ہفتہ، 27 مئی، 2023

15 حضرت سلیمان علیہ السلام مکمل Life of Prophet Suleman AS



 15 حضرت سلیمان علیہ السلام مکمل 

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 15

حضرت سلیمان علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم آپ کی خدمت میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت داﺅد علیہ السلام تک کے انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات 12بارہ کتابوںمیں پیش کر چکے ہیں۔ یہ ”حالات انبیائے کرام “سلسلے کی تیرھویں کتاب ہے۔ اس میں ہم آپ کی خدمت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات پیش کررہے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام ہیں۔ اس لئے آپ علیہ السلام کا سلسلہ ¿ نسب بھی وہی ہے جو حضرت داﺅد علیہ السلام کا ہے۔ پھر بھی ہم اُن حضرات کی آسانی کے لئے سلسلہ نسب یہاں تحریرکر دیتے ہیں۔ جنہوں نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام بن حضرت داﺅد علیہ السلام بن ایشا بن عوید بن سلمون بن نحشون بن عمیناد اب بن ارم بن حصرون بن فارص بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام سفید اور صاف رنگ کے مالک تھے۔ آپ علیہ السلام کے جسم مبارک پر بال زیادہ تھے۔ اور آپ علیہ السلام سفید لباس زیادہ پہنتے تھے۔ آپ علیہ السلام بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی والدہ محترمہ یعنی حضرت داﺅد علیہ السلام کی زوجہ محترمہ بہت ہی نیک اور عبادت گزار تھیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت بہت اچھے طریقے سے کی۔ اور اسی تربیت کا اثر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کا وارث حضرت سلیمان علیہ السلام کو بنایا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی دولت اور جائیداد کا وارث آپ علیہ السلام کو نہیں بنایا۔ بلکہ نبوت کی ذمہ داری اور حکومت کی ذمہ داری کا وارث بنایا۔ (کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انبیائے کرام کا ترکہ وارثوں کو نہیں ملتا۔ بلکہ یہ عام مسلمانوں کے لئے ہوتا ہے۔)

حضرت سلیمان علیہ السلام کی ذہانت

حضرت سلیمان علیہ السلام بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔ اور والدہ محترمہ کی تربیت نے اس میں اور نکھار پیدا کر دیا تھا۔ اسی لئے جب آپ علیہ السلام تھوڑا سمجھدار ہوئے تو اپنے والد محترم کے دربار میں بیٹھنے لگے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کا یہ قاعدہ تھا کہ ایک دن دربار منعقد کرتے اور حکومت کے کام نپٹاتے تھے ۔ ایک دن عبادت کے مخصوص رکھتے تھے۔ اور ایک دن گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام دربار میں اپنے والد محترم کے حکومتی فیصلوں اور مقدمات کے فیصلوں کو بغور دیکھتے ، سنتے اور سمجھتے تھے۔ اور کئی مرتبہ تو ایسا ہو اکہ آپ علیہ السلام نے بر وقت صحیح مشورے اپنے والد محترم کو دیئے اور حضرت داﺅد علیہ السلام بھی اپنے ذہین اور قابل بیٹے کے مشوروں کو توجہ سے سنتے تھے اور قبول بھی کرتے تھے۔ اور ضرورت پڑنے پر بیٹے کے مشوروں کی روشنی میں صحیح فیصلے بھی دیتے تھے۔ اور بیٹے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے تھے۔ اس سلسلے میں دو واقعات کافی مشہور ہیں۔

بکریوں اور کھیت کا فیصلہ

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور داﺅد علیہ السلام اور سلیمان علیہ السلام کو یاد کریں۔ جب کہ وہ کھیت کے معاملے میں فیصلہ کر رہے تھے کہ کچھ لوگوں کی بکریاں رات کو اس میں چر چُگ گئی تھیں۔ اور ان کے فیصلے میں ہم موجود تھے۔ ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان علیہ السلام کو سمجھا دیا۔ ہاں ہر ایک کو ہم نے حکم اور علم دے رکھا ہے۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر78اور 79) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ ایک کھیت میں کسی قوم کی بکریاں گھس گئی تھیں۔ اور پورا کھیت کھا کر برباد کر دیا تھا۔ دونوں فریق حضر ت داﺅد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مقدمہ پیش کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ انگور کا کھیت تھا۔ اور تازہ اور تیار پھل لگے ہوئے تھے۔ دربار میں حضرت سلیمان علیہ السلام بھی موجود تھے اور نوجوان تھے۔ فریادی نے مقدمہ پیش کیا کہ دوسرے فریق کی بکریاں میرے کھیت میں گھس گئی۔ اور پورے کھیت کو بکریوں نے تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔ انگور کی بیلوں کو اور پتیوں کے ساتھ ساتھ انگوروں کو بھی کھا لیا تھا۔ اور تمام بیلوں کو جگہ جگہ سے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے تمام مقدمہ سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ تمام بکریاں کھیت والے کو دی جائیں تا کہ وہ اپنا نقصان پورا کرلے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ابا جان، کیا میں کوئی رائے یا مشورہ دے سکتا ہوں؟ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا ۔ بے شک بیٹے، اگر تم کوئی بہتر رائے یا مشورہ دو گے تو میں ضرور قبول کروں گا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ انگور کا کھیت بکریوں والے فریق کے حوالے کر دیا جائے۔ تا کہ وہ اس کھیت پر محنت کریں اور نگہبانی کریں اور اس دوران میں بکریاں کھیت والے کے حوالے کر دی جائیں جب تک انگور کی بیلیں تیار نہیں ہو جاتیں اور ان میں پھل نہیں لگ جاتے تب تک کھیت والا بکریوں سے فائدہ اٹھائے۔ اور جب کھیت پوری طرح تیار ہو جائے تو بکریوں والا فریق کھیت والے کو اس کا کھیت واپس دے کر اپنی بکریاں واپس لے لے۔ یہ فیصلہ سن کر حضرت داﺅد علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور فخریہ انداز میں اپنے بیٹے کو دیکھا اور شاباشی دی۔ اور اسی کے مطابق فیصلہ کر دیا۔

دو عورتوں کا فیصلہ

حضرت سلیمان علیہ السلام کی ذہانت کا دوسرا واقعہ دو عورتوں کے مقدمے کا ہے۔ دو عورتیں اپنے اپنے بچوں کو لئے ہوئے جا رہی تھیں۔ ایک بھیڑیا اُن کی تاک میں تھا۔ موقع پا کر اس نے بڑی عورت کے بچے کو چھین لیا اور لے کر بھاگ گیا۔ بڑی عورت نے فوراً چھوٹی عورت کو بچہ چھین لیا اور کہا یہ میرا بچہ ہے۔ دونوں عورتیں جھگڑنے لگیں۔ آخر فیصلے کے لئے حضرت داﺅد علیہ السلام کی خدمت میں دونوں عورتیں حاضر ہوئیں۔ اور مقدمہ پیش کیا۔ بڑی عورت چرب زبان تھی اور اس نے اپنی چرب زبانی سے چھوٹی عورت کو جھوٹا ثابت کر دیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اس کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ چھوٹی عورت رونے لگی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام وہیں موجود تھے۔ انہوں نے اپنے والد محترم سے عرض کیا۔ ابا جان، اگر آپ اجازت دیں تو میں ایسا مشورہ دوں جو دونوں فریق کے لئے قابل قبول ہو۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بے شک تمہیں اجازت ہے بیٹا۔ اجازت ملنے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے والد محترم کو مشورہ دیا کہ اگر ایسا کیا جائے کہ تلوار سے بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں عورتوں کو برابر دے دیا جائے۔ یہ سنتے ہیں چھوٹی عورت نے چیخ کر کہا ۔ اللہ کے لئے ایسا نہ کریں ۔ بلکہ بچہ بڑی عورت کو دے دیں ۔ کم از کم اس طرح میرا بچہ زندہ رہے گا۔ یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے بڑی عورت سے فرمایا۔ تم اس بارے میں کیا کہتی ہو؟ جواب میں بڑی عورت نے کہا۔ یہ تو میں بھی نہیں چاہتی کہ اس بچے کو اس طرح قتل کیا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھیڑیامیرا بچہ لے گیا تھا۔ اور یہ بچہ اسی عورت کا ہے اور بچہ اسے دے دیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام مسکرانے لگے۔اور اپنے بیٹے کو شاباشی دی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نبوت و بادشاہت سے سرفراز

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے یقینا داﺅد ( علیہ السلام ) اور سلیمان (علیہ السلام )کو علم عطا فرما رکھا تھا۔ اور دونوں نے کہا۔ تمام تعریفیں اُس اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اور داﺅد ( علیہ السلام )کا وارث سلیمان ( علیہ السلام ) کو بنایا۔ “( سورہ النمل آیت نمبر15اور 16) ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر اپنا فضل کیا۔ اور ان دونوں کو نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی ۔ اور آگے فرمایا کہ نبوت اور بادشاہت میں حضرت داﺅد کا وارث حضرت سلیمان علیہ السلام کو بنایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام ، حضرت داﺅد علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ ان کا اصل عبرانی نام ”سولومون “تھا۔ جو ”سلیم “کا ہم معنی ہے۔965 قبل مسیح میں حضرت داﺅد علیہ السلام کے وارث ہوئے۔ اور 962 قبل مسیح تک تقریبا 40سال حکمراں رہے۔ امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو حضرت سلیمان علیہ السلام عطافرمایا تو انہوں نے اپنے بیٹے سے دریافت فرمایا۔ اے پیارے بیٹے، سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ انہوں نے جواب میں عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ کا سکینہ اور امیمان ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ سب سے قبیح ( بری) چیز کیا ہے؟حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ایمان لانے کے بعد کافر ہونا۔ والد محترم نے پوچھا سب سے میٹی چیز کیا ہے؟ بیٹے نے عرض کیا۔ اللہ کے بندوں کے درمیان اس کی رحمت ۔ پھر آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ سب سے ٹھنڈی چیز کیا ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ کا لوگوں کو معاف کرنا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کرنا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹا تم نبی ہو۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کے وارث

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ میری طرف سے اپنے بیٹے سلیمان سے سات باتیں پوچھو۔ اور اگر وہ ان کے صحیح جواب دے تو اسے علم اور نبوت کی بشارت دو۔حضرت داﺅد علیہ السلام نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے میر ی طرف وحی فرمائی ہے کہ میں سات باتیں تم سے دریافت کروں ۔ اگر تم مجھے درست جواب دو گے تو مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں علم اور نبوت کا وارث بنا دوں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ابا جان، میں کوشش کروں گا کہ درست جواب دے کر اپنے آپ کو اس قابل ثابت کروں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹے، یہ بتاﺅ کہ شہد سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے؟ برف سے زیادہ ٹھنڈی چیز کیا ہے؟ریشم سے زیادہ نرم چیز کیا ہے؟ کس چیز کا اثر پانی پر نہیں ہوتا؟ کس چیز کا اثر صفا ( نرم پتھر) پر نہیں پڑتا۔ ؟ کس چیز کا اثر آسمان میں نہیں دکھائی دیتا اور کون ہے جو سر سبزی اور خشک سالی دونوں میں خوش رہتا ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ ابا جان، شہد سے زیادہ میٹھی چیز اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ جو ان مومنوں کو محسوس ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ برف سے زیادہ ٹھنڈی چیز اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو مومنین کے دلوں پر اثر کرتا ہے۔ ریشم سے زیادہ نرم چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے جس کے ذریعے مومن بندے ایک دوسرے کو سکھلاتے ہیں۔ کشتی کے گزرنے کا اثر پانی پر دکھائی نہیں دیتا۔ چیونٹی کے گزرنے کا اثر صفا ( نرم پتھر) پر بھی نہیں دکھائی دیتا۔ پرندے کے اڑنے کا اثر آسمان پر دکھائی نہیں دیتا۔ مومن سر سبزی میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور خشک سالی میں صبر کرتا ہے۔ اور دونوں حالت میں اجر کا مستحق ہو کر خوشی محسوس کرتا ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹے ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرا وارث بنا دیا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے علم کی وسعت

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت وسیع علم عطا فرمایا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام سے فرمایا۔ اپنے بیتے سلیمان ( علیہ السلام ) سے چودہ باتیں پوچھو۔ اگر درست جواب دے تو اسے علم اور نبوت کا وارث بنا دو۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے پیارے بیٹے، مجھے بتا عقل کہاں ہے؟ عرض کیا دماغ میں ہے۔ پھر پوچھا حیاکی جگہ کون سی ہے؟عرض کیا دونوں آنکھیں۔ پھر پوچھا، باطل کی جگہ کون سی ہے؟عرض کیا دونوں کا ن ہیں۔ پھر دریافت فرمایا۔ غلطیوں کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا زبان ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے پھر پوچھا۔ روح کا راستہ کون سا ہے؟ عرض کیا ناک کے دونوں نتھنے ہیں۔ پھر پوچھا ، ادب اور بیان کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا دونوں گردے ہیں۔ پھر دریافت کیا۔ سختی کی جگہ کون سی ہے۔ عرض کیا جگر ہے۔ پوچھا ،ہوا کہ جگہ کہاں ہے؟ عرض کیا پھیپھڑے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے پھر پوچھا۔ خوشی کی جگہ کہاں ہے؟ عرض کیا تلّی ہے۔ پھر دریافت فرمایا۔ کھانے کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کی دونوں ہاتھ ہیں۔ پھر دریافت فرمایا۔ کھڑے ہونے کا دروازہ کون سا ہے؟ عرض کیا دونوں ٹانگیں۔ پھر پوچھا۔ شہوت کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا ،شرم گاہ ہے۔ پھر پوچھا۔ اولاد کی جگہ کون سی ہے؟ عرض کیا۔ ریڑھ کی ہڈی ہے۔ پھر دریافت فرمایا۔ علم ، سمجھ اور حکمت کی جگہ کون سی ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا دل ہے۔ جب دل درست ہوتا ہے تو جسم کے تمام اعضاءدرست ہو جاتے ہیں۔ اور جب دل خراب ہوتا ہے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرمایا۔ بیٹے، اللہ تعالیٰ نے علم اور نبوت میں تمہیں میرا وارث بنا دیا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ساتھ حکومت سے بھی سرفراز فرمایا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل عروج پر آگئے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل کو جو عروج حاصل ہوا۔ ویسا عروج نہ اس سے پہلے حاصل ہوا اور نہ ہی بعد میں حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایسی حکومت عطا فرمائی تھی کہ آپ علیہ السلام سے پہلے کسی کو عطا نہیں ہوئی اور آپ علیہ السلام کے بعد بھی کسی کو عطا نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا کی) اے میرے رب، مجھے بخش دے۔ اور مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو مجھ سے پہلے یا میرے بعد کسی کو عطا نہ ہو۔ بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ پس ہم نے ہوا کو اس کے ماتحت کر دیا۔ اور آپ (علیہ السلام ) کے حکم سے جہاں وہ چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی۔ جنات کو بھی اور ہر عمارت بنانے والے کو بھی اور غوطہ خوروں کو بھی( اُن کا ماتحت بنا دیا) اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔ یہ ہمارا عطیہ ہے۔ اب تم احسان کرو یا روک رکھو۔ تم پر کچھ حساب نہیں ہے۔ “(سورہ ص ٓ آیت نمبر35سے 39) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت کو بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو انسانوں، جناتوں ، جانوروں ، کیڑوں مکوڑوں ، پرندوں اور یہاں تک کہ ہوا کا بھی حکمراں بنا دیا تھا۔ آپ علیہ السلام ان سب کی باتیں سمجھتے تھے اور حکم دیتے تھے تو یہ سب حکم کی تعمیل کر تے تھے۔ یہ سب عطا فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے فرمایا کہ اب تم ان کے ساتھ کوئی بھی سلوک کرو اس کے بارے میں تم سے کوئی حساب نہیں ہوگا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی تین دعائیں

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی اوپر ذکر کی گئی آیات میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک دعا کا ذکر فرمایا ہے۔ اور وہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ایک بڑا جنات پچھلی رات بار بار میرے پاس آیا تھا۔ تاکہ میری نماز تڑوا دے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت عطا فرمادی۔ میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں۔ یہاں تک کہ جب تم صبح آﺅ تو اسے دیکھو۔ لیکن مجھے اپنے بھائی حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آگئی۔ کہ مجھے ایسی حکومت عطا فرما جو کسی کو نہیں عطا ہوئی ہو اور نہ ہی میرے بعد عطا ہو۔یہ سوچ کر اسے آزاد کر دیا۔حضرت ابو سعدی خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ السلام نے صبح کی نماز شرو ع کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرا¿ت کی تو قرا¿ت مشکل ہو گئی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا۔ کاش، تم مجھے اور ابلیس کو دیکھتے۔ میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کا گلا گھونٹتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کے لعاب کی ٹھنڈک اپنی دو انگلیوں کے درمیان پائی یعنی انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی ۔ اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کا خیال نہ ہوتا تو میں اسے مسجد کے ستون سے باندھ دیتا۔ اور صبح مدینہ منورہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس ( اس کا تفصیل سے ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا) کی تعمیر مکمل کر لی تو اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دع دعاﺅں کو قبول فرمایا۔ اور ہم امید کرتے ہیں کہ تیری دعا ہمارے لئے ہے۔ انہوں نے پہلی دعا یہ کی تھی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، میرا فیصلہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمالی۔ دوسری دعا میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ایسی حکومت کی التجا کی جو ان کے بعد کسی اور کو نصیب نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول کر لی۔ اور انہوں نے تیسری دعا یہ کی کہ صرف عبادت کی غرض سے جو شخص اس مسجد ( ہیکلِ سلیمانی، بیت المقدس، مسجد اقصیٰ) میں آئے تو اس حال میں نکلے کہ اس کے سارے گناہ معاف ہو چکے ہوں۔ اور وہ اس طرح پاک و صاف ہو چکا ہو جیسا کہ وہ پیدائش کے وقت تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمادی ہے۔

جناتوں پر حکومت

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”سلیمان علیہ السلام کے سامنے اُن کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کئے گئے۔ ( ہر ایک قسم کی ) الگ الگ درجہ بندی کر دی گئی “۔ ( سورہ النمل آیت نمبر17) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور جنات کو بھی (حضرت سلیمان علیہ السلام کا ماتحت کر دیا) اور ہر عمارت بنانے والے ( جنات) کو اور غوطہ خور ( جنات ) کو ۔ اور دوسرے جنات کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔“( سورہ صٓ آیت نمبر37اور 38) اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اسی طرح بہت سے شیاطین بھی ہم نے اس کے ( حضرت سلیمان علیہ السلام کے ) تابع کر دیا جو اس کے فرمان کے مطابق غوطے لگا تے تھے۔ اور دوسرے بھی بہت سے کام کرتے تھے۔ ان کے نگہبان ہم ہی تھے۔ “ ( سورہ الانبیاءآیت نمبر82) اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا ءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس کے ( حضرت سلیمان علیہ السلام کے ) رب کے حکم سے جنات اس کی ماتحتی میں اس کے سامنے کام کرتے تھے۔ اور ان میں جو بھی ہمارے حکم سے سرتابی کر تا تھا تو اسے ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے تھے۔ اور جو کچھ سلیمان چاہتے تھے وہ جنات تیار کر دیتے تھے۔ مثلاً قلعے، مجسمے، حوضو ں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں۔ اے آلِ داﺅد ، اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو۔ میرے بندوں میں سے شکر گذار بندے کم ہی ہوتے ہیں۔“ ( سورہ سبا آیت نمبر12اور 13) مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی انوارا لبیان میں لکھتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا اقتدار عطا فرمایا تھا کہ جس کے ذریعے شیاطین سے کام لیتے تھے۔ ان سے عمارتیں بنواتے تھے۔ اور سمندر میں غوطے بھی لگواتے تھے۔ اور بڑے بڑے ( تانبے کے ) برتن بنواتے تھے۔ جو تالابوں کے برابر ہوتے تھے اور بڑی بڑی ہانڈیاں دیگیں بنواتے تھے جو زمین پر رہتی تھیں۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام حکومت کے وارث ہوئے اور یہ حکومت صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ ان کی حکومت جنات اور حوش و طیور سب پر تھی۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے مسخر فرما دیا تھا۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے انیس 19بیٹے تھے۔ جن میںحضرت سلیمان علیہ السلام سب سے چھوٹے تھے۔ تمام اولاد میں صرف حضرت سلیمان علیہ السلام ہی ان کے علم کے وارث تھے۔ وقت کے عظیم نبی اور عالیشان حکومت و سلطنت کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ ہم نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داﺅد علیہ السلام کاوارث بنا یا۔ اس سے مرا د ” وراثت علم“ہے۔ مال و دولت کی وراثت نہیں ہے۔ کیوں کہ انبیائے کرام کی وراثت مال و دولت نہیں ہوتی ہے۔ رسول اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ انبیائے کرام نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں ۔ اور نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔

ہوا پر حکومت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” ہم نے تیز و تند ہوا کو سلیمان (علیہ السلام ) کے تابع کر دیا۔ جو اس کے فرمان کے مطابق اُس زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ اور ہم ہر چیز سے با خبر اور دانا ہیں۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر81) اللہ تعالیٰ نے سورہ سباءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا کو مسخر کر دیا کہ صبح کی منزل اس کی ایک مہینہ بھر کی ( مسافت) ہوتی تھی۔ اور شام کی منزل بھی۔“(سورہ سباءآیت نمبر12) اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ”پس ہم نے ہوا کو ان کی ماتحت کر دیا۔ وہ آپ (علیہ السلام )کے حکم سے جہاں آپ (علیہ السلام )چاہتے نرمی سے پہنچا دیا کرتی تھی۔“(سورہ ص ٓ آیت نمبر 36) ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر اپنا خصوصی فضل یہ فرمایا کہ ہوا کو بھی آپ علیہ السلام کا ماتحت کر دیا۔ آپ علیہ السلام کے حکم کے مطابق نرم ہوا، گرم ہوا، سرد ہوا، دھیمی ہوا، تیز ہوا اور آندھی اور طوفانی ہوا چلتی تھی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام دمشق سے صبح روانہ ہوتے تھے اور اصطفر میں اترتے تھے۔ یہاں تک کہ دوپہر کا کھانا تناول فرماتے تھے۔ اور پھر سفر شروع کرتے تھے تو رات کابل میں بسر کرتے تھے۔ دمشق سے اصطفر کے درمیان کی مسافت اور اسی طرح اصطفر سے کابل کی مسافت ایک مہینے کی ہے۔ میں (ابن کثیر) کہتا ہوں کہ عمرانیات کے علماءنے لکھا ہے کہ اصطفر کی تعمیر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خاطر جناتوں نے کی تھی۔ پہلے اسی کے شہر ترک میں آپ علیہ السلام کا دارالحکومت تھا۔ اس کے علاوہ دوسرے کئی شہر بھی تھے۔ مثلاً تدمر، بیت المقدس، باب حبرون اور باب برید۔ ایک قول کے مطابق آخری دونوں شہر دمشق میں تھے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نہایت عاجزی کے ساتھ درخواست پیش کی۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے ایک ایسی حکومت و سلطنت عطا فرما جو اس سے پہلے کسی کو نہ دی گئی ہو اورنہ ہی آئندہ دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی دعا قبول کر کے ایسی سلطنت عطا فرمائی جو پہلے کسی کو نہیں عطا فرمائی تھی اور آئندہ بھی کسی کو عطا نہیں فرمائی۔ ہوا کو آپ علیہ السلام کے تابع کر دیا۔ طوفانی ہوا جب ان کے تخت کو لے کر اڑتی تو اس تخت پر بیٹھنے والوں کے لئے ایسی نرم اور خوشگوار رفتار سے چلنے والی ہوتی تھی کہ بیٹھنے والوں کو اس کی برق رفتاری کا احساس تک نہیں ہوتا تھا۔

جانوروں اور پرندوں پر حکومت

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور داﺅد علیہ السلام کے وارث سلیمان علیہ السلام ہوئے۔ اور فرمایا۔ لوگو، ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ اور ہم سب کچھ دیئے گئے ہیں۔ بے شک یہ بالکل کھلا ہو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ ( سورہ النمل آیت نمبر16) اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ہوا ، جناتوں کے ساتھ ساتھ جانوروں ، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کو بھی مسخر فرما دیا تھا۔ یہ سب آپ علیہ السلام کا حکم مانتے تھے۔ چرندوں ، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں میں اتنا شعور ہے کہ وہ جس کے لئے مسخر کر دیئے جائیں تو وہ اس کے حکم کو سمجھیں اور اس کا حکم مانیں۔ ہر ایک کے احوال کے مطابق اللہ تعالیٰ نے انہیں شعور عطا فرمایا ہے۔ جانور اس کو سمجھتے ہیں کہ ہمارا کو ن دشمن ہے۔ آدمی پتھر اٹھائے تو کوّا اور کتّا دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔ چھپکلی ادھر ادھر چھپ جاتی ہے۔ چیونٹی کیقوت شامہ ( سونگھنے کی قوت) اتنی تیز ہوتی ہے کہ ذرا سا میٹھا گرے تو وہ فوراً وہاں حاضر ہو جاتی ہے۔ علامہ عبدالرزاق بھتراولی لکھتے ہیں۔ یہ تو ہم روز مرہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ پرندے ضرور اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں۔ ایک دوسرے سے لڑتے وقت ان کے بولنے کا انداز الگ ہوتا ہے۔ اور ایک دوسرے سے محبت کرتے وقت اُن کی گفتگو کا انداز الگ ہوتا ہے۔ جب کوئی درندہ یا شکاری حملہ کر تا ہے تو ان کے کلام کی نوعیت الگ ہوتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی بولیاں صرف چیخ و پکار یا شور و غل نہیں ہوتی ہیں۔ بلکہ ان میں کچھ مطالب اور مقاصد ہوتے ہیں۔ جنہیں وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولیاں سمجھنے کی قوت عطا فرمائی تھی۔ اسی لئے آپ علیہ السلام سمجھ لیا کرتے تھے کہ یہ کہا کہہ رہے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام فرماتے ہیں ۔مور کی تسبیح ہے جیسا کرو گے ویسا بھروگے۔ ہد ہد کی تسبیح ہے۔ اے گنہگارو، اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو۔ خطاف ( لمبے بازوﺅں والال چھوٹے پاﺅں والا، سیاہ رنگ کا پرندہ) کی تسبیح ہے۔ نیکی کے کام کرو تا کہ آگے جزا پاﺅ۔ قمری کی تسبیح ہے۔ سبحان ری الاعلیٰ۔ چیل کی تسبیح ہے۔ رب کے علاوہ ہر چیز فانی ہے۔ بھٹ تیتر کی تسبیح ہے۔ جو خاموش رہا وہ سلامتی میں رہا۔ مرغ کی تسبیح ہے۔ اے غافلو ، اللہ تعالیٰ کو یاد کرو ۔ گدھ کی تسبیح ہے اے انسان جتنا بھی زندہ رہنا ہے رہ لے۔ آخر تجھے موت آنی ہے۔ عقاب کی تسبیح ہے۔ لوگوں سے دور رہنے میں انس ہے۔ مینڈک کی تسبیح ہے۔ سبحان ربی القدوس۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی اسلامی حکومت

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت وسیع حکومت اور سلطنت عطا فرمائی تھی۔ آپ علیہ السلام کا دورِ نبوت اور حکومت بنی اسرائیل کے لئے سب سے سنہرا اور عروج کا دور تھا۔ پورے علاقے میں اسلامی حکومت قائم تھی۔ اور اس وقت بنی اسرائیل دنیا کی واحد مسلم قوم تھے۔ آس پاس کے تمام علاقوں کی مشرک قوموں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی برتری کو تسلیم کر لیا تھا۔ اور تمام مشرک قومیں آپ علیہ السلام کو خراج ادا کر تی تھیں۔ اور اسلامی حکومت کی ماتحتی میں رہتی تھیں۔ تمام بنی اسرائیل انتہائی امیر اور خوش حال تھے۔ اور اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت دنیا کی سوپر پاور تھی۔ (یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت آسٹریلیا، انڈونیشیاء، نیوزی لینڈ اور امریکہ دریافت نہیں ہوئے تھے۔ اور پوری دنیا ایشیاء، افریقہ اور یورپ پر مشتمل تھی) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بڑے جنگجو آدمی تھے۔ وہ زمین کے جس حصے میں بھی دشمن کے آنے کی خبر پاتے تھے وہاں لشکر لے کر پہنچ جاتے تھے۔ اور حملہ کر کے دشمن کو شکست دے دیتے تھے۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام جنگ کا ارادہ کرتے تھے تو آپ علیہ السلام کے لئے لکڑیاں گاڑی جاتی تھیں۔ پھر ان پر آپ علیہ السلام کا تخت رکھ دیا جاتا تھا۔ پھر انسانوں اور جناتوں اور جنگی سامان کو سوار کیا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کی کرسی درمیان میں ہوتی تھی ۔ جب تمام مطلوبہ سامان سوار ہو جاتا تو آپ علیہ السلام اپنی کرسی پر تشریف فرما ہو کر ہو اکو حکم دیتے تھے تو وہ اس تخت کو اٹھا کر لے کر چلتی تھی اور یہ تخت صبح سے دوپہر تک ایک مہینے کی مسافت اور دوپہر سے شام تک ایک مہینے کی مسافت طے کر تا تھا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک بہت بڑا تخت بنوایا تھا۔ آپ علیہ السلام کے تخت کے بارے میں بڑی عجیب عجیب روایتیں ہیں کہ وہ اتنا بڑا اور اتنا بڑا ہے۔ کسی روایت میں سو میل لمبا چوڑا اور کسی روایت میں سوفر سخ لمبا چوڑا ذکر ہوا ہے۔ یہ نا قابل یقین لگتا ہے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ہاں یہ بات دل قبول کرتا ہے کہ تخت اتنا بڑا ضرورتھا کہ آپ علیہ السلام کم سے کم دس ہزار کا لشکر اس پر لے کر جا سکتے تھے۔ تخت کو رکھنے کے لئے آپ علیہ السلام نے بہت سی لکڑیاں یعنی شہتیروں عین کھمبوں کو گڑوایا ہوا تھا۔ جس پر ایک بہت بڑے اور اونچے پلیٹ فارم کی طرح یہ تخت رکھا ہوا رہتا تھا۔ اور اکثر اسی پر آپ علیہ السلام اپنا دربار بھی منعقد فرماتے تھے۔ اور حکومت کے فیصلے بھی کرتے تھے۔ عوام کی فریاد سنتے تھے اور ان کی ضرورت کے مطابق مدد اور فیصلے کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تخت پر چھ سو 600کرسیاں رکھی جاتی تھیں۔ جن پر انسانوں اور جناتوں میں سے معززین اور عہدے دار بیٹھتے تھے۔ ان کے علاوہ تخت پر دس ہزار سپاہیوں ، ان کے جنگی لباس اور ہتھیار اور خیمے رکھنے کی جگہ ہوتی تھی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا سفر کرنے کا طریقہ 

حضرت سلیمان علیہ السلام جب سفر کا ارادہ فرماتے تو سب سے پہلے آپ علیہ السلام کے لئے تخت پر کرسی رکھی جاتی تھی۔ پھر معززین ، سپہ سالاروں ، درباریوں اور علمائے کرام کے لئے کرسیاں لگائی جاتیں۔ اگر آپ علیہ السلام کا ارادہ عام سفر کا ہوتا تھا تو صرف مخصوص لوگوں کو ہی سوار کیا جاتا تھا۔ اور اگر جنگ کے لئے جانا ہوتا تھا تو حکومتی عہدیداران کے علاوہ سپاہیوں اور گھوڑوں کو بھی سوار کیا جاتا تھا۔ پھر پرندے آکر تخت پر سایہ کر دیتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام تخت پر آکر اپنی کرسی پر تشریف فرما ہوتے تھے ۔ پھر انسانوں اور جناتوں اور جن کو آپ علیہ السلام حکم دیتے تھے وہ سب تخت پر سوار ہو کر اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ جاتے تھے۔ ھد ھد کو آپ علیہ السلام ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اور وہ تخت کے آگے آگے اڑتا رہتا تھا۔ اس کا کام پانی کی تلاش کا تھا۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ ھد ھد زمین کے اندر جمع پانی کے ذخیرے کو دیکھ لیتا ہے۔ جب تمام لوگ سوار ہو جاتے تھے تو آپ علیہ السلام ہوا کو حکم دیتے تھے ۔ اور ہوا تخت کو اٹھا لیتی تھی۔ اور جس طرف آپ علیہ السلام حکم دیتے تھے اس طرف لے جاتی تھی۔ اس تخت کی رفتار آپ علیہ السلام اپنی ضرورت کے مطابق رکھتے تھے۔ اگر آرام سے چلنا ہوتا تھا تو بادِ صبا کو حکم دیتے تھے۔ اور وہ آرام سے لے کر چلتی رہتی تھی۔ اور اگر تیز چلنا ہوتا تھا تو آندھی کو حکم دیتے تھے اور وہ تیزی سے تخت کو لے کر چلتی تھی ۔ لیکن تخت پر بیٹھے لوگوں کو محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ آندھی پر سوار ہیں۔ اور زمین والوں کو بھی اس تیزی کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تک کہ اگر آپ علیہ السلام کا تخت کسی کھیت کی تیار فصل پر سے گزرتا تھا تو اس فصل پر صرف اتنا اثر ہوتا تھا جتنا عام طور سے نارمل ہوا سے ہوتا ہے۔ اور فصل لہلہانے لگتی تھی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام پر ایک اور فضل

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بہت سی فضیلتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور آپ علیہ السلام ان کا بالکل درست استعمال کرتے تھے۔ اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتے رہتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی سرپرستی میں بنی اسرائیل نے بہت عروج حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ بھی آپ علیہ السلام سے بہت خوش تھے۔ اور وقتا فوقتا آپ علیہ السلام پر اپنا فضل فرماتے رہتے تھے۔ اسی طرح ایک مرتبہ آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی بھیجی اور فرمایا ۔ اے سلیمان (علیہ السلام )میں نے تیری حکومت میں اور اضافہ کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تو دور نزدیک کی ہر مخلوق کی آواز سنے گا اور ان کی بات سمجھے گا۔ اور ان کی آواز تم تک ہوا لے کر آئے گی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنی حکومت کے ہر علاقے کی ہر مخلوق سے بات کی اور ان میں سے ایک کو ان کا سردار مقرر فرمایا۔ اس طرح آپ علیہ السلام نے ہر مخلوق کا ایک سردار مقرر کر دیا اور حکم دیا کہ جب بھی ضرورت ہو مجھ سے آکر مل لیا کرنا اور رپورٹ دیا کرنا۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام جہاں بھی جاتے تھے وہاں کی تمام مخلوق سے باتیں کرتے تھے۔ اور ان کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” سلیمان (علیہ السلام )کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کئے گئے اور الگ الگ درجہ بندی کر دی گئی۔ “( سورہ النمل آیت نمبر17)

چیونٹی کا ساتھیوں کو ہوشیار کرنا

اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کوجو خصوصی فضیلت عطا فرمائی تھی وہ ایک طرح سے آپ علیہ السلام کی آزمائش تھی کہ آپ علیہ السلام فخر کرتے ہیں یا شکر ادا کرتے ہیں۔ تا کہ آپ علیہ السلام اس آزمائش میں کامیاب ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان کا مرتبہ اور بلند فرما دیں اور ایک واقعہ سے آپ علیہ السلام کی آزمائش ہوئی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔ اے چیونٹیوں ، اپنے اپنے گھروں میں گھس جاﺅ۔ ایسا نہ ہو کہ بے خبری میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں روند ڈالے۔ اس کی یہ بات سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام مسکرا کر ہنس دیئے۔ اور دعا کرنے لگے۔ اے میرے رب ، اللہ تعالیٰ ، تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر اد ا کر سکوں جو تو نے مجھے انعام کے طور پر عطا فرمائی ہے۔ اور میرے ماں باپ کو بھی عطا فرمائی ہے۔ اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے۔ اور مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کرلے۔ “( سورہ النمل آیت نمبر18سے 19تک) ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے درباریوں اور لشکر کے ساتھ تخت پر سوار ہوئے اور بادِ صبا کو حکم دیا کہ تخت کو اٹھا کرلے چلے۔ آپ علیہ السلام سیر کرنے اور اپنی حکومت کا جائزہ لینے کے لئے نکلے ۔ یہ آپ علیہ السلام کا قاعدہ تھاکہ اکثر آپ علیہ السلام دورے پر نکلتے تھے۔ اور رعایا کی ضرورتوں کو سمجھتے کی کوشش کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام جہاں سے بھی گزرتے تھے وہاں کی رعایا کے احوال سنتے جاتے تھے اور پھر انکی ضرورتوں کے مطابق ان کے مسائل حل کرتے تھے۔ اسی طرح اس دن بھی آپ علیہ السلام ”وادی نمل “ چیونٹیوں کی وادی سے گزرے تو ایک چیونٹی کی آواز سن کر چونک پڑے۔ چیونٹیوں کا سردار تمام چیونٹیوں کو اندر داخل ہونے کا حکم دے رہا تھا۔

اللہ کا شکر ادا کیا

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسی مملکت اور سلطنت عطا فرمائی تھی کہ نہ تو آپ علیہ السلام سے پہلے کسی کو عطا ہوئی اور نہ ہی آپ علیہ السلام کے بعد کسی کو عطا ہوئی۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے زبردست لشکر کے ساتھ جا رہے تھے کہ آپ علیہ السلام کے کان میں ایک چیونٹی کی آواز پڑ گئی۔ جو اپنے ساتھیوں سے کہہ رہی تھی کہ تم جلدی سے اپنے بلوں میں گھس جاﺅ کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر آرہا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لشکر تمہیں اپنے پاﺅں سے روند ڈالے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔ آپ علیہ السلام اس چھوٹے سے جانور کی بات سن کر مسکرا پڑے اور بے ساختہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں چند باتوں کو ارشاد فرمایا ہے۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو بھی حکومت عطا فرمائی تھی۔ لیکن وہ اس قوت و طاقت اور حکومت کو اپنا ذاتی کمال سمجھ بیٹھا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا۔ اس نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اپنے آپ کو نعوذ باللہ رب کہلوانے لگا۔ اور لوگوں کو اپنے سامنے جھکانا شروع کر دیا۔ اس کے بر خلاف جب اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو فرعون سے بھی زیادہ زبردست قوت و طاقت ، حکومت اور سلطنت عطا فرمائی تھی لیکن انہوں نے اس کو اپنا ذاتی کمال نہیں سمجھا بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور بخشش سمجھا۔ اسی لئے ہر وقت وہ ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ اتنی بڑی سلطنت اور حکومت ملنے کے باوجود حضرت داﺅد علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنا کر اور حضرت سلیمان علیہ السلام ٹوکریاں بنا کر اپنی گزر اوقات کرتے تھے۔ یہ وہ ہاتھ کی کمائی تھی جو انسان کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بنا دیتی ہے۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ انسان کا بہترین رزق اس کے ہاتھ کی کمائی ہے۔ بے شک حضرت داﺅد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے محنت کرتے تھے۔

آزمائش میں کامیاب

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کے مرتبے بلند کرنے کے لئے انہیں وقتاً فوقتاً آزماتا ہے۔ اور جس بندے کا ایمان جتنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے اس پر ویسی ہی آزمائش آتی ہے۔ تمام مخلوق میں سب سے معزز اور افضل انبیائے کرام علیہم السلام ہیں ۔ اور انبیائے کرام علیہم السلام میں سے سب سے افضل ہمارے پیارے رسول سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ آزمائش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام آذمائشوں میں کامیاب ہوئے۔ اور اللہ تعالیٰ جنت میں سب سے اعلیٰ مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی آزمایا۔ اور جب آپ علیہ السلام نے چیونٹی کی آواز سنی تو مسکرا پرے لیکن جب غور و فکر کیا تو آپ علیہ السلام کو سمجھ میں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی سلطنت اور حکومت سے نواز ا ہے جو بے مثال ہے۔ اس کے باوجود مجھے یہ نہیں معلوم کہ میرے راستے میں چیونٹی ہے۔ لیکن چیونٹی کو معلوم ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر آرہا ہے۔ اور سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ جسے بھی جو بھی چاہے عطا فرما سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک چیونٹی کو بھی بہت کچھ عطا فرما سکتا ہے۔ فوراً آپ علیہ السلام عاجزی اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے۔ اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنے لگے۔ اور دعا کرنے لگے کہ اے اللہ تعالیٰ ، مجھے اس لائق بنا کہ میں تیری عنایت کردہ نعمتوں کا شکر ادا کرسکوں ۔ اور مجھے ایسے اعمال کرنے کی توفیق دے جن سے تو راضی ہو جائے اور مجھ پر رحمت فرما کہ مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل کر لے۔ اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے عاجزی اختیار کی اور آزمائش میں کامیاب ہو گئے۔

ھُد ھُد کی غیر حاضری

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ (علیہ السلام ) نے پرندوں کی دیکھ بھال کی اور فرمانے لگے۔ یہ کیا بات ہے کہ ہد ہد دکھائی نہیں دے رہا ہے؟ کیا واقعی وہ غیر حاضر ہے؟ یقینا میں اسے سخت سزاد وں گا۔ یا اسے ذبح کر ڈالوں گا۔ یا پھر میرے سامنے وہ ( اپنی غیر حاضری کی ) صحیح اور صریح دلیل پیش کرے۔“( سورہ النمل آیت نمبر20اور 21)حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک سفر کا ارادہ فرمایا اور تمام لوگوں کو حاضر ہونے کا حکم دیا۔ تخت بچھا کر سب سامان رکھ دیا گیا۔ اور تمام مخلوق حاضر ہو گئی ۔ آپ علیہ السلام بھی اپنی کرسی پر تشریف فرما ہو گئے اور تمام لوگ اپنی اپنی نشست پر بیٹھ گئے۔ اور ہوا بھی انتظا رمیں ہو گئی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حکم دیں اور میں تخت کو اٹھا کر لے چلوں۔ تمام پرندے بھی آگئے۔ لیکن ھُد ھُد نہیں آیا۔ آپ علیہ السلام کا یہ قاعدہ تھا کہ ہر سفر میں ھُد ھُد کو ساتھ رکھتے تھے۔ اور اس کا کام پانی کی تلاش کرنا رہتا تھا۔ کیوں کہ صحرا میں دور دور تک پانی کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ھُد ھُد کو ایسی آنکھ اور ایسی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ اڑتے ہوئے بھی زمین کے اندر پانی کو دیکھ لیتا ہے۔ سب تیار بیٹھے تھے۔ جب کافی دیر گزر گئی اور ھد ھد نہیں آیا تو آپ علیہ السلام نے سفر منسوخ کردیا اور فرمایا۔ اگر اس نے اپنے غائب ہونے کی معقول وجہ نہیں بتائی تو میں اسے سخت سزاد وں گا۔ اتنے میں ھد ھد آگیا۔

ھُد ھُد کی تلاش کیوں

حضرت سلیمان علیہ السلام ھُد ھُد کے انتظار میں تھے ۔ آخر آپ علیہ السلام ھدھد کی تلاش کیوں کرنے لگے۔ علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے ہیں۔ کہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے ہد ہد کو اس لئے طلب فرمایا تھا کیوں کہ آپ علیہ السلام کو پانی کی معرفت کی ضرورت پڑ گئی تھی کہ وہ زمین کے اندر کہاں ہے؟ یہ اس لئے ہوا کہ آپ علیہ السلام نے ایسے جنگل میں پڑاﺅ ڈالا تھاجہاں پانی نہیںتھا۔ اور ھد ھد زمین کے ظاہر اور اس کے باطن ( اندر ) دیکھ لیتا ہے۔ کہ کہاں کتنا نیچے پانی ہے۔ اور وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو پانی کی جگہ سے آگاہ کر دیا کرتا تھا۔ پھر جنات تھوڑے ہی وقت میں پانی نکال لیا کرتے تھے۔ وہ روئے زمین کو یوں الگ کر لیتے تھے جیسے بکری کو چمڑا اتار ا جاتا ہے۔ (یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم سے ھد ھد کی نشاندہی پر جنات وہاں کنواں کھود دیتے تھے) یہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے جو حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ھد ھد کا ہی کیوں پوچھا۔ تو انہوں نے جواب میں فرمایا کہ پانی کی ضرورت تھی اور آپ علیہ السلام نہیں جانتے تھے کہ پانی کہاں کم گہرائی میں ہے۔ جب کہ ھد ھد زمین کے اندر پانی کو دیکھ کر بتا دیتا تھا کہ یہاں پانی کم گہرائی میں ہے۔ اسی لئے ھد ھد کو تلاش کیا۔

ملکۂ سبا ( بلقیس) کی خبر

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” کچھ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ آکر اس نے (ھد ھد نے) کہا۔ میں ایک ایسی خبر لے کر آیا ہوں جس کی آپ (علیہ السلام )کو خبر ہی نہیں ہے۔ ( یا جسے سن کر آپ علیہ السلام حیران ہو جائیں گے) میں ملک سبا کی ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں۔ میں نے دیکھا کہ اُن کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے۔جسے ہر قسم کی چیز ( نعمتوں) سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے۔ اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت والا ہے۔ میں نے اسے اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہوئے پایا ہے ۔ شیطان نے اُن کے کام انہیں بھلے کر کے دکھلا کر صحیح راہ سے روک دیا ہے۔ پس وہ ہدایت پر نہیں ہیں۔ کہ اسی اللہ کو سجدہ کریں جو آسمان اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے۔ اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ وہی عظمت والے عرش کا مالک ہے۔“(سورہ النمل آیت نمبر22سے 25تک) حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں کچھ دیر بعد ھد ھد آگیا۔ اور اس نے اپنے غائب رہنے کی وجہ یہ بتائی کہ میں اتفاق سے ایک ایسے علاقے میں پہنچ گیا جو ملک سبا کہلاتا ہے۔ وہاں میں نے دیکھا ایک عورت وہاں حکمراں ہے اور وہاں کے لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے ہیں بلکہ سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کی ہر نعمت عطا فرمائی ہے۔ لیکن شیطان ابلیس نے انہیں ورغلا کر انہیں شرک میں مبتلا کر دیا ہے۔ اور وہ لاعلمی میں اپنے اعمال کو صحیح سمجھ رہے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

ملکۂ سبا ( بلقیس) کا تعارف

حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ھد ھد نے ملکہ سبا اور اس کی قوم کے شرک کے بارے میں خبر دی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اور وہ یہ خبر ہے کہ ملک سبا میں ایک عورت ہے جو بادشاہت کر رہی ہے۔ اسے دنیا کی ہر نعمت میسر ہے اور ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم تخت کی مالک ہے۔ ھد ھد نے یمن کے علاقوں میں سے ایک علاقے کی ملکہ ، اس کے وزراءاور اعیانِ حکومت کے بارے میں تمام تفصیلات بتائیں۔ یہ بھی بتایا کہ بادشاہ کی چونکہ نرینہ اولاد نہیں تھی۔ اسی لئے اس کے انتقال کے بعد اس کی بیٹی کو وہاں کی عوام نے اپنا بادشاہ مقرر کر دیا ہے۔ اور وہ باپ کے تاج کی وارث قرار پائی ہے۔ یہ عورت بلقیس بنت سیرح تھی۔ سیرح کا اصل نام ھد ھاد تھا۔ ایک روایت میں اس کا نام سراحیل بن زی جدن بن سیرح بن حارث بن قیس بن صیفی بن سبا بن یشحب بن یعرب بن قحطان تھا۔ بلقیس کا باپ بہت بڑا بادشاہ تھا۔ اس نے یمن کی کسی بھی عورت سے نکاح کر نے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک عورت سے شادی کی جس کا تعلق جنات کی نسل سے تھا۔ اور اس کا نام ریحانہ بنت سکن تھا۔ اسی کے بطن سے بلقیس پیدا ہوئی۔ اس بچی کا نام تنقمہ رکھا گیا اور اسے بلقیس کہتے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بلقیس کا تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”وہ قوم ہر گز فلاح نہیں پائے گی جنہوں نے عورت کو حکمراں بنا دیا۔“ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ سبا ایک شہر کا نام ہے جو مآرب کے نام سے معروف تھا۔ یہ یمن میں واقع ہے۔ اس کے اور صنعا کے درمیان تین دن کی مسافت ہے۔ اس عورت کا نام بلقیس بنت شراحیل تھا۔ جو اہل سبا کی ملکہ تھی۔

ملکۂ سبا کا تخت

حضرت سلیمان علیہ السلام کو ھد ھد نے بتایا کہ ملکہ سبا کا تخت بہت شاندار ، انواع و اقسام کے لعل و جواہر سے مرصع ہے۔ اور بڑے قیمتی اور نایاب زیورات سے سجا ہوا ہے۔ علامہ محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی لکھتے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اس کے تخت کی لمبائی اسّی 80ہاتھ تھی۔ اور چوڑائی چالیس 40ہاتھ تھی۔ اور اونچائی تیس 30ہاتھ تھی۔ جس پر موتیوں ،سرخ یاقوت اور سر سبز جد کا تاج تھا۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا کے تحت کے پائے موتیوں اور جواہرات کے تھے۔ اس پر دیباج (ریشم کی ایک قسم ) اور حریر کے پردے تھے۔ اس کے سات تالے تھے۔ یعنی وہ سات کمروں کے اندر رکھا جاتا تھا۔ حضرت مقاتل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ تخت اسّی80ہاتھ لمبا ، اسّی ہاتھ چوڑا ، اسّی 80ہاتھ اونچا تھا۔ اس میں جواہرات جڑے ہوئے تھے۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا کی خدمت گار عورتیں تھیں۔ اور ان کی تعداد چھ سو600تھی۔ امام ابن عطیہ کہتے ہیں کہ وہ ملک یمن کے شہروں کی ملکہ تھی۔ اس کی حکومت عظیم تھی۔ اس کا تخت عظیم تھا۔اور وہ ایک کافر قوم کی کافر ملکہ تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ قوم زنادقہ تھی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” سلیمان (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اب ہم دیکھیں گے کہ تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹ کہا ہے۔ میرے اس خط کو لے جا کر اسے دیدے۔ پھراس کے پاس سے ہٹ آ۔ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں؟“(سورہ نمل آیت نمبر27اور 28) حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب ھد ھد سے ملکہ سبا ( بلقیس اور اس کی قوم کے شرک کے بارے میں سنا تو فرمایا۔ ٹھیک ہے ہم اس معاملے کی پوری تحقیق کریں گے۔ اس کے بعد ایک خط لکھوایا۔ اور ھد ھد کو دے کر فرمایا۔ تم یہ خط لے کر ملکہ سبا کے پاس جاﺅ اور اسے دو۔ اس کے دیکھو کہ وہ کیا کرتی ہے۔ اور اس کی مشرک قوم کیا کہتی ہے۔ اس کی پوری رپورٹ آکر ہمیں بتاﺅ۔ ھد ھد آپ علیہ السلام کا خط لے کر ملکہ سبا کی خواب گاہ میں گیا اور اس کی گود میں ڈال دیا۔ اور باغ کے ایک درخت پر بیٹھ گیا۔ ملکہ سبا نے حیرت سے خط کو دیکھا اور ھد ھد کو دیکھا۔ خط پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی مہر لگی ہوئی تھی۔ اس نے خط کھولا اور پڑھنے لگی۔ خط پڑھنے کے بعد بہت دیر تک غورو فکر میں ڈوبی رہی۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ ھد ھد جب ملکہ سبا کے محل میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بلقیس اپنی خواب گاہ میں ہے۔ اور اندر جانے کے تمام راستے بند تھے۔ محل کے اندر اور باہر چاروں طرف زبردست پہرہ تھا۔ ھد ھد پہریداروں کو چکمہ دے کر محل کے اندر پہنچا اور روشن دان کے ذریعے خواب گاہ میں داخل ہوا۔ اور خط ملکہ بلقیس پر پھینک دیا۔ وہ اس وقت سوئی ہوئی تھی ۔ اس نے وہ روشن دان اس لئے بنوایا تھا تا کہ سورج کے طلوع ہونے کے وقت روشنی اس سے داخل ہو اور وہ سورج کی عبادت کر سکے۔ جب وہ بیدار ہوئی تو اس خط کو پایا۔خط دیکھ کر وہ خوف زدہ ہو گئی۔ اسے گمان ہو ا کہ کوئی اس کے کمرے میں داخل ہوا ہے۔ پھر اس نے جائزہ لیا اور ہر طرف دیکھنے کے بعد روشن دان کی طرف دیکھا تو اسے ھد ھد نظر آیا اور وہ سمجھ گئی کہ یہی وہ قاصد ہے ۔ اس نے خط پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی مہر لگی ہوئی دیکھی تو کانپ گئی۔ کیوں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت اور طاقت سے ہر حکمراں واقف تھے۔ اس نے خط پڑھا اور کافی غورو فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ میری حکومت کے ذمہ داران سے مشورہ کر نا چاہیے۔

ایک عظمت والا خط آیا ہے

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” وہ ( ملکہ سبا ) کہنے لگی۔ اے سردار، میری طرف ایک عظمت والا باوقعت خط آیا ہے۔ جو سلیمان (علیہ السلام )کی طرف سے ہے۔ جو بخشش کرنے والے مہربان اللہ کے نام سے شروع ہوا ہے۔ ( یعنی اس کا مضمون اس طرح شروع ہوا ہے کہ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ) یہ کہ تم میرے سامنے سر کشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آﺅ۔ اس نے ( ملکہ سبا نے آگے ) کہا۔ اے میرے سردارو، تم میرے معاملے میں مجھے مشورہ دو۔ میں کسی بھی اہم کام کا فیصلہ تمہاری موجودگی اور رائے کے بغیر نہیں کرتی ہوں۔ ان سب نے جواب دیا کہ ہم طاقت اور قوت والے اور سخت لڑنے بھڑنے والے ہیں۔ آگے آپ کو اختیار ہے۔ آپ خود سوچ سمجھ لیں کہ ہمیں کیا حکم فرماتی ہیں۔ اس نے ( ملکہ سبا نے ) کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اسے اجاڑ دیتے ہیں۔ اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ بھی ایسا ہی کریں گے۔ میں انہیں ہدیہ بھیجنے والی ہوں پھر دیکھوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔ “(سورہ النمل آیت نمبر 29سے 35تک)

ملکۂ سبا کو اسلام کی دعوت

حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط پڑھ کر ملکہ ¿ سبا بلقیس نے کافی دیر تک غور و فکر کیا۔ پھر اس نے دربار لگانے کا حکم دیا۔ جب سب درباری اور امراءاور وزراءاور سپہ سالار حاضر ہو گئے تو اس نے کہا۔ میرے پاس ایک بادشاہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے بہت عزت والا اور عظمت والا خط آیا ہے۔ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اور اللہ نے انہیں بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا ہے کہ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت مہربان اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اور تمہاری قوم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو۔ اس کے بعد ملکہ سبا نے آگے خط پڑھ کر سنایا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام آگے لکھتے ہیں کہ میں تمہیں اور تمہاری قوم کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر کشی اختیار مت کرو۔ اور غرور اور تکبر نہیں کرتے ہوئے دوسروں کی عبادت چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن کر میرے پاس چلے آﺅ۔ اور اگر تم اور تمہاری قوم ایسا نہیں کریں گے تو پھر مجھ سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاﺅ ۔ خط مکمل ہونے کے بعد ملکہ سبا بلقیس سے کہا۔ اے میرے درباریو، وزیروں اور سپہ سالارو ، مجھے اس بارے میں مشورہ دو کہ میں کیا کروں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اگر حضرت سلیمان علیہ السلام جنگ کی دعوت دے رہے ہیں تو ہم بھی بڑے طاقت ور اور جنگجو ہیں اور جنگ کے لئے تیار ہیں۔ بہر حال آخری فیصلہ تو تمہیں ہی کرنا ہے۔ اس لئے تم جو بھی حکم دو گی ہم اس پر عمل کریں گے۔ ملکہ سبا نے کہا۔ جب جنگ ہوتی ہے تو دونوں طرف کے سپاہی مارے جاتے ہیں۔ اور نقصان فاتح اور مفتوح دونوں کا ہوتا ہے۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کے بارے میں مشہور ہے کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جناتوں پر بھی ان کی حکومت ہے۔ اور غالب گمان ہے کہ فتح ان کی ہی ہوگی۔

خط کس زبان میں تھا

حضرت سلیمان علیہ السلام عبرانی زبان بولتے تھے۔ اور بنی اسرائیل کی زبان بھی عبرانی تھی۔ ایک روایت میں سریانی زبان کا بھی آیا ہے۔ ایک غالب گمان یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو بہت ساری زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ کیوں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جناتوں، جانوروں ، پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں کی زبان سکھا دی تھی تو یقینا انسانوں کی زبان بھی سکھلا دی ہو گی۔ ملکہ ¿ سبا یمن میں بھی اور اس علاقے کی زبان عربی تھی۔ اسی لئے غالب گمان یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے خط عربی میں لکھا ہو گا۔ اور خط کے مضمون میں ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کا لکھا ہونا عربی کی طرف ہی اشارہ ہے۔ مولانا مفتی محد شفیع تفسیر روح المعانی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام حالانکہ عربی بولنے والے نہیں تھے لیکن عربی زبان جاننا اور سمجھنا آپ علیہ السلام سے کوئی بعید بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ جب آپ علیہ السلام پرندوں تک کی زبان جانتے تھے ۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ عربی زبان تمام زبانوں میں سب سے افضل اور اشرف زبان ہے۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے خط عربی زبان میں لکھا ہوگا۔ کیوں کہ ملکہ سبا اور اس کی قوم عربی النسل تھی۔ اس نے خط کو پڑھا بھی اور سمجھا بھی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی زبان میں خط لکھا ہو۔ اور بلقیس کے پاس آپ علیہ السلام کی زبان کا ترجمان ہو جس نے خط کو پڑھ کر سنایا ہو اور سمجھایا ہو۔

تحائف بھیج کر تحقیق کی

حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کے جواب میں بلقیس کے وزراءاور سپہ سالاروں نے جو جواب دیا اس کے بعد بلقیس نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ہم لوگ بڑے طاقتور اور جنگجو ہیں۔ لیکن اس پر بھی غور کرو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جس طرح جنگ کی دعوت دی ہے اور اس سے پہلے اسلام کی دعوت دی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی ہیں۔ اس لئے ہم تحقیق کرتے ہیں۔ میں انہیں قیمتی تحفے بھیجتی ہوں اور پھر دیکھتی ہوں کہ ان کا جواب کیا ہوتا ہے۔ اگر وہ صرف بادشاہ ہوں گے تو تحفے کو قبول کر لیں گے۔ تب ہم انہیں جنگ کے لئے للکاریں گے۔ اور اگر وہ بادشاہ کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں تو تحفے واپس کر دیں گے۔ اور تب ہم ان کے بارے میں غور و فکر کریں گے۔ اس کے بعد اس نے بہت سے قیمتی تحائف اپنے قاصد کے ذریعے بھیجے اور اس میں ایک بہت ہی قیمتی لکڑی کی لاٹھی بھی تھی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ ملکہ سبا بلقیس نے خود ہی ایک رائے قائم کی جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا امتحان لے اور تحقیق کرے کہ وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں یا نہیں ۔ اور جو کچھ حکم وہ دے رہے ہیں وہ اللہ کے حکم کے تعمیل ہے یا پھر وہ ایک ملک گیر ی کے خواہشمند بادشاہ ہیں۔ اس امتحان اور تحقیق سے مقصد یہ تھا کہ اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ہیں تو ان کے حکم کا اتباع کیا جائے ۔ اور مخالفت کی کوئی صورت اختیار نہیں کی جائے۔ اور اگر بادشاہ ہیں اور ملک گیری کی ہوس میں ہمیں اپنا غلام بنانا چاہتے ہیں تو پھر غور کیا جائے گا کہ ان کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اس تحقیق کا طریقہ یہ تجویز کیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں کچھ ہدیے اور تحفے بھیجے۔ اگر انہوں نے تحفوں کو قبول کر لیا تو وہ ایک بادشاہ ہی ہیں اور اگر وہ واقعی نبی ہیں تو وہ اسلام اور ایمان کے بغیر کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے۔

تحائف واپس کر دیئے

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب قاصد حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ کیا تم مال سے مجھے مدد دینا چاہتے ہو؟ (سنو) میرے رب نے تو مجھے اس سے بہت بہتر دے رکھا ہے۔ جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے۔ اور تم ہی اپنے تحفے سے خوش رہو۔ جاﺅ۔ اور ان کی طرف واپس لوٹ جاﺅ۔ ( اور ان سے کہہ دو کہ ) ہم ان کے مقابلہ پر وہ لشکر لائیں گے جن کا سامنا کرنے کی ان میں طاقت نہیں ہے۔ اور ہم انہیں ذلیل و پست کر کے وہاں سے نکال باہر کر یں گے۔“ (سورہ النمل آیت نمبر36اور37) ملکہ سبا کا قاصد تمام تحفے اور لاٹھی لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا حکم انسانوں اور جناتوں کے علاوہ وحشی جانور اور پرندے وغیرہ بھی مانتے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہوا بھی آپ علیہ السلام کا حکم مانتی ہے تو وہ سمجھ گیا کہ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ اس نے ڈرتے ڈرتے تمام قیمتی تحائف آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کئے۔ آپ علیہ السلام نے تمام تحفوں کو دیکھا اور فرمایا۔ اپنی ملکہ کے یہ تحائف واپس لے کر جاﺅ۔ اور اس سے کہنا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام صرف بادشاہ نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ کے نبی ہیں۔ اور نبی کو دنیاوی تحفوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی ایسی نعمتیں اور حکومت عطا فرمائی ہے جس کا تم اور تمہاری ملکہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اور ثبوت کے طور پر تمہاری ملکہ کی طرف سے بھیجی ہوئی یہ لاٹھی بتا دینا۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے دیمک کو حکم دیا کہ اس لاٹھی میں سوراخ کر دو۔ دیمک نے حکم سن کر لاٹھی کو کھانا شروع کر دیا اور اسمیں سوراخ کر دیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اب یہ سب لے جا کر اپنی ملکہ کو دے دو اور اس سے کہنا کہ اگر اس نے جنگ کا فیصلہ کیا تو اس کا سامنا ایسے لشکر سے ہوگا جس کا مقابلہ کرنے کی طاقت اس کے لشکر میں نہیں ہوگی۔ اور تمہیں ذلت اٹھانی پڑے گی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں ملکۂ سبا کی روانگی

حضرت سلیمان علیہ السلام کا جواب لے کر قاصد ملکہ سبا بلقیس کے پاس آیا۔ اور بتایا کہ جس طرح کا عام بادشاہ ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کو سمجھتے تھے وہ اس طرح کے نہیں ہیں بلکہ وہ سچ مچ اللہ کے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی بادشاہت عطا فرمائی ہے۔ جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ ان کی حکومت صرف انسانوں پر نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جناتوں پر بھی ہے اور جانوروں اور پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں پر بھی ہے۔ یہاں تک کہ ہوا پر بھی ان کی حکومت ہے۔ اور کیڑے مکوڑوں پر حکومت کا ثبوت یہ لاٹھی ہے۔ جب تم نے یہ لاٹھی دی تھی تو اس میں سوراخ نہیں تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیمک کو حکم دیا کہ وہ اس میں سوراخ کرے اور دیکھتے ہی دیکھتے دیمک نے اس لاٹھی کو کھا کر اس میں سوراخ کر دیا۔ اتنا کہنے کے بعد قاصد نے بلقیس کی خدمت میں لاٹھی دے دی۔ اس نے اور تمام وزیروں اور سپہ سالاروں نے حیرت سے لاٹھی کے سوراخ کو دیکھا۔ اور سمجھ گئے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں۔ اور بلقیس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا کہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر دیکھیں گے۔ پھر فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ اس کے بعد بلقیس نے اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کو لشکر سمیت آپ علیہ السلام کی طرف روانگی کا حکم دیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے تخت منگوایا

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اے سردارو، تم میں سے کون ہے جو ان کے مسلمان ہو کر پہنچنے سے پہلے ہی اس کا تخت مجھے لا دے۔ ایک قوی ہیکل جنات نے کہا۔ آپ علیہ السلام کے اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے ہی میں لا سکتا ہوں۔ یقین مانئے کہ میں اس پر قادر ہوں اور امانت دار بھی ہوں۔ جس کے پاس کتاب کا علم تھا ، وہ بول اٹھا کہ آپ علیہ السلام کے پلک جھپکنے سے پہلے میں اسے آپ علیہ السلام کے پاس پہنچا سکتا ہوں۔ جب آپ علیہ السلام نے اسے ( تخت کو) اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے۔ یہ میرے رب کا فضل ہے ، تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور شکر گزار اپنے ہی نفع کے لئے شکر گزاری کرتا ہے۔ اور جو شکری کرے تو میرا پروردگار ( بے پرواہ اور بزرگ) غنی اور کریم ہے ( اس کے بعد) حکم دیا کہ اس کے تخت میں کچھ پھیر بدل کر دو تا کہ معلوم ہو جائے کہ وہ راہ پالیتی ہے یا ان میں سے ہو جاتی ہے جو راہ نہیں پاتے ہیں۔“(سورہ نمل آیت نمبر38سے41تک) اُدھر یمن کے ملک سبا سے ملکہ سبا بلقیس اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہو گئی۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ ملکہ بلقیس جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ ، ترقی یافتہ اور مالدار قوم سبا کی حکمراں تھی۔ اس قوم سبانے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکمرانی کی۔ اور دنیاوی وسائل میں بہت مشہور تھی۔ اس نے پانی کو روکنے اور تقسیم کرنے کے لئے ایسے بہترین بند باند ھ رکھے تھے کہ جس سے یہ ملک سر سبز و شاداب نظر آتا تھا۔ اب اسی عظیم ملک کی ملکہ ، حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضری لگانے آرہی تھی۔

ملکۂ سبا بلقیس کا لشکر

حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہو نے کے لئے ملکہ سبا بلقیس اپنے وزیروں ، سپہ سالار وں اور لشکر کے ساتھ رواں دواں تھی۔ ملکہ سبا بلقیس کے پاس ایک ہزار قیل( سردار یا سپہ سالار ) تھے۔ ملکہ سبا کی حکومت ملک یمن پر تھی اور یمن میں سردار یا سپہ سالار کو قیل کہا جاتا تھا۔ ان ایک ہزار سرداروں میں سے ہر ایک سردار دس ہزار افراد کا سردار یا سپہ سالار ہوتا تھا۔ حضرت مجاہد ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا بلقیس کے زیر نگیں بارہ ہزار چھوٹے بادشاہ تھے۔ اور ہر ایک بادشاہ کی قیادت میں ایک لاکھ سپاہی تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم طاقت اور قوت والے ہیں۔ حضرت قتادہ ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا بلقیس کا پہلا مشورہ تین سو بارہ افراد سے تھا۔ ان میں سے ہر ایک فرد دس ہزار افراد کا قائد تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیںکہ ان میں سے تین سو سرداروں یا سپہ سالاروں کو لے کر ملکہ سبا بلقیس روانہ ہوئی تھی۔ اور ہر سردار کے ساتھ ایک ہزار کا لشکر تھا۔ اس طرح اس کے ساتھ تین لاکھ کا لشکر تھا۔

ایک عالِم فوراً تخت لے آیا

حضرت سلیمان علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری کے لئے ملکہ سبا بلقیس رواں دواں تھی۔ اور آپ علیہ السلام کے وزیروں اور سپہ سالاروں کو اس کے آنے کی مسلسل اطلاعات مل رہی تھیں۔ لیکن کوئی بھی آپ علیہ السلام کو بتانے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بہت ہی بارعب تھے۔ اسی لئے جب تک آپ علیہ السلام کسی معاملے میں خود سے نہیں فرماتے تھے تب تک کوئی بھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر تا تھا۔ ایک روز آپ علیہ السلام اپنے محل سے نکل کر تخت پر بیٹھے کچھ حکومت کا کام کر رہے تھے کہ سامنے کافی دور گر دو غبار اڑتا دکھائی دیا۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ یہ کیا ہے؟ حاضرین نے جواب دیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، یہ ملکہ سبا بلقیس اور اس کا لشکر ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ یہاں تک آگئی ہے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام اپنے درباریوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا۔ اے درباریو، کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو اس کے یہاں پہنچنے سے پہلے اس کا تخت لے آئے؟ تو ایک جنات نے کھڑے ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، میں دربار برخواست ہونے سے پہلے اس تخت کو لا سکتا ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ نہیں ، اور جلدی تخت آنا چاہیئے۔ در اصل حضرت سلیمان علیہ السلام صبح سویرے حکومت کے کام اور مقدموں کے فیصلے کے لئے دربار منعقد کیا کرتے تھے۔ اور زوال تک بنی اسرائیل کے مقدموں کے فیصلے اور حکومت کے اہم کام نبٹاتے تھے۔ اور زوال کے وقت دربار برخواست کر دیتے تھے۔ لیکن بلقیس اتنا قریب آچکی تھی کہ اتنے وقت میں تخت لا نے سے پہلے وہ پہنچ جاتی ۔ اسی لئے حضرت سلیمان علیہ السلام اور جلدی تخت منگوانا چاہتے تھے۔ یہ دیکھ کر ایک عالِم ( جو توریت اور زبور کے عالم تھے) کھڑے ہوئے ان کا نام آصف بن بر حیا تھا۔ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے خالہ زاد بھائی تھے انہوں نے عرض کیا۔ میں آپ علیہ السلام کی پلک جھپکنے سے پہلے تخت لے آﺅں گا۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جتنی دیر تک ایک انسان عام طور سے آنکھ کھلا رکھتا ہے یعنی انسان کے دو بار پلک جھپکانے سے پہلے لے آﺅں گا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ بہر حال وہ عالم ملکہ بلقیس کے پہنچنے سے پہلے تخت لے آئے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان عالم کو اجازت دے دی۔ اور وہ بلقیس کے آنے سے کافی پہلے اس کا حسین ترین اور ہیرے جواہرات سے جڑا ہوا تخت لے آئے۔ آپ علیہ السلام نے بلقیس کا تخت اپنے دربار میں رکھا دیکھا تو فوراً اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اور فرمایا۔ یہ مریے رب کا فضل ہے اور اس طرح اس نے مجھے آزمایا ہے کہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں یا پھر نا شکری کرتا ہوں۔ بے شک اللہ تعالیٰ بے نیاز اور کریم ہے اور اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا۔ اس تخت کی شکل کچھ حد تک تبدیل کر دو تا کہ ہم دیکھیں کہ بلقیس اپنے تخت کو پہچان پاتی ہے یا نہیں ؟ حضرت سلیمان علیہ السلام بلقیس ( ملکہ سبا ) کی عقل و دانش کی آزمائش کرنا چاہتے تھے۔ کیوں کہ اپنا تخت وہ پیچھے یمن میں میلوں دور چھوڑ آئی تھی۔ اور یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتی تھی کہ جس تخت کو وہ میلوں دور یمن میں چھوڑ آئی ہے وہ اس کے یروشلم ( بیت المقدس) یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا دارالخلافہ یا راجدھانی تھا ، پہنچنے سے پہلے وہاں آچکا ہو گا۔ اور اگر تخت کو پہچان لے گی تو یہ اندازہ کر لے گی کہ تخت اللہ کے حکم سے ہی یہاں پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اور ساتھ ہی اسے یہ اندازہ بھی ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ علیہ السلام کا کیا مقام ہے۔

بلقیس (ملکہ سبا) نے اللہ کی قدرت کو تسلیم کیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب وہ آگئی تو اس سے فرمایا( دریافت کیا) کہ ایسا ہی تیر تخت ( بھی ) ہے؟ اس نے جواب دیا کہ گویا یہ وہی ہے۔ ہمیں ( آپ علیہ السلام کی طاقت کے بارے میں) پہلے ہی ( ھد ھد اور ہمارے قاصد کے ذریعے ) علم دیا گیا تھا۔ اور ہم ( آپ علیہ السلام کے پہلے ہی سے ) اطاعت گزار تھے۔ اسے ( بلقیس کو ) انہوں نے ( ابلیس شیطان اور بتوں نے ) روک رکھا تھا۔ جن کی وہ اللہ کے سوا پوجا کرتی تھی۔ یقینا ( پہلے ) ہو کافر لوگوں میں سے تھی۔ “( سورہ النمل آیت نمبر 42اور 43) حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ملکہ بلقیس اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کے ساتھ داخل ہوئی۔ تو اس نے اپنے تخت کو آپ علیہ السلام کے دربار میں رکھا ہوا پایا۔ تخت کو دیکھ کر وہ حیران ہو گئی اور غور سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کے وزراءاور سپہ سالار بھی حیرانی سے اس تخت کو دیکھ رہے تھے کیوں کہ انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ اگر اس تخت میں تھوڑا سا ردو بدل کیا جائے تو بالکل وہی تحت بن جائے گا جس سے پر ان کی ملکہ اپنے دربار میں بیٹھتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام مسکراتے ہوئے اپنے درباریوں کے ساتھ بلقیس اور اس کے امراءکی حیرانی کو دیکھ رہے تھے۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا بات ہے؟ تم بہت غور سے اس تخت کو دیکھ رہی ہو؟ کیا تمہارے پاس بھی ایسا ہی تخت ہے؟ حضرت سلیمان علیہ السلام کی آواز سن کر وہ چونک پڑی اور آپ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر بولی۔ یمن میں میرے ملک میں بالکل ایسا ہی میرا ایک تخت ہے اور اس پر بیٹھ کر میں اپنی حکومت کے فیصلے کر تی ہوں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام مسکرائے اور فرمایا۔ ذرا غور سے دیکھو، کہیں یہ وہی تخت تو نہیں ہے؟ بلقیس غور سے تخت کو دیکھتے ہوئے بولی۔ یہ یقینا میرا ہی تخت ہے۔ لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میرے یہاں پہنچنے سے پہلے میرا تخت یہاں پہنچ جائے؟ اور وہ بھی انتہائی سخت پہرے کے باوجود ۔ کیوں کہ میں اپنے تخت کو کئی قلعوں کے اندر رکھتی ہوں۔ اور ان قلعوں کے اندر پہریداروں کی ایک زبردست فوج نگرانی کرتی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر قلعے میں تالا لگا رہتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ تمہارا ہی تخت ہے اور اتنے سخت پہرے کے باوجود اتنی دور میرے پاس اللہ تعالیٰ کی قدرت سے پہنچا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ کام اپنے ایک عالِم سے لیا ہے جو میری حکومت میں رہتا ہے۔ اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی عبادت کرتے ہو، وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اور تم اور تمہاری قوم دھوکے میں مبتلا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قادر ہے اور اس کے حکم کے بغیر پتہ بھی نہیں ہل سکتا ہے ۔ یہ سن کر بلقیس نے تسلیم کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے یہ تخت یہاں آسکتا ہے تو یقینا وہ ہر شئے پر قادر ہے۔ اور آپ علیہ السلام کی نبوت کے بارے میں تو ہمیں پہلے ہی ھد ھد اور ہمارے قاصد نے خبر دے دی تھی۔ اور ہم لوگ آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کرنے آئے ہیں۔ لیکن پہلے میں آپ علیہ السلام سے چند سوالات کرنا چاہتی ہوں۔ اگر آپ علیہ السلام مجھے مطمئن کر دیں تو ہو سکتا ہے کہ میں میری قوم اسلام قبول کر لے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ بلقیس کا مکالمہ

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ملکہ بلقیس اپنے وزیروں اور سپہ سالاروں کے ساتھ حاضر تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ پوچھو کیا پوچھنا چاہتی ہو؟ بلقیس نے کہا۔ مجھے ایسے پانی کے بارے میں بتائیں جو نہ آسمان میں ہے اور نہ ہی زمین میں ہوتا ہے؟ آپ علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے اپنے درباریوں کی طرف نظریں دوڑائیں تو ایک جنات کھڑا ہوا عرض کیا۔ یا نبی علیہ السلام ، یہ سوال تو بہت آسان ہے۔ آپ علیہ السلام گھوڑے کو دوڑائیں۔ اور اتنا دوڑائیں کہ اس کے پسینے سے پورا برتن بھر جائے۔ یہ سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ پانی جو نہ آسمان میں ہے اور نہ ہی زمین میں ہے وہ ہر جاندار کا پسینہ ہے ۔پھر اس نے پوچھا۔مجھے یہ بتاﺅ تمہارے اللہ کا رنگ کیسا ہے؟ یہ سوال سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ آپ علیہ السلام فوراً سجدے میں گر گئے۔ اور اللہ تعالیٰ کے جلال کا تصور کر کے آپ علیہ السلام پر غشی طاری ہو گئی۔ کافی دیر بعد دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کی طبیعت سنبھلی تو آپ علیہ السلام اٹھ کر بیٹھے۔ پورا بدن پسینے میں شرابور تھا اور سینہ دھونکنی کی طرح چل رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے آپ علیہ السلام میلوں دور سے دوڑتے ہوئے آئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ پوچھ رہے ہیں کہ کیا معاملہ ہے؟ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں) آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھ سے ایسا سوال کیا گیا ہے جسے میں دہرا نہیں سکتا ہوں۔ فرشتے نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام سوال کرنے والے سے فرمائیں کہ وہ دوبارہ سوال کرے۔ اس دوران حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ تمام درباری بھی سجدے میں گر گئے تھے۔ اور بلقیس اور اس کے ساتھی حیرانی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے اور ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں اور کیا کہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا بلقیس سے فرمایا۔ تم نے کون سا سوال پوچھا تھا؟ ذرا پھر سے دہراﺅ۔ بلقیس نے کچھ دیر سوچا اور غور کیا پھر کہا۔ میں وہ سوال بھول گئی ہوں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اس کے ساتھیوں سے پوچھا تو ان سب نے کہا ہم بھی بھول گئے ہیں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنے درباریوں سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بھی یاد نہیں ہے۔ جب کوئی جواب دے نہیں سکا تو آپ علیہ السلام نے بلقیس اور اس کے ساتھیوں کو مہمان خانے میں ٹھہرانے کا حکم دیا اور دربار برخاست کر دیا۔

ملکۂ سبا بلقیس کا قبولِ اسلام

اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اس سے کہا گیا کہ محل میں چلی چلو۔ جسے دیکھ کر یہ سمجھ کر کہ یہ حوض ہے اس نے پنڈلیاں کھول دیں( حضرت سلیمان علیہ السلام ) نے فرمایا۔ یہ شیشے سے منڈھی ہوئی عمارت ہے۔ کہنے لگی ، میرے پروردگار ، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے۔ اب میں سلیمان( علیہ السلام )کے ساتھ اللہ رب العالمین کی مطیع اور فرماں بردار بنتی ہوں۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر44) حضرت سلیمان علیہ السلام نے بلقیس کو مہمان خانے میں ٹھہرایا۔ وہ اسور اس کے ساتھی کچھ دنوں تک اسلامی حکومت کا مشاہدہ کرتے رہے اور انہیں اس کے فوائد بھی دکھائی دے رہے تھے۔ اور دھیرے دھیرے بلقیس اور اس کے وزراءاور سپہ سالار متاثر بھی ہو تے جا رہے تھے ۔ ایک دن بلقیس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو اسے بتایا گیا کہ آپ علیہ السلام اس وقت شیش محل میں تشریف فرما ہیں۔ اس لئے ان سے ملنے کی اجازت لینی ہوگی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جناتوں سے شیش محل بنوایا تھا۔ اس کافرش شیشے کا تھا۔ نیچے پانی تھا اور اس میں مچھلیاں اور دوسرے سمندری جانور تھے۔ سرسری نظر سے دیکھنے پر شیشے کا فرش نظر نہیں آتا تھا۔ اس کی چھت بھی شیشے کی تھی آپ علیہ السلام کو اطلاع دی گئی کہ بلقیس ملنا چاہتی ہے تو آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اسے یہاں لے آﺅ۔ اس محل کے صحن کا فرش بھی شیشے کا تھا۔ بلقیس اس محل کے صدر دروازے پر آکر رک گئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بے فکر ہو کر صحن میں داخل ہو جاﺅ اور محل میں آجاﺅ۔ ملکہ سبا ءبلقیس نے جب فرش پر دیکھا تو اسے ایسا لگا جیسے اسے پانی میں سے گزرنا ہو گا۔ وہ اپنی شلوار کے پائنچے اٹھانے لگی۔ یہ دیکھ کر حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا ۔ یہ شیشے کا فرش ہے۔ اس لئے پائنچے اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلقیس حیرانی سے شیشے کے فرش پر چلتی ہوئی آپ علیہ السلام تک پہنچی۔ آپ علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی اور سمجھانے لگے۔ اتنے دنوں تک اسلامی حکومت کا مشاہدہ کر نے بعد بلقیس اسلام سے متاثر ہو چکی تھی۔ اور اپنے سپہ سالاروں سے بھی مشورہ کر چکی تھی اور وہ لوگ بھی اسلام سے متاثر ہو چکے تھے۔ بلقیس اور اس کی قوم صرف اس لئے سورج کی پوجا کر تی تھی کہ ان کے باپ دادا بھی وہی کر تے تھے۔ بلقیس اور اس کی قوم حق کی تلاش میں تھی۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے بڑی حکمت سے حق ان کے سامنے پیش کیا اور آخر کار ملکہ سبا بلقیس اور اس کی قوم نے اسلام قبول کر لیا۔

گھوڑوں سے محبت

اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے عطا فرمایا داﺅد (علیہ السلام )کوسلیمان (علیہ السلام )جیسا فرزند جو بڑی خوبیوں والا اور بہت رجو ع کرنے والا تھا۔ جب اس کی خدمت میں سہ پہر کو تین پاﺅں پر کھڑے ہونے والے تیز رفتار گھوڑے پیش کئے گئے تو اس نے ( حضرت سلیمان علیہ السلام نے ) فرمایا۔ مجھے اپنے رب کی یاد کے لئے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی۔ ( پھر انہیں چلانے کا حکم دیا) یہاں تک کہ وہ پردہ کے پیچھے چھپ گئے۔ ( پھر حکم دیا) انہیں میرے پاس واپس لاﺅ اور ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ “ (سورہ ص ٓ آیت نمبر 30سے 33) حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے لئے لڑنا بہت پسند کرتے تھے۔ اور اسی وجہ سے گھوڑوں کو بہت پسند کر تے تھے۔ آپ علیہ السلام ہوا کے ذریعے سفر کرتے تھے اور تخت پر مجاہدین ، ان کے گھوڑوں اور جنگی سامان کو میدان جنگ میں لے جاتے تھے۔ اور جنگ میں گھوڑوں کا استعمال کرتے تھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری اور امام فخرالدین رازی لکھتے ہیں۔ کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ایک دن جہاد کے لئے تیار کئے بہترین پالے ہوئے سبک رفتا اصیل گھوڑوں کی پریڈ کا معائنہ کر رہے تھے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ مجھے ان گھوڑوں سے جو تعلق ، اُنسیت اور محبت ہے وہ دنیا کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اپنے پروردگار کی وجہ سے ہے۔ اس ارشاد کے درمیان جب وہ گھوڑے سے نظروں سے ذرا اوجھل ہوئے تو آپ علیہ السلام نے ان کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جب گھوڑے دوبارہ قریب آئے تو آپ علیہ السلام آگے بڑھ کر ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پیار سے ہاتھ پھیر کر چمکارنا شروع کر دیا۔

ہیکل سلیمانی( بیت المقدس) کی تعمیر

حضرت داﺅد علیہ السلام کے ذکر میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ایک رات حضرت داﺅد علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک چٹان پر سے فرشتے سیڑھی کے ذریعے آسمان پر جا رہے تھے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے ارادہ بنا یا کہ اس جگہ مسجد ( بیت المقدس) تعمیر کی جائے۔ تب اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ اس مسجد کی بنیاد تو تم رکھو گے لیکن اس کی تعمیر مکمل نہیں کر سکو گے۔ بلکہ اس کی تعمیر تمہار بیٹا۔ سلیمان علیہ السلام کرے گا۔ بیت المقدس کی تعمیر تو حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاتھوں سر انجام پائی تھی۔ لیکن حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر میں پورے خاندان کو لے کر آگئے تھے۔ اور بیت المقدس کی مسجد کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں رہ گیا تھا۔ ادھر مصر میں حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد خوب پھلی پھولی۔ اور بارہ بیٹوں کی یہ اولاد کئی لاکھ تک پہنچ گئی۔ اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں آئے۔ اور کئی سو سال بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مصر سے باہر نکلے اور حضرت یوشع علیہ السلام کی قیادت میں ملک کنعان ( حالیہ فلسطین، اردن، لبنان وغیرہ ) میں آبادہو گئے تھے۔ لیکن ان کی حکومت اتنی مستحکم نہیں ہو سکی تھی کہ وہ بیت المقدس کی تعمیر کے بارے میں سوچتے۔ بنی اسرائیل کا زیادہ وقت آس پاس کی مشرک قوموں سے لڑتے ہوئے گزرتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ گمراہیوں ، برائیوں اور آپسی اختلافات کا شکار ہو کر بھی کمزور ہو جاتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی ظالم کو ان پر مسلط کر دیتا تھا۔ تا کہ وہ سنبھل کر متحد ہو کر اللہ کی طرف لوٹ آئیں۔ اسی طرح وقت گزرتا رہا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل کو عروج حاصل ہوا۔ اور ایک مستحکم اسلامی حکومت وجود میں آئی تو آپ علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر کی طرف توجہ دی۔ جب تک امتداد زمانہ کی وجہ سے حضرت یعقوب علیہ السلام کی تعمیر کی ہوئی مسجد کا نام و نشان مٹ چکا تھا ۔ اور جس چٹان پر سے حضرت داﺅد علیہ السلام نے فرشتوں کو چڑھتے ہﺅے دیکھا تھا۔ اسی کے پاس آپ علیہ السلام نے مسجد کی بنیاد رکھی۔ وہ چٹان آج بھی ”چٹان ِ داﺅدی“ کے نام سے مشہور ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر نو کی سعادت حاصل کی ہے۔ تعمیر اول حضرت یعقوب علیہ السلام کے ہاتھوں سے سر انجام پائی۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سب سے پہلے، کون سی مسجد تعمیر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مسجد بیت المقدس ، میں نے عرض کیا۔ ان دونوں کے درمیان کتنی مدت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چالیس سال ۔ اس حدیث سے بالکل واضح ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کرنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت المقدس کی مسجد تعمیر کی تھی۔ لیکن ہو محفوظ نہیں رہ سکی۔۔

ہیکل سلیمانی ( بیت المقدس) کو تعمیر کرنے کی تیاریاں

حضرت سلیمان علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل کو سب سے زیادہ عروج حاصل ہوا ہے۔ اس وقت بنی اسرائیل پوری دنیا میں سب سے بڑی سوپر پاور تھے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت پوری دنیا ایشیاء، یورپ اور افریقہ تھی۔ اور آسٹریلیا اور امریکہ دریافت نہیں ہوئے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے آس پاس کے تمام حکمراں آپ علیہ السلام کی اطاعت قبول کر چکے تھے۔ اور سالانہ خراج ادا کرتے تھے۔ان میں سے صور کے بادشاہ حیرام کے تعلقات حضرت داﺅد علیہ السلام سے بہت اچھے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی ) کی تعمیر کا ارادہ فرمایا تو صور کے بادشاہ حیرام کو خط لکھا کہ تمہیں یہ بات معلوم ہے کہ میرے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام اطراف کی قوموں سے جنگ میں اتنے مصروف تھے کہ بیت المقدس میں ایک مسجد کی تعمیر کو مکمل نہیں کر سکے ہیں اور صرف بنیادہی ڈال سکے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ اس مسجد ( بیت المقدس) کی تعمیر تمہارا بیٹا سلیمان (علیہ السلام )کرے گا۔ اس لئے اپنے آدمیوں کو حکم دے کہ میرے آدمیوں کے ساتھ مل کر لبنان کے جنگلات میں سے ساگوان اور صنوبر کے درخت کاٹیں ۔ میں تمہارے آدمیوں کو اجرت دوں گا۔ اور تم جانتے ہو کہ صیدانیوں کی طرح لکڑی کاٹنے میں کوئی بھی ماہر نہیں ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط جب حیرام کو ملا تو وہ بڑا خوش ہوا اور بولا۔ تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے کہ اس نے اتنی بڑی قوم ( بنی اسرائیل ) پر حکمرانی کے لئے حضرت داﺅد علیہ السلام کو اتنا دانا اور عقلمند بیٹا بخشا ہے۔ پھر اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو خط لکھا۔ آپ علیہ السلام نے جو پیغام بھیجا ہے وہ مجھے مل گیا ہے۔ اور ساگوان اور صنوبر کی لکڑی مہینا کرنے کے لئے جو آپ علیہ السلام چاہتے ہیں میں وہ سب کروں گا۔ میرے آدمی ان شہتیروں کو لبنان سے کھینچ کر سمندر تک لے جائیں گے اور پھر ان کے گٹھوں کو سمندر میں تیرا کر آپ علیہ السلام کی مقرر کی ہوئی جگہ پر پہنچا دیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام اسے اپنے استعمال کے لئے لے جا سکیں گے۔ اس کے بدلے میں صرف ہمیں رسد مہیّا کرتے رہیں۔

بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی ) کی تعمیر میں مزدور اور سنگ تراش

حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حیرام ساگوان اور صنوبر کے شہتیر بھیجتا رہا۔ اور آپ علیہ السلام بیس ہزار کوئنٹل گیہوں اور بیس ہزار ڈرم زیتون کا تیل ہر سال بھیجتے رہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی تعمیر کے لئے تیس ہزار30000مزدور لگائے۔ ان میں سے ہر مہینہ دس ہزار کی ایک ٹولی لبنان جاتی تھی۔ اور بقیہ دو مہینے گھر پر گزارتے تھے۔ ان کے علاوہ آپ علیہ السلام نے ستر70ہزار حمال اور اسی 80ہزار سنگ تراش بھی مقرر فرمائے۔ اور ان سب کو تین سو افسران سنبھالتے اور نگرانی کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کے حکم سے پتھروں کی کانوں سے نفیس پتھروں کے بڑے بڑے ٹکڑے نکالے جا تے تھے۔ اور سنگ تراش ان پتھروں کو تراشتے تھے۔ اور بڑھئی شہتیروں کو کاٹتے تھے۔ اس طرح تیس ہزار مزدور، ستّر ہزار حمال، اسّی ہزار سنگ تراش اور بڑھئی اور ان کے افسران اور جنات برسوں مسلسل کام کرتے رہے اور پتھروں کو کان سے نکالتے ہی سنگتراش اسے تراشتے تھے۔

مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی بناوٹ

حضرت سلیمان علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ملک مصر سے نکل آنے کے چار سو اسی ویں 480ویں سال میں اور اپنی دورنبوت اور حکومت کے چوتھے سال میں مسجد بیت المقدس( ہیکل سلیمانی) کی تعمیر شروع کی۔ اور کئی سال تک ہزاروں مزدور ، معمار ، سنگ تراش اور برھئی اور انکے ساتھ جناتوں نے مل کر مسلسل کام کیا۔ اس وقت کریں وغیرہ ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے آپ علیہ السلام نے بہت بڑے بڑے پتھروں کو اٹھانے اور ان کی جگہ پر رکھنے کا کام جناتوں سے لیا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی لمبائی ساٹھ60ہاتھ ، چوڑائی بیس20ہاتھ اور اونچائی تیس30ہاتھ رکھی۔ آپ علیہ السلام نے مسجد میں جالی دار جھروکے بھی بنوائے۔ اور مسجد کے تین طرف سہ( تین) منزلہ عمارت بنوائی۔ جس کے پہلو میں حجر ے ( کمرے) تھے۔ سب سے نچلی منزل پانچ ہاتھ، درمیانی منزل چھ ہاتھ اور سب سے اوپری منزل سات ہاتھ اونچی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ چاروں طرف باہر کی طرف پشتے بنوائے۔ تا کہ شہتیروں کے لئے دیواروں میں سوراخ کرنے کی ضرورت نہ ہو۔ مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کو تعمیر کرنے کے لئے پتھروں کے صرف وہی ٹکڑے استعمال کئے گئے جو کان سے نکالتے وقت تراشے گئے تھے۔ اور جب اس کی تعمیر چل رہی تھی تو وہاں ہتھوڑے ، چھینی یا لوہے کے کسی دیگر اوزار کی آواز سنائی نہیں دی۔ سب سے نچلی منزل کا دروازہ جنوب کی طرف تھا۔ اور ایک زینہ درمیانی منزل تک اور پھر وہاں سے تیسری منزل تک جاتا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی دیواریں تعمیر ہو جانتے کے بعد چھت پر ساگوان اور صنوبر کے شہتیروں اور تختے ڈال کر مکمل کیا۔ اور تمام مسجد کے ساتھ حجرے تعمیر کروائے۔ جن میں سے ہر ایک کی اونچائی پانچ پانچ ہاتھ تھی۔ اور وہ ساگوان کے شہتیروں کے ذریعے مسجد ( ہیکل سلیمانی) سے ملحق تھے۔

مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی سجاوٹ

حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی تعمیر مکمل کی۔ اور اس کی اندرونی دیواروں پر ساگوان کے تختے لگوائے اور مسجد یعنی ہیکل سلیمانی کے فرش سے لے کر چھت تک تختوں کو پٹیوں سے سجایااور ہیکل سلیمانی کے فرش کو صنوبر کے تختوں سے ڈھانپ دیا۔ اور مسجد( ہیکل) کے اندرونی حصہ میں ایک نہایت ہی مقدس جگہ بنانے کے لئے آپ علیہ السلام نے پچھلے بیس ہاتھ حصے کو فرش سے لے کر چھت تک ساگوان کے تختے لگا کر محصور کر دیا۔ اس کے سامنے بڑا کمرہ چالیس ہاتھ لمبا تھا۔ مسجد( ہیکل) کو اندر سے ساگوان کے تختوں سے مزیّن کر دیا تھا۔ اور اس پر لٹو اور کھلے ہوئے پھول کندہ کئے ہوئے تھے۔ سب ساگوان کے تختے اس طرح لگائے گئے تھے کہ مسجد کے اندر دیواروں کا کوئی پتھر دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام نے پوری مسجد میں تانبے ، چاندی اور سونے سے نقش نگاری بھی کروائی تھی۔

تابوتِ سکینہ رکھنے کی جگہ

حضرت داﺅد علیہ السلام تابوت سکینہ کو یروشلم میں لے آئے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد یعنی ہیکل سلیمانی میں بیس20ہاتھ لمبا ، بیس ہاتھ چوڑا اور بیس ہاتھ اونچا ایک چبوترہ بنایا۔ اور اس پر خالص سونے کے چادر چڑھائی۔ اس طرح پورا چبوترہ سونے کا دکھائی دیتا تھا۔ چبوترے کے اطراف سونے کی زنجیریں لگا دیں ۔اور قربان گاہ پر بھی سونے کی چادر چڑھا دی۔ اس چبوترے پر زیتون کی لکڑی کے دوکروبی بنائے۔ جو دس دس ہاتھ اونچے تھے۔ دونوں کی بناوٹ یکساں تھی۔ اور ان کے پر یعنی ہاتھ پانچ پانچ ہاتھ لمبے تھے ۔ دونوں کروبی اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے۔ دونوں کوبازو بازو میں رکھا گیا۔اس طرح ایک کروبی کا ہاتھ دائیں طرف کی دیوار کو چھو رہا تھا اور دوسرا ہاتھ دوسرے کروبی کے ہاتھ کو چھو رہا تھا۔ اور دوسرے کروبی کا ہاتھ بائیں طرف کی دیوار کو چھو رہا تھا۔ سامنے سے دیکھنے پر ایسا لگتا تھا جیسے دونوں کروبی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے ہوں اور دوسرے ہاتھ سے دیوار کو سہارا دے رہے ہوں۔ ان دونوں کروبی پر بھی سونے کی چادر چڑھائی گئی اور وہ مکمل سونے کے دکھائی دیتے تھے۔ ان کے سامنے چبوترے پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے ”تابوت سکینہ “ رکھا۔ اس پر بھی سونے کی چادر چڑھائی گئی۔ مسجد کے باہر صحن میں دیواروں پر فرش پر نقش و نگار بنائے گئے۔ اور اطراف کی تین منزلہ عمارت کے ہر حجرے ( کمرے) میں بھی نقش و نگار بنائے گئے۔ اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے سات سال میں مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی تعمیر مکمل کی۔ آپ علیہ السلام نے اپنی حکومت کے چوتھے سال میں اس کی تعمیر شروع کی تھی اور گیارہویں سال میں مکمل کی تھی۔ اس کی باہری دیوراروں کو انتہائی خوب صورت پتھروں ( جنہیں ہم آج کل ماربل کہتے ہیں) سے مزین کیا گیا۔ دور سے دیکھنے پر مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) ایک بہت بڑے خوب صورت قلعے کی شکل میں دکھائی دیتی تھی۔ اس کے اطراف میں چاروں طرف بہت بڑا میدان چھوڑ کر دیوارا بنا دی گئی تھی۔ اس میدان میں جگہ جگہ پیتل کے بہت بڑے بڑے حوض بنوائے ۔ ہر حوض میں گیارہ ہزار گیلن پانی آتا تھا۔ جگہ جگہ بیٹھنے کے لئے چوکیاں ( کرسیاں) بنوائیں۔ اور حوض سے پانی پینے کے لئے ہزاروں پیتل کے کٹورے ( گلاس ) بنوائے۔

مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی تزئین

حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد بیت المقدس کی تعمیر مکمل کر لی۔ یہودی ( بنی اسرائیل) اسے ”ہیکل سلیمانی “ کہتے تھے۔ اسے بعد میں مشرک قوموں نے مسمار کر دیا تھا۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ مسماری کے بعد سے آج تک ہیکل سلیمانی نہیں بن سکا ہے۔ اور اس کی طرف ایک ٹوٹی ہوئی دیوار رہ گئی ہے۔ جسے بنی اسرائیل یعنی یہودی” دیوارِ گریہ “ کہتے ہیں۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی حکومت کے چوتھے سال میں بیت المقدس کی تعمیر شروع کی۔ اور اپنی حکومت کے گیارہویں سال تعمیر مکمل کی۔ لیکن اس کے بعد بھی آ پ علیہ السلام اپنے دورِ حکومت کے آخر تک اس میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرتے رہے۔ اور اس طرح توسیع کا کام آخر زمانہ تک برابر جاری تھا۔ آپ علیہ السلام نے جو مسجد بنوائی اس کی بلندی ایک سو ہاتھ تھی۔ اور لمبائی ساٹھ 60ہاتھ اور چوڑائی بیس 20ہاتھ تھی۔ اس کے اندرونی حصہ میں سونے اور چاندی کی چادریں چڑھائی گئی تھیں۔ مسجد کے اندرلکڑی کے دو کروبی ( فرشتے ) بنائے تھے۔ اور ان پر سونے کی چادر یں چڑھا دی گئی تھیں۔ مسجد کے دروازے صنوبر کی لکڑی کے تھے۔ اور ان پر پھول پتیوں کے نقش و نگار کے علاوہ کرو بیوں ( فرشتوں ) کی صورتیں بھی بنائی گئی تھیں۔ اور ان سب پر سونے کی چادریں منڈھی ہوئی تھیں۔ اس ہیکل ( مسجد) کی تعمیر سات برسوں میں مکمل ہوئی۔ اور ا سکا ایک دروازہ سونے کا بنایا گیا۔ اس کے بعد بیت السلاح صنوبر کے چار کھمبوں کی صفوں پر بنایا گیا۔ ہر صف میں پندرہ پندرہ کھمبے تھے۔ اور اس میں دو سو ترس ( ڈھال ) اور تین سو ورقہ ( ٹکڑے) سونے کے رکھے۔ ہر ڈھال میں چھ چھ سو اعلیٰ درجے کے زمرد جڑے تھے۔ اور ہر ٹکڑے میں تین تین سو یاقوت جڑے ہوئے تھے۔ 

لوہے اور تانبے کی صنعت

اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے ان کے لئے ( حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ) تانبے کا چشمہ بہا دیا۔“ (سورہ سبا آیت نمبر12) اس آیت سے ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے کی خاطر پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کر دیا۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا یقینی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ ہم تو صرف یہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ہاں تاریخ کے مطالعہ اور آثار قدیمہ کی کھدائی سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لوہے کا استعمال 1200قبل مسیح اور 1000قبل مسیح کے درمیانی وقت میں شروع ہوا۔ اور یہ وقت حضرت داﺅد علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ اور اسی دوران تانبے کی صنعت بھی شروع ہوئی۔ اور یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ حالیہ فلسطین کے جنوب میں ادوم کا علاقہ آج بھی خام لوہے کی دولت سے مالا مال ہے۔ اور لگ بھگ ساٹھ 60برس پہلے اس علاقے میں آثار قدیمہ کی جو کھدائیاں ہوئی تھیں۔ ان میں کثرت سے ایسی جگہوں کے آثار ملے ہیں جہاں لوہا پگھلا نے کی بھٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ اسی طرح عقبہ اور ایلا سے متصل حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے کی بندرگاہ ( گودی) عصیون ، جابر کی کھدائی میں آثار قدیمہ والوں کو ایک بہت بڑی بھٹی ملی ہے۔ اور تحقیق کرنے پر آثار قدیمہ والے حیران رہ گئے کہ آج کے جدید ترین زمانے میں جو تکنکل ہم اپنی بھٹیوں میں استعمال کرتے ہیں وہی تکنک ہم سے کہیں بہتر طریقے سے اس بھٹی میں استعمال کئے گئے تھے۔ جو حضرت داﺅد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے زمانے کی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا بہت بڑا بحری بیڑہ تھا۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام کے تجارتی بحری جہاز بحیرہ روم کی بندرگاہوں سے پوری دنیا میں آتے اور جاتے تھے ۔ عصیون جابر میں آپ علیہ السلام کے زمانے کی جو عظیم الشان بھٹی ملی ہے اس کے مقابلے کی آج تک مغربی ایشیاءاور مشرق وسطیٰ میں کوئی بھٹی نہیں ملی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کا اندازہ ہے کہ یہاں ادوم کے علاقہ عربہ کی کانوں سے خام تانبا اور لوہا لایا جاتا تھا۔ اور اس بھٹی میں پگھلا کر صنعتی کاموں اور جہاز سازی میں استعمال کیا جاتا تھا۔ اس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے تانبے کی صنعت شروع کی۔ اور آپ علیہ السلام کے زمانے میں تانبے کو پگھلانے اور اس سے طرح طرح کی چیزیں بنانے کا کام اتنے بڑے پیمانے پر کیا گیا کہ گویا وہاں تانبے کے چشمے بہہ رہے ہوں۔ حالانکہ کچھ مفسرین کرام نے یہی مطلب لیا ہے کہ آپ علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا۔

مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی مسماری

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اپنے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام کی وصیت کے مطابق بڑی لگن سے مسجد بیت المقدس ( ہیکل سلیمانی) کی تعمیر کی۔ اور اس طرح بنی اسرائیل کو ایک مرکزی مسجد حاصل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ اسراءیا سورہ بنی اسرائیل میں فرمایا ہے کہ اس مسجد کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں یہ مرکزی مسجد رہی۔ آپ علیہ السلام کے بعد بھی اسے مرکزیت حاصل رہی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل میں بے انتہا خرابیاں ہوتی گئیں۔ جن میں سے ایک بڑی خرابی یہ تھی کہ بنی اسرائیل اپنے آپ کو یہودی کہلوانے پر فخر محسوس کرنے لگے۔ بنی اسرائیل کا سب سے بہترین عروج کا دور حضرت داﺅد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور رہا ہے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام بنو یہودا قبیلے یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں میں سے جس کا نام یہودا تھا اس کی اولاد میں تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل یہودا کے نام پر اپنے آپ کو یہودی کہلوانے لگے۔ اور ایک بڑی خرابی ان میں یہ بھی پیدا ہو گئی تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت ( توریت) میں ملاوٹ کر دی تھی تا کہ دنیاوی فائدے حاصل کر سکیں۔ اور جب اللہ تعالیٰ کوئی نبی اُن میں بھیجتے تھے ان کی ان خرابیوں کی وجہ سے بنی اسرائیل انہیں جھٹلاتے تھے۔ اور بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو تو یہ بد بخت قتل بھی کر دیتے تھے۔ ان کی ان خرابیوں کی وجہ سے بنی اللہ تعالیٰ ان پر کسی ظالم بادشاہ کی شکل اپنا عذاب مسلط کر دیتے تھے۔ وہ ظالم بادشاہ یہودیوں ( بنی اسرائیل ) کو محکوم بنا تا تھا۔ اور ان کی مرکزی مسجد یعنی ہیکل سلیمانی کی بے حرمتی کرتا تھا۔ اس طرح سینکڑوں برس گزر گئے۔ اور بنی اسرائیل ذلیل ہوتے رہے ۔ اور دو رمرتبہ تو ایسا ہوا کہ مسجد بیت المقدس ( یعنی ہیکل سلیمانی) کو پورے طور سے مشرک قوموں نے مسمار کر دیا۔ پہلی مرتبہ تو حضرت عزیر علیہ السلام نے پھر سے مرکزی مسجد کی تعمیر کرلی تھی۔ لیکن دوسری مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوا کر جرام عظیم کیا۔ تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر نازل ہوا۔ اور مشرک قومیں بنی اسرائیل پر ٹوٹ پڑیں اور بنی اسرائیل کا اتنی بری طرح سے قتل عام کیا کہ وہ اپنی جان بچانے بھاگے اور تتر بتر ہو کر پوری دنیا میں بکھر گئے۔ اور مشرک قوموں نے مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کو پوری طرح سے مسمار کر دیا۔ اور صرف اس کی ایک ٹوٹی ہوئی دیوار بچی تھی۔ جس کے پاس جا کر یہودی ( بنی اسرائیل ) روتے ہیں۔ اسی لئے اس دیوار کا نام ”دیوار گریہ “ پڑ گیا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسجد اقصیٰ کی تعمیر 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر چڑھوانے کے جرم میں یہودیوں یعنی بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ جس کی وجہ سے بنی اسرائیل پوری دنیا میں بکھر گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے عروج عطا فرمایا۔ اور عیسائی دنیا کی سوپر پاور بن گئے۔ بیت المقدس شہر عیسائیوں کے قبضہ میں رہا۔ اور بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ دنیا میں جہاں جہاں عیسائیوں کی حکومت تھی وہاں وہاں عیسائی حکمراں بنی اسرائیل کو بری طرح ذلیل کرتے تھے۔ مسجد بیت المقدس یعنی ہیکل سلیمانی کی جگہ ویران پڑی رہی اور چھ سو سال تک ویسے ہی پڑی رہی اور عیسائیوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ لگ بھگ چھ سو سال بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس پر فتح حاصل کی۔ بیت المقدس کے عیسائیوں نے خلیفہ دوم سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور امید دلائی کہ ہو سکتا ہے خلیفہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیں۔ حضڑت عمر فاروق رضی اللہ فلسطین تشریف لائے۔ اور تمام عیسائیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی نشانیوں کے مطابق ”چٹان داﺅدی“ ( وہ چٹان جس سے آسمان کی طرف فرشتوں کو آسمان کی طرف جاتے ہوئے حضرت داﺅد علیہ السلام نے دیکھا تھا) تلاش کر کے وہاں مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس کی تعمیر کروائی ۔ تب سے مسلمانوں کے ہاتھ میں رہا۔ درمیان میں عیسائیوں نے مسلمانوں سے چھین لیاتھا۔ اور بیانوے92سال تک ان کے قبضے میں رہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ”مرد عابد“ صلاح الدین ایوبی کو پیدا فرمایا۔ اور اللہ کے اس نیک بندے اور سپہ سالار نے 92سال بعد اسے عیسائیوں کے پنجے سے آزاد کروایا۔ اس کے بعد پھر یہ کئی سو سال تک مسلمانوں کے پاس رہی لیکن یہودیوں ( بنی اسرائیل) نے سازش کر کے نصاریٰ یعنی عیسائیوں کو فرقوں میں بانٹ دیا۔ اور بر سرا قتدار فرقے کو دوست بنا لیا۔ ان دونوں چالاک قوموں نے مسلمانوں کی سادہ دلی کا فائدہ اٹھا کر ان سے مسجد اقصیٰ ( بیت المقدس) چھین لی۔ پہلے عیسائیوں نے قبضہ کیا پھر یہودیوں کو دے دیا اور لگ بھگ 70سال سے بیت المقدس بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ اور مسجد اقصی آج بھی مسلمانوں کو پکار رہی ہے۔ جب کہ بنی اسرائیل یہودیوں کا ارادہ مسجد اقصیٰ کو ( نعوذ باللہ ) مسمار کر کے ہیکل سلیمانی بنانے کا ہے۔ اور وہ اپنے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا دورِ حکومت

حضرت سلیمان علیہ السلام نے لگ بھگ چالیس40سال تک اسلامی حکومت کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت وسیع حکومت سے نواز ا تھا۔ آپ علیہ السلام واحد نبی اور حکمراں ہیں جن کی تابعداری انسانوں کے علاوہ جنات ، جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے ، ہوا یہاں تک کہ درخت اور پیڑ پودے بھی کرتے تھے۔ حالانکہ یہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عطا فرمائی تھیں بلکہ اس سے زیادہ عطا فرمائی تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت تو صرف زمین پر تھی ، جب کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں پر بھی حکومت عطا فرمائی تھی۔ اور چاند کو بھی سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کا تابعدار بنا دیا تھا۔ ہاں اتنی بات ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ میں تمہیں بادشاہ نبی بناﺅں یا بندہ نبی بناﺅں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادشاہ نبی بننا گوارا نہیں فرمایا۔ اور بندہ نبی بننا پسند فرمایا۔ اور حضرت سلیمان علیہ السلام بادشاہ نبی تھے۔ آپ علیہ السلام کے دور حکومت میں پورے ملک کنعان میں بنی اسرائیل امن اور سکون سے رہتے تھے۔ اور دنیا کی ہر نعمت انہیں میسر تھی۔ آپ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو بہت عروج حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور تمام مخلوق کا حاکم بنا دیا تھا۔ اور فرما دیا تھا کہ آپ علیہ السلام جس کے ساتھ جو چاہے سلوک کر سکتے ہیں۔ اور اس کے بارے میں کوئی حساب نہیں ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے ہر ایک کے ساتھ عد ل کیا اور جس کو جو ضرورت تھی وہ عطا فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حکومت کی۔ حضرت اسحاق علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک بنی اسرائیل کا جو دور تھا اس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور سب سے بہترین اسلامی دور تھا۔ درمیان میں حضرت یوسف علیہ السلام کا دور بھی ہے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام صرف انسانوں کے حکمراں تھے۔ اسی لئے مجموعی طور سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت بنی اسرائیل کے تمام دور کی سب سے بہترین اسلامی حکومت ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کا زوال شروع ہو گیا۔

بنی اسرائیل کے حضرت سلیمان علیہ السلام پر الزامات

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ لوگ ( بنی اسرائیل یعنی یہودی) جب کبھی کوئی عہد کرتے تھے تو ان کی ایک نہ ایک جماعت سے اسے توڑ دیتی ہے۔ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے خالی ہیں۔ جب کبھی ان کے پاس اللہ کا کوئی رسول ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا آیا تو ان کتاب والوں کے ایک فرقے نے اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں تھے۔ اور ( یہ بنی اسرائیل ) اس چیز کے پیچھے لگ گئے۔ جیسے شیاطین سلیمان ( علیہ السلام ) کی حکومت میں تھے۔ اور سلیمان (علیہ السلام )نے تو(کبھی) کفر نہیں کیا تھا۔ بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا۔ وہ لوگوں کو جادو سکھلایا کرتے تھے۔ ( سورہ البقرہ آیت نمبر100سے 102تک) اللہ تعالیٰ ان آیات میں بتا رہے ہیں کہ بنی اسرائیل کتنی زیادہ برائیوں اور گمراہیوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور حق اور سچ بات جانتے تھے اور سمجھتے تھے۔ اس کے باوجود مانتے نہیں تھے۔ اور جو انبیائے کرام علیہم السلام ان کے پاس حق لے کر آتے تھے انہیں یہ لوگ جھٹلا دیا کرتے تھے۔ اور جن انبیائے کرام علیہم السلام کو یہ بد بخت جھٹلا نہیں پاتے تھے تو ان پر طرح طرح کے الزامات لگا دیا کرتے تھے ۔ جیسے الزامات انہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر لگائے ہیں سب سے پہلے تو یہ بد بخت حضرت سلیمان علیہ السلام کو نبی ہی نہیں مانتے ہیں اور صرف بادشاہ مانتے ہیں۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ نعوذ باللہ ان کے گھر میں نعو ذ باللہ چالیس دنوں تک بت پوجا ہوتی رہی۔ جب کہ اللہ تعالیٰ صاف بتا رہے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے کبھی کفر نہیں کیا اور نہی ہی اپنی حکومت میں کبھی کفر ہونے دیا۔ بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کے علماءتوریت میں تبدیلی کر کے لکھ دیا کہ نعوذ باللہ آپ علیہ السلام کے زمانے میں شیاطین کفر کرتے تھے۔ اور جادو وغیرہ سکھاتے تھے۔ اور ان کانام لگا کر لوگوں کو جادو سیکھنے کی اجازت دیتے تھے۔ یہ بنی اسرائیل کا بہت بڑا جرم عظیم ہے کہ ان بد بختوں نے اللہ کی کتاب ( توریت) کے ساتھ کھلواڑ شروع کر دیا تھا۔ اور اس میں اپنے دنیاوی فائدے کے لئے رد و بدل کر کے اپنی طرف سے باتیں لکھ دی تھیں۔ بائیبل میں انہوں نے اور بھی بہت سے الزامات حضرت سلیمان علیہ السلام پر لگائے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کی ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی موت کا اندازہ کر لیا تھا

حضرت سلیمان علیہ السلام تمام درختوں ، پیڑوں اور پودوں اورجڑی بوٹیوں کی زبان بھی سمجھتے تھے۔ اور ان سے باتیں بھی کرتے تھے۔ جو بھی نیا درخت ، پیڑ یا پودہ آپ علیہ السلام کو دکھائی دیتا تھا تو آپ علیہ السلام اس کی خصوصیات اس سے پوچھتے تھے۔ اور یہ بھی دریافت فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے کس کام کے لئے پیدا کیا ہے۔ جب وہ بتا دیتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کام کے لئے پیدا فرمایا ہے تو اس سے وہی فائدہ حاصل کر تے تھے ۔ ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام بیت المقدس میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک نیا پودا اگا ہوا ہے۔ جو آگے چل کر درخت بننے والا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے دریافت فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے کس کام کے لئے پیدا کیا ہے؟ اور تیرا نام کیا ہے؟ اس پودے نے کہا ۔ میرا نام ”خرنوب “ ہے۔ اور میں اس مسجد کی بربادی ( مسماری) کے لئے پیدا کیا گیا ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ بات میں جانتا ہوں کہ میری زندگی میں اللہ تعالیٰ اس مسجد کو مسمار نہیں ہونے دے گا۔ اور تیرے اگنے سے لگتا ہے کہ اس کی بربادی کے دن قریب ہیں اور تیرا اُگنا میرے لئے اس بات کا اشارہ ہے کہ میری زندگی کے دن بہت کم رہ گئے ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا تھا کہ جب بھی میری موت کا وقت قریب آئے تو مجھے بتا دینا تا کہ میں جنات پر یہ ثابت کر سکوں کہ انہیں علم غیب نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں علم غیب ہے۔ جب آپ علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آیا تو ملک الموت نے آکر عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ کی زندگی کے کچھ ہی دن باقی بچے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا وصال

اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب ہم نے اُن پر (حضرت سلیمان علیہ السلام پر ) موت کا حکم بھیج تو ان کی ( موت ) کی خبر جنات کو کسی نے نہیں دی سوائے گھن کے کیڑے ( دیمک ) کے ، جو ان کے عصا کو کھا رہا تھا۔ پس جب ( حضرت سلیمان علیہ السلام گر پڑے تو اس وقت جناتوں نے جان لیا کہ اگر وہ غیب داں ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہیں رہتے۔“( سورہ سبا آیت نمبر14) حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی اورمفسر) فرماتے ہیں کہ جنات انسانوں کو کہتے تھے کہ وہ غیب کی چیزوں کو جانتے ہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کل کیا ہوگا۔ تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی موت کے ساتھ ان کا امتحان لیا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، جناتوں سے میری موت کو مخفی رکھ۔ تا کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ جنات غیب کا علم نہیں جانتے ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے عصا لیا ور اس پر ٹیک لگائی اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ علیہ السلام کی روح قبض کر لی گئی ۔ آپ علیہ السلام موت کی حالت میں ایک عرصہ تک اسی طرح رہے۔ جب کہ جنات کام کر رہے تھے۔ دیمک نے جب عصا کو کھا لیا تو ااپ علیہ السلام گر گئے ۔ اس وقت انہیں آپ علیہ السلام کی موت کا علم ہوا تو انسانوں پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ اگر جناتوں کو غیب کا علم ہوتا تو ایک سال تک اس تکلیف و عذاب میں مبتلا نہیں رہتے۔

وصال کی خبر دیمک کے ذریعے ملی

حضرت سلیمان علیہ السلام کا قاعدہ تھا کہ وہ کبھی ایک ہفتہ، کبھی مہینہ اور کبھی کبھی مہینے اپنی عبادت گاہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے گزارتے تھے۔ وہ اپنا کھانا پانی اتنے دنوں کا ساتھ لے لیا کرتے تھے۔ جب آپ علیہ السلام کو اپنی موت کے قریب ہونے کا علم ہوا تو آپ علیہ السلام کافی دنوں کا کھانا پانی لے کر اپنی عبادت گاہ میں چلے گئے۔ اور اس سے پہلے جناتوں کو ایسے کام کا حکم دے دیا۔ جسے پورا کرنے میں کئی برس لگ جاتے۔ آپ علیہ السلام نے لکڑی کی ایسی چیز بنوائی جس سے ٹیک لگا کر کھڑے رہ سکیں یا بیٹھ سکیں۔ اکثر روایات میں آیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے جس چیز سے ٹیک لگائی تھی وہ عصا تھا۔ وہ کرسی بھی ہو سکتی ہے جس پر آپ علیہ السلام بیٹھے ہوں گے۔ اصل حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ آپ علیہ السلام کے ماتحت جنات دعویٰ کرتے تھے کہ انہیں علم غیب ہے ۔ جنات جھوٹے ہیں یہی بات انسانوں پر ثابت کرنے کے لئے آپ علیہ السلام نے جناتوں کو بڑے مشکل کام سونپ دیئے اور انے حجرے ( جس میں عبادت کرتے تھے ) میں آکر اس لکڑی سے ٹیک لگا کر عبادت میں مصروف ہو گئے۔ آپ علیہ السلام اسی حالت میں تھے کہ ملک الموت نے روح قبض کر لی۔ تمام جنات کام میں مصروف رہے اور دور سے حجرے کی کھڑکی میں سے دیکھتے تو آپ علیہ السلام کو عبادت میں مصروف پاتے تھے۔ ایک سال تک دیمک اس لکڑی کو کھاتی رہی ۔ ایک سال بعد وہ لکڑی کمزور ہو کر ٹوٹی تو آپ علیہ السلام سجدے میں چلے گئے۔

جناتوں کو افسوس

حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایسا جلال عطا فرمایا تھا کہ جو بھی جنات آپ علیہ السلام کے چہرہ مبارک کو غور سے دیکھتا تھا تو جل جاتا تھا۔ ( جنات تو آگ سے ہی بنے ہیں ان کے جلنے کا مطلب یہ تھا کہ وقتی طور پر جل کر بے ہوش ہو جاتے تھے پھر بعد میں ہوش میں آتے تھے تو اپنی اصل شکل میں آجاتے تھے) اسی لئے کوئی بھی جنات آپ علیہ السلام کے قریب جا کر غور سے دیکھنے کی ہمت نہیں کر سکا۔ اور دور سے دیکھنے پر انہیں ایسا لگا کہ آپ علیہ السلام عبادت کی حالت میں اپنی پوزیشن تبدیل کر لی۔ لیکن نوجوان جنات بہت شریر تھا۔ وہ آپ علیہ السلام کے حجرے کے پاس گیا تو دوسرے جناتوں نے ڈانٹ کر اسے ہٹانے کی کوشش کی۔ وہ جلدی سے کھڑکی کے ذریعے حجرے میں گیا تو وہ فوراً واپس آگیا۔ اور بولا دیکھو مجھے کچھ نہیںہوا ہے۔ اس کی ہمت اور کھل گئی۔ اب وہ حجرے کے اندر داخل ہو کر آپ علیہ السلام کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔ تمام جنات دور سے تماشا دیکھ رہے تھے۔ اور سوچ رہے تھے کہ وہ شریر جنات جل جائےگا۔ جب اسے کچھ نہیں ہوا تو تمام جنات ڈرتے ڈرتے قریب آگئے اور دیکھا کہ آپ علیہ السلام کا وصال ہو چکا ہے۔ تمام جناتوں نے انسانوں کو خبر کی۔ اور بنی اسرائیل کے بڑے بڑے علمائے کرام آئے اور تحقیق کے لئے اس لکڑی پر دیمک کو چھوڑ دیا۔ ایک دن اور ایک رات میں دیمک نے جتنی لکڑی کو کھایا تھا اس سے انسانوں نے اندازہ لگایا کہ آپ علیہ السلام نے جس لکڑی سے ٹیک لگائی تھی اسے کھانے میں دیمک کو ایک سال لگا۔ اور ایک سال پہلے ہی حضرت سلیمان علیہ السلام کا وصال ہو چکا تھا۔ اور جنات کو علم ہی نہیں ہوا۔ جس سے یہ ثابت ہو اکہ جناتوں کو علم غیب نہیں ہے۔ اور جناتوں کو افسوس ہو ا کہ ایک سال تک وہ بلا وجہ مشقت میں مبتلا رہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیمک کا جناتوں نے شکریہ ادا کیا۔ اور شکریہ کے طور پر وہ آج بھی دیمک کو پانی اور مٹی لا کر دیتے ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی حالت

حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنا جانشین نہیں بنایا تھا۔ اور اپنے بعد کسی کو حکمراں بھی نہیں بنایا تھا۔ بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کے بیٹے رجعام بن حضرت سلیمان علیہ السلام کو حکمراں بنا دیا۔ یہ بہت نا اہل اور مطلب پرست تھا۔ بادشاہ بننے کے بعد رجعام نے بیت المقدس، بیت لحم ، غزہ ( غازہ) صور اور ایلہ کی عمارتوں کی توسیع کی۔ لیکن وہ بنی اسرائیل پر تشدد کرنے لگا اور ان پر بہت زیادہ ٹیکس لا ددیئے۔ بنی اسرائیل نے ٹیکسوں میں کمی کی مانگ کی تو اس نے رعایت کرنے کی بجائے محاصل اور بڑھا دیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل دلبرداشتہ ہو کر اس کے خلاف ہو گئے۔ اسی زمانہ میں یر بعام بن نباط مصر سے آگیا۔ بنو یہودا اور بنو بن یامن کے علاوہ باقی بنی اسرائیل کے دس قبیلوں نے یربعام کی حکومت تسلیم کر لی۔ اور بنی اسرائیل دو حکومتوں میں بٹ گئے ۔ اور اس کے بعد ان کا زوال شروع ہو گیا۔

اگلی کتاب

حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں ذحضرت الیاس علیہ السلام اور حضرت یسع علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

٭........٭........٭


جمعہ، 19 مئی، 2023

01 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام Story of Prophet Samuel and Dawood


01 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 1

حضرت کالب ، بنی اسرائیل کے سربراہ

حضرت یوشع علیہ السلام کے بعد حضرت کالب بن یوحنا بنی اسرائیل کے سربراہ بنے۔ حضرت کالب کے بارے میں کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ بھی اللہ کے نبی تھے۔ اب حقیقت میں وہ نبی تھے یا نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام لگ بھگ ستائیس 27سال تک بنی اسرائیل کے درمیان رہے۔ اور ملک کنعان کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن پھر بھی کچھ علاقے باقی رہ گئے تھے۔ در اصل اس وقت کا ملک کنعان بہت بڑا تھا۔ اور اس کے اندر فلسطین، اردن ، لبنان اور ملک شام کا بھی کچھ حصہ آتا تھا۔ بعد میں ملک کنعان کے ٹکڑے کر دیئے گئے اور ملک شام میں ضم کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے زمانے میں ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔ کیوں کہ عیسائی یعنی نصاریٰ ، یہودیوں یعنی بنی اسرائیل پر حاوی ہو چکے تھے۔ اور انہیں ملک کنعان سے بھگا دیا تھا۔ اور ملک کنعان کے ٹکڑے کر کے ملک شام میں ضم کر لیا تھا۔ اس وقت عیسائیوں کا مرکز ملک شام تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب ” بیت المقدس“ فتح ہوا تو اس وقت بھی پورا فلسطین ملک شام کا ہی حصہ تھا۔ بعد میں جب عیسائیوں نے مسلمانوں سے فلسطین چھینا تو ملک شام سے اسے الگ کر دیا اور اس طرح فلسطین ، اردن اور لبنان کے ملک وجود میں آگئے اور ملک شام سمٹ گیا۔ یہ بہت ہی مختصر میں ہم نے آپ کو بتا دیا ہے کہ کس طرح ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیاہے ۔ تا کہ آپ کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ اب ہم اسی پرانے ملک کنعان کی طرف واپس چلتے ہیں۔ حضرت کالب بن یوقنہ آپ کو یاد ہوں گے۔ ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے ذکر میں بتایا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کے بارہ نقیب مقرر فرمائے تھے۔ ان میں سے دو حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنہ تھے۔ اور ان بارہ نقیبوں سے راز داری کا عہد لیا تھا ۔ لیکن صرف یہی دو حضرات اپنے عہد میں کامیاب رہے تھے۔ اور اپنے عہد کو مکمل ذمہ داری سے نبھایا تھا۔

حضرت کالب کے دور میں فتوحات

حضرت کالب نے بنی اسرائیل کے انتظامات سنبھال لئے تھے اور بڑی خوبی سے پورے ملک کنعان کا نظم بنائے ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ان علاقوں کی طرف توجہ دی جو ابھی بھی بت پرستوں کے قبضے میں تھے۔ بنو یہودا جس علاقے میں آباد تھے۔ ان کے آس پاس بت پرستوں سے لڑنے کے لئے بنو شمعون کو حضرت کالب نے بلایا اور دونوں قبیلوں کی فوجوں کو ساتھ لے کر کنعانیوں اور فرزیوں پر حملہ کر دیا۔ اور بنرق کے مقام پر دس ہزار بت پرستوں کو قتل کیا۔ اس کے بعد آگے بڑھ کر یروشلم پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد ان کنعانیوں کو شکست دی جو پہاڑی علاقوں ، جنوبی علاقہ اور مغرب کے نشیبی علاقوںمیں آباد تھے۔ وہاں فتح حاصل کرنے کے بعد وہ حبرون میں رہنے والے کنعانیوں پر چڑھ آئے اور سیسی ، اخیمان اور تلمئی کو شکست دی۔ وہاں سے آگے جا کر انہوں نے دبیر کے باشندوں پر حملہ کیا۔ تب حضرت کالب نے اعلان کیا کہ جو شخص دبیر ( قریت سفر) کو فتح کرے گا میں اس کا بیاہ اپنی بیٹی عکسہ سے کردوں گا۔ ان کے بھتیجے عقنی ایل نے دبیر کو فتح کیا تو حضرت کالب نے اسے اپنا داماد بنا لیا۔ اس کے بعد حضرت کالب نے بنو شمعون کے آس پاس آباد بت پرستوں پر حملہ کیا۔ اور صفت کے تمام کنعانیوں کو قتل کر دیا۔ اسی لئے اس شہر کا نام حُرمہ پڑا۔ اس کے بعد غزہ( غازہ) اسقلون اور عقرون شہروں پر قبضہ کرلیا۔

بُت پرست قوموں کے اثرات

حضرت کالب کے دور میں پورا ملک کنعان فتح ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل سکون سے رہنے لگے۔ لیکن انہوں نے ملک کنعان میں رہنے والی بت پرست قوموں کو نہیں نکالا اور ان کے ساتھ رہنے لگے۔ بنو بن یامن یروشلم میں رہنے والے ببوسیوں کے ساتھ رہنے لگے اور انہیں بیگاری کے کام پر لگا دیا ۔ بنو منسی نے بھی کنعانیوں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اسی طرح بنو افرائیم نے بھی جنرریوں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اسی طرح اُموری بھی ملک کنعان میں ہی رہے۔ اور پورے ملک کنعان میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبائلوں نے یہی کام کیا کہ مفتوح قوموں کو اسلام کی دعوت نہیں دی اور انہیں ان کے مذہب پر ہی قائم رہنے دیا۔ اور مفتوح قوموں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے اندر دھیرے دھیرے اپنے ساتھ رہنے والی قوموں کے اثرات لاشعوری طور سے قبول کرتے رہے۔ جب تک حضرت کالب بن یوقنہ ان کے درمیان رہے تب تک ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ اور ان سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ان کے وصال کے بعد تو بنی اسرائیل آزادی محسوس کرنے لگے۔ پھر بھی وہ نسل اسلام پر قائم رہی لیکن جو نئی نسل پیدا ہوئی وہ مفتوح قوموں کے بچوں کے ساتھ کھیل کود کر بری ہوئی اور ان کے رسم و رواج اور مذہبی رسوموں سے متاثر ہوتی رہی۔ اسی لئے جب ان کے سب بزرگ ختم ہو نے لگے اور اس نئی نسل نے ملک کا انتظام سنبھالا تو یہ بھی مفتوح قوموں کی طرح بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ اور اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر بعل دیوتاﺅں کی پوجا کرنے لگے۔ اور دھیرے دھیرے بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبائل بت پرستی میں مبتلا ہو گئے اور بعل اور عستارات کی پوجا کرنے لگے۔

بنی اسرائیل پر ظالم بادشاہ مسلط

اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل نے اسلام پر قائم رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اس عہد کو انہوں نے توڑ دیا اور بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ وہ کنعانیوں ، حقیوں ، اموریوں ، فرزیو ں ، حویوں اور ببوسیوں کے رسم و رواج پر عمل کرنے لگے۔ اور ان کی کافر بیٹیوں سے اپنے بیٹوں اور اُن کے کافر لڑکوں سے اپنی لڑکیوں کا بیاہ کرنے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بھول کربعل اور عستارات پیرتوں کے بتوں کی عبادت کرنے لگے اور ان سے مانگنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اوپر ظالم حکمراں کو مسلط کر دیا۔ مسوپتا میہ کا حکمراں کوشن رسعتیم بہت ہی ظالم اور بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ اس نے ملک کنعان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور بنی اسرائیل کے ساتھ انتہائی برا سلوک کرنے لگا۔ اور آٹھ (۸)سال تک وہ بنی اسرائیل کو ذلیل کرتا رہا اور غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا رہا۔ آخر کار بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور بتوں کی پوجا سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر گڑگڑا کر فریاد کرنے لگے۔ تب اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آگیا اور ان کی رہنمائی کے لئے حضرت کالب بن یوقنہ کے بھائی قنز کے بیٹے عتنی ایل کو بھیجا۔ یہ حضرت کالب بن یوقنہ کا داماد بھی تھا۔ اس نے تمام بنی اسرائیل کو ظالم حکمراں کے خلاف متحد ہونے کا حکم دیا اور بنی اسرائیل نے اتفاق رائے سے عتنی ایل کو اپنا رہنما تسلیم کر دلیا۔ اس نے بنی اسرائیل کو لے کر کوشن رسعتیم سے مقابلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور عتنی ایل فتح یاب ہوا۔ اس کے بعد وہ تمام بنی اسرائیل پر چالیس برس تک انتظامات سنبھالتا رہا اور اس کے دور میں بنی اسرائیل امن سے رہے۔ اس کے بعد عتنی ایل کا انتقال ہو گیا۔

بنی اسرائیل پھر گمراہ ہوئے۔

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر مہربانی کر کے انہیں ظالم بادشاہ سے نجات دلائی تھی۔ اور عتنی ایل کے چالیس سالہ دور میں بہت حد تک وہ اسلام پر قائم رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد پھر سے بنی اسرائیل میں گمراہیاں اور برائیاں پیدا ہونے لگیں۔ اور بنی اسرائیل اپنے ساتھ رہنے والی مشرک قوموں کے طور طریقے اپنانے لگے یہاں تک کہ ان کے بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر موآب کے بادشاہ عجلون کو مسلط کر دیا ۔ اس کے ساتھ بنی عمون اور بنی عمالیق تھے ۔ عجلون نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور اٹھارہ 18برس تک بنی اسرائیل کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرتا رہا۔ آخر کار بنی اسرائیل پھرسے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے بن یامن کے ایک شخص اہود بن جیرا کے ذریعے نجات دی۔ اھود بن جیرا نے تمام بنی اسرائیل کو عجلون کے خلاف متحد کیا اور عجلون کے خلاف تیار کیا۔ اس نے بنی اسرائیل کی فوج لے کر عجلون کی موآبی فوج پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور عجلون قتل ہوا۔ اور موآبی فوج بھاگنے لگی۔ اھود کی سپہ سالاری میں بنی اسرائیل نے موآبیوں کا پیچھا اردن کے گھاٹوں تک کیا اور ایک ایک کو ڈھونڈ کر قتل کیا۔ یہاں تک کہ موآب پر بھی قبضہ کرلیا۔ اھود بن جیرا کی سربراہی میں بنی اسرائیل 80سال تک امن سے رہے۔

بنی اسرائیل پر عورت کی حکمرانی

اللہ تعالیٰ نے پھر سے بنی اسرائیل کو ایک مرتبہ پھر موقع دیا تھا۔ اور اھود بن جیرا کی حکمرانی میں وہ 80سال تک متحد ہو کر رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد مسلکی اختلافات کا شکار ہو گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ ایسے وقت کا فائدہ دبورہ نام کی ایک عورت نے اٹھا یا اور اس نے بنو نفتانی کے ایک بہادر شخص برق یا باراق بن نوعم کو تیار کیا اور اس کے ذریعے چالیس40سال تک بنی اسرائیل پر حکومت کرتی رہی۔ اس طرح بنی اسرائیل پر تو دکھاوے کے لئے برق حکومت کر رہا تھا لیکن در پردہ دبورہ کے احکامات چلتے تھے۔

بنی اسرائیل پر بنی مدین مسلط

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کو لگ بھگ (200)سال ہو چکے تھے۔ اور اس عرصے میں بنی اسرائیل کئی مرتبہ گمراہیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ اور اﷲ کا غضب کئی بار اُن پر نازل ہو چکا تھا۔دبورہ کے بعد بنی مدین نے ملک کنعان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ مدیانیوں نے بنی اسرائیل پر اتنا شدید ظلم کیا کہ انہیں ظلم سے بچنے کے لئے پہاڑوں کے شگافوں میں، غاروں میں اور چٹانوں میں اپنے لئے پناہ گاہیں بنانی پڑیں۔ ان کے تیار فصلیں پورے ملک کنعان میں بنی مدین اپنے قبضہ میں لے لیتے تھے یہاں تک کہ غازہ پٹی( غزہ) کی پیداوار بھی مدیانی ان سے چھین لیتے تھے۔ بنی اسرائیل کے تمام مویشیوں کو ان سے چھین لیا۔ یہاں تک ان کے لئے کوئی بھیڑ ، بکری، گائے، بیل ، گدھا یا خچر کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رونے گڑ گڑانے لگے ان کے اندر بزدلی آگئی تھی۔ اور مدیانیوں سے مقابلے کی ہمت نہیں تھی۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر رحم فرمایا اور بنو منسی کے ایک غریب گھرانے کے نوجوان جدعون میںہمت پیدا فرمائی اور اس کا باپ بعل کا پجاری تھا اور بعل کا مذبح خانہ بنا رکھا تھا۔ اس نے اپنے باپ کے بعل کے مذبح خانے کو توڑ ڈالا اور بنی اسرائیل میں اعلان کیا کہ قربانیاں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں گی اور حکم دیا کہ بنی مدین سے لڑنے کے لئے بنی اسرائیل متحد ہو جائیں۔ تمام بنی اسرائیل کے قبائل مدیانیوں کے مظالم سے تنگ آچکے تھے۔ اس لئے وہ سب جدعون کی سپہ سالاری میں جمع ہو گئے اور انہوں نے بنی مدین پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور جدعون کے لشکر کو فتح حاصل ہوئی۔ اور مدیانیوں کو ایسی شکست ہوئی کہ وہ پھر کبھی سر نہیں اٹھا سکے۔ اور جدعون کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل چالیس برس تک امن و سکون کے ساتھ رہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

02 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام Story of Prophet Samuel and Dawood


02 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 2

بنی اسرائیل میں مسلکی اختلافات اور آپسی لڑائیاں

اللہ تعالیٰ بار بار بنی اسرائیل کو سدھرنے کا موقع دیتا رہا اور وہ بار بار نافرمانی کر کے اور شرک کر کے ذلیل ہو تے رہے۔ جدعون کے مرنے کے بعد ان میں مسلکی اختلافات پیدا ہو گئے۔ اور ہر مسلک کا عالم اپنے مسلک کو حق بتانے لگا اور دوسرے تمام مسلکوں کو باطل اور دوزخی بتانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کا اتحاد ٹوٹ گیا اور وہ مختلف مسلکوں اور فرقوں میں بٹ کر پھوٹ کا شکار ہوگئے اور آپس میں لڑ نے لگے۔ ایسے وقت میں ابی ملک نے تین سال بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد تولع بن فوہ تیئیس 23سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد پاتیر 22برس تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد افتاح چھ سال تک قاضی رہا۔ اس کے بعد ابصان سات سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ پھر ایلون دس سال تک قاضی رہا۔ اس کے بعد عبدون آٹھ سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد شمون نے بیس برس تک قاضی رہا۔ یہ سب قاضی بنی اسرائیل کے الگ الگ قبیلوں اور مسلکوں کے ہیں۔ اور یہ اور علماءآپس میں لڑتے رہے اور بنی اسرائیل کو لڑاتے رہے۔ کبھی ایک مسلک کا قاضی بنتا تھا تو کبھی دوسرے مسلک کا قاضی بنتا تھا۔

تابوتِ سکینہ کا چھن جانا

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فضیلت عطا فرمائی اور انہیں مسلمان ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔ لیکن بد بخت بنی اسرائیل بار بار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے تھے اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے لوگ شرک بھی کرنے لگتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کے درمیان لگ بھگ 450ساڑھے چار سو سال کا عرصہ ہے۔ اور اس عرصے میں کئی مرتبہ بنی اسرائیل گمراہی میں پڑے اور غیر قوموں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے رہے۔ اسی دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے اندر مسلکی اختلافات بہت شدید طور سے ابھر آئے ۔ اور ہر مسلک والا اپنے آپ کو حق پر اور دوسرے تمام مسلکوںکو باطل قرار دیتا تھا۔ اس طرح عام بنی اسرائیل ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے۔ اور بنی اسرائیل کے تمام مسلکوں کے علمائے کرام اس نفرت کو کم کرنے کی بجائے اور بڑھاتے جا رہے تھے۔ اور دنیاوی فائدے اٹھاتے جا رہے تھے۔ اس نفرت اور مسلکی اختلافات کاسب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کا اتحاد ٹوٹ گیا اور دوسری قوموں پر سے ان کا رعب ختم ہو گیا۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ایک مسلمان کو جو سب سے شدید نفرت بتوں اور ان کی پوجا کرنے والوں سے ہونی چاہیئے وہ شدید نفرت دوسرے مسلک والوں سے ہونے لگی اور ان پر استعمال ہونے لگی۔ اور وہ آپس میں ہی لڑنے لگے اور اپنی ہر قسم کی طاقت اور توانائی اسی میں استعمال کرنے لگے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آپس میں تو بہت بہادری سے لڑتے تھے لیکن مشرکوں اور کافروں کے مقابلے میں بزدل ہو گئے تھے اور ان سے امن حاصل کرنے اور صلح کی کوشش کرنے لگے تھے۔ ان ان کا مقصد اللہ کے دین ( اسلام) کو پھیلانا نہیں تھا بلکہ دنیا میں سکون اور آرام سے زندگی گزارنا ان کا مقصد بن گیا۔ اور اسلام کے نام پر چند رسومات ہی رہ گئی تھیں۔ بنی اسرائیل کے اس آپسی انتشار کو دوسری مشرک اور کافر قوموں نے سمجھ لیا تھا۔ اور وہ بنی اسرائیل پر رہ رہ کر حملے کرنے لگے تھے اور انہیں شکست دینے لگے تھے۔ اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آس پاس کی مشرک قومیں بنی اسرائیل پر ایسے ٹوٹ پڑیں جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس وقت ایلاف یا عیلی بنی اسرائیل کا قاضی یا کاہن تھا۔ بنی اسرائیل پر مشرک قومیں ہر طرف سے حملے کر رہی تھیں اور شکست دیتی جا رہی تھیں۔ ایسی ہی ایک جنگ میں ایک مشرک قوم نے بنی اسرائیل کو شکست دی اور ان کا تابوتِ سکینہ چھین کر لے گئی۔ تابوت سکینہ چھن جانے کی اور شکست کی خبر جب ایلاف یا عیلی کو ملی تو وہ صدمے اور خوف سے ہی مر گیا۔ وہ چالیس سال تک بنی اسرائیل کا قاضی یا کاہن بنا رہا۔

تابوتِ سکینہ کیا ہے

اللہ تعالیٰ کی مسلسل نافرمانی اور آپس کی مسلکی نفرت کی وجہ سے بنی اسرائیل سے تابوت سکینہ چھین گیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو تابوت سکینہ کے بارے میں بتا دیں تا کہ ذہن میں کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔ تابوتِ سکینہ ایک تابوت ( صندوق) تھا جو ایک روایت کے مطابق بنی اسرائیل نے حضرت یوشع علیہ السلام کے وصال کے بعد بنایا تھا۔ اور ایک روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے بنوایا تھا اور کوہِ طور پر جو توریت کی تخیتاں نازل ہوئی تھیں وہ اس میں رکھی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور نعلین مبارک اور اسی طرح حضرت ہارون علیہ السلام کی بھی کچھ یادگاریں رکھ دی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی سے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ بنو لاوی جنگ کے دوران بنی اسرائیل کے لشکر کے درمیان میں رہیں گے اور تابوت سکینہ اٹھائے رہیں گے۔ اسی لئے بنی اسرائیل ہمیشہ بنو لاوی کو لشکر کے درمیان میں رکھتے تھے۔ اور وہ تابوت سکینہ اٹھائے رہتے تھے۔ اور جب بنی اسرائیل کو شکست کے آثار نظر آتے تھے تو توہ تابوت سکینہ کو آگے کر دیتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے تھے اور تیزی سے حملہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ انہیں فتح عطا فرمادیتا تھا۔ لیکن جب بنی اسرائیل مسلکی اختلافات کا شکار ہو گئے اور آپس می ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے تو ان میں بزدلی اور دنیا کی محبت آگئی تھی۔ اس کی وجہ سے تابوت سکینہ بھی ان کے کام نہیں آیا اور جنگ کے دوران ان سے چھین لیا گیا۔

حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کا درمیانی عرصہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام 27سال تک بنی اسرائیل پر اسلامی حکومت کرتے رہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام کے وصال کے 460سال بعد حضرت شموئیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ان 460برسوںکے خاص واقعات ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ یہاں مختصراً ذکر کر رہے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت شموئیل علیہ السلام آئے۔ حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کا درمیانی عرصہ 460برسوں کا ہے۔ سب سے پہلے بنی اسرائیل پر جو شخص مسلط ہوا وہ حضرت لوط علیہ السلام کی نسل کا تھا۔ اس کا نام کوشا ن ( کوشن رسعتیم) تھا۔ اس نے انہیں آٹھ سال رسوا کیا۔ پھر حکومت اس کے چھوٹے بھائی عقیل بن قیس کے ہاتھ میں آئی جو چالیس برس تک رہی۔ اس کے بعد جعلون اٹھارہ برس تک حکمراں رہا۔ اس کے بعد اھود بن جیرا 80برس تک حکمراں رہا۔ پھر کنعانی بادشاہ یا فین 20سال تک بنی اسرائیل پر مسلط رہا۔ پھر کسی دبودہ نام کی عورت کے ہاتھ میں معاملات آئے۔اس کی جانب سے باراق نام کے شخص نے 40سال حکومت کی۔ پھر بنی نفتالی میں سے ایک شخص جس کا نام جدعون بن یواش تھا۔ اس نے 40سال تک بنی اسرائیل کے امورِ سلطنت سنبھالے۔ اس کے بعد اس کے بیٹے ابی ملک نے تین سال حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا ماموں یا چچا زاد نے 30سال حکومت کی۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک شخص یائیر 22سال تک حکمراں رہا۔ پھر بنی عمون ( عمون کی اولاد) نے جن کا تعلق فلسطین سے تھا اٹھارہ سال تک بنی اسرائیل پر مسلط رہے۔ پھر یفتح ( افتاح، یفتاح) نے 6سال تک معاملات سنبھالے۔ اس کے بعد یجشون 7سال تک ، الون 10سال تک اور کیرون 8سال تک حکمراں رہے۔ پھر 40سال فلسطین کے بادشاہ بنی اسرائیل پر مسلط رہے۔ پھر بنی اسرائیل کا شخص شمون 20سال تک حاکم رہا۔ اس کے بعد مشرک قوموں نے حملہ کر کے بنی اسرائیل کو محکوم بنا لیا۔

حضرت شموئیل علیہ السلام کے لئے دعا

اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کے نتیجے میں مشرک قوموںنے بنی اسرائیل کو محکوم بنالیا۔ جب بنی اسرائیل پر مصائب بڑھ گئے اور مشرک قوموں کے حکمرانوں نے ان کو ذلیل و رسوا کیا اور ان کے شہروں کو ویران کیا۔ اور ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں کو قید کیا اور ان سے وہ تابوت چھین لیا جس میں سکینہ یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کے باقیات تھے۔ اور اس تابوت کی وجہ سے وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کر تے تھے تو اس وقت تمام بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہمارے لئے نبی مبعوث فرما۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل نے عمالقہ قوم سے جنگ کی اس کے بادشاہ کانام جالوت تھا۔ انہوں نے بنی اسرائیل پر غلبہ حاصل کر لیا۔ ان پر جزیہ مقرر کر دیا اور ان سے توریت چھین لی۔ اس وقت بنی اسرائیل نے دعا کی کہ اے اللہ تعالیٰ اپنا کوئی نبی مبعوث فرما۔ اس وقت انبیاءکی نسل ختم ہو چکی تھی۔ البتہ صرف ایک عورت باقی تھی جو کہ حاملہ تھی۔ انہوں نے اسے اپنی نگرانی میں لے لیا اور دعا کرنے لگے کہ اسے لڑکا پیدا ہو۔ جب اس عورت نے ان کا شوق اور لگن دیکھی تو اس نے بھی اللہ تعالیٰ سے بیٹے کے لئے دعا کی۔ اسے لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام شموئیل رکھا گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

03 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام Story of Prophet Samuel and Dawood


03 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 3

حضرت شموئیل علیہ السلام کا سلسلہ نسب

حضرت شموئیل علیہ السلام کے سلسلہ نسب میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت شموئیل بن قنابن یردھام بن یہوذ بن یوحابن صوب بن القانا بن یویل بن عزیر بن ضعینا بن تاحت بن اسر بن انفانابن نشاسات بن قارون۔ علامہ ابن کثیر حضرت شموئیل علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت شموئیل بن بالی بن علقمہ بن یرخام بن یہو بن صوف بن علقمہ بن ماحث بن عموصابن عزریا۔ بعض اسلاف نے شموئیل کو اشموئیل لکھا ہے۔ امام مقاتل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے وارثین میں سے ہیں۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سے زیادہ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب معلوم نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے روایت کرتے ہیں کہ جب ارض غزہ اور عسقلا میں بنی اسرائیل پر بنی عمالقہ کا تسلط قائم ہوا تو انہوں نے اسرائیلیوں کو بے دریغ قتل کیا اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا۔ بنو لاوی ( لاوی کے خاندان) میں اب کوئی نبی نہیں تھا۔ اس خاندان میں صرف ایک حاملہ عورت تھی۔ وہ دعا کرتی رہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک بیٹا عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی التجا کو قبول فرماتے ہوئے ایک بیٹا عطا فرمایا۔ اس عورت نے نومولود کا نام اشموئیل رکھا۔ اشموئیل یا شموئیل عبرانی لفظ ہے۔ اس کا عربی معنی ” اسماعیل“ اور اردو معنی” سُنا گیا“ یا ”سُنا ہوا “ ہے۔

بیت المقدس میں تربیت اور نبوت سے سرفراز 

حضرت شموئیل علیہ السلام جب تھوڑے بڑے ہو گئے تو ان کی والدہ نے ان کی تربیت کے لئے بیت المقدس بھیج دیا۔ وہاں کے عالِم کی نگرانی میں آپ علیہ السلام کی تربیت ہونے لگی۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام کی والدہ نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر بیٹا پیدا ہوگا تو اسے بیت المقدس کا خادم بنائے گی۔ اسی لئے جب آپ علیہ السلام ، پیدا ہوئے تو عالی بطات کاہن کو دے آئیں۔ عالی کاہن نے انکی پرورش کی اور اپنے بعد کہانت کرنے کی وصیت کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں بنی اسرائیل کی نبوت اور ولایت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت شموئیل علیہ السلام بنی اسرائیل میں دس برس تک وعظ و اصلاح کرتے رہے۔ ابن عمیر فرماتے ہیں کہ وہ بیس20سال تک حکومت کرتے رہے۔ بنی اسرائیل پر آپ علیہ السلام کی تعلیم اور نصیحت کا بہت بڑا اثر پرا۔ اور وہ بت پرستی چھوڑ کر حق پرستی کی طرف مائل ہو گئے اور نہایت کم مدت میں اپنی بکھری ہوئی قوت جمع کر کے اہل فلسطین سے اپنے گئے ہو ئے اور کھوئے ہوئے شہروں کو واپس لے لیا۔ اور اپنی خرابی کو ازسر نو درست کیا۔

بنی اسرائیل کی بادشاہ کے لئے درخواست

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے (حضرت ) موسیٰ (علیہ السلام )کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا؟جب انہوںنے اپنے بنی سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے۔ تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ نبی نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہو جانے کے بعد تم جہاد نہ کرو۔ ( اور پیچھے ہٹ جاﺅ) ۔ انہوں نے کہا۔ بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہیں کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کر دیئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پِھر گئے۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ “( سورہ البقرہآیت نمبر246) اس آیت کی تفسیر میں تفسیر بصیرت القرآن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا فرمائی تھیں۔ مگر انہوں نے ناشکریوں اور بد اعمالیوں کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری عظمتیں چھین لیں اور ان پر کافروں کو مسلط کر دیا۔ فلسطین میں ایک گرانڈیل، دیوہیکل اور جنگ کا ماہر شخص جاتی جولیت تھا۔ جو ان کا سپہ سالار تھا اور جالوت کہلاتا تھا۔ اس کا رعب بنی اسرائیل پر اس قدر چھا چکا تھا کہ اس نے بار بار بنی اسرائیل پر حملہ کر کے ان کا قتل عام کیا اور ان کو گھروں سے بے گھر کیا۔ اور ان سے تبرکات سے بھرا ہوا صندوق بھی چھین کر لے گیا جو ان کے ہاں فتح و نصرت اور کامیابی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ یہ لوگ جنگ و جہاد سے جان چھڑا تے تھے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے تھے۔ یہ خوف اور بزدلی برسوں تک اسی طرح چھائی رہی کہ بنی اسرائیل کے پانچ بڑے شہران کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے۔ مگر ان میں ان کو اپس لینے کی ہمت نہیں تھی۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے اندر تجدید و اصلاح اور ان کی تنظیم کا کام کیا۔ جس سے بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی پیدا ہو گئی اور فلسطینیوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے۔ مگر حضرت شموئیل علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے آپ علیہ السلام ہی سے ایسی قیادت کی درخواست کی جس کی سر براہی میں وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام ان کی ایمانی کمزوری سے اچھی طرح واقف تھے۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو تم میدان چھوڑ کر بھاگ جاﺅ۔ اس پر انہوں نے بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ کہا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم تو اپنے گھروں اور بچوں سے جدا کر دیئے گئے ہیں کیا ہم اب بھی جہاد نہیں کریں گے؟

حضرت طالوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہو سکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں اور اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی ہے۔ نبی ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ سنو، اللہ نے اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے۔ اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے اپناملک دے دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اورعلم والا ہے۔ “( سورہ البقرہ آیت نمبر247)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ امام ثعلبی نے حضرت طالوت کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے۔ حضرت طالوت کہتے ہیں کہ طالوت بن قیش بن افیل بن صارو بن تحورت بن افیح بن انیس بن بنیامن بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ۔ عکرمہ اور سدی کہتے ہیں کہ طالوت پیشے کے اعتبار سے سقاءیعنی پانی پلانے والے تھے۔ حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ رنگ ساز ( یعنی چمڑا رنگتے تھے) اس کے علاوہ کئی اور اقوال بھی ہیں۔ واللہ اعلم ........

حضرت طالوت کا انتخاب

حضرت شموئیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے انتخاب کا ایک پیمانہ عطا فرمایاتھا۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں ۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے دعا کی تو ایک عصا نمودار ہوا کہ اس عصا کی لمبائی کے برابر جس شخص کا قد آئے گا وہ بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلان فرمایا کہ تم لوگ اس عصا سے اپنا قد ناپیں۔ جس کا قد اس عصا کے برابر ہو گا وہی تمہارا بادشاہ بنے گا۔ ہر شخص نے اپنے آپ کو عصا سے ناپنا شروع کیا مگر کسی کا قد اس کے برابرنہیں آیا۔ حضرت طالوت بنی اسرائیل کے قبیلہ بن یامن کے تھے اور غریب آدمی تھے۔ ان کا قد عصا کے بالکل برابر آیا اسی لئے حضرت شموئیل علیہ السلام نے اعلان فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا بادشاہ حضرت طالوت کو بنا یا ہے۔ یہ سن کر بنی اسرائیل کے امراءاور علماءنے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم جیسے امیر یعنی دولت مند اور زیادہ علم والوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ ایک غریب اور محتاج شخص کو ہمارا بادشاہ بنائے۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے تمہاری بادشاہت کے لئے چنا ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا ملک ( زمین کا انتظام) دے سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے۔ در اصل اس وقت تک بنی اسرائیل مختلف فرقوں یعنی مسلکوں میں بت چکے تھے۔ بارہ قبیلوں میں تو پہلے ہی وہ بٹ چکے تھے اور ہر قبیلے اور فرقے والے یہ چاہتے تھے کہ ان کے قبیلے یا فرقے کا بادشاہ ہو۔ اسی لئے تمام بنی اسرائیل ایک بادشاہ پر متفق نہیں ہو پار ہے تھے۔ اور اسی لئے انہوں نے تمام بنی اسرائیل کا بادشاہ بنانے کے لئے حضرت شموئیل علیہ السلام سے درخواست کی تھی۔ اور جب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت طالوت کو بادشاہ بنانے کا اعلان فرمایا تو وہ اس پر بھی اعتراض کرنے لگے۔

حضرت طالوت کی بادشاہت کی نشانی تابوتِ سکینہ

حضرت شموئیل علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت طالوت کو بادشاہ بنانے کا اعلان فرمایا تو بنی اسرائیل نے کہا کہ اس بات کی کیا نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی طالوت کو ہمارا بادشاہ بنایا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ”تابوتِ سکینہ“ کو تمہاری طرف واپس لوٹا دے گا۔ اور فرشتے اسے لے کر تم تک آئیں گے۔ ( آپ کو یاد ہو گا کہ تابوت سکینہ بنی اسرائیل سے چھن گیا تھا) بنی اسرائیل نے کہا۔ ٹھیک ہے اگر تابوتِ سکینہ ہم تک واپس آجائے گا تو ہم طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کے نبی نے انہیں فرمایا کہ اس کی بادشاہت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا۔ جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلی سکون ہے۔ ( یعنی تابوتِ سکینہ) ۔ اور آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کا بقیہ ترکہ ہے۔ اور فرشتے اسے اٹھا کر لائیں گے۔ بے شک اگر تم واقعی مومن ہو تا س میں تمہارے لئے کھلی نشانی ہے۔ ( سورہ البقرہ آیت نمبر248) علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ طالوت نہایت جسیم اور قد آور تھا۔ اور بنی اسرائیل سے شاول یا ساول کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اور بائبل میں طالوت کانام ساول لکھا ہوا ہے۔

تابوتِ سکینہ کے واپسی

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ تابوتِ سیکنہ واپس آئے گا اسے ایک مشرک قوم بنی اسرائیل سے چھین کر لے گئی تھی اور ایک روایت میں ہے کہ عمالقہ چھین کر لے گئے تھے۔ مشرکین تابوت سکینہ کو چھین کر اشدود لے گئے اور اسے دجون کے مندرمیں لے جا کر دجون کے پاس رکھ دیا۔ اگلے دن صبح جب اشدود کے لوگ مندر میں گئے تو دیکھا کہ دجون کا بت تابوتِ سکینہ کے آگے منہ کے بل اوندھا پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بت کو اٹھایا اور اس کی جگہ واپس رکھ دیا۔ لیکن اگلی صبح انہوںنے دیکھا کہ پھر ان کا دیوتا یعنی بت تابوتِ سکینہ کے آگے اوندھا پڑا ہوا ہے۔ اور اس بار تو اس کا سر اور اس کے بازوﺅں کو بھی توڑ دیا گیا ہے۔ اور صرف دھڑ رہ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اشدود اور س کے آس پاس کے علاقوں کے باشندوں پر بھی تباہی آنے لگی اور وہ گلسُیوں کی تکلیف( طاعون) میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے جب یہ حال دیکھا تو کہنے لگے کہ اسرائیل کے دیوتا کا تابوت ہمارے یہاں نہیں رہنا چاہیے۔ کیوں کہ اسرائیلیوں کا دیوتا ہمارے دیوتا دجون سے زیادہ طاقتور ہے۔ اسی لئے ان کے علماء( پنڈتوں) اور حکمرانوں نے فیصلہ کر کے تابوت سکینہ کو جات کی طرف منتقل کر دیا۔ وہ لوگ بھی طاعون میں مبتلا ہو گئے تو انہوںنے دوسرے علاقے میں بھیج دیا۔ اس طرح یہ مشرکوں کے علاقوں میں منتقل ہو تا رہا۔ اور جب حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں تابوت سکینہ کی واپسی کا اعلان فرمایا تو اس وقت وہ عقرون میں تھا۔ اور وہاں کے سب لوگ طاعون کی بیماری سے بے حال تھے۔ آخر کار انہوں نے تابوت سکینہ کو ایک بیل گاڑی میں رکھ کر بنی اسرائیل کی طرف ہانک دیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب عمالقہ تابوت سکینہ کو چھیننے میں کامیاب ہو گئے جس میں سکون کا سامان اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بقیہ جات تھے۔ اور ایک روایت کے مطابق تابوت میں توریت کی لکھی ہوئی الواح تھیں۔ تو عمالقہ نے اس تابوت کو اپنے ایک مندر میں رکھ کر اس کے اوپر اپنا بت رکھ دیا۔ جس کی وہ پوجا کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ تابوت اس بت کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پھر تابوت کو نیچے رکھ دیا۔ لیکن دوسرے دن پھر بت نیچے اور تابوت اوپر تھا۔ جب کئی دن تک یہی واقعہ پیش آیا تو انہوں نے تابوتِ سکینہ کو دوسرے شہر میں بھیج دیا۔ وہاں بیماری کی وباءپھیل گئی۔ انہوں نے دوسرے قصبے میں تابوت بھیج دیا۔ اس طرح وہ تابوت مشرکوں کے علاقے میں گھومتا رہا۔ آخر کار مجبور ہو کر عمالقہ نے تابوت سکینہ کو ایک بیل گاڑی پر رکھا اور اپنے علاقے کے باہر لے جا کر چھوڑ دیا۔ وہاں سے بیل گاڑی کو فرشتوں نے سنبھال لیا۔ اور اسے لے کر بنی اسرائیل کے علاقوں میں آئے۔ بیل گاڑی کو چلانے والے فرشتے کسی کو دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل حیرت سے اپنے آپ چلتی ہوئی بیل گاری کو دیکھ رہے تھے۔ اور جو بھی دیکھتا تھا وہ اس کے پیچھے چلنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ بیل گاڑی حضرت شموئیل علیہ السلام کے گھر کے سامنے رک گئی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

04 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام Story of Prophet Samuel and Dawood




04 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 4

بنی اسرائیل کی آزمائش

حضرت شموئیل علیہ السلام نے ”تابوت سکینہ “ طالوت کے حوالے کیا اور تمام بنی اسرائیل نے اسے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد طالوت نے بنی اسرائیل کو لشکر تیار کیا۔ یہ اسّی80ہزار کا بہت بڑا لشکر جرار تھا۔ طالوت یہ عظیم الشان لشکر لے کر روانہ ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کی آزمائش لی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب طالوت لشکر کو لے کر چلا تو کہا۔ سنو ، اللہ تعلایٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے۔ جس نے اس میں سے پانی لیا وہ میرا نہیں ہے۔ اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلّو بھر پی لے۔ لیکن سوائے چند لوگوں کے باقی سب ے وہ پانی پی لیا۔“( سورہ البقرہ آیت نمبر249) طالوت کے ساتھ جو لشکر تھا اس کی تعداد کے بارے اسّی80ہزار سے لے کر ایک لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ تک بتائی گئی ہے۔ جب یہ لشکر چلنے لگا تو طالوت نے کہا۔ ( غالباً اسے حضرت شموئیل علیہ السلام نے بتا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی آزمائش کرے گا اور تم وقت آنے پر بتانا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آگے ایک نہر ( ندی) آئے گی اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پورے لشکر والوں کی آزمائش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس نہر یا ندی سے پانی نہیں پیا جائے۔ اس لئے کوئی بھی پانی نہیں پیئے۔ ہاں صرف اتنی اجازت ہے کہ چلّو بھر کر پانی پی سکتے ہو۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ فلسطین کی کوئی نہر تھی یا پھر اُردن اور فلسطین کے درمیان کی نہر تھی۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ دریائے اردن تھی۔

اکثر آزمائش میں ناکام ہو گئے

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک چھوٹی سی آزمائش لی کہ اگر یہ لوگ اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے تو آگے اللہ کے لئے لڑنے کی بہت بڑی آزمائش ہے۔ اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ سخت گرمی تھی اور پیاس کے مارے سب کا برا حال تھا۔ اور بنی اسرائیل کے ایمان اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا امتحان تھا۔ اس امتحان میں اور آزمائش میں اکثر بنی اسرائیل ناکام ہو گئے۔ اور نہر یا ندی پر پہنچتے ہی پانی پر ٹوٹ پڑے اور جلدی جلدی پانی پینے لگے۔ طالوت 80ہزار کا لشکر لے کر چلا تھا۔ اس میں سے 76ہزار نے خوب سیر ہو کر پانی پی لیا۔ اور صرف 4ہزار لوگ ایسے رہے جنہوں نے صرف ایک چلّو پانی پیا۔ نہر یا ندی پار کرنے کے بعد ان چار ہزار لوگوں کو پیاس نہیں لگی۔ اور بقیہ 76ہزار لوگ جو خوب سیر ہو گئے تھے۔ ان کو اتنی شدید پیاس لگی کہ وہ ہمت ہار بیٹھے اور واپس چلے گئے۔ طالوت بقیہ چار ہزار لوگوں کو لے کر آگے بڑھا۔ لیکن یہ بھی اصلی لشکر نہیں تھا ۔ جب بنی اسرائیل نے جالوت کے لشکر جرار کو دیکھا تو ان چار ہزار میں سے اکثریت نے ہمت ہار دی۔ اور لڑنے سے انکار کر دیا۔ لیکن کچھ لوگ ابھی بھی ہمت باندھے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” طالوت نے مسلمانوں کے ساتھ جب نہر کو پار کر لیا۔ تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں ہے کہ جالوت اور اس کے لشکر سے لڑیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا یقین رکھنے والوں نے کہا۔ کبھی کبھی چھوٹی اور تھوڑی سی جماعت اپنے سے بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے غلبہ پالیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 249) ان چار ہزار میں سے بھی اکثریت واپس چلی گئی اور جو لوگ رہ گئے ان کی طالوت نے گنتی کو تو تین سوبارہ 312یا تین سو انیس319لشکری رہ گئے تھے۔

طالوت کا اصل لشکر 

حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کا ایک بہت بڑا لشکر دے کر طالوت کو رخصت کیا تھا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ تفسیر روح البیان وغیرہ میں ذکر ہے کہ اسّی 80ہزار کا لشکر تھا۔ مگر تفسیر در منشور میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ کا لشکر تھا۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ صرف صابرین ہی میدانِ جنگ میں جائیں اور بزدلوں اور بے صبروں کی بھیڑ نہ ہو۔ کیوں کہ ایسے لوگ شکست کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے نہر یا ندی کے پانی سے ان کی آزمائش کی۔ موسم سخت گرم تھا اور لوگ پیاس سے بے قرار تھے۔ اس حالت میں عین دوپہر کے وقت پانی کی جگہ پہنچے۔ تین سو تیرہ جوانوں کے علاوہ سب نے خوب پانی پیا۔ جن لوگوں نے ایک چلّو پانی پیا اور ایک چلو اپنے گھوڑے کو پلایا تو وہ ان کے لئے کافی ہو گیا اور ان کی پیاس بجھ گئی۔ اور بے صبر ے لوگ جتنا پانی پیتے تھے اتنی ہی ان کی پیاس بڑھتی تھی۔ ان کے ہونٹ کالے پڑ گئے اور پیٹ پھول گیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ امام طبری امام ابن ابی حاتم اور امام سدی کی روایت میں ہے کہ 80ہزار روانہ ہوئے اور 76ہزار نے خوب پانی پیا اور واپس ہو گئے۔ اور صرف 4ہزار نے دریا پار کیا۔ اور جالوت اور اس کے لشکر کو دیکھ کر ان میں سے بھی تین ہزار چھو سو اسی 3680واپس چلے گئے اور طالوت کے ساتھ تین سو تیرہ یا تین سو بیس نفوس باقی رہ گئے۔ یہ تعداد لگ بھگ اصحاب بدر کے برابر ہے۔ تاریخ طبری میں ہے کہ صرف تین سو اُنیس319افراد باقی رہ گئے تھے۔ جو کہ غزوہ بدر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد کے برابر ہے۔ یہ طالوت کا اصل لشکر تھا۔

حضرت داﺅ د علیہ السلام 

حضرت داﺅد علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح سے ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بن ایشا بن حصرون بن قانص بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو یہودا سے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کُل تیرہ بھائی تھے اور آپ علیہ السلام سب سے چھوٹے تھے۔ اور سب کے لاڈلے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کے والد اور بڑے بھائی آپ علیہ السلام کو کوئی کام نہیں کرنے دیتے تھے۔ پھر بھی آپ علیہ السلام اپنے بھائیوں سے ضد کر کے ان کے ساتھ بکریاں چرانے جایا کرتے تھے۔ سلسلہ نسب اس طرح تھا۔ حضرت داﺅد بن ایشا بن عوید بن عابر بن سلمون بن نحشون بن عوینادب بن ارم بن حصرون بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام چھوتے قد کے تھے۔ آنکھیں نیلی تھیں بال تھوڑے تھے اور دل یاک و طاہر تھا۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کا انتخاب

حضرت شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ایک پیمانہ دیا تھا اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے اوپر یہ پیمانہ فٹ بیٹھ جائے گا وہی جالوت کا قتل کرے گا۔ طالوت اور جالوت کے لشکروں نے جب ایک دوسرے کے سامنے پڑاﺅ ڈال دیا تو طالوت نے وہ پیمانہ نکالا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت شموئیل علیہ السلام نے ایک سینگ طالوت کو دیا تھا جس میں لوہے کا تنور بنا ہوا تھا اور اس میں تیل بھرا ہوا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے سر پر یہ فٹ بیٹھ جائے گا تو اس میں تیل اچھلنے لگے گا۔ وہی شخص جالوت کو قتل کرے گا۔ طالوت نے اسے نکالا اور اپنے لشکر کے تمام افراد کے سروں پر رکھنے لگا۔ لیکن وہ کسی کے سر پر فٹ نہیں آیا۔ طالوت پریشان ہو گیا اور تمام اسرائیلیوں کو حضرت شموئیل علیہ السلام کے فرمان کے بارے میں بتایا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کے والد محترم اور بارہ بھائی بھی اس لشکر میں تھے۔ ان کے والد محترم نے طالوت سے کہا۔ میرا یک بیٹا داﺅد رہ گیا ہے وہ ہمارے لئے کھانا لے کر آرہا ہے۔ وہ آئے تو اس کے سر پر بھی پہنا کر دیکھ لینا۔ ادھر حضرت داﺅد علیہ السلام کھانا لے کر آرہے تھے کہ راستے میں تین پتھروں نے ان سے کہا کہ ہمیں اپنے تھیلے میں رکھ لو۔ ہم جالوت کو قتل کرنے میں کام آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر رکھ لیا ور لشکر میں آئے۔ طالوت نے سینگ آپ علیہ السلام کے سر مبارک پر رکھا تو ایک دم فٹ بیٹھ گی اور تنور کا تیل اچھلنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ایک زرہ دی تھی اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے جسم پر یہ ذرہ پوری ( فٹ ) آجائے گی وہ شخص اللہ کے حکم سے جالوت کو قتل کردے گا۔ اور یہ زرہ حضر ت داﺅد علیہ السلام کے جسم مبارک پر پوری آگئی۔

جالوت کا قتل اور شکست

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا کی۔ اے ہمارے رب، ہمیں صبر عطا فرمااور ثابت قدمی عطا فرما اور کافر قوم پر ہماری مدد فرما۔ پس اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی۔ اور داﺅد (علیہ السلام )کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے داﺅد (علیہ السلام ) کو مملکت اور حکمت اور جتنا چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر دفع نہیں کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر250اور 251)طالوت اور جالوت کے لشکر نے صف بندی کر لی۔ اور آمنے سامنے آگئے۔ جالوت آگے بڑھا اور مقابلے کے لئے للکانے لگا۔ جالوت بہت ہی لمبا چوڑا اور گرانڈیل تھا۔ اور اکیلا سینکڑوں پر بھاری تھا۔ اس کی للکار سن کر حضرت داﺅد علیہ السلام آگے بڑھے۔ آپ علیہ السلام تھوڑے پستہ قد تھے۔ اسی لئے جالوت جیسے لمبے چوڑے کے سامنے بونے نظر آرہے تھے۔ جالوت نے اپنے مقابلے پر ایک چھوٹے سے نوجوان کو دیکھا تو زور زور سے ہنسنے لگا اور بولا۔ اے نوجوان ، کیوں اپنی جان کا دشمن بن رہا ہے۔ جاواپس لوٹ جا کیوں کہ مجھے تجھ پر رحم آرہا ہے۔ اور میں تجھے قتل نہیں کرنا چاہتا۔ اس پر آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ لیکن مجھے تجھ پر رحم نہیں آرہا ہے اور میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے اپنی گوپھن نکالی اور ان تین پتھروں کو ایک ساتھ گوپھن میں رکھ کر گھما کر پھینکا۔ آپ علیہ السلام گوپھن بہت اچھی چلاتے تھے اور نشانہ ہمیشہ صحیح لگتا تھا۔ اور اس بار تو آپ علیہ السلام نے اپنی پوری مہارت استعمال کی تھی۔ جالوت مسکراتا ہوا کھڑا آپ علیہ السلام کی حرکتوں کو دیکھ رہا تھا۔ لیکن اچانک اس کی مسکراہٹ حیرانی میں بدل گئی ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کے پھینکے ہوئے تینوں پتھر بالکل صحیح نشانے پر جا کر لگے۔ پہلا پتھر پیٹ میں لگا اور زرہ بکتر ( لوہے کا لباس) کو توڑتا ہوا پیٹ میں گھس گیا۔ دوسرا پتھر سینے پر لگا اور زرہ بکتر توڑتا ہوا پسلیوں کو توڑتا ہوا گھس گیا۔ اور تیسرا پتھر سر میں لگا اور کھوپڑی کو توڑتا ہوا اس پار نکل گیا۔ جالوت نے حیرانی سے اپنے ٹوٹے پھوٹے جسم کو دیکھا جو بری طرح لڑکھڑا رہا تھا۔ پھر حضرت داﺅد علیہ السلام کو دیکھتا ہوا اوندھے منہ گر پڑا اور موت آگئی۔ حیرانی اس کے چہرے پر منجمد ہو گئی تھی۔ جالوت کو مرتا ہوا دیکھ کر اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ ادھر آپ علیہ السلام نے زور سے نعرہ ¿ تکبیر بلند کیا اور جالوت کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ طالوت کے لشکر نے بھی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ جالوت کے لشکر پر ٹوٹ پڑے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جالوت کے لشکر کو شکست دی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

05 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام. Story of Prophet Samuel and Dawood



05 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 5

طالوت کی بیٹی سے نکاح

حضرت داﺅ د علیہ السلام نے جالوت کو قتل کردیا۔ حضرت طالوت نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی شخص جالوت کو قتل کر ے گا میں اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردوں گا۔ اسی وعدہ کو طالوت نے پورا کیا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کو اپنا داماد بنالیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے آپ علیہ السلام کو اپنا سپہ سالار بھی بنا لیا۔ اس کے بعد حضرت داﺅد علیہ السلام اور طالوت نے مل کر آس پاس کی کافر قوموں سے جنگ کی اور انہیں شکست دی۔ اور اسلامی حکومت کو مستحکم کیا۔ دونوں حضرات نے مل کر بنی اسرائیل کے لئے بہت سے رفاعی کام کئے اور ہر طرف عوام آرام اور چین سے زندگی گزارنے لگی۔ اس طرح لگ بھگ بیس20سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور طالوت کی بادشاہت میں بنی اسرائیل کو بہت استحکام نصیب ہوا۔ طالوت ملک کے اندرونی حالات کو کنٹرول میں رکھے ہوئے تھا اور حضرت داﺅد علیہ السلام بیرونی ملک اور فوج کے حالات کو سنبھالے ہوئے تھے۔

حضرت طالوت کی شہادت

حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کی فوج کے ساتھ عمالقیوں اور فلسطینیوں کے کافروں سے جنگ کرتے تھے۔ اور ضرورت پڑنے پر طالوت بھی جنگ میں شامل ہو تے تھے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام اور طالوت کے بارے میں بائیبل میں بہت زیادہ گستاخیاں کی گئی ہیں۔ اور دونوں حضرات پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں کہ ( نعوذ باللہ ) طالوت ، حضرت داﺅد علیہ السلام سے حسد کرنے لگے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) قتل کرنے کی کوشش کی اور آپ علیہ السلام خوش قسمتی سے بچ سکے۔ اور پھر ( نعوذ باللہ) طالوت نے خود کشی کر لی۔ یہ سب ان نیک بندوں پر بے جا الزامات ہیں۔ (حضر ت داﺅد علیہ السلام پر الزامات کا ذکر آگے آئے گا) حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے بہت ہی نیک اور مخلص بندے تھے۔ اور اس کا ثبوت قرآن پاک کی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نیک اور مخلص ہونے کی گواہی دی ہے۔ بائیبل میں یہ غلط بات بھی لکھی ہے کہ طالوت نبی تھے ۔ لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ایک حکمراں یا بادشاہ بتا یا ہے۔ جب کہ بد بخت یہود و نصاریٰ ( بنی اسرائیل اور عیسائی) نے حضرت داﺅد علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ وہ ( نعوذ باللہ ) نبی نہیں تھے۔ اور صرف حکمراں یا بادشاہ تھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بتایا کہ آپ علیہ السلام بنی بھی تھے اور بادشاہ یا حکمراں بھی تھے۔ دونوں حضرات مل کر اسلامی حکومت چلا رہے تھے۔ اور اسی دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ اور طالوت نے خودکشی نہیں کی بلکہ ایک جنگ میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے وہ شہید ہو گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ طالوت نے بنی اسرائیل پر 20برس سے کچھ زیادہ عرصہ حکومت کی ۔ اور دوسری روایت کے مطابق 40برس تک حکومت کی۔ اب حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

حضرت داﺅد علیہ السلام نبوت اور بادشاہت سے سر فراز

اللہ تعالیٰ نے سورہ نساءمیں فرمایا ۔ ترجمہ ” اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) کو زبور عطافرمائی۔ (سورہ النساءا ٓیت نمبر164) سورہ سباءمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) پر اپنا فضل کیا۔ “ ( سورہ السباءآیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان (کافروں) کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داﺅد علیہ السلام کو یاد کریں۔ جو بڑی قوت والا تھا اور بے شک وہ بہت رجو ع کرنے والا تھا۔ (سورہ ص ٓ آیت نمبر17) اسی سورہ میں آیت نمبر20میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے اسکی ( حضرت داﺅد علیہ السلام کی) سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت عطا فرمائی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا ( سکھایا تھا) “ اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے یقینا داﺅد (علیہ السلام )اور سلیمان (علیہ السلام ) کو علم دے رکھا تھا۔ اور دونوںنے کہا۔ تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔“ (سورہ النمل آیت نمبر15) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے داﺅد (علیہ السلام )ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا ہے اب تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔“ (سورہ ص ٓ آیت نمبر26) ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت سے سرفرازفرمایا اور ساتھ ساتھ کتاب (زبور) بھی عطا فرمائی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکومت یعنی سلطنت بھی عطا فرمائی ۔ اس طرح حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے پہلے نبی ہیں۔ جنہیں نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی۔ آپ علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل میں بادشاہ الگ ہوتے تھے اور نبی الگ ہوتے تھے۔ ہاں حضرت یوسف علیہ السلام نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے۔ لیکن بنی اسرائیل اس وقت وجود میں نہیں آئے تھے۔

بنی اسرائیل میں ہر دل عزیز

حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل میں ہر دلعزیز اسی وقت ہو گئے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔ امام ابن عسا کر کے قول کے مطابق یہ قتل ام حکیم کے محل کی جگہ مرج الصفر کے قریب واقع ہوا۔ اس بہادری اور معجزانہ قوت کی وجہ سے نبی اسرائیل آپ علیہ السلام کے شیدائی بن گئے۔ اور ان تمام کا میلان آپ علیہ السلام کی طرف ہو گیا تھا۔ اسی لئے تمام بنی اسرائیل نے متفقہ طور سے حضرت داﺅد علیہ السلام کو اپنا حکمراں تسلیم کر لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دنیاﺅں اور اُخروی دونوں نعمتوں سے نوازا تھا۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی بھی تھے۔ اور بادشاہ بھی تھے۔ جب کہ اس سے پہلے بادشاہ ایک نسل سے ہوتا تھا تو نبی دوسری نسل سے ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام میں بادشاہت اور نبوت دونوں جمع فرمادیں۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی فتوحات

حضرت داﺅد علیہ السلام نے حکمراں بنتے ہی اللہ کے قانون کو نافذ فرمایا اور اسلامی حکومت کو مستحکم کیا۔ آپ علیہ السلام کے دور ِ نبوت اور حکومت میںپورے ملک کنعان میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ اور آس پاس کے مشرکوں نے بھی اطاعت قبول کر کے خراج دینا منظور کر لیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام مستقل طور سے بنی اسرائیل پر حکومت کرنے لگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنو کنعان سے لڑے اور ان پر غالب آئے۔ اس کے بعد بنو فلسطین سے مدتوں معرکہ آرائیاں کرتے رہے اور ان کے اکثر شہروں پر قبضہ کر لیا اور ان پر سالانہ خراج مقررکیا۔ اس کے بعد بنو موآب اور بنو عمون سے جنگ کی اور انہیں زیر و زبر کر کے ان پر جزیہ قائم کیا۔ اس کے بعد آگے بڑھ کر دمشق اور حلب میں آرمینیوں پر جزیہ قائم کیا۔ اور آپ علیہ السلام کے مقرر کئے ہوئے افسران سالانہ جزیہ وصول کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی سلطنت و حکومت کی ہیبت آس پاس کے علاقوں سے نکل کر کافی دور تک پھیل گئی۔ یہاں تک کہ انطاکیہ کے حکمراں نے بھی خراج دینا قبول کر لیا۔ اور ہدیے اور تحفے بھیجے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے زبردست عزم و حوصلے سے قوم بنی اسرائیل کو ایک نئے جذبے سے سر شار کر دیا۔ جس سے ان کے قدم آگے بڑھتے چلے گئے۔ آپ علیہ السلام نے یروشلم کو فتح کر کے اسے سلطنت بنی اسرائیل کا مرکزی شہر ( راجدھانی) بنا دیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام کی (اسلامی) حکومت خلیج عقبہ سے دریائے فرات کے کناروں تک پھیل کر عدل و انصاف ، امن سکون اور خوش حالی کا گہوارہ بن گئی۔ لیکن اتنی زبردست سلطنت کے بادشاہ ہونے کے باوجود آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی عبادات

حضرت داﺅد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت کی دوہری ذمہ داری عطا فرمائی ۔ اور آپ علیہ السلام نے اس ذمہ داری کو بہت خوبی سے نبھایا۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضر ت داﺅد علیہ السلام راتوں کو خاموشی سے سلطنت کے لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے گشت کرتے ۔ تاکہ کوئی حاکم ( گورنر ، عمّال) کسی مظلوم پر کسی طرح کا ظلم و زیادتی نہیںکر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت داﺅد علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے حاصل ہونے والا رزق ہے۔ اور بلا شبہ حضرت داﺅد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا اور اپنے بچوں کا گزارہ کر تے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جگہ فرمایا کہ نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نماز حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے جو آدھی رات سوتے تھے پھر ایک تہائی رات میں اللہ تعالیٰ کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور رات کے آخری حصے میں آرام فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ سب روزوں میں محبوب ترین اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت داﺅد علیہ السلام کے روزے ہیں ، جو ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ (قرطبی) آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل و کرم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت عدل و انصاف اور عام لوگوں کی خدمت کا ایک عظیم جذبہ عطا فرما یا تھا۔

لوہا نرم ہو جانے کا معجزہ

اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی تھی ۔ا ور اس کے علاوہ کئی معجزات بھی عطا فرمائے تھے۔ ان میں سے ایک معجزہ لوہے کا نرم ہوجانا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوہا رکس طرح لوہے کو بھٹی میں پگھلا کر نرم کرتا ہے۔ اور پھر اس پگھلے ہوئے لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق پیٹ پیٹ موڑتا یا ڈھالتا ہے۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ گھروں میں ہماری والدہ اور بہنیں آٹے کو گوندھتی ہیں اور اس آٹے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ کر بیل کر روٹیاں پکاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو ایسا معجزہ عطا فرمایا تھا کہ لوہا جیسے ہی آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آتا تو آٹے کی طرح نرم ہو جاتا تھا۔ اور آپ علیہ السلام بہت ہی آسانی سے اسے اپنی مرضی کے مطابق موڑ لیا کرتے تھے۔ یا ڈھال لیا کرتے تھے۔ بادشاہ بننے کے بعد آپ علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنا کر فروخت کرتے تھے۔ اور اسی پر آپ علیہ السلام کا گھر چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ” بے شک ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) کو اپنی طرف سے فضیلت بخشی( اور پہاڑوں کو حکم دیا کہ ) اے پہاڑو، اُن کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔ اور ہم نے لوہے کو ان کے لئے نرم کر دیا۔ ( اور فرمایا) کشادہ زرہیں بناﺅ اور ( ان کی جالیوں کے ) حلقے جوڑنے میں مناسب اندازے کا خیال رکھو۔ اور ( اے آل داﺅد عمل صالح پر جمے رہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔“(سورہ السباءآیت نمبر10اور 11)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

 

06 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام Story of Prophet Samuel and Dawood



06 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 6

زرہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی ایجاد ہے

حضرت داﺅد علیہ السلام سے پہلے لوگ زرہ بکتر کے بارے میں جانتے ہی نہیں تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے لوہے کو مٹی کی طرح نرم کر دیا تھا۔ حضرت حسن بصری ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لوہا آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں آنے کے بعد آٹے کی طرح ہو جاتا تھا۔ اور اس سے آپ علیہ السلام زرہیں بناتے ہیں۔ حضرت قتادہ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ سے لوہے کے حلقے بناتے جاتے تھے۔ جس طرح مٹی میں کام کیا جاتا ہے۔ لوہے کو آگ میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اور ن ہ ہی ہتھوڑے سے اس پر ضربیں لگانے کی ضرورت پڑتی تھی۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے سب سے پہلے زرہ بکتر بنائی۔ اس سے پہلے لوگ لوہے کے پترے دشمنوں سے حفاظت کےلئے استعمال کرتے تھے۔ حضرت ابن شوذب فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام ہر روز ایک زرہ بناتے تھے۔ اور اس کے جو پیسے ملتے تھے اس کے تین حصے کرتے تھے۔ ایک حصہ اپنے استعمال کےلئے رکھتے ، ایک حصہ گھر والوںکے لئے رکھتے اور ایک حصہ بنی اسرائیل کے ضرورت مندوں اور غریبوں پر خرچ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے زرہ بکتر کی ایجاد کے بارے میں سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اسے ( حضرت داﺅد علیہ السلام کو ) تمہارے لئے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضررسے تمہارا بچاﺅ ہو۔ کیا ( اب بھی) تم شکر گزار بنو گے؟( سوہ الانبیاءآیت نمبر80)

زبور کا نزول

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ بہت زبردست انعام کیا کہ حضرت داﺅد علیہ السلام جیسا عظیم نبی اور رسول اور حکمراں عطا فرمایا تھا۔ آپ علیہ السلام نے تمام بنی اسرائیل کو متحد کیا اور پورے ملک کنعان میں اسلامی حکومت قائم فرمائی۔ آ پ علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل کو بہت عروج حاصل ہوا۔ پہلے بنی اسرائیل بکھرے ہوئے تھے آپسی اختلافات کا شکار تھے اور آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے آس پاس کی مشرک قومیں ان پر ٹوٹ پڑتی تھیں اور ان کے انتشار کا فائدہ اٹھا کر ان پر حاوی ہو جاتے تھے اور محکوم بنا لیتے تھے۔ یہ ہم لوگوں ( امت مسلمہ ) کے لئے بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم بھی مسلکی اختلافات کا شکار ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے سخت دشمن ہیں اور اسی وجہ سے محکوم ہیں۔ کاش کہ ہمیں سمجھ آجائے او رہم متحد ہوجائیں۔ تو حضرت داﺅد علیہ السلام نے سب سے پہلے مشرک دشمنوں سدِ باب کیا۔ اسی دوران آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ”زبور“ نازل فرمائی۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ نساءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام )کو زبور عطا فرمائی“(سورہ النساءآیت نمبر164) آپ علیہ السلام نے توریت اور زبور کی روشنی میں سلطنت کے قوانین مرتب فرمائے۔ اور تمام بنی اسرائیل کے علاقوں میں ہرجگہ فلاحی ادارے قائم فرمائے۔ اور سلطنت و حکومت کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے کیا کہ تمام بنی اسرائیل کے علاقوں میں ہر جگہ فلاحی ادارے قائم فرمائے۔ اور سلطنت و حکومت کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے کیا کہ عوام خوش حال ہو گئی۔ اور جتنا امن و سکون بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کی حکومت میں حاصل ہوا۔ اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا تھا۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی خوش الحانی

حضرت داﺅد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت نہایت ہی خشوع خضوع سے کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنی نفلی عبادات کا دستور بنا رکھا تھا اور اس پر مستقل مزاجی سے اس پر قائم رہتے تھے۔ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ اس طرح ہمیشہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھتے رہے۔ اور رات کا ایک حصہ عبادت کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ تر نماز حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔ اور پسندیدہ ترروزے بھی آپ علیہ السلام کے ہیں اور پسندیدہ تر عبادت بھی حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔“ان تمام خوبیوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت ہی دلکش آواز سے بھی نوازا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام اتنے اچھر انداز سے اپنی دلکش آواز میں زبور کی تلاوت فرماتے تھے کہ آپ علیہ السلام کی خوش الحانی کو سن کر انسان تو حیرت اور سکتہ میں مبتلا ہو ہی جاتے تھے اور خاموشی سے بت بن کر زبور کی تلاوت سننے لگتا تھا ۔ انسانوں کے علاوہ جانور اور پرندے بھی آپ علیہ السلام کی دلکش آواز سن کر آپ علیہ السلام کے اطراف جمع ہو جاتے تھے۔ اور وہاں سے ہٹنے کا نا م ہی نہیں لیتے تھے۔ اور جب تک آپ علیہ السلام تلاوت کرتے رہتے تھے تب تک اُن کے پاس ہی جمع رہتے تھے۔ یہ تو انسانوں، جانوروں اور پرندوں کی بات ہوئی ۔ آپ علیہ السلام کی آواز اتنی دلکش تھی اور تلاوت اتنے اچھے انداز میں کرتے تھے کہ پہاڑ بھی وجد میں آجاتے تھے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے۔

پہاڑوں کی تسبیح کا معجزہ

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ترجمہ ” اور داﺅد ( علیہ السلام )کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے۔ جو تسبیح کرتے تھے اور پرند بھی ( تسبیح کرتے تھے) اور ہم ہی کرنے والے تھے۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر79) اللہ تعالیٰ نے سورہ سباءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے داﺅد (علیہ السلام )پر اپنا فضل کیا۔ ( اور فرمایا) اے پہاڑو، اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی ( یہی حکم دیا) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کر دیا۔“ (سورہ سباءآیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان ( کافروں) کی باتوں پر صبر کریں۔ اور ہمارے بندے داﺅد (علیہ السلام )کو یاد کریں۔ جو بڑی قوت والا تھا۔ بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اسکے تابع کر رکھا تھا کہ اسے شام کو او رصبح کو تسبیح خوانی کریں۔ اور پرندے جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے تھے۔ “ ( سورہ ص ٓآیت نمبر17سے 19تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام )پر اپنا فضل کیا۔ “فضل کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں۔ اس سے مراد وہ خاص صفات ہیں جو دوسروں سے زائد ان کو عطا کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی و رسول کو بعض خاص امتیازی صفات عطا فرمائی ہیں جو ان کی مخصوص فضیلت سمجھی جاتی ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کی مخصوص صفات یہ تھیں کہ ان کو اپنی نبوت و رسالت کے ساتھ ساتھ سلطنت و حکومت بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ اور خوش کُن آواز کی ایسی صفت عطا فرمائی تھی کہ جب آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر یا زبور کی تلاوت میں مشغول ہوتے تو ہر پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے سننے کو جمع ہو جاتے تھے۔ اور پہاڑ بھی وجد میں آکر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ پہاڑوں کی یہ تسبیح جو وہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے ساتھ کرتے تھے اس عام تسبیح کے علاوہ ہے جس میں تمام کل مخلوقات شریک ہیں۔ اور جوہر جگہ ہر وقت ہر زمانے میں تمام مخلوقات کرتی رہتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ (ترجمہ ) ”دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی تسبیح نہ پڑھتی ہو۔ مگر تم اس کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔“یہاں اللہ تعالیٰ جس تسبیح کاذکر فرما رہے ہیں وہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے ظاہر ہے کہ ا س تسبیح کو عام سننے والے بھی سنتے اور سمجھتے ہوں گے۔ ورنہ پھر یہ معجزہ ہی نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کی آواز کے ساتھ پہاڑوں کا آوازملانا اور تسبیح دہرانا بازگشت کے طور پر نہیں تھا۔ جیسا کہ عام طور سے گنبد یا کنویں وغیرہ میں آواز دینے سے لوٹ کر آواز آتی ہے۔ بلکہ باقاعدہ صاف طور پر پہاڑوں کے تسبیح کرنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی تمنا

حضرت داﺅد علیہ السلام نے اپنی زندگی کے تین حصے کر رکھے تھے۔ ایک دن حکومت کے تمام معاملات حل کرتے تھے۔ دوسرے دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ اور تیسری دن اپنے گھر والوں یعنی بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ آپ علیہ السلامنے توریت اور زبور میں اپنے آباﺅ اجداد یعنی حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے بارے میں پڑھا۔ اور ان کے مراتب ملا خطہ فرمائے۔ یعنی یہ دیکھا کہ ان بزرگوں کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا مرتبے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلامنے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، ساری بھلائی اور فضیلتیں تو میرے آباﺅ اجداد لے گئے ہیں۔اے اللہ مجھے بھی وہ عطا فرما دے جو تو نے انہیں عطا فرمایا ہے۔ اور میرے ساتھ بھی وہ معاملہ کر جو ان کے ساتھ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ میں نے ان نیک بندوں کو آزمائشوں میں مبتلا کیا تھا۔ ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کو قربانی کے ذریعے آزمایا۔ اور یوسف علیہ السلام کو بھائیوں کے ذریعے آزمایا۔ وہ سب ان آزمائشوں میں کامیاب ہوئے تو انہیں یہ مراتب عطا فرمائے اور ابھی ہم نے تمہاری ایسی کوئی شدید آزمائش نہیں لی ہے۔ آپ علیہ السلامنے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، میری بھی آزمائش لے جو میرے آباﺅ اجداد کی لی تھی۔ اور اگر میں کامیاب ہو ا تو مجھے بھی ہو سب عطا فرما۔ جو میرے بزرگوں کو عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ صبر کرو ، میں تمہاری بھی آزمائش لوں گا۔

حضرت داﺅد علیہ السلامکی دلکش کی آواز کا اثر

حضرت داﺅد علیہ السلامکو اللہ تعالیٰنے اتنی دلکش آواز عطا فرمائی تھی کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور اور پرنے اور پہاڑ بھی مسحور ہو جاتے تھے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت دلکش اور انتہائی دل نشین آواز سے نوازا تھا۔ کہ ایسی آواز کسی اور انسان کو عطا نہیں کی گئی۔ جب آپ علیہ السلام زبور کی تلاوت کرتے تھے تو خوش الحانی کے اثر سے پرندے سر پر آکر ٹھہر جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کی آواز میں اپنی آواز ملا کر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اور اسی پر بس نہیں ہوتا تھا بلکہ تمام پہاڑ بھی آپ علیہ السلام کے اور پرندوں ساتھ مل کر وجد میں آجاتے تھے۔ اور آواز میں آواز ملا کر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اور پہاڑ اور پرندے صبح و شام آپ علیہ السلام کے ساتھ مل کر تسبیح کرتے رہتے تھے۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو حسن صوت کی دولت سے اس قدر نوازا تھا کہ کوئی شخص اس طرح نوازا نہیں گیا ہوگا۔ حتیٰ کہ پرندے اور جانور آپ علیہ السلام کی آواز سننے کے لئے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے تھے۔ وہ بھوک اور پیاس سے مرنا پسند کرتے تھے لیکن آپ علیہ السلام کے پاس سے ہٹنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اور اسی طرح پورا دن لحنِ داﺅدی سننے میں مست و بخود ہو کر گزار دیتے تھے۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہٰں کہ جب کسی انسان کے کان میں آپ علیہ السلام کی آواز پڑ جاتی تھی تو وہ اتنا وجد میں آجاتا تھا کہ اچھلنے کودنے لگتا تھا۔ آپ علیہ السلام زبور کی آیات کو ایسی خوب صورت آواز میں تلاوت فرماتے تھے کہ ایسی آواز کی مثال نہیں ملتی ہے۔ جنات اور انسان، چرند و پرند سب آپ علیہ السلام کی آواز سننے کے لئے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے بعض تو بھوک کی وجہ سے مر جاتے تھے۔ ( مگر ہٹنا پسند نہیں کرتے تھے)

فیصلہ کی قوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اس کی ( حضر ت داﺅد علیہ السلام کی ) سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا۔ اور اسے حکمت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور بات کو فیصلہ ( کرنا بھی ) سمجھا دیاتھا۔ “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر20) علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کر دی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اور فو ج اس قدر تھی کہ ہر رات تینتیس33ہزار فوجی پہرہ دیتے تھے۔ لیکن اس کے بعد سال بھر تک پھر ان کی باری نہیں آتی تھی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے تھے۔ ( اور بات کا فیصلہ کرنا بھی سمجھا دیا کہ تشریح میں لکھتے ہیں کہ ) ایک روایت میں ہے اُن کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں نے مقدمہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا ۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کر لی ہے ۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے مدعی سے دلیل طلب کی تو وہ کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اچھا کل اس مقدمے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ رات کو حضرت داﺅد علیہ السلام کو خواب میں حکم ہواکہ دعوے دار کو قتل کردو ۔ صبح آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلوایا۔ ( لیکن جس پر الزام تھا وہ نہیں ملا اور صرف مدعی آیا) آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ مدعی کو قتل کر دیا جائے۔ اس نے کہا اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، میرے قتل کا حکم دیا جا رہا ہے۔ جب کہ میری ہی گائے چوری ہو ئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اور اس کا ٹل جانا ناممکن ہے۔ تب اس نے کہا۔ اے اللہ کے علیہ السلام ، میں اپنے دعوے میں تو سچا ہی ہوں اور اسی نے میری گائے چرائی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں دیا ہے بلکہ اس کی دوسری وجہ ہے جو صرف میں ہی جانتا ہوں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ آج ( رات) دھوکے سے میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ ( یعنی گائے چور کو) اسی کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو قصاص کا حکم دیاہے۔ آخر کار اسے قتل کر دیا گیا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہیئت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

07 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام Story of Prophet Samuel and Dawood



07 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 7

بہترین خطیب

حضرت داﺅد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت بہترین تقریر یعنی خطاب کرنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور آپ علیہ السلام بہترین خطیب بھی تھے۔ سورہ ص ٓ کی آیت نمبر 20کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ واتینٰہُ الحکمة و فَصَل الخطاب ۔ ( اور ہم نے ان کو حکمت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی) حکمت سے مراد تو دانائی ہے یعنی ہم نے انہیںعقل و فہم کی دولت بخشی تھی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا حکمت سے مراد نبوت ہے۔ اور ”فصل الخطاب “ کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد زور بیان اور قوت خطابت ہے کیوں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام بہت اونچے درجے کے خطیب تھے۔ اور خطبوں میں حمد و صلوٰة کے بعد لفظ ”اما بعد“ سب سے پہلے آپ علیہ السلام نے ہی کہنا شروع کیا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے بہترین قوتِ فیصلہ مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جھگڑے چکانے اور تنازعات کا فیصلہ کرنے کی قوت عطافرمائی تھی۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی مثال

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی آیت نمبر20میں دنیا کے تمام حکمرانوں اور بادشاہوں کے سامنے حضرت داﺅد علیہ السلام کی مثال بیان فرمائی ہے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ کہ رسول اللہ علیہ السلام سے خطاب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کافروں ( مکہ مکرمہ کے کفار سرداروں) اور مشرکین کی باتوں پر صبر کریں اور اپنی معمولی معمولی سرداریوں پر ناز کر کے سچائیوں کا انکار کرنے والوں کو حضرت داﺅد علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں بتائیں۔ ان کی سلطنت اور قوت کا حال انہیں سنائیں اور پھر ان کو یہ بتائیں کہ اتنی بڑی سلطنت کے حکمراں یا بادشاہ ہونے کے بعد بھی آپ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ سب سے اچھی مثال حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔ جو (1) صبر سے کام لیتے تھے۔ (2) صرف اللہ کی طرف دھیان لگائے رہتے تھے۔ (3) وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں لگے رہتے تھے۔ (4) ان کی سلطنت ایک مضبوط اور مستحکم حکومت تھی۔ ہر طرف ان کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اور سب پر ان کا حکم چلتا تھا۔ (5) ان کے پاس ایک بہت بڑی فوج تھی۔ (6) وہ نہایت ذہین اور ذکی تھی۔ اور ہر بات کی تہہ تک پہنچ جایا کرتے تھے۔ (7) جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تو وہ ا س کا بہترین فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ (8) وہ ہر بات کو اتنے اس طرح صاف طور پر سمجھاتے تھے کہ سننے والے کے دل میں شک و شبہ بالکل نہیں رہتا تھا۔ (9) آپ علیہ السلام سلطنت کا کاروبار نہایت دیانت، امانت ، دانائی اور ہوشیاری سے کرتے تھے۔ (10) وہ ہر وقت اللہ کی بندگی اور عبادت میں رہتے تھے۔ 

حضرت داﺅد علیہ السلام کی آزمائش

اللہ تعالیٰ سے حضرت داﺅد علیہ السلام نے درخواست کی تھی کہ میرے آباﺅ اجداد حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کی طرح میری بھی آزمائش لے۔ اور میں اس آزمائش میں پورا اتنے کی کوشش کروں گا۔ اورمیں کامیاب ہو گیا تو کیا میرے آباﺅ اجداد کی طرح مجھے بھی فضیلتیں عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عنقریب ( بہت جلد) ہم تمہاری آزمائش لیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اپنے دل میں طے کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ آزمائش میں مبتلا کریں گے تو انشاءاللہ میں اس پر پوری طرح کامیاب ہونے کی کوشش کروں گا۔ اور آپ علیہ السلام سے فرمایا۔ کہ عنقریب آپ علیہ السلام کو آزمایا جائے گا۔ اوراس روز عبادت کا دن تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے عبادت کرنے والے حجرے میں آگئے ۔ دروازے پر منصف کو بٹھا دیا ور اسے حکم دیا کہ آج کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہیں دینا۔ اور عبادت گاہ کا دروازہ بند کر کے آپ علیہ السلام زبور کی تلاوت کرنے بیٹھ گئے۔ آپ علیہ السلام کی خوش الحانی کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور پرندوں کا ٓپ علیہ السلام کے پاس آنا عام بات تھی۔ ابھی آپ علیہ السلام تلاوت میں مصروف ہی تھے کہ روشن دان سے ایک انتہائی خوبصورت پرندہ اندر آیا اور آپ علیہ السلام کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ اور دھیرے دھیرے قریب ہونے لگا۔ یہ ایک سنہری پرندہ تھا اور جتنی خوبصورتی بھی ہو سکتی تھی وہ سب اس پرندہ کے اندر تھی۔ اور دیکھنے میں ایسا لگتا تھا کہ مسلسل اس پرندے کا رنگ بدل رہا ہے۔ اس میں ہر رنگ تھا۔ تلاوت کے دوران آپ علیہ السلام کی نظر اس پرندے پر پڑی تو وہ انتہائی خوبصورت دکھائی دیا۔ اور وہ اتنا قریب تھا کہ اسے دیکھتے ہی آ پ علیہ السلام نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھونا چاہا تو وہ اڑ گیا۔ آپ علیہ السلام نے بیٹھے بیٹھے نگاہوں سے اس کا پیچھا کیا کہ کہا ں جا کر بیٹھتا ہے؟ وہ کھڑکی پر جا کر بیٹھا۔ اور پھر اڑ کر باہر چلا گیا۔ اسی وقت آپ علیہ السلام کی نظر ایک خوبصورت عورت پر پڑی جو اپنے گھر کی چھت پر کسی کام میں مصروف تھی۔ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے دل میں خیال آیا کہ اس عورت سے نکاح کیا جائے۔

عجیب مقدمہ 

حضرت داﺅد علیہ السلام نے اُس عورت کے متعلق سوچنے میں کئی دن گزار دیئے ۔ پھر ایک دن آپ علیہ السلام عبادت میں مشغول تھے کہ اچانک دو آدمی آپ علیہ السلام کے حجرتے ( عبادت گاہ) میں داخل ہوئے اور ایک عجیب مقدمہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور کیا تمہیں جھگڑنے والوں کی خبر ملی؟ جب وہ دیوار پھاند کر محراب (عبادت کے حجرے) میں آگئے تھے۔ جب یہ ( دونوں ) داﺅد علیہ السلام کے پاس پہنچے تو یہ گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا۔ گھبرائیے نہیں ہم دونوں آپ علیہ السلام کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ اور ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمادیں۔ اور ہمیں صحیح راستہ بتا دیں۔ یہ میرا بھائی ہے اور اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں۔ اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ لیکن یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ایک بھی مجھے دے دے۔ اور اس کے لئے مجھ پر زبردستی بھی کرتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بے شک تیرے اوپر ظلم ہے۔ اور اکثر حصہ دار اور شریک ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے۔ اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے۔ پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور رجو ع کیا۔( سورہ ص ٓ آیت نمبر21سے 24)

حضرت داﺅد علیہ السلام کا رجوع

حضرت داﺅد علیہ السلام کی آزمائش اور رجوع کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کہ جب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ جیسی شان میرے آباﺅ اجداد کو عطا فرمائی گئی ہے ویسی ہی شان مجھے بھی عطا فرما ئی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں نے انہیں ایسی آزمائش میں ڈالا تھا جیسی آزمائش میں ابھی تج تمہیں نہیں ڈالا ہے۔ اگر تم چاہو تو تمہیں بھی آزمائش میں مبتلا کروں اور جب تم کامیاب ہو جاﺅ تو تمہیں بھی ویسی ہی شان عطا فرماﺅں ۔ جیسی تمہاری آباﺅ اجداد کو عطا فرمائی ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، بے شک میری بھی اسی طرح آزمائش لیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم عمل کرتے جاﺅ عنقریب تمہاری آزمائش لی جائے گی۔ اس کے بعد کافی عرصہ گزر گیا اور اتنا وقت گزر گیا کہ آپ علیہ السلام آزمائش کی بات کو لگ بھگ بھول سے گئے ۔ یعنی ذہن سے یہ بات محو ہو گئی کہ کسی وقت بھی اچانک میری آزمائش لی جا سکتی ہے۔ ایسے وقت میں اس خوبصورت پرندے کا اور عورت پر نظر پڑنے کا واقعہ پیش آیا۔ آپ علیہ السلام ابھی اسی غورو فکر میں تھے کہ ایک دن جو آپ علیہ السلام کی عبادت کا دن تھا اور اس دن کسی کو بھی آپ علیہ السلام سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھا کہ آپ علیہ السلام جس معاملے میں پڑے ہوئے ہیں تو اس معاملہ کو نافذ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اور جب حضرت فاﺅد علیہ السلام اپنی عبادت گاہ میں مشغول تھے کہ اچانک دو فرشتے انسانی شکل میں دیوار پھلانگتے ہوئے اور پہریداروں کو چکمہ دیتے ہوئے عبادت گاہ میںداخل ہو گئے۔ جب آپ علیہ السلام عبادت سے فارغ ہوئے تو ان دو افراد کو دیکھ کر چونک گئے اورپریشان ہو گئے کہ اتنے پہریداروں کی موجودگی میں یہ دونوں یہاں تک کیسے آگئے؟ تو انہوں نے فوراً کہا کہ ہمارا فیصلہ کر دیں تو آپ علیہ السلام کی بڑی مہربانی ہو گی۔ اور پھر بھیڑوں کا مقدمہ پیش کیا۔ آپ علیہ السلام نے ایک بھیڑ والے سے فرمایا تو اپنی بھیڑ کا زیادہ مستحق ہے اور تیرے ساتھی نے تجھ سے بھیڑ مانگ کر تیرے اوپر ظلم کیا ہے۔ یہ فیصلہ سن کر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے ان کی کیفیت دیکھی تو سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اسی لئے تمام پہرے کو توڑ کر یہاں تک پہنچ گئے۔ اور سمجھ گئے کہ یہ مقدمہ میری آزمائش ہے۔ آپ علیہ السلام فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس عورت کے بارے میں اپنے خیال پر معافی مانگنے لگے۔ اور چالیس دنوں تک اسی حالت میں روتے رہے کہ آپ علیہ السلام کے آنسوﺅں سے سبزہ اُگ آیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام چالیس دن اور رات سجدہ میں رہے۔ اور سر نہیں اٹھاتے تھے۔ صرف فرض نماز کے لئے سر اٹھاتے تھے۔ یہاں تک کہ آنسو خشک ہو گئے اور پیشانی ، ہتھیلیاں اور گھٹنے زخمی ہو گئے۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بشارت دی کہ تم آزمائش میں کامیاب ہو گئے۔

وہ دونوں فرشتے تھے

حضرت داﺅد علیہ السلام نے ایک نظر صرف اس عورت کو دیکھا اور اس کے بعد اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ اور صرف اس سے نکاح کے بارے میں سوچا اور اس پر عمل نہیں کیا تھا۔ بلکہ غور و فکر کر رہے تھے کہ ان دونوں افراد کے مقدمہ کا واقعہ پیش آیا۔ کسی کے خیال پر اللہ تعالیٰ نے گرفت نہیں فرمائی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے اس میں بھی احتیاط برتتے ہیں۔ اسی لئے حضرت داﺅد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو معصوم بنایا ہے۔ اور وہ غلطی نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ غلطیوں سے پاک ہوتے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اُن دونوں افراد پر غور سے نظر ڈالی تو پہچان لیا کہ یہ انسانی شکل میں فرشتے ہیں علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ علمائے کرام کی ایک جماعت کا قول ہے کہ وہ دونوں فرشتے تھے۔ اور علمائے کرام کی ایک جماعت نے بتایا کہ وہ دونوں جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔ ایک قول میں یہ ہے کہ وہ دوانسانی شکل میں فرشتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کو حضرت داﺅد علیہ السلام کی عبادت کے دن ان کے پاس بھیجا۔ وہ دونوں آپ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت نماز میں مشغول تھے۔ اسی لئے ان کی آمد کو محسوس نہیں کیا اور وہ دونوں ایک طرف بیٹھ کر نماز مکمل ہو نے کا انتظا رکرنے لگے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

08 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام Story of Prophet Samuel and Dawood



08 حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

قسط نمبر 8

اللہ کے خلیفہ 

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے داﺅد (علیہ السلام )ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا۔ ( تاکہ ) تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔ “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر26) اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اور سلطنت و حکومت بھی عطا فرمائی تھی۔ اہل کتاب یعنی یہودیوں ( بنی اسرائیل ) اور عیسائیوں ( نصاریٰ) نے بائیبل یعنی توریت اور انجیل میں خرد برد کر کے ملاوٹ کر دی ہے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی شان میں نعوذ باللہ بہت سی گستاخیاں کی ہیں۔ ان میں سے ایک گستاخی یہ تھی ہے کہ آپ علیہ السلام نعوذ باللہ نبی نہیں تھے۔ اور صرف بادشاہ تھے۔ ان بد بختوں کی اس گستاخی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے۔ مولانا مفتی آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ہیں۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل کر کے آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کی آنکھ کا تارا بن گئے تھے۔ حضرت طالوت جن کی سربراہی میں جالوت کے زبردست لشکر کو مٹھی بھر مسلمانوں نے بد ترین شکست دے کر میدان سے بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی شجاعت و بہادری ، تقویٰ اور پرہیز گاری کو دیکھ کر ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا تھا۔ حضرت طالوت کے انتقال کے بعد آپ علیہ السلام نے نظام حکومت کو سنبھالا اور بڑی تیزی سے کفار و مشرکین کو شکست پر شکست دے کر بنی اسرائیل کی عظیم مملکت کی بنیاد رکھ دی۔ یہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی عظمت ہے کہ آپ علیہ السلام نبی اور رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انصاف پسند حکمراں ، بادشاہ اور اصول پسند انسان تھے۔ جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت تعریف فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک ایسا نظام بنا رکھا تھا کہ چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا وقت نہیں ہوتا تھا۔ جس میں حضرت داﺅد علیہ السلام اور آل داﺅد میںکوئی نہ کوئی اللہ کی عبادت و بندگی میں مشغول نہ ہوتا تھا۔ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ تیسرے دن کو اپنے گھر والوں کے لئے مخصوص کر رہا تھا۔ آپ علیہ السلام کے اصول اتنے مضبوط تھے کہ اس کے خلاف کسی بات کو پسند نہ فرماتے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام اپنے محل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول تھے۔ چاروں طرف پہرے دار موجود تھے کہ دو آدمی دیوار پھاند کر اندر آگئے اور آپ علیہ السلام کی خدمت میں دنبیوں یا بھیڑوں والا مقدمہ پیش کیا۔ آپ علیہ السلام نے نرمی اور صبر سے ان کا مقدمہ سن کر فیصلہ فرمایا اور وہ دونوں چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد آپ علیہ السلام سوچنے لگے کہ اتنے زبردست پہرے کے باوجود دو آدمیوں کا اچانک ان کی خلوت گاہ اور عبادت گاہ میں آجانا اور بڑی بے باکی سے انصاف کا طلب کرنا بڑا عجیب واقعہ ہے۔ ایک دم آپ علیہ السلام کو احساس ہوا کہ شاید یہ دونوں اللہ کی طرف سے میری آزمائش کے لئے بھیجے گئے تھے۔ ممکن ہے مجھے اپنی سلطنت ، فوج، مال و دولت اور عبادت پر فخر اور ناز ہو گیا ہو۔ او راللہ تعالیٰ نے مجھے آگاہ کرنے کے لئے ان کو بھیجا ہو کہ ہزار پہروں کے باوجود یہ اللہ کی قدمت تھی کہ دو اجنبی اندر داخل ہو گئے تھے جیسے ہی آپ علیہ السلام اس نتیجے تک پہنچے تو نہایت عاجزی سے سجدے میں گر پڑے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے۔ اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ جس کو بندوں کی عاجزی و انکساری بہت پسند ہے اس نے آپ علیہ السلام کو آزمائش میں کامیابی کی بشارت دی اور فرمایا ۔ اے داﺅد علیہ السلام بے شک ہم نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا ہے۔ تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف سے فیصلے کرو۔

یہودیوں ( بنی اسرائیل) کے حضرت داﺅد علیہ السلام پر الزامات

اللہ تعالیٰ یہودیو ں یعنی بنی اسرائیل پر بہت ساری مہربانیاں کیں۔ لیکن بد بخت لوگ مسلسل گمراہیوں اور نافرمانیوں میں مبتلا رہے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں بہت سی گستاخیاں کی ہیں۔ ان کی طرف ایسی ایسی باتیں ان مقدس اور معصوم انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کیں ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ دوزخ کے مستحق بن گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کی گستاخیوں ،گمراہیوں ، ہٹ دھرمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار اور انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل کرنے کے بارے میں قرآن پاک میں کئی جگہ بتایا ہے۔ یہاں ہم صرف دو آیات پیش کر رہے ہیں ۔ اس سے ان بد بخت یہودیوں کی اصلیت سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ” اور بے شک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کو کتاب دی۔ اور انکے پیچھے اور بھی رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام ) کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی۔ لیکن جب کبھی تمہارے ( بنی اسرائیل یعنی یہودیوں ) پاس رسول وہ چیز لائے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی۔ تو تم نے جھٹ سے تکبر کیا۔ پس بعض ( انبیائے کرام) کو جھٹلادیا۔ اور بعض ( انبیائے کرام) کو قتل بھی کر ڈالا۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر87) اس کے بعد آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ترجمہ ” اور جب ان سے (بنی اسرائیل سے )کہا جاتا ہے کہ الہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب ( قرآن پاک) پر ایمان لاﺅ تو کہتے ہیں کہ جو ہم پر اتاری گئی ہے ( توریت) اس پر ہمارا ایمان ہے۔ حالانکہ اس کے بعد والی کتاب کے ساتھ جو اُن کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اس سے کفر کرتے ہیں۔ اچھا ان سے یہ تو دریافت کریں کہ اگر تمہارا ایمان پہلی والی کتابوں پر ہے۔ تو پھر تم نے اگلے انبیائے کرام کو کیوں قتل کیا؟ (سورہ البقرہ آیت نمبر91) ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں یعنی بنی اسرائیل کی گمراہیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں ایک یہ ہے کہ یہ لوگ انبیائے کرام کو جھٹلاتے تھے اور ان پر الزامات لگاتے تھے۔ ان بد بختوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار کر دیا۔ دوسری خرابی یہ بتائی کہ یہ بد بخت لوگ اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ جیسا کہ تمام کائنات کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ اوپر سے پتھر گرا کر اور ایک مرتبہ زہر دے کر نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان بد بخت یہودیوں نے اپنی کتاب توریت میں اپنی طرف سے بہت سی جھوٹی باتیں شامل کر دی ہیں۔ اور نعوذ باللہ انبیائے کرام علیہم السلام پر بہت گھناونے الزامات لگائے ہیں۔ جب کہ انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہیں۔ در اصل یہ لوگ ان بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کو انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کر کے اپنے گناہوں کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام پر بھی ان بد بختوں نے گھناﺅنے الزامات لگائے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ یہودی آپ علیہ السلام کو صرف بادشاہ مانتے ہیں اور دوسرا الزام یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس عورت کے بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے۔ تو آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) اس کے شوہر کو جنگ میں آگے رکھ کر قتل کر وا دیا اور اس عورت سے نکاح کر لیا۔ یہ آپ علیہ السلام پر بہت بڑا الزام اور تہمت ہے۔ یہ بد بخت بنی اسرائیل انبیائے کرام پر صرف الزامات ہی نہیں لگاتے تھے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل بھی کر دیتے تھے۔ ہمیں ان اسرائیلی روایات پر توجہ نہیں دینا چاہیئے۔ اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام معصوم اور مقدس ہیں۔

بیت المقدس کے لئے جگہ کا انتخاب

حضرت داﺅد علیہ السلام نے یروشلم فتح کرنے کے بعد اسے دارالخلافہ بنایا۔ اور تابوت سکینہ کو لا کر وہیں رکھ دیا۔ یروشلم میں ہی آپ کا محل تھااور اس محل میں عبادت گاہ تھی۔ اسی عبادت گاہ کی محراب میں سے کود کر دونوں فرشتے آئے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ رات کا آخری پہر تھا اور لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ عبادت کے درمیانی وقفے میں آپ علیہ السلام تھوڑا آرام فرما رہے تھے اور تازہ ہوا کے لئے کھڑکی کے قریب آکر کھڑے ہو گئے اور ہر طرف طائرانہ نگاہ ڈال کر جائزہ لینے لگے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ بستی سے کچھ دور پر ایک چٹان پر سے فرشتے اپنی تلواروں کو نیاموں میں رکھے آسمان کی طرف ایک سیڑھی کے ذریعے بلند ہو تے جا رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے ارادہ بنایا کہ اس چٹان کے پاس مسجد تعمیر کی جائے۔ اس چٹان کا نام اس دن سے ”چٹان داﺅدی“ پڑ گیا۔ آپ علیہ السلام نے چٹان داﺅدی کے پاس بیت المقدس کی بنیاد رکھی۔ اور مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ یہ بنی اسرائیل کا مرکزی مقام یعنی مرکزی مسجد ہو گی۔ لیکن تم اس کی تعمیر مکمل نہیں کر سکو گے بلکہ اس کی تعمیر تمہارا بیٹا سلیمان علیہ السلام کرے گا۔ جو تمہارے بعد بنی اسرائیل کا نبی بھی ہوگا اور بادشاہ بھی ہوگا۔

آخرت میں خوش الحانی

اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ”یقینا وہ ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں“۔ (سورہ ص ٓ آیت نمبر25) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بڑا اور بہت عظیم مرتبہ ہے۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت بڑا مرتبہ عطا فرمایا۔ اور آخرت میں بھی بہت عظیم مرتبہ عطا فرمائے گا۔ اور دنیا میں بھی بہت اچھا ٹھکانہ عطا فرمایا تھا اور آخرت میں بھی بہت عالیشان ٹھکانہ عطا فرمائے گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت مالک بن دینا ر رحمتہ اللہ علیہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں وہ عالیشان ٹھکانہ اس طرح عطا فرمائے گا کہ قیامت کے روز حضرت داﺅد علیہ السلام ”پایہ بخشش“ کے پاس تشریف فرما ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا۔ اے داﺅد (علیہ السلام )آج اُسی طرح خوش الحانی سے اپنی مترنم آواز سے میری مدح و ستائش یعنی تعریف بیان کرو جیسے تم دنیا میں خوش الحانی سے میری حمد اور تسبیح کیا کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام فرمائیں گے۔ اے اللہ تعالیٰ، اے سب جہانوں کے رب، اب یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیوں کہ آپ نے میری وہ آواز مجھ سے واپس لے لی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ آج وہ آواز میں تمہیں واپس لوٹا تا ہوں۔ اس کے بعد جب حضرت داﺅد علیہ السلام بلند آوا ز سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں گے تو تمام جنتی اتنے مسحور ہو جائیں گے کہ جنت کی تمام نعمتیں انہیں ہیچ محسوس ہوں گی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دانشمندی

حضرت داﺅد علیہ السلام نے لگ بھگ چالیس 40سال یا اس سے کچھ زیادہ سالوں تک بنی اسرائیل پر حکومت کی۔ اس دوران تمام بنی اسرائیل کے قبائل متحد رہے اور اسلامی احکامات پر کار بند رہے۔ پوری سلطنت میں خوش حالی تھی اور امن و امان کا دور دورہ تھا۔ عوام بہت سکون اور چین سے رہ رہی تھی۔ آپ علیہ السلام کے دور نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل بہت عروج پر آگئے تھے۔ اور آس پاس کے تمام حکمراں آپ علیہ السلام کی سلطنت کی برتری تسلیم کر چکے تھے۔ یوں سمجھ لیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل اس وقت کے سوپر پاور بن گئے تھے۔ اور اس عروج کو انتہائی بلندی حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور نبوت اور حکومت میں حاصل ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جوان ہو چکے تھے اور اپنے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام کے دربار میں بیٹھے تھے۔ اور اپنے والد محترم کے مقدمات کے فیصلوں کو دیکھتے اور سمجھتے رہتے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی نوجوانی کے وقت میں ہی بے مثال دانشمندی کا مظاہر ہ کیا ۔ اور اپنے بیٹے کی دانشمندی کی داد والد محترم نے بھی دی۔ ان میں سے دو مقدمے قابل ذکر ہیں۔ ایک مقدمہ دو عورتوں اور ایک بچے کا تھا۔ اور دوسرا مقدمہ کھیت اور بکریوں والے کا تھا۔ ان دونوں مقدمات کے جو فیصلے والد محترم نے دیئے تھے ان پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے انتہائی ادب سے جرح کی۔ اور والد محترم سے اجازت مانگی کہ میں پھر سے جرح کرنا چاہتا ہوں۔ والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام نے اجازت دے دی۔ اور آپ علیہ السلام نے دونوں مقدمات میں اتنے درست فیصلے دیئے کہ والد محترم بھی عش عش کر اٹھے۔ ان دونوں مقدمات کا تفصیلی ذکر انشاءاللہ ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر

حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر کے بارے میں اکثر علمائے کرام کا قول ہے کہ 100سال تھی۔ بائبل میں آپ علیہ السلام کی عمر 77سال لکھی ہے ۔ لیکن علامہ ابن کثیر نے اسے رد کر دیا ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ بات غلط اور مردود ہے ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو ظاہر فرمایا تو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں انبیائے کرام کو بھی دیکھا۔ ان میں ایک شخص نظر آیا جو بہت وجیہہ تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، اتنا حسین و رعنا جوان یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ تیرا بیٹا داﺅد ( علیہ السلام )ہے ۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا 60سال ہے۔حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں اضافہ فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تمہاری عمر کے چالیس سال اسے دیتا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا میری عمر کتنی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایک ہزار 1000سال ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر 960سال ہوئی تو ملک الموت آئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں۔ اور جو عمر انہوںنے حضرت داﺅد علیہ السلام کو ہبہ فرمائی تھی وہ بھول گئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال پوری کر دی۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر بھی سو100سال پوری کر دی۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کا وصال

حضرت داﺅد علیہ السلام کا وصال اچانک ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بہت غیرت مند انسان تھے۔ جب آپ علیہ السلام اپنے محل سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو پہریدار دروازہ بند کر دیتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں کسی کو اندر داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ ایک دن آپ علیہ السلام باہر تشریف لے گئے اور دروازہ بند کر دیا گیا۔ جب آپ علیہ السلام کی بیوی کمرے سے باہر آئی تو دیکھا کہ محل کے صحن میں ایک شخص کھڑا ہے محل کے اندرونی پہریداروں کو انہوں نے بلایا اور فرمایا۔ محل کے صحن میں یہ کون شخص کھڑا ہے؟ یہ کہاں سے اندر آگیا جب کہ دروازہ بند ہے۔ اللہ کی قسم، ہم حضرت داﺅد علیہ السلام کے سامنے شرمندہ ہو جائیں گے۔ جب آپ علیہ السلام تشریف لائے تو دیکھا کہ محل کے صحن میں ایک شخص کھڑا ہے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ اور کیسے اندر آگئے؟ اس شخص نے کہا۔ میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے مرعوب نہیں ہوتا ہے اور پردے بھی میرا راستہ روک نہیں سکتے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمایا۔ تم ملک الموت ہو جو انسانی شکل میں آئے ہو ۔ اس نے کہا۔ جی ہاں، اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے آیا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم سر آنکھوں پر ، اور وہیں سجدے میں چلے گئے اور اسی حالت میں ملک الموت نے روح قبض کر لی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ملک الموت جب آپ علیہ السلام کی روح قبض کرنے آئے تو آپ علیہ السلام اپنے سے نیچے اتر رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ تھوڑی دیر انتظار کر لو تا کہ میں نیچے اتر جاﺅں یا پھر اپنے حجرے میں چلا جاﺅں۔ ملک الموت نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، وقت پورا ہو چکا ہے۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام وہیں سیڑھیوں پر سجدہ ریز ہو گئے اور اسی حالت میں وصال ہو گیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت

حضرت داﺅد علیہ السلام کے وصال کے بعد ابھی آپ علیہ السلام کو دفن نہیں کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کے علماءاور وزراءکی مجلس شوریٰ منعقد کی گئی اور اس میں متفقہ طور سے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داﺅد علیہ السلام کا جانشین چنا گیا اور بادشاہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت داﺅد علیہ السلام کو دفن کیا گیا۔ آپ علیہ السلام کے جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ ان میں 40ہزار سے زیادہ تو بنی اسرائیل کے علمائے کرام تھے۔ جو اپنی مخصوص ٹوپیوں کی وجہ سے پہچانے جارہے تھے۔ گرمی نے لوگوں کو بہت پریشان کر دیا تھا۔ کیوں کہ اس دن بہت شدید گرمی تھی۔ لوگوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے درخواست کی کہ اس دھوپ اور گرمی سے بچنے کا کچھ انتظام کریں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام میدان میں آئے اور پرندوں کو آواز لگائی۔ اور حکم دیا کہ سایہ کرو۔ ہر طرف سے پرندے آکر سایہ کرنے لگے۔ یہاں تک کہ سوج چھپ گیا پرندے اتنے زیادہ آگئے اور ہر طرف سے گھیر لیا کہ ہوا تک رک گئی۔ لوگوں نے گھٹن کی شکایت کی تو پرندروں کو آپ نے حکم دیا کہ سوج کی طرف سے سایہ کرو اور ہوا کے لئے راستہ چھوڑ دو۔ اور ٹھنڈی ہوا کو حکم دیا کہ لوگوں پر چلے ۔ اب لوگوں پر سایہ بھی تھا اور ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی۔ اور لوگ پہلی مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت کو دیکھ رہے تھے۔

اگلی کتاب

حضرت داﺅد علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

٭........٭........٭

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں