حضرت شعیا و ارمیاہ علیہم السلام
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر 18
حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد نبی اسرائیل کے مختصر حالات :
حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرئیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعم کو بادشاہ بنایا۔ اس کے دور حکومت میں بھی بنی اسرائیل سکون سے رہے۔ لگ بھگ سترہ برس تک اس نے پورے بنی اسرائیل پر حکومت کی۔ اسی دوران بنی اسرائیل بہت سی خرابیوں میں مبتلا ہو گئے اور حکوم تقسیم ہوگئی۔ دو قبیلوں پر رجعم کا بیٹا ایبا حکمراں بنا۔ا ور باقی قبیلوں پر رجعم حکومت کرتا رہا۔تین برس بعد لگ بھگ 20برس تک حکومت کرنے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد ایبا حکومت کرتا رہا۔ اس کے دورِ حکومت میں بھی بنی اسرائیل بہت زیادہ خرابیوں میں مبتلا ہو گئے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت لوگ شِرک میں بھی مبتلا ہوگئے تھے ۔ ایبا کے انتقال کے بعد اُس کا بیٹا اَسا بن ایبا حکمراں بنا۔
٭ اَسا بن ایبا کا دورِ حکومت :
ایبا بت پرست ہو گیا تھا۔اور اسکی وجہ سے بنی اسرائیل کے بہت سے لوگ گمراہ ہوکر بت پرستی میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اسکا بیٹا اسا جب حکمراں بنا تو اس نے بت پرستی بند کرنے کا اعلان کردیا۔ اس نے تمام بتوں کو توڑدیا۔ اور اعلان کردیا کہ جو بھی بتوں کی پوجا کرتے ہوئے دکھائی دے گا اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس کے والدہ نے بت پوجا پر اصرار کیا تو اس نے اپنی والدہ کو بھی قتل کروادیا ۔ اور بنی اسرائیل نے بت پوجا چھوڑ دی ۔لیکن وہ اپنے بادشاہ کے خلاف سازش میں مصروف رہے۔ انھوں نے ہندوستان کے کافر بادشاہ زرح کو حملے کی دعوت دی۔ اور کہا بنی اسرائیل (عوام) بادشاہ کے خلاف تمھارا ساتھ دے گی۔
اسا کی دعا :
زرح نے ایک بہت بڑے لشکر جرّار کے ساتھ حملہ کیا۔ اسا نے بھی اپنی فوج تیار کیا اور مقابلے پر آگیا۔ جنگ سے پہلے والی رات میں اسا نے رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اے اللہ تعالیٰ ہر شئے تیرے قبضے میں ہے۔ اور تو ہر ایک پر قدرت رکھتا ہے۔ میری یہ درخواست ہے کہ ہمارے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ کر اور ہم پر اپنی رحمت نازل فرما۔ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔اور میرے ساتھ مسلمان بہت کم ہیں ۔اے اللہ تعالیٰ ، جس طرح تو نے فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مدد کی تھی ۔اسی طرح ہماری بھی مدد کر ۔اور زرح پر عذاب نازل فرما۔
اللہ تعالیٰ کی مدد :
بنی اسرائےل کےعلماءبھی دعا کررہے تھے۔ اے اللہ آج اپنے بندے کی دعا قبول فرما۔ کیونکہ اسنے صرف تجھ ہی پر بھروسہ کیا ہے۔اسے دشمنوں کے حوالے نہ کر۔اس نے تیری محبت میں اپنی والدہ کو بھی قتل کردیا۔ اور سب لوگوں کر چھوڑ کر تیری ہی بات مانتا ہے۔ اسا حالتِ سجدہ میں رو رو کر دعا مانگ رہا تھا۔ کہ اللہ نے اس پر نیند طاری کردی۔ اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی پکار کر کہہ رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے سچّے بندوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑتا۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے دل میں اپنی محبت پیدا کی۔ اور تیرے کو اپنے اوپر لازم کرلیا۔ اللہ تعالیٰ تیرے دشمنوں کے مقابلے میں اپنے فرشتوں کی فوج بھیجے گا۔
اساکی فتح :
اسا کی آنکھ کھلی اور وہ مسکراتا ہوا باہر آیا۔ اور بنی اسرائیل کو اللہ کی مدد کی خوشخبری سنائی۔ بنی اسرائیل کے مؤمنوں نے اسکی بات کا یقین کیا۔ اور بنی اسرائیل کے منافقین(جو دل سے زرح کی ساتھ تھے)اسکا مذاق اڑانے لگے۔اسکے باوجود اس نے اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ بنی اسرائیل میں بارہ قبیلے تھے۔ ہر قبیلے کا سردار آگے بڑھا ۔لیکن تمام قبیلوں کی بنی اسرائیل کی اکثریت پیچھے ہٹ گئی۔ اور ہر سردار کے ساتھ بہت کم مومن افراد رہ گئے۔ اب اسا ان کئی سو کا معمولی لشکر لیکر آگے بڑھا۔ زرح نے اس معمولی سے لشکر کو دیکھا۔ تو مذاق اڑانے لگا ۔اور کہاکہ بلاوجہ میں نے اتنے بڑے لشکر کو لیکر اتنی دور کا سفر کیا۔ اسکے لئے تو میرا معمولی سا سپہ سالار ہی کافی ہے ۔اور حملہ کردیا۔ جنگ شروع ہوگئی ۔اللہ تعالیٰ نے اسا کی مدد کے لئے فرشتے بھیجے۔ جو کسی کو نظر نہیں آتے تھے۔ آخر کار زرح کو شکست ہوئی۔ اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگا۔ اسکے ساتھ ایک لاکھ آدمی تھے ۔ وہ سب سمندر کے کنارے پہنچ کر جہازوں پر سوار ہوگئے۔ تو اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں۔اور بڑی بڑی موجیں اٹھنے لگیں۔جن کی وجہ سے تمام جہاز تباہ ہوگئے۔اور زرح اور اسکے ساتھی غرق ہوگئے۔
اسا کے بعد بنی اسرائیل کے حالات :
اسکے بعد تمام بنی اسرائیل نے شرک سے توبہ کرلی۔ اور اسا پورے سکون واطمینان سے حکومت کرتا رہا۔ اسکے انتقال کے بعد اسکا بیٹا یہو شاط (یاس یہو شا خا ط) بادشاہ بنا ۔پچیس برس تک اس نے حکومت کی ۔اسدکے دور میں بنی اسرائیل پھر سے خرابیوں میں مبتلا ہونے لگے۔اسکے بعد اسکی چچا زاد بہن عقلیا حکمراں بنی ۔اسے غزلیا کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔ اسکے دور حکومت میں بنی اسرائیل بہت زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہوگئے۔ آخر کار اسی کے خاندان کے یوشان بن اخزیا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے قتل کر دیا۔ عقلیا یا غزلیا نے سات سال حکومت کی ۔اب یواش بادشاہ بن گیا۔ لیکن اس نے بنی اسرائیل کی گمراہیوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی ۔اس نے چالیس سال حکومت کی ۔اسکے بعد یاتام بن عوزیا نے سولہ سال حکومت کی ۔اسکے بعد اسکا بیٹا ضازبن یوتام نے سولہ سال حکومت کی۔ اسکے بعد اسکا بیٹا حزقیا بن جاز حکمراں بنا۔ اور اسکے دورحکومت میں حضرت شعیا علیہ السلام نے اعلانِ نبوت کیا۔
حضرت شعیا علیہ السلام کا اعلان نبوت :
حضرت شعیا علیہااسلام نے حزقیا بن جاز کے دور حکومت میں اعلان نبوت کیا۔ دوسری روایات میں بنی اسرائیل کے اس بادشاہ کا نام صدیقہ بھی آیا ہے۔ لیکن اکثر روایات میں حزقیا ہی نام آیا ہے۔ اس بادشاہ نے حضرت شعیا علیہ اسلام کی اطاعت قبول کی۔ آپ علیہ السلام توریت کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ اور حضرت موسی علیہالسلام کی شریعت کو نافذ کیا کرتے تھے۔ اور بنی اسرائیل میں جو خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں انھیں دور کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ چونکہ بادشاہ آپ علیہ السلام کی اطاعت کرتا تھا۔ اس لیے بنی اسرائیل بھی گمراہیوںمیں مبتلا ہونے کے باوجود بادشاہ کے خوف سے آپ علیہ السلام کی اطاعت کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے بنی اسراعیل کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بشارت دی۔ بنی اسرائیل ”وہ آخری نبی“ کے منتظر تھے۔ آپ علیہ السلام نے وہ آخری نبی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں بہت تفصیل سے بتایا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔
بنی اسرائیل پر بابل کے بادشاہ کا حملہ :
حزقیا کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا۔ اور اس کا ایک پیر بے کار ہو گیا۔ اسی دوران میں بابل کا بادشاہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر بنی اسرائیل پر حملہ کرنے کے لیئے آیا۔ اس کے ساتھ اتنا بڑا لشکر تھا کہ اس میں چھے لاکھ جھنڈا بردار تھے۔ اس کا نام سخاریب تھا۔ حزقیا کو جب سخاریب کے آنے کی اطلاع ملی۔ تو اس نے حضرت شعیا علیہ اسلام سے عرض کیا کہ اللہ تعالی اس کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام پر وحی فرمائی کہ بادشاہ سے کہو کہ حکومت چھوڑ دے۔ اور اپنی جگہ کسی اور کو حکمراں بنا دے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کا حکم حزقیا تک پہنچایا۔
حزقیا کی دعا کی قبولیت:
حزقیا نے جب اللہ کا حکم سنا تو بیت المقدس میں آیا۔ اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں عاجزی سے رو رو کر گڑ گڑا کر دعا کرنے لگا۔ اے اللہ تعالی، اے سب کے پروردگار، اے سب کے معبود، اے پاکیزہ اور مقدس ذات، یا رحمٰن ےا رحیم، اے وہ مہربان ذات جسے نیند نہیں آتی، اور نہ ہی اونگھ آتی ہے۔ تو میرے فعل، عمل اور بنی اسرائیل کے ساتھ میرے سلوک کو جانتا ہے۔ یہ سب میں نے تیری ہی توفیق سے کیا ہے۔ بے شک تو میرے پوشیدہ ( چھپے ہوئے ) اور ظاہر کو جانتا ہے۔ مجھے ایک موقع دے اور تندرست کردے۔ بادشاہ لگاتار روتا رہا۔ اور اللہ تعالی سے دعا مانگتا رہا۔
حضرت شعیا علیہ السام کی بشارت اور بادشاہ کا شکر ادا کرنا:
بادشاہ کے لگاتار دعا مانگنے سے اللہ تعالی نے اس پر رحم فرمایا۔اور حضرت شعیا علیہ اسلام کی طرف وحی بھیجی کہ بادشاہ کو جا کر بشارت دو کہ اللہ تعالی نے اس کی دعا قبول کر لی ہے۔ اور اس پر رحم فرمایا ہے۔ اسے صحت عطا کی جائے گی۔ اور سخاریب کے لشکر سے بچایا جائے گا۔ آپ علیہ اسلام نے بیت المقدس میں آکر دعا میں مصروف بادشاہ کو اس کی دعا کی قبولیت کی بشارت دی۔ یہ خوشخبری سن کر وہ پھر سجدے میں گر پڑا۔ اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے لگا۔ اس نے عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ، اے میرے آباواجداد کے معبود ، میں نے تجھے سجدہ کیا۔ تیری تسبیح کی، تیری بزرگی کو تسلیم کیا۔ تو جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے۔ اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔ تو ظاہر اور باطن کو جاننے والا ہے۔ تو اول اور آخر ہے ۔ تو بے قراروں پر رحم کرتا ہے۔ اور اُن کی دعا قبول کرتا ہے ۔ بے شک تو نے میری دعا قبول کی اور میرے حال پر رحم فرما۔
بادشاہ کی تندرستی اور اللہ کی مدد :
جب بادشاہ نے سجدے سے سر اُٹھایا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیا علیہ السلام کو وحی فرمائی۔ کہ بادشاہ سے کہو کہ انجیر کا پانی اپنی بے کار ٹانگ پر ملے۔ وہ تندرست ہو جائے گا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کا حکم سنایا ۔ بادشاہ نے اُس پر عمل کیا۔ اور تندرست ہو گیا ۔ اس کے بعد اُس نے آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ دشمنوں کے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر وحی بھیجی۔ کہ اللہ تمہارے دشمنوں کے لئے کافی ہے۔ اور وہی تمہیں اُن سے نجات دے گا۔ اور سخاریب اور خطاب کرنے والے پانچ آدمیوں کے علاوہ سب کو ہلاک کر دے گا۔ اور تمام بنی اسرائیل کو بچا لے گا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل پر فرض ہوگا کہ تمام گمراہیوں اور خرابیوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کے حکم کی تعمیل کریں اور توریت کے احکام پر سختی سے عمل کریں۔
سخاریب کو شکست اور اس کی گرفتاری :
اللہ تعالیٰ نے رات میں فرشتوں کو حکم دیا اور اس کے حکم کے مطابق فرشتوں نے سخاریب کے لشکر کو ہلاک کر دیااور سخاریب کے ساتھ پانچ آدمیوں کو زندہ چھوڑ دیا۔ ان میں بخت نصر بھی تھا۔ اگلے دن جب صبح ہوئی تو آواز آئی کہ اے بنی اسرائیل کے بادشاہ ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے تمہارے دشمنوں کے لئے کافی ہو گیا ہے۔ باہر آکر دیکھو بے شک سخاریب کا لشکر ہلاک ہو گیا ہے۔ بادشاہ نے باہر آکر اُس جگہ دیکھا جہاں سخاریب اپنے لشکر کے ساتھ پڑاﺅ ڈالے ہوئے تھا۔ وہاں صرف لاشیں ہی لاشیں دکھائی دے رہی تھیں۔ بہت تلاش کرنے پر سخاریب نہیں ملا۔ بادشاہ نے اس کی تلاش میں سپاہی بھیجے جو اسے گرفتار کر کے لائے اُس کے ساتھ پانچ آدمی اور تھے ان میں بخت نصر بھی تھا۔
بادشاہوں کی گفتگو :
سپاہی سخاریب اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر کے بادشاہ کی خدمت میں لائے۔ یہ دیکھ کر بادشاہ سجدے میں گر گیا۔ اور فجر سے عصر تک سجدے میں رہا۔ پھر اس نے سخاریب سے کہا۔ ہمارے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ جو معاملہ کیا تم اسے کیسا سمجھتے ہو؟ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لشکر کو اپنی قوت اور طاقت سے ہلاک نہیں کیاہے؟جب کہ ہم دونوں غفلت میں تھے۔ سخاریب نے کہا۔ مجھے بابل سے نکلنے سے پہلے تمہارے رب (اللہ تعالیٰ) کی مدد اور نصرت اور تم پر اس کی رحمت کے بارے میں بتایا گیا تھا لیکن میں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اور مذاق سمجھا۔ اب میری سمجھ میں آرہا ہے کہ تمہارے رب ( اللہ تعالیٰ)سے کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ سن کر بنی اسرائیل کے بادشاہ نے کہا تمام تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہے جو ہماری طرف سے تمہارے لئے کافی ہو گیا ہے۔ اس نے تمہیں اور تمہارے پانچ ساتھیوں کو اس لئے زندہ چھوڑا ہے کہ تم دوسروں کو اس معاملہ کی خبر دو۔ اور انھیں بنی اسرائیل کے سامنے آنے سے ڈراﺅ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ تمہیں باقی نہیں رکھتا۔ اور تم لوگوں کے خون کی قیمت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک ٹڈی کے خون کے برابر بھی نہیں ہے۔
بادشاہ کا سخاریب کے ساتھ سلوک :
اس کے بعد اُس نے حکم دیا کہ انہیں ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کے گرد روزانہ ستّر70چکر لگوائے جائیں اور کھانے کے لئے صر ف دوروٹیاں جَو کی دی جائیں۔ یہ معاملہ کئی دنوں تک چلتا رہا۔ بنی اسرائیل کے لوگ روزانہ اُن کا تماشا دیکھتے تھے۔ ایک دن سخاریب نے کہا اس طرح ذلیل کرنے سے بہتر ہے کہ ہمیں قتل کر دو۔ تو بادشاہ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیا علیہ السلام پر وحی فرمائی کہ سخاریب اور اس کے ساتھیوں کو چھوڑ دوتاکہ وہ لوگوں کو ڈرائیں۔ اور سواری کا انتظام کر کے انہیں روانہ کردو۔ تاکہ وہ اپنے شہر پہنچ جائیں۔آپ علیہ السلام نے بادشاہ کو اللہ کا حکم سنایا تو اس نے اسی کے مطابق عمل کیا۔ اس طرح سخاریب لوگوں کے لئے عبرت بن گیا۔ اور اپنی شکست کے غم میں گھل کر مر گیا۔ لیکن بخت نصر بعد میں ایک بڑا لشکر آیااور بنی اسرائیل کے بے شمار افراد کو قتل کیا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ دوسرے نبی کے ذکر میں آئے گا۔
بنی اسرائیل میں خرابیاں :
حزقیا بادشاہ بنی اسرائیل پر پچپن برس کی عمر تک حکومت کرتا رہااور اس کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل بہت حد تک درست رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعدا س کا بیٹا مون بادشاہ بنا ۔ یہ اپنے والد کی برح دیندار نہیں تھا۔ اور عیش و عشرت کا دلدادہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ ہوا اوراپنے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو بھی گمراہ کر دیا۔ اور بنی اسرائیل بہت سی خرابیوں میں مبتلا ہو گئے۔ حالانکہ حضرت شعیا علیہ السلام اُن کے درمیان موجود تھے۔ اور لگاتار انھیں سمجھاتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل اُن کے بات سننے کی بجائے اُن کا مذاق اڑانے لگے۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام انھیں برائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل اُن کی بات سمجھنے کی بجائے اُن کے مخالف ہو گئے۔
حضرت شعیا علیہ السلام کی تقریر :
جب بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کی مخالفت پر آمادہ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر وحی اتاری کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کو جمع کر کے خطاب کریں ۔ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کی زبان پر وحی جاری کر دے گا۔ یہ حکم سن کر آپ علیہ السلام نے پورے بنی اسرائیل کو ایک بڑے پہاڑ کے دامن میں میدان میں جمع کیا۔ اور تقریر کے لئے پہاڑ پر کھڑے ہوئے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زبان پر وحی جاری فرمادی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور تقدیس و تہلیل کے بعد فرمایا۔ اے آسمان سُن ، اے زمین والو خاموش ہو جاﺅ، اے پہاڑوں توجہ کرو۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بنی اسرائیل کی عظمت کو ختم کر دے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو اپنی نعمتوں میں پالا، اپنی نعمتیں عطا فرمائیں ۔ بنی اسرائیل کو تمام لوگوں میں سے چُنا۔ اور انھیں کرامت بخشی۔ مگر انھوں نے سمجھا کہ وہ شیطانوں اور نجومیں کے ذریعہ غیب پر اطلاع پا سکتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ شیطانوں کی باتیں سینوں میں چھپا کر رکھتے ہیں۔
غیب اور قیامت کا علم صرف اللہ کو ہے :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بنی اسرائیل کو معلوم ہے کہ زمین و آسمان کا غیب صرف میں جانتا ہوں ۔ اور میں اُن کے ظاہر و باطن سے واقف ہوں ۔ میں نے زمین و آسمان پیدا کرتے ہی ایک اٹل فیصلہ کیا تھا۔ (یعنی قیامت برپا کروں گا)۔ اور وہ وقت مقررہ پر پورا ہو کر رہے گا۔اور اس کا (قیامت) علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ (کہ وہ کب آئے گی) اگر یہ ( بنی اسرائیل جن شیطانوں اور نجومیوںکو مانتے ہیں)اپنے قول میں سچے ہیں کہ وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ تو پھر ایسی قدرت لائیں جس کے ساتھ میں نے وہ تقدیر لکھی اور ایسی حکمت لائیں جس کے ساتھ میں تدبیر نظام کائنات کرتا ہوں۔
نبوت ہمیشہ بنی اسرائیل میں نہیں رہے گی :
اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے میں نے تخلیق ارض و سماء(زمین و آسمان) کے دن ہی لکھ دیا تھا کہ نبوت ہمیشہ بنی اسرائیل میں نہیں رہے گی۔ اور بادشاہت اُن سے چھین کر چرواہوں کو دے دی جائے گیا۔ ناتوانوں کو عزت ، کمزوروں کو طاقت، فقیروں کو تونگری (امیری) ، جاہلوں کو علم اور انپڑھو ں کو حکمت کے خزانے دے دیئے جائیں گے۔ کم تعداد والوں کو کثرت بخشی جائے گی۔ جنگلوں میں شہر آباد ہوں گے۔ اور صحراﺅں میں قلعے تعمیر ہو جائیں گے۔ان بنی اسرائیل سے پوچھو ایسا کب ہوگا؟ کون کرے گا؟ اور کس کے ہاتھوں پر میری قدرتیں ظاہر ہوں گی۔ اور اس کے ساتھی کون ہوں گے؟ کیا یہ لوگ یہ سب جانتے ہیں؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اس کے لئے وہ آخری نبی اُمّی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو مبعوث فرمانے والا ہوں ۔ جس کے ذریعے بہرے کان، مقفل دن، اور اندھی آنکھوںکو کھول دوں گا۔ اس کی پیدائش مکہ مکرمہ ( حرم شریف) میں ہوگی۔ ہجرت کھجوروں والے علاقے ( مدینہ منورہ) میں ہوگی۔اور حکومت شام اور آس پاس کے علاقوں تک ہوگی۔ یہ میرا بندہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) متوکل ، برگزیدہ ، عظیم المرتبت، محبوب سے محبوب تر اور پسندیدہ تر ہے۔برائی کا بدلہ عفو و درگزر سے دے گا۔ مومنوں پر رحیم ہوگا۔ طاقت سے زیادہ بوجھ تلے دبے ہوئے جانوروں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آجائیں گے۔ بے سہارا عورت کی گود میں کسی یتیم کو دیکھ کر وہ غمگین ہو جایا کرے گا۔ درشت مزاج (غصہ کرنے والا) اور بد خلق نہیں ہوگا۔ بازاروں میں شورو غل کرنے سے کوسوں دور ہوگا۔ اور بدکلامی سے پاک ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم اخلاق کا ذکر :
اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے میں اُس آخری نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو اخلاق کریمانہ اور اعمالِ خسنہ سے آراستہ کروں گا۔ طمانت اور وقار اس کا لباس ہوگا۔ نیکی اس کا شعار ہوگی۔ تقویٰ اُس کا ضمیر ہوگا۔ حکمت اس کی فراست ہوگی۔ صدق اور وفا اس کی طبیعت ہوگی۔ عفو در گزر اور بھلائی کرنا اس کے اخلاق ہوں گے۔ عدل اس کی سیرت ہوگی۔ حق اس کی شریعت ہوگی۔ ہدایت اس کی کتاب ہوگی۔ اسلام اس کا دین ہوگا اور احمد اُسکا نام ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا ذکر :
اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ۔ اے بنی اسرائیل میں اس آخری نبی کی برکت سے جاہلوں کو علم عطا کروں گا ۔ ناکسوں کو عظمت دوں گا۔ گمناموں کو شہرت عطا کروں گا۔ کم تعداد والوں کو کثرت دوں گا۔ فقیروں کو تونگری ( امیری ) عطا فرماﺅں گا۔ نفرت کو عداوت سے بکھرے اور پراگندہ دلوں کو اُس آخری نبی کی برکت سے متحد اور متفق کر دوں گا۔ اس کی امت کو سب سے بہتر امت بناﺅں گا۔جو لوگوں کو نیکی کرنے اور برائی سے رک جانے کا حکم کرے گی۔ مجھے ایک ماننے کا حکم دے گی۔ میرے لئے ایمان اور اخلاص رکھنے کی اور سب نبیوں اور رسولوں پر ایمان لانے کی تبلیغ کرے گی۔ پابندی¿ وقت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لئے اُن کی نگاہیں سورج پر لگی رہےں گی۔ ایسے دلوں ، چہروں اور جانوں کو مبارک ہو۔ جو میرے لئے اخلاص رکھیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کی خوبیاں :
اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اس آخری نبی کی امت کے لوگوں کو توفیق دوں گا کہ اپنی مسجدوں میں ، اپنی مجلسوں میں ، اپنی آرام گاہوں میں، اپنے کاروبار ی اداروں میں اور اپنی گزرگاہوں میں میری تسبیح اور تکبیر اور تمجید اور توحید کے ڈنکے بجائیں گے۔ اور مسجدوں میں یو ں صف آراءہوں گے جیسے فرشتے میرے عرش کے گرد صف بستہ کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ (آخری امت کے لوگ) میرے دوست اور مدد گار ہوں گے۔ میں ان کے ذریعے اپنے بُت پرست دشمنوں سے بدلہ لوں گا۔ قیام و قعود اور رکوع و سجدہ سے نماز ادا کیا کریں گے۔ اپنے شہروں اور مال و متاع کو چھوڑ کر مجھے راضی کرنے کے لئے ( ہجرت اور جہاد کے لئے) لشکر در لشکر نکل پڑیں گے۔ اور میدان جنگ میں سیسہ پلائی دیوار بن جایا کریں گے۔ اُن کی کتاب ( قرآن پاک) پہلے والی کتابوں کو منسوخ کر دے گی۔ اُن کی شریعت پہلے والی شریعتوں کو ختم کر دے گی۔ اور اُن کا دین پہلے کے سب ادیان کو منسوخ کردے گا۔ جو شخص اُن کا زمانہ پائے گا اور اُن کی کتاب اور شریعت پر ایمان نہیں لائے گا تو اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
اُمتِ وسط :
اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے ۔ اے بنی اسرائیل ، میں اس آخری نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اُمت کو امتِ وسط بناﺅں گا۔ تا کہ وہ ( دنیا اور اخرت میں ) لوگوں پر گواہ بنے۔ اس امت کے لوگ حالت ِ غیض و غضب میں میری تقدیس و تہلیل کریں گے۔ اور حالتِ ابتلاءو آزمائش میں میری تکبیر بلند کریں گے۔ اور حالتِ تنازعہ میں میری تسبیح کریں گے۔ خون سے قربانی کریں گے۔ اللہ کی کتاب (قرآن پاک) سینوں میں محفوظ کریں گے۔ (یعنی قرآن کے حافظ ہوں گے۔) رات کو عبادت کرنا اور دن کو جہاد کرنا اُن کا شیوہ ہوگا۔ اُن کی اذان کی آواز آسمانوں تک پہنچے گی۔ مسجدوں میں اللہ کا ذکر کرتے ہوئے شہد کی مکھی جیسی دھیمی دھیمی آواز ہوگی۔ مبارک ہے اس کے لئے جو ان میں شامل ہو جائے گا۔ اور اُن کا دین اور اُن کی شریعت اپنا لے گا۔ یہ میرا فضل ہے۔ جسے چاہوں میں اپنا فضل عطا کروں اور میں بڑے فضل والاہوں۔
بنی اسرائیل کی حضرت شعیا علیہ السلام سے دشمنی :
یہاں حضرت شعیا علیہ السلام کی تقریر مکمل ہوگئی۔ اور آپ علیہ السلام خاموش ہو گئے۔ آپ علیہ السلام کی تقریر کے دوران تما م بنی اسرائیل دم بخود کھڑے خاموشی سے سن رہے تھے۔ اورآپ علیہ السلام کی تقریر ختم ہونے کے بعد بھی بہت دیر تک ویسے ہی کھڑے رہے۔ لیکن تمام بنی اسرائیل اتنی زیادہ گمراہیوں میں مبتلا ہو چکے تھے کہ کچھ دیر بعد تقریر کا اثر زائل ہو گیااور بنی اسرائیل اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے ساتھ ساتھ دشمنی پر بھی آمادہ ہوگئے۔ انھوں نے اپنے بادشاہ امون کو آپ علیہ السلام کے خلاف ورغلانا شروع کر دیا اور کہا کہ حضرت شعیا علیہ السلام تمہاری بادشاہت کے مخالف ہیں اور تمہیں بادشاہت سے ہٹانا چہاتے ہیں۔ امون اپنے والد کے برخلاف دنیا پرست تھا۔ اور دینداری سے کوئی واسطہ نہیںرکھتا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کو پسند نہیں کرتا تھا۔ اور آپ علیہ السلام کی مخالفت کرتا تھا۔
حضرت شعیا علیہ السلام کے قتل کا حکم اور شہادت :
حزقیا اپنی حکومت حضرت شعیا علیہ السلام کے مشورے سے چلاتا تھا۔ لیکن اس کا بیٹا امون جب بادشاہ بنا تو اس نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ بنی اسرائیل کے عوام بھی آپ علیہ السلام کی مخالفت اور دشمنی میں اپنے بادشاہ کے ساتھ ہو گئے۔ اور اسے آپ علیہ السلام کے خلاف اتنا بھڑکایا کہ اس نے آپ علیہ السلام کے قتل کا حکم صادر کر دیا۔ اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ حضرت شعیا علیہ السلام کو شہید کر دیں۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا۔ لیکن وہ نہیں مانے اور مقابلے پر آمادہ ہو گئے۔آپ علیہ السلام نے اُن سے مقابلہ کیا۔ اور موقعہ پا کر جنگل میں آگئے۔ بنی اسرائیل کے عوام اور بادشاہ کے سپاہی آپ علیہ السلام کی تلاش میں جنگل میں داخل ہو گئے۔ اور آپ علیہ السلام کے گرد گھیرا تنگ کرنے لگے۔ ایک درخت پھٹ گیا۔ اور آپ علیہ السلام اس میں سما گئے۔ لیکن شیطان آپ علیہ السلام کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ جب درخت برابر ہونے لگا تو اس نے آپ علیہ السلام کی قمیص کا دامن پکڑ لیا۔ درخت برابر ہو گیا اور آپ علیہ السلام کی قمیں کا کونہ دکھائی دے رہا تھا۔ بنی اسرائیل کے عوام اور بادشاہ کے سپاہی اسے دیکھ کر سمجھ گئے کہ آپ علیہ السلام اس درخت کے اندر ہیں ۔ انھوں نے آرا لا کر اُس درخت کے ٹکڑے کر دیئے اور آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا۔
بد بخت بنی اسرائیلیوں نے حضرت شعیا علیہ کو شہید کر دیا اسی طرح انھوں نے اپنے بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو شہید کیا ہے۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے کہ یہ بنی اسرائیل نبیوں اور رسولوں کو ناحق قتل کر تے تھے۔ آپ علیہ السلام کو شہید کر نے کے جرم میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر عذاب کی شکل میں ظالم بخت نصر کو مسلط کر دیا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ حضرت ارمیاعلیہ السلام کے ذکر میں آئے گا۔
٭........٭........٭
حضرت ارمیاہ علیہ السلام
اللہ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا۔(ترجمہ) ہم نے بنی اسرائیل کے لئے اُن کی کتاب میں فیصلہ کر دیا تھا کہ تم زمین پر دو مرتبہ فساد کرو گے۔ اور تم بڑی زبردست زیادتیاں کروگے۔ ان دونوں وعدوں میں سے پہلے کے آتے ہی ہم نے تمہارے مقابلہ پر ایسے لوگ بھیج دیئے جو بڑے ہی لڑاکے تھے۔ پس وہ تمہارے گھروں میں گھس گئے۔ اور اللہ کا یہ وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔ پھر ہم نے تمہیں غلبہ دیا اور تمہارے دن پھیر دیئے۔ اور مال اور اولاد سے تمہار ی مدد کی۔ اور تمہیں بڑے جتھے والا بنا دیا۔ اگر تم نے اچھے کام کئے تواپنا ہی فائدہ کیا۔ اور برائیاں کیں تو خود اپنا ہی نقصان کیا۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا( تو ہم نے دوسروں کو بھیج دیا تا کہ) وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں۔ اور پہلی دفعہ کی طرح پھر اسی مسجد ( بیت المقدس) میں گھس جائیں اور جس جس چیز پر قابو پائیں توڑ پھوڑ کر جڑ سے اکھاڑ دیں۔ ( سورہ بنی اسرائیل ۔ آیت نمبر4سے 7تک)
بنی اسرائیل کا پہلا فساد :
ان چار آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے دو مرتبہ زمین پر بہت بڑا اور زبردست فساد کیا۔ اور اُن کے پاس فساد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ظالموں کو مسلط کر دیا۔ جنھوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا پہلا وعدہ پورا ہوا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے پھر بنی اسرائیل کو غلبہ اور اکثریت عطا فرمائی۔ اور پھر بنی اسرائیل نے زمین پر دوسرا بڑا فساد کیا۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا دوسرا وعدہ پورا ہوا۔ اور ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ذلیل کیا اور ذلت اُن پر مسلط کر دی۔
بنی اسرائیل نے پہلا بڑا فساد یہ کیا کہ گمراہیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو گئے۔ اور جب اللہ تعالیٰ انھیں سمجھانے کے لئے نبیوں کو بھیجتے تو یہ لوگ نبیوں کو جھٹلاتے ۔ اور اپنی ضد پر اڑے رہتے تھے۔ جب انبیائے کرام انہیں بار بار سمجھاتے اور گمراہیوں اور برائیوں کا احساس دلاتے تو بنی اسرائیل چڑ جاتے ۔ اور پھر انھوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ انبیائے کرام سے دشمنی کرنے لگے۔ اور انھیں ناحق قتل کرنے لگے۔ حضرت شعیا علیہ السلام اُن کے آخری شکار تھے۔ جن کو بنی اسرائیل نے بڑی بے رحمی سے آرے سے چیر دیا تھا۔ اور شہید کر دیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو بنی اسرائیل پر مسلط کر دیا تھا۔
اس کے بعد بنی اسرائیل نے دوسرا بڑا فساد یہ کیا کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو شہید کر دیااور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوایا۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر ایسے ظالم لوگ مسلط کئے جنھوں نے بیت المقدس ( جسے بنی اسرائیل جو اپنے آپ کو یہودی کہلانے پر فخر کرتے ہیں۔ ہیکل سلیمانی کہتے ہیں)کو مسمار کر کے پوری طرح زمین کے برابر کر دیا۔ اور بنی اسرائیل کا اتنی بے دردی سے قتل عام کیا کہ وہ جان پہچان کے لئے پوری دنیا میں بکھر گئے۔ دوسرے فساد کا مفصل تذکرہ حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حالات کے ذکر میں آئے گا۔ یہاں پہلے فساد کا مفصل تذکرہ ہوگا۔
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی بعثت :
حضرت ارمیاہ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی میں سے ہیں۔ حضرت شعیا علیہ السلام کو بنی اسرائیل کی عوام اور بادشاہ نے ملکر بڑی بے رحمی سے شہید کر دیا تھا۔ بادشاہ نے خود حضرت شعیا علیہ السلام کے قتل کا حکم جاری کیا تھا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام اس کے بُرے اعمال سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ حضرت شعیا علیہ السلام کی شہادت کے بعد بنی اسرائیل بہت زیادہ گمراہیوں اور برائیوں میں مبتلا ہو گئے۔ آپ علیہ السلام ہمیشہ اُن برائیوں سے دور رہا کرتے تھے ۔ آپ علیہ السلا م بنی اسرائیل کے قبیلہ لادی سے تھے۔ اسی قبیلہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام بھی تھے۔ اور زیادہ تر انبیائے کرام علیہم السلام اسی قبیلہ سے ہوئے تھے۔ اسی لئے اس قبیلہ کو بنیوں کا قبیلہ کا جاتا تھا۔ صرف حضرت داﺅد علیہ السلام اسی قبیلہ سے ہوئے تھے۔ اسی لئے اس قبیلہ کو نبیوں کا قبیلہ کہا جاتا تھا۔ صرف حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام قبیلہ یہودا میں سے تھے۔ اور انھی کی نسبت سے بنی اسرائیل اپنے آپ کو یہیودی کہلانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
حضرت ارمیاہ علیہ السلام پر وحی کا نزول :
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تو آپ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی اور فرمایا۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) میں نے تجھے پیدا کرنے سے پہلے ہی نبوت کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ تیری والدہ کےپیٹ میں تیری تصویر بنانے سے پہلے تیری تعریف کی تھی۔ اور تیری ماں کے پیٹ سے نکلنے سے پہلے تجھے پاک کر دیا تھا۔ تیرے چلنے پھرنے کے قابل ہونے سے پہلے ہی تجھے نبوت کے لئے چُن لیا تھا۔ اور تجھے ایک بڑے کام کے لئے منتخب کر لیا تھا۔ ا ب اس کام کے کرنے کا وقت آگیا ہے۔ اور تم بنی اسرائیل نصیحت کرو اور سمجھاﺅ انھیں میرے احکام بتاﺅ۔ انھیں برائیوں اور میری نافرمانیوں سے روکو۔ اور انھیں گمراہی سے نکالنے کی کوشش کرو۔
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی عاجزی اور دعا :
اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی اور آپ علیہ السلام نے اس کام پر غور و فکر کیا تو اندازہ ہو ا کہ یہ بہت ہی مشکل کام ہے۔ اور بہت ہی صبر آزما اور محنت طلب ہے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کرتے ہوئے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میں بہت کمزور ہوں اگر آپ مجھے قوی نہ کریں ۔ میں عاجز ہوں ، اگر آپ میرے اندر طاقت پید انہ کریں۔ میں غلطی کرنے والاہوں اگر آپ مجھے سیدھی راہ نہ دکھائیں۔ میں شکست خوردہ ہوں اگر آپ میری مدد نہ کریںاور میں ذلیل ہوں اگر آپ مجھے عزت عطا نہ کریں۔ اے اللہ تعالیٰ مجھے اس لائق بنا دے کہ میں ذمہ داری بہ خوبی ادا کر سکوں۔
اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا حاکم اور منتظم ہے :
اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر وحی فرمائی۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) تمام امور (کائنات کے تمام کام) میری مَشیّت( ارادہ) کے تابع ہے۔ اور تمام دل اور زبانیں میرے قبضے میں ہے۔ میں اللہ ہوں ۔ اور میرے جیسا کوئی نہیں ہے۔ آسمان اور زمین (اور یہ تمام کائنات) میرے ایک کلمہ (کُن یعنی ہو جا ، بن جا) کی وجہ سے برقرار ہے۔ میں سمندروں سے بات کرتا ہوں۔ وہ میرے قول کو سمجھتے ہیں۔ میں انھیں حکم دیتا ہوں اور وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ میں نے ان کے گرد خشکی کی حدیں مقرر کر دی ہیں۔ وہ ان حدوں سے تجاوز نہیں کرتے۔ وہ پہاڑوں جیسی موجیں لے کر آتے ہیں لیکن جب میری مقرر کردہ حدود تک پہنچتے ہیں تو میری اطاعت کے آگے سر جھکا دیتے ہیں۔
بنی اسرائیل کو نصیحت :
اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) میں تیرے ساتھ ہوں۔ لہٰذا میرے ہوتے ہوئے کوئی تجھ تک نہیں پہنچ سکتا۔ ( یہ تسلی اس لئے ہے کیوں کہ بنی اسرائیل نے بہت سے انبیاءکرام کو ناحق قتل کر دیا تھا۔ اور حضرت شعیا علیہ السلام کا قتل ہوئے زیادہ عرضہ نہیں گزرا تھا) میں تجھے اپنی مخلوقات میں سے سب سے بڑی مخلوق ( انسان) کی طرف بھیج رہا ہوں۔ تا کہ تم میرا پیغام اُن تک پہونچاﺅ۔ اور جو لوگ تمہاری اتباع کریں گے وہ اجر کے مستحق ہوں گے اور وہ کامیاب ہوں گے۔ تم بنی اسرائیل کو نصیحت کرو اور انھیں میرا پیغام سناﺅ۔ اور اُن سے کہو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے آباو اجداد کا تقویٰ تمہیں یاد دلاتا ہے۔ کہ تم انھیں یاد کر کے گناہوں سے پرہیز کرو۔ اور اجر حاصل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے آباو اجداد کو اطاعت میں اور تمہیں نافرمانی میں مصروف پایا۔ کیا تم ایسے آدمی کو جانتے ہو جس نے میری اطاعت کی ہو اور ناکام ہوا ہو۔ یا کسی ایسے آدمی کو جانتے ہو جو میری( اللہ کی ) نافرمانی کر کے کامیاب ہو اہو ۔
بنی اسرائیل کی برائیاں اور نافرمانیاں :
اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا اے ارمیاہ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں ۔ جانور بھی اپنے بہتر گھر کو یاد کرتے ہیں تو ان کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل ہلاکت کی چراگاہ میں چر رہے ہیں۔ انھوں نے وہ راستہ چھوڑ دیا ہے جس راستے پر چل کر ان کے آباﺅ اجداد نے عزت پائی تھی۔ یہ عزت تو چاہتے ہیں لیکن کسی دوسرے راستے پر چل کر ۔ ان کے علماءاور عبادت گزاروں نے عوام کو جکڑ رکھا ہے۔ اور وہ ان سے وہ سلوک کرتے ہیں جس کا میری کتاب (توریت)اجازت نہیں دیتی ہے۔ ان ظالم علماءاور عبادت گزاروں نے عوام کے دلوں سے میرا سیدھا اور سچا راستہ مٹا دیا ہے۔ اور انھیں صرف میری اطاعت کا حکم تھا۔
بنی اسرائیل کے عوام بھی ان علماءاور عبادت گزاروں کے پیچھے چل کر میری نافرمانی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ رہے ان کے بادشاہ اور امراء۔ تو وہ تکبر میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اور میرے عذاب سے بے خوف ہو گئے ہیں دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ علماءنے میری کتاب(کی آیات کو دنیاوی فائدے کے لئے توڑ مروڑ کر ) بیچ ڈالا۔ ان کے علماءاور بادشاہ اور اُمراءاور عام بنی اسرائیل سب نے مجھ سے کئے ہوئے عہد کو بھلا دیا ہے۔ انھوں نے میری کتاب(توریت) میں تبدیلیاں کر دیں ہیں۔ اور میرے رسولوں کو جھٹلا دیا ہے۔ انھوں نے بہت بڑی جسارت کی ہے۔ اور مجھ سے تعلق توڑ لیا ہے۔ اور میرے بارے میں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ مجھے میرے جلال، میرے بلند مرتبہ ہونے اور میری بلند شان ہونے کی قسم۔ میرے بندے کے لئے یہ قطعاً جائز نہیں ہے کہ وہ میرے علاوہ کسی اورکی عبادت کرے۔ اور کسی اور کی اطاعت کرے۔ ان کے فقہا، علماءاور عبادت گذار مسجدوں میں عبادت کرتے ہیں اور اس عبادت کے ذریعے دنیا طلب کرتے ہیں۔ وہ علم کے علاوہ کسی اور چیز سے تعلق نہیں رکھتے ہیںاور عمل کرنے کے بجائے کسی اور چیز کے لئے علم حاصل کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن وہ قہر ذرہ اور دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور دنیا کی محبت میں گھر ے ہوئے ہیں۔ وہ مجھ سے وہی تمنا کرتے ہیں جو ان کے آبا و اجداد کرتے تھے۔ اور مجھ سے وہی اکرام چاہتے ہیں۔ جو میں نے ان کے نیک اور فرمانبراد آباو اجداد کا اکر ام کیا تھا۔ اور یہ نافرمان بنی اسرائیل سمجھتے ہیں کہ ان چیزوں کا ان کے علاوہ کوئی مستحق نہیں ہے۔ حالانکہ نہ ان میں سچائی ہے اور نہ تفکر ہے۔ اور نہ ہی تدبیر ہے۔ اور نہ ہی اس با ت کو یاد کرتے ہیں کہ میں نے کن اعمال کی وجہ سے ان کے آباﺅ اجداد کی مدد کی ہے۔ جب لوگوں نے میرے احکام میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی تو ان کے آبا ﺅ اجداد نے اس وقت میرے احکام کو برقرار رکھنے کے لئے اور ان پر عمل کرنے کے لئے کس قدر محنت کی۔ انھوں نے اپنی جان اور خون لگایا۔ مشکلات پر صبر کیا اور سچے دل سے محنت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ میرا کلمہ بلند ہو گیا۔ اور میرا دین غالب آ گیالیکن بنی اسرائیل نے اپنے آبا و اجداد کی قربانیوں کو بھلا دیا ان کے علمائ، فقہا اور قراءاپنی پسند کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیںاور بادشاہوں کی مرضی کے مطابق توریت کی آیات کا مطلب بیان کرتے ہیں۔ بدعتوں میں اُن کی اطاعت کرتے ہیں اور میرے دین میں نئی نئی باتیں نکالتے ہیں۔ اور بادشاہوں کی اطاعت کر کے میری نافرمانی کرتے ہیں۔ میرے عہد کو توڑ کر ان کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو نبھاتے ہیں۔ جو کچھ یہ جانتے ہیں اُس میں بھی یہ جاہل ہیں اور میری کتاب سے حاصل کردہ صحیح علم سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کے باوجود اللہ کی اُن پر رحمتیں :
اللہ تعالیٰ نے اس کے آگے فرمایا۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) ان بنی اسرائیل کی نافرمانیوں اور گمراہی میں مبتلا ہونے کے باوجود میں نے در گزر کیا۔ کہ شایدیہ لوگ مجھ سے شرم کرنے لگیںاور میری طرف واپس لوٹ آئیں۔ میں نے انھیں مہلت پر مہلت دی اور انھیں معاف کر تا گیا۔ ان کی عمروں میں اضافہ کیا اور انھیں دیر تک دنیاوی لذت و آسائش سے لطف اندوز ہونے دیا۔ ان کے عُذر کو قبول کیا کہ شاید انھیں بھولا ہوا سبق یاد آجائے ان کی سر کشی کے باوجود ان پر بارشیں برساتا رہا۔ زمین سے ان کے لئے اناج اگاتا رہا انھیں میں نے عافیت کالباس پہنایا اور دشمن پر فتح عطا فرمائی۔ مگر ان کی سرکشی میں اضافہ ہوتا گیا۔ اور یہ لگاتار مجھ سے دور ہوتے چلے گئے۔
نافرمانیاں چھوڑ نے پر بنی اسرائیل کو بشارت :
اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) تم جاکر یہ تمام باتیں بنی اسرائیل کو بتاﺅ۔ ہو سکتا ہے یہ سب سن کر میری اطاعت اور فرمانبرداری کرنے لگیں۔ اور گمراہیوں اور برائیوں سے نکل آئیں گے تو میں اُن کی دعائیں قبول کرلوں گا۔ اُن کے دشمنوں کو اُن سے دور کردوں گا۔ وہ میری طرف لوٹ آئیں گے تو میں اُن کی عمروں میں اضافہ کر دوں گا۔ وہ غور و فکر کریں گے اور اگر کوئی عذر کریں گے تو میں قبول کروں گا۔ اُن کے نیک اعمال کے بعد اُن پر آسمان سے بارش برساﺅں گا۔ اور اُن کے لئے زمین سے اناج پیدا کر وں گا۔ اور انھیں عافیت کا لباس پہناﺅں گا۔
بنی اسرائیل پر اللہ کا عتاب :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) ، لیکن اگر بنی اسرائیل نے تمہاری بات نہیں مانی اور میری اتنی نعمتیں ملنے کے بعد بھی میری نافرمانی کی اور اپنی ضد اور گمراہی پر اڑے رہے اور مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی تو میری عزت کی قسم، میں انھیں ایسے فتنے میں مبتلا کر دوں گا جو ان سب کو حیران کر دے گا اور صاحب رائے اور دانا شخص بھی گمراہ ہو جائے گا۔ اور پھر میں ان پر ظالم اور جابر اور نافرمان بادشاہ مسلط کر دوں گا اور اس کے د ل سے رحم کا جذبہ نکال دوں گا۔ اس کے ساتھ ایک ایسا لشکر ہوگا جو بادلوں کی طرح ہوگا اور اُن کے جھنڈے شاہین کی طرح اڑتے ہوں گے اُن کے شہسوار عقابوں کی طرح جھپٹیں گے۔ اور آبادیوں کو ویران کر دیں گے۔ شہروں کو کھنڈر بنا دیں گے۔ اور پوری زمین میں فساد برپا کردیں گے۔ اور جو سامنے آئے گا وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ اُن کی سنگدلی کا یہ عالم ہو گا کہ کسی پر رحم نہیں کریں گے ۔کسی کی دہائی نہیں سنیں گے۔ وہ شہروں میں بازاروں میں بلند آواز سے چیختے پھریں گے اور اُن کی ہیبت سے لوگ کانپ جائیں گے۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) مجھے میری عزت کی قسم ۔ میں ان بنی اسرائیل کے گھروں کو اپنی کتاب(توریت) سے خالی کردوں گا۔ اور اپنی برکت اٹھا لوں گا۔ ان کی مجلسوں کو اپنے کلام کی گفتگو سے خالی کردوں گا۔ میں ان کی عبادت گاہوں کو وحشت اور تنہائی کی جگہوں میں بدل دوں گا۔ جہاں وہ کافر اپنے غیر خداﺅں کی عبادت کریں گے۔ بنی اسرائیل دین کے بدلے دنیا چاہتے ہیں۔ دوسرے ادیان کو سیکھتے ہیں اور اپنے دین سے لاعلم ہیں۔ علم کو عمل کرکرنے کے لئے نہیں سیکھتے۔ میں ان کے بدشاہوں کو عزت کے بدلے ذلت دوں گا۔ امن کے بدلے خوف میں مبتلا کر دوں گا۔ غنی کے بدلے فقیربنا دوں گا۔ نعمت کے بدلے بھوک عطا کروں گا۔ عافیت اور آرام کے بدلے طرح طرح کی مصیبتیں اُن پر ڈال دوں گا۔ دیباج اور ریشم کی جگہ سخت اور کھردرا لباس دوں گا۔ میں انھیں ارواح طیبہ اور مقدس تیل کے بدلے تعفن زدہ لاشے دوں گا۔ تاج کے بدلے لوہے کے طوق اور زنجیریں پہناﺅں گا۔ ان کے کشادہ محلات اور مضبوط قلعے ویران کر دوں گا۔ پختہ اور خوبصورت گھروں کو درندوں کی کچھاریں بنا دوں گا۔ گھوڑوں کی ہنہناہٹ کی جگہ بھیڑیوں کی غراہت ہوگی۔ بادشاہوں کے درباروں میں دھواں اور خاک اڑے گی۔ قالینوں پر چلنے کی بجائے انھیں بازاروں میں چلنا پڑے گا۔ میں انھیں طرح طرح کے عذاب دوں گا۔ یہاں تک کہ ایک دن کا بچہ بھی ہلا ک کر دیا جائے گا۔ پھر میں آسمان کو حکم دوں گا کہ وہ بارش نہ برسائے اور زمین کو حکم دوں گا کہ سبزہ اور اناج نہ اگائے۔ اگر بارش برساﺅں گا میں اسے ان کے لئے عذاب بنادوں گا۔ اور اگر اناج یا سبزہ اگاﺅں گا تو اس کی برکتیں چھین لوں گا۔ وہ مجھے پکاریں گے تو میں اعراض کروں گا۔ (یعنی توجہ نہیں کروں گا) وہ چلائیں گے دعا مانگیں گے۔ اے اللہ تعایٰ، تو نے ہمیں اور ہمارے آبا و اجداد کو شروع دن سے ہی چن لیا تھا۔ تو نے ہماری نسل میں نبوت جاری کی تو نے ہمین اور ہمارے اسلاف کو چھوٹی بڑی نعمتوں سے نوازا اور ہماری حفاظت فرمائی۔ اگر ہم بدل گئے تو تو رحمت فرما اور اپنی نعمتوں کو ہم سے واپس نہ لے ۔ ہم پر اپنے فضل اور احسان اور رحم و کرم کی بارش فرما۔ میں اُن کو جواب دوں گا۔ ہاں میں نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت اور نعمت کے لئے چنا تھا۔ انھوں نے میرے حکموں پر عمل کیا تو میں نے اُن پر نعمتوں کی بارش کر دی۔ انھوں نے شکر ادا کیا تو میں نے نعمتوں میں اضافہ کر دیا۔ وہ بدل گئے تو میں بھی بدل گیا۔ انھوں نے دوسروں کی اطاعت قبول کر لی تو میں ناراض ہو گیا۔ اور جب میں کسی سے ناراض ہوتا ہوں تو انھیں عذاب میں مبتلا کر دیتا ہوں۔ اور یاد رکھو کوئی ایسا نہیں ہے جو میرے عذاب کو برداشت کر سکے۔
بنی اسرائیل کے لئے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی درخواست :
حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی یہ ناراضگی دیکھی تو عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ تیرا حکم ہو تو میں کچھ عرض کرتا ہوں ۔آج اگر میں باقی ہوں تو تیرے لطف و کرم کی وجہ سے باقی ہوں ۔اور مجھ سے بڑھ کر اس عذاب اوروعید سے ڈرنے کا حقدار اور کون ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ میں خود گنہ گاروں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوں ۔ وہ میرے ارد گرد گناہ کرتے ہیں لیکن نہ انھیں کوئی اندیشہ ہے اور نہ کوئی رکاوٹ۔ پس اگر تو مجھے عذاب دے تو یہ حق ہو گا اور اگر تو مجھ پر رحم کرے تو یہ تیری مجھ پر مہربانی ہوگی۔ اور میں یہی امید رکھتا ہوں اے میرے اللہ تعالیٰ ، تو پاک ہے۔ تمام حمد و ثنا تیرے لئے ہے۔ تو برکت والا ہے۔ توبلند مرتبے کا مالک ہے۔ کیا تو اس بستی اور اس کے گرد و نواح میں رہنے والوں کو ہلاک کر دے گا جس میں تیرے نبیوں نے عمر گزار دی ہے؟ یہ وحی نازل ہونے کی جگہ ہے۔ اے میرے اللہ تعالیٰ ، تو پاک ہے۔ حمد و ستائش کا حقدار ہے۔ تو بڑی برکت والا ہے۔ اور اس بات سے کہیں بلند ہے کہ اس مسجد( بیت المقدس) او ر اس کے گرد و نواح میں موجود دوسری عبادت گاہوں اور گھروں کو ویرانوں میں بدل دے۔جہاں تیرا ذکر بلند ہوتا رہا ہے اے اللہ تعالیٰ ، تمام تعریف صرف تیرے لئے ہے۔ کیا تو اس امت کو قتل کر ے گا اور عذاب میں مبتلا کر ے گا ۔ حالانکہ یہ تیرے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہے۔ اور تیرے کلیم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے۔ اور تیرے خلیفہ حضرت داﺅد علیہ السلام کو ماننے والی ہے۔ اگر تو ہی ان پر ظالموں کو مسلط کر دے گا تو انھیں کون بچائے گا۔
بنی اسرائیل کو ایک اور موقع :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ارمیاہ (علیہ السلام) یہ بنی اسرائیل لگاتار میری نافرمانی کر رہے ہیں ۔ یہ عبادت گاہوں ، بازاروں میں ، پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور درختوں کے سایوں میں کھلے عام گناہ کر رہے ہیں۔ ان کی شرارتوں کی وجہ سے آسمان مجھ سے فریاد کر رہا ہے ۔ زمین اور اس کے سینے پر نصب پہاڑ بلبلا اٹھے ہیں ۔ یہ لوگ کہیں بھی گناہوں سے نہیں چوکتے۔ اے ارمیاہ ( علیہ السلام) اگر تو انھیں بچانا چاہتا ہے تو انھیں سمجھا۔ انھیں نصیحت کر۔ اور کوشش کر کہ یہ میری طرف رجوع کر لیں ۔ گناہوں سے توبہ کر لیں۔ صرف میری عبادت کریں، یتیموں کی دیکھ بھال کریں۔ بیواﺅں ، مساکین اور مسافروں کے حقوق ادا کریں تو یقینا میں انھیں معاف کر دوں گا۔ اور اگر تیرے سمجھانے کے باوجود انھوں نے مجھ سے منہ موڑا تو میرا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔
بنی اسرائیل نے حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو قید کر دیا :
حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو سمجھایا۔ انھیں نصیحت کی اور اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایا ۔ کہ اے بنی اسرائیل ابھی وقت ہے اور موقع ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو۔ تمام گناہوں اور برائیوں کو چھوڑ دو۔ تو اللہ تعالیٰ تم پر مہربانی کریں گے۔ اور اگر تم گناہوں اور نافرمانیوں پر اصرار کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ تم پر آگ کے پجاریوں کو مسلط کر دے گا۔ جو تمہیں ذلیل کریں گے۔ غلام بنائیں گے اور تمہاری عورتوں اور بچوں کو رسوا کریں گے۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام انھیں بار بار سمجھاتے رہے۔ لیکن بنی اسرائیل اکڑ گئے۔ اور آپ علیہ السلام کو جھٹلا دیا۔ اور کہا۔ تو جھوٹ بکتا ہے۔ اور اللہ پر بہتان لگاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سر زمین اور عبادت گاہوں سے اپنی عبادت ، اپنی کتاب اور پنی توحید کی آواز کو خاموش کر دے گا۔ تو نے اللہ پر بہتان باندھا ہے۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ دھوکے میں مبتلا ہو۔ تم جسے توحید سمجھ رہے ہو وہ توحید نہیں ہے۔ بلکہ دنیا پر ست علماءاور فقہا کی من گھڑت باتیں ہیں۔ یہ توریت کے معنی بدل کر تمہیں بتاتے ہیں۔ آپ علیہ السلام لگاتار کوشش کرتے رہے کہ بنی اسرائیل اپنے آپ کو بدل لیں لیکن بنی اسرائیل کے باادشاہ اور علماءآپ علیہ السلام کے خلاف ہو گئے۔ اور عوام کو بھی بھڑکا دیا۔ عام بنی اسرائیل کو تو گناہوں میں لطف آتا تھا۔ اور علماءاُن کے گناہوں کو نیکیاں بتاتے تھے۔ اس لئے تمام بنی اسرائیل آپ علیہ السلام کے خلاف ہو گئے اور آپ علیہ السلام کو زنجیروں میں جکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا۔
بخت نصر ن کی شکل میں اللہ کا عذاب :
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے علماءاور بادشاہوں نے قید خانے میں ڈال دیا۔ اس وقت بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں پھوٹ پڑے زمانہ ہو گیا تھا۔ اور ہر قبیلے نے اپنا اپنا بادشاہ بنا لیا تھا۔ یہ لوگ فلسطین اور شام کے علاقوں میں آباد تھے۔ اس زمانے میں فلسطین بھی شام کے علاقے میں آتا تھا۔ اور شام ہی کہلاتا تھا۔ اور اس پورے علاقے کو کنعان بھی کہا جاتا تھا۔ بخت نصر کے بارے میں کچھ روایات میں ہے کہ یہ وہی بخت نصر تھا جس نے سخاریب کے ساتھ فلسطین پر حملہ کیا ۔ اور شکست کھائی تھی۔ اور اس وقت کے بادشاہ حزقیا نے سخاریب کے ساتھ اسے قید کر لیا تھا۔ لیکن حضرت شعیا علیہ السلام کے کہنے پر بخت نصر اور سخاریب کو آزاد کر دیا تھا۔ بخت نصر اُس وقت نوجوان تھا۔ روایات میں یہ بھی ہے کہ بخت نصر کی عمر تین سو سال تھی۔ اور وہ اپنی شکست کو بھولا نہیں تھا۔ اس لئے جب یہ حکمراں بنا تو اس نے بنی اسرائیل پر اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے حملہ کر دیا۔ کچھ روایات میں یہ آیا ہے کہ اس وقت ایران (جسے اُس وقت بابل کہا جاتا تھا) کے حکمرانوں کا لقب بخت نصر ہوا کرتا تھا۔ کیوں کہ بنی اسرائیل کے حالات میں کئی جگہوں پر بخت نصر کا ذکر آیا ہے اور یہ تمام حالات کئی سو برسوں پر محیط ہیں۔ اب حقیقت کا علم تو اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔
بنی اسرائیل کا محاصرہ :
بخت نصر نے چھ لاکھ کے لشکر کے ساتھ بنی اسرائیل پر حملہ کیا۔ اور محاصر ہ کر لیا۔ یہ محاصرہ بہت دن چلا۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کے پاس کھان پانی ختم ہونے لگا۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بزدلی پیدا ہو گئی تھی۔ اُن کے دلوں میں دنیا کے عیش و آرام اور دنیا کی محبت آگئی تھی۔ جس کی وجہ سے وہ جنگ سے گھبرانے لگے تھے۔ آخر کار جب محاصرہ بہت لمبا ہو گیا تو بنی اسرائیل نے لڑنے کی بجائے ہتھیار ڈال دیئے اور بخت نصر اورا س کے لشکر کے لئے اپنے شہروں کے دروازے کھول دیئے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ پہلے تمام شہروں کے چاروں طرف ایک بہت اونچی دیوار ہوتی تھی جسے شہر پناہ یا فصیل کہا جاتا تھا۔ یہ شہر پناہ یا فصیل دوسروں کے حملوں کو روکنے کے لئے بنائی جاتی تھی۔
بنی اسرائیل کا قتلِ عام :
بنی اسرائیل نے تمام شہروں کے دروازے کھول دیئے اور بخت نصر سے جان کی امان طلب کی۔ لیکن وہ وحشی تھا۔ اس نے شہروں میں گھستے ہی بنی اسرائیل کا قتل عام شروع کر دیا اور گھروں میں گھس کر لوٹ مار شروع کر دی۔ تمام مال لوٹ لینے کے بعد گھروں کو آگ لگادینے کا حکم دیا۔ بیت المقدس( جسے بنی اسرائیل اور آج کے یہودی ہیکل سلیمانی کہتے ہیں) کو مسمار کر دیا۔ بنی اسرائیل کی تمام عبادت گاہوں کو منہدم کر دیا گیا۔ قلعوں کو توڑ پھوڑدیا گا۔ توریت کے تمام نسخوں کو جلا دیا گیا۔ بنی اسرائیل کے تمام سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا۔ عورتوں کو بازار میں لاکر کھڑا کر دیا گیا۔
بنی اسرائیل کو قیدی بنا کر لے جایا گیا :
بخت نصر نے بنی اسرائیل پر ظلم کی انتہا کر دی۔ ایک تہائی کو قتل کر دیا۔ بوڑھے مردوں اور عورتوں کو چھوڑ دیا۔ باقی تمام نوجوان اور جوان مردوں اور عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا۔ ان میں سات ہزار حضرت داﺅد علیہ السلام کی نسل میں سے تھے ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام یہودا کی اولاد میں سے ہیں۔ اس طرح یہودا کی اولاد میں سات ہزار غلام بنائے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے گیارہ ہزار کو غلام بنایا۔ اور بن یامن سے بھی غلامی بنائے۔ آٹھ ہزار روبیل کی نسل سے غلام بنا لئے۔ لاوی کی نسل سے بارہ ہزار غلام بنائے اور بنی اسرائیل کے دوسرے قبیلوں سے بھی غلام بنائے۔ بادشاہوں اور علماءکو بھی قتل کیا۔ اور غلام بنایا۔ ستر ہزار سے زیادہ تو بادشاہوں اور علماءکے بیٹے تھے۔ ان کے علاوہ مردوں اور عورتوں کو غلام بنا کر بخت نصر بابل (آج کا ایران) لے گیا۔
٭ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی آزادی اور بخت نصر سے ملاقات :
بخت نصر بنی اسرائیل کے گھروں کو لوٹ کر جلا رہا تھا۔ انھیں قتل کر رہا تھا۔ اور غلام بنا رہا تھا۔ بنی اسرائیل رو رہے تھے۔ دہائی دے رہے تھے۔ اور کہہ رہے تھے کہ افسوس ہم نے اپنے نبی کی بات کو جھوٹا سمجھا ۔ جس کا انجام ہمیں آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بخت نصر تک یہ بات پہنچی اُن نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی ایسا بھی ہے جو انھیں اس مصیبت سے خبردار کرتا رہا۔ انھیں بتاتا رہا کہ تمہارا دشمن تم پر حملہ آور ہوگا ۔ وہ کسی پر رحم نہیں کرے گا۔ وہ تمہیں ذبح کر ڈالے گا۔ تمہارے بچوں کو قیدی اورعورتوں کو لونڈی بنا لے گا۔ مسجدیں ویران اور قلعے مسمار کر دے گا۔ بخت نصر کو حضرت ارمیاہ علیہ السلام کے بارے میں معلوم ہوا تو اس نے حکم دیا ہو شخص جہاں کہیں ہو فوراً میرے پاس لے کر آﺅ۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو قید خانے سے نکال کر بخت نصر کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے آپ علیہ السلام سے پوچھا۔ کیا تو انھیں (بنی اسرائیل) کو ہم سے ڈرایا کرتا تھا۔ اور کہا کرتا تھا کہ ہم اس ملک کو فتح کریں گے۔ اور انھیں نیست و نابود کر دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں میں انھیں آگاہ کرتا رہا لیکن یہ دنیا میں مگن رہے۔ بخت نصر نے پوچھا تمہیں یہ سب کیسے معلوم ہوا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے مجھے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر ان کے پاس آیا ۔ لیکن انھوں نے مجھے جھٹلا یا۔ بخت نصر نے پوچھا ۔ انھوں نے تجھے جھٹلایا تجھے مارا پیٹا اور قید میں ڈال دیا۔ آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ ہاں ۔ بخت نصر بولا وہ قوم بہت بُری قوم ہے جس نے اپنی نبی(علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ اور اس کے پیغام کو جھوٹ سمجھا۔ کیا تو میرے ساتھ آنا چاہتا ہے۔ میں تیری عزت و تکریم کا خیال رکھوں گا۔ اور تیری کسی قسم کی دل آزاری نہیں ہونے دوں گا۔ اور اگر تو اپنے وطن میں رہنا چاہے تو تجھے کوئی نقصان نہیں پہونچایا جائے گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوں ۔اور اگر بنی اسرائیل بھی اللہ کی پناہ حاصل کرتے تووہ تجھ سے خوف زدہ نہیں ہوتے۔اور نہ ہی کسی دوسرے بادشاہ سے مرعوب ہوتے۔ اور کوئی بھی اُن پر فتح حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ بخت نصر نے آپ علیہ السلام کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا۔ اور تمام مال و دولت اور قیدیوں کو لے بابل چلا گیا۔
بنی اسرائیل نے پھر سے نافرمانی کی :
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کو بیت المقدس( جو اب پوری طرح کھنڈر بن چکا تھا) میں چھوڑ کر بابل واپس چلا گیا۔ آپ علیہ السلام افسردہ سے ان کھنڈروں میں بیٹھے ہوئے تھے کہ بچے کچے بوڑھے مرد عورت (انھیں بخت نصر نے بے کار سمجھ کر چھوڑ دیا تھا) آپ علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے ۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ نے سچ فرمایا تھا۔ ہم ہی ظالم لوگ ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اور توبہ کرتے ہیں کہ ہم لوگ غلط راستے پر تھے۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ بھی ہمارے لئے دعا فرمایئے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی دعا سے ہماری توبہ قبول ہو جائے۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا میں کی دعا قبول نہیں کروں گا۔ ہاں ایک صورت ہے۔ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ اسی جگہ رہنے لگیں۔ تو میںان کی دعاقبول کر لوں گا۔ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے اُن لوگوں سے فرمایا۔ تمہاری توبہ کی قبولیت کی یہ شرط ہے کہ تم لوگ میرے ساتھ اسی جگہ رہنے کے لئے بس جاﺅ۔ ان بدبختوں نے کہا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ پورا شہر ( بیت المقدس) اور آس پاس کے تمام علاقے کھنڈر ہو چکے ہیں۔ تمام علاقہ برباد ہو چکا ہے۔ ایسے ویرانے میں تو ہم نہیں رہیں گے۔ تمہیں رہنا ہے تو اپنے اللہ کے ساتھ رہو۔ اس طرح بنی اسرائیل عذاب میں مبتلا ہونے کے باوجود بھی نافرمانی پر اڑے رہے۔ اور دوسرے آباد علاقوں میں چلے گئے۔ اور حضرت ارمیاہ علیہ السلام اسی ویرانے میں رہے۔ آپ علیہ السلام یہاں برسوں رہے۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ علیہ السلام نے بابل جا کر حضرت دانیال علیہ السلام کی مدد کی تھی۔ کچھ روایات میں ایسا ہے کہ حضرت ارمیاہ علیہ السلام نے بیت المقدس کو دوبارہ آباد کرنے ہوتے ہوئے دیکھا ۔ بہر حال یہیں پر آپ علیہ السلام نے اپنا آخر وقت گزارا۔
اگلی کتاب
حضرت ارمیاہ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت دانیال علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔
٭........٭........٭
.png)
.jpeg)
.png)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)