ہفتہ، 17 جون، 2023

04 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


04 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 04

بنی اسرائیل کی حالت 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 67سال پہلے بنی اسرائیل (یہودیوں ) کے بارہ قبیلوں کی آپسی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر رومیوں نے بنی اسرائیل کے تمام علاقوں پر قبضہ کر کے بنی اسرائیل کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اور یہودیوں پر رومی مسلط ہو گئے تھے۔ رومیوں کے تسلط کے بارے میں ہم نے حضرت زکریا علیہ السلام کے ذکر میں تفصیل سے بتا یا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت بنی اسرائیل پر بہت بُرا وقت چل رہا تھا۔ وہ خود بہت سی برائیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ان میں سے ایک برائی سود کھانا تھا۔ بنی اسرائیل کے علماءعام آدمیوں سے زیادہ گمراہ اور دنیا میں مبتلا ہو چکے تھے۔ یہ گمراہ علماءعوام کی برائیوںکوتوریت کی آیات کے ذریعے توڑ مروڑ کر صحیح ثابت کر تے تھے۔ اور توریت کے جو احکامات اللہ نے نازل فرمائے تھے وہ چھپا لیتے تھے۔ اور گمراہ عوام کی مرضی کے مطابق توریت سے فتوے دیتے تھے۔ اوراپنی دولت میں اضافہ کرتے تھے۔ اور اپنے جھوٹے فتوﺅں کی وجہ سے عوام کو اور زیادہ گمراہیوں میں مبتلا کرتے جاتے تھے۔

بنی اسرائیل مسیح اور آخری نبی کا انتظار کر رہے تھے

توریت میں آخری نبی کی بشارت دی گئی تھی۔اور اس کی خوبیاں بھی بیان کی گئی تھیں۔ اس لئے بنی اسرائیل ( یہودی) اس آخری نبی کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مسیح کا بھی انتظار کر رہے تھے۔ جو آئے گا تو انھیں رومیوں کی غلامی سے نجات دلائے گا۔ اور بنی اسرائیل کی حکومت کو قائم کرے گا۔ اُن کی کتاب میں لکھا تھا کہ یہودا( اللہ تعالیٰ ) ایک مسیحا نازل فرمائے گا۔ دنیا پر اسی کی بادشاہت ہو گی۔ اس کے آنے سے حضرت داﺅد علیہ السلام کی سلطنت بحال ہو جائے گی۔ اور یروشلم ( بیت المقدس) اللہ کا دارالحکومت بن جائے گا۔

بنی اسرائیل ( یہودیوں) کی غلط فہمی

اس پیشن گوئی کی وجہ سے علم نجوم میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کی دلچسپی بڑھ گئی۔ انھیں یقین تھا کہ مسیح حضرت داﺅد علیہ السلام کے گھر انے میں پیدا ہوگا۔ انھیں رومیوں کے ظلم و ستم سے نجات دلائے گا۔ مردہ بنی اسرائیل ( یہودیوں) کو زندہ کرے گا۔ اور انھیں حکومت میں شریک کرے گا۔ اور اس کی بادشاہت کے ڈنکے ہر طرف بجیں گے۔ وہ یہ بات نہیں سمجھ رہے تھے کہ وہ مسیح آئے گا تو اللہ کا پیغام دے گا۔ اور اللہ کا قانون نافذ کرے گا۔ اور بنی اسرائیل کو برائیوں اور گمراہیوں سے روکے گا۔ ان کے سودی نظام کو ختم کر ے گا۔ اس کے بجائے وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ مسیح جب آئے گا تو اس کی وجہ سے بنی اسرائیل (یہودیوں)کو دنیا کی حکومت مل جائے گی۔ اور وہ ساری دنیا کا خون پیئیں گے اور کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ اُن کے گھر ہیرے جواہرات سے بھرے ہوں گے۔ دوسروں کے بچے اُن کے غلام اور اُن کی بیویاں یہودیوں کی لونڈیاں بن جائیں گی۔ جنھیں نچا نچا کر وہ عیش و مسرت حاصل کریں گے۔ اسی لئے وہ مسیح کا بہت بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ اور جب بھی بنی اسرائیل میں کوئی جواں ہمت کھڑا ہوتا تھا تو فوارً اس سے امید باندھ لیتے تھے کہ شاید یہی مسیحا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اعلانِ نبوت 

اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور رسول کو نبوت 40سال کی عمر میں عطا فرمائی ۔ صرف حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو 40سال سے پہلے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس لئے اکثر روایات میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اعلان ِ نبوت 30سال کی عمر میں کیا۔ یہ وہی وقت تھا جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کیا جا چکا تھا۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ رحمت میں جا چکے تھے۔ رومی بنی اسرائیل پر بہت بری طرح حاوی تھے ۔اور اُن پر طرح طرح کے ظلم و ستم کر رہے تھے۔ اور بنی اسرائیل (یہودی) بہت بے چینی سے مسیح کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن برائیوں اور گمراہیوں میں بدستور مبتلا تھے۔ ایسے وقت میں جب امیدوں اور تمناﺅں کے خواب تھے۔ 

ایک دن ایک خوب صورت تیس سالہ جوان آنکھوں میں حیرت انگیز چمک لئے ، کاندھوں پر زلفیں پھیلائے جو اس کے روشن چہرے کے گرد ہالہ بنائے ہوئے تھی ۔ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) میں داخل ہوا۔ ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس جیسی مقدس جگہ پر یہودی( بنی اسرائیل) کے امراءاور علماءبنچوں پر بیٹھے سکے کھنکھنا رہے تھے ۔ پیسے بٹور رہے تھے۔ احاطۂ حرم یعنی بیت المقدس کے احاطے میں عبادت کرنے کی بجائے بنی اسرائیل بازار سجائے خرید و فروخت میں مصروف تھے۔یہ شور و غوغا اور منظر دیکھ کر ہیکل سلیمانی میں داخل ہونے والے جوان نے نہایت بلند اور رعب دار آواز میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کیا۔ اُس جوان کی آواز سن کر ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کی مسجد کے اندر اور احاطے میں سناٹا چھا گیا۔ اور تمام لوگ اس خوب صورت جوان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس جوان نے رعب دار آواز میں ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کیا۔ اور پھر تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا۔ علماءاور احبار اور مفتیوں کو ریا کاری کرنے سے منع فرمایا۔ اورآگے بڑھ گیا۔ نیک لوگ اس کے ساتھ ہو گئے۔ اور نعرے لگانے لگے۔ داﺅد کا بیٹا آگیا۔ ہمارا مسیحا آگیا۔ مسیح آگیا ہے۔ ہم اسی کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ اور آپ علیہ السلام کے اعلانِ نبوت سے یہودیوں ( بنی اسرائیل) پر زلزلہ طاری ہو گیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی ہدایات 

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا اورانجیل عطا فرمائی تو ساتھ میں ہدایات بھی دیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے عیسیٰ بن مریم، مجھے اپنے دل میں وہ جگہ دے جو غم کے لئے ہے۔ نوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کر۔ میں تجھ سے محبت کروں گا۔ میرے علاوہ کسی غیر کی طرف مائل نہیں ہوناورنہ میں پکڑ لوں گا۔ مصیبت پر صبر کر اور قضا پر راضی رہ۔ایسا ہو جا کہ مجھے تجھ سے مسرت ہو ۔ بے شک میری خوشی اسی میں ہے کہ میری فرمانبرداری کی جائے اور میری نافرمانی سے بچا جائے۔ میرے قریب ہو جا۔ اور اپنی زبان پر ہر وقت میر اذکر جاری رکھ۔ میری محبت تیرے سینے میں رہے۔ تا کہ تجھے غفلت سے بیدار رکھے۔ مخلوق کو میری نصیحت سنا۔ اور میرے بندوں میں عدل کے ساتھ فیصلے کی ۔ میں نے تیری طرف شفاء( انجیل ) نازل فرمائی ہے جو دلوں کو وسوسوں سے بچاتی ہے۔ اے عیسیٰ بن مریم، میری مخلوق مجھ پر ایمان نہیں لائی۔ اور بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ایمان لائے۔ اور میری خشیت کی نعمت سے مالا مال ہوئے۔ اور ثواب کی امید پائی۔ میں تجھے گواہ ٹھہراتا ہوں ۔ یہ لوگ میرے عذاب سے مامون ہیں۔ اے طیب و طاہرہ والدہ کے بیٹے، نرم گفتار ہو کر رہ۔ اور سلام کو عام کر۔ جب ابرار کی آنکھیں سو جائیں تو اس وقت جاگنے والا بن جا۔ قیامت قریب ہے۔ اور دل دہلادینے والا زلزلہ آنا ہی چاہتا ہے۔ اپنی ذات کا محاسبہ کرتا رہا کر۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جس دن سب میرے سامنے پیش ہو ں گے۔ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اور تجھ سے پوچھ ہوگی۔

بنی اسرائیل کے علما اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مناظرہ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب اعلان ِ نبوت کیا تو اس وقت آپ علیہ السلا م کا کوئی گھر نہیں تھا۔ اور آپ علیہ السلام پورے کنعان (حالیہ فلسطین ، شام اور لبنان) میں گھوم گھوم کر اللہ تعالیٰ کا پیغام بنی اسرائیل تک پہنچاتے رہتے تھے۔ اور اسلام کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کی برائیوں اور گمراہیوں کی نشاندہی کر کے انھیں دور کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ عام بنی اسرائیل میں سے نیک فطرت لوگوں نے آپ علیہ السلام کی اتباع کی۔ اس وقت بنی اسرائیل کے علماءبہت امیر تھے اور اپنے فائدے کے لئے بنی اسرائیل کے عوام کو بے وقوف بناتے تھے۔ اور پیسے بٹورتے تھے۔ اس لئے یہ علماءآپ علیہ السلام کو سچا مان کر اللہ کا رسول تسلیم کرنے کی بجائے آپ علیہ السلام کی مخالفت کرنے لگے۔ تا کہ اُن کی جھوٹی عزت قائم رہے۔ اور وہ دولت مند رہیں۔ اسی لئے بنی اسرائیل کے تمام بڑے بڑے علماءحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور آپ علیہ السلام سے پوچھا ۔ کیا آپ ایلیا ہیں؟ بنی اسرائیل عبرانی زبان بولتے تھے۔ اور عبرانی میں حضرت الیاس علیہ السلا م کو حضرت ایلیا علیہ السلام کہا جاتا تھا۔ بنی اسرائیل نے حضرت الیاس علیہ السلام کو شہید کردیا تھا۔ اور بعد میں شرمندہ ہوئے۔ اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ حضرت الیاس علیہ السلام کو دوبارہ بھیج دے ہم اُن کی بات مانیں گے۔ اسی لئے وہ حضرت الیاس علیہ السلام کا انتظار کر رہے تھے۔ اور اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا آپ ایلیا ہیں؟ تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا نہیں میں ایلیا نہیں ہوں۔ پھر بنی اسرائیل نے پوچھا ۔ کیا آپ علیہ السلام ”وہ آخری نبی “ ہیں ؟ تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ نہیں ۔ وہ آخری نبی میرے بعد آئیں گے۔ تو پھر بنی اسرائیل کے علماءنے پوچھا کیا آپ مسیح ہیں؟ اس سوال پر کئی روایات میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام خاموش رہے۔ اور کئی روایات میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں مسیح نہیں ہوں ۔ در اصل آپ علیہ السلام کا اشارہ دَجّال کی طرف تھا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل آج بھی کسی مسیح کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور بنی اسرائیل(یہودیوں ) کا وہ مسیح دجّال ہو گا۔

بنی اسرائیل (یہودی) دجّال کا ساتھ دیں گے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دجّال آئے گا تو بنی اسرائیل ( یہودی) اُس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتارے جائیں گے۔ اور آپ علیہ السلا م دجّال اور یہودیوں یعنی بنی اسرائیل کو ختم کر دیں گے۔ اور زمین پر ایک بھی یہودی ( بنی اسرائیل) زندہ نہیں رہ سکے گا۔ اس سلسلے کی احادیث انشاءاللہ آخر میں پیش کریں گے۔ بنی اسرائیل کے تمام علماءحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اور عام بنی اسرائیل کو ستانے لگے کہ ( نعوذ باللہ ) یہ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں سچ کہہ رہا ہوں ۔ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ سن کر علماءنے کہا۔ اگر تم اللہ کے رسول ہو اور سچے ہو توبتاﺅ اس آدمی نے آج کون سا کھانا کھایا ہے؟ آپ علیہ السلام نے بتادیا کہ اس شخص نے آج یہ کھانا کھایا ہے۔ آپ علیہ السلام کا جواب سن کر اس شخص نے کہا۔یہ سچ فرما رہے ہیں۔ آج میں نے یہی کھانا کھایا ہے۔ اس طرح نیک لوگوں کا آپ علیہ السلام پر یقین مضبوط ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل کے علماءکی دشمنی اور بڑھ گئی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِس کے بعد پورے ملک کنعان میں گھو م گھوم کر بنی اسرائیل کو اسلام کی تبلیغ کر رہے تھے۔اُن کے گمراہ دنیا پرست علماءکو سمجھا رہے تھے۔اور اپنے معجزوں سے انہیں قائل بھی کرتے جا رہے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا،کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں ۔میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں ،پھر اُس میں پھونک مار تا ہوں تو وہ اﷲ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔اور اﷲ تعالیٰ کے حکم سے میں پیدائشی اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا ہوں اور مُردے کو جلا (زندہ کر)دیتا ہوں۔اور جو کچھ تم کھاو¿ اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو ،میں تمہیں بتا دیتا ہوں ۔اِس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے،اگر تم ایمان والے ہو۔اور میں توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اِس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں۔اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں ،اِس لئے تم اﷲ تعالیٰ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔یقین مانو!میرا اور تمہارا رب اﷲ ہی ہے ،تم سب اُسی کی عبادت کرو ،یہی سیدھی راہ ہے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 49سے51تک)اﷲ تعالیٰ نے اِن آیات میںحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کئی معجزوں کا ذکرفرمایا ہے ،جن میں سے ایک کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں،اور باقی آگے پیش ہیں۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

05 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


05 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 05

احیائے موتی ٰ کا واقعہ 

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کئی معجزے عطا فرمائے تھے۔ اُن میں سے ایک معجزہ احیائے موتی ٰ ( مردے کا زندہ ہو جانا) ہے۔ یوں تو آپ علیہ السلا م نے یہ معجزہ بنی اسرائیل کو بہت دفعہ بتایا ہے۔ لیکن یہاں ہم صرف ایک ہی واقعہ ذکر کریں گے۔ احیائے موتی ٰ کا پہلا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک عورت کے پاس سے گزرے ۔ وہ عورت ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اس عورت سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس عورت نے بتایا کہ میری بیٹی کا انتقال ہو چکا ہے۔ اور اس کے سوا میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس لئے میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ اس وقت تک اس جگہ سے نہیں ہٹوں گی جب تک مجھے موت نہیں آجاتی یا میری بیٹی زندہ نہیں ہو جاتی۔ میں اسی انتظار میں ہوں کہ دیکھوں اللہ تعالیٰ کیا کرتا ہے؟ یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اگر تو ایک مرتبہ اس سے بات کر لے گی تو اسے واپس جانے دے گی؟ اس عورت نے کہا ۔ ہاں مجھے یہ شرط منظور ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دو رکعت نماز اداکی۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ پھر قبر کے پاس بیٹھ گئے اور آواز لگائی۔ اے فلاں ( بچی کا نام لے کر پکارا)اللہ رحمن کے نام سے کھڑی ہو جا ۔پہلی آواز پر قبر میں ایک لرزش پیدا ہوئی۔ آپ علیہ السلام نے دوسری آواز لگائی تو قبر پھٹ گئی ۔ پھر آپ علیہ السلام نے تیسری آواز لگائی تو وہ بچی سر سے مٹی جھاڑتی ہوئی قبر سے باہر آگئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اتنی دیر کیوں لگی؟ تو اس بچی نے جواب دیا۔ آپ علیہ السلام کی پہلی آواز پر اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو بھیجا ۔ اس نے میری بکھری ہوئی ہڈیاں جمع کیں ۔دوسری آواز پر میری روح میرے بدن میں داخل ہو گئی۔ اور تیسری آواز جو آپ علیہ السلام نے لگائی تو میں ڈر گئی کہ یہ قیامت کی چیخ ( صور) ہے۔ اس کی وجہ سے میرے سر اور ابرو اور پتلیوں کے بال سفید ہو گئے۔ پھر وہ بچی اپنی والدہ کی طرف بڑھی اور بولی۔ امی جان ، آپ نے ایسا کیوں کیا کہ مجھے دو مرتبہ موت کا ذائقہ چکھنا پڑ رہا ہے۔ اے میری امی جان، صبر اور تحمل سے کام لیں مجھے دنیا کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ بچی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئی اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے آخرت کی طرف لوٹا دے۔ اور مجھ پر موت کی سختی کو آسان کر دے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس لڑکی کو دوبارہ موت آگئی۔ اور آپ علیہ السلام نے اسے دفن کر کے مٹی برابر کر دی۔ جب بنی اسرائیل (یہودیوں ) کے علماءکو اس عورت نے یہ واقعہ بتایا تو ان کے غصے کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اور نیک دل بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کا یقین حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اور بڑھ گیا۔

مٹی کا پرندہ بنا کر اڑا دینا 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جو معجزات عطا فرمائے تھے ان میںسے ایک معجزہ مٹی کا پرندہ بنا کر اڑا دینا ہے۔ ایسے بہت سے واقعات کا ذکر آیا ہے۔ لیکن ہم ایک ہی واقعہ ذکر کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بچپن میں اسکول یا مدرسہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ کہ آپ علیہ السلام نے مٹی اٹھائی اوراپنے دوستوں سے کہا میں اس مٹی سے تمہارے لئے ایک پرندہ بنا دیتا ہوں۔ اُن کے دوستوں نے کہا ۔ کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسا کر سکتا ہوں۔ پھر آپ علیہ السلام نے مٹی سے ایک پرندہ بنایا۔اور اُس میں پھونک ماردی ۔ اور فرمایا؛تُو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اڑنے والا ہو جا۔ تو وہ پرندہ آپ علیہ السلام کے ہاتھوں سے نکل کر اڑنے لگا۔ بچوں نے جا کر اپنے استاد سے اس کا ذکر کیا تو استاد نے بنی اسرائیل میں یہ خبر پھیلا دی ۔ لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ اور بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے آپ علیہ السلام کی جان خطرے میں دیکھی تو دوسرے علاقے میں اپنے بیٹے کو لے کر چلی گئیں۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلانِ نبوت کیا تو بنی اسرائیل کے علماءنے مطالبہ کیا کہ آپ علیہ السلام چمگادڑ پیدا کر کے بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے مٹی سے چمگادڑ کی صورت کا پرندہ بنایا۔ اور پھونک مار کر فرمایا۔ اللہ کے حکم سے اڑ جا۔ تو وہ اڑنے لگا۔ جب تک لوگ دیکھتے رہے۔ وہ چمگادڑ اڑتی رہی اور جب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو ئی تو مر کر زمین پر گر گئی ۔ 

پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کا علاج 

جس نبی یا رسول کے زمانے میں جس چیز کا زیادہ چلن ہو تا تھا اللہ تعالیٰ اُس نبی یا رسول کو ویسا معجزہ عطا فرماتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو کا بہت زور تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے عصا اور ہاتھ کے چمکنے کا معجزہ عطا فرمایا۔ جسے دیکھ کر تمام جادوگروں نے پہچان لیا تھا کہ یہ اللہ کی نشانی ہے۔ اور ایمان لے آئے تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت طبّ کا غلبہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے بیماروں کو اچھا کرنے کا معجزہ عطا فرمایا۔ اس زمانے میں پیدائشی اندھا ہونا اور برص کے مرض کا کوئی علاج نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ اُن کی دعا سے اور ہاتھ پھیرنے سے پیدائشی اندھے اور برص کے مریض اچھے ہو جاتے تھے۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کی شہرت پورے بنی اسرائیل میں پھیلنے لگی۔ اور دور دور سے لوگ آپ علیہ السلام کی خدمتِ اقدس میں علاج کروانے لگے۔ بعض اوقات تو ایک دن میں پچاس ہزار تک مریض آجاتے تھے۔ آپ علیہ السلام تمام مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ اور صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔

انجیل کا نزول 

حضرت موسیٰ علیہ السلام پر” توریت“ نازل ہوئی تو رمضان کی چھ راتیں گزر چکی تھیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام پر”زبور“ نازل ہوئی تو رمضان کی بارہ راتیں گزر چکی تھیں۔ اور زبور، توریت کے چار سو بیاسی 482سال بعد نازل ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر” انجیل“ نازل فرمائی تو رمضان کے مہینے کی اٹھارہ راتیں گزر چکی تھیں۔ اور انجیل ،زبور کے ایک ہزار پچاس 1050سال بعد نازل ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک کا نزول جب شروع کیا تو ماہِ رمضان کی سترہویں یا چوبیسویں رات تھی۔ اور یہ نزول لگ بھگ23برس تک چلتا رہا۔ اور قرآن پاک ، انجیل کے لگ بھگ پونے چھ سو575سال بعد نازل ہونا شروع ہوا۔

٭ انجیل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف 

 اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائی تو وحی فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے عیسیٰ بن مریم ، میری عبادت میں سستی نہ کر۔ اور اے پاکیزہ دوشیزہ عِفت مآب عورت کے بیٹے ۔ سُن اور اطاعت کر۔ اللہ نے تجھے بغیر باپ کے پیدا کیا ہے۔ اور میں نے تجھے عالمین کے لئے نشانی کے طور پر پیدا فرمایا ہے۔ صرف میری عبادت کر ۔اور صرف مجھ پر بھروسہ کر۔ اور مضبوطی سے کتاب کو تھام لے۔ اور اس کی تفسیر بیان کر۔ اور لوگوں کو یہ پیغام دے کہ میں (اللہ تعالیٰ) حق ہوں۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہوں۔اور میں کبھی زوال پذیر نہیں ہوں گا۔ اور لوگوں کو بتاﺅ کہ وہ نبی¿ عربی صاحب الجمل والتاج ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصدیق کریں۔ وہ نبی¿ اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم خوب صورت آنکھوں والا، کشادہ پیشانی والا اور واضح رخساروں والا ہو گا۔ جس کے بال گھنگریالے ہوں گے۔ داڑھی مبارک گھنی ہوگی۔ ناک بلند ، سامنے کے دانتوں میں تھوڑا فاصلہ ہوگا اور تھوڑی تنگی نہیں ہوگی۔ جس کی گردن مبارک گویا چاندی کی صراحی ہو ۔ جس کے نچلے حصے میں سونا چل رہا ہو۔ سینے سے لیکر ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر ہوگی۔ ہاتھ پاﺅں بھرے بھرے ہوں گے۔ وہ جس طرف بھی متوجہ ہو گا تو پوری طرح متوجہ ہوگا۔ اور جب چلے گا تو ایسے چلے گا جیسے بلندی سے اتر رہا ہو۔ اُن کے چہرے پر پسینہ موتیوں کی طرح چمکے گا۔ اور پسینے سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ایسا کوئی رعنا نہ پہلے کبھی دیکھا گیا ہے اور نہ کبھی دیکھا جائے گا۔ وہ حسین قامت اور خوشبو والے ہوں گے۔ وہ کئی عورتوں سے نکاح کریں گے۔ لیکن اولاد کم ہو گی۔ مگر پھر بھی اس سے بابرکت نسل چلے گی۔ جنت میں اُ س کے لئے زبرجد کا مکان ہوگا۔ اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) آخری زمانے میں تو اس آخری رسول کی اُمت کی کفالت کرے گا۔ میری بارگا ہ میں اُس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ مقام ہے جو کسی انسان کو حاصل نہیں ہے۔ اُس پر نازل ہونے والا کلام ”قرآن مجید“ کہلائے گا۔ اس کا دین ”اسلام “ہوگا۔ اور اسے قبول کرنے والا سلامتی پائے گا۔ ”طوبیٰ “ہے اُس شخص کے لئے جو اس کا زمانہ پائے گا۔ اس کے دنوں کو دیکھے گا۔ اور اس کے کلام کو سنے گا اور اُس پر ایمان لائے گا۔

طوبیٰ کیا ہے؟ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ؛” اے اللہ تعالیٰ !یہ طوبیٰ کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ؛”یہ ایک درخت ہے۔ جسے میں نے ( اللہ تعالیٰ نے) اپنے دست ِ قدرت سے لگایا ہے۔ یہ درخت تمام جنتوں میں ہے۔ اس کا تنہ ”رضوان“ سے ہے۔ اور اسمیں سے ”تسنیم “کی نہر نکلی ہے۔ اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا اور ذائقہ زنجبیل کا اور اس کی خوشبو کستوری جیسی ہے۔ جو اس میں سے ایک گھونٹ بھی پی لے گا۔ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا۔ “حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ !مجھے اس کا پانی پلا دے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔؛”اس کا پانی اُس وقت تک کوئی بھی نبی نہیں پی سکتا جب تک وہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پانی نہیں پی لے گا۔ اُس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے بعد دوسرے انبیائے کرام اس کا پانی پی سکیں گے۔اور جب اُس آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کا پانی پی لے گی تب دوسرے انبیائے کرام کی امتوں کو اس کا پانی ملے گا۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” اے عیسیٰ بن مریم( علیہ السلام )!میں تمہیں اپنی طرف اٹھالوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ تُومجھے کیوں اٹھالے گا؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” میں تجھے اٹھاﺅں گا پھر آخری زمانے میں نیچے اتاروں گا۔ تاکہ تم اُس آخری نبی کی امت کی دجّال کے مقابلے پر مدد کر سکو۔ میں تجھے نماز کے وقت اتاروں کا پھر تُو اُن کے ساتھ نماز ادا کرے گا۔ کیوں کہ یہ اُمتِ مرحومہ ہے۔ اور ان کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ”خاتم النبیین “ہیں۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اوصا ف 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ ، مجھے اس امتِ مرحومہ کے بارے میں آگاہ فرمائیے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” وہ احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت ہے۔ اس امت کے لوگ علماءاور حکماءہوں گے،گویا وہ انبیاءہوں ۔ میری تھوڑی سی عطا پر راضی ہو جائیں گے۔ میں بھی اُن کے تھوڑے سے عمل سے راضی ہو جاﺅں گا۔ اور میں انھیں صرف” لا اِلہ الااللہ“ کی وجہ سے جنت میں داخل کروں گا۔اے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) جنت کے زیادہ تر باسی ( رہنے والے) اسی اُمت کے ہوں گے۔ کیوں کہ کسی اُمت نے” لا الہ الا للہ“ کا اتنا ذکر نہیں کیا ہوگا جتنا اس اُمت کے لوگ اس کلمے کا ذکر کریں گے۔ اور کسی اُمت کے سر سجدے میں اتنے نہیں جھکے جتنے سر اس اُمت کے سجدے میں جھکیں گے۔“

بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام)! عنقریب یہ بنی اسرائیل تجھ سے کہیں گے کہ ہم روزے رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے روزے قبول نہیں ہوتے۔ ہم صدقہ کرتے ہیں مگر ہمارا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ ہم اونٹنی کے بچے کی طرح بلبلا کر روتے ہیں مگر ہماری آہ وزاری پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) ان سے پوچھو اس کی وجہ کیا ہے؟ کیوں تمہاری ( بنی اسرائیل کی ) عبادت اور تمہاری آہ وزاری پر رحمت کی نظر نہیں کی جاتی؟ کیا میرے خزانوں میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے؟ کیامیں آسمانوں اور زمینوں کا مالک نہیں ہوں؟ کیا میری رحمت کا دائرہ تنگ ہو گیا ہے؟ رحم اُن پر کیا جاتا ہے جو میری رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) اگر یہ لوگ دنیا کے دھوکے میں نہ پڑتے اور دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے تو انھیں حق معلوم ہو جاتا۔ اور انھیں یہ معلوم ہو جاتا کہ ان کے نفس ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔میں کیسے ان کے روزوں کو قبول کرلوں ۔ جب کہ وہ روزے رکھ کر حرام مال اکٹھا کرتے ہیں۔ میں کیسے ان کی نمازوں کو قبول کرلوں۔ جب کہ ان کے دل میرے دشمنوں سے محبت کرتے ہیں۔ اور میری حرام کی کوئی چیزوں کوحلال سمجھتے ہیں۔ میں اُن کے صدقات کو کیسے قبول کرلوں۔ جب کہ وہ لوگوں پر غصہ کرتے ہیں اور ناجائز طریقے ( سود) سے اس مال کو حاصل کرتے ہیں۔ اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) میں انھیں وہی بدلہ دیتا ہوں جس کے وہ لائق ہوتے ہیں۔ میں ان کی آہ وزاری پر کیسے رحم کروں۔ ان کے ہاتھ انبیاءکے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ میں ان سے سخت ناراض ہوں۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

06 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


06 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 06

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں 

اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ؛” اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) !میں نے آسمانوں اور زمین بنانے کے دن سے یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ جو میری عبادت کرے گا اور تم ماں بیٹا کے بارے میں وہی کہے گا جو میں کہتا ہوں( کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور ایک انسان ہیں) تو میں جنت میں اسے تیری پڑوسی ، درجات میں تیرا رفیق اور کرامت میں تیرا شریک بنا دوں گا۔اور میں نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دن ہی یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ جو تجھ کواور تیری والدہ طاہرہ مریم کو ( نعوذ باللہ ) خدا بنائے گا تو میں اسے دوزخ کے سب سے نچلے حصے میں پھینکوں گا۔ اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دن ہی میں نے یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ میں اس فرق کو اپنے بندے” محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم “کے ذریعے ثابت کروں گا“

انجیل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بشارت 

اس کے بعد آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ؛” میں اپنے اُس بندے” احمد صلی اللہ علیہ وسلم “پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم کر دوں گا۔ وہ” خاتم النبیّن “ہو گا۔ اس کی پیدائش کی جگہ مکہ¿ مکرمہ ہوگی۔ اور وہ مدینہ منورہ میں ہجرت فرمائے گا۔ اور ملک شام تک اس کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ وہ نہ بد خو ہو گا اور نہ ہی ترش رو ہوگا۔ اور نہ ہی بازاروں میں شور کرنے والا ہوگا۔ اور نہ ہی بری بات کو خوب صورت انداز میں بیان کرے گا۔ نہ کسی سے بدکلامی کرے گا میں ہر خوب صورت اور بہترین کام کی طرف اس کی راہنمائی کروں گا۔ اور اس کو بہترین اخلاق سے نوازوں گا۔ میں تقویٰ کو اس کا ضمیر بناﺅں گا۔ حکمت کو اس کی عقل بناﺅں گا۔ وفا کو اس کی طبیعت میں رکھوں گا۔ عدل کو اس کی سیرت بناﺅں گا۔ حق کو اس کی شریعت اور اسلام کو اس کا دین بناﺅں گا۔ اور اس کا نام” احمد صلی اللہ علیہ وسلم“ ہوگا۔ میں اس کے ذریعے گمراہی کے بعد ہدایت کو عام کردوں گا۔ جہالت کے بعد علم و مغفرت کو اس کے ذریعے پھیلاﺅں گا۔ اس کے ذریعے تنگدستی کے بعد فراخی اور غناءاور ذلت کے بعد بلندی عطا کروں گا۔ میں اس کے وسیلے سے لوگوں کو ہدایت دوں گا۔ اس کے ذریعے سے بہرے کانوں کو سنواﺅں گا اور غافل دلوں کو بیدار کر وں گا۔ اور ہوا و ہوس کی گندگی کو دور کروں گا۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی بشارت اور خوبیاں 

اللہ تعالیٰ اس کے بعد آگے فرماتا ہے؛” میں اس کی اُمّت کو بہترین اُمت بناﺅں گا۔ جو نیکی کا حکم کرے گی۔ اور برائی سے روکے گی۔ اِس اُمت کے لوگوں کا عمل خالص میرے لئے ہوگا۔ وہ پہلے کے رسولوں اورنبیوں کی تعلیمات کی تصدیق کریں گے۔ میں انھیں الہام کروں گا کہ وہ اپنی مسجدوں میں اپنی مجلسوں میں اور اپنے گھروں میں میر ی تسبیح اور میری حمد کریں گے۔ وہ صرف میری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہو کر ، بیٹھ کر اور سجدہ اور رکوع کر کے میری عبادت کریں گے۔ میرے لئے صفیں باندھ کر لڑیں گے۔ اور لشکروں کی صورت میں قتال کریںگے۔ اُن کی قربانی خون بہانا ہو گی۔ ( پہلے کی امتوں کی قربانی یہ تھی کہ وہ اپنی قربانی ایک اونچی جگہ رکھ دیتے تھے جس کی قربانی قبول ہوتی تھی تو آسمان سے ایک آگ آکر اُس قربانی کو کھا جاتی تھی) اُن کی کتاب ( قرآن پاک) اُن کے سینوں میں ہوگی۔ اور ان کے دل نیکی سے معمور ہوں گے۔ راتوں کو راہب (عبادت کرنے والے ) ہوں گے۔ اور دن میں شیر ( اللہ کے لئے لڑنے والے) ہوں گے۔ یہ میرا فضل ہے۔ میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔ اور میں ”فضل عظیم“ کا مالک ہوں۔“

رسول اللہ ﷺ کے آنے کی بشارت دی 

اللہ تعالیٰ نے سورہ الصف کی آیت نمبر6اور7میں فرمایا ؛ترجمہ” اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا؛ اے بنی اسرائیل !میں تمہاری طرف اللہ کا ( بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ میں تو ریت کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے آئی ہے اور ( میں تم کو) بشارت دیتا ہوں۔ ایک رسو ل ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جو میرے بعد تشریف لائیں گے۔ اُن کا احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہو گا۔ پس جب وہ (احمد صلی اللہ علیہ وسلم) اُن کے پاس ( بنی اسرائیل یعنی مدینہ منورہ کے یہودیوں کے پاس) روشن نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹے بہتان لگائے۔ حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ( سورہ الصف آیت نمبر 6اور7) یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ان بدبخت بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی جھٹلایا تھا۔ اور ان کے دشمن بن گئے تھے۔ یہاں تک کہ اُن کی اپنی سمجھ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انتہائی دردناک موت سے ہمکنار کر وایا۔ یعنی صلیب پر چڑھوادیا۔ اسی پر بنی اسرائیل نے بس نہیں کیا اور ان بدبختوں نے جن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا تھا انھیں کی بات مان کر اس” آخری رسول احمدصلی اللہ علیہ وسلم “کا بے چینی سے انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لگ بھگ پونے چھ سو برس بعد” احمد صلی اللہ علیہ وسلم “تشریف لائے اور مدینہ منورہ ہجرت کر کے بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دی تو ان بدبختوں نے وہی روش اختیا ر کی جو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے ساتھ کی تھی ۔ بنی اسرائیل نے قرآن پاک کو نعوذ باللہ جادو کہا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف صاف پہچان لینے کے باوجود جھٹلایا اور دشمنی بھی کی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دو مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی ۔ ایک مرتبہ اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑا پتھر گرا کر مارنا چاہااور دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا۔ لیکن دونوں مرتبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”مگر جب عیسیٰ(علیہ السلام) نے اُن کا کفر محسوس کر لیا تو کہنے لگے ؛اﷲ تعالیٰ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اﷲ تعالیٰ کی راہ کے مدد گار ہیں۔ہم اﷲ پر ایمان لائے اور آپ(علیہ السلام) گواہ رہیئے کہ ہم تابعدار ہیں۔اے ہمارے رب!ہم تیری اُتاری ہوئی وحی(انجیل)پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی ،پس تُو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 52اور 53)حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلسل بنی اسرائیل کو سمجھاتے رہے ۔ اُن کی برائیوں اور گمراہیوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت آپ علیہ السلام کو جھٹلاتی رہی۔ لیکن کچھ نیک اور سلیم الفطرت لوگ بھی بنی اسرائیل میں تھے۔ ان لوگوں نے آپ علیہ السلا م پر نہ صرف ایمان لائے بلکہ آپ علیہ السلام کی مدد بھی کی۔ ان میں آپ علیہ السلام کے بارہ حواری قابل ذکر ہیں۔ کیو نکہ یہ بارہ حواری ہر وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے نام پطرس ، یعقوب بن زبدی ، یعقوب کا بھائی یوحنا ، اندریاس ، فلپس ، ابر تلمائی، متیٰ ، توماس ، یعقوب بن حلفائی ، تدواس ، شمعون قانوی اور یہودا ہے۔

” المائدہ “(آسمانی دستر خوان) کا واقعہ

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا؛ترجمہ”اور جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) ، کیا آپ کا رب (اللہ تعالیٰ) ہم پر آسمان سے” المائدہ“ ( دستر خوان ) اتار سکتا ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔ گر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو۔ ( اور ایسی عجیب فرمائش مت کرو) تو حواریوں نے کہا ؛ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے ہم کھائیں۔ اور ہمارے دلوں کو پورا اطمینان حاصل ہو جائے۔ اور ہمارا یہ یقین اور بڑھ جائے کہ آپ (علیہ السلام) نے سچ فرمایا ہے اور ہم گواہی دینے والوں میں سے ہو جائیں۔عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) نے دعا کی ۔ اے اللہ ، اے ہمارے پروردگار ، ہم پر آسمان سے” المائدہ“ ( کھانے کا دستر خوان ) نازل فرما۔ کہ وہ ہمارے لئے یعنی جو اول ہیں اور جو بعد میں ہیں سب کے لئے عید ہو جائے۔ اور تیری طرف سے ایک نشانی بن جائے۔ اور تو ہم کو رزق عطا فرما دے۔ اور تو سب سے بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں وہ کھانے کا دستر خوان تم پر نازل کرنے والا ہوں پھر تم میں جو بھی شخص کفر کرے گا۔ ( پلٹ جائے گا یا انکار کر دے گا) تو میں اس کو ایسی سزادوں گا کہ وہ سزا عالمین میںکسی کو نہیں ملی ہوگی۔“ ( سورہ المائدہ آیت نمبر112سے 114تک)

حواریوں کی المائدہ کی فرمائش

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو تیس دن روزے رکھنے کا حکم دیا۔ جب تیس روزے مکمل ہوئے تو حواریوں نے فرمائش کی کہ اُن کے لئے آسما ن سے دستر خوان اُترنا چاہیئے۔ کیونکہ وہ آسمانی خوان سے کھانا کھا کر وہ یہ اطمینان حاصل کرنا چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے روزے قبول کر لئے ہیں۔ اور ان کی دعاﺅں کو قبول کر لیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اُن کی یہ تمنا تھی کہ اس خوشی کے موقع پر وہ بہترین کھانا کھائیں۔ تا کہ اُن کی خوشی میں اضافہ ہو ۔ اور یہ بابرکت کھانا اول و آخر اور فقیر و غنی سب کے لئے کافی ہو۔ اور اُس روز عید منا کر اس دن کو اپنے لئے عید مقرر کر لیں۔بنی اسرائیل اپنے ہر نبی علیہ السلام سے عجیب عجیب فرمائشیں کرتے تھے۔حواریوں نے بھی عجیب سی فرمائش کی ۔اور اﷲ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب وہ فرمائش پوری کرتا ہے تو اِس کے ساتھ کچھ شرائط بھی لاگو کر دیتا ہے۔بندہ اگر اُن شرائط پر پورا نہیں اُتر پاتا تو سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔اِسی لئے ہر نبی علیہ السلام نے اپنی اپنی اُمت کو سمجھایا کہ اﷲ تعالیٰ سے عجیب عجیب فرمائشیں نہ کیا کرو۔

٭ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں کو سمجھایا 

 حواریوں کی اس عجیب و غریب فرمائش پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انھیں سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی فرمائش نہ کرو جس کی وجہ سے تم مصیبت میں آجاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔ اور رزق کی تلاش کرو۔ اور ایسے انوکھے سوالات نہ کرو کہ تم فتنے میں مبتلا ہو جاﺅ۔ اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔ درا صل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ لوگ اُن شرائط کو پورا نہیں کر سکے جو” المائدہ “کے نازل ہونے کی تھیںاور اگر وہ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد پر قائم نہ رہ سکے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر سکے تو بڑے سخت عذاب کے مستحق ہو جائیں گے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام اپنے حواریوں کو سمجھا رہے تھے لیکن وہ لوگ بار بار آپ علیہ السلام سے درخواست کر رہے تھے۔ اور ایسے وقت میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ بھی جمع ہو گئے تھے جنھوں نے آپ علیہ السلا م پر ایمان نہیں لایا تھا۔ ان میں وہ تمام علماءبھی تھے جو آپ علیہ السلام کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ بہر حال حواریوں کے باربار اصرار کرنے پر آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

07 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


07 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 07

”المائدہ“ کا نزول 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ آپ علیہ السلام نے وضو کیا ۔ دو رکعت نماز پڑھی اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلا دیئے آپ علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ روتے روتے دعا بھی کرتے جا رہے تھے۔ تمام حواری اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے دم بخود بیٹھے ہوئے تھے۔ اور تمام بنی اسرائیل اور ان کے علماءجنھوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا تھا وہ بھی منتظر تھے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ ادھر آپ علیہ السلام کی گریہ وزاری اور دعا جاری تھی۔ اچانک حواریوں کے منہ سے مسرت آمیز آواز نکلی۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ دو بادلوں کے درمیان سرخ دستر خوان دھیرے دھیرے نیچے آرہا تھا۔ تما م بنی اسرائیل کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ اوروہ پلکیں جھپکائے بغیر اُس” المائدہ“ کو دیکھ رہے تھے۔ جو دھیرے دھیرے نیچے آرہا تھا۔ تمام حواری اور ایمان والے خوش ہو رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام بار بار دعا کر رہے تھے؛” اے اللہ تعالیٰ ! اس خوان کو رحمت بنانا اور اسکو غضب نہ بنانا۔“ دھیرے دھیرے وہ دستر خوان آپ علیہ السلام کے سامنے آکر رک گیا۔ حواریوں کو ایسی خوشبو آئی جیسی اس سے پہلے انھوں نے کبھی نہیں سونگھی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلا م اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر گئے۔اور آپ علیہ السلام کو جھٹلانے والے بنی اسرئیل اور علماءغیض و غضب میں جل بھن گئے۔

” المائدہ“ کا کھانا 

جب” المائدہ “نیچے آکر زمین پر ٹھہر گیا تو تمام حواریوں اور ایمان لانے والے اس سرخ دستر خوان کے گرد آکر بیٹھ گئے۔ یہ بہت بڑا تھال تھا اور سرخ کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛” تم میں سے جو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ عبادت گزار اور شکر گزار ہے وہ اس سرخ کپڑے کو ہٹائے۔“ حواریوں نے کہا؛” اے اللہ کے رسول علیہ السلام !آپ ہی اسے کھولنے کے لائق ہیں۔ “یہ سن کر آپ علیہ السلام نے دوبارہ وضو کیا۔ دو رکعت نماز پڑھی اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور اپنی قوم کے لئے برکت کی دعا مانگی۔ پھر” المائدہ“ کو کھولا اس میں ایک بہت بڑی بھنی ہوئے مچھلی تھی۔ جس میں کانٹے نہیں تھے۔ اوراس سے گھی بہہ رہا تھا۔ اور اس کے گرد ہر قسم کی پکی ہوئی سبزیاں رکھی ہوئی تھیں۔ اور نمک اور سرکہ بھی رکھا ہوا تھا۔ اور پانچ بڑی بڑی روٹیاں تھیں۔ ایک روٹی پر زیتون ، ایک پر کھجور ، ایک پر انار اور باقی دو پر اسی طرح پھل اور میوہ جات رکھے تھے۔

حواری کھانے سے محروم رہ گئے 

تمام کھانا دیکھ کر ایک حواری شمعون نے پوچھا؛ اے اللہ کے رسول علیہ السلام !یہ کھانا دنیا کے کھانوں میں سے ہے یا جنت کے کھانوں میں سے ہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛”یہ نہ تو دنیا کا کھاناہے اور نہ ہی جنت کا ہے۔ بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آسمانوں اور زمین کے درمیان پیدا فرمایا ہے۔ “اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛” اب کھانا شروع کرو۔ “حواریوں نے کہا؛” آپ علیہ السلام کھانے کی شروعات کریں۔“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛”کھانا تم لوگوں نے منگوایا ہے اس لئے تم لوگ کھاﺅ۔“ لیکن حواری اصرار کرنے لگے کہ آپ علیہ السلام کھائیں۔ در اصل حواریوں کو یہ ڈر پیدا ہو گیا تھا کہ اس کھانے سے انھیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے تمام فقیروں اور بیماروں اور اپاہجوں کو بلایا۔ اور فرمایا۔ تم اللہ کے دیئے ہوئے رزق جو تمہارے رسول کی دعا سے آیا ہے اس میں سے بسم اللہ کر کے کھاﺅ۔ اور کھانے کے بعد الحمد للہ کہہ کر اللہ کا شکر ادا کرو۔ تم پر کوئی آفت نہیں آئے گی۔ یہ سن کر اُن ضرورت مندوں نے کھانا شروع کر دیا۔ اس” المائدہ “سے تیرہ سو 1300مردوں اور عورتوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ اس کے بعد بھی وہ کھا نا اتنا ہی رہا۔اور اسمیں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ پھر وہ” المائدہ“ آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ جس فقیر نے وہ کھانا کھایا وہ امیر ہو گیا۔ جس اپاہج نے وہ کھانا کھایا ، وہ صحت مند ہو گیا۔ اور جس بیمار نے وہ کھانا کھایا ۔ اس کی بیماری ختم ہو گئی۔ یہ دیکھ کر حواری افسوس کرنے لگے۔ کیونکہ وہ اس کھانے سے محروم ر ہ گئے۔

تمام بنی اسرائیل کا” المائدہ “سے فائدہ اٹھانا 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری” المائدہ “سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس کا انھیں بہت افسوس تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ اُن پر مہربان تھا۔ اس لئے چند روز بعد پھر” المائدہ “نازل ہوا۔ اس بار حواریوں نے فائدہ اٹھایا۔ اور بنی اسرائیل کے لوگ بھی آگئے اور” المائدہ “میں سے کھانا کھایا۔ ہزاروں لوگوں نے اُس دن کھانا کھایا۔ پورا دن کھانے کا سلسلہ چلتا رہا۔ یہا ں تک کہ شام ہو نے لگی اور لوگ باقی تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛” انشاءاللہ” المائدہ “پھر نازل ہوگا اورآپ لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔“ اس کے بعد ایک دن چھوڑ کر” المائدہ“ نازل ہونے لگا۔ اور بنی اسرائیل کے جو لوگ آپ علیہ السلام کو جھٹلاتے تھے وہ بھی آکر” المائدہ “سے فائدہ اٹھانے لگے۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل کے علماءبھی آکر” المائدہ“ سے فائدہ اٹھانے لگے۔ اسطرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اور ہر مرتبہ ہزاروں لوگ ”المائدہ “سے کھانا کھاتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ جتنا کھانا ہو کھالیا کرنا دوسرے دن کے لئے نکال کر مت رکھنا۔ ورنہ ”المائدہ “کا نزول بند ہو جائے گا۔ پھر ایسا ہونے لگا کہ بنی اسرائیل کے علماءاور امراءیہاں بھی اپنی چلانے لگے۔ اور ضرورت مند رہ جاتے تھے۔اور علماءاور امیر لوگ کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ 

” المائدہ “کا نزول بند ہوجانا 

جب بنی اسرائیل کے علماءاورامیر لوگ اپنا پیٹ بھر نے لگے اور ضرورت مند محروم رہنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب ”المائدہ “سے صرف ضرورت مند اور مستحق لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اعلان کر دیا کہ” المائدہ “صرف ضرورت مند اور مستحق لوگوں کے لئے ہے۔ اور امیروں کے لئے نہیں ہے۔ اور بنی اسرائیل کا ہر عالم بہت امیر تھا۔ اس طرح علماءاورامراءکے لئے” المائدہ“ کا کھانا بند ہو گیا۔ وہ لوگ تو پہلے ہی سے آپ علیہ السلام کے دشمن تھے۔” المائدہ “کی پابندی کے بعد تو یہ لوگ آپ علیہ السلام کی دشمنی میںکھل کر سامنے آگئے۔ اور بنی اسرائیل کے علماءاور امراءنے عوام میں ”المائدہ “کے متعلق شک وشبہ پھیلانے لگے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام ہمیں” المائدہ “کے نزول کے متعلق مطمئن کریں کیوں کہ بہت لوگ ا س میںشک کرتے ہیں۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا؛” اللہ کی قسم! اگر تم لوگ ”المائدہ“ کے نزول میں شک کرو گے تو ہلاک ہو جاﺅ گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ میں نے اسی شرط پر” المائدہ“ نازل کیا تھا کہ جو اس کے بعد کفر کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں کسی کو ایسا عذاب نہیں دیا ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ! اگر تُو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو ان کی بخش دے تو تُو ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ “”المائدہ “نازل ہونے کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ جتنا کھا سکو کھا لو۔ کل کے لئے بچا کر نہ رکھنا۔ بنی اسرائیل کے علماءاور امراءنے ضرورت مندوں اور مستحق لوگوں کو بہکانا شروع کیا اور وہ لوگ بہکاوے میں آکر دوسرے دن کے لئے چھپا کر رکھنے لگے۔ کیوں کہ” المائدہ“ ایک دن نازل ہوتا تھا اور ایک دن نازل نہیں ہوتا تھا۔ جب بنی اسرائیل کے لوگ آپ علیہ السلام کے حکم کی نافرمانی کر نے لگے تو اللہ تعالیٰ نے” المائدہ “کا نزول بند کر دیا۔

٭ عام بنی اسرائیل کو علماءکے فریب سے خبردار کرنا 

 بنی اسرائیل کے علماءنے عام بنی اسرائیل کو بہت بری طرح گمراہ کر رکھا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عام بنی اسرائیل کو سمجھاتے تھے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا”یہ فقیہہ اور مفتی اور علماءحضرت موسیٰ علیہ السلام کی گدی پر بیٹھے ہیں پس جو کچھ وہ تم کو بتائیں وہ کرو۔ لیکن جو کام وہ کرتے ہیں تم وہ مت کرو۔ کیوں کہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں ہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ تم لوگوں پر ڈال دیتے ہیں۔ جس کا اٹھانا بہت مشکل ہے۔ مگر خود اسے اٹھانے کے لئے انگلی بھی نہیں ہلانا چاہتے ۔ وہ سب کام لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں۔ اپنے تعویذ بڑے بناتے ہیں،اپنی پوشاک چوڑی رکھتے ہیں اور دعوتوں میں صدر نشینی کرتے ہیں۔ اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔ بازاروں میں تم سے سلام کرواتے ہیں اور اپنے آپ کو ربّی کہلوانا پسند کرتے ہیں۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام علماءکی ریا کاریوں پر ٹوکتے تھے 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ریا کار اور فریبی علماءکو بھی سمجھاتے تھے اور ان کی چالبازیوں اور مکر و فریب پر ٹوکتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے جو حکم توریت میں تھے اُن پر چلنے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ علیہ السلا م فرماتے تھے؛” اے یاکار فقیہو اور علماء!تم پر افسوس ہے کہ تم آسمان کی بادشاہت لوگوں پر بند کرتے ہو۔ ( یعنی توریت میں جو اللہ تعالیٰ نے احکامات دیئے ہیں وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہو۔) نہ خود داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو اور علمائ! تم پر افسوس ہے کہ ایک مُرید کرنے کے لئے بحر و بر کا دورہ کرتے ہو۔ اور جب وہ تمہارا مرید بن جاتا ہے تو اسے دوگنا دوزخ کا حقدار بنادیتے ہو۔ اے ریا کار فقیہواورعلمائ!اے اندھے راستے بتانے والو!تم مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔ تم پر افسوس ہے۔ تم سفیدی پھیری ہوئی کی قبروں کی طرح ہوجو اوپر سے خوبصورت دکھائی دیتی ہے مگر اندر سے مردوں کی ہڈیاں اور نجاست بھری ہوئی ہوتی ہے۔ تم لوگ بھی اسی طرح لوگوں کو نیک دکھائی دیتے ہو۔ مگر اندر سے تم میں مکاری ، ریاکاری اور بے دینی بھری ہوئی ہے۔“ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف بنی اسرائیل کے علماءکی سازش

بنی اسرائیل کے علماءاور فقیہ پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف تھے۔کیوں کہ آپ علیہ السلام کی تعلیمات کی وجہ سے علماءاور فیقہوں کو اپنی دکان بند ہوتی نظر آرہی تھی۔ اور جب آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی عوام کو علماءکی چالبازیوں اور فریب کاریوں کے بارے میں بتانا شروع کیا تو بنی اسرائیل کے تمام علماءنے آپ علیہ السلام کے خلاف منصوبہ بند ی شروع کر دی۔ وہ اپنے دوغلے کردار کے بے نقاب ہونے اور مکاریوں پرپڑے پردے کو اٹھتے ہوئے کیسے برداشت کر سکتے تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل کے تمام علماءآپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح آپ علیہ السلام کو خاموش کریں۔ اس وقت بنی اسرائیل پر رومی قابض تھے۔ بنی اسرائیل کے علماءنے اپنے شاگردوں کے ساتھ رومی خفیہ پولس کو یہ کہہ کر آپ علیہ السلام کے پاس بھیجا کہ آپ علیہ السلام عوام کو رومی حکومت کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ انھوں نے آپ علیہ السلام کے پاس پہنچ کر پوچھا۔اے استاد، ہم جانتے ہیں کہ آپ سچے ہیں اور سچائی سے اللہ کی راہ کی تعلیم دیتے ہیں اور کسی کی پرواہ نہیں کرتے ۔ ہمیں بتائیے کیا قیصر ( سلطنت ِ روم کا بادشاہ کا لقب) کو جزیہ دینا جائز ہے؟ آپ علیہ السلام اُن کی شرارت فوراً سمجھ گئے اور فرمایا؛” اے مکارو!مجھے کیوں آزماتے ہو؟جزیہ کا سکہ مجھے دکھاﺅ انھوں نے سکہ دیا تو آپ علیہ السلام نے پوچھا ۔ اس سونے کے سکے پر صورت اور نام کس کا ہے ۔انھوں نے جواب دیا قیصر کا۔ اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛” جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دے دو۔ اور جو اللہ کا ہے وہ اللہ کو ادا کردو۔“ یعنی قیصر کا نام اور صورت اسے واپس کر دو۔ اور سونا اللہ کے راستے میں خرچ کردو۔ اس طر ح بنی اسرائیل کے علماءکا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

08 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


08 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 08

بنی اسرائیل کا مکر اور اﷲ کی تدبیر

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اور کافروں نے مکر کیا اور اﷲ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔اور اﷲ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔جب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ(علیہ السلام)!میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں۔اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر قیامت کے دن تک رکھنے والا ہوں۔پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 54اور55)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف خفیہ سازش کی اور آپ علیہ السلام کو شہید کرنے کی بھر پور کوشش کی۔اور اپنی دانست میں اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہو گئے اور آپ علیہ السلام کواپنی سمجھ کے مطابق(نعوذباﷲ)صلیب پر چڑھا کر درد ناک موت سے بھی ہمکنار کر دیا۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے اپنی خفیہ تدبیر سے آپ علیہ السلام کو بچا لیا اور آسمان میں اُٹھا لیا۔بنی اسرائیل کی اِس خفیہ سازش کی خبر اﷲ تعالیٰ نے پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دے دی تھی کہ یہ لوگ ایسا کریں گے اور میں تمہیں اپنی طرف اُٹھا لوں گا۔اور تمہارے تابعداروں کو اِن بنی اسرائیل پر حاوی کر دوں گا۔اِن آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اُٹھاے جانے کا ذکر ہے ۔اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے قریب آپ علیہ السلام کا آسمان سے دوبارہ نزول ہوگا۔اِس سلسلے کی چند احادیث انشاءاﷲ ہم آگے پیش کریں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی گرفتاری کی خبر دے دی تھی

بنی اسرائیل کے علماءاور امراءکا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو انھوں نے رومی حکمرا ں پیلاطس کو آپ علیہ السلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ وہ لوگ لگا تار اس کے کان بھرتے رہے۔ آخر کار رومی حکمراں نے آپ علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ اب تمام بنی اسرائیل ( یہود ) آپ علیہ السلام کی تلاش میں نکل پڑے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی مستقل گھر نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام پورے کنعان میں ( حالیہ فلسطین ، شام اور لبنان) میں آباد بنی اسرائیل میں گھوم گھوم کر تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ صرف آپ علیہ السلام کے حواریوں کو معلوم رہتا تھا کہ آپ علیہ السلام سے کہاں ملاقات ہوگی۔ جب تمام یہودی ( بنی اسرائیل) آپ علیہ السلام کو تلاش کرنے لگے ۔ا س وقت آپ علیہ السلام اپنے بارہ حواریوں کے ساتھ ایک جگہ چھپے ہوئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا؛” چرواہے کو لے جایا جائے گا۔ اور بھیڑیں منتشر ہو جائیں گی ، “حواری بات کا کچھ مطلب نہیں سمجھ سکے ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”یہ بات سچ ہے کہ تم میں سے ایک شخص مرغ کی اذان سے پہلے تین بار میرا انکار کر ے گا۔ اور تم میں سے ایک شخص صبح ہونے سے پہلے تھوڑی سی رقم کے عوض مجھے بیچ دے گا اور میری قیمت لے کر کھالے گا۔ اب تم جاﺅ اور ہوشیار رہنا ۔“

حواری کی غداری سے آپ علیہ السلام کی گرفتاری

تمام حواری باہر نکلے اور چھپتے چھپاتے اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے۔ کیوں کہ رات کے اندھیرے میں بھی بنی اسرائیل رومی پولس کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تلاش کر رہے تھے اور یہ ہر جگہ موجود تھے۔ شمعون چھپتا چھپاتا جا رہا تھا کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے اسے پکڑ لیا اور کہا ؛تُوحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے ایک ہے۔ شمعون نے انکار کر دیا۔ اور کہا میں اُن کا ساتھی نہیں ہوں اس گروہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ کچھ ہی آگے گیا تھا کہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے دوسرے گروہ نے پکڑ لیا۔ وہاں بھی اس نے آپ علیہ السلام کا انکار کر کے جان بچائی۔ کچھ ہی آگے بڑھا تو تیسرے گروہ نے پکڑ لیا۔ ان لوگوں کے سامنے بھی شمعون نے آپ علیہ السلام کا انکار کر کے جان بچائی۔ آگے بڑھا تو مرغ کی اذان دینے کی آواز آئی۔ یہ سن کر وہ رونے لگے۔ صبح ہونے سے پہلے ہی یہوداہ نام کا حواری بنی اسرائیل کی پکڑ میں آگیا ۔ انھوں نے کہا؛یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھی ہے۔ اسے ضرور اُن کا پتہ معلوم ہوگا۔ اور اسے دھمکی دی کہ اگر تو پتہ نہیں بتائے گا تو تجھے جان سے مار دیں گے۔ اس نے کہا اگر میں پتہ بتاﺅں تو مجھے کیا ملے گا۔ یہودیوں نے کہا ہم تمہیں تیس درہم دیں گے۔تو اس نے تیس درہم لئے اور آپ علیہ السلام کا پتہ بتا دیا۔ بنی اسرائیل نے اپنے تمام ساتھیوں کو خبر کی اور تمام بنی اسرائیل ( یہودیوں ) نے اس مکان کو گھیر لیا۔ جس میں آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے۔

رومی دربار میں آپ علیہ السلام کی پیشی 

بنی اسرائیل نے رومی پولس کے ساتھ اس مکان کا محاصر ہ کر لیا جس میں آپ علیہ السلام عبادت میں مصروف تھے۔ دروازہ توڑ کر وہ لوگ اندر داخل ہوئے ۔اور آپ علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے چلے۔ اور رومی حکمراں پیلاطس ( پوئنیش پائلٹ ) کے دربار میں پیش کیا۔ اور بنی اسرائیل کے علماءنے آپ علیہ السلام پر الزام لگانا شروع کیا۔ کہ یہ تمام بنی اسرائیل کو رومی حکومت کے خلاف بھڑکاتا ہے۔ اور قیصر کو خراج دینے سے منع کرتا ہے۔ اور اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتا ہے۔ وہ بد بخت لوگ آپ علیہ السلام پر الزام لگا رہے ہو۔اور آپ علیہ السلام خاموش کھڑے تھے۔ پیلاطس نے کہا ۔ تم لوگ اس معصوم شخص پر الزام لگا رہے ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی گواہ اس کے خلاف ہے؟ کچھ دیر کے لئے تمام بنی اسرائیل پر سکتہ چھا گیا۔ پھر علماءنے کہا ۔ ہم کل تک ضرور گواہ پیش کر دیں گے۔ تب تک آپ اسے قید خانے میں رکھیں۔ پیلاطس نے کہا میں تو اس شخص کو بے قصور پاتا ہوں ۔لیکن بنی اسرائیل بار بار اصرار کرتے ہیں اور آخر کار پیلاطس نے آپ علیہ السلام کو قید خانے میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔ 

بنی اسرائیل کا اصرار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سزائے موت 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام قید خانے میں تھے۔ اسی دوران رومیوں کا تہوار آگیا۔ اور جشن منایا گیا ۔اس جشن مین تمام بنی اسرائےل بھی شرےک تھے۔ اس جشن میں رومی حکمراں پیلاطس نے اعلان کیا۔ اے بنی اسرائےل تمھاری قوم کے دو شخص ہماری قید میں ہیں ایک تو ”بر ابّا “ڈاکو ہے ۔جس نے سو( 100)سے ذیادہ لوگوں کا قتل کیا ہے۔ اور دوسرے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام )ہیں ۔آج خوشی کا دن ہے ۔اسلئے میں تمھاری خاطر ان دو لوگوں میں سے ایک کو آزاد کروں گا۔ تم کہو میں کسے آزاد کروں؟ تمام بنی اسرائےل نے ایک ساتھ پکار کر کہا۔بر ابّا کو چھوڑدو۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی پر لٹکا دو۔ بلکہ اسے تڑپا تڑپا کر مارو اور صلیب پر چڑھا دو۔ سب مل کر چلاتے رہے اوراصرار کر تے رہے ۔آخر کار پیلاطس نے علیہ السلام کو صلیب پرچڑھانے کا حکم دے دیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اٹھالیا 

پیلاطس کے حکم کے مطابق جب پیلاطس کے سپاہی آپ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے کے لئے لینے آئے ۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اٹھالیا۔ اور آپ علیہ السلام کی شکل کا دوسرے آدمی کو بنادیا۔ اور اسی ہم شکل کو بنی اسرائےل اور رومیوںنے صلیب پر چڑھا دیا۔ اس ہم شکل کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام کے جس حواری نے آپ علیہ السلام کو بیچا تھا۔ اسی کو آپ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا گیا۔ کچھ روایات میں ہے کہ ایک حواری نے خود اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ اور کچھ روایات میں ایسا ہے کہ بنی اسرائےل کے علماءکا بڑا آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے کے لئے آیا ۔تو اسے ہی آپ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا گیا۔ اور رومی سپاہی اسے ہی پکڑ کر لے گئے۔ وہ چیختا چلاتا رہا کہ میں فلاں ہوں۔ مگر کسی نے اسکی بات نہیں مانی اور صلیب پر چڑھا دیا۔ یہ کچھ روایات ہیں ۔اب حقیقت کیا ہے ؟اسکا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ بہر حال ایک بات تو قرآن پاک سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ اللہ تعالیٰ نے اٹھالیا۔ اور آپ علیہ السلام اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اور بد بخت یہود (بنی اسرائےل) آپ علیہ السلا م کو قتل نہیں کرسکے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا واقعہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں(بنی اسرائیل ) نے اپنی سمجھ کے مطابق بہت ہی درد ناک موت دینے کی کوشش کی،لیکن اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بچا لیا۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کے واقعہ میں مفسرین کا قدرے اختلاف ہے۔ہم اِن میں سے قوی روایت تفسیر خازن و روح المعانی و روح البیان وغیرہ سے نقل کرتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں تبلیغ فرمائی تو انہوں نے آپ علیہ السلام کے مقابلہ سے عاجز ہو کر آپ علیہ السلام کی شان میں بکواس کرنا،آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ پر تہمت لگانا اور آپ علیہ السلام کو ایذادینا شروع کردی۔ایک دن آپ علیہ السلام شہر میں گشت لگا رہے تھے کہ شہر کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کو بہت پریشان کیا ۔تب آپ علیہ السلام نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کی کہ مولیٰ اب صبر کا پیالہ بھر چکا ہے ۔اب سب کو سور بنا دے ۔آپ علیہ السلام کے منہ سے یہ نکلنا تھا کہ وہ سب سور ہو گئے۔لوگوں پر اِس واقعہ سے ہیبت طاری ہو گئی ۔کسی نے بادشاہ وقت یہود کو خبر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے ”مقبول الدعا“ہیں کہ انہوں نے اتنی جماعت کو سور بنا دیا۔تُو بھی اُن کا مخالف ہے ،اپنی خیر منا۔کبھی اُن کی بد دعا سے تیرا بھی یہی حال ہونا ہے ۔اُس نے کہا کیا کیا جائے ۔ایسے مقبول ِ بارگاہ کے مقابلہ میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی ۔وہ بولا کہ انہیں کسی حیلہ سے شہید کردیا جائے تاکہ اُن کی بد دعا کا اندیشہ جاتا رہے۔چنانچہ ایک شخص طفیانوس کو اِس کام کے لئے منتخب کیا گیا۔طفیانوس ایک منافق آدمی تھا جو بظاہر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت کا دم بھرتا تھا اور در پردہ یہود سے ملا ہوا تھا۔جب یہ واقعہ ہونے والا تھا ،تب ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرما دیا تھا کہ آج صبح سے پہلے ایک شخص مجھے چند درہم کے عوض فروخت کر دے گا۔ہمیشہ ہی سے پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی رہتے ہیں۔اور ”مخلصین“کے ساتھ ”منا فقین“بھی رہتے ہیں۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ایسے ہی مار آستین دوست نما دشمن تھے۔وہ حضرات اِن منافقین کو پہچانتے تھے ۔مگر چشم پوشی سے کام لیتے تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فرمان سے معلوم ہو رہا ہے۔چنانچہ طفیانوس کو یہود کی طرف سے تیس درہم یعنی ساڑھے سات روپے دینے کا وعدہ کیا گیا۔اِس شرط پر کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اچانک شہید کر دے یا کرادے ۔چنانچہ طفیا نوس جماعت یہود کو اپنے ساتھ لیکر اندھیری رات میں آپ علیہ السلام کی قیام گاہ پر گیا ۔اُن سب کو اُس گھر کے آس پاس کھڑا کر کے خود اندر داخل ہوا ۔کیا دیکھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اچانک کھڑکی کے ذریعہ اس حجرہ سے نکل کر آسمان پرتشریف لے گئے۔یہ حیران رہ گیا ۔باہر کے یہودی سمجھے کہ شاید طفیانوس حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جنگ کر رہا ہے۔اِس لئے واپسی میں دیر ہوئی ۔رب تعالیٰ نے طفیانوس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا ۔اب باہر آیا ۔اُس کے نکلتے ہی اُن یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شبہ میں پکڑ لیا ۔یہ لاکھ چیخا چلایا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں ۔حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے گیا تھا ۔مگر کسی نے ایک نہ سنی ۔بولے کہ اے عیسیٰ !تُو نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ۔اب ہمیں دھوکہ دینا چاہتا ہے۔یہ کہہ کر اسے سولی پر چڑھا دیا ۔آج بھی عیسائی اِس وہم میں مبتلا ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پرسولی دے دی گئی اور پھر انہیں دوبارہ زندہ کر کے آسمان پر پہنچا دیا گیا۔اِس لئے سارے عیسائی صلیب کو پوجتے ہیںاور اس سولی کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ طفیانوس کو سولی دی گئی نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

09 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


09 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 09

حضرت عیسیٰ علیہ السلام محفوظ اُٹھا لئے گئے

اﷲ تعالیٰ نے سورہ النساءمیں فرمایا؛ترجمہ”اور اُن کے کفر کے باعث اور مریم(رضی اﷲ عنہا) پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعث۔اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اﷲ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام)کو قتل کر دیا۔حالانکہ نہ تو انہوں نے اُسے قتل کیا ،نہ سولی پر چڑھایا۔بلکہ اُن کے لئے وہی صورت بنا دی گئی تھی۔یقین جانو کہ عیسیٰ(علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے اُن کے بارے میں شک میں ہیں۔انہیں اِس کا کوئی یقین نہیں،سوائے تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔اتنا یقینی ہے کہ وہ انہیں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو)قتل نہیں کر سکے۔بلکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اُٹھا لیااور اﷲ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہیں بچے گا ،جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے اُن پر ایمان نہ لا چکے۔اور قیامت کے دن آپ (علیہ السلام) اُن پر گواہ ہوں گے۔“(سورہ النساءآیت نمبر 156سے159)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ بنی اسرائیل (یہود)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شہید نہیں کر سکے ہیں ،بلکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں محفوظ اُٹھا لیا ہے۔اُن کے دھوکے میں یہودیوں نے کسی اور کو صلیب پرچڑھا دیا ہے۔

بنی اسرائیل(یہود) انبیاءعلیہم السلام کے قاتل

اﷲ تعالیٰ نے سورہ النساءکی آیت نمبر 157میں بتایا کہ بنی اسرائیل یعنی یہود کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باﷲ ) قتل کردیا ہے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔یعنی جرا¿ت مجرمانہ اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ”رسول“کو ”رسول“جانتے تھے اور پھر اُن کے قتل کا اقدام کیا اور فخریہ کہا کہ ہم نے اﷲ کے رسول علیہ السلام کو قتل کیا ہے۔اُوپر ہم نے گہوارے کے واقعہ کا جو حوالہ دیا ہے ،اُس پر غور کرنے سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یہودیوں کے لئے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی ۔پھر جو روشن نشانیاں انہوں نے آپ علیہ السلام سے مشاہدہ کیں(جن کا ذکر سورہ آل عمران رکوع نمبر 5 میں گزر چکا ہے )ان کے بعد تو یہ معاملہ بالکل ہی غیر مشتبہ ہو چکا تھا کہ آپ علیہ السلام اﷲ کے رسول ہیں۔اِس لئے واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ آپ علیہ السلام کے ساتھ کیاوہ غلط فہمی کی بنا پر نہیں تھا۔بلکہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہم اِس جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں اُس شخص کے ساتھ کر رہے ہیں جو اﷲ کی طرف سے رسول بن کر آئے ہیں۔بظاہر یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی قوم کسی شخص کو نبی جانتے اور مانتے ہوئے اُسے قتل کر دے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کے اندازو اطوار ہوتے ہی کچھ عجیب ہیں۔وہ اپنے درمیان کسی ایسے شخص کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں جو اُن کی برائیوں پر انہیں ٹوکے اور ناجائز کاموں سے اُن کو روکے۔ایسے لوگ چاہے نبی ہی کیوں نہ ہوں،ہمیشہ بد کردار قوموں میں قید اور قتل کی سزا پاتے رہیں گے۔تلمود میں لکھا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المقدس فتح کیا تو وہ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوا اور اُس کی سیر کرنے لگا۔عین قربان گاہ کے سامنے ایک جگہ دیوار پر اُسے ایک تیر کا نشان نظر آیا۔اُس نے یہودیوں سے پوچھا کہ یہ نشان کیسا ہے؟انہوں نے جواب دیا کہ ”یہاں زکریا علیہ السلام نبی کو ہم نے قتل کیا تھا ،وہ ہماری برائیوں پر ہمیں ملامت کرتا تھا۔آخر جب ہم اُس کی ملامتوں سے تنگ آگئے تو ہم نے اُسے مار ڈالا۔“بائیبل میں یرمیاہ(ارمیاہ) نبی کے متعلق لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی بد اخلاقیاں حد سے گذر گئیں اور حضرت یرمیاہ(ارمیاہ ) علیہ السلام نے اُن کا متنبہ کیا کہ اِن اعمال کی پاداش میں اﷲ تعالیٰ تم کو دوسری قوموں سے پامال کرا دے گا تو اُن پر الزام لگایا گیا کہ یہ شخص کسدیوں(کلدانیوں) سے ملا ہوا ہے اور قوم کا غدار ہے۔اِس الزام میں اُن کو جیل بھیج دیا گیا۔خود حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے ”واقعہ¿ صلیب“سے دو ڈھائی سال پہلے ہی حضرت یحییٰ علیہ السلام کا معاملہ پیش آچکا تھا ۔یہودی بالعموم اُن کو نبی مانتے تھے اور کم از کم یہ تو مانتے ہی تھے کہ وہ اُن کی قوم کے صالح ترین لوگوں میں سے ہیں۔مگر جب انہوں نے(حضرت یحییٰ علیہ السلام نے) ہیرودیس (سلطنت ِ یہودیہ کا بادشاہ) کے دربار کی برائیوں پر تنقید کی تو اسے برداشت نہیں کیا گیا ۔پہلے جیل بھیج دیئے گئے اور پھر بادشاہ کی معشوقہ کے مطالبے پر اُن کا سر قلم کردیا گیا۔یہودیوں کے اِس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے زعم میں حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو سُولی پر چڑھانے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا ہو”ہم نے اﷲ کے رسول کو قتل کیا ہے۔“

بنی اسرائیل دو مرتبہ فساد کریں گے

اﷲ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا؛ترجمہ”ہم نے بنی اسرائیل کے لئے اُن کی کتاب میں صاف فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو بار فساد کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے۔اِن دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے بندے بھیج دیئے،جو بڑے لڑاکے تھے۔پس وہ تمہارے گھروں کے اندر تک پھیل گئے اور اﷲ کا یہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔پھر ہم نے اُن پر تمہارا غلبہ دے کر تمہارے دن پھیرے اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں بڑے جتھے والا بنایا۔اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائدے کے لئے اور اگر تم نے برائیاں کیں تو اپنے ہی لئے۔پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ)وہ تمہارے چہرے بگاڑیں اور پہلی دفعہ کی طرح مسجد میں گھس جائیںاور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اُکھاڑ دیں۔(سورہ بنی اسرائیل یا سورہ اسراءآیت نمبر 4سے7تک)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا کہ بنی اسرائیل زمین پر دو بہت بڑے فساد کریں گے اور انہوں نے کیا بھی۔اِس دنیا میں سب سے بڑا فساد ایمان لانے کے بعدشرک کرنا ہے۔وہ بنی اسرائیل نے کیا،اور اُس سے بھی بڑا فساد انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل ہے ،اور وہ بھی بنی اسرائیل نے کیا۔جس کی وجہ سے اُن پر اﷲ کا غضب نازل ہوا اور وہ بری طرح رسوا ہوئے۔پہلا غضب حضرت شعیا علیہ السلام کے ناحق قتل کے بعد نازل ہوا اور دوسرا غضب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد نازل ہوا۔انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل اتنا بڑا”جرم عظیم “ہے اور وہ بھی پانچ سب سے بڑے رسولوں میں سے ایک رسول کا۔اور اِس کی سزا میں بنی اسرائیل کااتنی بری طرح قتل عام ہوا اور یہ حال ہوا کہ اُنہیںاپنی جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں بھاگنا پڑا ،اور وہ اپنی جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں بکھر گئے۔لگ بھگ دوہزار سال تک وہ پوری دنیا میں بھٹکتے رہے ،اور عیسائی اُن پر شدیدظلم کرتے رہے۔بعد میں بنی اسرائیل نے عیسائیوں میں فرقے پیدا کر کے ایک فرقے سے دوستی کر لی ،اور اُسی کے بل پر فلسطین میں اسرائیل ملک بنایا۔

بنی اسرائیل کے دوفساد اور سزا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل نے اپنی سمجھ کے مطابق صلیب پر چڑھا دیا تھا اور یہ اتنا بڑا فساد تھا کہ اِس کی بہت بڑی سزا انہیں ملی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔آج موجودہ بائیبل کی کتاب ارمیاہ ،یسعیاہ،زبور،احبار اور حزقی ایل کی سطروں میں تمام باتیں لکھی ہوئی ہیں۔جن کا ذکر قرآن پاک کی اِن آیات میں کیا گیا ہے ۔یہ غیبی اور مکتوبی خبر مکہ¿ مکرمہ کی سرزمین میں ایک اُمی لقبی صلی اﷲ علیہ وسلم شخص کی زبانی سننا اِس بات کا عظیم ثبوت ہے کہ یہ قرآن پاک ”کلام الہٰی “ہے۔اِسی لئے جب یہ آیات نال ہوئیں اور یہود و نصاریٰ نے سنیں تو بہت سے اسرائیلی مسلمان ہو گئے۔توریت میں لکھا ہے کہ اے بنی اسرائیل !تم آنے والے زمانوں میں دو مرتبہ بہت سخت فساد زمین ِ علاقہ میں مچاو¿ گے اور ہر طرح بہت سے انبیاءاور اولیاء کے سمجھانے کے باوجود بہت بڑا غرور ،تکبر، گھمنڈ ،سرکشی اور نافرمانی کرو گے۔اور اِس کی سزا میں اﷲ کی طرف سے تم پر زمینی عذاب و سزا اور ذلت آئے گی۔

بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو انکار

بنی اسرائیل (یہود)اتنی بد بخت قوم ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو پانچ بڑے رسولوں میں ہیں۔انہیں بھی صاف انکار کردیا اور اپن کی نافرمانی کی۔مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہواتھا کہ جب برادران یوسف علیہ السلام نے اپنے آبائی وطن فلسطین کو ہمیشہ کے لئے مکمل طور پر چھوڑ کر ملک مصر میں سلطنت و حکومت کے ذریعے رہائش اختیار کی۔اور نیکیوں اور عبادتوں کی وجہ سے اُن کو ہزاروں سال تک بہت عزت و نعمت کی حیات طیبہ عطا ہوئی ۔پھر اُن میں گمراہی ،گناہ ،فسق و فجور ،بے غیرتی ،ظلم ،فرقے بازی اور بد کاری کی بیماریاں عام ہوئیں تو اُن پر فرعون کومسلط کیا گیا۔جس نے تقریباً تین سو سال تک بنی اسرائیل کو سخت ذلیل کئے رکھا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکالاتو اﷲ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ جاو¿ اپنے رب کے حکم سے اپنے آبائی علاقے فلسطین کو بذریعہ جہاد قوم جالوت سے پاک کرو اور فتح کر کے اُس میں سے کفرو شرک کو نکال کر شمع ِ توحید اور ہدایت ِ نبوت سے بقیعہ ¿ نور بنا دو۔قوم جالوت بہت دراز قد اور شہ زور تھی ،اُس کے پانچ گروہ تھے(1) قوم حِطی (2) فریذی (3) فُلُسطی (4) کنعانی (5) حموری یبوسی ۔سرداران بنی اسرائیل نے کچھ جاسوس اُن کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجے ۔جنہوں نے واپس آکر اُن کی شہزوری کا تذکرہ کیا تو بنی اسرائیل بزدل ہو گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم ِ جہادکو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اے موسیٰ !تم اور تمہارا رب اُن سے جا کر لڑو ،ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔

بنی اسرائیل کفر و شرک میں مبتلا

بنی اسرائیل نے اﷲتعالیٰ اور اُس کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم کو ٹھکرا دیا تو اﷲ تعالیٰ نےانہیں چالیس سال تک صحراءمیں بھٹکنے کی سزا دی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔تب اُن کو مقام تیہ میں چالیس سال تک قید کیا گیا۔ پھر جب چالیس سال بعد من و سلویٰ سے اُکتا کر انہوں نے سبزیاں اور دالیں مانگیں تو ان کو مصر اور فلطین جانے کی اجازت ملی۔لیکن امیری اور دولت ،کھیتی ،باغات کی فروانی کی بنا پر قوم بنی اسرائیل پھر سرکش،بے غیرت ،ظالم اور نافرمان ہو گئی اور بجائے دوسرے کافروں کو درست کرنے اور مومن بنانے کے خود بھی کافروں کی طرح مشرک بننے لگے۔اور مشرک قوم کے مخصوص اور بڑے دیوتا اُبل بُت اور بعل کی پرستش کرنے اور اُن پر قربانیاں چڑھانے لگے۔بعل ایک پانچ سروں والا بت تھا۔جس کی پوجا وہاں کا بادشاہ بُک کیا کرتا تھا ۔اِسی لئے اس شہر کانام بعلبک ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل کیا

بنی اسرائیل اپنی بد بختی میں اتنے آگے بڑھ گئے تھے کہ وہ اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کرنے لگے ۔جبکہ وہ انبیائے کرام علیہم السلام اُن کی دنیا اور آخرت کی بھلائی اور کامیابی چاہتے تھے۔مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔اور جب اِن بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے انبیائے کرام علیہم السلام تشریف لائے تو ان پیاروں کو محبت کرنے والے انبیائے کرام علیہم السلام کی انہوں نے سخت مخالفت کی ۔اسی مخالفت کا یہاں ذکر ہو رہا ہے۔اور دو خصوصی واقعات کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔پہلا واقعہ اور بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی کا ظہور اُس وقت عروج پر پہنچا ۔جب اِن لوگوں نے زمین پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جو نبی مبعوث ہوئے حضرت شعیا بن امصیاہ علیہ السلام کو شہید کیا۔یہ نبی توریت کی تبلیغ فرماتے تھے اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارتیں سناتے تھے۔اور کفارِ بنی اسرائیل کو کفر و گناہ سے باز رہنے کی ہر وقت تلقین فرماتے رہتے تھے۔بنی اسرائیل نے اُن پر قاتلانہ حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا۔

اﷲ تعالیٰ نے سزا دی

اﷲ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کے ناحق قتل کی بنی اسرائیل کوسزا دی اور انہیں دنیا میں ذلیل کر کے رکھ دیا۔ اور آخرت کی ذلت ابھی باقی ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔اِس قتل اور کفر و شرک گناہ کے بدلے میں ان کو قتل عام کی سزا ملی اور یکے بعد دیگرے رومی بادشاہ ”اوگس اینٹی“ اُسی کو جالوت کہا گیا ہے اور پومپی بادشاہ اور شاہ روم ٹیٹس نے ایسے سخت حملے کئے کہ بنی اسرئیل کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔یہ تینوں بادشاہ قوم عمالقہ کے تھے۔انوں نے بنی اسرائیل کی حکومت تباہ کی ،ملک اور ملکیت ویران کی ،لاکھوں اسرائیلوں کو قتل کیا اور ہزاروں ذلت کی غلامی میں چلے گئے۔صدیوں بعد رحمت الہٰی نے دستگیری فرمائی اور حضرت طالوت ،حضرت داو¿د علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی حکومتیں قائم فرمائیںاور اُن کو چین نصیب ہوا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد پھر بنی اسرائیل شرک ،کفر اور ظلم و گناہ میں مبتلا ہو گئے ۔اور دوسری دفعہ فساد مچایا کہ حضرت زکریا علیہ السلام،حضرت ارمیاہ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کیا۔ایک روایت ہے کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کو قتل کیا اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو صرف قید کیااور وہ قید میں ہی فوت ہو گئے۔زخمی بھی کیا گیا(معاذ اﷲ)اِس قتل کے عذاب میں بخت نصر (بنو کونذر) بابل شہر کا بادشاہ حملہ آور ہوا اور بے انتہا تباہی مچائی ۔یہاں تک کہ ہیکل سلیمانی کو بھی بالکل بنیادوں سے اُکھیڑ دیا ۔

بنی اسرائیل کو انبیائے کرام علیہم السلام کی تنبیہ

اﷲ تعالیٰ گمراہی میں مبتلا بنی اسرائیل کو سمجھانے کے لئے بار بار انبیائے کرام علیہم السلام کو بھیجتے رہے اور وہ انہیں سمجھاتے اور تنبیہ کرتے رہے۔علامہ غلام رسول سعیدی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 4سے 7تک کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔اِن آیتوں میں اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے متعلق دو پیش گوئیاں کی ہیں۔پہلی پیش گوئی یہ کہ وہ ضرور زمین پر فساد کریں گے اور سرکشی کریں گے۔پھر اﷲ تعالیٰ اُن کے اِس فساد اور سرکشی کی سزا میں اُن پر ایسے دشمن مسلط کر دے گا ،جو اُن کو ڈھونڈ کر قتل کردیں گے ۔پھر اﷲ تعالیٰ اُن کی مدد فرمائے گااور اُن کو غلبہ عطا فرمائے گا۔ پھر جب انہوں نے دوبارہ فساد اور سرکشی کی تو اﷲ تعالیٰ نے اُن کو دوبارہ سزا دی اور اُن کے دشمنوں کو اُن پر مسلط کردیا ۔اِس کی تصدیق بائیبل میں بھی ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

10 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


10 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 10

حضرت داؤد علیہ السلام کی زبانی لعنت

اﷲ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا؛ترجمہ ”بنی اسرائیل کے کافروں پر داو¿د(علیہ السلام )اور عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام)کی زبانی لعنت کی گئی ۔اِس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔آپس میں ایکدوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہیں تھے۔جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقینا برا تھا۔“(سورہ المائدہ آیت نمبر 78اور(79علامہ غلام رسول سعیدی آگے لکھتے ہیں۔حضرت داو¿د علیہ السلام نے اُن کو تنبیہ کی؛”انہوں نے اُن قوموں کو ہلاک نہ کیا ،جیسا کہ اﷲ نے اُن کو حکم دیا تھا۔بلکہ اُن قوموں کے ساتھ مل گئے اور اُن کے کام (کفر و شرک)سیکھ گئے۔اور اُن کے بتوں کی پرستش کرنے لگے،جو اُن کے لئے پھندہ بن گئے۔بلکہ انہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو شیاطین کے لئے قربان کیا۔اور معصوموں کا یعنی اپنے بیٹے بیٹیوں کا خون بہایا۔جن کو انہوں نے ملک کنعان کے بتوں کے لئے قربان کردیا اور ملک ناپاک ہو گیا۔یوں وہ اپنے ہی کاموں سے آلودہ ہو گئے اور اپنے فعلوں سے بے وفا بنے۔اِس لئے اﷲ کا قہر اُن لوگوں پر بھڑکا اور اُسے اپنی میراث سے نفرت ہو گئی اور اُس نے اُن کو قوموں کے قبضے میں دے دیا ۔اور اُن سے عداوت رکھنے والے اُن پر حکمراں ہو گئے۔اُن کے دشمنوں نے اُن پر ظلم کیا اور وہ اُن کے محکوم ہو گئے۔اُس نے تو بار بار اُن کو چھڑا یا۔لیکن اُن کا رویہ باغیانہ ہی رہا اور وہ اپنی بد کاری کے باعث پست ہو گئے۔(زبور باب 106آیت 34سے44تک)

حضرت شعیا علیہ السلام کی تنبیہ

اﷲ تعالیٰ بار بار نافرمان اور گمراہ بنی اسرائیل پر رحم کرتے رہے اور انہیں سمجھانے اور راہ راست پر لانے کے لئے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو بھیجتے رہے۔اور وہ بار بار بنی اسرائیل کو تنبیہ کرتے رہے اور اﷲ کی سزا سے ڈراتے رہے۔علامہ غلام رسول سعیدی آگے لکھتے ہیں۔حضرت شعیا علیہ السلام نے فرمایا؛”لوگوں میں سے ہر ایک دوسرے پراور ہر ایک اپنے ہمسایہ پر ظلم و ستم کرے گااور بچے بوڑھوں کی اور رذیل شریفوں کی گستاخی کریں گے۔جب کوئی آدمی اپنے باپ کے گھر میں اپنے بھائی کا دامن پکڑ کر کہے گا کہ تُو پوشاک والا ہے۔آتُو ہمارا حاکم ہو ،اِس اجڑے دیس پر قابض ہو جا۔اُس روز وہ بلند آواز سے کہے گا کہ مجھ سے انتظام نہیں ہوگا۔کیونکہ میرے گھر میں روٹی ہے نہ کپڑا ،مجھے لوگوں کا حاکم نہ بناؤ۔ کیونکہ یروشلم کی بربادی ہوگئی اور یہوداہ (بنی اسرائیل)گِرگیا۔اِس لئے اُن کے بول چال اور چال چلن اﷲ کے خلاف ہیں کہ اُس کی جلالی آنکھوں کو غضب ناک کریں۔اُن کے منہ کی صورت اُن پر گواہی دیتی ہے۔وہ اپنے گناہوں کو سدوم (حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سدوم میں اعلان نبوت کیا تھا۔وہ قوم اتنی بے حیا تھی کہ کھلے عام بے حیائی کے کام کرتی تھی) کی مانند ظاہر کرتے ہیں اور چھپاتے نہیں ہیں۔اُن کی جانوں پر واویلا ہے!کیونکہ وہ آپ اپنے اوپر بلا لاتے ہیں۔راست بازوں کی بابت کہو کہ بھلا ہوگا ،کیونکہ وہ اپنے کاموں کے پھل کھائیں گے۔شریروں پر واویلا ہے!کہ ان کو بدی پیش آئے گی ،کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں کا کیا پائیں گے۔“ (شعیا ،باب 3 آیت 6سے 12تک)

یرمیاہ (ارمیاہ) نبی کی تنبیہ

اﷲ تعالیٰ کے بار بار سمجھانے کے باوجود بنی اسرائیل اتنے زیادہ گمراہی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ انبیائے کرام کی سچی باتیں انہیں بری لگنے لگی تھیںاور وہ اُن کی جان کے دشمن بن گئے تھے۔انہوں نے حضرت شعیا (یسعیاہ) علیہ السلام کو قتل کر دیا تب بھی اﷲ نے اُن پر رحم فرمایا اور حضرت یر میاہ(ارمیاہ) علیہ السلام کو سمجھانے کے لئے بھیجا۔علامہ غلام رسول سعیدی آگے لکھتے ہیں۔یرمیاہ(ارمیاہ) نبی نے فرمایا؛”میں بزرگوں کے پاس جاو¿ں گااور اُن سے کلام کروں گا۔کیونکہ وہ اﷲ کی راہ اور اپنے اﷲ کے احکام کو جانتے ہیں۔لیکن اُنہوں نے عہد بالکل توڑ دالا اور بندھنوں کے ٹکڑے کر ڈالے۔اِس لئے جنگل کا شیر ببر اُن کو پھاڑے گا ،یا بیابان کا بھیڑیا اُن کو ہلاک کرے گا۔چیتا اُن کے شہروں کی گھات میں بیٹھا رہے گا ،جو کوئی اُن میں سے نکلے گا پھاڑا جائے گا۔کیونکہ اُن کی سر کشی بہت ہوئی اور اُن کی بر گشتگی بڑھ گئی۔میں تجھے کیوں معاف کردوں؟تیرے فرزندوں نے مجھ کو چھوڑا اور اُن کی قسم کھائی جو خدا نہیں ہیں۔جب میں نے اُن کو سیر کیا تو انہوں نے بد کاری کی اور پرے باندھ کر قحبہ خانوں میں اکٹھے ہوئے۔وہ پیٹ بھرے گھوڑوں کی مانند ہو گئے اور ہر ایک صبح کے وقت اپنے پڑوسی کی بیوی پر ہنہنانے لگا۔اﷲتعالیٰ فرماتا ہے !کیا میں اِن باتوں کے لئے سزا نہیں دوں گا؟اور کیا میری روح ایسی قوم سے انتقام نہیں لے گی؟“(یرمیاہ،ارمیاہ باب نمبر 5،آیت نمبر 5سے9تک)اِس کے آگے حضرت یرمیاہ (ارمیاہ) علیہ السلام فرماتے ہیں۔”اﷲ فرماتا ہے؛اے اسرائیل کے گھرانے دیکھ !میں ایک قوم کو دور سے تجھ پر چڑھا لاو¿ں گااور اﷲ فرماتا ہے کہ وہ زبردست قوم ہے ،وہ ایسی قوم ہے ،جس کی زبان تُو نہیں جانتا ہے اور اُن کی بات کو نہیں سمجھتا ۔اُن کے ترکش کھلی قبریں ہیں۔وہ سب بہادر مرد ہیں۔اور وہ تیری روٹی جو تیرے بیٹوں اور بیٹیوں کے کھانے کی تھی کھا جائیں گے۔تیرے گائے بیل اور تیری بکریوں کو چٹ کر جائیں گے۔تیرے انگور اور انجیر نگل جائیں گے۔تیرے حسین شہروں کو جن پر تیرا بھروسہ ہے ،تلوار سے ویران کر دیں گے۔(یرمیاہ(ارمیاہ) باب 5آیت نمبر 15 سے 17تک)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی لعنت

اﷲ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا؛ترجمہ ”بنی اسرائیل کے کافروں پر داو¿د(علیہ السلام )اور عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام)کی زبانی لعنت کی گئی ۔اِس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔آپس میں ایکدوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہیں تھے۔جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقینا برا تھا۔“(سورہ المائدہ آیت نمبر 78اور(79اوپر علامہ غلام رسول سعیدی نے جو تنبیہات پیش کی ہیں ،وہ پیش کرنے کے بعد مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔یہ تھیں وہ تنبیہات جو بنی اسرائیل کو پہلے ”فساد ِ عظیم “کے موقع پر کی گئیں تھیں۔پھر دوسرے ”فساد ِ عظیم “اور اِس کے ہولناک نتائج پر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام نے خبردار کیا۔آپ علیہ السلام اپنی قوم کے شدید اخلاقی زوال پر تنقید کرنے کے بعد فرماتے ہیں؛”اے یروشلم!اے یروشلم!تُو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ،اُن کو سنگسار کرتا ہے۔کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے،اِسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کر لوں،مگر تُو نے نہ چاہا۔دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔“(متیٰ باب23 آیت 37,38)اِس کے بعد آگے حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں؛”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کسی پتھر پر پتھر باقی نہیں رہے گا ،جو گرایا نہ جائے۔“(باب 24آیت 2)پھر جب رومی حکومت کے اہلکار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے جارہے تھے ،اور لوگوں کی بھیڑ میں عورتیں بھی تھیں،جو روتی پیٹتی اُن کے پیچھے جا رہی تھیں تو انہوں نے آخری خطاب کرتے ہوئے مجمع سے فرمایا؛”اے یروشلم کی بیٹیو!میرے لئے نہیں رو¿و،بلکہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے رو¿و۔کیونکہ دیکھو !وہ دن آتے ہیں جب کہیں گے کہ مبارک ہیں بانجھیں اور وہ پیٹ جو نہ جنے اور وہ چھاتیاں جنہوں نے دودھ نہ پلایا۔اُس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شروع کریں گے کہ ہم پر گِر پڑ و اور ٹیلوں سے کہ ہمیں چھپا لو۔“(لوقا۔باب 23آیت 28سے30تک)

بنی اسرائیل کی ساتھی قومیں اور اُن کی بد کاریاں

اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ملک کنعان میں آباد ہونے کا حکم دیا،اور حکم دیا تھاکہ وہاں کی کافر قوموں کو یا تو ملک بدر کر دینا یا پھر قتل کر دینا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 4سے 7کی تفہیم میں لکھتے ہیں۔پہلے فساد سے مُراد وہ ہولناک تباہی ہے جو آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔اِس کا تاریخی پس منظر سمجھنے کے لئے صرف وہ اقتباسات کافی نہیں ہیں جو اوپر ہم صحف انبیاءعلیہم السلام سے نقل کر چکے ہیں۔بلکہ ایک مختصر تاریخی بیان بھی ضروری ہے ۔تاکہ ایک طالب علم کے سامنے وہ تمام اسباب آجائیں،جن کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے ایک حامل کتاب قوم کو ”امامت اقوام“کے منصب سے گرا کر ایک شکست خوردہ ،غلام اور سخت پسماندہ قوم بنا کر رکھ دیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔حِتّی ،اَموری،کنعانی ،فِرزی،حوی،یبوسی،فلستی وغیرہ ۔اُن قوموں میں بد ترین قسم کا شرک پایا جاتا تھا۔اُن کے سب سے بڑے معبود کا نام ”ایل“تھا۔جسے یہ دیوتاو¿ں کا باپ کہتے تھے اور اسے عموماًسانڈ سے تشبیہ دی جاتی تھی۔اُس کی بیوی دیوی کا نام ”عشیرہ“تھا۔اور اُس سے دیوتاو¿ں اور دیویوں کی ایک پوری نسل چلی تھی ،جن کی تعداد ستر70تک پہنچتی تھی۔اُس کی اولاد میں سب سے زبردست ”بعل“تھا ۔جس کو بارش اور روئید گی کا خدا اور زمین و آسمان کا مالک سمجھا جاتا تھا۔شمالی علاقوں میں اُس کی بیوی دیوی”اُناث “کہلاتی تھی۔اور فلسطین میں دیوی ”عستارات“۔یہ دونوں خواتین عشق اور افزائش نسل کی دیویاں تھیں۔اِن کے علاوہ ”کوثی “دیوتا موت کا مالک تھا۔کسی دیوی کے قبضے میں صحت تھی ،کسی دیوتا کو وبا ءاور قحط لانے کے اختیارات تفویض کئے گئے تھے اور یوں ساری خدائی بہت سے معبودوں میں بٹ گئی تھی۔اِن دیوتاو¿ں اور دیویوں کی طرف ایسے ایسے ذلیل اوصاف و اعمال منسوب تھے کہ اخلاقی حیثیت سے انتہائی بد کردار انسان بھی اِن کے ساتھ مشہور ہونا پسند نہیں کرے گا۔اب یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسے بد کرداروں کو خدا بنائیں اور اُن کی پرستش کریں تو وہ اخلاق کی ذلیل ترین ہستیوں میں گرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے جو حالات آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے دریافت ہوئے ہیں،وہ اخلاقی گِراوٹ کی شہادت بہم پہنچاتے ہیں۔اُن کے یہاں بچوں کی قربانی کا رواج عام تھا۔اُن کی عبادت گاہیں (مندریں)زنا کاری کے اڈے بنے ہوئے تھے۔عورتوں کو دیو داسیاں بنا کر عبادت گاہوں (مندروں)میں رکھنا اور اُن سے بد کاریاں کرنا عبادت کے اجزاءمیں داخل تھااور اِسی طرح کی بہت سی بد اخلاقیاں اُن میں پھیلی ہوئیں تھیں۔

بنی اسرائیل نے اﷲ کا حکم نہیں مانا

اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل نے اپنے علاقوں سے شرک کا خاتمہ نہیں کیا،اور وہاں آباد مشرک قوموں کے ساتھ رہنے لگے۔ جس کی وجہ سے مشرک قوموں کے اثرات لا شعوری طور سے بنی اسرائیل میں بھی آگئے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔توریت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو جو ہدایات دی گئی تھیں ۔اُن میں صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ تم اُن قوموں کو ہلاک کر کے اُن کے قبضے سے فلسطین کی سرزمین چھین لینا اور اُن کے ساتھ رہنے بسنے اور اُن کی اخلاقی و اعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہونے سے پرہیز کرنا۔لیکن بنی اسرائیل جب فلسطین میں داخل ہوئے تو وہ اِس ہدایت کو بھول گئے۔انہوں نے اپنی کوئی متحدہ سلطنت قائم نہیں کی۔وہ قبائلی عصبیت میں مبتلا تھے ۔اُن کے ہر قبیلے نے اِس بات کو پسند کیا کہ مفتوح علاقے کا ایک حصہ لیکر الگ ہوجائے۔اِس تفرقے کی وجہ سے اُن کا کوئی بھی قبیلہ اتنا طاقتور نہیں ہوسکا کہ اپنے علاقے کو پوری طرح مشرکین سے پاک کر دیتا۔آخر کار انہیں یہ گوارا کرنا پڑا کہ مشرکین اُن کے ساتھ ہی رہیں بسیں۔نہ صرف یہ،بلکہ اُن کے مفتوحہ علاقوں میں جگہ جگہ اِن مشرک قوموں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی موجود رہیں،جن کو بنی اسرائیل مسخر نہ کر سکے تھے۔اِسی بات کی شکایت زبور کی اُس عبارت میں کی گئی ہے ،جو ہم نے اوپر ذکر کی ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

11 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


11 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 11

بنی اسرائیل پر ساتھی مشرک قوموں کے اثرات

اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے بنی اسرائیل مشرک قوموں کے ساتھ رہنے لگے،جس کی وجہ سے اُن میں ساتھی مشرک قوموں کے اثرات لاشعوری طور سے آنے لگے اور نئی نسل اُن مشرکانہ اعمال سے متاثر ہو کر کرنے لگی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس کا پہلا خمیازہ تو بنی اسرائیل کو یہ بھگتنا پڑا کہ ان قوموں کے ذریعے اُن کے اندر شرک گھس آیا۔اور اِس کے ساتھ ہی بتدریج دوسری اخلاقی گندگیاں بھی راہ پانے لگیں۔چنانچہ اِس کی شکایت بائیبل کی کتاب ”قُضاة“میں یوں کی گئی ہے۔”اور بنی اسرائیل نے خداوند(اﷲ) کے آگے بدی کی اور بعلیم کی پرستش کرنے لگے۔اور انہوں نے خداوند اپنے باپ دادا کے خدا (اﷲ) کو جو انہیں ملک مصر سے نکال لایا تھاچھوڑ دیا۔اور دوسرے معبودوں کی جو اُن کے اِرد گِرد قوموں کے دیوتاو¿ں میں سے تھے پیروی کرنے لگے اور اُن کو سجدہ کرنے لگے اور خداوند(اﷲ) کو غصہ دلایا۔وہ خداوند(اﷲ) کو چھوڑ کر بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے اور خداوند(اﷲ) کا قہر اسرائیل پر بھڑکا۔“(قُضاة باب 2 آیت 11سے13تک)

بنی اسرائیل کی متحدہ سلطنت

اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل مسلسل گمراہی میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس کے بعد دوسرا خمیازہ انہیں یہ بھگتنا پڑا کہ جن قوموں کی شہری ریاستیں انہوں نے چھوڑ دی تھیں ۔انہوں نے اور فلستیوں نے جن کا پورا علاقہ مغلوب رہ گیا تھا ،بنی اسرائیل کے خلف ایک متحدہ محاذ قائم کیا اور پے در پے حملے کر کے فلسطین کے بڑے حصے سے اُن کو بے دخل کر دیا۔حتیٰ کہ اُن سے ”تابوت سکینہ“ تک چھن لیا۔ آخر کار بنی اسرائیل کو ایک فرمانروا کے تحت اپنی ایک متحدہ سلطنت قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اُن کی درخواست پر حضرت شموئیل علیہ السلام نے 1020قبل مسیح میں طالوت کو اُن کا بادشاہ بنا دیا۔اِس متحدہ سلطنت کے تین فرمانروا ہوئے۔طالوت 1020سے1004قبل مسیح تک ،حضرت داو¿د علیہ السلام 1004 سے 965 قبل مسیح تک اور حضرت سلیمان علیہ السلام 965سے 926 قبل مسیح تک ۔اِن فرمانرواو¿ں نے اُس کام کو مکمل کیا ،جسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نا مکمل چھوڑ دیا۔صرف شمالی ساحل پر فنیقیوں کی اور جنوبی ساحل پر فلستیوں کی ریاستیں باقی رہ گئی تھیں،جنہیں مسخر نہیں کیا جا سکا اور محض باج گذار بنانے پر اکتفا کیا گیا۔

سلطنت دو حصوں میں تقسیم

حضرت طالوت کی حکمرانی میں بنی اسرائیل کی متحدہ سلطنت قائم ہوئی اور حضرت داو¿د علیہ السلام نے اسے اسلامی حکومت بنایا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے دورِ نبوت اور حکومت میںاتنی وسعت دی کہ لگ بھگ پورے فلسطین سے مشرکوں کا صفایا ہو گیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ بنی اسرائیل کا سب سے زیادہ عروج کا زمانہ تھا۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل پر دنیا پرستی کا پھر شدید غلبہ ہوا اور انہوں نے آپس میں لڑ کر دو الگ سلطنتیں قائم کر لیں۔شمالی فلسطین اور شرق اُردن میں ”سلطنت اسرائیل“،جس کا پایہ¿ تخت آخر کار ”سامریہ“قرار پایا۔اور جنوبی فلسطین اور اَدُوم کے علاقے میں ”سلطنت یہودیہ“، جس کا پایہ¿ تخت ”یروشلم“(بیت المقدس)رہا۔اِن دونوں سلطنتوں میں سخت رقابت اور کشمکش اول روز سے شروع ہو گئی اور آخر تک رہی۔اِن میں سے اسرائیلی ریاست کے فرمانروا اور باشندے ہمسایہ قوموں کے مشرکانہ عقائد اور اخلاقی فساد سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور یہ حالت اپنی انتہا کو اُس وقت پہنچ گئی جب اس ریاست کے فرمانروا ”اخی اب“نے صیدا کی مشرک شہزادی ایزبل سے شادی کرلی۔اُس وقت حکومت کی طاقت اور ذرائع سے شرک اور بد اخلاقیاں سیلاب کی طرح اسرائیلوں میں پھیلنی شروع ہوئیں۔حضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام نے اِس سیلاب کو روکنے کی انتہائی کوشش کی۔مگر یہ قوم جس تنزل کی طرف جارہی تھی ،اُس سے باز نہ آئی۔

بنی اسرائیل کے پہلے فساد پر”سلطنت اسرائیل یا سامریہ “پر اﷲ کا غضب

اﷲ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور برائیوں میں بنی اسرائیل اتنے زیادہ آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے شرک کرنا شروع کردیا تھااور انبیائے کرا م علیہم السلام کو شہید کرنا شروع کردیا تھا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔آخر کار اﷲ کا غضب ا شوریوں کی شکل میں سلطنت اسرائیل سامریہ کی طرف متوجہ ہوا اور نویں صدی قبل مسیح سے فلسطین پر ا شوری فاتحین کے مسلسل حملے شروع ہو گئے۔اس دور میں حضرت عاموس علیہ السلام اور حضرت ہوسیع علیہ السلام نے اُٹھ کر اسرائیلیوں کو پے در پے تنبیہات کیں۔مگر جس غفلت کے نشے میں وہ شرسار تھے اُس کی وجہ سے تنبیہ کی ترشی اور زیادہ ہو گئی ۔یہاں تک کہ حضرت عاموس علیہ السلام کو اسرائیل کے بادشاہ نے ملک بدر کردیا۔اِس کے بعد کچھ زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ اﷲ کا عذاب اسرائیلی سلطنت اور اُس کے باشندوں پر ٹوٹ پڑا ۔721 قبل مسیح میں اشور کے سخت گیر فرمانروا سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے سلطنت اسرائیل یا سامریہ کا خاتمہ کر دیا ۔ہزارہا اسرائیلی تہ تیغ کئے گئے،ستایئس 27ہزار سے زیادہ با اثر اسرائیلیوں کو ملک سے نکال کر اشوری سلطنت کے مشرقی اضلاع میں تیتّر بیتّر کردیا گیااور دوسرے علاقوں سے لا کر غیر قوموں کو اسرائیل کے علاقے میں بسایا گیا۔جن کے درمیان رہ کر بچا کچا اسرائیلی عنصر بھی اپنی قومی تہذیب سے روز بروز بیگانہ ہو تا چلا گیا۔

بنی اسرائیل کے پہلے فساد پر ”سلطنت یہودیہ “پر اﷲ کا غضب

اﷲ تعالیٰ نے سلطنت اسرائیل یا سامریہ پر اپنا غضب نازل فرمایا۔لیکن اُسے دیکھ کر بھی سلطنت یہودیہ کے لوگوں نے عبرت نہیں پکڑی اور آخر کار اُن پر بھی اﷲ کا غضب نازل ہوا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔بنی اسرائیل کی دوسری ریاست جو یہودیہ کے نام سے جنوبی فلسطین میں قائم ہوئی ۔وہ بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بہت جلد ی شرک اور بد اخلاقی میں مبتلا ہو گئی ۔مگر نسبتاًاُس کا اعتقادی اور اخلاقی زوال سلطنت اسرائیل یا سامریہ کی بہ نسبت سُست رفتار تھا،اِس لئے اس کو مہلت بھی کچھ زیادہ دی گئی۔اگر چہ سلطنت اسرائیل کی طرح اس پر بھی اشوریوں نے پے در پے حملے کئے ،اُس کے شہروں کو تباہ کیا اور اُس کے پایہ¿ تخت کا محاصرہ کر لیا۔لیکن یہ ریاست اشوریوں کے ہاتھوں ختم نہیں ہو سکی،بلکہ صرف باج گزار بن کر رہ گئی۔پھر جب حضرت یسعیاہ (شعیا) علیہ السلام اور حضرت یرمیاہ (ارمیاہ) علیہ السلام کی مسلسل کوششوں کے باوجود سلطنت یہودیہ کے لوگ بُت پرستی اور بد اخلاقیوں سے باز نہ آئے تو 598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری سلطنت یہودیہ کو مسخر کر لیا۔اور یہودیہ کا بادشاہ اُس کے پاس قیدی بن کر رہا۔یہودیوں کی بد اعمالیوں کا سلسلہ اِس پر بھی ختم نہیں ہوا اور حضرت یرمیاہ(ارمیاہ) علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود اپنے اعمال درست کرنے کے بجائے بابل کے خلاف بغاوت کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کرنے لگے۔آخر کار 587قبل مسیح میں بخت نصر نے ایک سخت حملہ کر کے سلطنت یہودیہ کے تمام بڑے چھوٹ شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اِس طرح پیوند خاک کیا کہ اُس کی ایک بھی دیوار کھڑی نہ رہی۔یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کو اُن کے علاقے سے نکال کر ملک ملک میں تیتّر بیتّر کردیا اور جو یہودی اپنے علاقے میں رہ گئے تھے ،وہ ہمسایہ قوموں کے ہاتھوں بُری طرح پامال ہو رہے تھے۔یہ تھا پہلا فساد جس سے بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا تھا اور یہ تھی پہلی سزا جو اُس کی پاداش میں اُن کو دی گئی تھی۔

بنی اسرائیل کی وطن واپسی اور بیت المقدس کی تعمیر

اﷲ تعالیٰ نے پہلے فساد پر بنی اسرائیل کو سزا دی ۔اِس سزاسے سلطنت اسرائیل یا سامریہ تو پورے طور پر مٹ گئی اور دوبارہ قائم نہیں ہوسکی ۔لیکن سلطنت یہودیہ بعد میں بیت المقدس کے آس آس قائم ہوئی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔سلطنت یہودیہ کے بنی اسرائیل کو بابل کی اسیری سے رہائی بعد میں اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔جہاں تک سلطنت سامریہ یا اسرائیل کے لوگوں کا تعلق ہے ،وہ تو اخلاقی و اعتقادی زوال کی پستیوں میں گرنے کے بعد پھر نہ اُٹھ سکے۔مگر سلطنت یہودیہ کے باشندوں میں ایک بقیہ ایسا موجود تھا جو خیر پر قائم اور خیر کی دعوت دینے والا تھا۔اُس نے اُن لوگوں میں بھی اصلاح کا کام جاری رکھا جو سلطنت یہودیہ میں بچے کچے رہ گئے تھے۔اور اُن لوگوں کو بھی توبہ و انابت کی ترغیب دی جو بابل اور دوسرے علاقوں میں جلا وطن کر دیئے گئے تھے۔آخر کار اﷲ کی رحمت اُن کی مدد گار ہوئی ۔بابل کی سلطنت کا زوال ہوا ۔539 قبل مسیح میں ایرانی (فارسی) فاتح سائرس (خورس یا خسرو) نے بابل فتح کیا اور اُس کے دوسرے ہی سال اُس نے فرمان جاری کر دیا کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت ہے۔چنانچہ اِس کے بعد یہودیوں کے قافلے پر قافلے یہودیہ کی طرف جانے شروع ہو گئے،جن کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔سائرس نے یہودیوں کو دوبارہ ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کی تعمیر کی اجازت بھی دے دی۔مگر ایک عرصے تک ہمسایہ قومیں جو اس علاقے میں آباد ہو گئیں تھیں ،مزاحمت کرتی رہیں۔آخر کار داریوس(دارا) اول نے 522 قبل مسیح میں یہودیہ کے آخری بادشاہ کے پوتے زرو بابل کو یہودیہ کا گورنر مقرر کیا اور ہیکل مقدس کی نئے سرے سے تعمیر کی ۔458 قبل مسیح میں ایک جلا وطن گراہ کے ساتھ حضرت عُزیر (عزرا)علیہ السلام یہودیہ پہنچے اور شاہ ایران ارتخششا(ار ٹاکسر یا ارد شیر) نے ایک فرمان کی رو سے اُن کو مجاز کیا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام اپنے انتظامات خود کر سکتے ہیں اور انہیں اِس کا پورا اختیار دیا جاتا ہے۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کی اصلاحات

اﷲ تعالیٰ نے ایک بار پھر بنی اسرائیل کو سنبھلنے اور سدھرنے کا موقع دیا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس فرمان سے فائدہ اُٹھا کر حضرت عزیر علیہ السلام نے دین موسوی کی تجدید کا بہت بڑا کام انجام دیا۔انہوں نے یہودی قوم کے تمام اہل خیر و صلاح کو ہر طرف سے جمع کر کے ایک مضبوط نظام قائم کیا۔بائیبل کی کتاب خمسہ کو ،جن میں توریت تھی ،مرتب کر کے شائع کیا۔یہودیوں کی دینی تعلیم کا انتظام کیا،قوانین شریعت کو نافذ کرکے اُن اعتقادی اور اخلاقی برائیوں کو دور کرنا شروع کیا جو بنی اسرائیل کے اندر غیر قوموں کے اثر سے گھس آئی تھیں۔اُن تمام مشرک عورتوں کو طلاق دلوائی جن سے یہودیوں نے بیاہ کر رکھے تھے۔اور بنی اسرائیل سے از سر نوا اﷲ کی بندگی اور اُس کے آئین کی پیروی کا میثاق لیا۔445قبل مسیح میں حضرت نحمیاہ علیہ السلام کے زیر قیادت ایک اور جلاوطن گروہ واپس آیا اور شاہِ ایران نے آپ علیہ السلام کو یروشلم کا حاکم مقرر کر کے اِس امر کی اجازت دی کہ وہ” شہر پناہ“ کی تعمیر کریں۔اِس طرح ڈیڑھ سو سال بعد ”بیت المقدس“پھر سے آباد ہوا اور یہودی مذہب و تہذیب کا مرکز بن گیا۔مگر شمالی فلسطین اور سامریہ کے اسرائیلیوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کی اصلاح و تجدید سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا ،بلکہ بیت المقدس کے مقابلہ میں اپنا ایک مذہبی مرکز ”کوہ جرزیم“پر تعمیر کر کے اُس کو قبلہ ¿ اہل کتاب بنانے کی کوشش کی۔اِس طرح یہودیوں اور سامریوں کے درمیان بُعد اور زیادہ بڑھ گیا۔

بنی اسرائیل پر یونانیوں کا قبضہ

بنی اسرائیل اپنی مستحکم اور الگ سلطنت نہیں بنا سکے تھے اور پہلے فساد کی سزا کے بعد کوئی نہ کوئی اُن پر حاوی رہتا تھا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔ایرانی سلطنت کے زوال کے اور سکندر اعظم کی فتوحات اور پھر یونانیوں کے عروج سے یہودیوں کو کچھ مدت کے لئے ایک سخت دھکہ لگا۔سکندر کی وفات کے بعد اُس کی سلطنت جن تین سلطنتوں میں تقسیم ہوئی تھی ،اُن میں ملک شام کا علاقہ اُس سلوقی سلطنت کے حصے میں آیا تھا جس کا پایہ¿ تخت ”انطاکیہ“ تھا۔اور اُس کے فرمانروا انٹیوکس ثالث نے 198 قبل مسیح میں فلسطین پر قبضہ کر لیا۔یہ یونانی فاتح جو مشرک تھا اور اخلاقاً اباحیت پسند تھا ،یہودی مذہب و تہذیب کو سخت ناگوار محسوس کرتا تھا۔اُس نے اس کے مقابلے میں سیاسی اور معاشی دباو¿ سے یونانی تہذیب کو فروغ دینا شروع کر دیا اور خود یہودیوں میں سے ایک اچھا خاصا عنصر اُس کا آلہ¿ کار بن گیا۔اِس خارجی مدا خلت نے یہودی قوم میں تفرقہ ڈال دیا ۔ایک گروہ نے یونانی لباس ،یونانی زبان ،یونانی طرز معاشرت اور یونانی کھیلوں کو اپنا لیا۔ اور دوسرا گروہ اپنی تہذیب پر سختی سے قائم رہا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

12 حضرت عیسیٰ علیہ السلام Story of Prophet Isa


12 حضرت عیسیٰ علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

قسط نمبر 12

بنی اسرائیل کی آزادی

یونانیوں کے بے جا دباو¿ نے بنی اسرائیل کو مذہب کی طرف راغب کیا اور انہوں نے یونانیوں کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کیا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔175 قبل مسیح میں انٹیوکس چہارم(جس کا لقب ایپی فائیس یعنی مظہر خدا تھا) جب تخت نشین ہوا تو اُس نے پوری جابرانہ طاقت سے کام لیکر یہودی مذہب و تہذیب کی بیخ کنی کرنی چاہی ۔اُس نے بیت المقدس کے ہیکل میں زبردستی بُت رکھوائے اور یہودیوں کو مجبور کیا کہ اُن کو سجدہ کریں ۔اُس نے قربان گاہ پر قربانی بند کرائی اور یہودیوں کو مشرکانہ قربان گاہوں پر قربانیاں کرنے کا حکم دیا ۔اُس نے توریت کے نسخے گھر میں رکھنے والوں کو سزائے موت دی۔سبت پر عمل کرنے اور ختنہ کرنے کی ممانعت کر دی۔لیکن یہودی اِس جبر سے مغلوب نہیں ہوئے اور اُن کے اندر ایک زبردست تحریک اُٹھی جو تاریخ میں ”مکابی بغاوت“کے نام سے مشہور ہے۔اگرچہ اِس کشمکش میں یونانیت زدہ یہودیوں کی ساری ہمدردیاں یونانوں کے ساتھ تھیں اور انہوں نے مکابی بغاوت کو کچلنے کی کوشش میں انطاکیہ کے ظالموں کا پورا ساتھ دیا ۔لیکن عام یہودیوں میں حضرت عزیر علیہ السلام کی پھونکی ہوئی روح ِ دینداری کا اتنا زبردست اثر تھا کہ وہ سب مکابیوں کے ساتھ ہو گئے اور آخر کار انہوں نے یونانیوں کو نکال کر ایک آزاد دینی ریاست قائم کر لی۔جو 67 قبل مسیح تک قائم رہی۔اِس ریاست کی حدود پھیل کر رفتہ رفتہ اُس پورے رقبے پر حاوی ہو گئی جو کبھی یہودیہ اور سامریہ کی ریاستوں کے زیر نگین تھے۔بلکہ فلستیہ کا بھی ایک بڑا حصہ اُس کے قبضے میں آگیا جو حضرت داو¿د اور سلیمان علیہم السلام کے زمانے میں بھی مسخر نہیں ہوا تھا۔

بنی اسرائیل پر رومیوں کا قبضہ 

اﷲ تعالیٰ کے احکامات پر بنی اسرائیل نے متحد ہو کر عمل کرنا شروع کیا تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی ۔لیکن بعد میں وہ پھر تفرقہ کا شکار ہوگئے اور دنیا میں مگن ہو گئے تو لگ بھگ ایک سو دس سال کے بعد رومیوں نے اُن پر قبضہ کر لیا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔دوسرے فساد اور اُس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اُٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اُس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بے روح ظاہر داری نے لے لی۔آخر کار اُن کے درمیان پھوٹ پڑ گئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔چنانچہ پومپی 63 قبل مسیح میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اُس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کر دیا۔لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے زریعے سے بالواسطہ کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے۔اِس لئے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیر سایہ ایک ویسی ریاست قائم کردی جو باآخر 40 قبل مسیح میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضے میں آئی یہ شخص ”ہیرود اعظم“کے نام سے مشہور ہوا۔اِس کی فرمانروائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر 40 قبل مسیح سے 4 قبل مسیح تک رہی۔اس نے ایک طرف مذہبی پیشواو¿ں کی سرپرستی کر کے یہودیوں کو خوش رکھا اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دیکر اور رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی بھی خوشنودی حاصلی کی۔اُس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ گئی۔

سب سے بڑا فساد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانا

آخر کار بنی اسرائیل نے دنیا کا سب سے بڑا فساد برپا کیا اور تین سو تیرہ رسولوں میں سے پانچ بڑے رسولوں میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی دانست میں درد ناک موت دینے کی کوشش کی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔ہیرود کے بعد اُس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔اُس کا ایک بیٹا ارخلاو¿س سامریہ ،یہودیہ اور شمالی ادومیہ کا فرمانروا ہوا۔مگر 6 عیسوی قیصر آگسٹس نے اس کو معزول کر کے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کر دی اور 41 عیسوی تک یہی انتظام رہا ۔یہی وہ زمانہ تھا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلان نبوت کیا۔اور یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواو¿ں نے مل کر اُن کی مخالفت کی اور رومی گورنر پیلاطس سے اُن کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔ہیرود کا دوسرا بیٹا ہیرود اینٹی پاس شمالی فلسطین کے علاقہ گلیل اور شرق اردن کا مالک ہوا اور یہی وہ شخص ہے جس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر قلم کر کے اُس کی نذر کیا۔اُس کا تیسرا بیٹا فلپ کوہ حرمون سے دریائے یرموک تک کے علاقے کا مالک ہوا اور یہ اپنے باپ اور بھائیوں سے بھی بڑھ کر رومی و یونانی تہذیب میںغرق تھا۔اس کے علاقے میں کلمہ¿ خیر کے پنپنے کی اتنی گنجائش بھی نہیں تھی جتنی فلسطین کے دوسرے علاقوں میں تھی۔41 عیسوی میں ہیرود اعظم کے پوتے اگرپّا کو رومیوں نے ان تمام علاقوں کا فرمانروا بنا دیا جن پر ہیرود اعظم اپنے زمانے میں حکمراں تھا ۔اس شخص نے بر سراقتدار آنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروو¿ں پر مظالم کی انتہا کردی اور اپنا پورا زور خدا ترسی و اصلاح اخلاق کی اِس تحریک کو کچلنے میں صرف کر ڈالا جو حواریوں کی رہنمائی میں چل رہی تھی۔اُس دور میں عام یہودیوں اور اُن کے مذہبی پیشواو¿ںکی جو حالت تھی اُس کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے اُن تنقیدوں کا مطالعہ کرنا چاہیئے،جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے خطبوں میں اُن پر کی ہیں۔یہ سب خطبے اناجیل اربعہ میں موجود ہیں ۔پھر اِس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ امر کافی ہے کہ اس قوم کی آنکھوں کے سامنے حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسے پاکیزہ انسان کا سر قلم کر دیا گیا ،مگر ایک آواز بھی اِس” ظلم عظیم “کے خلاف نہیں اُٹھی ۔ اور پوری قوم کے مذہبی پیشواو¿ں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا ۔مگر تھوڑے سے راستباز انسانوں کے سوا کوئی نہیں تھا جو اِ س بد بختی پر ماتم کرتا۔حد یہ ہے کہ جب پونتس پیلاطس نے اِن شامت زدہ لوگوں سے پوچھا کہ آج تمہاری عید کا دن ہے اور قاعدے کے مطابق میں سزائے موت کے مستحق مجرموں میں سے ایک کو چھوڑ دینے کا مجاز ہوں ،بتاو¿ عیسیٰ (علیہ السلام) کو چھوڑوں یا برابّا ڈاکو کو؟ تو اُن کے پورے مجمع نے بیک آواز ہو کر کہا کہ برابّا کو چھوڑ دو۔یہ گویا کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آخری حجت تھی جو اِس قوم پر قائم کی گئی۔

دوسرے فساد کی سزا

آخر کار بنی اسرائیل یعنی یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی دانست میں صلیب پر چڑھوا کر اپنی بد نصیبی پر آخری مُہر لگوا لی۔پھر اﷲ تعالیٰ نے انہیں ایسی سزا دی کہ آج دو ہزار سال بعد بھی ذلیل ہو رہے ہیں۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس پر تھوڑا زمانہ ہی گزرا تھا کہ یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہو گئی اور 64 عیسوی اور 66 عیسوی کے درمیان یہودیوں نے کھل کر بغاوت کر دی۔ہیرود اگرپّا ثانی اور رومی پروکیوریٹر فلورس ،دونوں اِس بغاوت کو ختم کرنے میں ناکام ہوئے۔آخر کار رومی سلطنت نے ایک سخت فوجی کاروائی سے اِس بغاوت کو کچل ڈالا اور 70 عیسوی میں ٹیٹس نے بزور شمشیر یروشلم کو فتح کر لیا۔اِس موقع پر قتل عام میں ایک لاکھ تینتس ہزار یہودی مارے گئے۔ساٹھ ہزار یہودی گرفتار کر کے غلام بنائے گئے ۔ہزارہا یہودی پکڑ پکڑ کر مصری کانوں میں کام کرنے کے لئے بھیج دیئے گئے۔ہزاروں یہودیوں کو مختلف شہروں میں بھیجا گیا تاکہ ایمفی تھیٹروں اور کلوسیموں میں اُن کو جنگلی جانوروں سے بھڑوانے یا شمشیر زنوں کے کھیل کا تختہ¿ مشق بننے کے لئے استعمال کیا جائے۔تمام درازقامت حسین لڑکیاں فاتحین کے لئے چن لی گئیں۔اور یروشلم کے شہر اور ہیکل کو مسمار کر کے پیوند خاک کر دیا گیا۔اِس کے بعد فلسطین سے یہودی اثرو اقتدار ایسا مٹا کہ دوہزار سال تک اس کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملا اور یروشلم کا ہیکل مقدس پھر کبھی تعمیر نہیں ہو سکا۔بعد میں قیصر ہیڈریان نے اِس شہر کو دوبارہ آباد کیا ،مگر اس کا نام ایلیا تھا اور اس میں مدت ہائے دراز تک یہودیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔یہ تھی وہ سزا جو بنی اسرائیل کو دوسرے ”فساد عظیم“کی پاداش میں ملی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث

یہاں پر حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کے ساتھ ذکر مکمل ہوگیاہے ۔ لیکن امت مسلمہ کے ساتھ ذکر ابھی باقی ہے۔ اسلئے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ارشادات پیش کررہے ہیں۔ تاکہ ذکر مکمل ہوجائے۔ 

حدیث نمبر1

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اُس اﷲ کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے۔وہ زمانہ قریب ہے کہ مریم رضی اﷲ عنہا کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تم لوگوں میں عادل حکمراں بن کر اُتریں گے تو وہ صلیب کو توڑ دیں گے،خنزیر کو ختم کر دیں گے،جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال اِس کثرت سے ہو گا کہ اُسے کوئی آدمی قبول نہیں کرے گا۔ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”اگر تم چاہو تو سورہ النساءکی یہ آیت پڑھ لو۔اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اُن پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس پر گواہی نہ دیں۔“(صحیح بخاری کتاب الانبیائ)

حدیث نمبر 2

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیسے ہوگے تم (اس وقت تمھارا کیا حال ہوگا)جب تمھارے درمیان عیسیٰ بن مریم اتریں گے ۔اور تمھارا امام اس وقت خود تم میں سے ہوگا۔(صحیح بخاری، کتا ب الانبیا، صحیح مسلم باب نزول عیسیٰ، مسند احمد)

حدیث نمبر3

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رواےت ہے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛”پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوگے ۔مسلمانو ں کا امیر ان سے کہے گا کہ اے اللہ کے رسول علیہ السلام! آپ علیہ السلام نماز پڑھایں۔ مگر وہ کہیں گے نہیں تم لوگ خود ہی ایکدوسرے کے امیر ہو ۔یہ وہ اس عزت کا لحاظ کر تے ہو ئے کہیں گے ۔جو اللہ نے اس امت کو دی ہے۔“(صحیح مسلم باب نزول عیسیٰ، مسند احمد، مرویات جابر بن عبداللہ) 

حدیث نمبر4

حضرت جابر عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ دجّال کا قصہ بیان کرتے ہوئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس وقت یکایک حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آجائیں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا؛”اے روح اللہ علیہ السلام !آگے بڑھئے۔ (اور نماز پڑھائےے) “مگر وہ کہیں گے کہ نہیں، تمھارے امام کو ہی آگے بڑھنا چاہئے۔ وہی نماز پڑھائے۔پھر صبح کی نماز پڑھ کر دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔جب وہ کذاب(دجّال ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا۔ تو گھلنے لگے گا۔ جےسے نمک پانی میں گھلتا ہے ۔ پھر آپ علیہ السلام اس کی طرف بڑھیں گے۔اور اسے قتل کردیں گے۔ اور یہ حالت ہوگی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھےں گے کہ اے روح اللہ علیہ السلام یہ یہودی (بنی اسرائےل ) میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ دجّال کے پیروﺅں میں کوئی نہیں بچے گا۔ جسے وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) قتل نہ کردیں۔(مسند احمد ، روایات جابر بن عبداللہ) 

حدیث نمبر 5

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛” میرے اور اُن (حضرت عیسیٰ علیہ السلام )کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔ اور یہ کہ وہ اُترنے والے ہیں ۔پس جب تم ان کو دیکھنا تو پہچان لینا۔ وہ ایک درمیانہ قد آدمی ہیں ۔رنگ سرخی مائل اور سفیدی ہے۔دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہونگے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہونگے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوگے ۔اور اسلام کے لئے لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو توڑدیں گے ۔خنزےر کو قتل کر دیں گے۔ جزیہ ختم کر دیں گے ۔اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو مٹا دے گا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو ہلاک کر دیں گے۔ اور زمین میں وہ چالیس سال ٹھہریں گے۔ پھر ان کا وصال ہوجائے گا۔ اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں

 گے۔(سنن ابو داﺅد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال ، مسند احمد مرویات ابو ہریرہ)

حدیث نمبر 6

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے یہ کتابوں میں پڑھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کئے جائیں گے۔ ابو مودود نے کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ اور انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے توریت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں پڑھا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے بازومیں دفن کئے جائےں گے۔(مختصر تاریخ دمشق )

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں احادیث بہت ذیادہ ہیں ۔ہم اتنے پر ہی بس کرتے ہیں ۔ان احادےث سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئےں گے۔ تو تمام عیسائی (نصارےٰ) ایمان لاکر مسلمان ہوجائےں گے۔ اور تمام یہودی (بنی اسرائیل ) دجال کے ساتھ ہوجائےں گے ۔اور آپ علیہ السلام ان سب کو قتل کر دےںگے۔ یعنی یہودیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور زمین پر تمام لوگ مسلمان ہوجائےں گے۔ اور پوری زمین پر اسلامی حکومت قائم ہوجائے گی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔

  ٭............٭............٭

 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں