پیر، 15 مئی، 2023

12 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



12 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 12

فرعون اور اس کے لشکر کی ہلاکت

حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل کے ساتھ بحر قلزم پار کر چکے تھے۔ اب حالت یہ تھی کہ دریا کے اس پار آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ کھڑے تھے اور اس پار فرعو ن اپنے لشکر کے ساتھ کھڑا تھا۔ اور درمیان میں دریا کا پانی پہاڑوں کی شکل میںکھڑا تھا اور دریا میں بارہ راستے بنے ہوئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریا پر اپنا عصا مارنا چاہا تا کہ پانی برابر ہو جائے اور فرعون اور ا سکا لشکر دریا پار نہ کر سکے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، ابھی رک جاﺅ اور انتظار کرو۔ فرعون نے جب دیکھا کہ تمام بنی اسرائیل دریا پار کر چکے ہیں اور وہ بچ کر نکل جائیں گے تو اس نے فوراً اپنے لشکر کو حکم دیا کہ دریا میں بنے بارہ راستوں میں اتر جائیں اور بنی اسرائیل کو پکڑ لیں۔ یہ حکم دے کر وہ خود بھی دریا میں اتر گیا اور دھیرے دھیرے فرعون کا پورا لشکر دریا میں اتر گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ اے موسیٰ( علیہ السلام )، اپنا عصا اب دریا پر مارو۔ حکم سنتے ہی آپ علیہ السلام نے اپنا عصا دریا پر مارا۔ فوراً پانی کے بڑے بڑے پہاڑ ایک دوسرے سے مل گئے اور بہت ہی زبر دست موجیں پید اہو گئیں۔ جس میں فرعون کا پورا لشکر غرق ہو گیا۔ اور ایک بھی نہیں بچ سکا ۔ اس روز فرعون گھوڑے پر سوار تھا۔ جبرئیل علیہ السلام تینتیس 33فرشتوں کے ساتھ اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور سب فرعون کے لشکر میں پھیل گئے۔ جبرئیل علیہ السلام لشکر کے اگلے حصے میں تھے اور میکائیل علیہ السلام فرعون کے لشکر کے پچھلے حصے میں تھے۔ جب فرعون نے سمندر میں بارہ راستے دیکھے تو اس نے کہا۔ اے لوگو، تم نے دیکھا کہ سمندر میں راستے بن گئے اور مجھ سے ڈر گیا ہے۔ یہ میرے لئے کھولا گیا ہے تا کہ میں اپنے دشمنوں کو پکڑ لوں اور انہیں قتل کر دوں ۔ جب فرعون کے لشکر راستوں کے منہ پر جا پہنچے تو ان کی ہمت نہیں کی۔ یہاں تک کہ جبرئیل علیہ السلام اپنی گھوڑی کو لے کر دریا میں بنے راستے میں داخل ہو گئے تو ان کی دیکھا دیکھی فرعون اور اس کا لشکر بھی دریا میں بنے راستوں میں اترنے لگا۔ جبرئیل علیہ السلام آگے آگے تھے اور فرعون ان کے پیچھے پیچھے تھا۔ اس کے لشکر میں موجود فرشتے ، آگے بڑھو، آگے بڑھوکی آواز لگا تے جا رہے تھے۔ اور سب سے پیچھے میکائل علیہ السلام مسلسل آواز لگا کر فرعون کے لشکر کو دریا میں بنے راستوں میں اترنے کے لئے اکسا رہے تھے۔ اور آواز لگا رہے تھے۔ جب فرعون کے لشکر کا آخری آدمی بھی دریا میں بنے راستوں میں اتر گیا تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو حکم دیا اور وہ آپس میں مل گیا اور فرعون اور اس کا لشکر ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ 

فرعون کا ایمان قابل قبول نہیں ہے

اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار کر دیا۔ پھر ان کے پیچھے پیچھے فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے چلا یہاں تک کہ جب ڈوبنے لگا تو کہنے لگا کہ میں ایمان لاتا ہوں اس پر کہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔ ( جواب دیا گیا) اب ایمان لاتا ہے؟ اور پہلے سر کشی کرتا رہا اور مفسدوں میں داخل ہو رہا تھا۔ سوآج ہم صرف تیری لاش کو نجات دیں گے تا کہ تو ان کے لئے عبرت کا نشان ہو۔ جو تیرے بعد ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آدمی ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ “( سورہ یونس آیت نمبر90سے92) جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں یعنی بنی اسرائیل میں سے آخری آدمی دریا پار کر نکل گیا اور فرعون کے ساتھیوں میں سے آخری آدمی بھی دریا میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہاڑوں کی طرح کھڑا پانی آپس میں منل گیا۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تمام بنی اسرائیل دریا کے اس پار کھڑے فرعون اور اس کے لشکر کو غرق ہوتے دیکھ رہے تھے۔ فرعون جب ڈوبنے لگا تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے لگا۔ ایسے وقت میں جبرئیل علیہ السلام اس کے قریب ہی تھے ۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ فرعون یہ کہہ رہا ہے تو آپ علیہ السلام نے کیچڑ اٹھا کر اس کے منہ میں بھرنی شروع کر دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جبرئیل علیہ السلام نے مجھ سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کاش آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس وقت دیکھتے جب میں اس ڈر سے دریا کے اندر سے کیچڑ نکال نکال کر فرعون کے منہ میں ٹھونس رہا تھا کہیں اسے اللہ کی رحمت نہ پالے۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کبھی بھی کسی پر اتنا غضب ناک ( انسانوں کے لفظ غصہ استعمال ہوتا ہے ) نہیں ہوا۔ جتنا کہ وہ فرعون پر اس وقت غضبناک ہو جب جاس نے کہا تھا کہ ”میں تونہیں جانتا کہ تمہار امیرے علاوہ کوئی اور خدا ہے۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر38) اور جب اس نے خدائی دعویٰ کیا اور کہا۔ ”میں تمہارا سب سے بڑا رب ( خدا ) ہوں۔“ ( سورہ النازعات آیت نمبر24) اسی لئے جب وہ غرق ہونے لگا تو مدد مانگنے لگا۔ اورمیں نے اس کے منہ میں جلدی جلدی کیچڑ ڈالنی شروع کر دی۔ اس ڈر سے کہ کہیں اس پر اللہ کی رحمت نہ آجائے۔

فرعون کی لاش قیامت تک کے لوگوں کے لئے عبرت کی نشانی

اللہ تعالیٰ نے سورہ یونس میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) آج ہم صرف تیری لاش کو نجات دیں گے تا کہ تو اُن لوگوں کے لئے عبرت کا نشان ہو۔ جو تیرے بعد ( آنے والے ) ہیں۔“ ( سورہ یونس آیت نمبر92) اللہ تعالیٰ نے فرعون کو دھتکار دیا۔ اور مرتے وقت کی توبہ کو قبول نہیں فرمایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام دریا کے کنارے تمام بنی اسرائیل کے ساتھ کھڑے فرعون اور اس کے لکشر کو غرق ہوتے دیکھ رہے تھے۔ لیکن بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے آپ علیہ السلام سے فرمایا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ فرعون غرق ہو گیا ہے۔ یہ بنی اسرائیل کی بد بختی تھی کہ وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات کا یقین نہیں کر رہے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ بنی اسرائیل کو فرعون کی لاش دکھلا دے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور کئی دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو شک گذراکہ شاید فرعون ابھی بھی زندہ ہے۔ حتی کہ بعض لوگ تو یہاں تک کہنے لگے کہ فرعون مرے گا ہی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو اس نے فرعون کی لاش بلندی پر اچھا دی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرعون کی لاش پانی کی سطح کے اوپر آگئی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ لہروں نے اسے خشکی کے ایک ٹیلے پر پھینک دیا۔ فرعون کے جسم پر ابھی تک زرہ تھی۔ جس سے بنی اسرائیل نے پہچان لیا۔ یہ اس لئے ہوا تا کہ بنی اسرائیل کو فرعون کی ہلاکت کا یقین آجائے۔ اور وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اس کے خلاف صادر ہو چکا ہے ۔ اسی لئے فرمایا۔ ” آج ہم تیرے جسم کو بچا لیں گے تا کہ تیر جس ان لوگوں کے لئے عبرت کی نشانی بن جائے جو تیرے بعد ( آنے والے ) ہیں۔“ فرعون کی لاش آج بھی ترکی کے ایک میوزیم میں رکھی ہوئی اور قیامت کے لئے آنے والے انسانوں کے لئے عبرت کی نشانی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ فرعون کی لاش ساڑھے تین ہزار 3500سال سے زیادہ کا عرصہ ہو جانے کے باجود بھی سڑی یا خراب نہیں ہوئی ہے۔ اور ویسی ہی ہے ۔ حالانکہ انسان جب کسی کی لاش کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے تو اس کے پیٹ کے اندر کی تمام آلائش کو نکال کر اسے مسالہ لگا کر حنوط کر کے ممی بنا کر رکھتے تھے۔ اور اسے ہوا سے بھی محفوظ رکھتے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود اس لاش کی حالت بد ل جاتی تھی۔ اور ہوا لکتے ہی وہ اور زیادہ خراب ہونے لگتی تھی۔ لیکن فرعون کی لاش کو نہ تو مسالہ لگایا گیا ہے اور نہ ہی حنوط کیا گیا اور نہ ہی ممی بنایا گیا ہے۔ اس کے باوجود وہ خراب نہیں ہو رہی ہے۔ اور لوگ اس کو دیکھ کر عبرت حاصل کر رہے ہیں اور قیامت تک آنے والے لوگ اسے دیکھ کر عبرت حاصل کرتے رہےں گے۔

بنی اسرائیل کی عجیب خواہش

حضرت موسیٰ علیہ السلام دریائے قلزم پار کرنے کے بعد جزیرہ نما ئے سینا یعنی صحرائے سینا میں داخل ہوئے اور اس وقت کے ملک کنعان اور حالیہ فلسطین کی طرف آگے بڑھے۔ کیوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو وہیں دفن کر نا تھا ۔ راستے میں ایک قبیلہ کی بستی سے گزرے ۔ اس بستی کے لوگ بتوں کی پوجا کر رہے تھے اور بتوں کے سامنے آسن جمائے بیٹھے تھے یہ دیکھ کر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ عجیب اور بے وقوفی والی فرمائش کی اور کہا ۔ آپ علیہ السلام بھی ہمارے لئے ایسا ہی خدا بنا دیں۔ جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ جاہل، بے وقوف اور نا سمجھ لوگ ہو۔ یہ لوگ جو کام کر رہے ہیں ا سکی وجہ سے یہ لوگ تباہ ہو جائیں گے۔ اور جو حرکت( یعنی شرک) یہ لوگ کر رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ در اصل جس بت کی وہ پوجا کر رہے تھے وہ ایک گائے کا بُت تھا۔ بنی اسرائیل سینکڑوں برس مصر میں رہے تھے۔ اور مصریوں ( قبطیوں ) کو گائے کے بت کی پوجا کرتے دیکھتے تھے۔ حالانکہ بنی اسرائیل نے مصر میں کبھی اس بت کی پوجا نہیں کی لیکن سینکڑوں برس غیر مسلموں کے ساتھ رہتے ہوئے وہ لوگ بھی گائے سے متاثر ہو گئے تھے۔ جس کا پہلا ثبوت یہ پہلا واقعہ ہے۔ ابھی آگے بیل کے بت کی پوجا اور گائے کو ذبح کرنے میں ہچکچاہٹ کے واقعات بھی پیش آئیں گے۔ در اصل یہ دنیا کا قاعدہ اور انسانی فطرت ہے کہ محکوم قوم سینکڑوں برس تک حاکم قوم کے ساتھ رہتے رہتے ان سے اور ان کے رسم و رواج اور مذہبی معاملات سے متاثر ہوتی جا تی ہے۔ جیسا کہ ہم ہندوستان کے مسلمان آج ہندو قوم کے مذہبی معاملات اور رسم و رواج سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ہندو قوم خوشیوں کے مواقع پر پٹاخے پھوڑتے اور آتش بازی کرتے ہیں۔ آج ہماری نوجوان نسل نے اس رسم کو اپنا لیا ہے اور خوشی کے مواقع پر پٹاخے پھوڑتے اور آتش بازی کر کے خوش ہوتے ہیں۔ حیرت اور عبرت کا مقام ہےکہ نکاح جیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سنت کو بھی ادا کرتے وقت میں ہندو قوم کی طرح پٹاخے پھوڑتے ہیں اور مساجد کا احترام بھی نہیں کرتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی قرآن پاک مثال پیش کی ہے کہ وہ لوگ اس طرح گمراہ ہوئے تھے۔ اور مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ تم ایسا مت کرنا۔ ورنہ ان کی طرح تم بھی ذلیل ہو جاﺅ گے۔ یہ ہم مسلمانوں کے علمائے کرام، بزرگوں اور نوجوانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ بنی اسرائیل کی اس عجیب فرمائش کے بارے میں اللہ تعالیٰ سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے ( یہ دیکھ کر بنی اسرائیل ) کہنے لگے ۔ اے موسیٰ علیہ السلام ہمارے لئے بھی ایک ایسا معبود مقرر کر دیں جیسے ان کے معبود ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے۔ یہ لوگ جس کام میں لگے ہوئے ہیں یہ انہیں تباہ کر دے گا۔ اور ان کا یہ کام محض بے بنیاد ہے۔ اور فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو تمہارا معبود تجویز کر دوں ؟ حالانکہ اس نے تم کو تمام جہان والوں پر فوقیت دی ہے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر138سے 140تک)

کوہِ طور پر چالیس راتیں

حضرت موسیٰ علیہ السلام ، بنی اسرائیل کے ساتھ فلسطین کا سفر کر رہے تھے۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کا سنگ مرمر کا تابوت ساتھ میں تھا۔ آپ علیہ السلام کو حبرون یعنی الخلیل میں دفن کرنا تھا۔ اور بیت المقدس میں بنی اسرائیل کو آباد کرنا تھا۔ لیکن راستے میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) نے عجیب سی فرمائش کی ۔ اسی لئے جب کوہِ طور کے پاس پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو حضرت ہارون علیہ السلام کی نگرانی میں چھوڑ کر چالیس راتوں کے لئے کوہِ طور پر آﺅ۔ وہاں ہم شریعت عطا فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا ۔ پھر تم نے ( بنی اسرائیل نے ) اس کے بعد بچھڑا پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر51) مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ فرعون اور اس کے لشکر کی تباہی کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرما دی۔ اب رب العالمین کی حکمت کا بھی یہی تقاضہ تھا اور قوم بنی اسرائیل بھی یہی چاہتی تھی کہ ان کو مستقل شریعت یا مستقل کتاب عطا کر دی جائے۔ تا کہ وہ اس پر عمل کر کے اس کو زندگی کا دستور العمل بنا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب و شریعت عطا کرنے کے لئے تیس راتوں تک کوہِ طور پر رہنے کا حکم فرمایا۔ تیس راتیں گزرنے کے بعد ان میں دس راتوں کا اضافہ کر کے چالیس کر دیا گیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ امام ابن جریر طبری لکھتے ہیں کہ امام ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کر دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اس نے نجات دے دی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تیس راتوں کا وعدہ لیا۔ پھر مزید دس راتوں سے اسے پورا فرمایا۔ ان راتوں میں آپ علیہ السلام نے اپنے رب سے ملاقات کی ۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کو بنو اسرائیل پر خلیفہ بنایا اور فرمایا۔ میں اپنے رب کے پاس جلدی میں جا رہا ہوں۔ تم میرے خلیفہ ہو اور مفسدوں کی پیروی نہ کرنا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کے شوق میں جلدی چلے گئے۔ حضرت ہارون علیہ السلام قائم مقام ہوئے اور سامری بھی ان کے ساتھ رہا ۔ ابو العالیہ نے بیان کیا ہے۔ یہ مدت ایک مہینہ پورا ذی القعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن تھے۔ اس مدت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے اصحاب کو چھوڑ کر چلے گئے اور حضرت ہارون علیہ السلام کو ان پر خلیفہ بنایا۔ اور کوہِ طور پر چالیس راتیں ٹھہرے اور ان پر زمرد کی الواح میں توریت نازل کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قریب کر کے سر گوشی کی اور ان سے ہمکلام ہوا۔ اور آپ علیہ السلام نے قلم کے چلنے کی آواز سنی اور ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان چالیس راتوں میں وہ بے وضو نہیں ہوئے حتیٰ کہ کوہِ طور سے واپس آگئے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ جب دریا پار ہو کر غرق فرعونی کا نظارہ کرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہمراہی میں تمام بنی اسرائیل ملک فلسطین کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں ایک مندر کے خوب صورت بت اور اس کے پجاریوں کو دیکھ کر کچھ شر پسند ( بنی اسرائیلیوں ) نے اپنی پرانی غلامانہ زندگی کے تاثر کے تحت حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم کو بھی کوئی اسی قسم کا معبود بنا دو۔ آپ علیہ السلام نے سخت جھڑکا ۔ تب بنی اسرائیل کے نیک بزرگوںنے عرض کیا۔ یا رسول اللہ علیہ السلام ، ہم کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب دلادیں۔ جس میں عبادت اور دنیاوی زندگی گزارنے کا ایمانی طریقہ لکھا ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا ۔ تب اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ تم کو کتاب عطا فرمادی جائے گی۔ مگر شرط یہ ہے کہ تیس روزے رکھو گے اور اتنے ہی دن اعتکاف میں رہو گے پھر میرے پاس طور پر آنا توریت دے دی جائے گی۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

13 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


13 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 13

سامری نے بچھڑے کا بت بنایا 

حضرت موسیٰ علیہ السلام دریا پار کرنے کے بعد جب بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں جزیرہ نمائے سینا میں زیورات بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے سفر کرنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ یہ زیورات بنی اسرائیل نے چلتے وقت قبطیوں سے ادھار لئے تھے۔ کوہِ طور کے قریب پہنچنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یا حضرت ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ سونے چاندی کے تمام زیورات ایک گڑھا کھود کر دفن کر دو۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ یہیں رکو اور کوہ طور پر چلے گئے۔ سامری نے اس گھڑھے کو کھوداکر تمام زیورات نکال لئے اور انہیں پگھلا کر بچھڑے کا بت بنایا اور اس بت کو ایک چھوٹی سے پہاڑی پر رکھ دیا۔ وہ بت اندر سے کھوکھلا تھا اس لئے جب ہوا اس کے اندر سے گھس کر نکلتی تھی تو ایسی آواز آتی تھی جیسے گائے یا بیل چلا رہا ہو۔ جب اس میں سے آواز نکلنے لگی تو بنی اسرائیل چونک پڑے اور دوڑتے ہوئے پہاڑی کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ اس بت سے آواز نکل رہی ہے۔ وہ حیران ہو گئے۔ سامری نے ان سے کہا۔ یہ تمہار ا معبود ہے۔ بنی اسرائیل میں سے بہت سے لوگ اس بت کی پوجا کرنے لگے۔ حضرت ہارون علیہ السلام اور بقیہ بنی اسرائیل نے بہت سمجھایا۔ لیکن وہ نہیں مانیں اور بچھڑے کی پوجا کرتے رہے۔

سامری کی پرورش

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جو بنی اسرائیل نے ہجرت کی اور دریا پار کیا تھا۔ ان میں ایک منافق بھی تھا۔ جس کا لقب سامری تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ جب فرعون اور اس کا لشکر دریا پر پہنچے تو فرعون سیاہ گھوڑے پر سوار تھا۔ اس کا گھوڑا دریا میں داخل ہونے سے ڈر گیا۔ پس جبرئیل امین علیہ السلام اپنی گھوڑی لے کر اس کے گھوڑے سے آگے نکلے تو گھوڑا بھی اس کے پیچھے دریا میں داخل ہو گیا۔ سامری نے جبرئیل علیہ السلام کو پہچان لیا کیوں کہ جب اس کی ماں کو اس کے ذبح ہونے کا اندیشہ ہوا تو اس نے اسے ایک غار میں چھپا دیا تھا اور بھول گئی تھی۔ جبرئیل علیہ السلام اس کے پاس آتے تھے اور اسے ایک انگلی سے دودھ ، دوسری انگلی سے شہد اور تیسری انگلی سے شہد کی غذا دیتے تھے۔ اس طرح وہ پرورش پاتا رہا حتیٰ کہ وہ بڑا ہو گیا۔ جب سامری نے جبرئیل علیہ السلام کو دریا میں دیکھا تو پہچان لیا۔ فرعون اور اس کے لشکر کے غرق ہو جانے کے بعد جب جبرئیل علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اجازت لے کر جانے لگے تو سامری کچھ دور ان کے پیچھے گیا اور ان کے گھوڑی کے پیر جہاں پڑے تھے وہاں کی مٹی اٹھا کر رکھ لی۔ اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اس مٹی کو جس چیز پر ڈالے گا اور پھر اسے کن یعنی ہو جا کہے گا تو وہ ہو جائے گی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر چلے گئے تو بنی اسرائیل نے جو زیورات پھینک دیئے تھے۔ سامری ان زیورات کے پاس گیا اور مٹی اُن زیورات پر ڈال کر کہا کہ تو ایسا بچھڑے کا ڈھانچہ بن جا جو گائے کیطرح ڈکارتا بھیہو۔ پس وہ اسی طرح بن گیا۔ ہوا اس کے پچھلے حصے میں داخل ہو کر منہ سے نکلتی تو اس کے منہ سے آواز نکلتی تھی۔ اس نے بنی اسرائیل سے کہا۔ یہ تمہاا خد اہے اور موسیٰ علیہ السلام کا بھی خدا ہے۔ پس وہ جم کر بیٹھ گئے اور اس کی عبادت شروع کر دی۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم، تم اس کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کئے گئے ہو۔ تمہار ا رب تو بے حد مہربان ہے۔ تم میری بات مانو اور میرے حکم کی پیروی کر و۔ انہوں نے کہا۔ ہم تو اسی پر جمے رہیں گے۔ حتیٰ کہ موسیٰ (علیہ السلام )ہماری طرف لوٹ کر آجائیں۔ 

سامری کون تھا؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہِ طور پر جانے کے بعد سامری نے بنی اسرائیل کو فتنہ میں مبتلا کر دیا۔ یہ سامری کون تھا؟ اس کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ سامری لفظ کے بارے میں تین قول ہیں۔ (1) بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے ایک قبیلے کا نام سامری یا سامریہ ہے۔ (2) سامری ایک الگ قوم ہے جو ایک قبطی قوم سامرہ کی اصل اولاد سے منسوب ہے۔ (3) سامر عراق کے قریب فلسطینی حدود میں ایک علاقے کا نام تھا۔ موجودہ اسرائیلی حکومت کا دارالخلافہ ” تل ابیب“ اسی علاقے میں ہے۔ ان نسبتوں سے اس قبطی منافق کو سامری کہا گیا ۔ یہ اس کا ذاتی نام ۔نہیںہے بلکہ قومی یا وطنی نام ہے۔ قبطیوں یا اسرائیلیوں میں سے صرف یہی ایک منافقانہ مسلمان بنا تھا۔ سامری جادوگر ایک خاندانی زرگر ( سُنار ) تھا۔ اس نے زر گری مکارانہ تدبری ، تقریر اور صنعت کاری سے قوم کو گمراہ کر دیا۔ سامری لقب کا پورے بنی اسرائیل میں یہی ایک شخص تھا۔ یہ قبطی نسل کا تھا۔ اس کا باپ ظفر نام کا یک قبطی تھا۔ جس نے خفیہ طور پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ اور ایک اسرائیلی ( یہودی) عورت سے شادی کر لی تھی۔ جس سے سامری پیدا ہوا ۔ یہ باپ کی طرف سے قبطی اور ماں کی طرف سے اسرائیلی تھا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتےہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ یہ قتل والے سال پیدا ہوا تھاتو اس کی ماں نے اسے جنگل میں لے کر چھپا دیا اور بھول گئی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل نے اس کی پرورش کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تین انگلیوں کے ذریعے اسے غذا پہنچائی۔ کچھ عرصے بعد جب یہ تھوڑا بڑا ہو ا تو اس کی ماں اسے گھر لے آئی۔ اس کا آبائی مکان حضرت موسیٰ علیہ السلام کے گھر کے پڑوس میں تھا۔ اس کی ماں نے بھی اس کا نام موسیٰ رکھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کیوجہ سے اس کا نام موسیٰ بن ظفر ہوا۔ اس کا باپ بچپن میں مر گیا تھا۔ یہ سامری جب جوان ہوا تو فرعون کے دربار تک رسائی حاصل کی اور فرعون نے جادوگروں کے ساتھ اسے بھی جادوگری کےلئے منتخب کر لیا۔ اس کا خاندانی پیشہ زر گری( زیورات بنانا) تھا۔ یہ زر گر سے جادو گر بن گیا۔ جب تمام جادو گر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہار گئے اور اسلام قبول کر لیا تو تین جادوگر فرعون کے ڈر سے بھاگ گئے تھے۔ ان میں سے ایک سامری تھا۔ آپ علیہ السلام نے جب رات میں خفیہ طور سے نکلنے کا اعلان فرمایا تو یہ اپنی ماں کے ساتھ بنی اسرائیل میں شامل ہو کر دریا پار کر گیا۔ اس کے باپ کے خاندان والے گائے کی پوجا کر تے تھے۔ اور یہ ان سے بہت متاثر تھا۔ جب کہ ماں اسے اسلام کی دعوت دیتی تھی۔ اس کے بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ (1) یہ اسرائیلی قبیلہ سامرہ میں سے تھا۔ (2) یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سگی خالہ یا پھوپھی کا بیٹا تھا۔ (3) یہ آپ علیہ السلام کے چچا کا بیٹا تھا۔ (4) یہ کرمانی زرگر کا بیٹا تھا جو کرمان سے آکر بنی اسرائیل میں شامل ہو گیا تھا مگر یہ منافق رہا۔ (5) یہ علاقہ موصل کے باجرما قبیلے سے تھا اور اس کا اصل نام موسیٰ بن ظفر تھا۔ اور سامری لقب تھا۔ 

بچھڑے کی پوجا

حضرت موسیٰ علیہ السلام ابھی کوہ طور سے واپس نہیں آئے تھے کہ سامری نے بچھڑے کا بت بنا کر پیش کر دیا۔ اور اس کی وجہ سے اچھے خاصے اسرائیلی شرک میں مبتلا ہو گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فرمایا تھا کہ چالیس دنوں کے لئے جا رہا ہوں اور تمہارے لئے کتابِ شریعت لے کر آﺅں گا۔ مفتی احمد یا رخان نعیمی لکھتے ہیں۔ اسرائیلیوں نے ان ( چالیس) دنوںکی گنتی کو ( سامری کے بہکانےکی وجہ سے ) دن اور رات کو الگ الگ گِنا ۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گئے بیس دن ہو گئے تو سامری نے بنی اسرائیل سے کہنا شروع کر دیا کہ تیس دن کا وعدہ تھا مگر اب چالیس دن ہو گئے۔ اب موسیٰ ( علیہ السلام )نہیں آئیں گے ۔ شاید ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ یا پھر وہ ناراض ہو گئے ہیں۔ پھر اس نے بچھڑے کا بت بنا دیا جو چھ مہینے کے بچھڑے کے قد کاٹھ کے برابر تھا۔ بنی اسرائیل نے بھی سامری کے اُکسانے پر بیس دنوں کو چالیس دن گِنا۔ اور یہ عادت آج بھی یہودیوں اور عیسائیوں کے قانون میں شامل ہے۔ وہ کسی بھی مدت کو گزارنے میں رات کو الگ ایک دن اور دن کو الگ ایک دن شمار کرتے ہیں۔ مگر تاریخ دن رات کی ملا کر ایک رکھتے ہیں۔مثلا تیس دن اور رات کی تاریخ ایک مہینہ پکڑتے ہیں۔ مگر مدت کے طور پر اسے دو مہینہ پکڑتے ہیں۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ یہ سامری سنار تھا جو اہل باجرمی تھا۔ بعض نے فرمایا۔ یہ اہل کرمان تھا۔ اصل میں یہ منافق تھا مگر اسلام کا اظہار کرتا تھا۔ یہ اس قوم کا فرد تھا جو گائے کی پوجا کرتی تھی۔ اس نے زیورات سے تین دن میں بچھڑا بنا دیا اور بولا یہ ہے موسیٰ علیہ السلام کا خدا اور وہ تو بھول گئے ہیں۔ پس بہت سے بنی اسرائیل بچھڑے کو دیکھنے کے بعد اس کی پوجا کرنے لگے اور فتنے میں مبتلا ہو گئے۔ بعض علمائے فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے تیس دن کا وعدہ کیا تھا۔ پھر جب تیس دن سے زیادہ ہو گئے تو فتنہ میں مبتلا ہو کر بچھڑے کی پوجا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے موسیٰ علیہ السلام سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا۔ پھر تم نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر51)

حضرت ہارون علیہ السلام کے سمجھانے پر اکثریت نے شرک نہیں کیا۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( بنی اسرائیل نے ) جواب دیا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ (علیہ السلام )کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا بلکہ ہم پر جوزیورات کے بوجھ لادے ہوئے تھے انہیں ہم نے ( ایک گڑھے میں ) ڈال دیئے۔ اور اسی طرح سامری نے بھی کیا۔ پھر اس نے ( سامری نے ) لوگوں کے لئے بچھڑا بنا کر کھڑ اکر دیا۔ یعنی گائے کے بچھڑے کا بت، جس کی آواز گائے کی طرح تھی ۔پھر کہنے لگا کہ یہی تمہارا معبود ہے اور موسیٰ ( علیہ السلام )کا بھی۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام ) بھول گیا ہے۔ کیا یہ گمراہ لوگ یہ بھی نہیں دیکھ رہے تھے کہ وہ ( بچھڑے کا بت) تو ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا۔ اور نہ ہی ان کے کسی برے بھلے کا اختیار رکھ سکتا ہے۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر87سے89تک) ۔ جب سامری کے بہکانے پر بنی اسرائیل بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تو حضرت ہارون علیہ السلام انہیں سمجھانے لگے اور پوجا سے روکنے لگے۔ آپ علیہ السلام کی بات مان کر بنی اسرائیل کی اکثریت تو شرک کرنے سے رک گئی لیکن پھر بھی اچھے خاصے لوگ شر ک میں مبتلا ہو گئے۔ اس وقت بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ تھی۔ ان میں سے ایک روایت کے مطابق 70ہزار بچھڑے کی پوجا میں مبتلا ہو گئے تھے۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ دیکھو یہ شرک ہے۔ اور شرک کو اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں کرتا۔ اور تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ اس بچھڑے کی پوجا چھوڑ دو۔ اور صرف ایک اکیلے اللہ کی عبادت کرو۔ اور میری بات مان لو یہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہارون علیہ السلام نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا ۔ اے میری قوم کے لوگو، اس بچھڑے کے ذریعے تمہیں آزمایا جارہا ہے۔ اور تمہارا حقیقی رب (یعنی معبود ) توصرف اللہ رحمن ہی ہے ۔ پس تم سب میری تابعداری کرو۔ اور میری بات مانو۔ انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر90اور 91)

توریت کا نزول

حضرت ہارون علیہ السلام کے سمجھانے کے باوجود ادھر کوہِ طور کے نیچے بنی اسرائیل کے لوگ بچھڑے کی پوجا کر رہے تھے اور اُدھر کوہِ طور کے اوپر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت کا نزول ہو رہا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے چاندی کی بارہ تختیاں عطا فرمائیں ۔ ان پر توریت لکھی ہوئی تھی۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں۔ پھر گیارہ ذی الحجہ کو توریت کی تختیاں ملیںجو دونوں طرف لکھی ہوئی تھیں۔ یہ چاندی سے بنی ہوئی تختیاں تھیں۔ ان میں ایک ہزار سورہ تھیں۔ اور ہر سورہ میں ایک ہزار آیات تھیں۔ تقسیم اس طرح تھی کہ 8تختیوں میں 83، تیراسی 83تیراسی سورہ لکھی ہوئی تھیں۔ اور چار میں چوراسی 84چوراسی 84سورہ لکھی ہوئی تھیں۔ ان میں سے پہلی آٹھ میں شریعت کے احکام تھے۔ (1) عبادت کی تعداد اور طریقے 2) انتظامی ملکی قانون( نظام عدل) (3) دعائیں (4) سابقہ تاریخی واقعات و قصے (5) فضائل (6) رحمت برکت (7) پیشن گوئیاں (8) قیامت کا ذکر، ثواب و عذاب کا بیان تھا۔ اور باقی چار تختیوں میں طریقت کے مسائل تھے۔ (9) وظائف (10) مراقبہ خلوت (11) قرب الٰہی (12)معرفت ۔ یعنی شریعت کی آٹھ اور طریقت کی چار یہ بارہ تختیاں توریت کا مجموعہ تھیں۔ کوہ طور کے اوپر جب چالیس راتیں گزر گئیں اور توریت کا نزول مکمل ہو گیا تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ تمہاری یہاں حاضری کے دوران تمہاری قوم کے لوگ شرک میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اور سامری نے انہیں بہکایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے موسیٰ (علیہ السلام )تجھے اپنی قوم سے کون سی چیز جلدی لے آئی؟ ( آپ علیہ السلام نے ) عرض کیا۔ وہ لوگ بھی میرے پیچھے پیچھے ہیں اور میں نے اے رب آپ کی طرف جلدی اس لئے کی کہ آپ خوش ہو جائیں ۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اور انہیں سامری نے بہکادیا ہے۔ “( سورہ طٰہٰ آیت نمبر83سے 85)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جلال

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جب بنی اسرائیل کی حرکت کا علم ہوا تو آپ علیہ السلام بہت جلال میں آگئے اور اسی کیفیت میں توریت کی تختیاں اٹھائیں اور کوہ طور پر سے اتر کر بنی اسرائیل کے پاس آئے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ (علیہ السلام )سخت جلال میں آکر رنج کے ساتھ واپس لوٹے اور فرمایا۔ اے میری قوم والو، کیا تم سے تمہارے رب نے نیک وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت ( یعنی چالیس دن ) تمہیں لمبی معلوم ہوئی ؟ یا پھر تمہارا ارادہ ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔ انہوں نے ( بنی اسرائیل ) جواب دیا۔ ہم نے اپنے اختیارسے آپ (علیہ السلام )کے ساتھ ( کئے ) وعدے کے خلاف نہیں کیا ہے۔بلکہ ہم پر جو زیورات کے بوجھ لدے ہوئے تھے انہیں ہم نے ( ایک گڑھے میں ) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے بھی ( مٹی ) ڈال دی۔ پھر اس نے لوگوں کے لئے بچھڑا بنا کر کھڑ اکیا یعنی بچھڑے کا بت ، جس کی گائے کی جیسی آواز بھی تھی۔ پھر اس نے کہا کہ یہی تمہارامعبود ہے اور موسیٰ (علیہ السلام )کا بھی۔ لیکن موسیٰ(علیہ السلام )بھول گیا ہے ۔ کیا یہ گمراہ یہ بھی نہیں دیکھ رہے تھے کہ وہ ( بچھڑے کا بت) ان کی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور نہ ہی ان کے کسی بھلے برے کا اختیار رکھتا ہے۔ اور ہارون ( علیہ السلام )نے اس سے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا۔ اے میری قوم والو، اس بچھڑے سے تمہاری آزمائش کی گئی ہے۔ تمہارا حقیقی رب تو اللہ رحمن ہی ہے۔ پس تم سب میری تابعداری کرو اور میری بات مانو۔ انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ(علیہ السلام )کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اے ہارون (علیہ السلام ) انہیں گمراہ ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا؟ کہ تو میرے پیچھے نہ آیا ۔ کیا تو بھی میرے فرمان کا نا فرمان بن بیٹھا۔ ہارون ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اے میرے ماں جائے بھائی، میری داڑھی نہ پکڑ۔ اور سر کے بال نہ کھینچ، مجھے تو صرف یہی خیال دامن گیر تھا کہ کہیں تم یہ ( نہ ) کہو کہ میں نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میر ی بات کا انتظار نہیں کیا۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر86سے 94تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آتے ہی بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے شرک کیا تھا انہیں ڈانٹا۔ آپ علیہ السلام بہت جلال میں تھے۔ ان کے جلال کو دیکھ کر جن لوگوں نے شرک کیا تھا وہ اپنی صفائی پیش کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام اس کے بعد حضرت ہارون علیہ السلام اور ان بنی اسرائیل کی طرف متوجہ ہوئے جنہوں نے شرک نہیں کیا تھا۔ اور فرمایا کہ تم لوگوں نے انہیں کیوں نہیں روکا تو حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے صرف اس لئے زیادہ سختی نہیں کی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بنی اسرائیل فرقوں میں بٹ جائیں۔

سامری کی سزا

اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے پوچھا۔ اے سامری تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس نے جواب دیا کہ مجھے وہ چیز دکھائی دی جو انہیں نہیں دکھائی دہ۔ تو میں نے اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرستادہ ( جبرئیل علیہ السلام ) کے نقس قدم سے ایک مٹھی بھرلی تھی۔ اور اسے اس میں ( بچھڑے کے بت میں) ڈال دیا۔ اسی طرح میرے دل نے یہ بات میرے لئے بتا دی ( آپ علیہ السلام )نے فرمایا۔ اچھا جا، دنیا کی زندگی میں تیری یہ سزا ہے کہ تو کہتا رہے کہ مجھے نہ چھونا۔ اور ایک اور بھی وعدہ (یعنی آخرت کی سزا کا ) تیرے ساتھ ہے۔ جو تجھ سے ہرگز نہیں ٹلے گا۔ اور اب تو اپنے اس معبود ( بچھڑے کے بت) کو بھی دیکھ لینا جس کا تو اعتکاف کئے ہوئے تھا۔ ہم اسے جلا کر ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہاد یں گے۔“ (سورہ طٰہٰ آیت نمبر 95سے 97تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے سامری ڈھیٹ بن گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تو جا، اگر تجھے کوئی چھوئے گا تو تجھے شدید بخار اور کپکپی آئے گی اور تو لوگوں کو چلا چلا کر کہے گا مجھے مت چھونا۔ یہ تو تیری دنیا میں سزا ہے اور آخرت میں جو سز ملے گی وہ اور بھی شدید ہوگی۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام جلال میں حضرت ہارون علیہ السلام اور بنی اسرائیل سے مخاطب تھے اس وقت سامری کی کیا حالت تھی؟ اس کے بارے میں تین قول ہیں۔ پہلا یہ کہ سامری اس وقت وہیں ڈرا ہوا سہما ہو ا لرزتے ہوئے یہ سب جھڑک و جلال اور معذرت و بیان کا منظر دیکھ رہا تھا۔ آپ علیہ السلام پھر وہیں اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ سامری اپنے خیمے میں ڈرا سہما بیٹھا تھا۔ تیسرا قول ہے کہ بچھڑے کے قریب بیٹھا ہوا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ بچھڑے سے التجائیں کر تا ہو کہ مجھے جلا ل موسیٰ سے بچا لے۔ آپ علیہ السلام نے اس سے پوچھا ۔ اب تو بول اے سامری اس کفریہ شرکیہ فعل بد سے تیری کیا ارادہ تھا؟ اور قوم کے لوگوں کو گمراہ کرکے تجھے کیا ملا؟ تو سامری نے بتایا کہ جس کو آپ علیہ السلام، جبرئیل علیہ السلام کہتے ہیں۔میں نے دیکھا کہ اس کی گھوڑی جہاں قدم رکھتی تھی تو وہاں پتھریلی اور ریتیلی زمین پر ہری ہری گھاس اُگ آتی تھی۔ میں نے اس حیرت زدہ بات دیکھ کر ان نشاناتِ قدم سے ایک مٹھی مٹی اٹھا لی اور جب بنی اسرائیل نے ایک مندر سے گزرتے ہوئے آپ علیہ السلام سے التجا کی تھی اور آپ علیہ السلام نے جھڑک دیا تھا۔ تب ہی میں نے سوچ لیا تھا ان کے لئے ایک اچھا بت بناﺅں گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے سامری اب تیری سزا یہ ہے کہ تو ساری زندگی لوگوں سے کہتا پھرے گا کہ مجھ کو ہاتھ نہ لگانا۔ مجھے ہاتھ نہ لگانا۔ اور اگر کوئی تجھ کو ہاتھ لگادے گا تو تجھ کو اور اس کو فوراً اذیت ناک درد اور بیہوشی کا سردی والا سخت بخار آجا یا کرے گا۔ جو تین دنوں تک رہے گا۔ مگر مہینہ بھر کے لئے دونوں کمزور ہو جاﺅ گے کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہو گا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

14 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



14 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 14

توبہ کی قبولیت کی شرط

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا۔ پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا اور ظالم بن گئے۔ لیکن اس کے باوجود پھر بھی تمہیں معاف کر دیا کہ تم شکر ادا کرو۔ اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام )کو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب اور معجزے عطا فرمائے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ اب تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو۔ اور اپنے آپ کو آپس میں قتل کرو۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہاری بہتری اسی میں ہے۔ تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی۔ اور وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے۔“ (سورہ البقرہ آیت نمبر51سے 54تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ (علیہ السلام )کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا معبود ٹھہرالیا جو ایک قالب یعنی صرف پتلا تھا۔ جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ان سے بات نہیں کرتا تھا۔ اور ان کو کوئی راستہ بھی نہیں بتا تا تھا۔ اور انہوں نے اس کو معبود بنا لیا۔ اور بڑی بے انصافی کا کام کیا۔ اور جب نادم ہوئے  اور معلوم ہوا کہ واقعی وہ لوگ گمراہی میں پڑ گئے تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہ کرے اور ہمارا گناہ معاف نہ کرے تو ہم بالکل گئے گزرے ہوجائیں گے ۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر148سے 149تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہِ طور سے واپس آئے تو بہت جلال میں تھے۔ آپ علیہ السلام کے سامنے وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور توبہ کی۔ اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا کہ ہم سے بہت بڑی بھول ہو گئی ہے۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہماری معافی کی درخواست کردیں۔ آپ علیہ السلام نے ان کی توبہ کی قبولیت کی دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لوگوں نے شر ک نہیں کیا ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو قتل کے لئے پیش کر دیں۔ اور جن لوگوں نے شرک نہیں کیا تھا ان کی توبہ یہ ہے کہ وہ اپنے شرک کرنے والے بھائی کو قتل کریں۔ بنی اسرائیل کی تعداد چھ لاکھ سے زیادہ تھی ان میں لگ بھگ ستر 70ہزار لوگوں نے شرک کیا تھا۔ انھوں نے اپنے آپ کو قتل کےلئے پیش کردیا۔ اور ان کے بھائیوں نے انھیں قتل کردیا۔ تب ان کی معافی قبول ہوئی ۔ آج ہمارے ہندوستان میں کروڑوں لوگ کافر رہ رہے ہیں اور انھیں ہم شرک کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں ہم سے نہیں پوچھیں گے؟ یقیناً پوچھیں گے۔ 

توریت قبول کرنے کی شرط

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جب شر ک کرنے والوں کو قتل کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا۔ اسکے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے توریت کی الواح (تختےاں ) اٹھائیں اور بنی اسرائیل کو پیش کرکے فرمایا۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے بھیجی ہے۔ اسے قبول کرلو۔ بنی اسرائیل نے کہا۔اگر اس میں آسان احکامات ہوں گے تو ہم قبول کریں گے اور اگر مشکل احکامات ہوں گے تو ہم قبول نہیں کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے ایک بہت بڑے پہاڑ کو اٹھا کر ان کے اوپر معلق کردیا اور حکم دیا کہ توریت کو قبول کرو ورنہ یہ پہاڑ تم پر ڈال دیا جائے گا اور تم سب ہلاک ہوجاﺅ گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں سورة الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ۔” اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کردیااور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا۔ اور فرمایا جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرلو۔ اور جو احکامات اس میں ہیں انھیں یاد بھی رکھو۔ اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاﺅگے“۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دےگر اسلاف فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام توریت کے الواح یعنی تختیاں لے کر آئے جن پر توریت لکھی ہوئی تھی۔ تو بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اسے قبول کرلو اور عزت و ہمت سے اسے لے لو۔ بنی اسرائیل کہنے لگے۔ یہ ہمیں پڑھ کر سناﺅ۔ اگر اس کے آسان احکامات ہوں گے تو ہم قبول کریں گے۔ آپ علیہ السلام نے پھر فرماےا جس حال میں تمھاری طرف بھیجی گئی ہے اسی حال میں خوشی خوشی قبول کرلو۔ تو پھر بنی اسرائیل نے یہی کہا کہ اگر اس میں آسان اوامر و نواہی ہوں گے تو قبول کریں گے ورنہ نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا اور انھوں نے پہاڑاٹھاکر ان کے سروں کے اوپر کر دیا۔ جسے دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ یہ بادل ہے جو ان کے اوپر چھایا ہوا ہے۔ اور انھیں بتادیا گیا کہ اگر انھوں نے ان تختیوں پر جو احکامات ہیں اگر قبول نہیں کئے تو یہ پہاڑ ان پر الٹ دیا جائے گا۔تب اس بدبخت قوم بنی اسرائیل یعنی یہودیوں نے توریت کو قبول کرلیا۔ اس کے بعد ان بد بختوں کو حکم دیا گیا کہ سجدہ کرو ۔ تو وہ سب سجدہ میں گر گئے اور کن انکھیوں سے پہاڑ کو دیکھنے لگے ۔ آج بھی یہویوں میں یہ عام عادت ہے اور جب بھی وہ سجدہ کرتے ہیں تو کن انکھیوں سے اوپر دیکھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اس سجدے سے بڑا کوئی سجدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے عذاب ٹل گیا۔

بنی اسرائیل کی گستاخی

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جب بنی اسرائیل نے توریت قبول کر لی اور سجدہ کر لیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے پہاڑ اُن کے اوپر سے ہٹا لیا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل نے عرض کیا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے خصوصی طور سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں 70سب سے نیک اور اچھے لوگوں کو لے کر کوہِ طور پر آﺅ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے چیدہ چیدہ ستر 70 آدمیوں کو چنا اور انہیں حکم دیا کہ چلو اللہ کے دربار میں حاضر ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور اپنی باقی ماندہ قوم کے لئے بھی استغفار کرو۔ روزہ رکھو۔ نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں لے کر کوہ طور کی طرف روانہ ہوئے ۔ تمنا یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب حاضر ہو کر گناہوں کی معافی مانگیں گے۔ آپ علیہ السلام یہ سب اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق کر رہے تھے۔ ملاقات کا وقت مقرر تھا۔ ان 70 آدمیوں کا مطالبہ تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سنیں گے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حامی بھر لی تھی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر پہنچے تو بادلوں کا ایک ستون دیکھا جو تھوڑی دیر میں پہاڑ کے اوپر چھا گیا۔آپ علیہ السلام آگے بڑھے اور بادل کے اس ستون میں داخل ہو گئے جو آسمان تک گیا ہوا تھا۔ اور اپنے ساتھیوں کو بھی آگے آنے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام جب اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہو تے تھے تو ان کے چہرہ مبارک پر ایک نور چھا جاتا تھا۔ اور کوئی آپ علیہ السلام کے چہرہ ¿ مبارک کی طرف نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ( اگر دیکھتا تھا تو اس کی آنکھیں پھوٹ جاتی تھیں) آپ علیہ السلام کے ساتھی آگے بڑھ کر بادل میں داخل ہوئے اور سب کے سب سجدہ میں گر پڑے۔ اسی حالت میں انہوں نے سنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ سے کلام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں حکم دے رہا ہے کہ فلاں فلاں کام کرو اور فلاں فلاں کام سے رک جاﺅ۔ جب گفتگو مکمل ہو چکی تو اور بادل چھٹ گیا تو ان 70علماءنے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )ہم اس وقت تک تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو کھلے عام دیکھ نہیں لیں گے۔ پس انہین زلزلے نے آگھیرا۔ بجلی کڑکنے لگی اور دہشت کے مارے ان کے جسم و جان کا تعلق ٹوٹ گیا۔ اور ان میں سے ایک بھی زندہ نہیں رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ کی پاکی اور تقدیس بیان کرنے لگے اور دعا کرنے لگے۔ اے میرے اللہ، اگر آپ چاہتے تو انہیں ہلاک کر دیتے اس ( گستاخی) سے پہلے ہی اور مجھے بھی۔ کیا آپ ہمیں اُس ( غلطی ) کی وجہ سے ہلاک کر دیں گے جو چند احمقوں نے کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ ( علیہ السلام )نے 70آدمی اپنی قوم میں سے ہمارے متعین کئے وقت کے لئے منتخب کئے۔ سو جب اُن کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام )عرض کرنے لگے۔ اے میرے رب، اگر آپ کو منظور ہوتا تو اس سے پہلے ہی ان کو اور مجھ کو ہلاک کر دیتے ۔ کیا آپ ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت پر سب کو ہلاک کر دیں گے۔ یہ واقعہ صرف آپ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔ ایسے امتحانات سے جسے آپ چاہیں گمراہی میں ڈال دیں۔ اور جس کو چاہے ہدایت پر قائم رکھے۔ اور آپ ہی ہماری خبر رکھنے والے ہیں۔ پس اے اللہ ، ہم پر رحمت فرما اور ہماری مغفرت فرما ۔ اور تو ہی سب معافی دینے والوں میں سے سب سے زیادہ اچھا ہے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر155)اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ”اور ( اے بنی اسرائیل ) تم نے موسیٰ ( علیہ السلام )سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہیں دیکھ لیں گے تب تک ایمان نہیں لائیں گے۔ ( اس گستاخی کی سزا میں ) تم پر تمہارے دیکھتے ہوئے بجلی گر پڑی۔ لیکن پھر ہم نے تمہیں اس موت کے بعد زندہ ا سلئے کر دیا کہ تم شکر گذاری کرو۔ “ (سورہ البقرہ آیت نمبر55اور 56)

بنی اسرائیل ملک کنعان (فلسطین ) میں

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی۔ اور حکم دیا کہ اب ملک کنعان ( حالیہ فلسطین) میں تمہیں جا کر آباد ہونا ہے۔ کیوں کہ تمہارے آبا ﺅ اجداد وہیں سے آکر مصر میں آباد ہوئے تھے۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی وہیں ان کے والدین کے بازور میں دفن کرنا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر ملک کنعان کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں معبود بنانے کی فرمائش ، آپ علیہ السلام کا توریت لینے کےلئے کوہِ طور پر جانا۔ سامری کا بچھڑے کا بت بنانا، بنی اسرائیل کا بچھڑے کی پوجا کرنا اور پھر توبہ کرنا ، توریت کو قبول کرنے میں آنا کانی کرنا وغیرہ کے واقعات پیش آئے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کو حکم دیا کہ ملک کنعان کی طرف روانہ ہو جاﺅ۔ اور بنی اسرائیل کو لے کر ملک کنعان میں داخل ہو ئے۔ اور حبرون یعنی الخلیل میں ( فلسطین میں آج بھی یہ شہر الخلیل کے نام سے آباد ہے۔ اسے حبرون بھی کہا جاتا ہے ) حضرت ابراہیم علیہ السلام ، سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا ، حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے ساتھ میں حضرت یوسف علیہ السلام کو دفن کر دیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر اس وقت کے ” اریحا“ اور حالیہ ” بیت المقدس “ ( اسے یہودی یروشلم بھی کہتے ہیں) کی طرف روانہ ہوئے اور اس سے کچھ دور پر پڑاﺅ ڈال دیا۔ اور فرمایا کہ اس علاقے میں جو لوگ آباد ہیں ہمیں ان سے جنگ کرکے انہیں اس سر زمین سے نکالنا ہے۔ اور اس میں اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی گنتی کروائی۔ ان میں چھ لاکھ سے زیادہ جنگ لڑنے والے لوگ تھے۔ اور بوڑھے ، بچے اور عورتیں ان کے علاوہ تھے۔

بنی اسرائیل کے بارہ نقیب

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہیں۔ ان بارہ بیٹوں کی نسل بارہ قبیلہ بنی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان بارہ قبیلوں کی گنتی کروائی۔ ( جسے آج کل مردم شماری کہا جاتا ہے) اس کے بعد ان بارہ قبیلوں کے بارہ نقیب مقرر فرمائے۔ ان بارہ نقیبوں کو حکم دیا کہ وہ خاموشی سے اریحا یعنی بیت المقدس میں داخل ہو ں اور وہاں کے تمام حالات کا جائزہ لےکر آئیں اور اس بارے میں رپورٹ پیش کریں۔ اس رپورٹ کے مطابق جنگ کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا ۔ ترجمہ ” اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لیا اور ان ہی میں سے بارہ سردار مقرر فرمائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمادیا۔ یقینا میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ ( سورہ المائدہ آیت نمبر12) عہد و پیمان حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان بارہ نقیبوں یا سرداروں یا جاسوسوں سے یہ لیا تھا کہ اریحا یعنی بیت المقدس کے جو بھی حالات ہوں ہو خاموشی سے مجھے آکر بتا دینا اور بنی اسرائیل کی عوام کو نہیں بتانا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ کہ امام ابو جعفر محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنی قوم بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کو منتخب کر کے جبابرہ کی سر زمین شام ( یاد رہے اس وقت فلسطین ملک شام میں آتا تھا۔ یعنی 300ہجری میں ) میں بھیجیں ۔ تا کہ وہ اس قوم کے احوال کی تفتیش کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اطلاع دیں۔ اور اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو اس قوم اور ملک کا وارث بنائے اور اس سرزمین میں آباد کرے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم سے نجات دلائی تھی۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارہ نقیبوں کو چنا اور انہیں جبابرہ کی طرف بھیجا۔

دس نقیبوں نے عہد و پیمان توڑ دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارہ نقیبوں کو جبا برہ کی جاسوسی کےلئے بھیجا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ یہ بارہ نقیب جبا برہ کی جاسوسی کرنے کے لئے روانہ ہو گئے۔ ان کو راستے میں جبا برہ کا ایک شخص ملا۔ اس کا نام عاج ( عوج بن عنق ) تھا۔ وہ اس قدر لمبا اور جسیم تھا کہ اس نے بارہ نقیبوں کو پکڑ کر اپنے لیفہ میں اڑس لیا ۔ اس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا تھا۔ وہ ان کو لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور بولا۔ دیکھو یہ لوگ اپنے زعم میں ہم سے لڑنے آئے تھے۔ پھر اس نے ان سب کو نیند سے نکال کر پھینک دیا۔ اور اپنی بیوی سے بولا۔ کیا خیال ہے میں ان سب کو اپنے قدموں سے روند ڈالوں؟ تو اس کی بیوی نے کہا۔ نہیں بلکہ ان کو چھوڑ دو تا کہ یہ اپنی قوم میں جا کر ہماری قوت اور طاقت کا حال بتائیں۔ جب یہ لوگ وہاں سے واپس ہوئے تو انہوں نے آپس میں کہا۔ اگر ہم نے بنی اسرائیل کی عوام کو اس قوم کا حال بتا دیا تو وہ سب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو چھوڑ جائیں گے اور مرتد ہو جائیں گے۔ اس لئے تم صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کو اس خبر سے مطلع کر نا۔ پھر انہوںنے ایک دوسرے سے اس بات پر عہد و پیمان لے لیا۔ لیکن ان میں سے صر ف دو نقیب اس عہد پیمان پر قائم رہے۔ اور وہ یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا تھے۔ اور باقی دس نقیبوں نے اس عہد کو توڑ کر بنی اسرائیل کی عوام کو سماج کا واقعہ بیان کر دیا۔ اس روایت میں جس طرح قوم جبابرہ کو بتایا گیا ہے اس پر یقین کرنا ذرا مشکل لگتا ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ جبا برہ بہت طاقتور قوم تھی۔ اور ان بارہ نقیبوں میں سے صرف یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا نے عوام کو کچھ نہیں بتایا اور صرف آپ علیہ السلام کو بتایا۔ لیکن باقی دس نقیبوں میں سے صرف یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا نے عوام کو کچھ نہیں بتایااور صرف آپ علیہ السلام کو بتایا ۔ لیکن باقی دس نقیبوں نے اس واقعہ میں مرچ مسالہ لگا کر اور اتنا بڑھا چڑھا کر اس واقعہ کو پیش کیا اور قوم جبابرہ کو اتنی زیادہ طاقتور بنا کر بنی اسرائیل کی عوام کے سامنے پیش کیا کہ اس کی وجہ سے ان میں بزدلی آگئی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

15 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


15 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 15

بنی اسرائیل کا جنگ کرنے سے انکار

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور یاد کرو، موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو، اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا ذکر کرو کہ اس نے تم میں سے انبیائے کرام بنائے اور تمہیں بادشاہ بنا دیا اور تمہیں وہ عطا فرمایاجو عالمین میں کسی کو نہیں عطا فرمایا۔ اے میری قوم والو ۔ اس مقدس زمین میں داخل ہو جاﺅ۔ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نام لکھ دی ہے۔ اور پیٹھ پھیر کر منہ نہ پھیرو( یعنی جنگ سے پیچھے مت ہٹو) اور سرکش لوگ ہیں۔ اور جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں جائیں گے تب تک ہم تو ہر گز وہاں نہیں جائیں گے۔ ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں۔پھر تو ہم ( خوشی سے ) داخل ہو جائیں گے۔ دو شخصوں نے جو اللہ پر یقین رکھتے تھے اور جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ ( یعنی یوشع بن نون اور کالب بن یوحنا ) اُن دونوں نے کہا۔ تم ان کے پاس دروازے تک پہنچ تو جاﺅ۔ دروازے پر قدم رکھتے ہی یقینا تم ہی غالب آجاﺅ گے۔ اور اگر تم مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیئے۔ قوم نے جواب دیا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )جب تک وہ وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہیں جائیں گے۔ اس لئے تم اور تمہار ا رب ( یعنی اللہ تعالیٰ) جا کر تم دونوں ہی لڑ بھڑلو۔ ہم تو یہیں بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔“( سورہ المائدہ آیت نمبر20سے 24تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساتھ مصر کی حدود سے نکل گئے اور بیت المقدس کے سامنے پہنچے تو وہاں آپ علیہ السلام کا سامنا ایک جابر قوم سے ہوا۔ یہ قوم حیثاثین ، فزاریین اور کنعانین وغیرہ تھے۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ فلسطین میں داخل ہو جاﺅ۔ اور ان قوموں کے ساتھ جنگ کرو۔ اورانہیں بیت المقدس سے مار بھگاﺅ۔ کیو ں کہ یہ شہر اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور میری زبانی یہ ملک تمہیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کے بعد آغے لکھتے ہیں لیکن میری زبانی یہ ملک تمہیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔ لیکن میری زبانی یہ ملک تمہیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے انکار کر دیا اور جہاد سے منہ موڑ لیا۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں لیکن بنی اسرائیل میں دو آدمی ایسے تھے جنہوںنے جہاد کرنے میں رغبت ظاہر کی اور لوگوں کو بزدلی سے بچنے کی تلقین کی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک یوشع بن نون اور دوسرے کا لب بن یوقنا تھا۔ یہ ارشاد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، مجاہد ، عکرمہ، عطیہ ، ربیع بن انس اور دوسرے کئی مفسرین کا ہے۔ اس کے بعد آگے لکتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے جہاد سے مکمل رو گردانی کا ارادہ کر لیا اور کہا۔ ہم سے جہاد نہیں ہوتا ۔ ہم کمزور لوگ ہیں اور ان طاقتور لوگوں کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر لکھتے ہیں۔ بنو اسرائیل کو جب جبابرہکی قوت اور طاقت کا علم ہوا تو انہوںنے ان کے خلاف جنگ کرنے سے انکار کر دیا ۔ اور کہا آپ اور آپ کا رب دونوں جاﺅ اور ان سے جنگ کرو۔ ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ 

بنی اسرائیل کو چالیس سال صحرا میں بھٹکنے کی سزا

اللہ تعالیٰ نے سورہ المائدہ میں فرمایا ۔ترجمہ ” موسیٰ ( علیہ السلام ) نے عرض کیا۔ اے میرے رب ، میرا تو سوائے اپنے آپ پر اور میرے بھائی پر اختیار ہے۔ اور ہمارے سوا کسی پر اختیار نہیں ہے۔ پس تو ہم میں اور ان نا فرمانیوں میں جدائی ڈال دے ۔( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ اب یہ (مقدس)زمین ان پر چالیس سال تک حرام کر دی گئی ہے۔ یہ خانہ بدوشوں کی طرح ادھر ادھر سر گرداں پھرتے رہیں گے۔ اسی لئے اب تم ان فاسقوں کے بارے میں غمگین نہیں ہونا ۔“ ( سورہ المائدہ آیت نمبر25اور 26)مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دشتِ فاران سے بنی اسرائیل کے بارہ سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لئے بھیجا تا کہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن کا دورہ کر کے وہاں سے واپس آئے اور انہوںنے قوم کے مجمعٔ عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ لیکن وہاں جو لوگ بسے ہوئے ہیں وہ زور آور ہیں۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔ وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھتے وہ سب بڑے قد آور ہیں۔ اور وہاں ہم نے بنو عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں۔ اور ہم تو ان کے سامنے ایسے تھے جیسے ٹڈے۔ یہ سن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ اے کاش ہم مصر میں ہی مر جائے یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے۔ خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرنا چاہتا ہے ؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے۔ کیا ہمارے لئے بہتر نہیں ہوگا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں۔ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آﺅ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر لوٹ چلیں۔ اس پر اُن بارہ سرداروں میں سے دو سردار جو فلسطین کے دورے پر گئے تھے ۔ یوشع اور کالب اٹھے ۔ انہوں نے اس بزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا۔ چلو ہم ایک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کر لیں کیوں کہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں۔ پھر دونوں نے ایک ساتھ کہا۔ اگر اللہ تعالیٰ ہم سے راجی رہے گا تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچا دے گا ۔ فقط اتنا ہو کہ تم اللہ تعالیٰ سے بغاوت نہ کرو۔ اور نہ ہی اس ملک کے لوگوں سے ڈرو۔ اور ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ ہے تو ان کا خوف نہ کرو۔ مگر بنی اسرائیل نے جواب دیا کہ انہیں سنگسار کردو۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرما دیاکہ اچھا اب یوشع اور کالب کے علاوہ اس قوم کا کوئی بھی بالغ مرد اس ( مقدس) سر زمین میں داخل نہیں ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بے خانماں پھرتی رہے گی۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے 20سال سے اوپر کے سب مرد مر جائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اٹھے گی۔ تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے مطابق بنی اسرائیل کو دشت فاران سے شرق اُردن تک پہنچتے پہنچتے پورے 38برس لگ گئے۔ اس دوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے۔ شرق اردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھی وصال ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے عہد خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کر سکیں۔ 

بادل کا سایہ اور من و سلویٰ کا نزول 

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔ اور اس کا ایک بہت بڑا ثبوت بنی اسرائیل قوم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے پانچ سب سے بڑے رسول بنائے ہیں۔ انمیں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ تھے۔ اور اس بد بخت قوم نے ان کا اور اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ جس کی وجہ سے الہ تعالیٰ نے ان کو چالیس سال تک وادی¿ تیہ میں بھٹکنے کی سزا دی ۔ لیکن ساتھ ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ رہو۔ اور اس کے علاوہ صحرا میں ان کے اوپر بادل کا سایہ بھی کر دیا اور ساتھ ہی ان کے کھانے کا بھی انتظام کر دیا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ صحرا عام طور سے دن بہت گرم ہوتا ہے اور رات بہت سرد ہوتی ہے۔ لیکن اس بادل کی وجہ سے دن اور رات دونوںمیں موسم معتدل رہتا تھا۔ اس کے علاوہاللہ تعالیٰ نے اُن کے کھانے پینے کا بھی انتظام فرما دیا تھا۔ اُن پر ”من “ اور ”سلویٰ“ نازل فرمایا۔ رات میں ان بادلوںمیں سے شبنم کی بوند کی طرح من برستا تھا۔ صبح جب بنی اسرائیل اٹھتے تو ہر ایک کے خیمے کے سامنے من کا ڈھیر لگا رہتا تھا۔ اور وہ سخت ہو جایا کرتا تھا۔ بنی اسرائیل اس کو بٹو رکر پیس لیا کرتے تھے۔ اور روٹی پکاتے تھے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ صحرا ءمیں پیش آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر سورج کی دھوپ سے بچانے کے لئے بادل کا سایہ کر دیا تھا۔ انہیں من اور سلویٰ کھلایا اس وقت وہ صحرا میں تھے۔ من اُن پر برف باری کی طرح گرتا تھا۔ اور وہ برف سے زیادہ سفید ہوتا تھا۔ اور طلوع فجر سے گرنا شروع ہوتا تھا اور طلوع شمس ( سورج ) تک گرتا تھا۔ ہر شخص اپنی اس دن کی ضرورت کے مطابق خوراک اٹھا لیتا تھا۔ اگر کوئی شخص ضرورت سے زیادہ اٹھاتا تھا تو وہ خراب ہو جاتا تھا۔ جمعہ کے دن وہ دونوں کی خوراک اٹھاتے تھے کیوں کہ سنیچر کا دن سبت کا دن تھا۔ اور اس دن بنی اسرائیل کو عبادت کرنا ہوتی تھی۔ اور سلویٰ بٹیر کی سائز یا اس سے بڑی ایک چڑیا کا نام ہے۔ یہ دن بھر بنی اسرائیل کے خیموں کے آس پاس اڑتی رہتی تھیں اور آسانی سے پکڑ میں آجاتی تھیں۔ بنی اسرائیل انہیں پکڑ کر ذبح کر کے پکاتے تھے اور من کے ساتھ کھاتے تھے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں سلویٰ ایک سرخ پرندہ تھا۔ جنوبی ہوا اسے جمع کرتی تھی۔ ہر شخص اپنی ضرورت کے مطابق پکڑ کر ذبح کر لیتا تھا۔ اگر وہ ضرور ت سے زیادہ ذبح کر تا تھا تو وہ خراب ہو جاتا تھا۔ اور جمعہ کے دن وہ دو دنوں کا کھانا جمع کر لیتے تھے۔ کیوں کہ سنیچر کا دن چھوٹی عید کا دن ہوتا تھا۔ 

صحراءمیں ہر سہولت عطا فرمائی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ترجمہ ” اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور تم پر من اور سلویٰ اتارا۔ ( اور فرمایا کہ ) ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاﺅ۔ اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا ۔ بلکہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر57) امام قرطبی لکھتے ہیں۔ یعنی ہم بادل کو تم پر چھتری کی مانند کر دیا۔ جس نے تم کو ڈھانپ لیا۔ یہ سفید بادل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے اوپر سفید بادل کا سایہ اس لئے کیا کہ وہ دن کے وقت سورج کی گرمی سے بچائے۔ اور شام سے لے کر صبح تک اتنا ہلکا کر دیا جاتا تھا کہ چاند کی روشنی ان کے اوپر برابر آتی تھی۔ یہ ان پر مصر اور شام کے درمیان تیہ کے صحراءمیں ہوا تھا۔ جب انہوں نے جبارین کے شہر میں داخل ہونے اور ان سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہار ا رب دونوں جا کر لڑوا ور ہم تو یہیں انتظار میں بیٹھتے ہیں۔ پس انہیں اسی جگہ سزا دی گئی اور وہ چالیس برس تک تیہ کے صحرا میں بھٹکتے رہے۔ روایت ہے کہ دن کو سفر کرتے تھے پس ان کی صبح وہیں ہوتی جہاں کل ہوئی تھی۔ ( یعنی وہ تیہ کے صحرا میں قید کر دیئے گئے تھے ۔ وہ دن بھر مصر کی طرف جاتے تھے اور جب صبح دیکھتے تھے تو جہاں سے چلے تھے وہیں آکر کر رکے تھے۔پھر صبح سفر شروع کر تے تھے )۔ جب وہ تیہ کے صحرا میں جمع تھے تو انہوں نے آپ علیہ السلام سے کہا۔ ہمارے لئے کھانا کون لائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر من اور سلویٰ اتار دیا۔ پھر انہوں نے کہا۔ ہمیں سورج کی گرمی سے کون بچائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر بادلوں کا سایہ کر دیا۔ پھر انہوں نے کہا۔ ہم چراغ کیسے جلائیں گے؟ تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے ساتھ نور کا یا آگ کا ستون روشن کر دیا۔ جس سے وہ آگ حاصل کرتے تھے۔ انہوں نے کہا ہمارے لئے پانی کون لائے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پتھر پر عصا مارنے کا حکم دیا ۔ عصا مارتے ہیں پانی نکلنے لگا۔ انہوں نے کہا۔ ہمارے لئے لباس کون لائے گا؟ اللہ تعالیٰ نے انہیں لباس عطا فرمایا۔ اُن کے لباس اور خیمے میلے نہیں ہوتے تھے۔ اور ویسے ہی صاف ستھرے چالیس برس تک رہے۔ اور جو بچے پیدا ہوتے تھے تو ان کے خیمے کے باہر اس کے لئے اللہ تعالیٰ لباس بھیج دیتا تھا۔ اور وہ لباس بچے کے ساتھ ساتھ بڑا ہوتا جاتا تھا۔ 

پتھر سے پانی نکلنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں میں تقسیم کر کے سب کی الگ جماعت ( یعنی قبیلے )مقرر کر دیئے۔ اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا جب کہ اُن کی قوم نے ان سے پانی مانگا ، کہ اپنے عصا کو فلاں پتھر پر مارو۔ پس فوراً اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اور ہر شخص ( یعنی ہر قبیلے یا جماعت ) نے اپنے پانی پینے کی جگہ معلوم کر لی۔ اور ہم نے اُن پر بادل کو سایہ فگن کیا اور من او رسلویٰ کھانے کو دیئے کھاﺅ ان پاک اور نفیس چیزوں کو جو ہم نے تمہیں عطا فرمائی ہیں۔ اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا۔ بلکہ اپنا ہی نقصان کیا کرتے تھے۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر160) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوہِ طور سے ایک پتھر اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ اس پتھر کو بہت سنبھال کر رکھیں اور جہاں بھی جائیں اسے ساتھ میں لے چلیں۔ اس پتھر میں بارہ بڑے بڑے سوراخ تھے۔ جب بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام سے پانی کی فرمائش کی تو آپ علیہ السلام نے وہ پتھر منگوایا۔ اور اللہ تعالیٰ سے پانی کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنا عصا اس پتھر پر مارو۔ آپ علیہ السلام نے عصا مارا تو اس کے بارہ سوراخوں میں سے پانی نکلنے لگا اور تمام لوگوں نے پانی پیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے پتھر پر عصا مارا تو پانی بند ہو گیا۔ اس طرح جب ضرورت ہوتی تھی پانی حاصل کر لیتے تھے۔

اللہ تعالیٰ کا دیدار کی فرمائش

اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب موسیٰ (علیہ السلام )ہمارے وقت پر آئے اور اُن کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے رب، مجھے اپنا دیدار کر ادے۔ کہ میں ایک نظر آپ کو دیکھ لوں۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ تم مجھ کو ہر گز نہیں دیکھ سکو گے۔ لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو۔ اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب اُن کے رب نے اس ( پہاڑ) پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پر خچے اڑا دیئے اور موسیٰ ( علیہ السلام ) بے ہو ش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا ۔ بے شک آپ کی ذات منزہ ہے۔ میں آپ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر143) یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام توریت لینے کوہ طور پر چالیس راتوں کے لئے گئے تھے۔ لیکن اگر ہم اس واقعہ کو وہاں بیان کرتے تو تسلسل قائم نہیں رہ پاتا۔ اسی لئے یہاں بیان کر رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام کوہِ طور پر تھے اور توریت کا نزول ہو رہا تھا ۔ جب تو ریت مکمل ہو گئی تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، تو نے مجھے اتنا بڑا مقام عطا فرمایا ہے کہ مجھ سے کلام کیا۔ ( یعنی بات کی) تو ایک مہربانی اور کر دے اور مجھے اپنا دیدار کر ادے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے کیوں کہ تم اس جسم میں قید ہو اور یہ جسم اتنا طاقتور نہیں ہے کہ میرا دیدار کر سکے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اتنی قوت عطا فرما کہ میں تیرا دیدار کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں اس پہاڑ پر اپنی ہلکی سی تجلّی ڈالتا ہوں ۔اگر یہ اپنی جگہ محفوظ رہ گیا تو تم مجھے دیکھ سکو گے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر تجلّی ڈالی تو وہ پاش پاش ( بھوسہ ) ہو گیا۔ اور آپ علیہ السلام جو غور سے اس پاش پاش ہونے والے پہاڑ کو غور سے دیکھ رہے تھے بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب ہوش آیا تو عرض کیا ۔ اے اللہ تعالیٰ، تو پاک ہے اور سب کا رب ہے۔ اور میں نے جو گستاخی کی ہے اس پر توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں۔

بنی اسرائیل نے گیہوں ، سبزی اور دال کی فرمائش کی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب تم نے ( بنی اسرائیل نے ) کہا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر ہر گز صبر نہیں ہو سکے گا۔ اس لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار ، ساگ ، ککڑی ، گیہوں ،مسور اور پیاز دے۔ آپ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ بہتر چیز کے بدلے تم ادنیٰ چیز کیوں طلب کر ہے ہو؟ اچھا کسی بستی ( شہر ) میں جا کر بس جاﺅ۔ وہاں تمہیں اپنی چاہت کی یہ سب چیزیں ملیں گی۔ ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی ہے اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے۔ یہ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے۔ اور نا حق نبیوں کو قتل کر تے تھے۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر61)حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل آرام سے وادی¿ تیہ میں صحرا میں رہ رہے تھے۔ جب دل چاہتا چل پڑتے تھے۔ اور جب دل چاہتا رک جاتے تھے۔ کھانے اور پینے کو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اور من اور سلویٰ اور پانی پتھر ساتھ چلتے تھے۔ اس کے علاوہ انہیں خیمے اور کپڑے دھونے نہیں پڑتے تھے۔ اور نئے خیمے اور کپڑے بنانے نہیں پڑتے تھے۔ ان کے خیمے اور کپڑے ہمیشہ صاف ستھرے اور نئے رہتے تھے۔ اور پرانے ہو کر پھٹتے نہیں تھے۔ ان کے بچوں کے بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ کپڑے بھی بڑے ہوتے تھے۔ اتنی سب آسانی ہو نے کے بعد بھی یہ لوگ مطمئن نہیں ہوئے۔ برسوں صحرا میں بھٹکنے کے بعد ان لوگوں نے آپ علیہ السلام سے عجیب سی فرمائش کی کہ اب ہم سے ایک ہی قسم کے کھانے پر صبر نہیں ہو رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں زمین کی پیداوار سبزی ، گیہوں، مسور دال، پیاز اور لہسن وغیرہ دے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ اتنی بہترین اور اچھی چیزوں کے بدلے میں ادنیٰ اور معمولی چیزیں کیوں مانگ رہے ہو؟ اگر یہی چاہتے ہو تو جاﺅ کسی بستی میں جا کر بس جاﺅ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں..........!

16 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


16 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 16

بنی اسرائیل کا پھر نافرمانی کرنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے تم سے ( بنی اسرائیل سے ) فرمایا۔ کہ اس بستی میں جاﺅ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو فراغت سے کھاﺅ اور پیﺅ۔ اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو۔ اور زبان سے حطة کہو۔ ہم تمہاری خطائیں معاف فرما دیں گے۔ اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔ پھر اُن سے جو بات کہی گئی تھی اسے ان ظالموں نے بدل ڈالا۔ اور ہم نے بھی ان ظالموں پر ان کے فسق اور نافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل فرمایا۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب اُن کو ( بنی اسرائیل کو ) حکم دیا گیا کہ تم لوگ اس آبادی میں جا کر رہو اور کھاﺅ۔ اس میں سے جہاں تمہارا دل ہو۔ اور زبان سے کہتے جانا کہ توبہ ہے اور جھکے جھکے دروازہ میں داخل ہونا۔ ہم تمہارا خطائیں معاف کردیں گے۔ جو لوگ نیک کام کریں گے ان کو مزید اور زیادہ عطا فرمائیں گے۔ لیکن ان ظالموں نے اس کلمہ کو بدل ڈالا اور وہ کلمہ کہا جو اس کے خلاف تھا۔ جس کا حکم دیا گیا تھا۔ اس وجہ سے ہم نے ان پر ایک آسمانی آفت بھیجی۔ یہ اس لئے تھا کہ وہ حکم کو ضائع کر تے تھے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر161اور 162) بد بخت بنی اسرائیل نے زمین کی پیداوار کی فرمائش کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ، بنی اسرائیل کو اچھی بستی عطا فرما۔تو اللہ تعالیٰ نے وادی¿ تیہ یعنی صحرا سے لگ کر ایک بستی انہیں عطا فرمائی۔ اس بستی میں کوئی بیماری پھیلی تھی یا ایسا ہی کچھ واقعہ پیش آیا تھا جس کی وجہ سے بستی والے اپنے گھر وں کو ویسے ہی چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ اس بستی کے ایک طرف صحرا تھا اور دوسری طرف دریا بہتا تھا۔ جس کی وجہ سے اس بستی کے آس پاس کا علاقہ بہت ہی ہر ا بھرا اور زرخیز تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس بستی میں داخل ہو جاﺅ اور جہاں سے جتنا جی چاہے کھاﺅ اور پیﺅ۔ ہاں میرا ایک حکم ہے جب تم بستی میں داخل ہونا تو اس کے دروازے میں جھکے جھکے اور سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ اور زبان سے حِطَة’‘ کہتے ہوئے داخل ہونا۔ آپ کو تو معلوم ہی ہوگا گا کہ پہلے زمانے میں شہروں ، بستیوں اور گاﺅں کے اطراف میں چاروں طرف بہت اونچی دیوار ہو تی تھی۔ اور اس دیوار کو شہر ِ پناہ یا فصیل کہا جاتا تھا۔ اس دیوار میں ہر سمت بہت بڑے بڑے دروازے بنے ہوتے تھے۔ جن کی باقیات ہمارے ہندوستان میں کلکتہ ، دہلی اور بمبئی میں گیٹ وے آف انڈیا اور حیدرآباد کا چار مینار ہے۔ تفسیر طبری میں لکھا ہے کہ انہوں نے حِطَة’‘ کے بجائے حَنطَة’‘ ( گیہوں ) کہا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بنی اسرائیل کو کہا گیا کہ تم سجدہ کرتے ہوئے دروازہ سے داخل ہونا اور کہنا کہ ہم کو معاف کردے۔ تو انہوں نے حکم کو بدل دیا۔ اور چوتڑوں کے بل گھِسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کہا۔ حَبَّة’‘ فِی شَعرَةٍ( جَو میں گندم کا دانہ ) اس طرح ان بد بختوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی جان بوجھ کر کی اور نقصان میں پڑ گئے۔

چچا کا قتل کر کے دوسروں پر الزام لگا دیا۔

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک بہترین بستی عطا فرمائی۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بنی اسرائیل اس بستی میں بس گئے ۔ یہ بستی اتنی بڑی تھی کہ اس میں بنی اسرائیل کے پورے بارہ قبیلے بنا لئے۔ اور ہر قبیلے نے اپنا اپنا علاقہ بنا لیا۔ اور اپنے علاقوں پر دروازے بنائے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو اتنا ہرا بھرا اور زرخیز کر دیا تھا کہ اناج، سبزیاں ، پھل اور میوے وغیرہ بہت زیادہ پیدا ہورہے تھے۔ جس کی وجہ سے یہ بستی تجارتی منڈی بن گئی اور اسکی وجہ سے بنی اسرائیل دن بہ دن امیر ہوتے جا رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص قارون بھی تھا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا۔ ایسے ہی کچھ امیروں میں سے ایک امیر شخص کے بھتیجے نے اپنے چچا کا قتل کر دیا اور لاش کو دوسرے قبیلے والوں کے دروازے پر رات میں پھینک آیا۔ اور صبح اٹھ کر لاش کے پاس پہنچا اور زور زور سے رو رو کر فریاد کرنے لگا کہ اس قبیلے والوں نے میرے چچا کو قتل کر دیا ہے۔ اس قبیلے کے لوگوں نے انکار کر دیا۔ بنی اسرائیل کے باقی قبیلے والے حیران تھے کہ کس کو کہا کہیں ۔ آخر کار یہ مقدمہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش ہوا۔

 گائے ذبح کرنے کا حکم 

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور موسیٰ ( علیہ السلام ) نے جب اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو انہوں نے کہا۔ ہم سے مذاق کیوں کر رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں ایسا جاہل ہونے سے اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر67) تمام بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ حاضر ہوئے۔ اور مقدمہ آپ علیہ السلام کی بارگاہ میں پیش کیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اصل قاتل کو سامنے لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے ان سے گائے کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو وہ لوگ کہنے لگے۔ یہ کیا مذاق ہے؟ ( در اصل بنی اسرائیل سینکڑوں برس سے قبطیوں یعنی مصریوں کے ساتھ رہتے آ رہے تھے اور قبطی گائے کی پوجا کرتے تھے۔ اس لئے ان کے ساتھ رہتے رہتے بنی اسرائیل کے اندر بھی ان کے اثرات آگئے تھے۔ اور اس سے پہلے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر گئے تھے تو یہ لوگ بچھڑے کو پوجا میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اور گائے اور بیل وغیرہ کو عظیم ماننے لگے تھے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کاحکم دیا۔ تا کہ ان کے اندر سے گائے وغیرہ کی عظمت کے اثرات نکل جائیں۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے آپ علیہ السلام کے حکم کو مذاق سمجھااور ٹالنے کی کوشش کرنے لگے) بنی اسرائیل آپ علیہ السلام سے کہنے لگے۔ ہم آپ علیہ السلام کے پاس قتل کا مقدمہ لے کر آئے ہیں اور آپ علیہ السلام قاتل کے بارے میں بتانے کی بجائے ہم سے مذاق کر رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تم سے مذاق کر وں۔ تم گائے ذبح کرو گے تو قاتل کا پتہ چلے گا۔

 گائے کے معاملے میں بہانے بازی

اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( بنی اسرائیل) نے کہا۔ اے موسیٰ علیہ السلام دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس کی ماہیت ( حلیہ ) بیان کر دے۔ آپ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ سنو ، وہ گائے نہ تو بالکل بوڑھی ہو اور نہ ہی بچہ ہو بلکہ درمیان عمر کی نوجوان ہو۔ اب تمہیں جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کرو۔ وہ پھر کہنے لگے۔ کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بیان کر ے کہ اس کا رنگ کیسا ہو؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے زرد رنگ کی ہو چمکیلی ہو۔ اور دیکھنے والوں کو بھلا لگنے والا رنگ ہو۔ وہ کہنے لگے کہ اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں مزید تفصیل بتائے۔ اس قسم کی گائے تو بہت ہیں پتہ ہی چل رہا ہے ( کہ کون سی زبح کریں) اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہو جائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے زمین میں کام کرنے والی اور ہل جوتنے والی نہیں ہو۔ اور وہ تندرست اور بے داغ ہو۔ انہوں نے کہا۔ آپ نے حق کو واضح کر دیا۔ حالانکہ وہ حکم کو پورا کرنے والے نہیں تھے۔ لیکن اسے ( مجبوراً ) مانا اور وہ گائے ذبح کر دی“( سورہ البقرہ آیت نمبر68سے 71تک) بنی اسرائیل گائے کو ذبح کرنا نہیں چاہتے تھے اسی لئے بہانے بازی کرنے لگے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ اس کا قد کیسا ہو، اور طرح طرح کے سوال کرنے لگے۔ تا کہ اس حکم کو پرا نہیں کرنا پڑے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا ، اگر اس وقت بنی اسرائیل کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے تو اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا اور بنی اسرائیل پریشانیوں سے بچ جاتے ۔ لیکن گائے کی عظمت اُن دلوں میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس لئے وہ لوگ آپ علیہ السلام سے بے تکے سوالات کرنے لگے تا کہ کسی بھی طرح گائے ذبح نہ کرنی پڑے۔ لیکن جتنے سوالا ت وہ کرتے جا رہے تھے اتنے ہی مصیبت میں پڑتے جا رہے تھے۔

قاتل کا پتہ معلوم ہو گیا

اللہ تعالیٰ کے حکم کو ٹالنے کے لئے بنی اسرائیل بہانے بازی کر رہے تھے اور جتنا ٹالنے کی کوشش کر رہے تھے اتنا ہی مصیبت میں پھنستے جا رہے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے ہر بے تکے سوال کے جواب میں ایسی شرط پیش فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل اور زیادہ مصیبت میں آجاتے تھے۔ لیکن قاتل کا پتہ لگانا ضروری تھا۔ اسی لئے مجبوری میں اس گائے کو تلاش کرنے لگے۔ اور ویسی گائے صرف ایک تھی اور وہ بھی دوسرے علاقے میں ملی۔ وہ گائے ایک یتیم نوجوان کی تھی جو اپنی بیوہ والدہ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ بہت ہی نیک انسان تھے۔ اس نیک انسان نے ایک گائے اللہ تعالیٰ کے نام سے جنگل میں چھوڑ دی تھی۔ اس کے بعد جب اس کا انتقال ہو گیا اور اس کا بیٹا بڑا ہوا تو والدہ نے کہاکہ جنگل میں جا کر پکارو کہ اے اللہ تعالیٰ میرے والد کی گائے مجھے لوٹا دے۔ نوجوان نے جا کر پکارا تو وہ گائے آگئی اور اسے لے کر گھر آیا۔ والدہ نے کہا۔ اسے بازار میں لے جا کر 6 دینار یا درہم میں بیچ دو۔ لیکن اگر اس سے کم یا زیادہ میں مانگے تو مجھ سے پوچھ لینا۔ بازار میں ایک شخص نے 8دینار یا درہم میں مانگا اور شرط پیش کی کہ والدہ سے نہیں پوچھنا۔ لیکن نوجوان نے سودا منظور نہیں کیااور والدہ سے مشورہ کیا۔ اس طرح کئی مرتبہ سودا ہونے کے بعد اس شخص نے کہا کہ اس گائے کو فروخت مت کرو۔ کچھ لوگ آئیں گے اور ہر قیمت پر گائے خریدنا چاہیں گے تو ان سے کہنا کہ اس گائے کے وزن کے برابر سونا چاہیے۔ اور بنی اسرائیل اس کے پاس آئے اور منہ مانگی قیمت دے کر گائے خرید لی۔ اور ذبح کی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ذبح کی ہوئی گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا لاش پر مارو۔ تو لاش نے اٹھ کر بتایا کہ مجھے میرے بھتیجے نے قتل کیا ہے۔ اور پھر مر گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب تم نے ایک شخص کو قتل کر ڈالا پھر آپس میں اختلاف کر نے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ تعالیٰ ظاہر کرنے والا تھا۔ ہم نے کہا کہ اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر لگا دو( وہ زندہ ہو کر قاتل کا پتہ بتا دے گا) اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کر کے تمہیں تمہاری عقل مندی کے لئے نشانیا ں دکھلاتا ہے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر73، 72) 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

17 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


17 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 17

توریت میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کا ذکر

اللہ تعالیٰ نے توریت میں بہت ساری جگہوں پر سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن ہم یہاں صرف ایک روایت پیش کر یں گے۔ کیوں کہ آسمانی کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور صحابہ کرام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ذکر اتنا زیادہ آیا ہے کہ اگر اسے تحریر کریں گے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال رہی تو انشاءاللہ اس موضوع پر ضرور آپ کی خدمت میں ایک کتاب پیش کریں گے۔ فی الحال صرف ایک روایت پیش کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ حضرت قتادہ ( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا ۔ اے میرے اللہ، میں تو ریت کی تختیوں میں ایک ایسی امت کا ذکر دیکھتا ہوں جو تمام امتوں سے بہتر ہو گی۔ لوگوں کو نیکی کا حکم دے گی اور انہیں برائی سے روکے گی۔ اے اللہ تعالیٰ ، اسے میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ احمد مجبتیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت دیکھتا ہوں جن پر نازل آیات اُن کے سینوں میں محفوظ ہوں گی۔ اور وہ تیرے کلام ( قرآن پاک) کو زبانی پڑھیں گے۔ جب کہ ان سے پہلے کی امتیں تیرا کلام دیکھ کر پڑھیں گے۔ اور ان کتابوں کے اٹھ جانے کے بعد تیرا وہ کلام محفوظ نہیں رہے گا۔ حتیٰ کہ کسی کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ تیرا کلام کیا ہے۔ ( جیسا کہ آج کل توریت اور انجیل کی ملاوٹ شدہ کتابوں کے بارے میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) اور نصاریٰ( عیسائیوں) کو خود بھی یقینی علم نہیں ہے۔ ) اے میرے رب ، تیرے کلام کی حافظ امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے پھر عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا بھی ذکر پاتا ہوں جو پہلی اور آخری تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لائے گی۔ اور گمراہوں کے خلاف جہاد کرے گی۔ حتیٰ کہ کانے کِذّاب ( دجال) کے خلاف بھی جہاد کرے گی۔ اے میرے رب، مجھے اس امت کا نبی بنادے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا ذکر بھی پاتا ہوں جو صدقے کا مال خود کھائیں گے اور انہیں پھر بھی صدقے کا اجر ملے گا۔ جب کہ اس سے پہلی کی امتیں صدقہ کریں گی تو اس کی قبولیت کی نشانی یہ ہو گی کہ آسمان سے آگ آکر اُن کے صدقے کو کھالے گی اور جو صدقے کا مال قبول نہیں ہو گا اسے چرند پرند نوچ کھائیں گے۔ لیکن اس امت کی خوبی یہ ہے کہ امیروں کا مال لے کر غریبوں کو دیا جائے گا۔ اے میرے رب، اس امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا ذکر بھی پاتا ہوں جو نیکی کی نیت کرے گی اور نیکی نہیں کر سکے گی تو اس کے اعمال نامے میں ایک نیکی لکھ دی جائے گی۔ اور اگر اس نیکی کو کرے گی تو دس نیکی سے لے کر سات سو نیکیاں تک لکھی جائیں گی۔ اے میرے رب، اس امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ بھی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے۔ آپ علیہ السلام نے پھر فرمایا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں توریت کی تختیوں میں ایسی امت کا ذکر بھی دیکھتا ہوں کہ جن کے حق میں شفاعت قبول کی جائے گی۔ اے میرے رب، اس امت کو میری امت بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ خوش نصیب امت بھی احمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا۔ جب اس امت میں اتنی ساری خوبیاں ہو ں گی تو مجھے ان میں شامل فرما دے اور مجھے احمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی بنا دے۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ”ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ! میں نے پیغمبری اور اپنی ہمکلامی سے اور لوگوں پر تم کو امتیاز دیا ہے تو جو کچھ تم کو میں نے عطا کیا ہے اس کو لو اور شکر کرو ۔  (سورہ الاعراف آیت نمبر 144)

قارون کو سمجھانا

اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قارون تھا تو موسیٰ ( علیہ السلام کی قوم سے ، لیکن ان پر ظلم کرنے لگا تھا۔ ہم نے اسے ( اتنے زیادہ ) خزانے دے رکھے تھے کہ کئی کئی طاقتور لوگ بہت مشکل سے اس کی کنجیاں اٹھا سکتے تھے۔ ایک بار اس کی قوم ( کے نیک لوگوں ) نے اس سے کہا۔ کہ اتر ا مت، اللہ تعالیٰ اِترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تجھے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیاوی حصے کو نہ بھول اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی ( احسان کا ) سلوک کر۔ اور ملک میں فساد کی خواہش کرنے والا نہ بن اور یقین مان اللہ تعالیٰ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔ قارون نے کہا۔ یہ سب مجھے میری اپنی سمجھ کی وجہ سے ہی ملا ہے۔ کیا اسے یہ نہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے بہت سی بستی والوں کو غارت کر دیا جو اس سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور دولت والے تھے۔ اور گنہ گار وں سے ان کے گناہوں کی باز پرس ایسے وقت نہیں کی جاتی ( جب وہ گناہ کر رہے ہوں) ( سورہ القصص آیت نمبر76سے 78تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل اس بستی میں رہ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین سے اتنی نعمتیں عطا فرما رکھی تھیں اور اس کی وجہ سے بنی اسرائیل اچھے خاصے امیر ہوتے جا رہے تھے ۔ اُن میں سے کچھ تو بہت زیادہ امیر ہو گئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ امیر شخص قارون تھا۔ وہ اتنا امیر ہو گیا تھا کہ اس کے خزانے کی چابیاں کئی طاقتور آدمی بڑی مشکل سے اٹھا پاتے تھے۔ کئی روایات میں آیا ہے کہ قارون کے خزانوں کی چابیاں 70اونٹ مل کر مشکل سے اٹھا پاتے تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ بے انتہا دولت اور عیش و عشرت نے اسے بہت گھمنڈی اور مغرور بنا دیا تھا۔ اور اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے وہ اپنی قیمص کو لوگوں سے لمبی رکھتا تھا۔ اسے اس کی قوم کے لوگوں نے سمجھایا کہ اپنے مال و دولت پر اتنا مت اتراﺅ ۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ اترانے والوں کو پسند نہیں فرماتاہے۔ اور تجھے جو مال و دولت اس نے عطا فرمایا ہے اُسے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے خرچ کر۔قارون نے جواب میں کہا۔ مجھے یہ خزانے اور مال و دولت میرے علم اور میری عقلمندی سے ملے ہیں۔ اور یہ سب میری محنت اور لگن کا نتیجہ ہے۔

دنیا کی محبت رکھنے والوں کا رشک

اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میںآگے فرمایا۔ ترجمہ ”پس قارون پوری آرائش کے ساتھ اپنی قوم کے مجمع میں نکلا تو دنیا کی زندگانی کے متوالے کہنے لگے کہ کاش ہمیں بھی کسی طرح وہ سب مل جاتا جو قارون کو عطا کیا گیا ہے۔ یہ تو بڑا قسمت کا دھنی ہے۔ لیکن علم والے ( علماءاور نیک ) لوگ انہیں سمجھانے لگے کہ افسوس، بہتر چیز تو وہ ہے جو ثواب کے طور پر عطا کی جاتی ہے اور جو اللہ پر ( مضبوط) ایمان و یقین رکھتے ہیں۔ اور سنت کے مطابق نیک اعمال ( عمل صالح) کرتے ہیں۔ یہ بات اُن ہی کے دل میں ڈالی جاتی ہے اور جو صبر کا سہارا لینے والے ہوتے ہیں۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر79, اور 80) ایک دن وہ سج دھج کر اپنی بہترین گھوڑوں کی کھلی بگھی میں نکلا۔ اس کے آگے پیچھے نوکروں کی فوج تھی اور اس کی خدمت کر رہی تھی۔ اس کے یہ ٹھاٹ باٹ دیکھ کر جن لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت تھی وہ کہنے لگے ۔ کہ یار ، قارون تو واقعی بڑے عیش و آرام میں رہتا ہے ۔ کاش اس کے جیسا عیش و آرام ہمیں بھی نصیب ہو جائے تو بنی اسرائیل کے علماءاور نیک لوگ و آخرت کو خوف رکھتے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ یہ جو کچھ قارون کو ملا ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یہ مال و دولت فنا ہو جانے والی چیز ہے۔ اصل قائم رہنے والے وہ نیک اور صالح اعمال ہیں جو آخرت میں کام آئیں گے۔

 گھمنڈ اور تکبر کی وجہ سے قارون زمین میں دھنسا دیا گیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( آخر کار) ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی جماعت اس کی مدد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئی۔ اور وہ خود بھی اپنے آپ کو بچانے والوں میں سے نہیں ہو سکا۔ اور جو لوگ کل اسی طرح کی ( دولت مند) بننے کی آرزو کرتے تھے۔ وہ آج کہنے لگے کہ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لئے چاہے رزق کشادہ ( زیادہ ) کر دیتا ہے۔ اور تنگ بھی کر دیتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہیں کرتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے ہو کہ نا شکروں ( گھمنڈی اور متکبر) کو کامیابی نہیں ملت۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر81،82) قارون کو زمین دھنسا دینے کی کئی وجوہات بیان ہوئی ہیں کہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازش کی اور آپ علیہ السلام پر جھوٹے الزامات لگائے اور بد نام کرنے کی کوشش کی اور بھر مجمع میں ( نعوذ باللہ ) آپ علیہ السلام کو ذلیل کرنا چاہا۔ اور اس کے لئے کافی طویل روایات احادیث اور تفاسیر کی کتابوں میں درج ہیں۔ لیکن اسے زمین میں دھنسانے کی اصل وجہ اس کا اللہ تعالیٰ کی ناشکری، گھمنڈ اور تکبر ہے۔ اس لئے ہم ان طویل روایات کو پیش کرنے کے بجائے مختصر میں اس واقعہ کو پیش کر رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے کچھ مسائل حل کررہے تھے اور سب لوگ اُن کے آس پاس جمع تھے۔ ایسے وقت میں قارون اپنا شاہانہ جلوس کے ساتھ وہاں سے گزرا ۔ اور جب آپ علیہ السلام کے اطراف مجمع دیکھا تو گھمنڈ اور تکبر سے اکڑتا ہوا مجمع کو چیرتا ہوا آپ علیہ السلام کے پاس آیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قارون ” بنی لاوی“ سے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی نسل بارہ قبیلہ بنی ۔ اور ان بارہ قبائل کے مجموعہ کو ” بنی اسرائیل “ کہا جاتا ہے۔ تمام بارہ قبیلوں کے نام بارہ بھائیوں کے نام پر تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں میں ایک کا نام لاوی تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور قارون لاوی کی اولاد میں سے ہیں۔ قارون آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں تکبر سے اپنی سواری پر بیٹھا رہا اور بولا۔ اے موسیٰ(علیہ السلام )ہمارا سلسلہ نسب ایک ہی ہے اس لئے نسب کے معاملے میں تمہارے برابر ہوں۔ اور نبوت کے معاملے میں تم مجھ سے بہتر ہو۔ اور مال و دولت کے معاملے میں تم سے بہتر میں ہوں۔ آپ علیہ السلام نے اسے سمجھایا کہ اپنے مال و دولت پر اتنا بھروسہ مت کرو۔ کیوں کہ یہ فانی چیز ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے مال و دولت سمیت زمین میں دھنسا دے۔ قارون نے کہا ۔ ٹھیک ہے۔تم بھی اللہ سے دعا کرو اور میں بھی دعا کرتا ہوں۔ دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کس کی سنتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ توم دعا کرو پہلے کرو گے یا میں کروں گا۔ اس نے کہا آپ ہی پہلے کریں۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ قارون کو زمین میں دھنسا دے۔ تو زمین میں قارون دھنسنے لگا۔ پہلے ٹخنے دھنسے پھر گھٹنے ،پھر کمر تک دھنسا ، پھر سینے تک پھر گردن تک دھنس گیا اور آخر کار پورا زمین میں غرق ہو گیا اور زمین برابر ہو گئی۔ تمام بنی اسرائیل حیرانی سے آنکھیں پھاڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے قارون کے محل اور اس کے خزانوں کو بھی زمین میں دھنسا دیا۔ یہ دیکھ کر وہ بنی اسرائیل جو قارون پر رشک کر رہے تھے انہوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے اور ہم پر فضل ہے کہ اس نے ہمیں گھمنڈ اور تکبر سے محفوظ رکھا۔ ورنہ ہمارا بھی وہی انجام ہوتا جو قارون کا ہوا ہے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

18 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


18 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 18

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام 

حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف رائے ہیں۔ کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے نبی تھے اور کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ وہ نبی نہیں تھے بلکہ صر ف ولی تھے۔ اور عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ انتقال ہو چکا ہے۔ اور کچھ روایات میں ہے کہ ابھی بھی زندہ ہیں۔ اب حقیقت کیا ہے اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ نوف بکالی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کرنے والے موسیٰ وہ نہیں ہیں جو بنی اسرائیل میں رسول تھے۔ اس پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کہ اس اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے ۔ مجھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بے شک حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ ( آج) سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ( جہاں تک میری معلوما ہیں) میں ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ بے شک میرا ایک بندہ ہے جو دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ہے۔ اور وہ تم سے زیادہ علم والا ہے۔ 

حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے نوجوان ( شاگرد سے )سے فرمایا ۔ کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاﺅں کے سنگم پر پہنچوں ۔ (چاہے ) مجھے سالہا سال چلنا پڑے۔ جب دونوں دریا کے سنگم پر پہنچے ( تو ) وہاں مچھلی بھول گئے۔ جس نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنا لیا۔ جب یہ دونوں وہاں سے آگے بڑھے تو موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے نوجوان ( شاگرد) سے کہا کہ ہمارا ناشتہ دے۔ ہمیں تو اپنے اس سفر سے سخت تکلیف اٹھانی پڑی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ کیا آپ (علیہ السلام )نے دیکھا بھی ؟ جب کہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا۔ در اصل شیطان نے ہی مجھے آپ (علیہ السلام )سے اس کا ذکر کرنا بھلا دیا تھا۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا ۔ یہی وہ ( جگہ) ہے جس کی تلاش میں ہم تھے۔ پھر وہیں سے اپنے قدموں کے نشان ڈھونڈ تے ہوئے واپس لوٹے اور وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا۔ جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرمارکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر60سے 65تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ،میں اُس تک کیسے پہنچوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایک مچھلی لے کر زنبیل میں رکھ لو ۔ پس جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہ وہیں ہو گا۔ پس انہوں نے مچھلی لے کر زنبیل میں رکھ لی۔ پھر چل پڑے اور ان کے ساتھ ایک نوجوان ( شاگرد) حضرت یوشع بن نون علیہ السلام بھی تھے۔ یہاں تک کہ (دریاکے کنارے) ایک پتھر کے پاس پہنچے تو اس پر سر رکھ کر سو گئے۔ اس دوران مچھلی زنبیل میں تڑپی اور باہر نکل کر دریا میں جا گری۔ اور اس نے دریا میں راستہ بنا لیا۔ جب وہ جاگے تو شاگرد بھول گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مچھلی کے بارے میں بتائے۔ پس وہ باقی دن کا حصہ اور رات چلتے رہے۔ یہاں تک کہ جب صبح ہوئی تو آپ علیہ السلام نے شاگر د کو فرمایا کہ ہمارا صبح کا ناشتہ لاﺅ بے شک ہمیں اس سفر میں بڑی مشقت اٹھانی پڑ رہی ہے۔ آپ علیہ السلام نے تھکاوٹ اس وقت محسوس کی جب وہ اس جگہ سے آگے چلے گئے تھے۔ جس جگہ کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا تھا ۔ پس شاگر نے ان کی خدمت میں عرض کیا۔ بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو وہیں پر مچھلی نے نکل کر پانی میں راستہ بنا لیا تھا۔ جس پر مجھے تعجب ہوا ۔ اور یہ بات آپ علیہ السلام کو بتانے سے شیطان نے بھلا دی تھی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں اسی جگہ کی تلاش میں ہوں ۔ اس کے بعد وہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس اسی پتھر کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہاں ایک آدمی چادر لپیٹے ہوئے لیٹا ہوا ہے۔(صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے)

آپ علیہ السلام میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” اُس سے (حضرت خضر علیہ السلام سے ) موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ کہ میں آپ کی تابعداری کروں گاکہ آپ مجھے اس نیک علم کو سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔ اس نے کہا۔ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ اور جس چیز کا آپ (علیہ السلام )کو علم ہی نہ ہو اس پر آپ (علیہ السلام ) صبر کیسے کر سکیں گے؟ موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ انشاءاللہ ، آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ اور کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ اس نے کہا۔ اچھا اگر آپ میرے ساتھ چلنے پر اصرار کر رہے ہیں تو یاد رہے کہ کسی چیز ( یا عمل ) کے تعلق سے مجھ سے کچھ نہیں پوچھنا۔ جب تک کہ میں خود اس چیز ( یا عمل ) کے بارے میں خود نہ بتاﺅں۔“ (سورہ الکھف آیت نمبر66سے70تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس شخص کو سلام کیا۔ تو اس شخص نے کہا۔ کہ اس ( ویران ) زمیں پر یہ سلام کہاں سے آیا؟ جواب دیا کہ میں موسیٰ ( علیہ السلام )ہوں۔ اس نے کہا۔ کیا بنی اسرائیل والے موسیٰ علیہ السلام ہو؟ جواب دیا۔ ہاں وہی۔ ( پھر حضرت خضر علیہ السلام نے بھی اپنا تعارف کرایا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا) میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تم مجھے وہ نیک باتیں سکھا دو جن کی تمہیں تعلیم دی گئی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا۔ آپ علیہ السلام میرے ساتھ ہر گز صبر نہیں کر سکیں گے۔ اے موسیٰ علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کے علوم میں سے مجھے ایک ایسا علم سکھایا گیا ہے جس کو آپ علیہ السلام نہیں جانتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے آپ علیہ السلام کو ایسا علم عطا فرمایا ہے جو کو میں نہیں جانتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ انشاءاللہ ، تم مجھے صبر کرنے والا پاﺅ گے اور میں تمہارے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔

 کشتی کو عیب دار کردیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ خضر ( علیہ السلام )نے اس کے تختے توڑ دیئے۔ موسیٰ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ آپ اسے توڑ رہے ہیں اس طرح تو ( کشتی عیب دار ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ ) کشتی والے غرق ہو جائیں ۔ یہ آپ نے بڑی خطرناک ( بات یا عمل ) کردیا۔ خضر (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ میں نے پہلے ہی آپ سے کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ میری بھول پر مجھے نہ پکڑئیے اور مجھے اپنے کام میں تنگی نہ ڈالئے۔ ( سورہ الکھف آیت نمبر70سے 73تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ اس کے بعد دونوں حضرت علیہم السلام دریا کے کنارے کنارے ساتھ ساتھ چل پڑے۔ کچھ دور جانے کے بعد ایک کشتی گزری انہوں نے کشتی والوں سے فرمایا کہ ہمیں بٹھا لو۔ کشتی والے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچانتے تھے اور بہت عزت کرتے تھے۔ انہوں نے دونوں حضرات کو بٹھا لیا اور معاوضہ بھی نہیں لیا۔ جب کشتی آگے بڑھی تو حضرت خضر علیہ السلام نے بَسولے سے کشتی کا تختہ توڑ دیا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ جن لوگوں نے ہمیں بغیر کرائے کے بٹھا لیا آپ نے جان بوجھ کر انہیں کی کشتی کا تختہ توڑ دیا۔ اس طرح تمام لوگ ڈوب سکتے ہیں۔ بے شک آپ نے برا کام کیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا ۔ میں نے آپ کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ۔ دیکھئے میں بھول گیا تھا اسی لئے میرے ساتھ اتنی سختی سے پیش نہ آئیں۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک چڑیا کشتی کے کنارے پر آکر بیٹھ گئی اور اس نے دریا میں سے اپنی چونچ میں پانی بھر لیا۔ اسے دیکھ کر حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا۔ حضرت میرے اور آپ کے علم کی مثال اللہ تعالیٰ کے علم کے سامنے ایسی ہی ہے جیسے اس چڑیا نے دریا میں سے اپنی چونچ بھری اور اس بوند کے کم ہونے کی وجہ سے دریا کے پانی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ 

بچے کا قتل

اللہ تعالیٰ نے آگے سورہ الکھف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر دونوں آگے چلے ، یہاں تک کہ ایک لڑکے کو پایا۔ خضر (علیہ السلام ) نے اس لڑکے کو قتل کر دیا۔ موسیٰ( علیہ السلام )نے فرمایا۔ یہ آپ نے کیا کر ڈالا۔ ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض قتل کر دیا۔ بے شک آپ نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی ہے۔ خضر (علیہ السلام ) نے فرمایا میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اب اگر اس کے بعد میں آپ کو کچھ کہوں تو بے شک آپ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا ۔ یقینا میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر74سے 76تک) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے کہ پھر وہ دونوںحضرات علیہم السلام کشتی سے اترے اور ساحل کے سات ھساتھ آگے بڑھے۔ کچھ دور چلنے کے بعد دیکھا کہ کچھ لڑکے کھیل رہے ہیں۔ اُن میں سے ایک لڑکے کو خضر علیہ السلام نے پکڑ کر قتل کر دیا۔ اس کے سر کو پکڑ ا اور اپنے ہاتھوں سے اسکی گردن مروڑ کر قتل کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ آپ نے کیا کر دیا؟ ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے بدلے ( یعنی بغیر قصاص کے ) قتل کر دیا۔ بے شک آپ علیہ السلام نے بہت ہی برا کام کیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا۔ اب آپ میرے ساتھ نہیں ٹھہر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے آپ مجھے ایک موقعہ اور دیں۔ اس کے بعد اگر میں کچھ کہوں گا بے شک آپ مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا۔ اور میری طرف آپ کا عذر بھی پورا ہو جائے گا۔ ( صحیح بخاری کی حدیث ابھی جاری ہے)

ظالم لوگوں کی بستی میں دیوار کی تعمیر

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر دونوں چلے۔ اور ایک گاﺅں والوں کے پاس جا کر کھانا طلب کیا۔ انہوں نے اُن کی مہمان داری کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ دونوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی۔ اُس نے اسے ٹھیک اور دوست کر دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے۔ اس نے ( خضر علیہ السلام نے ) فرمایا۔ اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہو گی۔ اور اب میں آپ کو ان باتوں کی اصلیت بتا تا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر77اور 78) صحیح بخاری کی حدیث میں آگے ہے۔ پھر دونوں حضرات علیہم السلام آگے بڑھے اور ایک گاﺅں میں پہنچے ۔ اس گاﺅں کے لوگ بہت مطلبی ، خود غرض اور ظالم تھے۔ ان سے حضرت خضر علیہ السلام نے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے جھڑک دیا۔ اسی بستی سے گزرتے وقت دیکھا کہ ایک دیوار بہت زیادہ جھک چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جلد ہی گر جائے گی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے بڑی محنت و مشقت سے اس دیوار کو گرا کر نئے سِرے تعمیر کر دی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ آپ عجیب آدمی ہیں ۔ اس گاﺅں کے ظالموں نے ہم کو کھانا نہیں دیا اور آپ اسی گاﺅں کے لوگوں کی دیوار تعمیر کر کے دے رہے ہیں۔ اور وہ بھی بالکل مفت میں۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ایسے مطلبی لوگوں سے بغیر معاوضہ لئے آپ دیوار کو نہیں تعمیر کر تے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا۔ اب آپ کو میری جدائی کا وقت آگیا ہے۔ لیکن جانے سے پہلے میں آپ کو ان باتوں کی اصلیت بتا دوں۔ تا کہ آپ کے ذہن میں الجھن نہ ہو۔

تینوں واقعات کی وضاحت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الکھف میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا) وہ کشتی چند غریبوں مکینوں کی تھی۔ جو دریا میں اس کے ذریعے روزی کماتے ہیں۔ میں اسے اس لئے توڑا کیوں کہ ان بادشاہ بہت ظالم ہے۔ اور ہر ( صحیح و سالم ) کشتی کو زبر دستی اپنے قبضے میں کر لیتا ہے۔ اور اس لڑکے کے والدین ایمان والے ہیں۔ اور مجھے خوف ہوا کہ کہیں یہ انہیں اپنی سر کشی اور کفر کی وجہ سے انہیں عاجز اور پریشان نہ کردے۔ اس لئے میں نے چاہا کہ انہیں ان کا رب اس کے بدلے میں بہتر ، پاکیزگی والا اور اس سے زیادہ محبت و پیار کرنے والا بچہ عنایت فرمائے۔ اور اس دیوار کا قصہ یہ ہے کہ اس گاﺅں میں دو یتیم بچے رہتے ہیں۔ جن کا خزانہ ان کی اس دیوار کے نیچے دفن ہے۔ ان کا باپ بڑا نیک شخص تھا۔ تو ہمارے رب کی چاہت یہ تھی کہ یہ دونوں یتیم اپنی جوانی کی عمر میں آکر اپنا یہ خزانہ ہمارے رب کی مہربانی اور رحمت سے نکال لیں۔ میں نے اپنی رائے سے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ یہ تھی اصل حقیقت ان واقعات کی جن پر آپ (علیہ السلام )کو صبر نہیں ہو سکا ۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر79سے82) صحیح بخاری میں آگے ہے کہ وہ بادشاہ بہت ظالم و جابر تھا۔ اور ہر اچھی اور صحیح سالم کشتی کو چھین لیا کرتا تھا۔ جب یہ کشتی اس کے پاس سے گزرے گی تو عیب دار ہونے کی وجہ سے وہ اس کشتی کو چھوڑ دے گا۔ اور جب وہ چلا جائے گا تو کشتی والے اسے درست کر لیں گے۔ اور اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ اور اس لڑکے کو اس لئے قتل کر دیا کہ اس کے والدین مومن ہیں اور وہ ( بڑا ہو کر ) کافر ( بننے والا ) تھا۔ اور اس بات کا ڈر تھا کہ وہ لڑکا اپنے کفر اور سر کشی کی وجہ سے کفر میں مبتلا نہ کر دے۔ اور اس کی محبت سے مجبور ہو کر اس کے والدین اس کے دین کے تابع نہ ہو جائیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ انہیں اس سے بہتر اور نیک اور صاف ستھرا بیٹا عطا فرمائے۔ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا ہی ہے۔ لیکن دوسری روایات میں ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے آگے فرمایا۔ کہ آپ علیہ السلام دیکھ ہی رہے ہیں کہ یہ گاﺅں والے کتنے ظالم ہیں؟ یہ دیوار دو یتیم بچوں کی ملکیت ہے اُن کے والد نیک انسان تھے۔ انہوں نے اپنے انتقال سے پہلے اپنی دولت کو اس دیوار کے نیچے دفن کر دیا تھا۔ تا کہ اس کے بچے بڑے ہو کر اس دولت کو نکال کر فائدہ اٹھائیں۔ اگر اس گاﺅں کے ظالم لوگوں کو اس دولت کے بارے میں معلوم پڑ جاتا تو وہ یتیم بچوں کو دینے کے بجائے خود ہی اس پر قبضہ کر لیتے ۔ اسی لئے میں نے اس دیوار کو نئے سرے سا بنا دیا کہ ان کے بڑے ہونے تک قائم رہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!


19 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


19 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 19

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا حج

اللہ تعالیٰ کے گھر خانہ کعبہ کا حج لگ بھگ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے کیا ہے۔ ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” وادی¿ ارزق“ سے گزرے تو فرمایا۔ یہ کون سی وادی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ علیہ السلام ، یہ وادی¿ ارزق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یوں لگ رہا ہے کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہاڑ سے اترتے دیکھ رہا ہوں۔ اور وہ بلند آواز سے ”لبیک اللھم لبیک “ فرما رہے ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام میری طرح ہیں۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام گیہوں رنگ کے اور بال گھنگھریالے تھے۔ اور آپ علیہ السلام سرخ اونٹ پر سوار تھے۔ جس مہار کھجور کی چھال سے بٹی ہوئی تھی۔ اور میں انہیں وادی میں اترتے اور ”لبیک لبیک “کہتے دیکھ رہا ہوں۔ 

بنی اسرائیل کی مصر روانگی

اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے بنی اسرائیل نے جبا برین سے جنگ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر چالیس برس کے لئے ” بیت المقدس “ حرام کر دیا تھا۔ اور چالیس برس تک صحرا میں وادی¿ تیہ میں بھٹکنے کی سزا دی تھی۔ اس طرح چالیس برسوں میں جو لوگ مصر سے آزاد ہو کر آئے تھے۔ وہ سب مر چکے تھے۔ یعنی جن جوان اور ادھیڑ عمر اور بوڑھوں نے جبا برین سے لڑنے سے انکار کر دیا وہ سب مر کھپ گئے اور نئی نسل جوان ہو گئی۔ تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حکم دیا کہ اب چالیس برس پورے ہونے والے ہیں۔ اس لئے اب فلسطین کی طرف روانہ ہو جاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال کہاں ہوا؟ اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ کچھ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ دونوں حضرات علیہم السلام کا وادی ¿ تیہ میں صحرا میں ہی وصال ہوگیا۔اور کچھ علمائے کرام کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ”بیت المقدس “ میں داخل ہوئے۔ اب حقیقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ہاں ایک بات پر تمام علمائے کرام متفق ہیں کہ مصر سے آزاد ہو نے والوں میں سے صرف دو افراد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام اور حضرت کالب بن یوقنا ہی بیت المقدس میں داخل ہو سکے۔ بہر حال حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے اورراستے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کا ارادہ فرمالیا۔

حضرت ہارون علیہ السلام کا وصال

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ حضرت ہارون علیہ السلام کے وصال کا وقت قریب آگیا ہے ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام سدی رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں ۔ اور علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ بعض ( کئی) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ میں حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنی جوارِ رحمت میں بلانے والا ہوں۔ اس لئے انہیں فلاں پہاڑ پر لے آﺅ۔ آپ علیہ السلام اپنے بھائی کو لے کر اس پہاڑ پر پہنچے ۔ وہاں دونوںنے دیکھا کہ سامنے ایک ایسا درخت ہے جیسا اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ درخت کے قریب ایک محل ہے جس میں ایک بڑا سا پلنگ بچھا ہوا ہے اور اس پر بہت قیمتی بستر بچھا ہوا ہے اور اس بستر سے نہایت ہی خوشگوار خوشبو اٹھ رہی ہے۔ حضرت ہارون علیہ السلام اس درخت، محل اور سامان کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور فرمایا۔اےمیرے بھائی موسیٰ علیہ السلام ،میں اس پلنگ پر سونا چاہتا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ سو جائیے۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس محل کا مالک نہ آجائے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے آپ علیہ السلام سو جائیں اگر اس محل کا مالک آئے گا تو میں بات کرلوں گا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے فرمایا۔آپ علیہ السلام بھی سو جائیں اگر محل کا مالک آئے گا تو ہم دونوں پر ناراض ہوگا۔ جب دونوں بھائی سو گئے تو حضرت ہارون علیہ السلام کا وصا ل ہو گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اٹھے تو درخت ، محل اور بستر اور حضرت ہارون علیہ السلام سب غائب ہو چکے تھے۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم میں اکیلے واپس آئے تو قوم نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ علیہ السلام نے بتایا کہ ان کا وصال ہو چکا ہے تو بنی اسرائیل نے کہا کہ آپ علیہ السلام نے ( نعوذ باللہ ) اپنے بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ کیوں آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) ان سے حسد کرتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہاری عقل ماری گئی ہے۔ وہ میرا بھائی ہے میں اسے کیسے قتل کر سکتا ہوں۔ پھر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے ساتھ وہ پلنگ نیچے آئی اور معلق رہی۔ جسے تمام بنی اسرائیل نے دیکھا۔ پھر وہ اٹھالی ۔ تب بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کی بات کا یقین کیا۔

ملک الموت کی آنکھ نکال دی

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر تیزی سے بیت المقدس کی طرف بڑھ رہے تھے۔ انہوںنے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو اپنا سپہ سالار اور نائب بنایا تھا۔ جب بیت المقدس کے قریب پہنچنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو آپ علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا ۔ ملک الموت انسانی شکل میں حاضر ہوئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے اپنی صحیح حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کی کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا ۔ تو آپ علیہ السلام نےا نہیں طمانچہ مار دیا۔ جس کی وجہ سے ملک الموت کی آنکھ باہر آگئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، آپ نے مجھے ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے جو مرنا ہی نہیں چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ موسیٰ ( علیہ السلام ) کے پاس دوبارہ جاﺅ اور ان سے کہو کہ اپنا ہاتھ بیل کی پیٹھ پر رکھو۔ جتنے بھی بال تمہاری ہتھیلی کے نیچے آئیں گے تو ہر بال کے بدلے ایک سال تمہاری عمر بڑھا دی جائے گی۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، اس کے بعد کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اس کے بعد موت ہوگی۔ تو انہوں نے فرمایا۔ جب موت ہی آنی ہے تو ابھی کیوں نہ موت ہو۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کی کہ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اتنی مہلت دے کہ بیت المقدس کے قریب پہنچ سکوں اور مجھے بیت المقدس کے اتنا قریب پہنچا دے کہ اگر کوئی پتھر پھینکے تو ( بیت المقدس میں ) پہنچ سکے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں راستے کے قریب سرخ ٹیلے کے نیچے ان کی قبر مبارک دکھاتا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وصال

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس واقعہ کے بعد طبیعت خراب ہونے لگی۔ آپ علیہ السلام نے اپنے نائب حضرت یوشع علیہ السلام کو حکم دیا کہ تیزی سے سفر کرو۔ اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے جوانوں کی گنتی بھی کرائی تھی۔ اور ہر قبیلے کے سپہ سالار بھی مقرر کئے تھے اور ان سب کا کمانڈر یعنی سپہ سالار اعظم حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو بنایا تھا۔ اس کا ذکر انشاءاللہ ہم حضرت یوشع علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے۔ جب بیت المقدس کے قریب پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ حالت ہو چکی تھی کہ آپ علیہ السلام کھڑے نہیں رہ سکتے تھے۔ اس لئے آپ علیہ السلام نے حکم دیا کہ مجھے لٹا دو اور جنگ کی تیاری کرو۔ آپ علیہ السلام کو بیت المقدس کے قریب پہاڑی پر لٹا دیا گیا۔ اور حضرت یوشع علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر میدانِ جنگ میں پہنچ گئے۔ جنگ شروع ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اُس پہاڑی پر لیٹے جنگ دیکھتے رہے اور احکامات دیتے رہے۔ آخر کار جنگ فیصلہ کن مرحلہ میں پہنچ گئی اور بنی اسرائیل کو فتح ہوئی۔ ادھر فتح حاصل ہوئی اور اُدھر پہاڑی پر آپ علیہ السلام کا وصال ہو گیا۔ حضرت یوشع علیہ السلام جب فتح کی خوش خبری لے کر آپ علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی جوارِ رحمت میں جا چکے تھے۔ اسی جگہ آپ علیہ السلام کو دفن کر دیا گیا۔ 

اگلی کتاب

 حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت یوشع علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

  ٭........٭........٭


 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں