حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام
سلسلہ نمبر 5
تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
انسان سے ابلیس شیطان کی مستقل دشمنی
اِس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت آدم ،حضرت نوح،حضرت ہود،اور حضرت صالح علیہم السلام کے حالات پیش کر چکے ہیں۔اب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کے حالات آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ ابلیس شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا تھا۔اور ا تعالیٰ نے اُسے مردود قرار دے کر اپنی بارگاہ سے نکال دیا تھا۔تب سے ابلیس شیطان انسانوں کا دشمن بن گیا،اور اُس کی کوشش یہی رہتی ہے کہ کسی بھی طرح انسان کا اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے پر اُکسائے۔وہ انسان کے دل و دماغ میں وسوسے پید کرتا ہے،اور انسان وسوسوں کا شکار ہو کر برائیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔وہ انسان کو برائی میں مبتلا کرتے کرتے اُس مقام تک پہنچا دیتا ہے، جہاں انسان شرک مرنے لگتا ہے۔جیساکہ آپ نے حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں پڑھا کہ قوم ِ نوح آخر تک شرک پر اڑی رہی، اور اﷲ کے عذاب کا شکار ہو گئی۔آپ علیہ السلام کی اولاد میں قوم عاد اور قوم ثمود کا انجام بھی آپ پڑھ چکے ہیں۔حضرت نوح علیہ السلام کی نسل پوری دنیا میں پھیلی،اور ابلیس شیطان بھی اپنی نسل کے ساتھ پری دنیا میں اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے تھے۔اور قوموں کو گمراہ کرنے کا کام کر رہا تھا،اور انہیں بت پرستی میں مبتلا کرتا جارہا تھا۔اِن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم بھی تھی،اور یہ لوگ تو چند قدم اور آگے نکل گئے تھے۔اور بتوں کی پوجا کرنے کے ساتھ ساتھ ستاروں،سورج اور چاند کی بھی پوجا کرنے لگے تھے۔اور اِن کے حکمراں اپنے آپ کو نعوذ باﷲ ”خدا “کہلوانے لگے تھے۔
قوم ابراہیم حضرت نوح علیہ السلام کی نسل
اِس سے پہلے حضرت ہود علیہ السلام کے ذکر میں ہم آپ کو تفصیل سے بتا چکے ہیں ،کہ حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے پوری دنیا پھیلی،یہاں مختصر میں بتا دیتے ہیں۔تاکہ ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو۔حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹے سام،حام،یافث کی اولاد پوری دنیا میں پھیلی۔اِن میں نے سام کی اولاد عرب اور اُس کے آس پاس کے علاقوں (جسے ہم آج کل” مڈل ایسٹ“ یعنی”مشرق وسطیٰ“کہتے ہیں)میں بسی تھی۔سام بن نوح کے پانچ بیٹے ارفخشند،لاوذ ،ارم،اشوذ،اور اغلیم تھے،اِن میں سے ارم کا ایک بیٹا عوص ”احقاف “میں جاکر بس گیا۔اور اُس کی اولاد ”قوم عاد“ کہلائی ۔ارم کا دوسرا بیٹا کاثر یا جاثر یا عاثر نام کا تھا،وہ ”حجر“میں جا کر بس گیا تھا،اور اُس کی اولاد”قوم ثمود“کہلائی ۔سام بن نوح کا ایک اور بیٹاارفخشندعراق اور اُس کے آس پاس کے علاقوں میں جا کر بس گیا تھا۔اور ارفخشند کی اولاد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ حام کا ایک بیٹا جس کانام ”کنعان“تھا،وہ اُس علاقے میں جا کر بس گیا تھا،جس کا نام آج فلسطین ہے۔فلسطین اور اُس کے آس پاس کا علاقہ اسی کے نام پر ”ملک کنعان“کہلاتا تھا۔بعد میں یہودیوں اور عیسائیوں نے ”ملک کنعان“کے ٹکڑے کر کے کئی ملکوں میں تقسیم کردیا۔جن میں سے ایک ملک فلسطین ہے،۔اس کے علاوہ ”حام “کا ایک اور بیٹا ”مصرائم“اُس علاقے میں جا کر بس گیا،جس کا نام آج”ملک مصر“ہے۔یہ نام مصرائم کے نام پر ہی رکھا گیا تھا۔ہم نے ملک کنعان اورملک مصر کے بارے میں مختصراًاِس لئے یہاں بتا دیا ہے،کیونکہ آگے جاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر میں اِس دونوں علاقوں کے نام بھی آئیں گے۔ اور اُس وقت آپ کے ذہن میں اُلجھن پیدا نہ ہو۔
قوم ابراہیم کی حالت
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں جاننے سے پہلے ہم آپ علیہ السلام کی قوم کے بارے میں کچھ جان لیں تو انشاءاﷲ آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت کی اہمیت سمجھنے میں آسانی ہوگی۔مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں۔اِس مقام پر اور قرآن کے دوسرے مقامات پر جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اُن کی قوم کے نزاع کا ذکر آیا ۔اسے اچھی طرح سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے مذہبی و تمدنی حالات پر ایک نظر ڈال لی جائے۔جد ید اثری تحقیقات کے سلسلے میں نہ صرف وہ شہر دریافت ہو گیا ہے، جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے تھے۔بلکہ دورِ ابراہیمی میں اس کے لوگوں کی جو حالت تھی،اُس پر بھی بہت کچھ روشنی پڑی ہے۔لیونارڈ وولی(lionard woolley )نے اپنی کتاب (Abraham 1935 )ابراہم ۵۳۹۱عیسوی میں اِس تحقیقات کے جو نتائج شائع کئے ہیں۔اُن کا خلاصہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔اندازہ کیا گیا کہ ۰۰۱۲قبل مسیح کے زمانے میں،جسے عام طور سے محققین حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ظہور کا زمانہ تسلیم کرتے ہیں۔شہر ”اُر“ کی آبادی ڈاھائی لاکھ کے قریب تھی،اور بعید نہیں کہ پانچ لاکھ بھی ہو۔”اُر“بڑا صنعتی و تجارتی مرکذ تھا،ایک طرف پامیر اور نیلگری تک سے وہاں مال آتا تھا۔ اور دوسری طرف” اناطولیہ“ تک سے اُس کے تجارتی تعلقات تھے۔جس ریاست کا یہ صدر مقام(راجدھانی)تھا،اُس کی حد ود موجودہ عراق سے شمال میں کچھ کم اور مغرب میں کچھ زیادہ تھی۔ملک کی بیشتر آبادی کا پیشہ صنعت و تجارت تھا۔اُس عہد کی جو تحریرات آثارِ قدیمہ کے کھنڈروں میں دستیاب ہوئی ہیں۔اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی میں اُن لوگوں کا نقطہ¿ نظر خالص مادہ پرستانہ تھا۔دولت کمانا اور زیادہ سے زیادہ آسائش فراہم کرنا اُن کا سب سے بڑا مقصدِ حیات تھا۔
قوم طبقوں میں بٹی ہوئی تھی
حضرت ابراہیم علی السلام کی قوم بھی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی طرح طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ابلیس شیطان نے اِس قوم میں بھی انسانوں کے درمیان اونچ نیچ پیدا کر دی تھی۔اِس سے پہلے ہم حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں بتا چکے تھے کہ آج کل ہمارے ہندوستان میں پنڈتوں،پجاریوں اور پروہتوں(سادھوو¿ں)کے کنٹرول میں پوری ہندو قوم ہے،اُسی طرح حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا حال تھا۔یہی حال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کا تھا۔مولانا سید ابو الا علیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔قوم میں سود خوری کثرت سے پھیلی ہوئی تھی،سخت کاراباری قسم کے لوگ تھے۔ہر ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا،اور آپس میں مقدمہ بازیاں ہوتی تھیں۔اپنے خداو¿ں سے اُن کی دعائیں زیادہ تر درازی¿ عُمر ،خوش حالی اور کاروبار کی ترقی سے متعلق ہوا کرتی تھی۔آبادی تین طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔(1)عَمیلو۔یہ اونچے طبقے کے لوگ تھے،اِن میں مندروں کے پجاری ،حکومت کے عہدے دار اور فوجی افسران وغیرہ شامل تھے۔(2)مشکینو۔یہ تجارت کرنے والے ،اور صنعت کرنے والے ،زراعت کرنے والے(کسان ) تھے۔(3)اَردو۔یہ اِس قوم میں غلام طبقہ تھا۔اِن میں سے پہلا طبقہ یعنی ”عمیلو“کو خاص امتیازات حاصل تھے۔اُن کے فوجداری اور دیوانی حقوق دوسروں سے مختلف تھے۔اور اِن کی جا ن و مال کی قیمت دوسروں سے بڑھکر تھی۔یہ شہر اور یہ معاشرہ تھا،جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آنکھ کھولی۔اُن کی اور اُن کے خاندان کا جو حال ہمیں تلمود میں ملتا ہے،اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ ”عمیلو“طبقہ میں پید ہوئے تھے۔اور اُن کا باپ(یا چچا) ریاست کا سب سے بڑا عہدے دار تھا۔
قوم کے ہزاروں بُت یعنی خدا تھے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم پر ابلیس شیطان کا شکنجہ کتنا سخت تھا،اِس کا اندازہ اِس قوم کے بتوں کی تعداد سے ہوتا ہے۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔”اُر“کتبات میں تقریباًپانچ ہزار خداو¿ں کے نام ملتے ہیں۔ملک کے مختلف شہروں کے الگ الگ خدا تھے،ہر شہر کا ایک محافظ خدا ہوتا تھا۔جو رب البلد ،مہادیو،یا رئیس الآلہہ سمجھا جاتا تھا،اور اُس کا احترام دوسرے معبودوں سے زیادہ ہوتا تھا۔”اُر“ کا رب البلد ”ننار“دیوتا(چاند دیوتا)تھا۔اور اِسی مناسبت سے بعد کے لوگوں نے اِس شہر کا نام ”قمرینہ“بھی لکھا ہے۔دوسرا بڑا شہر ”کرّمہ“تھا،جو بعد میں ”اُر“ کے بجائے مرکذِ سلطنت(راجدھانی)بنایا گیا۔اُس کا البلد”شماش“دیوتا(سورج دیوتا) تھا۔اِن بڑے خداو¿ں کے ماتحت بہت سے چھوٹے خدا بھی تھے،جو زیادہ تر آسمانی تاروں اور سیاروں میں سے کم تر زمین سے منتخب کئے گئے تھے۔اور لوگ اپنی مختلف فروعی ضروریات ان سے متعلق سمجھتے تھے۔اِن آسمانی اور زمینی دیوتاو¿ں اور دیویوں کی شبہیں بتوں کی شکل میں بنالی گئیں تھیں۔اور تمام مراسمِ عبادت انہی کے آگے بجا لائے جاتے تھے۔
قوم کی اخلاقی حالت
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کی اخلاقی حالت پچھلی گزری تینوں قوم یعنی قوم نوح،قوم عاد،اور قوم ثمود سے زیادہ گھٹیا اور پس ماندہ تھی۔ابلیس شیطان نے اپنے ہرکاروں یعنی پنڈتوں اور پجاریوں کے ذریعے پوری قوم کو غلاضتوں کے ڈھیر میں ڈال دیا تھا۔اور پنڈت اور پجاری اِس طرح سے بے شمار دولت کما رہے تھے۔
اور عوام دن بہ دن غریب ہوتی جارہی تھی۔اِس کے ساتھ ساتھ عورت کو کھلونا سمجھ لیا گیا تھا ،اور اُس کی کوئی عزت نہیں تھی۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔”ننار“کا بُت ”اُر“میں سب سے اونچی پہاڑی پر ایک عالیشان عمارت(مندر) میں نصب تھا۔اِسی کے قریب ننار کی بیوی ”نن گل“کا معبد(مندر) تھا۔ننار کے معبد کی شان ایک شاہی محل سرا کے جیسی تھی،اس کی خواب گاہ میں روزآنہ رات کو ایک پجارن جا کر اُس کی دلہن بنتی تھی۔مندر میں کثرت سے عورتیں دیوتا کے نام سے ”وقف“تھیں۔ اور اُن کی حیثیت دیو داسیوں کی طرح تھی،وہ عور ت بہت ”معزز“مانی جاتی تھی،جو خدا کے نام پر اپنی عزت قربان کردے۔کم از کم ایک مرتبہ اپنے آپ کو ”راہ خدا“میں کسی اجنبی کے حوالے کرنا عورت کے لئے ”ذریعہ نجات “خیال کیا جاتا تھا۔اب یہ بیان کرنا ضروری نہیں ہے کہ اِس مذہبی”قحبہ گری“سے مستفید ہونے والے زیادہ تر پجاری حضرات ہی ہوتے تھے۔
مذہبی رہنما حکمرانوں پر حاوی تھے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کی حالت بالکل ویسی تھی،جیسی آج کل ہمارے ہندوستان میں ہندوؤں کی ہے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی آگے لکھتے ہیں۔"ننار" محض دیوتا ہی نہیں تھا،بلکہ ملک کا سب سے بڑا زمین دار ،سب سے بڑا تاجر ،سب سے بڑا کارخانہ دار،اور ملک کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا حاکم تھا۔بکثرت باغ اور کھیت ،مکانات اور زمینیں اس کے مندر کے لئے وقف تھیں۔ اتنی تمام جائداد کی آمدنی کے علاوہ کسان، زمیندار،تاجرہر قسم کے غلے(کھانے کا سامان)دودھ ،سون، کپڑا اور دوسری چیزیں مندر میں لا کر چڑھاتے تھے،یعنی نذر کرتے تھے۔جنہیں وصول کرنے کے لئے مندر میں ایک بہت بڑا اسٹاف موجود تھا۔(اِسی طرح آج ہمارے ہندوستان میں بے شمار بُتوں کے منر ہیں،اور دن بہ دن اُن کے پجاری اور اسٹاف اربوں پتی ہوتے جارہے ہیں)بہت سے کارخانے مندر کی طرف سے قائم تھے،اور تجارتی کاروبار بھی بہت بڑے پیمانے پر مندر کی طرف سے ہوتا تھا۔یہ سب کام دیوتا کی طرف سے پجاری ہی انجام دیتے تھے۔اور ملک کی سب سے بڑی عدالت مندر میں ہی تھی،اور پجاری اس کے جج تھے۔اور اُن کے فیصلے ”خدا“کے فیصلے سمجھے جاتے تھے۔خود شاہی خاندان کی حکومت بھی ننار کی محتاج تھی،اصل بادشاہ ننار تھا،اور حکمراں اُس کی طرف سے حکومت کرتا تھا۔اِس تعلق سے بادشاہ بھی خود معبودوں میں شامل ہو جاتا تھا،اور اُس کی بھی معبودوں کی طرح پوجا کی جاتی تھی۔
نمرود
حضرت ابراہیم علیہ لسلام کی قوم کا حکمراں نمرود تھا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔نمرود لقب تھا(یعنی اُس قوم کے ہر حکمراں کو نمرود کہا جاتا تھا۔جیسے مصریوں کے حکمراں کو فرعون اور رومیوں کے حکمراں کو قیصر اور ہرقل ،فارسیوں کے حکمراں کو کسریٰ کہا جاتا تھا)اور نمرود کا نام زرہی بن طہما سلفان تھا۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔”اُر“کا شاہی خاندان جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں حکمراں تھا،اُس کے بانی ¿اول کا نام”اُرنمو“تھا۔اُس نے سنہ 2300 قبل مسیح (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 2300 سال پہلے)ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی۔اُس کی حدودِ مملکت مشرق میں سوسہ سے لیکر مغرب میں لبنان تک پھیلی ہوئی تھی۔اُسی سے اِس خاندان کو ”نمو“کا نام ملا۔جو عربی میں جاکر ”نمرود “ہو گیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔اکثر قدیم علمائے کرام کا کہنا ہے کہ آپ علیہ السلام نمرود بن کوش کے دورِ حکومت میں پید ہوئے۔اور اکثر مورخین کی رائے یہ ہے کہ نمرود،ازہاق نام کے علاقے کا گورنر تھا۔اور یہ ”بابل“کے آس پاس کا علاقہ ہے۔محمد بن اسحاق رحمتہ ا للہ علیہ کی روایت کے مطابق ”آذر“کوفہ کی بستی ”کوٹی“یاکوثی“کا رہنے والا تھا۔اور یہ علاقہ نمرود کی مشرقی سلطنت کا حصہ تھا۔اور اِسے ہاصر کہا جاتا تھا،اور اُس وقت نمرود کی حکومت زمین کے مشرق و مغرب میں پھیلی ہوئی تھی۔اور ”بابل“پر بھی اُس کی حکومت تھی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم میں جب کفرو شرک ظلم و ستم اور فسق و فجور حد سے گزرنے لگا،اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑنے لگی۔تب اللہ تعالیٰ نے اُن پر رحم فرمایا،اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان صرف دو رسول حضرت ہود علیہ السلام اور حضرت صالح علیہ السلام آئے۔جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلا م کومبعوث فرمانے کا ارادہ کیا،اور اُن کا زمانہ قریب آیا تو نمرود کے پاس اُس کے نجومی آئے،اور اُس سے کہا کہ ہمارے علم کے مطابق اِس بستی میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے۔جس کا نام ”ابراہیم“ہو گا۔وہ تمہارے دین سے جدائی اختیار کرے گا،اور تمہارے بتوں کو توڑ ڈالے گا۔وہ فلاں سال کے فلاں مہینے میں پید ہو گا،جب وہ سال آیاجس کے بارے میں نجومیوں نے پیشن گوئی کی تھی۔تو نمرود نے حاملہ عورتوں کو گرفتار کر لیا،البتہ آذر کی بیوی کو گرفتار نہیں کیا۔کیونکہ اُس کے حاملہ ہونے کا پتہ نہیں سکا تھا،کیونکہ اُس کا پیٹ برابر تھا۔اِن گرفتار شدہ عورتوں میں سے جسے بیٹا پیدا ہوتا تھا تو وہ قتل کر دیا جاتا تھا۔جب آپ علیہ السلام کا وقت آیا تو آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ جنگل میں چلی گئیں۔وہاںحضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے ۔اُن والدہ محترمہ نے انہیں وہیں غار میں چھوڑ دیا،وہ بار بار اُس غار میں جاتیں تھیں۔تاکہ بچے کی دیکھ ریکھ کریں۔جب بھی وہ وہاں جاتیں تو دیکھتیں تھیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے انگوٹھے کو چوس رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رزق کا انتظام اُن کے انگوٹھا چوسنے کے ذریعے کیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلسلۂ نسب
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلسلۂ نسب اِس طرح ہے۔حضرت ابراہیم بن تاخ بن ناحور بن ساروغ بن رانموبن فالغبن عابر بن شالح بن ارفخشند بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔یہ اہل کتاب کی موجودہ توریت میں لکھا ہوا سلسلہ¿ نسب ہے۔حافظ ابن عساکر ،حضرت اسحاق بن بشر کے حوالے سے لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام والدہ محترمہ کا نام ”امیلہ“تھا۔انہوں نے آپ علیہ السلام کی پیدائش کا واقعہ پوری تفصیل سے بیان کیا ہے۔امام کلبی کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام ”بونا بنت کرینابن کرنی تھا۔جو ارفخشند بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد سے ہے۔امام ابن عساکر حضرت عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کنیت ”ابو فیفان“ہے۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔آپ علیہ السلام کا سلسلۂ نسب اِس طرح بیان کرتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام تارج بن ناحوربن ساروغ بن ارغوابن فالغ بن عابر بن شالخ بن قینان بن ارفخشند بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اِس طرح لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بن آذر (اسے تارح یا تارخ کہتے ہیں)اور آذر ایک بُت کا نام تھا،جس کی وجہ سے لقب آذر ہوا۔بن ناحور بن ساروخ (ساروغ یا شوروخ یا اشرغ)بن ارغوا بن فالغ (فالخ)بن عابر (یا عنبر) بن شالخ(یا شلیخ) بن ارفخشند بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا غور و فکر
حضرت ابراہیم علیہ السلام اُسی غار میں پڑے ہوئے تھے،اور دھیرے دھیرے جب سنِ شعور کو پہنچے تو آپ علیہ السلام نے غور و فکر شروع کر دیا۔والدہ محترمہ اُن کی قوم کے معبووں کے بارے میں بتاتی تھیں۔آپ علیہ السلام کی قوم بتوں کے ساتھ ساتھ ستاروں اور چاند اور سورج کی بھی پوجا کرتی تھی۔آپ علیہ السلام جب بھی انہیں دیکھتے تو والدہ محترمہ سے پوچھتے تھے،اور جب وہ انہیں اُن کے بارے میں بتاتیں تو آپ علیہ السلام اِس پر غور و فکر کرتے تھے۔لیکن جب انہیں ڈوبتے ہوئے سیکھتے تھے تو یہی فرماتے تھے کہ جو چیز ڈوب جائے ،وہ معبود نہیں ہو سکتیں۔بلکہ معبود وہ ہے،جس نے اِن سب کو اور پوری کائنات کو بنایا ہے۔ اور وہ اکیلا یہ سارا انتظام سنبھال رہا ہے۔جب آپ علیہ السلام جوان ہو گئے تو والدہ محترمہ نے آپ علیہ السلام کے باپ کو بتایا۔وہ بہت خوش ہوا ،اور آپ علیہ السلام کی والدہ انہیں باپ کے کے پاس لے آئیں۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں ۔اہل کتاب کے مطابق جب تارخ کی عُمر پچھتر (75)سال ہوئی تو حاران،حضرت ابراہیم علیہ السلام، اور ناحور پیدا ہوئے۔اور حاران کے بیٹے حضرت لوط علیہ السلام پیدا ہوئے۔وہ یہ بتاتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تاخ کے درمیانی بیٹے ہیں،اور حاران کا اپنے باپ کی زندگی میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔اور آپ علیہ السلام کی جائے پیدائش کلدانیوں کا ملک بابل (کا شہر اُر) بتایا جاتا ہے۔امام ابن عساکر حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بابل (کے شہر اُر) میں پیدا ہوئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کس زمانے میں پید ا ہوئے؟اور آپ حضرت آدم علیہ السلام کے کتنے عرصے بعد پیدا ہوئے؟اِس کے بارے میں علامہ غلام رسول سعیدی تفسیر تبیان القرآن میں لکھتے ہیں۔حضرت نوح علہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلا م کے درمیان دس صدیاں ہیں۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس صدیاں ہیں۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے دو ہزار (2000)سال بعد پید ہوئے۔ایوب بن عقبہ قاضی یمامہ بیان کرتے ہیں ۔حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس آبا ءہیں،اور یہ ایک ہزار سال کا عرصہ ہے۔اور حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان دس آباءہیں،اور یہ بھی ایک ہزار سال کا عرصہ ہے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے درمیان سات آباءہیں،اور اُن کے درمیانی سال معلوم نہیں ہیں۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان ایک ہزار پانچ سو (1500) سال ہیں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے درمیان چھ سو یا پونے چھ سو سال کا عرصہ ہے۔علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت آدم علیہ السلام کے تین ہزار تین سو سینتیس 3337 سال بعد پید ہوئے۔اُس وقت طوفان نوح کو بارہ سو ترسٹھ 1263 سال گزر چکے تھے۔زیادہ صحیح یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام دوسو 200 سال گزار کر اِس دنیا سے رخصت ہوئے۔امام کلبی کہتے ہیں کہ ایک سو پچھتر175 سال عُمر تھی ،اور امام مقاتل کہتے ہیں کہ ایک سو نوے۰۹۱ سال عُمر تھی۔
آذر باپ تھا یا چچا
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سلسلہ¿ نسب میں والد کا نام تارح یا تارخ ہے۔اور قرآن پاک کے مطابق آذر ہے۔یہ آپ علیہ السلام کا باپ تھا یا چچا تھا،اِس بارے میں علمائے کرام میں مختلف رائیں ہیں۔بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آذر ہی باپ تھا،اور اُس کا نام تارح یا تارخ تھا۔،اور سب سے بڑا پجاری ہونے کی وجہ سے لقب آذر تھا۔اور بہت سے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آذر اور تارح یا تارخ دو بھائی تھے۔اور آذر آپ علیہ السلام کا چچا تھا۔اور تارح یا تارخ والد تھے،اور آپ علیہ السلام کے بچپن میں ہی اُن کا انتقال ہو گیا تھا۔اب حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعالیٰ کو ہی ہے۔ واﷲ و اعلم۔اور ہمیں اِس بحث میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ آذر آپ علیہ السلام کا باپ تھا یا چچا تھا،اور یہ ہمارا موضوع بھی نہیں ہے۔ہاں جو حضرات اِسے تفصیل سے سمجھنا چاہتے ہوں،وہ تفاسیر اور تاریخ کا مطالعہ کریں،اِن میں علمائے کرام نے سیر حاصل گفتگو کی ہے۔
عجیب دُکان دار
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے دینی رُخ کو درست کر چکے تو اپنے والد کے پاس آئے۔آپ علیہ السلام اُس وقت تک تمام باطل مذاہب سے بیزاری اختیار کر چکے تھے،لیکن انہوں نے ابھی تک اِس بات کا اظہار نہیں کیا تھا۔جب آپ علیہ السلام نے اپنے والد کے پاس آکر بتایا کہ میں آپ کا بیٹا ہوں،اور اُن کی والدہ نے بھی بتایا کہ یہ وہی آپ کا بیٹا ہے،جس کے بارے میں پوچھا تھا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جنگل میں چھپانے کا سارا واقعہ بھی بتایا۔یہ سب سُن کر آذر بہت خوش ہوا ،آذر شاہی مندر کا پجاری تھا،بلکہ وہی شاہی پجاری تھا۔اِس طرح وہ پوری قوم کا مذہبی رہنما تھا،اور پوری قوم پر بلکہ حکمرانوں پر بھی اُس کا حکم چلتا تھا۔آذر بت بنایا کرتا تھا،اُس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتوں کو بیچنے کے کام پر لگا دیا۔اﷲ تعالیٰ نے اُس وقت تک آپ علیہ السلام کو مبعوث نہیں فرمایا تھا،اور آپ علیہ السلام کو کوئی واضح رہنمائی نہیں ملی تھی۔لیکن در پردہ اﷲ تعالیٰ آپ علیہ السلام کی رہنمائی فرماتا تھا۔بتوں سے نفرت اور بیزاری شروع سے تھی ،لیکن باپ کا حکم تھا تو بتوں کو لیکر جاتے تھے۔اور بازار میں انہیں بیچنے کے لئے رکھ کر اُن بتوں کا مذاق اُڑاتے تھے۔آپ علیہ السلام آواز لگاتے تھے؛”کون ہے جومجھ سے ایسی چیز خریدے جو نہ تو نفع پہنچا سکتی ہے،اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتی ہے۔“
بتوں کا مذاق اُڑانا
حضرت ابراہیم علیہ السلام اِسی طرح بتوں کا مذاق اُڑا کر فروخت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔لیکن قوم کے لوگ آپ علیہ السلام کے اِس طرح آوازلگانے سے اپنے بتوں کی توہین سمجھتے تھے،اور کوئی بھی آپ علیہ السلام سے بُت نہیں خریدتا تھا۔جبکہ آپ علیہ السلام کے دونوں بھائی اچھے خاصے بت فروخت کر لیا کرتے تھے۔،اور آپ علیہ السلام ایک بھی بت فروخت نہیں کر پاتے تھے۔دراصل آپ علیہ السلام کا مقصد بتوں کو فروخت کرنا نہیں تھا،بلکہ قوم والوں کو حقیقت بتانا مقصد تھا ۔بازار بند ہونے کے بعد آپ علیہ السلام اِن بتوں کو لیکر ندی پر جاتے تھے،اور ایک ایک بُت کو پکڑ کر ندی میں ڈبوتے ،اور فرماتے تھے؛”لے پانی پی لے“اور جب وہ پانی نہیں پیتا تھاتو بلند آواز سے فرماتے؛”تُو معبود نہیں ہو سکتا ،کیونکہ تُو کچھ بھی نہیں کر سکتا ہے۔تُو تو صرف مٹی اور پتھر ہے۔“اِس طرح آپ علیہ السلام ہر بُت کے ساتھ کرتے تھے۔آپ علیہ السلام کی قوم اپنے معبودوں کے ساتھ یہ سلوک دیکھتی تو غصہ سے بھر جاتی تھی،اور آپ علیہ السلام کو منع کرتی تھی تو آپ علیہ السلام فرماتے ؛”یہ تمہارے کیسے خدا اور کیسے معبود ہیںکہ اُن کے ساتھ بُرا سلوک ہوتا ہے،تب بھی یہ کچھ نہیں کر سکتے ۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت
حضرت ابراہیم علیہ السلام آذر کے ساتھ رہ رہے تھے،اور بتوں کے ساتھ آپ علیہ السلام کا وہی رویہ تھااِس طرح برسوں گزر گئے،اور آپ علیہ السلام کا نکاح سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا سے ہو گیا۔آپ علیہ السلام کی قوم اُن کے معبودوں کے ساتھ آپ علیہ السلام کا توہین کرناروز دیکھتی تھی،لیکن آپ علیہ السلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی تھی،کیونکہ آپ علیہ السلام شاہی پجاری کے بیٹے تھے۔ دھیرے دھیرے پوری قوم میں یہ مشہور ہو گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہمارے بتوں سے نفرت کرتے ہیں،اور اُن کے دشمن ہیں۔یہ خبر شاہی پجاری آذر تک پہنچی، اُس نے آپ علیہ السلام سے اِس بارے میں پوچھا تو آپ علیہ السلام نے اُسے اسلام کی دعوت دی۔کیونکہ اُسوقت تک اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی طرف وحی بھیج کر آپ علیہ السلام کو قوم کی طرف مبعوث فرما دیا تھا۔اس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانعام میں فرمایا؛ترجمہ؛” اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے،جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے فرمایا کہ کیا تُو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟بے شک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح (کھلی صاف صاف) گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔“(سورہ الانعام آیت نمبر 74)اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ؛”اور اِس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرو،بے شک وہ بڑے سچائی والے رسول تھے۔جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا؛اے میرے باپ!دیکھیئے میرے پاس وہ علم (اسلام )آیا ہے،جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں ہے۔تو آپ میری بات مانیں ،میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا۔اے میرے باپ !آپ شیطان کی پوجا سے باز آجائیں،اور شیطان تو رحم و کرم کرنے والے اﷲ تعالیٰ کا بڑا ہی نافرمان ہے۔اباجی !مجھے خوف لگا ہوا ہے کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الہٰی نہ آجائے،اور آپ شیطان کے ساتھی بن کر رہ جائیں۔“(سورہ مریم آیت نمبر 41 سے 45 تک)
باپ(یا چچا) کی دشمنی
اﷲ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلا م کو نبوت کی ذمہ داری عطا فرمائی کہ اب اپنے گھر والوں کو اور قوم والوں کو سمجھاو¿۔اور ان کے سامنے اسلام کی حقانیت اور کفر کی غلاضت کو واضح کرو۔تو قاعدے کے مطابق آپ علیہ السلام نے اپنے باپ یا چچا سے اسلام کی دعوت کی شروعات کی۔کیونکہ ایک تو وہ آپ علیہ السلام کے گھر کا سب سے بڑا بزرگ تھا،اور دوسری سب سے اہم بات یہ کہ گھر کا بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ وہ قوم کا بھی سب سے بڑا مذہبی رہنما یعنی شاہی مندر کا سب سے بڑا پجاری تھا۔اُس کا پوری قوم میں اتنا بڑا مقام تھا کہ سب لوگ اُس کی بات کو آنکھ بند کر کے مانتے تھے۔اِسی لئے آپ علیہ السلام نے سب سے پہلے اُسے اسلام کی دعوت دی،اور بڑی محبت سے اور بڑے ادب سے الگ الگ دلیلوں سے سمجھایا۔باپ چونکہ بہت بڑا عالم تھا،اور جانتا تھا کہ بُت پرستی اور ستارہ پرستی یعنی کفرو شرک یہ سب شیطان کے ہتھیار ہیں،اور اِن کے ذریعے وہ انسان کو اﷲ تعالیٰ کا باغی بناتا ہے۔اِس لئے آپ علیہ السلام نے اُس سے علمی گفتگو کی،اور سمجھایا کہ شیطان کے بہکاوئے میں آکر اپنی دنیا اور آخرت کو برباد مت کرو۔لیکن افسوس اُس پر شیطان اتنی بری طرح حاوی تھا کہ اُس نے آپ علیہ السلام کی بات کو سمجھنے کے بجائے اُلٹا ڈانٹنے لگا،اور دشمنی کرنے لگا۔
باپ یا چچا کو سمجھایا
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ یا چچا کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے کہ اپنے باپ کو صراط مستقیم کی دعوت دی، اور بتایا کہ شیطان کی عبادت مت کرو۔اور یہ بھی فرمایا کہ تم جس دین پر ہو،اُس پر قائم رہنے سے تم پر اﷲ تعالیٰ کا عذاب پہنچ جائے گا۔اُن کے باپ نے ساری ان سنی کر دی اور کوئی بات نہیں مانی۔علامہ عماد الدین ابن کثیر لکھتے ہیں۔الغرض حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو وعظ سنا رہے ہیں،اور انہیں بت پرستی سے روک رہے ہیں،لیکن وہ باز نہیں آیا۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ تو نہایت بری بات ہے کہ تم ایک بت سے وہ الحاح اور عاجزی کرو،جو اﷲ کا حق ہے۔یقینا اِس مسلک کے لوگ سب کے سب بھٹکے ہوئے ہیں۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں۔پہلی آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آذر سے کہا کہ تم نے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے۔میں تم کو اور تمہاری ساری قوم کو گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔(اِس کے بعد آذر باپ تھا یا چچا ،اِس کے بارے میں بحث کرنے کے بعد لکھا ہے)آذر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ ہو یا چچا ،بہر حال نسبی طور سے قابل احترام بزرگ تھا۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے ”دعوت ِ حق“اپنے گھر سے شروع فرمائی۔مفتی احمد یار خان نعیمی اِس بارے میں کہ آذر باپ تھا یا چچا ،کافی لمبی بحث کے بعد لکھتے ہیں۔اِس آیت کریمہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عالی ہمت و جرا¿ت مطلقہ کا بھی ذکر ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اُن برائیوں کی برملا تردید کی،جو قوم میں سرایت کر گئی تھی،اور شاہی قانون بھی بن چکی تھی۔ایسی برائیوں کی تردید کرنا بڑی ہمت و جرا¿ت کا کام ہے۔اور آپ علیہ السلام کی انتہائی دانشمندی کا بھی ذکر ہے کہ آپ علیہ السلام نے پہلے اپنے قرابت دار اور قوم کے سردار آذر کو تبلیغ کی۔آپ علیہ السلام کی یہ دلیری اور دانشمندی تا قیامت مبلغین کے لئے مثال ہے۔علامہ غلام رسول سعیدی اس کے بارے میں کہ آذر باپ تھا یا چچا،کافی لمبی بحث کے بعد لکھتے ہیں۔اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے (عُرفی) باپ آذر سے کہا کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو؟بے شک میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔یعنی تمہاری عبادت کا طریقہ ہر صاحب ِ عقل سلیم کے نزدیک کھلی ہوئی گمراہی ہے،اور جہالت ہے۔اور اس سے زیادہ واضح جہالت اور گمراہی کیا ہوگی کہ تم اپنے ہاتھوں سے بت بنا کر اُن کی پوجا کرتے ہو۔پھر ایسے کمزور ،لاچار، بے حس اور بے جان تاشیدہ پتھروں کو اپنا خدا ماننا اور اُن کی پوجا کرنا کھلی ہوئی گمراہی کے سوا اور کیا ہے؟
قوم کو اسلام کی دعوت
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑی محبت اور ادب اور احترام سے اپنے باپ یا چچا کو اسلام کی دعوت دی۔لیکن اُس نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو ٹھکرا دیا،اور ڈانٹنے ڈپٹنے لگا۔بہر حال آپ علیہ السلام نے باپ کو سمجھانے کے بعد اپنی قوم کو سمجھانے کی طرف قدم بڑھایا۔گھر والوں میں سے آپ علیہ السلام کی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہااور بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام نے اسلام قبول کر لیا تھا۔اب آپ علیہ السلام اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنی قوم کے لوگوں کے پاس آئے۔قوم کے لوگ شاہی مندر میں پوجا اور کیرتن کے لئے جمع تھے،اور شاہی پجاری آذر انہیں اُن کے مذہب کے بارے میں یعنی بتوں کے بارے میں بتا رہا تھا۔آپ علیہ السلام مندر میں دخل ہوئے،اور آزر کو اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”یقینا ہم نے اس سے پہلے ابراہیم(علیہ السلام ) کو اِس کی(اسلام کی)سمجھ بوجھ بخشی تھی،اور اس کے احوال سے خوب واقف تھے۔جب اُس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں(بُت)جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو،کیا ہیں؟سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا۔آپ(علیہ السلام) نے فرمایا؛پھر تو تم اور تمہارے باپ دادا سبھی یقینا کھلی گمراہی میں مبتلا رہے۔انہوں نے کہا۔کیاآپ(علیہ السلام)ہمارے پاس حق لائے ہیں؟یا یوں ہی مذاق کر رہے ہیں؟آپ (علیہ السلام) نے فرمایا؛ نہیں !اصل میں تم سب کا پروردگار تو وہ ہے ،جو آسمان اور زمین کا مالک ہے۔جس نے تمہیں پیدا کیا ہے،میں تو اِسی بات کا گواہ اور قائل ہوں (سورہ الانبیاءآیت نمبر 51 سے 56 تک )حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں سمجھانے سے پہلے پوچھا کہ یہ تم لوگ جو اِن بتوں کی پوجا کر رہے ہو،اِس کی کوئی حقیقت بھی ہے،یا نہیں؟تو قوم کے لوگوں نے بتایا کہ ہم نے کبھی اِس پر غور نہیں کیا ہے،بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اِن کی پوجا کرتے ہوئے دیکھا تو ہم بھی کرنے لگے۔تب آپ علیہ السلام نے سمجھایا کہ تمہارے باپ دادا اور تم جو کر رہے ہو،اِس کی کوئی حقیقت نہیں ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کا مالک اور خالق اﷲ تعالیٰ ہے،اور اُسی نے ہم سب کو پیدا کیا ہے،اور صرف وہی عبادت کرنے کے لائق ہے۔یہ سن کر آزر اور قوم کے لوگوں کو بڑا عجیب لگا،اور آزر تو اپنی قوم کے سامنے بڑی خفت محسوس کر رہا تھا۔ اُس نے فوراًقوم کی طرف سے ترجمانی کرتے ہوئے کہا؛”تم جو کہہ رہے ہو،اِس میں حقیقت بھی ہے یا تم یونہی ہم سے مذاق کر رہے ہو۔“
قوم کو دلیل سے سمجھایا
حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جب آزر نے قوم کی ترجمانی کرتے ہوئےکہا تو قوم کے لوگ بھی اُس کی ہاں میں ہاں کرنے لگے۔تب آپ علیہ السلام نے انہیں دلیل سے سمجھایا۔اﷲ تعالیٰ نے الشعراءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”انہیں ابراہیم(علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دو،جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو؟انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔،اور ہم تو اِن کے برابر مجاور بنے بیٹھے ہیں۔آپ(علیہ السلام) نے فرمایا کہ جب تم انہیں پکارتے ہو تو کیاوہ سنتے بھی ہیں؟یا تمہیں نفع و نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں؟انہوں نے کہا(ہم کچھ نہیں جانتے)ہم نے تو اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے پایا ہے۔آپ(علیہ السلام) نے فرمایا؛کچھ خبر بھی ہے ،جنہیں تم پوج رہے ہو(یعنی بتوں کو اور ستاروں کو) ،تو تم اور تمہارے اگلے باپ دادا وہ سب میرے دشمن ہیں۔سوائے اپس اﷲ تعالیٰ کے جو تمام جہانوں کا رب ہے،پالنے والا ہے۔جس نے مجھے پید کیا ہے،اور وہی میری رہبری فرماتا ہے۔وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے،اور پلاتا ہے۔اور جب میں بیمار پڑ جاو¿ں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے۔اور وہی مجھے مار ڈالے گا،پھر زندہ کرے گا۔اور جس سے (میری)اُمید بندھی ہوئی ہے کہ وہ روزِجزا(قیامت کے دن)میرے گناہوں کو بخش دے گا۔“(سورہ الشعراءآیت نمبر 69 سے 82 تک) جب اُن لوگوں نے آپ علیہ السلام سے اُن کی بات کی سچائی کی دلیل مانگی تو آپ علیہ السلام نے اُن سے پوچھا کہ اچھا یہ بتاو¿ !تم اِن بتوں اور ستاروں کی پوجا کیوں کرتے ہو؟کیا وہ تمہارا کچھ فائدہ کرتے ہیں؟اور اگر تم اُن کی پوجا نہ کرو اور انہیں معبود ماننے سے انکار کر دو تو وہ تمہا را کوئی نقصان کر سکتے ہیں؟اور جو دعائیں اور مُرادیں تم اُن سے مانگتے ہو،کیا وہ سنتے اور پوری کرتے ہیں؟تو آزر اور قوم والوں کو کوئی جواب نہیں بن پڑا،کیونکہ اگر وہ یہ کہتے کہ ہاں وہ سنتے ہیں،اور نفع اور نقصان پہنچا سکتے ہیں تو انہیں دلیل سے ثابت کرنا پڑتا۔اور اُن کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی۔اِسی لئے انہوں نے کہا کہ بھائی ہم نے تو اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے،اِسی لئے ہم اِن بتوں اور ستاروں کو اپنا معبود مانتے ہیں،اور اِن کی پوجا کرتے ہیں۔تب آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ اِن بتوں اور ستاروں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اور تم اور تمہارے باپ دادا جو کچھ بھی کرتے رہے ہو،یہ اُس اﷲ تعالیٰ سے دشمنی کرنا ہے،جو بتوں اور ستاروں اور تم کو اور تمہارے باپ دادا کو پیدا کرنے والا ہے۔ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے،اور سب پر اُسی کا حکم چلتا ہے۔چونکہ تمہارے باپ دادا نے اﷲ تعالیٰ کا چھوڑ کر اِن بتوں اور ستاروں کی پوجا کی،اور تم بھی وہی کر رہے ہو۔اِس لئے تمہارے باپ دادا اور تم اﷲ تعالیٰ کے دشمن ہوئے،اِسی لئے میرے بھی دشمن ہوئے۔اِس کے بعد سمجھایا کہ عباد ت کا حقدار صرف اﷲ تعالیٰ ہے،کیونکہ اُس نے زمین و آسمان،سورج ،چاند ،ستارے اور ہم سب کو بنایا ہے۔اور وہی ہر شئے کا مالک ہے،اُسی کا حکم زمین،آسمان ،سورج،چاند،ستاروں پر بلکہ ہمارے جسموں پر بھی چلتا ہے۔وہی ہمارے لئے کھانے کی غذائیں اور پینے کا پانی پیدا کرتا ہے،اور وہی ہماری سانسوں کو چلا رہا ہے۔اور جب ہم بیمار پڑتے ہیں تو وہی ہمارے جسموں کو اچھا کرتا ہے،اور وہ ایک مخصوص مدت تک ہمیں زندہ رکھے گا،پھر ہمیں مار ڈالے گا۔پھر ہمیں زندہ کرے گا،اور جو کچھ ہم نے دنیامیں کیا ہو گااُس کا حساب لے گا۔اور پھر ہمارے اعمال کی مناسبت سے جزائ(انعام )یا سزا دے گا۔اِس لئے تم لوگ اِن بتوں اور ستاروں کی پوجا چھوڑ کر صرف ایک اﷲ کی عبادت کرو،اُس پر ایمان لاؤ اور اسلام قبول کر لو۔
قوم نے جھٹلایا اور آپ علیہ السلام نے پھر سمجھایا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک دلیل نہیں کئی دلائل سے اپنے باپ اور قوم کے لوگوں کو سمجھایا۔اُس وقت اُن لوگوں سے کوئی جواب نہیں بن پڑا،اور وہ خاموش سوچتے رہ گئے۔آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ میری باتوں پر غور و فکر کرو۔یہ خبر دھیرے دھیرے پورے شہر میں اور پھر پورے ملک میں پھیل گئی۔کافر سرداروں اور مذہبی رہنماو¿ںیعنی پنڈتوں اور پجاریوں کا اجلاس ہوا،اور اُس میں طے ہوا کہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات نہیں ماننی ہے،اور انہوں نے آپ علیہ السلام کو صاف جھٹلا دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر انہیں دلائل دیکر سمجھایا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا؛ترجمہ؛”اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اُس سے ڈرتے رہو۔اور اگر تم میں (ذرا بھی) دانائی ہے تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔تم تو اﷲ تعالیٰ کے سوا بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہو،اور جھوٹی باتیں دل سے گھڑ لیتے ہو۔توجن جن کی تم اﷲ تعالیٰ کے سوا پاجا پاٹ کر رہے ہو،وہ تو تمہاری روزی کے مالک نہیں ہیں۔پس تمہیں چاہیئے کہ تم اﷲ تعالیٰ ہی سے روزیاں طلب کرو،اور اُسی کی عبادت کرو۔اور اُسی کی شکر گزاری کرو، اور اُسی کی طرف لوٹائے جاو¿ گے۔اور اگر تم(مجھے)جھٹلاو¿ تو تم سے پہلے کی اُمتوں نے بھی (اپنے رسولوں کو)جھٹلایا ہے۔اور رسول کے ذمہ تو صرف صاف طور سے پہنچا دینا ہے۔“(سورہ العنکبوت آیت نمبر ۶۱ سے ۸۱ تک)آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے جھٹلانے کے باوجود انہیں سمجھایا کہ دیکھو تمہارے لئے یہی بہتر ہے کہ تم اِن بتوں کی پوجا چھوڑ کر صرف ایک اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرو۔اور کوئی بھی شخص جس میں ذرا بھی عقل اور سمجھ داری ہو گی تو وہ غورو فکر کر کے یہی تسلیم کرے گاکہ اِس کائنات کا نظام چلانے والاایک ہی ہے۔اور وہی ہم انسانوں کی ہر ضرورت کو پورا کرتا ہے،اور وہ اﷲ تعالیٰ ہے۔اِس لئے اگر تم میں ذرا بھی عقل اور سمجھ داری ہو گی تو تم اسلام قبول کرنے سے انکار نہیں کرو گے۔اور یہی تمہارے لئے بہتر ہے،اچھا یہ بتاو¿ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو۔کیا وہ تمہارے لئے روزیاں یعنی کھنے اور پینے کی اشیاءپیدا کر سکتے ہیں؟نہیں بالکل نہیں پید کر سکتے ہیں،صرف اﷲ تعالیٰ ہی تمہارے لئے ہر شئے کو پیدا فرماتا ہے۔اِسی لئے تم صرف اُسی سے روزیاںطلب کرو،اور صرف اُسی کی عبادت کرو۔اور کفر اور شرک کر کے اﷲ تعالیٰ کی ناشکری مت کرو،کہ اُسی کی دی ہوئی روزی کھا رہے ہو۔اور دوسروں کو اُسے چھوڑ کر معبود مان رہے ہو،اور دیکھو اگر تم نے مجھے جھٹلایا ہے،یعنی میری بات ماننے سے انکار کیا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔تم سے پہلے کی اُمتوں نے بھی یہی حرکتیں کیں تھیں ،اور میرے ذمہ تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔اب تم مانو یا نہ مانو،تمہاری مرضی۔
حکمت سے پھر اپنی قوم کو سمجھایا
حضرت ابراہیم علیہ السلام دلائل سے اور حکمتوں سے اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن آپ کا اپنا بزرگ آزر تھا۔وہ قوم کو آپ علیہ السلام کی بات سمجھنے ہی نہیں دیتا تھا۔اور گھر پر بھی آپ علیہ السلام کو ڈانٹتا رہتا تھا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ؛”اُس نے (آزرنے)جواب دیا کہ اے ابراہیم(علیہ السلام )!کیا تُو ہمارے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے؟سُن اگر تُو باز نہیں آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار مار کر مار ڈالوں گا۔جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ ہو رہ۔“(سورہ مریم آیت نمبر ۶۴)آپ علیہ السلام اس کے باوجود آزر کو سمجھاتے تھے،اور اپنی قوم کو بھی سمجھاتے رہتے تھے۔اِسی طرح ایک مرتبہ ستاروں کی پوجا سے روکنے کے لئے اپنی قوم کو سمجھایا۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ الانعام میں فرمایا؛ترجمہ؛”جب رات کی تاریکی اُن پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا۔آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میرا رب ہے،مگر جب وہ غروب ہو گیاتو آپ(علیہ السلام ) نے فرمایا کہ میں غروب ہو جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔پھر جب چاند کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے،لیکن جب وہ غروب ہو گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہیں دی ہوئی ہوتی تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہو جاتا۔پھر جب سورج کو دیکھا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے،یہ تو سب سے بڑا ہے،پھر جب وہ غروب ہو گیا تو آپ (علیہ السلام)نے فرمایا ؛بے شک میں تمہارے شرک بیزار ہوں۔میں اپنا رُخ یکسُو ہو کر اُس کی طرف کرتا ہوں،جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے۔اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔“(سورہ الانعام آیت نمبر 76 سے 79 تک)آپ علیہ السلام کی قوم بتوں کی پوجا کرنے کے علاوہ ستاروں کی پوجا بھی کرتی تھی۔ انہیں سمجھانے کے لئے آپ علیہ السلام نے بڑا پیارا اور نرم رویہ اختیار کیا۔اُن سے پوچھا کہ تم کن کن کی پوجا کرتے ہو؟تو انہوں نے اپنے بتوں کے نام بتانے کے ساتھ ساتھ ستاروں اور چاند اور سورج کے بارے میں بھی بتایا کہ یہ بھی ہمارے خدا یعنی معبود ہیں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ٹھیک ہے !چلو تم کہتے ہو تو میں ستاروں کو رب تسلیم کر لیتا ہوں۔قوم کے لوگ خوش ہو گئے کہ چلو ابراہیم علیہ السلام ہماری بات مان رہے ہیں۔لیکن جب تھوڑی دیر کے بعدچاند نکل آیا تواُس کی روشنی کے آگے سب تارے پھیکے پڑ گئے۔تب آپ علیہ السلام نے فرمایا ؛”ارے ارے اِس چاند کی روشنی کے آگے تو تمہارے سب خداو¿ں کی چمک مدھم ہو گئی ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے غروب ہوگئے،اور میں غروب وہنے والے کو اپنا خدا نہیں مان سکتا۔آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے کہا؛”چاند بھی ہمارا خدا ہے۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”چلو ٹھیک ہے،میں تمہاری بات مانتا ہوں۔“لیکن جب چاند بھی غروب ہو گیا تو آپ علیہ السلام نے قوم سے فرمایا؛”اے لوگو! اگر میرا رب مجھے ہدایت نہیں دیتا تو میں تو تمہاری طرح گمراہ ہو چکا ہوتا۔“پھر جب سورج نکلا تو قوم نے کہا؛”یہ بھی ہمارا خدا ہے۔“لیکن جب وہ ڈوب گیا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ دراصل یہ ستارے ،چاند اور سورج کوئی خدا وغیرہ نہیں ہیں۔ بلکہ یہ بھی اُس اﷲ تعالیٰ کی مخلوق ہیں،جو ہمارا خالق اور مالک ہے۔اور اُس نے ہماری آسانی اور فائدے کے لئے اِن چیزوں کو بنایا ہے،اور یہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے ہماری خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔“لیکن اتنا سمجھانے کے بعد بھی جب قوم نے کہا کہ یہ ہمارے معبود ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”تم لوگ گواہ رہناکہ میں تمہارے شرک سے بیزار اور بری ہوں۔اور ہر طرف سے منہ موڑ کر میں نے اُس اﷲ کی طرف کر لیا ہے،جس کے قبضے میں ہم سب ہیں،بلکہ وہ بھی ہیں کو تم معبود مانتے ہو۔“
بتوں کو توڑنے کی دھمکی
حضرت ابراہیم علیہ السلام طرح طرح کے دلائل اور حکمت سے اپنی قوم کو سمجھا رہے تھے۔لیکن اُن کے اوپر پنڈتوں اور پجاریوں کی پکڑ بہت مضبوط تھی،اور پنڈتوں اور پجاریوں پر ابلیس شیطان کی پکڑ بہت مضبوط تھی۔اِس لئے کوئی بھی آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول نہیں کر رہا تھا،بلکہ اُٹا آپ علیہ السلام کو دھمکانے لگے کہ تم جس معبود کی بات کر رہے ہو(نعوذ باﷲ)وہ کچھ نہیں ہے،اور تم ہمارے معبودوں کو برا کہہ کر انکار کر رہے ہو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارا کوئی معبود تمہیں نقصان پہنچا دے،کیا تم کو اِس کا ڈر نہیں لگتا؟تو آپ علیہ السلام نے جو فرمایا اِس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانعام میں فرمایا؛ ترجمہ؛”اور اُن سے (حضرت ابراہیم علیہ السلام سے)اُن کی قوم نے حجت کرنا شروع کردی۔آپ(علیہ السلام) نے فرمایا؛”کیا تم اﷲ کے معاملے میں مجھ سے حجت کرتے ہو؟جبکہ اُس نے مجھے (صحیح اور درست) طریقہ بتادیا ہے۔اور جن چیزوں (بتوں اور ستاروںوغیرہ) کو تم اﷲ کے ساتھ شریک بناتے ہو۔میں اُن سے بالکل نہیں ڈرتا ۔ہاں ! اگر میرا پرور دگار یعنی اﷲ تعالیٰ میرے لئے جو بھی چاہے ،وہ ہو سکتا ہے۔اور تم دیکھتے اور غور نہیں کرتے ہوکہ میرا رب یعنی اﷲ تعالیٰ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ اور میں اُن چیزوں (بتوں اور ستاروں وغیرہ) سے کیسے ڈروں؟جبکہ تم اِس بات سے نہیں ڈر رہے ہوکہ تم نے اﷲ کے ساتھ شریک اُن کو بنایا ہے،جن کے بارے میںاﷲ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی ہے۔تو اگر تمہیں کچھ بھی علم ہے تو(غور کرو کہ)اُن دو جماعتوں(مسلمانوں اور کافروں) میں سے کون امن کا زیادہ مستحق ہے؟“(سورہ الانعام آیت نمبر 80 اور 81)جب آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا کہ تم کو ہمارے معبودوں (بتوں) سے ڈر نہیں لگتا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”تم ڈرنے کی بات کرتے ہو،میرا ارادہ تو یہ ہے کہ میں بہت جلد تمہارے جھوٹے معبودوں کو توڑ ڈالوں گا۔تب بھی وہ میرا کچھ بگاڑ نہیں سکیں گے۔اِس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا)اور اﷲ کی قسم! میں تمھارے اِن بتوں کے ساتھ جب تم (میلے میں) چلے جاو¿ گے تو ایک چال چلوں گا۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر 57)
بتوں کو توڑ دیا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ یہ بُت جنہیں تم معبود مانتے ہو،یہ کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور میں یہ انہیں توڑ کر ثابت کروں گا۔یعنی میں اِن کے خلاف ایک چال چلوں گا،اور یہ بُت مجھے اُس چال سے روک نہیں پائیں گے۔آپ علیہ السلام کی قوم دوسری قوموں کی طرح تہوار مناتی تھی۔کچھ دنوں بعد ایک تہوار آیا،اُس میں پوری قوم شہر کے باہر جمع ہوتی تھی،اور بہت بڑا میلہ لگتا تھا ۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی اِس دھمکی کو بعض لوگوں نے سن بھی لیا تھا۔وہ اِن بتوں کے نام پر ہر سال شہر سے باہر میلہ منعقد کرتے تھے،اور پوری آبادی خوشی کے اِس موقع پر شہر سے باہر چلی جاتی تھی۔آپ علیہ السلام کے باپ نے آپ علیہ السلام کو اپنے ساتھ میلے میں چلنے کی دعوت دی،تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں بیمار ہوں(یعنی تم لوگ میلے میں جو خرافات کرو گے،وہ میں نہیں کر سکتا،اِس لئے میں معذور (بیمار) ہوں)۔آپ علیہ السلام کا اصل مقصد یہ تھا کہ اِن مورتیوں کی اہانت کی جائے۔اور دین حق کی سربلندی اور بُت پرستی کے باطل عقیدے کی بیخ کنی کی کوشش کی جائے۔اور انہیں یہ بتایا جائے کہ یہ بُت اِسی سلوک کے لائق ہیں۔کہ انہیں ریزہ ریزہ کر دیا جائے،اور اُن کو پوری طرح ذلیل و خوار کیا جائے۔اﷲ تعالیٰ نے اِس کے بارے میں سورہ الصافات میں فرمایا؛ترجمہ”اور (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے)کہا؛میںتو بیمار ہوں،اِس پر وہ سب منہ موڑ کر واپس چلے گئے۔آپ (علیہ السلام)اُن کے معبودوں کے پاس گئے،اور فرمانے لگے؛تم کھاتے کیوں نہیں ہو؟اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ بات نہیں کرتے ؟پھر تو(پوری قوت کے ساتھ)دائیں ہاتھ سے انہیں مارنے پر پل پڑے ۔“(سورہ الصافات آیت نمبر 89 سے 93 تک)اﷲ تعالیٰ سورہ الانبیاءمیں فرماتے ہیں۔ترجمہ؛”پس اُس نے(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) اُن سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے،ہاں صرف بڑے بُت کو چھوڑ دیا۔یہ بھی اِس لئے کہ وہ سب اپس کی طرف ہی لوٹیں۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر 58)جب پوری قوم کے لوگ میلے میں چلے گئے تو آپ علیہ السلام چوکنا انداز میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے شاہی مندر میں آئے۔آپ علیہ السلام نے ایک وزنی کلہاڑا ہاتھ میں لیا ہوا تھا۔شاہی مندر بہت بڑا تھا،دروسزے کے سامنے سب سے بڑا بُت رکھا ہوا تھا،اُس کے بازو میں اُس سے چھوٹا بُت رکھا تھا۔اُس کے بازو میں اُس سے چھوٹا ،اِس طرح پہلو بہ پہلوکئی بُت رکھے ہوئے تھے۔اور ہر ساتھ والا بُت اپنے سے پہلے والے بُت سے چھوٹا تھا۔مشرکین اپنے بتوں کے سامنے کھانا لا کر رکھتے تھے،اور کہتے تھے کہ جب ہم چلے جائیں گے،تو یہ بُت اِن میں برکت ڈال دیں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب مندر میں داخل ہائے تو دیکھا کہ پورے ہال میں بہت سارے بُت رکھے ہوئے ہیں۔اور اُن کے سامنے کھانا رکھا ہوا ہے،آپ علیہ السلام ہر بُت سے فرماتے؛”تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم کھانا نہیں کھا رہے ہو؟“پورے مندر میں خاموشی طاری رہی،اور کسی بُت نے جواب نہیں دیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”تم لوگ میری بات کا جواب کیوں نہیں دیتے؟اور اگر جواب نہیں دے سکتے تو تمہیں معبود کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔“اتنا فرما کر آپ علیہ السلام نے کلہاڑے سے بتوں پر حملہ کر دیا،اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا۔اور بڑے بُت کے کاندھے پر وہ کلہاڑا لٹکا کر واپس چلے آئے
بڑے بُت سے پوچھ لو
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اطمینان سے تمام بتوں کو توڑ ڈالا،اور کلہاڑے کو سب سے بڑے بُت کے کاندھے پر لٹکا کر چلے آئے۔آپ علیہ السلام کی قوم جب میلے سے واپس آئی ،اور شاہی مندر کے بتوں کا یہ حال دیکھا تو پورے شہر میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ کسی نے شاہی مندر کے تمام بتوں کو توڑ ڈالا ہے۔پوری قوم کے لوگ اُمڈ پڑے،اور شاہی مندر کے پاس جمع ہو گئے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”(جب قوم کے لوگوں نے بتوں کو ٹوٹا ہوا دیکھا تو)کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ایسا شخص تو یقینا ظالموں میں سے ہے۔(اِن میں سے کچھ لوگ )بولے۔ہم نے ایک نوجوان کو اِس کا تذکرہ کرتے سنا ہے،جسے ابراہیم کہتے ہیں۔سب نے کہا؛ اچھا اسے مجمع میں سب لوگوں کے سامنے لاؤ،تاکہ سب دیکھیں۔کہنے لگے اے ابراہیم (علیہ السلام)!کیا تُو نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟آپ علیہ السلام نے جواب دیا؛بلکہ اِس کام کو اُن کے بڑے (بُت) نے کیا ہے،تم اپنے معبودوں سے ہی پوچھ لو،افر یہ بول سکتے ہوں؟پس یہ لوگ اپنے دلوں میں قائل ہوگئے اور کہنے لگے واقعی ظالم تو تم ہی (قوم ہی) ہو۔پھر اپنے سروں کے بل اوندھے ہو گئے،(اور کہنے لگے کہ) یہ تو تجھے معلوم ہی ہےکہ یہ بال چال نہیں سکتے۔آپ (علیہ السلام) نے فرمایا؛افسوس ہے کہ تم اﷲ کے سوا اُن کی عبادت کرتے ہو،جو نہ تو تمہیں نفع ہی دے سکتے ہی، اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔تُف ہے تم پر،اور اُن پر جن کی تم پوجا کرتے ہو،کیا تم میں اتنی بھی عقل نہیں ہے؟“(سورہ الانبیاءآیت نمبر 59 سے 67 تک)آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ شاہی مندر کے پاس جمع تھے۔اِن میں پنڈتوں اور پجاریوں کے ساتھ حکومت کے عہدے دار اور عوام بھی تھے۔تمام لوگ حیران تھے کیونکہ یہ بہت بڑا واقعہ تھا۔پنڈتوں، پجاریوں اور حکومت کے عہدے داروں کو اِس بات پر حیرت ہو رہی تھی کہ کس میں اتنی ہمت اور جرا¿ت ہے کہ اُس نے اتنا بڑا کام کر ڈالا۔عوام میں سے چند آدمیوں نے کہا کہ ابراہیم نام کا ایک جوان ہے،وہ ہمارے معبودوں یعنی خداو¿ں سے نفرت کرتا ہے۔اور اُس نے کہا تھا کہ مجھے موقع ملا تومیں تمہارے معبودوں کو ختم کر دوں گا۔فورا! حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلایا گیا،اور پوچھا گیا کہ کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت تم نے کی ہے؟تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟یہ بڑا بت صحیح سلامت ہے،اِسی سے پوچھ لو۔
حق کو پہچان لینے کے بعد ماننے سے انکار کردیا
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری قوم شاہی مندر کے سامنے جمع تھی۔آپ علیہ السلام کو بلا کر جب پوچھا گیا کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے یہ حرکت کی ہے؟تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟اپنے معبودوں سے پوچھ لو،وہ خود بتائیں گے کہ اُن کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے۔اور یہ بڑا بُت تو صحیح سلامت ہے ،اِسی سے پوچھ لو۔ہو سکتا ہے کہ تمہارے معبودوں میں آپس میں جھگڑا ہو گیا ہوگا،اور بڑے بُت کو غصہ آگیا ہوگا،اور اُس نے غصہ میں آکر سب کو توڑ ڈالا ہو۔یا پھر ایسا ہوا ہوگا کہ بڑے بُت کو یہ گوارانہیں ہوا ہو گا کہ یہ چھوٹے بُت بھی اُس کے ساتھ خدائی میں شریک ہوں،اِس لئے اُس نے اِن سب کو تباہ و برباد کر دیا ہو گا۔“آپ علیہ السلام بلند آواز سے یہ سب فرما رہے تھے، اور پوری قوم خاموش کھڑی سن رہی تھی۔جب آپ علیہ السلام خاموش ہوئے تو سب لوگوں پر کچھ دیر سکتہ طاری رہا،اور پوری قوم آپ علیہ السلام کی تقریر اور دلیل سے متاثر ہو گئی تھی۔اور ہر کوئی دل ہی دل میں یہ تسلیم کر رہا تھا کہ آپ علیہ السلام جو یہ بتاتے ہیں کہ اِن بتوں کی کوئی اوقات نہیں ہے۔اور اگر کوئی انہیں توڑ بھی دے تو یہ کچھ نہیں کر سکتے ،قریب تھا کہ پوری قوم آپ علیہ السلام کی بات مان لیتی،لیکن ابلیس شیطان نے اپنے چیلو ں یعنی پنڈتوں اور پجاریوں کے ذریعے انہیںانہیں روک دیا۔پنڈتوں اور پجاریوں نے جب دیکھا کہ قوم آپ علیہ السلام سے متاثر ہو رہی ہے،تو وہ آگے بڑھے اور کہا۔اے ابراہیم (علیہ السلام)!یہ تُو کیا بکواس کئے جا رہا ہے؟تجھے تو معلوم ہی ہے کہ یہ بول چال نہیں سکتے۔اور قوم کے لوگوں کو بہکانے لگے کہ یہ ہمارے باپ دادا کے معبودوں کو توڑنے والا ہے۔اِس نے بہت بڑا جرم کیا ہے،اب اِسے بادشاہ کے سامنے پیش کرنا پڑے گا۔پوری قوم جو متاثر ہونے لگی تھی،وہ پھر پنڈتوں اور پجاریوں کے ساتھ ہو گئی،اور آپ علیہ السلام کے خلاف نعرے لگانے لگی۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”افسوس ہے تم لوگوں کی عقل پر کہ حق کق پہچان لینے کے بعد بھی ماننے سے انکار کر رہے ہو۔“
نمرود سے مکالمہ
اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ”کیا آپ (صلی اﷲ علیہ وسلم ) نے اُسے دیکھا جو سلطنت پاکر ابراہیم(علیہ السلام) سے اُس کے رب کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔جب ابراہیم( علیہ السلام) نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو مارتا اور جِلاتا(زندہ کرتا)ہے۔وہ کہنے لگا،میں بھی جِلاتا اور مارتا ہوں۔ابراہیم (علیہ السلام ) نے فرمایا؛اﷲ تعالیٰ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تُو اِسے مغرب سے نکال دے۔اب وہ کافر بھونچکا رہ گیا،اور اﷲ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 185)حضرت علی بن ابی طالب کرم اﷲ وجہ فرماتے ہیں۔جس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھگڑا کیا تھا،وہ نمرود بن کنعان تھا۔علامہ عماد الدین ابن کثیرلکھتے ہیں۔اِس بادشاہ کا نام نمرود بن کنعان بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔ اِس کا پایۂ تخت(دارالحکومت)بابل تھا۔اِس کے نسب نامہ میں کچھ اختلاف ہے۔امام محمد بن احمد قرطبی لکھتے ہیں۔جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جھگڑا کیا،وہ نمرود بن کوش بن کنعان بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔
پوری دنیا پر حکومت کرنے والے چار بادشاہ
حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جس بادشاہ نے ناضرہ کیا تھا،وہ نمرود تھا۔مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔”الذی“سے مُراد اُس وقت کا بادشاہ تھا،جس کا نام نمرود بن کنعان بن سخاریب تھا۔یا نمرود بن کنعان بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔یہ وہ پہلا بادشاہ تھا،جس نے تاج پہنا،اور رعایا پر ظلم کیا،اور خدائی دعویٰ کیا،اور پوری دنیا پر حکومت کی۔اُس کی عُمر آٹھ سو برس ہوئی تھی،چار سو سال عزت سے حکومت کی،اور چار سو سال مچھر کی وجہ سے پِٹ پِٹ کر ذلیل ہو کر حکومت کی۔ّمچھر کا ذکر انشاءاﷲ آگے آئے گا)اُس کا پایۂ تخت (راجدھانی)”بابل“ تھا۔(تفسیر نعیمی)بعض صحابۂ کرام رضی اﷲ عنہم سے مروی ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے پوری دنیا پرحکومت کی،وہ نمرود بن کنعان بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔اور وہ بادشاہ جنہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی،اُن کی تعداد چار ہے۔(1) نمرود(2)حضرت سلیمان علیہ السلام (3)حضرت ذوالقرنین(4) بخت نصر ۔اِن چاروں میں سے دو بادشاہ مسلمان تھے،اور دو کافر تھے۔حضرت سلیمان علیہ السلام اور حضرت ذوالقرنین مسلمان تھے،اور نمرود اور بخت نصر کافر تھے۔
نمرود لاجواب ہو گیا
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب قوم کے لوگوںاور پنڈتوں اور پجاریوں سے کوئی جواب نہیں بن سکا،تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ بادشاہ نمرود کے دربار میں پیش کیا جائے۔مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔اس شخص سے مراد نمرود ہے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وطن کا بادشاہ تھا۔جس واقعہ کا ذکر کیا جا رہا ہے،اِس کی تفصیل تلمود میں ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ نمرود کے یہاں سب سے بڑے عہدے دار یعنی چیف آفیسر آف دی اسٹیٹ کا منصب رکھتا تھا۔آپ علیہ السلام نے جب کھلم کھلا شرک کی مخالفت اورتوحید کی تبلیغ شروع کی،اور بُت خانے(مندر )میں گھس کر بتوں کو توڑ ڈالا تو آپ علیہ السلام کے باپ (آزر)نے خود اُن کے خلاف مقدمہ بادشاہ کے دربار میں پیش کیا۔مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی لکھتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پیدائشی شہر بابل کے آس پاس تھا،اور اُن کے زمانے میں بادشاہ نمرود اُس علاقے کا حکمراں تھا۔دنیا میں کفرو شرک پھیلا ہوا تھا،اور آپ علیہ السلام کا باپ بھی بُت پرست تھا۔جب آپ علیہ السلام نے قوم کو توحید کی دعوت دی تو سب کو بُرا لگا۔نمرود بھی کافر تھا،اور کفر کا داعی بھی تھا،اور اپنے آپ کو معبود کہلواتا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اُسے اسلام کی دعوت دی تو اُس نے کہا کہ میرے خیال میں میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔اور آپ علیہ السلام سے دلیل مانگی کہ تم جس رب کی بات کر رہے ہو اُس کی کوئی دلیل ہے؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے ،اور مارتا ہے۔“درحقیقت یہ بہت بڑی دلیل تھی،جتنے بھی خدائی کے دعوے دار ہوتے ہیں۔اور جتنے اُن کے ماننے والے ہوتے ہیں،سب کو معلوم ہوتا ہے کہ زندہ کرنے اور موت دینے کا کام اُن کے بس کا نہیں ہے۔لا محالہ کوئی ذات ہے،جس کے قبضے میں ساری مخلوق ہے۔اور زندہ کرنا اور موت دینا اُسی کا کام ہے۔اور جو خدائی دعویٰ کرتے ہیں،وہ اپنے آپ کو تو نہیں بچا سکتے تو وہ دوسروں کو کیا زندگی دیں گے۔ایسی موٹی اور واضح بات جاننے کے باوجودنمرود نے بحث جاری رکھی،کیونکہ اُس کی بادشاہت داو¿ں پر لگ گئی تھی۔اِس لئے اُس نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں۔اور اپنی بات کی دلیل کے لئے یہ کیا کہ دو آدمیوں کو بلایا،جن کو سزائے موت ہو چکی تھی۔اُن میں سے ایک کو قتل کیا ،اور دوسرے کو زندہ چھوڑ دیا۔اُس کی کم عقلی پر آپ علیہ السلام کو ہنسی آگئی،لیکن آپ علیہ السلا نے اﷲ تعالیٰ پر دوسری دلیل دے دی،اور فرمایا؛”میرا رب مشرو سے سورج نکالتا ہے،تُو مغرب سے نکال کر دِکھا۔“یہ سنتے ہی خدائی دعوایٰ کرنے والا نمرود مبہوت اور حیران رہ گیا،اور بالکل ہی گونگا بن گیا،اور لاجواب ہو گیا۔جب اُس سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تو اُس نے آپ علیہ السلام کی گرفتاری کا حکم دے دیا،اور کہا کہ اِس کو زندہ جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو۔
اﷲ کی مدد
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے اِس مکالمہ کا ذکر کئی روایتوں میں آیا ہے،کہ زمین پر سب سے پہلا جابر بادشاہ نمرود تھا۔اُس بد بخت نے حکم دیا تھا کہ تمام اناج اور سبزیاں،پھل اور کھانے پینے کی چیزیں سرکاری گوداموں میں رکھی جائیں۔اور عوام میں اعلان کروا دیا تھا کہ جس کو بھی اناج وغیرہ خریدنا ہو تو وہ مجھ سے آکر خریدے۔جب لوگ اُس کے پاس کھانا لینے کے لئے جاتے تھے تو وہ ہر ایک سے پوچھتا تھا کہ تیرا رب کون ہے؟وہ کہتا کہ تُو نمرود ہمارا رب ہے تو اُسے اناج دے دیتا تھا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کھانا خریدنے پہنچے تو اُس نے حسب روایت پوچھا کہ تیرا رب کون ہے؟تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ میرا رب ہے ،اور وہ لوگوں کو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔“نمرود نے کہا کہ میں بھی زندہ کرتا اور موت دیتا ہوں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ مشرق سے سورج کو نکالتا ہے،تُو مغرب سے نکال کر بتا۔پس اُس کافر کے پاس کوئی جواب نہیں بن پڑا اور اُس نے آپ علیہ السلام کو کھانا نہیں دیا۔آپ علیہ السلام گھر واپس آرہے تھے کہ راستے میں ریت(بالو) کے ٹیلے کے پاس سے گزرے۔خالی ہاتھ جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا ،اس لئے ریت ہی اپنے تھیلے میں بھر لی،اور گھر لاکر رکھ دیا۔چونکہ تھکے ہوئے تھے ،اِس لئے سو گئے۔اِدھر سیدہ ساراہ رضی اﷲ عنہا نے تھیلا کھولا تو اُس میں بہت ہی عمدہ قسم کا اناج اور کھانا موجود پایا۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس میں سے کھانا پکا کر آپ علیہ السلام کو پیش کیا تو آپ علیہ السلام نے حیرت سے پوچھا؛”یہ کہاں سے آیا؟“انہوں نے بتایا کہ تھیلے میں سے نکالا ہے،آپ علیہ السلام نے تھیلے میں عمدا اناج اور کھانا دیکھا تو اﷲ کا شکر ادا کیا۔اور سمجھ گئے کہ یہ اﷲ کی طرف سے مدد ہے۔
قوم نے جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کیں
اﷲ تعالی نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ؛”حضرت ابراہیم علیہ السلا م کی قوم اور نمرود )کہنے لگے۔اِسے جلادو،اوراگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو اپنے معبودوں کی مدد کرو۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر 68)آگے سورہ الصافات میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛ترجمہ؛”وہ کہنے لگے۔اِس کے لئے ایک (آگ) کا مکان بناو¿،اور اُس آگ میں اسے ڈال دو۔“(سورہ الصافات آیت نمبر ۷۹)نمرود نے جب یہ فیصلہ دیا کہ اِسے آگ میں جلادو تو پوری قوم نے چلا چلا کر کہا کہ اِسے آگ میں جلا دو،آگ میں جلادو۔اور پوری قوم اپنے بادشاہ کے ساتھ آپ علیہ السلام کو جلانے کے لئے تیار ہو گئی۔نمرود نے حکم دیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قیدخانے میں ڈال دو، اور پوری قوم آگ جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کرو۔قوم کا ہر فرد آپ علیہ السلام کو جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کرنے لگا۔پوری قوم میں جوش و خروش پھیلا ہوا تھا،اور سب لوگ چاہتے تھے کہ ایسی آگ بنائی جائے ،جس میں سے آپ علیہ السلام کے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہو۔
آگ کی شدت
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جانے کے لئے ایک بہت ہی بڑے وسیع و عریض میدان میں لکڑیاں جمع کی جارہیں تھیں۔اور قوم کا ہر فرد کیا مرد کیا عورت کیا بچے سب ہی بڑھ چڑھ کر اِس میں حصہ لے رہے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے ہر فرد پر پنڈتوں اور پجاریوں کی پکڑ اتنی مضبوط تھی ۔اور اِن مذہبی رہنماؤں پر ابلیس شیطان کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ سب لوگ آپ علیہ السلام سے شدید نفرت کرتے تھے۔ابلیس شیطان نے پیڈتوں اور پجاریوں کواِس گمان میں مبتلا کر رکھ رتھا کہ اگر تم لوگ اور قوم اسلام قبول کر لوگے تو تمہاری بات نہیں مانی جائے گی۔اور تمہاری جو زبردست کمائی مندروں کے ذریعے ہو رہی ہے،وہ بند ہو جائے گی اور تم غریب ہو جاو¿ گے۔اور عوام کو ابلیس شیطان ،پنڈتوں اور پجاریوں نے اِس گمان میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اگر تم ابراہیم علیہ السلام کی بات مانو گے تو دنیا کا سب عیش و آرام تم سے چھوٹ جائے گا۔اور ہو سکتا ہے کہ تمہارے معبود تمہیں کسی بڑی آفت یا مصیبت میں مبتلا کردیں۔ا،س لئے قوم کا ہر فرد آپ علیہ السلام سے شدید نفرت کرتا تھا۔یہاں تک کہ اِس قوم کی ایک بوڑھی عورت نے یہ منت مانی تھی کہ اگر اُس کا فلاں کام ہو جائے گا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے اتنی اتنی لکڑیاں دے گی۔قوم نے اتنی لکڑیاں جمع کیں کہ اُسے جمع کرنے میں کئی ہفتے لگ گئے۔اور اتنی بڑی آگ جلائی کہ اُس کی آنچ کئی سو فٹ دور سے محسوس ہوتی تھی۔آگ اتنی بڑی تھی اور اتنی دور تک پھیلی ہوئی تھی کہ اُس کے اوپر سے بہت اونچائی سے کوئی پرندہ گزرتا تھا تو آگ کی حِدت سے جل کر گر جاتا تھا۔
آگ میں پھینکے کی تیاری
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے ایک بہت بڑی آگ جلائی گئی۔جب آگ تیار ہو گئی تو نمرود کے حکم سے آپ علیہ السلا م کو قید خانے سے باہر لایا گیا۔آپ علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کے لئے ایک منجنیق نصب کی گئی،جس میں ڈال کر آپ علیہ السلام کو آگ میں پھینکنا تھا۔آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کو منجنیق کے بارے میں بتا دیں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ہو سکتا ہے کہ آپ میں سے بہت سے لوگ منجنیق کے بارے میں جانتے ہوں گے۔منجنیق دراصل ایک بہت بڑی غلیل ہوتی ہے،غلیل سے تو لگ بھگ سبھی لوگ واقف ہوں گے۔اِسی غلیل کی بڑی شکل منجنیق ہوتی ہے،اِس کی کنیاری اتنی بڑی ہوتی ہے کہ یہ زمین میں گاڑ دی جاتی ہے۔پہلے زمانے میں لوگ شہروں کے چاروں طرف بہت اونچی اور بہت موٹی دیواریں بناتے تھے۔اِس دیوار کو ”فصیل “یا ”شہر پناہ“کہا جاتا تھا۔جب وہ کسی شہر پر یا قلعہ پر حملہ کرتے تھے تو منجنیق کے ذریعے بہت بڑے بڑے پتھر پھینکتے تھے۔جس سے شہر کے اطراف بنائی ہوئی دیوار یا قلعے کی دیوار ٹوٹ جاتی تھی،اور وہ شہر میں یا قلعوں میں داخل ہوجایا کرتے تھے۔اُمید ہے کہ آپ منجنیق کے بارے میں سمجھ گئے ہوں گے،اب آگے بڑھتے ہیں۔منجنیق فٹ کرنے کے بعد آپ علیہ السلام کو لایا گیا،اور ہاتھ پاو¿ں باند کر منجنیق میں ڈال دیا گیا۔اور چار پانچ آدمی ملکر پھدے کو کھینچنے لگے،یہاں تک کہ انہوں نے پوری طرح پھدے کو کھینچ لیا۔اب بس پھدا چھوڑنے کی دیر تھی اور آپ علیہ السلام آگ میں جا کر گر جائیں گے۔
اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ (توکل)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق میں ڈال کر پھدا کھینچ لیا گیا۔اور آپ علیہ السلام کو ایسی حالت میں دیکھ کر کافروں کے علاوہ تمام مخلوق چیخ اُٹھی۔اور فرشتوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام آج جل گئے تو زمین پر کوئی بھی آپ کا نام لینے والا نہیں رہے گا۔“اِس پر اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ٹھیک ہے!اگر ابراہیم علیہ السلام تمہاری مدد لے تو اُس کی مدد کرو،اور اگر وہ میرے اوپر بھروسہ کرے تو میں اُس کی مدد کے لئے کافی ہوں۔“کتاب الزہد میں لکھا ہے۔جب لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینکنے کا ارادہ کیا تو تمام مخلوق حاضر ہوئی اور عرض کیا؛”یارب!تیرا خلیل علیہ السلام آگ میں ڈالا جارہا ہے،ہمیں اِس آگ کو بجھانے کی اجازت مرحمت فرما۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”وہ میرا خلیل ہے ،اور زمین پر اُس کے سوا میرا کوئی خلیل نہیں ہے۔میں اُس کا معبود ہوں ،اور میرے سوا اُس کا کوئی معبود نہیں ہے۔اگر وہ تم سے مدد طلب کرتا ہے تو ضرور اُس کی مدد کرو۔ورنہ اُسے میرے بھروسے پر چھوڑ دو۔“(طبری کتاب الزہد)حضرت قتادہ رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیںاُس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ بجھانے ہر جانور آیا،ہر جانور تو آگ بجھانے کی کوشش کر رہا تھا،اور گرگٹ آگ تیز کرنے کے لئے آیا تھا۔ایک اور روایت میں ہے کہ گرگٹ آگ تیز کرنے کے لئے پھونک مار رہا تھا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کے لئے باندھا جارہا تھا تو جبرئیل علیہ السلام ،آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا؛”یا رسول اﷲ علیہ السلام!کیا آپ علیہ السلام کو مجھ سے کوئی ضرورت ہے؟“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”تُجھ سے مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ایک اور روایت میں ہے کہ جب فرشتوں نے آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ کسی مدد کی ضرورت ہوتو فرمایئے ،ہم مدد کریں گے۔آپ علیہ السلام نے جواب میں جو الفاظ ادا فرمائے،وہ اﷲ تعالیٰ کو اتنا زیادہ پسند آئے کہ اﷲ تعالیٰ نے اِن الفاظ کو قرآن پاک کی ایک آیت بنا دیا۔اور تمام مسلمان سینکڑوں برسوں سے اِس کی تلاوت کر رہے ہیں،اور قیامت تک تلاوت کی جاتی رہے گی۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”حَسبُنَااﷲ ُ وَنِعمَ الوَکِیل“جس کا ترجمہ ہے کہ میں نے اﷲ پر بھروسہ کیا،اور اﷲ تعالیٰ میری مدد کے لئے کافی ہے۔
اے آگ !ٹھنڈی ہوجا،اور ابراہیم کے لئے سلامتی بن جا
اﷲ تعالیٰ پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اتنا زبردست بھروسہ تھا کہ انہوں نے کسی مخلوق کی مدد لینا پسند نہیں فرمایا۔آخر کار کافروں نے آپ علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعے آگ میں پھینک دیا۔آپ علیہ السلام منجنیق سے نکل کر ہوا میں ہی تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اے آگ !ابراہیم علیہ السلام کے گرنے سے پہلے ٹھنڈی ہوجا،اور ابراہیم علیہ السلام کے لئے سلامتی بن جا۔“رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے چچا ذاد بھائی حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ(اُن کے لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تھی کہ اے اﷲ تعالیٰ عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کو دین کی سمجھ عطا فرما)اِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔اگر اﷲ تعالیٰ یہ نہ فرماتے کہ ابراہیم علیہ السلام کے لئے سلامتی بن جا تو آگ اتنی زیادہ ٹھنڈی ہو جاتی کہ آپ علیہ السلام اُس کی ٹھنڈک کی اذیت کو برداشت نہیں کر پاتے،اور ٹھنڈک ہی آپ علیہ السلام کو ختم کر دیتی۔حضرت علی بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ جب اﷲ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈی ہونے کا حکم دیا تو وہ اتنی ٹھنڈی ہو گئی کہ آپ علیہ السلام کو تکلیف دینے لگی۔حتیٰ کہ اﷲ تعالیٰ نے ”سلٰماً“فرمایا تو تکلیف ختم ہو گئی۔ہاں صرف اتنا ہوا کہ وہ رسی جل گئی جس سے آپ علیہ السلا م کو باندھا گیا تھا۔اور جب آپ علیہ السلام آگ میں گرے تو وہ چاروں طرف سے جل رہی تھی۔لیکن آپ علیہ السلام جہاں گرے ،وہ جگہ پہلے سے گلزار بن چکی تھی،اور انتہائی ہرے بھرے سر سبز باغ میں تبدیل ہو چکی تھی۔اور آپ علیہ السلام باغیچے کی انتہائی دبیز اور نرم گھاس پر آکرآرام سے گرے۔جبرئیل علیہ السلام بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ساتھ لگے ہوئے تھے۔اور جب آپ علیہ السلام زمین پر گرے تو جبرئیل علیہ السلام نے پسینہ پونچھنے کی کوشش کی،لیکن وہاں پسینہ بھی نہیں تھا۔اور روایت میں ہے کہ جبرئیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کا پسینہ پونچھ رہے تھے۔
آگ سے صحیح سلامت باہر آئے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ آگ میں جبرئیل علیہ السلام تھے۔اﷲ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی رہوتاکہ میرا خلیل(علیہ السلام) اکیلا پن محسوس نہ کرے۔چاروں طرف آگ جل رہی تھی،اور درمیان میں باغ تھا۔جس میں پھل اور پھول لگے ہوئے تھے،اور آپ علیہ السلام کے لئے کھانا تھا۔کافروں نے اتنی بڑی آگ لگائی تھی کہ اس آگ کو ختم ہونے میں کافی دن لگ گئے۔جب آگ دھیرے دھیرے بجھنے لگی اور لپٹیں کم ہوئیں،تو کافروں نے دیکھا کہ آگ کے درمیان میں باغ ہے۔اور اِس باغ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کسی سے بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں۔یہ منظر دیکھ کر تمام کافر حیران رہ گئے،اور مسلسل کئی روز تک یہ منظر دیکھتے رہے۔لیکن اِن بد بختوں پر ابلیس شیطان کی پکڑ اتنی مضبوط تھی کہ اتنا بڑا اور صاف معجزہ دیکھنے کے باوجود یہ بد بخت ایمان نہیں لائے۔آگ کو مکمل طور سے بجھنے میں چالیس یا پچاس دن لگ گئے۔جب آگ مکمل طور سے بجھ گئی تو آپ علیہ السلام باہر آگئے۔
ہجرت
حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس بھیانک اور خوفناک آگ سے صحیح سلامت باہر آگئے۔نمرود، پنڈتوں اور پجاریوںاور عوام نے آپ علیہ السلام کو صحیح سلامت آگ سے باہر آتے دیکھاتو انہوں نے تجربے کے طور پر ایک آدمی کو آگ میں ڈالا۔ابھی بھی کہیں کہیں تھوڑی تھوڑی آگ جل رہی تھی،جیسے ہی اُس آدمی کو آگ میں ڈالا گیا تو وہ زندہ جلنے لگا،اور کچھ دیر میں بھسم ہو گیا۔نمرود ،تمام پنڈت اور پجاری اور عوام حیرانی سے اِس منظر کو دیکھ رہے تھے۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں دیکھ کر کھڑے ہوئے مسکرا رہے تھے۔اتنا صاف معجزہ سب نے دیکھا تو آپ علیہ السلام نے آخری کوشش کی اور پھر سے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی۔اور انہیں سمجھایا کہ اب بھی وقت ہے،اتنی صاف صاف نشانیاں دیکھ کر سمجھ لو کہ اﷲ تعالیٰ ہی اکیلا اِس پوری کائنات کا خالق و مالک اور معبود ہے۔لیکن اِن بد بختوں نے اسلام قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا،اور کفر و شرک پر اڑے رہے۔تب اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام سے فرمایا کہاب یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور تم یہاں سے ہجرت کر جاو¿۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ؛”اُس نے(آزر نے)جواب دیا کہ اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تُو ہمارے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے؟سُن اگر تُو باز نہیں آیا تو میں تجھے پتھر مارمار کر مار ڈالوں گا۔جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ۔(آپ علیہ السلام ) نے فرمایا ؛اچھا تم پر سلام ہو۔“(سورہ مریم آیت نمبر 46 اور 47)آگ سے نکلنے کے بعدجب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو سب سے پہلے آزر نے مخالفت کی اور آپ علیہ السلام کو وطن چھوڑ دینے کا حکم دیا۔آپ علیہ السلام نے فرمایا ٹھیک ہے!میں تو یہاں سے جارہا ہوںاور تم پر سلامتی ہو۔حضرت لوط علیہ السلام اور سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا اسلام قبول کر چکے تھے۔اِس لئے آپ علیہ السلام نے اِن دونوں کو ساتھ لیا،اور ہجرت کر گئے۔ایک روایت میں ہے کہ یہاں سے اپنے چچا کے پاس گئے ،اور انہیں اسلام کی دعوت دی۔چچا نے تو اسلام قبول نہیں کیا،لیکن اُن کے بیٹے حضرت لوط علیہ السلام نے اسلام قبول کر لیا تھا۔
مچھروں کا عذاب
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بار بار سمجھانے پر بھی نمرود ،پنڈتوں پجاریوں اور عوام نے اسلام قبول نہیں کیا۔تب اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو فرمایا کہ اب انہیں اِن کے حال پر چھوڑدو اور ہجرت کر جاو¿۔آپ علیہ السلام کی ہجرت کے بارے میں ہم انشاءاﷲ آگے بتائیں گے۔پہلے ہم نمرود اور اُس کی قوم کے بارے میں بتاتے ہیں۔علامہ ابن کثیر،مفتی احمد یار خان نعیمی اور علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے اِس سرکش بادشاہ کی طرف ایک فرشتہ بھیجا،تاکہ وہ اسے ایمان با اﷲ کا حکم دے،لیکن نمرود نے انکار کر دیا۔دوسرے دن بھی بھیجا،لیکن نمرود نے انکار کیا،تیسرے دن بھی نمرود نے انکار کیا تو فرشتے نے کہا۔اب اﷲ تعالیٰ لشکر بھیجے گا،اور اُس لشکر سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنے لشکر کو جمع کر لو۔نمرود نے اپنے لشکر کو جمع کر لیا،اور پوری تیاری کے ساتھ اﷲ کے لشکر کا انتظار کرنے لگا۔سورج طلوع ہوا تو اﷲ تعالیٰ نے مچھروں کا لشکر بھیج دیا۔اتنے مچھر آئے کہ پورا آسمان مچھروں سے ڈھک گیا،اور سورج بھی اُن کے پیچھے چھپ گیا۔مچھروں نے نمرود کے پورے لشکر پر حملہ کر دیا ،اور اُن کا خون پینے لگے۔وہ مچھروں کو مارنے لگے ،لیکن مچھر اتنے زیادہ تھے کہ وہ لگاتا اُن کا خون پیتے جا رہے تھے۔اور ساتھ ہی اُن کا گوشت بھی کھاتے جارہے تھے۔مچھروں نے نمرود پر بھی حملہ کیا،لیکن یہ حملہ اتنا شدید نہیں تھا۔نمرود مچھروں کو مارتے جا رہا تھا،اور اپنے لشکر کو حیرت سے دیکھے جارہا تھا۔جن کو مچھر ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل کرتے جارہے تھے،یہاں تک کہ نمرود کی پوری فوج ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی ،اور ختم ہوگئی۔پھر ایک مچھر نمرود کی ناک میں گھس گیا،اور اُس کے بھیجے یعنی دماغ میں کاٹنے لگا،اور نمرود اذیت سے تڑپنے لگا۔جب ذرا درد کم ہوا تو اُس نے دیکھا کہ اُس کی پوری فوج میدان میں ہڈیوں کے ڈھانچے کی شکل میں پڑی ہوئی ہے۔وہ مچھر جو نمرود کے سر میں گھسا تھا،جب وہ کاٹتا تو نمرود سے اس کی اذیت برداشت نہیں ہوتی تھی۔اور وہ دیواروں سے سر ٹکراتا تھا تو مچھر کاٹنا بند کر دیتا تھا۔اب نمرود اپنے دربار میں لوگوں سے کہتا کہ میرے سر پر جوتا مارو،کیونکہ جوتا مارنے کے بعد کافی دیر تک مچھر نہیں کاٹتا تھا۔اِس طرح اس بد بخت کو اﷲ تعالیٰ چار سو سال تک ذلیل کرتا رہا،اور پھر آخر کار اسے ہلاک کر دیا۔
فرعون کو اسلام کی دعوت
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کو اُن کے حال پر چھوڑ کر ہجرت کر گئے،اور اسلام کی دعوت دینے کے لئے ملک مصر کی طرف روانہ ہوئے۔راستے میں چلتے چلتے مقام”حران“کی بستی میں پہنچے،اور وہاں کچھ عرصہ قیام کر کے انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔اِس کے بعد آگے بڑھ گئے،اور ہجرت کر کے ملک مصر پہنچے،اور وہاں لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔آپ علیہ السلام کے کردار اور اسلام کی دعوت سے لوگ متاثر ہونے لگے۔دھیرے دھیرے آپ علیہ السلام کے بارے میں ملک مصر کے بادشاہ فرعون کو خبر ہوئی۔آگے بڑھنے سے پہلے ہم یہ سمجھ لیں کہ جس طرح رومیوں کت بادشاہ کو قیصر یا ہرقل کہا جاتا تھا،فارسیوں کے بادشاہ کو کسریٰ کہا جاتا تھا،حبشہ کے بادشاہ کو نجاشی کہا جاتا تھا،یمن کے بادشاہ کوتُبع کہا جاتا تھا،اُسی طرح ملک مصر کے بادشاہ کو فرعون کہا جاتا تھا۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام الگ تھا۔اور حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام الگ تھا۔اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے فرعون کا نام الگ تھا۔اِس طرح یہ تین الگ الگ زمانوں میں الگ الگ فرعون تھے۔جب فرعون کو آپ علیہ السلام کے بارے میں معلوم ہوا تو اُس نے دربار میں طلب کیا۔آپ علیہ السلام نے اُسے اسلام کی دعوت دی ،اور وہ آپ علیہ السلام کی دعوت سے بہت متاثر ہوا۔اور اپنی بیٹی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے آپ علیہ السلام کا نکاح کر دیا۔بائیبل میں یہودیوں اور عیسائیوں نے ملاوٹ کر دی ہے،اور لکھا ہے کہ نعوذ باﷲ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کی کنیز بنا دیا تھا۔تاکہ بنی اسرائیل کے مقابلے میں بنی اسماعیل کمتر ثابت ہوں۔با ئیبل کی اِن باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے،اور اصل بات یہ ہے کہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا شہزادی تھیں۔اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا ،تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُن سے نکاح کیا۔
ملک کنعان کی طرف ہجرت
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی دونوں بیویوں اور بھتیجے کے ساتھ ملک مصر سے روانہ ہوکر اُس وقت کے ملک کنعان (حالیہ فلسطین) کی طرف روانہ ہوئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں فلسطین،لبنان ،اُردن،اور ملک شام کا کچھ حصہ ”ملک کنعان“کہلاتا تھا۔بعد میں ملک کنعان کو ملک شام میں ضم کر دیا گیا،اور ملک کنعان کا نام و نشان مٹ گیا۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میںملک شام میں فلسطین،لبنان اور اُردن صوبے کے طور پر شامل تھے۔بعد میں شام کے ٹکڑے کر دیئے ،اور فلسطین،لبنان اور اُردن کا الگ الگ ملکوں کی شکل دے دی۔ اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کی اولاد کے ذکر میں جب بھی ملک کنعان کا ذکر آئے گا تو اِس کا معنی فلسطین اور اُس کے آس پاس کا علاقہ ہو گا۔آپ علیہ السلام اپنی دونوں بیویوں اور بھتیجے کے ساتھ ملک کنعان کی طرف جارہے تھے کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ علیہ السلام نے اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو ملک کنعان کے ایک علاقے (حالیہ اُردن) کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا۔اور خود ملک کنعان کے دوسرے علاقے (حالیہ فلسطین) میں پہنچے،اور وہاں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔انہوں نے اسلام قبول کر لیا،اور آپ علیہ السلام اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ وہیں قیام پذیر ہو گئے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک کنعان کے ایک دیہاتی علاقے میں رہائش اختیار کی،اور وہاں ایک کنواں کھودا،اور مسجد کی تعمیر فرمائی۔کنویں کا پانی بہت زیادہ میٹھا اور شیریں تھا،آپ علیہ السلام کی بکریاں ، گائے ، گھوڑے اور اونٹ وغیرہ اِسی کنویں سے سیراب ہوتے تھے۔آپ علیہ السلام چند سال وہاں رکے،پھر وہاں کے لوگوں نے آپ علیہ السلام کو اذیت دی تو آپ علیہ السلام نے وہاں سے بھی ہجرت کی۔اور ”رملہ“اور ”ایلیاہ “کی درمیانی بستی ”قط“میں آکر رہائش پذیر ہو گئے۔جب آپ علیہ السلام وہاں سے قط آگئے تو وہاں کا کنواں خشک ہو گیا۔یہ حال دیکھ کر بستی والوں کو بہت ندامت ہوئی،اور وہ لوگ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور عرض کیا؛”آپ علیہ السلام واپس چلیں۔“لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛’[میں جس شہر سے نکالا جاو¿ں تو وہاں واپس نہیں جاتا ہوں۔‘]انہوں نے عرض کیا؛”آپ علیہ السلام کا وہ کنواں خشک ہو گیا ہے۔،۔“آپ علیہ السلام نے انہیں ایک بکری کا بچہ دیا،اور فرمایا؛”اِسے لے جاو¿،اور کنویں پر چھوڑ دینا تو پانی جاری ہو جائے گا۔“انہوں نے ایسا ہی کیااور اُس کنویں کا پانی پھر سے جاری ہوگیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ملک کنعان میں رہتے ہوئے لگ بھگ بیس سا ل گزر چکے تھے،اور آپ علیہ السلام کو کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے ایسی نیک اور صالح اولاد عطا فرما جو اسلام کی دعوت کے کام کوجاری رکھ سکے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا،اور آپ علیہ السلا م کی دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا حاملہ ہو گئیں۔جب آپ رضی اﷲ عنہا نے حمل کی گرانی محسوس کی تو بہت زیادہ ڈر گئیں۔اﷲ تعالیٰ نے ایک فرشتہ اُن کے پاس بھیجا ۔اُس نے کہا؛”ڈریں نہیں،اﷲ تعالیٰ اِس بچے کو خیر کا ذریعہ بنائے گا۔“اور بشارت دی کہ بیٹاپیدا ہو گا،اور اُس کا نام ”اسماعیل“رکھنا۔اور وہ تمام لوگوں سے زیادہ قوی ہو گا۔اس کا ہاتھ سب (کافروں) کے خلاف ہو گا،اور سب(کافروں) کا ہاتھ اُس کے خلاف ہو گا۔اور وہ اپنے بھائیوں کے تمام شہروں کا مالک بنے گا۔اِس پر اﷲ تعالیٰ کا سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے شکر ادا کیا۔
سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت
اﷲ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی بھی بشارت دی ہے۔فرشتے نے کہا تھا کہ وہ تمام لوگوں سے زیادہ قوی ہو گا،یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں وہ شخص پیدا ہوگا،اور یہ ساری دنیا جانتی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے زیادہ ”قوی اور طاقتور“ہیں۔رکانہ پہلوان جسے چالیس لوگ ملکر ہلا نہیں سکتے تھے ،اُسے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اٹھا کر پٹک دیا تھا۔ فرشتے نے کہا تھا کہ اُس کا ہاتھ سب(کافروں) کے خلاف ہو گا۔تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے پوری دنیا کے کافروں کے خلاف ”اعلانِ جنگ“کیا تھا،اور آج بھی پوری دنیا کے کافر اور یہودی اور عیسائی اپنا سب سے بڑا دشمن سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت کو تسلیم کرتے ہیں۔اور فرشتے نے جو کہا تھا کہ وہ اپنے بھائیوں کے تمام شہروں کا مالک بنے گا،تو یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ بنی اسماعیل کے بھائی بنی اسرائیل (یہودی)ہیں۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اور اُن کی اُمت نے اپنے بھائیوں یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کے ملکوں پر قبضہ کر لیا تھا۔یہ الگ بات ہے کہ ہماری نالائقی کی وجہ سے بہت سے علاقے یہودیوں اور عیسائیوں اور ہندوو¿ں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔علامہ ابن کثیر فرشتے کی بشارت کو لکھنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ بشارت آپ علیہ السلام کے بیٹے سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم پر منطبق ہوئی ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی وجہ سے آج عربوں(یاد رہے یہ لگ بھگ سات سو سال پہلے لکھا گیا ہے)کو عزت نصیب ہے،اور وہ مشرق و مغرب کے تمام ملکوں کے حکمراں ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہی کے طفیل اِس اُمت کو ”علم نافع“اور ”عمل صالح“سے نوازا ہے کہ ایسا ”علم“اور ”عمل“کسی اور اُمت کو نصیب نہیں ہو سکا ۔اور توحید کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کو تمام رسولوں پر فضیلت حاصل ہے،اور کمال وشرف وکرامت حاصل ہے۔اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت کی برکت اور پیغام کا کمال یہ ہے کہ روئے زمین کے تمام انسانوں کے لئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی وجہ سے آج عربوں کو وہ اقتدار حاصل ہےک کہ اِس سے قبل کسی کو یہ توقیر اور سعادت نصیب نہیں ہوئی ہے۔
مکۂ مکرمہ کو آباد کرنے کا ارادہ
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا۔علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ؛”میں نے اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں آپ علیہ السلام کی دعا قبول کر لی،اور میں نے اُس کو برکت دی،اور میں اس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا۔اور اُس کی اولاد کو بہت زیادہ بڑھاؤں گا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے بارہ بادشاہ ہوں گے،اور میں اسے ایک عظیم قوم کا سردار بناؤں گا۔“یہ بشارت بھی اِسی اُمت ِعظیمہ کے مطابق ہے۔اہل کتاب کہتے ہیں کہ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی تو اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر ستاسی(87)سال تھی ،یعنی حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش سے تیرہ (13)سال پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام پید ہوئے۔یا یوں کہیں کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کے وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عُمر تیرہ (13) سال تھی۔جب حضرت اسماعیل علیہ السلام پید ہوئے تو اﷲ تعالیٰ نے مکۂ مکرمہ کو آباد کرنے کا ارادہ فرمایا۔آپ کو یاد ہو گا ہم نے حضرت آدم علیہ السلام کے حالات میں لکھا تھا کہ اُن کے زمانے میں خانۂ کعبہ تعمیر ہو چکا تھا، اور ہم نے یہ بھی بتایا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام ہندوستان میں رہتے تھے۔اور آپ علیہ السلام نے ہندوستان سے پید ل چالیس حج کئے تھے ۔جب طوفان نوح آیا تو وہ خانۂ کعبہ اوپر اُٹھا لیا گیاتھا،اور ساتویں آسمان کے اوپر رکھ دیا گیا تھا۔اور وہی ”بیت المعمور“ہے ،اور فرشتے اِسی کا طواف کرتے ہیں۔طوفان نوح کے بعد مکہ¿ مکرمہ سے کچھ دور (یعنی لگ بھگ سو ڈیڑھ کلو میڑ دور)آس پاس قبائل آباد ہوگئے تھے۔لیکن جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے ،وہ جگہ مسلسل سنسان اور ویران رہے،وجہ یہ تھی کہ وہاں اور اس کے آس پاس دور دور تک پانی نہیں تھا۔لیکن تمام اقوام کو یہ بات معلوم تھی کہ یہ امن کی جگہ ہے ،اور یہاں انسان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔اِسی لئے ”قوم عاد“کا وفد یہاں دعا کرنے آیا تھا،اور قوم ثمود ابو رغال بھی بھاگ کر یہاں آیا تھا۔لیکن اِن واقعات کو سینکڑوں برس گزر چکے تھے،اور مکہ¿ مکرمہ بالکل غیر آباد علاقہ تھا۔چاروں طرف پہاڑیاں تھیں ،اور اِن کے درمیان ریت(بالو) کی بنجر وادیاں تھیں۔نہ تو کہیں سایہ کے لئے کوئی درخت تھا،اور نہ ہی کہیں کوئی سایہ دار جگہ تھی۔ بس ہر طرف گہرائی یا اونچائی پر یعنی نشیب و فراز میں ریت ہی ریت یعنی ہماری زبان میں بالو ہی بالو تھی۔جب اﷲ تعالیٰ مکۂ مکرمہ آباد کرنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو لے جاکر اُس سنسان اور ویران وادی میں صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان چھوڑ آؤ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور اپنے دودھ پیتے بچے کو پہاڑوں کے درمیان ایک سنسان وادی میں چھوڑ آؤ۔در اصل اﷲ تعالیٰ آزمائش لے رہا تھا،کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد کا سکھ نصیب ہوا تھا۔اور وہ بھی اکلوتا بیٹا تھا،لیکن آپ علیہ السلام بھی اﷲ کے خلیل تھے،اور اﷲ کے فضل و کرم سے آپ علیہ السلام اِس آزمائش پر پورے اُترے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھانا اور پانی ساتھ لیا،اور اپنی بیوی اور بچے کو لیکر ایک اونٹ پر سوار ہوئے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا بھی بہت ہی فرماں بردار،صبر داراور اﷲ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والی خاتون تھیں۔اِس لئے خاموشی سے شوہر کے ساتھ چل پڑیں ،کافی لمبا سفر طے (فلسطین سے مکۂ مکرمہ کا فاصلہ ایک ہزار کلو میٹر سے زیادہ ہی ہو گا) کرنے کے بعد آخر کار اُس جگہ پہنچے جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے۔اُسوقت وہ جگہ بالکل ہی سنسان تھی،چاروں طرف پہاڑیاں تھیں ،اور اُن کے درمیان یہ سنسان علاقہ تھا۔جہاں نہ تو کوئی انسان دکھائی دیتا تھا،اور نہ ہی کوئی جانور دکھائی دیتا تھا۔نہ تو کوئی درخت،پیڑ ،پودا تھا ،اور نہ ہی گھاس تھی۔بلکہ چاروں طرف جدھر بھی نظر دوڑاو¿ ،پہاڑیاں اور ریت(جسے ہم بالو کہتے ہیں)تھی۔نہ تو کہیں سایہ تھا،اور نہ ہی کہیں سایہ دار جگہ تھی۔
اﷲ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں کرے گا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اِس سنسان وادی میں لا کر سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان اُس جگہ اُتار دیا جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے۔تب تک سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے شوہر سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔آپ علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بچے کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلہ اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھ دیا۔اور واپس اپنے اونٹ پر سوار ہو کر خاموشی سے جانے لگے،جب آپ علیہ السلام چلنے لگے تو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے آکراونٹ کی مہار پکڑ لی،اور چلتی ہوئی کہنے لگیں؛”آپ علیہ السلام ہمیں کس کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہے ہیں؟“لیکن آپ علیہ السلام نے کوئی جواب نہیں دیا،اور خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے دوسری مرتبہ پوچھا،اور جواب نہ ملنے پر تیسری مرتبہ پوچھا؛”کیا آپ علیہ السلام ہمیں اﷲ تعالیٰ کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہے ہیں؟“تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا؛”ہاں “اس کے بعد سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اونٹ کی مہار چھوڑ دی،اور فرمایا؛”جب یہ اﷲ کا حکم ہے تو آپ جائیں ،اور اﷲ تعالیٰ ہمیں ضائع نہیں ہونے دے گا۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی اور بچے کو اس سنسان وادی میں چھوڑ کر جانے لگے،جب آپ علیہ السلام وادی کے اوپر پہاڑی پرچڑھے تو چوٹی پر پہنچ کر رُک گئے۔اور نیچے وادی میں دیکھا تو کھلے میدان میں دھوپ میں سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہااپنے بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوئی تھیں۔آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اُٹھادیئے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ ابراہیم میں فرمایا؛ترجمہ؛”(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی،اور عرض کیا)اے ہمارے رب (پروردگار)!میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے حُرمت والے گھر کے پڑوس میں ایسی سنسان وادی میں بسا دیا ہے،جس میں کوئی کھیتی باڑی نہیں ہے۔(یعنی بالکل بنجر اور ویران جگہ پر)اے ہمارے رب!یہ اِس لئے تاکہ وہ نماز قائم کریں،بس لوگوں کے دلوں کو شوق و محبت سے اُن کی طرف مائل کر دے۔اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما ،تاکہ وہ تیر شکر ادا کریں (سورہ ابراہیم آیت نمبر ۷۳)حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دل بیوی اور بچے کی طرف کھنچ رہا تھا، لیکن اﷲ کے حکم کو پورا کرنا تھا۔دعا مانگنے کے بعد آپ علیہ السلام کے دل کو کچھ اطمینان ہوا،پھر آپ علیہ السلام نے آنسو بھری آنکھوں سے نیچے وادی میں اپنی اور بیوی اور بچے کو دیکھا،اور اونٹ کو فلسطین کی طرف موڑ کر واپس چلے گئے۔
کھانا پانی ختم ہو گیا
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور دودھ پیتے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اِس سنسان اور ویران وادی میں چھوڑ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین (اُس وقت کا ملک کنعان)واپس چلے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہا ایک چھوٹا سا خیمہ لگائے ہوئے تھیں۔ایک کمبل تھا، ایک تھیلہ کھجور اور ایک مشکیزہ پانی تھا۔عرب کے صحراءمیں دن بہت زیادہ گرمی پڑتی ہے،کیونکہ سورج کی روشنی سے ریت یعنی بالو بہت زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔اِس طرح اوپر سے سورج کی روشنی کی گرمی اور نیچے سے ریت کی گرمی دونوں ملکر بہت زیادہ گرمی پید کرتی ہیں۔اور عرب کے صحراءرات میں بے حد سرد ہوجاتے تھے ،کیونکہ رات میں خلاءکی سردی صحراءپر جب اُترتی ہے تو ریت بھی بہت زیادہ سرد ہو جاتی ہے،اور اس کی وجہ سے بہت زیادہ سردی پڑتی ہے۔ایسے بے انتہا گرم اور سرد موسم کی شدت برداشت کرتے ہوئے سیدہ ہاجرہ رضی ا ﷲعنہا دن گزار رہیں تھیں۔اور بہت احتیاط سے کھانا اور پانی استعمال کر رہی تھیں۔تاکہ زیادہ سے زیادہ دن چل جائے،اور ہو سکتا ہے کہ اِس دوران شاید کوئی قافلہ اِدھر سے گزرے اور اُس سے کچھ کھانے پینے کا سامان مل جائے۔لیکن وہ جگہ عام رستے سے ہٹ کر تھی ،اِسی لئے کوئی قافلہ اِدھر سے نہیں گزرا۔بہت احتیاط سے استعمال کرنے کے باوجود کھجوریں اور پانی ختم ہو گیا۔اب سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا بھوکی پیاسی رہنے لگیں۔
پانی کی تلاش میں ”سعیٔ
سیدہ ہاجرہ رضی عنہا کھانا اور پانی ختم ہونے کے بعد بھوکی اور پیاسی رہنے لگیں،اِسی طرح کئی دن گزر گئے،اور آپ رضی اﷲ عنہا دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی تھیں۔جس کی وجہ سے دودھ بھی کم ہونے لگا تھا،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھوک اور پیس کی وجہ سے رونے لگے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا بار بار دودھ پلانے کی کوشش کرتیں ،لیکن آپ علیہ السلام روتے ہی جارہے تھے،چپ نہیں ہورہے تھے۔آخرکارسیدہ ہاجرہ بے چینی سے چاروں طرف دیکھنے لگیں،لیکن چاروں طرف اوپر کھلا آسمان تھا،جس میں سورج آگر برسا رہا تھا۔اور نیچے پہاڑوں اور ریت (بالو) تھی،جو سورج کی تپش سے بہت زیادہ گرم ہوچکی تھی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام روتے ہی جارہے تھے،اور آپ رضی اﷲ عنہ کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔یہ بے چینی اتنی بڑھی کہ آپ رضی اﷲ عنہا نے اپنے بچے کو زمین پر چھوڑا ،اور جلتی ہوئی ریت ننگے پاو¿ں بھاگتی ہوئی قریب کی پہاڑی پر چڑھنے لگیں۔یہ ”صفا “پہاڑی تھی،پہاڑی پر چڑھ کر انہوں نے چاروں طرف اِس اُمیدمیں دیکھا کہ شاید کوئی قافلہ جاتا ہوا دکھائی دے۔لیکن کوئی قافلہ دکھائی نہیں دیا،چاروں طرف سنسان پہاڑیاں تھیں۔اور اِس سناٹے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے رونے کی آواز اُن کے کانوں میںہتھوڑے کی ضرب کی طرح لگ رہی تھی۔بے چینی سے انہوں نے گھوم کر اپنے بیٹے کی طرف دیکھا،اور ممتا کی ماری تیزی بھاگتی ہوئی بیٹے کے پاس آئی اور اُٹھا لیا۔
زمزم کا چشمہ یا کنواں
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے آکر بیٹے کو اُٹھا لیا،لیکن وہ بیٹے کو چپ نہیں کرا سکتیں تھیں۔اور وہ مسلسل روئے جارہے تھے۔آپ رضی اﷲ عنہا نے روتے ہوئے بیٹے کو پھر زمین پر رکھا،اور اِس مرتبہ سامنے والی پہاڑی پر چڑھنے کے لئے بھاگیں۔یہ ”مروہ“پہاڑی تھی،ہانپتے کانپتے آپ رضی اﷲ عنہا مروہ پہاڑی پر چڑھیں،اور اِس اُمید میں چاروں طرف نظر دوڑانے لگیں کہ شاید کوئی قافلہ نظر آجائے۔لیکن کوئی قافلہ نظر نہیں آیا،بیٹے کے رونے کی آواز سن کر واپس بیٹے کے پاس آئیں۔اور پھر قافلے کی تلاش میں بھاگ کر صفا پہاڑی پر چڑھنے لگیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام مسلسل رو رہے تھے،اور اُن کی والدہ محترمہ بے چینی سے کبھی صفا پہاڑی پر چڑھ کر قافلے کو تلاش کرتیں،کبھی بھگ کر اُن کے پاس آجاتیں۔پھر مروہ پہاڑی پر قافلے کی تلاش میں چڑھتیں ،اور پھر بیٹے کی محبت میں بھاگ کر اُس کے پاس آجاتیں۔اِسی طرح سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے صفا اور مروہ پر سات چکر پورے کئے۔اﷲ تعالیٰ کو آپ رضی اﷲ عنہا کی یہ ”سعی ¿‘]اتنی پسند آئی کہ اﷲ تعالیٰ نے سعی ¿ کوحج کا ایک ارکان بنا دیا۔اب قیامت تک ہر حاجی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کی سنت کو دہراتے رہیں گے۔آخر کار اﷲ تعالیٰ کواِس ماں پر رحم آگیا،اور جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیکر بھیجا۔جبرئیل علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پیروں کے پاس عصا مارا تو زمین سے پانی نکلنے لگا۔تب تک سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا صفا اور مروہ پر سات چکر لگا چکی تھیں۔ساتویں چکر کے بعد جب آپ رضی اﷲ عنہا واپس بیٹے کے پاس آئیں تو دیکھا کہ اُن کے پیروں کے پاس زمین میں گڑھا بنا ہوا ہے،اور اُس میں سے پانی نکل رہا ہے۔انہیں ایسا لگا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایڑیاں رگڑنے سے زمین میں گڑھا ہو گیا ہے۔اور اِس گڑھے سے پانی نکل رہا ہے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا،اور روتی ہوئی اُس جگہ آئیں جہاں پانی نکل رہا تھا،اور چاروں طرف پھیلتا جارہا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہا جلدی جلدی اُس جگہ کے چاروں طرف منڈیر بنانے لگیں،اور فرمانے لگیں”زمزم“یعنی ٹھہر جا،ٹھہر جا۔تب سے اس کا نام ”زمزم“ہو گیا۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس پانی کو پیا اور بیٹے کو بھی پلایا۔
زمزم کی خصوصیات
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے زمزم کو کنویں کی شکل دے دی۔حضرت عبد اﷲ بن عباد رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اﷲ تعالیٰ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو اپنی رحمتو ں کے سائے میں رکھے،اگر وہ زمزم کے چشمے کو نہیں روکتیں،یا اُس کے حال پر چھوڑ دیتیں تو وہ ایک بہت بڑا چشمہ بن جاتا۔اب سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کا گذارہ اِسی پانی پر ہونے لگا۔صرف یہ پانی پیتیں،اور آپ رضی اﷲ عنہا کی بھوک اور پیاس دونوں مٹ جاتیں۔یہاں ذہن میں یہ سوال پید ہوتا ہے کہ بغیر کھانے کے انسان صرف پانی پی کر کتنے دن گزارہ کر سکتا ہے،اور کیا وہ کمزور نہیں ہوگا؟اِس کا جواب آج کی سائنس دیتی ہے۔آج زمزم کے پانی کو سائنس دانوں نے بہت باریکی سے چیک کیا ہے،اور مکمل ریسرچ کرنے کے بعد بتایا کہ اِس پانی میں ہر طرح کا وٹامن موجود ہے۔اور یہ پانی قدرتی طور پر نہ صرف صاف ہے بلکہ طاقتور بھی ہے۔یہ برسوں کسی بھی چیز میں بند کر کے رکھا جائے،تب بھی خراب نہیں ہو گا۔اور اگر کوئی شخص کھانا نہیں کھائے،اور صرف زمزم پی کر رہے،تو نہ ہی اُسے بھوک لگے گی،اور نہ ہی اُسے پیاس لگے گی۔بلکہ وہ عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ تندرست اور طاقتور ہوتا جائے گا۔اسی لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم جب تک مکۂ مکرمہ میں رہےتو زیادہ تر زمزم پر گذارہ کرتے تھے۔اور بچپن میں تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم صرف آب زمزم کا استعمال کرتے تھے۔
قبیلہ بنو جرہم کی آمد
سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا گزارہ زمزم پر ہونے لگا۔جب پانی ملا تو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے مٹی کی کچی اینٹوں کا ایک چھوٹا سا گھر بنا لیا۔زمزم کا چشمہ بڑھتا ہی جا رہا تھا،اور وہاں ایک نخلستان بن گیا۔انہی دنوں قبیلہ بنو جرہم پانی کی کمی کا شکار ہوئے،اور وہ پانی کی تلاش میں نکلے۔انہوں نے ایک جگہ پہاڑیوں کے درمیان وادی میں قیام کیا ،لیکن وہاں پانی نہیں تھا۔انہوں نے عام راستے سے کافی دور آسمان پر پرندوں کو اڑتے دیکھاتو آپس میں کہنے لگے کہ یہ پرندے ضرور پانی پر منڈلا رہے ہوں گے۔حالانکہ ہم بھی تو اِس وادی میں ٹھہرے ہوئے ہیں،لیکن یہاں پانی کا نام و نشان نہیں ہے۔انہوں نے چند آدمی تحقیقات کے لئے بھیجے تو انہوں نے آکر بتایا کہ وہاں پر پانی ہے۔پورا قبیلہ بنو جرہن وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک عورت اپنے دودھ پیتے بچے کو لیکر بیٹھی ہے۔انہوں نے اُس سے پانی مانگا تو اُس عورت نے اُنہیں پانی دیا۔انہوں نے دیکھا کہ وہ عورت پانی نکال نکال کر دیتی جارہی ہے،اور پانی کم ہونے کے بجائے اُتنا کہ اُتنا ہی ہے۔یہ دیکھ کر انہوں نے اُس عورت یعنی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے وہاں رہنے کی اجازت مانگی۔آپ رضی اﷲ عنہا نے اِس شرط پر انہیں رہنے کی اجازت دی کہ پانی پر میرا قبضہ رہے گا،اور میں خود ضرورت کے مطابق پانی تقسیم کروں گی۔زمزم کے کنویں کے قریب ہی خانۂ کعبہ کی جگہ ایک ٹیلے کی شکل میں موجود تھی۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے زمزم کے کنویں کے پاس اپنا مکان بنا لیا،اور کنواں آنگن میں کر لیا۔اور قبیلہ بنو جرہم کے لوگوں نے خانہ¿ کعبہ کے ٹیلے کے اطراف میں دور دور تک وادی میں اپنے مکانات بنا لئے۔اِس طرح مکۂ مکرمہ آباد ہو گیا۔
سب سے فصیح وبلیغ عربی
زمزم کے چشمہ کی وجہ سے قبیلہ بنو جرہم نے وہیں رہائش اختیار کر لی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جب چلنے پھرنے لگے تو قبیلہ بنو جرہم کے بچوں کے ساتھ تیر اندازی اور گھڑ سواری کرنے لگے۔اور آپ علیہ السلام اتنی صاف اور فصیح و بلیغ عربی بولتے کہ بنو جرہم کے لوگ حیران ہو جاتے تھے۔دراصل سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا عبرانی زبان بولتی تھیں،اور قبیلہ بنو جرہم عربی زبان بولتے تھے۔شروع میں کچھ دنوں تک آپ رضی ا عنہا کو پریشانی ہوئی ،پھر بعد میں آپ رضی اﷲ عنہا نے عربی زبان سیکھ لی، لیکن اُتنی صاف عربی نہیں بول پاتی تھیں۔جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام انہیں کے درمیان بڑے ہوئے،اور بچپن سے عربی زبان سیکھ لی۔اکثر روایات میں آیا ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے فصیح و بلیغ عربی میں بات کی،وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔اِس طرح دھیرے دھیرے وقت گزرتا رہا،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ تیرہ(13) سال ہو گئی۔اِس درمیان میں وقتاً فوقتاًحضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ آتے رہتے تھے۔اور جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دیکھتے تو خوشی سے سینہ پھول جاتا تھا۔اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے ایسے قد کاٹھی سے نوازا تھا کہ آپ علیہ السلام نو عمری میں ہی نوجوانوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔
اﷲ کے لئے قربانی کریں
حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی والدہ محترمہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ مکہ¿ مکرمہ میں رہ رہے تھے۔اور اُن کے والد محترم اُس وقت کے ملک کنعان اور آج کے فلسطین میں رہ رہے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ پہلی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہارہ رہی تھیں،اُن کی عُمر نوے (90) سال ہوچکی تھی۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ ننانوے(99) سال ہو چکی تھی۔ایک رات آپ علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے اﷲ تعالیٰ کے لئے قربانی کرو۔یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے خواب سچے ہوتے ہیں۔اور رات میں جو خواب دیکھتے ہیں ،وہ دن میں حقیقت بن کر سامنے آجاتا ہے۔اِس لئے صبح اُٹھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دس اونٹ اﷲ تعالیٰ کے لئے قربان کر دیئے۔دوسری رات پھر خواب میں حکم ہوا کہ اﷲ کے لئے قربانی کریں۔صبح اُٹھ کر آپ علیہ السلام غورو فکر میں مبتلا رہے،کافی غورو فکر کرنے کے بعد آپ علیہ السلام نے سوچا کہ شاید میں کم اونٹوں کی قربانی کی ہے۔اِس لئے اُس دن سو(100) اونٹوں کی قربانی کی۔
اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرو
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سو(100) اونٹوں کی قربانی کی،لیکن تیسری رات پھر قربانی کا حکم ہوا۔اور اِس بار یہ حکم ہوا کہ اﷲ کے لئے اپنی سب سے پیاری چیز قربان کرو۔صبح آپ علیہ السلام اُٹھے تو غورکرنے لگے کہ میری سب سے پیاری چیز کون سی ہے؟کافی غور و فکر کرنے کے بعد آپ علیہ السلام کی سمجھ میں آیا کہ میں اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔اِس لئے مجھے اپنے بیٹے کو اﷲ کے لئے قربان کرنا ہوگا۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بہت بڑی آزمائش تھی،کیونکہ بڑھاپے میں اﷲ تعالی نے اولاد عطا فرمائی تھی،اور وہ بھی اکلوتی اولاد تھی۔لیکن آپ علیہ السلام جانتے تھے کہ اولاد اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی ہے،اِس لئے وہ جب چاہے واپس لے سکتا ہے۔آپ علیہ السلام نے فوراً سفر کی تیاری کی،اور مکۂ مکرمہ کی طرف چل پڑے۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے جب شوہر کو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد محترم کو دیکھا تو خوشی کے مارے آنکھوں میں آنسو آگئے۔اُس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ تیرہ (13)یا چودہ(14) سال کے درمیان تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی اور بیٹے کو اپنے خواب کے بارے میں بتایا تو دونوں نے سمجھ لیا کہ یہ اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے۔
فرمانبردار بیٹا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں بتایا ۔سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اﷲ تعالیٰ کی کئی نشانیاں دیکھی تھیں،اِس لئے وہ جانتی تھیں کہ اِس میں بھی اﷲ تعالیٰ کی کوئی مصلحت ہو گی۔پھر بھی ممتا کی ماری نے کانپتے ہوئے دل کو مضبوط کر کے اجازت دے دی۔لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام تو ابھی نوجوانی میں قدم رکھ رہے تھے۔اِس کے بوجود اپنے والد ِ محترم کے اتنے فرمانبردار تھے کہ اِس بات کی پرواہ نہیں کی کہ اِس بات کے نتیجے میں میرا کیا انجام ہو گا؟بلکہ والدِ محترم سے عرض کیا ؛”اباجان !آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے جس کام کا حکم دیا ہے ،وہ کر ڈالیئے،اور انشاءاﷲ آپ علیہ السلام مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔اﷲ تعالیٰ نے اُن باپ بیٹے کی گفتگوکو سورہ الصافات میں بیان فرمایا؛ترجمہ؛”(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی)اے میرے رب !مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما،تو ہم نے اُسے ایک بُرد بار لڑکے کی بشارت دی۔پھر جب وہ (بیٹا) نوعُمر کو پہنچاکہ اُس کے ساتھ چلے پھرے تو ابراہیم (علیہ السلام ) نے کہا؛اے میرے بیٹے !میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔اب بتا تیری کیا رائے ہے؟بیٹے نے جواب دیا؛اباجان !جو حکم آپ (علیہ السلام ) کو ہوا ہے،اُسے بجا لایئے۔اِن شاءاﷲ آپ( علیہ السلام) مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔“(سورہ الصافات آیت نمبر 100 سے 102 تک)
ابلیس شیطان کو کنکریاں مارنا
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی بیوی اور بیٹے کی فرمانبرداری دیکھی تو بہت زیادہ خوش ہوئے ،اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے ہاتھ میں چھری لی،اور بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر قربان گاہ کی طرف لے جانے لگے۔ذرا اُسوقت کا تصور کریں۔اُس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر لگ بھگ ننانوے سال تھی،اور بڑھاپے میں اکلوتی اولاد کو ذبح کرنا تھا۔ایسے وقت میں بھی آپ علیہ السلام نے بیٹے سے اپنی محبت کو اﷲ کے حکم پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ابلیس شیطان نہیں چاہتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس آزمائش میں کامیاب ہوں۔وہ آپ علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابراہیم(علیہ السلام) ! یہ کیسا پاگل پن ہے؟ایسے کوئی اپنی اولاد کو ذبح کرتا ہے کیا؟اور یہ تو تمہارا اکلوتا بیٹا ہے،تمہارے بڑھاپے کا سہارا ہے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”یہ اﷲ کا حکم ہے، اور میں اِسے ضرور پورا کروں گا۔اور تُو مجھے بہکا رہا ہے،تو ضرور ابلیس شیطان ہے۔“اور آپ علیہ السلام نے سات کنکریاں اُٹھائیں ،اور اُسے مارا تو وہ وہاں سے بھاگا۔پھر ابلیس شیطان بھاگ کر سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے پاس آیااور بولا کہ بی بی جی!یہ ابراہیم(علیہ السلام) کیا کرنے جارہا ہے؟اُسے روکو،تمہارا شوہر پاگل ہو گیا ہے،کیا بڑھاپے میں کوئی اپنی اولاد کو اِس طرح ذبح کرتا ہے؟سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا؛”وہ اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے جارہے ہیں،اور میں انہیں اﷲ کا حکم پورا کرنے سے نہیں روکوں گی۔اور تُو مجھے بہکا رہا ہے،تُو ضرور ابلیس شیطان ہے۔“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہا نے سات کنکریاں اُٹھائیں اور اُسے ماری تو ابلیس شیطان وہاں سے بھاگا۔اب وہ بھاگتا ہوا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا کہ بیٹے یہ تمہارے کھیلنے اور کھانے کے دن ہیں،ابھی تم نے دنیا دیکھی ہی کہاں ہے؟تمہارا باپ بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہے،کیا اِس طرح کوئی اپنی اولاد کو ذبح کرتاہے؟حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا؛”میرے والد اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے جارہے ہیں،اور میں اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے میں اُن کی ضرور مدد کروں گا،اور تُو مجھے بہکا رہا ہے،تُو ضرور ابلیس شیطان ہے۔“اور آپ علیہ السلام نے بھی سات کنکریاں اُٹھا کر اُسے ماری ،اور ابلیس شیطان بھاگ گیا۔حاجی شیطان کو جو کنکریاں مارتے ہیں،یہ اُنہی مقدس ہستیوں کی سنت ہے۔
گلے پر چھری رکھ دی
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کولیکر قربانی کی جگہ پہنچ گئے۔یہاں پہنچ کر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والدِ محترم سے عرض کیا؛”اے میرے اباجان!ذبح کرنے سے پہلے میرے ہاتھ اور پیر مضبوطی سے باندھ دیں،تاکہ میں زیادہ تڑپ نہ سکوں،اور آپ علیہ السلام کو ذبح کرنے میں آسانی ہو۔اور اپنے کپڑوں کو مجھ سے بچا کر رکھنا،تاکہ میرا خون آپ علیہ السلام کے کپڑوں پر نہ لگ جائے۔اور میری والدہ محترمہ کو یہ خون دیکھ کر تکلیف نہ ہو۔میرے حلق پر چھری جلدی جلدی چلانا،تاکہ مجھ پر موت آسانی سے آئے،اور جب میری والدہ کے پاس جانا تو اُس سے میرا سلا م کہنا۔“کچھ روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ بھی کہا؛”اباجان!آپ علیہ السلام اپنی آنکھوں پر پٹی باند ھ لیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ میری تکلیف دیکھ کر آپ علیہ السلام کو رحم آجائے،اور آپ علیہ السلام سے اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے میں نعوذ باﷲ کوتاہی نہ ہو جائے۔“یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے کے ہاتھ اور پیر باندھ دیئے،اور اپنی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ لی۔اور اپنے پیارے فرمانبردار بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا،اورگلے پر چھری رکھ دی۔بس چھری چلانے کی دیر تھی۔
ابراہیم کی چھری بعد میں چلے،پہلے اسماعیل کو ہٹاؤ
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کے گلے پر چھری رکھ دی تھی۔ اﷲ تعالیٰ کا فضل اور اُس کی رحمت اِن مخلص بندوں کے عمل کو دیکھ کر بہت زیادہ جوش میں آگئی۔اور اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام سے فرمایا؛”جرئیل! ابراہیم کی چھری بعد میں چلے ،اُس سے پہلے اسماعیل کو ہٹا کر اُس کی جگہ دنبہ رکھ دو۔“جبرئیل علیہ السلام دنبہ لیکر بہت تیزی سے قربانی کی جگہ پہنچے ،اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چھری چلنے سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ہٹا کر اُن کی جگہ دنبہ رکھ دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری طاقت سے چھری چلا دی،اور گلہ کٹ گیا۔گرم گرم خون آپ علیہ السلام کے ہاتھوں پر لگ رہا تھا۔اور دنبہ تڑپ رہا تھا،جب آپ علیہ السلام کو اطمینان ہو گیا کہ ذبح مکمل ہو گیا ہے،تو آنکھوں سے پٹی اُتاری۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی آنکھوں سے پٹی اُتاری تو دیکھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔
اے ابراہیم!تم کامیاب ہوئے(خواب سچ کر دکھایا)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو سامنے مسکراتے ہوئے کھڑا پایا تو آپ علیہ السلام کو بڑی حیرانی ہوئی ۔اور جب قربانی کی جگہ دیکھا تو وہاں ایک دنبہ ذبح کیا ہوا پڑا دیکھ کراور زیادہ حیران ہوئے۔اور آپ علیہ السلام کو صدمہ ہوگیا کہ کہیں مجھ سے اﷲ تعالیٰ کا حکم پورا کرنے میں کتاہی تو نہیں ہوگئی ۔اُسی وقت جبرئیل علیہ السلام نے آواز لگائی ”اﷲ اکبر،اﷲ اکبر“یہ سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛”لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر“جب حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والدِ محترم سے یہ سنا تو فرمایا؛”اﷲاکبر واﷲ الحمد “اﷲ تعالیٰ کو یہ کلمات اتنے پسند آئے کہ اِن کلمات کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت پر عیدین کے دن پڑھنا واجب کردیا۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمای؛ترجمہ؛”جب دونوں مطیع ہوگئے(یعنی قربانی کے لئے تیار ہوگئے)اور اُس نے(باپ نے) اُس کو (بیٹے کو)پیشانی کے بل لٹا دیا تو ہم نے آواز دی ،اے ابراہیم ! بے شک تم نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔(یعنی کامیاب ہوگئے)بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو اِسی طرح جزا دیتے ہیں۔بے شک یہ کھلی آزمائش تھی،اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اُس کے فدیہ میں دے کر اُسے (حضرت اسماعیل علیہ السلام کو) بچا لیا۔“(الصافات آیت نمبر 103سے 107تک)اِس طرح اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعے ایک دنبہ ذبح کروایا۔اس کے بعد آپ علیہ السلام ہر سال قربانی رہے۔اور ہم ہر سال دس ذی الحجہ کو جو قربانی کرتے ہیں،یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔
دنیا کے امام
اﷲ تعالیٰ نے کئی مرتبہ حضرت ابراہیم کو آزمایا۔کبھی آگ میں ڈال کر آزمائش کی،کبھی بیوی اور بچے کو سنسان اور ویران وادی میں چھوڑدینے کا حکم دیکر آزمائش کی،اور کبھی بیٹے کی قربانی کے ذریعے آزمائش کی۔اس کے علاوہ بھی کئی اور باتوں میں آزمایا،اِس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ؛”جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اُن کے رب نے کئی کلمات (باتوں) سے آزمایا۔اور انہوں نے سب کو پورا کردیا تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔(آپ علیہ السلام نے) عرض کیا؛اور میری اولاد کو؟(اﷲ نے فرمایا)میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔ہم نے بیت اﷲ (خانہ¿ کعبہ کو)لوگوں کے لئے ثواب اور امن و امان کی جگہ بنائی ۔تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو۔ہم نے ابراہیم(علیہ السلام)اور اسماعیل(علیہ السلام)سے وعدہ لیاکہ تم میرے کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع ،سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو۔جب ابراہیم(علیہ السلام) نے کہا؛اے میرے رب !تُو اِس جگہ کو امن والا شہر بنا،اور یہاں کے باشندوں کو جو اﷲ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں،انہیں پھلوں کا رزق دے۔اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میں کافروں کو بھی تھوڑا(یعنی دنیا کی زندگی میں جو بہت تھوڑی ہے)فائدہ دوں گا۔پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف بے بس کر دوں گا۔اور یہ پہنچنے کی بُری جگہ ہے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 124 سے 126تک)اﷲ تعالیٰ نے کن کلمات میں آپ علیہ السلام کو آزمایا؟اِس بارے میں تفاسیر میں کئی روایات ہیں۔یہاں تک کہ سید المفسرین حضرت عباﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے کئی روایات مروی ہیں۔جو کئی تفاسیر میں درج ہیں۔آپ رضی اﷲ عنہ سے ایک روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مناسک ِ حج کا حکم دیا،جو انہوں نے پورا کیا ۔اور دوسری روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دس احکام دیئے،جن میں سے پانچ سر کے متعلق ہیں،اور پانچ بقیہ جسم سے متعلق ہیں۔1)مونچھیں کاٹنا،2)کُلی کرنا،3)ناک میں پانی ڈالنا،(جیسے کہ ہم وضو میںکرتے ہیں،حدیث میں اِس کو ”استفشاق“کہا گیا ہے)،4)مسواک کرنا،5)سر کے بالوں مانگ نکالنا،یہ پانچ سر کے احکام ہیں۔اور 6)ناخن کاٹنا،7)ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا،8)ختنہ کرنا،9)بغلوں کے بال صاف کرنایا اُکھاڑنا،10)پیشاب اور پاخانہ کے بعد پانی استنجا کرنا۔
دنیا میں سب سے پہلے سفید بال
صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اﷲ کے رسول حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی(80) سال کی عُمر میں ”قدوم“کے مقام پر اپنی ختنہ کی۔حضرت سعید بن مسیّب سے منقول ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام وہ شخص ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مہمان نوازی کی ،اور سب سے پہلے ختنہ کی،اور سب سے پہلے مونچھیں تراشی اور آپ علیہ السلام سب سے پہلے وہ شخص ہیںجن کے بال سفید ہوئے،اُن سے پہلے کسی کے بال سفید نہیں ہوئے تھے۔جب آپ علیہ السلام نے سفید بالوں کو سیکھا تو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”اے میرے رب !یہ کیا ہے؟“تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”یہ وقار ہے(یعنی بزرگی ہے)“اِس پر آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛”اے میرے رب ! میرا وقار اور بڑھا دیجیئے۔“(موطا)حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے مروی تیسری روایت میں یہ ہے کہ جن احکام کے ذریعے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائش کی۔اِن میں سے کچھ چیزیں انسانی جسم کے متعلق ہیں۔1)ناف کے نہچے کے بال صاف کرنا،اور بغل کے بال اُکھاڑنا،2)ختنہ کرانا،3)ناخن کاٹنا،4)مونچھیں تراشنا، 5)مسواک کرنا ،۶) جمعہ کے دن غسل کرنا،اور باقی چار احکام حج کے متعلق ہیں ۔1)طواف کرنا،2)صفا اور مروہ کے درمیان سعیٔ کرنا،3)جمرات(شیطان کو کنکریاں مارنا،4)طوف زیارت کرنا۔
تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے چوتھی روایت میں یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تین احکامات حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیئے۔اِن میں سے دس سورہ توبہ میں مذکور ہیں۔دس سورہ المومنون میں مذکور ہیں۔اور دس سورہ الاحزاب میں مذکور ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے پانچویں روایت میں ہے کہ جن کلمات میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو مبتلا فرمایا،اور آزمایا۔وہ یہ ہیں۔1)اﷲ تعالیٰ کے لئے اپنی قوم سے جدا ہوجانا۔2)اﷲ تعالیٰ کی توحید کے بارے میں نمرود سے مباحثہ کرنا۔اور جان کا خطرہ ہوتے ہوئے بھی جابر کے سامنے کلمۂ حق(اسلام)کی دعوت دینا۔3)آگ میں ڈالے جانے کے وقت بھی اﷲ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھنا۔4) اﷲ کے لئے اپنے وطن کو چھوڑ کر ملک مصر اور ملک شام اور ملک کنعان کی طرف ہجرت کرنا۔5) اﷲ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں (مہمانوں یا حاجیوں)کی ضیافت کے لئے مامور ہونا۔اور اپنی جان و مال سے اِس پر ثابت قدم رہنا۔6) اپنے بیٹے کو ذبح کرنا۔جب و¿پ علیہ السلام اِن سب آزمائشوں پر کھرے اُتر گئے ،اور کامیاب ہو گئے تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اَسلِم“یعنی فرمانبردار ہو جاؤ۔تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اَسلَمتُ رَبِّ العَالَمِینَ“میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا۔
مکۂ مکرمہ امن کا شہر
اﷲ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تمہیں دنیا کاامام بنانے والا ہوں،تو آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛کیا یہ وعدہ میری اولاد کے لئے بھی ہے۔تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔اِس سے آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ اُن کی اولاد میں نیک لوگ بھی ہوں گے،اور اُن کے لئے اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔لیکن آپ علیہ السلام کی اولاد میں ظالم (گنہ گار،ظلم کرنے والے)لوگ بھی ہوں گے ۔جن کے متعلق اﷲ تعالیٰ وعدہ نہیں ہے۔جیسے کہ یہودی اور عیسائی یعنی اہل کتاب وغیرہ۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب مکہ¿ مکرمہ کے لئے امن کا شہر بنانے کی دعا مانگی تو یہ عرض کیا؛”اے میرے رب !تُو اِس جگہ کو امن والا شہر بنا اور یہاں کے باشندوں کو جو اﷲ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں(یعنی مسلمان ہوں اور نیک ہوں)انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما۔“تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ چاہے مومن ہو یا کافر،نیک ہوں یا برا ہو،دنیا میں تو میں سب کو رزق دوں گا ۔لیکن کافروں اور ظالموں کوقیامت کے دن پکڑوں گا،اور آگ کا مزہ چکھاؤں گا۔
مکۂ مکرمہ میں دنیا بھر کے پھل
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاکو قبول کیا،اور مکۂ مکرمہ کو امن والا شہر بھی بنایا۔اور دنیا بھر سے پھل بھی وہاں پہنچاتا ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے سورہ القصص میں فرمایا؛ترجمہ؛”کیا ہم نے اُن کو امن و امان والے حرم (شہر مکۂ مکرمہ) میں جگہ نہیں دی۔یہاں ہر قسم کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں۔جو ہمارے پاس سے انہیں کھانے کو ملتا ہے۔لیکن اُن میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔“(سورہ القصص آیت نمبر 57) مکۂ مکرمہ کے قریب ہی طائف شہر آباد ہے،اور وہ سر سبزو شاداب علاقہ ہے۔ہمیشہ سے وہاں سے طرح طرح کا پھل مکۂ مکرمہ پہنچتا رہا ہے،اور آج بھی پہنچ رہے ہیں۔اس کے علاوہ مکۂ مکرمہ تجارتی مرکذ بن گیا تھا۔جس کی وجہ سے پوری دنیا سے اور تمام اطراف و اکناف سے طرح طرح کے پھل آتے رہے ،اور آج بھی آرہے ہیں۔شاید ہی دنیا کوئی پھل ایسا ہو جو مکۂ مکرمہ نہیں پہنچتا ہو۔جبکہ وہاں نہ تو زراعت ہوتی ہے،اور نہ ہی شجر کاری ہوتی ہے،اور نہ ہی وہاں کسی قسم کی صنعت ہے۔لیکن اس کے باجود دنیا بھر کے پھل فروٹ اور مصنوعات مکۂ مکرمہ میں ملتی ہیں۔
انبیائے کرام علہیم السلام کے باپ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے دنیا کا امام بنانے کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام کا باپ بھی بنایا ہے۔آپ علیہ السلام کے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ”بن اسماعیل “کہلائی۔اور دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام (اِن کا ذکر آگے انشاءاﷲ آئے گا)کی اولاد”بن اسرائیل “کہلائی ۔اِس کے علاوہ تیسری بیوی سے بھی اولاد ہوئی ،اور سب کی اولاد میں انبیائے کرام علیہم السلام آئے۔مولانا محمد آصف قاسمی لکھتے ہیں۔اب ”واذ بتلیٰ“سے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر خیر فرمایا ہے۔تاکہ بنی اسرائیل کو اُن کے منصب ِامامت سے معزول کر کے بنی اسماعیل یعنی اُمت محمدیہ کو قیامت تک کے لئے دنیا کی امامت سونپ دی جائے۔اور اِیسی ہدایات دی جائیں ،جو اُن کے لئے ہمیشہ مشعل ِ راہ ہو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ملک مصر ،عراق،فلسطن اور ملک شام سے لیکر ریگستان جزیرہ نمائے عرب کے کونے کونے میں گھوم گھوم کر وہ راہ انسانوں کو اﷲ تعالیٰ کے ابدی پیغام(اسلام) کی طرف دعوت دی۔انہوں نے اس مقصد اور مشن کی تکمیل کے لئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اندرون ِعرب یعنی حجاز میں،حضرت اسحاق علیہ السلام کو فلسطین میں اور اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو شرقِ اُردن کے علاقے میں مقرر فرمایا۔تاکہ دنای کے اِس مرکذ میں رہنے والے انسانوں کو پھر سے اﷲ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی دعوت دی جا سکے۔جن علاقوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولادوں کو مقرر فرمایا۔اﷲ تعالیٰ نے اُن کو اور اُن کی اولادوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام جو اپنے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام سے اٹھارہ سال بڑے تھے۔انہیں جزیرہ نمائے عرب میں پروان چڑھایا۔قریش اور بعض دوسرے قبائل اُنہیں کی اولاد ہیں۔دوسری طرف حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد فلسطین اور ملک شام میں خوب پھولی پھلی۔حضرت یعقوب علیہ السلام ،حضرت یوسف علیہ السلام،حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت داو¿د علیہ السلام،حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام وغیرہ اُن کی اولاد میں سے ہیں۔چونکہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ”اسرائیل “تھا،اِس لئے اُن کے بارہ بیٹوں کی اولاد ”بنی اسرائیل “کہلائی۔اور جب یہی بنی اسرائیل تنزل میں مبتلا ہوئی تو پہلے یہودیت پیدا ہوئی ،اور پھر عیسائیت پید ا ہوئی۔اِن دونوں بیٹوں کے علاوہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹوں کی اولاد میں بھی انبیائے کرام علیہم السلام آئے۔اِن میں حضرت شعیب علیہ السلام ،حضرت ایوب علیہ السلام ،حضرت یونس علیہ السلام الگ الگ بیٹوں کی اولاد میں الگ الگ علاقوں میں آئے۔اِسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام دنیا کے امام ہونے کے ساتھ ساتھ انبیائے کرام علیہم السلام کے باپ بھی ہیں۔اِس لئے یہودیوں،عیسائیوں اور مسلمانوں سب نے انہیں اپنا بڑا اور اپنا رسول مانا ہے۔
سب سے پہلے ختنہ
اِس دنیا میں سب سے پہلے ختنہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی۔آپ علیہ السلام کو جب ختنہ کا حکم ملا تو آپ علیہ السلام کی عُمر اسی(80) سال تھی۔آپ علیہ السلام نے جلدی سے کلہاڑی سے ختنہ کر لی۔جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کو بہت تکلیف ہوئی ۔آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کا پکارا تو اﷲ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ تم نے ہمارے آلہ بتانے سے پہلے جلدی کرلی۔آپ علیہ السلام نے عرض کیا؛”یارب میں نے تیرا حکم سنتے ہی تاخیر کو پسند نہیں کیا۔امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔؛”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کلہاڑی سے ختنہ کی،اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر تیس (30) تھی۔(صحیح مسلم)امام بیہقی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ختنہ کیا۔اُس وقت آپ علیہ السلام کی عُمر ایک سو بیس (120) سال تھی۔آپ علیہ السلام نے کلہاڑی سے ختنہ کیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام اسی(80) سال زندہ رہے۔امام محمد بن سعد نے حی بن عبداﷲ سے روایت کی ہے ،فرماتے ہیں۔مجھے ملی کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ختنہ تیرہ (13) سال کی عُمر میں ہوا۔امام بیہقی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ختنہ ساتویں دن کیا ،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اُن کی بلوغت کے وقت کیا۔امام بیہقی حضرت جابر بن عبداﷲ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ روسل اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اﷲ عنہ اور حضرت حسین رضی اﷲ عنہ کا ختنہ ساتویں دن کرایا۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا نکاح
حضرت ابراہیم علیہ السلام قربانی کے بعد ملک کنعان واپس چلے گئے۔آپ علیہ السلام براق پر سوار ہو کر آتے جاتے تھے۔اِدھر مکۂ مکرمہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام بالغ ہوئے تو اُن کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے پیارے بیٹے کا نکاح قبیلہ بنو جرہم کی ایک لڑکی سے کر دیا۔اِس کے کچھ دنوں بعد آپ رضی اﷲ عنہا کا انتقال ہو گیا۔اور انہیں ”حطیم“میں دفن کر دیا گیا۔اُس وقت خانۂ کعبہ نہیں تھا،اور اُس کی جگہ ایک بلند ٹیلہ تھا۔کچھ دنوں بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹے سے ملنے آئے تو وہ اُس وقت کسی لمبے سفر پر گئے ہوئے تھے۔اُن کی بیوی سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے انتقال کی خبر ملی۔بہو سے حال چال پوچھا تو اُس نے کہا؛”بڑا برا حال ہے،اور بڑی تنگی چل رہی ہے۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اچھا تمہارے شوہر آئیں تو انہیں میرا سلام کہنا،اور یہ کہہ دینا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ بد ل دیں۔“جب حضرت اسمعیل علیہ السلام واپس آئے تو بیوی سے پوچھا ؛”کیا کوئی مجھ سے ملنے کے لئے آیا تھا؟“تو اُس نے کہا؛”ایسے ایسے حلیہ میں ایک بوڑھا آیا تھا،آپ کے بارے میں پوچھا پھر گھر کے حالات کے بارے میں پوچھا۔تو میں نے کہا کہ بہت تنگی میں گھر چل رہا ہے۔آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”کیا انہوں نے اور کچھ کہا تھا؟“تو اُس نے بتایا کہ وہ آپ کو سلام کہہ گئے ہیں،اور کہا ہے کہ آپ کے کہوں کہ آپ گھر کی چوکھٹ بدل دیں۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”وہ میرے والد صاحب تھے،اور مجھ سے تمہارے ذریعے یہ فرماگئے ہیں کہ تم سے الگ ہو جاؤں۔پھر آپ علیہ السلام نے اُسے طلاق دیکر قبیلہ بنو جرہم کی ہی دوسری لڑکی سے نکاح کر لیا۔ایک روایت میں ہے کہ پہلی بیوی قبیلہ عمالقہ کی تھی۔بہر حال کچھ عرصے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام پھر بیٹے سے ملنے آئے،لیکن اِس مرتبہ بھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔بہو سے ملاقات ہوئی ،بیٹے کے بارے میں پوچھا تو بہونے کہا کہ باہر گئے ہوئے ہیں۔آپ آئیں جو کچھ بھی ہے،اﷲ کا نام لیکر تناول فرمائیں۔آپ علیہ السلام نے گھر کے حالات پوچھے تو اﷲ تالیٰ کا شکر ادا کیا،اور اﷲ تعالیٰ کی تعریف بیان کی ۔آپ علیہ السلام نے پوچھا؛"تمہاری خوراک کیا ہئ؟“تو عرض کی کہ گوشت ہے۔پھر پوچھا؛”پینا کیا ہے؟“تو عرض کیا پانی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی؛”اے اﷲ تعالیٰ !اِن کے گوشت اور پانی میں برکت دے۔‘ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”اگر اناج بھی اُن کے پاس ہوتا اور وہ کہتیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اُن کے لئے اناج کی برکت کی بھی دعا کر دیتے۔اب اِس دعا کی برکت سے مکہ¿ مکرمہ والے صرف گوشت اور پانی پر بھی گذارہ کر سکتے ہیں۔اور دوسرے علاقے کے لوگ نہیں کر سکتے ۔اِس کے بعد حضرت ابراہیم علیہالسلام نے فرمایا؛”اچھا تو میں چلتا ہوں،تم اپنے شوہر کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ تمہاری چوکھٹ بہت اچھی ہے ،اسے ہمیشہ قائم رکھنا۔“بعد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام آئے تو اُن کی بیوی نے بتایا کہ ایک بہت ہی پیارے بزرگ ایسے ایسے حلیئے کے آئے تھے،اور نہوں نے ایسا ایسا کہا ہے۔تو آپ علیہ السلام نے بتایا کہ وہ میرے والدِ محترم ہیں،اور مجھے حکم دے کر گئے ہیں کہ میں تمہیں ہمیشہ ساتھ رکھوں ۔یہ واقعہ لگ بھگ ہر تفسیر میں درج کیا گیا ہے ،صرف الفاظ میں کچھ فرق ہے۔
تعمیر خانۂ کعبہ
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر مبارک لگ بھگ ننانوے سال یا اُس سے کچھ زیادہ ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔اِس سے پہلے ہم آپ کو حضرت آدم علیہ السلام کے حالات میں خانۂ کعبہ کے بارے میں بتا چکے ہیں۔لیکن یہاں مختصر میں بتا دیں تاکہ تشنگی محسوس نہ ہو۔ایک روایت میں ہے کہ سب سے پہلے خانۂ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ خوا رضی اﷲ عنہ نے کی تھی۔ایک اور روایت کے مطابق فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی نگرانی میں خانۂ کعبہ کی تعمیر کی تھی۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جنت ایک بہت بڑا یاقوت اُتارا تھا،جسے اُس جگہ رکھ دیا گیا تھا جہاں آج خانۂ کعبہ ہے۔اب اصل حقیقت کا علم تو صرف اﷲ تعا لیٰ کو ہی ہے۔جب طوفان نوح آیا تو ایک روایت کے مطابق خانۂ کعبہ بہہ گیا تھا۔اور ایک روایت کے مطابق خانۂ کعبہ اُٹھا لیا گیا تھا،اور ساتویں آسمان کے اوپر رکھ دیا گیا تھا۔اور وہی ”بیت المعمور “فرشتوں کا کعبہ ہے۔اﷲتعالی کے حکم کو پورا کرنے کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ آئے تو اِس بار بیٹے سے ملاقات ہو گئی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام زمزم کے کنویں کے پاس بیٹھے تیر بنا رہے تھےاور سیدھا کر کے رکھ رہے تھے۔والد محترم کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے آگے بڑھے اور ادب سے والد صاحب کو سواری سے اُتارا۔کافی لمبے عرصے بعد دونوں باپ بیٹے ملے تو آنکھوں میں آنسو آگئے، اور سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا دونوں کو یاد آگئیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے والد محترم کو حترام سے لا کر گھر میں بٹھایا۔تھوڑا سکون ملنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛”بیٹا!اﷲ تعالیٰ نے مجھے ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے۔“بیٹا بھی اتنا فرمانبردار کہ یہ نہیں پوچھا کہ کون سا کام ہے؟بلکہ فوراً کہا؛”اباجان جس کام کا حکم اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دیا ہے وہ کر ڈالیئے۔“تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے سے فرمایا؛”بیٹے !اﷲ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کے لئے یہاں مکۂ مکرمہ میں ”اﷲ کا گھر “بناؤں۔“
خانۂ کعبہ کی بنیادیں اور حدود
دونوں باپ بیٹے نے تیاری مکمل کر لی،لیکن یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ خانۂ کعبہ کی بنیادیں کہاں کھودیں،اور اُس کی حدود کتنی رکھیں۔اِس بارے میں ایک روایت ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک ہوا بھیجی جس کا نام سکینہ ہے جس کے سانپ کی طرح دو سر تھے۔اور وہ اُس جگہ پر ٹھہر گئی جہاں آج خانہ¿ کعبہ ہے تو دونوں حضرات علیہم السلام نے اِس کی حد میں بنیادیں کھودیں۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک بادل کا ٹکڑا بھیجا اور فرمایا اِسکا سایہ خانۂ کعبہ کی حدود ہیں،اِس کے مطابق بنیادیں کھودو،نہ کم ہو نہ زیادہ ہو۔ایک اور روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو خانۂ کعبہ کی حدود بتا کر بھیجا۔اور انہوں نے آکر اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق نشانات اور اشارات بتائے،اور دونوں حضرات علیہم السلام نے ان کے مطابق خانہ¿ کعبہ کی بنیاد کھودی۔آج جو خانۂ کعبہ ہم دیکھ رہے ہیں،وہ مربع نما یعنی چوکور ہے۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو خانۂ کعبہ بنایا تھا،وہ اِس سے بڑا اور مکعب نماتھا۔حطیم کا پورا حصہ جو ابھی خانۂ کعبہ کے باہر ہے،وہ اندر تھا۔اور اِس میں دو دروازے تھے جو زمین سے لگ کر تھے۔بعد میں جب قریش نے بوسیدہ خانۂ کعبہ کو توڑ کر بنایا تو پیسے کی کمی کی وجہ سے اُس کی لمبائی کو کم کر دیا اور اُسے مربع نما بنا دیا۔اور صرف ایک دروازہ کر دیا،اور وہ بھی زمین سے کافی اُونچائی پر کر دیا۔فتح مکہ کے بعد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا؛”اے عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا!تمہاری قوم نے ابھی ابھی اسلام قبول کیا ہے۔(یعنی نئے نئے اسلام میں دخل ہوئے ہیں)اگر ایسا نہیں ہوتا(اور اُن کا ایمان مضبوط ہو چکا ہوتا)تو میں خانۂ کعبہ کو توڑ دیتا،اور اُسے اُن بنیادوں اور حدود پر بناتا ،جن حدود پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بنایاتھا۔اِس کا دروازہ زمیں کے برابر کر دیتا اور ”حطیم“کو خانۂ کعبہ کے اندر کر دیتا۔“اور دوسری ایک روایت میں فرمایا کہ”میں اِس میں دو دروازے بنا دیتا۔“(صحیح مسلم)رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خانۂ کعبہ کو ویسا ہی رہنے دیا،جیسا قریش نے بنایا تھا۔بعد میں حضرت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت عبد اﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے اپنی حکومت کے دوران”مکۂ مکرمہ “کو دارالخلافہ بنایا،اور خانۂ کعبہ کو توسیع دیکر اُسی طرح بنا دیا،جس طرح حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے بنایا تھا۔لیکن بعد میں عبد الملک بن مروان کے حکم پر اُس کے سپہ سالار حجاج بن یوسف نے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کو شہید کر کے خانہ¿ کعبہ اُسی طرح بنا دیا،جیسا قریش نے بنایا تھا۔ بعد میں عباسیہ خاندان کے حکمراں ہارون رشید نے امام مالک رحمتہ اﷲ علیہ سے مشورہ کیا کہ خانہ¿ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حدود اور بنیاد پر پھر سے بنادوں؟تو انہوں نے فرمایا؛”اے امیر المومنین ! خانۂ کعبہ کو بادشاہوں کا کھلونا نہ بنائیںکہ جو بھی آئے وہ توڑا کرے اور بنایا کرے۔اِس طرح اﷲ کے اِس گھر کی ہیبت جاتی رہے گی۔
مقام ابراہیم
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ کی بتائی ہوئی حدود پر بنیادیں کھودنی شروع کر دیں،اور دیواریں بنانی شروع کر دیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام گارہ بناتے تھے، حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتے تھے۔اور دونوں حضرات علیہم السلام ملکر دیواریں اُٹھاتے جاتے تھے۔جب دیواریں قد کے برابر ہوگئیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا؛”بیٹے ایسا پتھر لاو¿،جس پر کھڑے ہو کر میں اوپر کی دیواریں بنا سکوں۔“حضرت اسماعیل علیہ السلام کافی دور تک ڈھونڈتے ہوئے گئے،اور ایک پتھر اُٹھا کر لے آئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس پتھر کوضرورت کے مطابق کھسکا کھسکا کرخانہ¿ کعبہ کی دیواریں بنا رہے تھے۔اور ضرورت کے مطابق یہ پتھر اونچا اور نیچا ہو جاتا تھا۔یہ”مقام ابراہیم“تھا۔اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“جنت سے اُتارا گیا ہے۔حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اِس کا نور ختم کردیا ہے،اگر یہ نور ختم نہیں کیا جاتا تو زمین و آسمان کے درمیان ہر شئے کو روشن کر دیتا۔حضرت سعید بن جبیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ ”مقام ابراہیم“کو اﷲ تعالیٰ نے نرم کر دیا تھا،اور رحمت بنایا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اِس پر کھڑے ہو کر خانۂ کعبہ کی دیوار بناتے تھے،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر اُٹھا اُٹھا کر لاتے تھے۔”مقام ابراہیم “پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان بن گئے تھے۔حضرت قتادہ رحمتہ اﷲ علیہ (جلیل القدر تابعی )فرماتے ہیں کہ لوگوں کو”مقام ابراہیم“کے پاس نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے،اُسے چھونے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ہمیں بعض لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے ”مقام ابراہیم“پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایڑی اور انگلیوں کے نشان دیکھے ہیں۔لیکن اِس اُمت کے لوگوں نے اُسے چھو چھو کر اِن نشانات کو مٹا دیا ہے۔(اِس لئے اب بڑی مشکل سے ایک پیر کا نشان دکھائی دیتا ہے)
حجراسود
حضرت آدم علیہ السلام جب جنت سے زمین پر تشریف لائے تو آپ علیہ السلام کے ایک ہاتھ میں پتھر (حجر ِاسود)تھا۔اور دوسرے ہاتھ میں جنت کے پتے(شاخیں) تھیں۔آپ علیہ السلام نے پتے ہندوستان میں بکھیر دیئے ۔جو خوشبو اور پھل پھول اور ہریالی ہندوستان میں دکھائی دیتی ہے،وہ اِسی کا فیضان ہے۔اور پتھر سفید یاقوت تھا،اور حضرت آدم علیہ السلام رات کے اندھیرے میں اِس پتھر کی روشنی سے فائدہ اُٹھاتے تھے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کرتے کرتے اُس جگہ پہنچے ،جہاں آج حجر اسود نصب(لگا ہوا) ہے۔تو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا؛”بیٹے ذرا کوئی اچھا سا پتھر لاو¿ جسے یہاں رکھا جائے۔“حضرت اسماعیل علیہ السلام پہاڑ پر سے ایک پتھر اُٹھا کر لائے تو والد محترم کو پسند نہیں آیا۔بیٹے بار بار پتھر لاتے رہے،لیکن والد محترم کو کوپسند نہیں آرہے تھے۔پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کافی دور تک ایسے پتھر کی تلاش میں نکل گئے،جو والد محترم کو پسند آجائے۔کافی دیر بعد واپس آئے تو اِس دوران جبرئیل علیہ السلام ہندوستان سے وہ پتھر لے آئے تھے،جو جنت سے حضرت آدم علیہ السلام لیکر آئے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اُسے نصب کر دیا تھا،حضرت اسماعیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”اباجان!یہ پتھر کون لایا ہے؟“حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مسکرانے لگے، اور مسکراتے ہوئے فرمایا؛”وہ یہ پتھر لایا ہے،جو تم سے زیادہ چست اور مستعد ہے۔“
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کے خانۂ کعبہ کی بناوٹ
حضرت ابراہیم اور حضر ت اسماعیل علیہم السلام نے جو خانۂ کعبہ بنایا۔اُس کی اونچائی نو ہاتھ رکھی،حجر اسود سے رُکن شامی تک کی لمبائی بتیس(32)ہاتھ رکھی۔رکن شامی سے مغربی رکن تک کی چوڑائی تیئس(23)ہاتھ رکھی،اور مغربی رکن سے رکن یمانی تک کی لمبائی اکتیس(31)ہاتھ رکھی۔اور رکن یمانی سے حجر اسود تک کی چوڑائی بیس (20)ہاتھ رکھی۔اِس طرح خانہ¿ کعبہ ایک سمت بتیس(32)ہاتھ،دوسری سمت تیئس(23)ہاتھ،تیسری سمت اکتیس(31)ہاتھ،اور چوتھی سمت بیس ہاتھ(20)تھا۔خانۂ کعبہ کو”کعبہ“اِس لئے کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے اسے” مکعب نما“ بنایا تھا۔جسے لگ بھگ دو ہزار سال بعد قریش نے توڑ کر ”مربع نما“بنا دیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کے دو دروازے بنائے،جوزمین کے برابر رکھے۔اور چھت نہیں ڈالی تھی،یعنی وہ اوپر سے کھلا ہوا تھا۔اندر آپ علیہ السلام نے ایک گڑھا کھود دیا تھا،اِس میں خانہ¿ کعبہ کے لئے جو ہدیے اور تحفے آتے تھے وہ ڈالے جاتے تھے۔آپ علیہ السلام نے خانہ¿ کعبہ کی لمبائی سے لگ کر ایک باڑ بنائی ،جس کے اوپر کیکر کی شاخوںکا چھپر بنایاتھا۔یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا باڑہ تھااور اِس میں بکریاں رکھی جاتیں تھیں۔حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے خانہ¿ کعبہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر بنایا تھا،اور فرمایا؛”یہ مکعب نما یعنی مکعب کی شکل کا ہے۔اِس لئے اِس کو ”کعبہ“کہتے ہیں۔“ اور فرمایا؛’[حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھت نہیں بنائی تھی،اور اِس کی تعمیر میں مٹی استعمال نہیں کی تھی،بکہ پتھر استعمال کئے تھے۔
تعمیر کے وقت دعا
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام خانہ¿ کعبہ کی تعمیر کرتے جارہے تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگتے جارہے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ؛”ابراہیم(علیہ السلام )اور اسماعیل(علیہ السلام)خانہ ¿ کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اُٹھاتے جارہے تھے،اور کہتے جارہے تھے۔کہ اے ہمارے رب!تُو ہم سے(اِس عمل کو) قبول فرما۔بے شک تُو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔اے ہمارے رب !ہمیں اپنا فرمانبردار ّمسلمان) بنالے،اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو فرمانبردار (مسلمان)رکھ۔اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا،اور ہماری توبہ قبول فرما،بے شک تُو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔اے ہمارے رب اِن میں انہیں میں سے ایک رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) بھیج،جو اِن کے سامنے تیری آیتیں پڑھے۔اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے،اور انہیں پاک کرے۔بے شک تُو ہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 127 سے 129 تک)اِن آیات کی تفسیر میں تفسیر انوارالبیان میں لکھا ہے کہ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اﷲ کے دو پیارے،اﷲ کے دونوں رسول خلیلاﷲ علیہ السلام،اور ذبیح اﷲ علیہ السلام ،اﷲ کے حکم سے اﷲ کا گھر بنا رہے ہیں۔اُن کے خلوص اور اخلاص پر ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہے۔پھر بھی یہ دونوں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے اِس عمل کو قبول فرمایئے۔اِس سے معلوم ہوا کہ ہم اﷲ تعالیٰ کے لئے کسی بھی کام میں کتنے ہی مخلص ہوں،اور کتناہی نیک اور صالح عمل کریں۔پھر بھی ہمیں اِس بات کا ڈر ہونا چاہیئے کہ پتہ نہیںہمارا یہ خلوص بھرا عمل اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول بھی ہو گا یا نہیں ہوگا۔اِس لئے ہمیں نیک اعمال کرتے رہنا چاہیئے،اور اِس کی قبولیت کی دعا اﷲ تعالیٰ سے کرتے رہنا چاہیئے۔
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے دعا
حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام نے اِن آیات میں جو دعائیں مانگیںہیں۔اُن کے بارے میں اِن آیات کی تشریح میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت ابرہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام اپنی دعا میں کہہ رہے ہی کہ ہمیں مسلمان بنالے یعنی ”مخلص“بنا لے،”مطیع“بنالے۔موجود ہر شر سے بچا،ریا کاری سے محفوظ رکھ،اور خشوع و خضوع عطا فرما۔حضرت سلام بن ابی مطیع فرماتے ہیں۔مسلمان تو وہ تھے ہی،لیکن اسلام پر ثابت قدمی مانگ رہے ہیں۔جس کے جواب میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ؛”میں نے تمہاری دعا قبول کی“پھر اپنی اولاد کے لئے بھی یہی دعا کرتے ہیں،تو اﷲ تعالیٰ نے وہ بھی قبول فرما لی۔بنی اسرائیل بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہیں،اور عرب بھی۔(یعنی بن اسماعیل بھی)۔اِس کے بعد کی دعا میں دونوں رسول علیہم السلام عرض کرتے ہیں کہ اِن میں (بنی اسماعیل میں) ایک رسول بھیج۔اور اِس رسول اے مُراد ہمارے پیارے رسول حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔ تو اﷲ تعالیٰ یہ دعا بھی قبول فرمائی،لیکن اِس سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت ِخاص(یعنی صرف عربوں یا بن اسماعیل کے لئے)نہیں ہوتی ۔بلکہ عرب و عجم(یعنی بنی اسرائیل اور ساتھ ساتھ پوری دنیا کے انسانوں کے لئے)سب کے لئے عام ہے۔جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کہدو کہ اے لوگو!میں تم سب کی طرف اﷲ کا رسول ہوں۔اِس کے بعد آیت نمبر129 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اہل حرم (مکۂ مکرمہ والوں)کے لئے یہ دعا بھی ہے کہ آپ علیہ السلام (حضرت اسماعیل علیہ السلام)کی اولاد میں سے ہی رسول اِن میں آئے،اور یہ دعا بھی پوری ہوئی۔مسند امام احمد بن حنبل میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میں اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں ”خاتم النبین“اُس وقت سے ہوں ،جبکہ حضرت آدم علیہ السلام بھی مٹی کی صورت میں تھے۔(یعنی اُن کی پیدائش سے بھی پہلے)میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی” دعا “ہوں۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ”بشارت “ہوں۔اور اپنی والدہ کا خواب ہوں ۔انبیائے کرام علیہم السلام کی والدہ کو ایسے ہی خواب آتے ہیں۔“حضرت ابوامامہ رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ سوال کیا”یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم !اپنی نبوت کا شروع تو ہمیں بتایئے۔“آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے میرے لئے دعا کی۔اور میرے بارے میں خوش خبری حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی۔اور میری والدہ نے دیکھا کہ اُن کے اندر سے ایک نور نکلا،جس نے ملک شام (اُس وقت فلسطین،اُردن اور لبنان سب ملک شام کہلاتا تھا)کے محلات چمکا دیئے۔مطلب یہ کہ دنیا میں شہرت کا ذریعہ یہ چیزیں ہوئیں۔آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی والدہ کا خواب بھی عرب میں پہلے ہی سے مشہور ہو گیا تھا۔اور لوگ کہتے تھے کہ سیدہ آمنہ سے کوئی بہت بڑاشخص پیدا ہوگا۔بنی اسرائیل سے انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ ختم کرنے والے اُن کے آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھتے(یعنی تقریر کرتے)ہوئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا صاف نام لیا اور فرمایا؛”اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اﷲ تعالیٰ کا رسول ہوں،مجھ سے پہلے کی کتاب توریت کی تصدیق کرتا ہوں،اور میرے بعد آنے والے رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم)کی تمہیں بشارت دیتا ہوں ،جن کا نام ”احمد“(صلی اﷲ علیہ وسلم) ہے۔
توریت میں رسول اﷲ صلی ا ﷲعلیہ وسلم کا ذکراور نام
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینۂ منورہ پہنچے تو یہودیوں میں سے سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا ،وہ حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ ہیں۔یہ بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے،اور توریت کو پڑھتے رہتے تھے۔سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129 کی تفسیر میں قاضی ثناءاﷲ پانی پتی لکھتے ہیں۔حضرت عبد اﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ نے اپنے دو بھتیجوں سلمہ اور مہاجر کو اسلام کی دعوت دی۔آپ رضی اﷲ عنہ نے انہیں فرمایا؛”یقینا تم جانتے ہو کہ اﷲ تعالیٰ نے توریت میں فرمایا ہے کہ میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک رسول(صلی اﷲ علیہ وسل) مبعوث فرمانے والا ہوں۔جس کا نام”احمد“ہوگا۔پس جو اُس (صلی اﷲ علیہ وسلم ) پر ایمان لائے گا،وہ ہدایت یافتہ ہوگا۔اور جو ایمان نہیں لائے گا، وہ ملعون ہوگا۔‘ یہ سن کر سلمہ نے تو اسلام قبول کر لیا، لیکن مہاجر نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔تو اﷲ تعالیٰ نے آیت نمبر 127 سے 130 تک نازل فرمائی۔آیت نمبر 126 سے 129 کا ترجمہ ہم پہلے پیش کرچکے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے آیت نمبر 130 میں فرمایا؛”اب ابراہیم(علیہ السلام) کے دین(اسلام) سے وہی منہ پھیرے گا،جو بے وقوف ہوگا۔ہم نے تو اُسے(حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)دنیا میں بھی بزرگی عطا فرمائی ہے،اور آخرت میں بھی وہ نیکو کاروں میں ہوگا۔“(سورہ البقرہ آیت نمبر 130)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت کا بنی اسماعیل میں آنا
سورہ البقرہ کی آیت نمبر 124 میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”اور جب ابراہیم (علیہ السلام) کو اُن کے رب نے کئی باتوں(کلمات) میں آزمایا۔اور انہوں نے سب کو پورا کردکھایاتو اﷲ نے فرمایا؛میں تمہیں لوگوں کا امام بناے والا ہوں۔(آپ علیہ السلام نے عرض کیا)کیایہ وعدہ میری اولاد کے لئے بھی ہے؟تو اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛میرا وعدہ ظالموں کے متعلق نہیں ہے۔“اِس آیت کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔اے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم!آپ صلی سﷲ علیہ وسلم اِن یہود ونصاریٰ کو بلکہ تمام دنیا کے کافروں کو بتا دیں کہ جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا آقا اور پیشوا سمجھتے ہیں کہ تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے طریقہ پر نہیں ہو۔وہ تو ہمارے فرمانبردار بندے تھے۔ہم نے اُن کو کئی باتوں میں آزمایا،اور وہ سچے نکلے۔بیٹے کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے قربانی کر دی،ستارہ پرستوں کی محبت توڑنے بلکہ وطن چھوڑنے کا حکم دیا تو انہوں نے ویسا ہی کر دکھایا۔اور سب کو چھوڑ کر ملک شام(اُس وقت فلسطین ملک شام میں آتا تھا)میں جابسے۔ریگستان ِ عرب کو بسانے اور خانہ¿ کعبہ بنانے کا حکم دیا تو فوراً اپنی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کو اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بسا دیا۔ایمان پر رہ کر نمرود کی آگ میں جانا منظور کیا،اِس کے عالوہ بہت سے احکام نماز، ذکوٰة،ظاہری باطنی طہارت،ختنہ وغیرہ سب پوری طرح سے بجا لائے۔اِس کے صلہ میں ہم نے اُن سے کہا کہ ہم تم کو تمام لوگوں کا امام بنانے والے ہیں۔کہ تمام دینوں میں تمہارا چرچا رہے گا،انبیائے کرام علیہم السلام تمہاری اولاد میں ہوں گے۔قیامت تک تمہارے بنائے کعبہ کا حج ہوتا رہے گا،دور اور قریب سے اُس کی طرف گردنیں جھکتی رہیں گی۔لوگ تمہاری اور تمہارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اور تمہاری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کی نقل کر کے حاجی بنیں گے۔نبیٔ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمت اپنی نمازوں میں اور خطبوں میں اُس محبوب صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ تم پر بھی درود بھیجا کرے گی۔قیامت میں تمہاری پیشوائی(امامت) ظاہر ہوگی۔“تو انہوں نے عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !میری اولاد میں بھی بابرکت لوگ پیدا کرنا،تاکہ تیری فرماں برداری ہمیشہ میری نسل میں رہے۔“ہم نے اُن کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا؛”اچھا تم سے وعدہ کرتے ہیں،لیکن اِس اقرار اور وعدہ میں تمہاری وہ اولاد شامل نہیں ہوگی،جو بد کار ہوگی۔اُن کو یہ برکت نصیب نہیں ہو گی۔لہٰذا اے اسرائیلیو!(بنی اسرائیل یا یہودیو)تم پر لازم ہے کہ اپنے جد امجد(حضرت ابراہیم علیہ السلام) کی پیروی کرو۔اور اِن نبی ¿ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم پر ایمان لاو¿،جن کے لئے انہوں نے(حضرت ابراہیم علیہ السلا م نے)دعائیں مانگیں تھیں۔اور یہ مت سمجھو کہ نبوت بنی اسحاق (بنی اسرائیل) کے لئے خاص ہے۔بنی اسماعیل بھی اُنہی کی یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔اور وہ بھی اِس وعدہ میں شامل ہیں۔یعنی نبی ¿ آخرالزماں صلی اﷲ علیہ وسلم کے آجانے کے بعد جو لوگ اُن پر ایمان لائیں گے،وہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امامت کے حقدار ہوں گے۔
سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا بڑا مانتے ہیں
سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۴۲۱ کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے پہلے تفصیل سے بنی اسرائیل(یہودیوں) پر کئے گئے انعامات کو بیان فرمایا۔پھر یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے (بنی اسرائیل نے)اپنے دین اور اعمال میں کیا کیا بدعات اور خرابیاں پید کی ہیں۔اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔اور اِس کی حکمت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسے شخص ہیں کہ تما م ادیان اور مذاہب کے ماننے والے اُن کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں۔اور مشریکن مکہ بھی اِس پر فخر کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں،اور وہ حرم کے خادم ہیں۔اور یہود و نصاری (بنی اسرائیل اور عیسائی) بھی اُن کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہیں،اور اُن کی اولاد ہونے کا شرف ظاہر کرتے ہیں۔اِسی لئے اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر بیان فرمایا۔تاکہ سیدنا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی نبوت اور اسلام کا حجت ہوناسب پرثابت ہوجائے۔اِس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کے دین کی خصوصیت خانہ¿ کعبہ کا حج ہے،اور یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔اِس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جو اپنا بڑا اور رسول مانتا ہے،اُس کے لئے سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم اور اُن کے دین اسلام پر ایمان لانا واجب ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ جب خانہ¿ کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا تو یہودیوں نے بُرا مانا تھا۔اﷲ تعالیٰ نے اُن پر حجت قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ماننے والے ہو تو یہ خانۂ کعبہ اُن کے ہی ہاتھوں کا بنایا ہوا ہے۔تمہیں تو اِس کے قبلہ بنائے جانے پر ناراض ہونے کے بجائے خوش ہونا چاہیئے۔
مناسک حج
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جب خانۂ کعبہ کی تعمیر سے فار ہوئے تو اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا؛”یارب ! ہم نے خانہ¿ کعبہ تعمیر کر دیا ہے،اب اے ہمارے پرور دگار!ہمیں مناسک حج سکھا ۔ہمارے لئے وہ ظاہر فرما،اور ہمیں اِن کی تعلیم دے۔تو اﷲ تعالی ٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو مناسک حج بتا کر بھیجا۔اور انہوں نے آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد جب یہ دعا مانگی کہ اے اﷲ تعالیٰ !ہمیں مناسک حج سکھا دے،تو اﷲ تعالیٰ نے جرئیل علیہ السلام کو بھیجا۔وہ آئے اور طواف کے بعد صفا اور مروہ پر سعیٔ کرایا،اور عرض کیا؛”اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں ،یہ ”شعائر اﷲ“ہیں۔“جب انہوں نے طواف اور سعیٔ کر لیا توجبرئیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر” جمرۂ عقبہ“ پر لے آئے،وہاں شیطان کھڑا تھا،جبرئیل علیہ السلام نے سات کنکریاں اُٹھائیں اور آپ علیہ السلام کو دیں اور عرض کیا؛”یا رسول ا ﷲ علیہ السلام!اﷲ تعالیٰ کی تکبیر بیان کرتے ہوئے یہ کنکریاں شیطان کو ماریں۔“آپ علیہ السلام نے تکبیر پڑھتے ہوئے کنکریاں ماریں تو شیطان بھا گ گیا۔پھر دوسرے دن ”جمرہ¿ وسطیٰ“پر ہاتھ پکڑ کر لے گئے،تو وہاں بھی شیطان کھڑا ہوا تھا۔جبرئیل علیہ السلام نے سات کنکریں اُٹھا کر آپ علیہ السلام کو دیں،اور شیطان کو مارنے کو کہا۔آپ علیہ السلام نے کنکریاں ماریں تو شیطان وہاں سے بھاگ گیا۔پھر تیسرے دن ”جمرۂ قصوٰی “پر لے گئے،اور اسی طرح آپ علیہ السلام نے کنکریاں ماریں اور شیطان بھاگا۔اس کے بعد جبرئیل علیہ السلام ہاتھ پکڑ کر ”مِنیٰ“میں لیکر آئے ،اور بتایا کہ یہاں لوگ سر منڈائیں گے۔پھر انہیں ”مزدلفہ “لیکر آئے اور عرض کیا۔”یہاں لوگ دو نمازیں اکٹھی پڑھیں گے۔“پھر ”میدان عرفات“ میں لیکر آئے اور آپ علیہ السلام سے عرض کیا؛”یا خلیل اﷲ علیہ السلام!اﷲ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ مناسک حج پہچان گئے؟تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا؛ ”تمام مناسک حج پہچان گیا ہوں۔“اسی وجہ سے اِس میدان کا نام”میدن عرفات“پڑ گیا۔ یا کہا جائے گا۔
حج کے لئے پکارا(منادی)
حضرت ابراہیم علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر اور مناسک حج سے فارغ ہوگئے ،تو اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام سے فرمایا؛”اب تمام لوگوں میں حج کی منادی کر دو۔“یعنی تمام لوگوں کو حج کے لئے پکارو۔آپ علیہ السلام نے تمام انسانوں کو حج کے لئے پکارا۔تمام لوگوں نے اِس پکار کو سنا۔یعنی قیامت تک جتنے لوگ پید ہونے والے تھے ،انہوں نے ”عالمِ ارواح“میں سنا،اور جواب دیا۔”لبیک اللھم لبیک“۔جس نے لبیک کہا وہ حج کرنے جائے گا۔حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ۔میں نے حضرت عبداﷲ بن سلام رضی اﷲ عنہ سے ”مقام ابراہیم“پر بنے نشان کے بارے میں دریافت کیاتو انہوں نے فرمایا؛”یہ پتھر پہلے بھی اسی کیفیت میں تھا،جیسا آج ہے،لیکن اﷲ تعالیٰ نے جب ”مقام ابراہیم“کو اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی بنانے کا ارادہ فرمایا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لوگوں میں حج کرنے اعلان کرنے کا حکم فرمایا۔پس آپ علیہ السلام ”مقام ابراہیم“پر کھڑے ہوئے،اور یہ پتھر بلند ہونے لگا،حتیٰ کہ تمام پہاڑوں سے بھی بلند ہو گیا۔پس آپ علیہ السلام نے نیچے دیکھا اور فرمایا؛”اے لوگو!اپنے رب کا حکم قبول کرو ۔“پس لوگوں اُس کو قبول کیا اور کہا؛”لبیک اللھم لبیک“۔آپ علیہ السلام دائیں بائیں،اوپر نیچے دیکھتے رہے اور پکارتے رہے۔لوگو اپنے رب کا حکم قبول کرو۔پس جب تک مقام ابراہیم اوپر رہا،تب تک آپ علیہ السلام لوگوں کو پکارتے رہے۔اور لوگ لبیک کہتے رہے۔پھر مقام ابراہیم نیچے آیا اور آپ علیہ السلام اُس پر سے اُتر آئے۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اثر اِس پتھر پر تھا،ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ”جبل ابو قبیس “پر چڑھ کر لوگوں کو حج کے لئے پکارا۔
مکۂ مکرمہ آتے جاتے رہتے تھے
حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت کے ملک کنعان بعد میں ملک شام اور آج کے فلسطین میں رہتے تھے۔اور وقتاً فوقتاً مکۂ مکرمہ آتے جاتے رہتے تھے۔کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام صرف تین مرتبہ مکہ¿ مکرمہ تشریف لائے۔لیکن قرآن پاک اور احادیث کے مطابق کم سے کم پانچ مرتبہ آپ علیہ السلام کا مکۂ مکرمہ آنا ثابت ہے۔پہلی مرتبہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہااور حضرت اسماعیل علیہ السلام کوچھوڑنے کے لئے آئے۔دوسری مرتبہ بیٹے کی قربانی کے لئے آئے۔تیسری مرتبہ آئے تو پہلی بہو سے ملاقات ہوئی،چوتھی مرتبہ آئے تو دوسری بہو سے ملاقات ہوئی ۔اور پانچویں مرتبہ آپ علیہ السلام خانۂ کعبہ کی تعمیر کے لئے آئے۔علامہ ابن کثیر اِس کے بارے میں لکھتے ہیں۔
حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت
اﷲ تعالیٰ نے سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”جب ابراہیم (علیہ السلام)ان سب کو اور اﷲ کے سوا ان کے معبودوں کو چھوڑ چکے تو ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) عطافرمائے۔اور دونوں کونبی بنایا۔“(سورہ مریم آیت نمبر 49)اﷲ تعالیٰ نے سورہ الانبیاءمیں فرمایا؛ترجمہ”اور ہم نے اُسے (حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)اسحاق (علیہ السلام) عطا فرمایا،اور اِس پر مزید یعقوب (علیہ السلام)کو بھی عطا فرمایا،اور ہر ایک کو ہم نے صالح بنایا۔“(سورہ الانبیاءآیت نمبر ۲۷)اﷲ تعالیٰ نے سورہ الصافات میں فرمایا؛ترجمہ”اور ہم نے اس کو (حضرت ابراہیم علیہ السلام کو)اسحاق نبی(علیہ السلام) کی بشارت دی۔جو صالح لوگوں میں سے ہو گا۔اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق (علیہم السلام)پر برکتیں نازل فرمائیں ،اور اُن دونوں کی اولا دمیں سے بعض تو نیک بخت ہیں،اور بعض اپنے نفس پر صریح (صاف) ظلم کرنے والے ہیں۔“(سورہ الصا فات آیت نمبر ۲۱۱ اور ۳۱۱)اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوحضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت فرشتوں کے ذریعے دی۔وہ فرشتے انسانی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس آئے،وہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب دینے کے لئے جارہے تھے۔اِس کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ کیا ہے۔سورہ الحجر میں اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛ترجمہ”انہیں ابراہیم(علیہ السلام) کے مہمانوں کا حال سنادو۔جب انہوں نے اُن کے پاس آکر سلا م کیا تو انہوں نے کہا ہم کو تم سے ڈر لگتا ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ ڈرو نہیں !ہم تمہیں ایک علیم(فہم والے،علم والے) بیٹے کی خوش خبری (بشارت) دیتے ہیں۔(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )فرمایا ؛کیا اِس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم مجھے بشارت دے رہے ہو؟یہ خوش خبری تم کیسے دے رہے ہو؟انہوں نے عرض کیا کہ ہم آپ کو بالکل سچی خوش خبری سنا رہے ہیں۔آپ مایوس لوگوں میں بالکل نہ ہوں۔ُحضرت ابراہیم علیہ السلام نے) فرمایا؛اپنے رب کی رحمت سے نااُمید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔“(سورہ الحجر آیت نمبر 51 سے 56 تک)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمان
اﷲ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا؛ترجمہ”کیاتُجھے ابراہیم(علیہ السلام ) کے معزز مہمانوں کی خبر بھی پہنچی ہے؟وہ جب اُن کے یہاں آئے تو سلام کیا۔ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا۔(اور کہا یہ تو)اجنبی لوگ ہیں۔(چپ چاپ جلدی جلدی)اپنے گھر والوں کی طرف گئے،اور ایک فربہ بچھڑے (کا گوشت پکا کر یا بھون کر)لائے۔اور اسے اُن کے پاس رکھا،اور کہا آپ کھاتے نہیں ہیں؟پھر تو دل میں خوف محسوس کیا۔انہوں نے کہا !آپ (علیہ السلام)خوف نہ کریں ،اور انہوں نے اُن کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی۔پس اُن کی بیوی آگے بڑھی،اور حیرت سے آکر اپنے منہ پر ہاتھ مار کر بولی؛میں تو بوڑھی ہو گئی ہوں،اور ساتھ میں بانجھ بھی ہوں۔انہوں نے کہا۔ہاں!تیرے پروردگار (رب) نے اسی طرح فرمایا ہے،بے شک وہ حکیم و علیم ہے۔(سورہ الذاریات آیت نمبر 24 سے 30 تک)اﷲ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا؛ترجمہ”اور ہمارے بھیجے ہوئے پیامبر ابراہیم(علیہ السلام) کے پاس خوش خبری لیکر پہنچے ،اور سلام کیا۔انہوں نے سلام کا جواب دیا،اور بغیر کسی تاخیر کے گائے کابُھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔اب جو دیکھا کہ وہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھا رہے ہیں،تو انہیں انجان(مخلوق) پاکر دل ہی دل میںخوف محسوس کرنے لگے۔انہوں نے کہا۔ڈرونہیں!ہم تو قوم لوط کی طرف بھیجے ہوئے ہیں۔اُس کی (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی)بیوی جوکھڑی ہوئی تھی،وہ ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق (علیہ السلام )کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب (علیہ السلام ) کی خوش خبری دی۔وہ کہنے لگیں؛ہائے میری کم بختی!میرے یہاں اولاد کیسے ہو سکتی ہے؟میں خود بوڑھی ہو چکی ہوں،اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو چکے ہیں۔یہ تویقینا بڑی عجیب بات ہے۔فرشتوں نے کہا۔کیا تم اﷲ تعالیٰ کی قدرت پر تعجب کررہی ہو؟تم پر اے اِس گھر لوگ!اﷲ کی رحمتیں اور اُس کی برکتیں نازل ہوں۔بے شک اﷲ تعالیٰ حمدو ثنا کے لائق ہے،اور بڑی شان والا ہے۔(سورہ ہود آیت 69 سے 73)
فرشتوں کی حاضری نوجوانوں کی شکل میں
حضرت ابراہیم علیہ السلام اُس وقت کے ملک کنعان کے ایک علاقے ”الخلیل“جو آج شہر کی شکل اختیار کر چکا ہے،اُس میں رہتے تھے۔اُس وقت آپ علیہ السلام کے گھر کے پاس کا پورا علاقہ خالی تھا۔آپ علیہ السلام اپنے مکان کے آنگن میں (جو لکڑیوں کی باڑ سے بنا ہوا تھا)مویشیوں اور بکریوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے تو دور سے چند نوجوانوں کو گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار آتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ کچھ مہمان آرہے ہیں۔تو آپ علیہ السلام نے اُن کے کھانے کے لئے ایک بچھڑا ذبح کر کے تیار کر کے لے آئے۔یہ چند نوجوان فرشتے تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ اور حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ تین فرشتے تھے،اور اِ ن کا نام جبرئیل ،میکائیل اور اسرافیل علیہم السلام ہے۔امام مقاتل فرماتے ہیں،یہ جبرئیل ،میکائیل ،اور عزرائیل علیہم السلام تھے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ کی ایک اور روایت میں ہے کہ بارہ فرشتے تھے۔محمد بن کعب فرماتے ہیں۔یہ آٹھ فرشتے تھے۔امام ضحاک فرماتے ہیں،یہ نو فرشتے تھے۔امام ماوردی فرماتے ہیں ،یہ چار فرشتے تھے۔امام ابن جوزی فرماتے ہیں ،وہ گیارہ فرشتے تھے،جو نہایت خوب صورت اور روشن چہروں والے نوجوانوں کی شکلوں میں تھے۔
اﷲ کے خلیل بننے کے حقدار
حضرت ابراہیم علیہ السلام بڑے مہمان نواز تھے۔جب انہوں نے چند نوجوانوں کو آتے دیکھا تو جلدی سے اُن کے لئے کھانا تیار کیا۔اور انہیں عزت سے بٹھا یا،انہوں نے سلام کیاتو انہیں سلام کا جواب دیا۔اور اُن کی خدمت میں کھانا پیش کیا،لیکن وہ مہمان خاموش بیٹھے رہے تو آپ علیہ السلام نے انہیں فرمایا کہ کھانا کھائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اِس کا”ثمن“(قیمت)ادا کریں گے۔اور بغیر قیمت ادا کرے ہم نہیں کھائیں گے۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”ٹھیک ہے!”ثمن“(قیمت) ادا کرو،اور کھاو¿۔“انہوں نے پوچھا ؛”اِس کھانے کی قیمت کیا ہے؟“تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”کھانے سے پہلے بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم پڑھو،اور کھانا کھانے کے بعد ”الحمد اﷲ“پڑھو۔یہی اِس کا ”ثمن“یعنی قیمت ہے۔یہ سن کر تمام فرشتے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے ۔جبرئیل اور میکائیل علیہم السلام نے کچھ دیر ایک دوسرے کا منہ دیکھا،پھر بولے؛”اِسی وجہ سے اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنا ”خلیل“بنایا ہے۔اور آپ علیہ السلام اﷲ کے خلیل بننے کے حقدار ہیں۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام نے اصرار کیا ؛”ٹھیک ہے !اب آپ لوگ کھانا شروع کریں۔“لیکن اِس کے باوجود انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا،بلکہ خاموش بیٹھے آپ علیہ السلام کی شکل دیکھتے رہے تو آپ علیہ السلام کو کچھ خوف محسوس ہواکہ کہیں یہ دشمن تو نہیں ہیں؟
اﷲ جو چاہتا ہے کرتا ہے
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں نے جب آپ علیہ السلام کے چہرہ¿ مبارک پر کچھ پریشانی کے آثار دیکھے تو عرض کیا؛”آپ علیہ السلام پریشان نہ ہوئیں،ہم آپ علیہ السلام کو نقصان بہنچانے نہیں بلکہ خوش خبری سنانے آئے ہیں۔“آپ علیہ السلام نے حیرانی سے پوچھا؛”خوش خبری؟کون سی خوش خبری؟“تو انہوں نے عرض کیا؛”یارسول اﷲ علیہ السلام !دراصل ہم اﷲ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں،اور ہم انتہائی خوب صورت نوجوانوں کی انسانی شکل میں ہیں۔اِسی لئے آپ علیہ السلام ہمیں پہچان نہیں رہے ہیں۔ہم یہ نوجوانوں کی شکل اِسی لئے بنائے ہوئے ہیں کہ ،ہمیں اﷲ تعالیٰ نے قوم لوط پر حجت قائم کرنے اور عذاب دینے کے لئے بھیجا ہے۔اور آپ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے یہ خوش خبری سنانے کا فرمایاہے کہ بہت جلدی ا ﷲتعالیٰ آپ علیہ السلام کو بیٹا عطا فرمائے گا،جو ”علیم“یعنی علم والا ہوگا۔“یہ خوش خبری سن کرسیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا جو قریب ہی کھڑی تھیں۔وہ ہنس کر بولیں؛”کیوں مذاق کرتے ہو؟میں ایک بوڑھی ہوں ،اور میرے شوہر بھی بوڑھے ہو گئے ہیں،دوسرے یہ کہ میں بانجھ ہوں۔“یہ سن کر فرشتوں نے کہا؛” ایسا ہی ہوگا،اور اﷲ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“
فرشتوں سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو اطمینان دلایا
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو اﷲ تعالیٰ پر مکمل یقین اور بھروسہ تھا۔لیکن فرشتوں نے جس طرح اچانک غیر متوقع طور پر ایسی خوش خبری سنا دی کہ کچھ وقت تک حیران ہوگئے۔کیونکہ اکثر علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اُس وقت سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کی عُمر نوے (90) سال سے زیادہ تھی۔اور ایک روایت میں تو ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہا کی عُمر اُس وقت ننانوے(99) سال تھی۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر بھی لگ بھگ سو(100) سال سے زیادہ تھی۔سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کا نام ”یسارہ“تھا۔جبرئیل علیہ السلام نے اُن سے کہا؛”اے سارہ رضی اﷲ عنہا!ایسا ہی ہوگا ،اور اﷲ تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔“تو سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا؛”تم نے ابھی مجھے سارہ کہا،جبکہ میرا نام یسارہ ہے۔“تو جرئیل علیہ السلام نے عرض کیا؛”سارہ اُس عورت کو کہتے ہیں،جو والدہ بننے والی ہو،اور یسارہ بانجھ عورت کو کہتے ہیں۔“اِس پر سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا نے فرمایا؛”اے جبرئیل علیہ السلام ! تم نے میرے نام میں سے ”ی“کم کر دیاہے۔“جبرئیل علیہ السلام نے کہا؛”بے شک اﷲ تعالیٰ نے آپ رضی اﷲ عنہا سے وعدہ کیا ہے کہ آپ رضی اﷲ عنہا کے نام کے اِس حرف کو آنے والے زمانے میں آپ رضی اﷲ عنہا کی اولاد میں سے ایک بچے کے نام میں رکھے گا۔اور وہ یہ کہ اس کانام اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ”زندہ“ہے۔پس اُس کا نام یحییٰ رکھا۔
اﷲ تعالیٰ نے نام رکھا
اﷲ تعالیٰ نے فرشتوں کو بھیج کر اُن کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہاکو بیٹے کی بشارت دی۔اور صرف بشارت ہی نہیں دی ،بلکہ بیٹے کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے رکھا۔اور بیٹے کے ساتھ ساتھ بیٹے کے بیٹے یعنی پوتے کا نام بھی اﷲ تعالیٰ نے رکھا۔بیٹے کی بشارت سننے کے بعد جب دونوں میاں بیوی کو اطمینان ہو گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے عرض کیا؛”آپ علیہ السلام کے بیٹے کا نام اسحاق علیہ السلام رکھنا،اور وہ بھی اﷲ کے نبی ہوں گے۔اور اُن کے بیٹے کا نام یعقوب (علیہ السلام) رکھنا،اور وہ بھی اﷲ کے نبی ہوں گے۔“اِس طر ح سے باپ ،بیٹا اور پوتا تینوں اﷲ کے نبی ہوئے۔اور اﷲ تعالیٰ نے اِسی پر اپنی مہربانیاں بس نہیں کیں،بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک اور خصوصی اعزاز عطا فرمایا۔اور وہ یہ کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی اﷲ تعالیٰ نے اپنا نبی بنایا ہے۔اِس طرح سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا اِس پوری کائنات کی واحد اکیلی خاتون ہیں۔جن کا بیٹا ،پوتا اور پڑپوتا اﷲ تعالیٰ کے نبی بنے۔حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کا نام لیکر اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جن آیات میں بتایا ہے،وہ آیات ہم اوپر پیش کر چکے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں امامت
حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا؛”اب تمہاری بیوی سارا کو سارا کے نام سے نہیں بلایا جائے گا،بلکہ اُس کا نام ”سارہ“ہوگا۔اور اﷲ تعالیٰ تم پر رحمت فرمائے گا،اور تمہیں اُس کے بطن سے بیٹا عطا فرمائے گا۔وہ بڑا با برکت ہوگا،اور اُس سے کئی قومیں اور قوموں کے سردار پیدا ہوں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ بشارت سن کر فوراً اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں گر گئے۔پھر سجدے سے اُٹھ کر دل ہی دل میں بولے۔کا سو سال کی عُمر کے بعد میرے یہاں بیٹا پیدا ہو گا؟کیا سارہ والدہ بنے گی؟حالانکہ اُس کی عُمر ننانوے سال سے زیادہ ہو چکی ہے؟آپ علیہ السلام نے اﷲ تعالیٰ بارگاہ میں عرض کیا؛”کاش!اسماعیل علیہ السلام !تیرے حضور جیتا رہے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”ضرور تیری بیوی سارہ کے بطن سے تیرا بیٹا پیدا ہوگا،اور تُو اُس کا نام رکھے گا،جو اسی وقت اگلے سال پیدا ہو گا،اور میں اس سے اور اس کی اولاد سے اپنا عہد باندھوں گا۔اور میں نے اسماعیل کے بارے میں بھی تیری دعا سن لی،میں اسے بھی برکت دوں گا،اور اُس کی عظمت کو بلند کروں گا۔میں اُس کی نسل کو بہت بڑھاو¿ں گا۔اُس کی نسل سے بارہ سردار پیدا ہوں گے،اور میں اسے ایک بڑی قوم بناؤںگا۔
حضرت ابرہیم علیہ السلام کو اعزاز
اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کویہ خصوصی اعزاز عطا فرمایا ہے کہ اُن کی ہر اولاد میں نبی پید ا فرمائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹوں کے بارے میں مختلف روایات میں آیا کہ لگ بھگ دس بیٹے تھے ۔علمائے کرام چار بیٹوں کے نام بتاتے ہیں۔1) حضرت اسماعیل علیہ السلام ،2)حضرت اسحاق علیہ السلام ،3)مدین،اور 4)مدائن ۔اِن میں سے مدین اور مدائن تیسری بیوی سے ہیں۔اﷲ تعالیٰ نے سورہ الحدید میں فرمایا؛”اور ہم نے نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم( علیہ السلام)کو رسول بنا کر بھیجا۔اور ہم نے اُن کی نسل میں کتاب اور نبوت رکھ دی۔“(سورہ الحدید آیت نمبر 26)علامہ ابن کثیر اِس کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد جس نبی پر بھی کتاب اُتری وہ آپ علیہ السلام کی نسل اور اولاد سے تھے۔یہ اعزاز اور عزت و توقیر کی وہ خلعت ہے جو کسی اور کے اوپر نہیں سجی۔اور وہ بلند مرتبہ ہے،جس پر کوئی فخر نہیں کر سکتا ۔یہ خلعت ِزیبا صرف حضرت ابراہیم علیہ السلا م کے لئے ہے۔اور یہ وجہ ¿ فخر صرف اُن کی اولاد کے لئے ہے ،کیونکہ آپ علیہ السلام کی صلب سے ہی وہ عظیم المرتبت بیٹے پید ا ہوئے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام سے حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوئے،جنہیں ”اسرائیل“(عبداﷲ)کہاجاتا ہے۔اور انہی کی طرف بنی اسرائیل کے تمام قبیلے منسوب کئے جاتے ہیں۔جن میں عرصہ¿ دراز تک سلسلہ¿ نبوت و رسالت قائم رہا۔اور وہ اتنے بڑھے کہ اُن کی تعداد ستاروں سے تجاوز کر گئی ۔زیادہ تر انبیائے کرام علیہم السلام اِن میں تشریف لاتے رہے۔حتیٰ کہ اُن کا سلسلہ¿ نبوت اُن میں آنے والے آخری رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا،جو حضرت یعقوب علیہ السلا م کے خانوادے سے تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے خصوصی اعزاز
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے یہ اعزازتو عطا فرمایا ہی ہے کہ آپ علیہ السلام کو ”انبیائے کرام علیہم السلام کا باپ“بنایا ہے۔اِس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو وہ خصوصی اعزاز عطا فرمایا ہے،جس پر آپ علیہ السلام کو سب سے زیادہ فخر دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ہو گا۔اور وہ ہے ،اُن کی اولاد میں سید الانبیاء،خاتم الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کا پیدا ہونا۔علامہ ابن کثیر حضرت اسحاق علیہ السلام کے بارے میں لکھنے کا بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اُن سے عرب کے مختلف قبائل پیدا ہوئے۔آپ علیہ السلا م کی نسل سے سوائے خاتم الرسل،مولائے کُل،فخر ِبنی آدم فی الدنیا والآخرةمحمد بن عبد اﷲ بن عبد المطلب بن ہاشم قریشی ،مکی اور مدنی صلی اﷲ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی نبی پیدا نہیں ہوا ۔اِس مقدس شاخ (بنی اسماعیل) اور بند مرتبہ نسل سے صرف آپ صلی اﷲ علیہ وسلم ہی پیدا ہوئے،جن کی شفاعت کی آج بھی سبھی آس لگائے بیٹھے ہیں۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛”میں ایسے مرتبے پر(قیامت کے دن) فائز ہوں گا کہ اﷲ تعالیٰ کی پوری مخلوق میری خدمت میں حاضر ہو گی ۔حتیٰ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی حاضر ہوں گے۔(یہ شفاعتِ کبریٰ کی حدیث ہے،جو بخاری و مسلم بلکہ تمام احادیث کی کتاب میں بہت تفصیل سے درج ہیں)اِس حدیث میں سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے والد محترم حضرت ابراہیم علیہ السلا م کی بڑی تعریف فرمائی ہے آ پ صلی اﷲ علیہ وسلم کا مبارک کلام دلالت کر رہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے بعد مخلوق میں سب سے افضل ہیں ۔اِس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔سید الانبیاءصلی اﷲ علیہ وسلم کا والد محترم کہلانا اتنا بڑا عزا زہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خود بھی اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے تمام انبیاءعلیہم السلام کے سردار صلی اﷲ علیہ وسلم کا والد بنا دے۔اِس دعا کو اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129میں ذکر کیا ہے۔
اﷲ کے خلیل
حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت زیادہ مہمان نواز تھے،اور کسی نہ کسی کو ساتھ میں لئے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔اگر کوئی مہمان نہیں آتا تو آپ علیہ السلام خود مہمانوں کی تلاش میں نکل جاتے تھے۔ایک دن آپ علیہ السلام کسی مہمان کی تلاش میں نکلے اور کافی دور تک جانے کے بعد کوئی مہمان نہیں ملا۔جب آپ علیہ السلام واپس آئے تو دیکھا کہ ایک شخص گھر کے اندر کھڑا ہے،آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”اے اﷲ کے بندے !میری اجازت کے بغیر آپ میرے گھر میں کیسے آئے ؟“اُس شخص نے جواب دیا؛”میں گھر کے مالک کی اجازت سے آیا ہوں۔“آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”تم کون ہو؟“اُس نے بتایا؛”میں موت کا فرشتہ ہوں ،مجھے اﷲ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔اپنے ایک بندے کے پاس تاکہ میں اُسے خوش خبری سنا دوں کہ اﷲ تعالیٰ نے اُسے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔‘آپ علیہ السلام نے پوچھا؛”مجھے بتاؤ !وہ خوش نصیب کون ہے؟اﷲ کی قسم !اگر آپ مجھے اُس کا پتہ بتا دیں گے تو وہ کتنی بھی دور ہوگاتو میں اُسے لے آو¿ں گا۔اور ہمیشہ اپنے پڑوس میں رکھوں گا،اور خدمت کرتا رہوں گا۔حتیٰ کہ موت میرے اور اُس کے درمیان جدائی ڈالے گی۔“فرشتے نے کہا؛”یا رسول اﷲ علیہ السلام !وہ بندے آپ خود ہیں۔“آپ علیہ السلام نے حیرانی سے پوچھا؛”میں؟مجھے اﷲ تعالیٰ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔“تو فرشتے نے عرض کیا؛”جی ہاں!آپ علیہ السلام کوہی اﷲ نے اپنا خلیل بنایا ہے۔“یہ سنتے ہی آپ علیہ السلام نے سجدۂ شکر ادا کیا۔اِس کے بعد فرشتے سے پوچھا ؛ ”اﷲ تعالیٰ نے مجھے کس وجہ سے اپنا خلیل بنایا ہے؟“فرشتے نے عرض کیا؛”وجہ یہ ہے کہ آپ علیہ السلام لوگوں کو دیتے ہیں،لیکن اُس سے لیتے کچھ نہیں ہیں۔“
زندگی بعد الموت کا مشاہدہ
اﷲ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا؛ترجمہ”اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا۔اے میرے رب! آپ مجھے دکھایئے کہ آپ مُردوں کو کس طرح زندہ کریں گے؟۔ہم نے فرمایا؛(اے ابراہیم علیہ السلام)کیاتم اِس پر یقین نہیں رکھتے؟(حضرت ابراہیم علیہ السلام نے )عرض کیا؛یقین اور ایمان تو ہے،لیکن (یہ سوال اِس لئے ہے)تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے۔(ہم نے)فرمایا؛تو تم چار پرندے پکڑ لو،اور اُن کو اپنے آپ سے مانوس کر لو۔اور پھر اُن کے ٹکڑے کرڈالو،پھر ہر پہاڑ پر اُن کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دو۔پھر انہیں پکارو،تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آجائیں گے ۔اور جان رکھو کہ اﷲ تعالیٰ غالب ہے ،حکمتوں والا ہے۔(سورہ البقرہ آیت نمبر 206)اِس واقعہ کی تفصیل تفسیر کی کتابوں میں درج ہے۔ہم مختصراًبتا رہے ہیں۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے موت کے بعد دوبارہ زندگی کے عملی مشاہدے کا سوال کیا تو اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق چار پرندوںکو پکڑ کر مانوس کر لیا۔اِس کے بعد چاروں پرندوں کو ذبح کر کے اِن کی بوٹی بوٹی بنا لیا،اور سب کو ایکدوسرے میں ملادیا۔اِس کے بعد اِن بوٹیوں کے چار حصے کئے،اور چار الگ الگ پہاڑوں پر رکھ دیا۔اِس کے بعد آپ علیہ السلام ایک ایسی جگہ کھڑے ہو گئے،جہاں سے چاروں پہاڑیاں دکھائی دیتی تھیں۔پھر آپ علیہ السلام نے ان پرندوں کے جو نام رکھے تھے،وہ نام لیکر پکارا تو چاروں پرندوں کی بوٹیاں اُڑاُڑ کر اپنی جگہوں پر پہنچیں،اور مکمل پرندے بن گئے۔آپ علیہ السلام یہ سب مشاہدہ کر رہے تھے۔پھر اُن پرندوں میں جان پڑ گئی ،اور وہ اُڑتے ہوئے آپ علیہ السلام کے پاس آگئے۔
سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کا وصال
حضرت ابراہیم علیہ السلام فلسطین میں رہ رہے تھے،اُس وقت وہ ملک کنعان میں تھا۔اور آپ علیہ السلام ”الخلیل“میں رہتے تھے،جسے آج کل ”حبرون“بھی کہا جاتا ہے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ میں رہ رہے تھے۔حضرت اسحاق علیہ السلام جوان ہو چکے تھے،اور فلسطین میں اپنے والدین کے ساتھ رہ رہے تھے۔جب سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کی عُمر ایک سو ستائیس (127) سال ہوئی تو اﷲ تعالیٰ نے انہیں اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لیا۔آپ رضی اﷲ عنہا کے وصال سے حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت غمگین ہوئے۔بنو حیث کے عفرون بن صخر سے آپ علیہ السلام نے ایک قطعہ زمین چار سو مثقال چاندی پر خریدی۔حالانکہ وہ آپ علیہ السلام کو بلاقیمت دینا چاہتا تھا،لیکن آپ علیہ السلام نے زمین خریدنا منظور کیا۔اور وہاں سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کو دفن کر دیا۔
حضرت اسحاق علیہ السلام کانکاح
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کنعانیوں کی لڑکی سے نکاح نہ کریں۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کا نکاح کا پیغام اپنی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کے والد حاران کے قبیلے میں بھیجا۔یہ قبیلہ حضرت اسحاق علیہ السلام کا ننیھال بھی تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لیکر آئے ،اور نقفا بنت بتویل بن ناحور بن آزر سے حضرت اسحاق علیہ السلام کا نکاح کر دیا۔اُس وقت حضرت اسحاق علیہ السلام کی عُمر چالیس سال تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی عیصو اور حضرت یعقوب علیہ السلام جڑواں پیدا ہوئے۔اور آپ علیہ السلام نے اپنے دونوں پوتوں کو اپنی گود میں کھلایا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے۔اور دوسری بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔اِن دونوں بیویوں کے انتقال کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سیدہ قطورہ یا قنطورہ سے نکاح کیا۔اور اِس تیسری بیوی سے چھ بیٹے زمران،یقشان،مدائن،مدین،اشبق اور شوخ پیدا ہوئے۔پھر قطورہ یا قنطورہ کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجون بنت اہیب سے نکاح کیا۔اِس چوتھی بیوی سے پانچ بیٹے کیسان،فروخ،اسیم،لوطان،اور نافس پیدا ہوئے۔ا،س طرح آپ علیہ السلام کے کُل بیٹوں کی تعداد تیرہ (13) ہوئی۔
ملک الموت سے ملاقات
حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت مہمان نواز تھے،اور مسکینوں اور مسافروں پر رحم فرماتے تھے۔اُن کے پاس مہمان نہیں آتے تو آپ علیہ السلام انتظار کرتے رہتے تھے،اور گردن لمبی کر کے راستے کو تکتے رہتے تھے۔اِس کے بعد مہمان کی تلاش میں نکل پڑتے تھے۔ایک دن آپ علیہ السلام مہمان کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آ پ علیہ السلام کو ایک مسافر آتا دکھائی دیا۔آپ علیہ السلام اُس کے استقبال کے لئے دوڑ پڑے،وہ انسانی شکل میں ”ملک الموت“تھے۔انہوں نے سلام کیا،اور آپ علیہ السلام نے جواب دیا۔پھر پوچھا؛”آپ کون ہیں؟“انہوں نے جواب دیا؛”میں مسافر ہوں ،آپ علیہ السلام کو مہمان کے آنے کی اتنی خوشی ہوئی کہ انہوں نے یہ توجہ نہیں کی کہ کون ہے؟آپ علیہ السلام نے خوش ہو کر فرمایا؛”میں یہاں آپ جیسے شخص کے لئے بیٹھا ہوں۔“اور اُن کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر میں لے آئے۔جب حضرت اسحاق علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو ملک الموت کو پہچان گئے،اور رونے لگے۔بیٹے کوروتا دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی رونے لگے،اور انہیں روتے دیکھ کر ملک الموت بھی رونے لگے۔کچھ دیر بعد اچانک ملک الموت اُٹھ کر گھر کے باہر آگئے،اور آسمان کی طرف چلے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام رونے کی وجہ سے توجہ نہیں کر سکے،کچھ دیر بعد دیکھا تو مہمان غائب تھا۔آپ علیہ السلام تیزی سے اُٹھ کر باہر آئے،اور دیکھا تو مہمان کہیں دکھائی نہیں دیا۔اندر آکر بیٹے سے ناراضگی سے فرمایا؛”تم میرے مہمان کو دیکھ کر رونے لگے ،جس کی وجہ سے وہ چلے گئے۔“حضرت اسحاق علیہ السلام نے عرض کیا؛”اباجان!آپ علیہ السلام مجھ سے ناراض نہ ہوں ،میں نے آپ علیہ السلام کے ساتھ ملک الموت کو دیکھا تھا۔اِس لئے یہ سوچ کر رونے لگا تھاکہ آپ علیہ السلام کی موت کا وقت قریب آگیا ہو۔“اِس کے بعد پھر ایک مرتبہ ملک الموت آپ علیہ السلام کے پاس آئے تو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں۔نماز ختم ہونے کے بعد آپ علیہ السلام نے دعا مانگی،تب ملک الموت اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے،اور عرض کیا؛”اے اﷲ تعالیٰ !میں آپ کے ایک ایسے بندے کے پاس سے ہو کر آرہا ہوںکہ اِس وقت روئے زمین پر اُس سے بہتر شخص کوئی نہیں ہے۔“اﷲ تعالیٰ نے فرمایا؛”تُونے اُس بندے میں کیا دیکھا؟“ملک الموت نے کہا؛”اُس نے تیری مخلوق میں سے ہر ایک کے لئے اُس کے دین اور اُس کی معصیت کے لئے خیر کی دعا مانگی،کسی کو نہیں چھوڑا۔“
روح قبض کرنے کے وقت ملک الموت کی شکل
حضرت ابراہیم علیہ السلام ،اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف تھے کہ ملک الموت حاضر ہوئے،اور سلام کیا۔آپ علیہ السلام نے جواب دیا،اور فرمایا؛”بھائی تم کون ہو؟جو میری اجازت کے بغیر میرے کمرے میں چلے آئے۔“انہوں نے عرض کیا؛”یا رسول اﷲ علیہ السلام !میں ملک الموت ہوں ۔“آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب تم مومنوں کی روح قبض کرتے تو کس شکل میں آکر اُن کی روح قبض کرتے ہو؟“تو ملک الموت نے عرض کیا؛” یا رسول اﷲ علیہ السلام !آپ ذرا اپنا چہرۂ مبارک اُس طرف پھیر لیں۔“آپ علیہ السلام نے چہرۂ مبارک پھر لیا،کچھ دیر بعد ملک الموت نے انتہائی سُریلی آواز میں عرض کیا؛”اب میری طرف دیکھیں۔“جب آپ علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو انتہائی خوبصورت حسین چہرے والا شخص دکھائی دیا،جس کے چہرے پر بہت زیادہ شفقت اور محبت ظاہر ہو رہی تھی۔اور اتنی پیاری مسکراہٹ تھی کہ انسان کا دل بے اختیار اُس کی طرف کھنچا جاتا تھا،اتنا نور تھا کہ بہت بھلا معلوم ہوتا تھا۔آپ علیہ السلام نے جب ملک الموت کو اِیسی حالت دیکھا توفرمایا؛”تم کو ایسی میں دیکھنے کے بعد کوئی بھی تمہارے ساتھ جانا پسند کرے گا۔“اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب تم کافروں اور ظالموں کی روح قبض کرنے آتے ہو تو کس شکل میں آتے ہو؟“ملک الموت نے عرض کیا؛”ذرا اپنا چہرۂ مبارک اُس طرف پھیر لیں۔“آپ علیہ السلام نے چہرہ¿ مبارک پھر لیا۔کچھ دیر بعد انتہائی پھٹی ہوئی اور خوفناک آواز سنائی دی؛”اب میری طرف دیکھیں۔“جب آپ علیہ السلام نے ملک الموت کی طرف دیکھا تو ایک انتہائی سیاہ اور بھیانک شکل دکھائی دی،اُس کے چہرے پربے انتہا سختی ،غصہ ،ناراضگی اور حقارت دکھائی دی۔اور وہ شکل اتنی خوفناک اور ہولناک تھی کہ اُسے سیکھ کر آپ علیہ السلام چکرا کر گئے،اور زمین پر گر گئے۔قریب تھا کہ آپ علیہ السلام کی روح پر واز ہو جاتی کہ ملک الموت عام شکل میں سامنے آئے اور آپ علیہ السلام کو سنبھالنے لگے۔آپ علیہ السلام کا پورا بدن پسینے میں شرابور ہو چکا تھا،کچھ دیر بعد حالت اعتدال پر آئی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اگر کافر اور ظالموں کو دوزخ،میدان حشر اور قبر کے عذاب سے بچالیا جائے،تب بھی تمہاری یہ شکل و صورت ہی اُس کے عذاب کے لئے کافی ہے۔“
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وصال
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وصال کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کا وصال ایک سو پچہتر(175) سال کی عُمر میں ہوا۔ایک اور روایت ہے کہ ایک سو نوے(190)اور دوسو(200) سال کے درمیانی عُمر میں ہوا۔اور ایک روایت ہے کہ دو سو(200) سال کی عُمر میں انتقال ہوا۔اور زیادہ تر علمائے کرام کا اِسی پر اتفاق ہے۔جب آپ علیہ السلام کے وصال کا وقت آیا تو اﷲ تعالیٰ نے ملک الموت سے فرمایا؛”میرے خلیل کے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا۔“ملک الموت ایک بوڑھے کی انسانی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس تشریف لائے۔اُس وقت آپ علیہ السلام اپنے انگوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے۔آپ علیہ السلام نے ایک بوڑھے مہمان کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے،اور فوراًاُن کا استقبال کیا۔اور عزت سے بٹھایا ،اور انگور لا کر خدمت میں پیش کئے۔ملک الموت نے انگور اُٹھا کر کھانے شروع کئے،لیکن وہ ٹھیک سے کھا نہیں پا رہے تھے۔کیونکہ ہاتھوں میں اتنازیادہ رعشہ تھا کہ کبھی انگور کان میں چلا جاتا تھا،اور کبھی ناک میں چلا جاتا تھا۔اور جو دانے منہ میں جاتے تھے تو انہیں چبا نہیں با رہے تھے،اور وہ اُن کے کپڑوں پر گر رہے تھے۔آپ علیہ السلام حیرت سے یہ منظر دیکھتے رہے،پھر فرمایا؛”حضرت آپ کی عُمر کتنی ہے؟“تو ملک الموت نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عُمر کااندازہ لگا کر اُن سے دو سال زیادہ عُمر بتائی۔آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”اِس کا مطلب یہ ہے کہ دو سال کے بعد میری بھی ایسی حالت ہونے والی ہے۔اے اﷲ تعالیٰ !ایسا مجبور بڑھاپا آنے سے پہلے مجھے اپنی جوار ِ رحمت میں بلا لے۔“جب ملک الموت نے آپ علیہ السلام کو راضی دیکھا تو اصل شکل میں آئے ،اور آپ علیہ السلام کی روح قبض کرلی۔بے شک ہم اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں،اور اُسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اچانک وصال ہوا ۔حضرت اسماعیل بھی مکۂ مکرمہ سے ملک کنعان آگئے تھے،اور دونوں بھائیوں نے ملکر اپنے والد محترم کو سیدہ سارہ رضی اﷲ عنہا کے ساتھ دفن کیا۔یہاں اب ایک بہت بڑا شہر بن گیا ہے۔جس کا نام حبرون یا الخلیل ہے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام نبوت سے سرفراز
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وصا ل کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام مکۂ مکرمہ واپس آگئے،اور اﷲ تعالیٰ نے انہیں ملک عرب میں مبعوث فرمایا۔اور آپ علیہ السلام مکہ¿ مکرمہ کے آس پاس کے علاقوں ،اور حجاز اور نجد بلکہ پورے ملک عرب میں اسلام کی دعوت دینے لگے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے بارے میں سورہ مریم میں فرمایا؛ترجمہ”اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام ) کا کتاب میں ذکر کریں،بے شک وہ وعدے کے سچے تھے،اور نبی اور رسول ہیں۔اور اپنے گھر والوں نماز پڑھنے اور ذکوٰةدینے کا حکم دیتے تھے۔اور اپنے رب کے نزدیک بڑے پسندیدہ ہیں۔“(سورہ مریم آیت نمبر 55)اِس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی چار صفات بیان فرمائیں ہیں۔پہلی یہ کہ وہ وعدہ پورا کرنے والے تھے،دوسری یہ کہ انہیں اﷲ تعالیٰ نے نبوت اور رسالت دونوں سے سرفراز فرمایا تھا۔تیسری یہ کہ نماز اور ذکوٰة کا حکم دیتے تھے،اور چوتھی یہ کہ اﷲ تعالیٰ آپ علیہ السلام کو بہت پسند فرماتا ہے۔اِسی دوران حضرت اسحاق علیہ السلام فلسطین میں رہ رہے تھے،اور وہیں اﷲ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرما دیا۔اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کام کو اُن دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے علاقوں میں جاری رکھا۔حضرت اسحاق علیہ السلام کا تفصیل سے ذکر ہم ہماری کتاب”حضرت اسحاق،حضرت یعقوب،اور حضرت یوسف علیہم السلام “میں انشاءاﷲ کریں گے۔
وعدے کے سچے
اﷲتعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ آپ علیہ السلام وعدے کے سچے تھے۔اِس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر ہو رہا ہے۔آپ علیہ السلام پورے حجاز کے باپ ہیں۔جو اﷲ کے دین اسلام کی دعوت دیتے تھے،اور جو عبادت کا ارادہ کرتے تھے،پوری کرتے تھے۔ہر ایک کا حق ادا کرتے تھے،ہر وعدہ وفا کرتے تھے۔ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ فلاں جگہ ملوں گا،وہاں آجانا۔حسب وعدہ حضرت اسماعیل علیہ السلام پہنچ گئے،لیکن وہ شخص نہیں آیا۔آپ علیہ السلام اُس کے انتظار میں ٹھہرے رہے،یہاں تک کہ ایک دن اور ایک رات گزرگئے۔اباُس شخص کو یاد آیا تو دوسرے دن اُس نے آکر دیکھا تو آپ علیہ السلام وہیں انتظار کر رہے تھے۔پوچھا کہ کیا کل سے آپ علیہ السلام یہیں ہیں؟آپ علیہ السلام نے فرمایا؛”جب وعدہ ہوچکا تھا تو میں تمہارے آنے سے پہلے کیسے ہٹ سکتا تھا۔“اُس نے معذرت کی کہ میں بھول گیا تھا۔حضرت سفیان ثوری فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کو انتظار کرتے کرتے کامل ایک سال گزر گیا تھا۔اماما بن شزپ فرماتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے وہیں مکان بنا لیا تھا۔حضرت عبد اﷲ بن ابو الحمار رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ اعلان نبوت سے پہلے میں نے رسول اﷲ ﷺ سے کچھ تجارتی لین دین کیا۔میں چلا گیا اور یہی کہہ کر گیا کہ آپ ﷺ یہیں ٹھہریئے،میں ابھی واپس آتا ہوں۔پھر مجھے خیال ہی نہیں رہا،وہ دن گزرا اور رات گزری ،دوسرا دن بھی گزر گیا۔تیسرے دن مجھے خیال آیا تو وہاں جاکر دیکھاتو آپ ﷺ وہیں انتظار کر رہے تھے۔میں معذرت کرنے لگا تو آپ ﷺ نے مجھ سے صرف اتنا فرمایا کہ تم نے مجھے مشقت میں ڈال دیا ،اور میں تین دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا حلیۂ مبارک
حضرت سمرہ بن کعب رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں۔حضرت اسماعیل علیہ السلام اﷲ کے نبی اور رسول ہیں۔جن کا اﷲ تعالیٰ ”صادق الوعد“کی صفت سے ذکر فرمایا ہے۔وہ ایسے شخص تھے،جن کی طبیعت میں تیزی تھی۔اﷲ کے دشمنوں سے ہر وقت جہاد میں مصروف رہتے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو دشمنوں پر فتح عطا فرمائی تھی(یعنی ہمیشہ فتح ہوتی تھی)۔آپ علیہ السلام کافروں سے بہت سخت جنگ کرتے تھے۔اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے تھے۔آپ علیہ السلام کا سر مبارک چھوٹا تھا،گردن موٹی تھی،ہاتھ پاو¿ں لمبے تھے،کندھے چوڑے تھے،اور انگلیاں لمبی تھیں۔مخلوق کے سامنے رہتے تھے،کافروں ہر نہایت سخت اور شدید تھے۔نماز اور ذکوٰة کا حکم دیتے تھے،اور آپ علیہ السلام کی ذکوٰة مال کے ذریعے اﷲ کا قرب حاصل کرنا تھا۔
اﷲ تعالیٰ نے عربی الہام کردی تھی
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سب سے پہلے فصیح و بلیغ عربی میں بات کی۔حضرت عقبہ بن بشیر رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں۔میں نے محمد بن علی رحمتہ اﷲ علیہ سے پوچھا؛’[سب سے پہلے عربی زبان کس نے بولی؟“انہوں نے فرمایا؛”حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بولی،جب آ پ علیہ السلام کی عُمر مبارک تیراہ(13) سا ل تھی۔میں پوچھا؛”اِس سے پہلے وہ کون سی زبان بولتے تھے؟“انہوں نے فرمایا؛”عبرانی زبان بولتے تھے۔“(ابن سعد)حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے عربی زبان الہام فرمائی تھی،جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی باقی تمام اولاد اُن کی لُغت پر تھی۔خانۂ کعبہ کی تعمیر کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام سریانی بولتے تھے،اور حضرت اسماعیل علیہ السلام عربی بولتے تھے۔لیکن ایک دوسرے کی زبان سمجھ لیتے تھے،باپ سریانی زبان میں ”ھل لی کشینبا“یعنی مجھے پتھر اُٹھا کر دو۔بیٹے پتھر دیتے ہوئے عربی میں کہتے”ھاک الحجر فخذہ“یعنی یہ ہے پتھر لے لیجیئے۔حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔سب سے پہلے جس نے عربی زبان بولی،اور کتاب کو اپنی زمان ،اپنے الفاظ،اور اپنے کلام پر لکھا،پھر اُسے کتاب بنایا۔مثلاً”بسمہ اﷲ الرحمن الرحیم“وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں۔حتیٰ کہ آپ علیہ السلام کی اولاد نے بعد میں اس کے درمیان جدائی کی۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد
حضرت اسماعیل علیہ السلام مکۂ مکرمہ میں رہے،اور ہر سال حاجیوں کی خدمت انجام دیتے رہے۔اور اہل یمن اور آس پاس کے علاقوں میں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔قبیلہ بنو جرہم پہلے ہی اسلام قبول کر چکا تھا۔اِس دوران حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد پید ہوتی رہی ،اور بڑھتی رہی۔آپ علیہ السلام کے بارہ بیٹے زیادہ مشہور ہوئے۔اُن کے نام قیداریا قیذار،ادبیل،نابت،بطور،بسام،مشمع،ذوما،مسا،حراة،قیما،نافس،اور قدما ہیں۔یہ تما اولاد آپ علیہ السلام کی زندگی میں پھلتی پھولتی گئی۔اور دھیرے دھیرے تمام بیٹے ایک ایک کرکےاطراف میں جا جا کر آباد ہوتے رہے۔صرف نابت اپنی اولاد کے ساتھ اپنے والد محترم حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مکہ¿ مکرمہ میں رہے۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام کا وصال
حضرت اسماعیل علیہ السلام مسلسل مکۂ مکرمہ میں رہے،اور خانۂ کعبہ کے متولی بنے رہے۔محمد بن اسحاق رحمتہ اﷲ علیہ لکھتے ہیں۔ایک سو تیس (130) سال کی عُمر میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا وصال ہوا۔اُس وقت تمام بیٹے اور بھائی موجود تھے جن میں حضرت اسحاق علیہ السلام بھی شامل تھے۔وصال سے پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی حضرت اسحاق علیہ السلام کو بلا کراُن کے بڑے بیٹے عیص یا عیصو سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا تھا۔انشاءاﷲ اِس کا ذکر حضرت اسحاق علیہ السلام کی کتاب میں تفصیل سے کریں گے۔تمام بھائیوں اور بیٹوں نے آپ علیہ السلام کی وصیت کے مطابق آپ علیہ السلام کو اُن کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اﷲ عنہا کے بازو میں میزاب اور حجر اسود کے درمیان ”حطیم“میں دفن کر دیا۔توریت میں آپ علیہ السلام کی عُمر ایک سو سینتیس(137) سال لکھی ہے۔حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔
ختم شد

.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)