جمعہ، 19 مئی، 2023

حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام مکمل Life of Prophet Samuel and Dawood




حضرت شموئیل اور حضرت داﺅد علیہما السلام مکمل

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر14

حضرت کالب ، بنی اسرائیل کے سربراہ

حضرت یوشع علیہ السلام کے بعد حضرت کالب بن یوحنا بنی اسرائیل کے سربراہ بنے۔ حضرت کالب کے بارے میں کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ بھی اللہ کے نبی تھے۔ اب حقیقت میں وہ نبی تھے یا نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام لگ بھگ ستائیس 27سال تک بنی اسرائیل کے درمیان رہے۔ اور ملک کنعان کے زیادہ تر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن پھر بھی کچھ علاقے باقی رہ گئے تھے۔ در اصل اس وقت کا ملک کنعان بہت بڑا تھا۔ اور اس کے اندر فلسطین، اردن ، لبنان اور ملک شام کا بھی کچھ حصہ آتا تھا۔ بعد میں ملک کنعان کے ٹکڑے کر دیئے گئے اور ملک شام میں ضم کر دیا گیا۔ رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے زمانے میں ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا تھا۔ کیوں کہ عیسائی یعنی نصاریٰ ، یہودیوں یعنی بنی اسرائیل پر حاوی ہو چکے تھے۔ اور انہیں ملک کنعان سے بھگا دیا تھا۔ اور ملک کنعان کے ٹکڑے کر کے ملک شام میں ضم کر لیا تھا۔ اس وقت عیسائیوں کا مرکز ملک شام تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب ” بیت المقدس“ فتح ہوا تو اس وقت بھی پورا فلسطین ملک شام کا ہی حصہ تھا۔ بعد میں جب عیسائیوں نے مسلمانوں سے فلسطین چھینا تو ملک شام سے اسے الگ کر دیا اور اس طرح فلسطین ، اردن اور لبنان کے ملک وجود میں آگئے اور ملک شام سمٹ گیا۔ یہ بہت ہی مختصر میں ہم نے آپ کو بتا دیا ہے کہ کس طرح ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیاہے ۔ تا کہ آپ کے ذہن میں کوئی الجھن نہ ہو۔ اب ہم اسی پرانے ملک کنعان کی طرف واپس چلتے ہیں۔ حضرت کالب بن یوقنہ آپ کو یاد ہوں گے۔ ہم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے ذکر میں بتایا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کے بارہ نقیب مقرر فرمائے تھے۔ ان میں سے دو حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنہ تھے۔ اور ان بارہ نقیبوں سے راز داری کا عہد لیا تھا ۔ لیکن صرف یہی دو حضرات اپنے عہد میں کامیاب رہے تھے۔ اور اپنے عہد کو مکمل ذمہ داری سے نبھایا تھا۔

حضرت کالب کے دور میں فتوحات

حضرت کالب نے بنی اسرائیل کے انتظامات سنبھال لئے تھے اور بڑی خوبی سے پورے ملک کنعان کا نظم بنائے ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ان علاقوں کی طرف توجہ دی جو ابھی بھی بت پرستوں کے قبضے میں تھے۔ بنو یہودا جس علاقے میں آباد تھے۔ ان کے آس پاس بت پرستوں سے لڑنے کے لئے بنو شمعون کو حضرت کالب نے بلایا اور دونوں قبیلوں کی فوجوں کو ساتھ لے کر کنعانیوں اور فرزیوں پر حملہ کر دیا۔ اور بنرق کے مقام پر دس ہزار بت پرستوں کو قتل کیا۔ اس کے بعد آگے بڑھ کر یروشلم پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد ان کنعانیوں کو شکست دی جو پہاڑی علاقوں ، جنوبی علاقہ اور مغرب کے نشیبی علاقوںمیں آباد تھے۔ وہاں فتح حاصل کرنے کے بعد وہ حبرون میں رہنے والے کنعانیوں پر چڑھ آئے اور سیسی ، اخیمان اور تلمئی کو شکست دی۔ وہاں سے آگے جا کر انہوں نے دبیر کے باشندوں پر حملہ کیا۔ تب حضرت کالب نے اعلان کیا کہ جو شخص دبیر ( قریت سفر) کو فتح کرے گا میں اس کا بیاہ اپنی بیٹی عکسہ سے کردوں گا۔ ان کے بھتیجے عقنی ایل نے دبیر کو فتح کیا تو حضرت کالب نے اسے اپنا داماد بنا لیا۔ اس کے بعد حضرت کالب نے بنو شمعون کے آس پاس آباد بت پرستوں پر حملہ کیا۔ اور صفت کے تمام کنعانیوں کو قتل کر دیا۔ اسی لئے اس شہر کا نام حُرمہ پڑا۔ اس کے بعد غزہ( غازہ) اسقلون اور عقرون شہروں پر قبضہ کرلیا۔

بُت پرست قوموں کے اثرات

حضرت کالب کے دور میں پورا ملک کنعان فتح ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل سکون سے رہنے لگے۔ لیکن انہوں نے ملک کنعان میں رہنے والی بت پرست قوموں کو نہیں نکالا اور ان کے ساتھ رہنے لگے۔ بنو بن یامن یروشلم میں رہنے والے ببوسیوں کے ساتھ رہنے لگے اور انہیں بیگاری کے کام پر لگا دیا ۔ بنو منسی نے بھی کنعانیوں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اسی طرح بنو افرائیم نے بھی جنرریوں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اسی طرح اُموری بھی ملک کنعان میں ہی رہے۔ اور پورے ملک کنعان میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبائلوں نے یہی کام کیا کہ مفتوح قوموں کو اسلام کی دعوت نہیں دی اور انہیں ان کے مذہب پر ہی قائم رہنے دیا۔ اور مفتوح قوموں کو بیگاری کے کام پر لگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے اندر دھیرے دھیرے اپنے ساتھ رہنے والی قوموں کے اثرات لاشعوری طور سے قبول کرتے رہے۔ جب تک حضرت کالب بن یوقنہ ان کے درمیان رہے تب تک ان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ اور ان سے دور رکھنے کی کوشش کرتے رہے لیکن ان کے وصال کے بعد تو بنی اسرائیل آزادی محسوس کرنے لگے۔ پھر بھی وہ نسل اسلام پر قائم رہی لیکن جو نئی نسل پیدا ہوئی وہ مفتوح قوموں کے بچوں کے ساتھ کھیل کود کر بری ہوئی اور ان کے رسم و رواج اور مذہبی رسوموں سے متاثر ہوتی رہی۔ اسی لئے جب ان کے سب بزرگ ختم ہو نے لگے اور اس نئی نسل نے ملک کا انتظام سنبھالا تو یہ بھی مفتوح قوموں کی طرح بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ اور اپنے حقیقی معبود اللہ تعالیٰ کی عبادت چھوڑ کر بعل دیوتاﺅں کی پوجا کرنے لگے۔ اور دھیرے دھیرے بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبائل بت پرستی میں مبتلا ہو گئے اور بعل اور عستارات کی پوجا کرنے لگے۔

بنی اسرائیل پر ظالم بادشاہ مسلط

اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل نے اسلام پر قائم رہنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن اس عہد کو انہوں نے توڑ دیا اور بت پرستی میں مبتلا ہو گئے۔ وہ کنعانیوں ، حقیوں ، اموریوں ، فرزیو ں ، حویوں اور ببوسیوں کے رسم و رواج پر عمل کرنے لگے۔ اور ان کی کافر بیٹیوں سے اپنے بیٹوں اور اُن کے کافر لڑکوں سے اپنی لڑکیوں کا بیاہ کرنے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ کو بھول کربعل اور عستارات پیرتوں کے بتوں کی عبادت کرنے لگے اور ان سے مانگنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اوپر ظالم حکمراں کو مسلط کر دیا۔ مسوپتا میہ کا حکمراں کوشن رسعتیم بہت ہی ظالم اور بنی اسرائیل کا سخت دشمن تھا۔ اس نے ملک کنعان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور بنی اسرائیل کے ساتھ انتہائی برا سلوک کرنے لگا۔ اور آٹھ (۸)سال تک وہ بنی اسرائیل کو ذلیل کرتا رہا اور غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرتا رہا۔ آخر کار بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور بتوں کی پوجا سے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر گڑگڑا کر فریاد کرنے لگے۔ تب اللہ تعالیٰ کو ان پر رحم آگیا اور ان کی رہنمائی کے لئے حضرت کالب بن یوقنہ کے بھائی قنز کے بیٹے عتنی ایل کو بھیجا۔ یہ حضرت کالب بن یوقنہ کا داماد بھی تھا۔ اس نے تمام بنی اسرائیل کو ظالم حکمراں کے خلاف متحد ہونے کا حکم دیا اور بنی اسرائیل نے اتفاق رائے سے عتنی ایل کو اپنا رہنما تسلیم کر دلیا۔ اس نے بنی اسرائیل کو لے کر کوشن رسعتیم سے مقابلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور عتنی ایل فتح یاب ہوا۔ اس کے بعد وہ تمام بنی اسرائیل پر چالیس برس تک انتظامات سنبھالتا رہا اور اس کے دور میں بنی اسرائیل امن سے رہے۔ اس کے بعد عتنی ایل کا انتقال ہو گیا۔

بنی اسرائیل پھر گمراہ ہوئے۔

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر مہربانی کر کے انہیں ظالم بادشاہ سے نجات دلائی تھی۔ اور عتنی ایل کے چالیس سالہ دور میں بہت حد تک وہ اسلام پر قائم رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد پھر سے بنی اسرائیل میں گمراہیاں اور برائیاں پیدا ہونے لگیں۔ اور بنی اسرائیل اپنے ساتھ رہنے والی مشرک قوموں کے طور طریقے اپنانے لگے یہاں تک کہ ان کے بتوں کی پوجا کرنے لگے۔ جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر موآب کے بادشاہ عجلون کو مسلط کر دیا ۔ اس کے ساتھ بنی عمون اور بنی عمالیق تھے ۔ عجلون نے حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور اٹھارہ 18برس تک بنی اسرائیل کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرتا رہا۔ آخر کار بنی اسرائیل پھرسے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے بن یامن کے ایک شخص اہود بن جیرا کے ذریعے نجات دی۔ اھود بن جیرا نے تمام بنی اسرائیل کو عجلون کے خلاف متحد کیا اور عجلون کے خلاف تیار کیا۔ اس نے بنی اسرائیل کی فوج لے کر عجلون کی موآبی فوج پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مدد کی اور عجلون قتل ہوا۔ اور موآبی فوج بھاگنے لگی۔ اھود کی سپہ سالاری میں بنی اسرائیل نے موآبیوں کا پیچھا اردن کے گھاٹوں تک کیا اور ایک ایک کو ڈھونڈ کر قتل کیا۔ یہاں تک کہ موآب پر بھی قبضہ کرلیا۔ اھود بن جیرا کی سربراہی میں بنی اسرائیل 80سال تک امن سے رہے۔

بنی اسرائیل پر عورت کی حکمرانی

اللہ تعالیٰ نے پھر سے بنی اسرائیل کو ایک مرتبہ پھر موقع دیا تھا۔ اور اھود بن جیرا کی حکمرانی میں وہ 80سال تک متحد ہو کر رہے۔ لیکن اس کے انتقال کے بعد مسلکی اختلافات کا شکار ہو گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی اور وہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ ایسے وقت کا فائدہ دبورہ نام کی ایک عورت نے اٹھا یا اور اس نے بنو نفتانی کے ایک بہادر شخص برق یا باراق بن نوعم کو تیار کیا اور اس کے ذریعے چالیس40سال تک بنی اسرائیل پر حکومت کرتی رہی۔ اس طرح بنی اسرائیل پر تو دکھاوے کے لئے برق حکومت کر رہا تھا لیکن در پردہ دبورہ کے احکامات چلتے تھے۔

بنی اسرائیل پر بنی مدین مسلط

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کو لگ بھگ (200)سال ہو چکے تھے۔ اور اس عرصے میں بنی اسرائیل کئی مرتبہ گمراہیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ اور اﷲ کا غضب کئی بار اُن پر نازل ہو چکا تھا۔دبورہ کے بعد بنی مدین نے ملک کنعان پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ مدیانیوں نے بنی اسرائیل پر اتنا شدید ظلم کیا کہ انہیں ظلم سے بچنے کے لئے پہاڑوں کے شگافوں میں، غاروں میں اور چٹانوں میں اپنے لئے پناہ گاہیں بنانی پڑیں۔ ان کے تیار فصلیں پورے ملک کنعان میں بنی مدین اپنے قبضہ میں لے لیتے تھے یہاں تک کہ غازہ پٹی( غزہ) کی پیداوار بھی مدیانی ان سے چھین لیتے تھے۔ بنی اسرائیل کے تمام مویشیوں کو ان سے چھین لیا۔ یہاں تک ان کے لئے کوئی بھیڑ ، بکری، گائے، بیل ، گدھا یا خچر کچھ بھی نہیں چھوڑا۔ بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رونے گڑ گڑانے لگے ان کے اندر بزدلی آگئی تھی۔ اور مدیانیوں سے مقابلے کی ہمت نہیں تھی۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر رحم فرمایا اور بنو منسی کے ایک غریب گھرانے کے نوجوان جدعون میںہمت پیدا فرمائی اور اس کا باپ بعل کا پجاری تھا اور بعل کا مذبح خانہ بنا رکھا تھا۔ اس نے اپنے باپ کے بعل کے مذبح خانے کو توڑ ڈالا اور بنی اسرائیل میں اعلان کیا کہ قربانیاں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہوں گی اور حکم دیا کہ بنی مدین سے لڑنے کے لئے بنی اسرائیل متحد ہو جائیں۔ تمام بنی اسرائیل کے قبائل مدیانیوں کے مظالم سے تنگ آچکے تھے۔ اس لئے وہ سب جدعون کی سپہ سالاری میں جمع ہو گئے اور انہوں نے بنی مدین پر حملہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور جدعون کے لشکر کو فتح حاصل ہوئی۔ اور مدیانیوں کو ایسی شکست ہوئی کہ وہ پھر کبھی سر نہیں اٹھا سکے۔ اور جدعون کے دورِ حکومت میں بنی اسرائیل چالیس برس تک امن و سکون کے ساتھ رہے۔

بنی اسرائیل میں مسلکی اختلافات اور آپسی لڑائیاں

اللہ تعالیٰ بار بار بنی اسرائیل کو سدھرنے کا موقع دیتا رہا اور وہ بار بار نافرمانی کر کے اور شرک کر کے ذلیل ہو تے رہے۔ جدعون کے مرنے کے بعد ان میں مسلکی اختلافات پیدا ہو گئے۔ اور ہر مسلک کا عالم اپنے مسلک کو حق بتانے لگا اور دوسرے تمام مسلکوں کو باطل اور دوزخی بتانے لگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کا اتحاد ٹوٹ گیا اور وہ مختلف مسلکوں اور فرقوں میں بٹ کر پھوٹ کا شکار ہوگئے اور آپس میں لڑ نے لگے۔ ایسے وقت میں ابی ملک نے تین سال بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد تولع بن فوہ تیئیس 23سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد پاتیر 22برس تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد افتاح چھ سال تک قاضی رہا۔ اس کے بعد ابصان سات سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ پھر ایلون دس سال تک قاضی رہا۔ اس کے بعد عبدون آٹھ سال تک بنی اسرائیل کا قاضی رہا۔ اس کے بعد شمون نے بیس برس تک قاضی رہا۔ یہ سب قاضی بنی اسرائیل کے الگ الگ قبیلوں اور مسلکوں کے ہیں۔ اور یہ اور علماءآپس میں لڑتے رہے اور بنی اسرائیل کو لڑاتے رہے۔ کبھی ایک مسلک کا قاضی بنتا تھا تو کبھی دوسرے مسلک کا قاضی بنتا تھا۔

تابوتِ سکینہ کا چھن جانا

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فضیلت عطا فرمائی اور انہیں مسلمان ہونے کا اعزاز بخشا تھا۔ لیکن بد بخت بنی اسرائیل بار بار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے تھے اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے لوگ شرک بھی کرنے لگتے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کے درمیان لگ بھگ 450ساڑھے چار سو سال کا عرصہ ہے۔ اور اس عرصے میں کئی مرتبہ بنی اسرائیل گمراہی میں پڑے اور غیر قوموں کے ہاتھوں ذلیل ہوتے رہے۔ اسی دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب ان کے اندر مسلکی اختلافات بہت شدید طور سے ابھر آئے ۔ اور ہر مسلک والا اپنے آپ کو حق پر اور دوسرے تمام مسلکوںکو باطل قرار دیتا تھا۔ اس طرح عام بنی اسرائیل ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے۔ اور بنی اسرائیل کے تمام مسلکوں کے علمائے کرام اس نفرت کو کم کرنے کی بجائے اور بڑھاتے جا رہے تھے۔ اور دنیاوی فائدے اٹھاتے جا رہے تھے۔ اس نفرت اور مسلکی اختلافات کاسب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کا اتحاد ٹوٹ گیا اور دوسری قوموں پر سے ان کا رعب ختم ہو گیا۔ دوسرا نقصان یہ ہوا کہ ایک مسلمان کو جو سب سے شدید نفرت بتوں اور ان کی پوجا کرنے والوں سے ہونی چاہیئے وہ شدید نفرت دوسرے مسلک والوں سے ہونے لگی اور ان پر استعمال ہونے لگی۔ اور وہ آپس میں ہی لڑنے لگے اور اپنی ہر قسم کی طاقت اور توانائی اسی میں استعمال کرنے لگے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آپس میں تو بہت بہادری سے لڑتے تھے لیکن مشرکوں اور کافروں کے مقابلے میں بزدل ہو گئے تھے اور ان سے امن حاصل کرنے اور صلح کی کوشش کرنے لگے تھے۔ ان ان کا مقصد اللہ کے دین ( اسلام) کو پھیلانا نہیں تھا بلکہ دنیا میں سکون اور آرام سے زندگی گزارنا ان کا مقصد بن گیا۔ اور اسلام کے نام پر چند رسومات ہی رہ گئی تھیں۔ بنی اسرائیل کے اس آپسی انتشار کو دوسری مشرک اور کافر قوموں نے سمجھ لیا تھا۔ اور وہ بنی اسرائیل پر رہ رہ کر حملے کرنے لگے تھے اور انہیں شکست دینے لگے تھے۔ اور ایک وقت تو ایسا آیا کہ آس پاس کی مشرک قومیں بنی اسرائیل پر ایسے ٹوٹ پڑیں جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ اس وقت ایلاف یا عیلی بنی اسرائیل کا قاضی یا کاہن تھا۔ بنی اسرائیل پر مشرک قومیں ہر طرف سے حملے کر رہی تھیں اور شکست دیتی جا رہی تھیں۔ ایسی ہی ایک جنگ میں ایک مشرک قوم نے بنی اسرائیل کو شکست دی اور ان کا تابوتِ سکینہ چھین کر لے گئی۔ تابوت سکینہ چھن جانے کی اور شکست کی خبر جب ایلاف یا عیلی کو ملی تو وہ صدمے اور خوف سے ہی مر گیا۔ وہ چالیس سال تک بنی اسرائیل کا قاضی یا کاہن بنا رہا۔

تابوتِ سکینہ کیا ہے

اللہ تعالیٰ کی مسلسل نافرمانی اور آپس کی مسلکی نفرت کی وجہ سے بنی اسرائیل سے تابوت سکینہ چھین گیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو تابوت سکینہ کے بارے میں بتا دیں تا کہ ذہن میں کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔ تابوتِ سکینہ ایک تابوت ( صندوق) تھا جو ایک روایت کے مطابق بنی اسرائیل نے حضرت یوشع علیہ السلام کے وصال کے بعد بنایا تھا۔ اور ایک روایت کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے بنوایا تھا اور کوہِ طور پر جو توریت کی تخیتاں نازل ہوئی تھیں وہ اس میں رکھی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور نعلین مبارک اور اسی طرح حضرت ہارون علیہ السلام کی بھی کچھ یادگاریں رکھ دی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی سے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ بنو لاوی جنگ کے دوران بنی اسرائیل کے لشکر کے درمیان میں رہیں گے اور تابوت سکینہ اٹھائے رہیں گے۔ اسی لئے بنی اسرائیل ہمیشہ بنو لاوی کو لشکر کے درمیان میں رکھتے تھے۔ اور وہ تابوت سکینہ اٹھائے رہتے تھے۔ اور جب بنی اسرائیل کو شکست کے آثار نظر آتے تھے تو توہ تابوت سکینہ کو آگے کر دیتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے تھے اور تیزی سے حملہ کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ انہیں فتح عطا فرمادیتا تھا۔ لیکن جب بنی اسرائیل مسلکی اختلافات کا شکار ہو گئے اور آپس می ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگے تو ان میں بزدلی اور دنیا کی محبت آگئی تھی۔ اس کی وجہ سے تابوت سکینہ بھی ان کے کام نہیں آیا اور جنگ کے دوران ان سے چھین لیا گیا۔

حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کا درمیانی عرصہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام 27سال تک بنی اسرائیل پر اسلامی حکومت کرتے رہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام کے وصال کے 460سال بعد حضرت شموئیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ان 460برسوںکے خاص واقعات ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں۔ یہاں مختصراً ذکر کر رہے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت شموئیل علیہ السلام آئے۔ حضرت یوشع علیہ السلام اور حضرت شموئیل علیہ السلام کا درمیانی عرصہ 460برسوں کا ہے۔ سب سے پہلے بنی اسرائیل پر جو شخص مسلط ہوا وہ حضرت لوط علیہ السلام کی نسل کا تھا۔ اس کا نام کوشا ن ( کوشن رسعتیم) تھا۔ اس نے انہیں آٹھ سال رسوا کیا۔ پھر حکومت اس کے چھوٹے بھائی عقیل بن قیس کے ہاتھ میں آئی جو چالیس برس تک رہی۔ اس کے بعد جعلون اٹھارہ برس تک حکمراں رہا۔ اس کے بعد اھود بن جیرا 80برس تک حکمراں رہا۔ پھر کنعانی بادشاہ یا فین 20سال تک بنی اسرائیل پر مسلط رہا۔ پھر کسی دبودہ نام کی عورت کے ہاتھ میں معاملات آئے۔اس کی جانب سے باراق نام کے شخص نے 40سال حکومت کی۔ پھر بنی نفتالی میں سے ایک شخص جس کا نام جدعون بن یواش تھا۔ اس نے 40سال تک بنی اسرائیل کے امورِ سلطنت سنبھالے۔ اس کے بعد اس کے بیٹے ابی ملک نے تین سال حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا ماموں یا چچا زاد نے 30سال حکومت کی۔ پھر بنی اسرائیل کے ایک شخص یائیر 22سال تک حکمراں رہا۔ پھر بنی عمون ( عمون کی اولاد) نے جن کا تعلق فلسطین سے تھا اٹھارہ سال تک بنی اسرائیل پر مسلط رہے۔ پھر یفتح ( افتاح، یفتاح) نے 6سال تک معاملات سنبھالے۔ اس کے بعد یجشون 7سال تک ، الون 10سال تک اور کیرون 8سال تک حکمراں رہے۔ پھر 40سال فلسطین کے بادشاہ بنی اسرائیل پر مسلط رہے۔ پھر بنی اسرائیل کا شخص شمون 20سال تک حاکم رہا۔ اس کے بعد مشرک قوموں نے حملہ کر کے بنی اسرائیل کو محکوم بنا لیا۔

حضرت شموئیل علیہ السلام کے لئے دعا

اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کے نتیجے میں مشرک قوموںنے بنی اسرائیل کو محکوم بنالیا۔ جب بنی اسرائیل پر مصائب بڑھ گئے اور مشرک قوموں کے حکمرانوں نے ان کو ذلیل و رسوا کیا اور ان کے شہروں کو ویران کیا۔ اور ان کے مردوں کو قتل کیا اور عورتوں کو قید کیا اور ان سے وہ تابوت چھین لیا جس میں سکینہ یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کے باقیات تھے۔ اور اس تابوت کی وجہ سے وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کر تے تھے تو اس وقت تمام بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ہمارے لئے نبی مبعوث فرما۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل نے عمالقہ قوم سے جنگ کی اس کے بادشاہ کانام جالوت تھا۔ انہوں نے بنی اسرائیل پر غلبہ حاصل کر لیا۔ ان پر جزیہ مقرر کر دیا اور ان سے توریت چھین لی۔ اس وقت بنی اسرائیل نے دعا کی کہ اے اللہ تعالیٰ اپنا کوئی نبی مبعوث فرما۔ اس وقت انبیاءکی نسل ختم ہو چکی تھی۔ البتہ صرف ایک عورت باقی تھی جو کہ حاملہ تھی۔ انہوں نے اسے اپنی نگرانی میں لے لیا اور دعا کرنے لگے کہ اسے لڑکا پیدا ہو۔ جب اس عورت نے ان کا شوق اور لگن دیکھی تو اس نے بھی اللہ تعالیٰ سے بیٹے کے لئے دعا کی۔ اسے لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام شموئیل رکھا گیا۔

حضرت شموئیل علیہ السلام کا سلسلہ نسب

حضرت شموئیل علیہ السلام کے سلسلہ نسب میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت شموئیل بن قنابن یردھام بن یہوذ بن یوحابن صوب بن القانا بن یویل بن عزیر بن ضعینا بن تاحت بن اسر بن انفانابن نشاسات بن قارون۔ علامہ ابن کثیر حضرت شموئیل علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت شموئیل بن بالی بن علقمہ بن یرخام بن یہو بن صوف بن علقمہ بن ماحث بن عموصابن عزریا۔ بعض اسلاف نے شموئیل کو اشموئیل لکھا ہے۔ امام مقاتل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیںکہ آپ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کے وارثین میں سے ہیں۔ حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس سے زیادہ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب معلوم نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے روایت کرتے ہیں کہ جب ارض غزہ اور عسقلا میں بنی اسرائیل پر بنی عمالقہ کا تسلط قائم ہوا تو انہوں نے اسرائیلیوں کو بے دریغ قتل کیا اور ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا۔ بنو لاوی ( لاوی کے خاندان) میں اب کوئی نبی نہیں تھا۔ اس خاندان میں صرف ایک حاملہ عورت تھی۔ وہ دعا کرتی رہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک بیٹا عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی التجا کو قبول فرماتے ہوئے ایک بیٹا عطا فرمایا۔ اس عورت نے نومولود کا نام اشموئیل رکھا۔ اشموئیل یا شموئیل عبرانی لفظ ہے۔ اس کا عربی معنی ” اسماعیل“ اور اردو معنی” سُنا گیا“ یا ”سُنا ہوا “ ہے۔

بیت المقدس میں تربیت اور نبوت سے سرفراز 

حضرت شموئیل علیہ السلام جب تھوڑے بڑے ہو گئے تو ان کی والدہ نے ان کی تربیت کے لئے بیت المقدس بھیج دیا۔ وہاں کے عالِم کی نگرانی میں آپ علیہ السلام کی تربیت ہونے لگی۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام کی والدہ نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر بیٹا پیدا ہوگا تو اسے بیت المقدس کا خادم بنائے گی۔ اسی لئے جب آپ علیہ السلام ، پیدا ہوئے تو عالی بطات کاہن کو دے آئیں۔ عالی کاہن نے انکی پرورش کی اور اپنے بعد کہانت کرنے کی وصیت کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں بنی اسرائیل کی نبوت اور ولایت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت شموئیل علیہ السلام بنی اسرائیل میں دس برس تک وعظ و اصلاح کرتے رہے۔ ابن عمیر فرماتے ہیں کہ وہ بیس20سال تک حکومت کرتے رہے۔ بنی اسرائیل پر آپ علیہ السلام کی تعلیم اور نصیحت کا بہت بڑا اثر پرا۔ اور وہ بت پرستی چھوڑ کر حق پرستی کی طرف مائل ہو گئے اور نہایت کم مدت میں اپنی بکھری ہوئی قوت جمع کر کے اہل فلسطین سے اپنے گئے ہو ئے اور کھوئے ہوئے شہروں کو واپس لے لیا۔ اور اپنی خرابی کو ازسر نو درست کیا۔

بنی اسرائیل کی بادشاہ کے لئے درخواست

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے (حضرت ) موسیٰ (علیہ السلام )کے بعد والی بنی اسرائیل کی جماعت کو نہیں دیکھا؟جب انہوںنے اپنے بنی سے کہا کہ کسی کو ہمارا بادشاہ بنا دیجئے۔ تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ نبی نے کہا کہ ممکن ہے جہاد فرض ہو جانے کے بعد تم جہاد نہ کرو۔ ( اور پیچھے ہٹ جاﺅ) ۔ انہوں نے کہا۔ بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہیں کریں گے؟ ہم تو اپنے گھروں سے اجاڑے گئے ہیں اور بچوں سے دور کر دیئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض ہوا تو سوائے تھوڑے سے لوگوں کے سب پِھر گئے۔ اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ “( سورہ البقرہآیت نمبر246) اس آیت کی تفسیر میں تفسیر بصیرت القرآن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا فرمائی تھیں۔ مگر انہوں نے ناشکریوں اور بد اعمالیوں کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ساری عظمتیں چھین لیں اور ان پر کافروں کو مسلط کر دیا۔ فلسطین میں ایک گرانڈیل، دیوہیکل اور جنگ کا ماہر شخص جاتی جولیت تھا۔ جو ان کا سپہ سالار تھا اور جالوت کہلاتا تھا۔ اس کا رعب بنی اسرائیل پر اس قدر چھا چکا تھا کہ اس نے بار بار بنی اسرائیل پر حملہ کر کے ان کا قتل عام کیا اور ان کو گھروں سے بے گھر کیا۔ اور ان سے تبرکات سے بھرا ہوا صندوق بھی چھین کر لے گیا جو ان کے ہاں فتح و نصرت اور کامیابی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ یہ لوگ جنگ و جہاد سے جان چھڑا تے تھے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے تھے۔ یہ خوف اور بزدلی برسوں تک اسی طرح چھائی رہی کہ بنی اسرائیل کے پانچ بڑے شہران کے ہاتھوں سے نکل گئے تھے۔ مگر ان میں ان کو اپس لینے کی ہمت نہیں تھی۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے اندر تجدید و اصلاح اور ان کی تنظیم کا کام کیا۔ جس سے بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی پیدا ہو گئی اور فلسطینیوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے۔ مگر حضرت شموئیل علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے آپ علیہ السلام ہی سے ایسی قیادت کی درخواست کی جس کی سر براہی میں وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکیں۔ حضرت شموئیل علیہ السلام ان کی ایمانی کمزوری سے اچھی طرح واقف تھے۔ اسی لئے انہوں نے فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو تم میدان چھوڑ کر بھاگ جاﺅ۔ اس پر انہوں نے بڑے جوش اور جذبے کے ساتھ کہا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم تو اپنے گھروں اور بچوں سے جدا کر دیئے گئے ہیں کیا ہم اب بھی جہاد نہیں کریں گے؟

حضرت طالوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور انہیں ان کے نبی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ بنا دیا ہے تو کہنے لگے بھلا اس کی ہم پر حکومت کیسے ہو سکتی ہے؟ اس سے تو بہت زیادہ حقدار بادشاہت کے ہم ہیں اور اس کو تو مالی کشادگی بھی نہیں دی گئی ہے۔ نبی ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ سنو، اللہ نے اسی کو تم پر برگزیدہ کیا ہے۔ اور اسے علمی اور جسمانی برتری بھی عطا فرمائی ہے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے اپناملک دے دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کشادگی والا اورعلم والا ہے۔ “( سورہ البقرہ آیت نمبر247)علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ امام ثعلبی نے حضرت طالوت کا سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے۔ حضرت طالوت کہتے ہیں کہ طالوت بن قیش بن افیل بن صارو بن تحورت بن افیح بن انیس بن بنیامن بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ۔ عکرمہ اور سدی کہتے ہیں کہ طالوت پیشے کے اعتبار سے سقاءیعنی پانی پلانے والے تھے۔ حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ رنگ ساز ( یعنی چمڑا رنگتے تھے) اس کے علاوہ کئی اور اقوال بھی ہیں۔ واللہ اعلم ........

حضرت طالوت کا انتخاب

حضرت شموئیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے انتخاب کا ایک پیمانہ عطا فرمایاتھا۔ علامہ محمد جریر طبری لکھتے ہیں ۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے دعا کی تو ایک عصا نمودار ہوا کہ اس عصا کی لمبائی کے برابر جس شخص کا قد آئے گا وہ بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں اعلان فرمایا کہ تم لوگ اس عصا سے اپنا قد ناپیں۔ جس کا قد اس عصا کے برابر ہو گا وہی تمہارا بادشاہ بنے گا۔ ہر شخص نے اپنے آپ کو عصا سے ناپنا شروع کیا مگر کسی کا قد اس کے برابرنہیں آیا۔ حضرت طالوت بنی اسرائیل کے قبیلہ بن یامن کے تھے اور غریب آدمی تھے۔ ان کا قد عصا کے بالکل برابر آیا اسی لئے حضرت شموئیل علیہ السلام نے اعلان فرمایاکہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا بادشاہ حضرت طالوت کو بنا یا ہے۔ یہ سن کر بنی اسرائیل کے امراءاور علماءنے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم جیسے امیر یعنی دولت مند اور زیادہ علم والوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ ایک غریب اور محتاج شخص کو ہمارا بادشاہ بنائے۔ حضرت شموئیل علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے تمہاری بادشاہت کے لئے چنا ہے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنا ملک ( زمین کا انتظام) دے سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ تمہارے لئے کیا بہتر ہے۔ در اصل اس وقت تک بنی اسرائیل مختلف فرقوں یعنی مسلکوں میں بت چکے تھے۔ بارہ قبیلوں میں تو پہلے ہی وہ بٹ چکے تھے اور ہر قبیلے اور فرقے والے یہ چاہتے تھے کہ ان کے قبیلے یا فرقے کا بادشاہ ہو۔ اسی لئے تمام بنی اسرائیل ایک بادشاہ پر متفق نہیں ہو پار ہے تھے۔ اور اسی لئے انہوں نے تمام بنی اسرائیل کا بادشاہ بنانے کے لئے حضرت شموئیل علیہ السلام سے درخواست کی تھی۔ اور جب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت طالوت کو بادشاہ بنانے کا اعلان فرمایا تو وہ اس پر بھی اعتراض کرنے لگے۔

حضرت طالوت کی بادشاہت کی نشانی تابوتِ سکینہ

حضرت شموئیل علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت طالوت کو بادشاہ بنانے کا اعلان فرمایا تو بنی اسرائیل نے کہا کہ اس بات کی کیا نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہی طالوت کو ہمارا بادشاہ بنایا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ طالوت کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ”تابوتِ سکینہ“ کو تمہاری طرف واپس لوٹا دے گا۔ اور فرشتے اسے لے کر تم تک آئیں گے۔ ( آپ کو یاد ہو گا کہ تابوت سکینہ بنی اسرائیل سے چھن گیا تھا) بنی اسرائیل نے کہا۔ ٹھیک ہے اگر تابوتِ سکینہ ہم تک واپس آجائے گا تو ہم طالوت کو اپنا بادشاہ تسلیم کر لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کے نبی نے انہیں فرمایا کہ اس کی بادشاہت کی ظاہری نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا۔ جس میں تمہارے رب کی طرف سے دلی سکون ہے۔ ( یعنی تابوتِ سکینہ) ۔ اور آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کا بقیہ ترکہ ہے۔ اور فرشتے اسے اٹھا کر لائیں گے۔ بے شک اگر تم واقعی مومن ہو تا س میں تمہارے لئے کھلی نشانی ہے۔ ( سورہ البقرہ آیت نمبر248) علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ طالوت نہایت جسیم اور قد آور تھا۔ اور بنی اسرائیل سے شاول یا ساول کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اور بائبل میں طالوت کانام ساول لکھا ہوا ہے۔

تابوتِ سکینہ کے واپسی

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ تابوتِ سیکنہ واپس آئے گا اسے ایک مشرک قوم بنی اسرائیل سے چھین کر لے گئی تھی اور ایک روایت میں ہے کہ عمالقہ چھین کر لے گئے تھے۔ مشرکین تابوت سکینہ کو چھین کر اشدود لے گئے اور اسے دجون کے مندرمیں لے جا کر دجون کے پاس رکھ دیا۔ اگلے دن صبح جب اشدود کے لوگ مندر میں گئے تو دیکھا کہ دجون کا بت تابوتِ سکینہ کے آگے منہ کے بل اوندھا پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بت کو اٹھایا اور اس کی جگہ واپس رکھ دیا۔ لیکن اگلی صبح انہوںنے دیکھا کہ پھر ان کا دیوتا یعنی بت تابوتِ سکینہ کے آگے اوندھا پڑا ہوا ہے۔ اور اس بار تو اس کا سر اور اس کے بازوﺅں کو بھی توڑ دیا گیا ہے۔ اور صرف دھڑ رہ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اشدود اور س کے آس پاس کے علاقوں کے باشندوں پر بھی تباہی آنے لگی اور وہ گلسُیوں کی تکلیف( طاعون) میں مبتلا ہو گئے۔ انہوں نے جب یہ حال دیکھا تو کہنے لگے کہ اسرائیل کے دیوتا کا تابوت ہمارے یہاں نہیں رہنا چاہیے۔ کیوں کہ اسرائیلیوں کا دیوتا ہمارے دیوتا دجون سے زیادہ طاقتور ہے۔ اسی لئے ان کے علماء( پنڈتوں) اور حکمرانوں نے فیصلہ کر کے تابوت سکینہ کو جات کی طرف منتقل کر دیا۔ وہ لوگ بھی طاعون میں مبتلا ہو گئے تو انہوںنے دوسرے علاقے میں بھیج دیا۔ اس طرح یہ مشرکوں کے علاقوں میں منتقل ہو تا رہا۔ اور جب حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل میں تابوت سکینہ کی واپسی کا اعلان فرمایا تو اس وقت وہ عقرون میں تھا۔ اور وہاں کے سب لوگ طاعون کی بیماری سے بے حال تھے۔ آخر کار انہوں نے تابوت سکینہ کو ایک بیل گاڑی میں رکھ کر بنی اسرائیل کی طرف ہانک دیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب عمالقہ تابوت سکینہ کو چھیننے میں کامیاب ہو گئے جس میں سکون کا سامان اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بقیہ جات تھے۔ اور ایک روایت کے مطابق تابوت میں توریت کی لکھی ہوئی الواح تھیں۔ تو عمالقہ نے اس تابوت کو اپنے ایک مندر میں رکھ کر اس کے اوپر اپنا بت رکھ دیا۔ جس کی وہ پوجا کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو دیکھا کہ تابوت اس بت کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پھر تابوت کو نیچے رکھ دیا۔ لیکن دوسرے دن پھر بت نیچے اور تابوت اوپر تھا۔ جب کئی دن تک یہی واقعہ پیش آیا تو انہوں نے تابوتِ سکینہ کو دوسرے شہر میں بھیج دیا۔ وہاں بیماری کی وباءپھیل گئی۔ انہوں نے دوسرے قصبے میں تابوت بھیج دیا۔ اس طرح وہ تابوت مشرکوں کے علاقے میں گھومتا رہا۔ آخر کار مجبور ہو کر عمالقہ نے تابوت سکینہ کو ایک بیل گاڑی پر رکھا اور اپنے علاقے کے باہر لے جا کر چھوڑ دیا۔ وہاں سے بیل گاڑی کو فرشتوں نے سنبھال لیا۔ اور اسے لے کر بنی اسرائیل کے علاقوں میں آئے۔ بیل گاڑی کو چلانے والے فرشتے کسی کو دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اسی لئے بنی اسرائیل حیرت سے اپنے آپ چلتی ہوئی بیل گاری کو دیکھ رہے تھے۔ اور جو بھی دیکھتا تھا وہ اس کے پیچھے چلنے لگتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ بیل گاڑی حضرت شموئیل علیہ السلام کے گھر کے سامنے رک گئی۔

بنی اسرائیل کی آزمائش

حضرت شموئیل علیہ السلام نے ”تابوت سکینہ “ طالوت کے حوالے کیا اور تمام بنی اسرائیل نے اسے اپنا بادشاہ تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد طالوت نے بنی اسرائیل کو لشکر تیار کیا۔ یہ اسّی80ہزار کا بہت بڑا لشکر جرار تھا۔ طالوت یہ عظیم الشان لشکر لے کر روانہ ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کی آزمائش لی۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب طالوت لشکر کو لے کر چلا تو کہا۔ سنو ، اللہ تعلایٰ تمہیں ایک نہر سے آزمانے والا ہے۔ جس نے اس میں سے پانی لیا وہ میرا نہیں ہے۔ اور جو اسے نہ چکھے وہ میرا ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اپنے ہاتھ سے ایک چلّو بھر پی لے۔ لیکن سوائے چند لوگوں کے باقی سب ے وہ پانی پی لیا۔“( سورہ البقرہ آیت نمبر249) طالوت کے ساتھ جو لشکر تھا اس کی تعداد کے بارے اسّی80ہزار سے لے کر ایک لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ تک بتائی گئی ہے۔ جب یہ لشکر چلنے لگا تو طالوت نے کہا۔ ( غالباً اسے حضرت شموئیل علیہ السلام نے بتا دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کی آزمائش کرے گا اور تم وقت آنے پر بتانا) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آگے ایک نہر ( ندی) آئے گی اور اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ پورے لشکر والوں کی آزمائش کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ اس نہر یا ندی سے پانی نہیں پیا جائے۔ اس لئے کوئی بھی پانی نہیں پیئے۔ ہاں صرف اتنی اجازت ہے کہ چلّو بھر کر پانی پی سکتے ہو۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ فلسطین کی کوئی نہر تھی یا پھر اُردن اور فلسطین کے درمیان کی نہر تھی۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ دریائے اردن تھی۔

اکثر آزمائش میں ناکام ہو گئے

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ایک چھوٹی سی آزمائش لی کہ اگر یہ لوگ اس آزمائش میں کامیاب ہو گئے تو آگے اللہ کے لئے لڑنے کی بہت بڑی آزمائش ہے۔ اس میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ سخت گرمی تھی اور پیاس کے مارے سب کا برا حال تھا۔ اور بنی اسرائیل کے ایمان اور اللہ تعالیٰ پر توکل کا امتحان تھا۔ اس امتحان میں اور آزمائش میں اکثر بنی اسرائیل ناکام ہو گئے۔ اور نہر یا ندی پر پہنچتے ہی پانی پر ٹوٹ پڑے اور جلدی جلدی پانی پینے لگے۔ طالوت 80ہزار کا لشکر لے کر چلا تھا۔ اس میں سے 76ہزار نے خوب سیر ہو کر پانی پی لیا۔ اور صرف 4ہزار لوگ ایسے رہے جنہوں نے صرف ایک چلّو پانی پیا۔ نہر یا ندی پار کرنے کے بعد ان چار ہزار لوگوں کو پیاس نہیں لگی۔ اور بقیہ 76ہزار لوگ جو خوب سیر ہو گئے تھے۔ ان کو اتنی شدید پیاس لگی کہ وہ ہمت ہار بیٹھے اور واپس چلے گئے۔ طالوت بقیہ چار ہزار لوگوں کو لے کر آگے بڑھا۔ لیکن یہ بھی اصلی لشکر نہیں تھا ۔ جب بنی اسرائیل نے جالوت کے لشکر جرار کو دیکھا تو ان چار ہزار میں سے اکثریت نے ہمت ہار دی۔ اور لڑنے سے انکار کر دیا۔ لیکن کچھ لوگ ابھی بھی ہمت باندھے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” طالوت نے مسلمانوں کے ساتھ جب نہر کو پار کر لیا۔ تو وہ لوگ کہنے لگے آج تو ہم میں طاقت نہیں ہے کہ جالوت اور اس کے لشکر سے لڑیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا یقین رکھنے والوں نے کہا۔ کبھی کبھی چھوٹی اور تھوڑی سی جماعت اپنے سے بڑی جماعت پر اللہ کے حکم سے غلبہ پالیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 249) ان چار ہزار میں سے بھی اکثریت واپس چلی گئی اور جو لوگ رہ گئے ان کی طالوت نے گنتی کو تو تین سوبارہ 312یا تین سو انیس319لشکری رہ گئے تھے۔

طالوت کا اصل لشکر 

حضرت شموئیل علیہ السلام نے بنی اسرائیل کا ایک بہت بڑا لشکر دے کر طالوت کو رخصت کیا تھا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ تفسیر روح البیان وغیرہ میں ذکر ہے کہ اسّی 80ہزار کا لشکر تھا۔ مگر تفسیر در منشور میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین لاکھ تین ہزار تین سو تیرہ کا لشکر تھا۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ صرف صابرین ہی میدانِ جنگ میں جائیں اور بزدلوں اور بے صبروں کی بھیڑ نہ ہو۔ کیوں کہ ایسے لوگ شکست کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے نہر یا ندی کے پانی سے ان کی آزمائش کی۔ موسم سخت گرم تھا اور لوگ پیاس سے بے قرار تھے۔ اس حالت میں عین دوپہر کے وقت پانی کی جگہ پہنچے۔ تین سو تیرہ جوانوں کے علاوہ سب نے خوب پانی پیا۔ جن لوگوں نے ایک چلّو پانی پیا اور ایک چلو اپنے گھوڑے کو پلایا تو وہ ان کے لئے کافی ہو گیا اور ان کی پیاس بجھ گئی۔ اور بے صبر ے لوگ جتنا پانی پیتے تھے اتنی ہی ان کی پیاس بڑھتی تھی۔ ان کے ہونٹ کالے پڑ گئے اور پیٹ پھول گیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ امام طبری امام ابن ابی حاتم اور امام سدی کی روایت میں ہے کہ 80ہزار روانہ ہوئے اور 76ہزار نے خوب پانی پیا اور واپس ہو گئے۔ اور صرف 4ہزار نے دریا پار کیا۔ اور جالوت اور اس کے لشکر کو دیکھ کر ان میں سے بھی تین ہزار چھو سو اسی 3680واپس چلے گئے اور طالوت کے ساتھ تین سو تیرہ یا تین سو بیس نفوس باقی رہ گئے۔ یہ تعداد لگ بھگ اصحاب بدر کے برابر ہے۔ تاریخ طبری میں ہے کہ صرف تین سو اُنیس319افراد باقی رہ گئے تھے۔ جو کہ غزوہ بدر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعداد کے برابر ہے۔ یہ طالوت کا اصل لشکر تھا۔

حضرت داﺅ د علیہ السلام 

حضرت داﺅد علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح سے ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بن ایشا بن حصرون بن قانص بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو یہودا سے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کُل تیرہ بھائی تھے اور آپ علیہ السلام سب سے چھوٹے تھے۔ اور سب کے لاڈلے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کے والد اور بڑے بھائی آپ علیہ السلام کو کوئی کام نہیں کرنے دیتے تھے۔ پھر بھی آپ علیہ السلام اپنے بھائیوں سے ضد کر کے ان کے ساتھ بکریاں چرانے جایا کرتے تھے۔ سلسلہ نسب اس طرح تھا۔ حضرت داﺅد بن ایشا بن عوید بن عابر بن سلمون بن نحشون بن عوینادب بن ارم بن حصرون بن یہودا بن حضرت یعقوب علیہ السلام بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ حضرت وہب بن منبہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام چھوتے قد کے تھے۔ آنکھیں نیلی تھیں بال تھوڑے تھے اور دل یاک و طاہر تھا۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کا انتخاب

حضرت شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ایک پیمانہ دیا تھا اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے اوپر یہ پیمانہ فٹ بیٹھ جائے گا وہی جالوت کا قتل کرے گا۔ طالوت اور جالوت کے لشکروں نے جب ایک دوسرے کے سامنے پڑاﺅ ڈال دیا تو طالوت نے وہ پیمانہ نکالا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت شموئیل علیہ السلام نے ایک سینگ طالوت کو دیا تھا جس میں لوہے کا تنور بنا ہوا تھا اور اس میں تیل بھرا ہوا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے سر پر یہ فٹ بیٹھ جائے گا تو اس میں تیل اچھلنے لگے گا۔ وہی شخص جالوت کو قتل کرے گا۔ طالوت نے اسے نکالا اور اپنے لشکر کے تمام افراد کے سروں پر رکھنے لگا۔ لیکن وہ کسی کے سر پر فٹ نہیں آیا۔ طالوت پریشان ہو گیا اور تمام اسرائیلیوں کو حضرت شموئیل علیہ السلام کے فرمان کے بارے میں بتایا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کے والد محترم اور بارہ بھائی بھی اس لشکر میں تھے۔ ان کے والد محترم نے طالوت سے کہا۔ میرا یک بیٹا داﺅد رہ گیا ہے وہ ہمارے لئے کھانا لے کر آرہا ہے۔ وہ آئے تو اس کے سر پر بھی پہنا کر دیکھ لینا۔ ادھر حضرت داﺅد علیہ السلام کھانا لے کر آرہے تھے کہ راستے میں تین پتھروں نے ان سے کہا کہ ہمیں اپنے تھیلے میں رکھ لو۔ ہم جالوت کو قتل کرنے میں کام آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے ان تینوں پتھروں کو اٹھا کر رکھ لیا ور لشکر میں آئے۔ طالوت نے سینگ آپ علیہ السلام کے سر مبارک پر رکھا تو ایک دم فٹ بیٹھ گی اور تنور کا تیل اچھلنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت شموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ایک زرہ دی تھی اور فرمایا تھا کہ جس شخص کے جسم پر یہ ذرہ پوری ( فٹ ) آجائے گی وہ شخص اللہ کے حکم سے جالوت کو قتل کردے گا۔ اور یہ زرہ حضر ت داﺅد علیہ السلام کے جسم مبارک پر پوری آگئی۔

جالوت کا قتل اور شکست

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ان کا جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ ہوا تو انہوں نے دعا کی۔ اے ہمارے رب، ہمیں صبر عطا فرمااور ثابت قدمی عطا فرما اور کافر قوم پر ہماری مدد فرما۔ پس اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے جالوتیوں کو شکست دے دی۔ اور داﺅد (علیہ السلام )کے ہاتھوں جالوت قتل ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے داﺅد (علیہ السلام ) کو مملکت اور حکمت اور جتنا چاہا علم بھی عطا فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر دفع نہیں کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر250اور 251)طالوت اور جالوت کے لشکر نے صف بندی کر لی۔ اور آمنے سامنے آگئے۔ جالوت آگے بڑھا اور مقابلے کے لئے للکانے لگا۔ جالوت بہت ہی لمبا چوڑا اور گرانڈیل تھا۔ اور اکیلا سینکڑوں پر بھاری تھا۔ اس کی للکار سن کر حضرت داﺅد علیہ السلام آگے بڑھے۔ آپ علیہ السلام تھوڑے پستہ قد تھے۔ اسی لئے جالوت جیسے لمبے چوڑے کے سامنے بونے نظر آرہے تھے۔ جالوت نے اپنے مقابلے پر ایک چھوٹے سے نوجوان کو دیکھا تو زور زور سے ہنسنے لگا اور بولا۔ اے نوجوان ، کیوں اپنی جان کا دشمن بن رہا ہے۔ جاواپس لوٹ جا کیوں کہ مجھے تجھ پر رحم آرہا ہے۔ اور میں تجھے قتل نہیں کرنا چاہتا۔ اس پر آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔ لیکن مجھے تجھ پر رحم نہیں آرہا ہے اور میں تجھے قتل کرنا چاہتا ہوں۔ اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے اپنی گوپھن نکالی اور ان تین پتھروں کو ایک ساتھ گوپھن میں رکھ کر گھما کر پھینکا۔ آپ علیہ السلام گوپھن بہت اچھی چلاتے تھے اور نشانہ ہمیشہ صحیح لگتا تھا۔ اور اس بار تو آپ علیہ السلام نے اپنی پوری مہارت استعمال کی تھی۔ جالوت مسکراتا ہوا کھڑا آپ علیہ السلام کی حرکتوں کو دیکھ رہا تھا۔ لیکن اچانک اس کی مسکراہٹ حیرانی میں بدل گئی ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کے پھینکے ہوئے تینوں پتھر بالکل صحیح نشانے پر جا کر لگے۔ پہلا پتھر پیٹ میں لگا اور زرہ بکتر ( لوہے کا لباس) کو توڑتا ہوا پیٹ میں گھس گیا۔ دوسرا پتھر سینے پر لگا اور زرہ بکتر توڑتا ہوا پسلیوں کو توڑتا ہوا گھس گیا۔ اور تیسرا پتھر سر میں لگا اور کھوپڑی کو توڑتا ہوا اس پار نکل گیا۔ جالوت نے حیرانی سے اپنے ٹوٹے پھوٹے جسم کو دیکھا جو بری طرح لڑکھڑا رہا تھا۔ پھر حضرت داﺅد علیہ السلام کو دیکھتا ہوا اوندھے منہ گر پڑا اور موت آگئی۔ حیرانی اس کے چہرے پر منجمد ہو گئی تھی۔ جالوت کو مرتا ہوا دیکھ کر اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ ادھر آپ علیہ السلام نے زور سے نعرہ ¿ تکبیر بلند کیا اور جالوت کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ طالوت کے لشکر نے بھی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا اور آپ علیہ السلام کے ساتھ جالوت کے لشکر پر ٹوٹ پڑے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جالوت کے لشکر کو شکست دی۔

طالوت کی بیٹی سے نکاح

حضرت داﺅ د علیہ السلام نے جالوت کو قتل کردیا۔ حضرت طالوت نے اعلان کیا تھا کہ جو بھی شخص جالوت کو قتل کر ے گا میں اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کردوں گا۔ اسی وعدہ کو طالوت نے پورا کیا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کو اپنا داماد بنالیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے آپ علیہ السلام کو اپنا سپہ سالار بھی بنا لیا۔ اس کے بعد حضرت داﺅد علیہ السلام اور طالوت نے مل کر آس پاس کی کافر قوموں سے جنگ کی اور انہیں شکست دی۔ اور اسلامی حکومت کو مستحکم کیا۔ دونوں حضرات نے مل کر بنی اسرائیل کے لئے بہت سے رفاعی کام کئے اور ہر طرف عوام آرام اور چین سے زندگی گزارنے لگی۔ اس طرح لگ بھگ بیس20سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور طالوت کی بادشاہت میں بنی اسرائیل کو بہت استحکام نصیب ہوا۔ طالوت ملک کے اندرونی حالات کو کنٹرول میں رکھے ہوئے تھا اور حضرت داﺅد علیہ السلام بیرونی ملک اور فوج کے حالات کو سنبھالے ہوئے تھے۔

حضرت طالوت کی شہادت

حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کی فوج کے ساتھ عمالقیوں اور فلسطینیوں کے کافروں سے جنگ کرتے تھے۔ اور ضرورت پڑنے پر طالوت بھی جنگ میں شامل ہو تے تھے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام اور طالوت کے بارے میں بائیبل میں بہت زیادہ گستاخیاں کی گئی ہیں۔ اور دونوں حضرات پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں کہ ( نعوذ باللہ ) طالوت ، حضرت داﺅد علیہ السلام سے حسد کرنے لگے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) قتل کرنے کی کوشش کی اور آپ علیہ السلام خوش قسمتی سے بچ سکے۔ اور پھر ( نعوذ باللہ) طالوت نے خود کشی کر لی۔ یہ سب ان نیک بندوں پر بے جا الزامات ہیں۔ (حضر ت داﺅد علیہ السلام پر الزامات کا ذکر آگے آئے گا) حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے بہت ہی نیک اور مخلص بندے تھے۔ اور اس کا ثبوت قرآن پاک کی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نیک اور مخلص ہونے کی گواہی دی ہے۔ بائیبل میں یہ غلط بات بھی لکھی ہے کہ طالوت نبی تھے ۔ لیکن قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے طالوت کو ایک حکمراں یا بادشاہ بتا یا ہے۔ جب کہ بد بخت یہود و نصاریٰ ( بنی اسرائیل اور عیسائی) نے حضرت داﺅد علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ وہ ( نعوذ باللہ ) نبی نہیں تھے۔ اور صرف حکمراں یا بادشاہ تھے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بتایا کہ آپ علیہ السلام بنی بھی تھے اور بادشاہ یا حکمراں بھی تھے۔ دونوں حضرات مل کر اسلامی حکومت چلا رہے تھے۔ اور اسی دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت شموئیل علیہ السلام کو اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ اور طالوت نے خودکشی نہیں کی بلکہ ایک جنگ میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے وہ شہید ہو گئے۔ ایک روایت میں ہے کہ طالوت نے بنی اسرائیل پر 20برس سے کچھ زیادہ عرصہ حکومت کی ۔ اور دوسری روایت کے مطابق 40برس تک حکومت کی۔ اب حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

حضرت داﺅد علیہ السلام نبوت اور بادشاہت سے سر فراز

اللہ تعالیٰ نے سورہ نساءمیں فرمایا ۔ ترجمہ ” اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) کو زبور عطافرمائی۔ (سورہ النساءا ٓیت نمبر164) سورہ سباءمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) پر اپنا فضل کیا۔ “ ( سورہ السباءآیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان (کافروں) کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داﺅد علیہ السلام کو یاد کریں۔ جو بڑی قوت والا تھا اور بے شک وہ بہت رجو ع کرنے والا تھا۔ (سورہ ص ٓ آیت نمبر17) اسی سورہ میں آیت نمبر20میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے اسکی ( حضرت داﺅد علیہ السلام کی) سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور اسے حکمت عطا فرمائی تھی اور بات کا فیصلہ کرنا ( سکھایا تھا) “ اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے یقینا داﺅد (علیہ السلام )اور سلیمان (علیہ السلام ) کو علم دے رکھا تھا۔ اور دونوںنے کہا۔ تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔“ (سورہ النمل آیت نمبر15) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے داﺅد (علیہ السلام )ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا ہے اب تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔“ (سورہ ص ٓ آیت نمبر26) ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت سے سرفرازفرمایا اور ساتھ ساتھ کتاب (زبور) بھی عطا فرمائی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکومت یعنی سلطنت بھی عطا فرمائی ۔ اس طرح حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے پہلے نبی ہیں۔ جنہیں نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی۔ آپ علیہ السلام سے پہلے بنی اسرائیل میں بادشاہ الگ ہوتے تھے اور نبی الگ ہوتے تھے۔ ہاں حضرت یوسف علیہ السلام نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے۔ لیکن بنی اسرائیل اس وقت وجود میں نہیں آئے تھے۔

بنی اسرائیل میں ہر دل عزیز

حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل میں ہر دلعزیز اسی وقت ہو گئے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کیا۔ امام ابن عسا کر کے قول کے مطابق یہ قتل ام حکیم کے محل کی جگہ مرج الصفر کے قریب واقع ہوا۔ اس بہادری اور معجزانہ قوت کی وجہ سے نبی اسرائیل آپ علیہ السلام کے شیدائی بن گئے۔ اور ان تمام کا میلان آپ علیہ السلام کی طرف ہو گیا تھا۔ اسی لئے تمام بنی اسرائیل نے متفقہ طور سے حضرت داﺅد علیہ السلام کو اپنا حکمراں تسلیم کر لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دنیاﺅں اور اُخروی دونوں نعمتوں سے نوازا تھا۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نبی بھی تھے۔ اور بادشاہ بھی تھے۔ جب کہ اس سے پہلے بادشاہ ایک نسل سے ہوتا تھا تو نبی دوسری نسل سے ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام میں بادشاہت اور نبوت دونوں جمع فرمادیں۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی فتوحات

حضرت داﺅد علیہ السلام نے حکمراں بنتے ہی اللہ کے قانون کو نافذ فرمایا اور اسلامی حکومت کو مستحکم کیا۔ آپ علیہ السلام کے دور ِ نبوت اور حکومت میںپورے ملک کنعان میں اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔ اور آس پاس کے مشرکوں نے بھی اطاعت قبول کر کے خراج دینا منظور کر لیا۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام مستقل طور سے بنی اسرائیل پر حکومت کرنے لگے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنو کنعان سے لڑے اور ان پر غالب آئے۔ اس کے بعد بنو فلسطین سے مدتوں معرکہ آرائیاں کرتے رہے اور ان کے اکثر شہروں پر قبضہ کر لیا اور ان پر سالانہ خراج مقررکیا۔ اس کے بعد بنو موآب اور بنو عمون سے جنگ کی اور انہیں زیر و زبر کر کے ان پر جزیہ قائم کیا۔ اس کے بعد آگے بڑھ کر دمشق اور حلب میں آرمینیوں پر جزیہ قائم کیا۔ اور آپ علیہ السلام کے مقرر کئے ہوئے افسران سالانہ جزیہ وصول کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی سلطنت و حکومت کی ہیبت آس پاس کے علاقوں سے نکل کر کافی دور تک پھیل گئی۔ یہاں تک کہ انطاکیہ کے حکمراں نے بھی خراج دینا قبول کر لیا۔ اور ہدیے اور تحفے بھیجے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے زبردست عزم و حوصلے سے قوم بنی اسرائیل کو ایک نئے جذبے سے سر شار کر دیا۔ جس سے ان کے قدم آگے بڑھتے چلے گئے۔ آپ علیہ السلام نے یروشلم کو فتح کر کے اسے سلطنت بنی اسرائیل کا مرکزی شہر ( راجدھانی) بنا دیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام کی (اسلامی) حکومت خلیج عقبہ سے دریائے فرات کے کناروں تک پھیل کر عدل و انصاف ، امن سکون اور خوش حالی کا گہوارہ بن گئی۔ لیکن اتنی زبردست سلطنت کے بادشاہ ہونے کے باوجود آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا گزر بسر کرتے تھے۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی عبادات

حضرت داﺅد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت اور حکومت کی دوہری ذمہ داری عطا فرمائی ۔ اور آپ علیہ السلام نے اس ذمہ داری کو بہت خوبی سے نبھایا۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضر ت داﺅد علیہ السلام راتوں کو خاموشی سے سلطنت کے لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے گشت کرتے ۔ تاکہ کوئی حاکم ( گورنر ، عمّال) کسی مظلوم پر کسی طرح کا ظلم و زیادتی نہیںکر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت داﺅد علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی کمائی سے حاصل ہونے والا رزق ہے۔ اور بلا شبہ حضرت داﺅد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے اپنا اور اپنے بچوں کا گزارہ کر تے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جگہ فرمایا کہ نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نماز حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے جو آدھی رات سوتے تھے پھر ایک تہائی رات میں اللہ تعالیٰ کی بندگی و عبادت کرتے تھے اور رات کے آخری حصے میں آرام فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ سب روزوں میں محبوب ترین اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت داﺅد علیہ السلام کے روزے ہیں ، جو ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے۔ (قرطبی) آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل و کرم تھا کہ اللہ تعالیٰ نے علم و حکمت عدل و انصاف اور عام لوگوں کی خدمت کا ایک عظیم جذبہ عطا فرما یا تھا۔

لوہا نرم ہو جانے کا معجزہ

اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ساتھ بادشاہت بھی عطا فرمائی تھی ۔ا ور اس کے علاوہ کئی معجزات بھی عطا فرمائے تھے۔ ان میں سے ایک معجزہ لوہے کا نرم ہوجانا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ لوہا رکس طرح لوہے کو بھٹی میں پگھلا کر نرم کرتا ہے۔ اور پھر اس پگھلے ہوئے لوہے کو اپنی مرضی کے مطابق پیٹ پیٹ موڑتا یا ڈھالتا ہے۔ اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ گھروں میں ہماری والدہ اور بہنیں آٹے کو گوندھتی ہیں اور اس آٹے کو اپنی مرضی کے مطابق موڑ کر بیل کر روٹیاں پکاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو ایسا معجزہ عطا فرمایا تھا کہ لوہا جیسے ہی آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آتا تو آٹے کی طرح نرم ہو جاتا تھا۔ اور آپ علیہ السلام بہت ہی آسانی سے اسے اپنی مرضی کے مطابق موڑ لیا کرتے تھے۔ یا ڈھال لیا کرتے تھے۔ بادشاہ بننے کے بعد آپ علیہ السلام لوہے کی زرہیں بنا کر فروخت کرتے تھے۔ اور اسی پر آپ علیہ السلام کا گھر چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ سبا میں فرمایا۔ ترجمہ ” بے شک ہم نے داﺅد ( علیہ السلام ) کو اپنی طرف سے فضیلت بخشی( اور پہاڑوں کو حکم دیا کہ ) اے پہاڑو، اُن کے ساتھ تسبیح کرو اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا۔ اور ہم نے لوہے کو ان کے لئے نرم کر دیا۔ ( اور فرمایا) کشادہ زرہیں بناﺅ اور ( ان کی جالیوں کے ) حلقے جوڑنے میں مناسب اندازے کا خیال رکھو۔ اور ( اے آل داﺅد عمل صالح پر جمے رہو۔ بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔“(سورہ السباءآیت نمبر10اور 11)

زرہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی ایجاد ہے

حضرت داﺅد علیہ السلام سے پہلے لوگ زرہ بکتر کے بارے میں جانتے ہی نہیں تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے لوہے کو مٹی کی طرح نرم کر دیا تھا۔ حضرت حسن بصری ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لوہا آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں آنے کے بعد آٹے کی طرح ہو جاتا تھا۔ اور اس سے آپ علیہ السلام زرہیں بناتے ہیں۔ حضرت قتادہ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم کر دیا تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ سے لوہے کے حلقے بناتے جاتے تھے۔ جس طرح مٹی میں کام کیا جاتا ہے۔ لوہے کو آگ میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اور ن ہ ہی ہتھوڑے سے اس پر ضربیں لگانے کی ضرورت پڑتی تھی۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے سب سے پہلے زرہ بکتر بنائی۔ اس سے پہلے لوگ لوہے کے پترے دشمنوں سے حفاظت کےلئے استعمال کرتے تھے۔ حضرت ابن شوذب فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام ہر روز ایک زرہ بناتے تھے۔ اور اس کے جو پیسے ملتے تھے اس کے تین حصے کرتے تھے۔ ایک حصہ اپنے استعمال کےلئے رکھتے ، ایک حصہ گھر والوںکے لئے رکھتے اور ایک حصہ بنی اسرائیل کے ضرورت مندوں اور غریبوں پر خرچ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے زرہ بکتر کی ایجاد کے بارے میں سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اسے ( حضرت داﺅد علیہ السلام کو ) تمہارے لئے لباس بنانے کی کاریگری سکھائی تاکہ لڑائی کے ضررسے تمہارا بچاﺅ ہو۔ کیا ( اب بھی) تم شکر گزار بنو گے؟( سوہ الانبیاءآیت نمبر80)

زبور کا نزول

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ بہت زبردست انعام کیا کہ حضرت داﺅد علیہ السلام جیسا عظیم نبی اور رسول اور حکمراں عطا فرمایا تھا۔ آپ علیہ السلام نے تمام بنی اسرائیل کو متحد کیا اور پورے ملک کنعان میں اسلامی حکومت قائم فرمائی۔ آ پ علیہ السلام کے دورِ نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل کو بہت عروج حاصل ہوا۔ پہلے بنی اسرائیل بکھرے ہوئے تھے آپسی اختلافات کا شکار تھے اور آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے آس پاس کی مشرک قومیں ان پر ٹوٹ پڑتی تھیں اور ان کے انتشار کا فائدہ اٹھا کر ان پر حاوی ہو جاتے تھے اور محکوم بنا لیتے تھے۔ یہ ہم لوگوں ( امت مسلمہ ) کے لئے بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم بھی مسلکی اختلافات کا شکار ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے سخت دشمن ہیں اور اسی وجہ سے محکوم ہیں۔ کاش کہ ہمیں سمجھ آجائے او رہم متحد ہوجائیں۔ تو حضرت داﺅد علیہ السلام نے سب سے پہلے مشرک دشمنوں سدِ باب کیا۔ اسی دوران آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے ”زبور“ نازل فرمائی۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ نساءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام )کو زبور عطا فرمائی“(سورہ النساءآیت نمبر164) آپ علیہ السلام نے توریت اور زبور کی روشنی میں سلطنت کے قوانین مرتب فرمائے۔ اور تمام بنی اسرائیل کے علاقوں میں ہرجگہ فلاحی ادارے قائم فرمائے۔ اور سلطنت و حکومت کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے کیا کہ تمام بنی اسرائیل کے علاقوں میں ہر جگہ فلاحی ادارے قائم فرمائے۔ اور سلطنت و حکومت کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے کیا کہ عوام خوش حال ہو گئی۔ اور جتنا امن و سکون بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کی حکومت میں حاصل ہوا۔ اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا تھا۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی خوش الحانی

حضرت داﺅد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت نہایت ہی خشوع خضوع سے کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنی نفلی عبادات کا دستور بنا رکھا تھا اور اس پر مستقل مزاجی سے اس پر قائم رہتے تھے۔ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔ اس طرح ہمیشہ ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھتے رہے۔ اور رات کا ایک حصہ عبادت کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ تر نماز حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔ اور پسندیدہ ترروزے بھی آپ علیہ السلام کے ہیں اور پسندیدہ تر عبادت بھی حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔“ان تمام خوبیوں کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت ہی دلکش آواز سے بھی نوازا تھا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام اتنے اچھر انداز سے اپنی دلکش آواز میں زبور کی تلاوت فرماتے تھے کہ آپ علیہ السلام کی خوش الحانی کو سن کر انسان تو حیرت اور سکتہ میں مبتلا ہو ہی جاتے تھے اور خاموشی سے بت بن کر زبور کی تلاوت سننے لگتا تھا ۔ انسانوں کے علاوہ جانور اور پرندے بھی آپ علیہ السلام کی دلکش آواز سن کر آپ علیہ السلام کے اطراف جمع ہو جاتے تھے۔ اور وہاں سے ہٹنے کا نا م ہی نہیں لیتے تھے۔ اور جب تک آپ علیہ السلام تلاوت کرتے رہتے تھے تب تک اُن کے پاس ہی جمع رہتے تھے۔ یہ تو انسانوں، جانوروں اور پرندوں کی بات ہوئی ۔ آپ علیہ السلام کی آواز اتنی دلکش تھی اور تلاوت اتنے اچھے انداز میں کرتے تھے کہ پہاڑ بھی وجد میں آجاتے تھے اور وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اسی کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے۔

پہاڑوں کی تسبیح کا معجزہ

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ترجمہ ” اور داﺅد ( علیہ السلام )کے تابع ہم نے پہاڑ کر دیئے تھے۔ جو تسبیح کرتے تھے اور پرند بھی ( تسبیح کرتے تھے) اور ہم ہی کرنے والے تھے۔“( سورہ الانبیاءآیت نمبر79) اللہ تعالیٰ نے سورہ سباءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے داﺅد (علیہ السلام )پر اپنا فضل کیا۔ ( اور فرمایا) اے پہاڑو، اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی ( یہی حکم دیا) اور ہم نے اس کے لئے لوہا نرم کر دیا۔“ (سورہ سباءآیت نمبر10) اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان ( کافروں) کی باتوں پر صبر کریں۔ اور ہمارے بندے داﺅد (علیہ السلام )کو یاد کریں۔ جو بڑی قوت والا تھا۔ بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ ہم نے پہاڑوں کو اسکے تابع کر رکھا تھا کہ اسے شام کو او رصبح کو تسبیح خوانی کریں۔ اور پرندے جمع ہو کر سب کے سب اس کے زیر فرمان رہتے تھے۔ “ ( سورہ ص ٓآیت نمبر17سے 19تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ”اور ہم نے داﺅد ( علیہ السلام )پر اپنا فضل کیا۔ “فضل کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں۔ اس سے مراد وہ خاص صفات ہیں جو دوسروں سے زائد ان کو عطا کی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی و رسول کو بعض خاص امتیازی صفات عطا فرمائی ہیں جو ان کی مخصوص فضیلت سمجھی جاتی ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام کی مخصوص صفات یہ تھیں کہ ان کو اپنی نبوت و رسالت کے ساتھ ساتھ سلطنت و حکومت بھی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ اور خوش کُن آواز کی ایسی صفت عطا فرمائی تھی کہ جب آپ علیہ السلام اللہ کے ذکر یا زبور کی تلاوت میں مشغول ہوتے تو ہر پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے سننے کو جمع ہو جاتے تھے۔ اور پہاڑ بھی وجد میں آکر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ پہاڑوں کی یہ تسبیح جو وہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے ساتھ کرتے تھے اس عام تسبیح کے علاوہ ہے جس میں تمام کل مخلوقات شریک ہیں۔ اور جوہر جگہ ہر وقت ہر زمانے میں تمام مخلوقات کرتی رہتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ (ترجمہ ) ”دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی تسبیح نہ پڑھتی ہو۔ مگر تم اس کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔“یہاں اللہ تعالیٰ جس تسبیح کاذکر فرما رہے ہیں وہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے معجزہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لئے ظاہر ہے کہ ا س تسبیح کو عام سننے والے بھی سنتے اور سمجھتے ہوں گے۔ ورنہ پھر یہ معجزہ ہی نہیں ہوتا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کی آواز کے ساتھ پہاڑوں کا آوازملانا اور تسبیح دہرانا بازگشت کے طور پر نہیں تھا۔ جیسا کہ عام طور سے گنبد یا کنویں وغیرہ میں آواز دینے سے لوٹ کر آواز آتی ہے۔ بلکہ باقاعدہ صاف طور پر پہاڑوں کے تسبیح کرنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی تمنا

حضرت داﺅد علیہ السلام نے اپنی زندگی کے تین حصے کر رکھے تھے۔ ایک دن حکومت کے تمام معاملات حل کرتے تھے۔ دوسرے دن اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ اور تیسری دن اپنے گھر والوں یعنی بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ آپ علیہ السلامنے توریت اور زبور میں اپنے آباﺅ اجداد یعنی حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے بارے میں پڑھا۔ اور ان کے مراتب ملا خطہ فرمائے۔ یعنی یہ دیکھا کہ ان بزرگوں کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیا مرتبے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلامنے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، ساری بھلائی اور فضیلتیں تو میرے آباﺅ اجداد لے گئے ہیں۔اے اللہ مجھے بھی وہ عطا فرما دے جو تو نے انہیں عطا فرمایا ہے۔ اور میرے ساتھ بھی وہ معاملہ کر جو ان کے ساتھ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ میں نے ان نیک بندوں کو آزمائشوں میں مبتلا کیا تھا۔ ابراہیم اور اسماعیل علیہم السلام کو قربانی کے ذریعے آزمایا۔ اور یوسف علیہ السلام کو بھائیوں کے ذریعے آزمایا۔ وہ سب ان آزمائشوں میں کامیاب ہوئے تو انہیں یہ مراتب عطا فرمائے اور ابھی ہم نے تمہاری ایسی کوئی شدید آزمائش نہیں لی ہے۔ آپ علیہ السلامنے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، میری بھی آزمائش لے جو میرے آباﺅ اجداد کی لی تھی۔ اور اگر میں کامیاب ہو ا تو مجھے بھی ہو سب عطا فرما۔ جو میرے بزرگوں کو عطا فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ صبر کرو ، میں تمہاری بھی آزمائش لوں گا۔

حضرت داﺅد علیہ السلامکی دلکش کی آواز کا اثر

حضرت داﺅد علیہ السلامکو اللہ تعالیٰنے اتنی دلکش آواز عطا فرمائی تھی کہ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور اور پرنے اور پہاڑ بھی مسحور ہو جاتے تھے۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت دلکش اور انتہائی دل نشین آواز سے نوازا تھا۔ کہ ایسی آواز کسی اور انسان کو عطا نہیں کی گئی۔ جب آپ علیہ السلام زبور کی تلاوت کرتے تھے تو خوش الحانی کے اثر سے پرندے سر پر آکر ٹھہر جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کی آواز میں اپنی آواز ملا کر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اور اسی پر بس نہیں ہوتا تھا بلکہ تمام پہاڑ بھی آپ علیہ السلام کے اور پرندوں ساتھ مل کر وجد میں آجاتے تھے۔ اور آواز میں آواز ملا کر تسبیح کرنے لگتے تھے۔ اور پہاڑ اور پرندے صبح و شام آپ علیہ السلام کے ساتھ مل کر تسبیح کرتے رہتے تھے۔ امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو حسن صوت کی دولت سے اس قدر نوازا تھا کہ کوئی شخص اس طرح نوازا نہیں گیا ہوگا۔ حتیٰ کہ پرندے اور جانور آپ علیہ السلام کی آواز سننے کے لئے ارد گرد اکٹھے ہو جاتے تھے۔ وہ بھوک اور پیاس سے مرنا پسند کرتے تھے لیکن آپ علیہ السلام کے پاس سے ہٹنا پسند نہیں کرتے تھے۔ اور اسی طرح پورا دن لحنِ داﺅدی سننے میں مست و بخود ہو کر گزار دیتے تھے۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہٰں کہ جب کسی انسان کے کان میں آپ علیہ السلام کی آواز پڑ جاتی تھی تو وہ اتنا وجد میں آجاتا تھا کہ اچھلنے کودنے لگتا تھا۔ آپ علیہ السلام زبور کی آیات کو ایسی خوب صورت آواز میں تلاوت فرماتے تھے کہ ایسی آواز کی مثال نہیں ملتی ہے۔ جنات اور انسان، چرند و پرند سب آپ علیہ السلام کی آواز سننے کے لئے اکٹھے ہو جاتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے بعض تو بھوک کی وجہ سے مر جاتے تھے۔ ( مگر ہٹنا پسند نہیں کرتے تھے)

فیصلہ کی قوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اس کی ( حضر ت داﺅد علیہ السلام کی ) سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا۔ اور اسے حکمت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور بات کو فیصلہ ( کرنا بھی ) سمجھا دیاتھا۔ “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر20) علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ اور اس کی سلطنت ہم نے مضبوط کر دی اور بادشاہوں کو جن جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ہم نے اسے سب دے دیں۔ چار ہزار تو ان کی محافظ سپاہ تھی۔ اور فو ج اس قدر تھی کہ ہر رات تینتیس33ہزار فوجی پہرہ دیتے تھے۔ لیکن اس کے بعد سال بھر تک پھر ان کی باری نہیں آتی تھی۔ چالیس ہزار آدمی ہر وقت ان کی خدمت میں مسلح تیار رہتے تھے۔ ( اور بات کا فیصلہ کرنا بھی سمجھا دیا کہ تشریح میں لکھتے ہیں کہ ) ایک روایت میں ہے اُن کے زمانے میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں نے مقدمہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا ۔ ایک نے دوسرے پر دعویٰ کیا کہ اس نے میری گائے غصب کر لی ہے ۔ دوسرے نے اس جرم سے انکار کیا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے مدعی سے دلیل طلب کی تو وہ کوئی گواہ پیش نہیں کر سکا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اچھا کل اس مقدمے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ رات کو حضرت داﺅد علیہ السلام کو خواب میں حکم ہواکہ دعوے دار کو قتل کردو ۔ صبح آپ علیہ السلام نے دونوں کو بلوایا۔ ( لیکن جس پر الزام تھا وہ نہیں ملا اور صرف مدعی آیا) آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ مدعی کو قتل کر دیا جائے۔ اس نے کہا اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، میرے قتل کا حکم دیا جا رہا ہے۔ جب کہ میری ہی گائے چوری ہو ئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اور اس کا ٹل جانا ناممکن ہے۔ تب اس نے کہا۔ اے اللہ کے علیہ السلام ، میں اپنے دعوے میں تو سچا ہی ہوں اور اسی نے میری گائے چرائی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے قتل کا حکم میرے اس مقدمے کی وجہ سے نہیں دیا ہے بلکہ اس کی دوسری وجہ ہے جو صرف میں ہی جانتا ہوں ۔ بات دراصل یہ ہے کہ آج ( رات) دھوکے سے میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ ( یعنی گائے چور کو) اسی کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو قصاص کا حکم دیاہے۔ آخر کار اسے قتل کر دیا گیا اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہیئت ہر شخص کے دل میں بیٹھ گئی 

بہترین خطیب

حضرت داﺅد علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت بہترین تقریر یعنی خطاب کرنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی تھی۔ اور آپ علیہ السلام بہترین خطیب بھی تھے۔ سورہ ص ٓ کی آیت نمبر 20کی تفسیر میں مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ واتینٰہُ الحکمة و فَصَل الخطاب ۔ ( اور ہم نے ان کو حکمت اور فیصلہ کردینے والی تقریر عطا فرمائی) حکمت سے مراد تو دانائی ہے یعنی ہم نے انہیںعقل و فہم کی دولت بخشی تھی۔ اور بعض حضرات نے فرمایا حکمت سے مراد نبوت ہے۔ اور ”فصل الخطاب “ کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد زور بیان اور قوت خطابت ہے کیوں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام بہت اونچے درجے کے خطیب تھے۔ اور خطبوں میں حمد و صلوٰة کے بعد لفظ ”اما بعد“ سب سے پہلے آپ علیہ السلام نے ہی کہنا شروع کیا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے بہترین قوتِ فیصلہ مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جھگڑے چکانے اور تنازعات کا فیصلہ کرنے کی قوت عطافرمائی تھی۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی مثال

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی آیت نمبر20میں دنیا کے تمام حکمرانوں اور بادشاہوں کے سامنے حضرت داﺅد علیہ السلام کی مثال بیان فرمائی ہے۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ کہ رسول اللہ علیہ السلام سے خطاب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ان کافروں ( مکہ مکرمہ کے کفار سرداروں) اور مشرکین کی باتوں پر صبر کریں اور اپنی معمولی معمولی سرداریوں پر ناز کر کے سچائیوں کا انکار کرنے والوں کو حضرت داﺅد علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں بتائیں۔ ان کی سلطنت اور قوت کا حال انہیں سنائیں اور پھر ان کو یہ بتائیں کہ اتنی بڑی سلطنت کے حکمراں یا بادشاہ ہونے کے بعد بھی آپ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں لگے رہتے تھے اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ سب سے اچھی مثال حضرت داﺅد علیہ السلام کی ہے۔ جو (1) صبر سے کام لیتے تھے۔ (2) صرف اللہ کی طرف دھیان لگائے رہتے تھے۔ (3) وہ صبح و شام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں لگے رہتے تھے۔ (4) ان کی سلطنت ایک مضبوط اور مستحکم حکومت تھی۔ ہر طرف ان کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اور سب پر ان کا حکم چلتا تھا۔ (5) ان کے پاس ایک بہت بڑی فوج تھی۔ (6) وہ نہایت ذہین اور ذکی تھی۔ اور ہر بات کی تہہ تک پہنچ جایا کرتے تھے۔ (7) جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا تو وہ ا س کا بہترین فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔ (8) وہ ہر بات کو اتنے اس طرح صاف طور پر سمجھاتے تھے کہ سننے والے کے دل میں شک و شبہ بالکل نہیں رہتا تھا۔ (9) آپ علیہ السلام سلطنت کا کاروبار نہایت دیانت، امانت ، دانائی اور ہوشیاری سے کرتے تھے۔ (10) وہ ہر وقت اللہ کی بندگی اور عبادت میں رہتے تھے۔ 

حضرت داﺅد علیہ السلام کی آزمائش

اللہ تعالیٰ سے حضرت داﺅد علیہ السلام نے درخواست کی تھی کہ میرے آباﺅ اجداد حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کی طرح میری بھی آزمائش لے۔ اور میں اس آزمائش میں پورا اتنے کی کوشش کروں گا۔ اورمیں کامیاب ہو گیا تو کیا میرے آباﺅ اجداد کی طرح مجھے بھی فضیلتیں عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عنقریب ( بہت جلد) ہم تمہاری آزمائش لیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اپنے دل میں طے کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ آزمائش میں مبتلا کریں گے تو انشاءاللہ میں اس پر پوری طرح کامیاب ہونے کی کوشش کروں گا۔ اور آپ علیہ السلام سے فرمایا۔ کہ عنقریب آپ علیہ السلام کو آزمایا جائے گا۔ اوراس روز عبادت کا دن تھا۔ آپ علیہ السلام اپنے عبادت کرنے والے حجرے میں آگئے ۔ دروازے پر منصف کو بٹھا دیا ور اسے حکم دیا کہ آج کسی کو میرے پاس آنے کی اجازت نہیں دینا۔ اور عبادت گاہ کا دروازہ بند کر کے آپ علیہ السلام زبور کی تلاوت کرنے بیٹھ گئے۔ آپ علیہ السلام کی خوش الحانی کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور پرندوں کا ٓپ علیہ السلام کے پاس آنا عام بات تھی۔ ابھی آپ علیہ السلام تلاوت میں مصروف ہی تھے کہ روشن دان سے ایک انتہائی خوبصورت پرندہ اندر آیا اور آپ علیہ السلام کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ اور دھیرے دھیرے قریب ہونے لگا۔ یہ ایک سنہری پرندہ تھا اور جتنی خوبصورتی بھی ہو سکتی تھی وہ سب اس پرندہ کے اندر تھی۔ اور دیکھنے میں ایسا لگتا تھا کہ مسلسل اس پرندے کا رنگ بدل رہا ہے۔ اس میں ہر رنگ تھا۔ تلاوت کے دوران آپ علیہ السلام کی نظر اس پرندے پر پڑی تو وہ انتہائی خوبصورت دکھائی دیا۔ اور وہ اتنا قریب تھا کہ اسے دیکھتے ہی آ پ علیہ السلام نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھونا چاہا تو وہ اڑ گیا۔ آپ علیہ السلام نے بیٹھے بیٹھے نگاہوں سے اس کا پیچھا کیا کہ کہا ں جا کر بیٹھتا ہے؟ وہ کھڑکی پر جا کر بیٹھا۔ اور پھر اڑ کر باہر چلا گیا۔ اسی وقت آپ علیہ السلام کی نظر ایک خوبصورت عورت پر پڑی جو اپنے گھر کی چھت پر کسی کام میں مصروف تھی۔ اسے دیکھ کر آپ علیہ السلام کے دل میں خیال آیا کہ اس عورت سے نکاح کیا جائے۔

عجیب مقدمہ 

حضرت داﺅد علیہ السلام نے اُس عورت کے متعلق سوچنے میں کئی دن گزار دیئے ۔ پھر ایک دن آپ علیہ السلام عبادت میں مشغول تھے کہ اچانک دو آدمی آپ علیہ السلام کے حجرتے ( عبادت گاہ) میں داخل ہوئے اور ایک عجیب مقدمہ پیش کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور کیا تمہیں جھگڑنے والوں کی خبر ملی؟ جب وہ دیوار پھاند کر محراب (عبادت کے حجرے) میں آگئے تھے۔ جب یہ ( دونوں ) داﺅد علیہ السلام کے پاس پہنچے تو یہ گھبرا گئے۔ انہوں نے کہا۔ گھبرائیے نہیں ہم دونوں آپ علیہ السلام کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے ہیں۔ اور ہم میں سے ایک نے دوسرے کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ پس آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمادیں۔ اور ہمیں صحیح راستہ بتا دیں۔ یہ میرا بھائی ہے اور اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں۔ اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ لیکن یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ایک بھی مجھے دے دے۔ اور اس کے لئے مجھ پر زبردستی بھی کرتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بے شک تیرے اوپر ظلم ہے۔ اور اکثر حصہ دار اور شریک ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں۔ سوائے ان کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے۔ اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے۔ پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور رجو ع کیا۔( سورہ ص ٓ آیت نمبر21سے 24)

حضرت داﺅد علیہ السلام کا رجوع

حضرت داﺅد علیہ السلام کی آزمائش اور رجوع کے بارے میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کہ جب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میں پسند کرتا ہوں کہ جیسی شان میرے آباﺅ اجداد کو عطا فرمائی گئی ہے ویسی ہی شان مجھے بھی عطا فرما ئی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں نے انہیں ایسی آزمائش میں ڈالا تھا جیسی آزمائش میں ابھی تج تمہیں نہیں ڈالا ہے۔ اگر تم چاہو تو تمہیں بھی آزمائش میں مبتلا کروں اور جب تم کامیاب ہو جاﺅ تو تمہیں بھی ویسی ہی شان عطا فرماﺅں ۔ جیسی تمہاری آباﺅ اجداد کو عطا فرمائی ہے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، بے شک میری بھی اسی طرح آزمائش لیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم عمل کرتے جاﺅ عنقریب تمہاری آزمائش لی جائے گی۔ اس کے بعد کافی عرصہ گزر گیا اور اتنا وقت گزر گیا کہ آپ علیہ السلام آزمائش کی بات کو لگ بھگ بھول سے گئے ۔ یعنی ذہن سے یہ بات محو ہو گئی کہ کسی وقت بھی اچانک میری آزمائش لی جا سکتی ہے۔ ایسے وقت میں اس خوبصورت پرندے کا اور عورت پر نظر پڑنے کا واقعہ پیش آیا۔ آپ علیہ السلام ابھی اسی غورو فکر میں تھے کہ ایک دن جو آپ علیہ السلام کی عبادت کا دن تھا اور اس دن کسی کو بھی آپ علیہ السلام سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھا کہ آپ علیہ السلام جس معاملے میں پڑے ہوئے ہیں تو اس معاملہ کو نافذ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ اور جب حضرت فاﺅد علیہ السلام اپنی عبادت گاہ میں مشغول تھے کہ اچانک دو فرشتے انسانی شکل میں دیوار پھلانگتے ہوئے اور پہریداروں کو چکمہ دیتے ہوئے عبادت گاہ میںداخل ہو گئے۔ جب آپ علیہ السلام عبادت سے فارغ ہوئے تو ان دو افراد کو دیکھ کر چونک گئے اورپریشان ہو گئے کہ اتنے پہریداروں کی موجودگی میں یہ دونوں یہاں تک کیسے آگئے؟ تو انہوں نے فوراً کہا کہ ہمارا فیصلہ کر دیں تو آپ علیہ السلام کی بڑی مہربانی ہو گی۔ اور پھر بھیڑوں کا مقدمہ پیش کیا۔ آپ علیہ السلام نے ایک بھیڑ والے سے فرمایا تو اپنی بھیڑ کا زیادہ مستحق ہے اور تیرے ساتھی نے تجھ سے بھیڑ مانگ کر تیرے اوپر ظلم کیا ہے۔ یہ فیصلہ سن کر وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرانے لگے۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے ان کی کیفیت دیکھی تو سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ اسی لئے تمام پہرے کو توڑ کر یہاں تک پہنچ گئے۔ اور سمجھ گئے کہ یہ مقدمہ میری آزمائش ہے۔ آپ علیہ السلام فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے اور سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس عورت کے بارے میں اپنے خیال پر معافی مانگنے لگے۔ اور چالیس دنوں تک اسی حالت میں روتے رہے کہ آپ علیہ السلام کے آنسوﺅں سے سبزہ اُگ آیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام چالیس دن اور رات سجدہ میں رہے۔ اور سر نہیں اٹھاتے تھے۔ صرف فرض نماز کے لئے سر اٹھاتے تھے۔ یہاں تک کہ آنسو خشک ہو گئے اور پیشانی ، ہتھیلیاں اور گھٹنے زخمی ہو گئے۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بشارت دی کہ تم آزمائش میں کامیاب ہو گئے۔

وہ دونوں فرشتے تھے

حضرت داﺅد علیہ السلام نے ایک نظر صرف اس عورت کو دیکھا اور اس کے بعد اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔ اور صرف اس سے نکاح کے بارے میں سوچا اور اس پر عمل نہیں کیا تھا۔ بلکہ غور و فکر کر رہے تھے کہ ان دونوں افراد کے مقدمہ کا واقعہ پیش آیا۔ کسی کے خیال پر اللہ تعالیٰ نے گرفت نہیں فرمائی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے اس میں بھی احتیاط برتتے ہیں۔ اسی لئے حضرت داﺅد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو معصوم بنایا ہے۔ اور وہ غلطی نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ غلطیوں سے پاک ہوتے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام نے اُن دونوں افراد پر غور سے نظر ڈالی تو پہچان لیا کہ یہ انسانی شکل میں فرشتے ہیں علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ علمائے کرام کی ایک جماعت کا قول ہے کہ وہ دونوں فرشتے تھے۔ اور علمائے کرام کی ایک جماعت نے بتایا کہ وہ دونوں جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام تھے۔ ایک قول میں یہ ہے کہ وہ دوانسانی شکل میں فرشتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کو حضرت داﺅد علیہ السلام کی عبادت کے دن ان کے پاس بھیجا۔ وہ دونوں آپ علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوئے گئے۔ آپ علیہ السلام اس وقت نماز میں مشغول تھے۔ اسی لئے ان کی آمد کو محسوس نہیں کیا اور وہ دونوں ایک طرف بیٹھ کر نماز مکمل ہو نے کا انتظا رکرنے لگے۔

اللہ کے خلیفہ 

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے داﺅد (علیہ السلام )ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنا دیا۔ ( تاکہ ) تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو۔ “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر26) اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کو نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اور سلطنت و حکومت بھی عطا فرمائی تھی۔ اہل کتاب یعنی یہودیوں ( بنی اسرائیل ) اور عیسائیوں ( نصاریٰ) نے بائیبل یعنی توریت اور انجیل میں خرد برد کر کے ملاوٹ کر دی ہے۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی شان میں نعوذ باللہ بہت سی گستاخیاں کی ہیں۔ ان میں سے ایک گستاخی یہ تھی ہے کہ آپ علیہ السلام نعوذ باللہ نبی نہیں تھے۔ اور صرف بادشاہ تھے۔ ان بد بختوں کی اس گستاخی کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا ہے۔ مولانا مفتی آصف قاسمی لکھتے ہیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے نبی بھی ہیں اور صاحب کتاب رسول بھی ہیں۔ جالوت جیسے ظالم بادشاہ کو قتل کر کے آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کی آنکھ کا تارا بن گئے تھے۔ حضرت طالوت جن کی سربراہی میں جالوت کے زبردست لشکر کو مٹھی بھر مسلمانوں نے بد ترین شکست دے کر میدان سے بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے حضرت داﺅد علیہ السلام کی شجاعت و بہادری ، تقویٰ اور پرہیز گاری کو دیکھ کر ان سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا تھا۔ حضرت طالوت کے انتقال کے بعد آپ علیہ السلام نے نظام حکومت کو سنبھالا اور بڑی تیزی سے کفار و مشرکین کو شکست پر شکست دے کر بنی اسرائیل کی عظیم مملکت کی بنیاد رکھ دی۔ یہ حضرت داﺅد علیہ السلام کی عظمت ہے کہ آپ علیہ السلام نبی اور رسول ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انصاف پسند حکمراں ، بادشاہ اور اصول پسند انسان تھے۔ جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بہت تعریف فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنے گھر میں ایک ایسا نظام بنا رکھا تھا کہ چوبیس گھنٹوں میں کوئی ایسا وقت نہیں ہوتا تھا۔ جس میں حضرت داﺅد علیہ السلام اور آل داﺅد میںکوئی نہ کوئی اللہ کی عبادت و بندگی میں مشغول نہ ہوتا تھا۔ آپ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ تیسرے دن کو اپنے گھر والوں کے لئے مخصوص کر رہا تھا۔ آپ علیہ السلام کے اصول اتنے مضبوط تھے کہ اس کے خلاف کسی بات کو پسند نہ فرماتے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام اپنے محل میں اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول تھے۔ چاروں طرف پہرے دار موجود تھے کہ دو آدمی دیوار پھاند کر اندر آگئے اور آپ علیہ السلام کی خدمت میں دنبیوں یا بھیڑوں والا مقدمہ پیش کیا۔ آپ علیہ السلام نے نرمی اور صبر سے ان کا مقدمہ سن کر فیصلہ فرمایا اور وہ دونوں چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد آپ علیہ السلام سوچنے لگے کہ اتنے زبردست پہرے کے باوجود دو آدمیوں کا اچانک ان کی خلوت گاہ اور عبادت گاہ میں آجانا اور بڑی بے باکی سے انصاف کا طلب کرنا بڑا عجیب واقعہ ہے۔ ایک دم آپ علیہ السلام کو احساس ہوا کہ شاید یہ دونوں اللہ کی طرف سے میری آزمائش کے لئے بھیجے گئے تھے۔ ممکن ہے مجھے اپنی سلطنت ، فوج، مال و دولت اور عبادت پر فخر اور ناز ہو گیا ہو۔ او راللہ تعالیٰ نے مجھے آگاہ کرنے کے لئے ان کو بھیجا ہو کہ ہزار پہروں کے باوجود یہ اللہ کی قدمت تھی کہ دو اجنبی اندر داخل ہو گئے تھے جیسے ہی آپ علیہ السلام اس نتیجے تک پہنچے تو نہایت عاجزی سے سجدے میں گر پڑے اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے۔ اور ہر طرف سے توجہ ہٹا کر اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ جس کو بندوں کی عاجزی و انکساری بہت پسند ہے اس نے آپ علیہ السلام کو آزمائش میں کامیابی کی بشارت دی اور فرمایا ۔ اے داﺅد علیہ السلام بے شک ہم نے تمہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنا دیا ہے۔ تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف سے فیصلے کرو۔

یہودیوں ( بنی اسرائیل) کے حضرت داﺅد علیہ السلام پر الزامات

اللہ تعالیٰ یہودیو ں یعنی بنی اسرائیل پر بہت ساری مہربانیاں کیں۔ لیکن بد بخت لوگ مسلسل گمراہیوں اور نافرمانیوں میں مبتلا رہے۔ اور اس سے بھی آگے بڑھ کر انہوں نے انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں بہت سی گستاخیاں کی ہیں۔ ان کی طرف ایسی ایسی باتیں ان مقدس اور معصوم انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کیں ہیں۔ جن کی وجہ سے یہ دوزخ کے مستحق بن گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کی گستاخیوں ،گمراہیوں ، ہٹ دھرمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار اور انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل کرنے کے بارے میں قرآن پاک میں کئی جگہ بتایا ہے۔ یہاں ہم صرف دو آیات پیش کر رہے ہیں ۔ اس سے ان بد بخت یہودیوں کی اصلیت سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ” اور بے شک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کو کتاب دی۔ اور انکے پیچھے اور بھی رسول بھیجے۔ اور ہم نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام ) کو روشن دلیلیں دیں اور روح القدس سے ان کی تائید کروائی۔ لیکن جب کبھی تمہارے ( بنی اسرائیل یعنی یہودیوں ) پاس رسول وہ چیز لائے جو تمہاری طبیعتوں کے خلاف تھی۔ تو تم نے جھٹ سے تکبر کیا۔ پس بعض ( انبیائے کرام) کو جھٹلادیا۔ اور بعض ( انبیائے کرام) کو قتل بھی کر ڈالا۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر87) اس کے بعد آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ ترجمہ ” اور جب ان سے (بنی اسرائیل سے )کہا جاتا ہے کہ الہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب ( قرآن پاک) پر ایمان لاﺅ تو کہتے ہیں کہ جو ہم پر اتاری گئی ہے ( توریت) اس پر ہمارا ایمان ہے۔ حالانکہ اس کے بعد والی کتاب کے ساتھ جو اُن کی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے۔ اس سے کفر کرتے ہیں۔ اچھا ان سے یہ تو دریافت کریں کہ اگر تمہارا ایمان پہلی والی کتابوں پر ہے۔ تو پھر تم نے اگلے انبیائے کرام کو کیوں قتل کیا؟ (سورہ البقرہ آیت نمبر91) ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں یعنی بنی اسرائیل کی گمراہیوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں ایک یہ ہے کہ یہ لوگ انبیائے کرام کو جھٹلاتے تھے اور ان پر الزامات لگاتے تھے۔ ان بد بختوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی انکار کر دیا۔ دوسری خرابی یہ بتائی کہ یہ بد بخت لوگ اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ جیسا کہ تمام کائنات کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ اوپر سے پتھر گرا کر اور ایک مرتبہ زہر دے کر نعوذ باللہ قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان بد بخت یہودیوں نے اپنی کتاب توریت میں اپنی طرف سے بہت سی جھوٹی باتیں شامل کر دی ہیں۔ اور نعوذ باللہ انبیائے کرام علیہم السلام پر بہت گھناونے الزامات لگائے ہیں۔ جب کہ انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہیں۔ در اصل یہ لوگ ان بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کو انبیائے کرام علیہم السلام کی طرف منسوب کر کے اپنے گناہوں کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کر تے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام پر بھی ان بد بختوں نے گھناﺅنے الزامات لگائے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ یہودی آپ علیہ السلام کو صرف بادشاہ مانتے ہیں اور دوسرا الزام یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے اس عورت کے بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ وہ شادی شدہ ہے۔ تو آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) اس کے شوہر کو جنگ میں آگے رکھ کر قتل کر وا دیا اور اس عورت سے نکاح کر لیا۔ یہ آپ علیہ السلام پر بہت بڑا الزام اور تہمت ہے۔ یہ بد بخت بنی اسرائیل انبیائے کرام پر صرف الزامات ہی نہیں لگاتے تھے بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر انبیائے کرام علیہم السلام کو قتل بھی کر دیتے تھے۔ ہمیں ان اسرائیلی روایات پر توجہ نہیں دینا چاہیئے۔ اور یہ یقین رکھنا چاہیے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام معصوم اور مقدس ہیں۔

بیت المقدس کے لئے جگہ کا انتخاب

حضرت داﺅد علیہ السلام نے یروشلم فتح کرنے کے بعد اسے دارالخلافہ بنایا۔ اور تابوت سکینہ کو لا کر وہیں رکھ دیا۔ یروشلم میں ہی آپ کا محل تھااور اس محل میں عبادت گاہ تھی۔ اسی عبادت گاہ کی محراب میں سے کود کر دونوں فرشتے آئے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ رات کا آخری پہر تھا اور لوگ خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے۔ عبادت کے درمیانی وقفے میں آپ علیہ السلام تھوڑا آرام فرما رہے تھے اور تازہ ہوا کے لئے کھڑکی کے قریب آکر کھڑے ہو گئے اور ہر طرف طائرانہ نگاہ ڈال کر جائزہ لینے لگے۔ اسی دوران آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ بستی سے کچھ دور پر ایک چٹان پر سے فرشتے اپنی تلواروں کو نیاموں میں رکھے آسمان کی طرف ایک سیڑھی کے ذریعے بلند ہو تے جا رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے ارادہ بنایا کہ اس چٹان کے پاس مسجد تعمیر کی جائے۔ اس چٹان کا نام اس دن سے ”چٹان داﺅدی“ پڑ گیا۔ آپ علیہ السلام نے چٹان داﺅدی کے پاس بیت المقدس کی بنیاد رکھی۔ اور مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ یہ بنی اسرائیل کا مرکزی مقام یعنی مرکزی مسجد ہو گی۔ لیکن تم اس کی تعمیر مکمل نہیں کر سکو گے بلکہ اس کی تعمیر تمہارا بیٹا سلیمان علیہ السلام کرے گا۔ جو تمہارے بعد بنی اسرائیل کا نبی بھی ہوگا اور بادشاہ بھی ہوگا۔

آخرت میں خوش الحانی

اللہ تعالیٰ نے حضرت داﺅد علیہ السلام کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ”یقینا وہ ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں“۔ (سورہ ص ٓ آیت نمبر25) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بڑا اور بہت عظیم مرتبہ ہے۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت بڑا مرتبہ عطا فرمایا۔ اور آخرت میں بھی بہت عظیم مرتبہ عطا فرمائے گا۔ اور دنیا میں بھی بہت اچھا ٹھکانہ عطا فرمایا تھا اور آخرت میں بھی بہت عالیشان ٹھکانہ عطا فرمائے گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت مالک بن دینا ر رحمتہ اللہ علیہ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں وہ عالیشان ٹھکانہ اس طرح عطا فرمائے گا کہ قیامت کے روز حضرت داﺅد علیہ السلام ”پایہ بخشش“ کے پاس تشریف فرما ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا۔ اے داﺅد (علیہ السلام )آج اُسی طرح خوش الحانی سے اپنی مترنم آواز سے میری مدح و ستائش یعنی تعریف بیان کرو جیسے تم دنیا میں خوش الحانی سے میری حمد اور تسبیح کیا کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام فرمائیں گے۔ اے اللہ تعالیٰ، اے سب جہانوں کے رب، اب یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیوں کہ آپ نے میری وہ آواز مجھ سے واپس لے لی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ آج وہ آواز میں تمہیں واپس لوٹا تا ہوں۔ اس کے بعد جب حضرت داﺅد علیہ السلام بلند آوا ز سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں گے تو تمام جنتی اتنے مسحور ہو جائیں گے کہ جنت کی تمام نعمتیں انہیں ہیچ محسوس ہوں گی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دانشمندی

حضرت داﺅد علیہ السلام نے لگ بھگ چالیس 40سال یا اس سے کچھ زیادہ سالوں تک بنی اسرائیل پر حکومت کی۔ اس دوران تمام بنی اسرائیل کے قبائل متحد رہے اور اسلامی احکامات پر کار بند رہے۔ پوری سلطنت میں خوش حالی تھی اور امن و امان کا دور دورہ تھا۔ عوام بہت سکون اور چین سے رہ رہی تھی۔ آپ علیہ السلام کے دور نبوت اور حکومت میں بنی اسرائیل بہت عروج پر آگئے تھے۔ اور آس پاس کے تمام حکمراں آپ علیہ السلام کی سلطنت کی برتری تسلیم کر چکے تھے۔ یوں سمجھ لیں کہ حضرت داﺅد علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل اس وقت کے سوپر پاور بن گئے تھے۔ اور اس عروج کو انتہائی بلندی حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور نبوت اور حکومت میں حاصل ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جوان ہو چکے تھے اور اپنے والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام کے دربار میں بیٹھے تھے۔ اور اپنے والد محترم کے مقدمات کے فیصلوں کو دیکھتے اور سمجھتے رہتے تھے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنی نوجوانی کے وقت میں ہی بے مثال دانشمندی کا مظاہر ہ کیا ۔ اور اپنے بیٹے کی دانشمندی کی داد والد محترم نے بھی دی۔ ان میں سے دو مقدمے قابل ذکر ہیں۔ ایک مقدمہ دو عورتوں اور ایک بچے کا تھا۔ اور دوسرا مقدمہ کھیت اور بکریوں والے کا تھا۔ ان دونوں مقدمات کے جو فیصلے والد محترم نے دیئے تھے ان پر حضرت سلیمان علیہ السلام نے انتہائی ادب سے جرح کی۔ اور والد محترم سے اجازت مانگی کہ میں پھر سے جرح کرنا چاہتا ہوں۔ والد محترم حضرت داﺅد علیہ السلام نے اجازت دے دی۔ اور آپ علیہ السلام نے دونوں مقدمات میں اتنے درست فیصلے دیئے کہ والد محترم بھی عش عش کر اٹھے۔ ان دونوں مقدمات کا تفصیلی ذکر انشاءاللہ ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر

حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر کے بارے میں اکثر علمائے کرام کا قول ہے کہ 100سال تھی۔ بائبل میں آپ علیہ السلام کی عمر 77سال لکھی ہے ۔ لیکن علامہ ابن کثیر نے اسے رد کر دیا ہے۔ اور لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک یہ بات غلط اور مردود ہے ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے ان کی تمام اولاد کو ظاہر فرمایا تو حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں انبیائے کرام کو بھی دیکھا۔ ان میں ایک شخص نظر آیا جو بہت وجیہہ تھا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، اتنا حسین و رعنا جوان یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ تیرا بیٹا داﺅد ( علیہ السلام )ہے ۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اس کی عمر کتنی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا 60سال ہے۔حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں اضافہ فرما دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تمہاری عمر کے چالیس سال اسے دیتا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا میری عمر کتنی ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایک ہزار 1000سال ہے۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر 960سال ہوئی تو ملک الموت آئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میری عمر کے چالیس سال ابھی باقی ہیں۔ اور جو عمر انہوںنے حضرت داﺅد علیہ السلام کو ہبہ فرمائی تھی وہ بھول گئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال پوری کر دی۔ اور حضرت داﺅد علیہ السلام کی عمر بھی سو100سال پوری کر دی۔ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور امام ترمذی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔

حضرت داﺅد علیہ السلام کا وصال

حضرت داﺅد علیہ السلام کا وصال اچانک ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت داﺅد علیہ السلام بہت غیرت مند انسان تھے۔ جب آپ علیہ السلام اپنے محل سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو پہریدار دروازہ بند کر دیتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں کسی کو اندر داخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ ایک دن آپ علیہ السلام باہر تشریف لے گئے اور دروازہ بند کر دیا گیا۔ جب آپ علیہ السلام کی بیوی کمرے سے باہر آئی تو دیکھا کہ محل کے صحن میں ایک شخص کھڑا ہے محل کے اندرونی پہریداروں کو انہوں نے بلایا اور فرمایا۔ محل کے صحن میں یہ کون شخص کھڑا ہے؟ یہ کہاں سے اندر آگیا جب کہ دروازہ بند ہے۔ اللہ کی قسم، ہم حضرت داﺅد علیہ السلام کے سامنے شرمندہ ہو جائیں گے۔ جب آپ علیہ السلام تشریف لائے تو دیکھا کہ محل کے صحن میں ایک شخص کھڑا ہے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ تم کون ہو؟ اور کیسے اندر آگئے؟ اس شخص نے کہا۔ میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے مرعوب نہیں ہوتا ہے اور پردے بھی میرا راستہ روک نہیں سکتے ہیں۔ حضرت داﺅد علیہ السلام سمجھ گئے اور فرمایا۔ تم ملک الموت ہو جو انسانی شکل میں آئے ہو ۔ اس نے کہا۔ جی ہاں، اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے آیا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا حکم سر آنکھوں پر ، اور وہیں سجدے میں چلے گئے اور اسی حالت میں ملک الموت نے روح قبض کر لی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ملک الموت جب آپ علیہ السلام کی روح قبض کرنے آئے تو آپ علیہ السلام اپنے سے نیچے اتر رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ تھوڑی دیر انتظار کر لو تا کہ میں نیچے اتر جاﺅں یا پھر اپنے حجرے میں چلا جاﺅں۔ ملک الموت نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، وقت پورا ہو چکا ہے۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام وہیں سیڑھیوں پر سجدہ ریز ہو گئے اور اسی حالت میں وصال ہو گیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت

حضرت داﺅد علیہ السلام کے وصال کے بعد ابھی آپ علیہ السلام کو دفن نہیں کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل کے علماءاور وزراءکی مجلس شوریٰ منعقد کی گئی اور اس میں متفقہ طور سے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داﺅد علیہ السلام کا جانشین چنا گیا اور بادشاہ بنا دیا گیا۔ اس کے بعد حضرت داﺅد علیہ السلام کو دفن کیا گیا۔ آپ علیہ السلام کے جنازے میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے۔ ان میں 40ہزار سے زیادہ تو بنی اسرائیل کے علمائے کرام تھے۔ جو اپنی مخصوص ٹوپیوں کی وجہ سے پہچانے جارہے تھے۔ گرمی نے لوگوں کو بہت پریشان کر دیا تھا۔ کیوں کہ اس دن بہت شدید گرمی تھی۔ لوگوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے درخواست کی کہ اس دھوپ اور گرمی سے بچنے کا کچھ انتظام کریں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام میدان میں آئے اور پرندوں کو آواز لگائی۔ اور حکم دیا کہ سایہ کرو۔ ہر طرف سے پرندے آکر سایہ کرنے لگے۔ یہاں تک کہ سوج چھپ گیا پرندے اتنے زیادہ آگئے اور ہر طرف سے گھیر لیا کہ ہوا تک رک گئی۔ لوگوں نے گھٹن کی شکایت کی تو پرندروں کو آپ نے حکم دیا کہ سوج کی طرف سے سایہ کرو اور ہوا کے لئے راستہ چھوڑ دو۔ اور ٹھنڈی ہوا کو حکم دیا کہ لوگوں پر چلے ۔ اب لوگوں پر سایہ بھی تھا اور ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی تھی۔ اور لوگ پہلی مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکومت کی وسعت کو دیکھ رہے تھے۔

اگلی کتاب

حضرت داﺅد علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

٭........٭........٭



بدھ، 17 مئی، 2023

01 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha


01 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 1

حضرت یوشع علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ حضرت یوشع علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کی توفیق سے ہم اپنا وعدہ پورا کر رہے ہیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو یوسف سے ہیں۔ یعنی آپ علیہ السلام ، حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد محترم حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔ اور داد محترم حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ ان بارہ بیٹوں کی اولاد بڑھتے بڑھتے بارہ قبیلہ بنی۔ ان بارہ قبائل کے مجموعے کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ان بارہ بھائیوں میں سے صرف حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور اُن کی نسل میں حضرت یوشع علیہ السلام ہیں۔ آپ علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے بیٹے افرائیم کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ علیہ السلام کے سلسلۂ نسب کی تفصیل نہیں مل سکی ہے۔ اس لئے علمائے کرام سلسلہ نسب اس طرح بیان کرتے ہیں۔ حضرت یوشع بن نون بن افرائیم بن یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ السلام ۔ اس سلسلہ نسب میں نون اور افرائیم کے درمیان کے آباﺅ اجداد کی تعداد اور نام کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔

بنی اسرائیل کے بارہ نقیب

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان ( میثاق) لیا۔ اور انہی میں سے بارہ نقیب(سردار ) مقررفرمائے۔ ( سورہ المائدہ آیت نمبر12) امام محمد بن احمد بن قرطبی لکھتے ہیں۔ بعض علماءنے فرمایا ۔ اس کو نقیب اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ اپنے معاملات میں دخیل ہوتا ہے۔ اور ان کے مناقب کو جانتا ہے۔ وہی ان کے امور کی معرفت کا راستہ ہوتا ہے۔ ایک قول ہے کہ نقباءسے مراد وہ لوگ جو اپنی قوم پر امین ہوتے ہیں۔ حضرت قتادہ وغیرہ نے فرمایا۔ یہ نقیباءہر قبیلہ سے بڑے سردار تھے۔ ہر ایک اپنے قبیلہ کا کفیل بنا تھا کہ وہ ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ نقیب کے معنی نگرانی اور تفتیش کرنے والے کے ہیں۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر قبیلہ پر ایک ایک نقیب خود اسی قبیلہ سے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔ تا کہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے اور انہیں بے دینی و بد اخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ نقیب سے مراد ہر قبیلہ کا سردار ہے، جو اپنی قوم کے احوال کا نگہبان تھا۔ اور سب کی طرف سے کفیل تھا کہ انہیں جو حکم دیا گیا ہے وہ اس کو پورا کریں گے۔ جس طرح نبی انہیں حکم دیتے تھے وہ آگے اپنی قوم کو نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے تھے۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی ایک عہد لیا تھا۔ اور ان سے عہد لینے کی یہ صورت اختیار کی گئی تھی کہ پوری قوم بنی اسرائیل جو بارہ خاندانوں ( قبیلوں ) پر مشتمل تھی انہیں سے ہر خاندان سے ایک سرادر چنا گیا۔ اور ہر خاندان کی طرف سے اس کے ہر سردار نے ذمہ داری اٹھائی کہ میں اور میرا پورا خاندان ( قبیلہ ) اس میثاق الٰہی کی پابندی کرے گا۔ اس طرح بارہ سرداروں نے پوری قوم بنی اسرائیل کی ذمہ داری لے لی۔ اُن کے ذمہ یہ تھا کہ خود بھی اس میثاق کی پابندی کریں گے اور اپنے خاندان ( قبیلہ) سے بھی کرائیں گے۔

بارہ نقیبوں کے نام

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے جو بارہ نقیب مقرر فرمائے تھے ان میں سے ایک حضرت یوشع علیہ السلام تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ان کے ( بنی اسرائیل کے) بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے۔ جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول علیہ السلام کے تابع فرمان رہیں۔ اور کتاب اللہ ( توریت) کی اتباع کرتے رہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب سرکشوں ( جبابرین) سے لڑنے کے لئے گئے تب ہر قبیلہ میں ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل ( روبیل) قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا۔ شمعون قبیلے کا سردار شافاط بن جدی، یہودا قبیلے کے سردار حضرت کالب بن یو حنا، فیخائل قبیلے کا چودھری ابن یوسف تھا ۔یوسف یا افرائیم قبیلے کے سردار حضرت یوشع بن نون علیہ السلام تھے۔ بن یامن قبیلے کا سردار قطمی بن دفون تھا۔ زبولون قبیلے کا سردار جدی بن شوری تھا۔ منشاءقبیلے کا سردار جدی بن سوسی تھا۔ دان قبیلے کا چودھری حملاسل بن صمل تھا۔ اشار قبیلے کا سردار ساطور تھا۔ تفتالی قبیلے کا سردار بحر تھا۔ اوریساخر قبیلے کا چودھری لابل تھا۔ توریب کے چوتھے جز میں بنی اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔ موجودہ توریت میں یہ نام درج ہیں۔ قبیلہ بنو اوبیل ( روبیل) کا نقیب صونی بن سادون ، قبیلہ بنو شمعون کا نقیب شموال بن صور، قبیلہ بنو یہودا کا نقیب حثون بن عمیاذب، قبیلہ بنو یساخر کا نقیب پرشال بن صاعون، قبیلہ بنو زبولون کا نقیب الیاب بن حالوب، قبیلہ بنو افرائیم ( بنو یوسف) کا نقیب منثا بن عنہور، قبیلہ بنو منشاءکا نقیب حمائیل ، قبیلہ بنو بسیا کا نقیب پرابیدن ، قبیلہ بنو دان کا نقیب جعیذر ، قبیلہ بنو اشاذ کا نقیب تمابل، قبیل بون کا ن کا نقیب سیف بن دعوابیل اور قبیلہ بنو نفسالی کا نقیب اجذع تھا۔ 

اسلام کا عہد ( میثاق ) سب سے لیا گیا ہے

سورہ المائدہ کی آیت نمبر12کی تفسیر میں مولانا عبدالحق حقانی دہلوی لکھتے ہیں۔ پہلے ( مسلمانوں سے عہد یعنی میثاق لینے کا ) ذکر ہوا تھا کہ اے اہل اسلام ( مسلمانو) اللہ کے عہد کو یاد کرو۔ اب یہاں یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ یہ عہد صرف تم سے ہی نہیں لیا گیا تھا کہ جس کی پابندی کی تاکید تم کو کی جا رہی ہے۔ بلکہ تم سے پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام اور ان کے متبعین ( اُمتوں ) سے بھی یہ عہد لیا گیا ہے۔ اور یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے عہد کے خلاف کر کے بنی اسرائیل نے بہت ذلت اور رسوائی اور مصیبتیں اٹھائی ہیں ۔ دیکھو ( اے مسلمانو) تم ان کی طرح نہ کرنا کہ پھر تم کو ذلت اٹھانی پڑے جو یہودیوں کو بد خصائل سے عہد توڑ دینے کے اٹھانی پڑی۔وہ متنبہ کرنا ہے۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت کا واقعہ ہے۔ جب کہ آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل بیابانوں میں ٹکراتے ٹکراتے دشتِ فاران پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ تم بنی اسرائیل کے بارہ اسباط یعنی قبائل میں سے ہر قبیلہ کا ایک سردار یعنی نقیب یعنی جاسوس بنا کر کنعان کی اس سر زمین پر پہنچو جس کے دینے کا ہم نے تم سے عہد کیا ہے۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہر سبط( قبیلہ) سے یہ بارہ سردار نقیب بھیجے ۔ بنو روبن سے سموع بن ذکور کو، بنو شمعون سے سقت بن حوری کو ، بنو یہودا سے کالب بن یوحنا ، یوقنا ، بنو شکاءسے اجال بن یوسف ، بنو فرائم سے ( یعنی بنو یوسف سے ) ہوسیعہ بن نون ( ان کا نام حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یوشع رکھا تھا) کو ، بنو بن یامن سے فلتی بن رفوکو، بنو زہلون سے جدی ایل بن سودی کو ، بنو دان سے عمی ایل بن جملی کو ، بنو آشر سے ستور بن میکائل کو ، بنو نقتال سے نخیی بن دنسی کو ، بنو جد سے ایل بن ماکی اور بنو منسی سے جدی بن سوسی سے جدی بن سوسی کو نقیب بنا کر بھیجا۔ 

بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کا حکم 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب بنی اسرائیل کے ساتھ جب بحر قلزم پار کیا اس وقت بھی آپ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام ساتھ میں تھے۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں کہ جب فرعون کا لشکر سمندر میں ڈوب گیا تھا۔ یہ لوگ کئی سو سال کے بعد مصر سے واپس لوٹے تھے اور ان کے پیچھے عمالقہ نے ان کے وطن پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ لوگ قوم عاد کا بقیہ تھے اور بڑے قدو قامت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے اور طاقت و قوت والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مقدر فرمادیا تھا کہ یہ سر زمین بنی اسرائیل کو ملے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہلے تو ان کی طرف سے عطا کی گئی نعمتیں یاد دلائیں اور ان کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کتنی بڑی بڑی مہربانیاں کیں ہیں۔ اور آئندہ ( آنے والے ) زمانے میں تم میں کثرت سے انبیائے کرام علیہم السلا م ہوں گے۔ اس نعمت ( یعنی اسلام اور انبیائے کرام) کے رکھ رکھاﺅ کے لئے اپنی جگہ ہونی چاہیے۔ جس میں حضرات انبیائے علیہم السلام آزادی کے ساتھ تبلیغ کر سکیں اور الہ تعالیٰ کے احکام پہنچا سکیں۔ اور جس میں تمہارے بادشاہ اپنے اقتدار کو کام میں لا سکیں اور معاملات نمٹا سکیں۔ اب تک تم قبط ( مصری قوم ) کے ماتحت تھے۔ جنہوں نے تمہیں غلام بنا رکھا تھا اب اپنے وطن میں داخل ہو جاﺅ اور یہ مقدس سر زمین اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر فرما دی ہے۔ تم پیٹھ پھیر کر واپس نہیں جاﺅ بلکہ آگے بڑھو اور جنگ کرو۔ جن لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے وہ وہاں سے نکل جائیں گے۔ ہمت کرو، اور حوصلہ سے کام لو ورنہ نقصان اٹھاﺅ گے۔

بنی اسرائیل نے عہد توڑ دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہی فتح عطا فرمائے گا۔ بس تمہیں تھوڑا ہمت سے کام لینا ہوگا۔ لیکن بنی اسرائیل میں بزدلی آچکی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جنگ کا لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے بارہ سرداروں کو نقیب بنا کر عمالقہ کی جاسوسی کے لئے بھیجا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ اس موقع پرچند آدمی بطور نقیب قوم عمالقہ کی خیر خبر لینے کے لئے بھیجے۔ انہوں نے عمالقہ کا ڈیل ڈول اور قدو قامت دیکھا تو واپس آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تمام حالات بیان کئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کا حال پوشیدہ رکھو۔ اور لشکروالوں کو نہیں بتایا۔ ورنہ وہ بزدلی اختیار کر لیں گے اور لڑنے سے گریز کریں گے۔ لیکن ان میں سے دس نقیبوں نے بات نہیں مانی اور انہوں نے اپنے اپنے قبیلے والوں کو بتا دیا۔ صرف دو حضرات یعنی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنا نے آپ علیہ السلام کی بات پر عمل کیا۔ اور بنی اسرائیل سے عمالقہ کا حال پوشیدہ رکھا ۔ بلکہ بنی اسرائیل کو ہمت اور حوصلہ دلایا کہ چلو آگے بڑھو اور ( شہر کے ) دروازہ میں داخل ہو جاﺅ۔ پھر دیکھو، اللہ تعالیٰ کی مدد کیسے آتی ہے؟تم داخل ہو گے تو وہ نکل بھاگیں گے اور تم کو ہی غلبہ حاصل ہوگا۔ اور اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ تعالیٰ پر بھی بھروسہ رکھو۔ اور یہ سر زمین تمہارے نام لکھ دی ہے۔ اس لئے پیٹھ نہ پھیرو۔ بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی سمجھایا اور حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوحنا نے بھی زور دیا کہ چلو آگے بڑھو۔ لیکن انہوں نے ایک نہ مانی اور آپس میں کہنے لگے۔ اے کاش، ہم مصر سے نہیں آتے اور وہیں رہ جاتے۔ ( جب غلامی کا ذہن بن جاتا ہے اور ذلت اور پستی دلوں میں رچ بس جاتی ہے تو انسان تھوڑی سی تکلیف سے جو عزت ملے ۔ اس کے بجائے ذلت ہی کو گوارا کر لیتا ہے) ۔ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم مصر میں ہوتے تو اچھا تھا۔ کبھی کہتے تھے کاش ہم اسی جنگل میں مر جاتے اور ہمیں عمالقہ کی سر زمین میں داخل ہونے کا حکم نہیں ہوتا۔ ان بزدلوں نے بر ملا حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہہ دیا کہ ہم ہر گز اس سر زمین میں داخل نہیںہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہیں جائیں گے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل گئے تو ہم داخل ہو سکتے ہیں۔ ( گویا یہ بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر احسان ہے کہ وہ نکلیں گے تو ہم داخل ہو جائیں گے۔ )اور لڑنا ہمارے بس کا نہیںہے۔ اور آپ علیہ السلام اپنے رب کے ساتھ جا کر لڑیں ۔ ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔اس طرح بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد توڑ دیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........

 

02 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha


02 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 2

دس نقیبوں نے عہد توڑدیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارہ نقیبوں کو چنا ۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ چونکہ اس وقت بنی اسرائیل کے بارہ گروہ ( قبیلے ) تھے۔ اس لئے بارہ نقیب چنے گئے۔ ان میں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور کالب بن یوقنا بھی تھے۔ ان کے علاوہ دس نقیب اور تھے۔ ہر سبط( قبیلہ) سے ایک نقیب یا سردار بنایا گیا اور اپنے قبیلے میں ( جہاد کی ) تسبیح اور جبا برین کی جاسوسی کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ نقیب اس سردار کو کہتے ہیں جو قو م کا نگراں ہو، ان میں مبلغ ہو اور اللہ تعالیٰ نے تمام بنی اسرائیل ( رپورٹ کو خفیہ رکھنے کا ) عہدو میثاق لیا گیا ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی معرفت بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا گیا اور نگرانی کرنے اور دشمن کی طاقت و قوت کا اندازہ لگانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خبر دینے کے لئے بنی اسرائیل میں سے بارہ سردار مقرر فرمائے۔ یہ بارہ سردار آپ علیہ السلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے۔ اریحا قوم جبارین اور کنعانین کا دارالخلافہ تھا۔ یہ کفار جبارین ایک ہزار بستیوں کے بادشاہ تھے۔ ہر بستی باغات اور سبزہ سے پرُ تھی۔ دارالخلافہ اریما ، بیت المقدس سے تقریباً تیس چالیس میل کے فاصلے پر تھا۔ اب اس بستی کو ریمان کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسرائیلیوں سے فرمایا تھا کہ وہ جگہ ( جبارین کا پورا علاقہ) تمہاری رہنے کی جگہ ہو گی۔ اور ہم مجاہدین کی مدد فرمائیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حخم کے مطابق ان میں سے بارہ شخص چنے ۔ اور ہر قبیلے میں سے ایک ایک شخص کو اپنے اپنے قبیلے کا کفیل بنایا گیا کہ یہ لوگ اپنی اپنی قوم سے جہاد کا وعدہ ( میثاق) پورا کروائیں گے۔ ان بارہ ضامنوں کو نقیب کہا جاتا ہے۔ ان نقیبوں میں حضرت یوشع بن نون اور حضرت کالب بن یوقنا بھی تھے۔ اسرائیلیوں سے ان نقیبوں کے ذریعے جہاد کا پختہ وعدہ لے کر آپ علیہ السلام اریحاکی جانب جنگ کے ارادہ سے چلے ۔ اریما پر حملہ کرنے سے پہلے آپ علیہ السلام نے ان بارہ نقیبوں کو جاسوسی کی غرض سے اریما بھیجا۔ تا کہ دیکھ کر آئیں کہ قوم کنعانین کی کیا حالت ہے اور ان کی جنگی تیاریاں کیسی ہیں۔ اور آپ علیہ السلام لشکر کے ساتھ اریحا کے قریب ہی ٹھہیرے رہے۔ اور ان نقیبوں سے عہد لیا تھا کہ وہاں کے حالات صرف ہم سے ( حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام سے ) بیان کرنا۔ اور اسرائیلیوں سے کچھ نہیں کہنا۔ یہ بارہ نقیب جب اریحا پہنچے تو انہوں نے کنعانیوں کو بہت قد آور اور شہزور پایا۔ ان کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی۔ ان کی طاقت اور قدو قامت کو دیکھ کر یہ بارہ نقیب مرعوب ہو گئے۔ وہاں سے واپس آئے تو صرف حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوحنا ہی عہد پر قائم رہے۔ اور باقی دس نقیبوں نے عہد کو توڑ دیا۔ اور اپنے اپنے قبیلے میں قوم کنعانین کی طاقت ، قوت اور دولت کا خوب چرچا کیا۔ جس کی وجہ سے بنی اسرائیل گھبرا گئے اور کنعانیوں سے جہاد کرنے سے انکار کر دیا اور بولے۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )آپ اور آپ کا رب جا کر اس قوم سے جنگ کریں۔ ہم تو یہیں ٹھہریں گے اور ہم میں اس قوم سے لڑنے کی طاقت نہیں ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فتح کا صاف وعدہ فرمایا تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے جلیل القدر اور بلند پایہ کے رسول ان کے ساتھ تھے۔ اس کے باوجود ان بد بختوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول علیہ السلام سے کیا ہوا عہد و میثاق توڑ دیا۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُن پر ذلت مسلط کر دی اور چالیس برس تک صحرا ءمیں وادی ¿ تیہ میں بھٹکنے کی سزادی ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو ان بد بختوں سے الگ ہو جانا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے ساتھ رہو اور نئی نسل کی تربیت کرتے رہو۔ اور جب چالیس برس میں یہ سب بد بخت نا فرمان مر کھپ جائیں گے تو بنی اسرائیل کی نئی نسل بیت المقدس کو فتح کرے گی۔ اسی لئے آپ علیہ السلام ان کے ساتھ رہے۔ اور آپ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام بھی ساتھ ساتھ لگے رہے۔ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کے لئے جو سفر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔ اس سفر میں بھی ان کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام ساتھ ساتھ تھے۔ اس کے بعد جب چالیس برس پورے ہونے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیت المقدس کی طرف روانگی کا حکم دیا اور بنی اسرائیل کے جوانوں کی گنتی کرائی۔ اور بارہ قبیلوں پر بارہ سپہ سالار بنائے اور سب کا سپہ سالار یعنی سپہ سالار ِ اعظم حضرت یوشع علیہ السلام کو بنایا۔ اور اپنا مشیر خاص بھی بنایا۔ اور یہ بھی فرما دیا کہ میرے بعد حضرت یوشع علیہ السلام کا کہنا ماننا ۔ بیت المقدس کے قریب پہنچ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کی جوارِ رحمت میں پہنچ گئے اور حضرت یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس فتح کیا۔ یہ سب تفصیل سے ہم حضرت موسیٰ وہارون علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں۔

حضرت یوشع علیہ السلام نبوت سے سرفراز

حضرت موسیی علیہ السلام کے ساتھ حضرت یوشع علیہ السلام زندگی بھر لگے رہے۔ اور انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام سے تربیت حاصل کی۔ اور توریت کا علم حاصل کیا۔ اپنے آخری وقت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی باگ ڈور آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں سونپ دی تھی۔ اور ان کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کو توریت کے احکامات پر چلاتے رہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو نافذ کیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اہل ِ کتاب ( یہودیوں اور عیسائیوں) کا آپ علیہ السلام کی نبوت کے بارے میں اتفاق ہے۔ حالانکہ سامریوں کا ایک گروہ ( بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے بعد میں دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے اور بنی اسرائیل دو بڑی حکومتوں میں بٹ گئے تھے ایک سلطنت یہودا اور دوسری سلطنت سامریہ تھی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کسی کی نبوت کا قائل نہیں ہے۔ لیکن وہ بھی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو اللہ کا نبی تسلیم کرتے ہیں۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کی نبوت تو ریت سے تصریحاً ثابت ہے ۔ حالانکہ توریت کے بعد کی کتابوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد نبوت حق ہے۔ اور قرآن پاک پہلی تمام کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر یہ بد بخت اللہ کے نبیوں کا انکار کرتے ہیں۔

جنگجوﺅں کی گنتی اور لشکر کی تیاری

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل کے ساتھ صحراءمیں وادی ¿ تیہ میں جب چالیس برس پورے ہونے لگے۔ اور نئی نسل تیار ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب بنی اسرائیل کے جنگجوﺅں کی گنتی کرو اور لشکر کو تیار کر کے بیت المقدس کی طرف لے چلو۔ آپ علیہ السلام نے جنگجوﺅں کی گنتی کرائی ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اہل کتاب نے توریت کے حصے سفرِ ثالث میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو ان کے قبیلوں کے مطابق شمار ( گنتی ) کریں۔ اور ہر قبیلہ پر ایک سپہ سالار مقرر فرمائیں۔ چونکہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ اس لئے بارہ نقیب مقرر ہوئے۔ اس گنتی کا مقصد بنی اسرائیل کو جنگ کے لئے تیار کرنا تھا۔ چونکہ بیت المقدس پر عمالقیوں کا قبضہ تھا۔ اور میدانِ تیہ سے نکل کر ان کے ساتھ جنگ کرناضروری تھی۔ اور تقریباً چالیس برس کا عرصہ گزر چکا تھا۔ اس کے بعد یہ لوگ ویرانے سے نکل کر جنگ آزما ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو ایک ایسے کام کا حکم دیا جس کو پورا ہونے کی اس دور میں امید کی جا سکتی تھی۔ لیکن تقدیر میں یہ نہیں تھا کہ وہ اس دور میں پورا ہو۔ بلکہ تقدیر میں یہ تھا کہ وہ کام ( بیت المقدس اور پورے ملک کنعان یعنی حالیہ فلسطین اور شام کی فتح) حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے دور میں مکمل ہو۔

قبائل کے جنگجوﺅں کی تعداد اور لشکر کی تیاری 

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کی گنتی کی گئی۔ بائیبل کے مطابق بنی اسرائیل کی گنتی دو مرتبہ کی گئی ہے۔ پہلی مرتبہ اس وقت جب بنی اسرائیل فرعون سے آزاد ہوئے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ارضِ فلسطین پر حملہ کر کے قبضہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور بنی اسرائیل نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ( علیہ السلام )تم اور تمہارا رب جا کر لڑو اور ہم تو یہیں بیٹھ کر انتظار کرتے ہیں۔ اور دوسری مرتبہ جب سزا کے چالیس سال پورے ہو گئے اور وادی تیہ سے نکل کر بیت المقدس کیطرف روانہ ہونے لگے۔ اس وقت گنتی ہوئی۔ علامہ ان کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ان مردوں کی گنتی کی جائے جو بیس سال یا اس سے زیادہ عمر کے ہیں۔ اور ہر قبیلہ کے لئے ایک سپہ سالار یعنی کمانڈر مقرر کیا جائے۔ (۱) حضرت یعقوب علیہ السلام کا سب سے بڑ ابیٹا روبیل ( توریت میں روبن ) تھا۔ جب اس کے جنگجو افراد کی گنتی کی گئی تو ان کی تعداد چھیالیس ہزار پانچ سو46500تھی۔ اس قبیلے کا سپہ سالار یھور بن شدینور کو بیایا گیا۔ (۲) بنو شمعون قبیلے کے جنگجو افراد کی گنتی افراد کی گنتی کی گئی تو ان کی تعداد چوھتر ہزار چھ سو 74600تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر نحسون بن عمیناذاب کو بنایا گیا۔ (۴) بنو ایسا خر قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد چوّن ہزار چار سو54400تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر نشائیل بن صور کو بنایا گیا۔ (۵)بنو افرائیم قبیلے یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی نسل میں سے جنگجو افراد کی تعداد چالیس ہزار پانچ سو40500تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو بنایا گیا۔ (۶) بنو میشا قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد اکتیس ہزار دو سوتھی۔ اور ان کا سپہ سالار جمائیل بن فدہصور کو بنایا گیا۔ ۔ (۷) بنوبن یامن قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد پینتیس ہزار چار سو35400تھی۔ اور ان کا سپہ سالار ابیدن بن جدعون کو بنایا گیا۔(۸) بنو حاد قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد پنتالیس ہزار چھ سو پچاس 45650تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر الیاسف بن رعوئیل کو بنایا گیا۔ (۹) بنو آشرقبیلے کے جنگجو افراد کی تعداداکتالیس ہزار پانچ سو 41500تھی۔ جعلائیل بن عکران کو ان کا سپہ سالار بنایا گیا۔ (۰۱) بنو دان قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد باسٹھ ہزار سات سو62700تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر انتیزر بن عمشداری کو بنایا گیا۔ (۱۱) بنو نفتالی قبیلے کے جنگجو افراد کی تعداد تریپن ہزار چار سو 53400تھی۔ اور ان کا سپہ سالار یعنی کمانڈر الباب بن حیلون کو بنایا گیا۔

لشکر کی مجموعی تعداد 

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے گیارہ قبیلوں کے جنگجو افراد کی گنتی کرو۔ مگر بنو لاوی قبیلے کے جنگجو افراد کی گنتی نہیں کرنا۔ بنو لاوی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کا قبیلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بنو لاوی کو لشکر کے درمیان میں رکھنا اور وہ بنی اسرائیل کی مقدس چیزوں کو اٹھائے ہوئے رہیں گے ۔ اور پورا لشکر ان کے چاروں طرف رکھنا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہ موجودہ توریت میں لکھی ہوئی گنتی ہے۔ اس گنتی میں بنو لاوی شام نہیں ہیں۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بذریعہ وحی یہ حکم دیا گیا تھا کہ بنو لاوی کی گنتی نہیں کی جائے۔ اس لئے انہیں چھوڑ کر باقی گیارہ قبیلوں کے جنگجو افراد کی تعداد مذکورہ بیان کے مطابق پانچ لاکھ اکہتر ہزار چھ سو چھپن 5,71,656ہے۔ لیکن موجودہ توریت میں یہ تعداد چھ لاکھ تین ہزارپانچ سو پچپن 6,03,555لکھی ہوئی ہے۔ اس طرح توریت میں قبائل کی لکھی ہوئی مجموعی تعداد سے یہ میل نہیں کھاتا ہے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

03 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha



03 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 3

حضرت یوشع بن نون علیہ السلام سپہ سالار اعظم مقرر

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے تمام قبائل کی گنتی کرنے کے بعد تمام قبائل پر سپہ سالار مقرر کئے اور پورے لشکر کا سپہ سالار اعظم حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو بنایا۔ اس کے بعد لشکر لے کر بیت المقدس کی طرف بڑھے۔ راستے میں حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ ابھی سفر جاری تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ بائیبل کی کتاب میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام سے فرمایا کہ عباریم کے پہاڑ پر سے کھڑے ہو کر اس ملک ( بیت المقدس) کو دیکھ لو جو میں نے بنی اسرائیل کو عطا کیا ہے۔ اسے دیکھ لینے کے بعد ہارون ( علیہ السلام )کی طرح تم بھی اپنے آباﺅ اجداد سے جا ملو گے۔ تب آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، بنی اسرائیل پر ایسے شخص کو مقرر فرما دے جو میرے بعد ان کی ذمہ داری سنبھالے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ نون کے بیٹے یشوع ( حضرت یوشع بن نون علیہ السلام ) کو اپنے بعد بنی اسرائیل کا ذمہ دار بنا دے۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوشع علیہ السلام کو اپنا نائب بنا دیا۔ حضرت یوشع علیہ السلام شروع سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ میں رہے۔ اور توریت کی تعلیم و تربیت حاصل کرتے رہے۔ ساتھ ہی تیر اندازی ، گھو ڑ سواری ، تلوار بازی اور جنگ کی تربیت بھی حاصل کرتے رہے۔ اور نائب بننے کے صحیح حقد ار تھے۔

لشکر کی ترتیب

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو لشکر کا سپہ سالار اعظم بنا دیا۔ اور لشکر اور بنی اسرائیل ( یعنی عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں) کو لے کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ علیہ السلام نے لشکر کی ترتیب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بنو لاوی بنی اسرائیل کے تمام قبائل کے درمیان سفر کرتے تھے اور یہی لوگ قلب جیش ( لشکر کا درمیانی حصہ) کی حیثیت رکھتے تھے۔ میمنہ پر بنو روبیل ، میسرہ پر بنو دان اور ساقہ پر بنو نفسانی مقرر ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنو ہارون کوکہانت کے لئے مقرر فرما دیا تھا۔ جیسا کہ یہ منصب شروع سے ان کے والد گرامی حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس چلا آرہا تھا۔ بہر حال بنی اسرائیل میں سے وہ لوگ ایک بھی نہیں بچے جنہوں نے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ اور عمالقیوں سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ سب لوگ ویرانے میں ہی مر کھپ گئے تھے۔ یہ قول حضرت عبدالہ بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکے۔ امام محمد بن اسحاق کا گمان ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیت المقدس فتح کیا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام اس لشکر کے مقدمتہ الجیش ( لشکر کا اگلا حصہ) میں تھے۔ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر مبارک بیت المقدس کے قریب ہے۔ اور انبیائے کرام کا جہاں وصال ہوتا ہے وہیں انہیں دفن کیا جاتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا بھی کی تھی کہ مجھے بیت المقدس کے اتنا قریب کر دے کہ اگر کوئی پتھر بھی پھینکے تو پہنچ جائے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام لشکر اور بنی اسرائیل کو لے کر بیت المقدس کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام کی طبیعت اتنی زیادہ خراب ہو چکی تھی کہ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے اور بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ اس لئے آپ علیہ السلام کوبیت المقدس کے قریب ایک پہاڑی پر لٹا دیا گیا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام لشکر کو لے کر آگے بڑھے اور بیت المقدس کے باہر پڑاﺅ ڈال دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام قریب کی پہاڑی پر لیٹے ہوئے بیت المقدس اور پڑاﺅ ڈالے ہوئے لشکر کو دیکھ رہے تھے۔

بنی اسرائیل کو جمع کرنے کے لئے بوق ( بگل یا نر سنگوں ) کا استعمال

سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لئے مسلمانوں کو جمع کرنے کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا تو کسی نے عیسائیوں کی طرح ناقوس بجانے کا مشورہ دیا۔ جو عیسائیوں سے مشابہت ہونے کی وجہ سے آپ علیہ السلام نے قبول نہیں کیا ۔ پھر کسی نے کسی اونچی جگہ پر آگ جلانے کا مشورہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ مجوسیوں ( آگ کی پوجا کرنے والوں ) سے مشابہت ہے۔ پھر کسی نے بوق یعنی بگل یا نرسنگے میں پھونک مار کر بجاکر جمع کرنے کا مشورہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں سے مشابہت ہے۔ تب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ کسی آدمی کو مقرر کیا جائے جو لوگوں کو نماز کے لئے بلائے۔ سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ قبول فرمایا۔ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اے بلال رضی اللہ عنہ ، اٹھو اور نماز کے لئے لوگوں کو آواز دو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو جب بھی نماز کے لئے بلانا ہوتا تو ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کر آواز لگاتے۔ ”الصلوٰة الجامعة“ ( نماز کے لئے جمع ہو جاﺅ) کچھ دنوں بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان کے کلمات سنائے اور دونوں حضرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اذان کے کلمات سنائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح اذان دینے کا حکم دیا۔ بنی اسرائیل کا جمع ہونے کا طریقہ نر سنگے بجا کر لوگوں کو بلانے کا تھا۔ بائیبل کی کتاب گنتی میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ گھڑی ہوئی چاندی کے دو نرسنگے بنا لو۔ اور انہیں بنی اسرائیل کو جمع کرنے اور لشکر کے کوچ کرنے کے لئے کام میں لانا۔ اور جب دونوں نر سنگے پھونکے جائیں تب تمام بنی اسرائیل خمیمہ¿ اجتماع کے دروازے پر تمہارے سامنے جمع ہو جائیں ۔ لیکن اگر ایک ہی بار پھونکا جائے تو بنی اسرائیل کے تمام قبیلوں کے سردار یا سپہ سالار تمہارے سامنے اکٹھے ہو جائیں۔ جب سانس باندھ کر زور سے نر سنگا پھونکا جائے تو جنوب کی جانب والے جو قبیلے مشرق کی جانب مقیم ہیں وہ کوچ کریں۔ جب دو بارہ سانس باندھ کر زور سے نر سنگا پھونکا جائے تو جنوب کی جانب والے قبیلوں کی چھاونیاں کوچ کریں۔ لہٰذا سانس باندھ کر زور سے نر سنگا پھونکا جانا کوچ کا اشارہ ہوگا۔ بنی اسرائیل کو جمع کرنے کے لئے بھی نر سنگے پھونکے جائیں اور اس وقت ان کی آوازوں کو طول دیا جائے۔ ہارون ( علیہ السلام ) کاہن کے بیٹے نرسنگے پھونکیں اور یہ قانون اور آئین تمہارے اور تمہاری آئندہ نسلوں کے لئے سدا قائم رہے گا۔ جب تم اپنے ہی ملک میں کسی ایسے دشمن سے لڑنے کے لئے نکلو جو تم پر ظلم ڈھاتا ہے تب سانس باندھ کر زور سے نر سنگے پھونکنا۔ اور اپنی خوشی کے موقعوں پر جیسے اپنی مقررہ عیدوں اور نئے چاند کا جشن اور سوختنی قربانیوں اور سلامتی کی قربانیوں کے وقت تم نرسنگے پھونکنا۔ ( بائیبل کی کتاب گنتی باب نمبر10) بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کی طرح ہمارے ہندوستان میں ہندو لوگ اپنے مندروں میں نر سنگے بجاتے ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکے

حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے قریب کی پہاڑی پر لیٹے دیکھ رہے تھے اور جنگ چل رہی تھی ۔ اُدھر حضرت یوشع علیہ السلام کی قیادت میں بنی اسرائیل نے فتح حاصل کی اور اِدھر آپ علیہ السلام کا وصال ہو ا۔ اور اُن کی قبر مبارک وہیں بنا دی گئی ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل زمین کے ایک خاص حصے میں سرمارتے رہیں گے۔ یعنی اُن پر وہ شہر حرام کر دیا گیا ہے ۔ اور وہ اس میں داخل ہو ہی نہیں سکتے۔ اور اس پر انہیں چالیس سال تک قدرت نہیں ہوئی۔ اور کہا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال چالیسویں سال ہوا ہے اور بیت المقدس میں وہ لوگ خود تو داخل نہیں ہوئے البتہ اُن کی اولاد داخل ہوئی۔ اور امام سدی کی روایت میں ہے کہ جس نے بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ سر کش لوگوں کے شہر میں داخل ہونے سے انکار کر دیا تھا اُن میں سے کوئی بھی بچ نہیں سکا۔ سب کا وہیں انتقال ہو گیا۔ اور فتح میں شریک نہیں ہو سکا۔ جب چالیس سال پورے ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور سر کشوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے حضرت یوشع علیہ السلام کی تصدیق اور پیروی کی۔ پھر آپ علیہ السلام نے اُن سر کشوں کو شکست دی اور بنی اسرائیل سرکشوں پر ٹوٹ پڑے اور تہ تیغ کر دیا۔ دوسرے اہل علم کی رائے ہے کہ بیت المقدس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ پر فتح ہو ا ہے اور حضرت یوشع علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقدمتہ الجیش ( لشکر کا اگلا حصہ ) تھے۔ ان حضرات نے محمد بن اسحاق سے بھی یہ روایت نقل کی ہے۔ جب چالیس سال وادی تیہ میں بھٹکتے ہوئے گزر گئے اور سب لوگ ( انکار کرنے والے ) مر گئے اور ان کی اولاد جوان ہو گئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نوجوان نسل کو لے کر چلے۔ ساتھ میں حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنا بھی تھے ۔ جب وہ کنعان کی سر زمین پر پہنچے تو بلعام بن باعور سے سامنا ہوا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے علم کی دولت سے نوازا تھا۔ 

بلعام بن باعودا

حضرت یوشع علیہ السلام نے جب بیت المقدس کے سامنے اپنے لشکر سمیت پڑاﺅ ڈالا تو بیت المقدس میں ایک شخص رہتا تھا۔وہ بہت ہی نیک تھا۔ اس کا نام بلعام بن باعورا تھا۔ اس کی اکثر دعائیں اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا تھا۔ اسکی قوم کے لوگوں نے جب حضرت یوشع علیہ السلام کے لشکر کو دیکھا تو بلعام کے پاس آئے اور کہا۔ اے بلعام، حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ اور ہمیں یہاں سے نکالنا اور قتل کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ علاقہ بنی اسرائیل کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ ہم آپ کی قوم ہیں اور ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور آپ ”مستجاب الدعوات “ ( جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں) آدمی ہیں۔ آپ آگے بڑھیں اور ان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ نے بلعام بن باعورا کا قصہ بھی ذکر کیا ہے ۔ جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس جاتے ہوئے اس کے پاس سے گزرے ۔ شاید قرآن پاک کی اس آیت میں اسی بلعام بن باعورا کا تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں پھر وہ ان سے بالکل ہی نکل گیا۔ پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ تو وہ گمراہیوں میں شامل ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کر دیتے۔ لیکن وہ تو دنیا کی طرف مائل ہو گیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا۔ تو اس کی حالت کُتّے جیسی ہو گئی کہ اگر تو اس پر حملہ کرتے تب تھی ہانپے یا اُسے چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہی حالت ان لوگوں کی ہے۔ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) اس حال کو بیان کر دیں۔ شاید وہ لوگ کچھ سوچیں۔“( سورہ الاعراف آیت نمبر175اور 176)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

04 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha



04 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 4

بلعام کا انکار اور پھر اقرار

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت یوشع علیہ السلام اور بنی اسرائیل اور لشکر کے خلاف دعا کرنے کے لئے بلعام کی قوم نے درخواست کی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ بلعام نے کہا۔ تمہاری ہلاکت ہو وہ تو اللہ کے رسول ہیں۔ اُن کے ساتھ فرشتے اور مومنین ہیں۔ میں کیسے چلوں اور ان کے لئے کیسے بد دعا کروں؟اور مجھے جو علم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے وہی میں جانتا ہوں ۔یہ کہہ کر اس نے صاف انکار کر دیا کہ اللہ کے رسول علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے خلاف دعا نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ حق پر ہیں اور تم لوگ نا حق ہو۔ اور اگر میں نے اُن کے خلاف دعا کرنے کا سوچا بھی تو میرا اور تمہارا بہت بُرا حشر ہو گا۔اس لئے تمہارے لئے بہتر ہے کہ تم اس علاقے کو چھوڑ کر چلے جاﺅ۔ لیکن وہ علاقہ اتنا زرخیز اور ہرا بھرا سر سبز و شاداب تھا کہ اسے چھوڑنے کا بلعام کی قوم کا دل نہیں ہوتا تھا۔ اسی لئے قوم اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرنے لگی۔ اور کہنے لگی کہ ہمارا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ اور آپ کی دعا قبول ہوتی ہے۔ اگر ان کے خلاف آپ دعا کریں تو ہم آپ کو سونے چاندی میں تول دیں گے اور آپ کو ہمارا حکمراں بنا لیں گے اور طرح طرح ملمع سازی کر کے بلعام کو اپنے جال میں پھنسا ہی لیا۔ اور وہ دنیا میں مبتلا ہو کر فتنہ میں مبتلا ہو گیا۔ اور بنی اسرائیل کے خلاف دعا مانگنے کے لئے تیار ہو گیا۔

 گدھی کے ذریعے سمجھایا

حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت یوشع علیہ السلام اور ان کے لشکر کے خلاف دعا کرنے کے لئے بلعام کی قوم نے اسے راضی کر لیا۔ علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دوسرے مفسرین کا بیان ہے کہ بلعام ”اسم اعظم“ جانتا تھا۔ اس کی قوم نے مطالبہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ( بنی اسرائیل ) کے لئے بد دعا کرے اس نے انکار کر دیا۔ لیکن جب انہوںنے اصرار کیا تو وہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بنی اسرائیل کے پڑاﺅ کی طرف چل پڑا۔ لیکن جیسے ہی لشکر پر نگاہ پڑی تو گدھی بیٹھ گئی۔ بلعام نے گدھی کو مارا حتیٰ کہ وہ کھڑی ہو گئی اور کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ بلعام نے اس مرتبہ اور زیادہ مارا تب وہ اٹھی اور کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ تیسری مرتبہ اس نے پورا زور لگایا لیکن گدھی نہیں اٹھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زبان دے دی اور اس نے کہا۔ اے بلعام، کہاں جانا چاہتا ہے؟ کیا تو دیکھ نہیں رہا ہے کہ میرے سامنے فرشتے ہیں جو مجھے آگے بڑھنے سے روک رہے ہیں۔ کیا تو اللہ کے رسول علیہ السلام اور ایمان والوں کے حق میں بد دعا کرنا چاہتا ہے؟لیکن اس کے باوجود بلعام گدھی سے نہیں اترا اور برابر اسے مارتا رہا۔ آخر گدھی بھی اٹھ کھڑی ہوئی اور اسے لے کر چل پڑی۔

بلعام کی دنیا اور آخرت دونوں برباد

اللہ تعالیٰ نے بلعام کو سمجھایا ۔ لیکن وہ دنیا میں مبتلا ہو کر فتنہ میں پڑ گیا تھا۔ اور شیطان اس پر حاوی ہو گیا تھا۔ اس لئے گدھی نے اسے سمجھایا کہ فرشتے ہمارا راستہ روک رہے ہیں پھر بھی وہ نہیں مانا۔ آخر کار گدھی اسے لے کر آگے بڑھی اور پہاڑ پر چرھنے لگی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ بلعام کی گدھی نے کہا۔ اے بلعام ، تیری ہلاکت ہو۔ تو کہاں جا رہا ہے؟ کیا تجھے نظر نہیں آرہا ہے کہ فرشتے میرے سامنے ہیں اور میر اچہرہ واپس پھیر رہے ہیں ۔ کیا تو اللہ کے رسول علیہ السلام اور مومنین کے خلاف بد دعا کرنے جا رہا ہے؟ لیکن بلعام مارنے سے باز نہیں آیا۔ جس وقت بلعام اس حد کو پہنچ گیا کہ اس پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہٹا دیا اور گدھی کی رسی کھلی چھوڑ دی۔ اور وہ اسے لے کر حسبان نام کے پہاڑ پر چرھی۔ بلعام نے بنی اسرائیل کے لئے بد دعا شروع کی۔ جب وہ بنی اسرائیل کے لئے دعا کرنا چاہتا تو اس کی قوم کے لئے بد دعا نکل جاتی تھی۔ اس طرح مسلسل اس نے کئی مرتبہ اپنی قوم کو بد دعا دی تو قوم نے کہا۔ اے بلعام ، آپ ہمیں بد دعا دے رہے ہیں اور بنی اسرائیل کو دعا دے رہے ہیں۔ بلعام بولا ۔ میں تو بنی اسرائیل کے لئے بد دعا کرنا چاہتا ہوں لیکن میرا بس نہیں چل رہا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد ا کی زبان باہر نکل کر سینے تک لٹک گئی۔ اور اس نے کہا۔ میری دنیا اور آخرت دونوں برباد ہو گئی اور میرے پاس مکر و فریب کے سواکچھ نہیں رہا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے تھے

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بارے میں بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وادی¿ تیہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کے دو سال بعد آپ علیہ السلام کا وصال ہوا۔ بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وادی¿ تیع سے نکلنے کے بعد راستے میں ہوا۔ اور کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے ہی بیت المقدس فتح کیا ہے اور حضرت یوشع علیہ السلام لشکر کے اگلے حصے کی کمان سنبھالے ہوئے تھے۔ ان تمام روایتوں کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات سمجھ میں آئی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکے تھے۔ لیکن بہت قریب پہنچ گئے تھے اور حضرت یوش علیہ السلام کے ہاتھوں بیت المقدس فتح ہوا ہے۔ اور آپ علیہ السلام کا وصال فتح کو دیکھتے ہوئے ہو گیا۔ اب حقیقت کیا ہے؟اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ علامہ ابن کثر لکھتے ہیں ۔ بہر حال صورتِ حال جو بھی ہو جمہور علماءکا اتفاق ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال وادی تیہ میں ہوا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال سے دو سال قبل ہوا۔ اور جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال بھی وادی تیہ میں ہوا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ انہیں بیت المقدس کے قریب کر دیا جائے اور اتنا قریب کر دیا جائے کہ اگر پتھر پھینکیں تو پہنچ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی یہ دعا سن لی تھی۔ اور بیت المقدس کے قریب کر دیا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سرخ پہاڑ کے دامن میں دفن کئے گئے۔

بنی اسرائیل کی فتح

حضرت یوشع علیہ السلام کے مقابلے میں بلعام بن باعورا بددعا کرنے میں ناکام رہا۔ ادھر حضرت یوشع علیہ السلام نے میدان میں حملے کی تیاری مکمل کر لی تھی۔ بس اسی انتظار میں تھے کہ دشمن شہر سے باہر آئیں اور مقابلہ ہو۔ لیکن کئی دن کے انتظار کے بعد بھی شہر کا دروازہ نہیں کھولا گیا۔ ( پہلے زمانے میں شہروں کے اطراف بہت اونچی دیوار ہوتی تھی اور ان میں بڑے بڑے دروازے بھی ہوتے تھے) ایک دن اچانک آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو نرسنگے ( قرن ، بگل) پھونکنے کا حکم دیا۔ اور بنی اسرائیل ایک فصیل پر ٹوٹ پڑے اور اسے گراکر شہر میں داخل ہو گئے۔ بلعام کی قوم نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن شکست ہوئی۔ اور بنی اسرائیل کو فتح حاصل ہو گئی۔

اریحا کی فتح اور سورج کا ٹھہرنا

حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کے لشکر کو لے کر اریحا تک پہنچ گئے۔ بیت المقدس سے اریحا کا فاصلہ لگ بھگ چالیس پچاس میل یعنی سو100کلو میٹر کے آس پاس ہے۔ آپ علیہ السلام کے حکم سے بنی اسرائیل نے شہر کا محاصرہ کرلیا۔ اریحا( بائیبل میں پریحولکھا ہے) کی شہر پناہ بہت اونچی تھی۔ اور یہ کوئی عام شہر نہیں تھا۔ اس میں سینکڑوں جنگجو ہر وقت لڑائی کے لئے تیار رہتے تھے۔ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے چھ مہینے تک اس محاصرہ کئے رکھا۔ آکر کار مجبور ہو کر شہر کے لوگ باہر آئے اور مقابلہ کرنے لگے۔ یہ مقابلہ کئی دنوں تک چلا ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یہ محاصرہ جمعہ کی عصر تک طویل ہو گیا تھا۔ جب سورج غروب ہو گیا یا غروب ہونے کے قریب تھا اور سبت ( سنیچر) کا دن شروع ہونے والا تھا۔ جس میں ان کے ( بنی اسرائیل کے ) لئے کوئی کام کرنا جائز نہیں تھا۔ تو حضرت یوشع علیہ السلام نے سورج سے فرمایا۔ اے سورج ، تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی ۔ پھر دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، سورج کو غروب ہونے سے روک لے۔ اللہ تعالیٰ نے سورج کو روک دیا ۔ یہاں تک کہ اریحا ( پریحو) کا شہر فتح ہو گیا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے سوا سورج کسی کے لئے نہیں رکا۔ اس رات جس میںحضرت یوشع بن نون علیہ السلام بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے۔

مالِ غنیمت میں خیانت

حضرت یوشع علیہ السلام نے اریحا فتح ہو جانے کے بعد حکم دیا کہ تمام مال غنیمت ایک جگہ جمع کر دیا جائے۔ جب تمام مال غنیمت جمع ہو گیا تو آپ علیہ السلام نے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لے۔ لیکن آسمان سے کوئی آگ نہیں آئی اور وہ ویسے ہی پڑا رہا۔ در اصل پہلے کے انبیائے کرام علیہم السلام کی شریعت میں مالِ غنیمت ( جنگ میں فتح کے بعد حاصل ہوا مال ) حلال نہیں تھا۔ فتح حاصل ہونے کے بعد تمام مال غنیمت ایک جگہ جمع کر دیا جاتا تھا اور اس کی قبولیت کی نشانی یہ ہوتی تھی کہ آسمان سے ایک آگ آکر اس مال غنیمت کو کھا جاتی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں مال غنیمت حلال کر دیا ۔ بہر حال جب آسمان سے آگ نے آکر مال غنیمت کو نہیں کھایا تو حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا کہ کسی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے۔ اور اس میں سے کچھ لے کر اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ جس نے بھی جو بھی لیا ہے وہ خاموشی سے لا کر رکھ دے۔ تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا۔ اور اگر اسے ڈھونڈ کر نکالا تو سزا دی جائے گی۔

خیانت کرنے والے کی گرفتاری

حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے پورے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی امانت مال غنیمت میں سے اپنے پاس چھپا کر رکھ لیا ہے۔ وہ اسے لا کر تمام مال غنیمت میں جمع کر دے۔ کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد بھی کوئی نہیں آیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمام لوگ میرے ہاتھ پر آکر بیعت کریں۔ سب لوگ بیعت کرنے لگے تو ایک شخص کا ہاتھ آپ علیہ السلام کے ہاتھ سے چپک گیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آپ علیہ السلام ( حضرت یوشع) نے لشکر کشی کی اور عصر کی نماز پڑھ کر یا س کے نزدیکی کسی وقت میں ایک بستی کے قریب پہنچے اور سورج سے کہا۔ تو بھی اللہ کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی۔ پھر دعا فرمائی۔ اے اللہ تعالیٰ، اسے کچھ دیر کے لئے میرے لئے روک دے ۔ سورج آپ علیہ السلام کے لئے ٹھہر گیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے بستی کو فتح کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انہوں نے مال غنیمت جمع کیا۔ آگ نمودار ہوئی لیکن کھا نہیں سکی۔ اللہ کے اس نبی علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہارے اندر کھوٹ ہے۔ ہر قبیلہ سے ایک شخص میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرے۔ ایک قبیلے کے شخص کا ہاتھ آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر چپک گیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہارے قبیلے میں سے کچھ لوگوں نے خیانت کی ہے۔ اس لئے تمہارے قبیلہ کے تمام لوگ بیعت کریں۔ پورے قبیلے نے بیعت کی۔ اُن میں سے دو یا تین لوگوں کا ہاتھ آپ علیہ السلام کے ہاتھ پر چپک گیا۔ ان لوگوں نے گائے کے سر کے برابر سونا لا کر دیا۔ اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا ۔ اسے مال غنیمت میں رکھ دو۔ جیسے ہی یہ سونا رکھا گیا آسمان سے آگ آئی اور مال غنیمت کو کھا لیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

05 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha



05 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 5

اسلامی حکومت کا قیام

حضرت یوشع علیہ السلام نے بیت المقدس اور اریحا کی فتح کے بعد اسلامی حکومت قائم کی۔ اور توریت کے قوانین کے مطابق بنی اسرائیل کو زندگی گزارنے اور دنیا اور آخرت کے لئے اعمال کرنے کے طریقے بتائے۔ اسکے بعد آپ علیہ السلا م نے اسلامی حکومت کی توسیع کی طرف توجہ دی ۔ کیوں کہ بنی اسرائیل کی تعداد زیادہ تھی اور یہ دو شہر کم پڑ رہے تھے۔ اس کے علاوہ اس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں دوسروں کی حکومت تھی۔ اور اسلامی حکومت کے چاروں طرف کافروں کی حکومت تھی۔ اس لئے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں کوئی کافر بادشاہ اچانک حملہ نہ کر دے۔ اور چونکہ اسلامی حکومت اس وقت بہت کمزور تھی اس لئے اس کے استحکام کے لئے حضرت یوشع علیہ السلام جدو جہد شروع کر دی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال ہوا اس وقت حضرت یوشع علیہ السلام کی عمر مبارک ننانوے 99سال تھی۔ اللہ کا قانون نافذ کرنے کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام آس پاس کے علاقوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور قریبی شہر ”عی“ کی طرف اپنے جاسوس بھیجے۔

بنی اسرائیل کی شکست

حضرت یوشع علیہ السلام نے عی شہر طر ف اپنے جاسوس بھیجے تا کہ وہ وہاں کے حالات کا جائزہ لے کر آئیں اور اس کے مطابق جنگ کا لائحہ عمل بنایا جائے۔ یہ علاقہ بیت ِ ایل کے مشرق میں اور بیت آون کے قریب واقع ہے۔ جاسوس عی کا جائزہ لے کر آئے اور آپ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ بنی اسرائیل کے پورے لشکر کو عی جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف دو یا تین ہزار کا لشکر بھیجیں۔ وہی ان کےلئے کافی ہو جائے گا۔ کیوں کہ وہاں بہت تھوڑے لوگ ہیں اور وہاں فتح حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے تین ہزار کا بنی اسرائیل کا لشکر بھیج دیا۔ اس لشکر نے عی شہر پر حملہ کیا۔ اس شہر میں عماق آباد تھے۔ اور وہ بہت جنگجو تھے۔ یہ شہر اونچی جگہ پر واقع تھا اور شہر کے اطراف ڈھلانیں تھیں۔ اس طرح وہ لوگ کافی محفوظ جگہ پر تھے۔ اور ان کے تیر نیچے بنی اسرائیل کے لشکر پر نشانے پر لگ رہے تھے۔ اس کے مقابلے میں بنی اسرائیل کے لشکر کے سامنے ڈھلانوں کو چڑھنے کی پریشانی تھی اور ان کے تیر عی کے سپاہیوں تک بلندی پر نہیں پہنچ پا رہے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے لشکر میں افر اتفری مچ گئی۔ اور شہر کے لوگ ان پر حاوی ہو گئے۔ اور بنی اسرائیل کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ عی شہر کے لوگوںنے پیچھا کیا اور کچھ دور تک تعاقب کر کے حملہ کیا۔ بنی اسرائیل کے لشکر کے چھتیس36سپاہی قتل ہوئے۔ اور عی کے لوگوں نے شہر کے دروازے سے لے کر شریم کی وادی تک ڈھلوان مارتے چلے گئے۔ بنی اسرائیل کا شکست خوردہ لشکر حضرت یوشع علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور تمام حالات بتائے۔

حضرت یوشع علیہ السلام کی جنگی حکمت عملی اور فتح

حضرت یوشع علیہ السلام نے شکست خوردہ لشکر کی تمام باتوں کی توجہ سے سنا۔ پھر اس کے بعد اپنی مجلس شوریٰ سے مشورہ کیا اور جنگی حکمت عملی تیار کی۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے تیس ہزار 30000شپاہیوں کا انتخاب کیا۔ اور اس میں سے دس ہزار سپاہیوں کو رات کے اندھیرے میں روانہ کیا۔ اور حکم دیا کہ خاموشی سے جا کر عی شہر کے اطراف میں چھپ جاﺅ۔ اور آپ علیہ السلام دوسرے دن بیس ہزار کا لشکر صبح روانہ ہوئے۔ اور شبریم کی وادی میں پہاڑوں میں پانچ ہزار تیر اندازوں کو چھپا دیا۔ اور پانچ ہزار سپاہیوں کو ڈھلانوں کے دائیں بائیں بٹھا دیا۔ اور بقیہ دس ہزار کا لشکر لے کر عی شہر کے مقابل آئے۔ عی کے بادشاہ نے جب دیکھا کہ اس مرتبہ بنی اسرائیل زیادہ لشکر آئے ہیں تو اس نے پورے شہر کے مردوں کو بلالیا۔ اور بنی اسرائیل کے لشکر پر تیر اندازی شروع کر دی۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے دس ہزار کے لشکر کو حکم دیا کہ کچھ دیر تک تیراندازی کرو اور پھر شبریم کی وادی کی طرف بھاگو۔ کچھ دیر تک تیر اندازی کرنے کے بعد آپ علیہ السلام نے لشکر کو اشارہ کیا تو سپاہی شبریم کی وادی کی طرف بھاگے۔ عی شہر کے بادشاہ نے انہیں واپس بھاگتے دیکھا تو تمام مردوں کو حکم دیا کہ ان کا پیچھا کرو اور قتل کردو۔ اور اپنا پورا لشکر لے کر شہر سے باہر آگیا۔ اس کے پورے لشکر کے باہر آتے ہیں شہر کے اطراف میں چھپے ہوئے دس ہزار بنی اسرائیل شہر میں داخل ہو گئے۔ وہاں صرف عورتیں اور بچے تھے۔ سپاہیوں نے گھروں میں آگ لگانی شروع کر دی۔ ادھر حضرت یوشع علیہ السلام شبریم کی وادی میں پہنچے اور جب عی کا بادشاہ اور ا س کا پورا لشکر وادی شبریم میں آگیا تو آپ علیہ السلام نے پلٹ کر ایک مخصوص اشارہ کیا تو پہاڑوں میں چھپے پانچ ہزار سپاہیوں نے عی کے لشکر پر تیر اندازی شروع کر دی۔ اس اچانک حملے سے عی کا بادشاہ اور سپاہی گھبرا گئے اور بد حواس ہو گئے۔ ادھر ڈھلوانوں کے اطراف لشکر نے ان پر پیچھے سے حملہ کر دیا اور بھاگنے والے بنی اسرائیل کے لشکر نے بھی پلٹ کر حملہ کر دیا۔ اسی طرح عی کا بادشاہ اور اس کا لشکر چاروں طرف سے بنی اسرائیل کے لشکر کے گھیرے میں آگیا۔ اور جب انہوںنے اپنے شہر کی طرف دیکھا تو ان کے حوصلے ٹوٹ گئے کیوں کہ شہر میں جگہ جگہ دھواں اٹھ رہا تھا۔ اور بنی اسرائیل کا جھنڈا شہر کے دروازہ پر لہرارہا تھا۔ بنی اسرائیل کے لشکر نے ان کا قتل عام کر دیا اور عی کا بادشاہ زندہ گرفتار کر لیا گیا اور تمام سپاہی مارے گئے۔ اس طرح عی شہر پر حضرت یوشع علیہ السلام کا قبضہ ہو گیا۔ اور بادشاہ کو سولی پر لٹا دیا گیا۔ ( بائیبل کتاب یشوع باب نمبر8) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت یوشع علیہ السلام وہاں سے چل کر عائی ( عی) اور شعبہ کے بادشاہ کے پاس آئے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اُن سے جنگ کرنے کے لئے کمین گاہ بنانے کا حکم دیا۔ اور پھر اس علاقے پر فتح حاصل کی۔ ان کی حکومت چھینی اور شہر میں آگ لگا دی اور وہاں کے بارہ ہزار آدمیوں کو قتل کیا۔

جبعون کے بادشاہ کی دھوکہ دہی

حضرت یوشع علیہ السلام نے عی( عائی) پر قبضہ کر لیا۔ ان کے پڑوسی ریاست جبعون کے باشندوں نے جب آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی فتوحات کا حال سنا اور انہیں یہ معلوم ہو اکہ بنی اسرائیل کا پورے ملک کنعان پر قبضہ کر کے اس کے باشندوں کو قتل کر نے یا ملک بدر کرنے کا ارادہ ہے۔ تو انہوںنے ایک منصوبہ بنایا۔ انہوں نے ایک وفد تیار کیا۔ وفد کے لوگوں نے پھٹی جوتیاں اور پرانے کپڑے پہنے اور اپنی سواریوں پر پھٹی پرانی بوریاں لگائی اور پھپھوند ی لگی روٹیاں لے کر حضرت یوشع علیہ السلام کی خدمت میں آئے۔ اور کہا کہ ہم بہت دور کے ملک سے آئے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام سے امن کا معاہد ہ کرنے آئے ہیں۔ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے کہا۔ تم لوگ کچھ جانے پہچانے لگ رہے ہو۔اور ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پڑوس میں آباد ہو۔ اس وفد کے لوگوں نے کہا کہ ہم آپ علیہ السلام کے خدمتگار ہیں۔ اور آپ لوگوں کی شہرت سن کر آئے ہیں۔ ہمارے لباس، سواریاں، جوتے اور کھانے دیکھئے ۔ یہ روٹیاں ہم تازی اور گر م گرم لے کر نکلے تھے اور آج اس پر پھپھوند لگی ہوئی ہے۔ آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے ان پر بھروسہ کر کے امن کا معاہدہ کر لیا اور ان ہیں امان دے دی۔ اس کے بعد جب حضرت یوشع علیہ السلام اپنا لشکر لے کر ریاست جبعون پہنچے اور آپ علیہ السلام کا ارادہ تھا کہ ریاست جبعون کے شہر کفیرہ ، بیروت ، قریت ، اور یزیم پر قبضہ کر لیں۔ تب ریاست جبعون کا وہ وفد خدمت میں حاضر ہوا اور معاہدے کا امان نامہ بتایا۔ بنی اسرائیل امراءنے ان کی اس دھوکہ دہی پر تمام لوگوں کو قتل کر دینے کا مشورہ دیا۔ تب ریاست جبعون کے لوگوں نے کہا کہ ہمیں یہ معلو م ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام کا ارادہ ہے اس ملک کے لوگوں کو ملک بدر کدیں یا قتل کر دیں تو اس سے بچنے کے لئے ہم نے دھوکے سے معاہدہ کیا ہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ چونکہ میں تمہیں امن دے چکا ہوں اس لئے اس معاہدے کے مطابق عمل کروں گا۔ اور تمہیں قتل نہیں کروں گا اور ملک بدر بھی نہیں کروں گا۔ لیکن تمہاری سزا یہ ہے کہ تم لوگ بنی اسرائیل کے لئے لکڑیاں کاٹ کر لاﺅ گے اور ان کے لئے پانی بھروگے۔ اس کے بعد جبعون کے باشندے مسلسل بنی اسرائیل کی خدمت کرتے رہے۔ ( بائیبل کتاب یشوع باب نمبر9) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ اہل عماق اور اہل جبعون نے دھوکہ دینے کے ارادے سے پہلے امان طلب کی اور جب ان کی دھوکہ دہی ان پر ظاہر ہوئی تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ لکڑ ہارے اور مشکیزے اٹھانے والے ہو جائیں۔ چنانچہ وہ ویسے ہی ہو گئے۔

اُموری بادشاہوں کی شکست

حضرت یوشع علیہ السلام نے اہل جبعون کو امان دے دی۔ جب یروشلم کے بادشاہ ادونی صدق نے سنا کہ حضرت یوشع علیہ السلام نے عی( عائی) پر قبضہ کر لیا ہے اور اس کے باشندوں اور بادشاہ کے ساتھ بھی وہی سلوک کیاجو اریحا ( پریحو) کے باشندوں اور بادشاہ کے ساتھ کیا تھا۔ اور جبعون کے باشندوں نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر لیا ہے اور ان کے ساتھ آرام سے رہ رہے ہیں تو وہ اس کی رعایا بہت خوفزدہ ہوئے۔ کیونکہ جبعون ایک شاہی ریاست تھی اور عی ( عائی) سے بہت بڑی تھی۔ اسی لئے یروشلم کے بادشاہ ادونی صدق نے حبرون ( اس کا نام الخلیل بھی ہے ) کے بادشاہ ہوہام، یر موت کے بادشاہ پیرام ، لکیس کے بادشاہ یا فیع، عجلون کے بادشاہ دبیر کو یہ کہلا بھیجا کہ جبعون پر حملہ کر نے کے لئے فوج لے کر میری مد د کو آﺅ۔ کیوں کہ جبعون والوں نے حضرت یوشع علیہ السلام اور اسرائیلیوں سے صلح کر لی ہے۔ ان پانچوں بادشاہوں کی سرگرمیوں کی خبر تھی ۔ انہوں نے فوراً قاصد دوڑائے اور حضرت یوشع علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ علیہ السلام کے خادموں کا خیال رکھیں اور جلد ی پہنچ کر ہماری مدد فرمائیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام رات میں بنی اسرائیل کا لشکر لے کر تیزی سے جبعون پہنچے۔ اور ان پانوں اموری بادشاہوں کے سنبھلنے سے پہلے ان پر ٹوٹ پڑے۔ اور انہیں زبردست شکست دے دی۔ اور فتح عظیم حاصل کی۔ وہ پانچوں بادشاہ جان بچا کر بھاگے۔ اور ان کے پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہوئے سپاہیوں کا اسرائیلیوں نے بیت ِ حورون تک جانے والی سڑک پر ان کا تعاقب کیا اور عزیقاہ اور مقیدہ تک ان کو مارتے چلے گئے۔ اور اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر پتھروں کی بارش کر دی۔ اور پتھر سے مرنے والوں کی تعداد اسرائیلیوں کی تلوار سے قتل ہونے کی تعداد سے زیادہ تھی۔ ( بائیبل کتاب یشوع باب نمبر10)علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔پھر ارمان کے بادشاہوں کو اطاعت کا پیغام بھیجا۔ ان کی تعداد پانچ تھی۔ انہوں نے اپنے میں سے ایک کو سردار بنایا اور جنگ کے لئے جمع ہو گئے۔ اہل جبعون نے حضرت یوشع علیہ السلام سے مدد مانگی۔ آپ علیہ السلام نے انکی مدد کی۔ اور ان سب سرداروں کو شکست دی۔ یہاں تک کہ ان کو حوران کی طرف اتار دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر پتھروں کی بارش کی اور پتھروں سے قتل ہونے والوں کی تعداد تلوا ر سے قتل ہونے والوں سے زیادہ تھی۔ وہ پانچوں اموری بادشاہ مقیدہ کے پہاڑ کے ایک غار میں جا کر چھپ گئے آپ علیہ السلام نے ان پانچوں کو نکال کر قتل کر دیا۔ اور ان کے شہروں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام نے پورے جنوبی فلسطین ( جو اس وقت مل کنعان تھا ) کو فتح کر لیا۔

مغربی فلسطین اور شمالی فلسطین کی فتح

حضرت یوشع علیہ السلام نے جنوبی فلسطین کی فتح کے بعد مغربی فلسطین کی طرف متوجہ ہوئے۔ اور کنعانیوں کو شکست دے کر آگے بڑھے۔ اور فرزیوں پر حملہ کیا ان کے علاقو ں پر قبضہ کرنے کے بعد حوی کی طرف متوجہ ہوئے اور نہیں بھی شکست دی۔ اور ان کے تمام علاقوں پر قبضہ کر کے یبوسیوں پر حملہ کر دیا۔ یہ مغربی فلسطین کی آخری آبادی تھی۔ اور یہ لوگ مغربی کنارے پر آباد تھے۔ آپ علیہ السلام نے حملہ کر کے ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح پورا جنوبی اور مغربی فلسطین بنی اسرائیل کے قبضے میں آگیا۔ اب بنی اسرائیل کی حکومت بیت المقدس سے لے کر غزّہ ( غازہ) تک اور جُشن سے لے کر جبعون تک ہو چکی تھی۔ اس کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام شمال فلسطین کی طرف متوجہ ہوئے۔ شمالی فلسطین میں حصور پر یابین کی حکومت تھی۔ مدون پر یوباب کی حکومت تھی۔ اور سمرون اور اکشاف کے بادشاہوں کی حکومت تھی۔ ان چاروں بادشاہوں کو آپ علیہ السلام نے یکے بعد دیگرے شکست دی۔ اور ان کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح آ پ علیہ السلام نے لگ بھگ پندرہ برسوں میں جنوبی ، مغربی اور شمالی فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اور اسلامی حکومت قائم کردی۔ اب صرف مشرقی فلسطین کا علاقہ باقی رہ گیا تھا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

06 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha


06 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 6

پورے ملک کنعان ( حالیہ فلسطین) پر بنی اسرائیل کا قبضہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اور اس کے بعد سے آپ علیہ السلام مسلسل ملک کنعان ( حالیہ فلسطین ) میں رہنے والوں سے جنگ کی حالت میں تھے۔ اب صرف مشرقی فلسطین پر قبضہ کر نا تھا۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو لے کر مشرقی فلسطین پر حملہ کر دیا اور یکے بعد دیگرے ایک ایک بادشاہوں کو شکست دے کر ان کے علاقوں پر قبضہ کرتے رہے۔ اس طرح دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام نے لگ بھگ پانچ برسوں میں پورے مشرقی فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ اب پورا ملک کنعان آپ علیہ السلام کے قبضہ میں آچکا تھا۔ اور پورے کنعان ( حالیہ فلسطین) پر قبضہ کرنے میں لگ بھگ بیس20سال لگ گئے۔ اس وقت تک آپ علیہ السلام کی عمر 120سال کے لگ بھگ ہو چکی تھی۔ ان بیس برسوں میں آپ علیہ السلام نے 31بادشاہوں کو شکست دی۔ یہ 31بادشاہ جن علاقوں پر قبضہ کیا۔ ان علاقوں کے نام یہ ہیں۔ ( ۱) اریحا ( یریمو) (۲) عی ( عائی) (۳) یروشلم (۴) جبرون (الخلیل) (۵) یرموت (۶) لکیں (۷) عجلون (۸) جزر (۹) دبیر (۰۱) جدر (۱۱) حُرمہ (۲۱) عراد (۳۱) لبناہ (۴۱) عدلام (۵۱) مقیدہ (۶۱) بیت ایل (۷۱) تفوح (۸۱) حضر (۹۱) افیق (۰۲) لشرﺅن (۱۲) مدون (۲۲) حصور (۳۲) سمرون مرون (۴۲) اکشاف (۵۲) تعنک (۶۲) مجدد (۷۲) قاد (۸۲) کرمل (۹۲) یقنعام (۰۳) دور ۔ جلجال ۔ گوئیم (۱۳) تِرضہ ۔ ان تمام علاقوں پر اکتیس 31بادشاہوں کو شکست دی۔ اور پورے ملک کنعان یعنی حالیہ فلسطین پر اسلامی حکومت قائم کر دی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بنی اسرائیل کی فتوحات

حضرت موسیٰ علیہ السلام جب وادی تیہ سے نکل کر بنی اسرائیل کو لے کر بیت المقدس کی جانب روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں کئی جنگیں کرنی پڑیں اور ان میں انہیں فتوحات حاصل ہوئیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے حالات پر ہم نے جو کتاب لکھی ہے ا سمیں ہم نے ان فتوحات کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ کہیں تسلسل ٹوٹ نہ جائے۔ ان فتوحات کا ذکر ہم یہاں اس لئے کر رہے ہیں تاکہ الجھن نہ ہو۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ پھر بنی اسرائیل نے کنعانیوں کے بعض بادشاہوں سے جنگ کی اور انہیں شکست دی ان کا مال و اسباب لوٹ لیا۔ اور عمور کے بادشاہ سیمون سے اجازت طلب کی کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے علاقے میں سے ارضِ مقدس تک جانے کی اجازت دے۔ لیکن سیمون نے انکار کر دیا۔ اور فوج لے کر مقابلے پر آگیا۔ بنی اسرائیل نے اسے بھی شکست دی اور اس کے ملک پر قبضہ کر لیا۔ یہ ملک بنو موآب کا تھا اور سیمون نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس ملک کی سرحد بنو عمون کے علاقوں تک تھی۔ اس علاقے پر عوج بن عناق کی حکومت تھی۔ بنی اسرائیل نے اس پر حملہ کر دیا۔ اس نے اور اس کی قوم نے جم کر مقابلہ کیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فتح عطا فرمائی۔

بنو مدین پر فتح

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل نے عوج بن عناق اور اس کی قوم کو شکست دے کر اس کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اور بنو موآب کے سامنے جا کر لشکر نے پڑاﺅ ڈال دیا۔ بنو موآب کا بادشاہ اور اس کی قوم بری طرح خوفزدہ ہو گئے۔ اور اپنی قوم کے ایک نیک شخص بلعام بن باعورا سے بنی اسرائیل کے خلاف بد دعا کی درخواست کی۔ اس نے کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس کے بعد بنو موآب کے بادشاہ نے بنو مدین سے مدد کی درخواست کی۔ انہوںنے بنو موآب کے بادشاہ کی مدد کی۔ لیکن بنی اسرائیل کے مقابلے میں دونوں کو شکست ہوئی ۔ بنو موآب کے علاقے پر بنی اسرائیل نے فتح حاصل کر لی اور بنو مدین اپنے علاقے میں بھاگ گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور( حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کے بعد ان کے بیٹے عیزار کو ان کی جگہ کا ہن بنایا گیا تھا) عیزار کاہن نے بنی اسرائیل کی گنتی کی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فخاص بن عیزار کو سپہ سالار بنا کر بارہ ہزار کا لشکر دے کر بنو مدین پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا۔ بنی اسرائیل کا یہ لشکر بنو مدین کے سامنے پہنچا اور میدان میں پڑاﺅ ڈال دیا۔ بنو مدین نے بھی اپنا لشکر جمع کر لیا اور مقابلے پر آگئے۔ دونوں لشکروں میں ٹکراﺅ ہو ا اور بنو مدین نے زبر دست مقابلہ کیا اور بنی اسرائیل کے ہر حملے کا جواب دیتے رہے۔ اس کے باوجود انہیں شکست ہوئی اور بنی اسرائیل نے فتح حاصل کرنے کے بعد ان کے بادشاہوں کو قتل کر ڈالا۔ اور ان کی عورتوں کو گرفتار کر لیا۔ اور انکے اموال کو تقسیم کر لیا۔ پھر بنو مدین، بنو عمودین اور بنو موآب کے علاقوں پر قبضہ کر لینے اور ان کی تقسیم کر کے دریائے اردن کے اس پار بنی اسرائیل جا اترے۔

مفتوح علاقوں کی تقسیم

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جن علاقوں کو فتح کیا تھا۔ ان علاقوں کو بنی اسرائیل میں تقسیم فرما دیا تھا۔ اس کے بعد جب حضرت یوشع علیہ السلام نے پورے ملک کنعان کو فتح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان علاقوں کو بنی اسرائیل میں تقسیم کر دیا جائے ۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس وقت ملک کنعان میں اردن، لبنان اور شام کا بہت سا علاقہ آتا تھا۔اس تقسیم میں ان کا نام بھی آئے گا) حضرت یوشع علیہ السلام نے پورے ملک کنعان کا سروے کرا کر رپورٹ منگوائی اور پھر قرعہ اندازی کے ذریعے مفتوح علاقوں کی تقسیم کی۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ ان کے مفتوح علاقوںکو کون کون سے قبیلوں کو دیا جائے۔ اور انہوںنے اسی طرح تقسیم کی۔ پہلے ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقسیم بیان کریں گے۔ پھر حضرت یوشع علیہ السلام کی تقسیم بیان کریں گے۔ یہ تقسیم ہم آپ کی خدمت میں اس لئے پیش کر رہے ہیں کہ آگے آپ کو کسی قسم کی الجھن نہ ہو۔ اور آگے بنی اسرائیل کے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقسیم

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے مفتوحہ علاقے بنی اسرائیل کے ڈھائی قبیلہ یعنی بنو روبیل ( روبن)، بنوجد اور بنو منسی کے آدھے قبیلے میں تقسیم کر دیئے۔ آپ علیہ السلام نے یہ زمین انہیں اُردن کے مشرق میں دی۔ یہ علاقہ ارنون کی وادی کے کنارے کے عرو عیر سے لے کر وادی کے بیچ واقع شہر تک پھیلا ہوا تھا۔ اور اس میں دیبون تک میبا کا سرا میدا ن شامل تھا۔ اور اموریوں کی سرحد تک حسبون میں حکومت کرنےوالے اموریوں کے سب شہر اور بادشاہ سیحون کےسب شہر اور جلعاد اور جسوریوں اور معکاتیوںکا علاقہ اور سارا کوہِ حرمون اور سلکہ تک کا سارا بسن بھی شامل تھا۔ یعنی عستارات اور بس کا وہ علاقہ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو شکست دے کر لیا تھا۔ لیکن بنو لاوی کو کوئی علاقہ نہیں دیا گیا۔ کیوں کہ قانون کے مطابق اللہ کی بارگاہ میںپیش کی ہوئی قربانیاں ہی ان کی میراث تھیں۔

بنو روبیل ( روبن ) کا علاقہ اور بن جد کا علاقہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو روبیل ( روبن) کو ان کے گھرانوں کے مطابق جو میراث وہ یہ ہے۔ اُن کا علاقہ ارنون کی وادی کے کنارے پر کے عرو عیر سے لے کر وادی کے بیچ کے شہر سے ہوتا ہوا حسبون تک کا تھا۔ ان میں دیبون ، بامت بعل ، بیت بعل معون ، یہصاہ ، قدیمات ،مفعت ، تریتائم، سماہ، ضرة السحر جو وادی کے پہاڑ پر ہے۔ بیت فعور اور پسگہ کا نشیبی علاقہ بیت یسموت نام کے تمام شہر بھی شامل ہیں۔ بنو روبن کی سرحد اردن کاکنارہ تھی۔ یہ تمام شہر اور ان کے دیہات بنو روبیل ( بنو روبن) کے گھرانوں کے مطابق ان کی میراث ٹھہرے ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو جد قبیلہ کو ان کے گھرانوں کے مطابق جو میراث دی وہ یہ ہے۔ یعزیر کا علاقہ، جلعاد کے سب شہر ، ربہ کے نزدیک عرو عیر تک عمونیوں کے ملک کا نصف حصہ ، حسبون سے رامت المصفاہ اور بطونیم تک اور خناعیم سے دیبر تک کا علاقہ اور وادی میں بیت ہارم، بیت عمرہ ، سکات اور صفوان اور حسبون کے بادشاہ سیحون کی بقیہ سلطنت ( اردن کے مشرقی ساحل پر کنرت کی جھیل تک کا علاقہ) یہ تمام شہر اور ان کے دیہات بنو جد قبیلے کے گھرانوں کے مطابق ان کی میراث ٹھہرے ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنو منسی کے آدھے قبیلے کو انکے گھرانوں کے مطابق جو میراث دی وہ یہ ہے۔ سارے بسن سمیت خناعیم سے لے کر بسن کے بادشاہ عوج کی تمام سلطنت اور بسن میں بسے ہوئے یائیر کے ساتھ دیہات، آدھا جلعاد اور عستارات نام کے شہر منسی کے بیٹے مکسیر کی اولاد کے لئے ان کے گھرانوں کے مطابق میراث ٹھہرے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اردن کے اس پار اریحا ( پریحو) کے مشرق میں موآب کے میدانوں میں تھے۔ تب انہوںنے یہ میراث تقسیم کی تھی۔ لیکن بنو لاوی کو آپ علیہ السلام نے کوئی میراث نہیں دی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

منگل، 16 مئی، 2023

07 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet Yosha



07 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 7

بنو یہودا کا علاقہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ڈھائی قبیلوں کو میراث تقسیم کر دی تھی۔ اس لئے حضرت یوشع علیہ السلام نے بقیہ ساڑھے آٹھ قبیلوں کو میراث کی تقسیم میں ملک کنعان دے دیا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے گیارہ قبائل میں ملک کنعان تقسیم ہو گیا۔ اور باقی بچے ایک قبیلہ بنو لاوی کو میراث کی تقسیم نہیں دی گئی۔ کیوں کہ وہ اللہ کے خدمتگار تھے۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے بنو یہوداہ قبیلے کو جو علاقہ دیا وہ ادوم کی سرحد سے دشت ِ حسین تک پھیلا ہوا تھا۔ جنوب میں ادوم کی سرحد کے قریب بنو یہوداہ کو جو شہر ملے ان کے نام یہ ہیں۔ قبصی ایل، عیدر، یجور، قینہ،دیمون، عدعدہ، قادس، حصور، اتنان ، زیف ، قلم، بعلوت، حدثہ، قریت، حصرون، امام، سمع، مولادہ، حصار جدہ، حشمون، بیت فلط، حصر سوعال، بیر سبع، بزیوتیاہ، بعلہ، عیم، عضم، التولد، کسیل، حرمہ، صقلاج،مدمنہ، سنسناہ،بداﺅت، سلحیم، عین اور رمون ، یہ اُنتیس شہرا اور ان کے دیہات بنو یہودا کو جنوب میں ملے۔ مغرب میں استال ، مرعا، اسنا، زنوح، جنیم، تفوح، عینام، یرموت، عدلا، شوکہ، عزیقہ، شعریم، عدتیم، جدیرہ، ضنان، حداشہ، عدل جد، دلعان، مصناہ، قیتی ایل،لکیس، یصقت، عجلون، کبون، لحماس، کتلیس، جد یروت، دجون، نعمہ، اور مقیدہ اور ان کے دیہات مغرب میں ملے۔ اس کے علاوہ لبناہ( لبنان) عتر، عسن ، یفتاح، اسنہ، نصیب، مسریسہ، عقرون، غزہ( غازہ) وادی¿ مصر، یزرائیل اور یروشلم جیسے شہر بھی بنو یہوداہ کو ملے۔

آدھے بنو منسی ( بنو افرائیم ) کا علاقہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے مفتوحہ علاقے ڈھائی قبیلوں یعنی بنو روبیل ( روبن) ، بنو جد اور بنو منسی کا آدھا قبیلہ ۔ ان کو تقسیم کر دیئے تھے۔ بنو منسی در اصل بنو یوسف ( حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد) کا ایک حصہ ہے۔ اور دوسرا حصہ بنو افرائیم ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ایک بیٹے منسی بن گئی۔ اور افرائیم کی اولاد بنو افرائیم بن گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آدھے قبیلے بنو منسی کو حصہ دے دیا تھا۔ اب حضرت یوشع علیہ السلام نے بقیہ آدھے قبیلے بنو افرائیم کو میراث دی۔ بنو افرائیم کا علاقہ ان کے گھرانوں کے مطابق دیا۔ ان کی میراث کی سرحد مشرق میں عطارات ادار سے اوپر کے بیت حورون تک تھی جو سمندر تک چلی گئی تھی۔ پھر شمال میں مکمتاہ سے وہ مشرق کی جانب تانت سیلا کو مُڑی اور اس کے پاس سے گزرتی ہوئی اردن تک نکل گئی۔ تفوح سے وہ سرحد مغرب کی جانب قاناہ کی وادی تک گئی اور سمندر پر ختم ہو ئی۔ یہ افرائیم کے قبیلہ اور اس کے گھرانوں کے مطابق میراث تھی۔ ان میں وہ تمام شہر اور دیہات بھی شامل ہیں جو بنو منسی کی میراث میں بنو افرائیم کے لئے الگ کئے گئے تھے۔

بنو بن یامن کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے قرعہ اندازی کی تو قبیلہ بنو یامن کی میراث کی سرحد قبیلہ بنو یہودا اور قبیلہ بنو یوسف کے درمیان نکل آئی۔ شمال میں قبیلہ بنو بن یامن کی سرحد اردن سے شروع ہو کر پریحو( اریحا) کے شمال نشیب میں سے گزرتی ہوئی مغرب کی جانب کوہستانی ( پہاڑی ) علاقوں سے ہو کر بیت آون کے بیابان تک پہنچ۔ وہاں سے وہ لوز ( یعنی بیت ایل) کے جنوبی نشیب میں پہنچی۔ اور وہاں سے اس پہاڑ کے برابر ہوتی ہوئی جو نیچے آئی اور بیت حورون کے سامنے کے پہاڑ سے ہوتی ہوئی جنوب کی طرف بنو یہودا کے ایک شہر قریت بعل ( یعنی قریت یعزیم) تک جا پہنچی اور یہ مغربی سرحد ٹھہری۔ جنوبی سرحد قریت یعزیم کی بیرونی حد سے شروع ہو کر مغرب کی طرف آبِ تفتوح کے چشمہ تک چلی گئی جو ہزم کے بیٹے کی وادی کے سامنے ہے۔ اور بنو افرائیم کی وادی کے شمال میں ہے۔ وہاں سے ہزم کی وادی سے اترتی ہوئی یبوسیوں کے شہر کی جنوبی ڈھلان سے ہوتی ہوئی عین راجل تک پہنچی۔ پھر وہ شمال کی جانب مڑکر عینِ شمس سے گزرتی ہوئی جلیلوت تک گئی جو دومیم کے درہ کے سامنے ہے۔ وہاں سے وہ بنو روبیل ( روبن) کے بیٹے بوہن کے پھر تک اتر گئی۔ اور وہاں سے بیت اربع کے شمالی ڈھلان سے ہوتی ہوئی اربع میں جا اتری۔ پھر وہ سرحد بیت حجلہ کی شمالی ڈھلان سے ہوتی ہوئی دریائے شور کی شمال خلیج میں جا نکلی جو جنوب میں اردن کے دہانے پر واقع ہے۔ یہ بنو بن یامن کی جنوبی سرحد تھی۔ اور اس کی مشرقی سرحد اردن تک تھی۔بنو بن یامن کو شہر ملے ان میں سے چند خاص شہر اریحا( پریحو) بیت جملہ ، بیت ایل، جبعون، رامہ( اجکل نام راملہ ہے) ، بیروت ، مصفاہ ہیں۔

بنو شمعون کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے قبیلہ بنو شمعون کے لئے قرعہ اندازی کی تو ان کی میراث کا علاقہ بنو یہودا کے علاقہ کے درمیان نکل آیا۔ اور بنو شمعون کی میراث میں بیر سبع ، یا سبع، مولادہ ، حصار عول ، بالاہ ، عضم ، التولد، بتویل، حرمہ، صقلاج، بیت مرکبوت، حصارسوسہ، بیت لباﺅت، ساروحن، عین ، رمون ، عتر اور عسن نام کے شہر اور ان تمام شہروں کے دیہات بنو شمعون کی میراث ٹھہرے۔ قبیلہ بنو شمعون کی ان کے گھرانوں کے مطابق میراث یہی تھی۔ بنو شمعون کی میراث بنو یہودا کے حصہ سے لی گئی تھی۔ کیوں کہ بنو یہودا کا حصہ ان کی ضرورت سے زیادہ تھا۔ اسی لئے بنو شمعون نے اپنی میراث بنو یہودا کے علاقہ کے درمیان پائی۔

بنو زبولون کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے قرعہ اندازی کے بعد قبیلہ بنو زبولون کی جو سرحد مقرر کی وہ یہ تھی بنو زبولون کی سرحد سارید تک تھی۔ اور مغرب کی جانب جاتی ہوئی وہ مرعلہ تک پہنچی اور وباست کو چھوتی ہوئی اس وادی تک پہنچ جو یقنعام کے آس پاس ہے۔ سارید سے وہ مشرق کی طرف مڑ کر کِسلوت تبور کی سرحد تک گئی اور دبرت ہوتی ہوئی یفیع تک جا پہنچی۔ پھر یہ سرحد مشرق کی طرف بڑھتی ہوئی جتہ حیفر اورعتہ فاخین تک جا پہنچ اور رمون تک نکل آئی۔ اور پھر نیعہ کی طرف مڑی۔ وہاں سے یہ سرحد شمال کی جانب مڑ کر حناتون تک گئی اور افتاح ایل کی وادی میں ختم ہو ئی۔ قطات، نحلال، سمرون، ادالہ اور بیت سمیت بارہ شہروں اور ان کے دیہات بھی اس میں شامل تھے۔ یہ سب علاقہ بنو زبولون کی میراث ٹھہرا۔

بنو اشکار کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے قرعہ اندازی کے ذریعے قبیلہ بنو اشکار کو جو علاقہ دیا ۔ اس علاقے میں یہ شہر آئے۔ یزرعیل ، کسولوت، شونیم، حفاریم، شیون، اناخرات ، ربیت، قسیون، ابض، ریحت، عین ،جنیم، عین حدہ اور بیت فصیص شامل تھے۔ بنو اشکار کی سرحد تبور شخصیماہ اور بست شمس کو چھوتی ہوئی اردن پر جا کر ختم ہوئی۔ بنو زبولون کی میراث میں سولد شہر اور ان کے دیہات شامل تھے۔ یہ شہر اور ان کے دیہات بنو اشکار کے گھرانوں کے مطابق میراث ٹھہرے۔

بنو آشر کا حصہ 

حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد قبیلہ بنو آشر کے لئے قرعہ اندازی کی اور اس کے آشر جت کے لئے قرعہ اندازی کی۔ اور اس کے علاقے میں یہ شہر آئے۔ خلقت، حلی، بطن، اکشاف، الملک ، عماد اور مسال اور ان کے دیہات بھی شامل تھے۔ بنو آشر کے علاقے کی سرحد مغرب کی جانب کرمل اور سیحور لبنات تک پہنچی۔ پھر وہ مشرق کی جانب مڑ کر بیت دجون تک گئی اور زبولون اور افتاح ایل کی وادی کو چھوتی ہوئی اپنے بائیں جانب طرف کبول سے گزرتی ہوئی شمال کی جانب بیت العتیق اور نغی ایل تک پہنچی۔ پھر حبرون ( الخلیل) ، رحوب ، عمون اور قاناہ بلکہ بڑے میدا تک پہنچی۔ پھر وہ سرحد رامہ( راملہ) کی طرف مڑ کر فصیلدار شہر ضور تک چلی گئی۔ پھر حوسہ کی طرف مڑ کر سمندر تک پہنچی۔ جہاں اکزیب ، عمہ، افیق اور رحوب کا علاقہ ہے۔ اس طرح بائیس 22شہر اور ان کے دیہات بنو آشر کی میراث میں آئے۔

بنو نفتالی کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد قرعہ اندازی کر کے بنو نفتالی کا علاقہ متعین کیا۔ ان کے علاقے کی سرحد حلف اور ضعتیم کے بڑے بلوط سے ادامی نقب اور یبنی ایل سے ہوتی ہوئی لقوم تک گئی اور اردن پر جا کر ختم ہوئی۔ پھر وہ سرحد ازنوت تبور سے ہوتی ہوئی مغرب کی طرف گئی اور حقوق تک پہنچ گئی۔ اور جنوب میں زبولون کے علاقے تک اور مغرب میں آشر کے علاقے اور مشرق میں اردن تک پہنچی۔ ان کے شہر یہ تھے۔ صدیم، صیر ، حمات، رقت ، کزت، ادامہ، رامہ( راملہ) حصور، قادس، عی، عین حصور، ارون، مجد اایل، حریم، بیت عنات، اور بیت شمس ۔ یہ انتیس 29شہرا ور دیہات بنو نفتالی کی میراث میں آئے۔

بنو دان کا علاقہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد بنو دان کے لئے قرعہ اندازی کی ۔ ان کے علاقے میں جو شہر آئے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ صرعاہ، استاول، عیر شمس، شعلین، ایالون، اتلاہ، ایلون، تمناہ، عقرون، التقیہ، جنتون، بعلات،یہود، بنی برق ، جات رمون، مے یرقون ، رقون اور یافہ کے سامنے کا علاقہ شامل تھا۔ یہ تمام شہر اور علاقہ بنو دان کو میراث میں ملے۔لیکن بنو دان کو اپنے علاقے میں کافی دقت پیش آئی۔ اسی لئے انہوںنے وہاں سے کوچ کر کے لشم پر حملہ کیا۔ اور وہاں کے لوگوں سے جنگ کر کے انہیں قتل کر دیا اور لشم پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد بنو دان نے لشم میں ہی سکونت اختیار کر لی اور اپنے جد امجد دان کے نام پر اس کا نام دان رکھ دیا۔

بنو لاوی کے شہر

حضرت یوشع علیہ السلام جب ملک کنعان ( فلسطین) کا پورا علاقہ بنی اسرائیل میںبانٹ چکے تو بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو اپنے درمیان میراث دی۔ اور بنو افرائیم کے پہاڑی علاقوں میں سرح شہر انہیں دیا۔ اس کے بعد بنو لاوی کے سردار عیز ار کا ہن ( یہ حضرت ہارون علیہ السلام کا بیٹا ہے) اپنے قبیلے والوں کے ساتھ آیا اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ بنو لاوی کہاں رہیں گے؟ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے قبیلہ بنو لاوی سے ہیں) حضرت یوشع علیہ السلام نے یہ معاملہ بنی اسرائیل کے سامنے رکھا تو انہوںنے کہا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے ہمارے علاقوں میں سے انہیںرہائش کے لئے دیں۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے پہلا قرعہ عیزار کاہن اور اس کے گھرانوں کے لئے ڈالا ۔قرعہ اندازی کے بعد بنو یہودا ، بنو شمعون اور بنو بن یامن کے علاقوں میں سے دس شہر دیئے گئے۔ اسی طرح بقیہ بنو لاوی کو بنو روبیل ( روبن) ، بنو جد اور بنو بولون کے علاقوں میں سے بارہ شہر ملے۔ اور ان کی چراہ گاہیں دی گئیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

 

08 حضرت یوشع علیہ السلام Story of Prophet yosha


08 حضرت یوشع علیہ السلام

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر13

قسط نمبر 8

مشرقی قبیلوں کی اپنے علاقے میں واپسی

حضرت یوشع علیہ السلام نے جب تمام بنی اسرائیل کے علاقے بانٹ دیئے تو اُن ڈھائی قبیلوں یعنی بنو روبیل ( روبن) ، بنو جد اور بنو یوسف ( یعنی بنو منسی) کا آدھا قبیلہ جن کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اردن کے پار کے علاقے دیئے تھے۔ ان سے فرمایا۔ تمہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو حکم دیا تھا۔ تم سب نے اس پر عمل کیا اور اپنے بھائیوں یعنی بقیہ بنی اسرائیل کی ہر طرح سے مدد کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو خدمت تمہارے ذمہ لگائی تھی اسے پورا کیا۔ اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائیوں کو اپنے وعدہ کے مطابق آرام بخشا۔ اب تم اردن کے اس پار اپنے علاقے میں جو تمہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیا تھا چلے جاﺅ۔ لیکن خیال رہے کہ تم توریت کے احکام اور شریعت پر ہمیشہ عمل کرتے رہنا۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تمہیں دی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا ، اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا۔ اور اس کے احکامات کو اپنانا اور ان سے لپٹے رہنا۔ اور اپنے سارے دل سے اور ساری جان سے اللہ کے دین ( اسلام) کے مطابق عمل کرنا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس ڈھائی قبیلے کو جو علاقہ دیا تھا وہ لوگ اپنے اس علاقے میں چلے گئے۔ بنو یوسف میں دو گھرانے بنو منسی اور بنو فرائیم وجود میں آگئے تھے۔ آدھا قبیلہ بنو منسی کو جو علاقہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دیا تھا اس کے بازو میں حضرت یوشع علیہ السلام نے اُن کے بقیہ آدھے قبیلے بنو افرائیم کو علاقہ دیا۔

حضرت یوشع علیہ السلام کا آخری خطبہ

حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے تمام قبائل کو ان کے علاقے دے کر انہیں وہاں رہائش اختیار کرنے میں بھر پور مد د دی۔ اور اسلامی حکومت قائم کر کے اللہ کے قانون کے مطابق نظامِ حکومت چلاتے رہے۔ آپ علیہ السلام نے پورے ملک کنعان اور جہاں بنی اسرائیل آباد تھے۔ ان تمام علاقوں کا انتظام بہت خوبی سے چلایا ۔ اور برسوں تک اسلامی حکومت چلاتے رہے۔ آپ علیہ السلام کی حکومت میں بنی اسرائیل بڑے سکون سے رہے۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام نے آس پاس کے ممالک کے کافروں اور مشرکوں کو بڑی خوبی سے اپنے قابو میں کیا ہوا تھا۔ جب آپ علیہ السلام کی عمر مبارک زیادہ ہو گئی۔ اور ضعیفی اور کمزوری آگئی تو آپ علیہ السلام نے پوری اسلامی حکومت میں بنی اسرائیل کے تمام بارہ قبیلوں میں اعلان کر وا دیا کہ فلاں دن تمام بنی اسرائیل فلاں میدان میں جمع ہو جائیں۔ اعلان کے مطابق تمام بنی اسرائیل اور ان کے تمام بزرگ اور تمام امراءاور تمام قاضی اور عہدے دار جمع ہو گئے۔ تب آپ علیہ السلام ایک پہاڑی پر کھڑے ہو ئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا۔ میں نے تم لوگوں کو اس لئے بلایا ہے کہ تم دیکھ رہے ہو کہ میں عمر رسیدہ اور ضعیف ہو چکا ہوں ۔ تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کے خلاف کس طرح تمہاری مدد کی۔ اور اس نے تمہیں اردن سے لے کر مغرب میں بڑے سمندر ( بحر اوقیانوس) تک کا سارا علاقہ تمہیں عطا فرمایا۔ اور میں نے قرعہ اندازی کے ذریعے تمہیں وہ وسیع علاقہ تقسیم کیا۔

اللہ کی بندگی کا حکم

حضرت یوشع علیہ السلام نے اس کے بعد اپنا خطبہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔ اے بنی اسرائیل ، تم میرے بعد ہمت سے کام لینا۔ اور جو کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نازل ہوئی کتاب توریت میں لکھا ہے اس پر ادھر ادھر مڑے بغیر خلوص سے عمل کرتے رہنا۔ اور وہ کافر قومیں جو تمہارے آس پاس اور تھوڑی بہت تمہارے درمیان رہتی ہیں۔ ان کے مذہب کے تعلق سے ان سے کوئی ربط و ضبط نہیں رکھنا۔ ان کے معبودوں کی عبادت نہیں کرنا بلکہ ان سے بیزاری ظاہر کرنا۔ ان کے معبودوں کو قسم نہیں کھانا۔ اور ان کے معبودوں کی عبادت اور سجدہ نہیں کرنا۔ بلکہ تم صرف ایک اللہ وحدہ لا شرک کی ہی عبادت اور بندگی اور سجدہ کرنا۔ جیسا کہ آج تک میرے ساتھ کرتے آئے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی اور تمہارے سامنے بڑی بڑی زور آور طاقتور قوموں کو پسپا کیا ہے۔ اور آج کوئی ملک ، کوئی بادشاہ اور کوئی شخص تمہارے سامنے ٹھہر نہیں سکاہے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد تمہارے ساتھ تھی۔ اسی لئے ہمیشہ اپنے دل میں اللہ کی محبت قائم رکھنا۔ اور اس کے غضب اور عذاب سے ڈرتے رہنا۔ اور اسلام پر سختی سے قائم رہنا۔

تب اللہ کا غضب بھڑکے گا اور ذلیل ہو جاﺅ گے

حضرت یوشع علیہ السلام نے اپنے خطبے میں آگے فرمایا۔ لیکن اگر تم گمراہ ہو جاﺅ گے۔ اور ان کافر قوموں سے مذہبی میل جول کر لوگے۔ اور ان کے ساتھ شادی بیاہ رچالو گے اور ان سے راہ و رسم بڑھا لو گے۔ تو یقین جانو اللہ تعالیٰ ان کافروں کو تم پر حاوی کردے گا۔ اور وہ تمہارے لئے جلال او پھندا اور تمہاری آنکھوں کے کانٹے بن جائیں گے۔ اور دھیرے دھیرے تم اس ملک میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ اس ملک میں نابود ہو جاﺅ گے۔ اب میں آج اسی راستے پر جانے والا ہوں۔ جس راستے پر ہمارے باپ دادا حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف اور حضرت موسیٰ علیہم السلام چلے گئے ہیں۔ اور تم یہ اچھی طرح جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جو بھی وعدہ کیا اسے پورا کیا۔ اب اگر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہر وعدہ تم سے پورا کرنے کے بعد تمہیں نافرمانی ، گمراہی، کفر و شرک میں مبتلا دیکھے گا تو اس کا غضب ( غصہ انسانی فطرت کا حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سمجھ بوجھ کر غضب ہوتا ہے) تم پر بھڑک اٹھے گا۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد ( اسلام اور ہر حالت میں صرف اللہ کی عبادت ) کو توڑدو گے اور جا کر دوسرے معبودوں کی عبادت کرنے لگو گے اور ان کے آگے سجدہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر غضب ناک ہو جائے گا۔ اور اس نے تمہیں جو ملک دیا ہے اس میں سے تمہیں نیست و نابود کر دے گا۔ یعنی نکال دے گا۔

بنی اسرائل سے عہد لینا

حضرت یوشع علیہ السلام نے اپنے خطبے میں آگے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہارے جداعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت اور نبوت سے سرفراز فرمایا اور انہیں ملک کنعان میں بسایا۔ اسے حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہم السلام عطا فرمائے۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو فاران کے پاس حرم شریف( مکہ مکرمہ ) میں بسایا۔ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو عیصو( عیسو) اور حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے۔ اور عیصو کو کوشعیر کا پہاڑی ملک دیا۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں کو مصر میں بسایا۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتا ہے۔ پھر میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو تمہارے پاس بھیجا۔ اور ان دونوں کے ساتھ تمہیں مصر سے نکال لایا۔ اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سزا دی۔ پھر تمہارے باپ دادا نے نافرمانی کی اور میرے لئے ( اللہ کے لئے ) لڑنے سے انکار کر دیا۔ تب انہیں چالیس سال بھٹکنے کی سزا ملی۔ پھر میں نے تمہیں یہ ملک عطا فرمایا۔ اب تم اس ملک میں سکون سے رہتے ہو۔ اور تم کو وہ شہر عنایت فرمائے جو تم نے نہیں تعمیر کئے تھے۔ اور آج تم ان میں بسے ہوئے ہو۔ اور نخلستانوں اور کھیتوں اور زیتون کے باغوں کے پھل کھاتے ہو جو تمہارے لگائے ہوئے نہیں ہیں۔ اس لئے اب تم نہایت وفاداری سے صرف میری عبادت کرو۔ اور ان معبودوں کو پھینک دو جن کی عبادت تمہارے باپ دادا دریاکے اس پار مصر میں کرتے تھے۔ اس کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اور میر اگھر انہ تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے۔تب بنی اسرائیل کے تمام لوگوں نے کہا۔ ہم بھی صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے۔ کیوں کہ وہی ہمارا معبود ہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم شرک کرنے لگو تو اللہ تعالیٰ تمہارے شرک سے پاک ہے۔ وہ غیّور معبود ہے۔ پھر وہ تم پر آفت نازل کرے گا۔ اور تمہارا قتل عام کرائے گا۔ اور تمہیں بکھیر کر رکھ دے گا۔ تمام بنی اسرائیل نے ایک زبان ہو کر کہا۔ ہم عہد کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کریں گے اور اس کے احکامات پر ہی عمل کریں گے۔ تب حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تم اپنے آپ پر کود ہی گواہ ہو کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کرنے کو پسند کیا ہے۔ تما م بنی اسرائیل نے کہا۔ ہاں، ہم گواہ ہیں۔ تب حضرت یوشع علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔اے اللہ تعالیٰ، تو بھی گواہ رہنا۔

حضرت یوشع علیہ السلام کا وصال

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک ننانوے 99سال تھی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ساتھ مل کر لگ بھگ 8یا 10یا12یا 15سال تک جنگ کر کے پورے ملک کنعان کو فتح کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق قرعہ اندازی کر کے بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کو اس ملک میں بسایا۔ اور اسلامی حکومت قائم کی۔ اور بنی اسرائیل کی تربیت کرتے رہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل بیت المقدس کو فتح کر کے اس میں متمکن ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق ان کی تربیت فرمائی۔ ایک عرصے تک آپ علیہ السلام ان کے درمیان فیصلے فرماتے رہے۔ آخر کار جب آپ علیہ السلام کی عمر مبارک 126برس کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوارِ رحمت میں بلا لیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وصال کے بعد آپ علیہ السلام 26سال زندہ رہے۔

اگلی کتاب

حضرت یوشع علیہ السلام کے حالات مکمل ہوئے ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت یونس علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔

    ٭........٭........٭

 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں