منگل، 28 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 17 Khulasa e Quran

 

خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 17

سوره الانبياء 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور جب کا فروں کے پاس کوئی نصیحت آتی ہے تو کا مذاق اڑاتے ہیں اور اُن کے دل دنیا میں مگن ہیں اور یہ بدبخت رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) آپ ﷺ جادوگر ہیں ۔ شاعر ہیں اور من گھڑت باتیں کرتے ہیں اور ہماری طرح آدمی ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی بستی میں اپنا رسول بھیجا تو آدمی ہی کو بھیجا۔ 

رکوع نمبر 2: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی ایسی بستیوں کو تباہ کر دیا جو اللہ تعالیٰ کا انکار کرتی ہیں ۔ جب اُن پر ہمارا عذاب آیا تو وہ اس سے بھاگنے لگے۔ اُن سے کہا گیا کہ بھا گو نہیں بلکہ اپنے دنیاوی عیش و آرام میں لوٹ جاؤ تو انھوں نے کہا: ہائے ہماری خرابی! بے شک ہم ظالم تھے، تو وہ یہی بار بار کہتے رہے اور انھیں تباہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد بتایا کہ زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے ، سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور اس میں ذرا بھی سستی نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ 

رکوع نمبر 3: 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر یہ کیوں غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان بنائے اور ہر جاندار چیز کو بنایا اور زمین میں (پہاڑوں کے ) لنگر ڈالے اور راستے بنائے اور آسمان کو چھت بنایا اور رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند بنائے کہ وہ اپنے اپنے مدار پر گردش کر رہے ہیں تو اس دنیا میں ہمیشہ کوئی نہیں رہے گا اور ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ کا فرآپ ﷺ کا مذاق اڑاتے ہیں اور آدمی بہت جلد باز ہے اور قیامت کب آئے گی ؟ یہ پوچھتے ہیں تو جب وہ آئے گی تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ وہ اچانک آئے گی۔ تو جن لوگوں نے رسولوں کا مذاق اڑایا ہوگا تو قیامت میں وہ خود مذاق بن جائیں گے۔

رکوع نمبر 4: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان کا فروں سے کہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کون ہے جو ہر وقت تمہاری نگہبانی کرتا ہے؟ کیا اُن کے کچھ خدا ہیں؟ وہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچاتے ہیں۔ وہ تو خود اپنے آپ کو کسی تکلیف سے نہیں بچا سکتے اور اللہ تعالیٰ نے کافروں اور اُن کے باپ دادا کو دنیا میں ایک مقررہ وقت تک مہلت دی ہے اور قیامت کے دن کسی پر رائی کے دانے کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا اور جس نے رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل کیا ہوگا تو اللہ تعالی اس کے عمل کو سامنے لے آئے گا۔

رکوع نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ آذر اور اپنی قوم کے کافروں کو اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : میں ضرور تمہارے بتوں کو توڑوں گا اور آپ علیہ السلام نے مناسب موقع دیکھ کر حکمت کے ساتھ تمام بتوں کوتوڑ دیا اور سب سے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ کافروں نے آپ علیہ السلام سے پوچھا کہ تم نے ہمارے خداؤں کو توڑا ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر یہ بولتے ہیں تو ابھی سے پو چھ لو ۔ انھوں نے کہا: ہم سے مذاق کرتے ہو، یہ بول نہیں سکتے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: پھر یہ کیسے تمھارے خدا ہو سکتے ہیں ؟ کیا اب بھی تمھیں عقل نہیں آئی تو کافروں نے کہا: اپنے خداؤں کی مدد کرو اور ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آگ! ٹھنڈی ہو جا اور ابراہیم کے لئے سلامتی بن جا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام اور لوط علیہ السلام نے برکت والی زمین کی طرف ہجرت کی اور اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق علیہ السلام بیٹا اور یعقوب علیہ السلام پوتا عطا فرمایا اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے ہیں۔

رکوع نمبر 6

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور آپ علیہ السلام اور ایمان والوں کو نجات دی اور کافروں کو غرق کر دیا۔ اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالی نے اُن دونوں کو علم اور حکومت عطا فرمائی تھی اور حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی اللہ تعالی کی تسبیح کرتے تھے اور آپ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے زرہ بنانی سکھائی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو تیز ہوا پر قابو دیا تھا اور وہ آپ علیہ السلام کے حکم سے چلتی تھی اور شیطان بھی آپ علیہ السلام کے قابو میں تھے ۔ اس کے بعد حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سن لی اور صحت اور گھر والے عطا کئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ادریس علیہ السلام اور حضرت ذوالکفل علیہ السلام یہ سب صبر کرنے والے تھے اور ذوالنون ( حضرت یونس علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں سے پکارا تو اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو نجات دی اور حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا سنی اور بڑھاپے میں آپ علیہ السلام کو ایک بیٹا حضرت یحییٰ علیہ السلام عطا فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سارے جہان کے لئے اللہ تعالیٰ کی نشانی بنایا اور دین تو صرف ایک ہی ہے اور وہ اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے تو صرف اسی کی عبادت کرو اور سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ ایمان والے جو بھی نیک اعمال کریں گے اللہ تعالی ان کی پوری قدر کرے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ یا جوج ماجوج آزاد کئے جائیں گے اور پھر قیامت آئے گی ۔ قیامت کے دن کافر اور جن کو وہ پوجتے ہیں، سب جہنم میں ہوں گے۔ اگر یہ خدا ہوتے تو جہنم میں نہ ہوتے ۔ اس کے بعد نیک ایمان والوں کے بارے میں بتایا کہ وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے اور جنت میں عیش و آرام سے رہیں گے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو تمام عالموں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ 

(سورہ الانبیاء مکمل )

سورہ الحج

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں تمام انسانوں کو مخاطب کر کے قیامت کی ہولناکیوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد بتایا کہ بہت سے لوگ شیطان کے بہکاوے میں آکر اس کی بات مانتے ہیں اور شیطان لوگوں کو گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو اپنی بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت دی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ پھر پانی کی بوند سے پھر خون کی پھٹکی بنائی پھر گوشت کی بوٹی بنائی پھر ہاتھ ، پیر، کان ، ناک اور چہرہ وغیرہ بنایا اور ایک مقررہ وقت تک تمہاری والدہ کے پیٹ میں رکھا، پھر بچہ بنا کر نکالا پھر تمہیں جوانی تک پہنچایا اور تم میں سے کوئی پہلے مرجاتا ہے اور کوئی معذوری کی عمر تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد زمین سے اللہ تعالی جو کچھ اُگاتا ہے اس پر غور کرنے کی ترغیب دی پھر فرمایا: اب جو قیامت کے آنے پر شک کرے گا تو وہ نقصان میں ہوگا۔ 

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ لوگ ایسوں کی پوجا کرتے ہیں جو انھیں نہ تو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور ایسے ہی لوگ دور کی گمراہی اور نقصان میں ہیں اور جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں عیش و آرام میں رکھے گا ۔ جو یہ سوچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کی دنیا اور آخرت میں مدد نہیں فرمائے گا تو حسد اور جلن کی وجہ سے اپنے آپ کو بلاک کرلے، اور مسلمان، یہودی ، عیسائی اور ستاروں کی پوجا کرنے والے اور آگ کی پوجا کرنے والے اور مشرک (بتوں کی پوجا کرنے والے ) ان سب کے درمیان اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلہ فرمادے گا اور تم دیکھو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور چوپائے اور بہت سے لوگ اللہ تعالیٰ کو سجدے کرتے ہیں تو کافروں کو آگ کا کپڑا پہنایا جائے گا اور کھولتا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں تک گل جائیں گی۔ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں سونے کے کنگن پہنائے گا اور موتی اور ریشم کے کپڑے پہنائے گا اور جو کفر کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکے گا تو اللہ تعالیٰ اسے دردناک عذاب دے گا۔

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کر چکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو اور خانہ کعبہ کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک وصاف رکھو اور لوگ حج کرنے آئیں اور پھر اپنا میل کچیل اتاریں اور جو اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کی تعظیم کرے گا تو وہی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کامیاب ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے گا تو وہ نہ دنیا کا رہا اور نہ آخرت کا۔ 

رکوع نمبر 12 

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لئے ایک قربانی مقرر فرمائی تھی۔ اس کے بعد قربانی اور قربانی کے جانور کے بارے میں احکامات دیئے۔ اس کے بعد فرمایا کہ قربانی کا گوشت تم خود بھی کھاؤ اور ضرورت مندوں اور مستحق لوگوں کو بھی دو اور اللہ تعالیٰ کے پاس تمہاری قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر سے بلائیں ٹالتا ہے اور دغا باز اور ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو کافروں سے لڑنے کی اجازت دی اور بتایا کہ کا فربے گناہ مسلمانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ یہ صرف اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ تعالٰی اگر مسلمانوں کے ذریعے کافروں کو نہیں ہٹاتا تو مسجدوں، خانقاہوں ، گر جاؤں اور کلیساؤں کو گرا دیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ جب مسلمانوں کو زمین پر قابو دیتا ہے تو نماز قائم کرتے ہیں، زکوۃ دیتے ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ یہ کا فر آپ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں ( اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ) آپ ﷺ سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت لوط علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی کا فرلوگ جھٹلا چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کا ایک دن تمہارے یہاں کے ہزار سال کے برابر ہے۔

رکوع نمبر :14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے کلمات جو رسولوں اور نبیوں پر نازل ہوتے تھے، ان میں شیطان ملاوٹ کرنے کی کوشش کرتا تھا تو مسلمان سیدھی راہ کو پہچان کر اس پر چلتے ہیں اور کا فر گمراہیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں یہاں تک کہ قیامت آجائے گی۔

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالی کے لئے ہجرت کی اور اللہ تعالی کے لئے لڑے اور مارے یا مرے تو اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں عیش و آرام سے رکھتا ہے اور بہترین رزق عطا فرماتا ہے اور یہ کافر جن کو پوجتے ہیں وہ سب باطل ہے اور اللہ تعالی ہی کا ہے جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے اور وہ ہر ایک سے بے نیاز ہے۔ وہ کسی کامحتاج نہیں اور سب اس کے محتاج ہیں۔ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں انسان کو غور و فکر کرنے کا حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کی نعمتیں انسان کو عطا فرما ئیں اور وہ آسمان کو روکے ہوئے ہے۔ تو اللہ تعالیٰ انسانوں پر بہت مہربان ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کو زندہ کیا پھر وہی مارتا ہے اور پھر سب کو زندہ کرے گا اور اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لئے عبادت کرنے کے قاعدے بنا دیے ہیں اور کا فر ایسوں کو پوجتے ہیں جن کی کوئی سند نہیں ہے اور جب کافروں پر قرآن پاک کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو غصہ سے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں۔ اس سے خطرناک وہ آگ ہے جس میں کافر ڈالے جائیں گے۔ 

رکوع نمبر 17: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں کافروں کو چیلنج کیا کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو اُن سے کہو کہ ایک مکھی بنا کر دکھا ئیں تو وہ سب مل کر ایک مکھی نہیں بنا سکیں گے اور اگر مکھی اُن سے کچھ چھین کے لے جائے تو وہ اُس سے واپس نہیں لے سکیں گے۔ انسانوں نے اللہ تعالی کی ویسی قدر نہیں کی جیسی کی جانی چاہئے ۔ اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ تعالی کی بندگی کرو اور اس کی بارگاہ میں رکوع اور سجدہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ کے لئے کافروں سے لڑو ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پسند کیا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین (یعنی اسلام ) عطا فرمایا اور پہلے کی آسمانی کتابوں اور اس قرآن پاک میں تمہارا نام مسلمان رکھا۔ تو تم نماز قائم کرواور زکوۃ دو اور اللہ تعالیٰ کی رسی ( قرآن پاک ) کو مضبوطی سے تھام لو۔ اللہ تعالیٰ ہی تمہارا مولیٰ اور مددگار ہے۔ 

(سورہ الحج و پارہ نمبر 17 مکمل)

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 16 Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 16

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1 

اس رکوع کی چار آیات پارہ نمبر 15 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعہ کو جاری رکھا کہ دونوں ساتھ چلے۔ راستے میں دریا پار کرنے لگے تو حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کو عیب دار بنا دیا ۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انھیں ٹوکا تو انھوں نے فرمایا: اب آپ مجھ سے الگ ہو جائیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر ساتھ لیا۔ دونوں آگے بڑھے تو ایک لڑکا ملا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے قتل کر دیا تو پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ٹوکا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: اب آپ علیہ السلام مجھ سے الگ ہو جائیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اب اگر میں نوکوں تو ضرور مجھے الگ کر دینا ۔ دونوں آگے بڑھے اور ایک گنواروں کے گاؤں میں پہنچے ۔ گاؤں والوں نے نہ انھیں کھانا دیا نہ پانی۔ اس گاؤں میں ایک دیوار گرنے والی تھی ۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اُس دیوار کو نئے سرے سے تعمیر کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس کام کی اُن سے مزدوری لے لیتے تو حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: بس آپ کا میرا ساتھ یہیں تک ہے لیکن میں آپ کو اُن کاموں کی حقیقت بتادوں جن پر آپ نے صبر نہیں کیا۔ کشتی کو میں نے عیب دار اس لئے بنایا کیوں کہ وہ غریب لوگوں کی ہے اور اُن کا ظالم بادشاہ ہر اچھی کشتی کو چھین لیتا ہے اور عیب دار کشی کو چھوڑ دیتا ہے۔ جس بچہ کو میں نے قتل کیا اس کے والدین مسلمان ہیں اور وہ بچہ بڑا ہو کر اپنے والدین کو کفر و شرک میں مبتلا کر دیتا اس لئے اُسے قتل کر دیا۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو نیک اولاد عطا فرمائے گا۔ رہی بات دیوار کی، تو وہ دیوار دو یتیم بچوں کی ہے اور اس دیوار کے نیچے اُن یتیم بچوں کے والد نے اُن کے لئے دولت دبا رکھی ہے، میں نے اللہ تعالی کے حکم سے دیوار کی تعمیر کر دی تا کہ یتیم بچے بڑے ہوں تو انھیں یہ دولت مل جائے اور یہ سب کام میں نے اللہ تعالی کے حکم سے کئے۔

رکوع نمبر 2: 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں ذوالقرنین کا ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس کے قابو میں کر دیا تھا اور بہت سا سامان عطا فرمایا تھا۔ اس نے ایک سفر کی تیاری کی اور سفر پر چلا۔ یہاں تک کہ سورج ڈوبنے کی جگہ پہنچا تو وہاں ایک قوم ملی جس نے اس کی اطاعت اختیار کرلی۔ ذوالقرنین نے اُن سے کہا: جو ظلم کرے گا میں اسے سزا دوں گا اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹے گا اور جو ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اس کا بدلہ بھلائی ہے۔ اس کے بعد ذوالقرنین دوسرے سفر پر چلا اور سورج نکلنے کی جگہ پہنچا، وہاں اسے ایک قوم ملی جس نے اطاعت قبول کر لی۔ اس کے بعد ذوالقرنین نے تیسرا سفر کیا تو دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا۔ وہاں ایک قوم ملی اور اس قوم نے کہا کہ یا جوج ماجوج پہاڑ کے اُس طرف سے آتے ہیں اور ہم پر بہت ظلم کرتے ہیں ۔ آپ اُن سے ہمیں بچا ئیں تو ذوالقرنین نے دونوں پہاڑوں کے درمیان لو ہے، تانبے اور پیتل کی ایک دیوار تعمیر کر دی اور کہا جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا یہ دیوار قائم رہے گی اور جب اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ٹوٹ جائے گی۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ قیامت کے دن سب کو جمع کیا جائے گا اور دوزخ کافروں کے سامنے لائی جائے گی۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ یہ کا فرشرک کر کے بچ نہیں سکتے ، اُن کے استقبال کے لئے دوزخ تیار ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ سے فرمایا: ان سے کہو کہ سب سے ناقص عمل اُن کے ہیں جو دنیا میں مگن ہیں اور دنیا کے لئے ساری جدو جہد اور کوشش کرتے ہیں تو آخرت میں اُن کے لئے کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کے بعد مومنوں کے بارے میں فرمایا کہ اُن کے استقبال کے لئے جنت تیار ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں اور جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔ اس کے بعد فرمایا: ان سے کہہ دو کہ اگر پورے سمندر کی سیاہی بنا کر اللہ تعالیٰ کی باتیں لکھی جائیں تو سمند رختم ہو جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی با تیں ختم نہیں ہوں گی

(سورہ الکہف مکمل)

سوره مریم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 4 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا ذکر کیا کہ حضرت ذکریا علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا کی کہ اے اللہ ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، تو مجھے ایسا کوئی بیٹا عطا فرما جو میرے کام ( بنی اسرائیل کو اسلام کی تعلیم ) کو سنبھال سکے تو اللہ تعالیٰ نے بشارت دی کہ تجھے ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یحییٰ (علیہ السلام ) ہوگا۔ آپ علیہ السلام نے عرض کیا: میں بوڑھا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے، مجھے اولاد کیسے ہوگی؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک ایسا ہی ہوگا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کے پاس بشارت دینے کے لئے فرشتہ کو بھیجا تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں تو ایسا کیسے ہوگا؟ تو فرشتہ نے کہا: ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالی جو چاہے کر سکتا ہے۔ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا وقت آیا تو آپ رضی اللہ عنہا جنگل میں چلی گئیں اور وہیں آپ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ اللہ تعالی نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا سے فرمایا تم سے جب کوئی اس بچے کے متعلق پوچھے تو بچے کی طرف اشارہ کر دینا۔ بستی والوں نے آپ رضی اللہ عنہا سے بچے کے بارے میں پوچھا تو سیدہ مریم رضی اللہ عنہا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جو ابھی شیر خوار بچہ تھے ) کی طرف اشارہ کیا کہ اس سے پوچھو، وہ بولے تم ہم سے مذاق کرتی ہو، اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام (حیرت انگیز طریقہ پر) بول پڑے میں اللہ تعالی کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ اُس نے مجھے کتاب دی اور مجھے بابرکت بنایا اور مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا اور ماں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی لیکن اُن کے بعد ان لوگوں ( بنی اسرائیل) نے اختلاف کیا اور ان کی مختلف جماعتیں بن گئیں۔

رکوع نمبر 6 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکرفرمایا کہ انھوں نے اپنے باپ کو اسلام کی دعوت دی تو آپ علیہ السلام کے باپ نے انکار کر دیا اور کفر پر اڑا رہا تو آپ علیہ السلام نے اس سے کنارہ کر لیا اور اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام عطا فرمائے۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کوہ طور پر آنے کے بارے میں بتایا اور حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ وعدے کے سچے تھے، رسول تھے اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے اور اللہ تعالی کو پسند تھے ۔ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ وہ رسول تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بلندی پر اٹھا لیا تو یہ وہ ہیں جن پر اللہ تعالی کا انعام ہوا۔ آگے فرمایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد میں سے اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول اٹھائے ۔ نیک لوگ بھی ہوئے ۔ پھر ان کے بعد نا خلف لوگ بھی آئے جنھوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے مطابق چلے اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالی نے ان کے لئے جنت کو سجایا ہے۔ 

رکوع نمبر8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ آدمی کہتا ہے: اللہ تعالی دوبارہ مجھے کیسے بنائے گا ؟ تو آدمی غور کرے کہ جس طرح اللہ تعالٰی نے اسے پہلی مرتبہ زندہ کیا تھا بس ایسے ہی دوبارہ زندہ کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ سب انکار کرنے والوں کو دوزخ کے پاس حاضر کرے گا۔ آگے فرمایا: ہر انسان کو دوزخ پر سے (جس پر پل صراط رکھا ہوگا اور اس) پر سے گزرنا ہے۔ نیک اعمال کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ بچالے گا اور ظالموں ( کافروں، منافقوں اور گنہ گاروں ) کو اس میں ( جہنم میں ) گٹھنوں کے بل چھوڑ دے گا اور کافروں کو دنیا میں مال و دولت اور عیش و آرام عطا کر کے اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتا ہے اور قیامت کے دن انھیں سخت عذاب دے گا۔ 

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں ایک مقررہ مدت تک مہلت دی ہے۔ اس کے بعد قیامت کے روز ایمان والوں اور نیک لوگوں کو مہمان بنائے گا اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسا ہانک دے گا اور یہ کافر اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا کر اتنا بڑا جھوٹ بولتے ہیں کہ اس جھوٹ کی وجہ سے آسمان پھٹ سکتا ہے۔ زمین پھٹ سکتی ہے اور پہاڑ گر سکتے ہیں۔ واقعہ یہ ہیکہ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے اور تمام لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے بندے بن کر حاضر ہوں گے، جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے تو اللہ تعالیٰ انھیں اپنی محبت عطا فرمائے گا۔ 

(سورہ مریم مکمل)

سوره طه

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 10

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالی نے یہ قرآن پاک آپ ﷺ پر اس لئے نہیں اتارا کہ اس کی وجہ سے آپ ﷺ مشقت میں پڑ جائیں بلکہ اس لئے اتارا ہے کہ آپ ﷺ اس کے ذریعہ مسلمانوں کو بشارت دیں اور کافروں کو ڈرائیں۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصر واپس جارہے تھے تو کوہ طور پر آپ علیہ السلام کو اللہ تعالی نے نبوت ورسالت اور معجزات عطا فرمائے۔

رکوع نمبر :11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ نبوت و رسالت اور معجزات کے ملنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا مددگار بنا دے تو اللہ تعالیٰ نے قبول کر لیا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی والدہ کو الہام کیا کہ وہ آپ علیہ السلام کو صندوق میں ڈال کر دریا میں بہا دیں ۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام کو تمام باتیں تفصیل سے بتانے کے بعد اللہ تعالی نے حکم دیا کہ تم اور تمھارا بھائی دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسلام کی دعوت دو ۔ دونوں حضرات علیہما السلام نے فرعون کے دربار میں جا کر اسے اسلام کی دعوت دی۔ 

رکوع نمبر 12: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ فرعون نے اسلام کی دعوت قبول نہیں کی اور انکار کر دیا اور کہا: یہ تو جادو ہے اور جشن کے دن کو جادوگروں اور آپ علیہ السلام کے مقابلہ کا دن مقرر کر دیا ۔ تمام جادوگروں نے اپنا جادو دکھایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے نے تمام جادو کو ختم کر دیا۔ یہ دیکھ کر تمام جادوگروں نے اسلام قبول کر لیا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو گئے۔ فرعون نے جادوگروں سے کہا: میری اجازت کے بغیر تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو مان لیا ، میں تمہیں سزا دوں گا ۔ جادوگروں نے کہا: اب ہم اللہ تعالی پر ایمان لا چکے ہیں ۔ اب تجھے جو کرنا ہے کر لے ۔ ہم اسلام کو نہیں چھوڑیں گے اور مجرموں کے لئے جہنم تیار ہے کہ اُس میں سکون سے نہ زندہ رہ سکیں گے نہ مریں گے۔ ایمان والے اور نیک لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں ، وہ ہمیشہ جنت میں عیش و آرام سے رہیں گے۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی اور ” من وسلوئی کھانے کے لئے اتارا اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر حاضر ہوئے تو سامری نے اس دوران سونے کا بچھڑا بنا کر بنی اسرائیل کو اس کی عبادت کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو بتایا کہ تمہاری غیر موجودگی میں بنی اسرائیل شرک میں مبتلا ہو گئے ہیں تو آپ علیہ السلام جلال کے عالم میں واپس لوٹے۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واپس آکر اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام سے فرمایا کہ تم نے انھیں شرک سے کیوں نہیں روکا۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے بتایا کہ میں نے انہیں سمجھایا تو انھوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واپس آنے تک ہم بچھڑے کی پوجا کرتے رہیں گے اور میں نے یہ سوچ کر اُن پر سختی نہیں کی کہ کہیں آپ علیہ السلام یہ نہ سوچیں کہ میں نے آپ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل کے درمیان تفرقہ ڈال دیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے پوچھا۔ تو سامری نے کہا۔ میرے دل کو یہی اچھا لگا کہ سونے کا بچھڑا بنا کر اس کی عبادت کروں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تیری سزا یہ ہے کہ اب تو لوگوں سے کہے گا مجھے مت چھونا اور اس بچھڑے کے بت کو ریزہ ریزہ کر کے جلا دوں گا ۔ اللہ تعالیٰ نے رکوع کے آخر میں فرمایا : جس دن صور پھونکا جائے گا تو اس دن مجرموں کی آنکھیں نیلی ہوں گی اور وہ آپس میں کہیں گے : دنیا میں ہم دس رات رہے تو اُن میں سے بہتر رائے والا کہے گا نہیں ! ہم صرف ایک دن رہے۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے دن کے بارے میں بتایا کہ اُس دن پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اڑا دیئے جائیں گے ۔ زمین ہموار کر دی جائے گی اور لوگ صاف صاف پکارسن کر اس کی طرف دوڑیں گے اور کوئی بھی اللہ تعالی کی بارگاہ میں شفاعت نہیں کر سکے گا۔ صرف وہی شفاعت کر سکے گا جس کو اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور ظلم کرنے والے ( کافر، منافق اور گنبگار ) نقصان میں ہوں گے اور ایمان والے نیک لوگ فائدے میں ہوں گے۔ 

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرشتوں کے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے اور ابلیس کی نافرمانی کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد ابلیس شیطان نے کس طرح آپ علیہ السلام اور سیدہ حوا رضی اللہ عنہا کو بہکا کر جنت سے نکلوایا، اس کے بارے میں بتایا اور بتایا کہ دنیا میں انسان اور شیطان ہمیشہ ایک دوسرے کے دشمن رہیں گے اور دنیا میں اللہ تعالی اپنے رسول بھیجے گا جو اُن کا کہنا مانے گا۔ وہ کامیاب ہوگا اور جو شیطان کا کہنا مانے گا تو اللہ تعالی اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائے گا ، وہ کہے گا: اے اللہ دنیا کی زندگی میں تو میری آنکھیں تھیں ، یہاں کیوں میں اندھا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ دنیا میں میری نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی تو اندھا بنا رہا تو آج اللہ تعالی نے تجھے اندھا بنا دیا اور بے شک اس میں عقل والوں کے لئے نشانی ہے۔ 

رکوع نمبر 17 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا فروں کے لئے ایک متعین وقت دنیا میں رہنا مقرر دیا ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا۔ اس کے بعد پانچوں وقت کی نماز کے اوقات بتائے اور فرمایا کہ کافروں کے مال و دولت اور عیش و آرام کو دیکھ کر انھیں کامیاب نہ سمجھو ۔ یہ سب تو ہم نے انھیں اس لئے دیا کہ یہ اور زیادہ فتنہ میں مبتلا ہو جا ئیں اور نماز قائم کرو اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز کا حکم دو۔

 (سوره طه مکمل ) ( پارہ نمبر 16)

 

پیر، 27 مارچ، 2023

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 15 Khulasa e Quran para 15


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 15

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سوره بنی اسرائیل

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ راتوں رات خانہ کعبہ سے مسجد اقصی تک لے گیا ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب (توریت ) عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو ہدایت دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا۔ آگے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بتا دیا تھا کہ تم لوگ دو مرتبہ زمین پر بہت بڑا فساد ( برائیاں) پھیلاؤ گے اور غرور کرو گے تو پہلے فساد کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اُن پر سخت لوگوں کو مسلط کر دیا جو انھیں تلاش کر کے مارتے تھے ۔ اس کے بعد پھر بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تو پھر انھوں نے زمین پر فساد پھیلایا ( جن میں سب سے بڑا گناہ حضرت عیسی علیہ السلام کو سازش کر کے صلیب پر چڑھوانا تھا) تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایسا ذلیل کیا کہ وہ جان بچانے کے لئے پوری دنیا میں پھیل گئے ۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے فرمایا کہ اگر اب بھی تم شرارت کرو گے تو پھر ہم تمہیں عذاب دیں گے۔ 

رکوع نمبر 2 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالی کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک انھیں اپنا حکم نہ پہونچا دے اور جب وہ حکم نہیں مانتے اور انکار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں تباہ کر دیتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ جو دنیا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے دنیا عطا کرتا ہے اور جو آخرت کی کامیابی چاہتا ہے اور ایمان والا ہے تو اسے اس کی اچھی کوشش کا انعام ضرور دیا جائے گا اور اللہ تعالی دنیا میں تو کافر اور مسلمان سب کو دیتا ہے اور اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ کسی کو مال عطا کرتا ہے اور کسی کو علم عطا کرتا ہے لیکن آخرت میں وہی کامیاب ہو گا جو ایمان والا ہو اور گناہوں سے بچے اور نیک عمل کرے۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں والدین کی خدمت کے احکام دیئے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تمہارے سامنے دونوں یا کوئی ایک بڑھاپے کی عمر تک پہونچ جائے تو اُن سے اُف تک نہ کہتا اور نہ ہی انھیں جھڑکنا بلکہ ادب اور تعظیم کرنا اور نرمی اور محبت سے بات کرنا اور اُن کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عاجزی سے روتے ہوئے دعا کرنا کہ اے اللہ ! میرے والدین پر رحم فرما جیسا رحم انھوں نے مجھ پر اس وقت ( یعنی میری پیدائش اور میرے بچپن میں ) کیا تھا ، جب میں کسی لائق نہ تھا۔ اس کے بعد صدقہ اور خیرات کے احکامات دیئے اور فرمایا: اپنا مال فضول خرچی میں مت اڑاؤ کیوں کہ فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا ناشکرا ہے۔ اس کے بعد بتایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے میں کنجوسی نہ کرو لیکن اتنا زیادہ بھی خرچ نہ کرو کہ تم خود محتاج ہو جاؤ۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں اولاد کے قتل سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ انھیں اور تمہیں سب کو رزق عطا فرماتا ہے اور زنا سے منع فرمایا اور فرمایا کہ یہ بہت بڑی بے حیائی ہے اور کسی کو قتل کرنے سے منع فرمایا اور مقتول کے وارث کو قصاص کا حق دیا اور یتیم کا مال کھانے سے منع فرمایا۔ ہاں جو اسے پال رہا ہے تو اس کے جوان ہونے تک صرف ضرورت کے مطابق لے سکتا ہے اور برابر کا وزن کرنے کا حکم دیا اور بتایا کہ قیامت کے دن تمہارے کان ، آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا اور وہ جواب دیں گے اور زمین پر اترا کر چلنے سے منع فرمایا اور فرمایا: جو کفر کرے گا وہ جہنم میں دہکا دیا جائیگا رکوع کے آخر میں فرمایا: یہ کافر (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بناتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ انھیں بیٹے دے گا اور اپنے لئے بیٹیاں رکھے گا۔ بے شک کا فر اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن پاک میں جگہ جگہ الگ الگ طرح سے کافروں کو سمجھایا لیکن ہر مرتبہ ان کافروں کی نفرت بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ زمین اور آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں لیکن انسان اسے سمجھ نہیں سکتا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ سے فرمایا کہ

جب آپ ﷺ قرآن پاک کی تلاوت فرماتے ہیں تو یہ کا فر چھپ کر سنتے ہیں ( کیوں کہ انھیں اچھا لگتا ہے ) لیکن اس کے باوجود ایمان نہیں لاتے ۔ وہ اس لئے کہ یہ گھمنڈ اور تکبر میں مبتلا ہیں اور جب آپس میں بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر نعوذ باللہ جادو ہواہے اور یہ کافر کہتے ہی کہ اللہ تعالی ہماری ریزہ ریزہ ہڈیوں کو کیسے نئے سرے سے بنائے گا تو ان سے کہو کہ تم پتھر اور لوہا بن جاؤ گے تب بھی اللہ تعالی تمہیں دوبارہ پیدا کرے گا۔ 

رکوع نمبر 6 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں آپ ﷺ سے فرمایا: مسلمانوں سے کہو کہ جب بھی بات کریں تو ایسی بات کریں جو سب سے اچھی ہو اور شیطان انسانوں میں فساد ڈال دیتا ہے اور وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس کے بعد پورے رکوع میں کا فرقوموں کی تباہی اور کافروں پر واقع ہونے والے عذاب کے بارے میں بتایا۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں کے سجدہ کرنے اور ابلیس شیطان کے تکبر کرنے اور انسانوں کو بہکانے کے لئے مہلت مانگنے کا واقعہ تفصیل سے بیان فرمایا۔ اس کے بعد کافروں کے کفر کا ذ کر کیا اور بتایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کافروں کو زمین میں دھنسا دے یا اُن پر پتھروں کی بارش کرے یا انھیں غرق کر دے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں ہوگا ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم (انسان) کو زمین اور پانی پر سوار کیا اور ان کو پاک روزی دی اور تمام مخلوق سے افضل بنایا۔

رکوع نمبر 8 اور رکوع نمبر 9 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ ہر جماعت، ہر قوم اور ہر امت کو اس کے امام کے ساتھ بلائے گا تو جس کو اس کا نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کامیاب ہوگا اور جو دنیا کی زندگی میں اندھا ( انکار کرنے والا) ہوگا وہ آخرت میں اور زیادہ گمراہ ہو گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ پانچ وقت نماز کا اہتمام کرو (یہ حکم مسلمانوں کو بھی ہے ) اور فجر میں تلاوت قرآن کا اہتمام کرو کہ اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور تہجد کا اہتمام کرو اور بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو " مقام محمود ( جہاں ہر کوئی آپ ﷺ کی تعریف کرے گا ) عطا فرمائے گا اور یہ قرآن ایمان والوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور کا فرخود اپنے آپ کو نقصان میں ڈالتے ہیں

رکوع نمبر 10: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ یہ لوگ آپ ﷺ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ان سے کہو ؛ روح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چیز ہے۔ اس کے بعد چیلنج کیا کہ تمام انسان اور جنات مل کر قرآن پاک جیسی کوئی کتاب لے آئیں تو سب مل کر بھی نہیں لاسکیں گے اور اللہ تعالیٰ نے اس قرآن پاک میں طرح طرح سے مثال دے کر سمجھایا ہے لیکن اکثر انسان اسے نہیں مانتے اور کفر کرتے ہیں۔ اس کے بعد کافروں کی عجیب عجیب فرمائشوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ یہ اس کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں اور آپ ﷺ سے فرمایا کہ ان سے کہو اللہ پاک ہے اور میں اس کی طرف سے بھیجا ہوا ایک رسول ہوں۔ 

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت آجانے کے بعد بھی یہ اس لئے ایمان نہیں لا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کو رسول بنا کر بھیجا تو اگر زمین پر فرشتے رہتے اور بستے تو اللہ تعالیٰ فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتا اور اللہ تعالیٰ جسے ہدایت دے وہی سیدھی راہ پر ہے اور جسے گمراہ کرے تو کوئی بھی اس کی حمایت کرنے والا نہ ہوگا اور کا فرقیامت کے دن منہ کے بل چلتے ہوں گے۔ اندھے، بہرے اور گونگے اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہوگی اور کہتے ہیں کہ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی تو ہم کیسے دوبارہ اٹھا لئے جائیں گے تو جو اللہ تعالی زمین و آسمان بنا سکتا ہے تو وہ دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے بارے بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر بتدریج اتارا تا کہ اسے ٹھہر ٹھہر کر سکون سے اور سمجھ سمجھ کر پڑھا جائے اور فرمایا: اہل کتاب میں ایسے مؤمن ہیں (جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ ) جن پر یہ قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدے میں گر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو ۔ سب اللہ ہی کے نام ہیں اور نماز نہ بہت بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت آہستہ بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو۔ 

(سورہ بنی اسرائیل مکمل)

سوره الكهف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 13 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالٰی نے یہ کتاب (قرآن پاک ) رسول اللہ ﷺ پر اس لئے اتاری تا کہ آپ ﷺ کافروں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور مسلمانوں کو اُن کے نیک اعمال پر بشارت دیں اور یہ کافر اللہ تعالیٰ کی ( نعوذ باللہ ) اولاد بناتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھتے ہیں ۔ اس کے بعد رسول الله ﷺ کوتسلی دی کہ اس غم میں آپ ﷺ کہیں اپنے آپ کو اتنا نہ گھلا لیں کہ جان پر بن آئے ۔ اگر یہ کا فر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اس میں اُن کا قصور ہے۔ آپ ﷺ تو اپنا کام ( اسلام کی دعوت دینے کا ) برابر کر رہے ہیں ۔ اس کے بعد اصحاب کہف کے واقعہ کے بارے میں بتایا۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اصحاب کہف کچھ نو جوان ہیں جنھوں نے (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوت پر) اسلام قبول کیا اور اپنی بستی ( جس میں سب کافر تھے ) میں اپنے اسلام کا اعلان کردیا بستی والے اُن کی جانوں کے دشمن بن گئے تو وہ نو جوان اپنی جان بچا کر بستی سے نکلے اور ایک غار میں پناہ لی، تو اللہ تعالیٰ نے انھیں سلا دیا اور سورج جب نکلتا تو وہ داہنی طرف سے چلا جاتا اور جب غروب ہوتا تو بائیں طرف چلا جاتا حالانکہ وہ غار کے کھلے میدان میں تھے اور یہ اللہ تعالیٰ کی صاف نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ 

رکوع نمبر 15 اور رکوع نمبر 16 

اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں اصحاب کہف کے بارے میں بتانے کا سلسلہ جاری رکھا اور بتایا کہ اگر کوئی اُن کو دیکھتا تو یہ سمجھتا کہ وہ سورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ انھیں دائیں اور بائیں کروٹ بدلوا تا تھا اور اُن کا کتا غار دہانے پر بیٹھا ہوا تھا ( اُن کے سونے کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو عروج دیا اور اسلام پھیلتے پھیلتے اس بستی تک پہنچ گیا اور اس وقت کے مسلمانوں (جنھوں نے اپنے آپ کو بعد میں عیسائی کہنا شروع کر دیا ) کے سامنے یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ اللہ تعالی موت کے بعد دوبارہ کیسے زندہ کر کے اٹھائے گا؟ تب اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو جگایا ) جب وہ سو کر اٹھے تو ایک نے پوچھا کہ ہم یہاں کتنی دیر تک سوئے ؟ تو دوسرے نے کہا: ایک دن یا اُس سے کچھ کم ۔ تیسرے نے کہا یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم کتنی دیر سوئے؟ تو ان میں سے ایک کو پیسہ دے کر بستی میں بھیجا کہ وہ کھانا لے آئے اور کہا کہ ہوشیار رہنا کہیں ہماری بستی والے تمہاری جان نہ لے لیں یا اسلام چھوڑنے پر مجبور نہ کر دیں (وہ بستی میں آیا تو حیران رہ گیا کیونکہ سب کچھ بدل گیا تھا اور لوگ اس کے لباس اور پیسے کو دیکھ کر حیران ہو رہے تھے تو اس نے سبب پوچھا تو اسے بتایا گیا ۔ اسے سمجھ میں آیا کہ وہ لوگ لگ بھگ تین سو سال تک سوئے رہے۔ بادشاہ کو معلوم ہوا ( وہ مسلمان تھا) اس نے اس سے تفصیل پوچھی اور پوری بستی والوں کو ساتھ لے کر اس کے ساتھ غار تک پہنچے ۔ تمام اصحاب کہف کو جب پوری بات معلوم ہوئی تو وہ پھر جا کر غار میں لیٹ گئے اور اُن کی روح قبض ہو گئی۔ اس طرح اللہ تعالی نے اصحاب کہف کے ذریعہ دنیا والوں کو بتایا کہ موت کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ کیسے زندہ کرے گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ اُن لوگوں پر توجہ کریں جو اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

رکوع نمبر 17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں دو مردوں کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بہترین باغ عطا فرمائے اور بہترین پھلوں سے رزق دیا۔ ایک اپنے باغ اور پھلوں پر اترانے لگا اور گھمنڈ کرنے لگا کہ قیامت تک میرا باغ ایسے ہی ہرا بھرا اورپھل دیتا رہے گا۔ دوسرے نے اسے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ نے تجھے یہ سب عطا فرمایا ہے، اس کا شکر ادا کر اور گھمنڈ نہ کر لیکن وہ نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا باغ تباہ کر دیا اور وہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔ 

رکوع نمبر 18 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں دنیا کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالی نے بارش برسائی ، اس سے گھنی ہری بھری گھاس اگائی اور پھر گھاس سوکھ کر ہوا میں اڑ گئی۔ دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور مال اور اولاد دنیا تک محدود ہیں۔ اصل چیز نیک اعمال ہیں جن کا بدلہ اس دن ملے گا جس دن اللہ تعالی پہاڑوں کو روئی کی طرح اڑائے گا تو سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور بالکل اسی حالت میں ہوں گے جیسے پیدائش کے وقت تھے۔ پھر مجرموں کے تمام گناہ سامنے آئیں گے اور اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

رکوع نمبر 19

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں ابلیس کی نافرمانیوں کے بارے میں بتایا اور فرمایا تم اللہ تعالی کے مقابلہ میں شیطان ابلیس اور اس کی اولاد کو دوست بناتے ہو۔ جب کہ وہ تمہارے دشمن ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کی تخلیق تنہا کی ہے اور اس کی شان نہیں کہ اپنی تخلیق میں کسی کو ساتھی بنائے تو مجرم ضرور جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالی نے اس قرآن پاک میں طرح طرح سے ہر قسم کی مثالیں بیان فرما ئیں لیکن انسان اس کے باوجود کفر کرتا ہے اور وہ بہت جھگڑالو ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ وہ کون سی چیز ہے جو صاف ہدایت آجانے کے بعد بھی ان کافروں کو روک رہی ہے؟ انھیں چاہیئے تھا کہ اسلام قبول کرتے اور اللہ تعالی سے معافی مانگتے اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو صرف اسی لئے بھیجا کہ وہ ایمان والوں کو بشارت دیں اور کافروں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور کافروں اور اہل کتاب نے قرآن پاک کا مذاق بنا لیا۔ یہ بہت بڑے ظالم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے منہ پھیرتے ہیں، تو اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے اور کانوں کو بند کر دیا ہے۔ 

رکوع نمبر :21 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کی ملاقات کا ذکر فرمایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُن کی تلاش میں چلے اور اللہ تعالی کی بتائی ہوئی نشانی کے مطابق آپ علیہ السلام کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ۔ آپ علیہ السلام نے ساتھ رہنے کی درخواست کی تو حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: میں جو کچھ کروں گا آپ اُس پر صبر نہیں کر سکیں گے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں صبر کرنے کی کوشش کروں گا۔ 

(پارہ نمبر 15 مکمل) 

 

اتوار، 26 مارچ، 2023

Khulasa e Quran خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 14


 خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 14

مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سوره الحجر 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1

اس رکوع کی ایک آیت پارہ نمبر 13 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کے بارے میں بتایا کہ قیامت میں کافر آرزو کریں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے تو کافروں کو دنیا میں اُن کے حال پر چھوڑ دو کہ یہ دنیا کے عیش و آرام میں مگن رہیں اور اللہ تعالی نے جس بستی کو بھی ہلاک کیا تو اس کے مقررہ وقت پر کیا اور کا فر رسول اللہ ﷺ کو ( نعوذ باللہ ) مجنوں کہتے ہیں اور فرشتوں کے اترنے کی مانگ کرتے ہیں۔ اگر فرشتے آ جاتے تو انھیں مہلت ہی نہیں ملتی اور یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اور اللہ تعالی ہی اس کی حفاظت کرے گا اور جتنے بھی رسول آئے اُن سب کا مذاق اڑایا گیا۔ اگر ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں اور یہ صبح و شام چڑھیں اتریں تب بھی ایمان نہیں لائیں گے اور اسے جادو کہیں گے۔

رکوع نمبر 2

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی یہ کائنات بنائی ہے اور وہی اس کا انتظام چلا رہا ہے۔ اللہ تعالی نے بتایا کہ میں نے آسمان کو ستاروں سے سجایا اور شیطانوں سے محفوظ رکھا اور زمین پھیلائی اور اس میں ہر چیز اُگائی۔ جنھیں تم کھاتے ہو اور ان سے دوسرے فائدے اٹھاتے ہو اور ہوائیں بھیجیں، بادلوں کو بنایا اور آسمان سے پانی اتارا تم پیتے ہو اور اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہےاور اللہ تعالیٰ ہی مارتا ہےاور اللہ تعالیٰ آگے بڑھنے والوں اور پیچھے رہنے والوں کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب کو جمع کرے گا۔

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے کیچڑ سے بنایا اور جنات کو اس سے پہلے بغیر دھویں والی آگ سے بنایا اور جب اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم میں روح پھونکی تو اللہ تعالی کے حکم سے تمام فرشتوں نے آپ علیہ السلام کو سجدہ کیا اور شیطان نے نہیں کیا ۔ اس نے کہا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور یہ مٹی سے تو میں اس سے بہتر ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دھتکار دیا تو اس نے کہا کہ اس انسان کی وجہ سے تو مجھے دھتکارتا ہے تو میں اسے گمراہ کروں گا اور جہنم کی طرف لے جاؤں گا لیکن نیک بندوں پر میرا زور نہیں چلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو بھی تیری بات مانے گا تو میں جہنم کو تجھ سے اور اُس سے بھر دوں گا اور جہنم کے سات دروازے ہیں۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں جنتی لوگوں کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کے بارے میں بتایا کہ انھوں نے آپ علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی بشارت دی اور بتایا کہ ہم حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو عذاب دینے جا رہے ہیں ۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے بارے میں بتایا کہ فرشتے نوجوان لڑکوں کی شکل میں آپ علیہ السلام کے پاس پہنچے اور آپ علیہ السلام سے کہا کہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ پھر آپ علیہ السلام کی قوم پر ایسا عذاب آیا کہ نیچے کا حصہ اوپر اور بستی کے اوپر کا حصہ نیچے کر دیا اور پتھروں کی بارش کی گئی اور یہ بستی بڑے راستے پر ہے اور اس میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حجر والوں پر عذاب کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو سات آیتیں (سورہ الفاتحہ ) عطا فرمائی ہے جو نماز میں بار بار دہرائی جاتی ہے تو تم کو کافروں کو نظر انداز کر دو اور مسلمانوں پر اپنی نظر کرم رکھو اور جن لوگوں (اہل کتاب) نے اللہ تعالیٰ کے کلام ( یعنی توریت اور انجیل ) کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اللہ تعالیٰ اُن سے پوچھے گا تو تم اپنے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرو اور مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ 

(سورہ حجر مکمل ہوئی )

سورة النحل 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اس نے انسان کو بنایا جو اللہ تعالی کے شریک بناتا ہے اور کفر کرتا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے فائدے کے لئے جانوروں اور مویشیوں کو بنایا ہے تو انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے لئے بارش برساتا ہے۔ اس نے درخت اُگائے۔ اناج اگائے اور ہر قسم کے پھل اگائے اور رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند اور ستاروں کو بنایا اور ندیاں ، دریا اور سمندر بہائے تا کہ انسان اس میں سے گوشت کھائے ۔ یہ تمام چیزیں انسانوں کے فائدے کے لئے بنائے اور ایسی نعمتیں عطا فرمائیں کہ انسان ان نعمتوں کو گن نہیں سکتا۔ اس کے باوجود انسان کفر کرتا ہے اور جن کو وہ اللہ تعالٰی کے سوا معبود بناتے ہیں وہ کچھ نہیں کر سکتے کیوں کہ وہ خود بنائے گئے ہیں اور انھیں یہ معلوم نہیں کہ قیامت کب آئے گی۔ 

رکوع نمبر 9 اور رکوع نمبر :10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کے اعمال کے بارے میں بتایا اور یہ بتایا کہ جب فرشتے کافروں کی روح قبض کرتے ہیں تو انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لئے تیار رہنے کو کہتے ہیں۔ اس کے بعد مومنوں کے بارے میں بتایا کہ انھیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بھلائی ملے گی اور جب فرشتے مؤمنوں کی روح قبض کرتے ہیں تو انھیں سلام کرتے ہیں اور جنت کی بشارت دیتے ہیں۔

الله رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو ہم دوسروں کو نہ پوجتے نہ ہمارے باپ دادا، تو ایسی ہی بے تکی بات اُن سے پہلے کے کافروں نے بھی کی تھی اور رسولوں کا کام تو صرف پیغام پہونچا دینا ہے اور اللہ تعالی نے ہر قوم میں رسول بھیجے ہیں۔ اسلام کی دعوت دی اور شیطان سے بچنے کی ہدایت کی تو کچھ نے اسلام قبول کیا اور اکثر گمراہ رہے۔ اللہ تعالیٰ کا قیامت کا وعدہ سچا ہے اور کافر جھوٹے ہیں۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مہاجرین کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا ہے ۔ اسے لوگوں کے سامنے بیان کرو۔ اب اس کے بعد جو کفر کرے گا اس کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔ انسان غور کرے کہ اس کی پرچھا ئیں دائیں اور بائیں سجدہ کرتی ہے اور اس کے علاوہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے۔ سب اللہ تعالی کو سجدے کرتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ کافر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال کرتے ہیں اور اس کا دیا ہوا رزق کھاتے ہیں پھر بھی کفر کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی ( نعوذ باللہ) بیٹیاں بناتے ہیں جب کہ اللہ تعالی ان سب سے پاک ہے اور جب کافروں کو بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اُن کے منہ غصہ سے کالے ہو جاتے ہیں اور لوگوں سے چھپتے پھرتے ہیں اور اُن کا بس چلے تو بیٹی کو زندہ دفن کر دیں۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اگر اللہ تعالی لوگوں کے اعمال پر پکڑ کرنا شروع کر دے تو اس زمین پر بسنے والا کوئی بھی جاندار نہیں بچ سکے گا لیکن اللہ تعالیٰ ایک مقررہ وقت تک ہر ایک کو مہلت دیتا ہے اور جب اس کا وقت پورا ہو گا تو نہ ایک لمحہ آگے ہوگا نہ پیچھے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: یہ قرآن پاک مؤمنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ ہم چوپایوں کے پیٹ میں گوبر اور خون کے درمیان سے بہترین دودھ نکالتے ہیں اور کھجور اور انگور اور تمہارے لئے بہترین رزق اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے شہد کی مکھی کو الہام کیا تو وہ بہترین شہد بناتی ہے جس سے تم لوگوں کو طاقت اور شفا ملتی ہے۔ عقل والوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے ان میں نشانیاں ہیں۔

رکوع نمبر :16

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بہت سوں کو رزق ( مال و دولت ) زیادہ عطا فرمایا تو کیا وہ اپنا مال و دولت دے کر اپنے غلاموں کو اپنے برابر کھڑا کرنا پسند کریں گے؟ نہیں...! ، تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کے شریک کیوں بناتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں عورتیں ، بیٹے پوتے اور نواسے عطا فرمائے اور بہترین پاک رزق عطا فرمایا۔ پھر کیوں اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہو۔ اس کے بعد دو مثالوں کے ذریعے بتایا کہ مومن اور کافر برابر نہیں ہو سکتے۔ 

رکوع نمبر 17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اس نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے پیدا کیا اور کان اور ناک اور دل عطا فرمائے اور پرندوں کو دیکھو کہ آسمان کی فضا میں اڑتے پھرتے ہیں اور تمہیں رہنے کے لئے گھر عطا فرمائے اور جانوروں کی کھال سے خیمے بنانا سکھائے اور اون اور ببیری ( یعنی اونٹ کے بال ) عطا فرمائے اور درخت اور بادلوں سے سائے عطا فرمائے اور پہاڑوں میں پناہ لینے کی جگہیں عطا فرمائیں۔ ان سب میں عقل والوں اور غور و فکر کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ اب اس کے بعد بھی کافر اپنے کفر پر اڑے رہیں تو آپ ﷺ اور مسلمانوں کا کام صرف صاف صاف بات پہنچا دینا ہے۔ 

رکوع نمبر 18

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن کافروں کو بہت سخت عذاب ہوگا جن کو وہ اللہ تعالیٰ کا شریک بناتے ہیں وہ بھی دوزخ میں کافروں کے ساتھ ہوں گے اور دونوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں گے اور ایک دوسرے سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ قیامت کے دن ہر نبی اور رسول اپنی اپنی امت کی گواہی دیں گے اور رسول اللہ ﷺ تمام نبیوں اور رسولوں کی گواہی دیں گے اور یہ قرآن پاک مسلمانوں کے لئے ہدایت ، رحمت اور بشارت ہے۔

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو عدل و انصاف کرنے ، نیکی کرنے اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا اور بے حیائی کرنے ، بری بات اور برے اعمال کرنے اور اللہ کے خلاف سرکشی کرنے کو منع فرمایا۔ اس کے بعد سوت کاتنے والی عورت کی مثال دے کر سمجھایا کہ اس کی طرح اپنے اعمال برباد نہ کر لینا۔ اس کے بعد فرمایا کہ مسلمان مرد ہو یا عورت جو بھی اچھے اور نیک اعمال کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا بھر پور صلہ عطا فرمائے گا۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ قرآن پاک کی تلاوت سے پہلے شیطان مردود سے پناہ مانگو اور مسلمانوں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والوں پر اس کا قابو نہیں ہے لیکن کافروں پر اس کا پورا قابو ہے۔ 

رکوع نمبر 20

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ اس قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا تو مسلمان اس کی وجہ سے ثابت قدمی پر قائم ہوتے ہوئے ہدایت اور بشارت حاصل کرتے ہیں اور کا فر آپ ﷺ پر الزام لگاتے ہیں کہ ( نعوذ باللہ ) آپ ﷺ نے اسے اپنے من سے بنالیا ہے یا کوئی آدمی آپ ﷺ کو سکھاتا ہے۔ یہ اللہ تعالی پر اور آپ ﷺ پر جھوٹا الزام لگاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور آخرت میں اُن کا برا انجام ہے۔ اس کے بعد مہاجرین کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کی بشارت دی۔ 

رکوع نمبر 21 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کے بارے میں بتایا کہ ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔ اس کے بعد ایک بستی کی مثال بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ہر طرح سے بھر پور رزق عطا فر مایا تھا۔ ان کے پاس رسول آئے تو انھوں نے جھٹلایا اور انکار کر دیا تو اللہ کا عذاب اُن پر آیا۔ اُن کا تمام رزق چھین لیا گیا اور وہ بھوک اور ڈر میں مبتلا ہو گئے۔ اس کے بعد بتایا کہ مسلمان پر مردار، خون اور خنزیر (سور ) کا گوشت حرام ہے۔ اب جو انھیں حلال کہے گا تو اس نے در حقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ اس کے بعد بتایا کہ یہودیوں پر بھی یہ حرام تھا لیکن انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ( یعنی اسے حلال کر لیا) اس کے بعد بتایا کہ اگر کوئی برائی کر بیٹھے اور توبہ کرلے ( یعنی اس گناہ پر نادم ہو کر اسے چھوڑ دے اور آئندہ اس کام کے بالکل نہ کرنے کا عزم کرلے) تو اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔ 

رکوع نمبر 22 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اوصاف بیان فرمائے کہ آپ علیہ السلام دنیا کے امام ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار تھے اور مشرک بالکل نہیں تھے ۔ اللہ تعالیٰ کے احسان پر شکر کرنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں منتخب کر لیا اور وہ سیدھی راہ پر تھے اور اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا میں بھلائی عطا فرمائی اور آخرت میں اُن کی شان کے مطابق عطا کیا جائے گا۔ اب تم ابراہیم علیہ السلام کے دین (اسلام) کی پیروی کرو۔ اس کے بعد آپ ﷺ اور مسلمانوں کو ہدایت دی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف حکمت اور اچھے طریقے سے لوگوں کو بلاؤ اور سب سے بہتر طریقہ سے اُن سے بحث کرو۔ اس کے بعد فر مایا کہ اگرتم سزا دو تو اتنی ہی سزا دو جتنی تھیں تکلیف پہونچائی گئی ہو اور اگر صبر کرو تو یہ بہت ہی اچھا ہے اور اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ ہے جو برائی کرنے سے ڈرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتے ہیں ۔

 (سورہ النحل مکمل ) 

( پارہ نمبر 14 مکمل)

Khulasa e Quran خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 13


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 13

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اس رکوع کی دس آیتیں پارہ نمبر 12 میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ بادشاہ نے خواب دیکھا اور اس کی تعبیر اپنے عالموں سے پوچھی تو وہ نہ بتا سکے۔ بادشاہ کو پریشان دیکھ کر بچ جانے والے خدمتگار نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو بادشاہ نے اپنا خواب بیان کردیا۔خدمت گار نے کہا: جیل میں ایک شخص ہے جو اس خواب کی صحیح تعبیر بتا سکتا ہے۔ اس خدمت گار نے آپ علیہ السلام سے تعبیر پوچھی، آپ علیہ السلام نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتا دی ۔ ساتھ ہی پیش آنے والے مشکل حالات سے آگاہ کر کے اس سے بچنے کی تدبیر بھی بتا دی۔ بادشاہ بہت متاثر ہوا اور اس نے آپ علیہ السلام کو بلانے کے لئے ایلچی بھیجا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: واپس جاؤ اور بادشاہ سے کہو ( وہ تحقیق کرے ) کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنھوں نے اپنے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے تو بادشاہ نے تحقیق کر کے اس عورت سے پوچھا تو اس عورت نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ۔ پھر بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پیش آمدہ مسائل و مشکلات کے حل کے بارے میں مشورہ کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: حکومت کا انتظام مجھے دے دیں، بادشاہ نے آپ علیہ السلام کو ذمہ دار بنا دیا۔ 

2رکوع نمبر 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے سات سال تک مصر کا انتظام اتنی اچھی طرح سنبھالا کہ جب قحط پڑا تو مصر کے آس پاس کے علاقوں میں اناج ختم ہو گیا لیکن مصر میں کئی برسوں کا اتنا اناج تھا کہ وہ آس پاس کے علاقوں کے لوگوں بھی دے رہے تھے۔ آپ علیہ السلام کے بھائی اناج لینے کے لئے آئے تو آپ علیہ السلام نے انھیں پہچان لیا لیکن انجان بنے رہے۔ ان کو اناج دیا اور حال چال پوچھا اور جب انھوں نے بتایا کہ ایک بھائی ہمارا اور ہے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا اگلی مرتبہ اسے بھی لے آتا تو تمہارا ایک حصہ اور بڑھ جائے گا اور اُن کے روپئے ان کی لاعلمی میں ان کے سامان میں رکھ دیئے۔ تمام بھائی اناج لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اگلی مرتبہ بنیامین کو بھی بھیجیں گے تو اس کے حصے کا اناج بڑھ جائے گا اور جب اناج کے تھیلے کھولے تو اپنے روپے دیکھ کر حیران رہ گئے اور اپنے والد سے بن یامین کو بھی بھیجنے کا اصرار کرنے لگے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم لوگ اپنی جان سے بڑھ کر بن یامین کی حفاظت کرنے کا وعدہ کرو تو میں بھیج سکتا ہوں ۔ تمام بھائیوں نے ایسا ہی کرنے کا وعدہ کیا ۔ چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے بن یا مین کو ان کے ساتھ مصر بھیج دیا۔ 

رکوع نمبر 3

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ تمام بھائی جب حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ علیہ السلام نے انھیں مہمان خانے میں ٹھہرایا اور اکیلے میں بن یامین سے ملاقات کر کے بتایا کہ میں یوسف ہوں ( تمہارا بھائی) لیکن ابھی تمام بھائیوں کو یہ بات نہ بتانا۔ پھر جب اناج لے کر تمام بھائی جانے لگے تو اعلان ہوا کہ بادشاہ کا ، اناج ناپنے کا پیمانہ نہیں مل رہا ہے۔ اس لئے سب تلاشی دیں اور تمام بھائیوں سے پوچھا: تمہارے یہاں چور کی کیا سزا ہے؟ تو انھوں نے کہا چوری کرنے والا ، سامان کے مالک کا غلام ہو جاتا ہے ۔ جب تلاشی لی گئی تو پیمانہ بن یامین کے سامان میں ملا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اب تم لوگ جاؤ، یہ میرے پاس رہے گا۔ تمام بھائی آپ علیہ السلام کی خوشامد کرنے لگے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام اپنے فیصلہ پر قائم رہے۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ جب تمام بھائی بن یامین کو چھڑانے میں ناکام رہے تو بڑے بھائی نے تمام بھائیوں سے کہا کہ ہم نے ابا جان سے بن یا مین کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ اس سے پہلے ہم یوسف کے معاملے میں ابا جان کے ساتھ دھو کہ کر چکے ہیں اس لئے اب میں تو یہیں رک جاؤں گا اور بن یامین کی رہائی کی کوشش کرتا رہوں گا ، ہو سکتا ہے اللہ تعالی اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ دوسرے تمام بھائی حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تمام حال بتایا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا تم نے یوسف کے معاملے میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔ تمام بھائی بولے: آپ کب تک یوسف کو یاد کرتے رہیں گے؟ حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا: اے میرے بیٹو! جاؤ، یوسف اور بن یامین کے لئے کوشش کرو۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس تو صرف کا فر ہوتے ہیں۔ تمام بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ہم پر بڑی مصیبت آن پڑی ہے ۔ یہ تھوڑے سے پیسے لے کر ہمیں پورا اناج خیرات سمجھ کر دے دیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم جانتے ہو، تم نے یوسف اور اس کے سگے بھائی کے ساتھ کیا کیا۔ اس پر انہوں نے غور سے آپ علیہ السلام کو دیکھا تو پہچان گئے اور بولے ! بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو فضیلت عطا فرمائی اور بے شک ہم نے بہت بڑی خطا کی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ یہ میری قمیص ہے ، اسے لے جاؤ اور ابا جان کے چہرے پر ڈال دینا۔ ابا جان کی بینائی لوٹ آئے گی پھر گھر کے سب لوگوں کو لے کر میرے پاس آجاؤ۔ 

رکوع نمبر 5 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ تمام بھائی حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسے حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈال دیا تو آپ علیہ السلام دیکھنے لگے۔ بھائیوں نے انہیں حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر کا بادشاہ ہونے کی خوشخبری سنائی اور درخواست کی کہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں پھر آپ علیہ السلام کو لے کر مصر پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام استقبال کے لئے مصر کے باہر موجود تھے۔ سب کو ساتھ لے کر محل میں پہنچے اپنی والدہ اور والد کو دائیں بائیں بٹھایا اور تمام گیارہ بھائیوں نے اس زمانے کے دستور کے مطابق آداب شاہی پیش کیا: حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: ابا جان ! یہ ہے میرے اس خواب کی تعبیر جو میں نے بچپن میں دیکھا تھا، آج چاند ( یعنی ماں) اور سورج (یعنی باپ ) میرے دائیں اور بائیں ہیں اور گیارہ ستارے ( یعنی گیارہ بھائی ) مجھے آداب پیش کر رہے ہیں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا ہے اور شیطان نے ہم بھائیوں کو الگ کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد کی۔ مجھے خوابوں کی تعبیر سکھلائی اور سلطنت عطا فرمائی۔ 

رکوع نمبر 6

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی شرک کرتے ہیں۔ ان سے کہو ، میری اتباع کریں اور آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول بھیجے وہ سب مرد تھے اور جب رسولوں اور مسلمانوں کو ظاہری طور سے ناکام ہوتا دکھائی دیا اور کافر سمجھے کہ رسولوں نے (نعوذ باللہ ) غلط کہا تب اللہ تعالیٰ کی مدد آئی۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو بچالیا اور کافروں کو دردناک سزا دی۔ بے شک اُن کے واقعات میں عقلمندوں کے لئے نشانی ہے اور ان خبروں سے اُن کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ 

(سورہ یوسف مکمل ہوئی)

سوره الرعد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 7

اس رکوع سے سورہ الرعد کی شروعات ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے رکوع کے شروع میں فرمایا: یہ قرآن پاک کی آیتیں ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے اور برحق ہے۔ مگر اکثر لوگ اسے قبول نہیں کرتے ۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر ستون اور سہارے کے آسمانوں کو بلند اور قائم کیا اور عرش کو بنایا اور اپنی شان کے مطابق جلوہ افروز ہوا اور سورج اور چاند بنائے ۔ ہر ایک اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے پھل دو دو طرح کے بنائے ۔ رات اور دن بنائے ۔ بے شک غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں اور زمین کے مختلف حصے بنائے اور ان میں باغ ہیں ۔ کھیتیاں ہیں ۔ کھجور کے پیڑ ہیں۔ سب کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے اور اُن کے ذائقے الگ الگ ہیں ۔ بے شک عقل مندوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں۔ عجیب بات تو کافر کرتے ہیں کہ ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ یہ ہیں انکار کرنے والے۔ یہ جہنم میں ہوں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور آپ ﷺ تو صرف اللہ کے عذاب سے ) ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک بادی ( راہ دکھانے والا ) مقرر کیا ہے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ اور اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا اندازہ مقرر کر دیا ہے۔ ہر چھپی اور کھلی چیز کو جانتا ہے۔ دھیرے کہو یا زور سے وہ سب سنتا ہے اور رات میں چھپی ہوئی اور دن میں کھلی ہوئی ہر چیز کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان پر فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور ( فجر اور عصر کے وقت ) اُن کی بدلی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنا نہ چاہیں اور اللہ تعالیٰ ہی بھاری بادلوں کو اٹھاتا ہے اور بجلیاں چمکاتا ہے اور بادل اس کے حکم سے گرجتے ہیں اور ( بجلی کی ) کڑک بھیجتا ہے اور کافروں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے معبود بنالئے جب کہ وہ اُن کی کچھ بھی نہیں سنتے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے وہ کامیاب ہوئے ۔ بے شک اندھے اور آنکھ والے برابر نہیں ہو سکتے۔

رکوع نمبر 9 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں مومنین کے بارے میں بتایا اور جنت کی بشارت دی اور کافروں کی عادتیں اور ان کی بداخلاقیوں کو اجاگر کیا اور ان کی سزا اور ان کا آخری انجام بیان فرمایا ۔ مؤمنین کی خصوصیات میں بتایا کہ یہ آنکھ والے ہیں، عقل والے ہیں، نصیحت قبول کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ سے جو عبد کیا ہےاسے پورا کرتے ہیں، اللہ تعالی نے جن سے جڑنے کا حکم دیا اُن سے جڑتے ہیں۔ اللہ تعالی کے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رہتا ہے اور حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں اور صبر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں اور برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں۔ یہ جنت میں اپنے نیک والدین ، نیک بیویوں اور نیک اولاد کے ساتھ ہوں گے (جن مومن خواتین کے اندر یہ صفات اور عادات ہوں گی وہ جنت میں اپنے نیک شوہروں کے ساتھ ہوں گی ) اور فرشتے ان کو سلام کرنے آئیں گے ۔ کافروں کی صفات اور عادات کے بارے میں بتایا کہ یہ اللہ تعالی سے پکا عہد کر کے اسے توڑ دیتے ہیں (یعنی تو حید کو چھوڑ کر شرک جیسے قبیح اور ناقابل معافی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ) اور جن سے جڑنے کا اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں اُن سے تعلق اور رشتہ ناطہ توڑتے ہیں اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کے کام کر کے فساد پھیلاتے ہیں ۔ ان پر لعنت ہے اور یہ برے گھر ( یعنی جہنم) میں ہوں گے اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہے تنگ دیتا ہے ۔ کافر اپنے عیش و عشرت پر اتراتے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑی ہے۔

رکوع نمبر 10

اس رکوع میں بھی مومنوں اور کافروں کا ذکر جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کافر کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پراللہ تعالی کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ؟ تو اللہ تعالی انکار کرنے والوں کو اسی طرح گمراہ کرتا ہے جب کہ مومنوں کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد ہی سے چین وسکون پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی یاد ہی میں در حقیقت دلوں کا چین وسکون ہے، ایمان والے کامیاب ہوئے اور جو انکار کرنے والے (کافر) ہیں اُن کے سامنے پہاڑ ہل جائیں یا زمین پھٹ جائے یا مردے باتیں کرنے لگیں، جب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ تعالی اگر چاہتا تو سب کو ہدایت دے دیتا لیکن پھر امتحان کہاں سے ہوتا ؟ بس کا فروں پر اللہ تعالی کی لعنت ہو گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ 

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مؤمنوں اور کافروں کے ساتھ ساتھ اہل کتاب کا بھی ذکر کیا۔ رکوع کے شروع میں فرمایا: آپ ﷺ سے پہلے جتنے رسول آئے اُن سب کا مذاق اڑایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کو کچھ دنوں کی مہلت دی اور پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں پکڑ لیا اور کافروں کی نگاہوں میں اُن کے اعمال انھیں اچھے لگتے ہیں اور جسے اللہ تعالی گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور کافروں کے لئے دنیا اور آخرت دونوں جگہ عذاب ہے اور مومنوں کے لئے جنت کا وعدہ ہے جس میں نہریں بہتی ہیں اور میوے اور سایہ ہے اور اہل کتاب کو تو چاہیئے تھا کہ آپ ﷺ پر ایمان لاتے اور قرآن پاک کو حق مانتے لیکن ان بد بختوں نے بھی انکار کیا تو آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں اور مسلمانوں سے فرمایا: اگر کافروں اور اہل کتاب کی خواہشوں کے مطابق چلو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ 

رکوع نمبر :12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں آپ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے آپ ﷺ سے پہلے بھی رسول بھیجے اور وہ بھی بیویاں اور بچے رکھتے تھے اور کوئی بھی رسول اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی کوئی نشانی پیش کر سکتا ہے تو آپ ﷺ کے ذمہ اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیتا ہے اور حساب لینا اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور اللہ تعالی کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی ۔ 

(سورہ الرعد مکمل ہوئی )

سوره ابراہیم 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 13 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں آپ ﷺ سے فرمایا : یہ قرآن پاک اللہ تعالی نے آپ ﷺ پر نازل فرمایا تا کہ آپ ﷺ اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیرے سے اجالے میں لائیں۔ اس کے بعد بتایا کہ کافروں کو دنیا کی زندگی پیاری ہے ۔ وہ اللہ تعالی کی راہ (یعنی صراط مستقیم ) سے روکتے ہیں اور گمراہی میں مبتلا ہیں۔ آگے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کو اسی کی قوم میں سے بھیجا جو ان ہی کی زبان میں باتیں کرتا تھا۔ رکوع کے آخر میں بتایا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کا احسان یاد دلایا۔ 

رکوع نمبر 14

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر جاری رکھا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر پوری دنیا کے لوگ کا فر ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود اور بہت سی قوموں کے پاس انھیں میں سے رسول آئے لیکن انھوں نے انکار کیا اور کہا کہ تم یہ چاہتے ہو کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کرتے تھے ہم اُن کی عبادت نہ کریں تو تم اپنی رسالت کی سند بتاؤ تو رسولوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر سند نہیں لا سکتے اور ہم تو اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ کافروں نے رسولوں سے بدتمیزی کی اور اسلام کی دعوت روکنے کی بھر پور کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے رسولوں سے فرمایا کہ ہم ضرور ان ظالموں کو ہلاک کریں گے اور ضرور تم کو زمین میں بسائیں گے۔ اس کے بعد کافروں کے بارے میں بتایا کہ جہنم میں انھیں پینے کے لئے پیپ دیا جائے گا جو گھونٹ گھونٹ کر کے پی سکے گا اور پھر بھی گلے سے اترنا مشکل ہوگا۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی حق کے ساتھ زمین اور آسمان بنائے اور اگر وہ چاہے تو تمہیں تباہ کر کے نئے لوگوں کو لے آئے اور یہ اس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ اس کے بعد بتایا کہ جہنم میں کافر اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ ہم پر سے تکلیف کو کچھ ٹال دو تو سردار کہیں گے: ہم بھی اسی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ اب ہم چاہے بے قراری سے برداشت کریں یا صبر سے ، ہمارے لئے کوئی پناہ نہیں ہے۔ 

رکوع نمبر 16

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں جہنم کا ذکر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ ان کافروں سے شیطان کہے گا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم پر زبردستی نہیں کی تھی ، میں نے تو صرف تم کو بہکایا تھا اور تم مان گئے ۔ تو اب مجھ پر نہیں خود پر الزام رکھو۔ اور پھر مؤمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ جنت میں ہوں گے ۔ جہاں اُن پر سلام ہوگا اور اُن کا اکرام ہوگا۔ اس کے بعد کلمہ طیبہ کی مثال بیان کی کہ یہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ گہری قائم ہے اور شاخیں آسمان تک پھیلی ہوئی ہیں اور وہ اپنا پھل اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر وقت ہر موسم میں دیتا رہتا ہے اور کفر کی مثال ایسی ہے کہ وہ ایک گندے پیڑ کی طرح ہے جس کو اکھاڑ کر زمین پر رکھ دیا گیا ہو۔ اب اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں حق پر قائم رکھتا ہے۔

رکوع نمبر :17

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے (رسولوں کو جھٹلا کر) اللہ تعالی کی نعمت کا انکار کیا اور ہلاکت تک پہنچ گئے۔ پھر مؤمنوں کے بارے میں بتایا کہ وہ اللہ تعالی پر اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دیئے رزق میں سے اللہ تعالی کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ اس دن (یعنی قیامت) کے آنے سے پہلے جس دن نہ دوست کام آئیں گے اور نہ کوئی سودا۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی ہی نے زمین اور آسمان تمہارے لئے بنائے اور بارش برسائی اور تمہارے کھانے کے لئے پھل پیدا کئے اور کشتیاں عطا فرمائیں جو سمندروں میں چلتی ہیں اور چاند اور سورج کو تمہارے لئے بنایا جو اپنے مقررہ راستے پر چل رہے ہیں اور تمہیں اتنی نعمتیں عطا فرما ئیں جن کو تم گن نہیں سکو گے۔

رکوع نمبر 18

اللہ تعالی نے اس پورے رکوع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی کہ اے اللہ اس شہر (مکہ مکرمہ) کوامن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولا د کو شرک سے بچا اور میں نے اپنی اولاد کو حرمت والے گھر (خانہ کعبہ ) کے پاس بسا دیا ہے تا کہ وہ نماز قائم کریں اور لوگوں کے دل اُن کی طرف مائل کر دے اور اُن کو پھلوں کا رزق عطا فرما تا کہ تیرا شکر ادا کریں ۔ زمین اور آسمان میں ہر کھلے اور چھپے کو تو جانتا ہے اور تو نے مجھے اسماعیل اور اسحاق عطا فرمائے اور مجھے نماز قائم کرنے والا رکھ اور میرے والدین اور سب مسلمانوں کو بخش دے حساب کے دن ۔ 

رکوع نمبر 19

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قیامت کے بارے میں بتایا اور کافروں کی کیا کیفیت ہوگی اسے تفصیل سے بتایا کہ کافر اپنا داؤ چل رہے ہیں اور وہ ناکام ہوں گے، اس دن جب زمین اور آسمان بدل دیئے جائیں گے اور جب اللہ تعالی کے سامنے سب جمع ہوں گے اور کا فر بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور آگ اُن کے چہروں کو ڈھانکے ہوئے ہوگی اور اللہ تعالی حساب لے گا اور اللہ تعالیٰ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ 

(سورہ ابراہیم مکمل ہوئی) 

( پارہ نمبر 13 مکمل) 

Khulasa e Quran


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 12 

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

سوره هود  

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 1 

پارہ نمبر 12 کے رکوع نمبر 1 کی پانچ آیتیں پارہ نمبر 11 میں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ان سے کہو، میں تو صاف جنت کی بشارت دینے والا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں اور تمہیں ایک مقررہ وقت تک دنیا میں رہنا ہے۔ اگر تم انکار کرو تو میں قیامت میں تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا: کا فر اللہ تعالیٰ سے پردہ کرنا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ تو دلوں کی بات جاننے والا ہے اور زمین پر ہر جاندار کو رزق دینا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ فرض کر لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک مقررہ وقت کے لئے دنیا میں بھیجا تا کہ تمہیں آزمائے کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون کفر کرتا ہے اور قیامت میں کافروں کو وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ 

رکوع نمبر 2 

اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جب ہم انسان کو اپنی رحمت سے کچھ دیتے ہیں اور پھر واپس لے لیتے ہیں تو وہ ناشکری کرنے لگتا ہے اور نا امید ہو جاتا ہے اور کسی مصیبت کو دور کر کے نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اپنے آپ کی بڑائیاں بیان کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ان کافروں سے کہو، اگر تمہیں قرآن پاک پر شک ہے تو ایسی ہی دس سورتیں بنا لاؤ اور اللہ تعالیٰ کے سوا جو بھی مل سکیں سب کو بلا لو۔ تو اے مسلمانو ! اگر یہ لوگ ایسا نہ کر سکیں تو یقین کر لو کہ یہ قرآن پاک اللہ تعالی کی طرف سےہے اور جو دنیا کی زندگی کا عیش و آرام چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں دنیاوی عیش و آرام دے گا لیکن آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں ہوگا اور کا فر نقصان اور خسارے میں پڑ گئے ہیں اور مسلمان کامیاب ہو گئے ۔ ایک اندھا اور بہرا اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ 

رکوع نمبر 3 اور رکوع نمبر 4

ان دونوں رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ کس طرح آپ علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کا مذاق اڑایا اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کوکشتی بنانے کا حکم دیا اور اس طوفان کی تفصیل بتائی جس میں آپ علیہ السلام کی قوم کے کا فر غرق ہو گئے اور مسلمان بچ گئے ۔

رکوع نمبر 5: 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں قوم عاد اور حضرت ہود علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے آپ علیہ السلام اور اللہ تعالی کو جھٹلایا اورکفر پر اڑے رہے اور بدتمیزی کرتے ہوئے آپ علیہ السلام کے بارے میں کہا کہ (نعوذ باللہ) ہمارے کسی خدا نے تمہیں پاگل بنا دیا ہے اور اگر تم سچے ہو تو ہم پر وہ عذاب لے آؤ جس کی تم دھمکی دے رہے ہو، تو اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر اپنا عذاب بھیج کر انھیں ہلاک کر دیا۔

رکوع نمبر 6

اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں قوم ثمود اور حضرت صالح علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے انھیں اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے کہا: ہم اُن کی عبادت نہیں چھوڑیں گے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے اور اگر تم سچے ہو تو پہاڑ میں سے حاملہ اونٹنی نکالو۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا کی تو پہاڑ میں سے ایک اونٹنی نکلی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اگر اس اونٹنی کو کوئی نقصان پہنچا تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ اس کے باوجود قوم ثمود نے اونٹنی کوقتل کر دیا تو ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ ہلاک ہو گئے۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے بارے میں بتایا کہ ہمارے فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی طرف عذاب دینے کے لئے (انسانی شکل میں ) جارہے تھے۔ راستہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے گھر گئے ۔ آپ علیہ السلام نے مہمانوں کے سامنے کھانا پیش کیا تو انھوں نے نہیں کھایا اور بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب کیلئے بھیجا ہے اور آپ علیہ السلام کو بشارت دی ہے کہ آپ علیہ السلام کو بیٹا پیدا ہو گا جس کا نام اسحاق ہوگا اور اس کے بیٹے کا نام یعقوب ہوگا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی سے گذارش کرنے لگے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب نہ دیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ طے ہو چکا ہے، اس کے بعد رکوع کے آخر تک حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا اور اس پر عذاب اور ہلاکت کا ذکر ہے۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی اور ناپ تول میں کمی کرنے سے منع فرمایا تو آپ علیہ السلام کی قوم نے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم اُن کی عبادت ضرور کریں گے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے اور اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ جس کی دھمکی دے رہے ہو، تو اُن پر اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب آیا اور وہ ہلاک ہو گئے۔ 

رکوع نمبر 9 

اللہ تعالٰی نے اس رکوع کے شروع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے بارے میں بتایا کہ آپ علیہ السلام نے فرعون کو اسلام کی دعوت دی اور اللہ کی طرف سے صاف صاف نشانیاں بتا ئیں لیکن فرعون اور اس کی قوم نے انکار کیا اور ہلاک ہوئے اور فرعون اپنی قوم کے ساتھ جہنم میں داخل ہو گا۔ اس کے بعد بتایا کہ یہ کچھ بستیوں کا حال ہے جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کے عذاب کے شکار ہوئے۔ ان میں سے کچھ کے کھنڈرات آج بھی ہیں اور کچھ نیست و نابود ہو گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن پر ظلم نہیں کیا تھا بلکہ خود ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا تھا اور جن کو وہ اپنا معبود مانتے تھے وہ اُن کے کچھ بھی کام نہیں آئے ۔ قیامت کا وقت مقرر ہے اور جب قیامت آئے گی تو اللہ تعالی تمام لوگوں کو جمع کرے گا جو بد بخت ہوگا اسے جہنم میں داخل کیا جائے گا اور خوش نصیب لوگ جنت میں ہوں گے۔ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تو ربیت عطا فرمائی لیکن اہل کتاب نے اس میں اختلاف کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مقررہ وقت اس دنیا میں رہنا پہلے سے طے نہیں ہوتا تو اُن کا فیصلہ کر دیا جاتا اور اللہ تعالی ہر ایک کے کاموں سے خوب واقف ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو سمجھایا کہ ظالموں اور گمراہ لوگوں کی طرف جھکو گے تو جہنم میں جاؤ گے، تو ایک بزرگ و برتر اللہ کی عبادت کرو اور دن کے دونوں کناروں پر نماز قائم کرو اور رات کے کچھ حصے میں بھی اور صبر کرو۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کا اجر ضائع نہیں کرتا اور نیکیاں، برائیوں کو مٹادیتی ہے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: ان کافروں سے کہو تم اپنا کام کئے جاؤ اور ہم اپنا کام کرتے ہیں اور دونوں کا فیصلہ قیامت میں ہوگا۔ 

(سورہ ہود مکمل)

سوره یوسف 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رکوع نمبر 11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنا ایک خواب بتایا تو آپ علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام سے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں منتخب کر لیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے گا جس طرح تمہارے باپ دادا حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر پوری کیا تھا اور تاکید کی شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان انھیں بہکائے اور وہ تمہارے ساتھ کوئی چال چلیں ، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

رکوع نمبر 12

اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کہا ابا جان ( حضرت یعقوب علیہ السلام ) حضرت یوسف علیہ السلام پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ ایسا کرو یوسف کو ابا جان سے دور کر دو پھر وہ ہم پر زیادہ توجہ دینے لگیں گے ۔ چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام سے اجازت لے کر حضرت یوسف علیہ السلام کو ساتھ لے گئے اور ایک کنویں میں پھینک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کوتسلی دی کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب آپ علیہ السلام اُن پر حاوی ہوں گے اور وہ نہیں جانتے ہوں گے ۔ ادھر تمام بھائی آپ علیہ السلام کی قمیص میں جانور کا خون لگا کر روتے ہوئے حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بتایا کہ یوسف کو بھیٹریا اٹھالے گیا۔ ادھر کنویں پر ایک قافلہ پہنچا۔ پانی کے لئے ڈول لٹکایا تو یوسف علیہ السلام نظر آئے ۔ انھیں نکالا تو آپ علیہ السلام کے بھائی پہنچ گئے اور قافلے والوں کے ہاتھوں چند سکوں کے عوض حضرت یوسف علیہ السلام کو بیچ دیا ۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قافلے والوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو لا کر مصر کے بازار میں بیچ دیا اور آپ علیہ السلام کو مصر کے سب سے امیر آدمی نے خریدا اور گھر لا کر اپنی بیوی سے کہا کہ اسے عزت سے رکھو ۔ جب آپ علیہ السلام بڑے ہوئے تو عورت نے گھر کے تمام دروازے بند کر لئے اور آپ علیہ السلام کو بہکانا چاہا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کی پناہ مانگی اور دروازے کی طرف دوڑے۔ عورت نے پیچھے سے آپ علیہ السلام کو پکڑنا چاہا تو قیص ہاتھ میں آئی اور پھٹ کر ایک ٹکڑا عورت کے ہاتھوں میں رہ گیا۔ آپ علیہ السلام نے دروازہ کھولا تو عورت کا شوہر کھڑا تھا۔ اپنے شوہر کو سامنے دیکھ کر عورت نے کہا کہ یہ تمہاری بیوی کو بہکانا چاہتا تھا۔ عورت کے گھر والوں میں سے ایک شخص نے کہا: یوسف کی قمیص اگر آگے سے پھٹی ہو تو یوسف جھوٹا اور یہ سچی ہے اور اگر پیچھے سے پھٹی ہے تو یہ سچا اور عورت جھوٹی ہے۔ جب قمیص کو دیکھا گیا تو وہ پیچھے سے پھٹی ہوئی تھی ۔ شوہر نے کہا: اے یوسف اس بات کو دبا دو اور عورت سے کہا معافی مانگ ۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ خبر دھیرے دھیرے محلہ میں پھیل گئی اور عور تیں اس عورت کو طعنے دینے لگیں تو اُس عورت نے تمام عورتوں کو دعوت دی اور جب تمام عورتیں چھری سے پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں تو آپ علیہ السلام کو آواز لگائی ۔ جب آپ علیہ السلام اندر داخل ہوئے اور تمام عورتوں کی نظر آپ علیہ السلام پر پڑی تو آپ علیہ السلام کی خوبصورتی دیکھ کر تمام عورتیں اپنے ہوش کھو بیٹھیں اور پھل کی بجائے اپنی انگلیوں کو کاٹ لیا اور کہا یہ تو کوئی بہت ہی معزز فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ اس عورت نے کہا: اسی لئے تو میں نے اسے ورغلانا چاہا تھا اور اگر وہ یہ کام نہیں کرے گا جو میں کہ رہی ہوں تو میں اسے قید خانے میں ڈلوا دوں گی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ ! اس عورت کی بات ماننے سے بہتر ہے کہ میں قید خانے میں چلا جاؤں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا سن لی اور عورت نے آپ علیہ السلام کو قید خانے میں ڈلوا دیا۔ 

رکوع نمبر 15

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قید خانے میں آپ علیہ السلام کو دو قیدیوں نے اپنا اپنا خواب سنایا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں تم دونوں کے خواب کی تعبیر بتا سکتا ہوں اور آپ علیہ السلام نے ان دونوں کو اسلام کی دعوت دی ( تب تک اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرما دیا تھا ) اس کے بعد خواب کی تعبیر بتائی کہ ایک کو سزائے موت ہوگی اور دوسرا بچ جائے گا اور بادشاہ کا خاص خدمت گار بنے گا۔ پھر اس سے کہا: جب تم بادشاہ کے خدمت گار بن جاؤ تو میرا ذکر کرنا لیکن شیطان نے اُسے بھلا دیا اور آپ علیہ السلام کئی برس تک جیل میں رہے۔ 

(پارہ نمبر 12 مکمل)  

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 11 - Khulasa e Quran para 11


خلاصۃ القرآن، پاره نمبر 11

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1 

اس رکوع کی چار آیتیں پارہ نمبر 10 میں ہیں اور یہ لگاتار چھٹار کوع ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی کارستانی بیان کی ہے۔ اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے عذر کے بغیر جہاد سے رخصت مانگنے والوں کی سزا کے بارے میں بتایا پھر وہ عذر بتائے جن کی وجہ سے جہاد سے رخصت ہے، جن کو عذر لاحق ہو اُن سے کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ ہاں وہ لوگ جو بلا عذر آپ ﷺ کے ساتھ ( غزوہ تبوک پر ) نہیں آئے اور عورتوں کے ساتھ بیٹھنا پسند کیا۔ وہ نہیں بچ سکیں گے ۔ جب آپ ﷺ لوٹ کر جائیں گے تو یہ منافق طرح طرح کے بہانے بنا ئیں گے ۔ ان سے کہنا بہانے نہ بناؤ۔ ہم تمہارا یقین نہیں کریں گے۔ یہ تمہارے آگے قسم کھا ئیں گے تا کہ آپ ﷺ کو راضی کرلیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان سے راضی نہیں ہوگا۔

رکوع نمبر 2

یہ لگا تار ساتواں رکوع ہے جس میں زیادہ ذکر منافقوں کا ہے۔ رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مہاجرین اور انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بشارت دی کہ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہو گیا اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو زکوۃ وصولنے کا حکم دیا اور مسلمانوں کے لئے دعا کرنے کا حکم دیا کہ آپ ﷺ کی دعا سے مسلمانوں کے دلوں کو چین ملتا ہے۔ اس کے بعد منافقوں کی کارستانی بتائی کہ ان لوگوں نے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لئے مسجد ضرار بنائی ، اس مسجد میں کبھی کھڑے نہیں ہوتا۔

رکوع نمبر 3

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ وہ مسلمان جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں ، مارتے ہیں اور مرتے ہیں ان کے جان اور مال کواللہ تعالی نے درحقیقت جنت کے بدلے میں خرید لیا ہے۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے توریت، انجیل اور قرآن میں کامیابی کا وعدہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا وعدہ سب سے سچا ہے۔ اس کے بعد مؤمنین کی خوبیاں بیان فرمائیں اور فرمایا کہ کافر چاہے تمہارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو، اس کے لئے مغفرت کی دعا نہ مانگیں ۔ پھر مہاجرین اور انصار کی تعریف کی۔ رکوع کے آخر میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت مرارة بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی توبہ کی قبولیت کی بشارت دی ۔ ( یہ حضرات غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہو سکے تھے ) 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ رہیں اور اپنی جان کو رسول اللہ ﷺ کی جان سے زیادہ پیاری نہ سمجھیں اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے میں جو بھی جان و مال کی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اُن کے لئے بہترین نعمتیں عطا فرمائے گا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے لئے آسانی فرمائی کہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے نہ نکلو بلکہ تم میں ایک جماعت ایسی بھی ہونی چاہیئے جو دین کی سمجھ (دین کا علم ) حاصل کرے اور تمہاری راہ نمائی کرے۔

رکوع نمبر 5

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو جہاد کی تلقین کی ۔ اس کے بعد فرمایا: جب کوئی سورۃ نازل ہوتی ہے تو کافر کہتے ہیں کہ کس کا ایمان اس سورۃ کی وجہ سے بڑھا ؟ تو مسلمانوں کا اس سورۃ کی وجہ سے ایمان بڑھتا ہے اور وہ خوش ہوتے ہیں اور جن کے دلوں میں ( کفر یا نفاق ) کی بیماری ہے اس سورۃ کی وجہ سے وہ اور زیادہ کفر اور نفاق میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ رکوع کے آخر میں مسلمانوں کو بتایا کہ رسول اللہ ﷺ تم سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ تم پر ذرا بھی مشقت نہ پڑے اور چاہتے ہیں کہ تم نیکیوں میں آگے بڑھو۔ وہ مسلمانوں پر بہت زیادہ مہربان ہیں ۔ اب اس کے بعد کا فریا منافق آپ ﷺ سے منہ پھیریں تو ان سے کہو کہ اللہ تعالیٰ ہی میرے لئے کافی ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، میں نے اس پر بھروسہ کیا اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔

 (سورہ تو بہ مکمل ہوئی )

سوره یونس

رکوع نمبر 6 

اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتایا کہ مسلمان آپ ﷺ پر ایمان لاتے ہیں اور کافر آپ ﷺ کی رسالت پر تعجب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) یہ تو کھلا جادوگر ہے ۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنے خالق ہونے ، مالک ہونے اور اپنے رب ہونے ، کائنات کی تخلیق اور اس کا انتظام چلانے کے بارے میں تفصیل سے بتایا ( جگہ کی کمی کی وجہ سے یہاں اتنا ہی بیان کر سکتے ہیں۔ تفصیل آپ قرآن پاک کے ترجمہ اور تفسیر میں دیکھیں ) اس کے بعد فرمایا کہ جو آخرت میں اللہ تعالیٰ سے ملنے کی امید نہیں رکھتے وہ دنیا کی زندگی میں مگن ہیں ۔ دنیا دی زندگی انھیں پسند ہے اور اس پر وہ مطمئن ہو گئے ہیں اور اللہ کی آیتوں سے غافل ہو گئے ہیں اور مؤمنین کو جنت میں داخلے کی بشارت دی اور بتایا کہ اُنکا آپس میں ملتے وقت خوشی سے پہلی گفتگو سلام ہوگا۔ 

رکوع نمبر 7

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں انسان کے بارے میں بتایا کہ جب اسے تکلیف یا مصیبت پہنچتی ہے تو لیٹے ، بیٹھے اور کھڑے اللہ کو پکارتا رہتا ہے اور جب اللہ تعالٰی اس کی مصیبت یا تکلیف دور کر دیتا ہے تو وہ ایسا بن جاتا ہے جیسے اسے اللہ تعالی سے کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔ اس کے بعد بتایا کہ اللہ تعالی نے اس سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کر دیا۔ کیوں کہ وہ رسولوں کو اور اللہ تعالی کی نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور یہ کا فر کہتے ہیں کہ کوئی اور قرآن لے آئے یا اسے بدل دیں تو ان سے کہو یہ میرے اختیار میں نہیں ہے اور میں وحی کا تابع ہوں ۔ یہ لوگ اللہ تعالی کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی سے ہماری سفارش کریں گے۔ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے جودہ اللہ تعالی پر باندھتے ہیں۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جب اللہ تعالی انسان کو تکلیف یا مصیبت کے بعد اپنی رحمت سے اسے راحت دیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے خلاف کام کرتا ہے اور جب دریاؤں میں طوفان میں پھنس جاتے ہیں تو خالص اللہ تعالیٰ کے بندے بن کر اسے پکارتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ بچا لیتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر شرک و فساد کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! دنیا میں ایک مقررہ وقت تک فائدہ اٹھا لو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں واپس آؤ گے تو اللہ تعالی تمہارے برے اعمال کے مطابق سزا دے گا۔ نیک لوگوں کا یہ حال ہوگا کہ اُن کے چہرے چمکتے ہوں گے اور برے لوگوں کے چہرے ذلت کی وجہ سے کالے ہوں گے اور وہ دوزخ میں ہوں گے۔ اُس دن وہ لوگ جنہیں وہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے تھے ۔ وہ بھی اُن سے منہ پھیر لیں گے اور کافروں کو بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ 

رکوع نمبر 9

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ان کافروں اور فاسقوں سے کہو کہ اللہ تعالی ہی تمہیں روزی دیتا ہے۔ اس نے زمین اور آسمان بنائے اور تمہارے کان اور آنکھ کا مالک ہے اور زندہ میں سے مُردے کو مردہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے اور اللہ تعالی ہی تمہارا سچا رب ہے۔ اب حق جان لینے کے بعد جو اسے نہیں مانے گا تو اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت نہیں فرمائے گا۔ ان سے کہو جن کو تم اللہ تعالی کا شریک ٹھہراتے ہو، کیا وہ ایسے ہیں کہ تمہیں بنا ئیں اور فنا کریں پھر بنائیں ؟ ان سے کہو کہ اللہ تعالی اکیلا ایسا ہے جو تمہیں بناتا ہے پھر فنا کرے گا اور پھر بنائے گا اور صرف اللہ تعالی ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے اور اس قرآن پاک کی شان ایسی ہے کہ کوئی بھی ایرہ غیرہ اسے نہیں بنا سکتا اور اگر تم ایسا سمجھتے ہو تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو بھی مل سکیں سب کو بلا لو اور صرف ایک سورۃ ہی ایسی بنا لاؤ۔ اگر تم سچے ہو اور تم یقیناً ایسا نہیں کر سکو گے تو ظالموں کا انجام بہت برا ہوگا۔ 

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا۔ اب اس کے بعد یہ لوگ آپ ﷺ کو جھٹلا دیں تو ان سے کہو تمہارے اعمال تمہارے ساتھ اور میرے اعمال میرے ساتھ ہوں گے ۔ کیا آپ ﷺ بہروں کو سنائیں گے جو نہیں سنتے اور اندھوں کو دکھا ئیں گے جو نہیں دیکھتے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ خود ( شرک کر کے ) اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا تو کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک دن کا کچھ حصہ رہے یا اُس سے کچھ کم اور کافر گھاٹے میں رہیں گے اور ہر امت میں اللہ تعالیٰ نے ایک رسول بھیجا اور جب وہ اسے جھٹلاتے ہیں تو فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ ہر ایک کا دنیا میں ایک مقررہ وقت ہے۔ اس سے نہ ایک سیکنڈ آگے ہوگا نہ پیچھے اور قیامت کے دن مجرموں سے کہا جائے گا۔ اس کی تم جلدی مچاتے تھے تو ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو۔ 

رکوع نمبر :11

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں پچھلے رکوع کا سلسلہ کلام جاری رکھا اور بتایا کہ قیامت کے دن یہ کافر اپنے اوپر عذاب کو ٹالنے کے لئے اگر ساری دنیا کے مالک ہوتے تو دے دیتے لیکن اس کے بعد بھی انھیں عذاب سے چھٹکارہ نہیں ملتا اور اللہ کا ہے۔ جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے اور اللہ تعالیٰ کا ( قیامت کا) وعدہ سچا ہے ، وہی زندہ کرتا ہے، وہی مارتا ہے، پھر سب اس کی طرف جمع کئے جائیں گے اور اے تمام انسانو! تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاف نصیحت ( رسول الله ﷺ اور قرآن پاک کی صورت میں) آگئی ہے اور یہ مؤمنین کے لئے شفاء، ہدایت اور رحمت ہے اور مؤمنین کو اس پر خوش ہونا چاہیئے کیوں کہ یہ ساری دنیا کے مال و دولت سے بہتر ہے۔ ان (کافروں) سے کہو ؛ اللہ تعالیٰ نے تم پر اپنا رزق اتارا اور تم نے اس میں کچھ حلال اور کچھ حرام ٹھہرا لئے یہ تم نے اللہ تعالی پر جھوٹ باندھا اور تمہارا حال قیامت میں بہت بُرا ہوگا۔ اللہ تعالی تو اپنے بندوں پر فضل فرماتا ہے لیکن اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے۔ 

رکوع نمبر 12

اللہ تعالی نے اس رکوع میں فرمایا: اس دنیا میں تمام انسان جو بھی کام کرتے ہیں وہ سب اللہ تعالی دیکھتا رہتا ہے اور زمین اور آسمان بلکہ کائنات کے ذرے ذرے پر اس کی نظر ہے۔ اور مؤمنین کو نہ تو کچھ غم ہوگا اور نہ ہی کوئی خوف اور دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اُن کے لئے خوش خبری ہے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی نے رات کو تمہارے آرام کے لئے بنایا اور دن کو روشن بنایا اور یہ کافر کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ نے اپنی اولاد بنائی۔ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے اور کافر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ یہ دنیا میں ایک مقررہ وقت تک رہ لیں پھر اللہ تعالیٰ کے پاس واپس جائیں گے تو عذاب کا مزہ چکھیں گے۔ 

رکوع نمبر 13

اللہ تعالی نے اس رکوع میں حضرت نوح علیہ السلام اور اُن کی قوم کے بارے میں بتایا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے انھیں سمجھایا تو انھوں نے آپ علیہ السلام کوجھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کا عذاب لانے کی مانگ کی تو اللہ تعالیٰ نے انھیں ڈبو دیا اور آپ علیہ السلام اور مسلمانوں کوکشتی کے ذریعہ بچا لیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام اور مصر والوں کا قصہ بیان کیا۔ 

رکوع نمبر 14

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کے ذکر کو جاری رکھا۔ آپ علیہ السلام کے فرعون اور مصریوں کو دعوت دینے کے بارے میں بتایا ۔ فرعون اور اس کی قوم نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور بنی اسرائیل پر ظلم کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو آزادی دلائی اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کر دیا۔ ڈوبتے ڈوبتے اپنے آخری وقت میں فرعون نے اسلام قبول کرنے کا اظہار کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے قبول نہیں فرمایا اور فرعون کی لاش کو قیامت تک کے لئے عبرت کا نشان بنا دیا۔ 

رکوع نمبر 15 : 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بنی اسرائیل کو ہم نے عزت دی اور پاک روزی عطا فرمائی لیکن صاف طور سے علم آجانے کے بعد وہ لوگ اختلاف میں پڑگئے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اُن کے اختلاف کا فیصلہ فرما دے گا ۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ قرآن پاک کے بارے میں کبھی شک نہ کرنا اور اُن کافروں کی طرح نہ ہو جاتا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوںکو جھٹلایا اور نقصان میں پڑ گئے ۔ اس کے بعد حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو آتا دیکھ کر تمام لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن پر سے عذاب کو ہٹا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کوئی بھی کافر نہ رہے۔ سب اسلام قبول کر لیں، لیکن زبردستی کا اسلام اللہ تعالی نہیں چاہتا۔

رکوع نمبر 16 

اللہ تعالی نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ تمام انسانوں سے کہہ دو کہ میں تو صرف اللہ تعالی کی عبادت کرتا ہوں اور تمہیں بھی اس کی دعوت دیتا ہوں اور ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کسی کو تکلیف دینا چاہے تواسے کوئی نہیں روک سکتا اور اگر کسی کا بھلا کرنا چاہے تو کوئی رد نہیں کرسکتا تو جس نے سیدھا اور سچا راستہ ( اسلام) اختیار کیا تو اپنے فائدے کے لئے کیا اور جس نے انکار کیا (یعنی کفرکیا ) تو خود اپنا نقصان کیا۔ 

(سورہ یونس مکمل ) 

( پارہ نمبر 11 مکمل) 

خلاصۃ القرآن پارہ نمبر 10 - Khulasa e Quran para 10


خلاصۃ القرآن، پارہ نمبر 10

مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

رکوع نمبر 1

اس رکوع کی تین آیتیں پارہ نمبر 9 میں ہے۔ اللہ تعالٰی نے اس رکوع میں فرمایا کہ آپ ( ﷺ) ان کافروں سے کہو کہ اسلام قبول کر لو، اگر انھوں نے اسلام قبول کر لیا تو ٹھیک ہے اور اگر پچھلے کافروں کی طرح کفر پر ڈٹے رہے تو ان سے لڑو اور اس وقت تک لڑو جب تک روئے زمین سے فساد ختم نہ ہو جائے اور سارے کا سارا دین اللہ تعالیٰ کے لئے ہو جائے۔ اس کے بعد مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک غزوہ بدر کا ذکر ہے۔ 

رکوع نمبر 2 

اس رکوع میں بھی غزوہ بدر کا ذکر جاری ہے اور مسلمانوں سے فرمایا کہ میدان جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کرو اور اللہ تعالیٰ کو بہت یاد کرتے رہو ۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانو اور آپس میں کسی قسم کا تنازعہ نہ کرو ورنہ دوسرے تم پر حاوی ہو جائیں گے اور شیطان نے کافروں کی نگاہ میں اُن کے کام (جن میں سے ایک بدر میں مسلمانوں پر حملہ ہے ) بھلے کر کے دکھائے اور جب (غزوہ بدر میں ) مسلمانوں نے شدید حملہ کیا تو شیطان اپنی جان بچا کر بھاگا اور بولا میں تم سے الگ ہوں۔ 

رکوع نمبر 3

اسے رکوع میں منافقوں اور کافروں کے بارے میں بتایا کہ اُن کا انجام بھی وہی ہو گا جو ان سے پہلے کافروں کا ہو چکا ہے اور فرعون کی مثال دی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے غرق کر دیا۔ اس کے بعد فرمایا کہ تمام مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک عہد و معاہدے کے بارے میں ہدایات دیں۔ 

رکوع نمبر 4

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ کافروں سے مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو اور تیاری کرتے رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے (جہاد میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے۔ اس کا پورا بدلہ عطا کیا جائے گا۔ پھر فرمایا: اگر کا فرصلح کرنا چاہیں تو تم ان سے صلح کر لو اور اگر وہ صلح کے بہانے دھو کہ دینا چاہیں گے تو تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ 

رکوع نمبر 5

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو ۔ اگر تم لوگ صبر سے ڈٹ کر مقابلہ کرو گے تو بیس مسلمان دوسو کافروں پر اور سو مسلمان ایک ہزار کا فروں پر بھاری پڑیں گے ۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے۔ اس لئے سو مسلمان دوسوکا فروں پر اور ایک ہزار مسلمان دو ہزار کافروں کے لئے کافی ہوں گے۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک غزوہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں احکامات دیئے۔ 

رکوع نمبر 6 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیدیوں کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد مہاجرین اور انصار کی فضیلتیں بیان فرمائیں اور بتایا کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور کا فرآپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں تو جو ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کیلئے ہجرت کی اور وہ جنھوں نے ان کی مدد کی اور اللہ تعالیٰ کیلئے لڑے تو یہی کامیاب لوگ ہیں اور کافرنا کام ہو گئے ۔ 

(سورہ انفال مکمل)

سوره التوبه

رکوع نمبر 7

اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے بیزاری کا اظہار کیا اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا کہ حرمت کے مہینوں میں کافروں کو مہلت دو ا سکے بعد میدان جنگ میں ان کو جہاں پاؤ قتل کرو ۔ ہاں اگر کوئی کافر ہتھیار رکھ دے تو اس پر حملہ مت کرو اور امان چاہے تو امان دو اور اگر کسی محفوظ جگہ جانا چاہے تو پہنچا دو۔ کیوں کہ یہ نادان ہیں ۔ 

رکوع نمبر 8

اللہ تعالی نے اس رکوع میں کافروں کے بارے میں بتایا کہ یہ لوگ اگر تم پر قابو پائیں گے تو نہ تو رشتہ داری کا لحاظ کریں گے اور نہ کسی عہد و معاہدہ کا ، تو تم ان سے لڑو، کیوں کہ یہ اللہ تعالٰی ، رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں اور جب تم ان سے لڑو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے ذریعے ان کافروں کو رسوا کرے گا۔ پھر اس کے بعد وہ تو بہ کریں اور اسلام قبول کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ 

9رکوع نمبر 

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کو ایمان والے آباد کرتے ہیں اور حاجیوں کی خدمت کرنے والے مسلمانوں اور اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے والے مسلمانوں میں سے وہ بہتر ہیں جو اللہ تعالٰی کے لئے لڑتے ہیں۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہارے کا فرباپ، کافر بھائی اور کافر بیٹے تمہارے دوست نہیں ہیں اور جو اُن سے دوستی کرے گا وہ ظالم ہے۔ اس کے بعد فرمایا: اگر تمہارے مسلمان باپ، مسلمان بیٹے، مسلمان بھائی، مسلمان عورتیں اور مسلمان خاندان اور مال و دولت اور پسندیدہ گھر (مکان) اور کاروبار اگر اللہ تعالٰی اور اس کے رسول ﷺ سے زیادہ پیارے ہوں اور ان کی وجہ سے تم اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے سے رکتے ہو تو اللہ کے حکم کا انتظار کرو اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

رکوع نمبر 10

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو بتایا کہ تمہاری زیادہ تعداد فتح کی ضمانت نہیں ہے بلکہ اللہ کی مدد فتح کی ضمانت ہے اور اس کے لئے غزوہ حنین کی مثال دی ۔ اس کے بعد حکم دیا کہ کافروں کو مکہ مکرمہ میں داخل نہ ہونے دو اور جب تک وہ ایمان نہ لائیں اُن سے لڑتے رہو۔

رکوع نمبر :11

اللہ تعالی نے اس رکوع میں بتایا کہ یہودی کہتے ہیں: حضرت عزیر علیہ السلام ( نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں : حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالی کے بیٹے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے تو اس کی دعوت دی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا ایک بندہ ہوں۔ اس کے بعد فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہدایت اور سچے دین پر بھیجا تا کہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کردوں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء نے اُن کو شرک کی طرف مائل کیا اور عام لوگوں سے سونا اور چاندی وصول کرتے ہیں دوزخ کی آگ میں تپا کر انھیں داغا جائے گا۔ اس کے بعد بتایا کہ حرمت والے مہینے چار ہیں اور اگر کا فرتم سے ہر وقت لڑنا چاہیں تو ان سے ہر وقت لڑو۔  

رکوع نمبر 12

اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ ہر حال میں دل کی خوشی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں لڑنے کے لئے تیار رہو۔ اگرتم ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اگر تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حبیب ﷺ کی مدد فرمائے گا۔ اس کے بعد ہجرت کے دوران غار ثور کا واقعہ بیان فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالی کے لئے لڑنے کے واسطے تمہیں نکلنا پڑے گا تو چاہے خوشی خوشی نکلو یا پھر بے دلی کے ساتھ نکلو۔ اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنا تمہارے لئے بہت بہتر ہے۔ رکوع کے آخر میں منافقوں کے بارے میں بتایا کہ اگر قریب کا سفر اور مال و دولت ملنے کی امید ہوتی ہے تو آپ ﷺ کے ساتھ ہو جاتے ہیں اور جب دور کا سفر اور تکلیف کا معاملہ ہو تو قسمیں کھائیں گے کہ ہماری طاقت ہوتی تو ہم ضرور چلتے ۔

رکوع نمبر 13

اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ سے رسول اللہ ﷺ کوسمجھایا کہ تمہیں ان منافقوں کو ( غزوۂ تبوک میں ) گھر بیٹھنے کی اجازت نہیں دینی تھی ۔ ذرا دیکھتے تو یہ منافق کیا کرتے اور ان کا نفاق کھل کر سامنے آجانے دیتے اور منافق ہی تم سے گھر بیٹھنے کی اجازت مانگتے ہیں اور مسلمان تو خوشی خوشی تمہارے ساتھ جاتے ہیں اور ویسے بھی اگر یہ منافق ( غزوہ تبوک پر ) جاتے تو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ منافقوں نے پہلے بھی فتنہ پیدا کرنا چاہا تھا لیکن ناکام رہے ۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کے لئے لڑنے کا حکم ہوتا ہے تو رخصت مانگتے ہیں اور جب مسلمانوں کا فائدہ ہوتا ہے تو انھیں برا لگتا ہے اور جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم بچ گئے اور خوشیاں مناتے پھرتے ہیں۔ رکوع کے آخر تک منافقوں کا ذکر ہے۔ 

رکوع نمبر 14

اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں بتایا۔ رکوع کے شروع میں زکوۃ کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد فرمایا : جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دیتے ہیں اُن کے لئے دردناک عذاب ہے اور مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ مسلمانوں کے سامنے قسم کھاتے ہیں کہ ہم تمہارے خیر خواہ ہیں ۔ جب کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا زیادہ حق ہے کہ انھیں راضی کیا جائے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ منافق اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی ایسی سورہ نازل نہ ہو جائے جو اُن کے دلوں کے راز کو کھول دے اور رسول اللہ ﷺ سے کہتے ہیں کہ ہم تو یونہی مذاق کر رہے تھے ۔ ان سے کہو کیا تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا اور اس کے رسول ﷺ سے مذاق کرتے ہو ۔ بہانے نہ بناؤ تم اسلام قبول کرنے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔

رکوع نمبر 15

یہ لگاتار تیسرا رکوع ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی چالوں اور اُن کے کردار کے بارے میں بتایا۔ اس رکوع میں بتایا کہ منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ یہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے روکتے ہیں ۔ بے شک منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لئے آگ کے عذاب کا وعدہ ہے۔ اُن کے عمل اکارت گئے۔ دنیا اور آخرت میں یہی لوگ نقصان میں ہیں۔ اس کے بعد قوم نوح ، قوم عاد، قوم ثمود ، قوم ابراہیم اور مدین کی بستی پر عذاب کے بارے میں بتایا کہ اُن کے پاس رسول علیہم السلام روشن نشانیاں لے کر آئے تھے۔ جن کو انھوں نے جھٹلایا۔ اللہ تعالیٰ کی شان یہ نہیں ہے کہ اُن پر ظلم کرتا بلکہ اُن لوگوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ اس کے بعد مسلمان مرد اور عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک دوسرے کے ہمدرد اور ساتھی ہیں۔ بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں۔ ان کے لئے جنت اور اس کے پاکیزہ مکانوں کا وعدہ ہے۔ 

رکوع نمبر :16

لگاتار چوتھے رکوع میں منافقوں کی کارستانی اور انجام اللہ تعالیٰ نے بتایا۔ اس رکوع میں اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ( مسلمانوں کو لے کر ) کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ یہ منافق اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتے ہیں لیکن در حقیقت یہ اسلام قبول کرنے کے بعد کا فر ہو گئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا کہ اللہ تعالیٰ اگر ہمیں مال و دولت سے نوازے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے لیکن مال و دولت آنے کے بعد یہ کنجوس ہو گئے اور اپنے عہد سے پلٹ اور جو مسلمان اپنی محنت کی کمائی میں سے خیرات کرتے ہیں تو یہ منافق اُن کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ہنسی مذاق کی انھیں سزا دے گا۔ اے رسول ! اگر آپ ان منافقوں کے لئے ستر 70 مرتبہ بھی معافی مانگیں گے تب بھی اللہ تعالیٰ انھیں معاف نہیں کرے گا۔ کیوں کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے منکر ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 

رکوع نمبر 17 

یہ لگا تار پانچواں رکوع ہے جو منافقوں کے بارے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ یہ منافق گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( غزوہ تبوک میں ) نہیں گئے اور ایک دوسرے کو مشورہ دیا کہ اس سخت گرمی میں جہاد کے لئے نہ نکلو۔ ان سے کہو جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ اگر یہ حقیقت اُن کی سمجھ میں آجاتی تو یہ ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔ اب اگر یہ لوگ جہاد پر جانے کی آپ ﷺ سے اجازت مانگیں تو انھیں اجازت نہ دینا۔ ان کی میت پر نماز نہ پڑھانا۔ ان کی قبروں پر کھڑے مت ہونا اور مسلمانوں سے فرمایا: ان منافقوں کے مال و دولت اور اولاد کے زیادہ ہونے پر تعجب نہ کرنا اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں مگن کرنا چاہتا ہے تا کہ کفر پر ہی ان کا دم نکل جائے اور جب اللہ تعالیٰ کے لئے جہاد کرنے کی کوئی سورہ (یا آیت) اترتی ہے تو یہ منافق رخصت مانگتے ہیں۔ انھیں یہی پسند ہے کہ عورتوں کے ساتھ گھروں میں بیٹھے رہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کر دی ہے اور جو لوگ ایمان لائے اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر اپنے مال اور جان سے اللہ تعالٰی کے لئے جہاد کرتے ہیں اُن کے لئے اللہ تعالیٰ نے نعمتیں تیار کر رکھی ہیں اور یہی کامیاب لوگ ہیں۔ 

(پارہ نمبر 10 مکمل)


 

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں