جمعرات، 4 مئی، 2023

حضرت ایوب علیہ السلام مکمل Life of Prophet Ayoob

  حضرت ایوب علیہ السلام مکمل

حضرت ایوب علیہ السلام کا سلسلۂ نسب

قارئین کرام ، اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔ اُس میں ہم نے بتایا تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بارہ بیٹوں کے ساتھ مصر میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔ اُن بارہ بیٹوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی۔ اور ان بارہ قبیلوں کے مجموعہ کو بنی اسرائیل کہا گیا۔ یعنی اسرائیل کی اولاد ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب اسرائیل تھا ، کہیں کہیں بنی اسرائیل کو بنی یعقوب یعنی یعقوب کی اولاد بھی کہا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کا ذکر آگے حضر ت موسیٰ علیہ السلام کے حالات میں کریں گے۔ فی الحال ہم آپ کی خدمت میں حضرت ایوب علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔ یہ اس لئے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت یوسف علیہ السلام سے سب سے قریبی زمانہ ہے۔ حالانکہ حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بہت کم کیا ہے۔ لیکن اکثر علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ آپ علیہ السلام کی زوجہ ¿ محترمہ حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی ہیں۔ اور آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام سے قریبی زمانہ ہے۔ اسی لئے ان کے فوراً بعد ہم ان کے حالات بیان کر رہے ہیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک قول یہ ہے کہ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ تفسیر مظہری میں حضرت ایوب علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن احوس ، رزاخ بن روم، بن عیص، بن حضرت اسحاق علیہ السلام ہے۔ علامہ ابن کثیر آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن موص بن زاوح بن عیص بن اسحاق علیہ السلام ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ ایک اور مورخ آپ علیہ السلام کا سلسلہ نسب اس طرح لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن موص بن رعویل بن عیص بن حضرت اسحاق علیہ السلام ہے۔ امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی والدہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی ہیں۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ امام ابن عسا کر لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کا نام ”لیا “ ہے۔ اور وہ حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی ہیں۔ اور ان کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرة لیا بنت منشا بن یوسف علیہ السلام بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاق علیہ السلام ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام اہل ِ روم میں سے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ امام محمد بن اسحاق نے ثقہ لوگوں کے حوالے سے حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ہےکہ حضرت ایوب علیہ السلام اہل روم میں سے ہیں۔ اور سلسلہ ¿ نسب اس طرح ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن حوص بن زازح بن عیص بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ہے۔ اور دوسرا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام بن حوص بن رغویل بن عیص بن حضرت اسحاق علیہ السلام بن حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ بعض علمائے کرام نے رغویل کے بجائے رعویل لکھا ہے۔ اس سے پہلے ہم آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ( مکہ مکرمہ میں رہتے تھے) اپنے چھوٹے حضرت اسحاق علیہ السلام سے ( اُس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے) فرمایا کہ اپنے بڑے عیص کا نکاح میری بیٹی سے کر دو۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے بڑے بیٹے عیص کو پیار سے عیصو پکارتے تھے۔ جو اہلِ کتاب نے عیسو بنا دیا ہے۔ اور بائیبل میں عیسو ہی نام لکھا ہوا ہے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے بڑے بھائی کا حکم مانتے ہوئے اپنے بڑے بیٹے عیص کا نکاح اپنے بڑے بھائی کی بیٹی سے کر دیا ۔ آپ علیہ السلام کے اس وقت دو بیٹے تھے۔ چھوٹے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تو اپنے والد کے ساتھ اس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے۔ جسے یہودی یروشلم کہتے ہیں۔ اور بڑے بیٹے عیص اپنے بیوی بچوں کو لے کر ملک شام چلے گئے اور وہیں رہائش پذیر ہو گئے۔ اُن کی اولاد پورے ملک شام میں پھیل گئی۔ عیص کے ایک بیٹے روم کی اولاد یورپ تک پھیل گئی اور یہی لوگ رومی کہلائے۔ روم کے نام پر آج بھی یورپ میں ایک شہر کا نام روم ہے۔ حضرت ایوب علیہ السلام اسی روم کی اولاد میں سے ہیں۔ ا س وقت وہ ملک شام میں ہی رہتے تھے۔ کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل میں سے تھے۔ اور اس کے لئے آپ علیہ السلام کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کا بتاتے ہیں۔ لیکن اس کے کوئی مستند شواہد نہیں ہیں ۔ کیوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ، حضرت لوط علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے کئی سو سال بعد کے زمانے میں پیدا ہوئے۔ اور اگر حضرت ایوب علیہ السلام اُن کے بھی کئی سو سال بعد پیدا ہوئے تو کس طرح حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی آپ علیہ السلام کی والدہ ہوئیں۔ اور کس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کی پوتی آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ ہوئیں۔ اس لئے زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ اس وقت ہے جب بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے وجود میں نہیں آئے تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہی ہے۔ بہر حال تمام علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے عیص کی اولاد میں سے ہیں۔

حضرت ایوب علیہ السلام نبوت سے سرفراز

حضرت ایوب علیہ السلام ملک شام کے ایک علاقہ ” بثنیہ “ میں رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بہت ہی خوب صورت بنایا تھا۔ اور بہت زیادہ مال و دولت سے نواز ا تھا۔ اور اولاد سے بھی نواز اتھا۔ آپ علیہ السلام کے پاس بہت ساری زمینیں تھیں یوں سمجھ لیں اچھی خاصی جاگیر تھی۔ ایک روایت کے مطابق دو ہزار بیلوں کی جوڑی تھی۔لیکن اکثر علمائے کرام اور روایات کے مطابق پانچ سو بیلوں کی جوڑی تھی۔ جن کو پانچ سو غلام سنبھالتے تھے۔ اور ہر غلام کو اپنی بیوی اور بچے اور مال و دولت تھی۔ ایک ہزار بکریاں تھیں۔ پانچ سو خچر سامان اٹھانے کے لئے تھے۔ جس علاقے میں آپ علیہ السلام رہتے تھے اسی علاقے میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا۔ اور آپ علیہ السلام اپنے علاقے کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اور بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا لوگ آپ علیہ السلام کے کردار اور عمل سے بہت متاثر تھے اور ہر کوئی آپ علیہ السلام کی عزت کرتا تھا ۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بہت عبادت کرتے تھے۔ ہر ضرورت مند اور مستحق کی مدد کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ پر بہت بھروسہ رکھتے تھے۔

حضرت ایوب علیہ السلام کا حلیۂ مبارک

حضرت ایوب علیہ السلام کے حلیہ مبارک کے مبارک کے بارے میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں۔ آپ علیہ السلام کا قد لمبا تھا۔ اور بال گھنگھریالے تھے۔ آنکھیں بڑی بڑی اور انتہائی خوب صورت تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو انتہائی خوب صورت بنایا تھا۔ آپ علیہ السلام کی پیشانی مبارک پر ” المبتلی ، الصابر “ یعنی آزمائش میں ڈالا گیا، صبر کرنے والا۔ آپ علیہ السلام کی گردن مبارک چھوٹی تھی۔ اور سینہ مبارک چوڑا تھا۔ پنڈلیاں اور بازو بھرے بھرے تھے۔ آپ علیہ السلام بیوہ عورتوں اور ضرورت مندوں اور مستحقوں کو مال دولت عطا فرماتے تھے۔ اور اللہ کی رضا کے لئے انہیں نئے کپڑے عطا فرماتے تھے۔ حضرت وہب بن عنبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے بڑے عابد و زاہد تھے۔ اور سب سے زیادہ مال دار تھے۔ آپ علیہ السلام اس وقت تک بھوکے رہتے تھے جب تک کسی بھوکے کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھلا دیتے تھے۔ آپ علیہ السلام کسی نہ کسی ضرورت مند کو نیا لباس پہنانے کے بعد ہی نیا لباس پہنتے تھے۔ ابلیس شیطان، حضرت ایوب علیہ السلام کی طاقت و قوت اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد سے عاجز آگیا تھا۔ اور اس کا کوئی داﺅ بیچ آپ علیہ السلام پر نہیں چل پاتا تھا۔

حضرت ایوب علیہ السلام کی شریعت

حضرت وہب بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی شریعت کیا تھی تو انہوں نے فرمایا۔ تو حید یعنی صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی یعنی اسلام کی دعوت دینا۔ اور لوگوں کو کفر اور شرک سے روکنا ۔ جھگڑا کرنے والوں میں صلح کروانا۔ اگر کسی کی حاجت پوتی تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو جانا۔ پھر اپنی حاجت طلب کرنا۔ ان سے پوچھا گیا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کا مال و دولت کتنا تھا تو انہوں نے فرمایا۔ تین ہزار 3000فدان یعنی بیلوں کی جوڑیاں تھیں اور ہر فدان کے ساتھ ایک غلام ہوتا تھا۔ اور ہر غلام کے ساتھ ایک عورت ہوتی تھی۔ اور ہر عورت کے ساتھ ایک خچر اور چودہ ہزار بکریاں تھیں۔ آپ علیہ السلام کے مہمان خانے میں ہر وقت ایک نہ ایک مہمان رہتا تھا۔ اور کبھی کبھی تو سو100سے زیادہ مہمان بھی ہو جاتے تھے۔ اور حضرت ایوب علیہ السلام ہمیشہ کسی نہ کسی مسکین کے ساتھ مل کر ہی کھانا کھاتے تھے۔

اوروں کے مقابلے میں آزمائش سخت تھی

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے کہ قرآن پاک میں حضرت ایوب علیہ السلام کا خصوصی ذکر صرف دو جگہوں پر آیا ہے۔ ایک تو سورہ الانبیاءاور دوسرے سورہ ص میں آیا ہے۔ اور سورہ ص میں اُن کی تکلیف اور دعا اور شفا یاب ہونا مذکور ہے۔ قرآن پاک میں دونوں جگہ اجمال ( مختصر) میں ہے اور اس کا ذکر نہیں ہے کہ تکلیف کیا تھی اور مصیبت کیسی تھی اور کتنے دن رہی۔ اور کسی صحیح ، صریح اور مرفوع حدیث میں بھی اس کی کوئی تفسیر نہیں ملتی۔ البتہ قرآن پاک کے سیاق سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بہت زیادہ تکلیف تھی۔ اور عام طور سے انبیائے کرام اور صالحین کی جو آزمائشیں ہوتی ہیں ان سے زیادہ سخت آزمائش تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی تھی کہ آل اولاد سب مفقود ہو کر ہلاک ہو کر جدا ہو گئے تھے۔ اس بارے میں عام طور سے جو روایات ملتی ہیں وہ عمومی اسرائیلی روایات ہیں۔ قرآن پاک تصریح سے معلوم ہو اکہ حضرت ایوب علیہ السلام کے دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت و عافیت عطا فرمادی۔ اور یہ صرف اللہ کی رحمت سے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا کہ ہم نے ان کا کنبہ واپس کر دیا اور ان جیسے اور بھی دیئے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے دونوں احتمال لکھے ہیں کہ صحت و عافیت کے بعد یا تو ان کی گمشدہ اولاد واپس کر دی گئی جو ان سے جدا ہو گئی تھی۔ اور اگر وہ سب وفات پا گئے تھے تو اتنے ہی اُن کی جگہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیئے تھے۔ اور مشلھم معھم بھی ساتھ فرمایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جتنی سابق اولاد تھی اتنی ہی مزید اولاد ان کی صلب سے یا ان کی اولاد کی صلب سے عطا فرما دی۔

صبر اور شکر کرنے والے

حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہت زیادہ صبر اور شکر کرنے والے بندے تھے۔ تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر اور شکر کے پیکر حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اُن کو ہر طرح کی نعمتوں سے نوازرکھا تھا تو وہ ہر وقت اللہ کے سامنے شکر گزاری کے جذبے کے ساتھ جھکے رہتے تھے۔ اور اُن کو ایسی بیماری اور تکلیف سے واسطہ پڑا کہ اُن کی بیوی کے علاوہ ہر شخص اُن کے قریب جاتے ہوئے گھبراتا تھا۔ فرمایا کہ اس حال میں بھی وہ انتہائی صبر سے کام لیتے تھے۔ ایک مرتبہ جب اُن کی بیماری اس درجے کو پہنچ گئی جو اُن سے برداشت نہیں ہو سکی تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا۔ اے اللہ تعالیٰ، میری تکلیف اور بیماری حد درجہ بڑھ گئی ہے۔ اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی فریاد کو سنا اور اُن کی شدید بیماری اور تکلیف سے نجات عطا فرما دی۔ اور پہلے سے بھی زیادہ صحت ، مال و دولت اور اولاد سے اُن کو نواز دیا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر اور شکر ایک بہترین مثال ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جب دل سے پکارا جاتا ہے تو وہ ایسا مہربان اور کریم ہے کہ ہر شخص کی فریاد سنتا ہے۔ اور اس کو ہر طرح کی تکلیفوں سے نجات دے دیتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ دعا سننے والا اور سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ 

انبیائے کرام پر سخت آزمائشیں آتی ہیں

حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر اور اللہ پر توکل ( بھروسہ ) کی آزمائش اللہ تعالٰی نے کی۔ تفسیر معارف القران میں لکھا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے قصہ میں اسرائیلی روایات بڑی طویل ہیں۔ اُن میں سے جن کو محدثین حضرات نے تاریخی درجہ میں قابل اعتماد سمجھا ہے اُن کو نقل فرمایا ہے۔ قرآن پاک سے توصرف اتنی بات ثابت ہے کہ اُن کو کوئی بہت ہی شدی مرض پیش آیا تھا۔ جس پر وہ صبر کرتے رہے۔ بالآخر اللہ تعالٰٰ سے دعا کی توا س سے نجات ملی اور یہ کہ اس بیماری کے زمانے میں اُن کی اولاد اور احباب سب غائب ہو گئے تھے۔ چاہے وہ موت کی صورت میں ہو یا کسی دوسری وجہ سے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت و عافیت دی اور جتنی اولاد تھی وہ سب ان کو دے دی بلکہ اس سے اور زیادہ عطا فرما دی۔ باقی حصے کے اجزاءبعض تو مستند احادیث میں موجود ہیں اور زیادہ تر تاریخی روایات ہیں۔ حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کو ابتداءمیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت اور جائیداد اور شاندار مکانات اور سواریاں اور اولاد اور غلام و خدام بہت کچھ عطا فرمایا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو پیغمبر انہ آزمائش میں مبتلا کیا اور یہ سب چیزیں اُن کے ہاتھ سے نکل گئیں۔ اور بدن میں ایسی بیماری لگ گئی کہ جیسے جذام ہوتا ہے کہ بدن کا کوئی حصہ سوائے زبان اور دل کے اس بیماری سے نہیں بچا۔ آپ علیہ السلام ایسی حالت میں بھی اپنی زبان اور دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رکھتے اور تکلیف پر صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہتے تھے۔ اس شدید بیماری کی وجہ سے سب عزیزوں ، دوستوں اور پڑوسیوں نے اُن کو الگ کر کے آبادی کے باہر ڈال دیا۔ کوئی ان کے پاس نہیں جاتا تھا۔ صرف آپ علیہ السلام کی بیوی اُن کی خبر گیری کرتی تھی۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کی بیٹی یا پوتی تھی۔ جس کا نام لیابنت میشا بن یوسف علیہ السلام بتایا جاتا ہے۔ مال و جائیداد تو سب ختم ہو چکا تھا ۔ ان کی زوجہ محترمہ محنت مزدوری کر کے اپنے اور ان کے لئے روزی فراہم کرتی تھیں۔ اور آپ علیہ السلام کی خدمت کرتی رہتی تھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا یہ ابتداءاور امتحان کوئی تعجب اور حیرت کی بات نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے سخت بلائیں اور آزمائشیں انبیائے علیہم السلام کو پیش آتی ہیں۔ ان کے بعد دوسرے صالحین کو درجہ بہ درجہ اور ایک روایت میں ہے کہ ہر انسان کا ابتلاءاور آزمائش اس کی دینی صلابت اور مضبوطی کے مطابق ہوتی ہے۔ جو جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنی ہی اس کی ابتلاءاور آزمائش زیادہ ہوتی ہے۔ ( تاکہ اس مقدار اسے اس کے درجات بلند ہوں ) حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زمرہ¿ انبیاءعلیہم السلام میں دینی صلابت میں صبرکا ایک امتیازی مقام عطا فرمایا تھا۔ مصائب و شدائد پر صبر میں حضرت ایوب علیہ السلام ضرب المثال ہیں۔

بائیبل اعتبار کے قابل نہیں ہے

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی شخصیت ، زمانہ ، قومیت ہر چیز کے بارے میں اختلاف ہے۔ جدید زمانے کے محققین میں سے کوئی ان کو اسرئیلی قرار دیتا ہے کوئی مصری اور کوئی عرب کہتا ہے۔ کسی کے نزدیک ان کا زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔ کوئی انہیں حضرت داﺅد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے زمانے کا قرار دیتا ہے۔ اور کوئی اس زمانے کے بعد کا قرار دیتے ہیں۔ لیکن سب کے قیاسات کی بنیاد اس سفرِ ایوف یا صحفیہ¿ ایوب پر ہے جو بائیبل کے مجموعہ کتب میں شامل ہے۔ اسی کی زبان ، انداز بیان اور کلام کو دیکھ کر یہ مختلف رائیں قائم کی گئی ہیں نہ کہ کسی اور تاریخی شہادت پر ۔ اور اس سفرایوب کا یہ حال ہے کہ اس کے اپنے مضامین میں بھی تضاد ہے۔ اور اس کا بیان قرآن پاک کے بیان سے بھی اتنا مختلف ہے کہ دونوں کو بیک وقت نہیں مانا جاسکتا۔ لہٰذا ہم اس پر ( بائیبل پر) قطعاً اعتماد نہیں کر سکتے۔ زیادہ سے زیادہ قابل اعتماد شہادت اگر کوئی ہے تو وہ یہ ہے کہ بیعیا نبی آٹھویں صدی قبل مسیح اور حنرقی ایل ( حزقیل) نبی چھٹی قبل مسیح ( حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ، ہمارے زمانے میں جو یہ اکیسویں صدی چل رہی ہے یہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چل رہی ہے) اس لئے یہ امر یقینی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کے زمانے میں رہے ہوں گے۔ رہی قومیت کی بات تو سورہ نساءآیت نمبر63اور سورہ الانعام آیت نمبر84میں جس طرح ان کا ذکر آیا ہے اس سے گمان ہوتا ہے کہ وہ نبی اسرائیل ہی میں سے تھے۔ مگر حضرت وہب بن عنبہ رضی اللہ عنہ کا یہ بیان بھی کچھ بعید از قیاس نہیں ہے کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے عیسو( عیص) کی نسل سے تھے۔ 

حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران میں لکھا ہے کہ کہتے ہیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ اور ان کا ہر علاقہ بحرمیت ( بحر مردار) کے جنوب مشرق میں تھا۔ وہ اللہ کے بڑے ہی صابر و شاکر بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خوب مال و دولت سے اولاد سے نواز تھا۔ اس لئے اپنے رب کا خوب شکر ادا کرتے تھے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مبتلا کر دیا اور اولاد اور دولت سب جاتی رہی۔ تو آپ علیہ السلام اپنے رب کی رضا کے لئے بہت ہی صبر سے کام لیتے رہے۔ اور دل میں شکوہ کو بھی جگہ نہیں دی۔ جب ان کی تکلیف حد سے بڑھنے لگی اور اٹھارہ ( 18) سال کا زمانہ گزر گیا تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی اور ان کی بیماری جاتی رہی۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے بھی زیادہ مال و دولت اور جائیداد سے نوازدیا۔ اس واقعہ سے نصیحت ملتی ہے کہ صبر کا انجا م ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ اور اسمائے حسنیٰ اور صفات علیا کے واسطے سے اللہ کے حصور دعا اور گریہ وزاری سے مصیبت دور ہوتی ہے۔ اور دنیا کی مصیبت و تکلیف اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ بندہ اپنے رب کی نگاہ میں ذلیل و بد بخت ہے اور ایمان و اخلاص کے ساتھ صبر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ پہلے سے کئی گنا زیادہ دیتا ہے۔ 

آزمائش میں صبر و شکر پر قائم رہے

حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں تفسیر صیاءالقرا ٓن میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک بندے حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر فرمایا ہے۔ جس پر تکلیف اور شدائد کی انتہا ہو گئی لیکن ان کے ہاتھ سے صبر اور شکر کا دامن نہیں چھوٹا۔ ہر حال میں اپنے رب ( اللہ تعالیٰ ) کی حمد و ثنا میں سر گرم رہے تا کہ ہر انسان اپنے حالات میں انبیائے کرام علیہم السلام کے اُسوہ¿ حسنہ سے روشنی حاصل کر سکے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے نسب اور قوم اور زمانہ کے متعلق بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ اگر چہ وثوق سے کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ لیکن بعض قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ علیہ السلام کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح یا اس سے پہلے کا ہے۔ آپ علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام کے بڑے بیٹے عیسو ( عیص یا عیصو) کی نسل سے ہیں۔ آپ علیہ السلام بہت بڑے دولت مند تھے۔ زرعی زمین کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آپ علیہ السلام کے پاس کھیتی باڑی کے لئے بیلوں کی پانچ سو500جوڑیاں تھیں۔ ہزاروں کی تعداد میں بکریاں تھیں۔ سات بیٹے اور سات بیٹےاں تھیں۔ زوجۂ محترمہ کا نام رحمتہ بتایا گیا ہے۔ جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بیٹے ایفرائین (یا ایفرائیم) کی بیٹی تھیں بڑی حسین و جمیل اور صحت مند تھیں۔ ان گوناگوں انعامات کے باوجود آپ علیہ السلام اپنے خالق کی عبادت اور اس کی مخلوق کی خدمت میں ہر طرح سے سر گرم رہا کرتے تھے۔ مشیت الٰہی نے آزمانا چاہا ۔ کھیتیاں جل کر راکھ ہو گئیں۔ مال مویشی میں ایسی وبا پھوٹی کہ ایک بھی زندہ نہیں رہا۔ آپ علیہ السلام کے سارے بیٹے بیٹیاں اپنے بڑے بھائی کے یہاں مدعو تھے کہ مکان گر گیا اور سب کے سب کا انتقال ہو گیا۔ آپ علیہ علیہ السلام کے جسم مبارک پر آبلے نمودار ہو تے گئے خارش کی وجہ سے انہیں کھجلایا تو انہوں نے ناسوروں کی شکل اختیار کر لی۔ اور ان میں چھوٹے چھوٹے کیڑے رینگنے لگے جس سے پیپ بہنے لگی۔ سب نیاز مند اپنا سلسلہ ¿ نیاز و عقیدت توڑ کر الگ ہو گئے۔ سب دوستوں نے آنکھیں پھیر لیں۔ شہر والوں نے بستی سے نکال دیا کہ ان سے دوسرے لوگوں میں بیماری پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔ آزمائش کی ان گھڑیوں میں بھی زبان پر کوئی حرف شکایت نہیں آیا۔ اور دل میں کبھی بھی اپنے مالک و خالق سے شکوہ کا خیال بھی پیدا نہیں ہوا۔ کافی عرصہ اسی حالت میں گزر گیا بعض نے سات سال اور بعض نے اس سے بھی زیادہ لکھے ہیں۔ زبان پھر بھی اپنے خالق و مالک کی حمد و ثنا میں مصروف رہی۔ آخر یہ التجا زبان پر آہی گئی ” انی مسّنی الضر “ الٰہی مجھے مصیبتوں اور بیماریوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور اس کے بعد یہ عرض نہیں کی کہ میری تکلیفوں اور بیماریوں کو دور فرما دے اور مجھے ان مصیبتوں سے رہائی بخش ۔ صرف اتنا عرضی کیا۔ ” انت ارحم الراحمین“ تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ گویا یہ کہہ کر سب کچھ ہی کہہ دیا۔

اللہ تعالیٰ کا فخر فرمانا

حضرت ایوب علیہ السلام بے انتہا دولت مند ہونے کے باوجود ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہتے تھے اور جتنا ہو سکتا تھا اللہ کی مخلوق کی مدد کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ اور جب دوسرے لو گ آپ علیہ السلام کا شکریہ ادا کرتے تھے تو آپ علیہ السلام فرماتے تھے۔ تمہاری یہ مدد میں نے نہیں کی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کی ہے۔ اس لئے تم صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ صر ف اسی کی عبادت کرو اور اسی سے مدد مانگو۔ وہ اللہ تعالیٰ سب سے جلدی سننے والا ہے اور مدد کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کی عبادت ، لوگوں کی غم گساری اور اللہ کی شکر گزاری سے بہت خوش تھے۔ اور مقرّب فرشتوں کی مجلس میں آپ علیہ السلام پر فخر کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی تعریف فرماتے تھے۔ اور بتایا کرتے تھے کہ میر ایہ بندہ اتنی نعمتیں ملنے کے بعد بھی شکر ادا کر رہا ہے۔ اکثر لوگ مال و دولت اور دوسری نعمتیں ملنے کے بعد گھمنڈ ، تکبر ، اور سر کشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ میں نے اس بندے کو مال و دولت دے کر آزمایا تو اس نے اس آزمائش میں عظیم کامیابی حاصل کی ہے۔ اور جتنی اسے مال و دولت اور نعمتیں اور خوشیاں ملتی جا رہی ہیں میرا یہ بندہ اتنا ہی زیادہ شکر گزار بندہ بنتا جا رہا ہے۔ اسے میرے اوپر بہت بھروسہ ہے۔ اور اگر میں اس سے تمام مال و دولت اور تمام نعمتیں چھین لوں تب بھی یہ مجھ پر بھروسہ ( توکّل) رکھے گا۔ اور صبر کرے گا۔ اور میرا شکر ادا کرتا رہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے اس اعتماد کا آپس میں ذکرکرتے رہتے تھے اور آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرتے رہتے تھے۔ تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ جو قرب حاصل ہے وہ دوسرے فرشتوں کو حاصل نہیں ہے اللہ تعالیٰ اُن سے براہ راست کلام فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جب کسی کو پسند فرماتا ہے تو اس کا ذکر جبرئیل علیہ السلام سے کرتا ہے وہ میکائیل علیہ السلام سے ذکر کرتے ہیں۔ وہ دوسرے مقرب فرشتوں سے ذکر کرتے ہیں۔ جب اُن مقرب فرشتوں میں اللہ تعالیٰ کے اس خاص بندے کا ذکر ہوتا ہے اور وہ آپ میں تذکرہ کرتے ہیں تو اس آسمان کے سب فرشتے اس خاص بندے کا تذکرہ آپس میں کرتے ہیں اور اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وہ نیچے کے آسمان کے فرشتے سنتے ہیں اور تذکرہ اور دعا کرتے ہیں۔ اس طرح آسمان ِ دنیا ( پہلے آسمان) کے فرشتوں تک وہ ذکر پہنچ جاتا ہے۔ اور وہ سب فرشتے بھی آپس میں اس خاص بندے کا ذکر یعنی تذکرہ کرتے ہیں اور اس کے لئے دعا کرتے ہیں ۔ اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام کا تذکرہ بھی ساتوں آسمانوں میں ہوتا رہتا تھا۔ اور تمام فرشتے آپ علیہ السلام کے لئے دعا کرتے رہتے تھے۔

ابلیس شیطان کا حسد

حضرت ایوب علیہ السلام کی فضیلت اور ان کے لئے فرشتوں کی دعا ابلیس شیطان نے سنی تو وہ حسد کے مارے جل بھن گیا۔ وہ تو انسان کا ازلی دشمن ہے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر آج تک وہ بد بخت ملعون شیطان انسانوں سے دشمنی کر رہا ہے۔ آج کے زمانے میں اس کے خاص مدد گار یہودی، عیسائی اور کافر ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام سے تو ابلیس شیطان پہلے ہی دشمنی کر رہا تھا اور آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت میں رکاوٹیں پیدا کر رہا تھا۔ لیکن جب اس نے فرشتوں کی باتیں اور دعائیں سنی تو وہ آپ علیہ السلام سے بہت زیادہ حسد کرنے لگا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ وہ دور ( یعنی حضرت ایوب علیہ السلام کا زمانہ ) تھا۔ جب ابلیس شیطان پر آسمانوں پر جانے کی پابندی نہیں تھی۔ وہ آسمانوں میں جہاں جانا چاہتا جا سکتا تھا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمانوں میں اٹھا لیا تو ابلیس شیطان کو چار آسمانوں میں جانے سے روک دیا گیا۔ پھر جب انبیائے کرام کے سردا ر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ابلیس شیطان کو تمام آسمانوں پر جانے کی پابندی لگا دی گئی۔ یعنی اسے سب آسمانوں جانے سے روک دیا گیا۔ جب حضرت ایوب علیہ السلام اللہ کا ذکر اور حمد و ثنا ءمیں مصروف تھے تو فرشتوں نے آپ علیہ السلام کے لئے مل کر دعا کی تو ابلیس شیطان یہ سن کر بغاوت اور حسد کی آگ میں جلنے لگا۔

حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش کی شروعات

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت ایوب علیہ السلام کی فضیلت دیکھ کر ابلیس شیطان کو آپ علیہ السلام سے بہت زیادہ حسد ہو گیا تھا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ تیرا یہ بندہ ( حضرت ایوب علیہ السلام ) مصیبتوں اور تکلیفوں پر صبر نہیں کر سکے گا۔ اگر تو ( اللہ تعالیٰ) ااسے آزمانا چاہتا ہے تو اس کے مال پر مجھے قابول دیدے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا میں نے تجھے اس کے مال پر اختیار دیا۔ ابلیس شیطان نے اپنے شاگردشیطانوں کو جمع کیا اور کہا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کے مال پر اختیار دے دیا ہے۔ اب ہمیں اُن کے تمام مال کو تباہ کرنا ہے۔ اور یہ ایسا غم ہے جس پر آپ علیہ السلام صبر نہیں کر سکیں گے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ ابلیس شیطان نے کہا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں نے بندے ایوب ( علیہ السلام ) کو دیکھا ہے ۔تو نے اس پر انعام کیا ہے۔ اس لئے وہ تیرا شکر ادا کرتا ہے۔ تو نے اسے عافیت دی ہے اس لئے وہ تیری حمد و ثنا میں رطب اللسان رہتا ہے۔ اگر تو اس سے یہ ساری نعمتیں چھین لے گا تو پھر یہ تیرا شکر ادا نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ابلیس شیطان مردود میں نے تجھے اس کے مال پر اختیا ر دے دیا۔ ابلیس تیزی سے زمین پر آیا اور اپنے تمام چیلوں کو جمع کیااور انہیں کہا۔ مجھے ایوب ( علیہ السلام )کے مال پر اختیار دے دیاگیا ہے۔ کس کو طاقت ہے کہ وہ ان کا مال تباہ کر دے۔ مال کا خسارہ ایسا خسارہ ہے کہ جس کی وجہ سے بڑے بڑے دل گردے والے بھی ہمت ہار دیتے ہیں۔ ایک شیطان نے کہا۔ مجھے یہ قوت ہے میں آگ کا بگولہ بن کر اُس کی ہر چیز جلا دوں گا۔

پہلی آزمائش میں کامیابی کے بعد دوسری آزمائش

حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار مال و دولت عطا فرما کر پہلی آزمائش لی تھی۔ اور آپ علیہ السلام نے صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے اس آزمائش میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔ اب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے صبر کی آزمائش شروع کی اور ابلیس شیطان کو آپ علیہ السلام کے مال پر اختیاردے دیا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی آگے لکھتے ہیں کہ ابلیس شیطان کے ایک چیلے نے کہا میں آگ کا بگولہ بن اس کی ہر چیز جلا دوں گا۔ ابلیس نے کہا۔ جا اور جب اس کے اونٹ چراگاہ میں چر رہے ہو ں تو انہیں جلا دے۔ وہ شیطان زمین کے نیچے سے آگ کا شعلہ بن کر نکلا جو چیز اس کے قریب آتی جل جاتی تھی۔ اس نے آپ علیہ السلام کے سب اونٹوں کو جلا دیا پھر یہ شیطان اونٹوں کے نگراں کی شکل میں حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا۔ اس وقت آپ علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے۔ شیطان جو انسانی شکل میں آیا تھا کہنے لگا۔ اے ایوب ( علیہ السلام ) تو نے دیکھا کہ ایک آگ آئی اور اس نے تیرے اونٹ جلا دیئے۔ اور دوسرے کے اونٹ بھی راکھ کر دیئے۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا۔ سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہے جس نے مجھے وہ اونٹ عطا فرمائے تھے اسی نے لے لئے۔ میں جانتا ہوں کہ مال اور جان فنا ہونے والی چیز ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت نوف رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جو شیطان حضرت ایوب علیہ السلام کے پیچھے پڑا تھا اس کا نام مسبوط تھا۔ علامہ عبدا لرزاق بھترالوی لکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے مقرب بندوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر کے آزماتا ہےکہ میرا یہ بندہ کتنا صبر کرتا ہے۔ اور مصائب و آرام میں کوئی شکوہ تو زبان پر نہیں لاتا اور کبھی اللہ تعالیٰ بہت مال و دولت دے کر آزماتا ہے کہ میر ابندہ کتنا شکریہ ادا کرتا ہے؟ حضرت ایوب علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پہلے آرام و صحت ، مال و دولت ، اولاد اور ہر طرح کی خوشیاں عطا کر کے آزمایا۔ اس آزمائش میں بھی آپ علیہ السلام نے عظیم کا میابی حاصل کی۔ اور آپ علیہ السلام نے شکریہ ادا کر کے بے مثال نمونہ پیش کیا۔ اس کے بعد آزمائش کا دوسرا مرحلہ یا دور شروع ہوا۔ وہ اس طرح ہوا کہ زمین کے نیچے سے قدرتی آگ نے آپ علیہ السلام کے باغات ، کھیتیاں ، اونٹ ، بکریاں ، چرواہے جلا کر راکھ کر دیئے۔ جب آپ علیہ السلام کو پتہ چلا تو فرمایا۔ یہ سب مال و دولت اللہ تعالیٰ نے ہی عطا فرمایا تھا۔ اور وہی اس کا حقیقی مالک ہے۔ جب وہی اس کا حقدار ہے تو اسے حق پہنچتا ہے کہ جب چاہے واپس لے لے۔ میری کوئی مجال نہیں ہے کہ میں کچھ کہوں۔

اولاد کی ہلاکت

حضرت ایوب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی آزمائش جاری تھی۔ دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کا مال و دولت ختم ہونے لگا۔ آپ علیہ السلام کے مویشی مرتے جا رہے تھے اور کھیت اور باغ مرجھاتے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ علیہ السلام کے پاس چند مینڈھیوں کے علاوہ کچھ نہیں بچا اور آپ علیہ السلام اپنی قوم کے سب سے غریب ہو گئے مال و دولت چھن جانے کے بعد بھی آپ علیہ السلام اپنے دعوتی کاموں کو اور تیزی سے کرنے لگے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اور زیادہ حمد و ثنا اور عبادت کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ پر آپ علیہ السلام کا بھروسہ اور مضبوط ہو گیا۔ یہ دیکھ کر ابلیس شیطان اور زیادہ حسد کا شکار ہوگیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی اولاد پر مجھے قابو دے دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے اس کی اولاد پر قابو دیا۔ لیکن ایوب (علیہ السلام )کے جسم پر تجھے قابو نہیں ہوگا۔ اب ابلیس شیطان آپ علیہ السلام کی اولاد کو تباہ کرنے لگا۔ آپ علیہ السلام کے بیٹے اور بیٹیاں مال و دولت چھن جانے کے بعد بھی آپ علیہ السلام کی خدمت کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کو ہر ممکن آرام دینے کی کوشش کرتے تھے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں ۔ جب حضرت ایوب علیہ السلام کا سارا مال ضائع ہو گیا تو آپ علیہ السلام اور زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے لگے اور صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ ( اور ابلیس شیطان اور زیادہ حسد کا شکار ہو گیا) ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے کہا ۔ اے اللہ تعالیٰ ، تو نے جو ایوب علیہ السلام کو اولاد عطا فرمائی ہے اسی وجہ سے وہ تیر ا شکر ادا کرتا ہے۔ کیا تو مجھے اس کی اولاد پر قابو دے گا؟ کیوں کہ اولاد کی تکلیف ایسی ہے جس سے بڑے بڑے مردوں کے کلیجے پگھل جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے اس کی اولاد پر بھی قابو دیتا ہوں۔ لیکن اس کے جسم پر تیرا کوئی قابو نہیں رہے گا۔ وہ بد بخت مردود آیا۔ اس وقت حضرت ایوب علیہ السلام کی تمام اولاد ایک محل میں جمع تھی۔ ابلیس شیطان نے محل کو ہلایا اور دیواروں کو آپس میں ٹکرا دیا۔ پھر لکڑیاں اور پتھر اُن کے اوپر پھینکے یہاں تک کہ سب زخمی ہو گئے۔ پھر اس مردود ابلیس شیطان نے محل کو اٹھا کر الٹا کر کے پھینک دیا۔ علامہ عبدالرزاق بھترالوی لکھتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کی اولاد ایک مکان میں جمع تھی۔ ( ایک اور روایت میں ہے کہ وہ سب بھائی بہن اپنے چچا کے یہاں ایک تقریب میں جمع تھے) وہاں زلزلہ آیا اور مکان گر گیا اور آپ علیہ السلام کی تمام اولاد کا انتقال ہو گیا۔ مکان کی چھت اور دیوار گرنے سے آپ علیہ السلام کے بچوں پر کیا حال گزرا ہوگا؟جسم چکنا چور ہو ئے ہوں گے ہڈیاں ٹوٹی ہو ں گی۔ سر پھٹے ہوں گے اور خون کے فوارے اڑے ہوں گے۔ لیکن یہ حال سن کر بھی اللہ کے نبی علیہ السلام نے کمال کے صبر کا مظاہرہ کیااور زبان پر ہی الفاظ آئے کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

ابلیس شیطان کی مایوسی اور حسد زیادہ بڑھ گیا

حضرت ایوب علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ کی آزمائش چل رہی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مال و دولت اور اولاد کے ختم کرنے کے ساتھ آزمائش میں ڈالا تو آپ علیہ السلام کے پاس کچھ بھی نہیں رہا تھا۔ تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا بہت عمدہ ذکر کیا اور فرمایا۔ الحمد للہ رب العالمین ۔ پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے مجھ پر احسان فرمایا۔ تو نے مجھے مال اور اولاد کی نعمت سے نوازا۔ جن کی محبت میرے دل کے ہر گوشہ میں داخل ہو گئی تھی۔ پھر یہ سب کچھ مجھ سے چھین لیا اور میرے دل کی دنیا کو ہر فکر سے آزاد کر دیا۔ اب میرے اور تیرے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہوتی ہے۔ میں نے جو تیری تعریف کی ہے ۔ میرا دشمن ( ابلیس شیطان) اس کی وجہ سے حسد کرنے گا۔ پس ابلیس شیطان کو حضرت ایوب علیہ السلام کے ان عجز و نیاز میں ڈوبے الفاظ سے بہت تکلیف ہوئی۔ آپ علیہ السلام کے اس صبر اور اللہ پر توکّل یعنی بھروسے کی وجہ سے بہت مایوسی ہوئی اور اس بد بخت کا آپ علیہ السلام سے حسد اور بڑھ گیا۔

حضرت ایوب علیہ السلام کو رُلایا

حضرت ایوب کی تمام اولاد اللہ کو پیاری ہو گئی۔ اندازہ کریں آپ علیہ السلام نے کس طرح جوان اولاد وں کو اپنے کاندھے پر لے جا کر دفن کیا ہوگا۔ اور کس طرح صبر کیا ہوگا؟ اولاد سے انسان کو بہت محبت ہوتی ہے لیکن اس غم کو بھی آپ علیہ السلام انتہائی صبر سے برداشت کر تے رہے اور اپنی ہر تکلیف پر آپ علیہ السلام بس اتنا فرماتے تھے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ ابلیس یہاں بھی ناکام ہو گیا اور آپ علیہ السلام کے صبر کو نہیں توڑ سکا۔ پھر اس نے ایک چال چلی۔ بچوں کے چھن جانے کے بعد ایک دن آپ علیہ السلام غور و فکر کرتے ہوئے بیٹھے تھے کہ ابلیس شیطان بچوں کے معلم یعنی استاد کی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور غمگین شکل بنا کر رونے لگا اور بچوں کی خوبیاں بیان کرنے لگا۔ اور آپ علیہ السلام کے غمگین دل میں اور زیادہ غم کے جذبات پیدا کرنے لگا۔ تا کہ آپ علیہ السلام کا صبر ٹوٹ جائے۔ حضرت ایوب علیہ السلام خاموش بیٹھے سن رہے تھے اور دھیرے دھیرے آنکھوں میں آنسو بھر نے لگے۔ ادھر لگاتار ابلیس شیطان کی کوشش جاری تھی اور وہ آپ علیہ السلام کے بچوں کا ذکر اس انداز میں کر رہا تھا کہ آپ علیہ السلام کے صبر کا باندھ ٹوٹ جائے۔ آخر کار آپ علیہ السلام رونے لگے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں ۔ پھر ابلیس بد بخت حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس بچوں کا معلم بن کر آیا جو ان کو حکمت سکھایا کرتا تھا۔ اس نے کہا۔ اے ایوب (علیہ السلام ) اگر آپ علیہ السلام اپنے بیٹے اور بیٹوں کو دیکھتے کہ انہیں کیسی موت دی گئی ہے اور کیسے الٹا گرایا گیا ہے جس کی وجہ سے اُن کے بھیجے اور خون بہہ رہے تھے اور اگر آپ علیہ السلام دیکھتے کہ کس طرح اُن کے پیٹ پھٹے ہوئے تھے اور انتڑیاں بکھری ہوئی تھیں تو آپ علیہ السلام کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا۔ وہ اسی طرح حضرت ایوب علیہ السلام کو اولاد کا غم اور تکلیف یاد دلاتا رہا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کا دل پسیج گیا اور آپ علیہ السلام رونے لگے پھر آپ علیہ السلام نے مٹھی بھر مٹی اپنے اوپر ڈال لی۔

توبہ پہلے پہنچ گئی

حضرت ایوب علیہ السلام کے دل میں ابلیس شیطان نے اولاد کے لئے پدرانہ جذبات کو اکسایا اور آپ علیہ السلام کے آنسو نکل آئے۔ حضرت سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ( یہ جلیل القدر تابعی اور مفسر اور محدث ہیں) ابلیس مردود نے حضرت ایوب علیہ السلام سے ان کی آزمائش کے دوران رونے کے علاوہ کچھ نہیں پایا۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے بس اتنا ہی کیا کہ رونے لگے اور مٹی اٹھا کر اپنے سر پر ڈال لی اور زبان سے کوئی شکوہ اور شکایت نہیں کیا۔ لیکن مردود ابلیس کے لئے یہ بھی کافی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ کو بتانے کے لئے فوراً چل پڑا کہ میں نے حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کو توڑ دیا۔ اس کے اس طرح اچانک چلے جانے سے آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ ابلیس شیطان تھا اور مجھے بہکانے کے لئے آیا تھا۔ حالانکہ سر پر مٹی ڈالنا اور آنکھوں سے آنسو بہنا کوئی گناہ نہیں ہے اور آپ علیہ السلام تو معصوم عن الخطاءہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے فوراً توبہ کر لی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فوراً رجوع کیا۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ابلیس سے پہلے آپ علیہ السلام کی توبہ لے کر پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے قبول کر لی۔ اور ابلیس مردود ایک مرتبہ پھر ناکام ہو گیا۔

بیماری سے آزمائش

حضرت ایوب علیہ السلام سے ابلیس شیطان بہت حسد کرنے لگا تھا۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام آزمائش کے ہر مرحلے میں کامیاب ہوتے جا رہے تھے۔ اور ہر مرحلے کی کامیابی کے بعد اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کا مرتبہ بڑھا دیتا تھا۔ اور پہلے سے زیادہ مقرّب بنا لیتا تھا۔ اور ہر مرحلے کی آزمائش میں ناکام ہونے کے بعد ابلیس شیطان کاآپ علیہ السلام سے حسد بڑھتا جا رہا تھا۔ اور وہ مردود پھر سے آپ علیہ السلام کے صبر کو توڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے نئی درخواست کر دیتا تھا۔ اس مرتبہ اس نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم مبارک پر مجھے اختیار دے کیوں کہ آپ علیہ السلام نے مال و دولت اور اولاد کے صدمے کو اس لئے برداشت کر لیا کہ آپ علیہ السلام کا جسم مبارک تندرست ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ مرد ود لعین اپنی یہ حسرت بھی پوری کر لے۔ جا میں نے تجھے اس کے جسم پر اختیار دیا۔ لیکن اس کی زبان اور دل پر تیرا کوئی اختیار نہیں رہے گا۔

حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر نیک لوگوں کے لئے نمونہ

حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کو توڑنے میں ایک مرتبہ پھر ناکام ہونے کے بعد ابلیس شیطان نے آپ علیہ السلام کے جسم پر قابو کی درخواست کی جو اللہ تعالیٰ نے اسے دے دیا۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ ابلیس ذلیل و رسوا ءہو کر ٹھہر گیا اور کہا ۔ اے اللہ تعالیٰ، ایوب علیہ السلام پر مال اور اولاد کا غم تو آسان تھا۔ کیوں کہ انہیں تو نے صحت مند اور تندرست جسم عطا فرمایا ہے۔ اور اسے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ مال اور اولاد پھر عطا فرما دے گا۔ کیا تو مجھے اس کے جسم پر قابو عطا کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے میں نے اس کے جسم پر بھی قابو عطاکیا۔ لیکن اس کی زبان اور دل پر تجھے قابو نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جانتے تھے اور ( ابلیس شیطان کو ) ان چیزوں ( یعنی مال و دولت ، اولاد اور جسم ) پر قابو اپنی رحمت کی وجہ سے نہیں دیا تھا بلکہ اس لئے قابو دیا تا کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے اجر میں اضافہ ہو جائے اور صبر کرنے والوں کے لئے آپ علیہ السلام کی سیرت مبارکہ ایک نمونہ بن جائے۔ اور ابتلاءو آزمائش میں نیک اور عبادت گزار بندوں کے لئے نصیحت بن جائے۔ تا کہ دنیا والے صبر اور ثواب کی امید میں اللہ تعالیٰ سے مانوس ہوں۔

بیماری کی تکلیف

حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ مال و دولت اور اولاد چھن جانے کے بعد آپ علیہ السلام صبر و شکر کے ساتھ اللہ کی عبادت اور لوگوں کی خدمت میں زیادہ دل و جان سے مصروف ہو گئے۔ آپ علیہ السلام ایک دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں تھے کہ ابلیس شیطان مردود نے آپ علیہ السلام کی گردن کے پچھلے حصے پر پھونک ماری۔ مردود ابلیس کو اللہ تعالیٰ نے آگ سے بنایا ہے۔ اس کے پھونک مارنے سے آپ علیہ السلام کو بہت زیادہ تکیف ہوئی اور پورا بدن بے حد گرم ہو گیا۔ اتنا گرم ہو گیا کہ پور ے بدن پر چھالے آگئے اور دھیرے دھیرے یہ چھالے زخم بن گئے اور یہ زخم دن گزرنے کے ساتھ ساتھ خراب ہو تے گئے اور اُن میں مواد ( پیپ) پید اہو گئی۔ آپ علیہ السلام کو بے انتہا درد تکلیف تھی لیکن برداشت کر رہے تھے۔ بدن مبارک سے بدبو آنے لگی دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کے رشتہ دار، پڑوسی اور جان پہچان کے لو گ آپ علیہ السلام سے دور ہوتے چلے گئے۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے اجازت مل جانے کے بعد ابلیس شیطان جلدی سے حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آیا تو دیکھا کہ آپ علیہ السلام سجدے میں ہیں اس مردود نے سجدے کی حالت میں ہی آپ علیہ السلام کے اوپر پھونک ماری۔ جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کا پورا جسم پھول گیا اور سر سے پاﺅں تک پورے جسم مبارک پر پھنسیاں نکل آئیں۔ وہ پھنسیاں پھوڑے کی طرح بکریوں کے جگر اتنی بڑی بڑی تھیں۔ آپ علیہ السلام کے جسم پر خارش ( کھجلی) شروع ہو گئی۔ پہلے آپ علیہ السلام اپنے ناخنوں سے کھجلاتے رہے یہاں تک کہ ناخن گر گئے یعنی جھڑ گئے۔ پھر کھردرے ٹاٹ سے کھجلانے لگے یہاں تک کہ ٹاٹ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو نے لگے۔ پھر ٹھیکریوں اور پتھر سے کھجلانے لگے۔ آپ علیہ السلام ااسی طرح کھجلاتے رہے یہاں تک کہ گوشت گرنے لگا۔ اور جسم مبارک سے بدبو آنے لگی۔

زوجۂ محترمہ ( بیوی) مسلسل خدمت کرتی رہی

حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری اتنی شدید تھی کہ لوگ آپ علیہ السلام سے دور ہونے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کو بستی سے نکال دیا۔ صرف آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ ( بیوی) آپ علیہ السلام کے ساتھ رہی اور مسلسل دیکھ بھال اور خدمت کرتی رہی۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف کا ذرا تصور کریں ہمیں ایک چھوٹا سا زخم لگ جاتا ہے اور وہ کچھ دنوں میں اچھا ہو جاتا ہے۔ لیکن اس زخم کی تکلیف اور درد کو ہم کتنا محسوس کرتے ہیں۔ اور یہاں تو حضرت ایوب علیہ السلام کا پورا جسم ہی خطرناک قسم کے زخموں سے بھرا ہوا تھا اور پورے جسم میں ایسی تکلیف اور دود ہور ہا تھا جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام ایسی تکلیف اور ایسا درد ایک دن نہیں ، ایک ہفتہ نہیں ، ایک مہینہ نہیں بلکہ کئی سال تک برداشت کرتے رہے اور صبر کرتے رہے۔ روایات میں آتا ہے کہ دنیا میں چیچک میں مبتلا ہونے والے سب سے پہلے شخص حضرت ایوب علیہ السلام ہیں۔ آپ علیہ السلام کے جسم کا تمام گوشت گل گیا تھا۔ صرف پٹھے اور ہڈیاں کچھ حد تک محفوظ تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی نے ایسے نازک حالات میں بھی آپ علیہ السلام کی بھر پور خدمت کی۔ جب کہ ایسے وقت میں ہر ایک نے آپ علیہ السلام کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا مسلسل خدمت کرتی رہیں ۔ وہ راکھ اٹھا اٹھا کر لاتی تھی۔ اور اسے بچھا کر اس پر آپ علیہ السلام کو لٹایا کرتی تھی۔ علامہ عبدالرزاق بھتر الوی لکھتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم میں شدید حرارت سے ایسا اثر ہوا کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپ علیہ السلام کے جسم مبارک کے اندر شعلے بھڑک اٹھے ہوں۔ سر سے لے کر قدم تک آبلے ( چھالے) پڑ گئے۔ شدید خارش ( کھجلی) ہونے لگی۔ ناخنوں سے جسم کو کھجلاتے رہے یہاں تک کہ ناخن گر ( جھڑ) گئے۔ سارے جسم میں صرف آنکھیں ، دل اور زبان محفوظ تھے۔ امام ابن عسا کر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم سے اگر کوئی کیڑا نیچے گر جاتا تو آپ علیہ السلام پھر سے اسے اٹھا کر اپنے زخموں پر رکھ لیتے تھے اور فرماتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے جو رزق تمہیں دیا ہے وہ کھاﺅ۔ 

بیماری کے دوران مناجات

حضرت ایوب علیہ السلام بیماری کے دوران انتہائی صبر کا مظاہرہ کرتے رہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یزید بن میسرہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب آپ علیہ السلام کی آزمائش شروع ہوئی اور مال و دولت اہل و عیال سب فنا ہو گئے اور کوئی چیز ہاتھ میں باقی نہیں رہی تھی تو حضرت ایوب علیہ السلام ، اللہ تعالیٰ کا اور زیادہ ذکر کرنے لگے۔ اور فرمانے لگے۔ اے اللہ تعالیٰ ، اے تمام پالنے والوں کو پالنے والے، تو نے مجھ پر بڑے احسان کئے۔ مال و دولت عطا فرمایا اور اولاد عطا فرمائی اس وقت میر ا دل ( تیری دی ہوئی نعمتوں میں ) مشغول تھا۔ اب تو نے سب کچھ لے کر میرے دل کو ان کی فکروں سے مجھے آزاد کر دیا ۔ اب میرے اور تیرے درمیان کوئی حائل نہیں ہے۔ اگر میرا دشمن ابلیس تیری اس مہربانی کو جان لے گا تو مجھ سے بہت حسد کرنے لگے گا۔ اس وقت ابلیس لعین جل بھُن کر رہ گیا۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے جو مناجات کرتے تھے اُن میں سے ایک یہ بھی ہے اے اللہ تعالیٰ، آپ نے مجھے تو نگر اور اولاد اور اہل و عیال والا بنا رکھا تھا۔ آپ تو خوب جانتے ہیں کہ اس وقت میں نے کبھی غرور اور تکبر نہیں کیا۔ اور کبھی کسی پر ظلم و ستم بھی نہیں کیا۔ میرے پروردگار ، آپ پر یہ بات بھی خوب روشن ہے کہ میر انرم و گرم بستر تیار ہوتا تھا اور میں راتوں کو آپ کی عبادتوں میں گزارتا تھا۔ اور اپنے نفس کو اس طرح ڈانٹ دیتا تھا کہ تو اس لئے نہیں پیدا کیا گیا ہے ۔ اور میں اے اللہ آپ کی رضا مندی کی طلب میں اپنی راحت اور آرام ترک کر دیا کرتا تھا۔ 

تندرستی کے برابر تکلیفیں برداشت کروں گا

حضرت ایوب علیہ السلام کا پورا جسم پھوڑوں اور زخموں سے بھرا ہوا تھا۔ اس لئے آپ علیہ السلام کسی بھی سخت یا نرم چیز پر بیٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ اور لیٹ بھی نہیں سکتے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ ( دونوں جلیل القدر تابعی ہیں) فرماتے ہیں۔ سات سال اور کئی مہینے آپ علیہ السلام بیماری میں مبتلا رہے۔ لوگوں نے بستی کے باہر آپ علیہ السلام کو ڈال دیا تھا۔ بدن میں کیڑے پڑ گئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر اپنا رحم و کرم فرمایا اور تما م بلاﺅں سے نجات دی اور اجر و ثواب عطا فرمایا اور تعریفیں کیں۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام پورے تین سال تکلیف میں مبتلا رہے۔ سارا گوشت جھڑ گیا۔ صرف ہڈیاں اور چمڑی رہ گئے تھے۔ آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا ہی پاس رہتی تھیں۔ اور خدمت کرتی تھیں۔ ایک روز آپ رضی اللہ عنہا عرض کرنے لگیں کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہیں کرتے کہ وہ اس مصیبت کو ہم پر سے ٹال دے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے اللہ کی نیک بندی اور میری پیاری بیوی رضی اللہ عنہا، اللہ تعالیٰ نے مجھے ستر70برس تک تندرست رکھا اور صحت و عافیت عطا فرمائی ہے۔ اگر میں ستّر سال تک اس بیماری اور تکلیف میں مبتلا رہوں او ر صبر کروں تو یہ بھی بہت کم ہے۔ اس پر آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا کانپ اٹھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا شہر میں جاتی تھیں اور لوگوں کا کام کاج کر کے جو کچھ بھی ملتا تھا وہ لے کر اپنے شوہر کے پاس آتی تھیں اور آپ علیہ السلام کو کھلاتی پلاتی تھیں۔

اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ میں صبر کرتا ہوں یا نہیں 

اللہ تعالیٰ کی حضرت ایوب علیہ السلام پر آزمائش جاری تھی۔ اور آپ علیہ السلام انتہائی صبر و شکر سے اس عظیم آزمائش سے گزر رہے تھے۔ لیکن ابلیس شیطان سے آپ علیہ السلام کا صبر وہ شکر برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ اور وہ آپ علیہ السلام کی کامیابی کو ناکامی میں بدلنا چاہتا تھا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کے دو دوست اور دلی خیر خواہ فلسطین ( اُس وقت کا ملک کنعان) میں رہتے تھے۔ ابلیس شیطان نے انسانی شکل میں جا کر اُن دونوں کو خبر دی کہ تمہارا دوست سخت مصیبت میں مبتلا ہے۔ تم جاﺅ اور ان کی خبر گیری کرو اور اپنے یہاں سے شراب اپنے ساتھ لے جاﺅ۔ وہ اسے پلا دینا اور وہ تندرست اور اچھا ہو جائے گا۔ دونوں دوست حضرت ایوب علیہ السلام کے پاس آئے۔ اور آپ علیہ السلام کی حالت دیکھ کر بلبلا کر رونے لگے۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ تم دونوں کون ہو؟ انہوں نے یاد دلایا تو آپ علیہ السلام پرانے دوستوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہیں مرحبا( خوش آمدید) کہا۔ وہ دونوں کہنے لگے۔ اے دوست، آپ علیہ السلام شاید کوئی چھپاتے رہے ہوں گے اور ظاہر کے خلاف کر رہے ہوں گے؟ آپ علیہ السلام نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ اللہ تعالٰ سب سے بہتر جانتا ہے کہ میں نے کیا چھپایا ہے اور کیا ظاہر کیا ہے۔ اور میرے رب نے مجھے اس آزمائش میں اس لئے مبتلا کیا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ میں صبر کرتا ہوں یا بے صبری کرتا ہوں ۔ وہ دونوں کہنے لگے۔ اچھا ہم آپ علیہ السلام کے لئے دو ا لائے ہیں۔ آپ یہ دوا پی لیں آپ علیہ السلام کی بیماری اچھی ہو جائے گی اور شفاءحاصل ہو گی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ کیا ہے؟ تو اُن دونوں نے جواب دیا۔ یہ وہ شراب ہے جو ہم اپنے علاقے سے لے کر آئے ہیں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام اُن دونوں پر بہت شدید ناراض ہو گئے اور فرمایا۔ تمہیں ابلیس شیطان خبیث لایا ہے اور تم دونون سے بات کرنا اور تمہارا لایا ہوا کھانا اور پینا مجھ پر حرام ہے۔ یہ سن کر وہ دونوں واپس چلے گئے۔

زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت گزاری

حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کے دوران آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ یعنی بیوی رضی اللہ عنہا دل و جان سے خدمت کرتی تھی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اس خوش قسمت خاتون رضی اللہ عنہا نے آپ علیہ السلام کا خوب ساتھ نبھایا۔ اور اُن کی شفقتوں اور گزرے ہوئے احسانات کی پوری پاسداری کی۔ وہ آپ علیہ السلام کو قضائے حاجت کے لئے جاتی تھیں۔ وہ آپ علیہ السلام کی بیماری میں آپ علیہ السلام کی مسلسل دیکھ بھال کرتی رہتی تھیں۔ اور ایک لمحہ کے لئے جدا نہیں ہوئیں۔ آپ علیہ السلام کے لئے راکھ اٹھا کر لاتیں اور دوسری ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتیں۔ یہاں تک اس بے چاری کی بھی حالت نا گفتہ ہو گئی۔ ایک پھوٹی کوڑی بھی ہاتھ میں نہیں رہی۔ لیکن لوگوں کے گھروں میں اجرت پر کام کرکے اپنے شوہر کے لئے کھانے اور دوا کا بندو بست کرتی رہیں۔ مال و دولت چھن گیا تھا۔ اولاد ِ داغِ جدائی دے گئی۔ حضرت ایوب علیہ السلام بیماری سے لاچار ہو گئے۔ تمام غلام اور خدام ساتھ چھوڑ گئے۔ اپنوں نے منہ موڑلیا۔ لیکن سعادت مند اور صابر و شاکر اللہ کی بندی نے اپنے شوہر ، اللہ کے نبی علیہ السلام کا ساتھ نہیں چھوڑا ۔ بلکہ اُن کی زبان سے ایک ہی کلمہ نکلتا رہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

بیماری کے دوران بھی دوسروں کے حقوق کا خیال

حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ دوسروں کے گھروں میں کام کرتی تھیں اور بدلے میں وہ لوگ کھانا اور پیسے دے دیا کرتے تھے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے ایک گھر میں روٹیاں پکائیں تو جب وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہا کوکھانا دینے لگے تو اس وقت اُن کا بیٹا سویا ہوا تھا۔ اسی لئے اُن لوگوں نے اس بچے کے حصے کی ٹکیا بھی آپ رضی اللہ عنہا کو دے دی۔ جب وہ اپنے شوہر کے پاس آئیں تو آپ علیہ السلام نے اس ٹکیا کے بارے میں دریافت فرمایا۔ انہوںنے پورا واقعہ بیان کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ابھی فوراً واپس جاﺅ۔ ممکن ہے بچہ جاگ گیا ہو اور اسی ٹکیا کے لئے ضد کر رہا ہو اور رو رو کر سارے گھر والوں کو پریشان کر رہا ہو۔ آپ رضی اللہ عنہا فوراً وہ ٹکیا لے کر واپس چلیں۔ اُس گھر والوں کی ڈیوڑھی پر ایک بکری بندھی ہوئی تھی تو اس نے زور سے آپ رضی اللہ عنہا کو ٹکر ماری ۔ تو آپ رضی اللہ عنہا کی زبان سے بے ساختہ نکل گیا ۔ اللہ تعالیٰ میرے شوہر پر رحم فرمائے۔ بلا وجہ مجھے تکلیف دی۔ پھر گھر کے اندر گئیں تو دیکھا کہ واقعی بچہ جاگا ہوا اور ٹکیا کے لئے مچل رہا ہے۔ اور گھر بھر کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہا کی زبان سے بے ساختہ یہ نکلا۔ اللہ تعالیٰ میرے شوہر پر رحم فرمائے۔ انہوں نے اچھے موقع پر ٹکیہ واپس پہنچا کر حقدار کو اس کا حق ملنے میں مدد کی۔

زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے ذریعے بہکانا چاہا

حضرت ایوب علیہ السلام انتہائی صبر اور شکر سے اللہ کی آزمائش سے گزر رہے تھے۔ اور مسلسل اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہے تھے اور تکلیفوں پر صبر کر رہے تھے۔ ابلیس شیطان آپ علیہ السلام کا یہ صبر اور شکر اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ دیکھ کر چیخ پڑا اور روئے زمین پر موجود اپنے تمام چیلوں کو جمع کیا۔ انہوں نے پوچھا ۔ تم اتنے پریشان کیوں دکھائی دے رہے ہو؟ اُس مردود ملعون ابلیس نے کہا۔ مجھے تو اللہ کے اس بندے ( حضرت ایوب علیہ السلام ) نے عاجز کر دیا ہے۔ جس کا میں نے مال اور اولاد تباہ کر دیا۔ لیکن ہر تکلیف پر اس کے صبر اور شکر میں اضافہ ہوتا تھا۔ پھر مجھے اس کے جسم پر قابو دیا گیاتو میں نے اسے بہت زیادہ جسمانی تکلیف میں مبتلا کر دیا۔ لیکن اس کے بعد اس کا اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسہ اور زیادہ بڑھ گیا۔ اور میں اپنی ہر کوشش کر کے بھی اس کے ، اللہ تعالیٰ کے بھروسے کو نہیں توڑ سکا۔ اور اس کے صبر کو نہیں توڑ سکا۔ اور یہ اس عالم میں بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر رہا ہے ۔ چیلوں نے کہا۔ تم وہ چال اور حیلہ سازیاں استعمال کیوں نہیں کر تے جن کی وجہ سے پچھلے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ ابلیس بولا میں اپنا ہر حربہ استعمال کر چکا ہوں۔ اب تم لوگ کوئی تدبیر سوچو۔ ایک چیلے نے کہا۔ تم عورت کے ذریعے انہیں بہکانے کی کوشش کر سکتے ہو۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ اُن کی بہت خدمت کرتی ہے۔ اسی لئے وہ اس کی بات نہیں ٹالیں گے۔ ابلیس نے کہا ٹھیک ہے ۔ اور ایک طبیب( ہماری زبان میں ڈاکٹر) بن کر انسانی شکل میں آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور پوچھا ۔ اے اللہ کی بندی تیرے شوہر کہاں ہیں؟ انہوں نے جو اب دیا۔ یہ راکھ پر پڑے ہیں۔ یہی میرے شوہر ہیں۔ ابلیس مردود نے اُن کے دل میں وسوسہ پیدا کیا۔ اور پچھلی نعمتوں اور آرام و آسائش اور تندرستی کے جو حالات گزر چکے ہیں انہیں اس انداز میں اُن کے سامنے پیش کیا کہ وہ سنہرے دن اُن کی آنکھوں کے سامنے گزرنے لگے اور وہ رونے لگیں۔ ابلیس نے فوراً موقع دیکھ کر کہا کہ اپنے شوہر سے کہو کہ غیر اللہ کے نام پر اس بکری کو ( وہ اپنے ساتھ لایا تھا) ذبح کردیں تو تندرست ہو جائیں گے۔ انہوں نے بکری لی اور آپ علیہ السلام سے آکر گذارش کی کہ ایک طبیب نے کہا ہے کہ اسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کر دیں آپ علیہ السلام تندرست ہو جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ پر توکل ( بھروسہ)

حضرت ایوب علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے طبیب کی بات بتائی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ ابلیس شیطان ایک طبیب کی شکل میں زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور بولا ۔ تمہارے شوہر برسوں سے اس تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ اور تم بھی اتنی تکلیف اٹھا رہی ہو۔ اپنے شوہر سے کہو کہ فلاں بت کے نام پر ایک مکّھی مار دیں۔ وہ تندرست ہو جائیں گے ۔ آپ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کی خدمت میں آئیں اور طبیب کی بات عرض کی۔ حضرت ایوب علیہ السلام یہ سن کر غصے میں آگئے اور فرمایا۔ اے اللہ کی بندی، وہ ابلیس شیطان تھا۔اور تیرے ذریعے میرے صبر اور شکر کو توڑنا چاہتا تھا۔ حالانکہ تو یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ مجھے اپنے اللہ تعالیٰ پر اتنا بھروسہ ہے کہ میں صرف ایک دعا کروں گا اور اللہ تعالیٰ فوراً میری تکلیف اور مصیبت ختم کر دے گا۔ لیکن میں بھی یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ مجھ سے کب تک صبر اور شکر ہو سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میرا بندہ ایوب ( علیہ السلام ) میری آزمائش پر کتنا صبر اور شکر ادا کر سکتا ہے۔ اور میں قسم کھاتا ہوں کہ جب اللہ تعالیٰ مجھے تندرستی اور شفاءعطا فرمائے گا تو میں تجھے سو 100کوڑے ماروں گا۔ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ نے یہ گفتگو سنی تو سمجھ گئیں کہ ابلیس شیطان نے مجھے بہکایا ہے ۔ وہ فوراً توبہ کرنے لگیں۔

حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ایوب ( علیہ السلام ) کی اُس حالت کو یاد کرو جب اُس نے اپنے رب ( اللہ تعالیٰ) کو پکارا۔ ( اے اللہ تعالیٰ) مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے۔ اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ “ ( سورہ الانبیاءآیت نمبر83) اللہ تعالیٰ نے سورہ صٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہمارے بندے ایوب ( علیہ السلام ) کا ذکر کرو۔ جب اُ س نے اپنے رب ( اللہ تعالیٰ ) کو پکارا کہ شیطان نے مجھے رنج اور دکھ پہنچایا ہے۔“ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر41) ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا ہے۔ ان الفاظ پر غور کریں اور حضرت ایوب علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسہ کا اندازہ کریں ۔ سورہ الانبیاءکی آیت میں الفاظ ” مَسَّنی ِ الضُّرُّ “ ہے۔ یعنی تکیف نے مجھے چھو لیا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ سے آپ علیہ السلام نے صرف اپنی تکلیف کا ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی۔ آپ علیہ السلام کو اتنا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور میری تکلیف دور فرمائیں گے۔ اتنے برسوں تک بیماری میں مبتلا رہنے کے بعد آخر آپ علیہ السلام نے کیوں دعا مانگی اور کس تکلیف نے آپ علیہ السلام کے دل کو چھو لیا تھا۔ اس کی وجہ ایک واقعہ ہے۔

دعا مانگنے کی وجہ

حضرت ایوب علیہ السلام کی آزمائش جاری تھی۔ اور آپ علیہ السلام انتہائی صبر اور شکر سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر رہے تھے۔ لیکن ایک واقعہ نے آپ علیہ السلام کےدل کو چھو لیا۔ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا سے بہت محبت کرتے تھے۔ اور وہ بھی بے حد محبت کرتی تھیں۔ اور برسوں آپ علیہ السلام کی ایسے وقت میں خدمت کرتی رہیں ۔ آپ علیہ السلام کے پورے بدن پر پھوڑے تھے اور اُن سے مواد ( پیپ) بہتی رہتی تھی۔ اگر آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کرتیں تو پھوڑوں کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو بہت شدید تکلیف ہوتی تھی اور اُن کی بیوی رضی اللہ عنہا کے ہاتھوں میں مواد بھر جاتی تھی۔ اسی لئے انہوں نے اس کاراستہ یہ نکالا کہ اُن کے بال بہت لمبے لمبے تھے وہ اپنے بالوں کو لٹکا کر آپ علیہ السلام پر جھک جاتی تھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کی ہتھیلیاں اور تلوے کسی حد تک محفوظ تھے۔ اسی لئے حضرت ایوب علیہ السلام اپنی ہتھیلیوں سے مضبوطی سے اُن کے بالوں کو پکڑ لیتے تھے۔ اور ان کے سہارے اٹھ کر کھڑے ہوتے تھے۔ اور پیشاب اور پاخانے کے لئے جاتے تھے۔ پھر واپس آکر اسی طرح اپنی بیوی رضی اللہ عنہا کے بالوں کو پکڑ کر بیٹھتے یا لیٹے تھے۔ جب کئی برس گزر گئے تو ابلیس شیطان نے لوگوں کے دلوں میں وسوسے پیدا کرنا شروع کر دیاکہ حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی رضی الہ عنہا کو کام نہیں دیا جائے ۔ کہیں ایس انہ ہو کہ ان کے ذریعے حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری ہمارے اندر آجائے۔ اس طرح تمام بستی والوں نے آپ رضی اللہ عنہا کو کام نہیں دیا۔ اور بھوکوں مرنے کی حالت ہو گئی۔ کئی دنوں کی بھوکی آپ رضی اللہ عنہا لوگوں سے کام مانگ رہی تھیں کہ ایک امیر عورت نے کہا۔ تمہارے بال بہت خوب صورت ہیں۔ یہ مجھے دے دو تو میں تمہیں بہت سارا کھانا دوں گی۔ آپ رضی اللہ عنہا نے اپنا سر منڈوا کر سارے بال اسے دے دیئے۔ اور بدلے میں بہت سارا کھانا لے کر اپنے شوہر کے پاس آئیں۔ آپ علیہ السلام نے حیرانی سے دریافت فرمایا کہ اتنا سارا کھانا کہاں سے آیا تو آپ رضی اللہ عنہا خاموش رہیں۔ جب بہت اصرار کیا تو بتایا کہ اپنا سارا بال اس کھانے کے بدلے دے آئی ہوں۔ اور اپنا سر کھول کر دکھایا تو وہ منڈا ہوا تھا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی پیاری بیوی کی یہ حالت دیکھی تو دل دکھ گیا اور پھر آپ علیہ السلام نے دعا فرمائی۔

اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا

حضرت ایوب علیہ السلام نے جب اپنی پیاری زوجہ محترمہ کو اس حال میں دیکھا تو بہت تکلیف ہوئی اور اس تکلیف نے آپ علیہ السلام کے دل کو چھو لیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے بیماری ہے اور تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے۔ اور شیطان نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے۔ اور اے اللہ تعالیٰ، آپ ہی سب سے زیادہ رحم کرنے والے ہیں۔ دیکھا آپ نے ، اگر ہم بیمار ہوتے ہیں تو پہلے تو اپنی تکلیف لوگوں کو بار بار بتاتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد بار بار اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اس بیماری اور تکلیف سے نجات دے۔ اور اب حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا پر غور کریں۔ آپ علیہ السلام نے تو دنیا میں کسی سے اپنی تکلیف بیان نہیں فرمائی۔ اور جب اللہ تعالیٰ سے بھی عرض کیا تو بس اتنا ہی کہا کہ شیطان نے مجھے بہت دکھ اور تکلیف پہنچائی ہے۔ اور اب یہ درد میرے دل تک پہنچنے لگا ہے۔ اس کے بعد یہ دعا نہیں فرمائی کہ مجھے اس بیماری سے نجات دے۔ بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان فرمائی۔ یہ اللہ تعالیٰ پر آپ علیہ السلام کا مکمل یقین اور بھروسہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندے کے انتظار میں تھا کہ میرا بندہ کب مجھے پکارے اور میں اس کے اوپر رحم کروں ۔ اور رحم بھی کر دیا۔

مَسَّنِی الضُّرُُّّ ( تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے ) 

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ایوب ( علیہ السلام ) کی حالت کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب ( اللہ تعالیٰ ) کو پکارا ۔ کہ مجھے بیماری لگ گئی ہے۔ ( تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے) اور تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ یا تو سب رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔“ (سورہ الانبیاءآیت نمبر83) حضر ت ایوب علیہ السلام کی اس دعا کے بارے میں بہت سی روایات ہیں۔ ان میں سے سترہ یا اٹھارہ روایتیں امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھی ہیں۔ اُن میں سے چند ہم آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ حضرت ایوب علیہ السلام کو ایوب اس لئے کہا جاتا ہے کیوں کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرنے والے تھے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے قول ” مَسَّنِی الضُّرُّ“کے بارے میں تو علمائے کرام کے پندرہ اقوال ہیں اور مجھے ( امام قرطبی کو) تحقیق کے بعد دو اقوال معلوم ہوئے ہیں۔ 

مَسَّنِی الضُّرُّکے بارے میں اقوال

حضرت ایوب علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ تکلیف نے میرے دل کو چھو لیا ہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں اس بارے میں یہ اقوال ہیں۔ 1) حضرت ایوب علیہ السلام نماز پڑھنے کے لئے اٹھے تو آپ علیہ السلام اٹھ نہیں سکے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 2) یہ عجز کا اقرار ہے اور صبر کے منافی نہیں ہے۔ 3) اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زبان سے یہ الفاظ جاری کروائے۔ تا کہ آزمائش میں مبتلا ہونے والے لوگوں کے لئے حجت بن جائے۔ 4) حضرت ایوب علیہ السلام پر چالیس دن تک وحی کا سلسلہ منقطع رہا۔ آپ علیہ السلام کو خوف ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں آپ علیہ السلام کو چھوڑ تو نہیں دیا۔ اسی لئے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 5) اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی زبان پر یہ کلمہ اس لئے جاری کروایا کہ انسان تکلیف برداشت کرنے میں ضعیف اور کمزور ہے۔ اسی لئے تمام انسانوں پر اپنی مہربانی کرنے کے لئے آپ علیہ السلام سے کہلوایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 6) آپ علیہ السلام کو کیڑے کھاتے رہے تو آپ علیہ السلا م صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ایک کیڑے نے دل پر حملہ کیا اور دوسرے کیڑے نے زبان پر حملہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ تاکہ آپ اللہ کے ذکر سے محروم نہ ہو جائیں۔ 7) جب لوگوں نے آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا کو کام نہیں دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 8) دو شخصوں نے کہا کہ ( نعوذ باللہ ) آپ علیہ السلام کی کسی غلطی کی سزا ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایامَسَّنِی الضُّرُّ۔ 9) حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا کو جب کسی نے کام نہیں دیا تو انہوں نے اپنے بالوں کو بیچ دیا۔ اور کھانا لے کر آئیں ۔ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کے بالوں کا سہارا لے کر اٹھتے بیٹھتے تھے جب بالوں کو نہیں پایا تو حرکت نہیں کر سکے تو فرمایا مَسَّنِی الضُّرُّ۔

اپنے پیر کو زمین پر مارو

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت ایوب علیہ السلام سے فرمایا) اپنا پاﺅں زمین پر مارو ۔ یہ نہانے کا ٹھنڈا اور پینے کا پانی ہے “ ( سورہ ص ٓ آیت نمبر42) اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر اپنا پیر مارو۔ آپ علیہ السلام نے اپنا پیر مارا تو زمین میں گڑھا ہو گیا اور اس میں سے پانی نکلنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ ٹھنڈا اور میٹھا پانی ہے۔ اسے پیﺅ اور اس سے نہاﺅ۔ آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا اس وقت کہیں کام کی تلاش میں گئی ہوئی تھیں۔ آپ علیہ السلام نے اس پانی کو پیا اور اس سے غسل کیا۔ غسل کرتے ہی آپ علیہ السلام کی بیماری اچھی ہو گئی۔ اور پورے بدن کے زخم اچھے ہو گئے اور ان کا نام و نشان بھی مٹ گئے۔ اور آپ علیہ السلام کا بدن مبارک اور چہرہ مبارک اور زیادہ خوب صور ت ہو گئے۔ علامہ عبدالرزاق بھترالوی لکھتے ہیں۔ آپ علیہ السلام کو حکم ہو ا کہ اپنا پاﺅں زمین پر ماریں تو اس سے چشمہ جاری ہو گا اس پانی کو پیﺅ اور اس سے غسل کرو۔ آپ علیہ السلام نے غسل کیا تو جسم مبارک کی تمام ظاہری بیماری اچھی ہو گئی۔ اور پینے سے اندرونی طور پر شفاءحاصل ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو جنتی لباس پہنایا۔ اور آپ علیہ السلام وہاں سے کچھ دور پر بیٹھ گئے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حضرت ایوب علیہ السلام کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنا پیر زمین پر مارا تو گرم پانی کا چشمہ ظاہر ہوا۔ جبرئیل علیہ السلام نے آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور اسے جھاڑا تو تمام کیڑے گر گئے۔ اور آپ علیہ السلام کو پانی میں داخل کر دیاتو گوشت پیدا ہو گیا اور آپ علیہ السلام اپنی جگہ واپس لو ٹ آئے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے زمین پر پاﺅں مارا تو پانی کا چشمہ جاری ہو گیا۔ آپ علیہ السلام نے اس سے غسل فرمایا تو جسم مبارک پر بیماری کا کوئی نشان نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی ہر تکلیف اور ہر بیماری دور فرما دی اور آپ کا حسن و شباب پہلے سے کہیں زیادہ نکھر کر آگیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے ایک قیمتی جوڑا زیب تن کیا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام ایک بلند جگہ پر بیٹھ گئے۔

٭ زوجہ محترمہ ( بیوی) رضی اللہ عنہا پہچان نہیں سکیں

 اللہ تعالیٰ نے جس وقت حضرت ایوب علیہ السلام کو مکمل شفاءاور خوب صورتی عطا فرمائی تو اس وقت آپ علیہ السلام کی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کام کی تلاش میں گئی ہوئی تھیں۔ جب آپ رضی اللہ عنہا کو کام نہیں ملا تو خالی ہاتھ واپس اپنے شوہر کے پاس آئیں۔ تو دیکھا جس راکھ کے بستر پر ان کے شوہر لیٹے رہتے تھے وہ خالی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا پریشان ہو گئیں اور حیرانی اور پریشانی کے عالم میں بے تابی سے اپنے شوہر کو تلاش کررہی تھیں ۔ انہوں نے دیکھا کہ کچھ دور پر ایک انتہائی خوب صورت شخص بہترین لباس میں بیٹھا ان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ آپ علیہ السلام اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کی بے تابی اور پریشانی مسکراتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ آکر کار وہ آپ علیہ السلام کے پاس آئیں لیکن پہچان نہیں سکیں اور پوچھنے لگیں ۔ اے اللہ کے نیک بندے، یہاں ایک بیمار شخص تھے۔ تم جانتے ہو وہ کہاں گئے ہیں۔ کہیں بھیڑ یا تو نہیں اٹھا لے گیا۔ بار بار پریشانی سے آپ رضی اللہ عنہا پوچھ رہی تھیں۔ حضرت ایوب علیہ السلام مسکراتے ہوئے اسے دیکھتے رہے۔ پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا۔ اری نیک بخت اللہ تجھ پر رحم فرمائے، میں ہی ایوب ( علیہ السلام ) ہوں اور اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاءعطا فرمائی ہے۔

پہلے سے زیادہ مل گئے

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے اسے ( حضرت ایوب علیہ السلام کو ) اس کا پورا کنبہ عطا فرمایا۔ بلکہ اتنا ہی اور بھی عطا فرمایا۔ اسی کے ساتھ اپنی خاص رحمت بھی عطا فرمائی۔ اور یہ عقل مندوں کے لئے نصیحت ہے۔ “ (سورہ ص ٓ آیت نمبر43) اس کی تفسیر میں تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے کہ یہ جو فرمایا کہ ہم نے اُن کا کنبہ واپس کر دیا اور اُن جیسے اور بھی دیئے۔ اس کے بارے میں مفسرین نے دونوں احتمال لکھے ہیں۔ کہ صحت و عافیت کے بعد یا تو اُن کو اتنی گمشدہ اولاد واپس کر دی گئی جو اُن سے جدا ہو گئی تھی۔ اور اگر وفات پا گئی تو اتنے ہی اُن کی جگہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما دیئے۔ علامہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ مروی ہے کہ آپ علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ تمہارے سب آل اولاد جنت میں ہیں ۔ تم کہو تو ان سب کو دنیا میں لا دیا جائے اور اگر کہو تو وہیں جنت میں رہنے دیا جائے۔ اور دنیا میں تمہیں ان کا عوض عطا فرما دیا جائے۔ آپ علیہ السلام نے دوسری بات پسند فرمائی۔ پس آخرت کا اجر اور دنیا کا بدلہ دونوں آپ علیہ السلام کو ملا۔

مال و دولت بھی زیادہ عطا کر دیئے گئے

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا عطا فرمائی تو اولاد کے ساتھ ساتھ مال و دولت سے بھی نواز۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا و عافیت عطا فرمائی تو آسمان سے اُن کے اوپر سونے کی ٹڈیاں برسائیں۔ جنہیں لے کر آپ علیہ السلام نے اپنے کپڑے میں جمع کرنی شروع کر دی۔ تو آواز آئی۔ اے ایوب (علیہ السلام ) کیا تم آسودہ نہیں ہوئے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے اللہ تعالیٰ ، تیری رحمت سے کون آسودہ حال ہو سکتا ہے؟ علامہ عبدالرزاق لکھتے ہیں کہ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے سونے کی مکڑیوں کی بارش کی۔ آپ علیہ السلام پکڑ پکڑ کر اپنے کپڑے میں رکھتے رہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے اپنی چادر بچھادی اور اس میں جمع کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ایوب ( علیہ السلام ) ، تم سیر نہیں ہوئے؟ تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، تیرے فضل سے کون سیر ہو سکتا ہے؟ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ جس پانی سے آپ علیہ السلام نے غسل فرمایا تھا اس کے چھینٹوں سینے پر سونے کی مکڑیاں اڑنے لگیں اور آپ علیہ السلام نے انہیں جمع کر کے رکھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی۔ اے ایوب علیہ السلام ، کیا میں نے تجھے غنی نہیں کر دیا؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کیوں نہیں ۔ لیکن اے اللہ تعالیٰ یہ تیری رحمت اور برکت ہے اور تیری رحمت اور برکت سے کون سیر ہو سکتا ہے؟

بیماری کا عرصہ 

حضرت ایوب علیہ السلام کتنے عرصہ بیماری میں مبتلا رہے؟ اس کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف روایات ہیں۔ قاضی ثناءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں۔ کہ امام بغوی فرماتے ہیں کہ ابن شہاب ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل فرمائی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام اٹھارہ 18سال مصیبت میں مبتلا رہے۔ حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام پورے تین3سال مصیبت میں گرفتار رہے۔ ایک دن بھی زائد نہیں تھا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ علیہ السلام سات7سال مصیبت میں مبتلا رہے۔ بعض علمائے کرام نے لکھا ہے کہ سات سال ، سات مہینے اور سات دن مصیبت میں مبتلا رہے۔ امام قرطبی لکھتے ہیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کتنی مدت آزمائش میں مبتلا رہے اس میں اختلاف ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ آزمائش کی مدت سات سال ، سات مہینے، سات دن اور سات راتیں تھیں۔ حضرت وہب بن عنبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تیس سال آزمائش میں مبتلا رہے۔ امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سات سال چھ مہینے آزمائش میں مبتلا رہے۔ میں (امام قرطبی) کہتا ہوں ان میں اصح، اٹھارہ سال ہے جو امام ابن شہاب رحمتہ اللہ علیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور امام عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اسی کو روایت کیا ہے۔

قسم پوری کرنے کا حکم

اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اپنے ہاتھ میں تنکوں کا ایک مٹھا ( جھاڑو) لے کر ماردو اور اپنی قسم پوری کرو ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اسے ( حضرت ایوب علیہ السلام کو) بڑا صابر بندہ پایا۔ وہ بڑا نیک اور رغبت رکھنے والا بندہ تھا۔ “ (سورہ ص ٓ آیت نمبر44) آپ کو یاد ہو گا کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی زوجہ محترمہ رضی اللہ عنہا کو سو 100کوڑے ماریں گے۔ جب آپ علیہ السلام کی آزمائش ختم ہو گئی تو یہ فکر ہوئی کہ قسم کو پوری کیا جائے۔ لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی رضی اللہ عنہا نے اتنی زیادہ تکلیفیں اور مصیبتیں آپ علیہ السلام کے ساتھ اٹھائی تھیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے سزا میں تخفیف کا حکم فرمایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کی بیوی رحمت پر رحم فرمایا۔ کیوں کہ انہوں نے تکلیف کے وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ صبر کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے حکم میں تخفیف فرما دی۔ اور حضرت ایوب علیہ السلام کو قسم پوری کرنے کی یہ تدبیر بتائی کہ چھوٹی چھوٹی لکڑیوں کا گٹھا لو اور اس سے مارو۔ یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کا آزمائش میں ساتھ دیا تھا اور صبر کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایک گھاس کا گٹھا لو جس میں سو100شاخیں ہوں تو آپ علیہ السلام نے ایک شاخ لی جس میں سو باریک شاخیں تھیں۔ اس سے اپنی بیوی محترمہ رضی اللہ عنہا کو ایک دفعہ مارا۔ تو قسم پوری ہو گئی۔ اس بارے میں کئی روایات ہے کہ گھاس کے گٹھے سے مارا۔ سو 100تنکے والی لمبی جھاڑو سے مارا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

حضرت ایوب علیہ السلام کی شان میں بائیبل میں گستاخیاں

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضرت ایوب علیہ السلام کو اپنا ایک انتہائی صابر اور شاکر بندہ بتایا ہے۔ اور آزمائش میں آپ علیہ السلام نے ایک ایسے صابر اور شاکر شخص کی سیرت پیش کی ہے جس میں ہر نیک اور اچھے انسان کے لئے نمونہ ہے۔ اس کے الٹ بائیبل میں آپ علیہ السلام کو ایک ایسا انسان بتایا گیا ہے جس میں آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کی گئی ہیں۔ مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ اس قصے میں قرآن مجید حضرت ایوب علیہ السلام کو اس شان سے پیش کرتا ہے کہ آپ علیہ السلام صبر کی تصویر نظر آتے ہیں۔ اور پھر کہتا ہے کہ ان کی زندگی نیک لوگوں اور عبادت گزاروں کے لئے نمونہ ہے۔ لیکن دوسری طرف بائیبل ی سفرِ ایوب پڑھیئے تو وہاں آپ کو ایک ایسے شخص کی تصویر نظر آئے گی جو ( نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ کے خلاف مجسم شکایت اور عیسائیوں یعنی نصاریٰ نے توریت اور انجیل ( ان کے مجموعہ کو بائیبل کہا جاتا ہے ) میں بہت سی ملاوٹ کر دی ہے۔ اور خاص طور سے انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں ایسی ایسی گستاخیاں کی ہیں کہ قلم اُن گستاخیوں کو لکھنے سے قاصر ہے۔ اور روح کانپ جاتی ہے۔

صبر اور شکر کرنے سے اللہ تعالیٰ اجر عطا فرماتا ہے

 اللہ تعالیٰ نے سورہ ص ٓ کی آیت نمبر43کے آخر میں فرمایا۔ کہ( ترجمہ )”ا س میں (حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعہ میں) عقل مندوں کے لئے نصیحت ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ میں بتایا کہ حضرت ایوب علیہ السلام نے کس طرح صبر اور شکر ادا کر کے ابلیس شیطان کے حربوں کو ناکام بنایا ہے۔ اور آزمائش پر پورے اترے ہیں۔ اسی طرح جب بھی اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کا امتحان اور آزمائش لے گا اور وہ شخص حضرت ایوب علیہ السلام کی طرح اللہ کی رضا کے لئے صبر کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے گا اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے گا تو بدلے میں اللہ تعالیٰ اس بندے سے بہت خوش ہوگا۔ اور اسے دنیا میں بھی عطا فرمائے گا اور آخرت میں بھی عطا فرمائے گا۔ اسی لئے ہر عقل مند شخص اس واقعہ سے نصیحت حاصل کرے گا۔ اور بے وقوف قصہ کہانی سمجھ کر پڑھے گا اور گزر جائے گا۔

اگلی کتاب

قارئین کرام ، حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا

اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت شعیب علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔

  ٭........٭........٭


اتوار، 30 اپریل، 2023

01 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf




01 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 1

قارئین کرام ، حضرت لوط علیہ السلام کے حالات بیان کرنے کے دوران ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت اسحاق، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات انشاءاللہ آپ کی خدمت میں پیش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس کی مدد سے ہم اپنا وعدہ پورا کررہے ہیں۔ان تینوں انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات تسلسل سے ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اس لئے آپ کو ادھورا پن نہ لگے یہی ذہن میں رکھ کر ان تینوں کے حالات ہم ایک ساتھ پیش کر رہے ہیں۔

حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کی بشارت

حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام کی بشارت کے بارے میں ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام (سلسلہ نمبر 7) اور حضرت لوط علیہ السلام (سلسلہ نمبر8) میں ہم بتا چکے ہیں۔ یہاں ہم صرف قرآن پاک کی آیات پیش کرر ہے ہیں۔ تاکہ ادھورے پن کا احساس نہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ہمارے بھےجے ہوئے قاصد ابراہیم( علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لیکر پہونچے اور سلام کیا۔ انھوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور بغےر کسی تاخیر کے گائے کا بھنا ہوا بچھڑا لے آئے ۔ جب دیکھا کہ وہ لوگ (مہمان)کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں تو دل ہی دل میں پریشان ہوئے۔ انھوں نے کہا۔آپ علیہ السلام پریشان نہ ہوں۔ ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ ان کی (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی) جو بےوی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ ہنس پڑی۔ تو ہم نے (یعنی ہمارے قاصدوں نے) اسے اسحاق( علیہ السلام )اوران کے بعد (ان کے بےٹے) یعقوب (علیہ السلام ) کی بشارت دی۔ وہ کہنے لگی ہائے میری کمبختی ، مجھے اولاد کیسے ہوسکتی ہے جبکہ میں بوڑھی ہوچکی ہوں اور مےرے شوہر کی عمر مجھ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ تو یقینا بڑی عجےب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا۔ تم اللہ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟ تم پر اے اس گھر کے لوگو اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔ بےشک وہ ہی تمام حمد و ثنا کے لائق ہے اور بڑی شان والا ہے۔ “(سورہ ہود آےت نمبر69سے 73تک)اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ ترجمہ۔” انھیں ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا حال سنا دو۔ جب انھوں نے ان کے پاس آکر سلام کیا تو انھوں نے کہا۔ ہمیں تو تم سے خوف آرہا ہے۔ انھوں نے کہا۔ آپ (علیہ السلام ) خوف نہ کھائے ۔ ہم آپ (علیہ السلام ) کو ایک علیم بیٹے کی بشارت دیتے ہیں ۔ (یعنی علم والے بیٹے کی ) آپ (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم بشارت دے رہے ہو۔ یہ بشارت تم کس بنا پر دے رہے ہو؟ انھوں نے کہا۔ ہم آپ (علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ) سچی بشارت دے رہے ہیں۔ اور آپ ( علیہ السلام ) مایوس لوگوںمیں شامل نہ ہوں۔ (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا۔ اپنے رب (اللہ تعالیٰ ) کی رحمت سے مایوس تو صرف گمراہ اور بہکے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ “ (سورہ الحجر آیت نمبر 51سے 56تک) اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاء میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ ”اور ہم نے اسے اسحاق علیہ السلام عطا فرمایا اور پھر مزید یعقوب علیہ السلام بھی عطا فرمایا۔( سورہ الانبیاء آیت نمبر 72)

حضرت اسحاق علیہ السلام کا نکاح

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک بیٹے کی بشارت دی اور فرمایا کہ وہ علم والا ہوگا۔ یہ بشارت آپ علیہ السلام کو اس وقت ملی جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ پیش آچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بشارت دینے کے ساتھ ساتھ فرمایا کہ اسکا نام اسحاق علیہ السلام ہوگا۔ یعنی نام بھی اللہ تعالیٰ نے رکھا۔ اور بیٹے کی بشارت کے ساتھ ساتھ پوتے کی بھی بشارت بھی دی اور اسکا نام بھی رکھ دیا کہ اسکا نام یعقوب علیہ السلام ہوگا۔ اور اگلے سال ہی حضرت اسحاق علیہ پیدا ہوئے۔ اور اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر لگ بھگ چودہ برس تھی حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی سارہ رضی اللہ عنما اور بیٹے اسحاق علیہ السلام کے ساتھ ملک کنعان(حالیہ فلسطین) کے ایک شہر”الخلیل“ میں رہائش پذیر تھے۔ الخلیل کو حبرون بھی کہا جاتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام کی دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مکہ مکرمہ میں مقیم رہیں۔ جب حضرت اسحاق علیہ السلام جوان ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ تم کسی کنعانی لڑکی سے نکاح مت کرنا۔ بلکہ ہمارے رشتہ دار کی لڑکی سے نکاح کرنا۔ حضرت ابراہم علیہ السلام کے دو بھائی تھے۔ ایک کا نام ہاران اور دوسرے کا نام ناحور تھا۔ ناحور کے بیٹے کا نام بتویل تھا اور بتویل کے بیٹے کانام لابان تھا۔ اور بیٹی کا نام رفقاء تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ وہ رفقاء بنت بتویل سے نکاح کریں۔ اور حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے والد محترم کے حکم کو پورا کرتے ہوئے رفقاء بنت بتویل سے نکاح کرلیا۔ 

حضرت یعقوب علیہ السلام کی پیدائش 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لگ بھگ تیرہ 13 بیٹے تھے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام سب سے بڑے بیٹے ہیں ۔ ان کے بعد حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قنطورہ سے نکاح کیا۔ ان سے چھ بیٹے زمران ، یشقان ، مادان ، مدین، شیاق اور شوح پیدا ہوئے۔ اسکے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجور بنت ارہیر سے نکاح کیا۔ اور ان سے پانچ بیٹے ہوئے۔ کیسان ، شورخ ، امیم ، موطان اور نافس پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے والد کے ساتھ الخلیل میں رہے۔ اور باقی بیٹے الگ الگ علاقوں میں آباد ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو بھی اولاد سے نوازا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اہل کتاب کے بیانات کے مطابق حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی رفقاء بنت بتوابیل سے نکاح کیا تو اس وقت ان کی عمر 40چالیس سال تھی۔ اور ان کی بیوی بانجھ تھی۔ لیکن حضرت اسحاق علیہ السلام نے جب اپنی بیوی کے حق میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو اسطرح قبول کیا کہ انھیں جڑواں یعنی ایک ساتھ دو بیٹے عطا فرمائے۔ اسطرح آپ علیہ السلام کو جڑواں بیٹے عیصو اور یعقوب پیدا ہوئے۔ عیصو پہلے پیدا ہوئے پھر یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے پہلے پیدا ہونے والے بیٹے کا عیصو رکھا۔ اور بعد میں پیدا ہونے والے بیٹے کا نام یعقوب رکھا۔ اور یعقوب کے معنی ہے ۔پیچھے آنے والا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب علیہ السلام کو اسرائیل کا لقب عطا فرمایاتھا۔ اور آپ علیہ السلام کی اولاد بنو اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔

عیص (عیصو) کا نکاح

جب عیص اور حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے تو اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام زندہ تھے۔ اور آپ علیہ السلام نے دونوں پوتوں کو اپنی گود میں کھلایا۔ ان کی نوجوانی میں دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلالیا۔ اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ اور آپ علیہ السلام ملک کنعان میں اپنے والد محترم کے کام (اسلام کی دعوت) کے فرائض انجام دیتے رہے۔ جبکہ ان کے بڑے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی نبوت سے سرفراز فرمادیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام مکہ مکرمہ میں نبوت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنے بڑے بیٹے عیص کو پیار سے عیصو کہہ پکارتے تھے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام اکثر دونوں بھائی ایکدوسرے سے ملاقات کرتے تھے۔ جب عیصو جوان ہوئے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی سے فرمایا ہے اپنے بڑے بیٹے کا نکاح میری بیٹی سے کردو۔ حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے بڑے بھائی کے حکم کو پورا کیا۔ اور عیصو کا نکاح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیٹی بسمہ بنت حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کردیا۔ ان سے ایک بیٹا پیدا ہوا جن کا نام عیصو نے روم رکھا۔اور روم بن عیص کی اولاد بنو اصغر(رومی) کہلائی۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کو نبوت کی بشارت 

حضرت اسحاق علیہ السلام نے اپنے بڑے بیٹے عیص(عیصو) کا نکاح اپنے بڑے بھائی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بیٹی سے کردیا۔ تو اپنے دوسرے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کے نکاح کی فکر ہوئی۔ آپ علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بےٹے کو حکم دیا کہ وہ کسی کنعانی عورت سے نکاح نہ کریں بلکہ اپنے ماموں لابان بن بتویل یا ناحور کے پاس جائیں اور ان کی بیٹی سے نکاح کریں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے والد کے حکم کو پوراکرنے کےلئے اپنے ماموں کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستے میں ایک جگہ قیام فرمایا ۔ اور ایک پتھر سے ٹیک لگا کر یا تکیہ بنا کر سوگئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا آسمان سے فرشتے نیچے اتر رہے ہیں اور اوپر چڑھ رہے ہیں۔ اور ایک فرشتے نے آکر آپ علیہ السلام کو بشارت دی ۔کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت بھی دی کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کے سلسلے کو جاری رکھے گا۔ اس جگہ کا نام حجر اسلئے پڑ گیا تھا۔ بعد میں حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس جگہ کا نام ایل رکھ دیا۔ جسکے معنی بیت اللہ ہوتا ہے ۔ اور انھوں نے وہاں ایک مسجد تعمیر فرمائی۔ جو آج بیت المقدس کے نام سے مشہور ہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کا نکاح 

حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے ماموں لابان کے پاس حران میں آئے اور انھےں اپنے والد محترم حضرت اسحاق علیہ السلام کا پیغام دیا۔ تو ان کے ماموں لابان نے ان سے فرمایا ۔ کیا نکاح اور مہر کےلئے تمھارے پاس کچھ مال ہے؟ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ بھی مال نہیں ہے۔ لابان کی دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی بیٹی کا نام لیا اور چھوٹی بیٹی کا نام راحیل تھا۔ لیا عام شکل و صورت کی تھی اور نظر بھی کچھ کمزور تھی۔ جبکہ راحیل بہت ہی خوبصورت تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے چھوٹی بیٹی کو پسند کیا۔ لیکن ان کے ماموں لابان نے کہا کہ میں پہلے بڑی بیٹی کا نکاح کروں گا۔ اور اگر تمھیں راحیل سے نکاح کرنا ہے تو اس کی ایک شرط یہ ہے کہ پہلے تمھیں لیا سے نکاح کرنا ہوگا۔ اور اسکا مہر یہ ہوگا کہ تم سات سال میری بکریاں چراﺅ گے۔ اسکے بعد راحیل سے نکاح ہوگا اور اسکا مہر یہ ہوگا کہ تم سات سال اور میری بکریاں چراﺅ گے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اس شرط کو منظور کرلیا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ نکاح جائز تھا۔ لیکن حضرت یعقوب علیہ السلام کے بعد دو سگی بہنوں سے ایک ساتھ نکاح حرام کر دیا گیا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں بھی یہی ہے ۔ ہاں اس بات کی اجازت ہے کہ اگر ایک بہن نکاح میں ہے اور اسکا انتقال ہوگیا تو دوسری بہن سے نکاح کرسکتا ہے۔ 

عیصو رومیوں کے باپ 

حضرت یعقوب علیہ السلام نے وعدہ کے مطابق بکریاں چرائیں اور جب مدت پوری ہوگئی تو آپ علیہ السلام اپنی دونوں بیویوں کو لیکر گھر واپس جانے کی اجازت اپنے ماموں سے طلب کی ۔ ان کے ماموں لابان نے اپنی دونوں بیٹیوں کی خدمت کےلئے ایک ایک کنیز دی۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام کو گھوڑے ،اونٹ اور کافی بکریاں دیں۔ ان سب کو لیکر حضرت یعقوب علیہ السلام گھر واپس آئے اور بڑے بھائی نے گرم جوشی سے چھوٹے بھائی کا استقبال کیا۔ اور دونوں بھائی اپنے والد محترم حضرت اسحاق علیہ السلام کے ساتھ رہنے لگے۔جب آپ علیہ السلام کی عمر ایک سو ساٹھ 160سال ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی جوار رحمت میں بلوالیا۔ عیصو اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دادی سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے بازو میں اپنے والدِ محترم حضرت اسحاق علیہ السلام کو الخلیل میں دفن کردیا۔ الخلیل کو حبرون بھی کہا جاتا ہے۔ والد محترم کے انتقال کے بعد عیصو کا دل ملک کنعان سے اچاٹ ہو گیا ۔ اور چھوٹے بھائی کو فلسطین میں چھوڑ کر دوسرے علاقے میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے عیصو کی اولادمیں بہت برکت دی اور ان کی نسل بڑھتے بڑھتے ساحل سمندر اور اسکندریہ کی سرحد تک بلکہ اس سے بھی آگے سمندر پار کر کے روم تک پہنچ گئی۔ اور روم میں خوب پھولی پھلی۔ اسی لئے عیصو کو رومیوں کا باپ کہا جاتا ہے۔ اور رومی چونکہ بنی اسماعیل ( حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد) اور بنی اسرائیل ( حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد ) کے بھائی ہیں۔ اسی لئے انہیں عرب میں عام طور سے بنو اصغر کہا جاتا تھا۔ 

حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد اور لقب ” اسرائیل“

حضرت یعقوب علیہ السلام کے ماموں لابان نے اپنی بڑی بیٹی لیا کو جو کنیز دی تھی اس کا نام زلفی تھا۔ اور چھوٹی بہن راحیل کو جو کنیزدی تھی اس کا نام بلہی تھا۔ دونوں بہنوں نے اپنی کنیزوں کو حضرت یعقوب علیہ السلام کو ہبہ کر دیا۔ ان کنیزوں سے بھی آپ علیہ السلام کو اولادیں ہوئیں۔ آپ علیہ السلام کی کئی بیٹیاں تھیں۔ اور بارہ 12بیٹے ہیں۔ ان کے نام روبیل، یہود، شمعون ، لاوی، لیالون، یشحریا یسحر، دان ، یفتامی، جاد، حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن ہیں۔ ان میں سے حضرت یوسف علیہ السلام علیہ السلام اور بن یامن کی والدہ راحیل ہیں۔ اور باقی دوسرے بیٹے لیا اور دونوں کنیزوں کے بیٹے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ عبادت کرتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی اس عبادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ” اسرائیل“ کا لقب عطا فرمایا ہے۔ اسرائیل کا معنی ہوتا ہے ۔ بہت زیادہ عبادت گزار بندہ۔ اسی لقب کی وجہ سے آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹوں کی اولاد” بنی اسرائیل“ کہلائی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کا بچپن

حضرت یوسف علیہ السلام سے ان کے دس بھائی بڑے تھے۔ اور صرف بن یامن ان سے چھوٹے تھے۔ تمام بھائیوں میں حضرت یوسف علیہ السلام سب سے خوب صورت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ حسن عطا فرمایا تھا کہ ان سے پہلے کسی کو نہیں عطا فرمایا تھا۔ اور ان کے بعد صرف سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم ان سے بھی زیادہ خوب صورت ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات میں سب سے زیادہ خوب صورت بنایا ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو اور ان کی والدہ راحیل کو اللہ تعالیٰ نے حسن کا ایک بہت بڑا حصہ عطا فرمایا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب دودھ پینے کی مدت پوری کر لی تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کی تربیت کے لئے اپنی سب سے بڑی بہن کے حوالے کر دیا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام اپنی پھوپھی کی زیر نگرانی پرورش پانے لگے۔ ان کی پھوپھی ان سے بہت زیادہ محبت کرتی تھیں۔ 

پھوپھی نے محبت سے روک لیا

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنی بڑی بہن کے پاس پرورش کے لئے بھیج دیا ۔ تا کہ دیہات کی صاف ستھری ہوا میں آپ علیہ السلام بڑے ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی تو اپنے پیارے بھتیجے کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہو گئی۔ انہیں اس پیارے بھتیجے سے بہت محبت ہو گئی۔ اور وہ آپ علیہ السلام کا بہت خیال رکھنے لگی۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر مبارک لگ بھگ سات یا آٹھ سال تھی تو حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے کو لینے کے لئے آئے تو بہن نے کہا بھائی! یہ تو ہمیشہ آپ کے پاس رہے گا۔ میں چاہتی ہوں کہ اسے ایک دو ہفتہ رکھوں تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی بہن کی بات مان لی اور واپس چلے گئے۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام والد محترم کی خدمت میں

حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی اپنے بھتیجے سے بہت محبت کرتی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ کسی بھی تدبیر سے اپنے بھتیجے کو روک لیں۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ایک کمر بند تھا جو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی کو دیا تھا۔ کیوں کہ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پہلی اولاد تھیں۔ انہوں نے وہ کمر بند حضرت یوسف علیہ السلام کی کمر میں باندھ دیا اوراوپر سے کپڑے پہنا دیئے۔ اس کے بعد گھر میں اعلان کیا کہ میرے والد کا کمر بندگم ہو گیا ہے۔ سب لوگ اسے ڈھونڈ نے لگے۔ ہر فرد کی تلاشی لی گئی تو وہ کمر بند حضرت یوسف علیہ السلام کی کمر سے بندھا ہو املا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں یہ قاعدہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کی کوئی چیز چرائے تو چوری کرنے والا جس کی چیز چوری کرے گا تو وہ اس کا غلام بنا لیا جائے گا۔ اسی قاعدے کی بنا پر آپ علیہ السلام کی پھوپھی نے کہا۔ اب یوسف ( علیہ السلام )پر میرا اختیار ہے۔ جب حضرت یعقوب اپنے بیٹے کو لینے آئے تو بڑی بہن نے تمام واقعہ بتایا تو آپ علیہ السلام مجبور ہو گئے۔ اور خالی ہاتھ واپس چلے گئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پھوپھی کو احساس تھا کہ انہوں نے غلط کام کیا ہے۔ اس لئے جب ان کا آخری وقت آیا تو انہوں نے تمام رشتہ داروں اور خاندان والوں کو بلایا اور یہ اقرار کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور ہیں۔ اور غلطی میری ہے اس کے لئے مجھے معاف کر دیں۔ اور ان کا انتقال ہو گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر اس وقت بارہ سال تھی۔ اور آپ علیہ السلام کو ان کے والد محترم یعقوب علیہ السلام اپنے گھر آئے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

 

02 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf



 02 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 2

حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب

حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے کو گھر لے آئے ۔ وہ حضرت یوسف علیہ السلام پر بہت توجہ دیتے تھے کیوں کہ لگ بھگ دس سال بعد انہیں بیٹا واپس ملا تھا۔ ا س کے علاوہ آپ علیہ السلام اللہ کے نبی تھے اور جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمائے گا۔ لیکن اس سے پہلے وہ ان کی آزمائش لے گا۔ لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ آزمائش کس طرح لے گا۔ اسی وجہ سے وہ حضرت یوسف علیہ السلام پر اور زیادہ توجہ دینے لگے۔ اسی دوران حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا تو وہ خواب اپنے والد محترم کو سنایا۔ اللہ تعالیٰ ا س خواب کے بارے میں فرماتا ہے۔ ترجمہ ” جب یوسف (علیہ السلام ) نے اپنے والد محترم سے عرض کیا۔ ابا جان میں نے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو دیکھا کہ وہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ “ ( سورہ یوسف آیت نمبر4) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کریم ابن کریم ابن کریم ابن کریم حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم علیہم السلام ہیں۔ 

سجدہ کرنے والے ستاروں کے نام

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنا خواب بتایا۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی عالم ( دوسری روایات میں اس کا نام بستانہ بتایا گیا ہے) حاضر ہوااور عرض کی۔ یا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مجھے ان ستاروں کے نام بتائیں جو حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھے تھے کہ وہ انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے اور کوئی جواب نہیں دیا۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا اور انہوں نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک اس یہودی عالم کی طرف اٹھایا اور فرمایا۔ اگر میں تمہیں ان ستاروں کے نام بتادوں تو تم اسلام قبول کر لو گے؟ اس نے کہا ۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان ستاروں کے نام حرثان ، الطارق، الذیال ، ذوالکثتان، قابس، دثان، ہودان ، الفیلق، المصبح، الضروح، الفرنیح، الضیا اور النور ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے آسمان کے افق میں ان ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنا خواب اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا۔ یہ منتشر امر ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو بعد میں جمع فرمائے گا۔ یہودی نے کہا۔ اللہ کی قسم ، ان ستاروں کے واقعی یہی نام ہیں۔ 

 کس عمر میں خواب دیکھا

حضرت یوسف علیہ السلام نے جب خواب دیکھا تو اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک کیا تھی۔ اس کے بارے میں امام فخر الدین محمد بن عمر رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بچپن میں یہ خواب دیکھا تھا۔ لیکن وہ کون سا معین زمانہ تھا اس کا علم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو نہیں ہے۔ حضرت وہب بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے سات سال کی عمر میں خواب دیکھا کہ گیارہ لاٹھیاں ایک دائرہ کی شکل میں زمین میں مرکوز ہیں اور ایک چھوٹی سی لاٹھی نے ان گیارہ بڑی لاٹھیوں کو نگل لیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ خواب اپنے والد محترم کو بتایا تو انہوں نے فرمایا۔ کہ خواب اپنے بھائیوں کو مت بتانا۔ پھر بارہ سال کی عمر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پھر یہ خواب اپنے والد محترم کو بتایا تو انہوں نے فرمایا۔ اپنے بھائیوں کو یہ خواب بیان نہیں کرنا۔ ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس خواب کی تعبیر کو مکمل ہونے میں چالیس سال کا عرصہ لگا۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس میں اسّی 80سال کا عرصہ لگا۔ 

اللہ تعالیٰ تمہیں برگزیدہ بنائے گا

حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنے والد محترم کو اپنا خواب بیان کیا تو انہوں نے جو فرمایا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ ترجمہ ” یعقوب ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اے میرے پیارے بیٹے اپنے ا س خواب کا ذکر اپنے بھائیوں اسے نہیں کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کوئی فریب کریں۔ اور شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہیں برگذیدہ بنائے گا۔ اور تمہیں معاملہ فہمی( خوابوں کی تعبیر) بھی سکھائے گا۔ اور اپنی نعمت تمہیں بھر پور عطا فرمائے گا۔ اور یعقوب کے گھر والوں کو بھی عطا فرمائے گا ۔ جیسے کہ اس نے اس سے پہلے تمہارے دادا اور پر دادا یعنی ابراہیم (علیہ السلام ) اور اسحاق ( علیہ السلام ) کو بھی بھر پور نعمت عطا فرمائی تھی۔ یقینا تمہارا رب بہت بڑے علم والا اور زبردست حکمت والا ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر5اور 6) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عہ فرماتے ہیں کہ گیارہ ستارے حضرت یوسف علیہ السلام کے گیارہ بھائی ہیں۔ اور سورج اور چاند آپ علیہ السلام کے والد اور والدہ ہیں۔ اور ان کی والدہ کو اللہ تعالیٰ نے حسن کا ثلث ( تیسرا حصہ ) عطا فرمایا تھا۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان ستاروں سے مراد ان کے بھائی اور سورج اور چاند والدین ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ نبوت کا انعام عطا فرمائے گا

حضرت یعقوب علیہ السلام بیٹے کی زبانی خواب کا بیان سن کر سمجھ گئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کواللہ تعالیٰ عروج عطا فرمائے گا۔ اور ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ سجدہ کریں گے۔ یہ لکھنے کے بعد مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی آگے لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ تم یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہیں سنانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس خواب کو سن کر گیارہ کے عدد پر غور کریں گے تو سمجھ لیں گے کہ تم کواللہ تعالیٰ عروج عطا فرمائے گا۔ اور وہ لوگ تمہارے مقابلہ میں نیچے رہیں گے۔ اور خواب کی تعبیر سے متاثر ہو کر وہ کوئی ایسی تدبیر نہ کر بیٹھیں جس سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے کو پہلے تو یہ نصیحت کی کہ تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے بیان مت کرنا۔ اور فرمایا۔ کہ میں سمجھ رہا ہوں اور یقین کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں منتخب فرمالے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر کا علم بھی عطا فرمائے گا۔ اور تم پر اپنا انعام پورا کرے گا۔ جس میں نبوت کا عطا فرمانا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ تم پر اور آلِ یعقوب ( بنی اسرائیل کے انبیائے کرام) پر اپنا انعام کامل فرمائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے داد حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور تمہارے دادا حضرت اسحاق علیہ السلام پر اپنا انعام کامل فرمایا ہے۔ علامہ ابن کثیر سورہ یوسف کی آیت نمبر6کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے پیارے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلا م کو بتا رہے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ انہیں کون سے مرتبے عطا فرمائے گا۔ جس طرح خواب میں اس نے تمہیں یہ فضیلت دکھائی ہے۔ اسی طرح وہ تمہیں بلند مربتہ نبوت بھی عطا فرمائے گا۔ اور تمہیں خواب کی تعبیر سکھا دے گا۔ اور تمہیں اپنی بھر پور نعمت دے گا۔ یعنی نبوت جیسے کہ اس سے پہلے وہ ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو بھی عطا فرما چکا ہے۔ جو تمہارے دادا اور پر دادا تھے اور اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے۔ کہ نبوت کے لائق کون ہے؟

بھائیوں کا حسد

حضرت یعقوب علیہ السلان نے خواب سنا تو سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کےلئے حضرت یوسف علیہ السلام کو چن لیا ہے۔ اسلئے ان پر اور زیادہ توجہ دینے لگے ۔ اس بات کو تمام بھائیوں نے محسوس کرلیا۔ اور انھیں لگا کہ (نعوذباللہ ) ابا جان ہم سے کم اور یوسف (علیہ السلام )سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ ابلیس شیطان تو ہمیشہ انسان کی گھات میں لگا ہوا ہے۔ اس نے جب یوسف علیہ السلام کے خلاف تمام بھائیوں کے احساس کو دیکھا تو اسے اور ہوا دینے لگا۔ اور آپ علیہ السلام کے خلاف کے خلاف طرح طرح کے وسوسے ان کے دل و دماغ میں بھرنے لگا اور شیطان اپنی چال میں کامیاب ہونے لگا۔ اور تمام بھائیوں نے مل کر یہ طئے کیا کہ کسی بھی طرح یوسف (علیہ السلام )کو ابا جان سے دور کردیا جائے تو ابا جان پھر ہم سے محبت کرنے لگیں گے۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ترجمہ”یقناً یوسف علیہ السلام اور ان کے بھائیوں میں دریافت کرنے والوں کیلئے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ جب انھوں نے (آپس میں ) کہا کہ یوسف اور اسکا بھائی (بن یامن) ہمارے مقابلے میں ہمارے والد محترم کو زیادہ پیارے ہیں ۔ جب کہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ابا جان صریح غلطی کررہے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام ) کو تو مار ہی ڈالو یا پھر کسی نا معلوم جگہ پر پھینک آﺅ۔ تاکہ ہمارے والد محترم کی توجہ ہماری طرف ہوجائے۔ اسکے بعد ہم نیک بن جائیں گے۔ ان بھائیوں میں سے ایک نے کہا۔ یوسف (علیہ السلام ) کو والد محترم سے دور کرنا چاہتے ہو تو ایسا ہی کرو۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 7سے 11تک) ابلیس شیطان لگاتار حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو بہکانے کی کوشش کرتا رہا۔ آخرکار اسے کامیابی ملی اور بھائیوں نے آپ علیہ السلام کے خلاف واضح کاروائی کرنے کا منصوبہ بنالیا۔ علامہ ابن کثیر نے آیت نمبر 5 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے تاکید کردی کہ اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے نہیں دہرانا۔ کیونکہ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں سر بلندی عطا فرمائے گا۔ اور بھائی اس سر بلندی کے بارے میں جان کر ابلیس شیطان کے بہکاوے میں آکر ابھی سے تم سے دشمنی کرنے لگ جائیں گے۔ اور حسد کی وجہ سے کوئی نا معقول حرکت کرنے لگ جائیں گے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف بھائیوں کا مشورہ

سورہ یوسف کی آیت نمبر 9اور10کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ پھر آپس میں کہنے لگے کہ ایک کام کرو نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، یوسف کا پتہ ہی کاٹ دو۔ نہ وہ رہے گا اور نہ ہی ہماری آنکھوں کا کانٹا بنے گا۔ جب ہم ہی ہم نظر آئیں گے تو ابا جا ن کی محبت صرف ہمارے لئے رہے گی۔ اب اسے والد محترم سے دور ہٹانے کی دو سورتیں ہیں۔ یا تو اسے مار ڈالو۔ یا پھر ایسی دور دراز جگہ پر پھینک آﺅ کہ اسکی کوئی خبر ہی نہ مل سکے۔ اور یہ واردات کرکے پھر نیک بن جانا توبہ کرلینا۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ یہ سن کر ایک بھائی نے مشورہ دیا جو سب سے بڑا تھا اسکا نام روبیل تھا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ وہ یہودا تھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ شمعون تھا۔ اس نے کہا۔ بھئی یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ اور نا انصافی ہے بے وجہ بے قصور کو صرف عداوت کی وجہ سے ناحق اسکا خون اپنے سر پر لے رہے ہو۔ اس کے بعد آگے لکھتے ہیں کہ ان کے دل روبیل کی رائے سے نرم ہوگئے۔ اور طئے ہوا کہ اسے کسی غیر آباد کنویں کی تہہ میں پھینک دیں گے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ بیت المقدس کا کنواں تھا۔ انھیں یہ خیال پیدا ہوا کہ ممکن ہے کہ مسافر وہاں سے گزرے اور وہ اسے اپنے قافلے میں لے جائیں ۔ پھر کہاں وہ اور کہاں ہم؟ جب گڑ دے کر کام نکل رہا ہے تو زہر کیوں دیا جائے؟ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں کہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ جس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی آپس میں اس موضوع پر بات کررہے تھے کہ یوسف(علیہ السلا م)کے لئے ہما رے والد محترم کی محبت زیادہ ہے اور اس محبت کو ختم کرنے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آرہی ہے تو ابلیس شیطان ایک بوڑھے کی شکل میں ان بھائیوں کے پاس آیا اور بولا کہ میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں۔ یوسف ( علیہ السلام ) چاہتا ہے کہ تمہیں غلام بنا لے۔ اور تمہارے والد محترم بھی تم کو ذلیل کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا تدبیر یہ ہے کہ اس کو قتل کر دو یا بیابان میں پھینک آﺅ تا کہ درندہ کھا جائے۔ کچھ بھائیوں نے کہا۔ یہ تو گناہِ کبیرہ ہے ۔ تو ان پسند کرنےوالے بھائیوں نے اگلی بات کہی کہ بعد میں نیک بن جانا۔ 

بھائیوں نے والد محترم سے اجازت لی

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور کہا۔ ابا جان ہم بکریاں چرانے اور شکار کرنے جا رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام ہمارے ساتھ ہمارے چھوٹے بھائی یوسف ( علیہ السلام )کو بھی بھیج دیں۔ تا کہ اسے بھی لطف آئے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بیٹو ، مجھے ڈر ہے کہ تم لوگ شکار اور دوسرے کاموں میں مشغول ہو جاﺅ گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری غفلت کا فائدہ اٹھا کر بھیڑیا ، یوسف ( علیہ السلام ) پر حملہ کر دے۔ یہ سن کر سب بھائی ایک ساتھ کہنے لگے کہ ایسا نہیں ہوگا۔ اور اگر بھیڑیا یوسف ( علیہ السلام )پر حملہ کرے گا تو ہم سب بھائی مل کر اس کی حفاظت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا۔ ابا جان ، آخر آپ علیہ السلام یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار کیوں نہیں کرتے۔ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔ کل آپ علیہ السلام ضرور ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ وہ خوب کھائے پیئے اور کھیلے اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں۔ ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے) فرمایا۔ اسے تمہارا لے جانا مجھے تو بہت صدمہ دے گا۔ اور مجھے کھٹکا لگا رہے گا کہ تمہاری غفلت میں اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم جیسی ( طاقتور) جماعت کی موجودگی میں بھیڑیا اگر اسے کھا جائے تو ہم تو بالکل نکمّے ثابت ہوں گے۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر11اور 14تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو بھیڑیے کا خطرہ یا تو اس وجہ سے ہو اکہ ملک کنعان میں بھیڑیوں کی کثرت تھی۔ یا اس وجہ سے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ کسی پہاڑی کے اوپر ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام اس پہاڑی کے دامن میں نیچے ہیں۔ اچانک دس بھیڑیوں نے ان کو گھیر لیا اور ان پر حملہ کرنا چاہا۔ مگر ایک بھیڑیے ہی نے مدافعت کر کے چھڑا دیا۔ پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو زمین نگل گئی۔ جس کی تعبیر بعد میں یہ ہوئی کہ دس بھیڑیے دس بھائی تھے۔ اور جس بھیڑیئے نے مدافعت کر کے ان کو ہلاکت سے بچایا وہ بڑا بھائی یہوداہ ( یاروبیل) تھا۔ اور زمین کا نگل جانا یہ تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو اسی خواب کی وجہ سے خود ان کے بھائیوں کی طرف سے انہیں خطرہ تھا۔ لیکن مصلحتاً آپ علیہ السلام نے پوری بات ظاہر نہیں فرمائی۔ 

بھائیوں نے حفاظت کا وعدہ کیا

سورہ یوسف کی آیت نمبر13، 14کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ اللہ کے نبی حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹوں کی اس طلب کا کہ بھائی یوسف( علیہ السلام) کو ہمارے ساتھ سیر کے لئے بھیج دیں جواب دیتے ہیں کہ تمہیں معلوم ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ تم اسے لے جاﺅ گے مجھ پر اس کی اتنی دیر کی جدائی بھی شاق گزرے گی۔حضرت یعقوب علیہ السلام کی اس بڑھی ہوئی محبت کی وجہ یہ تھی کہ آپ علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر خیرکے نشان دیکھ رہے تھے۔ نبوت کا نور پیشانی سے ظاہر تھا۔ اخلاق کی پاکیزگی ایک ایک بات سے عیاں تھی۔ صورت کی خوبی سیرت کی اچھائی کا بیان تھی۔ اللہ کی طرف سے دونوں باپ بیٹوں پر صلوٰة و سلام ہو۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ممکن ہے کہ تم اپنی بکریوں کو چرانے چگانے اور دوسرے کاموں میں مشغول رہواور اللہ نہ کرے کوئی بھیڑیا آکر اس کا کام تمام کر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ آہ حضرت یعقوب علیہ السلام کی اسی بات کو انہوں نے لیا ۔ اور دماغ میں بسا لیا۔ کہ یہی عذر ٹھیک رہے گا۔ یوسف ( علیہ السلام ) کو الگ کر کے ابا جان کے سامنے ہی گھڑنت گھڑ دیں گے۔ اسی وقت بات بنائی اور جواب دیا کہ ابا جان آپ علیہ السلام یہ کیا سوچ رہے ہیں ہماری جماعت اتنی قوی اور طاقت ور موجود ہے۔ اور اس کے باوجود ہمارے بھائی کو بھیڑیا کھا جائے؟ بالکل ناممکن ۔ اگر ایسا ہو جائے تو پھر ہم سے بے کار اور نکما اور نقصان والا کوئی نہیں ہوگا۔ مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں کہ بھائیوں نے کہا۔ اے ہمارے والد محترم ہماری باتوں پر اعتماد فرمائیے۔ اور یوسف ( علیہ السلام) کو ہمارے ساتھ بھیج دیں گے۔ کل ہماری زمینوں پر کہ وہ جنگلی پھل خوب کھا ئے گا۔ اور اپنی مرضی سے بلا روک ٹوک خوب بھاگے دوڑے گا پر ندوں اور جانوروں کے پیچھے خوش ہوکر ۔ اور کچھ تجربہ اور صحت حاصل کرے گا۔ آپ علیہ السلام ان کے چھوٹے ہونے اور نا تجربہ کار ہونے کی فکرنہ کریں۔ اس کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ اور ہم سب بھائی اس کی حفاظت کریں گے۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں کا سلوک

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اپنے والد محترم سے آپ علیہ السلام کی حفاظت کا وعدہ کر کے لے چلے۔ جب سنسان علاقے میں پہنچے تو ایک بھائی نے آپ علیہ السلام کو مارا۔ حضرت یوسف علیہ السلام ان میں سب سے چھوٹے تھے۔ اور تیرہ یا چودہ سال کی عمر ہو گی۔ بن یامن آپ علیہ السلام سے بھی چھوٹے تھے۔ اسی لئے وہ گھر پر ہی تھے۔ آپ علیہ السلام دوسرے بھائی کے پاس گئے تو اس نے بھی مارا۔ اس طرح آپ علیہ السلام جس بھائی کے پاس جاتے تھے وہ مارتا تھا۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں ۔ بھائیوں نے حضرت یعقوب علیہ السلام کی بات سن کر کہا کہ آپ علیہ السلام کو یہ خوف اور خطرہ بھی عجیب ہے ۔ ہم دس بھائیوں کی قوی جماعت اس کی حفاظت کے لئے موجود ہے۔ اگر ہم سب کے ہوتے ہوئے بھی اس کو بھیڑیا کھا جائے تو ہمار ا وجود ہی بے کار ہو جائے گا۔ اور پھر ہم سے کسی کام کی کیا امید کی جاسکتی ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنی پیغمبرانہ شان کی وجہ سے معلوم کرلینے والے خطرے کو اپنی اولاد کے سامنے نہیں کھولا۔ کہ مجھے تو خود تم سے ہی خطرہ ہے۔ اسکی یہ وجہ تھی کہ سب اولاد کی دل شکنی ہوجاتی اور دوسری یہ وجہ تھی کہ ایسا کہنے سے بھائےوں کے دل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے خلاف دشمنی اور شدید ہوجاتی ۔ اور اگر اس وقت چھوڑ دےتے تو پھر کسی وقت کسی اور بہانے سے قتل کردیں گے۔ اسی لئے اجازت دے دی مگر بھائےوں سے مکمل عہد و پیمان لیا کہ اسکو کوئی تکلیف نہ ہو۔ اور بڑے بھائی روبیل یا یہودا کو خصوصیت سے ہدایت دی کہ تم اسکی بھوک پیاس اور دوسری ضرورتوں کی پوری طرح خبر گیری کرنا اور جلدی واپس لانا۔ بھائیوں نے اپنے والد محترم کے سامنے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے کاندھوں پر بٹھالیا۔ اور باری باری سب بھائی اٹھاتے رہے۔ کچھ دور تک حضرت یعقوب علیہ السلام بھی ان کو رخصت کرنے کےلئے ساتھ آئے۔ امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی تاریخی روایات کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب یہ لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نظروں سے اوجھل ہوگئے تو اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام جس بھائی کے کاندھے پر سوار تھے۔ اس نے آپ علیہ السلام کو زمین پر پٹک دیا ۔ آپ علیہ السلام پیدل چلنے لگے۔ مگر کم عمر تھے اسلئے انھیں بھائیوں کا ساتھ دینے کےلئے دوڑنا پڑ رہا تھا۔ دوڑتے دوڑتے دوسرے بھائی کے پاس گئے اس نے آپ علیہ السلام کو طمانچہ مارا اور دھتکار دیا۔ اس طرح آپ علیہ السلام اپنے ہر بھائی کے پاس جاتے تھے تو مارتا تھا اور کہتا تھا۔ تونے جو گیارہ ستارے اور چاند اور سورج کو اپنے آپ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے ان کو پکار وہی تیری مدد کریں گے۔ امام قرطبی نے اسی وجہ سے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ بھائیوں کو کسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کا علم ہوگیا تھا۔ اور وہ خواب ہی بھائیوں کی شدتِ غیظ و غضب کا سبب بنا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........!

03 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf



03 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 3

حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں پھینک دیا گیا

حضرت یوسف علیہ السلام جس بھائی کے پاس بھی مدد کے لئے جارہے تھے وہ بھائی آپ کو مار رہا تھا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام ادھ مرے ہوگئے تو فرمایا کہ آپ لوگوں نے والد محترم سے جو وعدہ کیا تھا اسے اتنی جلدی بھلا دیا۔ یہ سن کر یہودا یا روبیل کو رحم آیا اور اس نے اپنے بھائیوں کو سمجھاےاکہ اپنے چھوٹے بھائی پر رحم کرو ۔ اور اسے والد محترم کے پاس پہنچادو۔ ہاں اس سے یہ عہد لے لو کہ والد محترم سے ہماری شکایت نہ کرے۔ بھائیوں نے کہا ۔ اگر تم ہمیں روکنے کی کوشش کرو گے تو ہم تمھیں بھی قتل کر دیں گے ۔یہودا نے جب تمام بھائیوں کو اتنا سخت دیکھا تو بولا ۔ اگر تم طئے کر چکے ہو تو میری بات سنو اس علاقے میں ایک پرانا کنواں ہے۔ جس میں جھاڑ وغیرہ اگ آئیں ہیں ۔ اور سانپ بچھو اور دوسرے زہریلے جانور اس میں رہتے ہیں۔ تم اسے کنویں میں پھینک دو ۔ اگر کسی سانپ بچھو نے اسے ڈس کر ختم کر دیا تو تمھارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا۔ اور تم اس کا خون بہانے سے بچ جاﺅ گے۔ اور اگر یہ اس کے باوجود بھی زندہ رہا تو شاید کوئی قافلہ یہاں آئے اور اسے نکال لے جائے۔ تو وہ قافلے اسے اپنے ساتھ دوسرے ملک لے جائے گا۔ اور ایسی صورت میں بھی تمھارا مقصد پورا ہوجائے گا۔ تمام بھائی اس بات سے متفق ہوگئے اور حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص اتار کر آپ علیہ السلام کو کنویں میں پھینک دیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ والد محترم کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہی سب بھائیوں نے آپ علیہ السلام کو ایذائیں دینی شروع کردی۔ برا بھلا کہنے لگے اور چانٹے(طمانچے) مارنے لگے۔ مارتے پیٹتے برا بھلا کہتے ہوئے اس کنویں کے پاس پہنچے اور کنویں میں پھینکنے کےلئے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پاﺅں باند ھنے لگے ۔ آپ علیہ السلام ایک ایک بھائی کے دامن کو پکڑتے اور ہر بھائی سے رحم کی درخواست کرتے ۔ لیکن ہر بھائی جھڑک دیتا اور دھکا دے کر مار پیٹ کر ہٹا دیتا تھا۔ سب نے ملکر مضبوطی سے آپ علیہ السلام کے ہاتھ پاﺅں باندھے اور کنویں میں لٹکا دیا۔ آپ علیہ السلام نے کنویں کا کنا را ہاتھوں سے پکڑا تو بھائیوں نے انگلی پر مار مار کر اسے بھی چھڑا دیا۔ اور آدھی دور تک رسی لٹکا نے کے بعد رسی کو کاٹ دیا اور ایک دم آپ علیہ السلام کنویں میں نیچے گر گئے۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام بیٹوں کو رخصت کرنے کے بعد غمزدہ حالت میں واپس ہوئے۔ جے سے ہی والد محترم کی نظروں سے اوجھل ہوئے تو بھائیوں کے تیور بدل گئے ۔ کوئی جھڑکتا،کوئی طعنہ دیتا ، کوئی دھکا دیتا ۔اسی حالت میں اپنی زمینوں پر مقام کسم پر آگئے۔ مگر وہاں نہیں ٹھہرے بلکہ دو تن یا دالتن کے جنگل میں آپ کو گھسیٹ گھسیٹ کر لے آئے۔ وہیں ایک کنواں تھا۔ یہ جگہ حبرون یعنی الخلیل سے چھ کوس کے فاصلے پر اور مصر کی شاہراہ (ہائی وے) کے قریب ہے۔ اسکے بعد آگے لکھتے ہیں ۔ اس مقام پر بھائیوں نے حضرت یوسف کو بے دردی سے مارنا اور دھکے دینا شروع کردیا۔ آپ علیہ السلام ایک ایک بھائی کے پاس جاتے اور وہ مارتا اور دھکے دیتا تھا۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے بھائیوں کو والد محترم سے کیا ہوا وعدہ یاد دلایا تو انھوں نے مارنا چھوڑ کر آپ علیہ السلام کو کنویں میں پھینکنے کا ارادہ بنالیا۔ اور اس بات پر متفق ہوگئے۔ بس پھر کیا تھا فوراً آپ علیہ السلام کی قمیص اتار لی اور باندھ کر کنویں میں لٹکا دیا۔ جب آدھا کنواں طئے ہوگیا تو نہایت بے دردی سے رسی کو کاٹ دیا تاکہ کسی پتھر سے ٹکرا کر مر جائے۔ چونکہ کنویں میں اندھیرا تھا اسلئے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آپ علیہ السلام زندہ ہیں کہ نہیں۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں ۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کے ساتھ روانہ ہوئے تو انھوں نے راستہ میں ان کے ساتھ شدید عداوت کا اظہار کیا ۔ ایک بھائی آپ علیہ السلام کو مارتا تو وہ دوسرے بھائی سے فریاد کرتے تو وہ بھی ان کو مارتا پیٹتا اور انھوں نے ان میں سے کسی کو بھی رحم دل نہیں پایا۔ قریب تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو قتل کردیتے ۔ اسی وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ۔ اے ابا جان ، کاش آپ علیہ السلام جانتے کہ آپ علیہ السلام کے پیارے بیٹے کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے؟ تب یہودا نے سب بھائیوں سے کہا۔ کیا تم لوگوں نے مجھ سے پکا عہد نہیں کیا تھا کہ تم لوگ اسے قتل نہیں کرو گے۔ تب وہ آپ علیہ السلام کو کنویں پر لے گئے اور ان کوکنویں کی منڈےر پر کھڑا کرکے ان کی قمیص اتاری جس سے ان کا مقصد تھا وہ اس قمیص پر خون لگاکر حضرت یعقوب علیہ السلام کو دیں گے اور پھر انھیں کنویں میں پھینک دیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی کنویں میں حفاظت

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب اسے لے چلے اور سب نے مل کرٹھان لیا کہ اسے غیر آباد کنویں کی تہہ میں پھینک دیں ۔ تب ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کی طرف وحی کی کہ یقینا تم انہیں اس ماجرا ( واقعہ) کی خبر اس حال میں دو گے کہ وہ جانتے ہی نہیں ہوں گے۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر15) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا تو جبرئیل امین علیہ السلام ان کے پاس آئے او رکہا ۔ اے نوجوان ، تمہیں اس کنویں میں کس نے ڈالا ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بھائیوں نے ۔ جبرئیل علیہ السلام نے وجہ پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے والد محترم مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اور میرے بھائی مجھ سے حسدکرتے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ کیا تم یہاں سے نکلنا چاہتے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ بات تو میرے اور میرے والد محترم کے رب ( اللہ تعالیٰ) کے سپرد ہے۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ تم یہ دعا کرو۔ ترجمہ ” اے اللہ ،میں تجھ سے تیرے پوشیدہ نام کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، اے بزرگی اور عزت والے، تو میرے گناہ معاف کر دے۔ مجھ پر رحم فرما اور میرے لئے میرے معاملہ میں کشادگی اور نکلنے کا راستہ بنا دے۔ اور وہاں سے بھی رزق عطا فرما جہاں سے مجھے ملنے کا گمان ہی نہیں ہے۔ “ جب آپ علیہ السلام نے ان کلمات سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نجات عطا فرمائی اور نکلنے کا راستہ بنا دیا۔ اور بادشاہِ مصر کے ذریعے آپ علیہ السلام کو رزق عطا فرمایا۔ جہاں سے ملنے کا آپ علیہ السلام کو گمان بھی نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ان کلمات کے ساتھ اصرار سے دعا مانگو کیوں کہ یہ چیدہ اور نیک لوگوں کی دعا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کی مدد

حضرت یوسف علیہ السلام کو باندھ کر ان کے بھائیوں نے کنویں میں لٹکا دیا تھا۔ اور آدھے کنویں تک چھوڑنے کے بعد شمعون نے یہ چاہتے ہوئے رسی کو کاٹنا شروع کر دیا کہ آپ علیہ السلام تیزی سے نیچے گریں اور گرتے وقت کنویں کے کسی باہر نکلے ہوئے پتھر سے ٹکر ا کر ( نعوذ باللہ ) مر جائیں۔ ادھر زمین پر شمعون رسی کاٹ رہا تھا ادھر جبرئیل علیہ السلام عرش کے پائے کے پاس تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرے بندے ( یوسف علیہ السلام )کے پاس پہنچو اور اسے سنبھالو۔جبرئیل علیہ السلام تیزی سے ساتوں آسمانوں کو پار کرتے ہوئے زمین پر آئے اور شمعون رسی کاٹ رہا تھا کہ جبرئیل علیہ السلام کنویں کے اندر پہنچ گئے تھے۔ اور جیسے ہی رسی کٹی فوراً جبرئیل علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کو سنبھال لیا۔ اور آرام سے ایک پتھر پر بٹھا دیا ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکا گیا تھا تب جبرئیل علیہ السلام قمیص لے کر آئے تھے اور آپ علیہ السلام کو پہنا دی تھی۔ وہ قمیص حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس رہی۔ پھر حضرت اسحاق علیہ السلام کے پاس رہی۔ اس کے بعد جب یہ قمیص حضرت یعقوب علیہ السلام کو ملی تو آپ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے گلے میں اس قمیص کو ایک تعویز میں ڈال کر پہنا دیا تھا۔ جبرئیل علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کے گلے میں سے وہ قمیص نکال کر پہنا دی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ آپ علیہ السلام زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔ انہوں نے اوپر سے آپ علیہ السلام کو آواز لگائی تو آپ علیہ السلام نے جواب دیا اور فرمایا۔ ہر میت کی کوئی نہ کوئی وصیت ہوتی ہے۔ میری وصیت سن لو۔ بھائیوں نے کہا۔ وہ کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ جب کسی نو عمر لڑکے کو دیکھنا تو میری بے چارگی اور اپنے ظلم کو یاد کرلینا۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا۔ اے یوسف علیہ السلام ، اپنے بھائیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور دعا میں مشغول ہو جاﺅ۔ پھر انہوں نے آپ علیہ السلام کو دعا بتائی۔ اور پھر اللہ تعالیٰ سے حضرت یوسف علیہ السلام نے اس طرح دعا مانگی۔ اے اللہ ، اے ہر اجنبی کے مونس، اے ہر تنہا کے ساتھی، اے ہر خوف زدہ کے ملجا، اے ہر مصیبت کو دور کرنے والے، اے ہر سر گوشی کو جاننے والے، اے ہر شکوہ کی انتہا اور اے ہر اجتماع کے حاضر ، اے زندہ ، ا ے زندہ رکھنے والے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اپنی امید میرے دل میں ڈال دے۔ یہاں تک کہ میرے نزدیک تیرے سوا نہ کوئی غم ہو اور نہ ہی کوئی مصروفیت رہے۔ اور میرے لئے میر ے معاملہ میں وسعت اور نکلنے کی راہ پیدا فرما دے۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ فرشتوں نے یہ دعا سن کہا۔ اے اللہ تعالیٰ، ہم دعا اور آواز سن رہے ہیں۔ آواز تو نو عمر لڑکے کی ہے۔ اور دعا نبی کی ہے۔ امام ضحاک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام کنویں میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا ۔ کیا میں آپ علیہ السلام کو ایسے کلمات سکھا دوں جن کو اگر آپ علیہ السلام دہرائیں گے تو اللہ تعالیٰ بہت جلد تمہیں کنویں سے نکال لے گا؟ تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ان الفاظ میں دعا مانگی۔ اے ہر مصنوع کو بنانے والے، اے ہر ٹوٹی ہوئی چیز کو درست کرنےوالے۔ اے ہر راز کے شاہد ، اے ہر اجتماع کے حاضر ، اے ہر مصیبت کو دور کرنے والے، اے ہر اجنبی کے دوست اور اے ہر تنہا کے مونس ، میرے لئے کشادگی اور امید کو لادے۔ اور اپنی امید میرے دل میں پیدا فرما دے۔ یہاں تک کہ تیرے سوا میں کسی کی امید نہ کروں۔ حضرت یوسف علیہ السلام اس دعا کو بار بار ساری رات دہراتے رہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس دن صبح آپ علیہ السلام کو کنویں سے نکالا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام تین دن کنویں میں رہے۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ” اور عشاءکے وقت (وہ سب) اپنے والد محترم کے پاس روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ۔ ابا جان، ہم تو آپس میں دوڑ میں لگ گئے تھے اور یوسف ( علیہ السلام ) کو ہم نے اسباب کے پاس چھوڑ دیا تھا۔ پس اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ علیہ السلام تو ہماری بات کو ( سچ) نہیں مانیں گے۔ چاہے ہم سچ ہی کہہ رہے ہوں۔ اور یوسف (علیہ السلام )کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا (کسی جانور کا )خون لگا کر لے آئے۔ والد محترم نے فرمایا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ تم نے اپنے دل سے ایک بات بنا لی ہے۔ پس صبر ہی بہتر ہے۔ اور تمہاری بنائی ہوئی باتوں سے اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں۔“ (سورہ یوسف آیت نمبر16سے 18) حضرت یعقوب علیہ السلام کو جب ان کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنا خواب سنایا تھا جب ہی آپ علیہ السلام سمجھ گئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے کو بہت بڑے کام کے لئے چن لیا ہے۔ اور وہ کام سونپنے سے پہلے اللہ تعالیٰ ان کے بیٹے کی آزمائش لے گا۔ اور تکلیف دہ حالات میں مبتلا کر کے تجربہ حاصل کرنے کا موقعہ دے گا۔ اسی لئے جب دوسرے بیٹوں نے لے جانے کی فرمائش کی توآپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ ان کی اور ان کے بیٹے کی آزمائش شروع ہونے والی ہے۔ اسی لئے جب بیٹوں نے آکر بتایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا تو آپ علیہ السلام نے ان کی بات کا یقین نہیں کیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ علیہ السلام کی قمیص خون میں لت پت لا کر اپنے والد محترم کو دی جس پر جانور کا خون لگا ہوا تھا۔ کس جانو ر کا؟ اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ روایات میں ہے کہ بکرے کا خون تھا۔ کچھ میں ہے کہ بھیڑ کا خون تھا اور کچھ میں ہے کہ ہرن کا خون تھا۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ برادران یوسف نے جب اپنے والد محترم کو بھائی کی قمیص دی تو انہوں نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا کہ قمیص صحیح سلامت ہے تو فرمایا۔ یہ بڑا مہربان بھیڑیا تھا۔ اور آپ علیہ السلام سمجھ گئے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص ان کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو دی گئی تو وہ قمیص پھٹی ہوئی نہیں تھی۔ آپ علیہ السلام نے قمیص دیکھ کر فرمایا۔ تم جھوٹ کہہ رہے ہو اگر اسے بھیڑیا کھا لیتا تو یہ قمیص پھٹی ہوئی ہوتی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ قمیص کو الٹ پلٹ کر نے کے بعد آپ علیہ السلا م نے خون کے داغ تو دیکھے لیکن قمیص بالکل صحیح سلامت تھی۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے بیٹو، اللہ کی قسم میں نے ایساسمجھدار اور حلیم بھیڑیا نہیں دیکھا کہ اس نے میرے بیٹے کو کھا لیا اور قمیص کو صحیح سلامت رکھا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ یہ کیسا بھیڑیا ہے قمیص پر رحم کر دیا اور میرے بیٹے پر رحم نہیں کیا۔ جب آپ علیہ السلام نے یہ فرمایا تو بیٹوں نے کہا ۔ آپ علیہ السلام تو ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے چاہے ہم سچ ہی کیوں نہ بول رہے ہوں۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ دل تو قبول نہیں کرتا پھربھی تمہاری بات پر یقین کرتا ہوں اور اپنے بیٹے کے بچھڑنے پر صبر کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتاہوں کہ وہ مجھے صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

قافلے والوں نے کنویں سے نکالا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا ۔ ترجمہ” اور ایک قافلہ آیا اور انہوں نے اپنے پانی لانے والے کو ( اسی کنویں پر ) بھیجا۔ اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ ( تو دیکھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام اسے پکڑے ہوئے ہیں) کہنے لگا واہ واہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ یہ ایک نو عمر لڑکا ہے۔ انہوں نے اسے مالِ تجارت قرار دے کر چھپا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ اس سے باخبر تھا جو وہ کر رہے تھے۔ اور انہوں نے اسے بہت ہلکی قیمت پر گنتی کے چند درہموں پر ہی بیچ دیا۔ وہ تو یوسف (علیہ السلام )کے بارے میں بہت ہی بے رغبت تھے۔ (سورہ یوسف آیت نمبر19اور 20)حضرت یوسف علیہ السلا م کنویں کے اندر تھے اور اللہ تعالیٰ انہیں سمجھا رہے تھے کہ تمہارے بھائیوں کو یہ شعور ( احساس) ہی نہیں ہے کہ وہ تمہارے ساتھ یہ سلوک کر کے کتنی بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ بہر حال ایک وقت ایسا آئے گا جب تم ان کے اوپر حاوی ہو گے اور انہیں احساس کراﺅ گے۔ اسی دوران مدین کا ایک قافلہ بھٹک کر اس کنویں کے پاس پہنچ گیا۔ قاضی ثنا ءاللہ پانی پتی لکھتے ہیں کہ ایک قافلہ جو مدین سے مصر کی طرف جا رہا تھا وہ راستہ بھول گئے اور اس کنویں کے قریب آکر پڑاﺅ ڈال دیا۔ یہ کنواں آبادی سے دور چرواہوں اور مسافروں کے لئے تھا۔ اس کا پانی نمکین تھا لیکن جب حضرت یوسف علیہ السلا م کو اس میں ڈالا گیا تو وہ پانی میٹھا ہو گیا۔ جب قافلے والے وہاں اترے تو انہوں نے ایک شخص کو پانی لانے کے لئے کنویں پر بھیجا۔ وہ دمدین کا باشندہ تھا۔ اور اس کا نام مالک بن وعسر تھا۔ اس نے پانی نکالنے کے لئے ڈول کو کنویں میں ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السلا م رسی پکڑ کر اوپر آگئے۔ آپ علیہ السلام اتنے حسین تھے کہ پانی نکالنے والا سکتہ کے عالم میں آپ علیہ السلام کو کچھ دیر دیکھتا رہا۔ پھر اس نے خوشی سے چلاتے ہوئے قافلے والوں کو خوش خبری دی کہ اس کنویں سے انتہائی خوب صورت دل موہ لینے والا نو عمر لڑکا نکلا ہے۔ 

بھائیوں نے کوڑیوں کے دام میں بیچ دیا

حضرت یوسف علیہ السلا م کنویں کے باہر نکل آئے۔ آپ علیہ السلام اس کنویں میں تین دن رہے۔ حضر ت مجاہد( جلیل القدر تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلا م کنویں سے باہرآئے تو وہ کنواں رونے لگا۔تمام قافلے والے مالک بن وعر کی آواز سن کر دوڑتے ہوئے آئے اور حیرانی سے اس خوبصورت لڑکے کو دیکھنے لگے۔ اور اس کی خوب صورتی کودیکھ کر اندازہ لگایا کہ یہ لڑکا یقینا کسی بہت اچھے خاندان کا ہے۔ وہ آپ علیہ السلام کو اپنے قافلے میں لے کر آئے اور سب لوگ خدمت کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کے بھائی آس پاس بکریاں چراتے رہتے تھے۔ جب ان بھائیوں نے قافلے والوں کو دیکھا تو ان کے پاس آئے۔ اور وہاں دیکھا کہ قافلے والے حضرت یوسف علیہ السلا م کو کنویں سے نکال کر ان کی خدمت کر رہے ہیں تو انہیں بڑا غصہ آیا۔ اور انہوں نے قافلے والوں سے کہا کہ یہ تو ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ قافلے والوں نے کہا۔ ٹھیک ہے ہم نے اس کے اوپر جوخرچ کیا ہے وہ دے دو اور اسے لے جاﺅ۔ لیکن برداران یوسف تو انہیں واپس گھر نہیں لے جانا چاہتے تھے ۔ اسی لئے تمام بھائیوں نے کہا۔ یہ بار بار بھاگ جاتا ہے اس لےے ہم اسے رکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ ہاں تم قیمت دے کر اسے خرید سکتے ہو۔ اور حضرت یوسف علیہ السلا م کو عبرانی زبان میں دھمکی دی کہ اگر اصلیت بتاﺅ گے تو ہم تمہیں اس بار واقعی قتل کر دیں گے۔ اس کے بعد قافلے والے مول بھاﺅ کرنے لگے۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ لوگ ہر قیمت پر اسے بیچ دیں گے۔ اس لئے بہت ہی کم قیمت لگائی۔ آخر سودا طے ہو گیا۔ ایک روایت کے مطابق 18درہم یا پھر 20درہم یا پھر 22درہم یا پھر 40درہم پر سود ا طے ہوا۔ اور قافلے والوں نے آپ علیہ السلام کو خرید لیا۔ اس کے بعد ان کے بھائیوں نے قافلے والوں سے کہا اسے اچھی طرح باندھ کر رکھنا کیوں کہ یہ بار بار بھاگ جاتا ہے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

04 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf



04 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 4

حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے بازار میں 

حضرت یوسف علیہ السلا م کے بھائیوں کے کہنے پر قافلے والوں نے آپ علیہ السلام کو راستے بھر باندھ کر رکھا اور مصر لے کر آئے۔ اور مصر کے بازار میں بیچنے کے لئے کھڑا کر دیا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو بتا دیں کہ پہلے زمانے میں انسانوں کو خریدنے اور بیچنے کا رواج تھا۔ لوگوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ کسی علاقے کا حکمراں دوسرے علاقے پر قبضہ کر کے اس علاقے کے مرد وں ، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا کرتا تھا۔ یا ڈاکو کسی قافلے پر اچانک حملہ کر کے قافلے والوں کو لوٹ لیا کرتے تھے۔ اور مردوں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ اور بازار میں بیچ دیا کرتے تھے۔ اس طرح ان کی پوری زندگی غلامی میں گزر جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر رحم فرمایا۔ اورتمام انسانوں کی رہبری اور رہنمائی کرنے کے لئے اپنے آخری رسول اور انبیائے کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی کالے کوکسی گورے پر فضیلت نہیں ہے۔ اور کسی گورے کو کسی کالے پر فضیلت نہیں ہے۔ کوئی کسی سے اونچا نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کسی سے نیچا ہے۔ بلکہ تمام انسان ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ اونچا ہے جو متقی ( گناہوں سے بچنے والا) اور نیک ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مساوات ( برابری) کا پیغام ہی نہیں دیا بلکہ اس پر خود بھی عمل کیا اور بہت سے غلاموں کو آزاد فرمایا۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ہزاروں غلاموں کو آزاد کیا۔ اور غلامی کا نظام ہی ختم کر دیا۔ اس کا اثرپوری دنیا پر پڑا۔ اور اتنا شدید پڑا کہ یہودیوں ، عیسائیوں اور کافروں بلکہ پوری دنیا کی ہر قوم نے اسے اپنالیا۔ اور دھیرے دھیرے غلام بنا نے کا رواج ہی ختم ہو گیا۔ اور تمام انسان برابر سمجھے جانے لگے۔ ہم نے ایسے ہی دور میں آنکھ کھولی ہے ۔ اسی لئے ہمیں غلامی اور غلاموں کی زندگی کی تکلیفوں کا اتنا صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا ۔ ہاں اگرہم تاریخ کا مطالعہ بغور کریں تو بہت حد تک سمجھ سکتے ہیں۔ اب آگے بڑھتے ہیں

حسنِ یوسف علیہ السلام کی شہرت

اللہ کے نبی حضرت یوسف علیہ السلا م کو نو عمری میں غلام بنا کر مصر کے بازار میں لایا گیا اور بیچنے کے لئے کھڑا کردیاگیا۔ آپ علیہ السلام بہت حسین تھے۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات میں سب سے خوبصورت بنایا ہے۔ اور آپ حضرت یوسف علیہ السلا م کے بعد حضرت یوسف علیہ السلا م سب سے خوبصورت ہیں ۔ آپ علیہ السلام کے خوبصورتی کا ذکر صرف مصر کے بازار میں ہی نہیں بلکہ پورے مصر میں ہونے لگا۔ اور اس بے انتہا خوبصورت غلام کو دیکھنے کےلئے پورا مصر امڈ پڑا۔ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔ قافلہ مصر پہونچا اور مالک بن دعر نے جن غلاموں کو فروخت کرنا تھا۔ انھیں دریائے نیل میں غسل کرایا ۔ اور صاف ستھرے کپڑے پہنائے۔ سب سے آخر میں حضرت یوسف علیہ السلا م کو غسل کراکر جب خوبصورت کپڑے پہنائے تو آپ علیہ السلام کے حسن کا یہ عالم تھا کہ مالک بن دعر میں دیکھنے کی تاب نہیں رہی۔ اور بازار مصر میں تو آپ علیہ السلا م کو نظر بھر دیکھنے کےلئے لوگ امڈ پڑے ۔ لوگ خریدنے نہیں بلکہ دیکھنے آرہے تھے۔شام تک پورے مصر میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایک بے انتہا خوب صورت غلام لایا گیا ہے۔ وہ اتنا خوبصورت ہے کہ بس اسے دیکھتے ہی رہو۔ یہاں تک کہ بازار مصر مین دوسری صبح کے وقت تک عجیب آب و تاب سے حسن جہاں تاب جلوہ افروز ہوا۔ مصر میں پہلے ہی شہرت ہوچکی تھی کہ عظیم غلام بکنے کےلئے آیا ہے۔ مالک بن دعر مسرور تھا کہ آج اسکے نام کے ڈنکے مصر کے گلی کوچوں میں بج رہے ہیں۔ سودا حضرت یوسف علیہ السلا م کا ہونا تھا اور قسمت مالک بن دعر کی کھلی تھی۔

حسن یوسف علیہ السلا م کو دیکھنے کیلئے قیمت

حضرت یوسف علیہ السلا م کی خوبصورتی کی دھوم پورے مصر میں مچی ہوئی تھی۔ مفتی احمد یارخان نعیمی آگے لکھتے ہیں ۔ صبح کے وقت سب لوگ مالک بن دعر کے گھر کے دروازے پر آگئے۔ ہزاروں آدمیوں کے ہجوم کو دیکھ کر وہ اپنے گھر کی چھت پر چڑھا اور بولا۔ اے لوگو، تم کیا چاہتے ہو؟ سب نے کہا جو غلام تو لاےا وہ ہم کو بھی دکھا دے۔ صرف ایک نظر دیکھنا چاہتے ہیں ۔ مالک بن دعر کے مشیر نے اسے مشورہ دیا کہ غلام کے دیدار کو روکنے کےلئے اور جمگھٹے کو بھگانے کےلئے غلام کو دیکھنے پر ایک آدمی پر ایک دینار ادا کرنا مقرر کردو۔ پھر کوئی بھی دیکھنے کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ مالک بن دعر نے اعلان کردیا کہ غلام کو دیکھنے والے کو ایک دینار ادا کرنے ہوں گے۔ یہ سن کر غریب لوگ مایوس لوٹ گئے۔ کیونکہ دو سو درہم کا ایک دینار ہوتا ہے۔ اور امیر متوسط لوگ ایک دینار ادا کرکے حضرت یوسف علیہ السلا م کا دیدار کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ شام تک 6 لاکھ دینار جمع ہوگئے۔ جبکہ مالک بن دعر نے آپ علیہ السلا م کو بیس20،بائیس 22، یا چالیس40درہم میں خریدا تھا۔ دوسرے دن مالک بن دعر نے اعلان کیا کہ اس حسین غلام کو جو دیکھنا چاہتا ہے وہ دو دینار ادا کرے۔ پورا دن لوگوں کا مجمع لگا رہا۔ اور شام تک لاکھوں دینار جمع ہوگئے۔ امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب مخلوق کو دیکھنے کایہ حال ہے تو خالق کو دیکھنے کا کیا حال ہوگا؟

عزیزِ مصر نے خریدا

حضرت یوسف علیہ السلا م کے چرچے مصر کے گھر گھر میں ہونے لگے تھے۔ جسے دیکھوں اس حسین غلام کے بارے میں بات کررہا تھا۔ عزیزِ مصر نے بھی آپ علیہ السلا م کے بارے میں سنا تو دل نے چاہا کہ اک نظر دیکھ لیا جائے۔ عزیز مصر وزیر خزانہ تھا۔ امام عبدالرحمٰن بن عبداللہ سہیلی فرماتے ہیں۔ اسکا نام قطفیر تھا۔ اور امام محمد بن اسحاق فرماتے ہیں کہ اس کا نام اطفیر بن روحب تھا۔ اسکی بیوی کا نام راعیل تھا اور یہ بھی کہا گیا کہ اس کا نام زلیخا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے حضرت یوسف علیہ السلا م کو خریداتھا۔ وہ مصر کے بادشاہ کا وزیر قطفیر تھا۔ اور مصر کا بادشاہ ریان بن ولید تھا۔اور یہ بھی کہا کہ اسکا نام ولید بن ریان تھا۔ اور یہی قول رائج ہے۔ وہ قوم عمالقہ سے تھا۔ مفتی احمد یارخان آگے لکھتے ہیں ۔ لوگ مسلسل آپ علیہ السلام کا دیدار کرنے آرہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا دیدار کرنے والے تین قسم کے تھے۔ پہلی قسم کے لوگ مست وار تھے دوسری قسم کے لوگ حیرت زدہ تھے اور تیسری قسم مجنونوں کی تھی۔ لوگوں کا عجب حال تھا کہ دیدار کرنے کےلئے دوڑے آتے تھے مگر واپس جانے کی ہمت نہیں پاتے تھے۔ اگلی صبح اعلان ہوا کہ اس غلام کی نیلامی جمعہ کے دن ہو گی۔ جو سب سے زیادہ قیمت لگائے وہی خرید سکے گا۔ مصرکے تمام تاجر اور دولت مند لوگ نیلامی میں آئے ۔ ان میں عزیز مصر بھی تھا۔ مالک بن دعر نے حضرت یوسف علیہ السلام کو شاہانہ قیمتی لباس اور تاج پہنا کر ایک اونچی مسند پر بٹھا یا ہوا تھا۔ اس نے جب آپ علیہ السلام کا دیدار کیا تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے شفقت پیدا کردی ۔ اور اس کے اندر باپ کی محبت جاگ اٹھی ۔ اور اس نے دل ہی دل میں طئے کرلیا کہ میں اس حسین لڑکے کو ہر قیمت پر خریدوں گا اور بیٹا بناﺅں گا۔ ( عزیز مصر بے اولاد تھا)۔ لوگ بڑھ بڑھ کر بولی لگا رہے تھے۔ لیکن عزیز مصر سب سے بڑھ کر بولی لگا رہا تھا۔ آخر کار دوسرے تمام لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ اور اس نے آپ علیہ السلام کو اس کے وزن کے برابر سونا اورچاندی اور ہیرے اور یاقوت اور ریشم اور عنبر اور کافور دیکر خریدلیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے مصر میں قدم جمادئیے

حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر خرید کر اپنے گھر میں لے آیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسکے بارے میں سورہ یوسف میں فرماےا۔ ترجمہ” مصر والوں میں سے جس نے اسے خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا ۔ اسے بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ رکھو۔ بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا پھر ہم اسے بیٹا بنالیں۔ اس طرح ہم نے مصر کی سرزمین میں یوسف (علیہ السلام ) کا قدم جمادیا۔ تاکہ ہم اسے خواب کی تعبیر کا علم سکھا دیں۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ارادے پر غالب ہے اور اکثر لوگ نہیں جانتے۔( سورہ یوسف آیت نمبر 21) عزیز مصر کی بیوی کا نام ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں راعیل یا زلیخا تھا۔ کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا نام راعیل اور لقب زلیخا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام عزیزمصر کے گھر میں رہنے لگے۔ اور وہ دونوں آپ علیہ السلام کو بہت عزت و احترام سے رکھتے تھے۔ اور اپنے گھر کے ایک فرد کی طرح پیش آتے تھے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مورودی لکھتے ہیں کہ بائبل میں اس شخص کانام فوطیفار لکھا ہے۔ قرآن پاک میں اسے عزیز کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ اور ایک دوسرے موقع پر (جب حضرت یوسف علیہ السلام نے مصر کا انتظام سنبھالاتب بھی ) یہی لقب حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص مصر میں کوئی بڑے عہدے دار یا صاحب منصب تھا۔ بائبل اور تلمود کا بیان ہے کہ وہ شاہی جلو داروں (باڈی گارڈوں ) کا افسر تھا۔ اور علامہ محمد بن جریز طبری حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ شاہی خزانے کا افسر تھا۔ تلمود کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر اٹھارہ 18سال کی تھی۔ اور فوطیفار ان کی شاندار شخصیت کو دیکھ کر ہی سمجھ گیا تھا یہ لڑکا غلام نہیں ہے۔ بلکہ کسی بڑے شریف خاندان کا چشم و چراغ ہے جسے حالات کی گردش یہاں کھینچ لائی۔ اسی لئے جب وہ انھیں خرید رہا تھا تو اس نے سوداگروں سے کہہ دیا تھا کہ یہ تو غلام معلوم نہیں ہوتا ہے ۔ مجھے شبہ ہے کہ تم اسے کہیں سے چرا کر لائے ہو اسی بنا پر فوطیفار نے ان سے غلاموں کا سا برتاﺅ نہیں کیا بلکہ انھیں اپنے گھر اور اپنی کل املاک (جاگیر اور جائداد) کا مختار بنا دیا۔ بائبل کا بیان ہے کہ” اس نے اپنا سب کچھ یوسف علیہ السلام کے ہاتھوں میں دے دیا اور سوائے روٹی کے جسے وہ کھالیتا تھا اسے اپنے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا۔ 

اللہ تعالیٰ نے تربیت کا انتظام کیا

سورہ یوسف کی آیت نمبر21کی تفہیم میں مولانا مودودی آگے لکھتے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام کی تربیت اس وقت تک صحرا میں نیم خانہ بدوشی اور گلہ بانی کے ماحول میں ہوئی تھی۔ ملک کنعان اور شمال عرب کے علاقے میں اس وقت تک نہ تو کوئی منظم ریاست تھی اور نہ ہی تمدن و تہذیب نے کوئی بڑی ترقی نہیں کی تھی۔ کچھ آزاد قبائل تھے جو وقتا فوقتا ہجرت کرتے رہتے تھے۔ اور بعض قبائل نے مختلف علاقوںمیں مستقل سکونت اختیار کر کے چھوٹی چھوٹی ریاستیں لیں تھی۔ وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو جو تعلیم و تربیت ملی تھی اس میں بدویانہ ( دیہاتی) زندگی کے محاسن اور خانوادہ ابراہیمی کی خدا پرستی اور دینداری کے عناصر تو ضرور شامل تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ اس وقت کے سب سے زیادہ متمدن اور ترقی یافتہ ملک یعنی مصر میں ان سے جو کام لینا چاہتا تھا اور اس کے لئے جس واقفیت جس تجربے اور جس بصیرت کی ضرورت تھی اس کی نشو و نما کا کوئی موقع بدوی زندگی میں نہیں تھا۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے یہ انتظام فرمایا کہ انھیں سلطنت کے سب سے بڑے عہدے دار کے یہاں پہنچا دیا۔ اور اسنے (عزیز مصر) نے ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر انھیں اپنے گھر کا اور اپنی جاگیر کا مختار کل بنادیا۔ اسطرح یہ موقع پیدا ہوگیا کہ ان کی وہ تمام قابلیتیں پوری طرح نشونما پاسکیں جو اب تک بروے کار نہیں آئی تھیں اور انھیں جاگیر کے انتظام سے وہ تجربہ حاصل ہوجائے جو آئندہ ایک بڑی سلطنت کا نظم نسق چلانے کےلئے درکار تھا۔ اس مضمون کی طرف اس آیت میں اشارہ فرمایا گیا ہے۔

زلیخا کا اظہار محبت

حضرت یوسف علیہ السلام لگ بھگ تیرہ یا چودہ برس کی عمر میں مصر پہونچے ۔ اور لگ بھگ بارہ یا تیرہ برس عزیز مصر کے یہاں رہنے کے بعد آپ علیہ السلام کی عمر پچیس یا چھبیس برس کی ہوئی تو یہ واقعہ پیش آیا جس کا ہم ذکر کرنے والے ہیں۔ اتنے برسوں تک ساتھ رہنے سے زلیخا آپ علیہ السلام سے محبت کرنے لگی تھی۔ ایک روز عزیز مصر گھر پر نہیں تھا۔ تو زلیخا نے تمام دروازے بند کرلئے اور آپ علیہ السلام سے محبت کا اظہار کرنے لگی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تو میرے محسن (احسان کرنے والے) کی بیوی ہے۔ اور میں اپنے محسن کے ساتھ احسان فراموشی اور بے ایمانی نہیں کروں گا۔ اور تم جس چیز کی دعوت دے رہی ہو اس سے تو میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ” اس عورت نے جس کے گھر میں یوسف(علیہ السلام ) تھے۔ اس نے یوسف (علیہ السلام ) کو بہلانا پھسلانا شروع کیا کہ وہ اپنے نفس کی نگرانی چھوڑ دے اور دروازے بند کرکے کہنے لگی لو آجاﺅ۔ یوسف (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اللہ کی پناہ وہ میرا رب ہے مجھے اس نے بہت اچھی طرح رکھا ہے ۔ بے انصافی کر نے والوں کا بھلا نہیں ہوتا۔ ( سورہ یوسف آےت نمبر 23 ) مولانا محمد آصف قاسمی اس آیت کی تفسےر میں لکھتے ہیں ۔ عزیز مصر نہایت محبت اور احترام سے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے گھر لے آیا۔ اور ان سے غلاموں جیسا معاملہ کرنے کی بجائے گھر کے ایک فرد کی طرح ہر ایک آرام کا خیال رکھنے لگا۔ جب یوسف علیہ السلام عزیز مصر کے گھر میں آئے تھے اس وقت بعض روایات کے مطابق ان کی عمر سات آٹھ سال کی تھی ۔ لیکن کچھ سال ہی میں وہ ایک خوبصورت ترین نوجوان بن کر ابھرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں جتنا بھی حسن پیدا کیا اس میں سے آدھا حسن حضرت یوسف علیہ السلام کو عطا فرمایا گیا تھا۔ آپ علیہ السلام جوان ہوتے گئے ۔ اور جمال اور خوبصورتی نکھرتی گئی۔ عزیز مصر کی بیوی ( بعض روایات کے مطابق) جس کا نام زلیخا آتا ہے۔ وہ اس بھر پور اور شرم و حیا کے پیکر جوان پر مر مٹی اور اس نے نفس کے غلبہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ۔ ایک دن اس نے اپنے خصوصی کمرے میں حضرت یوسف علیہ السلام کو بلایا۔ دروزے بند کرلئے۔ اپنے اس بت پر جس کو وہ اپنا معبود کہتی تھی اس پر کپڑا ڈال کر اپنے بے تابی کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگی۔ اے یوسف (علیہ السلام ) میرے قریب آﺅ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسکی نیت بھانپتے ہوئے اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہا کہ میری مربی یعنی عزیز مصر نے مجھے عزت کا ٹھکانہ دیا ہے۔ میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ احسان فراموشی کروں۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں........! 

05 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf



 05 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 5

اللہ کا احسان

حضرت یوسف علیہ السلام کو اس عورت نے اکسایا ۔مولانا لقمان سلفی لکھتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ عزیز مصر کے گھر میں جو کچھ پیش آیا اسے بیان کیا جارہا ہے۔ عزیز مصر کی بیوی نے آپ علیہ السلام کے ساتھ فعل بد کا مطالبہ کیا ۔ اور اس عورتکے نام کی صراحت اسلئے نہیں کی گئی تاکہ اسکا راز افشانہ ہوجائے۔ اور عزیز مصر کی بےوی کہنے کی بجائے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یوسف علیہ السلام کو گناہ پر اس عورت نے اکسایا جس کے گھر میں وہ رہتے تھے۔ تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے وہ کتنی مشکل گھڑی تھی۔ اور وہ عفت اورپاک دامنی کی کس بلندی کو چھو رہے تھے۔ کہ اس گھر میں رہنے کی وجہ سے زلیخا کا بار بار سامنا ہوتا رہا ہوگا اور وہ اپنے حس و جمال کا مظاہرہ کرتی رہی ہوگی۔ تاکہ انھیں اپنے ذات میں دلچسپی لےنے پر اکسائے۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام پر ان تمام ہتھکنڈوں کا رائی کے دانہ کے برابر بھی اثر نہیں ہوا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے ایسا کرنے سے پہلے شدت خوف اور غایت ِاحتیاط کی وجہ سے سب دروازے بند کردئیے۔ تاکہ وہاں تک پہنچنے کا گمان بھی نہ ہوسکے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی پاک دامنی کی یہ بھی دلیل ہے کہ زلیخا نے انسانوں سے خوف کھانے کا ایک بھی عذر باقی نہیں رکھا تھا۔ اسکے باوجود ان کے دل میں گناہ کا خیال تک نہیں گذرا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسکے جواب میں فرمایا۔ کہ میں اس دعوت یا گناہ سے بچنے کجےلئے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اسلئے کہ یہ تو زنا، جرم عظیم، امانت میں خیانت اور احسان فراموشی ہے۔ اور اسے اس گناہ عظیم سے باز رکھنے کےلئے اڈ خیانت کی شدید ترین قباحت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمھیں معلوم ہے کہ مجھے کس خیانت پر ابھار رہی ہو؟ وہ عزیز مصر ہے جس نے ہر طرح سے میرا خیال کیا ہے۔ تو اب میرے لئے یہ کس طرح مناسب ہے کہ میں اسکی عزت سے کھیلوں ۔ ایک دوسری تفسیر یہ بھی بیان کی گئی کہ ” اِنّہُ“ کی ضمیر اللہ کے لئے ہے۔ یعنی میرا رب اللہ تعالیٰ نے تو مجھ پر بڑا احسان کیا ہے۔ مجھے نئی زندگی دی ہے۔ اور عزیز مصر کے پاس پہونچاکر میری پریشانیوں کو دور کیا ہے۔ اب اگر میں نے تمھاری بات مانی تو میں ظالم بن جاﺅں گا۔ اور ظالم کبھی کامیاب نہیں ہوتاہے۔ 

 قمیص کا پھٹنا

حضرت یوسف علیہ السلام اتنا فرمانے کے بعد تیز تیز قدم سے دروازے کی طرف جانے لگے۔ تا کہ دروازہ کھول کہ با ہرنکل جایں۔آپ علیہ السلام کے پیچھے پیچھے زلیخا آنے لگی۔ اور آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑکر روکنے کی کو شش کرنے لگی۔ اور آپ علیہ السلام نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا۔ اور تیزی سے دروازے کی طرف دوڑنے لگے۔ زلیخا بھی ان کے پیچھے دوڑنے لگی۔ اور آپ علی السلام کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی تو بھاگتے ہوئے آپ علیہ السلام نے پھر اسکا ہاتھ جھٹکا۔ تو اس کے ہاتھ میں آپ علیہ السلام کی قمیص کا کونہ آگیا۔ اب حالت یہ ہو گئی تھی کہ حضرت یو سف علیہ السلام آگے آگے دوڑ رہے تھے اور ان کی قمیص کا کونہ زلیخا مضبوطی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ اور روک نہیں پا رہی تھی۔ اور قمیص کومضبوطی سے پکڑے رہنے کی وجہ سے دوڑتی جا رہی تھی۔آپ علیہ السلام نے بھاگتے بھاگتے ایک مرتبہ پھر اس کے ہاتھ پر مارا۔ تاکہ قمیص چھوٹ جائے۔ آپ علیہ السلام کے ہاتھ مارتے ہی قمیص پھٹ گئی۔ اور اسکا ٹکڑا زلیخا کے ہاتھوں میں رہ گیا۔آپ علیہ السلام اسی حالت میں دوڑتے ہوئے دروازے تک پہنچے۔ اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ترجمہ” دونوں (آگے پیچھے) دروازے کی طرف دوڑے اور عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پیچھے کی طرف کھینچ کر پھاڑ ڈالی“(سورة یوسف آیت نمبر 25)

عزیز مصر کا دیکھنا اور زلیخا کا الزام

اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں ترجمہ”اور دروازے کے پاس ہی عورت کا شوہر دونوں کو مل گیا تو وہ کہنے لگی جو شخص تیری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے تو بس اسکی یہی سزا ہے کہ اسے قید کر دیا جائے یا کوئی اور دردناک سزا دی جائے“ (سورة یوسف آیت نمبر25)حضرت یوسف علیہ السلام تیزی سے دوڑتے ہوئے دروازے تک پہونچے اور ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا اور با ہر نکلنے کی کوشش کی لیکن عزیز مصر کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئے۔ عزیز مصر کسی کام سے اسی طرف آرہا تھا۔ آپ علیہ السلام کو دیکھ کر وہ بھی رک گیا۔ وہ عورت کے کسی رشتہ دار سے باتیں کرتا آرہا تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور حضرت یوسف علیہ السلام بد حواس حالت میں نظر آئے کہ بال بکھرے ہوئے ہیں۔ چہرہ اور پورا بدن پسینے میں شرابور ہے اور سانس دھونکنی کی طرح چل رہی ہے۔ ابھی عزیز مصر اور اس کا ساتھی حیرانی سے آپ علیہ السلام کی حالت پر غور ہی کررہے تھے کہ پیچھے سے زلیخا دوڑتی ہوئی باہر آئی اور وہ ان دونوں کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گئی۔ اس کے ہاتھ میں آپ علیہ السلام کی قمیص کا ٹکڑا تھا۔ کچھ سیکنڈ تو وہ حیرانی اور پریشانی کا شکار رہی ۔ لیکن پھر فوراً اس نے اپنے شوہر سے کہا۔ تمھاری غیر موجودگی میں اس نے میری عزت پر حملہ کیاہے اور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ اب یا تو اسے قید کرہ یا پھر درد ناک سزا دو۔ حضرت یوسف علیہ السلام حیرانی سے اس عورت کو دیکھنے لگے۔ 

یہ عورت جھوٹ کہہ رہی ہے

حضرت یوسف علیہ السلام حیرانی سے اس عورت کو دیکھ رہے تھے ۔ اور وہ بڑی صفائی سے اپنے گناہ کا الزام آپ علیہ السلام پر ڈال رہی تھی۔ اپنے شوہر اور رشتہ دار کو دیکھ کر وہ رونے لگی اور روتے روتے بتانے لگی۔ کہ کس طرح اس نے مجھ پر حملہ کیا ہے اور میں بچنے کی کوشش کررہی تھی۔ اور اسی چھےنا جھپٹی میں اس کی قمیص کا یہ ٹکڑا پھٹ کر میرے ہاتھ میں آگیا ہے اور وہ ٹکڑا اپنے شوہر کو دے دیا۔ اور کہا کہ اب تم ہی فیصلہ کرو کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ جیل میں ڈالنا ہے یا پھر کوئی اور درد ناک سزا دینا ہے۔ اور شوہر کے کاندھے پر سر رکھ کر سسکنے لگی۔ حضرت یوسف علیہ السلام حیرانی سے آنکھیں پھیلائے اس عورت کے مکر و فریب کو دیکھ رہے تھے۔ اور پریشان ہورہے تھے۔ جب وہ عورت خاموش ہوئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ عورت جھوٹ کہہ رہی ہے۔ میں نے اس عورت کی عزت پر حملہ نہیں کیا ہے۔ بلکہ یہ خود مجھے گناہ کرنے کی دعوت دے رہی تھی ۔ اور مجھے بہلا پھسلا رہی تھی۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرماےا۔ترجمہ۔ ” یوسف (علیہ السلام ) نے فرماےا ۔ یہ عورت مجھے بہلا پھسلا رہی تھی۔ “( سورہ یوسف آیت نمبر 26 ) حضرت یوسف علیہ السلام نے جب دیکھا کہ یہ عورت خود گناہ کی دعوت دےکر مجھ پر الزام لگا رہی ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس نے خود مجھے گناہ کی دعوت دی تھی لیکن میں نے انکار کردیا ۔ اور دروازے کی طرف بڑھنے لگا تو یہ مجھے پیچھے کی طرف سے پکڑنے کی کوشش کرنے لگی تو میں دروازے کی طرف دوڑنے لگا۔ اس نے پیچھے سے میری قمیص پکڑ کر روکنے کی کوشش کی تو میری قمیص پھٹ کر اس کے ہاتھ میں آگئی۔ یہ سن کر زلیخا نے کہا ۔ یہ قمیص کا ٹکڑا میرے ہاتھ میں اسلئے ہے کہ میں اسکے حملے کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی اور پیچھے ڈھکیل رہی تھی تو قمیص پھٹ کر میرے ہاتھ میں آگئی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام بے گناہ ہیں

اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” اور عورت کے قبیلے کے ایک شخص نے کہا۔ اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہ عورت سچ کہہ رہی ہے اور یوسف (علیہ السلام نعوذ باللہ ) جھوٹ بولنے والوں میں سے ہیں۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑی گئی ہے تو یہ عورت جھوٹ بول رہی ہے۔ اور یوسف ( علیہ السلام ) سچ بولنے والوں میں سے ہیں۔ اور جب کہ دیکھا کہ قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم عورتوں کی چال بازی ہے اور بے شک تم عورتیں بڑی گہری چال چلتی ہو۔( سورہ یوسف آیت نمبر 26سے 29تک ) عزیز مصر حیران و پریشان سا کھڑا ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کون سچاہے؟ اور کون جھوٹا ہے؟ ایسے وقت میں جو اسکے ساتھ اسکا دوست اور اسکی عورت کا رشتہ دار تھا۔ وہ آگے بڑھا ۔ اسکے بارے میں مختلف روایات ہیں ۔کہ وہ دودھ پیتا بچہ تھا۔ یا پھر اسی عورت کا کوئی رشتہ دار اور سمجھ دار آدمی تھا۔ اب حقیقت کیا ہے اسکا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ خیر تو وہ آگے بڑھا اور بولا کہ تمھاری بیوی کہتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام ) نے اس پر حملہ کیا تھا اور وہ اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اگر یہ سچ ہے کہہ رہی تو یوسف (علیہ السلام )کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہوگی۔ اور یوسف (علیہ السلام ) کہتا ہے کہ اس عورت نے اسے گناہ کرنے کی دعوت دی تو یہ جان بچا کر بھاگا تو اس عورت نے اسے پیچھے پکڑنے کی کوشش کی ۔ اگر یوسف( علیہ السلام ) سچا ہے تو اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوگی۔ جب قمیص کا وہ ٹکڑا عورت کے ہاتھ میں تھا اسے قمیص سے ملاکر دیکھا گےا تومعلوم ہوا کہ یہ ٹکڑا پیچھے کے حصے کا ہے۔ اور قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے۔یہ دیکھ کر اس شخص نے عزیز مصر سے کہا یوسف (علیہ السلام ) سچا ہے اور یہ عورت جھوٹی ہے۔ اور عزیز مصر نے اپنے بیوی سے کہا۔ اری او بدبخت ، یوسف (علیہ السلام ) تو معصوم ہے اور تو نے اسے اتنے بڑے الزام میں پھنسانے کی کوشش کی ہے۔ آئندہ اس معصوم پر کوئی الزام نہیں لگانا۔ اور گھر کی بات ہے اسے گھر ہی میں دفن کردو۔ اور یوسف (علیہ السلام ) کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ اور اس سے معافی مانگو۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا۔ بیٹے اسے معاف کردو اور اس بات کو یہیں ختم کردو۔

شہر کی عورتوں میں چرچا

حضرت یوسف علیہ السلام سے عزیز مصر نے کہا کہ گھر کی بات ہے اسے یہیں پر ختم کردو۔ آپ علیہ السلام نے کسی کو کچھ نہیں کہا اور بات وہیں ختم کردی ۔ لیکن یہ بات کسی نہ کسی طرح شہر کی عورتوں کو معلوم ہوگئی ۔ اور عورتوں میں اسی بات کو لےکر چرچا ہونے لگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ۔’ ’اور شہر کی عورتوں میں (چرچا) ہونے لگی کہ عزیز کی بیوی اپنے (جوان ) کو اپنا مطلب نکالنے کےلئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے۔ اسکے دل میں یوسف (علیہ السلام ) کی محبت بیٹھ گئی ہے۔ ہمارے خیال میں تو وہ کھلی گمراہی میں پڑ گئی ہے۔ “ ( سورہ یوسف آیت نمبر 30) مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ عزیز مصر نے تو معاملہ وقتی طور پر رفع دفع کردیا تھا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ اس قصے کو یہیں تک رہنے دینا آگے مت بڑھانا۔ لیکن خبر کسی نہ کسی طرح شہر کی عورتوں کو پہنچ گئی اور وہ آپس میں چرچا کرنے لگی کہ دیکھو عزیز مصر کی بیوی کو کیا ہوا۔ بڑے گھر کی عورت ہے لیکن اپنے غلام کو اپنا مطلب نکالنے کےلئے پھسلا رہی ہے۔ غلام اسلئے کہا کہ اس کا شوہر حضرت یوسف علیہ السلام کو خرید کر لایا تھا۔ اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ اول تو یہ عورت شوہر والی تھی۔ اسے اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف مائل ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر مائل بھی ہوئی تو کس پر؟ جو اس کے برابر کا نہیں تھا۔ نہ تو عمر میں برابر اور نہ ہی مرتبہ میں برابر دونوں میں اگر کوئی برابری بھی ہوتی تو ایک بات تھی ۔ بس جی ایک غلام کی محبت تو بری طرح اس کے دل میں گھر کر گئی ہے۔اس محبت نے یہ بات سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا کہ مین کس سے لگ رہی ہوں۔اور کس کی طرف مائل ہورہی ہوں۔ ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ صاف غلطی کررہی ہے۔

عورتوں کو حسن یوسف کے دیدار کی تمنا

سورہ یوسف کی آیت نمبر 30کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ کہ اس داستان محبت کی خبر شہر بھر میں ہوگئی ۔ چرچے ہونے لگے۔ چند شریف زادیوں نے نہایت تعجب وحقارت سے اس قصے کو دہرایا کہ دیکھو وزیر کی بیوی ہے۔ اور ایک غلام پر جان دے رہی ہے ۔ اور اس کی محبت کو اپنے دل میں جمائے ہوئے ہے۔ وہ عورتیں کہتی ہیں کہ عزیز کی بیوی بہت غلط کام کر رہی ہے۔ ان غیبتوں کا پتہ عزیز کی بیوی کو بھی پتہ چل گیا تھا۔ یہاں لفظ مکر اسلئے بولا گیا ہے کہ بقول بعض علمائے کرام یہ خود ان عورتوں کا (عزیز کی بیوی کو بد نام کرنا )ایک مکر تھا۔دراصل وہ حسن یوسف کے دیدار میں مری جارہی تھیں۔ اور یہ تو صرف ایک حیلہ بنایا تھا۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ چھپانے کے باوجود درباری لوگوں کی عورتوں میں پھیل گیا۔ ان عورتوں نے عزیز کی بیوی کو لعن طعن کرنا شروع کردیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ پانچ عورتیں عزیز مصر کے قریبی افسروں کی بیویاں تھیں۔ یہ عورتیں آپس میں کہنے لگی کہ دیکھو کیسی حیرت کی اور افسوس کی بات ہے کہ عزیز کی بیوی اتنے بڑے مرتبے پر ہوتے ہوئی اپنے نوجوان غلام پر فریفتہ ہوکر اس سے اپنا مطلب کرنا چاہتی ہے۔ ہم تو اس کو بڑی گمراہی پر سمجھتے ہیں۔ اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کو زلیخا کا غلام یا تو اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ شوہر کی چیز کوبھی عادةً بیوی کی چیز کہاہے۔ اور یا اسلئے کہ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے شوہر سے بطور ہبہ اور تحفہ لیا تھا۔ 

زلیخا نے عورتوں کو دعوت دی

حضرت یوسف علیہ السلام کو جب مصر لایا گیا تو آپ علیہ السلام کے دیدار کے لئے مردوں نے اپنی جیبےں خالی کردی۔ یہ ہم آپ کو پہلے ہی بتا چکے ہیں ۔ مردوں نے حسن یوسف کا دیدار کرلیا تھا ۔ مگر عورتیں محروم رہ گئی تھیں۔ اور پورے مصر میں ایک ایک فرد کی زبان پر آپ علیہ السلام کی خوبصورتی کے تذکرے تھے ۔ حالانکہ آپ علیہ السلام کو مصر میں آئے لگ بھگ بارہ سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا تھا۔ لیکن پھر بھی آپ علیہ السلام کو دیکھنے کی تمنا لوگ رکھتے تھے۔ ان میں وہ عورتیں بھی تھیں جو زلیخا پر طعن کررہی تھیں۔ زلیخا نے شاہی دعوت کا اہتمام کیا اور ان عورتوں کو دعوت دی۔ تمام عورتیں حاضر ہوگئےں۔ وہب کہتے ہیں کہ زلیخا نے ایک پر تکلف شاہی کھا نا تیار کرایا۔ اور چالیس عورتوں کو مدعو کیا جنھوں نے طعنہ دیا تھا۔ اور ان کےلئے مخملی مسندیں بچھا دیں۔ اور گاﺅ تکیے لگادئیے۔ امام بغوی فرماتے ہیں عزیز مصر کی بیوی نے رنگ برنگے پھلوں اور کھانوں سے دسترخوان کو چن دیا۔ اور گاﺅ تکیے لگا دئیے۔ پھر عورتوں کی دعوت کی ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ عزیز کی بیوی بھی ان کی چال سمجھ گئی۔ اور پھر اس میں اس نے اپنی معذوری کی مصلحت بھی دیکھی تو ان کے پاس اسی وقت بلاوا بھیج دیا کہ فلاں وقت آپ کی میرے یہاں دعوت ہے۔ اور ایک مجلس، محفل اور بیٹھک درست کرلی۔ جس میں پھل اور میوہ بہت تھا۔ اس نے تراش تراش کر چھیل چھیل کر کھانے کےلئے ایک ایک تیز چاقو سب کےلئے رکھ دیا۔ علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی نے ان عورتوں کو اپنا راز دار بنا یا تھا۔ اور یہ بتایا کہ وہ حضرت یوسف علیہ السلام سے محبت کرتی ہے۔ لیکن جب ان عورتوں نے اس کا راز فاش کردیا تو یہ ان کی بد عہدی اور مکر تھا۔ ان عورتوں نے اس کی غیبت کی تھی اور یہ غیبت مکر کے مشابہ تھی۔ عزیز مصر کی بیوی نے جب یہ سنا کہ یہ عورتیں اسکی حضرت یوسف علیہ السلام سے محبت کی وجہ سے اسکو ملامت کررہی ہیں۔ تو اس نے اپنے عذر کو ظاہر کر نے کا ارادہ کیا۔ اس نے ان عورتوں کو بلا یا اور ان کی مجلس منعقد کی ۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!


D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں