منگل، 13 جون، 2023

حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام مکمل Life of Prophet Daniyal and Uzeer



حضرت دانیال و عُزیر علیہم السلام مکمل

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 19

بنی اسرائیل کی غلامی

حضرت دانیال علیہ السلام کے حالات بیان کرنے سے پہلے ہم بنی اسرائیل کے کچھ حالات بیان کریں گے تاکہ تسلسل برقرار رہے ۔ حضرت شعیا علیہ السلام کے ذکر میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو بے رحمی سے شہید کردیا تھا اور اپنے اوپر اﷲ کے غضب کو مقدر بنا لیا تھا ۔ اِس کے بعد بھی اﷲ تعالیٰ نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو اپنا پیغام دے کر بھیجا اور بنی اسرائیل کو ایک اور موقع دیا ۔ یوسیاہ بادشاہ نے آپ علیہ السلام کی اطاعت کی اور دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوا لیکن اُس کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور بے رحمی سے مار پیٹ کر آپ علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا ۔ تب بخت نصر کی شکل میں اُن پر اﷲ کا عذاب نازل ہوا اور اُس نے بے شمار بنی اسرائیل کو قتل کیا اور بے شمار بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ”بابل“ لے گیا۔ بہت سے بنی اسرائیل بھاگ کر ملک مصر چلے گئے تھے ، بخت نصر نے ملک مصر کے بادشاہ کے پاس قاصد بھیجے اور کہا کہ میرے غلام بھاگ کر تمہارے ملک میں آگئے ہیں انہیں میرے پاس واپس بھیج دو۔ اِس کے جواب میں ملک مصر کے بادشاہ نے کہا کہ بنی اسرائیل تمہارے غلام نہیں ہیں بلکہ آزاد لوگ ہیں اور میں اُن کو تمہارے حوالے نہیں کروں گا ۔ بخت نصر نے اتنا سخت جواب سنا تو ملک مصر پر حملہ کردیا اور بادشاہ کو شکست دے کر قتل کردیا لیکن جو بنی اسرائیل ملک مصر میں چھپے ہوئے تھے وہ اُسے نہیں مل سکے کیونکہ بخت نصر کی بابل سے فوج لیکر ملک مصر روانہ ہونے کی خبر سنتے ہی وہ لوگ ملک مصر سے نکل بھاگے تھے ۔ ان میں سے کچھ ”وادیٔ القریٰ“ میں آباد ہوگئے اور کچھ یثرب (مدینۂ منورہ) کے آس پاس آباد ہوگئے ۔ جبکہ بنی اسرائیل کی اکثریت بدستور بخت نصر کی غلام بنی رہی اور بابل میں غلامی کی زندگی گزارتی رہی ۔

آگ کی پوجا کا بانی: زرتشت

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے کئی شاگرد تھے ۔ یوسیاہ بادشاہ کے دورِ حکومت میں آپ علیہ السلام کے بے شمار شاگرد ہوگئے تھے ۔ اُن میں سے ایک زرتشت (زرادشت) بھی تھا اوریہ ارامی یا عمونی یا ادومی تھا۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے شوگردوں کے ساتھ یہ بھی علم سیکھتا تھا ۔ جب اُس نے اچھا خاصا علم سیکھ لیا تو اُسے اپنے فائدے کے لئے استعمال کرنے لگا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ خیانت کی اور جھوٹ باندھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس کے خلاف دعا فرمائی تو وہ وہاں سے بھاگ کر آذربائیجان چلا گیا اور وہاں مجوسیت کے مذہب کی بنیاد رکھی ۔ اُس نے آگ جلائی اور لوگوں کو بتایا کہ یہ تمہارا معبود ہے اور اِس کی پوجا کرو اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی تعلیمات کو گڈ مڈ کرکے لوگوں کو بتائی جو لوگوں بھلی معلوم ہوئیں اور وہ لوگ آگ کی پوجا کرنے لگے ۔ پھر زرتشت وہاں سے بلخ آیا اور وہاں کے بادشاہ یشتاشب کو اپنے مذہب کی دعوت دی اور اپنے دین کی تشریح کی تو یشتاشب کو بہت پسند آئی ۔ اُس نے اپنی حکومت میں اعلان کروادیا کہ عوام زرتشت کے مذہب کو قبول کرے اور آگ کی پوجا کرے ۔ بہت سی عوام نے زرشت کے مذہب کو قبول کیا اور بہت سوں نے مخالفت کی اور یشتاشب کے خلاف بغاوت کردی ۔ جسے اُس نے سختی سے کچل دیا اور پورا ملک فارس آگ کی پوجا کرنے لگا ۔ یہاں ملک فارس کا ذکر ہم نے اِس لئے کیا ہے کہ آگے چل کر بنی اسرائیل کے ذکر میں ملک فارس کے بادشاہ کا ذکر بھی آئے گا ۔ یہ بات ذہن میں رتکھیں کہ اُس وقت ملک فارس ایران اور خراسان وغیرہ پر مشتمل تھا ۔ 

حضرت دانیال علیہ السلام کی بعثت

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بخت نصر نے اُن کی خواہش کے مطابق یروشلم (بیت المقدس) کے کھنڈرات میں ہی چھوڑ دیا تھا اور تمام بنی اسرائیل کو غلا م بنا کر بابل لے گیا تھا ۔ اُس نے ”سلطنت یہودیہ“ اور سلطنت سامریہ“ (اسرائیل) کا خاتمہ کردیا ۔ سلطنت سامریہ اسرائیل تو پہلے ہی ختم ہوچکی تھی لیکن بعد میں بنی اسرائیل کے مختلف قبائل نے اِسے آباد کیا تھا لیکن مستحکم حکومت نہیں بنا سکے تھے ۔ بہرا حال بخت نصر نے بنی اسرائیل کی تمام حکومت کا خاتمہ کردیا تھا ۔ یہ سب ہم آپ کو حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں ۔ بنی اسرائیل کو غلام بنا کر بخت نصر بابل لے گیا اور اُن کے ساتھ بہت ذلت آمیز سلوک کیا ۔ بنی اسرائیل اُس کی حکومت میں غلامی کی زندگی گزارنے لگے ۔ بخت نصر اُن کو ہر طرح سے ذلیل کرتا تھا اور ہر بیگاری کا کام اُن سے لیتا تھا ۔ بابل میں لگ بھگ ستر 70 سال تک بنی اسرائیل غلامی کی زندگی گزارتے رہے ۔ جن لوگوں کو بخت نصر قید کرکے لایا تھا اُن میں حضرت دانیال علیہ السلام بھی تھے ۔ اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر مبارک لگ بھگ تیرہ یا چودہ سال تھی ۔ آپ علیہ السلام کی عُمر مبارک جب چالیس سال ہوئی اور بنی اسرائیل کو غلامی کی زندگی گزارتے ہوئے لگ بھگ چھبیس 26 یا ستائیس 27 ہوئے تو اﷲ تعالیٰ نے اُن پر رحم فرمایا اور حضرت دانیال علیہ السلام کو مبعوث فرمایا اور نبوت سے سرفراز فرمایا تاکہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو سمجھائیں اور اُنہیں سیدھا اور سچا راستہ بتائیں ۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو سمجھانا شروع کردیا اور اُن میں بیداری پیدا کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔ 

بخت نصر کا خواب

حضرت دانیال علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بتایا کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرنی چاہیئے اور ہمارے بزرگ صحیح راستے سے بھٹک گئے تھے جس کی اُنہیں سزا ملی ہے ۔ یہ تمام باتیں آپ علیہ السلام نوجوانوں کو سمجھاتے تو بوڑھے بنی اسرائیل اُن کی تائید کرتے تھے ۔ (بخت نصر نے جن جوانوں کو غلام بنایا تھا وہ ادھیڑ عُمر کے یا بوڑھے ہوچکے تھے) بخت نصر کا ظلم ابھی بھی بنی اسرائیل پر جاری تھا اور بنی اسرائیل غلامی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ نوجوانوں نے تو غلامی میں ہی آنکھ کھولی تھی اِس لئے وہ اپنے آپ کو غلام ہی سمجھتے تھے ۔ حضرت دانیال علیہ السلام اُنہیں گزرے ہوئے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات بتاتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتے تھے کہ بنی اسرائیل کا ماضی کتنا شاندار گزرا ہے ۔ اِسی دوران اﷲ تعالیٰ نے بخت نصر پر حُجت قائم کرنے کے لئے اُسے ایک خواب دکھلایا اور بھلا دیا ۔ بخت نصر نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا لیکن جب صبح اُٹھا تو وہ خواب بھول گیا ۔ اُس خواب کی وجہ سے وہ بہت بے چین ہوگیا اور اُس نے اپنے نجومیوں اور جادوگروں اور کاہنوں کو بلایا اور کہا کہ میں ایک خواب دیکھا ہے ۔ وہ بہت ہی عجیب خواب تھا اور اُس کی وجہ سے میں بہت بے چینی میں مبتلا ہوں ، مجھے اِس خواب کی تعبیر بتاؤ ۔ نجومیوں اور کاہنوں نے کہا کہ ٹھیک ہے! آپ ہمیں خواب بیان کریں ،ہم اِس کی تعبیر بتائیں گے ۔بخت نصر نے کہا :” میں خواب تو بھول گیا ہوں مگر مجھے تم لوگ اس کی بتاو¿گے۔“ نجومیوں اور کاہنوں نے کہا :” بغیر خواب سنے ہم اِس کی تعبیر کیسے بتا سکتے ہیں؟“ یہ سن کر اُسے غصہ آگیا اور اُس نے نجومیوں اور کاہنوں سے کہا :”اب تم مجھے وہ خواب بھی بتاؤگے اور اُس کی تعبیر بھی بتاؤگے اور اگر نہیں بتا سکے تو میں تم سب کو قتل کردوں گا۔“ 

تمام لوگ حضرت دانیال علیہ السلام کی خدمت میں

حضرت دانیال علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا تھا اور آپ علیہ السلام کسی کی پرواہ کئے بغیر اپنے کام میں لگے ہوئے تھے ۔ بنی اسرائیل کے تمام لوگ آپ علیہ السلام کا ادب اور عزت کرتے ہی تھے اور اُن کے ساتھ ساتھ بابل کی عوام بھی آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرتی تھی ۔ جب بخت نصر نے اپنے نجومیوں اور کاہنوں سے کہا کہ مجھے میرا خواب بھی بتاو¿ ورنہ میں تم سب کو قتل کردوں گا تو اُن کے ہوش اُڑ گئے اور انہوں نے بخت نصر سے چند دنوں کی مہلت مانگی جو اُس نے دے دی ۔ تما نجومیوں اور کاہنوں نے آپس میں مشورہ کیا لیکن اُن کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ آخر کار انہوں نے یہ طے کیا کہ یہ مصیبت بنی اسرائیل کے علما پر ڈال کر جان بچا لی جائے ۔ بنی اسرائیل میں زیادہ تر دنیا پرست علما تھے جنہوں نے چند رسومات کو دین کا نام دے رکھا تھا اور سیدھے سادھے بنی اسرائیل کو دھوکے میں مبتلا کررکھا تھا ۔ نجومیوں اور کاہنوں نے بخت نصر سے کہا :”بنی اسرائیل کے علما کو ہم سے زیادہ علم ہے اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم آسمانی دین پرہیں ۔ اِس لئے وہ لوگ آپ کا خواب بھی بتائیں گے اور اُس کی تعبیر بھی بتائیں گے ۔ بخت نصر نے بنی اسرائیل کے علما کو دربار میں حاضر کرنے کا حُکم دیا ۔ جب سب حاضر ہوئے تو بخت نصر نے اپنا سوال دہرایا ۔ تمام علما پریشان ہوگئے اور آپس میں غوروخوض کرنے لگے ۔ آخر کار انہوں نے کہا کہ ہم بغیر خواب اُس کی تعبیر نہیں بتاسکتے ۔ بخت نصر نے کہا :”تم تو کہتے ہوکہ ہمارا دین آسمانی ہے ، کیا آسمان سے اِس کے بارے میں تمہارے لئے مدد نہیں آسکتی؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا :”وہ تو ٹھیک ہے ، لیکن بغیر خواب سنے کوئی بھی تعبیر نہیں بتا سکے گا ۔“ یہ سن کر بخت نصر کو غصہ آیا اور اُس نے کہا :”میں تم تمام علما اور تمام کاہنوں اور نجومیوں کو تین دن کی مہلت دیتا ہوں ۔ اگر مجھے تین دن میں میرا خواب اور اُس کی تعبیر نہیں بتائی تو میں تم سب کو قتل کرادوں گا ۔“ یہ حُکم سن کر تمام بنی اسرائیل کے علما اور بخت نصر کے بجومیوں اور کاہنوں کی راتوں کی نیندیں اُڑگئیں اور وہ سب مل کر مشورہ کرنے لگے کہ کس طرح جان بچائی جائے؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا :”ہم میں سے ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ، چلو اُن کے پاس چلتے ہیں اورتمام علما اور نجومی اورکاہن آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے 

حضرت دانیال علیہ السلام بخت نصر کے دربار میں

حضرت دانیال علیہ السلام کی خدمت میں بنی اسرائیل کے تمام علما اور بخت نصر کے تمام نجومیوں اور کاہنوں نے حاضر ہوکر درخواست کی کہ ہمیں اِس مصیبت سے بچائیں ۔ اگر آپ علیہ السلام واقعی اﷲ کے نبی ہیں تو ہمیں ضرور اِس مسئلے کا حل بتائیں گے اور تمام ماجرا آپ علیہ السلام کو سنا دیا ۔ پورا واقعہ سننے کے بعد آپ علیہ السلام کافی دیر تک سر جھکائے بیٹھے رہے اور سب لوگ اُمید بھری نظروں سے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہے تھے ۔ کافی دیر کے بعد آپ علیہ السلام نے سر اٹھایا اور فرمایا :”ٹھیک ہے! انشاءاﷲ میں بخت نصر کا خواب بھی بتاو¿ں گا اور اُس کی تعبیر بھی بتاو¿ں گا، تم لوگ اُس سے جا کر کہہ دو کہ میں فلاں دن دربار میں آکر اُس سے ملوں گا ۔“ بنی اسرائیل کے علما اور بخت نصر کے نجومیوں کاہنوں نے دربار میں حاضر ہو کر کہا :”بنی اسرائیل میں سے ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ وہ آسمان والے (اﷲ تعالی) کا نبی ہے ۔ اُس نے کہا ہے کہ میں بادشاہ کا خواب بھی بتاو¿ں گا اور اُس کی تعبیر بھی بتاو¿ں گا اور اُس نے فلاں دن آنے کا وعدہ کیا ہے ۔“ بخت نصر نے کہا :”ٹھیک ہے! میں اپس کا انتظار کروں گا۔“ جس دن کا آپ علیہ السلام نے وعدہ کیا تھا اُس دن آپ علیہ السلام بخت نصر کے دربار میں پہنچ گئے ۔ 

سجدہ نہیں کیا

حضرت دانیال علیہ السلام جب بخت نصر کے محل کے پاس پہنچے تو باہر ہی تمام علماء، نجومی اور کاہنوں نے آپ علیہ السلام کا استقبال کیا اور ساتھ لیکر بخت نصر کے دربار میں حاضر ہوئے ۔ سب لوگوں نے قاعدے کے مطابق بخت نصر کو سجدہ کیا لیکن حضرت دانیال علیہ السلام نے اُسے سجدہ نہیں کیا ۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم سے پہلے تعظیمی سجدہ جائز تھا لیکن اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی شریعت میں تعظیمی سجدہ بھی حرام کردیا ہے اب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہر اُمتی صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی سجدہ کرسکتا ہے اور اﷲ رب العزت کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرسکتا ہے) یہ دیکھ کر بخت نصر نے تمام لوگوں کو دربار سے نکل جانے کا حُکم دیا ۔ جب سب لوگ چلت گئے تو اُس نے حضرت دانیال علیہ السلام سے پوچھا :”تم نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میرے رب (اﷲ تعالیٰ) نے مجھے اِسی شرط پر یہ علم عطا فرمایا ہے کہ میں اُس کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کروں گا ۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے تجھ کو سجدہ کیا تو وہ مجھ سے میرا علم چھین لے گا اور تم میرے علم سے فائدہ نہیں اُٹھا سکوگے اورجس کے نتیجے میں تم مجھے قتل کردوگے ۔ اِسی لئے میں نے قتل سے بچنے کے لئے اور تجھے اپنے علم سے فائدہ پہنچانے کے لئے تجھے سجدہ نہیں کیا ہے ۔ اِس طرح میں نے تجھ کو تیری پریشانی سے جنات دلانے کے لئے تجھے سجدہ نہیں کیا ہے۔“

حضرت دانیال علیہ السلام نے صحیح خواب بتایا

حضرت دانیال علیہ السلام کا جواب سُن کر بخت نصر لاجواب ہوگیا اور بولا :”میں نے تم سے بڑھ کر تمہارے رب کا وفادار بندہ کائی نہیںدیکھا اور میں ایسے شخص کو پسند کرتا ہوں ۔ اب تم میرا خواب اور اُس کی تعبیر بتاؤ ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”تم نے خواب میں ایک بہت بُت یا مجسمے کو دیکھا ہے جس کے پاو¿ں زمین میں اور سر آسمان میں تھا ۔اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے بخت نصر کی طرف دیکھا تو وہ حیرانی سے منہ کھولے اور آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کے بعد اُس نے بے تابی سے کہا :”ہاں ہاں! (آپ علیہ السلام) صحیح خواب بتا رہے ہیں، مجھے یاد آرہا ہے ۔ مجھے آگے بتایئے ۔“ حضرت دانیال علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا :”تم نے ددیکھا کہ اُس بُت یا مجسمے کا اوپر والا حصہ سونے کا ہے ، درمیان حصہ چاندی کا ہے اور نچلا حصہ تانبے کا ہے اور پنڈلیاں لوہے کی ہیں اور پنجے پتھر کے ہیں ۔ تم اُس کا ود اور خوبصورتی اور پختگی دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ اچانک آسمان سے ایک پتھر آیا اور اُس بُت کے سر پر پڑا ۔ پتھر اتنبی زور سے لگا کہ وہ بُت ٹوٹ پھوٹ کر بھوسہ بھوسہ ہوگیا ۔ اس کے بعد اُس کے اندر کی تمام دھات یعنی سونا ،چاندی، تانبا، لوہا، اور پتھر اِس طرح مل گئے کہ تم نے خیال کیا کہ تم انسان مل کر بھی اِسے الگ نہیں کرسکیں گے ۔ پھر تم نے دیکھا کہ وہ پتھر جس نے اُس بُت کا بھوسہ بنا دیا تھا وہ بڑا ہوتا جا رہا ہے اور پھیلتا جارہا ہے یہاں تک کہ ساری زمین اُس سے بھر گئی تھی۔ اب تمہیں وہ پتھر اور آسمان ہی نظر آرہا تھااور اِس کے بعد تمہاری آنکھ کھل گئی ۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام خاموش ہوگئے اور بخت نصر کی طرف دیکھنے لگے جو حیرانی سے آنکھیں پھاڑے آپ علیہ السلام کو دیکھ رہا تھا ۔

خواب کی تعبیر

حضرت دانیال علیہ السلام کی طرف کافی دیر تک بخت نصر محویت کے عالم میں دیکھتا رہا ۔ پھر چونک کر سیدھا ہوا اور بولا :”بے شک! بے شک! آپ (علیہ السلام) سچ کہہ رہے ہیں ۔ میں نے بالکل یہی خواب دیکھا ہے ، کمال کا علم ہے آپ کا مگر اِس خواب کی تعبیر کیا ہے؟“ حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا :”اِس بُت سے مُراد مختلف زمانوں میں مختلف قومیں اور اُن کے حکمراں ہیں ۔ سونے یعنی اوپری حصے سے مُراد تمہارا زمانہ اور حکومت ہے ۔ چاندی سے مُراد تمہارا بیٹا اور اُس کی حکومت ہے جو تمہارے بعد حکمراں بنے گا ۔ تانبے سے مُراد ”سلطنت روم“ کی طرف اشارہ ہے ۔ لوہے سے مُراد ”سلطنت فارس“ ہے اور پتھر سے مُراد دو قومیں ہیں جن پر دو عورتیں حکومت کریں گی ۔ ایک مشرقی یمن میں اور دوسری مغربی شام میں ۔“

سیدالانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت

حضرت دانیال علیہ السلام اتنا فرما کر خاموش ہوگئے ۔ بخت نصر کچھ دیر انتظار کرتا رہا کہ شاید آپ علیہ السلام آگے کچھ فرمائیں گے ۔ پھر اُس نے پوچھا :”وہ پتھر کیا تھا؟اور اُس کے بڑے ہونے کا کیا مطلب ہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”جو پتھر اُس بُت کو آکر لگا تھا اور اُس بُت کو ریزہ ریزہ کردیا تھا ۔ وہ اﷲ کا دین (اسلام) ہے جو آخری زمانے میں مکمل طور پر ظاہر ہوگا (یعنی تمام انسانوں کے لئے مکمل شریعت) ۔ اﷲ تعالیٰ ملک عرب میں ایک ”نبی اُمی“ کو مبعوث فرمائے گا جس کی وجہ سے دوسرے ادیان اور قوموں کا وہ حشر ہوگا جو اُس بُت کا ہوا تھا ۔ وہ دین تمہارے خواب کے پتھر کی طرح بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ (اسلام) ساری زمین پر پھیل جائے گا ۔ اِس طرح باطل کی جگہ حق ، گمراہی کی ہدایت آجائے گی ۔ جاہل لوگ علم کی دولت سے مالامال ہوجائیں گے ۔ ضعیفوں کو قوت ، ناکسوں کو عزت اور بے کسوں کو نصرت (مدد) عطا کی جائے گی ۔“ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام خاموش ہوگئے ۔ دراصل خواب کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے بخت نصر کو اشارہ دیا تھا کہ اگر وہ عقلمند اور صاف ستھرے ذہن کا ہوتا تو حقیقت کو پالیتا لیکن اُس پر شیطان سوار تھا اور وہ گمراہی میں ہی پڑا رہا ۔

بخت نصر کو اسلام کی دعوت

حضرت دانیال علیہ السلام کے علم سے بخت نصر بہت متاثر ہوا اور آپ علیہ السلام کی بہت عزت کی ۔ اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا :”میں آپ (علیہ السلام) کو یہ اعزاز دیتا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) میرے مقربین (خاص مشیر یا دوست) میں شامل ہوجائیں۔“ لیکن آپ علیہ السلام نے اُس کی پیشکش کو قبول نہیں کیا اور فرمایا :”اﷲ تعالیٰ نے مجھے یہ علم دنیاوی فائدے اُٹھانے کے نہیں عطا فرمایا ہے بلکہ بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے عطا فرمایا ہے اور میں تمہیں بھی اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔ اسلام قبول کرلو ، دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوجاو¿گے اور اِسی میں تمہاری بھلائی ہے اور بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کردو اور اُنہیں میرے ساتھ ہمارے علاقے میں واپس جانے دو۔“ لیکن بخت نصر نے انکار کردیا اور آپ علیہ السلام واپس آگئے ۔

حضرت دانیال علیہ السلام قید خانے میں

حضرت دانیال علیہ السلام نے بخت نصر کو اسلام کی دعوت دی لیکن اُس کی بدبختی کہ اُس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ اُس کی انبیاءسے ملاقات ہوئی اور خواب کے ذریعے اشارہ بھی دیا گیا لیکن اُس بدنصیب پر شیطان سوار تھا ۔ اِسی لئے اُس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ حضرت دانیال علیہ السلام مسلسل اِس کوشش میں لگے رہے کہ بنی اسرائیل میں بیداری آجائے اور وہ اﷲ رب العزت کو اور اُس کی بارگاہ میں اپنے مقام کو پہچان لے ۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کو اپنی جدوجہد میں کامیابی ملنے لگی اور بنی اسرائیل میں بیداری پیدا ہونے لگی ۔ وہ غلامی کی زندگی سے نجات کے لئے جدوجہد کے بارے میں غوروفکر کرنے لگے ۔ بخت نصر کے درباریوں اور وزیروں نے آپ علیہ السلام کی شکایت کی کہ وہ تمہارے غلاموں (بنی اسرائیل) میں بغاوت کا جذبہ پیدا کررہے ہیں ۔ بخت نصر نے حضرت دانیال علیہ السلام کو بلوا کر پوچھا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا :”تمہارے لئے بہتر یہی ہے کہ تم بنی اسرائیل کو آزاد کردو اور میں اُنہیں لیکر ہمارے ملک واپس چلا جاو¿ں ۔“ بخت نصر نے کہا :”یہ نہیں ہوسکتا ہے ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :” تو پھر ٹھیک ہے! میں اپنا کام جاری رکھوں گا اور انشاءاﷲ ایک وقت ایسا آئے گا کہ بنی اسرائیل تمہاری غلامی سے آزاد ہوجائیں گے ۔“ یہ سُن کر بخت نصر نے اپنے سپاہیوں کو حُکم دیا کہ اِس باغی کو گرفتار کرلو اور قید خانے میں ڈال دو۔

شیروں نے نہیں کھایا

حضرت دانیال علیہ السلام کو بخت نصر نے قید خانے میں ڈال دیا ۔ بنی اسرائیل کو جب آپ علیہ السلام کی گرفتاری کا علم ہوا تو وہ بغاوت پر اُتر آئے اور اُس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ یہ دیکھ کر بخت نصر نے آپ علیہ السلام سے کہا :”اِن غلاموں کو سمجھائیں ۔“ لیکن آپ علیہ السلام نے انکار کردیا اور فرمایا :”بنی اسرائیل کو آزاد کردو ، ورنہ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری حکومت کے زوال کا سبب بن جائیں گے ۔“ بخت نصر نے کہا :”آپ (علیہ السلام) اپنی قوم کے لوگوں کو روکیں ، ورنہ میں آپ علیہ السلام کو شیروں کے آگے ڈال دوں گا اور بنی اسرائیل کو سختی سے کچل دوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”برسوں بعد بنی اسرائیل جاگے ہیں اور میرا کام پورا ہوگیا ہے ۔ اگر تم نے مجھے قتل بھی کردیا تب بھی یہ تحریک جاری رہے گی اور تمہاری حکومت کے لئے چیلنج بنی رہے گی ۔“ بخت نصر کو یہ سن کر غصہ آگیا اور اُس نے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پیر باندھ کر ایک گہرے کنویں میں دو بھوکے شیروں کے آگے ڈال دیا لیکن یہ دیکھ کر اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بھوکے شیر آپ علیہ السلام پر بری طرح سے جھپٹے لیکن قریب پہنچ کر آپ علیہ السلام کو سونگھنے لگے اور پھر خاموشی سے اپنی اپنی جگہ واپس جاکر بیٹھ گئے ۔ یہ دیکھ کر بخت نصر کی آنکھ نہیں کھلی اور اُس نے کہا :”یہ شخص جادوگر ہے ۔اِس نے شیروں پر بھی جادو کر دیا ہے ۔“

اﷲ تعالیٰ نے رزق پہنچایا 

حضرت دانیال علیہ السلام کو بھوکے شیروں نے نہیں کھایا اور بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو وہیں چھوڑ دیا اور بولا :”جب شیروں کے لئے بھوک ناقابل برداشت ہوجائے گی تو وہ آپ (علیہ السلام) کو کھا جائیں گے ۔“ اِس طرح آپ علیہ السلام وہیں شیروں کے ساتھ گہرے کنویں میں قید رہے ۔ کئی دن گزر جانے کے بعد آپ علیہ السلام بھوک اور پیاس کی شدت محسوس کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ دعا کی ۔اﷲ رب العزت نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی ۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام ویران اور کھنڈر بیت المقدس میں رہ رہے تھے ۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :”حضرت دانیال علیہ السلام کے لئے کھانے کا انتظام کرو ۔“ آپ علیہ السلام نے عرض کیا :”اے اﷲ تعالیٰ ! میں یروشلم میں ہوں اور وہ بابل میں ہیں ۔“ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا :”ہم تمہیں وہاں پہنچا دیں گے ۔“ آپ علیہ السلام نے حضرت دانیال علیہ السلام اور شیروں کے لئے کھانا لیا اور ایک فرشتے نے آپ علیہ السلام کو حضرت دانیال علیہ السلام کے پاس پہنچا دیا ۔ کنویں کی کگار پر پہنچ کر حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے آواز لگائی ۔

اﷲ کا شکر ادا کیا

حضرت ارمیا علیہ السلام کی آواز سن کر حضرت دانیال علیہ السلام نے آواز لگائی :”کون ہے؟“ اوپر نے انہوں نے آواز دی :”میں ارمیاہ (علیہ السلام) ہوں اور آپ (علیہ السلام) کے لئے کھانا اور پانی لایا ہوں ۔ مجھے اﷲ رب العزت نے بھیجا ہے ۔“ یہ سُن کر حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا :”تمام تعریفیں اُس اﷲ کے لئے ہیں جو اُمید رکھنے والوں کو جواب دیتا ہے ۔ تمام تعریفیں اﷲ رب کائنات کے لئے ہیں کہ جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ اُسے دوسروں کے سُپرد نہیں کرتا ۔ تمام تعریفیں اُس اﷲ کے لئے ہیں جو نیکی کا بہترین صلہ عطا فرماتا ہے ۔ تمام تعریفیں اﷲ رب کریم کے ہیں جو صبر کی جزا نجات کی صورت میں عطا فرماتا ہے ۔“ اِس طرح حضرت دانیال علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اﷲ تعالیٰ شیروں کو بھی رزق پہنچاتا رہا ۔ آپ علیہ السلام وہیں قید رہے لیکن آپ علیہ السلام کی بنی اسرائیل میں آزادی کی پیدا کی ہوئی چنگاری شعلہ بن گئی اور بنی اسرائیل نے بخت نصر سے بغاوت کردی ۔ جسے اُس نے سختی سے کچل دیا لیکن اس کے بعد بھی بنی اسرائیل کی جدوجہد جاری رہی اور اُس کے بعد بخت نصر کبھی سکون سے حکومت نہیں کرسکا ۔ اندرونی خانہ جنگی نے اُسے اتنا کمزور کردیا کہ آس پاس کے ممالک میں اُس کی ہوا اُکھڑ گئی ۔ اِس دوران حضرت دانیال علیہ السلام کا اسی کنویں میں وصال ہوگیا ۔ 

حضرت دانیال علیہ السلام کی دعا

حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین کے بارے میں کئی روایات ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت دانیال علیہ السلام سے دعا کی تھی :”اے اﷲ رب العزت! وہ آخری نبی صلی اﷲ علیہ وسلم جن کا بنی اسرائیل انتظار کررہے ہیں میں چاہتا ہوں کہ ’[اُس آخری نبی“ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کے لوگ مجھے دفن کریں۔“ اﷲ تعالیٰ نے دعا قبول فرمائی اور آپ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت میں جب عراق ایران فتح ہورہے تھے ۔ اسی دوران حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے ”تستر“ فتح کیا تو ہرمزان کے خزانے میں ایک تخت پر ایک لاش رکھی ہوئی ملی اور لاش کے سرہانے ایک عبرانی زبان میں لکھا ہوا مصحف رکھا ہوا تھا ۔ لاش کی اُنگلی میں ایک انگوٹھی بھی تھی جس پر نقش بنا ہوا تھا کہ دو شیر ایک شخص کا پید چاٹ رہے ہیں ۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ نے وہ مصحف حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں روانہ کردیا ۔

حضرت دانیال علیہ السلام کی تدفین

حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو عبرانی زبان میں لکھا ہوا وہ مصحف پہنچا تو آپ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب بن احبار کو بلوایا ۔ وہ عبرانی زبان جانتے تھے ۔ وُنہوں نے اس مصحف کا وربی ترجمہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت دانیال علیہ السلام کی لاش ہے ۔ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے حُکم بھیجا کہ لاش مبارک کو خفیہ طور سے دفن کراو¿ ۔ اُس کے ساتھ جو خزانہ ملا ہے اُسے لشکر میں تقسیم کردو اور خمس بیت المال کے لئے بھیج دو اور انگوٹھی تم رکھ لو ۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی عنہ نے وہ انگوٹھی رکھ لی جو نسل در نسل اُن کی اولاد میں چلتی رہی ۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے حضرت دانیال علیہ السلام کو غسل دیا اور نماز جنازہ پڑھائی ۔ اس کے بعد انتہائی خفیہ طریقے سے اُن کی تدفین کی ۔ ایک روایت میں ہے کہ تین سزائے موت پاچکے قیدیوں کو لا کر قتل کرکے چار الگ الگ قبریں کھدوائیں اور ایک میں آپ علیہ السلام کو دفن کیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ تیرہ الگ الگ قبریں کھدوائیں اور اُن میں سے ایک میں دفن کیا اور بھی کئی روایتیں ہیں ۔ اب حقیقت کا علم صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے ۔

بنی اسرائیل کی جدوجہد

حضرت دانیال علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی غلامی کے چھبیسویں 26 ویں سال یا ستائسویں 27 ویں سال میں اعلان نبوت کیا تھا ۔ اُس کے ساتھ یا آٹھ کے بعد میں بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو شیروں کے ساتھ کنویں میں قید کردیا تھا ۔ اس کے بعد وہ صرف پانچ سال ہی حکومت کرسکا تھا ۔ اس کے بعد اُس کا انتقال ہوگیا لیکن اِن پانچ سالوں میں وہ سکون سے حکومت نہیں کرسکا ۔ بنی اسرائیل مسلسل اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور بخت نصر بزور ِ طاقت اُنہیں دبانے کی کوشش کرتا رہا ۔ بخت نصر نے چالیس 40 سال حکومت کی اور اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا المرودخ بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس نے تین یا چار سال حکومت کی اس کے بعد بہمن بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل کو آزادی ملی اور وہ حضرت عُزیر علیہ السلام کے ساتھ اپنے علاقے میں واپس آئے ۔ اِس کا تفصیلی ذکر ہم انشاءاﷲ حضرت عُزیر علیہ السلام کے ذکر میں کریں گے ۔ 

بنی اسرائیل کی نافرمانیاں

حضرت شعیا علیہ السلام کے حالات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل اور اُن کے علما اور بادشاہ سب گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا اور اﷲ رب جلال کے عذاب سے ڈرایا لیکن بنی اسرائیل نافرمانیوں سے باز نہیں آئے اور اُلٹا آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے اور بے رحمی سے شہید کردیا ۔ اِس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک اور موقع دیا اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو سمجھایا اور آپ علیہ السلام کی بات یوسیاہ بادشاہ نے مانی اور اﷲ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق حکومت کی ۔ لیکن اُس کے انتقال کے بعد بنی اسرائیل اور بادشاہ پھر نافرمانی کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بہت سمجھایا اور بتایا کہ اگر تم لوگ برائیوں اور نافرماینوں سے باز نہیں آو¿ گے تو اﷲ تعالیٰ تم پر کسی ظالم بادشاہ کو مسلط کردے گا اور وہ تمہیں غلام بنا کر لے جائے گا ۔ یہ سن کر بھی بنی اسرائیل اور اُن کے بادشاہ کی آنکھ نہیں کھلی اور اُن کے علماءاور بادشاہ اور عوام سب لوگ خلاف ہوگئے اور آپ علیہ السلام کو قید میں ڈال دیا ۔

ستر 70 سال غلامی کی زندگی گزاروگے

حضرت ارمیاہ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو سمجھا رہے تھے تب انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر تم نافرمانیوں اور گمراہیوں سے باز نہیں آو¿ گے تو اﷲ تعالیٰ تمہیں دوسروں کا غلام بنا دے گا اور تم ستر 70 سال تک غلامی کی زندگی گزاروگے ۔ یوسیاہ بادشاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکومت کے چوتھے سال میں بخت نصر بابل کا بادشاہ بنا ۔ اِن چار سالوں میں حضرت ارمیاہ علیہ السلام بنی اسرائیل اور یہویقیم کو سمجھاتے رہے لیکن دن بہ دن اُن کی نافرمانیاں اور گمراہیاں میں اضافہ ہی ہوتا جارہا تھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے فرمایا :”پچھلے تئیس 23 سال سے (یوسیاہ کی حکومت کے تیرہویں سال سے ) آج تک اﷲ کا کلام مجھ پر نازل ہوتا رہا ہے اور میں بار بار تمہیں سناتا رہا ہوں ۔ یوسیاہ بادشاہ نے میری بات مانی اور کامیاب رہا ۔ لیکن اُس کے بعد تم لوگ اﷲ کی نافرمانی اور گمراہیوں میں مبتلا رہوگئے اور میری بات ماننے کے بجائے ،میری مخالفت کررہے ہو ۔ تم نے اﷲ کے کلام کو ٹھکرا دیا ۔ اب بھی وقت ہے تم میں سے ہت ایک برے راستوں پر چلنے سے اور برے اعمال کرنے سے باز آجائیں تاکہ تم اِس ملک میں رہ سکو جو اﷲ تعالیٰ نے تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو دیاہے ۔ غیر موبدوں کو پوجا اور عبادت سے باز آو¿ اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی مورتیوں کی پوجا کرکے اﷲ کے غضب کو دعوت مت دو ۔ لیکن تم نے میری بات نہیں مانی ۔ اﷲ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ تم نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزوں کی عبادت کرکے مجھے غضب ناک کردیا ہے اور خود اپنا نقصان کرلیا ہے ۔ اِس لئے اﷲ رب الافواج فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے میرا کلام نہیں سنا ۔ اِس لئے ظالم بخت نصر بابل کے بادشاہ کو تم پر مسلط کردوں گا اور تمہارے اوپر چڑھا لاو¿ں گا اور تمہیں بالکل برباد کردوں گا تاکہ تم دہشت ، حقارت اور تباہی اور بربادی کی مثال بن جاؤ گے ۔ یہ تمام ملک غیر آباد اور ویرانہ بن جائے گا اور تم لوگ ستر 70 سال تک بال کے بادشاہ کے خدمت گزار بن جاو¿گے ۔

اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عذاب یا سزا

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی زبانی اﷲ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو صاف لفظوں میں وارننگ دی تھی لیکن وہ بدبخت اتنے زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے تھے کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کے ڈرانے کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ اُلٹا آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور زجو¿نجیروں میں جکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا ۔ آخر کار بنی اسرائیل پر اﷲ تعالیٰ کا عذاب یا سزا بخت نصر کی شکل میں نازل ہوا ۔ اُس نے لاکھوں بنی اسرائیل کا قتل عام کیا ۔ تمام شہروں اور بستیوں کو جلا دیا اور تباہ و برباد کرڈالا ۔ یہاں تک کہ ہیکل سلیمانی یعنی بیت المقدس کو مسمار کردیا اور اُس میں کی تمام قیمتی چیزیں لوٹ لیں ۔ اور بچے کچے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر بابل لے گیا ۔بخت نصر کی غلامی میں بنی اسرائیل نے لگ بھگ چھبیس 26 یا ستائیس 27 گزارے تو حضرت دانیال علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور بنی اسرائیل کو سمجھانے لگے اور اﷲ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد یاد دلانے لگے اور اُنہیں غلامی کی زندگی سے نجات دلانے کے لئے جدوجہد کرنے لگے ۔ دھیرے دھیرے سات یا آٹھ سال کی جدوجہد کے بعد بنی اسرائیل نے اچھی خاصی بیداری پیدا ہوگئی ۔ بخت نصر کو خبر ہوئی تو اُس نے آپ علیہ السلام کو باغٰ قرادے کر بغاوت پھیلانے کے جرم میں قید خانے میں ڈال دیا۔ جہاں آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلا لیا ۔ 

بنی اسرائیل کی کامیابی

حضرت دانیال علیہ السلام کو بخت نصر نے قید کر دیا لیکن آپ علیہ السلام نے ایسا بیج بو دیا تھا کہ آپ علیہ السلام کی تحریک مسلسل جاری رہی ۔ بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی قید کی وجہ سے پوری طرح جاگ گئے اور اپنی آزادی کے لئے مسلسل جدوجہد کرنے لگے ۔ بخت نصر طاقت سے اُنہیں دباتا رہا لیکن کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر کار اُس کا انتقال ہوگیا اور اُس کا بیٹا المردوخ بابل کا بادشاہ بنا ۔ اُس کے دورِ حکومت میں پڑوسی ملک فارس (ایران) میں زرتشت کا مذہب پھیل گیا تھا اور وہاں آگ کی پوجا عام ہوگئی تھی ۔ (زرتشت حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے شاگردوں میں سے ایک تھا اور گمراہ ہو کر فارس بھاگ گیا تھا ۔ اس کا تفصیلی ذکر حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے ذکر میں پڑھیں) اور دھیرے دھیرے ”سلطنت فارس“ کی حکومت عروج پر آرہی تھی ۔ المردوخ نے تئیس 23 سال حکومت کی اور اُس کے دورِ حکومت میں بھی بنی اسرائیل کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رہی اور وہ طاقت سے دبانے کی کوشش کرتا رہا ۔ اِس طرھ پہلے بخت نصر اور پھر اُس کے بیٹے کی ساری توجہ اندرونی حالات درست کرنے پر مرکروز رہی اور پڑوسی ممالک پر سے توجہ ہٹ گئی ۔ جس کی وجہ سے ملک فارس بہت مضبوط ہوگیا ۔ بنی اسرائیل کے علما نے فارس جا کر وہاں کے بادشاہ سے دوستی کرلی اور اُسے بابل کی حکومت کے خلاف اُکسانے لگے ۔ المردوخ کو قتل کرکے بہمن تب تک بابل کا بادشاہ بن گیا تھا ۔ اُس وقت تک فارس کی حکومت بہت طاقتور اور بابل کی حکومت بہت کمزور ہوگئی تھی ۔ آخر کار فارس کا بادشاہ ”خواس“ فوج لیکر بابل پع حملہ کرنے آیا ۔ بہمن نے اُس سے صلح کرلی اور اُس کی اطاعت قبول کرلی ۔ تب خورس نے بہمن کو حُکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کے علما اور معماروں کو یروشلم بھیجے ، جہاں وہ اُن کے معبود (اﷲ تعالی) کی عبادت کے لئے گھر (بیت المقدس) تعمیر کریں ۔ 

حضرت عُزیر علیہ السلام کی بعثت

حضرت ارمیہاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ ستر 70 سال تک کی غلامی کے بعد اﷲ تعالیٰ تمہیں آزادی عطا فرمائے گا اور تم بیت المقدس کو دوبارہ آباد کروگے ۔ بخت نصر کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل غلاموں کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ اُس کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا حکمراں بنا تو اُس نے بھی بنی اسرائیل پر ظلم جاری رکھا اور وہ غلامی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔ اِس کے دورِ حکومت میں حضرت عُزیر علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور آپ علیہ السلام نے آزدی کی تحریک کو جاری رکھا جس کی ابتدا حضرت دانیال علیہ السلام نے کی تھی ۔ بہمن کے بابل کا بادشاہ بننے کے وقت تک حضرت عُزیر علیہ السلام نے فارس کے بادشاہ ”خورس“ سے ملاقات کی اور وہ آپ علیہ السلام سے بہت متاثر ہوا تھا اور جب بابل کی حکومت اُس کے زیر اطاعت آگئی تو اُس نے بہمن کو حُکم دیا کہ دھیرے دھیرے کرکے وہ بنی اسرائیل کو مکمل طور سے آزاد کردے ۔خورس نے ایک تحریری فرمان جاری کیا جس میں لکھا تھا ”آسمان کے خدا نے زمین کی تمام مملکت مجھے عطا کردی ہیں اور مجھے مامور کیا ہے کہ میں یہوداہ (بنی اسرائیل) کے شہر یروشلم میں اُس کے لئے ایک گھر تعمیر کرواو¿ں ۔ لہٰذا اُس کی اُمت میں سے جو کوئی ہمارے درمیان موجود ہے خدا اُس کے ساتھ ہو ۔ وہ یہوداہ کے شہر یروشلم چلا جائے اور وہاں بنی اسرائیل کے معبود (اﷲ) کا گھر تعمیر کرے ۔ جو بنی اسرائیل یہاں رہ جائیں وہ سب کے سب اﷲ کے گھر کے لئے چاندی ، سونا سامان ، مال اور مویشی دیں۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ نسب

حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب حضرت ہارون علیہ السلام سے جا کر ملتا ہے ۔ یعنی آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور قبیلہ بنو لاوی میں سے ہیں ۔ حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے نماز کے امام تھے ۔ اُن کے انتقال کے بعد اُن کے بیٹے الیعزر بن ہارون بنی اسرائیل کے نماز کے امام بنے ۔ اِس طرح یہ سلسلہ اُن کی اولاد میں چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت عُزیر علیہ السلام نے اعلان نبوت فرمایا ۔ چونکہ آپ علیہ السلام امامون کے خاندان سے تھے اِس لئے بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے تھے اور صرف نماز کے امام مانتے تھے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اِس طرح ہے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام بن سرایاہ بن عزریاہ بن سلوم بن صدوق بن اخیطوب بن امریاہ بن عزریاہ بن مرایوت بن زرافیاہ بن عزیٰ بن قمی بن اہیسع بن فیخاس بن الیعزر بن حضرت ہارون علیہ السلام ۔ بائیبل میں حضرت عُزیر علیہ السلام کا نام ”’عزرائ“ لکھا ہو ہے لیکن چونکہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں عُزیر فرمایا ہے اِس لئے ہم عُزراءکے بجائے حضرت عُزیر علیہ السلام ہی کہیں گے ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل کی وطن واپسی

حضرت عُزیر علیہ السلام بابل مین ہی مقیم رہے اور بنی اسرائیل کو مسلسل قافلوں کی شکل میں وطن واپس بھیجتے رہے ۔ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں تھے اِس لئے اِ ن کی وطن واپس میں کافی عرصہ لگ گیا ۔ جب بنی اسرائیل کی اکثریت وطن واپس لوٹ گئی تو آپ علیہ السلام آخری قافلے کو لیکر جانے کی تیاری کرنے لگے ۔ فارس کے بادشاہ (بابل اُس وقت ”سلطنتِ فارس“ کے ماتحت آگیا تھا) سے وطن واپس جانے کی اجازت مانگی ۔ اُس وقت سلطنت فارس کا بادشاہ ایک روایت کے مطابق ”خورس“ تھا ۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے ”کیرش“ لکھا ہے اور ایک روایت کے مطابق اُس کا نام ”ارتخشتا“ تھا ۔ اُس بادشاہ نے اجازت دے دی اور ایک فرمان جاری کیا جس میں لکھا تھا ”شہنشاہ ارتخشتا کی جانب سے عُزیر اسرائیلوں کے امام کے نام! جو آسمان کے معبود (اﷲ تعالیٰ ) کی شریعت کا معلم ہے ! آپ سلامت رہیں! میں فرمان جاری کرتا ہوں کہ میری مملکت میں سے جو بھی بنی اسرائیل آپ (علیہ السلام) کے ساتھ وطن واپس جانا چاہتے ہیں وہ جاسکتے ہیں ۔ میں اپنے تمام گورنروں اور مُشیروں کی طرف سے اجازت دیتا ہوں کہ آپ (علیہ السلام) تمام بنی اسرائیل کو لیکر اپنے وطن واپس جاسکتے ہیں ۔ اِس کے علاوہ میری طرف سے اور میرے گورنروں کی طرف سے وہ تمام سونا آپ (علیہ السلام) کی نذر ہے جو بابل صوبہ سے حاصل ہوا ہے ۔ اِس کے علاوہ نقد روپیہ ، بیل ، گھوڑے ، اونٹ ، مینڈھی اور اناج وغیرہ بھی ہدیہ کے طور پر پیش ہے ۔ یہ سب آپ (علیہ السلام) لے جائیں اور یروشلم میں اسرائیل کے معبود (اﷲ تعالیٰ) کے گھر کی نذر دیں۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام کے قافلے کے بنی اسرائیل کی تعداد

حضرت عُزیر علیہ السلام کی خدمت میں اتنا عرض کرنے کے بعد فارس کے بادشاہ نے آگے فرمان جاری کیا :”اب میں بادشاہ ارتخشتاس بابل کے خزانچیوں کو حُکم دیتا ہوں کہ عُزیر (علیہ السلام) جو آسمان کے معبود کی طرف سے معلم ہیں ، جو کچھ بھی وہ طلب کریں وہ فوراً دیا جائے یعنی سونا ،چاندی ، گیہوں ، زیتون کا تیل اور نمک بھی فوراً دیا جائے ۔“ بابل کے گورنر نے فوراً بادشاہ کے فرمان پر عمل کیا اور ضروریات کی تمام چیزیں آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کردیں ۔ اِس طرح آپ علیہ السلام بابل میں بچے ہوئے تمام بنی اسرائیل کو لیکر یروشلم کی طرف رووانہ ہوگئے ۔ اِس قافلے میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں کے لوگ تھے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے اور اُن بارہ بیٹوں کی اولاد کے مجموعہ کو ”بنی اسرائیل“ کہا جاتا ہے ۔ اِس بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی اور ہر بھائی کے نام پر اُس کے قبیلے کا نام تھا ۔ اِس قافلے میں ہر قبیلے کے مرد عورتیں اور بچوں کو ملا کر سینکڑوں کی تعداد تھی اور تمام بارہ قبیلوں کے لوگوں کی مجموعی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ۔ بنی اسرائیل کی اکثریت پہلے ہی اپنے وطن واپس آ کر بس چکی تھی ۔ اِس آخری قافلے کو لیکر حضرت عُزیر علیہ السلام بھی یروشلم پہنچ گئے۔ اِس طرح آپ علیہ السلام کی قیادت میں تمام بنی اسرائیل وطن واپس ہوگئے ۔

ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کی تعمیر نو

حضرت عُزیر علیہ السلام کی درخواست پر فارس کے بادشاہ نے بنی اسرائیل کو آزاد کردیا اور آپ علیہ السلام بابل میں ہی رہ کر مسلسل بنی اسرائیل کے قافلے وطن واپس بھیجتے رہے ۔ بنی اسرائیل کی تعداد لاکھوں میں تھی اِس لئے اُنہیں تمام بنی اسرائیل کو واپس بھیجنے میں کافی عرصہ لگا ۔ اِس دوران آپ علیہ السلام مناسب ہدایات دیتے رہے اور جس قبیلے کا جو علاقہ تھا اُسے وہیں بھیج کر بساتے رہے ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد اُن کی حکومت کو بنی اسرائیل نے دو حصوں میں تقسیم کرلیا تھا ۔ بنو بہود اور بنو بنیامن نے مل کر یروشلم اور اُس کے آس پاس کے علاقوں پر ”سلطنت ِ یہوداہ یا یہودیہ“ کے نام سے اپنی حکومت قائم کرلی تھی ۔ باقی دس قبائل نے فلسطین کا بقیہ حصہ ، لبنان اور اُردن اور ملک شام کے کچھ علاقوں پر ”سلطنت اسرائیل یا اسرائیلیہ“ کے نام سے قائم کرلی تھی ۔ جس کا نام بدل کر بعد میں ”سلطنت سامریہ“ رکھ دیا گیا تھا ۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اُس وقت وہ پورا علاقہ ”ملک کنعان“ کہلاتا تھا ۔ بعد میں اِس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے فلسطین ، لبنان اور اُردن نام کے ملک بنا دیئے گئے اور بقیہ علاقے کو ملک شام میں ضم کردیا گیا ۔ اِس طرح ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا ۔ بہرحال حضرت عُزیر علیہ السلام نے پہلے ہی ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) کی تعمیر نو کا کام شروع کروادیا تھا اور جب بھی یروشلم قافلہ بھیجتے تھے تو اُس کی تعمیر نو کے بارے میں مناسب ہدایات دیتے تھے ۔ جب آخری قبیلے کو لیکر آپ علیہ السلام بیت المقدس یعنی یروشلم پہنچے تو نذر کا تمام سامان ہیکل سیلمانی کے ذمی داروں کے حوالے کیا اور اپنءنگرانی میں تعمیر مکمل کرائی ۔ اِس کے بعد یروشلم سے لیکر لبنان ، اُردن اور ملک شام تک کے جن علاقوں میں بنی اسرائیل تھے ، ہر جگہ جا کر آپ علیہ السلام نے وہاں پر آباد بنی اسرائیل کے لئے رہنے ، کھانے اور پینے کے بہترین انتظامات کئے اور اُن کے سردار اور حکرماں مقرر کئے ۔ اُن کے لئے اسلامی تعلیم کا انتظام کیا اور اسلامی قانون نافذ کیا ۔اِسی دوران آپ علیہ السلام کے سو100 سال سونے کا واقعہ پیش آیا ۔ 

اﷲ تعالیٰ مارنے کے بعد زندہ کرے گا

اﷲ رب العزت نے سورہ البقرہ میں فرمایا :”(ترجمہ) یا جیسے وہ شخص جو ایک بستی سے گزرا کہ وہ بستی اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی ۔ اُس نے کہا :”اِس بستی کو جب کہ وہ ختم ہو چکی ہے اﷲ تعالیٰ اِس کو کیسے زندہ کرے گا؟“ اﷲ تعالیٰ نے اُس پر سو سال موت کو طاری کردیا پھر اُس کو زندہ کرکے دوبارہ اُٹھایا ، پوچھا :”تم کتنی مدت سوتے رہے ہو؟“ اُس نے کہا :”دن بھر یا آدھا دن سوتا رہا ہوں۔“ اﷲ نے فرمایا :”نہیں! بلکہ تم ایک سو سال تک پڑے سوتے رہے ہو ۔ اب اپنے کھانے کی طرف دیکھو کہ اُس میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اپنے گدھے کو دیکھو (کس طرح گل سڑ گیا ہے) اور اِس سے ہمارا مقصد ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے نشانی بنادینا چاہتے ہیں ۔ اب دیکھو اپنے گدھے کی (بکھری ہوئی ہڈیوں کی) طرف کہ ہم کس طرغ اُن کو جوڑتے ہیں پھر کس طرح ان پر گوشت چڑھا دیتے ہیں ۔“ پھر جب بات بالکل واضح ہوگئی تو کہنے لگا :”میں جانتا ہوں کہ بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر (پوری) قدرت رکھنے والا ہے ۔“ (سورہ ابقرہ آیت نمبر 259 ) اِس آیت کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ یہ کون شخص تھا اور کس بستی سے گزرے تھے؟ اِس کے لئے علمائے مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں ۔ غالب گمان یہ ہے کہ حضر عُزیر علیہ السلام تھے جو اُس بستی سے گزر رہے تھے جس کو بخت نصر نے تباہ و بارباد کردیا تھا اور وہاں رہنے والوں کا قتل عام کیا تھا ۔ جیسا کہ آپ نے ترجمہ میں دیکھا کہ اﷲ رب العزت نے اپنی قدرتِ کاملہ سے کس طرح حضرت عُزیر علیہ السلام پر ایک سوسال تک موت کی کیفیت کو طاری رکھا ۔ وہ کھانا جو گل سڑ کر خراب ہوجانے والا تھا اُس کو محفوض رکھا اور گدھا جو عموماً دوچار دنوں میں ہڈیوں کا ڈھانچہ نہیں بن جاتا ہے ۔ اُس کے اجزاءکع بکھیر دیا لیکن اپنی قدرت کاملہ سے اُس کجو دوبارہ زندہ کرکے دکھا دیا کہ موت کے بعد اِس طرح تمام انسان بھی زندہ کردیئے جائیں گے ۔ یہ بھی بتا دیا کہ موت فنا کا نام نہیں ہے بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے جو نسانوں پر طاری کردی جاتی ہے ۔ صور پھونکے جانے کے بعد تمام انسان اِسی طرھ اپنی قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے ۔ تیسری بات یہ فرمائی :جس طرح عموماً کھانا ایک دن دھوپ میں رکھے جانے سے سٹر جاتا ہے ، اﷲ تعالیٰ کی یہ قدرت ہے کہ وہ اِس کو چاہے تو ایک سو سال تک اُسی طرح محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ یہ تمام باتیں اُس اﷲ کی قدرت کی طرف اشارہ ہیں جو تمام چیزوں پر قادر مطلق ہے اور موت و حیات سب اُس کے قبضہ¿ قدرت میں ہے ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کا تعجب

حضرت عُزیر علیہ السلام مسلسل سفر میں تھے اور تمام بنی اسرائیل کے علقوں میں گھوم گھوم کر اُن کی دینی اور دنیاوی ضرورتوں کے مطابق ہدایت دے رہے تھے ۔ بخت نصر آزادی حاصؒ کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی مجموعی اور مستحکم حکومت نہیں تھی بلکہ ہر علاقے میں ہر قبیلے نے اپنے اپنے حکمراں بنا لئے تھے جو حضرت عُزیر علیہ السلام کے ماتحت تھے۔ اِسی طرح سفر کرنے کے دوران آپ علیہ السلام کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جو اُلٹی پڑی تھی ۔ چاشت کا وقت ختم ہورہا تھا اور گرمی اور دھوپ کی شدت میں اضافہ ہونے لگا تو آپ علیہ السلام نے اِسی بستی کے کھنڈرات میں قیام کرنے کا ارادہ فرمایا تاکہ جب دھوپ میں تیزی ختم ہوجائے تو آگے سفر جاری کیا جائے ۔ آپ علیہ السلام اُس اُلٹٰ ہوئی بستی میں داخل ہوگئے اور ایک سایے دار جگہ پر اپنی سواری یعنی خچر سے اُتر پڑے ۔ خچر گھوڑے سے کچھ کم قد کا اور گدھے سے کچھ زیادہ قد کا ہوتا ہے اور عربی میں اِسے گدھا ہی کہا جاتا ہے ۔ اِس لئے واقعہ میں ہم بھءگدھا ہی کہیں گے کیونکہ اکثر علمائے کرام نے جب بھی یہ واقعہ بیان کیا تو یہی بتایا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کی سواری ایک گدھا تھا ۔ آپ علیہ السلام اپنے گدھے سے اُترے اور اسے ایک سائے دار جگہ پر باندھ دیا اور آس پاس سے اُس کے کھانے کے لئے چارہ لاکر اسے دے دیا ۔ اِس کے بعد سائے میں بیٹھ کر اپنا کھانا نکالا ۔ آپ علیہ السلام کے پاس انگور تھے اور سوکھی روٹیاں تھیں ۔ آپ علیہ السلام نے ایک پیالے میں انگوڑ کا رس نچوڑا اور سوکھی روٹیاں اُس میں ڈالیں تاکہ خوب اچھی طرح بھگو کر نرم ہاجائیں ۔ اِسی انتظا میں آپ علیہ السلام دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ۔ آپ علیہ السلام کے اطراف انسانوں کی ہڈیاں بکھری ہوئی پڑی تھیں ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھنے لگے ، کہیں ہاتھ کی ہڈی پڑی تھی ، کہیں پیر کی ہڈی پڑی تھی اور کہیں کھوپڑی پڑی ہوئیں تھیں۔ آپ علیہ السلام نے اِن انسانوں کی ہڈیوں کو دیکھ کر تعجب سے سوچا اور فرمایا :”اے اﷲ تعالیٰ! آپ اِن ہڈیوں سے دوبارہ زندہ انسان بنائیں گے ، یقینا یہ تو بہت مشکل کام ہے ، مجھے اِس بات پر بہت تعجب ہورہا ہے ۔“ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلا دیا اور موت طاری کردی ۔

سوسال بعد جگایا

اﷲ رب العزت نے آپ علیہ السلام کو اُسی کھنڈر میں سُلا دیا یا موت طاری کردی اور آپ علیہ السلام سوتے رہے اور وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا ۔ دن ہفتوں میں بدلتے رہے ، ہفتے مہینوں میں بدلتے اور مہینے برسوں میں بدلتے رہے ۔ اِس طرح برسوں گزر گئے اور اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلائے رکھا اور ضرورت کے مطابق کروٹ بھی بدلواتا رہا ۔ آخر کار جب سو سال یعنی ایک صدی گزر گئی تو اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جگا دیا ۔ آپ علیہ السلام ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھے اور اِدھر اُدھر دیکھ کر سوچنے لگے کہ میں کتنی دیر سویا تھا؟ اﷲ رب العزت نے اسیک فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجا ۔ اُس نے پوچھا :”آپ علیہ السلام کتنی دیر یہاں سوئے رہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ دن کا کچھ حصہ سویا رہا ہوں ، ایسا لگتا ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی سوگیا ہوں جبکہ مجھے ایک یا دو گھنٹوں میں اُٹھ جانا چاہیئے تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ میں کئی گھنٹوں تک سوتا رہا ہوں۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام کی حیرانی

حضرت عُزیر علیہ السلام کی بات سن کر فرشتہ مسکرانے لگا ۔ اُس نے اپما تعارف کرایا اور عرض کیا :”دراصل اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو سُلا دیا تھا اور آپ علیہ السلام دن کا کچھ حصہ نہیں بلکہ سو سال یعنی ایک صدی تک سوتے رہے ہیں ۔ یہ سُن کر حضرت عُزیر علیہ السلام حیرانی سے فرشتے ہو دیکھنے لگے ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ ، حضرت کعب اور وہب بن منبہ رضی اﷲ عنہم کی روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے پُرانی ہڈیاں دیکھیں تو فرمایا :”اﷲ تعالیٰ انہیں اِس حال میں پہنچانے کے بعد زندہ کیسے کرے گا؟“ آپ علیہ السلام نے یہ جملہ اﷲ تعالیٰ کے زندہ کرنے کے متعلق شک کی بنا پر نہیں فرمایا بلکہ تعجب کے طور پر کیا تھا ۔ پس اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت کو بھیجا اور اُس نے روح قبض کرلی پھر اُنہیں سو سال تک موت میں رکھا پھر جب سوسال گزر گئے اور اِس دوران بنی اسرائیل میں کئی نئے کام پیدا ہوگئے تب اﷲ تعالیٰ نے حضرت عُزیر علیہ السلام کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ´ اُس نے آپ علیہ السلام کے دل کو بنایا تاکہ آپ علیہ السلام معاملہ سمجھ سکیں اور آنکھوں کو بنایا تاکہ آپ علیہ السلام دیکھ سکیں کہ اﷲ تعالیٰ مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟ پھر اُس نے آپ علیہ السلام کے دوسرے اعضاءمکمل کئے اور یہ سب آپ علیہ السلام دکھ رہے تھے ۔ پھر اُس نے ہڈیوں کو گوشت ، بال اور کھال پہنائی اور آپ علیہ السلام اُٹھ کر بیٹھ گئے ۔ فرشتے نے پوچھا :”آپ علیہ السلام کتنا عرصہ اِس حال میں رہے؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”ایک دن“ اِس کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام دوپہر کے وقت سوئے تھے اور جب اُٹھے تو دن کا آخری حصہ تھا اور سورج ابھی ڈوبا نہیں تھا ۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا :”نہیں؟ ایک دن بھی نہیں ، بلکہ دن کا کچھ حصہ سویا تھا اور ایک دن بھی مکمل نہیں ہوا تھا ۔“ فرشتے نے کہا :”آپ علیہ السلام سوسال تک اِس حال میںرہے ۔“

کھانا بالکل تازہ رہا

حضرت عُزیر علیہ السلام ابھی فرشتے کی بات پر غور کررہے تھے کہ فرشتے نے آپ علیہ السلام کی توجہ کھانے کی طرف مبذول کروائی ۔ آپ علیہ السلام نے اُس پیالے کی طرف دیکھا جس میں روٹیاں انگور کے رس میں بھگونے کے لئے رکھ دیا تھا ۔ وہ بالکل ویسا ہی تازہ تھا اور جو سوکھی روٹیاں اُس میں رکھی تھیں اُسے چھو کر دیکھا تو وہ تھوڑی بہت نرم ہوئیں تھی اور مکمل طور سے بھیگ کر نرم ہونا باقی تھیں ۔ آپ علیہ السلام حیرانی سے فرشتے کو تکنے لگے کہ اس کے مطابق سو سال گزر چکے ہیں جبکہ ابھی روٹیاں مکمل طور سے بھیگی بھی نہیں ہیں ۔ فرشتے نے عرض کیا :”اﷲ رب العزت نے سو سال سے اِس کھانے کع اِسی طرح تروتازہ رکھا ہوا ہے اور اﷲ تعالیٰ کچھ بھی کرسکتا ہے ۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنبہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے جب پیالے میں روٹی اور شیرہ کو دیکھا تو اُس میں کوئی تبدیلی نہیں پائی ۔”لَم± یَتَسَنِّہ“ کا یہی مطلب ہے کہ اُس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ اِس بات کو آپ علیہ السلام نے عجیب سمجھا تو فرشتے نے عرض کیا ۔ ”آپ علیہ السلام تعجب کررہے ہیں۔ اچھا اُس جگہ دیکھیں ، جہاں اپنی سواری یعنی گدھے کو باندھا تھا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس جگہ دیکھا تو آپ علیہ السلام کو حیرت کا زبردست جھٹکا لگا ۔

گدھا (خچر) کی ہڈیاں بوسیدہ ہوکر بکھر گئیں

حضرت عُزیر علیہ السلام کھانے کو تعجب سے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ یہ بالکل ایسا لگ رہا ہے کہ بس ابھی میں نے روٹیاں شیرے میں بھگوئی ہیں یعنی کچھ گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں ۔ لیکن جب فرشتے کے توجہ دلانے پر اپنی سواری یعنی گدھے کی طرف دیکھا تو یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام کو حیرت کا زبردست جھٹکا لگا کہ گدھے کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر اِدھر اُدھر بکھری پڑی ہیں ۔ یعنی اُسے مرے ہوئے بہت زیادہ عرصہ بیت چکا ہے ۔ ہاں جس رسی سے آپ علیہ السلام نے اُسے باندھا تھا وہ اُسی طرح بندھی ہوئی ہے اور اُسی سے آپ علیہ السلام نے پہچانا کہ یہ گردن ہے ، یہ کھوپڑی ہے اور یہ سینے کا پنجر ہے ۔ آپ علیہ السلام کبھی تازہ کھانے کو دیکھتے اور کبھی گدھے کی بوسیدہ بکھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھتے ۔ کافی دیر تک دونوں کو دیکھنے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا :”یقینا میں سو سال تک سوتا رہا یا موت میں مبتلا رہا اور سوسال بعد اﷲ رب العزت نے مجھے پھر سے جگایا ہے یا زندہ کیا ہے۔یقین تو مجھے پہلے بھی تھا بس یہ خیال تھا کہ بہت مشکل کام ہے اور اتنا مشکل کام اﷲ تعالیٰ سے اتنی آسانی سے کردے گا ۔“

گدھا زندہ ہوگیا

حضرت عُزیر علیہ السلام سے فرشتے نے عرض کیا :”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے یہ سوچا کہ اِن بکھری ہوئی ہڈیوں کو جمع کرکے دوباتہ زندہ کرنا بہت مشکل کام ہے اور یہ کام اﷲ رب العزت کس طرح آسانی سے کرے گا؟“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”بے شک! میں یہی غور کررہا تھا۔“ فرشتے نے کہا :”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اب آپ علیہ السلام یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اﷲ رب العزت کتنی آسانی سے دوبارہ زندہ کرے گا؟ اور آپ علیہ السلام کے گدھے کی بکھڑی ہوئی ہڈیوں کو جمع کرکے کس طرح زندہ کرے گا؟“ یہ سن کر آپ علیہ السلام اُن بکھڑی ہوئی ہڈیوں کو دیکھنے لگے ۔ فرشتے نے کہا :”اے ہڈیو! اﷲ تعالیٰ کے حُکم سے جمع ہوکر گدھے کے ڈھانچے کی شکل اختیار کرلو ۔“ آپ علیہ السلام نے ہڈیوں کی طرف حیرانی سے دیکھا کہ تمام ہڈیوں میں حرکت پیدا ہوگئی اور دھیرے دھیرے گدھے کا ڈھانچہ بننے لگا ۔ یہاں تک کہ گدھے کا مکمل ڈھانچہ بن گیا ۔ اِس کے بعد ہڈیوں کے ڈھانچے پر گوشت چڑھنا شروع ہوا ، گوشت چڑھنے کے بعد اُس پر کھال چڑھنا شروع ہوئی اور کھال پر مکمل طور سے بال آگئے تو گدھا کان جھاڑتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔

اﷲ کا شکر ادا کیا

حضرت عُزیر علیہ السلام متحیر سے اﷲ تعالیٰ کی قدرت کا نظارہ کررہے تھے کہ کس طرح تمام ہڈیاں ایکدوسرے سے جُڑیں اور گوشت چڑھا ، اُس پر کھال چڑھی اور بال آگئے اور گدھا آواز لگاتا ہوا کھڑا ہوگیا ۔ آپ علیہ السلام فوراً اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے اور اﷲ رب العزت کی تعریف بیان فرمائی :”اے اﷲ تعالیٰ! بے شک تمام حقیقت مجھ پر روشن ہوگئی ہے اور میں جان گیا ہوں کہ اﷲ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے ۔ یہ تو مجھے پہلے بھی اطمینان تھا لیکن براہ راست دیکھنے سے میرا یقین اور پختہ ہوگیا ۔ اے اﷲ رب العزت! آپ نے ہی اِس کائنات اور ہر مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا فرمایا ہے پھر موت دے گا پھر زندہ کریں گے اور بے شک اﷲ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے مجھے صحیح راستہ بتا کر میری رہنمائی فرمائی۔“

گھر واپس آئے

حضرت عُزیر علیہ السلام اکثر باہر کے دورے پر رہتے تھے اور بنی اسرائیل کی دینی تعلیم اور دنیاوی ضروریات کی رہنمائی کے لئے مسلسل سفر میں رہتے تھے اور بنی اسرائیل کے نئے آباد شدہ علاقوں کا مسلسل دورہ کرتے رہتے تھے ۔ اِسی لئے آپ علیہ السلام کا قیام اپنے گھر پر بہت کم رہتا تھا ۔ جب آپ علیہ السلام غائب ہوئے یعنی اﷲ تعالیٰ نے جب آپ علیہ السلام کو سُلا دیا تو گھر والوں نے کچھ دنوں تو یہی سوچا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام دوسرے علاقوں میں گھوم گھوم کر بنی اسرائیل کی تربیت کررہے ہوں گے اِسی لئے یروشلم اپنے گھر نہیں پہنچ سکے ہیں۔ لیکن جب کئی مہینے گزر گئے اور ”عید فسح“ بھی آگئی اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں اور گھر والوں کو فکر ہوئی اور انہوں نے آپ علیہ السلام کی تلاش شروع کردی ۔ پورے سال بنی اسرائیل کے دورآباد قبیلوں کے ولگ ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) میں عبادت کرنے کے لئے مسلسل آتے رہتے تھے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام کے بیٹوں اور بنی اسرائیل کے علماءنے عبادت کے لئے آنے والے ہر قبیلے سے آپ علیہ السلام کے متعلق دریافت کرنا شروع کردیا ۔ ہر علاقے اور ہر قبیلے سے آنے والے قافلے یہی بتاتے تھے کہ حضرت عُزیر علیہ السلام ہمارے یہاں نہیں ہیں ۔ ”عید فسح“ پر تو تمام بارہ قبیلوں کے بڑے ذمہ دار یروشلم میں موجود تھے اور لاکھوں بنی اسرائیل ”عید فسح“ منانے کے لئے یروشلم کے آس پاس خیمہ زن تھے۔ اِس موقع پر تمام بنی اسرائیل نے یہی بتایا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام ہمارے درمیان نہیں ہیں ۔ تمام لوگ حیران تھے کہ آخر آپ علیہ السلام کہاں غائب ہوگئے ہیں؟ ”عید مسح“ بنی اسرائیل سات دنوں تک مناتے تھے اور اِس کے بعد جب تمام قبائل اپنے اپنے علاقے واپس جانے لگے تو بنی اسرائیل کے یروشلم کے علمائے اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے درخواست کی کہ حضرت عُزیر علیہ السلام کو ہر ممکن حد تک تلاش کیا جائے ۔ تمام لوگ آپ علیہ السلام کی تلاش کرنے لگے ۔ ہر سال ”عید فسح“ کے اجتماع میں یہ اعلان کیا جاتا تھا لیکن آپ علیہ السلام کسی کو نہیں ملے ۔ سال پر سال گزرتے رہے یہاں تک کہ سو سال گزر گئے اور تما م لوگ آپ علیہ السلام کی واپسی مایس ہوگئے تھے ۔ اِدھر جاگنے کے بعد حضرت عُزیر علیہ السلام یروشلم کی طرف روانہ ہوئے ۔ اِن سو سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا اور بنی سارائیل کی نئی نئی بستیاں اور نئی نسل وجود میں آچکی تھیں۔ آپ علیہ السلام اِن بستیوں کو دیکھتے اور حیران ہوتے ہوئے بالآخر یروشلم پہنچ گئے ۔ یروشلم شہر بھی کافی بڑا ہوچکا تھا۔ چلتے چلتے آپ علیہ السلام بیت لامقدس کے قریب اپنے محلے میں پہنچے اور تلاش کرتے کرتے اپنے گھر پر پہنچے ۔ باہر سے اپنے ایک بیٹے کا نام لیکر پکارا تو ایک بوڑھی عورت گرتی پڑتی لڑکھڑاتی ہوئی دروازے پر آئی اور پوچھا :”کون ہے؟“ یہ بوڑھی عورت بڑھاپے کی وجہ سے اندھی بھی ہوچکی تھی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :” میں عُزیر (علیہ السلام) ہوں۔“ یہ سُن کر بوڑھی عورت نے حیرت سے کہا :” عُزیر! کون عُزیر؟ میرے مالک حضرت عُزیر علیہ السلام کو غائب ہوئے تو سو سال ہوچکے ہیں ۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام ”مستجاب الدعوات“ تھے

حضرت عُزیر علیہ السلام کی بات کا اُس بوڑھی عورت کو یقین نہیں آیا ۔ آپ علیہ السلام نے اُس سے فرمایا :” میں ہی عُزیر (علیہ السلام) ہوں، لیکن تم کون ہو؟“ بوڑھی اور اندھی عورت نے کہا :” میں حضرت عُزیر علیہ السلام کی کنیز ہوں۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے فرمایا :” اچھا تم وہ ہو لیکن تم تو بہت بوڑھی ہوگئی ہو جبکہ میری کنیز تو جوان تھی ۔“ اُس بوڑھی نے کہا :” ہاں حضرت عُزیر علیہ السلام جب غائب ہوئے تھے تب میں جوان تھی اور میری عُمر لگ بھگ بیس سال تھی۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میں ہی عُزیر (علیہ السلام) ہوں، اﷲ ربا لعزت نے مجھ پر سوسال تک موت طاری کردی تھی پھر مجھے نئی زندگی عطا فرمائی ہے ۔“ بوڑھی نے تعجب سے ”سبحان اﷲ“ کہا اور بولی :”برسوں ہوگئے میرے مالک کو گُم ہوئے ، اب لوگوں نے اُن کا نام لینا بھی چھوڑ دیا ہے ۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”میں وہی گُم گشتہ عُزیر ہوں۔“ بوڑھی کو تب بھی یقین نہیں آیا ۔ پھر کچھ سوچ کر اُس نے کہا :”حضرت عُزیر علیہ السلام ”مستجاب الدعوات“ تھے ۔ مریض کے لئے دعا کرتے تھے تو اﷲ تعالیٰ اُسے شفا عطا فرما دیتا تھا اور ضرورت مندوں کے لئے دعا کرتے تھے تو اﷲ اُس کی ضرورت پوری کردیتا تھا ۔ اگر آپ (علیہ السلام) وہی ہیں تو اﷲ رب العزت سے دعا کردیں کہ میری آنکھیں اچھی جائیں اور میں دیکھنے لگوں ۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے اُس کی آنکھوں کے لئے دعا کی تو اُس کی آنکھوں کی روشنی آگئی اور وہ دیکھنے لگی ۔ اُس نے جب آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پہچان لیا ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کو سب نے پہچان لیا

حضرت عُزیر علیہ السلام کو اُن کی کنیز نے پہچان لیا تھا اور بولی :” یقینا آپ ہی عُزیر علیہ السلام ہیں ۔“ بڑھاپے کی وجہ سے اُس کا بد اور ہاتھ اور پیر کمزور ہوگئے تھے اور وہ ٹھیک سے کھڑی بھی نہیں ہوپارہی تھی اور زیادہ تر بیٹھ کر گھسٹ گھسٹ کر چلتی تھی ۔ آپ علیہ السلام نے اُس کا ہاتھ تھاما اور فرمایا :”اﷲ کے حُکم سے کھڑی ہوجاو¿۔“ وہ کنیز تندرست و توانا ہوکر کھڑی ہوگئی ۔ اُس نے آپ علیہ السلام سے کہا :”میں ابھی سب کو جاکر آپ علیہ السلام کے آنے کی خبر دیتی ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ دوڑتی ہوئی ہیکل سلیمانی (بیت المقدس) تک گئی ۔ وہاں بنی اسرائیل کے تمام علماءاور آپ علیہ السلام کے بیٹے موجود تھے ۔ اُن میں سے ایک بیٹا یروشلم کا سردار تھا ۔ اُس کنیز نے سب سے کہا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام جو سو سال پہلے غائب ہوگئے تھے وہ واپس آگئے ہیں ۔وہاا موجود لوگوں نے اُس سے پوچھا :”تم کون ہو؟“ اُس نبے بتایا :” میں حضرت عُزیرعلیہ السلام کی کنیز ہوں اور اُنہوں نے آتے ہی میرے لئے دعا کی تو اﷲ تعالیٰ نے میری ّنکھوں کی روشنی لوٹا دی اور مجھے تندرست کردیا ۔“ اِسی دوران حضرت عُزیر علیہ السلام دھیرے دھیرے چلتے ہوئے وہاں تک پہنچ گئے تھے ۔ بنی اسرائیل کے بوڑھے علمائے کرام اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے تو دیکھتے ہیں پہچان لیا کیونکہ وہ سب آپ علیہ السلام کو شکل سے پہچانتے تھے اور ساتھ میں کافی وقت گزارا تھا لیکن اُن سب کو حیرت اِس بات کی تھی کہ وہ سب تو بوڑھے ہوگئے ہیں اور سب کے بال سفید ہوگئے ہیں ۔ آپ علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے کی عُمر ایک سوبیس 120 سال تھی جبکجہ آپ علیہ السلام کے بال بھی کالے تھے اور عُمر بھی بہ مشکل پینتالیس 45 سال لگ رہی تھی ۔ اِس لئے سب لوگ حیرا ن تھے اور تمام لوگ پریشان تھے ۔ آخر کار آپ علیہ السلام کے اُس بیٹے نے جو سردار تھا کہا کہ میرے والد محترم کے دونوں کاندوھوں کے درمیان کالا تل تھا اگر وہ نشان ان کے اوپر ہیں تو یہ میرے والد محترم ہیں۔“ آپ علیہ السلام ن ے اپنے کاندھے کھول کر دکھائے تو وہ کالا تل موجود تھا ۔سردار بیٹے نے کہ ا:” یہی حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔“

حضرت عُزیر علیہ السلام کی آزمائش

حضرت عُزیر علیہ السلام کے بیٹوں اور بوڑھے بنی اسرائیل علماءنے تو آپ علیہ السلام کو پہچان لیا کیونکہ اُنہوں نے گُم ہونے کے وقت جس شکل میں آپ علیہ السلام کو دیکھا تھا وہی شکل تھی ۔ لیکن وہ علماءاور بنی اسرائیل جو سوسال کے اندر پیدا ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ابھی بھی اطمینان نہیں ہوا ہے ۔ اِس لئے انہیں ثابت کرنا پڑے گا کہ یہی عُزیر علیہ السلام ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”چاہے جو آزمائش لے لو، میں اُس کے لئے تیار ہوں ۔“ کافی غوروخوض کے بعد علماءنے کہا کہ ہمیں یہ بات ہمارے والدین نے بتائی تھی کہ جب بخت نصر ہمیں غلام بنا کر بابل لے جارہا تھا تب حضرت عُزیر علیہ السلام کے والد محترم نے توریت کے چند صفحات کسی جگہ دفن کروائے تھے اور حضرت عُزیر علیہ السلام کو یہ بات بتائی تھی ۔ اگر یہ بتا دیں کہ وہ صفحات کہاں دفن ہیں اور وہاں سے وہ نکل آئیں تو یہی ہمارے سردار کے والد حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔“ آپ علیہ السلام نے فرمایا :”ٹھیک ہے! چلو میں تمہیں وہ جگہ بتاتا ہوں ۔“ تب تک پورے یروشلم میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرف پھیل گئی تھی کہ حضرت عُزیر علیہ السلام واپس آگئے ہیں اور لوگ آکر وہاں جمع ہوگئے تھے ۔ اِس طرح آپ علیہ السلام آگے آگے چلے اور پورے یروشلم کے لوگ پیچھے پیچھے چلے اور ایک رک کر فرمایا :”’یہاں کھودو۔“ جب وہاں کھودا گیا تو واقعی رتوریت کے صفحات موجود تھے ۔ یہ دیکھ کر تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کرلیا کہ آپ ہی حضرت عُزیر علیہ السلام ہیں۔

بنی اسرائیل کی حیرت

حضرت عُزیر اعلیہ السلام کو یروشلم کے تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کر لیا اور سچا مان لیا لیکن سب لوگ اِس بات پر حیرانی ظاہر کرہے تھے کہ لگ بھگ ایک سو پچاس 150 سال کی عُمر میں بھی آپ علیہ السلام جوان دکھائی دے رہے تھے اور سب لوگ اِس کی وجہ پوچھ رہے تھے ۔ آپ علیہ السلام کے بیٹوں نے کہا :”ابا جان! ہم آپ علیہ السلام کے بیٹے ہیں اور ہمارے بال سفید ہوگئے ۔ ہمارے ہاتھ پیر آنکھیں اور پورا جسم کمزور ہوگیا ہے اور ہم بوڑھے دکھائی دیتے ہیں جبکہ آپ علیہ السلام ہمارے والد والد محترم ہیں ۔ اِس کے باوجود آپ علیہ السلام کے بال کالے ہیں ، جسم انتہائی تندرست اور صحت مند ہے اور ہاتھ پیر اور آنکھیں وغیرہ سب طاقتور ہیں ، ایسا کیوں ہے؟“ تب آپ علیہ السلام نے تمام بنی اسرائیل کو اور اپنے بیٹوں کو تفصیل سے بتایا کہ اﷲ تعالیٰ نے سو سال تک مجھے سُلا دیا تھا ، موت طاری کردی تھی ۔ اِس لئے تمام لوگوں پر وقت گزرتا رہا تھا ، مجھ پر وقت رُکا ہوا تھا جس کی وجہ سے تم بوڑھے ہوگئے اور میں ویسا ہی رہا ۔ 

اﷲ تعالیٰ کی نشانی

اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 259 کے درمیان میں فرمایا :”ہمارا مقصد کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے نشانی بنا دینا چاہتے ہیں۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق بنی اسرائیل کے لئے ”دلیل“ (یعنی نشانی) بن گئے کیونکہ آپ علیہ السلام اپنے بیٹوں اور پوتوں میں بیٹھ کر میں بیٹح کر اُن کی تربیت کرتے تھے جو بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکے تھے ۔ جبکہ حضرت عُزیر علیہ السلام کی عُمر مبارک چالیس 40 یا پینتالیس 45 کے درمیان تھی ۔ کیونکہ آپ علیہ السلام جس حالت میں عارضی موت کی نیند سوئے تھے اُسی حالت میں دوبارہ زندہ ہوگئے تھے۔“ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ آگے فرماتے ہیں :”حضرت عُزیر علیہ السلام کی دوبارہ زندگی کا واقعہ بخت نصر کے بعد پیش آیا ہے ۔“ حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کی بھی یہی رائے ہے ۔ امام ابوحاتم سجستانی نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ کی روایت کو عربی اشعار میں پیش کیا ہے جس کا اردو ترجمہ یوں ہے :”اُس کے بال کالے ہیں حالانکہ وہ بڑے ہیں ، اُس کا بیٹا اور اُس کا پوتا اُس سے پہلے بوڑھے ہوگئے ہیں ، اُس کے بیٹے کو دیکھو تو ایک بوڑھا ہے جو لاٹھی کے سہارے چل رہا ہے ، حالانکہ اُس (عُزیر علیہ السلام) کی داڑھی مبارک اور بال سیاہ ہیں ، اُس کے بیٹے آب و تاب و تواں نہیں رہی ، وہ اُٹھتا جیسے بچہ چلتا ہے تو گر پڑتا ہے ، اُ س کے بیٹے کی عُمر ایک سو بیس 120 شمار ہوتی ہے ، وہ نہ تو چل سکتا اور نہ ٹہل سکتا ہے ، باپ کی عُمر چالیس سال ہے اور پوتے کو لوگوں میں رہتے نوے 90 سال گزر گئے ہیں ، اگر تُو جانے تو یہ بات قرین عقلمندی نہیں ہے ، اور اگر تُو نہیں جانتا جہالت کی وجہ سے معذور ہے۔

حضرت عُزیر علیہ السلام نے مکمل توریت لکھی

حضرت عُزیر علیہ السلام کو یروشل کے تمام بنی اسرائیل نے تسلیم کرلیا ۔ دھیرے دھیرے یہ خبر بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں میں پھیلتی گئی کہ سو سال کے بعد کمشدہ حضرت عُزیر علیہ السلام واپس آگئے ہیں اور بوڑھے نہیں ہوئے بلکہ لگ بھگ ایک سو پچاس 150 کی عُمر بھی جوان ہیں ۔ جیسے جیسے یہ خبر بنی اسرائیل کے قبائل کو ملتی گئی ویسے ویسے اُن قبائل کے وفد اور قافلے آپ علیہ السلام کی زیارت کے لئے خدمت اقدس میں حاضر ہوتے گئے ۔ اِس طرح تمام بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی سچائی کو تسلیم کرلیا ۔ اِس کے بعد علمائے کرام نے آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ توریت مکمل شکل میں ہمارے پاس نہیں ہے اور بخت نصر نے توریت کے تمام نسخے جلا دیئے تھے ۔ ویسے تو الگ الگ اوراق میں چند نسخے ہیں اور آپ علیہ السلام کے والد محترم نے بھی جو نسخہ دفن کیا تھا وہ بھی مکمل نہیں ہے۔ اِس لئے آپ علیہ السلام سے ہماری درخواست ہے کہ ہمارے لئے مکمل توریت کتابی شکل میں لکھ دیں اور تمام بارہ قبیلوں میں نقول روانہ کردیں تاکہ تمام بنی اسرائیل پورے طور سے شریعت پر عمل کرسکیں ۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے وعدہ کرلیا کہ انشاءاﷲ میں مکمل توریت تمہارے لئے کتابی شکل میں لکھ دوں گا ۔ اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں عبادت کے دوران سجدے میں رور و کر درخواست کی کہ اے اﷲ تعالیٰ! میری رہنمائی فرما اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے میری مدد فرما ۔ آخر کار اﷲ تعالیٰ کو آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل پر رحم آگیا ۔ آپ علیہ السلام اکیلے غوروفکت کرتے ہوئے بیٹھے تھی کہ ایک فرشتے کو اﷲ رب العزت نے انسانی شکل میں بھیجا ۔ اُس نے عرض کیا :”اے اﷲ کے نبی علیہ السلام! کس افسوس اور صدمے میں بیٹھے ہیں؟“ آپ علیہ السلام نے تمام ماجرا بتایا ۔ اُص فرشتے نے ایک پانی بھرا ہوا برتن آپ علیہ السلام کو دیا اور کہا :”پورا پانی پی جائیں۔“ حضرت عُزیر علیہ السلام نے پورا پانی پی لیا جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو پوری توریت ازبر ہوگئی ۔ 

حضرت عُزیر علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے

اﷲ تعالیٰ نے سوری توبی میں فرمایا :”ترجمہ ، یہود (بنی اسرائیل) کہتے ہیں ”عُزیر (علیہ السلام) اﷲ کا بیٹا ہے“ اور نصرانی (عیسائی) کہتے ہیں ”مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اﷲ کا بیٹا ہے“ یہ قوم صرف اُن کے منہ کی بات ہے ، اگلے منکروں کی بات کی یہ بھی نقل کرنے لگے ، اﷲ انہیں غارت کرے وہ کیسے پلٹے جاتے ہیں؟ (سورہ توبہ آیت نمبر 30 ) اﷲ تعالیٰ نے اِس آیت میں بتایا کہ بدبخت یہودیوں نے حضرت عُزیر علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنا لیا تھا اور عیسائیوں نے حضرت عیسٰ مسیح علیہ السلام کو اﷲ کا بیٹا بنا لیا تھا جبکہ وہ دونوں اﷲ کے نیک بندے ہیں اور اﷲ تعالیٰ اولاد وغیرہ سے پاک ہے ۔اِن بدبختوں نے خود ہی شرک کرکے اپنے آپ کو گمراہی میں ڈال لیا ہے ۔ اور اﷲ کے غضب کے مستحق بن گئے ہیں ۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں :”رسول اﷲ صؒی اﷲ علیہ وسلم کے پاس سلام بن مشکم ، نعمان بن اوفی ، ابو انس شاس بن قیس اور مالک بن صیف آئے اور کہنے لگے :”ہم آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) کی اتباع اور پیروی کیسے کریں؟ جبکہ آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) نے ہمارا قبلہ چھوڑ دیا ہے اور آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم) یہ نظریہ بھی نہیں رکھتے ہیں کہ عُزیر (علیہ السلام) اﷲ کے بیٹے ہیں ۔ اُن کا نظریہ یہ تھا کہ حضرت عُزیر علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے ہیں ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہود (بنی اسرائیل) کے پاس توریت تھی اور وہ اُس سے فائدہ اُٹھاتے تھے لیکن جب وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے اور اﷲ تالیٰ کی نفرمانی کرنے تو توریت اُن سے چھن گئی اور ”تابوت ِ سکینہ“ بھی اُتھا لیا گیا ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام نے نہایت عاجزی و انکساری سے اﷲ تعالیٰ سے عدا مانگی ۔ آپ علیہ السلام ابھی دعا میں مصروف تھے کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نور اُترا اور آپ علیہ السلام کے اندر سما گیا اور پوری توریت آپ علیہ السلام کو زبانی یاد ہوگئی۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا :”توریر مجھے حفظ ہے اور اﷲ تعالیٰ نے مجھے یاد کرادیا ہے ۔“ بنی اسرائیل نے یقین نہیں کیا پھر بھی آپ علیہ السلام نے اُنہیں توریت لکھ کر دی ۔ پھر ”تابوت ِ سکینہ“ بھی واپس مل گیا جس میں توریت رکھی ہوئی تھی ۔ بنی اسرائیل نے اُس توریت کو حضرت عُزیر علیہ السلام کی لکھی توریت سے ملایا تو دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا ۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے کہا :”اﷲ کی قسم! حضرت عُزیر علیہ السلام کو یہ اِس لئے یاد کرائی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام (نعوذ باﷲ) اﷲ کے بیٹے ہیں۔“ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں : عُزیر سے مُراد عزراءہیں جن کو یہودی اپنے دین کا مجدد مانتے ہیں ۔ ان کا زمانہ 450 قبل مسیح کے لگ بھگ بتایا جاتا ہے ۔ اسرائیلی روایت کے مطابق حضرت سُلیمان علیہ السلام کے بعد جو دور ابتلاءبنی اسرائیل پر آیا اُس میں نہ صرف توریت دنیا سے گم ہوگئی تھی بلکہ بابل کی اسیری (غلامی) میں اسرائیلی نسلوں کو اپنی شریعت ، اپنی روایات اور قومی زبان عبرانی تک سے ناآشنا کردیا تھا ۔ آخر کار اُنہیں عُزیر یا عزراءنے بائیبل کے پرانے عہدنامے کو مرتب کیا اور شریعت کی تجدید کی ۔ اِسی وجہ سے بنی اسرائیل اُن کی بہت تعظیم کرتے ہیں اور یہ تعظیم اِس حد تک بڑح گئی کہ بعض یہودی گروہوں نے اُن کو ”ابن اﷲ“ تک بنا دیا ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام نے سمجھایا

حضرت عُزیر علیہ السلام کو بد بخت یہودں یعنی بنی اسرائیل نے پہلے تو سچا ماننے سے انکار کردیا اورجب سچا ماننے لگے تو اتنا زیادہ بڑھاوا دے دیا کہ شرک میں مبتلا ہوگئے ۔ حضرت عُزیر علیہ السلام اُسنہیں بار بار سمجھاتے رہے کہ اﷲ تعالیٰ سب کا خالق اور مالک ہے ، اُس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور اﷲ رب العزت اولاد وغیرہ سے پاک ہے ، میں تو صرف اﷲ کا ایک بندہ ہوں اور نبی ہوں اور تم لوگ شرک میں مبتلا ہوکر اپنے آپ کو گمراہ مت کرو۔“ لیکن بنی اسرائیل پر ایسا شیطان غالب آگیا کہ وہ آپ علیہ السلام کی بات ماننے کو تیار نہیں تھے اور گمراہی میں مبتلا رہے ۔ آپ علیہ السلام اُنہیں مسلسل سمجھاتے رہے اور اُنہیں شرک سے بچانے کی کوشش کرتے رہے ۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اعلان کیا :”اے بنی اسرائیل! میں تمہارے شرک سے بری ہیں اور اے اﷲ تعالیٰ! تو گواہ رہنا کہ میں نے ہمیشہ بنی اسرائیل کو اسلام کی دعوت دی ہے اور یہی سکھایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، وہ اکیلا اور اُس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اﷲ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے اور اے بنی اسرائیل! میں نے کبھی یہ کہا کہ میں (نعوذ باﷲ) اﷲ کا بیٹا ہوں بلکہ یہ تم نے خود اپنے من سے بنا لیا ہے ۔ اے اﷲ تعالیٰ! میں اِن کے شرک سے بری ہوں۔“

بنی اسرائیل ایک بار پھر آزمائش میں ناکام ہوگئے

اﷲ رب العزت نے حضرت عُزیر علیہ السلام کے ذریعے بنی اسرائیل کے ایمان کی آزمائش کی کہ آپ علیہ السلام جوان دکھائی دیتے تھے اور آپ علیہ السلام کی عُمر صرف چالیس 40 یا پینتالیس 45 سال لگتی تھی ۔ آپ علیہ السلام اپنے بیٹے کو اور پوتوں کو توریت کی تعلیم دیتے تھے ۔ اپنے بیٹوں اور پوتوں کے درمیان بیٹھے آپ علیہ السلام اپنے پوتوں سے بھی چھوٹے لگتے تھے ۔ بیٹے اور پوتے بوڑھے ہوچکے تھے ۔ بنی اسرائیل اﷲ تعالیٰ اِ سآزمائش میں ناکام ہوگئے اور حضرت عُزیر علیہ السلام کو جو معجزہ اﷲ رب العزت نے عطا فرمایا تھا اُس کی وجہ سے گمراہ ہوگئے ۔

حضرت عُزیر علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کے حالت

حضرت عُزیر علیہ السلام اُس وقت تک بنی اسرائیل کے درمیان رہے جب تک اﷲ تعالیٰ نے چاہا ۔ اِس کے بعد اُنہیں اپنی جوار رحمت میں بلا لیا ۔ بنی اسرائیل کی اپنی کوئی مستحکم حکومت نہیں تھی اور پورا علاقہ ”سلطنت فارس“ کا ماتحت تھا ۔ بیت المقدس بنی اسرائیل کا مرکز بدستور رہا ۔ اِسی طرح لگ بھگ سو سال سے زیادہ کا وقت گزر گیا اور بنی اسرائیل پھر سے گمراہیوں اور بُرائیوں میں مبتلا ہوگئے ۔ اِسی دوران ملک یونان سے سکندر نام کا ایک طوفان اُٹھا اور اُس نے ”سلطنت فارس“ پر قبضہ کرلیا ۔ اِس طرح بنی اسرائیل پر یونانی حکمراں بن گے اور وہ یونانیوں کے اثرات قبول کرنے لگے ۔ ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک یونانی اُن پر حاوی رہے پھر لگ بھگ ایک سو پچھتر 175 قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ایک سوپچھتر 175 سال پہلے بنی اسرائیل نے ہیونانیوں سے آزادی حاصل کرلی اور اپنی آزاد حخومت قائم کرلی ۔ اِس اسرائیلی حکومت نے بہت ترقی کی اور ایک صدی سے زیادہ عرصے تک اپنی حکومت چلاتے رہے ۔ پھر اُن پر رومی حاوی ہوگئے 67 قبل مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 67 سال پہلے بنی اسرائیل پر رومیوں کی حکومت ہوگئی اور رومیوں کے دورِ حکومت میں حضرت زکریا علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا ۔حضرت عُزیر علیہ السلام کے حالات مکمل ہوئے۔ 

٭....٭....٭  


ہفتہ، 10 جون، 2023

01 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام Story of Prophet Shayaa and Armiyaah


01 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 18

قسط نمبر 1

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد نبی اسرائیل کے مختصر حالات :

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرئیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعم کو بادشاہ بنایا۔ اس کے دور حکومت میں بھی بنی اسرائیل سکون سے رہے۔ لگ بھگ سترہ برس تک اس نے پورے بنی اسرائیل پر حکومت کی۔ اسی دوران بنی اسرائیل بہت سی خرابیوں میں مبتلا ہو گئے اور حکوم تقسیم ہوگئی۔ دو قبیلوں پر رجعم کا بیٹا ایبا حکمراں بنا۔ا ور باقی قبیلوں پر رجعم حکومت کرتا رہا۔تین برس بعد لگ بھگ 20برس تک حکومت کرنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ایبا حکومت کرتا رہا۔ اس کے دورِ حکومت میں بھی بنی اسرائیل بہت زیادہ خرابیوں میں مبتلا ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت لوگ شِرک میں بھی مبتلا ہوگئے تھے ۔ ایبا کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا اَسا بن ایبا حکمراں بنا۔

٭ اَسا بن ایبا کا دورِ حکومت :

ایبا بت پرست ہو گیا تھا۔اور اسکی وجہ سے بنی اسرائیل کے بہت سے لوگ گمراہ ہوکر بت پرستی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اسکا بیٹا اسا جب حکمراں بنا تو اس نے بت پرستی بند کرنے کا اعلان کردیا۔ اس نے تمام بتوں کو توڑدیا۔ اور اعلان کردیا کہ جو بھی بتوں کی پوجا کرتے ہوئے دکھائی دے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس کے والدہ نے بت پوجا پر اصرار کیا تو اس نے اپنی والدہ کو بھی قتل کروادیا ۔ اور بنی اسرائیل نے بت پوجا چھوڑ دی ۔لیکن وہ اپنے بادشاہ کے خلاف سازش میں مصروف رہے۔ انھوں نے ہندوستان کے کافر بادشاہ زرح کو حملے کی دعوت دی۔ اور کہا بنی اسرائیل (عوام) بادشاہ کے خلاف تمھارا ساتھ دے گی۔

اسا کی دعا :

زرح نے ایک بہت بڑے لشکر جرّار کے ساتھ حملہ کیا۔ اسا نے بھی اپنی فوج تیار کیا اور مقابلے پر آگیا۔ جنگ سے پہلے والی رات میں اسا نے رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اے اللہ تعالیٰ ہر شئے تیرے قبضے میں ہے۔ اور تو ہر ایک پر قدرت رکھتا ہے۔ میری یہ درخواست ہے کہ ہمارے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ کر اور ہم پر اپنی رحمت نازل فرما۔ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔اور میرے ساتھ مسلمان بہت کم ہیں ۔اے اللہ تعالیٰ ، جس طرح تو نے فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد کی تھی ۔اسی طرح ہماری بھی مدد کر ۔اور زرح پر عذاب نازل فرما۔

اللہ تعالیٰ کی مدد :

بنی اسرائےل کےعلماءبھی دعا کررہے تھے۔ اے اللہ آج اپنے بندے کی دعا قبول فرما۔ کیونکہ اسنے صرف تجھ ہی پر بھروسہ کیا ہے۔اسے دشمنوں کے حوالے نہ کر۔اس نے تیری محبت میں اپنی والدہ کو بھی قتل کردیا۔ اور سب لوگوں کر چھوڑ کر تیری ہی بات مانتا ہے۔ اسا حالتِ سجدہ میں رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔ کہ اللہ نے اس پر نیند طاری کردی۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی پکار کر کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے سچّے بندوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے دل میں اپنی محبت پیدا کی۔ اور تیرے کو اپنے اوپر لازم کرلیا۔ اللہ تعالیٰ تیرے دشمنوں کے مقابلے میں اپنے فرشتوں کی فوج بھیجے گا۔

اساکی فتح :

اسا کی آنکھ کھلی اور وہ مسکراتا ہوا باہر آیا۔ اور بنی اسرائیل کو اللہ کی مدد کی خوشخبری سنائی۔ بنی اسرائیل کے مؤمنوں نے اسکی بات کا یقین کیا۔ اور بنی اسرائیل کے منافقین(جو دل سے زرح کی ساتھ تھے)اسکا مذاق اڑانے لگے۔اسکے باوجود اس نے اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ بنی اسرائیل میں بارہ قبیلے تھے۔ ہر قبیلے کا سردار آگے بڑھا ۔لیکن تمام قبیلوں کی بنی اسرائیل کی اکثریت پیچھے ہٹ گئی۔ اور ہر سردار کے ساتھ بہت کم مومن افراد رہ گئے۔ اب اسا ان کئی سو کا معمولی لشکر لیکر آگے بڑھا۔ زرح نے اس معمولی سے لشکر کو دیکھا۔ تو مذاق اڑانے لگا ۔اور کہاکہ بلاوجہ میں نے اتنے بڑے لشکر کو لیکر اتنی دور کا سفر کیا۔ اسکے لئے تو میرا معمولی سا سپہ سالار ہی کافی ہے ۔اور حملہ کردیا۔ جنگ شروع ہوگئی ۔اللہ تعالیٰ نے اسا کی مدد کے لئے فرشتے بھیجے۔ جو کسی کو نظر نہیں آتے تھے۔ آخر کار زرح کو شکست ہوئی۔ اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگا۔ اسکے ساتھ ایک لاکھ آدمی تھے ۔ وہ سب سمندر کے کنارے پہنچ کر جہازوں پر سوار ہوگئے۔ تو اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں۔اور بڑی بڑی موجیں اٹھنے لگیں۔جن کی وجہ سے تمام جہاز تباہ ہوگئے۔اور زرح اور اسکے ساتھی غرق ہوگئے۔

اسا کے بعد بنی اسرائیل کے حالات :

اسکے بعد تمام بنی اسرائیل نے شرک سے توبہ کرلی۔ اور اسا پورے سکون واطمینان سے حکومت کرتا رہا۔ اسکے انتقال کے بعد اسکا بیٹا یہو شاط (یاس یہو شا خا ط) بادشاہ بنا ۔پچیس برس تک اس نے حکومت کی ۔اسدکے دور میں بنی اسرائیل پھر سے خرابیوں میں مبتلا ہونے لگے۔اسکے بعد اسکی چچا زاد بہن عقلیا حکمراں بنی ۔اسے غزلیا کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ اسکے دور حکومت میں بنی اسرائیل بہت زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے۔ آخر کار اسی کے خاندان کے یوشان بن اخزیا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے قتل کر دیا۔ عقلیا یا غزلیا نے سات سال حکومت کی ۔اب یواش بادشاہ بن گیا۔ لیکن اس نے بنی اسرائیل کی گمراہیوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی ۔اس نے چالیس سال حکومت کی ۔اسکے بعد یاتام بن عوزیا نے سولہ سال حکومت کی ۔اسکے بعد اسکا بیٹا ضازبن یوتام نے سولہ سال حکومت کی۔ اسکے بعد اسکا بیٹا حزقیا بن جاز حکمراں بنا۔ اور اسکے دورحکومت میں حضرت شعیا علیہ السلام نے اعلانِ نبوت کیا۔

حضرت شعیا علیہ السلام کا اعلان نبوت :

حضرت شعیا علیہااسلام نے حزقیا بن جاز کے دور حکومت میں اعلان نبوت کیا۔ دوسری روایات میں بنی اسرائیل کے اس بادشاہ کا نام صدیقہ بھی آیا ہے۔ لیکن اکثر روایات میں حزقیا ہی نام آیا ہے۔ اس بادشاہ نے حضرت شعیا علیہ اسلام کی اطاعت قبول کی۔ آپ علیہ السلام توریت کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ اور حضرت موسی علیہالسلام کی شریعت کو نافذ کیا کرتے تھے۔ اور بنی اسرائیل میں جو خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں انھیں دور کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ چونکہ بادشاہ آپ علیہ السلام کی اطاعت کرتا تھا۔ اس لیے بنی اسرائیل بھی گمراہیوںمیں مبتلا ہونے کے باوجود بادشاہ کے خوف سے آپ علیہ السلام کی اطاعت کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے بنی اسراعیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بشارت دی۔ بنی اسرائیل ”وہ آخری نبی“ کے منتظر تھے۔ آپ علیہ السلام نے وہ آخری نبی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں بہت تفصیل سے بتایا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔

بنی اسرائیل پر بابل کے بادشاہ کا حملہ :

حزقیا کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ اور اس کا ایک پیر بے کار ہو گیا۔ اسی دوران میں بابل کا بادشاہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر بنی اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیئے آیا۔ اس کے ساتھ اتنا بڑا لشکر تھا کہ اس میں چھے لاکھ جھنڈا بردار تھے۔ اس کا نام سخاریب تھا۔ حزقیا کو جب سخاریب کے آنے کی اطلاع ملی۔ تو اس نے حضرت شعیا علیہ اسلام سے عرض کیا کہ اللہ تعالی اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام پر وحی فرمائی کہ بادشاہ سے کہو کہ حکومت چھوڑ دے۔ اور اپنی جگہ کسی اور کو حکمراں بنا دے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کا حکم حزقیا تک پہنچایا۔ 

حزقیا کی دعا کی قبولیت:

حزقیا نے جب اللہ کا حکم سنا تو بیت المقدس میں آیا۔ اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں عاجزی سے رو رو کر گڑ گڑا کر دعا کرنے لگا۔ اے اللہ تعالی، اے سب کے پروردگار، اے سب کے معبود، اے پاکیزہ اور مقدس ذات، یا رحمٰن ےا رحیم، اے وہ مہربان ذات جسے نیند نہیں آتی، اور نہ ہی اونگھ آتی ہے۔ تو میرے فعل، عمل اور بنی اسرائیل کے ساتھ میرے سلوک کو جانتا ہے۔ یہ سب میں نے تیری ہی توفیق سے کیا ہے۔ بے شک تو میرے پوشیدہ ( چھپے ہوئے ) اور ظاہر کو جانتا ہے۔ مجھے ایک موقع دے اور تندرست کردے۔ بادشاہ لگاتار روتا رہا۔ اور اللہ تعالی سے دعا مانگتا رہا۔ 

حضرت شعیا علیہ السام کی بشارت اور بادشاہ کا شکر ادا کرنا:

بادشاہ کے لگاتار دعا مانگنے سے اللہ تعالی نے اس پر رحم فرمایا۔اور حضرت شعیا علیہ اسلام کی طرف وحی بھیجی کہ بادشاہ کو جا کر بشارت دو کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کر لی ہے۔ اور اس پر رحم فرمایا ہے۔ اسے صحت عطا کی جائے گی۔ اور سخاریب کے لشکر سے بچایا جائے گا۔ آپ علیہ اسلام نے بیت المقدس میں آکر دعا میں مصروف بادشاہ کو اس کی دعا کی قبولیت کی بشارت دی۔ یہ خوشخبری سن کر وہ پھر سجدے میں گر پڑا۔ اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے لگا۔ اس نے عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ، اے میرے آباواجداد کے معبود ، میں نے تجھے سجدہ کیا۔ تیری تسبیح کی، تیری بزرگی کو تسلیم کیا۔ تو جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے۔ اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ تو ظاہر اور باطن کو جاننے والا ہے۔ تو اول اور آخر ہے ۔ تو بے قراروں پر رحم کرتا ہے۔ اور اُن کی دعا قبول کرتا ہے ۔ بے شک تو نے میری دعا قبول کی اور میرے حال پر رحم فرما۔

بادشاہ کی تندرستی اور اللہ کی مدد :

جب بادشاہ نے سجدے سے سر اُٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیا علیہ السلام کو وحی فرمائی۔ کہ بادشاہ سے کہو کہ انجیر کا پانی اپنی بے کار ٹانگ پر ملے۔ وہ تندرست ہو جائے گا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کا حکم سنایا ۔ بادشاہ نے اُس پر عمل کیا۔ اور تندرست ہو گیا ۔ اس کے بعد اُس نے آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر وحی بھیجی۔ کہ اللہ تمہارے دشمنوں کے لئے کافی ہے۔ اور وہی تمہیں اُن سے نجات دے گا۔ اور سخاریب اور خطاب کرنے والے پانچ آدمیوں کے علاوہ سب کو ہلاک کر دے گا۔ اور تمام بنی اسرائیل کو بچا لے گا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل پر فرض ہوگا کہ تمام گمراہیوں اور خرابیوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کے حکم کی تعمیل کریں اور توریت کے احکام پر سختی سے عمل کریں۔

سخاریب کو شکست اور اس کی گرفتاری :

اللہ تعالیٰ نے رات میں فرشتوں کو حکم دیا اور اس کے حکم کے مطابق فرشتوں نے سخاریب کے لشکر کو ہلاک کر دیااور سخاریب کے ساتھ پانچ آدمیوں کو زندہ چھوڑ دیا۔ ان میں بخت نصر بھی تھا۔ اگلے دن جب صبح ہوئی تو آواز آئی کہ اے بنی اسرائیل کے بادشاہ ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے تمہارے دشمنوں کے لئے کافی ہو گیا ہے۔ باہر آکر دیکھو بے شک سخاریب کا لشکر ہلاک ہو گیا ہے۔ بادشاہ نے باہر آکر اُس جگہ دیکھا جہاں سخاریب اپنے لشکر کے ساتھ پڑاﺅ ڈالے ہوئے تھا۔ وہاں صرف لاشیں ہی لاشیں دکھائی دے رہی تھیں۔ بہت تلاش کرنے پر سخاریب نہیں ملا۔ بادشاہ نے اس کی تلاش میں سپاہی بھیجے جو اسے گرفتار کر کے لائے اُس کے ساتھ پانچ آدمی اور تھے ان میں بخت نصر بھی تھا۔

بادشاہوں کی گفتگو :

سپاہی سخاریب اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے بادشاہ کی خدمت میں لائے۔ یہ دیکھ کر بادشاہ سجدے میں گر گیا۔ اور فجر سے عصر تک سجدے میں رہا۔ پھر اس نے سخاریب سے کہا۔ ہمارے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ جو معاملہ کیا تم اسے کیسا سمجھتے ہو؟ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لشکر کو اپنی قوت اور طاقت سے ہلاک نہیں کیاہے؟جب کہ ہم دونوں غفلت میں تھے۔ سخاریب نے کہا۔ مجھے بابل سے نکلنے سے پہلے تمہارے رب (اللہ تعالیٰ) کی مدد اور نصرت اور تم پر اس کی رحمت کے بارے میں بتایا گیا تھا لیکن میں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اور مذاق سمجھا۔ اب میری سمجھ میں آرہا ہے کہ تمہارے رب ( اللہ تعالیٰ)سے کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ سن کر بنی اسرائیل کے بادشاہ نے کہا تمام تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہے جو ہماری طرف سے تمہارے لئے کافی ہو گیا ہے۔ اس نے تمہیں اور تمہارے پانچ ساتھیوں کو اس لئے زندہ چھوڑا ہے کہ تم دوسروں کو اس معاملہ کی خبر دو۔ اور انھیں بنی اسرائیل کے سامنے آنے سے ڈراﺅ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ تمہیں باقی نہیں رکھتا۔ اور تم لوگوں کے خون کی قیمت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک ٹڈی کے خون کے برابر بھی نہیں ہے۔

بادشاہ کا سخاریب کے ساتھ سلوک :

اس کے بعد اُس نے حکم دیا کہ انہیں ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کے گرد روزانہ ستّر70چکر لگوائے جائیں اور کھانے کے لئے صر ف دوروٹیاں جَو کی دی جائیں۔ یہ معاملہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ بنی اسرائیل کے لوگ روزانہ اُن کا تماشا دیکھتے تھے۔ ایک دن سخاریب نے کہا اس طرح ذلیل کرنے سے بہتر ہے کہ ہمیں قتل کر دو۔ تو بادشاہ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیا علیہ السلام پر وحی فرمائی کہ سخاریب اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دوتاکہ وہ لوگوں کو ڈرائیں۔ اور سواری کا انتظام کر کے انہیں روانہ کردو۔ تاکہ وہ اپنے شہر پہنچ جائیں۔آپ علیہ السلام نے بادشاہ کو اللہ کا حکم سنایا تو اس نے اسی کے مطابق عمل کیا۔ اس طرح سخاریب لوگوں کے لئے عبرت بن گیا۔ اور اپنی شکست کے غم میں گھل کر مر گیا۔ لیکن بخت نصر بعد میں ایک بڑا لشکر آیااور بنی اسرائیل کے بے شمار افراد کو قتل کیا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ دوسرے نبی کے ذکر میں آئے گا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

02 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام Story of Prophet Shayaa and Armiyaah


02 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 18

قسط نمبر 2

بنی اسرائیل میں خرابیاں :

حزقیا بادشاہ بنی اسرائیل پر پچپن برس کی عمر تک حکومت کرتا رہااور اس کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل بہت حد تک درست رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعدا س کا بیٹا مون بادشاہ بنا ۔ یہ اپنے والد کی برح دیندار نہیں تھا۔ اور عیش و عشرت کا دلدادہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ ہوا اوراپنے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو بھی گمراہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل بہت سی خرابیوں میں مبتلا ہو گئے۔ حالانکہ حضرت شعیا علیہ السلام اُن کے درمیان موجود تھے۔ اور لگاتار انھیں سمجھاتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل اُن کے بات سننے کی بجائے اُن کا مذاق اڑانے لگے۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام انھیں برائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل اُن کی بات سمجھنے کی بجائے اُن کے مخالف ہو گئے۔

حضرت شعیا علیہ السلام کی تقریر :

جب بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی مخالفت پر آمادہ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر وحی اتاری کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو جمع کر کے خطاب کریں ۔ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کی زبان پر وحی جاری کر دے گا۔ یہ حکم سن کر آپ علیہ السلام نے پورے بنی اسرائیل کو ایک بڑے پہاڑ کے دامن میں میدان میں جمع کیا۔ اور تقریر کے لئے پہاڑ پر کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زبان پر وحی جاری فرمادی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور تقدیس و تہلیل کے بعد فرمایا۔ اے آسمان سُن ، اے زمین والو خاموش ہو جاﺅ، اے پہاڑوں توجہ کرو۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بنی اسرائیل کی عظمت کو ختم کر دے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں میں پالا، اپنی نعمتیں عطا فرمائیں ۔ بنی اسرائیل کو تمام لوگوں میں سے چُنا۔ اور انھیں کرامت بخشی۔ مگر انھوں نے سمجھا کہ وہ شیطانوں اور نجومیں کے ذریعہ غیب پر اطلاع پا سکتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ شیطانوں کی باتیں سینوں میں چھپا کر رکھتے ہیں۔

غیب اور قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بنی اسرائیل کو معلوم ہے کہ زمین و آسمان کا غیب صرف میں جانتا ہوں ۔ اور میں اُن کے ظاہر و باطن سے واقف ہوں ۔ میں نے زمین و آسمان پیدا کرتے ہی ایک اٹل فیصلہ کیا تھا۔ (یعنی قیامت برپا کروں گا)۔ اور وہ وقت مقررہ پر پورا ہو کر رہے گا۔اور اس کا (قیامت) علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ (کہ وہ کب آئے گی) اگر یہ ( بنی اسرائیل جن شیطانوں اور نجومیوںکو مانتے ہیں)اپنے قول میں سچے ہیں کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ تو پھر ایسی قدرت لائیں جس کے ساتھ میں نے وہ تقدیر لکھی اور ایسی حکمت لائیں جس کے ساتھ میں تدبیر نظام کائنات کرتا ہوں۔

نبوت ہمیشہ بنی اسرائیل میں نہیں رہے گی :

اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے میں نے تخلیق ارض و سماء(زمین و آسمان) کے دن ہی لکھ دیا تھا کہ نبوت ہمیشہ بنی اسرائیل میں نہیں رہے گی۔ اور بادشاہت اُن سے چھین کر چرواہوں کو دے دی جائے گیا۔ ناتوانوں کو عزت ، کمزوروں کو طاقت، فقیروں کو تونگری (امیری) ، جاہلوں کو علم اور انپڑھو ں کو حکمت کے خزانے دے دیئے جائیں گے۔ کم تعداد والوں کو کثرت بخشی جائے گی۔ جنگلوں میں شہر آباد ہوں گے۔ اور صحراﺅں میں قلعے تعمیر ہو جائیں گے۔ان بنی اسرائیل سے پوچھو ایسا کب ہوگا؟ کون کرے گا؟ اور کس کے ہاتھوں پر میری قدرتیں ظاہر ہوں گی۔ اور اس کے ساتھی کون ہوں گے؟ کیا یہ لوگ یہ سب جانتے ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اس کے لئے وہ آخری نبی اُمّی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو مبعوث فرمانے والا ہوں ۔ جس کے ذریعے بہرے کان، مقفل دن، اور اندھی آنکھوںکو کھول دوں گا۔ اس کی پیدائش مکہ مکرمہ ( حرم شریف) میں ہوگی۔ ہجرت کھجوروں والے علاقے ( مدینہ منورہ) میں ہوگی۔اور حکومت شام اور آس پاس کے علاقوں تک ہوگی۔ یہ میرا بندہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) متوکل ، برگزیدہ ، عظیم المرتبت، محبوب سے محبوب تر اور پسندیدہ تر ہے۔برائی کا بدلہ عفو و درگزر سے دے گا۔ مومنوں پر رحیم ہوگا۔ طاقت سے زیادہ بوجھ تلے دبے ہوئے جانوروں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے۔ بے سہارا عورت کی گود میں کسی یتیم کو دیکھ کر وہ غمگین ہو جایا کرے گا۔ درشت مزاج (غصہ کرنے والا) اور بد خلق نہیں ہوگا۔ بازاروں میں شورو غل کرنے سے کوسوں دور ہوگا۔ اور بدکلامی سے پاک ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اخلاق کا ذکر :

اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے میں اُس آخری نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو اخلاق کریمانہ اور اعمالِ خسنہ سے آراستہ کروں گا۔ طمانت اور وقار اس کا لباس ہوگا۔ نیکی اس کا شعار ہوگی۔ تقویٰ اُس کا ضمیر ہوگا۔ حکمت اس کی فراست ہوگی۔ صدق اور وفا اس کی طبیعت ہوگی۔ عفو در گزر اور بھلائی کرنا اس کے اخلاق ہوں گے۔ عدل اس کی سیرت ہوگی۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ ہدایت اس کی کتاب ہوگی۔ اسلام اس کا دین ہوگا اور احمد اُسکا نام ہوگا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا ذکر :

اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ۔ اے بنی اسرائیل میں اس آخری نبی کی برکت سے جاہلوں کو علم عطا کروں گا ۔ ناکسوں کو عظمت دوں گا۔ گمناموں کو شہرت عطا کروں گا۔ کم تعداد والوں کو کثرت دوں گا۔ فقیروں کو تونگری ( امیری ) عطا فرماﺅں گا۔ نفرت کو عداوت سے بکھرے اور پراگندہ دلوں کو اُس آخری نبی کی برکت سے متحد اور متفق کر دوں گا۔ اس کی امت کو سب سے بہتر امت بناﺅں گا۔جو لوگوں کو نیکی کرنے اور برائی سے رک جانے کا حکم کرے گی۔ مجھے ایک ماننے کا حکم دے گی۔ میرے لئے ایمان اور اخلاص رکھنے کی اور سب نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانے کی تبلیغ کرے گی۔ پابندی¿ وقت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لئے اُن کی نگاہیں سورج پر لگی رہےں گی۔ ایسے دلوں ، چہروں اور جانوں کو مبارک ہو۔ جو میرے لئے اخلاص رکھیں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی خوبیاں :

اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اس آخری نبی کی امت کے لوگوں کو توفیق دوں گا کہ اپنی مسجدوں میں ، اپنی مجلسوں میں ، اپنی آرام گاہوں میں، اپنے کاروبار ی اداروں میں اور اپنی گزرگاہوں میں میری تسبیح اور تکبیر اور تمجید اور توحید کے ڈنکے بجائیں گے۔ اور مسجدوں میں یو ں صف آراءہوں گے جیسے فرشتے میرے عرش کے گرد صف بستہ کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ (آخری امت کے لوگ) میرے دوست اور مدد گار ہوں گے۔ میں ان کے ذریعے اپنے بُت پرست دشمنوں سے بدلہ لوں گا۔ قیام و قعود اور رکوع و سجدہ سے نماز ادا کیا کریں گے۔ اپنے شہروں اور مال و متاع کو چھوڑ کر مجھے راضی کرنے کے لئے ( ہجرت اور جہاد کے لئے) لشکر در لشکر نکل پڑیں گے۔ اور میدان جنگ میں سیسہ پلائی دیوار بن جایا کریں گے۔ اُن کی کتاب ( قرآن پاک) پہلے والی کتابوں کو منسوخ کر دے گی۔ اُن کی شریعت پہلے والی شریعتوں کو ختم کر دے گی۔ اور اُن کا دین پہلے کے سب ادیان کو منسوخ کردے گا۔ جو شخص اُن کا زمانہ پائے گا اور اُن کی کتاب اور شریعت پر ایمان نہیں لائے گا تو اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

اُمتِ وسط :

اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ۔ اے بنی اسرائیل ، میں اس آخری نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اُمت کو امتِ وسط بناﺅں گا۔ تا کہ وہ ( دنیا اور اخرت میں ) لوگوں پر گواہ بنے۔ اس امت کے لوگ حالت ِ غیض و غضب میں میری تقدیس و تہلیل کریں گے۔ اور حالتِ ابتلاءو آزمائش میں میری تکبیر بلند کریں گے۔ اور حالتِ تنازعہ میں میری تسبیح کریں گے۔ خون سے قربانی کریں گے۔ اللہ کی کتاب (قرآن پاک) سینوں میں محفوظ کریں گے۔ (یعنی قرآن کے حافظ ہوں گے۔) رات کو عبادت کرنا اور دن کو جہاد کرنا اُن کا شیوہ ہوگا۔ اُن کی اذان کی آواز آسمانوں تک پہنچے گی۔ مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرتے ہوئے شہد کی مکھی جیسی دھیمی دھیمی آواز ہوگی۔ مبارک ہے اس کے لئے جو ان میں شامل ہو جائے گا۔ اور اُن کا دین اور اُن کی شریعت اپنا لے گا۔ یہ میرا فضل ہے۔ جسے چاہوں میں اپنا فضل عطا کروں اور میں بڑے فضل والاہوں۔

بنی اسرائیل کی حضرت شعیا علیہ السلام سے دشمنی :

یہاں حضرت شعیا علیہ السلام کی تقریر مکمل ہوگئی۔ اور آپ علیہ السلام خاموش ہو گئے۔ آپ علیہ السلام کی تقریر کے دوران تما م بنی اسرائیل دم بخود کھڑے خاموشی سے سن رہے تھے۔ اورآپ علیہ السلام کی تقریر ختم ہونے کے بعد بھی بہت دیر تک ویسے ہی کھڑے رہے۔ لیکن تمام بنی اسرائیل اتنی زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہو چکے تھے کہ کچھ دیر بعد تقریر کا اثر زائل ہو گیااور بنی اسرائیل اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے ساتھ ساتھ دشمنی پر بھی آمادہ ہوگئے۔ انھوں نے اپنے بادشاہ امون کو آپ علیہ السلام کے خلاف ورغلانا شروع کر دیا اور کہا کہ حضرت شعیا علیہ السلام تمہاری بادشاہت کے مخالف ہیں اور تمہیں بادشاہت سے ہٹانا چہاتے ہیں۔ امون اپنے والد کے برخلاف دنیا پرست تھا۔ اور دینداری سے کوئی واسطہ نہیںرکھتا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کی مخالفت کرتا تھا۔

حضرت شعیا علیہ السلام کے قتل کا حکم اور شہادت :

حزقیا اپنی حکومت حضرت شعیا علیہ السلام کے مشورے سے چلاتا تھا۔ لیکن اس کا بیٹا امون جب بادشاہ بنا تو اس نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ بنی اسرائیل کے عوام بھی آپ علیہ السلام کی مخالفت اور دشمنی میں اپنے بادشاہ کے ساتھ ہو گئے۔ اور اسے آپ علیہ السلام کے خلاف اتنا بھڑکایا کہ اس نے آپ علیہ السلام کے قتل کا حکم صادر کر دیا۔ اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت شعیا علیہ السلام کو شہید کر دیں۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا۔ لیکن وہ نہیں مانے اور مقابلے پر آمادہ ہو گئے۔آپ علیہ السلام نے اُن سے مقابلہ کیا۔ اور موقعہ پا کر جنگل میں آگئے۔ بنی اسرائیل کے عوام اور بادشاہ کے سپاہی آپ علیہ السلام کی تلاش میں جنگل میں داخل ہو گئے۔ اور آپ علیہ السلام کے گرد گھیرا تنگ کرنے لگے۔ ایک درخت پھٹ گیا۔ اور آپ علیہ السلام اس میں سما گئے۔ لیکن شیطان آپ علیہ السلام کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ جب درخت برابر ہونے لگا تو اس نے آپ علیہ السلام کی قمیص کا دامن پکڑ لیا۔ درخت برابر ہو گیا اور آپ علیہ السلام کی قمیں کا کونہ دکھائی دے رہا تھا۔ بنی اسرائیل کے عوام اور بادشاہ کے سپاہی اسے دیکھ کر سمجھ گئے کہ آپ علیہ السلام اس درخت کے اندر ہیں ۔ انھوں نے آرا لا کر اُس درخت کے ٹکڑے کر دیئے اور آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا۔

 بد بخت بنی اسرائیلیوں نے حضرت شعیا علیہ کو شہید کر دیا اسی طرح انھوں نے اپنے بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو شہید کیا ہے۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے کہ یہ بنی اسرائیل نبیوں اور رسولوں کو ناحق قتل کر تے تھے۔ آپ علیہ السلام کو شہید کر نے کے جرم میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر عذاب کی شکل میں ظالم بخت نصر کو مسلط کر دیا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ حضرت ارمیاعلیہ السلام کے ذکر میں آئے گا۔

       ٭........٭........٭ 

03 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام Story of Prophet Shayaa and Armiyaah


03 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 18

قسط نمبر 3

حضرت ارمیاہ علیہ السلام 

اللہ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا۔(ترجمہ) ہم نے بنی اسرائیل کے لئے اُن کی کتاب میں فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین پر دو مرتبہ فساد کرو گے۔ اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کروگے۔ ان دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلہ پر ایسے لوگ بھیج دیئے جو بڑے ہی لڑاکے تھے۔ پس وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے۔ اور اللہ کا یہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔ پھر ہم نے تمہیں غلبہ دیا اور تمہارے دن پھیر دیئے۔ اور مال اور اولاد سے تمہار ی مدد کی۔ اور تمہیں بڑے جتھے والا بنا دیا۔ اگر تم نے اچھے کام کئے تواپنا ہی فائدہ کیا۔ اور برائیاں کیں تو خود اپنا ہی نقصان کیا۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا( تو ہم نے دوسروں کو بھیج دیا تا کہ) وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں۔ اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد ( بیت المقدس) میں گھس جائیں اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں۔ ( سورہ بنی اسرائیل ۔ آیت نمبر4سے 7تک)

بنی اسرائیل کا پہلا فساد :

ان چار آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے دو مرتبہ زمین پر بہت بڑا اور زبردست فساد کیا۔ اور اُن کے پاس فساد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ظالموں کو مسلط کر دیا۔ جنھوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا پہلا وعدہ پورا ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر بنی اسرائیل کو غلبہ اور اکثریت عطا فرمائی۔ اور پھر بنی اسرائیل نے زمین پر دوسرا بڑا فساد کیا۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا دوسرا وعدہ پورا ہوا۔ اور ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ذلیل کیا اور ذلت اُن پر مسلط کر دی۔

بنی اسرائیل نے پہلا بڑا فساد یہ کیا کہ گمراہیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو گئے۔ اور جب اللہ تعالیٰ انھیں سمجھانے کے لئے نبیوں کو بھیجتے تو یہ لوگ نبیوں کو جھٹلاتے ۔ اور اپنی ضد پر اڑے رہتے تھے۔ جب انبیائے کرام انہیں بار بار سمجھاتے اور گمراہیوں اور برائیوں کا احساس دلاتے تو بنی اسرائیل چڑ جاتے ۔ اور پھر انھوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ انبیائے کرام سے دشمنی کرنے لگے۔ اور انھیں ناحق قتل کرنے لگے۔ حضرت شعیا علیہ السلام اُن کے آخری شکار تھے۔ جن کو بنی اسرائیل نے بڑی بے رحمی سے آرے سے چیر دیا تھا۔ اور شہید کر دیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا تھا۔

اس کے بعد بنی اسرائیل نے دوسرا بڑا فساد یہ کیا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کر دیااور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوایا۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر ایسے ظالم لوگ مسلط کئے جنھوں نے بیت المقدس ( جسے بنی اسرائیل جو اپنے آپ کو یہودی کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔ ہیکل سلیمانی کہتے ہیں)کو مسمار کر کے پوری طرح زمین کے برابر کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کا اتنی بے دردی سے قتل عام کیا کہ وہ جان پہچان کے لئے پوری دنیا میں بکھر گئے۔ دوسرے فساد کا مفصل تذکرہ حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات کے ذکر میں آئے گا۔ یہاں پہلے فساد کا مفصل تذکرہ ہوگا۔

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی بعثت :

حضرت ارمیاہ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی میں سے ہیں۔ حضرت شعیا علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی عوام اور بادشاہ نے ملکر بڑی بے رحمی سے شہید کر دیا تھا۔ بادشاہ نے خود حضرت شعیا علیہ السلام کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام اس کے بُرے اعمال سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت شعیا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی اسرائیل بہت زیادہ گمراہیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو گئے۔ آپ علیہ السلام ہمیشہ اُن برائیوں سے دور رہا کرتے تھے ۔ آپ علیہ السلا م بنی اسرائیل کے قبیلہ لادی سے تھے۔ اسی قبیلہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام بھی تھے۔ اور زیادہ تر انبیائے کرام علیہم السلام اسی قبیلہ سے ہوئے تھے۔ اسی لئے اس قبیلہ کو بنیوں کا قبیلہ کا جاتا تھا۔ صرف حضرت داﺅد علیہ السلام اسی قبیلہ سے ہوئے تھے۔ اسی لئے اس قبیلہ کو نبیوں کا قبیلہ کہا جاتا تھا۔ صرف حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام قبیلہ یہودا میں سے تھے۔ اور انھی کی نسبت سے بنی اسرائیل اپنے آپ کو یہیودی کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

حضرت ارمیاہ علیہ السلام پر وحی کا نزول :

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو آپ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی اور فرمایا۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) میں نے تجھے پیدا کرنے سے پہلے ہی نبوت کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ تیری والدہ کےپیٹ میں تیری تصویر بنانے سے پہلے تیری تعریف کی تھی۔ اور تیری ماں کے پیٹ سے نکلنے سے پہلے تجھے پاک کر دیا تھا۔ تیرے چلنے پھرنے کے قابل ہونے سے پہلے ہی تجھے نبوت کے لئے چُن لیا تھا۔ اور تجھے ایک بڑے کام کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ ا ب اس کام کے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور تم بنی اسرائیل نصیحت کرو اور سمجھاﺅ انھیں میرے احکام بتاﺅ۔ انھیں برائیوں اور میری نافرمانیوں سے روکو۔ اور انھیں گمراہی سے نکالنے کی کوشش کرو۔

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی عاجزی اور دعا :

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی اور آپ علیہ السلام نے اس کام پر غور و فکر کیا تو اندازہ ہو ا کہ یہ بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور بہت ہی صبر آزما اور محنت طلب ہے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرتے ہوئے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میں بہت کمزور ہوں اگر آپ مجھے قوی نہ کریں ۔ میں عاجز ہوں ، اگر آپ میرے اندر طاقت پید انہ کریں۔ میں غلطی کرنے والاہوں اگر آپ مجھے سیدھی راہ نہ دکھائیں۔ میں شکست خوردہ ہوں اگر آپ میری مدد نہ کریںاور میں ذلیل ہوں اگر آپ مجھے عزت عطا نہ کریں۔ اے اللہ تعالیٰ مجھے اس لائق بنا دے کہ میں ذمہ داری بہ خوبی ادا کر سکوں۔

اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا حاکم اور منتظم ہے :

اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر وحی فرمائی۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) تمام امور (کائنات کے تمام کام) میری مَشیّت( ارادہ) کے تابع ہے۔ اور تمام دل اور زبانیں میرے قبضے میں ہے۔ میں اللہ ہوں ۔ اور میرے جیسا کوئی نہیں ہے۔ آسمان اور زمین (اور یہ تمام کائنات) میرے ایک کلمہ (کُن یعنی ہو جا ، بن جا) کی وجہ سے برقرار ہے۔ میں سمندروں سے بات کرتا ہوں۔ وہ میرے قول کو سمجھتے ہیں۔ میں انھیں حکم دیتا ہوں اور وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ میں نے ان کے گرد خشکی کی حدیں مقرر کر دی ہیں۔ وہ ان حدوں سے تجاوز نہیں کرتے۔ وہ پہاڑوں جیسی موجیں لے کر آتے ہیں لیکن جب میری مقرر کردہ حدود تک پہنچتے ہیں تو میری اطاعت کے آگے سر جھکا دیتے ہیں۔

بنی اسرائیل کو نصیحت :

اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) میں تیرے ساتھ ہوں۔ لہٰذا میرے ہوتے ہوئے کوئی تجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔ ( یہ تسلی اس لئے ہے کیوں کہ بنی اسرائیل نے بہت سے انبیاءکرام کو ناحق قتل کر دیا تھا۔ اور حضرت شعیا علیہ السلام کا قتل ہوئے زیادہ عرضہ نہیں گزرا تھا) میں تجھے اپنی مخلوقات میں سے سب سے بڑی مخلوق ( انسان) کی طرف بھیج رہا ہوں۔ تا کہ تم میرا پیغام اُن تک پہونچاﺅ۔ اور جو لوگ تمہاری اتباع کریں گے وہ اجر کے مستحق ہوں گے اور وہ کامیاب ہوں گے۔ تم بنی اسرائیل کو نصیحت کرو اور انھیں میرا پیغام سناﺅ۔ اور اُن سے کہو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے آباو اجداد کا تقویٰ تمہیں یاد دلاتا ہے۔ کہ تم انھیں یاد کر کے گناہوں سے پرہیز کرو۔ اور اجر حاصل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے آباو اجداد کو اطاعت میں اور تمہیں نافرمانی میں مصروف پایا۔ کیا تم ایسے آدمی کو جانتے ہو جس نے میری اطاعت کی ہو اور ناکام ہوا ہو۔ یا کسی ایسے آدمی کو جانتے ہو جو میری( اللہ کی ) نافرمانی کر کے کامیاب ہو اہو ۔

بنی اسرائیل کی برائیاں اور نافرمانیاں :

اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا اے ارمیاہ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں ۔ جانور بھی اپنے بہتر گھر کو یاد کرتے ہیں تو ان کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل ہلاکت کی چراگاہ میں چر رہے ہیں۔ انھوں نے وہ راستہ چھوڑ دیا ہے جس راستے پر چل کر ان کے آباﺅ اجداد نے عزت پائی تھی۔ یہ عزت تو چاہتے ہیں لیکن کسی دوسرے راستے پر چل کر ۔ ان کے علماءاور عبادت گزاروں نے عوام کو جکڑ رکھا ہے۔ اور وہ ان سے وہ سلوک کرتے ہیں جس کا میری کتاب (توریت)اجازت نہیں دیتی ہے۔ ان ظالم علماءاور عبادت گزاروں نے عوام کے دلوں سے میرا سیدھا اور سچا راستہ مٹا دیا ہے۔ اور انھیں صرف میری اطاعت کا حکم تھا۔

بنی اسرائیل کے عوام بھی ان علماءاور عبادت گزاروں کے پیچھے چل کر میری نافرمانی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ رہے ان کے بادشاہ اور امراء۔ تو وہ تکبر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اور میرے عذاب سے بے خوف ہو گئے ہیں دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ علماءنے میری کتاب(کی آیات کو دنیاوی فائدے کے لئے توڑ مروڑ کر ) بیچ ڈالا۔ ان کے علماءاور بادشاہ اور اُمراءاور عام بنی اسرائیل سب نے مجھ سے کئے ہوئے عہد کو بھلا دیا ہے۔ انھوں نے میری کتاب(توریت) میں تبدیلیاں کر دیں ہیں۔ اور میرے رسولوں کو جھٹلا دیا ہے۔ انھوں نے بہت بڑی جسارت کی ہے۔ اور مجھ سے تعلق توڑ لیا ہے۔ اور میرے بارے میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ مجھے میرے جلال، میرے بلند مرتبہ ہونے اور میری بلند شان ہونے کی قسم۔ میرے بندے کے لئے یہ قطعاً جائز نہیں ہے کہ وہ میرے علاوہ کسی اورکی عبادت کرے۔ اور کسی اور کی اطاعت کرے۔ ان کے فقہا، علماءاور عبادت گذار مسجدوں میں عبادت کرتے ہیں اور اس عبادت کے ذریعے دنیا طلب کرتے ہیں۔ وہ علم کے علاوہ کسی اور چیز سے تعلق نہیں رکھتے ہیںاور عمل کرنے کے بجائے کسی اور چیز کے لئے علم حاصل کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن وہ قہر ذرہ اور دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور دنیا کی محبت میں گھر ے ہوئے ہیں۔ وہ مجھ سے وہی تمنا کرتے ہیں جو ان کے آبا و اجداد کرتے تھے۔ اور مجھ سے وہی اکرام چاہتے ہیں۔ جو میں نے ان کے نیک اور فرمانبراد آباو اجداد کا اکر ام کیا تھا۔ اور یہ نافرمان بنی اسرائیل سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کا ان کے علاوہ کوئی مستحق نہیں ہے۔ حالانکہ نہ ان میں سچائی ہے اور نہ تفکر ہے۔ اور نہ ہی تدبیر ہے۔ اور نہ ہی اس با ت کو یاد کرتے ہیں کہ میں نے کن اعمال کی وجہ سے ان کے آباﺅ اجداد کی مدد کی ہے۔ جب لوگوں نے میرے احکام میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی تو ان کے آبا ﺅ اجداد نے اس وقت میرے احکام کو برقرار رکھنے کے لئے اور ان پر عمل کرنے کے لئے کس قدر محنت کی۔ انھوں نے اپنی جان اور خون لگایا۔ مشکلات پر صبر کیا اور سچے دل سے محنت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میرا کلمہ بلند ہو گیا۔ اور میرا دین غالب آ گیالیکن بنی اسرائیل نے اپنے آبا و اجداد کی قربانیوں کو بھلا دیا ان کے علمائ، فقہا اور قراءاپنی پسند کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیںاور بادشاہوں کی مرضی کے مطابق توریت کی آیات کا مطلب بیان کرتے ہیں۔ بدعتوں میں اُن کی اطاعت کرتے ہیں اور میرے دین میں نئی نئی باتیں نکالتے ہیں۔ اور بادشاہوں کی اطاعت کر کے میری نافرمانی کرتے ہیں۔ میرے عہد کو توڑ کر ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو نبھاتے ہیں۔ جو کچھ یہ جانتے ہیں اُس میں بھی یہ جاہل ہیں اور میری کتاب سے حاصل کردہ صحیح علم سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

04 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام Story of Prophet Shayaa and Armiyaah


04 حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 18

قسط نمبر 4

بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کے باوجود اللہ کی اُن پر رحمتیں :

اللہ تعالیٰ نے اس کے آگے فرمایا۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) ان بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور گمراہی میں مبتلا ہونے کے باوجود میں نے در گزر کیا۔ کہ شایدیہ لوگ مجھ سے شرم کرنے لگیںاور میری طرف واپس لوٹ آئیں۔ میں نے انھیں مہلت پر مہلت دی اور انھیں معاف کر تا گیا۔ ان کی عمروں میں اضافہ کیا اور انھیں دیر تک دنیاوی لذت و آسائش سے لطف اندوز ہونے دیا۔ ان کے عُذر کو قبول کیا کہ شاید انھیں بھولا ہوا سبق یاد آجائے ان کی سر کشی کے باوجود ان پر بارشیں برساتا رہا۔ زمین سے ان کے لئے اناج اگاتا رہا انھیں میں نے عافیت کالباس پہنایا اور دشمن پر فتح عطا فرمائی۔ مگر ان کی سرکشی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور یہ لگاتار مجھ سے دور ہوتے چلے گئے۔

نافرمانیاں چھوڑ نے پر بنی اسرائیل کو بشارت :

اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) تم جاکر یہ تمام باتیں بنی اسرائیل کو بتاﺅ۔ ہو سکتا ہے یہ سب سن کر میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنے لگیں۔ اور گمراہیوں اور برائیوں سے نکل آئیں گے تو میں اُن کی دعائیں قبول کرلوں گا۔ اُن کے دشمنوں کو اُن سے دور کردوں گا۔ وہ میری طرف لوٹ آئیں گے تو میں اُن کی عمروں میں اضافہ کر دوں گا۔ وہ غور و فکر کریں گے اور اگر کوئی عذر کریں گے تو میں قبول کروں گا۔ اُن کے نیک اعمال کے بعد اُن پر آسمان سے بارش برساﺅں گا۔ اور اُن کے لئے زمین سے اناج پیدا کر وں گا۔ اور انھیں عافیت کا لباس پہناﺅں گا۔

بنی اسرائیل پر اللہ کا عتاب :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) ، لیکن اگر بنی اسرائیل نے تمہاری بات نہیں مانی اور میری اتنی نعمتیں ملنے کے بعد بھی میری نافرمانی کی اور اپنی ضد اور گمراہی پر اڑے رہے اور مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو میری عزت کی قسم، میں انھیں ایسے فتنے میں مبتلا کر دوں گا جو ان سب کو حیران کر دے گا اور صاحب رائے اور دانا شخص بھی گمراہ ہو جائے گا۔ اور پھر میں ان پر ظالم اور جابر اور نافرمان بادشاہ مسلط کر دوں گا اور اس کے د ل سے رحم کا جذبہ نکال دوں گا۔ اس کے ساتھ ایک ایسا لشکر ہوگا جو بادلوں کی طرح ہوگا اور اُن کے جھنڈے شاہین کی طرح اڑتے ہوں گے اُن کے شہسوار عقابوں کی طرح جھپٹیں گے۔ اور آبادیوں کو ویران کر دیں گے۔ شہروں کو کھنڈر بنا دیں گے۔ اور پوری زمین میں فساد برپا کردیں گے۔ اور جو سامنے آئے گا وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ اُن کی سنگدلی کا یہ عالم ہو گا کہ کسی پر رحم نہیں کریں گے ۔کسی کی دہائی نہیں سنیں گے۔ وہ شہروں میں بازاروں میں بلند آواز سے چیختے پھریں گے اور اُن کی ہیبت سے لوگ کانپ جائیں گے۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) مجھے میری عزت کی قسم ۔ میں ان بنی اسرائیل کے گھروں کو اپنی کتاب(توریت) سے خالی کردوں گا۔ اور اپنی برکت اٹھا لوں گا۔ ان کی مجلسوں کو اپنے کلام کی گفتگو سے خالی کردوں گا۔ میں ان کی عبادت گاہوں کو وحشت اور تنہائی کی جگہوں میں بدل دوں گا۔ جہاں وہ کافر اپنے غیر خداﺅں کی عبادت کریں گے۔ بنی اسرائیل دین کے بدلے دنیا چاہتے ہیں۔ دوسرے ادیان کو سیکھتے ہیں اور اپنے دین سے لاعلم ہیں۔ علم کو عمل کرکرنے کے لئے نہیں سیکھتے۔ میں ان کے بدشاہوں کو عزت کے بدلے ذلت دوں گا۔ امن کے بدلے خوف میں مبتلا کر دوں گا۔ غنی کے بدلے فقیربنا دوں گا۔ نعمت کے بدلے بھوک عطا کروں گا۔ عافیت اور آرام کے بدلے طرح طرح کی مصیبتیں اُن پر ڈال دوں گا۔ دیباج اور ریشم کی جگہ سخت اور کھردرا لباس دوں گا۔ میں انھیں ارواح طیبہ اور مقدس تیل کے بدلے تعفن زدہ لاشے دوں گا۔ تاج کے بدلے لوہے کے طوق اور زنجیریں پہناﺅں گا۔ ان کے کشادہ محلات اور مضبوط قلعے ویران کر دوں گا۔ پختہ اور خوبصورت گھروں کو درندوں کی کچھاریں بنا دوں گا۔ گھوڑوں کی ہنہناہٹ کی جگہ بھیڑیوں کی غراہت ہوگی۔ بادشاہوں کے درباروں میں دھواں اور خاک اڑے گی۔ قالینوں پر چلنے کی بجائے انھیں بازاروں میں چلنا پڑے گا۔ میں انھیں طرح طرح کے عذاب دوں گا۔ یہاں تک کہ ایک دن کا بچہ بھی ہلا ک کر دیا جائے گا۔ پھر میں آسمان کو حکم دوں گا کہ وہ بارش نہ برسائے اور زمین کو حکم دوں گا کہ سبزہ اور اناج نہ اگائے۔ اگر بارش برساﺅں گا میں اسے ان کے لئے عذاب بنادوں گا۔ اور اگر اناج یا سبزہ اگاﺅں گا تو اس کی برکتیں چھین لوں گا۔ وہ مجھے پکاریں گے تو میں اعراض کروں گا۔ (یعنی توجہ نہیں کروں گا) وہ چلائیں گے دعا مانگیں گے۔ اے اللہ تعایٰ، تو نے ہمیں اور ہمارے آبا و اجداد کو شروع دن سے ہی چن لیا تھا۔ تو نے ہماری نسل میں نبوت جاری کی تو نے ہمین اور ہمارے اسلاف کو چھوٹی بڑی نعمتوں سے نوازا اور ہماری حفاظت فرمائی۔ اگر ہم بدل گئے تو تو رحمت فرما اور اپنی نعمتوں کو ہم سے واپس نہ لے ۔ ہم پر اپنے فضل اور احسان اور رحم و کرم کی بارش فرما۔ میں اُن کو جواب دوں گا۔ ہاں میں نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت اور نعمت کے لئے چنا تھا۔ انھوں نے میرے حکموں پر عمل کیا تو میں نے اُن پر نعمتوں کی بارش کر دی۔ انھوں نے شکر ادا کیا تو میں نے نعمتوں میں اضافہ کر دیا۔ وہ بدل گئے تو میں بھی بدل گیا۔ انھوں نے دوسروں کی اطاعت قبول کر لی تو میں ناراض ہو گیا۔ اور جب میں کسی سے ناراض ہوتا ہوں تو انھیں عذاب میں مبتلا کر دیتا ہوں۔ اور یاد رکھو کوئی ایسا نہیں ہے جو میرے عذاب کو برداشت کر سکے۔

بنی اسرائیل کے لئے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی درخواست :

حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی یہ ناراضگی دیکھی تو عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ تیرا حکم ہو تو میں کچھ عرض کرتا ہوں ۔آج اگر میں باقی ہوں تو تیرے لطف و کرم کی وجہ سے باقی ہوں ۔اور مجھ سے بڑھ کر اس عذاب اوروعید سے ڈرنے کا حقدار اور کون ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ میں خود گنہ گاروں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوں ۔ وہ میرے ارد گرد گناہ کرتے ہیں لیکن نہ انھیں کوئی اندیشہ ہے اور نہ کوئی رکاوٹ۔ پس اگر تو مجھے عذاب دے تو یہ حق ہو گا اور اگر تو مجھ پر رحم کرے تو یہ تیری مجھ پر مہربانی ہوگی۔ اور میں یہی امید رکھتا ہوں اے میرے اللہ تعالیٰ ، تو پاک ہے۔ تمام حمد و ثنا تیرے لئے ہے۔ تو برکت والا ہے۔ توبلند مرتبے کا مالک ہے۔ کیا تو اس بستی اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والوں کو ہلاک کر دے گا جس میں تیرے نبیوں نے عمر گزار دی ہے؟ یہ وحی نازل ہونے کی جگہ ہے۔ اے میرے اللہ تعالیٰ ، تو پاک ہے۔ حمد و ستائش کا حقدار ہے۔ تو بڑی برکت والا ہے۔ اور اس بات سے کہیں بلند ہے کہ اس مسجد( بیت المقدس) او ر اس کے گرد و نواح میں موجود دوسری عبادت گاہوں اور گھروں کو ویرانوں میں بدل دے۔جہاں تیرا ذکر بلند ہوتا رہا ہے اے اللہ تعالیٰ ، تمام تعریف صرف تیرے لئے ہے۔ کیا تو اس امت کو قتل کر ے گا اور عذاب میں مبتلا کر ے گا ۔ حالانکہ یہ تیرے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہے۔ اور تیرے کلیم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے۔ اور تیرے خلیفہ حضرت داﺅد علیہ السلام کو ماننے والی ہے۔ اگر تو ہی ان پر ظالموں کو مسلط کر دے گا تو انھیں کون بچائے گا۔

بنی اسرائیل کو ایک اور موقع :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) یہ بنی اسرائیل لگاتار میری نافرمانی کر رہے ہیں ۔ یہ عبادت گاہوں ، بازاروں میں ، پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور درختوں کے سایوں میں کھلے عام گناہ کر رہے ہیں۔ ان کی شرارتوں کی وجہ سے آسمان مجھ سے فریاد کر رہا ہے ۔ زمین اور اس کے سینے پر نصب پہاڑ بلبلا اٹھے ہیں ۔ یہ لوگ کہیں بھی گناہوں سے نہیں چوکتے۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) اگر تو انھیں بچانا چاہتا ہے تو انھیں سمجھا۔ انھیں نصیحت کر۔ اور کوشش کر کہ یہ میری طرف رجوع کر لیں ۔ گناہوں سے توبہ کر لیں۔ صرف میری عبادت کریں، یتیموں کی دیکھ بھال کریں۔ بیواﺅں ، مساکین اور مسافروں کے حقوق ادا کریں تو یقینا میں انھیں معاف کر دوں گا۔ اور اگر تیرے سمجھانے کے باوجود انھوں نے مجھ سے منہ موڑا تو میرا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔

بنی اسرائیل نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو قید کر دیا :

حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو سمجھایا۔ انھیں نصیحت کی اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا ۔ کہ اے بنی اسرائیل ابھی وقت ہے اور موقع ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو۔ تمام گناہوں اور برائیوں کو چھوڑ دو۔ تو اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی کریں گے۔ اور اگر تم گناہوں اور نافرمانیوں پر اصرار کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ تم پر آگ کے پجاریوں کو مسلط کر دے گا۔ جو تمہیں ذلیل کریں گے۔ غلام بنائیں گے اور تمہاری عورتوں اور بچوں کو رسوا کریں گے۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام انھیں بار بار سمجھاتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل اکڑ گئے۔ اور آپ علیہ السلام کو جھٹلا دیا۔ اور کہا۔ تو جھوٹ بکتا ہے۔ اور اللہ پر بہتان لگاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سر زمین اور عبادت گاہوں سے اپنی عبادت ، اپنی کتاب اور پنی توحید کی آواز کو خاموش کر دے گا۔ تو نے اللہ پر بہتان باندھا ہے۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ دھوکے میں مبتلا ہو۔ تم جسے توحید سمجھ رہے ہو وہ توحید نہیں ہے۔ بلکہ دنیا پر ست علماءاور فقہا کی من گھڑت باتیں ہیں۔ یہ توریت کے معنی بدل کر تمہیں بتاتے ہیں۔ آپ علیہ السلام لگاتار کوشش کرتے رہے کہ بنی اسرائیل اپنے آپ کو بدل لیں لیکن بنی اسرائیل کے باادشاہ اور علماءآپ علیہ السلام کے خلاف ہو گئے۔ اور عوام کو بھی بھڑکا دیا۔ عام بنی اسرائیل کو تو گناہوں میں لطف آتا تھا۔ اور علماءاُن کے گناہوں کو نیکیاں بتاتے تھے۔ اس لئے تمام بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کے خلاف ہو گئے اور آپ علیہ السلام کو زنجیروں میں جکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا۔

بخت نصر ن کی شکل میں اللہ کا عذاب :

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے علماءاور بادشاہوں نے قید خانے میں ڈال دیا۔ اس وقت بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں پھوٹ پڑے زمانہ ہو گیا تھا۔ اور ہر قبیلے نے اپنا اپنا بادشاہ بنا لیا تھا۔ یہ لوگ فلسطین اور شام کے علاقوں میں آباد تھے۔ اس زمانے میں فلسطین بھی شام کے علاقے میں آتا تھا۔ اور شام ہی کہلاتا تھا۔ اور اس پورے علاقے کو کنعان بھی کہا جاتا تھا۔ بخت نصر کے بارے میں کچھ روایات میں ہے کہ یہ وہی بخت نصر تھا جس نے سخاریب کے ساتھ فلسطین پر حملہ کیا ۔ اور شکست کھائی تھی۔ اور اس وقت کے بادشاہ حزقیا نے سخاریب کے ساتھ اسے قید کر لیا تھا۔ لیکن حضرت شعیا علیہ السلام کے کہنے پر بخت نصر اور سخاریب کو آزاد کر دیا تھا۔ بخت نصر اُس وقت نوجوان تھا۔ روایات میں یہ بھی ہے کہ بخت نصر کی عمر تین سو سال تھی۔ اور وہ اپنی شکست کو بھولا نہیں تھا۔ اس لئے جب یہ حکمراں بنا تو اس نے بنی اسرائیل پر اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے حملہ کر دیا۔ کچھ روایات میں یہ آیا ہے کہ اس وقت ایران (جسے اُس وقت بابل کہا جاتا تھا) کے حکمرانوں کا لقب بخت نصر ہوا کرتا تھا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل کے حالات میں کئی جگہوں پر بخت نصر کا ذکر آیا ہے اور یہ تمام حالات کئی سو برسوں پر محیط ہیں۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

بنی اسرائیل کا محاصرہ :

بخت نصر نے چھ لاکھ کے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل پر حملہ کیا۔ اور محاصر ہ کر لیا۔ یہ محاصرہ بہت دن چلا۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے پاس کھان پانی ختم ہونے لگا۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بزدلی پیدا ہو گئی تھی۔ اُن کے دلوں میں دنیا کے عیش و آرام اور دنیا کی محبت آگئی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ جنگ سے گھبرانے لگے تھے۔ آخر کار جب محاصرہ بہت لمبا ہو گیا تو بنی اسرائیل نے لڑنے کی بجائے ہتھیار ڈال دیئے اور بخت نصر اورا س کے لشکر کے لئے اپنے شہروں کے دروازے کھول دیئے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ پہلے تمام شہروں کے چاروں طرف ایک بہت اونچی دیوار ہوتی تھی جسے شہر پناہ یا فصیل کہا جاتا تھا۔ یہ شہر پناہ یا فصیل دوسروں کے حملوں کو روکنے کے لئے بنائی جاتی تھی۔

بنی اسرائیل کا قتلِ عام :

بنی اسرائیل نے تمام شہروں کے دروازے کھول دیئے اور بخت نصر سے جان کی امان طلب کی۔ لیکن وہ وحشی تھا۔ اس نے شہروں میں گھستے ہی بنی اسرائیل کا قتل عام شروع کر دیا اور گھروں میں گھس کر لوٹ مار شروع کر دی۔ تمام مال لوٹ لینے کے بعد گھروں کو آگ لگادینے کا حکم دیا۔ بیت المقدس( جسے بنی اسرائیل اور آج کے یہودی ہیکل سلیمانی کہتے ہیں) کو مسمار کر دیا۔ بنی اسرائیل کی تمام عبادت گاہوں کو منہدم کر دیا گیا۔ قلعوں کو توڑ پھوڑدیا گا۔ توریت کے تمام نسخوں کو جلا دیا گیا۔ بنی اسرائیل کے تمام سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا۔ عورتوں کو بازار میں لاکر کھڑا کر دیا گیا۔

بنی اسرائیل کو قیدی بنا کر لے جایا گیا :

بخت نصر نے بنی اسرائیل پر ظلم کی انتہا کر دی۔ ایک تہائی کو قتل کر دیا۔ بوڑھے مردوں اور عورتوں کو چھوڑ دیا۔ باقی تمام نوجوان اور جوان مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا۔ ان میں سات ہزار حضرت داﺅد علیہ السلام کی نسل میں سے تھے ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام یہودا کی اولاد میں سے ہیں۔ اس طرح یہودا کی اولاد میں سات ہزار غلام بنائے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے گیارہ ہزار کو غلام بنایا۔ اور بن یامن سے بھی غلامی بنائے۔ آٹھ ہزار روبیل کی نسل سے غلام بنا لئے۔ لاوی کی نسل سے بارہ ہزار غلام بنائے اور بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں سے بھی غلام بنائے۔ بادشاہوں اور علماءکو بھی قتل کیا۔ اور غلام بنایا۔ ستر ہزار سے زیادہ تو بادشاہوں اور علماءکے بیٹے تھے۔ ان کے علاوہ مردوں اور عورتوں کو غلام بنا کر بخت نصر بابل (آج کا ایران) لے گیا۔

٭ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی آزادی اور بخت نصر سے ملاقات :

بخت نصر بنی اسرائیل کے گھروں کو لوٹ کر جلا رہا تھا۔ انھیں قتل کر رہا تھا۔ اور غلام بنا رہا تھا۔ بنی اسرائیل رو رہے تھے۔ دہائی دے رہے تھے۔ اور کہہ رہے تھے کہ افسوس ہم نے اپنے نبی کی بات کو جھوٹا سمجھا ۔ جس کا انجام ہمیں آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بخت نصر تک یہ بات پہنچی اُن نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی ایسا بھی ہے جو انھیں اس مصیبت سے خبردار کرتا رہا۔ انھیں بتاتا رہا کہ تمہارا دشمن تم پر حملہ آور ہوگا ۔ وہ کسی پر رحم نہیں کرے گا۔ وہ تمہیں ذبح کر ڈالے گا۔ تمہارے بچوں کو قیدی اورعورتوں کو لونڈی بنا لے گا۔ مسجدیں ویران اور قلعے مسمار کر دے گا۔ بخت نصر کو حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے حکم دیا ہو شخص جہاں کہیں ہو فوراً میرے پاس لے کر آﺅ۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو قید خانے سے نکال کر بخت نصر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے آپ علیہ السلام سے پوچھا۔ کیا تو انھیں (بنی اسرائیل) کو ہم سے ڈرایا کرتا تھا۔ اور کہا کرتا تھا کہ ہم اس ملک کو فتح کریں گے۔ اور انھیں نیست و نابود کر دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں میں انھیں آگاہ کرتا رہا لیکن یہ دنیا میں مگن رہے۔ بخت نصر نے پوچھا تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے مجھے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر ان کے پاس آیا ۔ لیکن انھوں نے مجھے جھٹلا یا۔ بخت نصر نے پوچھا ۔ انھوں نے تجھے جھٹلایا تجھے مارا پیٹا اور قید میں ڈال دیا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ ہاں ۔ بخت نصر بولا وہ قوم بہت بُری قوم ہے جس نے اپنی نبی(علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ اور اس کے پیغام کو جھوٹ سمجھا۔ کیا تو میرے ساتھ آنا چاہتا ہے۔ میں تیری عزت و تکریم کا خیال رکھوں گا۔ اور تیری کسی قسم کی دل آزاری نہیں ہونے دوں گا۔ اور اگر تو اپنے وطن میں رہنا چاہے تو تجھے کوئی نقصان نہیں پہونچایا جائے گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوں ۔اور اگر بنی اسرائیل بھی اللہ کی پناہ حاصل کرتے تووہ تجھ سے خوف زدہ نہیں ہوتے۔اور نہ ہی کسی دوسرے بادشاہ سے مرعوب ہوتے۔ اور کوئی بھی اُن پر فتح حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا۔ اور تمام مال و دولت اور قیدیوں کو لے بابل چلا گیا۔

بنی اسرائیل نے پھر سے نافرمانی کی :

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بیت المقدس( جو اب پوری طرح کھنڈر بن چکا تھا) میں چھوڑ کر بابل واپس چلا گیا۔ آپ علیہ السلام افسردہ سے ان کھنڈروں میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بچے کچے بوڑھے مرد عورت (انھیں بخت نصر نے بے کار سمجھ کر چھوڑ دیا تھا) آپ علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے ۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ نے سچ فرمایا تھا۔ ہم ہی ظالم لوگ ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اور توبہ کرتے ہیں کہ ہم لوگ غلط راستے پر تھے۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ بھی ہمارے لئے دعا فرمایئے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا سے ہماری توبہ قبول ہو جائے۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا میں کی دعا قبول نہیں کروں گا۔ ہاں ایک صورت ہے۔ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ اسی جگہ رہنے لگیں۔ تو میںان کی دعاقبول کر لوں گا۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے اُن لوگوں سے فرمایا۔ تمہاری توبہ کی قبولیت کی یہ شرط ہے کہ تم لوگ میرے ساتھ اسی جگہ رہنے کے لئے بس جاﺅ۔ ان بدبختوں نے کہا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ پورا شہر ( بیت المقدس) اور آس پاس کے تمام علاقے کھنڈر ہو چکے ہیں۔ تمام علاقہ برباد ہو چکا ہے۔ ایسے ویرانے میں تو ہم نہیں رہیں گے۔ تمہیں رہنا ہے تو اپنے اللہ کے ساتھ رہو۔ اس طرح بنی اسرائیل عذاب میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی نافرمانی پر اڑے رہے۔ اور دوسرے آباد علاقوں میں چلے گئے۔ اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام اسی ویرانے میں رہے۔ آپ علیہ السلام یہاں برسوں رہے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ علیہ السلام نے بابل جا کر حضرت دانیال علیہ السلام کی مدد کی تھی۔ کچھ روایات میں ایسا ہے کہ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے بیت المقدس کو دوبارہ آباد کرنے ہوتے ہوئے دیکھا ۔ بہر حال یہیں پر آپ علیہ السلام نے اپنا آخر وقت گزارا۔ 

اگلی کتاب

حضرت ارمیاہ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت دانیال علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔ 

٭........٭........٭



باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں