مرتب : شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
رکوع نمبر 1
رکوع نمبر 2
رکوع نمبر 3
MS Urdu, Islamic Stories, Urdu Islamic Books, Quran Stories, Hadees Books, Urdu Islamic history Books, Seerat un Nabi Books, Urdu Islamic books, Urdu Ambiya Books
رکوع نمبر 3
اس رکوع کی پانچ آیتیں چھٹے پارے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ بنی اسرائیل پر ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے لعنت کی گئی ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ یہودیوں اور مشرکوں کو اپنا سب سے بڑا دشمن پاؤ گے ، ان کے مقابلہ میں عیسائیوں کو دوستی سے زیادہ قریب پاؤ گے۔ ان میں سے بہت سے لوگ حق کو پہچان کر اسلام بھی قبول کریں گے اور اللہ تعالیٰ اُن کی نیکیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں نا جائز قسم کھانے کے بارے میں احکامات دیئے۔ اس کے بعد شراب اور جوئے کی حرمت کا حکم بیان فرمایا پھر اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کاحکم دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالی کو وہ لوگ پسند ہیں جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں اور ( اپنے گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے ڈرتے رہیں۔
رکوع نمبر 3: اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے احرام کی حالت میں خشکی کا شکار کرنے کی ممانعت فرمائی اور دریا اور سمندر (پانی) کا شکار حلال کیا اور خانہ کعبہ اور حرمت والے مہینوں اور قربانی کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پر توصرف حکم پہنچا دینا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں سمجھایا کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسے سوالات نہ کرو جن کی وجہ سے تم مصیبت میں آجاؤ۔ تم سے پہلے کی ایک اُمت نے ایسے ہی سوالات کئے تھے اور بعد میں انکار کر بیٹھے۔ اس کے بعد گمراہ لوگوں کے عقیدے کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ جب اُن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہمارے ماں ، باپ دادا جو کرتے تھے ہم بھی وہی کریں گے چاہے اُن کے باپ دادا گمراہی میں ہی مبتلا کیوں نہ ہوں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک وصیت کے بارے میں احکامات دیئے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا اور آپ علیہ السلام کو جو معجزات عطا فرمائے ان کے بارے میں بتایا ۔ پھر بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا وہ بتایا۔ اس کے بعد حواریوں کے " المائدة “ ( آسمان سے خوان اتارنا ) کی فرمائش کرنا اور آپ علیہ السلام کی دعا پر آسمان سے خوان نازل کرنے کا ذکر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ قیامت کے دن میدان حشر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام صاف کہیں گے کہ میں نے تو ان سے کبھی نہیں کہا کہ میری عبادت کرو۔ میں نے تو ان سے وہی کہا تھا جس کے کہنے کا آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میرا اور تمہارا معبود تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اے اللہ ! تو ان کے مکمل حالات جانتا ہے۔ اب تو چاہے تو انھیں سزادے یا انہیں معاف کر دے یہ تیرے ہی بندے اور غلام ہیں اور تو ہی سب پر غالب ہے۔ (سورہ المائدہ مکمل ہوئی ۔)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ میں نے ہی زمین ، آسمان ، روشنی اور اندھیرے بنائے ، میں نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور تمہارے لئے (دنیا میں رہنے کا) ایک وقت مقرر کیا، مجھے تمہارا چھپا اور کھلا حال سب معلوم ہے۔ اس کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کے شریک بناتے ہو اور حق کو جھٹلاتے ہو تم سے پہلے بھی بہت سے لوگ ہم نے پیدا کئے اور پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا۔ پھر اور لوگ پیدا کئے اور کا فر قرآن پاک کو ( نعوذ باللہ ) کھلا جادو کہتے ہیں اور بولے کہ کوئی فرشتہ کیوں نہ اُتارا؟ اگر ہم فرشتہ اتارتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا ( یعنی ان پر عذاب بھیج دیا جاتا اور انھیں مہلت نہیں دی جاتی۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا : ان (کافروں اور اہل کتاب سے ) کہہ دو کہ زمین پر گھوم پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا؟ ان سے کہو کہ جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ( اس دنیا میں ) اپنے ذمہ رحمت لکھ لی ہے لیکن قیامت کے دن سب کو بدلہ دے گا اور رات اور دن میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ سب دیکھا اور سُن رہا ہے۔ ان سے کہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمان پیدا فرمائے ۔ وہ سب کو کھلاتا ہے اور خود نہیں کھاتا اور میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے والا ہوں ۔ اگر انسان کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ ہی اسے مصیبت سے نکال سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ حکمت والا ہے اور سب کی خبر رکھتا ہے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: یہ اہل کتاب رسول ﷺ (توریت اور انجیل میں آپ ﷺ کے اوصاف ذکر ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ ) کو اپنی کی اولاد سے زیادہ جانتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ شرک کرنا سب سے بڑا ظلم ہے اور مشرک ( کافر، یہودی اور عیسائی) سب سے بڑے ظالم ہیں۔ اس کے بعد بتایا کہ جب ہم قیامت کے دن جمع کریں گے تو یہ لوگ انھیں بھول جائیں گے جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا : جب یہ لوگ آگ پر ( دوزخ میں ) کھڑے کئے جائیں گے تو کہیں گے کہ کاش ہمیں دنیا میں کسی طرح واپس بھیج دیا جائے تا کہ ہم مسلمان بن کر اچھے اعمال کر کے واپس آئیں۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ جب یہ دنیا میں دوبارہ بھیجے جائیں گے تو وہی کریں گے جو ا بھی کر رہے ہیں اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو کچھ مزہ ہے دنیا میں ہے، اس کے بعد کوئی زندگی نہیں ۔ تو جب اللہ تعالی (قیامت کے روز انھیں ) کھڑا کرے گا اور فرمائے گا کہ کیا یہ حق نہیں ہے؟ وہ کہیں گے: بے شک آخرت کی زندگی برحق ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اب آگ کا مزہ چکھو۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں قیامت کا انکار کرنے والوں کا انجام بتایا ہے۔ اس کے بعد بتایا کہ دنیا کی زندگی امتحان کیلئے ہے لیکن لوگوں نے اسے ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ جب کہ ہمیشہ کی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو ہدایت عطا فرما دیتا لیکن اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنے سچے دل سے ہدایت قبول کرے۔ آگے فرمایا: جولوگ ہماری آیات کا انکار کر رہے ہیں (یعنی کا فراور اہل کتاب) در حقیقت وہ بہرے اور گونگے ہیں اور اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ ان سے کہو کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب یا قیامت آئے گی تو تم جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اُن کو بھول کر صرف اللہ تعالیٰ کو پکارو گے۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جب ہم پہلی امتوں کے پاس نبی یا رسول بھیجتے تھے اور وہ انھیں جھٹلاتے تھے تو ہم اُن پر عذاب بھیجتے تھے تا کہ وہ ہمارے سامنے گڑگڑائیں لیکن اُن کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے اُن کے کام انھیں اچھے کر کے بتائے ۔ پھر جب اس کے بعد بھی انھوں نے انکار کیا ( کفر پر قائم رہے) تو اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا کا ہر عیش و آرام دے دیا جس پر وہ بہت خوش تھے کہ اچانک ہم نے انھیں پکڑ لیا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ۔ ان سے کہو اگر اللہ تعالیٰ تمہارے کان اور آنکھ لے لے تو کون ہے جو تمہیں کان اور آنکھ واپس دے؟ سوائے اللہ تعالٰی کے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا: اس قرآن پاک کے ذریعے اُن لوگوں کو سمجھاؤ جو حق کو سمجھنا چاہتے ہیں اور یہ امید رکھو کہ وہ حق (اسلام) کو قبول کر لیں اور ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ رکھو ۔ جو صبح و شام اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا کہ مالدار کافر جب محتاج مسلمان کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے؟ آگے فرمایا کہ اگر انجانے میں کوئی برائی ہو جائے اور فوراً معافی مانگ لے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا : ان سے کہہ دو مجھے منع کیا گیا ہے اُن لوگوں کی عبادت کرنے سے جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ میں تو صرف اللہ تعالی کی عبادت کرتا ہوں ۔ ان سے کہو میں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں تو پھر میں تمہاری خواہش کے مطابق نہیں چلوں گا ۔ اللہ تعالیٰ نے ( دنیا میں ) ایک مقررہ مدت تک رکھا ہے۔ اس کے بعد اسی کی طرف واپس لوٹو گے ۔ پھر تم نے جو کچھ کیا ہے۔ وہ بتادے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا : ان سے کہو جب تم جنگلوں اور دریا کی آفتوں میں گڑ گڑاتے ہو تو اللہ تعالی ہی تمہیں نجات دیتا ہے۔ پھر بھی تم شرک کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو تمہارے آگے پیچھے، اوپر اور نیچے سے تم پر عذاب بھیج سکتا ہے اور انھوں نے دین کو ہنسی مذاق بنالیا ہے اور دنیا کی زندگی کے فریب میں مبتلا ہو گئے۔ انھیں قرآن پاک کے ذریعے نصیحت دو اور یہ لوگ قیامت کے دن پکڑے جائیں گے اور پینے کے لئے ان کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ان سے کہو ہم اللہ تعالی کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہی ہمیں راستہ بتایا ہے اور شیطان نے جن لوگوں کو اللہ کا راستہ بھلا دیا ہے وہ حیران و پریشان ہیں ۔ ان سے کہو اصل ہدایت تو اللہ تعالی کی ہدایت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ذکر فرمایا جس میں آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی اور سمجھایا اور کہا کہ میں تو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتا ۔ رکوع کے آخر میں فرمایا کہ جو ایمان لائے اور اس میں کوئی ناحق آمیزش نہیں کی۔ وہی سیدھے راستہ پر ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلند درجے عطا فرمائے اور حضرت نوح، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب ، حضرت داؤد، حضرت سلیمان ، حضرت ایوب ، حضرت یوسف ، حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت ذکریا، حضرت یحییٰ، حضرت یسع ، حضرت یونس، حضرت لوط علیہم السلام کے بارے میں بتایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول اور منتخب بندے ہیں اور فرمایا کہ یہ قرآن تو تمام عالم کے لئے نصیحت ہے۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کو اس طرح نہیں مانا جیسا ماننا چاہیئے ۔ یہ بد بخت آپ ﷺ سے کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ آپ ﷺ پر کچھ نہیں اتارا تو ان سے کہو کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو کتاب ( توریت ) لائے تھے ۔ وہ حق اور لوگوں کے لئے روشنی تھی لیکن تم لوگوں نے اس میں ملاوٹ کر دی اور اپنی طرف سے بنائی من گھڑت باتیں لوگوں کو بتاتے ہو اور حق (یعنی رسول اللہ ﷺ کے توریت میں ذکر کئے گئے اوصاف ) کو چھپاتے ہو۔ اس کے بعد کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں اُن کا انجام بہت بُرا ہو گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں تمام لوگوں کو اس کا ئنات پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی اور بتایا کہ گٹھلی کو پھاڑنے والا ، زندہ کو مُردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ، رات کے اندھیرے میں سے صبح کو نکالنے والا ، رات کو آرام کے لئے بنانے والا سورج اور چاند کو بنانے والا، انھیں اپنے اپنے مقررہ راستہ پر چلانے والا، تاروں کو بنانے والا، تمام انسانوں کو ایک جان سے پیدا کرنے والا ، آسمان سے پانی اتارنے والا ، زمین سے سبزیاں اگانے والا ، کھجور ، انگور، زیتون اور انار پیدا کرنے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ سب جاننے کے باوجود کچھ لوگوں نے جناتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنالیا اور (نعوذباللہ) اُس کے بیٹے اور بیٹیاں بنالیں جب کہ اللہ تعالیٰ ان سب سے پاک ہے۔
اس رکوع کا سلسلہ کلام پچھلے رکوع سے جڑا ہوا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اولاد سے پاک ذات ہونے کو ثابت کرنے کے لئے یہ سوال کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو بیٹا کہاں سے ہو گا جب کہ اُس کی بیوی ہی نہیں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی ذات تو وہ ہے جس نے ہر شئے کو بنایا اور وہ سب کا خالق ہے۔ کسی کی بھی نگاہ اللہ تعالٰی کا احاطہ نہیں کر سکتی اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ کے احاطے میں ہر کوئی اور ہر شئے سمائی ہوئی ہے اور وہ تمام ظاہری اور چھپی ہوئے باتوں کو جانتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہ ہر کسی کی اور ہر شئے کی خبر رکھتا ہے تو اب حق آجانے کے بعد بھی اگر کوئی اسے ماننے سے انکار کرے۔ تو آپ ﷺ اور مسلمان اُن کے اوپر نگہبان نہیں ہیں اور جن کو یہ کافر پوجتے ہیں انھیں برا بھلا نہ کہو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جواب میں یہ لوگ اللہ تعالی کو بُرا کہنے لگیں اور جولوگ جان بوجھ کر ایمان نہیں لاتے اللہ تعالی انھیں چھوڑ دیتا ہے تا کہ وہ بھٹکتے رہیں۔
اس رکوع کی چھ آیات پارہ نمبر پانچ میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منافقوں کے بارے میں بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کوفریب دینے کی کوشش کرتے ہیں اور نماز بھی بے دلی سے پڑھتے ہیں اور وہ بھی لوگوں کو دکھانے کے لئے اور اللہ تعالی کو بہت کم یاد کرتے ہیں۔ یہ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ کافروں کو دوست نہ بناؤ اور منافقین کے بارے میں بتایا کہ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ اس کے بعد فرمایا کہ انسان اگر حق کو مانے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اللہ تعالیٰ کو کیا پڑی ہے کہ اسے عذاب دے اور آگے فرمایا: کسی بُرائی کا اعلان مت کرو۔ ہاں جس پر ظلم کیا گیا وہ اعلان کر سکتا ہے اور یہ منافقین چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے درمیان کا کوئی راستہ نکالیں اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔
اللہ تعالی نے اس پورے رکوع میں اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کی نافرمانیوں کا ذکرفرمایا کہ یہ تم (رسول اللہ ﷺ ) سے عجیب سوال کرتے ہیں۔ اس سے بڑا سوال حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کر چکے ہیں کہ ہم اللہ تعالی کو (نعوذ باللہ ) دیکھنا چاہتے ہیں ۔ پھر بچھڑے کی پوجا کرنا بستی میں داخل ہوتے وقت الفاظ کا بدلنا ، سبت ( یعنی سنیچر کے دن کاروبار کی ممانعت کا قانون توڑنا، اللہ تعالی کی آیات کا انکار کرنا اور انبیائے کرام علیہم السلام کو نا حق قتل کرنا اور اہل کتاب نے اتنی نا فرمانیاں کرنے کے بعد سیدہ مریم رضی اللہ عنہا پر الزام لگایا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اپنے خیال میں صلیب پر چڑھوا دیا ۔ آپ علیہ السلام کے بارے میں یہودی اور عیسائی دونوں شک میں مبتلا ہیں کہ انہیں صلیب پر چڑھا دیا گیا تھا۔ اللہ تعالٰی نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو نہ قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا ہے بلکہ ہم نے ان کو اُٹھا لیا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ یہ اہل کتاب سود لیتے ہیں جب کہ وہ حرام ہے اور لوگوں کا مال ناحق کھاتے ہیں تو یہ سب ناکام ہو گئے ۔ ہاں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ پر اسکے تمام رسولوں اور کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں (جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو توریت کے بڑے عالم تھے اور ان کے یہودی احباب ، سب مسلمان ہوئے ) وہ کامیاب لوگ ہیں۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف جو وحی بھیجی ہے یعنی قرآن کریم تو ہم نے حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور ان کے بیٹوں، حضرت عیسٰی ، حضرت ایوب ، حضرت یونس ، حضرت ہارون اور حضرت سلیمان علیہم السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف بھی ایسی ہی وحی بھیجی تھی ۔ حضرت داؤد علیہ السلام پر تو زبور اُتاری اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہم نے بات کی ، اب جو کوئی اس کا انکار کرے گا وہ نا کام ہے۔ اس کے بعد تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اس رسول ﷺ پر ایمان لاؤ، اس میں تمہاری بھلائی ہے اور اہل کتاب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہ باندھو اور سچ کہو اور سچ یہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ تعالی کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں، اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھو اور تین نہ کہو۔ اللہ تو ایک ہی ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندہ اور رسول ہیں اور آپ علیہ السلام اور مقرب فرشتے اللہ تعالی کی بندگی کو دل سے قبول کرتے ہیں اور جو بھی اللہ تعالٰی کی بندگی سے انکار کرے گا ( یعنی شرک اور کفر اختیار کرے گا ) تو اللہ تعالیٰ بہت جلد سب کو جمع کرے گا اور ایمان والوں کو اس کا اجر دے گا ، کافروں کو سزا دے گا۔ اس کے بعد تمام انسانوں سے فرمایا: تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے صاف دلیل اور روشن نور ( قرآن پاک ) آچکا ، اب جو ایمان لایا اور اللہ تعالیٰ کی رسی (قرآن پاک ) کو مضبوطی سے تھام لیا وہ کامیاب ہوگا۔ (سورہ نساء مکمل ہوئی۔)
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے شروع میں احرام کی حالت میں شکار کرنے سے منع فرمایا۔ احرام کھولنے کے بعد شکار کی اجازت دی اور فر مایا: تم پر حرام ہے مُردار، خون اور سور کا گوشت۔ اس کے بعد شکار کے بارے میں احکامات دیئے۔ درمیان میں فرمایا: اب تمہارے لئے میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور دین اسلام کو تمہارے لئے (دین کے طور پر) پسند کر لیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں طہارت کے احکامات بیان فرمائے کہ جب نماز کے لئے جانے لگو تو اگر غسل کی ضرورت ہو تو غسل کر لو یا وضو کرو۔ پھر وضو کے بارے میں احکامات دیئے۔ پانی نہ مل سکنے کی صورت میں تیمم کے بارے میں احکامات دیئے اور فرمایا: اللہ تعالی چاہتا ہے کہ تمہیں خوب پاک و صاف کر دے اور اس نے تم پر سختی نہیں رکھی ہے بلکہ وہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اس کے بعد فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کے حکم ( قرآن پاک) پر قائم ہو جاؤ اور اسی کے مطابق گواہی اور فیصلے دو اور کسی قوم سے دشمنی کی وجہ سے اس کے ساتھ بے انصافی نہ کرو ۔ اس کے بعد ایمان والوں کے لئے اجر و ثواب اور کافروں کے لئے عذاب کے بارے میں بتایا۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے بارے میں بتایا کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اگر تم نماز قائم کرو گے، زکوۃ دو گے ، میرے رسولوں پر ایمان لاؤ گے ، اُن کی تعظیم کرو گے اور اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرو گے تو میں تمہیں جنت میں داخل کروں گا لیکن ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد توڑ دیا اور مزید گناہ یہ کیا کہ توریت میں اپنی طرف سے ملاوٹ کر دی پھر مسلمانوں سے فرمایا کہ یہ ہمیشہ تمہارے ساتھ دھوکہ بازی اور دغا بازی کرتے رہیں گے۔ اس کے بعد عیسائیوں کے بارے میں بتایا کہ نصاریٰ سے بھی ہم نے عہد لیا تھا لیکن اُن لوگوں نے بھی اللہ تعالیٰ کی نصیحتوں کو بھلا دیا اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا ( نعوذ باللہ) بنا دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں یہودیوں اور عیسائیوں میں قیامت تک کے لئے بغض ڈال دیا۔ اس کے بعد اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں ) کو دعوت دی کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشن کتاب (قرآن پاک) لے کر آئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا ہے کہ بنی اسرائیل نے کس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ بیت المقدس میں جو لوگ آباد ہیں ان پر حملہ کر دو، اللہ تعالیٰ تمہیں غلبہ عطا فرمائے گا تو ان بد بختوں نے کہا: وہ لوگ بہت طاقتور ہیں اور ہم ان سے لڑنے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے ۔ اے موسیٰ! تم اور تمہارا خدا جا کر ان سے لڑو، ہم یہیں انتظار میں بیٹھتے ہیں ۔ اس بدعہدی اور نا فرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے چالیس برس تک بنی اسرائیل پر بیت المقدس حرام کر دیا اور انھیں چالیس برس تک صحرا میں بھٹکنے کی سزا دی۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹے ہابیل اور قابیل کا واقعہ بتایا کہ اللہ کے حکم کے خلاف قابیل اپنی پسند کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے، جس کا نکاح ہابیل سے ہونے والا تھا تو حضرت آدم علیہ السلام کے حکم سے دونوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کی ، اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول کر لی۔ یہ دیکھ کر قابیل بولا: اے ہابیل ! میں تجھے قتل کر دوں گا۔ ہابیل نے کہا: اے بھائی ! تو اگر مجھے قتل کرنا چاہے تب بھی میں تجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ آخر قابیل نے اسے قتل کر دیا اور لاش کا ندھے پر لئے پھرتا رہا، چونکہ وہ بد بخت بہت بڑا گنہ گار تھا اس لئے اللہ تعالی نے دو کوؤں کو بھیجا اور ایک کوے نے دوسرے کوے کو مار کر دفن کر دیا۔ یہ دیکھ کر قابیل نے اپنے بھائی کو بھی دفن کر دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جس نے کسی انسان کو قتل کیا اُس نے گویا تمام انسانوں کا قتل کیا اور جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی تو اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا۔ اس کے بعد بتایا کہ کا فر آخرت میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے دنیا کی ساری دولت دے کر بھی بچنا چاہیں تو نہیں بچ سکیں گے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔ اس کے بعد چور کی سزا بتائی کہ اس کے ہاتھ کاٹ دو، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ اس کے بعد فرمایا کہ ساری کائنات کا مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے۔ پھر رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: ان کافروں، منافقوں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے انکار کی وجہ سے غمگین نہ ہوں ، ان کے لئے آخرت میں سخت عذاب ہے۔ اگر یہ تمہارے پاس فیصلہ کے لئے آئیں تو تمہیں اختیار ہے، فیصلہ کرو یا منع کر دو۔ ہاں اگر فیصلہ کر دتو انصاف کے ساتھ کرو۔ ویسے بھی یہ تمھارے پاس فیصلہ کے لئے نہیں آئیں گے کیونکہ اس سے پہلے توریت میں اللہ تعالیٰ کا صاف حکم موجود تھا مگر ان لوگوں نے اسے نہیں مانا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بتایا کہ ہم نے توریت بنی اسرائیل کے لئے بھیجی ، جس میں ہدایت اور نور ہے۔ اس میں صاف لکھا ہے کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان ۔ تو اے بنی اسرائیل ! میری آیتوں کو تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لئے بیچ نہ ڈالو۔ اس کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بارے میں بتایا کہ بنی اسرائیل میں ہم لگا تار انبیائے کرام بھیجتے رہے اور سب کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام کو بھیجا جو توریت کی تصدیق کرتے تھے اور ہم نے انھیں انجیل عطا فرمائی۔ جس میں ہدایت اور نور ہے اور توریت کی تصدیق کرتی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اب ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب ( قرآن پاک ) اُتاری ہے جو توریت اور انجیل کی تصدیق کرتی ہے اس لئے اب یہودیوں کو اور عیسائیوں کو اس آخری رسول ﷺ اور آخری کتاب (قرآن پاک) پر ایمان لانا چاہیئے ۔ اس کے بعد مسلمانوں سے فرمایا کہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا یہ لوگ تمہیں گمراہ کر دیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں سے فرمایا کہ تم یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ اور تم میں سے جو اُن سے دوستی رکھے گا وہ انہیں میں سے ہوگا۔ ہاں یہ دونوں ( دکھاوے کے لئے ) ایک دوسرے سے دوستی کریں گے ( اور دکھاوے کیلئے تم سے بھی دوستی کرنا چاہیں گے ) پھر منافقوں کے بارے میں بتایا کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں سے دوستی کرنے کے بہانے تلاش کریں گے اور اپنا نقصان کر لیں گے۔ پھر مسلمانوں سے فرمایا : تم میں سے جو کوئی اسلام سے پھرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو لائے گا جو مسلمانوں کے لئے نرم دل اور کافروں کے لئے سخت ہوں گے اور اللہ کے لئے لڑیں گے اور کسی کی ملامت سے نہیں ڈریں گے اور مسلمانوں کے (سچے) دوست تو صرف مسلمان ہیں اور وہی غالب رہیں گے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو بتایا کہ یہ (یہودی اور عیسائی ) تمہارے دین کا مذاق اڑاتے ہیں اور اذان کا بھی مذاق اڑاتے ہیں۔ تم ان سے پوچھو کہ اے اہل کتاب اتمہیں ہمارا کیا بُرا لگا؟ یہی نا کہ ہم اللہ پر اور رسول اللہ ﷺ پر اور جو کچھ ہماری طرف اترا ( قرآن پاک) اُس پر ایمان لاتے ہیں اور جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ جب کہ وہ آتے وقت بھی کافر تھے اور جاتے وقت بھی کافر ہی تھے۔ آگے فرمایا کہ یہ یہودی کہتے ہیں (نعوذ باللہ ) اللہ تعالی کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ نہیں....! بلکہ خود انہی لوگوں کے ہاتھ باندھے جائیں گے جب کہ اللہ تعالیٰ تو جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ۔ آگے فرمایا : ہم نے قیامت تک ان دونوں (یہودیوں اور عیسائیوں ) کے درمیان بغض اور دشمنی ڈال دی ہے اور یہ دونوں زمین پر فساد پھیلاتے پھرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ جو کچھ آپ ﷺ پر نازل ہوا ہے ( یعنی قرآن پاک ) وہ سب کو پہنچا دو اور اُن سے کہو ۔ اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے جب تک کہ تم توریت اور انجیل اور قرآن پاک پر سچے دل سے ایمان نہ لاؤ۔ اس کے بعد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اس کے باوجود جب بھی اُن کے پاس کوئی رسول آیا اور حق بات کی دعوت دی جو اُن کی خواہشوں کے خلاف تھی تو یہ لوگ اس رسول کا انکار کر دیتے تھے اور یہاں تک کہ (اس رسول کو ) ناحق قتل بھی کر دیا کرتے تھے، یہ سوچ کر کہ ہمیں کوئی سزا نہیں ہوگی ۔ تو یہ اندھے اور بہرے ہو گئے ۔ اس کے بعد عیسائیوں کے بارے میں بتایا کہ ان لوگوں نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) خدا بنا لیا اور کہا کہ (نعوذ باللہ ) تین خدا ہیں ۔ اگر یہ لوگ ایسی ہی حالت میں مریں گے تو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور حضرت عیسٰی علیہ السلام تو اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں اور اُن کی والدہ سیدہ مریم صدیقہ رضی الله عنہا ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔
اللہ تعالٰی نے اس پورے رکوع میں کن سے نکاح کرنا حرام ہے؟ یہ بتایا ہے کہ تمھاری مائیں تمھاری بیٹیاں، تمھاری بہنیں تمھاری پھوپھیاں تمھاری خالائیں تمھاری بھتیجیاں اور بھانجیاں، وہ عورت جس نے تمھیں دودھ پلایا تمھاری دودھ شریک بہنیں وغیرہ ۔ ان سب سے نکاح کرنا حرام ہے۔ آگے فرمایا: دو بہنوں کو اکٹھا کرنا حرام ہے۔ یعنی دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا حرام ہے ۔ ہاں اگر ایک بہن کا انتقال ہو جائے تو دوسری سے نکاح کر سکتے ہیں ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک نکاح کے احکامات ہیں۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالٰی نے اپنی رحمت کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ وہ بزرگ و برتر مالک تمہارے لئے آسانیاں پیدا کرنا چاہتا ہے اس لئے صاف صاف احکامات بیان فرما رہا ہے اور حکم دیا کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق مت کھاؤ اور نہ ایک دوسرے کو قتل کرو اور اگر تم کبیرہ گنا ہوں سے بچتے رہو گے تو تم سے جانے انجانے میں جو گناہ ہو جائیں گے ان سے اگر تم توبہ کر لو گے تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا اور مرد کے اعمال اس کے لئے ہیں اور عورت کے اعمال اس کے لئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں شوہر اور بیوی کے احکامات بیان فرمائے ہیں اور دونوں کو جہاں تک ہو سکے مل کر رہنے کی تلقین کی ہے۔ اس کے بعد والدین، رشتہ داروں، یتیموں محتاجوں ، پڑوسیوں اور مسافروں کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا اور بڑائی کرنے والوں اور کنجوسی کرنے والوں کو نا پسند فرمایا اور دکھاوے کے لئے مال خرچ کرنے والوں کو بھی ناپسند فرمایا اور کافروں کے بارے میں فرمایا کہ انکا ساتھی شیطان ہے اور وہ بہت برا ساتھی ہے ۔ اس کے بعد ایمان والوں کے بارے میں فرمایا کہ ہ اللہ تعالیٰ کیلئے خرچ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو بڑھاتا ہے۔ اس کے بعد امت مسلمہ کی گواہی نبیوں کے لئے اور امت کے اوپر رسول اللہ ﷺ کی گواہی کے اعزاز کو بیان فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کے نافرمانوں کا انجام بتایا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں شراب کی حرمت کا پہلا حکم دیا کہ نشہ کی حالت میں اور ناپاکی کی حالت میں اور بغیر غسل کے نماز پڑھنے نہ جاؤ۔ اس کے بعد عذر کی وجہ سے تمیم کا حکم فرمایا اور اس کا طریقہ بتایا۔ اس کے بعد اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کے بارے میں بتایا کہ وہ گمراہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی گمراہ ہو جاؤ اور بتایا کہ کس طرح زبان موڑ کر بات کے معنی بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور بتایا کہ راعنا ( ہماری رعایت کیجئے ) کہنے کے بجائے راعینا (اے میرے چرواہے ) کہتے ہیں ۔ ( اور ایسا وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی نیت سے کہتے تھے ) ان لوگوں کو فرمایا کہ اگر یہ انظرنا (ہم پر نظر عنایت کیجئے ) کہتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک پر ایمان لاؤ۔ اس سے پہلے کہ ہم تمہارے چہروں کو بگاڑ دیں۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ شرک کو معاف نہیں کرتا اور شرک کے علاوہ جو چاہے معاف کر سکتا ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا کہ یہ اہل کتاب کہتے ہیں کہ بت کی پوجا کرنے والے اور شیطان کی بات ماننے والے (نعوذ باللہ ) سیدھے راستے پر ہیں اور مسلمان غلط راستے پر ہیں ۔ یہ اہل کتاب وہ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس کے بعد انکار کرنے والوں کو دوزخ کا جو عذاب دیا جائے گا اس کا ذکر فرمایا اور پھر فرمایا کہ ایمان والوں کو جنت میں عیش و آرام ملے گا۔ اس کے بعد فرمایا: جب تم فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرد۔ رکوع کے آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرو اور تم میں جو حق بات بتائے اس کی اطاعت کرو اور کسی بات میں تنازعہ ہوتو اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کرو ۔
اللہ تعالی نے اس پورے رکوع میں منافقوں کا اور ان کے دوغلے کردار کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ لوگ ایمان لانے کا دعوی کرتے ہیں اور فیصلہ شیطان کا مانتے ہیں اور ابلیس تو یہی چاہتا ہے کہ انھیں دور تک بھٹکا دے اور رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: یہ تمہارے پاس قسم کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد تو صرف بھلائی ہے۔ اصل بات تو اللہ جانتا ہے۔ تو تم انہیں سمجھاؤ اور اثر دار بات کہو ۔ اس کے بعد فرمایا: جو بھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو، اور سچے دل سے اپنے گنا ہوں کی معافی مانگے اور رسول اللہ ﷺ اُن کے لئے دعا فرما ئیں تو اللہ تعالیٰ اُن کی توبہ قبول کرلے گا اور فرمایا: سچا مسلمان تو وہی ہے جو دل سے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو قبول کرے اور جو سچے دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانے گا تو وہ انعام یافتہ بندوں کے ساتھ ہوگا۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد کی تلقین کی اور منافقوں کے کردار کے بارے میں بتایا کہ وہ جہاد پر جانے سے جان چرائیں گے اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے گی تو کہیں گے کہ اچھا ہوا میں نہیں گیا اور اگر تمہیں کامیابی اور مال غنیمت ملے تو افسوس کریں گے کہ اگر میں بھی جاتا تو مال و دولت پاتا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنے کی دعوت دی اور بتایا کہ ایمان والے ( مسلمان ) اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کافر شیطان کے لئے لڑتے ہیں اور شیطان کا داؤ بہت کمزور ہے۔ (اس لئے جو لوگ شیطان کے لئے لڑتے ہیں وہ یقینا شکست اور ہار سے دو چار ہوں گے اور مغلوب ہوں گے اور مسلمان غالب رہیں گے۔)
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بھی منافقوں کے بارے میں بتایا کہ جب اُن پر جہاد فرض کیا گیا تو ایسے ڈرنے لگے جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی زیادہ لوگوں سے ڈرنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ تعالیٰ ! تو نے ہم پر جہاد کو کیوں فرض کر دیا۔ اس دنیا میں کچھ دن اور زندہ رہنے دیا ہوتا۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دنیا کی زندگی تو ( آخرت کے مقابلہ میں ) بہت ہی تھوڑی ہے اور انسان کا مقررہ وقت جب آجائے گا تو وہ کہیں بھی ہو گا اسے موت آجائے گی ۔ اس کے بعد فرمایا: جس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا حکم مانا وہ کامیاب ہوا اور منافق آپ ﷺ کے سامنے کہتے ہیں : ہم نے آپ ﷺل کا حکم مانا اور جانے کے بعد راتوں میں آپ ﷺ کے خلاف منصوبے بناتے ہیں۔ آگے فرمایا : اگر یہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے پاس سے آتا تو اس میں بہت اختلاف ہوتا ۔ اس کے بعد فرمایا : جس نے نیکی کی دعوت دی اس میں اس کا حصہ ہے اور جس نے برائی کی دعوت دی تو اس میں اس کا بھی حصہ ہے اور جب کوئی تمہیں سلام کرے تو اس سے بہتر انداز اور الفاظ میں جواب دو یا پھر وہی کہہ دو جو اس نے کہا ہو۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو منافقوں اور کافروں کے بارے میں نیز جنگ کے بارے میں احکامات دیئے ہیں ۔ اس کے بعد رکوع نمبر 10 میں قتل اور قاتل کی سزا کے بارے میں احکامات دیئے۔ پھر فرمایا جو کوئی جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرے گا تو اللہ تعالی کا غضب اور عذاب اُس پر نازل ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا: جب بھی تم جہاد کے لئے نکلو تو تحقیق کر لیا کرو اور جو تمہیں سلام کرے تو سمجھ لو کہ وہ مسلمان ہے ۔ اس کے بعد فرمایا: اللہ تعالی کے لئے لڑنے والے اُن لوگوں سے بہتر ہیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں ہجرت نہ کرنے والوں کا انجام بتایا ہے اور ہجرت کرنے والے مہاجرین کو خوشخبری دی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سفر کی حالت میں قصر نماز کے بارے میں بتایا اور جنگ کے دوران نماز کے بارے میں تفصیل سے بتایا اور جہاد کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر میں فرمایا: جنگ کے دوران تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو کافروں کو بھی تکلیف پہنچتی ہے اور تم تو اللہ تعالیٰ سے رحمت کی امید رکھتے ہو۔ ( کہ اس تکلیف کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں اجر و ثواب عطا فرمائے گا ) جب کہ کافروں کو کوئی امید نہیں ہوتی ہے۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا: یہ قرآن پاک بے شک برحق کتاب ہے تم اس کے مطابق فیصلے کرو اور غلط لوگوں کا ساتھ نہ دو۔ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہیں جو لوگوں سے تو ڈرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے ۔ (یعنی یہ جانتے ہوئے کہ اللہ تعالٰی دیکھ رہا ہے پھر بھی گناہ کرتے ہیں اور اس گناہ کولوگوں سے چھپاتے ہیں ) ہاں جو انجانے میں گناہ کر بیٹھے اور فورا اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا اور جوشخص گناہ کر کے اپنا گناہ کسی بے تصور پر تھوپ دے تو یہ بہت بڑا بہتان اور کھلا گناہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں رسول اللہ ﷺ پر اپنے فضل اور رحمت کے بارے میں بتایا اور آپ ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے ۔ اس کے بعد فرمایا: جو لوگوں کو بھلائی کا حکم دے اور صدقہ کی تلقین کرے اور لوگوں میں صلح کروائے اور یہ سب وہ اللہ تعالٰی کو راضی کرنے کی نیت سے کرے تو وہ کامیاب ہو گیا اور جو شخص حق بات سامنے آجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے خلاف کام کرے اور مسلمانوں کے راستے سے الگ راستے پر چلے تو وہ نا کام ہو گیا۔
اس رکوع میں اللہ تعالٰی نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ شرک اور کفر کو معاف نہیں کرے گا، اس سے کم درجہ کے جو گناہ ہیں تو وہ جو چاہے معاف فرمائے گا اور یہ شرک کرنے والے عورتوں (کے بتوں ) کو پوجتے ہیں اور شیطان کی بات مانتے ہیں، ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے اور شیطان نے کہا تھا: میں ضرور تیرے بندوں کو بہکاؤں گا اور دنیا کی خواہشات اور آرزوؤں میں مبتلا کر دوں گا، تو جس نے شیطان کو دوست بنایا وہ نا کام ہو گیا اور شیطان انسان کے ساتھ جھوٹے وعدہ کرتا ہے اور جو ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں میں ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ سب سے سچا ہے اور آخرت کا فیصلہ کا فروں اور اہل کتاب کے خیالوں کے مطابق نہیں ہوگا۔ جو برا کام کرے گا تو اس کا بدلہ سزا کے طور پر پائے گا۔ جو بھلا کام کرے گا اور مسلمان ہوگا تو اسے انعام کے طور پر جنت عطا کی جائے گی اور صحیح مسلمان تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین (اسلام) پر چلا وہی کامیاب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں عورتوں ، یتیم لڑکیوں اور لڑکوں کے بارے میں احکامات دیئے ۔ اس کے بعد شوہر اور بیوی کے بارے میں احکامات دیئے اور اس شخص کے لئے بھی حکم ہے جس کی دو بیویاں ہوں۔ اس کے بعد بتایا کہ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے اور اللہ تعالیٰ چاہے تو تم سب کو ختم کر دے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا انعام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو فرمایا : کہ حق پر قائم ہو جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے لئے حق کی گواہی دو ۔ پھر اس میں تمہارا تمہارے والدین کا یا رشتہ داروں کا نقصان بھی ہو جائے تو پیچھے نہ ہٹو ۔ اس کے بعد فر مایا کہ اللہ تعالی پر، اس کے رسول ﷺ پر، اس کی کتاب (قرآن پاک پر اور ان (کتابوں ) پر جو پہلے اتاری گئیں ( جیسے توریت، زبور، انجیل ) اور اس کے فرشتوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر مکمل یقین و ایمان رکھو اور جو ایسا نہیں کرے گا وہ گمراہ ہوگا۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک منافقوں اور اہل کتاب کی دوغلی پالیسیوں اور ان کی سزا کے بارے میں بتایا اور مسلمانوں سے فرمایا کہ ان سے بچ کر رہنا۔
اس رکوع میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے جھوٹ کی نشاندہی کی جو وہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ سے منسوب کرتے تھے۔ اس کے بعد فرمایا : حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر چلو جو مسلمان تھے اور ہر طرح کے شرک سے بہت دور تھے ۔ اس کے بعد خانہ کعبہ کو تمام انسانوں کا قبلہ مقر فر مایا اور مکہ مکرمہ کے امن کا شہر ہونے کے بارے میں بتایا۔ اس کے بعد اہل کتاب سے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیوں کرتے ہو؟ اور مسلمانوں سے فرمایا : اگر اہل کتاب کی بات مانو گے تو یہ کافر بنا کر چھوڑیں گے ۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا: اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اسلام پر جمے رہو یہاں تک کہ تمہیں موت آئے تو تم مسلمان رہو۔ اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں فرقہ بندی اور اختلاف نہیں کرنا اور تم میں ایک گروہ ہمیشہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور اللہ تعالیٰ ہی کا سب کچھ ہے اور اُسی کی طرف لوٹ کر جاتا ہے۔
اس رکوع میں بھی مسلمانوں سے خطاب جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم تمام امتوں میں سب سے بہتر امت ہو۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو اور اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ صرف تمہیں پریشان کر سکتے ہیں اور اگر تم سے لڑیں گے تو میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے ذلت مسلط کر دی ہے اور کافروں کو اُن کے اور اُن کی اولاد آخرت میں نہیں بچا پائیں گے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اللہ تعالی نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ مسلما نو ا تم غیروں یعنی اہل کتاب اور کافروں کو راز دار نہ بناؤ۔ اُن کی آرزو ہے کہ تمہیں تکلیف میں مبتلا کر دیں اور تم کو تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ وہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اور اکیلے میں غصے سے اپنی انگلیاں چبا ڈالتے ہیں۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں غزوہ بدر اور غزوہ احد کا ذکر فرمایا ہے اور بتایا کہ فرشتوں کے ذریعہ مسلمانوں کی مدد کی جاتی ہے۔ اللہ تعالی ہر ایک کے عمل کو دیکھ رہا ہے۔ اور فرمایا: یہ تمھاری خوشی کے لئے ہے تا کہ تمھارے دلوں کو چین ملے اور اللہ تعالی کا فروں کو ذلیل کرے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: زمین اور آسمان میں جو کچھ ہے سب اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالٰی نے کافروں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرایا ہے اور مؤمنوں کو جنت کی بشارت دی اور مؤمنین کی خصوصیات بتائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ کافروں کے مقابلے میں سستی نہ کرو اور نہ ہی ہمت ہارو۔ اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو کافروں کو بھی اس سے پہلے تکلیف پہنچ چکی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہے تا کہ ایمان والوں کی پہچان ہو اور ان میں سے کچھ شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوں ۔ آگے فرمایا: کیا تم اس گمان میں ہو کہ بغیر امتحان دیتے ہی جنت میں چلے جاؤ گے؟
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ اگر خدانخواستہ رسول اللہ ﷺ کو کچھ ہو جائے تو کیا تم اُلٹے پاؤں کفر کی طرف پھر جاؤ گے ؟ اس طرح تم اپنا ہی نقصان کرو گے ۔ آگے فرمایا: اس سے پہلے بھی بہت سے انبیاء علیہم السلام نے اللہ تعالیٰ کے لئے کافروں سے مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ بھی ایمان والے تھے ۔ وہ لوگ نہ سُست پڑے نہ کمزور ہوئے اور نہ کسی دباؤ میں آئے بلکہ صبر کیا اور دعا مانگتے تھے۔ اے ہمارے رب ! ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا: کافروں کے کہنے پر مت چلو، یہ تمہیں الٹے پاؤں (کفر کی طرف) لے جائیں گے۔ اس کے بعد غزوہ احد کے بارے میں بتایا اور فرمایا: سارا اختیار تو صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ آگے فرمایا: جس کی موت جہاں لکھی ہوتی ہے وہ کسی نہ کسی بہانے وہاں پہنچ جاتا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ مومن اور منافق کی پہچان ہوجائے۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تم کافروں اور منافقوں کی طرح مت سوچنا، وہ سمجھتے ہیں کہ اگر سفر یا جہاد پر نہ جاتے تو مارے نہیں جاتے جبکہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں زندگی اور موت ہے اور اگر تم اللہ تعالی کیلئے مارے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت تمہیں ملے گی ۔ جو دنیا کی تمام دولت سے بہتر ہے۔ اسکے بعد رسول اللہ ﷺ کے اوصاف بیان فرما کر آپ ﷺ سے فرمایا: تم ان کو معاف کر دو اور ان کیلئے مغفرت کی دعا مانگو اور ان سے مشورہ کر لیا کرد اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو اس کے بعد مؤمنوں اور کافروں کے انجام کو بتایا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ کی نبوت کو احسان بتایا اور آپ ﷺ کے اوصاف بیان فرمائے ۔ اس کے بعد غزوہ اُحد میں منافقوں کا کردار بیان فرمایا
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اوصاف بیان فرمائے اور انھیں اپنے فضل کی خوش خبری دی ۔ اس کے بعد فرمایا: یہ کافر اللہ تعالی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور کافر اس گمان میں نہ رہیں کہ انھیں ہم جو ڈھیل ( دنیاوی عیش و آرام کی صورت میں ) دے رہے ہیں اس میں ان کا کچھ بھلا ہے نہیں بالکل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ ان کے گناہ اتنے بڑھ جائیں کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ ہی نہ ہو۔ رکوع کے آخر میں کنجوس لوگوں کو ڈرایا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کے بارے میں بتایا کہ یہ بد بخت لوگ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں اور انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کرتے ہیں ( رسول اللہ ﷺ پر بھی ان لوگوں نے قاتلانہ حملہ کیا تھا ) اس کے بعد آپ ﷺ کو تسلی دی کہ یہ اہل کتاب صرف آپ ﷺ کو نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو جھٹلایا ہے اور دنیا کی زندگی تو بس ایک دھوکہ ہے اور تم کو اہل کتاب اور کافروں سے اذیت پہنچے گی تو صبر کرنا، یہ بہت بڑی ہمت کا کام ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ کچھ نہ چھپانا لیکن ان لوگوں نے دنیاوی فائدے کے لئے (توریت میں آپ ﷺ کے اوصاف کو چھپالیا اور بہت بڑے نقصان میں پڑ گئے۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیاں بیان فرمائیں اور ایمان والوں ( عقلمندوں) کے غوروفکر کرنے اور اُن کی دعاؤں کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد جن ایمان والوں نے اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کیا اور اس کی آزمائشوں پر پورے اترے انھیں کامیابی کی بشارت دی کہ وہ ہمیشہ جنت میں آرام سے رہیں گے اور کافروں کو عذاب کا مژدہ سنایا۔ اس کے بعد بتایا کہ اہل کتاب میں کچھ ایسے بھی ہیں جو سچے مسلمان ہیں اور اللہ تعالیٰ اُن کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔ (سورہ آل عمران مکمل)
اس سورہ میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر مسلمانوں کو احکامات دیئے ہیں۔ رکوع کے شروع میں تمام انسانوں کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک جان ( حضرت آدم علیہ السلام) سے پیدا فرمایا۔ اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور اس جوڑے سے بہت سے مرد اور عورت پیدا فرما کر پوری دنیا کو آباد کر دیا۔ اس کے بعد یتیموں کے بارے میں احکامات دیئے ۔ درمیان میں ترکہ اور وراثت کے کچھ احکامات دیئے اور رکوع کے آخر تک یتیموں کے بارے میں احکامات دیئے۔
اللہ تعالیٰ نے اس پورے رکوع میں وراثت کے احکامات دیئے ہیں ۔ لڑکا اور لڑکی کے بارے میں ، اگر صرف لڑکیاں ہو تو ان کے بارے میں ، ماں باپ کے بارے میں، بہن بھائی کے بارے میں ، مرد کے ترکہ میں بیوی کا حصہ، عورت کے ترکہ میں شوہر کے حصہ کے متعلق احکامات دیے ہیں۔ رکوع کے آخر میں فرمایا : یہ اللہ کی حدیں ہیں اور جو ان پر قائم ربا وہ کامیاب ہوگا اور جس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی اور حد کو پار کر گیا تو وہ آگ کا مستحق ہے۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے بدکار عورت اور بدکار مرد کے بارے میں احکامات دیئے۔ اس کے بعد تو بہ کے بارے میں بتایا کہ توبہ اُسی کی قبول ہوگی جو غلطی کرنے کے بعد توبہ کرلے اور عہد کر لے کہ دوبارہ یہ گناہ نہیں ہوگا اور اس پر قائم رہے اور جو گناہ پر گناہ کرتا جائے (اس خیال سے کہ توبہ کر لوں گا) اور جب آخری وقت آجائے تو توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور جو کا فر مرے۔ اس کے بعد اللہ تعالٰی نے عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم اور مہر کے بارے میں کچھ احکامات دیئے۔ (چوتھا پارہ مکمل )
اس رکوع میں دوسرے پارے کی چار آیات ہیں اور پھر تیسرا پارہ شروع ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ جب طالوت بنی اسرائیل کا لشکر لے کر چلے تو کہا: راستے میں ایک نہر پڑے گی اور اس میں تمہاری آزمائش ہے۔ جو پیٹ بھر کر پانی پئے گا وہ ناکام ہوگا اور جو ایک چلو پانی پئے گا وہ کامیاب ہو گا ۔ لگ بھگ 80 ہزار بنی اسرائیل کے لشکر میں سے لگ بھگ 76 ہزار لوگوں نے پیٹ بھر کر پانی پیا اور نا کام ہو کر واپس لوٹ گئے ۔ باقی 4 ہزار میں سے بھی اکثریت واپس لوٹ گئے اور طالوت کے ساتھ صرف اتنے رہ گئے جتنے آپ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم تھے۔ پھر حضرت داؤد علیہ السلام نے جالوت کو قتل کر دیا اور بنی اسرائیل کو فتح ہوئی۔
اس رکوع میں آیت الکرسی ہے۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کے خالق اور مالک ہونے اور حاکم ہونے اور کائنات کا نظام سنبھالنے کا بیان بہت بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا کہ دین اسلام میں کوئی زبردستی نہیں ہے۔ بے شک دین اسلام بہت صاف اور واضح ہو گیا ہے اور اب جس نے اسلام قبول کرلیا تو حقیقت میں اس نے بہت مضبوط سہارا لیا ہے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا ولی ہے۔ وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور کافروں کا ولی شیطان ہے کہ انھیں روشنی سے اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے مناظرے کو بتایا پھر حضرت عزیر علیہ السلام کا واقعہ بتایا۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس واقعہ کو بتایا کہ جس طرح مردہ پرندوں کو زندہ کیا، اسی طرح اللہ تعالی قیامت میں سب کو زندہ کرے گا ۔ اس کے بعد صدقہ کو اللہ تعالیٰ کس طرح بڑھاتا ہے یہ بتایا اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ جن کو صدقہ دیا کرو انھیں تکلیف نہ دو اور احسان نہ بتاؤ اور دکھاوے کے لئے صدقہ نہ دو۔ کہیں ایسا نہ ہو تمہارے صدقے بے کار ہو جا ئیں ۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک اچھے صدقے اور بُرے صدقے کی مثال بیان فرمائی۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کی تلقین کی ہے کہ اپنی کمائیوں میں سے اور جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے زمین سے رزق نکالا ہے اس میں سے دو اور خراب چیز مت دو کہ اگر وہ چیز تمہیں دی جائے تو تم نہیں لو گے بلکہ اچھی چیز دو جسے تم خود پسند کرتے ہو اور شیطان ڈراتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے صدقہ و خیرات کرنے سے محتاجی آجائے گی اور بے حیائی سکھاتا ہے اور اللہ تعالی تم سے بخشش اور فضل کا وعدہ فرماتا ہے اور خیرات چاہے کھلے عام دو یا چھپا کر دو، دونوں ٹھیک ہے اور اگر چھپا کر دو تو تمہارے لئے بہتر ہے اور اُن لوگوں کو دو جو واقعی مستحق ہیں مگر حیا اور عار کی وجہ سے مانگتے نہیں اور تم جو بھی دو گے اس کا پورا اجر ملے گا۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں صدقہ و خیرات کرنے والوں کو خوش خبری دی ۔ اس کے بعد سود کے حرام ہونے کا حکم بیان فرمایا کہ سود اور تجارت دو الگ چیزیں ہیں ۔ تجارت حلال ہے اور سود حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ سود کو ہلاک کرتا ہے اور صدقہ و خیرات کو بڑھاتا ہے اور حکم دیا کہ نماز قائم کرو اور زکوۃ دو ۔ آگے فرمایا کہ جس کو قرض دیا ہے اگر وہ ادا کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اسے مہلت دو اور اگر قرض معاف کردو تو یہ تمہارے لئے اچھا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کا بھر پور بدلہ عطا فر مائے گا۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم لین دین کرو تو اسے لکھ لو اور اس پر دو مرد گواہ بنا لو اور اگر ایک ہی مرد ملے تو اس کے ساتھ دو عورتوں کو گواہ بنا لو اور گواہ کو بھی جب بھی بلایا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ خوشی خوشی حق بات کہنے کے لئے آئے اور اگر ہاتھوں ہاتھ لین دین کرو اور نہ لکھو تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے والا نہ پاؤ تو ضمانت کے طور پر کچھ دے دو۔ اگر دونوں کا آپس میں اطمینان ہو تو ٹھیک ہے۔ اس کے بعد رکوع نمبر 8 میں وہ دعا ہے جو صرف رسول اللہ ﷺ کو عطا فرمائی گئی اور آپ ﷺ کے علاوہ کسی نبی کو عطا نہیں ہوئی ، اس دعا کے اختتام پر سورہ بقرہ مکمل ہو گئی۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں اپنی وحدانیت کے بیان کے بعد فرمایا۔ یہ قرآن پاک سچی کتاب ہے اور توریت اور انجیل کی تصدیق کرتی ہے اور لوگوں کو صحیح راستہ دکھاتی ہے۔ آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے کچھ چھپا نہیں ہے اور وہی ہے جو تمہاری والدہ کے پیٹ میں بالکل ٹھیک ٹھیک تمہارے ہاتھ ، پیر، کان ، ناک اور آنکھ بنا تا ہے اور اس قرآن پاک میں صاف صاف اور مشتبہ آیات ہیں ۔ مؤمن تو صاف صاف آیات کو لیتے ہیں اور جن کے دلوں میں خرابی ہے وہ مشتبہ آیات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور مؤمن تو یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب ہمارے رب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ہدایت پر قائم رکھ۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں کافروں کو اپنے عذاب سے ڈرایا اور فرعون کی مثال دی ۔ اس کے بعد اورغزوہ بدر میں مسلمانوں کی مدد کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد فرمایا کہ دنیا لوگوں کے لئے سجادی گئی ہے اور انسان اپنی خواہشات ، اپنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے خزانوں اور اپنے جانوروں اور زمین جائداد کو ہی اپنی پونجی سمجھتا ہے جب کہ یہ سب دنیا میں رہ جائے گا اور اللہ تعالی کے پاس اس سے اچھا ٹھکانہ ہے۔ بس جو خالص اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے عمل کرے گا تو اسے جنت ملے گی۔ جہاں نہریں اور پاک بیویاں ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالی اُن سے راضی ہوگا۔ آگے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان لائے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ ہر مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں ۔ ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کا ادب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے خرچ کرتے ہیں اور رات کے آخری پہر روروکر اللہ تعالی سے معافی مانگتے ہیں۔ آگے فرمایا: بے شک اصل دین اسلام ہے اور اہل کتاب (یہودی اور عیسائی ) حق واضح ہونے کے بعد بھی حسد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ تو اے رسول ( ﷺ) اگر وہ تم سے بحث کریں تو فرما دو کہ میں نے اللہ تعالی کے آگے سر جھکا دیا ہے اور مسلمانوں سے بھی، اور ان سے کہو اللہ تعالی کے آگے سر جھکا ئیں ۔ اگر انھوں نے تمہاری بات مان لی تو کامیاب ہوں گے ورنہ اللہ تعالی انھیں دیکھ رہا ہے۔
رکوع نمبر 10 میں اہل کتاب (یہودیوں اور عیسائیوں) کا ذکر چل رہا تھا۔ اس رکوع میں بھی اللہ تعالی نے اہل کتاب کے بارے میں فرمایا: یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے اور نبیوں کو حق بات کہنے والوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کے عمل بے کار ہو گئے ہیں۔ جب انھیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں۔ ایسا وہ اس جھوٹے گمان کی وجہ سے کرتے ہیں کہ وہ کچھ ہی دن دوزخ میں رہیں گے ۔ یہ اسی دن معلوم ہو گا جب ہم سب کو جمع کریں گے ۔ آگے یہ بیان ہے کہ اللہ تعالی ہی جسے چاہتا ہے سلطنت دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے سلطنت چھین لیتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کر دیتا ہے ۔ وہی دن میں سے رات کو اور رات میں سے دن کو اور زندہ میں سے مردہ کو اور مروہ میں سے زندہ کو نکالتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کی اتباع ( پیروی) کرنے کی تلقین فرمائی ۔ اس کے بعد سیدہ مریم رضی اللہ عنہا (حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ) کی پیدائش اور انھیں مسجد کی خدمت میں دینے کا واقعہ بیان فرمایا اور حضرت ذکریا علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے بیٹے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی پیدائش کا واقعہ بیان فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی پرورش اور نماز کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے لئے آئے تھے اور آپ علیہ السلام کے معجزات کا ذکر فرمایا اور بتایا کہ آپ علیہ السلام توریت کی تصدیق کرنے آئے تھے اور جب بنی اسرائیل نے آپ علیہ السلام کا انکار کیا تو اس وقت حواریوں نے آپ علیہ السلام کا ساتھ دیا۔
اس رکوع میں اللہ تعالی نے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لینے کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو ماننے والے (عیسائی) آپ علیہ السلام کا انکار کرنے والوں (یہودیوں) پر غالب رہیں گے اور پھر سب کو میں جمع کروں گا اور صحیح فیصلہ کر دوں گا اس بات کا جس کے بارے میں تم جھگڑتے ہو اور آگے فرمایا: حضرت عیسٰی سے فرمایا اب اس کے علیہ السلام کو میں نے ایسے ہی بنایا ہے جیسے میں نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنایا اور رسول اللہ ﷺ سے فرمایا: اب اس کے بعد یہ لوگ (عیسائی) انکار کریں تو ان کو مباہلہ کی دعوت دو۔
اس رکوع میں سب سے پہلے اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا: اہل کتاب سے کہو کہ آؤ! ان باتوں پر متفق ہو جا ئیں جو تمہارے اور ہمارے درمیان یکساں ہیں وہ یہ کہ ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو رب نہ بنائے اور اگر وہ نہ مانیں تو صاف کہہ دو کہ تم گواہ رہنا ہم تو مسلمان ہیں ۔ آگے فرمایا تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑتے ہو۔ آپ علیہ السلام تو توریت اور انجیل نازل ہونے سے پہلے تھے اور آپ علیہ السلام نہ تو یہودی تھے اور نہ ہی عیسائی بلکہ صرف مسلمان تھے ۔ جیسے ہم مسلمان ہیں اور سب سے زیادہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس بات کے حقدار ہیں کہ اُن کی اتباع ( پیروی) کی جائے ۔ آگے فرمایا: یہ اہل کتاب اپنی طرح تمہیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں ۔ پھر اہل کتاب سے کہا: میری آیتوں کا انکار نہ کرو اور حق اور باطل کو خلط ملط نہ کرو اور حق کو نہ چھپاؤ۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں اہل کتاب کے ایک گروہ کے بُرے عمل کو بتایا کہ وہ صبح رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے تھے اور شام کو انکار کر دیتے تھے تا کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم شرک میں مبتلا ہو جائیں۔ اس کے بعد فرمایا: فضل یعنی نبوت و رسالت تو بس اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ جسے چاہے دے۔ پھر اہل کتاب کے اس جھوٹ کو کھول دیا کہ اللہ تعالیٰ ان پڑھوں (مسلمانوں) کے بارے میں ہماری پکڑ نہیں کرے گا۔ اس کے بعد اہل کتاب کی خیانتوں کے بارے میں بتایا کہ وہ ان کی آسمانی کتابوں میں ملاوٹ کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی کتاب میں ہیر پھیر بھی کرتے تھے اور اپنی طرف سے لکھ کر کہتے تھے کہ (نعوذ باللہ) یہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔
اس رکوع میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام سے عہد لینے کا ذکر فرمایا ہے۔ اکثر علمائے کرام نے لکھا ہے کہ یہ عہد تو حید اور رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا اور ان کی مدد کرنے کا عہد تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا کہ تم ان سے کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اُس ( قرآن ) پر جو ہماری طرف نازل ہوا۔ حضرت ابراہیم ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام پر اور ہم ان میں کوئی فرق نہیں کرتے اور ہم مسلمان ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں بتایا جو ایمان لانے کے بعد کا فر ہو گئے یعنی یہودی اور عیسائی اور رسول اللہ ﷺ کو سچا ماننے کے بعد انکار کر دیا۔ اُن پر فرشتوں اور انسانوں کی لعنت ہے۔ ہاں جو توبہ کرلے تو اللہ رحم کرنے والا ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع میں قبلہ کی تبدیلی کاحکم فرمایا۔ پہلے آپ ﷺ اور مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے۔ جسے یہودی اور عیسائی اپنا قبلہ مانتے ہیں لیکن آپ ﷺ جانتے تھے کہ اصل قبلہ خانہ کعبہ ہے۔ اس لئے حکم آنے کے انتظار میں بار بار آسمان کی طرف دیکھتے تھے۔ اللہ تعالی نے اس کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ ہم تمہارا رخ اس قبلہ ( خانہ کعبہ ) کی طرف پھیر دیتے ہیں جس کی طرف تم چاہتے ہو اور یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں فرمایا کہ اب یہ بے وقوف قبلہ پھیر نے پر حیرت کا اظہار کریں گے حالانکہ اس سے پہلے کے کئی رکوع میں اللہ تعالی نے بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی تھا۔ اس لئے اب اگر یہ لوگ انکار کریں گے تو خود اپنا نقصان کریں گے۔
اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کے قبلہ بنانے کے بارے میں ہدایات دیں اور رکوع کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف حمیدہ بیان فرمائے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو صبر کی تلقین کی اور نماز اور شہداء کے بارے میں احکامات دیے اور آزمائشوں کا ذکر فرمایا اور اُن پر صبر کرنے والوں کو خوش خبری دی۔ اس کے بعد حج کے احکامات بتائے۔
اللہ تعالیٰ نے پچھلے رکوع کے آخر میں اور اس رکوع کے شروع میں اپنی وحدانیت کا اعلان فرمایا اور بتایا کہ کائنات کی تخلیق اللہ تعالی نے کی ہے اور وہی اسے سنبھال رہا ہے اور وہی اکیلے پوری کائنات کا نظام چلارہا ہے۔ اگر تم عقل رکھتے ہوتو اللہ تعالی کی نشانیوں پر غور کرو۔ اب اس کے بعد اگر کوئی انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو خالق ، مالک اور معبود مانے گا تو قیامت کے دن اس کا انجام بہت برا ہو گا اور وہ ہمیشہ آگ میں رہے گا۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میرے دیئے ہوئے رزق سے فائدہ اٹھاؤ اور شیطان تمہیں برائی کا حکم دیتا ہے تو اس کی بات نہ مانو ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اس کے بعد کافروں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ کہتے ہیں : ہم وہی کریں گے جو ہمارے باپ دادا کر تے تھے ۔ چاہے اُن کے باپ دادا گمراہ ہی کیوں نہ ہوں اور انکار کرنے والوں کو گونگا، بہرہ اور اندھا فرمایا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو احکامات دیئے اور رکوع کے آخر میں فرمایا: جو لوگ اللہ تعالی کتاب کی آیتوں کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ دیتے ہیں وہ دراصل اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور آخرت میں اُن کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
اللہ تعالی نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: صرف مشرق یا مغرب کی طرف منہ پھیرنا نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی پر ، اس کے نبیوں پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور یقین رکھے کہ مجھے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو جواب دیتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ کی محبت کی وجہ سے رشتہ داروں یتیموں، مسکینوں، مسافروں ، سوال کرنے والوں اور قیدیوں کو آزاد کرانے میں اپنا مال خرچ کرے، نماز قائم کرے، زکوۃ دے، وعدہ کرے تو پورا کرے سختی میں، تکلیف میں اور جنگ میں صبر کرے تو ایسے لوگ کامیاب ہوں گے۔ اس کے بعد قصاص کے احکامات اور وصیت کے احکامات بیان فرمائے۔
اس رکوع میں اللہ تعالی نے روزے کے احکامات بیان فرمائے ۔ درمیان میں قرآن پاک کے بارے میں بتایا کہ یہ حق ہے ، لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور فرقان ہے اور یہ بھی بتایا کہ میں اپنے بندوں کے بے حد قریب ہوں اور اپنے بندوں کی دعاؤں کو سنتا اور قبول کرتا ہوں اور پھر رکوع کے آخر تک روزوں کے احکامات بیان کئے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں حج کے کچھ احکامات بتائے اور جہاد ( یعنی اللہ کے دین کی سر بلندی لئے لڑنے) کے احکامات بتائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کے لئے تب تک لڑو جب تک فتنہ باقی رہے۔ اس کے آگے فرمایا: جس نے تمہارے ساتھ جتنی زیادتی کی ہے تم بھی صرف اتنی ہی زیادتی کرو اس سے زیادہ نہیں۔ اس کے بعد رکوع کے آخر تک حج کے احکامات بیان فرمائے۔
اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے حج کے احکامات بتائے، درمیان میں مسلمانوں کو دعا سکھائی کہ دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگا کرو۔ حج کے احکامات کے بعد کا فر کا کردار پیش کیا اور بتایا کہ کس طرح زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتا ہے۔ اس کے بعد مؤمن کے بارے میں بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے ہر عمل کرتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے لئے بکنا پڑے تو اپنے آپ کو بیچ ڈالتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، تم اس کے بہکاوے میں نہ آؤ اور یہ بھی فرمایا کہ پورے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ۔ یعنی اپنا ہر عمل خالص اللہ کے لئے کرو۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ صاف حق آجانے کے باوجود انھوں نے انکار کیا اور آگے فرمایا: دنیا کو کافروں کے لئے سجا دیا گیا ہے۔ وہ عیش و آرام میں رہتے ہیں اور مسلمانوں پر ہنستے ہیں ۔ قیامت کے دن ایمان والے اُن پر ہنسیں گے ۔ اس کے بعد انبیائے کرام کی بعثت کا ذکر فرمایا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دیتا ہے جو سچے دل سے اسلام قبول کرتے ہیں۔ اس کے بعد جنت میں جانے کے لئے آزمائشوں کا ذکر فرمایا اور فرمایا: اپنے والدین ، رشتہ داروں، یتیموں محتاجوں اور مسافروں پر خرچ کرو ۔ رکوع کے آخر میں فرمایا: تم پر جنگ فرض ہے اور وہ تمہیں نا گوار ہے ۔ ہو سکتا ہے جو تم نا پسند کر رہے ہو اس میں تمہارے لئے بھلائی ہو اور جس کو پسند کرو، وہ تمہارے لئے بُرا ہو۔ یہ اللہ تعالی جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے جنگ کے بارے میں بتایا اور فرمایا: جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ تعالٰی کے راستے میں لڑے تو یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں ۔ اس کے بعد شراب اور جوئے کو حرام قرار دیا اور یتیموں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد کا فرعورت اور کافر مرد سے نکاح کو حرام کر دیا اور فرمایا: یہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے حکم اور نصیحت سے جنت کی طرف بلاتا ہے۔
اللہ نے رکوع نمبر 12 کے شروع میں حیض کے بارے میں احکامات دیئے۔ اس کے بعد پورے رکوع اور رکوع نمبر 13 میں طلاق کے بارے میں احکامات دیئے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں طلاق کے بارے میں بتانے کے بعد بچے کو دودھ پانے کے بارے میں احکامات دیئے اور اس کے بعد عدت کے بارے میں احکامات دیئے اور پورے رکوع نمبر 15 میں طلاق کے بارے میں احکامات دیئے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بنی اسرائیل کے ہزاروں لوگوں کے ایک گروہ کا واقعہ بتایا جو طاعون کی موت کے ڈرسے بستی سے نکل گئے تھے تو اللہ تعالی کے حکم سے سب کو ایک ساتھ موت آگئی۔ اور اللہ تعال کے لئے لڑنے کی تلقین کی اور جو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے بنی اسرائیل کے بارے میں بتایا کہ جب انھوں نے اپنے نبی ( حضرت شموئیل علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ ہمارے لئے بادشاہ مقر کرو تو ہم اس کے ساتھ اللہ تعالی کے لئے لڑیں گے۔ اللہ تعالی کے حکم سے نبی علیہ السلام نے فرمایا طالوت تمہارا بادشاہ ہے اوراس کی بادشاہت کی نشانی یہ ہے کہ تمہیں تابوت سکینہ واپس مل جائے گا۔ جس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہا السلام کی یادگار چیزیں اور توریت کی پتھر کی لوحیں ہیں۔
بسم الله الرحمن الرحیم
﷽
1 خلاصۃ القرآن پارہ نمبر
مرتب: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی
قرآن پاک کا آغاز و افتتاح اس سورہ سے ہوا ہے۔ اس لئے اس کا نام سورہ الفاتحہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس کے کئی نام ہیں ۔ یہ دراصل ایک دعا ہے ۔ جو بندہ اپنے رب (اللہ تعالی) سے کرتا ہے۔ بندہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور اسے تمام عالم کا رب تسلیم کرتا ہے اور دل میں یہ یقین رکھتا ہے کہ میرا رب مجھ پر بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ وہی قیامت کے دن کا مالک ہے۔ اس کے بعد وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ " ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد ما لگتے ہیں۔ اب وہ دعا ہے جو بندہ اللہ تعالیٰ سے مانگ رہا ہے کہ " اے اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھا اور سچا راستہ دیکھا اور اُس پر ہمیں چلا۔ اُن لوگوں کے راستہ پر چلا جن پر تیرا انعام ہوا ہے اور اُن کے راستے سے ہمیں بچا جن پر تیرا غضب نازل ہوا اور جو گمراہ ہوئے۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کی دعا کا جواب دیا ہے اور مؤمنین کی خصوصیات بیان فرمائی اور کافروں کا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بندہ کی دعا کے جواب میں فرمایا: یہ قرآن پاک ہر طرح کے شک وشبہ سے بالا تر ہے۔ اس پر عمل کرو گے تو ہدایت پاؤ گے کیوں کہ یہی ہدایت کا راستہ ہے۔ مؤمنین کی خصوصیات بیان فرمائی کہ غیب پر ایمان لاتے ہیں ۔ نماز قائم کرتے ہیں اور میرے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ پر جو قرآن نازل ہوا اسے حق مانتے ہیں اور آپ ﷺ سے پہلے انبیائے کرام علیہم السلام پر جو کتا بیں نازل ہوئیں ان پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور اس کے لئے عمل کرتے ہیں۔ رکوع کے آخر میں ڈھیٹ کا فروں کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ دنیا میں بدبختی و محرومی اور آخرت میں سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں منافقوں کے بارے میں بتایا ہے جو دکھاوے کے لئے ایمان لاتے ہیں اور کافروں سے بھی ملے جلے رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم اللہ تعالیٰ کو اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ( نعوذ باللہ ) بے وقوف بنارہے ہیں اور فائدے میں ہیں ۔ حالانکہ اس طرح وہ لوگ دنیا اور آخرت دونوں کا نقصان کرتے ہیں ۔ اس رکوع میں منافقوں کے دوغلے کردار کو اور اُن کے نفاق کو دو واضح مثالوں سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے مومنوں، کا فروں اور منافقوں کا ذکر فرمانے کے بعد تمام انسانوں کو غور فکر کرنے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے کا حکم فرمایا اور بتایا کہ میں نے ہی تمہیں تمہارے آباء و اجداد کو اور پوری کائنات کو پیدا فرمایا ہے اور میں اکیلا ہی اس پوری کائنات کا نظام چلا رہا ہوں۔ اس کے بعد کافروں سے فرمایا: اگر تمہیں قرآن پاک پر شک ہے تو تم تمام لوگ اور تمہارے جھوٹے خداؤں کے ساتھ مل کر اس قرآن پاک کے جیسی ایک سورہ ہی بنا لاؤ ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم ایسا ہر گز نہیں کر سکو گے اور اب اس کے بعد بھی جو کفر کرے گا تو وہ دوزخ کا ایندھن بنے گا۔ اس کے بعد مؤمنین کو جنت کی بشارت دی اور قرآن کریم پر اعتراض کرنے والوں کے جواب میں فرمایا کہ ہم کسی بھی چیز کی مثال دے سکتے ہیں ۔ ان مثالوں سے مسلمانوں کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور کافروں کا شک اور بڑھ جاتا ہے۔ رکوع کے آخر میں فرمایا : بھلا انسان اللہ تعالیٰ کا کیسے انکار کر سکتا ہے جب کہ اللہ تعالی نے ہی انہیں بنایا اورزندہ کیا اور پھر مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور سب کو جمع کرے گا۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کس طرح بنائی ہے، اس کا ذکر فرمایا۔ انسان کوکس طرح پیدا کیا اور اسے اشرف الخلوقات کا درجہ عطا فرمایا، شیطان نے کس طرح انسان سے حسد کیا اور اس کا دشن بن گیا۔ انسان اور شیطان کس طرح دنیا میں آئے اور ہمیشہ ایک دوسرے کے دشمن رہے ہیں اور رہیں گے ۔ اسی سلسلے میں حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔
اللہ تعالی نے بنی اسرائیل ( قوم یہود ) کو اپنے انعامات یاد دلائے اور وہ عہد بھی یاد دلایا جو بنی اسرائیل نے اللہ تعالی سے کیا تھا کہ تمام انبیائے کرام پر ایمان لائیں گے اور اسی بنیاد پر ان کوحکم دیا کہ اللہ کے رسول ﷺ پر بھی ایمان لاؤ اور اپنے عہد کو پورا کرو۔ اور جان بوجھ کر اپنی کتابوں (توریت اور انجیل ) میں اس آخری رسول ﷺ کے ذکر کو مت چھپاؤ بلکہ اُن پر ایمان لاؤ اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کرو زکوۃ دو، اگر تم میں عقل ہے تو تم ضرور یہی کرو گے
اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے انعامات واحسانات یاد دلائے کہ ہم نے تمہیں فضلیت عطا فرمائی اور فرعون کے مظالم سے نجات دلائی اور بچھڑے کی پوجا کرنے کے باوجود تمہیں معاف کیا تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور تمہیں " من و سلوی عطا فرمایا۔ اس کے باوجود تم اتنے بد بخت ہو کہ لگا تار ہماری نافرمانی کرتے رہے۔
اس رکوع میں بھی بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا اور کس طرح انھوں نے نافرمانیاں کیں، اس کا ذکر ہے اور رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ نافرمانیوں میں اتنے بڑھ گئے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کو نا حق قتل کرنے لگے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں بات صاف کر دی کہ تمام انسانوں میں سے صرف وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو سچے دل سے اللہ تعالیٰ پر، اس کے تمام نبیوں اور رسولوں پر اور آخرت پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالی کے حکم کے مطابق عمل کریں گے ۔ جو لوگ یہ نہیں کریں گے، پھر وہ چاہے یہودی ہوں یا عیسائی یا اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو ماننے والے ہوں وہ نا کام ہو جائیں گے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل پر اپنے انعامات اور اُن کی نافرمانیوں کا ذکر فرمایا اور اسی سلسلہ میں گائے کے ذبیح کا واقعہ بیان فرمایا۔
اس رکوع میں بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ذکر کو جاری رکھا۔ رکوع کے شروع میں گائے کے ذبح کا قصہ بیان کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی کیفیت بیان فرمائی جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے کرتے اُن کی ہو گئی تھی ۔ اسے پتھروں کی مثال کے ذریعے سمجھایا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو فرمایا کہ ان یہودیوں کا اعتبار مت کرنا۔ یہ تمہارے ساتھ دھوکہ اور مذاق کرتے ہیں اور آسمانی کتاب میں ملاوٹ کرتے ہیں۔ اُن کا گمان ہے کہ یہودی کچھ ہی دن دوزخ میں رہیں گے۔ پھر ہمیشہ جنت میں رہیں گے ۔ یہ جھوٹا گمان ہے ۔ ہاں جو اللہ تعالیٰ پر تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لائے گا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عمل کرے گا وہ ضرور جنت کا حقدار ہو گا ۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا ذکر فرمایا۔ رکوع کے شروع میں بنی اسرائیل کو وہ عہد یاد دلایا جوانھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا، وہ عہد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ، اس کے تمام رسولوں پر ایمان لائیں گے اور والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں سے اچھا سلوک کریں گے لیکن انھوں نے اس کے الٹ کیا۔ بقیہ رکوع میں اسی کا ذکر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں بتایا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل کے لئے آئے تھے اور بنی اسرائیل نے اُن کا انکار کیا اور انھیں جھٹلایا اور آپ علیہ السلام کے قتل کے درپے ہو گئے ، اس کے بعد اللہ تعالی نے بتایا کہ اب یہ آخری نبی ﷺ آئے ہیں ، ان کے آنے کا بنی اسرائیل (یہودی) بہت ہی بے چینی سے انتظار کر رہے تھے اور آپ ﷺ کے صدقہ میں جنگ میں اور بھی کئی معاملات میں کامیابی کی دعا مانگتے تھے اور اللہ تعالیٰ انھیں کامیابی عطا فرماتا تھا۔ لیکن جب آپ ﷺ آگئے تو یہی لوگ آپ ﷺ کے دشمن ہو گئے ۔ جس طرح حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن ہو گئے تھے۔ باقی رکوع میں بنی اسرائیل کی اسی دشمنی اور نا فرمانی کا ذکر ہے۔
اس رکوع کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے جھوٹ کا پردہ فاش کیا ۔ وہ کہتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاس جبرئیل علیہ السلام آتے ہیں۔ وہ ہمارے دشمن ہیں۔ اگر میکائیل علیہ السلام آتے تو ہم ایمان قبول کر لیتے۔ اسی رکوع میں آگے حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہودیوں کے لگائے گئے جھوٹے الزام کو بھی اللہ تعالیٰ نے جھوٹا ثابت کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ بنی اسرائیل کی آزمائش کے لئے دو فرشتوں کو بھیجا گیا لیکن ان یہودیوں نے ان سے جادو سیکھ کر اپنی آخرت برباد کر لی۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع میں مسلمانوں کو فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے راعِنَا " ( ہماری رعایت فرمائیے) نہ کہو بلکہ انظرنا " (یعنی ہماری طرف نظر کرم کیجئے ) کہا کرو۔ کیوں کہ یہودی اس لفظ کے بیچ میں ی بڑھا کر راعِينا" ( یعنی اے ہمارے چروا ہے ) جان بوجھ کر کہتے تھے اور مسلمانوں اور تمام لوگوں کو بتایا کہ صرف وہی جنت میں جائے گا جو اللہ پر اور اس کے تمام انبیائے کرام پر ایمان رکھے گا اور پچھلی تمام آسمانی کتابوں کو منسوخ کرنے اور قرآن پاک کے قیامت تک نافذ کرنے کا اعلان فرمایا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسے سوالات نہ کرو جیسے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کرتے تھے اور فرمایا: اہل کتاب (یعنی یہودیوں اور عیسائیوں) پر حق واضح ہو چکا ہے لیکن محض حسد کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لا رہے ہیں اور فر مایا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ خیال جھوٹ ہے کہ صرف وہی جنت میں جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: یہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں ہے اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں کے پاس کچھ نہیں ہے۔ ان سب کا فیصلہ اللہ تعالی قیامت کے روز کر دے گا اور فرمایا: مشرق اور مغرب سب اللہ تعالی کے ہیں ۔ یہ قبلہ کی تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اسی رکوع میں آگے رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے فرمایا: یہودی اور عیسائی اس وقت تک تم سے راضی نہ ہوں گے جب تک تم اُن کے جیسے نہ ہو جاؤ ۔ ہم نے انھیں کتاب دی مگر اسے سنبھال کر رکھنے اور اس پر عمل کرنے کے بجائے وہ اُس میں ملاوٹ کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو بدلنے لگے۔
اس رکوع کے شروع میں بنی اسرائیل کو اپنے انعامات یاد دلائے اور چونکہ یہودی اور عیسائی دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حق پر مانتے ہیں ۔ اسی لئے آپ علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ ہم نے انھیں دنیا کا امام بنایا اور حکم دیا کہ خانہ کعبہ کو طواف کرنے والے اور اعتکاف کرنے والوں کے لئے صاف ستھرا رکھو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہاتھوں خانہ کعبہ تعمیر کرنے کا ذکر فرمایا اور اس موقع پر حضرت ابراھیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو امن کا شہر بنانے اور رسول اللہ ﷺ کے لئے جو دعا کی تھی اُس کا ذکر فرمایا۔
اللہ تعالیٰ نے اس رکوع کے شروع میں فرمایا: اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین (اسلام) کو جو چھوڑے گا وہ کوئی کم عقل اور بے وقوف ہی ہوگا اور فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام مسلمان تھے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والے مسلمان ہیں ۔ اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام ( جن کا لقب اسرائیل تھا اور اُن کی نسل بنی اسرائیل کہلائی ) اور آپ علیہ السلام کے بیٹے بھی مسلمان تھے ۔ اس کے بعد فرمایا: یہودی اور عیسائی دعوی کرتے ہیں کہ ہمارا راستہ صحیح ہے۔ وہ جھوٹے ہیں ۔ صحیح راستہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے اور وہ اسلام ہے اور تمام لوگوں سے کہہ دو کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر ایمان لائے اور ہم اپنے نبیوں میں فرق نہیں کرتے ۔
D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں