MS Urdu, Islamic Stories, Urdu Islamic Books, Quran Stories, Hadees Books, Urdu Islamic history Books, Seerat un Nabi Books, Urdu Islamic books, Urdu Ambiya Books
جمعہ، 31 مارچ، 2023
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 27 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 26 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر (26)
سورة الاحقاف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو عزت والا ، حکمت والا ہے اور اللہ تعالی نے زمین اور آسمان حق کے ساتھ بنائے کہ ایک مقررہ وقت تک انھیں قائم رکھے گا پھر ( قیامت کے دن ) تباہ کر دے گا اور کافر اللہ تعالی کا اور قیامت کے دن کا انکار کرتے ہیں۔ آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ تم جن کو اللہ تعالی کے سوا پوجتے ہو انھوں نے زمین کا کون سا ذرّہ بنایا؟ یا آسمان کا کون سا حصہ بنایا؟ جس نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کی وہ بہت بڑا گمراہ ہے اور میدان حشر میں جن کی یہ عبادت کرتے ہیں وہ ان کا فروں کے دشمن جائیں گے اور اللہ تعالی ان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا جو جان بوجھ کر ا نکار کرتے ہیں۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جنھوں نے اسلام قبول کیا پھر اس پر آخر تک قائم رہے ، انھیں جنت کی بشارت ہے۔ اس کے بعد ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا کہ انسان کو اس کی ماں نے تکلیف اٹھا کر پیٹ میں رکھا پھر وہ پیدا ہوا تو اس کی ماں نے تیس مہینے تک اسے اپنے سینے سے لگائے رکھا اور دودھ پلایا پھر وہ جوان ہوا اور چالیس برس کا ہوا اپنے والدین کی خدمت کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا کہ اے اللہ! مجھے اس لائق بنا کہ میں تیری دی ہوئی نعمت (اسلام) کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی اور مجھ سے اپنی پسند کے مطابق کام لے اور میری نسل میں بھلائی ( اسلام اور نیکیاں ) رکھ دے۔ تو یہ جنت والوں میں سے ہے اور جس نے اپنے والدین کو بُرا بھلا کہا اور بُرا سلوک کیا اور کہا کہ تم اسلام کی دعوت دیتے ہو اور آخرت کی زندگی کے بارے میں بتاتے ہو یہ تو صرف کہانیاں ہیں اور کچھ نہیں ۔ تو وہ بہت بڑے نقصان میں رہا اور جہنم والوں میں سے ہے۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ہود علیہ السلام اور قوم عاد کے بارے میں بتایا کہ حضرت ہود علیہ السلام نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے انھیں سمجھایا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا اور آپ علیہ السلام کا مذاق اڑانے لگے اور کہا: اگر تم سچے ہو تو لے آؤ اللہ تعالیٰ کا عذاب ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کا عذاب بادل کی شکل میں آیا تو خوش ہو گئے کہ ہم پر برسے گا لیکن وہ ایک زبر دست آندھی تھی، جس نے اُن کو ہلاک کر ڈالا اور اُن کو اُس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی کافر بستیوں کو ہلاک کر دیا۔ وہ لوگ جن کی عبادت کرتے تھے وہ اُن کی کچھ مدد نہ کر سکے بلکہ وہ تو غائب ہو گئے ۔ اس کے بعد اُن مسلمان جنات کے بارے میں بتایا جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر اسلام قبول کیا اور قرآن پاک کی تلاوت سنی تو اپنی قوم میں جا کر اسلام کی دعوت دی اور کہا: ہم نے ایک کتاب ( قرآن پاک کی تلاوت سنی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتاری گئی کتاب (توریت) کے بعد اتاری گئی ہے اور اس کی تصدیق کرتی ہے۔ اے ہماری قوم اللہ تعالی پر ایمان لاؤ اور اللہ کے رسول ﷺ کی بات مانو اور جو رسول اللہ ﷺ کی بات ماننے سے انکار کرے گا وہ کھلا گمراہ ہے۔ اس کے بعد کافروں پر عذاب کے بارے میں بتایا ۔
( سورة الاحقاف مکمل)
سورہ محمد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 5
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کافروں کے عمل برباد ہو گئے اور ایمان لانے والے جنھوں نے نیک اعمال کئے اور رسول اللہ ﷺ کی اتباع کی وہ کامیاب ہو گئے ۔ کافر باطل کی پیروی کرتے ہیں اور ایمان والے حق کی پیروی کرتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے ہے۔ اس کے بعد جنگ کے بارے میں احکامات دیئے اور فرمایا: اے ایمان والو! تم اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور کافروں کے مقابلہ میں تمہارے قدم جما دے گا۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: مسلمانوں کا مولیٰ اللہ تعالٰی ہے اور کافروں کا کوئی مولی نہیں ہے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مؤمنوں کو جنت کی بشارت دی اور بتایا کہ جنت میں پانی کی ، دودھ کی، شہد کی اور شراب کی نہریں ہیں۔ ہر قسم کے پھل اور میوے ہیں۔ یہ سب ایمان والوں کے لئے ہیں۔ کافر تو اس طرح دنیا میں رہتے اور کھاتے ہیں جس طرح جانور رہتے اور کھاتے پیتے ہیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو کافروں کے لئے جہنم ہے۔ جس میں آگ ہے اور انہیں پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا جو اُن کی انتڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا تو یہ کافر قیامت کے انتظار میں ہیں جو اچانک آئے گی۔ رکوع کے آخر میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہوں کی معافی کی دعا مانگتے رہو۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا جب جہاد کے بارے میں کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو مؤمنین خوش ہوتے ہیں اور ان کا جوش ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور منافقین کے منہ لٹک جاتے ہیں اور انکے چہروں پر مردنی چھا جاتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کے بارے میں فرمایا کہ شیطان نے انھیں فریب دیا اور مدتوں دنیا میں رہنے کی امید دلائی اور ان اہل کتاب کو یہ ناگواری ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں آئے اور اس لئے یہ جانتے ہوئے کہ آپ ﷺ حق پر ہیں پھر بھی آپ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں منافقین کے بارے میں بتایا کہ یہ لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ ان کے دلوں کا نفاق چھپا رہے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو دکھا دے اور آپ ﷺ ان سب کو صورتوں سے پہچان لیں ۔ ویسے بھی ان کی بات چیت اور عمل سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ منافق ہیں تو اللہ تعالیٰ جنگ کے ذریعہ ضرور مؤمن اور منافق کو جانچے گا۔ اس کے بعد اہل کتاب کے بارے میں بتایا کہ وہ جانتے ہیں کہ آپ ﷺ ہدایت پر ہیں ۔ اور اس کے بعد ﷺ کا انکار کر کے کفر کرتے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے بلکہ ان کا سب کیا دھرا ضائع ہو جائے گا ۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم مانو، اور اس کے رسول ﷺ کاحکم مانو پھر فرمایا: جو کافر ( کفر کی حالت میں ) مر گئے تو اللہ تعالیٰ انھیں ہرگز نہیں بخشے گا اور اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو ۔
(سورہ محمد مکمل )
سورة الفتح
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو کھلی، روشن اور صاف فتح کی بشارت دی اور فرمایا کہ اللہ تعالی آپ ﷺ کی اگلی اور پچھلی سب کوتاہیوں کو بخشتا ہے اور اللہ تعالی نے ایمان والوں کے دلوں میں اطمینان اتارا اور ان کا اللہ تعالٰی پر یقین بڑھ گیا تو ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتوں کو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمائے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور منافق مردوں ، منافق عورتوں اور مشرک مردوں و مشرک عورتوں کو عذاب دے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ تم رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ اور آپ ﷺ کی تعظیم و تو قیر کرو اور صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان (تسبیح) کرو۔ رکوع کے آخر میں ان صحابہ کرام کو کامیابی کی بشارت دی۔ جنھوں نے بیعت رضوان کی تھی۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں بتایا کہ آپ ﷺ مدینہ منورہ واپس جائیں گے تو یہ لوگ معذرت کریں گے اور معافی اور بخشش کی دعا کرنے کی درخواست کریں گے تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیں گے کہ بہت جلد اللہ تعالیٰ ایک سخت جنگ کے ذریعہ تمھیں آزمائے گا۔ اگر تم اس جنگ میں ثابت قدمی سے لڑے تو تم کامیاب ہو جاؤ گے اور اگر پیٹھ دکھائی تو نا کام ہو جاؤ گے۔ ہاں ! اندھا اور لنگڑا اور بیمار جنگ پر نہ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ان ایمان والوں سے جنھوں نے درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کی۔ اللہ تعالی ان کے دلوں کے اخلاص کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں اطمینان اتارا اور انھیں بہت ہی جلد آنے والی فتح ( فتح خیبر ) کا انعام دیا۔ اس کے بعد فرمایا: اگر کا فرتم سے لڑیں تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے اور ان کا کوئی حمایتی و مددگار نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا شروع سے یہی دستور ہے اور تم اللہ تعالیٰ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک صلح حدیبیہ کے بارے میں بتایا۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالی نے اس رکوع میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے خواب کو سچ کر دیا اور بے شک اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تم سب مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ داخل ہو گئے، اپنے سروں کے بال منڈاؤ گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے فتح (فتح خیبر ) رکھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو اس لئے بھیجا تا کہ اسلام کو سب دینوں پر غالب کر دے۔ اس کے بعد صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے کہ رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ ﷺ کے ساتھی ( صحابۂ کرام ) کافروں کے مقابلہ میں سخت ہیں اور آپس میں نرم دل ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے رکوع اور سجدہ کرتے ہیں اور یہ اوصاف اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں برس پہلے تو ریت اور انجیل میں بیان فرمائے تھے اور ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں کے لئے ثواب اور بخشش کا وعدہ ہے۔
(سورۃ الفتح مکمل)
سوره الحجرات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کا ادب کرنا سکھلایا کہ نہ تو رسول اللہ ﷺ سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں تیز آواز ( اونچی آواز ) اور تیز لہجے میں بات کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو اس طرح رسول اللہ ﷺ کو نہ پکارو بلکہ ادب سے متوجہ کرو ۔ اس کے بعد فرمایا کہ کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لائے تو پہلے تحقیق کر لو۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اس نے ایمان کو تمھارے دلوں میں آراستہ کیا اور پیارا کر دیا اور کفر اور نا فرمانی سے نفرت پیدا کر دی۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو اور مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی مسلمانوں کو احکامات دینے کا سلسلہ جاری رکھا اور فرمایا: مسلمانو کسی مرد کا مرد لوگ مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی مسلمان عورتیں مسلمان عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے جن کا تم مذاق اڑا رہے ہو وہ تم سے کہیں بہتر ہوں ۔ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ نہ دیا کرو اور ایک دوسرے کو بُرے نام سے نہ پکارو اور سب سے بُرا نام تو ( مسلمان ہو کر ) فاسق کہلانا ہے اور بد گمانی سے بچو اور ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔ تم میں سے کوئی یہ پسند نہیں کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ۔اللہ تعالی نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہارے خاندان اور قبیلے بنائے تا کہ تم آپس میں پہچانے جاؤ ۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کی عزت ہے جو ایمان لائے ، نیک کام کرے اور گناہوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک اُن لوگوں کے بارے میں ہدایات دیں جنہوں نے اسلام قبول کرنے کا دعوی کیا اور اسلام اُن کے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
(سورۃ الحجرات مکمل)
سورة ق
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قرآن پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ کافر اس لئے حیران ہیں کہ آپ ﷺ ان ہی میں سے تشریف لائے اور کہتے ہیں کہ یہ عجیب بات ہے کہ ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو زندہ کیسے ہوں گے ؟ اللہ تعالی کی طرف پلٹنا تو دور کی بات، انھوں نے آسمان پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کیسا بنایا اور سنوارا اور اُس میں ذرا سی بھی دراڑ نہیں ہے اور اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے جس سے زمین کو زندہ کرتا ہے اور اُس میں سے ہر پیٹر پودوں اور ہر چیز کا جوڑا اُگاتا ہے اور اناج اور کھجور اور بہت سے پھل پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی تمہیں تمہاری قبروں سے نکالے گا تو اللہ تعالیٰ کے لئے پہلی مرتبہ تمہیں پیدا کرنے سے آسان دوسری مرتبہ پیدا کرنا ہے۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی انسان کے اندر وسوسوں کو بھی جانتا ہے اور وہ انسان کے گلے کی رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہے اور ہر انسان کے دائیں بائیں کاندھوں پر اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کر دیئے ہیں اور وہ دونوں انسان کی ہر نیکی اور ہر برائی کو لکھتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد میدان حشر میں کافر کی کیفیت بیان فرمائی کہ کا فرجس شیطان کے بہکاوے میں آیا تھا اور کفر کیا تھا وہ بھی اُس کے ساتھ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ دونوں کو جہنم میں ڈالنے کا حکم فرمائیں گے۔ وہ کافر کا ساتھی شیطان کہے گا۔ اے میرے رب ! میں نے اسے کفر پر مجبور نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود گمراہی میں مبتلا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم دونوں کو عذاب کا حکم ہو چکا ہے اور اللہ تعالی اپنی بات نہیں بدلتا اور نہ ہی اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں میدان حشر کے ذکر کو جاری رکھا اور بتایا کہ اللہ تعالٰی جہنم سے پوچھے گا : کیا تو بھر گئی ہے؟ جہنم کہے گی : نہیں! کیا اور بھی کچھ ہے؟ اور جنت مومنوں کے سامنے لائی جائے گی اور اللہ تعالی کا حکم ہوگا کہ اس میں داخل ہو جاؤ اور اس میں ہمیشہ ہمیش کے لئے عیش و آرام سے رہو۔ نصیحت پر عمل وہی کرتا ہے جو دل رکھتا ہے اور توجہ سے کان لگا کر سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان چھ دنوں میں بنایا اور اسے ذرا بھی تھکان نہیں ہوئی آپ ﷺ اور مسلمان سورج نکلنے سے پہلے اور سورج ڈوبنے سے پہلے اور کچھ رات گئے اللہ تعالی کی تسبیح بیان کریں اور جس دن زمین پھٹے گی تو سب لوگ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے۔
(سورہ ق مکمل)
سورة الذاريات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 18
اللہ تعالی نے اس رکوع میں ہر طرح کی ہواؤں کی قسم کھا کر فرمایا کہ قیامت ضرور آئے گی اور اُس دن ہر ایک کا فیصلہ ہوگا اور کافر آگ پر تپائے جائیں گے اور کہا جائے گا: اب عذاب کا مزہ چکھ لو ۔ یہ ہے فیصلہ کا وہ دن جس کی تم کو جلدی رہا کرتی تھی اور متقی مومنین جنت میں باغوں اور چشموں میں آرام سے رہیں گے۔ یہ وہ بندے ہیں جو رات کو کم سوتے تھے اور رات کے آخری پہر میں توبہ اور استغفار کرتے رہتے تھے اور اپنے مال میں سے ضرورت مندوں کو دیا کرتے تھے اور فرمایا: یہ قرآن پاک حق ہے اور ویسی ہی زبان میں نازل ہوا ہے جو تم بولتے ہو۔
(پارہ 26 مکمل)
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 25 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (25)
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ علیہ السلام کو کتاب ( توریت ) عطا فرمائی لیکن بعد میں بنی اسرائیل نے اس میں اختلاف کیا ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کا ایک مقررہ مدت تک دنیا میں رہنا متعین نہیں ہوا ہوتا تو اسی وقت اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا اور بنی اسرائیل ایک دھو کہ میں ڈالنے والے شک میں ہیں ۔ جو نیک اعمال کرے گا تو وہ اپنے لئے نیکی کمائے گا اور جو برے اعمال کرے گا تو خود اپنے آپ کو مصیبت میں ڈالے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا ۔ جب انسان کو تکلیف اور مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے بہت لمبی اور چوڑی دعا مانگتا ہے پھر جب اللہ تعالی اس تکلیف اور مصیبت کو دور کر دیتا ہے اور اپنی رحمت کا مزہ دے کر احسان کرتا ہے تو وہ اللہ تعالی کو بھول جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے منہ پھیر لیتا ہے۔
سورہ حم السجدہ مکمل
سورة الشورى
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے، سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ بلندی والا عظمت والا ہے اور فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تعریف کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ قرآن پاک کو اللہ تعالٰی نے عربی زبان میں آپ ﷺ پر نازل فرمایا تا کہ آپ ﷺ تمام شہروں کی اصل مکہ مکرمہ والوں کو اور دور والوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور فرمایا : جن لوگوں نے اللہ تعالٰی کے سوا دوسروں کو والی بنالیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں اور ظالموں کا (قیامت میں ) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ ہی مددگار اور فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی والی ہے اور مُردہ کو زندہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا بنانے والا ہے۔ انسانوں کے جوڑے ان ہی میں سے اور چوپایوں کے جوڑے ان ہی میں سے بنائے اور سب کی نسلوں کو زمین پر پھیلایا۔ زمین و آسمان کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جس پر چاہے تنگ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ حضرت نوح، حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام نے اسی کی دعوت دی جس کی دعوت ( یعنی اسلام ) آپ ﷺ دے رہے ہیں۔ رکوع کے آخر میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ مسلمان اُس سے ڈرتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اور کا فرقیامت کے جلدی آنے کا شور مچاتے ہیں، ہو سکتا ہے کہ قیامت قریب ہی ہو
رکوع نمبر 4
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: جو آخرت کے لئے اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ثواب کو بڑھائے گا اور جو دنیا کے لئے اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں کچھ دے دے گا اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کے بعد فرمایا: کافر لوگ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کا دنیا میں ایک مخصوص وقت تک رہنا متعین نہ کیا ہوتا تو اسی وقت اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا۔ اس کے بعد کافروں کو جو عذاب ہوگا اس کے بارے میں بتایا اور مؤمنین کو جنت کی بشارت دی اور اُن کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اگر اللہ تعالی سب بندوں کو وسیع رزق عطا فرماتا تو زمین میں فساد (برائیاں) پھیل جاتا۔ اس لئے جس کو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالی نے رکوع کے شروع بتایا انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اس کے بُرے اعمال کی وجہ سے آتی ہے اور بہت سے (برے اعمال) تو اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی انسان کو جو مال و جائیداد عطا فرماتا ہے وہ دنیا تک ہی محدود رہ جائے گا۔ دنیا انسان کو کچھ ہی وقت کے لئے ملی ہے اور اللہ تعالی کے پاس آخرت کی زندگی ہے۔ جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ اس کے بعد مؤمنوں کی خصوصیات بتائیں کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آئے تو معاف کر دیتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالٰی کے دیئے رزق نیک کاموں میں خرچ کرتے اس کے بعد بتایا کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ غلط سلوک کرے تو تم بھی آتنا ہی کر سکتے ہو اور اگر معاف کردو تو یہ بہت بہتر ہے۔ یہ صبر ہے اور صبر کرنا بہت بڑی نیکی ہے
رکوع نمبر 6
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قیامت کے دن کافروں کی کیا حالت ہوگی اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ کا کام صاف صاف اللہ تعالی کا پیغام اس کے بندوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی ہی تمام کا ئنات کا بادشاہ ہے، وہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے ، وہ چاہے تو صرف بیٹیاں عطا فرمائے اور چاہے تو صرف بیٹے عطا فرمائے اور چاہے تو دونوں ملا کر دے ( یعنی بیٹیاں اور بیٹے دونوں عطا فرمائے ) اور چاہے تو بانجھ رکھے، رکوع کے آخر میں آپ ﷺ سے فرمایا کہ بے شک آپ ﷺ سیدھا راستہ بتاتے ہیں اور وہ اللہ تعالی کا بتایا ہوار استہ ہے۔
(سورہ الشوری مکمل)
سورہ الزخرف
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7:
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان میں اس لئے اتارا ہے تا کہ تم سمجھو اور یہ اصل کتاب ( لوح محفوظ) میں لکھا ہوا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا تو ہر نبی اور رسول کا ان کی قوم کے کافروں نے مذاق اڑایا تو اللہ تعالیٰ نے اُن سب مذاق اڑانے والوں کو ہلاک کر دیا ، اس کے بعد سے رکوع کے آخر تک اللہ تعالٰی نے اپنی ربوبیت اور خالقیت کے بارے میں بتایا اور رکوع کے آخر میں فرمایا۔ اس کے بعد بھی انسان شرک کرتا ہے۔ بے شک انسان بڑا نا شکرا ہے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالی نے اس رکوع میں کافروں کے دو الزامات کو جھوٹا ثابت کیا۔ پہلا یہ کہ کافر کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بیٹے عطا فرماتا ہے اور اپنے لئے (نعوذ باللہ ) بیٹیاں رکھتا ہے۔ دوسرا الزام یہ کہ فرشتے (نعوذ باللہ ) عورتیں ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو جس دین پر دیکھا تو ہم بھی اسی دین پر چلیں گے۔ اس سے پہلے جب بھی کسی شہر میں اللہ تعالی نے ڈرانے والا ( یعنی نبی یا رسول ) بھیجا تو ان کی قوم کے کافروں نے بھی یہی جواب دیا تو اللہ تعالٰی نے اُن سے انتقام لیا۔ دیکھو انکار کرنے والوں ( کافروں ) کا کیسا برا انجام ہوا۔
رکوع نمبر9
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنے باپ آذر کو اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو ان لوگوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ میں ان بتوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو ۔ میں تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں ۔ اب چونکہ مکہ مکرمہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد بسی ہوئی تھی ۔ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرماکر مکہ مکرمہ کے کافروں کو سکھایا کہ یہ رسول ﷺ سب کو اسی اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔ جس کی حضرت ابراہیم علیہ السلام دعوت دیتے تھے۔ اب اگر تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حق پر مانتے ہو تو آپ ﷺ کو بھی حق پر تسلیم کرلو۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالی نے پچھلے رکوع میں مکہ مکرمہ کے کافروں کو سمجھانے کے بعد اس رکوع میں فرمایا کہ اب جو رحمٰن ( یعنی اللہ تعالی ) کے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ایک شیطان کو لگا دے گا جو اسے اس کے برے اعمال کو اچھا کر کے بتائے گا۔ پھر جب دونوں قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ایک دوسرے کو برا کہیں گے ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: آپ بہروں کو سنائیں گے یا اندھوں کو راستہ بتا ئیں گے جب کہ وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔ بے شک آپ ﷺ سیدھے راستے پر ہیں۔
رکوع نمبر 11
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو فرعون اور اس کی قوم نے مذاق اڑایا اور فرعون نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم ! میرے پاس سلطنت ہے اور محلات ہیں سونا چاندی ہے، اس کے پاس نہ تو سونا چاندی ہے اور نہ اس پر فرشتے آتے ہیں ۔ میں اس حقیر و بے قیمت سے کہیں بہتر ہوں ۔ فرعون کی قوم اس کے بہکاوے میں آگئی اور کا کہنا مان لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ظلم کی وجہ سے انھیں غرق کر دیا اور آنے والی نسلوں کے لئے انہیں داستان عبرت بنا دیا۔
رکوع نمبر :12
اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا تو آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے فرمایا: بے شک اللہ تعالی میرا اور تمہارا رب ہے اور میں تو صرف اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا ہوں اور تم سب کو دعوت دیتا ہوں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اللہ تعالی کے حکم کی نا فرمانی مت کرو، تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں اختلاف ہو گیا، ظالموں کی قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی اور جنت میں وہ کس طرح عیش و آرام سے رہیں گے ۔ اس کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ اس کے بعد کافروں کو دوزخ میں جو سخت عذاب دیا جائے گا، اس کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ یہ کافر اپنے مشورے کتنے بھی آہستہ آہستہ (سرگوشی میں ) کریں اللہ تعالی سب سن رہا ہے اور اس کے فرشتے لکھ رہے ہیں تو آپ ﷺ کا فروں اور اہل کتاب ( عیسائیوں اور یہودیوں ) سے کہہ دیں کہ اللہ تعالٰی کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اللہ تعالی پاک ہے اور زمین ، آسمان اور عرش کا مالک ہے۔ اللہ تعالی علم والا ، حکمت والا ہے۔
( سورہ الزخرف مکمل )
سورة الدخان
رکوع نمبر :14
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک کو برکت والی رات ( یعنی شب قدر ) میں اتارا اور اس رات میں اللہ تعالٰی کے حکم سے ہر حکمت والا کام بانٹ دیا جاتا ہے ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم صفات کو بیان کر کے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات جلیلہ یہ بیان کی گئیں کہ وہ زمین اور آسمانوں کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے، اللہ تعالی ہی تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے انکار کر دیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو تو وہ اُن پر ظلم کرنے لگا، تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو بچالیا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کر دیا۔
رکوع نمبر 15 اور رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ذلت کے عذاب ( فرعون کی غلامی ) سے نجات دی۔ فرعون بہت تکبر اور حد سے بڑھنے والوں میں سے تھا اور اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو فضیلت بخشی اور نشانیاں (صحرا میں بادل کا سایہ من اور سلویٰ کا نزول وغیرہ) عطا فرمائیں۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے اس دنیا کو مذاق کے لئے نہیں بنایا بلکہ اسکی تخلیق کا ایک مقصد ہے لیکن اکثر لوگ اس پر غور نہیں کرتے اور فیصلہ کا دن (یعنی قیامت) ضرور آئے گا اور تمام لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک رہنا ہے اور فیصلے کے دن کوئی دوست کسی دوست کے کام نہیں آئے گا اور نہ کافروں کی مدد کی جائے گی۔ ان کا کھانا تھوہڑ کا پیڑ ہوگا اور تانبے کی طرح کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی اور جنت کے عیش و آرام کے بارے میں بتایا کہ حوریں اُن کا استقبال کریں گی اور میوے اور بہترین ٹھنڈا پانی ملے گا۔
(سورۃ الدخان مکمل)
سورة الجاثيہ
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک ) اللہ تعالی کی طرف سے ہے جو عزت والا حکمت والا ہے، بے شک ایمان والوں کے لئے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں اور انسان کی پیدائش میں اور تمام جانوروں میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور رات اور دن کی تبدیلیوں میں اور بارش میں ، جس کی وجہ سے مردہ زمین زندہ ہو کر پھل اور اناج دیتی ہے اور ہواؤں کی گردش میں عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں ہیں اور حق ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو چھوڑ کر کسی اور پر ایمان لائے گا اور غرور کرے گا اور اللہ تعالی کی آیتوں اور اللہ کے رسول ﷺ کا مذاق اڑائے گا تو اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالی نے پچھلے رکوع کے سلسلہ کلام کو اس رکوع میں جاری رکھتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سمندروں اور دریاؤں کو انسانوں کے بس میں کر دیا ہے، وہ اُن میں کشتیاں چلاتے ہیں تا کہ اللہ تعالی کا فضل تلاش کریں اور حق کو مانیں ۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے کام پر لگا دیا ہے ، اس میں غور کرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمانوں سے کہیں کہ وہ کافروں اور اہل کتاب سے درگزر کریں تا کہ اللہ تعالی ہر قوم کو اس کے اعمال کا بدلہ دے، جو بھلا کام کرے گا اپنے لئے کرے گا اور جو برا کام کرے گا وہ بھی اپنے لئے کرے گا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت ، حکومت اور کتاب ( توریت اور انجیل ) عطا فرمائی لیکن آپس میں حسد کی وجہ سے وہ اختلاف کر بیٹھے ۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کے اختلاف کا فیصلہ فرما دے گا۔ ظلم ( انکار ) کرنے والے ( یعنی کا فر، یہودی اور عیسائی ) ایک دوسرے کے ولی ہیں اور مسلمانوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے تو ایمان لانے والے اور انکار کرنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو حق کے ساتھ بنایا تا کہ ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جا سکے اورکسی پر کچھ ظلم نہیں ہوگا، جو شخص حق اور سچائی کو سمجھ لینے کے بعد اسے قبول کرنے سے انکار کر دے تو اللہ تعالی اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور کافر کہتے ہیں کہ جو بھی ہے دنیا کی زندگی ہے اسی میں جینا ہے اور اس میں مرتا ہے اور آخرت کی زندگی کا (نعوذ باللہ) کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ لوگ سراسر گمراہی میں مبتلا ہیں اور جب ان کا فروں پراللہ تعالی کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو ہمارے باپ دادا کو لے آئیں۔ آپ ﷺ ان کافروں سے کہہ دیں کہ اللہ تعالی ہی زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا لیکن یہ لوگ اسے سمجھ نہیں پائیں گے۔
رکوع نمبر 20
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے سراسر نقصان میں ہوں گے اور ہر گروہ کو اعمال نامے دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا۔ یہ ہے وہ سب جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے سب لکھ رکھا تھا۔ ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے دامن میں سمیٹ لے گا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ کافروں سے کہا جائے گا تم لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور قیامت کے دن کو بھلائے بیٹھے تھے اور دنیا کی زندگی میں مگن تھے، آج اللہ تعالی تم پر کوئی توجہ نہیں کرے گا اور وہ تمہیں بھلا دے گا ۔ وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے آگ میں رہیں گے۔
( سورہ الجاثیہ مکمل)
(پارہ نمبر 25 مکمل)
جمعرات، 30 مارچ، 2023
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 24 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 24
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
رکوع نمبر 2
رکوع نمبر 3
رکوع نمبر 4
رکوع نمبر 5
(سورۃ الزمر مکمل)
سورة المؤمن
رکوع نمبر 6
رکوع نمبر 7
رکوع نمبر 8
رکوع نمبر 9
رکوع نمبر :10
رکوع نمبر 11
رکوع نمبر 12
رکوع نمبر 13
رکوع نمبر :14
(سورہ مؤمن مکمل)
سوره حم السجده
رکوع نمبر 15
رکوع نمبر 16
رکوع نمبر 17
رکوع نمبر 18
رکوع نمبر 19
(پارہ نمبر 24 مکمل)
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 23 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 23
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں شہر والوں کا قصہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک شہر والوں کی طرف دو بندے بھیجے ۔ انھوں نے اسلام کی دعوت دی تو شہر والوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تیسرے بندے کو بھیجا تو ان تینوں سے شہر والوں نے کہا کہ تم ہماری طرح انسان ہو اور تمہیں رحمن (یعنی اللہ تعالی ) نے نہیں بھیجا ہے اور تم جھوٹے ہو۔ اُن تنیوں نے کہا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں اور ہمارے ذمہ تو صرف صاف صاف بات پہونچاتا ہے۔ شہر والوں نے کہا: ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اور اگر تم لوگ اسلام کی دعوت سے باز نہیں آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کر ڈالیں گے تو ان تینوں نے کہا: تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہو۔ اتنا سمجھانے کے بعد بھی نہیں مان رہے ہو۔ تم لوگ تو حد سے بڑھ جانے والوں میں سے ہو ۔ اسی دوران ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا : اے میری قوم! ان تینوں کی بات مانو اور اسلام قبول کر لو۔ یہ تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور سیدھے راستے پر ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کیوں نہ کروں جبکہ اُس نے مجھے پیدا کیا اور اُسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے اور میں تمہارے خداؤں کی عبادت نہیں کروں گا کیوں کہ اگر رحمن ( اللہ تعالیٰ ) مجھے مصیبت میں ڈالنا چاہے تو تمہارے خدا مجھے نہیں بچا سکیں گے۔ میں تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ شہر والوں نے اُسے شہید کر دیا۔ اللہ تعالی نے اس کو حکم دیا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ یہ سن کر اُس نے کہا: کاش ! میری قوم جانتی کہ اسلام قبول کرنے پر اللہ تعالیٰ نے مجھے کیا عنایت فرمایا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شہر والوں پر صرف ایک چنگھاڑ بھیجی تو وہ سب ہلاک ہو گئے ۔ بندوں پر افسوس ہے کہ اُن کے پاس اللہ کے رسول آتے ہیں تو وہ اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ پھر جب اللہ تعالی کا حکم (یعنی قیامت ) آئے گا تو سب کے سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر کئے جائیں گے۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو بارش برسا کر زندہ کرتا ہے اور انسانوں کے لئے اناجوں کی کھیتیاں اور پھلوں کے باغ لگاتا ہے۔ پھر کیوں یہ کا فرحق (اسلام ) قبول نہیں کرتے۔ ایک نشانی دن اور رات ہے کہ اللہ تعالی دن کو کھینچ لیتا ہے اور اُن پر اندھیری رات آجاتی ہے ۔ سورج اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے راستہ پر چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے چاند کی منزلیں مقرر کر دی ہیں۔ وہ اسے گھٹا کر کھجور کی شاخ کے جیسا بنا دیتا ہے، نہ سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اللہ تعالی نے ان سب کو اُن کے مدار پر مقرر کر دیا ہے اور ہر ایک اپنے مدار پر چل رہا ہے۔ اس کے بعد سمندر اور کشتی کی مثال بتائی۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو تو کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ ہم انھیں کھلا ئیں کہ جنہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو کھلا دیتا۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو وہ وعدہ (قیامت) کب آئے گا؟ وہ تو اچانک آئے گا۔ جب وہ دنیا کے جھگڑوں میں الجھے ہوں گے۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالی نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا: جب صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے کہیں گے: ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگا دیا ( پھر خود ہی کہیں گے ) یہ تو وہی (قیامت) ہے جس کا وعدو رحمن ( اللہ ) نے کیا تھا اور رسولوں نے سچی خبر دی تھی۔ پھر سب لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے۔ اُس دن کسی پر ظلم نہیں ہوگا اور ہر ایک کو اس کے عمل کا (اچھا یا برا ) بدلہ دیا جائے گا۔ ایمان والے، نیک مسلمان جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ عیش و آرام سے ہوں گے اور اللہ تعالی کی طرف سے اُن پر سلام ہو گا اور مجرموں سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کا کہنا ماننے سے تمہیں منع فرمایا تھا اور وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ کیا تم میں عقل نہیں تھی ۔ اب جہنم میں جاؤ اور اس دن اُن کے منہ بند کر دیئے جائیں گے اور اُن کے ہاتھ اور پیر اُن کے اعمال کی گواہی دیں گے۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے شاعری نہیں سکھائی ۔ نہ آپ ﷺ کی یہ شان ہے کہ آپ ﷺ شاعری کریں ۔ آپ ﷺ تو قرآن مبین کی روشن آیتیں تلاوت فرماتے ہیں تا کہ کافروں پر حجت قائم ہو جائے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جانوروں کا مالک بنایا تا کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے ۔ اس کے بعد بھی انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ اپنی جان پر ظلم کر کے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو معبود بنا لیتا ہے۔ سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر کئے جائیں گے ۔ اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ ان کا فروں کے کفر کا غم نہ کریں ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پانی کی بوند سے پیدا فرمایا لیکن وہ اپنی پیدائش کو بھول گیا اور جھگڑنے لگا کہ مر کر مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہو گا؟ فرمایا کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان بنائے اور جب وہ کسی چیز کو بناتا ہے تو فرماتا ہے بن جا تو وہ چیز بن جاتی ہے۔
(سورہ یاسین مکمل)
سورة الصافات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا معبود ہے اور اللہ تعالی ہی زمین اور آسمانوں اور مشرق اور مغرب کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا ۔ جب سرکش شیاطین کان لگا کر سننے کے لئے آتے ہیں تو ہر طرف سے انہیں مار کر بھگایا جاتا ہے۔ ہاں ایک آدھ بار ( اتفاقا فرشتوں کی باتیں ) سن لیتے ہیں تب بھی انھیں ستارے پھینک کر مارا جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کافر اللہ تعالی کی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مر کر بھی ہماری ہڈیاں مٹی ہو جائیں گی تو کیسے اللہ تعالی ہمیں اور ہمارے باپ دادا کو دوبارہ زندہ کرے گا تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ صرف ایک جھڑکی ہوگی اور سب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو جا ئیں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ! یہ ہے وہ فیصلہ کا دن جسے ہم جھٹلاتے تھے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ ظالموں ( کافروں ) کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اور اُن کے ساتھ وہ شیاطین بھی ہوں گے جن کے بہکانے پر کا فرشرک کرتے تھے۔ کا فر شیاطین سے کہیں گے کہ تم نے ہی ہمیں بہکایا تھا تو شیاطین کہیں گے: ہمارا تم پر کچھ اختیار نہیں تھا بلکہ تم خود ایمان نہیں رکھتے تھے۔ ہم خود بھی گمراہ تھے اور تمہیں بھی گمراہ کیا ۔ اس کے بعد مؤمنوں کے بارے میں بتایا کہ وہ جنت میں عیش و آرام سے بیٹھے ہوں گے اور اُن کی خاطر داری شراب سے کی جائے گی ۔ اس شراب سے انہیں نشہ نہیں ہوگا اور نہ وہ بہکیں گے اور خوب صورت بیویاں ساتھ میں ہوں گی اور جنتی اپنے جہنمی دوست کو دیکھنے کی فرمائش کرے گا تو اس کے دوست کو جہنم میں عذاب میں مبتلا دکھایا جائے گا۔ وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ جہنمیوں کو کھانے کے لئے تھوہڑ دیا جائے گا اور پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی تو کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور اکثر نے انکار کیا اور کافر ہوئے ۔ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کو بچالیا اور کافروں کو غرق کر دیا۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالی کے مخلص بندے تھے ، سلام ہو حضرت نوح علیہ السلام پر۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے اُن کے بتوں کوتوڑ ڈالا۔ انھوں نے آپ علیہ السلام کو زندہ چلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو بچالیا۔ پھر آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمایا ۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ذبیحہ دے کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا اور قربانی قبول کی ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام عطا فر مایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے مخلص بندے تھے ، سلام ہو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کو اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی اور روشن کتاب ( توریت ) عطا فرمائی اور اُن کی تعریف باقی رکھی۔ وہ دونوں کامل ایمان والے بندے تھے، سلام ہو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پر۔ اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بعل کی عبادت سے روکا اور اسلام کی دعوت دی ۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کی پکڑ کرے گا ۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالی کے مخلص بندے تھے، سلام ہو حضرت الیاس علیہ السلام پر ۔ اس کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو برے اعمال سے روکا تو قوم آپ علیہ السلام کی دشمن بن گئی ۔ اللہ تعالی نے انھیں تباہ کر دیا۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے تھے ، سلام ہو حضرت لوط علیہ السلام پر ۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا تو آپ علیہ السلام دن رات اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نجات دی اور انہیں اپنی قوم کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، اُن کی قوم نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد فر مایا کہ یہ کافر (نعوذ باللہ) اللہ تعالی کی بیٹیاں بناتے ہیں اور اپنے لئے بیٹے، یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ کافر فرشتوں کو عورتیں کہتے ہیں۔ کیا وہ اُس وقت حاضر تھے جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تخلیق کر رہا تھا ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک کافروں کے اعمال اور اُن پر عذاب کے بارے میں بتایا۔
(سورہ الصافات مکمل )
سورة ص
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر :10
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ ان کافروں کو اچنبھا ہوا کہ اُن میں سے آپ ﷺ اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرانے کے لئے آئے اور کافر بولے کہ رسول اللہ ﷺ بہت بڑے (نعوذ باللہ) جھوٹے جادوگر ہیں اور آپ ﷺ نے عجیب بات کہی کہ بہت سے خداؤں کا ایک خدا کر دیا۔ کافروں کے سردار بولے کہ آپ ﷺ کی بات نہ مانو اور اپنے خداؤں کی عبادت کرتے رہو۔ اس کے بعد فرمایا کہ پہلے بھی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور قوم عاد اور فرعون اور قوم ثہود اور بن والے ان تمام لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اللہ نے ان پر عذاب لازم کر دیا
رکوع نمبر 11
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ یہ کافر قیامت کی مانگ کرتے ہیں ، آپ ﷺ صبر کریں ۔ اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ بھی اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے تھے اور پرندے دم بخود رہ جاتے تھے۔ اس کے بعد دنیبوں والا مقدمہ تفصیل سے بیان فرمایا ۔ اس کے بعد فرمایا: اے داؤد ( علیہ السلام ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین پر نائب بنایا ہے۔ لوگوں میں حق کا حکم کرو۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ کافر یہ گمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے زمین اور آسمان بے مقصد ہی بنا دیئے، خرابی ہے کافروں کی اور آگ سے اُن کا استقبال کیا جائے گا۔ مسلمان جو نیک اعمال کرتے ہیں ۔ وہ، اور فساد پھیلا نے والے برابر نہیں ہو سکتے ۔ یہ برکت والی کتاب (قرآن پاک) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف نازل فرمائی تاکہ عقل مند اس کی آیتوں پر غور کریں اور نصیحت حاصل کریں۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے دعا کی ، اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو نہ ملے ۔ اللہ تعالی نے ہوا کو آپ علیہ السلام کے قابو میں کر دیا اور دیو اور جنات کا حاکم بنا دیا۔ وہ آپ علیہ السلام کے لئے اونچے محل بناتے اور سمندر میں سے موتیاں نکال کر لاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا قریبی مقام اور اچھا ٹھکانہ ہے۔
رکوع نمبر :13
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ اشیطان نے مجھے تکلیف میں مبتلا کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ اس کے نتیجہ میں چشمہ پھوٹ پڑاء اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے نہاؤ اور اسے پیو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مال اور اولاد عطا فرما دیئے اور بے شک آپ علیہ السلام صبر کرنے والے تھے۔ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام علم والے اور کھرے تھے۔ منتخب کئے ہوئے اور پسندیدہ بندے ہیں۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ذوالکفل اور حضرت یسع علیہم السلام سب اللہ تعالی کے اچھے اور پسندیدہ بندے ہیں ۔ نیک ایمان والے جنت میں عیش و آرام میں ہوں گے اور اُن کی بیویاں اپنے شوہر کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھیں گی۔ وہ ہمیشہ بہترین رزق پائیں گے اور سرکش لوگ دوزخ میں ہوں گے ۔ آگ کے بستر پر ہوں گے اور وہ کھولتا پانی اور پیپ (مواد) کھا ئیں گے اور پیئیں گے۔ اُن کی بُری اور بدصورت بیویاں ہوں گی۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرشتوں سے فرمایا: میں مٹی سے ایک انسان بنانے والا ہوں۔ جب میں اُس میں روح پھونک دوں تو سب سجدے میں گر جانا۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس شیطان نے نہیں کیا۔ اللہ تعالی نے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے سجدے سے روکا۔ کیا تجھے غرور آ گیا ہے؟ ابلیس نے کہا۔ میں اس سے بہتر ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے دھتکار دیا۔ اُس نے قیامت تک کی مہلت مانگی تو اللہ تعالی نے اسے مہلت دے دی ۔ شیطان نے کہا: میں اسے اور اس کی اولاد کو بہکاؤں گا لیکن تیرے نیک بندوں پر میرا زدر نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو تیری بات مانے گا میں اُس سے اور تجھ سے جہنم کو بھر دوں گا۔
( سورہ ص مکمل )
سورہ زمر
رکوع نمبر 15
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک ) عزت والے حکمت والے اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی جانب حق کے ساتھ نازل ہوئی ۔ تم صرف اللہ تعالی عبادت کرو اور خالص بندگی تو اللہ تعالی ہی کے لئے ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالی کے علاوہ دوسرے ولی بنالئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم صرف اتنی بات کے لئے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالی کے نزدیک کردیں گے تو بہت جلد ان کے بارے میں اللہ تعالی درست فیصلہ فرمادے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے تو حید و ربوبیت کی نشانیاں بتا ئیں اور فرمایا کہ حقیقی بادشاہت تو صرف اللہ تعالی کی ہے اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہے۔ اس کے بعد اگر تم ناشکری کرو ( دوسروں کی بندگی کرو ) تو بے شک اللہ تعالی تم لوگوں سے بے نیاز ہے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ کافر اور مسلمان برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: مسلمانوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو ۔ جو بھلائی کرے گا تو دنیا میں اس کا صلہ پائے گا اور ساتھ میں صبر بھی کرے گا تو صابروں کو اللہ تعالٰی بے حساب اور بھر پور ثواب عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ کافروں سے کہہ دو کہ میں تو اللہ تعالی کی ہی بندگی کرتا ہوں اور تمہیں جس کی عبادت کرنا ہو کرو۔ قیامت کے دن تم ہارے ہوئے لوگوں میں سے ہو گے ۔ آگ کے پہاڑ میں ڈالے جاؤ گے اور اوپر سے آگ کا پہاڑ ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ جس نے اسلام قبول کیا اور بہتر طریقہ ( یعنی قرآن پاک ) پر عمل کیا تو اُسے در حقیقت اللہ تعالی نے ہدایت فرمائی اور وہی عقل والا ہے۔ رکوع کے آخر میں اپنی نشانی کہ اللہ تعالی بارش برساتا ہے اور زمین میں ندیاں (نہریں) بہاتا ہے پھر کھیتی اگاتا ہے پھر وہ کھیتی سوکھ جاتی ہے اور ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ اس میں عقل مندوں کے لئے نشانی ہے۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہدایت کا نور پاتا ہے، اس کے برابر وہ نہیں ہو سکتا جس کے دل میں خرابی ہو ( اور وہ کفر پر اڑا ہو ) اور اُس کا دل اللہ تعالی کی یاد کی طرف سے سخت ہو گیا ہو۔ اللہ تعالی نے سب سے اچھی کتاب (قرآن پاک ) اتار دی ہے۔ اس کی آیتیں پڑھ کر اور سن کر مومنوں کے بدن کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں پھر اُن کی کھالیں اور دل نرم پڑ جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالی کی یاد کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ کافروں کو قیامت میں رسوائی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام کے کئی خراب قسم کے آقا ہیں اور ایک غلام کا صرف ایک رحمدل اور نیک آتا ہے ۔ کیا دونوں کا حال ایک جیسا ہو سکتا ہے؟ ( یہ مثال ہے مشرک کی، جس کے کئی کئی خدا ہوتے ہیں اور تو حید پرست کی جو صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود مانتا ہے ) بے شک ہر ایک کو مرنا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے۔
(پارہ نمبر 23 مکمل)
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 22 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (22)
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اس رکوع کی تین آیتیں پارہ نمبر 21 میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں ازواج مطہرات ( آپ ﷺ کی پاک بیویوں ) کو کچھ احکامات دیئے ۔ ان میں سے کچھ احکامات ازواج مطہرات کے لئے مخصوص ہیں لیکن زیادہ تر احکامات ازواج مطہرات کے ساتھ ساتھ مسلمان عورتوں کے لئے بھی ہیں۔ مثلاً اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں اور بے پردہ نہ رہیں اور نا محرموں سے اس طرح نرمی سے بات نہ کریں کہ وہ کسی خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم مانیں۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں، ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتوں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتوں، سچے مرد اور سچی عورتوں ، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتوں ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتوں ، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتوں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتوں اور اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرنے والے مرد اور اللہ تعالی کو ہر وقت یاد کرنے والی عورتوں کے لئے اللہ تعالی نے بخشش اور بہت بڑا اجر و ثواب تیار کر رکھا ہے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ اور رسول اللہ ﷺ اور اُم المؤمنین کا ذکر فر مایا اور بتایا کہ منہ بولا بیٹا صحیح معنوں میں بیٹا نہیں بن جاتا۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ تعالی کو کثرت سے یاد کرو ۔ صبح اور شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو اور اللہ تعالیٰ مؤمنوں پر خاص مہربان ہے کہ انھیں اندھیروں سے اُجالے کی طرف لاتا ہے اور مسلمانوں کی آپس میں ملتے وقت دعا سلام ہے ۔ اُن کے لئے عزت کا ثواب اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کو خوش خبری دو اور کافروں اور منافقین کی حرکات کا غم نہ کریں اور نظر انداز کردیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک نکاح کے احکامات دیئے۔ ان میں سے کچھ آپ ﷺ کے لئے مخصوص ہیں اور کچھ مسلمانوں کے لئے ہیں۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں پردے کے احکامات دیئے۔ اس کے بعد منافقوں کو پھٹکارا۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور ہو سکتا ہے کہ قیامت قریب ہی ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کی سزا کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔ دوزخ میں اُن کے منہ پلٹ پلٹ کر آگ پر بھونیں جائیں گے اور کافر کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانا ہوتا اور کہیں گے ۔ اے اللہ ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا حکم مانا اس لئے آج تو انہیں انھیں دوہرا عذاب دینا۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ تم اُن لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ستایا بلکہ رسول اللہ ﷺ کا بے حد ادب کرنا اور حکم کی تعمیل کیلئے دوڑ پڑنا۔ مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور سیدھی اور سچی بات کہا کرو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو سنوار دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانا اُس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی اور منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافر و مشرک مردوں اور کافر و مشرک عورتوں کو اللہ تعالیٰ عذاب دے گا اور مسلمانوں کی توبہ قبول فرمائے گا
(سورۃ الاحزاب مکمل)
سوره سبا
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور وہ جانتا ہے کہ زمین کے اندر کیا ہے؟ اور کیاز مین سے نکلتا ہے؟ اور بارش کب اور کیسے برسے گی؟ اور انسانوں کے اعمال لے کر فرشتے اوپر چڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی خبر رکھنے والا ہے۔ اور کافر کہتے ہیں: ہم پر قیامت نہیں آئے اور جو کچھ ہے اس دنیا میں ختم ہو جائے گا۔ ان سے کہو کہ قیامت تو ضرور آئے گی اور اُس دن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جو نیک عمل کئے ہوں گے بخشش اور عزت کا رزق عطا فرمائے گا اور کافروں کو دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا اور جن کو علم عطا ہوا ( یعنی یہودیوں اور عیسائیوں میں سے اسلام قبول کرنے والے صحابہ کرام مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ ) وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر حق نازل ہوا ہے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو اتنی میٹھی آواز عطا فرمائی تھی کہ جب آپ علیہ السلام توریت اور زبور کی تلاوت فرماتے تھے تو پہاڑ وجد میں آکر آپ علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے لگتے اور پرندے اڑنا بھول جاتے اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں ایسی تاثیر دی تھی کہ لوہا آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آکر پگھل جاتا اور آپ علیہ السلام اُس سے جنگ کے لئے زرہیں بناتے تھے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو عظیم الشان حکومت عطا فرمائی تھی اور ہوا اور جنوں کو آپ علیہ السلام کا محکوم بنا دیا تھا۔ ہوا آپ علیہ السلام کو لے کر کچھ گھنٹوں میں اتنی دور پہنچا دیتی تھی جتنی دور گھوڑے سے سفر کرنے میں ایک مہینہ لگتا ہے اور آپ علیہ السلام کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ اللہ تعالی نے بہا دیا تھا۔ جنات آپ علیہ السلام کے لئے بڑے بڑے محل اور بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔ پھر اللہ تعالی نے جب آپ علیہ السلام کو موت کا حکم بھیجا تو آپ علیہ السلام اپنے عصا کے سہارے کھڑے ہو گئے اور روح قبض کرلی گئی۔ جنات آپ علیہ السلام کو زندہ سمجھ کر کام کرتے رہے ۔ جب عصا کو دیمک نے کھایا تو آپ علیہ السلام کا جسم مبارک زمین پر گرا، جب جنات نے سمجھا کہ آپ علیہ السلام کو موت آگئی ہے اور تب وہ سمجھ گئے کہ غیب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اس کے بعد شہر سبا کا واقعہ بیان فرمایا اور رکوع کے آخر میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ دیکھنے کے لئے موقع دیا ہے کہ کون اللہ کا حکم مانتا ہے اور کون شیطان کا کہنا مانتا ہے؟
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: کافروں سے پوچھو کہ جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا معبود مانتے ہیں، کیا وہ ذرہ برابر بھی زمین و آسمان میں کسی چیز کے مالک ہیں اور کیا انھوں نے کائنات کی تخلیق میں اللہ تعالی کی کوئی مدد کی ہے؟ بالکل نہیں اور تو ذرہ برابر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اکیلے پوری کی تخلیق کی ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں جس کو اللہ اجازت دے اور اس کی گھبراہٹ دور فرما دے تو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی بیان کرے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کو خوش خبری دینے والا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کافر پوچھتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دو ! جب قیامت آئے گی تو تم لوگ نہ ایک سیکنڈ آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن پاک پر ایمان لائیں گے اور نہ ہی پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لائیں گے تو جب یہ کا فر دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو عوام اپنے سرداروں اور امیروں کو کہے گی کہ تم لوگوں نے ہمیں کفر اور شرک کا علم دیا تھا۔ اگر تم لوگ نہ ہوتے تو ہم شرک نہیں کرتے تو اُن کے سردار اور امیر کہیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں اسلام قبول کرنے سے روکا تھا۔ ہرگز نہیں ! بلکہ تم خود مجرم ہو۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھ کر دونوں قسم کے لوگ پچھتائیں گے ۔ اس کے بعد بتایا کہ جب بھی اللہ تعالیٰ نے کسی شہر میں اپنا نبی یا رسول بھیجا تو اس شہر کے سرداروں اور مالداروں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہتے تھے کہ ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں ۔ ہم پر عذاب نہیں آئے گا ۔ آپ ﷺ ان کافروں سے کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رزق ( مال اور اولاد ) بڑھاتا اور کم کرتا ہے۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں ہیں کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب پہنچا ئیں ۔ ہاں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اللہ اس کو دوہرا ثواب عطا فرمائے گا اور وہ جنت میں عیش و آرام سے رہے گا اور کافر لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہی جس کا چاہے رزق بڑھاتا ہے اور جس کا چاہے کم کرتا ہے۔ مسلمان جو چیز بھی اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کا بہترین اجر عطا فرمائے گا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا: کیا یہ کا فرتمہاری عبادت کرتے تھے تو فرشتے کہیں گے کہ اے اللہ ! تو پاک ہے اور تو ہی ہمارا دوست ہے اور یہ کافر بھی ہمارے دوست نہیں تھے۔ ہاں وہ جناتوں (یعنی شیطان اور اس کے خاندان ) کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا فروں سے کہا جائے گا کہ اب آگ کا مزہ چکھو اور کافر لوگ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں کہ تم ہمیں اُن معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو ۔ جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے اور کافروں کے پاس جب بھی حق آیا تو انھوں نے اُسے جادو کہا۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول الله ﷺ سے فرمایا ان کافروں سے کہو کہ میں تو اللہ تعالی کی طرف سے آئی نصیحت کو سناتا ہوں اور تم لوگ اکیلے میں غور و فکر کرو اورسوچو کہ تمہارے صاحب (یعنی رسول اللہ ﷺ) میں جنون کی کوئی بات نہیں اور آپ ﷺ تو صاف صاف اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا رہے ہیں اور جب کافر قیامت کے دن گھبراہٹ میں مبتلا کئے جائیں گے تو پھر بچ نہیں سکیں گے اور کہیں گے کہ ہم اللہ تعالی پر ایمان لائے لیکن ان کا اس وقت ایمان لانا کچھ کام نہیں آئے گا کیوں کہ دنیا میں کفر کر کے اللہ تعالیٰ کا انکار کر چکے ہیں اور کافر دھوکہ ڈالنے والے شک میں پڑے تھے۔ (
سورہ سبا مکمل
سورہ فاطر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بنایا، کسی کے دو دو پر بنائے کسی کے تین تین اور کسی کے چار چار پر بنائے اور کسی کو رسولوں تک پیغام پہنچانے کا کام دیا ، کسی کو روح قبض کرنے کا ۔ اس طرح اللہ تعالی نے فرشتوں کو کام پر لگا رکھا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ایسے لوگو! اللہ تعالیٰ کا وہ احسان یاد کرو جو اُس نے تم پر کیا ہے۔ کیا اللہ تعالٰی کے سوا کوئی اور ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے اور تمہیں رزق دیتا ہے؟ نہیں بالکل نہیں ! اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود اور خالق و مالک نہیں ہے تو پھر کیوں اندھیروں میں بھٹک رہے ہو؟ اے لوگو! دنیا کی زندگی ایک دھوکہ ہے۔ تم دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ نہ سمجھ لینا اور شیطان تمہارا دشمن ہے۔ تم بھی اُسے اپنا دشمن سمجھو اور اسے دوست نہ بناؤ ۔ وہ تو انسانوں کو دوزخ کی طرف بلاتا ہے اور کافروں کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اُن کے لئے جنت ہے۔
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالی ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہے پھر ان بادلوں کو مردہ (خشک) زمین کی طرف بھیج کر برساتا ہے تو زمین زندہ سرسبز و شاداب ) ہو جاتی ہے اور اُس میں سے گھاس ، پیڑ ، پودے اور اناج وغیرہ بہت سی چیزیں نکلتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح قیامت میں انسانوں کو اُٹھائے گا اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلے مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے بناتا ہے اور سب کے جوڑے بنائے اور ماں پیٹ میں کیا ہے؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ وہ کسی کو بڑی عمر دیتا ہے کسی کو چھوٹی ۔ یہ سب، پہلے سے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔ اللہ تعالی ہی نے دن اور رات بنائے اور سورج اور چاند کو ان کے مقررہ راستے پر لگا دیا اور ہرجگہ ان تعالی ہی کی بادشاہی ہے اور جن کو کافر پوجتے ہیں وہ دانہ کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں تمام انسانوں سے فرمایا: اے لوگو! تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تم سب سے بے نیاز ہے ۔ تم سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے اور اللہ تعالی کوکسی کی ضرورت نہیں ہے اور اللہ تعالی چاہے تو تمہیں ہٹا کر دوسروں کو لے آئے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے اور قیامت کے دن کوئی کسی کی مدد نہیں کرے گا، چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ۔ رسول اللہ ﷺ کا کام تو صاف صاف پیغام پہنچا دیتا ہے اور مؤمن اور کافر برابر نہیں ہو سکتے جس طرح اندھیرے اجالے اور سایہ اور دھوپ اور زندہ اور مردہ میں فرق ہے۔ ویسا ہی مؤمن اور کا فر میں فرق ہے اور آپ ﷺ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسولوں کو بھیجا، وہ اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے لیکن کافروں نے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے اور زمین میں سے رنگ برنگے پھول اور پھل نکالتا ہے اور پہاڑوں میں سفید، سرخ اور کالے راستے بنائے ۔ انسانوں اور جانوروں کو بھی رنگ برنگ بنایا۔ اس کے بعد مؤمنوں کا ذکر فر مایا کہ وہ قرآن پاک پڑھتے اور سمجھتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے دیتے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔ وہ جنت میں عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اُن کو سونے کے کنگن اور موتی اور ریشمی لباس پہنائے جائیں گے اور کافروں کو دوزخ کا عذاب ہوگا، نہ انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب ہلکا ہوگا۔
رکوع نمبر 17
(سورہ الفاطر مکمل)
سورہ یاسین
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 18
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قرآن پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ آپ ﷺ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور سیدھی راہ پر بھیجے گئے ہیں تا کہ ان لوگوں کواللہ تعالی کے عذاب سے ڈرائیں جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا ہے ۔ ان میں سے اکثر اسلام کو سمجھنے کے بعد بھی اسلام قبول نہیں کر رہے تو ان میں سے اکثر ایمان نہیں لائیں گے اور آپ ﷺ اُس پر توجہ دیں جو اسلام کو سمجھنا چاہتاہے اور اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کو بخشش اور عزت کے ثواب کی بشارت دے دو۔ بے شک اللہ تعالی مُردوں کو زندہ کرے گا اور جو اعمال انھوں نے کئے ہیں سب اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہیں ۔
(پارہ نمبر 22 مکمل)
بدھ، 29 مارچ، 2023
خلاصۃ القرآن پارہ 21 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 21
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ قرآن پاک کی تلاوت کریں ، اس کو سمجھیں اور اس پر غور کریں اور نماز قائم کریں ۔ نماز بے حیائی اور برائیوں سے روکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سب سے بڑی ( عبادت ) ہے اور اہل کتاب سے بہترین طریقہ سے بحث کرو۔ اس کے بعد بھی نہ مانیں تو انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اس کے بعد بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کے علاوہ دنیا میں کوئی استاد نہیں ہے۔ اگر آپ علیہ السلام قرآن پاک کے نازل ہونے سے پہلے لکھنا پڑھنا جانتے تو شک کی گنجائش ہو سکتی تھی کہ (نعوذ باللہ ) آپ ﷺ نے خود یہ قرآن پاک بنالیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ یہ قرآن پاک ایک معجزہ ہے کہ آپ ﷺ پڑھنا اور لکھنا نہ جاننے کے باوجود ایسی حکمت کی باتیں بتا رہے ہیں جن کا جواب پوری دنیا میں قیامت تک بڑے سے بڑا عالم نہیں دے سکے گا۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر عذاب کی مانگ کر رہے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کا دنیا میں ایک وقت متعین نہ کر دیا ہوتا تو یقینا ان پر عذاب آجاتا اور قیامت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب کافروں کو نیچے سے اوپر سے بلکہ چاروں طرف سے ڈھانپ لے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا: صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم اللہ تعالیٰ کے پاس واپس آؤ گے۔ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو جنت عطا فرمائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں عیش و آرام کے ساتھ رہیں گے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان کافروں سے پوچھو، کس نے آسمان اور زمین بنائے اور سورج اور چاند کو کام پر لگایا؟ جواب دیں گے اللہ تعالیٰ نے کیا۔ تو یہ کہاں بھٹکتے پھر رہے ہیں؟ ان سے پوچھو، کون بارش برساتا ہے کہ اس سے زمین سے رزق لکھتا ہے؟ تو جواب دیں گے اللہ تعالیٰ برساتا ہے۔ تو یہ عقل کا استعمال کیوں نہیں کرتے ؟
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ دنیا کی زندگی تو بہت مختصر ہے جو اسے یونہی کھیل کود میں گزار دے گا وہ بعد میں پچھتائے گا اور آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے ۔ کاش لوگ اس بات کو سمجھ پاتے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو خالص اللہ تعالی کو پکارتے ہیں اور جب اللہ تعالٰی اس مصیبت سے چھٹکارہ دلا دیتا ہے تو شرک کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایمان لانے والے مسلمان جو نیک عمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کا بھر پور صلہ عطا فرمائے گا۔
(سورہ عنکبوت مکمل)
سوره الروم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اکثر لوگ دنیاوی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور آخرت سے بے خبر ہیں ۔ لوگ غور کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ایک مقررہ مدت تک کے لئے بنایا ہے۔ یہ زمین پر چل پھر کر کیوں نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے کی کافرقوموں کو کس طرح ہلاک کیا اور اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ کافر خوداپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلے جس طرح بنایا دوسری مرتبہ بھی اسی طرح بنائے گا اور پھر سب کو اللہ تعالیٰ کے پاس واپس لوٹنا ہے اور قیامت کے دن مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی اور جن کو دنیا میں خدا مانتے ہیں اُن کا انکار کر دیں گے ۔ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے اور ہمیشہ عیش و آرام میں رہیں گے اور کافر آخرت کا انکار کرتے تھے تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو شام کو اور صبح کو اور دوپہر کو اور سہ پہر کو۔ اللہ ہی زندہ کو مردہ میں سے نکالتا ہے اور مُردے کو زندہ میں سے نکالتا ہے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نشانی یہ ہے کہ تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا اور تمام انسانوں کو دنیا میں پھیلایا اور تمہارے لئے جوڑے بنائے کہ ایک دوسرے سے آرام اور سکون پاؤ اور دونوں میں آپس میں محبت رکھی ۔ ان میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور اس کی نشانیوں میں زمین اور آسمان اور تمہاری الگ الگ زبان اور الگ الگ رنگ ہیں اور رات آرام کے لئے بنائی اور دن اللہ تعالیٰ کا فضل اور رزق تلاش کرنے کے لئے بنایا۔ ان میں سننے اور سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں بجلی ہے۔ جس سے ڈرتے ہو اور امید بھی رکھتے ہو اور بارش ہے کہ اُس سے مُردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں زمین اور آسمان کا قائم رہنا ہے۔ پھر ایک آواز پر سب (قبروں) سے نکل پڑو گے اور زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ ہے سب پر اسی کا حکم چلتا ہے اور اللہ تعالی کے لئے سب سے برتر شان ہے اور وہی عزت والا حکمت والا ہے۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سمجھایا کہ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو فطرت (اسلام) پر پیدا کیا ہے تو کفر کر کے اللہ تعالیٰ کی چیز کو نہ بدلو اور یہی سیدھا دین ہے اور مسلمانوں سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور شرک سے بہت دور رہنا اور جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور الگ الگ گروہ ہو گئے اور ہر کوئی اپنے عمل پر خوش ہے۔ اور رشتہ داروں کا حق دو اور مسکین اور مسافر کی مدد کرو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے خیرات دو ۔ اللہ تعالیٰ اسے بڑھا کر عطا فرمائے گا اور اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ مارے گا پھر زندہ کرے گا۔ کیا اور کوئی ایسا ہے جو یہ کر سکے؟
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کافروں سے کہو کہ زمین پر چل پھر کر دیکھیں کہ پہلے کے کافروں کا کیا انجام ہوا ۔ جو کفر کرے گا تو اُس کا وبال اُس پر پڑے گا اور مسلمان جو اچھے اعمال کر رہے ہیں وہ اپنے فائدے کے لئے کر رہے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ سے اچھا صلہ ملے اور اللہ تعالی ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو جمع کرتے ہیں۔ پھر نا اُمید انسانوں پر بارش برساتا ہے تو وہ خوشیاں مناتے ہیں اور اگر اللہ تعالی ایسی ہوا بھیجے جو اُن کی کھیتیاں تباہ کر دے تو اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگیں گے ۔ تو آپ ﷺ کی باتیں کافر نہیں سمجھتے ۔ کیوں کہ وہ مردہ دل ہیں۔ بہرے ہیں اور اندھے ہیں۔ آپ ﷺ کی باتیں تو صرف مسلمان سمجھتے ہیں۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالی نے اس رکوع میں انسان کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی انسان کو کمزور پیدا کرتا ہے کہ وہ والدین کا محتاج ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اُسے بڑا کرتا ہے، جوان اور طاقتور بناتا ہے۔ پھر کمزوری اور بڑھاپا دیتا ہے تو اللہ تعالی جو چاہے کر سکتا ہے اور علم والا اور قدرت والا ہے اور قیامت کے دن مجرم کہیں گے کہ ہم کچھ گھنٹے ہی دنیا میں رہے تو علم والے مسلمان کہیں گے کہ اللہ تعالی نے دنیا میں ہمارا ایک وقت مقر کر دیا تھا اور ہم اس مقررہ وقت تک دنیا میں رہے تو اُس دن کافر مجرم اور ظالم کتنی ہی معذرت کر لیں ، وہ کسی کام نہیں آئے گی ۔
(سورہ الروم مکمل )
سوره لقمان
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ قرآن پاک کی حکمت والی آیتیں ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں ، یہی لوگ کامیاب ہیں ۔ کچھ لوگ دنیا کی زندگی کو کھیل کود اور لذت کی زندگی سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین (اسلام) کو انہوں نے مذاق بنا لیا ہے۔ اُن کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے آسمان بنائے اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈالے تا کہ وہ تمہیں لے کر نہ کانپے اور تمہارے لئے زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلائے اور بارش برسائی اور زمین سے نفیس جوڑے اگائے ۔ یہ سب تو اللہ تعالی کا بنایا ہوا ہے تو اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ یہ بتاؤ انھوں نے کیا بنایا ہے؟ نہیں کچھ نہیں بنایا اور کافر کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی اُس کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے حضرت لقمان علیہ السلام کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ وہ خود اپنا فائدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے ۔ اس کے بعد حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے ! کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ بنانا۔ بے شک شرک سب سے بڑا ظلم ہے اور والدین کی ہر حال میں خدمت کرنا۔ اگر وہ شرک کرنے کو کہیں تو اُن کی بات نہ ماننا اور اسلام پر قائم رہنا۔ اس کے باوجود (اگر والدین مشرک ہیں تو ) بھی والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میرے بیٹے ! گناہ اگر رائی کے دانے کے برابر ہوگا اور پتھر کی چٹان کے اندر ہوگا یا کہیں بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اُسے سامنے لے آئے گا۔ میرے بیٹے ! نماز قائم رکھنا اور بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اور مصیبت پر صبر کرنا اور زمین پر اترا کر نہ چلنا اور اپنی آواز کو دھیمی رکھنا۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز بنائی ہے اور اپنی نعمتیں عطا فرمائیں۔ اب اس کے بعد کا فر کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے باپ دادا کی پیروی کریں گے ۔ چاہے شیطان انھیں دوزخ کی طرف ہی کیوں نہ لے جائے اور جس نے اسلام قبول کیا اور نیک عمل کئے تو وہ کامیاب ہوا اور اُس نے بہت مضبوط ساتھ پکڑا تو آپ ان کافروں کے کفر کا غم نہ کریں، اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی ہے۔ پھر انہیں بے بس کر کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ اگر زمین میں جتنے درخت ہیں سب کو قلم بنا لو اور تمام سمندروں کی سیاہی بنالو تب بھی اللہ تعالیٰ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کے لئے تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور قیامت میں دوبارہ زندہ کرنا ایسا ہے جیسے صرف ایک جاندار کو بنانا ۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ انسان جب کسی بہت بڑی مصیبت میں پھنستا ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی تو خلوص دل سے اللہ تعالی کو مدد کے لئے پکارتا ہے لیکن جب اللہ تعالٰی اس مصیبت کو دور کردیتا ہے تو کوئی اعتدال پر رہتا ہے اور کوئی کفر کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ قیامت کے دن سے ڈرو کہ اس دن نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے کام آئے گا۔ آگے فرمایا کہ قیامت کب آئے گی ؟ بارش کب برسے گی ؟ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے؟ کل انسان کیا کھائے گا ؟ اور کون کب کہاں مرے گا؟ ان تمام باتوں کاعلم اللہ تعالی کے سوا کسی کو نہیں ہے اور اللہ تعالی ہی جانے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔
( سورہ لقمان مکمل)
سورة السجده
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا : یہ کتاب (قرآن پاک ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام عالموں کے لئے آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے اور حق ہے۔ آپ ﷺ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں ، اس امید کے ساتھ کہ ہو سکتا ہے کہ لوگ ہدایت (اسلام ) قبول کر لیں۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے چھ دنوں میں بنایا اور عرش پر اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا اور اللہ تعالی پوری کائنات میں ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے۔ پھر تمام لوگ اُس کی طرف واپس جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کا ایک دن دنیا کی زندگی کے ایک ہزار برس کے برابر ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی بہت احسن بنائی۔ انسان کو شروع میں مٹی سے بنایا پھر اس کی نسل ایک پانی کے قطرے سے بڑھائی لیکن بہت کم لوگ حق کو تسلیم کرتے ہیں۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کافر اور مجرم لوگ سر جھکائے کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالٰی سے گذارش کریں گے کہ اے اللہ ! ہم نے حق کو دیکھ لیا اور پہچان لیا۔ اب ہمیں دنیا میں بھیج دے تاکہ نیک اعمال کر کے آئیں۔ اُن سے کہا جائے گا کہ تم اس دن کی حاضری کو بھولے بیٹھے تھے۔ اب ہمیشہ کے لئے عذاب کا مزہ لو اور ایمان والے( مسلمان ) کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو سجدے میں گر جاتے ہیں اور اپنے بستروں سے اٹھ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق میں سے خیرات کرتے ہیں تو اللہ تعالی نے اُن کی آنکھوں کے لئے ٹھنڈک اپنے پاس رکھی ہے اور وہ اللہ تعالی کے مہمان ہیں اور کافر اور مؤمن برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے کتاب عطا فرمائی تھی۔ جس میں بنی اسرائیل کے لئے ہدایت تھی اور اُن میں امام بنائے جولوگوں کو حق سمجھاتے تھے پھر بنی اسرائیل اختلاف میں پڑ گئے۔ اللہ تعالی قیامت کے دن اُن کے اختلاف کا فیصلہ فرما دے گا ۔ حقائق کو دیکھ کر لوگ اللہ تعالی کی نشانیوں پر غور کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالی خشک زمین پر بارش برساتا ہے پھر اُس زمین میں سے کھیتی نکالتا ہے تو اُس میں سے اُن کے مویشی اور وہ خود کھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں : فیصلہ (یعنی قیامت) کا دن کب آئے گا؟ ان سے کہہ دو؛ تمام کافر اور مجرم بہت بڑے خسارے میں ہوں گے ۔
(سورہ السجدہ مکمل )
سوره الاحزاب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منہ بولے بیٹے کے بارے میں احکامات دیئے کہ کسی کو زبان سے بیٹا کہہ دینے سے کوئی اس کا حقیقی بیٹا نہیں ہو جاتا بلکہ وہ اپنے حقیقی باپ کا ہی بیٹا رہے گا اور اس کی ولدیت کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو خود ان کی اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں اور رکوع کے آخر میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام سے حق کا پیغام پہنچانے کا عہد لیا اور مثال کے لئے پانچ بڑے رسولوں کا ذکر کیا اور یہ مقصد بیان فرمایا کہ ان انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کو قبول کر کے کس نے سچائی کو اختیار کیا اور جن لوگوں نے انکار کیا ہوگا ان کے لئے عذاب کی وعید بیان فرمائی۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں پر اپنے احسان کو یاد دلایا کہ سارا عرب غزوہ خندق ( غزوہ احزاب) مدینہ منورہ پر شکر لے کر حملہ آور ہوا تھا تو اللہ تعالی نے ان پر ایسی آندھی بھیجی کہ تمام عرب کے لشکروں کے پیرا کھڑ گئے اور محاصرے کے دوران منافق اور مؤمن کی پہچان بھی ہو گئی۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک منافقین کے دلوں میں چھپے ہوئے رازوں کو ظاہر فرمایا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھروں حفاظت کرنے کے بہانے سے جنگ سے بھاگنے کی اجازت مانگ رہے تھے اور منافق تو ایسے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور اللہ تعالیٰ سے پکا عہد کرنے کے بعد بھی کافروں کے آگے جھک جاتے ہیں اور کفر کرنے لگتے ہیں اور یہ منافق دوسروں کو بھی اللہ تعالی کے لئے لڑنے سے روکتے ہیں تو اللہ تعالی نے ان کے عمل ضائع کر دئیے۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالی نے اس رکوع میں غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) میں مسلمانوں کے ثابت قدم رہنے پر اُن کی تعریف کی اور بشارت دی کہ اس جنگ سے مسلمانوں کا ایمان اور مضبوط ہوا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے جو عہد کیا تھا اس عہد کو پورا کیا اوراللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں بہترین صلہ عطا فرمائے گا اور اللہ تعالی چاہے تو منافقوں کو عذاب دے یا انھیں توبہ کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو واپس بھیجا۔ وہ جلتے اور کڑھتے ہوئے واپس گئے اور انہوں نے کوئی بھلائی نہیں پائی ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور جن اہلِ کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں ) نے کافروں کی مدد کی تھی اُن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے تمہارا رعب پیدا کر دیا اور اُن کے قلعوں سے انہیں نکال دیا اور اُن کی زمین اور مال کو مسلمانوں کے لئے حلال کر دیا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
(پارہ نمبر 21 مکمل)
D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں
D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں
-
حضرت شیث علیہ السلام تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی حضرت شیث علیہ السلام کی پیدائش حضرت شیث علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بعد د...
-
حضرت لوط علیہ السلام مکمل سلسلہ نمبر 8 تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی قارئین کرام ،اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السل...
-
حضرت نوح علیہ السلام مکمل واقعہ تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی سلسلہ نمبر4 حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کا زمانہ قارئین کرام ، اس سے پہ...






