منگل، 11 اپریل، 2023

حضرت ہود علیہ السلام 8 Story of Prophet Hood



حضرت ہود علیہ السلام

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 8

طاقتور قو م عاد طوفانی آندھی کے سامنے تنکا تھی

سورہ القمر کی آیت 18سے20تک کی تفسیر میں تفسیر در منشور میں لکھا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ قوم عاد کے لوگ پتھر کے دروازے بناتے تھے۔ اگر عاد میں سے کوئی آدمی آج ہوتا اور اپنے استعمال کے لئے دروازے کے دو پٹ پتھر کے بناتا تو اس امت کے پانچ سو لوگ مل کر بھی اس دروازے کے پٹ کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اور قوم عاد کا کوئی آدمی اگر زمین پر اپنا پاﺅں مارتا تھا تو وہ زمین میں گڑ جاتا تھا۔ جب ہواآئی عاد اس کی طرف اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لئے اور اپنے پاﺅں زمین میں گاڑ لئے اور کہنے لگے۔ کون ہے جو ہمارے پاﺅں زمین سے اکھاڑ ے اگر وہ سچا ہے ۔تو،اللہ تعالیٰ نے اُن پر اتنی شدید تیز ہوا بھیجی جو لوگوں کو (تنکوں کی طرح ) اکھاڑ پھینکنے لگی۔ گویا وہ کھڑی ہوئی کھجور کے تنے ہیں۔ (تفسیر در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی) سورہ الحاقہ کی آیت نمبر6اور 7کی تفسیر میں تفسیر درمنشور میں لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر ( قوم عاد پر ) سخت سرد اور بے حد تیز و تند آندھی بھیجی یہاں تک کہ ان کے دل پھٹ گئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر قسم کی ہوا کو ایک مخصوص پیمانے پر بھیجتا ہے۔ اور ہر بارش کا ہر قطرہ ایک مخصوص پیمانے پر بھیجتا ہے۔ مگر حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور حضرت ہود علیہ السلام کی قوم پر ان دونوں چیزوں کو ( بہت زیادہ پیمانے پر کہ وہ پیمانہ انسانوں کی حد سے بہت زیادہ تھا)بغیر کسی پیمانے اور حد کے بھیجا۔ (جس کی وجہ سے دونوں اقوام ہلاک ہو گئیں) اسی تفسیر میں آگے لکھا ہے۔ کہ جب بھی ہوا چلتی ہے تو جو فرشتے اس پر مقرر ہوتے ہیں وہ اس کی مقدار ، اس کا عدد اور اس کے وزن سے واقف ہوتے ہیں۔ مگر وہ ہوا جو قوم عاد پر بھیجی گئی تھی وہ اتنی تیزی سے نکلی کہ فرشتوں کے قابو سے باہر ہو گئی۔ اور اس کا سبب یہ تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا غضب تھا۔ اسی لئے اس کا نام ”عاتیہ “ رکھا گیا۔ اور پانی کی بھی یہی کیفیت تھی جب اسے قوم نوح کی تباہی کا حکم دیا گیا تھا۔ اسی لئے اس کا نام ” طاغیہ“ رکھا۔ قوم عاد مسلسل سات رات اور آٹھ دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوا کے عذاب میں زندہ رہے۔ اور جب آٹھویں دن کی شام ہوئی تو وہ مر گئے۔ پھر ہوا نے انہیں اٹھایا اور سمندر میں پھینک دیا ۔ (تفسیر در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی ) یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنے شدید عذاب میں مبتلا کیا کہ آٹھ دن اور سات راتیں انہیں شدید عذاب میں مبتلا رکھا اور آٹھویں دن انہیں موت دی۔

عذاب کے دوران قوم عاد کی حالت

سورہ القمر کی آیت نمبر18سے 20تک تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ قوم عاد نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا۔ اور بالکل قوم نوح کی طرح سر کشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی۔ وہ دن ان کے لئے منحوس تھا۔ برابر اُن پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہہ وبالا کر تی رہیں۔ دنیا وی اور آخرت دونوں عذاب میں گرفتار کر لئے گئے۔ ہوا کا ( بے انتہا تیزی ) جھونکا آتا اور ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا۔ یہاں تک کہ وہ زمین والوں کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ۔ پھر اسے وہ جھونکا زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا۔ اس کا سر کچل جاتا ۔ بھیجا نکل پڑتا ۔ سرد ھڑ سے الگ ہو جاتا اور دھڑ زمین پر پڑا ہوا ایسا لگتا تھا۔ جیسے کھجور کے بغیر پتوںکے ٹنڈے تنے پڑے ہیں۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر27 علامہ عماد الدین ابن کثیر) سورہ الحاقہ کی آیت نمبر6اور 7کی تفسیر میں لکھا ہے کہ قوم عاد کی ٹھنڈی ہواﺅں کے تیز جھونکوں سے جنہوں نے ان کے دل چھید کر رکھ دیئے تہس نہس کر دیا گیا۔ اور قوم عاد بے حد تیز و تند ہوا سے ہلاک کر دیئے گئے۔ یہ آندھیاں جو خیر و برکت سے خالی تھیں اور فرشتوں کے قابو سے نکلی جا رہی تھیں ۔ مسلسل ، برابر ، پے در پے ، لگاتا ر سات راتو ں اور آٹھ دنوں تک ان کے اوپر چلتی رہی۔ وہ دن قوم عاد کے لئے بربادی اور نحوست والے تھے۔ حضرت ربیع فرماتے ہیں یہ جمعہ کے دن شروع ہوئی اور بعض علمائے کرام فرماتے ہیں بدھ کے دن سے شروع ہوئیں۔ ان ہواﺅں کو عرب لوگ اعجاز اس لئے کہتے ہیں کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ان عادیوںکی حالتیں اعجاز یعنی کھوکھلے کھجوروںکے تنوں جیسی بیان فرمائی ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ عام طور سے یہ ہوائیں سردیوں کے آخر میں چلا کر تی ہیں۔ اور عجز کہتے ہیں آخر کو۔ اور یہ وجہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد کی ایک بوڑھی عورت ایک غار میں گھس گئی تھی۔ جو ان ہواﺅں سے آٹھویں دن وہیں پر ہلاک ہو گئی۔ اور بوڑھی عورت کو عربی میں عجوز کہتے ہیں۔ واللہ اعلم ۔ خاویہ کے معنی ہیں خراب، سڑا ، گلا ، کھوکھلا، مطلب یہ ہے کہ ان ہواﺅں نے انہیں اٹھا اٹھا کر الٹا پٹک دیا۔ جس سے ان کے سر پھٹ گئے۔اُن کا سر چورا چور اہو گیا۔ اور باقی جسم ایسا رہ گیا جیسے کھجور کے درخت کا سر اپتوں والا کاٹ کر صرف تنا رہنے دیا گیا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ میری مدد بادِ صبا یعنی پُرویا ( مشرقی ہوا) سے کی گئی ہے۔ اور قوم عاد دبور سے یعنی مغربی ہوا سے ہلاک کئے گئے ہیں۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر29علامہ عماد الدین ابن کثیر)

وہ ہوائیں جڑوں سے اکھاڑ دیتی تھیں

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر جن ہواﺅں کا عذاب تھا وہ ہوائیں مضبوط سے مضبوط درخت کو جڑوں سے اکھاڑ کر اپنے لپیٹے میں لے کر اوپر بہت اوپر اٹھا تی تھی پھر زمین پر تیزی سے پٹک دیتی تھی۔ تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ وہ ہوا انہیں ان کی جگہوں سے اٹھالیتی تھی۔ ایک روایت میں ہے کہ ہوا نے انہیں ان کے قدموں کے نیچے سے اس طرح اٹھا لیا جس طرح کھجور کو اس کی جڑ سے اکھاڑ دیا جاتا ہے۔ حضرت مجاہد ( جلیل القدر تابعی اور مفسر) فرماتے ہیں۔ وہ ہوا انہیں زمین سے اٹھاتی اور سر کے بل اس طرح گراتی کہ ان کی گردنیں پس جاتیں اور انکے سر ان کے جسموں سے الگ ہو جاتے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ وہ ہوا ان لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال کر اٹھاتی اور پٹک دیتی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ انہوں نے گڑھے کھودے اور اس میں داخل ہو گئے وہ ہوا انہیں وہاں سے نکال کر اٹھاتی اور ریزہ ریزہ کر دیتی تو وہ گڑھے یوں رہ جاتے تھے ۔وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں ۔ا یک اور روایت میں ہے کہ ان میں سے سات افراد نے گھڑے کھودے اور انمیں کھڑے ہو گئے تا کہ ہوا کا مقابلہ کر سکیں۔ محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ جب ہوا شدت اختیار کر نے لگی تو سات افراد اپنے گھر والوں اور خاندان والوں کو لے کر دو پہاڑوں کے درمیان کی گھاٹی میں پہنچے اور اپنے بیوی بچوں اور خاندان والوں کو دونوں پہاڑوں کی درمیانی گھاٹی میں داخل کر کے گھاٹی کے کنارے پر ہوا کے سامنے صف بنا کر ساتوں افراد کھڑے ہو گئے۔ یہ ساتوں افراد قوم عاد میں سب سے زیادہ لمبے اور چوڑے اور طاقتور اور جسیم تھے۔ یہ ساتوں افراد اپنے پیروں کو زمین میں گاڑ کر ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اس تیز و تند ہوا کے سامنے تن کر کھڑے ہو گئے۔ تیز آندھی نے ایک ایک کر کے ان ساتوں کو اڑانا اور پٹکنا شروع کیا اور ان ساتوں کے بعد ان کے گھروالوں او رخاندان والوں کو ہلاک کر دیا۔ تفسیر طبری میں ہے کہ وہ ہوا ان لوگوںکو اوپراٹھاتی اور انہیں یوں چھوڑتی تھی جیسے وہ کھجور کے ایسے تنے ہوں جنہیں ان کی جڑوں سے اکھاڑ دیا گیا ہو۔ ( تفسیر الجامع الحکام القران المعروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی)

قوم عاد کی ہلاکت

قوم عاد کے بارے میں تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ تفسیر خازن ، تفسیر روح البیان ، تفسیر روح المعانی اور تفسیر مدارک میں قوم عاد کی ہلاکت کا بہت تفصیلی واقعہ بیان کیا گیا ہے۔جس کا ہم اجمالی ذکر پیش کر تے ہیں۔ قوم عاد مقام احقاف میں آباد تھی۔ یہ علاقہ یمن کا ایک بڑا وسیع حصہ تھا۔ اور عمان سے لے کر حضر موت تک پھیلا ہوا تھا۔ اسے رمل، عالج یعنی ریگ رواں اور دہقان بھی کہتے تھے۔ یہ لوگ بڑے شہ زور ، مالدار ، بڑے سر کش اور ظالم تھے۔ جب اُن کی سر کشی حد سے بڑھ گئی اور ان کے نبی حضرت ہود علیہ السلام ان سے تنگ آگئے تو آپ علیہ السلام نے عذاب کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بارش بند کر دی۔ جب بارش کو بند ہوئے تین سال گزر گئے اور یہ لوگ قحط اور گرمی سے بہت تنگ آگئے تو انہوں نے اپنی قوم میں سے ستر 70آدمی مکہ مکرمہ دعا مانگنے کے لئے روانہ کئے۔ اور اس وفد کا سردار دو شخصوں قیل بن عنز اور حضرت مرثد بن سعد کو بنایا۔ اس زمانہ میں ہر قوم کے لوگ مصیبت میں مکہ مکرمہ دعا کے لئے جاتے تھے۔ وہاں قوم عمالقہ آباد تھی ۔ ان کا سردار معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی۔ اس لئے اس نے قوم عاد کے وفد کا بہت اکرام کیا۔ وہ وفد عیش و عشرت میں مشغول ہو گیا اور اپنے مقصد کو بھول گیا۔ معاوی بن بکر نے لونڈیوں کے ذریعے ان مقصد کو یاد دلایا تو وفد کے لوگ دعا کے لئے جانے لگے تو ان کے ایک سردار حضرت مرثد بن سعد جو خفیہ طور پر حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان لا چکے تھے۔ انہوں نے اپنے ایمان کو ظاہر کیا اور کہا۔ تمہاری دعا اس وقت تک قبول نہیں ہو گی جب تک کہ تم اللہ پر اور حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان نہیں لاﺅ گے۔ تو دوسرا سردار قیل بن عنز انہیں چھوڑ کر باقی وفد کے لوگوں کو لے کر دعا کرنے چلا گیا۔ وہ دعا مانگتاتھا اور باقی لوگ آمین کہتے تھے۔ اچانک آسمان پر سفید، سرخ اور سیاہ( کالا) بادل ظاہر ہوئے اور آواز آئی اپنی قوم کے لئے کسی ایک بادل کا انتخاب کر لو ۔ قیل بن عنز نے کہا میں اپنی قوم کے لئے سیاہ یعنی کالا بادل اختیار کر تا ہوں۔ کیونکہ اس میں پانی زیادہ ہوتا ہے۔ جب وہ وفد احقاف پہنچا تو ان کا مانگا ہوا سیاہ بادل احقاف پر چھا گیا۔ وہ لوگ خوش ہو کر بولے یہ بادل ہم پر خوب برسے گا۔ مگر وہ تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اور آندھی تھی۔ آخر کار شوال کی بائیس22تاریخ بدھ کی صبح کے وقت آندھی شروع ہوئی اور سات رات اور آٹھ دن تک اُن پر مسلط رہی۔ ( تفسیر صاوی) ساری قوم عاد کے کافر مردوں اور عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں اور جوانوں اور ان کے مویشیوں کو اس طرح ہلاک کر ڈالا کہ ہو ا اُن کو آسمان کی فضا ءمیں اوپر تک اٹھاتی تھی اور وہاں سے تیزی سے نیچے گراتی تھی۔ یہ لوگ اپنے گھروں میں گھس گئے اور دروازے بند کر لئے ۔ مگر اللہ کے عذاب سے کون پناہ دے سکتا ہے۔ ہوا نے ان کے دروازے توڑ دیئے اور دیواریں اکھیڑ دیں۔ اور انہیں ہلاک کر ڈالا۔ پھر غیب سے پرندے ظاہر ہوئے انھوں نے لاشوں کو سمندر میں پھینک دیا۔ تما م احقاف کی زمین لاشوں سے پٹی پڑی تھی۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر 8مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

قوم عاد کا انجام

حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کے لئے بد دعا کی کہ اے اللہ ، تو ان پر اپنا عذاب بھیج دے۔ اس دعا کے بعد عاد پر خوشگوار ہو ا چلائی گئی۔ اور بادلوں کو وادی میں بھیج دیا گیا۔ عادیہ دیکھ کر خوش ہونے لگے کہ یہ بادل ہم پر پانی برسائیں گے۔ لیکن جب بادل ان کے قریب گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ہوا اونٹوں اور انسانو ں کو لے کر زمین اور آسمان کے درمیان چکر لگا رہی تھی۔ یہ دیکھتے ہی قوم عاد کے لوگ جلدی جلدی اپنے گھروں میں گھس گئے۔ لیکن آندھی نے ان کووہاں بھی ہلاک کر دیا اور گھروں سے باہر نکال پھینکا یہ عذاب ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل مسلط رہا۔ اور قوم عاد کے لوگ جو لمبے قد والے اور انتہائی طاقتور تھے ہوا نے انہیں ہلاک کر کے کھوکھلے تنے کے مانند گرادیا۔ جب پوری قوم عاد کو ہلاک کر دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے سیاہ رنگ کا پرندہ بھیجا ۔ جس نے لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ اور بستی کو لاشوں سے خالی کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن پاک میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ ” (تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح بکھرے پڑے تھے جیسے کھجور کے بوسیدہ تنے ہون۔ “ ( سورہ الحاقہ آیت نمبر7) ترجمہ ” ہم نے دائمی نحوست کے دنوں میں سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی۔ جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔ “ ( سورہ القمر آیت نمبر19اور 20) ترجمہ ” اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیئے گئے۔ “ (سورہ الحاقہ آیت نمبر6) عبدا لصمد کہتے ہیںکہ جب عاد پر ہوا کا عذاب مسلط کیا گیا تو یہ اتنی شدید تھی کہ اس نے بڑے قد آور درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا اور ان کے گھروں کو تباہ و برباد کر دیا۔ اور کسی چیز کو باقی نہیں چھوڑا اور تمام چیزوں کو تباہ کر دیا۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

قوم عاد کو دنیا کے لئے عبرت بنا دیا

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر جب اپنا عذاب بھیجا تو وہ انہیں بادلوں کی شکل میں نظر آیا۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں جب قوم عاد نے دیکھا کہ گھٹا فضا میں پیدا ہو رہی ہے تو وہ اسے رحمت کا بادل سمجھ بیٹھے کہ بس اب کچھ ہی دیر میں بارش ہوگی۔ لیکن سحاب رحمت نہیں تھا بلکہ اللہ کا عذاب تھا جو بادل کی صورت میں ان کی وادیوں کی طرف بڑھتا چلا آرہا تھا۔ جسے وہ رحمت سمجھ رہے تھے وہ انہیں ہلاک کرنے آرہا تھا۔ جب وہ خوشیاں منا رہے تھے تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہ رحمت کا بادل نہیں بلکہ اللہ کا سخت عذاب ہے۔ اس عذاب سے مراد وہ تیز و تند، مہلک ٹھنڈی ہوا مُراد تھی جو سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتی رہی۔ اور جس نے قوم عاد کے ایک شخص کو بھی زندہ نہیں چھوڑا بلکہ جب ان لوگوں نے پہاڑوں کے غاروںمیںپناہ لی اور ٹھنڈک و برودت سے بچنے کی کوشش کی تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچ گئی۔ اور انہیں غاروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اور پھر انہیں فضا میں اچھا ل کر زمین پر یوں پٹکا کہ وہ نیست و نابود ہو گئے۔ جو اپنے گھروں میں چھپ گئے تھے انہیں وہیں ہلاک کر کے اوپر سے بلند و بالا محلات کو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ اور انہیں آنے والی قوموں کے لئے سامانِ عبرت بنا دیا۔ وہ لوگ جو کل تک ” ان ولا غیری“ کا نعرہ لگاتے تھے اور ببانگ دہل کہا کرتے تھے کہ ہم سے بڑھ کر بھی کوئی قوم طاقت و قوت کی مالک ہو گی۔ آج اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسی ہوا مسلط کر دی تھی جو واقعی ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور شدید تھی۔ اور اس ہوا میں ہلاکت ہی ہلاکت تھی۔ اور کچھ بھی بھلائی نہیں تھی۔ ( قصص الانبیاءعماد الدین ابن کثیر) اس طرح اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دنیا کے لئے عبرت بنا دیا۔


باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

حضرت ہود علیہ السلام 7 Story of Prophet Hood



 حضرت ہود علیہ السلام

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 7

حضرت ہود علیہ السلام نے بتایا یہ اللہ کا عذاب ہے

جب اللہ تعالیٰ کا عذاب کالے گھنے بادل کی شکل میں قوم عاد کی وادیوں کے آسمان کے کنارے پر نمودار ہوا تو قوم عاد کے لوگ اسے دیکھ کر خوشی سے ناچنے لگے اور کہنے لگے کہ یہ وہ کالا گھنا بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ اس وقت حضرت ہود علیہ السلام اپنے قوم میں تشریف فرما تھے۔ آپ علیہ السلام نے قوم عاد کو بتایا کہ یہ برسنے والا بادل نہیں ہے بلکہ یہ تو وہ عذاب ہے جس کے لئے تم جلدی مچا رہے تھے۔ لیکن قوم عاد نے آپ علیہ السلام کی طرف توجہ نہیں کی۔ اور بدستور ناچتے گاتے خوشیاں مناتے رہے۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام مسلمانوں کو لے کر وہاں سے دور چلے گئے۔ پس وہ ہوا آئی اور خیموں اور محلو ں کو اکھاڑ نے لگی۔ اور چھپے ہوئے لوگوں کو بھی نکال کر ہلاک کر دیا۔ ( مصنف امام بن ابی شیبہ، تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری، تفسیر در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای۔ قوم عاد پر میری مہر کی انگوٹھی کے برابر اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی تھی۔ تو وہ بِدوﺅں ( جو لوگ کسی بھی جگہ خیمے گاڑ کر رہنے لگتے ہیں) کو شہریوں کی طرف اٹھا لائی۔ پس جب شہریوں نے ( آسمان کے کنارے پر اس تیز آندھی کو بادل کی صورت میں ) دیکھا تو کہا ۔ یہ وہ بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے۔ وہاں بایہ نشین ( خیمے والے) بھی تھے۔ تو اس ہوا نے اہل بادیہ کو شہریوں پر پھینک دیا۔ یہاں تک ہو وہ ہلاک ہو گئے اور وہ آندھی اُن کے تہ خانوں پر بھی چلی اور انکے دروازوں کے درمیان سے نکل گئی۔ ( المعجم طبرانی امام طبرانی ، مجمع الزوائد کتاب التفسیر ، تفسیر در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی المستدرک امام حاکم)

قوم عاد پر عذاب کا بادل

اللہ تعالیٰ کا عذاب کالے گھنے بادل کی شکل میں دھیرے دھیرے قوم عاد کی طرف آرہا تھا۔ تفسیر معارف القران میں ہے کہ عذاب کا سامان اس طرح شروع ہوا کہ پہلے ایک بادل اٹھا تو ان لوگوں نے جب اس بادل کو اپنی وادی کی طرف آتا دیکھا تو کہنے لگے یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔ ارشاد ہو اکہ نہیں یہ برسنے والا بادل نہیں ہے۔ بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے۔ کہ وہ عذاب جلدی لاﺅ۔ اور اس بادل میں ایک آندھی ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ آندھی ہر چیز کو جس کو ہلاک کرنے کا حکم ہو گا اسے اپنے کے حکم سے ہلاک کر دے گی۔ چنانچہ وہ آندھی جھپٹی اور آدمیوں اورمویشیوں کو اٹھا اٹھا کر پٹک دیتی تھی۔ جس سے وہ ایسے تباہ وہ ہلاک ہو گئے کہ سوائے ان کے مکانوں کے کھنڈرات کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر7مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ جب عذاب آیا تو انہوں نے (قوم عاد نے ) دیکھا کہ ایک کالا گھنا بادل ان کی طرف بڑھتا چلا آرہا ہے۔ چو نکہ خشک سالی ( قحط) تھی گرمی سخت تھی۔ بادل دیکھ کر یہ خوشیاں منانے لگے کہ اچھا ہوا بادل چڑھا ہے اور اس کا رخ ہماری طرف ہے۔ اب بارش برسے گی۔ لیکن در اصل وہ بادل کی صور ت میں اللہ کا قہر تھا۔ جس کے آنے کی وہ جلدی مچا رہے تھے۔ اس میں وہ عذاب تھا جسے وہ حضرت ہود علیہ السلام سے طلب کر رہے تھے۔ وہ عذاب ان کی بستیوں کی تمام ان چیزوں کو جن کی تباہی و بربادی ہونے والی تھی تہس نہس کرتا ہوا آیا اور اسی کا حکم اسے ملا تھا۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر26علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر مظہری میں ہے کہ وہ عذاب بادل کی شکل میں تھا۔ اور آسمان کے عرض سے نمودار ہوا اور انکی وادیوں کی طرف بڑھنے لگا۔ دو سال سے ان کے یہاں بارش نہیں ہو رہی تھی۔ ( اور یہ تیسرا سال تھا) بادل کو دیکھ کر وہ بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا ۔اللہ تعالیٰ نے یا حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ بارش برسانے والا باد ل نہیں ہے۔ بلکہ جس عذاب کی تم جلد ی کر رہے تھے یہ وہ عذاب ہے یہ تیز و تند ہوا ہے جو ان میں سے جس پر گزرے گی اسے ہلاک اور تباہ و برباد کر کے رکھ دے گی۔ شدید آندھی آئی جس نے خیموں اور مویشیوں اور سواروںکو اٹھا لیا۔ یوں دکھائی دیتا تھا کہ یہ سب چیزیں ٹڈی دل ہیں۔ سب سے پہلے ان لوگوں نے اس عذاب کو پہچانا جنہوں نے یہ دیکھا کہ ان کے وہ اموال جو شہر سے باہر تھے ہوا انہیں زمین و آسمان کے درمیان اڑا رہی تھی۔ وہ لوگ واپس پلٹ آئے اور اپنے محلات کے دروازوں کو بند کر لیا۔ سخت آندھی آئی اور اس نے ان کے دروازوں کو توڑ دیا۔ اور انہیں اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر8قاضی ثناءاللہ پانی پتی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ جب انہوں نے بادل کو دیکھا تو ایسا خیال کیا یہ ان پر پانی برسائے گا۔ بارش ہوئے کافی عرصہ ہو چکا تھا۔ جب انہوں نے بادل کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو وہ بہت خوش ہوئے کیوں کہ وہ بادل اس طرف سے آرہا تھا۔ جس طرف سے عام طور پر بارش برسانے والے آتے تھے۔ وہ ہوا جس کے ساتھ انھےں عذاب دیا گےا تھا وہ اسی بادل سے پید ا ہوئی تھی ۔ جس کو انہوں نے دیکھا تھا۔ حضرت ہود علیہ السلام ان کے درمیان سے نکل گئے ۔ وہ ہوا خیموں ، اونٹوں ، گھوڑوں اور میویشیوں اور انسانوں کو اس طرح اٹھاتی تھی اور بلند کر تی تھی جیسے وہ مکڑیاں ہوں۔ پھر انہیں چٹانوں پر زور سے پٹخ دیتی تھی۔ ( تفسیر الجامع الحکام القران المعروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی)

ایک بوڑھی نے اللہ کے عذاب کو دیکھا

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر انتہائی تیز و تند اور شدید ہوا یعنی آندھی کا عذاب بھیجا۔ وہ آندھی جب آسمان کے کنارے سے نمودار ہوئی تو قوم عاد نے اسے دیکھا تو انہیں آسمان کے کنارے سے انہیں ایک کالا گھنا بادل دکھائی دیا۔ لیکن یہ بادل نہیں تھا۔ بلکہ انتہائی تیز آندھی تھی جو اپنے ساتھ گرد وغبار اور نہ جانے کیا کیا لے کر آرہی تھی۔ اور چونکہ بہت دور تھی اسی لئے قوم عاد کو بادل کی شکل میں دکھائی دے رہی تھی۔ وہ لوگ اسے بارش والا بادل سمجھ بیٹھے اور خوشیاں منانے لگے۔ اور اپنے بتوں کی پوجا کرکے دعا کرنے لگے کہ یہ بادل ہماری طرف ہی آئے۔ افسوس وہ کم عقل یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خود اپنی تباہی کو بلا رہے ہیں۔ وہ بادل دھیرے دھیرے قوم عاد کے قریب آتا جا رہا تھا۔ اور قوم عاد خوش ہو کردیکھ رہے تھے۔ اور ناچ گا رہے تھے۔ ایک بوڑھی عورت نے جو بہت دیرسے اس پر نگاہیں جمائے ہوئی تھی۔ جسے وہ لوگ بادل سمجھ رہے تھے۔ اس نے اس میں کچھ دیکھا اور دہشت سے گر کر بے ہوش ہو گئی۔ قوم عاد کے لوگوں نے بوڑھی کو دیکھا تو ہوش میں لائے اور بے ہوشی کی وجہ پوچھی۔ تو اس نے بتایا کہ یہ بادل نہیں ہے۔ بلکہ یہ بہت تیز آندھی ہے۔ جس میں آگ ہی آگ ہے۔ اور کچھ لوگ ( فرشتے) اسے لے کر آرہے ہیں۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ سب سے پہلے جس نے اس عذاب کو دیکھا اور بادل کی بجائے ( آندھی) کا جھکڑ یقین کیا ۔ وہ ایک عورت تھی۔ اس عورت کا تعلق قوم عاد سے تھا اور اس کا نام ” مہد “ بتایاجاتا ہے۔ جب اسے پتہ چلا کہ یہ عذاب الہٰی ہے رحمت کا بادل نہیں ہے۔ تو اس کی چیخ نکل گئی اور وہ بے ہوش ہو کر گر گئی۔ جب ہوش میں آئی تو لوگوں نے پوچھا ۔ اے مہد کیا ہوا؟ وہ بولی ۔ میں نے ایک ہوا دیکھی ہے جس میں آگ ہی آگ ہے۔ اور کچھ لوگ اسے لے کر ہماری طرف آرہے ہیں۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں کہ سب سے پہلے اس ہوا کے عذاب کو ”مپدر “ نام کی عورت نے دیکھا۔ جس کا تعلق قوم عاد سے تھا۔ جب اس پر ظاہر ہو گیا کہ بادل میں کیا ہے تو اس نے زور دار چیخ ماری اور بے ہوش ہو گئی۔ جب ہوش میں آئی تو لوگوں کے دریافت کر نے پر بتایا کہ بادل کے اندر آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اس کے آگے آگے چند آدمی اس کا ہنکار ہے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں ان پر یہ آندھی مسلط کی۔ جس سے پوری قوم ہلاک کر دی گئی ۔( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

قوم عاد اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں

اللہ تعالیٰ کا عذاب جو قوم عاد کو بادل کی شکل میں دکھائی دے رہا تھا دھیرے دھیرے قریب آتا جا رہا تھا۔ اس بوڑھی عورت نے انہیں ہوشیار کرنے کی کوشش کی لیکن قوم عاد کی عقل پر پردے پڑ گئے تھے۔ ان بد بختوں نے ا س بوڑھی عورت کا مذاق اُڑایا۔ کہ بڑھاپے میں سٹھیا گئی ہے۔ اور خوشیاں منانے لگے۔ جیسے جیسے وہ چیز جسے وہ بادل سمجھ رہے تھے قریب آتی جا رہی تھی۔ویسے ویسے ہوا ٹھنڈی اور تیز ہوتی جا رہی تھی۔ پہلے تو قوم عاد کو ٹھنڈک اور فرحت کا احساس ہوا۔ لیکن دھیرے دھیرے ہو اکی تیزی اور ٹھنڈک بڑھتی جا رہی تھی۔ اور جب بادل جیسی شئے ان کے اوپر آئی تو اس وقت تک یہ عالم ہو چکا تھا کہ ہوا کی تیزی اور ٹھنڈک ناقابل برداشت ہو چکی تھی۔ اور لوگ خوشیاں منانے کے بجائے اپنی جان بچانے کے لئے اپنے اپنے گھر وں میں گھس گئے تھے۔ جو لوگ باہر رہ گئے تھے ۔ تیز اور ٹھنڈی ہوا انہیں لپیٹے میں لے کر اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عبداللہ بن بن عباس رضی اللہ عنہم اور کئی تابعین فرماتے ہیں۔ کہ ہوا شدید تیز و تند ہونے کے ساتھ ساتھ سخت ٹھنڈی بھی تھی۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عمر فاروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قوم عاد پر اللہ تعالیٰ نے جو ہوا بھیجی جس سے وہ لوگ ہلاک ہوئے وہ صرف انگوٹھی کے حلقے کے برابر کھولی گئی تھی۔ یہ ہوا جب دیہات کے لوگوں پر سے گزری تو انسانوں کو ، اُن کے جانوروں کو اور مال و متاع کو زمین و آسمان کے درمیان اٹھا لیا۔ جب شہر کے لوگوں نے جن کا تعلق قوم عاد سے تھا ہوا اور اس کے اندر جو کچھ تھا دور سے دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے۔ یہ ہم پر بارش برسائے گا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم دیا تو اس نے دیہاتیوں اور ان کے مویشیوں کو شہر کے لوگوں پر دے مارا۔ ( تفسیر الجامع الحکام القرآن المعروف تفسیر قرطبی جلد نمبر8امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی، تفسیر در منشور جلد نمبر 6امام جلا ل الدین سیوطی، قصص الانبیاءعماد الدین ابن کثیر)

قوم عاد کی تیز و تند اور سخت ٹھنڈی ہوا سے ہلاکت

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس ہم نے بھیج دی اُں پر سخت ٹھنڈی اور تیز و تند ہوا منحوس دنوں میں ” (سورہ حم السجدہ آیت نمبر16) اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ۔ ”ہم نے ان پر تیز و تند اور سخت ٹھنڈی ہو ا بھیجی دائمی نحوست کے دن ۔“ ( سورہ القمر آیت نمبر19) مولانا مودودی لکھتے ہیں طوفانی ہوا کے لئے ” ریح صر صر“ کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس کے معنی میں اہل لغت کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سخت لوہے۔ بعض کہتے ہیںکہ اس سے مراد سخت ٹھنڈی ہوا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ایسی ہوا ہے جس کے چلنے سے سخت شور برپا ہوتا ہے۔ بہر حال تمام لوگوں کا اس معنی پر اتفاق ہے کہ یہ لفظ بہت تیز طوفانی ہوا کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ( تفہیم القران سورہ حم السجدہ آیت نمبر16مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی)حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔باد صبا کے ساتھ میری مدد کی گئی ہے اور قوم عاد باد ِ سموم سے ہلاک کی گئی ہے۔ ( صحیح بخاری، صحیح مسلم)

مسلسل آٹھ دن اور سات رات تک چلنے والی آندھی

قوم عاد پر جب وہ بادل نما شئے آئی تو اس میں بہت تیز آندھی تھی۔ یہ سخت اور تیز اور ٹھنڈی آندھی قوم عاد کی بستیوں پر مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی۔ آندھی اتنی تیز ہو گئی تھی کہ قوم عاد کے اونچے اونچے محل کی مضبوط چھتیں اڑتی جا رہی تھیں۔ اور جس کے محل کی چھت اڑ تی وہ اس کے گھر والے اور خاندان والے اور جو لوگ محل میں چھپے ہوتے تھے وہ سب سخت تیزا ور ٹھنڈی آندھی کی زد (لپیٹے ) میں آجاتے۔ اور آندھی انہیں اوپر تک اٹھا کر لے جاتی اور نیچے لا کر پٹک دیتی تھی۔ اور ان کے چھیتڑے اڑ جاتے تھے۔ باقی دوسرے لوگ اپنے اپنے محلوں میں سے اس خوفناک منظر کو دیکھتے رہتے تھے۔ پھر ان کی بھی باری آتی تھی۔اس طرح جب تک قوم عاد کے تمام لوگ ختم نہیں ہو گئے توتب تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ مسلسل آٹھ دن اور سات راتو ں تک چلنے کے بعد جب آندھی تھمی۔ اور سورج نکلاتو قوم عاد کی تمام بستیاں تباہ ہو چکی تھیں ان کے محل ٹوٹ پھوٹ کر کھنڈر ہو چکے تھے۔ ( دیواریں تک ریزہ ریزہ ہو چکی تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور عاد بے حد تیز و تند ہوا سے ہلاک کر دیئے گئے۔ جسے ان پر برابر لگا تار یعنی مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک مسلط رکھا۔ پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ اس طرح زمین پر گرے پڑے تھے جیسے کہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ ُُ (سورہ الحاقہ آیت نمبر ,6اور نمبر7) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” قوم عاد نے بھی (ا پنے رسول کو ) جھٹلایا ۔ پس ( دیکھو ) کیسا ہے۔ ہمار ا عذاب اور ڈرانے والی باتیں۔ ہم نے ان پر تیز وتند ( طوفانی ) مسلسل چلنے والی ہوا۔ ایک دائمی منحوس دن میں بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر پٹخ دیتی تھی۔ ( اس کے بعد) ایسا لگتا تھا جیسے کہ وہ جڑ کٹے ہوئے تنے کھجور کے تنے پڑے ہوئے ہیں۔ ( سورہ القمر آیت نمبر18سے 20تک) تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے کہ قوم عاد جن کو اپنی طاقت اور مال و دولت پر بڑا ناز تھا ۔ ان کو شدید طوفانی آندھیوں سے تباہ کیا گیا۔ ان پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک اس طرح طوفان مسلط کیا گیا کہ وہ طوفانی ہوائیں ان کواس طرح اٹھا اٹھا کر پٹک رہی تھیں کہ ان کے جسم کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح ہر طرف بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور آج ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا ہے۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر 6مولانا محمد آصف قاسمی)

٭ قوم عاد اپنے زمانے میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی

 اللہ تعلایٰ نے سورہ القمر کی آیت نمبر 18سے20تک میں جو فرمایا اس کی تفسیر میں تفسیر بصیرت القران میں لکھا ہے۔ قوم عاد جنہوں نے سینکڑوں سال تک حکومت کی تھی اور ہر طرح کی دنیاوی ترقیات میں وہ سب سے آگے تھے۔ ( یعنی اس زمانے کی سوپر پاور تھے) وہ اپنی طاقت وقوت کے سامنے کسی قوم اور کسی ملک کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب یہ لوگ کفر و شرک اور ظلم و زیادتی کی انتہاپر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت ہود علیہ السلام کو بھیجا۔ انہوں نے دن رات سمجھانے کی کوشش کی اور ان کو کفر و شرک اور اللہ کی مخلوق پر ظلم و ستم کرنے سے روکا تو پوری قوم ان کی دشمن بن گئی۔ اور انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ اور ان کی ہر بات کا مذاق اڑایا۔ جب اس قوم نے کفر و شرک کا راستہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تو اللہ کا فیصلہ آگیا۔ اس قوم کی تباہی کا آغاز ایک ایسی تیز و تند آندھی سے ہوا جس سے لوگوں کا زمین پر کھڑا رہنا مشکل ہو گیا۔ آندھی میں تیزی ہوتی گئی اور کوئی دیوار سے ٹکرا کر کوئی درخت سے اور کوئی پتھر ( چٹان ) سے ٹکر کر مرگیا۔ اور کسی پر اس کی چھت آگری وہ لمبے تڑنگے اور بے حد طاقتور تھے۔ مگر تیز ہوا ان کو اس طرح اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی جیسے وہ کھجور کے اکھڑے ہوئے تنے ہوں۔ اس طرح وہ تمام عرصہ اور مدت جب عذاب نازل ہو رہا تھا ہمیشہ کے لئے نحوست بھرا یاد گار دن بن گیا۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر5مولانا محمد آصف قاسمی)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

حضرت ہود علیہ السلام 6 Story of Prophet Hood



حضرت ہود علیہ السلام

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 6

وفد کے مقصد کی طرف اشارہ

قوم عاد کا وفد اپنے مقصد کو بھول کر عیش و عشرت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ معاویہ بن بکر قوم عاد قبیلے سے اپنے قبیلے کی محبت اور شفقت کی وجہ سے انہیں کچھ کہہ نہیں پا رہا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ وہاں ان کے عزیز و اقارب ہلاکت کے قریب پہنچ چکے ہیں اور یہ لوگ اپنے مقصد کو بھول کر عیش و عشرت میں مگن ہیں۔ یہ میرے مہمان ہیں اس لئے صاف کہہ بھی نہیں سکتا کہ کہیں یہ لوگ یہ نہ سوچیں کہ معاویہ ان سے تنگ آگیا ہے۔ آخر اس نے کافی سوچ بچار کے بعد اس نے چند اشعار لکھے۔ اور اپنی دونوں باندیوں کو دے دیا کہ آج رات یہ اشعار گا کر وفد کو سنانا۔ لونڈیوں نے وفد کے سامنے یہ اشعار پڑھے۔ ترجمہ ۔ سنو اے قیل (ستر آدمیوں کے سردار) تجھ پر افسوس ہے ۔ اٹھ اور کعبتہ اللہ کو جا۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بادل عطا کر دے۔ اور وہ بادل عاد کی سر زمین کو سیراب کر دے۔ عاد کی قوم قحط کی وجہ سے آنکھ اٹھانے سے بھی قاصر ہے۔ سخت پیاس کی وجہ سے نہ تو اب ہمیں کسی بوڑھے کی زندگی کی امید ہے اور نہ بچے کی۔ حالانکہ قبیلے کی عورتیں بیمار نہیں ہیں۔ لیکن بھوک اور پیاس کی وجہ سے وہ حالت یاس کو پہنچی دکھائی دیتی ہیں۔ اور وحشی ( جانور) علی اعلان اُن کے پاس دوڑتے آتے ہیں اور اب درندوں کو ان کے تیروں کا کوئی خوف نہیں رہا ہے۔ اور تم ( اے وفد کے ارکان) یہاں رات دن مکمل عیش میں بسر کر رہے ہو۔ تم سے برا کسی قوم نے وفد نہیں بھیجا ہوگا۔ اور نہ کسی قوم نے اس وفد سے بڑھ کر برے وفد کو خوش آمدید کہا ہوگا۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر)

بادل کا انتخاب

قوم عاد کے وفد نے جب یہ اشعار سنے تو انہیں اپنا مقصد یاد آگیا۔ دوسرے دن صبح وفد کے سردار قیل بن عنز نے وفد کے تمام ارکان کو حکم دیا کہ دعا کے لئے چلیں۔ سب لوگ حرم پاک گئے اور ان میں سے دعا کرنے والے نے دعا کی۔ یعنی وفد کے پانچ منتخب افراد میں سے قیل بن عنز نے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے تین بڑے بڑے بادل ظاہر فرمائے۔ ایک کا رنگ سفید تھا ۔ دوسرے کا رنگ سرخ تھا۔ اور تیسرے کا رنگ سیاہ یعنی کالا گھنا بادل تھا۔ پھر آسمان سے آواز آئی ۔ ان میں سے اپنے لئے کسی ایک رنگ کے بادل کا انتخاب کر لو۔ (یعنی قوم عاد کے لئے ) قیل بن عنز نے کہا کہ میں کالے گھنے بادل کا انتخاب کرتا ہوں۔ کیوں کہ اس میں بارش زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد آواز آئی تو نے نہایت جلی ہوئی راکھ کا انتخاب کیا ہے۔ قوم عاد کا کوئی فرد نہیں بچے گا۔ سب فنا ہو ں گے۔ نہ باپ بچے گا اور نہ ہی بیٹا۔ تو نے تمام لوگوں کے لئے ہلاکت مانگ لی ہے۔ ہاں بنو لوذیہ اس قہر وغضب سے بچ جائیں گے۔ بنو لوذیہ کے لوگ بھی عاد کی نسل سے تھے۔ اور مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ یہ عذاب ان لوگوں پر عذاب نہیں ہوگا۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عاد کی قوم سے جتنے لوگ اس عذاب کی ہلاکت خیزی سے محفوظ رہے انہی کو ” عاد ِ آخرہ یا عادِثانیہ “ کہا جاتا ہے۔ (قصص الانبیاءعلامہ عما دالدین ابن کثیر) ایک اور روایت میں ہے کہ قوم عاد کے وفد نے مکہ مکرمہ کے ایک بڑے آدمی کو دعا کرنے کے لئے بھیجا۔ جب مکہ مکرمہ کے ایک بڑے آدمی نے مکہ مکرمہ کے پہاڑ پر جا کر دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے تین باد ل ظاہر فرمائے۔ ایک کا رنگ سفید تھا۔ دوسرے کا رنگ سرخ تھا۔ اور تیسرے کا رنگ کالا تھا۔ پھر آسمان سے آواز آئی۔ ان میں سے کسی بھی بادل کا انتخاب کر لے۔ قوم عاد کے لئے ۔ اس نے کہا میں کالے بادل کا انتخاب کرتا ہوں کیوں کہ اس میں بارش زیادہ ہوتی ہے۔ تو آسمان سے آواز آئی۔ تو نے جلی ہوئی راکھ کا انتخاب کیا ۔ قوم عاد کا کوئی فرد زندہ نہیں بچے گا۔ سب فنا ہو ں گے۔ یہ بات سن کر اس شخص نے اس بات کو چھپا لیا۔ او قوم عاد کے وفد سے کہا۔ جاﺅ کالا گھنا بادل آئے گا اور بارش لائے گا۔ ابو کریب رحمتہ اللہ علیہ ایک اور روایت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ کہ جب اُن میں سے ایک شخص مہرہ کے پہاڑوں پر چڑھ گیا اور دعا مانگنی شروع کی ۔ اے اللہ ، میں تیرے پاس کسی قیدی کی رہائی یا کسی مریض کی شفا کا سوال کرنے نہیں آیا ہوں۔ بلکہ اس لئے آیا ہوں کہ تو عاد پر بارش برسا اورانہیں سیراب کر دے۔ جس طرح تو انہیں پہلے سیراب کیا کرتا تھا۔ جب یہ شخص دعا مانگ کر اٹھا تو آسمان پر ایک ایک کر کے بادل آتے جاتے اور اس شخص کو انتخاب کا اختیار دیا جاتا تھا۔ جو بادل چاہے قوم عاد کے لئے پسند کر لے۔ تو جو بھی بادل آتا تھا وہ شخص اسے دوسری قوموں کی طرف بھیج دیتا تھا۔ یہاں تک کہ ایک سیاہ کالا گھنا بادل آیا تو اس شخص نے کہا قوم عاد کی طرف چلا جا اور وہاں برس ۔ تو آواز آئی کہ تو قوم عاد کو راکھ کا ڈھیر بنا دے اور عاد میں سے کسی کو نہ چھوڑ ۔ یہ کلام سن کر وہ شخص واپس پلٹا تو اپنی قوم کے وفد کو دیکھا کہ وہ معاویہ بن بکر کے یہا ں شراب نوشی کر رہے ہیں۔ (تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

حضرت مرثد بن سعد نے وفد کو اسلام کی دعوت دی

قوم عاد کے وفد کو معاویہ بن بکر نے اشعار میں ان کے مقصد کی یاد دلائی تو وفد کے لوگوں نے ایک دوسرے سے کہا ۔ کہ ہمیں بارش کی دعا کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے اور ہم نے یہاں بہت سستی کر لی۔ پس حرم پاک میں داخل ہو جاﺅ اور اپنی قوم کے لئے بارش کی دعا کرو۔ اس وفد میں حضرت مرثد بن سعد نام کے ایک جوان بھی شامل تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا مگر اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے۔ انہوں نے وفد سے کہا۔ اللہ کی قسم، تم کو اس وقت تک بارش سے سیراب نہیں کیا جائے گا جب تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاﺅ گے اور ان کی فرماں برداری نہیں کرو گے۔ یہاں ظاہر ہو گیا کہ حضرت مرثد بن سعد نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ سنتے ہی جلہمہ بن خیری نے کہا۔ اے ابو سعد تو ایک مکرم قبیلے سے ہے۔ اور تیری والدہ ثمود سے ہے۔ جب تک ہم زندہ ہیں ہرگز تیری اطاعت اور فرماں برداری نہیں کریں گے۔ اور وہ کام نہیں کریں گے جو تو چاہتا ہے۔ کیا تو ہمیں حکم کرتا ہے کہ ہم آلِ رفد، زمل ، صد اورعبود دیں اور ہم چھوڑ دیں اپنے محترم باپ دادا کے دین کو۔ ( رفد ، زمل ، صد اور عبود تمام کے تمام قوم عاد کے قبائل ہیں) پھر وفد کے لوگوں نے معاویہ بن بکر اور اس کے والد بکر کو کہا کہ تم مرثد بن سعد کو یہیں روکے رکھو اور اسے مکہ مکرمہ آنے مت دینا کیوں کہ اس نے ہود ( علیہ السلام ) کی پیروی شروع کر دی ہے ۔ ( یعنی اسلام قبول کر لیا ہے اور حضرت ہود علیہ السلام کی طرح یہ بھی اسلام کی دعوت دینے لگا ہے) جب یہ لوگ مکہ مکرمہ جانے لگے تو مرثد بن سعد بھی معاویہ بن بکر کے گھر سے نکل پڑے اور انہیں حرم پاک میں دعا مانگنے سے پہلے ہی ان کے پاس پہنچ گئے۔ انہوں نے وفد کے لوگوں کو پھر سمجھایا لیکن وہ نہیں مانے تو حضرت مرثد بن سعد نے وہیں کھڑے ہو کر دعا مانگی۔ اے اللہ تعالیٰ ، تو میری حاجت کو پورا کر دے اورمجھے اس وفد کی طرف سے بری کر دے۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریرطبری)

بادل کا انتخاب اور تین افراد کی دعا

قوم عاد کے وفد کا قائد قبیل بن عنز تھا۔ اس نے بھی دعا مانگی ۔ اے اللہ تعالیٰ ، ہود علیہ السلام سچے ہیں پس تو ہمیںسیراب کر دے۔ اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے تین بادل سفید ، سرخ اور سیاہ (کالا) اُن کی طرف بھیجے۔ پھر بادلوں میں سے آواز آئی ۔ اے قبیل تو اپنے لئے اور قوم عاد کے لئے اس میں سے پسند کر لے تو اس نے کہا میں کالے بادل کا انتخاب کرتا ہوں۔ اس لئے کہ یہ زیادہ پانی والاہے۔ تو آواز آئی ۔ اے باد ل تو عاد کو راکھ کا ڈھیر بنا دے اور عاد میں سے کسی کو نہ چھوڑنا۔ نہ کسی باپ کو اورنہ ہی کسی بیٹے کو سوائے بنو لوذیہ کے۔ بنو لوزیہ سے مراد لقیم بن ہزل بن ہزیل بن ہزیلہ بنت بکر ہے۔ یہ لوگ عاد کے ساتھ نہیں رہتے تھے۔ بلکہ مکہ مکرمہ میں اپنے ماموں کے ساتھ رہتے تھے۔ یہ بھی عاد تھے لیکن ان کا تعلق ہلاک ہونے عاد سے نہیں تھا۔ اس لئے انہیں محفوظ رکھا گیا۔ اس کے بعد حضرت مرثد بن سعد ، لقمان بن عاد اور قیل بن عنزل کو اختیار دیا گیا کہ تم تینوں میں سے ہر شخص اپنے لئے جو چاہے پسند کر لے حضرت مرثد بن سعد نے کہا اے اللہ تعالیٰ ، آپ مجھے نیکی اور سچائی عطا فرمائیں۔ پس وہ انہیں عطا کر دی گئیں۔ لقمان بن عاد نے کہا۔ اے اللہ مجھے لمبی عمر عطا فرمائ۔ اس سے کہا گیا کہ ایک بکری کی عمر کو پسند کر لے یا جنگلی بھیڑیا کی عمر کو یا پھر سات گدھوں کی عمر کو اختیار کر لے ۔ لیکن یاد رکھنا اس کے بعد موت ہے۔ اور قیل بن عنز سے کہا گیا کہ تو بھی کسی چیز کو اپنے لئے منتخب کر لے تو اس نے کہا۔ مجھے وہی عطا کیا جائے جو میر ی قوم کو عطا کیا گیا ہے۔ کیوں کہ مجھے زندہ رہنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ (تاریخ طبری جلد نمبر1علامہ محمد بن جریر طبری) 

حضرت مرثد بن سعد کا ایمان اور قوم عاد کی مذمت

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت مرثد بن سعد کو نیکی اور سچائی عطا فرمائی تو انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے قوم عاد کو اسلام کی دعوت دی لیکن انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تو ان پر قحط مسلط کر دیا گیا۔ تو انہوں نے حرم پاک ایک وفد بھیجا کہ وہ اپنی قوم کے لئے پانی کی دعا کرے۔ اور موسلا دھار بارش برسنے والا بادل اُن کے ساتھ تھا۔ لیکن رسول علیہ السلام کو جھٹلانے کی وجہ سے وہ بارش سے محروم کر دیئے گئے۔ انہوں نے اعلانیہ اپنے رب سے کفر کیا۔ اس لئے تباہی اور بربادی اُن کا مقدر کر دی گئی۔ سُن لو اے لوگو، اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کی عقلیں سلب کر لی تھیں۔ کیوں کہ ان کے قلوب ( دلوں میں ) خواہشات کے گھر تھے۔ اور وہ واضح خبر ( اسلام کی دعوت) سننے سے بھی عاجز تھے۔ اسی لئے کوئی بھی نصیحت انہیں خیر (بھلائی) پر نہیں لا سکی۔ میری جان، میرا مال اور میرے بیو ی بچے اور میرے والدین سب کے سب حضرت ہود علیہ السلام پر قربان ہوں۔ جب وہ ہماری طرف مبعوث کئے گئے۔ (یعنی جب انہوں نے اعلان نبوت کیا) تو اس وقت ہم ظلم کیا کرتے تھے۔ اور لوگ دین کی روشنی سے محروم تھے۔ ہمارا ایک ہی معبود صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ جب کہ کافروں کے کئی خدا جیسے صد اور ہباءوغیرہ ہیں۔ ہمارے خدا کو اسی نے دیکھا (یعنی پہچانا) جس نے سنگدلی ( کفر و شرک) کو جھٹلایا اور بدی ( لڑائی) سے توبہ کی۔ میں عنقریب آل ہود اور اپنے مسلمان بھائیوں سے ملوں گا۔ جب ( عذاب کی) شام گزر چکی ہوگی۔ ( تاریخ امم والملوک تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

کالا گھنا بادل اور قوم عاد کا خوشیاں منانا

قوم عاد کے وفد نے عذاب کی بات کو چھپا لیا۔ اور وہ وفد یہ خبر لے کر قوم عادکے پا س واپس آیا اور بتایا کہ کالا گھنا بادل آئے گا جس سے بارش ہوگی۔ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب کالے گھنے بادل کی شکل میں قوم عاد جہاں رہتی تھی وہاں آسمان کے کنارے سے نمودار ہونا شروع ہوا۔ تو قوم عاد نے جب آسمان کے کنارے پر اسے دیکھا تو انہیںکالا گھنا بادل ہی دکھائی دیا۔ لیکن وہ کالا گھنا بادل نہیں تھا۔ بلکہ انتہائی تیز و تند خوفناک آندھی تھی۔ قوم عاد نے اسے دیکھا تو بادل سمجھ کر خوشیاں منانے لگے۔ اور ناچنے گانے لگے۔ کہ اب ہم پر بارش ہوگی۔ اور قحط دور ہو جائے گا۔ اپنے بتوں کی زور و شور سے پوجا کرنے لگے۔ اور فریاد کرنے لگے کہ وہ بادل ہماری طرف ہی آئے ورنہ وہ کہیں اور چلا گیا تو ہم بارش سے محروم رہ جائیں گے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر جب انہوں نے عذاب کو بادل کی صورت میں اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔ ( نہیں ) بلکہ در اصل یہ بادل وہ (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے۔ ( یہ) ہوا ہے جس میں درد ناک عذاب ہے۔“ (سورہ الاحقاف آیت نمبر23)

بادل دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت

اُم المومنین حضرة عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی اس طرح کھلکھلا کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ حلق کا کوّا بھی نظر آجائے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف تبسم فرماتے تھے۔ ( یعنی صرف مسکراتے تھے۔ ) اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل دیکھتے تو چہرہ مبارک پریشانی کے آثار صاف نظر آتے تھے۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، لوگ جب بادل دیکھتے ہیں تو وہ اس امید پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ بارش برسے گی۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل دیکھتے ہیں تو پریشانی اور گھبراہٹ کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر نظر آتے ہیں۔ تو رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اے عائشہ ( رضی اللہ عنہا) مجھے یہ خوف ہو جاتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب ہی نہ ہو کیوں کہ ایک قوم کو ہوا کے ساتھ عذاب دیا گیا ہے۔ بے شک جب اس قوم ( عاد) نے ( بادل کی صورت میں ) عذاب دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔ ( صحیح بخاری امام محمد بن اسماعیل بخاری ، صحیح مسلم امام مسلم بن حجاج ، سنن ابو داﺅد امام ابو داﺅد ، تفسیر در منشور امام جلال الدین سیوطی) اُم المومنین حضرة عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ جب تیز ہوا چلتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دعا مانگتے تھے۔ اے اللہ تعالیٰ، میں تجھ سے اس کی بھلائی ، جو خیر اس میں ہے ، اور جس خیر کے ساتھ تو نے اسے بھیجا ہے اس کا سوال کرتا ہوں۔ اور اس کے شر، جو شر اسمیں ہے اور جس شر کے ساتھ تو نے اسے بھیجا ہے اس سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ پس جب آسمان پر بادل آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ¿ مبارک پر پریشانی کے آثار آجاتے ۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جاتے اور کبھی اندر تشریف لاتے۔ اور کبھی چہرہ مبارک ایک طرف پھیرتے کبھی دوسری طرف۔ اور جب بارش برس جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہو جاتی۔ میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای۔ اے عائشہ ( رضی اللہ عنہا ) شاید بات اسی طرح ہو جس طرح قوم عاد نے کہا تھا یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے۔ ( صحیح مسلم امام مسلم بن حجاج ، جامع ترمذی امام محمد بن عیسیٰ ترمذی، سنن نسائی امام احمد بن شعب نسائی ، تفسیر در منشور امام جلال الدین سیوطی)ب

اقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں ر 

پیر، 10 اپریل، 2023

حضرت ہود علیہ السلام 5 Story of Prophet Hood


حضرت ہود علیہ السلام 5

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے بارش روک لی 

تفسیر بصیرت القران میں ہے کہ وہ قوم جس کی طرف حضرت ہود علیہ السلام بھیجے گئے تھے۔ ”عاد“ کہلاتی تھی۔ یہ حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے تھی ۔ ان کا اقتدار عماد سے لے کر حضرموت اوریمن تک وسیع تھا۔ ان کی زمینیں بڑی سر سبز و شاداب تھیں۔ وہ ہر طرح کی نعمتوں سے مالا مال تھے۔ جسمانی صحت اور طویل العمری میں بھی ان کا کوئی مقابل نہیں تھا۔ اسی لئے غرور و تکبّر اور کفر و شرک میں بھی بڑے شہ زور تھے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے مختلف طریقوں سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی اور فرمایا۔ دیکھو یہ اس اللہ کا کرم ہے جس نے تمہیں زندگی اور وجود بخشا ہے۔ اسی ذات کا شکر ادا کرتے ہوئے ہر طرح کے کفر اور شرک سے بچتے رہو ۔ مگر وہ اپنی بد مستیوں میں ہر چیز بھول چکے تھے۔ اور اسی غرور و تکبر میں اور سر کشی میں اللہ کے عذاب کو دعوت دے بیٹھے اور کہنے لگے۔ ہم تو اپنے باپ داد ا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کا رب اگر سچا ہے تو ہم پر اس عذاب کو لے آئیں۔ جس سے روزانہ ہمیں ڈراتے ہیں۔ جب کوئی قوم سر کشی کی اس منزل تک آجاتی ہے تو اللہ اپنے عذاب کو بھیج کر رہتا ہے۔ چنانچہ حضرت ہود علیہ السلام نے اعلان کر دیا کہ اب تمہارے اوپر وہ عذاب آنے والا ہے۔ جس کا تم مطالبہ کر رہے ہو۔ تم اس کا انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھانتظار کر رہا ہوں۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر2مولانا محمد آصف قاسمی لیا۔ اور عاد نے بد بختنی کو دعوت دے دی تھی۔ اور ان پر اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کی شروعات کر دی اور ان پر سے بارش کو روک لیا۔ اور بارش نہ ہونے سے وہ پانی کی کمی شکار ہونے لگے۔

قوم عاد قحط میں مبتلا

اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کی قوم پر عذاب کی شروعات اس طرح کی کہ قوم عاد کو قحط میں مبتلا کر دیا۔ ان پر بارش روک لی گئی۔ جب برسات نہیں ہوئی تو اس علاقے کے درخت، پیڑ پودے دھیرے دھیرے پھل ،میوے اور پھول کم دینے لگے اور سوکھنے لگے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قوم عاد کو اشارہ تھا کہ اب بھی سنھبل جاﺅ۔ اور حضرت ہود علیہ السلام کی بات مان کر اسلام قبول کر لو۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم کو یہی سمجھاتے کہ اللہ تعالیٰ نے بارش روک لی ہے۔ اب بھی اسلام قبول کر لو۔ اللہ تعالیٰ تم پر بارش برسا دے گا۔ قوم عاد بہت ہی دولت مند اور امیر تھے۔ اس قوم کا ہر شخص بہت زیادہ مالدار تھا۔ جب اللہ نے بارش روک لی تو قوم عاد تھوڑا بہت بہت اناج اور پھلوں اور میووں کی کمی کا شکار ہوئی۔ اور اس سال یہ سب سے کم پیدا ہوئے۔ لیکن اس علاقے میں ندیاں، نہریں اور چشمے بہت تھے۔ حالانکہ ان میں بھی پانی کی کمی ہو ئی لیکن یہ اتنے زیادہ تھے کہ اس سال انہیں پانی کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ اور پیداوار کی کمی کا انہیں احساس نہیں ہوا۔ لیکن دوسرے سال بھی اللہ تعالیٰ نے بارش روک لی۔ اور دوسرے سال بارش نہ ہونے کی وجہ سے ندیوں ، نہروں اور چشموں کا پانی کافی حد تک کم ہو گیا۔ اور اناج ، پھلوں اور میووں بلکہ ہر چیز کی پیداوار اتنی زیادہ کم ہو گئی کہ قوم عاد کو اپنی ضروریات کے لئے اپنی جمع شدہ دولت نکال کر دوسری قوموں سے خریدنا پڑا۔ اس دوران حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔

حضرت ہود علیہ السلام کی آخری کوشش

حضرت ہود علیہ السلام کی قوم پر اللہ تعالیٰ نے اپنے عذاب کی شروعات کر دی تھی اور بارش روک لی تھی۔ بارش نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سال تو قوم عاد کو زیادہ فرق نہیں پڑا لیکن جب دوسرے سال بھی بارش نہیں ہوئی تو ان کی معیشت ٹوٹنے لگی۔ اور وہ شدید پریشانی کا شکار ہو گئے۔ حضرت ہود علیہ السلام اس دوران اپنے فرض کو ادا کر تے رہے۔ اور اپنی اسلام کی طرف مائل کرنے کی آخری کوشش کر رہے تھے ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ”(حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا)اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے رب ( پروردگار، پالنے والے) سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور پھر ( دل و جان سے ) اس کی طرف رجو ع کرو۔ ( یعنی اسلام قبول کرلو) تو وہ ( اللہ تعالیٰ) تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسا دے گا۔ اور تمہاری طاقت و قوت میں پہلے سے زیادہ اضافہ کر دے گا۔ اور تم ( شرک و کفر کا ) جرم کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے منہ نہ موڑو۔ ( سورہ ہود آیت نمبر52) تفسیر انوار البیان میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی موجودہ نعمتیں بھی یاد دلائیں اور آئندہ نعمتیں ملتے رہنے کا عملی طریقہ بھی بتایا۔ اور وہ یہ ہے کہ تم اپنے رب سے استغفار کرو یعنی ایمان لاﺅ تمہارے گذشتہ سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اور اس کی بارگاہ میں توبہ بھی کرو تو اللہ تعالیٰ تم پر بارش بھیج دے گا۔ جو ضرورت کے وقت خوب برستی رہے گی۔ اور تمہاری جو موجودہ قوت و طاقت و زور آوری ہے اللہ تعالیٰ اس کو اور بڑھا دے گا۔ صحاب معالم التنزیل نے لکھا ہے کہ تین سال تک بارش نہیں ہوئی تھی اور عورتیں بانجھ ہو گئی تھیں۔ اولاد پیدا نہیں ہوتی تھی۔ مال و اولاد نہ ہونے سے قوت میں کمی ہو رہی تھی۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ ایمان لاﺅ اور اللہ کی طرف رجوع کرو۔ مال بھی ملے گا اور اولاد بھی ہو گی اور ان دونوں کے ذریعے تمہاری قوت میں اضافہ ہو گا۔ ( تفسیر انوار البیان مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ تم استغفار میں لگ جاﺅ، گذشتہ گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اور توبہ کرو۔ آئندہ کے لئے گناہوں سے رک جاﺅ۔ یہ دونون باتیں جس میں ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ اس کی روزی آسان کر تا ہے۔ سنو ایسا کرنے سے تم پر بارشیں برابر عمدہ اور زیادہ برسیں گی۔ اور تمہاری طاقت و قوت میں دن دونی رات چوگنی برکتیں ہوں گی۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر معارف القران میں ہے کہ (حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم تم اپنے گناہ ( کفر و شرک وغیرہ) اپنے رب سے معاف کراﺅ۔ ( یعنی ایمان لاﺅ اور ) پھر ( ایمان لا کر ) اس کی طرف ( عبادت سے) متوجہ رہو۔ (یعنی عمل صالح کرو پس ایمان و عمل صالح کی برکت سے) وہ تم پر خوب بارش برسادے گا۔ در منشو رمیں ہے کہ قوم عاد پر تین سال متواتر قحط پڑا تھا اور ویسے بارش خود بھی مطلوب ہے۔ اور ( ایمان وعمل کی برکت سے ) تم کو قوت دے کر تمہاری ( موجودہ ) قوت میں ترقی کر دے گا۔ ( پس ایمان لے آﺅ) اور مجرم رہ کر ( ایمان سے)اعراض مت کرو۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر 4مولانا مفتی محمد شفیع)

قوم عاد کی بد بختی

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر باش روک کر انہیں قحط میں مبتلا کر دیا تھا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں آخری مرتبہ سمجھایا کہ اب بھی موقع ہے اسلام قبول کر لو۔ لیکن بد بخت قوم عاد اسلام قبول کرنے کی بجائے اپنے بتوں کی اور زیادہ پوجا کرنے لگی۔ اور ان بتوں سے بار ش مانگنے لگی۔ اس طرح ایک سال گزر گیا۔ دوسرے سال دھیرے دھیرے چشموں کا پانی کم ہونے لگا۔ اور قوم عاد کھانے کے ساتھ ساتھ پانی کی کمی کا شکار ہونے لگی۔ حضرت ہود علیہ السلام نے پھر سمجھایالیکن وہ لوگ نہیں مانے۔ اس طرح دوسرا سال بھی گزر گیا۔ جب تیسرا سال شروع ہوا تو اس سال میں کھانا اور پانی لگ بھگ ختم ہونے لگا۔ لیکن یہ بد بخت قوم پھر بھی بُت پرستی میں مبتلا رہی۔ جب تین سال تک قحط میں مبتلا رہنے کے بعد بھی حضرت ہود علیہ السلام کی قوم بت پرستی میں مبتلا رہی تو اللہ تعالیٰ نے وہ عذاب بھیجا۔ جس سے یہ سب لوگ ختم ہو گئے۔ اس عذاب کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ہم قرآن پاک کی اس سلسلے میں کچھ آیات پیش کرتے ہیں ۔ ہم یہاں صرف اردو ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔ سورہ حم السجدہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” پس قوم عاد نے سر کشی اختیار کی زمین میں ناحق ۔ اور کہنے لگے ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ اور وہ ہمیشہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔ پس ہم نے بھیج دی ان پر سخت ٹھنڈی ہوا۔ شامت کے دنوںمیں تا کہ ہم انہیںچکھائیں ذلت آمیز عذاب کا مزہ اس دنیاوی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو بہت زیادہ رسوا کرنے والا ہوگا۔ اور ان کی ہرگز مدد نہیں کی جائے گی۔ ‘ ‘ 

ہولناک عذاب 

اللہ تعالیٰ نے سورہ احقاف میں فرمایا۔ ” وہ قوم ( قوم عاد) بولے۔ (اے ہود علیہ السلام )کیا تم اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے خداﺅں ( بتوں) سے بیزار کر دو۔ تو لے آﺅ وہ عذاب جس کی تم دھمکیاں دیتے رہے ہو۔ اگر تم سچے ہو ۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ کہ عذاب کے نازل ہونے کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پا س ہے۔ اور میں تو تمہیں وہ پیغام سنا رہا ہوں جو دے کر بھیجا گیا ہوں۔ لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم جاہل قوم ہو۔ پس جب انہوں نے عذاب کو بادل کی صورت میں دیکھا جو ان کی وادیوں کی طرف آرہا تھا ۔ تو بولے ۔یہ بادل ہے۔ ہم پر برسنے والا۔ ( نہیں یہ کم عقل یہ نہیں جانتے کہ ) بلکہ یہ عذاب ہے۔ جس کے لئے تم جلد ی مچا رہے تھے۔ یہ ( تیز و تند) ہوا ( آندھی) ہے۔ اس میں درد ناک عذاب ہے۔ تمہیں تہس نہس کر کے رکھ دے گی۔ اپنے رب کے حکم سے جب اُن پر صبح ہوئی تو سوائے ویران ٹوٹے پھوٹے کھنڈر اور ریزہ ریزہ مکانوں کے اور کچھ نہیں دکھائی دیا۔ اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں مجرموں کو۔اللہ تعالیٰ نے سورہ زاریات میں فرمایا۔ ” اور عاد( کے قصہ) میں نشانِ عبرت ہے۔ ہم نے اُن پر آندھی بھیجی۔ جو خیر و برکت سے خالی تھی۔ وہ کسی چیز کو نہیں چھوڑتی تھی۔ جس پر سے گزرتی تھی اسے ریزہ ریزہ کر دیتی تھی۔ “ اللہ تعالیٰ نے سورہ القمر میں فرمایا۔ ”عاد نے بھی جھٹلایا تھا ۔ پھر کیسا ( خوفناک) تھا ہمارا عذاب اور ڈر اﺅنا۔ ہم نے اُن پر تیز و تند آندھی بھیجی ایک دائمی نحوست کے دن وہ اس طرح لوگوں کو (بلکہ ہر چیز کو) اکھاڑ پھینک دیتی تھی۔ جیسے وہ مڈھ ہیں اکھڑی ہوئی کھجور کے۔ “ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحاقہ میں بھی فرمایا۔ ”رہے عاد تو انہیں برباد کر دیا گیا۔ آندھی سے جو سخت سرد اور بے حد تیز و تند تھی۔ اللہ نے اسے اُن پر مسلط کر دیا تھا۔ اور (مسلسل) سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلط رہی۔ اور وہ جڑوں سے اکھاڑ دینے والی تھی۔ تو تم اگر دیکھتے قوم عاد کو ( عذاب کے بعد) تو ایسا لگتا جیسے وہ کھوکھلی کھجور کے مڈھ ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں مختصرا قوم عاد کے اوپر بھیجے گئے عذاب کا ذکر فرمایا ہے۔ ہم انشاءاللہ یہاں ان آیات کی تفسیر پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ جس سے آپ کو عذاب کی ہولناکی، سختی، خوفناکی، تباہی اور تفصیل سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

قوم عاد نے مکہ مکرمہ وفد بھیجا

اللہ تعالیٰ نے جب قوم عاد پر عذاب کی شروعات کی۔ تو جب حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد تین برسوں تک قحط کا شکار رہی تو انہون نے اپنا ایک وفد حرم شریف ( مکہ مکرمہ ) بھیجا کہ وہ وہاں کے بڑے لوگوں سے درخواست کرے کہ وہ قوم عاد کے لئے دعا کریں۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ جب قوم عاد کے لوگ اللہ تعالیٰ کے وجود کے انکار میں حد سے گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تین سال تک قحط میں مبتلا کئے رکھا۔ قحط سالی نے ان کا جینا مشکل کر دیا۔ اس زمانے میں جب لوگوں کو کوئی مشکل پیش آتی تو اللہ تعالیٰ سے اس مشکل سے نجات کے لئے درخواست کر تے تھے۔ وہ کعبتہ اللہ کے پاس حاضر ہو تے تھے۔ اور اس کے وسیلے سے آسانی کا سوال کر تے تھے۔ یہ اس دور کے لوگوں کا عام طریقہ تھا۔ عمالقہ قبیلے کے لوگ حرم پاک ( مکہ مکرمہ) کے نزدیک قیام پذیر تھے۔ یہ لوگ عملیق بن لاوذبن سام بن حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد تھے۔ عملیق کے نام پر ہی اس قبیلے کا نام عمالقہ تھا۔ ان دنوں جو شخص اس قبیلے کا سردار تھا اس کا نام معاویہ بن بکر تھا۔ اس سردار کی والدہ کا تعلق قوم عاد سے تھا۔ اس بوڑھی عورت کا نام جلہذہ تھا جو قوم عاد کے ایک شخص جس کا نام خیری تھا کی بیٹی تھی۔ قوم عاد نے تقریباً ستر70آدمیوں پر مشتمل ایک وفد حرم پاک کو بھیجا ۔ تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے گھر کے وسیلہ سے بارش کی دعا کریں۔ ( قصص الانبیا ءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) تاریخ طبری میں محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب قوم عاد پر قحط مسلط کر دیا گیا تو انہوں نے پانچ لوگوں کو منتخب کر کے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ کچھ لوگ مکہ مکرمہ بھیج دیئے ۔ تا کہ وہ ان کے لئے بارش کی دعا کریں۔ کُل ستر 70 لوگوں کا قافلہ پانچ منتخب افراد کی معیت میں مکہ مکرمہ کیجانب روانہ ہو ا۔ جب یہ چاروں افراد یعنی قیل بن عنز ، مرشد بن سعد، جلہمہ بن خیری( معاوی بن بکر کا خالو) لقیم بن ہزل مکہ مکرمہ میں معاوہ بن بکر کے پاس پہنچے تو اس نے ان کا اور قافلے والوں کا بہت اکرام کیا۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

قوم عاد کا وفد عیش و عشرت میں مبتلا ہو گیا

قوم عاد کا وفد جب قبیلہ عمالقہ کے سردار معاویہ بن بکر کے پاس پہنچا تو اس نے خوشی خوشی ان کا استقبال کیا اور ان کی خوب مہمان نوازی کی۔ قبیلہ عمالقہ پر بارش برس رہی تھی۔ اسی لئے وہ قحط میں مبتلا نہیں ہوئے تھے۔ اس لئے وہاں ہر چیز افراط تھی۔ معاویہ بن بکر کی بہن ہزیمہ بنت بکر کیشادی لقیم بن ہزل سے ہوئی تھی۔ اس طرح وفد کے پانچ بڑے لوگوں میں سے ایک معاویہ بن بکر کا بھائی تھا۔ اور ایک بہنوئی تھا۔ اور چونکہ قوم عاد کی ایک خاتون قبیلہ عمالقہ میں بیاہی گئی تھی۔ اسی لئے عمالقہ والے قوم عاد کے لوگوں کو ماموںکہتے تھے۔ اسی لئے سردار نے ان کا خوب اکرام کیا۔ چونکہ وفد کے لوگ قحط سالی کا شکار تھے۔ اسی لئے جب یہاں ہر چیز کی فراوانی دیکھی تو وہ اپنے آنے کا مقصد بھول گئے۔ اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو گئے۔ یہ لوگ معاویہ بن بکر کے پاس ایک مہینے تک شراب نوشی کرتے رہے اور معاویہ کی دو خوب صورت باندیوں سے گانا سنتے رہے۔ بارش کے لئے اور جس مصیبت میں وہ گرفتار تھے اس کو دفع کرنے کے لئے ایک آدمی کو دعا کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ اور یہ لوگ شراب نوشی اور عیاشی میں مست تھے۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری جلد اول)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

حضرت ہود علیہ السلام 4 Story of Prophet Hood



حضرت ہود علیہ السلام

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 4

میرے خلاف جو چاہو کرلو

تفسیر مظہری میں ہے کہ ( حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) نہ تو میں اللہ کے سوا کسی بت کی عبادت کرتا ہوں اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا اندیشہ کرتا ہوں۔ پس تم بھی اور تمہارے خدا بھی مل کر میرے خلاف کوئی بھی حیلسازی کرو، مجھے ہلاک کرنے یا اذیت دینے کا کوئی پروگرام طے کر لو۔ پھر مجھے ایک لمحے کی بھی مہلت نہیں دو۔ حضرت ہود علیہ السلام کے اس کلام میں مشرکوں اور ان کے بتوں کی اہانت اور اللہ تعالیٰ پر مکمل یقین اور ان کے جھوٹے خداﺅں کے عجز کا اظہار ہے۔ یعنی وہ پتھر ہیں۔ بے بس مورتیاں ہیں ۔ نہ تو نفع دے سکتی ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثنا اللہ پانی پتی) تفسیر نعیمی میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے کافروں کی ان تین باتوں کا جواب اس طرح دیا۔ فرمایا تم نے میری باتوں کی تصدیق نہیں کی تو مجھ کو کوئی غم نہیں ہے۔ کیوں کہ میں اللہ کو شاہد بناتا ہوں وہی میر ی حقانیت کی گواہی دیتا ہے۔ تم اپنے بتوں سے لپٹے رہو ان سے آس لگاتے رہو۔ اور اپنی زندگی برباد کرتے رہو۔ میں تو اب بھی ان بتوں سے بیزار اور متنفر ہوں۔ تم مشاہدہ کر ہی رہے ہو کہ میں تمہاری ان باتوں سے خوفزدہ نہیں ہوں ۔ آئندہ بھی بتوں کو جھوٹا ہی کہتا رہوں گا۔ لہٰذا میری طرف سے تمہیں کھلے عام اجازت ہے کہ تم میرے ساتھ میرے خلاف جو چاہو مکاریاں کر لو سب مل کر بے شک میں نے شروع سے ہی اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی مکمل بھروسہ کیا ہے۔ جو ہر گھڑی مجھے پالنے والا ہے۔ میری مصیبتیں دور کرتا ہے۔ اور میری حفاظت کرتا ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر تیسر الرحمن البیان القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں ایسا جواب دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ان کافروں کی باتوں کی کوئی پرواہ نہیں کی اور فرمایا کہ ان کا اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر ہے۔ وہی ان کی حفاظت کرے گا۔ اور وہ سب مل کر ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔ اس کے بعد فرمایا۔ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم لوگ بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ اب تم لوگ مل کر پوری طاقت لگا دو اور میرے خلاف جو سازش کرنا چاہو کر و۔ اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔ میں نے تو اس اللہ پر بھروسہ کر لیا ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ ( تفسیر تیسر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی)

حضرت ہود علیہ السلام کی آخری کوشش 

حضرت ہود علیہ السلام نے قوم عاد کو کھلا چیلنچ دے دیا ۔ کہ اگر تم لوگ یہ سمجھ رہے ہو کہ ان بتوں نے ( نعوذ باللہ ) مجھے پاگل بنایا ہے تو میری طرف سے تمہیں اور تمہارے بتوں کو اجازت ہے کہ سب مل کر مجھے نقصان پہنچاﺅ اور آپ علیہ السلام کی قوم نے ایسا کیا بھی۔ لیکن وہ لوگ آپ علیہ السلام کوکوئی نقصان نہیں پہنچا سکے۔ اس کے بعد پھر آپ علیہ السلام نے انہیں آخرت کا خوف دلا کر سمجھانا شروع کیا کہ تم لوگ دنیا میں ہمیشہ نہیں رہو گے۔ تمہیں بھی ایک دن مرنا ہے اور مجھے بھی ایک دن مرنا ہے۔ اس کے بعد قبر میں ہڈیاں بوسیدہ ہو جائیں گی۔ تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ہم سب کو دو بارہ زندہ کرے گا۔ اور ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ کیا تم لوگ یہ نہیں جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کو کس طرح طوفان سے تباہ کر دیا ۔اس کے بعد تمہیں ان کا جانشین بنایا۔ اپنی نعمتیں دیں اور طاقت ور بنایا۔ اب بھی تم اسلام قبول کر لو۔ اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ تو اللہ تعالیٰ تمہیں اور نعمتیں عطا فرمائے گا۔ اور اگرتم لوگ بتوں کی پوجا سے باز نہیں آﺅ گے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نہ آجائے ۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اللہ کا عذاب آنے سے پہلے ایک آخری کوشش کی لیکن قوم نے آپ علیہ السلام کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ آخرت کی کوئی زندگی نہیں ہے جو بھی ہے دنیا کی زندگی ہے اور اسی میں جینا اور مرنا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (قوم عاد کے لوگوں اور سرداروں نے کہا) کیا تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ جب تم مرک کر خاک اور ہڈی ہو جاﺅ گے تو تم پھر زندہ کئے جاﺅ گے۔ نہیں نہیں دو ر بہت دور ہے جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے۔ اصل زندگی تو صرف دنیا کی زندگی ہے۔ جس میں ہم جیتے اور مرتے رہے ہیںاور مرنے کے بعد ہم دوبارہ اٹھا ئے جائیں ایسا کچھ نہیں ہے۔ (سورہ المومنون آیت نمبر36اور 37)

قوم نے عذاب کی مانگ کی

حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا۔ لیکن قوم عاد پر شیطان کی پکڑ بہت مضبوط تھی۔ اتنا صاف صاف حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ لیکن ان بدبختوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہڈی بن جائیں گے اور مٹی میں مل جائیں گے تو ہمیں زندہ کر کے پھر سے قبروں سے اٹھایا جائے گا۔ یہ بات تو عقل نہیں مانتی اور جو تم یہ کہہ رہے ہو کہ تمہیں قیامت کے روز حساب دینا ہوگا۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ بلکہ اسی دنیا میں ہمیں جینا ہے اور جب مر گئے تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ اور جو تم کہہ رہے ہو کہ تمھےں ڈر ہے کہ ہم پر عذاب نہ آجائے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ اپنے اللہ سے کہو کہ ہم پر اپنا عذاب لے آئے۔ ہم تو انھےں خداﺅں کی پوجا کریں گے۔ جن کی ہمارے ماں باپ پوجا کرتے تھے۔ اور ہمارے باپ دادا ان کو اپنا مبعود مانتے تھے۔ اگر تم سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آﺅ۔ حضرت ہود علیہ السلام کے برسوں اور بار بار سمجھانے پر بھی ان کی قوم کی اکثرےت کافر ہی رہی۔ ہاں تھوڑے بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اور وہ تمام ایمان لانے والے حضرت ہود علیہ السلام کے ساتھ رہے۔ اور اکثرےت جو ایمان نہیں لائی تھی انھوں نے آپ علیہ السلام سے کہا۔ اگر آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو دےر کس بات کی ہے۔ ہم تو آپ (علیہ السلام ) کی نبوت کا کھلے عام انکار کررہے ہیں۔ تم وہ عذاب لے آﺅ جس سے ہمیں ڈرا رہے ہو۔ آپ (علیہ السلام ) ہمیں نصیحت کریں یا نہ کریں ۔ ہم تو نصےحت قبول نہیں کریں گے۔ یہ جو محلات ہم تعمےر کرتے ہیں یہ ہمارے بڑوں کا دستور ہے۔ اور جو ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں ۔ تو آپ فکر نہ کریں ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرماےا۔ ترجمہ ’ ’ (قوم عاد نے کہا)۔ پس ہم کو جس عذاب کی دھمکی دےتے رہتے ہو۔ اگر تم سچے ہو تو اسکو ہمارے اوپر لے آﺅ۔ “(سورہ الاعراف آےت نمبر70)اللہ تعالیٰ نے قرآان پاک میں آگے فرماےا۔ ترجمہ۔” انھوں نے (قوم عادنے) کہا کہ آپ (علیہ السلام ہمیں نصےحت کریں یا نہ کریں ہمارے لئے برابر ہے۔ یہ تو بس پرانے لوگوں کے بنائے گئے واقعات (کہانیاں) ہیں۔ اور ہم پر ہرگز عذاب نہیں دئےے جائےں گے۔“(سورہ الشعراءآئے نمبر 136سے 138)اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ قرآن پاک میں فرماےا۔ترجمہ” قوم( عاد) نے جواب دےا۔ کیا آپ ہمارے پاس اسی لئے آئے ہیں کہ ہمیں اپنے معبودوں کی پوجا سے باز رکھےں؟ پس اگر آپ سچے ہیں تو جس عذاب کا آپ وعدہ کرتے ہیں۔ وہ ہم پر لے آئےں۔(سورہ الاحقاف آےت نمبر 22) 

اللہ کا عذاب لے آﺅ :

علامہ ابن کثےر لکھتے ہیں۔ یعنی آپ علیہ السلام ہمیں ایک خدا کی عبادت کا طریقہ سکھانے آئے ہیں۔ اور ہم اپنے خداﺅں کو چھوڑ دیں ۔ جن کی عبادت عرصے سے ہمارے اسلاف کرتے آئے ہیں۔ اگر آپ علیہ السلام سچے رسول ہیں تو پھر دیر کس لئے ہے۔ ہم تو آپ علیہ السلام کی نبوت کا بر ملا انکار کر رہے ہیں۔ پھر لے آﺅ وہ عذاب اور بربادی جس کی آپ علیہ السلام ہمیں عرصے سے دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر ) تفسیر انوار البیان میں ہے کہ جب انہوں نے (قوم عاد نے ) تکذیب کی اور یوں بھی کہا کہ عذاب لا کر دکھاﺅ تو حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ بس اب تو تم پر اللہ کا عذاب اور غضب نازل ہو ہی چکا ہے۔ یعنی اس کے آنے میں دیر نہیں ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کر تا ہوں۔ (تفسیر انوار البیان جلد نمبر2سورہ اعراف مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ قوم عاد کی سر کشی ، تکبر ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام سے کہا کیا آپ علیہ السلام کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے منہ پھیر لیں؟سنو اگر یہی آپ علیہ السلام کا مقصد ہے تو یہ پور انہیں ہوگا۔ اور اگر آپ علیہ السلام سچے ہیں تو اپنے اللہ سے ہمارے لئے عذاب طلب کریں۔ (تفسیر ابن کثیرپارہ نمبر8علامہ عماد الدین ابن کثیر ) تفسیر معارف القران میں ہے کہ اس سر کش اور بد مست قوم نے ایک نہ سنی اور وہی جواب دیا جو عام طور سے گمراہ لوگ دیا کرتے ہیں۔ کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم سے اپنے باپ داد اکا مذہب چھڑا دو اور سارے دیوتاﺅں کو چھوڑ کر ہم صرف ایک خدا کو ماننے لگیں۔ یہ تو ہم سے نہیں ہوگا۔ ہاں آپ علیہ السلام جس عذاب کی دھمکی ہمیں دے رہے ہیں اس عذاب کو بلالو ۔ اگر تم سچے ہو تو ( تفسیر معارف القرآن جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع 

ہم جمہوریت کی مانیں گے

تفسیر نعیمی میں ہے کہ مراد وہ بت ہیں جن کو وہ پوجا کرتے تھے۔ یعنی ہمارے سارے باپ دادا جو دنیا بھر میں عقل و دانائی میں مشہو رتھے ہم ان کی اولاد ہیں۔ کیا ہم ان کے نقش قدم پر نہیں چلیں اور ان کے بتوں کی پوجا چھوڑ دیں۔ یعنی جمہوریت کہتی ہے کہ معبود کئی ہیں۔ اور آپ علیہ السلام اکیلے کہتے ہیں کہ معبود ایک ہے۔ ہم جمہوریت کی مانیں گے اور آپ علیہ السلام کی دعوت عقل اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ اسی لئے ہم نہیں مانیں گے۔ یہ کہہ کر انہوں نے آپ علیہ السلام کے جواب کا انتظار نہیں کیا اور کہا۔ آپ علیہ السلام ہم سے زیادہ بات نہ کریں بلکہ جس عذاب سے ہمیں ڈرارہے ہیں وہ لے آئیے۔ ہم تو بت پوجا نہیں چھوڑیں گے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر تبیان القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کی اس قوی اور قطعی دلیل کا ان کی قوم سے کوئی جواب نہیں بن پڑا تو انہوں نے اپنی جان چھڑا نے کے لئے اپنے باپ داد ا کی تقلید کا سہارا لیا اور کہا کیا آپ علیہ السلام ہمارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور ان ( بتوں ) کی عبادت چھوڑدیں۔ جن کی عبادت ہمارے باپ داد اکرتے تھے۔ تو آپ علیہ السلام ہمارے پاس وہ (عذاب) لے آئیں جس کا آپ علیہ السلام ہم سے وعدہ کرتے رہتے ہیں۔ ( تفسیر تبیان القران جلد نمبر4علامہ غلام رسول سعیدی)

قوم عاد پر عذاب کی شروعات

جب حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو اتنا سخت جواب دیا تو حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ اب تم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور غضب واجب ہو گیا ہے۔ اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب کے مستحق بن گئے ہو۔ کیوں کہ تم جھگڑا کرتے ہو مجھ سے ان ناموں ( بتوں) کے لئے جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ جب کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو اب تم بھی اللہ کے عذاب کا انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ لگاتار برسوں تک سمجھانے کے بعد جب حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کی بات نہیں مانی بلکہ دن بہ دن ان کی مخالفت اور بد تمیزیاں بڑھتی گئیں اور جب وہ بار بار آپ علیہ السلام سے عذاب کی مانگ کرنے لگے تو حضرت ہود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی۔ اے میرے رب ( اللہ تعالیٰ) اب تو میری مدد فرما۔ کیوں کہ انہیوں نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ عنقریب ہی یہ لوگ اپنے کئے پر نادم ہوں گے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر عذاب کی شروعات کر دی ۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) تم پر تمہارے رب ( اللہ تعالیٰ ) کی طرف سے غضب اور عذاب واجب ہو گیا ہے۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا رکھ لئے ہیں۔ ( حالانکہ) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں فرمائی۔ سوتم بھی انتظار کرو اور میں تمہارے ساتھ ( اللہ کے عذاب کا ) انتظار کر تا ہوں۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر71)

اللہ کے عذاب کا انتظار کرو :

علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یعنی اپنی خرافات کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب کے مستحق بن گئے ہو ۔کیا تم اللہ واحد کی عبادت اور اپنے بتوں کی پوجا کو یکساں ( ایک جیسا) سمجھنے لگے ہو جن کو تم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔ اور خود ہی انہیں الوہیت کے درجے پر فائز کر دیا ہے۔ ان بے جان پتھروں کے لئے خدا کی اصطلاح تو تم نے اور تمہارے اسلاف نے شروع کر دی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی سند یا دلیل نہیں آئی ہے۔ جب کہ تم نے حق قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اور باطل پر قائم ہو تا اب میں تمہیں برائی سے روکوں یا نہ روکون دونوں برابر ہے۔ کیوں کہ تم نا سمجھ نہیں ہو بلکہ ہٹ دھرم اور متعصب ہو اور اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ بس اب اللہ تعالیٰ کے عذاب کا انتظار کرو۔ اور دیکھو کہ عذاب کب آتا ہے۔ جسے ٹالا نہیں جا سکے گا۔ اور روکا بھی نہیں جا سکے گا۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے جواب دیا کہ جب تمہاری سر کشی اور بے ہوشی کی یہ حالت ہے تو اب تم اللہ کا عذاب آنے والا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اورمیں بھی انتظار کرتا ہوں۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا محمد شفیع) تفسیر نعیمی میں ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ گھبراﺅ مت ، یوں سمجھو کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے اس کا غضب اور عذاب آہی گیا ہے۔ بس اس کے ظاہر ہونے کی دیر ہے۔ سب کچھ مکمل ہو چکا ہے۔ تمہیں شرم نہیں آئی کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور تم مجھ سے ایسے بناﺅٹی جھوٹے معبودوں کی حمایت میں لڑتے ہو۔ جن کے نام تم نے اور تمہارے باپ دادا نے خود رکھے ہیں ۔ا ور جن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اچھا اب فہمائش کا وقت نکل چکا ہے۔ اب تم بھی اللہ کے عذاب کا انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ جو تمہارے لئے عذاب ہو گا اور میر لئے اور مسلمانوں کے لئے رحمت ہوگا۔ (تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

حضرت ہود علیہ السلام 3 Story of Prophet Hood


 

  حضرت ہود علیہ السلام 3

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 3

کافر سرداروں نے قوم کو بہکایا

حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے تو عوام ان سے متاثر ہو نے لگتی تھی تو قوم کے مذہبی علماء( پنڈت) اور بتوں کے مجاور ( یعنی مندروں کے پجاری) انہیں بہکاتے ۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اگر قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہہ کر اسلام قبول کر لیا تو ان کا دھندہ ، کاروبار بالکل بند ہو جائے گا۔ لوگ اسلام قبول کر کے بتوں کو توڑ دیں گے اور مندروں کو ختم کر دیا جائے گا ۔ اور اسلام میں مساوات یعنی برابری ہے تو ہم لوگ قوم کے بڑے نہیں رہ پائیں گے۔ اور ہمیں بھی عام مسلمانوں کی طرح رہنا پڑے گا۔ یہی بات انہوں نے حکمرانوں کو بھی سمجھائی کہ تمہاری حکمرانی چھین جائے گی۔ اسی لئے قوم کے حکمراں اور سردار آپ علیہ السلام کے بہت سخت مخالفت تھے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا کہ یہ دنیا کی زندگی ہمیشہ کی زندگی نہیں ہے بلکہ ہمیں مرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ ہمیں پھر سے زندہ کرے گا۔ اور ہم نے اس دنیا میں جو کچھ کیا ہے اس کا حساب دینا ہوگا۔ تو قوم کے سرداروںنے بہکانا شروع کر دیا ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” ان کے بعد ( قوم نوح کےبعد) ہم نے اور بھی اُمت پیدا کی۔ پھر ان میں خود ان میں سے ہی رسول بھیجا۔ ( رسول نے کہا) کہ تم سب اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ تم ( اللہ کے عذاب سے )کیوں نہیں ڈرتے ؟اور (اُن ) سرداران ِ قوم نے جواب دیا جو کفر کرتے تھے اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلاتے تھے۔ اور ہم نے انہیں دنیاوی زندگی میں خوشحال کر رکھا تھا۔ ( انہوں نے قوم سے کہا) کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے۔ تمہاری ہی خوراک یہ بھی کھاتا ہے۔ اور تمہارے پینے کا پانی بھی پیتاہے۔ اگر تم نے اپنے جیسے ہی انسان کی تابعداری ( اطاعت فرماں برداری ) کر لی تو بے شک تم سخت خسارے میںپڑ جاﺅ گے۔ کیا یہ تم سے اس بات کا وعدہ کرتا ہے جب تم مرکر صرف خاک اور ہڈی رہ جاﺅ گے تو تم پھر زندہ کئے جاﺅ گے۔ نہیں نہیں ۔ دو راور بہت دور ہے وہ جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے۔ یہ تو صرف دنیا کی ہی زندگانی ہے۔ اور دنیا میں ہم جیتے ہیں اورمرتے رہتے ہیں۔ اور ایسا ہے ہی نہیں کہ ہم پھر سے اٹھا ئے جائیں گے۔ یہ تو بس ایسا شخص ہے کہ جس نے ( نعوذ باللہ ) اللہ پر جھوٹ ( بہتان ) باند ھ لیا ہے۔ ہم تو اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (سورہ المومنون آیت نمبر31سے 38تک) اس طرح قوم کے سرداروں یعنی مذہبی رہنما یعنی پنڈتوں پجاریوں اور حکمرانوں نے عوام کو بہکانا شروع کر دیا۔ اور دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہو ا کہ عوام جو آپ علیہ السلام کی دعوت سے متاثر ہور رہی تھی وہ کفر کی طرف پلٹ گئی۔ ہاں کچھ خوش قسمت تھے جنہوں نے حضرت ہود علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کیا۔ لیکن یہ بہت کم تھے۔

ہم سے طاقتور کون ہے؟

چوں کہ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو بہت ہی طاقتور بنایا تھا۔ اس لئے وہ اپنے علاوہ ہر کسی کو حقیر سمجھتے تھے۔ اور دوسری قوموں کے ساتھ بہت حقارت آمیز اور ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔ اور اپنے آپ کو دوسری قوم کا سربراہ یا حاکم سمجھتے تھے۔ اس بارے میں بھی حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں سمجھایا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اور جب تم کسی کوپکڑتے ہو تو بڑے سخت طریقے سے اور بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔ دیکھو اللہ سے ڈرو۔ اور میرا کہنا مانو۔ اللہ پر ایمان لے آﺅ۔ اسلام قبول کر لو۔ بتوں کی پوجا سے توبہ کر لو۔ تا کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ اور اپنی نعمتیں تمہیں عطا فرمائے۔ اور اگر تم بتوں کی پوجا سے باز نہیں آﺅ گے تو مجھے ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے یہ تمام نعمتیں چھین نہ لے۔ اور تم ہاتھ ملتے رہ جاﺅ ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو سختی اور ظلم سے پکڑتے ہو ۔ اللہ سے ڈرو اور میری پیروی کرو۔ اس سے ڈرو، جس نے ان چیزوں سے تمہاری امداد کی جنہیں تم جانتے ہو۔ اس نے تمہاری مدد کی مال سے اور اولاد سے۔ باغات سے اور چشموں سے۔ مجھے تو ڈر ہے کہ تم پر بڑے دن کا عذاب نہ آجائے۔ انہوں نے ( قوم عاد نے ) کہا ۔ تم ہمیں نصیحت کر و یا نہ کرو دونوں ہمارے لئے برابرہے۔ یہ تو بس پرانے لوگوں کی عادت ہے۔ اور ہمیں ہر گز عذاب نہیں دیا جائے گا۔ ( سورہ الشعراءآیت نمبر130سے 138) حضرت ہود علیہ السلام نے اتنی محبت اور حکمت سے اپنی قوم کو سمجھایا ۔لیکن قوم اتنی زیادہ بد بخت اور سر کش ہو چکی تھی کہ انہوں نے کہا ( نعوذ باللہ ) یہ پرانی روایات اور من گھڑت کہانیاں ہیں۔ اور تم ہمیں کچھ بھی کہو گے تو ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے۔ اور تمہاری کوئی بھی بات کا ہم پر اثر نہیں ہوگا۔ اور ہمارے حساب سے تو ہم پر عذاب وغیرہ کچھ نہیں آئے گا۔ کیوں کہ ہم اپنے معبودوں ( بتوں اور تصویروں) کی اتنی دل لگا کر پوجا کرتے ہیں کہ وہ ہم سے بہت خوش رہتے ہیں۔ اور ہم پر بہت مہربان رہتے ہیں۔ اور اگر تمہارا اللہ ہم پر کوئی عذاب بھیجے گا بھی تو ہمارے معبود ہمیں اس عذاب سے بچا لیں گے۔ اور ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

قوم عاد کا اپنے معبودوں ( بُتوں ) پر عقیدہ 

حضرت ہود علیہ السلام کے سمجھانے پر آپ علیہ السلام کی قوم بات کو سمجھنے کے بجائے ان کو ہی غلط ٹھہرانے لگی۔ اصل میں ان لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ تمام نعمتیں ہمارے بت ہمیں دیتے ہیں۔ جن کی ہم پوجا کرتے ہیں۔ اور ہمارے بتوں نے ہمیں طاقت ور بنایا ہے۔ اس بات نے ان کے اندر بہت گھمنڈ بھر دیا تھا۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا۔ اے ہود ( علیہ السلام)ہم اس زمین پر سب سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اور کوئی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور ہم اپنے خداﺅں (بتوں) کو نہیں چھوڑنےوالے ہیں کیوں کہ انھوں نے ہی ہمیں طاقتور بنایا ہے۔ اور ہمیں تو لگتا ہے کہ ہمارے خداﺅں نے تمہارے دماغ میں خلل ڈال کر (نعوذ باللہ) پاگل بنا دیا ہے۔ اور تم بھی تو ہماری طرح انسان ہی ہو۔ اور ہمارے خداﺅں (بتوں) نے تمہارے دماغ میں خلل اسی لئے ڈال دیا ہے۔ کہ تم انہیں نہیں مانتے اور مخالفت کرتے ہو۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” عاد نے تو بے وجہ زمین میں سر کشی شروع کر دی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور (طاقتور) کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہیں آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وہ ان سے ( بہت ہی) زیادہ زور آور ہے۔ وہ (آخر تک) ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے۔ ( سورہ حم السجدہ آیت نمبر 15) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے (قوم عاد نے ) کہا ۔ اے ہود( علیہ السلام ) تم تو ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں لائے۔ اور ہم صرف تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں ( بتوں ) کو نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود ( بت) کے برے جھپٹے میں آگئے ہو اور اس نے تمہیں دماغی خلل میں مبتلا کر دیا ہے۔ ( سورہ ہود آیت نمبر53اور 54) قصص الانبیاءمیں ہے کہ ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ا ٓپ ( علیہ السلام) اپنی صداقت پر کوئی معجزہ نہیں دکھا رہے ہیں۔ اور ہم صرف یہ کہنے سے کہ میں اللہ کا رسول ہون ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔ کوئی دلیل کو خرقِ عاد ت برہان چاہیئے۔ ہم آپ ( علیہ السلام )کے صرف کہنے سے اپنے خداﺅں ( بتوں) کو چھوڑ آپ ( علیہ السلام ) کی بات کیسے مان لیں۔ اس لئے ہمیں تو یقین ہونے لگا ہے کہ آپ علیہ السلام کی عقل ٹھکانے پر نہیں رہی۔ وجہ صاف ظاہر ہے۔ آپ (علیہ السلام )نے ہمارے خداﺅں کی خدائی کو چیلنج کیا ہے۔ اور ان کے معبود ہونے کا انکار کیا ہے۔ اسی لئے وہ آپ علیہ السلام سے ناراض ہو گئے ہیں۔ اور اب آپ ( علیہ السلام) کو جنون میں مبتلا کر دیا ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ( علیہ السلام ) کو ہمارے خداﺅں کی مذمت پر صرف یہ چیز ابھارتی ہے کہ ان کی جانب سے آپ ( علیہ السلام ) کو کوئی تکلیف اور نقصان پہنچا ہے۔ (تفسیر در المنشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی ) 

ہمارے معبودوں (بتوں )کی مار پڑی ہے :

تفسیر انوار البیان میں ہے کہ ہماری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ یہ آپ ( علیہ السلام ) بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں تو ہمارے معبودوں میں سے کسی معبود نے آپ ( علیہ السلام ) پر کچھ کر دیا ہے۔ یعنی آسیب وغیرہ پہنچا کر دیوانہ بنا دیا ہے۔ ( تفسیر انوار البیان جلد نمبر3مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ آپ (علیہ السلام) جس چیز ( اسلام) کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل اور حجت تو ہمارے پاس لائے نہیں ہیں۔ اور ہم صرف آپ علیہ السلام کے کہنے سے اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ اور نہ آپ علیہ السلام کو سچا ماننے والے اور نہ ہی ایمان لانے والے ہیں۔ بلکہ ہمارا تو خیال یہ ہے کہ چونکہ آپ علیہ السلام ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت سے روک رہے ہیں اور ان پر عیب لگا رہے ہیں اسی لئے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی آپ ( علیہ السلام ) پر مار پڑی ہے۔ اور آپ ( علیہ السلام) کی عقل چلی گئی ہے۔ تفسیر جلالین میں ہے کہ مگر مگر قوم نے آپ علیہ السلام کی نصیحتوں پر کان دھرنے سے انکار کر دیا۔ اور کہنے لگے کہ آپ ( علیہ السلام) کے پاس ایسی کوئی بات نہیں ہے جو ہمارے لئے دلیل ہو۔ اس لئے ہم تو اپنے معبودوں کی پوجا نہیں چھوڑنے والے ہیں۔ ہماری رائے تو یہ ہے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی کی تم پر مار پڑی ہے۔ جن کی شان میں تم نے گستاخیاں اور بے ادبیاں کی ہیں۔ اسی لئے ایسے خیالات آنے لگے ہیں اور آپ ( علیہ السلام) ہذیان بکنے لگے ہیں۔ ( تفسیر جلا لین جلد نمبر3امام جلا الدین سیوطی ، امام جلا ل الدین محلی)

ہم اپنے معبودوں (بتوں) کی پوجا نہیں کرے گے :

تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے ان کی دعوت کا جواب وہی اپنی جاہلانہ روش سے دیا کہ آپ علیہ السلام نے ہمیں کوئی معجزہ تو دکھایا نہیں صرف زبانی بات کی ہے۔ اس لئے صرف آپ علیہ السلام کے کہنے سے ہم اپنے معبودوں ( بتوں) کی پوجا کو نہیں چھوڑ یں گے۔ اور نہ ہی ایمان لائیں گے۔ بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ ہمارے معبودوں بتوں کو برا کہنے کی وجہ سے آپ علیہ السلام کسی دماغی خرابی میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اسی لئے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مظہری میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا۔ اے ہود ( علیہ السلام) آپ ہمارے پاس اپنے دعوے ( اسلام) کی صحت پر کوئی حجت پیش نہیں کر سکے ۔ ان کا یہ کہنا صرف اور صرف مفاد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر تھا۔ ورنہ حضرت ہود علیہ السلام تو ان کو کئی روشن معجزات دکھا چکے تھے۔ ہم آپ علیہ السلام کے کہنے پر اپنے خداﺅں کی پوجا نہیں چھوڑنے والے ہیں اور نہ ہی آپ علیہ السلام کی تصدیق کریں گے اور آپ علیہ السلام کو ہمارے کسی خدا نے جنون اورپاگل پن میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام ایسی ( نعوذ باللہ) خرافات بیان کر رہے ہیں۔ اور ایک معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چونکہ آپ علیہ السلام ہمارے معبودوں ُبتوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اس لئے بہت جلد کوئی خدا ااپ علیہ السلام کو ضرور ہلاک کر دے گا یا نقصان پہنچائے گا۔ 

ہمارے کسی بت نے سزا دی ہے :

تفسیر نعیمی میں ہے کہااے ہود ( علیہ السلام) ہم آپ پر اس لئے ایمان نہیں لائیں گے کہ ہم جان گئے ہیں کہ آپ علیہ السلام کو جنون ہو گیا ہے۔ اور اس پاگل پن کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ آپ علیہ السلام کو ہمارے کسی بت نے غیبی مار ماری ہے۔ یعنی آپ علیہ السلام نے ہمارے کسی بت کو برا کہا تو اس نے یہ سزا دی کہ آپ علیہ السلام بہکی بہکی باتیں کرنے لگے۔ یا پھر یہ کہ آپ علیہ السلام ہمارے سارے بُتوں کو برا کہتے رہے۔ یہاں سارے بت تو خاموش رہے مگر شاید کسی بت سے برداشت نہیں ہو سکا تو اس نے اس طرح سزا دی کہ آپ علیہ السلام دماغی خلل میں مبتلا ہو گئے۔ اور جن علاقوں میں آپ علیہ السلام بڑے امن سے رہتے تھے۔ وہاں سب دشمن بن گئے ۔ اور آپ علیہ السلا م اس طرح ہذیان بکنے لگے۔ تو ہم ااپ علیہ السلام کے ہذیان بکنے کی بنا پراپنا آبائی (باپ دادا کا ) دین کس طرح چھوڑ دیں۔ (تفسیر نعیمی، پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) تفسیر بصیرت القران میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نہایت خلوص ، محبت اور متانت و سنجیدگی سے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو ایک ایک گھر تک پہنچا رہے تھے۔ مگر بد قسمت قوم عاد آپ علیہ السلام کے پیغام توحید کو نہیں سمجھ سکی۔ اور کہنے لگی۔ ہم صرف آپ علیہ السلام کے کہنے سے ان معبودوں کو تو نہیں چھوڑ سکتے جو ہمارا سہارا ہیں۔ جب کہ آپ علیہ السلام ایسا کوئی معجزہ بھی نہیں لائے جس سے ہم سمجھ لیں کہ اور یقین کر لیں کہ آپ علیہ السلام سچ کہہ رہے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ محسوس کر رہے ہیں کہ آپ علیہ السلام جو رات دن اٹھتے بیٹھتے ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہیں تو ہمارا کوئی معبود آپ علیہ السلام سے ناراض ہو گیا ہے اور اس نے آپ علیہ السلام کے دماغ پر ایسا برا اثر ڈالا ہے کہ آپ علیہ السلام بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔(تفسیر بصیرت القران جلد نمبر 2مولانا محمد آصف قاسمی)

حضرت ہود علیہ السلام کا اللہ پر توکّل

حضرت ہود علیہ السلام کی قوم عاد نے آپ علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی۔ اس پر حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ اگرتم ایسا سمجھتے ہو تو میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا کہ میں ان بتوں سے بے زار ہوں جن کو تم ( نعوذ باللہ) معبود مانتے ہو۔ اور جنہیں تم( نعوذ باللہ) اللہ کا شریک بناتے ہو۔ اب تم سب ( یعنی تم لوگ اور تمہارے بت) مل کر میرے خلاف سازش کرو۔ اور سب مل کر میرے خلاف کاروائی کرو ۔ اور مجھے مہلت نہ دو بے شک میں نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ جو میرا بھی رب ہے اور تمہار ا بھی رب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کی پیشانی کے بالوں کو پکڑا ہوا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی سیدھی راہ چلانے والا ہے۔ پھر اگر تم منہ پھیرو تو میں نے پہنچا دیا ہے وہ پیغام جو اللہ تعالیٰ نے دیکر مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو کھلا چیلنج دے دیا۔ اس کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اس نے ( حضرت ہود علیہ السلام نے) جواب دیا کہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا ( تمہارے ) ان بتوں سے بیزار ہوں۔ جنہیں تم ( اللہ کا ) شریک بناتے ہو۔ اچھا تم سب مل کر میرے حق میں بدی ( سازش ) کر لو اورمجھے بالکل بھی مہلت نہیں دو۔ میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے۔ جو میرا اور تمہارا سب کا پرودگار ہے۔ ( سورہ ہود آیت نمبر54سے 56تک) 

میں تمھارے معبودوں (بتوں) سے بےزار ہوں :

تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ یہ سن کر اللہ کے رسول ( حضرت ہود علیہ السلام ) نے فرمایا۔ اگر یہی بات ہے تو سنو، میں تمہیں اور اللہ تعالیٰ کو گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس جس کی عبادت ہو رہی ہے سب سے بیزار ہوں اور بری ہوں۔ اب تم ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھ اوروں کو بھی ملا لو۔ اوراپنے ان سب جھوتے معبودوں کو بھی ملا لو۔ اور تم سے جو ہوکسے مجھے نقصان پہنچانے کی کوشش کرو اور مجھے کوئی مہلت نہیں لینے دو۔ اور مجھ پر ترس بھی مت کھاﺅ۔ اور تم مجھے جتنا نقصان پہنچا سکتے ہو اس میں کمی نہیں کرو۔ میرا توکل رب العالمین کی ذات پر ہے ۔ وہ میرا اور تمہارا سب کا مالک ہے ۔ اس کے حکم کے بغیر مےرا کوئی بھی کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا ہے۔ دنیا بھر کے جاندار اس کے قبضے میں اور اس کی ملکیت میں ہیں۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر 12عماد الدین ابن کثیر ) تفسیر جلالین میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ تم کہتے ہو تمہارے معبودوں کی مار مجھ پر پڑ ی ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ مجھے تمہارے معبودوں سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ اب تم اور تمہارے معبود جو کچھ میرے خلاف کر سکتے ہو کر ڈالو۔ تمہارا بھروسہ ان جھوٹے معبودوں پر ہے۔ اور میر ا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہے جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے۔ ( تفسیر جلا لین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی، امام جلال الدین محلی)تفسیر معارف القران میں ہے کہ اس کے جواب میں حضرت ہود علیہ السلام نے پیغمبر انہ جرا¿ت کے ساتھ فرمایا۔ کہ اگر تم میری بات نہیں مانتے ہو تو سن لو کہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہنا کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارے سب معبودوں سے بیزار ہوں ۔اب تم اور تمہارے بت سب مل کر میرے خلاف جو کچھ داﺅ گھات کر سکتے ہو کر لو۔ اور اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو تو بگاڑ لو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہیں دو۔ اور فرمایا کہ اتنی بڑی بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کر لیا ہے۔ جو میر ابھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ جتنے بھی زمین پر جاندار ہیں سب کی پیشانی کو اس نے پکڑ رکھا ہے۔ اور کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کو ذرّہ برابر بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع ) 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

 

اتوار، 9 اپریل، 2023

حضرت ہود علیہ السلام 2 Story of Hood AS



حضرت ہود علیہ السلام  2

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 2

قوم عاد بت پرستی میں مبتلا

اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی بے شمار نعمتوں سے قوم عاد کے لوگ فائدہ اٹھا رہے تھے۔ اور قوم کا لگ بھگ ہر شخص امیر ہو گیا تھا۔ لیکن مال و دولت فتنہ ہے۔ اور قوم عاد دھیرے دھیرے اس فتنے کا شکار ہونے لگی۔ شروع شروع میں تو قوم عاد کے لوگ مسلمان تھے۔ دھیرے دھیرے قوم عاد کی جو نئی نسل پیدا ہوتی رہی وہ ابلیس کے وسوسے کا شکار ہونے لگی۔ اور اسے کامیابی ملنے لگی۔ ابلیس شیطان لگاتار کوششوں میں لگا رہا۔ اور آخر کار قوم عاد بھی بُت پرستی میں مبتلا ہو گئی۔ابلیس شیطان نے قوم عاد کے ساتھ وہی ہتھکنڈے اپنائے جو اس نے قوم نوح کے ساتھ اپنائے تھے۔ اور پہلے تو قوم عاد کو اپنے نیک بزرگوںکی عقیدت میں مبتلا کیا۔ پھر ان کے بت بنوائے اور پھر اس عقیدت کو عبادت میں تبدیل کر دیا۔ اور ابلیس کو کئی سو برسوں کی لگاتارکوششوں کے بعد اتنی کامیابی ملی کہ قوم عاد کی اکثریت بت پرستی میں مبتلا ہو گئی۔ ان کے بتوں کے نام صدا ، صمورا، اور کہا تھے۔ جب ابلیس شیطان کے بہکاوے میں آکر قوم عاد بت پرستی میں مبتلا ہو ئی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا۔ اور ان کے درمیان حضرت ہود علیہ السلام کو پید ا فرمایا۔

حضرت ہود علیہ السلام اعلان نبوت سے پہلے

حضرت ہود علیہ السلام عاد بن ارم کے پڑ پوتے عبداللہ کے بیٹے ہیں۔ آپ علیہ السلام کا خاندان قوم عاد میں سب سے نیک متوسط نسب کے تھے۔ اور مکرم جگہ کے رہنے والے تھے۔ بہت حسین و جمیل تھے اور قوم عاد کے لوگوں کی طرح جسیم تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی داڑھی مبارک بہت دراز ( لمبی ) تھی۔ (تفسیر تبیان القران جلد نمبر4علامہ غلام رسول سعیدی) آپ علیہ السلام قوم عاد کے شریف قبیلے کے تھے۔ اس لئے کہ انبیائے کرام علیہم السلام ہمیشہ حسب و نسب کے اعتبار سے عالی یعنی اعلیٰ خاندان سے ہوا کرتے تھے۔ ( تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر 8علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ فرماتے ہیں۔ قوم عاد بت پرست تھی۔ انہوں نے کئی بت بنا رکھے تھے۔ جن میں سے ایک کا نام صمود اور ایک کا نام ہتار تھا۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود علیہ السلام کو ان کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ آپ علیہ السلام جس قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اسے خلود کہا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام حسب و نسب کے اعتبار سے شریف اور شکل و صورت کے اعتبار سے انتہائی حسین و جسیم تھے۔ آپ علیہ السلام جسمانی اعتبار سے اپنی قوم کے لوگوں سے زیادہ سفید جسم رکھتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی داڑھی مبارک خاصی طویل ( لمبی) تھی۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) آپ علیہ السلام اعلان نبوت سے پہلے سے ہی اپنی قوم کی بت پرستی سے بیزار تھے ۔ اسی لئے اپنی قوم سے الگ تھلگ مکان میں رہتے تھے۔ اور غور و فکر کرتے رہا کرتے تھے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارِ حرا میں کرتے تھے۔ جب حضرت ہود علیہ السلام کی طرف وحی آئی تو آپ علیہ السلام قوم کو اسلام کی دعوت دینے آئے۔ ( تفسیر مدارک جلد نمبر1امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) حضرت ہود علیہ السلام کی عمر کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض کا قول ہے آپ علیہ السلام کی عمر چار سو ساٹھ 460سال تھی۔ تاریخ شامی ایک سو چھیالیس 146سال مذکور ہے۔ ابن الکلمی کا قول ہے کہ چار سو چھتیس436سال عمر تھی۔ آپ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا نام مرجانہ ہے اور وہ پاک دامن عورتوں میں سے تھیں۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قبر مبارک حضر موت کے علاقہ میں ہے۔ (تفسیر مظہری جلد نمبر3قاضی ثناءاللہ پانی پتی)

حضرت ہود علیہ السلام کا اعلان نبوت

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو برائیوں سے فلاح کی طرف لانے کے لئے حضرت ہود علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر ان کی طرف بھیجا۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی ۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ( علیہ السلام ) کوبھیجا۔ انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم، تم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ ( اس کے باوجود) سو کیا تم نہیں ڈرتے؟( سورہ الاعراف آیت نمبر65) اللہ تعالیٰ نے آگے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود ( علیہ السلام) کو ہم نے بھیجا۔ انہیوں نے کہا۔ اے میری قوم والو، اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ ( اللہ کے ساتھ شرک کر کے اور بتوں کو پوجا کر کے) تم تو صرف ( اللہ پر) بہتان باندھ رہے ہو۔“ ( سورہ ہود آیت نمبر50) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” قوم عاد نے بھی رسولوں کو جھٹلایا۔ جب کہ ان سے ان کے بھائی ہود نے کہا۔ کیا تم ( اللہ کے عذاب سے) ڈرتے نہیں۔ میں تمہارا امانت دار رسول ہوں۔ پس اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو ۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر123سے 125تک) اللہ تعالیٰ نے آگے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور عاد کے بھائی کو یاد کرو۔ جب کہ اس نے اپنی قوم کو احقاف میں ( اللہ کے عذاب سے) ڈرایا۔ اور یقینا اس سے پہلے بھی ڈرانے والے گزر چکے ہیں۔ اور اس کے بعد بھی یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ بے شک میں تم پر بڑے دن کے عذاب کا خوف کھاتا ہوں۔ (سورہ الاحقاف آیت نمبر21) اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو بہت طاقتور بنایا تھا۔ یہ بہت قد آور لمبے چوڑے اور بہت طاقت ور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دنیا کی تمام نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ اور تمام لوگ بہت اونچے اونچے شاندار محل بنا کر رہتے تھے۔ ان لوگوں کے محلات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ” اونچے ستونوں والے “ یعنی ان کے محل اتنے اونچے ہوتے تھے کہ ان میں اونچے اونچے ستون لگے ہوتے تھے۔ جب حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم عاد میں اعلان نبوت فرمایا ۔ اے میری قوم ،ا للہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف بھیجا امانت دار رسول ہوں ۔ پس تم اللہ سے ڈرو۔ اور میر ی اطاعت کرو۔ قوم عاد نے پہلے تو آپ علیہ السلام کی دعوت پر حیرت کا اظہار کیا پھر اس کا رویہ بھی وہی ہو گیا جو حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا تھا۔اور سب سے بڑے دشمن قوم کے کافر سردار ہی بنے۔

قوم کا جواب

حضر ت ہود علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو قوم کے کافر سرداروں نے جواب دیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا ہم تم کو کم عقل میں دیکھتے ہیں۔ اور بے شک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر66) اللہ تعالیٰ نے آگے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( قوم عاد نے) جواب دیا۔ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتوںکو بھیجتا ۔ ہم تو تمہاری رسالت کے بالکل منکر ( انکار کرنے والے) ہیں۔“ ( سورہ حم السجدہ آیت نمبر14) اللہ تعالیٰ نے ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” قوم نے جواب دیا کہ تم ہمارے پا س اس لئے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے اپنے معبودوں ( بتوں کی پوجا) سے باز رکھو۔“ ( سورہ الاحقاف آیت نمبر22) تفسیر بصیرت القران میں ہے کہ شرک ہمیشہ بہت معمولی انداز میں شروع ہوتا ہے۔ پھر یہ ایک قومی بیماری بن جاتی ہے۔ جب شرک قومی سطح پر ابھر کر سامنے آجاتا ہے تو اس کے مجاور قوم کی دولت اور سیاسی اقتدار لوٹنے کے لئے مذہبی لبادہ سے بہتر اور کوئی آسان طریقہ نہیں پاتے۔ اگر مصنوعی معبودوں ( بتوں اور تصویروں) کی مارکیٹ ویلیو گھٹنے لگتی ہے تو اُن کی اجارہ داری ڈولنے لگی ہے۔ اسی لئے تحریک توحید ( اسلام کی دعوت) کی سب سے پُر زور مخالفت اسی ہرا ول دستے ( مجاوروں ، پجاریوں، پنڈتوں) نے کی ہے۔ اور عوام کی بھیڑ ان کے پیچھے پیچھے چل پڑتی ہے۔ کیوں کہ اس میں علم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اور چند تمناﺅں کا نام دین بن کر رہ جاتا ہے۔ اس ہر اول دستہ ( مجاوروں، پجاریوں، پنڈتوں) کے ہاتھ میں چند ہتھیار ہوتے ہیں۔ ( ۱) اپنی معلومات معقولات کا گھروندہ بچانے کے لئے وہ اصلاح کرنے والے شخص کے علم و عقل پر حملہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ تم جاہل، احمق اور جھوٹے ہو۔ اور اس کےلئے وہ کوئی دلیل پیش نہیں کرتا ہے۔ اور اپنے گھمنڈ میں کہتا چلا جاتا ہے کہ جو ہم کہہ رہے ہیں وہی حق ہے۔ اور عوام ان کی ہر بات پر گردن ہلا ہلا کر تصدیق کرتی جاتی ہے۔ اور یہ الزام انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام پر بھی لگایا۔ ( ۲) ان جیسے لوگوں کا دوسرا ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جو شخص ہمارے اندر پیدا ہوا ہے اور ہماری طرح شادی بیاہ کرتا ہے۔ کھاتا پیتا ہے۔ جو ہم جیسا ہے وہ اللہ کا رسول کیسے ہو سکتا ہے۔ آخر اس میں کیا خوبی ہے اور ہم میں کیا خرابی ہے۔ ایسا لگتا ہے یہ شخص ہماری سرداری اور اقتدار ہم سے چھین کر خود سردار بننا چاہتا ہے۔ اور یہ الزام بھی حضرت ہود علیہ السلام پر لگایا گیا۔ (۳) ان لوگوں کا تیسرا ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ تم جس عذاب کی دھمکی دیتے ہوا س عذاب کو لے آﺅ۔ ہمارے معبود ہمیں بچا لیں گے۔ اور ہم اتنے احمق بھی نہیں ہیں کہ تمہارے کہنے پر ان تمام معبودوںکو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ داد اپنا معبود سمجھتے تھے۔ اور حضرت ہود علیہ السلام سے اس کی بھی مانگ کی گئی تھی۔ ( تفسیر بصیرت القران جلد نمبر2مولانا محمد آصف قاسمی)

حضرت ہود علیہ السلام نے قوم کو سمجھایا

حضرت ہود علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا اور ان کے کافر سرداروں نے آپ علیہ السلام کے شان میں گستاخیاں کیں۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام نے انہیں سمجھایا اور ٹھوس دلائل سے قائل کیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( حضرت ہود علیہ السلام نے) فرمایا۔ اے میری قوم، مجھ میں ذرا بھی کم عقلی نہیںہے بلکہ میں پروردگار عالم کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ اور تم کو پر وردگار عالم یعنی اللہ تعالیٰ کاپیغام پہنچا رہا ہوں۔ اور میں تمہارا امانت دار اور تمہار خیر خواہ ( بھلائی چاہنے والا) ہوں۔“ ( سورہ الاعراف آیت نمبر67اور 68) یعنی کم عقلی مجھ میں نہیں ہے۔ بلکہ تمہارے اندر ہے جو تم یہ نہیں دیکھ پا رہے ہو کہ شرک اور بتوں کے پوجا کر کے کس نقصان اور خسارے میں جا رہے ہو۔ جب کہ مجھے تمہاری تباہی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے بعد کافرسرداروں کے دوسرے احمقانہ جواز کا جواب دیا۔ ترجمہ ۔اور کیا تم اس بات پر تعجب کر رہے ہو کہ تمہارے پروردگار یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسے شخص کے ذریعے تمہارے پاس نصیحت آئی جو تمہارے جیسا ہے۔ تا کہ وہ شخص تم کو ( اللہ کے عذاب سے ) ڈرائے۔“ (سورہ الاعراف آیت نمبر69)یہاں آپ علیہ السلام نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے لئے انسا ن ہی رسول بھیجتا ہے۔ تا کہ وہ اللہ کی شریعت اسلام پر عمل کر کے بتائے کہ زندگی کس طرح گزارنی چاہیے ۔ اور جو تم لوگ فرشتے کی مانگ کر رہے ہو تو فرشتہ تمہاری جنس کا نہیں ہوگا اور تمہاری یہ مانگ بہت ہی احمقانہ ہے۔ اس کے بعد قوم نے جو الزام لگایا تھا کہ یہ شخص دنیا کی سرداری چاہتا ہے تو آپ علیہ السلام نے سمجھایا کہ مجھے دنیا کی سرداری نہیں چاہیے۔ بلکہ تم سے کچھ بھی صلہ یا بدلہ نہیں چاہئے۔ ترجمہ ” (حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم میں تم سے اس کی کوئی اجرت ( یا صلہ یا بدلہ) نہیں مانگتا۔ میرا اجر اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ تو کیا تم پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے۔“ (سورہ ہود آیت نمبر51) آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کے سخت جواب کے بعد بھی انہیں ٹھوس دلائل اور محبت سے سمجھایا۔

قوم نے تکبّر کیا

حضرت ہود علیہ السلام نے صبر سے قوم کی گستاخیوں کو برداشت کیا۔ اور بڑے محبت بھرے انداز میں سمجھایا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو قوم نوح کے بعد جانشین بنایا۔ اور ڈیل ڈول میں تم کو پھیلاﺅ زیادہ دیا۔ سو اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو تا کہ تم کو فلاح ہو۔“( سورہ الاعراف آیت نمبر69) یعنی آپ علیہ السلام نے ان کی قوم سے پہلے آنے والی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کفر و شرک اور گھمنڈ کو یاد دلایا کہ اس کے بعد ان کا کتنا بھیانک انجام ہوا ۔ کیوں کہ طوفان نوح کو گذرے ابھی صرف کئی سو سال ہو ئے تھے۔ اور قوم عاد کے بچے بچے کو اس کی پوری کہانی لفظ بہ لفظ یا د تھی۔ اس کی تفسیر میں مفتی احمد یا ر خان نعیمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ اے محبوب ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ قوم نوح کے کرتوت اور ان کا انجام سن چکے۔ اب ان کے بعد والی قوم کا حال سنیئے ۔ کہ ہم نے ان کی طرف انہیں کی قوم ، انہیں کی نسل، انہیں کی برادری سے ایک رسول بھیجا۔ حضرت ہود علیہ السلام ۔ انہون نے بھی اپنی قوم کو یہی دعوت دی کہ نہایت نرمی سے فرمایا کہ اے میری قوم ، اللہ تعالیٰ پر میری معرفت ایمان لاﺅ۔ صرف اسی کی عبادت کرو کیوں کہ اس کے سوا معبود حقیقی سچا الہٰ کوئی نہیں ہے۔ تم قوم نوح کا انجام تو سن ہی چکے ہوا ور طوفان نوح کی علامات دیکھتے ہو۔ تو تم ڈرتے کیوں نہیں۔ ان کی قوم کے بعض سردار تو ایمان لائے اور بعض کافر رہے۔ کافر سرداروں نے کہا کہ ہم آپ ( علیہ السلام) کو بڑی بھاری بے وقوفی ، بے عقلی میں دیکھتے ہیں۔ آپ علیہ السلام بڑے (نعوذ باللہ) بے عقل ہیں۔ ہم کو یقین ہے کہ آپ ( علیہ السلام)جو اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہہ رہے ہیں۔ ( نعوذ باللہ) جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ بھلا ایک خدا سارا جہان کیسے سنبھال سکتا ہے۔ اور وہ ایک غریب آدمی کو رسول کیسے بنا سکتا ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا رخان نعیمی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ( قومِ عاد پر ) یہ احسان فرمایا کہ حضر ت نوح علیہ السلام کی قوم کے بعد انہیں زمین کا باسی ( ذمہ دار) بنا دیا تھا۔ اور ایک معنی یہ بھی ہے کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے قدو قامت کے تھے۔ وہ قد کے اعتبار سے طویل اور جسم کے اعتبار سے بھاری بھرکم اور عظیم الجثہ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اُن کے قد کی لمبائی100ذراع (گز) تھی۔ اور ان میں جو چھوٹے قد کے تھے ۔ اُن کی لمبائی60ذراع (گز) تھی۔ اور یہ زیادتی ان کے آباءکی تخلیق اور قدو قامت پر تھی۔ ان کا سر ایک عظیم اور بڑے قبہ کی طرح تھا۔ اور ان کی آنکھ اتنی بڑی بڑی تھیں کہ ان میں درندہ بچے دے سکتا تھا۔ اور اسی طرح ان کی ناک کے نتھنے بھی بڑے بڑے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ قوم عاد کا ایک آدمی پتھر سے ( دروازے کے) دو کواڑ بناتا تھا۔ اگر ہم سے پچاس آدمی مل کر اسے اٹھانا چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے تھے۔ ( تفسیر قرطبی جلد نمبر4امام محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی)

حضرت ہود علیہ السلام نے دلائل سے سمجھایا

قوم عاد نے حضرت ہود علیہ السلام کےسامنے ترشی اختیار کی۔ اور اللہ تعالیٰ کو اکیلا معبود ماننے سے انکار کر دیا ۔ پھر آپ علیہ السلام نے انہیں دلائل سے سمجھایا ۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائی تھی۔ ان کے علاقے میں بے شمار پانی کے چشمے تھے۔ جن کی وجہ سے ہر طرف ہریالی تھی۔ پھلوں کے درخت اور میووں کے پیٹروں کی بھرمار تھی۔ ان تمام نعمتوں کو یاد دلا کر حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں چوپایوں ( یعنی گھوڑے ، گائے ، بھینس ، خچر اور اونٹ وغیرہ یہ سب ان کے پاس بے شمار تھے) اور بیٹوں سے باغوں سے اور چشموں سے مدد عطا فرمائی ۔ تو کیا تم لوگ ہر اونچے مقام پر بغیر کسی ضرورت کے ایک بلند یاد گار بناتے ہو اور پختہ محل بنائے ہو کہ شاید تمہیں اس دنیا میں ہمیشہ رہنا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت ہود علیہ السلام نے قوم عاد سے فرمایا) کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطورر کھیل تماشا یاد گار( عمارت )بناتے ہو۔ اور بری صنعت والے ( مضبوط محل تعمیر ) کرتے ہو۔ گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے۔ ( سورہ الشعرا آیت نمبر128اور 129) 

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو

حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم نوح کے بعد زمین پر بسایا۔ اور تمہیں بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں۔ اور تمہیں سب سے طاقتور بنایا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر فضل و کرم ہے۔ تو تم بے جا اپنی طاقت کا استعمال مت کرو اور بلا وجہ عالیشان محلات صرف اپنی شان بتانے کے لئے تعمیر مت کرو۔ اور جو گستاخیاں تم نے بتوں کی پوجا کر کے اور اللہ کی دعوت اسلام کو ٹھکرا کر کی ہیں ابھی بھی وقت ہے یہ سب چھوڑ دو اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرو اور توبہ کر لو اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو تو اللہ تعالیٰ تمہاری طاقت کو اور بڑھا دے گا اور تمہیں اپنی نعمتوں سے اور نوازے گا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے پروردگار ( اللہ تعالیٰ) سے (اپنی گستاخیوں اور شرک پر ) معافی مانگواور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو۔ تا کہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے۔ اور تمہاری طاقت پر اورطاقت قوت بڑھا دےگا۔اورتم گنہگار رہ کر (اسلام سے) منہ نہ پھیرو۔ (سورہ ہود آیت نمبر52) حضرت ہود علیہ السلام نے محبت سے اپنی قوم کو سمجھایا ۔ اور طرح طرح سے حکمت سے انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن ان کی قوم کے کافرسرداروں نے آپ علیہ السلام کی سب سے زیادہ مخالفت کی۔ اور عوام بھی ان ہی کے پیچھے چلتی رہی اور کفر پر ڈٹی رہی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

 

حضرت ہود علیہ السلام 1 Story of Hood AS



حضرت ہود علیہ السلام 

سلسلہ نمبر05

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1

قوم عاد

اس سے پہلے ہم حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے تفصیلی حالات آپ سے بیان کر چکے ہیں۔ آئیے اب آپ کو حضرت ہود علیہ السلام کے کچھ تفصیلی حالات بتاتے ہیں۔ حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کا نام عاد ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ آپ نے حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر میں یہ پڑھا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں سے دنیا نئے سرے سے آباد ہوئی تھی۔ اور ایک بیٹے سام بن نوح کی اولاد عرب اور آس پاس کے علاقے میں بس گئی تھی۔ ان میں سے سام کا ایک پوتا جس کا نام عوص تھا وہ احقاف میں رہنے لگا۔ احقاف ریتیلے پہاڑوں کا علاقہ ہے۔ جسے ” الشحر“ کہا جاتا ہے۔ اس علاقے کی جس وادی میں عوص رہنے لگا تھا۔ اس کا نام ”مغیث “ ہے۔ عوص کے بہت سے بیٹے تھے۔ ان تمام بیٹوں سے بہت سے بیٹے پیدا ہوئے۔ اور آبادی بڑھتی چلی گئی۔ عوص کے بیٹوںمیں سے ایک بیٹا بہت مشہور ہوا۔ اس کا نام ” عاد “ تھا۔ اور اسی کے نام پر اس کی قوم کا نام ”قوم عاد “ کہلانے لگا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد

آگے بڑھنے سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد کے بارے میں مختصرا ً بتا دیں کہ کس طرح آپ علیہ السلام کی اولاد دنیا میں پھیلی اور کس کی نسل کہاں بس گئی تا کہ آگے کے حالات سمجھنے میں آسانی ہو۔ حضرت نوح علیہ السلام کے تین مسلمان بیٹے سام، حام، اور یافث طوفان کے وقت آپ علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ اور ان تینوں کی ہی اولاد پوری دنیا میں پھیلی ۔ اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام کو ”آدم ثانی“ بھی کہا جاتا ہے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری نے باب احادیث مرفوعہ میں نقل کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ سام ابو العرب یعنی عربوں کے باپ، یافث ابو الروم یعنی رومیوں کے باپ اور حام ابو الحبش یعنی حبشیوں کے باپ ہیں اور بعض روایات میں یوں مذکور ہے کہ سام ابو العرب ، ابو الفارس اور ابو لروم یعنی عربوں کے باپ، فارسیوں کے باپ اور رومیوں کے باپ ہیں۔ اور یافث ابو لترک ، ابو الصقالیہ اور ابو یاجوج و ماجوج سوڈانیوں کے باپ اور بربروں کے باپ ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کا ایک بیٹا جسے عرب یام کہتے ہیں۔ وہ طوفان میں غرق ہو گیا تھا۔ اور تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آپ علیہ السلام کے ان ہی تینوں بیٹوں سے دنیا آباد ہوئی۔ سام بن نوح کے پانچ بیٹے ارفخشند ، لاوز ، ارم، اشوز ااور غلیم تھے۔ انمیں سے ارم بن سام کے چھ بیٹے عبیل ، عبد ضخیم، عوص، کاثر یا جاثر، ماش ( مشیخ) اور حول تھے۔ ان میں سے عوص احقاف میں رہنے لگا تھا۔ اور عوص کا بیٹا عاد تھا۔ اور اس کے بھائی کا ثر یا جاثر کا بیٹا ثمود تھا۔ یافث کی اولاد ترکی ، جرمنی ، چین ، روس ، جاپان، اور فرانس میں آباد ہوئے۔ حام کی اولاد سے سوڈان ، ہند ، سندھ،قبط اور کنعان ہیں۔ توریت میں ہے کہ حام کے چار بیٹے مصر ( مصرائم) کنعان ، کوش اور قوط تھے۔ اس کی اولاد مصر ، بیت المقدس ، سوڈان، افریقہ ، ہند یعنی ہندوستان اور سندھ یعنی ابھی کا پاکستان میں آباد ہوئے۔ ( تاریخ ابن خلدون جلد نمبر 1علامہ عبدالرحمن بن خلدون)

حضرت ہود علیہ السلام کا شجرہ نسب

حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام بن نوح کا ایک بیٹاارم بن سام ہے۔ ارم بن سام کا بیٹا عوص بن ارم ہے۔ اور عوص بن ارم کا ایک بیٹا عاد بن عوص ہے۔ اور حضرت ہود علیہ السلام سام بن نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام ارفخشند کی اولاد میں سے ہیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام عاد بن عوص بن ارم کی اولاد میں سے ہیں۔ ہم دونوں سلسلہ نسب یہاں پیش کر دیتے ہیں۔ حضرت ہود علیہ السلام بن عابر بن شالخ بن ارفخشند بن سام بن حضڑت نوح علیہ السلام ۔ اور دوسرا حضرت ہود علیہ السلام بن عبداللہ بن رباح جارود بن عاد بن عوص بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام ہے۔ اکثر علمائے کرام دوسرے سلسلہ نسب کو درست مانتے ہیں۔ اسی لئے ان کا کہنا ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کا تعلق عاد بن عوص بن ارم بن سام قبیلہ سے ہے۔ یہ لوگ عرب تھے اور احقاف میں رہائش پذیر تھے۔ یہ علاقہ ریتیلے پہاڑوں کا ہے۔ اور یمن میں عمان اور حضر موت کے درمیان پڑتا ہے۔ یہ سمندر سے بہت قریب ہے۔ اور حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کے لوگ بہت ہی لمبے قد کے اور طاقتور تھے۔ اور محل بنا کر رہتے تھے۔ ان کے محل اتنے اونچے ہوتے تھے کہ ان کو سنبھالنے کےلئے انہیں لمبے لمبے ستون بنانے پڑتے تھے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ ابو الفداءعمادالدین ابن کثیر)

عرب قوم سے انبیاءاور رسول

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ایک طویل حدیث بیان فرمائی ۔ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیاءو مرسلین کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا۔ انبیائے کرام میں سے چار کا تعلق عرب قوم سے ہے۔ ( ۱) حضرت ہود علیہ السلام (۲) حضرت صالح علیہ السلام (۳) حضرت شعیب علیہ السلام اور (۴) اے ابو ذر تیرے رسول اللہ علیہ وسلم ۔ سب سے پہلے عربی زبان میں کس نے بات کی۔ اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے عربی میں بات کی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے سب سے پہلے عربی میں بات کی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے سب سے پہلے عربی میں بات کی۔ اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام کے والد نے عربی میں سب سے پہلے بات کی۔ لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے عربی میں بات کی ہے۔ واللہ اعلم ۔ (قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر) علامہ محمد بن جریر طبری روایت کرتے ہیں کہ عاد ، ثمود ، عبیل، طم، جدلیس ، امیم، اور عملیق کو اللہ تعالیٰ عربی زبان سکھلائی ہے ۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری تاریخ ابن خلدون جلد نمبر1علامہ عبدالرحمن بن خلدون)

عرب عاربہ ( بادیہ) اور عرب مستعربہ

عرب عاربہ ( بادیہ) یعنی عرب کے اصل باشندے ہیں۔ اور عرب مستعربہ یعنی وہ باشندے جو باہر سے آکر عربوں میں ضم ہو گئے اور عرب ہو گئے۔ علامہ عبدالرحمن بن خلدون لکھتے ہیں کہ علامہ محمد بن جریر طبری روایت کرتے ہیں کہ عاد ثمود ، عبیل ، طم، جدلیس ، امیم ، اور عملیق کو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان سکھلائی۔ یہی لوگ عرب عاربہ کہلاتے ہیں۔ اور کبھی یقطن کو بھی عربِ عاربہ کہا جاتا تھا۔ اور عرب عاربہ کو عرب بادیہ بھی کہتے ہیں۔ کیوں کہ ان کا وجود اب کہیں نہیں پایا جاتا ہے۔ وہ سب کے سب ہلاک ہو چکے ہیں۔ اب جو عرب ہیں وہ عربِ مستعربہ کہلاتے ہیں۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری جلد نمبر1علامہ محمد بن جریر طبری، تاریخ ابن خلدون علامہ عبدالرحمن بن خلدون)علامہ ابنکثیر لکھتے ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے پہلے جتنے عرب تھے انہیں عرب ِ عاربہ ( عرب کے اصل باشندے کہا جاتا ہے۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کو عرب مستعربہ ( غیر عرب قوم جو عربوں میں ضم ہو گئی) کہا جاتا ہے۔ عربِ عاربہ میں کئی قبائل کے نام آتے ہیں۔ مثلاً عاد ، ثمود، جرہم، طسم، جدلیس ، امیم، مدین، عمالق ( عمالیق) ،جاسم ، قحطان، بنو یقطن اور عبیل وغیرہ ۔ عرب مستعربہ کا تعلق حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ہے۔ اور آپ علیہ السلام پہلے شخص ہیں جنہوں نے فصیح و بلیغ عربی میں بات کی۔ انہوں نے یہ زبان قبیلہ جرہم سے سیکھی تھی۔ جو حرمِ پاک ( مدینہ منورہ) میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے رہنے لگے تھے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر)

قومِ عاد کا علاقہ

حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سام کے ایک بیٹے کا نام ارم ہے۔ ارم کے ایک بیٹے کا نام عوص ہے اور عوص کے ایک بیٹے کا نام عاد ہے۔ عاد اور ارم کے نام پر عاد کی اولاد یا اس کے قبیلے کا نام عادِ ارم ہے۔ علامہ عبد الرحمن بن خلدون لکھتے ہیں۔ سب سے پہلے عرب کا جو بادشاہ ہوا وہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن حضرت نوح علیہ السلام تھا۔ اس کی قوم ارضِ احقاف میں یمن و عمان اور حضرموت کے درمیان رہتی تھی۔ عاد کی ایک ہزار بیویاں تھیں۔ اور چار ہزار بیٹے تھے۔ اس نے بارہ سو 1200سال کی عمر پائی۔ امام بیہقی روایت کرتے ہیں کہ عاد کی عمر تین سو برس تھی۔ تاریخ مسعودی میں ہے کہ عوص بن ارم نے تین سو برس حکومت کی۔ اس کے بعد عاد بن عوص نے حکومت کی۔ (تاریخ ابن خلدون جلد نمبر1علامہ عبد الرحمن بن خلدون) یمامہ ، عمان، بحرین، حضر موت اور مغربی یمن کے بیچ میں صحرائے اعظم ”الدہنا یا ” الربع الخالی “کے نام سے واقع ہے۔ وہ الاحقاف ہے۔ یہ بہت بڑا ریگستان ہے۔ ہر چند کہ یہ ُفی الحال آبادی کے قابل نہیں ہے۔ لیکن اس کے اطراف میں (ابھی بھی) کہیں کہیں آبادی کے لائق تھوڑی زمین ہے۔ خصوصاً اس حصہ میں جو حضرت موت سے نجران تک پھیلا ہوا ہے۔ حالانکہ اس وقت وہ بھی آباد نہیں ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں اسی حضر موت اور نجران کے درمیانی حصہ میں عادِ ارم کا مشہور قبیلہ آیا تھا۔ ( تفسیر تبیان القران جلد نمبر 4علامہ غلام رسول سعید)

قوم عاد سب سے طاقتور قوم تھی

آج یہ علاقہ بالکل ویران پڑا ہوا ہے۔ لیکن جس وقت یہاں قومِ عاد آباد تھی تو یہ ایسا بھیانک ریگستان نہیں تھا۔ بلکہ انتہائی ہرا بھرا خوب صورت علاقہ تھا۔ جہاں ہر طرف ندیاں، نہریں( نالے )اور چشمے بہتے تھے۔ عذاب کے بعد یہ علاقہ ایک بھیانک ریگستان میں تبدیل ہو گیا۔ قوم عاد کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بہت لمبے چوڑے تھے۔ مفتی احمد یار خان نعیمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ یعنی سارے انسانوں میں تم کو ( یعنی قوم عادکو ) بہت قد آور بنایا۔ تمہاری جسامت کو پھیلادیا۔ اسی لئے ان کا سب سے پستہ قد ( سب سے ناٹا) آدمی کا قد ساٹھ گز کا تھا۔ اور دراز قد آدمی کا قد سو فٹ تھا۔ ان کا سر بڑے خیمے کے برابر تھا۔ ان کی آنکھ اتنی بڑی تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی ایک آنکھ کے حلقے میں جانور گھر بنا تے تھے۔ ( تفسیر کبیر، تفسیر خازن ، تفسیر روح البیان ، تفسیر روح المعانی، تفسیر مدارک، تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یار خان نعیمی) مولانا مودودی تفہیم القرآن میں لکھتے ہیں ۔ قومِ نوح کی تباہی کے بعد دنیا میں جس قوم کو عروج عطا کیا گیا وہ یہی ( قوم عاد ) تھی۔ ترجمہ ۔ یاد کرو ( اللہ کے اس فضل و انعام کو کہ ) نوح ( علیہ السلام) کی قوم کے بعداس نے تمہیں خلیفہ بنایا۔ (سورہ الاعراف آیت نمبر69) جسمانی طور سے یہ ( قوم عاد ) بڑے تنو مند ( لمبے چوڑے) اور زور آور ( طاقت ور ) لوگ تھے۔ ترجمہ اور تمہیں جسمانی ساخت میں خوب تنو مند ( طاقت اور قوت والا) کیا ( سورہ الاعراف آیت نمبر69اور اپنے دور میںیہ بے نظیر قوم تھی۔ کوئی دوسری قوم اس سے ٹکرکی نہیں تھی۔ ترجمہ ۔ جس کی مانند ملکوں میں کوئی قوم پیدا نہیں پیدا کی گئی۔ ( سورہ الفجر آیت نمبر8) اس کا ( قوم عاد کا ) تمدن بڑا شاندار تھا۔ اونچے اونچے ستونوںکی بلند و بالا عمارتیں بنانا س قوم( کی خصوصیت تھی۔ جس کے لئے وہ اس وقت کی دنیا میں مشہور تھی۔ ترجمہ تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے کیا کہاستونوں والے عاد ارم کے ساتھ ( سورہ الفجر آیت نمبر6اور 7) اس کی مادی ترقی اور جسمانی زور آوری نے ان کو سخت متکبر بنا دیا تھا۔ اور انہیں اپنی طاقت کا بڑا گھمنڈ تھا۔ ترجمہ ، رہے عاد تو انہوں نے زمین میں حق کی راہ سے ہٹ کر تکبر کی روش اختیار کی اور کہنے لگے کہ کون ہے ہم سے زیادہ زور آور ( طاقتور) ( سورہ حم السجدہ آیت نمبر15)ا ن کا سیاسی نظام چند بڑے بڑے جباروں کے ہاتھ میں تھا۔ جن کے آگے کوئی دم نہیں مار سکتا تھا۔ ترجمہ اور انہوں نے ہر جبار دشمن حق کے حکم کی پیروی کی ۔ (سورہ ہود اآیت نمبر59تفہیم القران سورہ الشعرا حاشیہ نمبر82

اللہ تعالیٰ نے ہر نعمتیں عطا کی تھیں۔

اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر اپنی خصوصی مہربانیاں کی تھیں۔ انہیں بہت لمبے چوڑے صحت مند اور طاقتور بنایا تھا۔ ان کے علاقے میں ندیوں، نہروں اور چشموں کو پیدا فرمایا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ علاقہ بہت ہی برا بھرا اور سر سبز تھا۔ اور اسی وجہ سے اس علاقے میں اناج ، پھل فروٹ اور میوے وغیرہ بے حساب پیدا ہوتے تھے۔ اور ان تجارت کر کے قوم عاد خوب منافع کماتی تھی۔ اور قوم کا ہر فردامیر ہو گیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ بڑے بڑے اور اونچے اونچے محلات بنانے لگے۔ عاد کے چار ہزار بیتے تھے اور ہر بیٹے کا اپنا ایک محل تھا۔ پھر ان کے بیٹوں کے محلات تھے۔ اس طرح یہ قوم بہت ہی عیش و آرام کی زندگی کی بسر کر رہی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر نعمت عطا فرئی تھی۔

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں