اتوار، 2 جولائی، 2023

38 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


38 سیرت سید الانبیاء ﷺ

وصال مبارک۔ قسط نمبر 1

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی


خطبہ غدیر خم، وصال کی طرف اشارہ، اللہ تعالیٰ سے ملنے کی تیاری، ماہِ رمضان میں ہی اندازہ ہو گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ  کو اختیار دیا، اﷲ تعالیٰ کا فرمان :’’ہم راضی کر لیں گے ‘‘، ملک الموت اجازت لے کر حاضر ہوئے، اللہ تعالیٰ ملاقات کا مشتاق ہے، مرض ( بیماری ) کی شروعات، بیماری میں خطبہ، دنیا کی محبت کا ڈر، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں


خطبہ غدیر خم

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں حج مکمل کر کے مدینہ منورہ کے لئے واپس روانہ ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ساتھ میں تھے۔ راستے میں کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو یمن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھے۔ ان کی شکایت سامنے آئی۔ اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم’’ غدیر خم‘‘ کے تالاب پر پہنچ چکے تھے اور پڑائو ڈالنے کا حکم دے دیا تھا ۔ اس مقام پر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ دیا۔ جو ’’خطبہ غدیر خم ‘‘کے نام سے مشہور ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی ۔ اس کے بعد فرمایا: ’’ اے لوگو! میں بھی ایک انسان ہوں اور ممکن ہے اللہ کا فرشتہ ( ملک الموت) جلد آجائے اور مجھے اس کا پیغام قبول کرنا پڑے۔ میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں۔ ایک اللہ کی کتاب جس میں ہدایت اور روشنی ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں۔ میں اپنے اہلِ بیت کے بارے میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘ امام مسلم نے یہ خطبہ مختصر میں ذکر کیا ہے۔ لیکن علامہ ابن کثیر نے تفصیل سے پیش کیا ہے۔ حضر ت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے واپس لوٹے تو غدیر خم پر اترے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہاں ایک سائبان لگایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد اور بھی بہت سی باتیں فرمائیں۔ پھر فرمایا: ’’ مجھے ( حضرت علی کے بارے میں ) یوں بتایا گیا ہے اور میں نے جواب دیا ہے۔ میں تم میں دو گراں قدر چیزیں ایک اللہ کتاب( قرآن پاک) اور دوسرے میرے اہل ِ بیت چھوڑے جا رہا ہوں۔ پس دیکھو تم ان دونوں کے بارے میں میری کیسے نیابت کرتے ہو اور یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوں گی۔ یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر آجائیں گے۔ ‘‘پھر فرمایا: ’’ اللہ میرا مولی ہے اور میں ہر مومن کا ولی ہوں۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: ’’جسے میں محبوب ہوں ، یہ اس کا ولی ہے۔ اے اللہ !جو اس سے محبت کرے تُو اس سے محبت کر اور جو اس سے عداوت رکھے تُو اس سے عداوت رکھ۔ ‘‘

مدینہ منورہ واپسی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے انصار اور مہاجرین کے ساتھ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے اور دوسرے قبائل کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اپنے علاقوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ ذی الحجہ 10 ؁ھجری کے آخری دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے اور ذو الحلفیہ میں پڑائو ڈال دیا اور رات وہیں گزاری۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہونا پسند نہیں فرماتے تھے۔ صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ جب مدینہ منورہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مبارک پڑی تو فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ تنہا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ حکومت اور تعریف اسی کی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں توبہ کرتے ہوئے اپنے پروردگار کے لئے سجدہ کرتے ہوئے اللہ کا وعدہ سچا ہوگیا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد اور نصرت کی اور سب گروہوں کو اس نے تنہا شکست دی۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت معرّ س کے راستے سے مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔

وصال کی طرف اشارہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے دوران ہی اپنے وصال کی طرف اشارہ کر دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورہ النصر کے نزول سے اشارہ مل گیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ سورہ اذا جآئَ نصر اللہ والفتح ‘‘( حج کے دوران) ایامِ تشریق میں نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھ لیا کہ یہ حج الوداعی ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ناقہ قصوا کو لانے کا حکم دیا۔ جسے کجاوہ ڈال کر لایا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور اس میں یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ آج میں نے تمہارے لئے تمہار ادین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔ ( سورہ المائدہ آیت نمبر3) تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ روپڑے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : ’’ آپ رضی اللہ عنہ کیوں رو رہے ہیں؟ ‘‘ انہوں نے فرمایا : ’’ ہر کمال کے بعد کمی ہوتی ہے۔‘‘ گویا آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا احساس ہو گیا تھا اور اسی حج کے دوران آگے چل کر منیٰ میں رمی جمارکے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے وصال کی طرف اشارہ کر دیا تھا اور فرمایا تھا : ’’مجھ سے حج کے مناسک سیکھ لو ۔ شاید میں اس سال کے بعد حج نہ کرسکوں۔‘‘

اللہ تعالیٰ سے ملنے کی تیاری

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے ذی الحجہ 10 ؁ ہجری کے آخری دنوں میں مدینہ منورہ واپس آئے اور چند دنوں بعد محرم الحرام 11 ؁ ہجری شروع ہو گیا۔ حجتہ الوداع سے واپسی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت ، تسبیح، تمحید اور امت کے لئے توبہ اور استغفار میں گزرنے لگا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ النصر میں اپنی ملاقات کی طرف اشارہ دے دیا تھا : ( ترجمہ) ’’جب اللہ کی نصرت اور فتح آجائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھیں کہ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو رہے ہیں تو اب اللہ کی تسبیح ، تمحید اور ( امت کے لئے ) استغفار میں مشغول ہو جائو۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑی توجہ فرمانے والا ہے۔‘‘ ( سورہ النصر مکمل سورہ ) یعنی جب فتح و نصرت آچکی جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا اور کفر اور شرک کا سر کچل دیا گیا اور اسلام و توحید کو سر بلندی حاصل ہو گئی اور حق کو باطل کے مقابلہ میں فتح مبین حاصل ہو گئی اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام دنیا والوں تک پہنچا دیا گیا اور دین مکمل ہو گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں بھیجنے کا جو مقصد تھا وہ پورا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کام خوب اچھی طرح سے مکمل کر دیا ہے تو اب اللہ تعالیٰ سے ملنے کی تیاری کریں۔ اللہ کے گھر کی زیارت توکر چکے اب اللہ تعالیٰ کی زیارت کی تیاری کریں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھ سے اذا جآئَ نصر اللہ والفتح ( سورہ النصر) کے بارے میں دریافت فرمایا تو میں نے عرض کیا : ’’ یہ ( سورہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ہے۔‘‘ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم! جتنا تم نے بتایا میں بھی وہی جانتا ہوں۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ کو ماہِ رمضان میں ہی اندازہ ہو گیا تھا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم محرم الحرام 11 ؁ ہجری میں اسی لئے اپنا زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تمحید اور امت کے لئے توبہ و استغفار میں گزارنے لگے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہِ رمضان المبارک 10 ؁ہجری میں ہی اندازہ ہو گیا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال ماہِ رمضان المبارک میں دس دن اعتکاف فرماتے تھے۔ مگر جب وہ سال آیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو اس ماہ رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس 20دنوں کا اعتکاف فرمایا اور جبرئیل علیہ السلام ہر ماہ رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن پاک کا ایک دور کرتے تھے۔ مگر جب وہ سال آیا جس میں وصال ہوا تو دو مرتبہ قرآن پاک کا دور کرایا۔‘‘ ( صحیح بخاری) اُم المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ ان سے سیدہ فاطمہ الزہرا ء رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے راز کی باتیں فرمائیں اور فرمایا: ’’ جبرئیل علیہ السلام میرے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن پاک کا دو رکرتے تھے مگر اس سال دو مرتبہ میرے ساتھ دور کیا۔ اس سے مجھے اندازہ ہو ا کہ میرے وصال کا وقت قریب آگیا ہے۔ ( یہ حدیث انشاء اللہ آگے ہم تفصیل سے پیش کریں گے)

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ  کو اختیار دیا تھا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے وصال کا اندازہ ہو چکا تھا۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا ماہِ محرم الحرام 11 ؁ ہجری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعلیم و تربیت اور اللہ کی تسبیح و تمحید اور امت کے لئے توبہ وا ستغفار میں گزارتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے ہی اختیار دے دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو دنیا میں رہیں اور امت کی فتوحات دیکھیں اور چاہیں تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات یعنی وصال کو اختیار کر یں۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صحت کی حالت( یعنی تندرستی کے وقت میں ) فرمایا کرتے تھے: ’’ کوئی نبی علیہ السلام کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی گئی ہے جب تک کہ اس نبی علیہ السلام کو جنت میں ان کا مقام نہیں دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو آخرت کو اختیار کر ے۔ ‘‘اُم المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مرض کا نزول ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک میری گود میں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری تھی۔ جب افاقہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ مبارک حجرے ( کمرے ) کی چھت کی طرف جمائی اور فرمایا: ’’ اللھم الرفیق الاعلیٰ۔‘‘ اس وقت میں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ وہی بات ہے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے صحت کی حالت یعنی تندرستی کے وقت میں فرمایا کرتے تھے۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ ہم آپس میں کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار نہ دیا جائے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری میں مبتلا ہو ئے جس میں وصال ہوا تو اس وقت میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ( ترجمہ )’’ جن پر اللہ نے فضل کیا ، یعنی انبیاء، صدیقین ، شہدا ء اور صالحین اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔‘‘ تو میں نے اندازہ کر لیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار دیا گیا ہے۔

اﷲ تعالیٰ کا فرمان :’’ہم راضی کر لیں گے ‘‘

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ بے انتہا محبت کرتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصال کی بیماری میں مبتلا ہوئے تو جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام فرما یا ہے اور اپنی رحمت بھیجی ہے اور فرما رہا ہے ۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں ( اللہ تعالیٰ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاء ( تندرستی یعنی بیماری سے اچھا کردوں) دے دوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفایت کروںیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں تو میں ( اللہ تعالیٰ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال دے دوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ( امت کی ) مغفرت کر وں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یہ اختیار میرے رب ( اللہ تعالیٰ ) کو ہی ہے کہ وہ جو چاہے میرے ساتھ کرے۔ ‘‘حضرت جعفر بن علی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کو ابھی تین دن باقی تھے کہ جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز و اکرام اور خاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھیجا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات دریافت فرما رہا ہے ۔ جس کو وہ اچھی طرح جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو کیسا محسوس کر رہے ہیں یا کیسا پاتے ہیں؟‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں خود کو ( اپنی امت کے لئے ) مغموم پاتا ہوں یا مغموم پا رہا ہوں۔‘‘صحیح مسلم میں حدیث قدسی میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا : ’’ اے جبرئیل ! (علیہ السلام ) محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم ) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہو : ہم آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے متعلق راضی کر لیں گے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ناراض نہیں کریں گے ۔‘‘ ( صحیح مسلم ، کتاب الایمان )

ملک الموت اجازت لے کر حاضر ہوئے

دوسرے دن پھر جبرئیل علیہ السلام آئے اور وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ تیسرے دن پھر جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے ۔ ان کے ساتھ ملک الموت تھے۔ ( لیکن وہ دروازے پر رک گئے تھے) جبرئیل علیہ السلام نے پھر وہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا کہ میں اپنے آپ کو ( امت کے لئے ) مغموم پا رہا ہوں۔ اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ملک الموت آئے ہیں اور حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی انسان کے پاس جانے سے پہلے انہوں نے کبھی اجازت نہیں لی ہے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص سے اجازت چاہیں گے۔ (یعنی بغیر اجازت اس کے پاس پہنچ جائیں گے) ۔

اللہ تعالیٰ ملاقات کا مشتاق ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ان کو اجازت دے دو۔ ‘‘ملک الموت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر کھڑے ہو گئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جو حکم دیں میں اس پر عمل کروں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی روح قبض کرنے کا حکم دیں گے تو میں اسے قبض کروں گااور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی روح کو چھوڑنے کا حکم دیں گے تو میں چھوڑ دوں گا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ملک الموت !کیا تم یہ کرو گے؟ ‘‘ملک الموت نے عرض کیا: ’’ہاں !مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ اس وقت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا : ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اللہ تعالیٰ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ’’لقا ‘‘( ملاقات ) کا مشتاق ہے۔ ‘‘یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ملک الموت !جس بات کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو۔‘‘

مرض ( بیماری ) کی شروعات

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم الحرام کا پور ا مہینہ گزارا اور صفر المظفر 11 ؁ ہجری کے درمیانی یا آخری دنوں میں اس مرض ( بیماری) کی شروعات ہوئی جس میں وصال ہوا۔ حضرت ابو مو یھبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں۔ یہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے ۔انہوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مجھے جگا کر فرمایا: ’’ اے ابو مویھبہ رضی اللہ عنہ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بقیع والوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے استغفار کروں ۔ ‘‘میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع قبرستان میں تشریف لائے اور دستِ مبارک اٹھا کر اُن کیلئے استغفار فرمائی۔ اس کے بعد فرمایا ’’تمہیں مبارک ہو جس امن کی حالت میں تم نے صبح کی اور جس امن کی حالت میں لوگوں نے صبح کی۔ اب وقت آگیا ہے اور اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے برپا ہوں گے اور ہر فتنہ اپنے سے پہلے والے فتنے سے بڑا ہوگا۔ اے ابو مویھبہ رضی اللہ عنہ ، مجھے دنیا کے خزانوں اور اس میں ( دنیا میں ) ہمیشہ رہنے کی کنجیاں دی گئیں۔ اس کے بعد جنت اور اس کے بعد اپنے لقاء رب ( اللہ تعالیٰ سے ملاقات ) کے درمیان مجھے اختیا ر دیا گیا تو میں نے لقا ء رب کو قبول کر لیا۔‘‘ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔ اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تکلیف کی شروعات ہوئی جس میں وصال ہوا۔ امام ابن سعد نے اسی مضمون کی حدیث سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

ازواجِ مطہرات سے اجازت لے کر حجرۂ عائشہ میں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ جنت البقیع سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے میرے پاس آئے۔ میرے سر میں درد تھا۔ اور میں کراہ رہی تھی اور کہہ رہی تھی’’ ہائے سر کا درد۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم سے زیادہ شدید سر کا درد مجھے ہے۔ ‘‘پھر فرمایا: ’’ اے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ! اگر تم مجھے سے پہلے انتقال کر جائو گی تو تمہار ا کوئی حرج نہیں ہوگا۔ میں تم کو کفن دوں گا اور نماز پڑھوں گا اور تم کو اپنے ہاتھوں سے دفن کر وں گا۔‘‘ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاق میں عورتوں والے ناز سے کہا: ’’ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری بیویوں کے ساتھ آرام سے رہنے لگیں گے۔‘‘ میری بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور مسکرانے لگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا درد بڑھتا چلا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باری باری امہات المومنین کے یہاں ایک ایک شب گزارتے تھے۔ جس روز آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں درد کی شدت بہت زیادہ ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب ازواج مطہرات کو جمع کر کے ان سے بیماری کی حالت میں میرے حجرے میں رہنے کی اجازت لی۔ سب ازواج مطہرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت دے دی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تشریف لے آئے۔ ‘‘

بیماری میں خطبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حجرۂ عائشہ رضی اللہ عنہا میں قیام پذیر ہو گئے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آگے فرماتی ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام ازواج مطہرات سے اجازت لے کر جب میرے حجرے میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خاندان کے دو آدمیوں کے سہارے اُن کے کاندھے پر ہاتھ رکھے آرہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمِ مبارک صرف زمین کو چھو رہے تھے۔ (یعنی زیادہ وزن ان دو آدمیوں کے کاندھوں پر ڈالا ہوا تھا) اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں تشریف لائے۔ اُن دو آدمیوں میں سے ایک حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے ایک شخص تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ وہ دوسرے شخص حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تھے۔‘‘ جب ذرا طبیعت سنبھلی تو مسجد نبوی میں خطبہ دیا۔ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں سخت درد ہے اور اسی وجہ سے پٹی باندھ رکھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اے فضل رضی اللہ عنہ !میرا ہاتھ تھامو۔‘‘ میں نے ہاتھ تھام لیااور سہار اد یتا ہوا لے کر چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں منبر پر آکر بیٹھے اور فرمایا سب کو بلا لائو۔ سب جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے لوگو!میں تمہارے سامنے اُس اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سواکوئی معبود نہیں ہے۔ تم لوگوں کے میرے ذمے بہت سے حقوق ہوں گے۔ لہٰذا جس کی پیٹھ پر میں نے کوڑے مارے ہوں اس کے لئے میری پیٹھ حاضر ہے۔ وہ اپنا بدلہ لے لے اور جس کسی کو میں نے برا کہا ہو میں موجود ہوں وہ مجھے برا کہہ لے۔ کینہ پروری میری سر شت میں نہیں ہے اور نہ ہی میری عادت میں ہے۔ میں تم میں سے اُس شخص کو زیادہ پسند کروں گا جو اپنا حق ابھی مجھ سے لے لے یا معاف کر دے۔ تا کہ میں اپنے رب سے بالکل پاک نفس ہو کر ملوں ۔‘‘ اتنا فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اتر آئے اور ظہر کی نماز پڑھی۔

حق اُس طرف ہو گا جس طرف عمر فاروق ہوں گے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اپنے خطبے کو آگے بڑھایا۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے تین درہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرض ہیں۔ ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اے فضل بن عباس رضی اللہ عنہ! اسے تین درہم ادا کر دو۔ ‘‘میں نے ادائیگی کے لئے کہا تو وہ شخص بیٹھ گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے لوگو! جس کے پاس میرا کچھ ہو وہ دے دو اور اس کو دنیا کی رسوائی نہ سمجھے کیوں کہ دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے بہت معمولی ہے۔‘‘ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے اوپر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین درہم قرض ہیں۔ میں نے وہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کئے ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیوں نہیں کئے؟ ‘‘ اس نے کہا: ’’ مجھے ان کی ضرورت تھی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ اے فضل رضی اللہ عنہ ! یہ رقم ان سے لے لو۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے لوگو! تم میں سے جس کو اپنی بد اعمالی کی وجہ سے ( آخرت میں ) اندیشہ ہو ، وہ کھڑا ہو کر بیان کر دے ۔ تا کہ میں اس کے لئے دعا کروں۔‘‘ اس پر ایک شخص کھڑ اہوا اور کہا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں کذاب ہوں۔ بد کار ہوںاور ہر وقت سوتا رہتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ !اسے سچا بنا اور ایمان عطا فرما اور یہ جب چاہے اس کی نیند دور ہو جایا کرے۔‘‘ اس کے بعد ایک اور شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں کذاب ہوں اور منافق ہوں اور ایسی کوئی برائی نہیں ہے جو میں نے نہیں کی ہے۔ ‘‘یہ سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے شخص تونے اپنے آپ کو رسوا کر لیا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ !اس دنیا کی رسوائی آخرت کی رسوائی سے اچھی ہے۔ اے اللہ تعالیٰ ! تُو اس شخص کو سچا بنا ۔ ایمان عطا فرما اور نیک کردار بنا۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: ’’ اب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرو۔‘‘ اس جملے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور پھر فرمایا: ’’ عمر فاروق میرے ساتھ ہے اور میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوں اور میرے بعد حق اسی طرف ہو گا جس طرف عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہوں گے۔‘‘

اگر میں کسی خلیل ( دوست) بنانا تو ابو بکر صدیق کو بنانا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران خطبہ دیا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ’’ ایک بندہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ جو کچھ دنیا میں ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لے تو اُس بندے نے اس کو اختیار کیا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ ہم سب نے ان کے رونے کو حیرت سے دیکھا ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندے کی خبر دے رہے ہیں کہ اُس نے جو اختیار کیا ہے ۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ وہ اختیار کرنے والے بندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ علم والے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ !تم روئو نہیں ۔ تمام لوگوں میں اپنی رفاقت اور مال خرچ کرنے میں سب سے زیادہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے محسن ہیں۔ اگر میں کسی کو خلیل ( دوست ) بناتا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ لیکن میرے اور ان کے درمیان اسلامی اخوت کا رشتہ ہے اور مسجد میں کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کر دیا جائے۔ لیکن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دروازے کو بند نہ کیا جائے۔‘‘

لشکر اُسامہ بن زید روانہ کرنا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت نا ساز چل رہی تھی۔ اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پیغام اسلام کو دنیا والوں تک پہنچانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ اسی کو شش میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری میں صفر المظفر 11 ؁ ہجری ختم ہونے میں چار روز رہ گئے تھے تو رومیوں کی طرف ایک لشکر روانہ کر نے کا اعلان فرمایا اور اگلے دن حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: ’’اس مقام تک تیزی سے جانا جہاں تمہارے والد شہید ہو ئے تھے اور جاسوسوں کی اطلاعات سے پہلے دشمن کے سر پر پہنچ جائو۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطا فرمائے تو ان لوگوں میں زیادہ نہ ٹھہرنا ۔‘‘ اگلے روز سر کے درد میں شدت پیدا ہو گئی اور بخار بھی ہو گیا۔ اس تکلیف کے باوجود جمعرات کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو جھنڈا باندھ کر دیا اور فرمایا:’’ اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے جائو اور جنہوں نے کفر کیا اُن سے جنگ کرو۔‘‘

لشکر اسامہ کے بارے میں خطبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار بنایا۔ ان کی عمر سترہ یا اٹھارہ یا بیس سال تھی۔ کچھ لوگوں کو نوجوان سپہ سالار پر اعتراض ہو ا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس اعتراض کی خبر ہوئی تو اسی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ ٔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے باہر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور بدن پر چادر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے خطاب کر کے فرمایا: ’’ اے لوگو! یہ کیسی باتیں ہی جو میرے اسامہ بن زیاد کو امیر بنا دینے پر تم لوگوں کی طرف سے مجھ تک پہنچی ہیں۔ اس سے پہلے ایک بار جب میں نے اسامہ کے والد زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا تھا تو طعن کیا گیا تھا۔ جب کہ اللہ کی قسم ! زید بن حارثہ سپہ سالاری کے لئے موزوں تھے اور ان کے بیٹے اسامہ بن زید سپہ سالاری کے لئے موزوں ہیں اور یہ میرے نزدیک محبو ب ہیں۔ اس لئے اسامہ کے بارے میں خیر کا گمان رکھوکیوں کہ وہ تم میں سے بہترین لوگوں میں سے ہے۔‘‘

دنیا کی محبت کا ڈر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری وقت میں بھی اُمت کی فکر تھی۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ( ہمارے درمیان) تشریف لائے اور فرمایا: ’’ میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تمہارا گواہ ہوں۔ اللہ کی قسم !میں اپنے حوض( کوثر) کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ اللہ کی قسم ! مجھے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک کرو گے ۔ لیکن مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تم دنیا کی محبت میں مبتلا ہو جائوگے اور اسے حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے۔‘‘

لشکرِ اسامہ کا مقامِ جرف پر جمع ہونا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے جھنڈا لے کر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ باہر آئے اور حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا اور مہاجرین اور انصار کے ساتھ روانہ ہوئے اورمقام ’’جرف‘‘ پر پہنچ کر پڑائو ڈال اور باقی لوگوں کے جمع ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ کیوں کہ آس پاس کے قبائل کے لوگ بھی اعلان سن کر لشکر میں شامل ہونے کے لئے آرہے تھے۔ تمام جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے اجازت لے کر مدینہ منورہ آئے کہ جب بھی لشکر روانہ ہو نے لگے تو ہمیں حکم کرنا ہم حاضر ہو جائیں گے۔ مقامِ جرف مدینہ منورہ سے لگ بھگ ایک کوس کے فاصلہ پر ہے۔

سید ہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو بشارت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو بلوایا۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کو اس تکلیف کے دوران بلوایا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تھا اور ان سے راز کی کوئی بات کی تو وہ رونے لگیں۔ اس کے بعد پھر اُن سے راز کی کوئی بات کی تو وہ ہنسنے لگیں۔ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس بیماری یا تکلیف میں ہی میرا وصال ہو جائے گا۔‘‘ یہ سن کر میں رونے لگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ’’ میں اُن کے اہل بیت ( گھر والوں ) میں سے سب سے پہلے آکر اُن سے ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت کو امام طبرانی اور امام بیہقی نے بھی پیش کیا ہے اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ سید ہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ جبرئیل علیہ السلام ہر سال ماہِ رمضان المبارک میں ایک مرتبہ قرآن پاک کا دور کراتے تھے اور اس سال انہوں نے دو مرتبہ قرآن پاک کا دور کرایا ہے جو وصال کی طرف اشارہ ہے۔‘‘ یہ سن کرمیں رونے لگی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اے بیٹی !مسلمان عورتوں میں سے کوئی عورت مصیبت میں تم سے اعظم نہیں ہے تو تم صبر میں ادنی عورت نہ ہونا۔ پھر فرمایا : ’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل بیت میں سے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ملوں گی اور فرمایا تم جنت کی عورتوں کی سردار ہو۔ بجز اس کے جو مریم بنت عمران رضی اللہ عنہا سے تعلق رکھتیہوں۔‘‘

اُمت کی عورتوں کی سردار

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم حجرۂ عائشہ میں قیام پذیر تھے اور بیماری کا عالم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات کا زیادہ تر وقت حجرۂ عائشہ میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتے ہوئے گزرتا تھا۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ تمام ازواجِ مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھی ہو گئیں اور ان میں سے کوئی بیوی پیچھے نہ رہی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا آتی ہوئی دکھائی دیں اور ان کی چال اپنے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا: ’’ اے میری بیٹی ! آئو خوش آمدید! ‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے دائیں یا بائیں طرف بٹھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سر گوشی میں کوئی بات فرمائی تو وہ رونے لگیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دوبارہ سر گوشی میںکوئی بات فرمائی تو وہ مسکرانے لگیں۔ میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ( اکیلے میں ) دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں کیا فرمایا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو فاش نہیںکر سکتی۔‘‘ اس کے بعد جب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ’’ میرا جو حق آپ رضی اللہ عنہا پر ہے میں اس کا واسطہ دے کر پوچھتی ہوں کہ آپ رضی اللہ عنہا مجھے کب بتائیں گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر گوشی میں کیا فرمایا تھا؟ ‘‘ سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ ابھی بتائے دیتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی بار مجھ سے جو سر گوشی کی تھی اس میں فرمایا تھا کہ جبرئیل علیہ السلام ہر سال مجھے قرآن پاک کا ایک دور کرایا کرتے تھے اور اس سال انہوں نے دو دور کرایا ہے اور میرے خیال میں یہ اس وجہ سے ہے کہ میرے وصال کا وقت قریب آگیا ہے۔ پس ( تم ) اللہ پر بھروسہ رکھنا اور صبر کرنا۔ میں تمہارا بہترین سلف ہوں۔‘‘ یہ سن کر میں رونے لگی تھی۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ سر گوشی میں مجھ سے فرمایا تھا : ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم عالمین کی عورتوں یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو؟ ‘‘ تو میں مسکرانے لگی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ فرمایا : ’’ تم سب سے پہلے مجھ سے آکر ملو گی۔ ‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے چھ ماہ بعد ہی سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کا بھی وصال ہو گیا اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ’’ تم جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہو گی۔‘‘

خیبر میں دیئے گئے زہر کا اثر

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت کے ساتھ ساتھ شہادت کی فضیلت بھی بخشی ہے۔ اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں نو مرتبہ اس بات کی قسم کھائوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہوئے ہیں اور مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں ایک مرتبہ بھی اس بات کی قسم کھائوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہید نہیں ہوئے ہیں۔‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت اور رسالت کے ساتھ ساتھ شہادت سے بھی سر فراز فرمایا ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال جس تکلیف یا بیماری میں ہوا ہے اس تکلیف کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ’’ میں اس لقمہ کی تکلیف ہمیشہ محسوس کرتا رہا ہوں جو میں نے خیبر میں کھایا تھا اور اب ( تو یہ حالت ہے کہ ) اس زہر کی وجہ سے رگ جان کٹ رہی ہے۔‘‘ سیدہ اُم بشر رضی اللہ عنہا ( اُن صحابی رضی اللہ عنہ کی والدہ جو خیبر میں زہر کی وجہ سے شہید ہو گئے تھے) فرماتی ہیں: ’’ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے کہا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربا ن ہوں ۔ اپنی جان کے بارے میں کیا محسوس کر رہے ہیں۔ میں تو اپنے بیٹے کی جان کے بارے میں وہ کھانا محسوس کرتی ہوں جو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں بھی یہی محسوس کررہا ہوں اور اس کی وجہ سے میری رگ جاں کٹ رہی ہے۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ حضرت بشر بن براء رضی اللہ عنہ کی والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران آئیں۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخار تھا۔ انہوں نے چھو کر عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جتنا بخار میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا اتنا بخار میں نے کسی کا نہیں پایا۔‘‘ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہمارے لئے اجر بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے جتنی زیادہ تکلیف ہمیں ہوتی ہے اور بات یہ ہے کہ جو لقمہ میں نے تمہارے بیٹے کے ساتھ خیبر میں کھایا تھا اس کی تکلیف میں ہمیشہ محسوس کرتا رہا ہوں۔ یہاں تک کہ اس وقت اسی وجہ سے رگِ جاں منقطع ہو رہی ہے۔‘‘

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں جب تک طاقت رہی تب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں آکر نماز پڑھاتے رہے۔ جب بیماری بہت زیادہ بڑھ گئی اور کمزوری غالب آگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں۔ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض نے شدت اختیار کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ رقیق القلب ( بہت نرم دل) آدمی ہیں۔ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پر کھڑے ہو ں گے تو اتنی استطاعت نہیں رہے گی کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا سکیں۔‘‘ ( تمام ازواج مطہرات وہیں جمع تھیں)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا:’’ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ ‘‘ پھر اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے وہی جواب عرض کیا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو بکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں اور فرمایا: ’’ تم تو وہی عورتیں ہوجنہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے مکر کیا تھا۔ ‘‘آخر کار مسجد نبوی میں خبر دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی۔

قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران کی کیفیات بیان کرتے ہوئے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جس مرض میں وصال ہوا اس بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت فرمائی۔ کیوں کہ انہوں نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں : ’’ بیماری کے دنوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا چہرہ مبارک چادر میں چھپا لیتے تھے اور جب دل گھبراتا تھا تو چادر ہٹا دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے تھے : ’’ یہودیوں اور عیسائیوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ جنہوں نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔‘‘ اور ان کی اس حرکت سے بچنے کی تلقین فرماتے۔

حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو بکر سے کہو کہ وہ نماز پڑھائیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’ وہ رقیق القلب ہیں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ امامت کے لئے کھڑے ہو ں گے تو ان سے کھڑا نہ ہوا جائے گا۔‘‘ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی فرمایا تو میں نے بھی وہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم تو یوسف والیاں ہو۔ ابو بکر سے کہو نماز پڑھائیں۔‘‘ اس کے بعد خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے آہستہ آہستہ اور لڑکھڑاتے ہوئے مسجد میں آگئے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچے۔ وہ پیچھے ہٹنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے ان کو اپنی جگہ کھڑے رہنے کا حکم دیااور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پہلو میں بیٹھ گئے اور نماز پڑھی۔ اس طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی اور لوگوں نے نماز میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اقتداء کی۔

سترہ نمازوں کی امامت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی شدت بڑھتی جا رہی تھی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھارہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کتنی نمازیں پڑھائیں اکثر علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سترہ نمازیں پڑھائیں ہیں۔ حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہمیں تین دن نماز پڑھائی۔ امام و اقدی کہتے ہیں کہ میں نے ابو سبرہ سے پوچھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کتنی نمازیں پڑھائیں تو انہوں نے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سترہ نمازیں پڑھائی ہیں۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال کا وقت قریب آیا تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ اس میں ڈبوتے اور چہرۂ مبارک کا مسح فرماتے تھے اور یہ فرماتے تھے: ’’ اے اللہ تعالیٰ !موت کی تکلیف میں مدد فرما۔‘‘

تحریر لکھوانے کا ارادہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض کے دوران تحریر لکھوانے کا ارادہ فرمایا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کافی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع تھے اور اس وقت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میرے نزدیک آجائو۔ میں تمہیں ایک تحریر لکھوا دیتا ہوںتا کہ میرے بعد تم گمراہی سے بچے رہو۔‘‘ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض کی شدت کی وجہ سے ایسا فرما رہے ہیں۔ ہمارے پاس قرآن پاک موجو د ہے اور اللہ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے اور کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ ہم تحریر لکھوا لیں تا کہ آگے آسانی ہو۔ اس طرح آپس میں بحث ہونے لگی اور لوگوں کی آوازیں بلند ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کھڑے ہو جائو۔‘‘ ( اور چلے جائو) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس طرح آپسی بحث تحریر لکھوانے کے درمیان حائل ہو گئی۔ امام بخاری اپنی صحیح میں ایک اور حدیث پیش کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ ہائے جمعرات !اور جمعرات کا روز کیا ہے؟ اُ س روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لکھنے کی چیزیں لائو تا کہ میں تمہیں ایسی تحریر لکھوا دوں کہ میرے بعد گمراہ نہیں ہو گے۔ اس پر لوگ بحث کرنے لگے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بحث کرنا مناسب نہیں تھا۔ بعض حضرات کہنے لگے۔ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی وجہ سے ایسا فرما رہے ہوں۔ پس لوگوں نے دوبارہ آکر دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اس بات کو جانے دو۔ میں جس حالت میں ہوں وہ اُس حالت سے بہتر ہے جس کی طرف تم بلا رہے ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تین باتوں کی وصیت فرمائی۔ پہلی یہ کہ مشرکیں کو جزیرہ ٔ عرب سے نکال دینا۔ دوسری یہ کہ سفیروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور تیسری وصیت سے وہ خاموش ہو گئے یا پھر میں بھو ل گیا ہوں۔ بعض کہتے ہیں کہ تیسری بات یہ تھی کہ قرآن پاک پر عمل کرنایا لشکر اُسامہ کو روانہ کرنا یا میرے بعد میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا یا یہ کہ نماز پابندی سے ادا کرنا اور غلاموں کا خیال رکھنا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


ہفتہ، 1 جولائی، 2023

39 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


39 سیرت سید الانبیاء ﷺ

وصال مبارک۔ قسط نمبر 2

تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

آخری خطبہ، انصار کا خیال رکھنا، یہود و نصاریٰ نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا، آخری امامت، پیر کے دن صبح، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مطمئن ہو ئے، آخری وقت مسواک، مدینہ منورہ میں قیامت صغریٰ، اللہ تعالیٰ بے انتہا محبت کرتا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر قیامت گزر گئی، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ، غسل اور تجہیز و تکفین کے بارے میں وصیت، سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل، تدفین 

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تحریر نہیں لکھوائی لیکن اشارہ فرمایا تھا کہ میرے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی خلیفہ ہوں گے۔ پہلا اشارہ نماز پڑھانے کا حکم دینا تھا۔ اس کے علاوہ صحیحین ( صحیح بخاری اور مسلم بخاری) کی حدیث بالکل واضح اشارہ ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس بیماری کی حالت میں جس میں وصال ہوا یہ فرمایا کہ میرا ارادہ یہ ہوا تھا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے ( حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ) کو بلانے کے لئے کسی کو بھیج دوں اور اُن کو اپنا جانشین بنا دوں تا کہ کہنے والے کچھ نہ کہہ سکیںاور تمنا کرنے والے تمنا نہ کر سکیں۔ لیکن پھر میں نے ارادہ بد ل دیا۔‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ وصیت کی کیا ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی یہ نہیں چاہے گا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کوئی خلیفہ ہو اور اہل ایمان بھی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی اور کی خلافت قبول نہیں کریں گے۔ ‘‘اور ایک روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: ’’اللہ کی پناہ !کہ لوگ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اختلاف کریں۔‘‘ امام بخاری نے کتاب الاحکام میں لکھا با استخلاف اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اشارہ خلافت کی طرف ہے۔

آخری خطبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے لگ بھگ تین دنوں پہلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو آخری خطبہ دیا۔ احادیث کی کتابوں میں اور سیرت کی کتابوں میں بیماری کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی خطبے مذکور ہیں۔ لیکن ان میں تسلسل نہیںہے۔ اور کون سا خطبہ کب دیا گیا یہ نہیں بتایا گیا ہے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر نے بڑی عرق ریزی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ تحریر کیا ہے اور تسلسل بھی قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ آپ کی خدمت میں ہم اسے پیش کر رہے ہیں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض کی شدت میں کمی محسوس ہوئی اور کچھ آرام محسوس ہوا تو ارشاد فرمایا : ’’ سات مشکیں پانی میرے سر پر ڈالو۔ شاید کچھ سکون محسوس ہو اور میں لوگوں میں وصیت کر سکوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سات مشکیں پانی ڈالا گیا۔ اس طرح غسل سے کچھ سکون محسوس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سہارے مسجد نبوی میں تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھائی اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ تھا۔ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔ اور صحیح مسلم میں ہے کہ یہ خطبہ وصال سے پانچ رات پہلے دیا تھا۔ یعنی چار دن پہلے۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اس حساب سے یہ خطبہ جمعرات کے روز ارشاد فرمایا۔

انصار کا خیال رکھنا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز کے بعد منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمہ تن گوش تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا فرمائی اس کے بعد اصحابِ اُحد کا ذکر فرمایا اور ان کے لئے دعا ئے مغفرت فرمائی۔ پھر فرمایا : ’’مہاجرین بڑھیں گے اور انصار وہیں رہیں گے۔‘‘ ( اس کا معنی کچھ علمائے کرام نے مالی حالت کا لیا ہے اور کچھ علمائے کرام نے تعداد کا لیا ہے) اس کے بعد مہاجرین سے مخاطب ہوکر فرمایا: ’’دیکھو !انصار نے مجھے ٹھکانہ دیا ہے اُن میں کا جو محسن اور نیک ہو اس کے ساتھ احسان کرنا اور ان میں جو غلطی کر گزرے تو تم در گزر کرنا۔‘‘

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے احسانات کاصلہ صرف اللہ تعالیٰ دے سکتا ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو اختیار دیا کہ وہ دنیا کی نعمتوں کو اختیار کرے یا اللہ تعالیٰ کے پاس جو نعمتیں ہیں یعنی آخرت کو اختیار کرے تو اُس بندہ نے اللہ تعالیٰ کے پاس کی نعمتوں یعنی آخرت کو اختیار کر لیا۔ ‘‘حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ چونکہ سب سے زیادہ علم والے تھے۔ اس لئے سمجھ گئے کہ اس بند ہ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ابو بکرصد یق رضی اللہ عنہ! اپنے آپ پر قابو رکھو۔‘‘ اس کے بعد فرمایا: ’’مسجد کی طرف کھلنے والے سب دروازوں کو بند کر دو۔ صرف ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رہنے دو۔ جان و مال ، محبت و رفاقت کے اعتبار سے سب سے زیادہ مجھ پر احسان کرنے والے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔ اُن سے بڑھ کر میر اکوئی محسن نہیں ہے۔ جس جس نے بھی میرے ساتھ کوئی احسان کیا ہے۔ میں نے اس صلہ چکا دیا ہے۔سوائے ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کے۔اُن کے احسانات کا صلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی دے سکتا ہے جو وہ قیامت کے دن دے گا۔ اگر میں کسی کو اپنا خلیل ( دوست) بناتا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ لیکن اُن سے اسلامی اخوت ہے جس میںوہ سب سے افضل اور برتر ہیں۔‘‘

حضرت اسامہ اور ان کے والد سرداری کے اہل ہیں

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ لشکر اُسامہ کو جلدی روانہ کر دو اور مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ ( امام بن سعد طبقات ابن سعد میں لکھتے ہیں یہ منافقین تھے) اسامہ رضی اللہ عنہ کی سپہ سالاری ( امارت) اور سرداری پر اعتراض کر رہے ہیںکہ تجربہ کاروں کے ہوتے ہوئے نوجوان کو یہ منصب کیوں دیا گیا؟ آگاہ ہو جائو! ان ہی لوگوں نے اس سے پہلے اس کے والد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی امارت اور سرداری پر بھی اعتراض کیا تھا۔ اللہ کی قسم! اس کا باپ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی سرداری کا اہل تھا اور بیٹا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بھی سرداری کا اہل ہے اور میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔ ‘‘ا

یہود و نصاریٰ نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے یہود و نصاریٰ( بنی اسرائیل اور عیسائیوں ) کے بارے میں فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر ! انہوں نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد اپنی امت کو آگاہ کرنا تھا اور خبر دار کرنا تھا کہ یہود و نصاریٰ کس طرح گمراہ ہو ئے تھے۔ اسی لئے تم اس سے بچنے کی کوشش کرنا۔

ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹنا ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ اے لوگو!مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم لوگ اپنے نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے خوف زدہ ہو۔ کیا کوئی نبی علیہ السلام مجھ سے پہلے ہمیشہ اپنی امت میں رہے ہیں جو میں ہمیشہ رہوں گا؟ آگاہ ہو جائو کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا ہوں اور آگاہ ہو جائو۔ تم بھی اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والے ہو اور ہر ایک کو اللہ کے پاس لوٹنا ہے۔ میں تمام مسلمانوں کو وصیت کرتا ہوں کہ مہاجرین اولین کے ساتھ خیر اور بھلائی کا معاملہ کریںاور مہاجرین اولین کو وصیت کرتا ہوں کہ تقویٰ اور عملِ صالح پر قائم رہیں اور اے مسلمانو!میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ ان کے ساتھ خیر اور حسن سلوک کا معاملہ کرنا ۔ انصار نے اسلام کو ٹھکانہ دیا اور مکانوں ، زمینوں ، باغوں اور پھلوں میں تم کو اپنا شریک بنایا اور فقر و فاقہ کے باوجود تم کو اپنے نفسوں ( جانوں ) پر ترجیح دی ۔‘‘اور سب سے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ آگاہ ہو جائو! میں تم سے پہلے جا رہا ہوں اور تم بھی مجھ سے آکر ملو گے۔ حوضِ کوثر پر ملنے کا وعدہ ہے۔‘‘ اس کے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترآئے اور حجرۂ عائشہ میں تشریف لے گئے۔

آخری امامت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کوشش کے باوجود اس کے بعد نماز پڑھانے نہ آسکے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ نماز پڑھائیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے۔ درمیان میںحضور صلی اللہ علیہ وسلم سنیچر یا اتوار کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سہارے مسجد میں تشریف لائے ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے بائیں جانب بیٹھ گئے اور جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تلاوت رکی تھی وہیں سے شروع کی اور باقی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو پڑھائی۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام تھے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرنے لگے اور باقی نماز ی اُن کی اقتدا ء کرنے لگے۔

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے لئے دعا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد مسجد نبوی میں نماز پڑھنے نہیں آسکے اور بستر سے لگ گئے۔ اتوار کے دن طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو مقامِ جرف پر لشکر جمع کر رہے تھے ، خبر ملتے ہی تیزی سے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ طبیعت اتنی زیادہ خراب ہو چکی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بات نہیں کر سکتے تھے۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جھک کر پیشانی مبارک کو بوسہ دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے پھر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے سر پر ہاتھ رکھ دیئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’میں سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا فرما رہے ہیں۔‘‘ اس کے بعد حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ مقامِ جرف پر واپس آگئے۔

پیر کے دن صبح

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غمزدہ اور بجھے بجھے تھے۔ مدینہ منورہ میں جیسے سناٹا چھایا ہو اتھا۔ لوگوں نے ہنسنا مسکرانا قہقہے لگانا اور زور سے بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ہر کوئی ملاقات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے بارے میں پوچھتا تھا۔ سب لوگ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے آتے تھے اور امید بھری نظروں سے حجرہ عائشہ کے دروازے کے پردے کو تکتے رہتے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دلوں کے چین صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے باہر آجائیں ۔ پھر نماز کا وقت ہو جاتا اور نماز پڑھنے لگتے اور پھر اگلی نماز سے پہلے امید بھری نظروں سے حجرہ عائشہ کے دروازے کو تکنے لگتے۔ اس طرح تیسرے دن پیر کی صبح ہوئی اور فجر کی نماز سے پہلے سب کی امید بھری نظریں اسی طرف اٹھ رہی تھیں جس طرف سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تھے۔ آخر کار فجر کی نماز کا وقت ہو گیا او ر صفیں لگنے لگیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھانی شروع کی کہ اچانک ان کی اورتمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی امیدیں پوری ہو گئیں اور جس روشن اور چمکتے ہوئے چہرہ مبارک کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں تھیں نماز کے دوران وہ اچانک سامنے آگیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرہ عائشہ کا پردہ ہٹایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز کا مشاہدہ فرمانے لگے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جب ہم مسلمان حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیر کے دن صبح فجر کی نماز ادا کر رہے تھے تو اچانک ہم سب چونک اٹھے ۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ عائشہ کا پردہ اٹھا کر مسلمانوں کا مشاہدہ فرما رہے تھے۔ جب کہ وہ نماز کی صفوں میں تھے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور تبسم کی حد تک ہنسے۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تا کہ صف میں جا ملیں ۔ ان کا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاید نماز کے لئے آنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں اپنی نماز توڑنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز جاری رکھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں چلے گئے اور پردہ لٹکا دیا۔‘‘ صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا :’’ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک اتنا حسین اور اتنا روشن اور چمک دار دکھائی دے رہا تھا جیسے مصحف شریف کا ورق ہو۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مطمئن ہو ئے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کو سکون اور اطمینان دیا اور وہ مطمئن ہو گئے اور خوش ہوئے کہ پچھلے کئی دنوں کے مقابلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت آج اچھی محسوس ہو رہی ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فجر کی نماز سے فارغ ہو نے کے بعد سیدھے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اپنی بیٹی اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( پچھلے کئی دنوں کے مقابلے میں ) اب سکون ہے اور جو کرب اور بے چینی دکھائی دیتی تھی وہ نہیں ہے۔ چونکہ یہ دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دو بیویوں میں اس بیوی کی باری کا دن تھا جو مدینہ منورہ سے ایک کوس کے فاصلے پر مقامِ’’ سخ ‘‘میں رہتی تھی۔ اس لئے آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل سے اچھی حالت میں صبح کی ہے۔ اور آج میری ایک بیوی حبیبہ بنت خارجہ کی باری کا دن ہے جو سنح میں رہتی ہے۔ اگر اجازت ہو تو وہاں ہو آئوں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہا ں چلے جائو۔‘‘ اجازت لے کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ باہر آئے تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم منتظر تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت فی الحال اچھی ہے اور میں سنح جا رہا ہوں۔ یہ سن کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مطمئن ہو گئے اور اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔

آخری وقت مسواک

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت اچھی لگ رہی تھی یہ دیکھ کر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مطمئن ہو کر اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گود میں رکھا ہوا تھا اور آپ رضی اللہ عنہا معوذ تین ( سورہ فلق اور سور ناس) پڑھ پڑھ کر پھونک رہی تھیں کہ اسی درمیان میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھوں میں تازی مسواک لے کر آئے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کے مجھ پر انعامات میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے حجرے ( کمرے یا گھر) میںمیری باری کے دن اور اس حالت میں ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ (یوں سمجھ لیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرِ مبارک اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لعاب ِ دہن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب ِ دہن سے ملا دیا تھا۔ ہو ا یوں کہ میرے بھائی حضرت عبدالرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے ۔ ان کے ہاتھ میں تازی مسواک تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو بہت غور سے دیکھ رہے ہیں۔ میں سمجھ گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے لے لوں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں میں سر ِ مبارک ہلایا۔ پھر میں نے عرض کیا: ’’کیا اسے نرم کر دوں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ہاں میں سرِ مبارک ہلایا۔ پس میں نے اسے چبا کر نرم کر دیا۔ ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تو انہوں نے مسواک کی) صحیح بخاری کی یہ حدیث ابھی جاری ہے۔ صحیح بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب اچھی طرح مسواک کی۔

مدینہ منورہ میں قیامت صغریٰ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گود میں سر رکھے لیٹے ہوئے تھے ۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت اچھی دیکھی تو مطمئن ہو کر اپنے اپنے گھر چلے گئے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک کوس دور سنح میں اپنے گھر گئے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوب اچھی طرح مسواک کی تھی اور لیٹے ہوئے تھے۔ چاشت کا وقت گزر رہا تھا اور زوال کی آمد آمد تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پھر بہت تیزی سے خراب ہونے لگی۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو آگے بڑھاتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ’’( مسواک کرنے کے کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبعیت خراب ہونے لگی اور ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اپنا دستِ مبارک ڈال کرپانی میں بھگوتے تھے اور اپنے چہرہ مبارک پر پھیر لیتے تھے اور فرماتے تھے : ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور موت کی تکلیف بہت سخت ہے۔‘‘ اور دستِ مبارک اوپر اٹھا کر فرماتے اللھم الرفیق الاعلیٰ ۔‘‘ ( صحیح بخاری کی ایک اور حدیث میں ہے اُم المومنین فرماتی ہیں) میں معوذ تین پڑھ پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر پھونکنے لگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک پانی میں بھگا کر چہرہ مبارک پر پھیرتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے : ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور موت کی تکلیف بہت سخت ہے۔اللھم الرفیق الاعلیٰ ‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستِ مبارک نیچے گر گیا اور گردن دُھلک گئی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ، تمام انسانوں کے سردار، تمام انبیاء کے سردار، تمام مخلوقات کے رسول ، اللہ تعالیٰ کے محبوب اپنے خالق اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ رحمت میں لوٹ گئے۔ بے شک ہم اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ بے شک ہم سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ بے شک ہم سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ صبح تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سکون اور اطمینان کا سانس لیا تھا۔ لیکن انہیں نہیں معلوم تھا کہ چند گھنٹوں پر اُن پر قیامت صغریٰ آنے والی ہے او ر قیامت صغریٰ آگئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔

اللہ تعالیٰ بے انتہا محبت کرتا ہے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ بے انتہا محبت کرتا ہے ،بے انتہا محبت کرتا ہے، بے انتہا محبت کرتا ہے۔ اتنی محبت کرتا ہے کہ اس کائنات میں کسی نے کسی سے اتنی محبت نہیں کی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ وہ اپنی محبت کا اظہار فرما ئے۔ اس کے لئے دنیا تخلیق فرمائی اور اس میں انسان کو بسایا اور اس کے لئے زندگی کی ہر چیز مہیا فرمائی اور ہزاروں برسوں انسانوں کو اپنے نبیوں اور رسولوں اور کتابوں کے ذریعے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتاتا رہا اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار فرماتا رہا۔ ہزاروں برسوں تک انسانوں کو بتاتا رہا کہ میں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے پاس بھیجنے والا ہوں اور میں اس سے اتنی اور اتنی اور اتنی محبت کرتا ہوں ۔ اور اس کے ذریعے میں اپنے دین اسلام کو مکمل کروں گا۔ آخر کار ہزاروں برسوں بعد بہترین انسانوں ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) کے درمیان بھیجا اور اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی پہچان کرائی اور تیئس 23برسوں تک اللہ تعالیٰ ( قرآن پاک کے ذریعے) انسانوں کو بتاتا رہا کہ وہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پاک کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پہچان کراتے رہے۔ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کام بہت ہی خوبی سے مکمل کر لیااور اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو بتا دیا کہ وہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتا ہے تو ترسٹھ63برسوں کی جدائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر قیامت گزر گئی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں بلا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں چلے گئے۔ یہ خبر بجلی کی طرح اچانک پورے مدینہ منورہ میں پھیل گئی۔ مدینہ منورہ میں’’ قیامت صغریٰ‘‘ آگئی۔ جو بھی سنتا تھا ہکا بکا رہ جاتا تھا۔ پھر روتا ہوا حجرہ عائشہ کی طرف بھاگ پڑتا تھا۔ ہر کسی کا رخ مسجد نبوی( مسجد نبوی سے متصل حجرۂ عائشہ تھا جہاں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں وہی حجرہ عائشہ تھا) کی طرف تھا۔ کسی کو کچھ ہوش نہیں تھا۔ عام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تو جو گزر رہی تھی وہ گزر رہی تھی ۔ خود بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر قیامت گزررہی تھی۔ حضرت عثمان غنی ذی النورین کا یہ حال تھا کہ شدت ِ غم کی وجہ سے سکتہ ہو گیا تھا۔ نہ کسی سے کچھ بات کر رہے تھے اور نہ ہی کسی کو کوئی جواب دے رہے تھے۔ بس دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ایک ٹک ایک طرف دیکھے جا رہے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا یہ حال تھا کہ زارو قطار روتے جا رہے تھے ۔ روتے روتے بے ہوش ہو جا تے اور جب ہوش آتا پھر رونے لگتے اور روتے روتے پھر بے ہوش ہو جاتے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کیفیت بہت ہی خطر ناک تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر حجرۂ عائشہ کے سامنے کھڑے ہو گئے اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ فرما رہے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ بلند آواز سے فرما رہے تھے : ’’ منافقین کا گما ن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیاہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہرگز انتقال نہیں ہوا ہے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ تعالیٰ کے پاس گئے ہیں۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر اللہ تعالیٰ کے پاس گئے تھے اور واپس آگئے تھے۔ اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ضرور واپس آئیں گے اور منافقوں کا قلع قمع کریں گے۔ خبر دار اگر کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے تو اس کی گردن اڑا دوں گا۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت غصے میں تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کے چہر ہ پر بہت جلال تھا۔ کسی کی ہمت نہیں تھی کہ وہ آپ رضی اللہ عنہ کو کچھ کہے اور اندر حجرۂ عائشہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تمام امہات المومنین اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی بغیر آواز کے رو رہی تھیں۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہوش و حواس اڑ گئے تھے اور کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا ہر کوئی حیران اور پریشان تھا۔ وصال کی خبر جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ملی تو آپ رضی اللہ عنہ فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر مدینہ منورہ تیزی سے پہنچے اور مسجد نبوی کے باہر گھوڑے سے اتر کر تیزی سے حجرہ ٔ عائشہ میں داخل ہوئے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بسترِ مبارک کے اطراف امہات المومنین اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ سوائے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سب نے منہ ڈھک لیا اور پردہ کر لیا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے چادر ہٹائی اور پیشانی مبارک پر بوسہ لیا۔ آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا: ’’ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں۔ اللہ کی قسم !اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ موت کا مزہ نہیں چکھائے گا۔ جو موت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لکھی گئی تھی وہ آچکی ہے‘‘ اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ حجرۂ عائشہ سے باہر آئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کاندھوں کو پکڑ کر جھنجھوڑا اور فرمایا: ’’ عمر ہوش میں آئو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں تھوڑا بدلائو ہوا انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو تو کچھ نہیں کہا لیکن تلوار تانے اسی طرح کھڑے رہے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے رہے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بارے میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں یہ تبدیلی ہوئی کہ آپ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ لیکن چہرے پر جلال ویسا ہی رہا۔ یہ دیکھ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ منبر کے پاس آئے اور بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی تو سب لوگ آپ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس کے بعد فرمایا: ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو وہ جان لے کہ بے شک اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اسے موت نہیں آسکتی اور اگر کوئی شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آچکی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (ترجمہ) ’’ اور نہیں ہیں محمد مگر اللہ کے ایک رسول ۔ جن سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں تو اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آجائے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو جائیں تو کیا تم دین اسلام سے واپس پھر جائو گے اور جو شخص اسلام سے پھرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کو ذرّہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچاپائے گا اور اللہ تعالیٰ جلد ہی شکر کرنے والوں کو انعام دے گا۔‘‘ ( سورہ آل عمران آیت نمبر 144) اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آنے والی ہے اور سب لوگ بھی مرنیوالے ہیں۔ سب چیز فنا ہو نے والی ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات باقی رہے گی۔ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ قیامت کے دن سب کو ان کے اعمال کا پورا پورا اجر دیا جائے گا۔‘‘ اس کے بعد آگے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر دراز کی اور ان کو باقی رکھا۔ یہاں تک کہ اللہ کے دین ( اسلام ) کو قائم کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم ( قرآن پاک) کو نافذ کر دیا اور اللہ کے حکم کو ظاہر کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے لئے جہاد کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ایک سیدھے اور صاف راستہ پر چھوڑ کر گئے ہیں۔ اب جو ہلاک اور گمراہ ہو گا وہ حق واضح ہونے کے بعد گمراہ ہو گا۔ پس اللہ تعالیٰ جس کا رب ہے تو وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اسے کبھی موت نہیں آسکتی اور جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تووہ جان لے کہ انہیں موت آ چکی ہے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔ بے شک اللہ کا دین قائم و دائم رہے گا اور اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا اور اللہ تعالیٰ اس شخص کا مدد گار ہے جواس کے دین کی مدد کرے اور اللہ تعالیٰ اپنے دین کو عزت اور غلبہ دینے والا ہے۔ اللہ کی کتاب ہمارے درمیان موجود ہے اور وہی نورِ ہدایت اور دنوں کی شفا ہے۔ اسی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو راستہ بتلایا اور اس میں اللہ تعالیٰ کی حلال اور حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے۔ اللہ کی قسم !ہمیں اس کی قطعی پرواہ نہیں ہے جو ہم پر لشکر لے کر حملہ کرے۔ بے شک! ابھی بھی تلواریں ہمارے ہاتھوںمیں ہیں اور وہ اللہ کے دشمنوں پر تنی ہوئی ہیں اور اللہ کی قسم !ہم اللہ کے دشمنوں سے اب بھی اسی طرح جہاد کریں گے جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ مل کر کیا کرتے تھے۔ پس دشمن خوب سمجھ لے اور اپنی جان پر ظلم نہ کرے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوش و حواس میں واپس آئے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لئے ایک دھماکہ ثابت ہوئی۔ جس سے ان کے اعصاب منتشر ہو گئے تھے اور وہ ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔ کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا ایسے کٹھن اور صبر آزما لمحات میں صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی واحد ہستی تھی جو ہوش و حواس میں تھے اور ثابت قدم رہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (حجرہ عائشہ سے ) باہر نکلے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ لوگوں سے کچھ فرما رہے تھے۔ انہوںنے فرمایا: ’’ اے عمر فاروق رضی اللہ عنہ !بیٹھ جائو۔‘‘ لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ( بیٹھنے ) سے انکار کر دیا توحضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ منبر کی طرف گئے اور لوگ انہیں چھوڑ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ جو تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو وہ یہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آچکی ہے اور جو تم میں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو وہ یہ جان لے اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : (ترجمہ)’’ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے ایک رسول ہیں۔ اُن سے پہلے بہت سے رسول ہو چکے ہیں تو اگر اُن کو موت آجائے یا شہید ہو جائیں توکیا تم اسلام سے الٹے پھر جائو گے اور جو اسلام سے الٹے پھر جائے گا تو وہ اللہ کا کوئی نقصان نہیں کرے گا اور جلد ہی اللہ تعالیٰ شکر اداکرنے والوں کو ثواب عطا فرمائے گا۔ ‘‘(سورہ آل عمران آیت نمبر144) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم! ایسا لگتا تھا جیسے ہملوگوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی تو آپ رضی اللہ عنہ سے سیکھ کر سب لوگ اس آیت کی تلاوت کرنے لگے اور کوئی شخص ایسا نہ رہا جو اس آیت کی تلاوت نہ کر رہا ہو۔ حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں : ’’حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم !مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اس آیت کو پہلے سنا ہی نہیں تھا۔ ( جب کہ اکثر تلاوت کرتے تھے) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس آیت کی تلاوت کرتے سنا تو میں ڈر گیا اور میری دونوں ٹانگیں کانپنے لگیں یہاں تک کہ دھڑام سے زمین پر گر گیا اور مجھے یقین آگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا ہے۔‘‘

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ثابت قدم رہے اور آپ رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اتنی خوبی سے سمجھایا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حقیقت کا ادراک ہو گیا اور ہر کوئی آپ رضی اللہ عنہ کا احسان ماننے لگا۔ جب ہر کسی کو یقین ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں جا چکے ہیں تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ مشورہ کرنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب کسے بنایا جائے۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو کسی نہ کسی کو اپنا نائب ضرور بناکر جاتے تھے۔ کافی غور و خوض کرنے کے بعد تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے متفق ہو کر یہ فیصلہ کیا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا یا جائے۔ سب کا اس پر اتفاق ہو گیا تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنا لیا۔ اس بیعت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ شامل نہ ہو سکے۔ کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے میں مصروف تھے۔ بہر حال کچھ عرصہ بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی۔

غسل اور تجہیز و تکفین کے بارے میں وصیت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے پہلے ہی غسل اور تجہیز و تکفین کے بارے میں وصیت فرما دی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے شدت اختیار کی تو ہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون غسل دے گا؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میرے اہل بیت کے قریب ترین مرد مجھے غسل دیں گے۔ ان کے ساتھ بہت زیادہ تعداد میں وہ فرشتے ہوں گے جو تم کو دیکھتے ہوں گے ۔ مگر تم ان کو نہیں دیکھتے ہوں گے۔ وہ بھی غسل دیں گے۔ ‘‘پھر ہم نے دریافت کیا: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسے ہوگی؟یا کون نماز پڑھائے گا؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب تم غسل دے کر فارغ ہو جانااور خوشبو لگا کر کفن پہنا دینا اور میرے تخت پر لٹا کر میری قبرکے کنارے رکھ دینا ۔ پھر تم سب کچھ دیر کے لئے باہر چلے جانا ۔کیوں کہ سب سے پہلے جبرئیل علیہ السلام نماز پڑھیں گے ۔ پھر میکائیل علیہ السلام ، پھر اسرافیل علیہ السلام اور پھر ملک الموت فرشتوں کے لشکر کے ساتھ نماز پڑھیں گے۔ اس کے بعد تم سب ٹولیاں بنا کر آنا اور تنہا تنہا نماز پڑھنا۔‘‘ پھر ہم نے دریافت کیا: ’’ کون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر میں اتارے گا ؟ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اہل بیت اتاریں گے اور ان کے ساتھ فرشتے ہوں گے۔ ‘‘

سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی تیاری اہلِ بیت حضرات کر رہے تھے ۔ اس سلسلے میں وہ آپس میں مشورہ کر نے لگے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح غسل دیا جائے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو کہنے لگے : ’’ اللہ کی قسم !ہم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اتار کر غسل دیں یا نہیں کپڑوں میں غسل دیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سب پر غنودگی طاری کر دی اور ہر شخص اپنی تھوڑی کو اپنے سینے پر ڈالے ہوئے تھا۔ اس کے بعد حجرے کے کونے سے کسی نے کہا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے؟ اس نے کہا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہی کپڑوں میں غسل دو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر موجود ہیں۔‘‘ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے لگے تو منادی نے ان کے اندر سے پکارا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں کے ساتھ غسل دو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے غسل دیا۔‘‘ اور فرمایا: ’’میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصال سے پہلے بھی پاکیزہ تھے اور وصال کے بعد بھی پاکیزہ رہے۔‘‘ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ غسل دے رہے تھے اور حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور ان کے دونوں بیٹے حضرت فضل بن عباس اور حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہم کروٹیں بدلتے تھے اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ( لشکر لے کر واپس آگئے تھے) اور حضرت شقران رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے۔

قبر ِ مبارک کی کھدائی

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کے بعد تین کپڑوں کا کفن پہنایا گیا۔ جس میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا۔ دفن کرنے کے بارے میں سوال پیدا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں دفن کیا جائے۔ مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مختلف رائے دینے لگے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ انبیائے کرام علیہم السلام کو وہیں دفن کیا جاتا ہے جہاں اُن کی روح قبض ہوتی ہے۔‘‘ اس لئے جس جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر تھا اسی جگہ قبر کھودنا طئے ہوا۔ پھر یہ سوال اٹھا کہ قبر کیسی کھودی جائے۔ مہاجرین صحابہ رضی اللہ عنہم نے مکہ مکرمہ کے دستور کے مطابق’’ بغلی قبر‘‘ کا مشورہ دیا اور انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ منورہ کے دستور کے مطابق ’’لحد‘‘ کھودنے کا مشورہ دیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ بغلی قبر کھودتے تھے اور حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ لحد کھودتے تھے۔ یہ طے ہوا کہ دونوں کو بلایا جائے جو پہلے آئے گا وہ قبر کھودے گا۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ پہلے آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لحد والی قبر کھودی گئی۔ بعد میں مٹی ڈالنے کے بعد کوہان کی شکل دی گئی۔

نمازِ جنازہ بغیر امام کے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے کنارے رکھ دیا گیا۔ لوگوں نے خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نماز جنازہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ لوگوں کا ایک ایک گروہ جائے اور تکبیر کہے پھر درود پڑھے اور دعا پڑھ کر باہر آجائے۔ پھر دوسرا گروہ جائے۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ کفن دینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے کنارے رکھ دیا گیا۔ ایک ایک گروہ حجرۂ عائشہ میں آتا تھا اور تنہا تنہا نماز پڑھ کر باہر واپس چلا جاتا تھا۔ کوئی امامت نہیں کرتا تھا اور الگ الگ بغیر امام کے نماز پڑھ کر واپس آجاتے تھے۔ ‘‘حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو مردوں کو پہلے حکم دیا گیا اور انہوں نے بغیر امام کے ٹولیاں بنا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی۔ ا سکے بعد عورتوں اور بچوں نے نماز پڑھی اور نماز پڑھنے کے لئے کوئی امام نہیں تھا۔

رسول اللہ ﷺ پر درودا ور سلام

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ بغیر امام کے پڑھی گئی۔ قاضی عیاض مالکی اندلسی اپنی کتاب الشفا میں لکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی گئی ہے اور یہی اکثر علمائے کرام کا مسلک ہے اور امام شافعی نے بھی اپنی کتاب ’’ الام ‘‘میں لکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پرھی گئی ہے۔ لیکن کچھ علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی ہے اور لوگ گروہ در گروہ حجرۂ عائشہ میں داخل ہوتے تھے اور درو د اورسلام اور دعا پڑھ کر واپس آجاتے تھے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تخت پر لٹا دیا گیا تو کہا گیا کہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت نماز میں نہ کرے۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وصال سے پہلے بھی اور وصال کے بعد بھی تم سب کے امام ہیں۔ اسی لئے لوگ جماعت در جماعت بن کر داخل ہو تے تھے اور صف در صف ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام پڑھتے تھے اور ان کا تکبیر کہنے والا کوئی امام نہیں ہوتا تھا۔ امام محمد بن سعد آگے لکھتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک جماعت کے ساتھ حجرہ ٔ عائشہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہو کر یہ پڑھا: ‘‘سلام ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ۔ اے اللہ تعالیٰ ہم گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سب کچھ پورا پورا ہم تک پہنچا دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اُمت کی خیر خواہی کی ہے اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب کر دیا اور اسلام کا بول بالا ہوا۔ اے اللہ تعالیٰ! ہم کو اُن لوگوں میں سے بنا جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کا اتباع کیا اور ہم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( میدان محشر اور جنت میں ) جمع کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو پہچانیں اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں پر بڑے مہربان ہیں۔ اس درود اور سلام اور دعا پر سب آمین آمین کہتے تھے۔

تدفین

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ اور درود اور سلام پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں اتارا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ، ان کے دونوں بیٹے حضرت فضل بن عباس اور حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبرمیں اتارا اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ حجرہ میں سے پھاوڑے سے مٹی سرکانے کی آواز سے ہم نے اندازہ لگا یا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا جا رہا ہے۔ ‘‘حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ( لگ بھگ دس سال کی عمر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم بنے اور لگ بھگ گیارہ سال تک ساتھ رہے اور خدمت کرتے رہے ) فرماتے ہیں: ’’ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض نے شدت اختیار کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو گئے اور جب ہوش میں آئے تو سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ہائے میرے ابا جان کی تکلیف !آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارے اباجان کو آج کے بعد تکلیف نہیں ہوگی۔‘‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ’’ اے ابا جان! رب ِ کریم اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا قبول فرمائی۔ ابا جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو جنت الفردوس میں قیام پذیر ہیں۔ ابا جان !میں اس غم کی خبر جبرئیل علیہ السلام کو سناتی ہوں۔‘‘ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا جا چکا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے ( حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا: ’’ تمہارے دلوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالنا کیسے برداشت کیا۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر احسان

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک کے حالات مکمل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر تو اتنا وسیع ہے کہ ہم لاکھوں صفحات بھر کر بھی ذکر کریں تو مکمل نہیں ہوگا۔ بلکہ ادھورا پن محسوس ہوگا۔ اس لئے وصال تک کے حالات کا ذکر کر کے ہم یہیں پر ختم کر تے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے محبوب خاتم النبیّن صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا فرمایا اور ایمان کی دولت سے نوازا اور’’ امت ِ وسط ‘‘میں پیدا فرما یا اوراللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے ہم تک اسلام کو پہنچانے کے لئے بہت سی تکلیفیں اٹھائیں اس کے باوجود اپنی جدو جہد اور کوشش جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو نافذ کر دیا۔ اپنے آخری وقت تک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اسی کوشش اور فکر میں رہے کہ دنیا کے تمام انسان دوزخ سے بچ جائیں اور جنت میں چلے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر استغفار کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور فرمایاکہ کچھ رات عبادت کریں اور کچھ رات آرام بھی کریں۔ اب ہم اُمتیوں کا فرض ہے کہ ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں اور اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق گزاریں۔ ہم اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر کام میں اتباع ( پیروی ، نقل) کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک عمل کو سمجھیں اور اس پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کریں اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کوشش میں کامیاب کرے۔ اے اللہ تعالیٰ ! تُوسب کا مالک اور حاکم ہے۔ ہماری پیشانیوں کے بال پکڑ کر ہمیں برائی سے روک دے اور نیکی کے راستے پر چلا ۔ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ آمین

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال تک کے حالات مکمل ہوئے ،لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر مکمل نہیں ہوا ہے ۔سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر شروع سے ہو رہا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا ۔اِس دنیا میں انسان کے آنے کے ساتھ ہی اﷲ تعالیٰ اور اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر بھی آیا ۔انسان اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہا اور اﷲ تعالیٰ اپنے ’’آخری رسول‘‘ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے کرتا رہا ۔اُن پر نازل ہوئی کتابوں میں سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے اوصاف بیان فرماتا رہااور انہیں حکم دیتا رہا کہ اپنی اپنی اُمتوں کے سامنے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر کرتے رہیں اور اوصاف بیان کرتے رہیں۔ہر نبی علیہ السلام نے اپنی اپنی اُمت کے سامنے ’’خاتم النبین ‘‘صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر کیا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اوصاف اتنے زیادہ بیان فرمائے کہ اُن کی اُمتیں ’’وہ آخری نبی ‘‘ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی اولاد سے زیادہ پہچاننے لگیں ۔یہاں تک کہ ’’ آخری رسول‘‘جو تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے ’’سردار‘‘ ہیں وہ اِس دنیا میں تشریف لائے ۔اُن پر اﷲ تعالیٰ نے اپنی ’’سب سے عظیم الشان ‘‘کتاب ’’قرآن پاک ‘‘نازل فرمائی اور اس کتاب میں بھی جگہ جگہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا ذکر فرمایا۔اِس کے ساتھ ساتھ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا بھی ذکر فرمایا اور اُن کے حالات بھی بیان فرمائے۔ساتھ ہی ساتھ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو وہ خصوصیات عطا فرمائیں جو تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو نہیں عطا ہوئیں تھیں۔

ہفتہ، 17 جون، 2023

01 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


01 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 01

تمام انبیائے کرام پر ایمان لانا ضروری

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد بنی اسرائیل میں کوئی نبی نہیں آئے۔ بلکہ ان کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں آئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان لگ بھگ پونے چھ سو 575برسوں کا فاصلہ ہے۔ اس درمیان میں عیسائی مسلمان تھے۔ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگئے تو اب بنی اسرائیل ( یہودی) اور عیسائی ان دونوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا چاہیئے تھا۔ لیکن ان دونوںقوموں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا۔ اس لئے بھی یہ کافروں میں شامل ہو گئے۔ کیوں کہ ایمان کے لئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر ایک بھی چھوڑ دیا یا انکار کر دیا تو ایمان سے خارج ہو جائے گا۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بیت المقدس کے لئے وقف 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میں سے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح(علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام )کے خاندان کواور عمران کے خاندان کاانتخاب فرما لیا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 33)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر ہم حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ذکر میں پڑھ چکے ہیں۔ لیکن آپ کو ادھورا پن نہ لگے اس لئے یہاں پھر سے ذکر کرتے ہیں۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے والد عمران بن ماثان، حضرت داﺅد علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت داﺅد علیہ السلام کی نسل سے ہوئے۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے والد عمران بنی اسرائیل میں نماز کے امام تھے۔ اور والدہ حَنّہ بنت فاقوذ بھی بہت ہی نیک اور عبادت گذار خاتون تھیں۔ آپ کو اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک دن انھوں نے ایک پرندے کو دیکھا وہ اپنے چوزوں کو کھانا کھلا رہا تھا۔ انھیں دیکھ کر یہ خیال آیا کہ کاش میرا اپنا بھی کوئی بچہ ہوتا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے منت مانی کہ اے اللہ تعالیٰ، اگر تو مجھے اولاد عطا فرمائے گا تو میں اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دوں گی۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب عمران کی بیوی نے کہاکہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو کچھ ہے ،اُسے میں تیرے نام سے آزاد کرنے کی نذر مانی تُو میری طرف سے قبول فرما۔یقینا تُو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 35)

اﷲ تعالیٰ کی پناہ میں دے دیا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛”جب بچی پید ہوئی تو (والدہ) کہنے لگیں کہ اے میرے رب!مجھے تو لڑکی ہوئی ہے،اﷲ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے۔اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں ،میں نے اس کا نام ”مریم “رکھا ۔میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔(سورہ آل عمران آیت نمبر36)اللہ تعالیٰ نے ان کی نذر کو قبول فرمایا۔ اور انھیں اولاد سے نوازا۔ اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ بیٹا چاہتی تھیں کیوں کہ اس وقت تک بنی اسرائیل میں بیت المقدس کی خدمت کے لئے بیٹے وقف کرنے کا رواج تھا۔ لیکن اب چونکہ حنہ بنت فاقوذ نذر مان چکی تھیں اس لئے انھوں نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کے ذمہ داران کے حوالے کر دیا اور کہا کہ میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ، میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں کہ تو انھیں شیطان کے شر سے بچائے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو بھی قبول فرمایا۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش 

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کا ذکر ہم حضرت زکریاعلیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ذکر میں کر چکے ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ بہت سے قارئین اسے نہ پڑھ سکے ہوں ۔ اس لئے مختصراً یہاں ذکر کر دیتے ہیں ۔جب سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ نے انھیں بیت المقدس کے ذمہ داروں کے حوالے کیا تو اس وقت حضرت زکریا علیہ السلا م بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ اور بیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے ایک تھے۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بنی اسرائیل کے امام کی بیٹی تھیں اس لئے بیت المقدس کا ہر ذمہ دار یہ چاہتا تھا کہ وہ اس بچی کی پرورش کرے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا چونکہ میں اس بچی کا خالو ہوں اس لئے اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری مجھے سونپی جائے۔

پرورش کے لئے قرعہ اندازی

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے،جسے ہم آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم)اُن کے پاس نہیں تھے جب کہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے گا۔اور نہ تو اُن کے جھگڑنے کے وقت اُن کے پاس تھے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 44)بیت المقدس کا ہر ذمہ دار سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کرنا چاہتا تھا اس لئے یہ طے ہوا کہ قرعہ نکالا جائے۔ جس کے نام قرعہ کھلے گا وہ بچی کی پرورش کرے گا۔ تمام ذمہ داروں نے اپنے اپنے قلم کپڑے کے نیچے رکھ دیئے ایک بچے کو بلایا گیا او ایک قلم نکالنے کو کہا گیا۔ اس بچے نے جو قلم نکالا وہ حضرت زکریا علیہ السلام کا تھا۔ یہ دیکھ کر دوسرے ذمہ داروں نے کہا پھر سے قرعہ اندازی کرتے ہیں۔ اس بار تمام لوگ دریا میں اپنے اپنے قلم ڈالیں ۔ جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرے گا وہی اس بچی کی پرورش کرے گا۔ تمام لوگ اور تمام قلم دریا کے پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگا۔ یہ دیکھ کر تمام ذمہ داروں نے کہا۔ ایک آخری مرتبہ اور قرعہ اندازی کر لیتے ہیں۔ اس بار جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرے گا وہی اس بچی کی پرورش کرے گا۔ ایک مرتبہ پھر تمام ذمہ داروں نے اپنے اپنے قلم دریا میں ڈالے تو تمام لوگوں کے قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمیت تیرنے لگے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگا۔ یہ دیکھ کر تمام لوگوں نے تسلیم کر لیا کہ اللہ تعالیٰ بھی یہی چاہتا ہے کہ اس بچی کی پرورش حضرت زکریا علیہ السلام کریں۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی عبادت و ریاضت 

اس طرح حضرت زکریا علیہ السلام نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پرورش کی ذمہ داری سنبھا ل لی۔ آپ علیہ السلام نے بچی کے لئے ایک بہت ہی مناسب کمرہ منتخب فرمایا تھا۔ اس کمرے میں سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی اجازت کے بغیر کوئی نہیں داخل ہو سکتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ کو بھی اجازت لینی پڑتی تھی۔ یہ کمرہ بیت المقدس کے قریب تھا۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ کی بہت عبادت گذار بندی تھیں۔ اور جیسے جیسے عمر بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے عبادت و ریاضیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ہر وقت وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتیں۔ اور صرف اُس دن اپنے کمرے سے باہر نکلتیں جس دن بیت المقدس میں اُن کی خدمت کی باری ہوتی تھی۔ اور اسی دن بنی اسرائیل اور اُن کے والدین انھیں دیکھ پاتے تھے۔ باقی تمام دن میں وہ سارا وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہا کی عبادت بنی اسرائیل میں ایک مثال بن گئی۔ اور تمام بنی اسرائیل اُن کی تعریف کرتے تھے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بھی جب اُن کے کمرے میں تشریف لے جاتے تھے تو اُن کے کمرے میں پھل دیکھ کر حیران ہو جاتے تھے۔ اور پھل بھی ایسے ہوتے تھے جن کا موسم نہیں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام نے پوچھا۔ بیٹا مریم ، یہ پھل کہاں سے آتے ہیں جب کہ میرے سوا کوئی بھی اس کمرے میں نہیں آتا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ پھل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔ا،س کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے رب نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اُسے بہترین پرورش دی۔اُسکی خیر خبر لینے والا زکریا(علیہ السلام)کو بنایا۔جب کبھی زکریا علیہ السلام اُس کے حجرے(محراب) میں جاتے تو اُس کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے ۔وہ پوچھتے ؛اے مریم!یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی ؟وہ جواب دیتیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے پاس سے ہے۔بے شک اﷲ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 37)

فرشتے نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی

یہ دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی بیت المقدس کی خدمت اور عبادت کو قبول فرما لیا ہے۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہا ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول تھیں کمرے کا دروازہ بند تھا۔ اور کوئی اندر نہیں آسکتا تھا۔ عبادت کے دوران انھیں آواز آئی ۔ اے مریم اللہ تعالیٰ تمہیں بشارت دیتا ہے۔اس آواز کو سن کر سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے چونک کر آواز کی طرف دیکھا تو ایک فرشتہ نظر آیا۔ آپ رضی اللہ عنہا حیران ہو گئیں کہ دروازہ تو بند ہے پھر یہ کیسے اندر آگیا؟ اس نے آپ کی حیرانی دیکھ کر کہا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہو افرشتہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں چُن لیا ہے سارے جہان کی عورتوں میں سے اور پاک کر دیا ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسی خلوص سے عبادت کرتی رہو۔ اور سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرتی رہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بیٹے کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ معزز ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اللہ تعالیٰ کے مقربین میں سے ہوگا۔ اور لوگوں سے جھولے میں ( یعنی اس وقت جب بچے بول نہیں سکتے ) میں بات کرے گا۔ اور بڑا ہو کر بھی بات کرے گا۔ اور نیک لوگوں میں سے ہوگا۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب فرشتوں نے کہا؛اے مریم!اﷲ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی بشارت( خوش خبری) دیتا ہے۔جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے اور دنیا میں اور آخرت میں ذی عزت ہے اور وہ میرے مقربین میں سے ہے۔وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں بات کرے گااور ادھیڑ عُمر بھی اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 45 اور 46) اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اِس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کرو۔جب کہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علحٰیدہ ہو کر ایک مشرقی مکان میں آئیں اور اُن لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا۔پھرہم نے اُس کے پاس اپنی روح کوبھیجا ،وہ اُس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا ۔یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں ،اگر تُو کچھ بھی اﷲ سے ڈرنے والا ہے۔اُس نے جواب دیا کہ میں تو اﷲ کا بھیجاہوا قاصد ہوں ،تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہیں لگا اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔اُس نے کہا بات تو یہی ہے ،لیکن تیرے رب کا ارشاد ہے کہ وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے ۔ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت۔یہ تو ایک طے شدہ بات ہے۔“(سورہ مریم آیت نمبر 16سے 21تک)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

02 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


02 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 02

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا تعجب

یہ سن کر سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو بہت تعجب ہوا اور انہوں نے حیرانی سے فرمایا؛”اے اللہ تعالیٰ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں کسی بچے کی والدہ بنوں ۔ جب کہ کسی مرد نے مجھے چھوا ہی نہیں ہے؟“ تو فرشتے نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جواب دیا۔ ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جب جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے۔ اور جب کسی بات کا فیصلہ فرماتا ہے تو کہتا ہے ہو جا ۔ تو وہ فوراً ہو جاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس بچے کو سکھائے گا کتاب اور حکمت توریت اور انجیل اور اسے رسول بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گا۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”(مریم) کہنے گیں۔اے میرے رب!مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟جبکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے۔فرشتے نے کہا ؛اِسی طرح اﷲ تعالیٰ جو چاہے پید کرتا ہے۔جب کبھی وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف کہتا یہ کہہ دیتا ہے”ہوجا“تو وہ ہوجاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ اُسے لکھنا اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائے گا۔اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسو ل ہوگا........آیت کے آخر تک۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 47سے49تک)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ایک دن جب سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اپنے حجرے میں تھیں یا بعض روایات کے مطابق وہ غسل کر چکی تھیں ۔جبرئیل علیہ السلام خوب صورت انسانی شکل میں اُن کے پاس آئے ۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا ایک اجنبی مرد کو دیکھ کر گھبرا گئیں اور اﷲ کی پناہ مانگتے ہوئے کہنے لگیں کہ اگر تمہارے دل میں ذرا بھی اﷲ کا خوف ہے تو یہاں سے چلے جاو¿۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی گھبراہٹ دیکھتے ہوئے جبرئیل علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تم مت گھبراو¿،میں اﷲ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔میں تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دینے آیا ہوں ۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہانے بے ساختہ کہا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہو گا جبکہ آج تک مجھے کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔نہ تو میرا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی میں برے کردار والیہوں۔جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تو اﷲ کا پیغام لیکر آیا ہوں ،جس میں اﷲ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اِسی طرح ہوکر رہے گا۔اﷲ کا یہ فیصلہ اُس کی قدرت ِ کاملہ کا اظہار ہے۔وہ تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اپنی قدرت کا نمونہ بنا کر پیش کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔اور اِس فیصلے پر عمل کرنا اﷲ کے لئے بہت آسان ہے اور کوئی چیز اﷲکی قدرت سے باہر نہیں ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔یہ اﷲ کی قدرت کی ایک نشانی ہو گی ،تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا ،سیدہ حوا رضی اﷲ عنہا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پید ا کیا۔باقی انسانوں کو مردا و رعورت سے پیدا کیا ۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر مرد کے صرف عورت سے پیدا کیا۔پس تقسیم کی یہ چار صورتیں ہو سکتی تھیں،جو سب(اﷲ تعالیٰ نے) پوری کر دیں اور اپنی کمال ِ قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کردی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں بائبل(توریت اور انجیل) میں بہت سی روایات ہیں لیکن اُن میں من گھڑت بہت زیادہ ہیں۔اوراعتبار کے قابل نہیں ہیں۔ اس لئے ہم یہاں صرف قرآن پاک کی آیات میں آپ علیہ السلام کی پیدائش کا جو ذکر آیا ہے وہی ذکر ہم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر58سے آیت نمبر60تک فرمایا ؛ترجمہ”یہ جوہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انسانوں کو) پڑھ کر سنا رہے ہیں یہ نصیحت اور حکمت والی آیتیں ہیں۔ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم (علیہ السلام )کے جیسی ہے۔ کہ ( حضرت آدم علیہ السلا م کو) بنایا ہے مٹی سے اور فرمایا ہو جا تو وہ ہوگیا۔ ( اور اے سننے والو تمام انسانو) یہ حقیقت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان ہیں۔ تمہارے رب (اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے ۔ پس تم لوگ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بغیر باپ کے پیدا فرمایا ہے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کی طرح حضرت عیسیٰ بھی ایک انسان ہیں۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کسی قسم کے شک میں نہیں پڑنا چاہیئے ۔ اور نہ ہی کسی کھوج وغیرہ میں پڑنا چاہیئے ۔ بس ہمیں یہ ایمان رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اس کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔ اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”پس وہ حمل سے ہو گئیں اور اِسی وجہ سے وہ یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں۔پھر درد زہ اُسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا اور بے ساختہ زبان سے نکل گیا کہ کاش!میں اِس سے پہلے مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہوجاتی۔“(سورہ مریم آیت نمبر 22اور23)جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا وقت قریب آیا تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا آبادی سے نکل کر ویرانے میں چلی گئیں اور ایک کھجور کے درخت کے نیچے درد کی شدت کی وجہ سے لیٹ گئےں۔ اور ایسے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اس علاقے کو” بیت اللحم “کہا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت” بیت اللحم“ ویران تھا۔ لیکن بعد میں یہ علاقہ آباد ہو گیا۔ اور عیسائی اس علاقے کو آپ علیہ السلام کی پیدائش کی وجہ سے بہت مقدس مانتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت پورے ”بیت اللحم “کو فرشتوں نے گھیر لیا تھا۔مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔دور کے مقام سے مُراد”بیت اللحم“ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا اپنے اعتکاف سے نکل کر وہاں جانا ایک فطری امر تھا۔بنی اسرائیل کے مقدس ترین گھرانے بنو ہارون کی لڑکی ،اور پھر وہ ”بیت المقدس“میں اﷲ کی عبادت کے لئے وقف ہو کر بیٹھی تھی،یکایک حاملہ ہو گئی ۔اِس حالت میں اگر وہ اپنی”جائے اعتکاف“میں بیٹھی رہتیں اور اُن کا حمل لوگوں پر ظاہر ہوجاتاتو خاندان والے ہی نہیں ،قوم کے دوسرے لوگ بھی اُن کا جینا مشکل کر دیتے۔اِس لئے بیچاری اس شدید آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد خاموشی کے ساتھ اپنے اعتکاف کا حجرہ چھوڑ کر نکل کھڑی ہوئیں۔تاکہ جب تک اﷲ کی مرضی پوری ہو ،تب تک تو قوم کی لعنت ملامت اور عام بد نامی سے بچی رہیں۔

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی ذہنی پریشانی

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو اپنے ذہن میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ اِس بچے کے بارے میں لوگوں کو کیا جواب دوں گی؟اِسی ذہنی پریشانی میں آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ کاش!میں اِس سے پہلے مر گئی ہوتی اور لوگ مجھے بھول جاتے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِن الفاظ سے اُس پریشانی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ،جس میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اُس وقت مبتلا تھیں۔موقع کی نزاکت ملحوظ رہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اُن کی زبان سے یہ الفاظ درد ذہ کی تکلیف کی وجہ سے نہیں نکلے تھے۔بلکہ یہ فکر اُن کو کھائے جارہی تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے کس خطرناک آزمائش میں انہیں ڈالا ہے ،اُس سے کس طرح بخیریت عہدہ بر آہوں۔حمل کو تو اب تک کسی نہ کسی طرح چھپا لیا۔اب بچے کو کہاں لے جائیں ۔بعد کا یہ فقرہ کہ فرشتے نے اُن سے کہا ”غم نہ کرو“اِس بات کو واضح کر رہا ہے کہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے ۔شادی شدہ لڑکی کے ہاں جب پہلا بچہ پیدا ہو رہا ہو تو وہ چاہے کتنی ہی تکلیف سے تڑپے ،اُسے رنج وغم کبھی لاحق نہیں ہوا کرتا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔اب آپ رضی اﷲ عنہا کچھ سمجھ نہیں پارہیں تھیں کہ کیا کروں ؟اِسی پریشانی میں بجائے گھر کے افراد کے پاس جانے کے باہر جنگل بیابان کی طرف نکل گئیں۔اس حمل کے ساتھ ہی آپ رضی اﷲ عنہا تقریباً آٹھ دس میل چلتی چلی گئیں اور اپنے ننھیال مقام ناصرہ کے پاس اسی گاو¿ں کے کنارے پر ”بیت اللحم“تھا۔ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئیں ۔تن تنہا نہ کوئی آلی نہ موالی نہ مدد گار نہ پُرسان ِ حال ۔اِس کے آگے لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا ایک میل دور جنگل میں نکل گئیں ،ایک پہاڑی کے دامن میں چھپ کر بیٹھ گئیں ۔بعض نے کہا کہ بیت المقدس کے ایک خادم عابد زاہد کے ساتھ گئیں جس کا نام یوسف نجار تھااور منگیتر تھا مریم رضی اﷲ عنہا کا۔مگر یہ سب کذبیات (جھوٹی )و اسرائیلیات ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو دم جبرئیل کے تھوڑی دیر بعد ہی درد زہ شروع ہو گیا تھا۔قدرت الہٰیہ کا یہ ظہور اتنی جلدی ہوا کہ چند ساعت کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ بعد دردزہ ہی لے آیااُس پاک دامن کنواری پاک مریم رضی اﷲ عنہا کو دور ایک صحرائی خشک کھجور کے بے برگ و ثمر ٹنڈ منڈ تنے تک۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے چار وجہ سے گھبرا کر اپنے آپ سے کہا ؛ہائے کاش!میں اِس وقت کے ّنے سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور آج کے دن تک بھولی بسری ہو چکی ہوتی۔(1)پہلی وجہ یہ کہ گھر سے بتائے بغیر اتنی دور چلی آئی ،شاید گھر والے پریشانی میں ہوں؟ڈھونڈتے پھرتے ہوں یہ ایک بد نامی ۔ (2)دوسری وجہ یہ کہ بچے کی پیدائش ،جب کہ نہ شادی نہ نکاح ،یہ دوسری بد نامی بلکہ سخت ترین ذلت ۔(3)تیسری وجہ یہ کہ ایسے حالات میں کوئی خدمت گار یا مشورہ تسلی دینے والا بھی پاس نہیں ہے۔نہ اِس شدت تکلیف میں مَلنے دبانے والی ،دوا کرنے والی، دل جوئی و غم گساری کرنے والی دائی وغیرہ بھی نہیں۔(4)چوتھی وجہ یہ کہ شدت ِ تکلیف جو عورت کی برداشت سے باہر ہو جاتی ہے بلکہ چیخیں نکلتی ہیں۔یہ آواز دبانا جس کا مشکل ہوتا جارہا تھا،اگر نہ دبا سکی تو صحرائی گونج کہاں تک پہنچ سکتی ہے اور کتنے رہ گزر جمع ہو سکتے ہیں ۔اِس خیال سے ہی لرزہ طاری تھااور تکلیف دگنی محسوس ہوتی ہے۔اِس لئے زبان اقدس سے یہ الفاظ لازمی امر تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شیطان سے بچایا

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ حنہ بنت فاقوذ نے دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ اس بچی کو اور اس کی اولاد کو شیطان سے محفوظ رکھنامیں انھیں تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے وہ دعاقبول فرمائی۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بھیج دیا۔ اور فرشتوں نے زمین سے لے کر آسمان تک بیت اللحم کے گرد گھیرا لگا دیا۔ اور شیطان کو آپ علیہ السلام تک پہنچنے نہیں دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر بچے کی پیدائش کے وقت شیطان اسے کچوکا لگاتا ہے۔ اسی لئے وہ بچہ روتا ہے لیکن شیطان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کچوکا نہیں لگا سکا۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے،شیطان اُس کو پیدا ہونے کے وقت چھوتا ہے۔سو وہ اُس کے چھونے سے چیختا ہے،سوائے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُس کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔(کہ وہ اُن کو نہیں چھو سکا)بعض روایات میں ہے کہ شیطان اپنی انگلی سے کچوکا دیتا ہے ،اِسی لئے بچہ چیخ پڑتا ہے۔سوائے مریم رضی ا ﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ اُن دونوں تک نہیں پہنچ سکا ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........! 

03 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


03 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 03

شیطان کی پریشانی

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو اس وقت کے تما م بُت اوندھے گر پڑے تھے۔ تمام شیطان یہ دیکھ کر گھبرا گئے اور اس کی وجہ تلاش کرنے لگے۔ لیکن کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ آخر تمام شیطان اپنے سردار ابلیس کے پاس پہنچے وہ اس وقت سمندر میں اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ابلیس نے جب تمام شیطانوں کو ایک ساتھ دیکھا تو گھبرا گیا۔ کیوں کہ جب سے انھیں اس نے اُن کے کام پر لگایا تھا تب سے پہلی بار سب کو ایک ساتھ دیکھ رہا تھااور سب کے سب پریشان بھی دکھائی دے رہے تھے۔ اس نے اُن سے پریشانی کی وجہ پوچھی تو سب نے بتوں کے گرنے کا واقعہ بتایا۔ ابلیس نے کہا۔ یہ بہت بڑا واقعہ ہے۔ ذرا رکو میں ابھی تحقیق کرکے آتا ہوں۔ یہ کہہ کر ابلیس دنیا کے ہر حصے میں گیا۔ لیکن کوئی خاص واقعہ نظر نہیں آیا۔ لیکن جب بیت اللحم کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ زمین سے آسمان تک فرشتے پورے بیت اللحم کو گھیرے ہوئے ہیں اور شیطان کو گھسنے کی کوئی جگہ نہیں تھی ۔ اُس نے گھسنے کی کوشش کی تو فرشتوں نے اسے دھکے مار کر بھگا دیا۔ وہ اپنے چیلوں کے پاس واپس آیا۔ اور بتایا کہ اس وقت سے سے اہم واقعہ یہ ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ہے۔ اور میں اس لئے جان نہیں سکا کہ مجھے اس سے غافل رکھا گیا ہے۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پریشانی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد اُن کی والدہ نے اٹھا کر انھیں گود میں لے لیا۔اور کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ اور سوچنے لگی کہ اب میں بنی اسرائیل کے سامنے کس طرح جاﺅں اور انھیں کیا جواب دوں۔ بہت سے اندیشے دماغ میں ابھرنے لگے اور گھبرا کر آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا۔ کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد میں بھولی بسری ہو جاتی۔ فرشتوں نے اُن دونوں ماں بیٹے کو گھیر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فرشتے نے آواز لگائی۔ غم نہ کرو اور پریشان مت ہوﺅ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر ہلاﺅ۔ تمہارے سامنے تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں گریں گی اب چین سے کھاﺅ اور پیو اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ اس کے بعد جب بستی میں جانا تو لوگوں سے کہہ دینا کہ میں نے چُپ کا روزہ رکھا ہے۔ اور تمہیں جو کچھ پوچھنا ہے وہ اس بچے سے پوچھ لو۔اﷲ تعالیٰ نے اس کے بارے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”(کھجورکے)تنے کے نیچے آواز دی گئی کہ غم زدہ نہ ہو تیرے رب نے تیرے پاو¿ں تلے ایک چشمہ جاری کردیاہے۔اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا ،یہ تیرے سامنے ترو تازہ پکی کھجوریں گرادے گا۔اب چین سے کھاپی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھ ،اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑجائے تو کہہ دینا کہ میں نے اﷲ رحمن کے کے نام کا روزہ مان رکھا ہے۔میں آج کسی شخص سے بات نہیں کروں گی۔“(سورہ مریم آیت نمبر 24سے26تک)

چُپ کا روزہ اُمت مُسلمہ میں نہیں ہے

اﷲ تعالیٰ نے اُن پر یہ رحم و کرم فرمایا کہ جس سوکھے کھجور کے تنے کے پاس سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا بیٹھی تھیں ،اُسے اﷲ تعالیٰ ہرا بھرا کر دیا اور اُس میں تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں بھی تیار ہو کر لگ گئیں۔اِس کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ نے وہیں پانی کا چشمہ بھی جاری کردیا۔اِس طرح اﷲ تعالیٰ نے اُن کے لئے کھانے اور پانی کا مسئلہ حل کر دیا۔اس کے بعد آگے رہنمائی فرمائی کہ تندرست ہونے تک سکون سے یہاں رہو،اور جب آبادی میں جانا یا کسی انسان سے سامنا ہو جائے تو کہنا کہ میرا چُپ کا روزہ ہے ،اِس بچے سے پوچھ لو۔یہاں ایک بات کا خیال رکھیں کہ پہلے کی اُمتوں میں یا صرف سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے چُپ کا روزہ جائز تھا۔اُمت ِ مسلمہ میں چُپ کا روزہ نہیں ہے۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔قبل از اسلام یہ بھی عبادت میں داخل تھا کہ بولنے کا روزہ رکھے،صبح سے شام تک کسی سے بات نہ کرے۔اسلام نے اِس کو منسوخ کر کے یہ لازم کر دیا کہ صرف بُرے کلام ،گالی گلوچ ،جھوٹ ،غیبت وغیرہ سے پرہیز کیا جائے۔عام گفتگو ترک کرنا اسلام میں کوئی عبادت نہیں رہی ،اِس لئے اِس کی نذر ماننا جائز نہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پھر ارشاد ہوا کہ کسی سے بات نہ کرنا ،اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں ۔یا تو مُراد یہ ہے کہ اُن کے روزے میں کلام (بات کرنا،بولنا)ممنوع تھا۔یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے پاس دو شخص آئے ۔ایک نے تو سلام کیا ،دوسرے نے نہیں کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”سلام نہ کرنے کی وجہ؟“لوگوں نے کہا؛”اِس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہیں کرے گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اسے توڑ دے ،سلام کلام شروع کر ،یہ تو صرف سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے ہی تھا ۔کیونکہ اﷲ کو آپ رضی اﷲ عنہا کی صداقت و کرامت ثابت کرنا منظور تھی ،اِس لئے اسے عذر بنا دیا تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاگود میں بولنا 

اس کے بعد سیدہ مریم رضی اللہ عنہا تندرست ہونے تک وہیں رہیں اور کھجوروں اور چشمے کے پانی پر گزارہ کرتی رہیں۔ جب پورے طور سے تندرست ہو گئیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گود میں لئے ہوئے بیت المقدس آئیں۔ تمام بنی اسرائیل اُن کے پاس جمع ہو گئے۔ کیوں کہ وہ بہت بڑی عبادت گزار اور نیک تھیں۔ اور سب لوگ اُن کی عزت کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے تمام لوگ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اور اُن کی گود میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ انھیںحیرانی اس بات پر تھی کہ ہماری قوم کی سب سے نیک اور عبادت گزار لڑکی اچانک غائب ہو گئی اور کافی دنوں بعد آئی تو گود میں بچہ ہے۔ آخر بنی اسرائیل کے بڑے عالم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے اشارے سے کہا کہ آج میں نے چُپ کاروزہ رکھا ہے ،اگر تمہیں کچھ پوچھنا ہے تو اس بچے سے پوچھ لو۔ انھوںنے کہا تم ہم سے مذاق کرتی ہو۔ یہ گود کا بچہ کیسے ہم سے بات کرے گا؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ کی گود میں فرمایا۔ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب ( انجیل) عطا فرمائی ہے۔ اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔ اس نے مجھے برکت والا بنایا ہے۔ جہاں بھی میں رہوں گا اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰة کا حکم دیا ہے ۔ جب تک میں زندہ رہوں اُس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے۔ اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ہے۔ اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاﺅں گا سلام ہی سلام ہے۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام چپ ہو گئے۔ اور تمام بنی اسرائیل حیرانی سے آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہے تھے۔ انھیں یقین نہیں آرہا تھا کہ گود میں بچہ بول بھی سکتا ہے۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہیں ۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا امتحان لیا تھا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانی بنایا تھا۔ لیکن ان بدبختوں نے اللہ کی نشانی کی قدر نہیں کی۔ اور آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے۔ اس کاذکر آگے آئے گا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں اِس کے بارے میں فرمایا؛ترجمہ”اب عیسیٰ (علیہ السلام)کو لئے ہوئے وہ اپنی قوم کے پاس آئی ۔سب کہنے لگے ،مریم تُو نے بڑی بُری حرکت کی۔اے ہارون کی بہن !نہ تو تیرا باپ بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بد کار تھی۔مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا ۔سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے کیسے بات کریں؟بچہ بول اُٹھا!کہ میں اﷲ کا بندہ ہوں ،اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔اور اُس نے مجھے با برکت کیا ہے جہاں بھی میں رہوں ،اور اس نے مجھے نماز اور ذکوٰة کا حکم دیا ہے،جب تک میں زندہ رہوں۔اور اُس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بد بخت نہیں کیا۔اور سلام ہے مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاو¿ں۔یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام) کا ،یہی ہے وہ بات جس میں لوگ شک و شبہ میں مبتلا ہیں۔“(سورہ مریم آیت نمبر 27سے 34تک)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بچپن

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت سی خوبیاں عطا فرمائی تھیں اُن میں سے ایک خوبی یہ بھی تھی کہ آپ علیہ السلام کسی بھی کتاب کو ایک نظر دیکھتے تھے اور وہ کتاب آپ علیہ السلام کو یاد ہو جاتی تھی۔ سات سال کی عمر میں آپ علیہ السلام کوپڑھنے کے لئے اسکول یا مدرسہ لے جایا گیا۔ تو آپ علیہ السلام نے بڑی سے بڑی علمی کتاب پر ایک نظر ڈال کر رکھ دیتے تھے۔ بار بار یہ دیکھ کر ایک روز اُن کے معلم( استاد یا ٹیچر) نے اُن سے کہا۔ تم ان کتابوں کو ایک نظر دیکھ کر اس طرح رکھ دیتے ہو جیسے یہ سب کتابیں تمہیں یاد ہیں۔ حالانکہ ابھی تو تمہیں ابجد کے معنی بھی معلوم نہیں ہیں۔ استاد کی بات سُن کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ تو آپ کو معلوم نہیں ہیں۔ اُن کی یہ بات سن کر استاد نے طنزاً کہا۔ تو آپ اُن کے معانی بتادیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ پھر آپ اپنی مسند پر مجھے بیٹھنے دیں اور خود میری طرح میرے سامنے بیٹھیں تو میں انکے معانی آپ کو بتا وئں گا۔ استاد نے اُن کی اس بات کو مذاق سمجھ کر اپنی مسند اُن کے لئے خالی کر دی۔ اور ان کے سامنے شاگردوں کی طرح بیٹھکر بولے ۔ اب فرمائیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔” الف “کے معنی ہیں” الا اللہ “ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔” ب “سے مراد ہے” بہا اللہ “ یعنی اللہ کی شان ۔ اور”ج “کا مطلب ہے” جمہتہ اللہ“ یعنی اللہ کا جمال ۔آپ علیہ السلام کی زبان سے اتنی چھوٹی سی عمر میں ابجد کے یہ معنی سن کر اُن کے استاد حیران رہ گئے۔

آج تمہاری ماں نے یہ پکایا ہے 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بچپن میں اپنے اسکولی دوستوں سے یہ فرماتے کہ آج تمہاری ماں نے یہ پکایا ہے۔ اور ہر لڑکے کو الگ الگ بتاتے کہ آج اس کی والدہ نے یہ پکایا ہے۔ اور جب ہر بچہ اپنی والدہ سے جاکر اسی چیز کی فرمائش کرتا یعنی کھانے کو مانگتا تو اسکی والدہ حیرانی سے پوچھتی کہ بیٹا یہ تمہیں کس نے بتایا کہ آج میں نے یہ پکایا ہے؟ تو بچے انھیں جواب دیتے کہ یہ بات ہمیں عیسیٰ(علیہ السلام) نے بتائی ہے۔ یہ سن کر وہ حیران رہ جاتیں۔ کیوں کہ ہر ایک کے گھر میں الگ الگ چیزیں پکی ہوتی تھیں۔ جب اکثر ایسا ہونے لگا تو اُن لڑکوں کی والداﺅں نے اپنے اپنے بچوں سے کہا تم اُس بچے عیسیٰ(علیہ السلام ) کے ساتھ نہ رہا کرو۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے کو لے کر دوسری جگہ چلی گئیں 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بچپن میں ایسے حیرت انگیز واقعات پیش آتے رہے ۔ اس سلسلے میں تاریخ کی کتابوں اور قرآن پاک کی تفسیروں میں بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ لیکن ہم ان دو واقعات پر ہی اکتفا کرتے ہیں ۔ ان واقعات کی وجہ سے آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میںمشہور ہوتے جا رہے تھے۔ اور بنی اسرائیل جو بہت سی گمراہیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ وہ آپ علیہ السلام کی سچی اور کھری باتوں سے گھبرا جاتے تھے۔ اس لئے انھوں نے آپ علیہ السلام کے خلاف منصوبہ بندی شروع کر دی۔ اور آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے۔ آپ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے جب بنی اسرائیل (یہودیوں ) کے یہ ارادے دیکھے تو خاموشی سے آپ علیہ السلام کو لے کر دوسرے علاقے میں چلی گئیں۔ کس علاقے میں گئیں؟ اس بارے میں علمائے کرام نے کئی روایات پیش کی ہیں۔ کچھ روایات سے معلوم ہوا کہ ملک شام لے کر چلی گئیں۔ اور کچھ روایات سے معلوم ہوا کہ ملک مصر لے کر چلی گئیں تھیں۔ آج کل جو فلسطین ، لبنان اور شام ممالک ہیں۔ ان تینوں ممالک کو اس وقت کنعان کا علاقہ کہا جاتا تھا۔ اور ان تینوں علاقوں میں بنی اسرائیل آباد تھے۔ ان ممالک سے لگ کر مصر ملک ہے ۔ اس لئے بہت ممکن ہے کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا آ پ علیہ السلام کو لے کر مصر چلی گئی ہوں ۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں