02 حضرت لوط علیہ السلام
سلسلہ نمبر 8
تحریر شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قسط نمبر 02
حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سدوم کو سمجھایا
اللہ تعالیٰ نے لو ط علیہ السلام کو اپنا نبی بنا کر قوم سدوم کی طرف بھیجا ۔آپ علیہ السلام اِن پانچوں شہروں میں گھوم گھوم کر قوم سدوم کو سمجھاتے رہے ۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام ملک کنعان میں فلسطین کے شہر ”الخلیل“ میں تشریف فرماتھے۔آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر دس صحیفے نا زل فرماتے تھے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام اپنے چچا کی شریعت پر کار بند تھے۔اور اُسی کے مطابق قوم سدوم کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور بے حیائیوںاور برائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا ۔ ترجمہ” قوم لوط نے بھی نبیوں کو جھُٹلایا ۔ جب اُن کے بھائی لو ط (علیہ السلام ) نے کہا ۔ کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے ؟ میں تمھاری طرف امانت دار رسول ہوں ۔ پس تم اللہ سے ڈرواور میر ی اطاعت کرو ۔ میں تم سے اِس کا کو ئی صِلہ یا بدلہ نہیں مانگتا ۔ میر ا اجر صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اور تم تمام جہاں والوں میں سے اکیلی قوم ہوجو مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔اور جن عورتوںکو اللہ تعالیٰ نے تمھارا جوڑا بنا یا ہے اُن کو چھوڑدیتے ہو۔ تم تو حد سے گذرجانے والی قوم ہو۔“(سورہ الشعراءآیت نمبر 160 سے 166 تک۔)
میں تمھاری دولت کا محتا ج نہیں ہوں
اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءکی آیا ت نمبر ۰۶۱ سے ۶۶۱ میں جو فرمایا ہے۔ اُسکی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ کہ اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور نبی حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر بیا ن فرمارہاہے ۔ ان کا نا م لوط بن ہاران بن آذرتھا۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ اُنھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی بہت بڑی اُمت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ سدوم اور اس کے آس پاس بسے ہوئے تھے۔ بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے ۔ سب کے سب ہلاک ہوئے اور اُن کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھارے پانی کی باقی رہ گئی ہے۔ یہ اب بھی بلادغور کے نام سے مشہور ہے جو بیت المقدس اور کرک اورشوبک کے درمیان ہے ۔اِن لوگوں نے بھی اللہ کے نبی حضرت لوط علیہ السلام کو جھٹلایا ۔آپ علیہ السلام نے اُنھیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اللہ کی اور اپنی اطاعت یعنی اسلام کی دعوت دی اور اُن کے درمیان اعلان نبوت فرمایا۔ اُنھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا ۔ اور اعلان کردیاکہ میں تمھارے پیسے ٹکے یعنی دولت کا محتاج نہیں ہوں ۔ میں صرف اللہ کے لئے تمھاری خیرخواہی کررہا ہوں ۔ تم اپنے اِس خبیث فعل سے باز آجاﺅ ۔ یعنی عورتوں کو چھوڑکر مردوں سے حاجت روائی کر نے سے رُک جاﺅ ۔لیکن اُنھوں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کی نہیں مانی۔بلکہ آپ علیہ السلام کو ایذائیں اور تکلیفیںدینے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اُن کی خاص بد کرداری سے روکا۔ کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہیں آﺅ ۔ ہاں اپنی حال بیویوں سے اپنی خواہشیںپوری کرو جنھیں اللہ تعالیٰ نے تمھارا جوڑا بنایا ہے ۔ رب یعنی اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کا ادب واحترام کرو۔
فطرت کے خلاف حرکت مت کرو۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءکی اِن آیات میں جو فرمایا ہے۔ اُسکی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ کہ حضرت لوط علیہ السلام جو اللہ کے نبی علیہ السلام ہیں۔سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے والے بدکر دار لوگوں کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے۔یہ وہ قوم تھی جو اپنی شہوت پر ستی کی حدووکو پھلانگ چکی تھی ۔ اُن کے لئے اُن کی عورتیں فطری خواہش کے لئے ناکافی تھیں اور وہ لڑکوں سے غیر فطری فعل بدمیں کھلم کُھلاّ بغیر کسی شرم وحیا کے مُبتلا تھی۔ اِس قوم کے لوگ اپنی اس ناجائز اور غیر فطری خواہش کو پورا کر نے کے لئے لڑکوں کے پیچھے ایسے دیوانے ہو چکے تھے کہ جب حضرت لوط علیہ السلام نے اُن سے فرمایاکہ اے میری قوم!تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اپنی فطری خواہش کو پورا کرنے کے لئے لڑکوں کے پیچھے دیوانہ وار دوڑرہے ہو ۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جو فطری طریقہ مقرر فرمایا ہے۔یعنی عورتوں کو تمھارا جوڑا بنایا ہے۔ تاکہ تم اُن سے نکاح کر کے اپنے فطری تقاضوں کو حلال اور جائز طریقے سے پورا کرو۔تم نے فطر ت کے قانون کو توڑکر جس راستے کو اپنایاہے اُس کاانجام بہت بھیانک ہے۔ میںاللہ کی طرف سے نبی اور امانت دار پیغمبر بناکر بھیجاگیا ہوں۔ اللہ سے ڈرو اور میری بات مانواور میر ی اطاعت کرو۔ میں یہ سب کہنے پر تم سے کوئی اجرت اور معاوضہ تو نہیں مانگ رہاہوں ۔میرا صِلہ اور بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ کتنی بدترین بات ہے کہ تم فطری اور جائز راستے کوچھوڑکر لڑکو ں کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔اِس سے باز آجاﺅ یہ قوم اِس گندے اورخبیث فعل کی وجہ سے بے شرمی کی انتہا کو پہونچ چُکی تھی۔ اس لئے ان کے لئے کسی بڑے سے بڑے ناجائز فعل کو کر گزرنے میں کوئی رُکاوٹ نہیں تھی ۔اور یہ بد بخت مسافروں کولوٹتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے شراب نوشی میں بد مست ہوچکے تھے۔
تم انسانیت سے نیچے گرِ گئے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءکی آیات نمبر 160 سے 166 تک میں جو فرمایا ہے اُسکی تفسیر میں محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں۔کہ حضرت لوط علیہ السلام نے سدوم اور عموریہ والوں کو پہلے تو ان کے شرک ومعاصی کی وجہ سے عذاب سے ڈرایا ۔ اپنی اطاعت اور اتباع کی دعوت دی اور اپنے بے لوث جذبہ اصلاح کی وضاحت کی کہ مجھے کسی منفعت کی لالچ نہیں ہے۔اسکے بعد اُنھوں کے گھناونے گناہ (مردوں کے ساتھ بد فعلی ) پر عاردلایا اور فرمایا کہ تم لوگ انسانیت سے نیچے گِر گئے ہواور حیوانی شہوت نے تمھاری عقلوں پر اِس طرح پر دہ ڈال دیا ہے کہ تم مردوں کے ساتھ بد فعلی کرتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے جو بیویاں پیدافرمائی ہیں ۔ اُن کے اند ر تمھارے لئے کوئی رغبت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ تمھاری فطرت مسنح ہو کر رہ گئی ہے۔اور حق وباطل اور حلال و حرام کے درمیان کی تمام حدوںکو تم پھلانگ گئے ہو۔
وہ بُر ا عمل جو پہلے کسی نے نہیں کیا۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ لاعراف میں فرمایا ۔ ترجمہ ۔”اورہم نے لوط (علیہ السلام ) کو بھیجا اور اُنھوں نے اپنی قوم سے فرمایا ۔ تم ایسا فحش کا م کرتے ہو جس کو تم پہلے کسی نے دنیا میں نہیں کیا ہے۔تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو،تم حد سے گذرگئے ہو۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر 80 اور 81 ) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا ۔ترجمہ” اور لوط (علیہ السلام ) کا ذکرکرو۔ جب اُنھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم عورتوں کو چھوڑکر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بہت بڑی نادانی کر رہے ہو۔“ (سورہ نمل آیت نمبر 54 اور 55 ) اللہ تعالیٰ نے سور ہ العنکبوت میں فرمایا ۔ ترجمہ ۔ اور لوط علیہ السلام کا بھی ذکر کرو۔ جب اُنھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو ایسی بدکا ری پر اُتر آئے جیسی تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہیں کیا ہے ۔ کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لئے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوںمیںبے حیائیوںکاکام کر تے ہو(سورہ العنکبوت آیت نمبر 28 اور 29)
جان بو جھکر بے حیائی کر رہے ہو
اِن آیات کی تفسیر میں مولانا عاشق الہٰی مہاجرمدنی لکھتے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام جن کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بہت برُے کام کرتے تھے۔یعنی مردمردوں سے شہوت پوری کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور یہ سمجھایا کہ اِس بے حد گھناﺅنے اور برُے کام کو چھوڑدو۔ جسکے بارے میں تمھارا دِل بھی جانتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں ہے۔ یہ جاہلوں کا کام ہے ۔ تم پر جہالت سوارہے کہ تم یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ برُاکا م ہے۔ بھر بھی اسے نہیں چھوڑرہے ہو۔ مولانا سیدابو اعلیٰ مودودی اپنی تفہیم میں لکھتے ہیں ۔ کہ اِس ارشاد کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ اور غالباً سب ہی مرُاد ہیں ۔ ایک یہ کہ تم اِس فعل کے فحش اور کاربد (برُاکام) ہونے سے ناواقف نہیں ہو۔ بلکہ جانتے بوجھتے اس کاارتکاب کررہے ہو۔ دوسرے یہ کہ تم اِس بات سے بھی نا واقف نہیں ہو کہ مردکی خواہش نفس کے لئے مرد پیدا نہیںکیاگیا ہے۔ بلکہ عورت پیدا کی گئی ہے۔ اور مرد اور عورت کا فرق ایسا نہیں کہ تمھیں تمھاری آنکھوں سے نظر نہیں آتا ہو۔ مگر تم کھلی آنکھوں کے ساتھ یہ جیتی مکھی نگلتے ہو۔ تیسرے یہ کہ تم علانیہ (کھلے عام ) یہ بے حیائی کاکام کرتے ہو جب کہ دیکھنے والی آنکھیں تمھیں دیکھ رہی ہیں ۔ جیسا کہ آگے سورہ عنکبوت میں آرہاہے۔ ترجمہ۔اور تم اپنی مجلسوں میں برُا کام کرتے ہو۔( آیت 29) امام قرطبی اِس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہم نے حضرت لوط علیہ السلام کو بھیجا یا حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر کر و۔ قوم سے مرُاد اہل سدوم ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ ”تم ایسا فحش کام کرتے ہو۔“فاحشہ سے مراد ایسا فعل جو قبیح اور شنیع ہو جبکہ تم دیکھ رہے ہوکہ یہ بے حیا ئی ہے۔ (اس کے بعد بھی کررہے ہو۔) یہ تمھارا سب سے بڑا گنا ہ ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کے پاس جاتے ہو جبکہ تم اسے دیکھ رہے ہوتے ہو۔ وہ سرکشی اور تمرّدکی وجہ سے پردہ پوشی نہیں کرتے تھے۔
تم کھلے عام بے حیائی کر رہے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 28 اور29 میں فرمایا ہے۔ اسکی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں ۔کہ حضرت لوط علیہ السلام کو یاد کرو کہ اُنھوں نے اپنی قوم کو شرمند ہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے فرمایا کہ تم وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا ہے ۔قوم سدوم کے بارے میں ابن زید کہتے ہیں کہ وہ ڈاکوتھے ۔ ایک قول میں ہے کہ وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کا اُٹھالیا کرتے تھے۔ یہ ابن شجرہ کا قول ہے۔وہب بن منبہ کا قول ہے کہ عورتوں سے بے ر غبتی اور مردوں سے رغبت کرنا ۔ نئی نسل کو قطع (کاٹ) کرنا ہے۔اور مردوں کی وجہ سے وہ عورتوں سے بے پرواہ ہوگئے تھے۔ میں (امام قرطبی)کہتاہوں کہ یہ سب بیماریوں اِن میں موجود تھیں وہ ڈاکہ مارتے تھے تاکہ مال دولت حاصل ہو۔اور بد فعلی کریں اور اسی وجہ سے وہ عورتوں سے مستغنی (بے پرواہ) ہوگئے تھے۔اور اپنی کھُلی مجلسوں میں گناہ کرتے تھے ۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ وہ عورتوںکو کنکریاں مارا کرتے تھے۔اور وہ اجنبی اور باہرسے آنے والوں کو حقیر سمجھتے تھے۔سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ۔ میں نے رسول اللہ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان کہ وہ کھُلی مجلسوں میں منکر کرتے تھے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جواُن کے پاس سے گذرتا تھا اُسے کنکریاں مارتے تھے ۔ اور اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔ یہی وہ منکر عمل تھا جو وہ کرتے تھے۔(جامع ترمذی) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم اپنی مجالس میں جب بیٹھا کرتی تھی تو ہر آدمی کے پاس ایک پیالہ ہوتا تھا۔جس میں مارنے کے لئے کنکریاں ہوتی تھیں ۔ جب کوئی اُن کے پاس سے گذرتا تھا وہ اُس پر کنکریاں پھینکتے تھے۔جسکی کنکری اُس کو لگ جاتی تھی وہ اُسکا ذیادہ مستحق ہوتا تھا۔یعنی وہ اُسے بد کاری کے لئے لے جاتا تھا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی مجالس میں زور سے گوز (پیچھے سے ہوا) چھوڑتے تھے۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) فرماتے ہیں کہ وہ اپنی مجلسوں میں مردوں سے خواہش پوری کرتے تھے۔جبکہ وہ سب دیکھ رہے ہوتے تھے۔اور اُن کا معمول تھا۔ وہ کبوتروں سے کھیلتے ، انگلیوں میں مہند ی لگاتے ،سیٹیا ں بجاتے اور تمام کاموں میں بے حیائی کرتے۔
پوری قوم بے حیائی میں مُبتلا تھی۔
حضرت لوط علیہ السلام مسلسل قوم ِسدوم کو سمجھاتے رہے اور طرح طرح سے حکمتوں سے اُنھیں قائل کرنے کی کوشش کر تے رہے۔لیکن وہ بد بخت قوم اِتنی برُی طرح ابلیس شیطان کے قبضے میں تھی کہ کئی سال تک مسلسل سمجھانے کے باوجود وہ گناہوں بلکہ انتہائی غلیظ گناہوں میں مُبتلا ہے ۔اور مرد تو مرد اُن کی عورتیں بھی ہم جنس ہر ستی میں مُبتلا ہوگئی تھیں۔جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے بے پراوہ ہوگئے تھے۔اور قوم ِسدوم میں نئی نسل کی پیدائش ختم ہوگئی تھی۔ اور پوری قوم کھلم کھلا بے حیائی میں مبتلا تھی ۔سورہ عنکبوت کی آیت نمبر ۸۲ اور ۹۲ کی تفسیر میں مولانا محمدآصف قاسمی لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام سدوم اور عمورہ کی بستیوں کی اصلاح کے لئے نبی بناکر بھیجے گئے تھے۔وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھاکہ وہ غیر فطری فعل کو کھلم کھلا اِس طرح کرتے تھے کہ اس کے خلاف بات کرنے اور نصیحت سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔حضرت لوط علیہ السلام نے اِس پوری قوم کو للکارا کہ تم نے ایک ایسے فعل کو رواج دیا ہے جو آج تک دنیا میں کسی نے نہیں کیا ہے۔یعنی کسی قوم نے ایسا برُا فعل نہیں کیا ہے۔تم اپنی نفساتی خواہشات کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے بد فعلی کر تے ہو۔تمھاری شیطانی ہرکتوں سے ہر شخص عاجز آچکا ہے۔لوگوں کے لئے راستہ چلنا دشوار ہوگیاہے۔چوری ،ڈاکہ اور لوٹ مار سے کسی کی جان محفوظ نہیں رہی ہے۔تم کھلے عام بے شرمی اور بے حیائی کے کام کر تے ہو۔ تمھاری گفتگواور بات چیت میں شائستگی اور تہذیب دم توڑچکی ہے۔اگر تم نے اللہ سے توبہ نہیں کی اور اِس فعل سے باز نہیں آئے تو جس طرح پہلے کی قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تھا۔اسی طرح تم پر قہر ٹوٹ پڑے گا۔ مولانا سیدابواعلیٰ مودودی اِن دوآیات کی تفہیم میں لکھتے ہیں۔کہ یعنی ان سے شہوت رانی کرتے ہو جیسا کہ سورہ اعراف میں ہے کہ تم خواہش نفس پوری کر نے کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ۔ آگے لکھتے ہیں کہ یہ فحش کام چھپ کر بھی نہیں کرتے ہو۔ بلکہ اپنی مجلسوں میں علانیہ (کھلے عام ) ایک دوسرے کے سامنے اسکاارتکاب کرتے ہویہی بات سورہ نمل میں فرمائی ۔ کیا تم اتنے ذیادہ بگڑگئے ہو کہ دیکھنے والی آنکھوںکے سامنے فحش کا ری کرتے ہو۔
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!
.png)



.jpeg)
.jpeg)



