جمعہ، 7 اپریل، 2023

حضرت آدم علیہ السلام کا مکمل واقعہ Life Story of Prophet Adam



حضرت آدم علیہ ا لسلام کا مکمل واقعہ

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

زمین و آسمان کی تخلیق

یہ بات ہرکوئی بہت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے والد محترم ہیں اس لئے آپ علیہ السلام سے ہی ہم سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام شروع کررہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں بتانے سے پہلے ہم آپ کو زمین، آسمان ، فرشتوں، جناتوں اور انسانوں کی روحوں کی تخلیق کے بارے میں بتائیں گے تا کہ تشنگی محسوس نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ” ( اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) ان سے کہو ۔ تم کیسے اس اللہ کے ساتھ کفر کرسکتے ہو؟ جس نے دو دن میں زمین کو بنایا اور تم اس کے شریک بناتے ہو۔ وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین میں بھاری پہاڑوں کو گاڑ دیا اور اس میں برکت رکھی۔ اور زمین میں رہنے والے جانداروں کی غذا بھی چار دنوں میں مقدر کی۔ جو ضرورت مندوں کی ضرورت کے مطابق ہے۔ پھر آسمان کی طرف قصد کیا۔جب کہ اس وقت وہ دھواں تھا اور اسے آسمان بنایا، پھر آسمان و زمین سے فرمایا۔ تم دونوں خوشی سے یا نا خوشی سے حاضر ہو (حکم کی تعمیل کرو)۔ اُن دونوں نے کہا۔ ہم خوشی سے حاضر ہوئے۔ پھر دو دنوں میں سات آسمان بنا دیئے۔ اور ہر آسمان میں اس کے موافق حکم بھیجا اور ہم نے دنیا کے آسمان کو چراغوں ( ستاروں) سے مزین کیا۔ اور اس کی حفاظت کی۔ یہ بہت بڑی ذات اور بڑے علم والے کا مقرر کی مقرر کی ہوئی تدبیر ہے۔ “( سورہ حٰم ٓ السجدہ آیت نمبر9سے 12تک) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا۔ترجمہ۔ ”وہ اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ۔پھر آسمان کی طرف قصد ( توجہ) کیا۔ اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا۔اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔“( سورہ البقرہ آیت نمبر29) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ پہلے زمین بنائی پھر آسمان بنائے۔ ان آیات میں اور ان کے علاؤہ قرآن پاک میں کئی اور آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔اس سلسلے میں بہت سی احادیث بھی ہیں لیکن یہاں ہم صرف ایک حدیث پیش کریں تاکہ ویڈیو زیادہ طویل نہ ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی (زمین ) کو پیدا فرمایا۔ پھر اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو گاڑا۔ پیر کے دن اس پر درختوں کو پیدا فرمایا۔ منگل کے دن اس میں مکروہ چیزوں کو پید ا فرمایا۔ بدھ کے دن اس پر نور کو پیدا فرمایا۔ پھر جمعرات کو زمین میں چوپائے پھیلائے اور جمعہ کے دن عصر کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو پید ا فرمایا۔ “

ایک دن ایک ہزار سال

اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان جو اوپر ذکر ہوئے ہیں ۔ ان میں جامع طور سے تمام تفصیل آگئی ہے۔ اب ہم ان روشنی میں ذرا تفصیل سے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا کہ۔ ” اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی یعنی زمین کو پید ا فرمایا۔ “ آگے بڑھنے سے پہلے ہم ایک بات سمجھ لیں کہ ہماری زمین پر جو دن اور رات ہوتے ہیں۔ وہ ہماری زمین تک ہی محدود ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں جو ایک دن کا ذکر فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں جو ایک دن کا ذکر فرماتے ہیں ۔ وہ ایک دن ہمارے یہاں کے چوبیس24گھنٹوں کے برابر نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ایک دن ہماری زمین کے ہزاروں سال کے برابر ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ 

ترجمہ، اور تمہارے رب کا ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے ۔( سورہ الحج آیت نمبر 47) ۔ اب آپ کی سمجھ میں آگیا ہو گا کہ قرآن پاک اور احادیث میں ذکر کیا گیا ایک دن ہزاروں سال پر محیط ہوتا ہے۔ اس سے زمین وآسمان کی تخلیق سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

آگ کا گولہ

سائنسدانوں کا زمین کی تخلیق کے بارے میں دو نظریے ہیں۔ پہلا یہ کہ زمین سورج کا مادہ تھی اور اس سے الگ ہوکر وجود میں آئی اور دوسرا نظریہ یہ کہ سورج کے اطراف گردش کرتے مادے زمین کی تخلیق ہوئی اللہ تعالیٰ نے سورج میں کوئی بہت بڑا سیارہ ٹکرایا تھا یا کسی اور طرح سے زمین کو سورج سے الگ کیا تھا ۔ یا پھر زمین کو اور سورج کو الگ الگ وجود میں لایا تھا۔ اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ جب زمین سورج سے الگ ہوئی تو وہ پوری لاواتھی۔ اور لاوے کا یہ مادّہ سورج کی کششِ ثقل کی وجہ سے اس کے اطراف گردش کرنے لگا۔ اور دھیرے دھیرے گولائی اختیار کرنے لگا۔ کیوں کہ خلاءمیں کوئی بھی مادہ گولائی اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح زمین ایک آگ کا گولہ بن گئی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سورج گیسوں اور دھاتوں کے بڑے بڑے پہاڑوں کا مجموعہ ہے۔ اور اس میں ہائیڈروجن گیس سب سے زیادہ ہے۔ جو مسلسل جل رہی ہے اور ہیلیم میں تبدیل ہو رہی ہے اور یہ پورا جلتا ہوا مادّہ لاوا کہلاتا ہے۔ زمین جب سورج سے الگ ہوئی تو ہزاروں سال میں لاوے نے گولائی اختیار کر لی اور ہزاروں سال میں خلاءکی بے انتہا سردی کی وجہ سے اس لاوے کی اوپری سطح پر سخت پرت جمنے لگی۔ اب زمین پر ایک سخت پرت جم چکی تھی اور اس کے اندر لاوا تھا۔ اور اس لاوے کے اندر بیچوں بیچ میں مخرج ( آئرن اور نکل کا مجموعہ ) تھا۔ یہ سب ہزاروں سال میں ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہے۔ اور اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ۔ ” اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی یعنی زمین کو پیدا فرمایا۔“

زمین میں پہاڑوں کا گاڑنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ النازعات آیت نمبر32 میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ ” اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔ “ اور سورہ الغاشیہ آیت نمبر19 فرمایا۔ ترجمہ ” اور یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ پہاڑ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے سورہ النباءآیت نمبر7 فرمایا۔ ترجمہ ” اور پہاڑوں کو میخیں بنایا۔ “ ان تین آیات کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی آیات میں پہاڑوں کا ذکر فرمایا ہے۔لیکن ہم ان تین آیات پر ہی اکتفا کر کے آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو میخیں فرمایاہے۔ خیمہ لگانے کے لئے زمین میں میخ ٹھونکتے ہیں اور اس میخ کو تین حصہ سے زیادہ زمین میں گاڑ دیا جاتا ہے۔ اب سنیچر کے دن زمین وجود میں آگئی۔ اس کے آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” پھر اتوار کے دن اس میں یعنی زمین میں پہاڑوں کو گاڑا۔ “ ماہرین فلکیات کی تحقیقات کے مطابق جب سورج سے الگ ہونےکے بعد ہزاروں سال میں زمین کی اوپری سطح خلاءکی بے انتہا سردی کی وجہ سے سخت ہو گئی لیکن وہ اتنی سخت نہیں ہوئی تھی کہ لاوا کو اوپر آنے سے روک سکے۔ اسی لئے اندر کا لاوا کہیں سے بھی اس پرت یا اوپری سطح کو پھاڑ کر باہر آجاتا تھا۔ اور یہ پرت یا سطح ہر وقت لرزتی رہتی تھی۔اس وقت ہماری زمین اور مریخ کے درمیان ایک اور سیارہ گردش کررہا تھا۔ پھر وہ سیارہ پوری شدت سے ہماری زمین سے ٹکرا گیا۔ یہ سائنس کی تحقیق ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ سیارہ زمین سے ٹکرایا تھا۔ ایک بہت زبر دست دھماکہ ہوا اور اس دھماکے کے جھٹکے سے زمین بیضوی یعنی انڈہ نما ہو گئی اور اپنے محور پر گھومنے لگی۔ اور شمالی یعنی اوپری حصہ جھک گیا اور پوری زمین ہلکی سی ترچھی ہو گئی۔ اس زبردست ٹکراﺅ اور دھماکے کا اثر اس سیارے پر بھی پڑا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور اس کا ملبہ زمین کے اطراف پھیل گیا۔ زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے وہ ملبہ خلاءمیں نہیں جا سکا اور زمین کے اطراف گردش کرنے لگا۔ یہ ملبہ دھول گرد و غبار، مٹی اور بڑے بڑے پتھر کے پہاڑوں اور برف کے پہاڑوں کی شکل میں تھا۔ اس ملبے نے پوری طرح سے زمین کو ڈھک لیا۔ یہ ملبہ اتنا موٹا اور دبیز تھا کہ سورج کی روشنی زمین پر نہیں پہنچ پا رہی تھی اور زمین پر مکمل اندھیرا چھا گیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے زمین کی کشش ثقل کو اتنا بڑھا دیا کہ زمین نے اپنے اطراف گردش کرتے ہوئے ملبے کو اپنے اندر کھینچنا شروع کر دیا اور بڑے بڑے پہاڑ جو زمین کے اطراف گردش کر رہے تھے وہ اس کی اوپری سطح کی پرت میں آکر دھنسنے لگے۔ یعنی گڑنے لگے۔ اُن پہاڑوں کا تین حصہ زمین کے اندر دھنستا گیا اور صرف ایک حصہ سطح کے اوپر رہ گیا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” ہم نے پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑا۔ “ پہاڑوں کے زمین میں گڑنے کا سلسلہ ہزاروں سال تک چلتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ دھول اور مٹی بھی زمین پر آکر جمتی رہی۔ اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر اتوار کے دن اس میں یعنی زمین میں پہاڑوں کو گاڑا ۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے سورہ النحل آیت نمبر15 میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تا کہ زمین تمہیں ہلا نہ دے۔ 

چاند کی تخلیق

زمین پہاڑوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے اندر کھینچتی رہی اور ہزاروں سالوں تک کھینچتی رہی۔ ان میں برف کے بھی بہت بڑے بڑے پہاڑ تھے جن کی وجہ سے زمین پر سمندر وجود میں آیا۔ جب پوری زمین پہاڑوں ، مٹی، پانی اور گردو غبار سے بھر گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی کشش ثقل کو نارمل کر دیا اور زمین نے پہاڑوں کو اپنی طرف کھینچنے کا سلسلہ بند کر دیا۔ اس کے باوجود ابھی بھی بہت سارا ملبہ زمین کے اطراف گردش کر رہا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس ملبے کو آپس میں جُڑنے کا حکم دیا۔ تو وہ ملبہ دھیرے دھیرے جڑنے لگا اور ہزاروں سال میں وہ ملبہ پورے طور سے آپس میں جڑ گیا۔ یعنی چپک گیا۔ ساتھ ہی اس کی زمین کے اطراف گردش جاری رہی۔ جو آج بھی جاری ہے۔ یہ آپس میں چپک جانے والا مادہ یا ملبہ ،چاند ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے چاند کی تخلیق فرمائی۔ اس سیارے کے ٹکرانے سے زمین کی محوری گردش شروع ہو گئی اور جب وہ ملبہ چاند کی شکل اختیار کر گیا تو زمین کی فضاءصاف ہو گئی اور اس پر سورج کی روشنی پڑنے لگی اور زمین پر دن اور رات ہونے لگے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اشارہ فرمایا ہے۔ ترجمہ، ” وہ اللہ ہے، جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پید اکیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں تیرتے پھرتے ہیں۔ “

زمین پر پانی اور زندگی کی تخلیق

اللہ تعالیٰ جب چاند کی تخلیق فرما رہا تھا اسی دوران اس نے زمین پر پانی کو پیدا فرمایا اور اس نے پوری زمین کو ڈھک لیا اور ہر طرف سمندر تھا یہ بہت تفصیل طلب موضوع ہے۔ مختصر یوں سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر سے کچھ حصہ پر سے پانی ہٹایا اور زیادہ تر حصہ کو سمندر رہنے دیا۔ آج بھی ہماری زمین پر تین حصہ سمندر ہے اور صرف ایک حصہ خشک ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین پر درختوں ، کیڑوں مکوڑوں ، پرندوں اور جانوروں کو پیدا فرما کر پھیلا دیا۔ جیسا کہ اوپر صحیح مسلم کی حدیث میں ذکر کر چکے ہیں۔  

آسمانوں کی تخلیق

اس کے بعد اللہ تعالیٰ آسمانوں کو بنانے کا ارادہ فرمایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے جب کہ اس سے پہلے وہ آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس آیت ترجمہ ” پھر وہ اللہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھوں تھا۔ “ ( سورہ حٰم ٓ السجدہ آیت نمبر11) کی تفسیر میں منقول ہے کہ یہ دھواں پانی کے سانس لینے کی وجہ سے ظاہر ہوا تھا۔ اس دھویں کو پہلے اکیلے آسمان کی شکل میں بنایا تھا پھر اس کی پرتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے سات آسمانوں کی موجودہ شکل میں ڈھالا۔ اور یہ عمل جمعرات اورجمعہ کے دن ہوا۔ اور جمعہ کا نام اس لئے پڑا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مکمل بنا کر جمع فرمایا۔ 

آسمان کے فاصلے

اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے۔ اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ رکھا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بادل گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت فرمایا۔ ” تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” یہ بادل ہے۔ یہ زمین کو سیراب کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو اس شہر کی طرف لے جا رہا ہے جہاں کے باشندے اس کی ( اللہ کی ) عبادت نہیں کرتے ہیں اور اس کا شکر ادا نہیں کرتے ہیں۔“ پھر دریافت فرمایا۔ کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” اس کے اوپر ایک رُکی ہوئی موج اور محفوظ چھت ہے۔ تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا ۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” اس کے اوپر آسمان ہے۔ تم جانتے ہو اس آسمان کے اوپر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتےہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” ان دونوں آسمانوں کے درمیان پانچ سو سالوں کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ “ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمانوں کے بارے میں بتایا۔ اور یہ بتایا کہ ہر آسمان کا درمیانی فاصلہ پانچ سو 500برسوں کی مسافت کے برابر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” کیا تم جانتے ہو کہ ساتوں آسمان کے اوپر کیا ہے؟ “ ہم نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” ساتویں آسمان کے اوپر عرش ہے۔ اور ان دونوں کا درمیانی فاصلہ بھی پانچ سو سالوں کی مسافت کے برابر ہے۔ 

فرشتوں اور انسانوں کی روحوں کی تخلیق

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے بنایا ہے اور یہ لطیف جسم ہیں۔ انسانوں کی روحوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے نور سے بنایا ہے۔ پھر ہمیں دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے زمین سے مٹی لے کر ہمارے جسموں کو بناتا ہے۔ اور اس میں ہماری روحوں کو ڈالتا ہے۔ جب تک ہم دنیا میں رہیں گے تب تک یہ جسم ہمارے ساتھ رہے گا اور جب ہماری موت یعنی دنیا میں رہنے کا وقت مکمل ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ ہماری روح کو ہمارے جسم سے الگ کر دے گا۔ اور ہمار ا جسم بے جان ہو کر دنیا ہی میں رہ جائے گا۔ اور اسی مٹی میں دفن کر دیا جائے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ زمین سے جو مٹی لیتا ہے اسے واپس کر دیتا ہے۔ اب فرشتوں کی طرف آتے ہیں۔ فرشتے لطیف جسم ہیں اور چونکہ ہماری روح مٹی کے جسم میں قید ہیں اس لئے ہم فرشتوں اور جناتوں کی آوازوں کو نہیں سن سکتے اور نہ ہی انہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کو اس طرح بنایا ہے کہ ہم ایک مخصوص حد کے نیچے کی آواز نہیں سن سکتے اور فرشتوں اور جناتوں کی اور درختوں کی آواز اس حد کے نیچے ہے۔ مٹی کے جسم میں قید ہونے کی وجہ سے ہماری دیکھنے اور سننے کی طاقت محدود ہے۔ ایک مخصوص حد تک کی آواز ہمارا جسم برداشت کر سکتا ہے۔ اس کے اوپر کی آواز کو ہمارا جسم برداشت نہیں کر سکتا اور اس کا نظا م درہم برہم ہو جائے گا۔ ہم بے ہوش بھی ہو سکتے ہیں ۔ بہت زیادہ کپکپاہٹ کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمارا دل پھٹ بھی سکتا ہے اور ہم موت کا شکار بھی ہو سکتےہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے جسم کی حرکت محدود ہے۔ اور فرشتوں اور جناتوں کی حرکت لا محدود ہے۔

فرشتوں کے کاموں کی تقسیم

اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کے لئے زمین و آسمان اور پوری کائنات بنائی ہے۔ اور اس کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری فرشتوں کو سونپی ہے۔ یعنی فرشتوں کو انسانوں کی خدمت پر مامور کر دیا ہے اور ان کے کام تقسیم کر دیئے ہیں۔ فرشتے بے شمار ہیں۔ اس زمین پر جتنے انسان رہتے ہیں اُن سے دس گناہ زیادہ کیڑے مکوڑے رہتے ہیں۔ ان کیڑے مکوڑوں سے دس گنا زیادہ سمندری جاندار رہتے ہیں۔ ان سمندری جانداروں سے دس گنا زیادہ جنات رہتے ہیں۔ اور جتنے جنات اس زمین پر رہتے ہیں ان سے دس گنا زیادہ فرشتے ہر وقت زمین پر موجود رہتے ہیں۔ اور جتنے فرشتے زمین پر رہتے ہیں۔ ان سے دس گنا زیادہ فرشتے پہلے آسمان پر رہتے ہیں۔ اس سے دس گنا زیادہ دوسرے آسمان پر اور اس سے دس گنا زیادہ تیسرے آسمان پر رہتے ہیں۔ اس طرح ساتویں آسمان تک فرشتوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ ان میں سے بہت سے فرشتے اللہ تعالیٰ کی ہر وقت تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ۔” وہ ( فرشتے ) رات دن اس کی (اللہ تعالیٰ کی ) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور تھکتے نہیں ہیں۔ “( سورہ الانبیاءآیت نمبر20) بہت سے فرشتے ہواﺅں کو چلانے پر مقرر ہیں۔ بہت سے فرشتے بارش برسانے پر مقرر ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام کی کئی ذمہ داریاں ہیں اور بے شمار فرشتے اُن کے ماتحت ہیں ۔ا سی طرح میکائیل علیہ السلام کے ماتحت بھی بے شمار فرشتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ان فرشتوں کو احکامات دیتے رہتے ہیں۔ اسرافیل علیہ السلام صور لئے اللہ کے حکم کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ عزرائیل علیہ السلام ( ملک الموت) کا کام انسانوں کی روح نکالنا ہے اور ان کے ماتحت بھی بہت سے فرشتے ہیں۔ بہت سے فرشتے آسمانوں اور زمین کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” وہ (فرشتے) اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔“ (سورہ التحریم آیت نمبر6) سورہ النازعات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ۔ اُن فرشتوں کی قسم ، جو سختی سے ( کافر کی جان ) کھینچتے ہیں۔ اور جو نرمی سے ( مومن کی جان کی گرہ ) کھولتے ہیں۔ اور جو ( زمین و آسمان میں ) سُرعت سے تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو (اللہ کے احکام کو پورا کرنے کے لئے ) پوری طاقت اور قوت سے آگے بڑھتے ہیں۔ اور جو کائنات کے نظام کے انتظام کی تدبیر کرتے ہیں۔ ( سورہ النازعات آیت نمبر1سے 5تک ) اس طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو الگ الگ کاموں پر مقرر فرمارکھا ہے۔

جنات کی پیدائش

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی روحوں کو اور فرشتوں کو نور سے پیدا فرمایا۔ اور جناتوں کو آگ سے پیدا فرمایا۔ سورہ الحجر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لَو والی آگ سے پیدا کیا۔ “ ( سورہ الحجر آیت نمبر27) مدارج النبوت میں ہے کہ اللہ تعالی نے زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پر جو آگ پیدا کی تھی اس آگ میں نور بھی تھا اور ظلمت بھی۔ نور سے فرشتوں کو پیدا کیا اور ظلمت سے دیوؤں کو پیدا کیا اور خالص آگ سے جنات پیدا کئے۔ چونکہ فرشتوں کا مادہ تخلیق نور خالص تھا اس لئے وہ اللہ کی اطاعت میں لگ گئے، گناہوں سے دور رہے اور چونکہ شیاطین دھوئیں سے پیدا ہوۓ تھے اس لئے وہ بالطبع معاصی، کفر اور ناشکری میں مبتلا ہو گئے۔ جنات چونکہ آگ سے پیدا ہوئے تھے۔ آگ میں دونوں چیزیں تھیں نور بھی اور ظلمت بھی، اس لئے جنات میں سے بعض مسلمان ( ہدایت یافتہ ) رہے اور بعض کافر ( گمراہ ) بن گئے۔ بہرحال جنات کی تخلیق کے بعد جب ان کی نسل بڑھی تو حق تعالی نے ان کو اوامر و نواہی کا مکلف بنایا۔ جنات ایک عرصہ تک اللہ کی اطاعت میں مصروف رہے، بعد میں کفر و ناسپاسی میں پھنس گئے۔ اللہ تعالی ان کی ہدایت کے لئے بشیر و نذیر بھیجتا رہا مگر وہ اپنی فطرت سے مجبور تھے۔ آخرکار تعالی نے فرشتوں کی ایک بھاری جمعیت ان کی سرکوبی کے لئے آسمان سے بھیجی۔ فرشتوں کی فوج نے اللہ کے حکم جناتوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ بقیہ پہاڑوں جزیروں اور غیر آباد مقامات میں متفرق ہو کر جان بچا سکے۔ ناسمجھ اور کمسن جنات قید کر لئے گئے۔

ابلیس شیطان

فرشتے ان ناسمجھ قیدیوں کو اپنے ہمراہ آسمان پر لے گئے۔ ان قیدیوں میں عزازیل بھی تھا جو فرشتوں کی زیر تربیت روز بروز ترقی کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ ابلیس کا نام سریانی زبان میں عزازیل اور عربی زبان میں حارث ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ملک الموت کا نام عزرائیل علیہ السلام ہے۔ فرشتوں کی صحبت سے عزازیل کو اس قدر عبادت کا ذوق و شوق پیدا ہوا کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ازراہ شفقت و مکرمت عزازیل کے بارے میں سفارش کرنی پڑی۔ عزازیل نے بھی عبادت کرنے میں حد کر دی۔ شب و روز عبادت میں مشغول رہتا۔ ترقی کرتے کرتے دوسرے آسمان پر اور وہاں سے تیسرے آسمان پر اسی طرح ساتویں آسمان تک جاپہنچا۔ اس کے بعد جنت کے داروغہ رضوان کی سفارش پر عزازیل کو جنت میں رہنے کی اجازت مل گئی۔ عزازیل مسند تعلیم و موظعت پر بیٹھ کر معلم الملکوت بن گیا۔ پھر تو یہ عالم ہوا کہ عرش اعظم کے پایہ کے نیچے اس کے لئے یاقوت کا منبر بچایا جانے لگا۔ سر پر نور کا پھریرا فضا میں لہراتا تھا۔ جنات کے قتل عام کے ایک عرصہ بعد جب جنات زمین پر دوبارہ آباد ہوۓ اور اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے طریقہ کو چھوڑ کر کفر و عصیاں میں مبتلا ہوۓ تو عزازیل نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ مجھے فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ جنات کی ہدایت کے لئے زمین پر بھیج دیا جاۓ۔ حق تعالی نے اجازت مرحمت فرما دی۔ عزازیل نے جنات کی ہدایت کے لئے قاصد بھیجے۔ جنات ان کو ٹھکانے لگاتے رہے۔ ایک قاصد بہ مشکل جان بچانے میں کامیاب ہو سکا۔ جس نے عزازیل کو سارا قصہ سنایا۔ اس پر عزازیل نے اللہ تعالی سے فرشتوں کی ایک بھاری جمعیت کی امداد کا مطالبہ کیا۔ فرشتوں کا ایک بڑا بھاری لشکر عزازیل کی سرکردگی میں جنات کی سرکوبی کے لئے آگیا۔ اس مرتبہ فرشتوں نے تمام جنات کو ٹھکانے لگا دیا۔ بہت ہی تھوڑے جنات بہ مشکل جان بچانے میں کامیاب ہو سکے۔ جنات کے ناپاک وجود سے زمین کی پاکی کے بعد اللہ تعالی نے ابلیس کو زمین کی خلافت عطا فرمائی۔ عزازیل اس عظیم الشان کارنامہ پر مغرور ہو کر دل میں کہنے لگا کہ اگر خدا تعالی نے زمین کے انتظام وانصرام کے لئے کسی اور شخص کو نامزد کیا تو میں اس کو ہرگز قبول نہ کروں گا۔ اسی دوران میں ایک روز فرشتوں کی نظر لوح محفوظ کی ایک تحریر پر پڑی۔ جس کا مفہوم یہ تھا کہ میرا ایک مقرب بندہ عنقریب خسارے اور ہمیشہ کی لعنت میں گرفتار ہونے والا ہے۔ فرشتوں کو یہ تحریر پڑھ کر فکر ہوئی کہ یہ جانے تحریر کس کے متعلق ہے۔ ابلیس سے ذکر کیا تو اس نے کہا یہ تحریر ہمارے تمہارے متعلق نہیں ہے۔ میں تم سے بہت عرصہ پہلے یہ تحریر پڑھ چکا ہوں۔ عزازیل نے فرشتوں کے متعلق دعا کی: اے اللہ ان فرشتوں کو اس ہمیشہ کی لعنت اور خسارے سے بچانا اور وہ اپنے کو بھول گیا۔ شیطان کے دماغ میں یہ بات سمائی ہوئی تھی کہ جو مرتبہ و اعزاز اس وقت مجھے حاصل ہے وہ مجھ سے واپس نہ لیا جاۓ گا۔

ابلیس کے اندر تکبّر ( گھمنڈ) پیدا ہو گیا

اللہ تعالیٰ نے ابلیس شیطان کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ جناتوں میں سے تھا۔ اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر50) وہ نیک جن فرشتوں کے ساتھ رہنے لگا۔ کچھ عرصہ فرشتوں کے ساتھ رہنے کے بعد اس کے اندر یہ گھمنڈ پیدا ہو گیا کہ میں اتنا برتر ہوں کہ فرشتوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ جب اس میں یہ گھمنڈ پید ا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے عرشِ معلّیٰ پر لکھ دیا۔ ” اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم“ ترجمہ ۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے ۔ جب اس جن نے یہ دیکھا توا للہ تعالیٰ سے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ۔ یہ شیطان مردود کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وقت آنے پر معلوم ہو جائے گا۔ پھر وہ جن برسوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں پڑا رہا اور اس شیطان مردود پر لعنت بھیجتا رہا۔ ابلیس جنت کے خازنوں میں سے تھا۔ اور پہلے آسمان کے فرشتوں کا سردار تھا۔ پہلے آسمان اور زمین پر اس کی سلطنت تھی۔ علم اور عبادت میں اس کی کوشش سب فرشتوں سے زیادہ تھی۔ ( پہلے ) آسمان سے زمین تک کے معاملات کا یہ محافظ اور منتظم تھا۔ ان امور کی وجہ سے یہ اپنا شرف اور مرتبہ سب سے زیادہ سمجھتا تھا۔ اس زعم نے اس کو کفر ( یعنی انکار) پر آمادہ کیا۔ سو ،اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس کو شیطان ِ رجیم اور دھتکارا ہوا قرار دیا۔

فرشتوں کو خلیفہ کی اطلاع دینا

جب زمین انسانوں کے رہنے کے قابل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنانے کا ارادہ فرمایا اور فرشتوں سے فرمایا۔ میں زمین پر اپنا خلیفہ بھیجنے والا ہوں۔ تب فرشتوں نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، آپ کسی کوخلیفہ بنائیں گے تو وہ بھی جناتوں کی طرح زمیں میں فساد پھیلائے گا۔ یعنی آپس میں لڑیں گے اور ہم تو آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ تسبیح کرتے ہیں اور حمد کرتے رہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ ایک کارخانے دار ہے۔ اس کے کارخانے میں کاریگر کام کر رہے ہیں۔ اب وہ کارخانے دار اپنے کاریگروں سے کہتا ہے ۔ میں اس کارخانے کا ایک مینجر مقرر کرنے والا ہوں ۔ تو کاریگر کہتے ہیں کہ آپ مینجر رکھیں گے تو وہ اپنی مرضی سے کارخانہ چلوائے گا۔ ایسا نہ ہو کہ کارخانے میں اس کی غلطیوں کی وجہ سے نقصان ہو جائے۔ جب کہ ہم تو اچھے طریقے سے صحیح کام کر رہے ہیں۔ تو کارخانے دار کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اس میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں۔ جو تم نہیں جانتے۔ یعنی اس مینجر کارخانے کا بہت سارا فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ 

فرشتوں کا اندیشہ

اللہ تعالیٰ نے زمین پر خلیفہ بنانے کے بارے میں فرشتوں کو اس لئے بتایا کہ اس خلیفہ کے لئے تمام انتظامات فرشتوں کو ہی کرنا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرشتوں سے مشورہ نہیں فرما رہے ہیں ۔ بلکہ انہیں اطلاع دے رہے ہیں اور حکم بھی دے رہے ہیں کہ میں جسے خلیفہ بناﺅں گا تمہیں اس کی خدمت اور مدد کرنا ہو گی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کی آسانی کے لئے انتظامات بھی کرنے ہوں گے۔ کوئی فرشتہ ہوا چلانے پر مامور ہو گا۔ کوئی بارش برسانے پر مامور ہو گا۔ اور کوئی اس ( انبیائے کرام ) تک میرا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری نبھائے گا۔ کوئی ان کی روح قبض کرنے کا کام کرے گا۔ اور کوئی ان کے اعمال لکھنے کا کام کرے گا۔ غرض یہ کہ فرشتوں کو اس خلیفہ کا ہر طرح سے تعاون اور نگرانی کرنا ہوگی۔ اور زمین کے تمام انتظامات سنبھالنے ہوں گے۔ اسی لئے آگے چل کر فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔ اس کا ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا۔ اور فرشتے بھی جانتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا تو اسے کچھ اختیارات بھی عطا فرمائے گا۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ خلیفہ ان اختیارات کا غلط استعمال کر کے زمین پر فساد برپا کرے گا۔ اسی اندیشے کا اظہار فرشتوں نے کیا تھا۔ 



حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کے لئے مٹی لانا

اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر جاﺅ اور مٹی لے کر آﺅ۔ جبرئیل علیہ السلام زمین پر پہنچے تو زمین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس مٹی سے انسان بنائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ میں اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں کہ وہ میرے کسی حصے کو جہنم میں ڈالے۔ یہ سن کر جبرئیل علیہ السلام واپس چلے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میکائل علیہ السلام کو بھیجا۔ وہ بھی آئے اور زمین کی فریاد سن کر واپس چلے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عزرائیل علیہ السلام کو بھیجا ۔ جب زمین نے ان سے فریاد کی تو انھوں نے کہا۔ میں اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں۔ اور الگ الگ جگہوں سے سفید ، کالی، سرخ اور کئی طرح کی مٹی لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں کی روح قبض کرنے ( جان نکالنے) کا کام سونپ دیا۔ اور ” ملک الموت “ کا خطاب دیا۔ 

آدم نام کیوں رکھا گیا

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ملک الموت نے زمین کے اوپری حصے سے مٹی لی تھی۔ اوپری حصہ کو ” ادیم “کہا جاتا ہے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کا نام ” آدم “ رکھا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کو بنانے کے لئے ” ادیم ارض“ ( زمین کے اوپری حصہ ) سے تلخ اور شیریں مٹی لی جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کو بنایا۔ اس لئے ان کا نام آدم رکھا گیا ہے کہ وہ زمین کے ” ادیم “ اوپر والے حصے سے بنائے گئے ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کو ادیم ارض سے بنایا گیا ہے جس میں عمدہ اور غیر عمدہ ہر قسم کی مٹی شامل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تم اُن کی اولاد میں اچھے برے ہر قسم کے لوگ دیکھتے ہو۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹھی بھر مٹی سے پید ا فرمایا۔ جس کو تمام زمین سے لیا تھا۔ پس اولادِ آدم زمین کی اسی مٹی کے مطابق پید اہوئی ہے۔ ان میں کچھ لوگ سرخ رنگ کے ہیں۔ کچھ سیاہ فام یعنی کالے رنگ کے ہیں ۔ کچھ لوگ سفید رنگ کے ہیں اور کچھ لوگ درمیانے یعنی سانولے رنگ ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ نرم مزاج ہیں ۔ بعض سخت مزاج ہیں بعض لوگ خوش اخلاق ہیں اور بعض لوگ بد اخلاق ہیں۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کی تخلیق

اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے فرمایا کہ تم نے زمین سے مٹی کو الگ کیا ہے۔ اب تم ہی اسے زمین سے ملانا۔ ( یعنی انسان کی روح قبض کرنا۔) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اس مٹی کو وہاں رکھو جہاں آج خانہ کعبہ ہے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس مٹی کو مختلف پانیوں میں گوندھ کر گارا بنائیں ۔ا س مٹی پر چالیس دن تک بارش ہوئی ۔ انتالیس دن تورنج اور غم کا پانی برسا۔ اور ایک دن خوشی کا پانی برسا۔ اسی لئے انسان کو رنج و غم زیادہ رہتے ہیں۔ اور خوشی کم رہتی ہے پھر فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس گارے کو مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وادی نعمان میں عرفات پہاڑ کے پاس میدان ِ عرفات میں رکھ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کے مطابق خاص اپنے دست قدرت سے اس گارے سے حضرت آدم علیہ السلام کا قالب بنایا۔ ۔پھر اس کو مختلف ہواﺅں سے اتنا خشک کیا کہ کھنکھنانے لگا۔جب وہ سوکھ گیا تو وہ ایسا ہوگیا جیسا ہمارا پانی پینے کا مٹکا ہوتا ہے۔ مٹکے پر ہم ہلکے سے کسی چیز کو مارتے ہیں تو وہ ٹھن ٹھن بجتا ہے۔ ایسے ہی حضرت آدم علیہ السلام کا قالب تھا۔ 

فرشتوں کو حیرانی اور ابلیس کی حقارت

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کا قالب بنایا اور ان کی شکل و صورت بنائی تو فرشتے اس کو دیکھنے آئے۔ فرشتوں نے کبھی ایسی صورت نہیں دیکھی تھی ۔ وہ تعجب سے اس کے آس پاس پھرتے تھے اور اس کی خوب صورتی کو دیکھ کر حیران ہو تے تھے۔ وہ نیک جن یعنی ابلیس شیطان بھی ساتھ میں تھا۔ اس نے فرشتوں کے تعجب اور حیرانی کو دیکھا تو اس کے گرد پھر کر، ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے قالب میں منہ سے داخل ہو کر پشت سے نکلا اور بولا اے فرشتو، تم اسی کا تعجب کرتے ہو ۔ یہ تو اندر سے خالی جسم ہے۔ جس میں جگہ جگہ سوراخ ہیں۔ اس کی کمزوری کا یہ حال ہے کہ اگر بھوکا ہو تو گر پڑے اور اگر خوب سیر ہوجائے تو چل پھر نہ سکے۔ اس خالی قالب سے کچھ نہیں ہو سکے گا۔ پھر بولا ہاں اس کے سینے کے بائیں جانب ایک بند کوٹھری ہے۔ یہ خبر نہیں کہ اس میں کیا ہے؟ شاید یہی وہ چیز ہو جس کی وجہ سے یہ زمین پر خلافت کا حقدار ہو گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ پھر ابلیس اس قالب کے منہ میں داخل ہوا اور پشت کے راستے سے نکلا اور کہنے لگا ۔ تیری کوئی حیثیت نہیں ہے کیوں کہ تو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور تیرے اندر سے آواز آتی ہے۔ اگر مجھے تجھ پر تصرّف دیا گیا تو میں ضرور تجھے ہلاک کر وں گا اور اگر تجھے مجھ پر تصرف دیا گیا اور زور دیا گیا تو میں تیری نافرمانی کروں گا۔ 

ابلیس کی نافرمانی

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا۔ میں اس قالب میں روح ڈالنے والا ہوں۔ جب میں روح پھونک دوں اوریہ زندہ ہو جائے تو تم سجدے میں گر جانا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے قالب میں روح پھونکی اور روح ناک کے راستے اندر داخل ہوئی تو سب سے پہلے ان کی آنکھ کھلی اور ان کی نظر عرش معلّیٰ پر پڑی۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول ا للہ ۔ ابھی باقی جسم میں جان نہیں آئی تھی بلکہ دھیرے دھیرے جان آتی جا رہی تھی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں مکمل جان آگئی تب تمام فرشتے سجدے میں گر گئے۔ لیکن وہ نیک جن سجدے میں نہیں گیا اور کھڑا ہی رہا۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ۔ ” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں (سے ) ہو گیا۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر34) اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اور بھی کئی جگہوں پر ذکر فرمایا ہے ۔ 

ابلیس کا تکبر کرنا اور دھتکار ا جانا

اللہ تعالیٰ نے اس ( ابلیس سے) پوچھا ۔ تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ تو اس نے تکبر سے کہا۔ میں آگ سے بنایا گیا ہوں اور یہ مٹی سے بنایا گیا ہے۔ میں اس سے برتر ہوں ۔ اس لئے میں اسے سجدہ نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا۔ مردود شیطان نکل جا یہاں سے۔ تب اس شیطان نے کہا۔ اے اللہ تعالیٰ ، تو اس کی وجہ سے مجھے نکالتا ہے۔ مجھے اتنی مہلت دے کہ میں ثابت کر سکوں کہ میں اپنی بات میں سچا ہوں۔ میں اسے بہکاﺅں گا۔ اسے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے ہر طرف سے بہکاﺅں گا۔ اور سیدھے راستے پر گھات لگا کر بیٹھوں گا۔ جب یہ انسان سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرے گا تو میں اسے بہکا کر گمراہی کے راستے پر لے جاﺅں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے قیامت تک مہلت دی۔ اس کے بعد جو تیرے بہکاﺅ ے میں آئے گا اور شرک کرے گا۔ میں تجھ سے اور ان انسانوں سے جہنم کو بھر دوں گا۔ یہ سن کر ابلیس مردود چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن پاک میں کئی جگہ بیان فرمایاہے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ جب ابلیس شیطان نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا تب اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں دھتکارا اور مردود نہیں ٹھہرایا۔ بلکہ اسے صفائی کا موقع دیا اور اس سے پوچھا کہ آخر تو نے ایسا کیوں کیا؟ جب ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے مقابلے میں تکبر اور گھمنڈ کیا اور اپنے آپ کو برتر اور حضرت آدم علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) حقیر بتایا تب اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکاردیا اور مردود قرار دیا۔ کیونکہ تکبر اور گھمنڈ کرنا اور کسی بھی رسول اور نبی کی بے ادبی کرنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بڑا جرم ہے۔

ابلیس کی ہٹ دھرمی

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔ تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس ملعون شیطان نے سجدہ نہیں کیا۔ اس طرح اس نے گناہ کیا۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے اس سے اس گناہ کے کرنے کی وجہ سے پوچھی تو ابلیس نے اس گناہ کا عذر بیان کیا۔ جس سے اس کا گھمنڈ اور تکبر ظاہر ہو گیا ۔ گویا اس نے پہلے تو گناہ کیا۔ پھر اسے صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں اور گناہ میں مبتلا ہو گیا۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر ابن کثیر میں لکھتے ہیں۔ ابلیس نے جو بھی وجہ بتائی ہو سچ تو یہ ہے کہ وہ وجہ عذر گناہ بد تر گناہ کے مصداق ہے۔ ( یعنی گناہ کرنے کے بعد اسے صحیح ثابت کرنے کے لئے عذر پیش کرنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے) گویا وہ اطاعت سے اس لئے باز رہا کہ اس کے نزدیک فاضل کو مفضول کے سامنے سجدہ کئے جانے کا حکم ہی نہیں دیا جا سکتا تو وہ ملعون کہہ رہا ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں ۔ پھر مجھے اس کے سامنے جھکنے کا حکم کیوں ہو رہا ہے۔ پھر اپنے بہتر ہونے کے ثبوت میں کہتا ہے کہ میں آگ سے بنا ہوں۔ اور یہ مٹی سے بنا ہے۔ وہ ملعون عنصر کو دیکھ رہا تھا۔ اور اس فضیلت کو بھول گیا تھا کہ مٹی والے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔ اور اپنی روح پھونکی ہے۔ پس اسی وجہ سے اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں فاسد قیاس سے کام لیا۔ اور سجدے سے رک گیا ۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیا گیا۔ اور تمام نعمتوں سے محروم ہو گیا۔ اس ملعون نے اپنے قیاس اور اپنے دعوے میں خطا کی اور اپنے گناہ پر اڑ گیا۔ ( تفسیر ابن کثیر ، سورہ الاعراف آیت نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت حسن بصری ( تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ ابلیس شیطان نے قیاس کیا۔ اور وہی سب سے پہلے قیاس کرنے والا ہے۔ 

ابلیس ملعون نے مہلت مانگی

اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنے کے بعد ابلیس ملعون نے اپنے گناہ کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور اس کی وجہ سے اس کا گھمنڈ اور تکبر سامنے آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکار دیا۔ جب ابلیس نے دیکھا کہ انسان ( حضرت آدم علیہ السلام ) کی وجہ سے مجھے دھتکارا جا رہا ہے تو وہ انسان کا سب سے بڑا دشمن بن گیا۔ اور اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی کہ اس انسان کی وجہ سے آپ مجھے دھتکار رہے ہیں مجھے اتنی مہلت دیں کہ میں اپنی بات کو صحیح ثابت کرسکوں کہ جو فضیلت آپ نے اسے عطا فرمائی ہے۔ یہ اس فضیلت کے قابل نہیں ہے۔ اور میں اسے بہکاﺅں گا۔ اور گمراہی کے راستے پر لے جاﺅں گا۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ 

ابلیس شیطان اور اس کی اولادہمارے سب سے بڑے دشمن

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم ( علیہ السلام ) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ یہ جناتوں میں سے تھا۔ اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی۔ کیا پھر تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنا رہے ہو؟ حالانکہ وہ تم سب کا دشمن ہے۔ ایسے ظالموں کا کیا ہی بُرا بدلہ ہے۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر 50) للہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہمیں بتایا کہ ابلیس شیطان اور اس کی اولاد ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ابلیس شیطان نے ہر انسان کے ساتھ اپنی اولاد میں سے ایک شیطان کو لگا دیا ہے۔ وہ شیطان مسلسل اس انسان کے اندر وسوسہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ دو انسان یا کئی انسان آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دوران گفتگو ہنسی مذاق بھی ہوتے رہتے ہیں اور انسان ہنسی مذاق کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا ہے۔ لیکن جب وہی انسان اکیلے میں بیٹھتا ہے تو اس کا شیطان اس کے اندر وسوسہ ڈالتا ہے اور اس ہنسی مذاق کی بات کو بار بار اتنے الگ الگ طریقوں سے انسان کے دماغ میں ابھارتا ہے کہ وہ انسان اس ہنسی مذاق کو اپنی توہین سمجھنے لگتا ہے۔ اور شیطان اسے اتنی ہوا دیتا ہے کہ نتیجہ میں دونوں انسانوں میں جھگڑا ہو جاتا ہے۔م اور رشتہ داری اور دوستی ، نفرت اور دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ شیطان اسی پر بس نہیں کرتا۔ بلکہ دونوں انسانوں کے اندر مسلسل وسوسے پیدا کر کے اس نفرت اور دشمنی کو مزید گہری کرتا جاتا ہے۔ ہمارا شیطان مسلسل ہماری تاک میں رہتا ہے۔ ہم اسے بھول جاتے ہیں۔ لیکن وہ ہر وقت ہم پر نظر رکھتا ہے۔ اگر ہم مسلسل گناہوں اور برائیوں میں مبتلا رہتے ہیں تو وہ ہم پر تھوڑی بہت محنت کرتا ہے۔ اور کوشش کرتا ہے کہ ہم گناہوں اور برائیوں میں سے نکلنے نہ پائیں اور نیکیوں کی طرف نہ آنے پائیں۔ شدید محنت تو اسے اس وقت کرنی پڑتی ہے۔ جب ہم گناہوں اور برائیوں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور نکل کر نیکیوں اور بھلائیوں کو اپنا لیتے ہیں تب وہ شدید محنت کرتا ہے یہاں تک کہ ہماری نیکیوں اور بھلائیوں پر ہمارے اندر گھمنڈ پیدا کرتا ہے اور ہماری نیکیوں اور بھلائیوں کو ہمارے لئے وبال بنا دیتا ہے۔ اسی لئے ہمیں ہر وقت ہر لمحہ شیطان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کا زندہ ہونا

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح پھونکی جو بے جان پڑا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے اندر روح پھونکی تو وہ روح ان کے سر کی جانب سے داخل ہوئی۔ اور وہ روح ان کے جسم کے جس حصے میں پہنچتی گئی وہ حصہ گوشت اور خون میں تبدیل ہوتا گیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب روح حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں داخل ہونے لگی تو اندر اندھیرا ہونے کی وجہ سے ٹھہر گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی پیشانی مبارک میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو رکھ دیا۔ جس سے آپ علیہ السلام کا قالب جگمگا اٹھا۔ اور روح اندر داخل ہونے لگی۔ ( تفسیر عزیزی) اب حقیقت کا علم تو صر ف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اب روح دھیرے دھیرے اندر داخل ہونے لگی۔ جب سر سے ہو کر ناک اور منہ تک آئی اور گردن تک پہنچی تو حضرت آدم علیہ السلام کو چھینک آئی۔ اور بے ساختہ آپ علیہ السلام نے ” الحمد للہ “ فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے الہام کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا۔ ”یر حمک اللہ “ یہی اب سنت ہے۔ جب کمر تک پہنچی تو انھوں نے اپنے جسم کو دیکھا ۔ جو انہیں بہت خوب صورت معلوم ہوا۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے اٹھنا چاہا۔ لیکن چونکہ ابھی نچلے دھڑ میں روح نہیں پہنچی تھی۔ اس لئے وہ بے جان تھا اور اٹھنے نہیں دے رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یہ کوشش کرتے دیکھ کر فرمایا۔ انسان بہت ہی جلد باز مخلوق ہے۔

سلام کرنے کا طریقہ

اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح سرایت ہونے کا عمل جاری تھا کہ فرشتوں کے سجدہ کرنے اور ابلیس کے سجدہ نہیں کرنے اور دھتکارے جانے کا واقعہ پیش آیا اور حضرت آدم علیہ السلام بھی اس سارے واقعہ کو دیکھ رہے تھے۔ ابلیس شیطان کے چلے جانے کے بعد بھی روح کا جسم میں سرایت کرنے کا عمل جاری رہا۔ جب روح پیروں یعنی نچلے دھڑ میں بھی سرایت کر چکی تو آپ علیہ السلام کا پور ا بدن حرکت کرنے لگا اور آپ علیہ السلام حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے اپنے ہاتھوں اور پیروں کو حرکت دے رہے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا۔ اُن فرشتوں کے پاس جاﺅ اور ان کو السلام علیکم کہو۔ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں کے پاس گئے اور سلام کیا تو فرشتوں نے جواب دیا۔ وعلیکم السلام ۔ پھر آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ فرشتوں نے کیا کہا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے جواب میں عرض کیا۔ اے اللہ ، انھوں نے وعلیکم السلام کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں سلام کرنے کا طریقہ ہوگا۔


حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاءکے نام بتائے

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاءکے نام سکھلائے۔ اور فرشتوں سے تمام اشیاءکے نام دریافت فرمائے۔ تو فرشتوں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا آپ نے ہمیں بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا۔ ان اشیاءکے نام بتاﺅ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے تمام اشیاءکے نام بتادیئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا۔ میں نے کہا تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ میں ظاہر اور پوشیدہ تمام باتیں جانتا ہوں۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ اور اللہ تعالیٰ نے آدم( علیہ السلام )کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیااور فرمایا۔ اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاﺅ۔ ان سب نے کہا اے اللہ تعالیٰ ، آپ کی ذات پاک ہے۔ ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے۔ جتنا آپ نے ہمیں سکھا رکھا ہے۔ پورے علم اور حکمت والے تو آپ ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ( حضرت ) آدم ( علیہ السلام ) سے فرمایا۔ تم ان کے نام بتادو۔ جب انھوں نے ( تمام چیزوں کے ) نام بتادیئے تو ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ کیا میں نے تمہیں ( پہلے ہی) نہیں کہا تھا کہ زمین و آسمان کا غیب، میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے ۔ جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کی وجہ

سورہ البقرہ کی آیات نمبر31اور 33کی تشریح میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہاں سے اس بات کا اعلان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص علم میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر بھی فضیلت عطا فرمائی۔ یہ واقعہ فرشتوں کے سجدہ کرنے کے بعد کا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت جو آپ علیہ السلام کو پیدا کرنے میں تھی اور جس کا علم فرشتوں کو نہیں تھا۔ اور اس کا اجمالی بیان اس سے پہلے کی آیت میں گزرا ہے۔ اس کی مناسبت کی وجہ سے اس واقعہ کو (یعنی اشیاءکے نام بتانے کے واقعہ کو ) پہلے بیان فرمایا۔ اور فرشتوں کا سجدہ کرنا جو اس سے پہلے ہوا تھا۔ اسے بعد میں بیان فرمایا۔ تا کہ خلیفہ کے پیدا کرنے کی مصلحت اور حکمت ظاہر ہو جائے۔ اور یہ معلوم ہو جائے کہ یہ شرافت اور فضیلت حضرت آدم علیہ السلام کو اس لئے ملی کہ انہیں وہ علم ہے جس سے یہ فرشتے خالی ہیں۔ اس کے آگے لکھتے ہیں۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو تمام نام بتا دیئے۔ یعنی ان کی اولاد کے ناموں کے علاوہ سب جانوروں زمین، آسمان ، پہاڑ ، تَری، خشکی گھوڑے ، گدھے، برتن بھانڈے ، چرند ، فرشتے اور تارے وغیرہ تمام چھوٹی بڑی چیزوں کے نام بتا دیئے گئے۔ امام محمد بن جریر طبری فرماتے ہیں کہ فرشتوں اور انسانوں کے نام سکھائے گئے۔ اس کے علاوہ صحیح قول یہ ہے کہ تمام چیزوں کے نام سکھائے گئے تھے۔ ذاتی نا م بھی، صفاتی نام بھی اور کاموں کے نام بھی جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ گوز(انسان کے پاخانہ کے راستے سے نکلنے والی ہوا) تک کا نام بتایا گیا تھا۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کا جنت میں قیام

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا۔ اے آدم ( علیہ السلا م) تم جنت میں داخل ہو جاﺅ اور وہاں عزت و احترام کی زندگی بسر کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے کہا اے آدم ( علیہ السلام ) تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو اور اس میں سے جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو کھاؤ۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر35 ) تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے تحت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی یہ بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کرانے کے بعد انھیں جنت میں رکھا اور ہر چیز کی رخصت دے دی۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں ، نبی بھی تھے اور رسول بھی تھے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے آمنے سامنے بات چیت کی اور انہیں فرمایا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ عام مفسرین کا بیان ہے کہ انہیں آسمانی جنت میں رکھا گیا تھا۔ لیکن معتزلہ اور قدریہ کہتے ہیں کہ یہ جنت زمین پر تھی۔ ( جو کہ جھوٹ ہے) ( تفسیر ابن کثیر) 

سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی پیدائش

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ ( بیوی ) سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو پید ا فرمایا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ یہ تو سب مانتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام وہاں پیدا ہوئے جہاں آج مکہ مکرمہ ہے۔ لیکن سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی پیدائش میں اختلاف ہے کہ کہاں پیدا ہوئیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں پید اہوئیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سو رہے تھے ان کی پسلی سے ان کو پیدا فرمایا۔ تو آیت کے معنی ہوں گے اے آدم علیہ السلام ، آپ اور آپ کی بیوی جنت میں ٹھہرے رہو۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت فرمائی کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو نوری لباس پہنایا ، ان کے سر پر تاج رکھے، سونے کے تخت پر بٹھایا۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو مختلف قسم کے زیوروں سے آراستہ کیا اور پھر دونوں کو جنت میں پہنچا دیا گیا۔ (تفسیر کبیر روح البیان ) اس سے معلوم ہوا کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی پیدائش زمین پر ہوئی۔ اب آیت کے معنی ہوں گے کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں جا کر رہو۔ ( تفسیر نعیمی)  

حوا نام کیوں؟

ابلیس کو جنت سے نکالنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں جگہ دی گئی لیکن تنِ تنہا تھے۔ اس وجہ سے ان کی نیند میں سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو ان کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ جاگے تو انھیں دیکھا اور پوچھا ۔ تم کون ہو؟ اور کیوں پیدا کی گئی ہو؟ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ میں عورت ہوں اور آپ ( علیہ السلام ) کے ساتھ رہنے اور تسکین کا سبب بننے کے لئے پید ا کی گئی ہوں۔ فوراً فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام عرض کیا ۔ فرمائیے ان کا نام کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ حوا۔ انھوں نے کہا۔ اس نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اس لئے کہ یہ ایک زندہ سے پید ا کی گئی ہے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی آواز آئی۔ اے آدم ( علیہ السلام ) اب تم اور تمہاری بیوی آرام سے جنت میں رہو اور جو چاہو کھاﺅ پیو۔ جب سیدہ حوا رضی اللہ عنہا ان کی پسلی سے پیدا کی گئیں تب حضرت آدم علیہ السلام کو تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ اگر آپ علیہ السلام کو تکلیف محسوس ہوتی تو کوئی شخص اپنی بیوی پر مہربان نہیں ہوتا۔ جب آپ علیہ السلام بیدار ہوئے تو پوچھا گیا ۔ یہ کون ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اِمراة’‘۔ یعنی عورت ہے۔ پوچھا گیا۔ اس کا نام کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ حوا۔ پوچھا گیا ۔ امراة’‘ کیوں ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔یہ المراء( مرد ) سے پیدا ہوئی ہے۔ پوچھا گیا۔ اس کا نام حوا کیوں رکھا؟آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کیوں کہ یہ حی ( زندہ ) سے پیدا کی گئی ہے۔ فرشتوں نے پوچھا ۔ کیا آپ علیہ السلام ان سے محبت کرتے ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں۔ پھر فرشتوں نے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا سے پوچھا ۔ کیا آپ ان سے محبت کرتی ہیں؟وہ مسکرائیں اور شرما گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہاری زوجہ ہے۔ تم اکیلا پن محسوس کر تے تھے اس لئے یہ تمہاری ساتھی ہے۔ اور وہ دونوں جنت میں رہنے لگے۔ مگر شیطان ان دونوں کی تاک میں تھا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی آزمائش 

آپ کو یاد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مردود ابلیس کہہ کر دھتکار دیا تھا۔ شیطان کو اس میں اپنی بہت ہی بے عزتی محسوس ہوئی تھی اوروہ یہی سوچ رہا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی وجہ سے میری بے عزتی ہوئی ہے تو میں بھی ایسا کچھ کروں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ وہی سلوک ہو جو میرے ساتھ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا تھا۔ جنت کی ہر شئے استعمال کر سکتے ہو۔ کچھ بھی کھا پی سکتے ہو۔ ہاں ایک درخت ہے اس کا پھل نہیں کھانا۔ شیطان نے اسی کا فائدہ اٹھایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے کہا۔ اے آدم تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو اور اس میں جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو کھاؤ اور اس درخت کے قریب مت جانا۔ ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاﺅ گے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 35) ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم ( علیہ السلام ) تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ پھر جس جگہ سے چاہو دونوںکھاﺅ۔ اور اس درخت کے پاس مت جاﺅ اس لئے کہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاﺅ گے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر19)باس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ ایک خاص درخت سے روکنا در اصل امتحان تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ انگور کی بیل تھی۔ کوئی کہتا ہے ۔ گیہوں کا درخت تھا۔ کسی نے سنبلہ کہا ہے۔ کسی نے کھجور ، کسی نے انجیر کہا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ اس درخت کے کھانے سے انسانی حاجت ہوتی ہے۔ جو جنت کے لائق نہیں ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری فرماتے ہیں ۔ یہ کوئی ایک درخت تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا تھا۔ نہ تو قرآن پاک سے اس کا تعین ہوتا ہے اور نہ ہی کسی حدیث سے ۔ مفسرین میں اختلاف ہے ۔ اور اس کے معلوم ہو جانے سے کوئی اہم فائدہ نہیں ہوگا۔ اور نہیں معلوم ہونے سے کوئی نقصان بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس جستجو کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو اس کا بہتر علم ہے۔ 

ابلیس شیطان کا بہکانا

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو جنت میں رکھا ۔ دونوں سکون سے رہ رہے تھے اور ابلیس شیطان حسد سے جل رہا تھا۔ آخر کار شیطان چپکے سے جنت میں داخل ہوا ۔ کیسے داخل ہوا اس بارے میں بہت سی روایات ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو بہکانے لگا۔ کہنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ پھل اس لئے کھانے سے منع فرمایا ہے کہ اگر تم اسے کھا لو گے تو ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہو گے اور تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اس کے علاوہ اور بہت سے فائدے بتائے اور یقین دلانے کے لئے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس واقعہ کو کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ابلیس کا وسوسہ یہ تھا کہ اس درخت کے کھانے سے قوتِ ملکیت اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جائے گی۔ مگر شروع میں چوں کہ آ پ علیہ السلام کا وجود اس طاقت ور غذا کا متحمل نہیں تھا اسی لئے منع کر دیا گیا تھا۔ اب آپ علیہ السلام کی حالت اور قوت میں ترقی ہو گئی ہے۔ اور آپ دونوں کے قویٰ میں اس کا تحمل پیدا ہو گیا ہے۔ تو اب وہ ممانعت باقی نہیں رہی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ دیکھو تمہیں اس درخت کے کھانے سے اس لئے روکا گیا ہے کہ جو کوئی شخص اس درخت میں سے کھا لے گا وہ ہمیشہ یہیں رہے گا اور جو بادشاہی یہاں حاصل ہے اس میں کبھی کمزوری نہیں آئے گی اور اس نے یہ بھی کہا کہ تم دونوں کو تمہارے رب نے اس درخت کے کھانے سے اس لئے روکا ہے کہ اس کو کھا کر فرشتے ہو جاﺅ گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے۔ 

مومن اللہ کے نام کے بعد ہتھیار ڈال دیتے ہیں

حضرت آدم علیہ السلام کو اور ان کی بیوی کو ابلیس شیطان مسلسل بہکا تا رہا اور کہا کہ ابلیس نے ان دونوں سے عرض کیا۔ آپ علیہ السلام کے حضور مجھ سے بڑی بے ادبی ہوئی ہے کہ میں نے آپ علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے ملعون ہو گیا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرلوں اور آپ علیہ السلام کو ایسے مقام اور مرتبہ پر پہنچا دوں جس سے آپ علیہ السلام مجھ سے راضی ہو جائیں اور آپ علیہ السلا م کا جو غصہ مجھ پر ہے وہ ختم ہو جائے۔ اس کے بعد وہ آگے بولا۔ آپ علیہ السلام اپنی اس تعظیم و تکریم پر زیادہ خوش نہ ہوں کیوں کہ آخر کار آپ علیہ السلام کو موت آنے والی ہے۔ جس سے تمام عیش و آرام ختم ہو جائیں گے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ موت کیا چیز ہے؟ ابلیس شیطان مردہ بن کر ان کے سامنے پڑ گیا اور جان نکلنے کے وقت جو حالت ہوتی ہے یعنی ہاتھ پاﺅں پٹکنا، روح کا نکلنا اور تڑپنا وغیرہ ان دونوں دکھلایا۔ دونوں اس کی حالت دیکھ کر خوف کا شکار ہو گئے اور اس سے پوچھنے لگے کہ کیا اس سے بچنے کی کوئی تدبیر ہے۔ اس نے کہا۔ ہاں ،میں تم کو ایسے درخت کا پتہ بتاتا ہوں کہ جو اس کا پھل کھالے گا تو ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اور اس کی بادشاہت ہمیشہ قائم رہے گی۔ ان دونوں نے پوچھا ۔ وہ کون سا درخت ہے؟ تو اس نے وہی درخت بتایا جس کا پھل کھانے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ اس درخت کا پھل کھانے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع فرمایا ہے۔ اور اگر ہم کھالیں گے تو ہم پر عتاب ہوگا۔ اگر یہ ہمارے لئے فائدے مند ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے کھانے سے ہم کو نہیں روکتے۔ ابلیس شیطان نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ دونوں کو اس لئے منع نہیں کیا ہے کہ یہ درخت نقصان دہ ہے۔ بلکہ اس لئے منع فرمایا ہے کہ اسے کھا کر آپ ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی پالیں گے اور فرشتے بن جائیں گے تو آپ دونوں کو موت نہیں آئے گی اور آپ علیہ السلام کے رب نے درخت کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے پھل کھانے سے منع نہیں فرمایا۔ آپ دونوں اس کے پاس نہ جائیں ۔ میں اس کا پھل لا دیتا ہوں اور آپ دونوں کھالیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس پھل کو کھانے سے منع فرمایا ہے تو یہ ممانعت آپ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت تھی۔ اس وقت اس کو ہضم کرنے کی آپ دونوں میں طاقت نہیں تھی۔ اب اللہ کے فضل سے آپ دونوں بہت طاقتور ہو چکے ہیں۔ اس لئے اب اس کا کھانا نقصان دہ نہیں ہے۔ اس طرح مسلسل ابلیس شیطان دونوں کو راضی کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھانے لگا۔ اور قسم کھا کر کہنے لگا۔ میں تم دونوں کا خیر خواہ ( بھلائی چاہنے والا) ہوں۔ حضرت آدم علیہ السلام سادہ مزاج اور سادہ لوح تھے۔ آپ علیہ السلام نے سوچا کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا ۔ آپ علیہ السلام کو یہ یاد نہ رہا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ لیں۔ پریشانی کے عالم میں بھول گئے اور ابلیس شیطان کی قسم کا اعتبار کر کے پھل کھالیا۔حضرت آدم علیہ السلام نے اجتہاد کیا کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا ۔ ابلیس شیطان بار بار قسم کھاتا رہا اسی قسم کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام اس خبیث کے بہکاوے میں آگئے ۔ سچ ہے مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ تعالیٰ کو درمیان میں ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ( مومن) اللہ کے نام کے بعد ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کی عاجزی

حضرت آدم علیہ السلام انتہائی سادہ مزاج اور سیدھے سادھے تھے۔ انھوں نے شیطان کی قسم کا بھروسہ کر لیا اور دونوں نے پھل کھا لیا۔ پھل کھاتے ہی جنت کا لباس اتر گیا اور دونوں جنت کے پتوں سے اپنے بدن کو ڈھانپنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے آدم ( علیہ السلام ) میں نے اس پھل کو کھانے سے منع فرمایا تھا۔ پھر بھی تم نے کھا لیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کی اور اپنی شرمندگی کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ ” پس اُن دونوں نے جب درخت کے پھل کو کھایا تو دونوں کے بدن کا پردہ ( جنت کا لباس ) اتر گیا اور دونوں ایک دوسرے کے روبرو بے پردہ ہو گئے۔ اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کے رکھنے لگے۔ اور ان کے رب نے اُن کو پکارا ۔ کیا میں نے تم دونوں کو پہلے ہی اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں بتایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا صاف دشمن ہے؟ دونوں نے کہا ۔ اے ہمارے رب ۔ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کرتے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر22اور 23) ایک روایت میں ہے کہ اس درخت کا پھل کھانے میں سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے سبقت کی۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام سے کہا تم بھی کھا لو کیوں کہ میں نے کھایا تو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے اجتہاد سے سمجھا کہ کسی خاص درخت کا پھل کھانے کا منع ہے۔ اور اسی نوع ( ذات ) کے دوسرے درخت کا پھل کھانے کو منع نہیں ہے۔ اور یہ بھول گئے کہ اس نوع ( ذات ) کے کسی بھی درخت کا پھل کھانا منع ہے۔ پھرجب انہوں نے کھا لیا تو جنت کے جس نور نے ان کے بدن کو ڈھک رکھا تھا وہ اتر گیا تو وہ اپنے بدن کو پتوں سے چھپانے لگے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ۔ اس نے تیری قسم کھائی تھی اور میر ا گمان تھا کہ تیری مخلوق میں سے کوئی بھی تیری جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا ہے۔ 

تمام انبیائے کرام علیہم السلام معصو م ہیں

یہاں ذرا سا رُک کر ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہم حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ہم سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے ( نعوذ باللہ) غلطی ہوئی یا نافرمانی ہوئی۔ یہ انتہائی غلط بات ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کی پھیلائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے معصوم بنایا ہے۔ ان سے غلطی یا نا فرمانی ہو ہی نہیں سکتی ۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن پاک میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ ( نعوذ باللہ ) حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی یا نافرمانی ہوئی ہے۔ جب کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے ۔ ہر ایک کا بلکہ ہر شئے کا خالق ہے۔ ہر ایک کا اور ہر شئے کا مالک ہے۔ باقی سب اس کی مخلوق ہیں۔ وہ چاہے تو کسی کو بھی کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا۔ انہیں نسیان ہو گیا تھا اور بھول کر انھوں نے پھل کھا لیا تھا۔ ان کا ایسا کوئی ارادہ تھا ہی نہیں کہ میں ( نعوذ باللہ ) جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا۔ ترجمہ” ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دے دیا تھا۔ لیکن وہ بھول گئے اور ہم نے اس میں ( نافرمانی کا ) کوئی ارادہ اور عزم نہیں پایا۔ 

صحیح اور غلط شخص کا فرق

یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے پھل کھانے کے عمل کو ( نعوذ باللہ ) غلطی یا نافرمانی نہیں فرمایا ہے۔ اور ہم بے خوف ہو کر ہمارے سب کے والد محترم اور امی جان سے ایسی غلط بات منسوب کرتے ہیں اگر ہماری حقیقی والدہ یا والد کے بارے میں اگر کوئی غلط بات منسوب کرتا ہے تو ہمارا خون کھول اٹھتا ہے۔ اور ہم اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ افسوس کا مقام ہے کہ ساری دنیا کے ماں اور باپ کے بارے میں ہم خود ایسی غلط بات منسوب کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔ اور صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی غلط شخص کوئی غلطی کرتا ہے تو وہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسا کہ ابلیس نے جان بوجھ کر غلطی کی اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اور آج تک کوشش کرر ہا ہے۔ اور قیامت تک کوشش کرتا رہے گا۔ لیکن ایک اچھا اور سچا فرمانبردار بندہ بھول کر انجانے میں کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے اور اللہ تعالیٰ اسے نافرمانی بھی نہیں مانتا ہو۔ اس کے باوجود وہ شرمندہ ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ 



زمین پر آمد

جب حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے وہ پھل کھا لیا تو دونوں کو انسانی حاجت درپیش ہوئی ۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جنت پاک جگہ ہے یہاں تم گندگی نہیں کر سکتے۔ اس لئے اب زمین پر جاﺅ۔ اور وہیں رہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اور ابلیس کو زمین پر اتار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ آیت نمبر36 میں فرمایا۔ ترجمہ ” لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں (جنت) سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اترجاﺅ، تم ( یعنی انسان اور شیطان ) ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اور ایک مقررہ وقت تک تمہارے لئے زمین پر ٹھہرنا ہے۔ اور فائدہ اٹھانا ہے۔ “ آگے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اب نیچے ایسی حالت میں اترو کہ تم ( انسان اور شیطان) آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے۔ اور ایک مخصوص وقت تک نفع حاصل کرنا ہے اور فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے۔ اور اسی میں سے پھر نکالے ( اٹھائے ) جاﺅ گے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر 24اور 25) سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں یہاں سے اتر جاﺅ۔ تم ( انسان اور شیطان ) آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اب تمہارے پاس جب کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ ہی بہکے گا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔“ 

حضرت آدم علیہ السلام کتنا وقت جنت میں رہے

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں جمعہ کے دن عصر بعد روح پھونکی اور آپ علیہ السلام کو زندگی دینے کے بعد جنت میں رکھا۔ ابلیس شیطان نے دونوں کو بہکایا اور جنت سے نکلوا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نماز عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک کی ایک ساعت ہی جنت میں رہے۔ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ ایک ساعت ایک سو تیس130سال تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ ہمارے یہاں کا ایک دن تمہارے یہاں ( یعنی زمین پر کا ) ہزار سال کے برابر ہے۔ اسی سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اور تابعین رحمتہ اللہ علیہم نے اُس ساعت کے سال کا اندازہ لگایا ۔ جب کہ ہزار سال کم سے کم بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک دن زمین کے ہزاروں ( اس میں پچاس ہزاور اور ننانوے ہزار بھی آجاتے ہیں ) سال کے برابر ہے۔ اس طرح یہ ساعت کئی سو سال ہو سکتی ہے۔ حضرت سعید بن جُبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام جنت میں ظہر اور عصر کے درمیانی وقت کی مقدار ٹھہرے ۔ حضرت موسیٰ بن عقبہ ( تابعی) فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام جنت میں دن کا چوتھائی حصہ ٹھہرے اور یہ دو گھڑیاں اور نصف ہے۔ اور یہ دو سو پچاس 250سال ہیں۔ پھر آپ علیہ السلام جنت سے نکالے جانے پرسو سال روتے رہے۔ 

زمین پر کون کہاں اتارا گیا

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام ،سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو اور ابلیس شیطان کو زمین پر اتار دو ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو اتارا ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں اتارا۔ ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ہندوستا ن میں اتارا گیا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہوا کے اعتبار سے زمین کا سب سے بہترین حصہ ہندوستان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں آدم علیہ السلام کو اتاراتھا ۔ اور یہاں کے درختوں کو جنت کی ہوا سے تعلق چھوڑا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں سراندیپ کے اس پہاڑ پر اتار ا گیا جس کو نود یا بوز کہتے ہیں۔ یہ خیال رہے کہ پہلے ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا ان سب کو ہندوستان کہا جاتا تھا۔ اور سراندیپ سری لنکا میں ہے۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو جدہ میں اتارا گیا۔ ابلیس شیطان کو بصرہ کے قریب جنگل بیسان میں اتار ا گیا۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کیا کیا لائے

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ہندوستان کی زمین اس لئے ہری بھری ہے اور عود اور قرنفل وغیرہ خوشبوئیں اس لئے وہاں پیدا ہوتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام جب اس زمین پر آئے تو ان کے جسم پر جنت کے پتے تھے۔ اور پتے ہوا سے اڑکر جس درخت پر پہنچے وہ ہمیشہ کے لئے خوشبو دار ہو گیا۔ آپ علیہ السلام جنت سے مختلف قسم کے بیج اور تین قسم کے پھل اور حجر اسود ( جو خانہ کعبہ میں لگا ہوا ہے) اور وہ عصا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملا تھا۔ جس کی لمبائی دس گز تھی۔ اور کچھ کھیتی باڑی وغیرہ کے اوزار بھی ساتھ لائے تھے۔ آپ علیہ السلام زمین پر آنے کے بعداس قدر گریہ وزاری میں مشغول رہے کہ ان چیزوں سے بے خبر ہو گئے۔ ابلیس شیطان نے موقع پا کر اُن کو اپنا ہاتھ لگایا۔ جس جس چیز پر اس کا ہاتھ لگا وہ زہریلا ہو گیا۔ اور جو اس کے ہاتھو ں سے محفوظ رہا اس کا نفع برقرار رہا۔ حضرت آدم علیہ السلام جنت سے تین طرح کے پھل اور میوے لائے تھے۔ ایک وہ جو پورے کھا لئے جاتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کا اوپری حصہ کھا لیا جاتا ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔ تیسرے وہ جن کا اوپری چھلکا پھینک دیا جاتا ہے اور اندرونی حصہ کھالیا جاتا ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔ تیسرے وہ جن کا اوپری چھلکا پھینک دیا جاتا ہے اور اندرونی حصہ کھا لیا جاتا ہے۔ جب حجر اسود کو جنت سے لایا گیا تھا تو اس کی روشنی کئی میل تک جاتی تھی۔ حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں نویں یا دسویں ساعت میں حضرت آدم علیہ السلام کا اخراج ہوا اُن کے ساتھ جنت کی ایک شاخ تھی اور سر پر جنت کے درخت کا ایک تاج تھا۔ سعدی کا قول ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہندوستان میں اترے آپ علیہ السلام کے ساتھ حجر اسود تھا اور جنتی درخت کے پتے تھے جو ہندوستان میں پھیلا دیئے اور اسی سے خوشبو دار درخت پیدا ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان کے شہر ” دھنا یا دحنا“ میں اتار گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان اتار گیا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ( تابعی ) فرماتے ہیں ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں اتارا گیا۔ اترتے وقت حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر تھے اور سر جھکا ہو اتھا اور ابلیس شیطان اپنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالے آسمان کی طرف نظریں جمائے اتر ا تھا۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کا اطمینان قلب

حضرت آدم علیہ السلام نے درخت کا پھل کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیارکی اور جنت میں ہی اللہ تعالیٰ نے عافیت عطا فرمائی تھی۔ اسی کی طرف اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا۔ ترجمہ ” حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ( سورہ ابقر ہ آیت نمبر37) لیکن زمین پر آنے کے بعد بھی آپ علیہ السلام کو اطمینان قلب نصیب نہیں ہوا اور مسلسل ایک بے چینی رہی۔ اب آپ علیہ السلام زمین پر آکر رو رو کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے۔ ایک اچھے انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہر وقت اپنے جانے انجانے نقصان کی معافی مانگتے رہے۔ جیسا کہ زمین پر آنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام معافی مانگتے رہے۔ کافی عرصے بعد انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام یاد آیا تو حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے صدقے میں مجھے معاف کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتے ہیں) کہ تمہیں کیسے معلوم کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کوئی ہے؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ جب آپ نے میرے جسم میں روح پھونکی اور میں نے آنکھ کھولی تو میں نے ” عرش معلی “ پر لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ لکھا دیکھا تھا۔ تو میں سمجھ گیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ضرور کسی بڑی ہستی کا نام ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ اُن کے نام کو لکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بے شک وہ میرا حبیب ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بھی پیدا نہیں کرتا۔ اور میرا یہ بندہ تمہاری اولاد میں سے ہوگا۔ یہ تفصیل سن کر حضرت آدم علیہ السلام کے دل مبارک کو سکون نصیب ہوا۔ 

حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی ملاقات

اس کے بعد آپ علیہ السلام سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو ڈھونڈنے لگے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو الگ الگ مقام پر اتار ا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو سری لنکا میں اتار ا تھا۔ سری لنکا کہاں ہے یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ آپ نے ہندوستان کا نقشہ دیکھا ہوگا۔ اس نقشہ کے بالکل نیچے ایک لٹکوّا ہ ایسے دکھائی دیتا ہے وہی سری لنکا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سری لنکا میں سراندیپ کی پہاڑی پر اتارے گئے۔ کہتے ہیں۔ اس پہاڑی پر آج بھی حضرت آدم علیہ السلام کے پیروں کے نشان ہیں۔ اس کی لمبائی لگ بھگ گیارہ فٹ ہے۔ ہمارے پیر کا تلوا پنجہ ( ایک جوان مرد کا ) تقریباً پونہ فٹ کا ہے ۔ اور ہمار قد ساڑھے پانچ فٹ سے لے کر سات فٹ تک ہوتا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قد کتنے فٹ ہوگا۔ اکثر روایات میں آپ علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ ( تقریباً نوے90فٹ ) آتا ہے۔ اب اللہ بہتر جانے آپ علیہ السلام کا قد اس سے بھی زیادہ رہا ہو۔ بہر حال حضرت آدم علیہ السلام سری لنکا سے چلے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی تلاش میں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مصر کے آس پاس اتار ا تھا۔ وہ وہاں سے چلیں ۔ ادھر حضرت آدم علیہ السلام دریاﺅں ، زمین اور سمندر کو پار کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ ادھر سے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا آگے بڑھیں۔ اور دونوں کی ملاقات میدانِ عرفات میں ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سر زمین ہندوستان میں اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو جدہ میں اتا را گیا۔ پس آپ علیہ السلام اپنی زوجہ کی تلاش میں نکلے۔ یہاں تک کہ دونوں اکٹھے ہو گئے۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا اُن کی طرف میدانِ مزدلفہ میں آگے بڑھیں۔ اس لئے اس کا نام ” مزدلفہ“ پڑ گیا۔ اور میدان عرفات میں ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ لہٰذا اس کا نام ”عرفات “ پڑ گیا۔ اور جس جگہ دونوں اکٹھے ہوئے تھے اس کا نام ”جمع “ پڑ گیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام محبت سے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے تو فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو روک دیا اور عرض کیا۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا مہر ادا کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عرض کیا۔ آپ علیہ السلام محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود پڑھیں۔ یہی سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا مہر ہو گا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو درودِ پاک سکھلایا گیا اور آپ علیہ السلام نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تین مرتبہ یا کچھ زیادہ مرتبہ درود پڑھا۔ 

تمام انسانوں سے میثاقِ بندگی ( بندگی کا عہد)

للہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب نے آدم ( علیہ السلام ) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے اُن ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا۔ کیوں نہیں ۔ ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ “ ُ سورہ الاعراف آیت نمبر172) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا کہ ہم سب عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کر کے آئے ہیں کہ ہم سب اللہ کی بندگی کریں گے۔ یہ عہد مسلمان ، ہندو، سکھ ، عیسائی، یہودی اور تمام انسان یہ عہد اللہ تعالیٰ سے کر کے آئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تمام اولاد سے مقامِ نعمان ( میدان عرفات میں ایک مقام) پر نویں ذی الحجہ کے دن میثاق لیا۔ تمام اولاد آدم کو اُن کی پشت سے نکالا اور اپنے سامنے بکھیر دیا۔ جس طرح بیج ہوتا ہے۔ پھر ان سے گفتگو فرمائی۔ کیا میں تمہار رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا ۔ بے شک آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ ہم نے گواہی دی کہ کہیں حشر کے میدان میں تم یہ نہ کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔ یا یہ نہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا ( آباءو اجداد ) نے کیا تھا تو انہیں دیکھ کر ہم نے شرک کیا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قیامت کے دن ایک دوزخی شخص کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اگر دنیا کی کوئی چیز تیرے پاس ہوتی تو کیا تو اسے فدیہ میں دے دیتا؟ وہ کہے گا۔ ہاں میں ضرور دے دیتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے بندے میں نے تو تجھ سے اس سے بھی کم کا ارادہ کیا تھا۔ میں نے تجھے آدم ( علیہ السلام ) کی پشت سے نکال کر ایک عہد لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا تو نے میر ا حکم نہیں مانا اور شرک میں مبتلا ہو گیا۔ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پیدا ہونے والی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کو اکٹھا کیا۔ انہیں شکل و صورت دے کر ان سے گفتگو کی اور ان سے عہد و میثاق لیا۔ اور انہیں اپنی ذات پر گواہ مقرر کیا۔ وہ میثاق یہ تھا۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے عرض کیا ۔ کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں اس پر سات آسمان اور سات زمینوں کو گواہ مقرر کرتا ہوں۔ اور تم پر اس ( میثاق کے) سلسلہ میں تمہارے باپ آدم علیہ السلام بھی گواہ ہوں گے کہ کہیں قیامت کے دن تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہم تو ا س عہد و پیماں کو جانتے بھی نہیں ۔ میرا عہد یہ ہے کہ میرے سوائے کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اور میرے سوائے کوئی تمہارا رب نہیں ہے ۔ میرے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا۔ میں تمہاری طرف نبی اور رسول بھیجوں گا جو تمہیں میرا میثاق یعنی عہدو پیمان یاد دلائیں گے۔ اور میں تمہاری ہدایت کے لئے اپنی کتاب نازل کروں گا۔ تمام اولاد ِ آدم نے کہا۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس دن تمام انسانوں نے اس حقیقت کا اقرار کیا۔ اور اللہ کی بندگی کرنے کا عہد کیا۔ 

خانہ کعبہ کی تعمیر

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دونوں کو خانہ کعبہ بنانے کا حکم دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام زمین کھودتے جاتے تھے اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا مٹی پھینکتی جاتی تھیں۔ اتنا کھودا کہ پانی نکل آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اب بنیادیں اٹھاﺅ۔ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جب ہندوستا ن سے پیدل ہی چلے تو جس جگہ قدم رکھتے وہ جگہ شہر اور دونوں قدموں کے درمیان والی خالی جگہ جنگل و بیابان بنتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت زمین پر اتارا جس کو خانہ کعبہ کی جگہ رکھا گیا۔ پس حضرت آدم علیہ السلام اسی کا طواف کرتے تھے۔ جب طوفانِ نوح آیا تو وہ یاقوت اٹھا لیا گیا۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ میرے عرش کے بالمقابل زمین میں ایک محترم جگہ ہے وہاں جاﺅ اور اس جگہ میرا گھر تعمیر کرو۔ پھر اس کا بھی طواف کیا جائے گا۔ جس طرح فرشتوں کو میرے عرش کا طواف کرتے دیکھا تھا۔ اس گھر میں تمہاری اور تمہاری اولاد کی دعا قبول کروں گا۔ شرط یہ ہے کہ وہ میری فرمانبرداری کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے میرے رب ، میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں۔ کیوں کہ نہ تو میں اس جگہ سے واقف ہوں اور نہ ہی اتنا طاقت ور ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو حکم دیا جو انہیں مغرب کی طرف لے گیا۔ یہاں تک کہ وہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ راستہ میں جس جس مقام پر آپ علیہ السلام ٹھہرے ان جگہوں پر آبادیاں بنتی چلی گئیں۔ اور جس جس جگہ چھوڑدیا وہ سب جنگل و بیابان بن گئے۔ پھرآپ علیہ السلام نے بیت اللہ ( خانہ کعبہ) کی تعمیر پانچ مقامات سے کی۔ اور ( ۱) طورِ سینا (۲) طورِ زیتون (۳) کوہ لبنان (۴) کوہ ِ جودی (۵) جبل ِ حرا کے پتھر استعمال کئے۔ جو فرشتوں نے لا کر دیئے تھے۔ جب تعمیر سے فارغ ہو ئے تو فرشتہ انہیں میدانِ عرفات لے گیا اور تمام مقاماتِ حج بتائے۔ جہاں آج بھی لوگ مناسک حج ادا کر رہے ہیں۔ پھر انہوں نے ایک ہفتہ طواف کیا اور ہندوستان واپس آگئے۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کی اپنی اولاد کے لئے دعا

حضرت آدم علیہ السلام اپنی زوجہ کے ساتھ ہندوستان آکر رہنے لگے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو زمین پر بھیجا۔ جبرئیل علیہ السلام نے تمام عالم کے جانوروں کو آواز دی کہ اے جانورو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا خلیفہ بھیجا ہے۔ اس کی اطاعت اور فرماں برداری کرو۔ دریائی جانوروں نے سر اٹھا کر اطاعت ظاہر کی اور خشکی کے جانور حضرت آدم علیہ السلام کے آس پاس جمع ہو گئے۔ آپ علیہ السلام نے اُن پر ہاتھ پھیرا جس جس جانور تک آپ علیہ السلام کا ہاتھ پہنچا وہ انسان سے مانوس ہو گئے اور پالتو بن گئے۔ جس جس جانور تک آپ علیہ السلام کا ہاتھ نہیں پہنچا وہ جنگلی اور وحشی رہ گئے۔ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میری اولاد بہت کمزور ہے۔ اور ابلیس شیطان کا فریب بہت سخت ہے۔ اگر تو ان کی مدد نہیں کرے گا تو وہ ابلیس شیطان سے کیسے بچ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے آدم ( علیہ السلام) تمہارے لئے احکامات اور ہیں اور تمہاری اولاد کے لئے اور آسان احکام ہوں گے اور ہم ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ رکھیں گے۔ تب آپ علیہ السلام خوش ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد

حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا ساتھ میں رہنے لگے۔ ان کے بہت سے بیٹے بیٹیاں ہوئیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو آپ علیہ السلام کی اولاد کثیر ہو گئی اور بڑھ گئی۔ ایک دن آپ علیہ السلام کے بیٹے ، پوتے ،پڑ پوتے وغیرہ سب آپ علیہ السلام کے پاس جمع ہوئے اور آپ علیہ السلام کے ارد گر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ لیکن حضرت آدم علیہ السلام خاموش بیٹھے تھے۔ بالکل بات نہیں کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی اولاد نے کہا۔ کیا وجہ ہے آپ علیہ السلام خاموش کیوں ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے بیٹو، پوتو اور پڑپوتو! اللہ تعالیٰ نے جب مجھے اپنے جوار سے نکال کر زمین کی طرف اتارا تو مجھ سے عہد لیا تھا کہ اے آدم ( علیہ السلام ) کم سے کم بات کرنا۔ یہاں تک کہ تو میرے جوار کی طرف جنت میں لوٹ آئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو آپ علیہ السلام ٹھہرے رہے جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔ پھر بیٹوں نے ان سے کہا۔ اے ہمارے والد محترم کلام فرمائیے۔ تو حضرت آدم علیہ السلام کھڑے ہوئے اور چالیس ہزار 40000کے مجمع کو خطبہ دیا جو سب کے سب آپ علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اے آدم ( علیہ السلام) تو کم باتیں کیاکر حتیٰ کہ تو میرے جوار کی طرف لوٹ آئے۔ 

قابیل کی ضد

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں صرف اس وقت کے لئے بہن بھائی کا نکاح جائز تھا۔ اس کی بھی شرط یہ تھی کہ جس بیٹے کے بعد بیٹی پیدا ہوئی وہ بیٹا اس سے نکاح نہیں کر سکتا تھا۔ بلکہ اس کے بعد جو بیٹا ہوا ہوگا اور جو بیٹی پیدا ہوگی اس سے نکاح ہو سکتا تھا۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی وقت بہن بھائی کے نکاح کو حلال کیا تھا۔ وہ بھی اپنے ساتھ پیدا ہوئی بہن سے نہیں بلکہ جو دوسرے بھائی کے ساتھ پیدا ہوئی اس کے ساتھ نکاح ہو سکتا تھا۔ اس کے بعد بھائی بہن میں نکاح حرام ہو گیا۔ اس ترتیب سے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کا نکاح جس لڑکی سے ہونا تھا وہ عام صورت تھی اور اس کے چھوٹے بھائی ہابیل کا نکاح جس لڑکی سے ہونا تھا وہ بہت خوب صورت تھی۔ اس وقت تک حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بیٹے بیٹیاں ان میں پوتے پوتیاں پڑ پوتے شامل ہو چکے تھے۔ اور حضرت شیت علیہ السلام پیدا نہیں ہوئے تھے۔ قابیل نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا میں عام صورت والی لڑکی سے نہیں بلکہ خوب صورت لڑکی سے نکاح کروں گا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے سمجھایا کہ اس لڑکی کا نکاح ہابیل سے ہوگا۔ لیکن قابیل نہیں مانا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہوتا اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوتی تھی۔ پس وہ پہلے حمل سے پیدا ہونے والے بچوں کا دوسرے حمل سے پیدا ہونے والے بچوں سے نکاح کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ قابیل اور ہابیل پیدا ہوئے۔ قابیل کسان اور ہابیل چرواہا تھا۔ قابیل بڑا تھا اور اس کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن انتہائی حسین و جمیل تھی۔ ہابیل نے قانون کے مطابق قابیل کی بہن سے نکاح کرنا چاہا۔ مگر قابیل نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی تیرے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی سے زیادہ حسین و جمیل ہے۔ لہٰذا اس سے نکاح کرنے کا میں زیادہ مستحق اپنے آپ کو سمجھتا ہوں۔ ان دونوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام نے بھی قابیل کو حکم دیا کہ وہ قانون شکنی نہ کرے مگر قابیل نے انکار کر دیا۔ 

ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی

اللہ تعالیٰ کے قانون اور حضرت آدم علیہ السلام کے حکم کو ماننے سے قابیل نے انکار کر دیا تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اچھا تم دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کرو۔ جس کی قربانی اللہ تعالیٰ قبول کرلیں گے۔ وہی اس لڑکی سے نکاح کرے گا۔ اس وقت قربانی قبول اس طرح سے ہوتی تھی کہ بندہ اپنی قربانی ایک پہاڑی پر رکھ کر ہٹ جاتا تھا اگر اللہ تعالیٰ کو وہ قربانی قبول کرنا ہوتی تھی تو آسمان سے ایک آگ آتی تھی اور اس قربانی کو کھا جاتی تھی ۔ لہٰذا دونوں بھائیوں نے الگ الگ پہاڑی پر اپنی اپنی قربانی رکھیں۔ آسمان سے آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کھا گئی۔ جب کہ قابیل کی قربانی ویسے ہی باقی رہی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فیصلہ کر دیا کہ اس لڑکی کا نکاح ہابیل سے ہوگا۔ قابیل کو غصہ آگیا۔

قابیل کی دھمکی

اللہ تعالیٰ نے ہابیل اور قابیل کے واقعہ کو قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ ” اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )انہیں آدم ( علیہ السلام ) کے دوبیٹوں کے ٹھیک ٹھیک حالات بیان فرما دیں۔ جب دونوں نے ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) قربانی پیش کی تو ایک کی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی تو اس نے ( اپنے بھائی سے) کہا ۔ مجھے قسم ہے میں تمہیں قتل کر ڈالوں گا۔ ( جس کی قربانی قبول ہوئی اس نے ) کہا۔ اللہ تعالیٰ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول فرماتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ بڑھائے گا ( تب بھی ) میں تیرے قتل کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاﺅں گا۔ میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تو میرے اور اپنے دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے۔ اور دوزخ والوں میں سے ہو جائے۔ پس ظلم کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔ ( سورہ المائدہ آیت نمبر27سے 29تک) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب قابیل نے قانون کے خلاف اپنی پسند کی لڑکی سے نکاح کرنے کی ضد کی تو حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنے کا حکم دیا۔ اسی دوران حج کے ایام آگئے تو آپ علیہ السلام حج کے لئے جانے لگے تو آسمانوں سے فرمایاکہ وہ ان کے بیٹوں کی حفاظت کریں لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے زمین اور پہاڑوں سے فرمایا تو انھوں نے بھی انکار کر دیا۔ قابیل نے یہ ذمہ داری قبول کر لی اور آپ علیہ السلام اسے ذمہ دار بنا کر حج کرنے چلے گئے۔ اس کے بعد دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی قربانی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی ۔ ہابیل نے ایک موٹا تازہ جوان بکرا ایک پہاڑ پر رکھ دیا ۔ کیوں کہ وہ بکریاں چرایا کرتا تھا۔ اور قابیل ردّی اناج ( یعنی بچا کچھا اناج) کا ڈھیر پیش کیا اور دوسرے پہاڑ پر رکھ دیا۔ کیوں کہ وہ کسان تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کو کھا لیا۔ جب کہ قابیل کی قربانی ویسی کی ویسی ہی رکھی رہ گئی۔ قابیل ناراض ہو گیا اور غصے سے کہنے لگا۔ میں تجھے قتل کردوں گا۔ تا کہ تو میری بہن سے شاد ی نہ کر سکے۔ ہابیل بولا ۔ اس میں غصے کی کون سی بات ہے؟ قربانی تو صرف متقیوں کی قبول ہوتی ہے۔ 

دنیا میں سب سے پہلا قتل

اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل کو غصہ آگیا۔ اس نے اپنے بھائی ہابیل کو دھمکی دی کہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ ہابیل نے جواب میں کہا کہ بھائی اگر آپ مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائیں گے تو میں آپ پر ہاتھ نہیں اٹھاﺅں گا۔ آخر کار اس بد بخت قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ یہ اس نے اس وقت کیا جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ مکرمہ حج کے لئے گئے ہوئے تھے۔ ( روایات میں آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے چالیس حج کئے ہیں) اس دوران موقع پا کر بد بخت قابیل نے یہ کام کر ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا میں جب جب کوئی کسی کو قتل کرتا ہے ۔ تب تب قاتل کے عذاب میں سے کچھ حصہ قابیل کو دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ دنیا میں سب سے پہلا قتل اسی نے کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس قابیل کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر لیا۔ اور وہ اسے قتل کرنے کے لئے تلاش کرتا رہا۔ ہابیل پہاڑ کی چوٹی پر بکریاں چر اتا تھا۔ پس ایک دن تلاش کرتے کرتے قابیل اس کے پاس جا پہنچا ۔ بکریاں گھاس چر رہی تھیں اور ہابیل سویا ہوا تھا۔ قابیل نے ایک بڑا پتھر اٹھایا اور اس کا سر کچل دیا۔ اور ہابیل کا قتل کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈالا۔ جس سے وہ نقصان پانے والوں میں سے ہو گیا۔ “ ( سورہ المائدہ آیت نمبر30) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ اللہ کی قسم مقتول ( ہابیل ) قاتل سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ لیکن اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے بھائی پر ہاتھ نہیں اٹھایا ۔ 

دنیا کا پہلا دفن

حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے ان کی غیر موجودگی میں اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ لیکن ہابیل کو قتل کرنے کے بعد قابیل بہت پریشان ہو گیا اور ہابیل کی لاش کندھے پر لٹکائے گھومتا رہا۔ آپ جانتے ہیں؟ قابیل کیوں پریشان ہو گیا تھا۔ اصل وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک کسی کا انتقال نہیں ہوا تھا اور قابیل نے کبھی مردہ نہیں دیکھا تھا۔ اور نہ ہی جانتا تھا کہ مردے کا کیا کرتے ہیں۔ اسی لئے وہ ہابیل کی لاش کندھے پر لٹکائے گھوم رہا تھا۔ اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ لاش کا کیا کرے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا رب ہے۔ ہر کسی کو سنبھالنے والا ہے۔ ہر کسی کی مدد کرنے والا ہے۔ اس دنیا میں چاہے نیک ہو یا برا ہو۔ مسلمان ہو یا کافر ہو۔ سب پر دنیا میں اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے۔ اب چونکہ قابیل برا انسان تھااس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے پاس فرشتہ نہیں بھیجا بلکہ اس کی مشکل کو آسان کر نے کے لئے اس کے سامنے دو کوّے بھیجے۔ قابیل ان کوﺅں کو دیکھنے لگا۔ دونوں کوّے لڑنے لگے۔ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ اور اس کے بعد زمین کو اپنے پنجوں اور چونچ سے کرید کرید کر کھودنے لگا۔ اور اس طرح دوسرے کوّے کو اس نے دفن کر دیا۔ یہ دیکھ کر قابیل بولا۔ ہائے افسوس ، میں تو اس کوّے سے بھی گیا گذرا ہوں ۔پھر اس نے بھی اپنے بھائی کو زمین کھود کر دفن کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کو بھیجا جو زمین کھودنے لگا تا کہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش کو دفنا دے۔ وہ کہنے لگا ۔ ہائے افسوس، کیا میں ایسا کرنے سے بھی گیا گزرا ہو گیا ہوں کہ اس کوّے کی طرح اپنے بھائی کی لاش کو دفنا دیتا۔ “ تو (وہ بڑا ہی) پشیمان اور شرمندہ ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کے حج پر سے واپس آنے سے پہلے ہی قابیل وہاں سے بھاگ گیا۔

حضرت شیث علیہ السلام کی پیدائش

جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ مکرمہ سے واپس آئے اور دیکھا کہ قابیل اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے بھاگ گیا ہے تو آپ علیہ السلام اتنے غمزدہ ہو ئے کہ ایک سو سال تک نہیں مسکرائے۔ ایک سو سال کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو ایک نیک بیٹے کی بشارت اللہ تعالیٰ نے دی۔ اس پر آپ علیہ السلام مسکرائے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت شیث علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ حضرت شیث علیہ السلام ہی حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین رہے۔ اور تمام انتظامات حضرت شیث علیہ السلام نے سنبھال لئے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال ہونے کے بعد سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اور یہ ہابیل اور قابیل کے واقعہ کے پچاس برس بعد کا واقعہ ہے۔ اہل توریت کہتے ہیں کہ یہ بیٹا تنہا پیدا ہوا۔ اور شیث کے معنی اہل توریت ہبتہ اللہ بتاتے ہیں ۔ اور حضرت شیث علیہ السلام ہابیل کے بدل کے طور پر تھے۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بطن سے شیث نامی لڑکا اور غرورا نامی لڑکی ہوئی۔ اس لڑکے کی پیدائش پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا تھا کہ یہ اللہ کا عطیہ یعنی ہبتہ اللہ ہے جو ہابیل کا بدل ہے۔ اس لفظ کو عربی میں شیرت ، سریانی میں شاث اور عبرانی میں شات کہتے ہیں۔ ان ہی کو حضرت آدم علیہ السلام کا جا نشین بنایا گیا۔ ان کی پیدائش کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال تھی۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین 

حضرت شیث علیہ السلام بڑے ہوئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں اپنا جانشین بنایا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت شیث علیہ السلام کو بلایا۔ اور ان سے عہد لیا۔ اور رات دن کی گھڑیاں اور اوقات سکھلائے اور ہر ساعت میں کسی نہ کسی مخلوق کا عبادت کرنا بتلایا۔ یعنی ہر گھڑی کوئی نہ کوئی مخلوق اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی ہے۔ اور فرمایا۔ اے میرے بیٹے عنقریب زمین میں طوفان آئے گا۔ اور وہ سات سال ٹھہرے گا۔ اور اُن کو وصیت لکھوائی ۔ پس حضرت شیث علیہ السلام اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کے وصی اور جا نشین ہوئے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے وصال کے بعد ساری حکومت و بادشاہت ان ہی کے لئے ہو گئی۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سو چار سو کتابیں نازل ہوئی ہیں۔ اور حضرت شیت علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل فرمائے۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کا وصال

اس طرح وقت گزرتا رہا اور پھر حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا۔ میں جنت کا پھل کھانا چاہتا ہوں۔ ان کے بیٹے کچھ نہیں سمجھ پائے کہ یہ ہمارے ابا جان کا آخری وقت ہے۔ اور ہمارے ابا جان دنیا سے آخرت کی طرف جانے کا اشارہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے تو یہی سمجھا کہ ہمارے ابا جان کے لئے دنیا میں کہیں کے پھل لگے ہوں گے۔ اس لئے وہ جنت کے پھل کی تلاش میں نکل پڑے۔ ایک جگہ فرشتوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کے پاس کفن ، خوشبوئیں ،بیلچے اور ٹوکریں تھیں۔ فرشتوں نے پوچھا ۔ اے آدم کے بیٹو ۔ کیا ارادے ہیں؟ کیا تلاش کر رہے ہو؟ انھوں نے بتایا ۔ ہمارے والد محترم جنت کے پھل کھانا چاہتے ہیں۔ وہ ہم تلاش کر رہے ہیں۔ فرشتوں نے کہا۔ واپس چلو تمہارے والد محترم کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ سب حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں نے دفن کیا ( جو انسانی شکل میں تھے) ایک روایت میں ہے کہ فرشتوں کو دیکھ کر سیدہ حوا رضی اللہ عنہا اور حضرت آدم علیہ السلام پہچان گئے۔ اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے پیچھے چھپ گئیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھ سے دو ر ہٹ جاﺅ۔ میں تم سے پہلے آیا ہوں ۔ میرے اور میرے رب کے فرشتوں کے درمیان حائل نہ ہو۔ اور فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کر لی۔ اور انہیں غسل دیا ، کفن پہنایا ۔خوشبو لگائی پھر ان کے لئے قبر کھودی اس کے بعد آپ علیہ السلام کی نماز جنازہ چار تکبیر کے ساتھ ادا فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کو قبر میں رکھا اور مٹی برابر کر کے دفن کر دیا۔ اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں کو بتایا۔ یہ دفن کرنے کا طریقہ ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال جمعہ کے روز ہوا۔ اور اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر لگ بھگ ایک ہزار سال تھی۔ اس کے ایک برس بعد سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہو گیا ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو کہاں دفن کیا گیا ہے۔ اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ مشہور یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اسی پہاڑی کے نزدیک دفن کیا گیا جہاں پر ہندوستان میں آپ علیہ السلام کو اتا را گیا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ مکہ مکرمہ کے جبل ابو قبیس کے نزدیک آپ علیہ السلام دفن ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ طوفان نوح کے وقت حضرت نوح علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کے جسم مبارک کو نکال کر تابوت میں رکھا تھا اور انہیں بیت المقدس میں دفن کر دیا ۔

قارئین کرام ، حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں کچھ تفصیل پیش کریں گے۔ 

( ختم شدہ)

     ٭........٭........٭

 

جمعرات، 6 اپریل، 2023

حضرت نوح علیہ السلام 6 Story of Nooh AS



حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 6

کشتی کہاں بنائی 

تفسیر نعیمی میں ہے کہ کشتی بنانے کے دوران جب کبھی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے مغرور رئیس لوگ وہاں سے گزرتے تو ان سے کشتی کے بارے میں سوال کرتے یا اس طرح کہ انھوں نے کشتی کبھی دیکھی نہیں تھی۔ اور ساحل سمندر بہت دور تھے۔ اور دریا تو اس طرف تھے ہی ہیں ۔ کیوں کہ قوم نوح کا علاقہ موصل ، بابل اور مضافات تھے۔ اس کی مشرقی جانب پانچ سو 500میل کے فاصلے پر دریائے دجلہ اور مغربی جانب سات سو 700یا ایک ہزار 1000میل کے فاصلے پر دریائے فرات ہے۔ کوہ ِ جودی ، موصل سے دو سو200میل کے فاصلے پر ہے اور اس کی بلندی سطح سمندر سے تیرہ ہزار 13000فٹ ہے۔ جب کافر یہ لکڑی کا ڈھانچہ دیکھتے تو ہنس کرپوچھتے۔ اے نوح( علیہ السلام ) یہ کیا بنا رہے ہو؟آپ علیہ السلام فرماتے ۔ یہ گھر ہے جو پانی پر چلے گا ۔ تو کہتے ۔ پانی کہاں ہے؟ یا پھر یہ کہ انہوں نے کشتیاں تو دیکھی تھیں مگر اس شکل کی بھی کشتی تھی۔ لہٰذا حیرانی سے اس کے بارے میں پوچھتے اور جب آپ علیہ السلام بتاتے کہ یہ کشتی ہے تو وہ مذاق اڑاتے اور کہتے کہ بھلا اس شکل کی بھی کشتی ہوتی ہے۔ اور یا پھر یہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ کشتی ہے۔ مگر جب خشک ریگستان کو دیکھتے کہ یہاں کشتی کا کیا مقصد تو مذاق کرتے کہ اے نوح ( علیہ السلام ) کل تک تو تم نبوت کا دعویٰ کر تے تھے۔ اب نجار یعنی بڑھئی بن گئے ہو اور جس پانی کے عذاب کی بات تم کرتے تھے وہ تو آیا ہی نہیں ہے۔ اب تم کشتی بنا کر ہمیں ڈرا رہے ہو۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی)

حضرت نوح علیہ السلام کا جواب 

اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں حضرت نوح علیہ السلام ، جبرئیل علیہ السلام اور دوسرے فرشتوں اورمسلمانوں کےساتھ مل کر پوری توجہ اور انہماک سے کشتی بنانے میں مصروف تھے۔ ان کی قوم کے کافر اور ان کے سردار آتے جاتے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے رہتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام بڑے صبر سے ان کافروں کی باتوں کو سنتے اور چپ چاپ کشتی بنانے میں مصروف رہتے۔ جب آپ علیہ السلا م نے دیکھا کہ ان بد بختوں کا مذاق کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے تو جواب میں فرمایا۔ ترجمہ ” آپ علیہ السلام کہتے ابھی تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو تو ( ایک دن) ہم بھی تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ جس طرح تم مذاق اڑا رہے ہو۔ اور تم جان لو گے کہ کس پر رسوا کر دینے والا عذاب آئے گا۔ اور کون ہے جو ہمیشہ عذاب میں رہے گا۔ “ (سورہ ہود آیت نمبر) تفسیر انورا لبیان میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ اگر آج تم ہم پر ہنس رہے ہو تو سمجھ لو کہ وہ دن بھی آنے والا ہے کہ ہم تم پر ہنسیں گے جیسا کہ آج تم ہنس رہے ہو۔ اور عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر رسوا کرنے والا اور ہمیشہ کا عذاب آتا ہے۔ ( تفسیر روح البیان مولانا عاشق الہٰی مہاجر مدنی)

کافر خود مذاق بن جائیں گے

تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ان کے جواب میں فرمایا۔ اگر تم ہم سے مذاق کر رہے ہو تو یاد رکھو کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہم تم سے مذاق کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات ایسے پیش آئےں گے جو خود تمہارے مذاق کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ حقیقتاً مذاق اور استہزاءانبیائے کرام کی شان کے خلاف ہے۔ اس لئے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب تم عذاب میں گرفتار ہو جاﺅ گے تو ہم تمہیں بتائیں گے کہ یہ تمہارے مذاق کا انجام ۔ اور تم پر یہ دردناک عذاب صرف دنیا میں نہیں ہوگا بلکہ آخرت میں بھی ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں گرفتا رہو گے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مظہری میں ہے کہ جب تم دنیامیں غرق ہو نے اور آخرت میں جلنے کے عذاب میں مبتلا ہو گے تب ہم اسی طرح تمہارا مذاق اڑائیں گے۔ جس طرح تم ابھی ہمارا مذاق اڑا رہے ہو۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تم مجھ سے ناواقف بنے ہوئے ہو تو جس دن اللہ تعالیٰ کا عذاب تم پر نازل ہو گا تو میں بھی انجان بن جاﺅں گا۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ہم سے جو مذاق کر رہے ہو بہت جلد اس کا انجام دیکھ لو گے۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثناءاللہ پانی پتی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ جس طرح آج کشتی بناتے وقت تم ہم سے مذاق کر رہے ہو کل غرق کے وقت ہم تم سے مذاق کریں گے۔ یہاں مذاق سے مراد حقیر سمجھنا ہے۔ اور اس کا معنی یہ ہو گا کہ اگر تم ہمیں حقیر سمجھو گے تو ہم بھی تمہیں حقیر سمجھیں گے۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القران المعروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر لبیان القران میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ آج تم میرا مذاق اڑا رہے ہو تو اڑا لو،کل طوفان میں تمہارے ڈوبنے کا نظارہ ہم سب مسلمان کریں گے۔ اور اس وقت تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ دنیا میں رسوا کن اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کا مستحق کون ہے۔ ( تفسیر تیسرالرحمن لبیان القران ،محمد لقمان سلفی) تفسیر نعیمی میں ہے کہ یعنی ہم تم سے اس نوعیت کا مذاق نہیں کریں گے جس طرح آج تم کر رہے ہو کیوں کہ مذاق کرنا انبیائے علیہم السلام اورمومن کی شان کے خلاف ہے۔ بلکہ اس کے بدلے میں جب تم پر دنیا اور آخرت کا عذاب آئے گا تو ہم تم کو دیکھ رہے ہوں گے اور تم ہم کو دیکھ رہے ہو گے۔ اس وقت تمہاری ذلت اور ہمارا دیکھنا تمہارے اس مذاق کا بدلہ ہوگا۔( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

کشتی کی بناوٹ اور سائز

اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ کشتی کا اگلا حصہ مرغ کے سر کی طرح بنانا ، اور درمیانی حصہ پرندوں کے پیٹ کی طرح بنائیں۔ اور پچھلا حصہ مرغ کی دم کی طرح بنائیں۔ اس کے اطراف میں دروازے لگائیں۔ میخوں سے مضبوط کریں اور سوائے نچلے حصے کے ہر طرف سے تارکول کی لپائی کر دو۔ کشتی کی لمبائی تین سو300 ذرع ( ساڑھے چار سو 450فٹ چوڑائی پچاس ذراع75فٹ اور اونچائی تیس ذراع45فٹ)تھی۔ اس کشتی کو تیار کرنے میں دو سال لگے ۔ کشتی تین منزلہ تھی۔ سب سے نچلی منزل وحشی جانور درندے اور حشرات الارض ( کیڑے مکوڑے) کے لئے تھی۔ درمیانی ( بیچ والی ) منزل پالتو جانور اور چوپائے وغیرہ کے لئے تھی۔ اور سب سے اوپر والی منزل حضرت نوح علیہ السلام اور ایمان والوں کے لئے تھی۔ تفسیر نعیمی میں ہے کہ کشتی کی شکل جوان مرغ کی طرح تھی۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کے لئے لکڑی کی تلاش کروائی تو مناسب لکڑی تیار وافر مقدار میں نہیں ملی ۔ لہٰذا آپ علیہ السلام نے خود ساگوان کے بے شمار درخت لگائے جو تفسیر روح البیان کے مطابق بیس 20سال میں اور تفسیر خازن ، تفسیر روح المعانی اور تفسیر صاوی کے مطابق 100سال میں پختہ لکڑی بنے۔ اور یہی صحیح ہے کیونکہ ساگوان یعنی شیشم ( ٹالی) بیس سال میں پختہ نہیں ہوتی۔ آپ علیہ السلام بقدر ضرورت لکڑی کٹوا کر منگواتے رہے۔ اس طرح آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے اُمتی مسلمانوںنے سو100سال میں مکمل کشتی تیار کر لی۔ اس کی لمبائی بارہ سو 1200گز تھی۔ اور چوڑائی چھ سو600گز یعنی اس سے آدھی اور اونچائی تیس30گز تھی۔ کشتی تین منزلہ تھی نیچے کی منزل میں درندے چرندے، بیچ کی منزل میں پرندے اور اوپر کی منزل میں آپ علیہ السلام اور تمام مسلمان مرد ،عورت تھے۔ باقاعدہ اترنے چڑھنے کےلئے سیڑھیاں اور گزرگاہیں تھیں۔ ہر منزل کے درمیان میں دروازہ تھا۔ صحیح یہ ہے کہ بابل شہر میں کشتی بنائی گئی۔ تفسیر روح المعانی میں جزیرہ ابن عمر کو کشتی بنانے کا مقام بتایاہے۔ کشتی بنانے میں حضرت نوح علیہ السلام کی مدد مسلمانوںاور آپ علیہ السلام کے تین بیٹوں سام، حام اور یافث نے کی۔ آپ علیہ السلام کا چوتھا بیٹا کنعان جو سب سے بڑا کافر تھا۔ اس لئے اس نے حصہ نہیں لیا۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

کشتی پر والی تھی

تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام نہیں جانتے تھے کہ کشتی کیسے بنائی جائے۔ تو اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ وہ اسے پرندے کے سینے کی طرح بنائیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے پر تھے۔ پروں کے نیچے کمرے تھے۔ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ سام ابو العرب ( عربوں کا باپ) ہے۔ حام ابو الحبش( حبثیوں، افریقیوں ، اور ایشائیوں کا باپ )ہے۔ اور یافت ابوالروم ( رومیوں یعنی یورپ والوں کا باپ) ہے۔ اور فرمایا۔ کشتی کی لمبائی تین سو300گز تھی۔ چوڑائی پچاس50گز تھی اور اونچائی تیس30گز تھی۔ اور اس کا دروازہ اس کی چوڑائی میں تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اسے تین صورتوں پر بناﺅ۔ اس کا سر ( سامنے والا حصہ) ہو۔ پھر اس کے طبقات بنا دو۔ اس کے اطراف میں دروازے بنا لو۔ اور لوہے کی میخوں کے ساتھ اسے مضبوط اور پختہ جوڑ دو۔

تارکول کا چشمہ 

اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا اور انہوں نے مل کر کشتی بنوائی۔ پس آپ علیہ السلام نے کشتی بنا لی۔ اس کی لمبائی چھ سو600گز تھی۔ ساٹھ 60گززمین میں تھی۔ اور اس کی چوڑائی تین سو 300گز تھی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تارکول کے ساتھ طلا ءکریں۔ زمین پر تارکول نہیں تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لئے تارکول کا چشمہ پیدا کردیا۔ آپ علیہ السلام نے طلاءکر لیا۔ پس جب آپ علیہ السلام اس سے فارغ ہوئے تو اس میں تین دروازے بنائے اور انہیں ڈھانپ دیا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی لمبائی بارہ سو1200گز تھی۔ اور چوڑائی چھ سو600گز تھی۔ ( تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری ، تفسیر دُر منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی ) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کشتی کی لمبائی بارہ سو1200ہاتھ تھی۔ اور چوڑائی چھ سو600ہاتھ تھی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ لمبائی دو ہزار 2000ہاتھ تھی اور چوڑائی ایک سو100ہاتھ تھی۔ واللہ اعلم ۔ اس کی اندرونی اونچائی تیس 30ہاتھ تھی۔ اس میں تین درجے تھے اور ہر درجہ دس 10ہاتھ اونچا تھا۔ سب سے نیچے کے حصے میں چوپائے اور جنگلی جانور تھے۔ درمیان کے حصے میں انسان تھے۔ اوپر کے حصے میں پرندے تھے۔ ان میں چوڑا دروازہ تھا۔ اوپر سے کشتی بالکل بند تھی۔ 

کشتی تین منزلہ تھی

تفسیر معارف القران میں ہے کہ بعض تاریخی روایات میں کشتی کی لمبائی تین سو300گز ، چوڑائی پچاس50گز اور اونچائی تیس30گز تھی۔ یہ سہ ( تین )منزلہ جہاز تھا۔ اور اس میں روشن دان تھے جو دائیں بائیں کھلتے تھے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر 4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مدارک میں ہے کہ روایت میں ةے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ساج( ساگوان) کی لکڑی سے دو سال میں کشتی تیار کی۔ اس کی لمبائی 300تین سو ہاتھ تھی۔ یا بارہ سو1200ہاتھ تھی۔ اس کی چوڑائی پچاس50ہاتھ یا چھو سو600ہاتھ تھی۔ اور بلندی تیس30ہاتھ تھی۔ اس کے تین طبقات بنائے ۔ سب سے نچلے حصے میں وحشی جانور، درندے اور حثرات الارض ( کیڑے مکوڑے) رکھے۔ درمیانے طبقے میں چوپائے، پالتو جانور کھے۔ اور تیسری بالائی منزل یا طبقے میں حضرت نوح علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ کھانے پینے کا سامان لے کر سوار ہوئے۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کا جسم مبارک بھی ساتھ لیا۔ اور اس کو مردوں اور عورتوں کے درمیان روک بنا دیا۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) تفسیر مظہری میں ہے کہ امام بغوی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی دو سال میں تیار کی۔ اس کی لمبائی تین سو300ہاتھ اور چوڑائی پچاس50ہاتھ اور اونچائی تیس30ہاتھ تھی۔ اور وہ شیشم کی بنی ہوئی تھی۔ اس میں تین درجے تھے۔ نچلی منزل ، درندوں اور خونخوار جانوروں کے لئے تھی ۔ درمیانی منزل چوپایوں کے لئے اور سب سے اوپری منزل انسانوں اور کھانے پینے کے سامان کے لئے تھی۔ ( تفسیر بغوی، تفسیر مظہری ، جلد نمبر 5قاضی ثنا اللہ پانی پتی)

حضرت آدم علیہ السلام کو کشتی میں رکھا

تفسیر قرطبی میں ہے کہ کشتی کے تین دروازے تھے۔ ایک دروازے میں درندے اور پرندے، دوسرے دروازے میں جانور اور چوپائے اور تیسرے دروازے میں انسان سوار ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک کو بھی لیا۔ اور مردوں اور عورتوں کے درمیان رکھ دیا۔ پھر بعد میں بیت القدس میں دفن کر دیا۔ ( تفسیر الجامع الاحکام القران المروف تفسیر قرطبی امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر تبیان القران میں ہے کہ پھر حضرت نوح علیہ السلام نے اُجرت پر کچھ لوگوں کو کام پر لگایا۔ اور مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹوں میں سے سام ، حام اور یافث بھی کشتی بنا رہے تھے۔ انہوں نے وہ کشتی چھو سو600ہاتھ لمبئی بنائی اور اس کی چوڑائی اور اونچائی تینتیس 33۔ تینتیس ہاتھ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین سے تارکول نکالا۔ جس کو انہوں نے کشتی پر لگایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ کشتی میں تین منزلیں تھیں۔ سب سے نچلی میں وحشی جانور ، درندے اور حشرات الارض تھے۔ درمیانی منزل میں چوپائے اور حیوان تھے۔ اور سب سے اوپری منزل میں آپ علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ تھے۔ امام فخر الدین رافی لکھتے ہیں ۔ کشتی کی سائز کے بارے میں جو مختلف اقوال ہیں ان کی معرفت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اور نہ ہی اس کی معرفت میں کوئی فائدہ ہے۔ اور اس میں غورو فکر کرنا فضول ہے۔ جب کہ ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جس سے صحیح مقدار یا صحیح مدت معلوم ہو سکے۔ اور جس چیز کا ہمیں علم ہے وہ یہ ہے کہ کشتی میں اتنی گنجائش تھی کہ اس میں حضرت نوح علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ آسکیں۔ اور جن جانداروں کو وہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے وہ بھی آسکیں۔ کیوں کہ یہ چیز ہمیں قرآن پاک سے معلوم ہے۔ رہا سائز کیا تھی اور اسے بنانے میں کتنی مدت لگی؟ اس کا قرآن پاک میں ذکر نہیں ہے۔ ( تفسیر کبیر جلد نمبر6امام فخر الدین رازی، تفسیر تبیان القران علامہ غلام رسول سعیدی)

تنور سے پانی نکلناطوفان آنے کی پہچان

حضرت نوح علیہ السلام اور ان پر ایمان لانے والے کشتی تعمیر کرتے رہے اور کافر ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ اور ان پر ہنستے رہے۔ آپ علیہ السلام فرماتے آج تم ہم پر ہنس رہے ہو ایک وقت آئے گا جب ہم تم پر ہنسیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جب تنّور سے پانی نکلنا شروع ہو جائے تو تم اپنے ساتھ ایمان والوں اور تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا اور پرندوں کا ایک ایک جوڑا لے کر کشتی میں سوار ہو جانا گویا کہ تنور سے پانی نکلنا طوفان آنے کی پہچان تھی۔ آپ کو تنور تو معلوم ہی ہوگا۔ اور آپ نے دیکھا بھی ہوگا۔ جسے ہم لوگ تندور کہتے ہیں۔ وہی تنور ہے۔ آپ نے ہوٹلوں میں دیکھا ہوگا ان ہوٹلوں میں جہاں تندوری روٹیاں بنتی ہیں۔ وہ لوگ کیا کرتے ہیں کہ ایک مٹکا بے پیندے کو زمین میں فٹ کر دیتے ہیں۔ اس کے اندر آگ لگاتے رہتے ہیں۔ اور اس کے کناروں پر روٹیاں چپکا کر پکاتے ہیں۔ ایسے ہی تنور حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں بلکہ ہمارے وقت کے تنور سے بہت بڑے بڑے تنور تھے۔ ایسا ایک تنور حضرت نوح علیہ السلام کے پاس بھی تھا۔ بلکہ لگ بھگ ہر گھر میں تھا۔ کیوں کہ اس زمانے میں چپاتیاں پکانے کا رواج شروع نہیں ہوا تھا۔ تنور کون سا تھا اور کہاں تھا اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔

تنور کہا ں تھا

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ تنور سے مراد ہندوستان میں ایک کنواں ہے۔ شعبی کہتے ہیں کہ یہ کوفہ میں ایک چشمے کا نام ہے۔ قتادہ سے روایت ہے کہ یہ ایک کنواں ہے جو الجزیرہ میں واقع ہے۔ ( قصص الانبیاءعلامہ عماد الدین ابن کثیر تفسیر ابن کثیر پارہ نمبر12) تفسیر در منشور میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلا م اپنے گھر والوں کے تنور میں دیکھیںکہ اس میں سے پانی نکل رہا ہے تو یہ آپ علیہ السلام کی قوم کی ہلاکت اور بربادی کی علامت ہے۔ (تفسیر طبری) علامہ محمد بن جریر طبری نے حضرت حسن رضی اللہ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ وہ تنور پتھر سے بنا ہوا تھا۔ اور وہ حضرة حوا رضی اللہ عنہا کے لئے تھا۔ حتیٰ کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام تک جا پہنچا۔ (تفسیر طبری) حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ تنور سے مرادسطح زمین ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تنور سے مراد ، زمین کا اعلیٰ اور بلند حصہ ہے اور اسکا علم حضرت نوح علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے درمیان راز ہے۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا تنور زمین کا اعلیٰ اور اشرف حصہ ہے۔ اور ساتھ ہی کہا اللہ بہتر جانتا ہے۔ تفسیر جلالین میں ہے کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ تنور حضرت آدم علیہ السلام کا تھا اور پتھر کا تھا۔ تنور کی جگہ میں بھی اختلاف ہے۔ بعض نے بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے گھر میں تھا۔ اور بعض نے بتایا کہ زمین کے اوپری حصہ کو تنور کہا ہے۔ عرب زمین کی سطح کو تنور کہتے ہیں۔ ( تفسیر جلالین جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی اور امام جلال الدین محلی) 

تنور کئی معنوںمیں استعمال ہوا

تفسیر مدارک میں ہے کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ روٹی کے تنور سے پانی نے جوش مارا۔ یہ پتھروں کا تنور تھا۔ جس کو حضرة حوارضی اللہ عنہا نے بنایا تھا۔ اور یہ اس زمانہ سے ( ہاتھوں ہاتھ چلتے چلتے) حضرت نوح علیہ السلام تک پہنچا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تنور سطح زمین کو کہتے ہیں۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی جلد نمبر2امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی)تفسیر معارف القران میں ہے کہ لفظ تنور کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ سطح زمین کو بھی تنور کہتے ہیں۔ روٹی پکانے کے تنور کو بھی تنور کہتے ہیں۔ زمین کے بلند حصے کو بھی تنور کہتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ جب آپ علیہ السلام دیکھیں کہ آپ علیہ السلام کے گھر کے تنور سے پانی ابلنے لگا تو سمجھ لیں کہ طوفان آگیا ہے۔ ( تفسیر قرطبی، تفسیر مظہری) مفسر امام قرطبی نے فرمایا کہ اگر چہ تنور کے معنی میں مفسرین کے اقوال مختلف نظر آتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ جب طوفان کا پانی نکلنا شروع ہوا تو روٹی پکانے کے تنور سے بھی نکلا۔ سطح زمین سے بھی نکلا، ملک شام میں ” عین الورد“ کے تنور سے بھی نکلا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔ ترجمہ ” ہم نے آسمان کے دروازے موسلا دھار بارش کے لئے کھول دیئے اور زمین سے چشمے ہی چشمے پھوٹ پڑے۔“ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

حضرت نوح علیہ السلام 5 Story of Nooh AS


 حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 5

حضرت نوح علیہ السلام کی کافرہ بیوی اورکافر بیٹا

حضرت نوح علیہ السلام نے کئی نکاح کئے تھے۔ اور ان کی کئی بیویاں تھیں۔ پہلی بیوی تو عمذرہ بنت براکیل تھی۔ اوریہی سام ، حام، یافث کی والدہ ہیں۔ دوسری بیوی کا نام واعلہ یا والعہ تھا۔ اور کنعان اس کے بیٹے کا نام تھا۔ یہ اور اس کا بیٹا دونوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ اور حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے تھے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر12مفتی احمد یار خان نعیمی) یہ دونوں ماں بیٹے اپنی قوم کے سرداروں یعنی پنڈتوں ، پجاریوں ،سادھوﺅں اور حکمرانوں سے ملے ہوئے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی مخالفت میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔ اسی وجہ سے قوم کے کافرسرداروں نے ان دونوں ماں بیٹے پر اپنی خصوصی مہربانیاں کی ہوئی تھیں ۔ جس کی وجہ سے ان دونوں کی زندگی بہت عیش و آرام میں گزر رہی تھی۔ ان ماں بیٹوں کے پاس شاندار گھر اور بے شمار مال و دولت اور نوکر چاکر تھے۔ جب کہ حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی وہ بیویاں اور بیٹے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا وہ سب ٹوٹے پھوٹے جھونپڑوںمیں فاقوں کے عالم میں زندگی گزار رہے تھے۔ آپ علیہ السلام کی کافرہ بیوی اور بیٹے کو جب بھی آپ علیہ السلام سمجھاتے تھے تو الٹا و ہ دونوں آپ علیہ السلام کو سمجھاتے کہ یہ پاگل پن چھوڑیں اور قوم کے کافر سرداروں کی بات مان کر اسلام کی دعوت بند کر دیں۔ اور عیش و آرام کی زندگی گزاریں جیسی ہم گزار رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اللہ کافروں کے معاملہ میں نوح ( علیہ السلام ) اور لوط( علیہ السلام) کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجہ تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی۔ اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکی۔ اور دونوں کو کہہ دیا گیا کہ آگ میں جانے والوں کے ساتھ چلی جاﺅ۔ ( سورہ التحریم آیت نمبر 10) مولانا مودودی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ یہ خیانت اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ بدکاری کی مرتکب ہوئی تھیں۔ بلکہ اس معنی میں ہے کہ انہوں نے ایمان کی راہ میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا ساتھ نہیں دیا ۔ بلکہ ان کے مقابلے میں دین کے دشمنوں کا ساتھ دیتی رہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کسی نبی علیہ السلام کی بیوی کبھی بدکار نہیں رہی ہے۔ ان دونوں عورتوں کی خیانت در اصل دین کے معاملے میں تھی۔ انہوں نے حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا دین قبول نہیں کیا تھا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اپنی قوم کے سرداروں کو ایمان لانے والوں کی خبریں پہنچایا کرتی تھی اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اپنے شوہر کے ہاں آنے والے لوگوں کی اطلاع اپنی قوم کے بد اعمال لوگوں کو دے دیا کرتی تھی۔ ( تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری، تفہیم القران سورہ التحریم مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی) امام عبدا لرزاق ، امام زیابی، امام سعید بن منصور، امام ابن ابی الدنیا، امام محمد بن جریر طبری، امام ابن منذر، امام ابن ابی حاتم، اور امام حاکم نے کئی طرق سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ کہ ان دونوں نے زنا نہیں کیاتھا۔ البتہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں کو کہا کرتی تھی کہ یہ مجنوں ( دیوانہ پاگل) ہے۔ اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ مہمان پر جرا¿ت کر جاتی تھی۔ اور مخالفت کرتی تھی۔ پس یہی ان دونوں کی خیانت تھی۔ (تفسری در منشور جلد نمبر6امام جلال الدین سیوطی تفسیر طبری علامہ محمد بن جریر طبری)

اللہ تعالیٰ کی مدد سے کشتی کی تیاری

حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا حکم سن کر کشتی بنانے کی تیاری شروع کر دی۔ اور اس کام میں جبرئیل علیہ السلام اور دوسرے فرشتے آپ علیہ السلام کی مدد کرنے لگے۔ کافروں نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھا تو ہنسنے لگے۔ اور ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ اور آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ اور کہنے لگے، پہلے تو ہمیں اس کے پاگل ( نعوذ باللہ) پر تھوڑا شک تھا اب یقین ہو گیا ہے۔ کیوں کہ نہ کہیں پانی کا نام و نشان ہے اور نہ ہی مستقبل میں ایسا لگتا ہے کہ اتنا پانی آئے گا کہ زمین پر کشتی کی ضرورت محسوس ہو۔ حضرت نوح علیہ السلام بڑے صبر سے ان کافروں کی باتیں سنتے اور چپ چاپ کشتی بنانے میں مصروف رہتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ اب تمہاری قوم میں سے کوئی اسلام قبول نہیں کرے گا تو آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینا بند کر دی۔ اور کشتی بنانے کی تیاری میں لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” کشتی بناﺅ ہماری مدد سے اور ہمارے حکم سے “ ( سورہ ہود آیت نمبر37) اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا۔ ترجمہ ” تو ہم نے ان کی ( نوح علیہ السلام کی ) طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بناﺅ۔ “ ( سورہ المومنون آیت نمبر27) تفسیر نعیمی میں لکھا ہے کہ جب اتنے دراز زمانے تک کافروں کو دعوت اور تبلیغ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اور عذاب کا وقت قریب آگیا تو اللہ تعالیٰ نے پہلے تو حضرت نوح علیہ السلام کو تبلیغ سے روک دیا۔ اور کافروں کی دی ہوئی تکلیفوں پر تسلی دی۔ اس کے بعد فرمایا۔ کہ ایک خاص قسم کی کشتی بناﺅ۔ اور اول سے آخر تک کشتی اچھی، صحیح ، خوب صورت اور مکمل فائدے مند ہو۔ جب کوئی لائق ترین کاریگر اور استاد فن کوئی چیز بنانا چاہتا ہو تو چار چیزوں پر غور کرتا ہے۔ (۱) سامان بہترین ہو۔ (۲) نقشہ بہترین اور لا جواب نمونہ ہو۔ ( ۳) فن کاری بہت زیادہ ہو۔ ( ۴) ہر ضرورت پوری ہو۔ یعنی اے نوح علیہ السلام ، لکڑی بہت شاندار اور پختہ و، کشتی کا نمونہ اور نقشہ بہت اچھا ہو۔ اپنی پوری فن کاری صرف کر دینا۔ تا کہ کشتی صرف کشتی نہ رہے۔ بلکہ نبی کا معجزہ بن جائے۔ کیوں کہ اس پر ہر قسم کی مخلوق کو سوار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں آپ علیہ السلام نے کشتی تیارکی۔ مطلب یہ کہ ہمارے معائنے میں اے نوح( علیہ السلام ) تم بناتے جاﺅ۔ ہم اس کو پاس کرتے جائیں گے۔ کام نبی علیہ السلام کا ہوگا اور تصدیق رب ( اللہ تعالیٰ) کی ہوگی۔ لہٰذا رب نے پہلی وحی میں نقشہ سمجھایا کہ مرغ کے سینے کی شکل کی کشتی بنانا۔ جس طرح آج کل جہاز اورکشتیاں ہیں۔ انکا نقشہ وہیں سے لیا گیا ہے اور بیس 20سال حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی کی لکڑی جمع فرمائی۔ ( تفسیر روح البیان ، تفسیر نعیمی پارہ نمبر12، مفتی احمد یا ر خان نعیمی)

کشتی کے لئے لکڑی کا انتظام

حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کشتی بنانے کا حکم دیا۔ تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب کشتی بنانے کا حکم ملا تو اس وقت آپ علیہ السلام نہ تو کشتی کو جانتے تھے اور نہ ہی اس کے بنانے کو۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق کشتی بناﺅ۔ روایات حدیث میں ہے کہ جبرئیل امین علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے مطابق کشتی بنانے اور اس کی تمام ضروریات کا طریقہ بتایا۔ اور آپ علیہ السلام نے ساگ کی لکڑی سے یہ کشتی تیار کی۔ ( یہ کشتی ہمارے آج کل کے پانی کے جہاز وں سے بہت بڑی تھی) اس طرح جہاز سازی کی صنعت اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعے سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کے ہاتھوں شروع ہوئی۔ پھر اس میں ترقیات ہوتی رہیں۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر قرطبی میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سو سال درخت لگاتے ررہے۔،ان کو کاٹتے رہے اور خشک کرتے رہے۔ اور سو سال ان میں کام کرتے رہے۔ (کشتی بنا تے رہے)۔ آپ علیہ السلام نے دمشق کے علاقے میں کشتی بنائی۔ اور اسکی لکڑی لبنان کے پہاڑوں سے کاٹی ۔ جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ مےری نگرانی میں وحی کے مطابق کشتی بناﺅ، تو آپ علیہ السلام نے عرض کیا اے اللہ تعالی ، میں بڑھئی مستری نہیں ہوں۔تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔بے شک یہ میری نگرانی میں ہو گا۔ آپ علیہ السلام نے کلہاڑ اپنے ہاتھ میں لیا۔ اور آپ علیہ السلام کا ہاتھ صحیح کام کرنے لگا۔ (تفسیر قرطبی جلد نمبر ۵ المعروف جامع الحکام ا لقرآن ، امام محمدبن احمد بن ابو بکر قرطبی)۔ تفسیر در منشور میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔کہ کشتی بنا ﺅ تو حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیااے میرے رب (اللہ تعالیٰ)،کشتی کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ لکڑی کا بنا ہوا مکان ہے جو پانی پر چلتا ہے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم میں سکو نت پزیر رہے۔اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کا آخری زمانہ آیا توایک درخت لگایا وہ خوب بڑھا اور اسے جہاں تک جانا تھا وہ گیا۔ پھر آپ علیہ السلام نے اسے کاٹ لیا اور کشتی بنا نے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب کشتی بنانے کا حکم دیا گیا توآپ علیہ السلام نے عرض کیا ۔ اے میرے رب، لکڑی کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ درخت لگاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے بیس20سال تک ساگوان کا درخت لگائے رکھا۔ جب آپ علیہ السلام نے درخت کو مکمل حالت میں پالیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسے کاٹا اور اسے خشک کر لیا۔ پھر عرض کیا۔ اے میرے رب ، میں یہ گھر کیسے بناﺅں۔ تب اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا کہ وہ آپ علیہ السلام کو کشتی بنانے کے بارے میں بتادیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے چالیس40سال ساگوان کا درخت لگایا اور چار سو سال میں کشتی تیار کی۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام درخت اگاتے رہے اور اسے کاٹ کر خشک کرتے رہے۔ پھر سو برس100اس پر کام کرتے رہے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہا۔ مجھے بتائے کون سا وہ پہلا درخت ہے جو سب سے پہلے زمین پر اگا؟ تو انھوں نے جواب دیا۔ وہ ساگوان کا درخت ہے۔ اور یہ وہ درخت ہے جس سے حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنائی۔ تو حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ بعض سلف کہتے ہیں ۔ حکم ہو ا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنالو۔ اس میں ایک سو 100سال گزر گئے۔ پھر مکمل (کشتی کی ) تیاری میں سو100سال گزر گئے۔ ایک قول ہے کہ چالیس سال لگے۔ واللہ اعلم ۔ امام محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ تورات سے نقل کرتے ہیں کہ ساگ کی لکڑی سے کشتی تیاری ہوئی۔ ( تفسیر ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) تفسیر تبیان القران میں ہے کہ امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں ۔ ضحاک نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے میرے رب ، کشتی کیا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وہ لکڑی کا ایک گھر ہے جو پانی کی سطح پر چلتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے میرے رب لکڑی کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم درخت اگاﺅ۔ آپ علیہ السلام نے بیس20سال تک ساگوان کے درخت اگائے۔ اس عرصہ میں آپ علیہ السلام نے قوم کو اسلام کی دعوت دینا بند کر دی تھی۔ اور انہوں نے بھی آپ علیہ السلام کو تنگ کرنا اور تکلیف دینا چھوڑ دیا تھا۔ جب درخت تیار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان درختوں کوکاٹو اور سکھاﺅ۔( تفسیر تبیان القران جلد نمبر5علامہ غلام رسول سعیدی)

کافروں اور ان کے سرداروں کا مذاق اڑانا

حضرت نوح علیہ السلام نے ساگوان کے درختوں کو کاٹ کر ان کے تختے اور ستون اورمیخیں ( کیلیں ہماری زبان میں کھلّے) بنائے۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے کافروںنے جب حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھا تو پہلے تو حیرت میں پڑ گئے کہ آخر آپ علیہ السلام کر کیا رہے ہیں۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ یہ آپ علیہ السلام کیا کر رہے ہیں؟جب آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا۔ یہ سن کر وہ بد بخت لوگ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے اور لوٹ پوٹ کر ہنسنے لگے۔ امام فخر الدین رازی نے ان کے مذاق اڑانے کی یہ وجوہات بیان کی ہے۔ (1) وہ کہتے تھے کہ اے نوح ( علیہ السلام ) تم رسالت کا دعویٰ کرتے تھے اور بن گئے بڑھئی (مستری)۔ (2) اگر تم رسالت کے دعوے میں سچے ہوتے تو اللہ تعالیٰ تم کو کشتی بنانے کی مشقت میں نہیں ڈالتا۔ (3) اس سے پہلے انہوں نے کشتی نہیں دیکھی تھی۔ نہ ان کو یہ معلوم تھا کہ کشتی کس کام آتی ہے۔ اس لئے وہ اس پر تعجب کرتے اور ہنستے تھے۔ ( 4) وہ کشتی بہت بڑی تھی اور جس جگہ آپ علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے وہ جگہ پانی سے بہت دور تھی۔ اس لئے وہ کہتے تھے یہاں پر پانی نہیں ہے۔ اور اس کشتی کو دریاﺅں اور سمندر کی طرف لے جانا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ اس لئے ان کے خیال میں اس جگہ کشتی بنانا محض بے عقل ہے۔ ( تفسیر کبیر جلد نمبر6امام فخرالدین رازی)تفیسر در منشور میں ہے کہ جب قوم کے لوگ آپ علیہ السلام کے پاس سے گزرتے تھے تو مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے( نعوذ باللہ)مجنون ( پاگل) کو دیکھو کہ گھر بنا رہا ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے پانی پر چلے۔ اور پانی کہاں ہے؟ وہ بہت ہنستے اور قہقہے لگاتے۔ ( تفسیر درّ منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) تفسیر انوارا لبیان میں ہے کہ ادھر تو کشتی تیار ہو رہی تھی اور ادھر ان کی قوم کے سردار اور چودھری( یعنی پنڈت ، پجاری، اور راجے مہاراجے) گزرتے تھے چونکہ انہیں عذاب آنے کا یقین نہٰں تھا اسی لئے حضرت نوح علیہ السلام پر ہنستے تھے۔ اور ٹھٹھا کرتے تھے۔ کہ جی ہاںتم اس کشتی میں بیٹھ کر محفوظ ہو جاﺅ گے۔ کبھی کہتے تھے کہ یہ کشتی خشکی پر کیسے چلے گی۔ کبھی کہتے تھے کہ اے نو ح ( علیہ السلام ) ابھی تک تم اپنے آپ کو نبی اور رسول کہتے تھے۔ اب تو تم بڑھئی ( مستری) ہو گئے ہو۔ ( تفسیر انوارا لبیان جلد نمبر3مولانا محمد عاشق الہٰی مہاجر مدنی) تفسیر معارف القران میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتی بنانے میں مشغول تھے۔ ان کی قوم کے سردار ( پنڈت ، پجاری وغیرہ) جب ان کو دیکھتے اور پوچھتے کہ کیا کر رہے ہو؟ تو آپ علیہ السلام فرماتے کہ طوفان آنے والا ہے۔ اسی لئے کشتی تیار کر رہا ہوں۔ ان کی قوم ان کا مذاق اڑاتی اور استہزاءکرتی تھی کہ یہاں تو پینے کے لئے پانی کا قحط ہے۔ اور یہ بزرگ اس خشکی میں کشتی چلانے کی فکر میں ہیں۔( تفسیر معارف القران جلد نمبر4مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر مدارک نسفی میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے اور جب بھی ان کے پاس سے قوم کے سردار گزرتے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ کیوں کہ آپ علیہ السلام پانی سے بہت دور جنگل میں کشتی بنا رہے تھے۔ پس وہ ان پر ہنستے اور کہتے۔ اے نوح( علیہ السلام ) تم تو رسول بننے کے بعد بڑھئی بن گئے ہو۔ ( تفسیر مدارک تفسیر نسفی جلد نمبر 2امام عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی) 

بچوںکی پیدائش بند ہو گئی

تفسیر مظہری میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے کشتی بنانی شروع کر دی۔ امام بغوی لکھتے ہیں حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم سے بالکل بے پرواہ ہو کر اپنے رب کے حکم سے کشتی بنانے میں لگ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگوں کی عورتوں کو بانجھ کر دیا اور ایک بھی بچہ پیدا نہیں ہوا ۔ حضرت نوح علیہ السلام لکڑی کاٹتے کیل لگاتے اور تختے جوڑتے۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ گزرتے اور مذاق اڑاتے۔ ( تفسیر بغوی جلد نمبر3) وہ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے کہ یہ ایک ایسی جگہ کشتی تیار کررہے ہیں جہاں قریب قریب پانی کا نشان بھی نہیں ہے۔ وہ آپ علیہ السلام کو دیکھ کر ہنستے اور کہتے اے نوح( علیہ السلام ) تم نبو ت کا تاج اتار کر بڑھئی بن گئے ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھتے کہ کیا بنا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام فرماتے ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا۔ تو وہ آپ علیہ السلام کی باتیں سن کر خوب ہنستے۔ ( تفسیر مظہری جلد نمبر5قاضی ثنا اللہ پانی پتی) تفسیر قرطبی میں ہے کہ ان کافروں کے مذاق کے بارے میں دو قول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ آپ علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھ کر کہتے اے نوح ( علیہ السلام) تم نبوت کے بعد بڑھئی بن گئے ہو۔ اور دوسرا قول ہے کہ انہوں نے پہلے کشتی نہیں دیکھی تھی اسی لئے پوچھا کہ کیا بنا رہے ہو؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔کہ ایسا گھر بنا رہا ہوں جو پانی پر چلے گا تو وہ پہلے تو حیران ہوئے اور پھر آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ طوفانِ نوح سے پہلے زمین پر کوئی ندی، نہر اور دریا نہیں تھے۔ اسی وجہ سے وہ لوگ آپ علیہ السلام کا مذاق اڑاتے تھے ۔ طوفان کے پانی نے سمندروں میں جانے کے لئے جو راستہ بنایا وہی اب ندیاں اور دریا ہیں۔ (تفسیر قرطبی الالجامع الاحکام القران امام محمد بن احمد بن ابو بکر قرطبی) تفسیر تیسرّ الرحمن فی لبیان القران میں ہے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بناتے دیکھ کر کافر کہنے لگے کہ نبی ہونے کے بعد اب بڑھئی ہو گئے ہو۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کام آپ علیہ السلام پانی سے بہت دور ایک میدان میں سخت گرمی میں کر رہے تھے۔ اسی لئے کافروں نے پوچھا کہ کیا کر رہے ہو؟ اس سے پہلے انہوں نے کشتی دیکھی نہیں تھی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ ہمیں پانی پر لے کر چلے گی تو وہ ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے۔ ( تفسیر تسیر الرحمن لبیان القران محمد لقمان سلفی)
باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

حضرت نوح علیہ السلام 4 Story of Nooh AS


حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 4

حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لانے کی اولاد کو وصیت

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بڑے تو بڑے بچے بھی اتنے گمراہ ہو گئے تھے کہ انھوں نے بھی آپ علیہ السلام کو تکلیف پہنچائی۔ ایسا ہی ایک واقعہ پیش ہے۔ جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو تکلیف پہنچانے لگی اسی دوران ایک دن حضرت نوح علیہ السلام کو ایک بوڑھے نے دیکھا۔ جو لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا۔ اس کی گود میں اس کے بیٹے کا بیٹا ( پوتا ) تھا۔ اس بوڑھے نے لڑکے سے کہا۔ بیٹے اس شخص کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے جال میں نہیں پھنسنا ۔ اور کہیں یہ تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔ یہ سن کر اس لڑکے نے کہا۔ آپ مجھے نیچے اتاریئے اور اپنا ڈنڈا مجھے دیں۔ بوڑھے نے اسے نیچے اتار دیا۔ اور ڈنڈا دیا۔ ڈنڈا لے کر وہ لڑکا حضرت نوح علیہ السلام کے سامنے آیا۔ آپ علیہ السلام محبت سے اس کی طرف جھکے۔ اس لڑکے نے پوری طاقت سے ڈنڈا آپ علیہ السلام کے سر پر دے مارا۔ آپ علیہ السلام کا سر پھٹ گیا۔ خون بہنے لگا اور آپ علیہ السلا م چکرا کر گر پڑے۔ اور وہ دونوں اسی حال میں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ ایک عرصہ گزر گیا حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کو مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور ان سے بحث و تکرار کر کے حقیقت کو ان کے سامنے لانے کی کوشش کرتے رہے۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال 950قیام پذیر رہے۔ لیکن اتنی طویل مدت کی جدو جہد بھی فائدے مند ثابت نہیں ہو سکی۔ اور چند خوش نصیبوں کو چھوڑ کر باقی پوری قوم حق و صداقت ( اسلام ) سے دور ہی رہی ۔ ان کی دشمنی کی انتہا دیکھئے کہ جب کوئی کافر مرنے لگتا تھا تو وہ جاتے جاتے اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کر جاتا تھا کہ تم پر حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت لازم ہے۔ کچھ بھی ہو تم ایمان نہیں لاﺅ گے۔ اور اسلام قبول نہیں کرو گے۔ اور ہر حالت میں اس دین ( اسلام) کو جھٹلاﺅ گے۔ جب کسی کے یہاں بچہ پیدا ہوتا تھا۔ اور بات سمجھنے کے قابل ہو تا تھا ۔ تو اسے سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور اسے نصیحت کی جاتی تھی کہ حق( اسلام) کی مخالفت اور حضرت نوح علیہ السلام سے عداوت اس نسل کے لئے بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنی پہلی نسل کے لئے ضروری تھی۔ باپ اپنے بچوں کو وصیت کرتے تھے کہ جب تک زندہ رہنا۔ تب تک حضرت نوح علیہ السلام کی مخالفت کا جذبہ دل میں سرد نہیں ہونے دینا۔ اور کبھی بھی ان کی دعوت کی طرف توجہ نہیں کرنا۔ ان کی طبیعت کا اقتضا ہی یہ تھا کہ ایمان اور حق کی اتباع کا انکار کرتے چلیں جائیں ۔ گویا سر کشی اورعناد اُن میں رچ بس چکا تھا۔ 

حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم پر شفقت اور مہربانی

حضرت نوح علیہ السلام انتہائی صبر اور بردباری کے ساتھ دن رات سرا” اور اعلانیہ “ انہیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور اللہ کی طرف بلاتے رہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام میں سے کسی کو بھی اتنے سخت اور شدید حالات نہیں پیش آئے۔ جن کا سامنا حضرت نوح علیہ السلام کو کرنا پڑا۔ آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ آتے اور پکڑ کر گلا دبا دیتے اور مجلسوں میں آپ علیہ السلام کو مارتے اور بھاگ جاتے تھے۔ آپ علیہ السلام ان کے اس سلوک کے باوجود ان کے لئے بد دعا نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ان کے لئے دعا کرتے تھے اور فرماتے تھے۔ اے میرے رب، میری قوم کو بخش دے کیوں کہ یہ ( اصل حقیقت ) نہیں جانتے ہیں۔ مگر آپ علیہ السلام کے اس حسن سلوک کا بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ اور ان کی دشمنی اور کفر میں اضافہ ہی ہوا۔ یہاں تک کہ جب آپ علیہ السلام ان میں سے کسی آدمی سے بات کرتے تھے تو وہ اپنے سر کو کپڑے کے ساتھ خوب لپیٹ لیتا اور اپنے کانوں میں انگلی ڈال لیتا تھا۔ تا کہ آپ علیہ السلام کے الفاظ اسے نہ سنائی دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا) میں نے جب بھی انہیں تیری بخشش کے لئے بلایا۔ انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں۔ اور اپنے کپڑوں کو اوڑھ لیا۔ اور ( کفر و شرک پر ) اڑ گئے اور تکبر کیا۔ “ ( سورہ نوح آیت نمبر 7) پھر وہ مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور تیزی سے چلے جاتے تھے۔ اور کہتے تھے ۔ اسے رہنے دو۔ کیوں کہ یہ ( نعوذ باللہ) جھوٹا ہے۔ آپ علیہ السلام پر انتہائی سخت اورشدید آزمائش آتی رہی۔ اور آپ علیہ السلام ایک زمانہ کے بعد دوسرے زمانہ کے لوگوں اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل کا انتظارکرتے رہے مگر جو بھی نسل آئی۔ وہ پہلی نسل سے زیادہ بد بخت اور خبیث اور متکبر اور سر کش نکلی۔ اور وہ لوگ کہتے یہ ہمارے باپ دادا کے ساتھ بھی تھا۔ اور یہ مسلسل جنون ( دیوانگی) میں مبتلا ہے۔ اور ان میں سے ہر آدمی مرتے وقت اپنی اولاد کو وصیت کر جاتا تھا کہ اس مجنوں سے بچ کر رہنا۔ کیوں کہ اس کے بارے میں میرے باپ دادا نے بتایا ہے کہ لوگوں کی ہلاکت اور بربادی اس کے ہاتھوں پر ہے۔ اس طرح کی وصیت وہ آپس میں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی اپنے بچے کو کندھے پر اٹھاتا تھا اور جب وہ بچہ اتنا بڑا ہو جاتا تھا کہ اس کی بات کو سمجھ سکے تو وہ کہتا ۔ اے میرے بیٹے، میں زندہ رہوں یا مر جاﺅں تو اس مجنون شخص سے بچنا۔ آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو اتنا مارتی تھی کہ آپ علیہ السلام بے ہوش ہو جاتے تھے۔ پھر جب ہوش آتا اور کچھ افاقہ ہوتا تو اس طرح دعا کرتے تھے۔ اے اللہ تعالیٰ، میری قوم کو ہدایت عطا فرما کیوں کہ وہ نہیں جانتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی قوم کے لوگ آپ علیہ السلام کا گلا دباتے تھے یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کی آنکھیں اوپر چڑھ آتی تھیں۔ اور جب وہ آپ علیہ السلام کو چھوڑتے تو آپ علیہ السلام یہ دعا کرتے ۔ اے اللہ میری قوم کو بخش دے کیوں کہ وہ جاہل ہے۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے عذاب کی مانگ کی

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو مسلسل تکلیفیں اور اذیتیں دیتی رہی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام اپنی قوم کو مسلسل اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بشارت دیتے رہے۔ اور اللہ کے غضب اور عذاب سے ڈراتے رہے۔ لیکن قوم میں بد بختی اور سر کشی اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ انھوں نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمائش کی کہ جس اللہ کے عذاب سے تم ہمیں ڈرا رہے ہو وہ لے آﺅ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” (قوم کے لوگوں نے) کہا۔ اے نوح( علیہ السلام) تم نے ہم سے بحث کر لی اور خوب بحث کر لی۔ اب تم جس چیز سے ہمیں دھمکا رہے ہو اگر تم سچے ہو تو وہ ہمارے پاس لے آﺅ۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر32) حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ لیکن قوم نے اب یہی طریقہ اپنا لیا تھا کہ جب بھی کسی کو آپ علیہ السلام سمجھانے لگتے تو وہ کہتا اے نوح ( علیہ السلام) تمہیں جتنا سمجھانا تھا تم نے ہمیں سمجھا لیا اور خوب اچھی طرح سمجھا لیا ہے۔ یعنی تمہیں جتنی اسلام کی دعوت دینی تھی تم نے دے دی اور خوب اچھی طرح اسلام کی دعوت دی۔ اب تم ایسا کرو اگر تم واقعی سچے ہو تو جس عذاب کی تم ہمیں اکثر دھمکی دیتے رہتے ہو وہ اللہ کا عذاب لے آﺅ۔ جب قوم کے ہر فرد نے عذاب کی مانگ کرنی شروع کر دی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ دیکھو عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ وہ تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کر سکتا ہے اور وہ بھی جب وہ خود چاہے گا تب عذاب آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت نوح علیہ السلام نے ) جواب دیا۔ اسے ( عذاب کو) بھی اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو صرف وہی لائے گا۔ اورہاں ( جب عذاب آئے گا) تب تم لوگ اسے ( اللہ کو ) ہرا نہیں سکو گے۔ اور اس وقت میں تمہاری کتنی بھی خیر خواہی چاہوں گا تب بھی میری خیر خواہی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی۔ ( سورہ ہود آیت نمبر33اور 34) حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ جس عذاب کی تم بار بار مانگ کر رہے ہو وہ لانا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ اسے صرف اللہ تعالیٰ ہی لا سکتا ہے اور وہ بھی جب اس کا ارادہ ہوگا۔ اور جب وہ عذاب آجائے گا تب میں بھی تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکوں گا۔ اس وقت میں تمہاری کتنی بھی بھلائی چاہوں گا تو وہ بھی تمہارے کام نہیں آسکے گی۔ اس لئے بار بار عذاب مانگنے کی نادانی مت کرو۔ اور میری بات کو سمجھو اسلام قبول کر لو اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو وہ تمہیں بخش دے گا اور مغفرت کر دے گا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ لیکن قوم کی بد بختی تھی کہ وہ مسلسل عذاب کی مانگ کرتی رہی۔

حضرت نوح علیہ السلام کی التجا

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم مسلسل عذاب کی مانگ کرتی رہی۔ اور آپ علیہ السلام پر ظلم و ستم کرتی رہی۔ جب حضرت نوح علیہ السلام پر قوم کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اے اللہ تعالیٰ ، تیرے بندے میرے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں اسے تو دیکھ رہا ہے۔ اے اللہ تعالیٰ اگر تو اپنے بندوں کو زندہ رکھنا ہی چاہتا ہے تو انہیں ہدایت دے یا پھر اپنا کوئی فیصلہ آنے تک مجھے صبر عطا فرمااور تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا۔ تمہاری قوم میں جتنے لوگ اسلام قبول کر چکے ہیں اب ان کے علاوہ کوئی بھی اسلام قبول نہیں کرے گا۔ اور اس پر تم غم مت کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت نوح علیہ السلام )نے کہا۔ اے میرے پرور دگار میں نے اپنی قوم کو رات و دن تیری طرف بلایا۔ مگر میرے بلانے سے ( یہ لوگ) اور زیادہ ( دور) بھاگنے لگے۔ میں نے جب کبھی انہیں تیری مغفرت کی طرف بلایا تو انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں۔ اور اپنے چہروں پر کپڑوں کو اوڑھ لیا۔ اور کفر و شرک پر اڑ گئے اور تکبر کیا۔ پھر میں انہیں با آواز بلند بلایا۔ اور بے شک میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور چپکے چپکے بھی۔ اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشوا ﺅ( معافی مانگو) وہ یقینابڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمانوں کو خوب برستا ہوا چھوڑ دے گا اور تمہیں پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا۔ اور تمہیں باغات دے گا۔ اور تمہارے لئے نہریں نکالے گا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے۔حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح ( مختلف رنگ اور قدو قامت )سے پیدا کیا ( سورہ نوح آیت نمبر 5سے 14تک) اسی سورہ میں اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا۔ ترجمہ ” نوح ( علیہ السلام ) نے کہا اے میرے پرور دگار ، ان لوگوں نے میری نافرمانی کی۔ اور ایسوں کی فرماں برداری کی جنہوں نے ان کے مال و اولاد کے نقصان کو بڑھایا ہے۔ اور ان لوگوں نے ( یعنی کافر سرداروں ، پنڈتوں ، پجاریوں ، سادھوﺅں اور حکمرانوں ) بڑا سخت فریب کیا ہے۔ اور انہوںنے عوام سے کہا۔ کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور ”ود“ اور ”سواع“ اور ” یغوث “ اور یعوق“ اور ”نسر“ کو نہیں چھوڑنا۔ اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ ( سورہ نوح آیت نمبر21سے 24تک)

جن کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہمیں نوح ( علیہ السلام ) نے پکارا۔ تو دیکھ لو ہم کیسے اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں۔( سورہ الصافّات آیت نمبر74) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” (حضرت نوح علیہ السلام نے کہا) اے میرے پروردگار ،میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ پس تو مجھ میں اور ان میں کوئی قطعی فیصلہ کر دے۔ اور مجھے اور میرے ساتھ مسلمانوں کو نجات دے۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر118) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” پس اُس نے ( حضرت نوح علیہ السلام نے)اپنے رب سے دعا کی کہ میں بے بس ہوں تو میری مدد کر“ ( سورہ القمر آیت نمبر ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” نوح ( علیہ السلام ) نے دعا کی اے میرے رب، ان کے جھٹلانے پر میری مدد کر۔“ ( سورہ المومنون آیت نمبر26) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” نوح علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو ایمان لا چکے ان کے سوا اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ پس تم ان کے کاموں پر غمگین نہ ہو۔ ( سورہ ہود آیت نمبر36)

کشتی بنانے کا حکم

اللہ تعالیٰ سے حضرت نوح علیہ السلام نے گذارش کی کہ پچھلے کئی سو سال سے میں اپنی قوم کو سمجھا رہا ہوں ۔ لیکن سوائے چند لوگوں کے پوری قوم کفر اور شرک پر ڈٹی ہوئی ہے۔ اس لئے اے اللہ تعالیٰ اب تو انہیں ہدایت دے دے یا پھر اپنا فیصلہ سنا دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ تمہاری قوم میں جن کو ایمان لانا تھا وہ لا چکے اب کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام کو بہت دکھ ہوا کہ کئی سو برس کی مسلسل شدید محنت کے بعد بھی یہ کافر ہی مریں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ تم ان کے کاموں یا ان کے اوپر غمگین نہیں ہونا اسی لئے آپ علیہ السلام نے صبر کر لیا۔ اور جب آپ علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ پوری قوم کے لئے عذاب مقرر کر دیا گیا ہے تو آپ علیہ السلام نے دعا کی ۔ اس کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور نوح علیہ السلام نے کہا۔ اے میرے پروردگار تو رو‘ئے زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑنا۔ اگر تو انہیں چھوڑ دے گا تو ( یقینا) یہ تیرے ( دوسرے ) بندوں کو ( بھی) گمراہ کر دیں گے۔ اور یہ فاجروں اور ڈھیٹ کافروں کو ہی پیدا کریں گے۔ “ ( سورہ نوح آیت نمبر26سے 27) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام سے فرمایا۔ کہ اب یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے تو پھر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ۔ اے میرے رب ، (اللہ تعالیٰ) میری قوم نے مجھے جھٹلایا۔ اب تو میرے اور ان کے درمیان میں پورا فیصلہ کر دے۔ اور مجھے اور میرے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دے۔ اور یہ بھی دعا کی ۔ اے میرے رب ( اللہ تعالیٰ) زمین پر کافروں میں سے کسی کو نہ چھوڑ ۔ بے شک اگر تو انہیں رہنے دے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کر دیں گے۔ اور ان کی اولاد بھی ناشکری ہوگی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کے بعدا للہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کشتی بناﺅ۔ ہماری مدد سے اور ہمارے حکم سے۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور ایک کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق تیار کرو۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات نہیں کرنا۔ وہ پانی میں ڈبو دیئے جائیں گے۔ “ ( سورہ ہود آیت نمبر37) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” نوح علیہ السلام نے دعا کی، اے میرے رب ، ان کے جھٹلانے پر تو میری مدد کر۔ تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری وحی کےمطابق ایک کشتی بناﺅ۔ ( سورہ المومنون آیت نمبر27) اسی آیت میں آگے فرمایا۔ ” خبر دار جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے بارے میں مجھ سے کچھ بات نہیں کرنا۔ وہ تو سب ڈبو دیئے جائیں گے۔“ (سورہ المومنون آیت نمبر27) اللہ تعالیٰ کا اشارہ حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اور بیٹے کی طرف تھا۔ کیوں کہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ پر اور حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان نہیں لائے تھے۔ اور اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ ( تفسیر جلالین،تفسیر روح البیان)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں  

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں