پیر، 3 اپریل، 2023

حضرت آدم علیہ السلام 3 Story of Adam AS 3


سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام

سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام

قسط نمبر 3

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کی تخلیق

اللہ تعالیٰ نے ملک الموت سے فرمایا کہ تم نے زمین سے مٹی کو الگ کیا ہے۔ اب تم ہی اسے زمین سے ملانا۔ ( یعنی انسان کی روح قبض کرنا۔) اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اس مٹی کو وہاں رکھو جہاں آج خانہ کعبہ ہے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس مٹی کو مختلف پانیوں میں گوندھ کر گارا بنائیں ۔ا س مٹی پر چالیس دن تک بارش ہوئی ۔ انتالیس دن تورنج اور غم کا پانی برسا۔ اور ایک دن خوشی کا پانی برسا۔ اسی لئے انسان کو رنج و غم زیادہ رہتے ہیں۔ اور خوشی کم رہتی ہے پھر فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس گارے کو مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وادی نعمان میں عرفات پہاڑ کے پاس میدان ِ عرفات میں رکھ دیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی شان کے مطابق خاص اپنے دست قدرت سے اس گارے سے حضرت آدم علیہ السلام کا قالب بنایا۔ ۔پھر اس کو مختلف ہواﺅں سے اتنا خشک کیا کہ کھنکھنانے لگا۔جب وہ سوکھ گیا تو وہ ایسا ہوگیا جیسا ہمارا پانی پینے کا مٹکا ہوتا ہے۔ مٹکے پر ہم ہلکے سے کسی چیز کو مارتے ہیں تو وہ ٹھن ٹھن بجتا ہے۔ ایسے ہی حضرت آدم علیہ السلام کا قالب تھا۔ 

فرشتوں کو حیرانی اور ابلیس کی حقارت

اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کا قالب بنایا اور ان کی شکل و صورت بنائی تو فرشتے اس کو دیکھنے آئے۔ فرشتوں نے کبھی ایسی صورت نہیں دیکھی تھی ۔ وہ تعجب سے اس کے آس پاس پھرتے تھے اور اس کی خوب صورتی کو دیکھ کر حیران ہو تے تھے۔ وہ نیک جن یعنی ابلیس شیطان بھی ساتھ میں تھا۔ اس نے فرشتوں کے تعجب اور حیرانی کو دیکھا تو اس کے گرد پھر کر، ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے قالب میں منہ سے داخل ہو کر پشت سے نکلا اور بولا اے فرشتو، تم اسی کا تعجب کرتے ہو ۔ یہ تو اندر سے خالی جسم ہے۔ جس میں جگہ جگہ سوراخ ہیں۔ اس کی کمزوری کا یہ حال ہے کہ اگر بھوکا ہو تو گر پڑے اور اگر خوب سیر ہوجائے تو چل پھر نہ سکے۔ اس خالی قالب سے کچھ نہیں ہو سکے گا۔ پھر بولا ہاں اس کے سینے کے بائیں جانب ایک بند کوٹھری ہے۔ یہ خبر نہیں کہ اس میں کیا ہے؟ شاید یہی وہ چیز ہو جس کی وجہ سے یہ زمین پر خلافت کا حقدار ہو گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ پھر ابلیس اس قالب کے منہ میں داخل ہوا اور پشت کے راستے سے نکلا اور کہنے لگا ۔ تیری کوئی حیثیت نہیں ہے کیوں کہ تو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور تیرے اندر سے آواز آتی ہے۔ اگر مجھے تجھ پر تصرّف دیا گیا تو میں ضرور تجھے ہلاک کر وں گا اور اگر تجھے مجھ پر تصرف دیا گیا اور زور دیا گیا تو میں تیری نافرمانی کروں گا۔ 

ابلیس کی نافرمانی

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا۔ میں اس قالب میں روح ڈالنے والا ہوں۔ جب میں روح پھونک دوں اوریہ زندہ ہو جائے تو تم سجدے میں گر جانا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے قالب میں روح پھونکی اور روح ناک کے راستے اندر داخل ہوئی تو سب سے پہلے ان کی آنکھ کھلی اور ان کی نظر عرش معلّیٰ پر پڑی۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول ا للہ ۔ ابھی باقی جسم میں جان نہیں آئی تھی بلکہ دھیرے دھیرے جان آتی جا رہی تھی۔ جب حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں مکمل جان آگئی تب تمام فرشتے سجدے میں گر گئے۔ لیکن وہ نیک جن سجدے میں نہیں گیا اور کھڑا ہی رہا۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ۔ ” اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں (سے ) ہو گیا۔“ ( سورہ البقرہ آیت نمبر34) اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اور بھی کئی جگہوں پر ذکر فرمایا ہے ۔ 

ابلیس کا تکبر کرنا اور دھتکار ا جانا

اللہ تعالیٰ نے اس ( ابلیس سے) پوچھا ۔ تو نے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ تو اس نے تکبر سے کہا۔ میں آگ سے بنایا گیا ہوں اور یہ مٹی سے بنایا گیا ہے۔ میں اس سے برتر ہوں ۔ اس لئے میں اسے سجدہ نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا۔ مردود شیطان نکل جا یہاں سے۔ تب اس شیطان نے کہا۔ اے اللہ تعالیٰ ، تو اس کی وجہ سے مجھے نکالتا ہے۔ مجھے اتنی مہلت دے کہ میں ثابت کر سکوں کہ میں اپنی بات میں سچا ہوں۔ میں اسے بہکاﺅں گا۔ اسے آگے سے پیچھے سے دائیں سے بائیں سے ہر طرف سے بہکاﺅں گا۔ اور سیدھے راستے پر گھات لگا کر بیٹھوں گا۔ جب یہ انسان سیدھے راستے پر چلنے کی کوشش کرے گا تو میں اسے بہکا کر گمراہی کے راستے پر لے جاﺅں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جا تجھے قیامت تک مہلت دی۔ اس کے بعد جو تیرے بہکاﺅ ے میں آئے گا اور شرک کرے گا۔ میں تجھ سے اور ان انسانوں سے جہنم کو بھر دوں گا۔ یہ سن کر ابلیس مردود چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن پاک میں کئی جگہ بیان فرمایاہے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ جب ابلیس شیطان نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا تب اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں دھتکارا اور مردود نہیں ٹھہرایا۔ بلکہ اسے صفائی کا موقع دیا اور اس سے پوچھا کہ آخر تو نے ایسا کیوں کیا؟ جب ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کے مقابلے میں تکبر اور گھمنڈ کیا اور اپنے آپ کو برتر اور حضرت آدم علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) حقیر بتایا تب اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکاردیا اور مردود قرار دیا۔ کیونکہ تکبر اور گھمنڈ کرنا اور کسی بھی رسول اور نبی کی بے ادبی کرنا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت بڑا جرم ہے۔

ابلیس کی ہٹ دھرمی

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔ تو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس ملعون شیطان نے سجدہ نہیں کیا۔ اس طرح اس نے گناہ کیا۔ اور جب اللہ تعالیٰ نے اس سے اس گناہ کے کرنے کی وجہ سے پوچھی تو ابلیس نے اس گناہ کا عذر بیان کیا۔ جس سے اس کا گھمنڈ اور تکبر ظاہر ہو گیا ۔ گویا اس نے پہلے تو گناہ کیا۔ پھر اسے صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں اور گناہ میں مبتلا ہو گیا۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر ابن کثیر میں لکھتے ہیں۔ ابلیس نے جو بھی وجہ بتائی ہو سچ تو یہ ہے کہ وہ وجہ عذر گناہ بد تر گناہ کے مصداق ہے۔ ( یعنی گناہ کرنے کے بعد اسے صحیح ثابت کرنے کے لئے عذر پیش کرنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے) گویا وہ اطاعت سے اس لئے باز رہا کہ اس کے نزدیک فاضل کو مفضول کے سامنے سجدہ کئے جانے کا حکم ہی نہیں دیا جا سکتا تو وہ ملعون کہہ رہا ہے کہ میں اس سے بہتر ہوں ۔ پھر مجھے اس کے سامنے جھکنے کا حکم کیوں ہو رہا ہے۔ پھر اپنے بہتر ہونے کے ثبوت میں کہتا ہے کہ میں آگ سے بنا ہوں۔ اور یہ مٹی سے بنا ہے۔ وہ ملعون عنصر کو دیکھ رہا تھا۔ اور اس فضیلت کو بھول گیا تھا کہ مٹی والے کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔ اور اپنی روح پھونکی ہے۔ پس اسی وجہ سے اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں فاسد قیاس سے کام لیا۔ اور سجدے سے رک گیا ۔ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کر دیا گیا۔ اور تمام نعمتوں سے محروم ہو گیا۔ اس ملعون نے اپنے قیاس اور اپنے دعوے میں خطا کی اور اپنے گناہ پر اڑ گیا۔ ( تفسیر ابن کثیر ، سورہ الاعراف آیت نمبر12علامہ عماد الدین ابن کثیر) حضرت حسن بصری ( تابعی) رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔ کہ ابلیس شیطان نے قیاس کیا۔ اور وہی سب سے پہلے قیاس کرنے والا ہے۔ 

ابلیس ملعون نے مہلت مانگی

اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنے کے بعد ابلیس ملعون نے اپنے گناہ کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اور اس کی وجہ سے اس کا گھمنڈ اور تکبر سامنے آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکار دیا۔ جب ابلیس نے دیکھا کہ انسان ( حضرت آدم علیہ السلام ) کی وجہ سے مجھے دھتکارا جا رہا ہے تو وہ انسان کا سب سے بڑا دشمن بن گیا۔ اور اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی کہ اس انسان کی وجہ سے آپ مجھے دھتکار رہے ہیں مجھے اتنی مہلت دیں کہ میں اپنی بات کو صحیح ثابت کرسکوں کہ جو فضیلت آپ نے اسے عطا فرمائی ہے۔ یہ اس فضیلت کے قابل نہیں ہے۔ اور میں اسے بہکاﺅں گا۔ اور گمراہی کے راستے پر لے جاﺅں گا۔ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے کئی جگہ بیان فرمایا ہے۔ 

ابلیس شیطان اور اس کی اولادہمارے سب سے بڑے دشمن

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم آدم ( علیہ السلام ) کو سجدہ کرو تو ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ یہ جناتوں میں سے تھا۔ اس نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی۔ کیا پھر تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر اپنا دوست بنا رہے ہو؟ حالانکہ وہ تم سب کا دشمن ہے۔ ایسے ظالموں کا کیا ہی بُرا بدلہ ہے۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر 50) للہ تعالیٰ نے ان آیات میں ہمیں بتایا کہ ابلیس شیطان اور اس کی اولاد ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ ابلیس شیطان نے ہر انسان کے ساتھ اپنی اولاد میں سے ایک شیطان کو لگا دیا ہے۔ وہ شیطان مسلسل اس انسان کے اندر وسوسہ پیدا کرتا رہتا ہے۔ دو انسان یا کئی انسان آپس میں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ دوران گفتگو ہنسی مذاق بھی ہوتے رہتے ہیں اور انسان ہنسی مذاق کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا ہے۔ لیکن جب وہی انسان اکیلے میں بیٹھتا ہے تو اس کا شیطان اس کے اندر وسوسہ ڈالتا ہے اور اس ہنسی مذاق کی بات کو بار بار اتنے الگ الگ طریقوں سے انسان کے دماغ میں ابھارتا ہے کہ وہ انسان اس ہنسی مذاق کو اپنی توہین سمجھنے لگتا ہے۔ اور شیطان اسے اتنی ہوا دیتا ہے کہ نتیجہ میں دونوں انسانوں میں جھگڑا ہو جاتا ہے۔م اور رشتہ داری اور دوستی ، نفرت اور دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ شیطان اسی پر بس نہیں کرتا۔ بلکہ دونوں انسانوں کے اندر مسلسل وسوسے پیدا کر کے اس نفرت اور دشمنی کو مزید گہری کرتا جاتا ہے۔ ہمارا شیطان مسلسل ہماری تاک میں رہتا ہے۔ ہم اسے بھول جاتے ہیں۔ لیکن وہ ہر وقت ہم پر نظر رکھتا ہے۔ اگر ہم مسلسل گناہوں اور برائیوں میں مبتلا رہتے ہیں تو وہ ہم پر تھوڑی بہت محنت کرتا ہے۔ اور کوشش کرتا ہے کہ ہم گناہوں اور برائیوں میں سے نکلنے نہ پائیں اور نیکیوں کی طرف نہ آنے پائیں۔ شدید محنت تو اسے اس وقت کرنی پڑتی ہے۔ جب ہم گناہوں اور برائیوں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں اور نکل کر نیکیوں اور بھلائیوں کو اپنا لیتے ہیں تب وہ شدید محنت کرتا ہے یہاں تک کہ ہماری نیکیوں اور بھلائیوں پر ہمارے اندر گھمنڈ پیدا کرتا ہے اور ہماری نیکیوں اور بھلائیوں کو ہمارے لئے وبال بنا دیتا ہے۔ اسی لئے ہمیں ہر وقت ہر لمحہ شیطان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام کا زندہ ہونا

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح پھونکی جو بے جان پڑا ہوا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے اندر روح پھونکی تو وہ روح ان کے سر کی جانب سے داخل ہوئی۔ اور وہ روح ان کے جسم کے جس حصے میں پہنچتی گئی وہ حصہ گوشت اور خون میں تبدیل ہوتا گیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ جب روح حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں داخل ہونے لگی تو اندر اندھیرا ہونے کی وجہ سے ٹھہر گئی۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی پیشانی مبارک میں سید الانبیاءصلی اللہ علیہ وسلم کے نور کو رکھ دیا۔ جس سے آپ علیہ السلام کا قالب جگمگا اٹھا۔ اور روح اندر داخل ہونے لگی۔ ( تفسیر عزیزی) اب حقیقت کا علم تو صر ف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اب روح دھیرے دھیرے اندر داخل ہونے لگی۔ جب سر سے ہو کر ناک اور منہ تک آئی اور گردن تک پہنچی تو حضرت آدم علیہ السلام کو چھینک آئی۔ اور بے ساختہ آپ علیہ السلام نے ” الحمد للہ “ فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے الہام کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا۔ ”یر حمک اللہ “ یہی اب سنت ہے۔ جب کمر تک پہنچی تو انھوں نے اپنے جسم کو دیکھا ۔ جو انہیں بہت خوب صورت معلوم ہوا۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے اٹھنا چاہا۔ لیکن چونکہ ابھی نچلے دھڑ میں روح نہیں پہنچی تھی۔ اس لئے وہ بے جان تھا اور اٹھنے نہیں دے رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو یہ کوشش کرتے دیکھ کر فرمایا۔ انسان بہت ہی جلد باز مخلوق ہے۔

سلام کرنے کا طریقہ

اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح سرایت ہونے کا عمل جاری تھا کہ فرشتوں کے سجدہ کرنے اور ابلیس کے سجدہ نہیں کرنے اور دھتکارے جانے کا واقعہ پیش آیا اور حضرت آدم علیہ السلام بھی اس سارے واقعہ کو دیکھ رہے تھے۔ ابلیس شیطان کے چلے جانے کے بعد بھی روح کا جسم میں سرایت کرنے کا عمل جاری رہا۔ جب روح پیروں یعنی نچلے دھڑ میں بھی سرایت کر چکی تو آپ علیہ السلام کا پور ا بدن حرکت کرنے لگا اور آپ علیہ السلام حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے اپنے ہاتھوں اور پیروں کو حرکت دے رہے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا۔ اُن فرشتوں کے پاس جاﺅ اور ان کو السلام علیکم کہو۔ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں کے پاس گئے اور سلام کیا تو فرشتوں نے جواب دیا۔ وعلیکم السلام ۔ پھر آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ فرشتوں نے کیا کہا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے جواب میں عرض کیا۔ اے اللہ ، انھوں نے وعلیکم السلام کہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا آپس میں سلام کرنے کا طریقہ ہوگا۔

حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاءکے نام بتائے

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاءکے نام سکھلائے۔ اور فرشتوں سے تمام اشیاءکے نام دریافت فرمائے۔ تو فرشتوں نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا آپ نے ہمیں بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا۔ ان اشیاءکے نام بتاﺅ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے تمام اشیاءکے نام بتادیئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا۔ میں نے کہا تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ میں ظاہر اور پوشیدہ تمام باتیں جانتا ہوں۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ اور اللہ تعالیٰ نے آدم( علیہ السلام )کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیااور فرمایا۔ اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاﺅ۔ ان سب نے کہا اے اللہ تعالیٰ ، آپ کی ذات پاک ہے۔ ہمیں تو صرف اتنا ہی علم ہے۔ جتنا آپ نے ہمیں سکھا رکھا ہے۔ پورے علم اور حکمت والے تو آپ ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ( حضرت ) آدم ( علیہ السلام ) سے فرمایا۔ تم ان کے نام بتادو۔ جب انھوں نے ( تمام چیزوں کے ) نام بتادیئے تو ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا۔ کیا میں نے تمہیں ( پہلے ہی) نہیں کہا تھا کہ زمین و آسمان کا غیب، میں ہی جانتا ہوں اور میرے علم میں ہے ۔ جو تم ظاہر کر رہے ہو اور جو تم چھپاتے تھے۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کی وجہ

سورہ البقرہ کی آیات نمبر31اور 33کی تشریح میں علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ یہاں سے اس بات کا اعلان ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص علم میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر بھی فضیلت عطا فرمائی۔ یہ واقعہ فرشتوں کے سجدہ کرنے کے بعد کا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت جو آپ علیہ السلام کو پیدا کرنے میں تھی اور جس کا علم فرشتوں کو نہیں تھا۔ اور اس کا اجمالی بیان اس سے پہلے کی آیت میں گزرا ہے۔ اس کی مناسبت کی وجہ سے اس واقعہ کو (یعنی اشیاءکے نام بتانے کے واقعہ کو ) پہلے بیان فرمایا۔ اور فرشتوں کا سجدہ کرنا جو اس سے پہلے ہوا تھا۔ اسے بعد میں بیان فرمایا۔ تا کہ خلیفہ کے پیدا کرنے کی مصلحت اور حکمت ظاہر ہو جائے۔ اور یہ معلوم ہو جائے کہ یہ شرافت اور فضیلت حضرت آدم علیہ السلام کو اس لئے ملی کہ انہیں وہ علم ہے جس سے یہ فرشتے خالی ہیں۔ اس کے آگے لکھتے ہیں۔ ( اللہ تعالیٰ نے ) فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو تمام نام بتا دیئے۔ یعنی ان کی اولاد کے ناموں کے علاوہ سب جانوروں زمین، آسمان ، پہاڑ ، تَری، خشکی گھوڑے ، گدھے، برتن بھانڈے ، چرند ، فرشتے اور تارے وغیرہ تمام چھوٹی بڑی چیزوں کے نام بتا دیئے گئے۔ امام محمد بن جریر طبری فرماتے ہیں کہ فرشتوں اور انسانوں کے نام سکھائے گئے۔ اس کے علاوہ صحیح قول یہ ہے کہ تمام چیزوں کے نام سکھائے گئے تھے۔ ذاتی نا م بھی، صفاتی نام بھی اور کاموں کے نام بھی جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ گوز(انسان کے پاخانہ کے راستے سے نکلنے والی ہوا) تک کا نام بتایا گیا تھا۔ 

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں  

حضرت آدم علیہ السلام 2 Story of Adam AS 2


سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام

سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام

قسط نمبر 2

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

فرشتوں اور انسانوں کی روحوں کی تخلیق

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نور سے بنایا ہے اور یہ لطیف جسم ہیں۔ انسانوں کی روحوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے نور سے بنایا ہے۔ پھر ہمیں دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے زمین سے مٹی لے کر ہمارے جسموں کو بناتا ہے۔ اور اس میں ہماری روحوں کو ڈالتا ہے۔ جب تک ہم دنیا میں رہیں گے تب تک یہ جسم ہمارے ساتھ رہے گا اور جب ہماری موت یعنی دنیا میں رہنے کا وقت مکمل ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ ہماری روح کو ہمارے جسم سے الگ کر دے گا۔ اور ہمار ا جسم بے جان ہو کر دنیا ہی میں رہ جائے گا۔ اور اسی مٹی میں دفن کر دیا جائے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ زمین سے جو مٹی لیتا ہے اسے واپس کر دیتا ہے۔ اب فرشتوں کی طرف آتے ہیں۔ فرشتے لطیف جسم ہیں اور چونکہ ہماری روح مٹی کے جسم میں قید ہیں اس لئے ہم فرشتوں اور جناتوں کی آوازوں کو نہیں سن سکتے اور نہ ہی انہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کو اس طرح بنایا ہے کہ ہم ایک مخصوص حد کے نیچے کی آواز نہیں سن سکتے اور فرشتوں اور جناتوں کی اور درختوں کی آواز اس حد کے نیچے ہے۔ مٹی کے جسم میں قید ہونے کی وجہ سے ہماری دیکھنے اور سننے کی طاقت محدود ہے۔ ایک مخصوص حد تک کی آواز ہمارا جسم برداشت کر سکتا ہے۔ اس کے اوپر کی آواز کو ہمارا جسم برداشت نہیں کر سکتا اور اس کا نظا م درہم برہم ہو جائے گا۔ ہم بے ہوش بھی ہو سکتے ہیں ۔ بہت زیادہ کپکپاہٹ کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ ہمارا دل پھٹ بھی سکتا ہے اور ہم موت کا شکار بھی ہو سکتےہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے جسم کی حرکت محدود ہے۔ اور فرشتوں اور جناتوں کی حرکت لا محدود ہے۔

فرشتوں کے کاموں کی تقسیم

اللہ تعالیٰ نے ہم انسانوں کے لئے زمین و آسمان اور پوری کائنات بنائی ہے۔ اور اس کا انتظام سنبھالنے کی ذمہ داری فرشتوں کو سونپی ہے۔ یعنی فرشتوں کو انسانوں کی خدمت پر مامور کر دیا ہے اور ان کے کام تقسیم کر دیئے ہیں۔ فرشتے بے شمار ہیں۔ اس زمین پر جتنے انسان رہتے ہیں اُن سے دس گناہ زیادہ کیڑے مکوڑے رہتے ہیں۔ ان کیڑے مکوڑوں سے دس گنا زیادہ سمندری جاندار رہتے ہیں۔ ان سمندری جانداروں سے دس گنا زیادہ جنات رہتے ہیں۔ اور جتنے جنات اس زمین پر رہتے ہیں ان سے دس گنا زیادہ فرشتے ہر وقت زمین پر موجود رہتے ہیں۔ اور جتنے فرشتے زمین پر رہتے ہیں۔ ان سے دس گنا زیادہ فرشتے پہلے آسمان پر رہتے ہیں۔ اس سے دس گنا زیادہ دوسرے آسمان پر اور اس سے دس گنا زیادہ تیسرے آسمان پر رہتے ہیں۔ اس طرح ساتویں آسمان تک فرشتوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ ان میں سے بہت سے فرشتے اللہ تعالیٰ کی ہر وقت تسبیح کرتے رہتے ہیں۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ۔” وہ ( فرشتے ) رات دن اس کی (اللہ تعالیٰ کی ) تسبیح کرتے رہتے ہیں اور تھکتے نہیں ہیں۔ “( سورہ الانبیاءآیت نمبر20) بہت سے فرشتے ہواﺅں کو چلانے پر مقرر ہیں۔ بہت سے فرشتے بارش برسانے پر مقرر ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام کی کئی ذمہ داریاں ہیں اور بے شمار فرشتے اُن کے ماتحت ہیں ۔ا سی طرح میکائیل علیہ السلام کے ماتحت بھی بے شمار فرشتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ان فرشتوں کو احکامات دیتے رہتے ہیں۔ اسرافیل علیہ السلام صور لئے اللہ کے حکم کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ عزرائیل علیہ السلام ( ملک الموت) کا کام انسانوں کی روح نکالنا ہے اور ان کے ماتحت بھی بہت سے فرشتے ہیں۔ بہت سے فرشتے آسمانوں اور زمین کا انتظام سنبھالتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ” وہ (فرشتے) اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔“ (سورہ التحریم آیت نمبر6) سورہ النازعات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ ۔ اُن فرشتوں کی قسم ، جو سختی سے ( کافر کی جان ) کھینچتے ہیں۔ اور جو نرمی سے ( مومن کی جان کی گرہ ) کھولتے ہیں۔ اور جو ( زمین و آسمان میں ) سُرعت سے تیرتے پھرتے ہیں۔ اور جو (اللہ کے احکام کو پورا کرنے کے لئے ) پوری طاقت اور قوت سے آگے بڑھتے ہیں۔ اور جو کائنات کے نظام کے انتظام کی تدبیر کرتے ہیں۔ ( سورہ النازعات آیت نمبر1سے 5تک ) اس طرح اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو الگ الگ کاموں پر مقرر فرمارکھا ہے۔

جنات کی پیدائش

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی روحوں کو اور فرشتوں کو نور سے پیدا فرمایا۔ اور جناتوں کو آگ سے پیدا فرمایا۔ سورہ الحجر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لَو والی آگ سے پیدا کیا۔ “ ( سورہ الحجر آیت نمبر27) مدارج النبوت  میں ہے کہ اللہ تعالی نے زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پر جو آگ پیدا کی تھی اس آگ میں نور بھی تھا اور ظلمت بھی۔ نور سے فرشتوں کو پیدا کیا اور ظلمت سے دیوؤں کو پیدا کیا اور خالص آگ سے جنات پیدا کئے۔ چونکہ فرشتوں کا مادہ تخلیق نور خالص تھا اس لئے وہ اللہ کی اطاعت میں لگ گئے، گناہوں سے دور رہے اور چونکہ شیاطین دھوئیں سے پیدا ہوۓ تھے اس لئے وہ بالطبع معاصی، کفر اور ناشکری میں مبتلا ہو گئے۔ جنات چونکہ آگ سے پیدا ہوئے تھے۔ آگ میں دونوں چیزیں تھیں نور بھی اور ظلمت بھی، اس لئے جنات میں سے بعض مسلمان ( ہدایت یافتہ ) رہے اور بعض کافر ( گمراہ ) بن گئے۔ بہرحال جنات کی تخلیق کے بعد جب ان کی نسل بڑھی تو حق تعالی نے ان کو اوامر و نواہی کا مکلف بنایا۔ جنات ایک عرصہ تک اللہ کی اطاعت میں مصروف رہے، بعد میں کفر و ناسپاسی میں پھنس گئے۔ اللہ تعالی ان کی ہدایت کے لئے بشیر و نذیر بھیجتا رہا مگر وہ اپنی فطرت سے مجبور تھے۔ آخرکار تعالی نے فرشتوں کی ایک بھاری جمعیت ان کی سرکوبی کے لئے آسمان سے بھیجی۔ فرشتوں کی فوج نے اللہ کے حکم جناتوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ بقیہ پہاڑوں جزیروں اور غیر آباد مقامات میں متفرق ہو کر جان بچا سکے۔ ناسمجھ اور کمسن جنات قید کر لئے گئے۔

ابلیس شیطان

فرشتے ان ناسمجھ قیدیوں کو اپنے ہمراہ آسمان پر لے گئے۔ ان قیدیوں میں عزازیل بھی تھا جو فرشتوں کی زیر تربیت روز بروز ترقی کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ ابلیس کا نام سریانی زبان میں عزازیل اور عربی زبان میں حارث ہے۔  یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ ملک الموت کا نام عزرائیل علیہ السلام ہے۔ فرشتوں کی صحبت سے عزازیل کو اس قدر عبادت کا ذوق و شوق پیدا ہوا کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ازراہ شفقت و مکرمت عزازیل کے بارے میں سفارش کرنی پڑی۔ عزازیل نے بھی عبادت کرنے میں حد کر دی۔ شب و روز عبادت میں مشغول رہتا۔ ترقی کرتے کرتے دوسرے آسمان پر اور وہاں سے تیسرے آسمان پر اسی طرح ساتویں آسمان تک جاپہنچا۔ اس کے بعد جنت کے داروغہ رضوان کی سفارش پر عزازیل کو جنت میں رہنے کی اجازت مل گئی۔ عزازیل مسند تعلیم و موظعت پر بیٹھ کر معلم الملکوت بن گیا۔ پھر تو یہ عالم ہوا کہ عرش اعظم کے پایہ کے نیچے اس کے لئے یاقوت کا منبر بچایا جانے لگا۔ سر پر نور کا پھریرا فضا میں لہراتا تھا۔ جنات کے قتل عام کے ایک عرصہ بعد جب جنات زمین پر دوبارہ آباد ہوۓ اور اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے طریقہ کو چھوڑ کر کفر و عصیاں میں مبتلا ہوۓ تو عزازیل نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ مجھے فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ جنات کی ہدایت کے لئے زمین پر بھیج دیا جاۓ۔ حق تعالی نے اجازت مرحمت فرما دی۔ عزازیل نے جنات کی ہدایت کے لئے قاصد بھیجے۔ جنات ان کو ٹھکانے لگاتے رہے۔ ایک قاصد بہ مشکل جان بچانے میں کامیاب ہو سکا۔ جس نے عزازیل کو سارا قصہ سنایا۔ اس پر عزازیل نے اللہ تعالی سے فرشتوں کی ایک بھاری جمعیت کی امداد کا مطالبہ کیا۔ فرشتوں کا ایک بڑا بھاری لشکر عزازیل کی سرکردگی میں جنات کی سرکوبی کے لئے آگیا۔ اس مرتبہ فرشتوں نے تمام جنات کو ٹھکانے لگا دیا۔ بہت ہی تھوڑے جنات بہ مشکل جان بچانے میں کامیاب ہو سکے۔ جنات کے ناپاک وجود سے زمین کی پاکی کے بعد اللہ تعالی نے ابلیس کو زمین کی خلافت عطا فرمائی۔ عزازیل اس عظیم الشان کارنامہ پر مغرور ہو کر دل میں کہنے لگا کہ اگر خدا تعالی نے زمین کے انتظام وانصرام کے لئے کسی اور شخص کو نامزد کیا تو میں اس کو ہرگز قبول نہ کروں گا۔ اسی دوران میں ایک روز فرشتوں کی نظر لوح محفوظ کی ایک تحریر پر پڑی۔ جس کا مفہوم یہ تھا کہ میرا ایک مقرب بندہ عنقریب خسارے اور ہمیشہ کی لعنت میں گرفتار ہونے والا ہے۔ فرشتوں کو یہ تحریر پڑھ کر فکر ہوئی کہ یہ جانے تحریر کس کے متعلق ہے۔ ابلیس سے ذکر کیا تو اس نے کہا یہ تحریر ہمارے تمہارے متعلق نہیں ہے۔ میں تم سے بہت عرصہ پہلے یہ تحریر پڑھ چکا ہوں۔ عزازیل نے فرشتوں کے متعلق دعا کی: اے اللہ ان فرشتوں کو اس ہمیشہ کی لعنت اور خسارے سے بچانا اور وہ اپنے کو بھول گیا۔ شیطان کے دماغ میں یہ بات سمائی ہوئی تھی کہ جو مرتبہ و اعزاز اس وقت مجھے حاصل ہے وہ مجھ سے واپس نہ لیا جاۓ گا۔

ابلیس کے اندر تکبّر ( گھمنڈ) پیدا ہو گیا

اللہ تعالیٰ نے ابلیس شیطان کے بارے میں فرمایا۔ ترجمہ ” یہ جناتوں میں سے تھا۔ اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔ “ ( سورہ الکھف آیت نمبر50) وہ نیک جن فرشتوں کے ساتھ رہنے لگا۔ کچھ عرصہ فرشتوں کے ساتھ رہنے کے بعد اس کے اندر یہ گھمنڈ پیدا ہو گیا کہ میں اتنا برتر ہوں کہ فرشتوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ جب اس میں یہ گھمنڈ پید ا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے عرشِ معلّیٰ پر لکھ دیا۔ ” اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم“ ترجمہ ۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے ۔ جب اس جن نے یہ دیکھا توا للہ تعالیٰ سے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ۔ یہ شیطان مردود کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وقت آنے پر معلوم ہو جائے گا۔ پھر وہ جن برسوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدے میں پڑا رہا اور اس شیطان مردود پر لعنت بھیجتا رہا۔  ابلیس جنت کے خازنوں میں سے تھا۔ اور پہلے آسمان  کے فرشتوں کا سردار تھا۔  پہلے  آسمان اور زمین پر اس کی سلطنت تھی۔ علم اور عبادت میں اس کی کوشش سب فرشتوں سے زیادہ تھی۔ ( پہلے ) آسمان سے زمین تک کے معاملات کا یہ محافظ اور منتظم تھا۔ ان امور کی وجہ سے یہ اپنا شرف اور مرتبہ سب سے زیادہ سمجھتا تھا۔ اس زعم نے اس کو کفر ( یعنی انکار) پر آمادہ کیا۔ سو ،اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس کو شیطان ِ رجیم اور دھتکارا ہوا قرار دیا۔

فرشتوں کو خلیفہ کی اطلاع دینا

جب زمین انسانوں کے رہنے کے قابل ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنانے کا ارادہ فرمایا اور فرشتوں سے فرمایا۔ میں زمین پر اپنا خلیفہ بھیجنے والا ہوں۔ تب فرشتوں نے عرض کیا۔ اے اللہ تعالیٰ ، آپ کسی کوخلیفہ بنائیں گے تو وہ بھی جناتوں کی طرح زمیں میں فساد پھیلائے گا۔ یعنی آپس میں لڑیں گے اور ہم تو آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ تسبیح کرتے ہیں اور حمد کرتے رہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ ایک کارخانے دار ہے۔ اس کے کارخانے میں کاریگر کام کر رہے ہیں۔ اب وہ کارخانے دار اپنے کاریگروں سے کہتا ہے ۔ میں اس کارخانے کا ایک مینجر مقرر کرنے والا ہوں ۔ تو کاریگر کہتے ہیں کہ آپ مینجر رکھیں گے تو وہ اپنی مرضی سے کارخانہ چلوائے گا۔ ایسا نہ ہو کہ کارخانے میں اس کی غلطیوں کی وجہ سے نقصان ہو جائے۔ جب کہ ہم تو اچھے طریقے سے صحیح کام کر رہے ہیں۔ تو کارخانے دار کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ اس میں بہت سی خوبیاں بھی ہیں۔ جو تم نہیں جانتے۔ یعنی اس مینجر کارخانے کا بہت سارا فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ 

فرشتوں کا اندیشہ

اللہ تعالیٰ نے زمین پر خلیفہ بنانے کے بارے میں فرشتوں کو اس لئے بتایا کہ اس خلیفہ کے لئے تمام انتظامات فرشتوں کو ہی کرنا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرشتوں سے مشورہ نہیں فرما رہے ہیں ۔ بلکہ انہیں اطلاع دے رہے ہیں اور حکم بھی دے رہے ہیں کہ میں جسے خلیفہ بناﺅں گا تمہیں اس کی خدمت اور مدد کرنا ہو گی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس کی آسانی کے لئے انتظامات بھی کرنے ہوں گے۔ کوئی فرشتہ ہوا چلانے پر مامور ہو گا۔ کوئی بارش برسانے پر مامور ہو گا۔ اور کوئی اس ( انبیائے کرام ) تک میرا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری نبھائے گا۔ کوئی ان کی روح قبض کرنے کا کام کرے گا۔ اور کوئی ان کے اعمال لکھنے کا کام کرے گا۔ غرض یہ کہ فرشتوں کو اس خلیفہ کا ہر طرح سے تعاون اور نگرانی کرنا ہوگی۔ اور زمین کے تمام انتظامات سنبھالنے ہوں گے۔ اسی لئے آگے چل کر فرشتوں کو حکم دیا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرو۔ اس کا ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا۔ اور فرشتے بھی جانتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ زمین پر اپنا خلیفہ بنائے گا تو اسے کچھ اختیارات بھی عطا فرمائے گا۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہ خلیفہ ان اختیارات کا غلط استعمال کر کے زمین پر فساد برپا کرے گا۔ اسی اندیشے کا اظہار فرشتوں نے کیا تھا۔ 

حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کے لئے مٹی لانا

اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر جاﺅ اور مٹی لے کر آﺅ۔ جبرئیل علیہ السلام زمین پر پہنچے تو زمین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ اس مٹی سے انسان بنائے گا اور وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ میں اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں کہ وہ میرے کسی حصے کو جہنم میں ڈالے۔ یہ سن کر جبرئیل علیہ السلام واپس چلے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میکائل علیہ السلام کو بھیجا۔ وہ بھی آئے اور زمین کی فریاد سن کر واپس چلے گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے عزرائیل علیہ السلام کو بھیجا ۔ جب زمین نے ان سے فریاد کی تو انھوں نے کہا۔ میں اس بات کی پناہ مانگتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں۔ اور الگ الگ جگہوں سے سفید ، کالی، سرخ اور کئی طرح کی مٹی لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں کی روح قبض کرنے ( جان نکالنے) کا کام سونپ دیا۔ اور ” ملک الموت “ کا خطاب دیا۔ 

آدم نام کیوں رکھا گیا

اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ملک الموت نے زمین کے اوپری حصے سے مٹی لی تھی۔ اوپری حصہ کو ” ادیم “کہا جاتا ہے۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کا نام ” آدم “ رکھا گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کو بنانے کے لئے ” ادیم ارض“ ( زمین کے اوپری حصہ ) سے تلخ اور شیریں مٹی لی جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کو بنایا۔ اس لئے ان کا نام آدم رکھا گیا ہے کہ وہ زمین کے ” ادیم “ اوپر والے حصے سے بنائے گئے ۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام کے جسم کو ادیم ارض سے بنایا گیا ہے جس میں عمدہ اور غیر عمدہ ہر قسم کی مٹی شامل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تم اُن کی اولاد میں اچھے برے ہر قسم کے لوگ دیکھتے ہو۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹھی بھر مٹی سے پید ا فرمایا۔ جس کو تمام زمین سے لیا تھا۔ پس اولادِ آدم زمین کی اسی مٹی کے مطابق پید اہوئی ہے۔ ان میں کچھ لوگ سرخ رنگ کے ہیں۔ کچھ سیاہ فام یعنی کالے رنگ کے ہیں ۔ کچھ لوگ سفید رنگ کے ہیں اور کچھ لوگ درمیانے یعنی سانولے رنگ ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ نرم مزاج ہیں ۔ بعض سخت مزاج ہیں بعض لوگ خوش اخلاق ہیں اور بعض لوگ بد اخلاق ہیں۔

بااقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

حضرت آدم علیہ السلام 1 Story of Adam AS 1

 سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام

سلسلہ نمبر1۔ حضرت آدم علیہ ا لسلام

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

قسط نمبر 1


زمین و آسمان کی تخلیق

یہ بات ہرکوئی بہت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام تمام انسانوں کے والد محترم ہیں اس لئے آپ علیہ السلام سے ہی ہم سلسلہ انبیائے کرام علیہم السلام شروع کررہے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں بتانے سے پہلے ہم آپ کو زمین، آسمان ، فرشتوں، جناتوں اور انسانوں کی روحوں کی تخلیق کے بارے میں بتائیں گے تا کہ تشنگی محسوس نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔ ترجمہ” ( اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) ان سے کہو ۔ تم کیسے اس اللہ کے ساتھ کفر کرسکتے ہو؟ جس نے دو دن میں زمین کو بنایا اور تم اس کے شریک بناتے ہو۔ وہ تمام جہانوں کا رب ہے اور اس نے زمین میں بھاری پہاڑوں کو گاڑ دیا اور اس میں برکت رکھی۔ اور زمین میں رہنے والے جانداروں کی غذا بھی چار دنوں میں مقدر کی۔ جو ضرورت مندوں کی ضرورت کے مطابق ہے۔ پھر آسمان کی طرف قصد کیا۔جب کہ اس وقت وہ دھواں تھا اور اسے آسمان بنایا، پھر آسمان و زمین سے فرمایا۔ تم دونوں خوشی سے یا نا خوشی سے حاضر ہو (حکم کی تعمیل کرو)۔ اُن دونوں نے کہا۔ ہم خوشی سے حاضر ہوئے۔ پھر دو دنوں میں سات آسمان بنا دیئے۔ اور ہر آسمان میں اس کے موافق حکم بھیجا اور ہم نے دنیا کے آسمان کو چراغوں ( ستاروں) سے مزین کیا۔ اور اس کی حفاظت کی۔ یہ بہت بڑی ذات اور بڑے علم والے کا مقرر کی مقرر کی ہوئی تدبیر ہے۔ “( سورہ حٰم ٓ السجدہ آیت نمبر9سے 12تک) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک اور جگہ فرمایا۔ترجمہ۔ ”وہ اللہ جس نے تمہارے لئے زمین کی تمام چیزوں کو پیدا کیا ۔پھر آسمان کی طرف قصد ( توجہ) کیا۔ اور ان کو ٹھیک ٹھاک سات آسمان بنایا۔اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔“( سورہ البقرہ آیت نمبر29) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ پہلے زمین بنائی پھر آسمان بنائے۔ ان آیات میں اور ان کے علاؤہ قرآن پاک میں کئی اور آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر فرمایا ہے۔اس سلسلے میں بہت سی احادیث بھی ہیں لیکن یہاں ہم صرف ایک حدیث پیش کریں تاکہ ویڈیو زیادہ طویل نہ ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا۔ ” اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی (زمین ) کو پیدا فرمایا۔ پھر اتوار کے دن اس میں پہاڑوں کو گاڑا۔ پیر کے دن اس پر درختوں کو پیدا فرمایا۔ منگل کے دن اس میں مکروہ چیزوں کو پید ا فرمایا۔ بدھ کے دن اس پر نور کو پیدا فرمایا۔ پھر جمعرات کو زمین میں چوپائے پھیلائے اور جمعہ کے دن عصر کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو پید ا فرمایا۔ “

ایک دن ایک ہزار سال

اللہ تعالیٰ کا فرمان اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان جو اوپر ذکر ہوئے ہیں ۔ ان میں جامع طور سے تمام تفصیل آگئی ہے۔ اب ہم ان روشنی میں ذرا تفصیل سے زمین و آسمان کی تخلیق کا ذکر کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں فرمایا کہ۔ ” اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی یعنی زمین کو پید ا فرمایا۔ “ آگے بڑھنے سے پہلے ہم ایک بات سمجھ لیں کہ ہماری زمین پر جو دن اور رات ہوتے ہیں۔ وہ ہماری زمین تک ہی محدود ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں جو ایک دن کا ذکر فرماتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث میں جو ایک دن کا ذکر فرماتے ہیں ۔ وہ ایک دن ہمارے یہاں کے چوبیس24گھنٹوں کے برابر نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ایک دن ہماری زمین کے ہزاروں سال کے برابر ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ 

ترجمہ، اور تمہارے رب کا ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے ۔( سورہ الحج آیت نمبر 47) ۔ اب آپ کی سمجھ میں آگیا ہو گا کہ قرآن پاک اور احادیث میں ذکر کیا گیا ایک دن ہزاروں سال پر محیط ہوتا ہے۔ اس سے زمین وآسمان کی تخلیق سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

آگ کا گولہ

سائنسدانوں کا زمین کی تخلیق کے بارے میں دو نظریے ہیں۔ پہلا یہ کہ زمین سورج کا مادہ تھی اور اس سے الگ ہوکر وجود میں آئی اور دوسرا نظریہ یہ کہ سورج کے اطراف گردش کرتے مادے زمین کی تخلیق ہوئی اللہ تعالیٰ نے سورج میں کوئی بہت بڑا سیارہ ٹکرایا تھا یا کسی اور طرح سے زمین کو سورج سے الگ کیا تھا ۔ یا پھر زمین کو اور سورج کو الگ الگ وجود میں لایا تھا۔ اس کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ ماہرین فلکیات کہتے ہیں کہ جب زمین سورج سے الگ ہوئی تو وہ پوری لاواتھی۔ اور لاوے کا یہ مادّہ سورج کی کششِ ثقل کی وجہ سے اس کے اطراف گردش کرنے لگا۔ اور دھیرے دھیرے گولائی اختیار کرنے لگا۔ کیوں کہ خلاءمیں کوئی بھی مادہ گولائی اختیار کر لیتا ہے۔ اس طرح زمین ایک آگ کا گولہ بن گئی۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سورج گیسوں اور دھاتوں کے بڑے بڑے پہاڑوں کا مجموعہ ہے۔ اور اس میں ہائیڈروجن گیس سب سے زیادہ ہے۔ جو مسلسل جل رہی ہے اور ہیلیم میں تبدیل ہو رہی ہے اور یہ پورا جلتا ہوا مادّہ لاوا کہلاتا ہے۔ زمین جب سورج سے الگ ہوئی تو ہزاروں سال میں لاوے نے گولائی اختیار کر لی اور ہزاروں سال میں خلاءکی بے انتہا سردی کی وجہ سے اس لاوے کی اوپری سطح پر سخت پرت جمنے لگی۔ اب زمین پر ایک سخت پرت جم چکی تھی اور اس کے اندر لاوا تھا۔ اور اس لاوے کے اندر بیچوں بیچ میں مخرج ( آئرن اور نکل کا مجموعہ ) تھا۔ یہ سب ہزاروں سال میں ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہے۔ اور اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ۔ ” اللہ تعالیٰ نے سنیچر کے دن مٹی یعنی زمین کو پیدا فرمایا۔“

زمین میں پہاڑوں کا گاڑنا

اللہ تعالیٰ نے سورہ النازعات آیت نمبر32 میں فرمایا۔ ترجمہ ۔ ” اور پہاڑوں کو گاڑ دیا۔ “ اور سورہ الغاشیہ آیت نمبر19 فرمایا۔ ترجمہ ” اور یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ پہاڑ کس طرح گاڑ دیئے گئے ہیں۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے سورہ النباءآیت نمبر7 فرمایا۔ ترجمہ ” اور پہاڑوں کو میخیں بنایا۔ “ ان تین آیات کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی آیات میں پہاڑوں کا ذکر فرمایا ہے۔لیکن ہم ان تین آیات پر ہی اکتفا کر کے آگے بڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو میخیں فرمایاہے۔ خیمہ لگانے کے لئے زمین میں میخ ٹھونکتے ہیں اور اس میخ کو تین حصہ سے زیادہ زمین میں گاڑ دیا جاتا ہے۔ اب سنیچر کے دن زمین وجود میں آگئی۔ اس کے آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” پھر اتوار کے دن اس میں یعنی زمین میں پہاڑوں کو گاڑا۔ “ ماہرین فلکیات کی تحقیقات کے مطابق جب سورج سے الگ ہونےکے بعد ہزاروں سال میں زمین کی اوپری سطح خلاءکی بے انتہا سردی کی وجہ سے سخت ہو گئی لیکن وہ اتنی سخت نہیں ہوئی تھی کہ لاوا کو اوپر آنے سے روک سکے۔ اسی لئے اندر کا لاوا کہیں سے بھی اس پرت یا اوپری سطح کو پھاڑ کر باہر آجاتا تھا۔ اور یہ پرت یا سطح ہر وقت لرزتی رہتی تھی۔اس وقت ہماری زمین اور مریخ کے درمیان ایک اور سیارہ گردش کررہا تھا۔ پھر وہ سیارہ پوری شدت سے ہماری زمین سے ٹکرا گیا۔ یہ سائنس کی تحقیق ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہ سیارہ زمین سے ٹکرایا تھا۔ ایک بہت زبر دست دھماکہ ہوا اور اس دھماکے کے جھٹکے سے زمین بیضوی یعنی انڈہ نما ہو گئی اور اپنے محور پر گھومنے لگی۔ اور شمالی یعنی اوپری حصہ جھک گیا اور پوری زمین ہلکی سی ترچھی ہو گئی۔ اس زبردست ٹکراﺅ اور دھماکے کا اثر اس سیارے پر بھی پڑا اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور اس کا ملبہ زمین کے اطراف پھیل گیا۔ زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے وہ ملبہ خلاءمیں نہیں جا سکا اور زمین کے اطراف گردش کرنے لگا۔ یہ ملبہ دھول گرد و غبار، مٹی اور بڑے بڑے پتھر کے پہاڑوں اور برف کے پہاڑوں کی شکل میں تھا۔ اس ملبے نے پوری طرح سے زمین کو ڈھک لیا۔ یہ ملبہ اتنا موٹا اور دبیز تھا کہ سورج کی روشنی زمین پر نہیں پہنچ پا رہی تھی اور زمین پر مکمل اندھیرا چھا گیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے زمین کی کشش ثقل کو اتنا بڑھا دیا کہ زمین نے اپنے اطراف گردش کرتے ہوئے ملبے کو اپنے اندر کھینچنا شروع کر دیا اور بڑے بڑے پہاڑ جو زمین کے اطراف گردش کر رہے تھے وہ اس کی اوپری سطح کی پرت میں آکر دھنسنے لگے۔ یعنی گڑنے لگے۔ اُن پہاڑوں کا تین حصہ زمین کے اندر دھنستا گیا اور صرف ایک حصہ سطح کے اوپر رہ گیا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” ہم نے پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑا۔ “ پہاڑوں کے زمین میں گڑنے کا سلسلہ ہزاروں سال تک چلتا رہا اور ساتھ ہی ساتھ دھول اور مٹی بھی زمین پر آکر جمتی رہی۔ اسی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر اتوار کے دن اس میں یعنی زمین میں پہاڑوں کو گاڑا ۔ “ اور اللہ تعالیٰ نے سورہ النحل آیت نمبر15 میں فرمایا۔ ترجمہ ” اور اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تا کہ زمین تمہیں ہلا نہ دے۔ 

چاند کی تخلیق

زمین پہاڑوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے اندر کھینچتی رہی اور ہزاروں سالوں تک کھینچتی رہی۔ ان میں برف کے بھی بہت بڑے بڑے پہاڑ تھے جن کی وجہ سے زمین پر سمندر وجود میں آیا۔ جب پوری زمین پہاڑوں ، مٹی، پانی اور گردو غبار سے بھر گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی کشش ثقل کو نارمل کر دیا اور زمین نے پہاڑوں کو اپنی طرف کھینچنے کا سلسلہ بند کر دیا۔ اس کے باوجود ابھی بھی بہت سارا ملبہ زمین کے اطراف گردش کر رہا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ نے اس ملبے کو آپس میں جُڑنے کا حکم دیا۔ تو وہ ملبہ دھیرے دھیرے جڑنے لگا اور ہزاروں سال میں وہ ملبہ پورے طور سے آپس میں جڑ گیا۔ یعنی چپک گیا۔ ساتھ ہی اس کی زمین کے اطراف گردش جاری رہی۔ جو آج بھی جاری ہے۔ یہ آپس میں چپک جانے والا مادہ یا ملبہ ،چاند ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے چاند کی تخلیق فرمائی۔ اس سیارے کے ٹکرانے سے زمین کی محوری گردش شروع ہو گئی اور جب وہ ملبہ چاند کی شکل اختیار کر گیا تو زمین کی فضاءصاف ہو گئی اور اس پر سورج کی روشنی پڑنے لگی اور زمین پر دن اور رات ہونے لگے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اشارہ فرمایا ہے۔ ترجمہ، ” وہ اللہ ہے، جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پید اکیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں تیرتے پھرتے ہیں۔ “

زمین پر پانی اور زندگی کی تخلیق

اللہ تعالیٰ جب چاند کی تخلیق فرما رہا تھا اسی دوران اس نے زمین پر پانی کو پیدا فرمایا اور اس نے پوری زمین کو ڈھک لیا اور ہر طرف سمندر تھا یہ بہت تفصیل طلب موضوع ہے۔ مختصر یوں سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر سے کچھ حصہ پر سے پانی ہٹایا اور زیادہ تر حصہ کو سمندر رہنے دیا۔ آج بھی ہماری زمین پر تین حصہ سمندر ہے اور صرف ایک حصہ خشک ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین پر درختوں ، کیڑوں مکوڑوں ، پرندوں اور جانوروں کو پیدا فرما کر پھیلا دیا۔ جیسا کہ اوپر صحیح مسلم کی حدیث میں ذکر کر چکے ہیں۔  

آسمانوں کی تخلیق

اس کے بعد اللہ تعالیٰ آسمانوں کو بنانے کا ارادہ فرمایا۔ علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔ اور جمعرات کے دن اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے جب کہ اس سے پہلے وہ آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس آیت ترجمہ ” پھر وہ اللہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھوں تھا۔ “ ( سورہ حٰم ٓ السجدہ آیت نمبر11) کی تفسیر میں منقول ہے کہ یہ دھواں پانی کے سانس لینے کی وجہ سے ظاہر ہوا تھا۔ اس دھویں کو پہلے اکیلے آسمان کی شکل میں بنایا تھا پھر اس کی پرتوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے سات آسمانوں کی موجودہ شکل میں ڈھالا۔ اور یہ عمل جمعرات اورجمعہ کے دن ہوا۔ اور جمعہ کا نام اس لئے پڑا کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو مکمل بنا کر جمع فرمایا۔ 

آسمان کے فاصلے

اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے۔ اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ رکھا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بادل گزرا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت فرمایا۔ ” تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” یہ بادل ہے۔ یہ زمین کو سیراب کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کو اس شہر کی طرف لے جا رہا ہے جہاں کے باشندے اس کی ( اللہ کی ) عبادت نہیں کرتے ہیں اور اس کا شکر ادا نہیں کرتے ہیں۔“ پھر دریافت فرمایا۔ کیا تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” اس کے اوپر ایک رُکی ہوئی موج اور محفوظ چھت ہے۔ تم جانتے ہو اس کے اوپر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا ۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” اس کے اوپر آسمان ہے۔ تم جانتے ہو اس آسمان کے اوپر کیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتےہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” ان دونوں آسمانوں کے درمیان پانچ سو سالوں کی مسافت کا فاصلہ ہے۔ “ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمانوں کے بارے میں بتایا۔ اور یہ بتایا کہ ہر آسمان کا درمیانی فاصلہ پانچ سو 500برسوں کی مسافت کے برابر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” کیا تم جانتے ہو کہ ساتوں آسمان کے اوپر کیا ہے؟ “ ہم نے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” ساتویں آسمان کے اوپر عرش ہے۔ اور ان دونوں کا درمیانی فاصلہ بھی پانچ سو سالوں کی مسافت کے برابر ہے۔ 

.....باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں

اتوار، 2 اپریل، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 30 Khulasa e Quran


30 خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (30) 

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سوره النباء 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ کافر آپس میں ایک دوسرے سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، جب وہ آئے گی تو وہ ضرور جان جائیں گے ۔ کافر دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسان کے رہنے کے لئے پھیلایا اور اس میں مضبوطی کے لئے پہاڑ گاڑ دیئے اور تم کو جوڑے جوڑے بنائے اور رات بنائی کہ تم آرام کی نیند پاؤ اور دن بنایا کہ رزق تلاش کرو اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے اور ان میں ایک چمکتا چراغ ( سورج ) رکھا اور بادلوں سے بارش برسائی اور اس سے اناج اور سبزی اور پھل اور میوے پیدا کئے ۔ بیشک فیصلہ کا دن (یعنی قیامت کا آنا ) مقرر ہے۔ اس دن صور پھونکا جائے گا تو تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع (حاضر) ہو جاؤ گے اور آسمان کھولا جائے گا تو اس میں دروازے ہوں گے اور پہاڑ چلا دئیے جائیں گے تو وہ (سراب) چمکتی ریت بن کر رہ جائیں گے اور جہنم سرکشوں کی تاک میں ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس میں انھیں کوئی ٹھنڈک نہیں ملے گی اور پینے کے لئے کھولتا پانی اور جہنمیوں کی پیپ ملے گی۔ بے شک ان لوگوں کو حساب کا خوف نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے (ان سے کہا جائے گا ) کہ اب چکھو عذاب کا مزہ۔ ہم تو تمہاری سزا بس بڑھاتے ہی رہیں گے۔ 
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو ایمان لائے ، نیک اعمال کئے اور گناہوں سے بچے ، اُس دن وہ لوگ جنت کے باغوں میں ہوں اور بہترین پھل اور میوے کھائیں گے اور بہترین مشروب پئیں گے اور جنت میں نہ تو بے ہودہ بات اور نہ ہی جھوٹ سنیں گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہمانی ہوگی ۔ جو زمین اور آسمان کا رب ہے۔ قیامت کے دن میدان حشر میں کسی کی ہمت نہیں ہوگی کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات کرے۔ جبرئیل علیہ السلام اور تمام فرشتے خاموش کھڑے ہوں گے ۔ ہاں صرف وہی بات کر سکے گا جس کو (مثلاً رسول اللہ ﷺ کو) اللہ تعالی رحمٰن اجازت دے گا اور وہ حق ہی بولے گا۔ قیامت برحق ہے ۔ اب جو چاہے اللہ تعالیٰ کا راستہ اختیار کرے ۔ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ نے تمہیں اس عذاب (قیامت کا دن ) سے ڈرایا ہے جو نزدیک آ گیا ہے۔ اُس دن آدمی دیکھے گا کہ اس نے آگے کیا کچھ بھیج رکھا ہے اور کافر کہے گا: ہائے! میں کسی طرح مٹی ہو جاتا۔ (سورۃ النبا مکمل)
سورة النازعات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں جان نکالنے والے اور ہر قسم کا کام کرنے والے فرشتوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد قیامت کے بارے میں بتایا کہ جب وہ آئے گی تو کافروں کو عذاب ہوگا اور کافر کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں گل جائیں گی تو دوبارہ ہمیں کیسے زندہ کیا جائے گا۔ ایک زور دار آواز ہوگی اور سب کے سب میدان حشر میں جمع ہو جائیں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے قبول کرنے سے انکار کیا اور بولا: میں تمہارا رب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا اور آخرت دونوں جگہ کے عذاب میں پکڑ لیا۔ ایمان والوں کے لئے اس قصہ میں سبق ہے۔ 
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے لئے اتنے بڑے آسمان کا بنانا کچھ مشکل نہیں ہوا تو تمہیں دوبارہ بنانا تو اس سے بھی آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین پھیلائی اور اس میں پہاڑوں کو جمایا اور اس میں سے پانی اور اناج اور پھل اور میوے اور چارہ نکالا جس سے تم اور تمہارے جانور فائدہ اٹھاتے ہیں تو جب قیامت آئے گی ہر آدمی اپنے اعمال کو یاد کرے گا ۔ جہنم ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دی جائے گی۔ جو لوگ دنیا میں مگن رہے اُن کے لئے جہنم ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے سامنے حساب سے ڈرا اور اپنے نفس اور خواہشوں کو گناہوں سے روکا تو بے شک جنت ایسی ہی لوگوں کا ٹھکانہ ہے۔ (سورۃ النازعات مکمل)
سورة عبس 
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو سمجھایا کہ آپ ﷺ مکہ مکرمہ کے اُن کا فر سرداروں کے پیچھے پریشان نہ ہوں جو ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اُن لوگوں پر توجہ دیں جو اسلام کو سمجھنا چاہتے ہوں ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے فرشتے ہر انسان کے اعمال کو لکھ رہے ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ انسان کو کس طرح سے پیدا فرمایا؟ کس طرح تمام مخلوقات کے لئے رزق پیدا فرمایا؟ پھر قیامت کے بارے میں بتایا کہ جب وہ آئے گی تو آدمی اپنے ماں باپ ، اپنے بھائی ، اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے دور بھاگے گا ۔ اُس دن مؤمن خوش ہوں گے اور مجرم اور کا فرغمگین ہوں گے۔(سورہ النازعات مکمل)
سورة التكوير
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ قیامت کے دن سورج کی روشنی ختم کر دی جائے گی اور تارے بھی غائب کر دیئے جائیں گے اور پہاڑ چلائے جائیں گے۔ حاملہ اونٹنیوں کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا اور دہشت سے وحشی جانور ایک جگہ جمع ہو جائیں گے اور سمندروں میں آگ لگا دی جائے گی اور جسموں کو جانوں سے جوڑ دیا جائے گا اور زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس جرم میں تجھے زندہ دفن کیا گیا؟ اور نامۂ اعمال کھولے جائیں گے اور آسمان بھیج دیا جائے گا اور جہنم کو دہکایا جائے گا اور جنت سامنے لائی جائے گی تو ہر کوئی یہ معلوم کر لے گا کہ اس نے کیا اعمال کئے ۔ اس کے بعد ستاروں اور رات اور صبح کی بعض کیفیات کی قسم کھا کر بتایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالی کی طرف ہے جبرئیل علیہ السلام لے کر رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں ۔ یہ کسی شیطان کا پڑھا ہوا نہیں ہے بلکہ قرآن پاک تو تمام عالم والوں کے لئے صاف نصیحت ہے، تو جو سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہے تو کرلے۔ (سورہ التکویر مکمل)
سورة الانفطار
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے ہولناک منظر کو بیان کیا کہ آسمان کو پھاڑ دیا جائے گا۔ تاروں کو بے نور کر دیا جائے گا۔ سمندر بہا دیئے جائیں گے اور قبریں کھول دی جائیں گی۔ ہر کوئی جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے کیا چھوڑ آیا ہے؟ اے انسان! کس فریب نے تجھے اللہ تعالی کی عبادت سے روکا۔ جب کہ اللہ تعالی نے تجھے پیدا کیا اور ہاتھ پاؤں اور بہترین شکل عطا فرمائی۔ ہر انسان پر اللہ تعالی نے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کا ہر عمل لکھ لیتے ہیں تو ایمان والے نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور بد کار کافر لوگ جہنم میں۔ یہ ہے انصاف کا دن اور تم کیا جانو انصاف کا دن کیسا ہے ؟ اُس دن کسی کو کچھ اختیار نہیں رہے گا اور صرف اللہ تعالی کا حکم چلے گا۔ (سورة الانفطار)
سورة المطففين
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ کم تولنے والے بہت بڑے نقصان میں ہیں۔ کیا وہ لوگ قیامت کے دن کو بھول گئے جب ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہوتا ہے اور کافروں کے لئے " سجین" ہے۔ یہ لوگ قیامت کے دن کو جھٹلاتے تھے اور جب انھیں اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جائیں تو کہتے تھے کہ یہ تو صرف کہانی قصے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا اور وہ اللہ تعالی کے دیدار سے محروم رہیں گے ۔ جہنم اُن کا ٹھکانہ ہے۔ ایمان والے نیک لوگوں کے لئے "علیین" ہے۔ وہ جنت میں تختوں پر ہوں گے اور بہترین مشک کی مہر گلی ہوئی نتھری شراب انہیں پلائی جائے گی ۔ دنیا کی زندگی میں مجرم لوگ مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے ۔ آج ( قیامت کے دن ) مسلمان ان کا مذاق اڑائیں گے۔(سورة المطففين)
سورة الانشقاق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس سورہ میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ آسمان اللہ تعالی کے حکم سے پھٹ جائے گا اور زمین اللہ تعالی کے حکم سے اپنے اندر کی چیزیں باہر نکال دے گی ۔ تو اے انسان اتجھے یقینا اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے جس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور خوشی خوشی گھر والوں میں آئے گا اور جس کا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ موت کی تمنا کرے گا۔ دنیا میں تو وہ اپنے گھر میں بہت خوش تھا اور اس گمان میں تھا کہ اللہ تعالٰی اُس کا حساب نہیں لے گا تو پھر یہ کافر ایمان کیوں نہیں لاتے۔ جب انھیں قرآن پاک سنایا جاتا ہے تو سجدہ کیوں نہیں کرتے ؟ (سورة الانشقاق)
سورة البروج
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 10
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں " اصحاب الاخدود" کا واقعہ بیان فرمایا جس میں کافروں نے ہزاروں لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا تھا ۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو لوگ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو تکلیف دیں گے اور توبہ نہیں کریں گے تو انھیں جہنم میں ڈالا جائے گا اور ایمان والے نیک لوگ جنت میں ہوں گے اور اللہ تعالی عرش کا مالک ہے۔ جو چاہے کر سکتا ہے اور اللہ تعالی کی گرفت بہت سخت ہے۔ کیا تم لوگوں کو ان لشکروں کے بارے میں نہیں بتایا گیا جن پر اللہ تعالٰی نے گرفت کی؟ فرعون اور محمود کے لشکروں کی خبر ۔ یہ بزرگی والا قرآن ہے جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔( سورة البروج)
سورة الطارق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 11
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ ہر انسان پر بلکہ ہر جاندار پر اللہ تعالی نے اپنے نگہبان (فرشتے) مقرر کر رکھے ہیں۔ اس کے بعد انسان اس کی تخلیق اور بناوٹ غور کرنے کا حکم دیا کہ تعالی نے ایسے کیسے بنایا؟ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ بھی بنائے گا۔ اُس دن ہر چھپی اور کھلی بات کی جانچ ہوگی اور انسان کچھ نہیں کر سکے گا اور نہ ہی اس کا کوئی مددگار ہوگا اور یہ قرآن پاک سچ اور حق ہے۔ یہ کوئی ہنسی کی بات نہیں ہے۔ کافر اپنا داؤ چلتے ہیں اور اللہ تعالی اپنی تدبیر کرتا ہے۔ آپ ﷺ کچھ وقت کے لئے انھیں مہلت دے دیں۔( سورة الطارق)
سورة الأعلى  
رکوع نمبر 12
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرو جو سب سے بلند ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی تمہیں ( قرآن پاک) یاد کرادے گا اور پھر آپ ﷺ نہیں بھولیں گے۔ اللہ تعالی ہر ظاہر اور چھپی ہوئی چیز کو جانتاہے اور اللہ تعالی آسانی فرما دے گا۔ آپ ﷺ لوگوں کو نصیحت کریں۔ تو جو نصیحت قبول کرے گا وہ کامیاب ہوا اور جو بد بخت نصیحت قبول کرنے سے انکار کر دے گا تو وہ آگ ( جہنم ) میں ڈالا جائے گا۔ پھر اس میں نہ چین سے زندہ رہ سکے گا اور نہ ہی وہ مر سکے گا۔ جس نے طہارت اختیار کی اور اللہ تعالیٰ کے نام سے نماز قائم کی وہ کامیاب ہوا اور تم لوگ دنیا کی زندگی کو زیادہ اہمیت دیتے ہو اور آخرت کو بھول جاتے ہو جب کہ آخرت تمہارے لئے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔(سورة الأعلى مکمل)
سورہ الغاشيہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کیا تم کو اس چھا جانے والی مصیبت (قیامت) کی خبر ملی ؟ اُس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے ۔ مشقت اور تکلیف میں (میدان حشر میں ) رہیں گے ۔ بھڑکتی آگ میں ڈالے جائیں گے۔ جلتے کھولتے چشمے کا پانی اور جلتے ہوئے کانٹے اُن کو کھانے پینے کو دئے جائیں گے۔ جن سے نہ بھوک مٹے گی اور نہ ہی موٹے ہوں (یہ حال جہنم والوں کا ہوگا ) اس کے بعد جنت والوں کا ذکر فرمایا کہ اس دن بہت سے چہرے تر و تازہ اور چین وسکون میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوشش (اعمال) سے راضی ہوگا۔ جنت میں تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے ۔ جس سے یہ سیراب ہوں گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کیا یہ لوگ اونٹ کی بناوٹ پر غور نہیں کرتے اور آسمان کی بلندی پر نگاہ نہیں کرتے ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ پہاڑوں کو کس طرح نصب کر دیا گیا اور زمین کوکس طرح سے بچھا دیا ہے؟ سو( آپ ﷺ ) انھیں نصیحت کریں ، آپ ﷺ تو بس نصیحت ہی کرنے والے ہیں ان پر کچھ وکیل اور ذمہ دار نہیں ہیں ، اب اتنی صاف حقیقت جاننے کے بعد بھی جو ایمان نہیں لائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑا عذاب دے گا اور ہر ایک کو اللہ تعالی ہی کی بارگاہ میں جمع ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالٰی سب سے حساب لے گا۔( سورہ الغاشيہ مکمل)
سورة الفجر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قوم ثمود اور آل فرعون کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے سرکشی کی اور زمین میں فساد پھیلایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب کا کوڑا مارا ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتے ہیں کبھی تو اس طرح سے کہ اس کو خوب نوازتے ہیں اور اس پر خوب احسانات فرماتے ہیں ، انسان کہتا ہے کہ میں اسی لائق تھا کہ مجھے نوازا جائے ( یعنی وہ بجائے شکر ادا کرنے کے اترانے لگتا ہے) اور کبھی اس کی آزمائش اس طرح سے ہوتی ہے کہ اللہ تعالی اس کی روزی تنگ کر دیتے ہیں تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے مالک نے میری قدر نہیں کی (یعنی صبر کرنے کی جگہ وہ شکوہ شکایت کرتا ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں عزت تو اس کی ہوگی جو یتیموں اور مسکینوں کا خیال رکھتا ہو میراث کے مال کو انصاف کے ساتھ وارثین میں تقسیم کرتا ہو اور مال سے اس کو حد سے زیادہ محبت اور رغبت نہ ہو، اللہ تعالی کے یہاں عزت اور قدر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر انسان یتیم کی عزت نہیں کرتے اور آپس میں ایک دوسرے کو مستحق اور مسکین کو کھلانے کی رغبت نہیں رکھتے اور میراث کا مال اصل وارثوں کو دینے کی بجائے خود ہڑپ کر جاتے ہیں اور مال و دولت سے بہت محبت کرتے ہیں۔ اس کے بعد قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اس دن زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی اور فرشتے قطار در قطار اتریں گے اور جہنم سامنے لائی جائے گی۔ اس دن انسان سوچے گا اور اب سوچنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، وہ کہے گا کاش ! میں نے دنیا کی زندگی سے آخرت کے لئے نیکی بھیجی ہوتی ۔ تو اس دن اللہ تعالی اسے ایسا سخت عذاب دیں گے کہ کوئی کسی کو اس کے جیسا عذاب نہ دیا ہوگا اور اس کی ایسی پکڑ کرے گا کہ اس کی مانند کوئی کسی کی پکڑ نہ کیا ہوگا اور ایمان لانے والوں ۔ پھر فرمایا کہ نیک اعمال کرنے والوں سے کہا جائے گا : اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف چل، اس حال میں کہ تو اپنے رب سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے اور اللہ تعالی کے خاص بندوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی جنت میں داخل ہو جا۔(سورة الفجر مکمل)
سورة البلد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قدرت نہیں رکھتا ۔ اللہ تعالی نے انسان کی دو آنکھیں بنائیں اور زبان بنائی اور دو ہونٹ دیئے پھر اسے دونوں راستے سُجھا دیے پھر وہ اگر ایمان لائے اور غلام کو آزاد کروائے اور بھوکے کو کھانا کھلائے اور رشتہ دار یتیم اور مسکین کی مدد کرے اور ایمان والوں کو آپس میں صبر کی تلقین کرے اور مہربانی کرے تو ایسے ہی لوگ دائیں طرف والے ہیں اور جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا ( یعنی کفر کیا ) تو وہ بائیں طرف والے ہیں۔ اُن کے لئے آگ ہے کہ اُس میں ڈال کر بند کر دیئے جائیں گے۔(سورة البلد)
سورة الشمس
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع میں سورج ، چاند، دن، رات ، آسمان، زمین اور انسان کی جان کی قسم کھا کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر اچھائی اور برائی کو الہام کر دیا ہے۔ جس نے طہارت اختیار کی اور اپنے نفس کو پاک کیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لا کر اُن کا حکم مانا۔ وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے برائی اختیار کی اور کفر کیا وہ نا کام ہو گیا۔ اس کے بعد قوم ثمود کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے انھیں بلاک کر دیا اور اللہ تعالی کسی کا خوف نہیں ہے۔ (سورة الشمس)
سورة الليل 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17 
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رات کی اور دن کی اور خود اپنی قسم کھا کر فرمایا کہ تم انسانوں کی الگ الگ کوششیں ہیں تو جو ایمان لائے گا اور قرآن پاک پر عمل کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دنیا اور آخرت میں آسانی کر دے گا اور جو کنجوسی کرے گا اور کفر کرے گا اور قرآن پاک کو جھٹلائے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آئے گا اور وہ آخرت میں دشواری میں مبتلا ہوگا اور دنیا اور آخرت کا مالک بس اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں آگ سے ڈراتا ہے جس میں جھٹلانے والے جائیں گے اور گناہوں سے پر ہیز کرنے والے نیک لوگوں کو اللہ تعالیٰ آگ سے بچالے گا۔ (سورة الليل مکمل)
سورة الضحى
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 18
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں چاشت کے وقت اور رات کی قسم کھا کر رسول الله ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں کبھی نہیں چھوڑا اور آپ ﷺ کیلئے ہر آنے والا وقت بہتر ہوگا، بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اتنا عطا فرمائے گا کہ آپ ﷺ راضی ہو جائیں گے تو آپ ﷺ یتیم کا خیال رکھیں اور مانگنے والوں کو عطا فرمائیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کا ذکر فرمائیں۔ ( سورة الضحى مکمل)
سورة الم نشرح
رکوع نمبر 19
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کا سینۂ اقدس اسلام کے لئے کھول دیا اور کافروں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ ﷺ کے دل ودماغ پر جو بوجھ تھا اسے اتار دیا اور اللہ تعالی نے آپ ﷺ کی خاطر آپ ﷺ کا ذکر بلند کر دیا۔ بے شک ہر تکلیف کے ساتھ آسانی ہے اور بے شک ہر آسانی کے ساتھ دشواری ہے۔ سو فارغ وقت میں اللہ تعالی کی طرف راغب ہو جائیں اور عبادت میں محنت کریں۔ (سورة الم نشرح)
سوره التين
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 20
اللہ تعالی نے اس رکوع میں انجیر، زیتون، طور سینا اور امن والے شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم کھا کرفرمایا کہ للہ تعالی نے انسان کو بہت بہترین انداز میں بنایا پھر اسے بڑھاپے کی طرف پھیر دیا۔ تو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اس کے لئے بے حد اجر و ثواب ہے ۔ تو (اے کا فرو!) اب کون سی چیز تجھے حق (اسلام) کو جھٹلانے کی وجہ بن رہی ہے؟ اور کیا اللہ تعالی تمام حاکموں کا حاکم نہیں ہے؟(سوره التين)
سورة العلق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 21 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا ۔ پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے پیدا فرمایا ۔ پڑھئے، اللہ تعالی بڑا کرم کرنے والا ہے۔ اسی نے انسان کو قلم سے لکھنا سکھایا۔ وہ سب کچھ بتایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ اس کے بعد ابو جہل کو پھٹکارا کہ اس نے سرکشی کی (یعنی اسلام قبول نہیں کیا اور رسول اللہ ﷺ کو تکلیفیں دیں ) اور اپنے آپ کو اللہ تعالی کی گرفت سے محفوظ سمجھ لیا۔ بے شک سب کو اللہ تعالی کی بارگاہ میں جمع ہوتا ہے۔ پھر دیکھو وہ رسول اللہ ﷺ کونماز سے روکتا ہے۔ پھر اس نے آپ ﷺ اور قرآن پاک کو جھٹلایا اور آپ ﷺ سے منہ پھیر کر چل دیا تو اللہ تعالی دیکھ رہا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ اللہ تعالی اس کے ساتھ کیا کرے گا ۔ اگر وہ باز نہیں آیا تو اللہ تعالی اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچے گا ۔ جھوٹے خطا کار کی پیشانی پھر وہ اپنے کافرساتھیوں کو بلا لے اور اللہ تعالیٰ اپنے سپاہیوں کو بلائے گا اور اس کی طرف آپ ﷺ اور مسلمان توجہ نہ دیں اور سجدہ کریں اور اللہ تعالی کے قریب ہو جائیں۔ (سورة العلق)
سورة القدر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 22 : اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالی نے یہ قرآن پاک شب قدر میں اتارا اور تم کیا جانو شب قدر کیا ہے؟ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبرئیل علیہ السلام اور فرشتے اترتے ہیں ہر کام کے لئے، اور صبح ہونے تک سلامتی رہتی ہے۔ (سورة القدر)
سوره البينہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 23
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اہل کتاب (یہودی اور عیسائی ) ایک روشن دلیل ( رسول اللہ ﷺ ) کے انتظار میں تھے اور جب آپ ﷺ تشریف لائے اور اہل کتاب پر قرآن پاک کی آیتیں تلاوت کیں تو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائے اور اکثر انکار کر کے کافر ہو گئے اور اہل کتاب کو تو اللہ تعالٰی نے یہی حکم دیا تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان آئیں تو وہ اُن پر ایمان لائیں اور اُن کے ساتھ مل کر نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور یہی سیدھا دین ہے۔ جن اہل کتاب نے انکار کیا اور وہ جو مشرک ہیں وہ سب ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور وہی تمام مخلوق میں بدتر لوگ ہیں اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر لوگ ہیں ۔ یہ لوگ ہمیشہ جنت میں رہیں گے۔ اللہ تعالی اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے۔ (سوره البينہ مکمل)
سورة الزلزال
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 24
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ زمین پوری شدت سے ہلا دی جائے گی اور یہ اس کا مقدر ہے اور وہ اپنے اندر کی چیزیں باہر نکال پھینکے گی ۔ انسان حیرت سے کہے گا کہ اسے کیا ہو گیا ہے اور وہ تمام خبریں بتائے گی ۔ کیوں کہ اسے یہی حکم اللہ تعالی نے دیا ہے۔ پھر سب لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ پھر جس نے ذرہ برابر بھی بھلائی کی ہوگی اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہوگی تو وہ اس کو دیکھے گا۔ (سورة الزلزال مکمل)
سورة العاديات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 25 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں گھوڑوں کی قسم کھانے کے بعد بتایا کہ انسان اپنے رب کا بڑا نا شکرا ہے اور اپنی ناشکری پر وہ خود گواہ ہے۔ اس کے اندر مال و دولت کی چاہت اور محبت بہت شدید ہے۔ وہ بھول گیا کہ اللہ تعالی سب کو قبروں سے اٹھا کر جمع کرے گا اور سینوں میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ ان سب سے باخبر ہے۔ (سورة العاديات مکمل)
سورة القارعة 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 26
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں فرمایا: گڑ گڑاہٹ سے دل دہلا دینے والی ۔ کیا ہے وہ گڑگڑاہٹ سے دل دہلا دینے والی۔ اور تم کیا جانو وہ کیا ہے؟ اُس دن انسان پتنگوں کی طرح پھیلے ہوئے ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی طرح اڑیں گے ۔ جس کے اعمال کا وزن زیادہ ہو گا وہ جنت میں عیش و آرام میں ہوگا اور جن کے اعمال کا وزن ہلکا ہو گا وہ جہنم کی جوش مارتی آگ میں ہوں گے۔ (سورة القارعة مکمل)
سورة التكاثر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 27 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ مال و دولت کی محبت اور طلب نے تمہیں دنیا میں آخرت سے غافل رکھا یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچے تو تم جلد ہی جان جاؤ گے اور تم جلد ہی جان جاؤ گے اور اگر تم آخرت کا یقین رکھتے تو دنیا میں مال کی محبت میں نہ پڑتے اور بے شک تم ضرور پل صراط پر سے جہنم کو دیکھو گے اور یقینی طور سے دیکھو گے پھر ضرور تم سے اللہ تعالی کی نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (سورة التكاثر مکمل)
سورة العصر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 28
اللہ تعالی نے اس رکوع میں زمانے کی قسم کھا کر فرمایا کہ انسان خسارے میں ہے۔ مگر ( اس خسارے یعنی نقصان سے وہ بچ سکتا ہے ) جو ایمان لائے ۔ نیک اعمال کرے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرے اور صبر کی وصیت کرے۔ (سورة العصر)
سورة الهمزه
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 29
اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ خرابی ہے اُن لوگوں کی جو منہ پر عیب کرے ( طعنے دے) اور پیٹھ پیچھے برائی کرے اور جس نے مال کو جمع کر کے اور گن گن کر رکھا۔ کیا یہ سمجھتا ہے کہ اُس کا یہ مال اسے دنیا میں ہمیشہ رکھے گا ۔ ہرگز نہیں ! وہ تو روندنے والی آگ میں پھینکا جائے گا اور وہ روندنے والی آگ ایسی ہے کہ دلوں تک پہنچ کر چڑھ جائے گی اور انھیں آگ میں ڈھانپ دیا جائے گا۔ (سورة الهمزه مکمل)
سورة الفيل 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 30
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا اور کیا اُن کے داؤ نے انھیں تباہی اور ذلت میں نہ ڈالا ؟ تو اللہ تعالٰی نے اُن پر پرندوں کی ٹکڑیاں (غول کے غول ) بھیجے ۔ وہ انھیں کنکریاں مارتے تھے جس سے وہ کھائے ہوئے بھوسے کی طرح ہو گئے ۔ (سورة الفيل مکمل)
سورہ قریش 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 31 
اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ قریش کو اللہ تعالیٰ نے مانوس کیا اور انھیں جاڑے اور گرمی کے سفر میں آسانی دی تو اس نعمت کے شکرانے کے طور پر انھیں چاہئے کہ وہ اس گھر (خانہ کعبہ ) کے رب (اللہ تعالی ) کی عبادت کریں جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور ایک بڑے خوف سے امان دی۔ (سورہ قریش مکمل)
سورة الماعون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 32: اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا کہ بھلا دیکھا اس شخص کو جو دین کو جھٹلاتا ہے اور یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ اس کے بعد فرمایا: ان نمازیوں کی خرابی ہے جو اپنی نماز کو بھولے بیٹھے ہیں اور دکھاوا کرتے ہیں اور استعمال کی چیز مانگنے پر نہیں دیتے۔ (سورة الماعون مکمل)
سورة الكوثر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر :33
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو کوثر عطا فرمایا۔ تو اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ بے شک آپ ﷺ کا جو دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔ (سورة الكوثر مکمل)
سورة الكافرون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 34
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کہہ دیں : اے کا فردا میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو اور نہ تم اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں میں اُن ( معبودان باطل) کی عبادت نہیں کروں گا جن کی تم عبادت کرتے ہو اور نہ تم اس اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو گے جس کی میں عبادت کرنا ہوں ۔ تو تمہارے لئے تمہارا دین (تمہیں مبارک ہو ) اور میرے لئے میرا دین ہے۔ (سورة الكافرون مکمل)
سورة النصر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 35
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کی مدد آ جائے اور فتح حاصل ہو جائے اور آپ ﷺ دیکھیں کہ لوگ فوج در فوج ، گروہ در گروہ یا جماعت در جماعت دین (اسلام ) میں داخل ہونے لگیں تو (آپ ﷺ اور مسلمان ) اپنے رب کی حمد وثناء اور تسبیح وتعریف بیان کریں اور مغفرت مانگیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ بہت جلد
توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (سورة النصر مکمل)
سورة لهب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 36 
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ ٹوٹ جائیں بد بخت ابو لہب کے ہاتھ اور وہ برباد ہو جائے ۔ اس کا مال د دولت اُس کے کام نہیں آیا اور وہ لپٹ مارتی آگ میں دھنسایا جائے گا اور ساتھ میں اس کی بیوی بھی جو لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھاتی ہے۔ اس کے گلے میں کھجور کی چھال کا رسہ ہوگا۔(سورة لهب مکمل)
سورة الاخلاص
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 37
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کہہ دیں : اللہ تعالیٰ وہ ہے جو اکیلا ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بے نیاز ہے ( یعنی اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے ) نہ اُس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پید ہوا ہے اور کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے برابر کا نہیں ہے۔ (سورة الاخلاص مکمل)
سورة الفلق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 38
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کہ دیں : میں اُس اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں جو فلق کا رب ہے۔ ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔اور اندھیری رات کی تاریکی سے جب وہ پھیل جائے ۔ اور گرہ لگا کر ان میں پھونکنے والیوں کے شر سے۔ اور حسد کرنے والے کے شر سے، جب وہ حسد کرے۔ (سورة الفلق مکمل)
سورة الناس
رکوع نمبر 39
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا: تم کہہ دو کہ میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آتا ہوں۔ لوگوں کے مالک کی، لوگوں کے معبود کی، وسوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے شر سے۔ جو لوگوں کے سینے میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ جناتوں میں سے یا انسانوں میں سے۔ (سورة الناس مکمل) (پارہ نمبر 30 مکمل)

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 29 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 29 

سوره الملک

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ سارا ملک ( کائنات) اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اللہ تعالی بڑی برکت والا ، قدرت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانچ کرنے کے لئے زندگی اور موت کو پیدا فرمایا کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے ایک کے اوپر ایک سات آسمان بنائے ۔ تم غور سے دیکھو! اس میں تمہیں کوئی دراڑ نظر نہیں آئے گی۔ تو جس نے کفر کیا۔ اس کے لئے دوزخ کا عذاب ہے اور اس کی آگ زبردست جوش ماررہی ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے بڑا اجر وثواب ہے اور تم بات آہستہ کہو یا زور سے اللہ تعالیٰ تو دلوں میں چھپی بات جانتا ہے۔ 

رکوع نمبر 2

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین بچھائی تا کہ تم اس کے راستوں پر چلو اور اللہ تعالیٰ کا رزق تلاش کرو اور کھاؤ اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے ۔ اللہ تعالی کی سلطنت زمین اور آسمان پر ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا آسمان سے پتھراؤ کرے تو تمہیں کون بچائے گا ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ اپنا رزق روک لے تو کون تمہیں رزق دے گا ؟ اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے کان، آنکھ اور دل بنائے ۔ اس کے بعد بھی تم حق کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی؟ جب وہ آئے گی تو کافر بہت بڑے نقصان میں پڑ جائیں گے۔ 

(سورۃ الملک مکمل )

سورة القلم 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 3

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ مجنون نہیں ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو بہت اعلیٰ اور اونچے اخلاق عطا فرمائے ہیں۔ اسکے بعد بد بخت ولید بن مغیرہ ( جس نے آپ ﷺ کو مجنوں کہا تھا ) کے دس عیب بتائے کہ وہ جھوٹی قسمیں کھانے والا ہے، ذلیل ہے، طعنے دینے والا ہے، چغل خور ہے، بھلائی سے روکنے والا ہے، حد سے بڑھنے والا ہے، گنہگار ہے، بد زبان ہے، زنا کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اپنے مال اور اولاد پر گھمنڈ کرتا ہے۔ بہت جلد اللہ تعالیٰ اس کے سور جیسے منہ کو آگ سے داغے گا۔ اس کے بعد باغ والوں کا واقعہ بیان فرمایا جواللہ تعالی کو بھول گئے تھے اور تباہ ہو گئے۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ متقی ( گناہوں سے بچنے والے) مسلمانوںکو اللہ تعالی جنت میں داخل فرمائے گا اور مسلمان اور مجرمین برابر نہیں ہو سکتے ۔ اس کے بعد بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اپنی پنڈلی کو ظاہر فرمائے گا۔ (پنڈلی کا ظاہر کرنا یہ اللہ تعالی کی کوئی خاص صفت ہو گی جس پر اسی طرح ایمان لانا ضروری ہے، جس طرح اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے اور اس کی کیفیت اور باریکی کے ساتھ کھوج تلاش میں پڑنا ممنوع ہے ) اس دن کا فر اور منافق اللہ تعالٰی کو سجدہ نہیں کر سکیں گے اور شرمندگی سے اُن کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور وہ ذلیل ہوں گے کیوں کہ وہ دنیا میں اللہ تعالی کو سجدہ کرنے کے لئے بلائے جاتے تھے تو سجدہ نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالی آہستہ آہستہ انہیں دوزخ میں داخل کر دے گا ۔ جب کا فر قرآن پاک سنتے ہیں تو آپ ﷺ کو مجنون کہتے ہیں جب کہ یہ قرآن پاک تمام جہان والوں کے لئے نصیحت ہے ۔

 (سورہ القلم مکمل)

سورہ الحاقه 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے متعلق پُر زور الفاظ میں بیان فرمایا کہ وہ ایک ثابت اور ضرور واقع ہونے والی حقیقت ہے۔ اس کے بعد قوم ثمود، قوم عاد، قوم فرعون اور قوم نوح کی سرکشی اور اُن پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ قیامت جب واقع ہوگی تو صور پھونکا جائے گا اور زمین اور پہاڑ اچانک چکنا چور کر دیئے جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر کھڑے ہوں گے ۔ آٹھ فرشتے اللہ تعالی کا عرش اٹھائے ہوں گے۔ اُس دن سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور کوئی چھپ نہیں سکے گا۔ جس کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور خوشی خوشی لوگوں کو بتائے گا اور جس کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا وہ نا کام ہوگا اور کہے گا: کاش! کسی طرح مجھے موت آجاتی۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ قرآن پاک کی آیتیں تم پر تلاوت فرماتے ہیں۔ آپ ﷺ شاعری نہیں کرتے اور نہ ہی آپ صلی اللہ کا ہن ہیں۔ اگر آپ ﷺ (نعوذ باللہ ) اپنی طرف سے کوئی بات بناتے تو اللہ تعالیٰ سے آپ ﷺ کو کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔ بے شک آپ ﷺ لوگوں کو نصیحت والا قرآن سناتے ہیں اور یہ کافروں کے لئے حسرت ہے۔ یقینا قرآن پاک حق ہے تو تم اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو۔

 (سورۃ الحاقہ مکمل)

سورة المعارج 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کا فر عذاب ما نگتے ہیں تو وہ قیامت کے دن ہوگا اور وہ پچاس ہزار سال کے برابر ہو گا۔ اُس دن آسمان پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا اور پہاڑ اون کی طرح ہلکے ہو جائیں گے۔ دوست اپنے دوست کی طرف کوئی توجہ نہیں کرے گا اور مجرم عذاب سے بچنے کے لئے اپنے بیٹے ، اپنی بیوی اپنے بھائی اور سارا خاندان اور زمین میں جو بھی ہے ، سب کچھ دے کر عذاب سے چھوٹنا چاہے گا لیکن وہ عذاب سے نہیں بیچ سکے گا۔ ایمان والے لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں اور بے شک اللہ تعالیٰ کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں اور امانتوں اور اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور حق کی گواہی دیتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں یہی لوگ جنت کے عیش و آرام کے حقدار ہیں۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر اسلام قبول کرنے سے انکار کرنے کے بعد اس بات کی امید کیسے کر سکتے ہیں کہ انھیں جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ سب مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔ اگر اللہ تعالی چاہے تو ان سے اچھے لوگ لے آئے ۔ آپ ﷺ ان کافروں کو اُن کی بے ہودگیوں میں پڑے رہنے دو اور دنیا میں مگن رہنے دو۔ قیامت کے دن یہ قبروں سے نظریں نیچی کئے ہوئے ذلیل ہوتے ہوئے نکلیں گے۔

(سورۃ المعارج مکمل )

سوره نوح

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 9 اور رکوع نمبر 10 

اللہ تعالٰی نے ان دونوں رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے دعا کی کہ اے اللہ! میں نے اپنی قوم کو رات دن اسلام کی دعوت دی۔ خفیہ طور سے اور علانیہ بھی تو انھوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور کانوں پر کپڑے لپیٹ لئے اور میں نے ہر طرح سے ان لوگوں کو سمجھایا لیکن یہ لوگ بتوں کی پوجا میں لگے رہے اور اسے اللہ! زمین پر کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑنا ۔ اگر وہ رہیں گے تو بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیں گے اور ان کی اولاد بھی بدکار اور کافر ہوگی ۔ اللہ تعالی نے کافروں کو غرق کر دیا اور اُن کا کوئی مددگار نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! مجھے اور میرے والدین اور سب مسلمان مرد اور عورتوں کو بخش دے۔

 (سورہ نوح مکمل)

سورة الجن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر :11

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کا فروں سے کہہ دو کہ میں تو صرف اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں اور اللہ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا اور میں تمہارے بھلے اور بُرے کا مالک نہیں ہوں اور میرا کام تو صرف اللہ تعالٰی کا پیغام اس کے بندوں تک پہونچانا ہے اور قیامت کب آئے گی ؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور سب غیب کا جانے والا اللہ تعالٰی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ رسولوں کے سوائے کسی کو غیب سے آگاہ نہیں کرتا۔

 (سورۃ الجن مکمل)

سورة المزمل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 13

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو نماز تہجد کے بارے میں ہدایات دیں اور فرمایا کہ قرآن پاک خوب ٹھہر ٹھہر کر (سمجھ سمجھ کر) پڑھو اور اللہ تعالی کو خوب یاد کرو ۔ مشرق اور مغرب اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ اللہ تعالی کو اپنا مددگار بناؤ۔ کافروں کی باتوں پر صبر کرو ۔ انہیں مہلت دو ۔ بہت جلد قیامت کے دن اللہ تعالی انہیں پکڑے گا اور انھیں وزنی بیڑیاں پہنائے گا اور بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل کرے گا اور گلے میں پھنسنے والا کھانا کھلائے گا اور دردناک عذاب دے گا اور قیامت کے دن زمین اور پہاڑ ریت کی مانند ہو جائیں گے اور وہ دن بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور آسمان پھٹ جائے گا۔ بے شک یہ نصیحت ہے۔ جو چا ہے اس نصیحت کو قبول کرے اور اللہ تعالیٰ کے راستہ پر چلے۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی آپ ﷺ اور مسلمانوں کا راتوں میں عبادت کرنا دیکھ رہا ہے کہ تم لوگ بہت مشقت اٹھاتے ہو اور مستقبل میں بھی ایسا کرتے رہو گے تو تکلیف میں آجاؤ ک گے سو اللہ تعالی نے تم پر رحم فرمایا ۔ اب آسانی سے نماز میں جتنا قرآن پاک پڑھ سکتے ہو اتنا ہی پڑھو اور مستقبل میں تم میں کچھ بیمار ہوں گے۔ کچھ زمین میں سفر کریں گے۔ اللہ تعالی کا رزق تلاش کرنے کے لئے اور کچھ اللہ تعالٰی کے لئے لڑتے ہوں گے۔ تو آسانی سے جتنا قرآن ( نماز میں ) پڑھ سکتے ہو پڑھو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو اور اپنے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس سے زیادہ پاؤ گے ۔ بے شک اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے۔

(سورۃ المزمل (مکمل)

سورة المدثر 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 15

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو اسلام کی دعوت کا حکم دیا اور کافروں کی تکلیف پر صبر کرنے کی تلقین کی۔ اس کے بعد فرمایا کہ قیامت کا دن کا فروں پر بہت سخت عذاب ہوگا ۔ اس کے بعد ولید بن مغیرہ اور ابو جہل کو اللہ تعالی جو عذاب دے گا، اس کو بتایا اور اُن دونوں کے گھمنڈ اور تکبر اور انکار کے بارے میں بتایا۔ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ دوزخ اور اللہ تعالیٰ کا عذاب بے شک ڈرنے کی چیز ہے اور ایمان والے نیک اعمال کرنے والے جنت میں ہوں گے اور مجرمین دوزخ میں ہوں گے ۔ دوزخ کے داروغہ پوچھیں گے: کون سی بات تمہیں دوزخ میں لائی ؟ وہ کہیں گے : ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور محتاجوںکو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور بے ہودگیوں میں پڑے رہتے تھے اور فیصلہ کے دن (یعنی قیامت) کو جھٹلاتے تھے اور نصیحت سے منہ پھیرتے تھے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا۔ بے شک یہ قرآن پاک نصیحت ہے، تو جو چاہے نصیحت قبول کرلے اور اللہ تعالی کی شان مغفرت ( بخشش) کرنا ہے۔

( سورۃ المدثر مکمل)

سورة القيامہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اس دن آنکھیں چندھیا جائیں گے اور چاند، سورج میں جا کر مل جائے گا اور انسان کو کہیں بھاگنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ سب لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع کئے جائیں گے اور انسان کے سب اگلے پچھلے اعمال بتا دیے جائیں گے۔ وہ بہت بہانے بنائے گا۔ مگر سب ردّ کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو فرمایا کہ آپ ﷺ وحی کے وقت سکون سے قرآن سنیں ۔ اللہ تعالیٰ یہ قرآن پاک آپ ﷺ کو سمجھا دے گا اور یاد کرا دے گا۔ 

رکوع نمبر 18

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بد بخت ابو جبل نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مذاق اڑایا۔ آپ ﷺ کو جھٹلایا اور منہ پھیر کر اکڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف چلا تو خرابی ہے اس کی اور بہت بڑی خرابی ہے اس کی اور وہ اس گھمنڈ میں ہے کہ اُسے آزاد چھوڑ دیا جائے گا۔ اس نے غور نہیں کیا کہ وہ ایک پانی کی حقیر بوند تھا پھر خون کی پھٹکی بنا پھر اللہ تعالی نے اسے پیدا کیا اور اس کا جوڑا بنایا تو جو اللہ تعالی یہ سب کر سکتا ہے وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے۔

(سورۃ القیامہ مکمل) 

سورة الدهر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ انسان پر ایک وقت گذرا کہ وہ کچھ بھی نہیں تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی ملی ہوئی منی سے اُسے پیدا کیا تا کہ اس کی آزمائش کرے پھر اسے دیکھنے والا سننے والا اور سمجھنے والا بنایا اور اسے سیدھا راستہ بتایا تا کہ دیکھے کہ وہ حق کو مانتا ہے یا کفر کرتا ہے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ ان کے لئے اللہ تعالی نے زنجیریں تیار کر رکھی ہیں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ اس کے بعد جنت والوں کے بارے میں بتایا کہ انھیں کافور ملا ہوا بہترین مشروب پلایا جائے گا۔ انہیں ریشمی کپڑے پہنائے جائیں گے۔ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ نہ گرمی لگے گی اور نہ ٹھنڈی لگے گی اور چاندی کے گلاسوں میں ادرک ملی ہوئی سلسبیل کی نہر کا مشروب پلایا جائے گا اور اُن کی خدمت کے لئے موتی کی طرح لڑکے ہوں گے اور اُن کو سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور صاف ستھری شراب پلائی جائے گی۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر دھیرے دھیرے اتارا تو آپ ﷺ صبر کریں اور کسی گنہ گار اور کافر کی بات پر توجہ نہ دیں اور صبح اور شام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کریں اور رات میں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں اور تسبیح بیان کریں۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن پاک نصیحت ہے تو جو چاہے اللہ تعالٰی کا راستہ اختیار کرے۔ اور اللہ تعالی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں لے لیتا ہے۔ 

(سورۃ الدہر مکمل )

سورة المرسلات 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 21 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ قیامت میں تارے محو کر دیئے جائیں گے ( یعنی ان کی چمک دمک ختم ہو جائے گی ) اور آسمان میں دراڑیں پڑ جائیں گی اور پہاڑ دھول بنا کر اڑا دیے جائیں گے۔ وہ فیصلہ کا دن ہو گا اور تم کیا جانو کہ فیصلہ کا دن کیا ہے ؟ اس دن جھٹلانے والوں (کافروں) کی خرابی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے کے کافروں کو ہلاک کر دیا۔ اسی طرح بعد والے کافروں کے ساتھ بھی ہوگا اور اللہ تعالیٰ مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے اور اللہ تعالٰی نے انسان کو ایک حقیر پانی کی بوند سے بنایا۔ پھر اسے محفوظ جگہ رکھا اور ایک مقررہ وقت تک رکھ کر بنایا اور ایک مقررہ وقت پر دنیا میں لایا اور اللہ تعالی بہترین قدرت والا ہے تو اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہیں سنبھالنے والی بنایا اور اس پر پہاڑوں کا لنگر بنایا اور میٹھا پانی پلایا تو چلو اُس دن کی طرف جسے تم جھٹلاتے تھے۔ بے شک جہنم میں بہت بڑی چنگاریاں اڑتی ہیں۔ اونٹوں اور محلوں کے برابر ، اُس دن جھٹلانے والوں ( انکار کرنے والوں ) کی خرابی ہے۔ یہ وہ دن ہے کہ وہ بول نہیں سکیں گے اور نہ ہی انھیں عذر ( بہانے ) کرنے کی اجازت ملے گی۔ یہ ہے فیصلہ کا دن اور اللہ تعالی نے تمام انسانوں کو جمع کیا۔ اب کافروں کا کوئی داؤ چل نہیں سکتا، اگر کوئی داؤ چلانا چا ہو تو چلا کر دیکھ لو۔ 

رکوع نمبر 22

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ متقی ایمان والے جنت میں سایوں میں ہوں گے اور چشموں سے پیتے اور میوے اور پھل کھاتے ہوں گے ۔ یہ اُن کے نیک اعمال کا صلہ ہوگا۔ بے شک اللہ تعالی نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیتا ہے۔ اور اے مجرمو! دنیا میں کچھ دن کھا پی لو اور فائدہ اٹھا لو اور جب نماز پڑھنے کو کہا جاتا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتے ۔ اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اب اس کے بعد یہ لوگ کون سی بات پر ایمان لائیں گے ۔

(سورۃ المرسلات مکمل )

 (پارہ نمبر29 مکمل)

 

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 28 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 28

سورہ المجادلۃ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

یرکوع نمبر 1

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو احکامات دیئے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ کیوں کہ وہ اللہ تعالی اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا فروں کو بھی اسی طرح ذلیل کیا جائے گا جیسے ان سے پہلے کے کافروں کو ذلیل کیا گیا ہے۔ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو جمع فرمائے گا تو اُن کے بُرے اعمال بتا دے گا۔ اللہ تعالی نے سب محفوظ کو رکھا ہے اور یہ کافر بھول گئے ہیں اور اللہ تعالی ہر ایک پر نظر رکھنے والا ہے۔ 

رکوع نمبر 2

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے۔ جب دو آدمی باتیں کرتے ہیں تو تیسرا اللہ تعالی سنتا ہے اور تین آدمیوں میں چوتھا اللہ تعالی سنتا اور دیکھتا ہے اور پانچ لوگوں میں چھٹا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور اللہ تعالی ہر وقت ہر ایک کے ساتھ ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے بُرے مشورے سے منع فرمایا اور بتایا کہ منافقین اپنے دوستوں (اہل کتاب سے ) رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں اور جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آتے ہیں تو (دکھاوے کے لئے ) آپ ﷺ کی بے انتہا تعریف کرتے ہیں اور دلوں میں سوچتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟ تو یہ منافق قیامت کے دن سخت عذاب میں ہوں گے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو ہدایات دیں کہ تم نیکی کرنے اور گناہوں سے بچنے کے مشورے دیا کرو اور اپنے بھائیوں کو مجلسوں میں جگہ دو اور رسول اللہ ﷺ کے ادب کے بارے میں ہدایات دیں اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منافقوں کے بارے میں بتایا کہ یہ ایسے لوگوں کے دوست ہیں جن پر اللہ تعالی کا غضب ہے ( یعنی یہودیوں کے دوست ہیں) اور وہ نہ تو تم میں ہیں اور نہ ہی اُن میں ۔ یہ منافق جان بوجھ کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا تو اس کی بارگاہ میں بھی ایسے ہی قسمیں کھا ئیں گے ۔ یہ جھوٹے ہیں اور ان پر شیطان غالب آگیا ہے۔ یہ شیطان کے گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ نقصان اٹھانے والا ہے۔ جو لوگ اللہ تعالی پر اور آخرت پر ایمان لائیں اور رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں سے دشمنی کرتے ہیں چاہے وہ اُن کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کا نقش گہرا کر دیا ہے۔ وہ انھیں جنت میں داخل فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اُن سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے۔ یہ اللہ تعالی کی جماعت ہے اور اللہ تعالی کی جماعت ہی کامیاب ہے۔

(سورہ المجادلہ مکمل )

سورة الحشر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔ اس کے بعد غزوہ بنی نضیر کا ذکر فرمایا۔ بنو نضیر کے یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کر کے تو ڑ دیا تھا اور آپ ﷺ پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور آپ ﷺ نے بنو نضیر کا محاصرہ کر لیا۔ اکیس روز کے محاصرے کے بعد یہودیوں (بنو نضیر ) نے رسول اللہ ﷺ سے جان کی امان چاہی اور دوسرے علاقوں میں جانے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ یہ یہودی جاتے جاتے اپنے گھر اور کھجور کے باغوں کے درختوں کو جلاتے ہوئے گئے تاکہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان ان سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار صحابہ کرام صحابہ رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے۔ 

رکوع نمبر 5

اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں بتایا کہ یہ منافق اُن کے در پردہ دوستوں اہل کتاب (یہودیوں) سے کہتے تھے کہ اگر تم لوگ نکالے گئے تو تمہارے ساتھ ہم بھی نکل جائیں گے اور اگر لڑائی ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے ۔ یہ بہت بڑے جھوٹے ہیں۔ یہ نہ تو مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور نہ ہی یہودیوں کے ساتھ ۔ دعویٰ دونوں کے ساتھ رہنے کا کرتے ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ شیطان انسان کے دل و دماغ میں وسوسے پیدا کر کے کفر کرنے کو کہتا ہے اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو شیطان اُس سے الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تجھ سے الگ ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب ہے۔ اُن دونوں (یعنی شیطان اور اس کے بہکاوے میں آکر کفر کرنے والے ) کا یہ انجام ہوگا کہ دونوں ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور گناہوں سے بچو اور نیک اعمال کرو۔ ہر کوئی (قیامت کے دن ) دیکھ لے گا کہ اُس نے آخرت کے لئے کیا اعمال کئے ہیں۔ تم فاسقوں کے جیسے نہ ہو جاتا جو اللہ تعالی کو بھول بیٹھے ہیں ۔ جنت والے اور دوزخ والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے اور جنت والے ہی کامیاب ہیں ۔ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چھپی اور کھلی چیز کو جانتا ہے۔ بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ وہ ہے کہ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ ساری کائنات کا بادشاہ ہے۔ بہت پاک ہے۔ سلامتی دینے والا ہے۔ امان بخشنے والا ہے۔ حفاظت فرمانے والا ہے۔ عزت والا ہے۔ عظمت والا ہے اور کافروں کے شرک سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ بنانے والا ہے پیدا کرنے والا ہے۔ ہر ایک کی صورت بنانے والا ہے۔ سب اچھے نام اللہ تعالیٰ کے ہی ہیں ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالی ہی عزت والا اور حکمت والا ہے۔

 (سورۃ الحشر مکمل ) 

سورة الممتحنه 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ کیوں کہ وہ اُس حق (رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک) کا انکار کرتے ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے کو نکلو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے، تو نہ کافروں سے دوستی کرو نہ ہی خفیہ پیغام بھیجو۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اور تمہارے دشمن ہیں ۔ اگر یہ تم پر حاوی ہوں گے تو اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں سے تمہیں تکلیف پہنچائیں گے اور چاہیں گے کہ کسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ اور تمہارے رشتہ دار اور اولاد قیامت کے دن تم سے دور بھاگیں گے ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ قریب ہے کہ اللہ تعالی تم میں اور مکہ مکرمہ کے کافروں میں دوستی کرادے اور اللہ تعالیٰ ہر کام پر قادر ہے۔ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اللہ تعالی اُن سے دوستی کرنے کو منع نہیں فرماتا جوتم سے لڑنا نہ چاہیں اور نہ ہی تمہیں گھروں سے نکالیں بلکہ اللہ تعالٰی ان لوگوں سے دوستی کو منع فرماتا ہے جو تم سے لڑ نا چا ہیں۔ اور تمہیں گھروں سے نکالنے کے درپے ہوں ۔ اس کے بعد خواتین کے بارے میں مسلمانوں کو احکامات دیئے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر میں فرمایا: اے مسلمانو ا تم اُن لوگوں (یہودیوں) سے دوستی نہ کرو ۔ جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا ہے ۔

 (سورۃ الممتحنہ مکمل )

سورہ الصف 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ عزت والا حکمت والا ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالی اُن کو دوست رکھتا ہے جوصف در صف لگا کر مضبوط دیوار کی طرح ہو کر اللہ تعالیٰ کے لئے لڑتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ علیہ السلام کو نبوت ورسالت اور کتاب (توریت ) عطا فرمائی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول ہوں اور توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور اُن رسول ﷺ کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد تشریف لائیں گے اور اُن کا نام احمد ﷺ ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ احمد ﷺ صاف صاف نشانیاں لے کر آگئے تو کافروں اور اہل کتاب ( یہودیوں اور عیسائیوں ) نے کہا کہ یہ تو ( نعوذ باللہ ) کھلا جادو ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ تعالی پر جھوٹ باند ھے۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں اور اللہ تعالیٰ اپنا نور پورا کر لے گا چاہے کافروں کو کتنا ہی بُرا لگے۔ 

رکوع نمبر :10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ پر پکا ایمان رکھو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے جان و مال سے لڑو ۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم غور کرو ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرما دے گا اور جنت کے عیش و آرام میں لے جائے گا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور بہت جلد تمہاری مدد کر کے فتح دلائے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور نعمت ہو گی ۔ اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو جیسی مدد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اُن کے حواریوں نے کی تھی تو بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا اور ایک گروہ نے انکار کر کے کفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی مدد کی کافروں کے مقابلہ پر۔

(سورۃ الصف مکمل)

سورہ الجمعہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالی کی تسبیح کرتے ہیں اور اللہ تعالی ساری کائنات کا بادشاہ ہے۔ مقدس ہے ، عزت والا اور حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پڑھوں میں رسول اللہ ﷺ کو بھیجا جو اُن پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں تلاوت کرتے ہیں۔ انھیں پاک کرتے ہیں ۔ کتاب (قرآن پاک ) اور حکمت (سنت) کا علم سکھاتے ہیں جب کہ اس سے پہلے وہ گمراہ تھے۔ اس کے بعد یہودیوں کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں توریت عطا فرمائی تو انھوں نے اسے اس طرح لیا جیسے گدھے کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہیں ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان یہودیوں سے کہو ؛ اگر تم اللہ تعالیٰ کے دوست ہو تو مرنے کی آرزو کرو۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ یہ لوگ اپنے برے اعمال کی وجہ سے مرنے کی آرزو کبھی بھی نہیں کریں گے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ جب جمعہ کی اذان کی آواز سنو تو تمام کاروبار اور خرید و فروخت بند کر کے نماز کی تیاری کرو اور نماز کے لئے دوڑو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اگر تم اس پر غور کرو تو پھر جب نماز مکمل ہو جائے تو اللہ تعالی کا فضل اور رزق تلاش کرنے کے لئے زمین پر پھیل جاؤ اور اللہ تعالی کو کثرت سے یاد کرو ۔ اس امید پر کہ تم کامیابی (فلاح) پاؤ اور اللہ تعالی کا رزق سب سے اچھا ہے۔

 (سورہ الجمعہ مکمل) 

سورة المنافقون 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ کو منافقوں کے بارے میں بتایا کہ جب یہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ جھوٹے ہیں اور اپنی قسموں کو اپنی منافقت پر ڈھال بناتے ہیں ۔ یہ لوگ زبان سے ایمان لائے اور دل سے کافر ہوئے تو اللہ تعالی نے ان کے ولوں پر مہر لگا دی ہے۔ یہ دشمن ہیں ، ان سے بچو ۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ رسول اللہ ﷺ تمہاری مغفرت مانگیں تو گھمنڈ سے منہ پھیر لیتے ہیں اور آپ ﷺ ان منافقوں کے لئے معافی مانگیں یا نہ مانگیں ، کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اللہ تعالی ان کو ہرگز نہیں بخشے گا۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا: اے مسلمانو ا تمہارے مال اور تمہاری اولاد اللہ تعالی کے ذکر سے تمہیں غافل نہ کر دے اور جو مال اور اولاد کے لئے دنیا میں مگن ہو جائے گا وہ بہت بڑے نقصان میں ہوگا اوراللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو ۔ اس سے پہلے کہ تمہیں موت آ جائے ۔ اللہ تعالی تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

(سورۃ المنافقون مکمل)

سورة التغابن

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 15 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ جو کچھ زمین اور آسمانوں میں ہے ۔ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کی بادشاہت ساری کائنات پر ہے اور اللہ تعالی ہی کے لئے تمام تعریف ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہی تمام انسانوں کو پیدا کیا اور اُن میں کوئی مسلمان ہے اور کوئی کافر ہے ۔ اللہ تعالی تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہت بہترین صورت بنائی ہے۔ اس کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے، جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کی بات تک جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالی کی ضرورت ہے تو اللہ تعالی پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور اُس نور ( قرآن پاک ) پر ایمان لاؤ جو آپ ﷺ پر نازل ہوا۔ قیامت کے دن اللہ تعالی ایمان والوں کو جو نیک عمل بھی کریں اُن کو جنت میں داخل فرمائے گا اور کافر ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ 

رکوع نمبر 16

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا: اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانو اور اللہ تعالی پر بھروسہ رکھو اور تمہاری کچھ بیویاں اور بچے دنیا کی طرف رغبت رکھتے ہیں تو انھیں احتیاط سے سمجھاتے رہو اور اگر معاف کرو، در گزر کرو اور بخش دو تو بے شک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں تمہاری آزمائش ہے۔ یقینا اللہ تعالی کے پاس بہت بڑا ثواب ہے۔ تم اپنی آخرت کے فائدے کے لئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور جو اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرے گا تو اللہ تعالی اُسے دوہرا ثواب عطا فرمائے گا۔

(سورہ التغابن مکمل ) 

سورة الطلاق

رکوع نمبر 17 اور رکوع نمبر 18

اللہ تعالی نے اس رکوع نمبر 17 میں طلاق کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد رکوع نمبر 18 میں بتایا کہ بہت سے شہر والوں نے اللہ تعالی کا حکم ماننے سے انکار کر دیا اور رسولوں کو جھٹلایا تو اُن پر اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مار پڑی اور وہ نقصان والے ہو گئے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے اس رسول ﷺ کے ذریعہ عزت اتاری، تو جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اُن کے لئے جنت ہے اور وہ ہمیشہ عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اللہ تعالی نے سات آسمان بنائے اور اتنی ہی زمینیں بنا ئیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر اترتا ہے۔

 (سورہ الطلاق مکمل) 

سورہ التحریم 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 19

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ اور امہات المؤمنین کا ذکر فرمایا اور رکوع کے آخر میں فرمایا : اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور اُس آگ پر سخت فرشتے مقرر ہیں جواللہ تعالی کا حکم نہیں ٹالتے اور سختی سے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور کافروں سے کہا جائے گا کہ آج بہانے نہ بناؤ تمہیں وہی بدلہ مل رہا ہے جو تم کرتے تھے۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اے مسلمانو! اللہ تعالی کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو آگے نصیحت بن جائے (یعنی ہمیشہ کے لئے وہ گناہ چھوٹ جائے ) تو اللہ تعالی تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں جنت میں داخل فرمائے گا اور اللہ تعالی قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ اور ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا اور ( پل صراط پر ) اُن کا نور اُن کے دائیں ہا ئیں ، آگے اور پیچھے دوڑتا ہوگا۔ وہ عرض کریں گے : اے اللہ ہمارے نور کو پورا کر دے اور ہماری مغفرت فرما دے۔ بے شک اللہ تعالٰی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کی بیویوں کے بارے میں بتایا کہ وہ دونوں رسولوں کی بیویاں ہونے کے باوجود کا فرتھیں اور فرعون کی بیوی کے بارے میں بتایا کہ ایک بہت بڑے کا فر کی بیوی ہونے کے باوجود ایمان والی تھی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے فرعون اور اس کے برے عمل سے نجات دے اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا بہت ہی نیک ایمان والی تھیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ہیں اوراللہ تعالیٰ کی فرماں بردار ہیں ۔

 (سورۃ التحریم مکمل)

 (پارہ نمبر 28 مکمل)

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں