ہفتہ، 15 اپریل، 2023

حضرت صالح علیہ السلام 3 Story of Prophet Saleh



حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 3

حق کی مخالفت

سورہ ہود کی ان دو آیات کی تفسیر میں تفسیر کمالین شرح تفسیر جلالین میں لکھا ہے۔ قوم ثمود میں حضرت صالح علیہ السلام کے وعظ کا یہ خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کی بندگی کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس نے تمہیں زمین کی مٹی کے خمیر سے پیدا کیا اور تم کو زمین پر آباد کیا ہے۔ پھر اس اللہ کے علاوہ اور کون عبادت کے لائق ہو سکتا ہے۔ سر کشی سے باز آجاﺅ اور اس کی طرف رجوع ہو جاﺅ۔ اس کے جواب میں قوم ثمود کے لوگ بولے کہ ہمیں تو تمہاری ذات سے بڑی بڑی امیدیں تھیں کہ تم قوم کی رہنمائی کرو گے لیکن ساری امیدیں خاک میں مل گئیں۔ یہ دیکھ کر تم ہمارے بزرگوں کو برا بھلا کہتے ہو اور ان سے ہمیں بر گشتہ کرنا چاہتے ہو۔ ہمیشہ سے یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ جب بھی کوئی غیر معمولی قابلیت کا آدمی کسی قوم میں پید اہو تا ہے تو لوگ اس کی قابلیت کو سراہتے ہیں۔ اور اس سے بڑی بڑی امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ کہ یہ باپ داداﺅں کا نام روشن کر ے گا۔ لیکن جب وہ کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے یا ایسا کام کرتا ہے جو ان کی عام روش کے خلاف ہوتا ہے تو لوگ گردن موڑ لیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ تو ( نعوذ باللہ ) بڑ ا نکمّا نکلا۔ اور ساری امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ گویا بزرگی اور پیشوائی کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ حق بات کی تعلیم دی جائے۔ بلکہ جس غلط بات کو لوگ حق سمجھتے اس کی دعوت دی جائے۔ ( تفسیر کمالین شرح تفسیر جلا لین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی ، امام جلال الدین محلی ، شرح مولانا محمد نعیم دیوبندی)

حضرت صالح علیہ السلام کی محبت بھری نصیحت

سورہ ہود کی آیت نمبر16کی تفسیر میں صاحبزادہ مفتی اقتدار احمد خان لکھتے ہیں ۔ قوم عاد کے چوتھے دادا کے دوسرے بیٹے ثمود نے اپنی رہائش یمن سے دور سنگلاخ پہاڑوں میں اختیار کی۔ وہیں اس کی نسل بڑھ کر قوم ثمود کے نام سے مشہور ہوئی۔ حضرت صالح علیہ السلام کی عمر دو سو اسی 280سال ہوئی۔ آپ علیہ السلام نے بھی چالیس سال کی عمر میں تبلیغ فرمانی شروع کر دی۔ یہ قوم پہاڑوں میں بہت خوب صورت مکان تعمیر کرنے کا فن جانتی تھی۔ سنگ تراشی کی ابتداءایک قول کے مطابق ان ہی سے شروع ہوئی۔ یہاں حضرت صالح علیہ السلام کی پہلی تبلیغ کا ذکر ہے۔ تین جگہ آپ علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ ( ۱) سورہ الاعراف میں ذرا تفصیل سے آیا ہے۔ ( ۲) سورہ ہو د میں یعنی اس آیت میں ( ۳) سورہ والشمس میں ۔اس جگہ پہلی تبلیغ اس طرح ہوئی کہ قوم ثمود کسی تقریب میں جمع تھی۔ تو آپ علیہ السلام کو اجازت دی گئی کہ وہاں جا کر ایمان ( اسلام ) کی تبلیغ فرماﺅ۔ تب حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم ، ملا جلا کر شرکیہ عبادت مت کرو۔ ( در اصل قوم ثمود بھی قوم نوح اور قوم عاد کی طرح اللہ کے ساتھ بتوں کی عبادت کرتی تھی) بلکہ فقط اللہ واحد کی عبادت کرو۔ کیوں کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ وہی اللہ ہے جس نے تم کو نیست سے ہست کیا اور پیدا کیا۔ اور یہ کہ تمہارے جدّ اعلیٰ حضرت آدم علیہ السلام کو زمین کی مٹی سے ایجاد کیا۔ اس لئے وہ موجد اور بدیع انسان ہے۔ 

اللہ نے انسان کو مقصد دے کر پیدا کیا

پھر پیدا کرنے کے بعد تم کو ایسے ہی معطل نہیں چھوڑ ا اور وحشی جانوروں کی طرح تم کو نہیں بنایا۔ بلکہ تم کو دنیا کا منتظم ، نظام سنبھالنے والا اور مخلوق کا حاکم بنایا۔ یہ سب قوتیں اور ہنر اسی کے دیئے ہوئے ہیں۔ اور تم کو بہترین معمار مستری کا ریگر اچھر مکان تعمیر کرنے والا بنایا۔ تفسیر مدارک میں ہے کہ ہر شخص کی عمر کم سے کم تین سور برس اور زیادہ سے زیادہ ایک ہزار برس ہوتی تھی۔ اتنی عمر کے ساتھ اتنی طاقت اور قوت ملنا عین اس اللہ کا کرم ہے۔ توا س کی بارگاہ میں جھک جاﺅ اوربتوں کی پوجا چھوڑ دو۔ اور اپنے سابقہ گناہوں پر اور کفر و شرک پر معافی مانگو۔ اور اس طرح ایمان لے آﺅ کہ مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرو۔ پھر بتوں کی محبت دلوں سے نکال کر توبہ کر و۔ اور اسی اللہ کی طرف لوٹو کیوں کہ یہی حق ہے۔ جو پہلے تمہاراتھا یعنی ہرا نسان دین حق پر پیدا ہوتا ہے۔ بعد میں کافر، یہودی اور عیسائی بنتا ہے۔ لہٰذا لوٹو اور رجو ع کرو اس رب کی طرف جس کے پاس سے قالو بلیٰ کا وعدہ کر کے آئے ہو۔ اور یہ نہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بڑی دور ہے۔ اور بڑی دشواریاں ہیں وہاں فریاد لے جانے میں اپنے بادشاہوں کی طرح مت سمجھنا کہ وہاں پہنچنے کے لئے ہزار سفارشیں اور اشوتیں چلانی پڑتی ہیں۔ پھر بھی وہ غرورکے پتلے غریبوں کی فریاد نہیں سنتے ہیں۔ اے دنیا کے طالب گارو، اس کی بارگاہ سب سے قریب ہے۔ ادھر میری طرف آﺅ اور اس رب اللہ تعالیٰ کو پکارو جو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ ہاں میرا رب سبحان اللہ ایسا قریب ہے کہ ہر دعا کا مجیب ہے۔ اور ایسا عجیب ہے کہ ہر آن ، ہر جگہ ، ہر بندے کو دیکھنے والا اور دیکھ کر فریاد سننے والا اور سن کر قبول کرنے والا اور قبول فرما کر حاجت سے زیادہ دینے والا ہے۔ کہ اس کے در بار سے کوئی مظلوم حاجت مند، فریاد کرنے والا اور دعا مانگنے والا مایوس نہیں لوٹتا ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)

قوم ثمود کی بد نصیبی

سورہ ہود کی آیت نمبر62کی تفسیر میں صاحبزاد ہ مفتی اقتدار احمد خان لکھتے ہیں۔ قوم ثمود کو حضرت صالح علیہ السلام جیسا شفیق سمجھانے والا ملا ۔ مگر ان کی بد نصیبی کہ انہیں اور کوئی جواب نہیں بن پڑا تو بولے کہ اے صالح ( علیہ السلام ) بے شک تم تو ہم میں بہت لائق سمجھدا ر مانے جاتے تھے۔ کیوں کہ تمہارا حسن تمہار ا ڈیل ڈول اور صحت و جوانی اور تمہارا اٹھان پھر اس پر تمہاری شرافت اور کم گوئی۔ نیچی نظریں ، عبادت ، ریاضت غرض یہ ہے کہ تمہاری ہر ادا بے مثال تھی۔ ہم کو تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ ہم تم کو سردار بنانے کو سوچ رہے تھے۔ ہم کو خیال تھا کہ تم اپنے باپ دادوں کا دین خوب چمکاﺅ گے۔ اچھے اچھے بت بنایا گرو گے۔ اور خود بھی پوجو گے اور نئے نئے طریقوں سے ہم کو بھی پوجنے کو کہو گے۔ آج سے پہلے ہم امید لئے بیٹھے تھے کہ تم ہمارے بادشاہ بنو گے۔ کیوں کہ تم اچھے حسب و نسب اور دولت والے ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت حیا دار شرمیلے اور اسم با مثمیٰ تھے۔ آج تم کو کیا ہو گیا ہے۔ آج کی اس تبلیغ سے پہلے ہمیں امید تھی کہ تم ہم سے الگ دوسرا دین اختیار نہیں کرو گے۔ مگر تمہاری پختگی کہہ رہی ہے کہ ہمارا خیال اور ہماری امیدیں غلط تھیں۔ تم نے اپنی ہٹ سے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیاہے۔ اب یہاں تم جو جرا¿ت دکھا رہے ہو کہ ہم ان بتوں کی پوجا کرنے سے روک رہے ہو جن کی پوجا ہمارے آبا ءو اجداد کر تے رہے ہیں۔ اور یہ بتوں کی پوجا تو ہمار ا پرانا دین ہے۔ اور بے شک ہم سب قوم کے سمجھدار ، لائق اور ذمہ دار حضرات تمہاری توحید کی دعوت سے اور ہمارے آبائی دین کو جھٹلانے سے شک میں مریب ہیں۔ یعنی سخت پریشان ہیں۔ تم نے نفسوں کو مضطرب ، دل کو بے آرام اور عقل کو پریشان کر دیا ہے۔ اے صالح ( علیہ السلام) ، ہم کو اس بات کا غم ہے کہ تم تو ہمارے ضعیفوں کے مدد گار ، یتیموں کے فریاد رس اور بے کسوں کے مشکل کشا تھے۔ اسی وجہ سے تم ہم کو پیارے تھے۔ اور ہم تم سے لڑنا جھگڑنا اور تمہارا دشمن ہونا نہیں چاہتے تھے۔ اب تم نے یہ کون سا راستہ اختیار کر لیا ہے کہ ہم کو تمہارا دشمن ہونا پڑے گا۔ کیوں کہ معاملہ دین کا ہے۔ ( تفسیر کبیر ، تفسیر روح المعانی، تفسیر روح البیان ، تفسیر مظہری، تفسیر خازن ، تفسیر صاوی، تفسیر نور العرفان، تفسیر خزائن العرفان، تفسیر مدارک، تفسیر جمل، تفسیر نعیمی، پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

میر ا اجر تو اللہ کے پاس ہے

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ یہ وہی راستہ ہے جس پر چل کر سب کو دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی ملے گی۔ کیوں کہ یہ اس اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانے والا راستہ ہے جو سب کا خالق اور مالک ہے۔ اور جس کے قبضے میں تمام کائنات بلکہ ہر شئے ہے۔ اور تم جو بتوں کی پوجا کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہو وہ گمراہی ، تباہی ، ہلاکت اور دوزخ کی طرف لے جانے والا ہے۔ اور اگر نعوذ باللہ میں نے تمہاری بات مانی توا للہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کے عذاب سے مجھے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اور تم جو یہ دنیا کی سرداری اور بادشاہی کا لالچ مجھے دے رہے ہو مجھے یہ سب کچھ نہیں چاہیئے۔ میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہی مجھے اس کا اجر عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ ہود اور سورہ الشعراءمیں فرمایا ہے۔ سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اس نے ( حضرت صالح علیہ السلام ) نے جواب دیا۔ اے میری قوم کے لوگو، ذرا بتاﺅ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی مضبوط دلیل پر ہوا اور اس نے مجھے اپنے پاس کی رحمت ( اسلام ) عطا کی ہو تو پھر اگر میں نے اس کی نافرمانی کر لی تو کون ہے جو اس کے مقابلے میں میری مدد کر سکے؟ تم تو میرا نقصان ہی بڑھا رہے ہو۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر63) اور سورہ الشعراءمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” قوم ثمود نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ جب ان کے بھائی صالح ( علیہ السلام ) نے ان سے فرمایا ۔ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ میں تمہاری طرف اللہ کا امانت دار رسول ہوں۔ تم اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو۔ میں اس پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو پروردگار عالم کے پاس ہے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر141سے 145تک)

اسلام کی دعوت دینے کا فرض

سورہ ہود کی آیت نمبر63کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہ آیت حضرت صالح علیہ السلام کی طرف سے ان کے لئے نرم گفتگو اور نرم مزاجی کے رویے کو ظاہر کر رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہو تا ہے کہ اللہ کے نبی علیہ السلام بھولے بھٹکے لوگوں کو کس خوب صورت طریقہ سے حق( اسلام ) کی دعوت دے رہے ہیں۔ فرماتے ہیں مجھے یہ بتاﺅ اگر میرا کلام اور میری دعوت حق پر مبنی ہو تو تمہارا کیا خیال ہے؟ ایسے میں اللہ کو کیا منہ دکھاﺅ گے؟ کل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حق (اسلام) کی مخالفت کا کیا جواز پیش کرو گے؟ تم کہتے ہو کہ میں اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت نہیں دوں۔ ذرا یہ بتاﺅ اگر میں بھی اس فریضے میں کوتاہی برتوں تو پھر تمہیں اللہ کے عذاب سے کون بچا سکے گا۔ کون تمہاری ہدایت کی کوشش کرے گا۔ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ میں اسلام کی دعوت و ارشاد کا فریضہ ترک کر دوں ۔ یہ فریضہ مجھ پر اللہ کی طرف سے لازم ہے۔ اگر میں اس بھلائی کے کام میں سستی کروںگا تو کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو مجھے اللہ کی پکڑ سے چھڑا لے گا۔ اور اس ذات ( اللہ تعالیٰ) کے خلاف میری مدد کر سکے گا؟ تو جب تک میرے جسم میں جان ہے۔ میں تمہیں حق (اسلام) کی دعوت دیتا رہوں گا۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی فیصلہ صادر نہیں فر ما دیتا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

نبوت کی ذمہ داری

سورہ ہود میں کی آیت نمبر63کی تفسیر میں صاحبزادہ مفتی اقتدار خان لکھتے ہیں ۔ حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم ، میں نے تم کو بہت اچھی طرح سمجھایا۔ مگر تم نے نہیں سمجھا اور تم اس بات کو ماننے کو تیار نہیں ہو کہ میں نبی ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ کا خاص پیغام خالص سچا دین ( اسلام ) لے کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ تو اچھا اب اس طرح سمجھنے کی کوشش کرو اور خوب غور کرو اور غور کرنے کے بعد مجھ کو بتاﺅ اگر میں سچائی پر ہوں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ اور جو کچھ میں نے تم کو تبلیغ کی ہے وہ بالکل درست ہے اور میرے رب کی طرف سے ہی ہے۔ حالانکہ یہ حقیقت اور یقین ہے جس کو میں ہی سمجھتا ہوں۔ شک تو صرف تم کو ہے ۔ لہٰذا تم بتاﺅ اگر میں تمہاری منت وسماجت مان کر یا تمہارے ڈرانے دھمکانے سے مرعوب ہو کر اس اللہ تعالیٰ کی نعوذ باللہ نافرمانی کروں تو مجھ کو اللہ تعالیٰ کے عتاب سے کون بچائے گا؟اور کون میرا مدد گار ثابت ہوگا؟یا اس طرح کہ تبلیغ رسالت چھوڑ کر کفر و شرک کی برائی بیان کرنا چھوڑ کر بیٹھ جاﺅں اور گوشہ تنہائی اختیار کر لوں ۔ بس اپنی عبادت و ریاضت میں لگا رہوں۔ اور تم ڈوبتوں کو نہیں بچاﺅں اور جس ڈیوٹی ، عہدے اور ذمہ داری کو دے کر بھیجا گیا ہوں وہ انجام نہیں دوں تو تم میں سے کون ہمت والا ہے جوا للہ کے عذاب سے مجھے بچا لے گا؟ یا اس طرح کہ تمہاری خواہش کے مطابق تمہارے جھوٹے دین کو سچا کہہ دوں تو ذرا سوچو تمہاری ان امیدوں سے جو تم نے مجھ سے لگائی ہوئی تھیں یا لگائی ہے اس سے میرا فائدہ ہو گا یا نقصان ہوگا۔ تمہارے ساتھ ملنے سے تم تو مجھ کو سرداری اور بادشاہت کا لالچ دے رہے ہو مگر میں جانتا ہوں کہ تمہارے ساتھ لگنے سے میرا کتنا بڑا نقصان ہوگا۔ میرا رب اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو جائے گا۔ میرے اعمال برباد ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی ناشکری کی سز املے گی اور اللہ کا عتاب اور عذاب مجھ پر نازل ہوگا۔ اور پھر غور کرو جب میں تمہارے کفر اور شرک کے راستے کو نقصان کا راستہ کہہ رہا ہوں تو میں تمہارے ساتھ کیسے شامل ہو سکتا ہوں۔ ( تفسیر کبیر ،تفسیر روح المعانی ، تفسیر روح البیان ، تفسیر سرا ج البیان ، تفسیر جمل ، تفسیر صاوی ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ 

حضرت صالح علیہ السلام 4 Story of Prophet Saleh


حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 4

اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بڑی محبت اور شفقت سے سمجھایا۔ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کو یاد دلایا۔ اللہ تعالیٰ سورہ الشعرا ءمیں فرماتے ہیں۔ ترجمہ ” ( حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا) کیا ان چیزوں ( اللہ کی نعمتوں) میں جو یہاں ہیں ایسے ہی امن میں چھوڑ دیئے جاﺅ گے ۔ یعنی ان باغوں اور ان چشموں میں اور ان کھیتوں اور ان کھجوروں کے باغوں میں جن کے شگوفے نرم اور نازک ہیں اور تم پہاڑوں کو تراش تراش کر پر تکلف مکانات بنا رہے ہو۔ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ اور بے باک حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت سے باز آجاﺅ ۔ جو ملک میں فساد پھیلا رہے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔ ( سورہ الشعرا ءآیت نمبر146سے 152تک) اس آیت کی تفسیر میں تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے ۔ حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیںاللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں۔ اور اس کے عذاب سے متنبہ فرما رہے ہیں۔ کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے ، کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرما دیے ہیں اور امن و چین سے تمہاری زندگی گزارنے میں مدد کر رہا ہے تم اس اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کر کے ان نعمتوں میں امن و امان میں ایسے ہی چھوڑ دیئے جاﺅ گے؟ ان باغات اور ان دریاﺅں میں ، ان کھیتوں ، ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑ رہے ہیں۔ جن میں تہہ بہ تہہ کھجوریں بھر پر لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کھجوروں سے لدے ہوئے ہیں ۔ تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کر کے ان کو آرام سے ہضم نہیں کر سکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ مکانوں میں رکھ چھوڑا ہے ۔ اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کر نے کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمت کی قدر نہیں کر رہے ہو۔اپنا وقت اپنا روپیہ بے جا برباد کر کے یہ نقش و نگار والے مکانات اور پہاڑوں میں صرف اپنی بڑائی اور ریا کاری اور اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کے لئے مکانات تراش رہے ہو۔ جس میں کوئی نفع نہیں ہے۔ بلکہ اس کا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔ پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہیے۔ اپنے خالق ، رازق، منعم ، محسن کی عبادت اور اس کی فرماں برداری کرنی چاہیئے اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جانا چاہیے۔ جس کا نفع تمہیں دنیا اور آخرت میں ملے گا۔ تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیےے ۔ اس کی تسبیح و تہلیل اور صبح و شام اس اللہ کی عبادت کرنی چاہیے تمہیں اپنے موجودہ سرداروں کی ہرگز نہیں ماننا چاہئے۔ یہ توا للہ کی حدود سے تجاوز کر گئے ہیں۔ توحید کی اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ نافرمانی، گناہ ، فسق و فجور پر خود بھی لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلا رہے ہیں۔ اور حق کی موافقت اور اتباع کر کے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے ہیں ۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر19علامہ عماد الدین ابن کثیر)

کچھ لوگوں کا قبول اسلام اور قوم کا ظلم

قوم ثمود میں بت پرستی عام تھی۔ اور جگہ جگہ بتوں کے مندر تھے۔ ان مندروں کے پنڈت اور پجاری قوم کے بڑے بنے ہوئے تھے۔ جیسا کہ قوم نوح اور قوم عاد میں بھی تھے۔ اور آج کل ہمارے ہندوستان میں بھی ہیں۔ عوام ان پنڈتوں اور پجاریوں کی بہت عزت کرتی تھی۔ اورمندروں میں بتوں کے اوپر اپنے مال و دولت چڑھائی تھی۔ جس کی وجہ سے پنڈتوں اور پجاریوں کا طبقہ دن بہ دن بہت زیادہ امیر ہوتا جا رہا تھا۔ جب حضرت صالح علیہ السلام نے اعلان نبوت کیا اور قوم ثمود کو اسلام کی دعوت دی تو سب سے زیادہ ان ہی پنڈتوں اور پجاریوں کے طبقے نے مخالفت کی۔ اور عوام کو بھی بہکانے لگے۔ اسی کے بارے میں سورہ الشعراءکی آیت نمبر151اور 152میں عوام سے فرمایا۔ اور بے باک حد سے گزر جانے والوں کی اطاعت سے باز آجاﺅ۔ جو ملک میں فساد پھیلارہے ہیں اور اصلاح نہیں کر رہے ہیں جیسا کہ آج کل ہمارے ہندوستان ملک میں یہاں کے پنڈتوں اور پجاریوں نے فساد پھیلا رکھا ہے۔ اور ہندو مسلمان نفرت کے بیج بو رہے ہیں۔ بالکل ایسے ہی قوم ثمود کے پنڈت اور پجاری بھی کر رہے تھے۔ حضرت صالح علیہ السلام کی مسلسل دعوت و تبلیغ سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ لیکن عوام کی اکثریت پنڈتوں اور پجاریوں کی بات مان کر کفر اور شرک میں مبتلا رہی۔ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا ان میںاکثریت غریبوں اور مفلسوں کی تھی۔ جب کہ عوام کا زیادہ تر امیر طبقہ پنڈتوں اور پجاریوں کا ساتھ دے رہا تھا۔ ان بد بختوں نے مسلمانوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔ اور انہیں ہر طرح سے ستانے لگے۔ 

کافر منحوس ہوتا ہے

اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ” بے شک ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح ( علیہ السلام ) کو بھیجا۔ ( انہوں نے فرمایا) تم سب اللہ کی عبادت کرو۔ پھر بھی وہ دو فریق بن کر آپس میں لڑنے جھگڑنے لگے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم کے لوگو، تم نیکی کر نے سے پہلے برائی کرنے کی جلدی کیوں مچا رہے ہو؟ تم اللہ تعالیٰ سے استغفار کیوں نہیں کر تے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ وہ کہنے لگے۔ ہم تو تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو ہمارے لئے منحوس سمجھ رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اور تم لوگ ( کفر و شرک) کر کے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں منحوس ٹھہرائے جاﺅ گے۔ بلکہ تم فتنے میں پڑے ہوئے لوگ ہو۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر45سے 47تک) جب قوم ثمود کے کافرں نے مسلمانوں پر ظلم کیا تو مسلمانوں نے بھی ان کا مقابلہ کیا۔ اس پر حضرت صالح علیہ السلام نے انہیں سمجھایا تو کافروں نے کہا کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ) اپنی قوم کے لئے منحوس ثابت ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے بھی منحوس ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ منحوسیت اسلام میں نہیں ہے۔ بلکہ کفر اور شرک میں ہے۔ اور کافر اور مشرک ہونے کی وجہ سے تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں منحوس ٹھہرائے جاﺅ گے۔ اور تم لوگ بہت بڑے فتنے میں پڑے ہوئے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو پہچان نہیں پا رہے ہو۔ اور تباہی اور ہلاکت کے راستے پر چل رہے ہو۔

کافروں اور مسلمانوں کا مناظرہ

حضرت صالح علیہ السلام مسلسل بڑی محنت سے اسلام کی تبلیغ کر تے رہے۔ اور لوگ ان کی دعوت پر ایمان لا کر اسلام قبول کر تے جا رہے تھے۔ اور مسلمانوں کی تعداد دن بہ دن دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی تھی۔ ان میں کچھ علاقوں کے سرداروں نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ یہ دیکھ کر کافروں کے سرداروں نے انہیں مناظرے کی دعوت دی جو مسلمانوں نے قبول کر لی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کی( حضرت صالح علیہ السلام کی ) قوم میں جو متکبر سردار تھے انہوں نے ان غریب لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ان سے پوچھا۔ کیا تم کو اس بات کا یقین ہے کہ صالح ( علیہ السلام ) اپنے رب (اللہ تعالیٰ) کی طرف سے بھیجے ہوئے ( رسول) ہیں؟ انہوں نے کہا۔ بے شک ہم تو ان پر پورا یقین رکھتے ہیں ۔ اور جو ان کو دے کر بھیجا گیا ہے ( اس پر بھی پورا یقین رکھتے ہیں ) وہ کافر سردار کہنے لگے۔ تم جس بات پر یقین کر تے ہو ہم تو اس بات کا انکار کرتے ہیں۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر75اور 76) ان بد بخت کافرسرداروں نے صاف صاف مسلمانوں سے کہہ دیا کہ وہ حضرت صالح علیہ السلام کی رسالت کا اور اسلام کا انکار کرتے ہیں اور منکر ہیں۔ انہوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ حضرت صالح علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر میں فرمایا۔ ترجمہ ” قوم ثمود نے ڈرانے والوں کو جھٹلایا اور کہنے لگے ۔ کیا ہم لوگ ہمیں میں سے ایک شخص کی فرماں برداری کرنے لگیں؟ تب تو ہم یقینا غلطی اور دیوانگی میں پڑ جائیں گے۔ کیا ہم سب لوگوں کے درمیان صرف اسی پر وحی اتاری گئی؟ نہیں بلکہ وہ جھوٹا اور شیخی خور ہے۔ اب سب (قیامت کے دن) جان لیں گے کہ کو ن جھوٹا اور شیخی خور تھا؟ “ (سورہ القمر آیت نمبر23سے 26تک) اس مناظرے کو پوری قوم ثمود دیکھ رہی تھی۔ اور کافر سردار اور پنڈت اور پجاری بھی جمع تھے۔ اور وہی لوگ کافروں کی طرف سے نمائندگی کر رہے تھے۔ 

کافر سرداروں کا تکبر

در اصل ان کی سرداری اور عزت اور مال و دولت اسلام قبول کرنے سے ختم ہو جاتی اور انہیں بھی عام غریب مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنی پڑتی۔ اسی لئے یہ لوگ آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کے سب سے زیادہ مخالف تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مناظرے میں مسلمان حاوی ہو رہے ہیں اور عوام ان سے متاثر ہو سکتی ہے تو ان لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی شان میں گستاخی کرنی شروع کر دی ۔ سورہ القمر کی ان آیات کی تشریح میں تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے۔ قوم ثمود جو پہاڑوں کو تراش تراش کر بلند ترین عمارتیں بنانے میں ماہر تھے۔ مال و دولت سے اور ہر نعمت سے مالا مال تھے۔ جب انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلایا اور ان سے کہا کہ تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ہو۔ تم میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ کیا اللہ کو تمہارے علاوہ کوئی نہیں ملا جسے نبی بنا کر بھیجا جاتا۔ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہم تمہیں نبی مان بھی لیں تو ہم سے بڑا بے وقوف کون ہوگا؟ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کو جھوٹا اور شیخی باز تک کہنے سے گریز نہیں کیا ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر5مولانا محمد آصف قاسمی) سورہ القرکی ان آیات کی تشریح میں تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران میں لکھا ہے۔ قوم ثمود نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ اس لئے حضرت صالح علیہ السلام کو جھٹلانا گویا تمام انبیائے کرام کو جھٹلانا ہے کیوں کہ سب نے اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم اپنی ہی قوم کے ایک فرد کو رسول مان لیں۔ اور پوری جماعت کو چھوڑ کر اس اکیلے کی پیروی کر نے لگیں۔ اللہ کے رسول کو تو انسانوں سے اعلیٰ جنس یعنی فرشتوں میں سے ہونا چاہیئے۔ اور حضرت صالح علیہ السلام میں ایسی کون سی بڑائی اور خوبی پائی جاتی ہے کہ اللہ نے ہمارے بڑے بڑے سرداروں اور مالد اروں کو چھوڑ کر اسے اپنا نبی بنا لیا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ وہ جھوٹا اور متکبر ہے۔ اور اس کے کبر اور غرور نے اس پر ابھارا کہ وہ اپنے آپ کو بڑا ظاہر کر ے اور ہمیں اطاعت کرنے کا حکم دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ کل جب دنیا میں ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا اور پھر قیامت کے دن دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ جھوٹا اور متکبر کون تھا۔ ( تفسیر تیسسر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی)

قوم ثمود کی عجیب و غریب معجزے کی مانگ

قوم ثمود کی اتنی مخالفت کے باوجود حضرت صالح علیہ السلام لگاتار انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ آ پ علیہ السلام کی قوم سرکشی اور نافرمانی کرتی رہی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام اور زیادہ انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے اور شرک سے ( بتوں کی پوجا سے ) اور زیادہ منع فرمانے لگے۔ یہاں تک آپ علیہ السلام کی قوم عاجز آگئی اور اس نے کہا۔ اگر تم سچے نبی ہو تو اپنی نبوت کی کوئی نشانی یا دلیل پیش کرو۔ حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ ہی بتاﺅ کون سی نشانی یا دلیل چاہتے ہو؟ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے الشعرا ءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” وہ ( قوم ثمود) بولے کہ بس تم ان میں سے ہو جن پر جادو کر دیا گیا ہے۔ اور تم تو ہمارے جیسے انسان ہو۔ اگر تم واقعی سچے لوگوں میں سے ہو تو کوئی معجزہ لے آﺅ۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر153اور 154) ایک دن حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھا رہے تھے اور اسلام کی دعوت دے رہے تھے تو قوم ثمود نے کہا ۔ ہم ایمان اس شرط پر لائیں گے کہ آپ علیہ السلام اپنے سچے ہونے اور اپنی نبوت کی کوئی نشانی یا دلیل پیش کریں ۔ آپ علیہ السلام نے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا۔ یہ سامنے جو پہاڑ ہے اس میں سے ایک اونٹنی نکالیں۔ وہ حاملہ ہو۔ فلاں رنگ کی ہو۔ اتنی لمبی ہو ، اتنی موٹی ہو۔ انہوں نے بڑی عجیب و غریب اونٹنی کی مانگ کی۔ کہ اس کا رنگ عام طور سے اونٹنیوں کا ہوتا ہے اس کے خلاف کہا۔ اور عام اونٹنیوں سے کئی گنا زیادہ بڑی ، اونچی، لمبی اور چوڑی اونٹنی کی مانگ کی۔اور اس کے علاوہ بھی کئی خوبیوں کی مانگ کی۔ کہ وہ اتنا دودھ دے کہ پوری قوم ثمود کو کافی ہو۔ اور بھی کئی عجیب خوبیوں کی مانگ کی۔ سب سے عجیب بات جس کی قوم ثمود نے مانگ کی وہ یہ تھی کہ وہ اونٹنی دس مہینے کی حاملہ ہو۔ اور پہاڑی سے نکلتے ہی اس کا بچہ پید اہو۔ غرض یہ کہ قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے ایسی اونٹنی کی درخواست کی جیسی اونٹنی عام طور سے ہوتی ہی نہیں ہے۔ ان لوگوں کو یقین تھا کہ ایسی عجیب و غریب اونٹنی دنیا میں کہیں ہو ہی نہیں سکتی۔ اور حضرت صالح علیہ السلام ہماری مانگ پوری کر ہی نہیں سکتے ہیں۔ اور جب مانگ پوری نہیں کر سکیں گے تو ہمیں اسلام کی دعوت نہیں دیں گے۔ اور ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ قو م ثمود اپنی سمجھ کے مطابق آپ علیہ السلام سے جان چھڑانے کی تدبیر کر رہی تھی۔ لیکن وہ کم عقل لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ انسان جب اللہ تعالیٰ سے کچھ عجیب و غریب مانگ کرتاہے تو اسکی وجہ سے وہ خود مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ قوم ثمود مصیبت میں مبتلا ہو گئی تھی۔ اس کا ذکر انشاءاللہ آگے ہم کریں گے۔ حضر صالح علیہ السلام نے اونٹنی کی تفصیل سننے کے بعد فرمایا ۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہارا مطالبہ پورا کر دے اور اس پہاڑ سے ایسی ہی اونٹنی نکال دے جیسی تم مانگ کر رہے ہو تو کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اور مجھ پر ایمان لے آﺅ گے۔ سب نے کہا ۔ ہاں ہم آپ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کر لیں گے۔ آپ علیہ السلام نے قوم ثمود سے پختہ عہد اور وعدہ لے لیا۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ 

حضرت صالح علیہ السلام 5 Story of Prophet Saleh



 5 حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 5

پہاڑ میں سے اونٹنی کا پیدا ہونا

حضرت صالح علیہ السلام سے ان کی قوم کے لوگوں نے ان کی رسالت کے ثبوت معجزے کی یعنی اللہ کی طرف سے نشانی کے طور پر ایک عجیب و غریب اونٹنی کی مانگ کی اور وہ بھی پہاڑ میں سے پیدا کرنے کی فرمائش کی۔ آپ علیہ السلام نے پہلے انہیں سمجھایا کہ اس طرح فرمائش مت کرو۔ کیوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہاری فرمائش کو پورا کیا تو اللہ کی بھی کچھ شرائط ہوں گی۔ اور اگر تم ان شرائط کو پورا نہیں کر سکے تو تم پر اللہ کا عذاب آسکتا ہے۔ لیکن قوم ثمود اپنی ضد پر اڑی رہی اور معجزے کی فرمائش کرتی رہی۔ آخر کار آپ علیہ السلام نے تمام قوم کے لوگوں سے یہ پکا وعدہ اور عہد لیا کہ اگر تمہاری فرمائش اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا تو تم سب اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آﺅ گے۔ ان سب نے اسلام قبول کرنے کا وعدہ کیا تو حضرت صالح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور فرمایا کہ اپنی پوری قوم سے کہو کہ فلاں دن فلاں پہاڑ کے سامنے جمع ہو جائےں ۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق آپ علیہ السلام نے اس دن پوری قوم کو جمع کیا۔ اور دو رکعت نماز پڑھ کر دعا مانگنے لگے۔ قوم ثمود کے تمام لوگ کبھی آپ علیہ السلام کو دیکھتے کبھی اس پہاڑ کی طرف دیکھتے ۔ کچھ دیر بعد اس پہاڑ میں اچانک زلزلہ آگیا اور وہ لرزنے لگا۔ تمام قوم ثمود پوری طرح پہاڑ کی طرف متوجہ تھی۔ اچانک تیز کھڑ کھڑا ہٹ کی آواز کے ساتھ پہاڑ پھٹ گیا اور اس کے پتھر ادھر ادھر گرے اور پہاڑ کے درمیان میں ایک بہت بڑا غار کا دہانہ دکھائی دینے لگا۔ اس دہانے میں سے وہ عجیب و غریب اونٹنی باہر آئی جس کی قوم ثمود نے مانگ کی تھی۔ اونٹنی بالکل ویسی ہی تھی جیسی انہوں نے فرمائش کی تھی۔ تمام قوم ثمود کے لوگ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اونٹنی کو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ وہ اونٹنی باہر آئی اور اس نے ویسا ہی بچہ دیا جیسا کہ قوم ثمود نے فرمائش کی تھی۔

کافر سرداروں نے جادو گر کہا 

حضرت صالح علیہ السلام اب قوم ثمود کی طرف متوجہ ہوئے اور بلند آواز سے فرمایا۔ اے میری قوم، تمہاری فرمائش کے مطابق یہ اللہ کی نشانی آگئی ہے۔ اب تم لوگ بھی اپنے وعدے کے مطابق اسلام قبول کرلو۔ پوری قوم کے لوگوں میں سناٹا چھا گیا۔ اور کوئی کچھ دیر تک کچھ نہیں بولا۔ آخر کار ایک سردار کھڑا ہوا اور اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اسلام قبول کر لیا۔ ( ان کے اسلام قبول کرنے کے واقعہ کو انشاءاللہ ہم آگے پیش کریں گے) لیکن اسی وقت پنڈتوں اور پجاریوں اور کافر متکبر سرداروں نے عوام کو زور زور سے پکار کر بھڑکانا شروع کر دیا اور کہنے لگے کی یہ نعوذ باللہ اللہ کے رسول نہیں ہیں بلکہ جادو گر ہیں اور یہ جادو دکھا رہے ہیں۔ اس لئے تم لوگ اسلام قبول مت کرنا اور اپنے بتوں کی پوجا کرتے رہنا۔ آخر کار قوم ثمود کی اکثریت نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اور کفر و شرک میں ہی مبتلا رہے۔ لیکن اس واقعہ کے بعد آپ علیہ السلام کی عزت کرنے لگے یا پھر ڈرنے لگے۔ اس کے بعد بھی آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے اور محبت سے اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح ( علیہ السلام ) کو بھیجا ۔انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم ، تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہار معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب ( اللہ تعالیٰ) کی طر ف سے ایک واضح دلیل ( صاف نشانی) آچکی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے دلیل ( نشانی یا معجزہ ) تو اس کوچھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کودرد ناک عذاب آپکڑے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر73)

اللہ کی نشانی

سورہ الاعراف کی اس آیت نمبر73کی تشریح میں تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے کہ قوم ثمود ہی کی قوم کے ایک فرد حضرت صالح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ آپ علیہ السلام نے جب اپنی قوم سے فرمایا کہ میں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں اور انہیں کفر اور شرک سے روکنا چاہا تو قوم کے لوگوں نے کہا۔ اے صالح ( علیہ السلام) ہم اس وقت تک آپ کو اللہ کا رسول نہیں مانیں گے جب تک اپنی آنکھوں سے کوئی معجزہ نہیں دیکھ لیں گے۔ ہمیں نشانی کے طور پر ایک بہت ہی اونچی اور بہت موٹی تازی اونٹنی سامنے والی پہاڑی سے پیدا کر کے دکھادو۔ اس کے جسم پر خاص نشانات ہوں ۔ پھر وہ اونٹنی فوراً ایک نر بچہ جنے وہ بھی خوب اونچا اور موٹا تگڑا ہو۔ اس کے جسم پر بھی خاس نشانات ہوں ۔ اگر آپ ( علیہ السلام ) ایسا معجزہ کر کے دکھا دیں تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ کے حکم سے سامنے والی پہاڑی سے ایسی اونٹنی بھی پیدا ہو گئی اور اس کا بچہ بھی پیدا ہو گیا۔ مگر چند خاص لوگوں کے سوا کوئی بھی ایمان نہیں لایا۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر2مولانا محمد آصف قاسمی)

پنڈتوں اور پجاریوں نے عوام کو روک دیا

سورہ الاعراف کی آیت نمبر73کی تشریح میں تفسیر معارف القران میں لکھا ہے۔ کہ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی جوانی میں اپنی قوم کو دعوت توحید دینی شروع کی اور برابر لگے رہے۔ یہاں تک کہ بڑھاپے کے آثار شروع ہو گئے۔ آپ علیہ السلام کی بار بار اسلام کی دعوت سے تنگ آکر ان کی قوم نے آپس میں یہ طے کیا کہ ان سے ایسا کوئی مطالبہ کرو جس کو یہ پورا نہ کر سکیں۔ اور ہم ان کی مخالفت میں سرخ رو ہو جائیں۔ مطالبہ یہ کیا کہ اگر آپ علیہ السلام واقعی اللہ کے رسول ہیں تو ہماری فلاں پہاڑی جس کانام کاتبہ ہے۔ اس کے اندر سے ایک ایسی اونٹنی نکال دیں جو دس مہینے کی گابھن ہواور قوی و تندرست ہو۔ آپ علیہ السلام نے پہلے تو ان سے عہد اور وعدہ کیا کہ اگر میں تمہارا یہ مطالبہ پورا کردوں تو تم سب اسلام قبول کر لوگے۔ جب سب نے معاہد کر لیا تو آپ علیہ السلام نے دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ دعا کرتے ہی پہاڑی کے اندر حرکت پیدا ہوئی اور اس کی ایک بڑی چٹان پھٹ گئی اور اس میں سے اونٹنی نکل آئی۔ جیسا کہ مطالبہ کیا تھا۔ حضرت صالح علیہ السلام کا یہ کھلا ہوا حیرت انگیز معجزہ دیکھ کر ان میں سے کچھ لوگ تو مسلمان ہو گئے۔ اور باقی قوم نے بھی ارادہ کر لیا کہ اسلام قبول کر لیں اور اللہ پر اور آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں۔مگر قوم کے چند سردارجو بتوںکے خاص پجاری اور بت پرستی کے امام یعنی پنڈت تھے انہوں نے ان کو بہکا کر اسلام قبول کر نے سے روک دیا۔ 

حضرت جندع بن عمرو کا قبول اسلام 

سورہ الاعراف کی آیت نمبر73کی تشریح میں تفسیر انوار البیان میں لکھا ہے۔ کہ قوم ثمود کے لوگ بھی بڑے ضدی تھے۔ کہنے لگے کہ ہم تو تب ( آپ علیہ السلام کو رسول) مانیں گے جب تم پہاڑ میں سے اونٹنی نکال کر دکھاﺅ گے اگر پہاڑ میں سے اونٹنی نکل آئی تو ہم مان لیں گے کہ تم اللہ کے نبی ہو۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا کہ دیکھو اپنے منہ سے مانگا ہوا معجزہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ اگر اونٹنی تمہارے مطالبے پر پہاڑ سے نکل آئی اور پھر بھی ایمان نہیں لائے تو سمجھ لو کہ پھر جلدی ہی عذاب آجائے گا۔ وہ لوگ ضد پر اڑے رہے اور یہی مطالبہ کرتے رہے کہ اونٹنی پہاڑ سے نکال کر بتاﺅ۔ اگر اونٹنی نکل آئی تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے دو رکعت نماز پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اسی وقت ایک پہاڑی پھٹ گئی اور اس کے اندر سے اونٹنی نکل آئی۔ یہ ماجرا دیکھکر حضرت جندع بن عمرو ( جو ثمود کے سردار تھے) اور ان کے ساتھ تھوڑے سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ قوم کے دوسرے بڑے لوگوں اور عوام نے بھی اسلام قبول کرنے کا ارادہ کیا۔ لیکن اُن کے بتوں کے پجاریوں اور پنڈتوں نے انہیں بہکا کر اسلام قبول کرنے سے روک دیا۔ ( تفسیر انوارالبیان جلد نمبر 2مولانا محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی) اس آیت کی تشریح میں تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ ایک بار آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا ہم ہم لوگ اپنے ایک میلہ میں جا رہے ہیں۔ وہاں جا کر اپنے بتوں سے دعا کریں گے۔ آپ علیہ السلام اپنے رب سے دعا کریں اگر آپ کی دعا آپ کے رب نے قبول کر لی تو ہم اسلام قبول کر لیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بتاﺅ میں کیا دعا کروں تو قوم کے سردار جندع بن عمرو نے ایک پہاڑ کی طرف اشارہ کیا جس کا نام کاتبہ تھا کہ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس چٹان سے ایک حاملہ اونٹنی خوب موٹی تازی نکالے جو نکلتے ہی بچہ دے۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے عہد و پیمان لیا کہ اگر میں نے یہ معجزہ تم کو دکھا دیا تو تم سب اسلام قبول کر لینا۔ سب نے عہد کیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی ۔ دعا کرتے ہی چٹان میں سے آواز آئی جیسے جانور بچہ جنتے وقت آواز نکالتا ہے۔ پھر پتھر پھٹا اور ایک عظیم الجثہ موٹی تازی حاملہ اونٹنی اس میں سے نکلی ۔ا س نے نکلتے ہی بچہ جنا جو خود اس کے برابر تھا۔ ( تفسیر روح البیان ، تفسیر صاوی) آپ علیہ السلام نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ ہے وہ اللہ کی طرف سے پیدا شدہ اونٹنی جو تم نے مانگی تھی۔ یہ معجزہ دیکھ کر حضرت جندع بن عمرو اور ان کے خاندان کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اور باقی قوم کافر رہی۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا ر خان نعیمی ) تفسیر جلالین میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے نماز پڑھ کر دعا مانگی تو اس پتھر سے ان کی مانگ کے مطابق اونٹنی کی باقاعدہ ولادت ہوئی اور پھر اس اونٹنی سے اتنا ہی بڑا بچہ پیدا ہوا۔ سب لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ اور جندع بن عمرو اس سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا اپنی جماعت کے ساتھ لیکن دوسرے لوگ ذواب بن عمرو اور حباب وغیرہ جو پجاری تھے اور رباب بن صمعر کاہن یعنی پنڈت وغیرہ تھے ایمان نہیں لائے۔ ( تفسیر کمالین شرح تفسیر جلالین)

اللہ کی اونٹنی معجزات کا مجموعہ

اسی آیت کی تشریح میں تفسیر نعیمی میں آگے لکھا ہے کہ اس اونٹنی کو چند وجوہات سے آیت فرمایا گیا ہے۔ ( ۱) یہ بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئی۔ (۲) پتھر میں سے نکلی۔ (۳) خوب موٹی تازی اور جوان پیدا ہوئی۔ (۴) حاملہ ہی پیدا ہوئی اور پیدا ہوتے ہی بچہ دیا۔ ( ۵) بچہ چھوٹا سا نہیں دیا بلکہ اپنے برابر کا دیا۔ (۶) ایک دن چھوڑ کر پانی پیتی تھی اور سارا کنواں پی جاتی تھی۔ (۷) جب اس کے پانی پینے کی باری ہوتی تھی تو اس دن کوئی جانور پانی پینے نہیں آتا تھا۔ (۸) وہ اتنا دودھ دیتی تھی کہ ساری قوم ثمود کو کافی ہوتا تھا۔ اور اس کی باری کے دن وہ لوگ اس دودھ سے گزارہ کرتے تھے۔ (۹) جن کھیتوں ، باغوںمیں چر لیتی تھی اس کے سبزہ اور پھل میں بہت برکت ہوتی تھی۔ ان وجوہات کی وجہ سے وہ ایک نشانی نہیں بلکہ نشانیوں کا مجموعہ تھی۔ یا یوں کہیں کہ وہ ایک معجزہ نہیں بلکہ معجزات کا مجموعہ تھی۔ ( تفسیر خازن ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی)

اونٹنی کے بارے میں ہدایات

قوم ثمود نے اللہ تعالیٰ سے عجیب و غریب معجزہ کی مانگ کی تھی اور یہ سوچا تھا کہ اس طرح حضرت صالح علیہ السلام سے جان چھوٹ جائے گی ۔ لیکن وہ عجیب و غریب مانگ یعنی کہ اونٹنی ان کے لئے مصیبت بن گئی۔ حالانکہ وہ اس سے فائدہ بھی اٹھاتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود اسے اپنے لئے مصیبت سمجھتے تھے۔ کیوں کہ حضرت صالح علیہ السلام نے صاف صاف فرما دیا تھا کہ اس اونٹنی کو کوئی نہ روکے اور ٹوکے۔ اس کا جہاں جی چاہے گا چرے گی اور ایک بات یہ کہ جس دن یہ اونٹنی پانی پیئے گی اس دن تم لوگ اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتے۔ اور دوسرے دن یہ اونٹنی پانی نہیں پیئے گی تو اس دن تم اپنے جانوروں کو پانی پلانا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔)یہ اللہ کی اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ( اللہ کیطرف سے ) دلیل ہے۔ تو اس کو چھوڑ دو کہ اللہ تعالیٰ کی زمین میں کھاتی پھرے۔ اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ بھی مت لگانا۔ ورنہ تم کو درد ناک عذاب آپکڑے گا۔ “ (سورہ الاعراف آیت نمبر73) اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کے بارے میں سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم کے لوگو، یہ اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی ہے۔ جو تمہارے لئے ایک معجزہ ہے۔ اب تم اسے اللہ کی زمین میں کھاتی ہوئی چھوڑ دو۔ اور اسے کسی طرح کی بھی تکلیف نہیں پہنچانا۔ ورنہ فوری عذاب تمہیں پکڑ لے گا۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر64) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں بھی اسی اونٹنی کے بارے میں بتایا۔ ترجمہ ” آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ اونٹنی ہے۔ پانی پینے کی ایک باری اس کی ہے۔ اور ایک مقررہ دن کی باری تمہاری ہے۔ ( خبردار) اسے برائی سے ہاتھ نہیں لگانا۔ ورنہ ایک بڑے بھاری دن کا عذاب تمہیں اپنی گرفت میں کر لے گا۔ “(سورہ الشعراءآیت نمبر155اور156)

اونٹنی سے قوم ثمود کا فائدہ

حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم والوں کی مانگ پر اللہ تعالیٰ سے اونٹنی کی دعا کی۔ جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ اور پہاڑ سے ویسی ہی عجیب الخلقت اونٹنی پیدا فرمائی جیسی قوم ثمود نے مانگ کی تھی۔ تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک اونٹنی پیدا فرمائی۔ پانی پینے کے لئے ایک دن اس کے لئے مقرر تھا اور ایک دن قوم ثمود کے لئے مقرر تھا۔ پس جب اس کے پانی پینے کا دن ہوتا تو وہ اسے کھلی فضا میں علحیدہ لے جاتے تھے اور اس کا دودھ دو ہ لیتے تھے۔ اور اپنے چھوٹے بڑے سب برتن اور مشکیزے وغیرہ بھر لیتے تھے۔ اور جب ان کے پانی پینے کا دن ہوتا تھا تو اسے پانی سے دور بھگا دیتے تھے۔ اور وہ کوئی پانی نہیں پی سکتی تھی۔ جب کہ وہ خود اپنے چھوٹے بڑے سب برتن اور مشکیزے وغیرہ پانی سے بھر لیتے تھے۔ تفسیر انو ارالبیان میں لکھا ہے۔ چونکہ یہ اونٹنی دوسری اونٹنیوں سے مختلف تھی ۔ا سلئے اس کا کھانا ور پینا بھی دوسری اونٹنیوں سے مختلف تھا۔ یہ اونٹنی جنگلوں میں چلتی پھرتی تھی اور ایک د ن چھوڑ کر پانی پیتی تھی۔ جب پانی پینے لگتی تھی تو کنویں میں سر لٹکا کر سارا پانی پی جاتی تھی۔ تفسیر معارف القران میں لکھا ہے کہ اس اونٹنی کو اللہ کی اونٹنی اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی دلیل کے طور پر اور حضرت صالح علیہ السلام کے معجزہ کے طور پر پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمام زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اس لئے تمہارے کھیت اور چراگاہیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں عطا فرمائی گئی ہیں۔ اس لئے یہ اللہ کی اونٹنی کہیں بھی پھرے تم اسے روکنا نہیں اور نہ ہی اسے مارنا پیٹنا۔ قوم ثمود کے لوگ جس کنویں سے پانی پیتے اور اپنے جانوروںکو پلاتے تھے اسی سے یہ اونٹنی بھی پانی پیتی تھی۔ مگر یہ عجیب الخلقت اونٹنی جب پانی پیتی تھی تو پورے کنویں کا پانی پی لیتی تھی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے یہ فیصلہ سنا دیا تھا کہ ایک دن تم اور تمہارے جانور پانی پیئں گے اور ایک دن یہ اونٹنی پانی پیئے گی۔ جس دن اونٹنی پانی پیتی تھی تو اس دن قوم ثمود کو اس اونٹنی کااتنا دودھ مل جاتا تھا کہ و ہ پوری قوم کے لئے کافی ہوتا تھا۔ اور وہ سارے برتن اس سے بھر لیتے تھے۔ تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اسی قسم کی اونٹنی پتھر سے نکال کر بتا دی جیسی قوم ثمود نے مانگی تھی۔ اور فرمایا کہ دیکھو یہ اونٹنی تمہارے لئے میری نبوت اور اللہ کی قدرت کی ایک دو نہیں بلکہ بہت سی نشانیا ں ہیں اب تم پر یہ پابندی ہے کہ یہ جہاں کہیں جانا چاہے اسے جانے دو۔ اورجہاں کہیں بھی کھانا چاہے اسے کھانے دو۔ کسی کے کھیت یا باغ میں چرنے کے لئے گھس جائے تو اسے مت نکالو۔ وہ خود ہی کھا کر نکلے گی۔ تم اسے ہانکنا نہیں اور نکالنا نہیں ۔ اور ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھو کہ اس کی کسی قسم کی بے ادبی نہیں کرنا۔ اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچانا۔ نہ ہی اسے ڈانٹنا اور نہ ہی اسے مارنا۔ اور نہ ہی اسے زخمی کرنا اورنہ ہی اسے ذبح کرنا۔ ورنہ خیال رکھو تم پر درد ناک عذاب آجائے گا۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی، تفسیر انوار البیان جلد نمبر2مولانا محمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی ، تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا ر خان )

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

حضرت صالح علیہ السلام 6 Story of Prophet Saleh


حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 6

تم اس اونٹنی کو قتل کر دو گے

اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی فرمائش پر انہیں ویسی ہی عجیب الخلقت اونٹنی عطا فرمائی جیسی انہوں نے مانگی تھی۔ لیکن ان بد بختوں نے اتنا صاف معجزہ ، اتنی صاف نشانی اور اتنی صاف دلیل دیکھنے کے باوجود اسلام قبول نہیں کیا ۔اوراللہ پراور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ اس کے باجود ان پر اللہ تعالیٰ کی یہ مہربانی رہی کہ اللہ تعالیٰ ان بد بختوں کو اس اونٹنی کے ذریعے اتنا دودھ عطا فرما دیتے تھے کہ پوری قوم ثمود کے لئے کافی ہوتا تھا۔ اس طرح اس نافرمان، سرکش اور وعدہ خلاف قوم کا اتنا بڑا فائدہ یہ ہوا کہ انہیں دودھ جیسی نعمت عطا فرما دی گئی۔ لیکن اس بد بخت قوم نے اس کی قدر نہیں کی۔ اور ان کے پنڈت ، پروہت، اور پجاریوں نے انہیں بھڑکانا شروع کر دیا۔ کہ یہ تمہاری فصل اور پھل فروٹ اور میوے اور جانوروںکا چارہ کھا جاتی ہے۔ اور ایک دن تم پانی سے محروم رہ جاتے ہو۔ دھیرے دھیرے قوم ثمود کے اندر اس اونٹنی سے نفرت پیدا ہونے لگی۔ جو مسلسل بڑھتی جا رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ عنقریب تمہاری قوم اس اونٹنی کو قتل کر دے گی۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو جمع کیا اور فرمایا۔ عنقریب تم اس اونٹنی کو قتل کر دو گے۔ انہوںنے جلدی سے کہا۔ نہیں با لکل نہیں ہم اسے قتل نہیں کریں گے۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میں ایک لڑکا پیدا ہو گا جو اس اونٹنی کو قتل کر دے گا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

اللہ کی اونٹنی قوم ثمود کی آزمائش تھی

اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی عجیب و غریب فرمائش کو پورا کر دیا۔ اور پہاڑ میں سے اونٹنی پید ا فرمائی۔ در اصل یہ قوم ثمود کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش تھی۔ اس امتحان میں حضرت جندع بن عمرواور ان کے خاندان والے یا ان کے ساتھ جو جماعت تھی انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور کامیاب ہو گئے۔ اور باقی قوم ثمود ناکام ہو گئی۔ تاریخ ابن خلدون کے حاشیہ میں لکھا ہے ۔ قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے کہا۔ اگر تم اللہ کے بر حق رسول ہو تو کوئی معجزہ دکھلاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم کیا چاہتے ہو ؟ قوم ثمود نے کہا۔ اس پہاڑ سے ایک اونٹنی پیدا ہو اور اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی ہو جس کے بال سرخ ہوں تا کہ ہم اس کا دودھ استعمال کر سکیں۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی اسی وقت پہاڑ سے آواز آئی اس کے بعد ایک پتھر کا ٹکڑا درمیان سے شق ہو گیا اور اونٹنی نکل آئی۔ بد نصیب تباہ ہونے والی قوم نے بے تعمل کہنا شروع کر دیا کہ پتھر سے اونٹنی پیدا ہونا بالکل عقل کے خلاف ہے۔ صالح ( علیہ السلام ) رسول نہیں ہیں۔ بلکہ ( نعوذ باللہ) بہت بڑے ساحر ہیں۔ کفار آپس میں باتیں کر ہی رہے تھے کہ اونٹنی دومرتبہ بولی اور بچہ کے ساتھ چرنے لگی۔ قوم ثمود کے کافر سردار یہ دیکھ کر بولے کہ صالح ( علیہ السلام) کا اس سے زیادہ جادو اور کیا ہو سکتا ہے کہ اونٹنی کو پہاڑ سے پیدا کیا اور پھر اس کا بچہ بھی چرنے لگا۔ انہوں نے ہمارے اوپر جادو کر دیا ہے۔ ان لوگوں میں یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اونٹنی اپنے بچے کے ساتھ اس کنویں پر آئی جس سے پوری قوم ثمود پانی لیتی تھی۔ اور اس کا سارا پانی پی گئی۔ اس دن تو یہ خاموش رہے۔ دوسرے روز آپ علیہ السلام سے شکایت کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ایک دن اس کنویں سے تم لوگ پانی پیﺅ گے اور دوسرے دن یہ اونٹنی پیئے گی۔ لیکن دیکھو بھول کر بھی اس اونٹنی کو مارنے کا خیال اپنے دل میں نہیں لانا۔ کیوں کہ جب تک یہ اونٹنی زندہ رہے گی تب تک تم اللہ کے عذاب سے محفوظ رہو گے۔ ( تاریخ ابن خلدون جلد نمبر1علامہ عبدالرحمن بن خلدون حاشیہ حکیم حسین احمد الہ آبادی) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ یہ اونٹنی قوم ثمود کے لئے ایک امتحان تھی۔ یعنی آزمائش تھی۔ یہ دیکھنا مقصود تھا کہ کون اس معجزہ کی حقانیت پر ایمان لاتا ہے اور کون انکار کی روش اختیار کرتا ہے۔ جب ان لوگوںنے اس اونٹنی کو دیکھا تو انہیں اونٹنی کی صورت میں ایک عظیم معاملہ ، حیران کن منظر، قدرت ظاہرہ، دلیل قاطعہ اور برہان ِ ساطعہ نظر آیا۔ یہ دیکھ کر ان میں سے کئی تو ایمان لے آئے اور اسلام قبول کر لیا۔ ان میںحضرت جندع بن عمرو تھے۔ اور لوگ زواب بن عمرو اور حباب جو پجاری اور پنڈت تھے اور صمعر بن جلمس جو پروہت تھا ۔ ان کے بہکاوے میں آکر باقی لوگ کفر پر ڈٹے رہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” کہ انہوں نے اس پر زیادتی کی اور معجزہ دیکھ لینے کے باوجود بھی حق کو قبو ل نہیں کیا۔ “ (قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

حضرت جندع بن عمرو نے اپنے چچا زاد بھائی کو اسلام کی دعوت دی

اونٹنی کا معجزہ دیکھنے کے بعد جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ان کے سردار حضرت جندع بن عمر و تھے۔ قوم ثمود کے باقی سب لوگوں نے بھی اسلام قبول کر نے کی طرف رغبت ظاہر کی اور قریب تھا کہ پوری قوم ثمود اسلام قبول کر لیتی لیکن حضرت جندع بن عمرو کا سگا بھائی زواب بن عمرو قوم ثمود کا سب سے بڑے مندر کا پجاری تھا۔ اور سب سے بڑا مذہبی رہنما یعنی پروہت اور پنڈت تھا۔ اس کےساتھ ایک اور پجاری حباب تھا اور ایک کاہن یعنی پروہت صمعر بن جلمس تھا۔ ان تینوں کا قوم ثمود پر بہت اثر تھا۔ جب کہ حضرت جندع بن عمرو قوم ثمود کے حکمراں تھے۔ ان تینوں پنڈتوں ، پجاریوں نے جب دیکھا کہ قوم ثمود اونٹنی کے معجزہ سے بر ی طرح متاثر ہو گئی ہے انہوں نے بھڑکانا شروع کیا۔ اور اپنی لچھے دار باتوں سے انہیں اسلام قبول کرنے سے روک دیا۔ اور قوم ثمود کی اکثریت کافر ہی رہی۔ اس طرح ایک بھائی حضرت جندع بن عمرو اسلام کے سب سے بڑے علمبردار بنے۔ اور دوسرا بھائی کفر کا سب سے بڑا علمبردار بنا۔ حضرت جندع بن عمرو نے اپنے چچا زاد بھائی شہاب بن خلیفہ کو بلایااور وہ بھی سردار تھا۔ انہوں نے اسے اسلام کی حقانیت سمجھائی اور دعوت دی کہ اسلام قبول کر لو۔ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر لو گے۔ لیکن ان کا کافر بھائی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مسلسل اس کے کان بھرتا رہا۔ آخر وہ ان باتوں میں آگیا اور کفر پر ہی ڈٹا رہا۔ اس کے بارے میں ایک مسلمان مہرش بن غنمہ نے یہ کہا۔ آلِ عمرو کے ایک گروہ نے شہاب بن خلیفہ کو نبی علیہ السلام کے دین کی طرف بلایا۔ جو پوری قوم ثمود کا سردار ہے۔ اور اس نے دین ( اسلام ) کو قبول کرنے کا ارادہ کیا اور اگروہ مان جاتا تو حضرت صالح علیہ السلام ہم پر غلبہ پا لیتے اورلوگ اپنے کافرسردار زواب کی وجہ سے منہ نہیں موڑتے۔ لیکن آلِ حجر کے سرکشوں نے ہدایت کے بعدپیٹھ پھیر لی اور بدقسمت بن گئے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

اونٹنی کو قتل کرنے والا پیدا ہو گا

اللہ کی اونٹنی قوم ثمود کے درمیان رہ رہی تھی۔ اور وہ لوگ اس سے فائدہ بھی اٹھا رہے تھے۔ لیکن قوم کے کافر سرداروں یعنی پنڈتوں ، پجاریوں وغیرہ کو اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں قوم ثمود حضرت صالح علیہ السلام اور اونٹنی سے متاثر نہ ہو جائے۔ اسی لئے وہ لگاتار عوام کو اونٹنی کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ اس طرح کافی وقت گزر گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کیطرف وحی فرمائی کہ تمہاری قوم اونٹنی کو ذبح کر دے گی۔ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ تم لوگ اونٹنی کو ذبح کرنے کا ارادہ رکھتے ہو۔ تو قوم کے لوگوں نے انکار کیا اور کہا کہ ہم ہرگز یہ کام نہیںکریں گے۔ لیکن آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم میں ایک بچہ پیدا ہوگا۔ جو اس اونٹنی کو ذبح کردے گا۔ پوری قوم کے لوگوں نے بیک آواز کہا۔ آپ علیہ السلام ہمیں بچے کی علامت بتائیں ہم اسے قتل کر دیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اس بچہ کا رنگ سرخ ، زردی و سفیدی مائل ہوگا۔ اور کچھ نیلا ہوگا اور کچھ سرخ ہوگا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) ایک اور روایت میںہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کا رنگ سرخ ہوگا اور آنکھیں بلی کی طرح ہوں گی۔ ( حاشیہ تاریخ ابن خلدون ) تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کیطرف وحی فرمائی کہ عنقریب تمہاری قوم اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالے گی۔ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تو انہوں نے کہا۔ ہم اس طرح بالکل نہیں کریں گے۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ عنقریب ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی کونچیں کاٹ ڈالے گا۔ انہوں نے کہا۔ اس پیدا ہونے والے بچہ کی علامت کیا ہے؟ اللہ کی قسم ،جوں ہی ہم اسے پائیں گے تو قتل کر ڈالیں گے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ وہ بچہ اشقر یعنی زرد سرخ رنگ والا، ازرق یعنی نیلا، اصہب یعنی سرخی ملا سفید رنگ اوراحمر یعنی سرخ رنگ والا ہے۔ ( تفسیر درمنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)

اونٹنی کے قاتل کی پیدائش

حضرت صالح علیہ السلام نے قوم ثمود کو بتا دیا تھا کہ فلاں مہینے میں یہ لڑکا پیدا ہوگا۔ قوم ثمود کے دو بڑے سرداروں کی ایک مجلس میں یا پھر کسی میلے میں یا پھر کسی مندر میںملاقات ہوئی۔ ایک بہو کی تلاش میں تھا اور دوسرا داماد کی تلاش میں تھا۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کو اپنی اپنی پریشانی بتائی۔ اور ایک دوسرے کے سمدھی بن گئے۔ یعنی دونوںاپنی اولاد کی شادی کرنا چاہتے تھے۔ دونوںنے پوچھا کہ تم نے اپنی اولادکی شادی کیوں نہیں کی تو دونوںکا ایک ہی جواب تھا کہ مناسب رشتہ نہیں مل رہا ہے۔ بس دونوںنے اپنی اولاد کی شادی کر دی۔ اور ان دونوں کے یہاں وہ لڑکا پیدا ہوا۔ جس کے بارے میں حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ وہ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالے گا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، تفسیر در منشور جلد نمبر3)

قاتل بچے کی تلاش

حضرت صالح علیہ السلام سے قوم ثمود کے لوگوں نے اونٹنی کے قاتل بچے کے بارے میں پوچھا کہ اس کے ساتھ کیا کریں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ اسے تلاش کر کے قتل کر دو۔ اور بتایا کہ فلاں مہینے میں یہ بچہ پیدا ہوگا۔ قوم ثمود کے حکمراں نے اپنے سپاہیوںکے ساتھ آٹھ خرانٹ عورتوںکو اس قاتل بچے کی تلاش میں بھیجا۔ وہ ہر جگہ جاتیں جہاں بچے کی پیدائش ہوتی تھی۔ اگر لڑکی ہوتی توچھو ڑ دیتیں۔ جس مہینے کی آپ علیہ السلام نے نشاندہی کی تھی اس مہینے میں قوم ثمود کے نوسرداروں کے یہاں لڑکے پیداہوئے۔ جن میں سے آٹھ کو قتل کر دیا گیا۔ نویں بچے کے پاس جب سپاہی اور عورتیں پہنچیں تو صاف صاف نشانیوں سے پہچان لیا۔ اور شور مچانے لگیں کہ یہی وہ بچہ ہے۔ جس کے بارے میں صالح ( علیہ السلام ) نے خبر دی ہے۔ جب سپاہیوں نے اس بچے کو لے جانا چاہا تو اسکا دادا جو قوم ثمود کا ایک بڑا سردار تھا وہ درمیان میں آگیا۔ اور بچے کو لے جانے نہیں دیا۔ یہ بچہ تمام بچوںمیںسب سے زیادہ شرارتی تھا۔ اس بچے کی افزائش اتنی تیز تھی کہ جتناکوئی بچہ ایک ہفتہ میں بڑھتاتھا یہ صرف ایک دن میں بڑھ جاتا تھا۔ اور ایک ہفتے میں اتنا بڑا ہوتا تھا جتنا دوسرے بچے ایک مہینے میں بڑھتے تھے۔ اور ایک مہینے میں اتنا بڑا ہوتا تھا جتنا دوسرے بچے ایک سال میں بڑے ہوتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت بے رحم اور وحشی بھی تھا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

حضرت صالح علیہ السلام پر قاتلانہ حملہ کا منصوبہ 

حضر ت صالح علیہ السلام دن میں اپنی قوم والوں کو اسلام کی دعوت دیتے تھے اور رات کو اپنی مسجد میں چلے جاتے تھے جو بستی سے ذرا دور ایک پہاڑی کے دامن میں تھی۔ ابن جریح کی روایت میں ہے کہ جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس اونٹنی کو ذبح کر دے گا تو پوری قوم نے پوچھا کہ آپ ہمیں اس لڑکے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تمہیں قتل کا حکم دیتا ہوں۔ اب قوم ثمود کو جس بچے پر بھی شبہ ہوتا تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے۔ لیکن وہ اس بچے کو قتل نہیں کر سکے جس کو قتل کرنے کا آپ علیہ السلام نے حکم دیا تھا۔ اور صرف اسی بچے کو چھوڑ دیا۔ پھر جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں ۔یہ بچہ بہت جلد جوان ہو گیا۔ جب قوم ثمود نے اس بچے کی جوانی دیکھی تو آپس میں کہنے لگے کہ اگر صالح ( علیہ السلام ) ہمیں بچوں کے قتل کا حکم نہیں دیتے توہمارے بھی تمام بچے اس بچے کیطرح جوان ہو چکے ہوتے۔ ان میں وہ آٹھ سردار بھی تھے جن کے بچے قتل کئے جا چکے تھے۔ ان لوگوں نے ایک منصوبہ طے کیا کہ ہم میں سے چند لوگ سفر کے بہانے علانیہ بستی سے باہر نکلیں گے۔ اور رات کو دوبارہ بستی میں داخل ہوکرصالح( علیہ السلام) کو قتل کر دیں گے۔ اور لوگ ہمارے بارے میں گمان یہ کر یں گے کہ ہم تو سفر میں ہیں اور ہم پر شک نہیں کیا جائے گا۔ 

اللہ نے کافروں کی چال انہیں کو لوٹا دی

حضر ت صالح علیہ السلام کے قتل کا منصوبہ قوم ثمود کے کافروں نے بنایا ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا ۔ ترجمہ ” اس بستی میں نو سردار تھے جو زمین میں فساد پھیلاتے رہتے تھے۔ اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے آپس میںبڑی قسمیں کھا کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح ( علیہ السلام) اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے۔ اور اس کے وارثوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم ا س کی ہلاکت کے وقت موجود نہیں تھے۔ اور ہم بالکل سچے ہیں۔ انہوں نے مکر ( خفیہ تدبیر) کیا۔ اور ہم نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور وہ اسے سمجھتے ہی نہیں تھے۔ ( سورہ النمل آیت نمبر49اور 50) اُن آٹھ سرداروں جن کے بچوں کا قتل ہو چکا تھا انہوں نے اپنے ساتھ ایک اور سردار کو لیا۔ ان میں پنڈت اور پجاری زیادہ تھے۔ یہ نو سردار اپنے منصوبے کے مطابق حضر ت صالح علیہ السلام کی مسجد کے قریب چھپ گئے۔ آپ علیہ السلام کی مسجد پہاڑی کے دامن میں تھی۔ اور جہاں یہ لوگ چھپے ہوئے تھے وہاں ڈھلان پر ان سے کچھ دور پر ایک بہت بڑا گول پتھر یا چٹان پڑی ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا اور وہ چٹان لڑھک کر ان نو سرداروں کے اوپر آگئی۔ اور یہ سب اس کے نیچے دب کر ہلاک ہو گئے۔ صبح ہوتے ہی بستی کے لوگ اس امید میں آئے کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ) قتل ہو چکے ہوں گے۔ لیکن وہاں انہوںنے ان نو سرداروں کو کچلا ہوا پڑے دیکھا تو شور مچانے لگے کہ صالح ( علیہ السلام ) کو ہمارے بچوں کو قتل کر اکے بھی صبر نہیں آیا اور ہمارے نو سرداروں کو بھی قتل کر دیا۔ یہ خبر پوری قوم ثمود میں پھیل گئی اور وہ سب مشتعل ہو گئے۔ کیوں کہ ان کے مذہبی رہنماﺅں یعنی پنڈتوں اور پجاریوں کا قتل ہو اتھا۔ سب لوگ اونٹنی کو قتل کرنے کے ارادے سے اس کے پاس جمع ہو گئے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری تفسیر در منشور جلد نمبر5امام جلال الدین سیوطی، تفسیر انوارالبیان مولانا عاشق الٰہی مہاجر مدنی) کچھ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اونٹنی کو قتل کرنے کے بعد حضر ت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

حضرت صالح علیہ السلام 7 Story of Prophet Saleh


حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 7

اونٹنی کا قتل

اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کے مطالبے پر حضر ت صالح علیہ السلام کی دعا کو قبول کرتے ہوئے پہاڑ سے عجیب الخلقت اونٹنی نکالی تھی۔ وہ اونٹنی اتنی بھاری بھرکم اور بڑی تھی کہ جس دن وہ پانی پیتی تھی تو قوم ثمود کو پانی نہیں ملتا تھا۔ لیکن حضر ت صالح علیہ السلام ان سے کہتے کہ اس کا دودھ نکال لو تو پوری قوم ثمود اپنے اپنے برتن میں دودھ نکال لیتی تھی۔ اور اتنا دودھ نکلتا تھا کہ پوری قوم ثمود دو دنوں تک استعمال کرتی تھی۔ یہ ان کا بہت بڑا فائدہ تھا لیکن ان کا نقصان یہ تھا کہ اس اونٹنی کی خوراک بہت زیادہ تھی۔ وہ اتنا زیادہ کھاتی تھی کہ قوم ثمود کو اپنے جانوروں کی خوراک میں کمی کرنی پڑتی تھی۔ اسی لئے وہ لوگ اس اونٹنی کو دل ہی دل میں نا پسند کرتے تھے۔ اور جب انہوں نے آپ علیہ السلام پر قاتلانہ حملہ کیا تو وہ اس اونٹنی سے بہت زیادہ پریشان ہو چکے تھے۔ اور اس کے قتل کا بہانہ تلاش کر رہے تھے۔ اور قاتلانہ حملہ میں ناکامی اور اپنے نو سرداروں کی ہلاکت کے بعد ان کا صبر کا باندھ ٹوٹ گیا وہ بہت زیادہ غصے میں آگئے اور ان کو پنڈتوں اور پجاریوں نے جمع کر کے اونٹنی کے قتل پر اکسانا شروع کر دیا۔ بھڑکی ہوئی قوم ثمود نے اونٹنی کو گھیر لیا اور اس پر حملے کرنے لگے۔ لیکن کسی کا حملہ کا ر گر نہیںہو رہا تھا۔ آخر کار وہی بد بخت بچہ جو اب جوان ہو چکا تھا وہ آگے بڑھا اور اونٹنی کو قتل کر دیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس انہوں نے اس اونٹنی کو قتل کر دیا۔ اور اپنے رب کے حکم سے سر کشی کی ۔ اور کہنے لگے اے صالح ( علیہ السلام ) جس کی ( عذاب کی) آپ دھمکی دے رہے ہیں تو اگر آپ سچے ہیں تو اس کو منگوائیے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر77) اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر بھی ان لوگوں نے اس اونٹنی کے پاﺅں کاٹ ڈالے۔ اس پر صالح ( علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اچھا اب تم اپنے گھر وںمیں تین دن تک رہ لو ،یہ وعدہ جھوٹا نہیںہے۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر65) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں بس وہ پشیمان ہو گئے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر157) اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوںنے ( قوم ثمود نے) اپنے رفیق کو آواز دی۔ جس نے وار کیا اور کوچیں کاٹ دیں۔“ ( سورہ القمر آیت نمبر29) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشمس میں فرمایا۔ ترجمہ ” قوم ثمود نے اپنی سر کشی کے باعث جھٹلایا جب اُن میں کا ایک بڑا بد بخت اٹھ کھڑا ہوا ۔ انہیںاللہ کے رسول ( حضر ت صالح علیہ السلام ) نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی اور اس کے پانی پینے کی باری کی ( حفاظت کرو) ان لوگوںنے رسول کو جھوٹا سمجھ کراس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر ہلاکت ڈال دی۔ اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کر دیا۔ “ ( سورہ الشمس آیت نمبر11سے 14تک)

قوم ثمود نے اس بد بخت جوان کے ساتھ مل کر اونٹنی کا قتل کیا

قوم ثمود اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے چلی تو سب سے آگے وہی بد بخت جوان تھا ۔ جس کے بارے میں حضر ت صالح علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ وہی اونٹنی کو قتل کرے گا۔ وہ بد بخت جوان آگے بڑھا اور قوم ثمود کے لوگوںکو پکارا کہا آگے بڑھو اور اونٹنی پر حملہ کرو ۔ قوم ثمود کے کافرسرداریعنی پنڈت اور پجاری وغیرہ بھی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ اور پوری قوم اونٹنی کو گھیرے ہوئے تھی۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں اب یہ سب لوگ جمع ہو کر اونٹنی کو ذبح کرنے کے لئے چلے ۔ اونٹنی حوض کے پاس کھڑی تھی۔ ان میں سے ایک بد بخت شخص نے ایک آدمی کو پکارا کہ آ، اور اسے ذبح کر دے۔ وہ شخص آگے بڑھا اور بہت کوشش کی کہ اونٹنی کو ذبح کر دے۔ لیکن ہر طرح کا وار کرنے کے بعد ناکام ہو گیا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ کام اس کی طاقت کے باہر ہے تو وہ واپس چلا گیا۔ اور اسی طرح بہت سے آدمی آگے بڑھے اور اونٹنی کو ذبح کرنے میں ناکام ہونے کے بعد واپس چلے گئے۔ اور اس بد بخت شخص سے کہا تم ہی کچھ کرو۔ وہ بد بخت بہت ہی طاقتور اور وحشی تھا۔ آخر کار وہی بد بخت آگے بڑھا اور ایک ہی وار میں اونٹنی کا قتل کر دیا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ ابو جعفرمحمد بن جریر طبری، تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ جب انہوں نے حضر ت صالح علیہ السلام کو قتل کرنے کے لئے تاک میں بیٹھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر چٹان گرا دی اور انہیں کچل ڈالا۔ پس انہوں نے دیکھا کہ وہ سب کچلے ہوئے پڑے ہیں۔ لوگ چیختے چلاتے بستی کی طرف بھاگے کہ صالح علیہ السلام کو تمہارے بچوں کو قتل کر کے چین نہیں آیا کہ تمہارے سرداروں کو بھی قتل کر دیا۔ اس کے بعد اونٹنی کو مارنے کے لئے سب لوگ جمع ہو گئے۔ ہر کسی نے کوشش کی لیکن ہر کوئی ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گئے مگر اس دس سالہ بچے نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ ( تفسیر درمنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی ) 

اونٹنی کا قتل پوری قوم کی مرضی سے ہوا

قوم ثمود کے ساتھ اونٹنی لگ بھگ دس بارہ سال رہی۔ اور اتنے عرصے میں پوری قوم اللہ کی اس نشانی سے بیزار ہو چکی تھی کیوں کہ اسکی وجہ سے انہیں کھانے اورپانی کی بہت پریشانی ہو رہی تھی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ جب یہ سلسلہ طویل ہو ا تو قوم کے لوگ اکٹھے ہوئے اوریہ طے پایا کہ اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈالی جائیں۔ تاکہ وہ چین سے رہ سکیں اور انہیں ضرورت بھر پانی میسر آسکے۔ شیطان ابلیس نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ بہت اچھے تم حق پر ہو۔ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اس فتنے سے بچاﺅ کی یہی صورت ہے۔ جس شخص نے اونٹنی کو قتل کر نے کی حامی بھری وہ ان کا سردار قدار بن سالف تھا۔ ( یہ وہی بچہ تھا جس کے بارے میں آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ وہ اونٹنی کو قتل کرے گا۔ (وہ دس سال کی عمر میں بھر پور جوانوں سے بڑا دکھائی دیتا تھا)اس کا رنگ گورا اور بال سرخ تھے۔ اور مشہور تھا کہ وہ ولد الزنا ہے ۔ لیکن چونکہ سالف کے یہاں پیدا ہوا تھا اس لئے اس کا بیٹا کہلاتا تھا۔ در اصل اس کا باپ اسکی ماں کا ایک عاشق تھا۔ جس کا نام صبیان تھا۔ اونٹنی کا قتل تمام لوگوں کی متفقہ رائے سے ہوا تھا۔ اسی لئے اسے پوری قوم کی طرف منسوب کیا گیا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر ) تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ اونٹنی کو قتل کرنے والے نے کہا۔ میں اسے اس وقت تک قتل نہیں کروں گا جب تک کہ پوری قوم کی مرضی نہیں ہوگی۔ اسی لئے وہ ایک ایک فرد سے ملا۔ یہاں تک کہ پردہ دار عورتوں سے بھی پوچھا کہ کیا تم اونٹنی کے قتل پر راضی ہو؟ تو سب نے کہا ہاں ہم چاہتے ہیں کہ اونٹنی قتل ہو جائے۔ اس نے قوم کے ایک ایک بچے سے پوچھا اور ہر بچے نے رضا مندی ظاہر کی۔ تو اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ ( تفسیر درمنشورجلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)

اونٹنی کے قاتلوں کو دو عورتوں نے اکسایا

اللہ کی اونٹنی سے پوری قوم ثمود دشمنی کر رہی تھی۔ لیکن ان میں دو عورتیں سب سے آگے آگے تھیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ علامہ محمد بن جریر طبری اور دوسرے مفسرین نے لکھا ہے کہ قوم ثمود کی دو عورتوں کا اونٹنی کے قتل میں خصوصی کردار ہے۔ ان میں سے ایک کا نام ” صدوقہ“ بتایا جاتا ہے۔ جو محیا بن زبیر کی بیٹی تھی۔ یہ عورت حسب نسب میں اعلیٰ اور شیریں گفتار تھی۔ صدوقہ کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی تھی جس نے بعدمیں اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا اور کافرہ ہی تھی۔ اسی لئے دونوں میں طلاق ہو گئی۔ شوہر حضر ت صالح علیہ السلام کیوجہ سے اس سے الگ ہوا تھا۔ اس لئے وہ آپ علیہ السلا م کی سب سے بڑی مخالف تھی۔ صدوقہ نے اپنے چچا زادبھائی مصرع بن مہرج کو بلایا۔ او راس سے کہا ۔ اگر تو اونٹنی کی کونچیں کاٹ دے گا تو میں اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دوں گی۔ دوسری عورت کا نام عنیزہ تھا۔ جو غنیم بن مجلو کی بیٹی تھی۔ اور اُم غنمہ کی کنیت سے مشہور تھی۔ یہ بوڑھی عورت تھی اور بتوں کی پجارن تھی۔ اس کا شوہر زواب بن عمرو اپنے قبیلہ کا سردار اور قوم ثمود کا سب سے بڑا مذہبی رہنما یعنی پنڈت اور پجاری تھا۔ ( آپ کو زواب بن عمرو یا د ہوگا یہ ان ہی حضرت جندع بن عمرو کا بھائی ہے جنہوں نے اونٹنی کا معجزہ دیکھ کر اپنے قبیلے اور ساتھیوں کےساتھ اسلام قبول کر لیا تھا۔ اور یہ بد بخت قوم ثمود کو بھڑکا کر اسلام قبول کرنے سے روک رہا تھا) اس بوڑھی پجارن کی چار کافر خوب صورت بیٹیاں تھیں۔ اس بوڑھی پجارن نے قدار بن سالف ( یہ وہی بد بخت ہے جس کے بارے میں آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اونٹنی کو قتل کرے گا) سے کہا کہ اگر تو اونٹنی کو قتل کر دے گا تومیری جس بیٹی پر ہاتھ رکھ دے گا وہ تیری ہو گی۔ دونوں جوانوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کی حامی بھر لی۔ 

پوری قوم ثمود اونٹنی کے قتل پر راضی ہو گئی

قوم ثمود کی ان دو بد بخت عورتوں نے دو بد بخت جوانوں کو اونٹنی کے قتل کے لئے راضی کر لیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ دونوں جوانوں نے اونٹنی کو قتل کرنے کی حامی بھر لی اور اپنی قوم کو اس کام کےلئے راضی کرنے لگے۔ اس کام میں ان دونوں نے سات اور جوانوں کو شامل کر لیا۔ اس طرح ان کی تعداد نو ہو گئی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس بستی میں نو شخص تھے جو فتنہ و فساد برپا کرتے تھے۔ اور اصلاح کی کوئی کوشش نہیں کرتے تھے۔ “ ( سورہ نمل ) یہ لوگ پوری قوم ثمود میں گھوم گھوم کر اونٹنی کے قتل کے بارے میں لوگوں کو راضی کرنے لگے۔ اور اس کے فوائد بتانے لگے۔ قوم کے لوگ پہلے ہی اس اونٹنی سے نالاں تھے۔ اس لئے سب نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شاباشی دینے لگے۔ اور اس کام میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ اس طرح پوری قوم ثمود نے اونٹنی کے قتل پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ تو بدمعاشوں کا یہ گروہ گھات لگا کر اونٹنی کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ جیسے ہی اونٹنی اپنے بچے کے ساتھ پانی پینے کے لئے آئی تو تو سب سے پہلے مصرع نے تیر مارا اور باقی ساتھیوں کو بھی تیر مارنے کو کہا۔ اور قدار انہیں تیر مارنے پر اکسا رہا تھا۔ انہوںنے اونٹنی پر تیروں کی بارش کر دی۔ لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا تھا۔ آخر کار قدار بن سلف نے تیر اندازی بند کر نے کا اشارہ کیا اور تلوار لے کر اونٹنی پر حملہ آور ہو گیا اور اسے قتل کر دیا۔ اونٹنی کا بچہ بھاگا اور ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مرتبہ بلبلایا۔ ( یعنی چلّایا) (قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

قوم ثمود کی سر کشی اور پھر پشیمانی

اللہ کی نشانی اونٹنی کو قوم ثمود کے بد بختوں نے قتل کر دیا۔ اس قتل کے لئے بڑے بڑے کافر سردار اور مذہبی رہنما یعنی پنڈت اور پجاری عوام کے ساتھ مل کر ان جوانوں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ ہر ایک پر جنون سوار تھا۔ مسلمانوں نے فوراً جا کر حضر ت صالح علیہ السلام کو خبر دی تو آپ علیہ السلام دوڑتے بھاگتے ہوئے اس جگہ پہنچے تو دیکھا کہ پوری قوم ثمود جمع ہے۔ اور قدار بن سلف کے ہاتھ میں خون آلود تلوار ہے۔ اور اونٹنی دم توڑ چکی ہے۔ قدار بن سلف اور پنڈتوں اور پجاریوں نے جب آپ علیہ السلام کو دیکھا تو کہا ہم نے اس اونٹنی کو قتل کر دیا ہے۔ اب تم وہ عذاب ہمارے اوپر لے آﺅ جس کی ہمیں دھمکیاں دےا کرتے تھے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس انہوں نے اونٹنی کو قتل کر دیا۔ اور اپنے رب کے حکم سے سر کشی کی۔ اور کہنے لگے۔ اے صالح ( علیہ السلام ) جس کی ( عذاب کی ) آپ ہمیں دھمکی دے رہے ہیں۔ اگر سچے ہیں تو اس کو منگوائیے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر77) آپ علیہ السلام نے اونٹنی کی لاش کو دیکھا اور پوری قوم ثمود کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ تم لوگوں نے وہی کیا جس سے میں نے تمہیں منع کیا تھا۔ اب اللہ کا عذاب آنا تم لوگوں پر واجب ہو گیا ہے۔ یہ سن کر قوم ثمود کے تمام لوگوں کو جیسے ہوش آگیا اور انہیں تب سمجھ میں آیا کہ ہم کتنا خطرناک کام کر چکے ہیں۔ سب لوگ آپ علیہ السلام کے سامنے صفائی دینے لگے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ” پھر بھی انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں۔ بس وہ پشیمان ہو کر رہ گئے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر157) وہ لوگ پچھتانے لگے اور آپ علیہ السلام سے عذاب سے چھٹکارے کی درخواست کرنے لگے۔

بچہ کو ڈھونڈو اگر مل گیا تو عذاب ٹل جائے گا

قوم ثمود نے اونٹنی کو قتل کر دیا۔ اور جب حضر ت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ اب اللہ کا عذاب آنا تم پر واجب ہو گیا ہے تو انہیں سمجھ میں آیا کہ ہم نے جوش جذبے اور نفرت سے کام لے کر اپنی ہلاکت مقدر کر لی ہے۔ تو پوری قوم آپ علیہ السلام کے سامنے گڑ گڑانے لگی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اونٹنی کے بچہ کو ڈھونڈو اگر وہ مل جائے تو اس کی خدمت کرو۔ ہو سکتا ہے اس طرح تم پر سے اللہ کا عذاب ٹل جائے۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ جب حضر ت صالح علیہ السلام بستی میں داخل ہوئے تو اونٹنی کا بچہ بھاگتا ہوا ملا۔ وہ آپ علیہ السلام کےسامنے آکر رونے لگا اور تین مرتبہ خوف سے بلبلایا۔ ( یعنی چلّایا) اسے کے بعد بھاگتا ہوا ایک پہاڑی پر چڑھ گیا۔ آپ علیہ السلام جب وہاں پہنچے جہاں اونٹنی کی لاش پڑی تھی اور پوری قوم ثمود جمع تھی جب آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اب اللہ کا عذاب تم پر واجب ہو گیا ہے تو قوم والے آپ علیہ السلام سے معذرت کرنے لگے۔ اور کہنے لگے کہ ہم نے اونٹنی کو ذبح نہیں کیا ہے بلکہ فلاں شخص نے اسے ذبح کیا ہے۔ اس کام میں ہمارا کوئی جرم نہیں ہے۔ آپ علیہ السلام سے اللہ کے عذاب کوروکنے کی دعا کرنے کی درخواست کرنے لگے۔ آ پ علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر تم اس اونٹنی کے بچے کو ڈھونڈ کر لے آﺅ گے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر سے عذاب دور کر دے ۔ اب پوری قوم اونٹنی کے بچے کو تلاش کرنے لگی۔ لیکن اونٹنی کے بچے نے جب دیکھا کہ اس کی ماں پر حملہ ہو رہا ہے تو وہ وہاں سے بھاگ کر قارہ نام کی ایک پہاڑی پر چڑھ گیا تھا۔ قوم ثمود کے لوگ اس پہاڑی پر اس بچے کو تلاش کرنے لگے۔ لیکن وہ نہیں ملا۔ اور یہ لوگ ناکام واپس آئے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اونٹنی کا بچہ بھاگ کر ایک بلند و بالا ناقابل عبور چوٹی پر چڑھ گیا اورتین مرتبہ بلبلایا ۔ امام عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ اس بچے نے پہاڑ پر کھڑے ہو کر انسانوں کی سی زبان میں کہا۔ اے میرے رب، میری ماں کہاں ہے؟ پھر اسی چٹان میں داخل ہوگیا اور کسی کو نظر نہیں آیا۔ کچھ لوگ یہ بھی بیان کرتے ہیں ان بد بختوں نے بچے کو بھی قتل کر دیا تھا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

حضرت صالح علیہ السلام 8 Story of Prophet Saleh

 

حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 8

تین دن دنیا میں رہ لو

حضر ت صالح علیہ السلام نے قوم ثمود سے فرمایا تھا کہ بچہ کو ڈھونڈو اگر وہ مل گیا تو ہو سکتا ہے کہ اللہ کا عذاب ٹل جائے لیکن جب وہ لوگ ناکام واپس آئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہیں تین دن کی مہلت ہے دنیا میں جتنا فائدہ اٹھا سکتے ہو اٹھا لو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب تمہیں جکڑ لے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر بھی اُن لوگوں نے اس اونٹنی کے پاﺅں کاٹ ڈالے۔ اس پر صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ اچھا اب تم اپنے گھروں میں تین دن رہ لو۔ یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے۔ “ (سورہ ہود آیت نمبر65) تفسیر در منشور میں لکھا ہے کہ پھر وہ اکٹھے ہو کر اونٹنی کے پاس گئے۔ وہ اس وقت اپنے حوض پر کھڑی تھی ۔تو ان میں سے ایک بد بخت انسان آگے بڑھا اور ان میں سے ایک آدمی کو دعوت دی کہ وہ آگے بڑھ کر اونٹنی کو قتل کر دے۔ وہ آگے بڑھا مگر اس کو بہت بڑا کام سمجھ کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس بد بخت نے دوسرے کو بلایا تو اس نے بھی اسے انتہائی عظیم کام سمجھ کر انکار کر دیا۔ اس طرح اس نے کئی افراد کو بلایا اور حملے کی دعوت دی۔ لیکن کسی کی ہمت اور جرا¿ت نہیں ہوئی کہ وہ اونٹنی پر حملہ کر سکے۔ آخر کار وہ بد بخت خود ہی آگے بڑھا اور تیزی سے اس کی کونچوں پر ضرب لگائی۔ جس کے نتیجے میں اونٹنی گر گئی اور پاﺅں مارنے لگی۔ اسی دوران حضر ت صالح علیہ السلام کو خبر دی گئی تو آپ علیہ السلام آئے تو قوم والے معذرت کرنے لگے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ بچہ کو ڈھونڈو اگر وہ مل گیا تو بچ سکتے ہو۔ بچے نے جب ماں کو تڑپتے دیکھا تو قارہ نام کے پہاڑ پر چڑھ گیا تھا۔ ان لوگوں نے تلاش کیا مگر وہ نہیں ملا۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تمہیں تین دن کی مہلت ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ اونٹنی کے بچے نے جب آپ علیہ السلام کو دیکھا تو رونے لگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنسو بہنے لگے۔ پھر وہ خوب شدت سے بلبلایا۔ پھر دوسری بار اور پھر تیسری بار بھی اسی طرح بلبلایا۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ ہر بار بلبلانے کے بدلے ایک موت ہے۔ پس تم تین دن تک اپنے گھروں میں لطف اندوز ہو لو۔ اور یہ ایسا وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیںجا سکتا۔ 

اونٹنی کا گوشت تقسیم کر لیا

تفسیر انوار البیان میں ان دونوں عورتوں اور مصدع اور قدار کا واقعہ پیش کرنے کے بعد آگے لگھا ہے کہ پھر قدار نے اس کو ذبح کر دیا۔ اور بستی کےلوگ نکلے اور اس کا گوشت آپس میں تقسیم کرلیا۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تم لوگ تین دن اپنے گھرں میں فائدہ اٹھالو۔ اور یہ جھوٹا وعدہ نہیں ہے۔ ( تفسیر انوارالبیان جلد نمبر2مولانامحمد عاشق الٰہی مہاجر مدنی) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ پس ان سب نے اونٹنی کے ٹخنے کی پچھلی رگیں کاٹ دیں۔ جس سے سار ا خون بہہ گیا اور وہ مر گئی۔ ذبح کرنے اور کاٹنے والا صرف ایک شخص قدار بن سالف تھا مگر چونکہ سب کافروں کے مشورے اور حکم سے ایسا کیا تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ پھر گوشت بنا کر سب نے تقسیم کر کے کھالیا۔ کافروں کی یہ خبائت دیکھ کر حضر ت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ ۔ تین دن تک عیش کر لو اپنے گھروںمیں۔ (تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر تبیان القران میں لکھا ہے کہ امام ابن ابی حاتم اپنی سند کے ساتھ امام محمد بن اسحاق سے روایت کرتے ہیں۔ جب اونٹنی پانی پی کر لوٹ رہی تھی تو وہ اس کی گھات میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک چٹان کے ایک حصے کے پیچھے قدار اوردوسرے حصے کے پیچھے مصدع بیٹھاہوا تھا۔ جب وہ اس کے پاس سے گزری تو مصدع نے پنڈلی کے گوشت پر تاک کر تیر مارا اور قدار اس پر تلوار لے کر حملہ آوار ہوا۔ اور اس کی کونچوں پر تلوار ماری۔ وہ چیخ مار کر گر پڑی۔ انہوں نے اس کی ٹانگوں کو باندھ دیا۔ پھر اس کے لُبّہ ( گردن کے نچلے حصہ) پر نیزہ مار کر اس کو نحر ( ذبح) کر دیا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم ) ابو ازیل نے بیان کیا ہے کہ جب اس اونٹنی کی کونچیں کاٹی گئیں تو اس کا بچہ چیختا ہوا پہاڑوں کی طرف بھاگ گیا۔ پھر دوبارہ اس کو نہیں دیکھا گیا۔ ( تفسیر ابن ابی حاتم) پھر حضر ت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ تین دن اپنے گھروں میںعیش کر لو۔ (تفسیر تبیان القران جلد نمبر5علامہ غلام رسول سعیدی)

اللہ کے عذاب کی علامتیں

جب قوم ثمود اونٹنی کے بچہ کو نہیں لا سکی تو حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تم تین دن تک اپنے گھروں میں اس دنیا کے لطف اٹھا لو ۔ اس کے بعد اللہ کا عذاب آئے گا۔ قوم ثمود کے پنڈت اور پجاری آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے کہ کوئی عذاب وغیرہ کچھ نہیں آئے گا۔ تب آپ علیہ السلام نے انہیں بتا یا کہ تمہیں تین دنوں کی مہلت دی گئی ہے۔ اس میں عذاب کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گی۔ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ( پیلے) ہو جائیں گے۔ دوسرے دن تمہارے چہرے سرخ ( لال ) ہو جائیں گے۔ اور تیسرے دن تمہارے چہرے سیاہ (کالے) ہو جائیں گے۔ تفسیر تیسر الرحمن لبیان القران میں لکھا ہے کہ انہوں نے بدھ کے دن اونٹنی کو قتل کیا تھا اس کے بعد تین دن ( جمعرات ، جمعہ اور سنیچر) زندہ رہے۔ اور اتوار کے دن صبح کے وقت ان پر اللہ کا عذاب آیا۔ ( تفسیر تیسر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی) تفسیر معارف القران میں لکھا ہے ۔ کہ اب وہ عذاب اس طرح آیا کہ ان کو تین روز کی مہلت دی گئی اور بتلا دیا گیا کہ چوتھے روز تم سب ہلاک کئے جاﺅ گے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ یہ تین روز جمعرات ، جمعہ اور سنیچر تھے۔ اور اتوار کے روز ان پر عذاب نازل ہوا۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع ) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا۔ کر لو عیش تین دنوں تک اپنے شہروں میں یا اپنے علاقوں میں یا اپنے گھروں میں یا اپنے ٹھکانوں میں اور صرف تین دن۔ ان لوگوں نے بدھ کی رات کو اونٹنی کو ذبح کیا ۔ (تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

عذاب سے پہلے تین موت

حضرت صالح علیہ السلام نے جب قوم ثمود سے فرمایا کہ تین دنوں کے بعدا للہ تعالیٰ کا عذاب آئے گا۔ تو کافر سرداروں یعنی پنڈتوں اور پجاریوں نے عوام سے کہا کہ کوئی عذاب وغیرہ نہیں آئے گا۔ تب آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ عذاب آنے سے پہلے تم لوگ تین موت مرو گے اور عذاب کی علامتیں بتائی۔ پہلے دن صبح ہوئی تو پوری قوم ثمود نے پہلی علامت کو دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ پنڈتوں اور پجاریوں کا بھی وہی حال تھا۔ جو عوام کا تھا۔ اب پوری قوم سمجھ گئی تھی کہ حضرت صالح علیہ السلام سچے ہیں اور ہمارے مذہبی رہنما یعنی پنڈت اور پجاری اور پروہت وغیرہ جھوٹے ہیں۔ خود وہ مذہبی رہنما عوام کے سامنے شرمندہ شرمندہ تھے۔ اور اقرار کر لیا تھا کہ ہم جھوٹے ہیں۔ اب تو بہ کا وقت بھی گزر گیا تھا۔ اور حضرت صالح علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر ان کے علاقے سے دور چلے گئے تھے۔ پہلے دن پوری قوم پہلی موت کا شکار ہوئی۔ یعنی انہیں یقین ہو گیا کہ دو دنوں بعد ہم ہلاک ہو جائیں گے۔ یہ ایسی حالت تھی کہ وہ کھانا پینا اور دنیا کی ہر چیز بھول گئے اور صرف افسوس کرتے بیٹھے تھے۔ دوسرے دن دوسری موت یہ ہوئی کہ ان لوگوں نے ہنسنا بولنا چھوڑ دیا۔ بس ایک دوسرے کے چہرے دیکھتے تھے اور ہر ایک کی آنکھوںمیں حسرت ، یاس ، مایوسی اور خوف نظر آرہاتھا۔ اور تیسرے دن تیسری موت یہ ہوئی کہ پوری قوم یہ سمجھ گئی تھی کہ یہ ہماری زندگی کا آخری دن ہے۔ اگر کسی شخص کو معلوم ہو جائے کہ آج میرا آخری دن ہے اور کل مجھے موت آجائے گی تو پورا دن اس کے لئے بے انتہا اذیت بھرا گزرے گا۔ اوریہی اذیت ان کی تیسری موت تھی۔

تین دنوںمیں قوم ثمود کی حالت

حضرت صالح علیہ السلام کےسامنے تین مرتبہ اونٹنی کا بچہ چلایا تھا یعنی بلبلایا تھا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ تین مرتبہ بلبلانے کے بدلے تین موت ہے۔ اب تم تین دنوں تک ( اس دنیا میں )اپنے گھروں میں مزے کر لو ۔ اور یہ ایسا وعدہ ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا ہے۔ خبردار، عذاب کی نشانی یا علامت یہ ہے کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ( پیلے) ہو جائیں گے۔ دوسرے دن سرخ ہو جائیں گے۔ اور تیسرے دن سیاہ ( کالے ) ہو جائیں گے۔ جب انہوں نے صبح کی تو ان کے چھوٹے بڑے اورمردوں اور عورتوں کے چہرے اس طرح زرد یعنی پیلے پڑ چکے تھے گویا ان پر زعفران کا طلاءکر دیا گیا ہے۔ (پوری قوم کے بچے، جوان ، بوڑھے مردا ور عورتیں جب صبح اٹھے تو ایک دوسرے کے چہروں کو دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئے۔ ہر ایک کا چہرہ پیلا نظر آرہا تھا۔ اور اتنا زیادہ پیلا تھا کہ جیسے ہلدی کا لیپ لگایا ہو۔ ہر جگہ گھروںمیں ، گلیوں میں ، محلوںمیں، بازاروںمیں، چوک میں صرف پیلے پیلے چہرے نظر آرہے تھے) جب اس دن کی شام ہوئی تو پوری قوم ثمود کا ہر فرد چیخنے چلانے لگا کہ موت کا پہلا دن گزر گیا ہے اور عذاب قریب آگیا ہے پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی ان کے چہرے سرخ ہو چکے تھے۔ گویا انہیںخون سے رنگ دیا گیا ہے۔ ( پوری قوم ثمود کے چہرے لال ہو چکے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر شخص کا چہرہ خون سے نہایا ہو اہے۔ اور وہ خوف زدہ اور مایوس ہو کر ایک دوسرے کے چہروں کو دیکھ رہے تھے) پوری قوم ثمود چیخ و پکار کرنے لگی۔ شور و غوغامچانے لگی۔ اور قوم کا ہر فرد رونے لگا۔ اور انہیں پورا یقین ہو گیا کہ یہ عذاب ہے۔ پھر جب دوسرے دن شام ہو ئی تو پوری قوم ثمود کے لوگ رونے اور چلانے لگے کہ دو دن گزر گئے اور عذاب اور زیادہ قریب آچکا ہے۔ اس کے بعد جب تیسرے دن صبح ہوئی تو ان سب کے چہرے سیاہ ہو چکے تھے۔ اور ایسا لگ رہا تھا جسیے ان کے چہروں پر ڈامر لیپ دیا ہو۔ وہ حسرت ، مایوسی اور اداسی سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے) پھرقوم ثمود کا ہر فرد رونے ، چلانے اور ماتم کرنے لگا۔ ( حضرت صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا تھا کہ تین دن مزے کر لو لیکن وہ تین دن ان کے لئے انتہائی اذیت ناک گزرے اور مزے کرنے کی بجائے ان لوگوںکے تین دن رونے اور ماتم کرنے میں گزرے ۔ پوری قوم ثمود کے لوگ کھانا پینا بھول گئے۔ بلکہ سونا بھی بھول گئے اور ان کی آنکھوں کی نیند بھی اڑ گئی تھی) تیسرا دن بھی گزر گیا اور شام ہوئی تو سب کے سب چلانے لگے۔ کہ اب ہم پر عذاب آگیا ہے۔ پس انہوںنے کفن پہن لئے اور حنوط لگا لیا ( تفیسر در منشور جلد نمبر 3امام جلال الدین سیوطی، قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریری طبری)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

حضرت صالح علیہ السلام 9 Story of Prophet Saleh


حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 9

اللہ کا عذاب آگیا

قوم ثمود تین دن میں تھوڑا تھوڑا مرتی رہی۔ آخر کار تیسرے دن انہوںنے اپنے کفن پہن لئے اور اپنے جسموں کو حنوط کر لیا۔ ( پہلے زمانے میں حنوط کرنے کا رواج تھا۔ حنوط اس طرح کیا جاتا تھا کہ مردے کے جسم کے اندر کی الائشیں نکال کر مسالہ بھر دیا جاتا تھا اور اوپر سے بھی جسم پر مسالہ لگا لیا۔ ) ان کا حنوط ایلو ا اور گوند کا تھا۔ اور انکے کفن چمڑے کے تھے ۔ اس کے بعد پوری قوم ثمود لیٹ گئی اور رات بھر اس انتظار میں کبھی آسمان کی طرف دیکھتی کہ شاید ادھر سے عذاب آئے گا اور کبھی زمین کی طر ف دیکھتے تھے۔ کہ شاید عذاب ادھر سے آئے۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان پر عذاب کہاں سے آئے گا۔ آسمان سے ان کے اوپر عذاب آئے گا یا زمین سے آئے گا۔ یعنی پتہ نہیں انہیں زمین میں دھنسایا جائے گا یا آسمان سے پتھر برسائے جائیں گے۔ پھر ساری رات اسی دہشت میں گزری اورچوتھے دن صبح ہوتے ہی اللہ کا عذاب آگیا۔ آسمان کی جانب سے انتہائی سخت اور بھیانک اور تیز گرجدار آواز آئی۔ اس میں ہر قسم کی گرج کی آواز تھی۔ اور زمین میں رہنے والی ہر شئے کی آواز بھی تھی۔ یہ آواز اتنی تیز تھی کہ صرف آواز سے ان کے دل ان کے سینوں میں پھٹ گئے اور وہ اپنے گھروں میں ہی زمین پر پڑے رہ گئے۔ ( المستدرک امام حاکم ، تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیطوطی، تاریخ امم والملوک تاریخ طبری ، قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری ، قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) 

قوم ثمود پر عذاب کس طرح آیا

قوم ثمود پر اللہ کا عذاب آیا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” پس ان کو زلزلہ نے آپکڑا او وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر78) یہاں اللہ تعالیٰ نے ”رجفة“کا لفظ فرمایا ہے۔ سورہ ہود میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور ظالموں کو بڑے زور کی چنگھاڑ نے آدبوچا۔ پھر تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر67) یہاں اللہ تعالیٰ نے ” صیحة“ کا لفظ فرمایاہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحجر میں فرمایا۔ ترجمہ ” آخر انہیں بھی صبح ہوتے ہوتے چنگھاڑنے آدبوچا۔ پس انکی کسی تدبیر و عمل نے انہیں کوئی فائدہ نہیں دیا۔ “ (سورہ الحجر آیت نمبر83اور 84) یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ”صیحة “ کا لفظ فرما یا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ حٰم السجدہ میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اب بھی لوگ رو گرداں ( یعنی اسلام سے چہرے پھیر لیں اور کفر پر اڑے رہیں) ہوں تو ( ان سے ) کہہ دیں کہ میں تمہیں اس کڑک ( آسمانی عذاب ) سے ڈراتاہوں جو اس کڑک کی طرح ہو گی جو قوم عاد اور قوم ثمود کی طرف بھیجی گئی تھی۔ “ ( سورہ حٰم السجدہ آیت نمبر13) اللہ تعالیٰ نے یہاں ” صاعقہ “ کا لفظ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الذاریات میں فرمایا۔ ترجمہ اور ثمود ( کے قصے) میں بھی ( عبرت) ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ تم کچھ دنوں تک فائدہ اٹھا لو۔ لیکن انہوںنے اپنے رب کے حکم سے سر تابی کی۔ جس پر انہیں دیکھتے ہی دیکھتے ( تیز و تند) کڑاکے نے ہلاک کر دیا۔ “ ( سورہ الذاریات آیت نمبر43اور 44) یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ” صاعقہ “کا لفظ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر میں فرمایا۔ ترجمہ ” ہم نے ان پر ایک چیخ بھیجی۔ پس وہ ایسے رہ گئے جیسے کانٹوںکی اوندھی ہوئی باڑ“( سورہ القمر آیت نمبر31) یہاں اللہ تعالیٰ نے ” صیحة “ کا لفظ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحاقہ میں فرمایا ۔ ترجمہ ” اس کھڑ کا دینے والی کو ثمود اور عاد نے جھٹلادیا تھا۔ (جس کے نتیجہ میں ) ثمود تو بے حد خوفناک ( اور اونچی) آواز سے ہلاک کر دیئے گئے۔ ( سورہ الحاقہ آیت نمبر4اور 5) یہاں اللہ تعالیٰ نے ” الحاقہ“ اور ”طاغیہ “ کا لفظ فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بتایا کہ قوم ثمود پر عذاب کس طرح آیا۔

عذاب زمین و آسمان سے آیا

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ بتایا کہ قوم ثمود پر کس طرح عذاب آیا۔ ہم نے یہاں پر کچھ آیات پیش کی ہیں ۔ اب کچھ علمائے کرام کی تفسیر پیش کر رہے ہیں۔ تا کہ ہمیں یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ قوم ثمود پر عذاب کس طرح آیا تھا۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ بدھ کے روز انہوں نے اونٹنی کا قتل کیا اور جمعرات کے رو ز تمام ثمودیوں کے چہرے زرد ( پیلے) ہو گئے۔ جمعہ کے دن آگ کی طرح سرخ ہو گئے او ر سنیچر کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا اس دن ان کے چہرے سیاہ ( کالے) ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھے دن اتوار کی صبح ہی صبح سور ج کے روشن ہوتے ہی آسمان سے سخت کڑاکا ہوا۔ جس کی ہولناک اور دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے دلوں کو پھاڑ دیا۔ ساتھ ہی زمین میں نیچے سے زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ لاشوں سے مکانات، بازار گلیاں اور کوچے ( چوراہے) بھر گئے۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں دکھائی دے رہی تھیں۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر8) علامہ ابن کثیر قصص الانبیاءمیں لکھتے ہیں ۔ تیسرا دن بھی گزر گیا تو اتوار کو صبح سویرے انہوں نے خوشبوئیں لگائیں تیاری کی اور عذاب کے انتظار میں بیٹھ گئے۔کہ عذاب کا نزول کس طرح ہوتا ہے ۔ انہیں کچھ اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ اور نہ ہی وہ یہ جانتے تھے کہ ان پر عذاب کس طرح سے آئے گا۔ جب سورج چمکنے لگا تو آسمان سے ایک بہت زبردست آواز آئی اور ساتھ ہی زمین زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اٹھی۔ جسموں سے روحیں پرواز کرنے لگیں اور زندگی موت کے گھاٹ اترنے لگی۔ ساری چہل پہل نا پید ہوتی چلی گئی۔ ایک سناٹا چھا گیا اور غفلت کے پردے بنتے چلے گئے۔ تھوڑی دیر میں سب کے سب کافر ہلاک ہو کر گٹھنوں کے بل ہو کر رہ گئے۔ کل تک جو کفر و عناد سے اکڑ کر چلتے تھے آج مردہ جسم تھے۔ جن میں کوئی حرکت نہیں تھی اور نہ ہی روح تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ قوم ثمود کا ایک فرد بھی باقی نہ بچ سکا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

ایک عورت نے عذاب کی تفصیل بتائی

اللہ تعالیٰ نے جب قوم ثمود پر اپنا عذاب بھیجا تو پوری قوم ہلاک ہو گئی۔ لیکن دو افراد بچ گئے تھے۔ ان میں سے ایک ابو رغال تھا جو بھاگ کر مکہ مکرمہ کے اندر آگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ مکہ مکرمہ کو امن کا شہر بنایا ہے اس لئے وہ جب تک وہاں رہا تو وہ عذاب سے محفوظ رہا۔ ابو دغال کا ذکر ہم بعد میں آگے کریں گے۔ اس کے علاوہ ایک جوان عورت بھی بچ گئی۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھئے کہ اس واقعہ کی خبر لوگوں تک پہنچانے کے لئے ایک کافرہ عورت کو بچا لیا۔ یہ بہت بڑی خبیثہ تھی اور حضرت صالح علیہ السلام کی بہت بڑی دشمن تھی۔ یہ اپاہج تھی۔ اس کی دونوں ٹانگیں کام نہیں کرتی تھیں۔ یہ لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھتی رہی اور قوم ثمود پر کیا گزرتی وہ سب دیکھتی رہی۔ جب پوری قوم ثمود ہلاک ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے پاﺅں کھول دیئے اور وہ بالکل اچھی ہو کر چلنے لگی۔ جب اس نے دیکھا میں چل سکتی ہوں تو وہ عذاب کی جگہ سے جان بچانے کے لئے بھاگنے لگی۔ بھاگتے بھاگتے وہ دوسرے علاقے میں پہنچ گئی جو عذاب سے محفوظ تھا۔ اور قوم ثمود سے الگ دوسری قوم کا قبیلہ تھا۔ وہاں پہنچ کر اس نے قبیلے کےسردار کے سامنے قوم ثمود پر آنے والے عذاب کی مکمل تفصیل سنائی۔ پھر اس نے پانی مانگا۔ ابھی وہ پانی ہی ہی رہی تھی کہ اس پر اللہ کا عذاب آگیا اور وہ تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو گئی۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر8قصص الانبیاءعماد الدین ابن کثیر) تفسیر جلالین میں لکھا ہے کہ حضرت صالح علیہ السلام کی پیشن گوئی کے مطابق جمعرات کو ان سب کے چہرے زرد اور جمعہ کو سرخ او ر سنیچر کو سیاہ پڑ گئے تھے۔ اور خود ہی کفن پہن کر وہ مرنے کے لئے تیار ہو گئے اور وہ سب لوگ زمین کے زلزلے اور آسمان کی چنگھاڑ کی نذر ہو گئے۔ ( تفسیر کمالین شرح تفسیر جلالین جلد نمبر2امام جلال الدین سیوطی امام جلال الدین محلی، شرح مولانا محمد نعیم دیوبندی)

زلزلہ اور آواز ساتھ میں آئی

اللہ کا عذاب قوم ثمود پر آیا اور وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ تفسیر معارف القران میں لکھا ہے کہ جب جمعرات کی صبح ہوئی تو سب کے چہرے ایسے زرد ہو گئے جیسے ان کے اوپر پیلا رنگ کر دیا گیا ہو۔ عذاب کی پہلی علامت کے سچا ہونے کے باوجود ان ظالموں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آتے۔ دوسرا دن آیا تو سب کے چہرے سرخ ہو گئے اور تیسرے دن سیاہ ہو گئے۔ اب تو یہ سب کے سب اپنی زندگی سے مایوس ہو کر انتظار کرنے لگے کہ عذاب کس طرف سے کس طرح آتا ہے۔ اسی حال میں زمین سے ایک شدید زلزلہ آیا۔ اور اوپر سے سخت ہیبت ناک چیخ اور شدید آواز آئی۔ جس سے سب کے سب بیک وقت بیٹھے بیٹھے اوندھے منہ گر گئے ۔ رجفة کا ذکر سورہ اعراف میں آیا ہے۔ رجفة کا معنی ہے زلزلہ اور دوسری آیات میں صیحة بھی آیا ہے۔ صیحة کا معنی چیخ اور شدیدآواز ہے۔ اس طرح یہ دونوں طرح کے عذاب ان پر جمع ہو گئے تھے۔ اور جو جس حال میں تھا وہیں ڈھیر ہو گیا۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مدارک میں لکھا ہے کہ رجفة یعنی وہ چیخ جس سے زمین ہلاد ی گئی۔ اور وہ سب بے قرار ہو گئے۔ اور اپنے شہروں میں یا مکانات میں اوندھے بیٹھنے کی حالت میں مردار ہو ئے۔ یعنی اس طرح بیٹھے تھے کہ ان میں حس و حرکت نہیں تھی اور نہ ہی وہ بات کرتے تھے۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی جلد نمبر1عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ جمعرات کے دن ان کے چہرے ایسے پیلے ہو گئے جیسے ان کے منہ پر زعفران مل دیا گیا ہے۔ عورت مرد چھوٹے بڑے سب کا یہی حال ہوا۔ اب انہیں اپنی ہلاکت کا یقین ہو گیا۔ پھر جمعہ کے دن ان کے چہرے ایسے سرخ ہو گئے جیسے ان پر تازہ خون مل دیا گیا ہے۔ یہ رونے اور چیخنے چلانے لگے۔ سنیچر کے دن ان کے منہ ایسے کالے ہو گئے جیسے ان کو تارکول ( ڈامر ) مل دیا گیا ہے۔ اب یہ لوگ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ہماری ہلاکت کا وقت آگیا ہے۔ صبح اتوار تھا تو حضرت صالح علیہ السلام رات کو ہی مسلمانوں کو لے کر فلسطین چلےگئے۔ اتوار کے دن صبح سویرے یہ لوگ کفن اوڑھ کر خوشبو مل کر مرنے کے لئے زمین پر اوندھے پڑ گئے۔ کبھی منہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتے اور کبھی اپنا چہرہ زمین پر رکھ دیتے۔ اچانک آسمان کیطرف سے ایک کڑک کی سی آواز آئی۔ جس سے زمین میں بڑا عظیم زلزلہ پید ہوا۔ اور ان سب کے دل پھٹ گئے۔ تمام کے تمام مر گئے ۔ ایک اپاہج لونڈی جس کا نام ذرع بنت سالف تھا۔ جسے حضرت صالح علیہ السلام سے بہت ہی عداوت تھی۔ وہ بچ گئی۔ اللہ کیشان دیکھئے کہ اس کے پاﺅں اچھے ہو گئے۔ یہ اس علاقے سے بھاگی حتیٰ کہ وادی القریٰ پہنچی۔ وہاں کے باشندوں کو قوم ثمود کی ہلاکت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور پانی مانگا اور پانی پیتے پیتے وہیں ختم ہو گئی۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ پس انہیں شدید زلزلے نے آلیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ شدید چیخ تھی۔ جس نے ان کے دلوں کو پھاڑ دیا۔ رجفة کا معنی ہے کسی شئے کا کانپنا اور لرزنا یعنی ایسی حرکت جس کے ساتھ آواز بھی ہو۔ اور وہ اپنے گھنٹوں اورمونہوں کے بل زمین سے چپکے رہ گئے۔ یعنی عذاب کی شدت سے مر گئے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بجلی کی کڑک یعنی صاعقہ کے ساتھ جل گئے۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القران المعروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد قرطبی)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 

حضرت صالح علیہ السلام 10 Story of Prophet Saleh



10 حضرت صالح علیہ السلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر 06

قسط نمبر 10

رجفة ، صیحتہ اور صاعقة کا عذاب

اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر رجفة (زلزلہ ) صیحة ( چیخ ) اور صاعقة ( کڑک) کا عذاب بھیجا اور قر آن پاک میں موقع کی مناسبت سے انہیں بیان فرمایا۔ تفسیر انوارالبیان میں لکھا ہے کہ عذاب تو آنا ہی تھا۔ پہلے دن ان کے چہرے پیلے ہو گئے۔ دوسرے دن سرخ ہو گئے اور تیسر ے دن سیاہ ہو گئے۔ اور چوتھے دن عذاب آگیا۔ ( تفسیر ابن کثیر ، البدایہ والنہایہ تاریخ ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے سورہ الاعراف میں رجفة فرمایا۔ ترجمہ ” انکو پکڑ لیا سخت زلزلہ نے لہٰذا وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ “ اور سوہ ہود میں صیحة فرمایا۔ ترجمہ ” اور پکڑ لیا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا ایک بہت شدید چیخ نے ۔ سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے رہ گئے۔ دونوں آیتوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ قوم ثمود پر دونوں طرح کا عذاب آیا۔ زلزلہ بھی آیا اور چیخ بھی۔ مفسرین حضرات نے فرمایا کہ زلزلہ نیچے سے آیا۔ اور چیخ کی آواز انہوںنے اوپر سے سنی ۔ اور بعض حضرات نے یوں کہا کہ زلزلہ سے جب زمین پھٹتی ہے تو اس سے آواز نکلتی ہے۔ اور یہ آواز اتنی بھیانک ہوتی ہے کہ سننے والوں کے دل لرز جاتے ہیں اور ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔ سورہ حٰم السجدہ میں صاعقة فرمایا ہے۔ ترجمہ ۔” اور ثمود نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو پسند کیا پس ان کو کڑک کے عذاب نے پکڑ لیا “ صاعقہ ایسی سخت آواز کے لئے بولا جاتا ہے جو اوپر سے ( اچانک) سنائی دے۔ امام راغب المفر ذات میں لکھتے ہیں کہ اس سے کبھی آگ پیدا ہوتی ہے کبھی یہ عذاب بن کر آتی ہے اور کبھی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ جو صاعقة لفظ ہے اس سے بعض حضرات نے مطلق عذاب لیا ہے۔ لیکن اس میں بھی کوئی تعارض نہیں ہے کہ رجفة ، صیحة ، اور صاعقة تینوں طرح کا عذاب قوم ثمود پر آیا۔

ابو رغال کا انجام

حضرت صالح علیہ السلام نے جب قوم ثمود کو فرمایاکہ اب تین دن دنیا میں مزے اڑا لو۔ پھر اللہ کا عذاب تمہیں پکڑ لے گا۔ یہ سن کر قوم ثمود کا ایک سردار تیز رفتار سواری لے کر وہاں سے بھاگا اور مکہ مکرمہ میں آگیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ طائف کے لئے ) طائف کی طرف جا رہے تھے تو ہمارا گزر ایک قبر پر سے ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ یہ ابو رغال کی قبر ہے۔ وہ بنو ثقیف کا سردار (بانی) تھا۔ اور اس کا تعلق قوم ثمود سے تھا۔ ( قوم ثمود پر عذاب کے وقت مکہ مکرمہ یعنی حرم شریف میں تھا) حرم پاک یعنی مکہ مکرمہ میں (ہونے) کیوجہ سے اس پر سے اللہ کا عذاب ٹلتا رہا۔ ( کافی عرصے بعد بلکہ برسوں بعد) جب وہ حرم شریف کی حدود سے باہر نکلا تو اسے اسی جگہ اس عذاب نے آکر گھیر لیا جس میں مبتلا ہو کر اس کی قوم ہلاک ہوئی تھی۔ ( اور یہ بھی اسی طرح ہلاک ہو گیا۔)پس اس کو اسی جگہ دفن کر دیا گیا۔ اور اس جگہ کی نشانی کے لئے اس کے ساتھ سونے کا ایک ہار بھی دفن کر دیا تھا۔ اگر تم اس جگہ کو کھودو گے تو وہ ہار تمہیں مل جائے گا۔ ہم نے وہاں کھودا تو ہمیں وہ سونے کا ہار ملا۔( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر، قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری ، تفسیر در منشور جلد نمبر3تفسیر انوار البیان ، تفسیر ابن کثیر، تفسری قرطبی، تفسیر جلا لین ، تفسیر معارف القران ، تفسیر نعیمی، تفسیر تبیان القران )

٭ قوم ثمود کا نام و نشان مٹا دیا گیا

 اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر اپنا عذاب اس طرح بھیجا کہ اس کا ایک ایک فرد ختم ہو گیا اور ان کی نسل ختم ہو گئی۔ اور ان کا نام و نشان مٹ گیا۔ صرف اللہ تعالیٰ نے عبرت کے لئے اپنی کتاب قرآن پاک میں اس بد بخت قوم کا ذکر فرمایا ہے۔ اور اس میں آخر میں یہی فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ النجم میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اُسی ( اللہ تعالیٰ ) نے عاد اول کو ہلاک کیا۔ اور ثمود کو بھی ( ہلاک کیا اور ان میں سے ) ایک کو بھی باقی نہیں رکھا۔“ ( سورہ النجم آیت نمبر50اور 51)اللہ تعالیٰ نے سورہ ہود میں فرمایا۔ ترجمہ اور ظالموں کو بڑے زور کی چنگھاڑ نے آدبوچا پھر تو وہ اپنے گھروںمیں اوندھے پڑے رہ گئے۔ ایسے گویا وہ وہاں کبھی آباد ہی نہیں تھے۔ آگاہ رہو کہ قوم ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو، ان ثمودیوں پر پھٹکار ہے۔ “ (سورہ ہود آیت نمبر67اور 68) اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعراءمیں فرمایا۔ ترجمہ ” اورعذاب نے انہیں آدبوچا بےشک اس میں عبرت ہے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہیں تھے۔ اور بے شک آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا رب بڑا زبردست مہربان ہے ۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر158اور 159) سورہ النمل میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” (اب) دیکھ لو اُن کے مکر کا انجام کیسا ہوا ؟ کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کے سب لوگوں کو غارت کر دیا۔ “ (سورہ النمل آیت نمبر51) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ قوم عاد اور قوم ثمود کا نام و نشان مٹا دیا گیاہے۔ اور ان کی نسل ختم کر دی گئی ہے۔ جب کہ قوم عاد اور قوم ثمود کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی سب سے طاقتور ترین اورمضبوط قوم بنایا تھا۔ لیکن جب انہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ایساتباہ و بربادکیا آج کوئی ان کا نام لینے والا بھی موجود نہیں ہے۔

قوم ثمود کے کھنڈرات

اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر اتنا شدید عذاب بھیجا کہ ان کے شاندار محل اور پہاڑوں میں بنائے ہوئے مکانات سب تباہ وبرباد ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کھنڈرات آج بھی ہزاروں سال بعد بھی لوگوں کی عبرت کے لئے باقی رکھے ہیں۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورہ النمل میں فرمایا۔ ترجمہ ”یہ ہیں ان کے مکانات جو ان کے ظلم کی وجہ سے اجڑے پڑے ہوئے ہیں۔ جو لوگ علم رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں بہت بڑا نشان ( عبرت) ہے۔ “ ( سورہ النمل آیت نمبر52) اللہ تعالیٰ نے سورہ العنکبوت میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے قوم عاد اور قوم ثمود کو بھی غارت کر دیا ۔ جن کے مکانات تمہارے سامنے ظاہر ہیں۔ اور شیطان نے ا نہیں ان کی بد اعمالیاں آراستہ کر کے دکھائی تھیں۔ اور انہیں ( سیدھی) راہ سے روک دیا تھا۔ حالانکہ یہ آنکھوں والے ہوشیار تھے۔“ (سورہ العنکبوت آیت نمبر38) مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی لکھتے ہیں۔ حجرقوم ثمود کا مرکزی شہر تھا۔ اس کے کھنڈرات مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں موجود شہر ” العلائ“ سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ مدینہ سے تبوک جاتے ہوئے یہ مقام شاہ راہِ عام ( ہائی وے) پر ملتا ہے۔ اور قافلے اس وادی سے ہو کر گزرتے ہیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق کوئی یہاں قیام نہیں کرتا ہے۔ آٹھویں صدی ہجری میں ابن بطوطہ حج کو جاتے ہوتے یہاں پہنچے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہاں سرخ رنگ کے پہاڑوں میں قوم ثمود کی عمارتیں موجود ہیں۔ جو انہوںنے چٹانوں کو تراش کر ان کے اندر بنائی تھیں۔ ان کے نقش و نگار آج بھی اس طرح تازہ ہیں جیسے آج ہی بنائے گئے ہوں۔ ان پہاڑوں کے اندر مکانات میں اب بھی سڑی گلی انسانی ہڈیاں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔ ( تفہیم القرآن سورہ الحجر حاشیہ نمبر45) مولانا مودودی سورہ الشعراءکے حاشیے میں لکھتے ہیں کہ ثمود کی ان عمارتوںمیں سے اب بھی کچھ باقی ہیں۔ جنہیں ۹۵۹۱ءمیں دسمبر میں خود میں نے دےکھا ہے۔ یہ جگہ مدینہ منورہ اور تبوک کے درمیان حجازکے مشہورمقام©©”العلا“ (جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میںوادی القریٰ کا جاتا ہے) سے چند میل کے فاصلے پر شمال کی جا نب واقع ہے۔آج بھی اس جگہ کومقامی باشندے الحجر اور ملائن صالح کے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ اس علاقے میں العلا تو اب بھی اےک نہاےت سر سبز و شاداب وادی ہے۔ جس میں کثرت سے چشمے اور باغات ہیں۔مگر الحجر کے گرد وپےش بڑی نحوست پائی جاتی ہے۔آبائی برائے نام ہے۔روئےدگی بہت کم ہوتی ہے۔چند کنویں ہیں ۔انھیں میں سے اےک کنویں سے متعلق مقامی آبادی میں یہ روایت چلی آرہی ہے۔کہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی اس کنویں سے پانی پیتی تھی۔ اب وہ ترکی عہد کے اےک ویران فوجی چوکی کے اندر پایا جاتا ہے۔ اور بالکل خشک پایا پڑا ہوا ہے۔ اس علاقے میں جب ہم داخل ہوئے توالعلا کے قریب پہنچتے ہی ہر طرف اےسے پہاڑ پر نظر آئے۔ جو بالکل کھےل کھےل ہو گئے تھے۔ صاف محسوس ہو تا تھا کہ کسی سخت ہولناک زلزلے نے انھیں سطح زمین سے (یعنی نیچے سے اوپر تک) چوٹی تک جھنجھوڑ کر قاش قاش لر لءرکھ دیا ہے۔اسی طرح کے پہاڑ ہمیں مشرق کی طرف العلا سے خےبر کی طرف جاتے ہوئے تقریباً 50میل تک اور شمال کی طرف ریاست اردن کی حدود میں 40-30میل اندر تک ملتے چلے گئے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ تین چار سو میل لمبا اور 100میل چوڑا ایک علاقہ تھا جسے ایک عظیم زلزلہ نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ( تفہیم القران سورہ الشعراءحاشیہ نمبر99مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی)

پہاڑوں کو تراشنے کا فن قوم ثمود نے شروع کیا

سورہ الشعراءکا حاشیہ نمبر99جاری ہے۔ مولانا مودودی آگے لکھتے ہیں کہ ثمود کی جو عمارتیں ہم نے الحجر میں دیکھی تھیں۔ اسی طرح کی چند عمارتیں ہم کو خلیج عقبہ کے کنارے مدین کے مقام پر اور اردن کی ریاست پیٹرا ( Petra) کے مقام پر بھی ملیں ۔ خصوصیت کے ساتھ پیٹرا میں ثمود کی عمارات اور نبطیوں کی بنائی ہوئی عمارات پہلو بہ پہلو موجو د ہیں۔ اور ان کی تراش خراش اور طرز تعمیر میں اتنا نمایاں فرق ہے کہ ہر شخص ایک نظر میں دیکھ کر ہی سمجھ سکتا ہے کہ یہ دونوں نہ تو ایک زمانے کی ہیں اور نہ ہی یہ ایک قوم کا طرز تعمیر ہے۔ انگریز مستشرق ڈائی ( Daughty) قرآن پاک کو نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے کے لئے الحجر کی عمارات کے متعلق دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ثمود کی نہیں بلکہ نبطیوں کی بنائی ہوئی عمارات ہیں لیکن دونوں قوموں کی عمارات کا فرق اتنا واضح ہے کہ ایک اندھا ہی انہیں ایک قوم کی عمارات کہہ سکتا ہے۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ پہاڑ تراش کر ان کے اندر عمارتیں بنانے کا فن قوم ثمود نے شروع کیا۔ اس کے ہزاروں سال بعد دوسری اور پہلی صدی قبل مسیح میں نبطیوں نے اسے عروج پر پہنچایا اور پھر ایلورا اور اجنٹا میں یہ فن اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ ( یہ یاد رکھیں کہ ایلورا اور اجنٹا کے غار پیٹرا یعنی نبطیوں کے سات سو برس بعد بنائے گئے) ( تفہیم القرآن سورہ الشعراءحاشیہ نمبر99مولانا سید ابو اعلیٰ مودودی)

رسول اللہ ﷺ نے قوم ثمود کے حالات بیان فرمائے

حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر لوگوں نے اہل حجر ( قوم ثمود کے تباہ شدہ کھنڈرات) کے گھروں میں داخل ہونے کی جلدی کی۔ ( یعنی لشکر کے کچھ لوگ آگے چل رہے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو یہ قوم ثمود کے کھنڈرات دیکھ رہے تھے) جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کروایا کہ نماز کے لئے جمع ہو جاﺅ۔ حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ کی مہار پکڑے کھڑے تھے اور فرمارہے تھے کہ تم اس قوم کے گھروں میں کیوں داخل ہو رہے ہو جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوا ہے۔ ایک شخص نے بلند آواز سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ان پر حیران ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ حیران کرنے والی باتوں سے آگاہ نہ فرماﺅں ؟ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ تم میں سے ایک شخص تمہیں بتائے گا کہ تم سے پہلے کیا ہو چکا ہے۔ اور یہ بھی بتائے گا کہ تمہارے بعد کیا ہوگا۔ پس استقامت اختیار کرو اور رک جاﺅ بے شک اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں ہے کہ تم عذاب میں مبتلا ہو جاﺅ گے۔ عنقریب ایک ایسی قوم آئے گی جو اپنے سے کسی چیز کو دور نہیں کر سکے گی۔ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کی عمریں بہت لمبی یعنی طویل تھیں۔ یہ لوگ مٹی سے گھر بناتے تھے جو ایک شخص کی زندگی ختم ہونے سے پہلے بوسیدہ ہو جاتے تھے۔ اسی لئے انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر مکانات بنانے شروع کر دیے۔ جب قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام سے معجزے کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کا مطالبہ پور ا کرتے ہوئے چٹان سے اونٹنی نکالی۔ آپ علیہ السلام نے انہیں خبر دار کیا کہ کہیں تم اس اونٹنی اور بچہ کو اذیت اور نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرنے لگ جانا۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا۔ پھر ( کچھ دنوں بعد) آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ تھوڑی مدت کے بعد تم لوگ اس اونٹنی کا قتل کر دو گے اور یہی بات تم پر عذاب آنے اور تمہاری ہلاکت کا سبب بنے گی۔ اور اس جرم کا ارتکاب ایک گورا چٹا شخص کرے گا۔ اسی لئے قوم ثمود نے اپنے علاقوں میں دایہ بھیجیں جو اس قوم کا بچہ دیکھتیں تو قتل کر دیتیں۔ اسی طرح یہ سلسلہ ایک طویل مدت تک چلتا رہا۔ ایک پشت گزر گئی اور ان کی جگہ دوسری پشت نے لے لی۔ ایک سردار نے اپنے بیٹے کی شادی دوسرے سردار کی بیٹی سے کر دی۔ ان سے وہ سفاک شخص پیدا ہوا جس نے اونٹنی کو قتل کر دیا تھا۔ اور اس کا نام قدار بن سالف تھا۔ چونکہ اس کے آباﺅ اجداد دونوں طرف سے سردار تھے۔ اس لئے دایہ اسے قتل نہیں کر سکیں۔ اور وہ بچہ بہت تیزی سے پروان چڑھنے لگا۔ وہ بچہ ایک ہفتے میں اتنا بڑا ہوتا تھا جتنا دوسرے بچے ایک مہینے میں بڑے ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ وہ بڑا ہو کر اپنی قوم کا سردار اور قائد بن گیا۔ پس اس کے نفس نے اس برائی پرآمادہ کیا اس کے ساتھ دوسرے آٹھ نوجوان شریک ہو گئے۔ اس فعل کا ارتکاب کرنے والے کل نو( 9) آدمی تھے۔ اور انہوں نے اونٹنی کو قتل کر دیا۔ جب یہ بات حضرت صالح علیہ السلام کو معلوم ہوئی تو آپ علیہ السلام روتے ہوئے تشریف لائے تو قوم ثمود کے لوگ آپ علیہ السلام سے معذرت کرنے لگے کہ یہ گناہ پوری قوم نے نہیں کیا ہے بلکہ چند نا سمجھ لڑکوں سے یہ غلطی انجانے میں ہو گئی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اونٹنی کے بچہ کو تلاش کرو تا کہ اس کے ذریعے اس جرم کی تلافی ہو جائے۔ وہ اس بچے کی تلاش میں گئے ۔ بچہ انہیں دیکھتے ہی نزدیک کے پہاڑ پر چڑھ گیا۔ وہ زارو قطار رو یا۔ پھر آپ علیہ السلام کی طرف منہ کر کے تین مرتبہ بولا۔ تب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کر تے ہوئے فرمایا۔ تین دن اپنے گھروںمیں مزے کر لو۔ پھر عذاب آئے گا اور یہ جھوٹ نہیں ہے۔ آپ علیہ السلام نے انہیں بتا دیا تھا کہ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے۔ اور ویسا ہی ہوا۔ دوسرے دن ان کے چہروں پر سرخی چھا گئی اور تیسرے دن ان کے چہرے سیاہ ہو گئے۔ جب چوتھا دن آیا تو انہیں ایک شدید تباہ کن کڑک نے آلیا۔ اور وہ منہ کے بل اوندھے گر کر ہلاک ہو گئے۔ یہی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کا انجام۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر ۔ قصص الانبیاءعلامہ محمد بن جریر طبری)

جہاں عذاب آیا ہے وہاں مت جاﺅ

حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سفر کے دوران مقام حجر میں ایک جگہ پڑاﺅ ڈالا جو قوم ثمود کے تباہ شدہ گھروں کے قریب تھی۔ تو لوگوں نے ان کنوﺅں سے پانی لیا جن سے قوم ثمود کے لوگ پانی پیتے تھے۔ انہوں نے اس پانی سے آٹا گوندھا اور سالن پکایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ سالن کی ہندیاں الٹ دو۔ (یعنی سالن پھینک دو) اور گوندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلا دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں لے کر اس کنویں پر جا کر رکے جس سے اونٹنی پانی پیتی تھی۔

 (اورا س کا پانی استعمال کیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس جگہ جانے سے منع فرمادیا۔ جس جگہ قوم ثمود پر عذاب آیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم بھی اس عذاب کا شکار نہ ہو جاﺅ جس سے ثمود کے لوگ ہلاک ہو ئے تھے۔ اس لئے ان کے گھروں کے اندر مت جاﺅ۔ ( مسند احمد بن حنبل) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ حجر میں فرمایا۔ عذاب شدہ ان لوگوں کے گھروں کے قریب سے روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہیں آتا تو مت جاﺅ کہ کہیں تمہیں بھی ان جیسا عذاب نہ آجائے۔ ( بخاری اور مسلم نے اسے قدرے مختلف الفاظ میں بیان کیا ہے۔ )

اگلی کتاب

قارئین کرام حضرت صالح علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر پیش کریں گے۔

 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں