MS Urdu, Islamic Stories, Urdu Islamic Books, Quran Stories, Hadees Books, Urdu Islamic history Books, Seerat un Nabi Books, Urdu Islamic books, Urdu Ambiya Books
جمعرات، 30 مارچ، 2023
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 24 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 23 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 23
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں شہر والوں کا قصہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک شہر والوں کی طرف دو بندے بھیجے ۔ انھوں نے اسلام کی دعوت دی تو شہر والوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تیسرے بندے کو بھیجا تو ان تینوں سے شہر والوں نے کہا کہ تم ہماری طرح انسان ہو اور تمہیں رحمن (یعنی اللہ تعالی ) نے نہیں بھیجا ہے اور تم جھوٹے ہو۔ اُن تنیوں نے کہا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں اور ہمارے ذمہ تو صرف صاف صاف بات پہونچاتا ہے۔ شہر والوں نے کہا: ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اور اگر تم لوگ اسلام کی دعوت سے باز نہیں آؤ گے تو ہم تمہیں سنگسار کر ڈالیں گے تو ان تینوں نے کہا: تمہاری نحوست تمہارے ساتھ ہو۔ اتنا سمجھانے کے بعد بھی نہیں مان رہے ہو۔ تم لوگ تو حد سے بڑھ جانے والوں میں سے ہو ۔ اسی دوران ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا : اے میری قوم! ان تینوں کی بات مانو اور اسلام قبول کر لو۔ یہ تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتے اور سیدھے راستے پر ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کیوں نہ کروں جبکہ اُس نے مجھے پیدا کیا اور اُسی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے اور میں تمہارے خداؤں کی عبادت نہیں کروں گا کیوں کہ اگر رحمن ( اللہ تعالیٰ ) مجھے مصیبت میں ڈالنا چاہے تو تمہارے خدا مجھے نہیں بچا سکیں گے۔ میں تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ شہر والوں نے اُسے شہید کر دیا۔ اللہ تعالی نے اس کو حکم دیا کہ جنت میں داخل ہو جاؤ۔ یہ سن کر اُس نے کہا: کاش ! میری قوم جانتی کہ اسلام قبول کرنے پر اللہ تعالیٰ نے مجھے کیا عنایت فرمایا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شہر والوں پر صرف ایک چنگھاڑ بھیجی تو وہ سب ہلاک ہو گئے ۔ بندوں پر افسوس ہے کہ اُن کے پاس اللہ کے رسول آتے ہیں تو وہ اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ پھر جب اللہ تعالی کا حکم (یعنی قیامت ) آئے گا تو سب کے سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر کئے جائیں گے۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ مردہ زمین کو بارش برسا کر زندہ کرتا ہے اور انسانوں کے لئے اناجوں کی کھیتیاں اور پھلوں کے باغ لگاتا ہے۔ پھر کیوں یہ کا فرحق (اسلام ) قبول نہیں کرتے۔ ایک نشانی دن اور رات ہے کہ اللہ تعالی دن کو کھینچ لیتا ہے اور اُن پر اندھیری رات آجاتی ہے ۔ سورج اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے راستہ پر چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے چاند کی منزلیں مقرر کر دی ہیں۔ وہ اسے گھٹا کر کھجور کی شاخ کے جیسا بنا دیتا ہے، نہ سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ رات دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اللہ تعالی نے ان سب کو اُن کے مدار پر مقرر کر دیا ہے اور ہر ایک اپنے مدار پر چل رہا ہے۔ اس کے بعد سمندر اور کشتی کی مثال بتائی۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالی کے لئے خرچ کرو تو کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ ہم انھیں کھلا ئیں کہ جنہیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو کھلا دیتا۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو وہ وعدہ (قیامت) کب آئے گا؟ وہ تو اچانک آئے گا۔ جب وہ دنیا کے جھگڑوں میں الجھے ہوں گے۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالی نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا: جب صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ قبروں سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے کہیں گے: ہائے ہماری خرابی کس نے ہمیں سوتے سے جگا دیا ( پھر خود ہی کہیں گے ) یہ تو وہی (قیامت) ہے جس کا وعدو رحمن ( اللہ ) نے کیا تھا اور رسولوں نے سچی خبر دی تھی۔ پھر سب لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائیں گے۔ اُس دن کسی پر ظلم نہیں ہوگا اور ہر ایک کو اس کے عمل کا (اچھا یا برا ) بدلہ دیا جائے گا۔ ایمان والے، نیک مسلمان جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ عیش و آرام سے ہوں گے اور اللہ تعالی کی طرف سے اُن پر سلام ہو گا اور مجرموں سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کا کہنا ماننے سے تمہیں منع فرمایا تھا اور وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ کیا تم میں عقل نہیں تھی ۔ اب جہنم میں جاؤ اور اس دن اُن کے منہ بند کر دیئے جائیں گے اور اُن کے ہاتھ اور پیر اُن کے اعمال کی گواہی دیں گے۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے شاعری نہیں سکھائی ۔ نہ آپ ﷺ کی یہ شان ہے کہ آپ ﷺ شاعری کریں ۔ آپ ﷺ تو قرآن مبین کی روشن آیتیں تلاوت فرماتے ہیں تا کہ کافروں پر حجت قائم ہو جائے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جانوروں کا مالک بنایا تا کہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے ۔ اس کے بعد بھی انسان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا بلکہ اپنی جان پر ظلم کر کے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کو معبود بنا لیتا ہے۔ سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر کئے جائیں گے ۔ اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ ان کا فروں کے کفر کا غم نہ کریں ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پانی کی بوند سے پیدا فرمایا لیکن وہ اپنی پیدائش کو بھول گیا اور جھگڑنے لگا کہ مر کر مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ کیسے زندہ ہو گا؟ فرمایا کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی زندہ کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان بنائے اور جب وہ کسی چیز کو بناتا ہے تو فرماتا ہے بن جا تو وہ چیز بن جاتی ہے۔
(سورہ یاسین مکمل)
سورة الصافات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا معبود ہے اور اللہ تعالی ہی زمین اور آسمانوں اور مشرق اور مغرب کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین فرمایا ۔ جب سرکش شیاطین کان لگا کر سننے کے لئے آتے ہیں تو ہر طرف سے انہیں مار کر بھگایا جاتا ہے۔ ہاں ایک آدھ بار ( اتفاقا فرشتوں کی باتیں ) سن لیتے ہیں تب بھی انھیں ستارے پھینک کر مارا جاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ کافر اللہ تعالی کی نشانی دیکھتے ہیں تو مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مر کر بھی ہماری ہڈیاں مٹی ہو جائیں گی تو کیسے اللہ تعالی ہمیں اور ہمارے باپ دادا کو دوبارہ زندہ کرے گا تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ صرف ایک جھڑکی ہوگی اور سب اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہو جا ئیں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ! یہ ہے وہ فیصلہ کا دن جسے ہم جھٹلاتے تھے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ ظالموں ( کافروں ) کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اور اُن کے ساتھ وہ شیاطین بھی ہوں گے جن کے بہکانے پر کا فرشرک کرتے تھے۔ کا فر شیاطین سے کہیں گے کہ تم نے ہی ہمیں بہکایا تھا تو شیاطین کہیں گے: ہمارا تم پر کچھ اختیار نہیں تھا بلکہ تم خود ایمان نہیں رکھتے تھے۔ ہم خود بھی گمراہ تھے اور تمہیں بھی گمراہ کیا ۔ اس کے بعد مؤمنوں کے بارے میں بتایا کہ وہ جنت میں عیش و آرام سے بیٹھے ہوں گے اور اُن کی خاطر داری شراب سے کی جائے گی ۔ اس شراب سے انہیں نشہ نہیں ہوگا اور نہ وہ بہکیں گے اور خوب صورت بیویاں ساتھ میں ہوں گی اور جنتی اپنے جہنمی دوست کو دیکھنے کی فرمائش کرے گا تو اس کے دوست کو جہنم میں عذاب میں مبتلا دکھایا جائے گا۔ وہ اللہ تعالی کا شکر ادا کرے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ جہنمیوں کو کھانے کے لئے تھوہڑ دیا جائے گا اور پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی تو کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور اکثر نے انکار کیا اور کافر ہوئے ۔ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کو بچالیا اور کافروں کو غرق کر دیا۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالی کے مخلص بندے تھے ، سلام ہو حضرت نوح علیہ السلام پر۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے اُن کے بتوں کوتوڑ ڈالا۔ انھوں نے آپ علیہ السلام کو زندہ چلانے کی کوشش کی تو اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو بچالیا۔ پھر آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا فرمایا ۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ذبیحہ دے کر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا اور قربانی قبول کی ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام عطا فر مایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے مخلص بندے تھے ، سلام ہو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کو اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی اور روشن کتاب ( توریت ) عطا فرمائی اور اُن کی تعریف باقی رکھی۔ وہ دونوں کامل ایمان والے بندے تھے، سلام ہو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پر۔ اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بعل کی عبادت سے روکا اور اسلام کی دعوت دی ۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور آپ علیہ السلام کی جان کے دشمن بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ ضرور ان کی پکڑ کرے گا ۔ آپ علیہ السلام اللہ تعالی کے مخلص بندے تھے، سلام ہو حضرت الیاس علیہ السلام پر ۔ اس کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو برے اعمال سے روکا تو قوم آپ علیہ السلام کی دشمن بن گئی ۔ اللہ تعالی نے انھیں تباہ کر دیا۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے تھے ، سلام ہو حضرت لوط علیہ السلام پر ۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام کو مچھلی نے نگل لیا تو آپ علیہ السلام دن رات اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نجات دی اور انہیں اپنی قوم کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، اُن کی قوم نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد فر مایا کہ یہ کافر (نعوذ باللہ) اللہ تعالی کی بیٹیاں بناتے ہیں اور اپنے لئے بیٹے، یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ کافر فرشتوں کو عورتیں کہتے ہیں۔ کیا وہ اُس وقت حاضر تھے جب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تخلیق کر رہا تھا ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھتے ہیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک کافروں کے اعمال اور اُن پر عذاب کے بارے میں بتایا۔
(سورہ الصافات مکمل )
سورة ص
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر :10
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ ان کافروں کو اچنبھا ہوا کہ اُن میں سے آپ ﷺ اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرانے کے لئے آئے اور کافر بولے کہ رسول اللہ ﷺ بہت بڑے (نعوذ باللہ) جھوٹے جادوگر ہیں اور آپ ﷺ نے عجیب بات کہی کہ بہت سے خداؤں کا ایک خدا کر دیا۔ کافروں کے سردار بولے کہ آپ ﷺ کی بات نہ مانو اور اپنے خداؤں کی عبادت کرتے رہو۔ اس کے بعد فرمایا کہ پہلے بھی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم اور قوم عاد اور فرعون اور قوم ثہود اور بن والے ان تمام لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اللہ نے ان پر عذاب لازم کر دیا
رکوع نمبر 11
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ یہ کافر قیامت کی مانگ کرتے ہیں ، آپ ﷺ صبر کریں ۔ اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ بھی اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے تھے اور پرندے دم بخود رہ جاتے تھے۔ اس کے بعد دنیبوں والا مقدمہ تفصیل سے بیان فرمایا ۔ اس کے بعد فرمایا: اے داؤد ( علیہ السلام ) اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین پر نائب بنایا ہے۔ لوگوں میں حق کا حکم کرو۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ کافر یہ گمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے زمین اور آسمان بے مقصد ہی بنا دیئے، خرابی ہے کافروں کی اور آگ سے اُن کا استقبال کیا جائے گا۔ مسلمان جو نیک اعمال کرتے ہیں ۔ وہ، اور فساد پھیلا نے والے برابر نہیں ہو سکتے ۔ یہ برکت والی کتاب (قرآن پاک) اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف نازل فرمائی تاکہ عقل مند اس کی آیتوں پر غور کریں اور نصیحت حاصل کریں۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے دعا کی ، اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو نہ ملے ۔ اللہ تعالی نے ہوا کو آپ علیہ السلام کے قابو میں کر دیا اور دیو اور جنات کا حاکم بنا دیا۔ وہ آپ علیہ السلام کے لئے اونچے محل بناتے اور سمندر میں سے موتیاں نکال کر لاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا قریبی مقام اور اچھا ٹھکانہ ہے۔
رکوع نمبر :13
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ اشیطان نے مجھے تکلیف میں مبتلا کر دیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: زمین پر اپنا پاؤں مارو۔ اس کے نتیجہ میں چشمہ پھوٹ پڑاء اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے نہاؤ اور اسے پیو۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مال اور اولاد عطا فرما دیئے اور بے شک آپ علیہ السلام صبر کرنے والے تھے۔ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیہم السلام علم والے اور کھرے تھے۔ منتخب کئے ہوئے اور پسندیدہ بندے ہیں۔ حضرت اسماعیل اور حضرت ذوالکفل اور حضرت یسع علیہم السلام سب اللہ تعالی کے اچھے اور پسندیدہ بندے ہیں ۔ نیک ایمان والے جنت میں عیش و آرام میں ہوں گے اور اُن کی بیویاں اپنے شوہر کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھیں گی۔ وہ ہمیشہ بہترین رزق پائیں گے اور سرکش لوگ دوزخ میں ہوں گے ۔ آگ کے بستر پر ہوں گے اور وہ کھولتا پانی اور پیپ (مواد) کھا ئیں گے اور پیئیں گے۔ اُن کی بُری اور بدصورت بیویاں ہوں گی۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے فرشتوں سے فرمایا: میں مٹی سے ایک انسان بنانے والا ہوں۔ جب میں اُس میں روح پھونک دوں تو سب سجدے میں گر جانا۔ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس شیطان نے نہیں کیا۔ اللہ تعالی نے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے سجدے سے روکا۔ کیا تجھے غرور آ گیا ہے؟ ابلیس نے کہا۔ میں اس سے بہتر ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے دھتکار دیا۔ اُس نے قیامت تک کی مہلت مانگی تو اللہ تعالی نے اسے مہلت دے دی ۔ شیطان نے کہا: میں اسے اور اس کی اولاد کو بہکاؤں گا لیکن تیرے نیک بندوں پر میرا زدر نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو تیری بات مانے گا میں اُس سے اور تجھ سے جہنم کو بھر دوں گا۔
( سورہ ص مکمل )
سورہ زمر
رکوع نمبر 15
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ یہ کتاب (قرآن پاک ) عزت والے حکمت والے اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کی جانب حق کے ساتھ نازل ہوئی ۔ تم صرف اللہ تعالی عبادت کرو اور خالص بندگی تو اللہ تعالی ہی کے لئے ہے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالی کے علاوہ دوسرے ولی بنالئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم صرف اتنی بات کے لئے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ تعالی کے نزدیک کردیں گے تو بہت جلد ان کے بارے میں اللہ تعالی درست فیصلہ فرمادے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے تو حید و ربوبیت کی نشانیاں بتا ئیں اور فرمایا کہ حقیقی بادشاہت تو صرف اللہ تعالی کی ہے اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں ہے۔ اس کے بعد اگر تم ناشکری کرو ( دوسروں کی بندگی کرو ) تو بے شک اللہ تعالی تم لوگوں سے بے نیاز ہے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ کافر اور مسلمان برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: مسلمانوں سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کا تقوی اختیار کرو ۔ جو بھلائی کرے گا تو دنیا میں اس کا صلہ پائے گا اور ساتھ میں صبر بھی کرے گا تو صابروں کو اللہ تعالٰی بے حساب اور بھر پور ثواب عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ کافروں سے کہہ دو کہ میں تو اللہ تعالی کی ہی بندگی کرتا ہوں اور تمہیں جس کی عبادت کرنا ہو کرو۔ قیامت کے دن تم ہارے ہوئے لوگوں میں سے ہو گے ۔ آگ کے پہاڑ میں ڈالے جاؤ گے اور اوپر سے آگ کا پہاڑ ڈال دیا جائے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ جس نے اسلام قبول کیا اور بہتر طریقہ ( یعنی قرآن پاک ) پر عمل کیا تو اُسے در حقیقت اللہ تعالی نے ہدایت فرمائی اور وہی عقل والا ہے۔ رکوع کے آخر میں اپنی نشانی کہ اللہ تعالی بارش برساتا ہے اور زمین میں ندیاں (نہریں) بہاتا ہے پھر کھیتی اگاتا ہے پھر وہ کھیتی سوکھ جاتی ہے اور ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ اس میں عقل مندوں کے لئے نشانی ہے۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا اور وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہدایت کا نور پاتا ہے، اس کے برابر وہ نہیں ہو سکتا جس کے دل میں خرابی ہو ( اور وہ کفر پر اڑا ہو ) اور اُس کا دل اللہ تعالی کی یاد کی طرف سے سخت ہو گیا ہو۔ اللہ تعالی نے سب سے اچھی کتاب (قرآن پاک ) اتار دی ہے۔ اس کی آیتیں پڑھ کر اور سن کر مومنوں کے بدن کے بال کھڑے ہو جاتے ہیں پھر اُن کی کھالیں اور دل نرم پڑ جاتے ہیں اور وہ اللہ تعالی کی یاد کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ کافروں کو قیامت میں رسوائی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام کے کئی خراب قسم کے آقا ہیں اور ایک غلام کا صرف ایک رحمدل اور نیک آتا ہے ۔ کیا دونوں کا حال ایک جیسا ہو سکتا ہے؟ ( یہ مثال ہے مشرک کی، جس کے کئی کئی خدا ہوتے ہیں اور تو حید پرست کی جو صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود مانتا ہے ) بے شک ہر ایک کو مرنا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے۔
(پارہ نمبر 23 مکمل)
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 22 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پاره نمبر (22)
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اس رکوع کی تین آیتیں پارہ نمبر 21 میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں ازواج مطہرات ( آپ ﷺ کی پاک بیویوں ) کو کچھ احکامات دیئے ۔ ان میں سے کچھ احکامات ازواج مطہرات کے لئے مخصوص ہیں لیکن زیادہ تر احکامات ازواج مطہرات کے ساتھ ساتھ مسلمان عورتوں کے لئے بھی ہیں۔ مثلاً اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں اور بے پردہ نہ رہیں اور نا محرموں سے اس طرح نرمی سے بات نہ کریں کہ وہ کسی خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کا حکم مانیں۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں، ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتوں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتوں، سچے مرد اور سچی عورتوں ، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتوں ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتوں ، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتوں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والی عورتوں اور اللہ تعالیٰ کو ہر وقت یاد کرنے والے مرد اور اللہ تعالی کو ہر وقت یاد کرنے والی عورتوں کے لئے اللہ تعالی نے بخشش اور بہت بڑا اجر و ثواب تیار کر رکھا ہے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ اور رسول اللہ ﷺ اور اُم المؤمنین کا ذکر فر مایا اور بتایا کہ منہ بولا بیٹا صحیح معنوں میں بیٹا نہیں بن جاتا۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ اللہ تعالی کو کثرت سے یاد کرو ۔ صبح اور شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو اور اللہ تعالیٰ مؤمنوں پر خاص مہربان ہے کہ انھیں اندھیروں سے اُجالے کی طرف لاتا ہے اور مسلمانوں کی آپس میں ملتے وقت دعا سلام ہے ۔ اُن کے لئے عزت کا ثواب اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کو خوش خبری دو اور کافروں اور منافقین کی حرکات کا غم نہ کریں اور نظر انداز کردیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک نکاح کے احکامات دیئے۔ ان میں سے کچھ آپ ﷺ کے لئے مخصوص ہیں اور کچھ مسلمانوں کے لئے ہیں۔
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں پردے کے احکامات دیئے۔ اس کے بعد منافقوں کو پھٹکارا۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور ہو سکتا ہے کہ قیامت قریب ہی ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کی سزا کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔ دوزخ میں اُن کے منہ پلٹ پلٹ کر آگ پر بھونیں جائیں گے اور کافر کہیں گے کہ کاش ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانا ہوتا اور کہیں گے ۔ اے اللہ ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا حکم مانا اس لئے آج تو انہیں انھیں دوہرا عذاب دینا۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ تم اُن لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ستایا بلکہ رسول اللہ ﷺ کا بے حد ادب کرنا اور حکم کی تعمیل کیلئے دوڑ پڑنا۔ مسلمانو! اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور سیدھی اور سچی بات کہا کرو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو سنوار دے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانا اُس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کر لی اور منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافر و مشرک مردوں اور کافر و مشرک عورتوں کو اللہ تعالیٰ عذاب دے گا اور مسلمانوں کی توبہ قبول فرمائے گا
(سورۃ الاحزاب مکمل)
سوره سبا
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور وہ جانتا ہے کہ زمین کے اندر کیا ہے؟ اور کیاز مین سے نکلتا ہے؟ اور بارش کب اور کیسے برسے گی؟ اور انسانوں کے اعمال لے کر فرشتے اوپر چڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی خبر رکھنے والا ہے۔ اور کافر کہتے ہیں: ہم پر قیامت نہیں آئے اور جو کچھ ہے اس دنیا میں ختم ہو جائے گا۔ ان سے کہو کہ قیامت تو ضرور آئے گی اور اُس دن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جو نیک عمل کئے ہوں گے بخشش اور عزت کا رزق عطا فرمائے گا اور کافروں کو دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا اور جن کو علم عطا ہوا ( یعنی یہودیوں اور عیسائیوں میں سے اسلام قبول کرنے والے صحابہ کرام مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ ) وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر حق نازل ہوا ہے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت داؤد علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو اتنی میٹھی آواز عطا فرمائی تھی کہ جب آپ علیہ السلام توریت اور زبور کی تلاوت فرماتے تھے تو پہاڑ وجد میں آکر آپ علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنے لگتے اور پرندے اڑنا بھول جاتے اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں ایسی تاثیر دی تھی کہ لوہا آپ علیہ السلام کے ہاتھوں میں آکر پگھل جاتا اور آپ علیہ السلام اُس سے جنگ کے لئے زرہیں بناتے تھے۔ اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو عظیم الشان حکومت عطا فرمائی تھی اور ہوا اور جنوں کو آپ علیہ السلام کا محکوم بنا دیا تھا۔ ہوا آپ علیہ السلام کو لے کر کچھ گھنٹوں میں اتنی دور پہنچا دیتی تھی جتنی دور گھوڑے سے سفر کرنے میں ایک مہینہ لگتا ہے اور آپ علیہ السلام کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ اللہ تعالی نے بہا دیا تھا۔ جنات آپ علیہ السلام کے لئے بڑے بڑے محل اور بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔ پھر اللہ تعالی نے جب آپ علیہ السلام کو موت کا حکم بھیجا تو آپ علیہ السلام اپنے عصا کے سہارے کھڑے ہو گئے اور روح قبض کرلی گئی۔ جنات آپ علیہ السلام کو زندہ سمجھ کر کام کرتے رہے ۔ جب عصا کو دیمک نے کھایا تو آپ علیہ السلام کا جسم مبارک زمین پر گرا، جب جنات نے سمجھا کہ آپ علیہ السلام کو موت آگئی ہے اور تب وہ سمجھ گئے کہ غیب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہی ہے۔ اس کے بعد شہر سبا کا واقعہ بیان فرمایا اور رکوع کے آخر میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ دیکھنے کے لئے موقع دیا ہے کہ کون اللہ کا حکم مانتا ہے اور کون شیطان کا کہنا مانتا ہے؟
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: کافروں سے پوچھو کہ جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا معبود مانتے ہیں، کیا وہ ذرہ برابر بھی زمین و آسمان میں کسی چیز کے مالک ہیں اور کیا انھوں نے کائنات کی تخلیق میں اللہ تعالی کی کوئی مدد کی ہے؟ بالکل نہیں اور تو ذرہ برابر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اکیلے پوری کی تخلیق کی ۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں جس کو اللہ اجازت دے اور اس کی گھبراہٹ دور فرما دے تو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف اور بڑائی بیان کرے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کو خوش خبری دینے والا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور کافر پوچھتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ سچے ہیں تو بتاؤ کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دو ! جب قیامت آئے گی تو تم لوگ نہ ایک سیکنڈ آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ ہم نہ اس قرآن پاک پر ایمان لائیں گے اور نہ ہی پہلی آسمانی کتابوں پر ایمان لائیں گے تو جب یہ کا فر دوزخ میں ڈالے جائیں گے تو عوام اپنے سرداروں اور امیروں کو کہے گی کہ تم لوگوں نے ہمیں کفر اور شرک کا علم دیا تھا۔ اگر تم لوگ نہ ہوتے تو ہم شرک نہیں کرتے تو اُن کے سردار اور امیر کہیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں اسلام قبول کرنے سے روکا تھا۔ ہرگز نہیں ! بلکہ تم خود مجرم ہو۔ اللہ تعالیٰ کا عذاب دیکھ کر دونوں قسم کے لوگ پچھتائیں گے ۔ اس کے بعد بتایا کہ جب بھی اللہ تعالیٰ نے کسی شہر میں اپنا نبی یا رسول بھیجا تو اس شہر کے سرداروں اور مالداروں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہتے تھے کہ ہم مال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں ۔ ہم پر عذاب نہیں آئے گا ۔ آپ ﷺ ان کافروں سے کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رزق ( مال اور اولاد ) بڑھاتا اور کم کرتا ہے۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں ہیں کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے قریب پہنچا ئیں ۔ ہاں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو اللہ اس کو دوہرا ثواب عطا فرمائے گا اور وہ جنت میں عیش و آرام سے رہے گا اور کافر لوگ عذاب میں ڈالے جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہی جس کا چاہے رزق بڑھاتا ہے اور جس کا چاہے کم کرتا ہے۔ مسلمان جو چیز بھی اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کریں گے تو اللہ تعالیٰ اس کا بہترین اجر عطا فرمائے گا اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا: کیا یہ کا فرتمہاری عبادت کرتے تھے تو فرشتے کہیں گے کہ اے اللہ ! تو پاک ہے اور تو ہی ہمارا دوست ہے اور یہ کافر بھی ہمارے دوست نہیں تھے۔ ہاں وہ جناتوں (یعنی شیطان اور اس کے خاندان ) کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا فروں سے کہا جائے گا کہ اب آگ کا مزہ چکھو اور کافر لوگ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں کہ تم ہمیں اُن معبودوں کی عبادت سے روکنا چاہتے ہو ۔ جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے اور کافروں کے پاس جب بھی حق آیا تو انھوں نے اُسے جادو کہا۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول الله ﷺ سے فرمایا ان کافروں سے کہو کہ میں تو اللہ تعالی کی طرف سے آئی نصیحت کو سناتا ہوں اور تم لوگ اکیلے میں غور و فکر کرو اورسوچو کہ تمہارے صاحب (یعنی رسول اللہ ﷺ) میں جنون کی کوئی بات نہیں اور آپ ﷺ تو صاف صاف اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا رہے ہیں اور جب کافر قیامت کے دن گھبراہٹ میں مبتلا کئے جائیں گے تو پھر بچ نہیں سکیں گے اور کہیں گے کہ ہم اللہ تعالی پر ایمان لائے لیکن ان کا اس وقت ایمان لانا کچھ کام نہیں آئے گا کیوں کہ دنیا میں کفر کر کے اللہ تعالیٰ کا انکار کر چکے ہیں اور کافر دھوکہ ڈالنے والے شک میں پڑے تھے۔ (
سورہ سبا مکمل
سورہ فاطر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو بنایا، کسی کے دو دو پر بنائے کسی کے تین تین اور کسی کے چار چار پر بنائے اور کسی کو رسولوں تک پیغام پہنچانے کا کام دیا ، کسی کو روح قبض کرنے کا ۔ اس طرح اللہ تعالی نے فرشتوں کو کام پر لگا رکھا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ایسے لوگو! اللہ تعالیٰ کا وہ احسان یاد کرو جو اُس نے تم پر کیا ہے۔ کیا اللہ تعالٰی کے سوا کوئی اور ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے اور تمہیں رزق دیتا ہے؟ نہیں بالکل نہیں ! اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود اور خالق و مالک نہیں ہے تو پھر کیوں اندھیروں میں بھٹک رہے ہو؟ اے لوگو! دنیا کی زندگی ایک دھوکہ ہے۔ تم دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ نہ سمجھ لینا اور شیطان تمہارا دشمن ہے۔ تم بھی اُسے اپنا دشمن سمجھو اور اسے دوست نہ بناؤ ۔ وہ تو انسانوں کو دوزخ کی طرف بلاتا ہے اور کافروں کے لئے سخت عذاب ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اُن کے لئے جنت ہے۔
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالی ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو اٹھا کر لاتی ہے پھر ان بادلوں کو مردہ (خشک) زمین کی طرف بھیج کر برساتا ہے تو زمین زندہ سرسبز و شاداب ) ہو جاتی ہے اور اُس میں سے گھاس ، پیڑ ، پودے اور اناج وغیرہ بہت سی چیزیں نکلتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح قیامت میں انسانوں کو اُٹھائے گا اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلے مٹی سے بنایا پھر پانی کی بوند سے بناتا ہے اور سب کے جوڑے بنائے اور ماں پیٹ میں کیا ہے؟ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ وہ کسی کو بڑی عمر دیتا ہے کسی کو چھوٹی ۔ یہ سب، پہلے سے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ۔ اللہ تعالی ہی نے دن اور رات بنائے اور سورج اور چاند کو ان کے مقررہ راستے پر لگا دیا اور ہرجگہ ان تعالی ہی کی بادشاہی ہے اور جن کو کافر پوجتے ہیں وہ دانہ کے چھلکے کے بھی مالک نہیں ہیں۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں تمام انسانوں سے فرمایا: اے لوگو! تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ تم سب سے بے نیاز ہے ۔ تم سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے اور اللہ تعالی کوکسی کی ضرورت نہیں ہے اور اللہ تعالی چاہے تو تمہیں ہٹا کر دوسروں کو لے آئے اور یہ اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے اور قیامت کے دن کوئی کسی کی مدد نہیں کرے گا، چاہے وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ۔ رسول اللہ ﷺ کا کام تو صاف صاف پیغام پہنچا دیتا ہے اور مؤمن اور کافر برابر نہیں ہو سکتے جس طرح اندھیرے اجالے اور سایہ اور دھوپ اور زندہ اور مردہ میں فرق ہے۔ ویسا ہی مؤمن اور کا فر میں فرق ہے اور آپ ﷺ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بہت سے رسولوں کو بھیجا، وہ اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے تھے لیکن کافروں نے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پکڑ لیا۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے اور زمین میں سے رنگ برنگے پھول اور پھل نکالتا ہے اور پہاڑوں میں سفید، سرخ اور کالے راستے بنائے ۔ انسانوں اور جانوروں کو بھی رنگ برنگ بنایا۔ اس کے بعد مؤمنوں کا ذکر فر مایا کہ وہ قرآن پاک پڑھتے اور سمجھتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے دیتے ہوئے مال میں سے خرچ کرتے ہیں۔ وہ جنت میں عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اُن کو سونے کے کنگن اور موتی اور ریشمی لباس پہنائے جائیں گے اور کافروں کو دوزخ کا عذاب ہوگا، نہ انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب ہلکا ہوگا۔
رکوع نمبر 17
(سورہ الفاطر مکمل)
سورہ یاسین
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 18
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قرآن پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ آپ ﷺ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور سیدھی راہ پر بھیجے گئے ہیں تا کہ ان لوگوں کواللہ تعالی کے عذاب سے ڈرائیں جن کے باپ دادا کو نہیں ڈرایا گیا ہے ۔ ان میں سے اکثر اسلام کو سمجھنے کے بعد بھی اسلام قبول نہیں کر رہے تو ان میں سے اکثر ایمان نہیں لائیں گے اور آپ ﷺ اُس پر توجہ دیں جو اسلام کو سمجھنا چاہتاہے اور اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔ مسلمانوں کو بخشش اور عزت کے ثواب کی بشارت دے دو۔ بے شک اللہ تعالی مُردوں کو زندہ کرے گا اور جو اعمال انھوں نے کئے ہیں سب اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہیں ۔
(پارہ نمبر 22 مکمل)
بدھ، 29 مارچ، 2023
خلاصۃ القرآن پارہ 21 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 21
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ قرآن پاک کی تلاوت کریں ، اس کو سمجھیں اور اس پر غور کریں اور نماز قائم کریں ۔ نماز بے حیائی اور برائیوں سے روکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سب سے بڑی ( عبادت ) ہے اور اہل کتاب سے بہترین طریقہ سے بحث کرو۔ اس کے بعد بھی نہ مانیں تو انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو۔ اس کے بعد بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کا اللہ تعالیٰ کے علاوہ دنیا میں کوئی استاد نہیں ہے۔ اگر آپ علیہ السلام قرآن پاک کے نازل ہونے سے پہلے لکھنا پڑھنا جانتے تو شک کی گنجائش ہو سکتی تھی کہ (نعوذ باللہ ) آپ ﷺ نے خود یہ قرآن پاک بنالیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ یہ قرآن پاک ایک معجزہ ہے کہ آپ ﷺ پڑھنا اور لکھنا نہ جاننے کے باوجود ایسی حکمت کی باتیں بتا رہے ہیں جن کا جواب پوری دنیا میں قیامت تک بڑے سے بڑا عالم نہیں دے سکے گا۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر عذاب کی مانگ کر رہے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کا دنیا میں ایک وقت متعین نہ کر دیا ہوتا تو یقینا ان پر عذاب آجاتا اور قیامت میں اللہ تعالیٰ کا عذاب کافروں کو نیچے سے اوپر سے بلکہ چاروں طرف سے ڈھانپ لے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا: صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم اللہ تعالیٰ کے پاس واپس آؤ گے۔ اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو جنت عطا فرمائے گا اور وہ ہمیشہ اس میں عیش و آرام کے ساتھ رہیں گے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان کافروں سے پوچھو، کس نے آسمان اور زمین بنائے اور سورج اور چاند کو کام پر لگایا؟ جواب دیں گے اللہ تعالیٰ نے کیا۔ تو یہ کہاں بھٹکتے پھر رہے ہیں؟ ان سے پوچھو، کون بارش برساتا ہے کہ اس سے زمین سے رزق لکھتا ہے؟ تو جواب دیں گے اللہ تعالیٰ برساتا ہے۔ تو یہ عقل کا استعمال کیوں نہیں کرتے ؟
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ دنیا کی زندگی تو بہت مختصر ہے جو اسے یونہی کھیل کود میں گزار دے گا وہ بعد میں پچھتائے گا اور آخرت کی زندگی ہی اصل زندگی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے ۔ کاش لوگ اس بات کو سمجھ پاتے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو خالص اللہ تعالی کو پکارتے ہیں اور جب اللہ تعالٰی اس مصیبت سے چھٹکارہ دلا دیتا ہے تو شرک کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے اور ایمان لانے والے مسلمان جو نیک عمل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے نیک اعمال کا بھر پور صلہ عطا فرمائے گا۔
(سورہ عنکبوت مکمل)
سوره الروم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اکثر لوگ دنیاوی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں اور آخرت سے بے خبر ہیں ۔ لوگ غور کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ایک مقررہ مدت تک کے لئے بنایا ہے۔ یہ زمین پر چل پھر کر کیوں نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے کی کافرقوموں کو کس طرح ہلاک کیا اور اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ کافر خوداپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلے جس طرح بنایا دوسری مرتبہ بھی اسی طرح بنائے گا اور پھر سب کو اللہ تعالیٰ کے پاس واپس لوٹنا ہے اور قیامت کے دن مجرموں کی آس ٹوٹ جائے گی اور جن کو دنیا میں خدا مانتے ہیں اُن کا انکار کر دیں گے ۔ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوں گے اور ہمیشہ عیش و آرام میں رہیں گے اور کافر آخرت کا انکار کرتے تھے تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرو شام کو اور صبح کو اور دوپہر کو اور سہ پہر کو۔ اللہ ہی زندہ کو مردہ میں سے نکالتا ہے اور مُردے کو زندہ میں سے نکالتا ہے۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نشانی یہ ہے کہ تمہیں مٹی سے پیدا فرمایا اور تمام انسانوں کو دنیا میں پھیلایا اور تمہارے لئے جوڑے بنائے کہ ایک دوسرے سے آرام اور سکون پاؤ اور دونوں میں آپس میں محبت رکھی ۔ ان میں غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور اس کی نشانیوں میں زمین اور آسمان اور تمہاری الگ الگ زبان اور الگ الگ رنگ ہیں اور رات آرام کے لئے بنائی اور دن اللہ تعالیٰ کا فضل اور رزق تلاش کرنے کے لئے بنایا۔ ان میں سننے اور سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں بجلی ہے۔ جس سے ڈرتے ہو اور امید بھی رکھتے ہو اور بارش ہے کہ اُس سے مُردہ زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں زمین اور آسمان کا قائم رہنا ہے۔ پھر ایک آواز پر سب (قبروں) سے نکل پڑو گے اور زمین اور آسمان کے درمیان جو کچھ ہے سب پر اسی کا حکم چلتا ہے اور اللہ تعالی کے لئے سب سے برتر شان ہے اور وہی عزت والا حکمت والا ہے۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سمجھایا کہ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو فطرت (اسلام) پر پیدا کیا ہے تو کفر کر کے اللہ تعالیٰ کی چیز کو نہ بدلو اور یہی سیدھا دین ہے اور مسلمانوں سے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور نماز قائم رکھو اور شرک سے بہت دور رہنا اور جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور الگ الگ گروہ ہو گئے اور ہر کوئی اپنے عمل پر خوش ہے۔ اور رشتہ داروں کا حق دو اور مسکین اور مسافر کی مدد کرو اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے خیرات دو ۔ اللہ تعالیٰ اسے بڑھا کر عطا فرمائے گا اور اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ مارے گا پھر زندہ کرے گا۔ کیا اور کوئی ایسا ہے جو یہ کر سکے؟
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کافروں سے کہو کہ زمین پر چل پھر کر دیکھیں کہ پہلے کے کافروں کا کیا انجام ہوا ۔ جو کفر کرے گا تو اُس کا وبال اُس پر پڑے گا اور مسلمان جو اچھے اعمال کر رہے ہیں وہ اپنے فائدے کے لئے کر رہے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ سے اچھا صلہ ملے اور اللہ تعالی ہوائیں بھیجتا ہے جو بادلوں کو جمع کرتے ہیں۔ پھر نا اُمید انسانوں پر بارش برساتا ہے تو وہ خوشیاں مناتے ہیں اور اگر اللہ تعالی ایسی ہوا بھیجے جو اُن کی کھیتیاں تباہ کر دے تو اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگیں گے ۔ تو آپ ﷺ کی باتیں کافر نہیں سمجھتے ۔ کیوں کہ وہ مردہ دل ہیں۔ بہرے ہیں اور اندھے ہیں۔ آپ ﷺ کی باتیں تو صرف مسلمان سمجھتے ہیں۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالی نے اس رکوع میں انسان کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی انسان کو کمزور پیدا کرتا ہے کہ وہ والدین کا محتاج ہوتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اُسے بڑا کرتا ہے، جوان اور طاقتور بناتا ہے۔ پھر کمزوری اور بڑھاپا دیتا ہے تو اللہ تعالی جو چاہے کر سکتا ہے اور علم والا اور قدرت والا ہے اور قیامت کے دن مجرم کہیں گے کہ ہم کچھ گھنٹے ہی دنیا میں رہے تو علم والے مسلمان کہیں گے کہ اللہ تعالی نے دنیا میں ہمارا ایک وقت مقر کر دیا تھا اور ہم اس مقررہ وقت تک دنیا میں رہے تو اُس دن کافر مجرم اور ظالم کتنی ہی معذرت کر لیں ، وہ کسی کام نہیں آئے گی ۔
(سورہ الروم مکمل )
سوره لقمان
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ قرآن پاک کی حکمت والی آیتیں ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں ، یہی لوگ کامیاب ہیں ۔ کچھ لوگ دنیا کی زندگی کو کھیل کود اور لذت کی زندگی سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین (اسلام) کو انہوں نے مذاق بنا لیا ہے۔ اُن کے لئے ذلت کا عذاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر ستونوں کے آسمان بنائے اور زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈالے تا کہ وہ تمہیں لے کر نہ کانپے اور تمہارے لئے زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلائے اور بارش برسائی اور زمین سے نفیس جوڑے اگائے ۔ یہ سب تو اللہ تعالی کا بنایا ہوا ہے تو اے کافرو! جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ یہ بتاؤ انھوں نے کیا بنایا ہے؟ نہیں کچھ نہیں بنایا اور کافر کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی اُس کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے حضرت لقمان علیہ السلام کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور جو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے۔ وہ خود اپنا فائدہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو کسی کی ضرورت نہیں ہے اور سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے ۔ اس کے بعد حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: اے بیٹے ! کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ بنانا۔ بے شک شرک سب سے بڑا ظلم ہے اور والدین کی ہر حال میں خدمت کرنا۔ اگر وہ شرک کرنے کو کہیں تو اُن کی بات نہ ماننا اور اسلام پر قائم رہنا۔ اس کے باوجود (اگر والدین مشرک ہیں تو ) بھی والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ میرے بیٹے ! گناہ اگر رائی کے دانے کے برابر ہوگا اور پتھر کی چٹان کے اندر ہوگا یا کہیں بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اُسے سامنے لے آئے گا۔ میرے بیٹے ! نماز قائم رکھنا اور بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا اور مصیبت پر صبر کرنا اور زمین پر اترا کر نہ چلنا اور اپنی آواز کو دھیمی رکھنا۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز بنائی ہے اور اپنی نعمتیں عطا فرمائیں۔ اب اس کے بعد کا فر کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے باپ دادا کی پیروی کریں گے ۔ چاہے شیطان انھیں دوزخ کی طرف ہی کیوں نہ لے جائے اور جس نے اسلام قبول کیا اور نیک عمل کئے تو وہ کامیاب ہوا اور اُس نے بہت مضبوط ساتھ پکڑا تو آپ ان کافروں کے کفر کا غم نہ کریں، اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی ہے۔ پھر انہیں بے بس کر کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ اگر زمین میں جتنے درخت ہیں سب کو قلم بنا لو اور تمام سمندروں کی سیاہی بنالو تب بھی اللہ تعالیٰ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کے لئے تمام لوگوں کا پیدا کرنا اور قیامت میں دوبارہ زندہ کرنا ایسا ہے جیسے صرف ایک جاندار کو بنانا ۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ انسان جب کسی بہت بڑی مصیبت میں پھنستا ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہوتی تو خلوص دل سے اللہ تعالی کو مدد کے لئے پکارتا ہے لیکن جب اللہ تعالٰی اس مصیبت کو دور کردیتا ہے تو کوئی اعتدال پر رہتا ہے اور کوئی کفر کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ قیامت کے دن سے ڈرو کہ اس دن نہ باپ بیٹے کے کام آئے گا اور نہ بیٹا باپ کے کام آئے گا۔ آگے فرمایا کہ قیامت کب آئے گی ؟ بارش کب برسے گی ؟ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے؟ کل انسان کیا کھائے گا ؟ اور کون کب کہاں مرے گا؟ ان تمام باتوں کاعلم اللہ تعالی کے سوا کسی کو نہیں ہے اور اللہ تعالی ہی جانے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔
( سورہ لقمان مکمل)
سورة السجده
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا : یہ کتاب (قرآن پاک ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام عالموں کے لئے آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے اور حق ہے۔ آپ ﷺ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں ، اس امید کے ساتھ کہ ہو سکتا ہے کہ لوگ ہدایت (اسلام ) قبول کر لیں۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان اور جو کچھ اُن کے درمیان ہے چھ دنوں میں بنایا اور عرش پر اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا اور اللہ تعالی پوری کائنات میں ہر کام کی تدبیر فرماتا ہے۔ پھر تمام لوگ اُس کی طرف واپس جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کا ایک دن دنیا کی زندگی کے ایک ہزار برس کے برابر ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی بہت احسن بنائی۔ انسان کو شروع میں مٹی سے بنایا پھر اس کی نسل ایک پانی کے قطرے سے بڑھائی لیکن بہت کم لوگ حق کو تسلیم کرتے ہیں۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کافر اور مجرم لوگ سر جھکائے کھڑے ہوں گے اور اللہ تعالٰی سے گذارش کریں گے کہ اے اللہ ! ہم نے حق کو دیکھ لیا اور پہچان لیا۔ اب ہمیں دنیا میں بھیج دے تاکہ نیک اعمال کر کے آئیں۔ اُن سے کہا جائے گا کہ تم اس دن کی حاضری کو بھولے بیٹھے تھے۔ اب ہمیشہ کے لئے عذاب کا مزہ لو اور ایمان والے( مسلمان ) کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو سجدے میں گر جاتے ہیں اور اپنے بستروں سے اٹھ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے دیئے ہوئے رزق میں سے خیرات کرتے ہیں تو اللہ تعالی نے اُن کی آنکھوں کے لئے ٹھنڈک اپنے پاس رکھی ہے اور وہ اللہ تعالی کے مہمان ہیں اور کافر اور مؤمن برابر نہیں ہو سکتے۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے کتاب عطا فرمائی تھی۔ جس میں بنی اسرائیل کے لئے ہدایت تھی اور اُن میں امام بنائے جولوگوں کو حق سمجھاتے تھے پھر بنی اسرائیل اختلاف میں پڑ گئے۔ اللہ تعالی قیامت کے دن اُن کے اختلاف کا فیصلہ فرما دے گا ۔ حقائق کو دیکھ کر لوگ اللہ تعالی کی نشانیوں پر غور کیوں نہیں کرتے کہ اللہ تعالی خشک زمین پر بارش برساتا ہے پھر اُس زمین میں سے کھیتی نکالتا ہے تو اُس میں سے اُن کے مویشی اور وہ خود کھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں : فیصلہ (یعنی قیامت) کا دن کب آئے گا؟ ان سے کہہ دو؛ تمام کافر اور مجرم بہت بڑے خسارے میں ہوں گے ۔
(سورہ السجدہ مکمل )
سوره الاحزاب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منہ بولے بیٹے کے بارے میں احکامات دیئے کہ کسی کو زبان سے بیٹا کہہ دینے سے کوئی اس کا حقیقی بیٹا نہیں ہو جاتا بلکہ وہ اپنے حقیقی باپ کا ہی بیٹا رہے گا اور اس کی ولدیت کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کو خود ان کی اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں اور رکوع کے آخر میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام سے حق کا پیغام پہنچانے کا عہد لیا اور مثال کے لئے پانچ بڑے رسولوں کا ذکر کیا اور یہ مقصد بیان فرمایا کہ ان انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کو قبول کر کے کس نے سچائی کو اختیار کیا اور جن لوگوں نے انکار کیا ہوگا ان کے لئے عذاب کی وعید بیان فرمائی۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں پر اپنے احسان کو یاد دلایا کہ سارا عرب غزوہ خندق ( غزوہ احزاب) مدینہ منورہ پر شکر لے کر حملہ آور ہوا تھا تو اللہ تعالی نے ان پر ایسی آندھی بھیجی کہ تمام عرب کے لشکروں کے پیرا کھڑ گئے اور محاصرے کے دوران منافق اور مؤمن کی پہچان بھی ہو گئی۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک منافقین کے دلوں میں چھپے ہوئے رازوں کو ظاہر فرمایا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھروں حفاظت کرنے کے بہانے سے جنگ سے بھاگنے کی اجازت مانگ رہے تھے اور منافق تو ایسے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور اللہ تعالیٰ سے پکا عہد کرنے کے بعد بھی کافروں کے آگے جھک جاتے ہیں اور کفر کرنے لگتے ہیں اور یہ منافق دوسروں کو بھی اللہ تعالی کے لئے لڑنے سے روکتے ہیں تو اللہ تعالی نے ان کے عمل ضائع کر دئیے۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالی نے اس رکوع میں غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) میں مسلمانوں کے ثابت قدم رہنے پر اُن کی تعریف کی اور بشارت دی کہ اس جنگ سے مسلمانوں کا ایمان اور مضبوط ہوا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے جو عہد کیا تھا اس عہد کو پورا کیا اوراللہ تعالی کی رضا پر راضی رہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں بہترین صلہ عطا فرمائے گا اور اللہ تعالی چاہے تو منافقوں کو عذاب دے یا انھیں توبہ کی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو واپس بھیجا۔ وہ جلتے اور کڑھتے ہوئے واپس گئے اور انہوں نے کوئی بھلائی نہیں پائی ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کی اور جن اہلِ کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں ) نے کافروں کی مدد کی تھی اُن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے تمہارا رعب پیدا کر دیا اور اُن کے قلعوں سے انہیں نکال دیا اور اُن کی زمین اور مال کو مسلمانوں کے لئے حلال کر دیا اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
(پارہ نمبر 21 مکمل)
خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 20
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی ربوبیت کی نشانیاں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین بنائے اور بارش برسائی اور باغ اُگائے۔ کیا تمہاری طاقت ہے کہ ایک درخت یا پیڑ یا پودا اگا سکو؟ اور اللہ تعالیٰ نے رہنے کے لئے زمین بنائی اور اُس میں دریا اور ندیاں اور سمندر بنائے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کی ابتدا ء فرمائی تو وہ تمہیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور اللہ تعالی آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے۔ اب کا فر بتا ئیں کہ جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، کیا وہ یہ سب کر سکتے ہیں؟ بالکل نہیں کر سکتے تو پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیوں کرتے ہیں؟
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا کہ یہ کافر کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے تو پھر کیسے زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔ آپ ﷺ ہمیں کہانیاں سنارہے ہیں۔ تو آپ ﷺ ان کا فروں سے کہئے کہ زمین پر چل پھر کر دیکھو اور غور کرو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا؟ اور آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ ان سے کہو ! وہ بہت قریب آچکی ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ وہ آپس میں اختلاف میں مبتلا ہو گئے۔ اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو اُن کے سارے اختلاف ختم ہو جائیں گے لیکن ان اہل کتاب اور کافروں کے دل مردہ ہیں، نہ وہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالی اگلے اور پچھلے تمام کافروں کو جمع کرے گا اور پوچھے گا کہ تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکیں گے اور جب صور پھونکا جائے گا تو پہاڑ ہوا میں اڑیں گے اور تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں گے۔ جو ایمان والے نیک اعمال لے کر آئیں گے وہ گھبراہٹ سے امان پائیں گے اور کافر اور مجرم برائیاں لے کر آئیں گے تو وہ اوندھے منہ دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔ آپ ﷺ ان سے کہہ دیں کہ مجھے تو حکم ہوا ہے کہ میں ایک اللہ تعالی کی عبادت کروں اور قرآن پاک کی تلاوت کروں اور میں صاف صاف ڈر سنانے والا ہوں ۔
(سورہ النمل مکمل )
سوره القصص
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 4
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا اور لڑکوں کو قتل کر دیتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام فرمایا کہ جب تمہیں اندیشہ ہو تو بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دینا ۔ آپ علیہ السلام کو فرعون کی گھر والی نے اٹھا لیا۔ آپ علیہ السلام نے کسی دائی کا دودھ نہیں پیا تو آپ علیہ السلام کی والدہ کو بلایا گیا۔ آپ علیہ السلام نے اپنی والدہ کا دودھ پیا۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر جاری رکھا کہ آپ علیہ السلام جوان ہوئے تو معلوم ہوا کہ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل سے ہیں ۔ ایک دن آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کو ایک مصری سے لڑتے دیکھا۔ بنی اسرائیل کے شخص نے آپ علیہ السلام کو مدد کے لئے بلایا۔ آپ علیہ السلام نے مصری کو ایک گھونسہ مارا تو وہ مر گیا۔ یہ دیکھ کر بنی اسرائیل کا شخص بھاگ گیا۔ دوسرے دن پھر وہ شخص ایک مصری سے لڑ رہا تھا۔ اس نے پھر آپ علیہ السلام کو مدد کے لئے بلایا تو آپ علیہ السلام نے اسے ڈانٹا۔ اس شخص نے کہا کہ کل آپ علیہ السلام نے جس طرح اس مصری کو قتل کیا تو کیا آج مجھے قتل کرنے والے ہیں؟ اس طرح خبر فرعون تک پہنچ گئی۔ اُس نے اپنے سپاہی آپ علیہ السلام کی گرفتاری کے لئے بھیجے ۔ آپ علیہ السلام نے مصر چھوڑ دیا۔
رکوع نمبر 6:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سلسلہ کلام کو آگے بڑھایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے باہر آنے کے بعد اللہ تعالی کے علم سے مدین کی طرف چلے۔ مدین کے قریب ایک کنویں پر پہنچے تو دیکھا کہ دو لڑکیاں اپنی بکریوں کو لئے کر ایک طرف کھڑی ہیں۔ آپ علیہ السلام نے پوچھا تم بکریوں کو پانی کیوں نہیں پلاتیں ؟ تو انھوں نے کہا: جب سب چلے جائیں گے تب ہم پانی پلائیں گے ۔ آپ علیہ السلام نے اُن کی بکریوں کو پانی پلا دیا اور وہ دونوں چلی گئیں اور آپ علیہ السلام و ہیں آرام کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد ایک لڑکی آئی اور کہا: میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں ۔ آپ علیہ السلام لڑکی کے گھر پہنچے تو حضرت شعیب علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے فرمایا: میں اپنی ایک بیٹی کا نکاح آپ سے کر دیتا ہوں اور مہر کے طور پر آپ علیہ السلام آٹھ برس میری بکریاں چرائیں۔ اگر دس برس کر دیں تو آپ علیہ السلام کی مہربانی ہوگی۔ اس طرح دونوں میں اقرار ہو گیا۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی سلسلہ کلام جاری رکھا اور بتایا کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مہر کی مقررہ مدت پوری کر لی تو اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر مصر کی طرف چلے۔ راستے میں رات میں کوہ طور کے دامن میں قیام کیا تو کوہ طور پر ایک آگ دیکھی ۔ آگ لینے کے لئے وہاں پہنچے تو آواز آئی۔ اے موسیٰ! میں تمہارا اور سارے جہان کا رب اللہ تعالیٰ ہوں، اپنا عصا زمین پر ڈال دو۔ وہ اژدھا بن گیا۔ پھر فرمایا: اسے پکڑلو۔ اسے پکڑ لیا تو واپس عصا بن گیا۔ پھر حکم دیا: اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالو تو وہ نور کی طرح چمکنے لگا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اب جاؤ اور اپنے بھائی ہارون کے ساتھ مل کر فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دو ۔ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی اور معجزے بتائے تو اُس نے کہا یہ جادو ہے اور میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اے ہامان ! میرے لئے گارا پکا اور اونچا محل بنا تا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو دیکھوں ، فرعون اور اس کے ساتھیوں نے بہت بڑا ظلم کیا اور اللہ تعالیٰ نے سب کو غرق کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں جہنمیوں کا امام بنایا۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بنی اسرائیل نے توریت میں ملاوٹ کر دی اور ایک طرح سے اصل توریت کا انکار کر دیا اور اب قرآن پاک کا انکار کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو جادو ہے اور ہم ان دونوں کے منکر ہیں ۔ پھر اللہ تعالی نے آپ ﷺ سے فرمایا: ان سے کہو کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ایسی کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں کتابوں ( توریت اور قرآن پاک) سے بہتر ہو، یہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور وہ بڑا گمراہ ہے جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں ) میں سے جنھوں نے اسلام قبول کیا اور صحابیت کا درجہ پایا، ان کو بشارت دی اور اس کے بعد فرمایا: آپ ﷺ جسے پسند کریں اسے ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کسے ہدایت دینا ہے اور کیسے گمراہ رہنے دینا ہے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالٰی جب تک کسی بستی میں نبی یا رسول نہیں بھیج دیتا تب تک اس بستی کو ہلاک نہیں کرتا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے میں ڈالنے والی ہے اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ دنیا سے ہزاروں گنا بہتر ہے تو تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے۔
رکوع نمبر :10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کا فرجن کی عبادت کرتے تھے وہ ان کافروں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور کہیں گے: ہم خود گمراہ تھے اور جب کا فر انھیں پکاریں گے تو وہ کوئی جواب نہیں دیں گے اور جب ان سے پوچھا جائے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا دنیا میں؟ تو وہ کوئی جواب نہیں دے سکیں گے ۔ اس کے بعد فرمایا کہ اگر اللہ تعالی ہمیشہ تم پر رات رکھے تو کون ہے جو تمھیں دن کی روشنی دے سکے ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیشہ دن رکھے تو کون ہے جو تمھیں رات دے سکے؟ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت تم پر کی اور تمھارے لئے دن اور رات بنائے تا کہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اللہ تعالی کا فضل اور رزق تلاش کر سکو۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ایک بے انتہا امیرشخص قارون تھا۔ اس نے اپنی دولت پر گھمنڈ کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتا تھا۔ اس کی قوم کے لوگوں نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ گھمنڈ اور تکبر پر اڑا رہا ۔ اس کا عیش و آرام دیکھ کر دنیا پرست لوگوں نے رشک کیا لیکن توریت کا علم رکھنے والوں نے کہا کہ آخرت، دنیا کی زندگی سے ہزاروں گنا بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گھمنڈ اور تکبر کی یہ سزادی کہ اسے زمین میں اور اسکے گھر اور خزانوں کے ساتھ دھنسا دیا تو لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہی جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے روزی تنگ کر دیتا ہے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ گھمنڈی اور متکبر لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور آخرت کی کامیابی انہی کے لئے ہے جو گھمنڈ اور تکبر نہیں کرتے اور نہ فساد ( برائیاں) پھیلاتے ہیں تو آخرت میں جو جتنے نیک اعمال لے کر آئے گا، اتنا اسے اجر ملے گا اور جو جتنی برائی لے کر آئے گا اسے اتنی ہی سزاملے گی۔
(سورہ القصص مکمل )
سوره العنكبوت
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ کیا لوگ اس گمان میں ہیں کہ صرف زبان سے کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے تو ایمان والے تسلیم کر لئے جائیں گے؟ ہر گز نہیں! اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ایمان کو جانچے گا جیسے پہلے کے لوگوں کو آزمایا اور جواللہ تعالیٰ کے لئے لڑتا ہے تو اس کا فائدہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تو ہر قسم کے فائدے اور نقصان سے بے نیاز ہے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تاکید کی کہ ہر حال میں والدین کی بات مانو اور ان کی خدمت کرو۔ ہاں جب وہ شرک کرنے کو کہیں تو ان کی بات نہ مانو ۔ اس کے بعد منافقین کے بارے میں بتایا۔ رکوع کے آخر میں بتایا کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ دونوں حضرات نے اسلام کی دعوت اپنی قوم کو دی اور انھیں جھٹلا دیا گیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ رسول کے ذمہ تو صاف پیغام پہنچا دینا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بنایا پھر اس کو اس کے عروج تک پہنچایا اور اللہ تعالی کے لئے یہ آسان ہے کہ وہ دوبارہ بنائے اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے رحم فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب دیتا ہے اور کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے قابو سے نہیں نکل سکتا
رکوع نمبر 15
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا جب آپ علیہ السلام کے دلائل کا جواب ان سے نہ بن پڑا تو بولے کہ ابراھیم (علیہ السلام) کو جلا دو اور اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو آگ سے بچا لیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہو ۔ آخرت میں یہ تمھارے کام نہیں آئیں گے اور تم سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور میں اپنے رب (اللہ تعالی ) کے حکم سے ہجرت کر رہا ہوں تو حضرت لوط علیہ السلام نے صرف اسلام قبول کیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے اور آپ علیہ السلام کی اولاد بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل میں نبوت اور کتاب رکھی اور حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو سمجھایا لیکن قوم نہیں مانی اور کہا کہ اگرتم سچے ہو تو ہم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب لے آؤ۔
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جب فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جارہے تھے تو راستے میں حضرت ابراہیم علیہ کے گھر کے پاس رک کر آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت دی۔ اس کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان لڑکوں کی شکل میں پہنچے اور حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی بیٹیوں کو بچالیا اور پوری قوم کو بلاک کر ڈالا۔ اس میں عقل والوں کے لئے نشانی ہے اور مدین والوں کو حضرت شعیب علیہ السلام نے اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا تو اللہ تعالی نے انھیں تباہ کر دیا اور عاد اور ثمود کا بھی یہی حال ہوا اور شیطان نے ان کے برے اعمال کو بھلا بنا کر پیش کیا تھا اور قارون اور ہامان اور فرعون کا بھی یہی حال ہوا۔ جب کہ حضرت موسی علیہ السلام ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے تھے تو انھوں نے گھمنڈ اور تکبر کیا تو اللہ تعالی نے ہر ایک کو اس کے گناہ پر پکڑا کسی پر پتھراؤ کیا، کسی پر چنگھاڑ آئی، کسی کو زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غرق کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے کو معبود بنالئے تو وہ مکڑی کی طرح ہیں ۔ جو جالے بناتی ہے اور وہ بہت کمزور ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی عزت والا اور حکمت والا ہے۔
(پارہ نمبر 20 مکمل)
خلاصۃ القرآن پارہ 19 Khulasa e Quran
19خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر
مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بھی کافروں کا انجام بتایا اور مومنوں کو بشارت دی کہ جب آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اتارے جائیں گے جو انسانوں کو گھیرے میں لے لیں گے ۔ اُس دن ہر کوئی اللہ تعالیٰ کی بادشاہت دیکھے گا اور اسے اپنا بادشاہ مانے گا۔ تو اس دن مؤمنین کا اچھا ٹھکانہ ہوگا۔ حساب کے بعد اچھی آرام کی جگہ جنت ملے گی اور اُس دن صدمے اور سوچ و بچار میں کافر اپنے ناخنوں اور انگلیوں کے ساتھ ہاتھ تک چبا ڈالیں گے اور کہیں گے ہائے ہماری خرابی ! ہم نے شیطان کو دوست بنایا اور اس کے بہکاوے میں آئے تو شیطان انسان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتا ہے۔ پھر کافروں کو جہنم میں منہ کے بل دھکیلا جائے گا۔
رکوع نمبر 2
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرعون اور اس کی قوم، قوم نوح قوم عاد، قوم ثمود اور کنوئیں والی قوم کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے اللہ تعالٰی کے نبیوں اور رسولوں کو جھٹلایا اور اُن کا مذاق اڑایا اور کفر اور شرک پر اڑے رہے تو اللہ تعالی نے انھیں تباہ و ہلاک کر کے رکھ دیا اور یہ کافر آپ ﷺ کی باتوں کو ماننے کے بجائے آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ہم صبر نہ کرتے تو رسول اللہ ﷺ ہمیں گمراہ کر کے ہمارے خداؤں سے دور کر دیتے ۔ تو قیامت کے دن کافردیکھیں گے کہ کون گمراہ ہے؟ یہ کا فر تو آپ ﷺ کی باتوں کو سمجھتے ہی نہیں ہیں اور یہ جانوروں جیسے ہیں بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ نا سمجھ اور گمراہ ہیں۔
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ سورج کو تمہارے فائدے کے لئے بنایا اور رات کو اس لئے بنایا تا کہ تم آرام کرو اور دن کواس لئے بنایا تاکہ اس میں اللہ تعالی کا فضل اور اپنے لئے رزق تلاش کرو اور اللہ تعالی بارش برساتا ہے تاکہ اس صاف اور پاک پانی سے انسان اور دوسرے جاندار فائدہ اٹھا ئیں اور اللہ تعالی نے دو سمندر ساتھ ساتھ بنائے کہ ایک کا پانی میٹھا ہے اور دوسرے کا کھارا ۔ دونوں ملے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اُن کے درمیان ایسی آڑ بنائی ہے جو انسانوں کو دکھائی نہیں دیتی اور انسان کو بنایا اور اس کے رشتہ دار اور سرال بنائی۔ اس کے باوجود انسان کفر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے شریک بناتا ہے اور اللہ تعالی نے زمین اور آسمان اور جو کچھ دونوں کے درمیان ہے یہ سب چھ دن میں بنائے اور عرش پر اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا۔ اتنی مہربانیوں کے باوجود کافر اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرنے سے بد کتے ہیں۔
رکوع نمبر4
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں بُرج بنائے اور ان میں چراغ ( سورج ) رکھا اور چاند بنایا اور دن اور رات بنائے۔ اس کے بعد مؤمنین کی خصوصیات بیان فرمائیں کہ زمین پر آہستہ آہستہ چلتے ہیں اور جاہلوں سے بحث کرنے کی بجائے سلام کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں اور رات میں نماز پڑھتے ہیں اور جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں اور نہ کم خرچ کرتے ہیں نہ زیادہ بلکہ اعتدال سے خرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اور ناحق قتل نہیں کرتے اور بدکاری نہیں کرتے اور جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور بے ہودہ باتوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالی جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا۔ وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہاں اُن کی عزت افزائی ہوگی ۔
(سورہ الفرقان مکمل)
سوره الشعراء
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قرآن پاک ایک روشن کتاب ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی کہ اگر یہ کافر ایمان نہیں لاتے تو اس میں آپ ﷺ کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ آپ ﷺ تو اپنا کام بہت اچھے طریقہ سے اور خوبی کے ساتھ کر رہے ہیں اور ان کافروں کے غم میں اپنی جان کو تکلیف میں نہ ڈالیں۔ اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو ان کا قصور ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے منہ پھیر لیتے ہیں اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
رکوع نمبر 6
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہ طور پر نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا۔ ساتھ ہی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت سے سرفراز فرمایا ۔ فرعون کو اسلام کی دعوت دینے کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی تو اُس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور خود خدائی کا دعویدار بن گیا ۔ آپ علیہ السلام نے اُسے اللہ تعالی کی عطا کی ہوئی نشانیاں بتائیں۔
رکوع نمبر 7
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کو جاری رکھا کہ فرعون نے اللہ تعالی کی نشانیوں کو دیکھنے کے بعد آپ علیہ السلام کو جادوگر سمجھا اور اپنے جادوگروں کو آپ علیہ السلام سے مقابلہ کے لئے بلایا ۔ مقابلہ میں تمام جادوگر آپ علیہ السلام سے شکست کھا گئے اور اللہ تعالیٰ کی نشانی کو پہچان لیا تو تمام جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا۔ فرعون نے جادوگروں سے کہا: تم لوگ میری اجازت کے بغیر موسیٰ (علیہ السلام ) کے خدا پر ایمان لے آئے ، میں تمہیں دردناک سزا دوں گا۔ جادوگر بولے: ہم تو اللہ تعالی پر ایمان لے آئے ہیں، اب تجھے جو بھی کرتا ہے کر لے۔
رکوع نمبر 8
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل گئے تو فرعون نے اپنے لشکر کے ساتھ اُن کا پیچھا کیا۔ اللہ تعالی کے حکم سے آپ علیہ السلام نے دریا پر عصا مارا تو راستہ بن گیا۔ بنی اسرائیل دریا پار کر گئے ۔ فرعون اور اس کا لشکر پیچھا کرتا ہوا دریا میں اتر گیا تو اللہ تعالی نے اُن سب کو غرق کر دیا۔ اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں سے اکثر کافر تھے۔
رکوع نمبر 9
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ جب انھوں نے اپنے باپ آذر کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں ان بتوں سے بیزار ہوں اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں جو مجھے بیماری سے شفا دیتا ہے اور جب قیامت آئے گی تو ابلیس اور اس کے بہکاوے میں آنے والے سب کے سب جہنم میں ہوں گے۔ تو اس میں نشانی ہے اور اُن سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ تو عزت والا اور مہربان ہے۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: تمہارے ساتھ تو غریب اور ایسے لوگ ہیں جن کی ہماری نظروں میں کوئی وقعت نہیں ہے اور اگر تم اسلام کی دعوت سے باز نہیں آؤ گے تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کر دیں گے ۔ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کو بچالیا اور باقی سب کو غرق کر دیا۔ اس میں ایک نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ عزت والا اور مہربان ہے۔
رکوع نمبر :11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ہود علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے قوم عاد کو اسلام کی دعوت دی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں بہت طاقت ور بنایا۔ تم اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کرو ۔ اس نے تمہیں چشموں اور پھلوں کا بہترین رزق عطا فرمایا ہے، اس لئے تم صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ
جائے لیکن قوم عاد نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کر دیا۔ اس میں (عبرت کی) نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ تو عزت والا اور مہربان ہے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت صالح علیہ السلام کا ذکر فر مایا کہ جب حضرت صالح علیہ السلام نے قوم ثمود کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی نشانی کے طور پر حاملہ اونٹی کی مانگ کی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس اونٹنی کو نقصان نہ پہنچاتا ورنہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے گا تو انھوں نے اونٹنی کوقتل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن سب کو ہلاک کر دیا۔ اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے اور اللہ تعالٰی عزت والا اور مہربان ہے۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت لوط علیہ السلام کا ذکرفرمایا کہ جب آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بُرے عمل سے روکا تو وہ نہیں مانے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ اس میں نشانی ہے۔
رکوع نمبر :14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے بن والوں کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے جھٹلا دیا اور اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ آپ علیہ السلام پر جادو کیا گیا ہے اور اگر آپ علیہ السلام سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے کوئی ٹکڑا گرا دیں تو اُن پر سائبان کے دن کا عذاب آیا اور وہ سب ہلاک ہو گئے ۔ اس میں نشانی ہے اور اُن میں اکثر ایمان والے نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ عزت والا مہربان ہے۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرئیل علیہ السلام لے کر آپ ﷺ کی طرف آئے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر نازل ہوا۔ شیطان (جنات) اس قابل ہیں ہی نہیں کہ وہ قرآن پاک جیسی عظیم اور حکمت والی چیز لاتے اور نہ وہ ایسا کر سکتے ہیں بلکہ وہ تو ہر سننے کی جگہ ( آسمانوں) سے دور کر دیئے گئے ہیں اور شیطان تو ہر بڑے بہتان لگانے والے گنہگار پر اترتے ہیں اور شیطان اپنی سنی ہوئی باتیں انھیں بتاتے ہیں اور ان میں اکثر جھوٹے ہیں اور شاعروں کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔
(سورہ الشعراء مکمل)
سوره النمل
رکوع نمبر 16
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مؤمنین کی خصوصیات بتائیں۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ عذاب اور خسارہ انہی کے لئے ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو کو وطور پر نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا اور معجزے عطا فرمائے اور حکم دیا کہ فرعون اور اس کی قوم کو اسلام کی دعوت دو۔ جب آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا پھر آپ علیہ السلام نے اپنے معجزے دکھائے تو فرعون نے کہا یہ تو جادو ہےاور انکارکر دیا تو فسادیوں نے ظلم اور تکبر کیا، ان کا بہت برا انجام ہوا۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو حضرت داؤدعلیہ السلام کا وارث بنایا اور پرندوں کی بولی سکھائی۔ انسانوں اور جنات کا حاکم بنایا۔ ایک دن آپ علیہ السلام اپنے لشکر کے ساتھ جارہے تھے تو انھوں نے چیونٹی کی آواز سنی جو کہہ رہی تھی کہ تمام چیونٹیاں گھروں میں داخل ہو جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر تمہیں کچل ڈالے۔ یہ سن کر آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور جب تمام پرندوں کو دیکھا تو ہد ہد غائب تھا۔ جب وہ آیا تو اس نے بتایا کہ میں شہر سبا سے آیا ہوں ۔ وہاں ایک عورت حکمرانی کر رہی ہے اور وہ لوگ سورج کو سجدہ کرتے ہیں ۔ شیطان نے اُن کے اعمال اُن کی نگاہ میں اچھے کر دیئے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کوسجدہ نہیں کرتے تو آپ علیہ السلام نے خط لکھ کر اُسے دیا اور فرمایا : یہ لے جا کر وہاں ڈال دے اور دیکھ وہ کیا کرتے ہیں تو حکمراں عورت نے اپنے درباریوں سے کہا۔ میرے پاس ایک عزت والا خط حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف سے آیا ہے، لکھا ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم ، تم میرے مقابلہ میں زور آزمائی نہ کرو اور مسلمان ہونے کیلئے میری خدمت میں حاضر ہو جاؤ۔
رکوع نمبر 18
اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اس حکمراں عورت نے اپنے درباریوں سے رائے مانگی تو انھوں نے کہا: ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔ باقی تمہاری مرضی ، تو اس حکمراں عورت نے کہا: جب بادشاہ کسی علاقہ پر قبضہ کرتے ہیں تو اس علاقہ والوں کو ذلیل ہونا پڑتا ہے۔ میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو قیمتی تحفے بھیجتی ہوں اور دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ تو جب تمام تحفے لے کر ایلچی آیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہمیں لالچ دیتے ہو؟ واپس جاؤ ؟ ہم وہ لشکر لے کر حملہ کریں گے کہ اُس کا مقابلہ کرنے کی تم میں طاقت نہیں ہو گی۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے درباریو! کون ہے جو ملکہ کے آنے سے پہلے اس کا تخت لے آئے؟ تو ایک خبیث جن بولا: آپ علیہ اسلام کا دربارختم ہونے سے پہلے میں وہ تخت لے آؤں گا تو ایک شخص جسے کتاب کا علم تھا۔ اس نے کہا: آپ علیہ السلام کے پلک جھپکانے سے پہلے حاضر کر دوں گا تو آپ علیہ السلام نے وہ تخت اپنے پاس رکھا دیکھا تو فرمایا: یہ میرے رب کا فضل ہے اور تخت میں تھوڑی سی تبدیلی کروا دی۔ جب ملکہ آئی تو اسے تخت دکھایا اور پوچھا تمہارا تخت کیسا ہے ؟ تو اُس نے کہا: بالکل ایسا ہی ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: یہ وہی تخت ہے اور یہ اللہ تعالی کے فضل سے میرے پاس آیا تو ملکہ نے اسلام قبول کر لیا۔
رکوع نمبر 19
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی لیکن اُن کی قوم نے اُن کو جھٹلایا اور اللہ کا حکم مانے سے انکار کر دیا اور گنا ہوں پر اڑے اور اُن سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالی نے دونوں قوموں پر عذاب بھیج کر انہیں ہلاک کر دیا اور دنیا والوں کیلئے نشانی بنا دیا۔
(پارہ نمبر 19 مکمل)
منگل، 28 مارچ، 2023
خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 18 Khulasa e Quran
خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 18
مرتب شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
سوره المؤمنون
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 1:
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں مؤمنوں کی چند خوبیاں بتائیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں، نماز میں اللہ تعالی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور بے ہودہ باتوں پر دھیان نہیں دیتے اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ امانتوں کو ادا کرتے ہیں، جو وعدہ اور عہد کرتے ہیں اسے پورا کرتے ہیں۔ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی پانی کی بوند کوخون کی پھٹکی بناتا ہے۔ پھر اس کو گوشت کی بوٹی بناتا ہے۔ پھر گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بناتا ہے اور پھر ہڈیوں پر گوشت اور کھال چڑھاتا ہے اور اسے خوب صورت انسان کی شکل میں دنیا میں لاتا ہے اور اللہ تعالی سب سے بہتر بنانے والا ہے۔ اس کے بعد زمین اور اس کی نعمتوں کا ذکر فر مایا اور جانوروں کے پیٹ سے دودھ نکالتا ہے۔ یہ سب اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے کیا۔
رکوع نمبر 2:
اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی تو قوم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ تم تو ہماری طرح ایک انسان ہو اور بس ۔ اور ہمیں دیوانے لگتے ہو، ہم تمہارے صحت مند ہونے کا انتظار کریں گے ۔ انہوں نے آپ علیہ السلام کا مذاق اڑایا تو آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! میری مددفرما! تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوکشتی بنانے کا حکم دیا۔ پھر جب طوفان کا وقت آیا تو اللہ تعالٰی کے حکم سے آپ علیہ السلام ایمان والوں کے ساتھ کشتی پر سوار ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے کشتی والوں کو محفوظ رکھا اور تمام کافروں کو غرق کر دیا۔,
رکوع نمبر 3
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی ایک رسول اور آپ علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ جب رسول نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ تم تو ہمارے جیسے آدمی ہو ، ہماری طرح کھاتے اور پیتے ہو۔ اگر ہم تمہاری بات مانیں گے تو نقصان میں رہیں گے اور ہم مرکر مٹی میں مل جائیں گے اور مرنے کے بعد آخرت کی کوئی زندگی نہیں ہے۔ جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے اور تم جس قیامت کی بارے میں بتارہے ہو وہ کب آئے گی؟ تو رسول نے دعا کی کہ اے اللہ! ان لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو میری مدد کر ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایک چنگھاڑ بھیجی اور سب کو کوڑا بنا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد کئی قوموں کا حال بتایا۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کا ذکر کیا اور فرعون اور اس کی قوم کا انجام بتایا۔
رکوع نمبر 4
پچھلے رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کا ذکر فرمایا تھا۔ اس رکوع میں اُن کا ذکر جاری رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی والدہ کو نشانی بنایا اور ہر نبی اور رسول اور امتوں کا ایک ہی دین ہے اور وہ اسلام ہے لیکن بہت سی امتوں نے اس میں تبدیلی کر لی اور ٹکڑوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے تو انھیں اُن کے حال پر چھوڑ دو اور ایمان والے صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی پر اُس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس قرآن پاک میں حق ہے اور کا فر غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور حق کو چھوڑ کر بیٹھے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو نہیں پہچانا جو حق لے کر آئے اور حق کا فروں کو بُرا لگتا ہے۔
رکوع نمبر 5
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا اور اسے کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے، مگر کا فرحق کو نہیں مانتے اور اللہ تعالیٰ نے ہی زمین کو پھیلایا، وہی زندہ کرتا ہے پھر مارتا ہے اور پھر زندہ کرے گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا: ان سے پوچھو! زمین کا مالک کون ہے؟ تو کہیں گے: اللہ تعالیٰ ۔ تو ان سے کہو ، پھر کیوں نہیں سوچتے ؟ ان سے پوچھو! ساتوں آسمان کا ، عرش عظیم کا کون مالک ہے؟ تو کہیں گے: اللہ تعالیٰ۔ تو ان سے کہو ، پھر کیوں نہیں ڈرتے ؟ ان سے پوچھو، کون ہے جس کے قابو میں ہر شئے ہے اور وہی پناہ دیتا ہے؟ تو کہیں گے: اللہ تعالیٰ ۔ تو ان سے کہو کس فریب میں پڑے ہوئے ہو؟ اور اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی دوسرا خدا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی اپنی مخلوق لے جاتا ۔
رکوع نمبر 6:
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ سب سے اچھی بھلائی سے برائی کو دفع کرو۔ جب ان کافروں میں سے کسی کی موت آتی ہے تو کہتا ہے۔ اے میرے رب ! مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں ۔ شاید میں اب نیکی کما کر آؤں ۔ تو جب صور پھونکا جائے گا اور سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع ہوں گے تو کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا اور کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ۔ وہ کہیں گے : اے ہمارے رب! ہمیں ایک موقع اور دے۔ تو اُن سے کہا جائے گا: تم دنیا میں ایمان والوں کا مذاق اڑاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تھے تو آج ایمان والے کامیاب ہیں اور جب اُن سے پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کتنا وقت رہے؟ تو کہیں گے: ایک دن یا دن کا ایک حصہ رہے۔
(سورہ المؤمنون مکمل)
سوره النور
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 7 اور 8
اللہ تعالیٰ نے ان دو رکوع میں نکاح اور زنا کے احکامات بیان فرمائے اور اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر لگے الزام کو جھوٹا ثابت کیا اور بتایا کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پاک وصاف اور بے قصور ہیں اور منافقوں نے افواہیں پھیلا کر جھوٹا الزام لگا کر بد نام کرنا چاہا ہے اور فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحمت آپ ﷺ پر ہے
رکوع نمبر 9
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کیوں کہ وہ صرف اور صرف بے حیائی اور بُری بات ہی سکھلائے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ معاف کر دیا کرو اور نظر انداز کر دیا کرو۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالی تمہاری بخشش کر دے اور جو پاک و صاف اور بے قصور ایمان والوں پر جھوٹ الزام لگاتے ہیں ۔ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے اور قیامت کے دن بڑا عذاب ہے۔ اُس دن ان کی زبانیں ، ہاتھ اور پاؤں اس بات کی گواہی دیں گے جو یہ کرتے رہے۔
رکوع نمبر 10
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ بغیر اجازت لئے دوسروں کے گھروں میں نہ جاؤ اور پہلے سلام کرو اور مسلمان مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور مسلمان عورتیں بھی اپنی نگا ہیں نیچی رکھیں اور اپنی عزت کی حفاظت کریں اور اپنا سنگھار حتی الامکان چھپانے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد عورت کے پردے کے بارے میں احکامات دیئے اور فرمایا کہ پاؤں زور سے زمین پر نہ مارو کہ زیور کی آواز پیدا ہو۔ اس کے بعد نکاح کے بارے میں احکامات دیئے۔
رکوع نمبر 11
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنے نور کی مثال بیان فرمائی ۔ اس کے بعد مؤمنین کا ذکر فرمایا جو اسلام کی روشنی میں چلتے ہیں کہ صبح وشام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور کسی سوداگری یا کاروبار یا خرید و فروخت کی وجہ سے اللہ تعالی کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور قیامت کے دن سے ڈرتے رہتے ہیں اور کافر کے بارے میں بتایا کہ کفر کے اندھیروں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور انہیں کوئی راستہ دکھائی نہیں پڑتا یہاں تک کہ قیامت کے دن تک پہنچ جائیں گے اور تب انھیں معلوم ہوگا کہ وہ دھو کے میں پڑے ہوئے تھے۔
رکوع نمبر 12
اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو اس رکوع میں فرمایا کہ کیا تم غور نہیں کرتے کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالی کی تسبیح کر رہے ہیں اور ہر جاندار کواپنی تسبیح اور نماز معلوم ہے اور زمین و آسمان کی سلطنت اللہ تعالیٰ کی ہے اور پھر بادل اور بارش کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے کسی جاندار کو زمین پر پیٹ کے بل چلنے والا بنایا، کسی کو دو پیر پر چلنے والا اور کس کو چار پیروں والا بنایا تو اللہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس کے بعد منافقین کے بارے میں بتایا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور جب انھیں فیصلے کے لئے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف بلایا جاتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں۔ ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے اور یہ خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔
رکوع نمبر 13
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی منافقوں کے راز کوکھولا ہے۔ رکوع کے شروع میں مسلمانوں کے بارے میں بتایا کہ مسلمانوں کو جب اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی طرف فیصلہ کے لئے بلایا جاتا ہے تو وہ خوشی سے آتے ہیں اور سچے دل سے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں اور یہی کامیاب لوگ ہیں اور منافق قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم ضرور اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے کو نکلیں گے لیکن دل سے جانا نہیں چاہتے ۔ آپ اُن سے کہیں کہ تم قسمیں نہ کھاؤ۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو اور آپ کے ذمہ تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام صاف صاف لوگوں تک پہنچا دیں اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کریں گے تو اللہ تعالی ضرور انھیں زمین کی خلافت عطا فرمائے گا اور کا فر اللہ تعالیٰ کے قابو سے نکل نہیں سکتے اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
رکوع نمبر 14
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو احکامات دیئے کہ کس وقت کون بغیر اجازت کے گھر میں آسکتا ہے اور کس کو اجازت لے کر آنا چاہئے اور کن عورتوں کو کس طرح پردہ کرنا چاہیے اور کس کس کے گھر کھانا کھا سکتے ہیں ۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ جب کسی کے گھر میں جاؤ تو پہلے سلام کر لو اور یہ آپس میں ملنے کے وقت بہت پاکیزہ اور مبارک دعا ہے۔
رکوع نمبر 15
اللہ تعالی نے رکوع میں مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کا ادب کرنا سکھایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس سے بغیر اجازت نہ چلے جایا کرو بلکہ آپ ﷺ سے اجازت لے کر جایا کرو۔ اس کے بعد فرمایا کہ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو تو اس طرح رسول اللہ ﷺ کو نہ پکارو بلکہ انتہائی ادب سے اور بہترین القاب سے مخاطب کیا کرو۔
(سورہ نور مکمل)
سوره الفرقان
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رکوع نمبر 16
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن پاک اپنے بندہ و رسول ﷺ پر نازل فرمایا ہے اور تمام جہان والوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کا حکم دیا ہے اور زمین اور آسمانوں پر اللہ تعالی ہی کی بادشاہت ہے اور اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ ہی کائنات بنانے میں اس کا کوئی ساجھی شریک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اکیلے ہر چیز کی تخلیق کی اور ٹھیک اندازے پر رکھا اور لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسوں کو معبود بناتے ہیں جو نہ تو انھیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان ۔ وہ تو خود اپنے بھلے اور برے کے مالک نہیں ہیں اور نہ اُن کو جینے کا کچھ اختیار ہے اور نہ مرنے کا اور کا فر لوگ رسول اللہ ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ قرآن پاک خود بنا لیا ہے یا دوسرے لوگوں نے اُن کی مدد کی ہے۔ تو یہ بہت بڑا جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرح کھاتے پیتے اور بازاروں میں چلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اُن کی پیروی نہیں کریں گے (نعوذ باللہ ) ان پر جادو ہوا ہے۔ یہ سب کہہ کر وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں ۔
رکوع نمبر 17
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کا انجام بتایا کہ اُن کے لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ تو جہنم کی آگ کو دور سے دیکھیں گے کہ جوش مار رہی اور چنگھاڑ رہی ہے۔ اس کے بعد مؤمنوں کو جنت کی بشارت دی اور وہ جنت میں عیش و آرام میں رہیں گے ۔ اس کے بعد بتایا کہ کافرجن کو معبود مانتے ہیں اُن سے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم نے ان کا فروں کو گمراہ کر دیا تو وہ کہیں گے کہ ہم نے تو ایسا کبھی نہیں کہا۔ اے اللہ ! تو نے ان کافروں کو دنیا کا عیش و آرام دیا تو یہ خود تجھے بھول گئے اور شرک میں مبتلا ہو گئے ۔ تو کافر جن کو معبود مانتے ہیں وہ خود انکار کر دیں گے۔ تو ہم کافروں کو زبردست عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
(پارہ نمبر 18 مکمل)
D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں
D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں
-
حضرت شیث علیہ السلام تحریر : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی حضرت شیث علیہ السلام کی پیدائش حضرت شیث علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کے بعد د...
-
حضرت لوط علیہ السلام مکمل سلسلہ نمبر 8 تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی قارئین کرام ،اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السل...
-
حضرت نوح علیہ السلام مکمل واقعہ تحریر:شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی سلسلہ نمبر4 حضرت آدم علیہ السلام کے بعد کا زمانہ قارئین کرام ، اس سے پہ...






