06 حضرت اسحاق، یعقوب, یوسف علیہ السلام
سلسلہ نمبر09
قسط نمبر 6
عورتوں نے بے خودی میں اپنی انگلیوں کوکاٹ لیا
زلیخا نے ان عورتوں کو دعوت دی اور ان کے لئے گاﺅ تکیے لگوا دئیے۔ اور پھل فروٹ اور میوے وغیرہ رکھ دئیے۔ وہ عورتیں آئیں اور گاﺅ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔ اور باتیں کرنے لگیں زلیخا بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کررہی تھی۔ تمام عورتیں باتیں کرتی جارہی تھی اور پھل کاٹ کاٹ کر کھاتی بھی جارہی تھیں۔ اچانک زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو آواز لگائی اور بلایا۔آپ علیہ السلام اندر داخل ہوئے اور تمام عورتوں نے ایک ساتھ ان کی طرف دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئیں۔ ایسا حسن انھوں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ اور وہ سب عورتیں آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ایسی بے خود ہوئی کہ انھوں نے پھلوں کی بجائے اپنے انگلیوں کو کاٹ لیا اور انھیں احساس ہی نہیں ہوا کہ ان کی انگلیاں کٹ چکی ہیں۔ وہ تو بے خودی میں اللہ تعالیٰ کے اس حسین شاہکار کو بس تکے جارہی تھیں۔ زلیخا نے آپ علیہ السلام سے کچھ باتیں کی اور انھیں واپس بھیج دیا۔ جب آپ علیہ السلام دوسرے کمرے میں چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہوگئے تو تمام عورتیں چونکیں اور تب انھیں تکلیف کا احساس ہواتو اپنی انگلیوں کی طرف متوجہ ہوئیں تو خون دیکھ کر ان کی چینخیں نکل گئیں۔ اور تمام عورتیں جلدی جلدی خون کو روکنے اور پٹی باندھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ زلیخا بیٹھی انھیں دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ” اس نے (زلیخا نے) جب ان کی اس پر فریب غیبت کا حال سنا تو انھیں بلوا بھیجا اور انکے لئے ایک مجلس مرتب کی۔ اور ان میں سے ہر ایک چھری دی۔ اور کہا اے یوسف (علیہ السلام ) ان کے سامنے چلے آﺅ۔ ان عورتوں نے جب اسے دیکھا تو بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لےے اور زبان سے نکل گیا ”ماشَا اللہ“یہ انسان تو ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ یہ تو یقیناکوئی بہت ہی بزرگ فرشتہ ہے۔ ( سورہ یوسف آیت نمبر 31)۔
اتنا حسین انسان نہیں ہوسکتا
سورہ یوسف کی آیت نمبر 31کی تفسیر میں علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی نے عورتوں کو اترنج(لیموں) اور شہد دیا تو وہ چھری سے اترنج کانٹنے لگیں تو حضرت یوسف علیہ السلام کو اس عورت نے بلایا۔ آپ علیہ السلام مجلس میں پہونچے تو تمام عورتیں آپ علیہ السلام کی حسن عظمت کی قائل ہوگئیں اور ایسی مسحور ہوئیں کہ اپنے ہاتھوں کو چھری سے کانٹنے لگیں اور ان کے ہاتھوں میں اترنج تھا اور وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہی تھیں اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ اترنج کاٹ رہی ہیں حسنِ یوسف کو دیکھ کر انکی عقلیں ضائع ہوگئی اور انھوں نے کہا ۔ مَاشَااللہ، یہ انسان نہیں ہوسکتا بلکہ یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عزیز مصر کی بیوی نے ان عورتوں کو اترنج کا پھل دیا اور ہر ایک کو چھری بھی دی ۔ جب انھوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھا تو حسنِ یوسف کی عظمت کی قائل ہوگئیں اور اپنے ہاتھ کاٹنے لگیں اور وہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ اترنج کا پھل کاٹ رہی ہیں۔ امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں کہ اس عورت نے اپنے منتظم سے کہا کہ یوسف علیہ السلام کو سفید لباس پہنا کر ان عورتوں کے پاس لاﺅ۔ کیونکہ سفید لباس میں یہ مزید خوبصورت اور نکھرا ہوا لگتا ہے۔ اس نے عورتوں کے سامنے آپ علیہ السلام کو پیش کیا اس وقت وہ پھل کاٹ رہی تھیں۔ جب انھوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو ایسی مدہوش ہوئیں کہ پھل کاٹنے کی بجائے اپنے ہاتھوں کو کاٹنے لگیں۔ اور ایک ٹک آپ علیہ السلام کو دیکھ رہی تھیں۔ پھر زلیخا نے آپ علیہ السلام کو جانے کا اشارہ کیا تو آپ علیہ السلام واپس چلے گئے۔ تو وہ پیچھے سے آپ علیہ السلام کو دیکھتی رہیں اور جب نظروں سے اوجھل ہوگئے تو ہاتھوں میں تکلیف محسوس ہوئی تو وہ چونکیں تب عزیز کی بیوی نے کہا ۔ ایک مرتبہ دیکھنے میں تمھارا یہ حال ہے وہ تو ہر وقت میرے سامنے رہتا ہے۔ تب ان عورتوں نے کہا۔ مَا شَا اللہ یہ انسان نہیں ہوسکتا یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے۔
یہ کوئی بزرگ فرشتہ ہے
سورہ یوسف آیت نمبر 31کی تفسیر میں مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔ زلیخا نے اپنی ملازماﺅں اور لونڈیوں کے ذریعے نہایت عمدہ طریقے سے دعوت گاہ کو سجایا حالانکہ وہ عورتیں اتنی اہمیت اور عزت افزائی کے لائق نہیں تھیں۔ مگر جسکا دیدار کرانا تھا جس کی شان کی دھاک بٹھانی تھی ۔ وہ بہت عظیم تھا۔ ایک لونڈی نے کہا۔ وہ عورتیں تیری غیبت کررہی ہیں تو پھر تو انکا اتنا احترام کیوں کررہی ہے ؟ زلیخا نے کہا ۔ میں تلوار کی مار نہیں مارنا چاہتی بلکہ حسنِ یوسف کا دیدار کراکے انھیں تڑپانا چاہتی ہوں ۔ اور سب عورتوں کو دعوت کے لئے بلایا۔ اور ہر عورت کو چھری دی ۔ یہ کل چالیس عورتیں تھیں۔ ان میں وہ پانچ عورتیں بھی تھیں۔( جن کا پہلے ذکر آچکا ہے۔)زلیخا نے کھانے کی اجازت دی سب نے ایک پھل اٹھایا۔ اور حسب عادت کاٹنے لگیں۔ اسی وقت زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بلایا۔ آپ علیہ السلام آئے اور جب ان عورتوں نے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو دنگ رہ گئیں اور پھل کاٹتے کاٹتے مد ہوش ہوگئیں اور اسی مدہوشی میں انھیں احساس نہیں ہوا کہ پھل کٹ جانے کے بعد وہ اپنے ہاتھوں کو کاٹ رہی ہیں۔ پہلے کھال کٹی ، پھر گوشت کٹا اور بعض کی تو ہڈی تک کٹ گئی۔ زلیخا نے آپ علیہ السلام کو جانے کا اشارہ کیا اور آپ علیہ السلام چلے گئے۔ تب وہ عورتیں ہوش میں آئیں اور درد محسوس ہوا اور پتہ لگا کہ پلک جھپکنے میں کیا ہوگیا زلیخا نے کہا ۔ دیکھ لیا تم نے تو وہ بولیں۔ یہ انسان نہیں لگتا بلکہ یہ تو کوئی بہت بزرگ فرشتہ ہے۔ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے ان عورتوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔
زلیخا کی دھمکی
حضرت یوسف علیہ السلام سے عزیز مصر نے درخواست کی تھی کہ میری بیوی کو معاف کردو۔ اور اپنی بیوی سے کہا تھاکہ اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہونچانا۔ لیکن زلیخا کے دل و دماغ پر شیطان سوار تھا۔ اسلئے وہ آپ علیہ السلام کو مجبور کرنے لگی۔ جب ان عورتوں نے اپنے ہاتھوں میں پٹیاں باندھ لی تو زلیخا نے ان سے کہا ، تم نے اسے دیکھ لیا نا کہ وہ کتنا خوبصورت ہے۔ اور تم لوگ مجھے ملامت کررہی ہو۔ اب میں تم سے کہتی ہوں پچھلی مرتبہ تو یہ بچ گیا ۔ لیکن اب اگر یہ میری بات نہیں مانے گا تو یا تو میں اسکی بے عزتی کردوں گی یا پھر قید خانے میں ڈالوا دوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں سورہ یوسف میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ” اس وقت عزیز کی بیوی نے کہا ۔ یہی ہے جس کے بارے میں تم مجھے طعنہ دے رہی تھیں۔ حالانکہ میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنا چاہا لیکن یہ بال بال بچا رہا ۔ اور جو کچھ میں کہہ رہی ہوں اگر یہ نہیں کرے گا تو یقیناً قید کردیا جائے گا۔ اور بے شک اسے میں بے عزت کروں گی ۔ (سورہ یوسف آیت نمبر 32) ۔ مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ عزیز مصر کی بیوی نے کہا۔ واقعی میں نے اپنا مطلب نکالنے کے لئے اسے پھسلایا تھا لیکن یہ بچ گیا۔ اس طرح اس نے اس بات کا اقرار کر لیا جسکا وہ اپنے شو ہر کے سا منے انکار کر چکی تھی۔اور حضرت یوسف علیہ السلام کی بے قصوری بھی ظاہر کر دی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ابھی یہ پھندے سے نکلا نہیں ہے۔ میرا تقاضا برابر جاری رہے گا۔ اگر اس نے میری بات نہیں مانی اور میرے حکم پر عمل نہیں کیا تو ضرور جیل میں بھیج دیا جائے گا۔ یا پھر ضرور بالضروراسے ذلت اٹھانی پڑے گی۔ مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں ۔وہ عورت بولی دیکھ لو یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھے برا بھلا کہتی تھیں۔ اور واقعی میں نے اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ پاک صاف رہا۔ اور آئندہ میرا کہنا نہیں مانے گاتو بے شک جیل خانے میں جائے گا اور بے عزت بھی ہو گا۔ محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں زلیخا نے ان عورتوں سے کہا یہی وہ پیکر ِ حسن ہے۔ جس کے بارے میں تم عورتیں مجھے کوستی تھیں۔اور جب اسے یقین ہو گیا کہ وہ تمام عورتیں حسن ِیوسف سے مسحور ہو گئی ہیں ۔اور اسے معذور سمجھنے لگی ہیں۔ تو اس نے اپنا دل کھول کر ان کے سامنے رکھ دیا۔ اور کہا کہ ہاں ،میں نے اسے ورغلا یا تھا۔ لیکن اس نے قطعی طور پر انکار کر دیا۔اور ذرا سی بھی لچک نہیں دکھائی ہے۔ اس کے بعد اس نے شرم و حیاءکی چادر ایک طرف پھینک دی۔ اور عشق و سرمتی کی آخری حدوں کو چھوتی ہوئی بولی میرا اس سے جو مطالبہ ہے اگر اس نے پورا نہیں کیا تو اسے جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ اور اسے ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا
حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں زلیخا نے جس ارادے کا اظہار کیاتھا۔اس میں وہ عورتیں بھی اس کا ساتھ دینے لگیں۔ اور آپ علیہ السلام کو سمجھانے لگیں۔ اور مجبور کرنے لگیں کہ زلیخا کی بات مان لو۔ لیکن آپ علیہ السلام نے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد وہ عورتیں تو چلی گئیں لیکن زلیخا کھل کر دشمنی کرنے لگی۔ اور آپ علیہ السلام کو اپنی حرکتوں سے گناہ کرنے کی طرف مائل کرنے لگیں۔ آخر کار حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اس گناہ اور اس عورت سے بچا لے۔اس عورت کی دعوت قبول کرنے سے زیادہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں قید خانے یا جیل میں چلا جاﺅں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا،ترجمہ’’ حضرت یوسف علیہ السلام نے دعا کی کہ اے میرے رب،جس بات کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اس کے مقابلے میں مجھے قید خانہ پسند ہے۔ اگر تو نے ان کا فریب مجھ سے دور نہیں کیا تو کہیں ایسا نا ہو جائے کہ میں ان کی طرف مائل ہو جاﺅں اور نادانوں میں سے ہو جاﺅں۔ اس کے رب نے اس کی دعا قبول کر لی۔ اور ان عورتوں کے داﺅ پیچ اس سے حضرت یوسف علیہ السلام سے پھیر دیئے۔ یقینا وہ (اللہ تعالیٰ) سننے والا ہے۔ جاننے والا ہے ۔پھر ان تمام نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد انھیں یہی مصلحت معلوم ہوئی۔کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کچھ مدت کے لیے قید خانے میں رکھیں۔ (سورة یوسف آیت نمبر33 سے 35 تک) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ اس عورت نے جب یہ دےکھا کہ مےرا راز ان عورتوں پر فاش ہو ہی چکا ہے۔ اس لیے وہ ان عورتوں کے سامنے ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو ڈرانے دھمکانے لگی۔ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے کہ اس وقت یہ سب عورتیں بھی حضرت یوسف علیہ السلام سے کہنے لگیں کہ یہ عورت تمہاری محسن ہے اس کی مخالفت نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب یہ دیکھا عورتیں بھی زلیخا کی موافقت اور تائید کر رہی ہیں ۔اور ان کے مکر و فریب سے بچنے کی کوئی ظاہری تدبیر نہیں رہی۔ تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوئے۔ اور دعا کی کہ ،اے میرے رب! یہ عورتیں مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہیں اس سے تو زیادہ مجھے جیل خانہ پسند ہے۔
قید خانے (جیل)میں
سورة یوسف کی آیت نمبر 33 سے35 تک کی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) صاف الفاظ میں کہہ چکی تھی کہ یوسف کو ہر حال میں میری بات ماننی پڑے گی۔ اگر اس نے میری بات نہیں مانی تومیں اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضرور پہنچا دوں گی۔ حضرت یوسف علیہ السلام زلیخا اور بیگماتِ مصر کی بے تکی اور فضول باتوں سے بہت رنجیدہ تھے۔ آخر کار حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک گئے اور نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کیا اے اللہ تعالیٰ،یہ عورتیں مجھے اپنی ہوس اور خواہش پر قربان کرنا چاہتیں ہیں۔مجھے ان کی جھوٹی خواہشوں اور پرفریب حرکتوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ تعالیٰ،مجھے ان عورتوں کی خواہشات اور مکر و فریب سے محفوظ فرما دے۔ مجھے جیل جانا پسند ہے۔ لیکن کسی گناہ کے تصور سے بھی کانپ اٹھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی دعا قبول کر لی۔ ادھر اسباب یہ ہوئے کہ عزیز مصر اس بات سے سخت پریشان تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے شک بے قصور ہیں۔ اور ان کا کردار ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے۔لیکن اس واقعہ کی اتنی شہرت ہو چکی تھی کہ گھر گھر میں اس کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ اب دو ہی صورتیں تھیں کہ اس واقعہ پر خاموشی اختیار کی جائے یا اس واقعہ کا انکار کر کے لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ ایسا سب کچھ نہیں ہے جیسا لوگ کہ رہے ہیں۔ پہلی صورت میں دشواری یہ تھی کہ خاموش رہنے سے اس بات کے ختم ہونے کاکوئی امکان نہیں تھا۔ دوسری صورت کا حل یہی تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو قید کر دیا جائے تاکہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں۔اور شاہی خاندان کا وقار بھی بچ جائے اور لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائیں کہ اس زلیخا کا کوئی قصور نہیں ہے۔ آخر کار حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔آپ علیہ السلام نے قید خانے میں ایسی اعلیٰ سیرت و کردار کا مظاہرہ کیا کہ ہر شخص آپ علیہ السلام کا گرویدہ ہوگیا۔ قید خانے کے داروغہ نے قید خانے کے سارے اہم معاملات آپ علیہ السلام کے حوالے کردئیے۔ اور قید خانے کے ذمہ داروں اور تمام قیدیوں کو اس بات کا پورا یقین ہوگیا تھا کہ آپ علیہ السلام کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بلکہ زبردستی قید خانے میں ڈالا گیا ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کی عجیب شان ہے کہ وہ آزاد ہوں یا قید میں ہر حال میں اپنی سیرت و کردار کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ اسی لئے ہر قیدی کے دل میں آپ علیہ السلام کے علم و فضل اور اعلیٰ سیرت و کردار کا نقش جمتا چلا گیا ۔ اور وہی قید خانہ حضرت یوسف علیہ السلام کےلئے عزت و سر بلندی اور لوگوں کی محبت کا مرکز بن گیا۔
قید خانے میں نبوت سے سرفراز فرمائے گئے
حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں زلیخا نے دعویٰ کیا تھا کہ میں پھر سے کوشش کروں گی اور اگر اس نے میری نہیں مانی تو میں اسے قید کروادوں گی جہاں یہ گھٹ گھٹ کر مرجائے گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام سے زلیخا نے اپنی مرضی منوانے کی کوشش کرتی رہی۔ اور آپ علیہ السلام کو راضی کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس طرح دو برس گزر گئے اور آپ علیہ السلام نے اپنے آپ کو بچائے رکھا۔ اور اس کےلئے آپ علیہ السلام کو بہت زبردست جدو جہد کرنی پڑ کررہی تھی۔ ادھر زلیخا بھی اپنی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے جھنجھلا گئی تھی۔ اور عزیز مصر سے بار بار شکایت کرنے لگی اور زور دینے لگی کہ یوسف (علیہ السلام ) کو قید خانے میں ڈال دو۔ (تاکہ قید کی سختےوں کو برداشت نہ کرسکے اورمےری بات مان لے)۔ عزیز مصر ٹالتا رہا۔ آخر حضرت یوسف علیہ السلام نے خود عزیز مصر سے کہا کہ مجھے قید خانے میں ہی ڈال دو۔ یہ میرے لئے اس کام سے اچھا رہے گا جس کی طرف یہ عورت بلا رہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود عزیز مصر کا دل نہیں چاہا کہ اتنے معصوم جوان کو قید خانے میں ڈال دیا جائے۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے اللہ تعالیٰ، مجھے اس کام کی بجائے قید خانہ پسند ہے جس کام کی طرف یہ عورت بلا رہی ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سن لی اور عزیز مصر کے دل کو اس طرف مائل کردیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو قید خا نے میں ڈال دے۔آخر کار اس نے آپ علیہ السلام کو قید میں ڈال ہی دیا۔ جس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈالا گیا۔تو اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر کے بارے میں کئی روایات ہیں۔ ایک روایت میں 27 سال اور دوسری روایت میں 28 سال یا30 سال اور تیسری روایت میں 33 سال کی عمر بھی آئی ہے۔ آپ علیہ السلام کی غور و فکر کی عمر شروع ہو چکی تھی۔ اور اس کے لئے تنہائی کی ضرورت تھی۔ جو آپ علیہ السلام کو جیل میں میسر آئی تھی۔ کئی روایات کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام لگ بھگ بارہ سال تک قید خانے میں رہے۔ اور اسی دوران حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر مبارک 40 سال ہو گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرمایا۔اور آپ علیہ السلام نے جیل ہی میں اسلام کی دعوت دینی شروع کردی۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا معجزہ،خوابوں کی تعبیر
حضرت یوسف علیہ السلام کو بے گناہی کے باوجود نا معلوم مدت کے لئے قید کر دیا گیا تھا۔ اس دوران آپ علیہ السلام کا قیدی ساتھیوں کے ساتھ طرز عمل نہایت اعلیٰ اور بے مثال تھا۔ آپ علیہ السلام تمام قیدیوں کی مزاج پرسی کرتے تھے۔ اگر کوئی بیمار ہوتا تو اس کی عیادت کرتے تھے۔ کسی کو پریشان حال دیکھتے تو تسلی دیتے تھے۔اور صبر و تحمل کی تلقین فرماتے۔آپ علیہ السلام کا معاملہ ہر ایک کے ساتھ نہایت دوستانہ ہوتا ۔ جس کی وجہ سے تمام قیدیوں میں آپ علیہ السلام کی عزت اور احترام اور ان کے علم اور تقویٰ کا بہترین اثر مرتب ہونا شروع ہوگیا۔اللہ تعا لی نے قید خا نے میں ہی آپ علیہ السلا م کو نبوت عطا فر ما ئی ۔اور آپ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا فرمایا کہ آپ علیہ السلا م خوابو ں کی تعبیر باکل صحیح بتاتے تھے۔ پھر جب ا للہ تعا لی نے آ پ علیہ السلام کو قید خانے سے نکالنے کا ارادہ فرمایاتو ویسے ہی حالات پیدا کر دیے۔اب جو بھی قیدی آپ علیہ السلام کو اپنا خواب بیان کرتا تھا تو آپ علیہ السلام اسے اسکے خواب کی تعبیر بتا دیا کرتے تھے۔اور ویسا ہی ہوا کرتا تھا۔دھیرے دھیرے پوری جیل کے قیدیوں کو یہ بات معلوم ہو گئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام خواب کی با لکل صحیح تعبیر بتاتے ہیں۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.jpeg)





