اتوار، 30 اپریل، 2023

06 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf



06 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 6

عورتوں نے بے خودی میں اپنی انگلیوں کوکاٹ لیا 

زلیخا نے ان عورتوں کو دعوت دی اور ان کے لئے گاﺅ تکیے لگوا دئیے۔ اور پھل فروٹ اور میوے وغیرہ رکھ دئیے۔ وہ عورتیں آئیں اور گاﺅ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ اور باتیں کرنے لگیں زلیخا بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کررہی تھی۔ تمام عورتیں باتیں کرتی جارہی تھی اور پھل کاٹ کاٹ کر کھاتی بھی جارہی تھیں۔ اچانک زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو آواز لگائی اور بلایا۔آپ علیہ السلام اندر داخل ہوئے اور تمام عورتوں نے ایک ساتھ ان کی طرف دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئیں۔ ایسا حسن انھوں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ اور وہ سب عورتیں آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسی بے خود ہوئی کہ انھوں نے پھلوں کی بجائے اپنے انگلیوں کو کاٹ لیا اور انھیں احساس ہی نہیں ہوا کہ ان کی انگلیاں کٹ چکی ہیں۔ وہ تو بے خودی میں اللہ تعالیٰ کے اس حسین شاہکار کو بس تکے جارہی تھیں۔ زلیخا نے آپ علیہ السلام سے کچھ باتیں کی اور انھیں واپس بھیج دیا۔ جب آپ علیہ السلام دوسرے کمرے میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہوگئے تو تمام عورتیں چونکیں اور تب انھیں تکلیف کا احساس ہواتو اپنی انگلیوں کی طرف متوجہ ہوئیں تو خون دیکھ کر ان کی چینخیں نکل گئیں۔ اور تمام عورتیں جلدی جلدی خون کو روکنے اور پٹی باندھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ زلیخا بیٹھی انھیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ” اس نے (زلیخا نے) جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انھیں بلوا بھیجا اور انکے لئے ایک مجلس مرتب کی۔ اور ان میں سے ہر ایک چھری دی۔ اور کہا اے یوسف (علیہ السلام ) ان کے سامنے چلے آﺅ۔ ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لےے اور زبان سے نکل گیا ”ماشَا اللہ“یہ انسان تو ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ یہ تو یقیناکوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر 31)۔

اتنا حسین انسان نہیں ہوسکتا 

سورہ یوسف کی آیت نمبر 31کی تفسیر میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی نے عورتوں کو اترنج(لیموں) اور شہد دیا تو وہ چھری سے اترنج کانٹنے لگیں تو حضرت یوسف علیہ السلام کو اس عورت نے بلایا۔ آپ علیہ السلام مجلس میں پہونچے تو تمام عورتیں آپ علیہ السلام کی حسن عظمت کی قائل ہوگئیں اور ایسی مسحور ہوئیں کہ اپنے ہاتھوں کو چھری سے کانٹنے لگیں اور ان کے ہاتھوں میں اترنج تھا اور وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہی تھیں اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ اترنج کاٹ رہی ہیں حسنِ یوسف کو دیکھ کر انکی عقلیں ضائع ہوگئی اور انھوں نے کہا ۔ مَاشَااللہ، یہ انسان نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عزیز مصر کی بیوی نے ان عورتوں کو اترنج کا پھل دیا اور ہر ایک کو چھری بھی دی ۔ جب انھوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو حسنِ یوسف کی عظمت کی قائل ہوگئیں اور اپنے ہاتھ کاٹنے لگیں اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ اترنج کا پھل کاٹ رہی ہیں۔ امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں کہ اس عورت نے اپنے منتظم سے کہا کہ یوسف علیہ السلام کو سفید لباس پہنا کر ان عورتوں کے پاس لاﺅ۔ کیونکہ سفید لباس میں یہ مزید خوبصورت اور نکھرا ہوا لگتا ہے۔ اس نے عورتوں کے سامنے آپ علیہ السلام کو پیش کیا اس وقت وہ پھل کاٹ رہی تھیں۔ جب انھوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو ایسی مدہوش ہوئیں کہ پھل کاٹنے کی بجائے اپنے ہاتھوں کو کاٹنے لگیں۔ اور ایک ٹک آپ علیہ السلام کو دیکھ رہی تھیں۔ پھر زلیخا نے آپ علیہ السلام کو جانے کا اشارہ کیا تو آپ علیہ السلام واپس چلے گئے۔ تو وہ پیچھے سے آپ علیہ السلام کو دیکھتی رہیں اور جب نظروں سے اوجھل ہوگئے تو ہاتھوں میں تکلیف محسوس ہوئی تو وہ چونکیں تب عزیز کی بیوی نے کہا ۔ ایک مرتبہ دیکھنے میں تمھارا یہ حال ہے وہ تو ہر وقت میرے سامنے رہتا ہے۔ تب ان عورتوں نے کہا۔ مَا شَا اللہ یہ انسان نہیں ہوسکتا یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔

یہ کوئی بزرگ فرشتہ ہے

سورہ یوسف آیت نمبر 31کی تفسیر میں مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔ زلیخا نے اپنی ملازماﺅں اور لونڈیوں کے ذریعے نہایت عمدہ طریقے سے دعوت گاہ کو سجایا حالانکہ وہ عورتیں اتنی اہمیت اور عزت افزائی کے لائق نہیں تھیں۔ مگر جسکا دیدار کرانا تھا جس کی شان کی دھاک بٹھانی تھی ۔ وہ بہت عظیم تھا۔ ایک لونڈی نے کہا۔ وہ عورتیں تیری غیبت کررہی ہیں تو پھر تو انکا اتنا احترام کیوں کررہی ہے ؟ زلیخا نے کہا ۔ میں تلوار کی مار نہیں مارنا چاہتی بلکہ حسنِ یوسف کا دیدار کراکے انھیں تڑپانا چاہتی ہوں ۔ اور سب عورتوں کو دعوت کے لئے بلایا۔ اور ہر عورت کو چھری دی ۔ یہ کل چالیس عورتیں تھیں۔ ان میں وہ پانچ عورتیں بھی تھیں۔( جن کا پہلے ذکر آچکا ہے۔)زلیخا نے کھانے کی اجازت دی سب نے ایک پھل اٹھایا۔ اور حسب عادت کاٹنے لگیں۔ اسی وقت زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بلایا۔ آپ علیہ السلام آئے اور جب ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو دنگ رہ گئیں اور پھل کاٹتے کاٹتے مد ہوش ہوگئیں اور اسی مدہوشی میں انھیں احساس نہیں ہوا کہ پھل کٹ جانے کے بعد وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہی ہیں۔ پہلے کھال کٹی ، پھر گوشت کٹا اور بعض کی تو ہڈی تک کٹ گئی۔ زلیخا نے آپ علیہ السلام کو جانے کا اشارہ کیا اور آپ علیہ السلام چلے گئے۔ تب وہ عورتیں ہوش میں آئیں اور درد محسوس ہوا اور پتہ لگا کہ پلک جھپکنے میں کیا ہوگیا زلیخا نے کہا ۔ دیکھ لیا تم نے تو وہ بولیں۔ یہ انسان نہیں لگتا بلکہ یہ تو کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے۔ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان عورتوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ 

زلیخا کی دھمکی

حضرت یوسف علیہ السلام سے عزیز مصر نے درخواست کی تھی کہ میری بیوی کو معاف کردو۔ اور اپنی بیوی سے کہا تھاکہ اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہونچانا۔ لیکن زلیخا کے دل و دماغ پر شیطان سوار تھا۔ اسلئے وہ آپ علیہ السلام کو مجبور کرنے لگی۔ جب ان عورتوں نے اپنے ہاتھوں میں پٹیاں باندھ لی تو زلیخا نے ان سے کہا ، تم نے اسے دیکھ لیا نا کہ وہ کتنا خوبصورت ہے۔ اور تم لوگ مجھے ملامت کررہی ہو۔ اب میں تم سے کہتی ہوں پچھلی مرتبہ تو یہ بچ گیا ۔ لیکن اب اگر یہ میری بات نہیں مانے گا تو یا تو میں اسکی بے عزتی کردوں گی یا پھر قید خانے میں ڈالوا دوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ” اس وقت عزیز کی بیوی نے کہا ۔ یہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنہ دے رہی تھیں۔ حالانکہ میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا ۔ اور جو کچھ میں کہہ رہی ہوں اگر یہ نہیں کرے گا تو یقیناً قید کردیا جائے گا۔ اور بے شک اسے میں بے عزت کروں گی ۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 32) ۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی نے کہا۔ واقعی میں نے اپنا مطلب نکالنے کے لئے اسے پھسلایا تھا لیکن یہ بچ گیا۔ اس طرح اس نے اس بات کا اقرار کر لیا جسکا وہ اپنے شو ہر کے سا منے انکار کر چکی تھی۔اور حضرت یوسف علیہ السلام کی بے قصوری بھی ظاہر کر دی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ابھی یہ پھندے سے نکلا نہیں ہے۔ میرا تقاضا برابر جاری رہے گا۔ اگر اس نے میری بات نہیں مانی اور میرے حکم پر عمل نہیں کیا تو ضرور جیل میں بھیج دیا جائے گا۔ یا پھر ضرور بالضروراسے ذلت اٹھانی پڑے گی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں ۔وہ عورت بولی دیکھ لو یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھے برا بھلا کہتی تھیں۔ اور واقعی میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ پاک صاف رہا۔ اور آئندہ میرا کہنا نہیں مانے گاتو بے شک جیل خانے میں جائے گا اور بے عزت بھی ہو گا۔ محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں زلیخا نے ان عورتوں سے کہا یہی وہ پیکر ِ حسن ہے۔ جس کے بارے میں تم عورتیں مجھے کوستی تھیں۔اور جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ تمام عورتیں حسن ِیوسف سے مسحور ہو گئی ہیں ۔اور اسے معذور سمجھنے لگی ہیں۔ تو اس نے اپنا دل کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اور کہا کہ ہاں ،میں نے اسے ورغلا یا تھا۔ لیکن اس نے قطعی طور پر انکار کر دیا۔اور ذرا سی بھی لچک نہیں دکھائی ہے۔ اس کے بعد اس نے شرم و حیاءکی چادر ایک طرف پھینک دی۔ اور عشق و سرمتی کی آخری حدوں کو چھوتی ہوئی بولی میرا اس سے جو مطالبہ ہے اگر اس نے پورا نہیں کیا تو اسے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ اور اسے ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا

حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں زلیخا نے جس ارادے کا اظہار کیاتھا۔اس میں وہ عورتیں بھی اس کا ساتھ دینے لگیں۔ اور آپ علیہ السلام کو سمجھانے لگیں۔ اور مجبور کرنے لگیں کہ زلیخا کی بات مان لو۔ لیکن آپ علیہ السلام نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ عورتیں تو چلی گئیں لیکن زلیخا کھل کر دشمنی کرنے لگی۔ اور آپ علیہ السلام کو اپنی حرکتوں سے گناہ کرنے کی طرف مائل کرنے لگیں۔ آخر کار حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اس گناہ اور اس عورت سے بچا لے۔اس عورت کی دعوت قبول کرنے سے زیادہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں قید خانے یا جیل میں چلا جاﺅں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا،ترجمہ’’ حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے رب،جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس کے مقابلے میں مجھے قید خانہ پسند ہے۔ اگر تو نے ان کا فریب مجھ سے دور نہیں کیا تو کہیں ایسا نا ہو جائے کہ میں ان کی طرف مائل ہو جاﺅں اور نادانوں میں سے ہو جاﺅں۔ اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی۔ اور ان عورتوں کے داﺅ پیچ اس سے حضرت یوسف علیہ السلام سے پھیر دیئے۔ یقینا وہ (اللہ تعالیٰ) سننے والا ہے۔ جاننے والا ہے ۔پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد انھیں یہی مصلحت معلوم ہوئی۔کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کچھ مدت کے لیے قید خانے میں رکھیں۔ (سورة یوسف آیت نمبر33 سے 35 تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ اس عورت نے جب یہ دےکھا کہ مےرا راز ان عورتوں پر فاش ہو ہی چکا ہے۔ اس لیے وہ ان عورتوں کے سامنے ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگی۔ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس وقت یہ سب عورتیں بھی حضرت یوسف علیہ السلام سے کہنے لگیں کہ یہ عورت تمہاری محسن ہے اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ دیکھا عورتیں بھی زلیخا کی موافقت اور تائید کر رہی ہیں ۔اور ان کے مکر و فریب سے بچنے کی کوئی ظاہری تدبیر نہیں رہی۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے۔ اور دعا کی کہ ،اے میرے رب! یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں اس سے تو زیادہ مجھے جیل خانہ پسند ہے۔

قید خانے (جیل)میں

سورة یوسف کی آیت نمبر 33 سے35 تک کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) صاف الفاظ میں کہہ چکی تھی کہ یوسف کو ہر حال میں میری بات ماننی پڑے گی۔ اگر اس نے میری بات نہیں مانی تومیں اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضرور پہنچا دوں گی۔ حضرت یوسف علیہ السلام زلیخا اور بیگماتِ مصر کی بے تکی اور فضول باتوں سے بہت رنجیدہ تھے۔ آخر کار حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک گئے اور نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کیا اے اللہ تعالیٰ،یہ عورتیں مجھے اپنی ہوس اور خواہش پر قربان کرنا چاہتیں ہیں۔مجھے ان کی جھوٹی خواہشوں اور پرفریب حرکتوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ تعالیٰ،مجھے ان عورتوں کی خواہشات اور مکر و فریب سے محفوظ فرما دے۔ مجھے جیل جانا پسند ہے۔ لیکن کسی گناہ کے تصور سے بھی کانپ اٹھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا قبول کر لی۔ ادھر اسباب یہ ہوئے کہ عزیز مصر اس بات سے سخت پریشان تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے شک بے قصور ہیں۔ اور ان کا کردار ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔لیکن اس واقعہ کی اتنی شہرت ہو چکی تھی کہ گھر گھر میں اس کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ اب دو ہی صورتیں تھیں کہ اس واقعہ پر خاموشی اختیار کی جائے یا اس واقعہ کا انکار کر کے لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ ایسا سب کچھ نہیں ہے جیسا لوگ کہ رہے ہیں۔ پہلی صورت میں دشواری یہ تھی کہ خاموش رہنے سے اس بات کے ختم ہونے کاکوئی امکان نہیں تھا۔ دوسری صورت کا حل یہی تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو قید کر دیا جائے تاکہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں۔اور شاہی خاندان کا وقار بھی بچ جائے اور لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائیں کہ اس زلیخا کا کوئی قصور نہیں ہے۔ آخر کار حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔آپ علیہ السلام نے قید خانے میں ایسی اعلیٰ سیرت و کردار کا مظاہرہ کیا کہ ہر شخص آپ علیہ السلام کا گرویدہ ہوگیا۔ قید خانے کے داروغہ نے قید خانے کے سارے اہم معاملات آپ علیہ السلام کے حوالے کردئیے۔ اور قید خانے کے ذمہ داروں اور تمام قیدیوں کو اس بات کا پورا یقین ہوگیا تھا کہ آپ علیہ السلام کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بلکہ زبردستی قید خانے میں ڈالا گیا ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کی عجیب شان ہے کہ وہ آزاد ہوں یا قید میں ہر حال میں اپنی سیرت و کردار کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ اسی لئے ہر قیدی کے دل میں آپ علیہ السلام کے علم و فضل اور اعلیٰ سیرت و کردار کا نقش جمتا چلا گیا ۔ اور وہی قید خانہ حضرت یوسف علیہ السلام کےلئے عزت و سر بلندی اور لوگوں کی محبت کا مرکز بن گیا۔ 

قید خانے میں نبوت سے سرفراز فرمائے گئے

حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں زلیخا نے دعویٰ کیا تھا کہ میں پھر سے کوشش کروں گی اور اگر اس نے میری نہیں مانی تو میں اسے قید کروادوں گی جہاں یہ گھٹ گھٹ کر مرجائے گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام سے زلیخا نے اپنی مرضی منوانے کی کوشش کرتی رہی۔ اور آپ علیہ السلام کو راضی کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس طرح دو برس گزر گئے اور آپ علیہ السلام نے اپنے آپ کو بچائے رکھا۔ اور اس کےلئے آپ علیہ السلام کو بہت زبردست جدو جہد کرنی پڑ کررہی تھی۔ ادھر زلیخا بھی اپنی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے جھنجھلا گئی تھی۔ اور عزیز مصر سے بار بار شکایت کرنے لگی اور زور دینے لگی کہ یوسف (علیہ السلام ) کو قید خانے میں ڈال دو۔ (تاکہ قید کی سختےوں کو برداشت نہ کرسکے اورمےری بات مان لے)۔ عزیز مصر ٹالتا رہا۔ آخر حضرت یوسف علیہ السلام نے خود عزیز مصر سے کہا کہ مجھے قید خانے میں ہی ڈال دو۔ یہ میرے لئے اس کام سے اچھا رہے گا جس کی طرف یہ عورت بلا رہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود عزیز مصر کا دل نہیں چاہا کہ اتنے معصوم جوان کو قید خانے میں ڈال دیا جائے۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اس کام کی بجائے قید خانہ پسند ہے جس کام کی طرف یہ عورت بلا رہی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سن لی اور عزیز مصر کے دل کو اس طرف مائل کردیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو قید خا نے میں ڈال دے۔آخر کار اس نے آپ علیہ السلام کو قید میں ڈال ہی دیا۔ جس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈالا گیا۔تو اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ ایک روایت میں 27 سال اور دوسری روایت میں 28 سال یا30 سال اور تیسری روایت میں 33 سال کی عمر بھی آئی ہے۔ آپ علیہ السلام کی غور و فکر کی عمر شروع ہو چکی تھی۔ اور اس کے لئے تنہائی کی ضرورت تھی۔ جو آپ علیہ السلام کو جیل میں میسر آئی تھی۔ کئی روایات کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام لگ بھگ بارہ سال تک قید خانے میں رہے۔ اور اسی دوران حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر مبارک 40 سال ہو گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرمایا۔اور آپ علیہ السلام نے جیل ہی میں اسلام کی دعوت دینی شروع کردی۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا معجزہ،خوابوں کی تعبیر

حضرت یوسف علیہ السلام کو بے گناہی کے باوجود نا معلوم مدت کے لئے قید کر دیا گیا تھا۔ اس دوران آپ علیہ السلام کا قیدی ساتھیوں کے ساتھ طرز عمل نہایت اعلیٰ اور بے مثال تھا۔ آپ علیہ السلام تمام قیدیوں کی مزاج پرسی کرتے تھے۔ اگر کوئی بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کرتے تھے۔ کسی کو پریشان حال دیکھتے تو تسلی دیتے تھے۔اور صبر و تحمل کی تلقین فرماتے۔آپ علیہ السلام کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ نہایت دوستانہ ہوتا ۔ جس کی وجہ سے تمام قیدیوں میں آپ علیہ السلام کی عزت اور احترام اور ان کے علم اور تقویٰ کا بہترین اثر مرتب ہونا شروع ہوگیا۔اللہ تعا لی نے قید خا نے میں ہی آپ علیہ السلا م کو نبوت عطا فر ما ئی ۔اور آپ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ آپ علیہ السلا م خوابو ں کی تعبیر باکل صحیح بتاتے تھے۔ پھر جب ا للہ تعا لی نے آ پ علیہ السلام کو قید خانے سے نکالنے کا ارادہ فرمایاتو ویسے ہی حالات پیدا کر دیے۔اب جو بھی قیدی آپ علیہ السلام کو اپنا خواب بیان کرتا تھا تو آپ علیہ السلام اسے اسکے خواب کی تعبیر بتا دیا کرتے تھے۔اور ویسا ہی ہوا کرتا تھا۔دھیرے دھیرے پوری جیل کے قیدیوں کو یہ بات معلوم ہو گئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام خواب کی با لکل صحیح تعبیر بتاتے ہیں۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

07 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob Yusuf



 07 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہم السلام

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 7

تمام لوگ آپ علیہ السلام سے محبت کرنے لگے

حضرت یوسف علیہ السلام کی قید کے بارے میں امام قرطبی لکھتے ہیں۔وہب اور دیگر لو گوں نے کہا ۔حضرت یوسف علیہ السلام کو قید کرکے قید خانے کی طرف ایک خچر یا گدھے پر سوار کرکے لا یا گیا۔اور ایک کہنے والا یہ کہتا جاتا تھا کہ یہ سزا ہے اس کی، جس نے اپنی مالکن کی نافرمانی کی ہے۔ اور آپ علیہ السلام فرما رہے تھے یہ آگ کے لباس ، تارکول(ڈامر) کی قمیص، پیپ کے پینے اور زقوم (تھوہڑ)کھا نے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔ (کیو نکہ اگر میں اس عورت کی بات مان لیتا تو یہ سب مجھے ملتا)جب حضرت یوسف علیہ السلام قید خانہ پہونچے تو آپ علیہ السلام نے اس میں کچھ ایسے لوگ بھی پائے جن کی امیدیں بھی ختم ہو چکی تھیں۔اور ان کی آزمائش وابتلا انتہائی سخت ہو چکی تھی۔تو آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا ۔صبر کرو اور خوش رہو تمییں اس پر اجر ملے گا ۔تو انھوں نے کہا ،اے جوان،تیری گفتگو کتنی خوبصورت ہے۔ہمیں تیرے پڑوس کی وجہ سے برکتیں نصیب ہوئیں۔اے نو جوان ،تم کون ہو؟آپ علیہ السلام نے فرمایا۔میں یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہوں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عورت نے اپنے شوہر کو کہا کہ اس عبرانی غلام نے مجھے رسوا کیا ہے۔میں چاہتی ہوں کہ آپ اسے قید کر دیں۔ تو اس نے آپ علیہ السلام کو قید کر دیا۔ قید خانے میں آپ علیہ السلام پریشان حال کو دلاسہ دلاتے ،بیمار کی عیادت کرتے، زخمی کا علاج کرتے، ساری رات اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عبادت کرتے اور روتے یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ قید خانے کی دیواریں اور چھتیں بھی اور دروازے بھی رونے لگتے۔ آپ علیہ السلام کے سبب قید خانے کو پاکیزگی حاصل ہوئی۔ اور قیدی آپ علیہ السلام سے مانوس ہو گئے۔ یہ صورتِ حال ہو گئی تھی کہ جب کو ئی آدمی قید خانے سے نکلتا تو واپس لوٹ آتا۔ اور قید خانے میں آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھتا تھا۔ قید خانے کے انچارج یعنی جیلرنے آپ علیہ السلام سے محبت کرتے ہوئے اسے آپ علیہ السلام کے لئے وسیع کر دیا تھا۔ پھر آپ علیہ السلام سے کہا،اے یوسف (علیہ السلام)میں آپ کے ساتھ اتنی محبت کرتا ہوں جتنی کسی اور چیز سے نہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا میں تیری محبت سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ اس نے کہا، ایسا کیوں؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، میری پھوپھی نے مجھ سے محبت کی تو مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا۔ میرے والدِ محترم کی محبت کی وجہ سے بھائیوں نے مجھے بیچ ڈالا۔اور میری مالکن نے میرے ساتھ محبت کی تو میرے اوپر یہ مصیبت آئی۔ جس کا تم مشاہدہ کر رہے ہو۔

قید خانے میں دو قیدی آئے:

اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف میں فرمایا،ترجمہ”اس کے ساتھ ہی دو اور جوان بھی جیل میں داخل ہوئے۔ان میں سے ایک نے کہاکہ میں نے خواب میں اپنے آپ کو شراب نچوڑتے ہو ئے دیکھا۔اور دوسرے نے کہا میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں نے اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہو ئے ہوں جسے پرندے کھا رہے ہیں۔ ہمیں آپ اسکی تعبیر بتائے۔ہمیں تو آپ (علیہ السلام )خوبیوں والے شخص دکھائی دیتے ہیں (سورة یوسف آیت نمبر 36)امام قرطبی لکھتے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام قید میں تھے کہ بادشاہ اپنے نانبائی(باورچی)اور اپنے ساقی(شراب بنا کر پلانے والے) سے ناراض ہو گیا۔اس کا سبب یہ تھا کہ باد شاہ نے لوگوں کے درمیان اتنا لمبا عرصہ گزارا کہ وہ لوگ (درباری اور وزرا وغیرہ)اس سے تنگ آ گئے۔اور انھوں نے خباز(باورچی یعنی روٹی پکانے والے) اور ساقی کے ذریعے سازش کی۔ کہ وہ دونوں کھانے میں اور شراب میں زہر ملا دیں۔خباز نے ان کی بات مان لی اور ساقی نے انکار کر دیا۔ ساقی بادشاہ کے پاس گیا اور اسے اس بات کی خبر دی تو بادشاہ نے دونوں کو قید کرنے کا حکم جاری کیا۔ ایک قول یہ ہے کہ خباز نے کھانے میں زہر ملا دیا جب کھانا پیش کیا گیا تو ساقی نے کہا ۔اے بادشاہ سلامت،کھانا نہیں کھائیے اس میں زہر ملا ہوا ہے۔ خباز نے کہا ،اے بادشاہ سلامت شراب نہیں پینا اس میں زہر ملا ہوا ہے۔بادشاہ نے ساقی سے کہا کہ شراب پیﺅ اس نے شراب پی لی اور شراب نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔پھر بادشاہ نے خباز سے کہا کہ کھانا کھاﺅ۔اس نے کھانے سے انکار کر دیا۔کھا نا ایک جانور کو کھلایا گیا۔وہ اسی جگہ مر گیا تو بادشاہ نے دونوں کو قید کردیا اور قید خانے میں وہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ ساقی کا نام منجا اور باورچی کا نام مجلث تھا۔ امام ابن جریر طبری فرماتے ہیں کہ ساقی کا نام نبو تھا۔

قیدیوں کے خواب

جب یہ دونوں قیدی جیل میں آئے تو انھیں معلوم ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام قیدیوں میں بہت مقبول ہیں اور ہر ایک کی مدد کرتے ہیں اور یہ دیکھا کہ قیدیوں سے لیکر تمام جیل منتظمین یہاں تک کہ جیلر بھی آپ علیہ السلام سے محبت کرتا ہے تو انھیں بڑی حیرانی ہوئی ۔ اسکے علاوہ قیدیوں نے بتایا کہ آپ علیہ السلام خوابوں کی سچی تعبیر بتاتے ہیں ۔ یہ سن کر ان دونوں نے آپس میں کہا کہ آﺅ ہم اس عبرانی قیدی کا تجربہ کریں ۔ پھر ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنا اپنا خواب سناےا اور اسکی تعبیر پو چھی۔ ساقی نے کہا۔ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں بادشاہ کےلئے انگور نچوڑ رہا ہوں۔ اور خباز یعنی باورچی نے کہا ۔ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں سر پر روٹیاں اٹھائے جارہاہوں اور پرندے اس میں سے نوچ نوچ کر کھارہے ہیں۔ پھر ان دونوں نے کہا کہ ہمارا گمان ہے کہ آپ (علیہ السلام ) نیک اور اچھے لوگوں میں سے ہیں۔ اس دونوں نے جو خواب سنائے وہ سچے تھے یا جھوٹے اس بارے میں تین قول ہیں ۔ (1) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے حضرت یوسف علیہ السلام سے صرف تجربہ کے طور پر سوال کیا تھا۔ (2) امام مجاہد اور امام محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ ان دونوں نے سچا خواب بیان کیا تھا اور ان دونوں نے واقعی خواب دیکھا تھا۔ (3) امام ابو مجلز کہتے ہیں کہ خباز یعنی باورچی نے جھوٹا خواب بیان کیا تھا۔ اور ساقی نے سچا خواب بیان کیا تھا۔ 

قیدیوں کو اسلام کی دعوت

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا ۔ ترجمہ ”یوسف (علیہ السلام ) نے فرمایا ۔ تمھیں جو کھانا دیا جاتا ہے ۔ اسکے تمھارے پاس پہونچنے سے پہلے ہی میں تمھیں اسکی تعبیر بتلادوں گا ۔ یہ سب اس علم کی بدولت جو مجھے میرے رب نے سکھایا۔ میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا (یعنی ان لوگوں کے مذہب سے بےزاری کا اظہار کرتا ہوں) جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔ میں اپنے باپ دادا کے دین کا پابند ہوں یعنی ابراہیم و اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام ) کے دین کا ۔ ہمارے لئے ہرگز یہ مناسب نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کریں۔ ہم پر اور تمام لوگوں پر اللہ کا یہ خاص فضل ہے۔ لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں اے میرے قید خانے کے ساتھیوں کیا متفرق کئی ایک پرورگاد بہتر ہیں؟ یا صرف ایک اللہ جو زبردست طاقتور ہے اور قہر والا بھی ہے ۔ اس کے سوا تم جن کی پوجا پاٹ کررہے ہو۔ وہ سب نام ہی نام ہیں۔ جو تم نے اور تمھارے باپ داداﺅں نے خود ہی گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ۔ فرمانروائی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے اس کا فرمان ہے کہ تم سب سوائے اسکے (اللہ کے) کسی اور کی عبادت مت کرو یہی صحیح دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 37سے 40تک) ۔

قید خانے میں پہلی تقریر 

سورہ یوسف کی ان آیات کی تفسیر میں مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو ان دونوں کے خواب میں تعبیر کا فوراً پتا لگ گیا تھا کہ ایک بچنے والا ہے اور ایک مرنے والا ہے۔ اسلئے آپ علیہ السلام نے چاہا کہ پہلے ان کو اسلام تبلیغ کردینا چاہئے تاکہ خواب کی تعبیر کے ساتھ ساتھ ان کو ہدایت اور راہ راست پر لانے کا حق بھی ادا ہوجائے ۔ اسلئے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں دوپہر کا کھانا آنے سے پہلے میں تمھیں تمھارے خوابوں کی تعبیر بتا سکتا ہوں ۔ دونوں قیدیوں کو سخت تعجب ہوا اور انھوں نے پوچھا اے ،یوسف (علیہ السلام )کیا تم جادوگر ہو؟ تم آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ نہیں۔ پھر ان دونوں نے پوچھا۔ کیا تم کاہن ہو یا نجومی ہو؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ نہیں ( اسی دوران پورے جیل میں یہ خبر پھیل چکی تھی کہ حضرت یوسف علیہ السلام ان دونوں قیدیوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے ہیں ۔ یہ سن کر تمام قیدی آپ علیہ السلام کے پاس بیٹھ گئے ۔ حتیٰ کے جیل کے افسران اور جیلر بھی آپ علیہ السلام کی باتوں کو توجہ سے سننے لگے)۔ وہ دونوں قیدی حیرانی سے بولے پھر تمھیں خوابوں کی تعبیر کا علم کس نے سکھایا ہے ؟ جواب میں حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ علم مجھے میرے رب نے سکھایا ہے ۔ قیدیوں نے پوچھا ۔ آپ علیہ السلام کا رب کون ہے ؟ آپ علیہ السلام نے فرماےا میرا رب اللہ تعالیٰ ہے۔ جو میرا اور تمھارا سب کا خالق ہے ۔ اور مجھ کو یہ علم اسلئے سکھایا کہ میں نے شروع سے ہی تمھارے دین کو چھوڑے رکھا ہے۔ یعنی ان لوگوں کا دین جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ لوگ آخرت کے کافر ہیں یعنی اللہ تعالیٰ اور آخرت کا انکار کرنے والے ہیں ۔ یہ تھی وہ پہلی تقرےر جو آپ علیہ السلام نے جیل کی کوٹھری میں نہایت مشرکانہ ماحول میں کی۔ یہاں سے آپ علیہ السلام کی تبلیغ نبوت شروع ہوتی ہے۔ روایت ہے کہ سارے قیدی اور جیل کا عملہ (افسران) جمع ہوگئے تھے ۔ 

قید خانے میں اعلان نبوت 

سورہ یوسف کی ان آیات کی تفسیر میں مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ سیدنا یوسف علیہ السلام سے جب دونوں قیدیوں نے اپنے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میں کھانا آنے سے پہلے تمھارے خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ لیکن اس سے پہلے تم مجھے پہچانو۔ کہ میں کون ہوں؟ عالم ، مبلغ اور داعی کا کام یہی ہے کہ وہ اپنی دعوت کے کام کےلئے طریقے سوچتا رہتا ہے ۔ اور راستہ نکالے اور ایسے موقع پر تو خاص طور سے موقع نکل آتا ہے جب کسی بے راہ کو مبلغ اور داعی کی ضرورت پڑ جائے ۔ جب وہ اپنی حاجت لیکر آئے تو اس کو غنےمت جانے اور پہلے اپنی دعوت والی بات کہے ۔آپ علیہ السلام نے اس پر عمل کیا اور موقع مناسب جان کر توحید کی تبلیغ فرمادی ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اول تو اپنا تعارف کرایا کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کو نہیں مانتے اور آخرت کے منکر ہیں بلکہ میں اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام اور دادا محترم اسحاق علیہ السلام اور پردادا محترم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہوں۔ جو موحد اور توحید کے داعی تھے اور شرک سے بہت دور تھے۔ اور ساتھ ہی شرک کی برائی عقلی طور پر بھی بیان فرمائی کہ ہمیں یہ کسی طرح زیب نہیں دیتا کہ ہم اللہ کے سوا کسی بھی چیز کو اللہ کا شریک بنائیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو پیداکیا ہے۔ اور وہی رازق اور مالک ہے۔ اور جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ تو پھر یہ کون سی عقلمندی ہے کہ غیر اللہ کی عبادت کی جائے۔ مزیدفرمایا کہ یہ جو اللہ نے ہمیں عقیدہ توحید کی نعمت سے نوازا ہے اور جو کچھ علم عطا فرمایا ہے یہ اللہ کا فضل ہے۔ اور ہم پر ہی نہیں سب پر بھی اس کا فضل ہے۔ ہر وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی نعمت عطا فرمائی ہو اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر گذار ہو۔ لیکن بہت سے لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔ شرک کی مزید قباحت اور مذمت بیان کرتے ہوئے خود انہیں پر ایک سوال ڈال دیا اور عقلی طور پر انہیں فکر مند بنا دیا۔ تا کہ وہ غور کریں کہ ہم جو شرک پر لگے ہوئے ہیں یہ عقل کے بھی خلاف ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے جیل کے ساتھیو، تم ہی بتاﺅ کہ یہ جو تم نے بہت سے معبود جدا جد ا تجویز کر رکھے ہیں ان سب کی عبادت کرنا ٹھیک ہے یا معبودِ حقیقی کی جو وحدہ لا شریک ہے۔ مزید فرمایا کہ تمہارے جو معبود ہیں یہ صرف نام ہی نام ہیں۔ ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ 

خواب کی تعبیر بتائی

اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف میں فرمایا،ترجمہ”(حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا) اے میرے قد خانے کے رفیقو،تم دو نوں میں سے ایک تو اپنے بادشاہ کو شراب پلانے پرمقرر ہو جائے گا۔لیکن دوسرے کو پھانسی دی جائے گی۔اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھا ئیں گے۔تم دونوں جسکے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اسکا فیصلہ کر دیا گیا۔اور جس کی نسبت یوسف علیہ السلام کا گمان تھا کہ ان دونوں میں سے چھوٹ جائے گا۔ اس سے کہا کہ اپنے بادشاہ سے میرا ذکر بھی کر دینا پھر اسے شیطان نے اپنے بادشاہ سے ذکر کرنا بھلا دیا۔ اور یوسف علیہ السلام نے کئی سال قید خانے میں کاٹے۔ ( سورہ یوسف ، آیت نمبر41اور 42) حضرت یوسف علیہ السلام ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے اور سمجھا رہے تھے ۔ اسی دوران کھانا آگیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ کھانا کھاﺅ اور خود بھی کھانے لگے۔ اس کے بعد انہیں خواب کی تعبیر بتائی کہ پہلے شخص سے فرمایا۔ تم جو انگور نچوڑ رہے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس الزام سے باعزت بری ہو جاﺅ گے اور بادشاہ کے خاص ساقی بنو گے۔ اور دوسرے شخص سے فرمایا۔ تمہارے خواب کی یہ تعبیر ہے کہ تم پر جو الزام لگا ہے وہ سچ ثابت ہو گا اور تمہیں پھانسی ہو جائے گی۔ اور پرندے تمہارے مردہ جسم کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ آپ علیہ السلام نے جیسا فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔ ایک کو پھانسی ہو گئی اور دوسرے کو باعزت بری کر دیا گیا۔ جب وہ جانے لگا تو آپ علیہ السلا م نے اس سے فرمایا ۔ جب تم بادشاہ کے ساقی بن جانا تو اس سے میرا ذکر کرنا۔ لیکن ابلیس شیطان نے اسے بھلا دیا۔ اور کافی عرصہ گزر گیا۔ اس دوران وہ شخص بادشاہ کا خاص ساقی بنا رہا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ان دونوں نے خواب نہیں دیکھے تھے بلکہ انہوں نے آپ علیہ السلام کے علم کا تجربہ کرنے کے لئے یہ خواب بنا کر پیش کئے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے انہیں خواب کی تعبیر بتائی تو انہوں نے کہا ہم نے خواب نہیں دیکھے تھے یہ تو صرف دل لگی تھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ تم دونوں جس کے بارے میں تحقیق کر رہے تھے اس کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ یعنی جیسا میں نے بتایا ہے ویسا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ اٹل ہو چکا ہے۔ 

خوابوں کی تعبیر بتانے کے بعد کتنا عرصہ جیل میں رہے

حضرت یوسف علیہ السلام نے ساقی سے فرمایا تھا کہ بادشاہ سے میرا ذکر کرنا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام پر رحم فرمائے اگر وہ یہ بات نہ فرماتے تو اتنا عرصہ جیل میں نہیں رہتے۔جتنا وہ رہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرماےا۔ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف پر رحم فرمائے۔ اگر وہ یہ بات نہ فرماتے تو اتنا زیادہ عرصہ قید خانے میں نہیں رہتے۔ جتنا وہ رہے۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ( خوابوں کی تعبےر بتانے کے بعد) حضرت یوسف علیہ السلام سات سال تک جیل میں رہے ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام بارہ سال جیل میں رہے۔ پانچ سال خوابوں کی تعبیر بتانے سے پہلے اور سات سال خوابوں کی تعبیر بتانے کے بعد۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت(سورہ یوسف آیت نمبر 42) میں ”بِضعَ سِنِین “ یعنی کئی سال فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرماےا کہ ’بضع‘ کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا ہے ۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.........!

08 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf



08 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 8

مصر کے بادشاہ (فرعون ) کا خواب

اس سے پہلے ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں بتاچکے ہیں کہ مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون ہوتا تھا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مصر کے بادشاہوں کا ایک خاندان گذرا ہے جس نے فرعون لقب اختیار کیا تھا۔ اور اس خاندان کو فراعنہ مصر کہا جاتا ہے۔ اسلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں جو بادشاہ تھا اس کا لقب فرعون لیکن نام دوسرا تھا۔ اور حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام دوسرا تھا ۔ اور موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام کچھ اور تھا۔ روایات میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام کے زمانے کے بادشاہو ں (فرعونوں ) نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی قید کے دوران جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی رہائی کا ارادہ فرمایا تو بادشاہ کو خواب دکھلایا۔ اسکے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ترجمہ۔ ” بادشاہ نے کہا ۔ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی فربہ گائیں ہیں جن کو سات دبلی پتلی لاغر گائیں کھارہی ہیں۔ اور سات ہری ہری بالیاں ہیں اور دوسری سات بالکل خشک بالیاں ہیں۔ اے درباریوں ، اگر تم خواب کی تعبیر بتا سکتے ہوتو میرے اس خواب کی تعبیر بتاﺅ۔ انھوں نے (درباریوں اور نجومیوں نے) جواب دیا کہ اڑتے اڑتے پریشان خواب ہیں ۔ اور ایسے شوریدہ پریشان خوابوں کی تعبیر ہم نہیں بتا سکتے ہیں ۔ ( سور ہ یوسف آیت نمبر 43اور44)

قید خانے سے رہائی کا وقت آگیا

حضرت یوسف علیہ السلام کی قید خانے سے رہائی کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو وہ خواب دکھلایا۔ ان دو آیات کی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی آزادی قریب آئی تو بادشاہ نے خواب دیکھا۔ جبرئیل امین علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کی قیدخانے میں حاضر ہوئے۔ اور سلام کیا ۔ اور آزادی کی خوشخبری سنائی۔ اور عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو قید سے نکالنے والا ہے اور آپ علیہ السلام کو اقتدار دےدے گا۔ اور بادشاہ اور تمام وزراءکو آپ علیہ السلام کا اطا عت گذار اور فر ماں بردار بنا ئے گا۔اور آپ علیہ السلام کے بھا ئیوں پر کلمہ علیا عطا فر مائے گا اور یہ اس خوا ب کی وجہ سے ہو گا جو با دشاہ نے دیکھا ہے۔وہ خواب مصر کے بادشا ہ ریان بن ولیدنے دیکھا کہ خشک نہر سے سات موٹی گائیں نکلیں۔ اور ان کے پیچھے سات دبلی پتلی گائے، اور کمزور گائیں نکلیں اور دبلی پتلی گائیوں نے موٹی تازی گائیوں پر حملہ کر دیا اور سینگوں کو چھوڑ کر سب کچھ کھا گئیں۔ اور سات ہرے بھرے سر سبز و شاداب خوشے (گچھے ) دیکھے۔ ان پر سات خشک خوشے حملہ آور ہوئے اور ہرے بھرے خوشوں کو کھا گئے۔ پھر بھی وہ خشک رہے۔ اسی طرح موٹی گائیوں کو کھانے کے بعد بھی وہ گائیں دبلی پتلی ہی رہیں۔ خواب نے بادشاہ کو پریشان کیا تو اس نے علماءکو ، جادوگروں کو ، نجومیوں کو اور کاہنوں کو بلایااور ان کے سامنے اپنا خواب بیان کیا۔ 

 کوئی خواب کی تعبیر نہیں بتا سکا

حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون یعنی باد شاہ نے جو خواب دیکھا تھا ۔ وہ اس نے اپنے تمام علماء، نجومیوں ، کاہنوں ، جادوگروں اور خواب کی تعبیر بتانے والوں کو جمع کرکے سنایا تو سب لوگ اس خواب کو سن کر پریشان ہوگئے ۔ اور کسی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے۔ تمام لوگوں نے کہا۔ کہ یہ کوئی مربوط خواب نہیں ہے بلکہ چند پریشان اور منتشر خیالات ہیں۔ لیکن بادشاہ کو اطمینان نہیں ہوا اور وہ بری طرح پریشان ہوگیا۔ اس نے پورے مصر میں اعلان کردیا کہ جو بھی اس خواب کی تعبیر بتائے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ پوری سلطنت میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ کہ ایک خواب نے بادشاہ کا سکھ چین چھین لیا ہے۔ اور بادشاہ کا یہ حال تھا کہ اس کی نیند اڑ چکی تھی۔ اور وہ ہر وقت پریشان اور سوچوں میں گم رہنے لگا تھا۔ اور وہ اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا اتنے بڑے ملک میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو میرے خواب کی صحیح تعبیر بتا سکے۔ 

خواب کی تعبیر بتانے والا یا د آگیا

حضرت یوسف علیہ السلام اور جیل کے قیدیوں کو بھی معلوم ہوگیا تھا کہ بادشاہ ایک خواب کی وجہ سے بہت پریشان ہے۔ ادھر بادشاہ کا یہ حال تھا کہ اسے نہ تو کھانے پینے کا ہوش تھا اور نہ ہی سو سکتا تھا۔ وہ اپنی خواب گاہ (بیڈ روم) میں تھا۔ اس نے ساقی کو بلاکر جام بنانے کا حکم دیا اور سوچوں میں گم ہوگیا۔ ساقی نے شراب کا جام بنایا اور بادشاہ کی خدمت میں لیکر حاضر ہوگیا۔ بادشاہ کی توجہ اس کی طرف نہیں تھی وہ کچھ دیر تک جام لیکر کھڑا بادشاہ کو دیکھتا رہا لیکن وہ مسلسل سوچوں میں گم رہا تو ساقی نے اسے مخاطب کیا۔ بادشاہ چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوا اور جام لے لیا۔ ساقی نے ادب سے عرض کیا ۔باد شاہ سلامت کیا بات ہے ؟ آپ کچھ پریشان دکھائی سے رہے ہیں۔ بادشاہ نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور کہا ۔ جس مسئلے کی وجہ سے میں پریشان ہوں اس مسئلے کو تم حل نہیں کرسکتے ۔ ساقی نے عاجزی سے عرض کیا۔ بادشاہ سلامت کچھ بتائیں تو سہی۔ بادشاہ نے اسے غور سے کچھ دیر دیکھااور کہا۔ میں نے ایک خواب دیکھا ہے بڑے بڑے علماء، نجومی ، کاہن اور خوابوں کی تعبیر بتانے والے اس خواب کی تعبیر نہیں بتا سکے ہیں۔ اور میں اس خواب کو لیکر بہت پریشان ہوں۔ اچانک ساقی کو حضرت یوسف علیہ السلام یاد آگئے۔ اور اس نے اپنے ہاتھ کو ملتے ہوئے کہا ۔ اوہو بڑے افسوس کی بات ہے میں اس نیک قیدی کو بھول گیا۔ پھر اس نے بے تابی سے کہا۔ بادشاہ سلامت ، ایک شخص ہے جو اس خواب کی بالکل صحیح تعبیر بتا دے گا۔ بادشاہ نے جلدی سے ساقی کا ہاتھ پکڑا اور بولا ۔ مجھے بتاﺅ وہ شخص کون ہے میں اسے سونے چاندی اور جواہرات میں تول دوں گا۔ ساقی نے کہا ۔وہ ایک قیدی ہے آپ مجھے اجازت دیں میں اس قیدی سے خواب کی تعبیر پوچھ کرآﺅں۔ بادشاہ نے بے تابی سے کہا۔ جلدی جاﺅ ، یہ تمھارا اور اس شخص کا مجھ پر احسان ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان دو قیدیوں میں سے جو رہا ہوا تھا اسے (کا فی )مدت بعد یاد آگیا اور کہنے لگا۔ میں آپ کو اسکی تعبیر بتلادوں گا مجھے جانے کی اجازت دیجئے“۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر 45)۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی

وہ ساقی بادشاہ سے اجا زت لیکر جلدی جلدی قید خانے میں آیا اور تمام باتیں آپ علیہ السلام کو بتائیں ۔ آپ علیہ السلام مسکراتے ہوئے یہ سب سن رہے تھے۔ تمام باتیں سن کر آپ علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بتائی۔ جو اس نے بادشاہ کو آکر بتائی۔ بادشاہ تعبیر سن کر اور پریشان ہوگیا اور ساقی سے کہا۔ اس تعبیر بتانے والے کو میرے پاس لیکر آﺅ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں یہ واقعہ اس طرح بیان فرمایا ۔ ترجمہ ۔” (ساقی نے قید خانے میں کہا) اے یوسف ، اے بڑے سچے یوسف (علیہ السلام ) ، آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتلائیے۔ کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں کھارہی ہیں ۔ اور سات بالکل ہرے بھرے اور سر سبز خوشے ہیں اور سات بالکل خشک خوشے ہیں ۔ تاکہ میں واپس جاکر ان لوگوں سے کہوں اور وہ سب (حقیقت) جان لیں۔ یوسف (علیہ السلام ) نے جواب دیا۔ تم سات سال حسب عادت پے در پے غلہ بویا کرنا ۔ اور فصل کاٹ کر ان کو بالیوں سمیت ہی رہنے دینا۔ صرف اپنے کھانے کےلئے تھوڑی سے مقدار نکال لینا۔ اس کے بعد سات سال نہایت سخت قحط کے آئیں گے۔ وہ اس غلے کو کھا جائیں گے۔ جو تم نے ذخیرہ کرکے جمع کرکے رکھا ہوگا۔ اس کے بعد جو سال آئے گا۔ اس میں لوگوں پر خوب بارش برسائی جائے گی اور اس میں (شیرئہ انگور بھی) خوب نچوڑیں گے۔ بادشاہ نے کہا۔ یوسف (علیہ السلام ) کو میرے پاس لے آﺅ“۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 46سے50تک) ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب سن کر اسکی تعبیر بھی بتائی اور اسکا حل بھی بتایا ۔ کہ سات سال تک اناج بہت زیادہ پیدا ہوگا تو تم اناج خوب اگانا اور صرف ضرورت کے مطابق ہی استعمال کرنا باقی محفوظ کرکے زخیرہ کرلینا ۔ ان سات سالوں کے بعد اگلے سات سال سخت قحط کے آئیں گے۔ اور اناج بالکل پیدا نہیں ہوگا۔تو قحط کے ان سات سالوں میں تمھارا زخیرہ کیا ہوا اناج کام آئے گا۔ ساقی نے بادشاہ کے پاس آکر خواب کی تعبیر بتائی تو بادشاہ خوب ڈر گیا۔ پھر اس نے پوچھا کہ یوسف (علیہ السلام ) نے اس کا حل بھی بتایا ہے کیا؟ تو ساقی نے کہا ۔ ہاں اور آپ علیہ السلام نے جو حل بتایا تھا وہ بادشاہ کو بتادیا۔ بادشاہ حل سن کر حیران رہ گےااور بولا۔ اتنا عقل مند آدمی قید خانے میں کیا کر رہا ہے۔ جاﺅ اسے ہمارے پاس لیکر آﺅ۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ خواب کی تعبیر معلوم کرکے جب قاصد پلٹا اور اس نے بادشاہ کو تمام حقیقتِ حال سے مطلع کیا ۔ تو بادشاہ کو اپنے خواب کی تعبیر پر یقین آگیا۔ ساتھ ہی اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بڑے ہی عالم و فاضل شخص ہیں۔ خوابوں کی تعبیروں کو تو بتانے میں آپ علیہ السلام ماہر ہیں ہی ساتھ ہی اعلیٰ اخلاق والے ، حسن تدبیر والے ، خلق اللہ کا بھلا چاہنے والے اور بے طمع شخص ہیں۔ اب اسے شوق ہوا کہ وہ خود آپ علیہ السلام سے ملاقات کرے۔ اسی وقت حکم دیا کہ جاﺅ حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل خانے سے آزاد کرکے میرے پاس لے آﺅ۔ 

ان عورتوں کا کیا حال ہے؟

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔” بادشاہ نے کہا۔ یوسف (علیہ السلام ) کو میرے پاس لاﺅ ۔ جب قاصد یوسف (علیہ السلام ) کے پاس پہونچا تو انھوں نے فرمایا۔ اپنے بادشاہ کے پاس واپس جاﺅ اور ان سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنھوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے؟ انکے مکر وفریب کو (صحیح طور پر) جاننے والا میرا پرور دگار (اللہ تعالیٰ ) ہی ہے۔ “( سورہ یوسف آیت نمبر 50)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضرت یوسف علیہ السلام پر رحم فر مائے۔ وہ کتنے برداشت کرنے والے اور حلیم تھے۔ اگر میں قید خانے ہوتا تو بلاوا آتے ہی نکل پڑتا۔ (تفسیر طبری جلد 12سورہ یوسف ، صحیح بخاری صحیح مسلم )۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے اپنے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر و کرم پر تعجب ہوا ۔ اللہ ان کو اپنی عافیت میں رکھے۔ جب ان کو خواب کی تعبیر کے بلایا گیا اگر میں ہوتا تو ایسا نہیں کرتا اور فوراً نکل آتا۔ اور مجھے ان کے صبر اور حلم پر تعجب ہوا۔ اللہ ان کو اپنے عافیت میں رکھے۔ قاصد ان کے پاس آیا کہ وہ قید سے باہر آجائیں لیکن وہ نہیں آئے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے ان کو اپنے عذر کی خبر دی۔ اگر میں ہوتا تو باہر آجاتا ۔ لیکن انھوں نے اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنا پسند کیا۔ مولانا محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں ۔قاصد نے جب حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ کہا کہ بادشاہ آپ علیہ السلام کو بلا رہے ہیں۔ تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اس وقت تک جیل سے نہیں نکلوں گا جب تک یہ بات صاف نہ ہوجا ئے کہ مجھے جس واقعہ کی وجہ سے جیل میں ڈالا گیا ہے اس واقعہ میں قصور کس کا ہے؟ اور قاصد سے فرمایا کہ تم واپس جاﺅ اور بادشاہ سے کہو کہ وہ ان عورتوں کی تحقیق کرے جن عورتوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ اور ان سے دریافت کرے کہ میں قصور وار تھا کہ عزیز مصر کی بیوی قصور وار تھی۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی ثابت ہونا

حضرت یوسف علیہ السلام کا پیغام لیکر قاصد باد شاہ کی پاس پہونچا اور تمام حالات بتائے تو بادشاہ نے تحقیق شروع کی کہ کس نے آپ علیہ السلام کو جیل میں ڈالا تو عزیز مصر نے کہا کہ میں نے ڈالا ہے۔ اور اس کی وجہ میری بیوی ہے اور اپنی بیوی اور ان عورتوں کے ہاتھ کاٹنے لینے کا واقعہ بیان کیا۔ بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ عزیز مصر کی بیوی اور ان عورتوں کو حاضر کیا جائے۔ جب وہ سب دربا ر میں حاضر ہوگئے تو بادشاہ نے ان سے پوچھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ” بادشاہ نے پوچھا۔ اے عورتو، اس وقت کا صحیح واقعہ کیا ہے؟ جب تم داﺅ فریب کرکے یوسف (علیہ السلام ) کو بہکانا چاہتی تھیں۔ انھوں نے جواب دیا۔ مَاشَااللہ! ہم نے یوسف (علیہ السلام )میں کو برائی نہیں پائی ہے۔ پھر تو عزیز مصر کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب تو سچی بات کھل کر سامنے آہی چکی ہے۔ (حقیقت یہ ہے کہ) میں نے ہی اسے ورغلایا تھا۔ اسے برائی کی طرف ۔ اور یقیناً وہ سچے لوگوں میں سے ہیں۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 51) بادشاہ کے دربار میں جب تمام عورتیں اور عزیز مصر کی بیوی حاضر ہوگئی تو تب تک بادشاہ سچائی کا پتہ لگا چکا تھا۔ اس نے ان عورتوں کو ڈانٹ کر کہا کہ سچ بتاﺅ قصور کس کا ہے؟ تو ان عورتوں نے کہا سچائی یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے گناہ ، معصوم ، نیک اور فرشتہ صفت ہیں۔ اسی عورت نے انھیں بہکانے کی کوشش کی تھی۔ اور ہم نے اس عورت کا ساتھ دیا تھا۔ بادشاہ نے ڈانٹ کر زلیخا سے کہا تو سچ سچ بتا۔ زلیخا نے کہا اب بات کھل کر سامنے آچکی ہے تو میں اقرار کرتی ہوں کہ میں نے حضرت یوسف (علیہ السلام ) کو بہکا نے کی کوشش کی تھی۔ لیکن یوسف بہت ہی نیک بندہ اور معصوم ہے۔ وہ بالکل میرے بہکاوے میں نہیں آیا جب میں نے دیکھا کہ یہ میری بات نہیں مان رہا ہے تو میں نے اپنے شوہر عزیز مصر کو مجبور کیا کہ وہ یوسف (علیہ السلام ) پر جھوٹا الزام لگا کر جیل میں ڈال دے۔ وہ بے قصور ہیں۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کی قید خانے سے رہائی

حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور ثابت ہوگئے ۔ تو بادشاہ نے کہا۔کہ اب تو یوسف علیہ السلام قید خا نے سے باہر آ سکتے ہیں۔ عزیز مصر خود خوش خبری لےکر آپ علیہ السلا م کے پا س قید خا نے میں پہو نچا اور تما م با تیں بتا کر مبا رکبا د دی ۔ آ پ علیہ السلا م نے فر ما یا ۔ میرا ارادہ صرف یہ تھا کہ سچ لو گو ں کے سا منے آ جا ئے اور آ پ کے دل میں یہ شک نہ رہے۔کہ میں نے آپ کے ساتھ کو ئی خیانت کی ہے۔اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ترجمہ”(حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا)یہ میں نے اس لئے کیا کہ( عزیز مصر)جان لے کہ میں اس کے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی ہے۔اور اللہ تعالیٰ دغا بازوں کے ہتھکنڈے چلنے نہیں دیتا۔“ (سو ر ہ یوسف آیت نمبر52 ) عزیز مصر نے آپ علیہ السلام کو گلے سے لگایا اوراپنی بیوی کی حر کتوں کی معا فی ما نگی۔اور آپ علیہ السلا م سے عرض کیا کہ بادشاہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ علیہ السلا م کو لےکردربار میں ان کے سا منے آﺅں۔ براہ کر م جلدی چلئے۔ باد شاہ آپ علیہ السلام سے ملنے کے لئے بے چین ہیں۔اور وہ آپ علیہ السلام کو اپنا مشیر بنانا چاہتے ہیں۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

09 حضرت اسحاق، یعقوب ، یوسف علیہم السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf


09 حضرت اسحاق، یعقوب ، یوسف علیہم السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 9

بادشاہ سے ملا قا ت

اللہ تعالی نے سورہ یوسف میں فرمایا ۔ترجمہ۔ ”بادشاہ نے کہا ۔ انھےں مےرے پاس لاﺅ کہ میں انھےں اپنے خاص کاموں کےلئے مقرر کرلوں۔ پھر جب آپ سے بات چےت کی تو کہنے لگا کہ آپ علیہ السلام ہمارے یہاں آج سے عزت والے اور امانت دار ہیں۔ ( حضرت یوسف علیہ السلام نے ) فرماےا۔ آپ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کردیں میں حفاظت کرنے والا اور باخبر ہوں۔“ (سورہ یوسف آےت نمبر 54اور55) عزیز مصر حضرت یوسف علیہ السلام کو لے کر دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے اپنے تخت سے اٹھ کر آگے بڑھ کر آپ علیہ السلام کا استقبال کیا اور تمام درباریو ں، وزراءاور امراءنے بھی کھڑے ہو کر آپ علیہ السلام کا استقبال کیا۔ اور بادشاہ آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اپنے تخت تک لایا اور اپنے ساتھ بٹھایا۔ مولانا مفتی محمد شفیع اپنی تفسیر میں امام بغوی رحمتہ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب بادشاہ کا قاصد جیل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس دوبارہ پہنچا اور بادشاہ کا دعوت نامہ دیا تو آپ علیہ السلام نے سب جیل والوں کے لئے دعا کی۔ اور غسل کر کے نئے کپڑے پہنے۔ جب بادشاہ کے دربار میں پہنچے تو یہ دعا کی۔ میری دنیا کے لئے میرا رب ( اللہ ) کافی ہے۔ اور ساری مخلوق کے بدلے میرا رب میرے لئے کافی ہے۔ جو اس کی پناہ میں آگیا وہ بالکل محفوظ ہے۔ اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہے۔ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ 

بادشاہ سے گفتگو

حضرت یوسف علیہ السلام جب دربار میں پہنچے ۔ مولانا مفتی محمد شفیع ، امام بغوی کے حوالے سے آگے لکھتے ہیں ۔ دربار میں پہنچ کر آپ علیہ السلام نے عربی زبان میں سلام ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ فرمایا۔ اور بادشاہ کے لئے عبرانی زبان میں دعا کی ۔ بادشاہ حالانکہ بہت سی زبانیں جانتا تھا مگر عربی اور عبرانی سے واقف نہیں تھا ۔ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ سے مختلف زبانوں میں گفتگو کی اور اسی زبان میں جواب دیا۔ اور عربی اور عبرانی دو مزید زبانیں اسے بتائیں جن سے بادشاہ واقف نہیں تھا۔ اس واقعہ نے بادشاہ کے دل میں آپ علیہ السلام کی غیر معمولی وقعت پید اکر دی۔ پھر بادشاہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ علیہ السلام مجھے خود اس خواب کی تعبیر بتائیں۔ آپ علیہ السلام نے پہلے اس کے خواب کی ایسی تفصیلات بتلائیں جوا ب تک بادشاہ نے بھی کسی نے ذکر نہیں کی تھیں۔ پھر تعبیر بتلائی۔ بادشاہ نے کہا مجھے اس بات پر حیرت ہے کہ یہ تفصیلات آپ علیہ السلام کو کیسے معلوم ہوئیں؟ 

بادشاہ نے ملک کا انتظام آپ علیہ السلام کو سونپ دیا

حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ کو خواب کی تعبیر بتائی۔ مولانا مفتی محمد شفیع ، امام بغوی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے مشورہ طلب کیا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیئے تو آپ علیہ السلام نے مشورہ دیا۔ کہ پہلے سات سال سال جن میں خوب بارش ہونے والی ہے ان میں آپ زیادہ سے زیادہ غلّہ کا شت کر ا کے غلّہ اگانے کا انتظام کریں اور سب لوگوں کو ہدایت کریں کہ اپنی اپنی زمینوں میں زیادہ سے زیادہ کاشت کریں اور جتنا غلّہ حاصل ہواس میں سے پانچواں حصہ اپنے پاس ذخیرہ کرتے رہیں۔ اس طرح اہل مصر کے پاس قحط کے سات سال کے لئے بھی ذخیرہ جمع ہو جائے گا۔ اور آپ ان کی طرف سے بے فکر ہوں گے۔ حکومت کو جتنا بھی غلہ سرکاری محصول یا سرکاری زمینوں سے حاصل ہو اس کو باہر کے لوگوں کے لئے محفوظ رکھیں کیوں کہ یہ قحط دور دراز کے علاقوں تک پھیلے گا اور باہر کے لوگ اس وقت آپ کے محتاج ہوں گے۔ اس وقت آپ غلہ دے کر دوسرے انسانوں کی امداد کریں اور قیمت بھی معمولی رکھیں تو سرکاری خزانے میں اتنا مال جمع ہو جائے گا جتنا پہلے کبھی جمع نہیں ہوا ہوگا۔ بادشاہ یہ مشورہ سن کر بہت مسرور او رمطمئن ہوا۔ مگر کہنے لگا اس عظیم منصوبہ کا انتظام کیسے ہو گا اور کون کرے گا؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ملک کے خزانے ( جن میں زمین کی پیداور بھی شامل ہے) آپ میرے سپرد کر دیں میں ان کی حفاظت پوری طرح کر سکتا ہوں۔ اور امانت دار بھی ہوں۔ بادشاہ حالانکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے کمالات کا گرویدہ اور دیانت اور عقل کا مل کا پورا معتقد ہو چکا تھا۔ مگر بالفعل وزارت خزانہ کا منصب آپ علیہ السلام کے سپر د نہیں کیا بلکہ ایک سال تک آپ علیہ السلام کو مہمان بنا کر رکھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس دوران آپ علیہ السلام کے بارے میں مکمل تحقیق ہو جائے کہ آپ علیہ السلام اس منصب کو سنبھال سکتے ہیں یا نہیں ۔پھر ایک سال کے بعد بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو وزیر خزانہ بنانے کےساتھ ساتھ پورے ملک مصر کا مالک بھی بنا دیا اور انتظام آپ علیہ السلام کے سپر د کر دیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے ملک مصر کا مالک بنا دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اسی طرح ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کو ملک ( مصر) کا قبضہ دے دیا۔ کہ وہ (ملک مصر میں ) جہاں کہیں چاہیں رہے سہے۔ ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت پہنچا دیتے ہیں۔ اور ہم نیک لوگوں کا اجر ( ثواب) ضائع نہیں کرتے ہیں۔ یقینا ایمان والوں اور گناہوں سے پرہیز کرنے والوں کا آخرت کا اجر ( دنیا کے مقابلے میں ) بہت ہ بہتر ہے۔ (سورہ یوسف آیت نمبر56اور 57) مفتی احمد یار خان نعیمی ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ روایتوں میں ہے کہ بادشاہ نے عزیز مصر قطفیر کو معزول کر کے حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر بنایا تو اپنا تاج اور اپنا تخت اور اپنی مہر کی انگوٹھی بھی دے دی۔ آپ علیہ السلام نے تاج واپس کر دیا کہ یہ میرا اور میرے آباﺅ اجداد کا لباس نہیں ہے۔ لیکن شاہی تخت پر بیٹھے اور انگوٹھی لے لی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس تخت کے ذریعے میں آپ کی حکومت اور ملک کو مضبوط کروں گا۔ اور انگوٹھی کے ذریعے تمہارے قانون کو لاگو کروں گا۔ بادشاہ نے کہا۔ اے یوسف ( علیہ السلام ) تم قانوناً تو عزیز یعنی وزیر اعظم ہو مگر اصلیت میں ہمارے دلوں کے بادشاہ ہو۔ یہ سب کچھ تمہاری عزت افزائی کےلئے ہے۔ جس دن حضرت یوسف علیہ السلام عزیز مصر بنائے گئے اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک ایک روایت کے مطابق تیس30سال تھی۔ اور ایک روایت کے مطابق47 سال تھی۔ اور علمائے کرام کی اکثریت اسی پر ہے۔ ( اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں) یہ کرم نوازیاں حضرت یوسف علیہ السلام کے لئے مخصوص نہیں ہیں بلکہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہیں اپنی رحمتیں عطا فرماتے ہیں۔ شرط یہ ہے کہ بندہ حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح ہر حال میں ہمارے دروازے پر ہی رہے۔ اور ہم نیک لوگوں کا بدلہ ضائع نہیں کرتے مگر بندے کو چاہئے کہ آخر ت کا طلب گار بنے۔ اور دنیا میں کسی نیکی کا بدلہ نہیں مانگے یہ خسارہ ہے۔ ہاں خود سے مل جائے تو خوب اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر ے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو یہ عہدہ اور تخت وغیرہ ایک سال بعد ملا۔ بادشاہ نے تمام خزانے آپ علیہ السلام کے حوالے کر دیئے۔ یہاں تک کہ اپنی خصوصی تلوار بھی دےدی۔ اور تمام دربار ، فوج اور پولس کا مالک بھی بنا دیا۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کے انتظامات

حضرت یوسف علیہ السلام نے سلطنت کی باگ ڈور سنبھالتے ہی پانچ کام کئے۔ پہلا کام یہ کہ سارے ملک کے کسانوں کو کھیتی باڑی پر لگا دیا۔ صحرا، میدانی علاقہ ، پہاڑی زمینوں میں گندم کی پیداوار کی طرف متوجہ ہو گئے۔ چھوٹی اور شہری زمینوں میں دوسری ضروریات کی پیداوار ہوتی رہی۔ دوسرا کام یہ کیا کہ تمام معماروں ( مستریوں) کو بڑے بڑے گودام بنانے پر مقرر کر دیا۔ اور فوجیوں اور مزدوروں کو اس کی دیکھ ریکھ اور مزدوری پر لگا دیا۔ تیسرا کام یہ کیا کہ ہر شخص کی خوراک تہائی کر دی۔ زیادہ سے زیادہ غلّہ ، پھل فروٹ، میوے اور زیتون وغیرہ اگا کر وہ سار ا ہی دربار میں لایا جاتا تھا۔ پھر وہاں اس کے تین حصے کئے جاتے تھے۔سب سے بڑا حصہ گوداموں میں جمع کر دیا جاتا تھا۔ اس سے چھوٹا حصہ کنبے یعنی گھرانے یا پریوار کے حساب سے فروخت کیا جاتا تھا۔ ان سالوں میں ہر شخص کو اس کے کام کی مزدوری الگ سے دی جاتی تھی چاہے وہ کسان ہو یا دوسرے کام کرنےوالا ۔ تیسرا سب سے چھوٹا حصہ آئندہ سال بونے کے لئے رکھ لیا جاتا تھا۔ چوتھا کام آپ علیہ السلام نے یہ کیا کہ اہل دربار کو بھی سارے ملک میں مختلف کاموں کی نگرانی پر لگا دیا۔ پانچواں کام یہ کیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام خود ہفتہ وار دورے پر نکلتے۔ اور چھ دن دربار لگاتے۔ آنے جانے والوں کی ملاقات ، مشکلات ، شکایات روئداد ،کارکردگی کا تخمینہ لگایا جاتا تھا۔ غرض یہ کہ عجب رواں دواں ، دوڑ دھوپ کا زمانہ تھا۔ مورخین فرماتے ہیں کہ اتنی مصروفیات کے باوجود حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن اخلاق کا یہ عالم تھا کہ ہر شخص ہر کام بہت عشق و محبت سے کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ سات سال کا عرصہ گزر گیا۔ نئے پرانے گودام سب بھر گئے۔ روایات میں آتا ہے کہ اتنا غلہ اور ضروری سامان جمع ہو گیا جو مصر اور آس پاس کے تمام علاقوں کے لئے سات سال تک بلکہ اس سے زیادہ وقت تک کافی تھا۔ 

حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں بھائی حاضر ہوئے

حضرت یوسف علیہ السلام کو بادشاہ نے پورے ملک کا انتظام دے دیا تھا۔ اور ایک روایت کے مطابق اپنی شہزادی کا نکاح بھی آپ علیہ السلام سے کر دیا تھا۔ اور کئی روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ عزیز مصر کے انتقال کے بعد بادشاہ نے زلیخا کا نکاح حضرت یوسف علیہ السلام سے کر وادیا تھا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام پورے ملک کا انتظام ان سات سالوں میں بہت اچھے طریقے سے سنبھال رہے تھے۔ فرعون یعنی بادشاہ کو آپ علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی۔ اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔ آپ علیہ السلام پور ے مصر کی عوام کے ساتھ بہت اچھا سلوک کر تے تھے۔ اور ہر ایک کی دکھ درد میں مدد کرتے تھے۔ اور ساتھ ساتھ اسلام کی دعوت بھی دیتے جاتے تھے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اچھے خاصے لوگ آپ علیہ السلام کی دعوت سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے۔ اور بہت سے لوگ کفر پر قائم رہے۔ آپ علیہ السلام کے بہترین سلوک کی وجہ سے پورے مصر کی عوام آپ علیہ السلا م کی بے حد عزت کرتی تھی۔ جب قحط کے سات سال شروع ہوئے تو پورے ملک مصر پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا لیکن چونکہ آس پاس کے ملکوں نے کوئی انتظام نہیں کیا تھا اس لئے وہ تمام ممالک قحط کا شکار ہو گئے۔ ان میں ملک کنعان ( حالیہ فلسطین) بھی تھا۔ جس کی سرحد مصر سے بالکل لگ کر ہے۔ فلسطین میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی اور والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام رہتے تھے۔ اور وہ لوگ بھی قحط کا شکار ہو گئے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ مصر پر قحط کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ بلکہ اس کے پاس اتنا اناج اور دوسری چیزیں ہیں کہ وہ دوسرے ملک والوں کو فروخت کر رہے ہیں تو آپ علیہ السلام کے بھائی بھی اناج اور کھانے پینے کا سامان خریدنے مصر آئے۔ انہوں نے مصر کے بادشاہ حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا لیکن پہچان نہیں سکے۔ کیوں کہ عمر کے ساتھ ساتھ آپ علیہ السلام کی شکل و صورت اور جسمانی بناوٹ میں بھی بہت فرق ہو چکا تھا۔ حالانکہ آپ علیہ السلام کی شکل دیکھ کر انہیں کچھ شک ہو اکہ اس بادشاہ کی شکل ہمارے بھائی یوسف (علیہ السلام ) سے ملتی جلتی ہے۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ یوسف ( علیہ السلام ) کو تو ہم نے غلام بنا کر بیچ ڈالا تھا وہ غلام اتنے بڑے ملک کا حکمراں کیسے بن سکتا ہے؟ اس لئے وہ آپ علیہ السلام کو پہچان نہیں سکے۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے پہچان لیا ۔

بن یامن کو لے کر آنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” یوسف (علیہ السلام )کے بھائی آئے تو آپ علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا۔ اور انہوں نے آپ علیہ السلام کو نہیں پہچانا۔ جب انہیں ان کا سامان یعنی مال و اسباب دے دیا گیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میرے پاس اپنے بھائی ( بن یامن) کو بھی لے کر آنا جو تمہارے والد محترم کے پاس ہے۔ کیا تم نے دیکھانہیں کہ میں پورا ناپ کر دیتا ہوں۔ اور میں بہترین میز بانی کرنے والوں میں سے بھی ہوں۔ پس اگر تم اسے لے کر نہیں آئے تو میری طرف سے تمہیں کوئی بھی سامان نہیں ملے گا۔ بلکہ تم میرے قریب بھی نہیں پھٹکنا۔اور اپنے خدمت گاروں سے فرمایا کہ ان کی رقم ان کے سامان ( بوروں ) میں رکھ دو۔ کہ جب یہ اپنے گھر لوٹ کر جائیں اور رقم کو اپنے سامان میں رکھی ہوئی دیکھیں تو بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر58سے 62تک) حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا تھا۔ اور حکم دیا کہ ان لوگوں کو میرے پاس حاضر کرو۔ جب دسوں بھائی آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حکمراں ہونے کی حیثیت سے ان دسوں بھائیوں نے آپ علیہ السلام کو تعظیمی سجدہ کیا۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتادیں کہ پہلے کی امتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت میں تعظیمی سجدہ کرنے کو بھی منع فرما دیا ہے۔ اس لئے ہم صرف اللہ تعالیٰ کو ہی سجدہ کر سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو بھی کسی بھی قسم کا سجدہ نہیں کر سکتے۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے فرمایا۔ تم لوگ کہاں سے آئے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ ہم ملک کنعان سے آئے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا کیا تم الگ الگ گھر سے آئے ہو؟ یا ایک ہی گھر کے ہوا؟ تو انہوں نے کہا۔ ہم سگے بھائی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے دریافت فرمایا۔ کیا تم لوگ صرف دس بھائی ہو یا اور بھی بھائی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہم بارہ بھائی تھے ۔ ایک بھائی یوسف ( علیہ السلام )گم ہو گیا ہے۔ اور سب سے چھوٹا بھائی بن یامن ہمارے والد صاحب کے پاس ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک ہے تم جا کر اناج اور سامان لے لو۔ اور جب اگلی مرتبہ آنا تو اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور لانا تا کہ تمہیں اور زیادہ اناج اور سامان ملے۔ اور دیکھو اپنے چھوٹے بھائی کو ضرور لانا۔ ورنہ میں تمہیں اناج اور سامان نہیں دوں گا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

حضرت اسحاق، یعقوب ، یوسف علیہم السلام 10 Story of Prophet Yaqoob, Yusuf


 حضرت اسحاق، یعقوب ، یوسف علیہم السلام 10

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 10

بیٹے کی جدائی میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی حالت

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے سوچا تھا کہ اگر ہم حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے والد محترم سے دور کر دیں گے تو ان کی توجہ ہماری طرف ہو جائے گی اور وہ ہم سے محبت کرنے لگیں گے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ اس کے الٹ ہو گیا ۔کہ حضرت یعقوب علیہ السلام پہلے تو مسکراتے تھے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام سے جدائی کے بعد تو آپ علیہ السلام نے مسکرانا بھی چھوڑ دیا اور گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ اپنا زیادہ وقت اسلام کی تعلیم لوگوں کو دینے میں اور عبادت میں گزارنے لگے۔ ہر وقت خاموش اور اداس رہنے لگے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی یاد ہر وقت دل میں رہتی تھی اور اکثر ٹھنڈی آہیں بھرتے اور آنکھوں میں آنسو ہر وقت رہتے تھے۔ اور نہ چاہتے ہوئے تھی آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کی بینائی چلی گئی تھی اور نابینا(اندھے )ہو گئے تھے۔ تمام بیٹے آپ علیہ السلام کی حالت دیکھ کر کڑھتے رہتے تھے۔ اور پچھتاتے تھے اور آپس میں ایک دوسرے سے کہتے کہ ہم نے اپنے والد محترم اور اپنے بھائی میں جدائی ڈال کر دونوں پر بہت ظلم کیا ہے۔ اور ہم ظالموں میں سے ہیں۔ اپنے والد محترم کو سمجھاتے کہ اس طرح تو آپ علیہ السلام اپنے آپ کو ہلاک کر لیں گے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام صرف خاموش رہتے تھے اور کسی سے شکوہ شکایت بھی نہیں کرتے تھے۔

بن یامن کو ساتھ میں بھیجنے کی درخواست

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے وعدہ کیا کہ ہم اگلی مرتبہ ضرور اپنے چھوٹے بھائی بن یامن کو لے کر آئیں گے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ ان کو اناج دے دو اور سامان دے دو۔ اور خاموشی سے ان کے سامان میں ان کے پیسے بھی رکھ دو۔ نوکروں نے ایسا ہی کیا۔ واپسی میں راستے بھر وہ عزیز مصر یعنی مصر کے بادشاہ کے بارے میں باتیں کرتے رہے اور اس کی تعریفیں کرتے رہے۔ جب والد محترم کی خدمت میں واپس آئے ان سے بھی مصر کے حکمراں کی بہت تعریف کی اور بتایا کہ وہ بہت مہربان شخص ہے۔ ہم نے بتایاکہ ہمارا یک اور بھائی ہے۔ اور وہ ہمارے والد محترم کے پاس ہے تو اس نے کہا۔ جب اگلی مرتبہ آﺅ تو اسے بھی ساتھ لے آنا اس طرح تمہیں زیادہ اناج مل جائے گا۔ اور یہ بھی کہا کہ اگر بھائی کو نہیں لاﺅ گے تو تمہیں بھی اناج اور دوسری چیزیں نہیں ملیں گی ۔ اسی لئے اباجان بن یامن کو اگلی مرتبہ ہمارے ساتھ بھیج دینا۔ ہم تمام بڑے بھائی مل کر اپنے چھوٹے بھائی کی حفاظت کریں گے اور اسے کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ بیٹوں کی یہ بات سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ اس سے پہلے میں نے یوسف ( علیہ السلام ) کے بارے میں تم تمام بھائیوں پر اعتماد کیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج تک اس سے نہیں مل سکا ہوں۔ اس کے بارے میں تو میں اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا ۔ اچھا ہم اپنے والد محترم کو اس کے بارے میں سمجھائیں گے اور ( لانے کی ) پوری کوشش کریں گے۔ ( حضرت یوسف علیہ السلام نے ) اپنے خدمتگاروں سے فرمایا۔ ان کے روپے ان کی بوریوں میں رکھ دو کہ جب گھر لوٹ کر واپس جائیں تو اپنی رقم کو پہچان کر بہت ممکن ہے کہ یہ پھر لوٹ کر آئیں ۔ جب یہ لوگ لوٹ کر اپنے والد محترم کے پاس آئے تو کہنے لگے کہ ہم سے غلہ کا پیمانہ ( اناج اور سامان ) روک لیا گیا ہے۔ اب آپ علیہ السلام ہمارے ساتھ ہمارے بھائی ( بن یامن) کو بھیج دیں۔ تا کہ ہم پیمانہ بھر کر غلہ لا سکیں۔ ہم اس کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں۔ ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ مجھے تو اس کی بابت تمہارا بس ویسا ہی اعتبار ہے جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی ( یوسف علیہ السلام ) کے بارے میں تھا۔ بس اللہ ہی بہترین حفاظت کرنے والا ہے۔ اور وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر61سے 64تک)

حضرت یعقوب علیہ السلام نے پختہ وعدہ لیا

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایاتھا کہ مجھے شک ہے کہ جس طرح تم حضرت یوسف علیہ السلام کی حفاظت نہیں کر سکے تھے اسی طرح بن یامن کی بھی حفاظت نہیں کر سکو گے۔ تمام بیٹے یہ سن کر خاموش ہو گئے اور خاموشی سے سامان کے بورے کھولنے لگے۔ جب انہوں نے سامان کھولا تو دیکھا کہ سامان کے اندر ان کی رقم رکھی ہوئی ہے۔ تو یہ دیکھ کر تمام بھائیوں نے جلدی سے کہا۔ دیکھئے ابا جان ، وہ حکمراں اتنا اچھا ہے کہ اس نے ہمارے پیسے ( رقم ) بھی واپس کر دیئے۔ اس نے ہمیں سختی سے کہا تھا کہ اس مرتبہ تو تمہارے والد محترم اور بھائی کا حصہ دے رہا ہوں لیکن اگلی مرتبہ تم اپنے بھائی کو لے کر آﺅ گے تو تمہارے والد محترم کا حصہ بھی دوں گا۔ اور اگر نہیں لائے تو تمہیں بھی سامان نہیں ملے گا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ سن کر فرمایا۔ جب تک تم تمام بھائی اس بات کا پختہ ( پکّا) وعدہ نہیں کرو گے تب تک میں بن یامن کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ اور یہ وعدہ تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کرو۔ تمام بھائیوں نے اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر پختہ وعدہ کیا کہ ہم ہر حال میں بن یامن کی حفاظت کریں گے تب آپ علیہ السلام نے ان کے ساتھ بن یامن کو جانے کی اجازت دے دی ۔ اور فرمایا۔ اے میرے بیٹو ، تم تمام بھائی مصر میں ایک ہی دروازے سے داخل نہیں ہونا بلکہ الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا تا کہ تمہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔ اتنا کہنے کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ اور میں اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھتا ہوں۔ اور یہ تو میں صرف اپنے اطمینان کے لئے کہہ رہا ہوں۔ بہر حال وہی ہوا جو اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا ۔ ترجمہ ” جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو اس میں اپنا سرمایہ ( رقم ) موجو د پایا جو انہیں واپس کر دیا گیاتھا۔ کہنے لگے، اے ابا جان ، ہمیں اور کیا چاہیے ، دیکھئے تو ہمارا سرمایہ بھی ہمیں واپس لوٹا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے خاندان کے لئے او ر رسد لادیں گے۔ اور اپنے بھائی کو اپنی نگرانی میں رکھیں گے۔ اور ایک اونٹ کا پیمانہ زیادہ لائیں گے۔ یہ ناپ تو بہت آسان ہے۔ ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ میں اسے اس وقت تک ہرگز ہرگز نہیں بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر مجھے قول و قرار نہ دے دو کہ تم اسے میرے پاس پہنچا دو گے، سوائے اس ایک صور ت کے تم سب گرفتار کر لئے جاﺅ۔ جب انہوں نے پکا قول وقرار دے دیا تو انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر نگہبان ہے۔ اور ( حضرت یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ اے میرے بچو، تم سب ایک دروازے سے نہیں جانا بلکہ کئی جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کسی چیز کو تم سے ٹال نہیں سکتا۔ اور حکم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے۔ اور میرا کامل بھروسہ اسی پر ہے۔ اور ہر ایک بھروسہ کرنے والے کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ جب وہ انہی راستوں سے جن کا حکم ان کے والد نے انہیں دیا تھا گئے کچھ نہ تھا کہ اللہ نے جو بات مقرر فرمادی ہے وہ اس سے انہیں ذرا بھی بچالے۔ مگر یعقوب کے دل میں ایک خیال ( پیدا ہوا) جسے اس نے پورا کرلیا۔ بے شک وہ ہمارے سکھلائے ہوئے علم کا عالم تھا۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔ (سورہ یوسف آیت نمبر65سے 68تک)

حضرت یوسف علیہ السلام اور بن یامن کی ملاقات

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تھا کہ شہر میں الگ الگ دروازوں سے داخل ہونا۔ یہاں ہم آپ کو بتا دیں کہ پہلے زمانے میں ہر شہر کے باہر چاروں طرف ایک بہت اونچی دیوار بنائی جاتی تھی۔ اور اس دیوار میں جگہ جگہ ضرورت کے مطابق اونچے اونچے دروازے ( گیٹ) بنا ئے جاتے تھے۔ اس دیوار کو شہر پناہ یا فصیل کہا جاتا تھا۔ جب دوسرے شہروالے ان پر حملہ کرتے تھے تو تمام دروازے بند کر دیئے جاتے تھے ۔ اور ان دروازوں کے اوپر بنی چوکیوں اور اس دیوار پر کھڑے ہو کر یا اس دیوار کے پیچھے چھپ کر اس حملے کا مقابلہ کیا جاتا تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے سوچا کہ تمام بھائی ایک ساتھ ایک دروازے سے داخل ہوں گے تو کوئی اتنے بھائیوں کو ایک ساتھ دیکھ کر دشمنی کرنے لگے اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے لگے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام نے بیٹوں کو الگ الگ دروازوں سے داخل ہونے کا حکم دیا۔ اور بیٹوں نے اس پر عمل بھی کیا۔ لیکن ہوا وہی جو اللہ تعالیٰ چاہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بن یامن کو روکنے کا ارادہ بنا لیا تھا۔ اور بن یامن کو روک لیا گیا۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ میرے تمام بھائی بن یامن کو لے کر آئے ہیں تو ااپ علیہ السلام نے انہیں شاہی محل میں دعوت دی۔ اس اس کے بعد شاہی محل میں ہی رات گزارنے کی اجازت بھی دے دی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ بن یامن جو حضرت یوسف علیہ السلام کے سگے بھائی ہیں، انہیں لے کر آپ علیہ السلام کے بھائی جب مصر پہنچے تو آپ علیہ السلام نے انہیں سرکاری مہمان خانے میں ٹھہرایا۔ بڑی عزت و تکریم دی اور صلہ اور انعام و اکرام دیا۔ اپنے بھائی سے تنہائی میں فرمایا کہ میں تیر ابھائی یوسف ( علیہ السلام ) ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ انعام و اکرام فرمایا ہے۔ اب تمہیں چاہیے کہ بھائیوں نے میرے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کا رنج نہ کروا ور حقیقت کو بھی ان پر ابھی نہیں کھولو۔ میں اس کوشش میں ہوں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے پاس روک لوں۔ 

اس وقت کا ملک مصر

حضرت یعقوب علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق تمام بھائی الگ الگ دروازوں سے داخل ہوئے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ مصر آج ایک ملک کا نام ہے۔ جو بہت ہی بڑا ہے۔ لیکن یہی مصر اسی جگہ اس وقت صرف ایک قلعہ نما شہر تھا۔ اور اس کے چاردروازے تھے جو بالکل ہی جدا جدا مشرق ، مغرب ، شمال اور جنوب میں تھے۔ اور چار سمتوں کے لوگ اپنے اپنے دروازوں سے آیا کرتے تھے۔ کنعان کا راستہ جنوب کے دروازے پر تھا۔ اس کے مشرقی جانب ایک بہت بڑا محلہ ممفس کے نام سے تھا۔ آج کل اسی جگہ ایک بستی آباد ہے جس کا نام منف ہے۔ محض اس وقت دارا لخلافہ ( راجدھانی) تھا۔ یہیں پر بادشاہ کا محل اور دربار اور عدالت وغیرہ تھے۔ اس جگہ تمام شاہی عملے کے مکانات تھے۔ اس کی جیل شہر کے مغربی سمت دوسرے کنارے پر تھی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے مصر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ اس کے کئی دروازے ہیں۔آپ علیہ السلام کے الگ الگ دروازوں سے داخل ہونے کے حکم کی اصل حکمت تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ مگر مفسرین نے تین وجہ بتائی ہے۔ جن میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ تین تین کی تعداد میں جب دسوں بھائی الگ الگ دروازوں سے داخل ہوں گے تو بن یامن اکیلے کنعانی دروازے سے داخل ہوں گے۔ اور کنعانی دروازہ شاہی محل کے قریب ہے۔ اس لئے بن یامن کی حضرت یوسف علیہ السلام سے پہلے ملاقات ہو جائے گی۔ 

بن یامن نے بھائی کو پہچان لیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” یہ سب جب یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچ گئے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس بٹھایا اور فرمایا۔ میں تیرا بھائی ( یوسف علیہ السلام ) ہوں پس جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس کا رنج نہ کر۔ ( سورہ ےوسف آےت نمبر 69 ) مفتی احمد ےا رخان نعےمی لکھتے ہیںکہ جب تما م بھائی مصرمےں داخل ہو نے لگے تو تین تین کی تعداد میںہوکر الگ الگ دروازوں کی طرف چلے گئے اور بن یامن اکیلے کنعانی دروازوں کے پاس رہ گئے۔ شام کا وقت تھا بن یامن اکیلے شہر میں داخل ہوئے اور اپنے بڑے بھائی حضر ت یوسف علیہ السلام کو یاد کرکے رونے لگے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام اتفاقاً ادھر سے گزر رہے تھے کیوں کہ ان کا محل قریب ہی تھا تو انہوں نے ایک اکیلے شخص کو روتے ہوئے دیکھا تو رک گئے اور رونے کی وجہ پوچھی تو بن یامن نے کہا اپنے بڑے بھائی یوسف بن یعقوب کو یاد کر کے رو رہا ہوں۔ آپ علیہ السلام نے نام پوچھا تو بن یامن بتایا اس وقت آپ علیہ السلام نے اپنے آپ پر ضبط کیا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ اپنے سپاہیوں سے فرمایا کہ اس کے دس بھائیوں کو لے کر شاہی محل آﺅ۔ سپاہیوں نے تمام بھائیوں کو شاہی محل میں حاضر کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے دعوت کا انتظام ( یعنی رات کے کھانے کا ) کیا ہوا تھا۔ سب دو دو کرکے بیٹھ گئے اور بن یامن اکیلے رہ گئے تو رونے لگے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے رونے کی وجہ پوچھی تو کہا کہ میرے بڑے بھائی یوسف بن یعقوب ہوتے تو میرے ساتھ کھانے کے لئے بیٹھتے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تمہارا بڑا بھائی بن کر تمہارے ساتھ کھانے پر بیٹھتا ہوں۔ جب آپ علیہ السلام اپنے بھائی کے بالکل سامنے بیٹھے اور بن یامن نے قریب سے دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے بن یامن ، کھانا کھاﺅ۔ مجھ کو کیا دیکھے جا رہے ہو؟ بھائی نے عرض کیا۔ اے عزیز مصر ، اے بادشاہ، اے محسن ، مجھے آپ کا چہرہ اپنے بھائی یوسف بن یعقوب سے ملتا جلتا نظر آرہا ہے اس لئے مجھے جی بھر کر دیکھ لینے دیجئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام تڑپ گئے لیکن ضبط کیا اور فرمایا۔ اے بن یامن کھانا کھاﺅ۔ 

میں آپ کے ساتھ مصر میں رہوں گا

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ پر ضبط کر لیا۔ مفتی احمد یا ر خان نعیمی آگے لکھتے ہیں ۔ کھانے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام نے نہایت آہستہ سے اللہ تعالیٰ سے دعامانگی کہ اے اللہ تعالیٰ، ان دکھوں اور غموں والی جدائی کو ختم فرما دے۔ روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر القا فرمایا کہ اے یوسف صابروں کے سردار ، تمہاری دعا قبول ہوئی ہے۔ جدائی ختم ، اپنے آپ کو صرف اپنے بھائی پر ابھی ظاہر کرو۔ اور دوسروں کو نہیں بتانا۔ رات کو بھی ایک ایک کمرے میں دو دو بھائی سونے کے لئے چلے گئے۔ بن یامن اکیلے رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میرے کمرے میں آرام کرو۔ جب کمرے میں دونوں بھائی اکیلے ہوئے تب آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ میں ہی تمہارا بچھڑا ہوا بھائی یوسف بن یعقوب علیہ السلام ہوں۔ بن یامن کو یہ سنتے ہی خوشی کے مارے سکتہ ہو گیا اور کچھ دیر ایک ٹک بڑے بھائی کو دیکھتے رہے۔ پھر اچانک تیزی سے آگے بڑھے اور گلے لگ کر رونے لگے۔ پھر بڑے بھائی سے کہا۔ بھائی میں اب آپ کے ساتھ یہیں مصر میں رہوں گا۔ اور ان بھائیوں کے ساتھ نہیں جاﺅں گا۔ کیوں کہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ مصر کا بادشاہ مجھ پر خصوصی مہربانی کر رہا ہے۔ اس لئے مجھ سے حسد کر تے ہوئے راستے میں نقصان پہنچائیں گے۔ مگر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ابھی اس راز کو راز ہی رہنے دو اور بھائیوں کے ساتھ واپس جاﺅ۔ لیکن بن یامن بڑے بھائی سے ضد کرنے لگے۔ تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے میں کوئی تدبیر کرتا ہوں یا پھر اللہ تعالیٰ کوئی راستہ نکال دے۔ اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر اکتالیس 41سال تھی۔ اور بن یامن کی عمر 37سال تھی۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

حضرت اسحاق، یعقوب، یوسف علیہ السلام 11 Story of Prophet Yaqoob, Yusuf



 حضرت اسحاق، یعقوب، یوسف علیہ السلام  11

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 11

اللہ کے حکم سے حضرت یوسف علیہ السلام کی تدبیر

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب انہیں ان کاسامان ٹھیک ٹھاک کر کے دیا تو اپنے بھائی کے سامان میں پانی پینے کا پیالہ رکھ دیا۔ پھر ایک آواز دینے والے نے پکار کر کہا۔ اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو ۔ انہوں نے ان کی طرف منہ پھیر کر کہا کہ تمہاری کیا چیز کھو گئی ہے؟ جو اب دیا کہ شاہی پیالہ گم ہو گیا ہو۔ جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ جتنا سامان سنبھال سکے اتنا دیا جائے گا۔ اس وعدے کی میں ضمانت دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا اللہ کی قسم ، تم کو خوب علم ہے کہ ہم ملک میں فساد پھیلانے کے لئے نہیں آئے ہیں۔ اور نہ ہی ہم چور ہیں ۔ انہوں نے کہا۔ اچھا اگر تم جھوٹے ہو تو چور کی سزا کیا ہے؟ جواب دیا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں گم شدہ چیز پائی جائے وہی اس کا بدلہ ہے۔ ہم تو ایسے ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔ پس یوسف ( علیہ السلام ) نے ان کے سامان کی تلاشی لینی شروع کر دی۔ اور اپنے بھائی کے سامان میں سے شاہی پیالہ نکالا۔ ہم نے یوسف (علیہ السلام ) کے لئے اسی طرح تدبیر کی ۔اس بادشاہ کے قانون کی روسے یہ اپنے بھائی کو نہیں روک سکتے تھے۔ مگر یہ کہ اللہ کو منظور ہو۔ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کر دیں۔ ہر ذی علم پر فوقیت رکھنے والا دوسرا ذی علم موجود ہے۔ “ ( سورہ یوسف آیت نمبر70سے 76تک)

بھائیوں کو غلطی کا احساس کرانا ہے

حضرت یوسف علیہ السلام رات بھر اپنے بھائی بن یامن سے بات کرتے رہے اور گھر کے حالات معلوم کرتے رہے۔ بن یامن نے بتایا کہ بھائی آپ سے بچھڑنے کے بعد والد محترم نے مسکرانا چھوڑ دیا ہے۔ اور ہر وقت خاموش اور سوچ میں گم رہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے آپ علیہ السلام کی جدائی کا غم انہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔ کیوں کہ ہر وقت ان کی آنکھوں سے آنسو بہتر رہتے ہیں۔ زبان سے تو وہ کچھ نہیں کہتے لیکن ان کا غم صاف دکھائی دیتا ہے۔ ہم سب بھائی انہیں سمجھانے اور ہنسانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ فرماتے ہیں کہ میں توصرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مجھے صبر جمیل عطا فرمائے۔ بھائی ، مسلسل لگاتار آنسو بہنے کی وجہ سے والد محترم کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائی سے تمام حالات سنتے رہے اور روتے رہے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اب بھائیوں کو ان کی غلطی کا احساس کرانا چاہیئے۔ بن یامن نے کہا بھائی، میں ان کے ساتھ جانا نہیں چاہتا ہوں بلکہ آپ علیہ السلام کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھی اپنے بھائی کو روکنا چاہتے تھے لیکن کوئی تدبیر سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ تب اللہ تعالیٰ نے تدبیر ان کے اوپر القا فرمائی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بھائی، مصر کے قانون کے مطابق تو میں تمہیں روک نہیں سکتا ہوں۔ ہاں ہمارے پر دادا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے مطابق روک سکتا ہوں۔ اور کل میں اسی تدبیر پر عمل کروں گا۔ اور آپ علیہ السلام نے بن یامن کے سامان میں شاہی پیالہ رکھ دیا۔

شاہی پیالہ گم ہو گیا ہے

حضرت یوسف علیہ السلام نے صبح اپنے تمام بھائیوں کو ان کے سامان کے ساتھ شاہی محل سے رخصت کیا۔ ابھی ان لوگوں کا قافلہ مصر سے باہر نکل کر صحرا میں کچھ ہی دو رگیا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے سپاہیوں کے ساتھ گھوڑے دوڑاتے ہوئے آئے اور قافلے کو روک لیا۔ سپاہیوں کے افسر نے کہا کہ شاہی پیالہ گم ہو گیا ہے۔ اس لئے تمہارے سامان کی تلاشی لینی ہو گی۔ آپ علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، ہم نہ تو چور ہیں اور نہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم میں سے کوئی چور نکلا تو تمہاری شریعت میں چو ر کیا سزا ہے؟ بھائیوں نے کہا ہماری شریعت میں یہ قانون ہے کہ جس کی چیز جو شخص چرائے گا تو اگر چوری ثابت ہو گئی تو وہ شخص اس کا غلام بنا لیا جائے گا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ٹھیک تلاشی دے دو۔ تلاشی کے دوران بن یامن کے سامان سے شاہی پیالہ نکل آیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تمہاری شریعت کے قانون کے مطابق بن یامن میرا غلام ہے اور میں اسے اپنے پاس رکھتا ہوں۔

بن یامن نے بھائیوں کا ظلم یاد دلایا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا ۔ اگر اس نے چوری کی ہے ( تو یہ تعجب کی کوئی بات نہیں ہے ) اس کا بھائی بھی پہلے چوری کر چکا ہے۔ یوسف ( علیہ السلام ) نے اپنے دل میں بات رکھ لی اور ان کے سامنے بالکل ظاہر نہیں کیا کہ تم بدتر جگہ میں ہو اور جو تم بیان کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر77) جب بن یامن کے سامان سے شاہی پیالہ بر آمد ہوا تو تمام بھائیوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کے بڑے بھائی ( یعنی حضرت یوسف علیہ السلام ) نے بھی چوری کی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا بچپن میں آپ علیہ السلام کی بوا (پھوپھی ) نے آپ علیہ السلام کو اپنے پاس رکھنے کے لئے حضرت یوسف علیہ السلام پر چوری کا جھوٹا الزام لگایا تھا۔ اور بعد میں پورے خاندان کو جمع کر کے یہ بتایا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور ہیں۔ اس وقت یہ تمام بڑے بھائی بھی موجود تھے۔ اور جانتے تھے کہ آپ علیہ السلام بے قصور ہیں۔ لیکن یہاں وہ لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو عزت دار ظاہر کرنے کے لئے آپ علیہ السلام پر جھوٹا الزام لگا رہے تھے۔ اتنا بڑا الزام سن کر حضرت یوسف علیہ السلام تو ضبط کر گئے لیکن بن یامن سے یہ الزام برداشت نہیں ہو سکا۔ کیوں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی بن یامن کو تمام حالات بتا دیئے تھے کہ بھائیوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ اسی لئے بن یامن سے برداشت نہیں ہو سکا اور انہوں نے تمام بھائیوں سے کہا۔ تم یوسف ( علیہ السلام ) کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہو جب کہ وہ بے قصور ہیں۔ اور یہ تم بھی جانتے ہو۔ اور تم لوگوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے اسے ذرا یاد کرو۔ یہ سن کر تمام بھائی شرمندہ ہو گئے اور خاموش ہو گئے۔

بن یامن کو روک لیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے کہا۔ اے عزیزمصر اس کے والد محترم بہت بڑی عمر کے بالکل بوڑھے شخص ہیں۔ آپ اس کے بدلے میں ہم میں سے کسی کو لے لیجئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ بہت ہی نیک انسان ہیں۔ یوسف ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ کہ ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا دوسرے کی گرفتاری کرنے سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ ایسا کرنے کے بعد تو ہم یقینا نا انصافی کرنے والے ہو جائیں گے۔ جب یہ اس سے مایوس ہو گئے تو تنہائی میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے ۔ ان میں جو سب سے بڑا تھا اس نے کہا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد محترم نے تم سے اللہ کی قسم لے کر پختہ قول و قرار لیا ہے۔ اور اس سے پہلے تم یوسف ( علیہ السلام )کے بارے میں کوتاہی کر چکے ہو۔ پس میں تو اس سر زمین سے نہیں ٹلوں گا۔ جب تک کہ والد صاحب مجھے اجازت نہیں دیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی فیصلہ فرما دے۔ وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم سب والد محترم کی خدمت میں واپس جاﺅ اور کہو کہ ابا جان ، آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے۔ اور ہم نے وہی گواہی دی تھی جو ہم آپ جانتے ہیں۔ ہم کچھ غیب کی حفاظت نہیں کر سکتے تھے۔ آپ ( علیہ السلام ) اس شہر کے لوگوں سے دریافت فرمالیں جہاں ہم تھے اور اس قافلہ سے بھی پوچھ لیں جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ۔ اور یقینا ہم بالکل سچے ہیں۔“ ( سورہ یوسف آیت نمبر78سے 80تک)

بڑا بھائی مصر میں رک گیا

حضرت یوسف علیہ السلام نے جب ان سے فرمایا کہ بن یامن کو میرے پاس چھوڑ دو تو تمام بھائی آپ علیہ السلام کی خوشامد کرنے لگے اور کہا کہ ہمارے والد صاحب بہت بوڑھے ہو گئے ہیں ۔ اور ایک بیٹے کی جدائی کا غم پہلے ہی برداشت کر رہے ہیں۔ اگر آپ (علیہ السلام ) اسے بھی روک لیں گے تو یہ ہمارے والد کے لئے ناقابل برداشت ہو گا اور ہم پختہ وعدہ کر کے آئے ہیں کہ ہم بن یامن کو لے کر آئیں گے۔ آپ اسے بھیج دیں اور ہم میں سے کسی بھائی کو رکھ لیں۔ آپ علیہ السلام نے تمام باتیں سن کر فرمایا۔ تمہیں بن یامن کو ہی چھوڑنا پڑے گا۔ اور اب تم جاﺅ اور اپنے والد کو سمجھاﺅ۔ اور اگر میں اس کے علاوہ کسی اور کو روکوں گا تو یہ نا انصافی ہو گی۔ بھائیوں نے بہت منت سماجت کی لیکن آپ علیہ السلام بن یامن کو روکنے کے فیصلے پر قائم رہے۔ آخر کار آپ علیہ السلام بن یامن کو لے کر چلے گئے۔ اور تمام بھائی آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کیا کریں۔ اور قافلے والے بھی رک گئے اور وہیں پڑاﺅ ڈال دیا۔ سب سے بڑے بھائی روبیل نے کہا۔ تم سب لوگ جانتے ہو کہ ہم نے اللہ کے نام سے اپنے والد محترم سے پختہ وعدہ( عہد ) کیا تھا کہ ہم کسی بھی صور ت میں بن یامن کو واپس لے کر آئیں گے۔ اور تم سب جانتے ہو کہ اس سے پہلے ہم نے یوسف ( علیہ السلام ) کے متعلق ابا جان سے وعدہ کیا تھا اور توڑ دیا تھا۔ اور اب تو میں ابا جان کا سامنا نہیں کر سکتا۔ تم لوگ قافلے والوں کے ساتھ واپس جاﺅ اور ابا جان کو بتاﺅ کہ بن یامن کو کس طرح گرفتار کیا گیا ہے۔ اور میں یہاں رک کر بن یامن کی رہائی کی کوشش کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کوئی راستہ نکال دے کہ میں بن یامن کو لے کر آﺅں۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کا صبر

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( یعقوب علیہ السلام نے ) فرمایا۔ یہ تو نہیں ، بلکہ تم نے اپنی طرف سے بات بنا لی ہے۔ پس اب صبر کرنا ہی بہتر ہے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو میرے پاس ہی پہنچا دے۔ وہ ہی علم والا اور حکمت والا ہے پھر ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا۔ ہائے یوسف ، ان کی آنکھیں رنج و غم کی وجہ سے سفید ہو چکی تھیں۔ اور وہ غم کو دبائے ہوئے تھے۔ بیٹوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، آپ علیہ السلام ہمیشہ یوسف کو ہی یاد کر تے رہیں گے۔ یہاں تک کہ گھل جائیں یا ختم ہو جائیں۔ انہوں نے فرمایا۔ میں تو اپنی پریشانیوں اور رنج کی فریاد اللہ ہی سے کر رہا ہوں۔ اور مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ باتیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر83سے 86تک) حضرت یوسف علیہ السلام کا سب سے بڑا بھائی روبیل مصر میں ہی رک گیا تھا۔ اور باقی تمام بھائی حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں واپس آئے اور آپ علیہ السلام کو بن یامن کی گرفتاری کا پورا واقعہ بیان کیا اور کہا۔ ہمارا بڑا بھائی وہیں مصر میں رک کر اسے رہا کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام کو بہت تکلیف ہوئی اور آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میرا دل قبول نہیں کر تا کہ بن یامن ایسی حرکت کر سکتا ہے۔ اور میں یہ بات مان ہی نہیں سکتا بہر حال میں صبر کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ ہمارے لئے کوئی بہتر راستہ نکال دے اور پھر ہم سب کو ایک ساتھ کر دے۔ آپ علیہ السلام کو پہلے ہی سے حضرت یوسف علیہ السلام کی جدائی کا صدمہ تھا اس پر بن یامن کی جدائی نے دہرا صدمہ پہنچا دیا۔ آپ علیہ السلام کی حالت دیکھ کر تمام بیٹوں کو صدمہ ہوتا۔ اور انہوں نے کہا ابا جان آپ اس طرح ہر وقت غمزدہ رہیں گے تو ہمیں ڈر ہے کہ آپ علیہ السلام کو کچھ ہو گیا تو ہم کیا کریں گے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تواپنے بچوں کو یاد کرتا ہوں۔

 بھائیوں کو پھر سے مصر بھیجا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا) میرے پیارے بچو، تم جاﺅ اور یوسف کی اور اس کے بھائی کی پوری طرح تلاش کرو۔ اور اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہو جاﺅ۔ اور رب کی رحمت سے تو وہی نا امید ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔ پھر جب یہ لوگ یوسف(علیہ السلام )کے پاس پہنچے او رکہنے لگے کہ اے عزیز، ہم اور ہمارے خاندان کو دکھ پہنچا ہے۔ اور ہم حقیر پونجی لائے ہیں۔ پس آپ ہمیں پورے غلہ کا ناپ دیجئے اور ہم پر خیرات کیجئے۔ اللہ تعالیٰ خیرات کرنے والوں کو بدلہ دیتا ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر87اور 88) حضرت یعقوب علیہ السلام کی حالات دیکھ کر تمام بھائیوں کو بھی افسوس اور صدمہ ہونے لگا تھا۔ اور انہیں احساس بہت شدید ہو رہا تھا کہ ہم نے والد محترم سے یوسف ( علیہ السلام ) کو جد ا کر کے بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ وہ اپنے والد محترم کو سمجھانے لگے کہ ابا جان، اپنے آپ کو سنبھالئے ۔ آپ علیہ السلام تو یوسف کے غم میں گھل گھل کر اپنی جان دے دیں گے۔ اگر ہمارے بس میں ہوتا تو ہم ابھی یوسف ( علیہ السلام ) کو لے کر آجاتے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے بچو، اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ امید رکھو، اور تم لوگ پھر مصر جاﺅ اور ابن یامن اور یوسف کو تلاش کرو۔ اللہ تعالیٰ سے مجھے یہ پوری امید ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر ہم سب کو ملا دے گا۔ تمام بھائی مصر آئے اور بڑے بھائی سے ملاقات کی اور بتایا کہ والد محترم نے ایسا فرمایا ہے۔ اور ہمارے خاندان کے لئے رسد بھی ختم ہونے والی ہے۔ اور اب تو ہمارے پاس اتنی رقم بھی نہیں ہے کہ ہم اپنے خاندان کے لئے رسد خرید سکیں۔ ہم عزیز مصر کے پاس چل کر درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس تھوڑی سے پونجی کو لے ہمیں پورا سامان دے دے۔ انہوں نے روبیل سے بن یامن کی رہائی کے باے میں پوچھا تو اس نے کہا۔ میں پوری کوشش کررہا ہوں ، لیکن کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ چلو ہم ایک مرتبہ پھر عزیز مصر کے پاس چلتے ہیں اور اس سے رحم کی درخواست کرتے ہیں۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں رحم ڈال دے۔

بھائیوں کی عاجزی

حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ اپنے آپ کو بھائیوں پر ظاہر کردیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ تمام بھائیوں کو اپنی غلطی کا شدید احساس ہو رہا ہے۔ اور وہ بری طرح پچھتا رہے ہیں ۔اور چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح ہمیں بن یامن اور یوسف ( علیہ السلام ) مل جائیں۔ اور تمہارے والد محترم نے اس امید میں انہیں بھیجا ہے کہ تم ضرور انہیں مل جاﺅ گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ اور بھائیوں کا انتظار کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام کے بھائی حاضر ہوئے ۔ ان کی حالت دیکھ کر حضرت یوسف علیہ السلام کا دل بھر آیا لیکن ضبط کئے بیٹھے رہے۔ بھائیوں نے کہا۔ اے بادشاہ ، اے عزیز مصر ، ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو بہت دکھ پہنچا ہے۔ اور ہم لوگ بہت تکلیف میں ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ آپ بہت ہی رحمد دل ہیں۔ اور لوگوں کے ساتھ سچی ہمدردی کرتے ہیں۔ ہمارے اوپر رحم فرمائیے۔ اور یہ تھوڑے سے درہم لے کر چاہے خیرات ہی سمجھ کر ہمیں پورا سامان دے دیں اور ہمارے بھائی کو ہمیں واپس دے دیں۔ تا کہ ہم اپنے والد محترم کی تکلیف کو کچھ کم کر نے میں ان کی مدد کر یں۔ اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہتر بدلہ عطا فرمائے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

12 حضرت اسحاق یعقوب، یوسف علیہم السلام Story of Prophet Yaqoob, Yusuf


 09 حضرت اسحاق، یعقوب اور یوسف علیہم السلام 

سلسلہ نمبر09

قسط نمبر 12

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ کو ظاہر کر دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ ” یوسف (علیہ السلام ) نے فرمایا۔ کیا تم جانتے بھی ہو کہ تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ نادانی کی حالت میں کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا۔ ( واقعی) آپ (علیہ السلام ) ہی یوسف ہیں؟جواب دیا کہ ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و کرم کیا ہے۔ اور صبر کرنے والوں اور (گناہوں سے ) پرہیز گاری کرنے والوں کے اجر کو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو ہم پر برتری دے دی ہے۔ اور یہ بھی بالکل سچ ہے کہ ہم بہت بڑے خطا کار ہیں۔ جواب دیا۔ آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی تمہیں بخشنے ولا ہے۔ اور وہ سب مہربانوں سے بڑا مہربان ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر89سے 92تک) حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کی یہ عاجزی دیکھی تو ضبط کا بند ٹوٹ گیا اور آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا۔ آج تم میرے سامنے یہ چند درہم لے کر آئے ہو۔ کیا تمہیں یاد بھی ہے کہ تم لوگوں نے چند درہم کے لئے اپنے چھوٹے بھائی یوسف بن یعقوب کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ آپ علیہ السلام کے بھائی درہم اور یوسف بن یعقوب کا نام سن کر چونک گئے۔ اور حیرانی سے آپ علیہ السلام کی شکل دیکھنے لگے اور کہا۔ یوسف ( علیہ السلام ) کو ہم نے چند درہم میں بیچا تھا یہ بات صرف یوسف (علیہ السلام ) اور ہم جانتے تھے یہ بات آپ علیہ السلام کو کیسے معلوم ہوئی۔ آپ علیہ السلام کی شکل ہمارے چھوٹے بھائی یوسف بن یعقوب سے ملتی جلتی ہے۔ یہ تو ہم نے پہلی ہی ملاقات میں سمجھ لیا تھا۔ لیکن یہ ہم یقین نہیں کر سکتے کہ جس یوسف ( علیہ السلام ) کو ہم نے غلام بنا کر بیچا تھا وہ اتنا بڑا بادشاہ کیسے بن سکتا ہے؟ سچ بتائیں کیا آپ یوسف(علیہ السلام ) ہیں؟

آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ہے

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائیوں کا سوال سن کر مسکرانے لگے اور مسکراتے ہوئے فرمایا۔ ہاں میں ہی یوسف (علیہ السلام ) ہوں۔ اور تمام باتیں اپنے بڑے بھائیوں کو بتائیں کہ کس طرح مصر کے بازار میں سب سے مہنگی قیمت میں بیچے گئے۔ کس طرح جیل میں پہنچے اور اسی دوران اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے بعد بادشاہ کے خواب کی تعبیر کس طرح بتائی او ر کس طرح بادشاہ نے خود آپ علیہ السلام کو بادشاہ بنا دیا اور خود گوشہ نشین ہو گیا۔ اور اس طرح مصر کا اقتدار آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آگیا۔ تمام بھائی حیرانی سے آنکھیں پھاڑے یہ پوری کہانی سنتے رہے۔ تمام باتیں بیان فرمانے کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس چھوٹے اور حقیر بھائی کو یہ مقام عطا فرمایا کہ آج تم لوگ اس کے سامنے سوالی بنے کھڑے ہو۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ہے۔ اور بن یامن کو بھی بلایا تو و ہ شاہی لباس پہنے ہوئے آئے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے تمام بھائیوں کو عزت سے بٹھایا۔ تو تمام بھائیوں نے کہا۔ اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوہم تمام بھائیوں پر برتری عطا فرمائی ہے۔ اور آج ہم تمام بھائی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے آپ علیہ السلام کے ساتھ بہت ہی برا اور غلط سلوک کیا ہے۔ اور بے شک ہم تمام بھائی بہت بڑے خطا واور ہیں۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ آج کسی کو کوئی ملامت نہیں ہے۔ اورمیری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفترت فرمادے اور تمہیں بخش دے۔ اور اللہ تعالیٰ سب مہربانوں میں سب سے زیادہ مہربانی کرنے والا ہے۔

والد محترم کے لئے قمیص دی

حضرت یوسف علیہ السلام نے تمام بھائیوں کو شاہی مہمان خانے میں عزت سے ٹھہرایا تمام بھائیوں نے آپ علی السلام سے عرض کیا۔ بھائی آپ علیہ السلام سے بچھڑنے کے بعد بھی والد محترم آپ علیہ السلام کو ہی ہر وقت یاد کرتے رہتے تھے۔ وہ زبا ن سے تو کچھ نہیں کہتے تھے لیکن آنکھوں سے ہر وقت آنسو بہتے رہتے تھے اور اس کی وجہ سے ہمارے والد محترم کی آنکھوں کی روشنی چلی گئی ہے۔ یہ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام بھی روپڑے۔پھر فرمایا۔ اے میرے پیارے بڑے بھائیو، مجھ پر تو حکومت اور نبوت کی اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ میں اسے چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔ آپ لوگ میری یہ قمیص لے جائیں اور والد محترم کے چہرۂ مبارک پر ڈال دیں وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور ان کی آنکھوںکی روشنی لوٹ آئے گی۔ اور میری طرف سے ان سے یہ درخواست کریں کہوہ تمام خاندان والوں کو لے کر یہاں آجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” میری(یوسف علیہ السلام )یہ قمیص تم لے جاﺅ اور اسے ہمارے والد محترم کے چہرہ ¿ مبارک پر ڈال دو۔ وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور آجائیں اور اپنے تمام خاندان والوں کو لے کر میرے پاس آجاﺅ۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر93)

مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو شاندار سواریاں دیں اور ان کے ساتھ چل کر خود بھی شہر کے باہر آئے اور بھائیوں کے قافلے کو بڑی محبت سے رخصت کیا۔ جب بھائیوں کا قافلہ گھر کے قریب پہنچنے لگا تو حضرت یعقوب علیہ السلام اچانک خوش ہو گئے اور مسکرانے لگے۔ تمام خاندان والوں نے آپ علیہ السلام کی یہ تبدیلی دیکھی تو حیرت سے وجہ پوچھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم لوگ یہ نہ سوچو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں تو میں کہتا ہوں کہ مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ ان کے خاندان والوں نے کہا۔ آ پ علیہ السلام تو یوسف(علیہ السلام )کو اتنا یاد کرتے ہیں کہ اب آپ علیہ السلام کو لگنے لگا ہے کہ صحیح معنوں میں یوسف (علیہ السلام ) یہیں کہیں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب یہ قافلہ ( حضرت یوسف علیہ السلام سے ) جدا ہو اتو ان کے والد محترم نے فرمایا۔ اگر تم سٹھیا یا ہوا قرار نہ دو تو میں کہتا ہوں کہ مجھے تو یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔ وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم، آپ علیہ السلام اپنے اسی خبط میں مبتلا ہیں۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر94، 95)

آنکھوں کی روشنی واپس آگئی

حضرت یعقوب علیہ السلام آج بہت خوش تھے۔ اور جیسے جیسے قافلہ قریب آتا جا رہا تھا ویسے ویسے آپ علیہ السلام کی خوشی اور بے تابی بڑھتی جا رہی تھی۔ بیٹوں کا قافلہ خوشی خوشی گھر پہنچا ۔ اور آپ علیہ السلام کو یہ خوش خبری سنائی کہ ابا جان ، آپ علیہ السلام کا پیارا بیٹا اور ہمارا پیارا بھائی یوسف علیہ السلام زندہ ہے۔ اور آپ علیہ السلام کو یہ سن کر حیرانی ہو گی کہ وہ مصر کا بادشاہ ہے۔ اور یہ وہی ہے جس نے بن یامن کو تدبیر سے روک لیا تھا۔ اور بن یامن نے کوئی چوری نہیں کی ہے۔ یہ سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام بہت خوش ہوئے اور فوراً اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا۔ میں تم سے ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ میرے یوسف کو کچھ نہیں ہوا ہو گا۔ اور جب تم نے مجھے بتایا تھا کہ اسے بھیڑیا اٹھا لے گیا ہے تب بھی مجھے پورا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے یوسف کو محفوظ رکھا ہو گا ۔ لیکن میرے پیارے بیٹو، یوسف کی جدائی مجھ سے برداشت نہیں ہوتی تھی اور نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھوںمیں آنسو آجاتے تھے۔ یہ سن کر بیٹوں نے کہا۔ ابا جان، یوسف علیہ السلام نے ان کی یہ قمیص بھیجی ہے اور کہا ہے کہ ابا جان سے میری طرف سے معذرت کرنا کہ نبوت اور حکومت کی ذمہ داریوں کی وجہ سے میں نہیں آسکا۔ اور کہا ہے کہ میری یہ قمیص ابا جان کے چہرہ مبارک پر ڈال دینا تو ان کی آنکھوں کی روشنی واپس آجائے گی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بے تابی سے اپنے ہاتھوں کو بڑھایا۔ اور فرمایا۔ لاﺅ میرے یوسف کی قمیص، ایک قمیص تم یوسف کی لائے تھے جس نے مجھے غم میں مبتلا کر دیا تھا۔ اب اسی یوسف کی دوسری قمیص سے مجھے خوشیاں مل رہی ہیں اور قمیص لے کر اپنے چہرہ مبارک پر ڈال لی۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسی وقت آپ علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی آگئی تو دکھائی دینے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب خوش خبری دینے والے نے پہنچ کر ان کے چہرہ مبارک پر قمیص ڈالی تو اسی وقت آپ علیہ السلام دیکھنے لگے۔ اور فرمایا۔ میں تم سے یہ کہا کرتا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر96)

ملک مصر کی طرف روانگی

حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں کی روشنی واپس آگئی اور صاف دکھائی دینے لگا تو تمام بیٹے آپ علیہ السلام کو گھیر کر بیٹھ گئے۔ اور عرض کیا ۔ ابا جان، ہم بہت بڑے گنہ گار ہیں اور ہم سے بہت سی خطائیں ہوئی ہیں۔ آپ علیہ السلام ہمارے لے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہوں اور خطاﺅں کو معاف فرما دے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ضرور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا۔ پھر بیٹوں نے کہا۔ ابا جان ، ہمارے پیارے بھائی یوسف علیہ السلام نے درخواست کی ہے کہ آپ علیہ السلام پورے خاندان کو لے کر مصر تشریف لائیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام جب اپنے قافلے کے ساتھ مصر کے قریب پہنچے تو دیکھا مصر کے باہر ہزاروں سواروں کالشکر موجود ہے۔ در اصل یہ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد محترم کے استقبال کے لئے چار ہزار سپاہیوں کا لشکر لے کر ہزاروں مصری سواروںکے ساتھ سینکڑوں ریشمی جھنڈے لہراتے ہوئے مصر کے باہر صحر امیں موجو د تھے۔ ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے یہود ا کا سہار لئے تشریف لا رہے تھے ۔ جب آپ علیہ السلام کی نظر لشکر پر پڑی اور دیکھا کہ زرق و برق لباسوں میں ملبوس ہزاروں سواروں سے صحرا بھرا ہو اہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے یہودا، کیا یہ مصر کا فرعون ہے؟ ( ہم پہلے بھی آپ کو بتا چکے ہیں کہ مصر کے بادشاہوں کا لقب فرعون ہوتا تھا) تو یہودا نے جواب دیا۔ نہیں ابا جان ، یہ توحضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو آپ علیہ السلام کے استقبال کے لئے آپ علیہ السلام کے پاس آرہے ہیں۔ 

باپ بیٹے کی ملاقات

حضرت یعقوب علیہ السلام حیرانی اور تعجب سے اپنے بیٹے کی شان و شوکت دیکھ رہے تھے۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ ذرا ہوا کیطرف دیکھئے آپ علیہ السلام کی خوشی میں شریک ہونے کے لئے فرشتے (ملائکہ) حاضر ہوئے ہیں۔ یہ فرشتے برسوں سے آپ علیہ السلام کے غم میں شریک تھے۔ اور برسوں سے آپ علیہ السلام کے ساتھ روتے رہے ہیں۔ فرشتوںکی تسبیح سے گھوڑوں کے ہنہنانے سے عجیب کیفیت پید اہو گئی تھی۔ جب دونوں انبیائے کرام علیہم السلام قریب ہوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام بے قرار ہو کر سلام کرنا چاہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے روک دیا اور عرض کیا۔ آپ علیہ السلام تھوڑا رک جائیں اور اپنے والد محترم علیہ السلام کو پہلے سلام کرنے کا موقع دیں کیوں کہ آپ علیہ السلام کے والد محترم کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ علیہ السلام سے زیادہ ہے اس لئے انہیں زیادہ نیکیاں کمانے کا موقع دیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے آگے بڑھ کر فرمایا۔ تم پرسلام ہو ، اے غم اور دکھ درد کو دور کرنے والے ۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے بہت ہی ادب سے سلام کا جواب دیا اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے کو گلے سے لگا لیا۔ اور ان کے ماتھے کو چوم لیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر 

حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد محتر م اور تمام مہمانوں کو عزت سے لے کر اپنے محل میں آئے۔ اور اپنے تخت پر دائیں طرف والد محترم کو بٹھایا اور بائیں طرف والدہ محترمہ ( جو آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ راحیل کی بڑی بہن لیا تھیں اور بڑے بھائیوں کی والدہ تھیں۔ بن یامن کی پیدائش کے بعد راحیل کا انتقال ہو گیا تھا) کو بٹھایا۔ اور پھر گیارہ بھائیوں نے آپ علیہ السلام کو تعظیمی سجدہ کیا۔ ( پہلے کی امتوں میں تعظیمی سجدہ جائز تھا) یہ دیکھ کر حضرت یوسف علیہ السلام نے والد محترم سے فرمایا۔ ابا جان ، یہ ہے میرے خواب کی تعبیر۔ اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے بیٹے کو گلے لگا لیا۔ اور تمام بیٹوں کو بلاکر سب کو گلے لگا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” جب سارا گھر انہ یوسف ( علیہ السلام ) کے پاس پہنچ گیا تو یوسف( علیہ السلام ) نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی اور فرمایا۔ اللہ کو منظور ہے تو آپ سب امن و امان کے ساتھ مصر میں آﺅ۔ اور اپنے تخت پر اپنے ماں باپ کو اونچا بٹھایا اور سب ان کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ تب فرمایا۔ ابا جان، یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس نے میرے ساتھ بڑا احسان کیا۔ جب میں قید خانے (جیل) میں تھا تو مجھے وہاں سے نکالا۔ اور آپ لوگوں کو صحرا سے لے آیا۔ اس اختلاف کے بعد جو شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ڈال دیا تھا۔ میرا رب جو چاہے اس کے لئے بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔ اور وہ بہت علم والا اور حکمت والا ہے۔ اے میرے پروردگار ، تو نے مجھے ملک عطا فرمایا اور تو نے مجھے خواب کی تعبیر سکھلائی۔ اے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا ولی اور کار ساز ہے۔ تو مجھے اسلام کی حالت میں موت عطا فرمااور نیک لوگوں میں رکھنا۔ (سورہ یوسف آیت نمبر99سے101تک) ایک روایت میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے خواب کی تعبیر چالیس 40سال بعد ظاہر ہوئی اور ایک روایت میں ہے کہ اسّی80سال بعد ظاہر ہوئی۔ 

حضرت یعقوب علیہ السلام کا وصال

حضرت یعقوب علیہ السلام لگ بھگ چالیس 40سال تک بچھڑے رہنے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام سے ملے۔ اور پورا خاندان مصر میں آباد ہو گیا۔ پورے مصر میں اس خاندان کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس وقت جو فرعون تھا اس کا نام ریان بن ولید تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے اسلام کی دعوت دی تھی جو اس نے قبول کر لی تھی۔ کچھ عرصے کے بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد مصر کا فرعون قابوس بن مصعب بنا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اسے بھی اسلام کی دعوت دی۔لیکن اس نے قبول نہیں کیا اور کافر ہی رہا۔ (تاریخ طبری جلد نمبر1) لیکن وہ بھی آپ علیہ السلام کی بہت عزت کرتا تھا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام مصر میں اپنے بیٹے کے ساتھ چوبیس24برس تک رہے۔ جب آپ علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو تمام بیٹوں کو جمع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” کیا یعقوب ( علیہ السلام ) کے انتقال کے وقت تم موجود تھے؟ جب انہوں نے اپنی اولاد کو فرمایا ۔ کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ تو سب نے جواب دیا کہ آپ (علیہ السلام ) کے معبود کی اور آپ (علیہ السلام ) کے آباﺅ اجداد ابراہیم (علیہ السلام ) اور اسماعیل (علیہ السلام ) اور اسحاق(علیہ السلام ) کے معبود کی۔ جو اکیلا اور واحد ہے۔ اور ہم اسی کے فرماں بردار رہیں گے۔ “ ( سورہ البقرہ آیت نمبر ( 133 جب آپ علیہ السلام نے اپنے آخری وقت میں اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کروگے۔ تو تمام بیٹوں نے جواب دیا۔ ہم اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کریں گے۔ اور اسی کے فرماں بردار رہیں گے۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کا وصال لگ بھگ ایک سو پینتالس145 برس کی عمر میں ہوا۔ اور آپ علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام اس وقت کے ملک کنعان اور حالیہ فلسطین میں لے گئے۔ اور اس کے شہر ” الخلیل“ میں دفن کیا ۔ جسے ”حبرون“ بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کا وصال

حضر ت یعقوب علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام لگ بھگ تیئیس23سال تک زندہ رہے۔ اس دوران آپ علیہ السلام نے مصر کا انتظام اتنے بہترین طریقے سے سنبھالا کہ پورا مصر خوش حال ہو گیا۔ جب آپ علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو آپ علیہ السلام نے اپنے بھائیوں ، بیٹوں اور بھتیجوں کو بلایا۔ اور وصیت فرمائی۔ کہ مجھے مصر میں دفن نہیں کرنا بلکہ ایک تابوت میں رکھ دینا۔ اور جب بنی اسرائیل مصر سے جانے لگیں گے تو میرے تابوت کو لے جائیں گے اور میرے والدین کے ساتھ دفن کرنا۔ ( یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات میں بیان کریں گے ۔ انشا اللہ ) حضرت یوسف علیہ السلام کو ملا کر یہ کل بارہ بھائی تھے۔ اور ان بارہ بھائیوں کی اولاد بارہ قبیلہ بنی۔ اور ان سب کو آگے چل کر بنی اسرائیل کہا گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے آخری وقت یہ دعا مانگی ۔ اے میرے رب ( اللہ تعالیٰ) تو نے مجھے سلطنت عطا فرمائی ۔ اور مجھے خوابو ں کی تعبیر سکھلائی۔ اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے۔ تو دنیا اور اخرت میں میرا کام بنانے والا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ ، ( آخرت میں ) مجھے مسلمان اٹھانا اور ان کے ساتھ رکھنا جوتیرے مقرّب ( سب سے قریبی) بندے اور تیرے خاص قرب کے لائق ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی وصیت کے مطابق ایک سنگ مرمر کے صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں محفوظ کر دیا گیا۔ پہلے آپ علیہ السلام کو دریائے نیل کے داہنی جانب محفوظ کیا گیا تو اس طرف کا علاقہ سر سبز و شاداب ہو گیا۔ اور دوسری طرف کا پانی کم ہو گیا اور ادھر کا علاقہ سوکھ گیا۔ توصندوق نکال کر بائیں جانب محفوظ کر دیا گیا۔ تو بائیں طرف کا علاقہ سر سبز و شاداب ہو گیا۔ اور داہنی طرف پانی کم ہو گیا۔ اور وہ علاقہ سوکھ گیا۔ آخر کار دریائے نیل کے درمیان میں صندوق کو محفوظ کر دیا گیا۔ اور دونوں طرف کے علاقے سر سبز و شاداب ہو گئے۔ آپ علیہ السلام کا جسم مبارک چار سو سال سے زیادہ عرصے تک دریائے نیل میں محفوظ رہا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو اس صندوق کو بھی ساتھ لے لیا۔ اور اس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں ” الخلیل “ میں دفن کر دیا۔

اگلی کتاب

قارئین کرام ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب ، اور حضرت یوسف علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب ہم آپ کی خدمت میں انشاءاللہ حضرت ایوب علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے۔

٭........٭........٭

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں