حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام مکمل
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سلسلہ نمبر14
حضرت کالب ، بنی اسرائیل کے سربراہ
حضرت یوشع علیہ السلام کے بعد حضرت کالب بن یوحنا بنی اسرائیل کے سربراہ بنے۔ حضرت کالب کے بارے میں کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ بھی اللہ کے نبی تھے۔ اب حقیقت میں وہ نبی تھے یا نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام لگ بھگ ستائیس 27سال تک بنی اسرائیل کے درمیان رہے۔ اور ملک کنعان کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن پھر بھی کچھ علاقے باقی رہ گئے تھے۔ در اصل اس وقت کا ملک کنعان بہت بڑا تھا۔ اور اس کے اندر فلسطین، اردن ، لبنان اور ملک شام کا بھی کچھ حصہ آتا تھا۔ بعد میں ملک کنعان کے ٹکڑے کر دیئے گئے اور ملک شام میں ضم کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے زمانے میں ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔ کیوں کہ عیسائی یعنی نصاریٰ ، یہودیوں یعنی بنی اسرائیل پر حاوی ہو چکے تھے۔ اور انہیں ملک کنعان سے بھگا دیا تھا۔ اور ملک کنعان کے ٹکڑے کر کے ملک شام میں ضم کر لیا تھا۔ اس وقت عیسائیوں کا مرکز ملک شام تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب ” بیت المقدس“ فتح ہوا تو اس وقت بھی پورا فلسطین ملک شام کا ہی حصہ تھا۔ بعد میں جب عیسائیوں نے مسلمانوں سے فلسطین چھینا تو ملک شام سے اسے الگ کر دیا اور اس طرح فلسطین ، اردن اور لبنان کے ملک وجود میں آگئے اور ملک شام سمٹ گیا۔ یہ بہت ہی مختصر میں ہم نے آپ کو بتا دیا ہے کہ کس طرح ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیاہے ۔ تا کہ آپ کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ اب ہم اسی پرانے ملک کنعان کی طرف واپس چلتے ہیں۔ حضرت کالب بن یوقنہ آپ کو یاد ہوں گے۔ ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے ذکر میں بتایا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کے بارہ نقیب مقرر فرمائے تھے۔ ان میں سے دو حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنہ تھے۔ اور ان بارہ نقیبوں سے راز داری کا عہد لیا تھا ۔ لیکن صرف یہی دو حضرات اپنے عہد میں کامیاب رہے تھے۔ اور اپنے عہد کو مکمل ذمہ داری سے نبھایا تھا۔
حضرت کالب کے دور میں فتوحات
حضرت کالب نے بنی اسرائیل کے انتظامات سنبھال لئے تھے اور بڑی خوبی سے پورے ملک کنعان کا نظم بنائے ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ان علاقوں کی طرف توجہ دی جو ابھی بھی بت پرستوں کے قبضے میں تھے۔ بنو یہودا جس علاقے میں آباد تھے۔ ان کے آس پاس بت پرستوں سے لڑنے کے لئے بنو شمعون کو حضرت کالب نے بلایا اور دونوں قبیلوں کی فوجوں کو ساتھ لے کر کنعانیوں اور فرزیوں پر حملہ کر دیا۔ اور بنرق کے مقام پر دس ہزار بت پرستوں کو قتل کیا۔ اس کے بعد آگے بڑھ کر یروشلم پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد ان کنعانیوں کو شکست دی جو پہاڑی علاقوں ، جنوبی علاقہ اور مغرب کے نشیبی علاقوںمیں آباد تھے۔ وہاں فتح حاصل کرنے کے بعد وہ حبرون میں رہنے والے کنعانیوں پر چڑھ آئے اور سیسی ، اخیمان اور تلمئی کو شکست دی۔ وہاں سے آگے جا کر انہوں نے دبیر کے باشندوں پر حملہ کیا۔ تب حضرت کالب نے اعلان کیا کہ جو شخص دبیر ( قریت سفر) کو فتح کرے گا میں اس کا بیاہ اپنی بیٹی عکسہ سے کردوں گا۔ ان کے بھتیجے عقنی ایل نے دبیر کو فتح کیا تو حضرت کالب نے اسے اپنا داماد بنا لیا۔ اس کے بعد حضرت کالب نے بنو شمعون کے آس پاس آباد بت پرستوں پر حملہ کیا۔ اور صفت کے تمام کنعانیوں کو قتل کر دیا۔ اسی لئے اس شہر کا نام حُرمہ پڑا۔ اس کے بعد غزہ( غازہ) اسقلون اور عقرون شہروں پر قبضہ کرلیا۔
بُت پرست قوموں کے اثرات
حضرت کالب کے دور میں پورا ملک کنعان فتح ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل سکون سے رہنے لگے۔ لیکن انہوں نے ملک کنعان میں رہنے والی بت پرست قوموں کو نہیں نکالا اور ان کے ساتھ رہنے لگے۔ بنو بن یامن یروشلم میں رہنے والے ببوسیوں کے ساتھ رہنے لگے اور انہیں بیگاری کے کام پر لگا دیا ۔ بنو منسی نے بھی کنعانیوں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اسی طرح بنو افرائیم نے بھی جنرریوں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اسی طرح اُموری بھی ملک کنعان میں ہی رہے۔ اور پورے ملک کنعان میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبائلوں نے یہی کام کیا کہ مفتوح قوموں کو اسلام کی دعوت نہیں دی اور انہیں ان کے مذہب پر ہی قائم رہنے دیا۔ اور مفتوح قوموں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے اندر دھیرے دھیرے اپنے ساتھ رہنے والی قوموں کے اثرات لاشعوری طور سے قبول کرتے رہے۔ جب تک حضرت کالب بن یوقنہ ان کے درمیان رہے تب تک ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ اور ان سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ان کے وصال کے بعد تو بنی اسرائیل آزادی محسوس کرنے لگے۔ پھر بھی وہ نسل اسلام پر قائم رہی لیکن جو نئی نسل پیدا ہوئی وہ مفتوح قوموں کے بچوں کے ساتھ کھیل کود کر بری ہوئی اور ان کے رسم و رواج اور مذہبی رسوموں سے متاثر ہوتی رہی۔ اسی لئے جب ان کے سب بزرگ ختم ہو نے لگے اور اس نئی نسل نے ملک کا انتظام سنبھالا تو یہ بھی مفتوح قوموں کی طرح بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ اور اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر بعل دیوتاﺅں کی پوجا کرنے لگے۔ اور دھیرے دھیرے بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبائل بت پرستی میں مبتلا ہو گئے اور بعل اور عستارات کی پوجا کرنے لگے۔
بنی اسرائیل پر ظالم بادشاہ مسلط
اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل نے اسلام پر قائم رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اس عہد کو انہوں نے توڑ دیا اور بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ وہ کنعانیوں ، حقیوں ، اموریوں ، فرزیو ں ، حویوں اور ببوسیوں کے رسم و رواج پر عمل کرنے لگے۔ اور ان کی کافر بیٹیوں سے اپنے بیٹوں اور اُن کے کافر لڑکوں سے اپنی لڑکیوں کا بیاہ کرنے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بھول کربعل اور عستارات پیرتوں کے بتوں کی عبادت کرنے لگے اور ان سے مانگنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اوپر ظالم حکمراں کو مسلط کر دیا۔ مسوپتا میہ کا حکمراں کوشن رسعتیم بہت ہی ظالم اور بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ اس نے ملک کنعان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور بنی اسرائیل کے ساتھ انتہائی برا سلوک کرنے لگا۔ اور آٹھ (۸)سال تک وہ بنی اسرائیل کو ذلیل کرتا رہا اور غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا رہا۔ آخر کار بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور بتوں کی پوجا سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر گڑگڑا کر فریاد کرنے لگے۔ تب اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آگیا اور ان کی رہنمائی کے لئے حضرت کالب بن یوقنہ کے بھائی قنز کے بیٹے عتنی ایل کو بھیجا۔ یہ حضرت کالب بن یوقنہ کا داماد بھی تھا۔ اس نے تمام بنی اسرائیل کو ظالم حکمراں کے خلاف متحد ہونے کا حکم دیا اور بنی اسرائیل نے اتفاق رائے سے عتنی ایل کو اپنا رہنما تسلیم کر دلیا۔ اس نے بنی اسرائیل کو لے کر کوشن رسعتیم سے مقابلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور عتنی ایل فتح یاب ہوا۔ اس کے بعد وہ تمام بنی اسرائیل پر چالیس برس تک انتظامات سنبھالتا رہا اور اس کے دور میں بنی اسرائیل امن سے رہے۔ اس کے بعد عتنی ایل کا انتقال ہو گیا۔
بنی اسرائیل پھر گمراہ ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر مہربانی کر کے انہیں ظالم بادشاہ سے نجات دلائی تھی۔ اور عتنی ایل کے چالیس سالہ دور میں بہت حد تک وہ اسلام پر قائم رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد پھر سے بنی اسرائیل میں گمراہیاں اور برائیاں پیدا ہونے لگیں۔ اور بنی اسرائیل اپنے ساتھ رہنے والی مشرک قوموں کے طور طریقے اپنانے لگے یہاں تک کہ ان کے بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر موآب کے بادشاہ عجلون کو مسلط کر دیا ۔ اس کے ساتھ بنی عمون اور بنی عمالیق تھے ۔ عجلون نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور اٹھارہ 18برس تک بنی اسرائیل کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرتا رہا۔ آخر کار بنی اسرائیل پھرسے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے بن یامن کے ایک شخص اہود بن جیرا کے ذریعے نجات دی۔ اھود بن جیرا نے تمام بنی اسرائیل کو عجلون کے خلاف متحد کیا اور عجلون کے خلاف تیار کیا۔ اس نے بنی اسرائیل کی فوج لے کر عجلون کی موآبی فوج پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور عجلون قتل ہوا۔ اور موآبی فوج بھاگنے لگی۔ اھود کی سپہ سالاری میں بنی اسرائیل نے موآبیوں کا پیچھا اردن کے گھاٹوں تک کیا اور ایک ایک کو ڈھونڈ کر قتل کیا۔ یہاں تک کہ موآب پر بھی قبضہ کرلیا۔ اھود بن جیرا کی سربراہی میں بنی اسرائیل 80سال تک امن سے رہے۔
بنی اسرائیل پر عورت کی حکمرانی
اللہ تعالیٰ نے پھر سے بنی اسرائیل کو ایک مرتبہ پھر موقع دیا تھا۔ اور اھود بن جیرا کی حکمرانی میں وہ 80سال تک متحد ہو کر رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد مسلکی اختلافات کا شکار ہو گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ ایسے وقت کا فائدہ دبورہ نام کی ایک عورت نے اٹھا یا اور اس نے بنو نفتانی کے ایک بہادر شخص برق یا باراق بن نوعم کو تیار کیا اور اس کے ذریعے چالیس40سال تک بنی اسرائیل پر حکومت کرتی رہی۔ اس طرح بنی اسرائیل پر تو دکھاوے کے لئے برق حکومت کر رہا تھا لیکن در پردہ دبورہ کے احکامات چلتے تھے۔
بنی اسرائیل پر بنی مدین مسلط
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کو لگ بھگ (200)سال ہو چکے تھے۔ اور اس عرصے میں بنی اسرائیل کئی مرتبہ گمراہیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ اور اﷲ کا غضب کئی بار اُن پر نازل ہو چکا تھا۔دبورہ کے بعد بنی مدین نے ملک کنعان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ مدیانیوں نے بنی اسرائیل پر اتنا شدید ظلم کیا کہ انہیں ظلم سے بچنے کے لئے پہاڑوں کے شگافوں میں، غاروں میں اور چٹانوں میں اپنے لئے پناہ گاہیں بنانی پڑیں۔ ان کے تیار فصلیں پورے ملک کنعان میں بنی مدین اپنے قبضہ میں لے لیتے تھے یہاں تک کہ غازہ پٹی( غزہ) کی پیداوار بھی مدیانی ان سے چھین لیتے تھے۔ بنی اسرائیل کے تمام مویشیوں کو ان سے چھین لیا۔ یہاں تک ان کے لئے کوئی بھیڑ ، بکری، گائے، بیل ، گدھا یا خچر کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رونے گڑ گڑانے لگے ان کے اندر بزدلی آگئی تھی۔ اور مدیانیوں سے مقابلے کی ہمت نہیں تھی۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر رحم فرمایا اور بنو منسی کے ایک غریب گھرانے کے نوجوان جدعون میںہمت پیدا فرمائی اور اس کا باپ بعل کا پجاری تھا اور بعل کا مذبح خانہ بنا رکھا تھا۔ اس نے اپنے باپ کے بعل کے مذبح خانے کو توڑ ڈالا اور بنی اسرائیل میں اعلان کیا کہ قربانیاں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں گی اور حکم دیا کہ بنی مدین سے لڑنے کے لئے بنی اسرائیل متحد ہو جائیں۔ تمام بنی اسرائیل کے قبائل مدیانیوں کے مظالم سے تنگ آچکے تھے۔ اس لئے وہ سب جدعون کی سپہ سالاری میں جمع ہو گئے اور انہوں نے بنی مدین پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور جدعون کے لشکر کو فتح حاصل ہوئی۔ اور مدیانیوں کو ایسی شکست ہوئی کہ وہ پھر کبھی سر نہیں اٹھا سکے۔ اور جدعون کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل چالیس برس تک امن و سکون کے ساتھ رہے۔
بنی اسرائیل میں مسلکی اختلافات اور آپسی لڑائیاں
اللہ تعالیٰ بار بار بنی اسرائیل کو سدھرنے کا موقع دیتا رہا اور وہ بار بار نافرمانی کر کے اور شرک کر کے ذلیل ہو تے رہے۔ جدعون کے مرنے کے بعد ان میں مسلکی اختلافات پیدا ہو گئے۔ اور ہر مسلک کا عالم اپنے مسلک کو حق بتانے لگا اور دوسرے تمام مسلکوں کو باطل اور دوزخی بتانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کا اتحاد ٹوٹ گیا اور وہ مختلف مسلکوں اور فرقوں میں بٹ کر پھوٹ کا شکار ہوگئے اور آپس میں لڑ نے لگے۔ ایسے وقت میں ابی ملک نے تین سال بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد تولع بن فوہ تیئیس 23سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد پاتیر 22برس تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد افتاح چھ سال تک قاضی رہا۔ اس کے بعد ابصان سات سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ پھر ایلون دس سال تک قاضی رہا۔ اس کے بعد عبدون آٹھ سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد شمون نے بیس برس تک قاضی رہا۔ یہ سب قاضی بنی اسرائیل کے الگ الگ قبیلوں اور مسلکوں کے ہیں۔ اور یہ اور علماءآپس میں لڑتے رہے اور بنی اسرائیل کو لڑاتے رہے۔ کبھی ایک مسلک کا قاضی بنتا تھا تو کبھی دوسرے مسلک کا قاضی بنتا تھا۔
تابوتِ سکینہ کا چھن جانا
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فضیلت عطا فرمائی اور انہیں مسلمان ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔ لیکن بد بخت بنی اسرائیل بار بار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے تھے اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے لوگ شرک بھی کرنے لگتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کے درمیان لگ بھگ 450ساڑھے چار سو سال کا عرصہ ہے۔ اور اس عرصے میں کئی مرتبہ بنی اسرائیل گمراہی میں پڑے اور غیر قوموں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے رہے۔ اسی دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے اندر مسلکی اختلافات بہت شدید طور سے ابھر آئے ۔ اور ہر مسلک والا اپنے آپ کو حق پر اور دوسرے تمام مسلکوںکو باطل قرار دیتا تھا۔ اس طرح عام بنی اسرائیل ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے۔ اور بنی اسرائیل کے تمام مسلکوں کے علمائے کرام اس نفرت کو کم کرنے کی بجائے اور بڑھاتے جا رہے تھے۔ اور دنیاوی فائدے اٹھاتے جا رہے تھے۔ اس نفرت اور مسلکی اختلافات کاسب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کا اتحاد ٹوٹ گیا اور دوسری قوموں پر سے ان کا رعب ختم ہو گیا۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ایک مسلمان کو جو سب سے شدید نفرت بتوں اور ان کی پوجا کرنے والوں سے ہونی چاہیئے وہ شدید نفرت دوسرے مسلک والوں سے ہونے لگی اور ان پر استعمال ہونے لگی۔ اور وہ آپس میں ہی لڑنے لگے اور اپنی ہر قسم کی طاقت اور توانائی اسی میں استعمال کرنے لگے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آپس میں تو بہت بہادری سے لڑتے تھے لیکن مشرکوں اور کافروں کے مقابلے میں بزدل ہو گئے تھے اور ان سے امن حاصل کرنے اور صلح کی کوشش کرنے لگے تھے۔ ان ان کا مقصد اللہ کے دین ( اسلام) کو پھیلانا نہیں تھا بلکہ دنیا میں سکون اور آرام سے زندگی گزارنا ان کا مقصد بن گیا۔ اور اسلام کے نام پر چند رسومات ہی رہ گئی تھیں۔ بنی اسرائیل کے اس آپسی انتشار کو دوسری مشرک اور کافر قوموں نے سمجھ لیا تھا۔ اور وہ بنی اسرائیل پر رہ رہ کر حملے کرنے لگے تھے اور انہیں شکست دینے لگے تھے۔ اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آس پاس کی مشرک قومیں بنی اسرائیل پر ایسے ٹوٹ پڑیں جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس وقت ایلاف یا عیلی بنی اسرائیل کا قاضی یا کاہن تھا۔ بنی اسرائیل پر مشرک قومیں ہر طرف سے حملے کر رہی تھیں اور شکست دیتی جا رہی تھیں۔ ایسی ہی ایک جنگ میں ایک مشرک قوم نے بنی اسرائیل کو شکست دی اور ان کا تابوتِ سکینہ چھین کر لے گئی۔ تابوت سکینہ چھن جانے کی اور شکست کی خبر جب ایلاف یا عیلی کو ملی تو وہ صدمے اور خوف سے ہی مر گیا۔ وہ چالیس سال تک بنی اسرائیل کا قاضی یا کاہن بنا رہا۔
تابوتِ سکینہ کیا ہے
اللہ تعالیٰ کی مسلسل نافرمانی اور آپس کی مسلکی نفرت کی وجہ سے بنی اسرائیل سے تابوت سکینہ چھین گیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو تابوت سکینہ کے بارے میں بتا دیں تا کہ ذہن میں کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔ تابوتِ سکینہ ایک تابوت ( صندوق) تھا جو ایک روایت کے مطابق بنی اسرائیل نے حضرت یوشع علیہ السلام کے وصال کے بعد بنایا تھا۔ اور ایک روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے بنوایا تھا اور کوہِ طور پر جو توریت کی تخیتاں نازل ہوئی تھیں وہ اس میں رکھی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور نعلین مبارک اور اسی طرح حضرت ہارون علیہ السلام کی بھی کچھ یادگاریں رکھ دی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی سے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ بنو لاوی جنگ کے دوران بنی اسرائیل کے لشکر کے درمیان میں رہیں گے اور تابوت سکینہ اٹھائے رہیں گے۔ اسی لئے بنی اسرائیل ہمیشہ بنو لاوی کو لشکر کے درمیان میں رکھتے تھے۔ اور وہ تابوت سکینہ اٹھائے رہتے تھے۔ اور جب بنی اسرائیل کو شکست کے آثار نظر آتے تھے تو توہ تابوت سکینہ کو آگے کر دیتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے تھے اور تیزی سے حملہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ انہیں فتح عطا فرمادیتا تھا۔ لیکن جب بنی اسرائیل مسلکی اختلافات کا شکار ہو گئے اور آپس می ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے تو ان میں بزدلی اور دنیا کی محبت آگئی تھی۔ اس کی وجہ سے تابوت سکینہ بھی ان کے کام نہیں آیا اور جنگ کے دوران ان سے چھین لیا گیا۔
حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کا درمیانی عرصہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام 27سال تک بنی اسرائیل پر اسلامی حکومت کرتے رہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام کے وصال کے 460سال بعد حضرت شموئیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ان 460برسوںکے خاص واقعات ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ یہاں مختصراً ذکر کر رہے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت شموئیل علیہ السلام آئے۔ حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کا درمیانی عرصہ 460برسوں کا ہے۔ سب سے پہلے بنی اسرائیل پر جو شخص مسلط ہوا وہ حضرت لوط علیہ السلام کی نسل کا تھا۔ اس کا نام کوشا ن ( کوشن رسعتیم) تھا۔ اس نے انہیں آٹھ سال رسوا کیا۔ پھر حکومت اس کے چھوٹے بھائی عقیل بن قیس کے ہاتھ میں آئی جو چالیس برس تک رہی۔ اس کے بعد جعلون اٹھارہ برس تک حکمراں رہا۔ اس کے بعد اھود بن جیرا 80برس تک حکمراں رہا۔ پھر کنعانی بادشاہ یا فین 20سال تک بنی اسرائیل پر مسلط رہا۔ پھر کسی دبودہ نام کی عورت کے ہاتھ میں معاملات آئے۔اس کی جانب سے باراق نام کے شخص نے 40سال حکومت کی۔ پھر بنی نفتالی میں سے ایک شخص جس کا نام جدعون بن یواش تھا۔ اس نے 40سال تک بنی اسرائیل کے امورِ سلطنت سنبھالے۔ اس کے بعد اس کے بیٹے ابی ملک نے تین سال حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا ماموں یا چچا زاد نے 30سال حکومت کی۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک شخص یائیر 22سال تک حکمراں رہا۔ پھر بنی عمون ( عمون کی اولاد) نے جن کا تعلق فلسطین سے تھا اٹھارہ سال تک بنی اسرائیل پر مسلط رہے۔ پھر یفتح ( افتاح، یفتاح) نے 6سال تک معاملات سنبھالے۔ اس کے بعد یجشون 7سال تک ، الون 10سال تک اور کیرون 8سال تک حکمراں رہے۔ پھر 40سال فلسطین کے بادشاہ بنی اسرائیل پر مسلط رہے۔ پھر بنی اسرائیل کا شخص شمون 20سال تک حاکم رہا۔ اس کے بعد مشرک قوموں نے حملہ کر کے بنی اسرائیل کو محکوم بنا لیا۔
حضرت شموئیل علیہ السلام کے لئے دعا
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کے نتیجے میں مشرک قوموںنے بنی اسرائیل کو محکوم بنالیا۔ جب بنی اسرائیل پر مصائب بڑھ گئے اور مشرک قوموں کے حکمرانوں نے ان کو ذلیل و رسوا کیا اور ان کے شہروں کو ویران کیا۔ اور ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں کو قید کیا اور ان سے وہ تابوت چھین لیا جس میں سکینہ یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کے باقیات تھے۔ اور اس تابوت کی وجہ سے وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کر تے تھے تو اس وقت تمام بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہمارے لئے نبی مبعوث فرما۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل نے عمالقہ قوم سے جنگ کی اس کے بادشاہ کانام جالوت تھا۔ انہوں نے بنی اسرائیل پر غلبہ حاصل کر لیا۔ ان پر جزیہ مقرر کر دیا اور ان سے توریت چھین لی۔ اس وقت بنی اسرائیل نے دعا کی کہ اے اللہ تعالیٰ اپنا کوئی نبی مبعوث فرما۔ اس وقت انبیاءکی نسل ختم ہو چکی تھی۔ البتہ صرف ایک عورت باقی تھی جو کہ حاملہ تھی۔ انہوں نے اسے اپنی نگرانی میں لے لیا اور دعا کرنے لگے کہ اسے لڑکا پیدا ہو۔ جب اس عورت نے ان کا شوق اور لگن دیکھی تو اس نے بھی اللہ تعالیٰ سے بیٹے کے لئے دعا کی۔ اسے لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام شموئیل رکھا گیا۔
حضرت شموئیل علیہ السلام کا سلسلہ نسب
حضرت شموئیل علیہ السلام کے سلسلہ نسب میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت شموئیل بن قنابن یردھام بن یہوذ بن یوحابن صوب بن القانا بن یویل بن عزیر بن ضعینا بن تاحت بن اسر بن انفانابن نشاسات بن قارون۔ علامہ ابن کثیر حضرت شموئیل علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت شموئیل بن بالی بن علقمہ بن یرخام بن یہو بن صوف بن علقمہ بن ماحث بن عموصابن عزریا۔ بعض اسلاف نے شموئیل کو اشموئیل لکھا ہے۔ امام مقاتل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے وارثین میں سے ہیں۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سے زیادہ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب معلوم نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے روایت کرتے ہیں کہ جب ارض غزہ اور عسقلا میں بنی اسرائیل پر بنی عمالقہ کا تسلط قائم ہوا تو انہوں نے اسرائیلیوں کو بے دریغ قتل کیا اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا۔ بنو لاوی ( لاوی کے خاندان) میں اب کوئی نبی نہیں تھا۔ اس خاندان میں صرف ایک حاملہ عورت تھی۔ وہ دعا کرتی رہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک بیٹا عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی التجا کو قبول فرماتے ہوئے ایک بیٹا عطا فرمایا۔ اس عورت نے نومولود کا نام اشموئیل رکھا۔ اشموئیل یا شموئیل عبرانی لفظ ہے۔ اس کا عربی معنی ” اسماعیل“ اور اردو معنی” سُنا گیا“ یا ”سُنا ہوا “ ہے۔
بیت المقدس میں تربیت اور نبوت سے سرفراز
حضرت شموئیل علیہ السلام جب تھوڑے بڑے ہو گئے تو ان کی والدہ نے ان کی تربیت کے لئے بیت المقدس بھیج دیا۔ وہاں کے عالِم کی نگرانی میں آپ علیہ السلام کی تربیت ہونے لگی۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام کی والدہ نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر بیٹا پیدا ہوگا تو اسے بیت المقدس کا خادم بنائے گی۔ اسی لئے جب آپ علیہ السلام ، پیدا ہوئے تو عالی بطات کاہن کو دے آئیں۔ عالی کاہن نے انکی پرورش کی اور اپنے بعد کہانت کرنے کی وصیت کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں بنی اسرائیل کی نبوت اور ولایت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت شموئیل علیہ السلام بنی اسرائیل میں دس برس تک وعظ و اصلاح کرتے رہے۔ ابن عمیر فرماتے ہیں کہ وہ بیس20سال تک حکومت کرتے رہے۔ بنی اسرائیل پر آپ علیہ السلام کی تعلیم اور نصیحت کا بہت بڑا اثر پرا۔ اور وہ بت پرستی چھوڑ کر حق پرستی کی طرف مائل ہو گئے اور نہایت کم مدت میں اپنی بکھری ہوئی قوت جمع کر کے اہل فلسطین سے اپنے گئے ہو ئے اور کھوئے ہوئے شہروں کو واپس لے لیا۔ اور اپنی خرابی کو ازسر نو درست کیا۔
بنی اسرائیل کی بادشاہ کے لئے درخواست
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے (حضرت ) موسیٰ (علیہ السلام )کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا؟جب انہوںنے اپنے بنی سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے۔ تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ نبی نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہو جانے کے بعد تم جہاد نہ کرو۔ ( اور پیچھے ہٹ جاﺅ) ۔ انہوں نے کہا۔ بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہیں کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کر دیئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پِھر گئے۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ “( سورہ البقرہآیت نمبر246) اس آیت کی تفسیر میں تفسیر بصیرت القرآن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا فرمائی تھیں۔ مگر انہوں نے ناشکریوں اور بد اعمالیوں کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری عظمتیں چھین لیں اور ان پر کافروں کو مسلط کر دیا۔ فلسطین میں ایک گرانڈیل، دیوہیکل اور جنگ کا ماہر شخص جاتی جولیت تھا۔ جو ان کا سپہ سالار تھا اور جالوت کہلاتا تھا۔ اس کا رعب بنی اسرائیل پر اس قدر چھا چکا تھا کہ اس نے بار بار بنی اسرائیل پر حملہ کر کے ان کا قتل عام کیا اور ان کو گھروں سے بے گھر کیا۔ اور ان سے تبرکات سے بھرا ہوا صندوق بھی چھین کر لے گیا جو ان کے ہاں فتح و نصرت اور کامیابی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ یہ لوگ جنگ و جہاد سے جان چھڑا تے تھے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے تھے۔ یہ خوف اور بزدلی برسوں تک اسی طرح چھائی رہی کہ بنی اسرائیل کے پانچ بڑے شہران کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے۔ مگر ان میں ان کو اپس لینے کی ہمت نہیں تھی۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے اندر تجدید و اصلاح اور ان کی تنظیم کا کام کیا۔ جس سے بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی پیدا ہو گئی اور فلسطینیوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے۔ مگر حضرت شموئیل علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے آپ علیہ السلام ہی سے ایسی قیادت کی درخواست کی جس کی سر براہی میں وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام ان کی ایمانی کمزوری سے اچھی طرح واقف تھے۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو تم میدان چھوڑ کر بھاگ جاﺅ۔ اس پر انہوں نے بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ کہا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم تو اپنے گھروں اور بچوں سے جدا کر دیئے گئے ہیں کیا ہم اب بھی جہاد نہیں کریں گے؟
حضرت طالوت
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہو سکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں اور اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی ہے۔ نبی ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ سنو، اللہ نے اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے۔ اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے اپناملک دے دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اورعلم والا ہے۔ “( سورہ البقرہ آیت نمبر247)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ امام ثعلبی نے حضرت طالوت کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے۔ حضرت طالوت کہتے ہیں کہ طالوت بن قیش بن افیل بن صارو بن تحورت بن افیح بن انیس بن بنیامن بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ۔ عکرمہ اور سدی کہتے ہیں کہ طالوت پیشے کے اعتبار سے سقاءیعنی پانی پلانے والے تھے۔ حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ رنگ ساز ( یعنی چمڑا رنگتے تھے) اس کے علاوہ کئی اور اقوال بھی ہیں۔ واللہ اعلم ........
حضرت طالوت کا انتخاب
حضرت شموئیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے انتخاب کا ایک پیمانہ عطا فرمایاتھا۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں ۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے دعا کی تو ایک عصا نمودار ہوا کہ اس عصا کی لمبائی کے برابر جس شخص کا قد آئے گا وہ بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلان فرمایا کہ تم لوگ اس عصا سے اپنا قد ناپیں۔ جس کا قد اس عصا کے برابر ہو گا وہی تمہارا بادشاہ بنے گا۔ ہر شخص نے اپنے آپ کو عصا سے ناپنا شروع کیا مگر کسی کا قد اس کے برابرنہیں آیا۔ حضرت طالوت بنی اسرائیل کے قبیلہ بن یامن کے تھے اور غریب آدمی تھے۔ ان کا قد عصا کے بالکل برابر آیا اسی لئے حضرت شموئیل علیہ السلام نے اعلان فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا بادشاہ حضرت طالوت کو بنا یا ہے۔ یہ سن کر بنی اسرائیل کے امراءاور علماءنے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم جیسے امیر یعنی دولت مند اور زیادہ علم والوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ ایک غریب اور محتاج شخص کو ہمارا بادشاہ بنائے۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے تمہاری بادشاہت کے لئے چنا ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا ملک ( زمین کا انتظام) دے سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے۔ در اصل اس وقت تک بنی اسرائیل مختلف فرقوں یعنی مسلکوں میں بت چکے تھے۔ بارہ قبیلوں میں تو پہلے ہی وہ بٹ چکے تھے اور ہر قبیلے اور فرقے والے یہ چاہتے تھے کہ ان کے قبیلے یا فرقے کا بادشاہ ہو۔ اسی لئے تمام بنی اسرائیل ایک بادشاہ پر متفق نہیں ہو پار ہے تھے۔ اور اسی لئے انہوں نے تمام بنی اسرائیل کا بادشاہ بنانے کے لئے حضرت شموئیل علیہ السلام سے درخواست کی تھی۔ اور جب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت طالوت کو بادشاہ بنانے کا اعلان فرمایا تو وہ اس پر بھی اعتراض کرنے لگے۔
حضرت طالوت کی بادشاہت کی نشانی تابوتِ سکینہ
حضرت شموئیل علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت طالوت کو بادشاہ بنانے کا اعلان فرمایا تو بنی اسرائیل نے کہا کہ اس بات کی کیا نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی طالوت کو ہمارا بادشاہ بنایا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ”تابوتِ سکینہ“ کو تمہاری طرف واپس لوٹا دے گا۔ اور فرشتے اسے لے کر تم تک آئیں گے۔ ( آپ کو یاد ہو گا کہ تابوت سکینہ بنی اسرائیل سے چھن گیا تھا) بنی اسرائیل نے کہا۔ ٹھیک ہے اگر تابوتِ سکینہ ہم تک واپس آجائے گا تو ہم طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کے نبی نے انہیں فرمایا کہ اس کی بادشاہت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا۔ جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلی سکون ہے۔ ( یعنی تابوتِ سکینہ) ۔ اور آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کا بقیہ ترکہ ہے۔ اور فرشتے اسے اٹھا کر لائیں گے۔ بے شک اگر تم واقعی مومن ہو تا س میں تمہارے لئے کھلی نشانی ہے۔ ( سورہ البقرہ آیت نمبر248) علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ طالوت نہایت جسیم اور قد آور تھا۔ اور بنی اسرائیل سے شاول یا ساول کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اور بائبل میں طالوت کانام ساول لکھا ہوا ہے۔
تابوتِ سکینہ کے واپسی
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ تابوتِ سیکنہ واپس آئے گا اسے ایک مشرک قوم بنی اسرائیل سے چھین کر لے گئی تھی اور ایک روایت میں ہے کہ عمالقہ چھین کر لے گئے تھے۔ مشرکین تابوت سکینہ کو چھین کر اشدود لے گئے اور اسے دجون کے مندرمیں لے جا کر دجون کے پاس رکھ دیا۔ اگلے دن صبح جب اشدود کے لوگ مندر میں گئے تو دیکھا کہ دجون کا بت تابوتِ سکینہ کے آگے منہ کے بل اوندھا پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بت کو اٹھایا اور اس کی جگہ واپس رکھ دیا۔ لیکن اگلی صبح انہوںنے دیکھا کہ پھر ان کا دیوتا یعنی بت تابوتِ سکینہ کے آگے اوندھا پڑا ہوا ہے۔ اور اس بار تو اس کا سر اور اس کے بازوﺅں کو بھی توڑ دیا گیا ہے۔ اور صرف دھڑ رہ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اشدود اور س کے آس پاس کے علاقوں کے باشندوں پر بھی تباہی آنے لگی اور وہ گلسُیوں کی تکلیف( طاعون) میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے جب یہ حال دیکھا تو کہنے لگے کہ اسرائیل کے دیوتا کا تابوت ہمارے یہاں نہیں رہنا چاہیے۔ کیوں کہ اسرائیلیوں کا دیوتا ہمارے دیوتا دجون سے زیادہ طاقتور ہے۔ اسی لئے ان کے علماء( پنڈتوں) اور حکمرانوں نے فیصلہ کر کے تابوت سکینہ کو جات کی طرف منتقل کر دیا۔ وہ لوگ بھی طاعون میں مبتلا ہو گئے تو انہوںنے دوسرے علاقے میں بھیج دیا۔ اس طرح یہ مشرکوں کے علاقوں میں منتقل ہو تا رہا۔ اور جب حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں تابوت سکینہ کی واپسی کا اعلان فرمایا تو اس وقت وہ عقرون میں تھا۔ اور وہاں کے سب لوگ طاعون کی بیماری سے بے حال تھے۔ آخر کار انہوں نے تابوت سکینہ کو ایک بیل گاڑی میں رکھ کر بنی اسرائیل کی طرف ہانک دیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب عمالقہ تابوت سکینہ کو چھیننے میں کامیاب ہو گئے جس میں سکون کا سامان اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بقیہ جات تھے۔ اور ایک روایت کے مطابق تابوت میں توریت کی لکھی ہوئی الواح تھیں۔ تو عمالقہ نے اس تابوت کو اپنے ایک مندر میں رکھ کر اس کے اوپر اپنا بت رکھ دیا۔ جس کی وہ پوجا کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ تابوت اس بت کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پھر تابوت کو نیچے رکھ دیا۔ لیکن دوسرے دن پھر بت نیچے اور تابوت اوپر تھا۔ جب کئی دن تک یہی واقعہ پیش آیا تو انہوں نے تابوتِ سکینہ کو دوسرے شہر میں بھیج دیا۔ وہاں بیماری کی وباءپھیل گئی۔ انہوں نے دوسرے قصبے میں تابوت بھیج دیا۔ اس طرح وہ تابوت مشرکوں کے علاقے میں گھومتا رہا۔ آخر کار مجبور ہو کر عمالقہ نے تابوت سکینہ کو ایک بیل گاڑی پر رکھا اور اپنے علاقے کے باہر لے جا کر چھوڑ دیا۔ وہاں سے بیل گاڑی کو فرشتوں نے سنبھال لیا۔ اور اسے لے کر بنی اسرائیل کے علاقوں میں آئے۔ بیل گاڑی کو چلانے والے فرشتے کسی کو دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل حیرت سے اپنے آپ چلتی ہوئی بیل گاری کو دیکھ رہے تھے۔ اور جو بھی دیکھتا تھا وہ اس کے پیچھے چلنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ بیل گاڑی حضرت شموئیل علیہ السلام کے گھر کے سامنے رک گئی۔
بنی اسرائیل کی آزمائش
حضرت شموئیل علیہ السلام نے ”تابوت سکینہ “ طالوت کے حوالے کیا اور تمام بنی اسرائیل نے اسے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد طالوت نے بنی اسرائیل کو لشکر تیار کیا۔ یہ اسّی80ہزار کا بہت بڑا لشکر جرار تھا۔ طالوت یہ عظیم الشان لشکر لے کر روانہ ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کی آزمائش لی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب طالوت لشکر کو لے کر چلا تو کہا۔ سنو ، اللہ تعلایٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے۔ جس نے اس میں سے پانی لیا وہ میرا نہیں ہے۔ اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلّو بھر پی لے۔ لیکن سوائے چند لوگوں کے باقی سب ے وہ پانی پی لیا۔“( سورہ البقرہ آیت نمبر249) طالوت کے ساتھ جو لشکر تھا اس کی تعداد کے بارے اسّی80ہزار سے لے کر ایک لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ تک بتائی گئی ہے۔ جب یہ لشکر چلنے لگا تو طالوت نے کہا۔ ( غالباً اسے حضرت شموئیل علیہ السلام نے بتا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی آزمائش کرے گا اور تم وقت آنے پر بتانا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آگے ایک نہر ( ندی) آئے گی اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پورے لشکر والوں کی آزمائش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس نہر یا ندی سے پانی نہیں پیا جائے۔ اس لئے کوئی بھی پانی نہیں پیئے۔ ہاں صرف اتنی اجازت ہے کہ چلّو بھر کر پانی پی سکتے ہو۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ فلسطین کی کوئی نہر تھی یا پھر اُردن اور فلسطین کے درمیان کی نہر تھی۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ دریائے اردن تھی۔
اکثر آزمائش میں ناکام ہو گئے
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک چھوٹی سی آزمائش لی کہ اگر یہ لوگ اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے تو آگے اللہ کے لئے لڑنے کی بہت بڑی آزمائش ہے۔ اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ سخت گرمی تھی اور پیاس کے مارے سب کا برا حال تھا۔ اور بنی اسرائیل کے ایمان اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا امتحان تھا۔ اس امتحان میں اور آزمائش میں اکثر بنی اسرائیل ناکام ہو گئے۔ اور نہر یا ندی پر پہنچتے ہی پانی پر ٹوٹ پڑے اور جلدی جلدی پانی پینے لگے۔ طالوت 80ہزار کا لشکر لے کر چلا تھا۔ اس میں سے 76ہزار نے خوب سیر ہو کر پانی پی لیا۔ اور صرف 4ہزار لوگ ایسے رہے جنہوں نے صرف ایک چلّو پانی پیا۔ نہر یا ندی پار کرنے کے بعد ان چار ہزار لوگوں کو پیاس نہیں لگی۔ اور بقیہ 76ہزار لوگ جو خوب سیر ہو گئے تھے۔ ان کو اتنی شدید پیاس لگی کہ وہ ہمت ہار بیٹھے اور واپس چلے گئے۔ طالوت بقیہ چار ہزار لوگوں کو لے کر آگے بڑھا۔ لیکن یہ بھی اصلی لشکر نہیں تھا ۔ جب بنی اسرائیل نے جالوت کے لشکر جرار کو دیکھا تو ان چار ہزار میں سے اکثریت نے ہمت ہار دی۔ اور لڑنے سے انکار کر دیا۔ لیکن کچھ لوگ ابھی بھی ہمت باندھے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” طالوت نے مسلمانوں کے ساتھ جب نہر کو پار کر لیا۔ تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں ہے کہ جالوت اور اس کے لشکر سے لڑیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا یقین رکھنے والوں نے کہا۔ کبھی کبھی چھوٹی اور تھوڑی سی جماعت اپنے سے بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے غلبہ پالیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 249) ان چار ہزار میں سے بھی اکثریت واپس چلی گئی اور جو لوگ رہ گئے ان کی طالوت نے گنتی کو تو تین سوبارہ 312یا تین سو انیس319لشکری رہ گئے تھے۔
طالوت کا اصل لشکر
حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کا ایک بہت بڑا لشکر دے کر طالوت کو رخصت کیا تھا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ تفسیر روح البیان وغیرہ میں ذکر ہے کہ اسّی 80ہزار کا لشکر تھا۔ مگر تفسیر در منشور میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ کا لشکر تھا۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ صرف صابرین ہی میدانِ جنگ میں جائیں اور بزدلوں اور بے صبروں کی بھیڑ نہ ہو۔ کیوں کہ ایسے لوگ شکست کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے نہر یا ندی کے پانی سے ان کی آزمائش کی۔ موسم سخت گرم تھا اور لوگ پیاس سے بے قرار تھے۔ اس حالت میں عین دوپہر کے وقت پانی کی جگہ پہنچے۔ تین سو تیرہ جوانوں کے علاوہ سب نے خوب پانی پیا۔ جن لوگوں نے ایک چلّو پانی پیا اور ایک چلو اپنے گھوڑے کو پلایا تو وہ ان کے لئے کافی ہو گیا اور ان کی پیاس بجھ گئی۔ اور بے صبر ے لوگ جتنا پانی پیتے تھے اتنی ہی ان کی پیاس بڑھتی تھی۔ ان کے ہونٹ کالے پڑ گئے اور پیٹ پھول گیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ امام طبری امام ابن ابی حاتم اور امام سدی کی روایت میں ہے کہ 80ہزار روانہ ہوئے اور 76ہزار نے خوب پانی پیا اور واپس ہو گئے۔ اور صرف 4ہزار نے دریا پار کیا۔ اور جالوت اور اس کے لشکر کو دیکھ کر ان میں سے بھی تین ہزار چھو سو اسی 3680واپس چلے گئے اور طالوت کے ساتھ تین سو تیرہ یا تین سو بیس نفوس باقی رہ گئے۔ یہ تعداد لگ بھگ اصحاب بدر کے برابر ہے۔ تاریخ طبری میں ہے کہ صرف تین سو اُنیس319افراد باقی رہ گئے تھے۔ جو کہ غزوہ بدر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد کے برابر ہے۔ یہ طالوت کا اصل لشکر تھا۔
حضرت داﺅ د علیہ السلام
حضرت داﺅد علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح سے ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بن ایشا بن حصرون بن قانص بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو یہودا سے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کُل تیرہ بھائی تھے اور آپ علیہ السلام سب سے چھوٹے تھے۔ اور سب کے لاڈلے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کے والد اور بڑے بھائی آپ علیہ السلام کو کوئی کام نہیں کرنے دیتے تھے۔ پھر بھی آپ علیہ السلام اپنے بھائیوں سے ضد کر کے ان کے ساتھ بکریاں چرانے جایا کرتے تھے۔ سلسلہ نسب اس طرح تھا۔ حضرت داﺅد بن ایشا بن عوید بن عابر بن سلمون بن نحشون بن عوینادب بن ارم بن حصرون بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام چھوتے قد کے تھے۔ آنکھیں نیلی تھیں بال تھوڑے تھے اور دل یاک و طاہر تھا۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کا انتخاب
حضرت شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ایک پیمانہ دیا تھا اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے اوپر یہ پیمانہ فٹ بیٹھ جائے گا وہی جالوت کا قتل کرے گا۔ طالوت اور جالوت کے لشکروں نے جب ایک دوسرے کے سامنے پڑاﺅ ڈال دیا تو طالوت نے وہ پیمانہ نکالا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت شموئیل علیہ السلام نے ایک سینگ طالوت کو دیا تھا جس میں لوہے کا تنور بنا ہوا تھا اور اس میں تیل بھرا ہوا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے سر پر یہ فٹ بیٹھ جائے گا تو اس میں تیل اچھلنے لگے گا۔ وہی شخص جالوت کو قتل کرے گا۔ طالوت نے اسے نکالا اور اپنے لشکر کے تمام افراد کے سروں پر رکھنے لگا۔ لیکن وہ کسی کے سر پر فٹ نہیں آیا۔ طالوت پریشان ہو گیا اور تمام اسرائیلیوں کو حضرت شموئیل علیہ السلام کے فرمان کے بارے میں بتایا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کے والد محترم اور بارہ بھائی بھی اس لشکر میں تھے۔ ان کے والد محترم نے طالوت سے کہا۔ میرا یک بیٹا داﺅد رہ گیا ہے وہ ہمارے لئے کھانا لے کر آرہا ہے۔ وہ آئے تو اس کے سر پر بھی پہنا کر دیکھ لینا۔ ادھر حضرت داﺅد علیہ السلام کھانا لے کر آرہے تھے کہ راستے میں تین پتھروں نے ان سے کہا کہ ہمیں اپنے تھیلے میں رکھ لو۔ ہم جالوت کو قتل کرنے میں کام آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر رکھ لیا ور لشکر میں آئے۔ طالوت نے سینگ آپ علیہ السلام کے سر مبارک پر رکھا تو ایک دم فٹ بیٹھ گی اور تنور کا تیل اچھلنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ایک زرہ دی تھی اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے جسم پر یہ ذرہ پوری ( فٹ ) آجائے گی وہ شخص اللہ کے حکم سے جالوت کو قتل کردے گا۔ اور یہ زرہ حضر ت داﺅد علیہ السلام کے جسم مبارک پر پوری آگئی۔
جالوت کا قتل اور شکست
اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا کی۔ اے ہمارے رب، ہمیں صبر عطا فرمااور ثابت قدمی عطا فرما اور کافر قوم پر ہماری مدد فرما۔ پس اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی۔ اور داﺅد (علیہ السلام )کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے داﺅد (علیہ السلام ) کو مملکت اور حکمت اور جتنا چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر دفع نہیں کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر250اور 251)طالوت اور جالوت کے لشکر نے صف بندی کر لی۔ اور آمنے سامنے آگئے۔ جالوت آگے بڑھا اور مقابلے کے لئے للکانے لگا۔ جالوت بہت ہی لمبا چوڑا اور گرانڈیل تھا۔ اور اکیلا سینکڑوں پر بھاری تھا۔ اس کی للکار سن کر حضرت داﺅد علیہ السلام آگے بڑھے۔ آپ علیہ السلام تھوڑے پستہ قد تھے۔ اسی لئے جالوت جیسے لمبے چوڑے کے سامنے بونے نظر آرہے تھے۔ جالوت نے اپنے مقابلے پر ایک چھوٹے سے نوجوان کو دیکھا تو زور زور سے ہنسنے لگا اور بولا۔ اے نوجوان ، کیوں اپنی جان کا دشمن بن رہا ہے۔ جاواپس لوٹ جا کیوں کہ مجھے تجھ پر رحم آرہا ہے۔ اور میں تجھے قتل نہیں کرنا چاہتا۔ اس پر آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ لیکن مجھے تجھ پر رحم نہیں آرہا ہے اور میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے اپنی گوپھن نکالی اور ان تین پتھروں کو ایک ساتھ گوپھن میں رکھ کر گھما کر پھینکا۔ آپ علیہ السلام گوپھن بہت اچھی چلاتے تھے اور نشانہ ہمیشہ صحیح لگتا تھا۔ اور اس بار تو آپ علیہ السلام نے اپنی پوری مہارت استعمال کی تھی۔ جالوت مسکراتا ہوا کھڑا آپ علیہ السلام کی حرکتوں کو دیکھ رہا تھا۔ لیکن اچانک اس کی مسکراہٹ حیرانی میں بدل گئی ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کے پھینکے ہوئے تینوں پتھر بالکل صحیح نشانے پر جا کر لگے۔ پہلا پتھر پیٹ میں لگا اور زرہ بکتر ( لوہے کا لباس) کو توڑتا ہوا پیٹ میں گھس گیا۔ دوسرا پتھر سینے پر لگا اور زرہ بکتر توڑتا ہوا پسلیوں کو توڑتا ہوا گھس گیا۔ اور تیسرا پتھر سر میں لگا اور کھوپڑی کو توڑتا ہوا اس پار نکل گیا۔ جالوت نے حیرانی سے اپنے ٹوٹے پھوٹے جسم کو دیکھا جو بری طرح لڑکھڑا رہا تھا۔ پھر حضرت داﺅد علیہ السلام کو دیکھتا ہوا اوندھے منہ گر پڑا اور موت آگئی۔ حیرانی اس کے چہرے پر منجمد ہو گئی تھی۔ جالوت کو مرتا ہوا دیکھ کر اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ ادھر آپ علیہ السلام نے زور سے نعرہ ¿ تکبیر بلند کیا اور جالوت کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ طالوت کے لشکر نے بھی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ جالوت کے لشکر پر ٹوٹ پڑے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جالوت کے لشکر کو شکست دی۔
طالوت کی بیٹی سے نکاح
حضرت داﺅ د علیہ السلام نے جالوت کو قتل کردیا۔ حضرت طالوت نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی شخص جالوت کو قتل کر ے گا میں اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردوں گا۔ اسی وعدہ کو طالوت نے پورا کیا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کو اپنا داماد بنالیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے آپ علیہ السلام کو اپنا سپہ سالار بھی بنا لیا۔ اس کے بعد حضرت داﺅد علیہ السلام اور طالوت نے مل کر آس پاس کی کافر قوموں سے جنگ کی اور انہیں شکست دی۔ اور اسلامی حکومت کو مستحکم کیا۔ دونوں حضرات نے مل کر بنی اسرائیل کے لئے بہت سے رفاعی کام کئے اور ہر طرف عوام آرام اور چین سے زندگی گزارنے لگی۔ اس طرح لگ بھگ بیس20سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور طالوت کی بادشاہت میں بنی اسرائیل کو بہت استحکام نصیب ہوا۔ طالوت ملک کے اندرونی حالات کو کنٹرول میں رکھے ہوئے تھا اور حضرت داﺅد علیہ السلام بیرونی ملک اور فوج کے حالات کو سنبھالے ہوئے تھے۔
حضرت طالوت کی شہادت
حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کی فوج کے ساتھ عمالقیوں اور فلسطینیوں کے کافروں سے جنگ کرتے تھے۔ اور ضرورت پڑنے پر طالوت بھی جنگ میں شامل ہو تے تھے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام اور طالوت کے بارے میں بائیبل میں بہت زیادہ گستاخیاں کی گئی ہیں۔ اور دونوں حضرات پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں کہ ( نعوذ باللہ ) طالوت ، حضرت داﺅد علیہ السلام سے حسد کرنے لگے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) قتل کرنے کی کوشش کی اور آپ علیہ السلام خوش قسمتی سے بچ سکے۔ اور پھر ( نعوذ باللہ) طالوت نے خود کشی کر لی۔ یہ سب ان نیک بندوں پر بے جا الزامات ہیں۔ (حضر ت داﺅد علیہ السلام پر الزامات کا ذکر آگے آئے گا) حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے بہت ہی نیک اور مخلص بندے تھے۔ اور اس کا ثبوت قرآن پاک کی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نیک اور مخلص ہونے کی گواہی دی ہے۔ بائیبل میں یہ غلط بات بھی لکھی ہے کہ طالوت نبی تھے ۔ لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ایک حکمراں یا بادشاہ بتا یا ہے۔ جب کہ بد بخت یہود و نصاریٰ ( بنی اسرائیل اور عیسائی) نے حضرت داﺅد علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ وہ ( نعوذ باللہ ) نبی نہیں تھے۔ اور صرف حکمراں یا بادشاہ تھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بتایا کہ آپ علیہ السلام بنی بھی تھے اور بادشاہ یا حکمراں بھی تھے۔ دونوں حضرات مل کر اسلامی حکومت چلا رہے تھے۔ اور اسی دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ اور طالوت نے خودکشی نہیں کی بلکہ ایک جنگ میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے وہ شہید ہو گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ طالوت نے بنی اسرائیل پر 20برس سے کچھ زیادہ عرصہ حکومت کی ۔ اور دوسری روایت کے مطابق 40برس تک حکومت کی۔ اب حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام نبوت اور بادشاہت سے سر فراز
اللہ تعالیٰ نے سورہ نساءمیں فرمایا ۔ ترجمہ ” اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) کو زبور عطافرمائی۔ (سورہ النساءا ٓیت نمبر164) سورہ سباءمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) پر اپنا فضل کیا۔ “ ( سورہ السباءآیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان (کافروں) کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داﺅد علیہ السلام کو یاد کریں۔ جو بڑی قوت والا تھا اور بے شک وہ بہت رجو ع کرنے والا تھا۔ (سورہ ص ٓ آیت نمبر17) اسی سورہ میں آیت نمبر20میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے اسکی ( حضرت داﺅد علیہ السلام کی) سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت عطا فرمائی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا ( سکھایا تھا) “ اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے یقینا داﺅد (علیہ السلام )اور سلیمان (علیہ السلام ) کو علم دے رکھا تھا۔ اور دونوںنے کہا۔ تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔“ (سورہ النمل آیت نمبر15) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے داﺅد (علیہ السلام )ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا ہے اب تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔“ (سورہ ص ٓ آیت نمبر26) ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت سے سرفرازفرمایا اور ساتھ ساتھ کتاب (زبور) بھی عطا فرمائی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکومت یعنی سلطنت بھی عطا فرمائی ۔ اس طرح حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے پہلے نبی ہیں۔ جنہیں نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی۔ آپ علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل میں بادشاہ الگ ہوتے تھے اور نبی الگ ہوتے تھے۔ ہاں حضرت یوسف علیہ السلام نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے۔ لیکن بنی اسرائیل اس وقت وجود میں نہیں آئے تھے۔
بنی اسرائیل میں ہر دل عزیز
حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل میں ہر دلعزیز اسی وقت ہو گئے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔ امام ابن عسا کر کے قول کے مطابق یہ قتل ام حکیم کے محل کی جگہ مرج الصفر کے قریب واقع ہوا۔ اس بہادری اور معجزانہ قوت کی وجہ سے نبی اسرائیل آپ علیہ السلام کے شیدائی بن گئے۔ اور ان تمام کا میلان آپ علیہ السلام کی طرف ہو گیا تھا۔ اسی لئے تمام بنی اسرائیل نے متفقہ طور سے حضرت داﺅد علیہ السلام کو اپنا حکمراں تسلیم کر لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دنیاﺅں اور اُخروی دونوں نعمتوں سے نوازا تھا۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی بھی تھے۔ اور بادشاہ بھی تھے۔ جب کہ اس سے پہلے بادشاہ ایک نسل سے ہوتا تھا تو نبی دوسری نسل سے ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام میں بادشاہت اور نبوت دونوں جمع فرمادیں۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی فتوحات
حضرت داﺅد علیہ السلام نے حکمراں بنتے ہی اللہ کے قانون کو نافذ فرمایا اور اسلامی حکومت کو مستحکم کیا۔ آپ علیہ السلام کے دور ِ نبوت اور حکومت میںپورے ملک کنعان میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ اور آس پاس کے مشرکوں نے بھی اطاعت قبول کر کے خراج دینا منظور کر لیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام مستقل طور سے بنی اسرائیل پر حکومت کرنے لگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنو کنعان سے لڑے اور ان پر غالب آئے۔ اس کے بعد بنو فلسطین سے مدتوں معرکہ آرائیاں کرتے رہے اور ان کے اکثر شہروں پر قبضہ کر لیا اور ان پر سالانہ خراج مقررکیا۔ اس کے بعد بنو موآب اور بنو عمون سے جنگ کی اور انہیں زیر و زبر کر کے ان پر جزیہ قائم کیا۔ اس کے بعد آگے بڑھ کر دمشق اور حلب میں آرمینیوں پر جزیہ قائم کیا۔ اور آپ علیہ السلام کے مقرر کئے ہوئے افسران سالانہ جزیہ وصول کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی سلطنت و حکومت کی ہیبت آس پاس کے علاقوں سے نکل کر کافی دور تک پھیل گئی۔ یہاں تک کہ انطاکیہ کے حکمراں نے بھی خراج دینا قبول کر لیا۔ اور ہدیے اور تحفے بھیجے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے زبردست عزم و حوصلے سے قوم بنی اسرائیل کو ایک نئے جذبے سے سر شار کر دیا۔ جس سے ان کے قدم آگے بڑھتے چلے گئے۔ آپ علیہ السلام نے یروشلم کو فتح کر کے اسے سلطنت بنی اسرائیل کا مرکزی شہر ( راجدھانی) بنا دیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام کی (اسلامی) حکومت خلیج عقبہ سے دریائے فرات کے کناروں تک پھیل کر عدل و انصاف ، امن سکون اور خوش حالی کا گہوارہ بن گئی۔ لیکن اتنی زبردست سلطنت کے بادشاہ ہونے کے باوجود آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی عبادات
حضرت داﺅد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت کی دوہری ذمہ داری عطا فرمائی ۔ اور آپ علیہ السلام نے اس ذمہ داری کو بہت خوبی سے نبھایا۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضر ت داﺅد علیہ السلام راتوں کو خاموشی سے سلطنت کے لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے گشت کرتے ۔ تاکہ کوئی حاکم ( گورنر ، عمّال) کسی مظلوم پر کسی طرح کا ظلم و زیادتی نہیںکر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت داﺅد علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے حاصل ہونے والا رزق ہے۔ اور بلا شبہ حضرت داﺅد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا اور اپنے بچوں کا گزارہ کر تے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جگہ فرمایا کہ نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نماز حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے جو آدھی رات سوتے تھے پھر ایک تہائی رات میں اللہ تعالیٰ کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور رات کے آخری حصے میں آرام فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ سب روزوں میں محبوب ترین اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت داﺅد علیہ السلام کے روزے ہیں ، جو ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ (قرطبی) آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل و کرم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت عدل و انصاف اور عام لوگوں کی خدمت کا ایک عظیم جذبہ عطا فرما یا تھا۔
لوہا نرم ہو جانے کا معجزہ
اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی تھی ۔ا ور اس کے علاوہ کئی معجزات بھی عطا فرمائے تھے۔ ان میں سے ایک معجزہ لوہے کا نرم ہوجانا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوہا رکس طرح لوہے کو بھٹی میں پگھلا کر نرم کرتا ہے۔ اور پھر اس پگھلے ہوئے لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق پیٹ پیٹ موڑتا یا ڈھالتا ہے۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ گھروں میں ہماری والدہ اور بہنیں آٹے کو گوندھتی ہیں اور اس آٹے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ کر بیل کر روٹیاں پکاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو ایسا معجزہ عطا فرمایا تھا کہ لوہا جیسے ہی آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آتا تو آٹے کی طرح نرم ہو جاتا تھا۔ اور آپ علیہ السلام بہت ہی آسانی سے اسے اپنی مرضی کے مطابق موڑ لیا کرتے تھے۔ یا ڈھال لیا کرتے تھے۔ بادشاہ بننے کے بعد آپ علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنا کر فروخت کرتے تھے۔ اور اسی پر آپ علیہ السلام کا گھر چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ” بے شک ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) کو اپنی طرف سے فضیلت بخشی( اور پہاڑوں کو حکم دیا کہ ) اے پہاڑو، اُن کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔ اور ہم نے لوہے کو ان کے لئے نرم کر دیا۔ ( اور فرمایا) کشادہ زرہیں بناﺅ اور ( ان کی جالیوں کے ) حلقے جوڑنے میں مناسب اندازے کا خیال رکھو۔ اور ( اے آل داﺅد عمل صالح پر جمے رہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔“(سورہ السباءآیت نمبر10اور 11)
زرہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی ایجاد ہے
حضرت داﺅد علیہ السلام سے پہلے لوگ زرہ بکتر کے بارے میں جانتے ہی نہیں تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے لوہے کو مٹی کی طرح نرم کر دیا تھا۔ حضرت حسن بصری ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لوہا آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں آنے کے بعد آٹے کی طرح ہو جاتا تھا۔ اور اس سے آپ علیہ السلام زرہیں بناتے ہیں۔ حضرت قتادہ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ سے لوہے کے حلقے بناتے جاتے تھے۔ جس طرح مٹی میں کام کیا جاتا ہے۔ لوہے کو آگ میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اور ن ہ ہی ہتھوڑے سے اس پر ضربیں لگانے کی ضرورت پڑتی تھی۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے سب سے پہلے زرہ بکتر بنائی۔ اس سے پہلے لوگ لوہے کے پترے دشمنوں سے حفاظت کےلئے استعمال کرتے تھے۔ حضرت ابن شوذب فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام ہر روز ایک زرہ بناتے تھے۔ اور اس کے جو پیسے ملتے تھے اس کے تین حصے کرتے تھے۔ ایک حصہ اپنے استعمال کےلئے رکھتے ، ایک حصہ گھر والوںکے لئے رکھتے اور ایک حصہ بنی اسرائیل کے ضرورت مندوں اور غریبوں پر خرچ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے زرہ بکتر کی ایجاد کے بارے میں سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اسے ( حضرت داﺅد علیہ السلام کو ) تمہارے لئے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضررسے تمہارا بچاﺅ ہو۔ کیا ( اب بھی) تم شکر گزار بنو گے؟( سوہ الانبیاءآیت نمبر80)
زبور کا نزول
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ بہت زبردست انعام کیا کہ حضرت داﺅد علیہ السلام جیسا عظیم نبی اور رسول اور حکمراں عطا فرمایا تھا۔ آپ علیہ السلام نے تمام بنی اسرائیل کو متحد کیا اور پورے ملک کنعان میں اسلامی حکومت قائم فرمائی۔ آ پ علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل کو بہت عروج حاصل ہوا۔ پہلے بنی اسرائیل بکھرے ہوئے تھے آپسی اختلافات کا شکار تھے اور آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے آس پاس کی مشرک قومیں ان پر ٹوٹ پڑتی تھیں اور ان کے انتشار کا فائدہ اٹھا کر ان پر حاوی ہو جاتے تھے اور محکوم بنا لیتے تھے۔ یہ ہم لوگوں ( امت مسلمہ ) کے لئے بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم بھی مسلکی اختلافات کا شکار ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے سخت دشمن ہیں اور اسی وجہ سے محکوم ہیں۔ کاش کہ ہمیں سمجھ آجائے او رہم متحد ہوجائیں۔ تو حضرت داﺅد علیہ السلام نے سب سے پہلے مشرک دشمنوں سدِ باب کیا۔ اسی دوران آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ”زبور“ نازل فرمائی۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ نساءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام )کو زبور عطا فرمائی“(سورہ النساءآیت نمبر164) آپ علیہ السلام نے توریت اور زبور کی روشنی میں سلطنت کے قوانین مرتب فرمائے۔ اور تمام بنی اسرائیل کے علاقوں میں ہرجگہ فلاحی ادارے قائم فرمائے۔ اور سلطنت و حکومت کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے کیا کہ تمام بنی اسرائیل کے علاقوں میں ہر جگہ فلاحی ادارے قائم فرمائے۔ اور سلطنت و حکومت کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے کیا کہ عوام خوش حال ہو گئی۔ اور جتنا امن و سکون بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کی حکومت میں حاصل ہوا۔ اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا تھا۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی خوش الحانی
حضرت داﺅد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت نہایت ہی خشوع خضوع سے کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنی نفلی عبادات کا دستور بنا رکھا تھا اور اس پر مستقل مزاجی سے اس پر قائم رہتے تھے۔ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ اس طرح ہمیشہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھتے رہے۔ اور رات کا ایک حصہ عبادت کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ تر نماز حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔ اور پسندیدہ ترروزے بھی آپ علیہ السلام کے ہیں اور پسندیدہ تر عبادت بھی حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔“ان تمام خوبیوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت ہی دلکش آواز سے بھی نوازا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام اتنے اچھر انداز سے اپنی دلکش آواز میں زبور کی تلاوت فرماتے تھے کہ آپ علیہ السلام کی خوش الحانی کو سن کر انسان تو حیرت اور سکتہ میں مبتلا ہو ہی جاتے تھے اور خاموشی سے بت بن کر زبور کی تلاوت سننے لگتا تھا ۔ انسانوں کے علاوہ جانور اور پرندے بھی آپ علیہ السلام کی دلکش آواز سن کر آپ علیہ السلام کے اطراف جمع ہو جاتے تھے۔ اور وہاں سے ہٹنے کا نا م ہی نہیں لیتے تھے۔ اور جب تک آپ علیہ السلام تلاوت کرتے رہتے تھے تب تک اُن کے پاس ہی جمع رہتے تھے۔ یہ تو انسانوں، جانوروں اور پرندوں کی بات ہوئی ۔ آپ علیہ السلام کی آواز اتنی دلکش تھی اور تلاوت اتنے اچھے انداز میں کرتے تھے کہ پہاڑ بھی وجد میں آجاتے تھے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے۔
پہاڑوں کی تسبیح کا معجزہ
اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ترجمہ ” اور داﺅد ( علیہ السلام )کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے۔ جو تسبیح کرتے تھے اور پرند بھی ( تسبیح کرتے تھے) اور ہم ہی کرنے والے تھے۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر79) اللہ تعالیٰ نے سورہ سباءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے داﺅد (علیہ السلام )پر اپنا فضل کیا۔ ( اور فرمایا) اے پہاڑو، اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی ( یہی حکم دیا) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کر دیا۔“ (سورہ سباءآیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان ( کافروں) کی باتوں پر صبر کریں۔ اور ہمارے بندے داﺅد (علیہ السلام )کو یاد کریں۔ جو بڑی قوت والا تھا۔ بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اسکے تابع کر رکھا تھا کہ اسے شام کو او رصبح کو تسبیح خوانی کریں۔ اور پرندے جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے تھے۔ “ ( سورہ ص ٓآیت نمبر17سے 19تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام )پر اپنا فضل کیا۔ “فضل کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں۔ اس سے مراد وہ خاص صفات ہیں جو دوسروں سے زائد ان کو عطا کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی و رسول کو بعض خاص امتیازی صفات عطا فرمائی ہیں جو ان کی مخصوص فضیلت سمجھی جاتی ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کی مخصوص صفات یہ تھیں کہ ان کو اپنی نبوت و رسالت کے ساتھ ساتھ سلطنت و حکومت بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ اور خوش کُن آواز کی ایسی صفت عطا فرمائی تھی کہ جب آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر یا زبور کی تلاوت میں مشغول ہوتے تو ہر پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے سننے کو جمع ہو جاتے تھے۔ اور پہاڑ بھی وجد میں آکر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ پہاڑوں کی یہ تسبیح جو وہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے ساتھ کرتے تھے اس عام تسبیح کے علاوہ ہے جس میں تمام کل مخلوقات شریک ہیں۔ اور جوہر جگہ ہر وقت ہر زمانے میں تمام مخلوقات کرتی رہتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ (ترجمہ ) ”دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی تسبیح نہ پڑھتی ہو۔ مگر تم اس کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔“یہاں اللہ تعالیٰ جس تسبیح کاذکر فرما رہے ہیں وہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے ظاہر ہے کہ ا س تسبیح کو عام سننے والے بھی سنتے اور سمجھتے ہوں گے۔ ورنہ پھر یہ معجزہ ہی نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کی آواز کے ساتھ پہاڑوں کا آوازملانا اور تسبیح دہرانا بازگشت کے طور پر نہیں تھا۔ جیسا کہ عام طور سے گنبد یا کنویں وغیرہ میں آواز دینے سے لوٹ کر آواز آتی ہے۔ بلکہ باقاعدہ صاف طور پر پہاڑوں کے تسبیح کرنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی تمنا
حضرت داﺅد علیہ السلام نے اپنی زندگی کے تین حصے کر رکھے تھے۔ ایک دن حکومت کے تمام معاملات حل کرتے تھے۔ دوسرے دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ اور تیسری دن اپنے گھر والوں یعنی بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ آپ علیہ السلامنے توریت اور زبور میں اپنے آباﺅ اجداد یعنی حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے بارے میں پڑھا۔ اور ان کے مراتب ملا خطہ فرمائے۔ یعنی یہ دیکھا کہ ان بزرگوں کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا مرتبے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلامنے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، ساری بھلائی اور فضیلتیں تو میرے آباﺅ اجداد لے گئے ہیں۔اے اللہ مجھے بھی وہ عطا فرما دے جو تو نے انہیں عطا فرمایا ہے۔ اور میرے ساتھ بھی وہ معاملہ کر جو ان کے ساتھ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ میں نے ان نیک بندوں کو آزمائشوں میں مبتلا کیا تھا۔ ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کو قربانی کے ذریعے آزمایا۔ اور یوسف علیہ السلام کو بھائیوں کے ذریعے آزمایا۔ وہ سب ان آزمائشوں میں کامیاب ہوئے تو انہیں یہ مراتب عطا فرمائے اور ابھی ہم نے تمہاری ایسی کوئی شدید آزمائش نہیں لی ہے۔ آپ علیہ السلامنے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، میری بھی آزمائش لے جو میرے آباﺅ اجداد کی لی تھی۔ اور اگر میں کامیاب ہو ا تو مجھے بھی ہو سب عطا فرما۔ جو میرے بزرگوں کو عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ صبر کرو ، میں تمہاری بھی آزمائش لوں گا۔
حضرت داﺅد علیہ السلامکی دلکش کی آواز کا اثر
حضرت داﺅد علیہ السلامکو اللہ تعالیٰنے اتنی دلکش آواز عطا فرمائی تھی کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور اور پرنے اور پہاڑ بھی مسحور ہو جاتے تھے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت دلکش اور انتہائی دل نشین آواز سے نوازا تھا۔ کہ ایسی آواز کسی اور انسان کو عطا نہیں کی گئی۔ جب آپ علیہ السلام زبور کی تلاوت کرتے تھے تو خوش الحانی کے اثر سے پرندے سر پر آکر ٹھہر جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کی آواز میں اپنی آواز ملا کر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اور اسی پر بس نہیں ہوتا تھا بلکہ تمام پہاڑ بھی آپ علیہ السلام کے اور پرندوں ساتھ مل کر وجد میں آجاتے تھے۔ اور آواز میں آواز ملا کر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اور پہاڑ اور پرندے صبح و شام آپ علیہ السلام کے ساتھ مل کر تسبیح کرتے رہتے تھے۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو حسن صوت کی دولت سے اس قدر نوازا تھا کہ کوئی شخص اس طرح نوازا نہیں گیا ہوگا۔ حتیٰ کہ پرندے اور جانور آپ علیہ السلام کی آواز سننے کے لئے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے تھے۔ وہ بھوک اور پیاس سے مرنا پسند کرتے تھے لیکن آپ علیہ السلام کے پاس سے ہٹنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اور اسی طرح پورا دن لحنِ داﺅدی سننے میں مست و بخود ہو کر گزار دیتے تھے۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہٰں کہ جب کسی انسان کے کان میں آپ علیہ السلام کی آواز پڑ جاتی تھی تو وہ اتنا وجد میں آجاتا تھا کہ اچھلنے کودنے لگتا تھا۔ آپ علیہ السلام زبور کی آیات کو ایسی خوب صورت آواز میں تلاوت فرماتے تھے کہ ایسی آواز کی مثال نہیں ملتی ہے۔ جنات اور انسان، چرند و پرند سب آپ علیہ السلام کی آواز سننے کے لئے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے بعض تو بھوک کی وجہ سے مر جاتے تھے۔ ( مگر ہٹنا پسند نہیں کرتے تھے)
فیصلہ کی قوت
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اس کی ( حضر ت داﺅد علیہ السلام کی ) سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا۔ اور اسے حکمت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور بات کو فیصلہ ( کرنا بھی ) سمجھا دیاتھا۔ “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر20) علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کر دی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اور فو ج اس قدر تھی کہ ہر رات تینتیس33ہزار فوجی پہرہ دیتے تھے۔ لیکن اس کے بعد سال بھر تک پھر ان کی باری نہیں آتی تھی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے تھے۔ ( اور بات کا فیصلہ کرنا بھی سمجھا دیا کہ تشریح میں لکھتے ہیں کہ ) ایک روایت میں ہے اُن کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں نے مقدمہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا ۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کر لی ہے ۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے مدعی سے دلیل طلب کی تو وہ کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اچھا کل اس مقدمے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ رات کو حضرت داﺅد علیہ السلام کو خواب میں حکم ہواکہ دعوے دار کو قتل کردو ۔ صبح آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلوایا۔ ( لیکن جس پر الزام تھا وہ نہیں ملا اور صرف مدعی آیا) آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ مدعی کو قتل کر دیا جائے۔ اس نے کہا اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، میرے قتل کا حکم دیا جا رہا ہے۔ جب کہ میری ہی گائے چوری ہو ئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اور اس کا ٹل جانا ناممکن ہے۔ تب اس نے کہا۔ اے اللہ کے علیہ السلام ، میں اپنے دعوے میں تو سچا ہی ہوں اور اسی نے میری گائے چرائی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں دیا ہے بلکہ اس کی دوسری وجہ ہے جو صرف میں ہی جانتا ہوں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ آج ( رات) دھوکے سے میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ ( یعنی گائے چور کو) اسی کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو قصاص کا حکم دیاہے۔ آخر کار اسے قتل کر دیا گیا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہیئت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی
بہترین خطیب
حضرت داﺅد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت بہترین تقریر یعنی خطاب کرنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور آپ علیہ السلام بہترین خطیب بھی تھے۔ سورہ ص ٓ کی آیت نمبر 20کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ واتینٰہُ الحکمة و فَصَل الخطاب ۔ ( اور ہم نے ان کو حکمت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی) حکمت سے مراد تو دانائی ہے یعنی ہم نے انہیںعقل و فہم کی دولت بخشی تھی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا حکمت سے مراد نبوت ہے۔ اور ”فصل الخطاب “ کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد زور بیان اور قوت خطابت ہے کیوں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام بہت اونچے درجے کے خطیب تھے۔ اور خطبوں میں حمد و صلوٰة کے بعد لفظ ”اما بعد“ سب سے پہلے آپ علیہ السلام نے ہی کہنا شروع کیا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے بہترین قوتِ فیصلہ مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جھگڑے چکانے اور تنازعات کا فیصلہ کرنے کی قوت عطافرمائی تھی۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی مثال
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی آیت نمبر20میں دنیا کے تمام حکمرانوں اور بادشاہوں کے سامنے حضرت داﺅد علیہ السلام کی مثال بیان فرمائی ہے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ کہ رسول اللہ علیہ السلام سے خطاب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کافروں ( مکہ مکرمہ کے کفار سرداروں) اور مشرکین کی باتوں پر صبر کریں اور اپنی معمولی معمولی سرداریوں پر ناز کر کے سچائیوں کا انکار کرنے والوں کو حضرت داﺅد علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں بتائیں۔ ان کی سلطنت اور قوت کا حال انہیں سنائیں اور پھر ان کو یہ بتائیں کہ اتنی بڑی سلطنت کے حکمراں یا بادشاہ ہونے کے بعد بھی آپ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ سب سے اچھی مثال حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔ جو (1) صبر سے کام لیتے تھے۔ (2) صرف اللہ کی طرف دھیان لگائے رہتے تھے۔ (3) وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں لگے رہتے تھے۔ (4) ان کی سلطنت ایک مضبوط اور مستحکم حکومت تھی۔ ہر طرف ان کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اور سب پر ان کا حکم چلتا تھا۔ (5) ان کے پاس ایک بہت بڑی فوج تھی۔ (6) وہ نہایت ذہین اور ذکی تھی۔ اور ہر بات کی تہہ تک پہنچ جایا کرتے تھے۔ (7) جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تو وہ ا س کا بہترین فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ (8) وہ ہر بات کو اتنے اس طرح صاف طور پر سمجھاتے تھے کہ سننے والے کے دل میں شک و شبہ بالکل نہیں رہتا تھا۔ (9) آپ علیہ السلام سلطنت کا کاروبار نہایت دیانت، امانت ، دانائی اور ہوشیاری سے کرتے تھے۔ (10) وہ ہر وقت اللہ کی بندگی اور عبادت میں رہتے تھے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی آزمائش
اللہ تعالیٰ سے حضرت داﺅد علیہ السلام نے درخواست کی تھی کہ میرے آباﺅ اجداد حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کی طرح میری بھی آزمائش لے۔ اور میں اس آزمائش میں پورا اتنے کی کوشش کروں گا۔ اورمیں کامیاب ہو گیا تو کیا میرے آباﺅ اجداد کی طرح مجھے بھی فضیلتیں عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عنقریب ( بہت جلد) ہم تمہاری آزمائش لیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اپنے دل میں طے کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ آزمائش میں مبتلا کریں گے تو انشاءاللہ میں اس پر پوری طرح کامیاب ہونے کی کوشش کروں گا۔ اور آپ علیہ السلام سے فرمایا۔ کہ عنقریب آپ علیہ السلام کو آزمایا جائے گا۔ اوراس روز عبادت کا دن تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے عبادت کرنے والے حجرے میں آگئے ۔ دروازے پر منصف کو بٹھا دیا ور اسے حکم دیا کہ آج کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہیں دینا۔ اور عبادت گاہ کا دروازہ بند کر کے آپ علیہ السلام زبور کی تلاوت کرنے بیٹھ گئے۔ آپ علیہ السلام کی خوش الحانی کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور پرندوں کا ٓپ علیہ السلام کے پاس آنا عام بات تھی۔ ابھی آپ علیہ السلام تلاوت میں مصروف ہی تھے کہ روشن دان سے ایک انتہائی خوبصورت پرندہ اندر آیا اور آپ علیہ السلام کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ اور دھیرے دھیرے قریب ہونے لگا۔ یہ ایک سنہری پرندہ تھا اور جتنی خوبصورتی بھی ہو سکتی تھی وہ سب اس پرندہ کے اندر تھی۔ اور دیکھنے میں ایسا لگتا تھا کہ مسلسل اس پرندے کا رنگ بدل رہا ہے۔ اس میں ہر رنگ تھا۔ تلاوت کے دوران آپ علیہ السلام کی نظر اس پرندے پر پڑی تو وہ انتہائی خوبصورت دکھائی دیا۔ اور وہ اتنا قریب تھا کہ اسے دیکھتے ہی آ پ علیہ السلام نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھونا چاہا تو وہ اڑ گیا۔ آپ علیہ السلام نے بیٹھے بیٹھے نگاہوں سے اس کا پیچھا کیا کہ کہا ں جا کر بیٹھتا ہے؟ وہ کھڑکی پر جا کر بیٹھا۔ اور پھر اڑ کر باہر چلا گیا۔ اسی وقت آپ علیہ السلام کی نظر ایک خوبصورت عورت پر پڑی جو اپنے گھر کی چھت پر کسی کام میں مصروف تھی۔ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے دل میں خیال آیا کہ اس عورت سے نکاح کیا جائے۔
عجیب مقدمہ
حضرت داﺅد علیہ السلام نے اُس عورت کے متعلق سوچنے میں کئی دن گزار دیئے ۔ پھر ایک دن آپ علیہ السلام عبادت میں مشغول تھے کہ اچانک دو آدمی آپ علیہ السلام کے حجرتے ( عبادت گاہ) میں داخل ہوئے اور ایک عجیب مقدمہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور کیا تمہیں جھگڑنے والوں کی خبر ملی؟ جب وہ دیوار پھاند کر محراب (عبادت کے حجرے) میں آگئے تھے۔ جب یہ ( دونوں ) داﺅد علیہ السلام کے پاس پہنچے تو یہ گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا۔ گھبرائیے نہیں ہم دونوں آپ علیہ السلام کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ اور ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمادیں۔ اور ہمیں صحیح راستہ بتا دیں۔ یہ میرا بھائی ہے اور اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں۔ اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ لیکن یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ایک بھی مجھے دے دے۔ اور اس کے لئے مجھ پر زبردستی بھی کرتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بے شک تیرے اوپر ظلم ہے۔ اور اکثر حصہ دار اور شریک ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے۔ اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے۔ پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور رجو ع کیا۔( سورہ ص ٓ آیت نمبر21سے 24)
حضرت داﺅد علیہ السلام کا رجوع
حضرت داﺅد علیہ السلام کی آزمائش اور رجوع کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کہ جب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ جیسی شان میرے آباﺅ اجداد کو عطا فرمائی گئی ہے ویسی ہی شان مجھے بھی عطا فرما ئی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں نے انہیں ایسی آزمائش میں ڈالا تھا جیسی آزمائش میں ابھی تج تمہیں نہیں ڈالا ہے۔ اگر تم چاہو تو تمہیں بھی آزمائش میں مبتلا کروں اور جب تم کامیاب ہو جاﺅ تو تمہیں بھی ویسی ہی شان عطا فرماﺅں ۔ جیسی تمہاری آباﺅ اجداد کو عطا فرمائی ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، بے شک میری بھی اسی طرح آزمائش لیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم عمل کرتے جاﺅ عنقریب تمہاری آزمائش لی جائے گی۔ اس کے بعد کافی عرصہ گزر گیا اور اتنا وقت گزر گیا کہ آپ علیہ السلام آزمائش کی بات کو لگ بھگ بھول سے گئے ۔ یعنی ذہن سے یہ بات محو ہو گئی کہ کسی وقت بھی اچانک میری آزمائش لی جا سکتی ہے۔ ایسے وقت میں اس خوبصورت پرندے کا اور عورت پر نظر پڑنے کا واقعہ پیش آیا۔ آپ علیہ السلام ابھی اسی غورو فکر میں تھے کہ ایک دن جو آپ علیہ السلام کی عبادت کا دن تھا اور اس دن کسی کو بھی آپ علیہ السلام سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھا کہ آپ علیہ السلام جس معاملے میں پڑے ہوئے ہیں تو اس معاملہ کو نافذ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اور جب حضرت فاﺅد علیہ السلام اپنی عبادت گاہ میں مشغول تھے کہ اچانک دو فرشتے انسانی شکل میں دیوار پھلانگتے ہوئے اور پہریداروں کو چکمہ دیتے ہوئے عبادت گاہ میںداخل ہو گئے۔ جب آپ علیہ السلام عبادت سے فارغ ہوئے تو ان دو افراد کو دیکھ کر چونک گئے اورپریشان ہو گئے کہ اتنے پہریداروں کی موجودگی میں یہ دونوں یہاں تک کیسے آگئے؟ تو انہوں نے فوراً کہا کہ ہمارا فیصلہ کر دیں تو آپ علیہ السلام کی بڑی مہربانی ہو گی۔ اور پھر بھیڑوں کا مقدمہ پیش کیا۔ آپ علیہ السلام نے ایک بھیڑ والے سے فرمایا تو اپنی بھیڑ کا زیادہ مستحق ہے اور تیرے ساتھی نے تجھ سے بھیڑ مانگ کر تیرے اوپر ظلم کیا ہے۔ یہ فیصلہ سن کر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے ان کی کیفیت دیکھی تو سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اسی لئے تمام پہرے کو توڑ کر یہاں تک پہنچ گئے۔ اور سمجھ گئے کہ یہ مقدمہ میری آزمائش ہے۔ آپ علیہ السلام فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس عورت کے بارے میں اپنے خیال پر معافی مانگنے لگے۔ اور چالیس دنوں تک اسی حالت میں روتے رہے کہ آپ علیہ السلام کے آنسوﺅں سے سبزہ اُگ آیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام چالیس دن اور رات سجدہ میں رہے۔ اور سر نہیں اٹھاتے تھے۔ صرف فرض نماز کے لئے سر اٹھاتے تھے۔ یہاں تک کہ آنسو خشک ہو گئے اور پیشانی ، ہتھیلیاں اور گھٹنے زخمی ہو گئے۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بشارت دی کہ تم آزمائش میں کامیاب ہو گئے۔
وہ دونوں فرشتے تھے
حضرت داﺅد علیہ السلام نے ایک نظر صرف اس عورت کو دیکھا اور اس کے بعد اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ اور صرف اس سے نکاح کے بارے میں سوچا اور اس پر عمل نہیں کیا تھا۔ بلکہ غور و فکر کر رہے تھے کہ ان دونوں افراد کے مقدمہ کا واقعہ پیش آیا۔ کسی کے خیال پر اللہ تعالیٰ نے گرفت نہیں فرمائی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے اس میں بھی احتیاط برتتے ہیں۔ اسی لئے حضرت داﺅد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو معصوم بنایا ہے۔ اور وہ غلطی نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ غلطیوں سے پاک ہوتے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اُن دونوں افراد پر غور سے نظر ڈالی تو پہچان لیا کہ یہ انسانی شکل میں فرشتے ہیں علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ علمائے کرام کی ایک جماعت کا قول ہے کہ وہ دونوں فرشتے تھے۔ اور علمائے کرام کی ایک جماعت نے بتایا کہ وہ دونوں جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔ ایک قول میں یہ ہے کہ وہ دوانسانی شکل میں فرشتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کو حضرت داﺅد علیہ السلام کی عبادت کے دن ان کے پاس بھیجا۔ وہ دونوں آپ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت نماز میں مشغول تھے۔ اسی لئے ان کی آمد کو محسوس نہیں کیا اور وہ دونوں ایک طرف بیٹھ کر نماز مکمل ہو نے کا انتظا رکرنے لگے۔
اللہ کے خلیفہ
اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے داﺅد (علیہ السلام )ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا۔ ( تاکہ ) تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔ “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر26) اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اور سلطنت و حکومت بھی عطا فرمائی تھی۔ اہل کتاب یعنی یہودیوں ( بنی اسرائیل ) اور عیسائیوں ( نصاریٰ) نے بائیبل یعنی توریت اور انجیل میں خرد برد کر کے ملاوٹ کر دی ہے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی شان میں نعوذ باللہ بہت سی گستاخیاں کی ہیں۔ ان میں سے ایک گستاخی یہ تھی ہے کہ آپ علیہ السلام نعوذ باللہ نبی نہیں تھے۔ اور صرف بادشاہ تھے۔ ان بد بختوں کی اس گستاخی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے۔ مولانا مفتی آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ہیں۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل کر کے آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کی آنکھ کا تارا بن گئے تھے۔ حضرت طالوت جن کی سربراہی میں جالوت کے زبردست لشکر کو مٹھی بھر مسلمانوں نے بد ترین شکست دے کر میدان سے بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی شجاعت و بہادری ، تقویٰ اور پرہیز گاری کو دیکھ کر ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا تھا۔ حضرت طالوت کے انتقال کے بعد آپ علیہ السلام نے نظام حکومت کو سنبھالا اور بڑی تیزی سے کفار و مشرکین کو شکست پر شکست دے کر بنی اسرائیل کی عظیم مملکت کی بنیاد رکھ دی۔ یہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی عظمت ہے کہ آپ علیہ السلام نبی اور رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انصاف پسند حکمراں ، بادشاہ اور اصول پسند انسان تھے۔ جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت تعریف فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک ایسا نظام بنا رکھا تھا کہ چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا وقت نہیں ہوتا تھا۔ جس میں حضرت داﺅد علیہ السلام اور آل داﺅد میںکوئی نہ کوئی اللہ کی عبادت و بندگی میں مشغول نہ ہوتا تھا۔ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ تیسرے دن کو اپنے گھر والوں کے لئے مخصوص کر رہا تھا۔ آپ علیہ السلام کے اصول اتنے مضبوط تھے کہ اس کے خلاف کسی بات کو پسند نہ فرماتے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام اپنے محل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول تھے۔ چاروں طرف پہرے دار موجود تھے کہ دو آدمی دیوار پھاند کر اندر آگئے اور آپ علیہ السلام کی خدمت میں دنبیوں یا بھیڑوں والا مقدمہ پیش کیا۔ آپ علیہ السلام نے نرمی اور صبر سے ان کا مقدمہ سن کر فیصلہ فرمایا اور وہ دونوں چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد آپ علیہ السلام سوچنے لگے کہ اتنے زبردست پہرے کے باوجود دو آدمیوں کا اچانک ان کی خلوت گاہ اور عبادت گاہ میں آجانا اور بڑی بے باکی سے انصاف کا طلب کرنا بڑا عجیب واقعہ ہے۔ ایک دم آپ علیہ السلام کو احساس ہوا کہ شاید یہ دونوں اللہ کی طرف سے میری آزمائش کے لئے بھیجے گئے تھے۔ ممکن ہے مجھے اپنی سلطنت ، فوج، مال و دولت اور عبادت پر فخر اور ناز ہو گیا ہو۔ او راللہ تعالیٰ نے مجھے آگاہ کرنے کے لئے ان کو بھیجا ہو کہ ہزار پہروں کے باوجود یہ اللہ کی قدمت تھی کہ دو اجنبی اندر داخل ہو گئے تھے جیسے ہی آپ علیہ السلام اس نتیجے تک پہنچے تو نہایت عاجزی سے سجدے میں گر پڑے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے۔ اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ جس کو بندوں کی عاجزی و انکساری بہت پسند ہے اس نے آپ علیہ السلام کو آزمائش میں کامیابی کی بشارت دی اور فرمایا ۔ اے داﺅد علیہ السلام بے شک ہم نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا ہے۔ تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف سے فیصلے کرو۔
یہودیوں ( بنی اسرائیل) کے حضرت داﺅد علیہ السلام پر الزامات
اللہ تعالیٰ یہودیو ں یعنی بنی اسرائیل پر بہت ساری مہربانیاں کیں۔ لیکن بد بخت لوگ مسلسل گمراہیوں اور نافرمانیوں میں مبتلا رہے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں بہت سی گستاخیاں کی ہیں۔ ان کی طرف ایسی ایسی باتیں ان مقدس اور معصوم انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کیں ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ دوزخ کے مستحق بن گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کی گستاخیوں ،گمراہیوں ، ہٹ دھرمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار اور انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل کرنے کے بارے میں قرآن پاک میں کئی جگہ بتایا ہے۔ یہاں ہم صرف دو آیات پیش کر رہے ہیں ۔ اس سے ان بد بخت یہودیوں کی اصلیت سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ” اور بے شک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کو کتاب دی۔ اور انکے پیچھے اور بھی رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام ) کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی۔ لیکن جب کبھی تمہارے ( بنی اسرائیل یعنی یہودیوں ) پاس رسول وہ چیز لائے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی۔ تو تم نے جھٹ سے تکبر کیا۔ پس بعض ( انبیائے کرام) کو جھٹلادیا۔ اور بعض ( انبیائے کرام) کو قتل بھی کر ڈالا۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر87) اس کے بعد آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ترجمہ ” اور جب ان سے (بنی اسرائیل سے )کہا جاتا ہے کہ الہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب ( قرآن پاک) پر ایمان لاﺅ تو کہتے ہیں کہ جو ہم پر اتاری گئی ہے ( توریت) اس پر ہمارا ایمان ہے۔ حالانکہ اس کے بعد والی کتاب کے ساتھ جو اُن کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اس سے کفر کرتے ہیں۔ اچھا ان سے یہ تو دریافت کریں کہ اگر تمہارا ایمان پہلی والی کتابوں پر ہے۔ تو پھر تم نے اگلے انبیائے کرام کو کیوں قتل کیا؟ (سورہ البقرہ آیت نمبر91) ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں یعنی بنی اسرائیل کی گمراہیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں ایک یہ ہے کہ یہ لوگ انبیائے کرام کو جھٹلاتے تھے اور ان پر الزامات لگاتے تھے۔ ان بد بختوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار کر دیا۔ دوسری خرابی یہ بتائی کہ یہ بد بخت لوگ اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ جیسا کہ تمام کائنات کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ اوپر سے پتھر گرا کر اور ایک مرتبہ زہر دے کر نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان بد بخت یہودیوں نے اپنی کتاب توریت میں اپنی طرف سے بہت سی جھوٹی باتیں شامل کر دی ہیں۔ اور نعوذ باللہ انبیائے کرام علیہم السلام پر بہت گھناونے الزامات لگائے ہیں۔ جب کہ انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہیں۔ در اصل یہ لوگ ان بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کو انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کر کے اپنے گناہوں کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام پر بھی ان بد بختوں نے گھناﺅنے الزامات لگائے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ یہودی آپ علیہ السلام کو صرف بادشاہ مانتے ہیں اور دوسرا الزام یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس عورت کے بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے۔ تو آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) اس کے شوہر کو جنگ میں آگے رکھ کر قتل کر وا دیا اور اس عورت سے نکاح کر لیا۔ یہ آپ علیہ السلام پر بہت بڑا الزام اور تہمت ہے۔ یہ بد بخت بنی اسرائیل انبیائے کرام پر صرف الزامات ہی نہیں لگاتے تھے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل بھی کر دیتے تھے۔ ہمیں ان اسرائیلی روایات پر توجہ نہیں دینا چاہیئے۔ اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام معصوم اور مقدس ہیں۔
بیت المقدس کے لئے جگہ کا انتخاب
حضرت داﺅد علیہ السلام نے یروشلم فتح کرنے کے بعد اسے دارالخلافہ بنایا۔ اور تابوت سکینہ کو لا کر وہیں رکھ دیا۔ یروشلم میں ہی آپ کا محل تھااور اس محل میں عبادت گاہ تھی۔ اسی عبادت گاہ کی محراب میں سے کود کر دونوں فرشتے آئے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ رات کا آخری پہر تھا اور لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ عبادت کے درمیانی وقفے میں آپ علیہ السلام تھوڑا آرام فرما رہے تھے اور تازہ ہوا کے لئے کھڑکی کے قریب آکر کھڑے ہو گئے اور ہر طرف طائرانہ نگاہ ڈال کر جائزہ لینے لگے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ بستی سے کچھ دور پر ایک چٹان پر سے فرشتے اپنی تلواروں کو نیاموں میں رکھے آسمان کی طرف ایک سیڑھی کے ذریعے بلند ہو تے جا رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے ارادہ بنایا کہ اس چٹان کے پاس مسجد تعمیر کی جائے۔ اس چٹان کا نام اس دن سے ”چٹان داﺅدی“ پڑ گیا۔ آپ علیہ السلام نے چٹان داﺅدی کے پاس بیت المقدس کی بنیاد رکھی۔ اور مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ یہ بنی اسرائیل کا مرکزی مقام یعنی مرکزی مسجد ہو گی۔ لیکن تم اس کی تعمیر مکمل نہیں کر سکو گے بلکہ اس کی تعمیر تمہارا بیٹا سلیمان علیہ السلام کرے گا۔ جو تمہارے بعد بنی اسرائیل کا نبی بھی ہوگا اور بادشاہ بھی ہوگا۔
آخرت میں خوش الحانی
اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ”یقینا وہ ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں“۔ (سورہ ص ٓ آیت نمبر25) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بڑا اور بہت عظیم مرتبہ ہے۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت بڑا مرتبہ عطا فرمایا۔ اور آخرت میں بھی بہت عظیم مرتبہ عطا فرمائے گا۔ اور دنیا میں بھی بہت اچھا ٹھکانہ عطا فرمایا تھا اور آخرت میں بھی بہت عالیشان ٹھکانہ عطا فرمائے گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت مالک بن دینا ر رحمتہ اللہ علیہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں وہ عالیشان ٹھکانہ اس طرح عطا فرمائے گا کہ قیامت کے روز حضرت داﺅد علیہ السلام ”پایہ بخشش“ کے پاس تشریف فرما ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا۔ اے داﺅد (علیہ السلام )آج اُسی طرح خوش الحانی سے اپنی مترنم آواز سے میری مدح و ستائش یعنی تعریف بیان کرو جیسے تم دنیا میں خوش الحانی سے میری حمد اور تسبیح کیا کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام فرمائیں گے۔ اے اللہ تعالیٰ، اے سب جہانوں کے رب، اب یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیوں کہ آپ نے میری وہ آواز مجھ سے واپس لے لی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ آج وہ آواز میں تمہیں واپس لوٹا تا ہوں۔ اس کے بعد جب حضرت داﺅد علیہ السلام بلند آوا ز سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں گے تو تمام جنتی اتنے مسحور ہو جائیں گے کہ جنت کی تمام نعمتیں انہیں ہیچ محسوس ہوں گی۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی دانشمندی
حضرت داﺅد علیہ السلام نے لگ بھگ چالیس 40سال یا اس سے کچھ زیادہ سالوں تک بنی اسرائیل پر حکومت کی۔ اس دوران تمام بنی اسرائیل کے قبائل متحد رہے اور اسلامی احکامات پر کار بند رہے۔ پوری سلطنت میں خوش حالی تھی اور امن و امان کا دور دورہ تھا۔ عوام بہت سکون اور چین سے رہ رہی تھی۔ آپ علیہ السلام کے دور نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل بہت عروج پر آگئے تھے۔ اور آس پاس کے تمام حکمراں آپ علیہ السلام کی سلطنت کی برتری تسلیم کر چکے تھے۔ یوں سمجھ لیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل اس وقت کے سوپر پاور بن گئے تھے۔ اور اس عروج کو انتہائی بلندی حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور نبوت اور حکومت میں حاصل ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جوان ہو چکے تھے اور اپنے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام کے دربار میں بیٹھے تھے۔ اور اپنے والد محترم کے مقدمات کے فیصلوں کو دیکھتے اور سمجھتے رہتے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی نوجوانی کے وقت میں ہی بے مثال دانشمندی کا مظاہر ہ کیا ۔ اور اپنے بیٹے کی دانشمندی کی داد والد محترم نے بھی دی۔ ان میں سے دو مقدمے قابل ذکر ہیں۔ ایک مقدمہ دو عورتوں اور ایک بچے کا تھا۔ اور دوسرا مقدمہ کھیت اور بکریوں والے کا تھا۔ ان دونوں مقدمات کے جو فیصلے والد محترم نے دیئے تھے ان پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے انتہائی ادب سے جرح کی۔ اور والد محترم سے اجازت مانگی کہ میں پھر سے جرح کرنا چاہتا ہوں۔ والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام نے اجازت دے دی۔ اور آپ علیہ السلام نے دونوں مقدمات میں اتنے درست فیصلے دیئے کہ والد محترم بھی عش عش کر اٹھے۔ ان دونوں مقدمات کا تفصیلی ذکر انشاءاللہ ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر
حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر کے بارے میں اکثر علمائے کرام کا قول ہے کہ 100سال تھی۔ بائبل میں آپ علیہ السلام کی عمر 77سال لکھی ہے ۔ لیکن علامہ ابن کثیر نے اسے رد کر دیا ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ بات غلط اور مردود ہے ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو ظاہر فرمایا تو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں انبیائے کرام کو بھی دیکھا۔ ان میں ایک شخص نظر آیا جو بہت وجیہہ تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، اتنا حسین و رعنا جوان یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ تیرا بیٹا داﺅد ( علیہ السلام )ہے ۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا 60سال ہے۔حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں اضافہ فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تمہاری عمر کے چالیس سال اسے دیتا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا میری عمر کتنی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایک ہزار 1000سال ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر 960سال ہوئی تو ملک الموت آئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں۔ اور جو عمر انہوںنے حضرت داﺅد علیہ السلام کو ہبہ فرمائی تھی وہ بھول گئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال پوری کر دی۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر بھی سو100سال پوری کر دی۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔
حضرت داﺅد علیہ السلام کا وصال
حضرت داﺅد علیہ السلام کا وصال اچانک ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بہت غیرت مند انسان تھے۔ جب آپ علیہ السلام اپنے محل سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو پہریدار دروازہ بند کر دیتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں کسی کو اندر داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ ایک دن آپ علیہ السلام باہر تشریف لے گئے اور دروازہ بند کر دیا گیا۔ جب آپ علیہ السلام کی بیوی کمرے سے باہر آئی تو دیکھا کہ محل کے صحن میں ایک شخص کھڑا ہے محل کے اندرونی پہریداروں کو انہوں نے بلایا اور فرمایا۔ محل کے صحن میں یہ کون شخص کھڑا ہے؟ یہ کہاں سے اندر آگیا جب کہ دروازہ بند ہے۔ اللہ کی قسم، ہم حضرت داﺅد علیہ السلام کے سامنے شرمندہ ہو جائیں گے۔ جب آپ علیہ السلام تشریف لائے تو دیکھا کہ محل کے صحن میں ایک شخص کھڑا ہے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ اور کیسے اندر آگئے؟ اس شخص نے کہا۔ میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے مرعوب نہیں ہوتا ہے اور پردے بھی میرا راستہ روک نہیں سکتے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمایا۔ تم ملک الموت ہو جو انسانی شکل میں آئے ہو ۔ اس نے کہا۔ جی ہاں، اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے آیا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم سر آنکھوں پر ، اور وہیں سجدے میں چلے گئے اور اسی حالت میں ملک الموت نے روح قبض کر لی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ملک الموت جب آپ علیہ السلام کی روح قبض کرنے آئے تو آپ علیہ السلام اپنے سے نیچے اتر رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ تھوڑی دیر انتظار کر لو تا کہ میں نیچے اتر جاﺅں یا پھر اپنے حجرے میں چلا جاﺅں۔ ملک الموت نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، وقت پورا ہو چکا ہے۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام وہیں سیڑھیوں پر سجدہ ریز ہو گئے اور اسی حالت میں وصال ہو گیا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت
حضرت داﺅد علیہ السلام کے وصال کے بعد ابھی آپ علیہ السلام کو دفن نہیں کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کے علماءاور وزراءکی مجلس شوریٰ منعقد کی گئی اور اس میں متفقہ طور سے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داﺅد علیہ السلام کا جانشین چنا گیا اور بادشاہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت داﺅد علیہ السلام کو دفن کیا گیا۔ آپ علیہ السلام کے جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ ان میں 40ہزار سے زیادہ تو بنی اسرائیل کے علمائے کرام تھے۔ جو اپنی مخصوص ٹوپیوں کی وجہ سے پہچانے جارہے تھے۔ گرمی نے لوگوں کو بہت پریشان کر دیا تھا۔ کیوں کہ اس دن بہت شدید گرمی تھی۔ لوگوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے درخواست کی کہ اس دھوپ اور گرمی سے بچنے کا کچھ انتظام کریں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام میدان میں آئے اور پرندوں کو آواز لگائی۔ اور حکم دیا کہ سایہ کرو۔ ہر طرف سے پرندے آکر سایہ کرنے لگے۔ یہاں تک کہ سوج چھپ گیا پرندے اتنے زیادہ آگئے اور ہر طرف سے گھیر لیا کہ ہوا تک رک گئی۔ لوگوں نے گھٹن کی شکایت کی تو پرندروں کو آپ نے حکم دیا کہ سوج کی طرف سے سایہ کرو اور ہوا کے لئے راستہ چھوڑ دو۔ اور ٹھنڈی ہوا کو حکم دیا کہ لوگوں پر چلے ۔ اب لوگوں پر سایہ بھی تھا اور ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی۔ اور لوگ پہلی مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت کو دیکھ رہے تھے۔
اگلی کتاب
حضرت داﺅد علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔
٭........٭........٭





.jpeg)

.jpeg)
.jpeg)
