اطراف میں سریہ بھیجا۔ رمضان المبارک 7 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت غالب بن عبداللہ لیشی کی قیادت میں بنو عوال ، بنو عبدبن ثعلبہ اور بنو جہینہ قبائل کی طرف سریہ بھیجا۔ شوال 7 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بنو عطفان کی سرکوبی کے لئے خیبر کے اطراف میں بھیجا۔ شوال 7 ہجری میں ہی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بشیر بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جہاد کی طرف بنو فزارہ اور بنو عذرہ کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔
عمرۃ القضاۃ کے لئے روانگی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال ۷ ہجری میں ہی عمرہ قضاء کی روانگی کی تیاری شروع کر دی تھی اور اعلان کروا دیا تھا کہ ہم ذی القعدہ ۷ ہجری میں عمرئہ قضاء کے لئے روانہ ہونگے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی تیاری کر لی۔اس سے پہلے ہم آپ کو صلح حدیبیہ کے بارے میں بتا چکے ہیں کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ ۶ ہجری میں عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ کی طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ سفر کیا تھا۔ لیکن مکہ مکرمہ کے مشرکین نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کر لی تھی اور اس کی ایک شرط یہ تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اس سال یہیں سے ( حدیبیہ کے مقام سے) واپس چلے جائیں اور اگلے سال مکہ مکرمہ آکر عمرہ کرلیںاور تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں رہ سکتے ہیںاور اس دوران مکہ مکرمہ کے مشرکین مکہ مکرمہ خالی کر کے پہاڑوں میں چلے جائیں گے اور تین دن بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام کرضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ واپس چلے جائیں گے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر وادیا کہ پچھلے سال جو لوگ صلح حدیبیہ میں موجو دتھے وہ سب عمرہ قضا کے لئے چلیں۔ صلح حدیبیہ میں موجود تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عمرہ قضا کے لئے روانہ ہوئے۔ صرف وہ لوگ موجود نہیں تھے جن کا اس دوران انتقال ہو گیا تھا یا جو خیبر میں شہید ہو ئے تھے۔ اہل حدیبیہ کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی عمرہ کے لئے روانہ ہوئے۔ اس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد دو ہزار یا کچھ زیادہ ہو گئی ۔ خواتین اور بچے ان کے علاوہ تھے۔
سید الانبیاء ﷺ نے احرام باندھا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نائب بنایا۔ امام قسطلانی نے ابودہم لکھا ہے اور امام محمد بن سعد نے ابو رحمن لکھا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا اور قربانی کے لئے ساٹھ اونٹ لئے۔ قربانی کے اونٹ حضرت ناجیہ بن جندبرضی اللہ عنہ کی نگرانی میں دیئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار ، زرہیں اور جنگی سامان بھی ساتھ لیا اور بشیر بن سعد کی نگرانی میں یہ سامان دے دیا۔ حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو ذو الخلیفہ پہنچنے کے بعد 100سواروں کے ساتھ آگے روانہ کیا تا کہ قریش کے مشرکین اگر کوئی شرارت کریں تو انہیں روکا جائے۔ ادھر قریش کو بھی اطلاع مل چکی تھی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے روانہ ہونے والے ہیں۔ انہوں نے تحقیق کے لئے اپنے آدمی بھیجے۔
قریش کی گھبراہٹ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو آگے روانہ فرما دیاتھا۔ وہ جب مر الظران پہنچے تو انہیں قریش کے تحقیق کرنے والے آدمی ملے۔ انھوں نے حضرت محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھ 100سواروں کو جنگی لباس دیکھا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لگ بھگ دو ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں اور انشا اللہ کل صبح تک یہاں پہنچ جائیں گے۔ قریش کے آدمیوں نے ان کے جنگی لباس کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پر حملہ کر نے کے لئے آرہے ہیں۔ وہ لوگ نہایت تیزی سے مکہ مکرمہ پہنچے اور بتایا کہ مسلمانوں کے پاس ہتھیار اور جنگی سامان ہیں۔ تمام مشرکین قریش یہ سن کر گھبرا گئے اور کہنے لگے : ’’ ہم نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کے خلاف کوئی ایسی ویسی حرکت بھی نہیں کی ہے۔ پھر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم پر حملہ کرنے کیوں آرہے ہیں؟ ‘‘ انہوں نے فوراً مکر ز بن حفص کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا۔ اس نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے آکر کہا : ’’ اے محمد! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بچپن سے لے کر آج تک یہی دیکھا گیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) وعدہ اور معاہدہ کو پوری طرح نبھاتے ہیں۔ پھر آج یہ ہتھیار کس لئے ہیں؟ جب کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم سے وعدہ فرما چکے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں صرف مسافر کے ہتھیار( یعنی میان میں رکھی ہوئی تلوار) کے ساتھ داخل ہوں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں ان پر ہتھیار لے کر داخل نہیں ہوں گا۔‘‘ مکرز نے کہا: ’’ ہمیں آ پ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ایسی ہی امید ہے۔‘‘ اس کے بعد مکر ز نے آکر قریش کو بتایا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جنگ کرنے نہیں بلکہ عمرہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔
سید الانبیاء ﷺ کا عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ میں داخلہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بڑھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ جو ہتھیار اور جنگی سامان لائے تھے وہ بطن ناجح میں محفوظ رکھوادیئے اور دو سوافراد کو اس کی نگرانی کے لئے چھوڑ دیا اور ان کا امیر حضرت اوس بن خولی رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر اس گھاٹی میں داخل ہوئے جو حجون کی طرف نکلتی ہے اور اس کو ثنیتہ کدا ء کہا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تلبیہ پڑ ھ رہے تھے۔ ادھر مکہ مکرمہ کے مشرکین مکہ مکرمہ کو خالی کر کے پہاڑوں میں جا رہے تھے۔ کیوں کہ انہیں اس بات میں اپنی بے عزتی محسوس ہو رہی تھی کہ ان کے دشمن ان کی موجودگی میں ان کے شہر میں داخل ہوں ۔ اس لئے قریش کے بڑے بڑے سردار تو پہلے ہی مکہ مکرمہ سے نکل کر پہاڑوں میں چلے گئے تھے اور باقی قریش بھی مکہ مکرمہ خالی کر رہے تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھیرے میں چلتے ہوئے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
طواف کرنے کی کیفیت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے گھیرے میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری قصوا کی مہار پکڑ ے ہوئے چل رہے تھے اور بلند آوازسے کہتے جا رہے تھے: ’’ اے کافرو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ چھوڑ دو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہ حکم نازل فرمایا ہے کہ بہترین قتل وہ ہے جو اللہ کے لئے ہو اور ہم نے تم سے جہاد اور قتال صرف ا س لئے کیاکہ تم اللہ کا حکم نہیں مانتے ہو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اے عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور اللہ تعالیٰ کے حرم میں اشعار پڑھ رہے ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسے پڑھنے دو۔ یہ اشعار کافروں پر تیر وں کی بارش سے زیادہ سخت ہیں۔ ‘‘مکہ مکرمہ کے مشرکین اکثر تو پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ لیکن کچھ کافر دارالندوہ کے پاس کھڑے دیکھ رہے تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ یہ مسلمان بھلا کیا طواف کریں گے۔ ان کو تو بھوک اور مدینہ منورہ کے بخار نے کچل کر رکھ دیا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ پہلے تین چکر طواف میں رمل کریں۔ یعنی خوب اکڑ کر شانوں کو ہلا کر طواف کریں اور باقی چکر عام حالت میں کریں۔ تا کہ کافروں کے سامنے مسلمانوں کی طاقت کا مظاہرہ ہو جائے۔ یہ سنت آج تک باقی ہے او ر انشا اللہ قیامت تک باقی رہے گی اور ہر طواف کرنے والا پہلے تین پھیروں یا چکر میں رمل کرتا ہے۔
اُ م المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف مکمل کرنے کے بعد صفا اورمروہ کے درمیان سعی فرمائی اور قربانی کر کے احرام اتار کر حلال ہو گئے۔ اس کے بعد کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ بطن ناجح چلے جائیں اور جو افراد ہتھیار وں اور جنگی سامان کی نگرانی کر رہے ہیں انہیں بھیج دیں تا کہ وہ بھی عمرہ کر لیں۔ اتنا فرما کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر چلے گئے اور ظہر کیوقت تک اندر ہی رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے خانہ کعبہ کے پاس اذان دی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تین دنوں تک مکہ مکرمہ میں تشریف فرما رہے۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔ سید ہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنے نکاح کا اختیار اپنی بہن اُم فضل رضی اللہ عنہا کو دیا تھا۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی چچی ہیں اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیوی ہیں۔ انہوں نے وہ اختیار اپنے شوہر کو دیا اور ان کے شوہر نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا نکاح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا اور مہر چار سو درہم مقررہوا۔ جب تین دن پورے ہو گئے تو قریش نے حویطب بن عبدالعزیٰ کو چند قریش کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ اس نے کہا: ’’ مکہ مکرمہ میں تمہاری اقامت کی مدت پوری ہو گئی۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مدینہ منورہ واپسی کا حکم دیا۔
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے روانہ روانہ ہونے لگے تو حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ( غزوہ ٔ احد میں شہید ہو ئے ) کی چھوٹی بیٹی پکارتی ہوئی دوڑتی ہوئی آئی۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اٹھا لیا اور ان کے بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آگے بڑھے۔ تینوں حضرات رضی اﷲ عنہم حضرت حمزہ بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی کی پرورش کرنا چا ہتے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ اس لئے میرے پاس رہے گی۔ ‘‘ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ میرے چچا کی بیٹی ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی خالہ میری بیوی ہے۔ اس لئے یہ میرے پاس رہے گی۔ ‘‘اور حضرت زیدبن حارثہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ یہ میری دینی ( اسلامی) بھائی کی بیٹی ہے۔ اس لئے میرے پاس رہے گی۔ ‘‘تینوں نے معاملہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ خالہ کا مقام ماںکے جیسا ہے۔ اس لئے یہ بچی اپنی خالہ کے پاس رہے گی۔‘‘ اور حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔
سید الانبیاء ﷺ کا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمان
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کرنے کے لئے جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو قریش کے مشرکین مکہ مکرمہ خالی کر کے پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ ان میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ سے فارغ ہوئے تو حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ خالد بن ولید ( رضی اللہ عنہ ) دکھائی نہیں دے رہا ہے۔‘‘ ( حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں ۔ انہوں نے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہ رہے تھے) حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ( امید ہے) بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے گا۔ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تعجب کی بات ہے کہ خالد جیسا عقلمند اور سمجھدار اسلام جیسے پاکیزہ مذہب سے بے خبر ہے اور اب تک دور ہے۔ اگر خالد بن ولید ( رضی اللہ عنہ ) مسلمانوں کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی مدد کرتا اور اہل باطل ( مشرکوں ) سے مقابلہ کرتا تو یہ اس کے لئے بہتر ہوتا اور ہم اس کو دوسروں پر مقدم رکھتے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر حضرت ولید بن ولید رضی اللہ عنہ بے چین ہو گئے اور بے تابی سے مکہ مکرمہ میں اپنے پیارے بھائی کو تلاش کرنے لگے۔ لیکن وہ تو پہاڑوں میں چلے گئے تھے۔ آخر کار جب تین دن پورے ہو نے لگے تو انہوں نے اپنے بھائی کے نام ایک خط لکھا اور ایک جان پہچان والے کو دے کر کہا: ’’ جب میرا بھائی خالد بن ولید ( رضی اللہ عنہ ) واپس آئے تو اسے دیدینا۔‘‘ اور مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سوچ کا رخ بدل گیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لائے اور تین دنوں بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے۔ اس دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پہاڑوں میں رہے۔ لیکن دل اسلام کی طرف مائل ہو چکا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں اسلام کے نور کی کرن پید ا فرما دی تھی اور آپ رضی اللہ عنہ کے اندر کشمکش پید ا ہو گئی تھی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے عزت اور بھلائی سے سرفراز فرمانے کا ارادہ فرمایا تو اس نے میرے دل میں اسلام کی تڑپ پید ا فرمادی اور صحیح رخ پر سوچنے کا انداز عطا فرمایا۔ میں جب بھی قریش کی طرف سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے جاتا تھا تو دیکھتا تھا کہ ان کی تعداد ہم سے کم ہوتی تھی۔ ان کا اسلحہ ( ہتھیار اور جنگی سامان) ہم سے کم ہوتا تھا۔ ان کی رسد ( کھانے کا سامان) اوردوسرے ضروری سامان ہم سے کم ہوتے تھے۔ ان کے افراد میں جنگی تربیت اور جنگی صلاحیت ہم سے کم ہوتی تھی۔ ان تمام کو تاہیوں اور بظاہر محرومیوں کے باوجود ہر جنگ میں ، ہر موقعہ پر وہ لوگ ہم پر حاوی ہو جاتے تھے۔ یہ سب دیکھ کر مجھے اندازہ ہوتا تھا کہ ضرور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہے اور مجھے احساس ہوتا تھا کہ میں ان لوگوں کے خلاف جو جنگ اور جد و جہد کر رہا ہوں۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ‘‘
صلح حدیبیہ سے صحیح رخ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے جنگ کے دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دل میں دھیرے دھیرے کفر و شرک سے بیزاری اور اسلام سے محبت لاشعوری طور پر پیدا ہونے لگی تھی۔ لیکن ان کے سامنے کوئی واضح سوچ نہیں تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو اسلام کے بارے میں صحیح رخ صلح حدیبیہ سے ملی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم 6 ہجری میں عمرہ کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ نکلے تو مکہ مکرمہ میں ہم قریش نے مشورہ کیا کہ اس سال تو کسی قیمت پر ان کو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور اس کے لئے مجھے لشکر دے کر روانہ کیا گیا کہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا راستہ روکوں ۔ میں لشکر لیکر تیزی سے روانہ ہوا اور مقام عسفان پر ہمارا سامنا ہوا۔ میں لشکر لے کر قریب پہنچا اور میر احملہ کرنے کا ارادہ تھا۔ لیکن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے ارادے کی خبر ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ صلوۃ الخوف‘‘ پڑھائی۔ ( یعنی آدھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز پڑھنے لگے اور آدھے صف لگائے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے سامنے ڈٹے رہے۔ دو رکعت کے بعد نماز پڑھنے والے آکر ڈٹ گئے اور باقی نے جا کر دو رکعت نماز ادا فرمائی) یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کیوں کہ میں نے یہی ارادہ کیا تھا کہ نماز پڑھنے کے دوران حملہ کروںگا۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم عام راستے سے ہٹ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہو ئے اور ہم لوگ عام راستے کی ناکہ بندی کئے رہے۔ یہاں تک کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ حدیبیہ تک پہنچ گئے۔ اس کے بعد صلح حدیبیہ ہو گئی اور مسلمانوں سے جنگ کا راستہ بند ہو گیا۔ ‘‘
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا غو رو فکر
سیدا لا نبیاء صلی علیہ وسلم نے صلح حد یبیہ میں قریش کے مشرکوں سے یہ اقرار لے لیا تھا کہ وہ مسلمانوں سے دس سال تک جنگ نہیں کریں گے اور اس کے بعد دونوں فریقین امن سے رہنے لگے۔ لیکن یہ صلح حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جنگی طبیعت کے خلاف تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’پھر جب قریش سے صلح نامہ ہو گا اور حالات پر امن اور پر سکون ہو گئے تو میں نے سوچا کہ اب کون سی شئے باقی رہ گئی ہے اور کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟ عزت اور کامرانی سے میں اور میری قوم بہت دور ہیں۔ حبشہ کے نجاشی نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اس کے ملک میں بھی مسلمان موجود ہیں۔ مجھے ہر قل کے پاس روم چلے جانا چاہئے اور مشرکانہ مذہب چھوڑ کر مجھے نصرانی یا پھر یہودی ہو جانا چاہئے یا پھر مجھے بھی باقی قریش کی طرح اپنے گھر میںپڑا رہنا چاہئے۔ ایک او رسوچ بار بار ذہن میں آرہی تھی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نماز پڑھنے کا منظر یاد آجاتا تھا۔ میں اسی کشمکش میں تھا اور اپنی زندگی اور اس کے مقصد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکا تھا۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے لئے آنے کی اطلاع ملی تو میں پہاڑوں میں چلا گیا۔ ‘‘
بھائی کے خط نے زندگی بد ل دی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ کر کے مدینہ منورہ واپس تشریف لے گئے تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں واپس آئے تو انہیں اپنے بھائی کا خط ملا ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ آنے کی خبر سن کر میں قریش کے ساتھ پہاڑوں میں روپوش ہو گیا۔ میرا بھائی ولید بن ولید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آیا۔ اس نے مجھے تلاش کیامگر میں نہیں مل سکا۔ پھر بے چارے نے میرے نام اپنا خط چھوڑ دیا۔ اس میں لکھا تھا : ’’ بسم اللہ الرحمن الرحیم اما بعد! میں تم سے نہیں مل سکا اور اسلام کے بارے میں لگا تا ر تمہاری بے خبری اور غفلت پر مجھے حیرت بھی ہے او ر افسوس بھی ہے کہ تم جیسا عقلمند انسان اس پاکیزہ مذہب سے دور ہے۔ اب تو اسلام عملاً نافذ ہو چکا ہے اور اسکی خیر و برکت اور دوسرے بھلے نتائج کو لوگ دیکھ رہے ہیں اور محسوس کر رہے ہیں۔ تمہارے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : ’’ خالد دکھائی نہیں دے رہا ہے ؟ ‘‘میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ اسے لے آئے گا۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تعجب کی بات ہے کہ خالد جیسا عقلمند اور سمجھدار شخص اسلام جیسے پاکیزہ مذہب سے بے خبر ہے اور اب تک دور ہے۔ اگر خالد بن ولیدمسلمانوں کے ساتھ مل کر اللہ کے دین کی مدد کرتااور اہل باطل (کافروں اور مشرکوں) سے مقابلہ کرتا تو یہ اسکے لئے بہتر ہوتا اور ہم اسکو دوسروں پر مقدم رکھتے۔ ‘‘تو اے میرے پیارے بھائی! تم سے جو کچھ اس تاخیر( دیر کرنے) کی وجہ سے چھوٹ گیا ہے۔ اس کی تلافی ( یعنی پورا) کرنے کی کوشش کرو۔‘‘ سیرت الحلبیہ میں ہے اس لئے میرے بھائی اب بھی موقع ہے۔ جو کچھ تم کھو چکے ہو اسے پالو۔ تم بڑے اچھے مواقع کھو چکے ہو۔ میرے خط کو غور سے پڑھ کر تم آگے کا قدم اٹھائو۔‘‘ میرے بھائی کا خط پڑھتے ہی میرے ذہن کی دھند صاف ہو گئی اور میری کشمکس ختم ہو گئی اور اسلام کی حقانیت صاف نظر آنے لگی۔‘‘
دل اسلام کی طرف راغب اور خواب کے ذریعے رہنمائی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ِ مبارک اپنے بھائی کے خط میں پڑھ کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سوچ اور زندگی بدل گئی۔ ذہن پر چھائی ہوئی دھند صاف ہو گئی اور دل اسلام کی طرف راغب ہو گیا۔ انہیں اس بات نے بہت متاثر کیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور سے میرے بارے میں دریافت فرمایا اور انہیں میری اتنی فکر ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ میں اپنے بھائی کے خط سے بہت متاثر ہوا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میرے بارے میں جو کچھ فرمایا اس سے مجھے بہت زیادہ خوشی اور مسرت ہوئی اور مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جانے کی تیاری کرنے لگا۔ اسی دوران میں نے خواب دیکھا کہ میں قحط زدہ اور تنگ شہروں سے نکل کر ہرے بھرے سر سبز و شاداب اور بارونق شہر کی طرف جا رہا ہوں۔ یہ خواب دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ خواب ایک بشارت ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی ہے۔ بعد میں جب میں نے یہ خواب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سنایا تو انہوں نے فرمایا: ’’ قحط زدہ اور تنگ شہر ’’کفر ‘‘ہے اور سر سبز و شاداب شہر’’ اسلام ‘‘ہے اور تمہار نکلنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔
دوستوں کو مدینہ منورہ چلنے کی دعوت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ مبارک نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے دل و دماغ میں اسلام کی شمع روشن کر دی اور خواب کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی تو آپ رضی اللہ عنہ مدینہ ٔ منورہ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب میں نے مدینہ منورہ روانگی کا فیصلہ کیا تو یہ سوچا کہ اپنے دوستوں کو بھی مدینہ منورہ ساتھ چلنے کی دعوت دے دوں۔ اس لئے میں اپنے ایک دوست صفوان بن امیہ کے پا س گیا اور اس سے کہا: ’’ ابے ابو وہب ( یہ صفوان بن امیہ کی کنیت ہے) تم دیکھ رہے ہو کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عرب اور عجم پر چھاتے جا رہے ہیں۔ اس لئے کیوں نہ ہم بھی ان کے پاس جا کر ان کی اطاعت قبول کر لیں۔ اس لئے کہ ان کی سر بلندی حقیقت میں خود ہماری ( قریش کی ) ہی سر بلندی ہو گی۔‘‘ صفوان نے جواب میں کہا: ’’ اگر میرے علاوہ ساری دنیا بھی ان کی اطاعت قبول کر لے گی تب بھی میں اُن ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اطاعت قبول نہیں کروں گا۔‘‘ میں نے اس کا جواب سن کر سوچا۔ جنگ بدرمیں اس شخص کا باپ اور بھائی قتل ہو چکے ہیں۔ اسی لئے یہ ایسا کہہ رہا ہے۔‘‘ ( صفوان بن امیہ نے فتح مکہ میں اسلام قبول کر لیا اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مالِ غنیمت میں سے اتنا زیادہ عطا فرمایا کہ وہ خوش ہو گیا) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں؛ ’’ اس کے بعد میں اپنے سب سے گہرے دوست عکرمہ بن ابو جہل کے پاس گیا اور اس سے بھی یہی بات کہی۔ جو میں نے صفوان بن امیہ سے کہی تھی ۔ اس نے بھی وہی بات کہی جو صفوان نے کہی تھی۔ ان دونوں سے میں نے کہا تھا کہ وہ میری بات کو راز میں رکھیں اور ان دونوں نے وعدہ کیا کہ کسی سے ذکر نہیں کریں گے۔ ( عکرمہ بن ابو جہل نے بھی فتح مکہ میں اسلام قبول کیا اس کے بعد ہر جنگی معرکے میں شامل رہے۔ خلیفہ ٔ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے)
ایک دوست ساتھ چلنے کو تیار ہوئے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنے دوستوں کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دو دوستوں نے انکار کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہ کشمکش کا شکار ہو گئے کہ باقی دوستوں کو کہوں یا نہ کہوں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ دو دوستوں کے انکار کے بعد میں نے سوچا کہ اپنے ایک اور دوست عثمان بن طلحہ سے کہوں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ اس کا باپ اور چچا اور چار بھائی جنگ احد میں قتل ہو ئے تھے۔ اس لئے کہیں وہ بھی انکار نہ کر دے۔ پھر میں نے سوچا وہ میر اد وست ہے اور کہنے میں کیا حرج ہے؟ اس لئے میں اس کے پاس گیا اور اس سے کہاجو میں نے اپنے دونوں دوستوں سے کی تھی۔ عثمان نے میری بات قبول کر لی اور تیار ہو گیا اور ہم نے طے کیا کہ اکیلے اکیلے روانہ ہوں گے اور ایک مخصوص جگہ طے کر لی کہ جو بھی وہاں پہلے پہنچ جائے گا وہ دوسرے کا انتظار کر ے گا۔ پھر جب دوسرا آجائے گا تو دونوں ایک ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہوں گے۔ ‘‘
حضرت عمر وبن عاص رضی اللہ عنہ بھی ساتھ ہو گئے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضری کے لئے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ تیار ہو گئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں؛ ’’ اگلے دن صبح ہونے سے پہلے ہی ہم دونوں طے شدہ مقام پر آکر ملے اور مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ جب ہم مقام ’’ ھدہ ‘‘ پر پہنچے تو وہاں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ ملے۔ ہم دونوں کو دیکھ کر انہوں نے مرحبا ( خوش آمدید) کہا اور ہم دونوں نے بھی مرحبا کہا۔ اس کے بعد انہوں نے پوچھا: ’’ آپ دونوں حضرات کہا ں جا رہے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا: ’’ ہم اسلام قبول کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’ میں بھی اسلام قبول کرنے جا رہا ہوں۔‘‘ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں نے پوچھا! اے ابو سلیمان !( یہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) تم کہاں جا رہے ہو؟ ‘‘حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ’’ اللہ کی قسم میرے سامنے تو ( حق کا ) راستہ ظاہر ہو گیا ہے اور اسلام کا معاملہ صاف ہو گیا ہے۔ وہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم )یقینا اللہ کے نبی ہیں۔ اس لئے چلو اور مسلمان ہو جائو۔ آخر کب تک (ہم حق سے بھاگتے رہیں گے اور اسلام کو چھو ڑکر کفر و شرک کے اندھیرے میں بھٹکتے رہیں گے) ‘‘یہ سن کر میں نے کہا: ’’ میں تو خود بھی اسی ارادے سے نکلا ہوں ۔ ‘‘
سید الانبیاء ﷺ کی خوشی اور مسرت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے کے لئے یہ تینوں حضرات رضی اللہ عنہم مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ تینوں حضرات قریش کے بہت بہادر جوا ن تھے۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ قریش کی بہت بڑی طاقت تھے۔ اللہ تعالیٰ آج اس طاقت کو مدینہ منورہ کی طرف اس لئے رواں دواں کئے ہوئے تھا کہ یہ طاقت اسلام کو مستحکم کرنے میں بڑی مدد گار ہوگی اور آگے کے حالات اس بات کے گواہ ہیں کہ ان تینوں حضرات رضی اللہ عنہم نے اسلام کے استحکام میں بہت زبردست کردار ادا کیا ہے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اس طرح ہم تینوں کا ساتھ ہو گیا اور ہم تینوں سفر کرتے ہوئے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے اور مقامِ’’ حرہ ‘‘میں اپنی سواریاں بٹھا کر خیمے لگا دیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے ہماری آمد کی اطلاع دے دی۔ یہ خبر سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہوئے اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’ مکہ مکرمہ نے اپنے جگر کے ٹکڑے تمہارے سامنے ڈال دیئے ہیں۔ ‘‘اس کے بعد میں نے اور میرے ساتھیوں نے غسل کر کے بہترین کپڑے پہنے ۔ اسی دوران میرا بھائی ولید بن ولید رضی اللہ عنہ خوش خوش ہمارے پاس آیا اور بولا : ’’ جلدی کرو!کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم لوگوں کے آنے کی اطلاع مل گئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہیں اور تمہاری آمد پر مسرت کا اظہار کیا ہے اور تم لوگوں کا انتظار فرما رہے ہیں۔ ‘‘
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اسلام کی آغوش میں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی اور اظہار مسرت اور انتظار کے بارے میںسن کر ان تینوں حضرات رضی اللہ عنہم کی عجیب حالت ہو گئی۔ ان کے اندر ایک ساتھ خوشی ، فخر اور شرمندگی کے احساسات پید ا ہو گئے اور وہ جلدی سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خد مت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہو گئے ۔ جیسے جیسے یہ حضرات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچتے جا رہے تھے ویسے ویسے ان کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوتی جا رہی تھیں۔ ( ان احساسات کا اظہار بعد میں حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ نے کیاتھا) حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اب ہم تیزی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوئے۔ جب میںرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے منور ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دور سے آتا دیکھ کر مسکرارہے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کیا؛ ’’ السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکراتے رہے اور پھر فرمایا ؛ ’’وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمام تعریفیں صرف اسی اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہیں ( اسلام قبول کرنے کی ) ہدایت فرمائی۔ میں جانتا تھا کہ تم ایک عقل مند آدمی ہو۔ اسی لئے میری آرزو تھی اور مجھے امید تھی کہ تم خیر(بھلائی) کی طرف ضرور آئو گے۔‘‘ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا؛ ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ میری ان غلطیوں کو معاف فرما دے جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر آکر کی تھیں۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسلام ( قبول کرنا پچھلی) تمام غلطیوں اور گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ میں نے پھر یہی درخواست کی؛ ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرمائیں۔ ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! تُو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ان تمام غلطیوں اور خطائوں کو معاف فرما دے جو خالد نے تیری راہ کو روکنے کے لئے کی تھی۔ ‘‘
حضرت عثمان بن طلحہ اور حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم بھی اسلام کی آغوش میں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسلام قبول کر لیا۔ ( حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی روایت پوری ہوئی) ایک اور روایت میں حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ہم مدینہ منورہ پہنچے اور’’ حرہ ‘‘کے مقام پر ہم تینوں نے قیام کیا اور یہاں ہم نے غسل کر کے بہترین لباس پہنے اسی وقت عصر کی اذان ہو گئی۔ ہم لوگ وہاں سے روانہ ہو کر ( مسجد نبوی میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے جگمگا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور وہ سب بھی خوشی سے سرشار تھے۔ پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور اسلام قبول کیا۔ پھر حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہوں نے اسلام قبول کیا۔ پھر میں آگے بڑھا۔ اللہ کی قسم ! میرا شرمندگی کے مارے برا حال تھا۔ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف میری نگاہیں نہیں اٹھ پا رہی تھیں۔‘‘ پھر میں نے بھی اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اس شرط پر بیعت کی کہ اللہ تعالیٰ میرے تمام پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اسلام پچھلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت بھی تمام گذشتہ غلطیوں کو دھو ڈالتی ہے۔‘‘ حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ اللہ کی قسم ! جب سے میں نے اور خالد نے اسلام قبول کیا۔ تب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مقدم رکھا اور خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی مقدم رکھا۔ پھر خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا اور میں نے ملک مصر فتح کیا۔ ‘‘
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!



