حضرت شعیب علیہ السلام مکمل
سلسلہ نمبر 11
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم
قارئین کرام ، اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت ایوب علیہ السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اور اُس سے پہلے بھی حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اور اس سے پہلے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حالات بتا چکے ہیںکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے اسماعیل علیہ السلام دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں۔ اور دوسرے نمبر کے حضرت اسحاق علیہ السلام پہلی بیوی سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا سے ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی سیدہ قطورہ یا قنطورہ سے کئی بیٹے تھے۔ اُن میں سے ایک بیٹے کا نام مدین یا مدائن یا مدیان تھا۔ اور وہ جس علاقے میں جا کر رہائش پذیر ہوئے اس علاقے کا نام مدین پڑ گیا۔ اور اُن کی اولاد یا نسل قوم مدین کہلائی۔ اکثر علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے دو قوموں ”قومِ مدین اور اصحاب الایکہ“ کی طرف بھیجا ۔ لیکن تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفا ق ہے کہ مدین کا علاقہ اتنا بڑا تھا کہ ان میں آباد لوگ دو قوموں میں بٹ گئے تھے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم ان دونوں قوموں کے بارے میں مختصراً بتا دیتے ہیں۔ تا کہ آگے الجھن نہ ہو۔
قوم ِ مدین کا علاقہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے مدین اپنے بیوی بچوں کو لے کر ایک بہت ہی خوب صورت علاقے میں آبادہو گئے۔ وہ علا قہ ملک شا م مےں علا قہ معا ن سے قریب تھا ۔اور حجاز کی سر حد سے لگ بھگ ملا ہوا تھا۔ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحرِ احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے پر واقع تھا ۔ مگر جزیرہ نمائے سیناءکے مشرقی ساحل پر بھی اس کا کچھ سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانےمیں جو تجارتی شاہراہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ مکرمہ اور ینبوع ہوتی ہوئی ملک شام تک جاتی تھی۔ اور ایک دوسری تجارتی شاہراہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتی تھی اس کے ( ان دونوں شاہراہوں کے ) عین چوراہے پر ( اور اس کے آس پاس) اس قوم کی بستیاں تھیں۔ اسی بنا پر عرب کا بچہ بچہ مدین سے واقف تھا۔ اور اس کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں اس کی شہرت برقرار رہی۔ کیوں کہ عربوں کے تجارتی قافلے مصر اور شام کی طرف جاتے ہوئے رات دن ( یعنی اکثر ) اس کے آثار ِ قدیمہ کے درمیان سے گزرتے رہتے ہیں۔
قوم مدین کا مختصر تعارف
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین کے علاقے کے بارے میں جان لینے کے بعد قوم مدین کے بارے میں مختصراً جان لیتے ہیں۔ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ اہلِ مدین کے متعلق ایک اور ضروری بات جس کو ذہن نشین کر لینا چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ در اصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صاحبزادے مدیان کی طرف منسوب ہیں۔ جو اُن کی تیسری بیوی سیدہ قطورہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے۔ قدیم زمانے کے قاعدے کے مطابق جو لوگ کسی بڑے آدمی کے ساتھ وابستہ ہو جاتے تھے وہ رفتہ رفتہ اسی کی آل اولاد میں شمار ہو کر بنی فلاں کہلانے لگتے تھے۔ اسی قاعدے کی وجہ سے عرب کی آبادی کا بڑا حصہ ” بنی اسماعیل “ کہلایا۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والے لوگ سب کے سب ”بنی اسرائیل “ کے جامع نام کے تحت کھپ گئے۔ اسی طرح مدین کے علاقے کی ساری آبادی بھی جو مدیان بن ابراہیم کے زیر اثر آئی۔ وہ بنو عدیان کہلائی اور اس ملک کا نام ہی مدین یا مدیان مشہور ہو گیا۔
قوم اصحاب الایکہ
حضرت شعیب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اتنے وسیع علاقے پر مبعوث فرمایا تھا کہ اس وسیع علاقے میں دو قوم آباد تھی۔ ایک قوم مدین دوسری قوم اصحاب ایکہ تھی۔ یا پھر یہ ایک ہی قوم کے دو بڑے قبیلے تھے۔ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ ( اصحاب الایکہ) یعنی حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگ ۔ اس قوم کا نام بنی مدیان تھا۔ مدین اُن کے مرکزی شہر ( راجدھانی) کو کہتے تھے۔ اور اُن کے پورے علاقے کو بھی ۔ رہا ایکہ ، تو یہ تبوک کا قدیم نام تھا۔ اس لفظ کے لغوی معنی گھنے جنگل کے ہیں ۔ آج کل ایکہ ایک پہاڑی نالے کا نام ہے۔ جو جبل اللّوز سے وادی اَفَل میں آکر گرتا ہے۔ مدین اور اصحاب الایکہ کا علاقہ بھی حجاز سے فلسطین و شا م جاتے ہوئے راستے میں پڑتا ہے۔ اس کے آگے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ مفسرین کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ مدین اور اصحاب الایکہ الگ الگ قومیں ہیں یا ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ دو الگ قومیں ہیں۔ اور اس کے لئے سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سورہ اعراف میں حضرت شعیب علیہ السلام کو اہل مدین کا بھائی فرمایا گیا ہے۔ ( والی مدین اخاھم شعیبا) اور سورہ الشعرا ءمیں اصحاب الایکہ کے ذکر میں ارشاد ہوا ہے کہ اذقال لھم شعیب ۔ ( جب کہ اُن سے شعیب نے کہا) ” اُن کے بھائی “ ( اخوھم) کا لفظ استعمال نہیں فرمایا۔ اس کے برعکس بعض مفسرین دونوں کو ایک ہی قوم قراردیتے تھے۔ کیوں کہ سورہ اعراف اور سورہ ہود میں جو امراض اور اوصاف اصحابِ مدین کے بیان ہوئے تھے وہی سورہ الشعراءمیں اصحاب الایکہ کے بیان ہوئے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت اور تعلیم ( دونوں قوموں کو ) یکساں (دی گئی ) ہے۔ اور آخر کار اُن کے انجام میں بھی فرق نہیں ہے۔
ایک ہی نسل سے دو قومیں
حضرت شعیب علیہ السلام کو دو الگ الگ قوموں کی طرف بھیجا گیا تھا یا ایک ہی نسل کی دو قوموں کی طرف بھیجا گیا تھا۔ اس کے بارے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں ۔ تحقیق سے معلو م ہوتا ہے کہ یہ دونوں اقوال اپنی جگہ صحیح ہیں۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ بلا شبہ دو الگ قبیلے ہیں۔ مگر ایک ہی نسل کی دو شاخیں ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو اولاد اُن کی بیوی سیدہ قطورا رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھی۔ وہ عرب اور اسرائیل کی تاریخ میں بنی قطورا کے نام سے معروف ہے۔ ان میں سے ایک قبیلہ جو سب سے زیادہ مشہور ہوا وہ مدیان بن ابراہیم کی نسبت سے مدیانی یا اصحاب مدین کہلایا۔ اور اس کی آبادی شمالی حجاز سے لے کر فلسطین کے جنوب تک اور وہاں سے جزیرہ نمائے سینا کے آخری گوشے تک بحر قلزم اور خلیج عقبہ کے سواحل تک پھیل گئی۔ اس کا صدر مقام شہر مدین تھا۔ جس کی جائے وقوعہ ابو الفداءنے عقبہ کے مغربی کنارے ایلہ ( موجودہ عقبہ) سے پانچ دن کی مسافت بتائی ہے۔ باقی بنی قطورا جن میں ددان نسبتاً زیادہ مشہور ہیں۔ شمالی عرب میں تیما ءاور تبوک اور العلاکے درمیان آبادہوئے۔ اور ان کا صدر مقام تبوک تھا۔ جسے قدیم زمانے میں ایکہ کہتے ہیں۔ یاقوت نے معجم البلدان میں لفظ ایکہ کے تحت بتایا کہ یہ تبوک کا پرانا نام ہے۔ اور اہل تبوک میں عام طور سے یہ بات مشہور ہے کہ یہی جگہ کسی زمانے میں ایکہ تھی۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ کے لئے ایک ہی پیغمبر مبعوث کئے جانے کی وجہ غالباً یہ تھی کہ دونوں ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک ہی زبان بولتے تھے۔ اور ان کے علاقے بھی بالکل ایکدوسرے سے متصل تھے۔ بلکہ بعید نہیں کہ بعض علاقوں میں یہ ساتھ ساتھ آباد ہوں اور آپس کے شادی بیاہ سے ان کا معاشرہ بھی باہم گھل مل گیا ہو۔ اس کے علاوہ بنی قطورا کی ان دونوں شاخوں کا پیشہ بھی تجارت تھا۔ اور دونوں میں ایک ہی طرح کی تجارتی بے ایمانیاں اور مذہبی و اخلاقی بیماریاں پائی تھیں۔
اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک قوم ہیں یا الگ الگ؟
حضرت شعیب علیہ السلام کو دو الگ الگ قوموں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ یا وہ ایک ہی قوم تھے ۔ اس کے بارے میںعلامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں کہ عکرمہ نے کہا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کے سوا کسی نبی کو دو مرتبہ نہیں بھیجا گیا۔ ان کو ایک مرتبہ مدین کی طرف بھیجا گیا پھر اس قوم کی نافرمانی کی بنا ءپر اس کو ایک زبردست گرج دار آواز سے ہلاک کر دیا گیا اور دوسری دفعہ اُن کو اصحاب الایکہ ( سر سبز جھاڑیوں والے علاقے کے رہنے والے) کی طرف بھیجا گیا ۔ جن کو سائبان والے عذاب نے پکڑ لیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ دو امتیں ہیں جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ (ہر چند کہ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے لیکن اس حدیث کی بنا پر یہی قول راجح ہے کہ یہ دو الگ الگ امتیں ہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی) حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو اصحاب الرس ( اندھے کنویں والے) ( الفرقان آیت نمبر38) فرمایا ہے۔ اس سے مراد حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ مدین اور ایکہ ان دونوں سے مراد ایک قوم ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق) حافظ عماد الدین بن اسماعیل بن عمر بن کثیر کی تحقیق یہ ہے کہ اصحاب الایکہ او رمدین دونوں ایک ہی قوم ہیں۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے۔ مدین اس قوم کا نام ہے جو حضرت ابرہیم علیہ السلام کے بیٹے مدین کی نسل سے ہے۔ حضرت شعیب علیہ السلام بھی اسی نسل سے تھے اور قوم مدین جس علاقہ میں آباد تھی وہ سر سبز جھاڑیوں پر مشتمل تھا۔ اس لئے اس کو اصحاب الایکہ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس علاقے میں ایکہ نام کا ایک درخت تھا اور مدین اس درخت کی پوجا کرتے تھے ۔ اسی لئے ان کو اصحاب الایکہ کہا گیا ہے۔ بہر حال مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ الگ الگ قومیں ہیں یا یہ دونوں ایک ہی قوم ہیں۔
دونوں بستیاں بڑی تجارتی شاہراہ پر آباد تھیں
حضرت شعیب علیہ السلام کی بعثت کے علاقے کے بارے میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ وا نھما لبامام مبین ۔ سورہ الحجر آیت نمبر79۔ ”اور دونوں بستیاں بڑی شاہراہ ( ہائی وے) پر آباد تھیں۔“ جو شاہراہ حجاز کے قافلوں کو شام ، فلسطین ، یمن بلکہ مصر تک لے جاتی تھی۔ اور بحر قلزم کے مشرقی کنارے سے ہو کر گزرتی تھی۔ قرآن پاک میں اسی کو اللہ تعالیٰ نے ”امام مبین “ فرمایا ہے۔ یہ شاہراہ قریشی قافلوں کےلئے بھی بہت متعارف اور تجارتی سڑک ہے۔ مدین کا قبیلہ بحر قلزم کے مشرقی کنارہ اور عرب کے شمال مغرب میں ملک شام کے متصل حجاز کا آخری حصہ تھا۔ بعض متاخرین لکھتے ہیں کہ مدین کا اصل علاقہ حجاز کے شمال مغرب اور فلسطین کے جنوب میں بحر احمر اور خلیج عقبہ کے کنارے واقع تھا۔ مگر جزیرہ نمائے سینا کے مشرقی ساحل پر بھی اس کا کچھ سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی تجارت پیشہ قوم تھی۔ قدیم زمانہ میں جو تجارتی شاہراہ بحر احمر کے کنارے یمن سے مکہ مکرمہ اور ینبوع ہوتی ہوئی ملک شام تک جاتی تھی۔ اور ایک دوسری بڑی تجارتی شاہراہ جو عراق سے مصر کی طرف جاتی تھی۔ اس کے عین چوراہے پر اس قوم کی بستیاں واقع تھیں۔ اسی بنا پر عرب کا بچہ بچہ مدین سے واقف تھا۔ اور اس کے مٹ جانے کے بعد بھی عرب میں اس کی شہرت برقرار رہی۔ کیوں کہ عربوں کے تجارتی قافلے مصر اور شام کی طرف جاتے ہوئے رات دن ( اکثر) اس کے آثار قدیمہ سے گزرتے تھے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کا نام اور نسب
حضرت شعیب علیہ السلام کے سلسلہ نسب کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ امام ابن عسا کر حضرت اسحاق بن بشر کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ توریت کے ماننے والے یہ گمان کرتے ہیں کہ توریت میں حضرت شعیب علیہ السلام کانام میکائیل ہے۔ سریانی زبان میں آپ علیہ السلام کا نام جزی بن یشجر ہے۔ اور عبرانی زبان میں آپ علیہ السلام کا نام شعیب بن یشجر بن لاوی بن یعقوب علیہ السلام ہے۔ شرقی بن قطامی فرماتے ہیں کہ عبرانی زبان میں آپ علیہ السلام کا نام ثیروب ہے اور عربی زبان میں شعیب بن عیفا بن بویب بن ابراہیم علیہ السلام ہے ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ مشہور مورخ حضرت امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ مدین بن ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام میکیل بن نیشجر کے بیٹے ہیں۔ اُن کا نام سریانی زبان میں یژون تھا۔ یہ یاد رہے کہ قبیلے کا نام بھی مدین تھا اور بستی کا نام بھی یہی تھا۔ یہ شہر معان سے ہوتے ہوئے حجاز جانے والے راستے میں آتا ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ حضرت عطا اور حضرت محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کا سلسلہ نسب شعیب بن میکیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام ہے۔ سریانی زبان میں آپ علیہ السلام کا نام بیروت ہے۔ اور والدہ محترمہ میکائیل بنت لوط تھی۔ ابن سمعان کہتے ہیں کہ سلسلہ نسب شعیب بن جزی بن یشجر بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ شعیب بن صفوان بن عیفا بن ثابت بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام سلسلہ نسب ہے۔ واللہ اعلم۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ والی مدین اخاھم شعیبا۔ یعنی ہم نے مدین بن ابراہیم کی اولاد کی طرف شعیب علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ شعیب بن میکیل بن یشجر بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام سلسلہ نسب ہے۔ میکیل لوط علیہ السلام کی بیٹی کانام ہے۔ بعض نے سلسلہ نسب شعیب بن یثرون بن نوس بن مدین بن ابراہیم علیہ السلام لکھا ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی حالت
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے حدود اربعہ کے بارے میں آپ نے سمجھ ہی لیا ہوگا۔ مختصر میں یوں سمجھ لیں کہ جنوب میں یہ لوگ تبوک سے بھی آگے تک آباد تھے۔ مغرب میں بحر احمر یا بحر قلزم کے پورے ساحلی علاقے پر آباد تھے۔ یہاں تک کہ شمال مغرب میں جزیرہ نمائے سینا کے جنوب اور جنوب مشرقی ساحل علاقے پر بھی آباد تھے۔ اور شمال میں فلسطین کے جنوبی علاقے تک آباد تھے۔ اس طرح ایک بہت بڑے علاقے پر یہ آباد تھے۔ اور آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے دو ملکوں ( بستیوں ) میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ان کے مشرق میں عراق وغیرہ تھے۔ شمال میں فلسطین تھا۔ مغرب میں مصر تھا۔ اور جنوب میں مدینہ منورہ ، مکہ مکرمہ اور یمن وغیرہ تھے۔ اسی لئے ان تمام ممالک کے لوگوں کا تجارتی راستہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے علاقے سے ہوکر گزرت تھا۔ اور ہر ملک کے تجارتی قافلے اپنا اپنا مال و اسباب لے کر ان لوگوں کے علاقے سے گزرتے تھے۔ اس طرح انہیں ہر ملک کی ہر چیز گھر بیٹھے انتہائی آسانی سے مل جاتی تھی۔ اور وہ لوگ اپنے علاقے کی تمام چیزیں اچھے منافع پر قافلے والوں کو فروخت کر دیا کرتے تھے۔ اس طرح انہیں خرید و فروخت کے لئے تجارتی سفر نہیں کرنا پڑتا تھا۔ بلکہ خریدار اور فروخت کرنے والے چل کر ان کے پاس آتے تھے۔ دھیرے دھیرے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنے علاقے میں جگہ جگہ تجارتی راستوں پر منڈیاں بنا لیں۔ اب یہ لوگ بہت بڑے بڑے بیوپاری بن چکے تھے۔ اور پورے علاقے میں آباد قوم مدین اور قوم اصحاب الایکہ اچھی خاصی امیر ہو چکی تھی۔ اور ہر طرف خوش حالی کا دور دورہ تھا۔ اور آپ علیہ السلام کی قوم کا ہر آدمی لگ بھگ بہت امیر اور دولت مند تھا۔
حضرت شعیب علیہ السلام کا مختصر تعارف
حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ کہ مدین کے متعلق بہت گفتگو ہے۔ حق یہ ہے کہ مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کانام ہے۔ پھر ایک قبیلہ کا نام مدین ہوا۔ جو مدین بن ابراہیم کی اولاد تھا۔ پھر ایک بستی کا نام ہو گیا۔ جہاں یہ قبیلہ آباد ہو گیا۔ لہٰذا سارے مفسرین ٹھیک کہتے ہیں۔ بعض نے کہا بستی کا نام ہے ۔ بعض نے کہا قبیلہ کا نا م ہے۔ وہ سب ہی ٹھیک کہتے ہیں اور اس بستی اور قبیلہ کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام تھے۔ مدین کا علاقہ مصر سے آٹھ منزل کے فاصلہ پر یعنی افریقہ میں واقع تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام کے نسب شریف میں بہت اختلاف ہے۔ مگر حق یہ ہے کہ آپ علیہ السلام مدین حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے سلسلہ سے نہیں ہیں۔ لہٰذا آپ علیہ السلام بنی اسرائیل سے نہیں ہیں۔ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب شعیب بن میکیل بن یشجر بن مدین بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے۔ مدین نے حضرت لوط علیہ السلام کے پوتے اور حضرت لوط علیہ السلام کے نواسے ہیں۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام اُن کے ( یشجر کے ) پوتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یکے بعد دیگرے چند قوموں کا نبی بنایا۔ پہلے قوم مدین کا پھر اُن کی ہلاکت کے بعد ایکہ والوں کا اور پھر اُن کی ہلاکت کے بعد اصحاب الرس کا ۔ روح المعانی میں یہاں لکھا ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام خوف الٰہی میں روتے ہوئے نابینا ہو گئے تھے۔ مگر حق یہ ہے کہ حضرات انبیائے کرام گونگا پن ، اندھا پن اور نفرت والے امراض سے محفوظ ہوتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے سسر ہیں اور آپ علیہ السلام کی بیٹی سیدہ صفورا رضی اللہ عنہا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نکاح میں آئی تھیں۔ اور آپ علیہ السلام نے ہی وہ عصا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیا تھاجو حضرت آدم علیہ السلام سے ہوتا ہو ا اُن تک پہنچا تھا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی کے ذریعے جادو گروں کو شکست دی تھی۔
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کی برائیاں
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین اور دوسری قوم اصحاب الایکہ ایک بہت وسیع و عریض علاقے میں دو پڑوسی ملکوں کی طرح رہتے تھے۔ ان کا پورا علاقہ تجارتی شاہراہوں سے بھرا ہوا تھا۔ اور ایران، عراق ، فلسطین ، مصر ، حجاز ( جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ آتے ہیں) اور یمن وغیرہ کے بے شمار تجارتی قافلے ان کے علاقے سے گزرتے رہتے تھے۔ ان تجارتی قافلوں کی آمد و رفت سے اس وسیع علاقے میں بڑی بڑی تجارتی منڈیاں وجود میں آگئی تھیں۔ اور ان تجارتی منڈیوں کی وجہ سے یہ دونوں قومیں بہت امیر ہو گئی تھیں۔ اور امیر ہونے کی وجہ سے ان میں بہت سی برائیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم وہ قوم ہے جو تجارت میں اپنا جواب نہیں رکھتی تھی۔ مگر انہوں نے بد دیانتی کے ہزاروں طریقوں کو رواج دے کر معاشہر کو الٹ پلٹ کر رکھ دیا تھا۔ اس تجارتی بد دیانتی کے ساتھ ساتھ کفر و شرک می بھی وہ کسی قسم سے پیچھے نہیں تھے۔ تجارت معاشی خوشحالی کا واحد ذریعہ ہے۔ پیداوار اشیاءکا تبادلہ براہ راست یا مال کے ذریعے اپنی چیزیں دیکر اپنی کمی کو باہمی رضا مندی سے پوری کرنا تجارت کے اصول ہیں۔ (لیکن حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم میں ) گاہک کو نقصان پہنچانے کے نہ جانے کتنے طریقے ان دنوں رائج تھے اور آج بھی رائج ہیں۔ ڈنڈی مارنا، نمونہ کچھ مال مال کچھ ، بلیک مارکٹنگ ، ذخیرہ اندوزی ، لازمی اشیاءکو بازار سے غائب کرادینا۔ سنڈی کیٹ بنانا، ملاوٹ کرنا، جھوٹے اشتہارات دینا، حرام مال بیچنا، سود کھانا، غلط وعدے کرنا، خیانت کرنا اور اپنا خراب مال قسم کھا کر اچھا بتانا۔ یہ تمام برائیاں قوم مدین اور قوم ایکہ میں تھیں۔
قوم میں شرک کے علاوہ سب سے بڑی برائی
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر بھی ابلیس شیطان مسلسل محنت کرتا رہا اور انہیں بہکانے کی کوشش کرتا رہا آخر کار وہ کامیاب ہو گیا اورقو م شرک و کفر میں مبتلا ہو گئی۔ اس کے علاوہ اس قوم کا معاشی دارو مدار تجارت پر تھا۔ اسی لئے ابلیس شیطان نے انہیں تجارتی بد دیانتی کے نئے نئے اصول سکھائے۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں کہ ان لوگوں میں کفر و عناد تو تھا ہی ساتھ میں کیل اور وزن میں کمی کرنا بھی ان میں رواج پذیر تھا۔ بیچتے تھے تو کیل میں یعنی ناپ کر دینے میں او ر وزن میں کمی کر دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں شرک بھی تھا۔ اور اپنے رب کے ساتھ کفر کرنے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ ناپ تول میں کمی کرنے والے بھی تھے۔ وہ انتہائی سر کش اور باغی قوم تھی۔ وہ لوگ راستے پر بیٹھ جاتے تھے اور لوگوں کو ان کے مالوں میں نقصان پہنچاتے ۔ یہاں تک کہ وہ مال خرید لیتے تھے۔ اس طریقے کا آغاز سب سے پہلے انہوں نے ہی کیا ۔ جب کوئی اجنبی ان کے پاس آتا تھا تو اسے دراہم ( اُس وقت کے روپئے پیسے ) لے لیتے اور پھر کہہ دیتے تھے کہ تیرے دراہم ( درہم کی جمع) کھوٹے ہیں۔ اور انہیں توڑ دیتے پھر وہ ان ہی دراہم کو اس سے کم قیمت میں خرید لیتے تھے۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان نہیں لا کر حقوق اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ اور اس کے ساتھ خرید و فروخت میں ناپ تول گھٹا کر لوگوں کے حقوق مار رہے تھے۔
خطیب الانبیاء
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم جب کفر و شرک اور برائیوں میں حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ اُن پر رحم فرمایا اور ان کی رہنمائی اور رہبری کے لئے حضرت شعیب علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چار انبیاءعلیہم السلام کا تعلق عرب قوم سے ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام ، حضرت صالحعلیہ السلام ، حضرت شعیب علیہ السلام اور اے ابو ذر رضی اللہ عنہ تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ بعض سلف صالحین حضرت شعیب علیہ السلام کو ”خطیب الانبیاء“ کے لقب سے موسوم کرتے ہیں۔ یعنی آپ علیہ السلام نہایت فصیح و بلیغ گفتگو فرماتے تھے۔ اور جب اپنی قوم کو تبلیغ فرماتے اور ایمان برسالت کی تلقین کرتے تو عبارت ( تقریر) نہایت ہی بلند اور معنی خیز ہوتی تھی۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت شعیب علیہ السلام کا تذکرہ کرتے تو فرماتے تھے۔ آپ علیہ السلام خطیب الانبیاءتھے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی اور محدث) فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی بینائی کمزور تھی اور آپ علیہ السلام کا لقب”خطیب الانبیاء“ تھا۔ یعنی انبیائے کرام علیہم السلام میں بڑے درجے کے خطیب تھے۔
حضرت شعیب علیہ السلام کا اعلانِ نبوت
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار دولت اور نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور ان میں دولت کی حرص اور زیادہ پیدا ہو گئی۔ ابلیس شیطان اپنی کوشش میں لگا ہو ا تھا۔ اسی نے اُن کے دل میں دولت کی حرص پیدا کی۔ اور دولت میں اضافے کےلئے انہیں بتوں کی پوجا کی طرف مائل کیا۔ جب وہ بتوں کی پوجا کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی آزمائش کے لئے ان کے رزق میں اور اضافہ کر دیا۔ اس کے بعد اُن کی اولاد ان سے زیادہ گمراہی میں مبتلا ہو گئی۔ اور شیطان کامیاب ہو تا گیا۔ قوم مدین اور قوم ایکہ زیادہ سے زیادہ امیر اور دولت مند ہوتی جا رہی تھی ۔ مدین کا علاقہ تجارتی شاہراہ ( سب سے بڑا تجارتی راستہ ) پر تھا۔ اس لئے وہاں بہت بڑے بڑے بازار ( تجارتی منڈیاں ) تھے۔ اور ان بازاروں میں ایران، عراق ، فلسطین، مصر ، حجاز ( مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ وغیرہ ) اور یمن اور بھی دوسرے ممالک کے تجارتی قافلے آتے تھے۔ اور وہاں اپنا سامان فروخت کر کے اُن لوگوں سے سامان خرید کر اپنے علاقوں میں لے جا کر فروخت کر تے تھے۔ ان تجارتی منڈیوں اور بازاروں کا فائدہ یہ تھا کہ عراق والوں کو یمن کا یا مصر کا سفر نہیں کرنا پڑتا تھا۔ بلکہ اُن ملکوں کے تاجر اور تجارتی قافلے انہیں تجارتی منڈیوں میں مل جاتے تھے۔ اس طرح ہر ملکوں کے تاجر کو آسانی ہو گئی تھی۔ لیکن قوم مدین اور قوم ایکہ نے زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کے لئے ان تجارتی قافلوں اور تاجروں کے ساتھ بد دیانتی شروع کر دی۔ دھیرے دھیرے شیطان نے ان کے اندر دولت کمانے کے لئے ناپ تول میں کمی کا احساس پیدا کیا۔ اور جب یہ لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگے تو شروع شروع میں ان لوگوں کا زبردست فائدہ ہوا۔ ایسے کٹھن حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ اور آپ علیہ السلام نے قوم مدین اور قوم ایکہ میں اعلان نبوت فرمایا۔ اور انہیں اسلام کی دعوت دی اور برائیوں سے روکنے کی کوشش کی۔
قوم مدین اور قوم ایکہ کی دادا گیری اور چُنگی وصولی
حضرت وشعیب علیہ السلام نے جس وقت اپنی قوم مےںاعلا ن نبو ت فر ما ےا تو اس وقت ےہ دونو ں قوم بہت امیر تھیں۔قو م مدین تو بوں کی پوجا کرتی تھی اور قوم ایکہ ایک بہت بڑے درخت جس کا نام ایکہ تھا اس کی پوجا کرتی تھی۔ ان دونوں قوموں کے علاقوں سے ہر وقت بے شمار تجارتی قافلے گزرتے رہتے تھے۔ جب ان دونوں قوموں کے لوگوں نے ناپ تول میں کمی کرنی شروع کر دی تو شروع شروع میں ان کا زبردست فائدہ ہوا لیکن دھیرے دھیرے تجارتی قافلے والوں نے ان کی دھوکہ دہی اور بد دیانتی کو سمجھ لیا کہ یہ لوگ لیتے وقت زیادہ لیتے ہیں اور دیتے وقت کم دیتے ہیں۔ اسی لئے دوسرے ممالک کے تجارتی قافلے والوں نے آپس میں خرید و فروخت شروع کر دی اور ان دونوں قوموں سے خرید و فروخت نہیں کرتے تھے۔ ان دونوں قوموں نے جب دیکھا کہ بہت سارے قافلے ہمارے بازار میں ہم سے خرید و فروخت نہیں کرتے ہیں اور اپنا مال دوسرے ممالک کے تجارتی قافلوں کے تاجروں کو بیچ کر زیادہ منافع کماتے ہیں تو قوم مدین اور قوم ایکہ نے اپنے اپنے گروہ بنا لئے اور جو بھی قافلہ ان کے بازار میں لین دین کئے بغیر آگے بڑھتا تھا تو وہ لوگ تجارتی راستے پر اس کے انتظار میں بیٹھے رہتے تھے اور جیسے ہی وہ قافلہ قریب پہنچتا تھا تو اسے گھیر لیتے تھے اور ان کے بازار میں ان سے خرید و فروخت پر مجبور کرتے تھے۔ جو تجارتی قافلہ راضی ہو جاتا تھا تو اس کا اچھا مال سستے داموں میں خرید لیتے تھے ۔ اس کے علاوہ یہ لوگ تجارتی قافلوں سے چنگی بھی وصول کرتے تھے۔ چنگی اسے کہتے ہیں جو حکومت تجارت پر ٹیکس لیتی ہے لیکن یہ لوگ تو غنڈوں کی طرح ہفتہ وصولی کرتے تھے۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم کو سمجھایا
حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم مدین اور قوم ایکہ میں اعلان نبوت فرمایا اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔آپ علیہ السلام نے دونوں قوموں کو ایک ساتھ اسلام کی دعوت دی یا الگ الگ دی۔اس کے بارے میں تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دونوں قوموں کا الگ الگ ذکر فرمایا ہے۔ اسی لئے ہم قوم کا ذکر کر نے کے بعد دوسری قوم کا ذکرکریں گے تا کہ آگے الجھن نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب (علیہ السلام ) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم، تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے۔ پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے مت دو۔ اور زمین پر اصلاح کر دی گئی ہے اس کے بعد فساد مت پھیلاﺅ۔ اور اگر تم جان لو تو یہی تمہارے لئے فائدے مند ہے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر 85) اللہ تعالیٰ نے آگے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے مدین والوں کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام ) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم، اللہ کیعبادت کرو۔ اس کے سواتمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں بھی کمی نہ کرو۔ میں تو تمہیں آسودہ حال دیکھ رہا ہوں اور مجھے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ اے میری قوم، ناپ تول انصاف کے ساتھ پوری پوری طرح کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد اور خرابی نہ مچاﺅ۔ اور اللہ تعالیٰ کا حلال کیا ہوا جو بیچ رہے ہو وہی تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے۔اگر تم ایماندار ی سے کام لو تو اور میں تم لوگوں پر کچھ نگہبان ( یعنی زبردستی کرنے والا ) نہیں ہوں۔“(سورہ ہود آیت نمبر84 سے 86تک) اللہ تعالیٰ نے آگے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب علیہ السلام کو بھیجا ۔ انہوں نے کہا۔ اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی عبادت کرو۔ قیامت کے دن پر یقین اور توقع رکھو۔ اور زمین پر فساد کرتے نہ پھرو۔
قوم کو محبت، شفقت اور وقار سے سمجھایا کرتے
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو انتہائی محبت سے سمجھایا اور اسلام کی دعوت دی اور جو برائیاں ان میں پیدا ہو گئی تھیں ان سے روکا ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام بڑے حلیم، صادق اور انتہائی باوقار تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آپ علیہ السلام کا ذکر فرماتے تھے کہ حضرت شعیب علیہ السلام ” خطیب الانبیاء“ تھے۔ اس لئے کہ جب آپ علیہ السلام اپنی قوم کو دعوت ِ حق ( اسلام کی دعوت) دیتے تو قوم کی طرف رجوع کا انداز حسین اور دلکش ہوتا تھا۔ اور جب وہ لوگ آپ علیہ السلام کی دعوت کا انکار کرتے ہوئے جھٹلادیتے اور آپ علیہ السلام کو رجم ( سنگسار ) کرنے اور شہر سے باہر نکال دینے کی دھمکی دیتے تو ایسی حالت میں بھی آپ علیہ السلام کا انداز انتہائی شستہ اور پُر وقار ہوتا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے بھی تمام رسولوں کی طرح انہیں توحید کی اور شرک سے بچنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری نبوت کی دلیلیں تمہارے سامنے آچکی ہیں۔ خالق کا حق بتا کر ، پھر مخلوق کے حق کی ادائیگی کی طرف رہبری کی اور فرمایا۔ ناپ تول میں کمی کی عادت چھوڑ دو۔ لوگوں کے حقوق نہ مارو۔ کہو کچھ اور کرو کچھ یہ خیانت ہے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یعنی ہم نے مدین بن ابراہیم خلیل الرحمن کی اولاد کی طرف شعیب علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ آپ علیہ السلام کو ”خطیب الانبیاء“ کا خطاب دیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بہت عمدہ اور حسین انداز میں توحید کی طرف اور نیک خصائل کی طرف بلایا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی قوم کفر پر اڑی ہوئی تھی۔ کم تولنا اور کم ناپنا اُن کے مشہور افعالِ قبیمہ تھے۔ آپ علیہ السلام اُن سے فرماتے کہ لوگوں کے حقوق میں کمی نہ کرو۔ کیوں کہ وہ بڑی چھوٹی عظیم و حقیر ، ہر چیز میں کمی کر دیتے تھے۔ بعض علماءفرماتے ہیں کہ ( بڑے بڑے گوداموں میں ) ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام انہیں سمجھاتے کہ زمین میں کفر اور ظلم کے ذریعے فساد نہ پھیلاﺅ ۔ اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس اپنا نبی بھیج دیا ہے۔ جو نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ اور جو میں تمہیں بتا رہا ہوں اور جس کا حکم دے رہا ہوں وہ اس ظلم اور کم تولنے سے بہتر ہے۔ کیوں کہ کم تولنے اور ظلم کرنے میں حالانکہ تمہیں دنیا میں کچھ تھوڑا نفع حاصل ہوتا ہے لیکن یہ گھناﺅنے کرتوت تمہارے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں تکلیفوں کا باعث بنتے ہیں۔ جب کہ میں جس چیز کا حکم دے رہا ہوں وہ تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کے لئے بہتر ہے۔
قوم کا جواب
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو انتہائی محبت سے سمجھایا اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔ اور جس معاشی برائی میں مبتلا تھے اس کی برائیوں اور انجام سے آگاہ کیا۔ اور اسلام قبول کرنے اور تمام برائیوں کو چھوڑ دینے پر دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی۔ لیکن ان بد بختوں پر شیطان سوار تھا۔ حالانکہ وہ لوگ بچپن سے آپ علیہ السلام کو دیکھتے آرہے ہیں کہ آپ علیہ السلام انتہائی نیک، عزت دار، عبادت گزار اور ہر وقت لوگوں کی مدد کرنے والے ہیں۔ پھر بھی انہوں نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہون نے ( حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے ) جواب دیا۔ اے شعیب علیہ السلام ، کیا تمہاری نماز تمہیں یہی حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ اور ہم اپنے مالوں میں جو کچھ ( منافع کمانا) چاہیں تو اسے بھی کمانا چھوڑ دیں۔ حالانکہ تم تو بنہت ہی با وقار اور نیک چلن آدمی ہو۔ “( سورہ ہود آیت نمبر87) مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام کو اہل مدین کی اصلاح اور درستی کے لئے بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کی اصلاح کے لئے ایک اللہ کی بندگی اور اطاعت کا درس دیا۔ یہ وہی تعلیم ہے جو تمام انبیائے کرام نے کفر و شرک میں مبتلا قوموں کو دی تھی۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا ۔ کہ میری قوم کے لوگو، تم اس ایک اللہ کی بندگی و عبادت کرو جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی تمہارا خالق و مالک اور کار ساز ہے۔ ان کی اخلاقی اصلاح کے لئے فرمایا کہ ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ ورنہ مجھے ڈر ہے کہ تمہاری ان بے ایمانیوں کے نتیجے میں اللہ کا وہ عذاب آضائے گا جس سے بچ کر نکلنا ممکن نہیں ہو گا۔ ان کے معاشرہ کی اصلاح کے لئے فرمایا کہ تم فساد فی الارض نہ کرو۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ فساد کرنےوالوں کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ اُن کے ایمان کی تقویت کے لئے فرمایا کہ حلال ذریعوں سے جو بھی رزق تمہارا مقدر ہے اس پر گزارہ کرو۔ اور ہوس اور لالچ کے ہر انداز کو چھوڑ دو۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اُن کے تمدن ، تہذیب ، اخلاق اور ایمان کی اصلاح کے بہترین اور مخلصانہ طریقے ارشاد فرمائے۔ پوری قوم کا یہی جواب تھا کہ اے شعیب ( علیہ السلام ) کیا تمہاری نماز اور عبادت تمہیں یہی سکھاتے ہیں کہ تم ہم سے ایسی باتیں کرو اور ہمارا وہ مال جس میں ہمیں ہر طرح کے تصرف کا حق حاصل ہے۔ اسے اپنی مرضی سے خرچ نہ کریں۔ اور کیا ہم اپنی کاروباری زندگی کورزق حلال کے چکر میں تباہ و بربادکر ڈالیں؟
قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا
حضرت شعیب علیہ السلام کی محبت بھری دعوت و تبلیغ کے جواب میں قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتےہیں ۔ یہ لوگ بھی مشرک تھے۔ غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے۔ اور لوگوں کو جو مال بیچتے تھے تو ناپ تول میں کمی کرتے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام نےا ُن کو تبلیغ کی اور اُن سے فرمایا کہ صر ف اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیںہے ۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ لوگوں کو ان کے مال پورے پورے انصاف کے ساتھ دو۔ ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ اللہ کا دیا ہوا جو حلال مال بچ جائے وہ تمہارے لئے بہتر ہے اس مال سے جو تم ناپ تول میں کٹوتی کر کے حاصل کرتے ہو۔ حلال میں برکت ہوتی ہے چاہے وہ کم ہی ہو۔ حرام چاہے زیادہ ہو لیکن اس میں برکت نہیں ہوتی ہے۔ اور آخرت میں دوزخ میں لے جانے والا ہوتا ہے۔ لہٰذا تم حلال پر اکتفا کرو اور زمین میں فساد نہ مچاﺅ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میں تمہارا پہرہ دار نہیں ہوں کہ تم سے زبردستی وہ عمل کرواﺅں جس کا میں حکم دے رہا ہوں۔ جو ب میں وہ لوگ بیہودگی پر اتر آئے اور کہنے لگے۔ کہ واہ میاں تم بڑے نمازی آئے ، کیا تمہاری نماز یہ بتاتی ہے کہ ہم اُن چیزوں کی عبادت چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا کرتے ہوئے آئے ہیں۔ نماز کا ذکر انہوں نے استہزاءاور تمسخر کے طور پر کیا۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تمہاری نماز عجیب ہے۔ ہم جو سامان بیچتے ہیں اس پر پابندی لگا تی ہے۔ ہمارا مال ہے ۔ اسے ہم جیسے چاہیں بیچیں۔ پورا ناپ تول کر دیں یا ناپ تو ل میں کمی کرکے دیں۔ تمہیں اور تمہاری نماز کو اس سے کیا سروکار ہے۔ تم تو بڑے بردبار نیک چلن معلوم ہوتے ہو۔ یہ بھی انہوں نے بطور تمسخر کہا۔
کیا تمہاری نماز یہی حکم دیتی ہے؟
حضرت شعیب علیہ السلام کی محبت آمیز دعوت و تبلیغ کا اُن کی قوم طعنے بھرے جوب دے رہی تھی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ یعنی کیا تمہاری نماز تمہیں یہ بتلاتی ہے کہ ہم اُن معبودوں کو چھوڑ دیں جن کو پوجا ہمارے آباﺅ اجداد کرتے چلے آئے ہیں۔ اور یہ کہ ہم اپنے مملوک امول میں میں خود مختار نہ رہیں کہ جس طرح ہمارا جی چاہے معاملہ کریں۔ بلکہ اپنے معاملات میں بھی آپ علیہ السلام سے پوچھ پوچھ کر کریں کہ کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے؟ حضرت شعیب علیہ السلام کی نماز پوری قوم میں معروف تھی کہ آپ علیہ السلام بکثرت نوافل و عبادات میں لگے رہتے تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں ۔ یہ در اصل ایک طعن آمیز فقرہ ہے۔ جس کی روح آج بھی آپ ہر اُس سوسائٹی میں موجود پائیں گے جو اللہ تعالیٰ سے غافل اور فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی ہو۔ چونکہ نماز دینداری کا سب سے پہلا اور سب سے زیادہ نمایاں مظہر ہے۔ اور دینداری کو فاسق وفاجر لوگ ایک خطرناک ، بلکہ سب سے زیادہ خطرناک مرض سمجھتے ہیں۔ اسی لئے نماز ایسے لوگوں کی سوسائٹی میں عبادت کی بجائے علامتِ مرض شمار ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اپنے درمیان نماز پڑھتے دیکھ کر انہیں فوراً یہ احساس ہو جاتا ہے کہ اس شخص پر ”مرض دینداری“ کا حملہ ہو گیا ہے۔ پھر یہ لوگ دینداری کی اس خاصیت کو بھی جانتے ہیں کہ یہ چیز جس شخص کے اندر پیدا ہو جاتی ہے وہ صرف اپنے حسن عمل پر قانع نہیں رہتا ہے۔ بلکہ دوسروں کو بھی درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور بے دین و بد اخلاقی پر تنقید کئے بغیر اس سے رہا نہیں جاتا۔ اسی لئے نماز پر اُن کا اضطراب صرف اس حیثیت سے نہیں ہوتا کہ اُن کے ایک بھائی پر دینداری کا دورہ پڑ گیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی انہیں یہ کھٹکا بھی لگ جاتا ہے کہ اب عنقریب اخلاق و دیانت کا وعظ شروع ہونے والا ہے۔ اور اجتماعی زندگی کے ہر پہلو میں کیڑے نکالنے کا ایک لا متناہی سلسلہ چھڑ ا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی سوسائٹی میں ماز سب سے بڑھ کر طعن و تشنیع کی ہدف بنتی ہے۔ اور اگر کہیں نماز ی آدمی ٹھیک ٹھیک انھی اندیشوں کے مطابق جو اس کی نماز سے پہلے ہی پیدا ہو چکے تھے برائیوں پر تنقید اور بھلائیوں کی تلقین بھی شروع کر دے۔ تب تو نماز اس طرح کو سی جاتی ہے کہ ساری بلا اُسی کی لائی ہوئی ہے۔
قوم کو پھر محبت سے سمجھایا
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگی۔ پھر آپ علیہ السلام نے انہیں بڑی محبت سے سمجھایا ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف اپنا نبی بنا کر بھیجا ہے اور میں تمہاری دنیا اور آخرت کی بھلائی اور کامیابی کی بتا رہا ہوں۔ تم لوگ اس پر عمل کرو گے تو تمہارا ہی فائدہ ہو گااور نہیں عمل کرو گے تو تمہارا ہی نقصان ہوگا۔ اور میرا تو بالکل ایسا ارادہ نہیں ہے کہ جس عمل سے تمہیں روک رہا ہوں میں خود وہ عمل کروں۔ بلکہ میں تو خود اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق عمل کرتا ہوں۔ اور تمہارے لئے بھی یہی کوشش کرتا ہوں کہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارو۔ اور میں یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہی کرتا ہوں اور اسی پر مجھے مکمل بھروسہ ہے۔ اس کے بارے میں روشن دلیل لئے ہوئے ہوں اور اُس نے مجھے اپنے پاس سے بہترین روزی دے رکھی ہے۔ میرا یہ ارادہ بالکل نہیں ہے کہ تمہارا خلاف کر کے خود اس چیز کی طرف جھک جاﺅں جس سے تمہیں روک رہا ہوں۔ میرا ارادہ تو اپنی طاقت بھر تمہاری اصلاح کرنے کا ہے۔ اور میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔“
کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا
حضرت شعیب علیہ السلام انتہائی محبت اور شفقت سے اپنی قوم کو سمجھا رہے تھے۔ اور اس کا کافی اثر بھی قوم پر پڑا تھا۔ آپ علیہ السلام کی پوری قوم عزت کرتی تھی۔ اس لئے آپ علیہ السلام کی بات کو توجہ سے سنتی تھی۔ لیکن قوم کا دولت مند طبقہ تھا۔وہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن بن گیا اور آپ علیہ السلام کی دعوت میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا۔ قوم کا متوسط طبقہ اور غریب لوگ آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت سے متاثر ہوئے اور اسلام قبول کیا۔ آپ علیہ السلام کی قوم تجارت پیشہ تھی اور سب لوگ تجارت سے منسلک تھے۔ اور ان کے علاقے میں بہت بڑی بڑی تجارتی منڈیاں تھیں۔ اور ان منڈیوں پر آپ علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے بیوپاریوں کا قبضہ تھا۔ اور وہ لوگ اپنی قوم کے غریب تاجروں کا استحصال کرتے تھے۔ اور دوسرے ممالک کے تاجروں اور تجارتی قافلوں کے ساتھ تو ان کا سلوک بہت ہی برا تھا۔ اس زمانے میں درہم اور دینار ( اس وقت کا روپیہ اور پیسہ) چاندی اور سونے کے ہوتے تھے۔ یہ لوگ دوسرے ملکوں کے تاجروں کے درہموں اور دیناروں کو سورے سے اُن کی نظر بچا کر اُن کے کناروں کو کاٹ دیتے تھے اور کہتے تھے ، یہ کھوٹے ہیں۔ اس کے علاوہ اُن سے اچھا مال سستے داموں میں خریدتے تھے اور اپنا خراب مال مہنگے داموں میں بیچتے تھے۔ جب ان کی قوم کے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا تو یہ لوگ ان کے بھی دشمن بن گئے۔ اور ان کے ساتھ انتہائی حقار ت آمیز سلوک کرنے لگے۔ لیکن جو شخص آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کر لیتا تھاتو وہ سختی سے اسلام پر جم جاتا تھا۔ اور ہر تکلیف اور مصیبت کو خوشی خوشی برداشت کر تا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا) اور تم سڑکوں پر اس غرض سے مت بیٹھا کرو کہ اللہ پر ایمان لانے والے کو دھمکیاں دو اور اللہ کی راہ سے روکو اور اس میں کجی کی تلاش میں لگے رہو۔ اور اُس حالت کو یاد کرو جب کہ تم کم تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو زیادہ کر دیا۔ اور یہ بھی تو دیکھو کہ کیسا انجام ہوا فساد کرنے والوں کا۔ اور اگر تم میں سے کچھ لو گ اس حکم پر جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے۔ اُس پر ایمان لائے ہیں اور کچھ ایمان نہیں لائے ہیں تو ذرا ٹھہر جاﺅ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر86، 87)
راستوں پر بیٹھتے تھے
سورہ الاعراف کی آیت نمبر86کی تفسیر میں مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں ۔ یہ لوگ راستوں پر بیٹھ جاتے تھے۔ اور جو لوگ بستی میں ( یعنی ان کی تجارتی منڈیوں میں ) آنے والے ہوتے تھے۔ اُن کو ڈراتے اور دھمکاتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھو اگر تم لوگ شعیب علیہ السلام کی بات مانو گے تو ہم تمہیں مار ڈالیں گے۔ اور ساتھ ہی حضرت شعیب علیہ السلام کے بتائے ہوئے دین میں کجی تلاش کرتے تھے اور سوچ سوچ کر اعتراض نکالتے تھے۔ علامہ ابن کثیر سورہ الاعراف کی آیت نمبر86 اور 87کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راسے میں دہشت گردی نہ پھیلاﺅ۔ ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر اُن کا مال زبر دستی نہ چھینو۔ میرے پاس جو ہدایت کے لئے آنا چاہتا ہے تم اسے خوف زدہ کر کے روک دیتے ہو۔ ایمان والوں کو اللہ کی راہ چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو۔ اور حق کے راستے کو ٹیڑھا کر دینا چاہتے ہو۔ ان تمام برائیوں سے بچو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھتے کی ہدایت تو قتل و غارت گری کے سد باب کےلئے جو اُن کی عادت تھی۔ اور پھر راہِ حق سے مومنوں کو نہیں روکنے کی ہدایت بعد میں دی ہو۔ ( اور پھر فرمایا) تم اللہ تعالیٰ کے احسان کو یاد کرو کہ گنتی میںاور قوت میں تم کچھ نہیں تھے۔ بہت ہی کم تھے۔ اس نے تمہاری تعداد بڑھادی اور تمہیں زور آور کر دیا۔ رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔ عبرت کی آنکھوں سے اُن کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گزر چکے ہیں۔ جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے ، جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے اللہ کے عذاب اُن قوموں پر ٹوٹ پڑے اور وہ مر مٹ گئے دیکھو میں تم کو صاف بے لاگ ایک بات بتا دوں ۔ تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا نکار کیا ہے۔ اور بری طرح مجھ سے کفر کیا ہے۔ اب تم خود دیکھ لو کہ اللہ کی مدد کس کا ساتھ دیتی ہے۔ اور کون اللہ تعالیٰ کی نظروں سے گر جاتا ہے؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔
قوم شعیب علیہ السلام کی برائیوں پر عمل کرنے پر اُمت مسلمہ کی پکڑ
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم جن برائیوں میں مبتلا تھی اگر اُن برائیوں میں امت مسلمہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت) بھی مبتلا ہو جائے تو وہ بھی اسی سزا کی حقدار ہو گی جو حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کو ملی تھی۔ ( یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر قیامت تک جتنے انسان پیدا ہوں گے وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہیں۔ ان میں یہودی ، عیسائی، ہندو اور دیگر دوسرے مذاہب بھی آجاتے ہیں) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں ۔ اس سے پہلے تو ایک خاص جرم سے منع فرمایا گیا تھا۔ جو خرید و فروخت کے وقت ناپ تول میں کمی کی صورت سے کیا جاتا تھا۔ بعد میں لا تبخسو الناس اشیآ ءہم فرما کر ہر طرح کے حقوق میں کتر بیونت اور کمی کو تاہی کو عام کر دیا۔ خواہ وہ مال سے متعلق ہو یا عزت و آبرو سے یا کسی دوسری چیز سے ( بحر محیط) اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح ناپ تول میں حق سے کم دینا حرام ہے۔ اسی طرح دوسرے حقوق انسانی میں کمی کرنا بھی حرام ہے۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا۔ یا کسی کے درجہ اور رتبہ کے مطابق اس کا احترام نہ کرنا۔جس جس کی اطاعت واجب ہے اُن کی اطاعت میں کوتاہی کرنا یا جس شخص کی تعظیم و تکریم واجب ہے اس میں کوتاہی برتنا یہ سب امور اسی جرم میں داخل ہیں جو حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کیا کرتی تھی۔ حجتہ الوداع کے خطبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی آبرو کو اُن کے خون کے برابر واجب الاحترام او رقابل ِحفاظت قرار دیا ہے ۔ اس کا بھی حاصل یہ ہے۔ قرآن مجید میں ”مطففین “ اور ”تطفیف “ کا ذکر آیا ہے۔ اس میں یہ سب چیزیں داخل ہیں۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو جلدی جلدی رکوع او ر سجدے کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا۔ قد طففت۔ یعنی تو نے ناپ تول میں کمی کر دی۔ مراد یہ ہے کہ جو نماز کا حق تھا وہ تو نے پورا نہیں کیا۔ اس میں حق نماز کو پورا نہیں کرنے کو تطفیف کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
ہم راستوں پر بیٹھ کر کیا کرتے ہیں
حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کے قوم کے حالات آج ہم لگ بھگ ساڑھے تین یا چار ہزار سال بعد پڑھ رہے ہیں۔ یہاں ذرا سا رُک کر ہم یہ غور کریں کہ آج ہم کیا کرتے ہیں۔ ہم راستوں میں ہوٹلوں پر ، چوک چوراہوں پر راستوں کے کنارے گھروں اور دکانوں ،پٹریوں اور پینتریوں پر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور ہر آنے جانے والے شخص اور خصوصاً خواتین کو آتے جاتے گھورتے رہتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں تبصر ے کرتے رہتے ہیں۔ ان آنے جانے والوں میں وہ مسلم خواتین بھی ہوتی ہیں جو پانی بھرتی ہیں اور سرکاری بیت الخلاءمیں رفع حاجت کرنے جاتی ہیں۔ اُن بے چاری خواتین کی مجبوری ہوتی ہے ۔ کیا کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ ہم نے خود اپنی قوم کی بیٹیوں کو بے حیا بنا رہے ہیں۔ وہ بے چاری شرماتی ہوئی ، گھبراتی ہوئی اُن راستوں کی جگہوں سے گزرتی ہیں۔ جہاں ہم بڑی شان سے تشریف فرما ہوتے ہیں۔ اور انہیں گھورتے رہتے ہیں۔ دھیرے دھیرے ہماری وجہ سے قوم کی بیٹیاں بے حیائی میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔
قوم کی دھمکی
اللہ کے حکم سے حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے ۔ لیکن قوم کی اکثریت پر ابلیس شیطان سوار تھا۔ اور وہ بد بخت لوگ آپ علیہ السلام کی دعوت کو سمجھنے کے بجائے الٹا آپ علیہ السلام کے دشمن بن گئے اور آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے ) کہا۔ اے شعیب (علیہ السلام )، تمہاری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں ہی نہیں آرہی ہیں۔ اور ہم تو تمہیں اپنے اندر بہت کمزور پاتے ہیں۔ اگر تمہارے قبیلے والوں کا خیال نہیں ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار ( پتھر مار مار کر مار ڈالتے) کر دیتے۔ اور ہم تم کو کوئی حیثیت والی ہستی سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ “ (سورہ ہود آیت نمبر91)مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام جو تما م انبیائے کرام میں بہترین خطیب تھے۔ جب اپنی بات سے فارغ ہو گئے تو قوم کے سردار کہنے لگے کہ اے شعیب ( علیہ السلام ) تمہاری باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہیں ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہیں۔ اور کہنے لگے اے شعیب (علیہ السلام ) تمہارے خاندان کا لحاظ آڑے آجاتا ہے۔ ورنہ تمہاری ان باتوں پر جی چاہتا ہے کہ تمہیں پتھروں سے کچل دیا جاائے۔ اور پتھر برسائے جائیں۔ اور ہمارے لئے ایسا کرنے میں کوئی دشواری بھی نہیں ہے۔ لیکن تمہارے خاندان کا خیال آجا تا ہے۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی دعوت برابر جاری رہی۔ قوم کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ لوگ اپنے کفر و شرک پر جمے رہے۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کو جو جواب دیئے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ تمہاری بارتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ہیں۔ یہ بات انہوں نے استہزاءً یا تحقیراً کہی۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ تمہاری باتیں سمجھنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اپنی اس بے ہودہ بات کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ تم ہماری جماعت کے سامنے کمزور آدمی ہو۔ لیکن تمہارے خاندان کے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں ان کے پاسداری کر رہے ہیں۔ اگر ان کا پاس نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے ۔ یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کر دیتے۔ گو کہ ہمارے نزدیک تمہاری کچھ عزت اور وقعت نہیں ہے۔ بس تمہارے خاندان کا خیال ہے جس کی وجہ سے ہم حملہ کرنے سے رکے ہوئے ہیں۔
پچھلی قوموں پر اللہ کے عذاب سے سبق سیکھو
اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ (حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم کے لوگو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کو میری مخالفت ان عذابوں کا باعث ( مستحق) بنادے جو قوم نوح اور قوم ہود او ر قوم صالح کو پہنچے ہیں۔ اور قوم لوط کا عذاب تو تم سے کچھ دو ر نہیں ہے۔ تم اپنے رب ( اللہ تعالیٰ) سے استغفار کرو اور اس کی طرف توجہ کرو۔ یقین مانو کہ میر ارب بڑی مہربانی والا اور محبت کرنے والا ہے۔“ ( سورہ ہود آیت نمبر90) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔ اس پندو نصیحت کے بعد پھر اُن کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا کہ تم سوچو سمجھو۔ ایسا نہ ہو کہ میری مخالفت اور عداوت تم پر کوئی ایسا عذاب لا ڈالے جیسا تم سے پہلے قوم نوح، قوم ہود ، قوم صالح پر آچکا ہے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کی قوم اور ان کا عبرتناک عذاب تو تم سے کچھ دو ربھی نہیں ہے۔ یعنی مقامی اعتبار سے بھی قوم لوط کی الٹی ہوئی بستیاں مدین کے قریب ہی ہیں اور زمانہ کے اعتبار سے بھی ۔ تم سے بہت قریب زمانہ میں ان پر عذاب آیا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کرو اور اپنی ضد سے باز آجاﺅ۔ مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم کہیں تم پر ویسا عذاب نہ آجائے۔ جیسا قوم نوح کے غرق ہونے کا، قوم ہود کو آندھی کا او ر قوم صالح کو زلزلے اور چیخ کا عذاب دیا گیا تھا۔ ان تاریخی واقعات کو تو تم جانتے ہی ہو اور تم نے اپنے بڑوں سے سب کچھ سن رکھا ہے۔ اور اب میں تم کو سنا رہا ہوں۔ اور قوم لوط کے عذاب اور ہلاکت کا واقعہ تو تم سے کچھ دور بھی نہیں ہے۔ نہ تو اُن کے عذاب کو زیادہ زمانہ گزرا ہے اور نہ ہی اس بستی کے کھنڈرات تم سے زیادہ دور ہیں۔ اور اس تباہ شدہ اجڑتی بستی کو تم دن رات آتے جاتے اپنے سفروں میں دیکھتے بھی ہو۔ اس لئے ان سے عبرت پکڑلو۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتےہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم، میرا بغض اور مجھ سے عداوت اور میرے دین سے نفرت تمہیں اس پر نہ ابھار دے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور بت پرستی اور ناپ تول میں کمی کرنے اور توبہ اور استغفار کو ترک کر دینے پر جمے رہو اور ڈٹے رہو۔ یہاں تک کہ تم بھی ایسا عذاب آجائے جو تم کو جڑ سے اکھاڑ کر ملیا میٹ کر دے۔ جیسا کہ قوم نوح پر پانی کے طوفان میں غرق کرنے کا عذاب آیا۔ اور قوم ہود پر ایک سخت اور زبردست آندھی کا عذاب آیا اور قوم صالح پر زلزلہ اور چنگھاڑ کا عذاب آیا۔ اور قوم لوط کے اوپر ان کی زمین کو پلٹ دیا گیا۔ اور فرمایا کہ قوم لوط تو تم سے زیادہ دور بھی نہیں ہے۔ اسی لئے تم ان کے حالات سے عبرت پکڑو اور سبق سیکھو اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے سے گریز کرو۔ ورنہ تم پر بھی پچھلی قوموں کی طرح عذاب آجائے گا۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں۔ یعنی قوم لوط کا واقعہ تو ابھی تازہ ہی ہے۔ اور تمہارے قریب ہی کے علاقے میں پیش آچکا ہے۔ غالباً اس وقت قوم لوط کی تباہی پر چھ سات سو برس سے زیادہ نہیں گزرے تھے اور جغرافیائی لحاظ سے بھی قوم شعیب کا ملک اس علاقے سے بالکل متصل واقع تھاجہاں قوم لوط رہتی تھی۔
قوم کے متکبر سرداروں کا جواب
حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو بڑی محبت سے سمجھاتے رہے لیکن اُن کی بد بختی کہ وہ بدستور کفر و شرک پر اڑے رہے اور برائیوں میں مبتلا رہے۔ بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں بھی کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اُن کو ( حضرت شعیب علیہ السلام کی) قوم کے متکبر سرداروں نے کہا۔ اے شعیب ( علیہ السلام )ہم آپ کو اور جو آپ کے اوپر ایمان لائے ہیں اُن کو بھی اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ یا پھر یہ کہ تم ہمارے مذہب میں پھر آجاﺅ۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر88) جس طرح سے ہر قوم کا کنٹرول اُس قوم کے حکمرانوں ، سرداروں ، مذہبی پیشواﺅں ، بیوپاریو ں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ اسی طرح قوم شعیب پر بھی اسی قسم کے لوگ حاوی تھے۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام کے سب سے بڑے دشمن بھی یہی لوگ تھے۔ ان بد بختوں نے کھلے عام آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ اور اپنی قوم کے عام لوگوں کو بھی آپ علیہ السلام کے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اُن کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب ( علیہ السلام ) کی راہ پر چلو گے تو بے شک بڑا نقصان اٹھاﺅ گے۔ “ (سورہ الاعراف آیت نمبر90) ان بد بخت کافر سرداروں نے عوام کو آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کرنے سے ہر ممکن طریقے سے روک دیا۔ اور اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ علیہ السلام کو دھمکی دی کہ تم اپنے ساتھ عوام کو لے کر ہماری بستی سے نکل جاﺅ۔ یا پھر اپنی اسلام کی دعوت دینا چھوڑ دو۔ اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو ہم لوگ تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان والوں کو ہلاک کر دیں گے۔ لیکن تمہارے قبیلے اور خاندان والے ہمارے ساتھی ہیں اسی لئے ابھی تک تمہیں چھوٹ دے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں سورہ ہود میں فرماتے ہیں ۔ترجمہ ” انہوں نے کہا۔ اے شعیب علیہ السلام ، تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔ اور ہم تو تمہیں ہمارے درمیان بہت کمزور پاتے ہیں۔ اگر ہمیں تمہارے قبیلے کا خیال نہیں ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے اور ہم تمہیں کو حیثیت والی ہستی سمجھتے ہی نہیں ہیں۔“ ( سورہ ہود آیت نمبر91)
میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہے
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے کافر سردار آپ علیہ السلام سے کھل کر دشمنی کر نے لگے۔ اور ایمان والوں کو بھی ستانے لگے۔ جب قوم کے متکبر سرداروں نے بستی چھوڑ دینے یا پھر دوبارہ ( نعوذ باللہ ) کا فر ہوجانے کے بارے میں کہا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بہت سخت جواب دیا ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ ہم تمہارے مذہب کو بہت ہی مکروہ سمجھتے ہیں۔ ( اس کے باوجود تم چاہتے ہو کہ ) ہم تمہارے مذہب میں آجائیں اگر ہم تمہارے دین میں آجائیں گے تو ہم اللہ تعالیٰ پر بڑی جھوٹی تہمت لگانے والے ہو ں جائیں گے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس ( تمہارے مذہب ) سے نجات دلائی ہے۔ اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم تمہارے مذہب میں آجائیں۔ لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے مقدر کیا ہو۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ ہم اللہ پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے موافق فیصلہ کر دے اور تو سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ہے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر88اور 89) حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کے متکبر سرداروں کو صاف صاف فرما دیا کہ میرا اور ایمان والوں کا صرف اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ ہے۔ اور ہم اسلام پر سختی سے قائم رہیں گے۔ اور جو قوم کے سرداروں نے کہا کہ ہم ہم تمہارے قبیلے والوں اور خاندان والوں کا لحاظ کر رہے ہیں ا سکے جواب میں آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے میرے قبیلے والوں اور خاندان والوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ اور تم لوگ اتنے کم عقل ہو کہ اللہ تعالیٰ کی طاقت کو نہیں سمجھ پا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت شعیب علیہ السلام نے ) جواب دیا۔ اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے نزدیک میرے قبیلے کے لوگ اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ عزت والے ہیں؟ کہ تم نے اسے ( اللہ کو) پس پشت ڈال دیا ہے۔ یقینا میر ارب اللہ تعالیٰ ہر اُس چیز اور عمل کو گھیرے ہوئے ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ “(سورہ ہود آیت نمبر92)
اب تم اللہ کے عذاب کا انتظار کرو
حضرت شعیب علیہ السلام نے ہر طرح سے محبت سے ، شفقت سے ، مہربانی سے ، حکمت سے ، دلیلوں سے اور اپنے اچھے کردار سے اپنی قوم کو سمجھایا۔ لیکن قوم مدین کفر وشرک اور دوسری برائیوں میں اسی طرح مبتلا رہی۔ ہاں قوم کے کچھ سعادت مندوں نے اسلام قبول کیا۔ لیکن ان کی حیثیت آٹے میں نمک کے جیسی تھی۔ اور اکثریت نے اسلام قبول نہیں کیا۔ پہلے تو ان لوگوں نے آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت پرحیرت کا اظہار کیا۔ پھر جب دیکھا ان کی باتوں پر عمل کرکے ہماری تجارت اور سرداری پر اثر پڑے گا تو وہ آپ علیہ السلام کے مخالف ہو گئے۔ اور عوام کو بھی آپ علیہ السلام کے خلاف بھڑکانے لگے۔ غریب عوام اُن کے دباﺅ میں تھی۔ اسی لئے انہوں نے بھی آپ علیہ السلام کی مخالفت کی اور اسلام قبول نہیں کیا۔ جب آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ میری بات مانو کہیں ایسا نہ ہو کہ پچھلی قوموں کی طرح تم پر بھی عذاب آجائے تو آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا کہ اب تم ہم پر وہ عذاب لے آﺅ۔ اور ہم پر تو عذاب آئے گا ہی نہیں بلکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے اور ہمارے باپ دادا کے معبود( بت) تم پر اور ایمان والوں پر عذاب بھیج دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے۔ اب عذاب کا انتظار کرو۔ اور دیکھو کہ کس پر عذاب آتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا ) اے میری قوم کے لوگو، اب تم اپنی جگہ عمل کئے جاﺅ اور میں بھی عمل کررہا ہوں۔ تمہیں عنقریب ( بہت جلد) معلوم ہو جائے گا کہ کس کے پاس وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسو کر دے۔ اور کون جھوٹا ہے۔ تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“ (سورہ ہود آیت نمبر93)
قوم مدین پر عذاب
اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس اُن کو زلزلے نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑ ے رہ گئے۔ جنہوں نے شعیب ( علیہ السلام )کی تکذیب کی تھی ۔ اُن کی یہ حالت ہو گئی جیسے ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہیں تھے۔ جنہوں نے شعیب ( علیہ السلام ) جھٹلایا تھا۔ وہی لوگ خسارے میں پڑ گئے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر91اور 92) اللہ تعالیٰ نے آگے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب ہمار ا حکم ( عذاب ) آپہنچا تو ہم شعیب علیہ السلام اور ان کے ساتھ مومنوں کو اپنی خاص رحمت سے بچالیا۔ اور ظالموں کو سخت چنگھاڑ کے عذاب نے دھر دبوچا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے ۔ گویا کہ وہ ان گھروں میں کبھی بسے ہی نہیں تھے۔ آگاہ رہو۔ مدین کے لئے بھی ویسی ہی دوری ہو۔ جیسی دوری ثمود کو ہوئی تھی۔ ( سورہ ہود آیت نمبر94اور 95) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قوم مدین پر جو عذاب بھیجا اس کا اجمالی طور سے ذکر فرمایا ہے۔ اب ہم انشاءاللہ مختلف تفاسیر کی مدد سے آپ کی خدمت میں اس عذاب کا تفصیلی ذکر پیش کریں گے۔ انشاءاللہ ۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ پھر جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے خلاف سر کشی اختیا ر کی تو انہیں زلزلے نے پکڑ لیا۔ وہ اس طرح کہ جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور ان کے پاس آکر ٹھہرے ۔ پھر ایک سخت چیخ لگائی۔ جس سے پہاڑ اور زمین کانپ اٹھے۔ اور اس کے ساتھ ان کی روح ان کے جسموں سے نکل گئی۔ اس کاذکر اس آیت ( سورہ الاعراف آیت نمبر91) میں کیا۔ وہ اس طرح کہ جب انہوں نے چیخ سنی تو اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی وجہ سے سخت گھبرا گئے اور خوف زدہ ہو گئے۔ اور اسی دوران زمین لرز اٹھی اور زلزلے نے انہیں مردہ حالت میں زمین پر پھینک دیا۔ حضرت عکرمہ اور امام سدی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کے علاوہ کسی نبی کو دوبارہ نہیں بھیجا۔ ایک بار مدین کی طرف بھیجا تو اللہ تعالیٰ نے سخت چیخ اور زلزلے کے ساتھ وہاں کے رہنے والوں کو گرفت میں لے لیا۔ اور دوسری بار اصحاب ایکہ کی طرف بھیجا تو اللہ نے اُن پر سائبان کے عذاب میں پکڑ لیا۔
زلزلہ اور چنگھاڑ ( چیخ) کا عذاب
اللہ تعالیٰ نے قوم مدین پر عذاب بھیجا۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ یہاں سورہ الاعراف میں اہل مدین کے بارے میں بتایا وہ رجفہ یعنی زلزلہ سے ہلاک ہوئے اور سور ہ عنکبوت میں بھی ایسا ہی فرما یا ہے۔ اور سورہ ہود میں فرمایا کہ وہ صیمہ یعنی چیخ سے ہلاک ہوئے۔ اس میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ کیوں دونوں ہی طرح کا عذاب آیا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ اس قوم کی سر کشی ، بد باطنی ، ملا خطہ ہو کہ مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانےکے لئے انہیں یقین دلارہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی اور تم بہت بڑا نقصان اٹھاﺅ گے۔ ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرز ا دیا۔ اور وہ غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا ۔ سورہ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ وہاں یہ بھی بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی دھمکی ایمان والوں کو دی تھی۔ تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے اُن کی آواز پست کر دی۔ اور ہمیشہ کےلئے خاموش کر دیئے گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے قوم مدین پر چنگھاڑ اور زلزلہ کا عذاب ایک ساتھ بھیجا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ کافر تو اس عذاب سے ہلاک ہوئے اور مومن اس عذاب کی شدت اور ہلاکت سے محفوظ رہے۔
کافروں پر عذاب اور مومنوں کی حفاظت
اللہ تعالیٰ نے قوم مدین کے کافروں پر اپنا عذاب بھیجا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاتھا کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا ۔ اس آیت میں ان کی ایک اور گمراہی کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے لوگوں سے کہا۔ اگر شعیب (علیہ السلام ) کی اطاعت و اتباع کی تو تمہارا نقصان ہوگا۔ اس کا ظاہر مطلب یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی اتباع کے بعد تم کو وہ فائدہ حاصل نہیں ہوگا جو تم ناپ تول میں کمی کے ذریعے حاصل کرتے تھے۔ یا ان کا مطلب یہ تھا کہ تم دین میں گھاٹے میں رہو گے۔ کیوں کہ ان کے نزدیک آپ علیہ السلام کا دین باطل تھا۔ اس کے بعد دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن پر زلزلہ کے عذاب کو بھیجنے کا ذکر فرمایا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کا دین باطل تھا۔ اس کے بعد دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن پر زلزلہ کے عذاب کو بھیجنے کا ذکر فرمایا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کو جھٹلانے اور مخالفت کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہو چکے تھے۔ اس عذاب میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت اور حضرت شعیب علیہ السلام کے دین کی صداقت کی کئی دلیلیں ہیں۔ اول یہ کہ آپ علیہ السلام کی دعوت قبول نہ کرنے کی وجہ سے عذاب آیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام کی دعوت بر حق تھی۔ ثانی یہ کہ یہ عذاب صرف آپ علیہ السلام کی مخالفین پر آیا۔ اُن پر ایمان لانے والوں پر نہیں آیا۔ پھر اس میں مزید اعجاز یہ کہ یہ عذاب اس قوم پر نازل ہوا جو ایک علاقے میں رہتی تھی۔ یہ عذاب آسمان سے نازل ہوا اور صرف اُن لوگوں پر نازل ہوا جو حضرت شعیب علیہ السلام کے منکر یعنی کافر تھے۔ اور ان لوگوں پر نازل نہیں ہوا جو متبعین یعنی مومن تھے۔ حالانکہ وہ سب اکٹھے رہتے تھے۔ محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں۔ جب اللہ کا عذاب قوم شعیب پر نازل ہوا تو اللہ تعالیٰ نے شعیب علیہ السلام اور ان کے مسلمان ساتھیوں کو اپنے خاص فضل سے اس عذاب سے بچا لیا۔ اور جن لوگوں نے کفر و عناد کی وجہ سے اپنے آپ پر اور لوگوں کا مال ناجائز طور سے لے کر دوسروں پر ظلم کیا تھا۔ انہیں اللہ کے عذاب نے اپنی گرفت میں لے لیا۔ وہ عذاب جبرئیل علیہ السلام کی ایک شدید چیخ تھی۔ جس کے اثر سے اُن کی روحیں اُن کے جسموں سے پرواز کر گئیں۔ سورہ الاعراف اور سورہ عنکبوت میں آیا ہے کہ شدید زلزلہ آیا ۔ جس سے متاثر ہوکر تمام لوگ ہلاک ہو گئے۔ یہ زلزلہ جبرئیل علیہ السلام کی شدید چیخ کا ہی نتیجہ تھا۔ اور یہ عذاب حضرت شعیب علیہ السلام کی بستی والوں پر آیا تھا۔ جبرئیل علیہ السلام کی چیخ کا یہ اثر ہوا کہ وہ تمام لوگ اپنے گھروں میں ہی مر گئے۔
دھتکار ہو قوم ِ مدین پر
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین پر عذاب کی تفصیل علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف دو قوموں پر ایک ہی قسم کا عذاب نازل فرمایا ہے۔ قوم ثمود پر اور قوم مدین پر ۔ ان دونوں کو ایک زبردست چنگھاڑ نے ہلاک کر دیا تھا۔ قوم ثمود کو نیچے سے ایک چنگھاڑ کی آواز آئی تھی۔ اور قوم مدین کو اوپر سے چنگھاڑ کی آواز آئی تھی۔ جب جبرئیل علیہ السلام نے وہ گرج دار چیخ ماری تو ان میں سے ہر ایک کی روح اسی وقت نکل گئی تھی اور ان میں سے ہر شخص اسی وقت اور اسی حال میں مر گیا اور یوں لگتا تھا جیسے ان مکانوں میں کبھی کوئی شخص نہیں رہا ہو۔ پھر فرمایا ۔ قوم مدین پر دھتکار ہو۔ جیسی قوم ثمود پر دھتکار تھی۔ یعنی جیسے وہ اللہ کی رحمت سے دور کر دیئے گئے تھے اسی طرح یہ بھی دور کر دیئے گئے۔
قوم مدین سے آخری کلام
حضرت شعیب علیہ السلام نے عذاب آنے سے پہلے آخری مرتبہ اپنی قوم سے بات کی۔ مفتی احمد یا ر خان لکھتے ہیں۔ جب حضرت شعیب علیہ السلام قوم مدین کی دوستی سے مایوس ہو گئے تب آخری نتیجہ خیز کلام فرمایا۔ کہ اے میری قوم اب تمہاری ضدی طبیعت کا مجھ کو پتہ لگ گیا ہے۔ اب تم سے کچھ نہیں کہوں گا۔ تم اپنی اسی گمراہی اور کفر یہ حالت پر رہتے ہوئے جو چاہو عمل کرو اور تم سے جو ہو سکے میری مخالفت اور دشمنی میں کر لو اور میں اپنی جگہ وہ اعمال ، عبادت اور دریافت کروں گا جو رب نے مجھے عطا فرمائے۔ مراد یہ ہے کہ تم اپنی راہ لو اور میں اپنی راہ۔ یہ تم چھوٹ نہیں ہے بلکہ ڈھیل ہے۔ معافی نہیں ہے بلکہ مہلت ہے۔ اور یہ مہلت اور ڈھیل تمہارے لئے اچھائی نہیں بلکہ برائی ہے۔ اس سے تمہاری خوش قسمتی وابستہ نہیں ہے بلکہ بد بختی کا ظہور ہے۔ اور یہ کلام تہدید عظیم اور وعید شدید ہے ۔ ہوا کی یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے کیوں کہ عنقریب جان جاﺅ گے کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ اور تم بہت جلد ی جان لو گے کہ وہ عذاب دونوں جہان ( دنیا اور آخرت) میں ذلیل کر کے رکھ دے گا۔ اور یہ بھی جان لو گے کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا ہے۔ ابھی تو تم باتیں بنا رہے ہو ، مذاق کر رہے ہو ، مجھ کو غلط اور خود کو صحیح سمجھ رہے ہو اور عذاب کی جلدی مچا رہے ہو۔ ذرا انتظار کر و۔ میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ مقصد ِ کلام یہ ہے کہ اے قوم ، تم سے جتنی طاقت لگ سکے گناہوں ، ظلموں اور بد دیانتیوں پر لگالو۔ اور مجھ سے جتنی ہو سکے گی نیکیاں کرتا جاﺅں گا۔ اور عنقریب ایسا ذلیل کرنے والا عذاب آئے گا جو کھوٹے کھرے ، سچے جھوٹے، اچھے برے اور صحیح اور غلط کو سب کے سامنے ظاہر کر دے گا۔ اور سب دیکھ لیں گے ۔ اور تم بھی دیکھ کو گے۔ حضرت شعیب علیہ السلام کا یہ آخری کلام ستر 70سال تبلیغ کرنے کے بعد ہوا۔
آخر کار قوم مدین عذاب سے ہلاک ہو گئی
اللہ تعالیٰ نے قوم مدین کے کافروں پر اپنا عذاب بھیجا۔ اور مسلمانوں کو بچا لیا۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب آیا تو حضرت شعیب علیہ السلام اور اُن کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کو بچالیا۔ اور اُن سرکش کافروں کو ایک زبردست چنگھاڑ نے جو الہ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے ماری تھی، پکڑ لیا۔ اس میں اختلاف ہے کہ وہ صرف دھاڑ تھی یا الفاظ تھے۔ بعض علمائے کرام نے فرمایا۔ وہ زور دار کلام تھا کہ موتو جمیعا۔ یعنی مر جاﺅ سب ۔ اکثر علمائے کرام کا قول ہے کہ وہ صرف ایک ہولناک آواز تھی۔ اس آواز سے زلزلہ بھی پیدا ہو ا۔ مکانات گر گئے اور وہ عذاب چاروں طرف سے گونج کر ظاہر ہوا۔ چیخ کی آواز بلند ہوئی۔ زلزلہ آیا ، زمین پھٹی اور کچھ لوگ چیخ سے اور کچھ لوگ زلزلے سے ہلاک ہو گئے۔ اور اپنے گھروں ، علاقوں ، محلوں اور شہروں میں گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے۔ یہ قوم چھوٹی چھوٹی قریبی بستیوں میں بٹی ہوئی تھی۔ جن میں گلیاں اور محلے بنے ہوئے تھے۔ جٰثمین کے معنی اوندھے منہ گر کر مرنا۔ جیسے کوئی بیٹھے بیٹھے مر جاتا ہے۔ بڑی ذلت سے اُن کے اوپر مکانات گرے۔ جس سے دھول ، مٹی اور پتھروں اور لکڑیوں شہتیروں سے کچلے گئے۔ جثم بنا ہے جثوم سے ۔ جس کا معنی پرندوں کا پر پھیلا کر نیچے اترنا اور زمین پر بیٹھنا ہے۔ ان کے مرنے کو اس طرح سے تشبیہہ اُن کے اظہار ذلت کے لئے دی گئی ہے۔ قوم مدین پر جب اللہ کا عذاب آیا تو پہلے زبردست گڑ گڑاہٹ کی آواز پیدا ہوئی جو صرف کافروں کو سنائی دی۔ اسے سن کر وہ سب گھبرا اٹھے۔ اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتے اچانک آواز بہت تیز ہو گئی اور زمین تھر تھرانے لگی۔ جس کی وجہ سے کافروں کے مکانات ٹوٹ کر گر گئے۔ اور وہ سب اپنے مکانات میں دب کر مر گئے۔ جو کافر تیزی دکھا کر گھروں کے باہر نکل پڑے تھے۔ وہ اس بھیانک گونج دار آواز سے اوندھے منہ گر کر مر گئے۔ حیرت کی بات تو یہ تھی کہ انہی بستیوں میں مسلمانوں کے گھر بھی تھے۔ انہوں نے آواز کو بھی نہیں سنا اور زلزلے کو بھی محسوس نہیں کیا۔ اور ان کے مکانات ویسے کے ویسے ہی محفوظ کھڑے رہے۔ جب کہ تمام کافروں کے مکانات پوری طرح سے منہدم ہو گئے تھے۔ اور ایک بھی کافر نہیں بچا تھا۔
ہلاک شدہ قوم سے خطاب
اللہ تعالیی نے قوم مدین کے کافروں کو ہلاک کر دیا۔ اور حضرت شعیب علیہ السلام اور مسلمانوں کو بچا لیا۔ عذاب کے ختم ہونے کے بعد آپ علیہ السلام ہلاک شدہ قوم مدین کے پاس آئے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اس وقت شعیب علیہ السلام اُن سے منہ موڑ کر چلے اور فرمانے لگے کہ اے میری قوم ، میں نے تم کو اپنے پروردگار ( اللہ تعالیٰ) کے احکام پہنچا دیئے تھے۔ اور میں نے تمہاری خیر خواہی چاہی تھی۔ پھر میں ان کافر لوگوں پر کیوں رنج کروں۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر93) تفسیر انوار البیان میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ جب حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم تباہ و برباد اور ہلاک ہو گئی تو آپ علیہ السلام نے اُن سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے میری قوم، میں نے تو تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا اور تمہاری بھلائی اور خیر خواہی چاہی تھی۔ لیکن تم نے سب سنی ان سنی کر دی۔ اور برابر کفر پر جمے رہے۔ تو اب میں کافروں پر رنج کیوں کروں۔ کیوں تم نے خود اپنی بربادی کا سامان کر لیا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اُن کی بربادی کے بعد بطور حسرت فرضی خطاب فرمایا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب عذاب آنے کے آثار نمودار ہوئے ہوں اس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے زندوں سے ہی خطاب فرمایا ہو۔ اور یہ خطاب فرما کر مسلمانوں کو لے کر وہاں سے چلے گئے ہوں۔
قوم ایکہ کو اسلام کی دعوت
حضرت شعیب علیہ السلام قوم مدین کی ہلاکت کے بعد اس علاقے سے مسلمانوں کو لے کر ہجرت کر گئے۔ اور قریب ہی قوم ایکہ آباد تھی۔ آپ علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ ہجرت کر کے قوم ایکہ کے علاقے میں پہنچے اور وہیں رہائش اختیار کر لی۔ قوم ایکہ چونکہ قوم مدین کے پڑوس میں آباد تھی۔ اور دونوں تجارتی شاہراہوں پر آباد تھیں اسی لئے دونوں کی بستیوں میں بڑی بڑی تجارتی منڈیاں تھیں۔ ہاں دونوں کے علاقوں میں یہ فرق تھا کہ قوم مدین صحرائی اور پہاڑی علاقوں میں آباد تھی اور قوم ایکہ جس علاقے میں آباد تھی وہ میدانی علاقہ تھااور جنگلوں ، درختوں ،پیڑ پودوں سے ہرا بھرا سر سبز علاقہ تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم ایکہ کو بھی اسلام کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”ایکہ والوں نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ جب اُن سے شعیب علیہ السلام نے فرمایا۔ کیا تمہیں ( اللہ کے عذاب کا ) ڈر خوف نہیں ہے۔ میں تمہاری طرف ( بھیجا گیا ) امانت دار رسول ہوں۔ اللہ کا خوف کھاﺅ اور میری فرماں برداری کرو۔ میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو تمام جہان کو پالنے والے ( اللہ تعالیٰ ) کے پاس ہے۔ ناپ پورا بھراکرو۔ اور کم دینے والوں میں شامل نہ ہوجاﺅ۔ اور سیدھی ترازو سے تولا کرو۔ لوگوں کو اُن کی چیزیں کم کر کے مت دو۔ اور بے باکی کے ساتھ زمین میں فساد مچاتے مت پھرو۔ اس اللہ کا خوف رکھو جس نے خود تمہیں اور اگلی مخلوق کو پیدا کیا ہے۔“( سورہ الشعراءآیت نمبر176سے 184تک)
قوم ایکہ بھی مشرک تھی
حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم مدین کی ہلاکت کے بعد ہجرت کی اور قوم ایکہ کے علاقے میں رہائش اختیار کی۔ قوم ایکہ کے بارے میں جسٹس پیر محمد کرم شاہ ایم اے لکھتے ہیں۔ سورہ الاعراف اور سورہ ہود میں حضرت شعیب علیہ السلام کے مواعظ، آپ علیہ السلام کی قوم میں جڑ پکڑنے والے باطل عقائد اور اخلاقی خرابیوں کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ یہاں بھی آپ علیہ السلام کے مواعظ کا وہی انداز ہے۔ اور اپنے مخاطبین کو انہیں خرابیوں سے باز آنے کی پر زور اور مخلصانہ تلقین فرما رہے ہیں جن کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔ اس لئے بعض حضرات نے یہ خیال فرمایا کہ اہل مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی قوم کے دو نا م ہیں۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں علیحدہ علیحدہ قومیں تھیں۔ جو الگ الگ علاقوں میں آباد تھیں۔ لیکن چونکہ ان کے علاقے بالکل نزدیک تھے۔ اور دونوں قومیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھیں۔ اس لئے دونوں کی ہدایت کے لئے ایک نبی حضرت شعیب علیہ السلام کو مقرر فرمایا گیا۔ نیز یہ دونوں قومیں دو بین الاقوامی شاہراہوں کے قرب و جوار میں آباد تھیں۔ اور تجارت پیشہ تھیں۔ تاجروں میں جو اخلاقی خرابیاں عام طور سے پائی جاتی ہیں وہ ان میں بطور قدر مشترک موجود تھیں۔ توحید کے عقیدہ سے دونوں قومیں برگشتہ ہو چکی تھیں۔ اور شرک کی لعنت میں گرفتار تھیں۔ اس لئے حضرت شعیب علیہ السلام کے دونوں قوموں کے مواعظ ایک ہی طرح تھے۔ وہ جگہ جہاں گھنے اور گنجان درختوں کا ذخیرہ ہو اسے عربی میں ایکہ کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوم جس علاقہ میں آباد تھی وہاں درختوں کے گھنے اور گنجان جھنڈ پائے جاتے تھے۔ اسی لئے انہیں اصحاب الایکہ کہا گیا ہے۔ اور یہ کسی خاص بستی کا نام نہیں تھا لیکن جنہوں نے لیکہ پڑھا ہے ۔ اُن کا خیال ہے کہ لیکہ ایک بستی کا نام تھا۔ امام جوہری کی رائے ہے کہ ایکہ اور لیکہ دونوں ایک ہی بستی کا نا م تھے۔ جس طرح مکہ اور بکہ ہیں۔
درخت کی پوجا کرتے تھے
حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم ایکہ کو سمجھایا۔ مولانا محمد آصف قاسمی قوم ایکہ کے بارے میں لکھتے ہیں۔ سورہ الشعراءکی ان آیات میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا ذکر کیا گیا ہے۔ جن کو ” اصحاب ایکہ “ فرمایا گیا ہے۔ ایکہ کے متعلق مفسرین نے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔ (۱) ایکہ تبوک کا پرانا نا م ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا۔ ۲) ایکہ ، جنگل ، بن، سر سبزو شاداب اور درختوں کے جھنڈ والے علاقے کو کہتے ہیں۔ ۳) ایکہ والے ایک درخت کو اپنا معبود مانتے تھے۔ جو اُن کے قریب کے بن کا ایک درخت تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام اس قوم کی اصلاح کے لئے تشریف لائے تھے۔ ۴) حضرت شعیب علیہ السلام جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں پوری زندگی اس قوم کی اصلاح کرتے رہے۔ جو خوش حالی کی وجہ سے تمام اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں میں مبتلا ہو چکی تھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام جس قوم کی اصلاح کے لئے تشریف لائے تھے وہ نہایت متحدن، خوش حال اور تجارت پیشہ قوم تھی۔ جو ایسے علاقے میں رہتی تھی جو نہایت سر سبز و شاداب جھاڑیوں ، درختوں کی کثرت اور پُر فضامقام اور پر عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے۔ پورا علاقہ نہروں، چشموں اور درختوں کی کثرت کی وجہ سے نہایت حسین نظر آتا تھا۔ خاص طور پر خوشبو دار پھولوں کے چمن تھے۔ جو بڑا خوب صورت نظارہ پیش کرتے تھے۔ چونکہ یہ قوم تجارت پیشہ تھی اسی لئے مال و دولت کی کثرت نے اُن کو دنیاوی زندگی کا ایسا دیوانہ بنا دیا تھا کہ وہ بہت سی اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں میں مبتلا ہو چکے تھے۔ انہوں نے تجارتی بد دیانتی کو اختیار کر کے ”میزان“یعنی توازن و اعتدال کو چھوڑ دیا تھا۔ اور بے ایمانی کرنے اور کم تولنے کا اپنا مزاج بنا لیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ اُن میں خود غرضی، لالچ اور کردار کی ہزاروں کمزوریاں پیدا ہو چکی تھیں۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے ایکہ والوں کو سمجھایا
حضرت شعیب علیہ السلام نے ایکہ والوں کو سمجھایا اور اسلام کی دعوت دی۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ مذہبی اعتبار سے اس قوم میں مشرکانہ رسمیں اس قدر کثرت سے پھیل چکی تھیں کہ ان کے نزدیک وہی اصل دین تھا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے جب ان کو بتایا کہ وہ خرید و فروخت میں بد دیانتی ، مشرکانہ رسمیں اور تجارت کے راستوں کو دوسروں پر بند کرنے کی عادت چھوڑ دیں اور صر ف ایک اللہ کی عبادت و بندگی کریں ۔ جس نے یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ امام قرطبی لکھتے ہیں۔ الایکہ سے مراد گھنے کثیر درخت ہیں۔ اس کا واحد ایکہ ہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعیب علیہ السلام دو قوموں کی طرف مبعوث کئے گئے تھے۔ اپنی قوم اہل مدین کی طرف اور اصحاب ایکہ کی طرف ۔ ایکہ سے مراد گھنے درختوں کا دلدلی جنگل ہے۔حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم ایکہ کو سمجھایا اور انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف اپنا رسول بنا کر تمہاری ہدایت کےلئے بھیجا ہے۔ تم لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسری چیزوں کی عبادت کر تے ہوتو یہ تمہیں دوزخ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ میری بات مانو اور اسلام قبول کر کے صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اسی نے تمہیں یہ تمام نعمتیں عطا فرمائی ہے۔ اسی لئے صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کا شکر اداکرو۔
میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے قومِ ایکہ کو سمجھایا اور اسلام کی دعوت دینے کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں جو دعوت دے رہا ہوں اور سمجھا رہا ہوں تو میں صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہوں اور اللہ کے حکم کو پورا کررہا ہوں۔ اور میں تم سے اس کا کائی معاوضہ نہیں چاہتا ہوں اور میرا کوئی دنیاوی مفاد تم سے وابستہ نہیں ہے۔ میرا اجر تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” میں تمہاری طرف امانت دار رسول ہوں۔ اللہ کا خوف کھاﺅ اور میری فرماں برداری کرو۔ میں اس پر تم سے کوئی اجرت( معاوضہ ) نہیں مانگتا ہوں۔ میرا اجر تو تمام جہانوں کو پالنے والے کے پاس ہے۔ “ (سورہ الشعراءآیت نمبر178سے 180تک) مولانا محمد آصف قاسمی ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دیانت و امانت والا رسول ہوں۔ مجھے تم سے دنیا کی کوئی چیز بدلہ اور صلہ میں نہیں چاہیئے وہ تو میرے رب العالمین کے ذمہ ہے۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ تم میری بات مانو۔ پورا تو لو، اس میں کمی نہ کرو ، ترازو سیدھا رکھا کرو، لوگوں کو کسی طرح نقصان نہ پہنچاﺅ۔ فسادی لوگوں کی اتباع نہ کرو۔ تمہارا اور تم سے پہلے لوگوں کا خالق صرف ایک اللہ ہے۔ جو تمام عبادتوں کا مستحق ہے۔ اگر تم نے میری بات نہیں مانی اور میری اطاعت نہیں کی تو تمہارے اوپر تمہاری بد اعمالیوں کی وجہ سے سخت عذاب آسکتا ہے۔ اس بُرے انجام سے ڈرو۔
ڈنڈی مار قوم
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم مدین اور قوم ایکہ پڑوسی تھے۔ اور ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت رکھتے تھے۔ ایکہ والوں کو یہ معلوم تھا کہ آپ علیہ السلام قوم مدین کو سمجھایا کرتے تھے لیکن انہوں نے بات نہیں مانی اور ہلاک ہو گئے۔ اس کی خبر قوم ایکہ کو ہوئی تھی لیکن وہ لوگ اسے اللہ کا عذاب ماننے کو تیار نہیں تھے۔ بلکہ مکافاتِ عمل یا وبائی آفت سمجھ رہے تھے۔ در اصل آج سے ساٹھ 60ستر70ہزارسال پہلے وبائی امراض پھیلتے تھے۔ جس سے پوری پوری بستی کے زیادہ تر لوگ اس مرض کا شکار ہو کر مر جاتے تھے۔ آج کل ترقی ہو جانے کی وجہ سے وبائی امراض پر کنٹرول پا لیا گیا ہے۔ خیر تو قوم مدین اور قوم ایکہ پڑوسی تھے اور دونوں تجارت پیشہ تھے اور دونوں کے علاقوںمیں بڑی بڑی تجارتی منڈیاں تھیں۔ اور اسی لئے دونوں قومیں ڈنڈی مار تھیں۔ اسی لئے حضرت شعیب علیہ السلام نے قوم ایکہ کو بھی اس بہت بڑی برائی سے روکنے کی کوشش کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” ناپ پورا بھرا کرو اور کم دینے والوںمیں شامل نہ ہو جاﺅ ۔ اور سیدھی ترازو تولا کرو اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کمی سے نہ دو۔ اور بے باکی سے فساد مچاتے نہ پھرو۔ ( سورہ الشعراءآیت نمبر 181سے 183تک) علامہ ابن کثیر ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔حضرت شعیب علیہ السلام اپنی قوم کو ناپ تول درست کرنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ ڈنڈی مارنے اور ناپ تول میں کمی کرنے سے روک رہے ہیں۔ اور فرما رہے ہیں کہ کوئی چیز ناپ کر دو تو پورا پیمانہ بھر کر دو۔ اس کے حق میں سے کم نہ کرو۔ اسی طرح دوسرے سے جب لو تو زیادہ لینے کی کوشش اور تدبیر نہ کرو۔ یہ کہا کہ لینے کے وقت پورے سے بھی زیادہ لیتے ہو اور دینے کے وقت پورے سے کم دیتے ہو۔ لین دین دونوں صاف رکھو اور پورا رکھو۔ ترازو اچھی رکھو کہ جس میں وزن صحیح ہو۔ بٹے ( وزن) بھی پورے رکھو۔ وزن کرنے میں عدل کرو اور ڈنڈی نہ مارو اور کم نہ تولو۔ کسی کو اس کی چیز کم نہ دو۔ کسی کا راستہ بند مت کرو۔ چوری چکاری ، لوٹ مار، غارت گری اور رہزنی سے بچو۔ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور خوف زدہ کر کے اُن کے مال نہ لوٹو۔
قوم ایکہ کا جواب
حضرت شعیب علیہ السلام قوم ایکہ کو محبت سے اور حکمت سے سمجھاتے رہے۔ لیکن اُن بد بختوں کی سمجھ میں بات نہیں آرہی تھی۔ بلکہ الٹا وہ لوگ آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( قوم ایکہ نے ) کہا ۔ تم تو اُن لوگوں میں سے ہو جن پر جادو کر دیا جاتا ہے۔ اور تم تو ہماری طرح ہی ایک انسان ہو اور ہم تو تمہیں جھوٹ بولنے والوں میں سے سمجھتے ہیں۔ “ (سورہ الشعراءآیت نمبر185اور 186) مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو جس نے تمہیں پیدا فرمایا ہے۔ اور تم سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہیں بھی پیدا فرمایا ہے۔ وہ لوگ کہنے لگے۔ میاں جاﺅ، تمہاری باتیں تو ایسی ہیں جیسے تم پر کسی نے تگڑا جادو کر دیا ہے۔ اور تم تو ہماری طرح کی آدمی ہو۔ بھلا تمہیں کیسے اپنا نبی مان لیں؟ ہمارے خیال میں تو تم جھوٹوں میں سے ہو۔ جسٹس پیر محمد کرم شام ایم اے ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ ان کی ساری معاشی خوشحالی کا انحصار اُن کی بے ایمانیوں اور دھوکے بازیوں پر تھا۔ وہ اتنے بھلے مانس کب تھے کہ حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت سن کر اُن سے باز آجاتے۔ انہوں نے اپنی غلطی کو غلطی ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ اور اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنا ہی مناسب نہیں سمجھا۔ الٹا آپ علیہ السلام پر الزام لگادیا کہ تم پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔ جبھی تو تم ہمیں ایسے مشورے دے رہے ہو۔ جن پر اگر ہم عمل کریں تو یہ تجارت کی گہما گہمی یا دولت کی فراوانی سب کی سب ایک دم ختم ہو جائے گی۔ کوئی ذی شعور آدمی اپنی قوم کو ایسا مشورہ نہیں دے سکتا ہے جو اس کی اقتصادی تباہی کا باعث بنے۔ اے شعیب (علیہ السلام )یقینا تمہارا دماغ کام نہیں کر رہا ہے۔ پہلے اپنا علاج کراﺅ پھر ہمیں نصیحت کرنا۔
قوم ایکہ نے عذاب کی مانگ کی
حضرت شعیب علیہ السلام قوم ایکہ کو سمجھاتے رہے لیکن وہ بد بخت آپ علیہ السلام کی مخالفت اور اپنی پرانی برائیوں پر ڈٹے رہے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ ابھی بھی وقت ہے ۔ پچھلی قوموں سے سبق سیکھو اور دیکھو کہ کس طرح وہ عبرت ناک عذاب سے دوچار ہوئے۔ اور قوم مدین کا حال تو تمہارے سامنے ہے۔ لیکن وہ لوگ آپ علیہ السلام کی بات کو ماننے کی بجائے یہی فرمائش کرنے لگے کہ ٹھیک ہے تم ہمیں اللہ کے جس عذاب سے ڈرا رہے ہو وہی لے آﺅ۔ اور اس طرح آپ علیہ السلام سے عذاب کی مانگ کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”(قوم ایکہ نے کہا) اگر تم سچے ہو تو یا سچے لوگوں میں سے ہو تو ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرادو۔ (حضرت شعیب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ میرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر186 اور 187) مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی ان آیات کی تفسیرمیں لکھتے ہیں ۔ اور جو تم بار بار عذاب آنے کی رٹ لگا رہے ہو ا سے ہم پر کچھ بھی اثر نہیں ہونے والا ہے۔ اگر عذاب کی بات سچی ہے اور یوں ہی دھمکی نہیں ہے تو عذاب لا کر دکھا دو۔ چلو آسمان سے کوئی ٹکڑا ہی ہم پر گرا دو۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں عذاب کا لانے والا نہیں ہوں۔ اور میں اس کی کیفیت کا تعین نہیں کر سکتا۔ تمہارے اعمال رب خوب جانتا ہے۔ اور تم پر عذاب کب آئے گا اور کس طرح آئے گا ، یہ سب اُسی اللہ کے علم میں ہے ۔ بہر حال تمہارے اعمال عذاب کو دعوت دینے والے ہیں۔ مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے کہا۔ اے شعیب (علیہ السلام )ہم تو تم سے بہت اچھی امیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے مگر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ہماری ان رسموں کو برا کہہ رہے ہو۔ جس پر ہمارے باپ داد اچلتے آئے ہیں۔ تم ہمیں تجارتی آداب سکھانے آگئے ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ تم پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے تم ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو۔ تم ہم جیسے آدمی ہو۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا نبی بنا کر بھیجتا تو فرشتے کو بھیجتا۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو جھوٹ ہے۔ اور اگر تمہارے اندر طاقت اور قوت ہے تو ہمارے اوپر آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی گرا دو۔
سائبان والے دن کا عذاب
اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ ترجمہ ”اصحاب الایکہ بھی بڑے ظالم تھے۔ جن سے ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں بستیاں کھلے ( عام) راستے پر ہیں۔ “ (سورہ الحجر آیت نمبر78,79) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ”چونکہ انہوں نے(قوم ایکہ )نے اسے ( حضرت شعیب علیہ السلام کو) جھٹلایا تو انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔ وہبڑے بھاری دن کا عذاب تھا۔ یقینا اس میں نشانی ہے اور ان میں سے اکثر مسلمان نہیں تھے۔ (سورہ الشعراءآیت نمبر189 اور 190) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب ایکہ سے مراد غیضہ ہیں ۔ جو ساحل سمندر سے مدین تک رہائش پذیر تھے۔ وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کر دیئے گئے۔ اصحاب ِ ایکہ نے شرک کرنے کے ساتھ اصحاب مدین والا کام شروع کیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور سمجھایا تو انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور انکار کر دیا تو اُن پر ”یوم اظلة“ کا عذاب یعنی سائبان یا چھتری والے دن کا عذاب آیا۔ وہیہتھا کہاللہ تعالیٰ نے جہنم سے اُن پر باد ِ سموم بھیجی۔ وہ سات دن تک ان پر چلتی رہی۔ یہاں تک کہ گرم ہوا نے انہیں پکا دیا۔ اُن کے گھر گرم ہو گئے۔ ان کے کنویں اور چشموں میں پانی جوش مارنے ( ابلنے) لگا۔ وہ اپنے گھروں اور محلوں سے بھاگتے ہوئے نکل پڑے۔ جب کہ باد ِ سموم اُن کے ساتھ تھی۔ اوپر سے اللہ تعالیٰ نے اُن پر سورج کو مسلط کر دیا۔ یہاں تک کہ اُن کے گوشت گر گئے۔ پھر اُن کے لئے سایہ پیدا کیا گیا جو کالا گھنا بادل جیسا تھا۔ جب انہوں نے سایہ کو دیکھا تو اس سے سایہ حاصل کرنے کےلئے جلدی کرنے لگے۔ یہاں تک کہ جب سب اس کے نیچے اکٹھے ہو گئے تو اللہ کا عذاب اُن پر آن پڑا اور سب ہلاک ہو گئے۔
پوری قوم سائبان کے نیچے جمع ہو گئی
اللہ تعالیٰ نے قومِ ایکہ پر عذاب بھیجا ۔ امام ابن منذر نے امام سدی سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو اصحاب ایکہ کی طرف کی بھیجا۔ ایکہ سے مراد جنگل ہے۔ تو اس قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلا دیا تو انہیں ”یوم الظلة “ سائبان والے دن کا عذاب نے پکڑ لیا۔ کہا اللہ تعالیٰ نے ان پر جہنم کا ایک دروازہ کھول دیا تو اُن پر ایسی گرمی چھا گئی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے پانی اور دوسری چیزوں سے ٹھنڈک حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ وہ اسی حالت میں تھے کہ اُن کے لئے ایک بادل اٹھا یا گیا۔ جس میں پاکیزہ ٹھنڈی ہوا تھی۔ جب انہوں نے ٹھنڈک کو پایا تو اس سایہ کی طرف چل پڑے ۔ وہ ٹھنڈک حاصل کرنے کے لئے اس سایہ میں آئے۔ وہ پہلے جس چیزمیں تھے سب اس سے نکل پڑے۔ جب وہ سارے کے سارے اس کے نیچے جمع ہو گئے تو عذاب نے انہیں ہر طرف سے گھیر لیا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ( جلیل القدر تابعی) فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر سات دن اور رات گرمی کو مسلط رکھا۔ یہاں تک کہ وہ گھر کے سایہ اور پانی سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ پھر کھلے میدان میں اُن کے لئے ایک بادل بلند کیا گیا تو انہوں نے اس سائبان کے سایہ میں آرام پایا تو ایک دوسرے کو بلانے لگے یہاں تک کہ جب وہ سب جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر آگ کو بھڑکا دیا۔
شدید گرمی اور گھٹن
قوم ایکہ پر جو عذاب آیا اس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر رات کی گرمی اور سخت حرارت بھیجی۔ اس نے ان کی سانسوں کو گرفت میں لے لیا۔ وہ گھروں کے تہہ خانوں میں داخل ہو گئے۔ تو یہ عذاب ان کے گھروں کے تہہ خانوں میں داخل ہو گیا۔ عذاب نے انہیں شدید گھٹن میں مبتلا کر دیا وہ گھروں سے نکل کر کھلے میدان کی طرف آئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر بادل کو بھیجا۔ جس نے انہیں سورج کی تپش سے سایہ دیا۔ انہوں نے اس سایہ کی ٹھنڈک اور لذت پائی تو انہوں نے ایک دوسرے کو بلایا۔ یہاں تک کہ وہ سب اُس سائبان کے نیچے جمع ہو گئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر آگ گرا دی۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر گرمی کو سات دن تک مسلط کیا۔ انہیں نہ تو کوئی سایہ فائدہ پہنچاتا تھا اور نہ ہی دوسری کوئی چیز فائدہ پہنچاتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اُن پر بادل بھیجا تو وہ اس کے سایہ میں سکون حاصل کرنے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اُن کے لئے عذاب بنا دیا جس نے انہیں جلا دیا۔ اُن پر آگ بھیجی گئی وہ بھڑک اٹھی جو انہیں کھا گئی۔
ایک شخص نے سائبان کے نیچے سب کو بلایا
قارئین کرام، قوم ایکہ پر جو سائبان کا عذاب آیا تھا اُس کے بارے میں ہم کوشش کر رہے ہیں کہ جتنی روایات ہمیں مل سکیں وہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ اوپر ہم نے چند روایات پیش کی ہیں۔ ابھی ہم کچھ اور روایات آپ کی خدمت میں پیش کر یں گے۔ پھر انشاءاللہ ہمارے الفاظ میں اس عذاب کی تفصیل پیش کریں گے۔ علامہابن کثیر لکھتے ہیں۔ بالآخر جس قسم کا عذاب یہ مانگ رہے تھے اسی قسم کا عذاب اُن پر آیا۔ انہیں سخت گرمی محسوس ہوئی ۔سات دن تک گویا زمین ابلتی رہی کسی جگہ کسی سائے میں ٹھنڈک یا راحت میسر نہیںہوئی ۔ تڑپ اٹھے، بے قرار ہو گئے۔ سات دنوں بعد انہوں نے دیکھا کہ ایک سیاہ بادل ان کی طرف چلا آرہا ہے۔ وہ کالا گھنا بادل ان کے سروں پر آکر چھا گیا۔ یہ سب گرمی اور حرارت سے زچ ہو گئے تھے۔ اس کے نیچے جا بیٹھے۔ جب سارے کے سارے اس کے سائے میں پہنچ گئے تو وہیں بادل میں سے آگ برسنے لگی۔ اس دن کے سائبان والے سخت عذاب نے اُن میں سے ایک کو بھی نہیں چھوڑا ۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سات دن تک وہ گرمی پڑی کہ الامان والحفیظ ۔ کہیں ٹھنڈک کانام نہیں تھا۔ تلملا اٹھے۔ اسکے بعد ایک کالا گھنا بادل اٹا اور امڈا ۔ اس کے سائے میں ایک شخص پہنچا اور وہاں راحت اور ٹھنڈک پا کر اس نے دوسروں کو بھی بلایا ۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو کالا گھنا بادل پھٹا اور اس میں سے اُن پر آگ برسی یہ بھی مروی ہے کہ کالا گھنا بادل جو بطور سائبان کے تھا۔ اُن کے جمع ہوتے ہی ہٹا لیا گیا اور سورج سے اُن پر آگ برسی ۔ جس نے اُن کا بھرتہ بنا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ سخت گرج ، کڑک اور گرمی شروع ہوئی ۔ جس سے سانسیں گھٹنے لگیں۔ اور بے چینی حد کو پہنچ گئی ۔ گھبرا کر شہر چھوڑ کر میدان میں جمع ہو گئے ۔ باد ل آیا جس کے نیچے ٹھنڈک تھی۔ سب اس کے نیچے راحت حاصل کرنے کے لئے جمع ہو گئے۔ وہیں آگ برسی اور سب جل بھن گئے۔ یہ تھا سائبان والے بڑے بھاری دن کا عذاب جس نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔
جہنم کا دوازہ کھول دیا گیا
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر سائبان کے دن والے عذاب کے بارے میں امام قرطبی لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اور دوسرے علمائے کرام سے مروی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر جہنم کا دوازہ کھول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر شدید گرمی کو بھیجا۔ جس نے ان کی سانسوں کو گرفت میں لے لیا۔ وہ ان کے گھروں میں داخل ہو گئے۔ انہیں نہ تو کوئی سایہ فائدہ دیتا تھا اور نہ ہی پانی سے کوئی فائدہ ہوتا تھا۔ گرمی نے ان کو پکا دیا ۔ وہ بھاگ کر جنگل کی طرف چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بادل کو بھیجا۔ اس نے اُن پر سایہ کر دیا۔ انہوںنے اسکی ٹھنڈک ، راحت اور عمدہ خوشبو پائی۔ انہوںنے ایک دوسرے کو بلایا۔ جب وہ سب بادل کے نیچے جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر آگ کو بھڑکا دیا۔ زمین پر زلزلہ برپا ہو گیا تو وہ یوں جل گئے جس طرح کڑاہی میں مکڑی جل جاتی ہے تو وہ سارے کے سار ے راکھ ہو گئے۔ پہاڑوں کے غاروں میں گھسے ، درندوں کی کھوہوں میں گھسے تا کہ ٹھنڈک حاصل ہو۔ لیکن وہاں وہ اور زیادہ شدید گرمی پاتے تھے۔ پھر وہ جنگل کی طرف بھاگے اُن پر بادل نے سایہ کر لیا۔ یہی ظلہ تھا ۔ انہوںنے اس میں ٹھنڈک اور باد نسیم کو پایا۔ اس بادل نے ان پر آگ کو برسا یا تو وہ جل گئے۔
عذاب کی شروعات ۔ شدید گرمی
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم ایکہ نے عذاب کی مانگ کی اور کفر و شرک اور تمام برائیوں پر ڈٹے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے اس بد بخت قوم پر عذاب بھیجنے کا ارادہ فرمایا۔ قارئین کرام اوپر ہم نے عذاب کے تعلق سے اتنی روایات آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں کہ اس سے عذاب کی ہر چھوٹی بڑی تفصیل آپ کی سمجھ میں آگئی ہو گی۔ لیکن یہ مختلف روایتوں میں بکھری ہوئی ہیں۔ اب ہم کوشش کریں گے کہ قوم ایکہ پر آئے عذاب کو ایک مربوط واقعہ کی شکل میںپیش کریں۔ انشا اللہ ۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم پر عذاب بھیجنے کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تو ان پر شدید گرمی مسلط کر دی۔ حالانکہ اس قوم کا علاقہ بہت ہی ہرا بھرا اور ٹھنڈا علاقہ تھا۔ اور ہر کسی کا اپنا ایک باغ تھا۔ جہاں ٹھنڈک رہا کرتی تھی۔ لیکن شدید گرمی جب پڑی تو انہیں کہیں بھی آرام نہیں ملا۔ دھوپ میں بہت زبردست گرمی اور شدت پیدا ہو گئی تھی۔ سورج کی روشنی یعنی دھوپ میں اتنی تیزی اور گرمی پیدا ہو گئی تھی کہ ان لوگوں کے لئے اس میں نکلنا مشکل ہو گیا تھا۔ اور ان کے لئے دھوپ کی تپش ناقابل برداشت ہو گئی تھی۔ اس لئے وہ لوگ جب بھی باہر جاتے تو چھتری یا سی قسم کی کسی چیز کا سایہ کر لیا کرتے تھے۔
ہوا کی نمی ختم کر دی۔
اللہ تعالیٰ نے قوم ایکہ پر شدید گرمی مسلط کر دی۔ دھوپ میں اتنی تیزی اور شدت تھی کہ ان کا گھروں سے نکلنا اور اپنی دکانوں یا منڈیوں اور کھیتوں اور باغوں تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ دوسرے ممالک کے تاجر اور قافلے اپنے ملکوں میں واپس چلے گئے۔ اور تمام لوگوںکو اس علاقے میں آنے جانے کو منع کر دیا۔ اب قوم ایکہ کی تجارتی منڈیاں، راستے اور ان کی بستوں کی گلیاں ، سڑکیں اور راستے سب ویران پڑے ہوئے تھے۔ جانور اورمویشی وغیرہ بھی گرمی سے بے حال تھے۔ اور لوگوں کو صرف گھروں کے سائے میں ہی آرام ملتا تھا۔ درخت ، پیڑ ، پودے ،کھیت ، کھلیان اور باغوں کی ہریالی ختم ہونے لگی۔ اور تما م سوکھنے لگے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بد بخت قوم کفر و شرک میں ہی مبتلا رہی۔ یہاں تک کہ جس درخت کی یہ لوگ پوجا کر تے تھے وہ بھی سوکھ گیا۔ ا س کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہوا کی نمی ختم کر دی اور ہوا بھی بے حد گرم ہو گئی۔ اس سے پہلے تو یہ لوگ اپنے گھروں ، باغوں اور گھنے درختوں کی چھاﺅں میں کچھ آرام محسوس کر تے تھے۔ لیکن ہوا کے گرم ہونے کی وجہ سے اور شدید گرمی سے تمام درخت ، باغ اور جنگل کے سائے بھی ختم ہو گئے۔ اور گھروں کے سائے میں بھی اتنی گرمی لگتی تھی کہ ان کے لئے سانس لینا مشکل ہو گیا۔ ان لوگوں کو اپنے گھروںمیں بھی بے حد تکلیف ہونے لگی۔ اور ہر شخص ہر وقت پسینے میں ڈوبا رہتا تھا۔ اور تیز تیز سان لیتا رہتا تھا۔
پانی بھی بے حد گرم ہو گیا
اللہ تعالیٰ نے ہوا میں نمی ختم کر دی تھی۔ اور ہر وقت گرم ہوا چل رہی تھی۔ اور رات میں بھی گرم ہوا چلتی تھی ۔ ہر شخص کو شدید پیاس لگی رہتی تھی۔ پیاس بجھانے کے لئے یہ لوگ پانی بار بار پی رہے تھے۔ لیکن اس شدید گرمی میں پانی بھی اتنا گرم ہو جاتا تھا کہ بار بار پانی پینے کے باوجود بھی پیاس نہیں بجھتی تھی۔ ہر وقت بدن سے پسینہ بہتا رہتا تھا۔ اور گھٹن کا شدید شکار یہ لوگ رہتے تھے۔ اور ہر شخص ہر وقت تیز تیز سانس لیتا رہتا تھا۔ گرمی سے بچنے کے لئے یہ لوگ اپنے گھروں کے تہہ خانوں میں پہاڑوں کے غاروں میں یہاں تک کہ درندوں کی کھوہوں میں بھی گھس گئے کہ شاید گرمی سے کچھ راحت مل جائے۔ لیکن زمین بھی اتنی گرم ہو چکی تھی کہ انہیں تہہ خانوں، غاروں اور زمین کے اندر کی دوسری جگہوں پر بھی آرام نہیں ملا۔ بلکہ وہ وہاں اور زیادہ گھٹن کا شکار ہو گئے۔ لیکن افسوس، یہ بد بخت اتنی تکلیف اور پریشانی اٹھانے کے باوجود حضرت شعیب علیہ السلام کی مخالفت کرتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے۔
سائبان بنا دیا گیا
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم شدید گرمی سے پریشان تھی۔ نہ باہر آرام تھا اور نہ ہی گھروں میں آرام تھا۔ تمام درخت، پیڑ ، پودے اور جنگل سوکھ گئے تھے۔ جانور اور مویشی وغیرہ مرتے جا رہے تھے۔لیکن انسانوںکو ان کی پرواہ نہیں تھی۔ بلکہ ہر شخص اپنی فکر میں مبتلا تھا۔ ان کی بستی سے کچھ دور پر ایک بڑا اور گھنا جنگل تھا۔ جو پہلے ہر وقت ہرا بھرا رہتا تھا۔ لیکن سخت تیز دھوپ اور گرم ہوا اور پانی کی کمی کی وجہ سے اس جنگل کے تمام درخت سوکھ گئے تھے۔ اور پورے جنگل میں سوکھے درخت کھڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑا کالا گھنا بادل بھیجا۔ وہ بادل آیا اور اس جنگل کے اوپر آکر رک گیا۔ اور سائبان کی طرح پورے جنگل کو ڈھک لیا۔ اور جنگل میں سایہ ہو گیا۔ اب حالت یہ تھی کہ چاروں طرف سخت تپش والی دھوپ تھی اور ہو ا بے حد گرم تھی۔ گھروں کے اندر بھی گرمی تھی۔ لیکن اس جنگل میں گہری ٹھنڈی چھاﺅں تھی۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے دور سے اس جنگل میں گھنے سائے کو دیکھا تھا۔ لیکن وہاں تک اتنی شدید گرمی میں کسی کے جانے کی ہمت نہیں تھی۔ ہر کوئی یہ سوچ کر وہاں نہیں جا رہا تھا کہ اتنی تکلیف اٹھا کر وہاں جائیں گے اور وہاں بھی گرمی کا یہی عالم ہو گا تو ہمارے لئے ہمارے گھروںمیں واپس آنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے ہم اپنے گھروں میں ہی ٹھیک ہیں۔ قوم ایکہ کی آبادی کئی لاکھ تھی۔ اور کافی دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور پوری آبادی والے دیکھ رہے تھے کہ ایک بادل سائبان کی طرح جنگل پر چھایا ہوا ہے۔ اور پورے جنگل میں گھنی چھاﺅ ں ہے۔
ایک شخص نے قوم کو سائبان کے نیچے بلایا
اللہ تعالیٰ نے جنگل کے اوپر سائبان بنا دیا تھا۔ اور اس کی ٹھنڈی چھاﺅں پورے جنگل میں تھی۔ وہاں بہت ٹھنڈک تھی۔ اور باقی ہر جگہ شدید گرمی تھی۔ لیکن قوم ایکہ والوں کو اس کی ٹھنڈک کا اندازہ نہیں تھا۔ ایک دن اتفاق سے ایک شخص یوں ہی اس جنگل کے سائے میں چلا گیا۔ جیسے ہی وہ اس سائبان کے سائے میں پہنچا تو اسے وہاں بہت ٹھنڈک اور سرور محسوس ہوا۔ وہ شدید حیرت میں پڑ گیا اور اندازہ لگا نے کے جنگل کے باہر نکل کر آیا تو سائبان کے نیچے سے نکلتے ہی پھر اسی شدی گرمی اور گھٹن نے اس کا استقبال کیا۔ وہ فوراً جنگل کے اندر سائبان کے سائے میں آگیا۔ اور وہاں آتے ہی اسے راحت ، سکون اور ٹھنڈک ملی۔ اس نے جنگل میں گھوم کر دیکھا۔ وہاں زمین میں سے ٹھنڈا پانی بھی نکل رہا تھا۔ اور کچھ چھوٹے چھوٹے پیڑ بھی پھلوں سے لدے ہوئے تھے۔ اس نے ٹھنڈا پانی پیا اور پھلوں کو کھایا اور تازہ دم ہو گیا۔ یہ سب دیکھ کر اسے بے حد خوشی ہوئی اور وہ خوشی سے چیختا چلاتا ہوا بھاگتا ہوا بستی کی طرف آیا اور انہیں بتانے لگا کہ جنگل میں سائبان کی چھاﺅں میں بہت ٹھنڈک ہے۔
قوم سائبان کے نیچے جمع ہونے لگی
اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی کہ پوری قوم ایکہ جنگل میں سائبان کے نیچے جمع ہو جائے۔ وہ شخص خوشی خوشی بھاگتا ہوا آبادی میں آیا اور خوشی سے چلاچلا کر لوگوں کو کہنے لگا۔ کہ اے میری قوم کے لوگو، باہر نکلو اور میرے ساتھ جنگل میں سائبان کے نیچے چلو۔ وہاں بہت ٹھنڈک اور راحت ہے۔ اور ٹھنڈا پانی بھی ہے اور کھانے کے لئے پھل بھی ہیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں بے حال پڑے ہوئے تھے ۔ پہلے اس کی خوشی سے بھری آواز سن کر حیران ہو ئے اور جیسے تیسے گھروں سے باہر آئے ۔ حالانکہ باہر نکلنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ لیکن اس شخص کی جوش و خروش سے بھروی ہوئی آواز اور الفاظ سن کر باہر نکل آئے۔ اور حیرت سے اس کی باتیں سننے لگے اور اس کی خوشی دیکھنے لگے۔ وہ شخص خوشی خوشی دوڑ دوڑ کر ہر گھر اور محلے والوں کو بتانے لگا ۔ اس کے بعد دوڑتا ہوا جنگل کی طرف سائبان کے نیچے جانے لگا۔ کچھ لوگ جیسے تیسے پیچھے بھاگتے ہوئے جنگل میں جائے میں داخل ہو ئے اور زیادہ تر لوگ کھڑے ان کو دیکھ رہے تھے۔ جو لوگ اس شخص کے ساتھ جنگل میں سائبان کے سائے میں داخل ہوئے تھے انہوں نے سائے میں آتے ہیں ٹھنڈک اور راحت محسوس کی۔ اور یہ احسا س ہوتے ہی وہ خوش ہو گئے اور خوشی سے ناچنے لگے۔
پوری قوم سائبان کے نیچے آگئی
قوم ایکہ کی آبادیوں میں سائبان کے سائے کی خبر پھیلنے لگی۔ جو لوگ اپنی جگہ کھڑے ہو کر اس شخص کے ساتھ کچھ لوگوں کو جنگل میں داخل ہوتے دیکھ رہے تھے انہوں نے دیکھا کہ جو بھی شخص جنگل میں چھاﺅں میں داخل ہوتا تھا تو وہ خوش ہو کر ناچنے لگتا تھا۔ یہ کیفیت دیکھ کر وہ لوگ بھی سائبان کی چھاﺅں کی طرف بھاگنے لگے۔ ان سب کی حالت پہلے ہی سے خراب تھی لیکن جیسے تیسے گرتے پڑتے جنگل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جو بھی شخص سوکھے جنگل میں داخل ہوتا تھا۔ وہ سکون اور راحت محسوس کر کے خوش ہو جاتا تھا اور خوشی کے مارے ناچنے لگتا تھا۔ اور اس کی یہ حالت بقیہ آنے والوں میں نیا جرش بھر دیتی تھی۔ دھیرے دھیرے یہ خبر پوری قوم ایکہ کی آبادیوں میں پھیل گئی۔ اور ہر جگہ سے لوگ تیزی سے بھاگتے ہوئے سوکھے جنگل میں سائبان کی تنے ہوئے کالے گھنے بادل کی چھاﺅں میں آنے لگے۔ قوم ایکہ کی آبادی کئی لاکھ تھی۔ اور دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور جیسے جیسے لوگوںکو معلوم ہوتا جا رہا تھا وہ تیزی سے سوکھے جنگل میں آتے جارہے تھے۔ اور یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ پورا دن لوگ آتے رہے اور پوری رات آتے رہے۔ اور دوسرے دن بھی لوگوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا ۔ یہاں تک کہ پوری قوم سائبان کے نیچے آگئی۔ حضرت شعیب علیہ السلام اورمسلمان اس سوکھے جنگل سے کافی دور رہے۔
آگ برسا دی گئی
حضرت شعیب علیہ السلام نے مسلمانوں کو فرما دیا تھا کہ اس سوکھے جنگل میں کالے گھنے بادل کی چھاﺅں میں نہیں جانا۔ کیوں کہ وہی اللہ تعالیٰ کا آخری اور فائنل عذاب ہے۔ اسی لئے مسلمان آپ علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ اور قوم ایکہ کے کافروں کو سوکھے جنگل میں ٹھنڈی چھاﺅں میں داخل ہوتے دیکھتے رہے۔ آخر کار قوم ایکہ کا ایک ایک فرد اس سوکھے جنگل میں کالے گھنے بادل کی گھنی چھاﺅں میں داخل ہو گئے جو سائبان کی طرح تنا ہوا تھا۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلا۔ اور جب تمام کافر اس سائبان نما عذاب کے بادل کی چھاﺅں میں جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب اُن پر نازل فرما دیا۔ وہ کالا گھنا بادل جو سائبان کی طرح پورے سوکھے جنگل پر چھایا ہوا تھا اچانک اس بادل کے کناروں سے آگ برسنے لگی اور اس آگ کی بارش سے سوکھے جنگل کے ہر طرف کنارے کے سوکھے درختوں میں آگ لگ گئی۔ اب ان لوگوں کے چاروں طرف جنگل میں آگ لگی ہوئی تھی اور یہ آگ تمام کافروں کو گھیرے ہوئے تھی۔ اور ان کے نکل بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
پوری قوم ایکہ کے کافر ہلاک ہو گئے
اللہ تعالیٰ کے عذاب نے پوری قومِ ایکہ کے کافروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ سوکھے جنگل کے کنارو ں پر آگ برس رہی تھی اور سوکھے درختوں کو جلاتی جا رہی تھی۔ اور دھیرے دھیرے آگ بڑھتی جا رہی تھی اور قوم ایکہ پر آگ کا دائرہ تنگ ہو تا جا رہا تھا۔ تمام کافر جان بچانے کے لئے دوسرے کناروں کی طرف بھاگ رہے تھے لیکن وہاں بھی آگ استقبال کر رہی تھی۔ اور وہ ہر طرف سے آگ کے گھیرے میں آچکے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تو وہ کالا گھنا بادل اچانک پھٹ پڑا اور پورے سوکھے جنگل پر ہر طرف آگ کی بارش ہونے لگی۔ اور قوم ایکہ کے کافر اس آگ میں کڑاہی میں گری مکڑیوں کی طرح جلنے لگے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا جنگل جلنے لگا۔ اور یہ آگ اس وقت تک برستی رہی جب تک ایک بھی کافر زندہ رہا۔ جب تما کافر ہلاک ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ کی بارش رک گئی۔ اور دھیرے دھیرے جنگل کی آگ بجھنے لگی۔
کافروں اور ظالموں کا عبرتناک انجام
اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم ایکہ پر عذاب آیا۔ اور پوری قوم کے کافر اور ظالم لوگ سائبان کے عذاب میں سوکھے جنگل میں جل کر ہلاک ہو گئے۔ جب تک ایک بھی کافر اور ظالم زندہ رہا تب تک ان پر آگ برستی رہی ۔ حضرت شعیب علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ دور سے اس سوکھے جنگل پر کالے گھنے بادل میں سے آگ برستے اور کافروں اور ظالموں کا عبرتناک انجام دیکھتے رہے۔ جب تمام کافر اور ظالم لوگ ختم ہو گئے تو جنگل کی آگ بچھ گئی اور کام پورا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ ترجمہ ”اصحاب الایکہ ( ایکہ بستی کے رہنے والے ) بھی بڑ ے ظالم تھے۔ جن سے ہم نے انتقام لے ہی لیا ۔یہ دونوں بستیاں کھلے راستے پر ہیں۔“ ( سورہ الحجر آیت نمبر78, اور 79) یہ تھا اللہ تعالیٰ کا انتقام ۔ اس دنیا میں سب سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ( اللہ تعالیٰ کے ساتھ ساتھ کسی اور کو بھی معبود ماننا اور عبادت کرنا) ہے۔ اور کفر ( اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کا انکار کرنا) ہے۔ کافر اور مشرک شخص کو اللہ تعالیٰ اس وقت تک معاف نہیں فرمائے گا جب تک وہ اسلام قبول نہیں کر ے گا۔ اگر اسلام قبول کر لیا تو اس کا حساب کتا ب ہوگا۔ اور اگر کافر اور مشرک ہی مر گیا تو دوزخ میں سیدھا جائے گا۔ اور کافروں سے اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی انتقام لیتا ہے۔ اور آخرت میں بھی انتقام لے گا۔
حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر آگے ہوگا۔
حضرت شعیب علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ دور کھڑے قوم ایکہ کے کافروں کا عبرتناک انجام دیکھتے رہے ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر مدین کے ساحلی علاقے میں جزیرہ نما ئے سینا میں آباد ہو گئے۔
اگلی کتاب
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر انشاءاللہ ہم اس کے بعد کریں گے۔ اور ان کے ذکر میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر آئے گا انشا اللہ ۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام کے علاقے میں ہجرت کر کے موسیٰ علیہ السلام آئے تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے ان کو اپنا داماد بنا لیا تھا۔ یہ تمام تفصیل انشاءاللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے۔
٭........٭........٭





.jpeg)




