بدھ، 26 اپریل، 2023

حضرت لوط علیہ السلام مکمل Life of Prophet Loot



حضرت لوط علیہ السلام مکمل

سلسلہ نمبر 8

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قارئین کرام ،اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حالات پیش کر چُکے ہیں ۔اسکے بعد حضرت اسحاق علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پیش کرنا تھا ۔ لیکن اُسے روک کر ہم آپکی خدمت میں حضرت لوط علیہ السلام کے حالات پیش کر رہے ہیں ۔ کیونکہ یہ حالات حضرت ابراہیم علیہ کی زندگی میں ہی پیش آئے تھے ۔ اس لئے ہم پہلے حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر پیش کر رہے ہیں ۔ تاکہ تسلسل قائم رہے اور ذہین میں کوئی اُلجھن پید ا نہ ہو۔ اسکے بعد ہم حضرت اسحاق ،حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات پیش کریں گے ۔ کیونکہ اِ ن کے حالات ، حضرت لوط علیہ السلام کے بعد پیش آئے ہیں۔

حضرت لوط علیہ السلام کا سلسلئہ نسب 

حضرت لوط علیہ السلام کے سلسلہ نسب کے بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ اسلام ، حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے بھائی ہاران بن تارخ کے بیٹے ہیں ۔جسے آذربھی کہا جاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے دو بھائی ہاران اور ناحور تھے ۔ اِس طرح حضرت لوط علیہ اسلام کا سلسلہ نسب اس طرح ہے ۔حضرت لوط علیہ اسلام بن ہاران بن تارخ ۔اس طرح تارخ پر جاکر آپ علیہ السلام کا سلسلئہ نسب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مِل جاتا ہے ۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کے سگے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ۔

حضرت لوط علیہ السلام کی ہجرت 

ٍایک روایت میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کے باپ کانا م ہاران نہیں حران تھا۔ اور وہ ایک دوسرے علاقے میں جاکر بس گیا تھا اور اُسکے نام پر وہاں کی بستی کا نام حران پڑگیا تھا۔اور آگ سے نکلنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہجرت کرکے پہلے اپنے بھائی کے پاس گئے او اُسے اسلام کی دعوت دی ۔ اُس نے تو اسلام قبول نہیں کیا لیکن حضرت لوط علیہ السلام اپنے چچا علیہ السلام پر ایمان لے آئے ۔ اب حقیقت کا علم تو صر ف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے ۔ ہرحال جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صر ف سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا اورحضرت لوط علیہ السلام ہی ایمان لائے ۔ اور اِن تینوں مقدس ہستیوں نے اللہ کے لئے ہجرت کی اور مِصر گئے ۔وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سید ہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا ملیں ۔ اور یہ چاروں اُس وقت کے ملُک کنعان جو بعد میں ملُک شام کا ایک صوبہ کہلایا اور اب مُلک فلسطین کہلاتا ہے ، اُسکی طرف ہجرت کرگئے ۔ راستے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کوحُکم دیا کہ وہ اپنے بھتیجے کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے قوم سدوم کی طرف بھیجیں تو اُنھوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو قوم سدوم کی طرف بھیج دیا۔

قومِ سدوم کا علاقہ

حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم کی طرف نبی بنا کر بھیجا ۔ علامہ غلام رسول سعیدی اپنی تفسیر تبیان القران میں لکھتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم جس علاقہ میں رہتی تھی اُس کو آج کل” شرق اردن “کہا جاتا ہے ۔یہ جگہ عراق اور فلسطین کے درمیان ہے ۔ توریت میں اس علاقے کے صدر مقام (راجدھانی) کا نام سدوم بتایا گیا ہے۔جو یا تو بحیرئہ مردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا ۔ یاپھر اب بحیرئہ مردار ہی اس کی ایک یادگار کے طور پر رہ گیا ہے۔ جسے آج تک بحرلوط کہا جاتا ہے ۔اردن کے اُس جانب جہا ں بیحرئہ مُردار یا بحرلوط واقع ہے۔ اُس کے قر یب رہنے والوں کا اعتقاد ہے کہ یہ تمام حصہ جواب سمندر نظر آرہا ہے کسی زما نہ میں یہ خشک زمین تھا اور اِس پر شہر آباد تھے ۔ سدوم اور عامورا وغیرہ یہیں تھے ۔ جب قوم لوط پر عذاب آیا اوراس زمین کا تختہ اُلٹ دیا گیا اور سخت زلزلے آئے ۔ تب یہ زمین تقریباًچار سو میڑ سمندر سے نیچے چلی گئی اور پانی اُبھر آیا ۔اس سے اسکا نا م بحر مُردار اور بحر لوط ہے۔اس زمانے کے محققین نے بحر مُردارکے ساحل پر تبا ہ شدہ بستیوں کے آثار دیکھ کر یقین کرلیا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے۔ جس کا اللہ اتعالیٰ نے قرآن پاک میں ذکر فرمایا ہے ۔ مولاناسید ابو الاعلیٰ مودودی تفہیم القران میں لکھتے ہیں ۔ یہ قوم اس علاقہ میں رہتی تھی ۔جسے آج کل ”شرق اردن “کہا جاتا ہے ۔ اور عراق اور فلسطین کے درمیان میں واقع ہے ۔بائیبل میں اِس قوم کے صد ر مقام (راجدھانی ) کانام سدوم بتایا گیا ہے۔ جو تو بحرمُردار کے قریب کسی جگہ واقع تھا یا اب بحر مُردار میں غرق ہوچکا ہے ۔ تلمود میں لکھا ہے کہ سدوم کے علاوہ اُن کے چار بڑے شہر اور بھی تھے اور ان شہروں کے درمیان کا علاقہ ایسا گلزار بنا ہوا تھا کہ میلوں تک بس صرف باغ ہی باغ تھے ۔ جسکے جمال کو دیکھ کر انسا ن پر مستی طاری ہونے لگتی تھی ۔ مگر اب اس قوم کا نام ونشان دنیا سے بالکل ناپید ہوچکا ہے ۔اور یہ بھی متعین نہیں ہے اس کی بستیاں ٹھیک کس مقام پر واقع تھیں ۔ اب صرف بحر مُردار ہی ایک یادگار کے طور باقی رہ گیا ہے جسے آج کل بحر لوط کہا جاتا ہے۔ 

حضرت لوط علیہ لسلام کا اعلان نبوت 

حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں ۔ اپنے چچا محترم کے ساتھ عراق سے نکلے اور کچھ مدت تک شام ،فلسطین اور مصر میں گشت لگا کر دعوت و تبلیغ کا تجربہ حاصل کرتے رہے۔ پھر مستقل نبوت کے منصب پر سرفراز ہوکر اِس بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے ۔ اہل سدوم کو اِس لحاظ سے اُن کی قوم کہا گیا ہے کہ غالباًاُن کا رشتہ داری کا تعلق اِس قوم سے تھا ۔ مولانا مفتی محمد شفیع تفیسر معارف القران میں لکھتے ہیں ۔حضرت لوط علیہ السلام ، حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ دونوں کا اصل وطن مغربی عراق میں بصرہ کے قریب ارض بابل کے نام سے معروف تھا۔ اِس میں بت پرستی پر عام رواج تھا۔خلیل اللہ علیہ السلام کا گھر انہ بُت پرستی میں مبتلا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اُن کی ہدایت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رسول بناکر بھیجا ۔ قوم نے مخالفت کی اورآگ میں ڈال دیا۔ خود باپ نے گھر سے نکل جانے کاحُکم دیا ۔ صرف بیوی سیدہ سارہ رضی اللہ عنھا اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام ایمان لائے ۔بالآخر اُن دونوں کو لیکر ملک شام کی طرف ہجرت فرمائی ۔ نہراُردن کے پاس پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حُکم سے ملک کنعان کی طرف روانہ ہوئے اور حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے نبوت عطا فرما کر اردن اور بیت المقدس کے درمیان مقام سدوم کے لوگوں کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا ۔یہ علاقہ پانچ اچھے خاصے بڑے شہروں پر مشتمل تھا۔جن کے نام سدوم عمورہ ، ادمہ ،صبوبیم ار بالع یا صوغر تھے ۔ ان کے مجموعہ کوقران پاک نے ”موتفکہ“ اور” موتفکات “کے الفاظ میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔سدوم اِن شہروںکا دارلحکومت اور ”مر کذ“سمجھا جاتا تھا۔حضرت لوط علیہ السلام نے یہیں قیام فرمایا،زمین سرسبزو شاداب تھی،اورہر طرح کے غلے اور پھلوں کی کثرت تھی۔مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام نے اپنے چچا کے ساتھ ہجرت کی اور تین لوگوں کا یہ قافلہ روانہ ہوا ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی زوجہ کے ساتھ فلسطین چلے گئے ۔ اور حضرت لوط علیہ السلام مُلک شام کے شہر حمص کے پاس ایک بستی اردن میں قیام پذیر رہے ۔ آپ علیہ السلام وہاں کی چار بستیوں کے بنی ہوئے ۔ ان کے نام سدوم ، آمور ، عامور ،صبویر ، برلین ہے۔ اِن میں سے ہر شہر کی آبادی ایک لاکھ جوان پر مشتمل تھی ۔بوڑھے ،بچے اور عورتیں اِن کے علاوہ تھے۔ سدوم سب سے بڑا شہر تھا وہیں حضرت لوط علیہ السلام نے قیام فرمایا ۔ انھی بستیوں کو” موتفکا ت “یعنی اُلٹی جانے والی بستیاں کہاگیا ہے ۔ 

قوم سدوم کی بُر ائیاں

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جن بستیوں کی طرف نبی بناکر بھیجا ۔ یہ چار شہروں پر مشتمل تھیں ۔یعنی سدوم ،امورا،عامور اور صبویر۔ہر بستی میں ایک لاکھ جنگجوتھے ۔ اور ان میں سے سب سے بڑا شہر سدوم تھا۔حضرت لو ط علیہ السلام نے اسی شہر میں سکونت اختیار فرمائی ۔ یہ شہر ملک شام کے شہروں میں سے ایک تھا اورفلسطین سے ایک دن اور ایک رات کی مسانت پر ہے۔قوم سدوم کے لوگ بہت امیر تھے اُن کے پانچوں شہروں میں پھل فروٹ اور اناجوں اور ہر قسم کی قدرتی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے عطافرمائی تھیں ۔ ہر قسم کی پیداوار کی فراوانی تھی ۔ان کے علاوہ یہ پانچوں شہر تجارتی شاہراہ پر واقع تھے۔ اور اِسی وجہ سے ان پانچوں شہروں میں بڑی بڑی تجارتی منڈیاں تھیں ۔ اِن منڈیوں میں دوسرے علاقوں کے لوگ اپنا مال فروخت کرتے تھے۔اورقوم ِسدوم کے یہاں پیدا ہوئے پھلوں اور دوسری چیزوں خرید کر لے جاتے تھے۔ اِسطرح قوم سدوم کا ہر شخص دولت مند تھا۔ اور دولت اور عیش وآرام نے اِس قوم میں طرح طرح کی بُرائیاں پیدا کردی تھیں۔مولانا محمد آصف قاسمی تفسیر بصیرت القران میں لکھتے ہیں ۔ کہ نعمتوں کی فراوانی اور دولت کی ریل پیل نے اِس قوم کو سرکش بنادیا تھا۔آگے لکھتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں فرمایاہے کہ جب انسان دیکھتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے تو وہ سرکشی کرنے لگتا ہے۔ یہی حال سدوم کے رہنے والوں کا ہوا۔ وہ عیش وعشرت میں اتنے مُبتلاہوئے کہ زنا کاری کی نئی نئی راہیں ایجاد کرلیں ۔

قوم سدوم کی سب سے بڑی بُرائی

قوم سدوم طرح طرح کی بُرائیوں میں مُبتلا ہوگئی تھی۔ ابلیس شیطان نے اُنھیں ایسی ایسی بُرائیوں میں مُبتلا کر دیاتھاکہ ایک اچھا انسان اسکا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اِس قوم میں چوری کر نا عام ہوگیا تھا۔مسافروں کو ستانا اور اُن کو ذلیل کرنا اُن کے لئے عام بات تھی ۔اور غریبوںپر ظلم کرنا اُن کی عادت بن گئی تھی ۔اور سب بڑی برُائی اُن میں یہ آگئی تھی کہ مرد، مرد سے جنسی خواہش پوری کر تے تھے اور عورتیں ، عورتوںسے جنسی خواہش پوری کر تے تھے۔امام ااسحاق بن مبشراور امام ابن عساکرنے حضرت محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ قوم سدوم جب طرح طرح کی بُرائیوں میں مُبتلا ہوگئی تو ابلیس شیطان نے اِن کی سرکشی اور بُرائیوں کو دیکھ کر ایک انتہائی خوب صورت نوجوان لڑکے کی شکل میں اِن کی مجلس میں آیا ۔ اور اُن کووہ گناہ کرنے کی دعوت دی جواُن سے پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا تھا۔ پھر اُنھوں نے اُس سے جنسی خواہش پوری کی ۔ پھر اسکے بعد تو دھیرے دھیر ے پوری قوم میں یہ بُرائی عام ہوگئی ۔ حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قوم سدوم کے گھروں اور باغات میں بے شمار پھل لگے ہوئے تھے۔ اور وہ پھل راستے کی جانب باہر لٹکے ہوئے تھے ۔ ایک مرتبہ اُن پر قحط آگیااو ر پھلوں کی قلت ہوگئی ۔ تو اُن کے دلوں میں شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اُنھوں نے آپس میں مشورہ کیاکہ اگر تم اس ظاہر سامنے والے پھل کو مسافروں سے محفوظ رکھوگے تو اس میں تمھارے لئے عیش و خوشحالی ہوگی۔اُنھوں نے کہا ہم کون سی چیزکے سبب اس پھل کو بچاسکتے ہیں؟ تو اُنھوں نے کہا ۔ تم یہ اصول بنا کر کہ اپنے شہرمیں جس اجنبی شخص کو پکڑوتو اُس کے بارے میں یہ طریقہ اختیا ر کرو کہ تم اُس شخص کے ساتھ ہم جنسی (بد فعلی) کر و۔ کیونکہ جب تم اس طرح کروگے تو لوگ تمھارے شہرکی طرف نہیں آئیں گے۔ بس یہی وہ شئے ہے (جسکے ذریعے شیطان نے وسوسہ پیداکرکے ) جس نے اُنھیں اتنی بڑی بے حیائی کے ارتکاب پرا ُبھاراجس کا ارتکاب اس سے پہلے دنیا کی کسی قوم نے نہیں کیا۔

قوم سدوم کے مرد اور عورت دونوں ہم جنس پرست تھے

قوم سدوم (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم ) بہت ذیادہ بے حیائی اور برُائیوں میں مُبتلا تھی ۔ امام بیہقی اور امام ابن عساکر اپنی سند سے روایت کرتے ہیں کہ قوم سدوم نے پہلے اپنی عورتوں کے پچھلے حصّے کو استعمال کیا اور چالیس برسوں تک استعما ل کرتے رہے ۔ پھر مردوں کے ساتھ ہم جنسی شروع کردی ۔قوم سدوم کے مرد تو بے حیائی اور اِس بُرے فعل میں مُبتلا تھے ہی اُن کی عورتیں بھی اُن کی طرح بے حیائی اور ہم جنسی میں مُبتلا تھیں ۔ امام ابن ابی الدنیا اور امام ابن عساکر نے حضرت طاﺅس رحمتہ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ اُن سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو عورت کے پچھلے حِصّے کے ذریعے ملاپ کرتا ہے تو انھوں نے کہا ۔ اس کا آغاز قو م سدوم (حضر ت لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا) پہلے مردوں نے عورتوں سے یہ فعل کیا اور پھر یہی فعل مردوں کے ساتھ کیا۔قوم سدوم اتنی ذیادہ بے حیائی میں مُبتلا ہوگئے تھے کہ مرد عورتوں سے بے پرواہ ہوگئے تھے اور عورتیں مردوں سے بے پرواہ ہوگئیں تھیں۔ امام بیہقی اور اما م ابن عساکر نے حضرت حذیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ قو ل نقل کیا ہے کہ قو م سدوم یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے بارے میں پختہ قول یہ ہے کہ اُس وقت عورتیں عورتوں کے سبب اور مرد مردوں کے سبب ایک دوسرے سے مستعنی اور بے نیاز تھے ۔ حضرت ابو حمزہ رحمتہ علیہ فرماتے ہیں ۔ میں نے حضرت محمدبن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم کی عورتوں کو اُن کے مردوں کے سبب عذاب دیاہے؟تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں عدل وانصاف کیا ہے ۔ کیونکہ اُس وقت مرد ، مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے لطف اندوز ہواکرتے تھے ۔ 

حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سدوم کو سمجھایا

اللہ تعالیٰ نے لو ط علیہ السلام کو اپنا نبی بنا کر قوم سدوم کی طرف بھیجا ۔آپ علیہ السلام اِن پانچوں شہروں میں گھوم گھوم کر قوم سدوم کو سمجھاتے رہے ۔ اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام ملک کنعان میں فلسطین کے شہر ”الخلیل“ میں تشریف فرماتھے۔آپ علیہ السلام اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر دس صحیفے نا زل فرماتے تھے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام اپنے چچا کی شریعت پر کار بند تھے۔اور اُسی کے مطابق قوم سدوم کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور بے حیائیوںاور برائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا ۔ ترجمہ” قوم لوط نے بھی نبیوں کو جھُٹلایا ۔ جب اُن کے بھائی لو ط (علیہ السلام ) نے کہا ۔ کیا تم اللہ کا خوف نہیں رکھتے ؟ میں تمھاری طرف امانت دار رسول ہوں ۔ پس تم اللہ سے ڈرواور میر ی اطاعت کرو ۔ میں تم سے اِس کا کو ئی صِلہ یا بدلہ نہیں مانگتا ۔ میر ا اجر صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اور تم تمام جہاں والوں میں سے اکیلی قوم ہوجو مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔اور جن عورتوںکو اللہ تعالیٰ نے تمھارا جوڑا بنا یا ہے اُن کو چھوڑدیتے ہو۔ تم تو حد سے گذرجانے والی قوم ہو۔“(سورہ الشعراءآیت نمبر 160 سے 166 تک۔)

میں تمھاری دولت کا محتا ج نہیں ہوں 

اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءکی آیا ت نمبر ۰۶۱ سے ۶۶۱ میں جو فرمایا ہے۔ اُسکی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ کہ اب اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور نبی حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر بیا ن فرمارہاہے ۔ ان کا نا م لوط بن ہاران بن آذرتھا۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ اُنھیں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی بہت بڑی اُمت کی طرف بھیجا تھا۔ یہ سدوم اور اس کے آس پاس بسے ہوئے تھے۔ بالآخر یہ بھی اللہ کے عذابوں میں پکڑے گئے ۔ سب کے سب ہلاک ہوئے اور اُن کی بستیوں کی جگہ ایک جھیل سڑے ہوئے گندے کھارے پانی کی باقی رہ گئی ہے۔ یہ اب بھی بلادغور کے نام سے مشہور ہے جو بیت المقدس اور کرک اورشوبک کے درمیان ہے ۔اِن لوگوں نے بھی اللہ کے نبی حضرت لوط علیہ السلام کو جھٹلایا ۔آپ علیہ السلام نے اُنھیں اللہ کی معصیت چھوڑنے اور اللہ کی اور اپنی اطاعت یعنی اسلام کی دعوت دی اور اُن کے درمیان اعلان نبوت فرمایا۔ اُنھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا ۔ اور اعلان کردیاکہ میں تمھارے پیسے ٹکے یعنی دولت کا محتاج نہیں ہوں ۔ میں صرف اللہ کے لئے تمھاری خیرخواہی کررہا ہوں ۔ تم اپنے اِس خبیث فعل سے باز آجاﺅ ۔ یعنی عورتوں کو چھوڑکر مردوں سے حاجت روائی کر نے سے رُک جاﺅ ۔لیکن اُنھوں نے اللہ کے نبی علیہ السلام کی نہیں مانی۔بلکہ آپ علیہ السلام کو ایذائیں اور تکلیفیںدینے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اُن کی خاص بد کرداری سے روکا۔ کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہیں آﺅ ۔ ہاں اپنی حال بیویوں سے اپنی خواہشیںپوری کرو جنھیں اللہ تعالیٰ نے تمھارا جوڑا بنایا ہے ۔ رب یعنی اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کا ادب واحترام کرو۔ 

فطرت کے خلاف حرکت مت کرو۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءکی اِن آیات میں جو فرمایا ہے۔ اُسکی تفسیر میں مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں ۔ کہ حضرت لوط علیہ السلام جو اللہ کے نبی علیہ السلام ہیں۔سدوم اور عامورہ کی بستیوں میں رہنے والے بدکر دار لوگوں کی اصلاح کے لئے بھیجے گئے تھے۔یہ وہ قوم تھی جو اپنی شہوت پر ستی کی حدووکو پھلانگ چکی تھی ۔ اُن کے لئے اُن کی عورتیں فطری خواہش کے لئے ناکافی تھیں اور وہ لڑکوں سے غیر فطری فعل بدمیں کھلم کُھلاّ بغیر کسی شرم وحیا کے مُبتلا تھی۔ اِس قوم کے لوگ اپنی اس ناجائز اور غیر فطری خواہش کو پورا کر نے کے لئے لڑکوں کے پیچھے ایسے دیوانے ہو چکے تھے کہ جب حضرت لوط علیہ السلام نے اُن سے فرمایاکہ اے میری قوم!تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اپنی فطری خواہش کو پورا کرنے کے لئے لڑکوں کے پیچھے دیوانہ وار دوڑرہے ہو ۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے جو فطری طریقہ مقرر فرمایا ہے۔یعنی عورتوں کو تمھارا جوڑا بنایا ہے۔ تاکہ تم اُن سے نکاح کر کے اپنے فطری تقاضوں کو حلال اور جائز طریقے سے پورا کرو۔تم نے فطر ت کے قانون کو توڑکر جس راستے کو اپنایاہے اُس کاانجام بہت بھیانک ہے۔ میںاللہ کی طرف سے نبی اور امانت دار پیغمبر بناکر بھیجاگیا ہوں۔ اللہ سے ڈرو اور میری بات مانواور میر ی اطاعت کرو۔ میں یہ سب کہنے پر تم سے کوئی اجرت اور معاوضہ تو نہیں مانگ رہاہوں ۔میرا صِلہ اور بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ کتنی بدترین بات ہے کہ تم فطری اور جائز راستے کوچھوڑکر لڑکو ں کے پیچھے لگے ہوئے ہو۔اِس سے باز آجاﺅ یہ قوم اِس گندے اورخبیث فعل کی وجہ سے بے شرمی کی انتہا کو پہونچ چُکی تھی۔ اس لئے ان کے لئے کسی بڑے سے بڑے ناجائز فعل کو کر گزرنے میں کوئی رُکاوٹ نہیں تھی ۔اور یہ بد بخت مسافروں کولوٹتے تھے، ڈاکے ڈالتے تھے شراب نوشی میں بد مست ہوچکے تھے۔

تم انسانیت سے نیچے گرِ گئے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءکی آیات نمبر 160 سے 166 تک میں جو فرمایا ہے اُسکی تفسیر میں محمد لقمان سلفی لکھتے ہیں۔کہ حضرت لوط علیہ السلام نے سدوم اور عموریہ والوں کو پہلے تو ان کے شرک ومعاصی کی وجہ سے عذاب سے ڈرایا ۔ اپنی اطاعت اور اتباع کی دعوت دی اور اپنے بے لوث جذبہ اصلاح کی وضاحت کی کہ مجھے کسی منفعت کی لالچ نہیں ہے۔اسکے بعد اُنھوں کے گھناونے گناہ (مردوں کے ساتھ بد فعلی ) پر عاردلایا اور فرمایا کہ تم لوگ انسانیت سے نیچے گِر گئے ہواور حیوانی شہوت نے تمھاری عقلوں پر اِس طرح پر دہ ڈال دیا ہے کہ تم مردوں کے ساتھ بد فعلی کرتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے جو بیویاں پیدافرمائی ہیں ۔ اُن کے اند ر تمھارے لئے کوئی رغبت باقی نہیں رہ گئی ہے۔ تمھاری فطرت مسنح ہو کر رہ گئی ہے۔اور حق وباطل اور حلال و حرام کے درمیان کی تمام حدوںکو تم پھلانگ گئے ہو۔

وہ بُر ا عمل جو پہلے کسی نے نہیں کیا۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ لاعراف میں فرمایا ۔ ترجمہ ۔”اورہم نے لوط (علیہ السلام ) کو بھیجا اور اُنھوں نے اپنی قوم سے فرمایا ۔ تم ایسا فحش کا م کرتے ہو جس کو تم پہلے کسی نے دنیا میں نہیں کیا ہے۔تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو،تم حد سے گذرگئے ہو۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر 80 اور 81 ) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا ۔ترجمہ” اور لوط (علیہ السلام ) کا ذکرکرو۔ جب اُنھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم عورتوں کو چھوڑکر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بہت بڑی نادانی کر رہے ہو۔“ (سورہ نمل آیت نمبر 54 اور 55 ) اللہ تعالیٰ نے سور ہ العنکبوت میں فرمایا ۔ ترجمہ ۔ اور لوط علیہ السلام کا بھی ذکر کرو۔ جب اُنھوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم تو ایسی بدکا ری پر اُتر آئے جیسی تم سے پہلے دنیا بھر میں کسی نے نہیں کیا ہے ۔ کیا تم مردوں کے پاس بدفعلی کے لئے آتے ہو اور راستے بند کرتے ہو اور اپنی عام مجلسوںمیںبے حیائیوںکاکام کر تے ہو(سورہ العنکبوت آیت نمبر 28 اور 29)

جان بو جھکر بے حیائی کر رہے ہو

اِن آیات کی تفسیر میں مولانا عاشق الہٰی مہاجرمدنی لکھتے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام جن کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ لوگ بہت برُے کام کرتے تھے۔یعنی مردمردوں سے شہوت پوری کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام نے ان کو ایمان کی دعوت دی اور یہ سمجھایا کہ اِس بے حد گھناﺅنے اور برُے کام کو چھوڑدو۔ جسکے بارے میں تمھارا دِل بھی جانتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں ہے۔ یہ جاہلوں کا کام ہے ۔ تم پر جہالت سوارہے کہ تم یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ برُاکا م ہے۔ بھر بھی اسے نہیں چھوڑرہے ہو۔ مولانا سیدابو اعلیٰ مودودی اپنی تفہیم میں لکھتے ہیں ۔ کہ اِس ارشاد کے کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ اور غالباً سب ہی مرُاد ہیں ۔ ایک یہ کہ تم اِس فعل کے فحش اور کاربد (برُاکام) ہونے سے ناواقف نہیں ہو۔ بلکہ جانتے بوجھتے اس کاارتکاب کررہے ہو۔ دوسرے یہ کہ تم اِس بات سے بھی نا واقف نہیں ہو کہ مردکی خواہش نفس کے لئے مرد پیدا نہیںکیاگیا ہے۔ بلکہ عورت پیدا کی گئی ہے۔ اور مرد اور عورت کا فرق ایسا نہیں کہ تمھیں تمھاری آنکھوں سے نظر نہیں آتا ہو۔ مگر تم کھلی آنکھوں کے ساتھ یہ جیتی مکھی نگلتے ہو۔ تیسرے یہ کہ تم علانیہ (کھلے عام ) یہ بے حیائی کاکام کرتے ہو جب کہ دیکھنے والی آنکھیں تمھیں دیکھ رہی ہیں ۔ جیسا کہ آگے سورہ عنکبوت میں آرہاہے۔ ترجمہ۔اور تم اپنی مجلسوں میں برُا کام کرتے ہو۔( آیت 29) امام قرطبی اِس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ہم نے حضرت لوط علیہ السلام کو بھیجا یا حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر کر و۔ قوم سے مرُاد اہل سدوم ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ ”تم ایسا فحش کام کرتے ہو۔“فاحشہ سے مراد ایسا فعل جو قبیح اور شنیع ہو جبکہ تم دیکھ رہے ہوکہ یہ بے حیا ئی ہے۔ (اس کے بعد بھی کررہے ہو۔) یہ تمھارا سب سے بڑا گنا ہ ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کے پاس جاتے ہو جبکہ تم اسے دیکھ رہے ہوتے ہو۔ وہ سرکشی اور تمرّدکی وجہ سے پردہ پوشی نہیں کرتے تھے۔ 

تم کھلے عام بے حیائی کر رہے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 28 اور29 میں فرمایا ہے۔ اسکی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں ۔کہ حضرت لوط علیہ السلام کو یاد کرو کہ اُنھوں نے اپنی قوم کو شرمند ہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے فرمایا کہ تم وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا ہے ۔قوم سدوم کے بارے میں ابن زید کہتے ہیں کہ وہ ڈاکوتھے ۔ ایک قول میں ہے کہ وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کا اُٹھالیا کرتے تھے۔ یہ ابن شجرہ کا قول ہے۔وہب بن منبہ کا قول ہے کہ عورتوں سے بے ر غبتی اور مردوں سے رغبت کرنا ۔ نئی نسل کو قطع (کاٹ) کرنا ہے۔اور مردوں کی وجہ سے وہ عورتوں سے بے پرواہ ہوگئے تھے۔ میں (امام قرطبی)کہتاہوں کہ یہ سب بیماریوں اِن میں موجود تھیں وہ ڈاکہ مارتے تھے تاکہ مال دولت حاصل ہو۔اور بد فعلی کریں اور اسی وجہ سے وہ عورتوں سے مستغنی (بے پرواہ) ہوگئے تھے۔اور اپنی کھُلی مجلسوں میں گناہ کرتے تھے ۔ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ وہ عورتوںکو کنکریاں مارا کرتے تھے۔اور وہ اجنبی اور باہرسے آنے والوں کو حقیر سمجھتے تھے۔سیدہ اُم ہانی رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ۔ میں نے رسول اللہ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان کہ وہ کھُلی مجلسوں میں منکر کرتے تھے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جواُن کے پاس سے گذرتا تھا اُسے کنکریاں مارتے تھے ۔ اور اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔ یہی وہ منکر عمل تھا جو وہ کرتے تھے۔(جامع ترمذی) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔حضرت لوط علیہ السلام کی قوم اپنی مجالس میں جب بیٹھا کرتی تھی تو ہر آدمی کے پاس ایک پیالہ ہوتا تھا۔جس میں مارنے کے لئے کنکریاں ہوتی تھیں ۔ جب کوئی اُن کے پاس سے گذرتا تھا وہ اُس پر کنکریاں پھینکتے تھے۔جسکی کنکری اُس کو لگ جاتی تھی وہ اُسکا ذیادہ مستحق ہوتا تھا۔یعنی وہ اُسے بد کاری کے لئے لے جاتا تھا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی مجالس میں زور سے گوز (پیچھے سے ہوا) چھوڑتے تھے۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) فرماتے ہیں کہ وہ اپنی مجلسوں میں مردوں سے خواہش پوری کرتے تھے۔جبکہ وہ سب دیکھ رہے ہوتے تھے۔اور اُن کا معمول تھا۔ وہ کبوتروں سے کھیلتے ، انگلیوں میں مہند ی لگاتے ،سیٹیا ں بجاتے اور تمام کاموں میں بے حیائی کرتے۔ 

پوری قوم بے حیائی میں مُبتلا تھی۔

حضرت لوط علیہ السلام مسلسل قوم ِسدوم کو سمجھاتے رہے اور طرح طرح سے حکمتوں سے اُنھیں قائل کرنے کی کوشش کر تے رہے۔لیکن وہ بد بخت قوم اِتنی برُی طرح ابلیس شیطان کے قبضے میں تھی کہ کئی سال تک مسلسل سمجھانے کے باوجود وہ گناہوں بلکہ انتہائی غلیظ گناہوں میں مُبتلا ہے ۔اور مرد تو مرد اُن کی عورتیں بھی ہم جنس ہر ستی میں مُبتلا ہوگئی تھیں۔جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ مرد اور عورت ایک دوسرے سے بے پراوہ ہوگئے تھے۔اور قوم ِسدوم میں نئی نسل کی پیدائش ختم ہوگئی تھی۔ اور پوری قوم کھلم کھلا بے حیائی میں مبتلا تھی ۔سورہ عنکبوت کی آیت نمبر ۸۲ اور ۹۲ کی تفسیر میں مولانا محمدآصف قاسمی لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام سدوم اور عمورہ کی بستیوں کی اصلاح کے لئے نبی بناکر بھیجے گئے تھے۔وہاں کے لوگوں کا یہ حال تھاکہ وہ غیر فطری فعل کو کھلم کھلا اِس طرح کرتے تھے کہ اس کے خلاف بات کرنے اور نصیحت سننے کے لئے تیار نہیں تھے۔حضرت لوط علیہ السلام نے اِس پوری قوم کو للکارا کہ تم نے ایک ایسے فعل کو رواج دیا ہے جو آج تک دنیا میں کسی نے نہیں کیا ہے۔یعنی کسی قوم نے ایسا برُا فعل نہیں کیا ہے۔تم اپنی نفساتی خواہشات کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے بد فعلی کر تے ہو۔تمھاری شیطانی ہرکتوں سے ہر شخص عاجز آچکا ہے۔لوگوں کے لئے راستہ چلنا دشوار ہوگیاہے۔چوری ،ڈاکہ اور لوٹ مار سے کسی کی جان محفوظ نہیں رہی ہے۔تم کھلے عام بے شرمی اور بے حیائی کے کام کر تے ہو۔ تمھاری گفتگواور بات چیت میں شائستگی اور تہذیب دم توڑچکی ہے۔اگر تم نے اللہ سے توبہ نہیں کی اور اِس فعل سے باز نہیں آئے تو جس طرح پہلے کی قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تھا۔اسی طرح تم پر قہر ٹوٹ پڑے گا۔ مولانا سیدابواعلیٰ مودودی اِن دوآیات کی تفہیم میں لکھتے ہیں۔کہ یعنی ان سے شہوت رانی کرتے ہو جیسا کہ سورہ اعراف میں ہے کہ تم خواہش نفس پوری کر نے کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ۔ آگے لکھتے ہیں کہ یہ فحش کام چھپ کر بھی نہیں کرتے ہو۔ بلکہ اپنی مجلسوں میں علانیہ (کھلے عام ) ایک دوسرے کے سامنے اسکاارتکاب کرتے ہویہی بات سورہ نمل میں فرمائی ۔ کیا تم اتنے ذیادہ بگڑگئے ہو کہ دیکھنے والی آنکھوںکے سامنے فحش کا ری کرتے ہو۔

سب سے پہلے اللہ کی راہ میں جہاد

حضرت لوط علیہ السلام مسلسل کئی سال تک قوم ِ سدوم کو سمجھاتے رہے۔ لیکن وہ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے رہے اور اپنی برائیوں پر ڈٹے رہے لیکن آپ علیہ السلام بھی صبر اور حکمت سے اللہ کی طرف بُلا تے رہے اور اُنھیں بے حیائیوں سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ آخر قوم آپ علیہ السلام سے عاجز آگئی ۔ اور اپنی ایک دوست قوم سے ملکر سازش کی۔ اُس قوم نے قومِ سدوم پر حملہ کیا اور حضرت لوط علیہ السلام کو گرفتار کر کے لے گئے ۔ یا پھر قومِ سدوم کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کو گرفتار کروایا کہ ان سے جان چھوٹ جائے۔ علامہ محمد بن جریرطبری لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام اپنے اہل وعیال اور مال کو لیکر اردن کی سرزمین (قومِ سدوم) کی طرف چلے گئے ۔آپ علیہ السلام اسی مقام پر اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام کر رہے تھے کہ فلسطین کے رہنے والے ایک قبیلے نے حملہ کرکے آپ علیہ السلام کو اور گھروالوں کو گرفتار کرکے لے گئے ۔جب حضرت لوط علیہ السلام کی گرفتاری کی خبر ملی تو آپ علیہ السلام نے اپنے اہل اور غلاموں اور علاقے کے لوگوں کے ساتھ ملکر اُس قبیلے پر حملہ کر دیا۔اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تین سو مجاہدین تھے ۔اور آپ علیہ السلام اللہ کے لئے سب سے پہلے جہاد کر نے والے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی مد د فرمائی اور فتح عطافرمائی ۔اور آپ علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام اور اُن کے گھروالوں کو رہائی دلائی۔اِسکے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام تو ”الخلیل “میں واپس آگئے اور حضرت لوط علیہ السلام پھر قوم سدوم کو سمجھانے کے لئے اُن کے پاس چلے گئے ۔ لیکن وہ بد بخت قوم کفر اور بے حیائیوں پر اڑی رہی۔ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی قوم ِسدوم کو سمجھاتے تھے

حضرت لوط علیہ السلام تو مسلسل قومِ سدوم سمجھاتے رہتے تھے۔اسکے علاوہ آپ علیہ السلام کے چچاحضرت ابراہیم علیہ السلام بھی وقتاً فوقتاً اپنے بھتیجے کے پاس آتے تھے۔اور اِس بد بخت قوم کو سمجھاتے رہتے تھے۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام قوم ِسدوم کے سب سے بڑے شہر سدوم میں پذیر تھے۔یہ شہر اُس وقت مُلک کنعان کا ایک شہر تھا۔اور آج (حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے وقت ) ملک شام میں ہے۔اور فلسطین سے ایک دِن اور ایک رات کی مسافت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ قوم سدوم کو مہلت دیتا رہا۔اور اُنھوں نے اسلام کا پردہ چاک کردیا اور محارم کی آبروریزی کرنے لگے۔اور فاحشہ کبُریٰ (یعنی مردوں سے بد فعلی )کا ارتکاب کر نے لگے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے خچر پر سوار ہوکر قومِ سدوم کے شہروں کی طرف آئے اور اُنھیں وعظ ونصیحت فرمائی لیکن اُنھوں نے قبول کر نے سے انکار کردیا۔اسکے بعد جب بھی آپ علیہ السلام اپنے بھتیجے سے ملنے آتے تھے تو قوم سدوم کو ضرور سمجھاتے تھے۔ اور فرماتے تھے اے قومِ سدوم ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمھارے لئے ایک دن مقررہے ۔وہ کون سا ہے میں بھی نہیں جانتا۔ بلاشبہ اس نے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمھیں (کفر اور ایسی برائیو ں سے ) منع فرمایاہے ۔اس لئے تم اللہ کے عذاب کو دعوت مت دو ۔ 

قوم سدوم نے بستی سے نکال دیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ اعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ اور اُن کی (حضرت لوط علیہ السلام کی ) قوم سے کوئی جواب نہیں بن پڑا سوائے اسکے کہ وہ آپس میں کہنے لگے کہ اِن لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو ۔ یہ لوگ بڑے پاک صاف بنتے ہیں ۔ (سورہ اعراف آیت نمبر 82۔ ) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ۔ اُنھوں نے (قوم سدوم کے لوگوں نے ) جواب دیا۔ کہ اے لوط (علیہ السلام )، اگر تم باز نہیں آئے تو ہم یقیناتمھیں (اپنی بستی سے) نکال دیںگے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ میں تمھارے کاموں سے سخت ناخوش اور ناراض ہوں۔ (سورہ شعراءآیت نمبر 176 اور 186۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ قوم کا جواب سوائے یہ کہنے کہ اور کچھ نہیں تھاکہ آپ لوط کو اپنے شہر سے شہر بدِر کردو۔ یہ بڑے پاک باز بن رہے ہیں۔(سورہ نمل آیت نمبر 56۔) حضرت لوط علیہ السلام قوم ِسدوم کو بڑی محبت اور نرمی سے سمجھاتے رہے لیکن اِن کی آنکھوں پر ابلیس شیطان نے تکبّر اور گھمنڈکی پٹی باندھ رکھی تھی۔اِس لئے اِن بد بختوں نے آپ علیہ السلام سے دشمنی شروع کردی اور دشمن قبیلے نے اِن پر حملہ کر کے اِن لوگوں کو گرفتار کر لیا تھا اُن میں حضرت لوط علیہ السلام بھی تھے۔آپ علیہ السلام نے اپنے چچاکی مدد سے آزادی حاصل کی اور قوم ِسدوم کے لوگوں کو بھی آزاد کروایا ۔لیکن یہ احسان فراموش اور بے حیا قوم نے آپ علیہ السلام کو شہر میں داخل ہونے نہیں دیا۔پہلے زمانے میں ہر شہر اور گاﺅں کے اطراف ایک بلند دیوار ہوتی تھی۔ جو پورے شہر یاپوری بستی کو گھیر ے میں لئے ہوئے ہوتی تھی ۔اسے شہرپناہ یا پھر فصیل کہا جاتا تھا۔جس میں بڑے بڑے گیٹ یعنی دروازے ہوتے تھے۔اِس بد بخت قوم سدوم نے حضرت لوط علیہ السلام اور اُن کے گھروالوں کو بستی کے باہر نکال دیا ۔ اور آپ علیہ السلام بستی کے باہر اپنا گھر بناکر رہنے لگے اور پانچوں شہروں میں گھوم گھوم کر اُنھیں سمجھاتے رہے۔

قوم سدوم کو اچھے لوگوں کاوجود گوارا نہیں تھا

اللہ تعالیٰ نے سورہ اعراف کی آیت نمبر 82 میں جو فرمایا ہے کہ اسکی تفہیم میں مولانا سید ابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِس سے معلوم ہواکہ یہ لوگ صرف بے حیا ، بدکر دار اور بد اخلاق ہی نہیں تھے۔ بلکہ اخلاقی پستی میں اِس حد تک گِر گئے تھے کہ انھیں اپنے درمیان چند نیک انسانوں اور نیکی کی طرف بلانے والوں او ربرُائی پر ٹوکنے والوں کا وجود تک گوارا نہیں تھا۔وہ بدی (برُائی) میں یہاں تک غرق ہوگئے تھے۔کہ اصلاح کی آواز کو بھی برداشت نہیں کرسکتے تھے۔اور پاکی کے اِس تھوڑے سے عنصرکو بھی نکال دینا چاہتے تھے۔جو اُن کی گھناونی فضا میں باقی رہ گیاتھا۔اِسی حد کو پہنچ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کے استیصال کا فیصلہ صادر ہو ا۔ کیونکہ جس قوم کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی کا ذرا سا عنصر بھی باقی نہ رہ سکے تو اُسے زمین پر زندہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں رہتی ہے۔ سڑے ہوئے پھلوں کے ٹوکرے میںجب تک چند اچھے پھل موجود ہوں اُس وقت تک ٹوکرے کو رکھاجاتا ہے۔ مگر جب وہ اچھے پھل بھی نکل جائیں تو پھر اِس ٹوکرے کا مصرف اِس کے سِوا اور کچھ نہیں رہتا ہے کہ اُسے کو ڑے پر اُلٹ دیا جائے ۔ 

یہ ہمیں روکنے والے کو ن ہوتے ہیں

سورہ اعراف کی آیت نمبر 82 کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ کہ اِس حرکت کی ابتداءاِس طرح ہوئی کہ حضرت لوط علیہ السلام کی اِس قوم کی چاروں پانچوں بستیاں نہایت ہی سر سبز و شاداب تھیں ۔ ان میں باغات ، سر سبز کھیت اور نہریں وغیر ہ بہت تھیں ۔ اِن بستیوں کے آس پاس کے علاقوں کی زمین قریباً خشک تھی۔(یعنی دوسرے علاقوں میں خوراک پانی اور پھلوں وغیرہ کی بہت کمی تھی۔)اِسی لئے خشک زمین کے لوگ اور اُن کے لڑکے اِس سرسبز علاقہ میں آتے تھے۔اور اُن کے باغات کے پھل وغیر چوری کرکے لے جاتے تھے۔قومِ لوط کے لوگ اِن سے بہت پریشان تھے۔ایک دِن ابلیس شیطان نہایت حسین و جمیل لڑکے کی شکل میں آیا ۔ اور ایک باغ کے پھل توڑنے لگا۔باغ والے نے اسے پکڑ لیا اور مارنا پیٹنا چاہا تو ابلیس نے کہا ۔ تم مجھے مارومت بلکہ میرے ساتھ ایسی حرکت کرو ۔باغ والے نے ابلیس کے بتانے کے مطابق اُسکے ساتھ ویسی حرکت کی تو اُسے بہت لذت محسوس ہوئی ۔ پھر ابلیس بولا۔ اب جو بھی لڑکا تمھارے باغ کا پھل توڑنے آئے تو اُسے مارنا نہیں بلکہ یہی حرکت کرناتو تمھیں لطف حاصل ہوگا۔ اور اِس ڈرسے لڑکے تمھارے باغ میں آنا چھوڑدیں گے۔ اُس شخص نے دوسرے لوگوں کو بھی یہ واقع بتایا ۔ اور دوسرے لوگ بھی ایسا ہی کرنے لگے او ر ہوتے ہوتے یہ حرکت قومِ سدوم میںعام ہوگئی ۔ (اِسی لئے جب حضرت لوط علیہ السلام نے اُنھیں اِس حرکت سے منع فرمایا تو)اُنھوں یہی کہا کہ اِن کو اور اِن کے ساتھ اِن کے بال بچوں کو بھی اپنی بستی سے نکال دو ۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اِس حرکت کو سب لوگ اچھاکہتے ہیں ۔ اور یہ اکیلے بُرا کہتے ہیں۔ جمہور (اکثریت) کے مقابلے میں ایک شخص کی بات نہیں ماننی چاہیے ۔اور ہماری قوتیں ، طاقتیںاور دولت ہماری اپنی چیز یں ہیں ۔ جس طرح چاہیںخرچ کریں۔یہ روکنے والے کون ہوتے ہیں۔اور انسان آزاد ہے جو چاہے کر لے ۔یہ ہماری آزادی سلب کررہے ہیں۔ لہذااِنھیں نکال دو۔اِن بدنصیوں نے رب کے مقابل سب کی با ت مانی ۔ اپنی دولت اور قوت کو اپنی چیز سمجھا۔ یہی غلطیاں گناہوں کی جڑ ہیں۔ اور اِسی لئے وہ لوگ حضرت لوط علیہ السلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ کہ یہ تو بڑے صاف ستھر ے بنتے ہیں ۔اور ایسے مزے دار لذیذ کا م سے ہمیں روکتے ہیں ۔ ہماری بستی میں اِن کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ یہاں نہیں ہوں گے تو ہمیں اپنی ہوس کو پوری کرنے کی آزادی ہوگی اور ہم کوکوئی روکنے والا نہیں ہوگا۔ اُن بد بختوں کا مطلب یہ تھا کہ (نہایت غلیظ اور بُرا) کام نہایت پاکیزہ ستھرا ہے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام اِس کام سے بچنے کو پاکیزگی سمجھتے ہیں یہ اُن کی غلط فہمی ہے۔ 

قومِ سدوم نے عذاب کی مانگ کی۔ 

اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا ترجمہ ۔”(حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا۔)تم مردوں کے ساتھ بدفعلی کرتے ہو۔اور راستے بند کر تے ہو۔ اوراپنی عام مجلسوں میں بے حیائیوں کا کام کرتے ہو۔ اسکے جواب میں اُن کی قوم نے کہا۔ اب تم جاﺅ اور اگر سچے ہو تو ہمارے پاس اللہ کا عذاب لے آﺅ۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر 29) قوم سدوم مسلسل بے حیائی میں مُبتلا رہی اور حضرت لوط علیہ السلام کا مذاق اُڑاتی رہی۔ آپ علیہ السلام مسلسل اُنھیں سمجھاتے رہے۔اِن لوگوں نے آپ علیہ السلام کو روکنے کی ہر کوشش کرلی۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کو بستی سے نکال دیا۔ لیکن آپ علیہ السلام پھر بھی اِن پانچوں شہروںمیں جاکر اُنھیںبھلائی کا حُکم دیتے رہے ۔ اور بُرائی سے روکتے رہے۔ اِس طرح لگ بھگ بیس سال کا عرصہ گذرگیا ۔ لیکن قوم سدوم بُرائیوں پر ڈٹی رہی۔ اور اب اِس بد بخت قوم نے آپ علیہ السلام کو یہ جواب دینا شروع کردیا کہ تم جس عذاب سے ہمیں ڈرا رہے ہو وہ ہم پر لے آﺅ۔ اب حضرت لوط علیہ السلام جسے بھی سمجھاتے تھے تو وہ یہی کہتا تھاکہ میں تو وہی کروں گا جو کررہا ہوں۔ اگر تم واقعی سچے ہو تو ہمیں جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو اُسے لے آﺅ۔ اب ہم عذاب دیکھ کر رہیں گے۔

حضرت لوط علیہ السلام کی دعا 

اللہ تعالی نے سورہ العنکبوت میں فرمایا ۔ ترجمہ۔”حضرت لوط علیہ السلام نے دُعا کی۔ اے میر ے رب پروردگار، اِس مفسدقوم پر میری مد د فرما۔ (سورہ العنکبوت آیت نمبر 30 ) جب اِن بدبختوں نے یہی رویہ اختیا ر کرلیا۔ کہ جسکو بھی حضرت لوط علیہ السلام سمجھانے لگتے تو وہ یہی کہتا کہ اگر تم سچے ہو تو جس عذاب سے ہمیں ڈرا ہے ہو وہ عذاب ہم پر لے آﺅ۔ جب قوم سدوم کاہر فرد عذاب کی مانگ کر نے لگا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگی۔ کہ اے اللہ تعالیٰ ، میں نے ہر طریقے سے اِس قوم کو سمجھانے کی کوشش کی ۔لیکن اِن کی بدبختی کہ یہ میری بات کو سمجھنے کے بجائے مجھ سے عذاب کی مانگ کررہے ہیں ۔ او رزمین پر فساد پھیلا رہے ہیں ۔اے ا للہ تعالیٰ اِن فسادی لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اجازت اور حُکم سے سرزمین ”غورزغر“ کے ایک شہر سدوم میں جاکر آباد ہوگئے تھے۔سدوم اس علاقے کا مرکزی شہر تھا۔ جسکے مضافات میں کئی دوسری بستیاں ،چراگاہیں اور چھوٹے چھوٹے شہر بسے ہوئے تھے۔سدوم کے لوگ علاقہ بھر میں فاجر وفاسق اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور دین کے منکر تھے۔ نہ تو ان کے اجتماعی طور طریقے اچھے تھے۔اور نہ ہی اِن کے انفرادی کردار بہتر تھے۔ وہ لوگوں کو لوٹتے تھے۔ سرعام فسادکرتے تھے۔لیکن کوئی اُن کو روکنے والا نہیں ہوتا تھا۔ اُنھوں نے ایک ایسی بُرائی کی بنیاد ڈالی جو بنی آدم (حضرت آدم علیہ السلام کی تمام اولاد)میں اِس سے پہلے کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی ۔وہ مردوں سے بد فعلی کرتے تھے۔اور عورتوں کے قریب نہیں جاتے تھے۔ جن سے نکاح کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اُنھیں اللہ وحدہُ لاشریک کی طرف بُلایا۔ اور اُنھیں گناہوں اور فحش کاموں سے روکا۔ اُنھیں بتایاکہ یہ قباحتیں اور بُرائیاں انسان کو زیب نہیں دیتیں ۔لیکن اُن گمراہی اور سرکشی میں اضافہ ہی ہوتا گیا ۔کسی نے آپ علیہ السلام کی بات نہیں سُنی ۔وہ فسق وفجور اور کفر کی راہوں پر گامزن رہے۔اس کے بعد علامہ ابن کثیر دوسری جگہ لکھتے ہیں ۔ اگرکوئی اُنھیں نصیحت کی بات کر تا بھی تو اُسے مذاق میں اُڑا دیتے تھے۔ نہ تو اُنھیں اپنے پچھلے گناہوں پر ندامت تھی اور نہ ہی مستقبل میں بُرائیوں اور گناہوں کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ تھا۔وہ حضرت لوط علیہ السلام کو کہا کرتے تھے ۔ترجمہ۔”اے لوط (علیہ السلام) ،اگر سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آﺅ۔©©“ (سورہ العنکبوت ) اِن بدبختوں نے اللہ کے نبی علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ وہ عذاب الیم لے آئیں اور جس ہلاکت کی باتیں کرتے ہو اُسے کر گزرو۔ حضرت لوط علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کی غیرت بھڑک اُٹھی اور اُسکی صفت عضب جوش میں آگئی اور اللہ تعالیٰ نے دُعا قبول کرلی۔ 

عذاب کے فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمان

اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ”اور ہماری طرف سے خوش خبری دینے والے ابراہیم (علیہ السلام ) کے پاس پہونچے او رسلام کہا۔ اُنھوں نے بھی سلام کا جواب دیا اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کا بُھنا ہوا بچھڑا لے آئے ۔ اب جو دیکھا کہ اُن کے ہاتھ تو کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو اُنھیں انجان پاکر دِل ہی دل میں ان سے خوف کر نے لگے۔ اُنھوں نے کہا ۔ آپ علیہ السلام پریشان نہ ہوں۔ ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ اُن کی بیوی کو کھڑی ہوئی تھی وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق (علیہ السلام) اور اسحاق کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام ) کی خوش خبری دی۔ وہ کہنے لگی ہائے میر ی کم بختی ، میر ے ہاں اولاد کیسے ہوسکتی ہے۔میں خود بوڑھی ہو چُکی ہوں اور میر ے شوہر بھی بڑی عمر کے ہیں۔یہ تو یقینا عجیب بات ہے۔ فرشتوں نے کہا ۔ تم اللہ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟ تم پر اس گھر کے لوگو، اللہ کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں۔بے شک اللہ تعالیٰ ہی حمد و ثنا کے لائق ہے۔ اور بڑی شان والا ہے ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام ) کو اطمینان ہوگیا اور اُسے بشارت مِل چُکی تو ہم سے لوط (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں کہنے سننے لگے۔یقینا ابراہیم (علیہ السلام ) بہت تحمّل والے نرم دِل اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ اے ابراہیم (علیہ السلام ) !اِس خیال کو چھوڑ دیں(کہ قوم سدوم کوچھوڑ دیا جائے گا)آپ (علیہ السلام)کے رب کا حُکم آپہنچا ہے اور ان پرنہ ٹالے جانے والا عذاب ضرور آنے والا ہے۔ (سورہ ھود آیت نمبر 69 سے 76 تک۔)

حضرت ابراہیم علیہ السلام ہر انسان کی بھلائی چاہتے تھے

اس آیت کی تفسیر میں مولانا عاشق الہٰی مہاجرمدنی لکھتے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اطمینان ہو ا تو آپ علیہ السلام حضرت لو ط علیہ السلام کی قوم کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنے لگے کہ اُن کو ہلاک نہ کیا جائے ۔ کیو نکہ اُن کے اند ر حضرت لوط علیہ السلام موجود ہیں۔اُن کے اسی جذبے کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ بے شک حضر ت ابراہیم علیہ السلام بہت تحمّل والے اور نرم دِل ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بستیوں کو ہلاک کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ اسی لئے جو فرشتے آئے تھے ۔ اُنھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ تمھارے رب کا فیصلہ ہو چُکا ہے۔ اُن پر عذاب ضرور آئے گا جو ہٹنے والا اور واپس ہونے والا نہیں ہے۔ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بحث کر نا

اِس آیت کی تفسیر میں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام قوم ِلوط کے بارے میں کہنے سننے لگے امام ابن ابی حاتم لکھتے ہیں ۔ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ جب جبرئیل علیہ السلام اپنے ساتھ فرشتو ں کو لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور آپ علیہ السلام کو بتایا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کر نے والے ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کیا تم اُس بستی کو ہلاک کردو گے جس میں چار سو 400 مومن ہوں۔ تو اُنھوں نے جواب دیا نہیں کریںگے۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا جس بستی میں تین سو ۰۰۳ مومن ہوں تو فرشتوں نے جواب دیا ۔ ہم اُس بستی کو ہلاک نہیں کریں گے۔پھر آپ علیہ السلام نے پو چھا اگر دو سو مومن ہوں تب کیا کرو گے۔ تو اُنھوں نے کہا ۔ ہم ہلاک نہیں کریں گے۔پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر سو 100 مومن ہو تو ہلاک کردو گے؟ فرشتوں نے کہا ۔ نہیں ہلاک کریں گے۔ پھر آپ علیہ السلام نے پوچھا ۔ اگر اُس بستی میں پچاس 50 مومن ہوں تو ؟ فر شتوں نے کہا ، ہم اُس بستی کو ہلاک نہیں کریں گے۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اگر وہا ں چالیس مومن ہوں تب بھی اُس بستی کو ہلاک کردہ گے۔ تو فرشتوں نے کہا نہیں۔ آپ علیہ السلام نے پھر پوچھا۔ اور اگر اُس بستی میں چودہ مومن ہوں تو ؟ فرشتوں نے کہا تب بھی ہلاک نہیں کریں گے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سوچ کر چودہ مومن فرمایا کہ حضرت لوط اسلام کے اہل بیت کل ملا کر چودہ تھے۔

پانچ مومن ہوں تو عذاب نہیں دیں گے

حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) فرماتے ہیں کہ جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خبر دی کہ ہم لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جا رہے ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ تمھاراکیا خیال ہے اگراُن میں پچاس 50 مومن ہوں تو؟ اُنھوں نے جواب دیا ۔ اگر پچاس مسلمان ہوں گے ہم اُنھیں عذاب نہیں دیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام نے فر مایا۔ اگر اُن میں چالیس مسلمان ہوں تو؟ فرشتوں کے کہا اگر چالیس مسلمان بھی ہوگے تو عذاب نہیں دیں گے۔ آگے فرمایا۔اگر تیس مسلمان ہوں تب بھی عذاب نہیں دوگے۔ تو اُنھوں نے کہا ۔ ہاں۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر دس مسلمان اُس بستی میں ہوں تو؟ فرشتوں نے کہا اگر دس مسلمان ہوں گے تب بھی ہم عذاب نہیں دیں گے۔ یہ سُن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ کوئی قوم ایسی نہیں ہوتی ۔ جس میں دس افراد ایسے نہ ہو ں جن میں خیر اور نیکی نہ ہوں۔پھر حضرت قتاد رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ بے شک قومِ سدوم کی بستی میں چار لاکھ افراد تھے،یا ان میں سے جتنے اللہ چاہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ کہ جب فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے تھے تو اُنھو ں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا۔ اگر اُن میں پانچ افراد بھی نماز پڑھتے ہوں گے تو اُن پر عذا ب اُٹھالیا جائے گا۔

اُن میں حضر ت لوط علیہ السلام ہیں

اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا ۔ترجمہ۔”اور جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام ) کے پاس بشارت لیکر پہنچے تو کہنے لگے کہ اُس بستی (قوم ِسدوم) والوں کو ہم ہلاک کرنے والے ہیں ۔ یقینا یہاں کے رہنے والے گنگار ہیں۔ (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )کہا ۔ اُس میں لو ط علیہ السلام ہیں۔ فرشتوں نے کہا ۔ وہاں جو ہیں اُنھیں ہم بخو بی جانتے ہیں ۔ لوط (علیہ السلام ) کو اور اُن کے خاندان کو ہم بچا لیں گے۔ سوائے اُن کی بیوی کے ،کیونکہ وہ عورت پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ (سور ہ العنکبوت آیت نمبر 31 اور 32۔) مفتی احمد یار خان اس کی تفسیر میں لکھتے تو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پریشانی دور ہوگئی اور فرشتوں کی حقیقت معلوم ہوگئی اور بیٹے اور پوتے کی خوش خبری مل گئی تو فرشتوں کی طرف متوجہ ہوئے ۔اور جان لیا کہ اِس وقت رب کریم کا رحمت کا دریائے محبت جوش میں ہے۔ اس وقت جو چاہا جائے گا مل جائے گا۔ دِل میں خیال آیا کاش قوم لوط کو کچھ اور مہلت مل جائے ہو سکتا ہے وہ قوم راہ راست پرآجائے اور مومن ہوجائے ۔ میرارب تو حمید اور مجید ہے۔اُسکے قانو ن پر اُسکی قدر ت ، اُس کے غضب پر اُسکی رحمت غالب ہے۔ وہ ہزاروں قانونوں کو توڑکر اپنے پیاروں کے لئے قدرت کا کرشمہ دکھادیتاہے۔ اگر چہ عذاب کا فیصلہ ہو ُچکا ہے۔مگر اُس کا ٹا لنا اُسکی قدرت کےلئے کیامشکل ہے۔ وقت بھی کرم کا ہے بشارت عظمیٰ ابھی ابھی ملی ہے۔اِس بنا ءپر یجاد لُنا ۔ ہم سے یعنی ہمارے فرشتوں سے یا بلاواسطہ ہم سے ہی۔اپنے سجدوں ، دُعاﺅں میں بڑے ہی ناز سے جھگڑا کرنے لگے۔قوم ِلوط کے اُس وقت چھٹکا رے کے بارے میں ۔یہ ایسا ہی جھگڑا تھا، جیسا کہ لاڈلا شاگر د اپنے مہربا ن اُستاد سے یا غلام اپنے کریم آقا سے یا محبوب اپنے حبیب سے کسی کی سفارش میں کرتا ہے۔یہ جھگڑا کریم آقا،مہربان اُستاداورحبیب کو برُا نہیں لگتا بلکہ اسِی ضدوں سے تو اور پیا ر ا لگتا ہے۔یہ ضیف کا جھگڑا قوی سے ہے ۔ فقیر محتاج کا جھگڑا کریم غنی سے ہے۔ اِس جھگڑے کا ذکر کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان بتائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقامِ خلیل کیاہے ؟جھگڑا اِس طرح ہواکہ اے میر ے رب کے معزز فرشتو، تم اُس قوم کو سب کو ہلاک کردو گے چاہے اُس میں پچاس مومن ہوں۔ فرشتوں نے کہا نہیں اگر پچاس مومن ہوں گے تو ہم اُس قوم کو ہلاک نہیں کریں گے۔پھر فرمایا اگر چالیس ہوں تو؟ فرشتے بولے نہیں ۔پھر فرمایا ۔ اگر تیس ہوں ، بیس ہوں، دس ہوںاور پانچ ہی ہوںتو؟ ہر مرتبہ فرشتے کہتے رہے نہیں ہم ہلاک نہیں کریں گے۔یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا۔ اور اگر صرف ایک ہی مومن ہوتو؟ فرشتوں نے کہا۔ اگر ایک مومن بھی ہوں گے تو ہم عذاب نہیں دیں گے۔ یہ سُن کر آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اُن میں تو حضرت لوط علیہ السلام موجود ہیں ۔ پھر کس طرح اُس قوم پر عذاب آئے گا ؟ فرشتوں نے کہا۔ ہم اُن کو اُس بستی سے نکال لیں گے اُن کو بچانے کا وعدہ ہو چُکا ہے۔ اور اُسی بستی پر عذاب دیں گے جس میں ایک بھی مومن نہیں ہوگا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اللہ سے محبت اور ناز

اِس آیت کی تفہیم میں مولانا سیدابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں کہ ”جھگڑے“ لفظ سے یہ موقع اُس انتہائی محبت او ر ناز کو ظاہر کررہاہے ۔ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے اللہ تعالیٰ کے ساتھ رکھتے تھے۔ اِس لفظ سے یہ تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے کہ بندے اور اللہ کے درمیان بڑی دیر تک ردوکد جاری رہتی ہے۔ بندہ اصرار کررہا ہے کہ کسی طرح قوم لوط پر سے عذاب ٹال دیاجائے ۔ اور اللہ جواب میں کہہ رہاہے کہ یہ قوم اب خیر سے خالی ہو چُکی ہے۔اور اس کے جرائم اُس حد سے گذر چُکے ہیں کہ اس کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے ۔ مگر بندہ ہے کہ پھر بھی یہی کہے جارہاہے کہ پروردگار ، اگر کچھ تھوڑی سی بھلائی بھی اس میں باقی ہوتو اسے ذرامہلت دیدے ۔ شاید کہ وہ بھلائی کچھ پھل لاسکے۔ بائیبل میں اِس جھگڑے کی کچھ تشریح بھی بیان ہوئی ہے۔ لیکن قرآن پاِک کا مجمل بیان اپنے اندر اُس سے زیادہ معنوی وسعت رکھتاہے۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کے مہمان 

اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا ۔ ترجمہ ۔”جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط (علیہ السلام ) کے پاس پہونچے تو وہ اُن کی وجہ سے بہت غمگین ہوگئے۔ اور دِل ہی دِل میں کڑھنے لگے۔ اور کہنے لگے کہ آج کا دِن بڑی مصیبت کا دِن ہے۔ “(سورہ ھود آیت نمبر ۷۷۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ۔”پھر جب ہمارے قاصد لوط (علیہ السلام ) کے پاس پہونچے تو وہ اُن کی وجہ سے غمگین ہوگئے ۔ اور دِل ہی دِل میں رنج کر نے لگے۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر ۳۳) حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ سے عاجز آکر قوم ِسدوم نے اُنھیں شہر سے باہر نکال دیاتھا۔اور آپ علیہ السلام شہر سے باہر مکان بناکر اپنے اہل وعیال کے ساتھ رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قومِ سدوم پر عذاب دینے کے لئے جن فرشتوں کو بھیجا تھا ۔ وہ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے اور اُنھیں بیٹے اور پوتے کی بشارت دینے کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے ۔ اُس وقت شام ہورہی تھی۔ یعنی سورج غروب ہورہاتھا۔ اور ہلکا اندھیر اچھانے لگا تھا۔

حضرت لوط علیہ السلام کی پریشانی 

حضرت لوط علیہ السلام کے مہمانو ں کے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں ۔ حضرت لوط علیہ السلام شہر سدوم میں رہتے تھے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام چھ میل اُدھر مقام ”الخلیل “ میں جو فلسطین کے سرحد ی علاقوں سے ہے۔ پہلے اِس کا نام کچھ اور تھا اب اسکا نام الخلیل ہے۔ ایک روایت ہے کہ فرشتے بغیر راستہ پو چھے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے۔اور دوسری روایت میں ہے کہ فرشتے بستی کے ایک کنویں پر پہنچے،وہاں حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹیا ں اور کچھ عورتیں پا نی بھر رہی تھیں۔ اِن اجنبی لڑکوں کو دیکھا تو پوچھا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو؟ جاﺅ جلد سے بھاگ جاﺅ۔ ورنہ یہاں کے لوگ پکڑ کر تمھیں غلام بنا لیں گے۔ یہ بات اُنھوں نے بد ل کر بہت شرم سے کہی تھی۔ فرشتے بولے، یہاں کوئی مہمان نواز نہیں ہے کیا؟جو ہمیں کچھ دیر اپنے گھر میں ٹھہرائے۔ تو حضرت لوط علیہ السلام کی بیٹی محترمہ نے اپنے گھرکی طرف اشارہ کیا کہ وہاں چلے جائیے ۔ وہ بزرگ آ پ لوگوں کو اپنے یہاں مہمان بنالیں گے۔ وہ سب فر شتے حضرت لو ط علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا۔آپ علیہ السلام اپنے کھیت میں کام کررہے تھے۔ اجنبی مہانوں کو دیکھا جو خوب صورت قر یب البلوغ لڑکو ں کی شکل میں تھے،دیکھتے ہی گھبرا کر کھڑے ہو گئے ۔ پریشان ہو گئے اور غم زدہ بھی ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان سِئی کا مطلب یہی ہے کہ ایک پریشانی نازل ہونا جس سے آدمی ہو ش و ہواس کھو بیٹھے ۔ یہاں مُراد ہے انتہا ئی دُکھ اور افسوس ۔ اِس فعل سے ثابت ہو اکہ حضرت لو ط علیہ السلام اِن نوجوان لڑکو ںکو دیکھ کر اُن کو بچانے کی فکر اور پریشانی میں اُنھیں غور سے نہیں دیکھ سکے۔ اگر توجہ اور سکون سے دیکھنے کا موقع ملتا تو ضرور سمجھ جاتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ۔ لیکن آپ علیہ السلام تو اسی فکر میں تھے کہ میر ی قوم والوں کو اِن نوجوانوں کے بارے میں معلوم نہ ہو۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کی پر یشانی کی وجہ

سور ہ ھود کی آیت نمبر 77 کی تفسیر میں مولانا مفتی محمدشفیع لکھتے ہیں۔کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا فر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی خبیث بد کا ری اور بے حیائی میں مبتلا تھی جو دُنیا میں اس سے پہلے کبھی نہیں پائی گئی تھی۔اور جس سے جنگل کے جانور بھی نفرت کرتے تھے۔ کہ مرد،مرد کے ساتھ منہ کالا کرے جسکا وبال عام بدکاری سے کہیں زیادہ ہے۔اِسی لئے اِس قوم پر ایسا شدید اور عجیب عذاب آیا جو عام بے حیائی اور بدکاری کرنے والوں پر نہیں آیا ۔ حضر ت لوط علیہ السلام کا واقعہ جواِن آیا ت میں مذکو رہے ۔ وہ اِس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے چند فرشتے جن میں جبرئیل علیہ السلام بھی تھے ۔اِس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لئے بھیجے۔ جو پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فلسطین گئے تھے۔ جسکا واقعہ پہلی آیا ت میں بیان ہوچُکاہے۔ اُسکے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے جنکا مقام وہاں سے دس بارہ میل کے فاصلے پر تھا۔ اللہ تعالیٰ جس قوم کو عذاب میں پکڑتے ہیں۔ تو اُسی مناسبت سے اُن پر حجّت قائم فرماتے تھے۔ اِس موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حسین نوجوان لڑکوں کی شکل میں بھیجا۔ جب وہ حضرت لوط علیہ السلام کے گھر پہونچے تو اُنھیں انسانی شکل میں دیکھ کر آپ علیہ السلام نے مہمان سمجھا اور اُس وقت وہ سخت فکر اور غم میں مُبتلا ہوگئے کہ مہمانوں کی مہمانی نہ کی جائے تو یہ شان پیغمبری کے خلاف ہے۔ (آپ علیہ السلام کی قوم نے دھمکی دی تھی کہ تم مہمان نہیں بنانا بلکہ ہمارے سامنے مہمان کو پیش کر دینا)اور اگر اِن کو مہمان بنالیں تو اپنی قوم کی خباثت معلوم تھی۔ اسکا خطرہ تھا کہ وہ مکان پر چڑھ آئیں گے اور مہمانوں کو اذیت پہونچائیں گے۔ اور آپ علیہ السلا م مدافعت نہیں کر سکیں گے۔اور دِل میں فر مایا کہ آج بڑی سخت مصیبت کا دِن ہے۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کی گواہی

سور ہ ھود کی آیت نمبر ۷۷ کی تفسیر میں امام قرطبی لکھتے ہیں۔جب فرشتے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے نکلے اور حضر ت لوط علیہ السلام کے پاس پہونچے ۔اِن دونو ں بستیوں کے درمیان چار فرسخ یعنی بارہ میل کا فاصلہ ہے۔ جب فرشتوں نے حضرت لو ط علیہ السلام کی بیٹی کو نہر سدوم سے پانی بھرتے ہوئے پایا۔ اُنھوں نے اُس سے پوچھا کہ کیا یہاں ہم کسی کے مہمان بن سکتے ہیں؟ لڑکی اِن خوب صورت نوجوانوں کو دیکھ کر ڈر گئی کیونکہ وہ اپنی قوم کی خباثت سے واقف تھی ۔ اُس نے کہا ۔ تم یہیں رُکو میں ابھی آتی ہوں۔ پھر والد محترم کی خدمت میں گئی اور مہمانوں کی خبر دی تو آپ علیہ السلام جلد ی جلدی فرشتوں کے پاس تشریف لائے تو فرشتوں نے کہا ۔ آج رات آپ علیہ السلام ہماری میزبانی کریں تو ہم پر مہربانی ہوگئی ۔ آپ علیہ السلام نے فر مایا ۔ مجھے مہمان بنانے میں کو ئی اعتراض نہیں ہے۔لیکن کی تم نے میر ی قوم کے عمل کے بارے میں سُنا ہے؟ فرشتوں نے پوچھا۔ کون سا عمل؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اللہ کی قسم یہ اِس زمین پر سب سے بد ترین قوم ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تھاکہ جب تک حضر ت لوط علیہ السلام چار مرتبہ اس قوم کے خلاف گواہی نہیں دیں گے تب تک عذاب نہیں دینا ۔ اِدھر آپ علیہ السلام کو یہ فکر تھی کہ یہ خوب صورت نوجوان اگر میر ی مہمان بن گئے تو میر ی قوم کی خباثت کا شکا ر ہو جائیں گے۔ اس لئے آ پ علیہ السلام چاہتے تھے کہ یہ لوگ یہاں سے چلے جائیں ۔ اسی لئے دوسری مرتبہ بھی آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بہت بد ترین قوم ہے ۔ لیکن فرشتے مہمان بننے پر اصرار کر رہے تھے۔ اِس لئے تیسری اور چوتھی مرتبہ بھی آپ علیہ السلام نے اُنھیں سمجھا نے کے لئے اپنی قوم کی خباثت کے بارے میں بتایا۔ 

مہمانوں کو بچانے کے لئے گواہی دی۔

سورہ ھو د کی اِس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ حضر ت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بھیدبتاکر فرشتے وہاں سے چل دیئے ۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کے پاس اُن کی زمین یا اُن کے مکان میں پہونچے۔ فرشتے خوب صورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔تاکہ قومِ لوط کی پوری طرح سے آزمائش ہوجائے۔ حضرت لو ط علیہ السلام مہمانوں کو دیکھ کر سٹپٹا گئے۔ دِل ہی دِل میں پیچ وتاب کھانے لگے۔ کہ اگر مہمان بناتا ہوں تو ممکن ہے خبر پاکر لو گ چڑھ دوڑ یں ۔ اور اگر مہمان نہیں بناتا ہوں تو یہ سیدھے بستی میں جائیں گے ۔اور اُنھی کے ہا تھ پڑجائیں گے۔ زبان سے نکل گیا کہ آج کا دِن بڑی مصیبت والا ہے۔ قوم والے شرارت سے باز نہیں آئیں گے۔ اور مجھ میں مقابلے کی طاقت نہیں ہے۔ کیا ہوگا؟ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدر تابعی ) فرماتے ہیں۔ حضرت لو ط علیہ السلام اپنی زمین میں کھیتی باڑی کر رہے تھے کہ فر شتے خوب صورت نوجوانوں کی شکل میں آئے اور مہمان بنے۔ شرماشرمی میں انکار نہیں کر سکے اور اُنھیں لیکر گھر کی طرف چلے۔ راستے میں صرف اس نیت سے کہ یہ اب بھی واپس چلے جائیں اُن سے فرمایا۔ اللہ کی قسم ،یہاں کے لوگوں سے زیادہ برُے اور خبیث اور کہیں نہیں ہیں۔ کچھ دور جاکر پھر یہ فرمایا۔ تاکہ یہ بے چارے پردیسی واپس چلے جائیں اور گھر پہونچنے تک دو مرتبہ اور فر مایا ۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کا یہی حکم تھا کہ جب تک اس کا نبی علیہ السلام چار مرتبہ اُن کے خلاف گواہی نہ دی دے تب تک اس قوم پر عذاب نہیں کرنا۔ امام سدی فرماتے ۔ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے یہ فرشتے دِن ڈھلے نہر سدوم پر پہونچے ۔ وہاں حضر ت لو ط علیہ السلام کی صاحبزادی پانی لینے گئی تھی وہ مل گئی ،اُن سے اُنھوں نے پوچھا کہ یہاںہم کہیں ٹھہر سکتے ہیں ؟ اُس نے کہا ۔ آپ لوگ یہیں رکیئے ،میں واپس آکر جواب دوں گی۔ اُنھیں ڈرلگاکہ پردیسی نوجوان اگر قوم والوں کے ہاتھ لگ گئے تو اُن کی بڑی بے عزتی ہوگی۔ یہاں آکر والد صاحب سے ذکر کیا کہ چند نو عمر پردیسی آئے ہیں۔ میں تو آج تک نہیں دیکھے۔ آپ اُن سے ملاقات کر لیں اور اُنھیں سمجھائیں ورنہ ہماری قوم کے لوگ اُنھیں ستائیں گے۔قوم سدوم کے لوگوں نے حضرت لو ط علیہ السلام کو کہہ رکھا تھا کہ دیکھو کسی با ہر والے کو اپنا مہمان نہیں بنانا۔ بلکہ ہمارے پاس بھیج دیاکر نا۔ ہم ہی سب کچھ کرلیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اِن خوب صورت نو جوانوں کو دیکھا تو خاموشی سے انھیں گھر لے آئے ۔ اور کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہونے دی۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نے قوم کو خبر کر دی

حضرت لوط علیہ السلام اپنے مہمانوں کو گھر لے آئے ۔ اور اپنی بیوی سے کہا کہ اِن مہمانوں کے بارے میں قوم کو خبر نہ ہو۔ مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں۔ حضرت لو ط علیہ السلام کو پریشانی اِس لئے ہوئی کہ اِس سے پہلے بھی آپ علیہ السلام اجنبی مہمانوں کو پناہ دیتے تھے۔ جو اس بد معاش قوم سے گھبرا کر پناہ کی تلاش میں آتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام سے لڑتی تھی۔ کہ تم اِن کو کیوں چھپاتے ہو ۔ہمارے حوالے کر دیا کرو ۔حضرت لو ط علیہ السلام اُن کو جھڑکتے تھے اور لعنت ملا مت کرتے تھے۔ حضرت لو ط علیہ السلام کی بیوی کو کافروں نے لالچ دیکر کا فربنا لیا تھا۔ وہ چھپے ہوﺅں کی مخبری جاکر کر تی تھی تو قوم آکر جھگڑتی تھی۔ اِس سے چند دِنوں پہلے اِس قسم کا واقعہ ہو چکا تھا۔ اور قوم سدوم کے لوگوں نے صاف کہہ دیا تھا کہ اب اگر آپ علیہ السلام نے کسی مہمان کو گھر میں رکھا یا پناہ دی تو ہم جبراً گھر میں گھس کر اُنھیں اُٹھا لے جائیں گے۔ آپ علیہ السلام پھر بھی مہمانوں کو گھر لیکر آئے۔ پھر اپنی بیوی کو دیکھا اور فر مایا۔ تجھ کو ہلاکت ہو، اند ر جا کر چھپ جا اور کسی کو نہیں بتانا ۔کافروں سے اُس کو لالچ تھی، تھوڑی دیر تو صبر کئے بیٹھی رہی ۔ پھر پیشاب یا کسی ضرورت کا بہانہ کر کے باہر نکلی اور گھر گھر میں جاکر خبر دیتی آئی اور بتائی آئی کہ ایسے خوب صور ت جسم والے اور ایسے لباس والے اور خوشبو دار نوجوان لڑکے ہمارے گھر آئے ہیں۔امام قر طبی لکھتے ہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا فرہ تھی ۔ جب اُس نے مہمانوں کو دیکھا اور اُن کی خوب صورتی اور جمال کو دیکھا تو وہ چپکے سے گھرسے نکلی ۔ اور قوم سدوم کی مجلس میں آئی ،اور اُن کو بتا یا کہ حضرت لوط علیہ السلام کے پا س آج رات ایسے نوجوان مہمان ہیں کہ خو ب صورتی میں اُن کے جیسا نہیں دیکھا گیاہے۔ 

حضر ت لوط السلام کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے

اللہ تعالیٰ نے سورہ التحریم میں فرمایا ۔ترجمہ ۔”اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام ) اور لوط (علیہ السلام ) کی بیویوں کی مثال بیان فر مائی ہے۔ یہ دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں ۔ پھر اُن کی اُنھوں نے خیانت کی بس دونوں (نیک بندے بھی ) ان سے اللہ کے عذاب کو نہیں روک سکے۔اور حُکم دے دیا گیا کہ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونو ں بھی چلی جاﺅ۔(سورہ التحریم آیت نمبر۰۱۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”تو ہم نے لوط (علیہ السلام ) کو اور اُن کے گھروالوں کو بچالیا۔ سوائے اُن کی بیوی کے ،کہ وہ اُن لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے۔“(سورہ الاعراف آیت نمبر 83۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پس ہم اُسے (حضرت لوط علیہ السلام )اور اُسکے متعلقین کو سب کو بچالیاسوائے ایک بڑھیاکے ۔وہ پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔“ (سور ہ الشعراءآیت نمبر 170اور 171۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پس ہم نے اُسے (حضرت لوط علیہ السلام ) کو اور اُسکے گھروالوں کو سوائے اُسکی بیوی کے سب کو بچالیا۔ اس کا اندازہ تو پیچھے رہ جانے والوں میں ہم لگا چکے تھے۔ (سورہ النمل آیت نمبر 57۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ تر جمہ ۔ ” (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )کہا ۔ اُس میں تو لوط (علیہ السلام ) ہیں۔ فرشتوں نے کہا۔ ہم اُنھیں بخوبی جانتے ہیں۔ لوط علیہ السلام کو اور اُن کے گھر والوں کو بچالیا جائے گاسوائے اُن کی بیوی کے۔ کیونکہ وہ عورت پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر 32۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فر مایا۔ تر جمہ ۔” بے شک لوط(علیہ السلام بھی ) پیغمبروں میں سے ہیں ۔ ہم نے اُنھیں اور اُن کے گھر والوں کو سب کو نجات دی سوائے اُس بڑھیاکے۔ جو پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی۔“ (سورہ الصافات آیت نمبر 133 سے 135 تک۔)

حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت

اللہ تعالیٰ نے سور ہ التحریم میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام کی بیویوں کے بارے میں فرمایا کہ اُن دونوں نے اپنے شوہر وں سے خیانت کی ۔ وہ خیا نت یہ تھی کہ اُن دونوں عورتوں نے اسلام کی راہ میں اپنے کا شوہروں کا ساتھ نہیں دیا بلکہ قوم کے کافروں کا ساتھ دیتی رہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فر ما تے ہیں۔ کسی بنی کی بیوی کبھی بد کار نہیں رہی ہے۔ اِن دونوں عورتوں کی خیانت دراصل دین کے معاملہ میں تھی۔ اُن دونوں نے حضرت نو ح علیہ السلام اور حضرت لو ط علیہ السلام کا دین قبول نہیں کیا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اپنی قوم کے سرداروں یعنی مذہبی پیشواﺅں کو مسلمانوں کے بارے میں خبر یں پہنچا یا کرتی تھی۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اپنے شوہر کے یہاں آنے والے مہمانوں کی خبر اپنی بدکردار اوربے حیا قوم کو دیا کر تی تھی۔ 

قوم سدوم نے گھر کو گھیر لیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فر مایا۔ تر جمہ ۔”اور اُس کی (حضرت لوط علیہ السلام کی قوم دوڑتی ہوئی آئی۔ وہ لوگ تو پہلے ہی بد کاری میں مُبتلا تھے ۔ لوط علیہ السلام نے فر مایا۔ اے میرے قوم کے لوگو، یہ میر ی (قوم کی ) بیٹیاں ہیں ۔جو تمھارے لئے بہت ہی پاکیزہ ہیں ۔اللہ سے ڈرو اور مُجھے میرے مہمانوں کے بارے میں رسوانہ کرو۔ کیا تم میں ایک بھی بھلاآدمی نہیں ہے۔ اُنھوں نے جوا ب دیا۔ آپ (علیہ السلام ) بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں لڑکیوں سے کوئی مطلب نہیں ہے ۔اور آپ (علیہ السلام ) ہماری کا اصلی چاہت سے خوب واقف ہیں۔ لوط علیہ السلام نے فر مایا ۔ کاش کہ مجھ میں تم مقابلہ کر نے کی قوت ہوتی یا میں کسی زبردست کا سہارا لے لیتا۔“ (سورہ ھود آیت نمبر 78سے 80 تک۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فر مایا۔ تر جمہ ۔”اور شہروالے خوشیاں مناتے ہوئے آئے ۔(حضر ت لوط علیہ السلام نے ) فرمایا۔ یہ لوگ میر ے مہمان ہیں ،تم مُجھے رسوامت کرو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مُجھے (میرے مہمانوں کے سامنے) رسوامت کرو۔ وہ بولے کیاہم نے تمھیں دنیا بھر کی (ٹھیکیداری) سے منع نہیں رکھا تھا۔ (سورہ الحجر آیت نمبر 67 سے 70 تک۔)

حضرت لوط علیہ السلام نے قوم کو سمجھایا

حضرت لوط علیہ السلام نے اپنے بیوی کو منع فرمایاتھا کہ اِن مہمانوں کے بارے میں ہماری بے حیا اور بد کردار قوم کو نہیں بتانا۔ لیکن اُس بد بخت بُڑھیا نے آپ علیہ السلام کی نا فرمانی کی اور اپنی قوم کو جاکر بتا دیا کہ ہمارے گھر میں بہت خوب صورت چندنوجوان مہمان بن کر آئے ہیں۔ یہ خبر پوری قوم کو ہو گئی۔ اور پوری قوم کے لوگ خوشیاں مناتے ہوئے ڈھول تاشے بجا تے ہوئے آئے اور آپ علیہ السلام کے گھر کو گھیرلیا۔ اور حضرت لوط علیہ السلام سے اِن نو جوان مہمانوں کے بارے میں یہ مانگ کر نے لگے کہ اِن نوجوانوں کو ہمارے حوالے کردو۔آپ علیہ السلام اُنھیں سمجھا یا کہ دیکھویہ انتہائی گٹھیا اور غیر اخلاقی حرکت ہے ۔ تمھارے لئے بہتر یہ کہ تم اپنی قوم کی بیٹیوں سے نکاح کرو اور جائز طریقے سے جس کا اللہ تعالیٰ نے حُکم دیا ہے ۔ اُس طریقے سے فائدہ حاصل کرو۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے اور اُن کی قوم کو یہ خبر ملی کہ حضرت لوط علیہ السلام کے یہاں حسین و جمیل خوب صورت نوجوان لڑکے آئے ہیں ۔اُن کو یہ خبر حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نے دی تھی۔ اُس نے قوم سدوم سے کہا۔ میں نے اِس سے پہلے اتنے حسین اور خوب صور ت لڑکے نہیں دیکھے ہیں۔ اور وہ لوگ عورتوں کے بجائے مردوں سے اپنی شہوت پوری کرتے تھے۔ اور اُن سے پہلے کسی نے یہ خلاف فطرت کام نہیں کیا تھا۔ تو وہ دوڑتے ہوئے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے اور کہا ۔کیا ہم نے آپ علیہ السلام سے یہ نہیں کہا تھا کہ آ پ علیہ السلام کے پاس کوئی شخص نہیں آئے ۔اور اگر کوئی آیا ہے تو ۔ہم اُس سے بے حیائی کا کام کریں گے۔تب حضرت لوط علیہ السلام نے فر مایا ۔اے میر ے قوم کے لوگو۔ یہ میر ی قوم کی بیٹیاں ہیں۔ یہ تمھارے لئے پاکیزہ ہیں ۔میں اِن بیٹیوں سے نکاح کر نے کو اپنے مہمانوں کے فدیہ کے طور پر حُکم دیتا ہوں۔ اور آپ علیہ السلام کی دعوت یہ تھی کہ وہ حرام کام کو چھوڑیں اور حلال نکاح کرلیں ۔ حضرت سعید بن جبیر رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔یعنی قوم کی عورتوں سے نکاح کر لو جو اُن کی بیٹیا ں ہیں۔ اور وہ اُن کے نبی ہیں ، کیونکہ نبی اُمت کا باپ جیسا ہوتاہے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ سورہ احزاب میں ہے۔ترجمہ۔” اور نبی(صلی اﷲ علیہ وسلم) کی ازواج اُمت کی مائیں ہیں۔“ 

قومِ سدوم کی اخلاقی پستی

حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کوجب پوری قوم سدوم نے گھیر لیا اور مہمانوں کی مانگ کرنے لگے تو آپ علیہ السلام نے دروازہ بند کر لیا۔ اور اوپر بالا خانے (بالکنی یا ٹیرس) پر کھڑے ہو کر اپنی قوم کو سمجھانے لگے کہ اِس حرام کام کو چھوڑ کر تم عورتوں سے نکاح کر و اور جائز راستہ اپناﺅ۔ لیکن قوم سدوم انتہائی اخلاقی پستی میں گِر چُکی تھی ۔ اِن لوگو ں نے آپ علیہ السلام کو جو جواب دیا اُسکے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔تر جمہ ۔” اُنھوں نے (قوم سدوم کے لوگوں نے ) جواب دیا۔ آپ علیہ السلام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہمیں عورتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اور آپ علیہ السلام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری چاہت کیا ہے ؟ (سورہ ھود آیت نمبر 79) اِس آیت کی تفہیم میں مولانا مودودی لکھتے ہیں۔ یہ فقرہ اُن لوگوں کے نفس کی پوری تصویر کھنیچ دیتا ہے کہ کس قدر خباثت میں ڈوب گئے تھے۔ بات صرف اِس حد تک نہیں رہی تھی کہ وہ فطرت اور پاکیزگی کے راستے سے ہٹ کر ایک گندے اور خلاف فِطرت کے راستے پر چل پڑے تھے۔ بلکہ نوبت یہا ں تک پہونچ گئی تھی کہ اُن کی ساری رغبت اور دلچسپی اب اسی گندے راستے کی طرف ہی تھی۔ اُنہیں صِرف اُس گندگی کی ہی طلب رہ گئی تھی۔ اور وہ فطرت اور پاکیزگی کے اصل راستے کے متعلق یہ کہنے میں بھی شرم محسوس نہیں کر رہے تھے کہ یہ راستہ ہمارے لئے بنا ہی نہیں ہے۔ یہ اخلاق کے زوال اور نفس کے بگاڑ کی انتہائی پستی ہے کہ اِس سے زیادہ پستی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اُس شخص کا معاملہ تو بہت ہلکا ہے جو صرف نفس کی کمزروی کی وجہ سے حرام میں مُبتلا ہو جاتا ہے۔مگر حلال کو کرنے کے قابل اور حرام کو بچنے کے قابل چیز سمجھتا ہو۔ایسا شخص کبھی بھی سُد ھر سکتا ہے۔اور نہ بھی سُدھر ے تو تب بھی زیادہ سے زیادہ یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک بگڑا ہوا انسان ہے ۔ مگر جب کسی شخص کی ساری رغبت صرف حرام کی طرف ہوا ور وہ یہ سمجھے کہ حلا ل میرے لئے ہے ہی نہیں ۔تو اُس کا شمار انسانوں میں نہیں کیا جاسکتا ۔وہ دراصل ایک گندا کیڑا ہے جو غلاظت میں ہی پڑا رہتاہے۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ کا سہارا

حضرت لو ط علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھارہے تھے اور قوم ہے کہ گندگی پر اصرار کررہی تھی۔ آپ علیہ السلام کو اپنے نوجوان مہمانوں کی فکر تھی۔ آخر کا ر آ پ علیہ السلام اپنے آپ کو بے بس محسوس کر نے لگے ۔ اللہ تعالیٰ نے اِسکے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ تر جمہ ”لوط علیہ السلام نے کہا۔ کاش کہ مجھ میں تم سے مقابلہ کرنے کی قوت ہوتی۔ یا میں کسی زبردست کا سہارا لے لیتا۔“ (سورہ ھود آیت نمبر 80۔) حضرت قتادہ رحمتہ اﷲعلیہ (جلیل القدر تابعی) فر ماتے ہیں ہمیں یہ بتا یا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یہ آیت پڑھا کرتے تھے تو فرماتے تھے اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے۔بے شک وہ مضبوط سہارے کی پناہ لیتے رہے۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کے بعد جس نبی کو بھی بھیجا۔ اُسے اپنی قوم میں صاحب ثروت بنایا ہے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمھارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی اپنی قوم میں ثروت و سطوت کے ساتھ بھیجا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں کہ اِس آیت کی تفسیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ حضر ت لوط علیہ السلام کو اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔ سب کو اپنی قوم میں (اعلیٰ نسب ، مضبوط خاندان یا قبیلہ ) خوش حال اور صاحب مال بنایا۔ 

حضرت لوط علیہ السلام کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی۔

حضرت لوط السلام اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہے تھے۔ کیونکہ قوم سدوم کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کے مکان پر چاروں طرف سے حملہ کر دیا تھا۔اور دروازوں اور کھڑکیوں کو دھکے مارمار کر تو ڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے جب آپ علیہ السلام کی مدد کا ارادہ فرمایا تو جبرئیل علیہ السلام کو حُکم دیا کہ اب اپنے آپ کو ظاہر کردو۔ تب جبرئیل علیہ السلام نے حضرت لو ط علیہ السلام سے فرمایا کہ آپ علیہ السلام گبھرائیں نہیں ۔ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اِسکے بارے میں فرماتے ہیں۔ ترجمہ ۔”اب فرشتوں نے کہا۔ اے لوط علیہ السلام ، ہم آپ علیہ السلام کے پروردگار کی طر ف سے بھیجے ہوئے (فرشتے )ہیں ۔ اور اِن لوگوں کا آپ علیہ السلام تک پہنچنا ناممکن ہے۔“ (سور ہ ھود آیت نمبر 81۔) اللہ تعالیٰ نے سور ہ الحجر میں فر مایا۔ تر جمہ جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہونچے تو اُنھوں نے فر مایا۔ تم لوگ کچھ انجان سے معلوم ہورہے ہو۔ اُنھوں نے کہا۔ نہیں بلکہ ہم آپ علیہ السلام کے پاس وہ چیز (اللہ کا عذاب) لیکر آئے ہیں۔جس میں لوگ شبہ کررہے تھے۔ہم تو آپ علیہ السلام کے پاس حق لیکر آئے ہیں ۔اور ہم بالکل سچے ہیں ۔“(سورہ الحجرآیت نمبر 61 سے 64 تک۔)اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ۔”پھر جب ہمارے قاصد (فرشتے )لوط علیہ السلام کے پاس پہونچے ۔ تو وہ اُن کی وجہ سے غمگین ہوگئے ۔ اور دِل ہی دِل میں رنج کر نے لگے۔ تو قاصدوں نے کہا۔ آپ علیہ السلام گھبرائیے مت اور نہ ہی غمزدہ ہوں۔ ہم آپ علیہ السلام کو گھروالوں کے ساتھ بچا لیں گے۔ مگر آپ علیہ االسلام کی بیوی پر عذاب نازل ہوگا۔“(سورہ العنکبوت آیت نمبر 31 سے 33 تک۔)

عذاب کی شروعات ، قوم سدوم کو اندھا کردیا

اللہ تعالیٰ کے حُکم سے جبرئیل علیہ السلام نے حضرت لوط علیہ السلام کو تسلی دی ۔ اور عرض کیا کہ آپ علیہ السلام اُداس نہ ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اِس لئے بھیجا ہے کہ ہم قوم سدوم کو عذا ب دیں ۔اور آپ علیہ السلام کو اپنے گھروالوں کے ساتھ بچالیا جائے گا۔ لیکن آپ علیہ السلام کی بیوی عذاب کا شکار ہوگی۔ اِن کے درمیان یہ سب باتیں ہورہی تھیں کہ قوم سدوم کے لوگوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کو توڑدیا اور اندر داخل ہوگئے۔اور فرشتوں کو گھیرلیا۔اللہ تعالیٰ کے حُکم سے جبرئیل علیہ السلام نے اپنا پر مارا تو پوری قوم سدوم اندھی ہوگئی۔اللہ تعالیٰ نے سور ہ القمر میں فرمایا۔” بے شک (حضرت لوط علیہ السلام نے)اُنھیں ہماری پکڑ سے ڈرایا تھا۔ لیکن اُنھوں نے ڈرانے والوں میں (شک وشبہ اور )جھگڑا کیا۔اوراُن کو (حضرت لوط علیہ السلام کو ) اُن کے مہمانوں کے بارے میں پھسلایا۔ پس ہم نے اُن کی آنکھیں اندھی کردیں۔ (اور فرمادیا) میراعذاب اور میر ا ڈرانا چکھو۔“ (سور ہ القمر آیت نمبر ۶۳ اور ۷۳ ۔) حضرت حذیفہ بن یمان رضی عنہ فرشتوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات چیت ، اُسکے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے گھر مہمان بنے اور آپ علیہ السلام کی بد بخت بیوی کے قوم کو خبر دینے کے بارے میں تفصیل سے بتا نے کے بعد فرماتے ہیں۔پس وہ یعنی قوم سدوم دوڑتے ہوئے آپ علیہ السلام کے گھر پر آئے اور اُنھوں نے دروازوں اور کھڑکیوں کو دھکیلنا شروع کردیا۔یہاں تک کہ وہ آپ علیہ السلام پر عذاب آنے کے قریب ہوگئے ۔ توایک فرشتے نے اپنے پر کے ساتھ اُن پر دروازہ بند کر دیا۔اُ س وقت آپ علیہ السلا م نے بڑی بے بسی محسوس کی اور اللہ تعالیٰ سے بڑی حسرت سے فریاد کی تو اللہ تعالیٰ کے حُکم سے فرشتے نے عرض کیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔اور ایک فرشتے نے پر مارا تو قوم سدو م کا ہر فرد پر لگنے کی وجہ سے اندھا ہوگیا۔پس اُنھوں نے اندھے ہو کر اانتہائی تکلیف میں رات گذاری۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ جب قوم سدوم کے لوگ دروازوں کو توڑکر اندر داخل ہوگئے اور فرشتوں کے قریب پہونچ گئے تو جبرئیل علیہ السلام نے اُنھیں اپنا پر مارا۔تو وہ اند ھے ہو کر چلنے لگے۔اور ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔یہاں تک کہ جب وہ اُن لوگوں کے پاس پہونچے جو دروازے کے باہر تھے تو اُنھوں نے کہا۔ہم تمھارے پاس سب سے بڑے جادوگرکے پا س سے ہو کر آئے ہیں۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے مہمانوں کو گھر کے اندرلیکر دروازہ بند کردیا۔پس وہ (قوم سدوم) کے لوگ آئے اور دروازہ تو ڑ کر اندر داخل ہوگئے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے اُن کی آنکھوں پر اپنے پر سے ضرب لگائی تو اُن کی بینائی ختم ہوگئی یعنی وہ اندھے ہوگئے۔اُنھوں نے کہا ۔ اے لوط علیہ السلام ،تم ہمارے پاس جادوگر لیکر آئے ہو۔اور پھر وہ آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگے۔ 

اپنے گھروالوں کو لیکر نکل جائیں ۔

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے سب لوگ اندھے ہوچکے تھے۔لیکن یہ بدبخت پھر بھی آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دینے لگے تو آپ علیہ السلام نے خیال کیا کہ قو م کے لوگ کہیں نقصان نہ پہونچائیں ۔اِسی لئے آپ علیہ السلام نے فر مایا کہ نہ جانے کب صبح ہوگی تو جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا کہ صُبح بہت قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسکے بارے میں سورہ ھود میں فرمایا۔ترجمہ۔”اب فرشتوں نے کہا۔ اے لوط علیہ السلام ، ہم آپ کے پروردگار کی طرف سے بھیجے گئے ہیں ۔اور یہ ناممکن ہے کہ یہ لوگ آپ علیہ السلام تک پہونچ جائیں۔پس آپ علیہ السلام اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے۔(یعنی صبح صادق کے وقت )لیکر اِس علاقے سے کافی دور نکل جانا۔ اور آپ سب لوگوں میں کسی کو بھی پیچھے مڑکر دیکھنا نہیں چاہیئے،سوائے آپ علیہ السلام کی بیوی کے ۔ اس لئے کہ اُسے بھی وہی (عذاب) پہونچنے والاہے ۔جوان سب کو( قوم سدوم) کو پہونچنے گا۔یقینااُس وعدے کے وقت صُبح کا ہے کیا صبح بالکل قریب نہیں ہے۔“(سورہ ھود آیت نمبر81۔) قوم سدوم کے لوگ اندھے ہوگئے تھے۔شروع میں تو اُنھوں نے اسے جادو سمجھا،اور آپ علیہ السلام کو دھمکی دینے لگے۔لیکن جیسے جیسے رات گزرتی جا رہی تھی ،ویسے ویسے اُن کی سمجھ میں آتا جارہا تھا کہ اُن لوگوں پر کوئی جادووغیر ہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ تو اُسی عذاب کی شروعات لگتی ہے جسکے بارے میں حضرت لوط علیہ السلام سمجھارہے تھے۔اب قوم سدوم کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کے مہمانوں کا خیال اپنے دِل سے نکال دیا تھا۔اور اُنھیں اپنی آنکھوں کی فکر لگ گئی تھی۔اِسی لئے سب لوگ واپس چلے گئے۔جبرائیل علیہ السلام نے حضر ت لوط علیہ السلام کو سمجھایا کہ جب رات کا کچھ حصہ باقی رہ جائے گا تو آپ علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لیکر یہاں سے نکل جانا اور ہم لوگ صبح ہوتے ہی عذاب دینے لگ جائیں گے۔اور تم میں سے کوئی بھی کسی بھی قسم کی آواز سننے کے باوجود پیچھے مڑ کر نہیں دیکھنا۔

بیوی نہیں بچے گی۔

حضرت لوط علیہ السلام کو فرشتوں نے تسلی دی۔علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔کہ اُن کی یعنی حضرت لوط علیہ السلام کی افسردگی ،کامل ملال اور سخت تنگ دِلی کے وقت فرشتوں نے اپنے کو ظاہر کر دیا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ہم تک یا آپ علیہ السلام تک نہیں پہونچ سکیں گے۔آپ علیہ السلام رات کے آخری حصّے میں اپنے اہل وعیال کو لیکر یہاں سے نکل جائیے۔ خود اِن سب کے پیچھے رہیئے اور سیدھے اپنی راہ چلے جائیے۔قوم والوں کی آہ وبکا پر اور اُن کے چلاّنے کی آواز سُنکر بھی کوئی بھی پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھنا۔پھر اِس اثبات سے حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کا استثناءکرلیا۔کہ وہ اِس حُکم کی پابند ی نہیں کرسکے گی۔وہ عذاب کے وقت کی ہائے اور تکلیفوں کی آواز سُنکر مڑکر دیکھے گی۔ اس لئے کہ رحمانی قضامیں اُس کا بھی ان کے (قوم سدوم کے ) ساتھ ہلاک ہونا طے ہوچکاہے۔کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی بیوی بھی یہاں سے نکلنے میں آپ علیہ السلام کے ساتھ تھی لیکن عذاب کے نازل ہونے پر قوم کا شور سُن کر صبر نہیں کر سکی۔اور مڑکر اپنی قوم کی طرف دیکھا (اور اُن کی خراب حالت دیکھ کر بولی) اور اُس کی زبان سے نکل گیا کہ ہائے میری قوم ، اُسی وقت اوپر سے ایک (گندھک اور تیز ابیت سے بھراہوا) پتھر آیا اور اُسے لگا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگئی۔( یعنی جل کر راکھ ہوگئی ہوکر پگھل گئی) آ پ علیہ السلام کی تشفی کے لئے فر شتوں نے اِس بد بخت قوم کی ہلاکت کا وقت بھی بیان کر دیا کہ صبح ہوتے ہی اِس خبیث قوم کو تباہ کر دیا جائے گا۔ اور صبح بالکل قریب ہے۔مولانا مفتی محمد شفیع اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ فرشتوں نے جب حضرت لوط علیہ السلام کا یہ اضطراب دیکھا تو حقیقت کھول کر بتا دی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ۔ آپ علیہ السلام دروازہ کھول دیں۔اب ہم اِن کو عذاب کا مزہ چکھاتے ہیں۔دروازہ کھولا تو جبرائیل علیہ السلام نے اپنے پر کا اشارہ اُن کی آنکھوں کی طرف کیا تو سب لوگ اندھے ہوگئے اور واپس بھاگنے لگے۔اُس وقت فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حُکم سے حضرت لوط علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ علیہ السلام رات کے آخری حِصّے میں اپنے اہل وعیال کو لیکر یہاں سے نکل جائیں ۔ اور سب کو یہ ہدایت کر دیں کہ اِن میں سے کوئی بھی پیچھے مُڑکر نہیں دیکھے ۔سوائے آپ علیہ السلام کی بیوی کے ۔کیونکہ اُس پرتو وہی عذاب آنے والا ہے جو اس قوم پر آئے گا ۔ اسکے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ بیوی کو ساتھ نہ لیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیوی ہونے کی وجہ سے وہ آپ علیہ السلام کے گھروالوں کے ساتھ چلے گی مگر وہ آپ علیہ السلا م کے حکم پر عمل نہیں کر ے گی۔بعض روایات میں آیا کہ یوں ہی ہوا کہ یہ بیوی بھی ساتھ چلی گی مگر جب قوم پر عذاب آنے کا دھماکہ سُنا تو پیچھے مڑ کر دیکھا اور قوم کی تباہی پر افسوس کا اظہار کر نے لگی۔اُسی وقت ایک پتھر آیا جس نے اُسکا بھی خاتمہ کردیا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام اور گھر والوں کو بچالیا۔

اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام نے قوم سدوم کے لوگوں کو اندھا کردیا۔ پوری قوم اندھی ہوچکی تھی۔قوم سدوم پر اللہ کے عذاب کی شروعات ہوچکی تھی ۔جب رات کا آخری پہر شروع ہو اتو فرشتوں نے آپ علیہ السلام سے عرض کیا ۔ اب آپ علیہ السلام اپنے اہل بیت (گھر والوں ) کو لیکر نکل جائیں اور صبح ہونے تک آپ لوگ محفوظ مقام پر پہونچ چکے ہوں گے ۔ تب ہم اِس بد بخت قوم پر عذاب کی شروعات کریں گے۔حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھروالوں کو لیکر اپنے مکان سے نکلے تو قوم سدوم کو بہت تکلیف میں مُبتلا پایا۔ہر طرف اندھے دکھائی دے رہے تھے۔جو ٹٹول ٹٹول کر چل رہے تھے۔آپ علیہ السلام تیزی سے اپنے اہل بیت کو لیکر اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف روانہ ہوئے۔اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے زمین لپیٹ دی تھی۔اور سفر تیز ی سے طے ہورہاتھا۔امام قرطبی لکھتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے کہا کہ حضرت لوط علیہ السلام طلوع فجر کے وقت اپنے گھروالوں کو لیکر نکلے۔تو فرشتوں نے عرض کیا ۔کہ اللہ تعالیٰ نے یہ پورا علاقہ (جو پانچ بستیوں پر مشتمل تھا۔) اُن فر شتوں کے سُپرد فرمادیاہے۔جن کے ساتھ بادلوں کے جیسے کی آواز بجلی کا کو ند نا اور دوزخ کی بھڑکنے کی کڑکڑاہٹ ہے۔اور ہم نے اُن کو یعنی فرشتوں کو کہہ دیا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نکل رہے ہیں۔لہذا اُنھیں تم کوئی تکلیف نہیں دینا۔اور اے حضرت لوط علیہ السلام ، جو کچھ آپ علیہ السلام اور گھروالے دیکھیں گے اُسے دیکھ کر خوف میں مُبتلا نہیں ہونا۔بلکہ خاموشی سے اور تیزی سے آگے بڑھتے چلے جانا پس حضرت لوط علیہ السلام باہر نکلے تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی خاطر زمین کو لپیٹ دیا۔یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں کے ساتھ نجات حاصل کرلی ۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہونچ گئے۔

اللہ کی مد د

اللہ تعالیٰ نے لوط علیہ السلام اور اُن کے گھر والوں کو بچالیا۔اِس بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ترجمہ۔” ہم نے لوط علیہ السلام کو ااور اُن کے گھروالوں کو بچالیا۔ سوائے اُن کی بیوی کے کہ وہ اُن ہی لوگوں میں رہی جن کو عذاب دیا گیاتھا۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر 83۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیا ءمیں فر مایا۔ تر جمہ ” ہم نے لوط علیہ السلام کو بھی حکم اور علم دیا اور اُسے اُس بستی سے نجات دی ۔جہاں کے لوگ گندے کاموں میں مُبتلا تھے۔ اور وہ تھے بھی بہت بد ترین گنہ گار ۔اور ہم نے لوط علیہ السلام کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔بے شک وہ نیک لوگوں میں سے تھا۔“ (سورہ الابنیا ءآیت نمبر 74 اور 75۔) اللہ تعالیٰ نے سور ہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ۔”(حضرت لوط علیہ السلام نے دعا کی ۔) اے میرے پر وردگار، مجھے اور میر ے گھر انے کو اِس (وبال) سے بچالے جو یہ کررہے ہیں۔ بس ہم نے اُسے اور اُسکے گھر انے والوں کو سب کو بچالیا ۔سوائے ایک بڑھیا کے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوگئی ۔“ (سورہ الشعراءآیت نمبر 69سے 71 تک۔)اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا ، ترجمہ ۔ ”پس ہم نے اُسے اور اُسکے گھر والوں کو سوائے اُسکی بیوی کے سب کو بچالیا۔ اس کا اندازہ تو باقی رہ جانے والوں میں ہم لگاہی چکے تھے۔“(سورہ النمل آیت نمبر 57) اللہ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا ۔” بے شک لوط علیہ السلام پیغمبروں میں سے ہیں ۔ہم نے اُن کو اور اُن کے گھروالوں کو نجات دی۔سوائے اس بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں رہ گئی ۔“(سورہ الصافات آیت نمبر 133سے 135 تک۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا۔ترجمہ ۔”پس جتنے ایمان والے وہاں تھے ہم نے اُنھیں نکال لیا۔ اور ہم نے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک ہی گھر پایا۔“ (سورہ الذاریات آیت نمبر 35 اور 36۔) حضرت لوط علیہ السلام کی بستیوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بستی بارہ میل (یعنی لگ بھگ 25 پچیس کلو میڑ،) کے فاصلے پر تھی ۔اور آپ علیہ السلام فجر طلوع ہونے تک لگ بھگ آدھا راستہ طے کر چکے تھے۔

بیوی عذاب کا شکار ہوگئی

حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں کو لیکر تیز ی سے اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف رواں دواں تھے۔اور لگ بھگ آدھے سے زیادہ راستہ طے کر چکے تھے کہ فجر طلوع ہوئی اور فرشتوں نے عذاب کی شروعات کردی ۔ سن سے پہلے اِن پانچوں شہروں کو اُٹھا کر پلٹ دیا اور اُن کے اوپر کیمیائی پتھروں کی بارش کر دی ۔یہ بارش اتنی شدید تھی کہ کئی میل دور حضرت لوط علیہ السلام تک پہونچ رہی تھی۔مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں۔حضرت لوط علیہ السلام چل پڑے اور بستی سے کافی دور آکر ایک پہاڑی پر بیٹھے تہجد کا وقت تھا اور آپ علیہ السلام اور گھر والے ذکر الٰہی میں مشغول تھے۔اور بیوی غفلت میں پڑی رہی اُسے اپنی قوم کی فکر تھی۔ جب فجر طلوع ہوئی تو عذاب نازل ہوگیا۔آپ علیہ السلا م اپنے اہل بیت کو لیکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف چل پڑے ۔ بیوی پیچھے پیچھے قوم کی یادلئے ہوئے آرہی تھی۔ہواﺅں اور پتھروں کی شائیں شائیں برابر آرہی تھی۔ بیوی نے اچانک مڑکر دیکھا اور مرتے ہوﺅں کو دیکھ کر بولی ۔ ہائے میر ی قوم ، بس ایک پتھرآیا اور اُسے لگا اور اُس کا کام تمام ہوگیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بستی حالانکہ چھ میل کے فاصلے پر تھی ، مگر اللہ تعالیٰ نے یہ سفر آن کی آن میں پورا کرا دیا اور آپ علیہ السلا م خیریت سے چچا کے پاس پہونچ گئے۔ 

قومِ سدوم کی بستیوں کو پلٹ دیا گیا

اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پھر جب ہمارا حُکم (عذاب) آپہونچا۔تو ہم نے اس بستی کو زیر وزبر دیا۔اوپرکا حصّہ نیچے اور نیچے کا اوپرکردیا۔“ (سورہ ھود آیت نمبر 82۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ النجم میں فرمایا ؛ترجمہ”اورموئتفکہ(اُلٹی ہوئی بستیوںیا شہروںکو)اُسی نے اُلٹ دیا۔“(سورہ النجم آیت نمبر 53)اﷲتعالیٰ نے فرشتے یافرشتوں کو حُکم دیاکہ قوم سدوم کے پانچوں شہر یا بستیاں اُٹھا کر پلٹ دی جائیں ، روایات میں جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام کے نام آئے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اِن دونوں فرشتوں نے قوم سدوم کے علاقے کو پلٹ ہو یا پھر اِن دونوں میں سے کسی ایک فرشتے نے پلٹاہو۔ اب حقیقت کیا ہے اِسکا عِلم صِرف اللہ تعالیٰ کوہی ہے ۔ یہاں ہم دونوں طرح کی روایات پیش کررہے ہیں۔حضرت مجاہد رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) سے مروی ہے کہ میکائیل علیہ السلام نے اپنا پروں پر قوم سدوم کے گھروں ،سامان ،چوپایوں اور ہر قسم کے سامان کو اُٹھالیا یہاں تک کہ آسمان والوں نے اُن کے کتوں کے بھونکنے کے آواز سُنی اور پھر اُنھیں زمین پر پٹک دیا۔ حضرت مجاہد سے دوسر ی روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے دائیں بازو پر اُٹھایا۔ حضرت مجاہد سے تیسری روایت میں ہے کہ جب صبح کا وقت ہو ا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس بستی کو چاروں کو نوں سے اپنے پروں پر اُٹھالیا۔ حضرت مجاہد سے چوتھی روایت میں ہے کہ جبر ائیل علیہ السلام نے اپنے پروں پر ساری بستیوں کو اُٹھالیا اور پھر اتنی اوپر لے گئے کہ پہلے آسمان کے فرشتوں نے اُن کے کتوں کے بھونکنے کی آواز سُنی ۔ پھر اُنھیں نیچے پٹک دیا۔ اور اُن کے بڑے لوگ یعنی سردار پہلے نیچے گرائے گئے ۔ حضرت قتادہ رحمتہ اللہ علیہ (جلیل القدرتابعی ) سے مروی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے درمیا ن سے بستی کو اُٹھایا اور اتنی اوپر اُٹھایاکہ پہلے آسمان پر رہنے والوں نے اُن کے کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی ۔ پھر اُنھیں ایک دوسرے پر ڈال کر نیچے پٹک دیا۔اُس وقت اس بستی میں چار لاکھ سے زیا دہ افراد تھے۔اور یہ بھی روایت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے شہر الخلیل سے عذاب کا یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ زیادہ تر روایات یہ ہیں کہ جبرئیل علیہ السلام نے اِن شہر وں کو پلٹ دیا۔

بنیادوں سے اُکھاڑکر پلٹ دیاگیا

اللہ تعالیٰ نے جتنا بھیانک عذاب قومِ سدوم(قوم لوط ) کو دیا۔ اُتنا کسی قوم کو نہیں دیا۔ پہلے تو اُنھیں اندھا کردیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام نے اپنا پر مارا تو قوم کے تمام لوگ اندھے ہوگئے اور رات بہت تکلیف سے گذاری کیونکہ ایک روایت میںیہ بھی ہے اُن کی آنکھیں پھوٹ گئیں یا بہہ گئیں یا پھر باہر نکل گئیں ۔ ابھی قوم کے لوگوں کو اِس تکلیف سے راحت نہیں ملی تھی کہ فجر طلوع ہوتے ہی جبرئیل علیہ السلام نے اِن شہروں پر حملہ کیا اور اُنھیں اُن کی بنیادوں سے ہلا دیا۔ پھر اپنا پر ان کے نیچے داخل کیا۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام نے جبرئیل علیہ السلام کو اصل شکل میں دیکھا ہے۔ اُن کے پر اتنے بڑے بڑے ہیں کہ دوپر سے پوری زمین ڈھک جائے گی۔) اور اُنھیں (پانچوں شہروںکو) اور اُن میں موجود ہر شئے کے ساتھ اُٹھالیا۔ اور اتنی اوپر لے گئے کہ پہلے آسمان والوں نے اِن شہروں کے مرغوں کی بانگ اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سُنی ۔ اِسکے بعد اِن تمام شہروں کو پلٹ دیا اور اِتنی تیزی سے لاکر پٹخاکہ وہ پانچوں شہر چار سو 400 میڑ گہرائی میں چلے گئے۔ اور جہاں قوم ِسدوم کے پانچ شہر تھے وہاں چارسو میڑ گہرا گڑھا بن گیا۔ اِن میں سب سے پہلے نیچے گرِے وہ ان کی بالا خانے تھے۔ اور کسی قوم کو وہ عذاب نہیں دیا گیاجو اُنھیں دیاگیا تھا۔پہلے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی آنکھوں کی ضائع کردیا۔ پھر اُن کی بستیوں کو اُلٹا کردیا۔ اور پھر اُن پر آگ سے پکے ہوئے پتھر برسائے ۔ ایک روایت میں ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نے قوم ِسدوم کے شہر وں کے نیچے کی زمین کو اُکھیڑا اور پھر اُسے اُٹھا کر آسمان تک لے گئے او رپھر نیچے پٹک دیا۔ اور پھر اُن پر گندھک اور آگ برسائی ۔ 

قوم سدوم پر پتھروں کی بارش

اللہ تعالیٰ نے سور ہ اعراف میں فرمایا۔ترجمہ۔”اور ہم نے اُن پر کئی طرح کا مینہ (بارش) برسایا۔ پس دیکھو تو سہی اِن مجرموں کا انجام کیساہوا؟“ (سورہ الاعراف آیت نمبر 84۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ ھود میں فرمایا۔ ترجمہ ۔”اور اُن پر کنکریلے پتھر برسائے جو تہ بہ تہ تھے اور تمھارے رب کی طرح سے نشان لگے ہوئے تھے۔اور وہ اِن ظالموں سے کچھ بھی دور نہیں تھے۔“(سورہ ھود آیت نمبر 82 اور 83۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ۔”پھر ہم نے باقی اور سب کو ہلاک کردیا۔اور ہم نے اُن پر ایک خاص قسم کا مینہ (بارش) برسایا۔ پس بہت ہی بُرا مینہ تھا جو ڈرائے گئے ہوئے لوگوں پر برسا۔ اِس واقعہ میں بھی سراسر عبرت ہے۔اوران میں سے اکثر مسلمان نہیں تھے۔ بے شک تمھارارب ہی غلبے والا اور مہربانی والاہے۔“ (سورہ الشعراءآیت نمبر 172سے 175 تک۔) اللہ تعالیٰ نے سورہ نمل میں فرمایا۔ ترجمہ۔ ”اور اِن پر ایک (خاص قسم کی )بارش برسادی۔ بس اِن دھمکائے ہوئے لوگوں پر بُری بارش ہوئی۔“ (سور ہ النمل آیت نمبر 58۔)اللہ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا۔ ترجمہ ۔” ( حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ) کہا کہ اے اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو، تمھارا کیا مقصد ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم گنہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔ تاکہ ہم اِن پر مٹی کے کنکر برسائیں ۔ جو تمھارے رب کی طرف سے نشان لگائے ہوئے تھے۔ اُن حد سے گذرجانے والوں کے لئے ۔(سورہ الذاریات آیت نمبر 31 سے 34 تک۔)

قوم سدوم پر کئی طرح کا عذاب

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر کئی طرح کے عذاب آئے ۔ مولانا عاشق الہٰی لکھتے ہیں۔ جب صبح ہوئی تو اللہ کاحکم آگیا۔ جو فرشتے عذاب کے لئے بھیجے گئے تھے اُنھوں نے اِن بستیوں کا تختہ اُٹھا کر پلٹ دیا۔ نیچے کی زمین اوپر اور اوپر کی زمین نیچے ہوگئی ۔ وہ سب لوگ اِس میں دب کر مرگئے ۔اور اللہ تعالیٰ نے اوپر سے پتھر بھی برسادیئے جو کنکرکے پتھر تھے۔ وہ لگاتا ر برس رہے تھے۔ اور ان پرنشان بھی لگے ہوئے تھے۔ بعض علمائے تفسیر نے فرمایا ہے ہر پتھر جس شخص پر پڑتا تھا اُس پراُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا۔ اِسی کو ”مسومة‘ ‘ یعنی نشان لگا ہوا فرمایا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جو لوگ اِس علاقہ میں موجود تھے اُن پر زمین اُلٹنے کا عذاب آیا اور جو اِدھر اُدھر نکلے ہوئے تھے یعنی تجارتی سفروغیرہ تو اُن پر پتھر برسے اوروہ پتھر وں کی بارش سے ہلاک ہوئے ۔ حضرت مجاہد تابعی رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا ۔ کیا قوم لوط میں سے کوئی رہ گیا تھا۔ تو اُنھوں نے جواب دیا کوئی باقی نہیں رہ گیا تھا۔ہاں ایک شخص زندہ بچ گیا تھا۔جو مکہ مکرمہ میں تجارت کے لئے گیا ہو اتھا۔ وہ چالیس دِن کے بعد مکہ مکرمہ سے باہر نکلا تو اُسے بھی پتھر آکرلگا جسکی وجہ سے وہ ہلاک ہوگیا ۔ سورہ حجرمیں زمین کا تختہ الٹنے کا تذکرہ کرنے سے پہلے یہ بھی فرمایا کہ ”سورج نکلتے نکلتے اُنھیں چیخ نے پکڑلیا۔ “ اِس سے معلوم ہوا کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر تین طرح کا عذاب آیا۔ پہلے چیخ نے پکڑا پھر زمین کا تختہ پلٹ دیا گیا اور پھر اُن پر پتھر برسائے گئے۔

ایٹم بموں جیسے پتھروںکی بارش۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قوم ِسدوم پر کئی طرح کی بارش کی گئی ہے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ سورج نکلنے کے وقت اُن پر عذاب آگیا اور اُن کی بستیاں سدوم سمیت تہہ وبالاہوگئیں ۔عذاب نے اوپر تلے اُنھیں ڈھانک لیا۔آسمان سے پکی ّ مِٹی کے پتھر اُن پر برسنے لگے ۔ جو سخت وزنی اور بہت بڑے بڑے تھے۔صحیح بخاری میں ہے کہ سجین اور سجیل دونوں ایک ہی ہیں ۔ منضود سے مراد پے درپے ،تہہ بہ تہہ ، ایک کے بعدایک (یعنی لگاتار)ہیں ۔ اِن پتھروں پر قدرتی طور سے اُن لوگوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ جس کے نام کا پتھر تھا اُسی پر گرِتاتھا۔ وہ پتھرطوق کی طرح تھے اور سرُخی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ (یعنی آگ میں نکلے ہوئے سرخ سرخ انگاروں کی طرح تھے اور جس پر جہاں پڑتے تھے وہ وہیں سے جلنا اورپگھلنا شروع ہوجاتاتھا۔) یہ اِن (پانچوں شہروں کے ) شہریوں پر بھی برسے اور جولو گ گاﺅں گوٹھ میں تھے اُن پر بھی گرِ ے۔ اِن میں سے جو جہاں تھا وہیں پتھروں سے ہلاک کر دیا گیا۔ کوئی کھڑا کسی سے باتیں کر رہا تھا کہ وہیں آسمان سے پتھر آیا اوراُسے ہلاک کر گیا ۔غرض یہ کہ اُن میں سے ایک ابھی نہیں بچا۔ مذکو رہے کہ قوم سد وم کی چار بستیاں تھیں اور ہر بستی کی آبادی ایک لاکھ سے ذیادہ تھی۔ 

موتفکات۔

اللہ تعالیٰ نے اِس بدبخت قوم کی اُلٹی ہوئی بستیوں کو ”مو¿تفکات“اور مو¿تفکہ “فرمایاہے۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔پھر اس عذاب کا واقعہ قرآن پاک میں (اللہ تعالیٰ ) نے اس طرح بیان فرمایاہے۔ کہ جب ہمارا عذاب آگیا تو ہم نے اِن بستیوں کے اوپر کا حصّہ نیچے کر دیا اور ان پر ایسے پتھر برسائے جن پر ہر ایک کے نام کی علامت لکھی ہوئی تھی۔روایات میں ہے کہ یہ چار بڑے بڑے شہر تھے جن میں یہ لوگ بستے تھے، انھی بستیوں کو قرآن پاک میں دوسری جگہ ”موتفکات “ کے نام سے فرمایا گیاہے۔ جب اللہ تعالیٰ کا حُکم ہوا تو جبرئیل امین نے اپنا پر اِن سب شہروں کی زمین کے نیچے پہنچا کر سب کو اس طرح اوپر اُٹھا لیا کہ ہر چیز اپنی جگہ پر رہی ۔ پانی کے برتن سے پانی بھی نہیں گرِا۔اور آسما ن کی طرف سے کتوں اور جانوروں اورانسانوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔ اِن سب بستیوں کوآسما ن تک سیدھااُٹھانے کے بعد اوندھا کر کے پٹخ دیا گیا جو اِن کے عمل خبیث کے مناسب حال تھا۔ مفتی احمد یارخان نعیمی لکھتے ہیں ۔کہ پس جب ہمارا عذاب صبح کے مقررہ وقت پر آگیا تو ہم نے اپنی پوری قدرت کا ملہ سے بذریعہ¿ ملائکہ (فرشتوں ) کے ذریعے اِن کو الٹا کر دیا۔ کہ اِس طرح جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر ان پانچ شہروں والے صوبے کواٹھایا اور بلند یوں پر لے جاکر اُلٹا کر نیچے پھینک دیا۔کہ نیچے کی جگہ اوپر اور اوپر کی جگہ نیچے ہوگئی ۔قوم لو ط یعنی قو م سدوم کی تعداد چار لاکھ سے ذیادہ تھی۔ جو قریبی پانچ شہر وں میں آباد تھی۔اس صوبے کا نام ”مو¿تفکات “ تھا۔اِن میں سب سے بڑا شہر سدوم تھا۔ یہیں حضرت لوط علیہ السلا م رہائش پذیر تھے۔ کوئی بھی ایمان نہیں لایا تو پانچوں بستیاں اُلٹادی گئیں ۔ اور ساتھ ہی ہم نے اِن بستیوں پر پتھر برسائے جو کھردرے تھے ۔ یعنی سارے پتھروں کی حالت کھردری نوک دار تھی۔چکنے اور صاف پتھر نہیں تھے۔ کیونکہ چکنے اور صاف پتھر کی چوٹ سے کم زخم لگتے ہیں ۔ اور برسائے بھی اس طرح پے درپے کہ موسلا ھار بارش کی طرح برسائے ۔اور اللہ کی قدرت دیکھئے کہ اِن پر ہر مجرم کا نام لکھا ہواتھا۔ اور وہ اُسی کو لگتا تھاجس کا نام لکھا ہواتھا۔ اے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم ، وہ پتھر یاوہ عذاب یاوہ پتھروں کی لکھائی آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تھی۔اِن پتھروں سے کوئی کا فر نہیں بچ سکا۔ جو باہر سفر میں تھے اُن کو سفر میں ہی جالگا اور وہیں ہلاک کردیا۔ روایت ہے کہ ایک کافر حرم کعبہ میں چھپ گیا تو اُس کے نام کا پتھر چالیس دن تک زمین اور آسمان کے درمیان لٹکا دیا۔ جب وہ مطمئن ہوکر حرم پاک (مکہ مکرمہ) سے نکلا تو وہ پتھر لگا اور وہ مرگیا۔ 

کیمیائی پتھروں کی بارش

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر پتھروں کی بارش کی۔ وہ کوئی عام پتھر نہیں تھے۔ بلکہ اِن بد بختوں پر اللہ تعالیٰ نے کیمیائی پتھروں کی بارش کی ۔ مولانا سیدابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں ۔ غالبا ً عذاب ایک سخت زلزلے اور آتش فشانی انفجار کی شکل میں آیا تھا۔ زلزلے نے اِن کی بستیوں کو تل پٹ کردیا اور آتش فشاں مادے کے پھٹنے سے اُن کے اوپر پتھر اﺅ ہوا۔ پکی ہوئی مٹی کے پتھروں سے مُراد شاید وہ متحجرمٹی ہے جو آتش فشانی علاقے میں زیر زمین حرارت اور لاوے کے اثر سے پتھرکی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ آج تک بحر لوط کے جنوب اور مشرق کے علاقے میں اِس انفجار کے آثار ہر طرف نمایاںہیں ۔ اور ہر ہر پتھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نامزد کیا ہوا تھا کہ اُسے تباہ کاری کا کیاکام کرنا ہے۔اورکس مجرم پر پڑنا ہے۔ یہ پکی ہوئی مٹی کے پتھر ممکن ہے کہ شہاب ثاقب کی نوعیت کے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آتش فشانی انفجار کی بدولت زمین سے نکل کر اُڑے ہوں اور پھر اُن پر بارش کی طرح برس گئے ہوں ۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک سخت آندھی نے پتھراﺅ کیاہو۔ایک ایک پتھر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب کی طرف سے نشان لگادیا گیا تھا کہ اُسے کس مجرم کی سرکوبی کرنا ہے۔سورہ ھود اور سورہ حجرمیں اس عذاب کی تفصیل یہ بتائی گئی کہ اُن کی بستیوں کو تلپٹ کردیا گیا اور اوپر سے پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔ اس سے یہ تصور کیا جاسکتا ہے شدید زلزلے کے اثر سے پورا علاقہ اُلٹ دیا گیا اور جو لوگ زلزلے سے بچ کر بھاگے اُن کو آتش فشاں مادّے کے پتھروں کی بارش نے ختم کردیا۔

قوم سدوم پر چار طرح کا عذاب 

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر چار طرح کا عذاب دیا۔1)اندھے ہونے کا۔2) دہشت ناک چنگھاڑ۔ 3) زلزلے کا۔4) پتھروں کی بارش کا ۔ لیکن اکثر علمائے کرام نے تین طرح کے عذاب کا ذکر کیاہے۔مفتی احمد یا رخان نعیمی لکھتے ہیں۔ حضرت لوط علیہ السلام سے اپنا تعارف کرایا اور اپنے پاس بلالیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اجتماع (قوم ِسدوم ) کی طرف انگلی لہرادی۔اچانک سب اندھے ہوگئے اور تن بدن میں جلن سی پڑگئی ۔ بس پھرکیا تھا ساری شہوت فنا ہوگئی اور چیختے چلاتے پیچھے بھاگے کہ ہائے مرگئے۔ارے یہ مہمان تو جادوگر ہیں ۔یہ عصر اور مغرب کا درمیانی وقت تھا۔رات کو صبح تک جوہوا سوہوا۔ اسکے بعد آگے لکھتے ہیں۔کہ رات بھر یہ لوگ درد اور اندھے پن سے چیختے چلاّتے اور تڑپتے رہے۔فیصلہ کے مطابق فجر کے وقت پہلے چیخ اور انتہائی ڈر اور کٹرک آئی ۔ جس سے مردوں کے پتے پھٹ گئے اور بچے اور جانور اور عورتیں ہلاک ہوگئے ۔ کیونکہ بدکاری کا عذاب صِرف مردوں کو ملنا تھا۔اور کفر کا عذاب عورتوں کو بھی ۔ اُس وقت مشرق سے فجر طلوع ہورہی تھی۔ یہ عذاب طلوع فجر کے وقت سے شروع ہوا اور کی اشراق کے وقت اَسکی انتہائی ہوئی ۔ پھر بنادیا ہم نے اِس پوری بستی کی آبادی کے اوپر کو نیچا یا اسی چیخ کے ذریعے کہ چیخ کی ہولنا کی سے زلزلے کی شکل ہوئی ۔ زمین شدت سے کا نپی اور پھٹ گئی ۔ اور تمام عمارات بڑی بڑی مضبوط پختہ پتھر یلی حویلیاں اور قلعے آن واحد میں زمین بوس ہوگئے ۔ یا چیخ کے بعدقدرتی زلزلہ آیا۔ یا جبرئیل علیہ السلام نے اُتنی زمین کو اُٹھا کر اُلٹا کردے مارا ۔ مگر پہلا قول ذیادہ درست ہے۔اِس لئے کہ ان کے قوم سدوم کے تین بڑے جُرم تھے۔ 1) کفر ۔2)نبی علیہ السلام کی گستاخی ۔3) بد فعلی ۔ اس لئے ترتیب سے ان پر تین عذاب آئے ۔1) دھشت ناک چنگھاڑ۔2)زلزلہ لیکن ابھی مرے نہیں تھے۔3) پتھروں کی بارش اور ہر پتھر پر نام لکھاتھا اُسی کو لگا۔ اور پتھر وہ تھے جو مٹی کو پکاکر پکاکر بنائے گئے تھے۔ اور یہ سب قدرتی تھا۔ یہ بارش بھی قدرتی تھی فرشتوں کے ہاتھوں سے نہیں تھی۔ اگر جبرئیل علیہ السلام بستی کو اُٹھاکر اُلٹا تے تو پھر پتھر برسنے سے پہلے ہی سب مر جاتے اور پتھر اﺅ بیکار ہوجاتا۔اور یہ پتھریلی بارش عام تھی۔ یہاں تک کہ جو جہاں تھا۔ بستی میں یا باہر یا جنگل میں یا سفر میں وہیں جاکر پتھر اُس کو لگا۔ جس پتھر پر حضرت لوط علیہ السلا م کی بیوی کا نام لکھا تھا۔ وہی اُسے جاکر لگا اور ہلاک کردیا۔ چیخ سے بچے ،بوڑھے اور عورتیں مرے ۔زلزلے سے گھر ٹوٹے اور پتھریلی بارش سے بدکارمرے ،اور منٹوں میں تباہی نے نام ونشان مٹاکر عبرت کےلئے نشانی قائم کردی۔

قوم سدوم پر عذاب سائنسی نظر یہ سے۔

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر عذاب بھیجا۔ سائنسی نظریہ سے یوں ہوا تھا کہ اُس پورے علاقے پر ایک بہت زبردست زلزلہ آیا۔ اور زلزلہ اِس لئے آیا کہ وہاں اندر جو لاوا بہت زیادہ شدت سے اُبلنے لگا۔ جس سے بہت شدید چنگھاڑ کی آواز پیدا ہوئی اور وہ پورا علاقہ مسلسل لرزنے لگا۔ اِسکے بعد قوم سدوم کی پانچوں بستیاں جس زمین پرتھی وہ زمین پوری طاقت سے زمین سے ٹوٹ کرالگ ہوئی اور بھک سے اُڑگئی ۔اور اُڑ کر خلا ءمیں بہت دور تک گئی ۔پھر زمین کی کشش ثقل نے اُسے دوبارہ اپنی طرف کھنیچ لیا۔ اور جس جگہ سے وہ حصّہ ٹوٹا تھا۔ وہاں شدت سے لاوااُبل رہاتھا اور وہیں کی کشش ثقل سب سے زیادہ تھی ۔ اسی لئے الگ ہوا زمین کا حصّہ پلٹ گیا اور تیزی سے اتنی تیزی سے اُسی جگہ واپس آیا اور ٹکرا یا کہ لاوے کے اندر چار سو میڑ تک دھنس گیا۔اورواپس ہوتے وقت جو لاوے کے فوارے جلتے ہوئے پتھر وں کی شکل میں اُڑرہے تھے۔ وہ بارش کی طرح قوم سدوم پر برس پڑے۔ یہ اِس طرح ہواکہ جب جبرئیل علیہ السلام نے قوم سدوم کے شہروں کے نیچے کی زمین کے نیچے اپنا پر گھُسا نا شروع کیا تو زبردست آواز اور زلزلہ پیدا ہوا۔ اُنھوں نے اُس علاقے کی زمین جتنی لاوے تک تھی ۔ وہ پوری اُکھا ڑلی۔ یعنی اپنا پَر وہاں گُھسا یا جہاں سخت زمین ختم ہوتی ہے اور لاواشروع ہوتاہے۔(زمین کی ساخت کو سمجھنے کے لئے ہمارا سلسلہ نمبر ۱ حضر ت آدم علیہ السلام پڑھیں ) اِس طرح اُس علاقے کی پوری سخت زمین جبرئیل علیہ السلام نے اُکھاڑی اور اوپر (یعنی خلاءمیں ) لیکر چلے تو لاوا پوری شدت سے جوش مار کر وہاں اُچھلنے لگا۔ جس کے نتیجے میں اُس علاقے کی زمین کا بچا کچا حصّہ پک کر پتھروں کی شکل میں اڑا۔ اور جب جبرئیل علیہ السلام نے وہ زمین کا ٹکڑا اُسی جگہ لاکر دھنسا دیا تو اس دوران قوم سدوم پر پتھروں کی بارش نیچے سے ہوئی۔ اور جب وہ حصّہ واپس زمین میں دھنس گیاتو جو بہت ساری مٹی پک کر پتھروں کی شکل میں فضا میں اُڑی تھی۔ وہ پتھروں کی شکل میں اُس علاقے پر اور اُن لوگوں پر برسنے لگی جو اُس علاقے سے دور سفر میں جنگل میں کہیں بھی تھے۔اب حقیقت کیا ہے اِسکا علِم تو صِرف اللہ تعالیٰ کوہی ہے۔ واللہ اعلم ۔ ہم صِرف اتنا کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم کو سخت عذاب دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کچھ بھی کرسکتا ہے۔

اللہ کی نشانی۔

اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر عذاب نازل فرمایا تھا۔اُسے قیامت تک کے لئے لوگوں کے سامنے نشانی بنادی ۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ حجر میں حضرت لوط علیہ السلام اور قوم سدوم کا واقعہ بتانے اور پھر عذاب کی تفصیل بتانے کے بعد فرمایا۔ ترجمہ ۔”بے شک نصیحت حاصل کرنے والے کے لئے اِس میں (اللہ کے عذاب میں ) بہت سی نشانیاں ہیں۔یہ بستی ایسے راستے پر ہے۔ جو برابر چلتا رہتاہے۔ (یعنی ایساراستہ ہے کہ الگ بھگ ہر علاقے کے لوگ وہاں سے گذرتے رہتے ہیں۔) اور اِس میں ایمان والوں کے لئے بڑی نشانی ہے۔“ (سورہ الحجرآیت نمبر 75سے 77 تک۔) مولانا سیدابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔حجاز سے شام اور عراق سے مِصر جاتے ہوئے یہ تباہ شدہ علاقہ راستہ میں پڑتاہے۔اور عموماًقافلوں کے لوگ تباہی کے اُن آثار کو دیکھتے ہیں جو اِس پورے علاقے میں نمایاں ہیں۔یہ علاقہ بحر لوط (بحیرئہ مردار) کے مشر ق اور جنوب میں واقع ہے۔اور خصوصیت کے ساتھ اِس جنوبی حصّے کے متعلق جغرافیہ دانوں کا بیان ہے کہ یہاں اِس درجہ ویرانی پائی جاتی ہے کہ جس کی نظیرپوری رُوئے زمین پر کہیں اور نہیں دی دیکھی گئی ہے۔بحیرئہ مردار Dead Sea کے جنوب اور مشرق میں جو علاقہ آج انتہائی ویران او رسنسان حالت میں پڑا ہوا ہے۔اِس میں کثرت سے پُرانی بستیوں کے آثار ملتے ہیں۔حالانکہ اب یہ علاقہ اتنا شاداب نہیں ہے کہ اتنی آبادی کا بوجھ سنبھال سکے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اِس علاقے کی آبادی اور خوش حالی کا دور 2300 قبل مسیح (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے دوہزارتین سو سال پہلے ) سے لیکر 1900 قبل مسیح (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے اُنیس سو سال پہلے) تک رہاہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق مورخین کا اندازہ یہ ہے کہ وہ دو ہزار 2000 قبل میسح کے لگ بھگ زمانے میں گذرے ہیں ۔ اِس لحاظ سے آثار قدیمہ کی شہادت اِس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ علاقہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے عہد (زمانے) ہی میں برباد ہواہے۔

عذاب کا علاقہ ایمان والوں کے لئے عبرت کی جگہ۔

اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے کہ اِس میں (قوم سدوم کے شہروں میں ) ایمان والوں کے لئے نشانی ہے۔ اِس علاقے کے بارے میں مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِس علاقے کا سب سے زیادہ آباد اور سر سبز وشاداب حصّہ وہ تھاجسے بائیبل میں ”سدیم کی وادی“ کہا گیا ہے۔جسکے متعلق بائیبل کا بیان ہے کہ وہ اس سے پیشترکہ خدا وند نے سدوم اور عمورہ کو تباہ کیا۔خداوند کے باغ (عدن) اور مِصر کے مانند خوب سیراب تھی۔(کتاب پیدائش باب نمبر 13 آیت نمبر 10۔) موجودہ زمانے کے محققین کی عام رائے یہ ہے کہ وہ سدوم کی وادی اب بحیرئہ مُردار کے اندر غرق ہے ۔اور یہ رائے مختلف آثار کی شہادتوں سے قائم کی گئی ہے۔قدیم زمانے میں بحیرئہ مُردار اتناوسیع نہیں تھا جتنا اب ہے شرق اُردن کے موجودہ شہر الکرک کے سامنے مغرب کی جانب اس بحیرے میں جو ایک چھوٹا ساجنریرہ نما”اللّسان “ پایا جاتاہے۔ قدیم زمانے میں بس یہی پانی کی آخری سرحد تھا۔اس کے نیچے کا حصّہ جہاں اب پانی پھیل گیا ہے۔پہلے ایک سر سبزوادی کی شکل میں آباد تھا، اور یہی وہ وادی سدیم تھی جس میں قوم لوط کے بڑے بڑے شہر سدوم، عمورہ ،آدمہ ،صبویم اور ضفرواقع تھے ۔دوہزار قبل مسیح کے لگ بھگ زمانے میں الگ زبردست زلزلے کی وجہ سے یہ وادی پھٹ کر دب گئی اور بحیرئہ مردار کا پانی اس کے اوپر چھاگیا۔آج بھی یہ بحیر ے کا سب سے زیادہ اُتھلا حصّہ ہے۔مگر رومی عہدمیں یہ اِتنا اُتھلا نہیں تھا۔اور لوگ اللسان سے مغربی ساحل تک چل کر پانی میں گزر جاتے تھے۔اِس وقت بھی یعنی آج بھی جنوبی ساحل کے ساتھ ساتھ پانی میں ڈوبے ہوئے جنگلات صاف نظرآتے ہیں ۔ بلکہ یہ شبہ بھی کیا جاتا ہے کہ پانی کے اندر کچھ عمارات کے کھنڈر ڈوبے ہوئے ہیں۔بائیبل اور قدیم یونانی اور لاطینی تحریروں سے معلوم ہوتو ہے کہ اس علاقے میں جگہ جگہ نقطہ (پٹرولی) اور اسفالٹ کے گڑھے تھے۔اور بعض جگہ زمین سے آتش گیر گیس بھی نکلتی ہے۔اب بھی وہاں زیر زمین پٹرول اور گیسوں کا پتہ چلتاہے۔طبقات الارضی مشاہدات سے اندازہ کیاگیاہے۔ کہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کے ساتھ پٹرولی ، گیس اور اسفالٹ زمین سے نکل کر بھڑک اُٹھے ۔ اور سارا علاقہ بھک سے اُڑگیا تھا۔بائیبل کا بیان ہے کہ اِس تباہی کی اطلاع پاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام جب حبرون ( الخلیل ) سے اِس وادی کا حال دیکھنے آئے تو زمین سے اِس طرح دھواں اُٹھ رہا تھا جیسے بھٹی کا دھواں اُٹھتا ہے۔

عقل والوں کے لئے عبرت کی نشانی۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ عنکبوت میں حضرت لوط علیہ السلام اور قوم سدوم اور اُس پر عذاب کے واقعہ کو بیان فرمانے کے بعد فرمایا۔ ترجمہ۔ ”یقینا ہم نے اِس بستی کو صریح عبرت کی نشانی بنادیا اُن لوگوں کے جو عقل رکھتے ہیں۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر۵۳۔) مولانا سیدابواعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اِس کُھلی (صریح) نشانی سے مراد بحیر ئہ مُردار ہے ۔جسے بحیر لوط بھی کہا جا تا ہے ۔قرآن پاک میں متعدومقامات پر کفّا رمکہ کو (خصوصی طور سے اور قیامت تک آنے والے تمام انسانوںکو عمومی طورسے) خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اِس ظالم قوم پر اس کے کرتوتوں کی بدولت جو عذاب آیا ہے۔ اُسکی ایک نشانی آج بھی شاہراہ عام (ہائی وے) پر موجود ہے۔ جسے تم ملک شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جاتے ہوئے شب اور روز دیکھتے ہو۔ موجودہ زمانے میں یہ بات قریب قریب یقین کے ساتھ تسلیم کی جارہی ہے کہ بحیرئہ مردار کا جنوبی حصّہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی بدولت وجود میں آیا ہے۔ اور اِسی دھنسے ہوئے حصے میں قوم لوط کا مرکذی شہر سدوم واقع تھا۔ اِس حصّے میں پانی کے نیچے کچھ ڈوبی ہوئی بستیوں کے آثارا ب بھی پائے جاتے ہیں۔حال ہی میں جدید آلات غوطہ خوری کی مدد سے یہ کوشش شروع ہوئی ہے کہ کچھ لوگ پانی میں نیچے جاکر اِن آثار کی جستجوکریں ۔ لیکن ابھی تک اِن کو ششوں کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ اورا نشااللہ کوئی بھی اِس بارے میں جان نہیں پائے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قوم سدوم پر عذاب کے وقت ایسی کیمیائی بارش برسائی تھی کہ اُسکی وجہ سے بحر مردار کا پانی ایسا ہوگیا ہے کہ اُس پانی میں کوئی ڈوب ہی نہیں سکتا۔ چاہے اُسے تیرنا آتا ہو یا نہیں آتا ہو۔اور کوئی بھی اِس پانی میں نیچے جانے کی کوشش کرے گا یا کرتاہے تو وہ پانی اُسے اوپر پھینک دیتا ہے۔

ہم جنس پرست کے لئے آج بھی اللہ کا عذاب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر حضرت لوط علیہ السلام اور قوم سدوم اور اُن کے بُرے فعل ہم جنس پر ستی اور اُن پر عذاب کے بارے میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ اور سورہ ھود میں تو سب بیان فرمانے کے بعد فرمایا ترجمہ۔ ”اور وہ اِن ظالموں سے دور نہیں ہیں۔“ (سور ہ ھود آیت نمبر 83۔) مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں کہ آیت کے آخر میں قومِ لوط کا عذاب ذکر کرنے کے بعد موجودہ اقوام دنیا کو متنبہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ پتھراﺅ کا عذاب آج بھی ظالموں سے کچھ دور نہیں ہے۔ جو لوگ اُس قوم (قوم سدوم ) کے طرح ظلم وحیائی پر جمے رہیں گے وہ اپنے آپ کو اُس عذاب سے دُور نہیں سمجھیں ۔ آج بھی یہ عذاب آسکتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری اُمت میں بھی کچھ لوگ وہ عمل کریں گے جو حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کرتی تھی۔ جب ایسا ہونے لگے تو انتظار کرو کہ اُن پر بھی وہی عذاب آئے گا جو قوم لوط پر آیا تھا۔ اسکے بارے میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔ اے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم !وہ عذاب اب بھی کچھ دور نہیں ہے ۔اگر ظالم ،ظلم و بد کاری سے باز نہیں آئے تو اب بھی اُس طرح کا عذاب آ سکتا ہے۔یہ کفار توآپ صلی اﷲ وعلیہ وسلم کے طفیل بچے ہوئے ہیں ۔ امام قرطبی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔دِن اور رات کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ حتیٰ کہ اس اُمت کے مرد ،مردوں کی پشت کو حلال کرلیں گے جیسا کہ اُنھوں نے عورتوں کی پشت کو حلال کرلیا۔ پھر اُمت کے لوگوں پر پتھروں کی بارش ہوگی ۔یہاں یہ بات ذہین میں رکھیں کہ یہودی اور عیسائی اور کافر بلکہ تمام انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہیں۔ ہاں اُمت مسلمہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کہ وہ ہمیں اِس لعنتی عمل سے بچائے۔

ہم جنس پرست آدمی کی سزا۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ اُنھوں نے عرب کے نواح میں ایک آدمی کو ہم جنس پرستی کرتے ہوئے پایا ہے۔ اور اُنھوں نے اِس پر شواہدقائم کردئیے ۔تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا۔ تو حضر ت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ سوائے ایک اُمت کے کسی اور اُمت نے اِس طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اُس ایک اُمت کے ساتھ جو سلوک کیا ہے اُسے آپ سب جانتے ہیں،میری رائے یہ ہے کہ اُسے آگ میں جلا دیا جائے۔اور تمام صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم بھی اِس بات پر متفق ہو گئے کہ اُس آدمی کو جلادیا جائے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ اُسے آگ میں جلادیں۔ پھر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِحکومت میں ہم جنس پرستوں کو جلا دیا تھا۔ پھر ہشام بن عبدالملک نے بھی ہم جنس پر ستوں کو جلانے کی سزا دی۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ وہ آدمی جسے تم پاﺅ کہ وہ قوم سدوم کے جیسا عمل کررہاہے۔یعنی اگر کسی کو ہم جنسی کرتے ہوئے دیکھوتو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ہم جنس پر ست کی یعنی ہم جنسی کرنے والے کی سزا کیا ہے۔؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اسے شہر یا گاﺅں کی سب سے اونچی عمارت پر کھڑا کرکے (لوگوں کو ) دکھایا جائے ۔ اور اوندھاکر کے وہا ں سے نیچے پھینک دیا جائے ۔ پھر اُس پر پتھر برسائے جائیں ۔ حضرت یزید بن قیس رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہم جنس پرست کو رجم کیا ہے۔(یعنی زمین آدھا گاڑکر پتھر مار مار کر قتل کردیا۔) حضرت امام ابن شہاب رحمتہ اﷲعلیہ فرماتے ہیں کہ ہم جنسی کرنے والے کو رجم کیا جائے ۔ چاہے وہ محصن ہو یا نہ ہو ۔ حضرت ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے لئے مناسب ہوتا کہ اُسے دوبارہ رجم کیا جائے تو یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم جنسی کرنے والے کو دوباررجم کیا جاتا۔ 

ہم جنس پرست پر اللہ کا غضب 

حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛” چا ر قسم کے لوگ اپنی صبح بھی اللہ تعالیٰ کے غیظ وغضب کی حالت میں کرتے ہیں۔(یعنی اللہ تعالیٰ بہت زیادہ ناراض رہتاہے۔) اور اپنی شام بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں کرتے ہیں۔“ عرض کیا گیا۔ یارسول اللہ صلی علیہ وسلم وہ چار قِسم کے لوگ کون ہیں؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛” پہلی قِسم اُن مردوں کی ہے۔ جو عورتوں کی مشابہت اختیا ر کرتے ہیں ۔دوسری قِسم اُن عورتوں کی ہے جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں ۔تیسری قِسم اُن مردوں اور عورتوں کی ہے جو چوپایو ں کے ساتھ بد فعلی کرتے ہیں۔ اور چوتھی قِسم اُن مردوں اور عورتوں کی ہے جو ہم جنسی کرتے ہیں۔ “

آج کے زمانے کے ہم جنس پرست۔

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے ہمیں ایمان کی نعمت عطا فرمائی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ پوری اُمت مسلمہ کو ہم جنسی کی لعنت سے بچائے ۔ آمین ۔ آج کے زمانے میں دنیا کا کنٹرول یہوویوں (اسرائیل ) اور عیسائیوں (امریکہ) کے ہاتھ میں ہے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کی مذہبی موت ہو چکی ہے، اور امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور لگ بھگ پورے یورپ میں خاندانی رشتے تباہ ہو چکے ہیں۔ اِن میں آسڑیلیا اور اسرائیل بھی شامل ہے۔ اِن ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی حق دیا جارہا ہے۔اُن کی تہذیب مرچُکی ہے اور اُ ن کے اخلاق کاجنازہ نکل رہا ہے۔اور وہ چاہتے ہیں کہ پوری دنیا اُن کی طرح جانور بن جائے ۔افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے ہندوستان میں بھی اُن کی تقلید کی جارہی ہے۔ اور ابھی حال ہی میں کلکتہ میں ہم جنس پرستوں نے ہم جنسی کو قانونی اجازت دینے کی مانگ کی تھی ۔ ایسے وقت میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم دنیا والوں کو اِس لعنتی عمل کے نقصانات بتائیں اور اِس سے بچانے کی کوشش کریں ۔اللہ تعالیٰ سے ہی دُعا ہے کہ اُمت مِسلمہ کی نوجوان نسل اِسکے نقصانات کو سمجھے اور دوسروں کو بھی سمجھائے۔

حضرت لوط علیہ السلام کا وصال۔

حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھروالوں کو لیکر اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس فلسطین میں الخلیل میں چلے گئے ۔ اور بقیہ زندگی وہیں گذاری یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آ پ علیہ السلام کو اپنی جو ارِرحمت میں بُلا لیا۔ 

اگلی کتاب

قارئین کرام ،حضرت لوط علیہ السلام کو ذکر مکمل ہوا۔

 اب انشااللہ آپ کی خدمت میں حضرت اسحاق ،حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہ السلام کے حلات پیش کریں گے۔

 

منگل، 18 اپریل، 2023

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 13 Story of Prophet Ibrahim


حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 13

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کا وصال

حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین میں رہ رہے تھے،اُس وقت وہ ملک کنعان میں تھا۔اور آپ علیہ السلام ”الخلیل“میں رہتے تھے،جسے آج کل ”حبرون“بھی کہا جاتا ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ میں رہ رہے تھے۔حضرت اسحاق علیہ السلام جوان ہو چکے تھے،اور فلسطین میں اپنے والدین کے ساتھ رہ رہے تھے۔جب سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کی عُمر ایک سو ستائیس (127) سال ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔آپ رضی اﷲ عنہا کے وصال سے حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے۔بنو حیث کے عفرون بن صخر سے آپ علیہ السلام نے ایک قطعہ زمین چار سو مثقال چاندی پر خریدی۔حالانکہ وہ آپ علیہ السلام کو بلاقیمت دینا چاہتا تھا،لیکن آپ علیہ السلام نے زمین خریدنا منظور کیا۔اور وہاں سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو دفن کر دیا۔

حضرت اسحاق علیہ السلام کانکاح

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کنعانیوں کی لڑکی سے نکاح نہ کریں۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نکاح کا پیغام اپنی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کے والد حاران کے قبیلے میں بھیجا۔یہ قبیلہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ننیھال بھی تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لیکر آئے ،اور نقفا بنت بتویل بن ناحور بن آزر سے حضرت اسحاق علیہ السلام کا نکاح کر دیا۔اُس وقت حضرت اسحاق علیہ السلام کی عُمر چالیس سال تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی عیصو اور حضرت یعقوب علیہ السلام جڑواں پیدا ہوئے۔اور آپ علیہ السلام نے اپنے دونوں پوتوں کو اپنی گود میں کھلایا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔اور دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِن دونوں بیویوں کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سیدہ قطورہ یا قنطورہ سے نکاح کیا۔اور اِس تیسری بیوی سے چھ بیٹے زمران،یقشان،مدائن،مدین،اشبق اور شوخ پیدا ہوئے۔پھر قطورہ یا قنطورہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجون بنت اہیب سے نکاح کیا۔اِس چوتھی بیوی سے پانچ بیٹے کیسان،فروخ،اسیم،لوطان،اور نافس پیدا ہوئے۔ا،س طرح آپ علیہ السلام کے کُل بیٹوں کی تعداد تیرہ (13) ہوئی۔

ملک الموت سے ملاقات

حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت مہمان نواز تھے،اور مسکینوں اور مسافروں پر رحم فرماتے تھے۔اُن کے پاس مہمان نہیں آتے تو آپ علیہ السلام انتظار کرتے رہتے تھے،اور گردن لمبی کر کے راستے کو تکتے رہتے تھے۔اِس کے بعد مہمان کی تلاش میں نکل پڑتے تھے۔ایک دن آپ علیہ السلام مہمان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آ پ علیہ السلام کو ایک مسافر آتا دکھائی دیا۔آپ علیہ السلام اُس کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے،وہ انسانی شکل میں ”ملک الموت“تھے۔انہوں نے سلام کیا،اور آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔پھر پوچھا؛”آپ کون ہیں؟“انہوں نے جواب دیا؛”میں مسافر ہوں ،آپ علیہ السلام کو مہمان کے آنے کی اتنی خوشی ہوئی کہ انہوں نے یہ توجہ نہیں کی کہ کون ہے؟آپ علیہ السلام نے خوش ہو کر فرمایا؛”میں یہاں آپ جیسے شخص کے لئے بیٹھا ہوں۔“اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر میں لے آئے۔جب حضرت اسحاق علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو ملک الموت کو پہچان گئے،اور رونے لگے۔بیٹے کوروتا دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی رونے لگے،اور انہیں روتے دیکھ کر ملک الموت بھی رونے لگے۔کچھ دیر بعد اچانک ملک الموت اُٹھ کر گھر کے باہر آگئے،اور آسمان کی طرف چلے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام رونے کی وجہ سے توجہ نہیں کر سکے،کچھ دیر بعد دیکھا تو مہمان غائب تھا۔آپ علیہ السلام تیزی سے اُٹھ کر باہر آئے،اور دیکھا تو مہمان کہیں دکھائی نہیں دیا۔اندر آکر بیٹے سے ناراضگی سے فرمایا؛”تم میرے مہمان کو دیکھ کر رونے لگے ،جس کی وجہ سے وہ چلے گئے۔“حضرت اسحاق علیہ السلام نے عرض کیا؛”اباجان!آپ علیہ السلام مجھ سے ناراض نہ ہوں ،میں نے آپ علیہ السلام کے ساتھ ملک الموت کو دیکھا تھا۔اِس لئے یہ سوچ کر رونے لگا تھاکہ آپ علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آگیا ہو۔“اِس کے بعد پھر ایک مرتبہ ملک الموت آپ علیہ السلام کے پاس آئے تو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔نماز ختم ہونے کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا مانگی،تب ملک الموت اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،اور عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !میں آپ کے ایک ایسے بندے کے پاس سے ہو کر آرہا ہوںکہ اِس وقت روئے زمین پر اُس سے بہتر شخص کوئی نہیں ہے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”تُونے اُس بندے میں کیا دیکھا؟“ملک الموت نے کہا؛”اُس نے تیری مخلوق میں سے ہر ایک کے لئے اُس کے دین اور اُس کی معصیت کے لئے خیر کی دعا مانگی،کسی کو نہیں چھوڑا۔“

روح قبض کرنے کے وقت ملک الموت کی شکل

حضرت ابراہیم علیہ السلام ،اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے کہ ملک الموت حاضر ہوئے،اور سلام کیا۔آپ علیہ السلام نے جواب دیا،اور فرمایا؛”بھائی تم کون ہو؟جو میری اجازت کے بغیر میرے کمرے میں چلے آئے۔“انہوں نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ علیہ السلام !میں ملک الموت ہوں ۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب تم مومنوں کی روح قبض کرتے تو کس شکل میں آکر اُن کی روح قبض کرتے ہو؟“تو ملک الموت نے عرض کیا؛” یا رسول اﷲ علیہ السلام !آپ ذرا اپنا چہرۂ مبارک اُس طرف پھیر لیں۔“آپ علیہ السلام نے چہرۂ مبارک پھر لیا،کچھ دیر بعد ملک الموت نے انتہائی سُریلی آواز میں عرض کیا؛”اب میری طرف دیکھیں۔“جب آپ علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو انتہائی خوبصورت حسین چہرے والا شخص دکھائی دیا،جس کے چہرے پر بہت زیادہ شفقت اور محبت ظاہر ہو رہی تھی۔اور اتنی پیاری مسکراہٹ تھی کہ انسان کا دل بے اختیار اُس کی طرف کھنچا جاتا تھا،اتنا نور تھا کہ بہت بھلا معلوم ہوتا تھا۔آپ علیہ السلام نے جب ملک الموت کو اِیسی حالت دیکھا توفرمایا؛”تم کو ایسی میں دیکھنے کے بعد کوئی بھی تمہارے ساتھ جانا پسند کرے گا۔“اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب تم کافروں اور ظالموں کی روح قبض کرنے آتے ہو تو کس شکل میں آتے ہو؟“ملک الموت نے عرض کیا؛”ذرا اپنا چہرۂ مبارک اُس طرف پھیر لیں۔“آپ علیہ السلام نے چہرہ¿ مبارک پھر لیا۔کچھ دیر بعد انتہائی پھٹی ہوئی اور خوفناک آواز سنائی دی؛”اب میری طرف دیکھیں۔“جب آپ علیہ السلام نے ملک الموت کی طرف دیکھا تو ایک انتہائی سیاہ اور بھیانک شکل دکھائی دی،اُس کے چہرے پربے انتہا سختی ،غصہ ،ناراضگی اور حقارت دکھائی دی۔اور وہ شکل اتنی خوفناک اور ہولناک تھی کہ اُسے سیکھ کر آپ علیہ السلام چکرا کر گئے،اور زمین پر گر گئے۔قریب تھا کہ آپ علیہ السلام کی روح پر واز ہو جاتی کہ ملک الموت عام شکل میں سامنے آئے اور آپ علیہ السلام کو سنبھالنے لگے۔آپ علیہ السلام کا پورا بدن پسینے میں شرابور ہو چکا تھا،کچھ دیر بعد حالت اعتدال پر آئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اگر کافر اور ظالموں کو دوزخ،میدان حشر اور قبر کے عذاب سے بچالیا جائے،تب بھی تمہاری یہ شکل و صورت ہی اُس کے عذاب کے لئے کافی ہے۔“

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وصال

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وصال کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کا وصال ایک سو پچہتر(175) سال کی عُمر میں ہوا۔ایک اور روایت ہے کہ ایک سو نوے(190)اور دوسو(200) سال کے درمیانی عُمر میں ہوا۔اور ایک روایت ہے کہ دو سو(200) سال کی عُمر میں انتقال ہوا۔اور زیادہ تر علمائے کرام کا اِسی پر اتفاق ہے۔جب آپ علیہ السلام کے وصال کا وقت آیا تو اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت سے فرمایا؛”میرے خلیل کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا۔“ملک الموت ایک بوڑھے کی انسانی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس تشریف لائے۔اُس وقت آپ علیہ السلام اپنے انگوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے۔آپ علیہ السلام نے ایک بوڑھے مہمان کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے،اور فوراًاُن کا استقبال کیا۔اور عزت سے بٹھایا ،اور انگور لا کر خدمت میں پیش کئے۔ملک الموت نے انگور اُٹھا کر کھانے شروع کئے،لیکن وہ ٹھیک سے کھا نہیں پا رہے تھے۔کیونکہ ہاتھوں میں اتنازیادہ رعشہ تھا کہ کبھی انگور کان میں چلا جاتا تھا،اور کبھی ناک میں چلا جاتا تھا۔اور جو دانے منہ میں جاتے تھے تو انہیں چبا نہیں با رہے تھے،اور وہ اُن کے کپڑوں پر گر رہے تھے۔آپ علیہ السلام حیرت سے یہ منظر دیکھتے رہے،پھر فرمایا؛”حضرت آپ کی عُمر کتنی ہے؟“تو ملک الموت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر کااندازہ لگا کر اُن سے دو سال زیادہ عُمر بتائی۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اِس کا مطلب یہ ہے کہ دو سال کے بعد میری بھی ایسی حالت ہونے والی ہے۔اے اﷲ تعالیٰ !ایسا مجبور بڑھاپا آنے سے پہلے مجھے اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لے۔“جب ملک الموت نے آپ علیہ السلام کو راضی دیکھا تو اصل شکل میں آئے ،اور آپ علیہ السلام کی روح قبض کرلی۔بے شک ہم اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں،اور اُسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اچانک وصال ہوا ۔حضرت اسماعیل بھی مکۂ مکرمہ سے ملک کنعان آگئے تھے،اور دونوں بھائیوں نے ملکر اپنے والد محترم کو سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ دفن کیا۔یہاں اب ایک بہت بڑا شہر بن گیا ہے۔جس کا نام حبرون یا الخلیل ہے۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام نبوت سے سرفراز

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وصا ل کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام مکۂ مکرمہ واپس آگئے،اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں ملک عرب میں مبعوث فرمایا۔اور آپ علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ کے آس پاس کے علاقوں ،اور حجاز اور نجد بلکہ پورے ملک عرب میں اسلام کی دعوت دینے لگے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے بارے میں سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام ) کا کتاب میں ذکر کریں،بے شک وہ وعدے کے سچے تھے،اور نبی اور رسول ہیں۔اور اپنے گھر والوں نماز پڑھنے اور ذکوٰةدینے کا حکم دیتے تھے۔اور اپنے رب کے نزدیک بڑے پسندیدہ ہیں۔“(سورہ مریم آیت نمبر 55)اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی چار صفات بیان فرمائیں ہیں۔پہلی یہ کہ وہ وعدہ پورا کرنے والے تھے،دوسری یہ کہ انہیں اﷲ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت دونوں سے سرفراز فرمایا تھا۔تیسری یہ کہ نماز اور ذکوٰة کا حکم دیتے تھے،اور چوتھی یہ کہ اﷲ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو بہت پسند فرماتا ہے۔اِسی دوران حضرت اسحاق علیہ السلام فلسطین میں رہ رہے تھے،اور وہیں اﷲ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرما دیا۔اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کام کو اُن دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری رکھا۔حضرت اسحاق علیہ السلام کا تفصیل سے ذکر ہم ہماری کتاب”حضرت اسحاق،حضرت یعقوب،اور حضرت یوسف علیہم السلام “میں انشاءاﷲ کریں گے۔

وعدے کے سچے

اﷲتعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ آپ علیہ السلام وعدے کے سچے تھے۔اِس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے۔آپ علیہ السلام پورے حجاز کے باپ ہیں۔جو اﷲ کے دین اسلام کی دعوت دیتے تھے،اور جو عبادت کا ارادہ کرتے تھے،پوری کرتے تھے۔ہر ایک کا حق ادا کرتے تھے،ہر وعدہ وفا کرتے تھے۔ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ فلاں جگہ ملوں گا،وہاں آجانا۔حسب وعدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام پہنچ گئے،لیکن وہ شخص نہیں آیا۔آپ علیہ السلام اُس کے انتظار میں ٹھہرے رہے،یہاں تک کہ ایک دن اور ایک رات گزرگئے۔اباُس شخص کو یاد آیا تو دوسرے دن اُس نے آکر دیکھا تو آپ علیہ السلام وہیں انتظار کر رہے تھے۔پوچھا کہ کیا کل سے آپ علیہ السلام یہیں ہیں؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب وعدہ ہوچکا تھا تو میں تمہارے آنے سے پہلے کیسے ہٹ سکتا تھا۔“اُس نے معذرت کی کہ میں بھول گیا تھا۔حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کو انتظار کرتے کرتے کامل ایک سال گزر گیا تھا۔اماما بن شزپ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے وہیں مکان بنا لیا تھا۔حضرت عبد اﷲ بن ابو الحمار رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اعلان نبوت سے پہلے میں نے رسول اﷲ ﷺ سے کچھ تجارتی لین دین کیا۔میں چلا گیا اور یہی کہہ کر گیا کہ آپ ﷺ یہیں ٹھہریئے،میں ابھی واپس آتا ہوں۔پھر مجھے خیال ہی نہیں رہا،وہ دن گزرا اور رات گزری ،دوسرا دن بھی گزر گیا۔تیسرے دن مجھے خیال آیا تو وہاں جاکر دیکھاتو آپ ﷺ وہیں انتظار کر رہے تھے۔میں معذرت کرنے لگا تو آپ ﷺ نے مجھ سے صرف اتنا فرمایا کہ تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا ،اور میں تین دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حلیۂ مبارک

حضرت سمرہ بن کعب رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام اﷲ کے نبی اور رسول ہیں۔جن کا اﷲ تعالیٰ ”صادق الوعد“کی صفت سے ذکر فرمایا ہے۔وہ ایسے شخص تھے،جن کی طبیعت میں تیزی تھی۔اﷲ کے دشمنوں سے ہر وقت جہاد میں مصروف رہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دشمنوں پر فتح عطا فرمائی تھی(یعنی ہمیشہ فتح ہوتی تھی)۔آپ علیہ السلام کافروں سے بہت سخت جنگ کرتے تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔آپ علیہ السلام کا سر مبارک چھوٹا تھا،گردن موٹی تھی،ہاتھ پاو¿ں لمبے تھے،کندھے چوڑے تھے،اور انگلیاں لمبی تھیں۔مخلوق کے سامنے رہتے تھے،کافروں ہر نہایت سخت اور شدید تھے۔نماز اور ذکوٰة کا حکم دیتے تھے،اور آپ علیہ السلام کی ذکوٰة مال کے ذریعے اﷲ کا قرب حاصل کرنا تھا۔

اﷲ تعالیٰ نے عربی الہام کردی تھی

حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سب سے پہلے فصیح و بلیغ عربی میں بات کی۔حضرت عقبہ بن بشیر رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔میں نے محمد بن علی رحمتہ اﷲ علیہ سے پوچھا؛’[سب سے پہلے عربی زبان کس نے بولی؟“انہوں نے فرمایا؛”حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بولی،جب آ پ علیہ السلام کی عُمر مبارک تیراہ(13) سا ل تھی۔میں پوچھا؛”اِس سے پہلے وہ کون سی زبان بولتے تھے؟“انہوں نے فرمایا؛”عبرانی زبان بولتے تھے۔“(ابن سعد)حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے عربی زبان الہام فرمائی تھی،جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی باقی تمام اولاد اُن کی لُغت پر تھی۔خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام سریانی بولتے تھے،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام عربی بولتے تھے۔لیکن ایک دوسرے کی زبان سمجھ لیتے تھے،باپ سریانی زبان میں ”ھل لی کشینبا“یعنی مجھے پتھر اُٹھا کر دو۔بیٹے پتھر دیتے ہوئے عربی میں کہتے”ھاک الحجر فخذہ“یعنی یہ ہے پتھر لے لیجیئے۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔سب سے پہلے جس نے عربی زبان بولی،اور کتاب کو اپنی زمان ،اپنے الفاظ،اور اپنے کلام پر لکھا،پھر اُسے کتاب بنایا۔مثلاً”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم“وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔حتیٰ کہ آپ علیہ السلام کی اولاد نے بعد میں اس کے درمیان جدائی کی۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد

حضرت اسماعیل علیہ السلام مکۂ مکرمہ میں رہے،اور ہر سال حاجیوں کی خدمت انجام دیتے رہے۔اور اہل یمن اور آس پاس کے علاقوں میں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔قبیلہ بنو جرہم پہلے ہی اسلام قبول کر چکا تھا۔اِس دوران حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد پید ہوتی رہی ،اور بڑھتی رہی۔آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹے زیادہ مشہور ہوئے۔اُن کے نام قیداریا قیذار،ادبیل،نابت،بطور،بسام،مشمع،ذوما،مسا،حراة،قیما،نافس،اور قدما ہیں۔یہ تما اولاد آپ علیہ السلام کی زندگی میں پھلتی پھولتی گئی۔اور دھیرے دھیرے تمام بیٹے ایک ایک کرکےاطراف میں جا جا کر آباد ہوتے رہے۔صرف نابت اپنی اولاد کے ساتھ اپنے والد محترم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مکہ¿ مکرمہ میں رہے۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کا وصال 

حضرت اسماعیل علیہ السلام مسلسل مکۂ مکرمہ میں رہے،اور خانۂ کعبہ کے متولی بنے رہے۔محمد بن اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں۔ایک سو تیس (130) سال کی عُمر میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا وصال ہوا۔اُس وقت تمام بیٹے اور بھائی موجود تھے جن میں حضرت اسحاق علیہ السلام بھی شامل تھے۔وصال سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام کو بلا کراُن کے بڑے بیٹے عیص یا عیصو سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا تھا۔انشاءاﷲ اِس کا ذکر حضرت اسحاق علیہ السلام کی کتاب میں تفصیل سے کریں گے۔تمام بھائیوں اور بیٹوں نے آپ علیہ السلام کی وصیت کے مطابق آپ علیہ السلام کو اُن کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے بازو میں میزاب اور حجر اسود کے درمیان ”حطیم“میں دفن کر دیا۔توریت میں آپ علیہ السلام کی عُمر ایک سو سینتیس(137) سال لکھی ہے۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔

ختم شد 

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 12 Story of Prophet Ibrahim


حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 12

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

اﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں نے جب آپ علیہ السلام کے چہرہ¿ مبارک پر کچھ پریشانی کے آثار دیکھے تو عرض کیا؛”آپ علیہ السلام پریشان نہ ہوئیں،ہم آپ علیہ السلام کو نقصان بہنچانے نہیں بلکہ خوش خبری سنانے آئے ہیں۔“آپ علیہ السلام نے حیرانی سے پوچھا؛”خوش خبری؟کون سی خوش خبری؟“تو انہوں نے عرض کیا؛”یارسول اﷲ علیہ السلام !دراصل ہم اﷲ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں،اور ہم انتہائی خوب صورت نوجوانوں کی انسانی شکل میں ہیں۔اِسی لئے آپ علیہ السلام ہمیں پہچان نہیں رہے ہیں۔ہم یہ نوجوانوں کی شکل اِسی لئے بنائے ہوئے ہیں کہ ،ہمیں اﷲ تعالیٰ نے قوم لوط پر حجت قائم کرنے اور عذاب دینے کے لئے بھیجا ہے۔اور آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے یہ خوش خبری سنانے کا فرمایاہے کہ بہت جلدی ا ﷲتعالیٰ آپ علیہ السلام کو بیٹا عطا فرمائے گا،جو ”علیم“یعنی علم والا ہوگا۔“یہ خوش خبری سن کرسیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا جو قریب ہی کھڑی تھیں۔وہ ہنس کر بولیں؛”کیوں مذاق کرتے ہو؟میں ایک بوڑھی ہوں ،اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو گئے ہیں،دوسرے یہ کہ میں بانجھ ہوں۔“یہ سن کر فرشتوں نے کہا؛” ایسا ہی ہوگا،اور اﷲ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“

فرشتوں سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو اطمینان دلایا

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو اﷲ تعالیٰ پر مکمل یقین اور بھروسہ تھا۔لیکن فرشتوں نے جس طرح اچانک غیر متوقع طور پر ایسی خوش خبری سنا دی کہ کچھ وقت تک حیران ہوگئے۔کیونکہ اکثر علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اُس وقت سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کی عُمر نوے (90) سال سے زیادہ تھی۔اور ایک روایت میں تو ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہا کی عُمر اُس وقت ننانوے(99) سال تھی۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر بھی لگ بھگ سو(100) سال سے زیادہ تھی۔سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کا نام ”یسارہ“تھا۔جبرئیل علیہ السلام نے اُن سے کہا؛”اے سارہ رضی اﷲ عنہا!ایسا ہی ہوگا ،اور اﷲ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“تو سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا؛”تم نے ابھی مجھے سارہ کہا،جبکہ میرا نام یسارہ ہے۔“تو جرئیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”سارہ اُس عورت کو کہتے ہیں،جو والدہ بننے والی ہو،اور یسارہ بانجھ عورت کو کہتے ہیں۔“اِس پر سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا؛”اے جبرئیل علیہ السلام ! تم نے میرے نام میں سے ”ی“کم کر دیاہے۔“جبرئیل علیہ السلام نے کہا؛”بے شک اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہا سے وعدہ کیا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہا کے نام کے اِس حرف کو آنے والے زمانے میں آپ رضی اﷲ عنہا کی اولاد میں سے ایک بچے کے نام میں رکھے گا۔اور وہ یہ کہ اس کانام اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ”زندہ“ہے۔پس اُس کا نام یحییٰ رکھا۔

اﷲ تعالیٰ نے نام رکھا

اﷲ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیج کر اُن کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہاکو بیٹے کی بشارت دی۔اور صرف بشارت ہی نہیں دی ،بلکہ بیٹے کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے رکھا۔اور بیٹے کے ساتھ ساتھ بیٹے کے بیٹے یعنی پوتے کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے رکھا۔بیٹے کی بشارت سننے کے بعد جب دونوں میاں بیوی کو اطمینان ہو گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عرض کیا؛”آپ علیہ السلام کے بیٹے کا نام اسحاق علیہ السلام رکھنا،اور وہ بھی اﷲ کے نبی ہوں گے۔اور اُن کے بیٹے کا نام یعقوب (علیہ السلام) رکھنا،اور وہ بھی اﷲ کے نبی ہوں گے۔“اِس طر ح سے باپ ،بیٹا اور پوتا تینوں اﷲ کے نبی ہوئے۔اور اﷲ تعالیٰ نے اِسی پر اپنی مہربانیاں بس نہیں کیں،بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک اور خصوصی اعزاز عطا فرمایا۔اور وہ یہ کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی اﷲ تعالیٰ نے اپنا نبی بنایا ہے۔اِس طرح سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا اِس پوری کائنات کی واحد اکیلی خاتون ہیں۔جن کا بیٹا ،پوتا اور پڑپوتا اﷲ تعالیٰ کے نبی بنے۔حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام لیکر اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جن آیات میں بتایا ہے،وہ آیات ہم اوپر پیش کر چکے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں امامت

حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا؛”اب تمہاری بیوی سارا کو سارا کے نام سے نہیں بلایا جائے گا،بلکہ اُس کا نام ”سارہ“ہوگا۔اور اﷲ تعالیٰ تم پر رحمت فرمائے گا،اور تمہیں اُس کے بطن سے بیٹا عطا فرمائے گا۔وہ بڑا با برکت ہوگا،اور اُس سے کئی قومیں اور قوموں کے سردار پیدا ہوں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ بشارت سن کر فوراً اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے۔پھر سجدے سے اُٹھ کر دل ہی دل میں بولے۔کا سو سال کی عُمر کے بعد میرے یہاں بیٹا پیدا ہو گا؟کیا سارہ والدہ بنے گی؟حالانکہ اُس کی عُمر ننانوے سال سے زیادہ ہو چکی ہے؟آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ بارگاہ میں عرض کیا؛”کاش!اسماعیل علیہ السلام !تیرے حضور جیتا رہے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ضرور تیری بیوی سارہ کے بطن سے تیرا بیٹا پیدا ہوگا،اور تُو اُس کا نام رکھے گا،جو اسی وقت اگلے سال پیدا ہو گا،اور میں اس سے اور اس کی اولاد سے اپنا عہد باندھوں گا۔اور میں نے اسماعیل کے بارے میں بھی تیری دعا سن لی،میں اسے بھی برکت دوں گا،اور اُس کی عظمت کو بلند کروں گا۔میں اُس کی نسل کو بہت بڑھاو¿ں گا۔اُس کی نسل سے بارہ سردار پیدا ہوں گے،اور میں اسے ایک بڑی قوم بناؤںگا۔

حضرت ابرہیم علیہ السلام کو اعزاز

اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کویہ خصوصی اعزاز عطا فرمایا ہے کہ اُن کی ہر اولاد میں نبی پید ا فرمائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹوں کے بارے میں مختلف روایات میں آیا کہ لگ بھگ دس بیٹے تھے ۔علمائے کرام چار بیٹوں کے نام بتاتے ہیں۔1) حضرت اسماعیل علیہ السلام ،2)حضرت اسحاق علیہ السلام ،3)مدین،اور 4)مدائن ۔اِن میں سے مدین اور مدائن تیسری بیوی سے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الحدید میں فرمایا؛”اور ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم( علیہ السلام)کو رسول بنا کر بھیجا۔اور ہم نے اُن کی نسل میں کتاب اور نبوت رکھ دی۔“(سورہ الحدید آیت نمبر 26)علامہ ابن کثیر اِس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جس نبی پر بھی کتاب اُتری وہ آپ علیہ السلام کی نسل اور اولاد سے تھے۔یہ اعزاز اور عزت و توقیر کی وہ خلعت ہے جو کسی اور کے اوپر نہیں سجی۔اور وہ بلند مرتبہ ہے،جس پر کوئی فخر نہیں کر سکتا ۔یہ خلعت ِزیبا صرف حضرت ابراہیم علیہ السلا م کے لئے ہے۔اور یہ وجہ ¿ فخر صرف اُن کی اولاد کے لئے ہے ،کیونکہ آپ علیہ السلام کی صلب سے ہی وہ عظیم المرتبت بیٹے پید ا ہوئے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے،جنہیں ”اسرائیل“(عبداﷲ)کہاجاتا ہے۔اور انہی کی طرف بنی اسرائیل کے تمام قبیلے منسوب کئے جاتے ہیں۔جن میں عرصہ¿ دراز تک سلسلہ¿ نبوت و رسالت قائم رہا۔اور وہ اتنے بڑھے کہ اُن کی تعداد ستاروں سے تجاوز کر گئی ۔زیادہ تر انبیائے کرام علیہم السلام اِن میں تشریف لاتے رہے۔حتیٰ کہ اُن کا سلسلہ¿ نبوت اُن میں آنے والے آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا،جو حضرت یعقوب علیہ السلا م کے خانوادے سے تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے خصوصی اعزاز

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے یہ اعزازتو عطا فرمایا ہی ہے کہ آپ علیہ السلام کو ”انبیائے کرام علیہم السلام کا باپ“بنایا ہے۔اِس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو وہ خصوصی اعزاز عطا فرمایا ہے،جس پر آپ علیہ السلام کو سب سے زیادہ فخر دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ہو گا۔اور وہ ہے ،اُن کی اولاد میں سید الانبیاء،خاتم الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کا پیدا ہونا۔علامہ ابن کثیر حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں لکھنے کا بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اُن سے عرب کے مختلف قبائل پیدا ہوئے۔آپ علیہ السلا م کی نسل سے سوائے خاتم الرسل،مولائے کُل،فخر ِبنی آدم فی الدنیا والآخرةمحمد بن عبد اﷲ بن عبد المطلب بن ہاشم قریشی ،مکی اور مدنی صلی اﷲ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نبی پیدا نہیں ہوا ۔اِس مقدس شاخ (بنی اسماعیل) اور بند مرتبہ نسل سے صرف آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہی پیدا ہوئے،جن کی شفاعت کی آج بھی سبھی آس لگائے بیٹھے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میں ایسے مرتبے پر(قیامت کے دن) فائز ہوں گا کہ اﷲ تعالیٰ کی پوری مخلوق میری خدمت میں حاضر ہو گی ۔حتیٰ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی حاضر ہوں گے۔(یہ شفاعتِ کبریٰ کی حدیث ہے،جو بخاری و مسلم بلکہ تمام احادیث کی کتاب میں بہت تفصیل سے درج ہیں)اِس حدیث میں سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے والد محترم حضرت ابراہیم علیہ السلا م کی بڑی تعریف فرمائی ہے آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم کا مبارک کلام دلالت کر رہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد مخلوق میں سب سے افضل ہیں ۔اِس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کا والد محترم کہلانا اتنا بڑا عزا زہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود بھی اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے تمام انبیاءعلیہم السلام کے سردار صلی اﷲ علیہ وسلم کا والد بنا دے۔اِس دعا کو اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129میں ذکر کیا ہے۔

اﷲ کے خلیل

حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت زیادہ مہمان نواز تھے،اور کسی نہ کسی کو ساتھ میں لئے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔اگر کوئی مہمان نہیں آتا تو آپ علیہ السلام خود مہمانوں کی تلاش میں نکل جاتے تھے۔ایک دن آپ علیہ السلام کسی مہمان کی تلاش میں نکلے اور کافی دور تک جانے کے بعد کوئی مہمان نہیں ملا۔جب آپ علیہ السلام واپس آئے تو دیکھا کہ ایک شخص گھر کے اندر کھڑا ہے،آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”اے اﷲ کے بندے !میری اجازت کے بغیر آپ میرے گھر میں کیسے آئے ؟“اُس شخص نے جواب دیا؛”میں گھر کے مالک کی اجازت سے آیا ہوں۔“آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”تم کون ہو؟“اُس نے بتایا؛”میں موت کا فرشتہ ہوں ،مجھے اﷲ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔اپنے ایک بندے کے پاس تاکہ میں اُسے خوش خبری سنا دوں کہ اﷲ تعالیٰ نے اُسے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔‘آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”مجھے بتاؤ !وہ خوش نصیب کون ہے؟اﷲ کی قسم !اگر آپ مجھے اُس کا پتہ بتا دیں گے تو وہ کتنی بھی دور ہوگاتو میں اُسے لے آو¿ں گا۔اور ہمیشہ اپنے پڑوس میں رکھوں گا،اور خدمت کرتا رہوں گا۔حتیٰ کہ موت میرے اور اُس کے درمیان جدائی ڈالے گی۔“فرشتے نے کہا؛”یا رسول اﷲ علیہ السلام !وہ بندے آپ خود ہیں۔“آپ علیہ السلام نے حیرانی سے پوچھا؛”میں؟مجھے اﷲ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔“تو فرشتے نے عرض کیا؛”جی ہاں!آپ علیہ السلام کوہی اﷲ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔“یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام نے سجدۂ شکر ادا کیا۔اِس کے بعد فرشتے سے پوچھا ؛ ”اﷲ تعالیٰ نے مجھے کس وجہ سے اپنا خلیل بنایا ہے؟“فرشتے نے عرض کیا؛”وجہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام لوگوں کو دیتے ہیں،لیکن اُس سے لیتے کچھ نہیں ہیں۔“

زندگی بعد الموت کا مشاہدہ 

اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ”اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا۔اے میرے رب! آپ مجھے دکھایئے کہ آپ مُردوں کو کس طرح زندہ کریں گے؟۔ہم نے فرمایا؛(اے ابراہیم علیہ السلام)کیاتم اِس پر یقین نہیں رکھتے؟(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )عرض کیا؛یقین اور ایمان تو ہے،لیکن (یہ سوال اِس لئے ہے)تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔(ہم نے)فرمایا؛تو تم چار پرندے پکڑ لو،اور اُن کو اپنے آپ سے مانوس کر لو۔اور پھر اُن کے ٹکڑے کرڈالو،پھر ہر پہاڑ پر اُن کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو۔پھر انہیں پکارو،تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے ۔اور جان رکھو کہ اﷲ تعالیٰ غالب ہے ،حکمتوں والا ہے۔(سورہ البقرہ آیت نمبر 206)اِس واقعہ کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں درج ہے۔ہم مختصراًبتا رہے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے موت کے بعد دوبارہ زندگی کے عملی مشاہدے کا سوال کیا تو اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چار پرندوںکو پکڑ کر مانوس کر لیا۔اِس کے بعد چاروں پرندوں کو ذبح کر کے اِن کی بوٹی بوٹی بنا لیا،اور سب کو ایکدوسرے میں ملادیا۔اِس کے بعد اِن بوٹیوں کے چار حصے کئے،اور چار الگ الگ پہاڑوں پر رکھ دیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام ایک ایسی جگہ کھڑے ہو گئے،جہاں سے چاروں پہاڑیاں دکھائی دیتی تھیں۔پھر آپ علیہ السلام نے ان پرندوں کے جو نام رکھے تھے،وہ نام لیکر پکارا تو چاروں پرندوں کی بوٹیاں اُڑاُڑ کر اپنی جگہوں پر پہنچیں،اور مکمل پرندے بن گئے۔آپ علیہ السلام یہ سب مشاہدہ کر رہے تھے۔پھر اُن پرندوں میں جان پڑ گئی ،اور وہ اُڑتے ہوئے آپ علیہ السلام کے پاس آگئے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......! 

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 11 Story of Prophet Ibrahim



حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 11

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بڑا مانتے ہیں 

سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۴۲۱ کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے پہلے تفصیل سے بنی اسرائیل(یہودیوں) پر کئے گئے انعامات کو بیان فرمایا۔پھر یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے (بنی اسرائیل نے)اپنے دین اور اعمال میں کیا کیا بدعات اور خرابیاں پید کی ہیں۔اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔اور اِس کی حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسے شخص ہیں کہ تما م ادیان اور مذاہب کے ماننے والے اُن کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں۔اور مشریکن مکہ بھی اِس پر فخر کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں،اور وہ حرم کے خادم ہیں۔اور یہود و نصاری (بنی اسرائیل اور عیسائی) بھی اُن کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں،اور اُن کی اولاد ہونے کا شرف ظاہر کرتے ہیں۔اِسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر بیان فرمایا۔تاکہ سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت اور اسلام کا حجت ہوناسب پرثابت ہوجائے۔اِس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کی خصوصیت خانہ¿ کعبہ کا حج ہے،اور یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو اپنا بڑا اور رسول مانتا ہے،اُس کے لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور اُن کے دین اسلام پر ایمان لانا واجب ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ جب خانہ¿ کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا تو یہودیوں نے بُرا مانا تھا۔اﷲ تعالیٰ نے اُن پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ماننے والے ہو تو یہ خانۂ کعبہ اُن کے ہی ہاتھوں کا بنایا ہوا ہے۔تمہیں تو اِس کے قبلہ بنائے جانے پر ناراض ہونے کے بجائے خوش ہونا چاہیئے۔

مناسک حج

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جب خانۂ کعبہ کی تعمیر سے فار ہوئے تو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”یارب ! ہم نے خانہ¿ کعبہ تعمیر کر دیا ہے،اب اے ہمارے پرور دگار!ہمیں مناسک حج سکھا ۔ہمارے لئے وہ ظاہر فرما،اور ہمیں اِن کی تعلیم دے۔تو اﷲ تعالی ٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو مناسک حج بتا کر بھیجا۔اور انہوں نے آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد جب یہ دعا مانگی کہ اے اﷲ تعالیٰ !ہمیں مناسک حج سکھا دے،تو اﷲ تعالیٰ نے جرئیل علیہ السلام کو بھیجا۔وہ آئے اور طواف کے بعد صفا اور مروہ پر سعیٔ کرایا،اور عرض کیا؛”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ،یہ ”شعائر اﷲ“ہیں۔“جب انہوں نے طواف اور سعیٔ کر لیا توجبرئیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر” جمرۂ عقبہ“ پر لے آئے،وہاں شیطان کھڑا تھا،جبرئیل علیہ السلام نے سات کنکریاں اُٹھائیں اور آپ علیہ السلام کو دیں اور عرض کیا؛”یا رسول ا ﷲ علیہ السلام!اﷲ تعالیٰ کی تکبیر بیان کرتے ہوئے یہ کنکریاں شیطان کو ماریں۔“آپ علیہ السلام نے تکبیر پڑھتے ہوئے کنکریاں ماریں تو شیطان بھا گ گیا۔پھر دوسرے دن ”جمرہ¿ وسطیٰ“پر ہاتھ پکڑ کر لے گئے،تو وہاں بھی شیطان کھڑا ہوا تھا۔جبرئیل علیہ السلام نے سات کنکریں اُٹھا کر آپ علیہ السلام کو دیں،اور شیطان کو مارنے کو کہا۔آپ علیہ السلام نے کنکریاں ماریں تو شیطان وہاں سے بھاگ گیا۔پھر تیسرے دن ”جمرۂ قصوٰی “پر لے گئے،اور اسی طرح آپ علیہ السلام نے کنکریاں ماریں اور شیطان بھاگا۔اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام ہاتھ پکڑ کر ”مِنیٰ“میں لیکر آئے ،اور بتایا کہ یہاں لوگ سر منڈائیں گے۔پھر انہیں ”مزدلفہ “لیکر آئے اور عرض کیا۔”یہاں لوگ دو نمازیں اکٹھی پڑھیں گے۔“پھر ”میدان عرفات“ میں لیکر آئے اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا؛”یا خلیل اﷲ علیہ السلام!اﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ مناسک حج پہچان گئے؟تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛ ”تمام مناسک حج پہچان گیا ہوں۔“اسی وجہ سے اِس میدان کا نام”میدن عرفات“پڑ گیا۔ یا کہا جائے گا۔

حج کے لئے پکارا(منادی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر اور مناسک حج سے فارغ ہوگئے ،تو اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام سے فرمایا؛”اب تمام لوگوں میں حج کی منادی کر دو۔“یعنی تمام لوگوں کو حج کے لئے پکارو۔آپ علیہ السلام نے تمام انسانوں کو حج کے لئے پکارا۔تمام لوگوں نے اِس پکار کو سنا۔یعنی قیامت تک جتنے لوگ پید ہونے والے تھے ،انہوں نے ”عالمِ ارواح“میں سنا،اور جواب دیا۔”لبیک اللھم لبیک“۔جس نے لبیک کہا وہ حج کرنے جائے گا۔حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ۔میں نے حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ سے ”مقام ابراہیم“پر بنے نشان کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے فرمایا؛”یہ پتھر پہلے بھی اسی کیفیت میں تھا،جیسا آج ہے،لیکن اﷲ تعالیٰ نے جب ”مقام ابراہیم“کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں حج کرنے اعلان کرنے کا حکم فرمایا۔پس آپ علیہ السلام ”مقام ابراہیم“پر کھڑے ہوئے،اور یہ پتھر بلند ہونے لگا،حتیٰ کہ تمام پہاڑوں سے بھی بلند ہو گیا۔پس آپ علیہ السلام نے نیچے دیکھا اور فرمایا؛”اے لوگو!اپنے رب کا حکم قبول کرو ۔“پس لوگوں اُس کو قبول کیا اور کہا؛”لبیک اللھم لبیک“۔آپ علیہ السلام دائیں بائیں،اوپر نیچے دیکھتے رہے اور پکارتے رہے۔لوگو اپنے رب کا حکم قبول کرو۔پس جب تک مقام ابراہیم اوپر رہا،تب تک آپ علیہ السلام لوگوں کو پکارتے رہے۔اور لوگ لبیک کہتے رہے۔پھر مقام ابراہیم نیچے آیا اور آپ علیہ السلام اُس پر سے اُتر آئے۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اثر اِس پتھر پر تھا،ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ”جبل ابو قبیس “پر چڑھ کر لوگوں کو حج کے لئے پکارا۔

مکۂ مکرمہ آتے جاتے رہتے تھے

حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت کے ملک کنعان بعد میں ملک شام اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے۔اور وقتاً فوقتاً مکۂ مکرمہ آتے جاتے رہتے تھے۔کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام صرف تین مرتبہ مکہ¿ مکرمہ تشریف لائے۔لیکن قرآن پاک اور احادیث کے مطابق کم سے کم پانچ مرتبہ آپ علیہ السلام کا مکۂ مکرمہ آنا ثابت ہے۔پہلی مرتبہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہااور حضرت اسماعیل علیہ السلام کوچھوڑنے کے لئے آئے۔دوسری مرتبہ بیٹے کی قربانی کے لئے آئے۔تیسری مرتبہ آئے تو پہلی بہو سے ملاقات ہوئی،چوتھی مرتبہ آئے تو دوسری بہو سے ملاقات ہوئی ۔اور پانچویں مرتبہ آپ علیہ السلام خانۂ کعبہ کی تعمیر کے لئے آئے۔علامہ ابن کثیر اِس کے بارے میں لکھتے ہیں۔

حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت

اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”جب ابراہیم (علیہ السلام)ان سب کو اور اﷲ کے سوا ان کے معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) عطافرمائے۔اور دونوں کونبی بنایا۔“(سورہ مریم آیت نمبر 49)اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ”اور ہم نے اُسے (حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمایا،اور اِس پر مزید یعقوب (علیہ السلام)کو بھی عطا فرمایا،اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر ۲۷)اﷲ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا؛ترجمہ”اور ہم نے اس کو (حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)اسحاق نبی(علیہ السلام) کی بشارت دی۔جو صالح لوگوں میں سے ہو گا۔اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق (علیہم السلام)پر برکتیں نازل فرمائیں ،اور اُن دونوں کی اولا دمیں سے بعض تو نیک بخت ہیں،اور بعض اپنے نفس پر صریح (صاف) ظلم کرنے والے ہیں۔“(سورہ الصا فات آیت نمبر ۲۱۱ اور ۳۱۱)اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوحضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت فرشتوں کے ذریعے دی۔وہ فرشتے انسانی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس آئے،وہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب دینے کے لئے جارہے تھے۔اِس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ کیا ہے۔سورہ الحجر میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛ترجمہ”انہیں ابراہیم(علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال سنادو۔جب انہوں نے اُن کے پاس آکر سلا م کیا تو انہوں نے کہا ہم کو تم سے ڈر لگتا ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ ڈرو نہیں !ہم تمہیں ایک علیم(فہم والے،علم والے) بیٹے کی خوش خبری (بشارت) دیتے ہیں۔(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )فرمایا ؛کیا اِس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم مجھے بشارت دے رہے ہو؟یہ خوش خبری تم کیسے دے رہے ہو؟انہوں نے عرض کیا کہ ہم آپ کو بالکل سچی خوش خبری سنا رہے ہیں۔آپ مایوس لوگوں میں بالکل نہ ہوں۔ُحضرت ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا؛اپنے رب کی رحمت سے نااُمید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔“(سورہ الحجر آیت نمبر 51 سے 56 تک)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمان

اﷲ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا؛ترجمہ”کیاتُجھے ابراہیم(علیہ السلام ) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟وہ جب اُن کے یہاں آئے تو سلام کیا۔ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا۔(اور کہا یہ تو)اجنبی لوگ ہیں۔(چپ چاپ جلدی جلدی)اپنے گھر والوں کی طرف گئے،اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت پکا کر یا بھون کر)لائے۔اور اسے اُن کے پاس رکھا،اور کہا آپ کھاتے نہیں ہیں؟پھر تو دل میں خوف محسوس کیا۔انہوں نے کہا !آپ (علیہ السلام)خوف نہ کریں ،اور انہوں نے اُن کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی۔پس اُن کی بیوی آگے بڑھی،اور حیرت سے آکر اپنے منہ پر ہاتھ مار کر بولی؛میں تو بوڑھی ہو گئی ہوں،اور ساتھ میں بانجھ بھی ہوں۔انہوں نے کہا۔ہاں!تیرے پروردگار (رب) نے اسی طرح فرمایا ہے،بے شک وہ حکیم و علیم ہے۔(سورہ الذاریات آیت نمبر 24 سے 30 تک)اﷲ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا؛ترجمہ”اور ہمارے بھیجے ہوئے پیامبر ابراہیم(علیہ السلام) کے پاس خوش خبری لیکر پہنچے ،اور سلام کیا۔انہوں نے سلام کا جواب دیا،اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کابُھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔اب جو دیکھا کہ وہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں،تو انہیں انجان(مخلوق) پاکر دل ہی دل میںخوف محسوس کرنے لگے۔انہوں نے کہا۔ڈرونہیں!ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے ہیں۔اُس کی (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی)بیوی جوکھڑی ہوئی تھی،وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق (علیہ السلام )کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام ) کی خوش خبری دی۔وہ کہنے لگیں؛ہائے میری کم بختی!میرے یہاں اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟میں خود بوڑھی ہو چکی ہوں،اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو چکے ہیں۔یہ تویقینا بڑی عجیب بات ہے۔فرشتوں نے کہا۔کیا تم اﷲ تعالیٰ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟تم پر اے اِس گھر لوگ!اﷲ کی رحمتیں اور اُس کی برکتیں نازل ہوں۔بے شک اﷲ تعالیٰ حمدو ثنا کے لائق ہے،اور بڑی شان والا ہے۔(سورہ ہود آیت 69 سے 73)

فرشتوں کی حاضری نوجوانوں کی شکل میں

حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت کے ملک کنعان کے ایک علاقے ”الخلیل“جو آج شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے،اُس میں رہتے تھے۔اُس وقت آپ علیہ السلام کے گھر کے پاس کا پورا علاقہ خالی تھا۔آپ علیہ السلام اپنے مکان کے آنگن میں (جو لکڑیوں کی باڑ سے بنا ہوا تھا)مویشیوں اور بکریوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے تو دور سے چند نوجوانوں کو گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار آتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ کچھ مہمان آرہے ہیں۔تو آپ علیہ السلام نے اُن کے کھانے کے لئے ایک بچھڑا ذبح کر کے تیار کر کے لے آئے۔یہ چند نوجوان فرشتے تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ تین فرشتے تھے،اور اِ ن کا نام جبرئیل ،میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام ہے۔امام مقاتل فرماتے ہیں،یہ جبرئیل ،میکائیل ،اور عزرائیل علیہم السلام تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ بارہ فرشتے تھے۔محمد بن کعب فرماتے ہیں۔یہ آٹھ فرشتے تھے۔امام ضحاک فرماتے ہیں،یہ نو فرشتے تھے۔امام ماوردی فرماتے ہیں ،یہ چار فرشتے تھے۔امام ابن جوزی فرماتے ہیں ،وہ گیارہ فرشتے تھے،جو نہایت خوب صورت اور روشن چہروں والے نوجوانوں کی شکلوں میں تھے۔

اﷲ کے خلیل بننے کے حقدار

حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے۔جب انہوں نے چند نوجوانوں کو آتے دیکھا تو جلدی سے اُن کے لئے کھانا تیار کیا۔اور انہیں عزت سے بٹھا یا،انہوں نے سلام کیاتو انہیں سلام کا جواب دیا۔اور اُن کی خدمت میں کھانا پیش کیا،لیکن وہ مہمان خاموش بیٹھے رہے تو آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ کھانا کھائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اِس کا”ثمن“(قیمت)ادا کریں گے۔اور بغیر قیمت ادا کرے ہم نہیں کھائیں گے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”ٹھیک ہے!”ثمن“(قیمت) ادا کرو،اور کھاو¿۔“انہوں نے پوچھا ؛”اِس کھانے کی قیمت کیا ہے؟“تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”کھانے سے پہلے بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم پڑھو،اور کھانا کھانے کے بعد ”الحمد اﷲ“پڑھو۔یہی اِس کا ”ثمن“یعنی قیمت ہے۔یہ سن کر تمام فرشتے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے ۔جبرئیل اور میکائیل علیہم السلام نے کچھ دیر ایک دوسرے کا منہ دیکھا،پھر بولے؛”اِسی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنا ”خلیل“بنایا ہے۔اور آپ علیہ السلام اﷲ کے خلیل بننے کے حقدار ہیں۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے اصرار کیا ؛”ٹھیک ہے !اب آپ لوگ کھانا شروع کریں۔“لیکن اِس کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا،بلکہ خاموش بیٹھے آپ علیہ السلام کی شکل دیکھتے رہے تو آپ علیہ السلام کو کچھ خوف محسوس ہواکہ کہیں یہ دشمن تو نہیں ہیں؟

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں.......!

 

پیر، 17 اپریل، 2023

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 10 Story of Prophet Ibrahim




حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 10

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

مقام ابراہیم

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی بتائی ہوئی حدود پر بنیادیں کھودنی شروع کر دیں،اور دیواریں بنانی شروع کر دیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام گارہ بناتے تھے، حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتے تھے۔اور دونوں حضرات علیہم السلام ملکر دیواریں اُٹھاتے جاتے تھے۔جب دیواریں قد کے برابر ہوگئیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا؛”بیٹے ایسا پتھر لاو¿،جس پر کھڑے ہو کر میں اوپر کی دیواریں بنا سکوں۔“حضرت اسماعیل علیہ السلام کافی دور تک ڈھونڈتے ہوئے گئے،اور ایک پتھر اُٹھا کر لے آئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس پتھر کوضرورت کے مطابق کھسکا کھسکا کرخانہ¿ کعبہ کی دیواریں بنا رہے تھے۔اور ضرورت کے مطابق یہ پتھر اونچا اور نیچا ہو جاتا تھا۔یہ”مقام ابراہیم“تھا۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“جنت سے اُتارا گیا ہے۔حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس کا نور ختم کردیا ہے،اگر یہ نور ختم نہیں کیا جاتا تو زمین و آسمان کے درمیان ہر شئے کو روشن کر دیتا۔حضرت سعید بن جبیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“کو اﷲ تعالیٰ نے نرم کر دیا تھا،اور رحمت بنایا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس پر کھڑے ہو کر خانۂ کعبہ کی دیوار بناتے تھے،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتے تھے۔”مقام ابراہیم “پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان بن گئے تھے۔حضرت قتادہ رحمتہ اﷲ علیہ (جلیل القدر تابعی )فرماتے ہیں کہ لوگوں کو”مقام ابراہیم“کے پاس نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے،اُسے چھونے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ہمیں بعض لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے ”مقام ابراہیم“پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایڑی اور انگلیوں کے نشان دیکھے ہیں۔لیکن اِس اُمت کے لوگوں نے اُسے چھو چھو کر اِن نشانات کو مٹا دیا ہے۔(اِس لئے اب بڑی مشکل سے ایک پیر کا نشان دکھائی دیتا ہے)

حجراسود

حضرت آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر تشریف لائے تو آپ علیہ السلام کے ایک ہاتھ میں پتھر (حجر ِاسود)تھا۔اور دوسرے ہاتھ میں جنت کے پتے(شاخیں) تھیں۔آپ علیہ السلام نے پتے ہندوستان میں بکھیر دیئے ۔جو خوشبو اور پھل پھول اور ہریالی ہندوستان میں دکھائی دیتی ہے،وہ اِسی کا فیضان ہے۔اور پتھر سفید یاقوت تھا،اور حضرت آدم علیہ السلام رات کے اندھیرے میں اِس پتھر کی روشنی سے فائدہ اُٹھاتے تھے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کرتے کرتے اُس جگہ پہنچے ،جہاں آج حجر اسود نصب(لگا ہوا) ہے۔تو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا؛”بیٹے ذرا کوئی اچھا سا پتھر لاو¿ جسے یہاں رکھا جائے۔“حضرت اسماعیل علیہ السلام پہاڑ پر سے ایک پتھر اُٹھا کر لائے تو والد محترم کو پسند نہیں آیا۔بیٹے بار بار پتھر لاتے رہے،لیکن والد محترم کو کوپسند نہیں آرہے تھے۔پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کافی دور تک ایسے پتھر کی تلاش میں نکل گئے،جو والد محترم کو پسند آجائے۔کافی دیر بعد واپس آئے تو اِس دوران جبرئیل علیہ السلام ہندوستان سے وہ پتھر لے آئے تھے،جو جنت سے حضرت آدم علیہ السلام لیکر آئے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُسے نصب کر دیا تھا،حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”اباجان!یہ پتھر کون لایا ہے؟“حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسکرانے لگے، اور مسکراتے ہوئے فرمایا؛”وہ یہ پتھر لایا ہے،جو تم سے زیادہ چست اور مستعد ہے۔“


حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کے خانۂ کعبہ کی بناوٹ

حضرت ابراہیم اور حضر ت اسماعیل علیہم السلام نے جو خانۂ کعبہ بنایا۔اُس کی اونچائی نو ہاتھ رکھی،حجر اسود سے رُکن شامی تک کی لمبائی بتیس(32)ہاتھ رکھی۔رکن شامی سے مغربی رکن تک کی چوڑائی تیئس(23)ہاتھ رکھی،اور مغربی رکن سے رکن یمانی تک کی لمبائی اکتیس(31)ہاتھ رکھی۔اور رکن یمانی سے حجر اسود تک کی چوڑائی بیس (20)ہاتھ رکھی۔اِس طرح خانہ¿ کعبہ ایک سمت بتیس(32)ہاتھ،دوسری سمت تیئس(23)ہاتھ،تیسری سمت اکتیس(31)ہاتھ،اور چوتھی سمت بیس ہاتھ(20)تھا۔خانۂ کعبہ کو”کعبہ“اِس لئے کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے اسے” مکعب نما“ بنایا تھا۔جسے لگ بھگ دو ہزار سال بعد قریش نے توڑ کر ”مربع نما“بنا دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کے دو دروازے بنائے،جوزمین کے برابر رکھے۔اور چھت نہیں ڈالی تھی،یعنی وہ اوپر سے کھلا ہوا تھا۔اندر آپ علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود دیا تھا،اِس میں خانہ¿ کعبہ کے لئے جو ہدیے اور تحفے آتے تھے وہ ڈالے جاتے تھے۔آپ علیہ السلام نے خانہ¿ کعبہ کی لمبائی سے لگ کر ایک باڑ بنائی ،جس کے اوپر کیکر کی شاخوںکا چھپر بنایاتھا۔یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا باڑہ تھااور اِس میں بکریاں رکھی جاتیں تھیں۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانہ¿ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر بنایا تھا،اور فرمایا؛”یہ مکعب نما یعنی مکعب کی شکل کا ہے۔اِس لئے اِس کو ”کعبہ“کہتے ہیں۔“ اور فرمایا؛’[حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھت نہیں بنائی تھی،اور اِس کی تعمیر میں مٹی استعمال نہیں کی تھی،بکہ پتھر استعمال کئے تھے۔

تعمیر کے وقت دعا

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کرتے جارہے تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگتے جارہے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ؛”ابراہیم(علیہ السلام )اور اسماعیل(علیہ السلام)خانہ ¿ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اُٹھاتے جارہے تھے،اور کہتے جارہے تھے۔کہ اے ہمارے رب!تُو ہم سے(اِس عمل کو) قبول فرما۔بے شک تُو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔اے ہمارے رب !ہمیں اپنا فرمانبردار ّمسلمان) بنالے،اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو فرمانبردار (مسلمان)رکھ۔اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا،اور ہماری توبہ قبول فرما،بے شک تُو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔اے ہمارے رب اِن میں انہیں میں سے ایک رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) بھیج،جو اِن کے سامنے تیری آیتیں پڑھے۔اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے،اور انہیں پاک کرے۔بے شک تُو ہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 127 سے 129 تک)اِن آیات کی تفسیر میں تفسیر انوارالبیان میں لکھا ہے کہ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اﷲ کے دو پیارے،اﷲ کے دونوں رسول خلیلاﷲ علیہ السلام،اور ذبیح اﷲ علیہ السلام ،اﷲ کے حکم سے اﷲ کا گھر بنا رہے ہیں۔اُن کے خلوص اور اخلاص پر ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہے۔پھر بھی یہ دونوں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے اِس عمل کو قبول فرمایئے۔اِس سے معلوم ہوا کہ ہم اﷲ تعالیٰ کے لئے کسی بھی کام میں کتنے ہی مخلص ہوں،اور کتناہی نیک اور صالح عمل کریں۔پھر بھی ہمیں اِس بات کا ڈر ہونا چاہیئے کہ پتہ نہیںہمارا یہ خلوص بھرا عمل اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول بھی ہو گا یا نہیں ہوگا۔اِس لئے ہمیں نیک اعمال کرتے رہنا چاہیئے،اور اِس کی قبولیت کی دعا اﷲ تعالیٰ سے کرتے رہنا چاہیئے۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے دعا

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے اِن آیات میں جو دعائیں مانگیںہیں۔اُن کے بارے میں اِن آیات کی تشریح میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام اپنی دعا میں کہہ رہے ہی کہ ہمیں مسلمان بنالے یعنی ”مخلص“بنا لے،”مطیع“بنالے۔موجود ہر شر سے بچا،ریا کاری سے محفوظ رکھ،اور خشوع و خضوع عطا فرما۔حضرت سلام بن ابی مطیع فرماتے ہیں۔مسلمان تو وہ تھے ہی،لیکن اسلام پر ثابت قدمی مانگ رہے ہیں۔جس کے جواب میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ؛”میں نے تمہاری دعا قبول کی“پھر اپنی اولاد کے لئے بھی یہی دعا کرتے ہیں،تو اﷲ تعالیٰ نے وہ بھی قبول فرما لی۔بنی اسرائیل بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں،اور عرب بھی۔(یعنی بن اسماعیل بھی)۔اِس کے بعد کی دعا میں دونوں رسول علیہم السلام عرض کرتے ہیں کہ اِن میں (بنی اسماعیل میں) ایک رسول بھیج۔اور اِس رسول اے مُراد ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔ تو اﷲ تعالیٰ یہ دعا بھی قبول فرمائی،لیکن اِس سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت ِخاص(یعنی صرف عربوں یا بن اسماعیل کے لئے)نہیں ہوتی ۔بلکہ عرب و عجم(یعنی بنی اسرائیل اور ساتھ ساتھ پوری دنیا کے انسانوں کے لئے)سب کے لئے عام ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کہدو کہ اے لوگو!میں تم سب کی طرف اﷲ کا رسول ہوں۔اِس کے بعد آیت نمبر129 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اہل حرم (مکۂ مکرمہ والوں)کے لئے یہ دعا بھی ہے کہ آپ علیہ السلام (حضرت اسماعیل علیہ السلام)کی اولاد میں سے ہی رسول اِن میں آئے،اور یہ دعا بھی پوری ہوئی۔مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ”خاتم النبین“اُس وقت سے ہوں ،جبکہ حضرت آدم علیہ السلام بھی مٹی کی صورت میں تھے۔(یعنی اُن کی پیدائش سے بھی پہلے)میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی” دعا “ہوں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ”بشارت “ہوں۔اور اپنی والدہ کا خواب ہوں ۔انبیائے کرام علیہم السلام کی والدہ کو ایسے ہی خواب آتے ہیں۔“حضرت ابوامامہ رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ سوال کیا”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اپنی نبوت کا شروع تو ہمیں بتایئے۔“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے میرے لئے دعا کی۔اور میرے بارے میں خوش خبری حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی۔اور میری والدہ نے دیکھا کہ اُن کے اندر سے ایک نور نکلا،جس نے ملک شام (اُس وقت فلسطین،اُردن اور لبنان سب ملک شام کہلاتا تھا)کے محلات چمکا دیئے۔مطلب یہ کہ دنیا میں شہرت کا ذریعہ یہ چیزیں ہوئیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی والدہ کا خواب بھی عرب میں پہلے ہی سے مشہور ہو گیا تھا۔اور لوگ کہتے تھے کہ سیدہ آمنہ سے کوئی بہت بڑاشخص پیدا ہوگا۔بنی اسرائیل سے انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ ختم کرنے والے اُن کے آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھتے(یعنی تقریر کرتے)ہوئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا صاف نام لیا اور فرمایا؛”اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اﷲ تعالیٰ کا رسول ہوں،مجھ سے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوں،اور میرے بعد آنے والے رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم)کی تمہیں بشارت دیتا ہوں ،جن کا نام ”احمد“(صلی اﷲ علیہ وسلم) ہے۔

توریت میں رسول اﷲ صلی ا ﷲعلیہ وسلم کا ذکراور نام

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینۂ منورہ پہنچے تو یہودیوں میں سے سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا ،وہ حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ ہیں۔یہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے،اور توریت کو پڑھتے رہتے تھے۔سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129 کی تفسیر میں قاضی ثناءاﷲ پانی پتی لکھتے ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ نے اپنے دو بھتیجوں سلمہ اور مہاجر کو اسلام کی دعوت دی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں فرمایا؛”یقینا تم جانتے ہو کہ اﷲ تعالیٰ نے توریت میں فرمایا ہے کہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک رسول(صلی اﷲ علیہ وسل) مبعوث فرمانے والا ہوں۔جس کا نام”احمد“ہوگا۔پس جو اُس (صلی اﷲ علیہ وسلم ) پر ایمان لائے گا،وہ ہدایت یافتہ ہوگا۔اور جو ایمان نہیں لائے گا، وہ ملعون ہوگا۔‘ یہ سن کر سلمہ نے تو اسلام قبول کر لیا، لیکن مہاجر نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔تو اﷲ تعالیٰ نے آیت نمبر 127 سے 130 تک نازل فرمائی۔آیت نمبر 126 سے 129 کا ترجمہ ہم پہلے پیش کرچکے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے آیت نمبر 130 میں فرمایا؛”اب ابراہیم(علیہ السلام) کے دین(اسلام) سے وہی منہ پھیرے گا،جو بے وقوف ہوگا۔ہم نے تو اُسے(حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)دنیا میں بھی بزرگی عطا فرمائی ہے،اور آخرت میں بھی وہ نیکو کاروں میں ہوگا۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 130)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت کا بنی اسماعیل میں آنا

سورہ البقرہ کی آیت نمبر 124 میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اور جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اُن کے رب نے کئی باتوں(کلمات) میں آزمایا۔اور انہوں نے سب کو پورا کردکھایاتو اﷲ نے فرمایا؛میں تمہیں لوگوں کا امام بناے والا ہوں۔(آپ علیہ السلام نے عرض کیا)کیایہ وعدہ میری اولاد کے لئے بھی ہے؟تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔“اِس آیت کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم!آپ صلی سﷲ علیہ وسلم اِن یہود ونصاریٰ کو بلکہ تمام دنیا کے کافروں کو بتا دیں کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا آقا اور پیشوا سمجھتے ہیں کہ تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ پر نہیں ہو۔وہ تو ہمارے فرمانبردار بندے تھے۔ہم نے اُن کو کئی باتوں میں آزمایا،اور وہ سچے نکلے۔بیٹے کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے قربانی کر دی،ستارہ پرستوں کی محبت توڑنے بلکہ وطن چھوڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے ویسا ہی کر دکھایا۔اور سب کو چھوڑ کر ملک شام(اُس وقت فلسطین ملک شام میں آتا تھا)میں جابسے۔ریگستان ِ عرب کو بسانے اور خانہ¿ کعبہ بنانے کا حکم دیا تو فوراً اپنی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بسا دیا۔ایمان پر رہ کر نمرود کی آگ میں جانا منظور کیا،اِس کے عالوہ بہت سے احکام نماز، ذکوٰة،ظاہری باطنی طہارت،ختنہ وغیرہ سب پوری طرح سے بجا لائے۔اِس کے صلہ میں ہم نے اُن سے کہا کہ ہم تم کو تمام لوگوں کا امام بنانے والے ہیں۔کہ تمام دینوں میں تمہارا چرچا رہے گا،انبیائے کرام علیہم السلام تمہاری اولاد میں ہوں گے۔قیامت تک تمہارے بنائے کعبہ کا حج ہوتا رہے گا،دور اور قریب سے اُس کی طرف گردنیں جھکتی رہیں گی۔لوگ تمہاری اور تمہارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اور تمہاری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کی نقل کر کے حاجی بنیں گے۔نبیٔ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت اپنی نمازوں میں اور خطبوں میں اُس محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تم پر بھی درود بھیجا کرے گی۔قیامت میں تمہاری پیشوائی(امامت) ظاہر ہوگی۔“تو انہوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !میری اولاد میں بھی بابرکت لوگ پیدا کرنا،تاکہ تیری فرماں برداری ہمیشہ میری نسل میں رہے۔“ہم نے اُن کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا؛”اچھا تم سے وعدہ کرتے ہیں،لیکن اِس اقرار اور وعدہ میں تمہاری وہ اولاد شامل نہیں ہوگی،جو بد کار ہوگی۔اُن کو یہ برکت نصیب نہیں ہو گی۔لہٰذا اے اسرائیلیو!(بنی اسرائیل یا یہودیو)تم پر لازم ہے کہ اپنے جد امجد(حضرت ابراہیم علیہ السلام) کی پیروی کرو۔اور اِن نبی ¿ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لاو¿،جن کے لئے انہوں نے(حضرت ابراہیم علیہ السلا م نے)دعائیں مانگیں تھیں۔اور یہ مت سمجھو کہ نبوت بنی اسحاق (بنی اسرائیل) کے لئے خاص ہے۔بنی اسماعیل بھی اُنہی کی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔اور وہ بھی اِس وعدہ میں شامل ہیں۔یعنی نبی ¿ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کے آجانے کے بعد جو لوگ اُن پر ایمان لائیں گے،وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت کے حقدار ہوں گے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......!

 

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام 9 Story of Prophet Ibrahim


حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام

سلسلہ نمبر 5

قسط نمبر 9

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے چوتھی روایت میں یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تین احکامات حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیئے۔اِن میں سے دس سورہ توبہ میں مذکور ہیں۔دس سورہ المومنون میں مذکور ہیں۔اور دس سورہ الاحزاب میں مذکور ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے پانچویں روایت میں ہے کہ جن کلمات میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو مبتلا فرمایا،اور آزمایا۔وہ یہ ہیں۔1)اﷲ تعالیٰ کے لئے اپنی قوم سے جدا ہوجانا۔2)اﷲ تعالیٰ کی توحید کے بارے میں نمرود سے مباحثہ کرنا۔اور جان کا خطرہ ہوتے ہوئے بھی جابر کے سامنے کلمۂ حق(اسلام)کی دعوت دینا۔3)آگ میں ڈالے جانے کے وقت بھی اﷲ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھنا۔4) اﷲ کے لئے اپنے وطن کو چھوڑ کر ملک مصر اور ملک شام اور ملک کنعان کی طرف ہجرت کرنا۔5) اﷲ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں (مہمانوں یا حاجیوں)کی ضیافت کے لئے مامور ہونا۔اور اپنی جان و مال سے اِس پر ثابت قدم رہنا۔6) اپنے بیٹے کو ذبح کرنا۔جب و¿پ علیہ السلام اِن سب آزمائشوں پر کھرے اُتر گئے ،اور کامیاب ہو گئے تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اَسلِم“یعنی فرمانبردار ہو جاؤ۔تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اَسلَمتُ رَبِّ العَالَمِینَ“میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا۔

مکۂ مکرمہ امن کا شہر

اﷲ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تمہیں دنیا کاامام بنانے والا ہوں،تو آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛کیا یہ وعدہ میری اولاد کے لئے بھی ہے۔تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔اِس سے آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ اُن کی اولاد میں نیک لوگ بھی ہوں گے،اور اُن کے لئے اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔لیکن آپ علیہ السلام کی اولاد میں ظالم (گنہ گار،ظلم کرنے والے)لوگ بھی ہوں گے ۔جن کے متعلق اﷲ تعالیٰ وعدہ نہیں ہے۔جیسے کہ یہودی اور عیسائی یعنی اہل کتاب وغیرہ۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب مکہ¿ مکرمہ کے لئے امن کا شہر بنانے کی دعا مانگی تو یہ عرض کیا؛”اے میرے رب !تُو اِس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اﷲ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں(یعنی مسلمان ہوں اور نیک ہوں)انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما۔“تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ چاہے مومن ہو یا کافر،نیک ہوں یا برا ہو،دنیا میں تو میں سب کو رزق دوں گا ۔لیکن کافروں اور ظالموں کوقیامت کے دن پکڑوں گا،اور آگ کا مزہ چکھاؤں گا۔

مکۂ مکرمہ میں دنیا بھر کے پھل

اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاکو قبول کیا،اور مکۂ مکرمہ کو امن والا شہر بھی بنایا۔اور دنیا بھر سے پھل بھی وہاں پہنچاتا ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا؛ترجمہ؛”کیا ہم نے اُن کو امن و امان والے حرم (شہر مکۂ مکرمہ) میں جگہ نہیں دی۔یہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں۔جو ہمارے پاس سے انہیں کھانے کو ملتا ہے۔لیکن اُن میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔“(سورہ القصص آیت نمبر 57) مکۂ مکرمہ کے قریب ہی طائف شہر آباد ہے،اور وہ سر سبزو شاداب علاقہ ہے۔ہمیشہ سے وہاں سے طرح طرح کا پھل مکۂ مکرمہ پہنچتا رہا ہے،اور آج بھی پہنچ رہے ہیں۔اس کے علاوہ مکۂ مکرمہ تجارتی مرکذ بن گیا تھا۔جس کی وجہ سے پوری دنیا سے اور تمام اطراف و اکناف سے طرح طرح کے پھل آتے رہے ،اور آج بھی آرہے ہیں۔شاید ہی دنیا کوئی پھل ایسا ہو جو مکۂ مکرمہ نہیں پہنچتا ہو۔جبکہ وہاں نہ تو زراعت ہوتی ہے،اور نہ ہی شجر کاری ہوتی ہے،اور نہ ہی وہاں کسی قسم کی صنعت ہے۔لیکن اس کے باجود دنیا بھر کے پھل فروٹ اور مصنوعات مکۂ مکرمہ میں ملتی ہیں۔

انبیائے کرام علہیم السلام کے باپ 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے دنیا کا امام بنانے کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام کا باپ بھی بنایا ہے۔آپ علیہ السلام کے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ”بن اسماعیل “کہلائی۔اور دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام (اِن کا ذکر آگے انشاءاﷲ آئے گا)کی اولاد”بن اسرائیل “کہلائی ۔اِس کے علاوہ تیسری بیوی سے بھی اولاد ہوئی ،اور سب کی اولاد میں انبیائے کرام علیہم السلام آئے۔مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔اب ”واذ بتلیٰ“سے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر خیر فرمایا ہے۔تاکہ بنی اسرائیل کو اُن کے منصب ِامامت سے معزول کر کے بنی اسماعیل یعنی اُمت محمدیہ کو قیامت تک کے لئے دنیا کی امامت سونپ دی جائے۔اور اِیسی ہدایات دی جائیں ،جو اُن کے لئے ہمیشہ مشعل ِ راہ ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک مصر ،عراق،فلسطن اور ملک شام سے لیکر ریگستان جزیرہ نمائے عرب کے کونے کونے میں گھوم گھوم کر وہ راہ انسانوں کو اﷲ تعالیٰ کے ابدی پیغام(اسلام) کی طرف دعوت دی۔انہوں نے اس مقصد اور مشن کی تکمیل کے لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اندرون ِعرب یعنی حجاز میں،حضرت اسحاق علیہ السلام کو فلسطین میں اور اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو شرقِ اُردن کے علاقے میں مقرر فرمایا۔تاکہ دنای کے اِس مرکذ میں رہنے والے انسانوں کو پھر سے اﷲ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی دعوت دی جا سکے۔جن علاقوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولادوں کو مقرر فرمایا۔اﷲ تعالیٰ نے اُن کو اور اُن کی اولادوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جو اپنے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام سے اٹھارہ سال بڑے تھے۔انہیں جزیرہ نمائے عرب میں پروان چڑھایا۔قریش اور بعض دوسرے قبائل اُنہیں کی اولاد ہیں۔دوسری طرف حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد فلسطین اور ملک شام میں خوب پھولی پھلی۔حضرت یعقوب علیہ السلام ،حضرت یوسف علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داو¿د علیہ السلام،حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ اُن کی اولاد میں سے ہیں۔چونکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ”اسرائیل “تھا،اِس لئے اُن کے بارہ بیٹوں کی اولاد ”بنی اسرائیل “کہلائی۔اور جب یہی بنی اسرائیل تنزل میں مبتلا ہوئی تو پہلے یہودیت پیدا ہوئی ،اور پھر عیسائیت پید ا ہوئی۔اِن دونوں بیٹوں کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹوں کی اولاد میں بھی انبیائے کرام علیہم السلام آئے۔اِن میں حضرت شعیب علیہ السلام ،حضرت ایوب علیہ السلام ،حضرت یونس علیہ السلام الگ الگ بیٹوں کی اولاد میں الگ الگ علاقوں میں آئے۔اِسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام دنیا کے امام ہونے کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام کے باپ بھی ہیں۔اِس لئے یہودیوں،عیسائیوں اور مسلمانوں سب نے انہیں اپنا بڑا اور اپنا رسول مانا ہے۔

سب سے پہلے ختنہ

اِس دنیا میں سب سے پہلے ختنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔آپ علیہ السلام کو جب ختنہ کا حکم ملا تو آپ علیہ السلام کی عُمر اسی(80) سال تھی۔آپ علیہ السلام نے جلدی سے کلہاڑی سے ختنہ کر لی۔جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو بہت تکلیف ہوئی ۔آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کا پکارا تو اﷲ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ تم نے ہمارے آلہ بتانے سے پہلے جلدی کرلی۔آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛”یارب میں نے تیرا حکم سنتے ہی تاخیر کو پسند نہیں کیا۔امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔؛”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کلہاڑی سے ختنہ کی،اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر تیس (30) تھی۔(صحیح مسلم)امام بیہقی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ختنہ کیا۔اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر ایک سو بیس (120) سال تھی۔آپ علیہ السلام نے کلہاڑی سے ختنہ کیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام اسی(80) سال زندہ رہے۔امام محمد بن سعد نے حی بن عبداﷲ سے روایت کی ہے ،فرماتے ہیں۔مجھے ملی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ختنہ تیرہ (13) سال کی عُمر میں ہوا۔امام بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ختنہ ساتویں دن کیا ،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اُن کی بلوغت کے وقت کیا۔امام بیہقی حضرت جابر بن عبداﷲ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ روسل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اﷲ عنہ اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا ختنہ ساتویں دن کرایا۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کا نکاح

حضرت ابراہیم علیہ السلام قربانی کے بعد ملک کنعان واپس چلے گئے۔آپ علیہ السلام براق پر سوار ہو کر آتے جاتے تھے۔اِدھر مکۂ مکرمہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام بالغ ہوئے تو اُن کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے پیارے بیٹے کا نکاح قبیلہ بنو جرہم کی ایک لڑکی سے کر دیا۔اِس کے کچھ دنوں بعد آپ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہو گیا۔اور انہیں ”حطیم“میں دفن کر دیا گیا۔اُس وقت خانۂ کعبہ نہیں تھا،اور اُس کی جگہ ایک بلند ٹیلہ تھا۔کچھ دنوں بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹے سے ملنے آئے تو وہ اُس وقت کسی لمبے سفر پر گئے ہوئے تھے۔اُن کی بیوی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے انتقال کی خبر ملی۔بہو سے حال چال پوچھا تو اُس نے کہا؛”بڑا برا حال ہے،اور بڑی تنگی چل رہی ہے۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اچھا تمہارے شوہر آئیں تو انہیں میرا سلام کہنا،اور یہ کہہ دینا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ بد ل دیں۔“جب حضرت اسمعیل علیہ السلام واپس آئے تو بیوی سے پوچھا ؛”کیا کوئی مجھ سے ملنے کے لئے آیا تھا؟“تو اُس نے کہا؛”ایسے ایسے حلیہ میں ایک بوڑھا آیا تھا،آپ کے بارے میں پوچھا پھر گھر کے حالات کے بارے میں پوچھا۔تو میں نے کہا کہ بہت تنگی میں گھر چل رہا ہے۔آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”کیا انہوں نے اور کچھ کہا تھا؟“تو اُس نے بتایا کہ وہ آپ کو سلام کہہ گئے ہیں،اور کہا ہے کہ آپ کے کہوں کہ آپ گھر کی چوکھٹ بدل دیں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”وہ میرے والد صاحب تھے،اور مجھ سے تمہارے ذریعے یہ فرماگئے ہیں کہ تم سے الگ ہو جاؤں۔پھر آپ علیہ السلام نے اُسے طلاق دیکر قبیلہ بنو جرہم کی ہی دوسری لڑکی سے نکاح کر لیا۔ایک روایت میں ہے کہ پہلی بیوی قبیلہ عمالقہ کی تھی۔بہر حال کچھ عرصے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پھر بیٹے سے ملنے آئے،لیکن اِس مرتبہ بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔بہو سے ملاقات ہوئی ،بیٹے کے بارے میں پوچھا تو بہونے کہا کہ باہر گئے ہوئے ہیں۔آپ آئیں جو کچھ بھی ہے،اﷲ کا نام لیکر تناول فرمائیں۔آپ علیہ السلام نے گھر کے حالات پوچھے تو اﷲ تالیٰ کا شکر ادا کیا،اور اﷲ تعالیٰ کی تعریف بیان کی ۔آپ علیہ السلام نے پوچھا؛"تمہاری خوراک کیا ہئ؟“تو عرض کی کہ گوشت ہے۔پھر پوچھا؛”پینا کیا ہے؟“تو عرض کیا پانی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ !اِن کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اگر اناج بھی اُن کے پاس ہوتا اور وہ کہتیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اُن کے لئے اناج کی برکت کی بھی دعا کر دیتے۔اب اِس دعا کی برکت سے مکہ¿ مکرمہ والے صرف گوشت اور پانی پر بھی گذارہ کر سکتے ہیں۔اور دوسرے علاقے کے لوگ نہیں کر سکتے ۔اِس کے بعد حضرت ابراہیم علیہالسلام نے فرمایا؛”اچھا تو میں چلتا ہوں،تم اپنے شوہر کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ تمہاری چوکھٹ بہت اچھی ہے ،اسے ہمیشہ قائم رکھنا۔“بعد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام آئے تو اُن کی بیوی نے بتایا کہ ایک بہت ہی پیارے بزرگ ایسے ایسے حلیئے کے آئے تھے،اور نہوں نے ایسا ایسا کہا ہے۔تو آپ علیہ السلام نے بتایا کہ وہ میرے والدِ محترم ہیں،اور مجھے حکم دے کر گئے ہیں کہ میں تمہیں ہمیشہ ساتھ رکھوں ۔یہ واقعہ لگ بھگ ہر تفسیر میں درج کیا گیا ہے ،صرف الفاظ میں کچھ فرق ہے۔



تعمیر خانۂ کعبہ

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر مبارک لگ بھگ ننانوے سال یا اُس سے کچھ زیادہ ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔اِس سے پہلے ہم آپ کو حضرت آدم علیہ السلام کے حالات میں خانۂ کعبہ کے بارے میں بتا چکے ہیں۔لیکن یہاں مختصر میں بتا دیں تاکہ تشنگی محسوس نہ ہو۔ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے خانۂ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ خوا رضی اﷲ عنہ نے کی تھی۔ایک اور روایت کے مطابق فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی نگرانی میں خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جنت ایک بہت بڑا یاقوت اُتارا تھا،جسے اُس جگہ رکھ دیا گیا تھا جہاں آج خانۂ کعبہ ہے۔اب اصل حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعا لیٰ کو ہی ہے۔جب طوفان نوح آیا تو ایک روایت کے مطابق خانۂ کعبہ بہہ گیا تھا۔اور ایک روایت کے مطابق خانۂ کعبہ اُٹھا لیا گیا تھا،اور ساتویں آسمان کے اوپر رکھ دیا گیا تھا۔اور وہی ”بیت المعمور “فرشتوں کا کعبہ ہے۔اﷲتعالی کے حکم کو پورا کرنے کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ آئے تو اِس بار بیٹے سے ملاقات ہو گئی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام زمزم کے کنویں کے پاس بیٹھے تیر بنا رہے تھےاور سیدھا کر کے رکھ رہے تھے۔والد محترم کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے آگے بڑھے اور ادب سے والد صاحب کو سواری سے اُتارا۔کافی لمبے عرصے بعد دونوں باپ بیٹے ملے تو آنکھوں میں آنسو آگئے، اور سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا دونوں کو یاد آگئیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے والد محترم کو حترام سے لا کر گھر میں بٹھایا۔تھوڑا سکون ملنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛”بیٹا!اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے۔“بیٹا بھی اتنا فرمانبردار کہ یہ نہیں پوچھا کہ کون سا کام ہے؟بلکہ فوراً کہا؛”اباجان جس کام کا حکم اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دیا ہے وہ کر ڈالیئے۔“تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے سے فرمایا؛”بیٹے !اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کے لئے یہاں مکۂ مکرمہ میں ”اﷲ کا گھر “بناؤں۔“

خانۂ کعبہ کی بنیادیں اور حدود

دونوں باپ بیٹے نے تیاری مکمل کر لی،لیکن یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ خانۂ کعبہ کی بنیادیں کہاں کھودیں،اور اُس کی حدود کتنی رکھیں۔اِس بارے میں ایک روایت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک ہوا بھیجی جس کا نام سکینہ ہے جس کے سانپ کی طرح دو سر تھے۔اور وہ اُس جگہ پر ٹھہر گئی جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے تو دونوں حضرات علیہم السلام نے اِس کی حد میں بنیادیں کھودیں۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک بادل کا ٹکڑا بھیجا اور فرمایا اِسکا سایہ خانۂ کعبہ کی حدود ہیں،اِس کے مطابق بنیادیں کھودو،نہ کم ہو نہ زیادہ ہو۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو خانۂ کعبہ کی حدود بتا کر بھیجا۔اور انہوں نے آکر اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نشانات اور اشارات بتائے،اور دونوں حضرات علیہم السلام نے ان کے مطابق خانہ¿ کعبہ کی بنیاد کھودی۔آج جو خانۂ کعبہ ہم دیکھ رہے ہیں،وہ مربع نما یعنی چوکور ہے۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو خانۂ کعبہ بنایا تھا،وہ اِس سے بڑا اور مکعب نماتھا۔حطیم کا پورا حصہ جو ابھی خانۂ کعبہ کے باہر ہے،وہ اندر تھا۔اور اِس میں دو دروازے تھے جو زمین سے لگ کر تھے۔بعد میں جب قریش نے بوسیدہ خانۂ کعبہ کو توڑ کر بنایا تو پیسے کی کمی کی وجہ سے اُس کی لمبائی کو کم کر دیا اور اُسے مربع نما بنا دیا۔اور صرف ایک دروازہ کر دیا،اور وہ بھی زمین سے کافی اُونچائی پر کر دیا۔فتح مکہ کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا؛”اے عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا!تمہاری قوم نے ابھی ابھی اسلام قبول کیا ہے۔(یعنی نئے نئے اسلام میں دخل ہوئے ہیں)اگر ایسا نہیں ہوتا(اور اُن کا ایمان مضبوط ہو چکا ہوتا)تو میں خانۂ کعبہ کو توڑ دیتا،اور اُسے اُن بنیادوں اور حدود پر بناتا ،جن حدود پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنایاتھا۔اِس کا دروازہ زمیں کے برابر کر دیتا اور ”حطیم“کو خانۂ کعبہ کے اندر کر دیتا۔“اور دوسری ایک روایت میں فرمایا کہ”میں اِس میں دو دروازے بنا دیتا۔“(صحیح مسلم)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خانۂ کعبہ کو ویسا ہی رہنے دیا،جیسا قریش نے بنایا تھا۔بعد میں حضرت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنی حکومت کے دوران”مکۂ مکرمہ “کو دارالخلافہ بنایا،اور خانۂ کعبہ کو توسیع دیکر اُسی طرح بنا دیا،جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے بنایا تھا۔لیکن بعد میں عبد الملک بن مروان کے حکم پر اُس کے سپہ سالار حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کر کے خانہ¿ کعبہ اُسی طرح بنا دیا،جیسا قریش نے بنایا تھا۔ بعد میں عباسیہ خاندان کے حکمراں ہارون رشید نے امام مالک رحمتہ اﷲ علیہ سے مشورہ کیا کہ خانۂ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حدود اور بنیاد پر پھر سے بنادوں؟تو انہوں نے فرمایا؛”اے امیر المومنین ! خانۂ کعبہ کو بادشاہوں کا کھلونا نہ بنائیں کہ جو بھی آئے وہ توڑا کرے اور بنایا کرے۔اِس طرح اﷲ کے اِس گھر کی ہیبت جاتی رہے گی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں......! 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں