35 سیرت سید الانبیاء ﷺ
سنہ الوفود (وفود کی آمد کا سال) قسط نمبر 1
تحریر:شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی
منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان، وفد بنو ثقیف کی آمد، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حج، وفد بنو عبدالقیس، نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) کے وفد کی آمد، اُمت کے امین، وفد مزینہ، وفد اشعر یین، وفد بنو فزارہ اور وفد بنو مُرّہ کی آمد
ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلاء
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ماہ رجب 9 ہجری میں غزوہ تبوک کیلئے روانہ ہوئے تھیاور ماہِ شعبان کے آخری دنوں یا ماہ رمضان کے شروعاتی دنوں میں مدینہ منورہ واپس تشریف لائے۔ غزوہ تبوک سے پہلے یا بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے’’ ایلاء ‘‘کیا۔ ایلاء کے معنی قسم کھانا ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک ازواج مطہرات سے دور رہنے کی قسم کھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پہلو چھل گیا تھا یا زخمی ہو گیا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے تھے یا سواری کے دوران زخمی ہو گئے تھے۔ جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی یا کاندھے کو نقصان پہنچا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بالا خانے میںتشریف فرما ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا سے کھجور کی شاخوں سے سایہ دار بنایا۔‘‘ اُم المومنین سید ہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ ( کمرہ) میںایک بالا خانہ بنایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ وہیں مقیم رہے اور وہیں سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی۔ انتیس29دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالا خانے سے اترے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لئے قسم کھائی تھی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مہینہ انتیس29دنوں کا بھی ہوتا ہے۔‘‘
منافقوں کے سردار کا انتقال
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے بعد مدینہ منورہ میں تشریف فرما رہے۔ ذی القعدہ 9 ہجری میں منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبیّ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بیٹے ایک سچے صحابی رضی اللہ عنہ تھے۔ ( ان کا نام حضرت عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہے ) ان کے بارے تفصیل سے پہلے ہم ذکر کر چکے ہیں۔ وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اپنی قیمیص مبارک مجھے عطا فرمائیں۔ تا کہ میں اسے کفن کے طور پر اپنے باپ کو پہنائوں ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قمیص عطا فرمادی۔ پھر انہوںنے عرض کیا: ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ منافق ہے۔ ‘‘
منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب منافقوںکے سردار کی نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ منافق ہے اور منافقوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ( ترجمہ)’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( منافقین) کے لئے بخشش مانگیں یا نہ مانگیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار ہے) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( منافقوں) کے لئے ستر 70مرتبہ بھی بخشش مانگیں گے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘ ( سورہ توبہ آیت نمبر80) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں؟‘‘ سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں جانتا ہوں ستر 70مرتبہ بخشش مانگنے پر بھی اللہ تعالیٰ نہیں بخشے گا ۔ اس کے باوجود مجھے اختیار دیا ہے کہ میں بخشش مانگوں یا نہ مانگوں۔ لہٰذا میں اس کے لئے ستر 70مرتبہ سے زیادہ بخشش مانگوں گا اور نماز جنازہ پڑھا دی۔‘‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ’’ (ترجمہ ) ’’اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ( منافقوں) میں سے کسی کی نمازجنازہ نہ پڑھیں جو کبھی بھی مر جائے اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ بے شک انہوں ( منافقوں) نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا اور فسق کی حالت میں مر گئے۔‘‘ (سورہ توبہ آیت نمبر84) در اصل سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کے لئے’’ رحمت‘‘ بنا ئے گئے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید تمنا تھی کہ تمام انسان جنت میں جائیں۔ اسی لئے منافقوںکے سردار کی نماز جنازہ پڑھائی۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ کا صاف حکم آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کی قبر پر کھڑے ہو نا بھی بند کر دیا۔
حضرت اصحمہ (نجاشی حبشہ کے بادشاہ ) رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر حضرت اصحمہ نجاشی حبشہ کے بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ ایمان لے آئے تھے۔ ۹ ہجری میں انکاانتقال ہو ا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کی خبر دی اور غائبانہ نماز جنازہ کا اعلان فرمایا۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ حضرت نجاشی رحمتہ اللہ علیہ صحابی نہیںہیںبلکہ تابعی ہیں۔ اپنی حکومت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے وہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات نہیں کر سکے تھے۔ جب انہوں نے حضر ت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اور اُم المومنین سیدہ اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیخدمت میں مدینہ منورہ بھیجا تھا تو درخواست کی تھی کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیں تو میںمدینہ منورہ حاضر ہو جائوں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔
سید ہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سید ہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا 9 ہجری میں انتقال ہوا۔ سید الانیباء صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا کا نکاح اپنے چچا ابو لہب کے بیٹے سے کر دیا تھا۔ لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی اور آپ رضی اللہ عنہا اپنے والد کے گھر ہی تھیں۔ اسی دوران سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ اعلان ِ نبوت‘‘ فرمایا تو بد بخت الو لہب کے حکم پر اس کے بیٹے نے سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی تا کہ ان کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔ غزوہ بدر کے وقت سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔ اس طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پوری کائنات کے اکیلے انسان ہیں جن کے نکاح میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں آئیں۔ جب سیدہ اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ اگر میری اور بیٹی ہوتی تو اسے بھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دے دیتا۔‘‘
وفد بنو ثقیف کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ماہ رمضان المبارک 9 ہجری میں طائف کے بنو ثقیف کا وفد حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔ آپ کو یا د ہوگا کہ غزوہ طائف میںچند دنوں تک محاصرہ کرنیکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ اٹھالیا تھااور جعرانہ واپس آگئے تھے اور غزوہ حنین کے شکست خودرہ حضرت مالک بن عوف ( قبیلہ ہوازن کے حکمراں) رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے آس پاس کے علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا اور آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ طائف کے بنو ثقیف کی ایک شاخ کے سردار حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف اور مکہ مکرمہ کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لارہے تھے پھر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے طائف میں جا کر بنو ثقیف کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تھا۔ انکی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت ابو ملیح بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت قارب بن اسود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور اسلام قبول کیا اور وہیں رک گئے۔ حالانکہ حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بنو ثقیف پر سختی کر رہے تھے۔ ان کی تجارت کی آمدو رفت بند کر رکھی تھی۔ ان کے مویشی چھین لئے تھے اور ضرورت کے وقت ان کے آدمیوں سے بیگاری کا کام لیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود بنو ثقیف کے دل اسلام کی طرف مائل نہیں ہو رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب بنو ثقیف کو خبر ملی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ٔ تبوک سے کامیاب واپس تشریف لے آئے ہیں اور سوپر پاور سلطنت روم نے بھی ان سے ٹکرانے کی ہمت نہیں کی ہے تو بنو ثقیف کے لوگ سمجھ گئے کہ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمان اتنی بڑی طاقت بن چکے ہیں کہ تمام عرب میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیںہے۔ اسی لئے بنو ثقیف نے اپنے مختلف خاندانوں یا شاخوں کے سرداروں کو مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔
وفد بنو ثقیف کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ماہ رمضان المبارک 9 ہجری میں طائف کے بنو ثقیف کا وفد حاضر ہوا اور اسلام قبول کیا۔ آپ کو یا د ہوگا کہ غزوہ طائف میںچند دنوں تک محاصرہ کرنیکے بعد سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ اٹھالیا تھااور جعرانہ واپس آگئے تھے اور غزوہ حنین کے شکست خودرہ حضرت مالک بن عوف ( قبیلہ ہوازن کے حکمراں) رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کے آس پاس کے علاقوں کا گورنر بنا دیا تھا اور آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ طائف کے بنو ثقیف کی ایک شاخ کے سردار حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اُس وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف اور مکہ مکرمہ کے سفر سے واپس مدینہ منورہ تشریف لارہے تھے پھر حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے طائف میں جا کر بنو ثقیف کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا تھا۔ انکی شہادت کے بعد ان کے بیٹے حضرت ابو ملیح بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت قارب بن اسود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور اسلام قبول کیا اور وہیں رک گئے۔ حالانکہ حضرت مالک بن عوف رضی اللہ عنہ بنو ثقیف پر سختی کر رہے تھے۔ ان کی تجارت کی آمدو رفت بند کر رکھی تھی۔ ان کے مویشی چھین لئے تھے اور ضرورت کے وقت ان کے آدمیوں سے بیگاری کا کام لیتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود بنو ثقیف کے دل اسلام کی طرف مائل نہیں ہو رہے تھے۔ یہاں تک کہ جب بنو ثقیف کو خبر ملی کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ٔ تبوک سے کامیاب واپس تشریف لے آئے ہیں اور سوپر پاور سلطنت روم نے بھی ان سے ٹکرانے کی ہمت نہیں کی ہے تو بنو ثقیف کے لوگ سمجھ گئے کہ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام اور مسلمان اتنی بڑی طاقت بن چکے ہیں کہ تمام عرب میں ان سے لڑنے کی طاقت نہیںہے۔ اسی لئے بنو ثقیف نے اپنے مختلف خاندانوں یا شاخوں کے سرداروں کو مدینہ منورہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔
بنو ثقیف کی شرائط
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو ثقیف کا وفد حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیںمسجد نبوی میں ایک خیمے میں ٹھہرایا اور حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف سے وکیل بنایا ۔جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنو ثقیف کے لئے کھانا آتا تو وہ لوگ کھانا چیک کرنے کے لئے پہلے حضرت خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو کھلاتے تھے پھر خود کھاتے تھے۔ ان لوگوں نے تین شرائط پیش کیں ۱) پہلی یہ کہ تین برس تک لات( بنو ثقیف کے بت کا نام) کو نہ توڑا جائے۔ اس لئے کہ ان کی اولادیں اور عورتیں اس سے بہت عقیدت کرتے ہیں۔ جب ان کے دل اسلام کی طرف راغب ہو جائیں اور اسلام کی محبت پیدا ہو جائے تو تب بت کو توڑ ا جائے ۲) دوسری شرط بنو ثقیف نے یہ رکھی کہ ہماری نماز معاف کر دی جائے ۳) اور تیسری شرط یہ رکھی کہ ہمارے بت ہمارے ہاتھوں سے نہ تڑوائے جائیں ۔ ان شرائط کو سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ انور پر ناگواری کے تاثرات ظاہر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ طائف میں موجود تمام بتوں کو فوراً منہدم کیا جائے گا اور نماز بھی معاف نہیں کی جائے گی۔ کیوں کہ اس دین میں کوئی بہتری نہیں ہیجس میں نماز نہیں ہے۔ ہاں تمہاری تیسر ی شرط ہم مانتے ہیں کہ اپنے بتوں کو تم مت توڑنابلکہ مغیرہ بن شعبہ ( یہ بنو ثقیف کے ہی ہیں اور صلح حدیبیہ سے کافی پہلے اسلام قبول کرچکے تھے) رضی اللہ عنہ توڑیں گے۔‘‘ اس کے بعد بنو ثقیف کے وفد نے اپنے سربراہ عبدیالیل سمیت اسلام قبول کر لیا۔ اس وفد کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس وفد کے ساتھ طائف میں آئے اور ابو سفیان بن حرب کسی وجہ سے طائف نہیں پہنچ سکے۔ جب وہ طائف پہنچے تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ طائف کے سب سے بڑے مندر کے بت (لات ) کو منہدم کر چکے تھے۔ بنو ثقیف دورسے حیرت اور خوف کی آنکھوں سے اس ماجرے کو دیکھ رہے تھے۔ بت خانہ (مندر ) سے جو خزانہ ملا۔ اس سے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کا قرض اداکیا گیا۔ جیسا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ اس کے بعد باقی خزانہ مسلمانوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قیادت میں حج
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے 8 ہجری میں مکہ مکرمہ فتح فرمایا تھا اور حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ مکرمہ کا گورنر(حاکم) بنایا تھا۔ اس سال انکی قیادت میں ہی مسلمانوں نے حج کیا تھا۔ لیکن 9 ہجری میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قائد بنا کر مکہ مکرمہ بھیجا اور ان کی قیادت میں مسلمانوں نے حج کیا۔ ( یہ توآپ جانتے ہی ہیں کہ اس زمانے میں سب سے بہترین سواری اونٹ یا گھوڑا ہوتی تھی اور کئی دنوں یا ہفتوں یا مہینوں کا سفرہوتا تھا۔ اس لئے پہلے سے سفر پر نکلنا پڑتا تھا) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تین سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قافلہ لے کر ذی القعدہ 9 ہجری میں مکہ مکرمہ روانہ ہوئے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو سید الانبیاء نے امیر حج بنا کر بھیجا۔ یہ’’ حجتہ الوداع‘‘ سے پہلے والا حج ہے۔ اس میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ اعلان کریں گے کہ اگلے سال سے کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور نہ ہی کوئی برہنہ( ننگا ) ہو کر طواف کرے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کوا علان کرنے کے لئے بھیجا
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر حج بنا کر بھیجا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ کیوں کہ عرب کا قاعدہ تھا کہ عہد ومعاہدہ کے بارے میں یاتو عہد کرنے والا شخص اعلان کرتا ہے یا پھر اس کے خاندان کا کوئی شخص اعلان کرتا ہے۔ اس لئے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنی اونٹنی ’’عضبآ‘‘ پر سوار کر کے بھیجا اور فرمایا : ’’ سورہ برأت (توبہ) کی چالیس آیات تم سنانا اور اعلان کرنا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے روانہ ہونے کے بعد یہ آیات نازل ہوئیں بہر حال حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب قافلے کے قریب پہنچے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان کی اونٹنی کی آواز سن کر فرمایا: ’’ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی آواز ہے۔ ‘‘اور رک کر انتظا رکرنے لگے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قریب آئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ امیر بن کرآئے ہو یاما مور بن کر ۔‘‘انہوں نے فرمایا: ’’ مامور بن کر آیا ہوں۔ صرف سورہ (توبہ) برأت کی آیات سنا نا ہے۔‘‘ مکہ مکرمہ آکر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو حج کرایا اور جس مقام پر وہ حج کا خطبہ دیتے تھے تو ان کے بعد حضرت علی المرتضیٰ کھڑے ہوتے اور سورہ برأت یا توبہ کی چالیس آیات تلاوت فرماتے تھے اور اعلان کر تے تھے کہ اگلے سال سے صرف مسلمان حج کرنے آسکیں گے اور اب کوئی بھی مشرک حرم شریف میں داخل نہیں ہو سکتااور کوئی بھی برہنہ طواف نہیں کرے گا اور کافروں اور مشرکین کو چار مہینوں کی مہلت ہے اس کے بعد ان کی امان ختم کر دی جائیں گی۔ پھر یا تو وہ اسلام قبول کریں یا پھر جزیہ دیں یا پھر جنگ کے لئے تیار ہو جائیں۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضر ت علی المرتضیٰ کی مدد کے لئے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دیئے تھے۔ ان میںحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان حضرات نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے اعلان کو اتنی زور زور سے اتنی بار ہر جگہ دہرایا کہ ان لوگوں کا گلہ بیٹھ گیا۔ اس اعلان کے بعد کافر اور مشرک فوج کی فوج آکر اسلام قبول کرنے لگے۔
10ہجری سنۃ الوفود( وفودکے آنے کا سال 10ہجری)
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحجہ 9 ہجری کے حج کا امیر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا اور حج کے دنوں کے دوران پور ے عرب کے قبائل کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنا دیا تھا۔ جو سورہ توبہ یا برأت کی چالیس آیات پر مشتمل تھا۔ اس طرح تمام عرب پر اللہ کی حکومت قائم ہو گئی اور پورے عرب کے قبائل نے اسلام اور مسلمانوں کی برتری تسلیم کر لی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام عرب قبائل وفد کی شکل میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو نے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے۔ ان میں سے وفد بنو ہوازن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ جو جعرانہ میں ۸ ہجری میں حاضر ہو ئے تھے اور بنو ثقیف کے وفد کا ذکر بھی ہو چکا ہے۔ جو ماہِ رمضان المبارک ۹ ہجری میں حاضر ہوئے تھے۔
وفد بنو عبدالقیس
یہ بحرین کا بہت بڑ اقبیلہ ہے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس قبیلے کا وفد5 ہجری یا اس سے پہلے حاضر ہوا تھا۔ ہم نے اس وفد کی آمد کا ذکر اس وقت نہیں کیا تھا ۔ اس وفد میں تیرہ یا چودہ افراد تھے ان سب نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے اسلام قبول کرنے سے بے حد خوشی اور مسرت ہوئی اور جب اس وفد نے بتایا کہ پورا قبیلہ بنو عبدالقیس اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسرت سے فرمایا: ’’مرحبا ہے اس قوم کو جو نہ رسواء ہوئی اور نہ شرمندہ ہوئی۔‘‘ یعنی خوشی سے اپنی رضا مندی سے مسلمان ہوئے۔ لڑکر ہارنے کے بعد مسلمان نہیںہوئے۔ جس کی وجہ سے انہیں شرمندگی یا ندامت ہوتی۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ بات چیت 5 ہجری میںہو رہی ہے ۔ جب قریش مسلمانوں کے سخت دشمن تھے اور طاقتور تھے) اس کے بعد اس وفد نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاقوں کے درمیان قبیلہ مضر کا علاقہ پڑتا ہے اور وہ ہمارے قافلے کولوٹ لیتے ہیں۔ اس لئے ہم صرف حرام مہینوں میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ ( عربوں کا یہ قاعدہ تھا کہ سال کے چار مہینوں میں لوٹ مار اور جنگ کرنا حرام سمجھتے تھے۔ اس لئے انہیں حرام مہینے کہا جاتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست ہے کہ ہمیں ایسا جامع عمل بتادیں جس کو کرنے سے ہم جنت میں داخل ہو سکیں اور ہمارے قبیلے والوں کو بھی اس کی دعوت دیں۔‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائو اور گواہی دو کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیںہے اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو اور چار برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فر ما دیا۔‘‘
حِلم اور وقار و تمکنت اللہ کی پسند یدہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب یہ وفد حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار اور ملاقات کے شوق میں وفد کے لوگ جلدی سے اپنی اپنی سواریوں سے کود پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دستِ مبارک کے بوسے لینے لگے۔ اس وفد میں حضرت اشج عبد القیس مبہی رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کا نام منذر ہے اور یہ سب سے کم عمر تھے۔ انہوں نے پہلے تو تمام اونٹوں کو قاعدے سے ایک جگہ بٹھایا اور سب لوگوں کا سامان ایک جگہ جمع کر کے حفاظت سے رکھا۔ پھر اپنے سامان میں سے دو سفید دھلے ہوئے کپڑے نکالے۔ پھر وہ پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مصافحہ کیا اور دست ِ مبارک کو بوسہ دیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں دو خصلتیں ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے ہیں۔ ایک حِلم اور دوسری وقار و تمکنت۔‘‘ حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ دونوں خصلتیں مجھ میں بطور تصنّع ( دکھاوے کے لئے ) ہیں یا فطری ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ( یہ تصنع کے طور پر نہیں ہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان خصلتوں پر ہی پیدا فرمایا ہے۔ ‘‘حضرت اشج رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے مجھے ایسی دو خصلتوں پر پیدا فرمایا۔ جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے ہیں۔‘‘یہ وفد 5 ہجری کے آس پاس حاضر ہوا تھا۔ اس وفد میں لگ بھگ چالیس افراد تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ملاقات کرنے کے بعد فرمایا: ’’ کیا بات ہے تمہارے چہروں کے رنگ بدلے ہوئے نظر آرہے ہیں۔‘‘
وفد دوس کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ دوس کا وفد حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں 7 ہجری میں اس وقت حاضر ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر میں مصروف تھے۔ غزوہ خیبر کے ذکر میں ہم اس وفد کے بارے میں بتا چکے ہیں۔ جس وقت قریش کے کافر مکہ مکرمہ میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر ظلم کر رہے تھے اس وقت حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ تجارتی غرض سے یا حج کرنے کے لئے مکہ مکرمہ آئے تھے اور اسلام قبول کیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے کے سردار ہیں۔ انہوں نے اپنے قبیلے میں جا کر اسلام کی تبلیغ کی تو صرف ان کے والد اور بیوی نے اسلام قبول کیا تھا او رقبیلے والے بدستور شرک پر قائم رہے۔ حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ واپس آئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : ’’ قبیلہ دوس نے اسلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہلاکت کی دعا کریں۔‘‘سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: ’’ اے اللہ تعالیٰ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور اسلام قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ‘‘اور حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’جائو!اور صبر اور نرمی سے اپنے قبیلے والوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہو۔ آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں جا کر لگ بھگ دس برس تک اسلام کی دعوت دیتے رہے اور 7 ہجری میں 70یا 80گھرانوں نے اسلام قبول کیا۔ ان کو لے کر مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے تو معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ہیں تو عورتوں اور بچوں کو مدینہ منورہ میں چھوڑا اور مرد حضرات خیبر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے۔ انمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) کے وفد کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں 9 ہجری میں نجران کے عیسائیوں کا وفد حاضر ہوا ۔ نجران ایک بہت بڑا شہر ہے۔ جو ملک یمن میں واقع ہے۔ مکہ مکرمہ سے سات منزل کے فاصلہ پر ہے۔ تہتر73قصبے اور گائوں اس کے تابع اور ملحق ہیں۔ یہاں سب سے پہلے نجران بن زید بن یشجب بن یعرب بن قحطان آکر آباد ہوا۔ اسی کے نام پر اس شہر کا نام ’’نجران‘‘ ہے۔ سورہ البروج میں جن’’ اصحاب ِ اخدود‘‘ کا واقعہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے۔ وہ یہیں ہوا تھا۔ نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں کے اس وفد میں ساٹھ60عیسائی تھے اور ان میں سے چودہ افراد سردار تھے ا ور ان کا سربراہ امیر قافلہ عبدا لمسیح عاقب تھا۔ سید ایہم مشیر اور متظم تھا اور ابو حارثہ بن علقمہ اس وفد کا اسقف (سب سے بڑا پادری) تھا۔ یہ عرب کا تھا اور قبیلہ بکر بن وائل کا تھا اور عیسائی مذہب قبول کیا تھا۔ سلطنت روم کے حکمراں اس کی بہت عزت و اکرام کر تے تھے اور اسے بڑی بڑی جاگیریں دے رکھی تھیں اور گرجا ( عیسائیوں کی مسجد) کا امام بنا رکھا تھا۔ یہ وفد بڑی شان و شوکت کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا۔ عصر کی نماز ہو چکی تھی۔ کچھ دیر بعد جب (مغرب) نماز کا وقت آیا تو ان لوگوں نے اپنی نماز پڑھنی چاہی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کو روکنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پڑھنے دو۔ ‘‘ان لوگوں نے خانہ کعبہ کے علاوہ دوسری طرف منہ کر کے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کی۔ اس وفد سے کئی مسائل پر گفتگو ہوئی۔
آیاتِ مباہلہ کا نزول
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) کو اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں نے کہا: ’’ ہم تو پہلے سے ہی مسلمان ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تمہارا اسلام کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟ جب کہ تم اللہ تعالیٰ کے لئے ( نعوذ باللہ) بیٹا تجویز کرتے ہو اور صلیب کی پرستش کرتے ہو اور خنزیر ( بد جانور ) کھاتے ہو۔ ‘‘نجران کے نصاریٰ نے کہا: ’’آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بندہ بتاتے ہیں۔ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام جیسا کسی کو دیکھا یا سنا بھی ہے؟ ‘‘اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی: (ترجمہ) ’’بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت آدم علیہ السلام کی طرح ہے کہ مٹی سے ان کو بنایا اور فرمایا ہو جا تو وہ ہو گیا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ہے۔ پس ( اے سننے والے ) شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جانا۔ اب اس علم اور حقیقت کو جان لینے بعد بھی آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کوئی جھگڑا کرے تو یہ کہہ دو کہ آئو بُلائیں اپنے بیٹو ں کو اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں کو اور تمہاری عورتوں کو اور اپنی جانوں کو اور تمہاری جانوں کو اورمباہلہ کریں۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ رو کر دعا مانگیں اورجھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔‘‘
نصاریٰ ( عیسائیوں ) کا مباہلہ سے انکار
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیات کے نازل ہونے کے بعد نجران کے نصاریٰ کو مباہلہ کرنے کی دعوت دی جو ان لوگوں نے قبول کر لی۔ اگلے روز سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہا کو لے کر تشریف لائے۔ نجران کے نصاریٰ ان مبارک اور نورانی چہروں کو دیکھ کر مرعوب ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مہلت مانگی : ’’ ہم آپس میں مشورہ کر لیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کے پا س حاضر ہوں گے ۔‘‘ الگ جاکر سید ایہم جو مشیر تھا اس نے وفد کے سردار عاقب عبدالمسیح سے کہا: ’’ اللہ کی قسم! تم کو خوب معلوم ہے کہ یہ شخص ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نبی اور رسول ہے۔ تم نے اگر ان سے مباہلہ کیا تو بالکل ہلاک اور برباد ہوجائو گے۔ اللہ کی قسم !یہ ایسے مبارک چہرے ہیں کہ اگر یہ پہاڑ کے چلنے کی دعا مانگیں تو پہاڑ اپنی جگہ سے چلنے لگ جائیں گے۔ تم نے ان کی نبوت اور رسالت کو اچھی طرح پہچان لیا ہے۔ ( کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انہیں کی بشارت دی ہے ) حضرت عیسی ٰ علیہ السلام کے بارے میں انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہی سچ ہے۔ اللہ کی قسم !کسی قوم نے کبھی کسی نبی سے مباہلہ کیا ہے تو وہ قوم ہلاک ہو گئی ہے۔ لہٰذا تم مباہلہ کر کے اپنے آپ کو ہلاک مت کرو۔ اگر تم اپنے ہی دین پر قائم رہنا چاہتے ہو تو صلح کر کے واپس ہو جائو۔ ‘‘یہ مشورہ کرنے کے بعد وفد کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مباہلہ کرنے سے انکار کردیا اور سالانہ جزیہ دینا منظور کرلیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میںمیری جان ہے۔ اہلِ نجران کے سروں پر عذاب آگیا تھا۔ اگر یہ لوگ مباہلہ کرتے تو بندر اور سور بنا دیئے جاتے اور تمام نجران پر آگ برستی اور تمام اہل نجران ہلاک ہو جاتے ۔ یہاں تک کہ درختوں پر کوئی پرندہ بھی باقی نہیں رہتا۔ ‘‘
نجران کے نصاریٰ ( عیسائیوں ) سے عہد نامہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے نجران کے وفد کے عیسائیوں نے مباہلہ نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیہ دینا منظور کر لیا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں نجران میں دو قسم کے لوگ آباد تھے۔ ایک تو وہ لوگ تھے جو عیسائی نہیں تھے۔ انہیں اُمّیین کہا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثریت نے اسلام قبول کیا اور دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے عیسائی مذہب قبول کر لیا تھا۔ انہوںنے اسلام قبول نہیں کیا اور جزیہ دینا منظور کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عہد نامہ لکھوا کر انہیں دیا اور دوسرا اپنے پاس رکھا۔ جس کی شرائط یہ ہیں ۱) اہل نجران کو سالانہ دو ہزار حلہ ادا کرنے ہوں گے۔ ایک ہزار ماہ رجب میں اور ایک ہزار ماہ صفر میں اور ہر جگہ کی قیمت ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم ہوگی ۲) سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کی مہمان نوازی ایک مہینے تک کرنا اہل نجران پر لازم ہوگا۳) یمن میں اگر کوئی شور ش یافتنہ برپا ہو تو اہل نجران کو اس شورش یا فتنہ کو ختم کرنے میں اسلامی لشکر کی مدد کرنی ہو گی اور تیس زرہیں، تیس گھوڑے اور تیس اونٹ عاریتاً دینے ہوں گے جو بعد میں انہیںواپس کر دیئے جائیں گے اور اگر کوئی شئے گم یا ضائع ہو گی تو اس کی ضمانت مسلمانوں پر ہوگی ۴) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ( اہل نجران کے ) جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے اور ان کے اموال و املاک ، ان کی زمین جائیداد ، ان کے حقوق ، ان کے مذہب و ملت ، ان کے علماء و راہب ، ان کے خاندان اور ان کے متبعین میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں کی جائیگی۔ جاہلیت کے کسی خون کا ان سے مطالبہ نہیں ہوگا اور ان کی سر زمین پر کوئی لشکر داخل نہیں ہوگا ۵) جو شخص ان سے حق کا مطالبہ کرے گا تو ظالم اور مظلوم کے درمیان انصاف کیا جائے گا ۶) جو شخص سود کھائے گا۔ اس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان پر نہیں ہوگی اور وہ اس کی ذمہ داری سے بری ہو ں گے ۷) اگر کوئی شخص ظلم او رزیادتی کرے گا تو اسے سزا دی جائے گی۔ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا ذمہ ہے۔ اس عہد نامہ پر حضرت ابو سفیان بن حرب ، عیلان بن عمرو حضرت مالک بن عوف ، اقرع بن حابس اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہم نے دستخط کئے۔
اُمت کے امین
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کا عہد نامہ نجران کے نصاریٰ کے وفد نے کیا اور یہ فرمان لے کر جب نجران واپس جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی :’’ کسی امانت دار شخص یعنی’’ امین‘‘ شخص کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تا کہ وہ ہم سے مالِ صلح لے کر واپس آجائے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں بہت ہی امانت دار شخص کو تمہارے ساتھ کروں گا۔‘‘ یہ فرما کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں نجران کے وفد کے ساتھ جانے کا حکم دیا اور نجران کے وفد سے فرمایا: ’’ یہ اس ’’امت کا امین‘‘ ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ’’ عشرۂ مبشرہ‘‘ میں سے ہیں۔ یعنی دس اُن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں جن کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا تھا کہ تم جنتی ہو۔
حضرت کر ز بن علقمہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان لے کر یہ وفد نجران روانہ ہو گیا۔ جب نجران ایک منزل کے فاصلے پر رہ گیا تو وہاں کے پادریوں ( عیسائی علماء) اور معززین نے اس وفد کا استقبال کیا ۔وفد نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بڑے پادری کے حوالے کر دیا اور وہ اسے پڑھنے لگا۔اسی دوران ابو حارثہ بن علقمہ کی سواری نے ٹھوکر کھائی تو ا س کے بھائی حضرت کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’ ( نعوذ باللہ) وہ کمبخت ہلاک ہو۔‘‘ اشارہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تھا تو ابو حارثہ بن علقمہ کو بہت غصہ آیا اور اس نے غصہ سے کہا: ’’ تُوہی کمبخت ہے۔ اللہ کی قسم !وہ سچے نبی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہ’’ وہی آخری نبی‘‘ ہیں جن کی بشارت توریت اور انجیل میں دی گئی ہے۔‘‘ حضرت کرز بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’ پھر ایمان کیوں نہیں لاتے؟‘‘ ابو حارثہ بن علقمہ نے کہا: ’’ ان ( عیسائی) بادشاہوں نے ہم کو جو کچھ مال و دولت دے رکھا ہے وہ سب واپس لے لیں گے۔‘‘ حضرت کر ز بن علقمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ اللہ کی قسم: ’’ اب میں تو اپنی ناقہ ( اونٹنی) کو مدینہمنورہ جا کر ہی روکوں گا۔‘‘ اور بڑے زوق شوق سے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اشعار پڑھتے ہوئے مدینہ منورہ روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا اور وہیں رہنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک جنگ میں آپ رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے۔ چند دنوں بعد سید ایہم اور عاقب عبدا لمسیح رضی اللہ عنہم بھی مدینہ منورہ حاضر ہوئے اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر ٹھہرایا۔
یک رکنی وفد حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بنو سعد کی طرف سے 9 ہجری میں حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ایک رکنی وفد کی شکل میں حاضر ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ کو مسجد نبوی کے صدر دروازے پر باندھا اور اندر داخل ہوئے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ’’ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں؟‘‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تکیہ سے ٹیک لگائے تشریف فرما تھے۔ کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے بتایا : ’’ وہ جو تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘ حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ ، سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پہنچے اور عرض کیا: ’’اے عبد المطلب کے بیٹے!( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام کے بارے میں بہت کچھ میں نے سنا ہے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں او ر سختی سے سوال کروں گا اسلئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض مت ہونا۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پوچھو! کیا پوچھنا چاہتے ہو؟ ‘‘حضر ت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام لوگوں کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں۔ ‘‘یہ سن کر انہوں نے کہا : ’’ اے اللہ! تو گواہ رہنا ‘‘( کہ میں ایمان لایا) پھر انہوں نے دریافت کیا : ’’کیا اللہ تعالیٰ نے دن رات میں پانچ نمازوں کا، سال بھر میں ایک مہینہ کے روزوں کا ، مالداروں سے زکوٰۃ لے کرمستحقین میں تقسیم کرنے کا ( صاحب استطاعت پر حج کا) حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے؟ ‘‘ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہاں۔‘‘ یہ سن کر پھر انہوں نے کہا: ’’ اے اللہ! تو گواہ رہنا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے ہیں ۔ میں ان سب پر ایمان لاتا ہوں اور میں اپنی قوم ( بنو سعد ) کا قاصد اور نمائندہ ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔‘‘ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا ہی ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اس شخص (حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے ) نے کہا: ’’ قسم ہے اس ذات ( اللہ تعالیٰ) کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے میں اس میں نہ کوئی کمی کروں گااور نہ ہی زیادتی کروں گا۔ ‘‘( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حکم دیا ہے اس پر برابر عمل کروں گا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر اس نے سچ کہا( یعنی جو کہہ رہا ہے اس پر قائم رہا) تو ضرور جنت میں داخل ہوگا۔‘‘
تمام بنو سعد کا قبول اسلام
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہوکر حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلے میں اپنی قوم کے پاس پہنچے اور تمام بنو سعد کو جمع کر کے تقریر فرمائی اور سب سے پہلا جملہ یہ فرمایا: ’’ لات اور عُزّیٰ بہت بُرے ہیں۔‘‘ ( یہ دونوں عربوں کے قدیم بت تھے) ان کے قبیلے والوں نے کہا: ’’ اے ضمام بن ثعلبہ! ایسے الفاظ زبان سے مت نکالو۔ کہیں تم مجنوں اور کوڑھی نہ ہو جائو۔ ‘‘حضر ت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ تم لوگوں پر افسوس ہے صد افسوس ہے اللہ کی قسم!لات اور عزیٰ تم کو نہ ہی کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک رسول کو بھیجا ہے اور اس پر کتاب نازل فرمائی ہے۔ جس نے تم کو ان خرافات سے بچا لیا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اور یہ احکام سیکھ کر آیا ہوں۔‘‘ ( اور آپ رضی اللہ عنہ اپنے قبیلہ والوں کو اسلام کی تعلیم دینے لگے) شام ہونے سے پہلے پہلے پورے قبیلہ بنو سعد نے اسلام قبول کر لیا اور پورے قبیلہ میں کوئی مرد اور کوئی عورت ایسا باقی نہ رہاجو مسلمان نہ ہو گیا ہو۔ حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے : ’’ ہم نے کسی قوم کے قاصد اور وافد( وفد والے ) کو حضرت ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے افضل اور بہتر نہیں پایا۔‘‘
وفد مزینہ
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں سب سے پہلا جو وفد حاضر ہوا تھا وہ وفد قبیلہ مزینہ کا تھا۔ یہ وفد5 ہجری میں حاضر ہوا تھا۔ لیکن ہم نے اس کے ذکر کو روک لیا تھا تا کہ وفود والی کتاب میں اسے درج کریں۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں 5 ہجری میں قبیلہ مزینہ کے چار سو افراد حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ واپسی کے وقت ان لوگوں نے سید الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی : ’’ ہمارے پاس زادِ راہ نہیں ہے۔ اس لئے کچھ کھانے پینے کا سامان ہمیں عطا فرمائیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ ان کو زادِ راہ دے دو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے پاس تھوڑی بہت کھجوریں ہیں جو شاید ان لوگوں کے لئے کافی نہیں ہو پائیں گی۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ’’ جائو ان کو توشہ دے دو۔‘‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کو اپنے گھر لے گئے ۔ سب نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں لے لیں ا س کے باوجود وہ کھجوریں اتنی کی اتنی ہی رہیں۔ اور کچھ کم نہیں ہوئیں۔
وفد اشعر یین
سید الا نبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اشعر یین کا وفد7 ہجری میں حاضر ہواتھا۔ ا س میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کا نام عبداللہ بن قیس ہے اور ابو موسیٰ کنیت ہے۔ اشعر یین کا وفد اسلام قبول کرنے کے بعد واپس چلا گیا تھا۔ لیکن حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ہی رہنے لگے تھے۔ اشعریین یمن کا ایک معزز اور بہت بڑا قبیلہ ہے۔ جو اپنے جد امجد اشعر کی طرف منسوب ہے۔ اشعر جب پیدا ہوا تو اس کے بدن پر بہت زیادہ بال تھے۔ اسی لئے اسے اشعر ( یعنی بہت زیادہ بالوں والا) کہا جانے لگا۔ اشعریین کا وفد یہ اشعار پڑھتا ہوا مدینہ منورہ آیا: ’’ کل دوستوں سے جا ملیں گے۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے گروہ سے ۔‘‘ ادھر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اطلاع دی : ’’ ایک جماعت آرہی ہے جو بہت رقیق القلب اور نرم دل ہے۔‘‘ اس لئے جب اشعر یین کا وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اہل یمن آگئے ہیں۔ جن کے دل نہایت نرم اور رقیق ہیں (یعنی سخت دلی قساوت سے بالکل پاک ہیں۔ اور حق کو فوراً قبول کرتے ہیں) ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔‘‘ اہل یمن اکثر بکریاں رکھتے تھے۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے فرمایا: ’’ سکون اور اطمینان ، وقار اور تواضع بکریوں والوں میں ہے اور فخر اونٹ والوں میں ہے۔‘‘ اشعر یین کے وفد نے عرض کیا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم اسلام کی تعلیمات حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سب سے پہلے اللہ تھا اور اس کے سوا کچھ نہیں تھا اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ پھر زمین و آسمان کو پید ا کیا اور ہر چیز کو’’ لوح محفوظ ‘‘میں لکھ دیا۔‘‘ اس کے بعد اشعریین اسلامی تعلیمات حاصل کرنے کے بعد اپنے علاقے میں واپس چلے گئے۔ اس کے بعد فقہ اشعریین میں نسل در نسل جاری رہا۔ فقہ کے بہت بڑے امام ابو الحسن اشعری ہیں۔ یہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں
وفد بنو فزارہ اور وفد بنو مُرّہ کی آمد
سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں 9 ہجری میں بنو فزارہ کا وفد اور بنو مُرّہ کا وفد حاضر ہوئے۔ وفد بنو فزارہ میں چودہ افراد تھے۔ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاقے کا حال دریافت فرمایا تو انہوں نے کہا : ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !قحط کی وجہ سے ہمارا علاقہ تباہ ہو گیا ہے۔‘‘ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے بارش کی دعا فرمائی۔ بنو مُرہ کے وفد میں تیس30 افراد تھے ۔ حضرت حارث بن عوف رضی اللہ عنہ اس وفد کے سردار تھے۔ ان لوگوں نے عرض کیا: ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی قوم کے ہیں اور لوئی بن غالب کی اولاد سے ہیں۔ ‘‘یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور ان کے علاقے کا حال دریافت فرمایا ان لوگوںنے عرض کیا: ’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قحط کی وجہ سے ہمارے علاقے میں تباہی پھیلی ہوئی ہے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت ان کے علاقے میں بارش ہونے کی دعا فرمائی۔ جب یہ وفد اپنے گھر واپس آیا تو معلوم ہوا کہ جس دن سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی اسی دن پانی برسا تھا اور تمام علاقہ اس کی وجہ سے سر سبز و شاداب ہو گیا تھا۔ واپسی کے وقت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کے ہر فرد کو دس دس اوقیہ چاندی عطا فرمائی تھی اور حضرت حارث بن عوف رضی اللہ عنہ کو بارہ اوقیہ چاندی عطا فرمائی۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


