جمعرات، 15 جون، 2023

حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام مکمل Life of Prophet Zakaria and Yahya


حضر ت زکریا و یحییٰ علیہم السلام مکمل

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 20

حضرت عزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالات 

حضرت عزیر علیہ السلام کے ذکر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل دوبارہ کنعان( حالیہ فلسطین ) میں آباد ہو گئے اور حضرت عزیر علیہ السلام نے توریت دوبارہ لکھ کر انھیں دی تھی۔ اور بنی اسرائیل کو تمام احکامات اور فرائض وغیرہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا تھا۔ لیکن بد بخت بنی اسرائیل ، آپ علیہ السلام کو ہی ( نعوذ باللہ) اللہ کا بیٹا بنا بیٹھے تھے۔ آپ علیہ السلام نے بہت سمجھایا کہ تم لو گ گمراہی میں مبتلا ہو رہے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اولاد وغیرہ سے پاک ہے۔ لیکن بنی اسرائیل کی اکثریت اسی گمراہی میں مبتلا رہی۔ اور بہت کم بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی بات کو تسلیم کیا۔ اور اسلام پر ڈٹے رہے۔

حضرت عزیر اور حضرت زکریا علیہم السلام کا درمیانی عرصہ 

حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام کا درمیانی عرصہ لگ بھگ 461چارسو اکسٹھ سال ہے۔ یعنی حضرت زکریا علیہ السلام ، حضرت عزیر علیہ السلام کے لگ بھگ 461سال بعد آئے۔ یہ درمیانی عرصہ بنی اسرائیل نے کس طرح گزارا اور وہ کیسی کیسی برائیوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اور کن کن بادشاہوں نے اُن پر حکومت کی یہ سب مختصراً ہم آپ کی خدمت میں پیش کریں گے انشاءاللہ ۔ اور پھر حضرت زکریا علیہ السلام کے ذکر کی طرف آئیں گے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان 461برسوں میں اس دوران اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں اپنا کوئی بھی نبی نہیں بھیجا۔ تو جواب یہ ہے کہ اس دوران بھی اللہ تعالیٰ اپنے انبیائے کرام کو بنی اسرائیل میں مسلسل بھیجتا رہا ہے۔ لیکن چونکہ ان کے بارے میں مستند روایات نہیں ہیں اس لئے ہم ان تفصیلی ذکر نہیں کر سکتے۔ بائبل ( توریت اور انجیل) کے الگ الگ نسخوں میں بہت سے انبیائے کرام کا ذکر آیا ہے۔ لیکن یہ نسخے مستند نہیں ہیں۔ اور ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ان میں ملاوٹ ہو چکی ہے۔ اس لئے ہم نے انھیں چھوڑ دیا ہے۔

سکندر کا فارس ( حالیہ ایران ) پر قبضہ 

حضرت عزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل نے بیت المقدس کی تعمیر کی ۔ اس کی شروعات تو آپ علیہ السلام نے ہی کی تھی۔ لیکن تعمیر مکمل ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کواپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا تھا۔ بیت المقدس بنی اسرائیل کا مرکز رہا۔ اور بنی اسرائیل آس پاس کے تمام علاقے (فلسطین اورشام) میں آباد تھے۔ ان کی اپنی کوئی حکومت نہیں تھی۔ بلکہ ان پر سلطنت ِ فارس ( آج کا ایران) کا مقرر کیا ہوا حکمراں ان پر حکومت کرتا تھا۔ اس طرح لگ بھگ سو برس (100) برس یعنی ایک صدی گزر گئی اس دوران اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل میں انبیائے کرام بھیجتے رہے۔ لیکن وہ مسلسل نافرمانیوں اور گمراہیوں میں مبتلا رہے۔ اس کے بعد یونان سے سکندر نام کا ایک طوفان اٹھا ۔ سکندر کی فارس کے حکمراں سے رشتہ داری تھی۔ اور اس حکمراں نے سکندرکو ذلیل کرنے کی کوشش کی تھی۔ نتیجے میں سکندر نے اپنی فوج لیکر فارس پر حملہ کر دیا ۔ اور اس کے حکمراں کو شکست دے کر فارس اور آس پاس کے تمام علاقوں جن میں حالیہ عراق اور سابقہ بابل اور حالیہ فلسطین اور شام جو سابقہ کنعان تھا۔ ان سب علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح بنی اسرائیل پر یونانیوں یعنی سکندر کی حکومت ہوگئی۔ اس کے بعد سکندر اپنی فتوحات کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے ہندوستان تک آگیااور وہیں اس کی موت ہو گئی۔ اس نے 14سال حکومت کی اور انتقال کے وت اس کی عمر 36برس تھی۔

بنی اسرائیل پر یونانیوں کے اثرات 

سکندر کا تو انتقال ہو گیا۔ لیکن بنی اسرائیل پر یونانی حکمراں بنے رہے۔ سکندر کے بعد اس کے بیٹے کو یونانیون نے حکمراں بنانا چاہا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ تو یونانیوں نے بطلیموس کو حکمراں بنا دیا۔ اس کا نام کچھ اور تھا۔لیکن اس نے بطلیموس کا لقب اختیار کیا۔ اس کے بعد ہر یونانی بادشاہ بطلیموس کا لقب اختیار کیا۔ جس طرح فارس کا ہر حکمراں کِسریٰ کا لقب اختیار کرتا تھا۔ اور روم کا ہر حکمراں قیصر کا لقب اختیار کرتا تھا۔ یونانی بہت عرصے تک بنی اسرائیل پر حاوی رہے اور دھیرے دھیرے بنی اسرائیل یونانیوں سے متاثر ہونے لگے۔ اچھے خاصے یہودی (بنی اسرائیل) یونای کلچر میں ڈھل گئے۔ بہت ممکن تھا کہ بنی اسرائیل پوری طرح سے یونانی افکار و خیالات کو اپنا لیتے لیکن یونانی بادشاہ کی غلطی کی وجہ سے بنی اسرائیل جاگ گئے۔

بنی اسرائیل کی آزادی اور حکومت 

ایٹیوکس چہارم جب یونان کا حکمراں بنا تو اس نے بنی اسرائیل (یہودیوں) پر ظلم و ستم کرنا شروع کر دیا۔ اور یہودی ( بنی اسرائیل) کا قتل کرنے لگا۔ جس کی وجہ سے سوئے ہوئے بنی اسرائیل میں بیداری پیدا ہو گئی۔ اور انھوں نے یونانیوں کے خلاف بغاوت کر دی۔ حالانکہ بنی اسرائیل دو حصوں میں بٹ گئے۔ ان میں سے ایک حصہ یونانیوں کا حامی تھا لیکن بنی اسرائیل کی عوام اور ایک بڑا طبقہ یونانیوں کے خلاف تھا۔ نتیجے میں 175قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 175سال پہلے بنی اسرائیل نے یونانیوں سے آزادی حاصل کر لی۔ اور اپنی آزاد حکومت قائم کر لی۔ اور بنی اسرائیل ایک مرتبہ پھر ترقی کرنے لگے۔ اور ان کی حکومت بڑھتے بڑھتے ان علاقوں تک پہنچ گئی جن علاقوں تک حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتیں تھیں۔

بنی اسرائیل کا دوسرا زوال 

بنی اسرائیل ایک مرتبہ پھر عروج پر آگئے تھے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومتوں کا جو رقبہ تھا اُس سے بھی بڑے علاقے پر اپنی حکومت قائم کر لی لیکن پھر دھیرے دھیرے ان میں اختلافات ہوئے اور وہ ٹکڑوں میں بٹنے لگے۔ اور تمام بارہ قبیلوں نے اپنی اپنی حکومتوں کا اعلان کر دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ اُن میں بے شمار برائیاں اور گمراہیاں بھی پیداہو گئی تھیں۔ ان قبیلوں کے آپسی جھگڑے اتنے بڑھے کہ ان میں سے کچھ قبیلوں نے رومیوں سے ساز باز کر لی۔ بنی اسرائیل کی یہ حالت ایک صدی میں یعنی 100برسوں میں ہوئی۔ ان سو برسوں کے دوران یونانیوں کو شکست دے کر رومی اُن پر حاوی ہو چکے تھے۔ جب بنی اسرائیل کے کچھ قبیلوں نے اپنے مخالف قبیلوں کے مقابلے میں رومیوں سے مدد مانگی۔ تو رومی اُن کی طرف متوجہ ہو گئے اور بنی اسرائیل کے علاقوں میں رومی افواج کو داخل کر دیا۔ اور دھیرے دھیرے رومیوں نے بنی اسرائیل کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اور بنی اسرائیل کی حکومت کا خاتمہ کر کے انھیں محکوم بنا لیا۔ بنی اسرائیل کی آزاد حکومت کا خاتمہ 67قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 67سال پہلے ہوا تھا۔

حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے متولی 

رومیوں نے بنی اسرائیل کی آزاد حکومت کا خاتمہ کر دیا لیکن وہ خود حکومت کرنے نہیں آئے بلکہ بنی اسرائیل کے غداروں ( جو رومیوں کے وفادار تھے) میں سے ایک کو کٹھ پتلی حکمراں بنا دیا۔ اس طرح حکومت تو بنی اسرائیل کا ایک شخص کر رہا تھا لیکن اصل حکومت رومیوں کی تھی۔ ان حالات میں حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے متولی تھے۔ بنی اسرائیل میں کُل بارہ قبیلے تھے۔ ان میں سے بنی لاوی مذہبی امور کے لئے مخصوص تھے۔ اور باقی قبیلے الگ الگ علاقوں پر قابض ہو گئے تھے۔ رومیوں کے قبضے کے بعد بھی مذہبی امور بنی لادی کے ہی ذمہ رہے۔ بنی لادی میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام بھی تھے۔ اور حضرت زکریا علیہ السلام اُن کی ہی اولاد میں سے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کا کام بیت المقدس کی تمام ذمہ داریاں اٹھانا اور بنی اسرائیل کو سمجھانا اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا تھا۔آسان الفاظ میں یوں سمجھیں ۔ حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے مذہبی رہنماتھے۔ اور تما م بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کو اپنا مذہبی رہنما تسلیم کرتے تھے۔

حضرت زکریاعلیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت زکریا علیہ السلام کے سلسلۂ نسب کے بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی سلسلہ¿ نسب اِس طرح لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام بن اذن بن مسلم بن صدون ۔صدون حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔سلیمان علیہ السلام بن داو¿د علیہ السلام بن ایشا بن حویل بن سلمون بن عرابن بن ممثون بن عمیاد بن حضروم بن فارض بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام ،حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان سے تھے۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا بن حنا اور حضرت زکریا بن دان بھی کہا جا تھا ہےاور یہ بھی کہا گیا ہے حضرت زکریا بن ادن بن مسلم بن صدوف۔اِن کا نسب حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داو¿د علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔آپ علیہ السلام حضرت یحییٰ علیہ السلام کے والد ہیں۔اور بنی اسرائیل سے ہیں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”حضرت زکریا علیہ السلام نجار(بڑھئی،مستری) تھے۔مورخین نے بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا بن دان علیہ السلام انبیائے کرام علیہم السلام کے بیٹوں میں سے ہیں۔جو بیت المقدس میں وحی لکھتے تھے۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔عمران نام ہے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد صاحبکو جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔اُن کا نسب نامہ بقول محمد بن اسحاق کے یہ ہے۔عمران بن ہاشم بن میثا بن خرقیا بن اسیت بن ایاز بن رخیعم بن حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داؤود علیہ السلام۔

بنی اسرائیل کے سب سے بڑے مذہبی رہنما

حضرت زکریا علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر نبی اور اپنے زمانے میں سب سے بڑے مذہبی رہنما تھے۔مفتی احمد یار خان نعیمی”تفسیر عالمانہ “میں لکھتے ہیں۔آپ علیہ السلام ،حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد سے ہوتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔زکریا بن آذن یا اُون یا اخیاہ بن مسلم بن صدون ۔آپ علیہ السلام کی ولدیت میں تین قول ہیں۔اسلامی تاریخ میں زکریا بن آذن ہے،بائیبل میں زکریا بن اُون ہے،اور اسرائیلیات میں زکریا بن اخیاہ ہے۔مطابقت اِس طرح ہے کہ آذن صحیح لفظ ہے،اُون کا بگڑا ہوا لفظ ہے اور اخیاہ لقب ہے۔تقریباً ستر ہزار انبیا علیہم السلام آپ علیہ السلام کی خاندانی سلسلے اور لڑی سے ہوئے۔آپ علیہ السلام سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاکے خالو تھے۔یہ علاقہ فلسطین کا تھا،یہاں ہی ”بیت المقدس“ ہے۔اُس وقت فلسطین بارہ صوبوں میں تقسیم تھا اور تمام صوبوں پر حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد جو بارہ قبیلوں میں بٹی ہوئی تھی ۔اِن بارہ صوبوں میں اُن کے علحٰیدہ علحٰیدہ بادشاہ تھے۔اِس طرح فلسطین اُس وقت بارہ سلطنتوں کا نام تھا۔لیکن پورے فلسطین کا مذہبی ادارہ الگ تھا۔یہ ادارہ قبیلہ بنو لاوی بن یعقوب کے سپرد تھا ۔بنو لاوی قبیلے کے چار بیٹوں کی نسل چار شعبوں میں تقسیم تھی۔تین شعبے پورے ملک کی تمام عبادت گاہوں (کنیسوں)اور ہیکلوں کے انتظام اور دیگر مذہبی ذمہ داریوں پر مقرر تھے۔جن میں امامت ،خطابت ،درس وتدریس کے علاوہ دینی تبلیغ بھی شامل تھی ۔لیکن مذہبی صدر مقام ”بیت المقدس“کا تمام انتظام ،دیکھ بھال ،زینت وچراغاں اور خوشبو جلانا۔یہ سب کام صرف شعبہ قبیلہ بنو ہارون سپرد تھا۔اِن کے علاوہ کسی بھی موقع پر بیت المقدس کے اندر کسی بھی قبیلے کا کوئی فرد نہیں جاسکتا تھا۔دیگر بنو لاوی کے تین شعبوں کے افراد بھی بیت المقدس کے صحن ،باغیچہ اور زائرین ،مسافرین،عابدین اور راہبین کی رہائش گاہوں کی دکھ بھال صفائی و انتظامات کرتے تھے۔ہر شعبے کا ایک سردار ہوتا تھا جس کی ذمہ داری اپنے عملے کے ساتھ پانچ قسم کی تھی۔1)مہمان داری،2) یوم ِ سبت کی عبادت کا انتظام،3) سالانہ عیدین پر قربانی کرانا،4)پہاڑوں پر جاکر قدرتی آگ سے جلانے کے لئے رکھنا،5)اور بیت المقدس کی چوکیداری کرنا۔بنو لاوی کے چار شعبوں میں سب سے معزز و محترم شعبہ بنو ہارون تھا۔اِس کے افراد چوبیس خاندانوں میں تقسیم تھے جن میں سے ایک خاندان ”ابیاہ “تھا۔اِس کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام تھے،بیت المقدس کی خدمت کے لئے اِن چوبیس خاندانوں کی پندرہ پندرہ دن کی ڈیوٹیاں اور باریاں مقرر تھیں۔یعنی ہر دو ہفتے بعد باری بدلتی تھی۔ہر سردار اپنی باری پر اپنے گیارہ خاندانی راہبوں اور نوکروں کے ساتھ بیت المقدس میں عبادت اور چراغاں و خوشبو جلانے کا انتظام کرتا تھا۔جس کا خرچہ تمام بارہ سلطنتیں ادا کرتی تھیں۔خاندان ابیاہ کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام ہی اپنے عملے کے ساتھ اپنی باری پر بیت المقدس میں تشریف لے جاتے تھے۔قانون یہ تھ کہ ہر سردار کا بیٹا اپنا جانشین بنا سکتا تھا۔اُس وقت پورے بنی اسرائیل کے نبی حضرت زکریا علیہ السلام ہی تھے۔مگر بہت تھوٹے آپ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور اکژیت مرتدین اور فاسقین و فاجرین کی تھی۔بیت المقدس کی سرداری کے لئے پوری دینی تعلیم ،طریقہ ،تبلیغ و عبادت ضروری شرط تھی ،جس کے لئے جانشین کو پہلے سے تیار کیا جاتا تھا۔مگر حضرت زکریا علیہ السلام کی کوئی اولاد نہیں تھی۔نہ بیٹا ،نہ بیٹی،اور نہ اپنے خاندان میں کوئی ایسا نیک ،پاک اور متقی شخص نظر آتا تھا کہ جس کو جانشینی کے لئے نامزد اور تیار کیا جاسکے۔تب آپ علیہ السلام نے یہ خفیہ دعا مانگی۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی ذمہ داریاں

حضرت زکریا علیہ السلام اﷲ کے نبی ہونے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی سب سے مقدس مسجد(بیت المقدس)کے ذمہ دار بھی تھے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے خاندان سے ہیں۔ان کی پوزیشن ٹھیک ٹھیک سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کے نظام کہا نت کا اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔فلسطین پر قابض ہونے کے بعد بنی اسرائیل نے ملک کا انتظام اس طرح کیا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کے بارہ قبیلوں میں تو سارا ملک تقسیم کردیا۔اور بنو لاوی مذہبی خدمات کے لئے مخصوص رہا۔پھر بنو لاوی میں سے بھی اصل وہ خاندان جو”مقدس میں خداوندکے آگے بخور جلانے کی خدمت “اور ”پاک ترین چیزوں کی تقدیس کا کام“کرتا تھا،وہ حضرت ہارون علیہ السلام کا خاندان تھا۔باقی دوسرے بنو لاوی مقدس کے اندر نہیں جاسکتے تھے بلکہ خداوند کے گھر کی خدمت کے وقت صحنوں اور کوٹھریوں میں کام کرتے تھے۔سبت کے دن اور عیدین کے موقع پر سختنی قربانیاں چڑھاتے تھے اور مقدس کی نگرانی میں بنو ہارون کا ہاتھ بٹاتے تھے۔بنو ہارون کے چوبیس خاندان تھے جو باری باری سے مقدس کی خدمت کے لئے حضر ہوتے تھے۔انہی خاندانوں میں سے ایک ایبا ہ کا خاندان تھا جس کے سردار حضرت زکریا علیہ السلام تھے۔اپنے خاندان کی باری کے دنوں میں یہی مقدس میں جاتے تھے اور خداوند کے حضور بخور جلانے کی خدمت انجام دیتے تھے۔ 

اﷲ نے منتخب فرمایا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”بے شک اﷲ تعالیٰ نے تمام جہان کے لوگوں میںآدم (علیہ السلام) کو اور نوح(علیہ السلام) کو اور ابراہیم (علیہ السلام )کے خاندان کو اور آل عمران کا انتخاب فرما لیا۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر ۳۳)اِس آیت میں آل عمران (عمران کی اولاد )یعنی سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔یہاں ”عمران “سے مُراد سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں۔علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔عمران بن ماثان ،سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاکے والد ہیںاور بنی اسرائیل کے بادشاہوں کے بیٹوں میں سے تھے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔قاضی ثناءاﷲ پانی پتی لکھتے ہیں۔امام مقاتل کے مطابق” عمران“ سے مُراد عمران بن یصہر بن قاہت بن لاوی بن حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں،جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد ہیں۔ایک قول میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”عمران“سے مُراد عمران بن ماثان ہیں جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔اور عمران کی اولاد میں سے بعضوں کو۔اگر یہ ”عمران “حضرت موسیٰ علیہ السلا م کے والد ہیں تو اولاد سے مُراد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام ہیں۔اور اگر یہ”عمران“سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد ہیں تو اولاد سے مُراد حضرت عیسیٰ علیہ اسلام ہیں۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔عمران دو ہیں۔ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد ماجد،اور دوسرے عمران بن ماثان،سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا۔پھر اُن کا سلسلہ¿ نسب لکھنے کے بعد لکھتے ہیں۔یہاں یا تو پہلے عمران مُراد ہیں یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد یا دوسرے عمران یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نانا ،اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ کیونکہ آگے سیدہ مریم رضی ا ﷲعنہا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ آرہا ہے۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی والدہ کی منت 

حضرت زکریا علیہ السلام بیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی کا نام ایشاع ہے۔ ایشاع کی بہن کا نا م حَنّہ ہے۔ اور حنّہ کے شوہر کا نام عمران ہے۔ اس طرح حضرت زکریا علیہ السلام اور عمران ہم زُلف ہیں۔ عمران کی بیوی حنہ نے بیت المقدس میں آکر اللہ تعالیٰ سے منت مانی کہ مجھے جو اولاد ہو گی اسے میں اللہ تعالیٰ کے حوالے یعنی بیت المقدس کی خدمت میں دے دوں گی۔ انھوں نے یہ سوچ کر منت مانی کہ اگر مجھے بیٹا ہوا تو اسے بیت المقدس کے وقف کردوں گی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے کام کو آگے بڑھائے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی اولاد کو اپنی نشانی بنانا چاہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آ ل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو کچھ ہے،اُسے میں نے تیرے نام سے آزاد کرنے کی نذر مانی ہے۔تُو میری طرف سے قبول فرما،یقینا تُو خوب سننے والا اور پوری طرح جاننے والا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر ۵۳)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے والد محترم کا نام عمران ہے۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے دعا کی الٰہی اگر مجھے آپ اولاد عطا فرما دیں گے تو میں اُس کو دین کے لئے آزادر رکھوں گی۔اُس زمانہ میں اِس بات کو بہت بڑی نیکی سمجھا جاتا تھا کہ پیدا ہونے والی اولاد کو اِس طرح اﷲ کے گھر اور اُس کی عبادت کے لئے آزاد کر دیا جائے کہ وہ زندگی کی تمامذمہ داریوں سے الگ رہتے ہوئےصرف اُسی کی بند گی میں لگا رہے۔اِس دعا میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے گویا اشارةً بیٹے کی تمنا کی تھی۔اﷲ نے اُن کی دعا کو قبول فرمایا اور اُن کے گھر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیں۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پیدائش 

حضرت عمران کی بیوی سیدہ حنّہ نے منت مانی تھی کہ وہ اپنی اولااد کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دے گی۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بیٹی عطا فرمائی۔اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔ چونکہ بنی اسرائیل میں یہ قاعدہ تھا کہ صرف لڑکوں کو ہی بیت المقد س کی خدمت کے لئے وقف کیا جاسکتا تھا اس لئے سیدہ حنّہ کچھ مایوس ہو گئیں ۔ لیکن انھیں اپنی منت پوری کرنی ضروری تھی اسی لئے انھوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا اے اللہ تعالیٰ ، میں یہ لڑکی پیش کر رہی ہوں اور میں نے اس کانام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود کے شر سے اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو بیت المقدس کی خدمت میں وقف کر دیا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”جب بچی پیدا ہوئی تو کہنے لگیںکہ پروردگار!مجھے تو لڑکی پیدا ہوئی،اﷲ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے؟اور لڑکا ،لڑکی جیسا نہیں،میں نے اِس کا نام ”مریم “رکھا ،اور میںاِسے اور اِس کی اولاد کوشیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 36)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پیدائش کے بعد اُن کی والدہ سخت پریشان ہوئیںکہ یہ لڑکی پیدا ہوئی ہے ۔اِس کو اﷲ کے لئے میں کیسے آزاد کروں گی؟اﷲ نے اُن کے دل میں اِس بات کو القا فرمایا کہ اے مریم کی والدہ تمہیں معلوم نہیں ہے یہ لڑکی کتنی با عظمت ہے۔اِس کے ذریعہ اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمائیں گے۔

شیطان ہر بچے کو چھوتا ہے

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 36میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ نے عرض کیا کہ ”میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔“اﷲ تعالیٰ نے اُن کی یہ عرض بھی قبول فرمائی۔مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔پھر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ عمران کی بیوی کی نذر کا تذکرہ فرمایا ،انہوں نے نذر مانی تھی کہ اے میرے رب!میرے پیٹ میں جو بچہ ہے،میں نے اُس کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی ہے۔آزاد چھوڑنے کا مطلب یہ تھا کہ اُس کو صرف ”بیت المقدس“کی خدمت کے لئے فارغ رکھوں گی اور دنیا کا کوئی کام نہیں لوں گی۔مسجد کی خدمت کرنے والے مرد ہوتے تھے۔اب ہوا یہ کہ جس حمل کے بچے کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی تھی،جب اُس حمل کی پیدائش ہوئی تو وہ لڑکا نہیں بلکہ لڑکی تھی۔عمران کی بیوی افسوس کرنے لگیںاور کہنے لگیں کہ اے میرے رب!میرے تو لڑکی پیدا ہوئی ہے،لڑکی ”بیت المقدس“کی خدمت گذارکیسے بنے گی؟اﷲ تعالیٰ کو معلوم ہی تھا کہ کیا پیدا ہوئی ہے؟لیکن یہ انہوں نے حسرت کے طور پر کہا تھا۔اس کے بعد آگے لکھتے ہیں ۔عمران کی بیوی نے لڑکا پیدا نہ ہو نے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں اِس لڑکی کو اور اِس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود سے۔صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے،شیطان اُس کو پیدا ہونے کے وقت چھوتا ہے۔سو وہ اُس کے چھونے سے چیختا ہے،سوائے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا اور اُس کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے۔(کہ وہ اُن کو نہیں چھو سکا)بعض روایات میں ہے کہ شیطان اپنی انگلی سے کچوکا دیتا ہے ،اِسی لئے بچہ چیخ پڑتا ہے۔سوائے مریم رضی ا ﷲ عنہا اور اُن کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ اُن دونوں تک نہیں پہنچ سکا ۔

مریم ۔بمعنی عابدہ

سورہ آل عمران کی آیت نمبر 36کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی ”خلاصہ¿ تفسیر“میںلکھتے ہیں۔اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم وہ وقت بھی یاد کرو اور انہیں سناو¿۔جبکہ عمران کی بیوی ”حنہ“نے حاملہ ہو کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا۔اے میرے مولا !چونکہ تُو نے مجھے نا اُمیدی کے بعد اولاد کی اُمید دکھائی ہے۔اِس لئے میں نذر مانتی ہوں کہ جو کچھ میرے پیٹ میں اولاد ہے ،وہ ”بیت المقدس “کی خدمت کے لئے وقف ہے۔نہ میں اس سے اپنی خدمت لوں گی ،اور نہ ہی گھر کے کام کاج کراو¿ں گی۔اے مولا!یہ میرا حقیر ہدیہ اپنے فضل و کرم سے قبول فرمالے،تُو کلام سننے والا اور میری نیت و اخلاص کو جاننے والا ہے۔وہ لڑکے کی اُمید پر بہت خوش و خرم تھیں،جب ولادت کا وقت آیا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پید ہوئیں تو حنہ حیران رہ گئیں۔عرض کرنے لگیں کہ اے مولیٰ !یہ کیا ہو گیا؟میرے تو لڑکی پید ہو گئی ،اب میں اپنی نذر کیسے پوری کروں؟اے محبوب (صلی اﷲ علیہ وسلم)! حنہ کیا جانیں کہ لڑکی کیسی ہے؟ یہ تو رب ہی جانتا ہے کہ وہ لڑکی کس درجہ کی ہے؟لڑکا اِس لڑکی کی طرح ہوسکتا ہی نہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ اے مولیٰ !چونکہ اِس کے باپ تو پہلے ہی وفات پا چکے ہیں ،اِس لئے میں اِس لڑکی کا نام ”مریم“رکھتی ہوں۔بمعنی ”عابدہ“۔اور میری نیت یہ ہے کہ یہ ”بیت المقدس “میں رہ کر تیری عبادت کرے ،تاکہ بقدر طاقت میری منت پوری ہو۔اے مولیٰ !چونکہ میں اسے اپنے الگ ”بیت المقدس‘]میں رکھوں گی، اِس لئے اِس کو اور اِس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں کہ تُو اسے شیطان سے بچا اور اسے صالح پرہیز گار بنا۔اس کے بعد ”اصل واقعہ“کے تحت لکھتے ہیں۔فاقوزا کی دو بیٹیاں تھیں۔حنہ اور ایشاع۔حنہ عمران کے نکاح میں آئیں،ایشاع حضرت زکریا علیہ السلام کے نکاح میں آئیں۔دونوں بہن بے اولاد تھیں۔یہاں تک کہ انہیں بڑھاپا آگیا اور اولاد سے مایو سی ہو گئی ۔ایک دن سیدہ حنہ نے ایک چڑیا کو دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو دانہ کھلا رہی ہے۔اُن کے دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور دعا کی۔اے مولیٰ ! یہ چڑیا بچے سے دل بہلا رہی ہے مجھے بھی ایک فرزند دے جو میرے دل بہلانے کا ذریعہ ہو۔تو اُسی وقت ”وقف“کی منت مان لی یا حمل کے بعد۔غرض یہ کہ دعا مانگنے کے بعد حاملہ ہو گئیں اور عمران سے کہنے لگیںکہ میں نے منت مانی ہے۔عمران نے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا،اگر لڑکی پیدا ہوئی تو کیا کرو گی؟تب بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کیا کہ اے مولا ! میں منت مان چکی ہوں کہ جو کچھ میرے شکم میں ہے وہ ”بیت المقدس“ کی خدمت کے لئے وقف ہے۔اِس سے نہ خدمت لوں گی نہ گھر کا کام کاج کراو¿ں گی۔اُس زمانے میں ”وقف“کا رواج تھاکہ لوگ اپنی اولاد کو بیت المقدس کی خمت کے لئے وقف کر دیتے تھے۔اور بچے وہاں ہی رہتے سہتے اور وہاں کی خدمت کرتے تھے۔اِس قاعدہ سے آ پ نے منت مانی اور خوش تھیں کہ جب میری دعا پر رب نے یہ اُمید دکھائی ہے تو بیٹا ہی ہو گا،کیونکہ میں نے بیٹا ہی مانگا تھا۔اِسی اثناءمیں حضرت عمران وفات پاگئے۔جب وقت ولادت آیا اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا پیدا ہوئیںتو حنہ کو خلاف اُمید لڑکی پیدا ہونے اور اپنی نذر پورا نہ کر سکنے پر بہت افسوس ہوا۔تب اﷲ تعالیٰ سے وہ دعا مانگی ،جو اِس آیت میں مذکور ہے۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش کے لئے قرعہ

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اُن کی والدہ نے ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس کے ذمہ داران کے حوالے کر دیا۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں اس وقت لگ بھگ 24خاندان تھے۔ اور ہر خاندان سے کئی کئی علماءاور قراءبیت المقدس کے ذمہ داروں میں سے تھے۔ ہر ذمہ دار یہ چاہتا تھا کہ وہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہاکی پرورش کرے گا۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا۔ اس کی پرورش میرے ذمہ کر دو۔ کیوں کہ میری بیوی اس کی خالہ ہے یہ سن کر تمام علماءنے کہا ہم قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کے نام قرعہ کھلے گا وہ اس بچی کی پرورش کر ے گا۔ اُس وقت بیت المقدس کے ذمہ دار علمائے کرام کی کل تعداد 27ستائیس تھی ۔قرعہ نکالا گیا تو وہ حضرت زکریا علیہ السلام کا ہی نکلا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے پرور دگار نے اچھی طرح قبول فرما لیا اور اُسے بہترین پرورش دی۔اُس کی خیر خبر لینے والا زکریا (علیہ السلام) کو بنایا۔........آیت کے آخر تک(سورہ آل عمران آیت نمبر 37)علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔علامہ محمد بن جریر طبری اپنی سند سے لکھتے ہیں۔جب سیدہ مریم رضی ا ﷲعنہا پیدا ہوئیں تو اُن کی والدہ نے اُن کو ایک کپڑے میں لپیٹا اور اُن کو کاہن بن عمران کے بیٹے کے پاس لے گئیں۔جو اُس زمانے میں ”بیت المقدس“کے دربان تھے اور اُن سے کہا کہ اِس نذر مانی ہوئی لڑکی کو سنبھالو۔یہ میری بیٹی ہے ،میں نے اس کو اپنی ذمہ داری اور ولایت سے آزاد کیا۔عبادت گاہ میں حائض داخل نہیں ہوسکتی اور میں اِس کو اپنے گھر نہیں لے جاو¿ں گی۔انہوں نے کہا یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے اور عمران اُن کو نمازیں پڑھاتے تھے اور اُن کی قربانیوں کے منتظم تھے۔حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لڑکی مجھے دے دو،کیونکہ اِس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔باقی لوگوں نے کہا کہ ہم اِس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔یہ ہمارے امام کی بیٹی ہے،پھر انہوں نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پرورش کے لئے قلموں کے ساتھ قرعہ اندازی کی۔یہ وہ قلم تھے جن سے وہ ”توریت“لکھتے تھے۔حضرت زکریا علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکل آیااور انہوں نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کہ کفالت کی۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ اُن کو لیکر مسجد بیت المقدس میں پہنچیں اور وہاں کے مجاورین اور عابدین سے جن میں حضرت زکریا علیہ السلام بھی تھے،جا کر کہا کہ اِس لڑکی کو میں نے خاص خدا کے لئے مانا ہے۔اِس لئے میں اِسے اپنے نہیں رکھ سکتی ،سو اِس کو لائی ہوں آپ لوگ رکھیئے۔حضرت عمران اس مسجد کے امام تھے اور حالت ِ حمل میں اُن کی وفات ہو چکی تھی۔ورنہ سب سے زیادہ مستحق اُس کے لینے کے وہ ہی تھے،لڑکی کے باپ بھی تھے اور مسجد بیت المقدس کے امام بھی۔اِس لئے بیت المقدس کے مجاورین و عابدین میں سے ہر شخص اُن کو لینے اور پالنے کی خواہش رکھتا تھا۔حضرت زکریا علیہ السلام نے اپنی ترجیح کی یہ وجہ بیان فرمائی کہ میرے گھر میں اس کی خالہ ہیںاور وہ بمنزلہ¿ ماں کے ہوتی ہے۔اِس لئے ماں کے بعد وہی رکھنے کی مستحق ہے۔مگر اور لوگ اِس ترجیح پر راضی اور متفق نہیں ہوئے۔آخر قرعہ اندازی پر اتفاق قرار پایا،اور صورت قرعہ کی بھی عجیب و غریب خلاف عادت ٹھہری۔جس کا بیان آگے آئے گا،اِس میں بھی حضرت زکریا علیہ السلام کامیاب ہوئے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم دونوں سمت تیرا

اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے،جسے ہم آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی طرف وحی سے پہنچاتے ہیں۔آپ(صلی اﷲ علیہ وسلم)اُن کے پاس نہیں تھے جب کہ وہ اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے گا۔اور نہ تو اُن کے جھگڑنے کے وقت اُن کے پاس تھے۔(سورہ آل عمران آیت نمبر 44)حضرت زکریا علیہ السلام کے نام کے قرعہ سے تمام علماءغیر مطمئن رہے اور کہا کہ دریا میں چل کر قرعہ نکالتے ہیں۔ جس کا قلم دریا کے پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرے گا وہ اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ تمام علمائے کرام دریا کے کنارے آئے اور تمام بنی اسرائیل بھی آگئے۔ سب ہی دیکھ رہے تھے ۔ حضرت زکریا علیہ السلام اور تمام علمائے کرام نے اپنے اپنے قلم پانی میں ڈالے۔ تمام علمائے کرام کے قلم پانی کے بہاﺅ کی طرف تیرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگا۔ اس مرتبہ بھی قرعہ آپ علیہ السلام کے نام ہی کھلا۔ تمام علمائے کرام نے کہا ایک مرتبہ اور قرعہ نکالتے ہیں۔ اس مرتبہ جس کا قلم پانی کے بہاﺅ کی طرف تیرے گا وہ اس بچی کی پرورش کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ تمام لوگوں نے پھر اپنے اپنے قلم پانی میں ڈالے۔ اس مرتبہ تمام علمائے کرام کے قلم پانی کے بہاﺅ کے مخالف سمت تیرنے لگے اور آپ علیہ السلام کا قلم پانی کے بہاﺅ کے ساتھ تیرنے لگا۔ اس طرح ہر مرتبہ قرعہ آپ علیہ السلام کے نام ہی کھلا۔ اور تمام علمائے کرام نے تسلیم کر لیا کہ اللہ تعالیٰ بھی چاہتے ہیں کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش حضرت زکریا علیہ السلام ہی کریں ۔ قاضی ثناءاﷲ پانی پتی سورہ آل عمران کی آیت نمبر 37کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے اسے پروان چڑھایااور بہترین پرورش کی۔پس وہ اچھی طرح پروان چڑھی ،وہ ایک دن میں اتنی بڑھتیں جتنا بچہ ایک سال میں بڑھتا تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری نے حضرت عکرمہ،قتادہ اور سدی سے نقل کیا ہے کہ جب حنہ نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو کپڑے میں لپیٹ کرمسجد کی طرف لے گئیںاور حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد کے علما ءکے پاس رکھا،اور بولیں کہ اِس نذر کو قبول کرو۔علماءنے اِس میں باہم مقابلہ شروع کر لیا،کیونکہ یہ اُن کے امام اور قربانیوں والے کی بیٹی تھی۔حضرت زکریا علیہ السلام نے فرمایا؛”میں تم سب سے اس کو کفالت میں لینے کا زیادہ حق رکھتا ہوں،کیونکہ اس کی خالہ میرے عقد میں ہے۔جن کا نام ایشاع بنت قاقودا تھا،جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں۔علماءنے قرعہ کے بغیر اسے حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میں دینے سے انکار کر دیا۔وہ سب دریا کی طرف چل پڑے اور اُن کی تعداد ستایئس (۷۲) تھی ۔امام سدی نے کہا یہ دریائے اُردن تھا۔انہوں نے اپنے اپنے قلم اس شرط پر دریا میں ڈال دیئے کہ جس کا قلم پانی پر ٹھہر جائے گا یا پانی پر بلند ہو جائے گا،یہ بچی اُسی کی کفالت میں رہے گی۔ایک قول کے مطابق جن قلموں سے وہ لوگ توریت لکھتے تھے،وہی قلم دریا میں ڈالے۔حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم ٹھہر گیااور پانی کے اوپر چڑھ آیا۔باقی قلم نیچے اُتر گئے اور دریا میں بہہ گئے۔حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم اپنی جگہ تیرتا رہااور پانی پر اِس طرح کھڑا رہا،گویا وہ مٹی میں گڑا ہوا ہے۔جبکہ دوسروں کے قلم بہہ گئے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا قلم پانی کی اوپر والی سطح کی طرف بلند ہوا اور باقی قلم پانی کے بہاو¿ کے ساتھ بہہ گئے۔اِس طرح سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی کفالت آپ علیہ السلام نے کی۔

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو رزق عطا فرمانا 

اس طرح سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی کفالت کی ذمہ داری حضرت زکریا علیہ السلام پر آگئی۔ آپ علیہ السلام نے بڑی محبت سے انھیں پالا پوسا ۔ جب سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بڑی ہو گئیں تو گوشہ نشین ہو گئیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کسی سے نہیں ملتی تھیں۔ بلکہ صرف اپنے حجرے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتی رہتی تھیں۔ دن میں ایک آدھ مرتبہ حضرت زکریا علیہ السلام ملاقات کے لئے آتے تھے۔ جب بھی آپ علیہ السلام آتے تو دیکھتے تھے کہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے پاس پھل فروٹ اور کھانا رکھا رہتا تھا۔آپ علیہ السلام نے پوچھا یہ رزق تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے؟ کیونکہ سوائے حضرت زکریا علیہ السلام کے کوئی بھی سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے حجرے میں نہیں جاتا تھا۔ اس کے باوجود وہاں پر رزق پہنچ جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کے جواب میں سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے فرمایا ۔ یہ اللہ تعالیٰ مجھے عطا فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس اُسے اُس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایااور اُسے بہترین پرورش دی۔اُس کی خیر خبر لینے والا زکریا(علیہ السلام) کو بنایا۔جب کبھی زکریا(علیہ السلام) اُس کے حجرے (محراب)میں جاتے تو اُس کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے۔وہ پوچھتے ؛اے مریم!یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟وہ جواب دیتیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے پاس سے ہے۔بے شک اﷲ جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 37 )

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی پرورش

حضرت زکریا علیہ السلام کی کفالت میںسیدہ مریم رضی اﷲ عنہا آگئیں۔اور آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی نگرانی اور حکم کے مطابق بہت اچھی پرورش کی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔”محراب“کے بارے میںروایت میں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے لئے ایک بالا خانہ بنوایا،جس کے سات دروازے تھے اور وہاں ان کو رکھا۔یا اِس سے بیت المقدس کی کوئی اعلیٰ جگہ مُراد ہے یا مسجد ہی مُراد ہے۔اس زبان میں ساری مسجد کو ”محراب“کہتے تھے۔جیسے اب مسجد کے غربی دیوار کے درمیانی حصے کو ”محراب “کہا جاتا ہے،جہاں کمان نما طاق بنا ہوتا ہے۔جیسے آج ”بیت اﷲ“(خانہ¿ کعبہ) ،مسجد حرام اور پورے مکہ¿ مکرمہ کی حدود کو”حرم“کہتے ہیں۔بلکہ مسجد نبوی شریف اور حدود مدینہ¿ منورہ کو بھی ”حرم“کہا جاتا ہے۔یعنی حرمت والی جگہ۔ایسے ہی لفظ ”محراب“بہت معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔یہاں بیت المقدس کا بالا خانہ ،وہاں کا کوئی خاص مقام مُراد ہے جو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہاپرورش کے لئے منتخب ہوا تھا۔یعنی جب حضرت زکریا علیہ السلام سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پاس اُن کے بالا خانے یا مسجد میں جاتے ۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔لفظ ”محراب“سے لوگوں کا ذہن بالعموم اس محراب کی طرف جاتا ہے جو ہماری مسجدوں میں امام کے کھڑے ہونے کے لئے بنائی جاتی ہے۔لیکن یہاں ”محراب“سے مُراد یہ چیز نہیں ہے۔صوامع اور کنیسوں میں اصل عبادت گاہ کی عمارت سے متصل سطح زمین سے کافی بلندی پر جو کمرے بنائے جاتے ہیں،جن میں عبادت گاہ کے مجاور،خدام اور معتکف لوگ رہا کرتے ہیں۔انہیں ”محراب“کہا جاتا ہے۔اسی قسم کے کمروں میں سے ایک میں سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا معتکف رہتی تھیں۔

اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے

سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا حضرت زکریا علیہ السلام کی نگرانی میں اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بڑی ہورہی تھیں۔سورہ آل عمران کی آیت نمبر 37کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کچھ بڑی ہوئیں تو منت کے مطابق اُن کو عبادت کے لئے مخصوص کر دیا گیا۔حضرت زکریا علیہ السلام جو اُسوقت عبادت خانہ(بیت المقدس ) کے متولی بھی تھے اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے خالو بھی تھے،اُن کی نگرانی میں دے دی گئیں۔ایک علحیدہ کمرہ میں اُن کو رکھا گیا۔ جب سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا جوان ہو گئیں تو حضرت زکریا علیہ السلام باہر سے تالا ڈال کر جایا کرتے تھے۔مگر جب واپس آتے تو دیکھتے کہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا عبادت میں مشغول ہیں اور اُن کے پاس بے موسم کے طرح طرح کے پھل رکھے ہوئے ہوتے تھے۔ایک دن حضرت زکریا علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنے اچھے اور تاز پھل کہاں سے آتے ہیں ؟ تو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے جواب دیا کہ یہ سب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور” اﷲ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ بیٹی مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے؟سیدہ مریم صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے فرما کہ یہ اﷲ کے پاس سے آتا ہے۔”اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“مسند ابو یعلیٰ میں حدیث ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گذر گئے۔بھوک سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو تکلیف ہو نے لگی۔اپنی سب ازواجِ مطہرات رضی اﷲ عنہما کے گھر ہو آئے،لیکن کہیں بھی کچھ نہیں پایا۔اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا؛”بیٹی تمہارے پاس کچھ کے کہ میں کھالوں؟مجھے بھوک لگ رہی ہے۔وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کچھ بھی نہیں ہے۔اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم وہاں سے نکلے ہی تھے کہ سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کی کنیز نے دو روٹیاں اور چند گوشت کے ٹکڑے آپ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں لا کر پیش کئے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اسے لیکر برتن میں رکھ لیا اور بسمہ اﷲ پڑھکر ڈھانک دیا۔پھر فرمایا کہ حالانکہ میں اور میرے شوہر اور بچے بھی بھوکے ہیں،لیکن ہم سب آج فاقے سے ہی گذاریں گے اور اﷲ کی قسم ! آج تو یہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہی خدمت میں پیش کروں گی۔پھر حضرت حسن یا حسین رضی اﷲ عنہ کو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بلا لائیں۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم راسے میں ہی تھے کہ مل گئے اور سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آئے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے عرض کیاکہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اﷲ تعالیٰ نے کچھ بھجوا دیا ہے،جسے میں نے آپ صلی اﷲ علیہ کے لئے چھپا کر رکھ دیا ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میری پیاری بیٹی!لے آؤ۔“اب جو برتن کھولا تو دیکھتی ہیں کہ روٹی اور سالن اتنے زیادہ ہوگئے ہیں کہ برتن بھرگیا ہے۔دیکھ کر حیران ہوئیں،لیکن فوراًسمجھ گئیں کہ اﷲ کی طرف سے ہے اِس میں برکت نازل ہو گئی ہے۔اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا،اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم پر دورد ِ پاک پڑھا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے سامنے لا پیش کر دیا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی اسے دیکھ کر اﷲ کی تعریف بیان فرمائی اور فرمایا؛”اے میری پیاری بیٹی !یہ کہاں سے آیا؟“سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا مسکرائیں اور عرض کیا؛”یا رسول اﷲ صلی اﷲوسلم !اﷲ کے پاس سے آیا ہے۔اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اے میری پیاری بیٹی!اﷲ تعالیٰ نے تجھے بھی نے اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار جیسا کر دیا ہے۔انہیں جب بھی کوئی چیز عطا فرماتا اور اُن سے پوچھا جاتا تھا تو وہ بھی یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ ”اﷲ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔“پھر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو اور بچوں کو بلوایا۔اور سب ازواج مطہرات کو بھی بھیجا۔سب نے شکم سیر ہو کر کھایا۔پھر بھی اتنا ہی باقی رہا ،جتنا پہلے تھے۔پھر آس پاس کے پڑوسیوں کے یہاں بھیجا گیا ۔علامہ غلام رسول سعید لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری اپنی سند سے لکھتے ہیں امام ضحاک بیان کرتے ہیں کہ حضرت زکریا علیہ السلام کے پاس سردیوں میں گرمیوں کے موسم کے بھی پھل آتے تھے،اور گرمیوں میں سردیوں کے موسم کے بھی آتے تھے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا

سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے پھل رزق میں عطا فرمائے تھے جن کا موسم نہیں ہوتا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت زکریا علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کی خدمت کے لئے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو قبول کر لیا ہے۔ آپ علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے اور آپ علیہ السلام کوکوئی اولاد نہیں تھی۔ یہ سوچ کر کہ اللہ تعالیٰ بیت المقدس کی خدمت کے لئے لڑکے کی بجائے لڑکی کو بھی قبول کر سکتا ہے تو مجھے بڑھاپے میں ضرور اولاد عطا فرمائے گا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری کوئی اولاد نہیں ہے۔ مجھے اپنے پاس سے نیک اولاد عطا فرما۔ بے شک تو ہی سب کی سننے والا ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”اِسی جگہ زکریا(علیہ السلام ) نے اپنے رب سے دعا کی۔کہا کہ اے میرے رب!مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا فرما۔بے شک تُو دعا کا سننے والا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 38)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”یہ تیرے رب کی مہربانی کا ذکر ہے،جو اپنے بندے زکریا (علیہ السلام ) پر کی ۔جب اُس نے اپنے رب سے چپکے چپکے دعا کی تھی ۔اے میرے رب !میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اُٹھا ہے۔لیکن میں کبھی بھی دعا کر کے محروم نہیں رہا۔مجھے اپنے مرنے کے بعد اپنے قرابت والوں کا ڈر ہے۔میری بیوی بھی بانجھ ہے،پس تُو مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔“(سورہ مریم آیت نمبر 2سے6تک)

حضرت زکریا علیہ السلام کا اﷲ پر یقین

حضرت زکریا علیہ السلام کو اﷲ کی ذات پر مکمل یقین تھا،اور سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پاس بے موسم پھل دیکھ کرآپ علیہ السلام کو یہ بھی یقین ہو گیا کہ اﷲ تعالیٰ اِس بڑھاپے میں بھی مجھے اولاد عطا فرما دے گا۔مولانا مفتی محمد شفیع سورہ آل عمران کی آیت نمبر 38کی تفسیر میںلکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام کے اُس وقت تک کوئی اولاد نہیں تھی اور زمانہ بھی بڑھاپے کا آگیا تھا،جس میں عادةً اولاد نہیں ہوتی ہے۔اگرچہ خرق عادت کے طور پر قدرتِ خداوندی کا اُن کو پورا اعتقاد تھا کہ وہ ذات بڑھاپے میں بھی اولاد دے سکتی ہے۔لیکن چونکہ اﷲ کی عادت آپ علیہ السلام نے مشاہد نہیں فرمائی تھی کہ وہ بے موقع بے موسم چیزیں عطا کرتا ہے۔اِس لئے آپ علیہ السلام کو اولاد کے لئے دعا کرنے کی جرا¿ت نہیں ہوئی تھی۔لیکن اُس وقت جب آپ علیہ السلام نے دیکھ لیا کہ اﷲتعالیٰ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کو بے موسم پھل اور میوے عطا فرما رہا ہے تو اب آپ علیہ السلام کو بھی سوال کرنے کی جرا¿ت ہوئی۔کہ جو قادرِ مطلق بے موقع پھل عطا کر سکتا ہے وہ بے موقع اولاد بھی عطا فرمائے گا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام بے اولاد تھے۔اِس نوجوان صالحہ لڑکی رضی اﷲ عنہا کو دیکھ کر فطرةً اُن کے دل میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش !اﷲ تعالیٰ انہیں بھی ایسی ہی نیک اولاد عطا فرمائے۔اور یہ دیکھ کر کہ اﷲ تعالیٰ کس طرح اپنی قدرت سے اِس گوشہ نشین لڑکی کو رزق پہنچا رہا ہے ،انہیں یہ اُمید ہوئی کہ اﷲ چاہے تو اِس بڑھاپے میں بھی اُن کو اولاد عطا فرما سکتا ہے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ پر پہلے بھی پورا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی بھی کام مشکل نہیں ہے۔ اپنے لئے بڑھاپے میں اولاد کی دعا اسی لئے کی کہ اللہ تعالیٰ میری بانجھ بیوی کو بھی اولاد کا سکھ دے سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ آپ علیہ السلام اپنے حجرے میں عبادت میں مشغول تھے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ کا پیغام سنانے ایک فرشتہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا۔ فرشتے نے کہا۔ اے حضرت زکریا علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ تمہیں یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دیتے ہیں۔ وہ یعنی یحییٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرے گا۔ وہ سردار ہو گا۔ اور ہمیشہ کے لئے عورتوں سے دور رہنے والا ہوگا۔ اور نبی ہوگا۔ اورہمارے خاص بندوں میں سے ہوگا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”پس فرشتوں نے انہیں آواز دی ،جب وہ حجرے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے،کہ اﷲ تعالیٰ تجھے یحییٰ (علیہ السلام ) کی یقینی خوش خبری دیتا ہے۔جو اﷲ کے کلمہ(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہے۔سردار،ہمیشہ عورتوں سے بچنے والا اور صالحین میں سے نبی ہے۔۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 39)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اے زکریا(علیہ السلام )!ہم تجھے ایک بچے کی خوش خبری دیتے ہیں۔جس کا نام یحییٰ (علیہ السلام) ہوگا۔ہم نے اِس سے پہلے اس کا نام بھی کسی کو نہیں دیا ہے۔“(سورہ مریم آیت نمبر 7)

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوش خبری

اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کو قبول فرما لیااور آپ علیہ السلام کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بشارت دی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے مولیٰ !مجھے اِس بڑھاپے میں خاص طور سے اپنی طرف سے ایک پاک و صاف و ستھرا بیٹا عطا فرما۔تُو دعاو¿ں کو قبول فرمانے والا ہے۔ جب تُونے حنہ کی دعا قبول فرما لی تو میری دعا کوبھی ضرور قبول فرمائے گا۔آپ علیہ السلام بہت بڑے عالم تھے اور بارگاہِ الہٰی میں قربانیاں پیش کرتے تھے۔مسجد شریف میں آپ علیہ السلام کی اجازت کے بغیر کوئی داخل نہیں ہو سکتا تھا۔آپ علیہ السلام ایک دن مسجد میں نماز میں مشغول تھے اور باہر لوگ اجازت کے منتظر تھے۔دروازہ بند تھا کہ اچانک آپ علیہ السلام نے ایک سفید پوش جوان کو دیکھا ۔وہ جبرئیل علیہ السلام تھے۔انہوں نے آپ علیہ السلام کو اِس حال میں خوش خبری سنائی کہ اے زکریا علیہ السلام ! تمہاری دعا قبول ہوئی۔رب تعالیٰ تمہیںایک صالح متقی بیٹا عطا فرمائے گا۔جس کا نام یحییٰ علیہ السلام ہو گااور وہ بہت سی خوبیوں کا مالک ہوگا۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوبیاں

اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بشارت دی کہ تمہارا بیٹا یحییٰ علیہ السلام بہت ساری خوبیوں کا مالک ہوگا۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام اپنے عبادت خانے میں ہی تھے کہ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ علیہ السلام کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا ،جس کا نام یحییٰ رکھنا۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اﷲ کی طرف سے ہے۔یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ اُن کی حیا ایمان کی وجہ سے ہو گی۔وہ اﷲ کے کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کریں گے۔حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ سبسے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی حضرت یحییٰ علیہ السلام ہیں۔اِس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔سید کے معنی حلیم ،برد بار ،علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیز گار، فقیہ ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل،جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں۔حصور کے معنی عورتوں سے دور رہنے والا،حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن عاص رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف حضرت یحییٰ علیہ السلام ہی اﷲ سے بے گناہ ملیں گے،(کیونکہ وہ عورتوں سے دور رہنے والے تھے)قاضی ثناءاﷲ پانی پتی ”سید“کے معنی میں لکھتے ہیں۔آپ (حضرت یحییٰ )علیہ السلام اپنی قوم میں رئیس تھے،علم ، عبادت ، تقویٰ اور تمام بھلائی کے کاموں میں اُن سے بڑھکر تھے۔امام مجاہد(جلیل القدر تابعی اور مفسر) فرماتے ہیں کہ ”سید “کا معنی اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں معزز ہے۔ایک قول یہ کیا گیا ہے ،اِس کا معنی حلیم ہے،جسے کوئی چیز غصہ نہیں دلا سکتی ۔امام سفیان نے کہا جو حسد نہیں کرتا ایک قول ہے کہ معنی قناعت کرنے والا۔”حصورا “کے معنی میں لکھتے ہیں۔اس کی اصل ”حصر“ہے۔جس کا معنی روکنا منع کرنا ہے۔ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ وہ عورتوں سے دور رہنے والے تھے۔ایک قول کیا گیا ہے کہ وہ اِس خواہش سے بے نیاز تھے،جس طرح ایک روایت میں آیا ہے۔میں (قاضی ثناءاﷲ پانی پتی) کہتا ہوں کہ بہتر بات یہ ہے کہ کہا جائے کہ انہیں روک دیا گیا۔(وہ محفوظ تھے)اپنے نفس کو خواہشات اور لہو لعب کے کاموں سے روکنے والے تھے۔

حضرت زکریا علیہ السلام کا تعجب

فرشتے نے جب حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا پیغام اور بشارت سنائی تو آپ علیہ السلام سجدہ¿ شکر ادا کرنے لگے۔ پھر کچھ دیر بعد عرض کیا کہ اے اللہ تعالیٰ ، یہ تعجب کی بات ہے کہ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں۔ اور میر ی بیوی بانجھ ہے۔ اس کے باوجود تو مجھے لڑکا عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ بے شک ایسا ہی ہوگا۔ اور اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تو تین دنوں تک لوگوں سے بات نہیںکر سکے گا۔ صرف اشارے سے بات کر سکے گا۔ اور اپنے رب (اللہ تعالیٰ) کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اور صبح اور شام اس کی خوب پاکی بیان کرو۔ اس وقت حضرت زکریا علیہ السلام کی عمر 120برس تھی۔ اور آپ علیہ السلام کی زوجہ ایشاع اُس وقت 90نوّے سال سے زیادہ عمر کی تھیں۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”(حضرت زکریا علیہ السلام) کہنے لگے ،اے میرے رب !میرے یہاں بچہ کیسے ہوگا؟میں بالکل بوڑھا ہو گیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔فرمایا،اسی طرح اﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“(سورہ آل عمران آیت نمبر 40)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”زکریا (علیہ السلام) کہنے لگے ،میرے رب !میرے یہاں لڑکا کیسے ہو گا؟میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے ک انتہائی ضعف کو پہنچ چکا ہوں۔(سورہ مریم آیت نمبر8)مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت زکریا علیہ السلام نے جب فرزند کی بشارت سنی تو عرض کیا کہ اے مولیٰ !میرے فرزند کیونکر ہوگا ؟میں تو ایک سو بیس120سال کا بوڑھا ہوں اور میری بیوی اٹھانوے98سال کی بوڑھی ہونے کے ساتھ ساتھ بانجھ بھی ہے۔آیا ہماری حالتوں میں تبدیلی کی جائے گی یا ہم دونوں اسی طرح رہیں گےاور فرزند ہو جائے گا۔جواب ملا کہ اے زکریا علیہ السلام !تمہارے اولاد ایسے ہی ہوگی نہ تمہاری جوانی لوٹے گی اور نہ تمہیں دوسرے نکاح کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ تمہاری بیوی میں تبدیلی ہو گی۔اﷲ تعالیٰ جا چاہتا ہے کرتا ہے وہ ہر طرح سے قادر ہے۔

نشانی مانگنے کی وجہ

حضرت زکریا علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قدرت کا ملہ پر پورا یقین تھا۔ لیکن جب انھوں نے والد بننے کی بشارت سنی تو خوشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے نشانی مانگی کہ جب میری بیوی حاملہ ہو گی تو مجھے کس طرح معلوم ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نشانی بتائی کہ جب تمہاری حاملہ بیوی ہو گی توتم تین دنوں تک لوگوں سے بات نہیں کر سکو گے۔ اور تین دنوں میں تم اکیلے میں میرا ذکر اور تسبیح کر سکو گے۔ تمہاری زبان درست کام کرے گی۔ لیکن لوگوں کے سامنے جاﺅ گے تو زبان بند ہو جائے گی۔ اور اشارے سے لوگوں کو بتاﺅ گے پھر ایسا ہی ہوا۔ آپ علیہ السلام پنے حجرے میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور تسبیح کر رہے تھے ۔ باہر بنی اسرائیل کے لوگ اپنے مسائل لے کر آئے ہوئے تھے۔ اُن کے مسائل کو حل کر نے کے لئے آپ علیہ السلام باہر نکلے اور بات کرنی چاہی تو زبان بند ہو گئی۔ آپ علیہ السلام کچھ دیر کے لئے حیران ہوئے کہ ابھی تو میں حجرے میںاچھا خاصا بول رہا تھا۔ یہا ں زبان کیسے بند ہو گئی۔ تو آپ علیہ السلام کو یاد آیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔اور مجھے والد بننے کی خوشی عطا فرمادی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ آل عمران میں فرمایا؛ترجمہ”کہنے لگے اے رب !میرے لئے اِس کی کوئی نشانی مقرر کر دے۔فرمایا ؛نشانی یہ ہے کہ تین دنوں تک تم لوگوں سے بات نہیں کع سکو گے۔صرف اشارے سے سمجھاو¿ گے۔تب تم اپنے رب کا ذکر کژرت سے کرنا،اور صبح و شام اُس کی تسبیح بیان کرتے رہنا۔(سورہ آل عمران آیت نمبر41)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”(اﷲ کا) ارشاد ہوا،کہ وعدہ اِسی طرح ہوچکا ہے۔تیرے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ پر یہ بالکل آسان ہے اور تُو خود جب کہ کچھ نہیں تھا تو میں تجھے پیدا کر چکا ہوں۔کہنے لگے ،میرے رب !میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما دے۔ارشاد ہوا کہ تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ بھلا چنگا ہونے کے باوجود تُو تین راتوں تک کسی شخص سے بول نہیں سکے گا۔اب زکریا(علیہ السلام) اپنے حجرے سے نکل کراپنی قوم کے پاس آکر انہیں اشارہ کرتے ہیں کہ تم صبح و شام اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔(سورہ مریم آیت نمبر 9سے11 تک)

اﷲ تعالیٰ نے خود نام رکھا

حضرت زکریا علیہ السلام کو جو نشانی اﷲ تعالیٰ نے بتائی تھی ،اُس کاظہور ہوا تو آپ علیہ السلام کومعلوم ہو گیاکہ اﷲ تعالیٰ نے دعا کو قبولیت عطا فرما دی ہے۔مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔جب حضرت زکریا علیہ السلام کی عُمر مبارک ایک سو بیس سال کے قریب ہوئی ۔اُس وقت آپ علیہ السلام نے عاجزی و انکساری سے اﷲ کی بارگاہ میں یہ دعا فرمائی کہ اے اﷲ !مجھے ایک بیٹا عطا فرما دیجیئے ،تاکہ وہ توریت کی تعلیمات کو عام کر سکے اور میرے اسلامی مقصد اور مشن کے لئے میرا صحیح جانشین اور وارث بن سکے۔اﷲ تعالیٰ نے اُس وقت جب کہ وہ بڑھاپے کی انتہائی عُمر تک پہنچ چکے تھے۔اُن کی بیوی بانجھ تھیں یعنی ظاہری اسباب میں اس کو کوئی امکان نہ تھا کہ اِس عُمر میں ان کے گھر اولاد پیدا ہو۔مگر اﷲ تعالیٰ اپنی قدرت کا اظہارکرتے ہوئے اِس نا ممکن کو ممکن بنا دیا۔اﷲ کے بھیجے ہوئے فرشتوں نے جب اولاد کی خوش خبری سنائی تو اس خبر پر انہیں خوشی کے ساتھ تعجب بھی ہوا۔انہوں نے عرض کیا ،الہٰی !میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دیجیئے،جس سے مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ میرے گھر ولادت ہونے والی ہے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِس کی علامت اور نشانی یہ ہوگی کہ تم تین راتوں تک تندرست ہونے کے باوجود کسی سے بات نہیں کر سکو گے۔جب ایسا ہو تو سمجھ لینا کہ حمل قرار پا گیا ہے۔یہ واقعہ جہاں حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے انتہائی خوشی اور مسرت کا تھا ،وہیں پوری قوم بنی اسرائیل کے لئے بھی نہایت سکون ،خوشی اور مسرت کا پیغام تھا۔اِسی لئے جب حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے وقت آیا اور بات چیت سے زبان رک گئی تو آپ علیہ السلام نے اپنی عبادت گاہ سے نکل کر قوم بنی اسرائیل کو اشاروں سے بتایا کہ وہ بھی صبح و شام اﷲ کی حمد وثناءکرتے رہیں۔اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کی دعاکو قبول کرتے ہوئے ایک ایسے بیٹے کی خوش خبری عطا فرمائی ۔جن کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے خود ہی تجویز کا کے ارشاد فرمایاکہ اِس سے پہلے یحییٰ کسی کا بھی نام نہ تھا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام جو اﷲ کے نبی تھے ،بچپن ہی سے نبوت کی بہت سی خصوصیات کے حامل تھے۔قرآن پاک اور احادیث رسول صلی اﷲ علیہ وسلم میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام بچپن ہی سے نہایت ذہین و ذکی سمجھدار دانا و بینا تھے۔بچپن کی عمر میں بچے کھیل کود میں لگے رہتے ہیں ،لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام کا کھیل کود میں دل نہیں لگتا تھا ۔انہیں فضول اور غلط باتوں سے سخت نفرت تھی اور جس بات میں سنجیدگی اور وقار نہیں ہوتا وہ اس بات کے قریب بھی نہ جاتے تھے۔اُن کا دل پیدائشی طور پر اﷲ کے خوف سے بھرا ہوا تھا وہ ہر بات کی گہرائی تک پہنچنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔وہ توریت کے ہر حکم پر پوری طرح عمل فرماتے تھے۔جن باتوں سے پرہیز کے لئے کہا گیا تھا اُس سے پرہیز کرتے تھے۔نہایت متین ،سنجیدہ اور باقار تھے۔اﷲ تعالیٰ نے زندگی میں اور موت کے بعد امہیں سلامتی عطا فرمائی ہے اور قیامت میں بھی اُن کو سلامتی عطا کی جائے گی۔وہ مشکل وقت میں صحیح رائے قائم کرتے اورہر معاملہ میں فیصلہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام 

اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو جب اولاد کی بشارت دی تھی تو اس اولاد کا نام یحییٰ بتا یا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نام یحییٰ رکھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے توریت کا علم حاصل کرنے لگے تھے۔ اور لگ بھگ سات سال کی عمر تک توریت کو ختم کر لیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کو اتنی کم عمر میں توریت کے تمام احکام یاد ہو گئے تھے۔ آپ علیہ السلام بچپن سے ہی اپنا زیادہ تر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار تے تھے۔ آپ علیہ السلام کی عمر کے لڑکے کہتے کہ آﺅ چلو کھیلیں تو آپ علیہ السلام فرماتے نہیں چلوپڑھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت نرم دل اور محبت کرنے والا بنایا تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے والدین کی بہت خدمت کرتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کے لوگوں کی بھی بہت زیادہ مدد کرتے تھے۔ اور اُن کے مشکل سے مشکل مسائل کو توریت کے مطابق حل کر دیتے تھے۔ بنی اسرائیل اس بچے کی فہم و فراست اور علم اور عقل پر حیران ہو جاتے تھے۔ دھیرے دھیرے پورے بنی اسرائیل میں آپ علیہ السلام کے علم اور فہم و فراست اور بہترین اخلاق کا یہ اثر ہو ا کہ تمام بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی بے پناہ عزت کرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کی بات کو حرفِ آخر ماننے لگے۔ بنی اسرائیل کے علمائے کرام آپ علیہ السلام کے پاس آکر توریت کا درس لینے لگے۔ اور نوجوانی کے عالم میں ہی آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے بڑے بڑے بوڑھے علمائے کرام کے استاد بن گئے۔

حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام ہم عُمر تھے

اﷲ تعالیٰ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹا عطا فرمایا،اور اُسی وقت سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا بھی اﷲ کی شان سے بغیر کسی مرد کے چھوئے حاملہ ہوگئیں تھیں۔یہاں ہم صرف حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر کر رہے ہیں،اِس لئے سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کا ذکر تفصیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں کریں گے۔حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام نے لگ بھگ ایک ساتھ اعلان نبوت کیا تھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے پہلے اعلان نبوت کیا اور بیت المقدس میں ہی مقیم رہے۔جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کچھ عرصہ بعد اعلان نبوت کیا اور وہ ایک جگہ رک کر نہیں رہتے تھے، بلکہ بنی اسرائیل میں گھوم گھوم کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہتے تھے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل میں ایک بہت اچھا مقام تھا ۔اِس لئے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا تو بنی اسرائیل حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی تصدیق کی اور بنی اسرائیل سے فرمایاکہ میں تو صرف نبی ہوں ،جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی ہونے کے ساتھ ساتھ رسول بھی ہیں۔علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام وہ پہلے فرد ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے اور اُن کی تصدیق کی۔اور حضرت یحییٰ علیہ السلام ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تین سال بڑے تھے اور کہا جاتا ہے کہ چھ مہینے بڑے تھے اور دونوں خالہ ذاد بھائی تھے۔پس جب حضرت زکریا علیہ السلام نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی خبر سنی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اُٹھے اور انہیں اپنے ساتھ ملا لیا اور وہ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے اور علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے حاملہ ہوئیں تو اُسی وقت اُن کی بہن (حضرت یحییٰ علیہ السلام کی والدہ سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کی والدہ کی بہن ہیں)حضرت یحییٰ علیہ السلام سے حاملہ تھیں تو اپنی بہن سے ملنے کے لئے آئیں تو کہا؛”اے مریم !کیا تجھے معلوم ہوا ہے کہ میں حاملہ ہوں؟“تو سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا نے اُسے کہا؛”کیا آپ نے بھی محسوس کیا کہ میں بھی حاملہ ہوں؟“تو انہوں نے کہا کہ جو میرے پیٹ میں ہے ،میں اُس کے بارے میں محسوس کر رہی ہوں کہ جو تیرے پیٹ میں ہے اُسے وہ سجدہ کر رہا ہے۔اِسی وجہ سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے جنین کو محسوس کیا کہ وہ اپنا سر سیدہ مریم رضی اﷲ عنہا کے پیٹ کی طرف جھکا رہا ہے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کا اعلان نبوت 

اﷲ تطعالیٰ سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اے یحییٰ (علیہ السلام) !میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لے اور ہم نے اسے لڑکپن ہی سے دانائی عطا فرما دی۔ اور اپنے پاس سے شفقت اور پاکیزگی بھی، وہ پرہیز گار شخص تھا ۔اور اپنے ماں باپ سے نیک سلوک کرنے والا تھا ۔وہ سرکش اور گنہ گار نہیں تھا۔ اُس پر سلام ہے جس دن وہ پید ہوا ،اور جس دن مرے گا، اور جس دن وہ زندہ کر کے اُٹھایا جائے گا۔“(سورہ مریم آیت نمبر 12سے 15تک)تمام بنی اسرئیل میں حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ایک مقام پیدا ہو چکا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو نیکیوں کا حکم دینے لگے اور برائیوں سے روکنے لگے۔ شروع میں ہم نے آپ کو بنی اسرائیل کے تمام حالات بتائے تھے۔ کہ اُن کے تمام قبیلے آپس میں لڑنے لگے تھے۔ اور ایک دوسرے کو شکست دینے کے لئے رومیوں سے مدد مانگی تھی۔ تو رومیوں نے تمام بنی اسرائیل پر قبضہ کر لیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کے ایک گمراہ شخص ہیرو دیاس کو کٹھ پتلی حکمراں بنا دیا تھا۔ یہ بہت ہی گمراہ شخص تھا۔ لیکن اس کے باوجود حضرت یحییٰ علیہ السلام کی بہت عزت کرتا تھا۔ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 12کی تفہیم میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی ہے کہ اِس فرمان ِ الہٰی کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلامپیدا ہوئے اور جوانی کی عُمر کو پہنچے ۔اب بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ سن رُشد کو پہنچے تو کیا کام اُن سے لیا گیا۔یہاں صرف ایک فقرے میں بیان کر دیا گیا ہے۔جو منصب نبوت پر مامور کرتے وقت اُن کے سپرد کیا گیا تھا۔یعنی وہ توریت پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوں اور بنی اسرائیل کو بھی اِس پر قائم کرنے کی کوشش کریں۔

بچپن میں اﷲ کی کتاب (توریت) کی سمجھ

اﷲ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ایسا بنایا تھا کہ آپ علیہ السلام کو بچپن سے ہی علم حاصل کرنے کا شوق تھا اور آپ علیہ السلام بچوںکے ساتھ کھیلنے کے بجائے توریت کو پڑھتے اور اُس کی آیات پر غورو فکر کرتے تھے۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔بمطابق ِ بشارت الہٰی حضرت زکریا علیہ السلام کے یہاں حضرت یحییٰ علیہ السلام پید ہوئے۔اﷲ تعالیٰ نے انہیں توریت سکھا دی ،جو اُن(بنی اسرائیل) میں پڑھی جاتی تھی اور جس کے احکام نیک لوگ اور انبیائے کرام علیہم السلام دوسروں کو بتلاتے تھے۔اُس وقت اُن کی عُمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اِس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اُسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کر دیا اور حکم دے دیا کہ حرص،اجتہاد،کوشش و خلوص کے ساتھ اﷲ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔بچے آپ علیہ السلام سے کھیلنے کو کہتے تھے تو یہ جواب پاتے تھے کہ میںکھیل کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہوں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کا وجود حضرت زکریا علیہ السلام کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر سوائے ہمارے اور کوئی قادر نہیں ہے۔آپ علیہ السلام ہر میل کچیل سے ،ہر گناہ اور معصیت سے بچے ہوئے تھے ۔ صرف نیک اعمال آپ علیہ السلام کی عُمر کا خلاصہ تھا۔آپ علیہ السلام گناہوں سے اور اﷲ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے۔ساتھ ہی والدین کے فرمانبردار ،اطاعت گزار اور اُن کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے تھے۔کبھی کسی بات میں والدین کی مخالفت نہیں کرتے تھے۔کبھی اُن کے فرمان کے باہر نہیں ہوئے۔کبھی اُن کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا۔کوئی سرکشی ،کوئی نافرمانی کی خو آپ علیہ السلام میں نہیں تھی۔اِن اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے امن و امان اور سلامتی ملی۔یعنی پیدائش والے دن،موت والے دن اور حشر والے دن ۔یہی تینوں گھبراہٹ کی اور انجان جگہیں ہوتی ہیں۔اِن تینوں وقتوں میں اﷲ تعالیٰ کی طرف سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو سلامتی ملی ہے۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام کے کی سادگی

حضرت یحییٰ علیہ السلام انتہائی سادہ زندگی گزارتے تھے۔اور بنی اسرائیل کو بھی اِسی کی تلقین کرتے تھے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے جو حالات مختلف انجیلوں میں بکھرے ہوئے ہیں انہیں جمع کر کے ہم یہاں ان کی سیرت پاک کا ایک نقشہ پیش کرتے ہیں۔جس سے سورہ آل عمران اور سورہ مریم کے مختصر اشارات کی توضیح ہو گی۔لوقا کے بیان کے مطابق حضرت یحییٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے چھ6 مہینے بڑے تھے۔اُن کی والدہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ قریبی رشتہ دار تھیں۔تقریباً تیس سال کی عُمر میں آپ علیہ السلام نبوت کے منصب پر عملاً مامور ہوئے اور یوحنا کی روایت کے مطابق انہوں نے شرق اُردن کے علاقے میں دعوت الی اﷲ کا کام شروع کیا۔آپ علیہ السلام فرماتے تھے؛”میں بیابان میں پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔“مرقس کا بیان ہے کہ آپ علیہ السلام لوگوں سے گناہوں کی توبہ کرواتے تھے اور توبہ قبول کرنے والوں کو بپتسمہ دیتے تھے۔یعنی توبہ کے بعد غسل کراتے تھے تاکہ روح اور جسم دونوں پاک ہوجائیں۔سلطنت ِ یہودیہ اور یروشلم کے بکثرت لوگ اُن کے معتقد ہوگئے تھے اور اُن کے پاس جا کر بپتسمہ لیتے تھے۔اِسی بنا پر اُن کا نام یوحنا بپتسمہ دینے والا مشہور ہو گیا تھا۔عام طور سے بنی اسرائیل اُن کی نبوت کو تسلیم کر چکے تھے ۔حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کا قول تھا کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔آپ علیہ السلام اونٹ کے بالوں کی پوشاک پہنے اور چمڑے کا پٹکا کمر سے باندھے رہتے تھے اور اُن کی خوراک ٹڈیاں اور جنگلی شہد تھا ۔اِس فقیرانہ زندگی کے ساتھ وہ منادی کرتے پھرتے تھے کہ ”توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی(قیامت) قریب آ گئی ہے۔وہ لوگوں کو روزے کی تلقین کرتے تھے ۔وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ ”جس کے پاس دو قمیص ہوں وہ اُس کو جس کے پاس نہ ہو اُسے بانٹ دے اور جس کے پاس کھانا ہو وہ بھی ایسا ہی کرے۔“محصول لینے والوں نے پوچھا کہ اُستاد ہم کیا کریں ؟تو انہوں نے فرمایا ”جو تمہارے لئے مقرر ہے ،اُس سے زیادہ (یعنی رشوت)نہ لینا۔“سپاہیوں نے پوچھا کہ ہمارے لئے کیا ہدایت ہے؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ ناحق کسی سے کچھ لو اور اپنی تنخواہ پر ہی کفایت کرو۔“بنی اسرائیل کے بگڑے ہوئے(دنیا پرست )علماءفریسی اور صدوقی اُن کے پاس بپتسمہ لینے آئے تو ڈانٹ کر فرمایا؛”اے سانپ کے بچو !تم کو کس نے جتا دیا کہ آنے والے غضب سے بھاگو؟....اپنے دلوں میں یہ کہنے کا خیال نہ کرو کہ ابراہام ہمارا باپ ہے....اب درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے،پس جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔“

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی روایات

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں کئی روایات ہیںلیکن ہر روایت سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بادشاہ نے شہید کروایا ہے۔بنی اسرائیل نے اپنے بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو شہید کردیا ہے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔دنیا میں صرف یہودی (بنی اسرائیل) ہی وہ بد ذات قوم ہے جس نے انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل کیا ہے۔کُل چار سو (400) انبیائے کرام یا چار سوستر(470)یا صرف ستر(70)انبیاءعلیہم السلام شہید کئے گئے۔جن میں سے پانچ کا نام مشہور ہوا۔(1) یوشا (2) یسعیا یا شعیا(3) شعیب (4) زکریا (5) یحییٰ علیہم السلام۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوبھی انہوں نے قتل کرنا چاہا،مگر رب تعالیٰ نے ان کو آسمان پر بلا لیا۔آقائے کائنات سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کو اِن بد بختوں نے دو دفعہ شہید کرنے کی کوشش کی،مگر ناکام رہے۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی کچھ روایات ہم یہاں پیش کر رہے ہیں۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام نے بادشاہ کو منع کیا

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بد بخت بنی اسرائیلیوں نے شہید کیا ہے،پہلی روایت علامہ غلام رسول سعیدی ”البدایہ و النہایہ“کے حوالے سے لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کے کئی اسباب ذکر کئے گئے ہیںکہ اُس زمانے میں دمشق کا ایک حکمران اپنی کسی محرم سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔حضرت یحییٰ علیہ السلام نے اُس بادشاہ کو اِس کام سے منع کیا۔اِس وجہ سے اپس عورت کے دل میں آپ علیہ السلام کے خلاف بغض پیدا ہو گیا۔جب اُس عورت اور بادشاہ کے درمیان شناسائی پیدا ہو گئی تو اُس عورت نے بادشاہ سے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا مطالبہ کیابادشاہ نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کر کے اُن کا سر اُس عورت کے سامنے پیش کردیا۔کہاجاتا ہے کہ وہ عورت بھی اُسی ساعت مر گئی۔ایک قول یہ ہے کہ اُس بادشاہ کی عورت حضرت یحییٰ علیہ السلام پر فریضة ہوگئی تھی ،اُس نے آپ علیہ السلام سے اپنی مقصد براری کرنا چاہی ،آپ علیہ السلام نے انکار کر دیا ۔جب وہ آپ علیہ السلام سے مایوس ہو گئی تو اُس نے بادشاہ کو حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل پر تیار کیا اور بادشاہ نے کسی کو بھیج کر حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کرایا اور اُن کا مبارک سر کاٹ کر ایک طشت میں لکھ کر اُس عورت کو پیش کر دیا۔

بنی اسرائیل کے بادشاہ نے شہید کروایا

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا جو پہلا سبب لکھا ہے موجودہ انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔”کیونکہ ہیرودیس نے اپنا آدمی بھیج کر یوحنا کو پکڑوایا اور اپنے بھائی فلپس کی بیوی ہیرودیاس کے سبب اسے قید خانے میں باندھ رکھا تھا ،کیونکہ ہیرودیس نے اُس سے نکاح کر لیا تھا۔اور یوحنا نے اس سے کہا تھا کہ اپنے بھائی کی بیوی رکھنا تجھے روا نہیں ہے۔پس ہیرودیاس اُس سے دشمنی رکھتی تھی اور چاہتی تھی کہ اُسے قتل کرائے ،مگر نہ ہوسکا۔کیونکہ ہیرودیس یوحنا کو راستباز اور مقدس آدمی جان کر اُس سے ڈرتا اور اُسے بچائے رکھتا تھااور اُس کی باتیں سن کر بہت حیران ہو جاتا تھا،مگر سنتا خوشی سے تھا۔اور موقع کے دن جب ہیرودیس نے اپنے امیروں اور فوجی سرداروں اور رئیسوں کی ضیافت کی اور اسی ہیرودیاس کی بیٹی اندر آئی ۔اور ناچ کر ہیرودیس اور اُس کے مہمانوں کو خوش کیا تو بادشاہ نے اُس لڑکی سے کہا ؛جو چائے مجھ سے مانگ میں تجھے دوں گا۔اور اُس نے قسم کھائی کہ جو تو مجھ سے آدھی سلطنت بھی مانگے تو دے دوں گا۔اور اپس نے باہر آکر اپنی ماں سے کہا کہ میں کیا مانگوں؟ اُس نے کہا یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر۔وہ فوراً بادشاہ کے پاس اندر آئی اور کہا کہ میں چاہتی ہو ں کہ تُو یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھال میں ابھی مجھے منگوا دے۔بادشاہ بہت غمگین ہوا مگر اپنی قسموں اور مہمانوں کے سبب اس سے انکار نہ کرنا چاہا۔پس بادشا نے فی الفور ایک سپاہی کو حکم دے کر بھیجا کہ اُس کا سر لائے۔اس نے قید خانے میں جاکر اُس کا سرکاٹا اور ایک تھال میں لاکر لڑکی کو دے دیا اور لڑکی نے اپنی ماں کو دیا۔پھر اُس کے شاگرد سن کر آئے اور اس کی لاش اُٹھا کر قبر میں رکھی۔

جو تُو چاہتا ہے وہ تیرے لئے حلال نہیں

حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کی ایک اور روایت میں امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن زبیررضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ نے اپنے بھائی کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام سے فتویٰ طلب کیا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛”یہ تیرے لئے حلال نہیں ہے۔“اُس عورت نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا مطالبہ کیا ۔بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی طرف اپنے سپاہی بھیجے ۔آپ علیہ السلام اپنی عبادت گاہ میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ اُن سپاہیوں نے آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا ۔پھر انہوں نے آپ علیہ السلام کا سر تن سے جدا کیا اور اسے بادشاہ کے پاس لے آئے ۔اُس وقت بھی وہ سر کہہ رہا تھا؛”جو تُو چاہتا ہے وہ تیرے لئے حلال نہیں ہے۔“امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں؛وہ عورت جس نے حضرت یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کو شہید کرایا تھا ۔وہ بادشاہت کی اپنے آباءسے وارث ہوئی تھی ،اُس کے پاس حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر لایا گیا تو وہ اپنے شاہی تخت پر بیٹھی تھ۔آپ علیہ السلام کے سر سے آواز آئی ؛”اے زمین !اِس عورت کو نگل جا ۔“پس زمین اس عورت کو شاہی تخت سمیت نگل گئی۔

قاتل بادشاہ کا انجام

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے بادشاہ نے ایک عورت کے کہنے پر شہید کروا دیا تھا۔اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے اسے اور بنی اسرائیل کو سزا دی۔کیونکہ بنی اسرائیل کی اکثریت بھی آپ علیہ السلام کو شہید کر دینا چاہتی تھی۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قتل کا واقعہ اِس طرح ہے کہ ہیرودیس یہودی( اسرائیلی بادشاہ)اپنی سگی بھتیجی سے نکاح کرنا چاہتا تھا۔اُس کی بیوہ بھابھی بھی اِس پر لالچ میں آکر راضی تھی اور یہ بیوہ عورت اپنے خاوند کی موت کے بعد فاحشہ و کافرہ بھی ہو چکی تھی۔لیکن شریعت ِ توریت اور شریعت ِ زکریا و یحییٰ علیہم السلام میں یہ نکاح قطعاً حرام تھا ۔حضرت یحییٰ علیہ السلام سختی سے منع فرماتے تھے ۔بیوہ بھابھی نے مشورہ دیا کہ اُن کو قتل کر دیا جائے ۔ہیرودیس نے جوش عشق میں ایک آدمی کو مقرر کر دیا کہ جب رات کو آپ علیہ السلام بیت المقدس میں اپنی عبادت میں مشغول ہوں تو خفیہ انداز سے اُن کو قتل کر دینا اور سر کاٹ کر میرے پاس لے آنا۔چند دن بعد اُس ظلم کافر نے آپ علیہ السلام کو رات میں سجدے کی حالت میں چہید کر دیا اور سر کاٹ کر بادشاہ کے پاس لایا۔بادشاہ نے وہ سر اپنی فاحشہ بھابھی کے پاس بھیج دیا۔اُس بیوہ کا نام نفرہ تھا ۔اپنے بالا خانے سے اُتر کر خوشی خوشی نیچے آرہی تھی کہ سیڑھیوں سے پاو¿ں پھسلا ،جس سے دماغ پھٹا اور وہ وہیں مر گئی اور قدرت ِ خداوند ی سے زمین میں دھنستی چلی گئی تھی۔اور آپ علیہ السلام کا سر مبارک بھی ساتھ ہی دھنس گیا ۔اس کی بیٹی یعنی ہیرودیس کی سگی بھتیجی فخرہ نامی کو اسی (80) یا نوے (90) دن بعد جنگل میں جاتے ہوئے کسی زہریلے کیڑے نے کاٹ لیا ۔وہ اُس کے زہر سے تیسرے دن مر گئی ۔ہیر ودیس پر بخت نصر بادشاہ نے حملہ کر کے شکست دی اور قیدی بنا کر ساتھ لے گیا۔روزآنہ اُس کو اپنے غلاموں کے ذریعے کوڑے لگواتا تھا اور ذلیل کرنے کے لئے لونڈیوں سے سر پر جوتے لگواتا۔بھوکا رکھتا تھا ،جب وہ روتا بلبلاتا ،تب تھوڑا کھانا پانی دیتا۔اسی حالت میں نہایت ذلت آمیز ذخمی پیپ اور پھوڑوں کی حالت میں وہ کپڑے نہیں پہن سکتا تھا۔ننگا ایک کمرے میں پڑا رہتا ۔ایک سال بعد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرا۔خود کہتا تھا کہ میری اور میرے خاندان کی یہ ذلت آمیز تباہی بربادی حضرت یحییٰ علیہ السلام کی وجہ سے ہے ۔

بنی اسرائیل پر اﷲ کا غضب

حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ نے شہید کر دیا۔اِس پر اﷲ کا غضب اُن پر بھڑکا۔اِس سے پہلے حضرت شعیا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی اسرائیل پر اﷲ کا غضب بھڑکا تھااور اُس وقت کے بخت نصر نامی بادشاہ نے بنی اسرائیل پر حملہ کر کے انہیں غلام بنا لیا تھا۔اِ سکا ذکر ہم ہماری کتاب”حضرت شعیا اور حضرت ارمیاہ علیہم السلام “میں تفصیل سے کر چکے ہیں۔اُس وقت جس بادشاہ نے حملہ کر کے غلام بنایا تھا ۔اُس کا نام بھی بخت نصر تھااور حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد جس بادشاہ نے حملہ کیا اُس کا نام بھی بخت نصر تھا۔(یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بابل کے بادشاہوں کا لقب ”بخت نصر“ہوتا ہوگا)مفتی احمد یار خان نعیمی آگے لکھتے ہیں۔بخت نصر نے ایک دن میں ستر ہزار بنی اسرائیل قتل کروائے،بیت المقدس میں توڑ پھوڑ کی ،آگ لگوائی اور بقیہ تمام بنی اسرائیلی حکومتوں کو برباد کیا اور سب بنی اسرائیل کو قیدی بنا لیا۔لیکن حضرت یحییٰ علیہ السلام کے گلے سے خون نکلنا بند نہیں ہوتا تھا۔اور بنی اسرائیل جانتے تھے کہ جب تک یہ خون بند نہیں ہوگا بنی اسرائیل کو اسی طرح قتل کیا جاتا رہے گا۔اِسی لئے اُس دور کے ایک ولی اﷲ جو آپ علیہ السلام کی اُمت کے ہی ولی تھے ۔حضرت ارسیاہ رضی اﷲ عنہ ،اُن سے لوگوں نے عرض کیا کہ اتنا عرصہ ہو گیا ہے حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بدن سے خون بند نہیں ہو رہا ہے۔ اور جب تک خون بند نہیں ہوگا تب تک دفن نہیں کیا جاسکتا ۔اور نہ ہی بخت نصر کے حملے و قتل عام بند ہو سکتا ہے۔دمشق(فلسطین) تمام فتح ہوچکا تھا ،ظلم کا بازار گرم تھا ،بنی اسرائیل کی تمام بد معاشیاں فنا ہو چکی تھیں۔تب حضرت ارسیاہ نے جسم ِ مبارک کے عرض اور التجا کی کہ اے خون اب بند ہوجا۔بہت قتل عام و ذلت ہو چکی ہے ،تو خون بند ہوا۔اِن ہی یہودیوں نے تقریبا ً پچیس سال پہلے ولادت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے دنوں میں حضرت زکریا علیہ السلام کی تبلیغ دین و ایمان اور شریعت کی پابندیوں سے تنگ آکر ایک بری تہمت لگا کر آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا تھا۔

حضرت زکریا علیہ السلام کی شہادت یا وفات 

حضرت زکریا علیہ السلام کے انتقال یا شہادت کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام کا انتقال یاشہادت حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت سے پچیس سال پہلے ہوچکا تھا۔اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی شہادت کے بعد جب بادشاہ کا محل زمین میں دنس گیاتو تمام بنی اسرائیل نے حضرت زکریا علیہ السلا م کو قتل کرنے کے لئے گھیر لیا تو آپ علیہ السلام بھاگے اور جنگل میں ایک درخت پھٹا اور آپ علیہ السلام اُس میں چھپ گئے۔لیکن کپڑے کا کونہ درخت کے باہر رہ گیا ۔جسے پہچان کر بنی اسرائیل نے درخت کے ساتھ آپ علیہ السلام کو چیر دیا۔لیکن یہ روایت بڑی عجیب لگتی ہے۔ اور علامہ ابن کثیر نے اس پر شدید جرح کی ہے۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کوہی ہے۔واﷲ و اعلم۔

اگلی کتاب

حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

٭........٭........٭


منگل، 13 جون، 2023

01 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام Story of Prophet Daniyal and Uzeer


01 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 19

قسط نمبر 1

بنی اسرائیل کی غلامی

حضرت دانیال علیہ السلام کے حالات بیان کرنے سے پہلے ہم بنی اسرائیل کے کچھ حالات بیان کریں گے تاکہ تسلسل برقرار رہے ۔ حضرت شعیا علیہ السلام کے ذکر میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو بے رحمی سے شہید کردیا تھا اور اپنے اوپر اﷲ کے غضب کو مقدر بنا لیا تھا ۔ اِس کے بعد بھی اﷲ تعالیٰ نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو اپنا پیغام دے کر بھیجا اور بنی اسرائیل کو ایک اور موقع دیا ۔ یوسیاہ بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی اطاعت کی اور دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوا لیکن اُس کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور بے رحمی سے مار پیٹ کر آپ علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا ۔ تب بخت نصر کی شکل میں اُن پر اﷲ کا عذاب نازل ہوا اور اُس نے بے شمار بنی اسرائیل کو قتل کیا اور بے شمار بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ”بابل“ لے گیا۔ بہت سے بنی اسرائیل بھاگ کر ملک مصر چلے گئے تھے ، بخت نصر نے ملک مصر کے بادشاہ کے پاس قاصد بھیجے اور کہا کہ میرے غلام بھاگ کر تمہارے ملک میں آگئے ہیں انہیں میرے پاس واپس بھیج دو۔ اِس کے جواب میں ملک مصر کے بادشاہ نے کہا کہ بنی اسرائیل تمہارے غلام نہیں ہیں بلکہ آزاد لوگ ہیں اور میں اُن کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا ۔ بخت نصر نے اتنا سخت جواب سنا تو ملک مصر پر حملہ کردیا اور بادشاہ کو شکست دے کر قتل کردیا لیکن جو بنی اسرائیل ملک مصر میں چھپے ہوئے تھے وہ اُسے نہیں مل سکے کیونکہ بخت نصر کی بابل سے فوج لیکر ملک مصر روانہ ہونے کی خبر سنتے ہی وہ لوگ ملک مصر سے نکل بھاگے تھے ۔ ان میں سے کچھ ”وادیٔ القریٰ“ میں آباد ہوگئے اور کچھ یثرب (مدینۂ منورہ) کے آس پاس آباد ہوگئے ۔ جبکہ بنی اسرائیل کی اکثریت بدستور بخت نصر کی غلام بنی رہی اور بابل میں غلامی کی زندگی گزارتی رہی ۔

آگ کی پوجا کا بانی: زرتشت

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے کئی شاگرد تھے ۔ یوسیاہ بادشاہ کے دورِ حکومت میں آپ علیہ السلام کے بے شمار شاگرد ہوگئے تھے ۔ اُن میں سے ایک زرتشت (زرادشت) بھی تھا اوریہ ارامی یا عمونی یا ادومی تھا۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے شوگردوں کے ساتھ یہ بھی علم سیکھتا تھا ۔ جب اُس نے اچھا خاصا علم سیکھ لیا تو اُسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے لگا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ خیانت کی اور جھوٹ باندھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس کے خلاف دعا فرمائی تو وہ وہاں سے بھاگ کر آذربائیجان چلا گیا اور وہاں مجوسیت کے مذہب کی بنیاد رکھی ۔ اُس نے آگ جلائی اور لوگوں کو بتایا کہ یہ تمہارا معبود ہے اور اِس کی پوجا کرو اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی تعلیمات کو گڈ مڈ کرکے لوگوں کو بتائی جو لوگوں بھلی معلوم ہوئیں اور وہ لوگ آگ کی پوجا کرنے لگے ۔ پھر زرتشت وہاں سے بلخ آیا اور وہاں کے بادشاہ یشتاشب کو اپنے مذہب کی دعوت دی اور اپنے دین کی تشریح کی تو یشتاشب کو بہت پسند آئی ۔ اُس نے اپنی حکومت میں اعلان کروادیا کہ عوام زرتشت کے مذہب کو قبول کرے اور آگ کی پوجا کرے ۔ بہت سی عوام نے زرشت کے مذہب کو قبول کیا اور بہت سوں نے مخالفت کی اور یشتاشب کے خلاف بغاوت کردی ۔ جسے اُس نے سختی سے کچل دیا اور پورا ملک فارس آگ کی پوجا کرنے لگا ۔ یہاں ملک فارس کا ذکر ہم نے اِس لئے کیا ہے کہ آگے چل کر بنی اسرائیل کے ذکر میں ملک فارس کے بادشاہ کا ذکر بھی آئے گا ۔ یہ بات ذہن میں رتکھیں کہ اُس وقت ملک فارس ایران اور خراسان وغیرہ پر مشتمل تھا ۔ 

حضرت دانیال علیہ السلام کی بعثت

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بخت نصر نے اُن کی خواہش کے مطابق یروشلم (بیت المقدس) کے کھنڈرات میں ہی چھوڑ دیا تھا اور تمام بنی اسرائیل کو غلا م بنا کر بابل لے گیا تھا ۔ اُس نے ”سلطنت یہودیہ“ اور سلطنت سامریہ“ (اسرائیل) کا خاتمہ کردیا ۔ سلطنت سامریہ اسرائیل تو پہلے ہی ختم ہوچکی تھی لیکن بعد میں بنی اسرائیل کے مختلف قبائل نے اِسے آباد کیا تھا لیکن مستحکم حکومت نہیں بنا سکے تھے ۔ بہرا حال بخت نصر نے بنی اسرائیل کی تمام حکومت کا خاتمہ کردیا تھا ۔ یہ سب ہم آپ کو حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں ۔ بنی اسرائیل کو غلام بنا کر بخت نصر بابل لے گیا اور اُن کے ساتھ بہت ذلت آمیز سلوک کیا ۔ بنی اسرائیل اُس کی حکومت میں غلامی کی زندگی گزارنے لگے ۔ بخت نصر اُن کو ہر طرح سے ذلیل کرتا تھا اور ہر بیگاری کا کام اُن سے لیتا تھا ۔ بابل میں لگ بھگ ستر 70 سال تک بنی اسرائیل غلامی کی زندگی گزارتے رہے ۔ جن لوگوں کو بخت نصر قید کرکے لایا تھا اُن میں حضرت دانیال علیہ السلام بھی تھے ۔ اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر مبارک لگ بھگ تیرہ یا چودہ سال تھی ۔ آپ علیہ السلام کی عُمر مبارک جب چالیس سال ہوئی اور بنی اسرائیل کو غلامی کی زندگی گزارتے ہوئے لگ بھگ چھبیس 26 یا ستائیس 27 ہوئے تو اﷲ تعالیٰ نے اُن پر رحم فرمایا اور حضرت دانیال علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور نبوت سے سرفراز فرمایا تاکہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمجھائیں اور اُنہیں سیدھا اور سچا راستہ بتائیں ۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو سمجھانا شروع کردیا اور اُن میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔ 

بخت نصر کا خواب

حضرت دانیال علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بتایا کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیئے اور ہمارے بزرگ صحیح راستے سے بھٹک گئے تھے جس کی اُنہیں سزا ملی ہے ۔ یہ تمام باتیں آپ علیہ السلام نوجوانوں کو سمجھاتے تو بوڑھے بنی اسرائیل اُن کی تائید کرتے تھے ۔ (بخت نصر نے جن جوانوں کو غلام بنایا تھا وہ ادھیڑ عُمر کے یا بوڑھے ہوچکے تھے) بخت نصر کا ظلم ابھی بھی بنی اسرائیل پر جاری تھا اور بنی اسرائیل غلامی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ نوجوانوں نے تو غلامی میں ہی آنکھ کھولی تھی اِس لئے وہ اپنے آپ کو غلام ہی سمجھتے تھے ۔ حضرت دانیال علیہ السلام اُنہیں گزرے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات بتاتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتے تھے کہ بنی اسرائیل کا ماضی کتنا شاندار گزرا ہے ۔ اِسی دوران اﷲ تعالیٰ نے بخت نصر پر حُجت قائم کرنے کے لئے اُسے ایک خواب دکھلایا اور بھلا دیا ۔ بخت نصر نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا لیکن جب صبح اُٹھا تو وہ خواب بھول گیا ۔ اُس خواب کی وجہ سے وہ بہت بے چین ہوگیا اور اُس نے اپنے نجومیوں اور جادوگروں اور کاہنوں کو بلایا اور کہا کہ میں ایک خواب دیکھا ہے ۔ وہ بہت ہی عجیب خواب تھا اور اُس کی وجہ سے میں بہت بے چینی میں مبتلا ہوں ، مجھے اِس خواب کی تعبیر بتاؤ ۔ نجومیوں اور کاہنوں نے کہا کہ ٹھیک ہے! آپ ہمیں خواب بیان کریں ،ہم اِس کی تعبیر بتائیں گے ۔بخت نصر نے کہا :” میں خواب تو بھول گیا ہوں مگر مجھے تم لوگ اس کی بتاو¿گے۔“ نجومیوں اور کاہنوں نے کہا :” بغیر خواب سنے ہم اِس کی تعبیر کیسے بتا سکتے ہیں؟“ یہ سن کر اُسے غصہ آگیا اور اُس نے نجومیوں اور کاہنوں سے کہا :”اب تم مجھے وہ خواب بھی بتاؤگے اور اُس کی تعبیر بھی بتاؤگے اور اگر نہیں بتا سکے تو میں تم سب کو قتل کردوں گا۔“ 

تمام لوگ حضرت دانیال علیہ السلام کی خدمت میں

حضرت دانیال علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ علیہ السلام کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام میں لگے ہوئے تھے ۔ بنی اسرائیل کے تمام لوگ آپ علیہ السلام کا ادب اور عزت کرتے ہی تھے اور اُن کے ساتھ ساتھ بابل کی عوام بھی آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرتی تھی ۔ جب بخت نصر نے اپنے نجومیوں اور کاہنوں سے کہا کہ مجھے میرا خواب بھی بتاو¿ ورنہ میں تم سب کو قتل کردوں گا تو اُن کے ہوش اُڑ گئے اور انہوں نے بخت نصر سے چند دنوں کی مہلت مانگی جو اُس نے دے دی ۔ تما نجومیوں اور کاہنوں نے آپس میں مشورہ کیا لیکن اُن کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ آخر کار انہوں نے یہ طے کیا کہ یہ مصیبت بنی اسرائیل کے علما پر ڈال کر جان بچا لی جائے ۔ بنی اسرائیل میں زیادہ تر دنیا پرست علما تھے جنہوں نے چند رسومات کو دین کا نام دے رکھا تھا اور سیدھے سادھے بنی اسرائیل کو دھوکے میں مبتلا کررکھا تھا ۔ نجومیوں اور کاہنوں نے بخت نصر سے کہا :”بنی اسرائیل کے علما کو ہم سے زیادہ علم ہے اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم آسمانی دین پرہیں ۔ اِس لئے وہ لوگ آپ کا خواب بھی بتائیں گے اور اُس کی تعبیر بھی بتائیں گے ۔ بخت نصر نے بنی اسرائیل کے علما کو دربار میں حاضر کرنے کا حُکم دیا ۔ جب سب حاضر ہوئے تو بخت نصر نے اپنا سوال دہرایا ۔ تمام علما پریشان ہوگئے اور آپس میں غوروخوض کرنے لگے ۔ آخر کار انہوں نے کہا کہ ہم بغیر خواب اُس کی تعبیر نہیں بتاسکتے ۔ بخت نصر نے کہا :”تم تو کہتے ہوکہ ہمارا دین آسمانی ہے ، کیا آسمان سے اِس کے بارے میں تمہارے لئے مدد نہیں آسکتی؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا :”وہ تو ٹھیک ہے ، لیکن بغیر خواب سنے کوئی بھی تعبیر نہیں بتا سکے گا ۔“ یہ سن کر بخت نصر کو غصہ آیا اور اُس نے کہا :”میں تم تمام علما اور تمام کاہنوں اور نجومیوں کو تین دن کی مہلت دیتا ہوں ۔ اگر مجھے تین دن میں میرا خواب اور اُس کی تعبیر نہیں بتائی تو میں تم سب کو قتل کرادوں گا ۔“ یہ حُکم سن کر تمام بنی اسرائیل کے علما اور بخت نصر کے بجومیوں اور کاہنوں کی راتوں کی نیندیں اُڑگئیں اور وہ سب مل کر مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح جان بچائی جائے؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا :”ہم میں سے ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ، چلو اُن کے پاس چلتے ہیں اورتمام علما اور نجومی اورکاہن آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے 

حضرت دانیال علیہ السلام بخت نصر کے دربار میں

حضرت دانیال علیہ السلام کی خدمت میں بنی اسرائیل کے تمام علما اور بخت نصر کے تمام نجومیوں اور کاہنوں نے حاضر ہوکر درخواست کی کہ ہمیں اِس مصیبت سے بچائیں ۔ اگر آپ علیہ السلام واقعی اﷲ کے نبی ہیں تو ہمیں ضرور اِس مسئلے کا حل بتائیں گے اور تمام ماجرا آپ علیہ السلام کو سنا دیا ۔ پورا واقعہ سننے کے بعد آپ علیہ السلام کافی دیر تک سر جھکائے بیٹھے رہے اور سب لوگ اُمید بھری نظروں سے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہے تھے ۔ کافی دیر کے بعد آپ علیہ السلام نے سر اٹھایا اور فرمایا :”ٹھیک ہے! انشاءاﷲ میں بخت نصر کا خواب بھی بتاو¿ں گا اور اُس کی تعبیر بھی بتاو¿ں گا، تم لوگ اُس سے جا کر کہہ دو کہ میں فلاں دن دربار میں آکر اُس سے ملوں گا ۔“ بنی اسرائیل کے علما اور بخت نصر کے نجومیوں کاہنوں نے دربار میں حاضر ہو کر کہا :”بنی اسرائیل میں سے ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ وہ آسمان والے (اﷲ تعالی) کا نبی ہے ۔ اُس نے کہا ہے کہ میں بادشاہ کا خواب بھی بتاو¿ں گا اور اُس کی تعبیر بھی بتاو¿ں گا اور اُس نے فلاں دن آنے کا وعدہ کیا ہے ۔“ بخت نصر نے کہا :”ٹھیک ہے! میں اپس کا انتظار کروں گا۔“ جس دن کا آپ علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا اُس دن آپ علیہ السلام بخت نصر کے دربار میں پہنچ گئے ۔ 

سجدہ نہیں کیا

حضرت دانیال علیہ السلام جب بخت نصر کے محل کے پاس پہنچے تو باہر ہی تمام علماء، نجومی اور کاہنوں نے آپ علیہ السلام کا استقبال کیا اور ساتھ لیکر بخت نصر کے دربار میں حاضر ہوئے ۔ سب لوگوں نے قاعدے کے مطابق بخت نصر کو سجدہ کیا لیکن حضرت دانیال علیہ السلام نے اُسے سجدہ نہیں کیا ۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے تعظیمی سجدہ جائز تھا لیکن اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت میں تعظیمی سجدہ بھی حرام کردیا ہے اب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہر اُمتی صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی سجدہ کرسکتا ہے اور اﷲ رب العزت کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرسکتا ہے) یہ دیکھ کر بخت نصر نے تمام لوگوں کو دربار سے نکل جانے کا حُکم دیا ۔ جب سب لوگ چلت گئے تو اُس نے حضرت دانیال علیہ السلام سے پوچھا :”تم نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میرے رب (اﷲ تعالیٰ) نے مجھے اِسی شرط پر یہ علم عطا فرمایا ہے کہ میں اُس کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کروں گا ۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے تجھ کو سجدہ کیا تو وہ مجھ سے میرا علم چھین لے گا اور تم میرے علم سے فائدہ نہیں اُٹھا سکوگے اورجس کے نتیجے میں تم مجھے قتل کردوگے ۔ اِسی لئے میں نے قتل سے بچنے کے لئے اور تجھے اپنے علم سے فائدہ پہنچانے کے لئے تجھے سجدہ نہیں کیا ہے ۔ اِس طرح میں نے تجھ کو تیری پریشانی سے جنات دلانے کے لئے تجھے سجدہ نہیں کیا ہے۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

02 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام Story of Prophet Daniyal and Uzeer


02 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 19

قسط نمبر 2

حضرت دانیال علیہ السلام نے صحیح خواب بتایا

حضرت دانیال علیہ السلام کا جواب سُن کر بخت نصر لاجواب ہوگیا اور بولا :”میں نے تم سے بڑھ کر تمہارے رب کا وفادار بندہ کائی نہیںدیکھا اور میں ایسے شخص کو پسند کرتا ہوں ۔ اب تم میرا خواب اور اُس کی تعبیر بتاؤ ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”تم نے خواب میں ایک بہت بُت یا مجسمے کو دیکھا ہے جس کے پاو¿ں زمین میں اور سر آسمان میں تھا ۔اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے بخت نصر کی طرف دیکھا تو وہ حیرانی سے منہ کھولے اور آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کے بعد اُس نے بے تابی سے کہا :”ہاں ہاں! (آپ علیہ السلام) صحیح خواب بتا رہے ہیں، مجھے یاد آرہا ہے ۔ مجھے آگے بتایئے ۔“ حضرت دانیال علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا :”تم نے ددیکھا کہ اُس بُت یا مجسمے کا اوپر والا حصہ سونے کا ہے ، درمیان حصہ چاندی کا ہے اور نچلا حصہ تانبے کا ہے اور پنڈلیاں لوہے کی ہیں اور پنجے پتھر کے ہیں ۔ تم اُس کا ود اور خوبصورتی اور پختگی دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ اچانک آسمان سے ایک پتھر آیا اور اُس بُت کے سر پر پڑا ۔ پتھر اتنبی زور سے لگا کہ وہ بُت ٹوٹ پھوٹ کر بھوسہ بھوسہ ہوگیا ۔ اس کے بعد اُس کے اندر کی تمام دھات یعنی سونا ،چاندی، تانبا، لوہا، اور پتھر اِس طرح مل گئے کہ تم نے خیال کیا کہ تم انسان مل کر بھی اِسے الگ نہیں کرسکیں گے ۔ پھر تم نے دیکھا کہ وہ پتھر جس نے اُس بُت کا بھوسہ بنا دیا تھا وہ بڑا ہوتا جا رہا ہے اور پھیلتا جارہا ہے یہاں تک کہ ساری زمین اُس سے بھر گئی تھی۔ اب تمہیں وہ پتھر اور آسمان ہی نظر آرہا تھااور اِس کے بعد تمہاری آنکھ کھل گئی ۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام خاموش ہوگئے اور بخت نصر کی طرف دیکھنے لگے جو حیرانی سے آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہا تھا ۔

خواب کی تعبیر

حضرت دانیال علیہ السلام کی طرف کافی دیر تک بخت نصر محویت کے عالم میں دیکھتا رہا ۔ پھر چونک کر سیدھا ہوا اور بولا :”بے شک! بے شک! آپ (علیہ السلام) سچ کہہ رہے ہیں ۔ میں نے بالکل یہی خواب دیکھا ہے ، کمال کا علم ہے آپ کا مگر اِس خواب کی تعبیر کیا ہے؟“ حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا :”اِس بُت سے مُراد مختلف زمانوں میں مختلف قومیں اور اُن کے حکمراں ہیں ۔ سونے یعنی اوپری حصے سے مُراد تمہارا زمانہ اور حکومت ہے ۔ چاندی سے مُراد تمہارا بیٹا اور اُس کی حکومت ہے جو تمہارے بعد حکمراں بنے گا ۔ تانبے سے مُراد ”سلطنت روم“ کی طرف اشارہ ہے ۔ لوہے سے مُراد ”سلطنت فارس“ ہے اور پتھر سے مُراد دو قومیں ہیں جن پر دو عورتیں حکومت کریں گی ۔ ایک مشرقی یمن میں اور دوسری مغربی شام میں ۔“

سیدالانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت

حضرت دانیال علیہ السلام اتنا فرما کر خاموش ہوگئے ۔ بخت نصر کچھ دیر انتظار کرتا رہا کہ شاید آپ علیہ السلام آگے کچھ فرمائیں گے ۔ پھر اُس نے پوچھا :”وہ پتھر کیا تھا؟اور اُس کے بڑے ہونے کا کیا مطلب ہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”جو پتھر اُس بُت کو آکر لگا تھا اور اُس بُت کو ریزہ ریزہ کردیا تھا ۔ وہ اﷲ کا دین (اسلام) ہے جو آخری زمانے میں مکمل طور پر ظاہر ہوگا (یعنی تمام انسانوں کے لئے مکمل شریعت) ۔ اﷲ تعالیٰ ملک عرب میں ایک ”نبی اُمی“ کو مبعوث فرمائے گا جس کی وجہ سے دوسرے ادیان اور قوموں کا وہ حشر ہوگا جو اُس بُت کا ہوا تھا ۔ وہ دین تمہارے خواب کے پتھر کی طرح بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ (اسلام) ساری زمین پر پھیل جائے گا ۔ اِس طرح باطل کی جگہ حق ، گمراہی کی ہدایت آجائے گی ۔ جاہل لوگ علم کی دولت سے مالامال ہوجائیں گے ۔ ضعیفوں کو قوت ، ناکسوں کو عزت اور بے کسوں کو نصرت (مدد) عطا کی جائے گی ۔“ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام خاموش ہوگئے ۔ دراصل خواب کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے بخت نصر کو اشارہ دیا تھا کہ اگر وہ عقلمند اور صاف ستھرے ذہن کا ہوتا تو حقیقت کو پالیتا لیکن اُس پر شیطان سوار تھا اور وہ گمراہی میں ہی پڑا رہا ۔

بخت نصر کو اسلام کی دعوت

حضرت دانیال علیہ السلام کے علم سے بخت نصر بہت متاثر ہوا اور آپ علیہ السلام کی بہت عزت کی ۔ اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا :”میں آپ (علیہ السلام) کو یہ اعزاز دیتا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) میرے مقربین (خاص مشیر یا دوست) میں شامل ہوجائیں۔“ لیکن آپ علیہ السلام نے اُس کی پیشکش کو قبول نہیں کیا اور فرمایا :”اﷲ تعالیٰ نے مجھے یہ علم دنیاوی فائدے اُٹھانے کے نہیں عطا فرمایا ہے بلکہ بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے عطا فرمایا ہے اور میں تمہیں بھی اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔ اسلام قبول کرلو ، دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوجاو¿گے اور اِسی میں تمہاری بھلائی ہے اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کردو اور اُنہیں میرے ساتھ ہمارے علاقے میں واپس جانے دو۔“ لیکن بخت نصر نے انکار کردیا اور آپ علیہ السلام واپس آگئے ۔

حضرت دانیال علیہ السلام قید خانے میں

حضرت دانیال علیہ السلام نے بخت نصر کو اسلام کی دعوت دی لیکن اُس کی بدبختی کہ اُس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ اُس کی انبیاءسے ملاقات ہوئی اور خواب کے ذریعے اشارہ بھی دیا گیا لیکن اُس بدنصیب پر شیطان سوار تھا ۔ اِسی لئے اُس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ حضرت دانیال علیہ السلام مسلسل اِس کوشش میں لگے رہے کہ بنی اسرائیل میں بیداری آجائے اور وہ اﷲ رب العزت کو اور اُس کی بارگاہ میں اپنے مقام کو پہچان لے ۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کو اپنی جدوجہد میں کامیابی ملنے لگی اور بنی اسرائیل میں بیداری پیدا ہونے لگی ۔ وہ غلامی کی زندگی سے نجات کے لئے جدوجہد کے بارے میں غوروفکر کرنے لگے ۔ بخت نصر کے درباریوں اور وزیروں نے آپ علیہ السلام کی شکایت کی کہ وہ تمہارے غلاموں (بنی اسرائیل) میں بغاوت کا جذبہ پیدا کررہے ہیں ۔ بخت نصر نے حضرت دانیال علیہ السلام کو بلوا کر پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :”تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ تم بنی اسرائیل کو آزاد کردو اور میں اُنہیں لیکر ہمارے ملک واپس چلا جاو¿ں ۔“ بخت نصر نے کہا :”یہ نہیں ہوسکتا ہے ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :” تو پھر ٹھیک ہے! میں اپنا کام جاری رکھوں گا اور انشاءاﷲ ایک وقت ایسا آئے گا کہ بنی اسرائیل تمہاری غلامی سے آزاد ہوجائیں گے ۔“ یہ سُن کر بخت نصر نے اپنے سپاہیوں کو حُکم دیا کہ اِس باغی کو گرفتار کرلو اور قید خانے میں ڈال دو۔

شیروں نے نہیں کھایا

حضرت دانیال علیہ السلام کو بخت نصر نے قید خانے میں ڈال دیا ۔ بنی اسرائیل کو جب آپ علیہ السلام کی گرفتاری کا علم ہوا تو وہ بغاوت پر اُتر آئے اور اُس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ یہ دیکھ کر بخت نصر نے آپ علیہ السلام سے کہا :”اِن غلاموں کو سمجھائیں ۔“ لیکن آپ علیہ السلام نے انکار کردیا اور فرمایا :”بنی اسرائیل کو آزاد کردو ، ورنہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری حکومت کے زوال کا سبب بن جائیں گے ۔“ بخت نصر نے کہا :”آپ (علیہ السلام) اپنی قوم کے لوگوں کو روکیں ، ورنہ میں آپ علیہ السلام کو شیروں کے آگے ڈال دوں گا اور بنی اسرائیل کو سختی سے کچل دوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”برسوں بعد بنی اسرائیل جاگے ہیں اور میرا کام پورا ہوگیا ہے ۔ اگر تم نے مجھے قتل بھی کردیا تب بھی یہ تحریک جاری رہے گی اور تمہاری حکومت کے لئے چیلنج بنی رہے گی ۔“ بخت نصر کو یہ سن کر غصہ آگیا اور اُس نے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پیر باندھ کر ایک گہرے کنویں میں دو بھوکے شیروں کے آگے ڈال دیا لیکن یہ دیکھ کر اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بھوکے شیر آپ علیہ السلام پر بری طرح سے جھپٹے لیکن قریب پہنچ کر آپ علیہ السلام کو سونگھنے لگے اور پھر خاموشی سے اپنی اپنی جگہ واپس جاکر بیٹھ گئے ۔ یہ دیکھ کر بخت نصر کی آنکھ نہیں کھلی اور اُس نے کہا :”یہ شخص جادوگر ہے ۔اِس نے شیروں پر بھی جادو کر دیا ہے ۔“

اﷲ تعالیٰ نے رزق پہنچایا 

حضرت دانیال علیہ السلام کو بھوکے شیروں نے نہیں کھایا اور بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو وہیں چھوڑ دیا اور بولا :”جب شیروں کے لئے بھوک ناقابل برداشت ہوجائے گی تو وہ آپ (علیہ السلام) کو کھا جائیں گے ۔“ اِس طرح آپ علیہ السلام وہیں شیروں کے ساتھ گہرے کنویں میں قید رہے ۔ کئی دن گزر جانے کے بعد آپ علیہ السلام بھوک اور پیاس کی شدت محسوس کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ دعا کی ۔اﷲ رب العزت نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی ۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام ویران اور کھنڈر بیت المقدس میں رہ رہے تھے ۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :”حضرت دانیال علیہ السلام کے لئے کھانے کا انتظام کرو ۔“ آپ علیہ السلام نے عرض کیا :”اے اﷲ تعالیٰ ! میں یروشلم میں ہوں اور وہ بابل میں ہیں ۔“ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :”ہم تمہیں وہاں پہنچا دیں گے ۔“ آپ علیہ السلام نے حضرت دانیال علیہ السلام اور شیروں کے لئے کھانا لیا اور ایک فرشتے نے آپ علیہ السلام کو حضرت دانیال علیہ السلام کے پاس پہنچا دیا ۔ کنویں کی کگار پر پہنچ کر حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے آواز لگائی ۔

اﷲ کا شکر ادا کیا

حضرت ارمیا علیہ السلام کی آواز سن کر حضرت دانیال علیہ السلام نے آواز لگائی :”کون ہے؟“ اوپر نے انہوں نے آواز دی :”میں ارمیاہ (علیہ السلام) ہوں اور آپ (علیہ السلام) کے لئے کھانا اور پانی لایا ہوں ۔ مجھے اﷲ رب العزت نے بھیجا ہے ۔“ یہ سُن کر حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا :”تمام تعریفیں اُس اﷲ کے لئے ہیں جو اُمید رکھنے والوں کو جواب دیتا ہے ۔ تمام تعریفیں اﷲ رب کائنات کے لئے ہیں کہ جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اُسے دوسروں کے سُپرد نہیں کرتا ۔ تمام تعریفیں اُس اﷲ کے لئے ہیں جو نیکی کا بہترین صلہ عطا فرماتا ہے ۔ تمام تعریفیں اﷲ رب کریم کے ہیں جو صبر کی جزا نجات کی صورت میں عطا فرماتا ہے ۔“ اِس طرح حضرت دانیال علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ شیروں کو بھی رزق پہنچاتا رہا ۔ آپ علیہ السلام وہیں قید رہے لیکن آپ علیہ السلام کی بنی اسرائیل میں آزادی کی پیدا کی ہوئی چنگاری شعلہ بن گئی اور بنی اسرائیل نے بخت نصر سے بغاوت کردی ۔ جسے اُس نے سختی سے کچل دیا لیکن اس کے بعد بھی بنی اسرائیل کی جدوجہد جاری رہی اور اُس کے بعد بخت نصر کبھی سکون سے حکومت نہیں کرسکا ۔ اندرونی خانہ جنگی نے اُسے اتنا کمزور کردیا کہ آس پاس کے ممالک میں اُس کی ہوا اُکھڑ گئی ۔ اِس دوران حضرت دانیال علیہ السلام کا اسی کنویں میں وصال ہوگیا ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

03 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام Story of Prophet Daniyal and Uzeer


03 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 19

قسط نمبر 3

حضرت دانیال علیہ السلام کی دعا

حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین کے بارے میں کئی روایات ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت دانیال علیہ السلام سے دعا کی تھی :”اے اﷲ رب العزت! وہ آخری نبی صلی اﷲ علیہ وسلم جن کا بنی اسرائیل انتظار کررہے ہیں میں چاہتا ہوں کہ ’[اُس آخری نبی“ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے لوگ مجھے دفن کریں۔“ اﷲ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور آپ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں جب عراق ایران فتح ہورہے تھے ۔ اسی دوران حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے ”تستر“ فتح کیا تو ہرمزان کے خزانے میں ایک تخت پر ایک لاش رکھی ہوئی ملی اور لاش کے سرہانے ایک عبرانی زبان میں لکھا ہوا مصحف رکھا ہوا تھا ۔ لاش کی اُنگلی میں ایک انگوٹھی بھی تھی جس پر نقش بنا ہوا تھا کہ دو شیر ایک شخص کا پید چاٹ رہے ہیں ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے وہ مصحف حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کردیا ۔

حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو عبرانی زبان میں لکھا ہوا وہ مصحف پہنچا تو آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب بن احبار کو بلوایا ۔ وہ عبرانی زبان جانتے تھے ۔ وُنہوں نے اس مصحف کا وربی ترجمہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت دانیال علیہ السلام کی لاش ہے ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حُکم بھیجا کہ لاش مبارک کو خفیہ طور سے دفن کراو¿ ۔ اُس کے ساتھ جو خزانہ ملا ہے اُسے لشکر میں تقسیم کردو اور خمس بیت المال کے لئے بھیج دو اور انگوٹھی تم رکھ لو ۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی عنہ نے وہ انگوٹھی رکھ لی جو نسل در نسل اُن کی اولاد میں چلتی رہی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے حضرت دانیال علیہ السلام کو غسل دیا اور نماز جنازہ پڑھائی ۔ اس کے بعد انتہائی خفیہ طریقے سے اُن کی تدفین کی ۔ ایک روایت میں ہے کہ تین سزائے موت پاچکے قیدیوں کو لا کر قتل کرکے چار الگ الگ قبریں کھدوائیں اور ایک میں آپ علیہ السلام کو دفن کیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ تیرہ الگ الگ قبریں کھدوائیں اور اُن میں سے ایک میں دفن کیا اور بھی کئی روایتیں ہیں ۔ اب حقیقت کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے ۔

بنی اسرائیل کی جدوجہد

حضرت دانیال علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی غلامی کے چھبیسویں 26 ویں سال یا ستائسویں 27 ویں سال میں اعلان نبوت کیا تھا ۔ اُس کے ساتھ یا آٹھ کے بعد میں بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو شیروں کے ساتھ کنویں میں قید کردیا تھا ۔ اس کے بعد وہ صرف پانچ سال ہی حکومت کرسکا تھا ۔ اس کے بعد اُس کا انتقال ہوگیا لیکن اِن پانچ سالوں میں وہ سکون سے حکومت نہیں کرسکا ۔ بنی اسرائیل مسلسل اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور بخت نصر بزور ِ طاقت اُنہیں دبانے کی کوشش کرتا رہا ۔ بخت نصر نے چالیس 40 سال حکومت کی اور اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا المرودخ بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس نے تین یا چار سال حکومت کی اس کے بعد بہمن بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل کو آزادی ملی اور وہ حضرت عُزیر علیہ السلام کے ساتھ اپنے علاقے میں واپس آئے ۔ اِس کا تفصیلی ذکر ہم انشاءاﷲ حضرت عُزیر علیہ السلام کے ذکر میں کریں گے ۔ 

بنی اسرائیل کی نافرمانیاں

حضرت شعیا علیہ السلام کے حالات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل اور اُن کے علما اور بادشاہ سب گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا اور اﷲ رب جلال کے عذاب سے ڈرایا لیکن بنی اسرائیل نافرمانیوں سے باز نہیں آئے اور اُلٹا آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے اور بے رحمی سے شہید کردیا ۔ اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک اور موقع دیا اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور آپ علیہ السلام کی بات یوسیاہ بادشاہ نے مانی اور اﷲ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق حکومت کی ۔ لیکن اُس کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ پھر نافرمانی کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بہت سمجھایا اور بتایا کہ اگر تم لوگ برائیوں اور نافرماینوں سے باز نہیں آو¿ گے تو اﷲ تعالیٰ تم پر کسی ظالم بادشاہ کو مسلط کردے گا اور وہ تمہیں غلام بنا کر لے جائے گا ۔ یہ سن کر بھی بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ کی آنکھ نہیں کھلی اور اُن کے علماءاور بادشاہ اور عوام سب لوگ خلاف ہوگئے اور آپ علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا ۔

ستر 70 سال غلامی کی زندگی گزاروگے

حضرت ارمیاہ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو سمجھا رہے تھے تب انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر تم نافرمانیوں اور گمراہیوں سے باز نہیں آو¿ گے تو اﷲ تعالیٰ تمہیں دوسروں کا غلام بنا دے گا اور تم ستر 70 سال تک غلامی کی زندگی گزاروگے ۔ یوسیاہ بادشاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکومت کے چوتھے سال میں بخت نصر بابل کا بادشاہ بنا ۔ اِن چار سالوں میں حضرت ارمیاہ علیہ السلام بنی اسرائیل اور یہویقیم کو سمجھاتے رہے لیکن دن بہ دن اُن کی نافرمانیاں اور گمراہیاں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا تھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے فرمایا :”پچھلے تئیس 23 سال سے (یوسیاہ کی حکومت کے تیرہویں سال سے ) آج تک اﷲ کا کلام مجھ پر نازل ہوتا رہا ہے اور میں بار بار تمہیں سناتا رہا ہوں ۔ یوسیاہ بادشاہ نے میری بات مانی اور کامیاب رہا ۔ لیکن اُس کے بعد تم لوگ اﷲ کی نافرمانی اور گمراہیوں میں مبتلا رہوگئے اور میری بات ماننے کے بجائے ،میری مخالفت کررہے ہو ۔ تم نے اﷲ کے کلام کو ٹھکرا دیا ۔ اب بھی وقت ہے تم میں سے ہت ایک برے راستوں پر چلنے سے اور برے اعمال کرنے سے باز آجائیں تاکہ تم اِس ملک میں رہ سکو جو اﷲ تعالیٰ نے تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو دیاہے ۔ غیر موبدوں کو پوجا اور عبادت سے باز آو¿ اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی مورتیوں کی پوجا کرکے اﷲ کے غضب کو دعوت مت دو ۔ لیکن تم نے میری بات نہیں مانی ۔ اﷲ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں کی عبادت کرکے مجھے غضب ناک کردیا ہے اور خود اپنا نقصان کرلیا ہے ۔ اِس لئے اﷲ رب الافواج فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے میرا کلام نہیں سنا ۔ اِس لئے ظالم بخت نصر بابل کے بادشاہ کو تم پر مسلط کردوں گا اور تمہارے اوپر چڑھا لاو¿ں گا اور تمہیں بالکل برباد کردوں گا تاکہ تم دہشت ، حقارت اور تباہی اور بربادی کی مثال بن جاؤ گے ۔ یہ تمام ملک غیر آباد اور ویرانہ بن جائے گا اور تم لوگ ستر 70 سال تک بال کے بادشاہ کے خدمت گزار بن جاؤگے ۔

اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عذاب یا سزا

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی زبانی اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو صاف لفظوں میں وارننگ دی تھی لیکن وہ بدبخت اتنے زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کے ڈرانے کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ اُلٹا آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور زجو¿نجیروں میں جکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا ۔ آخر کار بنی اسرائیل پر اﷲ تعالیٰ کا عذاب یا سزا بخت نصر کی شکل میں نازل ہوا ۔ اُس نے لاکھوں بنی اسرائیل کا قتل عام کیا ۔ تمام شہروں اور بستیوں کو جلا دیا اور تباہ و برباد کرڈالا ۔ یہاں تک کہ ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کو مسمار کردیا اور اُس میں کی تمام قیمتی چیزیں لوٹ لیں ۔ اور بچے کچے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر بابل لے گیا ۔بخت نصر کی غلامی میں بنی اسرائیل نے لگ بھگ چھبیس 26 یا ستائیس 27 گزارے تو حضرت دانیال علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور بنی اسرائیل کو سمجھانے لگے اور اﷲ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد یاد دلانے لگے اور اُنہیں غلامی کی زندگی سے نجات دلانے کے لئے جدوجہد کرنے لگے ۔ دھیرے دھیرے سات یا آٹھ سال کی جدوجہد کے بعد بنی اسرائیل نے اچھی خاصی بیداری پیدا ہوگئی ۔ بخت نصر کو خبر ہوئی تو اُس نے آپ علیہ السلام کو باغٰ قرادے کر بغاوت پھیلانے کے جرم میں قید خانے میں ڈال دیا۔ جہاں آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلا لیا ۔ 

بنی اسرائیل کی کامیابی

حضرت دانیال علیہ السلام کو بخت نصر نے قید کر دیا لیکن آپ علیہ السلام نے ایسا بیج بو دیا تھا کہ آپ علیہ السلام کی تحریک مسلسل جاری رہی ۔ بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی قید کی وجہ سے پوری طرح جاگ گئے اور اپنی آزادی کے لئے مسلسل جدوجہد کرنے لگے ۔ بخت نصر طاقت سے اُنہیں دباتا رہا لیکن کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر کار اُس کا انتقال ہوگیا اور اُس کا بیٹا المردوخ بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں پڑوسی ملک فارس (ایران) میں زرتشت کا مذہب پھیل گیا تھا اور وہاں آگ کی پوجا عام ہوگئی تھی ۔ (زرتشت حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک تھا اور گمراہ ہو کر فارس بھاگ گیا تھا ۔ اس کا تفصیلی ذکر حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے ذکر میں پڑھیں) اور دھیرے دھیرے ”سلطنت فارس“ کی حکومت عروج پر آرہی تھی ۔ المردوخ نے تئیس 23 سال حکومت کی اور اُس کے دورِ حکومت میں بھی بنی اسرائیل کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رہی اور وہ طاقت سے دبانے کی کوشش کرتا رہا ۔ اِس طرھ پہلے بخت نصر اور پھر اُس کے بیٹے کی ساری توجہ اندرونی حالات درست کرنے پر مرکروز رہی اور پڑوسی ممالک پر سے توجہ ہٹ گئی ۔ جس کی وجہ سے ملک فارس بہت مضبوط ہوگیا ۔ بنی اسرائیل کے علما نے فارس جا کر وہاں کے بادشاہ سے دوستی کرلی اور اُسے بابل کی حکومت کے خلاف اُکسانے لگے ۔ المردوخ کو قتل کرکے بہمن تب تک بابل کا بادشاہ بن گیا تھا ۔ اُس وقت تک فارس کی حکومت بہت طاقتور اور بابل کی حکومت بہت کمزور ہوگئی تھی ۔ آخر کار فارس کا بادشاہ ”خواس“ فوج لیکر بابل پع حملہ کرنے آیا ۔ بہمن نے اُس سے صلح کرلی اور اُس کی اطاعت قبول کرلی ۔ تب خورس نے بہمن کو حُکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے علما اور معماروں کو یروشلم بھیجے ، جہاں وہ اُن کے معبود (اﷲ تعالی) کی عبادت کے لئے گھر (بیت المقدس) تعمیر کریں ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

04 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام Story of Prophet Daniyal and Uzeer



04 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 19

قسط نمبر 4

حضرت عُزیر علیہ السلام کی بعثت

حضرت ارمیہاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ستر 70 سال تک کی غلامی کے بعد اﷲ تعالیٰ تمہیں آزادی عطا فرمائے گا اور تم بیت المقدس کو دوبارہ آباد کروگے ۔ بخت نصر کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل غلاموں کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا حکمراں بنا تو اُس نے بھی بنی اسرائیل پر ظلم جاری رکھا اور وہ غلامی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ اِس کے دورِ حکومت میں حضرت عُزیر علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور آپ علیہ السلام نے آزدی کی تحریک کو جاری رکھا جس کی ابتدا حضرت دانیال علیہ السلام نے کی تھی ۔ بہمن کے بابل کا بادشاہ بننے کے وقت تک حضرت عُزیر علیہ السلام نے فارس کے بادشاہ ”خورس“ سے ملاقات کی اور وہ آپ علیہ السلام سے بہت متاثر ہوا تھا اور جب بابل کی حکومت اُس کے زیر اطاعت آگئی تو اُس نے بہمن کو حُکم دیا کہ دھیرے دھیرے کرکے وہ بنی اسرائیل کو مکمل طور سے آزاد کردے ۔خورس نے ایک تحریری فرمان جاری کیا جس میں لکھا تھا ”آسمان کے خدا نے زمین کی تمام مملکت مجھے عطا کردی ہیں اور مجھے مامور کیا ہے کہ میں یہوداہ (بنی اسرائیل) کے شہر یروشلم میں اُس کے لئے ایک گھر تعمیر کرواو¿ں ۔ لہٰذا اُس کی اُمت میں سے جو کوئی ہمارے درمیان موجود ہے خدا اُس کے ساتھ ہو ۔ وہ یہوداہ کے شہر یروشلم چلا جائے اور وہاں بنی اسرائیل کے معبود (اﷲ) کا گھر تعمیر کرے ۔ جو بنی اسرائیل یہاں رہ جائیں وہ سب کے سب اﷲ کے گھر کے لئے چاندی ، سونا سامان ، مال اور مویشی دیں۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ نسب

حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے ۔ یعنی آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور قبیلہ بنو لاوی میں سے ہیں ۔ حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے نماز کے امام تھے ۔ اُن کے انتقال کے بعد اُن کے بیٹے الیعزر بن ہارون بنی اسرائیل کے نماز کے امام بنے ۔ اِس طرح یہ سلسلہ اُن کی اولاد میں چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت عُزیر علیہ السلام نے اعلان نبوت فرمایا ۔ چونکہ آپ علیہ السلام امامون کے خاندان سے تھے اِس لئے بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے تھے اور صرف نماز کے امام مانتے تھے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اِس طرح ہے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام بن سرایاہ بن عزریاہ بن سلوم بن صدوق بن اخیطوب بن امریاہ بن عزریاہ بن مرایوت بن زرافیاہ بن عزیٰ بن قمی بن اہیسع بن فیخاس بن الیعزر بن حضرت ہارون علیہ السلام ۔ بائیبل میں حضرت عُزیر علیہ السلام کا نام ”’عزرائ“ لکھا ہو ہے لیکن چونکہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عُزیر فرمایا ہے اِس لئے ہم عُزراءکے بجائے حضرت عُزیر علیہ السلام ہی کہیں گے ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کی وطن واپسی

حضرت عُزیر علیہ السلام بابل مین ہی مقیم رہے اور بنی اسرائیل کو مسلسل قافلوں کی شکل میں وطن واپس بھیجتے رہے ۔ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں تھے اِس لئے اِ ن کی وطن واپس میں کافی عرصہ لگ گیا ۔ جب بنی اسرائیل کی اکثریت وطن واپس لوٹ گئی تو آپ علیہ السلام آخری قافلے کو لیکر جانے کی تیاری کرنے لگے ۔ فارس کے بادشاہ (بابل اُس وقت ”سلطنتِ فارس“ کے ماتحت آگیا تھا) سے وطن واپس جانے کی اجازت مانگی ۔ اُس وقت سلطنت فارس کا بادشاہ ایک روایت کے مطابق ”خورس“ تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے ”کیرش“ لکھا ہے اور ایک روایت کے مطابق اُس کا نام ”ارتخشتا“ تھا ۔ اُس بادشاہ نے اجازت دے دی اور ایک فرمان جاری کیا جس میں لکھا تھا ”شہنشاہ ارتخشتا کی جانب سے عُزیر اسرائیلوں کے امام کے نام! جو آسمان کے معبود (اﷲ تعالیٰ ) کی شریعت کا معلم ہے ! آپ سلامت رہیں! میں فرمان جاری کرتا ہوں کہ میری مملکت میں سے جو بھی بنی اسرائیل آپ (علیہ السلام) کے ساتھ وطن واپس جانا چاہتے ہیں وہ جاسکتے ہیں ۔ میں اپنے تمام گورنروں اور مُشیروں کی طرف سے اجازت دیتا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) تمام بنی اسرائیل کو لیکر اپنے وطن واپس جاسکتے ہیں ۔ اِس کے علاوہ میری طرف سے اور میرے گورنروں کی طرف سے وہ تمام سونا آپ (علیہ السلام) کی نذر ہے جو بابل صوبہ سے حاصل ہوا ہے ۔ اِس کے علاوہ نقد روپیہ ، بیل ، گھوڑے ، اونٹ ، مینڈھی اور اناج وغیرہ بھی ہدیہ کے طور پر پیش ہے ۔ یہ سب آپ (علیہ السلام) لے جائیں اور یروشلم میں اسرائیل کے معبود (اﷲ تعالیٰ) کے گھر کی نذر دیں۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام کے قافلے کے بنی اسرائیل کی تعداد

حضرت عُزیر علیہ السلام کی خدمت میں اتنا عرض کرنے کے بعد فارس کے بادشاہ نے آگے فرمان جاری کیا :”اب میں بادشاہ ارتخشتاس بابل کے خزانچیوں کو حُکم دیتا ہوں کہ عُزیر (علیہ السلام) جو آسمان کے معبود کی طرف سے معلم ہیں ، جو کچھ بھی وہ طلب کریں وہ فوراً دیا جائے یعنی سونا ،چاندی ، گیہوں ، زیتون کا تیل اور نمک بھی فوراً دیا جائے ۔“ بابل کے گورنر نے فوراً بادشاہ کے فرمان پر عمل کیا اور ضروریات کی تمام چیزیں آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کردیں ۔ اِس طرح آپ علیہ السلام بابل میں بچے ہوئے تمام بنی اسرائیل کو لیکر یروشلم کی طرف رووانہ ہوگئے ۔ اِس قافلے میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں کے لوگ تھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے اور اُن بارہ بیٹوں کی اولاد کے مجموعہ کو ”بنی اسرائیل“ کہا جاتا ہے ۔ اِس بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی اور ہر بھائی کے نام پر اُس کے قبیلے کا نام تھا ۔ اِس قافلے میں ہر قبیلے کے مرد عورتیں اور بچوں کو ملا کر سینکڑوں کی تعداد تھی اور تمام بارہ قبیلوں کے لوگوں کی مجموعی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ۔ بنی اسرائیل کی اکثریت پہلے ہی اپنے وطن واپس آ کر بس چکی تھی ۔ اِس آخری قافلے کو لیکر حضرت عُزیر علیہ السلام بھی یروشلم پہنچ گئے۔ اِس طرح آپ علیہ السلام کی قیادت میں تمام بنی اسرائیل وطن واپس ہوگئے ۔

ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کی تعمیر نو

حضرت عُزیر علیہ السلام کی درخواست پر فارس کے بادشاہ نے بنی اسرائیل کو آزاد کردیا اور آپ علیہ السلام بابل میں ہی رہ کر مسلسل بنی اسرائیل کے قافلے وطن واپس بھیجتے رہے ۔ بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں میں تھی اِس لئے اُنہیں تمام بنی اسرائیل کو واپس بھیجنے میں کافی عرصہ لگا ۔ اِس دوران آپ علیہ السلام مناسب ہدایات دیتے رہے اور جس قبیلے کا جو علاقہ تھا اُسے وہیں بھیج کر بساتے رہے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد اُن کی حکومت کو بنی اسرائیل نے دو حصوں میں تقسیم کرلیا تھا ۔ بنو بہود اور بنو بنیامن نے مل کر یروشلم اور اُس کے آس پاس کے علاقوں پر ”سلطنت ِ یہوداہ یا یہودیہ“ کے نام سے اپنی حکومت قائم کرلی تھی ۔ باقی دس قبائل نے فلسطین کا بقیہ حصہ ، لبنان اور اُردن اور ملک شام کے کچھ علاقوں پر ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ“ کے نام سے قائم کرلی تھی ۔ جس کا نام بدل کر بعد میں ”سلطنت سامریہ“ رکھ دیا گیا تھا ۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت وہ پورا علاقہ ”ملک کنعان“ کہلاتا تھا ۔ بعد میں اِس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے فلسطین ، لبنان اور اُردن نام کے ملک بنا دیئے گئے اور بقیہ علاقے کو ملک شام میں ضم کردیا گیا ۔ اِس طرح ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا ۔ بہرحال حضرت عُزیر علیہ السلام نے پہلے ہی ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کی تعمیر نو کا کام شروع کروادیا تھا اور جب بھی یروشلم قافلہ بھیجتے تھے تو اُس کی تعمیر نو کے بارے میں مناسب ہدایات دیتے تھے ۔ جب آخری قبیلے کو لیکر آپ علیہ السلام بیت المقدس یعنی یروشلم پہنچے تو نذر کا تمام سامان ہیکل سیلمانی کے ذمی داروں کے حوالے کیا اور اپنءنگرانی میں تعمیر مکمل کرائی ۔ اِس کے بعد یروشلم سے لیکر لبنان ، اُردن اور ملک شام تک کے جن علاقوں میں بنی اسرائیل تھے ، ہر جگہ جا کر آپ علیہ السلام نے وہاں پر آباد بنی اسرائیل کے لئے رہنے ، کھانے اور پینے کے بہترین انتظامات کئے اور اُن کے سردار اور حکرماں مقرر کئے ۔ اُن کے لئے اسلامی تعلیم کا انتظام کیا اور اسلامی قانون نافذ کیا ۔اِسی دوران آپ علیہ السلام کے سو100 سال سونے کا واقعہ پیش آیا ۔ 

اﷲ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا

اﷲ رب العزت نے سورہ البقرہ میں فرمایا :”(ترجمہ) یا جیسے وہ شخص جو ایک بستی سے گزرا کہ وہ بستی اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی ۔ اُس نے کہا :”اِس بستی کو جب کہ وہ ختم ہو چکی ہے اﷲ تعالیٰ اِس کو کیسے زندہ کرے گا؟“ اﷲ تعالیٰ نے اُس پر سو سال موت کو طاری کردیا پھر اُس کو زندہ کرکے دوبارہ اُٹھایا ، پوچھا :”تم کتنی مدت سوتے رہے ہو؟“ اُس نے کہا :”دن بھر یا آدھا دن سوتا رہا ہوں۔“ اﷲ نے فرمایا :”نہیں! بلکہ تم ایک سو سال تک پڑے سوتے رہے ہو ۔ اب اپنے کھانے کی طرف دیکھو کہ اُس میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اپنے گدھے کو دیکھو (کس طرح گل سڑ گیا ہے) اور اِس سے ہمارا مقصد ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے نشانی بنادینا چاہتے ہیں ۔ اب دیکھو اپنے گدھے کی (بکھری ہوئی ہڈیوں کی) طرف کہ ہم کس طرغ اُن کو جوڑتے ہیں پھر کس طرح ان پر گوشت چڑھا دیتے ہیں ۔“ پھر جب بات بالکل واضح ہوگئی تو کہنے لگا :”میں جانتا ہوں کہ بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر (پوری) قدرت رکھنے والا ہے ۔“ (سورہ ابقرہ آیت نمبر 259 ) اِس آیت کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ یہ کون شخص تھا اور کس بستی سے گزرے تھے؟ اِس کے لئے علمائے مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں ۔ غالب گمان یہ ہے کہ حضر عُزیر علیہ السلام تھے جو اُس بستی سے گزر رہے تھے جس کو بخت نصر نے تباہ و بارباد کردیا تھا اور وہاں رہنے والوں کا قتل عام کیا تھا ۔ جیسا کہ آپ نے ترجمہ میں دیکھا کہ اﷲ رب العزت نے اپنی قدرتِ کاملہ سے کس طرح حضرت عُزیر علیہ السلام پر ایک سوسال تک موت کی کیفیت کو طاری رکھا ۔ وہ کھانا جو گل سڑ کر خراب ہوجانے والا تھا اُس کو محفوض رکھا اور گدھا جو عموماً دوچار دنوں میں ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں بن جاتا ہے ۔ اُس کے اجزاءکع بکھیر دیا لیکن اپنی قدرت کاملہ سے اُس کجو دوبارہ زندہ کرکے دکھا دیا کہ موت کے بعد اِس طرح تمام انسان بھی زندہ کردیئے جائیں گے ۔ یہ بھی بتا دیا کہ موت فنا کا نام نہیں ہے بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے جو نسانوں پر طاری کردی جاتی ہے ۔ صور پھونکے جانے کے بعد تمام انسان اِسی طرھ اپنی قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے ۔ تیسری بات یہ فرمائی :جس طرح عموماً کھانا ایک دن دھوپ میں رکھے جانے سے سٹر جاتا ہے ، اﷲ تعالیٰ کی یہ قدرت ہے کہ وہ اِس کو چاہے تو ایک سو سال تک اُسی طرح محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ یہ تمام باتیں اُس اﷲ کی قدرت کی طرف اشارہ ہیں جو تمام چیزوں پر قادر مطلق ہے اور موت و حیات سب اُس کے قبضہ¿ قدرت میں ہے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

05 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام Story of Prophet Daniyal and Uzeer


05 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 19

قسط نمبر 5

حضرت عُزیر علیہ السلام کا تعجب

حضرت عُزیر علیہ السلام مسلسل سفر میں تھے اور تمام بنی اسرائیل کے علقوں میں گھوم گھوم کر اُن کی دینی اور دنیاوی ضرورتوں کے مطابق ہدایت دے رہے تھے ۔ بخت نصر آزادی حاصؒ کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی مجموعی اور مستحکم حکومت نہیں تھی بلکہ ہر علاقے میں ہر قبیلے نے اپنے اپنے حکمراں بنا لئے تھے جو حضرت عُزیر علیہ السلام کے ماتحت تھے۔ اِسی طرح سفر کرنے کے دوران آپ علیہ السلام کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جو اُلٹی پڑی تھی ۔ چاشت کا وقت ختم ہورہا تھا اور گرمی اور دھوپ کی شدت میں اضافہ ہونے لگا تو آپ علیہ السلام نے اِسی بستی کے کھنڈرات میں قیام کرنے کا ارادہ فرمایا تاکہ جب دھوپ میں تیزی ختم ہوجائے تو آگے سفر جاری کیا جائے ۔ آپ علیہ السلام اُس اُلٹٰ ہوئی بستی میں داخل ہوگئے اور ایک سایے دار جگہ پر اپنی سواری یعنی خچر سے اُتر پڑے ۔ خچر گھوڑے سے کچھ کم قد کا اور گدھے سے کچھ زیادہ قد کا ہوتا ہے اور عربی میں اِسے گدھا ہی کہا جاتا ہے ۔ اِس لئے واقعہ میں ہم بھءگدھا ہی کہیں گے کیونکہ اکثر علمائے کرام نے جب بھی یہ واقعہ بیان کیا تو یہی بتایا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کی سواری ایک گدھا تھا ۔ آپ علیہ السلام اپنے گدھے سے اُترے اور اسے ایک سائے دار جگہ پر باندھ دیا اور آس پاس سے اُس کے کھانے کے لئے چارہ لاکر اسے دے دیا ۔ اِس کے بعد سائے میں بیٹھ کر اپنا کھانا نکالا ۔ آپ علیہ السلام کے پاس انگور تھے اور سوکھی روٹیاں تھیں ۔ آپ علیہ السلام نے ایک پیالے میں انگوڑ کا رس نچوڑا اور سوکھی روٹیاں اُس میں ڈالیں تاکہ خوب اچھی طرح بھگو کر نرم ہاجائیں ۔ اِسی انتظا میں آپ علیہ السلام دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ۔ آپ علیہ السلام کے اطراف انسانوں کی ہڈیاں بکھری ہوئی پڑی تھیں ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھنے لگے ، کہیں ہاتھ کی ہڈی پڑی تھی ، کہیں پیر کی ہڈی پڑی تھی اور کہیں کھوپڑی پڑی ہوئیں تھیں۔ آپ علیہ السلام نے اِن انسانوں کی ہڈیوں کو دیکھ کر تعجب سے سوچا اور فرمایا :”اے اﷲ تعالیٰ! آپ اِن ہڈیوں سے دوبارہ زندہ انسان بنائیں گے ، یقینا یہ تو بہت مشکل کام ہے ، مجھے اِس بات پر بہت تعجب ہورہا ہے ۔“ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلا دیا اور موت طاری کردی ۔

سوسال بعد جگایا

اﷲ رب العزت نے آپ علیہ السلام کو اُسی کھنڈر میں سُلا دیا یا موت طاری کردی اور آپ علیہ السلام سوتے رہے اور وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا ۔ دن ہفتوں میں بدلتے رہے ، ہفتے مہینوں میں بدلتے اور مہینے برسوں میں بدلتے رہے ۔ اِس طرح برسوں گزر گئے اور اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلائے رکھا اور ضرورت کے مطابق کروٹ بھی بدلواتا رہا ۔ آخر کار جب سو سال یعنی ایک صدی گزر گئی تو اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جگا دیا ۔ آپ علیہ السلام ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھے اور اِدھر اُدھر دیکھ کر سوچنے لگے کہ میں کتنی دیر سویا تھا؟ اﷲ رب العزت نے اسیک فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا ۔ اُس نے پوچھا :”آپ علیہ السلام کتنی دیر یہاں سوئے رہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ دن کا کچھ حصہ سویا رہا ہوں ، ایسا لگتا ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی سوگیا ہوں جبکہ مجھے ایک یا دو گھنٹوں میں اُٹھ جانا چاہیئے تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ میں کئی گھنٹوں تک سوتا رہا ہوں۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام کی حیرانی

حضرت عُزیر علیہ السلام کی بات سن کر فرشتہ مسکرانے لگا ۔ اُس نے اپما تعارف کرایا اور عرض کیا :”دراصل اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلا دیا تھا اور آپ علیہ السلام دن کا کچھ حصہ نہیں بلکہ سو سال یعنی ایک صدی تک سوتے رہے ہیں ۔ یہ سُن کر حضرت عُزیر علیہ السلام حیرانی سے فرشتے ہو دیکھنے لگے ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ، حضرت کعب اور وہب بن منبہ رضی اﷲ عنہم کی روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے پُرانی ہڈیاں دیکھیں تو فرمایا :”اﷲ تعالیٰ انہیں اِس حال میں پہنچانے کے بعد زندہ کیسے کرے گا؟“ آپ علیہ السلام نے یہ جملہ اﷲ تعالیٰ کے زندہ کرنے کے متعلق شک کی بنا پر نہیں فرمایا بلکہ تعجب کے طور پر کیا تھا ۔ پس اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیجا اور اُس نے روح قبض کرلی پھر اُنہیں سو سال تک موت میں رکھا پھر جب سوسال گزر گئے اور اِس دوران بنی اسرائیل میں کئی نئے کام پیدا ہوگئے تب اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُزیر علیہ السلام کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ´ اُس نے آپ علیہ السلام کے دل کو بنایا تاکہ آپ علیہ السلام معاملہ سمجھ سکیں اور آنکھوں کو بنایا تاکہ آپ علیہ السلام دیکھ سکیں کہ اﷲ تعالیٰ مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ پھر اُس نے آپ علیہ السلام کے دوسرے اعضاءمکمل کئے اور یہ سب آپ علیہ السلام دکھ رہے تھے ۔ پھر اُس نے ہڈیوں کو گوشت ، بال اور کھال پہنائی اور آپ علیہ السلام اُٹھ کر بیٹھ گئے ۔ فرشتے نے پوچھا :”آپ علیہ السلام کتنا عرصہ اِس حال میں رہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”ایک دن“ اِس کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام دوپہر کے وقت سوئے تھے اور جب اُٹھے تو دن کا آخری حصہ تھا اور سورج ابھی ڈوبا نہیں تھا ۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا :”نہیں؟ ایک دن بھی نہیں ، بلکہ دن کا کچھ حصہ سویا تھا اور ایک دن بھی مکمل نہیں ہوا تھا ۔“ فرشتے نے کہا :”آپ علیہ السلام سوسال تک اِس حال میںرہے ۔“

کھانا بالکل تازہ رہا

حضرت عُزیر علیہ السلام ابھی فرشتے کی بات پر غور کررہے تھے کہ فرشتے نے آپ علیہ السلام کی توجہ کھانے کی طرف مبذول کروائی ۔ آپ علیہ السلام نے اُس پیالے کی طرف دیکھا جس میں روٹیاں انگور کے رس میں بھگونے کے لئے رکھ دیا تھا ۔ وہ بالکل ویسا ہی تازہ تھا اور جو سوکھی روٹیاں اُس میں رکھی تھیں اُسے چھو کر دیکھا تو وہ تھوڑی بہت نرم ہوئیں تھی اور مکمل طور سے بھیگ کر نرم ہونا باقی تھیں ۔ آپ علیہ السلام حیرانی سے فرشتے کو تکنے لگے کہ اس کے مطابق سو سال گزر چکے ہیں جبکہ ابھی روٹیاں مکمل طور سے بھیگی بھی نہیں ہیں ۔ فرشتے نے عرض کیا :”اﷲ رب العزت نے سو سال سے اِس کھانے کع اِسی طرح تروتازہ رکھا ہوا ہے اور اﷲ تعالیٰ کچھ بھی کرسکتا ہے ۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنبہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے جب پیالے میں روٹی اور شیرہ کو دیکھا تو اُس میں کوئی تبدیلی نہیں پائی ۔”لَم± یَتَسَنِّہ“ کا یہی مطلب ہے کہ اُس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ اِس بات کو آپ علیہ السلام نے عجیب سمجھا تو فرشتے نے عرض کیا ۔ ”آپ علیہ السلام تعجب کررہے ہیں۔ اچھا اُس جگہ دیکھیں ، جہاں اپنی سواری یعنی گدھے کو باندھا تھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس جگہ دیکھا تو آپ علیہ السلام کو حیرت کا زبردست جھٹکا لگا ۔

گدھا (خچر) کی ہڈیاں بوسیدہ ہوکر بکھر گئیں

حضرت عُزیر علیہ السلام کھانے کو تعجب سے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ یہ بالکل ایسا لگ رہا ہے کہ بس ابھی میں نے روٹیاں شیرے میں بھگوئی ہیں یعنی کچھ گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں ۔ لیکن جب فرشتے کے توجہ دلانے پر اپنی سواری یعنی گدھے کی طرف دیکھا تو یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام کو حیرت کا زبردست جھٹکا لگا کہ گدھے کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر اِدھر اُدھر بکھری پڑی ہیں ۔ یعنی اُسے مرے ہوئے بہت زیادہ عرصہ بیت چکا ہے ۔ ہاں جس رسی سے آپ علیہ السلام نے اُسے باندھا تھا وہ اُسی طرح بندھی ہوئی ہے اور اُسی سے آپ علیہ السلام نے پہچانا کہ یہ گردن ہے ، یہ کھوپڑی ہے اور یہ سینے کا پنجر ہے ۔ آپ علیہ السلام کبھی تازہ کھانے کو دیکھتے اور کبھی گدھے کی بوسیدہ بکھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھتے ۔ کافی دیر تک دونوں کو دیکھنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا :”یقینا میں سو سال تک سوتا رہا یا موت میں مبتلا رہا اور سوسال بعد اﷲ رب العزت نے مجھے پھر سے جگایا ہے یا زندہ کیا ہے۔یقین تو مجھے پہلے بھی تھا بس یہ خیال تھا کہ بہت مشکل کام ہے اور اتنا مشکل کام اﷲ تعالیٰ سے اتنی آسانی سے کردے گا ۔“

گدھا زندہ ہوگیا

حضرت عُزیر علیہ السلام سے فرشتے نے عرض کیا :”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے یہ سوچا کہ اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو جمع کرکے دوباتہ زندہ کرنا بہت مشکل کام ہے اور یہ کام اﷲ رب العزت کس طرح آسانی سے کرے گا؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”بے شک! میں یہی غور کررہا تھا۔“ فرشتے نے کہا :”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اب آپ علیہ السلام یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اﷲ رب العزت کتنی آسانی سے دوبارہ زندہ کرے گا؟ اور آپ علیہ السلام کے گدھے کی بکھڑی ہوئی ہڈیوں کو جمع کرکے کس طرح زندہ کرے گا؟“ یہ سن کر آپ علیہ السلام اُن بکھڑی ہوئی ہڈیوں کو دیکھنے لگے ۔ فرشتے نے کہا :”اے ہڈیو! اﷲ تعالیٰ کے حُکم سے جمع ہوکر گدھے کے ڈھانچے کی شکل اختیار کرلو ۔“ آپ علیہ السلام نے ہڈیوں کی طرف حیرانی سے دیکھا کہ تمام ہڈیوں میں حرکت پیدا ہوگئی اور دھیرے دھیرے گدھے کا ڈھانچہ بننے لگا ۔ یہاں تک کہ گدھے کا مکمل ڈھانچہ بن گیا ۔ اِس کے بعد ہڈیوں کے ڈھانچے پر گوشت چڑھنا شروع ہوا ، گوشت چڑھنے کے بعد اُس پر کھال چڑھنا شروع ہوئی اور کھال پر مکمل طور سے بال آگئے تو گدھا کان جھاڑتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔

اﷲ کا شکر ادا کیا

حضرت عُزیر علیہ السلام متحیر سے اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا نظارہ کررہے تھے کہ کس طرح تمام ہڈیاں ایکدوسرے سے جُڑیں اور گوشت چڑھا ، اُس پر کھال چڑھی اور بال آگئے اور گدھا آواز لگاتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔ آپ علیہ السلام فوراً اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے اور اﷲ رب العزت کی تعریف بیان فرمائی :”اے اﷲ تعالیٰ! بے شک تمام حقیقت مجھ پر روشن ہوگئی ہے اور میں جان گیا ہوں کہ اﷲ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے ۔ یہ تو مجھے پہلے بھی اطمینان تھا لیکن براہ راست دیکھنے سے میرا یقین اور پختہ ہوگیا ۔ اے اﷲ رب العزت! آپ نے ہی اِس کائنات اور ہر مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا فرمایا ہے پھر موت دے گا پھر زندہ کریں گے اور بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے مجھے صحیح راستہ بتا کر میری رہنمائی فرمائی۔“

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

06 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام Story of Prophet Daniyal and Uzeer


06 حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 19

قسط نمبر 6

گھر واپس آئے

حضرت عُزیر علیہ السلام اکثر باہر کے دورے پر رہتے تھے اور بنی اسرائیل کی دینی تعلیم اور دنیاوی ضروریات کی رہنمائی کے لئے مسلسل سفر میں رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے نئے آباد شدہ علاقوں کا مسلسل دورہ کرتے رہتے تھے ۔ اِسی لئے آپ علیہ السلام کا قیام اپنے گھر پر بہت کم رہتا تھا ۔ جب آپ علیہ السلام غائب ہوئے یعنی اﷲ تعالیٰ نے جب آپ علیہ السلام کو سُلا دیا تو گھر والوں نے کچھ دنوں تو یہی سوچا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام دوسرے علاقوں میں گھوم گھوم کر بنی اسرائیل کی تربیت کررہے ہوں گے اِسی لئے یروشلم اپنے گھر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ لیکن جب کئی مہینے گزر گئے اور ”عید فسح“ بھی آگئی اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں اور گھر والوں کو فکر ہوئی اور انہوں نے آپ علیہ السلام کی تلاش شروع کردی ۔ پورے سال بنی اسرائیل کے دورآباد قبیلوں کے ولگ ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) میں عبادت کرنے کے لئے مسلسل آتے رہتے تھے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام کے بیٹوں اور بنی اسرائیل کے علماءنے عبادت کے لئے آنے والے ہر قبیلے سے آپ علیہ السلام کے متعلق دریافت کرنا شروع کردیا ۔ ہر علاقے اور ہر قبیلے سے آنے والے قافلے یہی بتاتے تھے کہ حضرت عُزیر علیہ السلام ہمارے یہاں نہیں ہیں ۔ ”عید فسح“ پر تو تمام بارہ قبیلوں کے بڑے ذمہ دار یروشلم میں موجود تھے اور لاکھوں بنی اسرائیل ”عید فسح“ منانے کے لئے یروشلم کے آس پاس خیمہ زن تھے۔ اِس موقع پر تمام بنی اسرائیل نے یہی بتایا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔ تمام لوگ حیران تھے کہ آخر آپ علیہ السلام کہاں غائب ہوگئے ہیں؟ ”عید مسح“ بنی اسرائیل سات دنوں تک مناتے تھے اور اِس کے بعد جب تمام قبائل اپنے اپنے علاقے واپس جانے لگے تو بنی اسرائیل کے یروشلم کے علمائے اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے درخواست کی کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کو ہر ممکن حد تک تلاش کیا جائے ۔ تمام لوگ آپ علیہ السلام کی تلاش کرنے لگے ۔ ہر سال ”عید فسح“ کے اجتماع میں یہ اعلان کیا جاتا تھا لیکن آپ علیہ السلام کسی کو نہیں ملے ۔ سال پر سال گزرتے رہے یہاں تک کہ سو سال گزر گئے اور تما م لوگ آپ علیہ السلام کی واپسی مایس ہوگئے تھے ۔ اِدھر جاگنے کے بعد حضرت عُزیر علیہ السلام یروشلم کی طرف روانہ ہوئے ۔ اِن سو سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا اور بنی سارائیل کی نئی نئی بستیاں اور نئی نسل وجود میں آچکی تھیں۔ آپ علیہ السلام اِن بستیوں کو دیکھتے اور حیران ہوتے ہوئے بالآخر یروشلم پہنچ گئے ۔ یروشلم شہر بھی کافی بڑا ہوچکا تھا۔ چلتے چلتے آپ علیہ السلام بیت لامقدس کے قریب اپنے محلے میں پہنچے اور تلاش کرتے کرتے اپنے گھر پر پہنچے ۔ باہر سے اپنے ایک بیٹے کا نام لیکر پکارا تو ایک بوڑھی عورت گرتی پڑتی لڑکھڑاتی ہوئی دروازے پر آئی اور پوچھا :”کون ہے؟“ یہ بوڑھی عورت بڑھاپے کی وجہ سے اندھی بھی ہوچکی تھی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :” میں عُزیر (علیہ السلام) ہوں۔“ یہ سُن کر بوڑھی عورت نے حیرت سے کہا :” عُزیر! کون عُزیر؟ میرے مالک حضرت عُزیر علیہ السلام کو غائب ہوئے تو سو سال ہوچکے ہیں ۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام ”مستجاب الدعوات“ تھے

حضرت عُزیر علیہ السلام کی بات کا اُس بوڑھی عورت کو یقین نہیں آیا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس سے فرمایا :” میں ہی عُزیر (علیہ السلام) ہوں، لیکن تم کون ہو؟“ بوڑھی اور اندھی عورت نے کہا :” میں حضرت عُزیر علیہ السلام کی کنیز ہوں۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے فرمایا :” اچھا تم وہ ہو لیکن تم تو بہت بوڑھی ہوگئی ہو جبکہ میری کنیز تو جوان تھی ۔“ اُس بوڑھی نے کہا :” ہاں حضرت عُزیر علیہ السلام جب غائب ہوئے تھے تب میں جوان تھی اور میری عُمر لگ بھگ بیس سال تھی۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میں ہی عُزیر (علیہ السلام) ہوں، اﷲ ربا لعزت نے مجھ پر سوسال تک موت طاری کردی تھی پھر مجھے نئی زندگی عطا فرمائی ہے ۔“ بوڑھی نے تعجب سے ”سبحان اﷲ“ کہا اور بولی :”برسوں ہوگئے میرے مالک کو گُم ہوئے ، اب لوگوں نے اُن کا نام لینا بھی چھوڑ دیا ہے ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میں وہی گُم گشتہ عُزیر ہوں۔“ بوڑھی کو تب بھی یقین نہیں آیا ۔ پھر کچھ سوچ کر اُس نے کہا :”حضرت عُزیر علیہ السلام ”مستجاب الدعوات“ تھے ۔ مریض کے لئے دعا کرتے تھے تو اﷲ تعالیٰ اُسے شفا عطا فرما دیتا تھا اور ضرورت مندوں کے لئے دعا کرتے تھے تو اﷲ اُس کی ضرورت پوری کردیتا تھا ۔ اگر آپ (علیہ السلام) وہی ہیں تو اﷲ رب العزت سے دعا کردیں کہ میری آنکھیں اچھی جائیں اور میں دیکھنے لگوں ۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے اُس کی آنکھوں کے لئے دعا کی تو اُس کی آنکھوں کی روشنی آگئی اور وہ دیکھنے لگی ۔ اُس نے جب آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پہچان لیا ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کو سب نے پہچان لیا

حضرت عُزیر علیہ السلام کو اُن کی کنیز نے پہچان لیا تھا اور بولی :” یقینا آپ ہی عُزیر علیہ السلام ہیں ۔“ بڑھاپے کی وجہ سے اُس کا بد اور ہاتھ اور پیر کمزور ہوگئے تھے اور وہ ٹھیک سے کھڑی بھی نہیں ہوپارہی تھی اور زیادہ تر بیٹھ کر گھسٹ گھسٹ کر چلتی تھی ۔ آپ علیہ السلام نے اُس کا ہاتھ تھاما اور فرمایا :”اﷲ کے حُکم سے کھڑی ہوجاو¿۔“ وہ کنیز تندرست و توانا ہوکر کھڑی ہوگئی ۔ اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا :”میں ابھی سب کو جاکر آپ علیہ السلام کے آنے کی خبر دیتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ دوڑتی ہوئی ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) تک گئی ۔ وہاں بنی اسرائیل کے تمام علماءاور آپ علیہ السلام کے بیٹے موجود تھے ۔ اُن میں سے ایک بیٹا یروشلم کا سردار تھا ۔ اُس کنیز نے سب سے کہا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام جو سو سال پہلے غائب ہوگئے تھے وہ واپس آگئے ہیں ۔وہاا موجود لوگوں نے اُس سے پوچھا :”تم کون ہو؟“ اُس نبے بتایا :” میں حضرت عُزیرعلیہ السلام کی کنیز ہوں اور اُنہوں نے آتے ہی میرے لئے دعا کی تو اﷲ تعالیٰ نے میری ّنکھوں کی روشنی لوٹا دی اور مجھے تندرست کردیا ۔“ اِسی دوران حضرت عُزیر علیہ السلام دھیرے دھیرے چلتے ہوئے وہاں تک پہنچ گئے تھے ۔ بنی اسرائیل کے بوڑھے علمائے کرام اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے تو دیکھتے ہیں پہچان لیا کیونکہ وہ سب آپ علیہ السلام کو شکل سے پہچانتے تھے اور ساتھ میں کافی وقت گزارا تھا لیکن اُن سب کو حیرت اِس بات کی تھی کہ وہ سب تو بوڑھے ہوگئے ہیں اور سب کے بال سفید ہوگئے ہیں ۔ آپ علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے کی عُمر ایک سوبیس 120 سال تھی جبکجہ آپ علیہ السلام کے بال بھی کالے تھے اور عُمر بھی بہ مشکل پینتالیس 45 سال لگ رہی تھی ۔ اِس لئے سب لوگ حیرا ن تھے اور تمام لوگ پریشان تھے ۔ آخر کار آپ علیہ السلام کے اُس بیٹے نے جو سردار تھا کہا کہ میرے والد محترم کے دونوں کاندوھوں کے درمیان کالا تل تھا اگر وہ نشان ان کے اوپر ہیں تو یہ میرے والد محترم ہیں۔“ آپ علیہ السلام ن ے اپنے کاندھے کھول کر دکھائے تو وہ کالا تل موجود تھا ۔سردار بیٹے نے کہ ا:” یہی حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام کی آزمائش

حضرت عُزیر علیہ السلام کے بیٹوں اور بوڑھے بنی اسرائیل علماءنے تو آپ علیہ السلام کو پہچان لیا کیونکہ اُنہوں نے گُم ہونے کے وقت جس شکل میں آپ علیہ السلام کو دیکھا تھا وہی شکل تھی ۔ لیکن وہ علماءاور بنی اسرائیل جو سوسال کے اندر پیدا ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی بھی اطمینان نہیں ہوا ہے ۔ اِس لئے انہیں ثابت کرنا پڑے گا کہ یہی عُزیر علیہ السلام ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”چاہے جو آزمائش لے لو، میں اُس کے لئے تیار ہوں ۔“ کافی غوروخوض کے بعد علماءنے کہا کہ ہمیں یہ بات ہمارے والدین نے بتائی تھی کہ جب بخت نصر ہمیں غلام بنا کر بابل لے جارہا تھا تب حضرت عُزیر علیہ السلام کے والد محترم نے توریت کے چند صفحات کسی جگہ دفن کروائے تھے اور حضرت عُزیر علیہ السلام کو یہ بات بتائی تھی ۔ اگر یہ بتا دیں کہ وہ صفحات کہاں دفن ہیں اور وہاں سے وہ نکل آئیں تو یہی ہمارے سردار کے والد حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”ٹھیک ہے! چلو میں تمہیں وہ جگہ بتاتا ہوں ۔“ تب تک پورے یروشلم میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرف پھیل گئی تھی کہ حضرت عُزیر علیہ السلام واپس آگئے ہیں اور لوگ آکر وہاں جمع ہوگئے تھے ۔ اِس طرح آپ علیہ السلام آگے آگے چلے اور پورے یروشلم کے لوگ پیچھے پیچھے چلے اور ایک رک کر فرمایا :”’یہاں کھودو۔“ جب وہاں کھودا گیا تو واقعی رتوریت کے صفحات موجود تھے ۔ یہ دیکھ کر تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کرلیا کہ آپ ہی حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔

بنی اسرائیل کی حیرت

حضرت عُزیر اعلیہ السلام کو یروشلم کے تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کر لیا اور سچا مان لیا لیکن سب لوگ اِس بات پر حیرانی ظاہر کرہے تھے کہ لگ بھگ ایک سو پچاس 150 سال کی عُمر میں بھی آپ علیہ السلام جوان دکھائی دے رہے تھے اور سب لوگ اِس کی وجہ پوچھ رہے تھے ۔ آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا :”ابا جان! ہم آپ علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور ہمارے بال سفید ہوگئے ۔ ہمارے ہاتھ پیر آنکھیں اور پورا جسم کمزور ہوگیا ہے اور ہم بوڑھے دکھائی دیتے ہیں جبکہ آپ علیہ السلام ہمارے والد والد محترم ہیں ۔ اِس کے باوجود آپ علیہ السلام کے بال کالے ہیں ، جسم انتہائی تندرست اور صحت مند ہے اور ہاتھ پیر اور آنکھیں وغیرہ سب طاقتور ہیں ، ایسا کیوں ہے؟“ تب آپ علیہ السلام نے تمام بنی اسرائیل کو اور اپنے بیٹوں کو تفصیل سے بتایا کہ اﷲ تعالیٰ نے سو سال تک مجھے سُلا دیا تھا ، موت طاری کردی تھی ۔ اِس لئے تمام لوگوں پر وقت گزرتا رہا تھا ، مجھ پر وقت رُکا ہوا تھا جس کی وجہ سے تم بوڑھے ہوگئے اور میں ویسا ہی رہا ۔ 

اﷲ تعالیٰ کی نشانی

اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 259 کے درمیان میں فرمایا :”ہمارا مقصد کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے نشانی بنا دینا چاہتے ہیں۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بنی اسرائیل کے لئے ”دلیل“ (یعنی نشانی) بن گئے کیونکہ آپ علیہ السلام اپنے بیٹوں اور پوتوں میں بیٹھ کر میں بیٹح کر اُن کی تربیت کرتے تھے جو بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے ۔ جبکہ حضرت عُزیر علیہ السلام کی عُمر مبارک چالیس 40 یا پینتالیس 45 کے درمیان تھی ۔ کیونکہ آپ علیہ السلام جس حالت میں عارضی موت کی نیند سوئے تھے اُسی حالت میں دوبارہ زندہ ہوگئے تھے۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”حضرت عُزیر علیہ السلام کی دوبارہ زندگی کا واقعہ بخت نصر کے بعد پیش آیا ہے ۔“ حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی بھی یہی رائے ہے ۔ امام ابوحاتم سجستانی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ کی روایت کو عربی اشعار میں پیش کیا ہے جس کا اردو ترجمہ یوں ہے :”اُس کے بال کالے ہیں حالانکہ وہ بڑے ہیں ، اُس کا بیٹا اور اُس کا پوتا اُس سے پہلے بوڑھے ہوگئے ہیں ، اُس کے بیٹے کو دیکھو تو ایک بوڑھا ہے جو لاٹھی کے سہارے چل رہا ہے ، حالانکہ اُس (عُزیر علیہ السلام) کی داڑھی مبارک اور بال سیاہ ہیں ، اُس کے بیٹے آب و تاب و تواں نہیں رہی ، وہ اُٹھتا جیسے بچہ چلتا ہے تو گر پڑتا ہے ، اُ س کے بیٹے کی عُمر ایک سو بیس 120 شمار ہوتی ہے ، وہ نہ تو چل سکتا اور نہ ٹہل سکتا ہے ، باپ کی عُمر چالیس سال ہے اور پوتے کو لوگوں میں رہتے نوے 90 سال گزر گئے ہیں ، اگر تُو جانے تو یہ بات قرین عقلمندی نہیں ہے ، اور اگر تُو نہیں جانتا جہالت کی وجہ سے معذور ہے۔

حضرت عُزیر علیہ السلام نے مکمل توریت لکھی

حضرت عُزیر علیہ السلام کو یروشل کے تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کرلیا ۔ دھیرے دھیرے یہ خبر بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں میں پھیلتی گئی کہ سو سال کے بعد کمشدہ حضرت عُزیر علیہ السلام واپس آگئے ہیں اور بوڑھے نہیں ہوئے بلکہ لگ بھگ ایک سو پچاس 150 کی عُمر بھی جوان ہیں ۔ جیسے جیسے یہ خبر بنی اسرائیل کے قبائل کو ملتی گئی ویسے ویسے اُن قبائل کے وفد اور قافلے آپ علیہ السلام کی زیارت کے لئے خدمت اقدس میں حاضر ہوتے گئے ۔ اِس طرح تمام بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی سچائی کو تسلیم کرلیا ۔ اِس کے بعد علمائے کرام نے آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ توریت مکمل شکل میں ہمارے پاس نہیں ہے اور بخت نصر نے توریت کے تمام نسخے جلا دیئے تھے ۔ ویسے تو الگ الگ اوراق میں چند نسخے ہیں اور آپ علیہ السلام کے والد محترم نے بھی جو نسخہ دفن کیا تھا وہ بھی مکمل نہیں ہے۔ اِس لئے آپ علیہ السلام سے ہماری درخواست ہے کہ ہمارے لئے مکمل توریت کتابی شکل میں لکھ دیں اور تمام بارہ قبیلوں میں نقول روانہ کردیں تاکہ تمام بنی اسرائیل پورے طور سے شریعت پر عمل کرسکیں ۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے وعدہ کرلیا کہ انشاءاﷲ میں مکمل توریت تمہارے لئے کتابی شکل میں لکھ دوں گا ۔ اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں عبادت کے دوران سجدے میں رور و کر درخواست کی کہ اے اﷲ تعالیٰ! میری رہنمائی فرما اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے میری مدد فرما ۔ آخر کار اﷲ تعالیٰ کو آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل پر رحم آگیا ۔ آپ علیہ السلام اکیلے غوروفکت کرتے ہوئے بیٹھے تھی کہ ایک فرشتے کو اﷲ رب العزت نے انسانی شکل میں بھیجا ۔ اُس نے عرض کیا :”اے اﷲ کے نبی علیہ السلام! کس افسوس اور صدمے میں بیٹھے ہیں؟“ آپ علیہ السلام نے تمام ماجرا بتایا ۔ اُص فرشتے نے ایک پانی بھرا ہوا برتن آپ علیہ السلام کو دیا اور کہا :”پورا پانی پی جائیں۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے پورا پانی پی لیا جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو پوری توریت ازبر ہوگئی ۔ 

حضرت عُزیر علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے

اﷲ تعالیٰ نے سوری توبی میں فرمایا :”ترجمہ ، یہود (بنی اسرائیل) کہتے ہیں ”عُزیر (علیہ السلام) اﷲ کا بیٹا ہے“ اور نصرانی (عیسائی) کہتے ہیں ”مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اﷲ کا بیٹا ہے“ یہ قوم صرف اُن کے منہ کی بات ہے ، اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے ، اﷲ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹے جاتے ہیں؟ (سورہ توبہ آیت نمبر 30 ) اﷲ تعالیٰ نے اِس آیت میں بتایا کہ بدبخت یہودیوں نے حضرت عُزیر علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنا لیا تھا اور عیسائیوں نے حضرت عیسٰ مسیح علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنا لیا تھا جبکہ وہ دونوں اﷲ کے نیک بندے ہیں اور اﷲ تعالیٰ اولاد وغیرہ سے پاک ہے ۔اِن بدبختوں نے خود ہی شرک کرکے اپنے آپ کو گمراہی میں ڈال لیا ہے ۔ اور اﷲ کے غضب کے مستحق بن گئے ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :”رسول اﷲ صؒی اﷲ علیہ وسلم کے پاس سلام بن مشکم ، نعمان بن اوفی ، ابو انس شاس بن قیس اور مالک بن صیف آئے اور کہنے لگے :”ہم آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی اتباع اور پیروی کیسے کریں؟ جبکہ آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے ہمارا قبلہ چھوڑ دیا ہے اور آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) یہ نظریہ بھی نہیں رکھتے ہیں کہ عُزیر (علیہ السلام) اﷲ کے بیٹے ہیں ۔ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے ہیں ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہود (بنی اسرائیل) کے پاس توریت تھی اور وہ اُس سے فائدہ اُٹھاتے تھے لیکن جب وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے اور اﷲ تالیٰ کی نفرمانی کرنے تو توریت اُن سے چھن گئی اور ”تابوت ِ سکینہ“ بھی اُتھا لیا گیا ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام نے نہایت عاجزی و انکساری سے اﷲ تعالیٰ سے عدا مانگی ۔ آپ علیہ السلام ابھی دعا میں مصروف تھے کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نور اُترا اور آپ علیہ السلام کے اندر سما گیا اور پوری توریت آپ علیہ السلام کو زبانی یاد ہوگئی۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا :”توریر مجھے حفظ ہے اور اﷲ تعالیٰ نے مجھے یاد کرادیا ہے ۔“ بنی اسرائیل نے یقین نہیں کیا پھر بھی آپ علیہ السلام نے اُنہیں توریت لکھ کر دی ۔ پھر ”تابوت ِ سکینہ“ بھی واپس مل گیا جس میں توریت رکھی ہوئی تھی ۔ بنی اسرائیل نے اُس توریت کو حضرت عُزیر علیہ السلام کی لکھی توریت سے ملایا تو دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے کہا :”اﷲ کی قسم! حضرت عُزیر علیہ السلام کو یہ اِس لئے یاد کرائی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے ہیں۔“ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں : عُزیر سے مُراد عزراءہیں جن کو یہودی اپنے دین کا مجدد مانتے ہیں ۔ ان کا زمانہ 450 قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے ۔ اسرائیلی روایت کے مطابق حضرت سُلیمان علیہ السلام کے بعد جو دور ابتلاءبنی اسرائیل پر آیا اُس میں نہ صرف توریت دنیا سے گم ہوگئی تھی بلکہ بابل کی اسیری (غلامی) میں اسرائیلی نسلوں کو اپنی شریعت ، اپنی روایات اور قومی زبان عبرانی تک سے ناآشنا کردیا تھا ۔ آخر کار اُنہیں عُزیر یا عزراءنے بائیبل کے پرانے عہدنامے کو مرتب کیا اور شریعت کی تجدید کی ۔ اِسی وجہ سے بنی اسرائیل اُن کی بہت تعظیم کرتے ہیں اور یہ تعظیم اِس حد تک بڑح گئی کہ بعض یہودی گروہوں نے اُن کو ”ابن اﷲ“ تک بنا دیا ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام نے سمجھایا

حضرت عُزیر علیہ السلام کو بد بخت یہودں یعنی بنی اسرائیل نے پہلے تو سچا ماننے سے انکار کردیا اورجب سچا ماننے لگے تو اتنا زیادہ بڑھاوا دے دیا کہ شرک میں مبتلا ہوگئے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام اُسنہیں بار بار سمجھاتے رہے کہ اﷲ تعالیٰ سب کا خالق اور مالک ہے ، اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور اﷲ رب العزت اولاد وغیرہ سے پاک ہے ، میں تو صرف اﷲ کا ایک بندہ ہوں اور نبی ہوں اور تم لوگ شرک میں مبتلا ہوکر اپنے آپ کو گمراہ مت کرو۔“ لیکن بنی اسرائیل پر ایسا شیطان غالب آگیا کہ وہ آپ علیہ السلام کی بات ماننے کو تیار نہیں تھے اور گمراہی میں مبتلا رہے ۔ آپ علیہ السلام اُنہیں مسلسل سمجھاتے رہے اور اُنہیں شرک سے بچانے کی کوشش کرتے رہے ۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اعلان کیا :”اے بنی اسرائیل! میں تمہارے شرک سے بری ہیں اور اے اﷲ تعالیٰ! تو گواہ رہنا کہ میں نے ہمیشہ بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دی ہے اور یہی سکھایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، وہ اکیلا اور اُس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے اور اے بنی اسرائیل! میں نے کبھی یہ کہا کہ میں (نعوذ باﷲ) اﷲ کا بیٹا ہوں بلکہ یہ تم نے خود اپنے من سے بنا لیا ہے ۔ اے اﷲ تعالیٰ! میں اِن کے شرک سے بری ہوں۔“

بنی اسرائیل ایک بار پھر آزمائش میں ناکام ہوگئے

اﷲ رب العزت نے حضرت عُزیر علیہ السلام کے ذریعے بنی اسرائیل کے ایمان کی آزمائش کی کہ آپ علیہ السلام جوان دکھائی دیتے تھے اور آپ علیہ السلام کی عُمر صرف چالیس 40 یا پینتالیس 45 سال لگتی تھی ۔ آپ علیہ السلام اپنے بیٹے کو اور پوتوں کو توریت کی تعلیم دیتے تھے ۔ اپنے بیٹوں اور پوتوں کے درمیان بیٹھے آپ علیہ السلام اپنے پوتوں سے بھی چھوٹے لگتے تھے ۔ بیٹے اور پوتے بوڑھے ہوچکے تھے ۔ بنی اسرائیل اﷲ تعالیٰ اِ سآزمائش میں ناکام ہوگئے اور حضرت عُزیر علیہ السلام کو جو معجزہ اﷲ رب العزت نے عطا فرمایا تھا اُس کی وجہ سے گمراہ ہوگئے ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالت

حضرت عُزیر علیہ السلام اُس وقت تک بنی اسرائیل کے درمیان رہے جب تک اﷲ تعالیٰ نے چاہا ۔ اِس کے بعد اُنہیں اپنی جوار رحمت میں بلا لیا ۔ بنی اسرائیل کی اپنی کوئی مستحکم حکومت نہیں تھی اور پورا علاقہ ”سلطنت فارس“ کا ماتحت تھا ۔ بیت المقدس بنی اسرائیل کا مرکز بدستور رہا ۔ اِسی طرح لگ بھگ سو سال سے زیادہ کا وقت گزر گیا اور بنی اسرائیل پھر سے گمراہیوں اور بُرائیوں میں مبتلا ہوگئے ۔ اِسی دوران ملک یونان سے سکندر نام کا ایک طوفان اُٹھا اور اُس نے ”سلطنت فارس“ پر قبضہ کرلیا ۔ اِس طرح بنی اسرائیل پر یونانی حکمراں بن گے اور وہ یونانیوں کے اثرات قبول کرنے لگے ۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک یونانی اُن پر حاوی رہے پھر لگ بھگ ایک سو پچھتر 175 قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ایک سوپچھتر 175 سال پہلے بنی اسرائیل نے ہیونانیوں سے آزادی حاصل کرلی اور اپنی آزاد حخومت قائم کرلی ۔ اِس اسرائیلی حکومت نے بہت ترقی کی اور ایک صدی سے زیادہ عرصے تک اپنی حکومت چلاتے رہے ۔ پھر اُن پر رومی حاوی ہوگئے 67 قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 67 سال پہلے بنی اسرائیل پر رومیوں کی حکومت ہوگئی اور رومیوں کے دورِ حکومت میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا ۔حضرت عُزیر علیہ السلام کے حالات مکمل ہوئے۔ 

٭....٭....٭ 

 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں