37 سیرت سید الانبیاء ﷺ
حجتہ الوداع یا حجتہ البلاغ یا حجتہ اسلام
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
حج کی فرضیت، حجتہ الوداع یا حجتہ البلاغ یا حجتہ اسلام، سید الانبیاء ﷺ کی حج کی تیاری، سید الانبیاء ﷺ کی حج کے لئے روانگی، ذو الحلیفہ سے احرام باندھا، مکہ مکرمہ میں داخلہ، خانہ کعبہ کی زیارت اور طواف، مقامِ ابراہیم پر نماز اور صفا ، مروہ کی سعی، خطبہ حجتہ الوداع، قرآن اور سنت چھوڑے جا رہا ہوں، جو حاضر ہیں وہ اُن تک پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں، آج اسلام مکمل ہو گیا، تعلیمی حج
حج کی فرضیت
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے 10 ہجری میں حج کیا۔ حج کی فرضیت کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف رائے ہے۔ اکثر علمائے کرام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ 6 ہجری میں حج فرض کر دیا گیا تھا۔ علامہ رافعی نے باب سیر میں اسی قول کو درست قرار دیا ہے اور علامہ نووی نے بھی اسی قول کی پیروی کی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ حج 9 ہجری میں فرض ہوا اور ایک قول کے مطابق10 ہجری میں فرض ہوا۔امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے اسی قول کو لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فوراً ہی اس فرض کی ادائیگی ہوئی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ہجرت سے پہلے حج فرض ہو چکا تھا۔ مگر یہ قول بہت غریب ہے۔
یمن کی طرف امراء ( گورنروں ) کو بھیجنا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں مختلف قبائل کے وفود آنے کا سلسلہ جاری تھا۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو امراء ( گورنر ) بنا کر بھیجا۔ یمن میں دو بڑے صوبے ( ریاست) تھے۔ اور دونوں حضرات کو الگ الگ صوبوںمیں روانہ فرمایا اور ان دونوں سے فرمایا: ’’ تم دونوں آپس میں آسانی پیدا کرنا، تنگی نہ کرنا، اور بشارت دینا نفرت پید ا نہ کرنا۔ ‘‘ایک اور روایت میں ہے کہ فرمایا: ’’ ایک دوسرے کی بات ماننا اور اختلاف نہ کرنا۔ ‘‘پھر دونوں اپنے اپنے علاقے کی طرف چل دیئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’ تم اہل کتاب ( عیسائیوں) کے پاس جا رہے ہو۔ پس جب ان کے پاس پہنچنا تو انہیں اسلام کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری بات مان لیں اور اسلام قبول کر لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض کیں ہیں۔ پھر وہ اس بات کو مان لیں تو انہیں یہ بھی بتانا کہ ان پر صدقہ ( زکوٰۃ) فرض کیا گیا ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے غریبوں اور فقراء کو دیا جائے گا۔ پھر اگر وہ تمہاری بات مان جائیں تو ان کے بہترین اموال سے بچنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا۔ کیوں کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب ( رکاوٹ) نہیں ہوتی ہے۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث مکمل ہوئی۔ آگے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں: ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف روانہ فرمایاتو مجھے سواری پر سوار کروایا اور پیدل میرے ساتھ وصیت کرتے ہوئے نکلے۔ میں نے ادب کی خاطر سواری سے اترنا چاہا تو مجھے روک دیا اور سوار رہنے کا اشارہ کیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصیت سے فارغ ہو گئے تو مجھ سے فرمایا: ’’ اے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ! ممکن ہے اس سال کے بعد تمہاری مجھ سے ملاقات نہ ہو سکے اور شاید جب تم آئو تو تمہارا گزر میری مسجد اور قبر پر سے ہو۔ ‘‘یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچھڑنے کا خوف کر کے رونے لگا۔ مجھے روتا ہوا دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک مدینہ منورہ کی طرف کر کے فرمایا: ’’میرے سب سے قریب وہ لوگ ہیں جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور متقی ہیں۔ چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ کہیں بھی ہوں۔‘‘ ایک اور روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ !مت رو، رونے کے وقت ہوتے ہیں۔‘‘
فیصلہ کس طرح کرو گے؟
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ کرتے ہوئے بہت سی وصیتیں کیں۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آ گے فرماتے ہیں: ’’ اپنی وصیت میں دس باتوں کی مجھے تاکید کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ 1) کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ بنانا۔ چاہے تمہیں قتل کر دیا جائے، یا جلا دیا جائے 2) اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا۔ چاہے وہ تجھے اپنا مال اور بیو ی بچے چھوڑ دینے کا حکم دیں 3) فرض نماز کو جان بوجھ کر نہیں چھوڑنا ۔ بے شک جو شخص فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ذمہ داری سے بری ہو جاتا ہے 4) شراب نوشی نہیں کرنا۔ بے شک یہ ہر برائی کی جڑ ہے 5) معصیت سے بچنا، کیوں کہ معصیت اللہ کی ناراضگی کو جائز کرتی ہے 6) جنگ میں فرار اختیار کرنے سے بچنا۔ چاہے (سب) لوگ ہلاک ہو جائیں 7) جب لوگوںکو موت آئے اور تم ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہنا۔ 8) اپنے اہل و عیال پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا 9) اپنے عصا کو ادب کی خاطر نہ اٹھانا 10) اور اللہ کی خاطر ان سے محبت لوگوں سے محبت کرنا۔‘‘ اس کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یمن روانہ فرمانے لگے تو فرمایا: ’’اے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ !اگر تمہیں کوئی فیصلہ کرنا پڑے تو تم کیا کرو گے؟ ‘‘میں نے جواب دیا : ’’میں کتاب اللہ ( قرآن پاک) کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر وہ چیز کتاب اللہ میں موجود نہ ہو تو کیا کرو گے؟ ‘‘ میں نے عرض کیا: ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر وہ چیز سنت ِ رسول میں بھی موجود نہ ہو تو کیا کرو گے؟ ‘‘میں نیعرض کیا: ’’ پھر میں بغیر کوتاہی کئے اجتہاد کروں گا۔ ‘‘یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: ’’ اس اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم )کے ایلچی کو اس بات کی توفیق دی کہ جس سے اللہ کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) راضی ہوتا ہے۔‘‘
سریہّ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن کی طرف
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع سے پہلے ماہِ رمضان 10 ہجری میں حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا لشکر دے کر یمن کی جانب روانہ فرمایا اور خود اپنے دست مبارک سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سرپر عمامہ باندھا۔ جس کے تین پیچ تھے۔ عمامہ کا ایک کنارہ بقدر ایک ہاتھ کے سامنے لٹکایا اور بقدر ایک بالشت کے پیچھے چھوڑا اور یہ فرمایا: ’’ سیدھے چلے جائو اور کسی جانب توجہ مت کرنااور وہاں جا کر جنگ شروع مت کرنا۔ بلکہ پہلے اسلام کی دعوت دینا۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو جنگ مت کرنا۔ اللہ کی قسم !تمہارے ہاتھ سے ایک شخص بھی ہدایت پا جائے تو یہ دنیا اور آخرت سے بہتر ہے۔‘‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ تین سو سواروں کو لے کر روانہ ہوئے اور مقامِ’’ قناۃ ‘‘پر جا کر پڑائو ڈالا اور اسی جگہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مختلف لشکر مختلف اطراف و جوانب میں روانہ فرمائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا پہلا لشکر مذجج میں داخل ہوا اور مالِ غنیمت میں بہت سے بچے ، عورتیں اونٹ اور بکریاں لے کر آئے۔ ان سب کو ایک جگہ جمع کر دیا گیا۔ پھر ایک دوسرے قبیلہ سے مقابلہ ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی ۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مسلمانوں پر پتھر برسائے۔ تب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حملہ کیا۔ جس میں ان کے بیس آدمی مارے گئے اور یہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ وقفہ بعد ان کا تعاقب کیا اور دوبار ہ اسلام کی دعوت دی جو ان لوگوں نے قبول کر لی اور وعدہ کیا کہ اللہ کا حق ادا کریں گے اور صدقات ادا کریں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا اور انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی عجلت میں مکہ مکرمہ روانگی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ماہِ رمضان المبارک 10 ہجری میں یمن کی جانب روانہ فرمایا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ لگ بھگ ڈھائی تین مہینے یمن میں مصروف رہے۔ اسی دوران سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم ’’حجتہ الوداع ‘‘کے لئے روانہ ہوئے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روانگی کی اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے مالِ غنیت جمع کر کے اس کا خمس نکالا اور باقی چار حصے لشکر میں تقسیم کر دیئے اور اپنے بجائے دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سپہ سالار مقرر کر کے عجلت کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے اور لشکر سے فرمایاکہ وہ بھی مکہ مکرمہ پہنچ جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ تیزی سے سفر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پہنچے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ حجتہ الوداع میں شریک ہوئے۔
حجتہ الوداع یا حجتہ البلاغ یا حجتہ اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہِ شعبان کے آخری دنوں یا ماہِ رمضان کے شروعاتی دنوں میں غزوہ تبوک سے 9 ہجری میں واپس مدینہ منورہ آئے۔ غزوہ تبوک نے پوری دنیا میں اور خاص طور سے عالم عرب میں یہ ثابت کر دیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمان دنیا کی سب سے بڑی طاقت( سوپر پاور) بن چکے ہیں۔ اس بات کو ہر کوئی سمجھ چکا تھا۔ اس لئے غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد پورے عالم عرب سے قبیلوں کے وفود سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد یعنی ماہِ رمضان 9 ہجری سے لے کر ذی القعدہ 10 ہجری تک لگ بھگ پندرہ 15مہینے مدینہ منورہ میں ہی تشریف فرما رہے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبیلوں کے وفود سے ملاقات کرتے رہے۔ ساتھ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور وفود کے اراکین کی تعلیم و تربیت کرتے رہے اور جن علاقوں کے قبیلے شورش پر آمادہ تھے ان کی طرف سرایا بھیجتے رہے۔ اسی دوران 9 ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق کی امارت میں حج کروایا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت آچکی تھی اور مکہ مکرمہ فتح ہو چکا تھا۔ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو چکے تھے۔ کفر اور شرک بالکل خاتمے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ قبیلوں کے وفود دور دراز سے آ ا ٓکر کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید اور رسالت کا اقرار کر چکے تھے۔ فرائض نبوت مکمل ہو چکے تھے اور احکام اسلام کی قولاً اور عملاً تعلیم مکمل ہو چکی تھی۔ 9 ہجری میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھیج کر خانہ کعبہ کو جاہلیت کی رسموں سے بالکل پاک کر دیا تھا۔ اب وقت آگیا تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس حج کے فرض کو ادا کریں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حج کو’’ حجتہ الوداع‘‘ کہا گیا ۔’’ حجتہ البلاغہ ‘‘بھی کہا گیا اور’’ حجتہ الاسلام ‘‘بھی کہا گیا ہے۔ اسے حجتہ الوداع ( حج الوداع) اس لئے کہا گیا کہ اس حج میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے’’ وداع‘‘ ( رخصت ) ہوئے اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حج نہیں کیا ( کیوں کہ چند ماہ بعد ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں چلے گئے) ’’حجتہ البلاغہ‘‘ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس حج میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے تمام انسانوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور تمام ایک لاکھ سے زیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو وصیت کی کہ پوری دنیا میں اللہ کا پیغام ( اسلام ) پہنچائیں۔ ’’حجتہ الاسلام ‘‘ اس لئے کہا گیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حج میں اسلام کے مکمل ہونے کا اعلان فرمایا۔
سید الانبیاء ﷺ کی حج کی تیاری
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس مقصد کے لئے لگ بھگ 23برسوں سے مسلسل جدو جہد کر رہے تھے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے شمار تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا پیغام اسلام تمام لوگوں تک پہنچا دیا تھا اور عملاً اسلام نافذ ہو چکا تھا ۔ اب وقت آگیا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حج کے فریضہ کو خود عملی طور پر انجام دیں تا کہ امت کو ہمیشہ کے لئے معلوم ہو جائے کہ حج کس شان سے ہونا چاہیے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا کیا طریقہ تھا ۔’’ مناسک حج ‘‘میں اول سے آخر تک توحید اور اللہ کو راضی کرنے کا عمل تھا اور شرکیہ کلمات اور جاہلیت کی رسول سے بالکل پاک تھا ۔ اسی وجہ سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ میں لا شریک لک کا لفظ خاص طور سے فرماتے تھے۔ تاکہ شرک کا شک و شبہ بھی نہ رہ جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ اس طرح پڑھتے تھے۔ لبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ اور تمام قبائل میں پہلے سے ہی اعلان کروادیا تھا کہ اس سال اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم خود بہ نفس نفیس حج کے لئے تشریف لے جانے والے ہیں۔ اس لئے مدینہ منورہ کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ساتھ آس پاس کے تمام قبائل سے مسلمان آ آکر مدینہ منورہ میں جمع ہونے لگے۔ تا کہ وہ بھی سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں حج کرنے کا شرف حاصل کر سکیں۔ صرف آس پاس کے قبائل ہی نہیں بلکہ پورے عالم عرب سے مسلمان آکر مدینہ منورہ کے آس پاس پڑائو ڈالنے لگے۔
سید الانبیاء ﷺ کی حج کے لئے روانگی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا اعلان فرمایا تو تمام عالم عرب سے انسانوں کا سیلاب امڈ پڑا ۔ ہزاروں لوگ روزانہ آکر مدینہ منورہ کے آس پاس پڑائو ڈالنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی لگاتار بغیر تھکے اور بغیر رکے محنت اور جدو جہد کا نتیجہ تھا کہ لگ بھگ 23برس پہلے پوری دنیا میں اکیلے تنِ تنہا سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کی دعوت کو لے کر کھڑے ہوئے ۔ اس وقت پوری دنیا میں کفر اور ظلمت کا اندھیر چھایا ہوا تھا۔ ہر طرف سے مخالفین کا حملہ تھا۔ مسلسل محنت اور جدو جہد کے بعد لگ بھگ چودہ سال بعد غزوہ بدر کے وقت چند ہزار صحابہ کرام اور صحابیات رضی اللہ عنہم تھے۔ ان میں سے لگ بھگ 320نے اسلام کی پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل نہ تھکنے والی جدو جہد جاری رہی اور جب اعلان ِ نبوت کے بعد لگ بھگ 21برس بعد مکہ مکرمہ فتح ہو ا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دس ہزار 10,000سے زیادہ جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور آج جب لگ بھگ تیئیس 23برس بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حج کی تیاری کر رہے ہیں تو مدینہ منورہ اور آس پاس میں ایک لاکھ چودہ ہزار1,14,000کے لگ بھگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ساتھ جانے کے لئے موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت ابودجانہ سماک بن حرشہ رضی اللہ عنہ یا حضرت سباع بن عرفطہ غفاری رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنایا۔
ذو الحلیفہ سے احرام باندھا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی القعدہ مہینے کے آخری دنوںمیں جمعرات کے دن غسل فرما کر تہبند اور چادر زیب تن فرمائی اور نماز ظہر مسجد نبوی میں پڑھ کر مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے اور اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا اور تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہما کو ساتھ میں لیا۔ مدینہ منورہ سے لگ بھگ چھ میل دور اہل مدینہ کی میقات ،’’ ذو الحلیفہ ‘‘ پر پہنچے ا ور رات بھر وہیں قیام فرمایا۔ پھر احرام کے لئے صبح غسل فرمایا اور دو رکعت نماز ادا فرمائی اور اپنی اونٹنی قصوا پر سوار ہو کر احرام باندھا اور بلند آواز سے تلبیہلبیک اللھم لبیک لا شریک لک لبیک۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔ پڑھتے ہوئے مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہی : ’’میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے سر اٹھا کر چاروں طرف نظر دوڑائی تو آگے پیچھے دائیں بائیں جہاں تک نظر جا رہی تھی انسان ہی انسان نظرآرہے تھے۔ امام احمد بن حسین بیہقی کی روایت میں ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سفر کر رہے تھے اور دوسری روایتوں میں ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم’’ حجتہ الوداع ‘‘میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی نماز دو رکعت پڑھی۔
مکہ مکرمہ میں داخلہ، خانہ کعبہ کی زیارت اور طواف
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم 4ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے ۔ فجر کی نماز مقامِ ’’ذی طوی‘‘ میں پڑھی اور غسل فرمایا پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان بنو ہاشم کے لڑکوں نے تشریف آوری کی خبر سنی تو خوشی سے دوڑتے ہوئے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت محبت اور پیار سے کسی کو آگے ، کسی کو پیچھے اور کسی کو دائیں اور بائیں اپنی اونٹنی پر بٹھا لیا۔ چاشت کے وقت یعنی جب سورج بلند ہو گیا تھا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں داخل ہوئے ۔ جب خانہ کعبہ پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے اللہ تعالیٰ!تُو سلامتی دینے والا ہے۔ اے ہمارے رب ہمیں سلامتی کیساتھ زندہ رکھ۔ اے اللہ تعالیٰ! اس گھر کی عظمت و شرف اور عزت و ہیبت اور زیادہ کر اور جو اس گھر کا حج اور عمرہ کرے تو اس کی بزرگی اور شرف و عظمت کو زیادہ کر۔‘‘اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس تشریف لے گئے تو حجر اسود پر ہاتھ رکھ کر اس کو بوسہ دیا اور پھر خانہ کعبہ کا طواف شروع کیا۔ شروع کے تین چکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’رمل‘‘ کیا۔ یعنی سینہ تان کر تین پھیرے کئے اور باقی چار پھیرے عام انداز میں پورے کئے۔ ہر چکر یا پھیرے میں جب حجر اسود کے پاس پہنچتے تھے تو کبھی چھڑی سے حجر اسود کی طرف اشارہ کر کے چھڑی کو چوم لیتے تھے اور کبھی ہاتھ سے حجر اسود کو چھو کر ہاتھ کو چوم لیتے تھے اور کبھی حجر اسودپر اپنے ہونٹ مبارک رکھ کر چوم لیتے تھے اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھڑی سے بھی استلام کیا ، ہاتھ سے بھی استلام کیا، اور لب مبارک سے بھی استلام کیا اور کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکن یمانی کا بھی استلام کیا۔
مقامِ ابراہیم پر نماز اور صفا ، مروہ کی سعی
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم طواف سے فارغ ہوئے تو مقام ابراہیم کی طرف آئے اور اس کے پیچھے دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ پھر’’ وتخدو من مقام ابراہیم مصلیٰ‘‘ کی تلاوت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رکعتوں میں قل ہو اللہ احد اور قل یا یھا لکٰفرون کی تلاوت فرمائی۔ پھر حجر اسود کو استلام فرمایا اور سامنے کے دروازے سے صفا اور مروہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی: ( ترجمہ) ’’بیشک صفا اور مروہ اللہ کی دین کی نشانیوں میں سے ہے۔ پھر فرمایا: ’’ جس سے اللہ نے آغاز فرمایا۔ ہم بھی اس سے آغاز کرتے ہیں اور صفا پہاڑی پر چڑھ گئے۔ چڑھنے کے بعد’’ خانہ کعبہ‘‘ یعنی’’ بیت اللہ‘‘ کی طر ف دیکھا اور تکبر کہی پھر کہا ۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئٍ قدیر لا الہ الا اللہ وحدہ انجر وعدہ ونصر عبدہ وھرم الاحزاب وحدہ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ پھر اسی کلام کو پڑھنے لگے۔ پھر صفا پہاڑی سے نیچے اترنے لگے اور جب نیچے وادی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیر مبارک ٹکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوڑنے لگے اور مروہ کے قریب پہنچ کر عام حالت میں چڑھنے لگے۔ مروہ پہاڑی پر چڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کیطرف دیکھا اور تکبیر کہی اور وہی پڑھا جو صفا پہاڑی پر پڑھا تھا اور دعامانگی۔ پھر مروہ سے اترے اور صفا پر چڑھے۔ اس طرح سات مرتبہ دونوں پہاڑیوں پر چڑھے جب ساتویں چکر میں مروہ پہاڑی پر آئے تو فرمایا’’ جو قربانی کا جانور ساتھ نہیں لائے ہوں۔ وہ احرام کھول دیں۔‘‘
مِنیٰ اور عرفات میں قیام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آٹھویں ذی الحجہ جمعرات کے دن منیٰ میں تشریف لے گئے اور پانچ نمازیں ظہر ، عصر ، مغر ب ،عشاء اور فجر منیٰ میں ادا فرما کر نویں ذی الحجہ جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ عرفات میں تشریف لائے۔ زمانہ جاہلیت میں چونکہ قریش اپنے آپ کو سارے عرب میں افضل اوراعلیٰ شمار کرتے تھے۔ اس لئے وہ میدان ِ عرفات کے بجائے مزدلفہ میںقیام کرتے تھے اور دوسرے تمام عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسلام میں مساوات کی تعلیم فرمائی ہے۔ اس لئے قریش کے لئے یہ خصوصیت گوارا نہیں فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ۔ ثم افیضو من حیث افاض الناس : (ترجمہ)’’ تم بھی وہیں سے پلٹ آئو جہاں سے سب لوگ پلٹ کر آتے ہیں۔‘‘ یعنی قریش بھی تمام لوگوںکے ساتھ میدان عرفات میں ہی قیام کریں۔ میدان عرفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لئے مسلسل دعائیں مانگتے رہے۔
خطبہ حجتہ الوداع
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان ِعرفات میں پہنچ کر ایک کمبل کے خیمے میں قیام فرمایا اور مسلسل دعائوں میں مصروف رہے۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خیمے سے باہر آئے اور اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ہر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا فرمائی اور اس کے بعد سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مجمع سے خطاب فرمایا: ’’ اے لوگو! میری بات غور سے سن لو۔ کیوں کہ شاید اس سال کے بعد اس مقام پر پھر کبھی میر ی تم سے ملاقات نہ ہو۔ اے لوگو!قیامت تک کے لئے تمہار ا( تمام انسانوں کا ) خون اور مال ( ایک دوسرے پر ) اسی طرح حرام ہے جس طرح آج کا دن اور یہ مہینہ تم پر حرام ہے۔ ( یعنی غلط اور نا جائز طریقے سے خون اور مال حرام ہے) تم اپنے رب سے ضرور ملو گے اور وہ تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔میں نے اس کا پیغام ( اسلام اور قرآن پاک) پہنچا دیا ۔جس کے پاس کسی کی امانت رکھی ہو۔ اسے چاہئے کہ اس کے مالک کو لوٹا دے۔ ہر قسم کا سود ختم کر دیا گیا ہے۔ البتہ اصل رقم تم لے سکتے ہوتا کہ تم پر ظلم نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے اور سود بالکل ہی ساقط ہے اور سب سے پہلے میں اپنے چچا حضرت عباس بن عبدا لمطلب رضی اللہ عنہ کا سود ختم کرتا ہوں۔ ( جنہوں نے ان سے قرض لیا ہے وہ صرف قرض ہی ادا کریں) اسی طرح زمانہ جاہلیت میں جتنے خون ہوئے ہیں وہ سب بھی ساقط کر دیئے گئے ہیں اور اب کوئی بھی زمانہ جاہلیت کے خون کا بدلہ اور انتقام نہیں لے گا۔ اور سب سے پہلے میں اپنے رشتہ دار ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا خون معاف کرتا ہوں۔ ‘‘
شیطان ابلیس کی مایوسی اور خواتین کے حقوق
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ جاری تھا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دم بخود بیٹھے سن رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے لوگو!اب شیطان اس بات سے ہمیشہ کے لئے مایوس ہو چکا ہے کہ تمہاری اس سر زمین ( مکہ مکرمہ ) میں اللہ واحد کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے۔ البتہ اس کے سوا تمہارے جو اعمال ہیں جن کو تم معمولی درجے کا سمجھتے ہو ان کے متعلق وہ اس بات سے مطمئن ہے کہ تم اس کی بات کو مانو گے۔ اسی لئے اپنے دین اور ایمان کی حفاظت کیلئے ہمیشہ شیطان سے ہوشیار رہو۔ اے لوگو! جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا اسی دن اس نے اپنی کتاب میں بارہ مہینے مقرر کر کے لکھ دیئے تھے۔ ان میں چار مہینے حرام ہیں۔ تین مہینے مسلسل ہیں۔ ( یعنی ذی القعدہ ، ذی الحجہ اور محرم الحرام) اور رجب المرجب ہے۔ اے لوگو! تمہاری بیویوں پر تمہار احق ہے اور تم پر ان کا حق ہے۔ ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ تمہاری مرضی کے خلاف تمہارے گھر کوئی غیر نہ آئے اور ان پر یہ فرض ہے کہ وہ بدکاری نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کریں تو اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے کہ تم ان کی خواب گاہوں کو چھوڑ دو اور ان سے واسطہ نہ رکھو اور معمولی مار مارو کہ بدن پر نشان نہ پڑے۔ اگر اس سزا سے وہ باز آجائیں تو تم فراخ دلی کے ساتھ ان پر خرچ کرو اور کھلاؤ پلاؤ اور پہناؤ اور اچھا سلوک کرو اور ہمیشہ ایک دوسرے کو عورتوں کیساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کرتے رہو۔ وہ تمہاری دست ِ نگر ہیں۔ ( یعنی تمہاری نگرانی میں ہیں) خود اپنا کچھ نہیں رکھتیں اور تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر اپنے نکاح میں لیا ہے اور اللہ کے کلمے کے ساتھ ان کی فروج کو حلال کیا ہے۔
قرآن اور سنت چھوڑے جا رہا ہوں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ جاری تھا اور پروانہ رسالت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پوری توجہ سے سن رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے لوگو! اچھی طرح میری باتوں کو سمجھ لو اور غور سے سن لو۔ میں نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے اور تم میں ،میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر اس پر عمل کرتے رہو گے تو کبھی سیدھے راستے سے نہیں بھٹکو گے اور وہ اللہ کی کتاب ( قرآن پاک) ہے اور اللہ کے رسول کی سنت ( حدیث) ہے۔ اے لوگو! میری بات کو اچھی طرح سن لو۔ میںنے اللہ کا پیغام پہنچا دیا ہے۔ اچھی طرح سمجھ لو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اورتمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ کسی شخص کے لئے اپنے بھائی کی چیز زبردستی لینا جائز نہیں ہے۔ ہاں وہ اپنی مرضی اور خوشی سے دے تو لے لیا کرے اور اپنے اوپر ظلم نہ کرنا۔ اے اللہ تعالیٰ ! کیا میں نے تیرا پیغام پوری طرح پہنچا دیا ہے؟‘‘ تمام لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام کا مجمع ایک پکار اٹھا: ’’بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا پیغام پورا پہنچا دیا ہے۔ ‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا: ’’ اے اللہ !تُو گواہ رہنا۔‘‘
جو حاضر ہیں وہ اُن تک پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حجتہ الوداع کے خطبے کے بارے میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ حرمت والے چار مہینوں کے بارے میں بتانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: ’’ یہ کون سا مہینہ ہے؟‘‘ہم نے عرض کیا : ’’ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے گمان کیا کہ شاید اس مہینے کا نام دوسرا فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟‘‘ہم نے عرض کیا: ’’ بے شک کیوں نہیں ۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ کون سا شہر ہے؟ ‘‘ہم نے عرض کیا: ’’اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہمیں یہ خیال پیدا ہونے لگا کہ دوسرا نام ارشاد فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا یہ شہر مکہ مکرمہ نہیں ہے؟ ‘‘ہم نے عرض کیا: ’’بے شک شہر مکہ مکرمہ ہے۔ ‘‘پھر فرمایا: ’’آج کون سا دن ہے؟‘‘ ہم نے عرض کیا : ’’اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے تو ہم سمجھے کہ شاید دوسرا نام بتائیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا آج یوم النحر نہیں ہے؟‘‘ ہم نے کہا : ’’بے شک ہے۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری آبروایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہے، جیسے ان دن کی حرمت ہے۔ اس شہر کی حرمت ہے اور اس مہینے کی حرمت ہے اور بہت جلدتم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ کیا تم میرے بعد گمراہی کی جانب پلٹ کر ایک دوسرے کی گردن اڑانے لگو گے؟ سن لو جو یہاں حاضر ہے ۔ وہ یہ باتیں ان لوگوں تک پہنچا دیںجو حاضر نہیں ہیں۔ کیوں کہ بعض اوقات پہچانے والے سے زیادہ سننے والا یاد رکھتا ہے۔‘‘علامہ عماد الدین ابن کثیر نے تاریخ ابن کثیر میں لکھا ہے کہ یہ خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں فرمایا۔
آج اسلام مکمل ہو گیا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں اپنی اونٹنی قصویٰ پر بیٹھے لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کا نزول کیا اور یہ آیت نازل ہوئی: (ترجمہ ) ’’ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہے۔‘‘ یہودیوں میں سے بعض لوگوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’ اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو اس دن کو ( جس دن یہ آیت نازل ہوئی) ہم ضرور عید کے طور پر مناتے۔ ‘‘حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔: ’’کون سی آیت کے بارے میں کہتے ہو؟ ‘‘ یہودیوں نے جواب دیا: ( ترجمہ )’’ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔ ‘‘( سورہ المائدہ آیت نمبر3) اس آیت کے متعلق کہتے ہیں ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ مجھے اچھی طرح معلوم ہے یہ آیت کس جگہ نازل ہوئی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میدانِ عرفات میں قیام فرما تھے۔‘‘
مزدلفہ میں قیام اور منیٰ میں کنکریاں مارنا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ مکمل کرنے کے بعد ظہر اور عصر کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں سے ادا فرمائی۔ پھر ’’ موقف ‘‘ تشریف لے گئے اور جبلِ رحمت کے نیچے سورج ڈوبنے تک امت کے لئے دعائوں میں مصروف رہے۔ سورج ڈوبنے کے بعد میدانِ عرفات سے لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ ’’مزدلفہ‘‘ پہنچے۔ یہاں پہلے مغرب پھر عشاء کی نماز ایک اذان اور دو اقامتوں سے ادا فرمائی اور ’’ مشعر حرام‘‘ کے پاس رات بھر امت کے لئے دعائیں مانگتے رہے۔ اور سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے منیٰ کے لئے روانہ ہو گئے اور وادیٔ مُحَسّر کے راستہ سے منیٰ میں ’’جمرہ‘‘ کے پاس تشریف لائے اور کنکریاں ماریں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے فرمایا: ’’ حج کے مسائل کو سیکھ لو ۔ میں نہیں جانتا کہ شاید اس کے بعد دوسرا حج کر سکوں گا۔‘‘
قربانی اور بال اتروانا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں بھی ایک طویل خطبہ دیا ۔ جس میں عرفات کے خطبہ کی طرح بہت سے مسائل و احکام کا اعلان فرمایا اور فرمایا: ’’ اے لوگو!بے شک تمہارا رب ایک ( اللہ تعالیٰ) ہے اور بے شک تمہارا باپ ( حضرت آدم علیہ السلام ) ایک ہے۔ سن لو ، کسی عربی کو کسی عجمی پر ، کسی سرخ کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی سرخ پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ فضیلت صرف اس کی ہے جو تقویٰ والا ہے یعنی متقی ہے۔ یعنی اس کی فضیلت تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ ( ہم نے اوپر جو صحیح بخاری کا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی روایت والا خطبہ پیش کیا ہے غالباً وہ منیٰ میں دیئے گئے خطبہ کا ایک حصہ ہے کیوں کہ اس میں’’ یوم النحر‘‘ کا ذکر ہے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر نے تاریخ ابن کثیر میں لکھا ہے کہ یہ خطبہ منیٰ میں دیا گیا تھا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے لئے سو اونٹ لائے تھے۔ تریسٹھ 63اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قربان کئے اور باقی حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو سونپ دیئے اور گوشت و ہڈیاں ، جھول ، نکیل سب کو خیرات کر دینے کا حکم دیااور فرمایا قصائی کی مزدوری بھی اس سے نہیں اد ا کی جائے۔ بلکہ الگ سے دی جائے۔ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال اتروائے۔ حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال اتارے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کا کچھ حصہ حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا اور باقی بال تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دینے کا حکم دیا۔
زمزم کا نوش فرمانا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد مکہ مکرمہ تشریف لائے اور ’’طوافِ زیارت‘‘ فرمایا۔’’ طواف زیارت‘‘ مکمل کرنے کے بعد چاہِ زمزم کے کنویں پر تشریف لائے۔ خاندانِ عبدالمطلب کے لوگ ڈول سے پانی کھینچ کھینچ کر لوگوں کو زمزم پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ مجھے ایسا کرتے دیکھ کر لوگ سنت سمجھ لیں گے اور تمہارے ہاتھوں سے ڈول چھین کر خود اپنے ہاتھوں سے پانی بھر کر پینے لگیں گے تو میں خود اپنے ہاتھوں سے ایک ڈول ضرور نکالتا۔ ‘‘حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے زمزم پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی طر ف رخ کر کے کھڑے کھڑے زمزم کو نوش فرمایا۔ پھر منیٰ واپس تشریف لے گئے اور بارہ ذی الحجہ تک منیٰ میں مقیم رہے اور ہر روز سورج ڈھلنے کے بعد جمروں کو کنکریاں مارتے رہے۔ تیرہ ذی الحجہ منگل کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد منیٰ سے روانہ ہو کر ’’محصب‘‘ میں رات بھر مقیم رہے اور صبح کو نماز فجر مسجد حرام میں ادا کر کے’’ طواف ِ وداع ‘‘کیا اور مہاجرین اورانصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔
تعلیمی حج
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ارکان ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تعلیم بھی دیتے جا رہے تھے۔ عرفہ یعنی میدان عرفات میں ٹھہر کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ مقام اس پہاڑ کا جس پریہ واقع ہے ’’موقف ‘‘ہے۔ اور تمام عرفہ یعنی تمام میدان ِ عرفات ’’موقف ‘‘ہے۔‘‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی صبح کو قزح پر قیام فرمایا اور یہ فرمایا : ’’ یہ’’ موقف ‘‘ہے اور تمام مزدلفہ ’’موقف ‘‘ہے۔ ‘‘اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربان گاہ میں قربانی کی تو فرمایا: ’’یہ ’’قربان گا ہ ‘‘ہے اور پورا منیٰ’’ قربان گاہ ‘‘ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج پورا کیا اور تمام مسلمانوں کو حج کے سب مناسک سمجھا اور بتا دیئے اور حج کے موقع پر مواقف، رمی جمار، خانہ کعبہ کے طواف اور سعٔی میں جو فرائض ہیں وہ بتائے اور حج میں کن باتوں کو حلال کیا گیا ہے اور کن باتوں کو حرام کیا گیا ہے۔ وہ تفصیل سے بتائے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حج صرف حج نہیں ہوا بلکہ پوری امت کے لئے’’ تعلیمی حج‘‘ ہوا ہے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا حکم
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تین سو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ یمن بھیجا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حج کے لئے روانگی کی اطلاع ملی تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنا کر لشکر کا سپہ سالار بنا دیا اور ان سے کہا کہ تم معمول کی رفتار سے آئو اور خود تیز رفتاری سے مکہ مکرمہ روانہ ہو گئے اور وقت پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا۔ جن صحابی رضی اللہ عنہ کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے نائب بنایا تھا ۔ انہوں نے جزیہ میں جو اعلیٰ درجے کے کپڑے وصول ہوئے تھے ان سب کو بھنڈار خانے سے نکلوا کر اپنی فوج کو پہنا دیئے۔ جب یہ فوج مکہ مکرمہ آئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ پورا لشکر بہترین لباس میں ملبوس ہے۔ یعنی یمن کے حلّے پہنے ہوئے ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنے نائب سے اس بارے میں دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا: ’’ میں نے یہ حلّے انہیں اس لئے پہنا دیئے کہ جب یہ سامنے سے گزریں تو بھلے معلوم ہوں۔ ‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’یہ کوئی وجہ نہیں ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچنے سے پہلے تم لوگ ان حلّوں کو اتار دو۔‘‘ اور وہ تمام بہترین لباس لشکر سے اتروا کر توشتہ خانے میں رکھوا دیئے۔ یہ بات لشکر کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ناگوار گزری تو انہوں نے اس کا شکوہ کیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کی راہ میں بہت سخت ہیں
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پورے لشکر کے پہنے ہوئے یمن کے حلّے ( بہترین لباس) اتروا دیئے۔ یہ بات لشکر کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نا گوار گزری تو انہوں نے سید ا لانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ ان میں حضرت بُریدہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ میں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن پر حملہ کیااور میں نے ان سے بد سلوکی محسوس کی۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو حضرت علی الرمرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے بریدہ رضی اللہ عنہ ! کیا میں مومنین کو ان کی جانوں سے عزیز ( پیارا ) نہیں ہوں؟ ‘‘میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بے شک ایسا ہی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جسے میں محبوب ہوں اسے علی رضی اللہ عنہ بھی محبوب ہے۔‘‘ ( یعنی جو مجھ سے محبت کرتا ہے ۔ اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی محبت کرنا چاہیئے) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے لوگو! حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شکایت مت کرو۔ اللہ کی قسم !وہ اللہ کے لئے اللہ کی راہ میں بہت سخت ہیں۔ ‘‘
حج کے دوران سید الانبیاء ﷺ کے خطبے
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے لگ بھگ سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ حج کیا۔ اس حج کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ خطبے دیئے۔ پہلا خطبہ ذی الحجہ کی سات تاریخ کو مکہ مکرمہ میں دیا۔ دوسرا خطبہ عرفہ کے دن میدان ِ عرفات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا۔ تیسرا خطبہ منیٰ میں یوم النحر یعنی قربانی کے دن دیا۔ چوتھا خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہی یومِ قر کے دن دیا۔ اور پانچواں خطبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہی یوم نفر اول کے دن دیا۔ یہ کل پانچ خطبے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے دوران دیئے۔ یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ خطبہ غدیر خم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے واپسی کے دوران دیا تھا۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


