پیر، 15 مئی، 2023

05 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


05 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

مدین کی طرف ہجرت

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس نخلستان سے نکلے اور ایک طرف چل پڑے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے راہنمائی کی دعا کو تو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ بھیجا۔ جس نے آپ علیہ السلام کو راستہ بتایا اور لے کر چلا چلتے چلتے جب مدین کے قریب پہنچے تو وہ فرشتہ چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ وہاں سے ادھر اُدھر دیکھتے بھاگتے نکل کھڑے ہوئے ۔ کہنے لگے اے میرے رب، مجھے ظالموں کے گروہ سے بچا لے۔ اور جب مدین کی طرف متوجہ ہوئے تو کہنے لگے ۔ مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھی راہ لے چلے گا۔ ( سورہ القصص آیت نمبر21اور 22) امام قرطبی لکھتے ہیں۔ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تلاش میں آدمی بھیجے اور کہا۔ ان جگہوں پر اسے تلاش کرو جہاں سے پہاڑی راستے الگ ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام سے واقف نہیں تھے۔ ایک فرشتہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا میرے ساتھ چلئے آپ علیہ السلام اس کے ساتھ چلتے رہے۔ درختوں کے پھل اور پتے کھاتے رہے چلتے چلتے جوتے گھس گئے اور موزے بھی چیتھڑے ہو گئے۔ پیروں میں چھالے آ گئے اور کئی دنوں کا سخت تکلیف دہ اور دشوار گزار سفر کر کے مدین کے قریب پہنچے۔ امام مقاتل اور امام سدی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو آپ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا۔ اور مصر سے مدین کا فاصلہ ( گھوڑے کی سواری پر ) آٹھ 8 دنوں کا ہے۔ یہ ابن جبیر کا قول ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایات میں ہے کہ مصر سے مدین کا فاصلہ آٹھ راتوں کا ہے ۔ گویا کہ کوفہ سے بصرہ تک کی مسافت ہے۔ آپ علیہ السلام کے پاس درختوںکے پتے کے علاوہ کھانے کا کوئی اور سامان موجود نہیں تھا۔ جب آپ علیہ السلام مدین کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام کے پاﺅں پھٹ چکے تھے۔ 

مدین کے کنویں پر

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین کے قریب چھوڑ کر وہ فرشتہ چلا گیا۔ آپ علیہ السلام پانی کی تلاش کرتے ہوئے مدین کے کنویں پر پہنچے۔ آپ علیہ السلام کے پیر مبارک چلتے چلتے پھٹ گئے تھے۔ اور خون نکل رہا تھا۔ کنویں کے قریب جا کر آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو لے کر کھڑی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” مدین کے پانی پر جب آپ علیہ السلام پہنچے تو دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت وہاں پانی پلا رہی ہے اور دو لڑکیاں الگ کھڑی اپنے ( بکریوں کو ) روکتی ہوئی دکھائی دیں۔ پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ وہ بولیں کہ جب تک یہ چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں ہم پانی نہیں پلاتیں اور ہمارے والد محترم بڑی عمر کے بوڑھے ہیں۔ “ پس آپ (علیہ السلام ) نے خود اُن جانوروں کو پانی پلا دیا۔ پھر سائے کی طرف ہٹ آئے اور فرمایا۔ اے میرے رب، جو کچھ بھی بھلائی تو میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں۔ ( سورہ القصص آیت نمبر23اور 24) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام مدین کے کنویں پر پہنچے تو وہاں اچھے خاصے چرواہے اپنے جانوروں کو باری باری پانی پلا رہے تھے۔ اور دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو ( پانی پینے سے ) روک رہی تھیں۔ آپ علیہ السلام نے ان سے دریافت فرمایا ۔ تم دونوں اپنی بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلا رہی ہو؟ دونوں نے کہا۔ جب یہ تمام چرواہے اپنے جانوروں کو پانی پلا کر چلے جائیں گے تب ہم اپنی بکریوں کو پانی پلائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا تمہارے گھر میں کوئی مرد نہیں ہے؟ جو تم یہ بکریاں چرانے آئی ہو۔ دونوں نے جواب دیا۔ صرف ہمارے والد محترم ہیں اور وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ بکریاں نہیں چر اسکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا ۔ کیا تمہارے گھر کے قریب بھی کوئی کنواں ہے؟ دونوں نے جواب دیا۔ اتنا بڑا کنواں تو نہیں ہے بلکہ ایک چھوٹی سے باوڑی( چھوٹا کنواں) ہے ۔ جس پر ایک پتھر ہے اور اس پتھر نے کنویں کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اور یہ اتنا وزنی ہے کہ کئی آدمی مل کر ہی اسے اٹھا سکتے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ دونوں چلو اور مجھے دکھاﺅ۔ دونوں اپنی بکریوں اور آپ علیہ السلام کو لے کر اس چھوٹے کنویں پر آئیں۔ اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ جس پتھر کو کئی لوگ مل کر اٹھاتے تھے اسے آپ علیہ السلام نے اکیلے اٹھا لیا اور تمام بکریوں کو پانی پلایا اور خود بھی پانی پیا۔ پھر دوبارہ پتھر کو اٹھا کر وہیں رکھ دیا۔ پھر سائے میں جا کر بیٹھ گئے اور فرمایا۔ اے میرے رب، تو جو بھی خیر و برکت میری طرف اتارے میں اس کا محتاج ہوں ۔ دونوں لڑکیوں نے آپ علیہ السلام کے الفاظ سنے اور بکریوں کو لے کر چلی گئیں۔ تاریخ طبری اور دوسری تفاسیر میں کچھ الفاظ کے فرق سے یہ واقعہ درج ہے کہ اسی کنویں کا پتھر ہٹایا تھا جہاں ملاقات ہوئی تھی۔ 

حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر

اس سے پہلے ہم آپ کو پچھلی کتاب ( حضرت شعیب علیہ السلام سلسلہ نمبر9) میں حضرت شعیب علیہ السلام کاتفصیلی ذکر کر چکے ہیں۔اور اس میں ہم نے بتایا تھاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکرمیں بھی آپ علیہ السلام کا ذکر آئے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جس نخلستان میں تشریف فرما تھے۔ وہ حضرت شعیب علیہ السلام کا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آگے فرماتے ہیں۔دونوں لڑکیاں اپنے گھر والد محترم کے پاس پہنچیں تو انہوںنے حیرانی سے فرمایا۔ ارے آج تم دونوں اتنی جلدی آگئیں؟ تو انہوںنے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا اور پورا واقعہ سنادیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ اُسے بلا لاﺅ۔ میں اسے کچھ انعام دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُسی نخلستان میں سائے میں آرام فرما رہے تھے کہ دیکھا کہ اُن دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی شرماتی ، لجّاتی ، اور چادر کے اندر اپنے آپ کو سمیٹتی ہوئی آئی اور کہا۔ میرے والد محترم آپ (علیہ السلام )کو بلا رہے ہیں ۔ آپ نے جو ہماری بکریوں کو پانی پلایا ہے ہو سکتا ہے اس پر آپ ( علیہ السلام )کو کوئی اجرت دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے چلو۔ وہ لڑکی آگے چلنے لگی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم ایسا کرو ، میرے پیچھے چلو اور پیچھے سے مجھے راستہ بتاتی رہو۔ کیوں کہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہوں ۔ اور اُن کی شریعت کے مطابق تمہیں دیکھنا میرے لئے اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔ اس طرح آپ علیہ السلام آگے آگے اور وہ لڑکی پیچھے پیچھے چلتے ہوئے حضرت شعیب علیہ السلام کے گھر پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اتنے میں اُن دونوں لڑکیوں میں سے ایک اُن کی طرف شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی اور بولی۔ میرے والد محترم آپ (علیہ السلام )کو بلا رہے ہیں۔ تا کہ آپ ( علیہ السلام )نے ہماری ( بکریوں ) کو جو پانی پلایا ہے اس کی اُجرت دیں۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر25)

حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات

حضرت موسیٰ علیہ السلام اس لڑکی کی راہ نمائی میں اس کے گھر پہنچے ۔ حضرت شعیب علیہ السلام برآمدے میں بیٹھے انتظار کر رہے تھے ۔ دونوں کو آتا دیکھ کر آگے بڑھے اور آپ علیہ السلام کا استقبال کیا۔ اور چار پائی پر ساتھ میں لے کر بیٹھے اور تمام حالات دریافت کرنے لگے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے تمام حالات تفصیل سے بتائے اور یہ بتایا کہ فرعون میری جان کا دشمن بن گیا ہے۔ اورمیرے قتل کا حکم ( انکاﺅنٹر آرڈر) دے دیا ہے۔ اس لئے میں ہجرت کر کے یہاں آگیا ہوں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا علاقہ مدین فرعون کی حکومت کی حدود سے باہر تھا۔ اسی لئے انہوںنے فرمایا۔ یہ تم نے اچھا کیا کہ اس ظالم کے علاقے سے چلے آئے۔ اسی دوران میں دونوں لڑکیوں نے کھانا لگا دیا۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کو کھانے کی دعوت دی اور ساتھ میں لے کر کھانا کھانے بیٹھے اور دونوں لڑکیاں کھانا ضرورت کے مطابق لا کر دے رہی تھیں۔ کھانے کے دوران حضرت شعیب علیہ السلام نے پوچھا۔ اب آگے کیا اراد ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ جو بہتر سمجھے گا کرے گا۔ اسی دوران وہ لڑکی جس نے آپ علیہ السلام کو گھر تک راہنمائی کی تھی ۔ اس نے کہا۔ ابا جان، یہ بہت طاقت ور ، نیک ، شریف اور امانت دار ہیں۔ اگر آپ انہیں اجرت پر بکریاں چرانے کے لئے رکھ لیں تو ان کا رہنے کھانے کا ٹھکانہ بھی ہو جائے گا اور ہمیں بکریاں چرانے کے لئے بھی نہیں جانا پڑے گا۔ اور یہ اپنا کام پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے بھی کریں گے۔ اس لڑکی کا نام سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا تھا۔ اور دوسری لڑکی کا نام سیدہ شرفا رضی اللہ عنہا تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے بیٹی کے مشورے کو قبول کر لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام )اُن کے پاس پہنچے اور اُن سے سارا حال بیان کیا تو وہ کہنے لگے کہ اب ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تم نے ظالم قوم سے نجات پالی ہے۔ ان دونوں ( لڑکیوں ) میں سے ایک نے کہا۔ ابا جان، آپ (علیہ السلام )انہیں مزدوری پر ( یعنی اجرت پر) رکھ لیں۔ کیوں کہ جنہیں آپ ( علیہ السلام )اجرت پر رکھیں گے ان میں سے سب سے بہتر یہ ہیں۔ اور یہ مضبوط ( طاقتور) اور امانت دار ہیں۔“(سورہ القصص آیت نمبر25اور 26)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نکاح

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی بیٹی سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا کے مشورے کو قبول کر لیا ۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نوکری پر رکھ لیا۔ کچھ دنوں بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی صفورہ رضی اللہ عنہا کا نکاح تم سے کر دوں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن میرے پاس مہر ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ تو انہوںنے فرمایا کہ آٹھ سال میری بکریاں چرادیان۔ یہی مہر ہو گا اور اگر تم دس سال چرا دو تو یہ تمہارا مجھ پر احسان ہو گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام راضی ہو گئے اور آپ علیہ السلام کا نکاح سیدہ صفورہ رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا ) میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کو آپ ( علیہ السلام ) کے نکاح میں دینا چاہتا ہوں۔ اس ( مہر پر ) کہ آپ ( علیہ السلام )آٹھ سال تک میر ا کام کاج کریں۔ ہاں اگر آپ ( علیہ السلام ) دس سال پورے کریں تو یہ آپ (علیہ السلام )کی طرف سے احسا ن ہوگا۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ آپ ( علیہ السلام )کو کسی مشقت میں ڈالوں۔ اللہ کو منظور ہوگا تو آپ مجھے بھلا آدمی پائیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ خیر تو یہ بات میرے اور آپ علیہ السلام کے درمیان پختہ ہو گئی۔ اور میں ان دونوں مدتوں میں سے جسے چاہوں پورا کروں اور یہ مجھ پر زیادتی نہیں ہوگی۔ اور ہم یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اس اللہ تعالیٰ( گواہ اور ) کا ر ساز ہے۔ ( سورہ القصص آیت نمبر27) اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام وہیں رہنے لگے۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام کی بکریاں چرانے لگے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں اپنا عَصا دے دیا اُسی عصا سے آپ علیہ السلام بکریوں کے لئے درختوں سے پتے توڑتے تھے اور راستہ بناتے تھے اور بکریوں کو ہنکاتے تھے۔ اور پورے دس سال بکریاں چرائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آٹھ سال بکریاں چرائیں تھیں یا دس سال تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے مکمل اور کامل مدت تھی اُتنی مدت بکریاں چرائیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

06 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


06 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی مدت پوری کر لی تو حضرت شعیب علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں نے اپنی مدت پوری کر لی ہے۔ اب مجھے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر واپس جانے کی اجازت دیں۔ اس دوران آپ علیہ السلام کے بچے بھی پیدا ہو گئے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے واپس جانے کی اجازت دے دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مدت کے درمیان آپ علیہ السلام کی بکریوں ، گھوڑوں ، اونٹوں اور مویشیوں میں اچھی خاصی برکت دے دی تھی۔ اور یہ سب بے شمارتعداد میں ہو چکے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں زادِ راہ کے طور پر اچھے خاصے گھوڑے ، اونٹ ، مویشی اور بکریاں دے دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انکار کرتے رہے لیکن انہوں نے زبر دستی یہ سب انہیں دے دیا۔ آخر کار یہ سب لے کر آپ علیہ السلام مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ سفر سات اور آٹھ راتوں کا تھا۔ راستے میں پہاڑی علاقے بھی تھے اور صحرا ( ریت یعنی بالو کے وسیع میدان) بھی تھے۔ ان علاقوں میں دن میں بہت گرمی پڑتی تھی اور رات میں بہت سردی پڑتی تھی۔ آتے وقت تو فرشتے کی راہ نمائی میں آگئے تھے لیکن واپسی میں راستہ بھولنے کا اندیشہ تھا۔ 

کوہِ طور پر آگ

حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر کی طرف سفر کر رہے تھے ۔ مولانا مفتی محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں حضر ت شعیب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آٹھ دس سال تک خدمت کرنے کا جب معاہدہ پورا ہو گیا تو آپ علیہ السلام اپنی بیوی اور دو بچوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہو گئے تا کہ اپنی والدہ محترمہ ، بھائی حضرت ہارون علیہ السلام اور دوسرے رشتہ داروں نے ملاقات کر سکیں۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے مصر کی طر ف روانہ ہو نے لگے تو حضرت شعیب نے آپ علیہ السلام کے ساتھ کچھ بکریاں بھی کر دیں تا کہ راستے میں ان سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ سردی کا زمانہ تھا اور چلتے چلتے آپ علیہ السلام راستہ بھی بھول گئے۔ اس اندھیری رات میں آپ علیہ السلام کو دور سے ایک روشنی نظر آئی۔ آپ علیہ السلام نے گھر والوں سے فرمایا۔ تم یہیں رکو، میں ذرا جا کر دیکھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں کہ وہاں سے آگ لا سکوں تا کہ تم سردی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے اپنے جسم کو تاپ سکو۔ اور راستہ بھی پوچھ لوں گا۔ تا کہ اس صحرا میں ہم بھٹک نہ جائیں۔ آپ علیہ السلام اس آگ کی طرف روانہ ہوئے جو کوہِ طور کے داہنی جانب روشنی تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدت پوری کر لی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوہِ طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ۔ ٹھہرو ، میں نے آگ دیکھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر لاﺅں یا آگ کا کوئی انگارہ لاﺅں تاکہ تم سینک لو۔ ( سورہ القصص آیت نمبر 29) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے ۔ میں وہاں سے کوئی خبر لے کر یا آگ کا کوئی سلگتا ہوا انگارہ لے کر ابھی تمہارے پاس آجاﺅں گا ۔ تا کہ تم سینک ( تاپ ) سکو۔ “( سورہ النمل آیت نمبر 7) اللہ تعالیٰ نے سورہ طہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” تمہیں موسیٰ (علیہ السلام )کا قصہ معلوم ہے؟ جب اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاﺅ، مجھے آگ دکھائی دے رہی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارہ تمہارے پاس لاﺅں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاﺅں ۔“ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر9اور 10)

حضرت موسیٰ علیہ السلام نبوت سے سر فراز 

حضرت موسیٰ علیہ السلام آگ کو دیکھتے ہوئے کوہ طور پر چرھنے لگے اور جب آگ کے قریب پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ ایک ہرے بھرے درخت میں آگ لگی ہوئی ہے۔ آگ بہت تیزی سے بھڑک رہی تھی۔ لیکن درخت کی شاخیں اور پتیاں ویسی ہی ہری بھری ہیں۔ آپ علیہ السلام حیرانی سے کھڑے اس منظرکو دیکھ رہے تھے کہ آواز آئی۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )بے شک میں تمہارا رب ہوں ۔ تم اپنے جوتے اتار دو۔ کیوں کہ تم مقدس وادی¿ طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں ( اپنی نبوت اور رسالت کے لئے ) چن لیا ہے۔ میں ہی اللہ وں اور میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تم میری عبادت کرو۔ اور مجھے یاد کرنے کے لئے نماز قائم کرو۔ بے شک قیامت آئے گی تا کہ ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا سکے۔ اور کب آئے گی یہ صرف میں جانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب وہاں پہنچے تو اس بابرکت زمین کے دائیں کنارے کے درخت میں سے آواز دیئے گئے ۔ کہ اے موسیٰ (علیہ السلام ) بے شک میں ہی اللہ ہوں سارے جہانوں کا پرودگار ۔“ ( سورہ القصص آیت نمبر30) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے۔ اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )سن بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں ،غالب ہوں اور حکمت والا ہوں۔“(سورہ النمل آیت نمبر8اور 9) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب وہ وہاں پہنچے تو آواز دی گئی ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ، بے شک میں ہی تمہارا رب ہوں ۔ تم اپنی جوتیاں اتار دو۔ کیوں کہ تم پاک میدان طویٰ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں منتخب کر لیا ہے۔ اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سنو ۔ بے شک میں ہی اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ پس تم میری عبادت کرو۔ اور میری یاد کے لئے نماز قائم کرو۔ قیامت یقینا آنے والی ہے۔ جسے میں پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں۔ تا کہ ہر شخص کو وہ بدلہ دیاجائے جس کے لئے اس نے کوشش کی ہو۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر11سے 15تک)

عَصا خوف ناک اژدھا بن گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فوراً جوتے اتارے اور آگے بڑھکر حیرانی سے وہ آواز سن رہے تھے۔ اور اس درخت پر چمکتے ہوئے آگ نما ( آگ کے جیسا ) نور کو دیکھ رہے تھے۔ کہ پھر آواز آئی اے موسیٰ ( علیہ السلام )، یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں لیکن یہ صرف حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تسلی کے لئے پوچھا) آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ یہ میرا عَصا ہے۔ ( عصا اس لاٹھی کو کہتے ہیں جو عام طور سے چرواہے لئے رہتے ہیں ۔تاکہ اس سے جانوروں کو ہانکیں اور جانوروں کے لئے اونچے درختوں سے پتیاں توڑ کر دیں۔ اس کے لئے اس کے اوپری سرے پر کنیاری کیطرح دو چھوٹی شاخیں ہوتی ہیں۔ جس سے درختوں کے پتے اور نرم شاخیں توڑی جاتی ہیں۔ یہ بہت مضبوط ہوتا ہے ) آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ یہ میرا عصا ہے ۔میں اس سے ٹیک لگا تا ہوں اور اپنے جانوروں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )اسے زمین پر ڈال دو۔ جیسے ہی آپ علیہ السلام نے عَصا زمین پر ڈالا۔ وہ عصا اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ اژدھے کو دیکھ کر آپ علیہ السلام فطری طور سے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اپنا عَصا زمین پر ڈال دو۔ پھر جب اسے دیکھا کہ وہ اژدھا کی طرح پھن پھنا رہی ہے تو پیچھے ہٹ گئے اور رخ موڑ لیا۔ ہم نے کہا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) آگے آﺅ اور خوفزدہ مت ہو۔ یقینا تم ہر طرح سے امن میں ہو۔ “ ( سورہ القصص آیت نمبر31) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) تم اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دو۔ موسیٰ ( علیہ السلام )خوفزدہ نہ ہو۔ میری بارگاہ میں رسول خوفزدہ نہیںہوتے ہیں۔ “(سورہ النمل آیت نمبر10)اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ عرض کیا ۔ یہ میر اعصا ہے جس پر میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے میں اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑ لیا کرتا ہوں اور بھی اس میں میرے لئے بہت فائدے ہیں۔ فرمایا اے موسیٰ اسے اپنے ہاتھ سے نیچے ( زمین پر ) ڈال دے۔ ( زمین پر ) ڈالتے ہی وہ سانپ یا اژدھا بن کر دوڑنے لگی۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ بے خوف ہو کر اسے پکڑ لو۔ ہم اسے اسی پہلی صورت میں کر دیں گے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر17 سے 21تک)

فرعون اور ا س کی قوم کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جیسے ہی عصا زمین پر ڈالا تو اسی وقت وہ خوف ناک اژدھا بن کر دوڑنے لگا۔ یہ اتنا اچانک ہوا کہ وقتی طور سے آپ علیہ السلام گھبراہت کا شکار ہو گئے اور لاشعوری طور سے کئی قدم پیچھے ہٹ گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )خوف نہ کھاﺅ اور اژدھے کو پکڑ لو۔ آپ علیہ السلام نے اژدھے کو پکڑ لیا تو فوراً وہ عصا بن گیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ آپ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالا ۔ اس کے حکم ہوا کہ باہر نکالو۔ آپ علیہ السلام نے ہاتھ باہر نکالا تو وہ چاند کی طرح چمک رہا تھا۔ اور کوئی تکلیف بھی نہیں ہو رہی تھی اور نہ ہو کوئی داغ تھا۔ بلکہ نور کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ یہ معجزات لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاﺅ اور انہیں اسلام کی دعوت دو۔ بے شک وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔ ان لوگوں نے میری عبادت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور کفر کرنے لگے ہیں۔ میں نے انہیں مہلت دی تھی اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ میں اُن کی طرف سے غافل ہو گیا ہوں ۔ اب اُن کی مہلت کا وقت پورا ہونے والا ہے۔ اسی لئے تم جا کر اُن لوگوں کو سمجھاﺅ۔ اگر انہوں نے تمہاری بات مان لی اور اسلام قبول کر لیا تو ٹھیک ہے۔ ورنہ وہ لوگ تباہ و برباد کر دیئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اپنے ہاتھ کو اپنے گریبان میں ڈال ، وہ بغیر کسی روک ( مرض یا بیماری ) کے چمکتا ہوا نکلے گا بالکل سفید ، پس یہ دونوں معجزے تمہارے رب کی طرف سے ( تمہیں دیئے گئے ہیں فرعون اور اس کی جماعت کی طرف ( یعنی اُن کو سمجھانے کے لئے ) یقینا وہ سب کے سب بے حکم اور نافرمان لوگ ہیں۔ “( سورہ القصص آیت نمبر32) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال ، وہ سفید چمکیلا ہو کر نکلے گا۔ بغیر کسی عیب کے ۔ تو نو نشانیاں لے کر فرعون اور اسکی قوم کی طر ف جاﺅ۔ یقینا وہ بدکاروں کا گروہ ہے۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر12) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعرا ءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو دی کہ ظالم قوم کے پاس جا، قوم ِ فرعون کے پا س۔ کیا وہ پرہیز نہیں کریں گے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر10اور 11) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا) اور اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالے لے وہ سفید چمکتا ہوا ہو کر نکلے گا۔ لیکن بغیر کسی عیب ( اور روگ ) کے۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ یہ اس لئے کہ ہم تمہیں اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھانا چاہتے ہیں۔ اب تم فرعون کے پاس جاﺅ۔ اس نے سر کشی مچا رکھی ہے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر22سے 24تک) 

حضرت ہارون علیہ السلام نبوت سے سر فراز

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قوم کے پا س جا کر اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ اور اس کی قوم مان جائے تو ٹھیک ہے اور اگر نہیں مانے اور کفر پر اڑے رہے تو ان سے کہنا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر دے اور تمہارے ساتھ مصر سے نکل جانے دے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے بڑے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام بہت اچھی تبلیغ کر لیں گے۔ انہیں بھی میری مدد کرنے کے لئے تیار کر دے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے میرے رب ( پروردگار ) ، میرا سینہ کھول دے۔ اور میرے کام کو آسان کر دے۔ اور میری زبان کی گِرہ کو بھی کھول دے تا کہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ اور میرا وزیر میرے کنبے میں سے کر دے۔ یعنی میرے بھائی ہارون (علیہ السلام )کو ( اے اللہ تعالیٰ ) تو اس سے میری کمر کس دے( یعنی مضبوط کر دے) اور اسے میرا شریک کار کردے۔ تا کہ ہم دونوں کثرت سے تیسری تسبیح بیان کریں ۔ اور کثرت سے تیری یاد کریں۔ بے شک تو ہمیں خوب دیکھنے بھالنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تیرے تمام سوالات پورے کر دیئے گئے ۔ ہم نے تو تجھ پر ایک بار اور بھی بڑا احسان کیا ہے۔ جب ہم نے تیری والدہ محترمہ کو وہ الہام کیا تھا جس کا ذکر اب کیا جا رہا ہے۔ کہ تو اسے صندوق میں بند کر کے دریا میں چھوڑ دے۔ پس دریا اسے کنارے لا ڈالے گا۔ اور میرا اور خود اس کا دشمن اسے لے لے گا۔ اور میں نے اپنی طرف سے خاص محبت و مقبولیت تجھ پر ڈال دی ۔ تا کہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔ جب تیری بہن چل رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ اگر تم کہو تو میں اسے بتا دوں جو اس کی نگہبانی کر ے۔ اس تدبیر سے ہم نے تجھے پھر تیری والدہ محترمہ کے پاس پہنچایا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمگین نہ ہو ۔ اور تو نے ایک شخص کو مارڈالا تھا۔ اس پر بھی ہم نے تجھے غم سے بچا لیا۔ غرض کہ ہم نے تجھے اچھی طرح آزمالیا۔ پھر تو کئی سال مدین کے لوگوں میں ٹھہرا رہا ۔ پھر تقدیر الہٰی کے مطابق اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تو آیا۔ اور میں نے تجھے خاص اپنی ذات کے لئے پسند فر ما لیا۔ اب تو اپنے بھائی کو لے کر میری نشانیاں ساتھ لئے ہوئے جا۔ اور خبر دار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا۔ تم دونوں فرعون کے پا س جاﺅ۔ اس نے بڑی سر کشی کی ہے۔ اسے نرمی سے سمجھاﺅ کہ شاید وہ سمجھ لے یا ڈر جائے۔ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر25سے 44تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الفرقان میں فرمایا۔ اور بلا شبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو کتاب دی اور ان کے ہمراہ انکے بھائی ہارون کو ان کا وزیر بنا دیا۔ اور کہہ دیا کہ تم دونوں ان لوگوں کی طرف جاﺅجو تمہاری آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں ۔ پھر ہم نے انہیں ( فرعون اور اس کے ساتھیوں کو) بالکل ہی پامال کر دیا۔ ( سورہ الفرقان آیت نمبر35اور36) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے میرے رب (پروردگار) میں نے ان کا ایک آدمی قتل کر دیا تھا۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے بھی قتل کر ڈالیں۔ اور میرا بھائی ہارون ( علیہ السلام )مجھ سے بہت زیادہ فصیح زبان والا ہے۔ تو اسے بھی میرا مدد گار بنا کر میرے ساتھ بھیج دے کہ وہ ( لوگ) مجھے سچا مانیں۔ مجھے تو خوف ہے کہ وہ سب مجھے جھٹلا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ ہم تیرے بھائی کے ساتھ تیرا بازو مضبوط کر دیں گے۔ اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے۔ فرعونی تم تک پہنچ ہی نہیں سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کی وجہ سے تم دونوں اور تمہاری تابعداری کرنے والے ہی غالب رہیں گے۔ ( سورہ القصص آیت نمبر33سے 35تک) ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”موسیٰ ( علیہ السلام ) نے عرض کیا۔ اے میرے رب، مجھے تو خوف ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا ( نہ ) دیں۔ اور میرا سینہ تنگ ہو رہا ہو۔ میری زبان چل نہیں رہی ہے۔ پس تو ہارون ( علیہ السلام )کی طرف بھی( وحی) بھیج دے۔ اور ان کا مجھ پر میرے ایک قصور کا ( دعویٰ) بھی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے مار نہ ڈالیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ہرگز ایسا نہیں ہو گا۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاﺅ۔ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں۔ تم دونوں فرعون کے پاس جا کر کہو بلا شبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں۔ ( یا تو تم لوگ اسلام قبول کر لو یا پھر) ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردو۔ ( سورہ الشعراءآیت نمبر13سے 17تک)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

07 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon


07 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے دعا کی۔ اور وہ اللہ تعالیٰ نے قبول کی آپ کو یاد ہو گا کہ بچپن نے آپ علیہ السلام کی آزمائش کی تھی اور آپ علیہ السلام نے انگارہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا تھا۔ جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی زبان جل گئی تھی۔ اسی لئے کچھ الفاظ صاف ادا نہیں ہوتے تھے۔ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی زبان بہت فصیح تھی۔ اسی لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اُن کے لئے دعا کی ۔ آپ علیہ السلام ذرا گرم مزاج تھے۔ جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام ٹھنڈے مزاج کے تھے اور قوتِ برداشت بھی زیادہ تھی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے پاس واپس آئے اور سب کو ساتھ لے کر مصر پہنچے۔ اپنے گھر جا کر اپنے والدین اور بھائی سے ملے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف وحی بھیج کر نبوت سے سر فراز فرما دیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آنے کی خبر پہلے ہی والدین کو دے دی تھی۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتا دیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی بھی ہیں اور رسول بھی ہیں۔ جب کہ حضرت ہارون علیہ السلام صرف نبی ہیں۔ رسول کو شریعت دی جاتی ہے اور نبی اسی شریعت کو نافذ کرتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچے اور اسے اور اس کی قوم کو بتایا کہ ہم اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کو اپنے دلائل دے کر فرعون اور اس کے امراءکے پا س بھیجا۔ مگر اُن لوگوں نے ان کا بالکل حق ادا نہیں کیا۔ سو دیکھ لو مفسدوں کا کیا انجام ہوا؟ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا ۔ اے فرعون ، میں رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں۔ میرے لئے یہی شایان ہے سوائے سچ کے اللہ کی طرف کوئی بات منسوب نہ کروں۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی دلیل بھی لے کر آیا ہوں۔ سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر 103سے 105تک)

فرعون نے مذاق اڑایا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کے درباریوں یعنی وزیروں اور امراءکو اسلام کی دعوت دی تو اُن لوگوں نے آپ دونوں حضرات علیہم السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اللہ تعالی نے اسکے با رے میں فر ماے تر جمہ۔:اور ہم نے مو سی(علیہ السلا م )کو اپنی نشانیاں دےکرفرعو ن اور اسکے امراء کے پاس بھیجا تو (انھو ں نے جاکر )کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا ( بھیجا ہوا ) رسول ہوں۔ پس جب وہ ہماری نشانیاں لے کر اُن کے پاس آئے وہ بے ساختہ اُن پر ہنسنے لگے۔“(سورہ الزخرف آیت نمبر46اور 47)۔ فرعون اور اس کے ساتھی دونوں بھائیوں کی ہنسی اڑانے لگے اور فرعون نے ہنستے ہوئے کہا۔ جس رب نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے اس کے بارے میں تو کچھ بتاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی بات کا بہت ہی جامع جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے پوچھا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام )تم دونوں کا رب کون ہے؟ جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر ایک کو اس کی خاص صورت و شکل عنایت فرمائی۔ پھر راستہ بتادیا ۔ اس نے کہا ۔ ( یعنی فرعون نے کہا ) اچھا یہ تو بتاﺅ، اگلے زمانے والوں کا کیا حال ہوتا ہے؟ ( آپ علیہ السلام ) نے جواب دیا۔ اُن کا علم میرے رب کے یہاں کتاب میں موجود ہے۔ نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے اور نہ ہی بھولتا ہے۔ اسی نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا ہے اور اس میں تمہارے چلنے کے لئے راستے بنائے ہیں۔ اور آسمان سے پانی بھی وہی برساتا ہے۔ پھر اس بارش کی وجہ سے مختلف قسم کی پیداوار بھی ہم ہی پیدا کرتے ہیں۔ تم خود کھاﺅ اور اپنے چوپایوں کو بھی چراﺅ۔ کچھ شک نہیں کہ اس میں عقلمندوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اسی زمین میں سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں پھر واپس لوٹائیں گے۔ اور اسی سے دوبارہ تم سب کو نکال کھڑا کریں گے۔ ہم نے اسے ( فرعون کو ) اپنی سب نشانیاں دکھا دیں۔ لیکن پھر بھی اس نے جھٹلایا اورانکار کر دیا ۔ کہنے لگا ۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام )، کیا تو اسی لئے آیا ہے کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دے۔“ (سورہ طٰہٰ آیت نمبر49سے 57تک)

فرعون کا خدائی دعویٰ

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے بہت ہی جامع اور موثر انداز میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتایا اور دلائل سے سمجھایا۔ لیکن وہ بد بخت ان تمام باتوں اور دلائل کی حقیقت کو سمجھنے کے بجائے الٹا مطلب لینے لگا۔ اور خود اپنی خدائی کا دعویٰ کرنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الشعراء میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا۔ رب العالمین کیا ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے۔ اگر تم یقین رکھنے والے ہو۔ فرعون نے اپنے ارد گرد والوں ( یعنی درباریوں ، وزیروں اور قوم کے لوگوں ) سے کہا۔ کیا تم سن نہیں رہے ہو؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ وہ ( اللہ تعالیٰ)تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا رب ہے۔ فرعون نے کہا ( لوگو) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقینا دیوانہ ہے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام ) نے فرمیاا۔ وہی مشرق و مغرب کا اور ان کے درمیان کی تما م چیزوں کا رب ہے۔ اگر تم عقل رکھتے ہو فرعون کہنے لگا۔ سن لے، اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو رب یا معبود بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں ڈال دوں گا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر23سے 29تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس جب اُن کے پاس موسیٰ ( علیہ السلام )ہمارے دیئے ہوئے کھلے معجزے لے کر پہنچے تو وہ کہنے لگے۔ یہ تو صرف گھڑا گھڑا یا جادو ہے۔ ہم نے اپنے الگے باپ دادوں کے زمانہ میں بھی کبھی یہ نہیں سنا ہے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے۔ میر ارب اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ جو ا س کے پاس سے ہدایت لے کر آتا ہے۔ اور جس کے لئے آخرت کا ( اچھا ) انجام ہوتا ہے۔ اور یقینا بے انصافوں کا بھلا نہیں ہوگا۔ فرعون کہنے لگا۔ اے درباریو ، میں اپنے سوا کسی کو معبود اور رب نہیں جاتا۔ سن اے ہامان، تو میرے لئے مٹی کو آگ سے پکوا۔ پھر میرے لئے ایک محل کی تعمیر کر تو میں موسیٰ( علیہ السلام )کے معبود کو جھانک لوں۔ اسے تو میں جھوٹوں میں گمان کر رہا ہوں۔“( سورہ القصص آیت نمبر36سے 38) اللہ تعالیٰ نے سورہ النازعات میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا موسیٰ (علیہ السلام )کی خبر تمہیں پہنچی ہے؟ جب کہ انہیں ان کے رب نے پاک میدان طویٰ میں پکارا۔ تم فرعون کے پاس جاﺅ۔ اس نے سر کشی اختیار کر لی ہے۔ اس سے کہو کہ کیا تو اپنی درستگی اور اصلاح چاہتا ہے۔ اور یہ کہ میں تجھے تیرے رب کی طرف کا راستہ بتاﺅں تا کہ تو ( اس سے ) ڈرنے لگے۔ پس اسے بڑی نشانی دکھائی۔ توا س نے جھٹلایا اور نافرمانی کی پھر دوڑ دھوپ کرتے ہوئے پلٹا۔ پھر سب کو جمع کر کے پکارا۔ تم سب کا رب میں ہی ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے دنیا اور آخرت کے عذاب میں گرفتا ر کر لیا۔“(سورہ النازعات آیت نمبر15سے 25تک )

عَصا اژدھا بن گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو سمجھایا کہ اس کائنات کا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے تو بدبخت فرعون نے کہا کہ اگر میرے سوا کسی کو رب بنائے گا تو میں تجھے قید خانے میں ڈال دوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر میں تمام کائنات کے رب کی طرف سے عطا کی ہوئی نشانی اگر تجھے بتاﺅں تو تب تو حق کو تسلیم کر لے گا؟ تو فرعون نے کہا۔ بتاﺅ کون سی نشانی لائے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”موسیٰ ( علیہ السلام ) نے اپنا عَصا زمین پر ڈال دیا۔ جو اچانک کھلم کھلا اژدھا بن گیا۔ اور اپنا ہاتھ کھینچ کر نکالا تو وہ اس وقت ہر دیکھنے والے کو سفید چمکیلا نظر آنے لگا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر30سے33تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کی ہٹ دھرمی دیکھی تو فرمایا۔ اگر میں اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کی صاف صاف نشانی بتاﺅں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی ہے۔ تو کیا تم تسلیم کر لو گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ فرعون نے کہا۔ اگر تم سچے ہو تو تمہارے خدا کی طرف سے دی گئی نشانی بتاﺅ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا عَصا اچانک زمین پر پھینک دیا ۔ یہ دیکھ کر فرعون اور تما م درباری ہنسنے لگے۔ لیکن کچھ دیر بعد ان کی آنکھیں حیرانی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ کیوں کہ اس بے جان عَصا میں دھیرے دھیرے جان پیدا ہونے لگی۔ اور ساتھ ہی وہ بڑا بھی ہوتا جا رہا تھا۔ اور پھر وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا۔ وہ اژدھا اتنا بڑا اور خوفناک تھا کہ تمام درباری ڈر کے مارے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ اور ستونوں کی آڑ یا کسی بڑی چیز کے پیچھے چھپنے لگے۔

فرعون ڈر کے مارے کانپنے لگا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اتنا بڑا خوفناک اژدھا بن گیا تھا کہ درباریوں کو ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ اژدھا انہیں نگل لے گا۔ اور ڈر کے مارے جان بچانے کے لئے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ فرعون بڑی ہمت سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا لیکن ڈر کے مارے بری طرح کانپ رہا تھا۔ اور خوفناک اژدھے کو دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی اژدھے نے اس کی طرف منہ گھمایا تو اس کی بھی ہمت ٹوٹ گئی اور وہ بھی درباریوں کی طرح اچھال کر اپنے تخت سے اتر کر بھاگا اور اپنی بڑی سی کرسی کے پیچھے چھپ گیا۔ آخر کار اس نے بری طرح کانپتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ اژدھے کو روک لیں۔ آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام مسکراتے ہوئے کھڑے ہوئے تھے اور فرعون اور درباریوں کی بوکھلاہٹ اور خوف کے مارے ادھر ادھر بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اور فرعون کا تو یہ حال تھا کہ وہ آپ علیہ السلام کے سامنے گڑ گڑا رہا تھا۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اژدھے کے اوپر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ عصا بن کر آپ علیہ السلام کے ہاتھ میں آگیا۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے درباریوں کی جان میں جان آئی اور وہ ڈرتے ڈرتے دھیرے سے اپنی جگہوں پر واپس آکر بیٹھ گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ایک اور نشانی میں تمہیں بتاتا ہوں جو مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ فرعون اور تمام درباری دہشت سے آپ علیہ السلام کو دیکھنے لگے کہ اس بار کون سی خوفناک نشانی بتانے والے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اپنے گریبان میں ہاتھ ڈالا اور جب واپس نکالا تو پورا ہاتھ نورانی ہو گیا تھا اور نو ر کی طرح چمک رہا تھا۔ فرعون اور اس کے درباری حیرانی سے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے کچھ دیر بعد اپنا چمکتا ہوا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر واپس نکالا تو وہ پھر پہلے جیسا ہوگیا۔ 

یہ تو کھلا جادو ہے

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ نشانیاں یعنی معجزے بتانے کے بعد فرمایا۔ اب تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور مجھ پر ایمان لاﺅ اور اسلام قبول کر لو۔ تو بد بخت فرعون اور اس کے درباریوں او ر سرداروں نے کہا۔ یہ تو کھلا جادو ہے اور اے موسیٰ ( علیہ السلام ) ، تم اتنے دنوں تک مصر سے غائب رہ کر یہ جادو سیکھتے رہے۔ اور تم چاہتے ہو کہ ہمیں ہمارے ملک سے نکال دو ۔ یا پھر ہمارے غلاموں ( بنی اسرائیل ) کو ہمارا حاکم بنا دو۔ ایسا نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام ) کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا ۔ فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف ، تو انہوں نے کہا( یہ تو ) جادوگر اور جھوٹا ہے۔“ ( سورہ المومن آیت نمبر23۔ 24)اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون اپنے آس پاس کے سرداروں سے کہنے لگا ۔ یہ تو کوئی دانا جادوگر ہے۔ یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر34اور 36) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( فرعون ) کہنے لگا۔ اے موسیٰ ( علیہ السلام ) تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں اپنے جادو کے زور سے ہمارے ملک سے باہر نکال دو۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر 57)

فرعون کا چیلنج

اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی ہوئی صاف صاف نشانیوں کو دیکھ لینے کے بعد بھی فرعون اور اس کے ساتھیوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ بلکہ الٹا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کو چیلنج کرنے لگے کہ تمہارا جادو ہمارے جادوگروں کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ فرعون نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )تمہیں ہمارے جادوگروں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ جب تمہارا مقابلہ ہمارے جادوگروں سے ہو گا تو تمہارے جادو کی حقیقت سمجھ میں آجائے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگرمیں تمہارے جادوگروں سے جیت گیا تو کیا تو اور تیری قوم اسلام قبول کر لے گی؟ فرعون نے کہا۔ ٹھیک ہے ، ویسے تم ہمارے جادوگروں سے جیت نہیں سکو گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ انشاءاللہ جیت میری ہو گی کیوں کہ میں نے ابھی ابھی تمہیں جو بتایا ہے وہ کوئی جادو نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی صاف صاف آیتیں یعنی نشانیاں ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی آیتیں یقینا انسانوں کے جادو پر حاوی رہے گا۔ فرعون نے کہا ۔ ٹھیک ہے مقابلے کا دن مقرر کر لو۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھے تمہارا چیلنج منظور ہے۔ مقابلہ ایک بہت ہی بڑے میدان میں رکھو اور مقابلے کے لئے جشن کا دن مقرر کر لو۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ”( فرعون نے کہا) اچھا ہم بھی تمہارے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور لائیں گے۔ پس تم ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا دن مقرر کر لو ۔ کہ نہ تو ہم اس کے خلاف کریں گے اور نہ ہی تم اس کے خلاف کرو گے۔ اور مقابلہ صاف میدان میں ہوگا۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے جواب دیا۔ زینت اور جشن کے دن کا وعدہ ہے۔ اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ وعدہ ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر58اور 59) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”( فرعون نے اپنے درباریوں اور سرداروں سے کہا) بتاﺅ ، اب تم کیا کہتے ہو؟ اُن سب نے کہا۔ آپ اسے اور اس کے بھائی کو مہلت دیں اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔ جو آپ کے ذی علم جادو گروں کو لے آئیں۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر35سے 37تک) 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

08 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon




08 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 8

فرعون نے جادوگروں کو جمع کیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے چیلنج کو قبول کر لیا ۔ اور مقابلے کے لئے جشن کا دن مقرر کر لیا۔ قبطی یعنی مصری سال میں ایک دن بہت بڑے میدان میں جمع ہو کر تہوار مناتے تھے اور جشن مناتے تھے۔ اور اس جشن میں بہت ساری خرافات ہوتی تھیں۔ وہ دن قریب ہی تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے اس دن کا انتخاب فرمایا۔ فرعون نے کہا۔ ٹھیک ہے اب جشن کے دن ملاقات ہو گی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام وہاں سے اپنے گھر واپس آگئے۔ فرعون نے پورے ملک مصر میں اعلان کرا دیا کہ جشن کے دن جادوگروں کا سب سے بڑا مقابلہ ہو گا۔ ایک طرف بنی اسرائیل کا موسیٰ (علیہ السلام ) ہو گااور دوسری طرف میرے مقرر کردہ جادوگر ہوں گے۔ اور جس جادوگر کو بھی اس مقابلے میں حصہ لینا ہے وہ مجھ سے ملاقات کرے۔ بنی اسرائیل کے لوگوں کی تو جان ہی نکل گئی۔ پورے مصر میں اسی مقابلے کاذکر چل رہا تھا۔ اور دور دور سے جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہو رہے تھے۔ اور فرعون اور اس کے سردار اور وزیر اور درباری ان کا امتحان لے رہے تھے۔ اور مقابلے کے لئے چن رہے تھے۔ اس طرح جشن کا دن آنے تک ان لوگوں نے ہزاروں بہترین اور جانے مانے جادوگروں کا انتخاب کر لیا تھا۔ اور جب جشن کا دن آیا تو اس بڑے میدا ن میں ایک طرف ہزاروں جادوگر کھڑے تھے اور دوسری طرف صرف دو شخص حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔

جادوگروں کو اسلام کی دعوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” قوم فرعون میں جو سردار لوگ تھے انہوں نے کہا کہ واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سر زمین سے باہر کر دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دیں۔ اور شہروں میں ہر کاروں کو بھیج دیں کہ وہ سب ماہر جادگروں کو آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں۔ اور وہ جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اگر ہم غالب آئے تو ہم کو کوئی بڑا صلہ ( یعنی انعام ) ملے گا؟ فرعون نے کہا کہ ہاں اور تم مقرب لوگوں میں داخل ہو جاﺅ گے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر109سے114تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرعون کے بارے میں بتا رہا ہے کہ اس نے اپنے ملک سے سارے جادوگر بلا بھیجے۔ ان دنوں مصر جادونگری کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ وہاں بڑے بڑے ماہر جادوگر تھے۔ جو اپنے فن میں کمال کی مہارت رکھتے تھے۔ فرعون نے مصر کے کونے کونے سے جادوگروںکو بلا بھیجا۔ عید کا دن تھا۔ اور اس دن فرعون اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان فیصلہ ہونا تھا۔ اس لئے پورا مصر امڈ آیا ۔فرعون کی طرف سے کئی ہزار جادوگر آئے تھے اور دوسری طرف حضرت ہارون علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے تھے۔ اور فرعون ایک بہت اونچے تخت پر بیٹھا ہوا تھا ۔ تمام جادوگروں نے فرعون سے پوچھا۔ اگر ہم جیت گئے تو بدلے میں ہمیں کیا ملے گا۔ فرعون نے کہا۔ اگر تم جیت گئے تو تم لوگ میرے خاص آدمی ہو ں گے۔ اور تمہاری ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ اس کے بعد تمام جادوگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم تمام جادوگر جو یہ جادو لے کر آئے ہو اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جب کہ میرے پاس جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے پوری کائنات کو بنایا ہے۔ اور پوری کائنات کو پالتا ہے۔ اور اس کی ضروریات کو پوری کر تا ہے۔ وہ ایک سیکنڈ کےلئے بھی غافل نہیں ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے جادو کو ناکام بنا دے گا اور حق اور باطل کا فرق کر کے بتا دے گا۔ اور میں تمہیں اسی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں او رکہتا ہوں کہ اسلام قبول کر لو۔ کامیابی حاصل کر لو گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ علیہ السلام نے اُن سے کہا۔ تمہاری شامت آچکی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترانہ باندھو کہ وہ تمہیں عذابوں سے ملیا میٹ کر دے۔ یا در کھو ، وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا جس نے جھوٹی بات گھڑ لی۔ پس یہ لوگ آپس کے مشوروں میں مختلف رائے ہو گئے اور چھپ کر چپکے چپکے مشورہ کر نے لگے۔ اور کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں۔ اور ان کا پختہ ارادہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر یں۔ اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں۔ تو تم بھی اپنا کوئی داﺅ چھپا کر نہ رکھو۔ پھر صف بندی کر کے آﺅ۔ جو آج غالب آگیا وہی بازی لے جائے گا۔ “(سورہ طٰہٰ آیت نمبر61سے 64تک) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب انہیں اسلام کی دعوت دی تو جادوگروں میں دو گروپ ہو گئے ۔ ایک گروپ کہنے لگا کہ آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں اور کوئی جادوگر نہیں ہیں۔ اور دوسرا گروپ کہتا تھا کہ یہ دونوں صرف جادوگر ہیں اور کچھ نہیں ہیں ۔ا ن میں کی اکثریت انہیں جادوگر سمجھ رہی تھی۔ اور اسلام قبول کرنے کے بجائے مقابلہ کرنا چاہتی تھی۔

جادوگروں سے مقابلہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تقریر کو جادوگروں نے غور سے سنا اور ان پر اس کا اثر بھی ہوا۔ اس کے باوجود وہ مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے۔ اور آپ علیہ السلام سے کہا۔ پہلے تم جادو بتاﺅ گے یا ہم اپنا جادو بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ ہی پہلے اپنا جادو بتا دو۔ یہ سن کر ہزاروں جادوگروں نے اپنی اپنی رسیاں میدان میں ڈال دیں۔ اور تمام رسیاں سانپ بن کر دونوں بھائیوں کی طرف بھاگنے لگیں۔ پورے میدان میں سانپ دوڑ رہے تھے اور سب کا رخ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی طرف تھا۔ پورے مصر کے لوگ اور فرعون اور بنی اسرائیل اپنی سانسوں کو روکے اس خوفناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔ بڑا ہی خوفناک منظر تھا۔ ہزاروں سانپوں کو تیزی سے اپنی طرف آتا دیکھ کر دونوں حضرات ایک سیکنڈ کے لئے تو انسانی فطرت کے مطابق خوف کا شکار ہو گئے لیکن آپ حضرات علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ تھا اور اللہ تعالیٰ مدد گار تھا۔ اس لئے دونوں حضرت علیہم السلام کا خوف دوسرے ہی سیکنڈ ختم ہو گیا۔ اور جم کر کھڑے ہو گئے اور قریب آتے سانپوں کو غور سے دیکھنے لگے۔ جادوگروں کا پنی جیت کا یقین تھا اسی لئے وہ اطمینان سے کھڑے سانپوں کو آگے بڑھتا دیکھ رہے تھے۔ اور فرعون اپنے تخت پر بیٹھا قہقہے لگا رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ اب دونوں حضرات علیہم السلام پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ لیکن اس کی اور تمام جادوگروں کی اور تمام تماشائیوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ کیوں کہ انہوں نے منظر ہی ایسا ناقابل یقین دیکھا تھا۔ کیوں جیسے ہی سانپ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب پہنچے تو اچانک آپ علیہ السلام نے اپنا عَصا زمین پر ڈال دیا۔ اور وہ اتنا بڑا اور خوفناک اژدھا بن گیا کہ کسی نے اتنا بڑا اژدھا آج تک نہیں دیکھا تھا۔ فرعون کے قہقہے رک گئے ۔ تمام جادوگرسکتے میں آگئے اور بہت سے تماشائیوں کی تو چیخیں نکل گئیں۔ اژدھے نے میدان میں موجود تمام سانپوں کو نگلنا شروع کر دیا۔ اور کچھ ہی دیر میں اس نے تمام سانپوں کو نگل لیا۔ تب آپ علیہ السلام نے اژدھے کے اوپر ہاتھ رکھا تو وہ عصا بن کر ان کے ہاتھ میں آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان جادوگروں نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، چاہے تم ڈالو یاہم ہی ڈال دیں؟(حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ) فرمایا۔ تم ہی ڈال دو ۔ پس جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی نظر بندی کر دی۔ اور ان پر ہیبت غالب کر دی۔ اور ایک طرح کا بہت بڑا جادو دکھلایا۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دو۔ سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے اُن کے بنائے ہوئے سارے کھیل کو نگلنا شروع کر دیا۔ پس حق ظاہر ہو گیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا وہ سب جاتا رہا۔ پس وہ لوگ ( یعنی فرعون اور اس کے ساتھی) اس موقع پر ہار گئے۔ اور خوب ذلیل ہو کر پھرے۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر15سے 19تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( جادوگر) کہنے لگے۔ اے موسیٰ (علیہ السلام )، یا تو تم پہلے ڈال دو یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔ ( آپ علیہ السلام نے) فرمایا۔ نہیں ، تم ہی پہلے ڈالو۔ اب تو موسیٰ ( علیہ السلام ) کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں اُن کے جادو کے زور سے بھاگ رہی ہیں۔ پس موسیٰ علیہ السلام نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ ہم نے فرمایاکچھ خوف نہ کر یقینا تم ہی غالب رہو گے اور بر تر رہو گے۔ تمہارے دائیں ہاتھ میں جو کچھ ہے اسے ڈال دو۔ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے گا۔انہوں نے جو کچھ بنایا ہے یہ صرف جادوگروں کے کرتب ہیں۔ اور جادوگر کہیں سے بھی آئے کامیاب نہیں ہوتا۔“ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر65سے 69تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے جادوگروں سے فرمایا۔ جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو۔ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور کہا۔ فرعون کی عزت کی قسم ، ہم ہی غالب رہیں گے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام )نے بھی اپنا عصا میدان میں ڈال دیا۔ جس نے اسی وقت ان کے بنائے ہوئے کھلونوں کو نگلنا شروع کر دیا۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر43سے 45تک)

جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدھا بن کر تمام سانپوں کو نگل رہا تھا۔ اور تمام جادوگر حیرت سے بُت بنے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ جب اژدھے نے تمام سانپوں کو نگل لیا اور آپ علیہ السلام نے اسے ہاتھ میں پکڑا تو وہ پھر سے عصا بن گیا۔ اور تمام جادوگر محویت سے چونک پڑے اور سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں ہے۔ اور انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نشانی ہے ۔ کیوں کہ ان لوگوں نے جو جادوکیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا ئے کوئی نہیں توڑ سکتا تھا۔ وہ تمام جادوگر سمجھ گئے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام حق کی دعوت لے کر آئے ہیں۔ اسی لئے تمام جادوگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے اور کھلے عام میدان میں ہی اعلان کیا کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے۔ وہ اللہ تعالیٰ جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہم السلام کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور وہ جو جادوگر تھے سجدے میں گر گئے اورکہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے جو موسیٰ (علیہ السلام ) اور ہارون (علیہ السلام ) کا بھی رب ہے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر120سے 122تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اب تو تمام جادوگر سجدے میں گر پڑے اور پکار اٹھے۔ ہم تو ہاروں ( علیہ السلام ) اور موسیٰ (علیہ السلام )کے رب پر ایمان لائے۔ “ ( سورہ طٰہٰ آیت نمبر70) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ دیکھتے ہی جادوگر سجدے میں گر گئے اور انہوں نے صٓف کہہ دیا کہ ہم تو اللہ رب العالمین پر ایمان لائے۔ یعنی موسیٰ(علیہ السلام )اور ہارون(علیہ السلام )کے رب پر۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر46سے 48) ، تمام جادوگر قبطی ( مصری) تھے۔ اور کافر تھے۔ لیکن انہوں نے حق کو پہچان لیا اور ان کے دلوں میں ایمان اور اسلام کی شمع جل اٹھی ۔ اور جب انہوں نے بہادری سے کھلے عام اپنے اسلام کا اعلان کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں ایمان پر مضبوطی اور استقامت عطا فرما دی۔ اور ان مومنین کا ذکر قرآن پاک میں کئی جگہوں پر کیا۔

فرعون کی جھنجھلاہٹ اور جادوگروں کی استقامت

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کرنے کےلئے فرعون نے کئی ہزار جادوگروں کو بلایا تھا۔ اور تمام مصر والوں کو دعوت دی تھی کہ وہ اس عظیم الشان مقابلے کو دیکھنے آئیں۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ترجمہ ” اور عام لوگوں سے بھی کہہ دیا گیا کہ تم بھی مجمع میں حاضر ہو جانا۔ اور اگر جادوگر غالب آئیں گے تو ہم اُن کی پیروی کریں گے۔“(سورہ الشعراءآیت نمبر39اور40) در اصل فرعون کو یقین تھا کہ جادوگر ہی جیت جائیں گے۔ اور میری حکومت اور خدائی کی تعریف کی جائے گی۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ گیا۔ اور جادوگر شکست بھی کھا گئے اور اللہ تعالیٰ پر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کھلے عام ایمان بھی لے آئے۔جس کی وجہ سے پورے ملک مصر کی عوام پر آپ علیہ السلام کی حقانیت واضح ہو گئی اور جادوگروں کے اسلام قبول کر نے سے عوام بھی متاثر ہو گئی تھی۔ اور فرعون نے دیکھا کہ اس کی حکومت اور خدائی خطرے میں آگئی تو وہ بہت غصے میں آگیا اور کہنے لگا۔ تم لوگوں نے میری اجازت کے بغیر اسلام قبول کر لیا۔ جب کہ میں نے تم لوگوں کو اس لئے بلایا تھا کہ اس سے مقابلہ کرو اور تم لوگ اسی کا ساتھ دے رہے ہو۔ مجھے تو لگتا ہے کہ یہ تم سب کا استاد ہے اور یہ تم لوگوں کی ملی بھگت ہےکہ اس طرح کرو گے تو یہ دیکھ کر مصر کے لوگ دھوکہ میں آکر موسیٰ (علیہ السلام )کو صحیح مان لیں گے اور اسلام قبول کر لیں گے۔ اب میں تمہاری چالبازی کی سزا یہ دوں گا کہ تمہارے ایک طرف کے ہاتھ کاٹ دوں گا اور دوسری طرف کے پیر کاٹ دوں گا۔ اور تمہیں کھجور کے تنوں پر پھانسی لٹکاﺅں گا۔ تب تم لوگوں کی سمجھ میں آئے گا کہ میرا عذاب سخت ہے یا موسیٰ (علیہ السلام )کے رب کا ۔ تمام جادوگروں نے جب یہ سزا سنی تو انہوں نے کہا۔ اے ،فرعون ، قسم ہے اس اللہ کی جس نے ہمیں پیدا فرمایا ہے۔ ہم نے اللہ تعالیٰ کی صاف نشانی دیکھ لی ہے۔ اب ہم تیری بات نہیں مانیں گے ۔ تو جو بھی فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے۔ تو صرف اس فنا ہونے والی دنیا وی زندگی کے بارے میں ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔ ہم تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس قصور کو معاف فرمائے۔ جو ہم نے تیرے بہکاوے میں آکر اللہ کے رسول علیہ السلام سے مقابلہ کیا۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بڑا اور بہتر ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اب ہم اسلام کو چھوڑ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ”فرعون نے کہا تم موسیٰ (علیہ السلام )پر ایمان لائے ہو بغیر اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں؟ بے شک یہ سازش تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں تا کہ تم سب اس شہر سے یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو۔ سو اب تم کو حقیقت معلوم ہو جاتی ہے۔ میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاﺅں کا ٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پرلٹکا دوں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ( مرکر) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے اور تو نے ہم میں کون سا عیب دیکھا ہے سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر ایمان لے آئے جب وہ ہمارے پاس آئے۔ اے ہمارے رب ہمارے اوپر صبر کا فیضان فرما اور ہماری جان اسلام کی حالت میں نکال ۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر123سے 126تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقینا یہی تمہارا وہ بڑا ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے۔ تو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہو جائے گا۔ قسم ہے میں بھی تمہارے ہاتھ پاﺅں الٹے طور سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا۔ انہوں نے کہا۔ کوئی حرج نہیں، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنےوالے ہیں ہی۔ اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر49سے 51تک) اللہ تعالیٰ نےسورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون کہنے لگا کہ کیا میری اجازت سے پہلے ہی تم اس پر ایمان لے آئے؟یقینا یہی تمہارا وہ بڑا بزرگ ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ پاﺅں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوںمیںسولی پر لٹکوا دوں گا۔ اور تمہیں پوری طرح معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیادہ سخت اور دیر پا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ نا ممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں ( نشانیوں ) پر جو ہمارے سامنے آچکیں۔ اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پید ا کیاہے۔ اب تو تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر گزر ۔ تُو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وہ اسی دنیاوی زندگی میں ہی ہے۔ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائیں معاف فرما دے ۔ اور جادوگری جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے ۔ا للہ ہی بہتر اور بہت باقی رہنے والا ہے۔“(سورہ طٰہٰ آیت نمبر71سے 73تک)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

09 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



09 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 9

فرعون نے قبطیوں کو اسلام قبول کرنے سے روک دیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگروں سے جیت گئے۔ اس طرح فرعون ہار گیا اور ذلیل ہو گیا۔ جس ملک مصر کی عوام یعنی قبطیوں نے سمجھ لیا کہ فرعون کی کوئی اوقات نہیں ہے۔ اور جس واقعہ نے سب سے زیادہ قبطیوں کو متاثر کیا وہ جادوگروں کا اسلام قبول کرنا ہے ۔ فرعون نے جب دیکھا جادوگروں کے اس عمل کی وجہ سے عوام متاثر ہو رہی ہے تو اس نے جادوگروں کو دھمکی دی۔ لیکن جادوگربھی سختی سے اسلام پر قائم رہے تو قتل کروادیا۔ اس کے بعد اس نے قبطیوں کو بہکانا شروع کر دیا اور انہیں دھمکیاں دینے لگا کہ اگر تم لوگ موسیٰ (علیہ السلام )کی دعوت سےمتاژر ہوئے اور اسلام قبول کیا تو تمہارا بھی یہی حال ہو گا بلکہ اس سے بھی خراب حال کروں گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ جب فرعون نے دیکھا کہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے جو معجزہ دکھایا تھا وہ حق کا ترجمان ہے اور جادو یا شعبدہ بازی نہیںہے۔ لیکن اسی مجمع میں لوگوں کو مخاطب کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الزخرف میں فرمایا۔ ” اور فرعون نے اعلان کر ایا اور بولا ۔ اے میری قوم ، کیا ملک مصر میرا نہیں ہے؟ اور میرے ( محلوں کے )نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں کیا تم دیکھتے نہیں۔ کیا میں بہتر نہیں ہوں بہ نسبت اس کے جو بے توقیر ہے اور صاف بول بھی سکتا ہے۔ اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں اتار دیئے گئے ۔ یا اس کے ساتھ پر اباندھ کر فرشتے ہی آجاتے۔ ( یہ سب کہہ کر) اس نے اپنی قوم کی عقل کھو دی اور انہوں نے اس کی مان لی۔ یقینا یی سارے لوگ نافرمان تھے۔ 

بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم و ستم

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے سے فرعون نے اپنی قوم کو تو روک دیا لیکن بنی اسرائیل بدستور آپ علیہ السلام کی اتباع کر تے رہے ۔ یہ دیکھ کر فرعون نے اپنے وزیروں اور سرداروں سے مشورہ کیا کہ قبطیوں کو تو ہم نے قابو میں کر لیا ہے لیکن بنی اسرائیل مسلسل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات مان رہے ہیں۔ اُن کا کیا کیا جائے؟ تو ہامان نے اور دوسرے سرداروں نے مشورہ دیا کہ اُن پر اتنا ظلم کیا جائے کہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔ فرعون نے ایسا ہی کیا۔ اور بنی اسرائیل سے اتنے سخت کام لینے لگا کہ جو وہ نہیں کر سکتے تھے۔ اور کام پورا نہ ہونے پر انہیں سخت سزائیں دینے لگا۔ اور بنی اسرائیل کے لئے اتنے سخت قوانین بنائے کہ اُن کی زندگی موت سے بد تر ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قومِ فرعون کے سرداروں نے کہا کی کیا آپ موسیٰ (علیہ السلام ) اور ان کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے کہ وہ ملک میں فساد کرتے پھریں۔ اور وہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو ترک کئے رہیں۔ فرعون نے کہا ۔ ہم ابھی ان لوگوں کے بیٹوں کو قتل کرنا شروع کر دیں گے اور عورتوں کو زندہ رہنے دیں گے۔ اور ہم کو اُن پر ہر طرح کا زور( حاصل ) ہے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر127)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تسلّی اور بنی اسرائیل کا جواب

بنی اسرائیل پر فرعون نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ اس کی شکایت انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کی تو چونکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم نہیں آیا تھا اسی لئے آپ علیہ السلام نے انہیں صبر کی تلقین کی اور تسلی دی اور فرمایا۔ اے بنی اسرائیل، اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو، اور صبر سے کام لو۔ اور اسلام پر مضبوطی سے قائم رہو۔ بے شک پوری زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنی زمین کا وارث بنا دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نیک بندوں کو بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔ بنی اسرائیل نے جواب میں کہا۔ ہمارا تو یہ حال ہے کہ آپ علیہ السلام کے اعلانِ نبوت سے پہلے بھی ہم غلام اور مجبور تھے۔ اور آپ علیہ السلام کے آنے کے بعد بھی ہمارا وہی حال ہے۔ اور ہمارے اوپر فرعون کا ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوںسے تمہیں نجات دے گا۔ اور تمہیں زمین کا وارث بنائے گا۔ اس کے بعد دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کر تے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” موسیٰ (علیہ السلام )نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا سہارا تلاش کرو اور صبر کرو۔ یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے وہ مالک بنا دے۔ اور آخری کامیابی اُن ہی کی ہوتی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ قو م کے لوگ کہنے لگے۔ کہ ہم تو ہمیشہ ہی مصیبت میں رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے بھی اور آپ علیہ السلام کی تشریف آوری کے بعد بھی۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا۔ اور ان کی بجائے تم کو اس سر زمین کا خلیفہ بنادے گا۔ پھر تمہارا طرزِ عمل دیکھے گا۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر128سے129تک)

قحط سالی کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تسلی دی اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی ۔ اور فرعون کو کئی طرح کے عذابوں میں مبتلا کر کے سنبھلنے کا موقع دیا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے وقفہ وقفہ سے فرعون کی قوم پر عذاب نازل فرمایا۔ تا کہ اُن پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہو جائے۔ ایک قسم کا عذاب نازل کرنے کے بعد ان کو توبہ کرنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا۔ پھر دوسری قسم کا عذاب نازل فرمایا۔ اور اس طرح وقفہ وقفہ سے چھ قسم کا عذاب نازل فرمایا۔ لیکن جب انہوں نے رجو ع نہیں کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں سمندر میں غرق کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور قبطیوں یعنی اُن کے ساتھیوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور فرمایا۔ ۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے آپ کو بدل لو اور اسلام قبو ل کر کے بنی اسرائیل پر ظلم کرنا بند کردو۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ تمہیں سخت تکلیفوں میں مبتلا کر دے۔ فرعون اور اس کی قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایاا ور بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا۔ تو اللہ نے انہیں قحط میں مبتلا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کو قحط سالی میں اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا۔ تا کہ وہ نصیحت قبول کریں۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر130) مفتی احمد یار خان نعیمی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ دیہاتوں میں اناج کا قحط ہو گیا اور شہروں میں پھلوں کی پیداوار کم ہو گئی۔ لہٰذا دیہاتوںسے اناج شہروں میں نہیں آتے تھے اور شہروں سے پھل دیہاتوں میں نہیں جاتے تھے۔ حتیٰ کہ کھجور کے درخت پر صرف ایک کھجور لگتی تھی۔ بارش نہیں ہوتی تھی۔ حتیٰ کہ کنویں خشک ہو گئے۔ دریائے نیل میں پانی نہیں بہہ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں فرعونیوں پر یہ عذاب اس لئے بھیجے گئے کہ وہ ان کے ذریعے نصیحت حاصل کریں۔ کیوں کہ انسان آفتوں اور مصیبتوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تا ہے۔ اور توبہ و غیرہ کرتا ہے۔ اسی جگہ تفسیر خازن میں لکھا ہے کہ فرعون کی عمر کل چھ سو بیس620سال ہوئی ۔ جن میں سے چار سو 400سال اس نے ملک مصر پر حکومت کی ۔ اپنے دور حکومت میں 220سال تک اس سے پہلے کبھی فرعون نے کوئی بیماری، بھوک ، اور فکر وغیرہ نہیں دیکھی تھی۔ اسی لئے وہ خدائی دعویٰ کر بیٹھا۔ خیال رہے کہ دوسری عذاب والی قوموں کو اس قدر ڈھیل نہیں دی گئی جتنی ڈھیل فرعون اور اس کی قوم کو دی گئی ہے۔ اسے چھ بار مختلف عذاب آئے۔ اور ہر عذاب کے آنے پر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں عرض کرتا کہ اگر آپ علیہ السلام اس عذاب کو دفع کرادیں تو ہم سب ایمان لے آئیں گے۔ اور بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ قحط سالی اور پھلوں کی پیداوار کی کمی سے جب یہ لوگ بھوکے مرنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ اپنے رب سے دعا کر کے قحط سالی کو دور کرادیں تو ہم آپ علیہ السلام پر اور اللہ پر ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے قحط سالی کو ختم کر دیا ۔ لیکن بدبخت فرعون اور اس کی قوم نے اسلام قبول نہیں کیا۔

پانی کا عذاب

اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قبطیوں میں مبتلا کر کے ایک ہلکا سا سبق سکھایا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے عقل نہیں پکڑی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اُن پر طوفان یعنی بارش بھیجی۔ پورے آسمان پر کالا گھنا بادل چھا گیا اور بارش ہونے لگی۔ فرعون کے محل میں اور قبطیوں کے گھروں میں پانی نہیں تھا۔ امام قرطبی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک روایت کے مطابق جادوگروں پر غالب آنے کے بعد فرعون اور اس کی قوم کے درمیان چالیس40برس تک مصر مےں ٹہرے رہے۔دوسری رواےت مےںبےس ۰۲ برس تک ٹہرے رہے اور اسی دوران فرعون اور اس کی قوم پرمختلف قسم کے عذاب آتے رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان ” الطوفان “ سے مراد شدید بارش ہے۔ اس بارش کا پانی فرعون کے محل اور اس کی قو م کے گھروں میں گھس گیا ۔ یہاں تک کہ وہ تیرنے لگے۔ وہ سیلاب اُن پر چکر لگاتا رہا اور ہلاک کرتا رہا۔ جب کہ بنی اسرائیل کے گھروں میں اس پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پہنچا ۔ اور قبطیوں کے گھروں میں اتنا پانی تھا کہ وہ اپنی ہنسلیوں تک پانی میں ڈوبے کھڑے رہے۔ اور وہ پانی مسلسل سات دن تک اُن پر رہا۔ اور ایک روایت کے مطابق چالیس 40دن تک رہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور فرمایا کہ ابھی وقت ہے۔ اسلام قبول کر لو اور بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ساتھ جانے دو۔ تب انہوں نے یعنی فرعون اور قبطیوں نے کہا کہ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر دیں کہ اس عذاب کو ہم پر سے ہٹا دے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے عذاب کو ہٹا لیا اور پانی کو کھیتوں اور باغوں کی طرف بھیج دیا۔ اور اس کی وجہ سے اناج اور پھلوں کی پیداوار بہت زیادہ ہوئی۔ یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے ساتھیوں نے کہا۔ یہ پانی تو ہمارے لئے نعمت تھا۔ اور اسلام قبول نہیں کیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون پر طوفان بھیجا اور اس سے مراد بارش ہے۔ تو فرعونیوں نے کہا۔ اے موسیٰ (علیہ السلام ) اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ اس بارش کو ہم سے دور ہٹا دے۔ ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر سے بارس روک لی۔ اور اس سال اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اتنا اناج ، پھل اور گھاس اگائی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں اگائی تھی۔ تو وہ کہنے گے کہ یہ وہی ہے جس کی ہم تمنا اور آرزو کر تے تھے۔

ٹڈیوں کا عذاب 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قوم فرعون کو پھر سمجھایا ۔ پانی کے عذاب کے بعد بھی فرعون اور اس کی قوم کفر پر ہی اڑے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر ٹڈیوں کا عذاب بھیجا۔ ٹڈیاں اتنی زیادہ آگئیں کہ اُن کی وجہ سے سورج چھپ گیا۔ یہ ٹڈیاں فرعون کے محل اور قبطیوں کے گھروں میں گھس گئیں اور بنی اسرائیل کے گھروں میں نہیں گھسیں۔ ان ٹڈیوں نے فرعون اور قبطیوں کی کھیتیاں ، پھل اور اناج وغیرہ کھانےلگے۔ ان ٹڈیوں نے درختوں کے پتے ، مکانوں کےدروازے ، چھتوں اور تختوں تک کو کھا لیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن پر ٹڈی دل کے بادل بھیجے۔ انہوں نے ان کی فصلوں، پھلوں حتیٰ کہ درختوں کو کھا لیا۔ بلکہ انہوںنے دروازوں کو ، مکان کی چھتوں کو ہر قسم کی لکڑی کو ، لکڑیوں کے سامان کو، کپڑوں کو حتیٰ کہ دروازوں کی کیلوں( کھِلّوں) تک کو کھا لیا۔ یہ ٹڈیاں ہر چیز کو کھا رہی تھیں اور ان کی بھوک ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ آخر کا ر فرعون اور قبطی چلّا اٹھے اور فریاد کی۔ اے موسیٰ(علیہ السلام )آپ کے رب نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اس وعدہ کے واسطے اپنے رب سے دعا کریں۔ اگر یہ عذاب ہم سے دور کر دیا گیا تو ہم ضرور آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے اور انہوںنے بہت پختہ وعدہ کیا اور پکی قسمیں کھا ئیں۔ ان پر ٹڈیوں کا عذاب ایک سنیچر سے دوسرے سنیچر تک رہا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ٹڈیوں کا یہ عذاب دور کر دیا۔ بعض احادیث میں ہے کہ ہے ٹڈیوں کے سینہ پر لکھا ہو ا تھا۔ ” جند اللہ الاعظم“ یعنی اللہ کا عظیم لشکر۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا فضا میں مشرق سے مغرب کی طرف گھمایا تو ٹڈیاں جہاں سے آئی تھیں وہیں واپس چلی گئیں۔ ان کے پاس جو اناج اور پھل اور دوسرے کھانے کے سامان بچ گئے تھے اسے دیکھ کر ان لوگوں نے کہا۔ یہ ہمارے لئے کافی ہیں۔ اور ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑ یں گے۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور کفر پر ڈٹے رہے۔ 

جوو‘ں یا گھُن کے کیڑے کا عذاب

اللہ تعالیٰ بار بار فرعون اور اس کی قوم کو سمجھانے کے لئے الگ الگ عذاب بھیج رہے تھے۔ وہ بد بخت لو گ بار بار آپ علیہ السلام سے وعدہ کر کے توڑ رہے تھے۔ اور کفر پر ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل پر ظلم و ستم بھی جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ”قمل“ کا عذاب بھیجا۔ قُمل جوئیں یا گھن کے کیڑے کو کہا جاتا ہے۔ ان کیڑوں نے باقی بچے ہوئے پھل اور اناجوں پر حملہ کر دیا۔ یہ کیڑے کپڑوں میں گھس جاتے تھے اور بہت بری طرح سے کاٹتے تھے۔ اور ان کے کھانے میں گھر جاتے تھے۔ اگر کوئی ایک تھیلہ اناج لے کر جاتا تھا تو کیڑے اسے کھا ڈالتے تھے اور وہ دو تین کلو ہی بچتا تھا۔ ان کیڑوں نے فرعون اور قبطیوں کے بال تک کھا ڈالے ۔ یہاں تک کہ ان کی بھنویں اور پلک کے بال تک چاٹ گئے۔ اُن کا کھانا، پینا اور سونا دشوار ہو گیا۔ جب کہ بنی اسرائیل بہت آرا م سے تھے۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گندم ( گیہوں) میں جو سر سریاں ( کیڑے ) نکلتے ہیں۔ وہ قُمل ہیں۔ بعض نے کہا ۔ یہ جچڑی کی ایک قسم ہے۔ اور بعض نے کہا یہ جوئیں ہیں۔ اور بعض نے کہا۔ یہ ایک قسم کا کیڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ وہ شہر سے باہر کسی بڑے ٹیلے کے پاس جائیں اور اس ٹیلے پر اپنا عصا ماریں۔ عصا مارنے سے اس ٹیلے کے اندرسے وہ کیڑے ( قُمل ) پھوٹ پڑے۔ وہ ان کے بچے کچے کھیتوں کو کھا گئے۔ ان کے کپڑوں میں گھس گئے ۔ ان کا کھانا ان کیڑوں سے بھر جاتا ۔ وہ ان کے بالوں میں، پلکوں میں ، بھنوﺅں میں گھس گئے۔ اُن کے ہونٹوں اور کھالوں میں گھسنے لگے۔ ان کا چین و قرار جاتا رہا۔ وہ سو نہیں سکتے تھے۔ آخر کار وہ لوگ بے چین اور بے قرار ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور رو رو کر فریاد کرنے لگے۔ کہ ہم تو بہ کرتے ہیں آپ علیہ السلام اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم پر سے عذاب اٹھا لے۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی تو تمام کیڑے واپس چلے گئے۔ لیکن ان بد بختوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔،

مینڈکوں کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیا ہوا وعدہ پھر سے فرعون اور اس کی قوم نے توڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں سمجھانے کے لئے اس بار مینڈکوں کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ بے حد اور بےشمار مینڈک آگئے اور فرعون اور قبطیوں کے گھروں میں گھس گئے۔ جہاں جہاں یہ جاتے تھے مینڈک ان کے ساتھ چلتے تھے۔ فرعون جب دربار لگاتا تو پورا دربار مینڈکوں سے بھر جاتا ۔قبطی اگر کہیں بیٹھے بات کرتے رہتے تو وہ جگہ مینڈکوں سے بھر جاتی تھی۔ اگر کچھ بولنے کے لئے کوئی منہ کھولتا تو مینڈک اس کے منہ میں گھس جاتا تھا۔ پکانے کے چولہے میں مینڈک گھس جاتے تھے اور چولہا بجھ جاتا تھا۔ کھانا پکاتے وقت ہانڈیوں میں مینڈک گھس جاتے تھے۔ جب کہ بنی اسرائیل مینڈکوںسے پوری طرح محفوظ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے اپنے محل کے نہر کے پاس مینڈک کے ٹرّانے کی آواز سنی۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلو کر مینڈک کی آواز سنائی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے فرعون، کیا تو اور تیری قوم اس مینڈک سے مل چکے ہو؟ تو فرعون نے کہا۔ کیا تمہارا رب اس مینڈک کے قریب ہے؟ پس جب شام ہوئی تو فرعون اور اس کی قوم کا ہر آدمی اپنی ٹھوڑی تک مینڈکوں میں تھا۔ اور ان میں سے کوئی بات کرنا چاہتا تو مینڈک اچھال کر اس کے منہ میں چلا جاتا تھا۔ اور ان کے ہر برتن مینڈکوں سے بھرے پڑے تھے۔ تو انہوں نے پہلے کی طرح وعدہ کیا اور دعا کی درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے مینڈکوں سے آزادی عطا فرمادی۔ لیکن انہوں نے وعدہ وفا نہیں کیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مینڈکوں کا عذاب بھیجا ۔ جس سے ان کے گھر اور صحن بھر گئے۔ ان کے کھانے کے برتن میں مینڈک بھر گئے۔ جب وہ سوتے وقت کروٹ بدلتے تو دوسری جانب مینڈکوں کا ڈھیر لگ جاتا اور وہ کروٹ نہیں بدل سکتے تھے۔ وہ آٹا گوندھتے تو آتے میں مینڈک لتھڑ جاتے اور سالن کی ہانڈی کھولتے تو مینڈک اس میں بھر جاتے ۔ اس مصیبت پر فرعون اور اس کی قوم کے لوگ رو پڑے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے روتے ہوئے فریاد کی کہ اس عذاب سے ہمیں نجات دلا دیں۔ اس بار ہم پکا وعدہ کرتے ہیں کہ اسلام قبول کر لیں گے یا پھر بنی اسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ بھیج دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے مینڈکوں کا عذاب ختم کر دیا۔لیکن بد بختوں نے پھر اپنا وعدہ توڑ دیا۔

خون کا عذاب

حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بار بار فرعون اور اس کی قوم کے لوگ جھوٹ بول کر عذاب کوٹالتے تھے۔ اس بار اللہ تعالیٰ نے انہیں خون کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ ان کے برتن خون سے بھر گئے۔ وہ لوگ کنویں سے پانی نکالتے اور اپنے برتن میں ڈالتے تو وہ خون بن جاتا تھا۔ دریائے نیل کا پانی جیسے ہی اپنے برتن میں لیتے تو وہ خون بن جاتا تھا۔ جب کہ بنی اسرائیل کے برتنوں میں پانی ہی رہتا تھا۔ فرعون اور قبطی پانیپی نہیں پارہے تھے۔ اور پیاسے رہ رہے تھے۔ فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل اور قبطی ایک ہی برتن میں پانی لیں۔ لیکن جیسے ہی قبطی اس برتن کو لیتے تھے وہ خون بن جاتا اور جب وہ برتن بنی اسرائیل کے شخص کے ہاتھ میں دیتے تو پانی بن جاتا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر خون کا عذاب بھیجا۔ ان کے گھروں میں برتنوں میں رکھا ہوا پانی خون بن گیا۔ دریائے نیل کا پانی اور کنوﺅں اور نہروں کا پانی اپنے برتنوں میں لیتے تو وہ سرخ گاڑھا خون بن جاتا تھا۔ انہوں نے فرعون سے شکایت کی کہ اب ہمیں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے۔ فرعون نے کہا یہ موسیٰ (علیہ السلام )کا جادو ہے۔ قبطیوں نے کہا۔ یہ جادو کہاں سے ہو گیا۔ ہمارے تمام برتنوں میں خون بھرا ہے۔ اور اسرائیلوں کے برتن میں پانی ہے۔ فرعون نے حکم دیا کہ اسرائیلیوں کے برتنوں میں پانی پیﺅ۔ لیکن جب وہ بنی اسرائیل کے پانی کا برتن لیتے تو ان کے ہاتھ میں آکر خون بن جاتا تھا۔ یہاں تک کہ قبطی عورتیں پیاس سے مجبور ہو کر بنی اسرائیل کی عورتوں کے پاس آتیں اور کہتیں کہ اپنے منہ میں پانی لے کر ہمارے منہ میں ڈال دو۔ لیکن جب تک وہ پانی بنی اسرائیل کی عورت کے منہ میں رہتا تب تک پانی رہتا اور جیسے ہی قبطی عورت کے منہ میں جاتا تو خون بن جاتا تھا۔ آخر کار انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی اور آپ علیہ السلام نے اُن پر رحم کھا کر دعا فرمائی اور خون کا عذاب دور ہو گیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

10 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon



10 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 10

فرعون کا اپنی قوم کو بہکانا اور مرد مومن کا سمجھانا

اللہ تعالیٰ نے مسلسل کئی طرح کے عذاب فرعون اور قبطیوں پر بھیجے۔ اور قبطیوں نے دیکھا کہ عذاب صرف اُن پر آتے تھے اور بنی اسرائیل محفوظ رہتے تھے۔ اس سے بہت حد تک قبطی متاثر ہو نے لگے۔ فرعون نے جب عوام کی یہ حالت دیکھی تو انہیں جمع کیا اور بہکانے لگا۔ اللہ تعالیٰ نےس ورہ المومن میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو اپنی نشانیوں اور کھلی دلیلوں کے ساتھ بھیجا ۔ فرعون ، ہامان اور قارون کی طرف، تو انہوں نے کہا۔ ( یہ تو ) جادوگر اور جھوٹا ہے۔ پس جب ان کے پاس (حضرت موسیٰ علیہ السلام )ہماری طرف سے ( دین) حق لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جو ایمان والے ہیں ۔ ان کے لڑکوں کو مارڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھو۔ اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وہ غلطی میں ہی ہے۔ اور فرعون نے کہا ۔ مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ (علیہ السلام )کو مارڈالوں۔ اسے چاہیئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ تم لوگوں ( قبطیوں ) کا دین نہ بدل ڈالے۔ یا پھر ملک میں کوئی ( بہت بڑا) فساد برپا نہ کر دے۔ موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ میں اپنے اور تمہارے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ ہر اُس تکبر کرنے والے شخص ( کی برائی) سے جو روزِ حساب ( قیامت کے دن) پر ایمان نہیں رکھتا ہے۔ اور ایک مومن شخص نے ، جو فرعون کے خاندان کا تھا۔ اور اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے کہا ۔ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بات پر قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا کہ میرا رب اللہ تعالیٰ ہے؟ اور تمہارے رب کی طرف سے دلیلیں لے کر آیا ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہو گا تو اس کا جھوٹ اسی پر ہوگا۔ اور اگر وہ سچا ہے تو جس ( عذاب ) کا وہ تم سے وعدہ کر رہا ہے وہ کسی نہ کسی طرح تو تم پر آہی پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی رہبری نہیں کرتا جو حدسے گزر جانے والے اور جھوٹے ہوں۔ اے میری قوم کے لوگو، آج تو بادہشاہت تمہاری ہے۔ اور تم زمین پر غالب ہو۔ لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو کون ہماری مدد کر سکے گا؟ فرعون بولا۔ میں تم تمہیں وہی رائے دے رہا ہوں جو خود دیکھ رہا ہوں۔ اور میں تو تمہیں بھلائی کا راستہ ہی بتا رہا ہوں۔ اس مرد مومن نے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو، مجھے تو اندیشہ ہے کہ تم پر بھی ویسا ہی (برا ) دن نہ آجائے جو پہلے کی دوسری امتوںپر آیا ہے۔ جیسے امت ِ نوح، اور امتِ عاد اور امت ثمود اور ان کے بعد والوں کا ( حال ہوا) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا۔ اور مجھے تم پر ہانک پکار( قیامت ) کے دن کا ڈر ہے۔ جس دن تم پیٹھ پھیر کر لوٹو گے اور تمہیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور اس سے پہلے تمہارے پاس ( حضرت یوسف (علیہ السلام ) دلیلیں لے کر آئے تھے پھر بھی تم ان کی لائی ہوئی ( دلیل) میں شک و شبہ ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان کا وصا ل ہو گیا تو کہنے لگے کہ ان کے بعد تو اللہ تعالیٰ کسی رسول کو نہیں بھیجے گا۔ اور اللہ تعالیٰ اسی طرح گمراہ کرتا ہے ہر اس شخص کو جو حد سے بڑھ جانے والا اور شک و شبہ کرنےوالا ہو۔“

مرد مومن کی آخرت میں کامیابی اور فرعون کا آخرت میں انجام

اللہ تعالیٰ نے سورہ المومن میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” فرعون نے کہا۔ اے ہامان ، میر ے لئے ایک بالا خانہ بنا ۔ شاید کہ میں آسمان میں جو دروازے ہیں ان دروازوں تک پہنچ جاﺅں۔ اور موسیٰ(علیہ السلام )کے معبود کو جھانک ( کر دیکھ) لوں ۔ اور بے شک میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔ اور اسی طرح فرعون کی بد کرداریاں اسے بھلی کر کے دکھائی گئیں۔ اور ( سیدھی) راہ سے روک دیا گیا۔ اور فرعون کی ( ہر ) حلیہ سازی تباہی میں ہی رہی۔ اور مرد مومن نے کہا۔ اے میری قوم، تم میری بات مانو اور میں نیک راستے کی طرف تمہاری رہبری کروں گا۔ اے میری قوم، یہ دنیا کی زندگی فنا ہو نے والی ہے۔ اور ہمیشہ کا گھر تو آخرت کی زندگی ہے۔ جس نے گنہا کیا ہے اسے تو برابر، برابر کا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ اور جس نے نیکی کی ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت اور ایمان والے ہوں تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ اور وہاں بےشمار رزق پائیں گے۔ اے میری قوم، یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلا رہا ہوں اور تم مجھے دوزخ کی طرف بلا رہے ہو۔ تم مجھے یہ دعوت دے رہے ہو کہ میں کفر کروں اور اس کے ( اللہ کے ) ساتھ (وہ ) شرک کروں جس کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔ اور میں تمہیں غالب بخشنے والے ( اللہ ) کی طرف دعوت دے رہا ہوں۔ یہ یقینی بات ہے کہ تم مجھے جس کی طرف بلا رہے ہو وہ نہ تو دنیا میں پکا رے جانے کے قابل ہے۔ اور نہ ہی آخرت میں ۔ اور یہ (یقینی)بات ہے کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے۔ اور حد سے گزر جانے والے ہی دوزخ والوں میں سے ہیں۔ پس آگے چل کر تم میری بات کو یاد کرو گے۔ اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر تا ہوں۔ یقینا اللہ تعالیٰ بندوں پر نگراں ہے۔ پس اسے اللہ نے تمام برائیوں سے محفوظ رکھ لیا۔ جو انہوں نے ( اس کے لئے ) سوچ رکھی تھیں۔ اور فرعون والوں پر بری طرح کا عذاب الٹ پڑا۔ آگ ہے جس کےسامنے یہ ہر صبح و شام لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی ( حکم ہوگا کہ ) فرعونیوں کو سخت ترین عذاب میں دالو۔“ ( سورہ المومن آیت نمبر36سے 46تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور یقینا ہم نے ہی موسیٰ (علیہ السلام )کو اپنی نشانیوں اور روشن دلیلوں کے ساتھ بھیجا تھا ۔ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ۔ پھر بھی ان لوگوں نے فرعون کی پیروی کی۔ اور فرعون کا کوئی حکم درست ( صحیح ) تھا ہی نہیں۔ وہ تو قیامت کے دن اپنی قوم کا پیش رو ( آگے آگے ) ہو کر ان سب کو دوزخ میں جا کھڑا کرے گا۔ اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر یہ لا کر کھڑے کئے جائیں گے۔ ان پر تو اس دنیا میں بھی لعنت چپکا دی گئی اور قیامت کے دن کا انعام تو بہت برا ہو گا جو دیا جائے گا۔ “(سورہ ہود آیت نمبر96سے 99تک)

بنی اسرائیل کے لئے دعا اور فرعون کے لئے بد دعا

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب یہ دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے کئی ہلکے ہلکے عذابوں کے آنے کے بعد بھی فرعون اور اس کی قوم کی اکثریت کفر پر ہی ڈٹی رہی اور صرف کچھ لوگ ایمان لائے وہ بھی فرعون اور اس کے ظالم سرداروں سے اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھے۔ اور فرعون اور اس کے ظالم سردار یا عہدے دار مسلسل بنی اسرائیل پر ظلم و ستم کو جاری رکھےہوئے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بنی اسرائیل کےلئے دعا اورفرعون اور اس کے ساتھیوں کے لئے بد دعا کی۔ ہاں جو تھوڑے بہت قبطی مسلمان ہو چکے تھے وہ اس بد دعا سے بری رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس موسیٰ (علیہ السلام )پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے۔ اور وہ بھی فرعون سے اور اس کے عہدے داروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں اُن کو تکلیف نہ پہنچائے۔ اور واقعی میں فرعون اس ملک میں زور کھتا تھا۔ اور یہ بات بھی تھی کہ وہ حدسے باہر ہو جاتا تھا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ اے میری قوم، اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل ( بھروسہ) رکھو۔ اگر تم مسلمان ہو ۔ انہوں نے عرض کیا۔ ہم نے اللہ تعالیٰ پر ہی توکل کیا۔ اے ہمارے رب، ہم کو ان ظالموں کا فتنہ نہ بنا اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے۔ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )اور ان کے بھائی کے پاس وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنے ان لوگوں کے لئے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم سب اپنے انہی گھروں کو نماز پڑھنے کی جگہ قرار دے لو۔ اور نماز کے پابند رہو۔ اور آپ (علیہ السلام )مسلمانوں کو بشارت دے دیں۔ اور موسیٰ (علیہ السلام )نے عرض کیا۔ اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامانِ زینت اور طرح طرح کے دنیاوی مال دیئے ہیں۔ اے ہمارے رب ، ( یہ سب اس واسطے نہیں دیئے کہ ) وہ تیری راہ سے گمراہ کریں۔ اے ہمارے رب، ان کے مال و دولت اور عیش و آرام کے سامان کو نیست و نابود کر دے۔ اور ان کے دلوں کو سخت کر دے۔ سو یہ ایمان نہ لانے پائیں۔ یہاں تک کہ دردناک عذاب کو دیکھ لیاں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی۔ سو تم ثابت قدم رہو۔ اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جن کو علم نہیں ہے۔“ ( سورہ یونس آیت نمبر83سے89تک) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہ ایک عظیم بد دعا تھی۔ جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے اللہ کے دشمن فرعون کے خلاف صادر ہوئی۔ آپ علیہ السلام کو فرعون سے ذاتی دشمنی نہیں تھی یہ ناراضگی اللہ کے لئے تھی۔ کیوں کہ وہ اتباع حق سے تکبر کر رہا تھا۔ اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روک رہا تھا۔ اس کی اسلام دشمنی، اللہ سے بغاوت اور سر کشی حد سے گزر گئی تھی۔ اورہ وہ باطل پرڈٹا ہو ا تھا۔ واضح ، صاف ، کھلی ہوئی دلیلوں اور نشانیوں کو دیکھ کر بھی تکبر کر رہا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے یہ دعا کی۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔ اسی لئے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم اور سرداروں کے خلاف بد دعا کی اور آپ علیہ السلام کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام نے آمین کہہ کر اس بددعا میں شمولیت اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی۔

سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا کی شہادت 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون کے دربار میں اعلان ِ نبوت فرمایا تھا اور جادوگروں سے مقابلہ کرنے سے پہلے ہی آسیہ رضی اللہ عنہا نے فرعون سے چھپ کر آپ علیہ السلام کے گھر پر آکر ملاقات کی اور اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن اپنے ایمان کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ لیکن ایک دن بد بخت فرعون نے آپ رضی اللہ عنہا کو عبادت کرتے دیکھا تو اس کے بارےمیں پوچھا ۔آپ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکی ہوں۔ اور اسلام قبول کر چکی ہوں۔ فرعون نے جب یہ سنا تو اتنا زیادہ غصے میں آیا کہ آپ رضی اللہ عنہا کو قید میں ڈال دیا۔ اور شدید اذیت دینے لگا۔ اور اصرار کرنے لگا کہ اسلام چھوڑ دے لیکن آپ رضی اللہ عنہا اسلام پر ڈٹی رہیں۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں ۔ اس کے بعد دوسرا جگر گداز واقعہ یہ ہوا کہ شیطہ نامی ایک عورت کو اس کے لڑکے ساتھ فرعون نے جلتے ہوئے تنور میں زندہ ڈال کر جلا دیا۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ اس نے اپنا ایمان ظاہر کر دیا تھا۔ اس کے بعد بدبخت فرعون نے سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا پر بھی اس قدر تشدد کیا کہ ان کی بھی شہادت واقع ہو گئی۔ انہوں نے تشدد کے دوران اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا اور دعا مانگی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قرآن پاک کی آیت بنا دیا۔ اور سورہ التحریم میں فرمایا۔ ترجمہ ”(سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی) اے میرے رب، میرے لئے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے۔ اور مجھ کو فرعون اور اس کے ( برے ) کاموں سے بچا۔ اور ظالموں سے مجھے نجات دے۔“ (سورہ التحریم آیت نمبر11) اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہاجنت کو دیکھ کر مسکرائیں۔ فرعون نے کہا۔ یہ ماجرا دیکھو کہ اس پر عذاب کیا جا رہا ہے اور یہ ہنس رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اور صبر و شکر کرتی ہوئی اسی تشدد کی حالت میں اللہ کی جوارِ رحمت میں چلی گئیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

11 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام Story of Prophet Moosa and Haroon





11 حضرت موسیٰ و ہارون علیہم السلام 

سلسلہ نمبر12

تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 11

بنی اسرائیل کی مصر سے روانگی

اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام ) کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل۔ تم سب پیچھا کئے جاﺅ گے۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر52) آخر کار اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہجرت کا حکم دے دیا۔ اور فرمایا کہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے ہجرت کرجاﺅ۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ نہایت خاموشی سے راتوں رات پورے بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف نکل جائیں ۔ لاکھوں کی تعداد میں بنی اسرائیل رات کے آخری حصے میں نہایت خاموشی سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فلسطین جانے کے لئے روانہ ہو گئے۔ بنی اسرائیل جو آج کل اپنےآپ کو یہودی کہلواتے ہیں۔ اس وقت بھی غلامی کی حالت میں بھی اپنی سازشی اور مفاد پرست ذہنیت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ فلاں رات کو ہمیں خاموشی سے نکل جانا ہے۔ تو بنی اسرائیل کی عورتوں نے قبطیوں کی عورتوں کے زیورات یہ کہہ کر عاریتاً مانگ لئے کہ فلاں دن ہمارا تہوار ہے اس دن پہن کر واپس کر دیں گے۔ بنی اسرائیل پورے مصر میں پھیلے ہوئے تھے اور چھ لاکھ سے زیادہ تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی اس آیت کی تفہیم میں لکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ بنی اسرائیل کی آبادی مصر میں کسی ایک جگہ مجتمع نہیں تھی بلکہ ملک ( مصر ) کے تمام شہروں اور بستیوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اور خصوصیت کے ساتھ ممفس یا منف ( Mamphis) سے رعمیس تک اس علاقے میں ان کی بڑی تعداد آباد تھی۔ جسے جُشن کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ لہٰذا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا ہو گا کہ اب تمہیں بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل جانا ہے تو انہوں نے بنی اسرائیل کی تمام بستیوں میں ہدایات بھیج دی ہوں گی کہ سب لوگ اپنی اپنی جگہ ہجرت کے لئے تیار ہو جائیں۔ اور ایک خاص رات مقرر کر دی ہو گی۔ کہ اس رات تمام بستی کے مہاجرین ( بنی اسرائیل) نکل کھڑے ہوں ۔ یہ ارشاد کے تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔ اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہجرت کے لئے رات کو نکلنے کی ہدایت کیوں کی گئی تھی۔ یعنی قبل اس کے کہ فرعون لشکر لے کر تمہارے تعاقب میں نکلے۔ تم راتوں رات اپنا راستہ اس حد تک طے کر لو کہ اس سے بہت آگے نکل چکے ہوں گے۔ تفسیر ابن حاتم میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ یہاں سے نکل چلیں اور اپنے کسی بھی ساتھی کو آواز نہ دیں۔ اور اپنے اپنے گھروں میں چراغ اس طرح جلا دیں کہ وہ صبح تک جلتے رہیں۔ اور ان میں سے جو بھی گھر سے نکلے وہ دروازے پر خون گرا دے تا کہ معلوم ہوجائے کہ وہ چلا گیا ہے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکل کھڑے ہوئے۔ جب کہ قبطیوں کو کوئی علم نہیں تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چھ لاکھ بیس ہزار 620000افراد کو لے کر چل پڑے۔ ان میں بیس سال سے کم عمر کے نوجوانوں او ر بچوں اور ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے بوڑھوں اور عورتوں کو شمار نہیں کیا گیا تھا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا تابوت

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے لیکن آگے چل کر راستہ بھٹک گئے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ ہم نے حضرت یوسف علیہ السلام کے ذکر میں لکھا تھاکہ آپ علیہ السلام نے وصیت کی تھی کہ مجھے مصر میں دفن نہ کریں بلکہ جب بنی اسرائیل مصر سے جانے لگیں تو مجھے لیتے جائیں اور میرے والدین اور آباو اجداد کے بازومیں ملک کنعان ( آج کا فلسطین) لے جا کر دفن کرنا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی نبوت کا بہت سارازمانہ اُن لوگوں میں گزارا۔ اللہ کی آیتیں ( نشانیاں) اُن پر واضح کر دیں۔ لیکن انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں سر نہیں جھکایا۔ ان کا تکبر نہیں ٹوٹا ۔ اُن کی بد دماغی میںکوئی فرق نہیں آیا۔ تو اب اس کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہی کہ اُن پر اللہ کا آخری عذاب آجائے۔ اور یہ غارت ہو جائیں ۔ آپ علیہ السلام کو وحی آئی کہ راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر چل دو۔ بنی اسرائیل نے اس موقع پر قبطیوں سے بہت سے زیورات بطورِ عاریتا ً لے لئے۔ اور چاند چڑھنے کے وقت چپ چاپ چل دیئے۔ آپ علیہ السلام نے راستے میں دریافت فرمایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کہاں ہے؟ بنو اسرائیل کی ایک بوڑھی عورت نے قبر مبارک بتلائی۔ آپ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کا تابوت اٹھالیا۔ کہا گیا ہے کہ خود آپ علیہ السلام نے ہی اسے اٹھایا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب یہاں سے جانے لگیں تو آپ علیہ السلام کا تابوت اپنے ساتھ لیتے جائیں۔

جنت میں پڑوس

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے۔ علامہ ابن کثیر آگے لکھتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر چلے تو راستہ بھول گئے۔ ہزار کوشش کی لیکن راستہ نہیں ملا۔ آپ علیہ السلام نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا کہ راستہ کیوں نہیں مل رہا ہے۔ تو بنی اسرائیل کے علمائے کرام نے کہا کہ بات یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے آخری وقت میں ہم سے عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے جانے لگیں تو آپ علیہ السلام کے تابوت کو بھی یہاں سے لیتے جائیں۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ کون جانتا ہے کہ ان کا تابوت کہاں ہے؟ سب نے انکار کر دیا کہ ہم نہیں جانتے ۔ ہاں ایک بوڑھی عورت اس کے بارے میں جانتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے اس بوڑھی عوت سے دریافت فرمایا تو اس نے کہا۔ ہاں میں جانتی ہوں۔ لیکن پہلے آپ علیہ السلام سے ایک وعدہ چاہتی ہوں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم کیا چاہتی ہو؟ اس بوڑھی عورت نے کہا۔ پہلے آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں آپ علیہ السلام کا پڑوس عطا فرمائے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ جنت تو ٹھیک ہے مگر میر ا پڑوس بہت مشکل ہے۔ ( کیوں کہ انبیائے کرام علیہم السلام جنت میں سب سے اونچے علاقے میں رہیں گے) اس بوڑھی عورت نے اصرار کیا کہ مجھے تو آپ علیہ السلام کا پڑوس ہی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی بھیجی کہ اس کی بات مان لو۔ اور شرط منظور کر لو۔ آپ علیہ السلام نے اس کی بات مان لی تو اس نے بتایا کہ پانی میں کہاں تابوت ہے۔ تابوت نکال کر آگے بڑھے تو راستہ مل گیا۔

فرعون کا لشکر اور بنی اسرائیل آمنے سامنے

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے باہر آگئے اور تیزی سے بحر ِ قلزم یا دریائے قلزم تک پہنچ گئے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ بحر کھارے دریا کو کہتے ہیں۔ اور میٹھے پانی کو بحر کہنا مجازاً ہوتا ہے۔ یہاں بحر سے مراد دریائے قلزم ہے۔ قلزم ایک شہر کا نام ہے ۔ جہاں یہ دریا ختم ہوتا ہے۔ اسی لئے اس کو بھی قلزم کہا جاتا ہے۔ یہ دریا سمندر کی ایک شاخ ہے۔ حبشہ اور دیگر بلاد ِ عرب کے درمیان سے گزرتی ہے۔ اور اسے بحرِ احمر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا طول 460فرسخ جنوباً شمالاً ہے ۔ اور عرض 60فرسخ ہے۔ یہ مصر سے تین دن کے فاصلے پر ہے۔ اور دریائے نیل مصر کے مغربی جانب ہے۔ یہ جو مشہور ہے کہ فرعون دریائے نیل میں غرق ہو ا تو یہ غلط ہے۔ در اصل بحر احمر یا بحر قلزم جب مصر اور صحرائے سینا یا جزیرہ نمائے سینا کے درمیان آیا تو ایک بہت بڑی نہر میں تبدیل ہو گیا۔ آج کل اس نہر کو نہر سوئیز کہتے ہیں۔ اس نہر کے مشرق میں مصر ہے اور مغرب میں صحرائے سینا ہے۔ او ر صحرائے سینا کے شمال مشرق میں اس وقت کا ملک کنعان اور آج کا فلسطین ہے۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام بحر قلزم یا بحر احمر کے اس علاقے پر پہنچے تھے جسے آج کل نہر سوئیز کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” پس فرعونی سورج نکلتے ہی ان کے تعاقب میں نکلے۔ پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ (علیہ السلام ) کے ساتھیوں نے کہا۔ ہم تو یقینا پکڑ لئے گئے۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر60اور 61) ادھر مصر میں فرعون اور اس کے ساتھی جب صبح اٹھے تو دیکھا کہ بنی اسرائیل مصر چھوڑ کر جا چکے ہیں تو فرعون نے تمام لوگوں کو جمع ہونے کا اعلان کر دیا۔ اور تمام قبطیوں کو لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکل پڑا۔ فرعون کے لشکر کے الگے حصے پر ہامان تھا۔ لشکر کی تعداد دس لاکھ تھی اور سات لاکھ گھوڑے تھے۔ علامہ ابن کثیر قصص الانبیاءمیں لکھتے ہیں کہ فرعون کے لشکر کی تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ تھی۔ واللہ اعلم ۔ بہر حال فرعون کا لشکر تیزی سے پیچھا کرتا ہوا بنی اسرائیل تک پہنچ گیا۔ اس وقت بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے تھے اور اسے پار کرنے کی تیاری میں تھے۔ کہ انہیں فرعون کا لشکر آتا دکھائی دیا۔

بنی اسرائیل کی گھبراہٹ اور بے اعتباری

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر دریائے قلزم یا بحر احمر یا آج کال کی نہر سوئیز پار کرنے کی تیاری میں تھے کہ فرعون اپنا لشکر لے کر پہنچ گیا۔ اس وقت سورج نکل رہا تھا۔ اب بنی اسرائیل اور فرعون کا لشکر آمنے سامنے تھے۔ بات بالکل صاف تھی اب بنی اسرائیل یا تو لڑکر فرعون پر فتح حاصل کریں یا پھر شہید ہو جائیں یا پھر فرعون کا غلام بننے کے لئے تیار ہو جائیں۔ بنی اسرائیل میں بزدلی آگئی تھی۔ اس لئے وہ صرف یہی سوچ رہے تھے کہ اگر فرعون نے ہمیں پکڑ لیا تو ا مرتبہ بہت ہی خراب سلوک کرے گا ۔ وہ لو گ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے شکوہ شکایت کرنے لگے اور کہنے لگے ۔ ہم تو بہت بری طرح پھنس گئے ہیں۔ آپ علیہ السلام انہیں سمجھانے لگے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو۔ وہ ہمارے ساتھ ہے اور ضرور کوئی راستہ نکالے گا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ فرعون نے جب اُن کو پالیا تو اس وقت سورج طلوع ہو رہا تھا۔ دونوں لشکر آمنے سامنے تھے کوئی شک و شبہ باقی نہیں تھا۔ فریقین ایک دوسرے کو آمنے سامنے کھڑا دیکھ رہے تھے۔ بات بالکل واضح تھی کہ اب لڑائی ہو گی۔ گردنیں اڑیں گی اور زمین خون آلود ہو گی۔ بنی اسرائیل خوف سے لرز اٹھے ، گھبرا کر کہنے لگے۔ “ یقینا ہم تو پکڑ لئے گئے۔ “ کیوں کہ سامنے سمندر موجیں مارتاہوا ہے۔ اور پیچھے فرعون کا لشکر جرّار۔ کریں تو کیا کریں۔ سمندر کو کیسے عبور کریں۔ اب ایک ہی صورت ہے کہ اپنے آپ کو سمندر کی موجوں کے حوالے کر دیں اور گھس جائیں لیکن یہ حوصلہ کس میں تھا۔ کون اپنے آپ کو سمندر کی بے رحم لہروں کے حوالے کر سکتا تھا۔ دائیں بائیں بھی نا قابل عبور پہاڑ تھے۔ فرعون کے لشکری قریب سے قریب تک ہو رہے تھے۔ وہ بالکل سامنے تھے ، اسرائیلی فرعون کو دیکھ رہے تھے کہ وہ اپنے لشکر جرار میں بے پناہ سپاہیوں اور اسلحہ کے ساتھ لیس ہے۔ وہ بہت ڈرے، خوف کے مارے خون خشک ہو گیا۔ جب انہوں نے خیال کیا کہ فرعون کی طاقت کس قدر زیادہ ہے اور وہ ہمیں پکر کر کس قدر اذیتیں دے گا اور اہانت کرے گا تو اُن کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ وہ کہنے لگے اور اللہ کے رسول علیہ السلام کی بارگاہ میں شکوہ شکایت کرنے لگے۔ ہم بہت بری طرح پھنس گئے ہیں اور آپ علیہ السلام نے ہمیں مروا دیا ہے۔

دریا پر عَصا مارو

حضرت ہارون علیہ السلام بنی اسرائیل کے آگے آگے تھے اور دریائے کے بالکل قریب تھے ۔ ان کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے شاگرد حضرت یوشع علیہ السلام اور مردِ مومن تھے۔ جب کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ساقہ پر یعنی سب سے پیچے تھے۔ اور فرعون کے لشکر کو قریب آتا دیکھ رہے تھے۔ وہ مردِ مومن جلدی سے گھوڑا دوڑاتے ہوئے آپ علیہ السلام کے پاس آئے اور پوچھا کہ آپ علیہ السلام کو کیا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہیں سے دریاپار کرنے کا حکم ملا ہے۔ یہ سن کر وہ مرد مومن گھوڑا دوڑاتا ہوا آیا اور دریا کے پاس جہاں حضرت ہارون علیہ السلام کھڑے تھے وہاں پہنچ کر کہا۔ کہ یہیں سے دریا پار کرنے کا حکم ملا ہے۔ اور اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا اور آگے بڑھتے گئے۔ تمام بنی اسرائیل گھبراہٹ اور بے چینی میں مبتلا تھے اور دریا میں آگے بڑھتے گھوڑے کو اور فرعون کے لشکر کو اپنی طرف آتا دیکھ رہے تھے۔ کبھی ادھر دیکھتے اور کبھی ادھر دیکھتے۔ آخر کار حضرت یوشع علیہ السلام واپس آگئے تو وہ مرد مومن دریا کے کنارے کچھ دور گیا۔ اور اپناگھوڑ ا دریا میں ڈال دیا۔ لیکن کچھ دور جا کر واپس آگیا۔ اس طرح اس نے دو تین جگہوں سے دریا پار کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوکر واپس حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ اس دوران میں تمام بنی اسرئیل کی جانیں ان کی آنکھوں میں آگئیں اور وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی اس مرد مومن کو دیکھتے کبھی آپ علیہ السلام کو دیکھتے اور کبھی فرعون کے لشکر کو دیکھتے تھے۔ اور عورتوں اور بچوں نے تو باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آلِ فرعون کا مرد مومن کئی مرتبہ اپنے گھوڑے پر سوار دریا میں گھستا گیا کہ کیا اسے عبور کرنا ممکن ہے۔ لیکن ہر بار واپس آیا کہ یاں سے دریا عبور کرنا ممکن نہیں ہے۔ آخر آپ علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور عرض کیا ۔ اے اللہ کے رسول علیہ السلام ، کیا یہیں سے دریا پار کرنے کا حکم ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں یہیں سے اسی جگہ سے ۔ جب حالات نے نازک صورت حال اختیار کر لی اور معاملہ سنگین ہو گیا ۔ بنی اسرائیل بے چین و بے قرار ہو گئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت دانت پیستا ، غصے سے لال پیلا ہوتا بالکل قریب پہنچ گیا اور بنی اسرائیل لرزہ براندام پھٹی آنکھوں سے لشکر کو دیکھنے لگے۔ ان کے کلیجے منہ کو آنے لگے۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ جو عرشِ عظیم کا اور قدرتوں کا مالک ہے اس نے وحی فرمائی کہ اپنے عصاکو دریا پر مارو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ”موسیٰ (علیہ السلام )نے فرمایا۔ ہرگز نہیں ، یقین مانو میرا رب میرے ساتھ ہے ، جو ضرور مجھے راستہ بتائے گا۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر62اور 63)

پانی پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا

اللہ تعالیٰ چاہتے تھے کہ فرعون اور اس کے لشکر کو آخری اور فائنل عذاب دیا جائے اور ہلاک کر دیا جائے۔ اسی لئے جب فرعون اور اس کا لشکر بالکل قریب آئے تب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام )کی طرح وحی بھیجی کہ دریا پر اپنا عصا مارو۔ پس اسی وقت دریا پھٹ گیا۔ اور پانی کا ہر حصہ پہاڑ کی طرح کھڑا ہو گیا۔ “ (سورہ الشعرءآیت نمبر63) تفسیر در المنشور میں امام سعدی رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنا عصا دریا پر مارو تو حضرت ہارون علیہ السلام نے آگے بڑھ کر اپنا عصا سمندر پر مارا تو اس نے راستہ دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ یہ کون جبار ہے جو مجھے مار رہا ہے؟ آخر کار حضرت موسیٰ علیہ السلام تمام بنی اسرائیل کے درمیان سے تیزی سے راستہ بناتے ہوئے دریا کے کنارے پہنچے اور دریا میں اتنا اترے کہ پانی کمر تک آگیا۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ کا نام لے کر دریا پر اپنا عصا مارا۔ عصا مارتے ہی دریا میں بارہ راستے بن گئے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور ہر قبیلے کے لئے ایک راستہ بنا دیا گیا۔ دریا میں پانی بڑے بڑے پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا اور بارہ بہت چوڑے چوڑے راستے بن گئے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ دریا میں داخل ہو جاﺅ۔ اور جلدی سے اس پار نکلو۔ لیکن بنی اسرائیل نے کہا کہ ہم اگر دریا میں اتریں گے تو ہمارے دوسرے قبیلے کے بھائی ہمیں نظر نہیں آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے پانی کے بڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان جگہ جگہ بڑی بری کھڑکیاں بنا دیں اور وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے دریا پار کرنے لگے۔ تفسیر در منشور میں امام سدی کی روایت میں آگے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل دریا میں داخل ہو گئے ۔ اس میں بارہ راستے تھے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے بھائی دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے الجا کی تو اللہ تعالیٰ نے پانی کے بڑے بڑے پہاڑوں کے درمیان کھڑکیاں بنا دیں اور ہر کوئی ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے دریا پار کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ بنی اسرائیل کا آخری آدمی بھی دریا پار کر کے نکل گیا۔ فرعو ن اب اپنے لشکر کے ساتھ بالکل قریب پہنچ گیا تھا۔ اور دریا کے کنارے اپنے لشکر کے ساتھ کھڑا حیرت سے دریا میں کھڑے ہوئے پانی پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا۔ تما م بنی اسرئیل دریا میں اتر چکے تھے۔ ان میں سے اچھے خاصے دوسری طرف پہنچ کر اپنے ساتھیوں کا انتظار کر رہے تھے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں