ہفتہ، 17 جون، 2023

حضرت عیسیٰ علیہ السلام مکمل Life of Prophet ISA


حضرت عیسیٰ علیہ السلام مکمل

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 21 

تمام انبیائے کرام پر ایمان لانا ضروری

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد بنی اسرائیل میں کوئی نبی نہیں آئے۔ بلکہ ان کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسماعیل میں آئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان لگ بھگ پونے چھ سو 575برسوں کا فاصلہ ہے۔ اس درمیان میں عیسائی مسلمان تھے۔ لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم آگئے تو اب بنی اسرائیل ( یہودی) اور عیسائی ان دونوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا چاہیئے تھا۔ لیکن ان دونوںقوموں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لایا۔ اس لئے بھی یہ کافروں میں شامل ہو گئے۔ کیوں کہ ایمان کے لئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر ایک بھی چھوڑ دیا یا انکار کر دیا تو ایمان سے خارج ہو جائے گا۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بیت المقدس کے لئے وقف 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میں سے آدم (علیہ السلام) کو اور نوح(علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام )کے خاندان کواور عمران کے خاندان کاانتخاب فرما لیا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 33)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر ہم حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ذکر میں پڑھ چکے ہیں۔ لیکن آپ کو ادھورا پن نہ لگے اس لئے یہاں پھر سے ذکر کرتے ہیں۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے والد عمران بن ماثان، حضرت داﺅد علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ اس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی حضرت داﺅد علیہ السلام کی نسل سے ہوئے۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے والد عمران بنی اسرائیل میں نماز کے امام تھے۔ اور والدہ حَنّہ بنت فاقوذ بھی بہت ہی نیک اور عبادت گذار خاتون تھیں۔ آپ کو اولاد نہیں ہوتی تھی۔ ایک دن انھوں نے ایک پرندے کو دیکھا وہ اپنے چوزوں کو کھانا کھلا رہا تھا۔ انھیں دیکھ کر یہ خیال آیا کہ کاش میرا اپنا بھی کوئی بچہ ہوتا تو انھوں نے اللہ تعالیٰ سے منت مانی کہ اے اللہ تعالیٰ، اگر تو مجھے اولاد عطا فرمائے گا تو میں اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دوں گی۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب عمران کی بیوی نے کہاکہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو کچھ ہے ،اُسے میں تیرے نام سے آزاد کرنے کی نذر مانی تُو میری طرف سے قبول فرما۔یقینا تُو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 35)

اﷲ تعالیٰ کی پناہ میں دے دیا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛”جب بچی پید ہوئی تو (والدہ) کہنے لگیں کہ اے میرے رب!مجھے تو لڑکی ہوئی ہے،اﷲ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے۔اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں ،میں نے اس کا نام ”مریم “رکھا ۔میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔(سورہ آل عمران آیت نمبر36)اللہ تعالیٰ نے ان کی نذر کو قبول فرمایا۔ اور انھیں اولاد سے نوازا۔ اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ بیٹا چاہتی تھیں کیوں کہ اس وقت تک بنی اسرائیل میں بیت المقدس کی خدمت کے لئے بیٹے وقف کرنے کا رواج تھا۔ لیکن اب چونکہ حنہ بنت فاقوذ نذر مان چکی تھیں اس لئے انھوں نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کے ذمہ داران کے حوالے کر دیا اور کہا کہ میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ، میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں کہ تو انھیں شیطان کے شر سے بچائے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو بھی قبول فرمایا۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش 

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کا ذکر ہم حضرت زکریاعلیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے ذکر میں کر چکے ہیں۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ بہت سے قارئین اسے نہ پڑھ سکے ہوں ۔ اس لئے مختصراً یہاں ذکر کر دیتے ہیں ۔جب سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ نے انھیں بیت المقدس کے ذمہ داروں کے حوالے کیا تو اس وقت حضرت زکریا علیہ السلا م بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ اور بیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے ایک تھے۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بنی اسرائیل کے امام کی بیٹی تھیں اس لئے بیت المقدس کا ہر ذمہ دار یہ چاہتا تھا کہ وہ اس بچی کی پرورش کرے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا چونکہ میں اس بچی کا خالو ہوں اس لئے اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری مجھے سونپی جائے۔

پرورش کے لئے قرعہ اندازی

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے،جسے ہم آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم)اُن کے پاس نہیں تھے جب کہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے گا۔اور نہ تو اُن کے جھگڑنے کے وقت اُن کے پاس تھے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 44)بیت المقدس کا ہر ذمہ دار سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کرنا چاہتا تھا اس لئے یہ طے ہوا کہ قرعہ نکالا جائے۔ جس کے نام قرعہ کھلے گا وہ بچی کی پرورش کرے گا۔ تمام ذمہ داروں نے اپنے اپنے قلم کپڑے کے نیچے رکھ دیئے ایک بچے کو بلایا گیا او ایک قلم نکالنے کو کہا گیا۔ اس بچے نے جو قلم نکالا وہ حضرت زکریا علیہ السلام کا تھا۔ یہ دیکھ کر دوسرے ذمہ داروں نے کہا پھر سے قرعہ اندازی کرتے ہیں۔ اس بار تمام لوگ دریا میں اپنے اپنے قلم ڈالیں ۔ جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرے گا وہی اس بچی کی پرورش کرے گا۔ تمام لوگ اور تمام قلم دریا کے پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگا۔ یہ دیکھ کر تمام ذمہ داروں نے کہا۔ ایک آخری مرتبہ اور قرعہ اندازی کر لیتے ہیں۔ اس بار جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرے گا وہی اس بچی کی پرورش کرے گا۔ ایک مرتبہ پھر تمام ذمہ داروں نے اپنے اپنے قلم دریا میں ڈالے تو تمام لوگوں کے قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمیت تیرنے لگے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگا۔ یہ دیکھ کر تمام لوگوں نے تسلیم کر لیا کہ اللہ تعالیٰ بھی یہی چاہتا ہے کہ اس بچی کی پرورش حضرت زکریا علیہ السلام کریں۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی عبادت و ریاضت 

اس طرح حضرت زکریا علیہ السلام نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پرورش کی ذمہ داری سنبھا ل لی۔ آپ علیہ السلام نے بچی کے لئے ایک بہت ہی مناسب کمرہ منتخب فرمایا تھا۔ اس کمرے میں سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی اجازت کے بغیر کوئی نہیں داخل ہو سکتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ کو بھی اجازت لینی پڑتی تھی۔ یہ کمرہ بیت المقدس کے قریب تھا۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ کی بہت عبادت گذار بندی تھیں۔ اور جیسے جیسے عمر بڑھتی جا رہی تھی ویسے ویسے عبادت و ریاضیت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ہر وقت وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتیں۔ اور صرف اُس دن اپنے کمرے سے باہر نکلتیں جس دن بیت المقدس میں اُن کی خدمت کی باری ہوتی تھی۔ اور اسی دن بنی اسرائیل اور اُن کے والدین انھیں دیکھ پاتے تھے۔ باقی تمام دن میں وہ سارا وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہا کی عبادت بنی اسرائیل میں ایک مثال بن گئی۔ اور تمام بنی اسرائیل اُن کی تعریف کرتے تھے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بھی جب اُن کے کمرے میں تشریف لے جاتے تھے تو اُن کے کمرے میں پھل دیکھ کر حیران ہو جاتے تھے۔ اور پھل بھی ایسے ہوتے تھے جن کا موسم نہیں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام نے پوچھا۔ بیٹا مریم ، یہ پھل کہاں سے آتے ہیں جب کہ میرے سوا کوئی بھی اس کمرے میں نہیں آتا ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ پھل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔ا،س کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے رب نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اُسے بہترین پرورش دی۔اُسکی خیر خبر لینے والا زکریا(علیہ السلام)کو بنایا۔جب کبھی زکریا علیہ السلام اُس کے حجرے(محراب) میں جاتے تو اُس کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے ۔وہ پوچھتے ؛اے مریم!یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی ؟وہ جواب دیتیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے پاس سے ہے۔بے شک اﷲ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 37)

فرشتے نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت دی

یہ دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی بیت المقدس کی خدمت اور عبادت کو قبول فرما لیا ہے۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہا ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول تھیں کمرے کا دروازہ بند تھا۔ اور کوئی اندر نہیں آسکتا تھا۔ عبادت کے دوران انھیں آواز آئی ۔ اے مریم اللہ تعالیٰ تمہیں بشارت دیتا ہے۔اس آواز کو سن کر سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے چونک کر آواز کی طرف دیکھا تو ایک فرشتہ نظر آیا۔ آپ رضی اللہ عنہا حیران ہو گئیں کہ دروازہ تو بند ہے پھر یہ کیسے اندر آگیا؟ اس نے آپ کی حیرانی دیکھ کر کہا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہو افرشتہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں چُن لیا ہے سارے جہان کی عورتوں میں سے اور پاک کر دیا ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اسی خلوص سے عبادت کرتی رہو۔ اور سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرتی رہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بیٹے کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ معزز ہوگا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اللہ تعالیٰ کے مقربین میں سے ہوگا۔ اور لوگوں سے جھولے میں ( یعنی اس وقت جب بچے بول نہیں سکتے ) میں بات کرے گا۔ اور بڑا ہو کر بھی بات کرے گا۔ اور نیک لوگوں میں سے ہوگا۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب فرشتوں نے کہا؛اے مریم!اﷲ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی بشارت( خوش خبری) دیتا ہے۔جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے اور دنیا میں اور آخرت میں ذی عزت ہے اور وہ میرے مقربین میں سے ہے۔وہ لوگوں سے اپنے گہوارے میں بات کرے گااور ادھیڑ عُمر بھی اور وہ نیک لوگوں میں سے ہوگا۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 45 اور 46) اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اِس کتاب میں مریم کا بھی واقعہ بیان کرو۔جب کہ وہ اپنے گھر کے لوگوں سے علحٰیدہ ہو کر ایک مشرقی مکان میں آئیں اور اُن لوگوں کی طرف سے پردہ کر لیا۔پھرہم نے اُس کے پاس اپنی روح کوبھیجا ،وہ اُس کے سامنے پورا آدمی بن کر ظاہر ہوا ۔یہ کہنے لگیں میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں ،اگر تُو کچھ بھی اﷲ سے ڈرنے والا ہے۔اُس نے جواب دیا کہ میں تو اﷲ کا بھیجاہوا قاصد ہوں ،تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دینے آیا ہوں۔کہنے لگیں بھلا میرے ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟مجھے تو کسی انسان کا ہاتھ تک نہیں لگا اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔اُس نے کہا بات تو یہی ہے ،لیکن تیرے رب کا ارشاد ہے کہ وہ مجھ پر بہت ہی آسان ہے ۔ہم تو اسے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دیں گے اور اپنی خاص رحمت۔یہ تو ایک طے شدہ بات ہے۔“(سورہ مریم آیت نمبر 16سے 21تک

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا تعجب

یہ سن کر سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو بہت تعجب ہوا اور انہوں نے حیرانی سے فرمایا؛”اے اللہ تعالیٰ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں کسی بچے کی والدہ بنوں ۔ جب کہ کسی مرد نے مجھے چھوا ہی نہیں ہے؟“ تو فرشتے نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے جواب دیا۔ ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جب جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے۔ اور جب کسی بات کا فیصلہ فرماتا ہے تو کہتا ہے ہو جا ۔ تو وہ فوراً ہو جاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس بچے کو سکھائے گا کتاب اور حکمت توریت اور انجیل اور اسے رسول بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گا۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”(مریم) کہنے گیں۔اے میرے رب!مجھے لڑکا کیسے ہوگا؟جبکہ مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ بھی نہیں لگایا ہے۔فرشتے نے کہا ؛اِسی طرح اﷲ تعالیٰ جو چاہے پید کرتا ہے۔جب کبھی وہ کسی کام کو کرنا چاہتا ہے تو صرف کہتا یہ کہہ دیتا ہے”ہوجا“تو وہ ہوجاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ اُسے لکھنا اور حکمت اور توریت اور انجیل سکھائے گا۔اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسو ل ہوگا........آیت کے آخر تک۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 47سے49تک)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ایک دن جب سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اپنے حجرے میں تھیں یا بعض روایات کے مطابق وہ غسل کر چکی تھیں ۔جبرئیل علیہ السلام خوب صورت انسانی شکل میں اُن کے پاس آئے ۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا ایک اجنبی مرد کو دیکھ کر گھبرا گئیں اور اﷲ کی پناہ مانگتے ہوئے کہنے لگیں کہ اگر تمہارے دل میں ذرا بھی اﷲ کا خوف ہے تو یہاں سے چلے جاو¿۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی گھبراہٹ دیکھتے ہوئے جبرئیل علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تم مت گھبراو¿،میں اﷲ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔میں تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دینے آیا ہوں ۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہانے بے ساختہ کہا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہو گا جبکہ آج تک مجھے کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا۔نہ تو میرا نکاح ہوا ہے اور نہ ہی میں برے کردار والیہوں۔جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تو اﷲ کا پیغام لیکر آیا ہوں ،جس میں اﷲ تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اِسی طرح ہوکر رہے گا۔اﷲ کا یہ فیصلہ اُس کی قدرت ِ کاملہ کا اظہار ہے۔وہ تمہیں اور تمہارے بیٹے کو اپنی قدرت کا نمونہ بنا کر پیش کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔اور اِس فیصلے پر عمل کرنا اﷲ کے لئے بہت آسان ہے اور کوئی چیز اﷲکی قدرت سے باہر نہیں ہے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔یہ اﷲ کی قدرت کی ایک نشانی ہو گی ،تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا ،سیدہ حوا رضی اﷲ عنہا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پید ا کیا۔باقی انسانوں کو مردا و رعورت سے پیدا کیا ۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر مرد کے صرف عورت سے پیدا کیا۔پس تقسیم کی یہ چار صورتیں ہو سکتی تھیں،جو سب(اﷲ تعالیٰ نے) پوری کر دیں اور اپنی کمال ِ قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کردی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بارے میں بائبل(توریت اور انجیل) میں بہت سی روایات ہیں لیکن اُن میں من گھڑت بہت زیادہ ہیں۔اوراعتبار کے قابل نہیں ہیں۔ اس لئے ہم یہاں صرف قرآن پاک کی آیات میں آپ علیہ السلام کی پیدائش کا جو ذکر آیا ہے وہی ذکر ہم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ آل عمران کی آیت نمبر58سے آیت نمبر60تک فرمایا ؛ترجمہ”یہ جوہم آپ (صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انسانوں کو) پڑھ کر سنا رہے ہیں یہ نصیحت اور حکمت والی آیتیں ہیں۔ بے شک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم (علیہ السلام )کے جیسی ہے۔ کہ ( حضرت آدم علیہ السلا م کو) بنایا ہے مٹی سے اور فرمایا ہو جا تو وہ ہوگیا۔ ( اور اے سننے والو تمام انسانو) یہ حقیقت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انسان ہیں۔ تمہارے رب (اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے ۔ پس تم لوگ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے صاف صاف بتا دیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا ہے اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی بغیر باپ کے پیدا فرمایا ہے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کی طرح حضرت عیسیٰ بھی ایک انسان ہیں۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کسی قسم کے شک میں نہیں پڑنا چاہیئے ۔ اور نہ ہی کسی کھوج وغیرہ میں پڑنا چاہیئے ۔ بس ہمیں یہ ایمان رکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اس کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔ اور وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”پس وہ حمل سے ہو گئیں اور اِسی وجہ سے وہ یکسو ہو کر ایک دور کی جگہ چلی گئیں۔پھر درد زہ اُسے ایک کھجور کے تنے کے نیچے لے آیا اور بے ساختہ زبان سے نکل گیا کہ کاش!میں اِس سے پہلے مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد سے بھی بھولی بسری ہوجاتی۔“(سورہ مریم آیت نمبر 22اور23)جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا وقت قریب آیا تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا آبادی سے نکل کر ویرانے میں چلی گئیں اور ایک کھجور کے درخت کے نیچے درد کی شدت کی وجہ سے لیٹ گئےں۔ اور ایسے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ اس علاقے کو” بیت اللحم “کہا جاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت” بیت اللحم“ ویران تھا۔ لیکن بعد میں یہ علاقہ آباد ہو گیا۔ اور عیسائی اس علاقے کو آپ علیہ السلام کی پیدائش کی وجہ سے بہت مقدس مانتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت پورے ”بیت اللحم “کو فرشتوں نے گھیر لیا تھا۔مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔دور کے مقام سے مُراد”بیت اللحم“ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا اپنے اعتکاف سے نکل کر وہاں جانا ایک فطری امر تھا۔بنی اسرائیل کے مقدس ترین گھرانے بنو ہارون کی لڑکی ،اور پھر وہ ”بیت المقدس“میں اﷲ کی عبادت کے لئے وقف ہو کر بیٹھی تھی،یکایک حاملہ ہو گئی ۔اِس حالت میں اگر وہ اپنی”جائے اعتکاف“میں بیٹھی رہتیں اور اُن کا حمل لوگوں پر ظاہر ہوجاتاتو خاندان والے ہی نہیں ،قوم کے دوسرے لوگ بھی اُن کا جینا مشکل کر دیتے۔اِس لئے بیچاری اس شدید آزمائش میں مبتلا ہونے کے بعد خاموشی کے ساتھ اپنے اعتکاف کا حجرہ چھوڑ کر نکل کھڑی ہوئیں۔تاکہ جب تک اﷲ کی مرضی پوری ہو ،تب تک تو قوم کی لعنت ملامت اور عام بد نامی سے بچی رہیں۔

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی ذہنی پریشانی

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو اپنے ذہن میں بار بار یہ خیال آ رہا تھا کہ اِس بچے کے بارے میں لوگوں کو کیا جواب دوں گی؟اِسی ذہنی پریشانی میں آپ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا کہ کاش!میں اِس سے پہلے مر گئی ہوتی اور لوگ مجھے بھول جاتے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِن الفاظ سے اُس پریشانی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ،جس میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اُس وقت مبتلا تھیں۔موقع کی نزاکت ملحوظ رہے تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اُن کی زبان سے یہ الفاظ درد ذہ کی تکلیف کی وجہ سے نہیں نکلے تھے۔بلکہ یہ فکر اُن کو کھائے جارہی تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے کس خطرناک آزمائش میں انہیں ڈالا ہے ،اُس سے کس طرح بخیریت عہدہ بر آہوں۔حمل کو تو اب تک کسی نہ کسی طرح چھپا لیا۔اب بچے کو کہاں لے جائیں ۔بعد کا یہ فقرہ کہ فرشتے نے اُن سے کہا ”غم نہ کرو“اِس بات کو واضح کر رہا ہے کہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے یہ الفاظ کیوں کہے تھے ۔شادی شدہ لڑکی کے ہاں جب پہلا بچہ پیدا ہو رہا ہو تو وہ چاہے کتنی ہی تکلیف سے تڑپے ،اُسے رنج وغم کبھی لاحق نہیں ہوا کرتا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔اب آپ رضی اﷲ عنہا کچھ سمجھ نہیں پارہیں تھیں کہ کیا کروں ؟اِسی پریشانی میں بجائے گھر کے افراد کے پاس جانے کے باہر جنگل بیابان کی طرف نکل گئیں۔اس حمل کے ساتھ ہی آپ رضی اﷲ عنہا تقریباً آٹھ دس میل چلتی چلی گئیں اور اپنے ننھیال مقام ناصرہ کے پاس اسی گاو¿ں کے کنارے پر ”بیت اللحم“تھا۔ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئیں ۔تن تنہا نہ کوئی آلی نہ موالی نہ مدد گار نہ پُرسان ِ حال ۔اِس کے آگے لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا ایک میل دور جنگل میں نکل گئیں ،ایک پہاڑی کے دامن میں چھپ کر بیٹھ گئیں ۔بعض نے کہا کہ بیت المقدس کے ایک خادم عابد زاہد کے ساتھ گئیں جس کا نام یوسف نجار تھااور منگیتر تھا مریم رضی اﷲ عنہا کا۔مگر یہ سب کذبیات (جھوٹی )و اسرائیلیات ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو دم جبرئیل کے تھوڑی دیر بعد ہی درد زہ شروع ہو گیا تھا۔قدرت الہٰیہ کا یہ ظہور اتنی جلدی ہوا کہ چند ساعت کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ بعد دردزہ ہی لے آیااُس پاک دامن کنواری پاک مریم رضی اﷲ عنہا کو دور ایک صحرائی خشک کھجور کے بے برگ و ثمر ٹنڈ منڈ تنے تک۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے چار وجہ سے گھبرا کر اپنے آپ سے کہا ؛ہائے کاش!میں اِس وقت کے ّنے سے پہلے ہی مر گئی ہوتی اور آج کے دن تک بھولی بسری ہو چکی ہوتی۔(1)پہلی وجہ یہ کہ گھر سے بتائے بغیر اتنی دور چلی آئی ،شاید گھر والے پریشانی میں ہوں؟ڈھونڈتے پھرتے ہوں یہ ایک بد نامی ۔ (2)دوسری وجہ یہ کہ بچے کی پیدائش ،جب کہ نہ شادی نہ نکاح ،یہ دوسری بد نامی بلکہ سخت ترین ذلت ۔(3)تیسری وجہ یہ کہ ایسے حالات میں کوئی خدمت گار یا مشورہ تسلی دینے والا بھی پاس نہیں ہے۔نہ اِس شدت تکلیف میں مَلنے دبانے والی ،دوا کرنے والی، دل جوئی و غم گساری کرنے والی دائی وغیرہ بھی نہیں۔(4)چوتھی وجہ یہ کہ شدت ِ تکلیف جو عورت کی برداشت سے باہر ہو جاتی ہے بلکہ چیخیں نکلتی ہیں۔یہ آواز دبانا جس کا مشکل ہوتا جارہا تھا،اگر نہ دبا سکی تو صحرائی گونج کہاں تک پہنچ سکتی ہے اور کتنے رہ گزر جمع ہو سکتے ہیں ۔اِس خیال سے ہی لرزہ طاری تھااور تکلیف دگنی محسوس ہوتی ہے۔اِس لئے زبان اقدس سے یہ الفاظ لازمی امر تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شیطان سے بچایا

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ حنہ بنت فاقوذ نے دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ اس بچی کو اور اس کی اولاد کو شیطان سے محفوظ رکھنامیں انھیں تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے وہ دعاقبول فرمائی۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلا م کی پیدائش کے وقت فرشتوں کو بھیج دیا۔ اور فرشتوں نے زمین سے لے کر آسمان تک بیت اللحم کے گرد گھیرا لگا دیا۔ اور شیطان کو آپ علیہ السلام تک پہنچنے نہیں دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہر بچے کی پیدائش کے وقت شیطان اسے کچوکا لگاتا ہے۔ اسی لئے وہ بچہ روتا ہے لیکن شیطان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کچوکا نہیں لگا سکا۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے،شیطان اُس کو پیدا ہونے کے وقت چھوتا ہے۔سو وہ اُس کے چھونے سے چیختا ہے،سوائے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُس کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔(کہ وہ اُن کو نہیں چھو سکا)بعض روایات میں ہے کہ شیطان اپنی انگلی سے کچوکا دیتا ہے ،اِسی لئے بچہ چیخ پڑتا ہے۔سوائے مریم رضی ا ﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ اُن دونوں تک نہیں پہنچ سکا ۔

شیطان کی پریشانی

جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو اس وقت کے تما م بُت اوندھے گر پڑے تھے۔ تمام شیطان یہ دیکھ کر گھبرا گئے اور اس کی وجہ تلاش کرنے لگے۔ لیکن کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ آخر تمام شیطان اپنے سردار ابلیس کے پاس پہنچے وہ اس وقت سمندر میں اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ابلیس نے جب تمام شیطانوں کو ایک ساتھ دیکھا تو گھبرا گیا۔ کیوں کہ جب سے انھیں اس نے اُن کے کام پر لگایا تھا تب سے پہلی بار سب کو ایک ساتھ دیکھ رہا تھااور سب کے سب پریشان بھی دکھائی دے رہے تھے۔ اس نے اُن سے پریشانی کی وجہ پوچھی تو سب نے بتوں کے گرنے کا واقعہ بتایا۔ ابلیس نے کہا۔ یہ بہت بڑا واقعہ ہے۔ ذرا رکو میں ابھی تحقیق کرکے آتا ہوں۔ یہ کہہ کر ابلیس دنیا کے ہر حصے میں گیا۔ لیکن کوئی خاص واقعہ نظر نہیں آیا۔ لیکن جب بیت اللحم کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ زمین سے آسمان تک فرشتے پورے بیت اللحم کو گھیرے ہوئے ہیں اور شیطان کو گھسنے کی کوئی جگہ نہیں تھی ۔ اُس نے گھسنے کی کوشش کی تو فرشتوں نے اسے دھکے مار کر بھگا دیا۔ وہ اپنے چیلوں کے پاس واپس آیا۔ اور بتایا کہ اس وقت سے سے اہم واقعہ یہ ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ہے۔ اور میں اس لئے جان نہیں سکا کہ مجھے اس سے غافل رکھا گیا ہے۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پریشانی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے بعد اُن کی والدہ نے اٹھا کر انھیں گود میں لے لیا۔اور کھجور کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ اور سوچنے لگی کہ اب میں بنی اسرائیل کے سامنے کس طرح جاﺅں اور انھیں کیا جواب دوں۔ بہت سے اندیشے دماغ میں ابھرنے لگے اور گھبرا کر آپ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا۔ کاش میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور لوگوں کی یاد میں بھولی بسری ہو جاتی۔ فرشتوں نے اُن دونوں ماں بیٹے کو گھیر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فرشتے نے آواز لگائی۔ غم نہ کرو اور پریشان مت ہوﺅ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر ہلاﺅ۔ تمہارے سامنے تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں گریں گی اب چین سے کھاﺅ اور پیو اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھو۔ اس کے بعد جب بستی میں جانا تو لوگوں سے کہہ دینا کہ میں نے چُپ کا روزہ رکھا ہے۔ اور تمہیں جو کچھ پوچھنا ہے وہ اس بچے سے پوچھ لو۔اﷲ تعالیٰ نے اس کے بارے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”(کھجورکے)تنے کے نیچے آواز دی گئی کہ غم زدہ نہ ہو تیرے رب نے تیرے پاو¿ں تلے ایک چشمہ جاری کردیاہے۔اور اس کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا ،یہ تیرے سامنے ترو تازہ پکی کھجوریں گرادے گا۔اب چین سے کھاپی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی رکھ ،اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑجائے تو کہہ دینا کہ میں نے اﷲ رحمن کے کے نام کا روزہ مان رکھا ہے۔میں آج کسی شخص سے بات نہیں کروں گی۔“(سورہ مریم آیت نمبر 24سے26تک)

چُپ کا روزہ اُمت مُسلمہ میں نہیں ہے

اﷲ تعالیٰ نے اُن پر یہ رحم و کرم فرمایا کہ جس سوکھے کھجور کے تنے کے پاس سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا بیٹھی تھیں ،اُسے اﷲ تعالیٰ ہرا بھرا کر دیا اور اُس میں تازہ اور پکی ہوئی کھجوریں بھی تیار ہو کر لگ گئیں۔اِس کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ نے وہیں پانی کا چشمہ بھی جاری کردیا۔اِس طرح اﷲ تعالیٰ نے اُن کے لئے کھانے اور پانی کا مسئلہ حل کر دیا۔اس کے بعد آگے رہنمائی فرمائی کہ تندرست ہونے تک سکون سے یہاں رہو،اور جب آبادی میں جانا یا کسی انسان سے سامنا ہو جائے تو کہنا کہ میرا چُپ کا روزہ ہے ،اِس بچے سے پوچھ لو۔یہاں ایک بات کا خیال رکھیں کہ پہلے کی اُمتوں میں یا صرف سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے چُپ کا روزہ جائز تھا۔اُمت ِ مسلمہ میں چُپ کا روزہ نہیں ہے۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔قبل از اسلام یہ بھی عبادت میں داخل تھا کہ بولنے کا روزہ رکھے،صبح سے شام تک کسی سے بات نہ کرے۔اسلام نے اِس کو منسوخ کر کے یہ لازم کر دیا کہ صرف بُرے کلام ،گالی گلوچ ،جھوٹ ،غیبت وغیرہ سے پرہیز کیا جائے۔عام گفتگو ترک کرنا اسلام میں کوئی عبادت نہیں رہی ،اِس لئے اِس کی نذر ماننا جائز نہیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔پھر ارشاد ہوا کہ کسی سے بات نہ کرنا ،اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں ۔یا تو مُراد یہ ہے کہ اُن کے روزے میں کلام (بات کرنا،بولنا)ممنوع تھا۔یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے پاس دو شخص آئے ۔ایک نے تو سلام کیا ،دوسرے نے نہیں کیا۔آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”سلام نہ کرنے کی وجہ؟“لوگوں نے کہا؛”اِس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہیں کرے گا۔“آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا؛”اسے توڑ دے ،سلام کلام شروع کر ،یہ تو صرف سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے ہی تھا ۔کیونکہ اﷲ کو آپ رضی اﷲ عنہا کی صداقت و کرامت ثابت کرنا منظور تھی ،اِس لئے اسے عذر بنا دیا تھا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاگود میں بولنا 

اس کے بعد سیدہ مریم رضی اللہ عنہا تندرست ہونے تک وہیں رہیں اور کھجوروں اور چشمے کے پانی پر گزارہ کرتی رہیں۔ جب پورے طور سے تندرست ہو گئیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گود میں لئے ہوئے بیت المقدس آئیں۔ تمام بنی اسرائیل اُن کے پاس جمع ہو گئے۔ کیوں کہ وہ بہت بڑی عبادت گزار اور نیک تھیں۔ اور سب لوگ اُن کی عزت کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے تمام لوگ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اور اُن کی گود میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ انھیںحیرانی اس بات پر تھی کہ ہماری قوم کی سب سے نیک اور عبادت گزار لڑکی اچانک غائب ہو گئی اور کافی دنوں بعد آئی تو گود میں بچہ ہے۔ آخر بنی اسرائیل کے بڑے عالم نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے اشارے سے کہا کہ آج میں نے چُپ کاروزہ رکھا ہے ،اگر تمہیں کچھ پوچھنا ہے تو اس بچے سے پوچھ لو۔ انھوںنے کہا تم ہم سے مذاق کرتی ہو۔ یہ گود کا بچہ کیسے ہم سے بات کرے گا؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی والدہ کی گود میں فرمایا۔ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب ( انجیل) عطا فرمائی ہے۔ اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔ اس نے مجھے برکت والا بنایا ہے۔ جہاں بھی میں رہوں گا اور اس نے مجھے نماز اور زکوٰة کا حکم دیا ہے ۔ جب تک میں زندہ رہوں اُس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے۔ اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا ہے۔ اور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاﺅں گا سلام ہی سلام ہے۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام چپ ہو گئے۔ اور تمام بنی اسرائیل حیرانی سے آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہے تھے۔ انھیں یقین نہیں آرہا تھا کہ گود میں بچہ بول بھی سکتا ہے۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کہیں ۔ در اصل یہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا امتحان لیا تھا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانی بنایا تھا۔ لیکن ان بدبختوں نے اللہ کی نشانی کی قدر نہیں کی۔ اور آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے۔ اس کاذکر آگے آئے گا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں اِس کے بارے میں فرمایا؛ترجمہ”اب عیسیٰ (علیہ السلام)کو لئے ہوئے وہ اپنی قوم کے پاس آئی ۔سب کہنے لگے ،مریم تُو نے بڑی بُری حرکت کی۔اے ہارون کی بہن !نہ تو تیرا باپ بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بد کار تھی۔مریم نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کیا ۔سب کہنے لگے کہ لو بھلا ہم گود کے بچے سے کیسے بات کریں؟بچہ بول اُٹھا!کہ میں اﷲ کا بندہ ہوں ،اُس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایا ہے۔اور اُس نے مجھے با برکت کیا ہے جہاں بھی میں رہوں ،اور اس نے مجھے نماز اور ذکوٰة کا حکم دیا ہے،جب تک میں زندہ رہوں۔اور اُس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گزار بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بد بخت نہیں کیا۔اور سلام ہے مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کھڑا کیا جاو¿ں۔یہ ہے صحیح واقعہ عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام) کا ،یہی ہے وہ بات جس میں لوگ شک و شبہ میں مبتلا ہیں۔“(سورہ مریم آیت نمبر 27سے 34تک

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بچپن

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت سی خوبیاں عطا فرمائی تھیں اُن میں سے ایک خوبی یہ بھی تھی کہ آپ علیہ السلام کسی بھی کتاب کو ایک نظر دیکھتے تھے اور وہ کتاب آپ علیہ السلام کو یاد ہو جاتی تھی۔ سات سال کی عمر میں آپ علیہ السلام کوپڑھنے کے لئے اسکول یا مدرسہ لے جایا گیا۔ تو آپ علیہ السلام نے بڑی سے بڑی علمی کتاب پر ایک نظر ڈال کر رکھ دیتے تھے۔ بار بار یہ دیکھ کر ایک روز اُن کے معلم( استاد یا ٹیچر) نے اُن سے کہا۔ تم ان کتابوں کو ایک نظر دیکھ کر اس طرح رکھ دیتے ہو جیسے یہ سب کتابیں تمہیں یاد ہیں۔ حالانکہ ابھی تو تمہیں ابجد کے معنی بھی معلوم نہیں ہیں۔ استاد کی بات سُن کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ تو آپ کو معلوم نہیں ہیں۔ اُن کی یہ بات سن کر استاد نے طنزاً کہا۔ تو آپ اُن کے معانی بتادیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ پھر آپ اپنی مسند پر مجھے بیٹھنے دیں اور خود میری طرح میرے سامنے بیٹھیں تو میں انکے معانی آپ کو بتا وئں گا۔ استاد نے اُن کی اس بات کو مذاق سمجھ کر اپنی مسند اُن کے لئے خالی کر دی۔ اور ان کے سامنے شاگردوں کی طرح بیٹھکر بولے ۔ اب فرمائیے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔” الف “کے معنی ہیں” الا اللہ “ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔” ب “سے مراد ہے” بہا اللہ “ یعنی اللہ کی شان ۔ اور”ج “کا مطلب ہے” جمہتہ اللہ“ یعنی اللہ کا جمال ۔آپ علیہ السلام کی زبان سے اتنی چھوٹی سی عمر میں ابجد کے یہ معنی سن کر اُن کے استاد حیران رہ گئے۔

آج تمہاری ماں نے یہ پکایا ہے 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بچپن میں اپنے اسکولی دوستوں سے یہ فرماتے کہ آج تمہاری ماں نے یہ پکایا ہے۔ اور ہر لڑکے کو الگ الگ بتاتے کہ آج اس کی والدہ نے یہ پکایا ہے۔ اور جب ہر بچہ اپنی والدہ سے جاکر اسی چیز کی فرمائش کرتا یعنی کھانے کو مانگتا تو اسکی والدہ حیرانی سے پوچھتی کہ بیٹا یہ تمہیں کس نے بتایا کہ آج میں نے یہ پکایا ہے؟ تو بچے انھیں جواب دیتے کہ یہ بات ہمیں عیسیٰ(علیہ السلام) نے بتائی ہے۔ یہ سن کر وہ حیران رہ جاتیں۔ کیوں کہ ہر ایک کے گھر میں الگ الگ چیزیں پکی ہوتی تھیں۔ جب اکثر ایسا ہونے لگا تو اُن لڑکوں کی والداﺅں نے اپنے اپنے بچوں سے کہا تم اُس بچے عیسیٰ(علیہ السلام ) کے ساتھ نہ رہا کرو۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے کو لے کر دوسری جگہ چلی گئیں 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بچپن میں ایسے حیرت انگیز واقعات پیش آتے رہے ۔ اس سلسلے میں تاریخ کی کتابوں اور قرآن پاک کی تفسیروں میں بہت سے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ لیکن ہم ان دو واقعات پر ہی اکتفا کرتے ہیں ۔ ان واقعات کی وجہ سے آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میںمشہور ہوتے جا رہے تھے۔ اور بنی اسرائیل جو بہت سی گمراہیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ وہ آپ علیہ السلام کی سچی اور کھری باتوں سے گھبرا جاتے تھے۔ اس لئے انھوں نے آپ علیہ السلام کے خلاف منصوبہ بندی شروع کر دی۔ اور آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے۔ آپ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے جب بنی اسرائیل (یہودیوں ) کے یہ ارادے دیکھے تو خاموشی سے آپ علیہ السلام کو لے کر دوسرے علاقے میں چلی گئیں۔ کس علاقے میں گئیں؟ اس بارے میں علمائے کرام نے کئی روایات پیش کی ہیں۔ کچھ روایات سے معلوم ہوا کہ ملک شام لے کر چلی گئیں۔ اور کچھ روایات سے معلوم ہوا کہ ملک مصر لے کر چلی گئیں تھیں۔ آج کل جو فلسطین ، لبنان اور شام ممالک ہیں۔ ان تینوں ممالک کو اس وقت کنعان کا علاقہ کہا جاتا تھا۔ اور ان تینوں علاقوں میں بنی اسرائیل آباد تھے۔ ان ممالک سے لگ کر مصر ملک ہے ۔ اس لئے بہت ممکن ہے کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا آ پ علیہ السلام کو لے کر مصر چلی گئی ہوں ۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

بنی اسرائیل کی حالت 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 67سال پہلے بنی اسرائیل (یہودیوں ) کے بارہ قبیلوں کی آپسی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر رومیوں نے بنی اسرائیل کے تمام علاقوں پر قبضہ کر کے بنی اسرائیل کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اور یہودیوں پر رومی مسلط ہو گئے تھے۔ رومیوں کے تسلط کے بارے میں ہم نے حضرت زکریا علیہ السلام کے ذکر میں تفصیل سے بتا یا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت بنی اسرائیل پر بہت بُرا وقت چل رہا تھا۔ وہ خود بہت سی برائیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ان میں سے ایک برائی سود کھانا تھا۔ بنی اسرائیل کے علماءعام آدمیوں سے زیادہ گمراہ اور دنیا میں مبتلا ہو چکے تھے۔ یہ گمراہ علماءعوام کی برائیوںکوتوریت کی آیات کے ذریعے توڑ مروڑ کر صحیح ثابت کر تے تھے۔ اور توریت کے جو احکامات اللہ نے نازل فرمائے تھے وہ چھپا لیتے تھے۔ اور گمراہ عوام کی مرضی کے مطابق توریت سے فتوے دیتے تھے۔ اوراپنی دولت میں اضافہ کرتے تھے۔ اور اپنے جھوٹے فتوﺅں کی وجہ سے عوام کو اور زیادہ گمراہیوں میں مبتلا کرتے جاتے تھے۔

بنی اسرائیل مسیح اور آخری نبی کا انتظار کر رہے تھے

توریت میں آخری نبی کی بشارت دی گئی تھی۔اور اس کی خوبیاں بھی بیان کی گئی تھیں۔ اس لئے بنی اسرائیل ( یہودی) اس آخری نبی کا انتظار کر رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مسیح کا بھی انتظار کر رہے تھے۔ جو آئے گا تو انھیں رومیوں کی غلامی سے نجات دلائے گا۔ اور بنی اسرائیل کی حکومت کو قائم کرے گا۔ اُن کی کتاب میں لکھا تھا کہ یہودا( اللہ تعالیٰ ) ایک مسیحا نازل فرمائے گا۔ دنیا پر اسی کی بادشاہت ہو گی۔ اس کے آنے سے حضرت داﺅد علیہ السلام کی سلطنت بحال ہو جائے گی۔ اور یروشلم ( بیت المقدس) اللہ کا دارالحکومت بن جائے گا۔

بنی اسرائیل ( یہودیوں) کی غلط فہمی

اس پیشن گوئی کی وجہ سے علم نجوم میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کی دلچسپی بڑھ گئی۔ انھیں یقین تھا کہ مسیح حضرت داﺅد علیہ السلام کے گھر انے میں پیدا ہوگا۔ انھیں رومیوں کے ظلم و ستم سے نجات دلائے گا۔ مردہ بنی اسرائیل ( یہودیوں) کو زندہ کرے گا۔ اور انھیں حکومت میں شریک کرے گا۔ اور اس کی بادشاہت کے ڈنکے ہر طرف بجیں گے۔ وہ یہ بات نہیں سمجھ رہے تھے کہ وہ مسیح آئے گا تو اللہ کا پیغام دے گا۔ اور اللہ کا قانون نافذ کرے گا۔ اور بنی اسرائیل کو برائیوں اور گمراہیوں سے روکے گا۔ ان کے سودی نظام کو ختم کر ے گا۔ اس کے بجائے وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ مسیح جب آئے گا تو اس کی وجہ سے بنی اسرائیل (یہودیوں)کو دنیا کی حکومت مل جائے گی۔ اور وہ ساری دنیا کا خون پیئیں گے اور کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ اُن کے گھر ہیرے جواہرات سے بھرے ہوں گے۔ دوسروں کے بچے اُن کے غلام اور اُن کی بیویاں یہودیوں کی لونڈیاں بن جائیں گی۔ جنھیں نچا نچا کر وہ عیش و مسرت حاصل کریں گے۔ اسی لئے وہ مسیح کا بہت بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔ اور جب بھی بنی اسرائیل میں کوئی جواں ہمت کھڑا ہوتا تھا تو فوارً اس سے امید باندھ لیتے تھے کہ شاید یہی مسیحا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اعلانِ نبوت 

اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور رسول کو نبوت 40سال کی عمر میں عطا فرمائی ۔ صرف حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو 40سال سے پہلے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس لئے اکثر روایات میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اعلان ِ نبوت 30سال کی عمر میں کیا۔ یہ وہی وقت تھا جب حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کیا جا چکا تھا۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ رحمت میں جا چکے تھے۔ رومی بنی اسرائیل پر بہت بری طرح حاوی تھے ۔اور اُن پر طرح طرح کے ظلم و ستم کر رہے تھے۔ اور بنی اسرائیل (یہودی) بہت بے چینی سے مسیح کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن برائیوں اور گمراہیوں میں بدستور مبتلا تھے۔ ایسے وقت میں جب امیدوں اور تمناﺅں کے خواب تھے۔ 

ایک دن ایک خوب صورت تیس سالہ جوان آنکھوں میں حیرت انگیز چمک لئے ، کاندھوں پر زلفیں پھیلائے جو اس کے روشن چہرے کے گرد ہالہ بنائے ہوئے تھی ۔ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) میں داخل ہوا۔ ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس جیسی مقدس جگہ پر یہودی( بنی اسرائیل) کے امراءاور علماءبنچوں پر بیٹھے سکے کھنکھنا رہے تھے ۔ پیسے بٹور رہے تھے۔ احاطۂ حرم یعنی بیت المقدس کے احاطے میں عبادت کرنے کی بجائے بنی اسرائیل بازار سجائے خرید و فروخت میں مصروف تھے۔یہ شور و غوغا اور منظر دیکھ کر ہیکل سلیمانی میں داخل ہونے والے جوان نے نہایت بلند اور رعب دار آواز میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کیا۔ اُس جوان کی آواز سن کر ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کی مسجد کے اندر اور احاطے میں سناٹا چھا گیا۔ اور تمام لوگ اس خوب صورت جوان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس جوان نے رعب دار آواز میں ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کیا۔ اور پھر تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا۔ علماءاور احبار اور مفتیوں کو ریا کاری کرنے سے منع فرمایا۔ اورآگے بڑھ گیا۔ نیک لوگ اس کے ساتھ ہو گئے۔ اور نعرے لگانے لگے۔ داﺅد کا بیٹا آگیا۔ ہمارا مسیحا آگیا۔ مسیح آگیا ہے۔ ہم اسی کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔ اور آپ علیہ السلام کے اعلانِ نبوت سے یہودیوں ( بنی اسرائیل) پر زلزلہ طاری ہو گیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی ہدایات 

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا اورانجیل عطا فرمائی تو ساتھ میں ہدایات بھی دیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے عیسیٰ بن مریم، مجھے اپنے دل میں وہ جگہ دے جو غم کے لئے ہے۔ نوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کر۔ میں تجھ سے محبت کروں گا۔ میرے علاوہ کسی غیر کی طرف مائل نہیں ہوناورنہ میں پکڑ لوں گا۔ مصیبت پر صبر کر اور قضا پر راضی رہ۔ایسا ہو جا کہ مجھے تجھ سے مسرت ہو ۔ بے شک میری خوشی اسی میں ہے کہ میری فرمانبرداری کی جائے اور میری نافرمانی سے بچا جائے۔ میرے قریب ہو جا۔ اور اپنی زبان پر ہر وقت میر اذکر جاری رکھ۔ میری محبت تیرے سینے میں رہے۔ تا کہ تجھے غفلت سے بیدار رکھے۔ مخلوق کو میری نصیحت سنا۔ اور میرے بندوں میں عدل کے ساتھ فیصلے کی ۔ میں نے تیری طرف شفاء( انجیل ) نازل فرمائی ہے جو دلوں کو وسوسوں سے بچاتی ہے۔ اے عیسیٰ بن مریم، میری مخلوق مجھ پر ایمان نہیں لائی۔ اور بہت کم لوگ ایسے ہیں جو ایمان لائے۔ اور میری خشیت کی نعمت سے مالا مال ہوئے۔ اور ثواب کی امید پائی۔ میں تجھے گواہ ٹھہراتا ہوں ۔ یہ لوگ میرے عذاب سے مامون ہیں۔ اے طیب و طاہرہ والدہ کے بیٹے، نرم گفتار ہو کر رہ۔ اور سلام کو عام کر۔ جب ابرار کی آنکھیں سو جائیں تو اس وقت جاگنے والا بن جا۔ قیامت قریب ہے۔ اور دل دہلادینے والا زلزلہ آنا ہی چاہتا ہے۔ اپنی ذات کا محاسبہ کرتا رہا کر۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جس دن سب میرے سامنے پیش ہو ں گے۔ ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اور تجھ سے پوچھ ہوگی۔

بنی اسرائیل کے علما اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مناظرہ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب اعلان ِ نبوت کیا تو اس وقت آپ علیہ السلا م کا کوئی گھر نہیں تھا۔ اور آپ علیہ السلام پورے کنعان (حالیہ فلسطین ، شام اور لبنان) میں گھوم گھوم کر اللہ تعالیٰ کا پیغام بنی اسرائیل تک پہنچاتے رہتے تھے۔ اور اسلام کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کی برائیوں اور گمراہیوں کی نشاندہی کر کے انھیں دور کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔ عام بنی اسرائیل میں سے نیک فطرت لوگوں نے آپ علیہ السلام کی اتباع کی۔ اس وقت بنی اسرائیل کے علماءبہت امیر تھے اور اپنے فائدے کے لئے بنی اسرائیل کے عوام کو بے وقوف بناتے تھے۔ اور پیسے بٹورتے تھے۔ اس لئے یہ علماءآپ علیہ السلام کو سچا مان کر اللہ کا رسول تسلیم کرنے کی بجائے آپ علیہ السلام کی مخالفت کرنے لگے۔ تا کہ اُن کی جھوٹی عزت قائم رہے۔ اور وہ دولت مند رہیں۔ اسی لئے بنی اسرائیل کے تمام بڑے بڑے علماءحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور آپ علیہ السلام سے پوچھا ۔ کیا آپ ایلیا ہیں؟ بنی اسرائیل عبرانی زبان بولتے تھے۔ اور عبرانی میں حضرت الیاس علیہ السلا م کو حضرت ایلیا علیہ السلام کہا جاتا تھا۔ بنی اسرائیل نے حضرت الیاس علیہ السلام کو شہید کردیا تھا۔ اور بعد میں شرمندہ ہوئے۔ اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ حضرت الیاس علیہ السلام کو دوبارہ بھیج دے ہم اُن کی بات مانیں گے۔ اسی لئے وہ حضرت الیاس علیہ السلام کا انتظار کر رہے تھے۔ اور اسی لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ کیا آپ ایلیا ہیں؟ تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا نہیں میں ایلیا نہیں ہوں۔ پھر بنی اسرائیل نے پوچھا ۔ کیا آپ علیہ السلام ”وہ آخری نبی “ ہیں ؟ تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ نہیں ۔ وہ آخری نبی میرے بعد آئیں گے۔ تو پھر بنی اسرائیل کے علماءنے پوچھا کیا آپ مسیح ہیں؟ اس سوال پر کئی روایات میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام خاموش رہے۔ اور کئی روایات میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں مسیح نہیں ہوں ۔ در اصل آپ علیہ السلام کا اشارہ دَجّال کی طرف تھا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل آج بھی کسی مسیح کا انتظار کر رہے ہیں۔ اور بنی اسرائیل(یہودیوں ) کا وہ مسیح دجّال ہو گا۔

بنی اسرائیل (یہودی) دجّال کا ساتھ دیں گے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دجّال آئے گا تو بنی اسرائیل ( یہودی) اُس کے ساتھ ہو جائیں گے۔ تب حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتارے جائیں گے۔ اور آپ علیہ السلا م دجّال اور یہودیوں یعنی بنی اسرائیل کو ختم کر دیں گے۔ اور زمین پر ایک بھی یہودی ( بنی اسرائیل) زندہ نہیں رہ سکے گا۔ اس سلسلے کی احادیث انشاءاللہ آخر میں پیش کریں گے۔ بنی اسرائیل کے تمام علماءحضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اور عام بنی اسرائیل کو ستانے لگے کہ ( نعوذ باللہ ) یہ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ بلکہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا میں سچ کہہ رہا ہوں ۔ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ سن کر علماءنے کہا۔ اگر تم اللہ کے رسول ہو اور سچے ہو توبتاﺅ اس آدمی نے آج کون سا کھانا کھایا ہے؟ آپ علیہ السلام نے بتادیا کہ اس شخص نے آج یہ کھانا کھایا ہے۔ آپ علیہ السلام کا جواب سن کر اس شخص نے کہا۔یہ سچ فرما رہے ہیں۔ آج میں نے یہی کھانا کھایا ہے۔ اس طرح نیک لوگوں کا آپ علیہ السلام پر یقین مضبوط ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل کے علماءکی دشمنی اور بڑھ گئی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِس کے بعد پورے ملک کنعان میں گھو م گھوم کر بنی اسرائیل کو اسلام کی تبلیغ کر رہے تھے۔اُن کے گمراہ دنیا پرست علماءکو سمجھا رہے تھے۔اور اپنے معجزوں سے انہیں قائل بھی کرتے جا رہے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اور وہ بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا،کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں ۔میں تمہارے لئے پرندے کی شکل کی طرح مٹی کا پرندہ بناتا ہوں ،پھر اُس میں پھونک مار تا ہوں تو وہ اﷲ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔اور اﷲ تعالیٰ کے حکم سے میں پیدائشی اندھے کو اور کوڑھی کو اچھا کر دیتا ہوں اور مُردے کو جلا (زندہ کر)دیتا ہوں۔اور جو کچھ تم کھاو¿ اور جو اپنے گھروں میں ذخیرہ کرو ،میں تمہیں بتا دیتا ہوں ۔اِس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے،اگر تم ایمان والے ہو۔اور میں توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے اور میں اِس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں۔اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی نشانی لایا ہوں ،اِس لئے تم اﷲ تعالیٰ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔یقین مانو!میرا اور تمہارا رب اﷲ ہی ہے ،تم سب اُسی کی عبادت کرو ،یہی سیدھی راہ ہے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 49سے51تک)اﷲ تعالیٰ نے اِن آیات میںحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کئی معجزوں کا ذکرفرمایا ہے ،جن میں سے ایک کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں،اور باقی آگے پیش ہیں۔ 

احیائے موتی ٰ کا واقعہ 

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کئی معجزے عطا فرمائے تھے۔ اُن میں سے ایک معجزہ احیائے موتی ٰ ( مردے کا زندہ ہو جانا) ہے۔ یوں تو آپ علیہ السلا م نے یہ معجزہ بنی اسرائیل کو بہت دفعہ بتایا ہے۔ لیکن یہاں ہم صرف ایک ہی واقعہ ذکر کریں گے۔ احیائے موتی ٰ کا پہلا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک عورت کے پاس سے گزرے ۔ وہ عورت ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اس عورت سے رونے کی وجہ پوچھی تو اس عورت نے بتایا کہ میری بیٹی کا انتقال ہو چکا ہے۔ اور اس کے سوا میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس لئے میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ اس وقت تک اس جگہ سے نہیں ہٹوں گی جب تک مجھے موت نہیں آجاتی یا میری بیٹی زندہ نہیں ہو جاتی۔ میں اسی انتظار میں ہوں کہ دیکھوں اللہ تعالیٰ کیا کرتا ہے؟ یہ سن کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اگر تو ایک مرتبہ اس سے بات کر لے گی تو اسے واپس جانے دے گی؟ اس عورت نے کہا ۔ ہاں مجھے یہ شرط منظور ہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دو رکعت نماز اداکی۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ پھر قبر کے پاس بیٹھ گئے اور آواز لگائی۔ اے فلاں ( بچی کا نام لے کر پکارا)اللہ رحمن کے نام سے کھڑی ہو جا ۔پہلی آواز پر قبر میں ایک لرزش پیدا ہوئی۔ آپ علیہ السلام نے دوسری آواز لگائی تو قبر پھٹ گئی ۔ پھر آپ علیہ السلام نے تیسری آواز لگائی تو وہ بچی سر سے مٹی جھاڑتی ہوئی قبر سے باہر آگئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اتنی دیر کیوں لگی؟ تو اس بچی نے جواب دیا۔ آپ علیہ السلام کی پہلی آواز پر اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو بھیجا ۔ اس نے میری بکھری ہوئی ہڈیاں جمع کیں ۔دوسری آواز پر میری روح میرے بدن میں داخل ہو گئی۔ اور تیسری آواز جو آپ علیہ السلام نے لگائی تو میں ڈر گئی کہ یہ قیامت کی چیخ ( صور) ہے۔ اس کی وجہ سے میرے سر اور ابرو اور پتلیوں کے بال سفید ہو گئے۔ پھر وہ بچی اپنی والدہ کی طرف بڑھی اور بولی۔ امی جان ، آپ نے ایسا کیوں کیا کہ مجھے دو مرتبہ موت کا ذائقہ چکھنا پڑ رہا ہے۔ اے میری امی جان، صبر اور تحمل سے کام لیں مجھے دنیا کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ بچی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئی اور عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے آخرت کی طرف لوٹا دے۔ اور مجھ پر موت کی سختی کو آسان کر دے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس لڑکی کو دوبارہ موت آگئی۔ اور آپ علیہ السلام نے اسے دفن کر کے مٹی برابر کر دی۔ جب بنی اسرائیل (یہودیوں ) کے علماءکو اس عورت نے یہ واقعہ بتایا تو ان کے غصے کی کوئی انتہا نہ رہی۔ اور نیک دل بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کا یقین حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اور بڑھ گیا۔

مٹی کا پرندہ بنا کر اڑا دینا 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جو معجزات عطا فرمائے تھے ان میںسے ایک معجزہ مٹی کا پرندہ بنا کر اڑا دینا ہے۔ ایسے بہت سے واقعات کا ذکر آیا ہے۔ لیکن ہم ایک ہی واقعہ ذکر کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بچپن میں اسکول یا مدرسہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ کہ آپ علیہ السلام نے مٹی اٹھائی اوراپنے دوستوں سے کہا میں اس مٹی سے تمہارے لئے ایک پرندہ بنا دیتا ہوں۔ اُن کے دوستوں نے کہا ۔ کیا تم ایسا کر سکتے ہو؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسا کر سکتا ہوں۔ پھر آپ علیہ السلام نے مٹی سے ایک پرندہ بنایا۔اور اُس میں پھونک ماردی ۔ اور فرمایا؛تُو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اڑنے والا ہو جا۔ تو وہ پرندہ آپ علیہ السلام کے ہاتھوں سے نکل کر اڑنے لگا۔ بچوں نے جا کر اپنے استاد سے اس کا ذکر کیا تو استاد نے بنی اسرائیل میں یہ خبر پھیلا دی ۔ لوگ خوفزدہ ہو گئے۔ اور بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو قتل کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے آپ علیہ السلام کی جان خطرے میں دیکھی تو دوسرے علاقے میں اپنے بیٹے کو لے کر چلی گئیں۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلانِ نبوت کیا تو بنی اسرائیل کے علماءنے مطالبہ کیا کہ آپ علیہ السلام چمگادڑ پیدا کر کے بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے مٹی سے چمگادڑ کی صورت کا پرندہ بنایا۔ اور پھونک مار کر فرمایا۔ اللہ کے حکم سے اڑ جا۔ تو وہ اڑنے لگا۔ جب تک لوگ دیکھتے رہے۔ وہ چمگادڑ اڑتی رہی اور جب لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو ئی تو مر کر زمین پر گر گئی ۔ 

پیدائشی اندھے اور برص کے مریض کا علاج 

جس نبی یا رسول کے زمانے میں جس چیز کا زیادہ چلن ہو تا تھا اللہ تعالیٰ اُس نبی یا رسول کو ویسا معجزہ عطا فرماتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو کا بہت زور تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے عصا اور ہاتھ کے چمکنے کا معجزہ عطا فرمایا۔ جسے دیکھ کر تمام جادوگروں نے پہچان لیا تھا کہ یہ اللہ کی نشانی ہے۔ اور ایمان لے آئے تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت طبّ کا غلبہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے بیماروں کو اچھا کرنے کا معجزہ عطا فرمایا۔ اس زمانے میں پیدائشی اندھا ہونا اور برص کے مرض کا کوئی علاج نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ اُن کی دعا سے اور ہاتھ پھیرنے سے پیدائشی اندھے اور برص کے مریض اچھے ہو جاتے تھے۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کی شہرت پورے بنی اسرائیل میں پھیلنے لگی۔ اور دور دور سے لوگ آپ علیہ السلام کی خدمتِ اقدس میں علاج کروانے لگے۔ بعض اوقات تو ایک دن میں پچاس ہزار تک مریض آجاتے تھے۔ آپ علیہ السلام تمام مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ اور صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے۔

انجیل کا نزول 

حضرت موسیٰ علیہ السلام پر” توریت“ نازل ہوئی تو رمضان کی چھ راتیں گزر چکی تھیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام پر”زبور“ نازل ہوئی تو رمضان کی بارہ راتیں گزر چکی تھیں۔ اور زبور، توریت کے چار سو بیاسی 482سال بعد نازل ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر” انجیل“ نازل فرمائی تو رمضان کے مہینے کی اٹھارہ راتیں گزر چکی تھیں۔ اور انجیل ،زبور کے ایک ہزار پچاس 1050سال بعد نازل ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن پاک کا نزول جب شروع کیا تو ماہِ رمضان کی سترہویں یا چوبیسویں رات تھی۔ اور یہ نزول لگ بھگ23برس تک چلتا رہا۔ اور قرآن پاک ، انجیل کے لگ بھگ پونے چھ سو575سال بعد نازل ہونا شروع ہوا۔

 انجیل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف 

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائی تو وحی فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے عیسیٰ بن مریم ، میری عبادت میں سستی نہ کر۔ اور اے پاکیزہ دوشیزہ عِفت مآب عورت کے بیٹے ۔ سُن اور اطاعت کر۔ اللہ نے تجھے بغیر باپ کے پیدا کیا ہے۔ اور میں نے تجھے عالمین کے لئے نشانی کے طور پر پیدا فرمایا ہے۔ صرف میری عبادت کر ۔اور صرف مجھ پر بھروسہ کر۔ اور مضبوطی سے کتاب کو تھام لے۔ اور اس کی تفسیر بیان کر۔ اور لوگوں کو یہ پیغام دے کہ میں (اللہ تعالیٰ) حق ہوں۔ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہوں۔اور میں کبھی زوال پذیر نہیں ہوں گا۔ اور لوگوں کو بتاﺅ کہ وہ نبی¿ عربی صاحب الجمل والتاج ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصدیق کریں۔ وہ نبی¿ اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم خوب صورت آنکھوں والا، کشادہ پیشانی والا اور واضح رخساروں والا ہو گا۔ جس کے بال گھنگریالے ہوں گے۔ داڑھی مبارک گھنی ہوگی۔ ناک بلند ، سامنے کے دانتوں میں تھوڑا فاصلہ ہوگا اور تھوڑی تنگی نہیں ہوگی۔ جس کی گردن مبارک گویا چاندی کی صراحی ہو ۔ جس کے نچلے حصے میں سونا چل رہا ہو۔ سینے سے لیکر ناف تک بالوں کی ایک باریک لکیر ہوگی۔ ہاتھ پاﺅں بھرے بھرے ہوں گے۔ وہ جس طرف بھی متوجہ ہو گا تو پوری طرح متوجہ ہوگا۔ اور جب چلے گا تو ایسے چلے گا جیسے بلندی سے اتر رہا ہو۔ اُن کے چہرے پر پسینہ موتیوں کی طرح چمکے گا۔ اور پسینے سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ایسا کوئی رعنا نہ پہلے کبھی دیکھا گیا ہے اور نہ کبھی دیکھا جائے گا۔ وہ حسین قامت اور خوشبو والے ہوں گے۔ وہ کئی عورتوں سے نکاح کریں گے۔ لیکن اولاد کم ہو گی۔ مگر پھر بھی اس سے بابرکت نسل چلے گی۔ جنت میں اُ س کے لئے زبرجد کا مکان ہوگا۔ اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) آخری زمانے میں تو اس آخری رسول کی اُمت کی کفالت کرے گا۔ میری بارگا ہ میں اُس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ مقام ہے جو کسی انسان کو حاصل نہیں ہے۔ اُس پر نازل ہونے والا کلام ”قرآن مجید“ کہلائے گا۔ اس کا دین ”اسلام “ہوگا۔ اور اسے قبول کرنے والا سلامتی پائے گا۔ ”طوبیٰ “ہے اُس شخص کے لئے جو اس کا زمانہ پائے گا۔ اس کے دنوں کو دیکھے گا۔ اور اس کے کلام کو سنے گا اور اُس پر ایمان لائے گا۔

طوبیٰ کیا ہے؟ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا ؛” اے اللہ تعالیٰ !یہ طوبیٰ کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ؛”یہ ایک درخت ہے۔ جسے میں نے ( اللہ تعالیٰ نے) اپنے دست ِ قدرت سے لگایا ہے۔ یہ درخت تمام جنتوں میں ہے۔ اس کا تنہ ”رضوان“ سے ہے۔ اور اسمیں سے ”تسنیم “کی نہر نکلی ہے۔ اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا اور ذائقہ زنجبیل کا اور اس کی خوشبو کستوری جیسی ہے۔ جو اس میں سے ایک گھونٹ بھی پی لے گا۔ اس کے بعد کبھی بھی پیاسا نہیں ہوگا۔ “حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ !مجھے اس کا پانی پلا دے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔؛”اس کا پانی اُس وقت تک کوئی بھی نبی نہیں پی سکتا جب تک وہ آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کا پانی نہیں پی لے گا۔ اُس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کے بعد دوسرے انبیائے کرام اس کا پانی پی سکیں گے۔اور جب اُس آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کا پانی پی لے گی تب دوسرے انبیائے کرام کی امتوں کو اس کا پانی ملے گا۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” اے عیسیٰ بن مریم( علیہ السلام )!میں تمہیں اپنی طرف اٹھالوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ تُومجھے کیوں اٹھالے گا؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” میں تجھے اٹھاﺅں گا پھر آخری زمانے میں نیچے اتاروں گا۔ تاکہ تم اُس آخری نبی کی امت کی دجّال کے مقابلے پر مدد کر سکو۔ میں تجھے نماز کے وقت اتاروں کا پھر تُو اُن کے ساتھ نماز ادا کرے گا۔ کیوں کہ یہ اُمتِ مرحومہ ہے۔ اور ان کے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ”خاتم النبیین “ہیں۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے اوصا ف 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ ، مجھے اس امتِ مرحومہ کے بارے میں آگاہ فرمائیے۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” وہ احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی امت ہے۔ اس امت کے لوگ علماءاور حکماءہوں گے،گویا وہ انبیاءہوں ۔ میری تھوڑی سی عطا پر راضی ہو جائیں گے۔ میں بھی اُن کے تھوڑے سے عمل سے راضی ہو جاﺅں گا۔ اور میں انھیں صرف” لا اِلہ الااللہ“ کی وجہ سے جنت میں داخل کروں گا۔اے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) جنت کے زیادہ تر باسی ( رہنے والے) اسی اُمت کے ہوں گے۔ کیوں کہ کسی اُمت نے” لا الہ الا للہ“ کا اتنا ذکر نہیں کیا ہوگا جتنا اس اُمت کے لوگ اس کلمے کا ذکر کریں گے۔ اور کسی اُمت کے سر سجدے میں اتنے نہیں جھکے جتنے سر اس اُمت کے سجدے میں جھکیں گے۔“

بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛” اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام)! عنقریب یہ بنی اسرائیل تجھ سے کہیں گے کہ ہم روزے رکھتے ہیں۔ لیکن ہمارے روزے قبول نہیں ہوتے۔ ہم صدقہ کرتے ہیں مگر ہمارا صدقہ قبول نہیں ہوتا۔ ہم اونٹنی کے بچے کی طرح بلبلا کر روتے ہیں مگر ہماری آہ وزاری پر رحم نہیں کیا جاتا۔ اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) ان سے پوچھو اس کی وجہ کیا ہے؟ کیوں تمہاری ( بنی اسرائیل کی ) عبادت اور تمہاری آہ وزاری پر رحمت کی نظر نہیں کی جاتی؟ کیا میرے خزانوں میں کوئی کمی واقع ہو گئی ہے؟ کیامیں آسمانوں اور زمینوں کا مالک نہیں ہوں؟ کیا میری رحمت کا دائرہ تنگ ہو گیا ہے؟ رحم اُن پر کیا جاتا ہے جو میری رحمت کی امید رکھتے ہیں۔ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) اگر یہ لوگ دنیا کے دھوکے میں نہ پڑتے اور دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دیتے تو انھیں حق معلوم ہو جاتا۔ اور انھیں یہ معلوم ہو جاتا کہ ان کے نفس ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔میں کیسے ان کے روزوں کو قبول کرلوں ۔ جب کہ وہ روزے رکھ کر حرام مال اکٹھا کرتے ہیں۔ میں کیسے ان کی نمازوں کو قبول کرلوں۔ جب کہ ان کے دل میرے دشمنوں سے محبت کرتے ہیں۔ اور میری حرام کی کوئی چیزوں کوحلال سمجھتے ہیں۔ میں اُن کے صدقات کو کیسے قبول کرلوں۔ جب کہ وہ لوگوں پر غصہ کرتے ہیں اور ناجائز طریقے ( سود) سے اس مال کو حاصل کرتے ہیں۔ اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) میں انھیں وہی بدلہ دیتا ہوں جس کے وہ لائق ہوتے ہیں۔ میں ان کی آہ وزاری پر کیسے رحم کروں۔ ان کے ہاتھ انبیاءکے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ میں ان سے سخت ناراض ہوں۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں 

اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ؛” اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) !میں نے آسمانوں اور زمین بنانے کے دن سے یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ جو میری عبادت کرے گا اور تم ماں بیٹا کے بارے میں وہی کہے گا جو میں کہتا ہوں( کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور ایک انسان ہیں) تو میں جنت میں اسے تیری پڑوسی ، درجات میں تیرا رفیق اور کرامت میں تیرا شریک بنا دوں گا۔اور میں نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دن ہی یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ جو تجھ کواور تیری والدہ طاہرہ مریم کو ( نعوذ باللہ ) خدا بنائے گا تو میں اسے دوزخ کے سب سے نچلے حصے میں پھینکوں گا۔ اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دن ہی میں نے یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ میں اس فرق کو اپنے بندے” محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم “کے ذریعے ثابت کروں گا“

انجیل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بشارت 

اس کے بعد آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ؛” میں اپنے اُس بندے” احمد صلی اللہ علیہ وسلم “پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم کر دوں گا۔ وہ” خاتم النبیّن “ہو گا۔ اس کی پیدائش کی جگہ مکہ¿ مکرمہ ہوگی۔ اور وہ مدینہ منورہ میں ہجرت فرمائے گا۔ اور ملک شام تک اس کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ وہ نہ بد خو ہو گا اور نہ ہی ترش رو ہوگا۔ اور نہ ہی بازاروں میں شور کرنے والا ہوگا۔ اور نہ ہی بری بات کو خوب صورت انداز میں بیان کرے گا۔ نہ کسی سے بدکلامی کرے گا میں ہر خوب صورت اور بہترین کام کی طرف اس کی راہنمائی کروں گا۔ اور اس کو بہترین اخلاق سے نوازوں گا۔ میں تقویٰ کو اس کا ضمیر بناﺅں گا۔ حکمت کو اس کی عقل بناﺅں گا۔ وفا کو اس کی طبیعت میں رکھوں گا۔ عدل کو اس کی سیرت بناﺅں گا۔ حق کو اس کی شریعت اور اسلام کو اس کا دین بناﺅں گا۔ اور اس کا نام” احمد صلی اللہ علیہ وسلم“ ہوگا۔ میں اس کے ذریعے گمراہی کے بعد ہدایت کو عام کردوں گا۔ جہالت کے بعد علم و مغفرت کو اس کے ذریعے پھیلاﺅں گا۔ اس کے ذریعے تنگدستی کے بعد فراخی اور غناءاور ذلت کے بعد بلندی عطا کروں گا۔ میں اس کے وسیلے سے لوگوں کو ہدایت دوں گا۔ اس کے ذریعے سے بہرے کانوں کو سنواﺅں گا اور غافل دلوں کو بیدار کر وں گا۔ اور ہوا و ہوس کی گندگی کو دور کروں گا۔“

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی بشارت اور خوبیاں 

اللہ تعالیٰ اس کے بعد آگے فرماتا ہے؛” میں اس کی اُمّت کو بہترین اُمت بناﺅں گا۔ جو نیکی کا حکم کرے گی۔ اور برائی سے روکے گی۔ اِس اُمت کے لوگوں کا عمل خالص میرے لئے ہوگا۔ وہ پہلے کے رسولوں اورنبیوں کی تعلیمات کی تصدیق کریں گے۔ میں انھیں الہام کروں گا کہ وہ اپنی مسجدوں میں اپنی مجلسوں میں اور اپنے گھروں میں میر ی تسبیح اور میری حمد کریں گے۔ وہ صرف میری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہو کر ، بیٹھ کر اور سجدہ اور رکوع کر کے میری عبادت کریں گے۔ میرے لئے صفیں باندھ کر لڑیں گے۔ اور لشکروں کی صورت میں قتال کریںگے۔ اُن کی قربانی خون بہانا ہو گی۔ ( پہلے کی امتوں کی قربانی یہ تھی کہ وہ اپنی قربانی ایک اونچی جگہ رکھ دیتے تھے جس کی قربانی قبول ہوتی تھی تو آسمان سے ایک آگ آکر اُس قربانی کو کھا جاتی تھی) اُن کی کتاب ( قرآن پاک) اُن کے سینوں میں ہوگی۔ اور ان کے دل نیکی سے معمور ہوں گے۔ راتوں کو راہب (عبادت کرنے والے ) ہوں گے۔ اور دن میں شیر ( اللہ کے لئے لڑنے والے) ہوں گے۔ یہ میرا فضل ہے۔ میں جسے چاہتا ہوں عطا کرتا ہوں۔ اور میں ”فضل عظیم“ کا مالک ہوں۔“

رسول اللہ ﷺ  کے آنے کی بشارت دی 

اللہ تعالیٰ نے سورہ الصف کی آیت نمبر6اور7میں فرمایا ؛ترجمہ” اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا؛ اے بنی اسرائیل !میں تمہاری طرف اللہ کا ( بھیجا ہوا) رسول ہوں۔ میں تو ریت کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ جو مجھ سے پہلے آئی ہے اور ( میں تم کو) بشارت دیتا ہوں۔ ایک رسو ل ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جو میرے بعد تشریف لائیں گے۔ اُن کا احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہو گا۔ پس جب وہ (احمد صلی اللہ علیہ وسلم) اُن کے پاس ( بنی اسرائیل یعنی مدینہ منورہ کے یہودیوں کے پاس) روشن نشانیاں لے کر آیا تو انھوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔ اور اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹے بہتان لگائے۔ حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جا رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ ( سورہ الصف آیت نمبر 6اور7) یہ انتہائی افسوس ناک بات ہے کہ ان بدبخت بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی جھٹلایا تھا۔ اور ان کے دشمن بن گئے تھے۔ یہاں تک کہ اُن کی اپنی سمجھ کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انتہائی دردناک موت سے ہمکنار کر وایا۔ یعنی صلیب پر چڑھوادیا۔ اسی پر بنی اسرائیل نے بس نہیں کیا اور ان بدبختوں نے جن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا تھا انھیں کی بات مان کر اس” آخری رسول احمدصلی اللہ علیہ وسلم “کا بے چینی سے انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لگ بھگ پونے چھ سو برس بعد” احمد صلی اللہ علیہ وسلم “تشریف لائے اور مدینہ منورہ ہجرت کر کے بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دی تو ان بدبختوں نے وہی روش اختیا ر کی جو حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے ساتھ کی تھی ۔ بنی اسرائیل نے قرآن پاک کو نعوذ باللہ جادو کہا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو صاف صاف پہچان لینے کے باوجود جھٹلایا اور دشمنی بھی کی۔ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر دو مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی ۔ ایک مرتبہ اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑا پتھر گرا کر مارنا چاہااور دوسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا۔ لیکن دونوں مرتبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بچا لیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”مگر جب عیسیٰ(علیہ السلام) نے اُن کا کفر محسوس کر لیا تو کہنے لگے ؛اﷲ تعالیٰ کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے؟حواریوں نے جواب دیا کہ ہم اﷲ تعالیٰ کی راہ کے مدد گار ہیں۔ہم اﷲ پر ایمان لائے اور آپ(علیہ السلام) گواہ رہیئے کہ ہم تابعدار ہیں۔اے ہمارے رب!ہم تیری اُتاری ہوئی وحی(انجیل)پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی ،پس تُو ہمیں گواہوں میں لکھ لے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 52اور 53)حضرت عیسیٰ علیہ السلام مسلسل بنی اسرائیل کو سمجھاتے رہے ۔ اُن کی برائیوں اور گمراہیوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت آپ علیہ السلام کو جھٹلاتی رہی۔ لیکن کچھ نیک اور سلیم الفطرت لوگ بھی بنی اسرائیل میں تھے۔ ان لوگوں نے آپ علیہ السلا م پر نہ صرف ایمان لائے بلکہ آپ علیہ السلام کی مدد بھی کی۔ ان میں آپ علیہ السلام کے بارہ حواری قابل ذکر ہیں۔ کیو نکہ یہ بارہ حواری ہر وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے نام پطرس ، یعقوب بن زبدی ، یعقوب کا بھائی یوحنا ، اندریاس ، فلپس ، ابر تلمائی، متیٰ ، توماس ، یعقوب بن حلفائی ، تدواس ، شمعون قانوی اور یہودا ہے۔

” المائدہ “(آسمانی دستر خوان) کا واقعہ

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا؛ترجمہ”اور جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام ) ، کیا آپ کا رب (اللہ تعالیٰ) ہم پر آسمان سے” المائدہ“ ( دستر خوان ) اتار سکتا ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔ گر تم مومن ہو تو اللہ سے ڈرو۔ ( اور ایسی عجیب فرمائش مت کرو) تو حواریوں نے کہا ؛ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ اس میں سے ہم کھائیں۔ اور ہمارے دلوں کو پورا اطمینان حاصل ہو جائے۔ اور ہمارا یہ یقین اور بڑھ جائے کہ آپ (علیہ السلام) نے سچ فرمایا ہے اور ہم گواہی دینے والوں میں سے ہو جائیں۔عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) نے دعا کی ۔ اے اللہ ، اے ہمارے پروردگار ، ہم پر آسمان سے” المائدہ“ ( کھانے کا دستر خوان ) نازل فرما۔ کہ وہ ہمارے لئے یعنی جو اول ہیں اور جو بعد میں ہیں سب کے لئے عید ہو جائے۔ اور تیری طرف سے ایک نشانی بن جائے۔ اور تو ہم کو رزق عطا فرما دے۔ اور تو سب سے بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں وہ کھانے کا دستر خوان تم پر نازل کرنے والا ہوں پھر تم میں جو بھی شخص کفر کرے گا۔ ( پلٹ جائے گا یا انکار کر دے گا) تو میں اس کو ایسی سزادوں گا کہ وہ سزا عالمین میںکسی کو نہیں ملی ہوگی۔“ ( سورہ المائدہ آیت نمبر112سے 114تک)

حواریوں کی المائدہ کی فرمائش

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو تیس دن روزے رکھنے کا حکم دیا۔ جب تیس روزے مکمل ہوئے تو حواریوں نے فرمائش کی کہ اُن کے لئے آسما ن سے دستر خوان اُترنا چاہیئے۔ کیونکہ وہ آسمانی خوان سے کھانا کھا کر وہ یہ اطمینان حاصل کرنا چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے روزے قبول کر لئے ہیں۔ اور ان کی دعاﺅں کو قبول کر لیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اُن کی یہ تمنا تھی کہ اس خوشی کے موقع پر وہ بہترین کھانا کھائیں۔ تا کہ اُن کی خوشی میں اضافہ ہو ۔ اور یہ بابرکت کھانا اول و آخر اور فقیر و غنی سب کے لئے کافی ہو۔ اور اُس روز عید منا کر اس دن کو اپنے لئے عید مقرر کر لیں۔بنی اسرائیل اپنے ہر نبی علیہ السلام سے عجیب عجیب فرمائشیں کرتے تھے۔حواریوں نے بھی عجیب سی فرمائش کی ۔اور اﷲ تعالیٰ کا قاعدہ ہے کہ جب وہ فرمائش پوری کرتا ہے تو اِس کے ساتھ کچھ شرائط بھی لاگو کر دیتا ہے۔بندہ اگر اُن شرائط پر پورا نہیں اُتر پاتا تو سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔اِسی لئے ہر نبی علیہ السلام نے اپنی اپنی اُمت کو سمجھایا کہ اﷲ تعالیٰ سے عجیب عجیب فرمائشیں نہ کیا کرو۔

 حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حواریوں کو سمجھایا 

حواریوں کی اس عجیب و غریب فرمائش پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے انھیں سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ سے ایسی فرمائش نہ کرو جس کی وجہ سے تم مصیبت میں آجاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔ اور رزق کی تلاش کرو۔ اور ایسے انوکھے سوالات نہ کرو کہ تم فتنے میں مبتلا ہو جاﺅ۔ اور تمہارے ایمان ڈگمگا جائیں۔ درا صل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ لوگ اُن شرائط کو پورا نہیں کر سکے جو” المائدہ “کے نازل ہونے کی تھیںاور اگر وہ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد پر قائم نہ رہ سکے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہ کر سکے تو بڑے سخت عذاب کے مستحق ہو جائیں گے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام اپنے حواریوں کو سمجھا رہے تھے لیکن وہ لوگ بار بار آپ علیہ السلام سے درخواست کر رہے تھے۔ اور ایسے وقت میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ بھی جمع ہو گئے تھے جنھوں نے آپ علیہ السلا م پر ایمان نہیں لایا تھا۔ ان میں وہ تمام علماءبھی تھے جو آپ علیہ السلام کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے تھے۔ بہر حال حواریوں کے باربار اصرار کرنے پر آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔

”المائدہ“ کا نزول 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ آپ علیہ السلام نے وضو کیا ۔ دو رکعت نماز پڑھی اور پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلا دیئے آپ علیہ السلام کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ روتے روتے دعا بھی کرتے جا رہے تھے۔ تمام حواری اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے دم بخود بیٹھے ہوئے تھے۔ اور تمام بنی اسرائیل اور ان کے علماءجنھوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا تھا وہ بھی منتظر تھے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ ادھر آپ علیہ السلام کی گریہ وزاری اور دعا جاری تھی۔ اچانک حواریوں کے منہ سے مسرت آمیز آواز نکلی۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ دو بادلوں کے درمیان سرخ دستر خوان دھیرے دھیرے نیچے آرہا تھا۔ تما م بنی اسرائیل کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے۔ اوروہ پلکیں جھپکائے بغیر اُس” المائدہ“ کو دیکھ رہے تھے۔ جو دھیرے دھیرے نیچے آرہا تھا۔ تمام حواری اور ایمان والے خوش ہو رہے تھے۔ اور آپ علیہ السلام بار بار دعا کر رہے تھے؛” اے اللہ تعالیٰ ! اس خوان کو رحمت بنانا اور اسکو غضب نہ بنانا۔“ دھیرے دھیرے وہ دستر خوان آپ علیہ السلام کے سامنے آکر رک گیا۔ حواریوں کو ایسی خوشبو آئی جیسی اس سے پہلے انھوں نے کبھی نہیں سونگھی تھی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلا م اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدے میں گر گئے۔اور آپ علیہ السلام کو جھٹلانے والے بنی اسرئیل اور علماءغیض و غضب میں جل بھن گئے۔

” المائدہ“ کا کھانا 

جب” المائدہ “نیچے آکر زمین پر ٹھہر گیا تو تمام حواریوں اور ایمان لانے والے اس سرخ دستر خوان کے گرد آکر بیٹھ گئے۔ یہ بہت بڑا تھال تھا اور سرخ کپڑے سے ڈھکا ہوا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛” تم میں سے جو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ عبادت گزار اور شکر گزار ہے وہ اس سرخ کپڑے کو ہٹائے۔“ حواریوں نے کہا؛” اے اللہ کے رسول علیہ السلام !آپ ہی اسے کھولنے کے لائق ہیں۔ “یہ سن کر آپ علیہ السلام نے دوبارہ وضو کیا۔ دو رکعت نماز پڑھی اور رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور اپنی قوم کے لئے برکت کی دعا مانگی۔ پھر” المائدہ“ کو کھولا اس میں ایک بہت بڑی بھنی ہوئے مچھلی تھی۔ جس میں کانٹے نہیں تھے۔ اوراس سے گھی بہہ رہا تھا۔ اور اس کے گرد ہر قسم کی پکی ہوئی سبزیاں رکھی ہوئی تھیں۔ اور نمک اور سرکہ بھی رکھا ہوا تھا۔ اور پانچ بڑی بڑی روٹیاں تھیں۔ ایک روٹی پر زیتون ، ایک پر کھجور ، ایک پر انار اور باقی دو پر اسی طرح پھل اور میوہ جات رکھے تھے۔

حواری کھانے سے محروم رہ گئے 

تمام کھانا دیکھ کر ایک حواری شمعون نے پوچھا؛ اے اللہ کے رسول علیہ السلام !یہ کھانا دنیا کے کھانوں میں سے ہے یا جنت کے کھانوں میں سے ہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛”یہ نہ تو دنیا کا کھاناہے اور نہ ہی جنت کا ہے۔ بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے آسمانوں اور زمین کے درمیان پیدا فرمایا ہے۔ “اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛” اب کھانا شروع کرو۔ “حواریوں نے کہا؛” آپ علیہ السلام کھانے کی شروعات کریں۔“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛”کھانا تم لوگوں نے منگوایا ہے اس لئے تم لوگ کھاﺅ۔“ لیکن حواری اصرار کرنے لگے کہ آپ علیہ السلام کھائیں۔ در اصل حواریوں کو یہ ڈر پیدا ہو گیا تھا کہ اس کھانے سے انھیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے تمام فقیروں اور بیماروں اور اپاہجوں کو بلایا۔ اور فرمایا۔ تم اللہ کے دیئے ہوئے رزق جو تمہارے رسول کی دعا سے آیا ہے اس میں سے بسم اللہ کر کے کھاﺅ۔ اور کھانے کے بعد الحمد للہ کہہ کر اللہ کا شکر ادا کرو۔ تم پر کوئی آفت نہیں آئے گی۔ یہ سن کر اُن ضرورت مندوں نے کھانا شروع کر دیا۔ اس” المائدہ “سے تیرہ سو 1300مردوں اور عورتوں نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ اس کے بعد بھی وہ کھا نا اتنا ہی رہا۔اور اسمیں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔ پھر وہ” المائدہ“ آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ جس فقیر نے وہ کھانا کھایا وہ امیر ہو گیا۔ جس اپاہج نے وہ کھانا کھایا ، وہ صحت مند ہو گیا۔ اور جس بیمار نے وہ کھانا کھایا ۔ اس کی بیماری ختم ہو گئی۔ یہ دیکھ کر حواری افسوس کرنے لگے۔ کیونکہ وہ اس کھانے سے محروم ر ہ گئے۔

تمام بنی اسرائیل کا” المائدہ “سے فائدہ اٹھانا 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری” المائدہ “سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ اس کا انھیں بہت افسوس تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ اُن پر مہربان تھا۔ اس لئے چند روز بعد پھر” المائدہ “نازل ہوا۔ اس بار حواریوں نے فائدہ اٹھایا۔ اور بنی اسرائیل کے لوگ بھی آگئے اور” المائدہ “میں سے کھانا کھایا۔ ہزاروں لوگوں نے اُس دن کھانا کھایا۔ پورا دن کھانے کا سلسلہ چلتا رہا۔ یہا ں تک کہ شام ہو نے لگی اور لوگ باقی تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛” انشاءاللہ” المائدہ “پھر نازل ہوگا اورآپ لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔“ اس کے بعد ایک دن چھوڑ کر” المائدہ“ نازل ہونے لگا۔ اور بنی اسرائیل کے جو لوگ آپ علیہ السلام کو جھٹلاتے تھے وہ بھی آکر” المائدہ “سے فائدہ اٹھانے لگے۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل کے علماءبھی آکر” المائدہ“ سے فائدہ اٹھانے لگے۔ اسطرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔ اور ہر مرتبہ ہزاروں لوگ ”المائدہ “سے کھانا کھاتے تھے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ جتنا کھانا ہو کھالیا کرنا دوسرے دن کے لئے نکال کر مت رکھنا۔ ورنہ ”المائدہ “کا نزول بند ہو جائے گا۔ پھر ایسا ہونے لگا کہ بنی اسرائیل کے علماءاور امراءیہاں بھی اپنی چلانے لگے۔ اور ضرورت مند رہ جاتے تھے۔اور علماءاور امیر لوگ کھانا کھا لیا کرتے تھے۔ 

” المائدہ “کا نزول بند ہوجانا 

جب بنی اسرائیل کے علماءاورامیر لوگ اپنا پیٹ بھر نے لگے اور ضرورت مند محروم رہنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب ”المائدہ “سے صرف ضرورت مند اور مستحق لوگ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اعلان کر دیا کہ” المائدہ “صرف ضرورت مند اور مستحق لوگوں کے لئے ہے۔ اور امیروں کے لئے نہیں ہے۔ اور بنی اسرائیل کا ہر عالم بہت امیر تھا۔ اس طرح علماءاورامراءکے لئے” المائدہ“ کا کھانا بند ہو گیا۔ وہ لوگ تو پہلے ہی سے آپ علیہ السلام کے دشمن تھے۔” المائدہ “کی پابندی کے بعد تو یہ لوگ آپ علیہ السلام کی دشمنی میںکھل کر سامنے آگئے۔ اور بنی اسرائیل کے علماءاور امراءنے عوام میں ”المائدہ “کے متعلق شک وشبہ پھیلانے لگے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ آپ علیہ السلام ہمیں” المائدہ “کے نزول کے متعلق مطمئن کریں کیوں کہ بہت لوگ ا س میںشک کرتے ہیں۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا نہیں ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا؛” اللہ کی قسم! اگر تم لوگ ”المائدہ“ کے نزول میں شک کرو گے تو ہلاک ہو جاﺅ گے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ میں نے اسی شرط پر” المائدہ“ نازل کیا تھا کہ جو اس کے بعد کفر کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ دنیا میں کسی کو ایسا عذاب نہیں دیا ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛” اے اللہ تعالیٰ! اگر تُو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تُو ان کی بخش دے تو تُو ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ “”المائدہ “نازل ہونے کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ جتنا کھا سکو کھا لو۔ کل کے لئے بچا کر نہ رکھنا۔ بنی اسرائیل کے علماءاور امراءنے ضرورت مندوں اور مستحق لوگوں کو بہکانا شروع کیا اور وہ لوگ بہکاوے میں آکر دوسرے دن کے لئے چھپا کر رکھنے لگے۔ کیوں کہ” المائدہ“ ایک دن نازل ہوتا تھا اور ایک دن نازل نہیں ہوتا تھا۔ جب بنی اسرائیل کے لوگ آپ علیہ السلام کے حکم کی نافرمانی کر نے لگے تو اللہ تعالیٰ نے” المائدہ “کا نزول بند کر دیا۔

٭ عام بنی اسرائیل کو علماءکے فریب سے خبردار کرنا 

بنی اسرائیل کے علماءنے عام بنی اسرائیل کو بہت بری طرح گمراہ کر رکھا تھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام عام بنی اسرائیل کو سمجھاتے تھے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا”یہ فقیہہ اور مفتی اور علماءحضرت موسیٰ علیہ السلام کی گدی پر بیٹھے ہیں پس جو کچھ وہ تم کو بتائیں وہ کرو۔ لیکن جو کام وہ کرتے ہیں تم وہ مت کرو۔ کیوں کہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں ہیں۔ وہ ایسے بھاری بوجھ تم لوگوں پر ڈال دیتے ہیں۔ جس کا اٹھانا بہت مشکل ہے۔ مگر خود اسے اٹھانے کے لئے انگلی بھی نہیں ہلانا چاہتے ۔ وہ سب کام لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں۔ اپنے تعویذ بڑے بناتے ہیں،اپنی پوشاک چوڑی رکھتے ہیں اور دعوتوں میں صدر نشینی کرتے ہیں۔ اور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ کی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں۔ بازاروں میں تم سے سلام کرواتے ہیں اور اپنے آپ کو ربّی کہلوانا پسند کرتے ہیں۔“

حضرت عیسیٰ علیہ السلام علماءکی ریا کاریوں پر ٹوکتے تھے 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ریا کار اور فریبی علماءکو بھی سمجھاتے تھے اور ان کی چالبازیوں اور مکر و فریب پر ٹوکتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کے جو حکم توریت میں تھے اُن پر چلنے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ علیہ السلا م فرماتے تھے؛” اے یاکار فقیہو اور علماء!تم پر افسوس ہے کہ تم آسمان کی بادشاہت لوگوں پر بند کرتے ہو۔ ( یعنی توریت میں جو اللہ تعالیٰ نے احکامات دیئے ہیں وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہو۔) نہ خود داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو اور علمائ! تم پر افسوس ہے کہ ایک مُرید کرنے کے لئے بحر و بر کا دورہ کرتے ہو۔ اور جب وہ تمہارا مرید بن جاتا ہے تو اسے دوگنا دوزخ کا حقدار بنادیتے ہو۔ اے ریا کار فقیہواورعلمائ!اے اندھے راستے بتانے والو!تم مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔ تم پر افسوس ہے۔ تم سفیدی پھیری ہوئی کی قبروں کی طرح ہوجو اوپر سے خوبصورت دکھائی دیتی ہے مگر اندر سے مردوں کی ہڈیاں اور نجاست بھری ہوئی ہوتی ہے۔ تم لوگ بھی اسی طرح لوگوں کو نیک دکھائی دیتے ہو۔ مگر اندر سے تم میں مکاری ، ریاکاری اور بے دینی بھری ہوئی ہے۔“ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف بنی اسرائیل کے علماءکی سازش

بنی اسرائیل کے علماءاور فقیہ پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف تھے۔کیوں کہ آپ علیہ السلام کی تعلیمات کی وجہ سے علماءاور فیقہوں کو اپنی دکان بند ہوتی نظر آرہی تھی۔ اور جب آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی عوام کو علماءکی چالبازیوں اور فریب کاریوں کے بارے میں بتانا شروع کیا تو بنی اسرائیل کے تمام علماءنے آپ علیہ السلام کے خلاف منصوبہ بند ی شروع کر دی۔ وہ اپنے دوغلے کردار کے بے نقاب ہونے اور مکاریوں پرپڑے پردے کو اٹھتے ہوئے کیسے برداشت کر سکتے تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل کے تمام علماءآپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح آپ علیہ السلام کو خاموش کریں۔ اس وقت بنی اسرائیل پر رومی قابض تھے۔ بنی اسرائیل کے علماءنے اپنے شاگردوں کے ساتھ رومی خفیہ پولس کو یہ کہہ کر آپ علیہ السلام کے پاس بھیجا کہ آپ علیہ السلام عوام کو رومی حکومت کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ انھوں نے آپ علیہ السلام کے پاس پہنچ کر پوچھا۔اے استاد، ہم جانتے ہیں کہ آپ سچے ہیں اور سچائی سے اللہ کی راہ کی تعلیم دیتے ہیں اور کسی کی پرواہ نہیں کرتے ۔ ہمیں بتائیے کیا قیصر ( سلطنت ِ روم کا بادشاہ کا لقب) کو جزیہ دینا جائز ہے؟ آپ علیہ السلام اُن کی شرارت فوراً سمجھ گئے اور فرمایا؛” اے مکارو!مجھے کیوں آزماتے ہو؟جزیہ کا سکہ مجھے دکھاﺅ انھوں نے سکہ دیا تو آپ علیہ السلام نے پوچھا ۔ اس سونے کے سکے پر صورت اور نام کس کا ہے ۔انھوں نے جواب دیا قیصر کا۔ اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛” جو قیصر کا ہے وہ قیصر کو دے دو۔ اور جو اللہ کا ہے وہ اللہ کو ادا کردو۔“ یعنی قیصر کا نام اور صورت اسے واپس کر دو۔ اور سونا اللہ کے راستے میں خرچ کردو۔ اس طر ح بنی اسرائیل کے علماءکا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

بنی اسرائیل کا مکر اور اﷲ کی تدبیر

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اور کافروں نے مکر کیا اور اﷲ تعالیٰ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔اور اﷲ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔جب اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ(علیہ السلام)!میں تجھے پورا لینے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اُٹھانے والا ہوں۔اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر قیامت کے دن تک رکھنے والا ہوں۔پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے۔میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 54اور55)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا کہ بنی اسرائیل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف خفیہ سازش کی اور آپ علیہ السلام کو شہید کرنے کی بھر پور کوشش کی۔اور اپنی دانست میں اپنی کوشش میں کامیاب بھی ہو گئے اور آپ علیہ السلام کواپنی سمجھ کے مطابق(نعوذباﷲ)صلیب پر چڑھا کر درد ناک موت سے بھی ہمکنار کر دیا۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے اپنی خفیہ تدبیر سے آپ علیہ السلام کو بچا لیا اور آسمان میں اُٹھا لیا۔بنی اسرائیل کی اِس خفیہ سازش کی خبر اﷲ تعالیٰ نے پہلے ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دے دی تھی کہ یہ لوگ ایسا کریں گے اور میں تمہیں اپنی طرف اُٹھا لوں گا۔اور تمہارے تابعداروں کو اِن بنی اسرائیل پر حاوی کر دوں گا۔اِن آیات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر اُٹھاے جانے کا ذکر ہے ۔اور متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ قیامت کے قریب آپ علیہ السلام کا آسمان سے دوبارہ نزول ہوگا۔اِس سلسلے کی چند احادیث انشاءاﷲ ہم آگے پیش کریں گے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی گرفتاری کی خبر دے دی تھی

بنی اسرائیل کے علماءاور امراءکا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو انھوں نے رومی حکمرا ں پیلاطس کو آپ علیہ السلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ وہ لوگ لگا تار اس کے کان بھرتے رہے۔ آخر کار رومی حکمراں نے آپ علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔ اب تمام بنی اسرائیل ( یہود ) آپ علیہ السلام کی تلاش میں نکل پڑے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی مستقل گھر نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام پورے کنعان میں ( حالیہ فلسطین ، شام اور لبنان) میں آباد بنی اسرائیل میں گھوم گھوم کر تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ صرف آپ علیہ السلام کے حواریوں کو معلوم رہتا تھا کہ آپ علیہ السلام سے کہاں ملاقات ہوگی۔ جب تمام یہودی ( بنی اسرائیل) آپ علیہ السلام کو تلاش کرنے لگے ۔ا س وقت آپ علیہ السلام اپنے بارہ حواریوں کے ساتھ ایک جگہ چھپے ہوئے تھے۔ آپ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا؛” چرواہے کو لے جایا جائے گا۔ اور بھیڑیں منتشر ہو جائیں گی ، “حواری بات کا کچھ مطلب نہیں سمجھ سکے ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”یہ بات سچ ہے کہ تم میں سے ایک شخص مرغ کی اذان سے پہلے تین بار میرا انکار کر ے گا۔ اور تم میں سے ایک شخص صبح ہونے سے پہلے تھوڑی سی رقم کے عوض مجھے بیچ دے گا اور میری قیمت لے کر کھالے گا۔ اب تم جاﺅ اور ہوشیار رہنا ۔“

حواری کی غداری سے آپ علیہ السلام کی گرفتاری

تمام حواری باہر نکلے اور چھپتے چھپاتے اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہوئے۔ کیوں کہ رات کے اندھیرے میں بھی بنی اسرائیل رومی پولس کے ساتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تلاش کر رہے تھے اور یہ ہر جگہ موجود تھے۔ شمعون چھپتا چھپاتا جا رہا تھا کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ نے اسے پکڑ لیا اور کہا ؛تُوحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے ایک ہے۔ شمعون نے انکار کر دیا۔ اور کہا میں اُن کا ساتھی نہیں ہوں اس گروہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ کچھ ہی آگے گیا تھا کہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے دوسرے گروہ نے پکڑ لیا۔ وہاں بھی اس نے آپ علیہ السلام کا انکار کر کے جان بچائی۔ کچھ ہی آگے بڑھا تو تیسرے گروہ نے پکڑ لیا۔ ان لوگوں کے سامنے بھی شمعون نے آپ علیہ السلام کا انکار کر کے جان بچائی۔ آگے بڑھا تو مرغ کی اذان دینے کی آواز آئی۔ یہ سن کر وہ رونے لگے۔ صبح ہونے سے پہلے ہی یہوداہ نام کا حواری بنی اسرائیل کی پکڑ میں آگیا ۔ انھوں نے کہا؛یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ساتھی ہے۔ اسے ضرور اُن کا پتہ معلوم ہوگا۔ اور اسے دھمکی دی کہ اگر تو پتہ نہیں بتائے گا تو تجھے جان سے مار دیں گے۔ اس نے کہا اگر میں پتہ بتاﺅں تو مجھے کیا ملے گا۔ یہودیوں نے کہا ہم تمہیں تیس درہم دیں گے۔تو اس نے تیس درہم لئے اور آپ علیہ السلام کا پتہ بتا دیا۔ بنی اسرائیل نے اپنے تمام ساتھیوں کو خبر کی اور تمام بنی اسرائیل ( یہودیوں ) نے اس مکان کو گھیر لیا۔ جس میں آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے۔

رومی دربار میں آپ علیہ السلام کی پیشی 

بنی اسرائیل نے رومی پولس کے ساتھ اس مکان کا محاصر ہ کر لیا جس میں آپ علیہ السلام عبادت میں مصروف تھے۔ دروازہ توڑ کر وہ لوگ اندر داخل ہوئے ۔اور آپ علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے چلے۔ اور رومی حکمراں پیلاطس ( پوئنیش پائلٹ ) کے دربار میں پیش کیا۔ اور بنی اسرائیل کے علماءنے آپ علیہ السلام پر الزام لگانا شروع کیا۔ کہ یہ تمام بنی اسرائیل کو رومی حکومت کے خلاف بھڑکاتا ہے۔ اور قیصر کو خراج دینے سے منع کرتا ہے۔ اور اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتا ہے۔ وہ بد بخت لوگ آپ علیہ السلام پر الزام لگا رہے ہو۔اور آپ علیہ السلام خاموش کھڑے تھے۔ پیلاطس نے کہا ۔ تم لوگ اس معصوم شخص پر الزام لگا رہے ہو۔ کیا تمہارے پاس کوئی گواہ اس کے خلاف ہے؟ کچھ دیر کے لئے تمام بنی اسرائیل پر سکتہ چھا گیا۔ پھر علماءنے کہا ۔ ہم کل تک ضرور گواہ پیش کر دیں گے۔ تب تک آپ اسے قید خانے میں رکھیں۔ پیلاطس نے کہا میں تو اس شخص کو بے قصور پاتا ہوں ۔لیکن بنی اسرائیل بار بار اصرار کرتے ہیں اور آخر کار پیلاطس نے آپ علیہ السلام کو قید خانے میں ڈالنے کا حکم دے دیا۔ 

بنی اسرائیل کا اصرار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سزائے موت 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام قید خانے میں تھے۔ اسی دوران رومیوں کا تہوار آگیا۔ اور جشن منایا گیا ۔اس جشن مین تمام بنی اسرائےل بھی شرےک تھے۔ اس جشن میں رومی حکمراں پیلاطس نے اعلان کیا۔ اے بنی اسرائےل تمھاری قوم کے دو شخص ہماری قید میں ہیں ایک تو ”بر ابّا “ڈاکو ہے ۔جس نے سو( 100)سے ذیادہ لوگوں کا قتل کیا ہے۔ اور دوسرے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام )ہیں ۔آج خوشی کا دن ہے ۔اسلئے میں تمھاری خاطر ان دو لوگوں میں سے ایک کو آزاد کروں گا۔ تم کہو میں کسے آزاد کروں؟ تمام بنی اسرائےل نے ایک ساتھ پکار کر کہا۔بر ابّا کو چھوڑدو۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی پر لٹکا دو۔ بلکہ اسے تڑپا تڑپا کر مارو اور صلیب پر چڑھا دو۔ سب مل کر چلاتے رہے اوراصرار کر تے رہے ۔آخر کار پیلاطس نے علیہ السلام کو صلیب پرچڑھانے کا حکم دے دیا۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اٹھالیا 

پیلاطس کے حکم کے مطابق جب پیلاطس کے سپاہی آپ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھانے کے لئے لینے آئے ۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اٹھالیا۔ اور آپ علیہ السلام کی شکل کا دوسرے آدمی کو بنادیا۔ اور اسی ہم شکل کو بنی اسرائےل اور رومیوںنے صلیب پر چڑھا دیا۔ اس ہم شکل کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام کے جس حواری نے آپ علیہ السلام کو بیچا تھا۔ اسی کو آپ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا گیا۔ کچھ روایات میں ہے کہ ایک حواری نے خود اپنے آپ کو پیش کیا تھا۔ اور کچھ روایات میں ایسا ہے کہ بنی اسرائےل کے علماءکا بڑا آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے کے لئے آیا ۔تو اسے ہی آپ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا گیا۔ اور رومی سپاہی اسے ہی پکڑ کر لے گئے۔ وہ چیختا چلاتا رہا کہ میں فلاں ہوں۔ مگر کسی نے اسکی بات نہیں مانی اور صلیب پر چڑھا دیا۔ یہ کچھ روایات ہیں ۔اب حقیقت کیا ہے ؟اسکا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ بہر حال ایک بات تو قرآن پاک سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو محفوظ اللہ تعالیٰ نے اٹھالیا۔ اور آپ علیہ السلام اللہ کی حفاظت میں ہیں۔ اور بد بخت یہود (بنی اسرائےل) آپ علیہ السلا م کو قتل نہیں کرسکے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اُٹھائے جانے کا واقعہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں(بنی اسرائیل ) نے اپنی سمجھ کے مطابق بہت ہی درد ناک موت دینے کی کوشش کی،لیکن اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بچا لیا۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر تشریف لے جانے کے واقعہ میں مفسرین کا قدرے اختلاف ہے۔ہم اِن میں سے قوی روایت تفسیر خازن و روح المعانی و روح البیان وغیرہ سے نقل کرتے ہیں۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں تبلیغ فرمائی تو انہوں نے آپ علیہ السلام کے مقابلہ سے عاجز ہو کر آپ علیہ السلام کی شان میں بکواس کرنا،آپ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ پر تہمت لگانا اور آپ علیہ السلام کو ایذادینا شروع کردی۔ایک دن آپ علیہ السلام شہر میں گشت لگا رہے تھے کہ شہر کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کو بہت پریشان کیا ۔تب آپ علیہ السلام نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کی کہ مولیٰ اب صبر کا پیالہ بھر چکا ہے ۔اب سب کو سور بنا دے ۔آپ علیہ السلام کے منہ سے یہ نکلنا تھا کہ وہ سب سور ہو گئے۔لوگوں پر اِس واقعہ سے ہیبت طاری ہو گئی ۔کسی نے بادشاہ وقت یہود کو خبر دی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے ”مقبول الدعا“ہیں کہ انہوں نے اتنی جماعت کو سور بنا دیا۔تُو بھی اُن کا مخالف ہے ،اپنی خیر منا۔کبھی اُن کی بد دعا سے تیرا بھی یہی حال ہونا ہے ۔اُس نے کہا کیا کیا جائے ۔ایسے مقبول ِ بارگاہ کے مقابلہ میں کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی ۔وہ بولا کہ انہیں کسی حیلہ سے شہید کردیا جائے تاکہ اُن کی بد دعا کا اندیشہ جاتا رہے۔چنانچہ ایک شخص طفیانوس کو اِس کام کے لئے منتخب کیا گیا۔طفیانوس ایک منافق آدمی تھا جو بظاہر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت کا دم بھرتا تھا اور در پردہ یہود سے ملا ہوا تھا۔جب یہ واقعہ ہونے والا تھا ،تب ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں سے فرما دیا تھا کہ آج صبح سے پہلے ایک شخص مجھے چند درہم کے عوض فروخت کر دے گا۔ہمیشہ ہی سے پھولوں کے ساتھ کانٹے بھی رہتے ہیں۔اور ”مخلصین“کے ساتھ ”منا فقین“بھی رہتے ہیں۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ بھی ایسے ہی مار آستین دوست نما دشمن تھے۔وہ حضرات اِن منافقین کو پہچانتے تھے ۔مگر چشم پوشی سے کام لیتے تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فرمان سے معلوم ہو رہا ہے۔چنانچہ طفیانوس کو یہود کی طرف سے تیس درہم یعنی ساڑھے سات روپے دینے کا وعدہ کیا گیا۔اِس شرط پر کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اچانک شہید کر دے یا کرادے ۔چنانچہ طفیا نوس جماعت یہود کو اپنے ساتھ لیکر اندھیری رات میں آپ علیہ السلام کی قیام گاہ پر گیا ۔اُن سب کو اُس گھر کے آس پاس کھڑا کر کے خود اندر داخل ہوا ۔کیا دیکھتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اچانک کھڑکی کے ذریعہ اس حجرہ سے نکل کر آسمان پرتشریف لے گئے۔یہ حیران رہ گیا ۔باہر کے یہودی سمجھے کہ شاید طفیانوس حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جنگ کر رہا ہے۔اِس لئے واپسی میں دیر ہوئی ۔رب تعالیٰ نے طفیانوس کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا ۔اب باہر آیا ۔اُس کے نکلتے ہی اُن یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے شبہ میں پکڑ لیا ۔یہ لاکھ چیخا چلایا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں ۔حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو قتل کرنے گیا تھا ۔مگر کسی نے ایک نہ سنی ۔بولے کہ اے عیسیٰ !تُو نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ۔اب ہمیں دھوکہ دینا چاہتا ہے۔یہ کہہ کر اسے سولی پر چڑھا دیا ۔آج بھی عیسائی اِس وہم میں مبتلا ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پرسولی دے دی گئی اور پھر انہیں دوبارہ زندہ کر کے آسمان پر پہنچا دیا گیا۔اِس لئے سارے عیسائی صلیب کو پوجتے ہیںاور اس سولی کو اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ طفیانوس کو سولی دی گئی نہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام محفوظ اُٹھا لئے گئے

اﷲ تعالیٰ نے سورہ النساءمیں فرمایا؛ترجمہ”اور اُن کے کفر کے باعث اور مریم(رضی اﷲ عنہا) پر بہت بڑا بہتان باندھنے کے باعث۔اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اﷲ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام)کو قتل کر دیا۔حالانکہ نہ تو انہوں نے اُسے قتل کیا ،نہ سولی پر چڑھایا۔بلکہ اُن کے لئے وہی صورت بنا دی گئی تھی۔یقین جانو کہ عیسیٰ(علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے اُن کے بارے میں شک میں ہیں۔انہیں اِس کا کوئی یقین نہیں،سوائے تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے۔اتنا یقینی ہے کہ وہ انہیں (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو)قتل نہیں کر سکے۔بلکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اُٹھا لیااور اﷲ بڑا زبردست اور پوری حکمتوں والا ہے۔اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہیں بچے گا ،جو عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے اُن پر ایمان نہ لا چکے۔اور قیامت کے دن آپ (علیہ السلام) اُن پر گواہ ہوں گے۔“(سورہ النساءآیت نمبر 156سے159)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ بنی اسرائیل (یہود)حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو شہید نہیں کر سکے ہیں ،بلکہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں محفوظ اُٹھا لیا ہے۔اُن کے دھوکے میں یہودیوں نے کسی اور کو صلیب پرچڑھا دیا ہے۔

بنی اسرائیل(یہود) انبیاءعلیہم السلام کے قاتل

اﷲ تعالیٰ نے سورہ النساءکی آیت نمبر 157میں بتایا کہ بنی اسرائیل یعنی یہود کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باﷲ ) قتل کردیا ہے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔یعنی جرا¿ت مجرمانہ اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ ”رسول“کو ”رسول“جانتے تھے اور پھر اُن کے قتل کا اقدام کیا اور فخریہ کہا کہ ہم نے اﷲ کے رسول علیہ السلام کو قتل کیا ہے۔اُوپر ہم نے گہوارے کے واقعہ کا جو حوالہ دیا ہے ،اُس پر غور کرنے سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یہودیوں کے لئے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کی نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی ۔پھر جو روشن نشانیاں انہوں نے آپ علیہ السلام سے مشاہدہ کیں(جن کا ذکر سورہ آل عمران رکوع نمبر 5 میں گزر چکا ہے )ان کے بعد تو یہ معاملہ بالکل ہی غیر مشتبہ ہو چکا تھا کہ آپ علیہ السلام اﷲ کے رسول ہیں۔اِس لئے واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ آپ علیہ السلام کے ساتھ کیاوہ غلط فہمی کی بنا پر نہیں تھا۔بلکہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہم اِس جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں اُس شخص کے ساتھ کر رہے ہیں جو اﷲ کی طرف سے رسول بن کر آئے ہیں۔بظاہر یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی قوم کسی شخص کو نبی جانتے اور مانتے ہوئے اُسے قتل کر دے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کے اندازو اطوار ہوتے ہی کچھ عجیب ہیں۔وہ اپنے درمیان کسی ایسے شخص کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتیں جو اُن کی برائیوں پر انہیں ٹوکے اور ناجائز کاموں سے اُن کو روکے۔ایسے لوگ چاہے نبی ہی کیوں نہ ہوں،ہمیشہ بد کردار قوموں میں قید اور قتل کی سزا پاتے رہیں گے۔تلمود میں لکھا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المقدس فتح کیا تو وہ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوا اور اُس کی سیر کرنے لگا۔عین قربان گاہ کے سامنے ایک جگہ دیوار پر اُسے ایک تیر کا نشان نظر آیا۔اُس نے یہودیوں سے پوچھا کہ یہ نشان کیسا ہے؟انہوں نے جواب دیا کہ ”یہاں زکریا علیہ السلام نبی کو ہم نے قتل کیا تھا ،وہ ہماری برائیوں پر ہمیں ملامت کرتا تھا۔آخر جب ہم اُس کی ملامتوں سے تنگ آگئے تو ہم نے اُسے مار ڈالا۔“بائیبل میں یرمیاہ(ارمیاہ) نبی کے متعلق لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی بد اخلاقیاں حد سے گذر گئیں اور حضرت یرمیاہ(ارمیاہ ) علیہ السلام نے اُن کا متنبہ کیا کہ اِن اعمال کی پاداش میں اﷲ تعالیٰ تم کو دوسری قوموں سے پامال کرا دے گا تو اُن پر الزام لگایا گیا کہ یہ شخص کسدیوں(کلدانیوں) سے ملا ہوا ہے اور قوم کا غدار ہے۔اِس الزام میں اُن کو جیل بھیج دیا گیا۔خود حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے ”واقعہ¿ صلیب“سے دو ڈھائی سال پہلے ہی حضرت یحییٰ علیہ السلام کا معاملہ پیش آچکا تھا ۔یہودی بالعموم اُن کو نبی مانتے تھے اور کم از کم یہ تو مانتے ہی تھے کہ وہ اُن کی قوم کے صالح ترین لوگوں میں سے ہیں۔مگر جب انہوں نے(حضرت یحییٰ علیہ السلام نے) ہیرودیس (سلطنت ِ یہودیہ کا بادشاہ) کے دربار کی برائیوں پر تنقید کی تو اسے برداشت نہیں کیا گیا ۔پہلے جیل بھیج دیئے گئے اور پھر بادشاہ کی معشوقہ کے مطالبے پر اُن کا سر قلم کردیا گیا۔یہودیوں کے اِس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے زعم میں حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو سُولی پر چڑھانے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا ہو”ہم نے اﷲ کے رسول کو قتل کیا ہے۔“

بنی اسرائیل دو مرتبہ فساد کریں گے

اﷲ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا؛ترجمہ”ہم نے بنی اسرائیل کے لئے اُن کی کتاب میں صاف فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو بار فساد کرو گے اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کرو گے۔اِن دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے بندے بھیج دیئے،جو بڑے لڑاکے تھے۔پس وہ تمہارے گھروں کے اندر تک پھیل گئے اور اﷲ کا یہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔پھر ہم نے اُن پر تمہارا غلبہ دے کر تمہارے دن پھیرے اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں بڑے جتھے والا بنایا۔اگر تم نے اچھے کام کئے تو خود اپنے ہی فائدے کے لئے اور اگر تم نے برائیاں کیں تو اپنے ہی لئے۔پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا (تو ہم نے دوسرے بندوں کو بھیج دیا تاکہ)وہ تمہارے چہرے بگاڑیں اور پہلی دفعہ کی طرح مسجد میں گھس جائیںاور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اُکھاڑ دیں۔(سورہ بنی اسرائیل یا سورہ اسراءآیت نمبر 4سے7تک)اِن آیات میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا کہ بنی اسرائیل زمین پر دو بہت بڑے فساد کریں گے اور انہوں نے کیا بھی۔اِس دنیا میں سب سے بڑا فساد ایمان لانے کے بعدشرک کرنا ہے۔وہ بنی اسرائیل نے کیا،اور اُس سے بھی بڑا فساد انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل ہے ،اور وہ بھی بنی اسرائیل نے کیا۔جس کی وجہ سے اُن پر اﷲ کا غضب نازل ہوا اور وہ بری طرح رسوا ہوئے۔پہلا غضب حضرت شعیا علیہ السلام کے ناحق قتل کے بعد نازل ہوا اور دوسرا غضب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر چڑھائے جانے کے بعد نازل ہوا۔انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل اتنا بڑا”جرم عظیم “ہے اور وہ بھی پانچ سب سے بڑے رسولوں میں سے ایک رسول کا۔اور اِس کی سزا میں بنی اسرائیل کااتنی بری طرح قتل عام ہوا اور یہ حال ہوا کہ اُنہیںاپنی جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں بھاگنا پڑا ،اور وہ اپنی جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں بکھر گئے۔لگ بھگ دوہزار سال تک وہ پوری دنیا میں بھٹکتے رہے ،اور عیسائی اُن پر شدیدظلم کرتے رہے۔بعد میں بنی اسرائیل نے عیسائیوں میں فرقے پیدا کر کے ایک فرقے سے دوستی کر لی ،اور اُسی کے بل پر فلسطین میں اسرائیل ملک بنایا۔

بنی اسرائیل کے دوفساد اور سزا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل نے اپنی سمجھ کے مطابق صلیب پر چڑھا دیا تھا اور یہ اتنا بڑا فساد تھا کہ اِس کی بہت بڑی سزا انہیں ملی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔آج موجودہ بائیبل کی کتاب ارمیاہ ،یسعیاہ،زبور،احبار اور حزقی ایل کی سطروں میں تمام باتیں لکھی ہوئی ہیں۔جن کا ذکر قرآن پاک کی اِن آیات میں کیا گیا ہے ۔یہ غیبی اور مکتوبی خبر مکہ¿ مکرمہ کی سرزمین میں ایک اُمی لقبی صلی اﷲ علیہ وسلم شخص کی زبانی سننا اِس بات کا عظیم ثبوت ہے کہ یہ قرآن پاک ”کلام الہٰی “ہے۔اِسی لئے جب یہ آیات نال ہوئیں اور یہود و نصاریٰ نے سنیں تو بہت سے اسرائیلی مسلمان ہو گئے۔توریت میں لکھا ہے کہ اے بنی اسرائیل !تم آنے والے زمانوں میں دو مرتبہ بہت سخت فساد زمین ِ علاقہ میں مچاو¿ گے اور ہر طرح بہت سے انبیاءاور اولیاء کے سمجھانے کے باوجود بہت بڑا غرور ،تکبر، گھمنڈ ،سرکشی اور نافرمانی کرو گے۔اور اِس کی سزا میں اﷲ کی طرف سے تم پر زمینی عذاب و سزا اور ذلت آئے گی۔

بنی اسرائیل کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو انکار

بنی اسرائیل (یہود)اتنی بد بخت قوم ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو پانچ بڑے رسولوں میں ہیں۔انہیں بھی صاف انکار کردیا اور اپن کی نافرمانی کی۔مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہواتھا کہ جب برادران یوسف علیہ السلام نے اپنے آبائی وطن فلسطین کو ہمیشہ کے لئے مکمل طور پر چھوڑ کر ملک مصر میں سلطنت و حکومت کے ذریعے رہائش اختیار کی۔اور نیکیوں اور عبادتوں کی وجہ سے اُن کو ہزاروں سال تک بہت عزت و نعمت کی حیات طیبہ عطا ہوئی ۔پھر اُن میں گمراہی ،گناہ ،فسق و فجور ،بے غیرتی ،ظلم ،فرقے بازی اور بد کاری کی بیماریاں عام ہوئیں تو اُن پر فرعون کومسلط کیا گیا۔جس نے تقریباً تین سو سال تک بنی اسرائیل کو سخت ذلیل کئے رکھا۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکالاتو اﷲ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ جاو¿ اپنے رب کے حکم سے اپنے آبائی علاقے فلسطین کو بذریعہ جہاد قوم جالوت سے پاک کرو اور فتح کر کے اُس میں سے کفرو شرک کو نکال کر شمع ِ توحید اور ہدایت ِ نبوت سے بقیعہ ¿ نور بنا دو۔قوم جالوت بہت دراز قد اور شہ زور تھی ،اُس کے پانچ گروہ تھے(1) قوم حِطی (2) فریذی (3) فُلُسطی (4) کنعانی (5) حموری یبوسی ۔سرداران بنی اسرائیل نے کچھ جاسوس اُن کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجے ۔جنہوں نے واپس آکر اُن کی شہزوری کا تذکرہ کیا تو بنی اسرائیل بزدل ہو گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم ِ جہادکو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اے موسیٰ !تم اور تمہارا رب اُن سے جا کر لڑو ،ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔

بنی اسرائیل کفر و شرک میں مبتلا

بنی اسرائیل نے اﷲتعالیٰ اور اُس کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حکم کو ٹھکرا دیا تو اﷲ تعالیٰ نےانہیں چالیس سال تک صحراءمیں بھٹکنے کی سزا دی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔تب اُن کو مقام تیہ میں چالیس سال تک قید کیا گیا۔ پھر جب چالیس سال بعد من و سلویٰ سے اُکتا کر انہوں نے سبزیاں اور دالیں مانگیں تو ان کو مصر اور فلطین جانے کی اجازت ملی۔لیکن امیری اور دولت ،کھیتی ،باغات کی فروانی کی بنا پر قوم بنی اسرائیل پھر سرکش،بے غیرت ،ظالم اور نافرمان ہو گئی اور بجائے دوسرے کافروں کو درست کرنے اور مومن بنانے کے خود بھی کافروں کی طرح مشرک بننے لگے۔اور مشرک قوم کے مخصوص اور بڑے دیوتا اُبل بُت اور بعل کی پرستش کرنے اور اُن پر قربانیاں چڑھانے لگے۔بعل ایک پانچ سروں والا بت تھا۔جس کی پوجا وہاں کا بادشاہ بُک کیا کرتا تھا ۔اِسی لئے اس شہر کانام بعلبک ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل کیا

بنی اسرائیل اپنی بد بختی میں اتنے آگے بڑھ گئے تھے کہ وہ اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کرنے لگے ۔جبکہ وہ انبیائے کرام علیہم السلام اُن کی دنیا اور آخرت کی بھلائی اور کامیابی چاہتے تھے۔مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔اور جب اِن بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے انبیائے کرام علیہم السلام تشریف لائے تو ان پیاروں کو محبت کرنے والے انبیائے کرام علیہم السلام کی انہوں نے سخت مخالفت کی ۔اسی مخالفت کا یہاں ذکر ہو رہا ہے۔اور دو خصوصی واقعات کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔پہلا واقعہ اور بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی کا ظہور اُس وقت عروج پر پہنچا ۔جب اِن لوگوں نے زمین پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد جو نبی مبعوث ہوئے حضرت شعیا بن امصیاہ علیہ السلام کو شہید کیا۔یہ نبی توریت کی تبلیغ فرماتے تھے اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارتیں سناتے تھے۔اور کفارِ بنی اسرائیل کو کفر و گناہ سے باز رہنے کی ہر وقت تلقین فرماتے رہتے تھے۔بنی اسرائیل نے اُن پر قاتلانہ حملہ کر کے انہیں شہید کر دیا۔

اﷲ تعالیٰ نے سزا دی

اﷲ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کے ناحق قتل کی بنی اسرائیل کوسزا دی اور انہیں دنیا میں ذلیل کر کے رکھ دیا۔ اور آخرت کی ذلت ابھی باقی ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔اِس قتل اور کفر و شرک گناہ کے بدلے میں ان کو قتل عام کی سزا ملی اور یکے بعد دیگرے رومی بادشاہ ”اوگس اینٹی“ اُسی کو جالوت کہا گیا ہے اور پومپی بادشاہ اور شاہ روم ٹیٹس نے ایسے سخت حملے کئے کہ بنی اسرئیل کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔یہ تینوں بادشاہ قوم عمالقہ کے تھے۔انوں نے بنی اسرائیل کی حکومت تباہ کی ،ملک اور ملکیت ویران کی ،لاکھوں اسرائیلوں کو قتل کیا اور ہزاروں ذلت کی غلامی میں چلے گئے۔صدیوں بعد رحمت الہٰی نے دستگیری فرمائی اور حضرت طالوت ،حضرت داو¿د علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی حکومتیں قائم فرمائیںاور اُن کو چین نصیب ہوا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد پھر بنی اسرائیل شرک ،کفر اور ظلم و گناہ میں مبتلا ہو گئے ۔اور دوسری دفعہ فساد مچایا کہ حضرت زکریا علیہ السلام،حضرت ارمیاہ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کیا۔ایک روایت ہے کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کو قتل کیا اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو صرف قید کیااور وہ قید میں ہی فوت ہو گئے۔زخمی بھی کیا گیا(معاذ اﷲ)اِس قتل کے عذاب میں بخت نصر (بنو کونذر) بابل شہر کا بادشاہ حملہ آور ہوا اور بے انتہا تباہی مچائی ۔یہاں تک کہ ہیکل سلیمانی کو بھی بالکل بنیادوں سے اُکھیڑ دیا ۔

بنی اسرائیل کو انبیائے کرام علیہم السلام کی تنبیہ

اﷲ تعالیٰ گمراہی میں مبتلا بنی اسرائیل کو سمجھانے کے لئے بار بار انبیائے کرام علیہم السلام کو بھیجتے رہے اور وہ انہیں سمجھاتے اور تنبیہ کرتے رہے۔علامہ غلام رسول سعیدی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 4سے 7تک کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔اِن آیتوں میں اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے متعلق دو پیش گوئیاں کی ہیں۔پہلی پیش گوئی یہ کہ وہ ضرور زمین پر فساد کریں گے اور سرکشی کریں گے۔پھر اﷲ تعالیٰ اُن کے اِس فساد اور سرکشی کی سزا میں اُن پر ایسے دشمن مسلط کر دے گا ،جو اُن کو ڈھونڈ کر قتل کردیں گے ۔پھر اﷲ تعالیٰ اُن کی مدد فرمائے گااور اُن کو غلبہ عطا فرمائے گا۔ پھر جب انہوں نے دوبارہ فساد اور سرکشی کی تو اﷲ تعالیٰ نے اُن کو دوبارہ سزا دی اور اُن کے دشمنوں کو اُن پر مسلط کردیا ۔اِس کی تصدیق بائیبل میں بھی ہے۔

حضرت داؤد علیہ السلام کی زبانی لعنت

اﷲ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا؛ترجمہ ”بنی اسرائیل کے کافروں پر داو¿د(علیہ السلام )اور عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام)کی زبانی لعنت کی گئی ۔اِس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔آپس میں ایکدوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہیں تھے۔جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقینا برا تھا۔“(سورہ المائدہ آیت نمبر 78اور(79علامہ غلام رسول سعیدی آگے لکھتے ہیں۔حضرت داو¿د علیہ السلام نے اُن کو تنبیہ کی؛”انہوں نے اُن قوموں کو ہلاک نہ کیا ،جیسا کہ اﷲ نے اُن کو حکم دیا تھا۔بلکہ اُن قوموں کے ساتھ مل گئے اور اُن کے کام (کفر و شرک)سیکھ گئے۔اور اُن کے بتوں کی پرستش کرنے لگے،جو اُن کے لئے پھندہ بن گئے۔بلکہ انہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو شیاطین کے لئے قربان کیا۔اور معصوموں کا یعنی اپنے بیٹے بیٹیوں کا خون بہایا۔جن کو انہوں نے ملک کنعان کے بتوں کے لئے قربان کردیا اور ملک ناپاک ہو گیا۔یوں وہ اپنے ہی کاموں سے آلودہ ہو گئے اور اپنے فعلوں سے بے وفا بنے۔اِس لئے اﷲ کا قہر اُن لوگوں پر بھڑکا اور اُسے اپنی میراث سے نفرت ہو گئی اور اُس نے اُن کو قوموں کے قبضے میں دے دیا ۔اور اُن سے عداوت رکھنے والے اُن پر حکمراں ہو گئے۔اُن کے دشمنوں نے اُن پر ظلم کیا اور وہ اُن کے محکوم ہو گئے۔اُس نے تو بار بار اُن کو چھڑا یا۔لیکن اُن کا رویہ باغیانہ ہی رہا اور وہ اپنی بد کاری کے باعث پست ہو گئے۔(زبور باب 106آیت 34سے44تک)

حضرت شعیا علیہ السلام کی تنبیہ

اﷲ تعالیٰ بار بار نافرمان اور گمراہ بنی اسرائیل پر رحم کرتے رہے اور انہیں سمجھانے اور راہ راست پر لانے کے لئے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو بھیجتے رہے۔اور وہ بار بار بنی اسرائیل کو تنبیہ کرتے رہے اور اﷲ کی سزا سے ڈراتے رہے۔علامہ غلام رسول سعیدی آگے لکھتے ہیں۔حضرت شعیا علیہ السلام نے فرمایا؛”لوگوں میں سے ہر ایک دوسرے پراور ہر ایک اپنے ہمسایہ پر ظلم و ستم کرے گااور بچے بوڑھوں کی اور رذیل شریفوں کی گستاخی کریں گے۔جب کوئی آدمی اپنے باپ کے گھر میں اپنے بھائی کا دامن پکڑ کر کہے گا کہ تُو پوشاک والا ہے۔آتُو ہمارا حاکم ہو ،اِس اجڑے دیس پر قابض ہو جا۔اُس روز وہ بلند آواز سے کہے گا کہ مجھ سے انتظام نہیں ہوگا۔کیونکہ میرے گھر میں روٹی ہے نہ کپڑا ،مجھے لوگوں کا حاکم نہ بناؤ۔ کیونکہ یروشلم کی بربادی ہوگئی اور یہوداہ (بنی اسرائیل)گِرگیا۔اِس لئے اُن کے بول چال اور چال چلن اﷲ کے خلاف ہیں کہ اُس کی جلالی آنکھوں کو غضب ناک کریں۔اُن کے منہ کی صورت اُن پر گواہی دیتی ہے۔وہ اپنے گناہوں کو سدوم (حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سدوم میں اعلان نبوت کیا تھا۔وہ قوم اتنی بے حیا تھی کہ کھلے عام بے حیائی کے کام کرتی تھی) کی مانند ظاہر کرتے ہیں اور چھپاتے نہیں ہیں۔اُن کی جانوں پر واویلا ہے!کیونکہ وہ آپ اپنے اوپر بلا لاتے ہیں۔راست بازوں کی بابت کہو کہ بھلا ہوگا ،کیونکہ وہ اپنے کاموں کے پھل کھائیں گے۔شریروں پر واویلا ہے!کہ ان کو بدی پیش آئے گی ،کیونکہ وہ اپنے ہاتھوں کا کیا پائیں گے۔“ (شعیا ،باب 3 آیت 6سے 12تک)

یرمیاہ (ارمیاہ) نبی کی تنبیہ

اﷲ تعالیٰ کے بار بار سمجھانے کے باوجود بنی اسرائیل اتنے زیادہ گمراہی میں مبتلا ہو گئے تھے کہ انبیائے کرام کی سچی باتیں انہیں بری لگنے لگی تھیںاور وہ اُن کی جان کے دشمن بن گئے تھے۔انہوں نے حضرت شعیا (یسعیاہ) علیہ السلام کو قتل کر دیا تب بھی اﷲ نے اُن پر رحم فرمایا اور حضرت یر میاہ(ارمیاہ) علیہ السلام کو سمجھانے کے لئے بھیجا۔علامہ غلام رسول سعیدی آگے لکھتے ہیں۔یرمیاہ(ارمیاہ) نبی نے فرمایا؛”میں بزرگوں کے پاس جاو¿ں گااور اُن سے کلام کروں گا۔کیونکہ وہ اﷲ کی راہ اور اپنے اﷲ کے احکام کو جانتے ہیں۔لیکن اُنہوں نے عہد بالکل توڑ دالا اور بندھنوں کے ٹکڑے کر ڈالے۔اِس لئے جنگل کا شیر ببر اُن کو پھاڑے گا ،یا بیابان کا بھیڑیا اُن کو ہلاک کرے گا۔چیتا اُن کے شہروں کی گھات میں بیٹھا رہے گا ،جو کوئی اُن میں سے نکلے گا پھاڑا جائے گا۔کیونکہ اُن کی سر کشی بہت ہوئی اور اُن کی بر گشتگی بڑھ گئی۔میں تجھے کیوں معاف کردوں؟تیرے فرزندوں نے مجھ کو چھوڑا اور اُن کی قسم کھائی جو خدا نہیں ہیں۔جب میں نے اُن کو سیر کیا تو انہوں نے بد کاری کی اور پرے باندھ کر قحبہ خانوں میں اکٹھے ہوئے۔وہ پیٹ بھرے گھوڑوں کی مانند ہو گئے اور ہر ایک صبح کے وقت اپنے پڑوسی کی بیوی پر ہنہنانے لگا۔اﷲتعالیٰ فرماتا ہے !کیا میں اِن باتوں کے لئے سزا نہیں دوں گا؟اور کیا میری روح ایسی قوم سے انتقام نہیں لے گی؟“(یرمیاہ،ارمیاہ باب نمبر 5،آیت نمبر 5سے9تک)اِس کے آگے حضرت یرمیاہ (ارمیاہ) علیہ السلام فرماتے ہیں۔”اﷲ فرماتا ہے؛اے اسرائیل کے گھرانے دیکھ !میں ایک قوم کو دور سے تجھ پر چڑھا لاو¿ں گااور اﷲ فرماتا ہے کہ وہ زبردست قوم ہے ،وہ ایسی قوم ہے ،جس کی زبان تُو نہیں جانتا ہے اور اُن کی بات کو نہیں سمجھتا ۔اُن کے ترکش کھلی قبریں ہیں۔وہ سب بہادر مرد ہیں۔اور وہ تیری روٹی جو تیرے بیٹوں اور بیٹیوں کے کھانے کی تھی کھا جائیں گے۔تیرے گائے بیل اور تیری بکریوں کو چٹ کر جائیں گے۔تیرے انگور اور انجیر نگل جائیں گے۔تیرے حسین شہروں کو جن پر تیرا بھروسہ ہے ،تلوار سے ویران کر دیں گے۔(یرمیاہ(ارمیاہ) باب 5آیت نمبر 15 سے 17تک)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبانی لعنت

اﷲ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا؛ترجمہ ”بنی اسرائیل کے کافروں پر داو¿د(علیہ السلام )اور عیسیٰ بن مریم(علیہ السلام)کی زبانی لعنت کی گئی ۔اِس وجہ سے کہ وہ نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔آپس میں ایکدوسرے کو برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے روکتے نہیں تھے۔جو کچھ بھی یہ کرتے تھے یقینا برا تھا۔“(سورہ المائدہ آیت نمبر 78اور(79اوپر علامہ غلام رسول سعیدی نے جو تنبیہات پیش کی ہیں ،وہ پیش کرنے کے بعد مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔یہ تھیں وہ تنبیہات جو بنی اسرائیل کو پہلے ”فساد ِ عظیم “کے موقع پر کی گئیں تھیں۔پھر دوسرے ”فساد ِ عظیم “اور اِس کے ہولناک نتائج پر حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام نے خبردار کیا۔آپ علیہ السلام اپنی قوم کے شدید اخلاقی زوال پر تنقید کرنے کے بعد فرماتے ہیں؛”اے یروشلم!اے یروشلم!تُو جو نبیوں کو قتل کرتا اور جو تیرے پاس بھیجے گئے ،اُن کو سنگسار کرتا ہے۔کتنی بار میں نے چاہا کہ جس طرح مرغی اپنے بچوں کو پروں تلے جمع کر لیتی ہے،اِسی طرح میں بھی تیرے لڑکوں کو جمع کر لوں،مگر تُو نے نہ چاہا۔دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے۔“(متیٰ باب23 آیت 37,38)اِس کے بعد آگے حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں؛”میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کسی پتھر پر پتھر باقی نہیں رہے گا ،جو گرایا نہ جائے۔“(باب 24آیت 2)پھر جب رومی حکومت کے اہلکار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے جارہے تھے ،اور لوگوں کی بھیڑ میں عورتیں بھی تھیں،جو روتی پیٹتی اُن کے پیچھے جا رہی تھیں تو انہوں نے آخری خطاب کرتے ہوئے مجمع سے فرمایا؛”اے یروشلم کی بیٹیو!میرے لئے نہیں رو¿و،بلکہ اپنے لئے اور اپنے بچوں کے لئے رو¿و۔کیونکہ دیکھو !وہ دن آتے ہیں جب کہیں گے کہ مبارک ہیں بانجھیں اور وہ پیٹ جو نہ جنے اور وہ چھاتیاں جنہوں نے دودھ نہ پلایا۔اُس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شروع کریں گے کہ ہم پر گِر پڑ و اور ٹیلوں سے کہ ہمیں چھپا لو۔“(لوقا۔باب 23آیت 28سے30تک)

بنی اسرائیل کی ساتھی قومیں اور اُن کی بد کاریاں

اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ملک کنعان میں آباد ہونے کا حکم دیا،اور حکم دیا تھاکہ وہاں کی کافر قوموں کو یا تو ملک بدر کر دینا یا پھر قتل کر دینا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 4سے 7کی تفہیم میں لکھتے ہیں۔پہلے فساد سے مُراد وہ ہولناک تباہی ہے جو آشوریوں اور اہل بابل کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر نازل ہوئی۔اِس کا تاریخی پس منظر سمجھنے کے لئے صرف وہ اقتباسات کافی نہیں ہیں جو اوپر ہم صحف انبیاءعلیہم السلام سے نقل کر چکے ہیں۔بلکہ ایک مختصر تاریخی بیان بھی ضروری ہے ۔تاکہ ایک طالب علم کے سامنے وہ تمام اسباب آجائیں،جن کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے ایک حامل کتاب قوم کو ”امامت اقوام“کے منصب سے گرا کر ایک شکست خوردہ ،غلام اور سخت پسماندہ قوم بنا کر رکھ دیا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تو یہاں مختلف قومیں آباد تھیں۔حِتّی ،اَموری،کنعانی ،فِرزی،حوی،یبوسی،فلستی وغیرہ ۔اُن قوموں میں بد ترین قسم کا شرک پایا جاتا تھا۔اُن کے سب سے بڑے معبود کا نام ”ایل“تھا۔جسے یہ دیوتاو¿ں کا باپ کہتے تھے اور اسے عموماًسانڈ سے تشبیہ دی جاتی تھی۔اُس کی بیوی دیوی کا نام ”عشیرہ“تھا۔اور اُس سے دیوتاو¿ں اور دیویوں کی ایک پوری نسل چلی تھی ،جن کی تعداد ستر70تک پہنچتی تھی۔اُس کی اولاد میں سب سے زبردست ”بعل“تھا ۔جس کو بارش اور روئید گی کا خدا اور زمین و آسمان کا مالک سمجھا جاتا تھا۔شمالی علاقوں میں اُس کی بیوی دیوی”اُناث “کہلاتی تھی۔اور فلسطین میں دیوی ”عستارات“۔یہ دونوں خواتین عشق اور افزائش نسل کی دیویاں تھیں۔اِن کے علاوہ ”کوثی “دیوتا موت کا مالک تھا۔کسی دیوی کے قبضے میں صحت تھی ،کسی دیوتا کو وبا ءاور قحط لانے کے اختیارات تفویض کئے گئے تھے اور یوں ساری خدائی بہت سے معبودوں میں بٹ گئی تھی۔اِن دیوتاو¿ں اور دیویوں کی طرف ایسے ایسے ذلیل اوصاف و اعمال منسوب تھے کہ اخلاقی حیثیت سے انتہائی بد کردار انسان بھی اِن کے ساتھ مشہور ہونا پسند نہیں کرے گا۔اب یہ ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسے بد کرداروں کو خدا بنائیں اور اُن کی پرستش کریں تو وہ اخلاق کی ذلیل ترین ہستیوں میں گرنے سے کیسے بچ سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے جو حالات آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے دریافت ہوئے ہیں،وہ اخلاقی گِراوٹ کی شہادت بہم پہنچاتے ہیں۔اُن کے یہاں بچوں کی قربانی کا رواج عام تھا۔اُن کی عبادت گاہیں (مندریں)زنا کاری کے اڈے بنے ہوئے تھے۔عورتوں کو دیو داسیاں بنا کر عبادت گاہوں (مندروں)میں رکھنا اور اُن سے بد کاریاں کرنا عبادت کے اجزاءمیں داخل تھااور اِسی طرح کی بہت سی بد اخلاقیاں اُن میں پھیلی ہوئیں تھیں۔

بنی اسرائیل نے اﷲ کا حکم نہیں مانا

اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل نے اپنے علاقوں سے شرک کا خاتمہ نہیں کیا،اور وہاں آباد مشرک قوموں کے ساتھ رہنے لگے۔ جس کی وجہ سے مشرک قوموں کے اثرات لا شعوری طور سے بنی اسرائیل میں بھی آگئے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔توریت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کو جو ہدایات دی گئی تھیں ۔اُن میں صاف صاف کہہ دیا گیا تھا کہ تم اُن قوموں کو ہلاک کر کے اُن کے قبضے سے فلسطین کی سرزمین چھین لینا اور اُن کے ساتھ رہنے بسنے اور اُن کی اخلاقی و اعتقادی خرابیوں میں مبتلا ہونے سے پرہیز کرنا۔لیکن بنی اسرائیل جب فلسطین میں داخل ہوئے تو وہ اِس ہدایت کو بھول گئے۔انہوں نے اپنی کوئی متحدہ سلطنت قائم نہیں کی۔وہ قبائلی عصبیت میں مبتلا تھے ۔اُن کے ہر قبیلے نے اِس بات کو پسند کیا کہ مفتوح علاقے کا ایک حصہ لیکر الگ ہوجائے۔اِس تفرقے کی وجہ سے اُن کا کوئی بھی قبیلہ اتنا طاقتور نہیں ہوسکا کہ اپنے علاقے کو پوری طرح مشرکین سے پاک کر دیتا۔آخر کار انہیں یہ گوارا کرنا پڑا کہ مشرکین اُن کے ساتھ ہی رہیں بسیں۔نہ صرف یہ،بلکہ اُن کے مفتوحہ علاقوں میں جگہ جگہ اِن مشرک قوموں کی چھوٹی چھوٹی ریاستیں بھی موجود رہیں،جن کو بنی اسرائیل مسخر نہ کر سکے تھے۔اِسی بات کی شکایت زبور کی اُس عبارت میں کی گئی ہے ،جو ہم نے اوپر ذکر کی ہے۔

بنی اسرائیل پر ساتھی مشرک قوموں کے اثرات

اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے بنی اسرائیل مشرک قوموں کے ساتھ رہنے لگے،جس کی وجہ سے اُن میں ساتھی مشرک قوموں کے اثرات لاشعوری طور سے آنے لگے اور نئی نسل اُن مشرکانہ اعمال سے متاثر ہو کر کرنے لگی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس کا پہلا خمیازہ تو بنی اسرائیل کو یہ بھگتنا پڑا کہ ان قوموں کے ذریعے اُن کے اندر شرک گھس آیا۔اور اِس کے ساتھ ہی بتدریج دوسری اخلاقی گندگیاں بھی راہ پانے لگیں۔چنانچہ اِس کی شکایت بائیبل کی کتاب ”قُضاة“میں یوں کی گئی ہے۔”اور بنی اسرائیل نے خداوند(اﷲ) کے آگے بدی کی اور بعلیم کی پرستش کرنے لگے۔اور انہوں نے خداوند اپنے باپ دادا کے خدا (اﷲ) کو جو انہیں ملک مصر سے نکال لایا تھاچھوڑ دیا۔اور دوسرے معبودوں کی جو اُن کے اِرد گِرد قوموں کے دیوتاو¿ں میں سے تھے پیروی کرنے لگے اور اُن کو سجدہ کرنے لگے اور خداوند(اﷲ) کو غصہ دلایا۔وہ خداوند(اﷲ) کو چھوڑ کر بعل اور عستارات کی پرستش کرنے لگے اور خداوند(اﷲ) کا قہر اسرائیل پر بھڑکا۔“(قُضاة باب 2 آیت 11سے13تک)

بنی اسرائیل کی متحدہ سلطنت

اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل مسلسل گمراہی میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس کے بعد دوسرا خمیازہ انہیں یہ بھگتنا پڑا کہ جن قوموں کی شہری ریاستیں انہوں نے چھوڑ دی تھیں ۔انہوں نے اور فلستیوں نے جن کا پورا علاقہ مغلوب رہ گیا تھا ،بنی اسرائیل کے خلف ایک متحدہ محاذ قائم کیا اور پے در پے حملے کر کے فلسطین کے بڑے حصے سے اُن کو بے دخل کر دیا۔حتیٰ کہ اُن سے ”تابوت سکینہ“ تک چھن لیا۔ آخر کار بنی اسرائیل کو ایک فرمانروا کے تحت اپنی ایک متحدہ سلطنت قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی اور اُن کی درخواست پر حضرت شموئیل علیہ السلام نے 1020قبل مسیح میں طالوت کو اُن کا بادشاہ بنا دیا۔اِس متحدہ سلطنت کے تین فرمانروا ہوئے۔طالوت 1020سے1004قبل مسیح تک ،حضرت داو¿د علیہ السلام 1004 سے 965 قبل مسیح تک اور حضرت سلیمان علیہ السلام 965سے 926 قبل مسیح تک ۔اِن فرمانرواو¿ں نے اُس کام کو مکمل کیا ،جسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نا مکمل چھوڑ دیا۔صرف شمالی ساحل پر فنیقیوں کی اور جنوبی ساحل پر فلستیوں کی ریاستیں باقی رہ گئی تھیں،جنہیں مسخر نہیں کیا جا سکا اور محض باج گذار بنانے پر اکتفا کیا گیا۔

سلطنت دو حصوں میں تقسیم

حضرت طالوت کی حکمرانی میں بنی اسرائیل کی متحدہ سلطنت قائم ہوئی اور حضرت داو¿د علیہ السلام نے اسے اسلامی حکومت بنایا اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے دورِ نبوت اور حکومت میںاتنی وسعت دی کہ لگ بھگ پورے فلسطین سے مشرکوں کا صفایا ہو گیا۔حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ بنی اسرائیل کا سب سے زیادہ عروج کا زمانہ تھا۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل پر دنیا پرستی کا پھر شدید غلبہ ہوا اور انہوں نے آپس میں لڑ کر دو الگ سلطنتیں قائم کر لیں۔شمالی فلسطین اور شرق اُردن میں ”سلطنت اسرائیل“،جس کا پایہ¿ تخت آخر کار ”سامریہ“قرار پایا۔اور جنوبی فلسطین اور اَدُوم کے علاقے میں ”سلطنت یہودیہ“، جس کا پایہ¿ تخت ”یروشلم“(بیت المقدس)رہا۔اِن دونوں سلطنتوں میں سخت رقابت اور کشمکش اول روز سے شروع ہو گئی اور آخر تک رہی۔اِن میں سے اسرائیلی ریاست کے فرمانروا اور باشندے ہمسایہ قوموں کے مشرکانہ عقائد اور اخلاقی فساد سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور یہ حالت اپنی انتہا کو اُس وقت پہنچ گئی جب اس ریاست کے فرمانروا ”اخی اب“نے صیدا کی مشرک شہزادی ایزبل سے شادی کرلی۔اُس وقت حکومت کی طاقت اور ذرائع سے شرک اور بد اخلاقیاں سیلاب کی طرح اسرائیلوں میں پھیلنی شروع ہوئیں۔حضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام نے اِس سیلاب کو روکنے کی انتہائی کوشش کی۔مگر یہ قوم جس تنزل کی طرف جارہی تھی ،اُس سے باز نہ آئی۔

بنی اسرائیل کے پہلے فساد پر”سلطنت اسرائیل یا سامریہ “پر اﷲ کا غضب

اﷲ تعالیٰ کی نافرمانیوں اور برائیوں میں بنی اسرائیل اتنے زیادہ آگے بڑھ چکے تھے کہ انہوں نے شرک کرنا شروع کردیا تھااور انبیائے کرا م علیہم السلام کو شہید کرنا شروع کردیا تھا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔آخر کار اﷲ کا غضب ا شوریوں کی شکل میں سلطنت اسرائیل سامریہ کی طرف متوجہ ہوا اور نویں صدی قبل مسیح سے فلسطین پر ا شوری فاتحین کے مسلسل حملے شروع ہو گئے۔اس دور میں حضرت عاموس علیہ السلام اور حضرت ہوسیع علیہ السلام نے اُٹھ کر اسرائیلیوں کو پے در پے تنبیہات کیں۔مگر جس غفلت کے نشے میں وہ شرسار تھے اُس کی وجہ سے تنبیہ کی ترشی اور زیادہ ہو گئی ۔یہاں تک کہ حضرت عاموس علیہ السلام کو اسرائیل کے بادشاہ نے ملک بدر کردیا۔اِس کے بعد کچھ زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ اﷲ کا عذاب اسرائیلی سلطنت اور اُس کے باشندوں پر ٹوٹ پڑا ۔721 قبل مسیح میں اشور کے سخت گیر فرمانروا سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے سلطنت اسرائیل یا سامریہ کا خاتمہ کر دیا ۔ہزارہا اسرائیلی تہ تیغ کئے گئے،ستایئس 27ہزار سے زیادہ با اثر اسرائیلیوں کو ملک سے نکال کر اشوری سلطنت کے مشرقی اضلاع میں تیتّر بیتّر کردیا گیااور دوسرے علاقوں سے لا کر غیر قوموں کو اسرائیل کے علاقے میں بسایا گیا۔جن کے درمیان رہ کر بچا کچا اسرائیلی عنصر بھی اپنی قومی تہذیب سے روز بروز بیگانہ ہو تا چلا گیا۔

بنی اسرائیل کے پہلے فساد پر ”سلطنت یہودیہ “پر اﷲ کا غضب

اﷲ تعالیٰ نے سلطنت اسرائیل یا سامریہ پر اپنا غضب نازل فرمایا۔لیکن اُسے دیکھ کر بھی سلطنت یہودیہ کے لوگوں نے عبرت نہیں پکڑی اور آخر کار اُن پر بھی اﷲ کا غضب نازل ہوا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔بنی اسرائیل کی دوسری ریاست جو یہودیہ کے نام سے جنوبی فلسطین میں قائم ہوئی ۔وہ بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بہت جلد ی شرک اور بد اخلاقی میں مبتلا ہو گئی ۔مگر نسبتاًاُس کا اعتقادی اور اخلاقی زوال سلطنت اسرائیل یا سامریہ کی بہ نسبت سُست رفتار تھا،اِس لئے اس کو مہلت بھی کچھ زیادہ دی گئی۔اگر چہ سلطنت اسرائیل کی طرح اس پر بھی اشوریوں نے پے در پے حملے کئے ،اُس کے شہروں کو تباہ کیا اور اُس کے پایہ¿ تخت کا محاصرہ کر لیا۔لیکن یہ ریاست اشوریوں کے ہاتھوں ختم نہیں ہو سکی،بلکہ صرف باج گزار بن کر رہ گئی۔پھر جب حضرت یسعیاہ (شعیا) علیہ السلام اور حضرت یرمیاہ (ارمیاہ) علیہ السلام کی مسلسل کوششوں کے باوجود سلطنت یہودیہ کے لوگ بُت پرستی اور بد اخلاقیوں سے باز نہ آئے تو 598 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے یروشلم سمیت پوری سلطنت یہودیہ کو مسخر کر لیا۔اور یہودیہ کا بادشاہ اُس کے پاس قیدی بن کر رہا۔یہودیوں کی بد اعمالیوں کا سلسلہ اِس پر بھی ختم نہیں ہوا اور حضرت یرمیاہ(ارمیاہ) علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود اپنے اعمال درست کرنے کے بجائے بابل کے خلاف بغاوت کر کے اپنی قسمت بدلنے کی کوشش کرنے لگے۔آخر کار 587قبل مسیح میں بخت نصر نے ایک سخت حملہ کر کے سلطنت یہودیہ کے تمام بڑے چھوٹ شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو اِس طرح پیوند خاک کیا کہ اُس کی ایک بھی دیوار کھڑی نہ رہی۔یہودیوں کی بہت بڑی تعداد کو اُن کے علاقے سے نکال کر ملک ملک میں تیتّر بیتّر کردیا اور جو یہودی اپنے علاقے میں رہ گئے تھے ،وہ ہمسایہ قوموں کے ہاتھوں بُری طرح پامال ہو رہے تھے۔یہ تھا پہلا فساد جس سے بنی اسرائیل کو متنبہ کیا گیا تھا اور یہ تھی پہلی سزا جو اُس کی پاداش میں اُن کو دی گئی تھی۔

بنی اسرائیل کی وطن واپسی اور بیت المقدس کی تعمیر

اﷲ تعالیٰ نے پہلے فساد پر بنی اسرائیل کو سزا دی ۔اِس سزاسے سلطنت اسرائیل یا سامریہ تو پورے طور پر مٹ گئی اور دوبارہ قائم نہیں ہوسکی ۔لیکن سلطنت یہودیہ بعد میں بیت المقدس کے آس آس قائم ہوئی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔سلطنت یہودیہ کے بنی اسرائیل کو بابل کی اسیری سے رہائی بعد میں اﷲ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔جہاں تک سلطنت سامریہ یا اسرائیل کے لوگوں کا تعلق ہے ،وہ تو اخلاقی و اعتقادی زوال کی پستیوں میں گرنے کے بعد پھر نہ اُٹھ سکے۔مگر سلطنت یہودیہ کے باشندوں میں ایک بقیہ ایسا موجود تھا جو خیر پر قائم اور خیر کی دعوت دینے والا تھا۔اُس نے اُن لوگوں میں بھی اصلاح کا کام جاری رکھا جو سلطنت یہودیہ میں بچے کچے رہ گئے تھے۔اور اُن لوگوں کو بھی توبہ و انابت کی ترغیب دی جو بابل اور دوسرے علاقوں میں جلا وطن کر دیئے گئے تھے۔آخر کار اﷲ کی رحمت اُن کی مدد گار ہوئی ۔بابل کی سلطنت کا زوال ہوا ۔539 قبل مسیح میں ایرانی (فارسی) فاتح سائرس (خورس یا خسرو) نے بابل فتح کیا اور اُس کے دوسرے ہی سال اُس نے فرمان جاری کر دیا کہ بنی اسرائیل کو اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی عام اجازت ہے۔چنانچہ اِس کے بعد یہودیوں کے قافلے پر قافلے یہودیہ کی طرف جانے شروع ہو گئے،جن کا سلسلہ مدتوں جاری رہا۔سائرس نے یہودیوں کو دوبارہ ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کی تعمیر کی اجازت بھی دے دی۔مگر ایک عرصے تک ہمسایہ قومیں جو اس علاقے میں آباد ہو گئیں تھیں ،مزاحمت کرتی رہیں۔آخر کار داریوس(دارا) اول نے 522 قبل مسیح میں یہودیہ کے آخری بادشاہ کے پوتے زرو بابل کو یہودیہ کا گورنر مقرر کیا اور ہیکل مقدس کی نئے سرے سے تعمیر کی ۔458 قبل مسیح میں ایک جلا وطن گراہ کے ساتھ حضرت عُزیر (عزرا)علیہ السلام یہودیہ پہنچے اور شاہ ایران ارتخششا(ار ٹاکسر یا ارد شیر) نے ایک فرمان کی رو سے اُن کو مجاز کیا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام اپنے انتظامات خود کر سکتے ہیں اور انہیں اِس کا پورا اختیار دیا جاتا ہے۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کی اصلاحات

اﷲ تعالیٰ نے ایک بار پھر بنی اسرائیل کو سنبھلنے اور سدھرنے کا موقع دیا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس فرمان سے فائدہ اُٹھا کر حضرت عزیر علیہ السلام نے دین موسوی کی تجدید کا بہت بڑا کام انجام دیا۔انہوں نے یہودی قوم کے تمام اہل خیر و صلاح کو ہر طرف سے جمع کر کے ایک مضبوط نظام قائم کیا۔بائیبل کی کتاب خمسہ کو ،جن میں توریت تھی ،مرتب کر کے شائع کیا۔یہودیوں کی دینی تعلیم کا انتظام کیا،قوانین شریعت کو نافذ کرکے اُن اعتقادی اور اخلاقی برائیوں کو دور کرنا شروع کیا جو بنی اسرائیل کے اندر غیر قوموں کے اثر سے گھس آئی تھیں۔اُن تمام مشرک عورتوں کو طلاق دلوائی جن سے یہودیوں نے بیاہ کر رکھے تھے۔اور بنی اسرائیل سے از سر نوا اﷲ کی بندگی اور اُس کے آئین کی پیروی کا میثاق لیا۔445قبل مسیح میں حضرت نحمیاہ علیہ السلام کے زیر قیادت ایک اور جلاوطن گروہ واپس آیا اور شاہِ ایران نے آپ علیہ السلام کو یروشلم کا حاکم مقرر کر کے اِس امر کی اجازت دی کہ وہ” شہر پناہ“ کی تعمیر کریں۔اِس طرح ڈیڑھ سو سال بعد ”بیت المقدس“پھر سے آباد ہوا اور یہودی مذہب و تہذیب کا مرکز بن گیا۔مگر شمالی فلسطین اور سامریہ کے اسرائیلیوں نے حضرت عزیر علیہ السلام کی اصلاح و تجدید سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا ،بلکہ بیت المقدس کے مقابلہ میں اپنا ایک مذہبی مرکز ”کوہ جرزیم“پر تعمیر کر کے اُس کو قبلہ ¿ اہل کتاب بنانے کی کوشش کی۔اِس طرح یہودیوں اور سامریوں کے درمیان بُعد اور زیادہ بڑھ گیا۔

بنی اسرائیل پر یونانیوں کا قبضہ

بنی اسرائیل اپنی مستحکم اور الگ سلطنت نہیں بنا سکے تھے اور پہلے فساد کی سزا کے بعد کوئی نہ کوئی اُن پر حاوی رہتا تھا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔ایرانی سلطنت کے زوال کے اور سکندر اعظم کی فتوحات اور پھر یونانیوں کے عروج سے یہودیوں کو کچھ مدت کے لئے ایک سخت دھکہ لگا۔سکندر کی وفات کے بعد اُس کی سلطنت جن تین سلطنتوں میں تقسیم ہوئی تھی ،اُن میں ملک شام کا علاقہ اُس سلوقی سلطنت کے حصے میں آیا تھا جس کا پایہ¿ تخت ”انطاکیہ“ تھا۔اور اُس کے فرمانروا انٹیوکس ثالث نے 198 قبل مسیح میں فلسطین پر قبضہ کر لیا۔یہ یونانی فاتح جو مشرک تھا اور اخلاقاً اباحیت پسند تھا ،یہودی مذہب و تہذیب کو سخت ناگوار محسوس کرتا تھا۔اُس نے اس کے مقابلے میں سیاسی اور معاشی دباو¿ سے یونانی تہذیب کو فروغ دینا شروع کر دیا اور خود یہودیوں میں سے ایک اچھا خاصا عنصر اُس کا آلہ¿ کار بن گیا۔اِس خارجی مدا خلت نے یہودی قوم میں تفرقہ ڈال دیا ۔ایک گروہ نے یونانی لباس ،یونانی زبان ،یونانی طرز معاشرت اور یونانی کھیلوں کو اپنا لیا۔ اور دوسرا گروہ اپنی تہذیب پر سختی سے قائم رہا۔

بنی اسرائیل کی آزادی

یونانیوں کے بے جا دباو¿ نے بنی اسرائیل کو مذہب کی طرف راغب کیا اور انہوں نے یونانیوں کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کیا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔175 قبل مسیح میں انٹیوکس چہارم(جس کا لقب ایپی فائیس یعنی مظہر خدا تھا) جب تخت نشین ہوا تو اُس نے پوری جابرانہ طاقت سے کام لیکر یہودی مذہب و تہذیب کی بیخ کنی کرنی چاہی ۔اُس نے بیت المقدس کے ہیکل میں زبردستی بُت رکھوائے اور یہودیوں کو مجبور کیا کہ اُن کو سجدہ کریں ۔اُس نے قربان گاہ پر قربانی بند کرائی اور یہودیوں کو مشرکانہ قربان گاہوں پر قربانیاں کرنے کا حکم دیا ۔اُس نے توریت کے نسخے گھر میں رکھنے والوں کو سزائے موت دی۔سبت پر عمل کرنے اور ختنہ کرنے کی ممانعت کر دی۔لیکن یہودی اِس جبر سے مغلوب نہیں ہوئے اور اُن کے اندر ایک زبردست تحریک اُٹھی جو تاریخ میں ”مکابی بغاوت“کے نام سے مشہور ہے۔اگرچہ اِس کشمکش میں یونانیت زدہ یہودیوں کی ساری ہمدردیاں یونانوں کے ساتھ تھیں اور انہوں نے مکابی بغاوت کو کچلنے کی کوشش میں انطاکیہ کے ظالموں کا پورا ساتھ دیا ۔لیکن عام یہودیوں میں حضرت عزیر علیہ السلام کی پھونکی ہوئی روح ِ دینداری کا اتنا زبردست اثر تھا کہ وہ سب مکابیوں کے ساتھ ہو گئے اور آخر کار انہوں نے یونانیوں کو نکال کر ایک آزاد دینی ریاست قائم کر لی۔جو 67 قبل مسیح تک قائم رہی۔اِس ریاست کی حدود پھیل کر رفتہ رفتہ اُس پورے رقبے پر حاوی ہو گئی جو کبھی یہودیہ اور سامریہ کی ریاستوں کے زیر نگین تھے۔بلکہ فلستیہ کا بھی ایک بڑا حصہ اُس کے قبضے میں آگیا جو حضرت داو¿د اور سلیمان علیہم السلام کے زمانے میں بھی مسخر نہیں ہوا تھا۔

بنی اسرائیل پر رومیوں کا قبضہ 

اﷲ تعالیٰ کے احکامات پر بنی اسرائیل نے متحد ہو کر عمل کرنا شروع کیا تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی ۔لیکن بعد میں وہ پھر تفرقہ کا شکار ہوگئے اور دنیا میں مگن ہو گئے تو لگ بھگ ایک سو دس سال کے بعد رومیوں نے اُن پر قبضہ کر لیا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔دوسرے فساد اور اُس کی سزا کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ مکابیوں کی تحریک جس اخلاقی و دینی روح کے ساتھ اُٹھی تھی وہ بتدریج فنا ہوتی چلی گئی اور اُس کی جگہ خالص دنیا پرستی اور بے روح ظاہر داری نے لے لی۔آخر کار اُن کے درمیان پھوٹ پڑ گئی اور انہوں نے خود رومی فاتح پومپی کو فلسطین آنے کی دعوت دی۔چنانچہ پومپی 63 قبل مسیح میں اس ملک کی طرف متوجہ ہوا اور اُس نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے یہودیوں کی آزادی کا خاتمہ کر دیا۔لیکن رومی فاتحین کی یہ مستقل پالیسی تھی کہ وہ مفتوح علاقوں پر براہ راست اپنا نظم و نسق قائم کرنے کی بہ نسبت مقامی حکمرانوں کے زریعے سے بالواسطہ کام نکلوانا زیادہ پسند کرتے تھے۔اِس لئے انہوں نے فلسطین میں اپنے زیر سایہ ایک ویسی ریاست قائم کردی جو باآخر 40 قبل مسیح میں ایک ہوشیار یہودی ہیرود نامی کے قبضے میں آئی یہ شخص ”ہیرود اعظم“کے نام سے مشہور ہوا۔اِس کی فرمانروائی پورے فلسطین اور شرق اردن پر 40 قبل مسیح سے 4 قبل مسیح تک رہی۔اس نے ایک طرف مذہبی پیشواو¿ں کی سرپرستی کر کے یہودیوں کو خوش رکھا اور دوسری طرف رومی تہذیب کو فروغ دیکر اور رومی سلطنت کی وفاداری کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ کر کے قیصر کی بھی خوشنودی حاصلی کی۔اُس زمانے میں یہودیوں کی دینی و اخلاقی حالت گرتے گرتے زوال کی آخری حد کو پہنچ گئی۔

سب سے بڑا فساد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر چڑھانا

آخر کار بنی اسرائیل نے دنیا کا سب سے بڑا فساد برپا کیا اور تین سو تیرہ رسولوں میں سے پانچ بڑے رسولوں میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی دانست میں درد ناک موت دینے کی کوشش کی۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔ہیرود کے بعد اُس کی ریاست تین حصوں میں تقسیم ہو گئی ۔اُس کا ایک بیٹا ارخلاو¿س سامریہ ،یہودیہ اور شمالی ادومیہ کا فرمانروا ہوا۔مگر 6 عیسوی قیصر آگسٹس نے اس کو معزول کر کے اس کی پوری ریاست اپنے گورنر کے ماتحت کر دی اور 41 عیسوی تک یہی انتظام رہا ۔یہی وہ زمانہ تھا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلان نبوت کیا۔اور یہودیوں کے تمام مذہبی پیشواو¿ں نے مل کر اُن کی مخالفت کی اور رومی گورنر پیلاطس سے اُن کو سزائے موت دلوانے کی کوشش کی۔ہیرود کا دوسرا بیٹا ہیرود اینٹی پاس شمالی فلسطین کے علاقہ گلیل اور شرق اردن کا مالک ہوا اور یہی وہ شخص ہے جس نے ایک رقاصہ کی فرمائش پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر قلم کر کے اُس کی نذر کیا۔اُس کا تیسرا بیٹا فلپ کوہ حرمون سے دریائے یرموک تک کے علاقے کا مالک ہوا اور یہ اپنے باپ اور بھائیوں سے بھی بڑھ کر رومی و یونانی تہذیب میںغرق تھا۔اس کے علاقے میں کلمہ¿ خیر کے پنپنے کی اتنی گنجائش بھی نہیں تھی جتنی فلسطین کے دوسرے علاقوں میں تھی۔41 عیسوی میں ہیرود اعظم کے پوتے اگرپّا کو رومیوں نے ان تمام علاقوں کا فرمانروا بنا دیا جن پر ہیرود اعظم اپنے زمانے میں حکمراں تھا ۔اس شخص نے بر سراقتدار آنے کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروو¿ں پر مظالم کی انتہا کردی اور اپنا پورا زور خدا ترسی و اصلاح اخلاق کی اِس تحریک کو کچلنے میں صرف کر ڈالا جو حواریوں کی رہنمائی میں چل رہی تھی۔اُس دور میں عام یہودیوں اور اُن کے مذہبی پیشواو¿ںکی جو حالت تھی اُس کا صحیح اندازہ کرنے کے لئے اُن تنقیدوں کا مطالعہ کرنا چاہیئے،جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے خطبوں میں اُن پر کی ہیں۔یہ سب خطبے اناجیل اربعہ میں موجود ہیں ۔پھر اِس کا اندازہ کرنے کے لئے یہ امر کافی ہے کہ اس قوم کی آنکھوں کے سامنے حضرت یحییٰ علیہ السلام جیسے پاکیزہ انسان کا سر قلم کر دیا گیا ،مگر ایک آواز بھی اِس” ظلم عظیم “کے خلاف نہیں اُٹھی ۔ اور پوری قوم کے مذہبی پیشواو¿ں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کیا ۔مگر تھوڑے سے راستباز انسانوں کے سوا کوئی نہیں تھا جو اِ س بد بختی پر ماتم کرتا۔حد یہ ہے کہ جب پونتس پیلاطس نے اِن شامت زدہ لوگوں سے پوچھا کہ آج تمہاری عید کا دن ہے اور قاعدے کے مطابق میں سزائے موت کے مستحق مجرموں میں سے ایک کو چھوڑ دینے کا مجاز ہوں ،بتاو¿ عیسیٰ (علیہ السلام) کو چھوڑوں یا برابّا ڈاکو کو؟ تو اُن کے پورے مجمع نے بیک آواز ہو کر کہا کہ برابّا کو چھوڑ دو۔یہ گویا کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آخری حجت تھی جو اِس قوم پر قائم کی گئی۔

دوسرے فساد کی سزا

آخر کار بنی اسرائیل یعنی یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی دانست میں صلیب پر چڑھوا کر اپنی بد نصیبی پر آخری مُہر لگوا لی۔پھر اﷲ تعالیٰ نے انہیں ایسی سزا دی کہ آج دو ہزار سال بعد بھی ذلیل ہو رہے ہیں۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔اِس پر تھوڑا زمانہ ہی گزرا تھا کہ یہودیوں اور رومیوں کے درمیان سخت کشمکش شروع ہو گئی اور 64 عیسوی اور 66 عیسوی کے درمیان یہودیوں نے کھل کر بغاوت کر دی۔ہیرود اگرپّا ثانی اور رومی پروکیوریٹر فلورس ،دونوں اِس بغاوت کو ختم کرنے میں ناکام ہوئے۔آخر کار رومی سلطنت نے ایک سخت فوجی کاروائی سے اِس بغاوت کو کچل ڈالا اور 70 عیسوی میں ٹیٹس نے بزور شمشیر یروشلم کو فتح کر لیا۔اِس موقع پر قتل عام میں ایک لاکھ تینتس ہزار یہودی مارے گئے۔ساٹھ ہزار یہودی گرفتار کر کے غلام بنائے گئے ۔ہزارہا یہودی پکڑ پکڑ کر مصری کانوں میں کام کرنے کے لئے بھیج دیئے گئے۔ہزاروں یہودیوں کو مختلف شہروں میں بھیجا گیا تاکہ ایمفی تھیٹروں اور کلوسیموں میں اُن کو جنگلی جانوروں سے بھڑوانے یا شمشیر زنوں کے کھیل کا تختہ¿ مشق بننے کے لئے استعمال کیا جائے۔تمام درازقامت حسین لڑکیاں فاتحین کے لئے چن لی گئیں۔اور یروشلم کے شہر اور ہیکل کو مسمار کر کے پیوند خاک کر دیا گیا۔اِس کے بعد فلسطین سے یہودی اثرو اقتدار ایسا مٹا کہ دوہزار سال تک اس کو سر اٹھانے کا موقع نہیں ملا اور یروشلم کا ہیکل مقدس پھر کبھی تعمیر نہیں ہو سکا۔بعد میں قیصر ہیڈریان نے اِس شہر کو دوبارہ آباد کیا ،مگر اس کا نام ایلیا تھا اور اس میں مدت ہائے دراز تک یہودیوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔یہ تھی وہ سزا جو بنی اسرائیل کو دوسرے ”فساد عظیم“کی پاداش میں ملی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کی احادیث

یہاں پر حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کے ساتھ ذکر مکمل ہوگیاہے ۔ لیکن امت مسلمہ کے ساتھ ذکر ابھی باقی ہے۔ اسلئے ہم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ارشادات پیش کررہے ہیں۔ تاکہ ذکر مکمل ہوجائے۔

حدیث نمبر1

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اُس اﷲ کی قسم ! جس کے قبضے میں میری جان ہے۔وہ زمانہ قریب ہے کہ مریم رضی اﷲ عنہا کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تم لوگوں میں عادل حکمراں بن کر اُتریں گے تو وہ صلیب کو توڑ دیں گے،خنزیر کو ختم کر دیں گے،جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال اِس کثرت سے ہو گا کہ اُسے کوئی آدمی قبول نہیں کرے گا۔ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ نے آگے فرمایا؛”اگر تم چاہو تو سورہ النساءکی یہ آیت پڑھ لو۔اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے اُن پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُس پر گواہی نہ دیں۔“(صحیح بخاری کتاب الانبیائ)

حدیث نمبر 2

حضرت ابو ہرےرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رواےت ہے ۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیسے ہوگے تم (اس وقت تمھارا کیا حال ہوگا)جب تمھارے درمیان عیسیٰ بن مرےم اترےں گے ۔اور تمھارا امام اس وقت خود تم مےںسے ہوگا۔(صحیح بخاری، کتا ب الانبیا، صحیح مسلم باب نزول عیسیٰ، مسند احمد)

حدیث نمبر3

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رواےت ہے ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛”پھر عیسیٰ بن مرےم علیہ السلام نازل ہوگے ۔مسلمانو ں کا امےر ان سے کہے گا کہ آئےے! آپ علیہ السلام نماز پڑھائےے۔ مگر وہ کہیں گے نہیں تم لوگ خود ہی ایکدوسرے کے امیر ہو ۔یہ وہ اس عزت کا لحاظ کر تے ہو ئے کہیں گے ۔جو اللہ نے اس امت کو دی ہے۔“(صحیح مسلم باب نزول عیسیٰ، مسند احمد، مرویات جابر بن عبداللہ)

حدیث نمبر4

حضرت جابر عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رواےت ہے کہ دجّال کا قصہ بیان کرتے ہوئے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس وقت ےکاےک حضرت عیسیٰ بن مرےم علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آجائےں گے۔ اور ان سے کہا جائے گا؛”اے روح اللہ علیہ السلام !آگے بڑھئے۔ (اور نماز پڑھائےے) “مگر وہ کہیں گے کہ نہیں، تمھارے امام کو ہی آگے بڑھنا چاہئے۔ وہی نماز پڑھائے۔پھر صبح کی نماز پڑھ کر دجال کے مقابلے پر نکلیں گے۔جب وہ کذاب(دجّال ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھے گا۔ تو گھلنے لگے گا۔ جےسے نمک پانی میں گھلتا ہے ۔ پھر آپ علیہ السلام اس کی طرف بڑھےں گے۔اور اسے قتل کردےںگے۔ اور یہ حالت ہوگی کہ درخت اور پتھر پکار اٹھےں گے کہ اے روح اللہ علیہ السلام یہ یہودی (بنی اسرائےل ) میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ دجّال کے پیروﺅں میں کوئی نہیں بچے گا۔ جسے وہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) قتل نہ کردیں۔(مسند احمد ، روایات جابر بن عبداللہ)

حدیث نمبر 5

حضرت ابو ہرےرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛” میرے اور اُن (حضرت عیسیٰ علیہ السلام )کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔ اور یہ کہ وہ اُترنے والے ہیں ۔پس جب تم ان کو دیکھنا تو پہچان لینا۔ وہ ایک درمیانہ قد آدمی ہیں ۔رنگ سرخی مائل اور سفیدی ہے۔دو زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہونگے۔ ان کے سر کے بال ایسے ہونگے گویا اب ان سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوگے ۔اور اسلام کے لئے لوگوں سے جنگ کرےںگے۔ صلیب کو توڑدےںگے ۔خنزےر کو قتل کر دےںگے۔ جزےہ ختم کر دیں گے ۔اور اللہ ان کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو مٹا دے گا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو ہلاک کر دےںگے۔ اور زمین میںوہ چالیس سال ٹھہرےں گے۔ پھر ان کا وصال ہوجائے گا۔ اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھےں

 گے۔(سنن ابو داﺅد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال ، مسند احمد مرویات ابو ہرےرہ)

حدیث نمبر 6

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے یہ کتابوں میں پڑھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بازو میں دفن کئے جائےں گے۔ ابو مودود نے کہا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاکے حجرہ میں ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔ اور انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے تورےت میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں پڑھا ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ان کے بازومیں دفن کئے جائےں گے۔(مختصر تارےخ دمشق )

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میںا حادےث بہت ذیادہ ہیں ۔ہم اتنے پر ہی بس کرتے ہیں ۔ان احادےث سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جب آئےں گے۔ تو تمام عیسائی (نصارےٰ) ایمان لاکر مسلمان ہوجائےں گے۔ اور تمام یہودی (بنی اسرائےل ) دجال کے ساتھ ہوجائےں گے ۔اور آپ علیہ السلام ان سب کو قتل کر دےںگے۔ یعنی یہودیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور زمین پر تمام لوگ مسلمان ہوجائےں گے۔ اور پوری زمین پر اسلامی حکومت قائم ہوجائے گی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔

٭............٭............٭


جمعرات، 15 جون، 2023

01 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام Story of Prophet Zakaria and Yahya


01 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

قسط نمبر 1 

حضرت عزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات 

حضرت عزیر علیہ السلام کے ذکر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل دوبارہ کنعان( حالیہ فلسطین ) میں آباد ہو گئے اور حضرت عزیر علیہ السلام نے توریت دوبارہ لکھ کر انھیں دی تھی۔ اور بنی اسرائیل کو تمام احکامات اور فرائض وغیرہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا تھا۔ لیکن بد بخت بنی اسرائیل ، آپ علیہ السلام کو ہی ( نعوذ باللہ) اللہ کا بیٹا بنا بیٹھے تھے۔ آپ علیہ السلام نے بہت سمجھایا کہ تم لو گ گمراہی میں مبتلا ہو رہے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اولاد وغیرہ سے پاک ہے۔ لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت اسی گمراہی میں مبتلا رہی۔ اور بہت کم بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی بات کو تسلیم کیا۔ اور اسلام پر ڈٹے رہے۔

حضرت عزیر اور حضرت زکریا علیہم السلام کا درمیانی عرصہ 

حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام کا درمیانی عرصہ لگ بھگ 461چارسو اکسٹھ سال ہے۔ یعنی حضرت زکریا علیہ السلام ، حضرت عزیر علیہ السلام کے لگ بھگ 461سال بعد آئے۔ یہ درمیانی عرصہ بنی اسرائیل نے کس طرح گزارا اور وہ کیسی کیسی برائیوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اور کن کن بادشاہوں نے اُن پر حکومت کی یہ سب مختصراً ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے انشاءاللہ ۔ اور پھر حضرت زکریا علیہ السلام کے ذکر کی طرف آئیں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان 461برسوں میں اس دوران اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں اپنا کوئی بھی نبی نہیں بھیجا۔ تو جواب یہ ہے کہ اس دوران بھی اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام کو بنی اسرائیل میں مسلسل بھیجتا رہا ہے۔ لیکن چونکہ ان کے بارے میں مستند روایات نہیں ہیں اس لئے ہم ان تفصیلی ذکر نہیں کر سکتے۔ بائبل ( توریت اور انجیل) کے الگ الگ نسخوں میں بہت سے انبیائے کرام کا ذکر آیا ہے۔ لیکن یہ نسخے مستند نہیں ہیں۔ اور ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ان میں ملاوٹ ہو چکی ہے۔ اس لئے ہم نے انھیں چھوڑ دیا ہے۔

سکندر کا فارس ( حالیہ ایران ) پر قبضہ 

حضرت عزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل نے بیت المقدس کی تعمیر کی ۔ اس کی شروعات تو آپ علیہ السلام نے ہی کی تھی۔ لیکن تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کواپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا تھا۔ بیت المقدس بنی اسرائیل کا مرکز رہا۔ اور بنی اسرائیل آس پاس کے تمام علاقے (فلسطین اورشام) میں آباد تھے۔ ان کی اپنی کوئی حکومت نہیں تھی۔ بلکہ ان پر سلطنت ِ فارس ( آج کا ایران) کا مقرر کیا ہوا حکمراں ان پر حکومت کرتا تھا۔ اس طرح لگ بھگ سو برس (100) برس یعنی ایک صدی گزر گئی اس دوران اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل میں انبیائے کرام بھیجتے رہے۔ لیکن وہ مسلسل نافرمانیوں اور گمراہیوں میں مبتلا رہے۔ اس کے بعد یونان سے سکندر نام کا ایک طوفان اٹھا ۔ سکندر کی فارس کے حکمراں سے رشتہ داری تھی۔ اور اس حکمراں نے سکندرکو ذلیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ نتیجے میں سکندر نے اپنی فوج لیکر فارس پر حملہ کر دیا ۔ اور اس کے حکمراں کو شکست دے کر فارس اور آس پاس کے تمام علاقوں جن میں حالیہ عراق اور سابقہ بابل اور حالیہ فلسطین اور شام جو سابقہ کنعان تھا۔ ان سب علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح بنی اسرائیل پر یونانیوں یعنی سکندر کی حکومت ہوگئی۔ اس کے بعد سکندر اپنی فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ہندوستان تک آگیااور وہیں اس کی موت ہو گئی۔ اس نے 14سال حکومت کی اور انتقال کے وت اس کی عمر 36برس تھی۔

بنی اسرائیل پر یونانیوں کے اثرات 

سکندر کا تو انتقال ہو گیا۔ لیکن بنی اسرائیل پر یونانی حکمراں بنے رہے۔ سکندر کے بعد اس کے بیٹے کو یونانیون نے حکمراں بنانا چاہا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ تو یونانیوں نے بطلیموس کو حکمراں بنا دیا۔ اس کا نام کچھ اور تھا۔لیکن اس نے بطلیموس کا لقب اختیار کیا۔ اس کے بعد ہر یونانی بادشاہ بطلیموس کا لقب اختیار کیا۔ جس طرح فارس کا ہر حکمراں کِسریٰ کا لقب اختیار کرتا تھا۔ اور روم کا ہر حکمراں قیصر کا لقب اختیار کرتا تھا۔ یونانی بہت عرصے تک بنی اسرائیل پر حاوی رہے اور دھیرے دھیرے بنی اسرائیل یونانیوں سے متاثر ہونے لگے۔ اچھے خاصے یہودی (بنی اسرائیل) یونای کلچر میں ڈھل گئے۔ بہت ممکن تھا کہ بنی اسرائیل پوری طرح سے یونانی افکار و خیالات کو اپنا لیتے لیکن یونانی بادشاہ کی غلطی کی وجہ سے بنی اسرائیل جاگ گئے۔

بنی اسرائیل کی آزادی اور حکومت 

ایٹیوکس چہارم جب یونان کا حکمراں بنا تو اس نے بنی اسرائیل (یہودیوں) پر ظلم و ستم کرنا شروع کر دیا۔ اور یہودی ( بنی اسرائیل) کا قتل کرنے لگا۔ جس کی وجہ سے سوئے ہوئے بنی اسرائیل میں بیداری پیدا ہو گئی۔ اور انھوں نے یونانیوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ حالانکہ بنی اسرائیل دو حصوں میں بٹ گئے۔ ان میں سے ایک حصہ یونانیوں کا حامی تھا لیکن بنی اسرائیل کی عوام اور ایک بڑا طبقہ یونانیوں کے خلاف تھا۔ نتیجے میں 175قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 175سال پہلے بنی اسرائیل نے یونانیوں سے آزادی حاصل کر لی۔ اور اپنی آزاد حکومت قائم کر لی۔ اور بنی اسرائیل ایک مرتبہ پھر ترقی کرنے لگے۔ اور ان کی حکومت بڑھتے بڑھتے ان علاقوں تک پہنچ گئی جن علاقوں تک حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتیں تھیں۔

بنی اسرائیل کا دوسرا زوال 

بنی اسرائیل ایک مرتبہ پھر عروج پر آگئے تھے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتوں کا جو رقبہ تھا اُس سے بھی بڑے علاقے پر اپنی حکومت قائم کر لی لیکن پھر دھیرے دھیرے ان میں اختلافات ہوئے اور وہ ٹکڑوں میں بٹنے لگے۔ اور تمام بارہ قبیلوں نے اپنی اپنی حکومتوں کا اعلان کر دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ اُن میں بے شمار برائیاں اور گمراہیاں بھی پیداہو گئی تھیں۔ ان قبیلوں کے آپسی جھگڑے اتنے بڑھے کہ ان میں سے کچھ قبیلوں نے رومیوں سے ساز باز کر لی۔ بنی اسرائیل کی یہ حالت ایک صدی میں یعنی 100برسوں میں ہوئی۔ ان سو برسوں کے دوران یونانیوں کو شکست دے کر رومی اُن پر حاوی ہو چکے تھے۔ جب بنی اسرائیل کے کچھ قبیلوں نے اپنے مخالف قبیلوں کے مقابلے میں رومیوں سے مدد مانگی۔ تو رومی اُن کی طرف متوجہ ہو گئے اور بنی اسرائیل کے علاقوں میں رومی افواج کو داخل کر دیا۔ اور دھیرے دھیرے رومیوں نے بنی اسرائیل کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اور بنی اسرائیل کی حکومت کا خاتمہ کر کے انھیں محکوم بنا لیا۔ بنی اسرائیل کی آزاد حکومت کا خاتمہ 67قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 67سال پہلے ہوا تھا۔

حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے متولی 

رومیوں نے بنی اسرائیل کی آزاد حکومت کا خاتمہ کر دیا لیکن وہ خود حکومت کرنے نہیں آئے بلکہ بنی اسرائیل کے غداروں ( جو رومیوں کے وفادار تھے) میں سے ایک کو کٹھ پتلی حکمراں بنا دیا۔ اس طرح حکومت تو بنی اسرائیل کا ایک شخص کر رہا تھا لیکن اصل حکومت رومیوں کی تھی۔ ان حالات میں حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے متولی تھے۔ بنی اسرائیل میں کُل بارہ قبیلے تھے۔ ان میں سے بنی لاوی مذہبی امور کے لئے مخصوص تھے۔ اور باقی قبیلے الگ الگ علاقوں پر قابض ہو گئے تھے۔ رومیوں کے قبضے کے بعد بھی مذہبی امور بنی لادی کے ہی ذمہ رہے۔ بنی لادی میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام بھی تھے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام اُن کی ہی اولاد میں سے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کا کام بیت المقدس کی تمام ذمہ داریاں اٹھانا اور بنی اسرائیل کو سمجھانا اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا تھا۔آسان الفاظ میں یوں سمجھیں ۔ حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے مذہبی رہنماتھے۔ اور تما م بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کو اپنا مذہبی رہنما تسلیم کرتے تھے۔

حضرت زکریاعلیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت زکریا علیہ السلام کے سلسلۂ نسب کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی سلسلہ¿ نسب اِس طرح لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام بن اذن بن مسلم بن صدون ۔صدون حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔سلیمان علیہ السلام بن داو¿د علیہ السلام بن ایشا بن حویل بن سلمون بن عرابن بن ممثون بن عمیاد بن حضروم بن فارض بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام ،حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان سے تھے۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا بن حنا اور حضرت زکریا بن دان بھی کہا جا تھا ہےاور یہ بھی کہا گیا ہے حضرت زکریا بن ادن بن مسلم بن صدوف۔اِن کا نسب حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داو¿د علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔آپ علیہ السلام حضرت یحییٰ علیہ السلام کے والد ہیں۔اور بنی اسرائیل سے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”حضرت زکریا علیہ السلام نجار(بڑھئی،مستری) تھے۔مورخین نے بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا بن دان علیہ السلام انبیائے کرام علیہم السلام کے بیٹوں میں سے ہیں۔جو بیت المقدس میں وحی لکھتے تھے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔عمران نام ہے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد صاحبکو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔اُن کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق کے یہ ہے۔عمران بن ہاشم بن میثا بن خرقیا بن اسیت بن ایاز بن رخیعم بن حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داؤود علیہ السلام۔

بنی اسرائیل کے سب سے بڑے مذہبی رہنما

حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر نبی اور اپنے زمانے میں سب سے بڑے مذہبی رہنما تھے۔مفتی احمد یار خان نعیمی”تفسیر عالمانہ “میں لکھتے ہیں۔آپ علیہ السلام ،حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہوتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔زکریا بن آذن یا اُون یا اخیاہ بن مسلم بن صدون ۔آپ علیہ السلام کی ولدیت میں تین قول ہیں۔اسلامی تاریخ میں زکریا بن آذن ہے،بائیبل میں زکریا بن اُون ہے،اور اسرائیلیات میں زکریا بن اخیاہ ہے۔مطابقت اِس طرح ہے کہ آذن صحیح لفظ ہے،اُون کا بگڑا ہوا لفظ ہے اور اخیاہ لقب ہے۔تقریباً ستر ہزار انبیا علیہم السلام آپ علیہ السلام کی خاندانی سلسلے اور لڑی سے ہوئے۔آپ علیہ السلام سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاکے خالو تھے۔یہ علاقہ فلسطین کا تھا،یہاں ہی ”بیت المقدس“ ہے۔اُس وقت فلسطین بارہ صوبوں میں تقسیم تھا اور تمام صوبوں پر حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد جو بارہ قبیلوں میں بٹی ہوئی تھی ۔اِن بارہ صوبوں میں اُن کے علحٰیدہ علحٰیدہ بادشاہ تھے۔اِس طرح فلسطین اُس وقت بارہ سلطنتوں کا نام تھا۔لیکن پورے فلسطین کا مذہبی ادارہ الگ تھا۔یہ ادارہ قبیلہ بنو لاوی بن یعقوب کے سپرد تھا ۔بنو لاوی قبیلے کے چار بیٹوں کی نسل چار شعبوں میں تقسیم تھی۔تین شعبے پورے ملک کی تمام عبادت گاہوں (کنیسوں)اور ہیکلوں کے انتظام اور دیگر مذہبی ذمہ داریوں پر مقرر تھے۔جن میں امامت ،خطابت ،درس وتدریس کے علاوہ دینی تبلیغ بھی شامل تھی ۔لیکن مذہبی صدر مقام ”بیت المقدس“کا تمام انتظام ،دیکھ بھال ،زینت وچراغاں اور خوشبو جلانا۔یہ سب کام صرف شعبہ قبیلہ بنو ہارون سپرد تھا۔اِن کے علاوہ کسی بھی موقع پر بیت المقدس کے اندر کسی بھی قبیلے کا کوئی فرد نہیں جاسکتا تھا۔دیگر بنو لاوی کے تین شعبوں کے افراد بھی بیت المقدس کے صحن ،باغیچہ اور زائرین ،مسافرین،عابدین اور راہبین کی رہائش گاہوں کی دکھ بھال صفائی و انتظامات کرتے تھے۔ہر شعبے کا ایک سردار ہوتا تھا جس کی ذمہ داری اپنے عملے کے ساتھ پانچ قسم کی تھی۔1)مہمان داری،2) یوم ِ سبت کی عبادت کا انتظام،3) سالانہ عیدین پر قربانی کرانا،4)پہاڑوں پر جاکر قدرتی آگ سے جلانے کے لئے رکھنا،5)اور بیت المقدس کی چوکیداری کرنا۔بنو لاوی کے چار شعبوں میں سب سے معزز و محترم شعبہ بنو ہارون تھا۔اِس کے افراد چوبیس خاندانوں میں تقسیم تھے جن میں سے ایک خاندان ”ابیاہ “تھا۔اِس کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام تھے،بیت المقدس کی خدمت کے لئے اِن چوبیس خاندانوں کی پندرہ پندرہ دن کی ڈیوٹیاں اور باریاں مقرر تھیں۔یعنی ہر دو ہفتے بعد باری بدلتی تھی۔ہر سردار اپنی باری پر اپنے گیارہ خاندانی راہبوں اور نوکروں کے ساتھ بیت المقدس میں عبادت اور چراغاں و خوشبو جلانے کا انتظام کرتا تھا۔جس کا خرچہ تمام بارہ سلطنتیں ادا کرتی تھیں۔خاندان ابیاہ کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام ہی اپنے عملے کے ساتھ اپنی باری پر بیت المقدس میں تشریف لے جاتے تھے۔قانون یہ تھ کہ ہر سردار کا بیٹا اپنا جانشین بنا سکتا تھا۔اُس وقت پورے بنی اسرائیل کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام ہی تھے۔مگر بہت تھوٹے آپ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور اکژیت مرتدین اور فاسقین و فاجرین کی تھی۔بیت المقدس کی سرداری کے لئے پوری دینی تعلیم ،طریقہ ،تبلیغ و عبادت ضروری شرط تھی ،جس کے لئے جانشین کو پہلے سے تیار کیا جاتا تھا۔مگر حضرت زکریا علیہ السلام کی کوئی اولاد نہیں تھی۔نہ بیٹا ،نہ بیٹی،اور نہ اپنے خاندان میں کوئی ایسا نیک ،پاک اور متقی شخص نظر آتا تھا کہ جس کو جانشینی کے لئے نامزد اور تیار کیا جاسکے۔تب آپ علیہ السلام نے یہ خفیہ دعا مانگی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

02 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام Story of Prophet Zakaria and Yahya


02 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

قسط نمبر 2

حضرت زکریا علیہ السلام کی ذمہ داریاں

حضرت زکریا علیہ السلام اﷲ کے نبی ہونے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی سب سے مقدس مسجد(بیت المقدس)کے ذمہ دار بھی تھے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان سے ہیں۔ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہا نت کا اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کے بارہ قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کردیا۔اور بنو لاوی مذہبی خدمات کے لئے مخصوص رہا۔پھر بنو لاوی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو”مقدس میں خداوندکے آگے بخور جلانے کی خدمت “اور ”پاک ترین چیزوں کی تقدیس کا کام“کرتا تھا،وہ حضرت ہارون علیہ السلام کا خاندان تھا۔باقی دوسرے بنو لاوی مقدس کے اندر نہیں جاسکتے تھے بلکہ خداوند کے گھر کی خدمت کے وقت صحنوں اور کوٹھریوں میں کام کرتے تھے۔سبت کے دن اور عیدین کے موقع پر سختنی قربانیاں چڑھاتے تھے اور مقدس کی نگرانی میں بنو ہارون کا ہاتھ بٹاتے تھے۔بنو ہارون کے چوبیس خاندان تھے جو باری باری سے مقدس کی خدمت کے لئے حضر ہوتے تھے۔انہی خاندانوں میں سے ایک ایبا ہ کا خاندان تھا جس کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام تھے۔اپنے خاندان کی باری کے دنوں میں یہی مقدس میں جاتے تھے اور خداوند کے حضور بخور جلانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ 

اﷲ نے منتخب فرمایا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میںآدم (علیہ السلام) کو اور نوح(علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام )کے خاندان کو اور آل عمران کا انتخاب فرما لیا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر ۳۳)اِس آیت میں آل عمران (عمران کی اولاد )یعنی سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔یہاں ”عمران “سے مُراد سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔عمران بن ماثان ،سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاکے والد ہیںاور بنی اسرائیل کے بادشاہوں کے بیٹوں میں سے تھے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔قاضی ثناءاﷲ پانی پتی لکھتے ہیں۔امام مقاتل کے مطابق” عمران“ سے مُراد عمران بن یصہر بن قاہت بن لاوی بن حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں،جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد ہیں۔ایک قول میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”عمران“سے مُراد عمران بن ماثان ہیں جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔اور عمران کی اولاد میں سے بعضوں کو۔اگر یہ ”عمران “حضرت موسیٰ علیہ السلا م کے والد ہیں تو اولاد سے مُراد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام ہیں۔اور اگر یہ”عمران“سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں تو اولاد سے مُراد حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ہیں۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔عمران دو ہیں۔ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد ماجد،اور دوسرے عمران بن ماثان،سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا۔پھر اُن کا سلسلہ¿ نسب لکھنے کے بعد لکھتے ہیں۔یہاں یا تو پہلے عمران مُراد ہیں یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد یا دوسرے عمران یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا ،اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ آگے سیدہ مریم رضی ا ﷲعنہا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ آرہا ہے۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ کی منت 

حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام ایشاع ہے۔ ایشاع کی بہن کا نا م حَنّہ ہے۔ اور حنّہ کے شوہر کا نام عمران ہے۔ اس طرح حضرت زکریا علیہ السلام اور عمران ہم زُلف ہیں۔ عمران کی بیوی حنہ نے بیت المقدس میں آکر اللہ تعالیٰ سے منت مانی کہ مجھے جو اولاد ہو گی اسے میں اللہ تعالیٰ کے حوالے یعنی بیت المقدس کی خدمت میں دے دوں گی۔ انھوں نے یہ سوچ کر منت مانی کہ اگر مجھے بیٹا ہوا تو اسے بیت المقدس کے وقف کردوں گی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے کام کو آگے بڑھائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو اپنی نشانی بنانا چاہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آ ل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو کچھ ہے،اُسے میں نے تیرے نام سے آزاد کرنے کی نذر مانی ہے۔تُو میری طرف سے قبول فرما،یقینا تُو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر ۵۳)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد محترم کا نام عمران ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے دعا کی الٰہی اگر مجھے آپ اولاد عطا فرما دیں گے تو میں اُس کو دین کے لئے آزادر رکھوں گی۔اُس زمانہ میں اِس بات کو بہت بڑی نیکی سمجھا جاتا تھا کہ پیدا ہونے والی اولاد کو اِس طرح اﷲ کے گھر اور اُس کی عبادت کے لئے آزاد کر دیا جائے کہ وہ زندگی کی تمامذمہ داریوں سے الگ رہتے ہوئےصرف اُسی کی بند گی میں لگا رہے۔اِس دعا میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے گویا اشارةً بیٹے کی تمنا کی تھی۔اﷲ نے اُن کی دعا کو قبول فرمایا اور اُن کے گھر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیں۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پیدائش 

حضرت عمران کی بیوی سیدہ حنّہ نے منت مانی تھی کہ وہ اپنی اولااد کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دے گی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بیٹی عطا فرمائی۔اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ چونکہ بنی اسرائیل میں یہ قاعدہ تھا کہ صرف لڑکوں کو ہی بیت المقد س کی خدمت کے لئے وقف کیا جاسکتا تھا اس لئے سیدہ حنّہ کچھ مایوس ہو گئیں ۔ لیکن انھیں اپنی منت پوری کرنی ضروری تھی اسی لئے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا اے اللہ تعالیٰ ، میں یہ لڑکی پیش کر رہی ہوں اور میں نے اس کانام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود کے شر سے اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو بیت المقدس کی خدمت میں وقف کر دیا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب بچی پیدا ہوئی تو کہنے لگیںکہ پروردگار!مجھے تو لڑکی پیدا ہوئی،اﷲ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے؟اور لڑکا ،لڑکی جیسا نہیں،میں نے اِس کا نام ”مریم “رکھا ،اور میںاِسے اور اِس کی اولاد کوشیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 36)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پیدائش کے بعد اُن کی والدہ سخت پریشان ہوئیںکہ یہ لڑکی پیدا ہوئی ہے ۔اِس کو اﷲ کے لئے میں کیسے آزاد کروں گی؟اﷲ نے اُن کے دل میں اِس بات کو القا فرمایا کہ اے مریم کی والدہ تمہیں معلوم نہیں ہے یہ لڑکی کتنی با عظمت ہے۔اِس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمائیں گے۔

شیطان ہر بچے کو چھوتا ہے

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 36میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے عرض کیا کہ ”میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“اﷲ تعالیٰ نے اُن کی یہ عرض بھی قبول فرمائی۔مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔پھر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ عمران کی بیوی کی نذر کا تذکرہ فرمایا ،انہوں نے نذر مانی تھی کہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو بچہ ہے،میں نے اُس کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی ہے۔آزاد چھوڑنے کا مطلب یہ تھا کہ اُس کو صرف ”بیت المقدس“کی خدمت کے لئے فارغ رکھوں گی اور دنیا کا کوئی کام نہیں لوں گی۔مسجد کی خدمت کرنے والے مرد ہوتے تھے۔اب ہوا یہ کہ جس حمل کے بچے کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی تھی،جب اُس حمل کی پیدائش ہوئی تو وہ لڑکا نہیں بلکہ لڑکی تھی۔عمران کی بیوی افسوس کرنے لگیںاور کہنے لگیں کہ اے میرے رب!میرے تو لڑکی پیدا ہوئی ہے،لڑکی ”بیت المقدس“کی خدمت گذارکیسے بنے گی؟اﷲ تعالیٰ کو معلوم ہی تھا کہ کیا پیدا ہوئی ہے؟لیکن یہ انہوں نے حسرت کے طور پر کہا تھا۔اس کے بعد آگے لکھتے ہیں ۔عمران کی بیوی نے لڑکا پیدا نہ ہو نے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں اِس لڑکی کو اور اِس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود سے۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے،شیطان اُس کو پیدا ہونے کے وقت چھوتا ہے۔سو وہ اُس کے چھونے سے چیختا ہے،سوائے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُس کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔(کہ وہ اُن کو نہیں چھو سکا)بعض روایات میں ہے کہ شیطان اپنی انگلی سے کچوکا دیتا ہے ،اِسی لئے بچہ چیخ پڑتا ہے۔سوائے مریم رضی ا ﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ اُن دونوں تک نہیں پہنچ سکا ۔

مریم ۔بمعنی عابدہ

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 36کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی ”خلاصہ¿ تفسیر“میںلکھتے ہیں۔اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم وہ وقت بھی یاد کرو اور انہیں سناو¿۔جبکہ عمران کی بیوی ”حنہ“نے حاملہ ہو کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا۔اے میرے مولا !چونکہ تُو نے مجھے نا اُمیدی کے بعد اولاد کی اُمید دکھائی ہے۔اِس لئے میں نذر مانتی ہوں کہ جو کچھ میرے پیٹ میں اولاد ہے ،وہ ”بیت المقدس “کی خدمت کے لئے وقف ہے۔نہ میں اس سے اپنی خدمت لوں گی ،اور نہ ہی گھر کے کام کاج کراو¿ں گی۔اے مولا!یہ میرا حقیر ہدیہ اپنے فضل و کرم سے قبول فرمالے،تُو کلام سننے والا اور میری نیت و اخلاص کو جاننے والا ہے۔وہ لڑکے کی اُمید پر بہت خوش و خرم تھیں،جب ولادت کا وقت آیا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پید ہوئیں تو حنہ حیران رہ گئیں۔عرض کرنے لگیں کہ اے مولیٰ !یہ کیا ہو گیا؟میرے تو لڑکی پید ہو گئی ،اب میں اپنی نذر کیسے پوری کروں؟اے محبوب (صلی اﷲ علیہ وسلم)! حنہ کیا جانیں کہ لڑکی کیسی ہے؟ یہ تو رب ہی جانتا ہے کہ وہ لڑکی کس درجہ کی ہے؟لڑکا اِس لڑکی کی طرح ہوسکتا ہی نہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ اے مولیٰ !چونکہ اِس کے باپ تو پہلے ہی وفات پا چکے ہیں ،اِس لئے میں اِس لڑکی کا نام ”مریم“رکھتی ہوں۔بمعنی ”عابدہ“۔اور میری نیت یہ ہے کہ یہ ”بیت المقدس “میں رہ کر تیری عبادت کرے ،تاکہ بقدر طاقت میری منت پوری ہو۔اے مولیٰ !چونکہ میں اسے اپنے الگ ”بیت المقدس‘]میں رکھوں گی، اِس لئے اِس کو اور اِس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں کہ تُو اسے شیطان سے بچا اور اسے صالح پرہیز گار بنا۔اس کے بعد ”اصل واقعہ“کے تحت لکھتے ہیں۔فاقوزا کی دو بیٹیاں تھیں۔حنہ اور ایشاع۔حنہ عمران کے نکاح میں آئیں،ایشاع حضرت زکریا علیہ السلام کے نکاح میں آئیں۔دونوں بہن بے اولاد تھیں۔یہاں تک کہ انہیں بڑھاپا آگیا اور اولاد سے مایو سی ہو گئی ۔ایک دن سیدہ حنہ نے ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو دانہ کھلا رہی ہے۔اُن کے دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور دعا کی۔اے مولیٰ ! یہ چڑیا بچے سے دل بہلا رہی ہے مجھے بھی ایک فرزند دے جو میرے دل بہلانے کا ذریعہ ہو۔تو اُسی وقت ”وقف“کی منت مان لی یا حمل کے بعد۔غرض یہ کہ دعا مانگنے کے بعد حاملہ ہو گئیں اور عمران سے کہنے لگیںکہ میں نے منت مانی ہے۔عمران نے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا،اگر لڑکی پیدا ہوئی تو کیا کرو گی؟تب بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کیا کہ اے مولا ! میں منت مان چکی ہوں کہ جو کچھ میرے شکم میں ہے وہ ”بیت المقدس“ کی خدمت کے لئے وقف ہے۔اِس سے نہ خدمت لوں گی نہ گھر کا کام کاج کراو¿ں گی۔اُس زمانے میں ”وقف“کا رواج تھاکہ لوگ اپنی اولاد کو بیت المقدس کی خمت کے لئے وقف کر دیتے تھے۔اور بچے وہاں ہی رہتے سہتے اور وہاں کی خدمت کرتے تھے۔اِس قاعدہ سے آ پ نے منت مانی اور خوش تھیں کہ جب میری دعا پر رب نے یہ اُمید دکھائی ہے تو بیٹا ہی ہو گا،کیونکہ میں نے بیٹا ہی مانگا تھا۔اِسی اثناءمیں حضرت عمران وفات پاگئے۔جب وقت ولادت آیا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیںتو حنہ کو خلاف اُمید لڑکی پیدا ہونے اور اپنی نذر پورا نہ کر سکنے پر بہت افسوس ہوا۔تب اﷲ تعالیٰ سے وہ دعا مانگی ،جو اِس آیت میں مذکور ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.....! 

03 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام Story of Prophet Zakaria and Yahya


03 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

قسط نمبر 3

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کے لئے قرعہ

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اُن کی والدہ نے ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کے ذمہ داران کے حوالے کر دیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں اس وقت لگ بھگ 24خاندان تھے۔ اور ہر خاندان سے کئی کئی علماءاور قراءبیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے تھے۔ ہر ذمہ دار یہ چاہتا تھا کہ وہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پرورش کرے گا۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا۔ اس کی پرورش میرے ذمہ کر دو۔ کیوں کہ میری بیوی اس کی خالہ ہے یہ سن کر تمام علماءنے کہا ہم قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کے نام قرعہ کھلے گا وہ اس بچی کی پرورش کر ے گا۔ اُس وقت بیت المقدس کے ذمہ دار علمائے کرام کی کل تعداد 27ستائیس تھی ۔قرعہ نکالا گیا تو وہ حضرت زکریا علیہ السلام کا ہی نکلا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے پرور دگار نے اچھی طرح قبول فرما لیا اور اُسے بہترین پرورش دی۔اُس کی خیر خبر لینے والا زکریا (علیہ السلام) کو بنایا۔........آیت کے آخر تک(سورہ آل عمران آیت نمبر 37)علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری اپنی سند سے لکھتے ہیں۔جب سیدہ مریم رضی ا ﷲعنہا پیدا ہوئیں تو اُن کی والدہ نے اُن کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اُن کو کاہن بن عمران کے بیٹے کے پاس لے گئیں۔جو اُس زمانے میں ”بیت المقدس“کے دربان تھے اور اُن سے کہا کہ اِس نذر مانی ہوئی لڑکی کو سنبھالو۔یہ میری بیٹی ہے ،میں نے اس کو اپنی ذمہ داری اور ولایت سے آزاد کیا۔عبادت گاہ میں حائض داخل نہیں ہوسکتی اور میں اِس کو اپنے گھر نہیں لے جاو¿ں گی۔انہوں نے کہا یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے اور عمران اُن کو نمازیں پڑھاتے تھے اور اُن کی قربانیوں کے منتظم تھے۔حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لڑکی مجھے دے دو،کیونکہ اِس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔باقی لوگوں نے کہا کہ ہم اِس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے،پھر انہوں نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پرورش کے لئے قلموں کے ساتھ قرعہ اندازی کی۔یہ وہ قلم تھے جن سے وہ ”توریت“لکھتے تھے۔حضرت زکریا علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکل آیااور انہوں نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کہ کفالت کی۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ اُن کو لیکر مسجد بیت المقدس میں پہنچیں اور وہاں کے مجاورین اور عابدین سے جن میں حضرت زکریا علیہ السلام بھی تھے،جا کر کہا کہ اِس لڑکی کو میں نے خاص خدا کے لئے مانا ہے۔اِس لئے میں اِسے اپنے نہیں رکھ سکتی ،سو اِس کو لائی ہوں آپ لوگ رکھیئے۔حضرت عمران اس مسجد کے امام تھے اور حالت ِ حمل میں اُن کی وفات ہو چکی تھی۔ورنہ سب سے زیادہ مستحق اُس کے لینے کے وہ ہی تھے،لڑکی کے باپ بھی تھے اور مسجد بیت المقدس کے امام بھی۔اِس لئے بیت المقدس کے مجاورین و عابدین میں سے ہر شخص اُن کو لینے اور پالنے کی خواہش رکھتا تھا۔حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنی ترجیح کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ میرے گھر میں اس کی خالہ ہیںاور وہ بمنزلہ¿ ماں کے ہوتی ہے۔اِس لئے ماں کے بعد وہی رکھنے کی مستحق ہے۔مگر اور لوگ اِس ترجیح پر راضی اور متفق نہیں ہوئے۔آخر قرعہ اندازی پر اتفاق قرار پایا،اور صورت قرعہ کی بھی عجیب و غریب خلاف عادت ٹھہری۔جس کا بیان آگے آئے گا،اِس میں بھی حضرت زکریا علیہ السلام کامیاب ہوئے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم دونوں سمت تیرا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے،جسے ہم آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم)اُن کے پاس نہیں تھے جب کہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے گا۔اور نہ تو اُن کے جھگڑنے کے وقت اُن کے پاس تھے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 44)حضرت زکریا علیہ السلام کے نام کے قرعہ سے تمام علماءغیر مطمئن رہے اور کہا کہ دریا میں چل کر قرعہ نکالتے ہیں۔ جس کا قلم دریا کے پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرے گا وہ اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ تمام علمائے کرام دریا کے کنارے آئے اور تمام بنی اسرائیل بھی آگئے۔ سب ہی دیکھ رہے تھے ۔ حضرت زکریا علیہ السلام اور تمام علمائے کرام نے اپنے اپنے قلم پانی میں ڈالے۔ تمام علمائے کرام کے قلم پانی کے بہاﺅ کی طرف تیرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگا۔ اس مرتبہ بھی قرعہ آپ علیہ السلام کے نام ہی کھلا۔ تمام علمائے کرام نے کہا ایک مرتبہ اور قرعہ نکالتے ہیں۔ اس مرتبہ جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کی طرف تیرے گا وہ اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ تمام لوگوں نے پھر اپنے اپنے قلم پانی میں ڈالے۔ اس مرتبہ تمام علمائے کرام کے قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگے اور آپ علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگا۔ اس طرح ہر مرتبہ قرعہ آپ علیہ السلام کے نام ہی کھلا۔ اور تمام علمائے کرام نے تسلیم کر لیا کہ اللہ تعالیٰ بھی چاہتے ہیں کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش حضرت زکریا علیہ السلام ہی کریں ۔ قاضی ثناءاﷲ پانی پتی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 37کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے اسے پروان چڑھایااور بہترین پرورش کی۔پس وہ اچھی طرح پروان چڑھی ،وہ ایک دن میں اتنی بڑھتیں جتنا بچہ ایک سال میں بڑھتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری نے حضرت عکرمہ،قتادہ اور سدی سے نقل کیا ہے کہ جب حنہ نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو کپڑے میں لپیٹ کرمسجد کی طرف لے گئیںاور حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد کے علما ءکے پاس رکھا،اور بولیں کہ اِس نذر کو قبول کرو۔علماءنے اِس میں باہم مقابلہ شروع کر لیا،کیونکہ یہ اُن کے امام اور قربانیوں والے کی بیٹی تھی۔حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا؛”میں تم سب سے اس کو کفالت میں لینے کا زیادہ حق رکھتا ہوں،کیونکہ اس کی خالہ میرے عقد میں ہے۔جن کا نام ایشاع بنت قاقودا تھا،جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔علماءنے قرعہ کے بغیر اسے حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دینے سے انکار کر دیا۔وہ سب دریا کی طرف چل پڑے اور اُن کی تعداد ستایئس (۷۲) تھی ۔امام سدی نے کہا یہ دریائے اُردن تھا۔انہوں نے اپنے اپنے قلم اس شرط پر دریا میں ڈال دیئے کہ جس کا قلم پانی پر ٹھہر جائے گا یا پانی پر بلند ہو جائے گا،یہ بچی اُسی کی کفالت میں رہے گی۔ایک قول کے مطابق جن قلموں سے وہ لوگ توریت لکھتے تھے،وہی قلم دریا میں ڈالے۔حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیااور پانی کے اوپر چڑھ آیا۔باقی قلم نیچے اُتر گئے اور دریا میں بہہ گئے۔حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم اپنی جگہ تیرتا رہااور پانی پر اِس طرح کھڑا رہا،گویا وہ مٹی میں گڑا ہوا ہے۔جبکہ دوسروں کے قلم بہہ گئے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کی اوپر والی سطح کی طرف بلند ہوا اور باقی قلم پانی کے بہاو¿ کے ساتھ بہہ گئے۔اِس طرح سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی کفالت آپ علیہ السلام نے کی۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو رزق عطا فرمانا 

اس طرح سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی کفالت کی ذمہ داری حضرت زکریا علیہ السلام پر آگئی۔ آپ علیہ السلام نے بڑی محبت سے انھیں پالا پوسا ۔ جب سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بڑی ہو گئیں تو گوشہ نشین ہو گئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کسی سے نہیں ملتی تھیں۔ بلکہ صرف اپنے حجرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی رہتی تھیں۔ دن میں ایک آدھ مرتبہ حضرت زکریا علیہ السلام ملاقات کے لئے آتے تھے۔ جب بھی آپ علیہ السلام آتے تو دیکھتے تھے کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے پاس پھل فروٹ اور کھانا رکھا رہتا تھا۔آپ علیہ السلام نے پوچھا یہ رزق تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ کیونکہ سوائے حضرت زکریا علیہ السلام کے کوئی بھی سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے حجرے میں نہیں جاتا تھا۔ اس کے باوجود وہاں پر رزق پہنچ جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کے جواب میں سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا ۔ یہ اللہ تعالیٰ مجھے عطا فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایااور اُسے بہترین پرورش دی۔اُس کی خیر خبر لینے والا زکریا(علیہ السلام) کو بنایا۔جب کبھی زکریا(علیہ السلام) اُس کے حجرے (محراب)میں جاتے تو اُس کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے۔وہ پوچھتے ؛اے مریم!یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟وہ جواب دیتیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے پاس سے ہے۔بے شک اﷲ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 37 )

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پرورش

حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میںسیدہ مریم رضی اﷲ عنہا آگئیں۔اور آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی نگرانی اور حکم کے مطابق بہت اچھی پرورش کی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔”محراب“کے بارے میںروایت میں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے ایک بالا خانہ بنوایا،جس کے سات دروازے تھے اور وہاں ان کو رکھا۔یا اِس سے بیت المقدس کی کوئی اعلیٰ جگہ مُراد ہے یا مسجد ہی مُراد ہے۔اس زبان میں ساری مسجد کو ”محراب“کہتے تھے۔جیسے اب مسجد کے غربی دیوار کے درمیانی حصے کو ”محراب “کہا جاتا ہے،جہاں کمان نما طاق بنا ہوتا ہے۔جیسے آج ”بیت اﷲ“(خانہ¿ کعبہ) ،مسجد حرام اور پورے مکہ¿ مکرمہ کی حدود کو”حرم“کہتے ہیں۔بلکہ مسجد نبوی شریف اور حدود مدینہ¿ منورہ کو بھی ”حرم“کہا جاتا ہے۔یعنی حرمت والی جگہ۔ایسے ہی لفظ ”محراب“بہت معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔یہاں بیت المقدس کا بالا خانہ ،وہاں کا کوئی خاص مقام مُراد ہے جو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاپرورش کے لئے منتخب ہوا تھا۔یعنی جب حضرت زکریا علیہ السلام سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پاس اُن کے بالا خانے یا مسجد میں جاتے ۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔لفظ ”محراب“سے لوگوں کا ذہن بالعموم اس محراب کی طرف جاتا ہے جو ہماری مسجدوں میں امام کے کھڑے ہونے کے لئے بنائی جاتی ہے۔لیکن یہاں ”محراب“سے مُراد یہ چیز نہیں ہے۔صوامع اور کنیسوں میں اصل عبادت گاہ کی عمارت سے متصل سطح زمین سے کافی بلندی پر جو کمرے بنائے جاتے ہیں،جن میں عبادت گاہ کے مجاور،خدام اور معتکف لوگ رہا کرتے ہیں۔انہیں ”محراب“کہا جاتا ہے۔اسی قسم کے کمروں میں سے ایک میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا معتکف رہتی تھیں۔

اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا حضرت زکریا علیہ السلام کی نگرانی میں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بڑی ہورہی تھیں۔سورہ آل عمران کی آیت نمبر 37کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کچھ بڑی ہوئیں تو منت کے مطابق اُن کو عبادت کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔حضرت زکریا علیہ السلام جو اُسوقت عبادت خانہ(بیت المقدس ) کے متولی بھی تھے اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے خالو بھی تھے،اُن کی نگرانی میں دے دی گئیں۔ایک علحیدہ کمرہ میں اُن کو رکھا گیا۔ جب سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا جوان ہو گئیں تو حضرت زکریا علیہ السلام باہر سے تالا ڈال کر جایا کرتے تھے۔مگر جب واپس آتے تو دیکھتے کہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا عبادت میں مشغول ہیں اور اُن کے پاس بے موسم کے طرح طرح کے پھل رکھے ہوئے ہوتے تھے۔ایک دن حضرت زکریا علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنے اچھے اور تاز پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ تو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے جواب دیا کہ یہ سب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور” اﷲ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ بیٹی مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے؟سیدہ مریم صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرما کہ یہ اﷲ کے پاس سے آتا ہے۔”اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“مسند ابو یعلیٰ میں حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گذر گئے۔بھوک سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو تکلیف ہو نے لگی۔اپنی سب ازواجِ مطہرات رضی اﷲ عنہما کے گھر ہو آئے،لیکن کہیں بھی کچھ نہیں پایا۔اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا؛”بیٹی تمہارے پاس کچھ کے کہ میں کھالوں؟مجھے بھوک لگ رہی ہے۔وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کچھ بھی نہیں ہے۔اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم وہاں سے نکلے ہی تھے کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی کنیز نے دو روٹیاں اور چند گوشت کے ٹکڑے آپ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں لا کر پیش کئے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اسے لیکر برتن میں رکھ لیا اور بسمہ اﷲ پڑھکر ڈھانک دیا۔پھر فرمایا کہ حالانکہ میں اور میرے شوہر اور بچے بھی بھوکے ہیں،لیکن ہم سب آج فاقے سے ہی گذاریں گے اور اﷲ کی قسم ! آج تو یہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہی خدمت میں پیش کروں گی۔پھر حضرت حسن یا حسین رضی اﷲ عنہ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بلا لائیں۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم راسے میں ہی تھے کہ مل گئے اور سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیاکہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اﷲ تعالیٰ نے کچھ بھجوا دیا ہے،جسے میں نے آپ صلی اﷲ علیہ کے لئے چھپا کر رکھ دیا ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میری پیاری بیٹی!لے آؤ۔“اب جو برتن کھولا تو دیکھتی ہیں کہ روٹی اور سالن اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ برتن بھرگیا ہے۔دیکھ کر حیران ہوئیں،لیکن فوراًسمجھ گئیں کہ اﷲ کی طرف سے ہے اِس میں برکت نازل ہو گئی ہے۔اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر دورد ِ پاک پڑھا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے لا پیش کر دیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اسے دیکھ کر اﷲ کی تعریف بیان فرمائی اور فرمایا؛”اے میری پیاری بیٹی !یہ کہاں سے آیا؟“سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا مسکرائیں اور عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲوسلم !اﷲ کے پاس سے آیا ہے۔اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اے میری پیاری بیٹی!اﷲ تعالیٰ نے تجھے بھی نے اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار جیسا کر دیا ہے۔انہیں جب بھی کوئی چیز عطا فرماتا اور اُن سے پوچھا جاتا تھا تو وہ بھی یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ ”اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اور بچوں کو بلوایا۔اور سب ازواج مطہرات کو بھی بھیجا۔سب نے شکم سیر ہو کر کھایا۔پھر بھی اتنا ہی باقی رہا ،جتنا پہلے تھے۔پھر آس پاس کے پڑوسیوں کے یہاں بھیجا گیا ۔علامہ غلام رسول سعید لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری اپنی سند سے لکھتے ہیں امام ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے پاس سردیوں میں گرمیوں کے موسم کے بھی پھل آتے تھے،اور گرمیوں میں سردیوں کے موسم کے بھی آتے تھے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

04 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام Story of Prophet Zakaria i and Yahya


04 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

قسط نمبر 4

حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے پھل رزق میں عطا فرمائے تھے جن کا موسم نہیں ہوتا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کی خدمت کے لئے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو قبول کر لیا ہے۔ آپ علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کوکوئی اولاد نہیں تھی۔ یہ سوچ کر کہ اللہ تعالیٰ بیت المقدس کی خدمت کے لئے لڑکے کی بجائے لڑکی کو بھی قبول کر سکتا ہے تو مجھے بڑھاپے میں ضرور اولاد عطا فرمائے گا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ مجھے اپنے پاس سے نیک اولاد عطا فرما۔ بے شک تو ہی سب کی سننے والا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اِسی جگہ زکریا(علیہ السلام ) نے اپنے رب سے دعا کی۔کہا کہ اے میرے رب!مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔بے شک تُو دعا کا سننے والا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 38)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”یہ تیرے رب کی مہربانی کا ذکر ہے،جو اپنے بندے زکریا (علیہ السلام ) پر کی ۔جب اُس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی ۔اے میرے رب !میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اُٹھا ہے۔لیکن میں کبھی بھی دعا کر کے محروم نہیں رہا۔مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔میری بیوی بھی بانجھ ہے،پس تُو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔“(سورہ مریم آیت نمبر 2سے6تک)

حضرت زکریا علیہ السلام کا اﷲ پر یقین

حضرت زکریا علیہ السلام کو اﷲ کی ذات پر مکمل یقین تھا،اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پاس بے موسم پھل دیکھ کرآپ علیہ السلام کو یہ بھی یقین ہو گیا کہ اﷲ تعالیٰ اِس بڑھاپے میں بھی مجھے اولاد عطا فرما دے گا۔مولانا مفتی محمد شفیع سورہ آل عمران کی آیت نمبر 38کی تفسیر میںلکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام کے اُس وقت تک کوئی اولاد نہیں تھی اور زمانہ بھی بڑھاپے کا آگیا تھا،جس میں عادةً اولاد نہیں ہوتی ہے۔اگرچہ خرق عادت کے طور پر قدرتِ خداوندی کا اُن کو پورا اعتقاد تھا کہ وہ ذات بڑھاپے میں بھی اولاد دے سکتی ہے۔لیکن چونکہ اﷲ کی عادت آپ علیہ السلام نے مشاہد نہیں فرمائی تھی کہ وہ بے موقع بے موسم چیزیں عطا کرتا ہے۔اِس لئے آپ علیہ السلام کو اولاد کے لئے دعا کرنے کی جرا¿ت نہیں ہوئی تھی۔لیکن اُس وقت جب آپ علیہ السلام نے دیکھ لیا کہ اﷲتعالیٰ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو بے موسم پھل اور میوے عطا فرما رہا ہے تو اب آپ علیہ السلام کو بھی سوال کرنے کی جرا¿ت ہوئی۔کہ جو قادرِ مطلق بے موقع پھل عطا کر سکتا ہے وہ بے موقع اولاد بھی عطا فرمائے گا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام بے اولاد تھے۔اِس نوجوان صالحہ لڑکی رضی اﷲ عنہا کو دیکھ کر فطرةً اُن کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش !اﷲ تعالیٰ انہیں بھی ایسی ہی نیک اولاد عطا فرمائے۔اور یہ دیکھ کر کہ اﷲ تعالیٰ کس طرح اپنی قدرت سے اِس گوشہ نشین لڑکی کو رزق پہنچا رہا ہے ،انہیں یہ اُمید ہوئی کہ اﷲ چاہے تو اِس بڑھاپے میں بھی اُن کو اولاد عطا فرما سکتا ہے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ پر پہلے بھی پورا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔ اپنے لئے بڑھاپے میں اولاد کی دعا اسی لئے کی کہ اللہ تعالیٰ میری بانجھ بیوی کو بھی اولاد کا سکھ دے سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ آپ علیہ السلام اپنے حجرے میں عبادت میں مشغول تھے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ کا پیغام سنانے ایک فرشتہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا۔ فرشتے نے کہا۔ اے حضرت زکریا علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ تمہیں یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دیتے ہیں۔ وہ یعنی یحییٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرے گا۔ وہ سردار ہو گا۔ اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے دور رہنے والا ہوگا۔ اور نبی ہوگا۔ اورہمارے خاص بندوں میں سے ہوگا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس فرشتوں نے انہیں آواز دی ،جب وہ حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے،کہ اﷲ تعالیٰ تجھے یحییٰ (علیہ السلام ) کی یقینی خوش خبری دیتا ہے۔جو اﷲ کے کلمہ(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہے۔سردار،ہمیشہ عورتوں سے بچنے والا اور صالحین میں سے نبی ہے۔۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 39)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اے زکریا(علیہ السلام )!ہم تجھے ایک بچے کی خوش خبری دیتے ہیں۔جس کا نام یحییٰ (علیہ السلام) ہوگا۔ہم نے اِس سے پہلے اس کا نام بھی کسی کو نہیں دیا ہے۔“(سورہ مریم آیت نمبر 7)

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوش خبری

اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کو قبول فرما لیااور آپ علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے مولیٰ !مجھے اِس بڑھاپے میں خاص طور سے اپنی طرف سے ایک پاک و صاف و ستھرا بیٹا عطا فرما۔تُو دعاو¿ں کو قبول فرمانے والا ہے۔ جب تُونے حنہ کی دعا قبول فرما لی تو میری دعا کوبھی ضرور قبول فرمائے گا۔آپ علیہ السلام بہت بڑے عالم تھے اور بارگاہِ الہٰی میں قربانیاں پیش کرتے تھے۔مسجد شریف میں آپ علیہ السلام کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔آپ علیہ السلام ایک دن مسجد میں نماز میں مشغول تھے اور باہر لوگ اجازت کے منتظر تھے۔دروازہ بند تھا کہ اچانک آپ علیہ السلام نے ایک سفید پوش جوان کو دیکھا ۔وہ جبرئیل علیہ السلام تھے۔انہوں نے آپ علیہ السلام کو اِس حال میں خوش خبری سنائی کہ اے زکریا علیہ السلام ! تمہاری دعا قبول ہوئی۔رب تعالیٰ تمہیںایک صالح متقی بیٹا عطا فرمائے گا۔جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہو گااور وہ بہت سی خوبیوں کا مالک ہوگا۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوبیاں

اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بشارت دی کہ تمہارا بیٹا یحییٰ علیہ السلام بہت ساری خوبیوں کا مالک ہوگا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام اپنے عبادت خانے میں ہی تھے کہ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ علیہ السلام کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا ،جس کا نام یحییٰ رکھنا۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اﷲ کی طرف سے ہے۔یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی حیا ایمان کی وجہ سے ہو گی۔وہ اﷲ کے کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کریں گے۔حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ سبسے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام ہیں۔اِس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔سید کے معنی حلیم ،برد بار ،علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیز گار، فقیہ ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل،جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں۔حصور کے معنی عورتوں سے دور رہنے والا،حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف حضرت یحییٰ علیہ السلام ہی اﷲ سے بے گناہ ملیں گے،(کیونکہ وہ عورتوں سے دور رہنے والے تھے)قاضی ثناءاﷲ پانی پتی ”سید“کے معنی میں لکھتے ہیں۔آپ (حضرت یحییٰ )علیہ السلام اپنی قوم میں رئیس تھے،علم ، عبادت ، تقویٰ اور تمام بھلائی کے کاموں میں اُن سے بڑھکر تھے۔امام مجاہد(جلیل القدر تابعی اور مفسر) فرماتے ہیں کہ ”سید “کا معنی اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں معزز ہے۔ایک قول یہ کیا گیا ہے ،اِس کا معنی حلیم ہے،جسے کوئی چیز غصہ نہیں دلا سکتی ۔امام سفیان نے کہا جو حسد نہیں کرتا ایک قول ہے کہ معنی قناعت کرنے والا۔”حصورا “کے معنی میں لکھتے ہیں۔اس کی اصل ”حصر“ہے۔جس کا معنی روکنا منع کرنا ہے۔ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ عورتوں سے دور رہنے والے تھے۔ایک قول کیا گیا ہے کہ وہ اِس خواہش سے بے نیاز تھے،جس طرح ایک روایت میں آیا ہے۔میں (قاضی ثناءاﷲ پانی پتی) کہتا ہوں کہ بہتر بات یہ ہے کہ کہا جائے کہ انہیں روک دیا گیا۔(وہ محفوظ تھے)اپنے نفس کو خواہشات اور لہو لعب کے کاموں سے روکنے والے تھے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کا تعجب

فرشتے نے جب حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا پیغام اور بشارت سنائی تو آپ علیہ السلام سجدہ¿ شکر ادا کرنے لگے۔ پھر کچھ دیر بعد عرض کیا کہ اے اللہ تعالیٰ ، یہ تعجب کی بات ہے کہ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں۔ اور میر ی بیوی بانجھ ہے۔ اس کے باوجود تو مجھے لڑکا عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ بے شک ایسا ہی ہوگا۔ اور اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تو تین دنوں تک لوگوں سے بات نہیںکر سکے گا۔ صرف اشارے سے بات کر سکے گا۔ اور اپنے رب (اللہ تعالیٰ) کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اور صبح اور شام اس کی خوب پاکی بیان کرو۔ اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام کی عمر 120برس تھی۔ اور آپ علیہ السلام کی زوجہ ایشاع اُس وقت 90نوّے سال سے زیادہ عمر کی تھیں۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”(حضرت زکریا علیہ السلام) کہنے لگے ،اے میرے رب !میرے یہاں بچہ کیسے ہوگا؟میں بالکل بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔فرمایا،اسی طرح اﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 40)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”زکریا (علیہ السلام) کہنے لگے ،میرے رب !میرے یہاں لڑکا کیسے ہو گا؟میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے ک انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں۔(سورہ مریم آیت نمبر8)مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام نے جب فرزند کی بشارت سنی تو عرض کیا کہ اے مولیٰ !میرے فرزند کیونکر ہوگا ؟میں تو ایک سو بیس120سال کا بوڑھا ہوں اور میری بیوی اٹھانوے98سال کی بوڑھی ہونے کے ساتھ ساتھ بانجھ بھی ہے۔آیا ہماری حالتوں میں تبدیلی کی جائے گی یا ہم دونوں اسی طرح رہیں گےاور فرزند ہو جائے گا۔جواب ملا کہ اے زکریا علیہ السلام !تمہارے اولاد ایسے ہی ہوگی نہ تمہاری جوانی لوٹے گی اور نہ تمہیں دوسرے نکاح کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ تمہاری بیوی میں تبدیلی ہو گی۔اﷲ تعالیٰ جا چاہتا ہے کرتا ہے وہ ہر طرح سے قادر ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


05 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام Story of Prophet Zakaria and Yahya


05 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

قسط نمبر 5

نشانی مانگنے کی وجہ

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قدرت کا ملہ پر پورا یقین تھا۔ لیکن جب انھوں نے والد بننے کی بشارت سنی تو خوشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے نشانی مانگی کہ جب میری بیوی حاملہ ہو گی تو مجھے کس طرح معلوم ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نشانی بتائی کہ جب تمہاری حاملہ بیوی ہو گی توتم تین دنوں تک لوگوں سے بات نہیں کر سکو گے۔ اور تین دنوں میں تم اکیلے میں میرا ذکر اور تسبیح کر سکو گے۔ تمہاری زبان درست کام کرے گی۔ لیکن لوگوں کے سامنے جاﺅ گے تو زبان بند ہو جائے گی۔ اور اشارے سے لوگوں کو بتاﺅ گے پھر ایسا ہی ہوا۔ آپ علیہ السلام پنے حجرے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کر رہے تھے ۔ باہر بنی اسرائیل کے لوگ اپنے مسائل لے کر آئے ہوئے تھے۔ اُن کے مسائل کو حل کر نے کے لئے آپ علیہ السلام باہر نکلے اور بات کرنی چاہی تو زبان بند ہو گئی۔ آپ علیہ السلام کچھ دیر کے لئے حیران ہوئے کہ ابھی تو میں حجرے میںاچھا خاصا بول رہا تھا۔ یہا ں زبان کیسے بند ہو گئی۔ تو آپ علیہ السلام کو یاد آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔اور مجھے والد بننے کی خوشی عطا فرمادی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”کہنے لگے اے رب !میرے لئے اِس کی کوئی نشانی مقرر کر دے۔فرمایا ؛نشانی یہ ہے کہ تین دنوں تک تم لوگوں سے بات نہیں کع سکو گے۔صرف اشارے سے سمجھاو¿ گے۔تب تم اپنے رب کا ذکر کژرت سے کرنا،اور صبح و شام اُس کی تسبیح بیان کرتے رہنا۔(سورہ آل عمران آیت نمبر41)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”(اﷲ کا) ارشاد ہوا،کہ وعدہ اِسی طرح ہوچکا ہے۔تیرے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ پر یہ بالکل آسان ہے اور تُو خود جب کہ کچھ نہیں تھا تو میں تجھے پیدا کر چکا ہوں۔کہنے لگے ،میرے رب !میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔ارشاد ہوا کہ تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ بھلا چنگا ہونے کے باوجود تُو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہیں سکے گا۔اب زکریا(علیہ السلام) اپنے حجرے سے نکل کراپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشارہ کرتے ہیں کہ تم صبح و شام اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔(سورہ مریم آیت نمبر 9سے11 تک)

اﷲ تعالیٰ نے خود نام رکھا

حضرت زکریا علیہ السلام کو جو نشانی اﷲ تعالیٰ نے بتائی تھی ،اُس کاظہور ہوا تو آپ علیہ السلام کومعلوم ہو گیاکہ اﷲ تعالیٰ نے دعا کو قبولیت عطا فرما دی ہے۔مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔جب حضرت زکریا علیہ السلام کی عُمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی ۔اُس وقت آپ علیہ السلام نے عاجزی و انکساری سے اﷲ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اﷲ !مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیئے ،تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کر سکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس وقت جب کہ وہ بڑھاپے کی انتہائی عُمر تک پہنچ چکے تھے۔اُن کی بیوی بانجھ تھیں یعنی ظاہری اسباب میں اس کو کوئی امکان نہ تھا کہ اِس عُمر میں ان کے گھر اولاد پیدا ہو۔مگر اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہارکرتے ہوئے اِس نا ممکن کو ممکن بنا دیا۔اﷲ کے بھیجے ہوئے فرشتوں نے جب اولاد کی خوش خبری سنائی تو اس خبر پر انہیں خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہوا۔انہوں نے عرض کیا ،الہٰی !میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجیئے،جس سے مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ میرے گھر ولادت ہونے والی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِس کی علامت اور نشانی یہ ہوگی کہ تم تین راتوں تک تندرست ہونے کے باوجود کسی سے بات نہیں کر سکو گے۔جب ایسا ہو تو سمجھ لینا کہ حمل قرار پا گیا ہے۔یہ واقعہ جہاں حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کا تھا ،وہیں پوری قوم بنی اسرائیل کے لئے بھی نہایت سکون ،خوشی اور مسرت کا پیغام تھا۔اِسی لئے جب حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے وقت آیا اور بات چیت سے زبان رک گئی تو آپ علیہ السلام نے اپنی عبادت گاہ سے نکل کر قوم بنی اسرائیل کو اشاروں سے بتایا کہ وہ بھی صبح و شام اﷲ کی حمد وثناءکرتے رہیں۔اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعاکو قبول کرتے ہوئے ایک ایسے بیٹے کی خوش خبری عطا فرمائی ۔جن کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے خود ہی تجویز کا کے ارشاد فرمایاکہ اِس سے پہلے یحییٰ کسی کا بھی نام نہ تھا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام جو اﷲ کے نبی تھے ،بچپن ہی سے نبوت کی بہت سی خصوصیات کے حامل تھے۔قرآن پاک اور احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام بچپن ہی سے نہایت ذہین و ذکی سمجھدار دانا و بینا تھے۔بچپن کی عمر میں بچے کھیل کود میں لگے رہتے ہیں ،لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام کا کھیل کود میں دل نہیں لگتا تھا ۔انہیں فضول اور غلط باتوں سے سخت نفرت تھی اور جس بات میں سنجیدگی اور وقار نہیں ہوتا وہ اس بات کے قریب بھی نہ جاتے تھے۔اُن کا دل پیدائشی طور پر اﷲ کے خوف سے بھرا ہوا تھا وہ ہر بات کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔وہ توریت کے ہر حکم پر پوری طرح عمل فرماتے تھے۔جن باتوں سے پرہیز کے لئے کہا گیا تھا اُس سے پرہیز کرتے تھے۔نہایت متین ،سنجیدہ اور باقار تھے۔اﷲ تعالیٰ نے زندگی میں اور موت کے بعد امہیں سلامتی عطا فرمائی ہے اور قیامت میں بھی اُن کو سلامتی عطا کی جائے گی۔وہ مشکل وقت میں صحیح رائے قائم کرتے اورہر معاملہ میں فیصلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام 

اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو جب اولاد کی بشارت دی تھی تو اس اولاد کا نام یحییٰ بتا یا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نام یحییٰ رکھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے توریت کا علم حاصل کرنے لگے تھے۔ اور لگ بھگ سات سال کی عمر تک توریت کو ختم کر لیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کو اتنی کم عمر میں توریت کے تمام احکام یاد ہو گئے تھے۔ آپ علیہ السلام بچپن سے ہی اپنا زیادہ تر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار تے تھے۔ آپ علیہ السلام کی عمر کے لڑکے کہتے کہ آﺅ چلو کھیلیں تو آپ علیہ السلام فرماتے نہیں چلوپڑھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت نرم دل اور محبت کرنے والا بنایا تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے والدین کی بہت خدمت کرتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کے لوگوں کی بھی بہت زیادہ مدد کرتے تھے۔ اور اُن کے مشکل سے مشکل مسائل کو توریت کے مطابق حل کر دیتے تھے۔ بنی اسرائیل اس بچے کی فہم و فراست اور علم اور عقل پر حیران ہو جاتے تھے۔ دھیرے دھیرے پورے بنی اسرائیل میں آپ علیہ السلام کے علم اور فہم و فراست اور بہترین اخلاق کا یہ اثر ہو ا کہ تمام بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی بے پناہ عزت کرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کی بات کو حرفِ آخر ماننے لگے۔ بنی اسرائیل کے علمائے کرام آپ علیہ السلام کے پاس آکر توریت کا درس لینے لگے۔ اور نوجوانی کے عالم میں ہی آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے بڑے بڑے بوڑھے علمائے کرام کے استاد بن گئے۔

حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ہم عُمر تھے

اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹا عطا فرمایا،اور اُسی وقت سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا بھی اﷲ کی شان سے بغیر کسی مرد کے چھوئے حاملہ ہوگئیں تھیں۔یہاں ہم صرف حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر کر رہے ہیں،اِس لئے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا ذکر تفصیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں کریں گے۔حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام نے لگ بھگ ایک ساتھ اعلان نبوت کیا تھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے پہلے اعلان نبوت کیا اور بیت المقدس میں ہی مقیم رہے۔جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کچھ عرصہ بعد اعلان نبوت کیا اور وہ ایک جگہ رک کر نہیں رہتے تھے، بلکہ بنی اسرائیل میں گھوم گھوم کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہتے تھے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل میں ایک بہت اچھا مقام تھا ۔اِس لئے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا تو بنی اسرائیل حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کی اور بنی اسرائیل سے فرمایاکہ میں تو صرف نبی ہوں ،جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہونے کے ساتھ ساتھ رسول بھی ہیں۔علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام وہ پہلے فرد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور اُن کی تصدیق کی۔اور حضرت یحییٰ علیہ السلام ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تین سال بڑے تھے اور کہا جاتا ہے کہ چھ مہینے بڑے تھے اور دونوں خالہ ذاد بھائی تھے۔پس جب حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی خبر سنی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اُٹھے اور انہیں اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے اور علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے حاملہ ہوئیں تو اُسی وقت اُن کی بہن (حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ کی بہن ہیں)حضرت یحییٰ علیہ السلام سے حاملہ تھیں تو اپنی بہن سے ملنے کے لئے آئیں تو کہا؛”اے مریم !کیا تجھے معلوم ہوا ہے کہ میں حاملہ ہوں؟“تو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے اُسے کہا؛”کیا آپ نے بھی محسوس کیا کہ میں بھی حاملہ ہوں؟“تو انہوں نے کہا کہ جو میرے پیٹ میں ہے ،میں اُس کے بارے میں محسوس کر رہی ہوں کہ جو تیرے پیٹ میں ہے اُسے وہ سجدہ کر رہا ہے۔اِسی وجہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے جنین کو محسوس کیا کہ وہ اپنا سر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پیٹ کی طرف جھکا رہا ہے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کا اعلان نبوت 

اﷲ تطعالیٰ سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اے یحییٰ (علیہ السلام) !میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی۔ اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی، وہ پرہیز گار شخص تھا ۔اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے والا تھا ۔وہ سرکش اور گنہ گار نہیں تھا۔ اُس پر سلام ہے جس دن وہ پید ہوا ،اور جس دن مرے گا، اور جس دن وہ زندہ کر کے اُٹھایا جائے گا۔“(سورہ مریم آیت نمبر 12سے 15تک)تمام بنی اسرئیل میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ایک مقام پیدا ہو چکا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو نیکیوں کا حکم دینے لگے اور برائیوں سے روکنے لگے۔ شروع میں ہم نے آپ کو بنی اسرائیل کے تمام حالات بتائے تھے۔ کہ اُن کے تمام قبیلے آپس میں لڑنے لگے تھے۔ اور ایک دوسرے کو شکست دینے کے لئے رومیوں سے مدد مانگی تھی۔ تو رومیوں نے تمام بنی اسرائیل پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کے ایک گمراہ شخص ہیرو دیاس کو کٹھ پتلی حکمراں بنا دیا تھا۔ یہ بہت ہی گمراہ شخص تھا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بہت عزت کرتا تھا۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 12کی تفہیم میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی ہے کہ اِس فرمان ِ الہٰی کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلامپیدا ہوئے اور جوانی کی عُمر کو پہنچے ۔اب بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ سن رُشد کو پہنچے تو کیا کام اُن سے لیا گیا۔یہاں صرف ایک فقرے میں بیان کر دیا گیا ہے۔جو منصب نبوت پر مامور کرتے وقت اُن کے سپرد کیا گیا تھا۔یعنی وہ توریت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں اور بنی اسرائیل کو بھی اِس پر قائم کرنے کی کوشش کریں۔

بچپن میں اﷲ کی کتاب (توریت) کی سمجھ

اﷲ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ایسا بنایا تھا کہ آپ علیہ السلام کو بچپن سے ہی علم حاصل کرنے کا شوق تھا اور آپ علیہ السلام بچوںکے ساتھ کھیلنے کے بجائے توریت کو پڑھتے اور اُس کی آیات پر غورو فکر کرتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔بمطابق ِ بشارت الہٰی حضرت زکریا علیہ السلام کے یہاں حضرت یحییٰ علیہ السلام پید ہوئے۔اﷲ تعالیٰ نے انہیں توریت سکھا دی ،جو اُن(بنی اسرائیل) میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیائے کرام علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔اُس وقت اُن کی عُمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اِس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اُسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص،اجتہاد،کوشش و خلوص کے ساتھ اﷲ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔بچے آپ علیہ السلام سے کھیلنے کو کہتے تھے تو یہ جواب پاتے تھے کہ میںکھیل کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہوں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کا وجود حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر سوائے ہمارے اور کوئی قادر نہیں ہے۔آپ علیہ السلام ہر میل کچیل سے ،ہر گناہ اور معصیت سے بچے ہوئے تھے ۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عُمر کا خلاصہ تھا۔آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اﷲ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ساتھ ہی والدین کے فرمانبردار ،اطاعت گزار اور اُن کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے۔کبھی کسی بات میں والدین کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔کبھی اُن کے فرمان کے باہر نہیں ہوئے۔کبھی اُن کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا۔کوئی سرکشی ،کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہیں تھی۔اِن اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔یعنی پیدائش والے دن،موت والے دن اور حشر والے دن ۔یہی تینوں گھبراہٹ کی اور انجان جگہیں ہوتی ہیں۔اِن تینوں وقتوں میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

 

06 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام Story of Prophet Zakaria and Yahya


06 حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

قسط نمبر 6

حضرت یحییٰ علیہ السلام کے کی سادگی

حضرت یحییٰ علیہ السلام انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔اور بنی اسرائیل کو بھی اِسی کی تلقین کرتے تھے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے جو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں انہیں جمع کر کے ہم یہاں ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پیش کرتے ہیں۔جس سے سورہ آل عمران اور سورہ مریم کے مختصر اشارات کی توضیح ہو گی۔لوقا کے بیان کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چھ6 مہینے بڑے تھے۔اُن کی والدہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ قریبی رشتہ دار تھیں۔تقریباً تیس سال کی عُمر میں آپ علیہ السلام نبوت کے منصب پر عملاً مامور ہوئے اور یوحنا کی روایت کے مطابق انہوں نے شرق اُردن کے علاقے میں دعوت الی اﷲ کا کام شروع کیا۔آپ علیہ السلام فرماتے تھے؛”میں بیابان میں پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔“مرقس کا بیان ہے کہ آپ علیہ السلام لوگوں سے گناہوں کی توبہ کرواتے تھے اور توبہ قبول کرنے والوں کو بپتسمہ دیتے تھے۔یعنی توبہ کے بعد غسل کراتے تھے تاکہ روح اور جسم دونوں پاک ہوجائیں۔سلطنت ِ یہودیہ اور یروشلم کے بکثرت لوگ اُن کے معتقد ہوگئے تھے اور اُن کے پاس جا کر بپتسمہ لیتے تھے۔اِسی بنا پر اُن کا نام یوحنا بپتسمہ دینے والا مشہور ہو گیا تھا۔عام طور سے بنی اسرائیل اُن کی نبوت کو تسلیم کر چکے تھے ۔حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا قول تھا کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔آپ علیہ السلام اونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکا کمر سے باندھے رہتے تھے اور اُن کی خوراک ٹڈیاں اور جنگلی شہد تھا ۔اِس فقیرانہ زندگی کے ساتھ وہ منادی کرتے پھرتے تھے کہ ”توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی(قیامت) قریب آ گئی ہے۔وہ لوگوں کو روزے کی تلقین کرتے تھے ۔وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ ”جس کے پاس دو قمیص ہوں وہ اُس کو جس کے پاس نہ ہو اُسے بانٹ دے اور جس کے پاس کھانا ہو وہ بھی ایسا ہی کرے۔“محصول لینے والوں نے پوچھا کہ اُستاد ہم کیا کریں ؟تو انہوں نے فرمایا ”جو تمہارے لئے مقرر ہے ،اُس سے زیادہ (یعنی رشوت)نہ لینا۔“سپاہیوں نے پوچھا کہ ہمارے لئے کیا ہدایت ہے؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ ناحق کسی سے کچھ لو اور اپنی تنخواہ پر ہی کفایت کرو۔“بنی اسرائیل کے بگڑے ہوئے(دنیا پرست )علماءفریسی اور صدوقی اُن کے پاس بپتسمہ لینے آئے تو ڈانٹ کر فرمایا؛”اے سانپ کے بچو !تم کو کس نے جتا دیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟....اپنے دلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہام ہمارا باپ ہے....اب درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے،پس جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔“

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی روایات

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں کئی روایات ہیںلیکن ہر روایت سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بادشاہ نے شہید کروایا ہے۔بنی اسرائیل نے اپنے بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو شہید کردیا ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔دنیا میں صرف یہودی (بنی اسرائیل) ہی وہ بد ذات قوم ہے جس نے انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل کیا ہے۔کُل چار سو (400) انبیائے کرام یا چار سوستر(470)یا صرف ستر(70)انبیاءعلیہم السلام شہید کئے گئے۔جن میں سے پانچ کا نام مشہور ہوا۔(1) یوشا (2) یسعیا یا شعیا(3) شعیب (4) زکریا (5) یحییٰ علیہم السلام۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوبھی انہوں نے قتل کرنا چاہا،مگر رب تعالیٰ نے ان کو آسمان پر بلا لیا۔آقائے کائنات سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کو اِن بد بختوں نے دو دفعہ شہید کرنے کی کوشش کی،مگر ناکام رہے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی کچھ روایات ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام نے بادشاہ کو منع کیا

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بد بخت بنی اسرائیلیوں نے شہید کیا ہے،پہلی روایت علامہ غلام رسول سعیدی ”البدایہ و النہایہ“کے حوالے سے لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے کئی اسباب ذکر کئے گئے ہیںکہ اُس زمانے میں دمشق کا ایک حکمران اپنی کسی محرم سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اُس بادشاہ کو اِس کام سے منع کیا۔اِس وجہ سے اپس عورت کے دل میں آپ علیہ السلام کے خلاف بغض پیدا ہو گیا۔جب اُس عورت اور بادشاہ کے درمیان شناسائی پیدا ہو گئی تو اُس عورت نے بادشاہ سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا مطالبہ کیابادشاہ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کر کے اُن کا سر اُس عورت کے سامنے پیش کردیا۔کہاجاتا ہے کہ وہ عورت بھی اُسی ساعت مر گئی۔ایک قول یہ ہے کہ اُس بادشاہ کی عورت حضرت یحییٰ علیہ السلام پر فریضة ہوگئی تھی ،اُس نے آپ علیہ السلام سے اپنی مقصد براری کرنا چاہی ،آپ علیہ السلام نے انکار کر دیا ۔جب وہ آپ علیہ السلام سے مایوس ہو گئی تو اُس نے بادشاہ کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل پر تیار کیا اور بادشاہ نے کسی کو بھیج کر حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کرایا اور اُن کا مبارک سر کاٹ کر ایک طشت میں لکھ کر اُس عورت کو پیش کر دیا۔

بنی اسرائیل کے بادشاہ نے شہید کروایا

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا جو پہلا سبب لکھا ہے موجودہ انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔”کیونکہ ہیرودیس نے اپنا آدمی بھیج کر یوحنا کو پکڑوایا اور اپنے بھائی فلپس کی بیوی ہیرودیاس کے سبب اسے قید خانے میں باندھ رکھا تھا ،کیونکہ ہیرودیس نے اُس سے نکاح کر لیا تھا۔اور یوحنا نے اس سے کہا تھا کہ اپنے بھائی کی بیوی رکھنا تجھے روا نہیں ہے۔پس ہیرودیاس اُس سے دشمنی رکھتی تھی اور چاہتی تھی کہ اُسے قتل کرائے ،مگر نہ ہوسکا۔کیونکہ ہیرودیس یوحنا کو راستباز اور مقدس آدمی جان کر اُس سے ڈرتا اور اُسے بچائے رکھتا تھااور اُس کی باتیں سن کر بہت حیران ہو جاتا تھا،مگر سنتا خوشی سے تھا۔اور موقع کے دن جب ہیرودیس نے اپنے امیروں اور فوجی سرداروں اور رئیسوں کی ضیافت کی اور اسی ہیرودیاس کی بیٹی اندر آئی ۔اور ناچ کر ہیرودیس اور اُس کے مہمانوں کو خوش کیا تو بادشاہ نے اُس لڑکی سے کہا ؛جو چائے مجھ سے مانگ میں تجھے دوں گا۔اور اُس نے قسم کھائی کہ جو تو مجھ سے آدھی سلطنت بھی مانگے تو دے دوں گا۔اور اپس نے باہر آکر اپنی ماں سے کہا کہ میں کیا مانگوں؟ اُس نے کہا یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر۔وہ فوراً بادشاہ کے پاس اندر آئی اور کہا کہ میں چاہتی ہو ں کہ تُو یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں ابھی مجھے منگوا دے۔بادشاہ بہت غمگین ہوا مگر اپنی قسموں اور مہمانوں کے سبب اس سے انکار نہ کرنا چاہا۔پس بادشا نے فی الفور ایک سپاہی کو حکم دے کر بھیجا کہ اُس کا سر لائے۔اس نے قید خانے میں جاکر اُس کا سرکاٹا اور ایک تھال میں لاکر لڑکی کو دے دیا اور لڑکی نے اپنی ماں کو دیا۔پھر اُس کے شاگرد سن کر آئے اور اس کی لاش اُٹھا کر قبر میں رکھی۔

جو تُو چاہتا ہے وہ تیرے لئے حلال نہیں

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی ایک اور روایت میں امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن زبیررضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے اپنے بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام سے فتویٰ طلب کیا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛”یہ تیرے لئے حلال نہیں ہے۔“اُس عورت نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا مطالبہ کیا ۔بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی طرف اپنے سپاہی بھیجے ۔آپ علیہ السلام اپنی عبادت گاہ میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ اُن سپاہیوں نے آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا ۔پھر انہوں نے آپ علیہ السلام کا سر تن سے جدا کیا اور اسے بادشاہ کے پاس لے آئے ۔اُس وقت بھی وہ سر کہہ رہا تھا؛”جو تُو چاہتا ہے وہ تیرے لئے حلال نہیں ہے۔“امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں؛وہ عورت جس نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو شہید کرایا تھا ۔وہ بادشاہت کی اپنے آباءسے وارث ہوئی تھی ،اُس کے پاس حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر لایا گیا تو وہ اپنے شاہی تخت پر بیٹھی تھ۔آپ علیہ السلام کے سر سے آواز آئی ؛”اے زمین !اِس عورت کو نگل جا ۔“پس زمین اس عورت کو شاہی تخت سمیت نگل گئی۔

قاتل بادشاہ کا انجام

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بادشاہ نے ایک عورت کے کہنے پر شہید کروا دیا تھا۔اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے اسے اور بنی اسرائیل کو سزا دی۔کیونکہ بنی اسرائیل کی اکثریت بھی آپ علیہ السلام کو شہید کر دینا چاہتی تھی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا واقعہ اِس طرح ہے کہ ہیرودیس یہودی( اسرائیلی بادشاہ)اپنی سگی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔اُس کی بیوہ بھابھی بھی اِس پر لالچ میں آکر راضی تھی اور یہ بیوہ عورت اپنے خاوند کی موت کے بعد فاحشہ و کافرہ بھی ہو چکی تھی۔لیکن شریعت ِ توریت اور شریعت ِ زکریا و یحییٰ علیہم السلام میں یہ نکاح قطعاً حرام تھا ۔حضرت یحییٰ علیہ السلام سختی سے منع فرماتے تھے ۔بیوہ بھابھی نے مشورہ دیا کہ اُن کو قتل کر دیا جائے ۔ہیرودیس نے جوش عشق میں ایک آدمی کو مقرر کر دیا کہ جب رات کو آپ علیہ السلام بیت المقدس میں اپنی عبادت میں مشغول ہوں تو خفیہ انداز سے اُن کو قتل کر دینا اور سر کاٹ کر میرے پاس لے آنا۔چند دن بعد اُس ظلم کافر نے آپ علیہ السلام کو رات میں سجدے کی حالت میں چہید کر دیا اور سر کاٹ کر بادشاہ کے پاس لایا۔بادشاہ نے وہ سر اپنی فاحشہ بھابھی کے پاس بھیج دیا۔اُس بیوہ کا نام نفرہ تھا ۔اپنے بالا خانے سے اُتر کر خوشی خوشی نیچے آرہی تھی کہ سیڑھیوں سے پاو¿ں پھسلا ،جس سے دماغ پھٹا اور وہ وہیں مر گئی اور قدرت ِ خداوند ی سے زمین میں دھنستی چلی گئی تھی۔اور آپ علیہ السلام کا سر مبارک بھی ساتھ ہی دھنس گیا ۔اس کی بیٹی یعنی ہیرودیس کی سگی بھتیجی فخرہ نامی کو اسی (80) یا نوے (90) دن بعد جنگل میں جاتے ہوئے کسی زہریلے کیڑے نے کاٹ لیا ۔وہ اُس کے زہر سے تیسرے دن مر گئی ۔ہیر ودیس پر بخت نصر بادشاہ نے حملہ کر کے شکست دی اور قیدی بنا کر ساتھ لے گیا۔روزآنہ اُس کو اپنے غلاموں کے ذریعے کوڑے لگواتا تھا اور ذلیل کرنے کے لئے لونڈیوں سے سر پر جوتے لگواتا۔بھوکا رکھتا تھا ،جب وہ روتا بلبلاتا ،تب تھوڑا کھانا پانی دیتا۔اسی حالت میں نہایت ذلت آمیز ذخمی پیپ اور پھوڑوں کی حالت میں وہ کپڑے نہیں پہن سکتا تھا۔ننگا ایک کمرے میں پڑا رہتا ۔ایک سال بعد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرا۔خود کہتا تھا کہ میری اور میرے خاندان کی یہ ذلت آمیز تباہی بربادی حضرت یحییٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہے ۔

بنی اسرائیل پر اﷲ کا غضب

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ نے شہید کر دیا۔اِس پر اﷲ کا غضب اُن پر بھڑکا۔اِس سے پہلے حضرت شعیا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی اسرائیل پر اﷲ کا غضب بھڑکا تھااور اُس وقت کے بخت نصر نامی بادشاہ نے بنی اسرائیل پر حملہ کر کے انہیں غلام بنا لیا تھا۔اِ سکا ذکر ہم ہماری کتاب”حضرت شعیا اور حضرت ارمیاہ علیہم السلام “میں تفصیل سے کر چکے ہیں۔اُس وقت جس بادشاہ نے حملہ کر کے غلام بنایا تھا ۔اُس کا نام بھی بخت نصر تھااور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد جس بادشاہ نے حملہ کیا اُس کا نام بھی بخت نصر تھا۔(یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بابل کے بادشاہوں کا لقب ”بخت نصر“ہوتا ہوگا)مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔بخت نصر نے ایک دن میں ستر ہزار بنی اسرائیل قتل کروائے،بیت المقدس میں توڑ پھوڑ کی ،آگ لگوائی اور بقیہ تمام بنی اسرائیلی حکومتوں کو برباد کیا اور سب بنی اسرائیل کو قیدی بنا لیا۔لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام کے گلے سے خون نکلنا بند نہیں ہوتا تھا۔اور بنی اسرائیل جانتے تھے کہ جب تک یہ خون بند نہیں ہوگا بنی اسرائیل کو اسی طرح قتل کیا جاتا رہے گا۔اِسی لئے اُس دور کے ایک ولی اﷲ جو آپ علیہ السلام کی اُمت کے ہی ولی تھے ۔حضرت ارسیاہ رضی اﷲ عنہ ،اُن سے لوگوں نے عرض کیا کہ اتنا عرصہ ہو گیا ہے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بدن سے خون بند نہیں ہو رہا ہے۔ اور جب تک خون بند نہیں ہوگا تب تک دفن نہیں کیا جاسکتا ۔اور نہ ہی بخت نصر کے حملے و قتل عام بند ہو سکتا ہے۔دمشق(فلسطین) تمام فتح ہوچکا تھا ،ظلم کا بازار گرم تھا ،بنی اسرائیل کی تمام بد معاشیاں فنا ہو چکی تھیں۔تب حضرت ارسیاہ نے جسم ِ مبارک کے عرض اور التجا کی کہ اے خون اب بند ہوجا۔بہت قتل عام و ذلت ہو چکی ہے ،تو خون بند ہوا۔اِن ہی یہودیوں نے تقریبا ً پچیس سال پہلے ولادت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے دنوں میں حضرت زکریا علیہ السلام کی تبلیغ دین و ایمان اور شریعت کی پابندیوں سے تنگ آکر ایک بری تہمت لگا کر آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا تھا۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی شہادت یا وفات 

حضرت زکریا علیہ السلام کے انتقال یا شہادت کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا انتقال یاشہادت حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت سے پچیس سال پہلے ہوچکا تھا۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد جب بادشاہ کا محل زمین میں دنس گیاتو تمام بنی اسرائیل نے حضرت زکریا علیہ السلا م کو قتل کرنے کے لئے گھیر لیا تو آپ علیہ السلام بھاگے اور جنگل میں ایک درخت پھٹا اور آپ علیہ السلام اُس میں چھپ گئے۔لیکن کپڑے کا کونہ درخت کے باہر رہ گیا ۔جسے پہچان کر بنی اسرائیل نے درخت کے ساتھ آپ علیہ السلام کو چیر دیا۔لیکن یہ روایت بڑی عجیب لگتی ہے۔ اور علامہ ابن کثیر نے اس پر شدید جرح کی ہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کوہی ہے۔واﷲ و اعلم۔

اگلی کتاب

حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

٭........٭........٭


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں