جمعرات، 6 اپریل، 2023

حضرت نوح علیہ السلام 3 Story of Nooh AS


حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 3

عوام کافر سرداروں کے دباﺅ میں تھی

اس طرح لگا تار حکمت سے آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ ان کی قوم کے عام لوگ جب بھی اان کی بات پر توجہ دینے لگتے اور متاثر ہونے لگتے تھے۔ تو ان کے سردار یعنی پنڈت پجاری وغیرہ حکمرانوں یعنی بادشاہوں راجوں مہاراجوں کے ذریعے ان کا معاشی ، مذہبی اور معاشرتی استحصال کرتے اور ان کے ساتھ ایسا ذلیل سلوک کرتے تھے کہ وہ آپ علیہ السلام کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیتے تھے۔ اور سرداروں کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے تھے۔ ان کے بڑے اُن سے کہتے۔ کہ یہ شخص ( حضرت نوح علیہ السلام ) کوئی رسول وغیرہ ( نعوذ باللہ ) نہیں ہے۔ بلکہ تمہاری طرح کا ( نعوذ باللہ ) ایک معمولی آدمی ہے۔ اور اس کے دعوے کا اصل مقصد یہ ہے کہ تم سے برتر ہو کر رہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کو رسو ل بھیجنا ہی تھا تو اس کا م کے لئے فرشتوں کو بھیجتا۔ اسی لئے اس شخص کا یہ دعویٰ کرنا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو بالکل غلط ہے۔ کیوں کہ ہم نے اپنے سے پہلے کے بڑوں سے بالکل بھی یہ بات نہیں سنی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو معبود مت بناﺅ۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ یہ آدمی ( نعوذ باللہ ) پاگل ہو گیا ہے۔ اور اسی لئے ساری دنیا کے خلاف باتیں کر رہا ہے۔ کہ میں رسول ہوں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر6مولانا مفتی محمد شفیع) تفسیر انوار البیان میں ہے کہ ہر قوم کے سردار اور چودھری حق قبول کرنے سے بچتے ہیں۔ نہ خود حق قبول کرتے ہیں اور نہ ہی عوام کو حق قبول کرنے دیتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے چودھریوں اور سرداروں نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا۔ اور کہنے لگے کہ یہ شخص جو اپنے بارے میں کہہ رہا ہے کہ میں اللہ کا رسول اور نبی ہوں ۔ اس میں ہمیں تو کوئی خاص بات نظر نہیں آتی ہے۔ جیسے تم آدمی ہو ایسا ہی یہ آدمی ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ تمہارا بڑا بن کر رہے۔ اور تم اس کے ماتحت بن کر رہو۔ اگر اللہ تعالیٰ کو کوئی رسول بھیجنا ہی تھا تو اس کے لئے فرشوں کو نازل فرما دیتا جو تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیتا۔ یہ جو بات کہہ رہا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور صرف ایک معبود کی عبادت کرو اور اسی کو تنہا وحدہ لا شریک بتا رہا ہے ایسی کوئی بات تو ہم نے اپنے باپ داداوں سے کبھی نہیں سنی ہے۔ جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ ان چوھریوں اور سرداروں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے خیال میں تو یہ بات آتی ہے کہ اس شخص پر دیوانگی سوار ہے۔ تم ذرا انتظار کر لو۔ ممکن ہے اس کی دیوانگی ختم ہو جائے۔ یا پھر اسے موت آجائے تو اس کے سارے کے سارے دعوے رکھے کے رکھے رہ جائیںگے۔ ( تفسیر انوار البیان جلد نمبر4مولانا عاشق الہٰی ماجر مدنی ) تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بشیر اور نذیر بنا کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ علیہ السلام نے انہیں اللہ کا پیغام پہنچایا کہ اللہ کی عبادت کرو ۔ اس کے سوا کوئی تمہاری عبادت کا حقدار نہیں ہے۔ تمہیں اللہ کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی پوجتے ہوئے ڈر نہیں لگتا۔ قوم کے بڑوں نے اور سرداروں نے کہا۔ یہ تو ہم جیسا ہی انسان ہے۔ اور نبوت کا دعویٰ کرکے تم سے بڑا بننا چاہتا ہے۔ اور سرداری حاصل کرنےکی فکر میں ہے بھلا انسان کی طرف کیسے وحی آسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اگر نبی بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو کسی آسمانی فرشتے کوبھیج دیتے۔ یہ تو ہم نے کیا ہمارے باپ داد انے بھی نہیں سنا ہے کہ انسان اللہ کا رسول بن جائے۔ یہ تو کوئی دیوانہ شخص ہے کہ ایسے دعوے کر رہا ہے اور ڈینگیں مار رہا ہے۔ اچھا ذرا انتطار کر لو دیکھ لینا ( نعوذ باللہ ) ہلاک ہو جائے گا۔ 

چند غریب لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ 

حضرت نوح علیہ السلام لگاتار مسلسل اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اور اپنی جدو جہد جاری رکھی۔ دھیرے دھیرے دس برس گزر ے۔ بیس برس گزرے، پچاس برس گزرے یہاں تک کہ سو 100برس گزر گئے۔ اور آ پ علیہ السلام مسلسل اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ قوم کی اکثریت تو انکار کرتی رہی۔ اور کفر پر ڈٹی رہی۔ لیکن کچھ اللہ کے نیک بندے بھی اس قوم میں تھے۔ یہ چند غریب لوگ تھے۔ اور ان غریبوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کر لیا۔ قوم کے عام لوگ اور خاص طور سے سرداروں ( مذہبی علماءیعنی پنڈت، سادھو ، پجاریوں اور حکمرانوں ) نے آپ علیہ السلام کا اور اُن غریب مسلمانوں کا مذاق اڑانے لگے۔ اور انہیں طرح طرح سے تکلیفیں اور اذیتیں دینے لگے۔ لیکن آپ علیہ السلام اور مسلمانوں نے ہمت نہیں ہاری اور آپ علیہ السلام لگا تار اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” قوم نوح نے بھی نبیوں کو جھٹلایا ۔ جب کہ ان کے بھائی نوح علیہ السلام نے کہا۔ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے۔ سنو، میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا امانت دار رسول ہوں۔ بس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے میں تم سے کوئی اجر ( بدلہ ) نہیں چاہتا ہوں۔ میرا اجر تو صرف اللہ رب العالمین دے گا۔ پس تم اللہ ( کے عذاب ) سے ڈرو۔ اور میری فرماں برداری کرو۔ قوم نے جواب دیا۔ ہم تم پر ایمان لائیں؟ تمہاری تابعداری تو رذیل (نیچ) لوگوں نے کی ہے۔“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر107سے 111تک) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اُن کی ( حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم کے کافروں کے سرداروں نے جواب دیا۔ ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان ہی دیکھتے ہیں اور تمہارے تابعداروں ( یعنی مسلمانوں) کو بھی ہم کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں۔ کیوں کہ اُن میں نیچ اور موٹی عقل والے( بے وقوف) ہی ہیں۔ اور ہم تو دیکھ رہے ہیں کہ تم ( دنیاوی لحاظ سے) ہم سے برتر نہیں ہو۔ بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ ( سورہ ہود آیت نمبر27)

کافر سرداروں کا بھید بھاﺅ

جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافر سرداروں یعنی پنڈتوں، پجاریوں، سادھوﺅں اور حکمرانوں نے یہ دیکھا کہ آپ علیہ السلام کی اسلام کی دعوت سے کچھ غریبوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اور قوم کا عام طبقہ آپ علیہ السلام کی دعوت پر توجہ دینے لگا ہے۔ اور متاثر بھی ہو رہا ہے۔ اور ان کا جھوٹا پروپیگنڈہ ناکام ہو رہا ہے۔ تو انہوں نے قوم میں یہ افواہ پھیلانا شروع کر دی کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کو ( نعوذ باللہ ) نیچ لوگوں نے قبول کیا ہے۔ اس لئے اونچی ذات کے لوگوں کو ان سے بچ کر رہنا چاہیے۔ آپ کو یاد ہوگا ۔ اس سے پہلے ہم نے آپ کو بتایا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم میں چار طبقے تھے۔ پہلا سب سے اونچا طبقہ پنڈتوں ، پجاریوں ، سادھوﺅں اور راجوں مہاراجوں کا تھا۔ جیسا کہ ہمارے ہندوستان میں ہے۔ اس سے نیچا فوجیوں کا تھا۔ اس طبقے کو ہمارے ہندوستان میں کھتری کہا جاتا ہے۔ تیسرا طبقہ جو سرکاری کاموں میں لکھا پڑھی کرتے تھے۔ یعنی منشیوں اور کلرکوں کا ۔ یہ طبقہ یہاںویش کہلاتا ہے۔ اور سب سے نچلے طقے میں کسان اور کچھ گھریلو کاموں والے لوگ تھے۔ جنہیں ہندوستان میں شودر کہا جاتا ہے۔ اور اسی طبقے کی اکثریت نے اسلام قبول کیا تھا۔ 

حضرت نوح علیہ السلام کا جواب

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم چار طبقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اور سب سے نچلے طبقے کے لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ قوم کا سب سے اونچا طبقہ جو مذہبی علماءیعنی پنڈتوں ، پجاریوں اور سادھوﺅں کا تھا۔ وہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن اور اسلام کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ کیوں کہ اسلام قبول کرنےکے بعد ان کی سرداری اور حکومت ختم ہو جاتی اور اپنے تمام عیش و آرام کو چھوڑ کر انہیں بھی عام مسلمانوں کی طرح زندگی گزارنی پڑتی۔ کیوں کہ یہ طبقہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ اسلام میں تمام انسان برابر ہیں۔ اور کوئی اونچی اور نیچی ذات نہیں ہے۔ اسی لئے یہ طبقہ آپ علیہ السلام کا سب سے سخت مخالف تھا اور جب ان کی قوم کے سب سے نچلے طبقے نے اسلام قبول کیا تو اس طبقے نے باقی دونوں طبقوں سے کہنا شروع کر دیا کہ تم لوگ اسلام قبول نہیں کرنا ۔ ورنہ تم بھی نچلی ذات کے ہو جاﺅ گے۔ اور مسلمانوں کو اذیت اور تکلیفیں دینے لگے۔ اور سب سے نچلی ذات والوں سے کہا کہ اگر تم اسلام قبول کر لو گے تو تمہیں بھی اسی طرح تکلیفیں دی جائیں گی۔ اور حضرت نوح علیہ السلام سے کہا کہ تمہاری دعوت کو نیچ لوگوں نے قبول کیا ہے۔ اس لئے ہم تمہاری دعوت کو قبول نہیں کریں گے۔ اور اگر تم چاہتے ہو کہ ہم اسلام قبول کریں توتمہیں ان نچلی ذات کے لوگوں کو اپنے سے دور کرنا ہوگا۔ اور اسلام سے خارج کرنا ہوگا۔ اس کے جواب میں حضرت نوح علیہ السلام نے جو فرمایا۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کیا ہے۔ ترجمہ ” نوح ( علیہ السلام) نے فرمایا۔ میری قوم والو، مجھے بتاﺅ اگر میں اپنے رب کی طرف سے کسی ( صحیح اور روشن ) دلیل پر ہوں اور مجھے اس نے اپنے پاس کی کوئی رحمت ( یعنی اسلام) عطا فرمائی ہوا اور وہ تمہاری نگاہوں میں نہیں آسکی ہو۔ (یعنی اسلام کی حقیقت اور اہمیت تمہاری سمجھ میں نہیں آسکی ہو) تو کیا زبردستی میں اسے تمہارے گلے منڈھ دوں گا۔ جب کہ تم اس سے ( اسلام سے) بیزار ہو۔ میری قوم والو، میں تم سے ( اسلام قبول کرنے کے عوض میں ) اس پر کوئی مال نہیں مانگتا۔ میرا اجرو ثواب تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اور نہ ہی میں ایمان والوں کو اپنے پاس سے نکال سکتا ہوں۔ انہیں ( بھی) اپنے رب سے ملنا ہے۔ لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ ( انسانوں کو اونچے نیچے طبقوں میں تقسیم کر کے) جہالت کر رہے ہو۔ میری قوم کے لوگو، اگر میں مسلمانوں کو اپنے پاس سے نکال دوں( جیسا کہ تم لوگ شرط پیش کر رہے ہو) تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں میری کون مدد کر سکتا ہے؟( یعنی اللہ تعالیٰ سے کوئی تمہارا بت مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اس کا کوئی شریک ہو سکتا ہے) کیا تم کچھ بھی غور و فکر نہیں کرتے؟“ ( سورہ ہود آیت نمبر28سے 30تک) اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” ( حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم نے کہا۔ کیا ہم تم پر ایمان لائیں ؟ جب کہ تمہاری تابعداری یعنی اطاعت تو رذیل ( نیچ) لوگوں نے کی ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھے کیا خبر کہ پہلے وہ کیا کرتے رہے؟ ان کا حساب تو میرے رب کی ذمہ ہے۔ اگرتمہیں شعور ( سمجھ) ہوتو اور میں ایمان والوں یعنی مسلمانوں کو دھکے دینے والا نہیں ہوں۔ ( یعنی میں مسلمانوں کو ہر حال میں اپنے ساتھ میں رکھوں گا۔) میں تو صاف طور سے ( اللہ کے غضب اور عذاب سے ) ڈرانےوالا ہوں“ ( سورہ الشعراءآیت نمبر111سے 115تک) اس طرح حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے کافر سرداروں کو صاف صاف جواب دے دیا کہ تم ایمان لاﺅ یا نہ لاﺅ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں تو مسلمانوں کو ہر حال میں ساتھ رکھوں گا۔ 

قوم کے کافر سرداروں کا کڑا جواب

حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے کافر سرداروں کو صاف صاف فرما دیا کہ تم ایمان لاﺅ یا نہ لاﺅ میں تو کسی بھی حال میں مسلمانوں کو اپنے آپ سے دور نہیں کروں گا۔ آپ علیہ السلام کا اتنا صاف جواب سن کر قوم کے سرداروں نے کھل کر آپ علیہ السلام سے دشمنی کرنی شروع کر دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” انہوں نے ( قوم کے کافر سرداروں نے) کہا۔ اے نوح ( علیہ السلام ) اگر تم باز نہیں آئے تو یقینا تمہیں سنگسار کر دیا جائے گا۔ “ ( سورہ الشعراءآیت نمبر116) یعنی اگر آپ علیہ السلام اپنی دعوت دینا بند نہیں کریں گے تو ہم پوری قوم کو حکم دیں گے کہ وہ جہاں آپ علیہ السلام کو پائے تو مارے۔ چاہے وہ کسی بھی چیز سے ہو۔ اور بچوں کو حکم دیں گے کہ وہ پتھر مارے۔ چاہے ان پتھروں سے آپ علیہ السلام کی موت ہی کیوں نہ ہو جائے۔ قوم کے سرداروں نے حضرت نوح علیہ السلام کو صرف دھمکی نہیں دی بلکہ اس پر عمل بھی کیا۔ اور پوری قوم میں اعلان کر وا دیا کہ حضرت نوح علیہ السلام اور مسلمانوں کو اسلام کی دعوت سے روکو۔ اور جس کو جیسے بھی بنے وہ اسی طرح روکے۔ پوری قوم کافر سرداروں ( پنڈتوں ، پجاریوں اور سادھوﺅں ) کے ساتھ تھی۔ صرف حضرت نوح علیہ السلام اور چند غریب مسلمان حق پر ڈٹے ہوئے تھے۔ قوم کے کافر ان پر طرح طرح کے ظلم کرتے تھے۔ اور یہی کوشش کرتے تھے کہ مسلمان اسلام کو چھوڑ دیں یا پھر حضرت نوح علیہ السلام اپنی دعوت سے باز آجائیں۔ لیکن ان کے ظلم و ستم سہنے کے بعد بھی مسلمان حق پر ڈٹے ہوئے تھے۔ اور اسلام پر مضبوطی سے جمے ہوئے تھے۔ 

حضرت نوح علیہ السلام اور مسلمانوں پر ظلم و ستم

حضرت نوح علیہ السلام اور مسلمانوں کی دشمن پوری قوم ہو گئی تھی۔ کافروں کے سرداروں نے قوم سے کہا۔ جو حضرت نوح علیہ السلام کو جتنا ستائے گا وہ اتنے زیادہ انعام کا مستحق ہوگا۔ اس طرح مذہبی علماءیعنی پنڈتوں، پجاریوں ، سادھوﺅں اور حکمرانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی ہر طرح کا ظلم و ستم کرنے لگے۔ اس کے باوجود آپ علیہ السلام استقامت سے ڈٹے ہوئے تھے۔ اور کافروں کو اسلام کی دعوت دیتے رہتے تھے۔ کافر آپ علیہ السلام کو مارتے جاتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام انہیں سمجھاتے جاتے تھے۔ وہ بد بخت نہیں جانتے تھے کہ ان کا کتنا بڑا نقصان ( آخرت) کا ہو رہا تھا۔ جہاں چند لوگ بیٹھے ہوتے اور آپ علیہ السلام وہاں پہنچ کر انہیں سمجھانے لگتے تو وہ لوگ اٹھ کر آپ علیہ السلام کو مارنے لگتے تھے اور ادھ مرا چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ اس کے بعد بھی آپ علیہ السلام انہیں سمجھاتے تھے تو وہ لوگ کانوں پر کپڑا باندھ لیتے تھے۔ تا کہ آپ علیہ السلام کی آواز کانوں میں نہ پڑے۔ راستے میں بچے آپ علیہ السلام کو پتھر مارتے تھے۔ ایک مرتبہ تو قوم کے ایک بہت بڑے مجمع نے آپ علیہ السلام کو اتنا مارا کہ بے ہوش ہو گئے اور سانس اتنی دھیمی ہو گئی کہ وہ لوگ سمجھے کہ آپ علیہ السلام کا ( نعوذ باللہ ) انتقال ہو گیا ۔ اور آپ علیہ السلام کو اونی کپڑے میں لپیٹ کر پھینک دیا۔ 

اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے محبت

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا ظلم و ستم جب حد سے گزر گیا تو آپ علیہ السلام نے اس کی ہلاکت کی دعا کی۔ ایک روایت میں ہے کہ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کی ہلاکت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ تم مٹی کے چند خوب صورت کھلونے بناﺅ۔ وہ اتنے اچھے ہوں کہ مجھے پسند آجائیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کو یہ بات بہت سی عجیب لگی ۔ پھر بھی آپ علیہ السلام نے بڑی محنت سے دل لگا کر چند بہت ہی خوب صورت کھلونے بنائے۔ جب کھلونے مکمل ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انہیں توڑ دو۔ حضرت نوح علیہ السلام کو یہ حکم سن کر حیرت ہوئی لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا اس لئے تمام کھلونوں کو توڑ دیا۔ لیکن انہیں توڑنے میں آپ علیہ السلام کو بہت دکھ اور تکلیف ہوئی۔ اور کھلونے توڑنے کے بعد آپ علیہ السلام بہت اداس ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اداسی کی وجہ دریافت فرمائی۔ ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں) حضرت نوح علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، آپ نے چند خوب صورت کھلونے بنانے کا حکم دیا۔ میں نے بہت دل و جان سے بنائے پھر آپ نے انہیں توڑنے کا حکم دیا ۔ تو میں نے توڑ دیا لیکن انہیں توڑنے میں مجھے بہت دکھ اور تکلیف ہوئی۔ اسی وجہ سے اداس ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے نوح ( علیہ السلام) تمہیں مٹی کے چند کھلونوں سے اتنی محبت ہو گئی تھی تو مجھے اپنے جیتے جاگتے بندوں سے کتنی محبت ہو گی۔ تب حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر گڑ گڑا نے لگے اور عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میں تیرے بندوں کے ظلم و ستم کو سہتا رہوں گا اور انہیں آپ کی طرف بلاتا رہوں گا۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام مسلسل اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ 

قوم کے ظلم و ستم پر اُن کے لئے دعا

حضرت نوح علیہ السلام اس کے بعد مسلسل اپنی قوم کو سمجھاتے رہے اور اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ آپ علیہ السلام اپنی قوم سے کہتے اے میری قوم، تم مجھے کتنا بھی ظلم و ستم کا نشانہ بناﺅ۔ میرے ساتھ کتنا بھی برا سلوک کرلو۔ لیکن میں تمہاری بھلائی ہی چاہتا رہوں گا۔ اور تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم اسلام قبول کر لو۔ تم اپنے دل کی بھڑاس نکال لو۔ اور تمہیں میرے ساتھ جو بھی کرنا ہے کر لو۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کو نوح ( علیہ السلام ) کا قصہ پڑھ کر سنائیں۔ جب انھوں نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم، اگر تم کو میر ا رہنا اور اللہ کے احکامات کی (یعنی اسلام کی ) نصیحت کرنا بھاری معلوم ہوتا ہے تو میرا بھروسہ تو اللہ تعالیٰ پر ہے۔ تم اپنی تمام تدبیر اپنے ساتھیوں اور اپنے بنائے ہوئے جھوٹے خداﺅں کے ساتھ مل کر پختہ کر لو۔ اور تمہاری تدبیر تمہاری گھٹن کا باعث نہیں ہونی چاہیئے۔ پھرمیرے ساتھ ( جو کرنا چاہتے ہو) کر گزرو۔ اور مجھ کر مہلت نہ دو۔ ( سورہ یونس آیت نمبر71) اور آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھاتے اور جب قوم تکلیف اور اذیت دیتی تو فرماتے۔ اے اللہ تعالیٰ، میری قوم کو معاف فرما دے یہ نہیں جانتی۔ حضرت نوح علیہ السلام اس کے بعد بھی اپنی قوم کو مسلسل سمجھاتے رہے۔ اور اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اس میں برسوں گزر گئے۔ کچھ تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے۔ لیکن اکثریت کافر ہی رہے۔ کافر آپ علیہ السلام سے تنگ آئے۔ اور آپ علیہ السلام سے کہا۔ اے نوح، اگر تم باز نہیں آﺅ گے تو ضرور ہم تمہیں سنگسار کر دیں گے۔ یعنی اے نوح، اگر تم اسلام کی دعوت دینا بند نہیں کرو گے۔ تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ( نعوذ باللہ) ختم کر دیں گے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے ایسا ہی کیا۔ اور آپ علیہ السلام کو مار مار کر بری طرح زخمی کر دیا۔ اور آپ علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ وہ لوگ سمجھے کہ آپ علیہ السلام کا نعوذ باللہ انتقال ہو گیا۔ اور آپ علیہ السلام کو اونی کپڑے میں لپیٹ کر آپ علیہ السلام کے گھر میں پھینک دیا۔ آپ علیہ السلام ہوش میں آگئے اور اسی حالت میں نکل کر پھر اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دینے لگے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کو اتنا مارتی کہ آپ علیہ السلام بے ہوش ہو جاتے تھے۔ پھر جب ہوش میں آتے اور کچھ افاقہ ہو تا تو اس طرح دعا کرتے تھے۔ اے اللہ تعالیٰ، میری قوم کو ہدایت فرما۔ کیوں کہ وہ نہیں جانتے۔ ( تفسیر در المنشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں  

حضرت نوح علیہ السلام 2 Story of Nooh AS


 2  حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 2

حضرت نوح علیہ السلام کا اعلان ِ نبوت

اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو اس وقت مبعوث فرمایا جب اُن کی قوم میں بت پرستی اور شرک عام ہو گیا تھا۔ اور انسان ضلالت اور گمراہی کی وادیوں میں بھٹکنے لگا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو بھول چکا تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کے متعلق عجیب و غریب نظریات رائج ہو چکے تھے۔ ہر طرف کفر و شرک ، ظلم اور زبردستی کا دور دورہ تھا۔ انسان اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہے تھے۔ ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا۔ اور نوح علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر بھیجا آپ علیہ السلام اہل زمین کے پاس تشریف لانے والے پہلے رسول ہیں ۔ اسی لئے قیامت کے دن آپ علیہ السلام کو لوگ ” اول الرسل “کہہ کر شفاعت کی درخواست کریں گے۔ نوح علیہ السلام جس قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے انہیں بنو راست کہا جاتا تھا۔ آپ علیہ السلام کی بعثت کے وقت کی عمر کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی عمر مبارک پچاس سال تھی۔ ایک اور روایت کے مطابق آپ علیہ السلام کی عمر مبارک تین سو پچاس 350سال تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ علیہ السلام کی عمر مبارک چار سو اسی 480سال تھی۔ ( تاریخ امم والملوک المعروف تاریخ طبری ، علامہ محمد بن جریر طبری ، البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر ، علامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر)ایسے وقت میں جب انسانوں کی اکثریت کافر ہو گئی تھی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ ان کی قوم بہت بری طرح شرک میں مبتلا ہو گئی تھی۔ لگ بھگ پچاس 50سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت عطا فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام اپنی قوم کو سمجھانے لگے۔ اور اسلام کی دعوت دینے لگے۔ یہاں ہم آپ کو ایک بات بتاتے چلیں کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اسلام کی دعوت دی ۔ ہر نبی اور ہر رسول نے یہی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کروا للہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام مخصوص قوم کے لئے اور مخصوص وقت کے لئے اور مخصوص علاقے کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے۔ صرف ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے انسانوں اور جناتوں کے لئے اور قیامت تک کے لئے آئے ہیں۔ 

قوم کو اسلام کی دعوت

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو اپنا رسول بنا کر ان کی قوم کی طرف بھیجا ۔ بعثت کے معنی ہیں بھیجنا ۔ اور ارسال کے معنی بھی ہیں بھیجنا ۔ ان میں فرق یوں ہے کہ مطلقاً بھیجنا بعثت ہے۔ اور کچھ دے کر بھیجنا ارسال ہے۔ ( تفیسر نعیمی مفتی احمد یار خان نعیمی پارہ نمبر8) اس لئے اللہ تعالیٰ جسے کتاب اور شریعت دے کر بھیجتے ہیں وہ رسول اور نبی دونوں ہوتے ہیں۔ اور جنہیں رسو ل کی شریعت اور کتاب کی تعلیم دینے کے لئے بھیجتے ہیں ۔ وہ نبی ہوتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا۔ اے میری قوم ، میں تمہارے لئے ظاہر طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ( یعنی اللہ کا رسول ) ہوں ۔ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ میری بات مانو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور اگر تم لوگ نہیں مانتے تو اللہ کا عذاب جب آتا ہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا ہے۔ کاش تم لوگ یہ جانتے ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اور میں تم سے اس کا کوئی بدلہ نہیں چاہتا۔ میرا بدلہ تو وہی دے گا جو سارے جہان کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ہم نے حضرت نوح علیہ السلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انھوں نے فرمایا۔ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا کوئی تمہار ا معبود ہونے کے لائق نہیں ہے۔ اور مجھ کو تمہارے لئے ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ “ ( سورہ اعراف آیت نمبر59) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” یقینا ہم نے نوح (علیہ السلام )کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ ( اور انھوں نے فرمایا) میں تمہیں صاف صاف ہوشیار کردینے والا ہوں۔ کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو۔ مجھے تو تم پر درد ناک دن کے عذاب کا خو ف ہے۔ “ ( سورہ ھود آیت نمبر25اور 26) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے فرمایا۔ ترجمہ ” یقینا ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ اس نے کہا ۔ اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی عبادت کرو۔ اور اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے۔ کیا تم لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے۔ “ ( سورہ المومنون آیت نمبر23) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں آگے ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” بے شک ہم نے نوح ( علیہ السلام ) کو ان کی قوم کی بھیجا کہ اپنی قوم کو ( اللہ کے عذاب سے ) ڈرا دو۔ ( اور خبردار کر دو) ۔ اس سے پہلے کہ ان کے پاس درد ناک عذاب آجائے۔ (حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا) اے میری قوم، میں تمیں صاف صاف ڈرانے والا ہوں۔ تم اللہ کی عبادت کرو۔ اور اسی سے ڈرو۔ اور میرا کہنا مانو۔ تو وہ تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ کا وعدہ ( عذاب) جب آجاتا ہے تو ٹلتا نہیں ہے۔ کاش کہ تمہیں سمجھ ہوتی۔“(سورہ نوح آیت نمبر1سے 4تک) 

اللہ تعالیٰ کی گواہی 

ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے خود گواہی دی کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی ہے۔ اور ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ جب قیامت کے دن میدانِ حشر میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم یہ کہے گی کہ انہوں نے ہمیں اسلام کی دعوت نہیں دی تھی۔ تب ہمیں اُن کی طرف سے گواہی دینا ہوگی کہ انھوں نے اپنی قوم کو پورا پورا اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ خیر آپ علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو قوم نے صاف انکار کر دیا۔ اور ان میں سب سے آگے وہی طبقہ تھا جس نے قوم کو گمراہی میں مبتلا کیا تھا۔ وہ طبقہ قوم کے علماءو فقہا ( جیسے ہمارے ہندوستان میں مندروںکے پجاری ، پنڈت اور سادھو ہیں جو اپنے آپ کو برہمن کہلواتے ہیں) کا تھا۔ ان کے ہاتھ میں قوم کی باگ ڈور تھی۔ اسی بارے میں مولانا مودودی لکھتے ہیں۔ اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ یہ قوم نہ تو اللہ تعالیٰ کے وجود کی منکر تھی اور نہ ہی اس سے ( اللہ سے ) ناواقف تھی۔ نہ اسے اللہ کی عبادت سے انکار تھا۔ بلکہ اصل گمراہی جس میں وہ قوم مبتلا ہو گئی تھی (وہ) شرک کی گمراہی تھی۔ یعنی اس نے اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو خدائی میں شریک اور عبادت کے استحقاق میں حصہ دار قرار دے دیا تھا۔ پھر اس بنیادی گمراہی سے بے شمار خرابیاں اس قوم میں پیدا ہو گئی تھیں۔ جو خود ساختہ معبود ( بت اور تصویریں ) خدائی میں شریک ٹھہرالئے گئے تھے۔ ان کی نمائندگی کے لئے قوم میں ایک خاص طبقہ ( پنڈتوں، پجاریوں ، سادھوﺅں اور سنتوں کا ) پیدا ہو گیا تھا۔ جو تمام مذہبی سیاسی اور معاشی اقتدار کا مالک بن بیٹھا تھا۔ اور اس نے انسانوں میں اونچ نیچ کی تقسیم پیدا کر دی تھی۔ اور اجتماعی زندگی کو ظلم و فساد سے بھر دیا تھا۔ اور اخلاقی فسق و فجور سے انسانیت کی جڑیں کھوکھلی کر دی تھی۔ 

قوم کا جواب

حضرت نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو اس کی سب سے شدید ضرب اسی طبقے پر پڑی ۔ جس کے قبضے میں پوری قوم کی باگ ڈور تھی۔ حالت یہ تھی کہ من گھڑت خداﺅں کے نمائندے ( جیسے ہمارے ہندوستان میں پنڈت ، پجاری اور سادھو وغیرہ ہیں) جو کہتے تھے۔ اسی پر عوام آنکھ بند کر کے عمل کرتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کے ذمہ داروان بھی ان کو اپنا بڑا مانتے تھے۔ اس طرح مذہب ، سیاست ، معاشرت اور حکومت ہر جگہ یہی طبقہ بڑا بنا ہوا تھا۔ اور یہی لوگ سردار کہلاتے تھے۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت اگر عوام قبول کر لیتی تو اس طبقے کی بڑائی اور سرداری ختم ہو جاتی اور ان کے مندروں کو توڑ دیا جاتا۔ عوام انہیں اپنا بڑا ماننے سے انکار کر دیتی اور حکومت پر سے ان کا کنٹرول ختم ہو جاتا۔ اور اسلامی حکومت قائم ہو جاتی تو اس طبقے کو بھی عام لوگوںکی طرح رہنا پڑتا ۔ یہ سب باتیں اس طبقے کے لوگ سمجھ گئے تھے۔ اس لئے اپنی سرداری اور معزز حیثیت کو برقرا ر رکھنے کے یہی طبقہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا مخالف تھا۔ اس نے خود بھی اسلام قبول نہیں کیا اور عوام کو بھی اسلام قبول کرنے نہیں دیا۔ اور آپ علیہ السلام کی دعوت کو روکنے کی بھر پور کوشش کی۔ چونکہ عوام اس طبقے پر اندھا اعتماد کرتی تھی۔ اسی لئے یہ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے خلاف طرح طرح سے عوام کو بھڑکاتے رہتے تھے۔ اور آپ علیہ السلام کی باتوں اور تعلیم کو سمجھنے نہیں دیتے تھے۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اُن کی ( حضرت نوح علیہ السلام کی ) قوم کے بڑے لوگوں ( سرداروں) نے کہا۔ کہ ہم تو تمہیں صاف غلطی اور گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا۔ اے میری قوم، مجھ میں ذرا بھی گمراہی نہیں ہے۔ بلکہ میں تو پرور دگار عالم ( اللہ تعالیٰ ) کا رسول ہوں۔ تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں۔ اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں۔ ( یعنی تمہاری بھلائی چاہتا ہوں) اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کاموں کی خبر رکھتا ہوں۔ جن کو تم کو خبر نہیں ہے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر60سے 62تک) 

کافر سرداروں نے عوام کو بھڑکایا 

اللہ تعالیٰ نے آگے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” ان کی ( حضرت نوح علیہ السلام کی) قوم کے کافروں کے سرداروں نے صاف کہہ دیا کہ یہ تو تم جیسا ہی انسان ہے۔ یہ تم پر فضیلت اور بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ ہی کو ( رسول بھیجنا) منظور ہوتا تو کسی فرشتے کو اتار دیتے۔ ہم نے تو اسے ( اسلام کی دعوت کو) اپنے باپ دادوں کے زمانے میں سنا ہی نہیں ہے۔ “ ( سورہ المومنون آیت نمبر24) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا۔ ترجمہ ” اور ان لوگوں ( حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے کافر سرداروں نے ) نے بڑا سخت فریب کیا۔ اور انہوں نے کہا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ ہی ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو چھوڑنا۔ “ ( سورہ نوح آیت نمبر23) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کس طرح حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے سرداروں ( پنڈتوں ، پجاریوں اور سادھو سنتوں) نے عوام کو بھڑکایا۔ کبھی کہتے تھے کہ ( نعوذ باللہ ) آپ علیہ السلام گمراہ ہیں۔ بھٹک گئے ہیں اور ہم جو بتوں کی پوجا کرنے کو کہتے ہیں وہی حق ہے۔ کیوں کہ ہم سب اپنے باپ دادا کو انہی بتوں کی پوجا کرتے دیکھتے آرہے ہیں۔ اور حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کا ذکر تو ہم نے سنا ہی نہیں ہے۔ اور تم ان کی دعوت قبول کر کے ان کے بہکاوے میں مت آنا اور بتوں کی پوجا کو نہیں چھوڑنا۔ علامہ ابن کثیر سورہ الاعراف آیت نمبر61اور 62کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بڑے بڑے رئیس ( یعنی پنڈتوں ، پجاریوں، ساھوﺅں اور راجے مہاراجے ) کہنے لگے کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) گمراہی پر ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کم عقلو، عقل کے ناخن لو، میں گمراہ نہیں ہوں بلکہ تمہارے رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوارسول ہوں۔ میں تمہیں اس اللہ کی عبادت کی دعوت دے رہا ہوں جو بے بس نہیں ہے۔ بلکہ قادر مطلق ہے۔ جب کسی چیز کو کہتا ہے ہو جاتو ہو جاتی ہے۔ تم مجھے بے راہ رو کہتے ہو۔ اور میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ اور تمہیں نصیحت کر رہا ہوں۔ تم مجھے اس لئے گمراہ کہہ رہے ہو کہ تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں۔ 

حضرت نوح علیہ السلام مسلسل سمجھاتے رہے

جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بُت پرستی سے منع فرمایا۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو ان کی قوم نے سمجھا کہ آپ علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) دنیاوی حکومت اور سرداری چاہتے ہیں۔ تو حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ میں تو صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہوں۔ اور چاہتا ہوں کہ تمام لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اور اس کا میں تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا۔ کہ اس کے بدلے میں آپ لوگ مجھے کچھ دیں۔ بلکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ ثواب کے طور پر عطا فرمائے گا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم بت پرستی میں اتنی زیادہ مبتلا ہو چکی تھی اور گمراہ ہو گئی تھی کہ اس قوم کے سرداروں نے آپ علیہ السلام سے کہا۔ ہم تو تمہیں کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں۔ اس پر حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میری قوم مجھ میں گمراہی نہیں ہے۔ میں تو اللہ تعالیٰ کا کا رسول ہوں اور تمہیں اللہ تعالیٰ کے پیغامات پہنچاتا ہوں۔ اور تمہارا بھلا چاہتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم عطا فرمایاجو تم نہیں جانتے۔ آپ جانتے ہیں اس پر آپ علیہ السلام کی قوم نے کیا جواب دیا؟ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے آپ میں کہا کہ ( نعوذ باللہ ) یہ ( حضرت نوح علیہ السلام ) دیوانہ پاگل ہو گیا۔ تو کچھ زمانہ انتظار کرتے ہیں کہ اس کا پاگل پن ختم ہو جائے۔ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے اتنے شدید جواب کے بعد بھی اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ آپ علیہ السلام ہر وقت ہر جگہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے رہے۔ اور طرح طرح کی حکمت سے اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور میں نے کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواﺅ۔ ( اور معافی مانگو) وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان کو خوب برستاہوا چھوڑے گا۔ اور تمہیں خوب پے در پے مال اور اولاد میں ترقی دے گا۔ اور تمہیں باغات دے گا۔ اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی برتری کا عقیدہ نہیں رکھتے ہو۔ حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے ( الگ الگ رنگ اور قد و قامت) پیدا کیاہے۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تلے کس طرح سات آسمان پید ا کر دیئے ہیں۔ اور ان میں چاند کو خوب جگمگا تا بنا یا ہے۔ اور سورج کو روشن چراغ بنایا ہے۔ اور تم کو زمین سے ایک ( خاص اہتمام) سے اگایا ( پیدا کیا ) ہے۔ پھر تمہیں اسی میں لوٹا لے جائے گا۔ اور ( ایک خاص طریقے سے ) پھر نکالے گا۔ اور تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش بنایاہے۔ تاکہ تم اس کی کشادہ راہوں ( راستوں ) پر چلو پھرو۔ “ سورہ نوح آیت نمبر10سے 20تک ) 

 باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں  

حضرت نوح علیہ السلام 1 Story of Nooh AS

 

 1 حضرت نوح علیہ السلام 

تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سلسلہ نمبر4

قسط نمبر 1

حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کا زمانہ 

قارئین کرام ، اس سے پہلے آپ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔اب ہم آپ کو حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں کچھ تفصیل سے بتاتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد حضرت شیث علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا نبی بنایا ۔ حضرت شیث علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل ہوئے۔ ان میں زندگی گزارنے کے اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کے احکامات تھے۔ حضرت شیث علیہ السلام کے زمانے میں تمام لوگ مسلمان تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو اپنا نبی بنایا۔ حضر ت ادریس علیہ السلام نے قلم سے لکھنے کا فن شروع کیا۔ ان دونوں انبیاءعلیہم السلام کے بارے میں زیادہ تفصیل سے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمایا ہے۔ اسی لئے ہم اتنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ ہاں بائیبل ( توریت اور انجیل ) میں تفصیل ملتی ہے۔ لیکن ہم اس پر بھروسہ نہیں کر سکتے کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اس میں بہت سی خرد برد کر دی ہے۔

دنیا میں بُت پرستی کی شروعات

آج بھی دنیا میں اور خاص طور سے ہندوستان میں بت پرستی کی جاتی ہے۔ ہم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں بت پرستی کی شروعات کیسے ہوئی ۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے زمانے میں بھی تمام لوگ مسلمان تھے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بعد بھی کچھ عرصے تک تمام لوگ مسلمان تھے۔ اس زمانے میں کچھ لوگ بہت زیادہ نیک اور متقی تھے۔ ان تمام ہی نیک لوگ جن کا نام ” ود ، سواع ، یغوث، یعوق اور نسر “ تھا۔ یہ بہت ہی نیک تھے۔ اور لوگ ان سے بہت ہی عقیدت رکھتے تھے۔ جب ود کا انتقال ہوا تو ان سے عقیدت رکھنے والوں کے دلوں میں شیطان ابلیس نے وسوسہ ڈالا کہ وہ لوگ اس کی قبر کی زیارت کریں اور اس کا طواف کریں۔ وہ لوگ ود کی قبر کی زیارت کرنے لگے اور طواف کرنے لگے۔ اس کی شہرت دور دور تک پہنچی تو دور دور سے لوگ آنے لگے۔ یہ دیکھ کر ابلیس انسانی صورت میں آیا اور ان سے کہا۔ کیوں نہ میں ان کی شبیہہ بنادوں اور تم لوگ اسے اپنے اپنے گھروں میں رکھ لو۔ اور اتنی دور زیارت کرنے کی تکلیف سے بچ جاﺅ۔ لوگوں نے کہا ۔ یہ تو اچھی بات ہے۔

پہلا بُت ابلیس شیطان نے بنایا

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور انہوں نے ( حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے) کہا کہ ہرگز اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑنا۔ اور ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو نہیں چھوڑنا۔“ ( سورہ نوح آیت نمبر23) ود مسلمان تھا ۔ اور اپنی قوم میں بہت محبوب تھا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو سر زمین بابُل میں لوگ اس کی قبر کے گرد جمع ہو گئے اور اس کی موت پر اپنے اضطراب اور پریشانی کا اظہار کرنے لگے۔ جب ابلیس شیطان نے ان کی پریشانی اور غم و اندوہ کو دیکھا تو انسانی صورت میں ان کے پاس آیا اور کہا۔ میں اس نیک آدمی سے تمہاری محبت اور عقیدت دیکھ رہا ہوں۔ میں تمہارے لئے یہ کر سکتا ہوں کہ اس کی شکل کا ایک مجسمہ بنا وں ۔ جسے تم اپنی مجلسوں میں رکھو اور اس مجسمے کی وجہ سے اس نیک آدمی کو یاد رکھو۔ انھوں نے جواب دیا ۔ ہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ ابلیس نے ود کی شکل کا مجسمہ بنا دیا۔ انہوں نے اپنی مجلسوں میں اسے رکھا اور اس کا ذکر کرنے لگے۔ مجلس میں جب بہت زیادہ لوگ جمع ہونے لگے تو بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی مجسمے کی زیارت نہیں کر پاتا تھا۔ اور وہ اپنی محرومی کی شکایت کرتا تھا۔ یہ دیکھ کر ابلیس شیطان نے ان سے کہا۔ تم کہو تو میں تم میں سے ہر آدمی کے لئے ایک مجسمہ ( بُت ) بنا دوں۔ جسے تم سب اپنے اپنے گھر میں رکھ لو اور جب چاہو اس کی زیارت کر لو اور اسے یاد کرلو۔ لوگوں نے کہا ۔ ہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ تو ابلیس شیطان نے ہر گھر والے کے لئے ود کی شکل کا مجسمہ بنا دیا۔ جسے سب نے اپنے اپنے گھروں میں رکھ لیا۔ اور روزانہ اس کی زیارت کرنے لگے۔ اور اس سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرنے لگے۔ ان کے بیٹے بچپن سے اس مجسمے سے اپنے والدین کی محبت اور عقیدت دیکھتے رہے۔ اس لئے بڑے ہو کر انہوں نے اور زیادہ عقیدت ان بُتوں ( مجسموں) سے وابستہ کر لی۔ اور ان کی اولاد اپنے والدین سے بھی آگے بڑھ کر ان کی پوجا کرنے لگی۔ پس زمین پر سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ جس کی عبادت کی گئی وہ بُت اور مجسمہ تھا ۔جس کا نام انہوں نے ایک نیک شخص کے نام پر ’ ود‘ رکھا تھا۔ 

ابلیس شیطان نے سب سے پہلی تصویر بھی بنائی

حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں میں سے پانچ بیٹے بہت ہی عبادت گزار تھے۔ پھر ان میں سے ایک کا انتقال ہو گیا لوگ اس پر شدید غم زدہ ہوئے۔ ابلیس شیطان انسانی شکل بنا کر ان کے پاس آیا اورکہا۔ کیا تم اپنے اس ساتھی پر غمزدہ ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں اس کے بچھڑنے کا شدید غم ہے۔ اس نے کہا۔ اگر تم چاہو تو تمہاری مسجد کے قبلہ رخ پر اس شخص کی تصویر بنا دوں اور جب تم اس تصویر کو دیکھو گے تو اس نیک آدمی کو یاد کر لیا کرو گے۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ تم ہمارے قبلہ رخ پر اس کی تصویر بناﺅ۔ تو ابلیس شیطان نے کہا۔ میں اسے مسجد کے پچھلے حصے کی دیوار پر بنا دوں گا۔ انہوں نے کہا ۔یہ ٹھیک ہے۔ اور اس نے ان کے لئے اس نیک آدمی کی تصویر بنادی۔ یہاں تک کہ ایک ایک کر کے ان پانچوں کا انتقال ہو گیا اور ابلیس شیطان نے مسجد کے پچھلے حصے پر ان پانچوں کی تصویریں بنا دیں۔ پھر اس نے کچھ ایسی چیزیں ظاہر کیں کہ لوگوں نے اللہ کی عبادت چھوڑ دی۔ اور ان کی عبادت کرنے لگے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو مبعو ث فرمایا۔ ( تفسیر دُر منشور جلد نمبر6جلال الدین سیوطی، تفسیر ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی زمانہ میں نیک لوگوں کی ایک جماعت تھی۔ پھر ان کے بعد جو نسل آئی وہ اسی طرح کرنے لگی جیسے وہ ( نیک لوگ) عبادت کرتے تھے۔ تو ابلیس شیطان نے کہا۔ اگر تم ان کی تصویریں بنا لو تو تم ان کو دیکھ کر ان کے جیسے نیک اعمال کرتے رہو گے۔ انہوں نے تصویریں بنا لیں ۔ پھر وہ مر گئے۔ اور کئی نسلیں گزرنے کے بعد جب نئی نسل آئی تو ابلیس نے ان سے کہا۔ بے شک، تم سے پہلے جو لوگ تھے وہ ان کی عبادت کرتے تھے۔ اس طرح وہ لوگ اُن کی عبادت کرنے لگے۔ 

بُت بنانا اور بیچنا ایک منافع بخش کاروبار 

اللہ تعالیٰ سے ابلیس شیطان نے قیامت تک کی مہلت مانگی تھی اور قیامت تک انسان کو بہکانے اور دوزخ کی طرف لے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اور وہ تب سے ابھی تک مسلسل اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ ابلیس شیطان نے ود کی شکل کا ہو بہو بت بنادیا تھا۔ اب لوگ بھی اس بت کو دیکھ کر بت بنانے لگے۔ اسی طرح سواع، یغوث ، یعوق اور نسر کے انتقال کے بعد بھی ان کی تصویریں اور بت بنابنا کر اپنے اپنے گھروں میں رکھ لیا۔ اور زیارت کرنے لگے۔ یہ لوگ ان بتوں اور تصویروں کی پوجا نہیں کرتے تھے۔ بلکہ صرف عقیدت اور محبت کرتے تھے۔ ان کی اولاد نے اپنے الدین کی اتنی عقیدت اور محبت دیکھی تو اور زیادہ عقیدت اور محبت سے ان بتوں اور تصویروں کو ماننے لگے۔ جب ان کی اولاد یعنی نئی نسل جوان ہوئی اور ان کی عقیدت میں اور زیادہ اضافہ ہوا تو ابلیس شیطان ان کے پاس انسانی شکل میں آیا اور انہیں بتایا کہ یہ نیک لوگوں کے بُت آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ اس طرح لوگ ان بتوں سے مانگنے لگے۔ اور ان کی پوجا کرنے لگے۔ انسانوں میں سے کثیر تعداد دولت کی لالچی ہوتی ہے۔ اس وقت کے دولت کے لالچی لوگوں کے اندر ابلیس شیطان نے وسوسہ پیدا کیا کہ بت بنانا اور بیچنا ایک منافع بخش کاروبار ہو سکتا ہے۔ ان لوگوں نے علماء( پنڈتوں ) سے مل کر عوام کو اس طرف راغب کیا۔ اور پوری قوم میں ہر علاقے میں مندروں کو بنایا گیا اور اس میں ان پانچوں کے بڑے بڑے بت بنا کر رکھے گئے۔ مندروں اور بتوں کے لئے عوام سے ہی چندے لئے گئے۔ اس طرح بت بنانے والوں اور پنڈتوں اور مندر کی پجاریوں کے ہاتھ میں عوام کی باگ ڈور اور دولت آگئی۔ حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کی سب سے شدید ضرب انہیں لوگوں پر پڑ رہی تھی۔ اسی لئے یہ لوگ آخر تک سب سے شدید مخالف رہے۔ 

حضرت آدم اور حضرت نوح علیہم السلام کے درمیان کا وقت

حضرت نوح علیہ السلام دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کے کتنے سال بعد پیدا ہوئے ؟ ا س بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس قرنوں کا فاصلہ ہے۔ ( صحیح ابن حبان حافظ امام ابو حاتم بن حبان ) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، کیا حضرت نوح علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں۔ آپ علیہ السلام نبی تھے۔ اور اللہ تعالیٰ سے کلام کرتے تھے۔ اس شخص نے دوبارہ عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دس قرن کا ( قصص الانبیاءعلامہ ابو الفداءعماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان دس قرنوں کا فاصلہ ہے۔ اور اس درمیان جتنے لوگ پیدا ہوئے وہ تمام اسلام پر تھے۔ (صحیح بخاری امام محمد بن اسماعیل بخاری) علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں ۔ بعض مقتدین کی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی وقفہ میں دس نسلیں گزری ہیں۔ اور وہ سب کی سب حق پر تھیں۔ دنیا میں کفر اور شرک حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے شروع ہوا تھا۔ اور سب سے پہلے جو نبی اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور توحید کی طرف بلانے کے لئے مبعوث کئے گئے وہ حضرت نوح علیہ السلام ہیں۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے ایک سو چھبیس 126سال بعد حضرت نوح علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ( تاریخ طبری) اہل کتاب کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام ایک سو چھیالیس146سال بعد پیدا ہوئے۔ ( البدایہ والنہایہ المعروف تاریخ ابن کثیر علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک قرن سے مراد سو100سال ہیں۔ (صحیح بخاری) علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ اگر قرن سے مراد انسان کا ایک زمانہ یا نسل یا قوم لی جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ترجمہ ” پھر ہم نے پیدا فرمایا اُن کے بعد ایک قوم یا جماعت“(سورہ المومنون) ترجمہ ۔ اور ان کثیرا لتعداد قوموں کو جو ان کے درمیان گزریں۔“ ( سورہ فرقان) ترجمہ ” کتنی قومیں ان سے پہلے تھیں جن کو ہم نے برباد کر دیا۔ ( سورہ مریم) ان تمام آیات طیبات میں قرن سے مراد قوم ، گروہ یا جماعت ہے وقت نہیں ہے۔ اسی طرح اس حدیث مبارک میں بھی قرن سے مراد جماعت لیا گیا ہے۔ ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ خیر القرون قرنی۔ ترجمہ ۔ بہترین جماعت میری جماعت ( صحابہ کرام) ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان ہزار وں سال ہیں۔ 

حضرت نوح علیہ السلام کا شجرہ نسب

حضرت نوح علیہ السلام کا سلسلہ¿ نسب اس طرح ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام بن لمک( لامک) بن متو شلخ بن خنوخ ( انہیں حضرت ادریس علیہ السلام کہا جاتا ہے) بن یرد بن مہابیل بن قنسین بن انوش بن حضرت شیث علیہ السلام بن حضرت آدم علیہ السلام۔ اہل توریت کے مطابق متو شلخ کی پیدائش اخنوخ ( حضرت ادریس علیہ السلام ) کے گھر میں اس وقت ہوئی جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر چھ سو ستاسی687 سال تھی۔ بڑے ہونے پر اخنوخ نے متوشلخ کو اوامراللہ ( اللہ کے احکامات) پر اپنا نائب بنایا۔ او را سے اور اس کے گھر والوں کو بہت سی نصیحتیں کیں۔ اخنوخ یعنی حضرت ادریس علیہ السلام کی وفات تین سو پینسٹھ365سال کی عمر میں ہوئی۔ محمد بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ متوشلخ بن اخنوخ نے ایک سو پینتیس135سال کی عمر میں عربا بنت انوشیل سے نکاح کیا۔ عربا سے ایک لڑکا لمک یا لامک بن متو شلخ پیدا ہوا۔ پھر لمک نے ایک سو ستاسی 187برس کی عمر میں تنوس بنت براکیل سے نکاح کیا۔ اور تنو س ہی حضرت نوح علیہ السلام کی والدہ محترمہ ہیں۔ حضرت نوح علیہ السلام کی پیدائش کے بعد ان کے والد محترم لمک پانچ سو پچانوے595سال زندہ رہے۔ آخر کار سات سو اسی 780سال کی عمر میں لمک کا انتقال ہوگیا۔ پھر پانچ سو 500برس کی عمر میں حضرت نوح علیہ السلام نے عمذرہ بنت براکیل بن محویل سے نکاح کیا۔ عمذرہ ہی سام ، حام اور یافث کی والدہ ہیں۔ 

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی خرابیاں

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بعض محققین نے لکھا ہے کہ وہ اس علاقے میں رہتی تھی جو آج عراق کے نام سے مشہور ہے۔اور اس کی جائے وقوعہ موصل کے نواح میں ہے۔ اور جو روایات کردستان اور آرمینیہ میں زمانہ ¿ قدیم سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نو ح علیہ السلام کی کشتی اسی علاقے میں کسی مقام پر ٹھہری تھی۔ (تفسیر تبیان القران جلد نمبر4علامہ غلام رسول سعیدی) حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیانی وقت میںایک بادشاہ گزرا تھا۔ جس کا نام جمشید یا جم ایشیذ تھا۔ اس نے چھ سو سال تک حکومت کے اور انسانوںکے چار طبقے بنائے۔ پہلا طبقہ فوج کا ( کھتری) بنایا۔ دوسرا طبقہ علماءو فقہا ( جیسے ہمارے ہندوستان میں پنڈت اور برہمن) کا بنایا۔ تیسرا طبقہ منشیوں اور کلرکوں ( ویش) کا بنایا۔ اور چوتھا طبقہ کسان اور دوسرے فنون ( شودر) کا بنایا۔ ( تاریخ اُمم والملوک المعروف تاریخ طبری علامہ محمد بن جریر طبری) اس طرح انسان چار طبقوں میں تقسیم ہو گئے۔ اور دھیرے دھیرے علماءو فقہاءیعنی مندروں کے پجاری پنڈت برہمن باقی طبقوں پر حاوی ہو گئے ۔ کیوں کہ ان کے پاس علم تھا۔ اور وہ بتوں یعنی ان کے بنائے ہوئے خداﺅں سے خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ اس لئے یہ طبقہ دوسرے تینوں طبقوں پر حاوی ہو گیا۔ یہاں تک کہ حکومت ِ وقت یعنی بادشاہوں کو بھی ان کی مرضی کے مطابق حکومت چلانی پڑتی تھی۔ اور جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو اس کی سب سے زبردست ضرب اسی طبقے پر لگی اور سب سے زیادہ نقصان اسی طبقے کا ہونے والا تھا۔ اسی لئے یہ طبقہ آپ علیہ السلام کا سب سے بڑا دشمن بن گیا اور اسلام کا سب سے کٹّر مخالف بن گیا۔ اور چونکہ باقی تینوں طبقے اس کے کنٹرول میں تھے اسی لئے اس طبقے نے انہیں بھی اسلام قبول کرنے نہیں دیا۔ اور جن لوگوں نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا تھا۔ ان پر طرح طرح کی اتنی زیادتیاں کیں کہ باقی قوم کے لوگوں نے کانوں کو ہاتھ لگا لئے اور اسلام قبول کرنے سے انکا ر کر دیا۔

حضرت نوح علیہ السلام کا نام اور عمر

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اے اُن لوگوں کی اولاد، جنہیں ہم نے نوح ( علیہ السلام) کے ساتھ سوار کر دیا تھا۔ وہ ہمارا بڑا شکر گزار بندہ تھا۔ ( سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر3) حضرت نوح علیہ السلام کا اصلی نام شاکر تھا۔ بعض روایات میں سکن آیا ہے اور بعض روایات میں آیا ہے کہ اصلی نام عبدالغفار تھا۔ ( تفسیر معارف القران جلد نمبر3مولانا مفتی محمد شفیع) حضرت نوح علیہ السلام کا نام شریف یا شاکر یا عبدالغفار ہے۔ اور نوح لقب ہے۔ یہ عجمی نام ہے اور بعض علماءنے فرمایا یہ عربی نام ہے۔ نوحہ بمعنی گریہ وزاری (رونا) سے بنا ہے۔ ( تفسیر نعیمی پارہ نمبر8مفتی احمد یا ر خان نعیمی ) حضرت نوح علیہ السلام کا نام یا لقب نوح اس لئے پڑا کہ آپ علیہ السلام نے طویل وقت تک اپنی ذات پر نوحہ کیا۔ آپ علیہ السلام کو السکن ( سکن) اس لئے کہا جاتا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد لوگوں کو آپ علیہ السلام کے پاس آکر سکون ملتا تھا۔ آپ علیہ السلام کو نوح اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر ساڑھے نو سو برس تک نوحہ کیا۔ وہ اس طرح کہ آپ علیہ السلام انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے تھے اور جب وہ انکار کر تے تھے تو آپ علیہ السلام روتے اور ان پر نوحہ کرتے تھے۔ ( تفسیر در منشور جلد نمبر3امام جلال الدین سیوطی) عون بن ابی شذاز کی روایت میں ہے کہ اعلان نبوت کے وقت حضرت نوح علیہ السلام کی عمر ساڑھے تین سو 350سال تھی۔ اور ساڑھے نو سو سال تک لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے رہے اور عذاب الہٰی ( طوفان) کے بعد ساڑھے تین سو350سال زندہ رہے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

بدھ، 5 اپریل، 2023

حضرت ادریس علیہ السلام Story of Idrees AS


حضرت ادریس علیہ السلام

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

حضرت ادریس علیہ السلام کی پیدائش

حضرت شیث علیہ السلام کی اولاد میں حضرت ادریس علیہ السلام ہیں۔جب حضرت شیث علیہ السلام کے بیٹے حضرت انوش کی عمر 40 سال کی ہوئی تو ان کا لڑکا قینان یا قنسین پیدا ہوا۔ قینان یا قنسین کے معنی غالب کے ہیں۔ ان کی بہت زیادہ اولاد ہوئی اور ۹۵۰ سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ اس کے بعد جب قینان یا قنسین کی عمر 70 سال ہوئی تو ان سے ملائیل یا مہابیل پیدا ہوۓ ان کی عمر بھی 74 سال ہوئی۔ ان کے زمانہ میں انسانوں کی آبادی بہت بڑھ گئی تھی اور تمام دنیا میں پھیل گئی تھی۔ملائیل یا مہابیل نے بابل میں جا کر شہر شہوس کی بنیاد رکھی۔ اس سے پہلے لوگ جنگلات یا غاروں میں رہا کرتے تھے۔ پھر جب ملائیل کی عمر 80 سال ہوئی تو ان سے پیازا پیدا ہوۓ۔ اور 193 سال کی عمر میں ان کی منکوحہ سے اخنوخ یعنی حضرت ادریس علیہ السلام پیدا ہوئے 

نبوت سے سرفراز

ان کے زمانے میں چونکہ بت پرستی رائج نہیں ہوئی تھی لیکن چونکہ انسانی آبادی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور نئی نسلوں کے لئے احکامات نافذ کرنا تھے اس لئے اللہ تعالی نے انسانوں کی ہدایت کے لئے حضرت ادریس علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا۔ آپ علیہ السلام اس وقت کے انسانوں کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ آپ علیہ السلام مسلسل انسانوں کی رہنمائی فرماتے رہے۔ آپ علیہ السلام کا نام ادریس اس لئے پڑا کیونکہ آپ علیہ السلام نے سب سے پہلے کتاب کا درس دیا۔مئورخین نے لکھا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام مصر میں پیدا ہوۓ تھے اور ان کا سلسلہ نسب چار واسطوں سے حضرت شیث علیہ السلام سے مل گیا ہے۔ آپ علیہ السلام کا اصل نام اخنوخ تھا۔ لیکن چونکہ آپ علیہ السلام آباؤ اجداد کی شریعت، اور آسمانی کتابوں کا درس، معارف خداوندی اور انبیاء علیہم السلام کی سنت بیان فرمایا کرتے تھے۔ اس لئے آپ کا نام ادریس مشہور ہو گیا۔ حضرت ادریس علیہ السلام کی زبان سریانی تھی۔ آپ علیہ السلام کے زمانے میں دنیا میں کئی زبانیں وجود میں آ چکی تھیں۔ قابیل کی اولاد الگ علاقوں میں آباد تھی۔ ان میں بھی کئی زبانیں وجود میں آ گئی تھیں اور ان سے کبھی کبھی حضرت شیث علیہ السلام کی اولاد کی جنگ ہوتی رہتی تھی۔

حضرت ادریس علیہ السلام کی خصوصیات

اللہ تعالی نے حضرت ادریس علیہ السلام کو دس خصوصیات عطا فرمائی تھیں۔ پہلی یہ کہ آپ علیہ السلام پیغمبر مرسل تھے۔ دوسری یہ کہ آپ پر ۳۰۰ صحیفے نازل ہوئے تھے۔ تیسری یہ کہ آپ نے دنیا میں علم نجوم کو پیش کیا۔ چوتھی یہ کہ دنیا میں سب سے پہلے آپ نے قلم سے خط تحریر فرمایا۔ پانچویں یہ کہ آپ نے کپڑا سینے کی صنعت ایجاد کی۔ چھٹی یہ کہ آپ نے جنگ کے لئے اسلحہ ترتیب دیئے۔ ساتویں یہ کہ جہاد کی سنت جاری کی۔ آٹھویں یہ کہ آپ علیہ السلام نے قابیل کی اولاد (دشمنوں) کو قیدی بنایا۔ نویں یہ کہ آپ علیہ السلام نے سب سے پہلے روئی کا کپڑا زیب تن فرمایا۔ دسویں یہ کہ حضرت شیث علیہ السلام کے بعد قابیل کی اولاد شیطان کے اغوا سے گمراہ ہو گئی تھی۔ اللہ تعالی نے ان کی ہدایت کے لئے نبوت ۔ اور رسالت پر مامور فرمایا تا کہ وہ ان کو دین کی ترغیب دیں اور اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔

حضرت ادریس علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ

روایت ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے اعلان نبوت کے وقت حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت شیث علیہ السلام کی شریعت نئی نسل کے لوگ بھول گئے تھے۔ زمین آسمان کے مالک اللہ تعالیٰ کے وجود کو بھول گئے تھے۔ عبادت کا طریقہ معلوم نہ تھا اور زمین و آسمان اور ستاروں پر غور وفکر کرتے تھے لیکن صحیح رہنمائی نہیں ملتی تھی۔ایک روز حضرت ادریس علیہ السلام نے اپنی قوم کے سات افراد کو منتخب کر کے اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور اللہ کے عذاب سے بچنے کی ترغیب دی۔ ان ساتوں نے حضرت ادریس علیہ السلام کا دین قبول کر لیا۔ تبلیغ و ارشاد کا سلسلہ جاری رہا۔ جب آپ علیہ السلام کے متبعین کی تعداد ہزار کو پہنچ گئی تو آپ علیہ السلام نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے میں سے 100 آدمی منتخب کر لو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

آسمانی کتاب کا نزول 

حضرت ادریس علیہ السلام نے ان 100 میں سے 70 آدمی منتخب کئے اور ان سے کہا۔ میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں اور تم سب آمین کہنا۔ ان سب لوگوں نے زمین پر ہاتھ رکھ لئے۔ دعا کی گئی۔ مگر قبول نہ ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور دعا کی تو قبول ہو گئی۔ اللہ تعالی نے تین صحیفے نازل فرماۓ اور حضرت ادریس علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز عطا فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام 72 زبانوں میں لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے 100 شہر تعمیر کراۓ تھے۔ انہوں نے شہر کے چاروں اطراف اونچی اونچی دیواریں تعمیر کرائیں اور ان میں بڑے بڑے گیٹ بنوائے۔

فرشتوں کی کثرت سے آمد

حضرت ادریس علیہ السلام اپنی شریعت کے مطابق لوگوں کو نماز کی تعلیم دیا کرتے تھے اور ہر مہینہ میں مقررہ دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے اور لوگوں کو زکوۃ ادا کرنے، غسل جنابت غسل حیض و نفاس اور دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ خزیر، گدھے، کتے اور خچر کا گوشت کھانے سے منع فرمایا کرتے تھے۔حضرت ادریس علیہ السلام ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے اور ہر روز 2 ہزار تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی مجلس میں فرشتے بھی حاضر رہتے تھے اور فرشتوں کا اکثر آپ علیہ السلام کے پاس آنا جانا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام اور فرشتوں میں بہت زیادہ قربت ہوگئی۔

آخری رسول ﷺ کی خبر

حضرت ادریس علیہ السلام اپنی امت سے فرمایا کرتے تھے کہ میں کئی بار آسمان پر گیا ہوں اور اسرار الہی سے واقف ہوں۔ آپ علیہ السلام نے اپنی امت کو آنے والے رسولوں کی خصوصی طور سے آخری رسول ﷺ کی خبر دی۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے تمام دنیا کی سیاحت کی ہے۔ آپ علیہ السلام فرشتوں کے ساتھ پوری زمین پر آتے جاتے رہتے تھے۔ چونکہ اس وقت انسان دنیا میں کافی دور دور تک بس گئے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کو ان کی اصلاح اور تبلیغ کے لئے ان کے علاقوں میں جانا پڑتا تھا۔ یہ سفر گھوڑوں اور اونٹوں سے بہت طویل عرصہ لیتا اسی لئے آپ علیہ السلام کو فرشتے لے کر آتے جاتے تھے۔

حضرت ادریس علیہ السلام کا نکاح

حضرت ادریس علیہ السلام نے 75 سال کی عمر میں ایک نیک بخت خاتون سے عقد کیا۔ ان کے پیٹ سے متوشلخ پیدا ہوئے اور نور محمدی ﷺ صلب ادریس علیہ السلام سے منتقل ہو کر متوشلخ میں جلوہ گر ہوا۔ متوشلخ نے 170 سال کی عمر میں شادی کی تو ملک بالائک پیدا ہوۓ اور نور محمدی ان کی صلب میں جلوہ گر ہوا۔ متوشلخ نے 919 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ملک بالائک نے 180 سال کی عمر میں ایک پارسا خاتون سے شادی کی تو ان سے حضرت نوح علیہ السلام دنیا میں جلوہ افروز ہوۓ اور نورہ محمدی آپ علیہ السلام کے صلب میں جلوہ گر ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا تفصیلی ذکر ان شاءاللہ آگے آئے گا۔

حضرت ادریس علیہ السلام کی دعا

روایت ہے کہ ایک روز حضرت ادریس علیہ السلام سیر کر رہے تھے۔ سورج کی تمازت سے پریشان ہو کر آپ علیہ السلام فرمانے لگے۔ اے آفتاب! کئی ہزارمیل کی مسافت پر تیری حرارت کا یہ حال ہے۔ جو فرشتہ تجھے اٹھا رکھتا ہے اس کا تیری حرارت سے کیا حال ہو گا؟ حضرت ادریس علیہ السلام نے دعا کی کہ حامل آفتاب فرشتہ کی گرانی اور گرمی میں تخفیف کر دی جائے۔ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی برکت سے تخفیف عطا فرمائی۔ فرشتہ مذکور نے اللہ تعالی سے عرض کیا۔ یا رب العالمین! کیا سبب ہے آفتاب کی حرارت سے اب مجھے گرمی بہت کم محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا یہ اوریس علیہ السلام کی شفقت کا نتیجہ ہے۔ اس احسان سے متاثر ہو کر فرشتہ مذکور کے دل میں اوریس علیہ السلام کی محبت نے غلبہ حاصل کیا۔

حضرت ادریس علیہ السلام کا غور و فکر

 حضرت ادریس علیہ السلام کی شفقت سے متاثر ہو کرآفتاب اٹھانے والے فرشتے نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ مجھے اوریس علیہ السلام کی خدمت میں حاضری کا موقع دیا جاۓ۔ اللہ تعالی نے اجازت فرما دی۔ فرشتہ کی آپ علیہ السلام کی خدمت میں آمد و رفت شروع ہو گئی۔ حضرت وہب بن منبہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے آسمان پر آنے کا سبب یہ تھا کہ وہ عذاب جہنم اور جنت کی راحتوں کے بارے میں ہر وقت غور و فکر میں مصروف رہتے تھے۔ اس سبب سے انہوں نے حق تعالی کی اس قدر عبادت کی۔ تمام روۓ زمین کے صاحب ایمان لوگوں کی عبادت ایک طرف اور ادریس علیہ السلام کی عبادت ایک طرف۔ 

ملک الموت سے ملاقات 

حضرت عزرائیل علیہ السلام کو آپ سے ملاقات کا اشتیاق ہوا۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام انسانی صورت شکل میں تین دن تک حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس آکر رہے مگر ان کے ساتھ کھانے پینے میں شرکت نہ کی۔ حضرت ادریس علیہ السلام حیران تھے۔ یہ مہمان عجیب ہے۔ کھاتا پیتا نہیں انسان تو معلوم نہیں ہوتا جن ہو گا۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے آخر دریافت کیا۔ تم کون ہو ؟ اور کیوں کھاتے پیتے نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا میں عزرائیل ہوں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے پوچھا کیا میری روح قبض کرنے آئے ہو ؟ تو عرزائیل علیہ السلام نے جواب دیا نہیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا مجھے موت کا شربت پلا دو۔ عزرائیل علیہ السلام نے ان کی روح قبض کر لی اور پھر واپس لوٹا دی۔

جہنم پر سے گزرنا

اس کے بعد عزرائیل علیہ السلام نے پوچھا اس بات سے آپ کا کیا مقصد تھا ؟ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا: وہ میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا۔ اب میری آرزو یہ ہے کہ اپنی آنکھوں سے جہنم اور جنت کو دیکھوں۔ تو اللہ تعالی کے حکم سے ملک الموت ان کو اٹھا کر آسمان پر لے گئے۔ سب سے پہلے جہنم کے دروازہ پر پہنچ کر کہا آپ علیہ السلام جہنم کے داروغہ سے فرمائیے تمام دروازے کھول ڈالے۔ جہنم کے داروغہ نے جونہی دروازے کھولے وہاں کا حال دیکھ کر حضرت ادریس علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ ملک الموت نے آپ کو اپنی گود میں اٹھا لیا۔ ہوش آیا تو کہنے لگے۔ اے اللہ! تمهاری درخواست پر یہ معاملہ پیش آیا۔ 

جنت کی سیر

حضرت ادریس علیہ السلام نے کہا اچھا اب مجھے جنت کی سیر کرا دو تا کہ اس تکلیف کا بدل ہو جائے۔ ملک الموت آپ کو جنت کے دروازے پر لے گیا۔ دروازہ کھلوایا اور کچھ دیر باغات حور و غلمان اور جنت و آرام کے سامان کا معائنہ کیا۔ ملک الموت نے کہا اچھا اب واپس چلو تمہیں تمہارے مقام پر واپس پہنچا دوں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ ملک الموت ان کو جنت سے باہر آنے پر اصرار کر رہے تھے اور وہ برابر انکار کئے جا رہے تھے۔ اللہ تعالی نے اس قضیہ کا تصفیہ کرنے کے لئے ایک فرشتے کو بھیجا۔ فرشتے نے حضرت ادریس علیہ السلام سے کہا کیا بات ہے۔ تمہارا کس بات پر تنازعہ ہے ؟

مکانً علیا میں

حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالی کا قول ہے کہ "هر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا پڑے گا " سو میں موت کا ذائقہ چکھ چکا ہوں۔ اور اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے کہ ہر ایک تم میں سے ضرور جہنم کے اوپر سے گزرے گا۔ چنانچہ میں جہنم میں بھی ہو آیا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد جنتی جنت سے نہ نکالے جائیں گے۔ تو اب میں اس وقت جنت میں ہوں۔ اللہ کے حکم کے مطابق اب مجھے جنت سے نکالنے کا حق سواۓ اللہ تعالی کے کسی کو حاصل نہیں۔ معا اللہ تعالی کا خطاب ہوا۔ اے عزرائیل ! اوریس علیہ السلام کو چھوڑ دو وہ میری رضامندی سے میرے حکم سے جنت میں آۓ ہیں۔ ملک الموت خاموش ہو کر چلے آۓ۔

حضرت ادریس علیہ السلام کی عمر

روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے وقت حضرت ادریس علیہ السلام کی عمر 100 سال تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے 200 سال بعد اللہ تعالی نے حضرت ادریس علیہ السلام کو منصب نبوت پر فائز فرمایا۔ 150 سال تک نبوت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ جس وقت آپ آسمان پر تشریف لے گئے اس وقت آپ کی عمر 250 سال تھی۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں بہت سی الگ الگ روایات ہیں۔ ان میں سے سے زیادہ سے زیادہ مستند روایات کا ہم نے انتخاب کیا ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر یہیں مکمل ہوا۔ ان شاءاللہ اگلے ویڈیو سے ہم حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر شروع کریں گے۔

ختم شد 

حضرت شیث علیہ السلام Story of Sheesh AS


حضرت شیث علیہ السلام

تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

حضرت شیث علیہ السلام کی پیدائش

حضرت شیث علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بعد دوسرے نبی ہیں اور حضرت آدمؑ اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بیٹے نیز ہابیل اور قابیل کے بھائی ہیں۔ آپ علیہ السلام ہابیل کے قتل کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے ہدیہ تھے۔ اسی لئے ہبۃ اللہ کے نام سے مشہور ہوئے۔جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ مکرمہ سے واپس آئے اور دیکھا کہ قابیل اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے بھاگ گیا ہے تو آپ علیہ السلام اتنے غمزدہ ہو ئے کہ ایک سو سال تک نہیں مسکرائے۔ ایک سو سال کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو ایک نیک بیٹے کی بشارت اللہ تعالیٰ نے دی۔ اس پر آپ علیہ السلام مسکرائے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت شیث علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین

حضرت شیث علیہ السلام ہی حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین رہے۔ اور تمام انتظامات حضرت شیث علیہ السلام نے سنبھال لئے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال ہونے کے بعد سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اور یہ ہابیل اور قابیل کے واقعہ کے پچاس برس بعد کا واقعہ ہے۔ اہل توریت کہتے ہیں کہ یہ بیٹا تنہا پیدا ہوا۔ اور شیث کے معنی اہل توریت ہبتہ اللہ بتاتے ہیں ۔ اور حضرت شیث علیہ السلام ہابیل کے بدل کے طور پر تھے۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بطن سے شیث نامی لڑکا اور غرورا نامی لڑکی ہوئی۔ اس لڑکے کی پیدائش پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا تھا کہ یہ اللہ کا عطیہ یعنی ہبتہ اللہ ہے جو ہابیل کا بدل ہے۔ 

حضرت آدم علیہ السلام نے تعلیم دی

حضرت شیث علیہ السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کا جا نشین بنایا گیا۔ ان کی پیدائش کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال تھی۔ حضرت شیث علیہ السلام بڑے ہوئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں اپنا جانشین بنایا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت شیث علیہ السلام کو بلایا۔ اور ان سے عہد لیا۔ اور رات دن کی گھڑیاں اور اوقات سکھلائے اور ہر ساعت میں کسی نہ کسی مخلوق کا عبادت کرنا بتلایا۔ یعنی ہر گھڑی کوئی نہ کوئی مخلوق اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت شیث علیہ السلام فرمایا۔ اے میرے بیٹے عنقریب زمین میں طوفان آئے گا۔ اور وہ سات سال ٹھہرے گا۔ اور اُن کو وصیت لکھوائی ۔ پس حضرت شیث علیہ السلام اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کے وصی اور جا نشین ہوئے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے وصال کے بعد ساری حکومت و بادشاہت ان ہی کے لئے ہو گئی۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سو چار سو کتابیں نازل ہوئی ہیں۔ اور حضرت شیت علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل فرمائے۔ 

نبوت سے سرفراز 

جس وقت حضرت شیث علیہ السلام عقل و حکمت سے آراستہ پیراستہ ہو گئے۔ انسان اور جنات کی بڑی بڑی جماعتوں پر تسلط اور اقتدار قائم ہو گیا تو اللہ تعالی نے ان کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت شیث حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت کے تابع تھے۔ اللہ تعالی کی طرف سے ان پر پچاس صحیفے نازل ہوۓ تھے جن میں علوم حکمت، ریاضی، علم ہیئت ہندسہ، حساب ، موسیقی، علوم الہی اور اکسیر و کیمیا گری کی تعلیم تھی۔ آپ علیہ السلام کے وقت میں حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد بہت زیادہ بڑھ چکی تھی اور الگ الگ علاقوں میں آباد ہوگئی تھی۔ ہابیل کے قتل کے بعد قابیل اپنی خوبصورت بہن کو لے کر پہاڑوں کے پیچھے بھاگ گیا تھا۔ وہیں اس کی اولاد رہنے لگی تھی۔

 آسمانی کتاب کا نزول

حضرت شیثؑ علیہ السلام پر اپنے والد محترم حضرت آدمؑ علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کی طرح آسمانی کئی صحیفے نازل ہوئے تھے۔ 50 سے زیادہ صحیفے آپ سے منسوب ہوئی ہیں۔ حضرت شیثؑ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ اور دوسرے تمام علاقوں میں آباد انسانوں کی اصلاح اور تبلیغ کا کام دیا تھا۔ اور آپ اپنی نبوت کے دوران جبرئیل اور دیگر فرشتوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔ بعض گزارشات کے مطابق لکھائی ایجاد کرنے والے پہلے شخص حضرت شیثؑ علیہ السلام ہیں۔ یعنی لکھنا پڑھنا حضرت شیث علیہ السلام کے زمانے میں ہی جاری ہوگیا تھا۔

حضرت شیث علیہ السلام کا نکاح

حضرت شیث علیہ السلام اکثر اوقات ملک شام میں رہا کرتے تھے اور نور محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کا اہتمام فرماتے تھے۔ پھر اللہ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دے کر بھیجا کہ حضرت شیث علیہ السلام سے کہو کہ ایک صاحب جمال اور صاحب الراۓ خاتون سے شادی کرلیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ وہ خاتون جنات عورت تھی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی طرح اللہ تعالی نے اس کو بھی بغیر ماں باپ کے پیدا کیا تھا۔ تاریخی مآخذ میں حضرت شیثؑ علیہ السلام کی اہلیہ کا نام حوریہ لکھا گیا ہے جس سے شادی حضرت آدم کی تجویز پر ہوئی ہے۔ اس شادی کے نتیجے میں چار بیٹے پیدا ہوئے جن میں سب سے بڑے بیٹے حضرت انوش آپ علیہ السلام کے جانشین بنے۔ 

رسول اللہ ﷺ کی بشارت

حضرت شیث علیہ السلام کی زوجہ حوریہ کے حاملہ ہونے کے بعد ہر طرف غیبی آواز میں آنے لگیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نور مبارک ( جو تیرے پیٹ میں امانت ہے ) مبارک ہو۔ نو مہینے کے بعدصاحبزادے حضرت انوش پیدا ہوۓ۔ انوش کے معنی سچے اور صادق کے ہیں حضور سرور عالم ﷺ کا نور مبارک ان کی نورانی پیشانی میں چپکتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے آپ نے ہی چھوہارے کا درخت بویا تھا۔ حضرت شیث علیہ السلام کی 105 سال کی عمر میں حضرت انوش پیدا ہوئے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت انوش کی پیدائش کے وقت حضرت آدم علیہ السلام زندہ تھے۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

نور محمدی ﷺ کی حفاظت کا عہد

حضرت شیث علیہ السلام نے حضرت انوش کو اپنا جانشین بنایا۔ جس وقت حضرت انوش سن بلوغ کو پہنچے اور جوان ہوۓ تو شیث علیہ السلام نے ان کو اپنے پاس بلا کر فرمایا کہ نور محمدی ﷺ کی حفاظت کے لئے مجھ سے عہد و پیمان لیا گیا تھا۔ میں بھی تجھ سے عہد و پیمان لیتا ہوں کہ نور محمدی ﷺ کی حفاظت کرنا۔ حضرت انوش نے اپنے والد ماجد سے نور محمدی ﷺ کی حفاظت کا عہد کیا۔ حضرت شیث علیہ السلام نے حضرت انوش کو اس زمانے کے تمام انسانوں کا سردار بنایا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ حضرت انوش کو نبوت سے بھی سرفراز کیا گیا تھا یا صرف حاکم بنایا گیا تھا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔

حضرت شیث علیہ السلام کا انتقال

حضرت انوش کو ذمہ داری سونپنے کے بعد حضرت شیث علیہ السلام کا انتقال ہوگیا۔ علامہ محمد بن جریر طبری نے آپ علیہ السلام کی عمر 930 لکھی ہے۔ لیکن بعض دوسرے علمائے کرام نے 912 سال عمر ذکر کی ہے۔ بعض نے آپ علیہ السلام کے دفن کی جگہ کو کوہ ابوقبیس میں گنج نامی مشہور غار قرار دیا ہے۔ جہاں حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا مدفن بھی کہا جاتا ہے۔ ملک لبنان کے مشرق میں علاقہ بعلبک میں نبی شیث نامی جگہ پر ایک قبر ہے جسے حضرت شیثؑ علیہ السلام سے منسوب کیا جاتا ہے۔. ملک عراق کے شمال میں موصل میں بھی ایک قبر آپ علیہ السلام کے نام سے منسوب ہے۔ حضرت شیث علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا۔ اب ہم ان شاءاللہ حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر شروع کریں گے۔

ختم شد 

منگل، 4 اپریل، 2023

حضرت آدم علیہ السلام 6 Story of Adam AS 6


سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام

سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام

قسط نمبر 6

حضرت آدم علیہ السلام کی اپنی اولاد کے لئے دعا

حضرت آدم علیہ السلام اپنی زوجہ کے ساتھ ہندوستان آکر رہنے لگے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو زمین پر بھیجا۔ جبرئیل علیہ السلام نے تمام عالم کے جانوروں کو آواز دی کہ اے جانورو۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا خلیفہ بھیجا ہے۔ اس کی اطاعت اور فرماں برداری کرو۔ دریائی جانوروں نے سر اٹھا کر اطاعت ظاہر کی اور خشکی کے جانور حضرت آدم علیہ السلام کے آس پاس جمع ہو گئے۔ آپ علیہ السلام نے اُن پر ہاتھ پھیرا جس جس جانور تک آپ علیہ السلام کا ہاتھ پہنچا وہ انسان سے مانوس ہو گئے اور پالتو بن گئے۔ جس جس جانور تک آپ علیہ السلام کا ہاتھ نہیں پہنچا وہ جنگلی اور وحشی رہ گئے۔ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ، میری اولاد بہت کمزور ہے۔ اور ابلیس شیطان کا فریب بہت سخت ہے۔ اگر تو ان کی مدد نہیں کرے گا تو وہ ابلیس شیطان سے کیسے بچ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے آدم ( علیہ السلام) تمہارے لئے احکامات اور ہیں اور تمہاری اولاد کے لئے اور آسان احکام ہوں گے اور ہم ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ رکھیں گے۔ تب آپ علیہ السلام خوش ہو گئے اور اللہ تعالیٰ کا شکر اد اکیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد

حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا ساتھ میں رہنے لگے۔ ان کے بہت سے بیٹے بیٹیاں ہوئیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو آپ علیہ السلام کی اولاد کثیر ہو گئی اور بڑھ گئی۔ ایک دن آپ علیہ السلام کے بیٹے ، پوتے ،پڑ پوتے وغیرہ سب آپ علیہ السلام کے پاس جمع ہوئے اور آپ علیہ السلام کے ارد گر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ لیکن حضرت آدم علیہ السلام خاموش بیٹھے تھے۔ بالکل بات نہیں کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی اولاد نے کہا۔ کیا وجہ ہے آپ علیہ السلام خاموش کیوں ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے میرے بیٹو، پوتو اور پڑپوتو! اللہ تعالیٰ نے جب مجھے اپنے جوار سے نکال کر زمین کی طرف اتارا تو مجھ سے عہد لیا تھا کہ اے آدم ( علیہ السلام ) کم سے کم بات کرنا۔ یہاں تک کہ تو میرے جوار کی طرف جنت میں لوٹ آئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو آپ علیہ السلام ٹھہرے رہے جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا ۔ پھر بیٹوں نے ان سے کہا۔ اے ہمارے والد محترم کلام فرمائیے۔ تو حضرت آدم علیہ السلام کھڑے ہوئے اور چالیس ہزار 40000کے مجمع کو خطبہ دیا جو سب کے سب آپ علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اے آدم ( علیہ السلام) تو کم باتیں کیاکر حتیٰ کہ تو میرے جوار کی طرف لوٹ آئے۔ 

قابیل کی ضد

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں صرف اس وقت کے لئے بہن بھائی کا نکاح جائز تھا۔ اس کی بھی شرط یہ تھی کہ جس بیٹے کے بعد بیٹی پیدا ہوئی وہ بیٹا اس سے نکاح نہیں کر سکتا تھا۔ بلکہ اس کے بعد جو بیٹا ہوا ہوگا اور جو بیٹی پیدا ہوگی اس سے نکاح ہو سکتا تھا۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف اسی وقت بہن بھائی کے نکاح کو حلال کیا تھا۔ وہ بھی اپنے ساتھ پیدا ہوئی بہن سے نہیں بلکہ جو دوسرے بھائی کے ساتھ پیدا ہوئی اس کے ساتھ نکاح ہو سکتا تھا۔ اس کے بعد بھائی بہن میں نکاح حرام ہو گیا۔ اس ترتیب سے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کا نکاح جس لڑکی سے ہونا تھا وہ عام صورت تھی اور اس کے چھوٹے بھائی ہابیل کا نکاح جس لڑکی سے ہونا تھا وہ بہت خوب صورت تھی۔ اس وقت تک حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بیٹے بیٹیاں ان میں پوتے پوتیاں پڑ پوتے شامل ہو چکے تھے۔ اور حضرت شیت علیہ السلام پیدا نہیں ہوئے تھے۔ قابیل نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا میں عام صورت والی لڑکی سے نہیں بلکہ خوب صورت لڑکی سے نکاح کروں گا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے سمجھایا کہ اس لڑکی کا نکاح ہابیل سے ہوگا۔ لیکن قابیل نہیں مانا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہوتا اس کے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوتی تھی۔ پس وہ پہلے حمل سے پیدا ہونے والے بچوں کا دوسرے حمل سے پیدا ہونے والے بچوں سے نکاح کر دیتے تھے۔ یہاں تک کہ قابیل اور ہابیل پیدا ہوئے۔ قابیل کسان اور ہابیل چرواہا تھا۔ قابیل بڑا تھا اور اس کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن انتہائی حسین و جمیل تھی۔ ہابیل نے قانون کے مطابق قابیل کی بہن سے نکاح کرنا چاہا۔ مگر قابیل نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میرے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی تیرے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی سے زیادہ حسین و جمیل ہے۔ لہٰذا اس سے نکاح کرنے کا میں زیادہ مستحق اپنے آپ کو سمجھتا ہوں۔ ان دونوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام نے بھی قابیل کو حکم دیا کہ وہ قانون شکنی نہ کرے مگر قابیل نے انکار کر دیا۔ 

ہابیل کی قربانی قبول ہو گئی

اللہ تعالیٰ کے قانون اور حضرت آدم علیہ السلام کے حکم کو ماننے سے قابیل نے انکار کر دیا تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اچھا تم دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کرو۔ جس کی قربانی اللہ تعالیٰ قبول کرلیں گے۔ وہی اس لڑکی سے نکاح کرے گا۔ اس وقت قربانی قبول اس طرح سے ہوتی تھی کہ بندہ اپنی قربانی ایک پہاڑی پر رکھ کر ہٹ جاتا تھا اگر اللہ تعالیٰ کو وہ قربانی قبول کرنا ہوتی تھی تو آسمان سے ایک آگ آتی تھی اور اس قربانی کو کھا جاتی تھی ۔ لہٰذا دونوں بھائیوں نے الگ الگ پہاڑی پر اپنی اپنی قربانی رکھیں۔ آسمان سے آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کھا گئی۔ جب کہ قابیل کی قربانی ویسے ہی باقی رہی۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فیصلہ کر دیا کہ اس لڑکی کا نکاح ہابیل سے ہوگا۔ قابیل کو غصہ آگیا۔

قابیل کی دھمکی

اللہ تعالیٰ نے ہابیل اور قابیل کے واقعہ کو قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ ” اور آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم )انہیں آدم ( علیہ السلام ) کے دوبیٹوں کے ٹھیک ٹھیک حالات بیان فرما دیں۔ جب دونوں نے ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) قربانی پیش کی تو ایک کی قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی تو اس نے ( اپنے بھائی سے) کہا ۔ مجھے قسم ہے میں تمہیں قتل کر ڈالوں گا۔ ( جس کی قربانی قبول ہوئی اس نے ) کہا۔ اللہ تعالیٰ صرف پرہیز گاروں کی قربانی قبول فرماتا ہے۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ بڑھائے گا ( تب بھی ) میں تیرے قتل کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاﺅں گا۔ میں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔ میں تو یہی چاہتا ہوں کہ تو میرے اور اپنے دونوں کے گناہوں کا بوجھ اٹھا لے۔ اور دوزخ والوں میں سے ہو جائے۔ پس ظلم کرنے والوں کی یہی سزا ہے۔ ( سورہ المائدہ آیت نمبر27سے 29تک) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب قابیل نے قانون کے خلاف اپنی پسند کی لڑکی سے نکاح کرنے کی ضد کی تو حضرت آدم علیہ السلام نے دونوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی پیش کرنے کا حکم دیا۔ اسی دوران حج کے ایام آگئے تو آپ علیہ السلام حج کے لئے جانے لگے تو آسمانوں سے فرمایاکہ وہ ان کے بیٹوں کی حفاظت کریں لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے زمین اور پہاڑوں سے فرمایا تو انھوں نے بھی انکار کر دیا۔ قابیل نے یہ ذمہ داری قبول کر لی اور آپ علیہ السلام اسے ذمہ دار بنا کر حج کرنے چلے گئے۔ اس کے بعد دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی قربانی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کی ۔ ہابیل نے ایک موٹا تازہ جوان بکرا ایک پہاڑ پر رکھ دیا ۔ کیوں کہ وہ بکریاں چرایا کرتا تھا۔ اور قابیل ردّی اناج ( یعنی بچا کچھا اناج) کا ڈھیر پیش کیا اور دوسرے پہاڑ پر رکھ دیا۔ کیوں کہ وہ کسان تھا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آگ آئی اور ہابیل کی قربانی کو کھا لیا۔ جب کہ قابیل کی قربانی ویسی کی ویسی ہی رکھی رہ گئی۔ قابیل ناراض ہو گیا اور غصے سے کہنے لگا۔ میں تجھے قتل کردوں گا۔ تا کہ تو میری بہن سے شاد ی نہ کر سکے۔ ہابیل بولا ۔ اس میں غصے کی کون سی بات ہے؟ قربانی تو صرف متقیوں کی قبول ہوتی ہے۔ 

دنیا میں سب سے پہلا قتل

اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل کو غصہ آگیا۔ اس نے اپنے بھائی ہابیل کو دھمکی دی کہ میں تجھے قتل کر دوں گا۔ ہابیل نے جواب میں کہا کہ بھائی اگر آپ مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائیں گے تو میں آپ پر ہاتھ نہیں اٹھاﺅں گا۔ آخر کار اس بد بخت قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ یہ اس نے اس وقت کیا جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ مکرمہ حج کے لئے گئے ہوئے تھے۔ ( روایات میں آتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے چالیس حج کئے ہیں) اس دوران موقع پا کر بد بخت قابیل نے یہ کام کر ڈالا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا میں جب جب کوئی کسی کو قتل کرتا ہے ۔ تب تب قاتل کے عذاب میں سے کچھ حصہ قابیل کو دیا جاتا ہے۔ کیوں کہ دنیا میں سب سے پہلا قتل اسی نے کیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس قابیل کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر لیا۔ اور وہ اسے قتل کرنے کے لئے تلاش کرتا رہا۔ ہابیل پہاڑ کی چوٹی پر بکریاں چر اتا تھا۔ پس ایک دن تلاش کرتے کرتے قابیل اس کے پاس جا پہنچا ۔ بکریاں گھاس چر رہی تھیں اور ہابیل سویا ہوا تھا۔ قابیل نے ایک بڑا پتھر اٹھایا اور اس کا سر کچل دیا۔ اور ہابیل کا قتل کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پس اسے اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کر دیا اور اس نے اسے قتل کر ڈالا۔ جس سے وہ نقصان پانے والوں میں سے ہو گیا۔ “ ( سورہ المائدہ آیت نمبر30) حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ اللہ کی قسم مقتول ( ہابیل ) قاتل سے کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ لیکن اللہ کے خوف کی وجہ سے اس نے بھائی پر ہاتھ نہیں اٹھایا ۔ 

دنیا کا پہلا دفن

حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے ان کی غیر موجودگی میں اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ لیکن ہابیل کو قتل کرنے کے بعد قابیل بہت پریشان ہو گیا اور ہابیل کی لاش کندھے پر لٹکائے گھومتا رہا۔ آپ جانتے ہیں؟ قابیل کیوں پریشان ہو گیا تھا۔ اصل وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک کسی کا انتقال نہیں ہوا تھا اور قابیل نے کبھی مردہ نہیں دیکھا تھا۔ اور نہ ہی جانتا تھا کہ مردے کا کیا کرتے ہیں۔ اسی لئے وہ ہابیل کی لاش کندھے پر لٹکائے گھوم رہا تھا۔ اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ لاش کا کیا کرے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا رب ہے۔ ہر کسی کو سنبھالنے والا ہے۔ ہر کسی کی مدد کرنے والا ہے۔ اس دنیا میں چاہے نیک ہو یا برا ہو۔ مسلمان ہو یا کافر ہو۔ سب پر دنیا میں اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے۔ اب چونکہ قابیل برا انسان تھااس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے پاس فرشتہ نہیں بھیجا بلکہ اس کی مشکل کو آسان کر نے کے لئے اس کے سامنے دو کوّے بھیجے۔ قابیل ان کوﺅں کو دیکھنے لگا۔ دونوں کوّے لڑنے لگے۔ ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ اور اس کے بعد زمین کو اپنے پنجوں اور چونچ سے کرید کرید کر کھودنے لگا۔ اور اس طرح دوسرے کوّے کو اس نے دفن کر دیا۔ یہ دیکھ کر قابیل بولا۔ ہائے افسوس ، میں تو اس کوّے سے بھی گیا گذرا ہوں ۔پھر اس نے بھی اپنے بھائی کو زمین کھود کر دفن کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” پھر اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کو بھیجا جو زمین کھودنے لگا تا کہ اسے دکھائے کہ وہ کس طرح اپنے بھائی کی لاش کو دفنا دے۔ وہ کہنے لگا ۔ ہائے افسوس، کیا میں ایسا کرنے سے بھی گیا گزرا ہو گیا ہوں کہ اس کوّے کی طرح اپنے بھائی کی لاش کو دفنا دیتا۔ “ تو (وہ بڑا ہی) پشیمان اور شرمندہ ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کے حج پر سے واپس آنے سے پہلے ہی قابیل وہاں سے بھاگ گیا۔

حضرت شیث علیہ السلام کی پیدائش

جب حضرت آدم علیہ السلام مکہ مکرمہ سے واپس آئے اور دیکھا کہ قابیل اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے بھاگ گیا ہے تو آپ علیہ السلام اتنے غمزدہ ہو ئے کہ ایک سو سال تک نہیں مسکرائے۔ ایک سو سال کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو ایک نیک بیٹے کی بشارت اللہ تعالیٰ نے دی۔ اس پر آپ علیہ السلام مسکرائے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت شیث علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ حضرت شیث علیہ السلام ہی حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین رہے۔ اور تمام انتظامات حضرت شیث علیہ السلام نے سنبھال لئے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال ہونے کے بعد سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اور یہ ہابیل اور قابیل کے واقعہ کے پچاس برس بعد کا واقعہ ہے۔ اہل توریت کہتے ہیں کہ یہ بیٹا تنہا پیدا ہوا۔ اور شیث کے معنی اہل توریت ہبتہ اللہ بتاتے ہیں ۔ اور حضرت شیث علیہ السلام ہابیل کے بدل کے طور پر تھے۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے بطن سے شیث نامی لڑکا اور غرورا نامی لڑکی ہوئی۔ اس لڑکے کی پیدائش پر جبرئیل علیہ السلام نے کہا تھا کہ یہ اللہ کا عطیہ یعنی ہبتہ اللہ ہے جو ہابیل کا بدل ہے۔ اس لفظ کو عربی میں شیرت ، سریانی میں شاث اور عبرانی میں شات کہتے ہیں۔ ان ہی کو حضرت آدم علیہ السلام کا جا نشین بنایا گیا۔ ان کی پیدائش کے وقت حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک سو تیس سال تھی۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کے جانشین 

حضرت شیث علیہ السلام بڑے ہوئے تو حضرت آدم علیہ السلام نے انہیں اپنا جانشین بنایا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت سے سرفراز فرمایا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے حضرت شیث علیہ السلام کو بلایا۔ اور ان سے عہد لیا۔ اور رات دن کی گھڑیاں اور اوقات سکھلائے اور ہر ساعت میں کسی نہ کسی مخلوق کا عبادت کرنا بتلایا۔ یعنی ہر گھڑی کوئی نہ کوئی مخلوق اللہ کی عبادت میں مصروف رہتی ہے۔ اور فرمایا۔ اے میرے بیٹے عنقریب زمین میں طوفان آئے گا۔ اور وہ سات سال ٹھہرے گا۔ اور اُن کو وصیت لکھوائی ۔ پس حضرت شیث علیہ السلام اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کے وصی اور جا نشین ہوئے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے وصال کے بعد ساری حکومت و بادشاہت ان ہی کے لئے ہو گئی۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ میں نے عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سو چار سو کتابیں نازل ہوئی ہیں۔ اور حضرت شیت علیہ السلام پر پچاس صحیفے نازل فرمائے۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کا وصال

اس طرح وقت گزرتا رہا اور پھر حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے فرمایا۔ میں جنت کا پھل کھانا چاہتا ہوں۔ ان کے بیٹے کچھ نہیں سمجھ پائے کہ یہ ہمارے ابا جان کا آخری وقت ہے۔ اور ہمارے ابا جان دنیا سے آخرت کی طرف جانے کا اشارہ کر رہے ہیں۔ انھوں نے تو یہی سمجھا کہ ہمارے ابا جان کے لئے دنیا میں کہیں کے پھل لگے ہوں گے۔ اس لئے وہ جنت کے پھل کی تلاش میں نکل پڑے۔ ایک جگہ فرشتوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کے پاس کفن ، خوشبوئیں ،بیلچے اور ٹوکریں تھیں۔ فرشتوں نے پوچھا ۔ اے آدم کے بیٹو ۔ کیا ارادے ہیں؟ کیا تلاش کر رہے ہو؟ انھوں نے بتایا ۔ ہمارے والد محترم جنت کے پھل کھانا چاہتے ہیں۔ وہ ہم تلاش کر رہے ہیں۔ فرشتوں نے کہا۔ واپس چلو تمہارے والد محترم کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ سب حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں نے دفن کیا ( جو انسانی شکل میں تھے) ایک روایت میں ہے کہ فرشتوں کو دیکھ کر سیدہ حوا رضی اللہ عنہا اور حضرت آدم علیہ السلام پہچان گئے۔ اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کے پیچھے چھپ گئیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ مجھ سے دو ر ہٹ جاﺅ۔ میں تم سے پہلے آیا ہوں ۔ میرے اور میرے رب کے فرشتوں کے درمیان حائل نہ ہو۔ اور فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کر لی۔ اور انہیں غسل دیا ، کفن پہنایا ۔خوشبو لگائی پھر ان کے لئے قبر کھودی اس کے بعد آپ علیہ السلام کی نماز جنازہ چار تکبیر کے ساتھ ادا فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کو قبر میں رکھا اور مٹی برابر کر کے دفن کر دیا۔ اور آپ علیہ السلام کے بیٹوں کو بتایا۔ یہ دفن کرنے کا طریقہ ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال جمعہ کے روز ہوا۔ اور اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر لگ بھگ ایک ہزار سال تھی۔ اس کے ایک برس بعد سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا بھی انتقال ہو گیا ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو کہاں دفن کیا گیا ہے۔ اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ مشہور یہی ہے کہ آپ علیہ السلام کو اسی پہاڑی کے نزدیک دفن کیا گیا جہاں پر ہندوستان میں آپ علیہ السلام کو اتا را گیا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ مکہ مکرمہ کے جبل ابو قبیس کے نزدیک آپ علیہ السلام دفن ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ طوفان نوح کے وقت حضرت نوح علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کے جسم مبارک کو نکال کر تابوت میں رکھا تھا اور انہیں بیت المقدس میں دفن کر دیا ۔

قارئین کرام ، حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر مکمل ہوا ۔ اب انشاءاللہ آپ کی خدمت میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں کچھ تفصیل پیش کریں گے۔ 

( ختم شدہ)

٭........٭........٭

حضرت آدم علیہ السلام 5 Story of Adam AS 5


سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام

سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام

قسط نمبر 5

زمین پر آمد

جب حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے وہ پھل کھا لیا تو دونوں کو انسانی حاجت درپیش ہوئی ۔ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جنت پاک جگہ ہے یہاں تم گندگی نہیں کر سکتے۔ اس لئے اب زمین پر جاﺅ۔ اور وہیں رہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اور ابلیس کو زمین پر اتار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں سورہ البقرہ آیت نمبر36 میں فرمایا۔ ترجمہ ” لیکن شیطان نے ان کو بہکا کر وہاں (جنت) سے نکلوا ہی دیا اور ہم نے کہہ دیا کہ اترجاﺅ، تم ( یعنی انسان اور شیطان ) ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اور ایک مقررہ وقت تک تمہارے لئے زمین پر ٹھہرنا ہے۔ اور فائدہ اٹھانا ہے۔ “ آگے سورہ الاعراف میں فرمایا۔ ترجمہ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اب نیچے ایسی حالت میں اترو کہ تم ( انسان اور شیطان) آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو گے اور تمہارے واسطے زمین میں رہنے کی جگہ ہے۔ اور ایک مخصوص وقت تک نفع حاصل کرنا ہے اور فرمایا تم کو وہاں ہی زندگی بسر کرنا ہے اور وہاں ہی مرنا ہے۔ اور اسی میں سے پھر نکالے ( اٹھائے ) جاﺅ گے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر 24اور 25) سورہ طٰہٰ میں فرمایا۔ ترجمہ ” اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم دونوں یہاں سے اتر جاﺅ۔ تم ( انسان اور شیطان ) آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ اب تمہارے پاس جب کبھی میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو وہ نہ ہی بہکے گا اور نہ تکلیف میں پڑے گا۔“ 

حضرت آدم علیہ السلام کتنا وقت جنت میں رہے

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں جمعہ کے دن عصر بعد روح پھونکی اور آپ علیہ السلام کو زندگی دینے کے بعد جنت میں رکھا۔ ابلیس شیطان نے دونوں کو بہکایا اور جنت سے نکلوا دیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نماز عصر کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک کی ایک ساعت ہی جنت میں رہے۔ حضرت حسن رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ ایک ساعت ایک سو تیس130سال تھی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ ہمارے یہاں کا ایک دن تمہارے یہاں ( یعنی زمین پر کا ) ہزار سال کے برابر ہے۔ اسی سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اور تابعین رحمتہ اللہ علیہم نے اُس ساعت کے سال کا اندازہ لگایا ۔ جب کہ ہزار سال کم سے کم بتایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک دن زمین کے ہزاروں ( اس میں پچاس ہزاور اور ننانوے ہزار بھی آجاتے ہیں ) سال کے برابر ہے۔ اس طرح یہ ساعت کئی سو سال ہو سکتی ہے۔ حضرت سعید بن جُبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام جنت میں ظہر اور عصر کے درمیانی وقت کی مقدار ٹھہرے ۔ حضرت موسیٰ بن عقبہ ( تابعی) فرماتے ہیں حضرت آدم علیہ السلام جنت میں دن کا چوتھائی حصہ ٹھہرے اور یہ دو گھڑیاں اور نصف ہے۔ اور یہ دو سو پچاس 250سال ہیں۔ پھر آپ علیہ السلام جنت سے نکالے جانے پرسو سال روتے رہے۔ 

زمین پر کون کہاں اتارا گیا

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام ،سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو اور ابلیس شیطان کو زمین پر اتار دو ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو اتارا ۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں اتارا۔ ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ہندوستا ن میں اتارا گیا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہوا کے اعتبار سے زمین کا سب سے بہترین حصہ ہندوستان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں آدم علیہ السلام کو اتاراتھا ۔ اور یہاں کے درختوں کو جنت کی ہوا سے تعلق چھوڑا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں سراندیپ کے اس پہاڑ پر اتار ا گیا جس کو نود یا بوز کہتے ہیں۔ یہ خیال رہے کہ پہلے ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا ان سب کو ہندوستان کہا جاتا تھا۔ اور سراندیپ سری لنکا میں ہے۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو جدہ میں اتارا گیا۔ ابلیس شیطان کو بصرہ کے قریب جنگل بیسان میں اتار ا گیا۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کیا کیا لائے

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ہندوستان کی زمین اس لئے ہری بھری ہے اور عود اور قرنفل وغیرہ خوشبوئیں اس لئے وہاں پیدا ہوتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام جب اس زمین پر آئے تو ان کے جسم پر جنت کے پتے تھے۔ اور پتے ہوا سے اڑکر جس درخت پر پہنچے وہ ہمیشہ کے لئے خوشبو دار ہو گیا۔ آپ علیہ السلام جنت سے مختلف قسم کے بیج اور تین قسم کے پھل اور حجر اسود ( جو خانہ کعبہ میں لگا ہوا ہے) اور وہ عصا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملا تھا۔ جس کی لمبائی دس گز تھی۔ اور کچھ کھیتی باڑی وغیرہ کے اوزار بھی ساتھ لائے تھے۔ آپ علیہ السلام زمین پر آنے کے بعداس قدر گریہ وزاری میں مشغول رہے کہ ان چیزوں سے بے خبر ہو گئے۔ ابلیس شیطان نے موقع پا کر اُن کو اپنا ہاتھ لگایا۔ جس جس چیز پر اس کا ہاتھ لگا وہ زہریلا ہو گیا۔ اور جو اس کے ہاتھو ں سے محفوظ رہا اس کا نفع برقرار رہا۔ حضرت آدم علیہ السلام جنت سے تین طرح کے پھل اور میوے لائے تھے۔ ایک وہ جو پورے کھا لئے جاتے ہیں۔ دوسرے وہ جن کا اوپری حصہ کھا لیا جاتا ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔ تیسرے وہ جن کا اوپری چھلکا پھینک دیا جاتا ہے اور اندرونی حصہ کھالیا جاتا ہے اور گٹھلی پھینک دی جاتی ہے۔ تیسرے وہ جن کا اوپری چھلکا پھینک دیا جاتا ہے اور اندرونی حصہ کھا لیا جاتا ہے۔ جب حجر اسود کو جنت سے لایا گیا تھا تو اس کی روشنی کئی میل تک جاتی تھی۔ حضرت ربیع بن انس فرماتے ہیں نویں یا دسویں ساعت میں حضرت آدم علیہ السلام کا اخراج ہوا اُن کے ساتھ جنت کی ایک شاخ تھی اور سر پر جنت کے درخت کا ایک تاج تھا۔ سعدی کا قول ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہندوستان میں اترے آپ علیہ السلام کے ساتھ حجر اسود تھا اور جنتی درخت کے پتے تھے جو ہندوستان میں پھیلا دیئے اور اسی سے خوشبو دار درخت پیدا ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان کے شہر ” دھنا یا دحنا“ میں اتار گیا۔ ایک روایت میں ہے کہ مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان اتار گیا۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ ( تابعی ) فرماتے ہیں ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو ہندوستان میں اتارا گیا۔ اترتے وقت حضرت آدم علیہ السلام کے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر تھے اور سر جھکا ہو اتھا اور ابلیس شیطان اپنی انگلیوں میں انگلیاں ڈالے آسمان کی طرف نظریں جمائے اتر ا تھا۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کا اطمینان قلب

حضرت آدم علیہ السلام نے درخت کا پھل کھانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیارکی اور جنت میں ہی اللہ تعالیٰ نے عافیت عطا فرمائی تھی۔ اسی کی طرف اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا۔ ترجمہ ” حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند باتیں سیکھ لیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ( سورہ ابقر ہ آیت نمبر37) لیکن زمین پر آنے کے بعد بھی آپ علیہ السلام کو اطمینان قلب نصیب نہیں ہوا اور مسلسل ایک بے چینی رہی۔ اب آپ علیہ السلام زمین پر آکر رو رو کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے لگے۔ ایک اچھے انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہر وقت اپنے جانے انجانے نقصان کی معافی مانگتے رہے۔ جیسا کہ زمین پر آنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام معافی مانگتے رہے۔ کافی عرصے بعد انہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام یاد آیا تو حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے صدقے میں مجھے معاف کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے پوچھا ( حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتے ہیں) کہ تمہیں کیسے معلوم کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کوئی ہے؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ جب آپ نے میرے جسم میں روح پھونکی اور میں نے آنکھ کھولی تو میں نے ” عرش معلی “ پر لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ لکھا دیکھا تھا۔ تو میں سمجھ گیا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ضرور کسی بڑی ہستی کا نام ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ اُن کے نام کو لکھا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بے شک وہ میرا حبیب ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بھی پیدا نہیں کرتا۔ اور میرا یہ بندہ تمہاری اولاد میں سے ہوگا۔ یہ تفصیل سن کر حضرت آدم علیہ السلام کے دل مبارک کو سکون نصیب ہوا۔ 

حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی ملاقات

اس کے بعد آپ علیہ السلام سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو ڈھونڈنے لگے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو الگ الگ مقام پر اتار ا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو سری لنکا میں اتار ا تھا۔ سری لنکا کہاں ہے یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ آپ نے ہندوستان کا نقشہ دیکھا ہوگا۔ اس نقشہ کے بالکل نیچے ایک لٹکوّا ہ ایسے دکھائی دیتا ہے وہی سری لنکا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سری لنکا میں سراندیپ کی پہاڑی پر اتارے گئے۔ کہتے ہیں۔ اس پہاڑی پر آج بھی حضرت آدم علیہ السلام کے پیروں کے نشان ہیں۔ اس کی لمبائی لگ بھگ گیارہ فٹ ہے۔ ہمارے پیر کا تلوا پنجہ ( ایک جوان مرد کا ) تقریباً پونہ فٹ کا ہے ۔ اور ہمار قد ساڑھے پانچ فٹ سے لے کر سات فٹ تک ہوتا ہے۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قد کتنے فٹ ہوگا۔ اکثر روایات میں آپ علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ ( تقریباً نوے90فٹ ) آتا ہے۔ اب اللہ بہتر جانے آپ علیہ السلام کا قد اس سے بھی زیادہ رہا ہو۔ بہر حال حضرت آدم علیہ السلام سری لنکا سے چلے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی تلاش میں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مصر کے آس پاس اتار ا تھا۔ وہ وہاں سے چلیں ۔ ادھر حضرت آدم علیہ السلام دریاﺅں ، زمین اور سمندر کو پار کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ ادھر سے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا آگے بڑھیں۔ اور دونوں کی ملاقات میدانِ عرفات میں ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سر زمین ہندوستان میں اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو جدہ میں اتا را گیا۔ پس آپ علیہ السلام اپنی زوجہ کی تلاش میں نکلے۔ یہاں تک کہ دونوں اکٹھے ہو گئے۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا اُن کی طرف میدانِ مزدلفہ میں آگے بڑھیں۔ اس لئے اس کا نام ” مزدلفہ“ پڑ گیا۔ اور میدان عرفات میں ایک دوسرے کو پہچان لیا۔ لہٰذا اس کا نام ”عرفات “ پڑ گیا۔ اور جس جگہ دونوں اکٹھے ہوئے تھے اس کا نام ”جمع “ پڑ گیا۔ جب حضرت آدم علیہ السلام محبت سے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھے تو فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو روک دیا اور عرض کیا۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا مہر ادا کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عرض کیا۔ آپ علیہ السلام محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر درود پڑھیں۔ یہی سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کا مہر ہو گا۔ حضرت آدم علیہ السلام کو درودِ پاک سکھلایا گیا اور آپ علیہ السلام نے ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تین مرتبہ یا کچھ زیادہ مرتبہ درود پڑھا۔ 

تمام انسانوں سے میثاقِ بندگی ( بندگی کا عہد)

للہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رب نے آدم ( علیہ السلام ) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے اُن ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے جواب دیا۔ کیوں نہیں ۔ ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ “ ُ سورہ الاعراف آیت نمبر172) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتایا کہ ہم سب عالم ارواح میں اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کر کے آئے ہیں کہ ہم سب اللہ کی بندگی کریں گے۔ یہ عہد مسلمان ، ہندو، سکھ ، عیسائی، یہودی اور تمام انسان یہ عہد اللہ تعالیٰ سے کر کے آئے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی تمام اولاد سے مقامِ نعمان ( میدان عرفات میں ایک مقام) پر نویں ذی الحجہ کے دن میثاق لیا۔ تمام اولاد آدم کو اُن کی پشت سے نکالا اور اپنے سامنے بکھیر دیا۔ جس طرح بیج ہوتا ہے۔ پھر ان سے گفتگو فرمائی۔ کیا میں تمہار رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا ۔ بے شک آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ ہم نے گواہی دی کہ کہیں حشر کے میدان میں تم یہ نہ کہو کہ ہم تو اس سے بے خبر تھے۔ یا یہ نہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ دادا ( آباءو اجداد ) نے کیا تھا تو انہیں دیکھ کر ہم نے شرک کیا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ قیامت کے دن ایک دوزخی شخص کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اگر دنیا کی کوئی چیز تیرے پاس ہوتی تو کیا تو اسے فدیہ میں دے دیتا؟ وہ کہے گا۔ ہاں میں ضرور دے دیتا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے بندے میں نے تو تجھ سے اس سے بھی کم کا ارادہ کیا تھا۔ میں نے تجھے آدم ( علیہ السلام ) کی پشت سے نکال کر ایک عہد لیا تھا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا تو نے میر ا حکم نہیں مانا اور شرک میں مبتلا ہو گیا۔ حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پیدا ہونے والی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کو اکٹھا کیا۔ انہیں شکل و صورت دے کر ان سے گفتگو کی اور ان سے عہد و میثاق لیا۔ اور انہیں اپنی ذات پر گواہ مقرر کیا۔ وہ میثاق یہ تھا۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے عرض کیا ۔ کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں اس پر سات آسمان اور سات زمینوں کو گواہ مقرر کرتا ہوں۔ اور تم پر اس ( میثاق کے) سلسلہ میں تمہارے باپ آدم علیہ السلام بھی گواہ ہوں گے کہ کہیں قیامت کے دن تم یہ نہ کہنے لگو کہ ہم تو ا س عہد و پیماں کو جانتے بھی نہیں ۔ میرا عہد یہ ہے کہ میرے سوائے کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اور میرے سوائے کوئی تمہارا رب نہیں ہے ۔ میرے ساتھ کسی کو شریک مت کرنا۔ میں تمہاری طرف نبی اور رسول بھیجوں گا جو تمہیں میرا میثاق یعنی عہدو پیمان یاد دلائیں گے۔ اور میں تمہاری ہدایت کے لئے اپنی کتاب نازل کروں گا۔ تمام اولاد ِ آدم نے کہا۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی رب نہیں ہے۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس دن تمام انسانوں نے اس حقیقت کا اقرار کیا۔ اور اللہ کی بندگی کرنے کا عہد کیا۔ 

خانہ کعبہ کی تعمیر

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دونوں کو خانہ کعبہ بنانے کا حکم دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام زمین کھودتے جاتے تھے اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا مٹی پھینکتی جاتی تھیں۔ اتنا کھودا کہ پانی نکل آیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اب بنیادیں اٹھاﺅ۔ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام جب ہندوستا ن سے پیدل ہی چلے تو جس جگہ قدم رکھتے وہ جگہ شہر اور دونوں قدموں کے درمیان والی خالی جگہ جنگل و بیابان بنتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت زمین پر اتارا جس کو خانہ کعبہ کی جگہ رکھا گیا۔ پس حضرت آدم علیہ السلام اسی کا طواف کرتے تھے۔ جب طوفانِ نوح آیا تو وہ یاقوت اٹھا لیا گیا۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی۔ کہ میرے عرش کے بالمقابل زمین میں ایک محترم جگہ ہے وہاں جاﺅ اور اس جگہ میرا گھر تعمیر کرو۔ پھر اس کا بھی طواف کیا جائے گا۔ جس طرح فرشتوں کو میرے عرش کا طواف کرتے دیکھا تھا۔ اس گھر میں تمہاری اور تمہاری اولاد کی دعا قبول کروں گا۔ شرط یہ ہے کہ وہ میری فرمانبرداری کریں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا۔ اے میرے رب ، میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں۔ کیوں کہ نہ تو میں اس جگہ سے واقف ہوں اور نہ ہی اتنا طاقت ور ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو حکم دیا جو انہیں مغرب کی طرف لے گیا۔ یہاں تک کہ وہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ راستہ میں جس جس مقام پر آپ علیہ السلام ٹھہرے ان جگہوں پر آبادیاں بنتی چلی گئیں۔ اور جس جس جگہ چھوڑدیا وہ سب جنگل و بیابان بن گئے۔ پھرآپ علیہ السلام نے بیت اللہ ( خانہ کعبہ) کی تعمیر پانچ مقامات سے کی۔ اور ( ۱) طورِ سینا (۲) طورِ زیتون (۳) کوہ لبنان (۴) کوہ ِ جودی (۵) جبل ِ حرا کے پتھر استعمال کئے۔ جو فرشتوں نے لا کر دیئے تھے۔ جب تعمیر سے فارغ ہو ئے تو فرشتہ انہیں میدانِ عرفات لے گیا اور تمام مقاماتِ حج بتائے۔ جہاں آج بھی لوگ مناسک حج ادا کر رہے ہیں۔ پھر انہوں نے ایک ہفتہ طواف کیا اور ہندوستان واپس آگئے۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں 

حضرت آدم علیہ السلام 4 Story of Adam AS 4




 سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام

سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام

قسط نمبر 4

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

حضرت آدم علیہ السلام کا جنت میں قیام

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا۔ اے آدم ( علیہ السلا م) تم جنت میں داخل ہو جاﺅ اور وہاں عزت و احترام کی زندگی بسر کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ ” اورہم نے کہا اے آدم ( علیہ السلام ) تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو اور اس میں سے جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو کھاؤ۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر35 ) تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کے تحت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی یہ بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ فرشتوں سے سجدہ کرانے کے بعد انھیں جنت میں رکھا اور ہر چیز کی رخصت دے دی۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کیا حضرت آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہاں ، نبی بھی تھے اور رسول بھی تھے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے آمنے سامنے بات چیت کی اور انہیں فرمایا کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ عام مفسرین کا بیان ہے کہ انہیں آسمانی جنت میں رکھا گیا تھا۔ لیکن معتزلہ اور قدریہ کہتے ہیں کہ یہ جنت زمین پر تھی۔ ( جو کہ جھوٹ ہے) ( تفسیر ابن کثیر) 

سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی پیدائش

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی زوجہ ( بیوی ) سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو پید ا فرمایا۔ مفتی احمد یار خان نعیمی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ یہ تو سب مانتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام وہاں پیدا ہوئے جہاں آج مکہ مکرمہ ہے۔ لیکن سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی پیدائش میں اختلاف ہے کہ کہاں پیدا ہوئیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنت میں پید اہوئیں۔ حضرت آدم علیہ السلام سو رہے تھے ان کی پسلی سے ان کو پیدا فرمایا۔ تو آیت کے معنی ہوں گے اے آدم علیہ السلام ، آپ اور آپ کی بیوی جنت میں ٹھہرے رہو۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت فرمائی کہ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو نوری لباس پہنایا ، ان کے سر پر تاج رکھے، سونے کے تخت پر بٹھایا۔ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو مختلف قسم کے زیوروں سے آراستہ کیا اور پھر دونوں کو جنت میں پہنچا دیا گیا۔ (تفسیر کبیر روح البیان ) اس سے معلوم ہوا کہ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کی پیدائش زمین پر ہوئی۔ اب آیت کے معنی ہوں گے کہ تم اور تمہاری بیوی جنت میں جا کر رہو۔ ( تفسیر نعیمی)  

حوا نام کیوں؟

ابلیس کو جنت سے نکالنے کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں جگہ دی گئی لیکن تنِ تنہا تھے۔ اس وجہ سے ان کی نیند میں سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو ان کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ جاگے تو انھیں دیکھا اور پوچھا ۔ تم کون ہو؟ اور کیوں پیدا کی گئی ہو؟ سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے فرمایا۔ میں عورت ہوں اور آپ ( علیہ السلام ) کے ساتھ رہنے اور تسکین کا سبب بننے کے لئے پید ا کی گئی ہوں۔ فوراً فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام عرض کیا ۔ فرمائیے ان کا نام کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ حوا۔ انھوں نے کہا۔ اس نام کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔ اس لئے کہ یہ ایک زندہ سے پید ا کی گئی ہے۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ کی آواز آئی۔ اے آدم ( علیہ السلام ) اب تم اور تمہاری بیوی آرام سے جنت میں رہو اور جو چاہو کھاﺅ پیو۔ جب سیدہ حوا رضی اللہ عنہا ان کی پسلی سے پیدا کی گئیں تب حضرت آدم علیہ السلام کو تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ اگر آپ علیہ السلام کو تکلیف محسوس ہوتی تو کوئی شخص اپنی بیوی پر مہربان نہیں ہوتا۔ جب آپ علیہ السلام بیدار ہوئے تو پوچھا گیا ۔ یہ کون ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اِمراة’‘۔ یعنی عورت ہے۔ پوچھا گیا۔ اس کا نام کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ حوا۔ پوچھا گیا ۔ امراة’‘ کیوں ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔یہ المراء( مرد ) سے پیدا ہوئی ہے۔ پوچھا گیا۔ اس کا نام حوا کیوں رکھا؟آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ کیوں کہ یہ حی ( زندہ ) سے پیدا کی گئی ہے۔ فرشتوں نے پوچھا ۔ کیا آپ علیہ السلام ان سے محبت کرتے ہیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں۔ پھر فرشتوں نے سیدہ حوا رضی اللہ عنہا سے پوچھا ۔ کیا آپ ان سے محبت کرتی ہیں؟وہ مسکرائیں اور شرما گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہاری زوجہ ہے۔ تم اکیلا پن محسوس کر تے تھے اس لئے یہ تمہاری ساتھی ہے۔ اور وہ دونوں جنت میں رہنے لگے۔ مگر شیطان ان دونوں کی تاک میں تھا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی آزمائش 

آپ کو یاد ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مردود ابلیس کہہ کر دھتکار دیا تھا۔ شیطان کو اس میں اپنی بہت ہی بے عزتی محسوس ہوئی تھی اوروہ یہی سوچ رہا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی وجہ سے میری بے عزتی ہوئی ہے تو میں بھی ایسا کچھ کروں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ وہی سلوک ہو جو میرے ساتھ ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا تھا۔ جنت کی ہر شئے استعمال کر سکتے ہو۔ کچھ بھی کھا پی سکتے ہو۔ ہاں ایک درخت ہے اس کا پھل نہیں کھانا۔ شیطان نے اسی کا فائدہ اٹھایا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے کہا۔ اے آدم تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو اور اس میں جو چاہو جہاں کہیں سے چاہو کھاؤ اور اس درخت کے قریب مت جانا۔ ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جاﺅ گے۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر 35) ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور ہم نے حکم دیا کہ اے آدم ( علیہ السلام ) تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔ پھر جس جگہ سے چاہو دونوںکھاﺅ۔ اور اس درخت کے پاس مت جاﺅ اس لئے کہ تم دونوں ظالموں میں سے ہو جاﺅ گے۔ ( سورہ الاعراف آیت نمبر19)باس آیت کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ۔ ایک خاص درخت سے روکنا در اصل امتحان تھا۔ بعض کہتے ہیں یہ انگور کی بیل تھی۔ کوئی کہتا ہے ۔ گیہوں کا درخت تھا۔ کسی نے سنبلہ کہا ہے۔ کسی نے کھجور ، کسی نے انجیر کہا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ اس درخت کے کھانے سے انسانی حاجت ہوتی ہے۔ جو جنت کے لائق نہیں ہے۔ علامہ محمد بن جریر طبری فرماتے ہیں ۔ یہ کوئی ایک درخت تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا تھا۔ نہ تو قرآن پاک سے اس کا تعین ہوتا ہے اور نہ ہی کسی حدیث سے ۔ مفسرین میں اختلاف ہے ۔ اور اس کے معلوم ہو جانے سے کوئی اہم فائدہ نہیں ہوگا۔ اور نہیں معلوم ہونے سے کوئی نقصان بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا اس جستجو کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو اس کا بہتر علم ہے۔ 

ابلیس شیطان کا بہکانا

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو جنت میں رکھا ۔ دونوں سکون سے رہ رہے تھے اور ابلیس شیطان حسد سے جل رہا تھا۔ آخر کار شیطان چپکے سے جنت میں داخل ہوا ۔ کیسے داخل ہوا اس بارے میں بہت سی روایات ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو بہکانے لگا۔ کہنے لگا ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ پھل اس لئے کھانے سے منع فرمایا ہے کہ اگر تم اسے کھا لو گے تو ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہو گے اور تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اس کے علاوہ اور بہت سے فائدے بتائے اور یقین دلانے کے لئے قسم کھا کر کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس واقعہ کو کئی جگہ ذکر فرمایا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ابلیس کا وسوسہ یہ تھا کہ اس درخت کے کھانے سے قوتِ ملکیت اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی حاصل ہو جائے گی۔ مگر شروع میں چوں کہ آ پ علیہ السلام کا وجود اس طاقت ور غذا کا متحمل نہیں تھا اسی لئے منع کر دیا گیا تھا۔ اب آپ علیہ السلام کی حالت اور قوت میں ترقی ہو گئی ہے۔ اور آپ دونوں کے قویٰ میں اس کا تحمل پیدا ہو گیا ہے۔ تو اب وہ ممانعت باقی نہیں رہی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام سے کہا کہ دیکھو تمہیں اس درخت کے کھانے سے اس لئے روکا گیا ہے کہ جو کوئی شخص اس درخت میں سے کھا لے گا وہ ہمیشہ یہیں رہے گا اور جو بادشاہی یہاں حاصل ہے اس میں کبھی کمزوری نہیں آئے گی اور اس نے یہ بھی کہا کہ تم دونوں کو تمہارے رب نے اس درخت کے کھانے سے اس لئے روکا ہے کہ اس کو کھا کر فرشتے ہو جاﺅ گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے۔ 

مومن اللہ کے نام کے بعد ہتھیار ڈال دیتے ہیں

حضرت آدم علیہ السلام کو اور ان کی بیوی کو ابلیس شیطان مسلسل بہکا تا رہا اور کہا کہ ابلیس نے ان دونوں سے عرض کیا۔ آپ علیہ السلام کے حضور مجھ سے بڑی بے ادبی ہوئی ہے کہ میں نے آپ علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے ملعون ہو گیا۔ اب میں چاہتا ہوں کہ اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرلوں اور آپ علیہ السلام کو ایسے مقام اور مرتبہ پر پہنچا دوں جس سے آپ علیہ السلام مجھ سے راضی ہو جائیں اور آپ علیہ السلا م کا جو غصہ مجھ پر ہے وہ ختم ہو جائے۔ اس کے بعد وہ آگے بولا۔ آپ علیہ السلام اپنی اس تعظیم و تکریم پر زیادہ خوش نہ ہوں کیوں کہ آخر کار آپ علیہ السلام کو موت آنے والی ہے۔ جس سے تمام عیش و آرام ختم ہو جائیں گے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ موت کیا چیز ہے؟ ابلیس شیطان مردہ بن کر ان کے سامنے پڑ گیا اور جان نکلنے کے وقت جو حالت ہوتی ہے یعنی ہاتھ پاﺅں پٹکنا، روح کا نکلنا اور تڑپنا وغیرہ ان دونوں دکھلایا۔ دونوں اس کی حالت دیکھ کر خوف کا شکار ہو گئے اور اس سے پوچھنے لگے کہ کیا اس سے بچنے کی کوئی تدبیر ہے۔ اس نے کہا۔ ہاں ،میں تم کو ایسے درخت کا پتہ بتاتا ہوں کہ جو اس کا پھل کھالے گا تو ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اور اس کی بادشاہت ہمیشہ قائم رہے گی۔ ان دونوں نے پوچھا ۔ وہ کون سا درخت ہے؟ تو اس نے وہی درخت بتایا جس کا پھل کھانے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا۔ اس درخت کا پھل کھانے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع فرمایا ہے۔ اور اگر ہم کھالیں گے تو ہم پر عتاب ہوگا۔ اگر یہ ہمارے لئے فائدے مند ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے کھانے سے ہم کو نہیں روکتے۔ ابلیس شیطان نے کہا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ دونوں کو اس لئے منع نہیں کیا ہے کہ یہ درخت نقصان دہ ہے۔ بلکہ اس لئے منع فرمایا ہے کہ اسے کھا کر آپ ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی پالیں گے اور فرشتے بن جائیں گے تو آپ دونوں کو موت نہیں آئے گی اور آپ علیہ السلام کے رب نے درخت کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے پھل کھانے سے منع نہیں فرمایا۔ آپ دونوں اس کے پاس نہ جائیں ۔ میں اس کا پھل لا دیتا ہوں اور آپ دونوں کھالیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے اس پھل کو کھانے سے منع فرمایا ہے تو یہ ممانعت آپ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت تھی۔ اس وقت اس کو ہضم کرنے کی آپ دونوں میں طاقت نہیں تھی۔ اب اللہ کے فضل سے آپ دونوں بہت طاقتور ہو چکے ہیں۔ اس لئے اب اس کا کھانا نقصان دہ نہیں ہے۔ اس طرح مسلسل ابلیس شیطان دونوں کو راضی کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھانے لگا۔ اور قسم کھا کر کہنے لگا۔ میں تم دونوں کا خیر خواہ ( بھلائی چاہنے والا) ہوں۔ حضرت آدم علیہ السلام سادہ مزاج اور سادہ لوح تھے۔ آپ علیہ السلام نے سوچا کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا ۔ آپ علیہ السلام کو یہ یاد نہ رہا کہ اللہ تعالیٰ سے پوچھ لیں۔ پریشانی کے عالم میں بھول گئے اور ابلیس شیطان کی قسم کا اعتبار کر کے پھل کھالیا۔حضرت آدم علیہ السلام نے اجتہاد کیا کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا ۔ ابلیس شیطان بار بار قسم کھاتا رہا اسی قسم کی وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام اس خبیث کے بہکاوے میں آگئے ۔ سچ ہے مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ تعالیٰ کو درمیان میں ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ ( مومن) اللہ کے نام کے بعد ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کی عاجزی

حضرت آدم علیہ السلام انتہائی سادہ مزاج اور سیدھے سادھے تھے۔ انھوں نے شیطان کی قسم کا بھروسہ کر لیا اور دونوں نے پھل کھا لیا۔ پھل کھاتے ہی جنت کا لباس اتر گیا اور دونوں جنت کے پتوں سے اپنے بدن کو ڈھانپنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے آدم ( علیہ السلام ) میں نے اس پھل کو کھانے سے منع فرمایا تھا۔ پھر بھی تم نے کھا لیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی اختیار کی اور اپنی شرمندگی کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن پاک میں بیان فرمایا ہے۔ ترجمہ ” پس اُن دونوں نے جب درخت کے پھل کو کھایا تو دونوں کے بدن کا پردہ ( جنت کا لباس ) اتر گیا اور دونوں ایک دوسرے کے روبرو بے پردہ ہو گئے۔ اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کے رکھنے لگے۔ اور ان کے رب نے اُن کو پکارا ۔ کیا میں نے تم دونوں کو پہلے ہی اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں بتایا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا صاف دشمن ہے؟ دونوں نے کہا ۔ اے ہمارے رب ۔ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں کرتے گا تو واقعی ہم نقصان پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ “ ( سورہ الاعراف آیت نمبر22اور 23) ایک روایت میں ہے کہ اس درخت کا پھل کھانے میں سیدہ حوا رضی اللہ عنہا نے سبقت کی۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام سے کہا تم بھی کھا لو کیوں کہ میں نے کھایا تو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے اجتہاد سے سمجھا کہ کسی خاص درخت کا پھل کھانے کا منع ہے۔ اور اسی نوع ( ذات ) کے دوسرے درخت کا پھل کھانے کو منع نہیں ہے۔ اور یہ بھول گئے کہ اس نوع ( ذات ) کے کسی بھی درخت کا پھل کھانا منع ہے۔ پھرجب انہوں نے کھا لیا تو جنت کے جس نور نے ان کے بدن کو ڈھک رکھا تھا وہ اتر گیا تو وہ اپنے بدن کو پتوں سے چھپانے لگے۔ جب اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ۔ اس نے تیری قسم کھائی تھی اور میر ا گمان تھا کہ تیری مخلوق میں سے کوئی بھی تیری جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا ہے۔ 

تمام انبیائے کرام علیہم السلام معصو م ہیں

یہاں ذرا سا رُک کر ایک بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہم حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ ہم سنتے اور پڑھتے آئے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے ( نعوذ باللہ) غلطی ہوئی یا نافرمانی ہوئی۔ یہ انتہائی غلط بات ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کی پھیلائی ہوئی باتیں ہیں۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے معصوم بنایا ہے۔ ان سے غلطی یا نا فرمانی ہو ہی نہیں سکتی ۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن پاک میں کہیں بھی یہ نہیں فرمایا کہ ( نعوذ باللہ ) حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی یا نافرمانی ہوئی ہے۔ جب کہ وہ اللہ تعالیٰ ہے ۔ ہر ایک کا بلکہ ہر شئے کا خالق ہے۔ ہر ایک کا اور ہر شئے کا مالک ہے۔ باقی سب اس کی مخلوق ہیں۔ وہ چاہے تو کسی کو بھی کچھ بھی کہہ سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا۔ انہیں نسیان ہو گیا تھا اور بھول کر انھوں نے پھل کھا لیا تھا۔ ان کا ایسا کوئی ارادہ تھا ہی نہیں کہ میں ( نعوذ باللہ ) جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا۔ ترجمہ” ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دے دیا تھا۔ لیکن وہ بھول گئے اور ہم نے اس میں ( نافرمانی کا ) کوئی ارادہ اور عزم نہیں پایا۔ 

صحیح اور غلط شخص کا فرق

یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حضرت آدم علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کے پھل کھانے کے عمل کو ( نعوذ باللہ ) غلطی یا نافرمانی نہیں فرمایا ہے۔ اور ہم بے خوف ہو کر ہمارے سب کے والد محترم اور امی جان سے ایسی غلط بات منسوب کرتے ہیں اگر ہماری حقیقی والدہ یا والد کے بارے میں اگر کوئی غلط بات منسوب کرتا ہے تو ہمارا خون کھول اٹھتا ہے۔ اور ہم اس کا جواب دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ افسوس کا مقام ہے کہ ساری دنیا کے ماں اور باپ کے بارے میں ہم خود ایسی غلط بات منسوب کر دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔ اور صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی غلط شخص کوئی غلطی کرتا ہے تو وہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسا کہ ابلیس نے جان بوجھ کر غلطی کی اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ اور آج تک کوشش کرر ہا ہے۔ اور قیامت تک کوشش کرتا رہے گا۔ لیکن ایک اچھا اور سچا فرمانبردار بندہ بھول کر انجانے میں کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے اور اللہ تعالیٰ اسے نافرمانی بھی نہیں مانتا ہو۔ اس کے باوجود وہ شرمندہ ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں