حضرت ادریس علیہ السلام
تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
حضرت ادریس علیہ السلام کی پیدائش
حضرت شیث علیہ السلام کی اولاد میں حضرت ادریس علیہ السلام ہیں۔جب حضرت شیث علیہ السلام کے بیٹے حضرت انوش کی عمر 40 سال کی ہوئی تو ان کا لڑکا قینان یا قنسین پیدا ہوا۔ قینان یا قنسین کے معنی غالب کے ہیں۔ ان کی بہت زیادہ اولاد ہوئی اور ۹۵۰ سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ اس کے بعد جب قینان یا قنسین کی عمر 70 سال ہوئی تو ان سے ملائیل یا مہابیل پیدا ہوۓ ان کی عمر بھی 74 سال ہوئی۔ ان کے زمانہ میں انسانوں کی آبادی بہت بڑھ گئی تھی اور تمام دنیا میں پھیل گئی تھی۔ملائیل یا مہابیل نے بابل میں جا کر شہر شہوس کی بنیاد رکھی۔ اس سے پہلے لوگ جنگلات یا غاروں میں رہا کرتے تھے۔ پھر جب ملائیل کی عمر 80 سال ہوئی تو ان سے پیازا پیدا ہوۓ۔ اور 193 سال کی عمر میں ان کی منکوحہ سے اخنوخ یعنی حضرت ادریس علیہ السلام پیدا ہوئے
نبوت سے سرفراز
ان کے زمانے میں چونکہ بت پرستی رائج نہیں ہوئی تھی لیکن چونکہ انسانی آبادی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور نئی نسلوں کے لئے احکامات نافذ کرنا تھے اس لئے اللہ تعالی نے انسانوں کی ہدایت کے لئے حضرت ادریس علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا۔ آپ علیہ السلام اس وقت کے انسانوں کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔ آپ علیہ السلام مسلسل انسانوں کی رہنمائی فرماتے رہے۔ آپ علیہ السلام کا نام ادریس اس لئے پڑا کیونکہ آپ علیہ السلام نے سب سے پہلے کتاب کا درس دیا۔مئورخین نے لکھا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام مصر میں پیدا ہوۓ تھے اور ان کا سلسلہ نسب چار واسطوں سے حضرت شیث علیہ السلام سے مل گیا ہے۔ آپ علیہ السلام کا اصل نام اخنوخ تھا۔ لیکن چونکہ آپ علیہ السلام آباؤ اجداد کی شریعت، اور آسمانی کتابوں کا درس، معارف خداوندی اور انبیاء علیہم السلام کی سنت بیان فرمایا کرتے تھے۔ اس لئے آپ کا نام ادریس مشہور ہو گیا۔ حضرت ادریس علیہ السلام کی زبان سریانی تھی۔ آپ علیہ السلام کے زمانے میں دنیا میں کئی زبانیں وجود میں آ چکی تھیں۔ قابیل کی اولاد الگ علاقوں میں آباد تھی۔ ان میں بھی کئی زبانیں وجود میں آ گئی تھیں اور ان سے کبھی کبھی حضرت شیث علیہ السلام کی اولاد کی جنگ ہوتی رہتی تھی۔
حضرت ادریس علیہ السلام کی خصوصیات
اللہ تعالی نے حضرت ادریس علیہ السلام کو دس خصوصیات عطا فرمائی تھیں۔ پہلی یہ کہ آپ علیہ السلام پیغمبر مرسل تھے۔ دوسری یہ کہ آپ پر ۳۰۰ صحیفے نازل ہوئے تھے۔ تیسری یہ کہ آپ نے دنیا میں علم نجوم کو پیش کیا۔ چوتھی یہ کہ دنیا میں سب سے پہلے آپ نے قلم سے خط تحریر فرمایا۔ پانچویں یہ کہ آپ نے کپڑا سینے کی صنعت ایجاد کی۔ چھٹی یہ کہ آپ نے جنگ کے لئے اسلحہ ترتیب دیئے۔ ساتویں یہ کہ جہاد کی سنت جاری کی۔ آٹھویں یہ کہ آپ علیہ السلام نے قابیل کی اولاد (دشمنوں) کو قیدی بنایا۔ نویں یہ کہ آپ علیہ السلام نے سب سے پہلے روئی کا کپڑا زیب تن فرمایا۔ دسویں یہ کہ حضرت شیث علیہ السلام کے بعد قابیل کی اولاد شیطان کے اغوا سے گمراہ ہو گئی تھی۔ اللہ تعالی نے ان کی ہدایت کے لئے نبوت ۔ اور رسالت پر مامور فرمایا تا کہ وہ ان کو دین کی ترغیب دیں اور اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔
حضرت ادریس علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ
روایت ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے اعلان نبوت کے وقت حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت شیث علیہ السلام کی شریعت نئی نسل کے لوگ بھول گئے تھے۔ زمین آسمان کے مالک اللہ تعالیٰ کے وجود کو بھول گئے تھے۔ عبادت کا طریقہ معلوم نہ تھا اور زمین و آسمان اور ستاروں پر غور وفکر کرتے تھے لیکن صحیح رہنمائی نہیں ملتی تھی۔ایک روز حضرت ادریس علیہ السلام نے اپنی قوم کے سات افراد کو منتخب کر کے اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور اللہ کے عذاب سے بچنے کی ترغیب دی۔ ان ساتوں نے حضرت ادریس علیہ السلام کا دین قبول کر لیا۔ تبلیغ و ارشاد کا سلسلہ جاری رہا۔ جب آپ علیہ السلام کے متبعین کی تعداد ہزار کو پہنچ گئی تو آپ علیہ السلام نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے میں سے 100 آدمی منتخب کر لو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔
آسمانی کتاب کا نزول
حضرت ادریس علیہ السلام نے ان 100 میں سے 70 آدمی منتخب کئے اور ان سے کہا۔ میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں اور تم سب آمین کہنا۔ ان سب لوگوں نے زمین پر ہاتھ رکھ لئے۔ دعا کی گئی۔ مگر قبول نہ ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کئے اور دعا کی تو قبول ہو گئی۔ اللہ تعالی نے تین صحیفے نازل فرماۓ اور حضرت ادریس علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز عطا فرمایا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام 72 زبانوں میں لوگوں کو وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے 100 شہر تعمیر کراۓ تھے۔ انہوں نے شہر کے چاروں اطراف اونچی اونچی دیواریں تعمیر کرائیں اور ان میں بڑے بڑے گیٹ بنوائے۔
فرشتوں کی کثرت سے آمد
حضرت ادریس علیہ السلام اپنی شریعت کے مطابق لوگوں کو نماز کی تعلیم دیا کرتے تھے اور ہر مہینہ میں مقررہ دنوں میں روزہ رکھا کرتے تھے اور لوگوں کو زکوۃ ادا کرنے، غسل جنابت غسل حیض و نفاس اور دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ خزیر، گدھے، کتے اور خچر کا گوشت کھانے سے منع فرمایا کرتے تھے۔حضرت ادریس علیہ السلام ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے اور ہر روز 2 ہزار تسبیح پڑھا کرتے تھے۔ آپ علیہ السلام کی مجلس میں فرشتے بھی حاضر رہتے تھے اور فرشتوں کا اکثر آپ علیہ السلام کے پاس آنا جانا رہتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ علیہ السلام اور فرشتوں میں بہت زیادہ قربت ہوگئی۔
آخری رسول ﷺ کی خبر
حضرت ادریس علیہ السلام اپنی امت سے فرمایا کرتے تھے کہ میں کئی بار آسمان پر گیا ہوں اور اسرار الہی سے واقف ہوں۔ آپ علیہ السلام نے اپنی امت کو آنے والے رسولوں کی خصوصی طور سے آخری رسول ﷺ کی خبر دی۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے تمام دنیا کی سیاحت کی ہے۔ آپ علیہ السلام فرشتوں کے ساتھ پوری زمین پر آتے جاتے رہتے تھے۔ چونکہ اس وقت انسان دنیا میں کافی دور دور تک بس گئے تھے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کو ان کی اصلاح اور تبلیغ کے لئے ان کے علاقوں میں جانا پڑتا تھا۔ یہ سفر گھوڑوں اور اونٹوں سے بہت طویل عرصہ لیتا اسی لئے آپ علیہ السلام کو فرشتے لے کر آتے جاتے تھے۔
حضرت ادریس علیہ السلام کا نکاح
حضرت ادریس علیہ السلام نے 75 سال کی عمر میں ایک نیک بخت خاتون سے عقد کیا۔ ان کے پیٹ سے متوشلخ پیدا ہوئے اور نور محمدی ﷺ صلب ادریس علیہ السلام سے منتقل ہو کر متوشلخ میں جلوہ گر ہوا۔ متوشلخ نے 170 سال کی عمر میں شادی کی تو ملک بالائک پیدا ہوۓ اور نور محمدی ان کی صلب میں جلوہ گر ہوا۔ متوشلخ نے 919 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ملک بالائک نے 180 سال کی عمر میں ایک پارسا خاتون سے شادی کی تو ان سے حضرت نوح علیہ السلام دنیا میں جلوہ افروز ہوۓ اور نورہ محمدی آپ علیہ السلام کے صلب میں جلوہ گر ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا تفصیلی ذکر ان شاءاللہ آگے آئے گا۔
حضرت ادریس علیہ السلام کی دعا
روایت ہے کہ ایک روز حضرت ادریس علیہ السلام سیر کر رہے تھے۔ سورج کی تمازت سے پریشان ہو کر آپ علیہ السلام فرمانے لگے۔ اے آفتاب! کئی ہزارمیل کی مسافت پر تیری حرارت کا یہ حال ہے۔ جو فرشتہ تجھے اٹھا رکھتا ہے اس کا تیری حرارت سے کیا حال ہو گا؟ حضرت ادریس علیہ السلام نے دعا کی کہ حامل آفتاب فرشتہ کی گرانی اور گرمی میں تخفیف کر دی جائے۔ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی برکت سے تخفیف عطا فرمائی۔ فرشتہ مذکور نے اللہ تعالی سے عرض کیا۔ یا رب العالمین! کیا سبب ہے آفتاب کی حرارت سے اب مجھے گرمی بہت کم محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا یہ اوریس علیہ السلام کی شفقت کا نتیجہ ہے۔ اس احسان سے متاثر ہو کر فرشتہ مذکور کے دل میں اوریس علیہ السلام کی محبت نے غلبہ حاصل کیا۔
حضرت ادریس علیہ السلام کا غور و فکر
حضرت ادریس علیہ السلام کی شفقت سے متاثر ہو کرآفتاب اٹھانے والے فرشتے نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ مجھے اوریس علیہ السلام کی خدمت میں حاضری کا موقع دیا جاۓ۔ اللہ تعالی نے اجازت فرما دی۔ فرشتہ کی آپ علیہ السلام کی خدمت میں آمد و رفت شروع ہو گئی۔ حضرت وہب بن منبہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کے آسمان پر آنے کا سبب یہ تھا کہ وہ عذاب جہنم اور جنت کی راحتوں کے بارے میں ہر وقت غور و فکر میں مصروف رہتے تھے۔ اس سبب سے انہوں نے حق تعالی کی اس قدر عبادت کی۔ تمام روۓ زمین کے صاحب ایمان لوگوں کی عبادت ایک طرف اور ادریس علیہ السلام کی عبادت ایک طرف۔
ملک الموت سے ملاقات
حضرت عزرائیل علیہ السلام کو آپ سے ملاقات کا اشتیاق ہوا۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام انسانی صورت شکل میں تین دن تک حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس آکر رہے مگر ان کے ساتھ کھانے پینے میں شرکت نہ کی۔ حضرت ادریس علیہ السلام حیران تھے۔ یہ مہمان عجیب ہے۔ کھاتا پیتا نہیں انسان تو معلوم نہیں ہوتا جن ہو گا۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے آخر دریافت کیا۔ تم کون ہو ؟ اور کیوں کھاتے پیتے نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا میں عزرائیل ہوں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے پوچھا کیا میری روح قبض کرنے آئے ہو ؟ تو عرزائیل علیہ السلام نے جواب دیا نہیں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا مجھے موت کا شربت پلا دو۔ عزرائیل علیہ السلام نے ان کی روح قبض کر لی اور پھر واپس لوٹا دی۔
جہنم پر سے گزرنا
اس کے بعد عزرائیل علیہ السلام نے پوچھا اس بات سے آپ کا کیا مقصد تھا ؟ حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا: وہ میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا۔ اب میری آرزو یہ ہے کہ اپنی آنکھوں سے جہنم اور جنت کو دیکھوں۔ تو اللہ تعالی کے حکم سے ملک الموت ان کو اٹھا کر آسمان پر لے گئے۔ سب سے پہلے جہنم کے دروازہ پر پہنچ کر کہا آپ علیہ السلام جہنم کے داروغہ سے فرمائیے تمام دروازے کھول ڈالے۔ جہنم کے داروغہ نے جونہی دروازے کھولے وہاں کا حال دیکھ کر حضرت ادریس علیہ السلام بے ہوش ہو گئے۔ ملک الموت نے آپ کو اپنی گود میں اٹھا لیا۔ ہوش آیا تو کہنے لگے۔ اے اللہ! تمهاری درخواست پر یہ معاملہ پیش آیا۔
جنت کی سیر
حضرت ادریس علیہ السلام نے کہا اچھا اب مجھے جنت کی سیر کرا دو تا کہ اس تکلیف کا بدل ہو جائے۔ ملک الموت آپ کو جنت کے دروازے پر لے گیا۔ دروازہ کھلوایا اور کچھ دیر باغات حور و غلمان اور جنت و آرام کے سامان کا معائنہ کیا۔ ملک الموت نے کہا اچھا اب واپس چلو تمہیں تمہارے مقام پر واپس پہنچا دوں۔ حضرت ادریس علیہ السلام نے ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ ملک الموت ان کو جنت سے باہر آنے پر اصرار کر رہے تھے اور وہ برابر انکار کئے جا رہے تھے۔ اللہ تعالی نے اس قضیہ کا تصفیہ کرنے کے لئے ایک فرشتے کو بھیجا۔ فرشتے نے حضرت ادریس علیہ السلام سے کہا کیا بات ہے۔ تمہارا کس بات پر تنازعہ ہے ؟
مکانً علیا میں
حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا اللہ تعالی کا قول ہے کہ "هر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا پڑے گا " سو میں موت کا ذائقہ چکھ چکا ہوں۔ اور اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے کہ ہر ایک تم میں سے ضرور جہنم کے اوپر سے گزرے گا۔ چنانچہ میں جہنم میں بھی ہو آیا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد جنتی جنت سے نہ نکالے جائیں گے۔ تو اب میں اس وقت جنت میں ہوں۔ اللہ کے حکم کے مطابق اب مجھے جنت سے نکالنے کا حق سواۓ اللہ تعالی کے کسی کو حاصل نہیں۔ معا اللہ تعالی کا خطاب ہوا۔ اے عزرائیل ! اوریس علیہ السلام کو چھوڑ دو وہ میری رضامندی سے میرے حکم سے جنت میں آۓ ہیں۔ ملک الموت خاموش ہو کر چلے آۓ۔
حضرت ادریس علیہ السلام کی عمر
روایت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے وقت حضرت ادریس علیہ السلام کی عمر 100 سال تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے 200 سال بعد اللہ تعالی نے حضرت ادریس علیہ السلام کو منصب نبوت پر فائز فرمایا۔ 150 سال تک نبوت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ جس وقت آپ آسمان پر تشریف لے گئے اس وقت آپ کی عمر 250 سال تھی۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں بہت سی الگ الگ روایات ہیں۔ ان میں سے سے زیادہ سے زیادہ مستند روایات کا ہم نے انتخاب کیا ہے۔ حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر یہیں مکمل ہوا۔ ان شاءاللہ اگلے ویڈیو سے ہم حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر شروع کریں گے۔
ختم شد
.png)
.png)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
.jpeg)
1.png)