Seerat un Nabi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Seerat un Nabi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 3 جولائی، 2023

01 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


01 سیرت سید الانبیاء ﷺ

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آباء و اجداد      

شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

امامت کی منتقلی

اس سے پہلے ہم آپ کی خدمت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر پیش کر چکے ہیں۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ علیہ السلام کو بنی اسرائیل (یہودیوں ) نے اپنی سمجھ کے مطابق صلیب پر چڑھوا کر قتل کر دیا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اپنی حفاظت میں اٹھا لیا۔ اور آپ علیہ السلام کے دھوکے میں بنی اسرائیل نے کسی دوسرے شخص کو صلیب دیکر قتل کر دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی بنی اسرائیل بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کو ناحق قتل کر چکے تھے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اُن میں مبعوث کر کے اللہ تعالیٰ نے اُن کو آخری موقع دیا تھا۔ لیکن ان بدبختوں نے یہ آخری موقع بھی گنوا دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے ’’امامت ‘‘کا مرتبہ چھین لیا۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والے اور آپ علیہ السلام کے پیر وکاروں کو موقع دیا۔ انھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں’’ نصاریٰ‘‘ فرمایاہے۔ اور یہ اپنے آپ کو’’ عیسائی ‘‘کہلواتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں لگ بھگ پونے چھ سو برس تک موقع دیا۔لیکن ان لوگوں نے غلو کیا۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ کا بیٹا بنا ڈالا۔ اس طرح یہ لوگ بھی نا کام ہو گئے۔ اس لئے جب اللہ تعالیٰ نے ان سے بھی ’’امامت ‘‘کا مرتبہ چھیننے کا ارادہ فرمایا تو بنی اسماعیل میں ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اور’’ امامت‘‘ کا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت کو سونپ دیا۔

بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل :

اس سے پہلے جب ہم نے آپ کی خدمت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر پیش کیا تھا تو اُس میں ہم نے بتایا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کئی بیٹے ہیں۔ لیکن ان میں سب سے زیادہ مشہور صرف دو بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام ہوئے۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد’’ بنی اسرائیل‘‘ کہلائی۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد ’’بنی اسماعیل‘‘ کہلائی۔ بنی اسرائیل ملک کنعان ( حالیہ فلسطین ، شام اور لبنان وغیرہ) میں رہے۔ اور اللہ تعالیٰ اُن میں انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث کرتے رہے۔ اس دوران’’ بنی اسماعیل ‘‘میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے سب سے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو عرب میں مکہ مکرمہ میں آباد کر دیا تھا۔ اس طرح آپ علیہ السلام کی اولاد’’ بنی اسماعیل ‘‘عرب کے حجاز اور نجد کے علاقوں اور آس پاس کے علاقوں میں آباد رہی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آبأ و اجداد

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنی بیوی سیدہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکہ مکرمہ میں چھوڑا تو وہ بالکل ویران علاقہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں پر زمزم کا کنواں پیدا فرمایا۔ اور پانی کی وجہ سے یمن کا ایک قبیلہ جرہم یہاں آکر آبا د ہو گیا۔حضرت اسماعیل علیہ السلام بڑے ہو کر جرہم ، عمالقہ اور اہلِ یمن کی طرف مبعوث ہوئے۔ اور اسلام کی دعوت دی۔ ان تمام نے اسلام قبول کیا۔ ایک سو تیس سال کی عمر میں آپ علیہ السلام کا وصال ہوا۔ اور حطیم میں آپ علیہ السلام کو اُن کی والدہ کے بازو میں دفن کیا گیا۔ حضرت اسماعیل کے بیٹے قیدار کو خانۂ کعبہ کی ذمہ داری دی گئی۔ اور تب سے لے کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک خانہ کعبہ کی ذمہ داری’’ بنی اسماعیل‘‘ سنبھالتے رہے اور بہترین طریقے سے حاجیوں کی خدمت انجام دیتے رہے۔

رسول اللہ ﷺ  کا سلسلہ ٔ نسب عدنان تک

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اپنا سلسلہ ٔ نسب اس طرح بیان فرماتے تھے ۔’’ محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لَوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمۃ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ( صحیح بخاری) حضور صلی اللہ علیہ وسلم عدنان تک فرماتے تھے اور رک جاتے تھے اور فرماتے تھے ۔ نسب والوں نے غلط کہا یعنی عدنان کے آگے نسب میں غلطی ہو سکتی ہے۔ بہر حال اس پر سبھی کا اتفاق ہے کہ عدنان ، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہیں۔

تمام والدین پاک و صاف تھے

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام والدین کی طہارت اور پاکیزگی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرۃ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ہوں ۔ اس کے بعد فرمایا ۔ جب بھی (اللہ تعالیٰ نے) نسل ِ انسانی کو دو طبقات تقسیم کیا تو مجھے ان میں سے بہتر طبقہ میں رکھا گیا۔ پس میرے نسب کو ہر جگہ ایسے والدین میں سے نکالا گیا جن کو دورِ جاہلیت کی کسی برائی نے چھوا تک نہیں ہے۔ میرے سلسلۂ نسب میں ہمیشہ نکاح قائم رہا ہے۔ کبھی بھی میری پیدائش میں غلط کاری کا دخل نہیں ہوا ہے۔ یہ پاکیزگی اور طہارت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر میرے والدین ( حضرت عبدا للہ اور سیدہ آمنہ) تک برقرار رہی۔ یہاں تک کہ میری پیدائش ہوئی۔ پس میں اپنے ذاتی شرف اور نسبی شرف دونوں میں تم سب سے بہتر ہوں۔

تمام والدین سجدہ کرنے والے عبادت کرنے والے تھے

اللہ تعالیٰ نے سورہ الشعرا ء آیت نمبر219میں فرمایا۔ترجمہ:’’ اور (اللہ تعالیٰ) ساجدین میں آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا اٹھنا بیٹھنا( دیکھتا ہے) ۔‘‘ اس آیت کی تفسیر میں سید المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔’’ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نور انبیائے کرام کی پاکیزہ پشتوں میں منتقل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کے یہاں پیدا ہوئے۔‘‘ اس باب میں دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ بڑی پاکیزہ اور مہذب حالت میں میرے نور کو طیب و طاہر پُشتوں سے پاکیزہ شکموں میں منتقل فرماتا رہا ۔ جوں ہی کوئی خاندان دو حصو ں میں تقسیم ہوتا تھا، مجھے بہترین خاندان میں رکھ دیا جاتا تھا۔‘‘ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر ابن کثیر میں لکھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نسل در نسل انبیاء کے پاکیزہ نسب میں گزارا گیا ہے ،حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور ِ نبی پیدا فرمایا۔ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بنی آدم کے طبقات اور زمانے گزرتے رہے یہا ں تک کہ مجھے اس طبقے سے بھیجا گیا جو سب سے بہترین تھا۔

سب سے بہترین قبیلہ اور خاندان سے

صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنو کنانہ کو چنا ،بنو کنانہ میں سے قبیلہ قریش کو چُنا، قریش میں سے خاندان بنی ہاشم کو چُنا اور بنی ہاشم میں سے مجھ کو چُن لیا۔‘‘ جامع ترمذی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہوں،بے شک اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا،پھر جوبہترین مخلوق تھی اُس میں مجھے رکھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو دو گروہوں میں تقسیم کیا، جو بہترین گروہ تھا اُس میں مجھے رکھا۔ پھر اُس گروہ کو قبائل میں تقسیم کیا تو جوبہترین قبیلہ تھا اُس میں مجھے رکھا۔پھر اس قبیلے کو خاندان میں تقسیم کیا تو مجھے بہترین خاندان میں رکھا ۔میں ذات اور خاندان دونوں حوالوں سے سب سے بہتر ہوں۔ ‘‘ اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جبرئیل امین میرے پاس آئے اور عرض کیا ! میں نے مشرق اور مغرب چھان ڈالے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلیٰ اور افضل کسی کو نہیں پایا۔ ان تمام احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام والدین بہت ہی نیک اور ہر کوئی اپنے اپنے زمانے میں سب سے بہتر اور معزز رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام والدین میں خیر ہی خیر اور نیکی اور شرافت اور اخلاق و کردار کی بلندی سب سے زیادہ ہے۔ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ سب سے اعلیٰ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان سب سے اعلیٰ ہے۔

قبیلہ قریش

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جاننے سے پہلے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبیلہ قریش کے بارے میں کچھ تفصیل جان لیتے ہیں۔تاکہ آگے ہمیں سمجھنے میں آسانی ہو۔جس وقت مکہ مکرمہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی۔ اس وقت پورے مکہ مکرمہ میں قبیلہ قریش کے ہی خاندان رہا کرتے تھے۔اس سے پہلے ہم ان دو احادیث کا ذکر کر چکے ہیں۔ لیکن یہاں دوبارہ ذکر کر رہے ہیںتاکہ ادھورہ پن محسوس نہ ہو۔ صحیح مسلم میں ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاـ: ’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو چن لیا۔ پھر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنو کنعانہ کو چن لیا، پھر بنو کنعانہ میں سے قریش کو بزرگی عطا فرمائی۔ پھر قریش میں سے خاندان بنو ہاشم کو فضیلت عطا فرمائی اور بنو ہاشم میں سے مجھے (نبوت اور رسالت کے لئے) چن لیا۔‘‘حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے بنو کنعانہ کو چن لیا،بنو کنعانہ میں سے قریش قبیلہ کو پسند فرمالیا ۔ قبیلہ قریش میں سے خاندان بنو ہاشم کو فضیلت عطا فرمائی اور بنو ہاشم میں سے مجھے چن لیا۔ ان دو احادیث سے یہ معلو م ہوا کہ کنانہ کی اولاد میں ہی قبیلہ قریش ہے۔آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلئہ نسب کو ایک بار پھر غور سے دیکھیں ۔جو ہم نے پہلے ذکر کر دیا ہے ۔اس سلسلئہ نسب میں آپ کو کنانہ کے بیٹے نضر اور نضر کے بیٹے مالک اور مالک کے بیٹے فہر کا نام دکھائی دے گا،اکثر روایات سے ثابت ہوتا ہے فہر کا لقب قریش تھا۔

قریش نام کیوں؟

اوپر ہم نے بتایا کہ فہر بن مالک کا لقب قریش تھا۔اور فہر بن مالک کی اولاد قریش کہلائی ۔ یعنی فہر بن مالک کی اولاد سے قبیلہ قریش بناہے۔ اس کے علاوہ بھی قریش نام کیوںہے؟ اس سلسلے میں کئی روایات آئیں ہیں۔ کچھ ہم آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ امام شعبی کہتے ہیں کہ’’ قریش ‘‘بمعنی’’ تفتیش ‘‘کے ہے۔اس قبیلے کے لوگ غریب اور نادارلوگوں کو تلاش کرکے ان کی ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ اور حجاجِ کرام(حاجیوں) کے حالات دریافت کرکے ان کی مدد اور اعانت کرتے تھے۔ اس لئے ان کا نام’’ قریش‘‘ پڑگیا۔ زبیر بن بکار روایت کرتے ہیں کہ’’ قریش قرش‘‘ کی تصغیر ہے اور’’ قرش‘‘ ایک سمندری جاندار ہے جو تمام سمندری جانداروں کو کھا جاتا ہے۔ یہ تمام جانداروں پر غالب آجاتا ہے اور اس پر کوئی غالب نہیں آپاتا، گویا کہ’’ قرش‘‘ سب سے زیادہ قوی اور طاقتور ہے۔ چونکہ قریش قبیلہ پورے عرب میںدوسرے قبائل سے بزرگ و برتر اور زبردست قوت اور طاقت والا ہے ، اس لئے اسے قریش کہتے ہیں۔ ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قریش ، ’’تقرش ‘‘سے ہے۔ جس کے معنی کسب کرنے اور کمانے کے ہیں۔ یہ لوگ تجارت میں بہت مہارت اور دسترس رکھتے تھے اور اس میں ان کو عالمی شرت حاصل تھی۔ اس بنا ء پر یہ قبیلہ’’ قریش‘‘ کے لقب سے معروف ہوا۔ ( روض الانف) قبیلہ قریش میں بہت سے خاندان تھے، ان میں چند مشہور خاندان یہ ہیں۔ بنو عبد الدار ، بنو عبد مناف ، بنو عبد قصی ، بنو سہم ، بنو عدی ، بنو ہاشم ، بنو اُمیہ ، بنو نوفل ، بنو حارث ، بنو مخزوم ، بنو زہرہ ، بنو تمیم ، بنو اسد وغیرہ۔

حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام جد امجد

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی اولاد میں آخری رسول ﷺ ہیں۔ سید الانبیاء ﷺ کے والدین میں چونکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے عدنان تک کا ہی ذکر فرمایا ہے ،اِس لئے ہم بھی عدنان تک ہی کا ذکر کریں گے۔لیکن چونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خود اپنے آپ کو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کا بیٹا بتایا ہے اور فرمایا کہ میں اپنے والد حضرت ابراہیم علیہم السلام کی دعا ہوں ۔اِس دعا کا اﷲ تعالیٰ قرآن پاک میں سورہ البقرہ میں ذکر فرمایا ہے ،جس کا ذکر ان شاء اﷲ ہم آگے کریں گے۔بہر حال تمام علمائے کرام کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام ہمارے پیارے رسول سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے والدین ہیں۔اِس لئے ہم عدنان سے پہلے اِن دونوں مقدس ہستیوں کی اُس دعا کا ذکر کریں گے جو انہوں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے کی تھی۔

حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی دعا

اللہ رب العزت نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اپنی کتابوں میں اور انبیائے کرام علیہم السلام کے سامنے اتنی کثرت سے کیا کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت اور تعلق جوڑنے کی تمنا کرنے لگے تھے۔یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ’’وہ آخری رسول ‘‘میری اولاد میں سے ہو۔اللہ تعالیٰ نے سورہ البقرہ میں فرمایا : ترجمہ ’’ابراہیم (علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام )کعبہ کی بنیادیں اور دیواریں اُٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جارہے تھے کہ ہمارے پروردگار!تُو ہم سے قبول فرما ،تُو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے،اے ہمارے رب!ہمیں اپنا فرما نبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے ایک جما عت کو اپنا اطاعت گذار رکھ اور ہمیں اپنی عبادتیں سکھا اور ہماری توبہ قبول فرما،تُو توبہ قبول فرمانے والا اور رحم و کرم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے رب !اِن میں اِنہیں میںسے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے اِنہیں کتاب و حکمت سکھائے اور اِنہیں پاک کرے۔یقینا تُو غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔‘‘(سورہ البقرہ آیت نمبر ۱۲۷؎ سے ۱۲۹؎تک)مولانا سید ابو الاعلیٰ مودوی آیت نمبر ۱۲۹؎ کی تفہیم میں لکھتے ہیں کہ ’’اس سے بتانا مقصود ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا جواب ہے۔‘‘علامہ محمد بن جُریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیںحضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں’’ اُم الکتاب ‘‘میں ’’خاتم النبین‘‘ تھا ،جبکہ حضرت آدم علیہ السلام اپنی مٹی میںگوند ھے ہوئے تھے۔میں تمہیں اپناابتدائی امربتاؤں؟میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ محترمہ کا وہ خواب ہوں جو اُنھوںدیکھا تھا،انبیاء کی والدہ کو ایسے ہی خواب آتے ہیں۔‘‘علامہ عماد الدین ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ کا خواب عرب میں پہلے ہی مشہور ہو گیا تھااور وہ کہتے تھے کہ بطن آمنہ سے کوئی بڑا شخص پیدا ہو گا۔‘‘

دُعا میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات

اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اتنی تفصیل سے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جاننے کے بعد ہر نبی علیہ السلام کی یہ تمنا تھی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نہ کسی طرح ان کی نسبت ہو جائے۔اسی لئے ’’خانہء کعبہ‘‘کی تعمیر کرتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے یہ دعا مانگی کہ ’’وہ آخری رسول‘‘ہماری اولاد میں ہو۔سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129 کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں۔یہاں’’ رسول‘‘ سے مراد صرف ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ہی ہیںاور یہ دعا خاص اُنہیں کے لئے ہے۔اس کی چند وجہ ہیں(1)پہلی وجہ یہ کہ اس سے ’’بنی اسماعیل‘‘اور ’’مکہء مکرمہ ‘‘کا پیغمبر مُراد ہے اور وہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔کیونکہ ’’بنی اسماعیل اور مکہء مکرمہ‘‘میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نبی بن کر آئے ہیں۔(2)دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاںرسول’’واحد‘‘فرمایا ہے یعنی صرف ایک رسول بھیج ااور ’’بنی اسرائیل ‘‘میں تو صدہا رسول تشریف لائے ہیں،جبکہ ’’بنی اسماعیل‘‘ میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تشریف لائے ہیں۔(3)تیسری وجہ یہ کہ ’’اس رسول‘‘کی یہ صفت بیان کی کہ ’’جو لوگوں کو آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے اور ان کا تزکیہ ء نفس کرے‘‘جس سے معلوم ہوا کہ جس نبی کی باقاعدہ’ ’کتاب ‘‘پڑھی جائے گی اور اس کے بعد سلسلۂ نبوت ختم ہو کر ولایت باقی رہ جائے گی۔یہ دونوں صفتیں رسول اللہ ﷺ  ہی کی ہیں کہ تلاوت اور قرات دھوم دھام سے آپ ﷺ کی ہی کتاب کی ہوتی ہے اور آپ ﷺ ہی ’’خاتم النبیین‘‘ہیں۔(4)چوتھی وجہ یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے دوسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کی یہ ہی صفت بیان فرمائی ہے۔معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو عرض کیا وہی رب تعالیٰ نے بھی فرمایا۔(5)پانچویں وجہ یہ ہے کہ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ  فرماتے ہیں کہ میں’’دعائے ابراہیم‘‘ اور بشارت عیسی‘‘علیہم السلام ہوں۔(6)چھٹی وجہ یہ ہے کہ اسی پر تمام اُمت کا اجماع ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ’’دعائے خلیل‘‘ہیں۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے خلیل اللہ علیہ السلام کا دین اور نام پھیلا ہے۔پھر عرض کیا "منھم" یعنی اے مولا ’’وہ شاندار رسول‘‘ اس ذریت میں سے ہی ہو۔ "فیھم" اور "منھم" کہہ کر یہ بتایاکہ یہاں ہی پیدا ہو اور میری ہی اولاد میں ہو۔تاکہ اُس کے طفیل اس مکاں(علاقے)کو اور مجھ کو اور میرے سارے خاندان کو’’شرف‘‘ حاصل ہو۔اور ہر شخص اپنی اولاد کی خیریت کا حریص ہو تا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی یہ تمنا کی کہ ’’نبی آخر الزماں‘‘ صلی اللہ علیہ وسلم کا فخر مجھ کو اور میری اولاد کو حاصل ہواور یہ پھول میرے ہی چمن میں کھلے۔اس کے بعد مفتی صاحب ’’خلاصہء تفسیر ‘‘میں آگے لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب سارے کام کر چکے اور خانہء کعبہ بنا اور مکہء مکرمہ بسا چکے تو اخیر میں’’ اُن صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا ذکر کیا جن کے طفیل دعائیں قبول ہوتی ہیںاور جن کے دم سے یہ ساری بہار ہے۔جن کے طفیل خلیل اور کعبہ ،مقام و منیٰ دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔عرض کیا کہ اے مولیٰ،ان لوگوں میں ایک ایسا جلیل القدر پیغمبر بھیج دے ،جن میں یہ سات صفتیں ہوں۔ (1)ان مکہء مکرمہ والوں میں سے ہو(2)ابراہیمی "فیھم" یعنی مکی ، مدنی ، ہاشمی ، مطلبی ہو (3)اپنی شان رسالت میں اکیلا ہو "رسولہ" یعنی’’خاتم النبیین‘‘اور ’’امام المرسلین‘‘ ہو (4)سب کو اور خصوصاً میری اولاد کوآیتیں سنائے،بتائے اور پڑھنا سکھائی "یتلو آیتہ" یعنی اُنہیں حفظ کرائے اور علم قرات سکھائے (5)انہیں تیری کتاب کے مضامین سکھا کر عالم ،فقیہ اور مجتہد بنادے ویعلمھم الآیتہ (6)انہیں قرآنی اسرار سکھائے اور تیرا راز دار بنا دے اور طریقت کے مدارج طے کرادے "والحکمتہ" یعنی انہیں صاحب ِحال و قال کردے (7)ان کے دل اور روح پاک و صاف کر کے غیوب سے خبر دار کردے ،اور بے پڑھوں کو اپنے فیض سے علماء کا سردار بنادے۔

سید الانبیاء ﷺ کے لئے خصوصی دعا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اور فضائل کو حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت اچھی طرح سے جانتے تھے۔اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خصوصی دعا مانگی۔سورہ البقرہ کی آیت نمبر 129 کی تفسیر میں علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا کی تھی کہ مکہء مکرمہ میں اہل مکہ میں سے ایک’’عظیم رسول‘‘بھیج دے۔اس سے مُراد حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اس پر حسب ذیل دلائل ہیں(1)تمام مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ ’’اس رسول‘‘سے مُراد حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیںاور یہ اجماع حجت ہے۔(2)حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’بے شک میں اللہ کے نزدیک ’’خاتم النبیین‘‘لکھا ہوا تھااور اُس وقت حضرت آدم علیہ السلام مٹی میں گندھے ہوئے تھے اور میں تم کو اپنی ابتداء کی خبر دیتا ہوں۔میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوںاور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوںاور میں اپنی والدہ محترمہ کا وہ خواب ہوں جو اُنہوں نے میری پیدائش کے وقت دیکھاتھا،ان سے ایسا نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے تھے(3)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا اہل مکہ کے لئے کی ہے اور مکہء مکرمہ میں اللہ رب العزت نے حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور نبی کو مبعوث نہیں فرمایا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ دعا کی کہ مکہء مکرمہ میں اہل ِمکہ میں سے ایک ’’عظیم رسول‘‘مبعوث فرما۔اس میں ایک بات تو یہ بتائی کہ یہ ’’رسول‘‘انسانوں کی جنس سے ہے،فرشتوں یا جنات کی جنس سے نہیں ہے۔کیونکہ اگر وہ ’’رسول‘‘ فرشتہ یا جنات ہوتا تو انسان اس کو نہیں دیکھ سکتے،اس کا کلام نہیں سن سکتے تھے اور اس کی سیرت انسانوں کے لئے نمونہ اور حجت نہیں ہوتی۔دوسری بات یہ کہ جب وہ رسول اہل مکہ میں سے ہوگا،تو اہل مکہ اس کی پیدائش ،اس کی تربیت اور اس کی نشو و نما سے واقف ہوں گے۔اس کا صدق ،اس کی امانت اور اس کی زندگی کا ایک ایک گوشہ ان پر عیاں ہو گا۔اور پھر اس کی رسالت کو تسلیم کرنے کے لئے خود اس کی زندگی میں ہی ان کو قرائن اور دلائل مل جائیں گے۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ ان کافروں سے کہیئے۔’’میںاس سے پہلے تم میں عُمر (کا ایک حصہ )گزار چکا ہوںتو کیا تم نہیں سمجھتے؟‘‘ (سورہ یونس آیت نمبر 16)نیز حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ میں سے اپنی ذریت کے لئے دعا کی تھی اور ان کو یہ علم تھا کہ جب ’’وہ رسول‘‘مکہء مکرمہ میں پیدا ہو گا تو ان کی ذریت کے لئے ’’باعث فخر ‘‘ہو گا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا دو ہزار سات سو پچھتر 2775 سال بعد قبول ہوئی۔اس سے معلوم ہوا کہ دعا کا دیر سے قبول ہونا مقبولیت کے منافی نہیں ہے۔پھر آگے لکھتے ہیں:اس ’’عظیم رسول‘‘کی صفت بیان کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا۔وہ(صلی اللہ علیہ وسلم ) تیری آیات کی تلاوت کرے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کی اصلاح کرے۔آیات کی تلاوت سے مُراد یہ ہے کہ وہ ان پر قرآن پاک کی تلاوت کریں یا مُراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر جو دلائل ،آیات اور علامات ہیں ان کو بیان کریں۔کتاب کی تعلیم سے مُراد یہ ہے کہ’’وہ رسول‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم )قرآن پاک میں بیان کئے ہوئے احکام پر عمل کر کے دکھائیں اور جن آیات کی تفصیل کی ضرورت ہے اُن کی تفصیل بیان کریں اور جن آیات کے شرعی معنی بیان کرنے کی ضرورت ہے ان کے شرعی معنی بیان کریں۔’’حکمت ‘‘کا معنی ہے ’’معرفت الموجودات اور فعل الخیرات‘‘اور یہا ں اس سے مُراد ہے :قرآن پاک کے ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ کو جاننا،قرآن پاک کے اسرار ودقائق کو جاننا،یا حکمت سے مُراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث ہیں۔اور ’’اصلاح نفس‘‘سے مُراد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو معصیت کی آلودگی سے پاک کرتے ہیں۔ان کے ظاہر اور باطن کو رزائل اور نقائص سے دور کرتے ہیںاور ان کی عبادات میں خلوص،للٰہیت اور دوام کو اجاگر کرتے ہیں،جس سے ان کا دل تجلیات الٰہیہ کا آئینہ بن جا تا ہے۔

عدنان

رسول اللہ ﷺ  نے اپنے آباء و اجداد کا ذکر فرماتے ہوئے عدنان تک ذکر فرمایا اور عدنان تک کا نسب نامہ ہم آپ کی خدمت میں پیش کر چکے ہیں۔عدنان کے بارے میں تمام علمائے کرام اور مورخین کا اتفاق ہے کہ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے ہیں۔عدنان کے والد کا نام’’ اُدَد‘‘ ہے ،انہیں’’اُد‘‘بھی کہا جاتا ہے۔عدنان کے کئی بیٹے(1) معدبن عدنان (2) عک بن عدنان(3) عدن بن عدنان ( 4) ابین بن عدنان (5) حارث بن عدنان(6)مُذھب بن عدنان(7) ضحاک بن عدنان ہیں،جو الگ الگ علاقوں میں آباد ہو گئے۔امام محمد بن اسحاق کے مطابق ’’عدنان‘‘سے ’’حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد مختلف قبائل میں منقسم ہو گئی۔’’عک‘‘کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ’’یمن‘‘میں جا کر بس گیا۔’’عدن ‘‘اور ’’ابین ‘‘بھی دوسرے علاقوں میں جاکر بس گئے اور وہاں اُن دونوں کے نام پر دو بڑے شہر ’’عدن اور ابین‘‘مشہور ہیں۔عدنان کے تمام بیٹوں میں سے صرِف ’’معد بن عدنان ‘‘مکۂ مکرمہ میں رہائش پذیر رہے اور اُن کی اولاد ’’مکۂ مکرمہ ‘‘اور آس پاس کے علاقوں میں آباد ہوگئی۔

معد بن عدنان

امام محمد بن اسحاق کے مطابق ’’معد بن عدنان ‘‘کے چار بیٹے ہیں (1) نزار بن معد (2) قضاعہ بن معد، اِن کا نام ’’بکر‘‘بھی ہے اِسی وجہ سے معد بن عدنان کو ’’ابو بکر‘‘کی کنیت سے بھی یاد کیا جا تا تھا۔ (3) قنص بن معد ( 4) ایاد بن معد ۔اِس کے علاوہ معد بن عدنان کو ’’ابو نزار ‘‘کی کنیت سے بھی پکارا جاتا تھا۔معد بن عدنان بہت ہی بہادر اور جنگ جو تھے اور اکثر بنی اسرائیل سے اُ ن کی جنگ ہوتی تھی،جس میں انہیں ہی فتح حاصل ہوتی تھی۔معد بن عدنا ن کے صرف ایک بیٹے ’’نزار‘‘ہی مکۂ مکرمہ میں رہائش پذیر رہے اور اُن کے باقی تینوں بھائی ’’حجاز‘‘(ملک عرب کا پہاڑی علاقہ) میں الگ الگ علاقوں میں بس گئے۔

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی بشارت

علامہ محمد بن جری طبری لکھتے ہیں کہ معد بن عدنان بخت نصر کے زمانہ میں بارہ سال کے تھے ۔اُس زمانہ کے نبی ’’حضرت ارمیاہ علیہ السلام پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی کہ بخت نصر کو اطلاع کر دو کہ ہم نے اُسے عرب پر مسلط کیااور آپ علیہ السلام معد بن عدنان کو اپنے براق پر سوار کر الیں تاکہ معد کو کوئی صدمہ نہ پہنچے ۔کیونکہ میں ’’معد‘‘کی صلب سے ’’ایک محترم نبی ‘‘(صلی اﷲ علیہ وسلم ) پیدا کرنے والا ہوں، جس سے پیغمبروںکا سلسلہ (نبوت کا سلسلہ ) ختم کروں گا۔حضرت ارمیاہ علیہ السلام کی نگرانی میں معد بن عدنان نے تربیت حاصل کی اور پھر مکۂ مکرمہ میں آکررہائش پذیر ہو گئے ۔

نزار بن معد

معد بن عدنان کے بیٹے نزار بن معد چونکہ اپنے زمانے میں یکتا تھے یعنی اُن کی مثال کم تھی ،اِس لئے نزار اُن کا نام ہو گیا۔امام عبد الرحمن بن عبد اﷲ سہیلی فرماتے ہیں کہ جب ’’نزار بن معد‘‘پیدا ہوئے تو اُن کی پیشانی ’’سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم ‘‘کے نور سے چکم رہی تھی۔والد محترم معد بن عدنان نے یہ دیکھا تو بہت مسرور ہوئے اور اِس خوشی میں سب لوگوں کی دعوت کی اور یہ کہا؛’’یہ سب اِس مولود کے حق کے مقابلہ میں بہت قلیل ہے۔‘‘اِس لئے ’’نزار‘‘نام رکھا گیا۔نزار اپنے زمانے کے سب سے زیادہ عاقل اور دانشمند تھے۔نزار بن معد کے چار بیٹے (1) مُضر بن نزار ( 2) ربیعہ بن نزار (3) انمار بن نزار( 4) ایاد بن نزارہیں۔

مُضر بن نزار

نزار بن معد کے بیٹے مُضر کا اصل نام ’’عَمرو‘‘ہے اور کنیت ابو الیاس ہے،مُضر اُن کا لقب ہے۔ترشی اور دہی آپ کو بہت پسند تھی ،اِسی لئے مضر کے نام سے مشہور ہو گئے۔آپ بہت ہی خوش الحان تھے اور سفر میں چلتے وقت اونٹوں پر حدی خوانی کرنا آپ ہی نے ایجاد کیا۔مضر کے دو بیٹے (1)الیاس بن مضر (2) عیلان بن مضرہیں۔امام محمد بن سعد مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مُضر کو بُرا مت کہو وہ مسلمان تھے۔‘‘

الیاس بن مُضر

مُضر بن نزار کے بیٹے الیاس بن مضر مکہ مکرمہ میں رہے۔خانہ کعبہ کی طرف ھدی بھیجنے کی سنت سب سے پہلے الیاس بن مضر نے جاری کی۔کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی صُلب (پشت) سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا تلبیۂ حج سنا کرتے تھے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :’’الیاس کو بُرا مت کہو وہ مومن تھے۔‘‘(فتح الباری)الیاس بن مضر کے تین بیٹے (1) مدرکہ بن الیاس(2) طابخہ بن الیاس (3) قمعہ بن الیاس ہیں۔

مدرکہ بن الیاس

الیاس بن مضر کے بیٹے مدرکہ بن الیاس کا نام ’’عمرو‘‘ ہے۔ایک دن وہ اپنے بھائی کے ساتھ اونٹ چرا رہے تھے اور ایک جانور شکار کر کے اُسے پکانے لگے کہ کسی شخص نے اونٹوں پر حملہ کر دیا مدرکہ نے اپنے بھائی سے کہا کہ تم اونٹوں کو بچانے جاؤ گے یا کھانا پکاؤ گے؟بھائی نے کہا تم اونٹوں کی حفاظت کے لئے جاؤ۔مدرکہ گئے اور تمام اونٹوں کو حفاظت سے لے آئے اور رات کو جب گھر آئے تو تمام واقعہ اپنے والد الیاس بن مضر کو سنایا تو انہوں نے آپ کو مدرکہ(پا لینے والا) اور آپ کے بھائی کو طابخہ ( پکانے والا) کہہ کر پکارا ۔جب سے دونوں کے یہ نام پڑگئے۔مدرکہ کے دو بیٹے (1) خزیمہ بن مدرکہ(2) ہذیل بن مدرکہ ہیں۔

خزیمہ بن مدرکہ

مدرکہ بن الیاس کے بیٹے خزیمہ بن الیاس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین پر ہمیشہ رہے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ خزیمہ بن مدرکہ کا ملتِ ابراہیمی پر انتقال ہوا۔خزیمہ بن الیاس کے چار بیٹے (1) کنانہ بن خزیمہ (2) اسدبن خزیمہ (3) اسدہ بن خزیمہ(4) ہون بن خزیمہ ہیں۔

کنانہ بن خزیمہ

خزیمہ بن الیاس کے بیٹے کنانہ بن خزیمہ ملک عرب میں بہت مشہور ہوئے اور آپ کی اولاد ’’بنو کنانہ یا بنی کنانہ ‘‘کہلائی ۔اوپر جو صحیح مسلم کی حدیث میں ’’بنو کنانہ‘‘کا ذکر آیا ہے وہ انہی کنانہ کی اولاد ہے اور آپ کے نام پر آپ کی اولاد بنو کنانہ کہلائی۔کنانہ بن خزیمہ کا دبدبہ پورے ملک عرب میں تھا اور ہر علاقے کے لوگ آپ سے مشورہ کرنے کے لئے آتے تھے۔کنانہ بن خزیمہ کے چار بیٹے (1) نضربن کنانہ (2) مالک بن کنانہ(3) عبد مناۃ بن کنانہ (4) ملکان بن کنانہ ہیں۔

نضر بن کنانہ

کنانہ بن خزیمہ کے بیٹے نضر بن کنانہ بہت ہی خوب صورت اور دور اندیش تھے۔آپ نے مکہ مکرمہ میں بہت سے فلاحی کام کئے ہیں۔امام عبد الملک بن ہشام اپنی ’’سیرت النبی ابن ہشام ‘‘میں لکھتے ہیں کہ نضر بن کنانہ کو ’’قریش ‘‘کہتے ہیں،جو نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے ہو گا اُس کو ’’قریشی‘‘کہیں گے اور جو اُن کی اولاد میں سے نہیں ہو گا اُس کو ’’قریشی ‘‘نہیں کہیں گے۔لیکن اکثر علمائے کرام کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ فہر بن مالک کا لقب ’’قریش‘‘ہے۔نضر بن کنانہ کے دو بیٹے (1) مالک بن نضر (2) یخلدبن نضر ہیں۔

مالک بن نضر

نضر بن کنانہ کے بیٹے مالک بن نضر بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے والدین میں سے ہیں۔آپ کے والد نضر بن کنانہ اور آپ کے بیٹے فہر بن مالک نے ملک عرب میں بہت نام کمایا اور ’’قریش‘‘نام بھی انہی دونوں کی جانب منسوب کیا جاتا ہے۔مالک بن فہر کے کئی بیٹے ہیں ،لیکن اِن میں فہر بن مالک سب سے زیا دہ مشہور ہیں ۔بعض علمائے کرام کے مطابق صرف فہر ہی مالک بن نضر کے اکلوتے بیٹے ہیں اور فہر کی جو اولاد ہے وہی نضر کی بھی اولاد ہے۔      

فہر بن مالک

مالک بن نضر کے بیٹے فہر بن مالک ہیں اور یہ بھی بتایا کہ’’ فہر‘‘ کا لقب’’ قریش‘‘ ہے۔ ان میں فہر بن مالک کا لقب قریش ہے۔ فہر نسب کے حوالے سے کنانہ کے پڑ پوتے ہیں۔ خاندانی روایات کے پیکراور قبائلی فضائل کے مظہر اتم تھے۔ قوت اور طاقت وراثت میں ملی تھی۔ اور شجاعت اوربہادری میں آپ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ بڑے سے بڑا دشمن بھی مقابلے پر ٹھہر نہیں پاتا تھا۔ اور میدان چھوڑ کر بھاگ جاتا تھا۔فہر بن مالک کے چار بیٹے(1) غالب بن فہر (2) محارب بن فہر (3) حارث بن فہر (4) اسد بن فہر ہیں۔

یمن کے حکمراں کا مکہ مکرمہ پر حملہ

یمن کا حکمراں حسان ایک جاہ طلب ، توسیع پسند اور شان و شوکت کا دلدادہ متکبر شخص تھا۔ وہ تمام دنیا کے انسانوں کو اپنا فرماں بردار اور غلام دیکھنا چاہتا تھا۔ اس کے مزاج میں اتنی رعونت اور طبیعت میں اس قدر خشونت تھی کہ وہ اپنے درباریوں اور وزیروں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا تھا۔ اس کے دماغ میں یہ خیال سمایا کہ یمن کو تمام دنیا کا مرکز بنانا چاہیئے۔ جہاں دنیا بھر کے لوگ حاضر ہوں اور اسے سلام کریں ۔ اور اپنا مقتدا اور خدامانیں۔ اُس نے دیکھا کہ مکہ مکرمہ لوگوں کا مرکز ہے۔ تو اس نے سوچا کہ خانہ کعبہ کے اینٹ اور پتھر اکھاڑ کر یمن میں لا کر لگائیں جائیں۔ اور ایک گھر بنایا جائے تو تمام لوگ مکہ مکرمہ جانے کی بجائے یمن آیا کریں گے۔ یہ سوچ کر اس نے فوج لے کر مکہ ٔ مکرمہ پر حملہ کرنے کے لئے روانہ ہوا۔

فہر بن مالک کی قیادت اور بہادری

ادھر مکہ مکرمہ میں فہر بن مالک کو خبر مل چکی تھی کہ حسان فوج لے کر مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے آرہا ہے۔ اس لئے انھوں نے بھی مقابلے کی تیاری شروع کر دی۔ اور مکہ مکرمہ کے قرب و جوار کے تمام قبائل کو اکٹھا کر کے فوج کی تشکیل کی۔ اور میدان ِ جنگ میں آگئے۔ دونوں فوجوں میں زبردست جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں فہر بن مالک نے بڑی ہوش مندی سے اور تدبر سے اپنی فوج کو لڑایا۔ اور خود بھی جوش وجذبہ اور بہادری سے لڑے۔ اور ایسی جنگی حکمت عملی اپنائی کہ حسان کو شکست ہو گئی۔ اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ وہ تین سال تک فہر بن مالک کی قید میں رہا۔ پھر یمن والوں نے فدیہ دے کر اسے چھڑا لیا۔ لیکن یمن پہنچنے سے پہلے ہی مر گیا۔( تاریخ کامل ابن اشیر)۔ اس کامیابی نے فہر بن مالک کی نیک نامی اور شہرت میں اضافہ کیا۔ اور تمام عرب نے اُن کی قیادت پر اتفاق کر لیا۔ اس طرح فہر بن مالک تمام عرب پر حاوی ہو گئے۔ اور مورخین بتاتے ہیں کہ اسی لئے آپ کو لقب قریش دیا گیا۔ کیوں کہ آپ تمام عرب قبائل میں سب سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئے تھے۔

غالب بن فہر

فہر بن مالک کے بیٹے غالب بن فہر بہت مشہور ہوئے ۔آپ بہت ہی معاملہ فہم اور سمجھ دار تھے۔غالب بن فہر کے تین بیٹے (1) لوی بن غالب (2) تیم بن غالب (3) قیس بن غالب ہیں۔اِن میں لوی بن غالب سب سے زیادہ مشہور ہوئے اور یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے والدین میں سے ہیں۔

لوی بن غالب

غالب بن فہر کے بیٹے لوی بن غالب کی اولاد میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف لائے ۔لوی بن غالب انتہائی نیک اور ذمہ دار انسان تھے اور مکہ مکرمہ کا انتظام سنبھالتے تھے۔آپ کے پانچ بیٹے (1) کعب بن لوی (2) عامر بن لوی (3) سامہ بن لوی (4) عوف بن لوی (5) حارث بن لوی ہیں۔

کعب بن لوی

لوی بن غالب کے بیٹے کعب بن لوی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے آبا و اجداد میں سے ہیں۔کعب بن لوی نے سب سے پہلے جمعہ کے دن جمع ہونے کا طریقہ جاری کیا۔آپ جمعہ کے روز لوگوں کو جمع کر کے خطبہ پڑھتے تھے۔سب سے پہلے اﷲ کی حمد و ثنا بیان کرتے کہ آسمان اور زمین اور چاند اور سورج یہ سب چیزیں اﷲ ہی کی بنائی ہوئی ہیں ۔پھر پند و نصائح کرتے ،صلہ رحمی کی ترغیب دیتے اور یہ فرماتے کہ میری اولاد میں ایک نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم ) ہونے والے ہیں ۔اگر تم اُن کا زمانہ پاؤ تو ضرور اُن کی اتباع کرنا اور کہتے تھے :’’کاش میں بھی اُن (صلی اﷲ علیہ وسلم) کے اعلان نبوت کے وقت حاضر ہوتا ،جس وقت قریش اُن کے خلاف ہو ں گے۔‘‘کعب بن لوی کے تین بیٹے (1) مُرّہ بن کعب (2) عدی بن کعب (3) ہصیص بن کعب ہیں۔

مُرّہ بن کعب

حضرت مُرّہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چھٹے دادا ہیں۔ اور اسی طرح مُرّہ بن کعب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بھی چھٹے دادا ہیں۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت مُرّہ کے دو بیٹوں کی اولاد میں سے ہیں اور مُرّہ بن کعب دونوں کے والد ہیں۔مُرّہ بن کعب کے بھائی عدی بن کعب کی اولاد میں حضرت عُمر فاروق بن خطاب رضی عنہ ہیں۔مُرّہ بن کعب کے تین بیٹے (1) کلاب بن مُرّہ (2) تیم بن مُرّہ (3) یقطہ بن مُرّہ ہیں۔کلاب بن مُرّہ کی اولاد میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ہیں۔تیم بن مُرّ ہ کی اولاد میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہیں۔یقطہ بن مُرّہ کی اولاد میں حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ ہیں۔

کلاب بن مُرّہ

حضر ت کلاب بن مُرّہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ کے چوتھے دادا ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کے تیسرے دادا ہیں۔ اس طرح سیدہ آمنہ اور حضرت عبداللہ کا سلسلہ نسب حضرت کلاب بن مُرّہ پر آکر مل گیا۔ یعنی حضرت عبداللہ اور سیدہ آمنہ ، حضرت کلاب بن مُرّہ کے دو بیٹوں کی اولاد میں سے ہیں۔ حضر ت کلاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ نے عربی مہینوں کے نام رکھے۔ یعنی ہم جو نام لیتے ہیں محرم ، صفر ، ربیع الاول سے لے کر ذی الحجہ تک۔ ان تمام بارہ مہینوں کے نام حضرت کلاب بن مُرّہ کے رکھے ہوئے ہیں۔کلاب بن مُرّہ کے دو بیٹے (1) قُصی بن کلاب (2) زہرہ بن کلاب ہیں۔

قُصی بن کلاب 

حضرت قُصی بہت ہی دور اندیش سردار تھے۔ آپ نے مکہ مکرمہ کا انتظام بہت خوبی سے سنبھالا ۔ حاجیوں کی ضروریات کا جائزہ لے کر چار محکمے بنائے۔ ان کے نام 1) سقایہ 2) رفادہ ، 3) ندوہ، 4) حجابہ ہے۔ (1)سقایہ کے محکمے کا کام تھا حاجیوں کو پانی پلانا۔ آج خانہ کعبہ کے پاس جو زم زم کا کنواں ہے وہ حضرت قصی بن کلاب کے وقت میں نہیں تھا۔ قبیلہ بنو جرہم کے لوگوں نے مکہ مکرمہ چھوڑ کر جاتے ہوئے زم زم کے کنویں کو بند کر دیا تھا۔ ( اس کی تفصیل انشاء اﷲ حضرت عبد المطلب کے ذکر میں آئے گی) اس لئے مکہ مکرمہ میں پانی کی شدید قلت تھی۔ حضرت قصی بن کلاب نے اس کے انتظامات کئے اور’’ سقایہ ‘‘کے محکمے کی وجہ سے حاجیوں کوا ٓسانی سے پانی ملنے لگا۔ (2)رفادہ حضرت قصی بن کلاب نے دوسرا محکمہ’’ رفادہ ‘‘کا قائم کیا۔ اس محکمہ والوں کاکام یہ تھا کہ وہ تمام قریش سے چندہ وصول کریں۔ اور اس سے حاجیوں کے کھانے کا انتظام کریں ۔ (3)تیسرا محکمہ’’ ندوہ ‘‘کا قائم کیا۔ حضرت قصی بن کلاب نے مکہ مکرمہ میں ایک بہت بڑی عمارت کا نام ’’دارالندوہ‘‘ رکھا اور مکہ مکرمہ کے خاندانوں کے سرداروں کو ’’ندوہ‘‘ کا ممبر بنایا ۔ اور یہ تمام ممبران مل کر مکہ مکرمہ کی حکومت کا انتظام چلاتے تھے اور تمام اہم فیصلے کرتے تھے۔ اس طرح دارالندوہ ایک طرح سے اسمبلی ہال یا پارلمینٹ ہاوس تھا۔ (4)چوتھا محکمہ حضرت قصی بن کلاب نے ’’حجابہ‘‘ کا بنایا۔ اس کا کام خانہ کعبہ اور اس کے اطراف میں بنی مسجد الحرام کی صاف صفائی اور دیکھ ریکھ تھا۔ حضرت قصی کے تین بیٹے تھے۔ علامہ ابن خلدون نے اپنی تاریخ ابن ِ خلدون میں تین بیٹو ں کا ذکر کیا ہے۔ ان تین بیٹوں کے نام(1) عبد العزیٰ (2 ) عبد مناف (3)عبد الدار ہیں۔ عبد الدار سب سے چھوٹے اور غریب تھے، جب کہ دونوں بڑے بھائی امیر تھے ، اسی لئے قصی بن کلاب نے اپنے بعد عبد الدار کو مکہ مکرمہ کا ذمہ دار بنا دیا۔

عبد مناف بن قصی

قصی بن کلاب کے انتقال کے بعد عبد الدار نے مکہ مکرمہ کا انتظام سنبھالا۔ لیکن صلاحیت کی کمی کی وجہ سے انتظام میں بد نظمی ہونے لگی۔ جس کی وجہ سے قریش کے دوسرے خاندانوں کو تکلیف ہونے لگی۔ سب سے بڑھ کر حاجیوں کے لئے جو انتظامات قصی بن کلاب نے کئے تھے وہ تہس نہس ہو نے لگے۔ یہ دیکھ کر دوسرے خاندانوں نے فیصلہ کیا کہ مکہ مکرمہ کی ذمہ داری عبد الدار سے لے کر عبد مناف کو دے دی جائے۔ عبد الدار کے ساتھ بھی قریش کے کچھ خاندان ہو گئے۔ آخر یہ فیصلہ ہوا کہ رفادہ اور سقایہ کا انتظام عبد مناف سنبھالیں گے۔ یعنی حاجیوں کو کھانا کھلانے اور پانی پلانے کا انتظام عبد مناف کریں گے۔ اور ندوہ اور حجابہ کے ذمہ دار عبد الدار رہیں گے۔ عبد مناف نے رفادہ اور سقایہ کی ذمہ داری اتنی خوبی سے نبھائی کہ پورے مکہ والوں کے ساتھ ساتھ حج کے لئے آنے والے بھی آپ کی تعریف کرتے تھے۔عبد مناف بن قصی کا نام ’’مغیرہ‘‘ہے۔

ہاشم بن عبد مناف :

عبد مناف بن قصی کے چار بیٹے ہیں۔ سب سے بڑے ہاشم تھے ،پھر عبد شمس تھے، پھر نوفل تھے اور سب سے چھوٹے مُطلب تھے۔ عبد شمس کے بیٹے کا نام اُمیہّ تھا اور اُمیہ کی اولاد میں حضرت ابو سفیان ، حضرت معاویہ اور یزید ہیں۔ مُطلّب کے نام پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا کا نام عبد المطلب پڑ گیا۔ ( اس کی تفصیل عبد المطلب کے ذکر میں آئے گی۔ )ہاشم مُلک شام سے تجارت کرنے لگے۔ عبد شمس حبشہ سے تجارت کرنے لگے۔ نوفل عراق سے تجارت کرنے لگے۔اور ُمطّلِب یمن سے تجارتے کرنے لگے۔ اس طرح چاروں بھائی الگ الگ علاقوں سے تجارت کر کے بہت امیر ہو گئے۔ ( الکامل ابن اثیر ) ہاشم اور مطلب میں بہت محبت تھی۔ ان کی محبت کی وجہ سے انھیں بدران یعنی دو چاند کہا جاتا تھا۔ ( الکامل تاریخ ابن اثیر) ہاشم کا نام’’ عمرو‘‘ ہے اور لقب’’ ہاشم‘‘ ہے۔ ہاشم لقب اس لئے پڑا کہ ایک سال مکہ مکرمہ میں قحط پڑ ا تو ہاشم نے حاجیوں کو اور ضرورت مندوں کو روٹی چورہ کر کے سالن میں ڈال کر کھلائی تب سے لوگ انھیں ہاشم کہہ کر پکارنے لگے۔ یعنی چورہ کرنے والے۔

سید الانبیاء ﷺ کا نور نبوت پیشانی میں چمکتا تھا

ہاشم بن عبد مناف بہت ہی سخی اور رحمدل تھے ،غریب مسافروں کو سفر کے لئے اونٹ عطا فرماتے تھے۔نہایت حسین و جمیل تھے اور سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا نور ِ نبوت ہاشم بن عبد مناف کی پیشانی پر چمکتا رہتا تھا ۔علمائے بنی اسرائیل جب آپ کو دیکھتے تو سجدہ کرتے اور آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیتے تھے۔قبائل ِ عرب اور علمائے بنی اسرائیل نکاح کے لئے اپنی لڑکیوں کے پیغام ہاشم کو دیتے تھے ۔حتیٰ کہ ایک مرتبہ ہرقل شاہ روم نے ہاشم کو خط لکھا کہ میں اپنی شہزادی جو بے حد حسین ہے ،اُسے آپ کی زوجیت میں دینا چاہتا ہوں ۔اگر آپ یہاں آجائیں تو میں آپ سے شہزادی کا نکاح کر دوں گا ،لیکن ہاشم بن عبد مناف نے انکار کر دیا۔ہرقل شاہ ِ روم کا اصلی مقصد یہ تھا کہ سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا وہ نور نبوت جو ہاشم کی پیشانی میں چمک رہا تھا ،اُس کو اپنے گھرانے میں منتقل کیا جائے ۔لیکن سیدہ سلمیٰ سے نکاح کے بعد وہ نور نبوت حضرت ہاشم بن عبد مناف کے ماتھے سے ہٹ گیاتو باقی سب لوگ مایوس ہو گئے ۔

سیدہ سلمیٰ سے نکاح

ہاشم بن عبد مناف کا نکاح مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو نجار کے سردار عمرو بن لبید کی بیٹی سلمیٰ سے ہوا۔ نکاح کے بعد سیدہ سلمیٰ مدینہ منورہ میں ہی رہیں اور وہیں حضرت عبد المطلب پیدا ہوئے۔ ہاشم چونکہ عبد مناف کے بڑے بیٹے تھے، اس لئے رفادہ اور سقایہ کی ذمہ داری اُن پر ہی تھی اور وہ اس کا انتظام اتنا اچھا سنبھالتے تھے کہ ہر کوئی اُن کی تعریف کرتا تھا۔ لیکن ہاشم کے بھائی عبد شمس کا بیٹا اُمیہ ہمیشہ اُن کی مخالفت کرتا تھا اور ہاشم کے کام میں نقص نکالتا تھا۔ ہاشم سے سلمیٰ کا نکاح کرتے وقت عمرو بن لبید نے یہ شرط پیش کی تھی کہ میری بیٹی نکاح کے بعد مکہ مکرمہ نہیں جائے گی، بلکہ مدینہ منورہ ( اُ س وقت نا م یثرب تھا) میں ہی رہے گی۔ ہاشم نے شرط قبول کر لی تھی اور کچھ دنوں کے لئے اجازت لے کر سلمیٰ کو مکہ مکرمہ لائے اور تمام خاندان والوں سے ملوایا۔ اس کے بعد جب تجارتی قافلہ لے کر شام جانے لگے تو راستے میں سلمیٰ کو مدینہ منورہ چھوڑتے ہوئے گئے۔

تجارتی سفر کا قاعدہ

مکہ مکرمہ والوں کے ملک شام ،ملک حبشہ ،ملک عراق اور ملک یمن سے تجارت کرتے تھے،لیکن اُن کا کوئی تجارتی نظم نہیں تھا،جس کی وجہ سے انہیں بہت پریشانی ہوتی تھی۔ہاشم بن عبد مناف نے جب مکہ مکرمہ کا انتظام سنبھالا تو تجارتی سفر کا یہ قاعدہ بنایا کہ گرمی کے موسم میں مکہ مکرمہ کے تجارتی قافلے ملک شام اور ملک عراق جا کر تجارت کی جائے اور سردی کے موسم میں ملک یمن اور ملک حبشہ جا کر تجارت کی جائے۔اِس قاعدے کی وجہ سے مکہ مکرمہ والوں کے لئے تجارتی سفر بہت آرام دہ ہوگئے اور انہیں بہت سی آسانیاں میسر آگئیں۔اِسی دستور کے مطابق ہاشم بن عبد مناف جب اپنا تجارتی قافلہ لیکر لق و دق بیابانوں اور خشک ریگستانوں اور بر و بحر کو پار کرتے ہوئے سردی کے موسم میں ملک حبشہ پہنچتے تو نجاشی شاہِ حبشہ ہاشم بن عبد مناف کی بہت خاطر مدارت کرتا اور ہدایا پیش کرتا تھا۔ اورجب آپ اپنا تجارتی قافلہ لیکر گرمی کے موسم میں ملک شام اور ملک عراق کا تجارتی سفر کر تے تو قیصر روم بھی آپ کے ساتھ نہایت احترام سے پیش آتا تھا۔ہاشم بن عبد مناف نے سلطنت روم و فارس اور یمن کی حکومتوں سے قریش کے تجارتی قافلوں کے لئے خصوصی حفاظت کا حکم حاصل کیا ۔ملک عرب کے تجارتی راستے عام طور سے غیر محفوظ تھے اور اکثر لوٹ مار کا شکار ہو جاتے تھے ۔اِس سے قریش کے تجارتی قافلوں کی حفاظت کے لئے ہاشم بن عبد مناف نے ملک عرب کے تمام قبائل سے ،عاہد کیا کہ ہم تمہاری ضرورتیں پوری کیا کریں گے اور بدلے میں تم ہمارے تجارتی قافلوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچانا۔سورہ القریش میں اﷲ تعالیٰ نے قریش کے لئے اِسی خصوصی انعام کا ذکر کیا۔

اُمیہ بن عبد شمس کا ہاشم بن عبد مناف سے حسد

ہاشم بن عبد مناف حج کے ایام میں حاجیوں کی بہت زبردست خدمت کیا کرتے تھے اور تمام حاجیوں کو گوشت ،روٹی، ستو اور کھجور کھلاتے اور پانی پلاتے۔اُس وقت چونکہ زمزم کا کنواں بند تھا اِسی لئے حاجیوں کے لئے پانی کا انتظام کرنا قریش کے لئے بہت بڑا مسئلہ تھا ۔ہاشم بن عبد مناف اپنی مدبرانہ صلاحیتوں سے حاجیوں کے لئے پانی کا ایسا انتظام کرتے کہ تمام حاجی آرام سے سیراب ہو جاتے تھے ۔ تمام حاجی ہاشم بن عبد مناف کی تعریف اور عزت کرتے تھے اور اپنے علاقوں میں جا کر اُن کی تعریف کرتے تھے۔ہاشم بن عبد مناف کے بڑے بھائی عبد شمس بن عبد مناف کا بیٹا اُمیہ بن عبد شمس بہت امیر تھا اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ حاجیوں کی خدمت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔لیکن زیادہ مال و دولت خرچ کرنے کے بعد بھی اُسے وہ تعریف اور عزت نہیں ملتی تھی جو ہاشم بن عبد مناف کو ملتی تھی۔اِسی لئے امیہ بن عبد شمس حسد کرنے لگا اور امیہ خاندان کا ہاشمی خاندان سے یہ حسد چلتا رہا ،یہاں تک کہ کربلا میں حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت پر جا کر ختم ہوا۔

ہاشم بن عبد مناف کا انتقال

ہاشم بن عبد مناف انتہائی کم عمری میں بہت دوراندیشی اور سمجھ داری سے مکہ مکرمہ کا انتظام سنبھال رہے تھے۔جب سیدہ سلمیٰ سے آپ کا نکاح ہوا تو اُس وقت آپ کی عُمر بہ مشکل چوبیس یا پچیس سال تھی۔نکاح کے ہاشم بن عبد مناف اپنی زوجہ سیدہ سلمیٰ کو لیکر مکہ مکرمہ آئے اور چند مہینے اُن کے ساتھ مکہ مکرمہ میں گذارے ۔پھر جب ملک شام کی طرف تجارتی قافلہ لیکر جانے لگے تو چونکہ مدینۂ منورہ راستے میں ہی پڑتا تھا ،اِس لئے وعدے کے مطابق سیدہ سلمیٰ کو مدینۂ منورہ اُن کے والد ِمحترمکے پاس چھوڑ دیا اور خود تجارتی قافلہ لیکر ملک شام چلے گئے۔اُس وقت فلسطین ایک ملک نہیں تھا بلکہ ملک شام کا ایک صوبہ تھا۔اُس کے ایک شہر غزہ میں ہاشم بن عبد مناف تجارت کر رہے تھے ،وہیں آپ کا انتقال ہو گیا،وہیں آپ کو دفن کر دیا گیا۔   

حضرت عبد المطلب بن ہاشم

عبدالمطلب بن ہاشم مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔پیدائش کے وقت آپ کے سر میں کچھ بال سفید تھے ،اس لئے آپ کا نام شیبہ رکھا گیا۔ شیبہ اسی شخص کو کہتے ہیں جس کے سر کے کچھ بال سفید ہوں۔شیبہ بچپن ہی سے اپنی گفتگو،رکھ رکھائو اور وضع داری میں ممتاز نظر آتے تھے۔کھیل کے دوران وہ اپنے ساتھی بچوںسے ایسے تحکّمانہ انداز میں بات کرتے تھے جیسے وہ بادشاہ ہواور ان کے ساتھی بچے ان کی رعایا ہوں۔ تیر اندازی میں بھی بہت ماہر تھے، جب تیر کمان میں لگاتے تھے تو کہتے تھے :’’میں بطحاء کا سردار ہوں ،میں ہاشم کا بیٹا ہوں،کس کی ہمت ہے کہ میرا مقابلہ کرسکے؟ ‘‘اور جب تیر چلاتے تو ان کے دوستوں کے تیر جہاں جاکر گرتے تھے، اس جگہ سے بہت آگے جاکر ان کا تیر گرتا تھا۔ اسی طرح آپ ایک دن اپنے دوستوںکے ساتھ کھیل رہے تھے اور اپنی عادت کے مطابق کہہ رہے تھے ۔ اسی وقت مکہ مکرمہ کا ایک شخص جو ہاشم کے چھوٹے بھائی مُطَّلِب کا گہرا دوست تھا وہ گذر رہا تھا۔ جب اس نے شیبہ کی تحکّمانہ آواز اور الفاظ سنے کہ میں ہاشم کا بیٹا ہوں تو ٹھٹھک کر رک گیا اور شیبہ کو غور سے دیکھنے لگا۔اس نے تحقیق کی اور معلوم کرلیا کہ شیبہ ان کے سردار ہاشم کا بیٹا ہے۔

مُطَّلِب کا شیبہ کو لیکر مکہ مکرمہ آنا

تمام تحقیق کرنے کے بعد مطلب کا ودست مکہ مکرمہ میں آیا اور مُطَّلِب سے بولا:’’میں یثرب(مدینہ منورہ ) سے آرہا ہوں وہاں میں نے ہمارے سردار ہاشم کے بیٹے کو دیکھاہے۔ وہ لڑکا بہت شان والا ہے، اسکا انداز سرداروں والا ہے اور وہ بڑی شان سے اظہار کرتا ہے کہ وہ سردار ہاشم کا بیٹا ہے۔ اس بچے میں ایک اعلیٰ پائے کا سردار ہونے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں ۔ مجھے افسوس ہے کہ تم نے اتنے دنوں تک اپنے پیارے مرحوم بھائی کی یادگار پر کوئی توجہ نہیں دی ہے۔ میری تو رائے ہے فوراًجاکر اس بچے کولے آؤ۔مطلب کو اپنے بڑے بھائی ہاشم سے بہت محبت تھی۔ شیبہ کا ذکر سن کر وہ اس سے ملنے کے لئے بے چین ہوگئے اور جلد سے جلد تیاری کرکے مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ جب شیبہ کو دیکھا تو آنکھو میں آنسو آگئے، کیونکہ بھتیجے میں بڑے بھائی کی شکل نظر آرہی تھی۔ بھابھی سلمیٰ سے کہا:’’ میںاسے اپنے گھر مکہ مکرمہ لے جانا چاہتا ہوں ،تاکہ یہ اپنے والد کے کام کو سنبھال سکے۔‘‘ ماں کی آنکھوں آنسو آگئے ،پھربھی بیٹے کی بھلائی کے لئے اسے مکہ مکرمہ بھیجنے پر راضی ہوگئیں ۔

شیبہ کا نام عبد المُطَّلِب پڑنا

مکہ مکرمہ میں مُطَّلِب جب شیبہ کو لے کر داخل ہوئے تو شیبہ کے کپڑے اور چہرہ دھول اور گرد میں اٹے ہوئے تھے۔ راستے میں لوگ مُطَّلِب سے پوچھتے کہ یہ کون ہے؟ تو مطلب کو شاید حیاآئی کہ ایسی حالت میں لوگوں کو بتائوں کہ یہ میرا بھتیجا اور ہاشم کا بیٹا ہے۔ وہ جلد از جلد گھر پہنچ کر شیبہ کو نہلا دھلا کر صاف ستھر ا کر کے قریش کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے جو بھی شیبہ کے بارے میں پوچھتا تھا تو مطلب جلدی سے یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے تھے کہ یہ میرا عبد ( غلام) ہے۔ جلد ہی سارے مکہ مکرمہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ مکہ مکرمہ میں مطلب کا ’’عبد‘‘ آیا ہے جو بہت خوب صورت ہے۔ پھر سب لوگ یعنی سارے مکہ مکرمہ کے لوگ اس خوب صورت ’’عبد ‘‘کو دیکھنے آنے لگے۔ مطلب نے شیبہ کو نہلا دھلا کر صاف ستھرے کپڑے پہنائے اور تمام قریش کے سامنے لے کر آئے ۔ تو تمام لوگ شیبہ کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ گئے ۔ تب مطلب نے بتایا کہ یہ میرا عبد نہیں ہے بلکہ میرا بھتیجا شیبہ ہے اور میرے بڑے بھائی ہاشم کا بیٹا ہے۔ لیکن اس کے بعد بھی لوگ شیبہ کو عبد المطلب ہی کہتے رہے اور شیبہ اسی نام سے مشہور ہوگئے۔

عبد المطلب مکہ مکرمہ کے سردار

مُطَّلِب نے چچا بن کر نہیں بلکہ باپ بن کر اپنے بھتیجے کی ذہنی اور جسمانی تربیت کی، اس خصوصی توجہ کی وجہ سے عبد المطلب میں نکھار آگیا۔ جب عبد المطلب بڑے ہوئے تو اُن کے چچا مطلب نے اپنے بھائی ہاشم کی اور اپنی اپنی تمام جائیداد اور مکہ مکرمہ کی سرداری عبد المطلب کو سونپ دی اور کہا :’’بیٹے تم ہر طرح سے اس کے اہل ہو، اب قبائیلی سرداری سنبھالو اور اس کے تقاضے پورے کرو۔ ہمارا جو فرض تھا وہ ہم نے پورا کر دیااور کچھ عرصہ بعد مطلب کا انتقال ہو گیا۔ عبد المطلب کے چچا نوفل نے آپ کو اکیلا سمجھ کر جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو آپ نے مدینہ منورہ سے اپنے ماموں کو بلایا۔ جنھوں نے عبد المطلب کو جائیدا د واپس دلا دی۔

زم زم کا کنواں بند کرنا

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی بیوی اور بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک ویران علاقے میں چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے وہاں زم زم کا کنواں پیدا فرما دیا۔ اسی دوران یمن میں قحط پڑا تو قبیلہ بنوجرہم پانی اور روزی کی تلاش میں نکل پڑا۔ انھوں نے دیکھا کہ ایک جگہ آسمان میں پرندے اڑ رہے ہیں۔ تحقیق ِ حال کے لئے وہاں پہنچے تو سیدہ ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور زم زم کا کنواں تھا۔ پانی دیکھ کر قبیلہ جرہم نے سیدہ ہاجرہ سے یہیں بس جانے کی اجازت مانگی جو انھوں نے دے دی وہ لوگ یہیں بس گئے۔حضرت اسماعیل علیہ السلام انھیں میں بڑے ہوئے اور اسی قبیلہ میں نکاح کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور جرہم عمالقہ اوریمن کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ علیہ السلام کے بعد آپ کے بیٹے قیدار کو مکہ مکرمہ کا ذمہ دار بنایا وقت گزرتا رہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد مکہ مکرمہ کی ذمہ داری سنبھالتی رہی۔ لیکن بعد میں بنوجرہم بنی اسماعیل پر حاوی ہو گئے اور مکہ مکرمہ کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ مجبوراً بنی اسماعیل کو مکہ مکرمہ کے اطراف و جوانب میں آباد ہونا پڑا۔ قبیلہ جرہم نے جب خانہ کعبہ کی بے حرمتی کرنی شروع کی تو تمام عرب کے قبائل بنی اسماعیل کے ساتھ مل گئے۔ مجبوراً قبیلہ جرہم کو مکہ مکرمہ سے نکلنا اور بھاگنا پڑا ۔ لیکن مکہ مکرمہ سے نکلنے کے وقت قبیلہ جرہم نے زم زم کے کنویں کو بند کر دیا اور مٹی ڈال کر زمین کے برابر کر کے چلے گئے اور زم زم کے کنویں کا نام و نشان مٹ گیا۔ بنی اسماعیل دوبارہ مکہ مکرمہ میں آباد ہو گئے لیکن زم زم کے کنویں پر کسی نے توجہ نہیں دی اور نہ ہی تلاش کرنے کی کو شش کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ زم زم کو بھول گئے۔

عبد المطلب کا خواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا زمانہ قریب آرہا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے زم زم کے کنویں کو ظاہر کرنے کا ارادہ فرمایا اور زمزم کے کنویں کو ظاہر کرنے کا شرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبد المطلب کو عطا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے عبد المطلب کو سچے خواب کے ذریعے آگاہ فرمایا۔ عبد المطلب کہتے ہیں:’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص میرے پاس آیااور کہا اِحفِر بَرَّۃَ (برہ کو کھودو)میں نے پوچھا وَ مَا بَرَّۃ ؟ (برہ کیا ہے؟ )تو وہ شخص چلا گیا۔ عبدالمطلب دن بھر غور وفکر میں رہے کہ برہ کیا ہے؟ دوسری رات خواب میں وہ شخص آیا اور کہا اِحفر المضنونۃ ( مصنونہ کو کھودو)میں نے دریافت کیا وما المضنو نۃ ؟( مضنونہ کیا ہے؟ )تو وہ شخص چلا گیا ۔ آپ دن بھر اسی غور و فکر میں رہے کہ برہ اور مضنونہ کیا ہے؟ تیسری رات خواب میں پھر وہ شخص آیا اور بولا اِحفِر طیبۃ ( طیبہ کو کھودو) میں نے پوچھا ۔ وما طیبہ؟( طیبہ کیا ہے؟ )تو وہ شخص چلا گیا ۔ وہ پورا دن بھی غور و فکر اور پریشانی میں گزر گیا۔ چوتھی رات خواب میں وہ شخص آیا اور بولا احفِرزم زم میں نے پوچھا وما زم زم ؟( زم زم کیا ہے؟) تو اس شخص نے کہا زم زم بِیئر ( کنواں ) ہے اور یہ مقدس پانی کا کبھی نہ ختم ہونے والا کنواں ہے جو حاجیوں اور مکہ مکرمہ کے باشندوں کی ضروریات پوریکرتا تھا اور پوری کرے گا۔ یہ کنواں تمہارے آبائو اجداد کی مقدس میراث ہے اگر تم اسے کھودو گے تو اسے پا لو گے اور تمہیں مایوس اور پشیمان نہیں ہونا پڑے گا۔ وہ اساف اور نائلہ کے چبوترے کے سامنے کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کے پاس ہے اور اس جگہ کی نشانی یہ ہے کہ جب تم وہاں پہنچو گے تو ایک کوّا زمین پر آکر اپنی جونچ سے کریدے گا، اُسی کے نیچے جاہِ زم زم ہے۔

قریش سرداروں کا انکار

دوسرے دن حضرت عبدالمطلب چبوترے کے پاس پہو نچے۔ اور اسکے سامنے کی جگہ کا جائزہ لینے گے کہ چاہِ زم زم کہاں ہوسکتا ہے؟ اسی دوران آپ نے دیکھا کہ ایک کوا چبوترے کے سامنے کی زمین پر ایک جگہ آکر کریدنے لگا۔ یہ دیکھ کر آپ سمجھ گئے کہ میرا خواب سچا ہے اور یقین ہوگیا کہ اسی جگہ زم زم کا کنواں ہوگا۔ آپ نے اسی جگہ نشان لگادیا اور قریش کے سرداروں کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنا خواب بیان کیا اور تمام نشانیاں بتائیں ۔قریش کے سردار پہلے تو حیران ہوئے اور انھیں یقین نہیں آیا۔کیونکہ چاہِ زم زم کے کنویں کو بند کئے ہوئے کئی سو برس یعنی کئی صدیاں گذرچکی تھیں اور لوگ زم زم کے کنویں کو بھو ل گئے تھے۔ لیکن چونکہ ان کے سب سے بڑے سردار کہہ رہے تھے ۔اس لئے وہ لوگ غور کرنے لگے اور کافی غور کرنے کے بعد حضرت عبدالمطلب سے کہا۔یہ تو بہت مشکل کام ہے ۔سینکڑوں من ریت کو ہٹانا اور اس کے نیچے سے کنویں کو کھولنا اور اسے استعمال کے قابل بنانا لگ بھگ نا ممکن کام ہے اسلئے ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ۔قریش کے سرداروں کا جواب سن کر حضرت عبد المطلب کو بہت افسوس ہوا ۔

حضرت عبد المطلب کااپنے بیٹے حارث کے ساتھ چاہِ زم زم کا کھودنا

قریش کے سرداروں کا جواب سن کر حضرت عبدالمطلب کو بہت افسوس ہوا۔ لیکن آپ مایوس نہیں ہوئے اورآپ کو یقین تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے تو اللہ تعالیٰ مدد ضرور کرے گا۔ آپ نے عہد کیا کہ قریش کی مدد کے بغیر ہی چاہِ زم زم کی خدائی کریں گے۔اس وقت حضرت عبد المطلب کے ایک ہی بیٹے تھے اور ان کا نام حارث تھا۔ انھوں نے اپنے بیٹے سے چاہِ زمزم کا ذکر کیا تو حار ث اپنے والد کا ساتھ دینے کو تیار ہو گئے۔ دونوں باپ بیٹے اس جگہ پہنچے، تمام قریش کے سرداران جمع تھے۔ اُن سرداروں نے دونوں باپ بیٹوں کو سمجھانا چاہا کہ یہ پاگل پن ہے ،تم یہ نہیں کر سکو گے ،لیکن دونوں باپ بیٹے نے صاف جواب دیا:’’ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور ہم ضرور پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

قریش کے سرداروں کا مذاق اڑانا اور حضرت عبد المطلب کی دعا

حضرت عبد المطلب اور اُن کے بیٹے حارث یہ دونوں نشان لگائی ہوئی جگہ پر کھدائی کرنے لگے۔ یہ دیکھ کر قریش کے سردار اِن دونوں کو مذاق اڑانے لگے کہ دونوں باپ بیٹے پاگل ہو گئے ہیں۔ حضرت عبد المطلب خاموشی سے کھدائی کرتے رہے اور حارث مٹی اٹھا کر دور لے جا کر پھینکتے رہے۔ صرف دو لوگ تھے اس لئے کام بہت دھیرے چل رہا تھا اور اس میں کئی ہفتے لگ سکتے تھے۔ لیکن دونوں باپ بیٹے ہمت سے لگے رہے، روزآنہ صبح آتے اور کھدائی میں لگ جاتے ۔ کھدائی کے دوران حضرت عبد المطلب کو بار بار احساس ہوتا تھا کہ اگر میرے اور بیٹے ہوتے تو چاہِ زم زم کی کھدائی میں آسانی ہوتی اور جلدی کام مکمل ہو جاتا ۔ اس دوران قریش کے سردار آکر مذاق اڑاتے رہتے تھے۔ حضرت عبد المطلب کو ان کے مذاق پر احساس ہوتا کہ اگر میری اور زیادہ اولاد ہوتی تو میں ان کے مذاق کا منہ توڑ جواب دیتا۔ چاہ زمزم کی کھدائی کے دوران آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ تعالیٰ !تو مجھے اگر دس بیٹے عطا فرمائے گا تو میں ایک بیٹے کو تیرے لئے قربان کر دوں گا۔ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی تھی۔

چاہ زم زم کا ظاہر ہونا

دونوں باپ بیٹے مسلسل محنت کرتے رہے اور کنواں گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ ایک دن اچانک کنویں کی اینٹیں نظر آنے لگیں ۔ حضرت عبد المطلب نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور کہا :’’یہی حضرت اسماعیل علیہ السلام کا کنواں ہے۔‘‘ آناً فاناً پورے مکہ مکرمہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ عبد المطلب کو صدیوں پرانا کنواں مل گیاہے، سب زیارت کے لئے امڈ پڑے ۔ اس کے بعد حضرت عبد المطلب نے چاہ زم زم کے کنویں کو نئے سرے سے بنوایا اور کنویں کے قریب کچھ حوض بنوائے جن میں آب زم زم بھر کر حاجیوں کو اور مکہ مکرمہ والوں کو پانی پلاتے اور استعمال کے لئے بھی دیتے۔ چند حاسدوں نے شرارت شروع کی کہ رات میں اُن حوضوں کو خراب کر دیتے تھے اور صبح کو عبد المطلب اُن حوضوں کو درست کرتے تھے۔ آخر کار آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو خواب میں حکم ہوا کہ اس طرح دعا مانگو :’’اے اللہ !میں اس زم زم سے لوگوں کو غسل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہوں،صرف پینے کی اجازت دیتا ہوں۔ صبح اٹھتے ہی آپ نے اعلان کر دیا جو بھی حوضوں کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے کسی بیماری میں مبتلا کر دے گا۔ کئی لوگوں کے بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد لوگوں نے حوضوں کو خراب کرنا چھوڑ دیا۔

حضرت عبدالمطلب کی دعا قبو ل ہوئی

چاہِ زم زم کی کھدائی کے وقت حضرت عبد المطلب نے دعا کی تھی کہ اے اللہ تعالیٰ !تو اگر مجھے دس بیٹے عطا فرمائے گا تو میں ایک کو تیرے لئے قربان کر دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کی اور آپ کو دس بیٹے عنایت فرمائے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ 1) حارث 2) ضرار 3) مقوم 4) ابو طالب 5) ابو لہب 6) زبیر 7) غیداق 8) عباس 9) حمزہ اور 10) عبداللہ ۔ کچھ علمائے کرام نے بارہ بیٹوں کا ذکر کیا ہے اور بقیہ دو نام قشم اور مغیرہ بتائے۔ علامہ عبد الرزاق بھترالوی نے اپنی معرکتہ آراء کتاب تذکرۃ الانبیاء میں حضرت عبد المطلب کے تیرہ بیٹوں کا ذکر کیا ہے اور تیرھواں نام عبد الکعبہ لکھا ہے۔ حضرت عبد المطلب کی چھ بیٹیاں ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں1) صفیہ،2) اُم حکیم، 3) عاتکہ،4) امیمہ، 5) ارویٰ اور 6) برّہ۔ بیٹوں میں حضرت عبداللہ اس وقت سب سے چھوٹے تھے۔

قرعہ حضرت عبداللہ کے نام کھلا

حضرت عبدالمطلب کے بیٹے جوان ہوئے تو آپ نے تمام بیٹوں سے اپنی دعا کا ذکر کیااور کہا :’’ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کر لی ہے۔ اب مجھ پر فرض ہے کہ میں بھی اپنا وعدہ پورا کروں ۔‘‘ تمام بیٹوں نے کہا :’’ ابا جان !آپ اپنا وعدہ پورا کریں اور ہم میں سے جسے چاہیں قربان کر دیں ۔‘‘ تمام بیٹوںکو لے کر آپ خانہ کعبہ کے پاس آئے۔پیچھے پیچھے آپ کی بیٹیاں بھی آئیں۔ آپ نے قرعہ نکالنے والے سے کہا کہ وہ قرعہ نکالے۔ قرعہ سب کے لاڈلے حضرت عبداللہ کے نام کا نکلا۔ حضرت عبد المطلب کی جان نکل گئی ،مگر زبان سے اُف تک نہیں کی اور چپ چاپ حضرت عبداللہ کا ہاتھ پکڑا چھری لی اور قربان گاہ کی طرف جانے لگے۔ تمام بیٹے آپ کو روکنے لگے، تمام بیٹیوں نے لپک کر حضرت عبداللہ کو پکڑ لیا اور تمام قریش آپ کو سمجھانے لگے کہ اے ہمارے سردار اگر آپ نے آج بیٹا قربان کر دیا تو یہ رسم ہو جائے گی اور لوگ تکلیف میں آجائیں گے۔ آپ اس کی کوئی متبادل صورت نکالیں، آخر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کی بھی تومتبادل صورت نکل آئی تھی۔

حضرت عبداللہ کی دیت 100( سو ) اونٹ

حضرت عبد المطلب بہت ہی دانا، عقلمند اور زیرک انسان تھے۔ قریش کے سرداروں کے مشورے پر غور و فکر کر کے ایک متبادل صورت اُن کے ذہن میں آئی۔ آپ نے قرعہ نکالنے والے سے کہا ۔ ایک شخص کی دیت ( خون بہا) دس اونٹ ہے۔ دس اونٹ اور عبداللہ کے نام کا قرعہ ڈالو،اس مرتبہ بھی حضرت عبداللہ کا نام نکلا۔ حضرت عبد المطلب نے کہا بیس اونٹ ڈالو پھر حضرت عبداللہ کا نام کھلا۔ اس طرح دس دس اونٹ ہر مرتبہ بڑھاتے گئے۔ جب 100اونٹ ہو گئے تو قرعہ اونٹوں کے نام کھلا، تمام لوگوں نے اطمینان کی سانس لی۔ لیکن حضرت عبدالمطلب نے کہا تین مرتبہ اور سو اونٹوںاورعبداللہ کا نام ڈالو۔ اگر تینوں مرتبہ اونٹوں کانام کھلے گا تو میں سمجھوں گا کہ اللہ تعالیٰ اونٹوں کی قربانی پر راضی ہے۔ تین مرتبہ اور قرعہ ڈالا گیا اور تینوں مرتبہ اونٹوں کے نام قرعہ نکلا۔ تب جا کر آپ کو اطمینان ہوا اور آپ نے حضرت عبداللہ کے بدلے سو اونٹوں کی قربانی کی۔ اس کے بعد ایک آدمی کی دیت سو اونٹ قرار دے دی گئی۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ کا لقب’’ ذبیح اللہ ‘‘پڑ گیا۔ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ کسی کاہنہ نے یہ رائے دی تھی۔

رسول اللہ ﷺ دو ذبیح کے بیٹے ہیں

حضرت عبداللہ کا لقب ’’ذبیح ‘‘تھا۔ اسی لئے رسول اللہ ﷺ  کو ’’ابن الذبیحین‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی دو ذبیح کے بیٹے ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ۔ ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں تھے کہ ایک اعرابی ( دیہاتی) آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کومخاطب کر کے عرض کیا؛’’اے ابن الذبیحین ‘‘یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے اور چہرہ اقدس سے خوشی کا اظہار ہونے لگا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مکمل کیا تو کسی نے پوچھا کہ یہ دو ذبیح کون کون ہیں؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ پہلے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام ہیں اور دوسرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ ہیں۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ کی قربانی کا پورا واقعہ بیان فرمایا۔

حضرت عبداللہ کا سیدہ آمنہ سے نکاح

حضرت عبداللہ پورے قریش میں سب سے زیادہ حسین و جمیل نظر آنے والے نوجوان تھے۔ اُن کے رخِ انور میں نورِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم روشن ستارے کی طرح چمکتا تھا۔ اسی وجہ سے قریش کی لڑکیاں اُن سے شادی کرنے کی آرزو مند تھیںاور حضرت عبداللہ کو ان کی وجہ سے خاصی دِقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ حضرت عبدالمطلب نے اپنے پیارے بیٹے کے نکاح کے لئے لڑکی تلاش کرنی شروع کی۔ بالآخر نگاہِ انتخاب بنو زہرہ کے سردار وہب کی بیٹی سیدہ آمنہ پر پڑی۔ اُن کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور اُن کے والد کی جگہ بنو زہرہ کے سردار اُن کے چچا وہیب تھے۔ حضرت عبدا لمطلب نے سیدہ آمنہ کے چچا سے بات کی اور اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کا نکاح اُن کی بھتیجی سیدہ آمنہ سے کرنے کی درخواست کی۔ جو انھوں نے قبول کر لی اور پھر دونوں کا نکاح ہو گیااور سیدہ آمنہ ، حضرت عبداللہ کے گھر آگئیں۔ نکاح کے وقت حضرت عبداللہ کی عمر لگ بھگ چوبیس سال اور کچھ مہینے تھی۔ عمر کے بارے میں کئی روایات ہیں۔

حضرت عبداللہ کا شام کی طرف تجارتی سفر اور وفات

حضرت عبداللہ اور سیدہ آمنہ نے ایک ساتھ ازدواجی زندگی کتنی مدت گزاری اس بارے میں مختلف روایات ہیں۔ اور تمام روایات کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ دونوں ایک ساتھ شادی شدہ زندگی زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ گزار ی اور کم سے کم تین دن گزاری۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ اپنا تجارتی قافلہ لے کر شام کے سفر پر چلے گئے۔ یہ بات یہاں ذہن میں رکھیں کہ قریش تجارت کرتے تھے اور اسی سلسلے میں کچھ لوگ شام جاتے تھے۔ کچھ یمن ، کچھ عراق اور کچھ تو کافی دور کا سفر بھی کرتے تھے۔ اس وقت سفر کاسب سے بہترین ذریعہ اونٹ، گھوڑے اور خچر تھے۔ اس لئے ان تجارتی قافلوں کو کبھی تین مہینہ ، کبھی پانچ مہینہ اور کبھی اس سے زیادہ بھی لگ جاتا تھا۔ حضرت عبداللہ شام میں اپنا سامان فروخت کر کے اور مکہ مکرمہ میں فروخت کرنے کے لئے سامان لے کر اپنے قافلے کے ساتھ واپس آرہے تھے کہ راستے میں آپ کی طبیعت خراب ہو گئی اور سفر کرنے کی طاقت نہیں رہی۔ آپ نے مدینہ منورہ میں قیام کر لیا اور قافلے والوں کو مکہ مکرمہ روانہ کر دیا۔ حضرت عبداللہ اپنی دادی یعنی حضرت عبدا لمطلب کی والدہ سلمیٰ کے رشتہ داروں کے یہاں ٹھہر گئے۔ جب قافلہ مکہ مکرمہ پہنچا تو اسمیں حضرت عبداللہ موجود نہیں تھے۔ حضرت عبدالمطلب نے قافلے والوں سے حضرت عبداللہ کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایاکہ اُن کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی اور سفر نہیں کر سکتے ہیں۔ اسی لئے آپ کی والدہ کے رشتہ داروں میں رُک گئے ہیں۔ حضرت عبدا لمطلب نے فوراً بڑے بیٹے حارث کو مدینہ منورہ بھیجا وہ وہاں پہنچے تو حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا اور انھیں دفن کیا جا چکا تھا۔ حارث نے واپس آکر یہ اندو ہناک خبر سنائی۔ حضرت عبداللہ سبھی کے پیارے تھے، اس لئے سب کو صدمہ ہوگیا اور سیدہ آمنہ کا تو یہ حال ہو گیا تھا کہ انھوں نے مسکرانا چھوڑ دیا تھا۔حضرت عبد المطلب نے بہو کا غم دیکھا تو اپنے آپ کو سنبھالا اور بیٹوں سے کہا اپنے آپ کو سنبھالو اور آمنہ کی دلجوئی کرو۔ اس کا غم تم سے زیادہ ہے اور پھر وہ ایسی حالت میں ہے کہ اسے خوش رہنا چاہیئے اور اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہیئے۔ حضرت عبداللہ نے ترکہ میں بکریوں کا ایک ریوڑ اور پانچ اونٹ چھوڑے اور ایک کنیزسیدہ اُم ایمن بھی تھیں۔

رسول اللہ ﷺ  کے بشری پیکر ( جسم) کی تخلیق

حضرت عبداللہ کا جب انتقال ہوا تو سیدہ آمنہ اُس وقت حاملہ تھیں اور یہ حمل کئی ماہ کا تھا اور سیدہ آمنہ کے شکم مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بشری پیکر تخلیق پا رہا تھا۔ حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بشری پیکر( جسم مبارک ) کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو جبرئیل امین علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایسی مٹی لے آئو جو میرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس اور جسدِ اطہر کی تخلیق کے لائق ہو۔ جبرئیل امین زمین پر آئے اور اُس جگہ سے جہا ں آج آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں وہاں سے سفید مٹی لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اُس مٹی کو جنت کی نہر تسنیم کے پانی سے گوندھا گیا اور دھویا گیا۔ (پھر نورِ نبوت اُس میں رکھ کر ) اس کو عرش و کُرسی ، لوح و قلم ،اور آسمانوں اور زمین میں پھرایا گیا۔ تا کہ فرشتوں سمیت تمام مخلوق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف و کمال کو پہچان لے۔

واقعہ اصحاب ِ فیل

رسول اللہ ﷺ  کی پیدائش کا وقت قریب آتا جا رہا تھا ۔ اور جیسے جیسے وقت قریب آتا جا رہا تھا ویسے ویسے برکات ظاہر ہوتی جا رہی تھیں۔ اُن میں سے ایک واقعہ چاہِ زم زم کا واپس مل جانا ہے اور ایک واقعہ اصحاب ِ فیل کا بھی ہے۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ  کی ولادت ( پیدائش) سے پچاس یا پچپن روز پہلے پیش آیا۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ والوں کی مدد کی اور خانہ کعبہ کو دشمنوں سے بچایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو مختصراً سورہ الفیل میں بیان فرمایا : ترجمہ’’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟کیا اُن کے مکر کو بے کار نہیں کر دیا اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جُھنڈ بھیج دیئے جو انھیں کنکریاں مار رہے تھے۔ پس انھیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔ ( سورہ الفیل آیت نمبر1سے نمبر5 تک ۔)

ابرہہ کا کلیسا بنانا

حبشہ کے بادشاہ نجاشی ( یہ یاد رکھیں کہ حبشہ کے ہر بادشاہ کا لقب نجاشی ہوتا تھا) نے یمن کا حکمراں یا گورنر ابرہہ کو بنایا۔ یہاں آکر اس نے دیکھا کہ پورے عرب کا مرکز مکہ مکرمہ ہے اور دور دور سے لوگ مکہ مکرمہ آتے ہیں۔ اس نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ میں ایک اللہ کا گھر ہے، جسے’’ خانہ کعبہ‘‘ کہا جاتا ہے اور لوگ آکر اس کا طواف کرتے ہیں۔ اس نے یمن کی راجدھانی صنعاء میں ایک بہت ہی خوب صورت گرجا گھر بنایا اور اعلان کیا کہ لوگ سادہ کعبہ چھوڑ کر اس پُر تکلف اور خوب صورت کعبہ کا طواف آکر کریں۔ عرب میں جب یہ خبر مشہور ہوئی تو قبیلہ بنو کنانہ کا کوئی شخص اس گرجا گھر میں گیا اور پاخانہ کر کے بھاگ آیا۔ حضر ت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت بھی ہے کہ عرب کے کچھ نوجوانوں نے اس کلیسا کے قُرب جوار میں آگ جلائی ہوئی تھی جو ہوا سے اڑ کر اس کلیسا یعنی گرجا گھر میں لگ گئی اور وہ پورا کلیسا جل کر خاک ہو گیا۔

ابرہہ کا مکہ مکرمہ پر حملہ

ابرہہ نے کلیسا کا یہ حال دیکھا تو غصہ سے بھر گیا۔ اس نے قسم کھائی کہ وہ خانہ کعبہ کو منہدم اور مسمار کر دے گا۔ اس نے لشکر جمع کیا، اس لشکر میں ہاتھی کافی تعداد میں تھے۔ وہ یمن سے لشکر لے کر چلا۔ راستے میں جو عرب قبیلہ ملتا گیا انھیں قتل کر کے آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ مکہ مکرمہ کے قریب پہنچا اور لشکر کو پڑائو ڈالنے کا حکم دے دیا۔ مکہ کے اطراف میں قریش کے مویشی چرتے تھے۔ ابرہہ نے قریش کے تمام مویشیوں کو پکڑ لیا۔ ان میں حضرت عبدا لمطلب کے بھی دو سو اونٹ تھے۔ ادھر قریش کو ابرہہ کے لشکر کی خبر ہوئی تو وہ سب اپنے سردار حضرت عبدا لمطلب کے پاس آئے اور کہا کہ ابرہہ خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کے ارادے سے آیا ہے۔ آپ نے قریش کو سمجھایا کہ گھبرائو مت !خانہ کعبہ اللہ کا گھر ہے اور اسے کوئی منہدم یا مسمار نہیں کر سکتا، میں ابرہہ سے ملاقات کے لئے جار ہا ہوں ۔

ابرہہ حضرت عبدالمطلب سے مرعوب ہو گیا

حضرت عبدا لمطلب نے قریش کے چند سرداروں کو ساتھ لیا اور اپنی سواری پر سوار ہو کر ابرہہ کے لشکر میں پہنچے ۔ ابرہہ کو اطلاع دی گئی کہ مکہ مکرمہ کے بڑے سردار ملنے کے لئے آئے ہیں۔ اُس نے حضرت عبدا لمطلب کا شاہانہ استقبال کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبدالمطلب کو بے مثال حسن و جمال ، عظمت وہ ہیبت اوروقار و دبدبہ عطا فرمایا تھا۔ جس کو دیکھ کر ہر شخص مرعوب ہو جاتا تھا۔ ابرہہ بھی آپ کو دیکھ کر مرعوب ہو گیا اور بہت عزت و احترام سے پیش آیا۔ یہ تو مناسب نہ سمجھا کہ کسی کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھائے۔ البتہ آپ کے اعزاز و اکرام میں یہ کیا کہ خود تخت سے اتر کر فرش پر آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ آپ نے قریش کے مویشیوں اور اپنے اونٹوں کا مطالبہ کیا۔ ابرہہ متعجب ہوگیا اور بولا بڑے تعجب کی بات ہے ۔آپ نے مجھ سے مویشیوں اور اونٹوں کے بارے میں بات کی ہے اور’’ خانہ کعبہ ‘‘جو آپ کا اور آپ کے آباو اجداد کا دین ہے، اس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا:’’ میں میویشیوں اور اونٹوں کا مالک ہوں اس لئے میں نے اونٹوں کا سوال کیا اور خانہ کعبہ کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، وہ اپنے گھر کو خود بچا ئے گا۔ ابرہہ کچھ دیرخاموش رہا پھر تمام مویشیوں اوراونٹوں کو واپس کر دینے کا حکم دیا۔ حضرت عبدالمطلب تمام مویشیوں اور اونٹوں کو لے کر مکہ مکرمہ تشریف لائے اور اعلان کر وادیا کہ تمام مکہ مکرمہ کے باشندے اپنے اہل و عیال کے ساتھ پہاڑوں میں چلے جائیں اور مکہ مکرمہ کو خالی کر دیں۔

حضرت عبد المطلب کی دعا

حضرت عبدالمطلب نے پورے مکہ مکرمہ میں اعلان کر وادیا کہ تمام لوگ مکہ مکرمہ کو خالی کر کے پہاڑوں میں چلے جائیں اور اپنی نگرانی میں تمام لوگوں کو بحفاظت پہاڑوں میں بھیجنے لگے۔ اپنے تمام اونٹوں کو خانہ کعبہ کے لئے اللہ کی راہ میں قربان کیا۔ اس دوران تمام لوگ پہاڑوں میں پہنچ چکے تھے اور مکہ مکرمہ خالی ہو چکا تھا۔ حضرت عبد المطلب قریش کے خاندانوں کے چند سرداروں کے ساتھ خانہ کعبہ کے دروازے پر حاضر ہوئے۔ سب نے خانہ کعبہ کا غلاف اور دروازہ پکڑ کر رو رو کر دعا مانگی۔ حضرت عبد المطلب نے یہ دعا کی:’’ اے اللہ تعالیٰ! بندہ اپنی جگہ کی حفاظت کرتا ہے پس تو اپنے مکان یعنی گھر کی حفاظت فرما اور اہل صلیب اور صلیب کی عبادت کرنے والوں کے مقابلہ میں اپنے اہل کی مدد فرما۔ ان کی صلیب اور ان کی تدبیر تیری تدبیر پر کبھی غالب نہیں آسکتی۔ لشکر اور ہاتھی چڑھا کر لائے ہیں تا کہ تیرے عیال کو قید کریں اور تیرے حرم(خانہ کعبہ) کو بربا د کر دینے کا ارادہ لے کر آئے ہیں۔ جہالت کی بنا پر یہ ارادہ کیا ہے اور تیری عظمت اور جلال کا خیال نہیں کیا۔‘‘یہ دعا کرنے کے بعد آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ جہاں مکہ مکرمہ کی تمام آبادی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ موجود تھی اور دیکھ رہے تھی۔ حضرت عبدالمطلب بھی پہاڑ پر چڑھ کر ابر ہہ کا لشکر اور خانہ کعبہ کو دیکھنے لگے۔

ابرہہ کے ہاتھیوں والے لشکر پر اللہ تعالیٰ کا حملہ

ابرہہ اپنے لشکر کے ساتھ حضرت عبدالمطلب کو دعا مانگتے اور تمام مکہ مکرمہ والوں کو پہاڑ وں پر چڑھتا دیکھتا رہا۔ جب تمام مکہ مکرمہ خالی ہو گیا اور حضرت عبدالمطلب بھی پہاڑ پر چڑھ گئے تو ابرہہ نے اپنے لشکر کو آگے بڑھنے کا حکم دیا اور کہا :’’آگے بڑھو! اور اس گھر کو جسے یہ لوگ اللہ کا گھر کہتے ہیں توڑدو۔‘‘ اور اپنے لشکر اور ہاتھیوں کو لے کر آگے بڑھا۔ وہ خود بھی ہاتھی پر سوار تھا ۔ تمام مکہ مکرمہ والے پہاڑوں پر سے ابرہہ کے لشکرکو خانہ کعبہ کی طرف بڑھتے دیکھ رہے تھے۔ ان میں حضرت عبدالمطلب بھی تھے اور ان کے ساتھ سیدہ آمنہ بھی ابرہہ کے لشکر کو اور خانہ کعبہ کو دیکھ رہی تھیں۔ سب نے دیکھا کہ اچانک ابرہہ کے لشکر کے اوپر بے شمار چھوٹے چھوٹے پرندے آگئے اور ان کے اوپر اڑنے لگے۔ ہر پرندے کی چونچ میں ایک کنکری تھی۔ وہ کنکری کو ابرہہ کے لشکر پر چھوڑتے اور پلٹ جاتے۔ جیسے ہی ایک پرندہ کنکری چھوڑ کر پلٹتا دوسرا پرندہ اس کی جگہ لے لیتا۔ تمام مکہ مکرمہ والے حیرت سے آنکھیں پھاڑے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔

ابا بیلوں کے کنکریوں کے حملے سے ابرہہ کا لشکر تباہ

ابرہہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اپنے لشکر کو لے کر خانہ کعبہ کو تباہ کرنے کے لئے آگے بڑھ رہا تھا۔ ابھی وہ حرم کی حدود میں داخل بھی ہونے نہیں پایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے چھوٹے چھوٹے بے شمار پرندے بھیج دیئے ۔ ان ابابیلوں کی چونچ میں کنکریاں دبی ہوئی تھیں۔ اتنی ابابیلیں آگئی تھیں کہ ابرہہ اور اس کے لشکر کو آسمان دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ اچانک ابابیلوں نے کنکریوں کو ابرہہ اور اس کے لشکر پر چھوڑنا شروع کر دیا اور اُن پر کنکریوں کی بارش ہونے لگی۔ یہ کنکریاں بندوق کی گولی سے زیادہ خطرناک تھیں۔ جس کے سر پر لگتی تو اس کے بدن کو چیرتی ہوئی پار نکل کر زمین پر گر جاتی اور اس شخص کا بدن پگھلنے لگتا تھا۔ ہاتھی کے اوپر کنکری گرتی تو اس کے بدن کو پھاڑتی ہوئی پار ہو جاتی تھی اور ہاتھی وہیں گر کر پگھلنے لگتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ابرہہ کا پورا لشکر ختم ہو گیا۔ کسی کو واپس بھاگنے کا موقع بھی نہیں ملا۔ خود ابرہہ نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا ۔ اس کے پورے بدن پر چیچک کے دانے نکل آئے اور اس کا پورا بدن سڑ گیا اور بدن سے خون اور پیپ بہنے لگا۔ اس کے ہاتھ اور پائوں سڑ کر الگ ہونے لگے۔ آخر کار اس کا سینہ پھٹ گیا اور دل باہر آکر گرا۔ اس طرح اس کی بے حد دردناک موت ہوئی۔ جب ابرہہ اور اس کا پورا لشکر ہاتھیوں سمیت ختم ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ایک سیلاب بھیجا جو سب کو بہا کر دریا میں لے گیا۔

اگلی کتاب

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آبا و اجداد کا ذکر یہاں مکمل ہوا۔ اب انشاء اللہ آپ کی خدمت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت (پیدائش) کا ذکر کریں گے اور بچپن کے حالات بیان کریں گے۔ حالانکہ آگے بھی حضرت عبد المطلب کا ذکر آئے گا۔ لیکن مجموعی طور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آبا و اجداد کا ذکر مکمل ہو چکا ہے۔

   ٭……٭……٭


02 سیرت سید الانبیاء ﷺ Seerat un Nabi


02 سیرت سید الانبیاء ﷺ 

سید الانبیاء ﷺ کا بچپن      

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

والد ِ محترم کا انتقال

اس سے پہلے کی کتاب میں ہم آپ کی خدمت میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے آبائو اجداد کا ذکر پیش کر چکے ہیں۔ اِس کتاب میں ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت (پیدائش) اور بچپن کے حالات پیش کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آبائو اجداد کے ذکرمیں آپ پڑھ چکے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد ِ محترم حضرت عبداللہ کا ملک شام سے تجارتی سفر کی واپسی پر مدینہ منورہ میں انتقال ہوگیا تھا۔حضرت عبد اﷲ کے انتقال کے کچھ مہینوں بعد سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم اسکے بعد آپ نے اصحاب فیل کا واقعہ پڑھا۔ یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت (پیدائش )سے پچاس یا پچپن دنوںپہلے پیش آیا۔

سیدہ آمنہ کو بشارت

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ بتاتی ہیں کہ مجھے احساس ہی نہیں ہوا کے کب سے میرے شکم میں ایک نیا جسم پرورش پارہاہے ۔خواتین کو جو تغیرات اور تکالیف ہوتی ہیں ۔وہ سب کچھ نہیں ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سب سے محفوظ رکھا۔ علامہ محمد بن سعد اپنی معرکتہ آراء کتاب طبقات ابن سعد میں لکھتے ہیں۔ سیدہ آمنہ نے فرمایا:’’ میں باردار ہوگئی تھی لیکن اول سے آخر تک میں نے کوئی دقت اور مشقت محسوس نہیں کی ۔ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں کہ انھیں اس وقت پتہ چلا جب اللہ تعالیٰ نے فرشتے کے ذریعے آپ کو بشارت دی۔ سیدہ آمنہ بتاتی ہیں:’’ میں سونے اور جاگنے کی درمیانی کیفیت میں تھی کہ کوئی (فرشتہ) آنے والا آیا اور اس نے کہا:’’ کیا آپ کو علم ہے کہ آپ اس امت کے سردار اور نبی (صلی اﷲ علیہ وسلم )کی والدہ بننے والی ہیں۔‘‘

ان کا نام ’’محمد‘‘اور ’’احمد‘‘ رکھنا

سیدہ آمنہ کو سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بشارت دی گئی۔ تب آپ کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے آخری رسول خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی والدہ بننے کا شرف عطاء فرمایا ہے۔ اسکے بعد تو لگاتار بشارات کا سلسلہ چلنے لگا اور ہر وقت سیدہ آمنہ کی رہنمائی کی جانے لگی۔ آپ بتاتی ہیں کہ میرے پاس آنے والا(فرشتہ) آیا، اس نے ہدایت کی کہ جب ان کی ولادت (پیدائش ) ہوجائے تو یہ دعا پڑھنا:’’ میں ہر حاسد اور بدخواہ (برا چاہنے والا) کے شر سے اسے وحدہ لاشریک کی حفاظت میں دیتی ہوں۔‘‘ پھر ان کا نام ’’محمد‘‘ رکھنا اور ان کا نام توریت اور انجیل میں’’ احمد‘‘ ہے۔ زمین والے اور آسمان والے سب ان کی تعریف کریں گے۔ قرآن میں ان کا نام محمد ہے اور قرآن ان کی کتاب ہے۔ ‘‘

محمد کے معنی

محمد کے معنی ہیں ’’تعریف کے قابل‘‘ اور یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ اس کائنات میں تمام مخلوق میں سے سب سے زیادہ تعریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ماضی میں کی گئی ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی ہے اور اپنی اپنی امتوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں اور اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ ان کے علاوہ خود اللہ تعالیٰ نے جو تمام مخلوق کا خالق ہے، اس نے اپنی ہر آسمانی کتاب میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعریف بیان فرمائی ہے۔یہاں تک کہ ’’سب سے اعلیٰ و افضل کتاب ‘‘ قرآن پاک میں جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے علماء پچھلے چودہ سوبرسوںسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان کررہے ہیںاور لاکھوں کتابیں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت اور تعریف میں لکھی جا چکی ہیں ۔ حد تو یہ ہے پچھلے چودہ سو برسوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جو امتی قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتاہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف بیان فرمائی ہے۔ آج بھی پوری دنیا کے مسلمان علماء اورعام مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کررہے ہیں اور قیامت تک ’’اُمت ِمسلمہ ‘‘حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتی رہے گی۔

احمد کے معنی

احمد کے معنی اگر مفعول میں لیںگے تو معنی ہوگا ’’تعریف کیا گیا‘‘یہ حقیقت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کی اور پھر تمام فرشتوں نے کی، بلکہ بہت سے فرشتے اللہ تعالیٰ نے ایسے بنائے ہیں،جن کا کام ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرنا ہے۔ وہ فرشتے جب سے پیدا ہوئے ہیں تب سے لیکر آج تک بلکہ قیامت تک ہی نہیں قیامت کے بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے رہے گے۔ اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتوں کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرنے کا ثبوت سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 56ہے۔ ترجمہ : ’’اللہ تعالیٰ اور اسکے فرشتے اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والوں تم (بھی) ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھی بھیجتے رہا کرو۔‘‘ (ترجمہ مولانا محمد جونا گڑھی) اللہ تعالیٰ کا درود یہ ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف فر ما تا رہتا ہے اور مرتبہ بڑھاتا رہتا ہے۔ فرشتوں کا درود یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنے اور مرتبہ بڑھانے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مبارکباد دیتے رہتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دربار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ بڑھانے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ ہمارا درود یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں اور برکتیںبھیجنے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔’’ احمد ‘‘کے معنی اگر فاعل میں لیں تو معنی ہوگا’’ اللہ تعالیٰ کی بے حد تعریف کرنے والا‘‘ یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی زیادہ اللہ کی تعریف کی ہے ۔اُتنی تعریف کسی نے نہیں کی ہے اور جتنے خوبصورت اندا ز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی ہے، اُتنے خوبصورت انداز میں کسی نے نہیں کی ہے۔اسکے علاوہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی تعریف کے ایسے ایسے کلمات ناز ل فرمائے گا۔ جن کلمات میں کبھی کسی نے تعریف نہیں کی ہوگی اور ان الفاظ کے ذریعے میدان حشر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف فرمائیں گے۔ جیسی نہ تو کبھی کسی مخلوق نے کی ہوگی اور نہ آئندہ کبھی کرے گی اور یہ اس وقت ہوگا۔ جب میدان حشر میں تمام انسان تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام ان تمام لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھیج دیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کو ساتھ لیکر عرش کے سا منے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کریں گے۔ اُس وقت تمام لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کا کیا مقام ہے۔

کاملِ انسان ﷺ کی دنیا میں آمد

اس پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ نے صرف ایک ہی انسان کو’’ کامل اور مکمل ‘‘بنایا ہے اور وہ ہمارے پیارے آقا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہر انسان میں کچھ نہ کچھ کمی ہے۔ کوئی صرف اچھا لیڈر ہے ۔کوئی صرف اچھا مقرر ہے۔ کوئی صرف اچھا سائنسداں ہے۔ کوئی صرف اچھا سپہ سالار ہے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم میں تمام خوبیاں ہیں او ر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح سے مکمل بنایا ہے۔ کسی بھی خوبی کو دیکھیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر خوبی میں ممتاز نظرآتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسم کی ولادت(پیدائش) کے وقت اس کائنات کی ہر شئے خوش ہورہی تھی۔حضرت عثمان بن ابی العاص کی والدہ فاطمہ بن عبداللہ فرماتی ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت( پیدائش )کے وقت میں سیدہ آ منہ کے پاس موجود تھی ۔اس وقت میں نے دیکھا کہ تمام گھر نور سے بھر گیا اور دیکھا کہ آسمان کے ستارے جھکے چلے آرہے ہیں ۔ یہاں تک کہ مجھے ایسا گمان ہونے لگا کہ یہ ستارے میرے اوپر گر جائیں گے۔‘‘ دراصل یہ فرشتے اور حوریں اور سیدہ آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا(فرعون کی مسلمان بیوی) اور سیدہ مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ) تھیں۔ جو ان کو ستاروں کی طرح چمکتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کو صاف دیکھائی دے رہی تھیں۔

سیدہ مریم اور سیدہ آسیہ کی آمد

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے والد ِ محترم حضرت عبداللہ کے انتقال پرفرشتوں نے غمگین ہو کر بڑی حسرت سے یہ کہا :’’اے اللہ تعالیٰ !تیرے آخری نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) یتیم ہوگئے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :’’کیا ہوا میں اسکا حامی وناصر ہوں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ کی مدد کے لئے سیدہ مریم اور سیدہ آسیہ کو بھیجا۔سیدہ آمنہ بتاتی ہیں:’’میں نے کھجورکی طرح لمبی خواتین کو دیکھاجیسے قبیلہ عبد مناف کی عورتیں ہوتی ہیں۔ انھوںنے مجھے اپنے گھیرے میں لے لیا۔ میں نے ان سے زیادہ روشن چہرے والی خوب صورت عورتیں نہیں دیکھی۔ ان میںسے ایک آگے بڑھی اور مجھے تھوڑا اٹھایا تو میں نے ان سے ٹیک لگالی۔ پھر دوسری آگے بڑھی، اس نے پینے کیلئے ایک شربت دیا۔ جو دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شہد سے زیادہ میٹھا تھا۔ وہ بڑے پیار سے بولیں :’’اسے پی لو۔‘‘ میں نے وہ پاکیزہ اور لذیذ شربت پی لیا۔ پھر میں نے ان سے پوچھا :’’تم لوگ کون ہو؟تو ان خوبصورت عورتوں نے بتایاکہ وہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا اور سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا ہیں اور ہمارے ساتھ جنت کی حوریں ہیں ۔‘‘

سرورِ دو عالم ﷺ دنیا میں تشریف لائے

جس وقت سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت حضرت عثمان بن ابی العاص کی والدہ فاطمہ بنت عبداللہ وہاں موجود تھیں۔ اس سے پہلے ہم یہ روایت بیان کر چکے ہیں ۔ یہاں ذرا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں ۔ آپ بتاتی ہیں:’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت میں موجود تھی، میں نے دیکھا کہ ہر جگہ نور ہی نور چھا گیا، ستارے قریب آتے جا رہے تھے، یہاں تک کہ میں سوچنے لگی کہ یہ مچھ پر گر پڑیں گے۔ پھر جب سرو رِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو اُن سے نور نکلا، جس سے گھر اورسب درو دیوار منور ہو گئے، حتی کہ ہر طرف نور ہی نور دکھائی دینے لگا۔‘‘ اسی طرح سیدہ آمنہ خود اپنا مشاہدہ بیان فرماتی ہیں :’’ولادت کے وقت میں نے محسوس کیا کہ ایک نور مجھ سے خارج ہوا ہے، جس کی روشنی میں شام کے محلات بھی نظر آنے لگے۔ دنیا میں تشریف لاتے وقت سرورِ دو عالم صلی اللہ علی وسلم بالکل پاک صاف تھے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں:’’ میں نے دیکھا نور کا ایک منبع مجھ سے جدا ہوا، اس سے پوری زمین روشن ہو گئی تھی۔‘‘ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو بالکل پاک صاف تھے اور ختنہ شدہ تھے اور دونوں خواتین نے جو نور دیکھا ۔ وہ در اصل اسلام کی طرف اشارہ تھاکہ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نہ صرف مُلک شام تک بلکہ پوری زمین پر اسلام کا نور پھیلائے گا اور اسلام کے اس نور سے پوری دنیا منور ہو جائے گی۔ سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے بارے میں بہت سی روایتیں ہیں۔ اگر تفصیل سے ذکر کرنے بیٹھیں تو ایک مکمل کتاب بن جائے گی، چونکہ ہم مختصراً ذکر کر رہے ہیں اس لئے ایک دو روایت اور پیش کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔

تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی خوبیاں عطا کی گئیں

امام زرقانی اپنی علی المواہب میں اور امام جلال الدین سیوطی اپنی الخصائص الکبریٰ میں لکھتے ہیں اور امام خطیب بغدادی نے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت پیش کی ہے کہ تمام انسانوں اور جناتوں بلکہ تمام مخلوق کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو سیدہ آمنہ بتاتی ہیں کہ ایک بہت بڑی بدلی آئی، جس میں بے انتہا روشنی تھی اور گھوڑوں کے ہنہنانے اور پرندوں کے اڑنے کی آوازیں آرہی تھیں اور کچھ بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ پھر ایک دم حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے سے غائب ہو گئے اور میں نے سنا کہ ایک اعلان کر نے والا اعلان کر رہا تھا ۔’’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق اور مغرب میں گشت کرائواور ان کو سمندروں کی بھی سیر کرائو،تا کہ تمام کائنات کو ان کا نام اور حلیہ اور صفت معلوم ہو جائے اور ان کو تمام جاندار مخلوق انسان، جنات، فرشتوں ، حیوانات اور چرندوں اور پرندوں کے سامنے پیش کرو۔ انھیں حضرت آدم علیہ السلام کی صفوت ، حضرت نوح علیہ السلام کی شجاعت ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خُلّت ، حضرت شیث علیہ السلام کی معرفت، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی زبان ، حضرت اسحاق علیہ السلام کی رضا ، حضرت صالح علیہ السلام کی فصاحت ، حضرت لوط علیہ السلام کی حکمت، حضرت یعقوب علیہ السلام کی بشارت ، حضرت شعیب علیہ السلام کی خطابت، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شدت، حضرت ایوب علیہ السلام کاصبر ، حضرت یونس علیہ السلام کی اطاعت ، حضرت یوشع علیہ السلام کا جہاد، حضرت دائود علیہ السلام کی آواز، حضرت دانیال علیہ السلام کی محبت ، حضرت الیاس علیہ السلام کا وقار، حضرت عُزیر علیہ السلام کی رِقّت، حضرت یحییٰ علیہ السلام کی عصمت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زُہد عطا کر کے اِن کو تمام پیغمبروں کی خوبیوں اور کمالات اور اخلاق ِ حسنہ سے مزین کردو۔‘‘ اس کے بعد وہ بادل چھٹ گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سبز کپڑے میں لپیٹے ہوئے ہیں اور اس کپڑے سے پانی ٹپک رہا ہے اور کوئی کہہ رہا تھا :’’واہ واہ ، کیا خوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا پر قبضہ دے دیا گیا اور کائنات کی کوئی چیز باقی نہ رہی جو اِن کے قبضہ اقتدار و غلبۂ اطاعت میں نہ ہو۔‘‘ اب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ انور کو دیکھا تو چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا تھا اور بدن سے پاکیزہ خوشبو آرہی تھی۔ پھر تین شخص نظر آئے ، ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا تھا،دوسرے کے ہاتھ میں سبز ذَمَرُّد کا طشت تھا اور تیسرے کے ہاتھ میں ایک چمکدار انگوٹھی تھی۔ انگوٹھی کو سات مرتبہ دھو کر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان ’’مُہرِ نبوت ‘‘لگا دی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سبز ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر اٹھایا اور میرے حوالے کر دیا۔ ‘‘

تمام بُت اوندھے منہ گر گر جاتے تھے

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت اس عالم فانی میں تشریف لائے تو اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے ابلیس اور اس کے تمام شاگردوں کو ستر زنجیروں میں جکڑ کر بحرِ اخضر کے تیز و تند پانیوں میں الٹا لٹکا دیا اور تمام بت جن کی پوجا کی جاتی تھی وہ اوندھے منہ گر گر جاتے تھے۔ اُن کی پوجا کرنے والے انھیں اٹھا کر کھڑا کر تے تھے اور وہ پھر اوندھے منہ گر جاتے تھے۔ لات اور عُزیٰ( مکہ مکرمہ والوں کے بڑے بُت) کے شیطان بری طرح چیخ رہے اور کہہ رہے تھے کہ قریش کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ وہ کس حال میں پہنچ گئے ہیں، صادق اور امین ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آگئے ہیں۔

سید الانبیاء ﷺ کی ولادت کے دنیا پر اثرات

جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس مٹ جانے والی دنیا میں تشریف لائے تو پوری دنیاپر اس کے اثرات پڑے۔ واقعات تو بہت ہیں ہم صرف چند واقعات مختصراً پیش کرتے ہیں ۔ سب سے پہلا اثر سلطنت فارس ( حالیہ ایران و اعراق اور آس پاس کا علاقہ ) کے حکمراں کسریٰ ( یاد رہے سلطنت فارس کے حکمرانوں کا لقب کسریٰ ہوتا تھا۔) کے محل کے چودہ کنگورے گر گئے اور سلطنت فارس کا سب سے بڑا آتش کدہ ( سلطنت فارس کے لوگ آگ کی پوجا کرتے تھے اور اسے مسلسل جلائے رکھتے تھے ،جو ہزار سال سے روشن تھا وہ بجھ گیا اور دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔ سیرت میں اور بھی بہت سے واقعات مذکور ہیں۔

کسریٰ کے محل میں زلزلہ اور نہر ساوہ کا خشک ہونا

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت کے وقت کسریٰ کے محل میں زلزلہ آگیا اور محل کے چودہ کنگورے گِر گئے۔سلطنتِ فارس کا اب سے بڑا آتش کدہ جو ہزار سال سے مسلسل روشن تھا یعنی جل رہا تھا ،وہ بجھ گیا اور دریائے ساوہ خشک ہو گیا۔کسریٰ نے پریشان ہو کر دربار منعقد کیا ،اِسی دوران خبر ملی کہ سلطنت ِکا شاہی آتش کدہ بجھ گیا۔دربار میں کسریٰ کے شاہی موبذان(آگ کی پوجا کرنے والوں کا بڑا عالم)نے بتایاکہ اُس نے خواب دیکھا کہ سخت اونٹ عربی گھوڑوں کو کھینچے لے جا رہے ہیں اور دریائے دجلہ سے پار ہو کر تمام ممالک میں پھیل گئے۔ کسری نے موبذان سے پوچھا کہ اِس خواب کی تعبیر کیا ہے؟موبذان نے جواب دیا کہ شاید ملک عرب کی طرف سے کوئی بہت بڑا حادثہ پیش آئیگا۔کسریٰ نے توثیق اور اطمینان کی غرض سے نعمان بن منذر کے نام ایک فرمان جاری کیا کہ کسی بڑے عالم کو میرے پاس بھیجو جو میرے سوالات کے جواب دے سکے۔

سید الانبیاء ﷺ کی آمد کی خبر

نعمان بن منذر نے ایک بہت ہی بڑے عالم عبد المسیح غسّانی کو بھیجا۔عبد المسیح سے کسریٰ نے پوچھا کہ جو کچھ میں پوچھوں گا تم اس کا جواب دو گے ؟عبد المسیح نے کہا کہ آپ بیان کریں اگر مجھ کو جواب معلوم ہو گا تو بتا دوں گا اور اگر نہیں معلوم ہو گا تو کسی جاننے والے تک رہنمائی کر دوں گا۔کسریٰ نے تمام واقعہ بیان کیا تو عبد المسیح نے کہا کہ اِس واقعہ کی صحیح معلومات میرے ماموں سطیح دے سکتے ہیںجو آج کل ملک شام میں رہتے ہیں۔کسریٰ نے عبد المسیح کو حکم دیا کہ تم خود اپنے ماموں سطیح کے پاس جاؤ اور جواب لیکر آؤ۔عبد المسیح جب اپنے ماموں کے پاس ملک شام پہنچا تو اُس کا آخری وقت چل رہا تھا اور وہ غفلت میں تھا ۔عبد المسیح نے جاکر سلام کیا اور اشعار میں تما م واقعہ بیان کیا ،جواب میں سطیح نے کہا کہ عبد المسیح تیز اونٹ پر سوار ہو کر ایسے وقت سطیح کے پاس پہنچا ہے جب وہ مرنے والا ہے۔تجھ کو بنو ساسان (سلطنت فارس ) کے بادشاہ محل کے زلزلہ اور آتش کدہ کے بجھ جانے اور موبذان کے کے خواب کی وجہ سے بھیجا ہے کہ سخت اور قوی اونٹ عربی گھوڑوں کا کھینچے جا رہے ہیں اور دجلہ سے پار ہو کر تمام ممالک میں پھیل گئے ہیں۔اے عبد المسیح خوب سن لے!جب اﷲ کے کلام(قرآن پاک) کی تلاوت کثرت سے ہونے لگے اور صاحب ِعصا( سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم )ظاہر ہو اور وادیٔ سماوہ رواں ہو جائے اور دریائے ساوہ خشک ہو جائے اور ملک فارس کی آگ بجھ جائے تو سطیح کے لئے ملک شام ملک نہیں رہے گا۔ بنو ساسان(سلطنت فارس) کے چودہ لوگ یعنی چند مرد اور چند عورتیں کنگوروں کی طرح اپنی بادشاہت سے گر جائیں گے اور جو شئے (اسلام اور قرآن پاک) آنے والی ہے وہ گویا کہ آہی گئی ہے۔یہ کہہ کر سطیح مر گیا اور عبد المسیح نے آکر کسریٰ کو پورا جواب سنایا۔کسریٰ نے یہ سن کر کہا کہ چودہ بادشاہوں کو مرنے یا ختم ہونے میں ایک زمانہ لگے گا۔لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ سلطنت فارس کا خاتمہ قریب آچکا ہے،دس بادشاہ تو چار سال میں ہی ختم ہو گئے اور باقی چار بادشاہ خلیفۂ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دورِ خلافت کے شروعاتی دور تک ہی ختم ہو گئے۔

حضرت عبد المطلب نے محمد نام رکھا          

حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ میں تشریف فر ما تھے۔ کہ سیدہ آمنہ نے انھیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دنیا میں شتریف لانے کی خبر بھیجی اور وہ خوشی خوشی گھر آئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتاتے ہیں کہ حضرت عبدالمطلب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور کپڑا ہٹا کر دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختون ( ختنہ کئے ہوئے) اور ناف بریدہ تھے۔ یہ دیکھ کر آپ نے حیرانی سے دایہ کو دیکھا۔ تو اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بالکل پاک صاف اور مختون پیدا ہوئے۔حضرت عبد المطلب نے کہا ۔ میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہوگی۔ (طبقات ابن سعد جلد 1)حضرت عبد المطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عقیقہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام’’ محمد‘‘ رکھا۔ قریش نے کہا اے ابو الحارث(یہ حضرت عبد المطلب کی کنّیت ہے)آپ نے ایسا نام رکھاہے جو آپ کے آباء و اجداد اور آپ کی قوم میں سے اب تک کسی نے نہیں رکھاہے۔ حضرت عبدالمطلب نے کہا: میں نے یہ نام اسلئے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں اور اللہ کی مخلوق زمین میں میرے اس بیٹے کی ’’حمدو ثنا ‘‘کرے گی۔

محمد اور احمد نام رکھنے کی وجہ ایک خواب اور بشارت

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت (پیدائش) سے پہلے حضرت عبدالمطلب نے ایک خواب دیکھا تھا۔ اور وہی خواب محمد نام رکھنے کا باعث بنا ۔حضرت عبدالمطلب نے دیکھا کہ ان کی پشت(پیٹھ) سے ایک زنجیر نکلی ۔جسکا ایک سرا آسمان میں اور دوسرا سرا زمین میں ہے۔ اور وہ مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے ۔ کچھ دیر بعد وہ زنجیر درخت بن گئی۔ جس کے ہر پتہ پر ایسا نور تھا جو سورج کی روشنی سے ستر گنا(درجہ )زیادہ ہے۔ مشرق اور مغرب کے لوگ اسکی شاخوں سے لپٹے ہوئے ہیں۔قریش میں سے کچھ لوگ اسکی شاخوں کو پکڑے ہوئے ہیںاور قریش میں کچھ لوگ اس درخت کو کاٹنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ لوگ جب اس درخت کو کاٹنے کے لیئے درخت کے قریب آنا چاہتے ہیں تو ایک نہایت ہی حسین و جمیل نوجوان آکر ان کا مقابلہ کرتا ہے اور ان کو ہٹا دیتاہے۔ خواب کی تعبیر بتانے والوں نے آپ کو بتایا کہ تمہاری نسل سے ایک لڑکا پیدا ہو گا جس کی اتباع مشرق سے لے کر مغرب تک کے لوگ کریں گے اور آسمان والے اور زمین والے اس کی حمد و ثنا کریں گے۔ اسی وجہ سے عبدالمطلب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام’’ محمد‘‘ رکھا۔ حضرت عبدالمطلب کو اس خواب سے’’ محمد‘‘ نام رکھنے کاخیال پیدا ہوااور اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ سیدہ آمنہ کو سچے خوابوں کے ذریعے یہ بشارت دی گئی کہ تم ’’تمام مخلوق کے سردار‘‘ اور’’ تمام امتوں کے سردار‘‘ کی والدہ بننے والی ہو۔ اس کا نام ’’محمد‘‘ رکھنا اور ایک روایت میں ہے کہ’’ احمد‘‘ نام رکھنا۔ حضرت بُریدہ اور حضرت عبداللہ بھی عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ ہے کہ’’ محمد‘‘ اور’’ احمد‘‘ دونوں نام رکھنا۔

نبوت ’’بنی اسرائیل‘‘ سے ’’بنی اسماعیل ‘‘میں آگئی

ایک یہودی تجارت کی غرض سے مکہ مکرمہ آتا جاتا رہتا تھا۔ جس رات کی صبح صادق کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس عالم فانی میں تشریف لائے ۔اس کی صبح وہ قریش کی مجلس میں آیا اور پوچھا :’’کیا آج رات تمہارے یہاں کوئی لڑکا پیدا ہوا ہے؟‘‘ قریش نے کہا: ’’ہم کو معلوم نہیں ‘‘ یہودی نے کہا:’’ اچھا ذرا تحقیق تو کر کے آئو، آج کی رات میں اس اُمت کا نبی پیدا ہوا ہے، اس کے دونوں شانوں کے درمیان ایک علامت ( مُہر نبوت) ہے اور وہ دو رات تک دودھ نہیں پیئے گا۔‘‘ لوگ فوراً مجلس سے اٹھے اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ حضرت عبداللہ کا بیٹا( صلی اللہ علیہ وسلم) پیدا ہوا ہے۔ یہودی نے کہا:’’ مجھے چل کر دکھلائو‘‘ جب اُس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت دیکھی تو بے ہوش ہو کر گر پڑا،جب ہوش میں آیا تو اُ س نے کہا:’’ افسوس کہ بنی اسرائیل سے نبوت چلی گئی ہے، اے قریش !اللہ کی قسم یہ بچہ بڑا ہو کر تمہارے اوپر ایک ایسا حملہ ( فتح مکہ) کرے گا کہ اس کی خبرمشرق سے مغرب تک پھیل جائے گی۔‘‘ در اصل اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے انبیائے کرام کے ذریعے بنی اسرائیل یعنی یہودیوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اتنی تفصیل سے بتایا ہے کہ وہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اولاد سے زیادہ پہچانتے تھے۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ بالکل صاف صاف پہچان لینے کے بعد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ آخری نبی اور رسول ہیں جن کا ذکر توریت ، زبور اور انجیل میں ہے۔ ان یہودیوں اور عیسائیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا۔ یہودیوں کے انکار کی وجہ یہ حسد تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل میں نہیں بلکہ’’ بنی اسماعیل ‘‘میں تشریف لائے ہیں۔

نیک یہودی کا مشورہ

ایک بہت بڑا یہودی عالم ملک شام سے آکر مراالظہران میں آباد ہو گیا تھا۔ وہ علم و فضل کا پیکر اور آسمانی کتاب کا عالم تھا۔ وہ اکثر کہا کرتا تھا:’’ اے اہل مکہ !بہت جلد تم میں ایک بچہ پیدا ہوگا اور عالم عرب اس کی اطاعت کر ے گا اورعجم ( عرب والے اپنے علاقے کو عرب اور اپنے علاقے کے علاوہ پوری دنیا کو عجم کہتے تھے)پر اسے غلبہ حاصل ہوگا ۔ اس کے ظہور کا زمانہ قریب ہے جو اسے پالے گا اور اس کی اطاعت کرے گا، وہ کامیاب ہوگا اور جو مخالفت کرے گا، وہ خائب و خاسر اور نامراد ہوگا۔‘‘ حضرت عبد المطلب بھی اس کی باتوں سے متاثر تھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت پر غیر معمولی واقعات ظاہر ہوئے تو آپ اسی صبح اُ س راہب کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ اپنی عبادت گاہ سے باہر آیا۔ اور خود ہی بولا:’’ جس عظیم بچے کی آمد کے تذکرے میںتم سے کیا کرتا تھا،وہ پیدا ہو گیا ہے اور پچھلی رات اس کی پیدائش کی اطلاع دینے والا ستارہ بھی طلوع ہو چکا ہے۔ اے عبدالمطلب ! اپنی زبان بند رکھنا اور اسے حاسدوں کے حسد سے بچانا۔ اس کے بہت سے بڑے بڑے دشمن ہوں گے اور اس کی جتنی مخالفت ہوگی اتنی مخالفت کسی کی نہیں ہوئی ہے۔ اسی لئے حضرت عبدالمطلب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت خیال رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے :’’میرے اس بیٹے کی بڑی شان ہے۔‘‘

ابو لہب نے سیدہ ثوبیہ کوآزاد کر دیا

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کے والد ِ محترم حضرت عبداللہ سے اُن کے سبھی بھائی بہت محبت کرتے تھے۔ ابولہب بھی بہت محبت کرتا تھا، اس لئے اسے سیدہ آمنہ کی فکر لگی ہوئی تھی ۔ اس نے اپنی لونڈی سیدہ ثوبیہ سے کہا :’’دیکھو میرے بھائی کی بیوی کی تم جا کر خدمت کرو،کیوں کہ اس وقت اسے تمہاری ضرورت ہے۔‘‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی تو سیدہ ثوبیہ دوڑتی ہوئی آئیں اور کہا:’’ مبارک ہو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے بھائی کے گھر بیٹا عطا کیا ہے۔‘‘ اپنے بھتیجے کی پیدائش کی خوشی میں اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے ابولہب نے کہا:’’ اپنے بھتیجے کی پیدائش کی خوشی میں تجھے آزاد کرتا ہوں‘‘ اور اس نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عمروہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ثوبیہ پہلے ابو لہب کی لونڈی تھیں۔ جب ابولہب مر گیا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا گزری؟ ابولہب نے جواب دیا ۔ تم سے جدا ہوتے ہی سخت عذاب میں پھنس گیا ہوں۔ بس اتنا ہے کہ ثوبیہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے مجھے پانی پلا دیا جاتا ہے۔ ( صحیح بخاری جلد نمبر۳،حدیث نمبر ۹۲ مطبوعہ اعتقاد پبلشنگ ہائوس، دہلی) ۔حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ ابولہب مرگیاتو میں نے اس کو ایک سال بعد خواب میں بہت برے حال میں دیکھا اور یہ کہتے ہوئے پایا کہ’’ تم سے جد ا ہونے کے بعد آرام نصیب نہیں ہواہے۔ بلکہ سخت عذاب میں گرفتار ہوں۔ لیکن ہر پیر کو میرے عذاب میں کمی کر دی جاتی ہے۔‘‘ حضرت عباس بن عبد المطلب اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’عذاب میں کمی کی وجہ یہ ہے کہ پیر کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی اور ثوبیہ نے ابولہب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوش خبری سنائی تو اس نے اسی خوشی میں ثوبیہ کو آزاد کر دیا۔ ( فتح الباری ، شرح صحیح بخاری جلد نمبر۹ )

سیدہ حلیمہ سعدیہ کی مکہ مکرمہ آمد

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو تین یا چار دن سیدہ آمنہ نے دودھ پلایا۔ اسکے بعد سیدہ ثوبیہ نے دودھ پلایا۔ عرب کے شرفا کا یہ دستور تھا کہ اپنے دودھ پیتے بچوں کو شروع ہی سے دیہاتوں میں بھیج دیتے تھے۔ تاکہ دیہات کی صاف و شفاف ہوا میں وہ صحت مند رہیں اور نکھر جائیں۔ ان کی زبان فصیح ہو اور عرب کا اصلی تمدن اور عربی خصوصیات ان میں موجود رہیں ۔کیونکہ شہروں میں ہر ممالک کے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اسکی وجہ سے شہروں پر دوسرے ممالک کے لوگوں کی زبان ، چال ڈھال اور پوشاک وغیرہ کے اثرات پڑتے رہتے ہیں اور شہروں کا ماحول خالص نہیں رہ پاتا۔ سیدہ ثوبیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بعد سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ شرف حاصل ہواکہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا۔ آپ کا پورا نام سیدہ حلیمہ بنت ذویب ہے اور آپ کے شوہر کا نام حارث بن عبد ا لعزیٰ ہے اور قبیلہ بنو سعد بن بکر بن ھوازن ہے ۔ بنو سعد کی عورتیں ہرسال مکہ مکرمہ آتی تھیں اور بچوں کو لے جاکر پالتی تھیں اور اسکے بدلے میں بچوں کے والدین انھیں اچھا خاصہ معاوضہ دیتے تھے۔ اس سال بھی سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا مکہ مکرمہ آئیں ،تاکہ بچوں کو لیکر جاسکیں۔

سیدہ حلیمہ کمزور سواری کی وجہ سے پیچھے رہ گئیں

سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنے قبیلے کی عورتوں کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہوئیں، تمام عورتوں کے ساتھ ان کے شوہر بھی تھے۔ اس سال ان کے علاقے میں قحط پڑا تھا، سیدہ حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بتاتی ہیں:’’ میں بنی سعد کی عورتوں کے ساتھ بچوں کی تلاش میں چلی میری گود میں میرا بچہ تھا۔ مگر فقر وفاقہ کی وجہ سے مجھے اتنا دودھ نہیں ہوتا تھا کہ میرے بچے کا پیٹ بھر سکے، وہ بھوک کی وجہ سے روتا رہتا تھا۔ ایک اونٹنی بھی ہمارے ساتھ تھی مگر اسکے بھی دود ھ نہیں تھا۔ سفر کے دوران میں اسی پر سوار تھی وہ اس قدر لاغر تھی کہ قافلہ والوں کے ساتھ چل نہیں پارہی تھی اور انھیں میری وجہ سے بار بار رکنا پڑ رہاتھا۔ میرے ہمراہی تنگ آگئے تھے اور جب مکہ مکرمہ کے قریب پہنچے توسب آگے بڑھ گئے اور میں دھیرے دھیرے کافی دیر بعد مکہ مکرمہ پہو نچی تو دیکھا کہ تمام عورتیں شہر میں بچوں کی تلاش میں جا چکی تھیں۔‘‘

کسی عورت نے نہیں لیا

ادھر مکہ مکرمہ میں بنو سعد کی خواتین بچوں کو لینے کے لئے پہو نچ چکی تھیں اور سید الانبیاء صلی اﷲعلیہ وسلم کو کسی خاتون نے نہیں لیاکیونکہ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم یتیم تھے۔ جب ان خواتین کو معلوم ہوتا کہ اس بچے کے والد کا انتقال ہو چکا ہے تو آپ صلی اﷲعلیہ وسلم کو لینے سے انکار کردیتیں۔ ہر خاتون یہی سوچ رہی تھی کہ اسکے والد نہیں ہیں تو ہمیں انعام واکرام کیا ملے گا، اس لئے انعام کی لالچ میں تمام عورتوں نے امیروں کے بچوں کو لے لیا اور سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔ ادھر جب قافلے والوں کے پڑائو میں سیدہ حلیمہ پہو نچیں تو ان کے قبیلے کی عورتیں ایک ایک کرکے بچوں کو لیکر آرہی تھیں، ان خواتین کی مسرت اور خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ امیروں کے بچوں کو لیکر یہ تصور کر رہی تھیں کہ ان کا سفر رائیگاں نہیں گیااور انھیں ایسے بچے ملے جن کی پرورش سے انھیں اچھی اجرت مل سکتی تھی۔سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہاسے ان خواتین نے کہا:’’ حلیمہ !تم نے بہت دیر کردی ،اب صرف ایک یتیم بچہ رہ گیا ہے اور وہ عبدالمطلب کا پوتا ہے اگر چاہو تو اسے لاسکتی ہو۔‘‘

سیدہ حلیمہ نے آپ ﷺ کو لے لیا

سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہاکی یہ حالت ہو گئی کہ یا تو وہ خالی ہاتھ واپس جائیں یا تو وہ اس یتیم بچے کو لے کر جائیں۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر حارث سے مشورہ کیاکہ خالی ہاتھ جانے سے بہتر ہے کہ اس بچے کو لے آئوں جسے کسی نے نہیں لیا۔ ان کے شوہر نے کہا: ٹھیک ہے لے آئوہو سکتا ہے وہ بچہ ہمارے لیئے خیر و برکت کا باعث بن جائے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا حضرت عبداللہ کے گھر پہو نچیں تو حضرت عبدالمطلب سے دروازے پر ملاقات ہوئی۔ آپ نے پوچھا:’’ تمہارا نام کیا ہے اور تم کس قبیلے سے ہو؟ ‘‘سیدہ حلیمہ نے جواب دیا:’’میرا نام حلیمہ ہے اور قبیلہ بنو سعد سے میرا تعلق ہے۔ ‘‘یہ سن کر عبدالمطلب مسکرائے اور کہا :’’کیا تم ایک یتیم بچے کی پرورش کرنا پسند کرو گی ؟قدرت کا شاہکار اور بے مثال بچہ ہے جائو اندر جا کر بچے کو دیکھ لو۔ ‘‘سیدہ حلیمہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئیں۔ سیدہ ام ایمن رضی اﷲ عنہا انھیں سید الانبیاء صلی اﷲعلیہ وسلم کے پاس لیکر آئیںکیوں کہ وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتی تھیں۔ جیسے ہی سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو دم بخود سکتے کے عالم میں کھڑی رہ گئیں۔ اتنا خوب صورت اور پیارا بچہ اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا اور سوتا ہوا وہ انتہائی معصوم دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ وقت ایسے ہی گذر گیا پھر آپ رضی اللہ عنہا آگے بڑھیں اور بچے کے سینے پر آہستہ سے ہاتھ رکھا۔ بچے نے آنکھیں کھولیں اور مسکرانے لگا، اس کی مسکراہٹ اتنی پیاری اور اتنی معصوم اور اتنی خوب صورت تھی کہ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا کے دل میں اس بچے کے لئے بے انتہا محبت موجیں مارنے لگی اور آپ رضی اللہ عنہا نے بے تابی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھوں میں اٹھا کر پیشانی کا بوسہ لیا اوراپنے سینے سے لگا لیا اور طے کر لیا کہ چاہے کچھ ملے یا نہ ملے۔ میں ضرور اس بچے کی پرورش کروں گی۔ سیدہ آمنہ یہ سب دیکھرہی تھیں، انھوں نے فرمایا:’’بیٹھ جائو حلیمہ ! کیا تم میرے یتیم بچے کی پرورش کر نا پسند کروگی؟ ‘‘سیدہ حلیمہ نے جواب دیا:’’جی ہاں میری سردار ! میں دل و جان سے اس بچے کی پرورش کروں گی۔ ‘‘سیدہ آمنہ نے فرمایا:’’ لیکن میرے پاس اس کی اُجرت کے لئے زیادہ مال اور دولت نہیں ہے۔ بس اللہ تعالیٰ ہی تجھے تیری خدمت کا اجر عطا فرمائے گا۔‘‘ سیدہ حلیمہ نے کہا:’’ اے میری سردار ! آسمان والا بڑا کریم ہے اور اس کی عطائوں اور برکتوں میں کوئی کمی نہیں ہے۔‘‘سیدہ آمنہ نے فرمایا:’’مجھے ڈر ہے کہ میں تمہارا حق ادا کر سکوں گی یا نہیں؟‘‘سیدہ حلیمہ نے عرض کیا :’’آپ مطمئن رہیںاللہ کی قسم !میں اس بچے کو کسی اُجرت کے خیال سے نہیں لے جارہی ہوں اس بچے کو دیکھ کر اس سے اتنی محبت پیدا ہو گئی ہے کہ اب میں کسی اُجرت کے بغیر اس بچے کی ضرور پرورش کروں گی آپ بے فکر رہیئے‘‘ اور اجازت لینے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے پڑائو میں آگئی۔

سیدہ حلیمہ سعدیہ پر اللہ تعالیٰ کی برکتوں کا نزول

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے سیدہ حلیمہ رضی اﷲ عنہالے آئیں۔ بنو سعد کی عورتوں نے مخلوق سے اجر کی امید کی اور سیدہ حلیمہ نے اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کی۔ سیدہ حلیمہ بتاتی ہیں:’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے سینے سے لگایاتو اللہ تعالیٰ نے اتنا دودھ اتار دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور میرے بچے نے بھی پیٹ بھر کر پیا اور رات بھر سکون سے سوتا رہا۔ میرے شوہر حارث اونٹنی کا دودھ دوہنے لگے تو پورا برتن بھر گیا اور پھر بھی دودھ جاری تھا۔ میں نے اور میرے شوہر نے خوب سیر ہو کر دودھ پیا۔ رات نہایت آرام سے گزری ۔ صبح ہوئی تو میرے شوہر نے کہا:’’ اے حلیمہ ، اللہ کی قسم ! تو نے بہت ہی مبارک بچہ لیا ہے۔ ‘‘

سیدہ حلیمہ سعدیہ کی سواری سب سے آگے

جب قافلہ کی روانگی کا وقت آیا تو سیدہ حلیمہ کے شوہر نے انھیں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار کیا۔ اونٹنی نے اسی وقت خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے سجدہ کیا پھر آسمان کی طرف سے سر اٹھایا اور چل پڑی۔ ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ سب چونک پڑے۔ کیوں کہ سیدہ حلیمہ سعدیہ کی اونٹنی قافلے میں سب سے آگے چل رہی تھی ۔ تمام قافلے والوں نے اپنی اپنی سواریوں کو سیدہ حلیمہ سعدیہ کی سواری کے برابر لانے کی کوشش کی لیکن وہ سواری جیسے بار بار چابک مار مار کر آگے بڑھایا جاتا تھا وہ اتنی تیز رفتار ہو گئی تھی کہ بار بار اسے روکنا پڑ رہا تھا، تا کہ قافلے والے اس تک پہنچ سکیں۔ قافلے کی عورتوں نے کہا :’’ اے حلیمہ ! یہ تمہاری پرانی سواری ہے یا تم نے نئی سوار ی لی ہے۔ ‘‘سیدہ حلیمہ نے جواب دیا:’’ سواری تو وہی ہے البتہ سوار بدلا ہے۔‘‘ اُن عورتوں نے کہا :’’ اگر یہ وہی سواری ہے تو بڑی عجیب بات ہے۔‘‘سیدہ حلیمہ نے کہا :’’یہ اسی یتیم بچے کی برکت سے ہوا ہے جس کو تم سب نے لینا پسند نہیں کیا تھا۔ ‘‘یہ پورا واقعہ سیرت النبی کی مستند کتابوں میں تھوڑا تھوڑا مذکور ہے۔ ہم نے ان سب میں سے لے کر انھیں ملا کر ایک مکمل واقعہ کی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔

سیدہ حلیمہ سعدیہ کے گھر میں برکتوں کی بارش

سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کو لیکر جس وقت سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ عنہا اپنے قبیلے میں پہنچیں تواُس وقت قبیلہ بنو سعد کا علاقہ زبردست قحط کا شکار تھا اور جانوروں کو پیٹ بھر چارہ نہیں ملتا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے دودھ بہت کم ہو گئے تھے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اللہ تعالیٰ نے سیدہ حلیمہ سعدیہ کے گھر میں برکتوں کی بارش کر دی۔ خود سیدہ حلیمہ سعدیہ بتاتی ہیں :’’ میری بکریاں جب چراگاہ سے واپس آتیں تو دودھ سے بھری ہوئی ہوتی تھیں اور دوسروں کی بکریاں بہت تھوڑا دودھ دیتی تھیں۔ لوگوں نے اپنے چرواہوں سے کہا کہ تم بھی اسی جگہ بکریاں چرایا کرو جس جگہ حلیمہ کی بکریاں چرتی ہیں۔دوسرے چرواہے ایسا ہی کرتے پھر بھی میری بکریاں دودھ سے بھری ہوئی آتیں اور دوسروں کی بکریاں بہت کم دودھ دیتی تھیں۔‘‘

پورا قبیلہ بنو سعد محبت کرنے لگا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اتنے خوب صورت اور اتنے پیارے اور اتنے معصوم تھے کہ جو بھی ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غور سے دیکھتا تو دیکھتا ہی رہ جاتا تھا۔ جن خواتین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لینے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبصورتی اور معصومانہ حرکتوں کی وجہ سے بے انتہا محبت کرنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے بچوں کے مقابلے میں بہت تیزی سے بڑے ہو رہے تھے اور تمام قبیلہ بنو سعدحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔سیدہ حلیمہ سعدیہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نہال ہوئی جاتی تھیں۔اس طرح دو سال کا عرصہ گزر گیااور سیدہ حلیمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دودھ چھڑا دیا اور مکہ مکرمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر آگئیں۔ سیدہ آمنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سال بعد چلتے پھرتے دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب صورتی میں اضافہ بھی ہو چکا تھا۔ دو سال کی جدائی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر سیدہ آمنہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور خوشی کی زیادتی کی وجہ سے آپ رو پڑیںاور اپنے لاڈلے بیٹے کو گلے سے لگا کر کافی دیر تک روتی رہیں۔ ادھر سیدہ حلیمہ سعدیہ کا دل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہونے کے خیال سے بہت غمگین تھا۔

دوبار ہ بنو سعد میں جانا

سیدہ آمنہ اپنے لاڈلے بیٹے کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوئی جا رہی تھیں۔سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اور بچوں کے مقابلے میں کافی بڑے اور تندرست نظر آرہے تھے۔ سیدہ حلیمہ سعدیہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی برداشت کرنا محال ہو گیاتھا اُن دنوں مکہ مکرمہ میں وباء پھیلی ہوئی تھی۔ انھوں نے سیدہ آمنہ سے عرض کیا:’’سیدہ !یہ بچہ آپ کی امانت ہے ،میرا حق تو نہیں کہ زبان کھولوں ،مگر چونکہ مکہ مکرمہ میں وباء پھیلی ہوئی ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو مزید کچھ عرصہ کے لئے اپنے نور نظر کو میرے پاس رہنے دیں۔ جب حالات سازگار ہو جائیں گے تو میں آپ کی امانت آپ کو لوٹا دوں گی۔‘‘ سیدہ آمنہ اب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک لمحے کے لئے بھی جدا نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھلائی کے لئے سیدہ حلیمہ سعدیہ کو لے جانے کی اجازت دے دی اور وہ خوشی خوشی سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھر واپس آگئیں۔ سیدہ حلیمہ ، سعدیہ کا گھر انہ پانچ افراد پر مشتمل تھا۔ وہ اور اُن کے شوہر حارث اور دو بیٹیاں اُنیسہ اور شیما اور ایک بیٹا عبداللہ ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے سیدہ حلیمہ سعدیہ کا گھر پھر سے برکتوں کا گہوارہ بن گیا۔ جب ان کے بچوں نے اپنے قریشی بھائی( وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پکارتے تھے) کو دوبارہ اپنے درمیان پایا تو اُن کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔

سید الانبیاء ﷺ کا بکریاں چَرانا

سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بنو سعد میں واپس آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر بہت کم نکلتے تھے۔ سیدہ حلیمہ سعدیہ بتاتی ہیں :’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے تھے لیکن خود انھوں نے کبھی کھیل میں حصہ نہیں لیابلکہ ہر قسم کے کھیل کود سے علیٰحدہ رہتے تھے۔ ایک دن انھوں نے مجھ سے کہا:’’ امی جان !میرے بھائی بہن دن بھر نظر نہیں آتے، یہ روز صبح کہاں چلے جاتے ہیں؟‘‘ میں نے بتایا:’’ بیٹا وہ لوگ بکریاں چرانے جاتے ہیں۔ ‘‘یہ سن کر سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ امی جان ! آپ مجھے بھی میرے بھائی بہنوں کے ساتھ بھیجا کریں۔‘‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے مسلسل اصرار پر میں نے مجبور ہو کر اپنے بچوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزآنہ اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے جانے لگے۔ ‘‘بکریاں چرانا تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے آپ صلی اللہ نے اپنے عمل سے بچپن ہی میں اپنی نبوت کی ایک نشانی کا اظہار کر دیا۔

سرور کونین ﷺ پر بادل کا سایہ

سیدہ حلیمہ نے جب سے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو لیا تھا،تب سے ہی وہ طرح طرح کی برکات اور واقعات کامشاہدہ کر رہی تھیں اور انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ معصوم بچہ اللہ تعالیٰ کا ایک برگزیدہ بندہ ہے اور جب یہ بڑا ہو گا تو یقینا اللہ تعالیٰ اس سے کوئی بہت بڑا کا م لے گا۔ بچپن میں سیدہ حلیمہ نے جن برکات اور واقعات کا مشاہدہ کیا اُن میں سے ایک یہ تھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے جاتے تو سیدہ حلیمہ ان بچوں کو کافی دور تک جاتی ہوئی دیکھتی رہتیں اور وہ اکثر دیکھتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر نکلتے تو ایک بدلی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کر دیتی تھی۔ پہلے تو انھوں نے اس پر غور نہیں کیا لیکن جب روزآنہ ایسا دکھائی دینے لگا تو انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اس بدلی پر توجہ کی تو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو بدلی بھی چلتی تھی اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر جاتے وہ بدلی بھی وہیں رک جاتی تھی۔

شقِ صدر

اس طرح سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رضاعی ( دودھ شریک) بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے چلے جایا کرتے تھے۔ سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں :’’ ایک دن میرا بیٹا عبداللہ بھاگتا ہوا آیا ۔ وہ بہت ہی گھبرایا ہوا تھا، اُ س نے مجھ سے اورمیرے شوہر سے گھبرائے ہو ئے ہکلاتے ہوئے بتایا کہ میرے قریشی بھائی یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سفید کپڑے پہنے ہوئے دو شخص آئے اور اسے پکڑ کر لٹا کر اُ س کا پیٹ چاک کر ڈالا اور اس کو مار رہے ہیں ۔یہ سنتے ہی میں اور میرے شوہر دوڑتے ہوئے جائے حادثہ پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم وہیں کھڑے ہیں اور چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہے۔ میں نے اور میرے شوہر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گلے سے لگا لیا اور ہم نے بڑے پیار سے پوچھا:’’پیارے بیٹے تجھے کیا ہوا؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’ میرے پاس دو شخص آئے ،وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے، مجھے لٹایا اور میرا پیٹ چیر دیا اور انھوں نے اس میں سے کوئی چیز تلاش کی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا تھی۔ ‘‘پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر گھر آئے۔ میرے شوہر حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے کہا:’’ اے حلیمہ ! مجھے خوف ہے کہ ہمارا یہ پیارا بچہ کسی مصیبت میں نہ مبتلا ہو جائے۔ بہتر یہ ہے کہ ہم اسے اس کی والدہ کے پاس پہنچا دیں۔

سیدالانبیاء ﷺ کی زبانی شق صدر کا واقعہ

محمد بن اسحاق کے شاگرد محمد بن ہشام نے اپنے استاد کی روایات کو جمع کر کے سیرت النبی کتاب لکھی ،جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مکمل کتاب ہے اور سب سے مستند مانی جاتی ہے۔ اس کتاب میں آگے ذکر ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ، سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِ اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے سب کی طرف سے ترجمان بن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا :’’ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ذرا ہمیں اپنے بارے میں کچھ حالات بیان فرمائیں۔‘‘ یہ سن کر سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے اور فرمایا :’’ اچھا سنو! میں اپنے جد امجدحضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔ ( اس دعا کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر127سے آیت نمبر129تک ذکر فرمایا۔ ان آیات کا ترجمہ ضرور پڑھیں) اور اپنے بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں۔ ( اس بشارت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورہ الصف کی آیت نمبر6میں ذکر فرمایا ہے) اور جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی والدہ کے بطن میں جلوہ گر فرمایا تو میری والدہ سے ایک نور خارج ہواجس کی روشنی میں انھوں نے شام کے محلات تک دیکھ لئے۔ میری پرورش قبیلہ بنو سعد بن بکر میں ہوئی ہے۔ میں اپنے رضاعی بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چَرایا کرتا تھا۔ ایک دن میں چراگاہ میں تھا کہ دو آدمی آئے ،انھوں نے سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے ،ان کے پاس سونے کا طشت تھاجس میں برف بھری ہوئی تھی۔ انھوں نے مجھے پکر کر لٹایا اور میرا پیٹ چیر کر دل کو نکالا اور دل کو چیرکر اُس میں سے خون کی پھٹکی نکال کر پھینک دی ۔پھر دل اور پیٹ کو برف سے دھو یا،پھر دل کو سی کر پیٹ میں رکھا اور اسے بھی سی دیا۔ پھر ایک نے کہا :’’ انھیں دس امتیوں کے ساتھ تولو۔‘‘ جب انھوں نے تولا تو میرا پلڑا بھاری نکلا۔ اس نے کہا :’’ اب سو امتیوں کے ساتھ تولو۔‘‘ تب بھی میرا پلڑا بھاری نکلا ۔ پھر انھوں نے ہزار امتیوں کے ساتھ تولا۔ تب بھی میرا پلڑا بھاری رہا۔ اُن میں سے ایک نے کہا رہنے دو۔ اگر انھیں پوری امت کے ساتھ تولو گے تب بھی ان کا ہی پلڑا بھاری رہے گا۔ امام مسلم نے اپنی صحیح میں کتاب الایمان میں معراج کے بیان میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے’’ شق ِ صدر‘‘ کی حد تک اس واقعہ کو بیان کیا ہے۔ اس روایت کے مطابق ان دو فرشتوں میں سے ایک جبرئیل علیہ السلام تھے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ میں نے وہ نشان سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ ٔ مبارک پر دیکھے ہیں ۔ شقِ صدر چار مرتبہ ہوا ہے۔ جن میں سے یہ پہلا چار سال کی عمر میں ہوا۔

والدہ محترمہ کی خدمت میں

شق صدر کے واقعہ کے بعد سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا اور اُن کے شوہر حضرت حارث رضی اللہ عنہ ڈر گئے کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ نقصان نہ پہنچ جائے اور امانت میں خیانت نہ ہو جائے۔ اس لئے وہ دونوں سیدہ آمنہ کی خدمت میں سید الابرار صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ’’ آپ اپنی امانت واپس لے لیں۔ ‘‘سیدہ آمنہ حیران ہو کر بولیں:’’ کیا کوئی بات ہو گئی ہے ؟‘‘سیدہ حلیمہ نے کہا :’’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ‘‘لیکن جب سیدہ آمنہ نے بار بار پوچھا تو سیدہ حلیمہ نے شق صدر کا واقعہ بتا کر عرض کیا کہ’’ کہیں کوئی شیطانی طاقت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو نقصان نہ پہنچائے۔ ‘‘سیدہ آمنہ نے فرمایا :’’ کیا تم میرے اس بلند اقبال بیٹے کے متعلق شیطان سے خوف زدہ ہو ؟‘‘سیدہ حلیمہ نے کہا :’’جی ہاں۔ ‘‘سیدہ آمنہ نے فرمایا:’’ہر گز نہیں! اللہ کی قسم ! شیطان میرے اس فرزند کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا سکتا ،میرے لخت جگر کی شان بڑی نرالی ہے۔ کیا میں تمہیں اس کی کچھ شان کے بارے میں بتائوں؟‘‘ سیدہ حلیمہ نے عرض کیا:’’ ضرور ۔‘‘ سیدہ آمنہ نے فرمایا :’’جب اس کا مبار ک نور میرے شکم میں قرار پذیر ہوا تو مجھ سے ایک نور کا ظہور ہوا،جس سے سر زمین شام و بصریٰ کے محلات جگمگا اٹھے اور دوسری خواتین کی طرح میں نے حمل کو کوئی بوجھ محسوس نہیں کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو انھوں نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر ٹیکے ہوئے تھے اور سر ِ مبارک آسمان کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔ اب انھیں میرے پاس ہی رہنے دو۔ میں اب خود ان کی خبر گیری کروں گی۔‘‘

رسول اللہ ﷺ  اپنی والدہ کی آغوش میں

سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کی والدہ سیدہ آمنہ کی آغوش میں دیکر واپس چلی گئیں اور سیدہ آمنہ اپنے لاڈلے کو دیکھ دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتی رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چار برس تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم عام بچوں کی طرح شرارتیں کرنے کی بجائے پُر وقارانداز میں ہر کام اور ہر بات کرتے تھے ۔اس عمر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکراتے تھے اور کوئی بھی بات اتنی صاف اور فصیح و بلیغ کرتے کہ سیدہ آمنہ اور سیدہ اُم ایمن حیران رہ جاتیں اور سوچتیں کہ اتنی سی عمر میں اتنی سمجھداری اور خوبصورت باتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کر لیتے ہیں ۔سیدہ آمنہ نے ماضی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو بشارت سنی اور دیکھی تھیں ۔اس کی وجہ سے آپ جانتی تھیں کہ میرے اس بیٹے کی ایک بہت بڑی شان ہو گی اور اس کا مظاہر ہ وہ اسی کم عمر میں ہی دیکھ رہی تھیں۔ سیدہ ام ایمن رضی اﷲ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر وقت خدمت کرتی رہتیں تھیں۔

اپنی والدہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں

سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کے داد حضرت عبدا لمطلب کی والدہ کا گھر مدینہ منورہ میں تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ شام سے تجارتی سفر کی واپسی پر بیماری کی وجہ سے اپنی داد ی کے یہاں مدینہ منورہ میں ہی رک گئے تھے اور وہیں انتقال ہو گیا تھا اور وہیں’’ دارالنا بغہ ‘‘میں دفن کر دیا گیا۔ جب سیدالبشر صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی والدہ کی آغوش میں رہتے ہوئے لگ بھگ سال دیڑھ سال گزر گئے تو سیدہ آمنہ نے اپنی خادمہ اُم ایمن اور سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کو لیااور حضرت عبدا لمطلب سے اجازت لے کر تجارتی قافلے کے ساتھ دشوار گزار سفر کرتی ہوئی مدینہ منورہ پہنچیں اور دارالنابغہ میں قیام کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لگ بھگ کئی ماہ گزارے اور بنو عدی بن نجار کے تالاب میں تیرنا سیکھا اور ساتھ ہی عسکری تربیت بھی حاصل کی۔

سید الانبیاء ﷺ نے تیرنا سیکھا

لگ بھگ پانچ ساڑھے پانچ برس کی عمر میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے اور کئی ماہ قیام فرمایا۔ برسوں بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہجرت کر کے پہنچے اور وہیں رہائش اختیار کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچپن کی باتیں اور وہ حالات و واقعات صحابہ کرام کو بتایا کرتے تھے جو یہاں گزر چکے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ دارالنا بغہ‘‘ کو دیکھا تو فرمایا :’’امی جان یہاں آکر قیام پذیر ہوئی تھیں۔‘‘ اور بنو عدی کے تالاب کو دیکھا تو فرمایا :’’ اس تالاب میں، میں نے تیرنا سیکھا ہے۔‘‘ بچپن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عرصے مدینہ منورہ میں قیام کیا اس بارے میں کئی روایات ہیں۔ ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کم سے کم ایک ماہ ضرور مدینہ منورہ میں قیام کیا ہے۔ اس سے زیادہ عرصہ ہو سکتا ہے کم نہیں ہو سکتا۔ اب حقیقت کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

یہودیوں ( بنی اسرائیل ) نے پہچان لیا

انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں رہ رہے تھے۔ مدینہ منورہ کے اطراف میں بنی اسرائیل ( یہودیوں ) کے کئی قبیلے آباد تھے اور وہ خرید وفروخت کے سلسلے میں اکثر مدینہ منورہ آتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے توریت ، زبور اور انجیل میں انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور بہت سی نشانیاں بتائی ہیں۔ ان یہودیوں نے مدینہ منورہ میں بچپن میں انبیاء کے سردار صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پہچا ن گئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچپن کے مدینہ منورہ میں پیش آنے والے واقعات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’میں نے ایک یہودی کو دیکھاجو بار بار آتا جاتا تھا اور مجھے غور سے دیکھتا رہتا تھا۔ آخر کار اس نے مجھ سے سوال کیا:’’ اے بچے، تیر انام کیا ہے؟ ‘‘میں نے جواب دیا :’’احمد۔‘‘ ( یہ سن کر وہ بھونچکا رہ گیا) اس نے میری پُشت کو دیکھا ( جہاں مُہر نبوت لگی ہوئی تھی) پھر اس نے کہا :’’ یہ بچہ اِس اُمت کا نبی ہے۔‘‘ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے پہلے کی آسمانی کتابوں میں کیا ہے) پھر وہ یہودی میرے ماموئوں کے پاس آیا اور انھیں بھی یہ بات بتائی۔ میرے ماموئوں نے امی جان سے بات چیت کی( سیدہ آمنہ بشارات کے ذریعے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں جانتی تھیں) اسی لئے میری فکر امی جان کو لاحق ہو گئی اور انھوں نے مکہ مکرمہ واپس جانے کا فیصلہ کر لیا۔‘‘ اسی طرح کا ایک واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ اُم ایمن رضی اﷲ عنہا بتاتی ہیں، آپ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں:’’ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ایک روز دو یہودی دوپہر کے وقت میرے پاس آئے، ایک نے کہا :’’ ذرا احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کو باہر لائو۔‘‘ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر باہر آئی تو اُن دونوں یہودیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت غور سے دیکھنا شروع کر دیا اور نشانیاں تلاش کرتے رہے۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا :’’یہ بچہ اِس اُمت کا نبی ہے اور یہ مدینہ منورہ اس کا ’’دارا لحکومت ‘‘ہوگا۔‘‘ تمام بنی اسرائیل (یہودی) اللہ تعالیٰ کی بیان کی ہوئی نشانیوں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی طرح پہچانتے تھے۔ لیکن ان میں اکثریت بہت بد بخت تھی اور اکثریت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار کیااور اس کی وجہ یہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل میں نہیں بلکہ’’ بنی اسماعیل‘‘ میں آئے۔ صرف چند نیک بخت اور خوش قسمت یہودیوں نے اسلام قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے۔

سیدہ آمنہ کا انتقال

یہودیوں کی اسی کھوج خبر کی وجہ سے سیدہ آمنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر لاحق ہوئی کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ اسی لئے اپنی طبیعت خراب ہونے کے باوجود سیدہ آمنہ اپنے نور نظر صلی اللہ علیہ وسلم اور خادمہ سیدہ ام ایمن رضی اﷲ عنہا کو لے کر کسی قافلے کے ساتھ مکہ مکرمہ روانہ ہو گئیں۔ سفر کے دوران بیماری بڑھتی جا رہی تھی۔ آخر کار راستے میں ایک مقام پر آپ کی طبیعت اتنی زیادہ خراب ہو گئی کہ آپ سفر کرنے کے قابل نہ رہیں، اسی لئے وہیں رک گئیں۔ اُس مقام کا نام’’ ابوا ء‘‘ ہے۔ امام ابو نعیم نے اپنی معرکتہ الارا ٔ کتاب دلائل النبوۃ میں امام زہری ( بہت جلیل القدر تابعی) کی سند سے نقل کیا ہے کہ وہ حضرت اسما بنت رہم سے اور وہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ۔ وہ فرماتی ہیں :’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ سیدہ آمنہ نے جس بیماری میں انتقال فرمایا، میں اُس میں موجود تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پانچ سال سے زیادہ لگ بھگ چھ سال کو عمر کے تھے اور پروان چڑھ رہے تھے۔ اُس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ محترمہ کے سرہانے تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ ٔ انور کی طرف دیکھ کر یہ فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ تجھے با برکت بنائے !اے اُس شخصیت کے بیٹے جو شدتِ موت سے انعام کرنے والے بادشاہ کی مدد سے محفوظ رہا جب قرعہ اندازی میں اس کانام نکلا تو ایک سو قیمتی اونٹ اس کے فدیہ کے طور پر دیئے گئے۔ اگر وہ بات سچی ہے جومیں نے خواب میں دیکھی ہے تو تُوجلال و اکرام والی ذات ( اللہ تعالیٰ) کی طرف سے مخلوق کی طرف مبعوث ہوگا۔تُو حلال و حرام کے بیان کے لئے اور احقاقِ حق او ر اسلام کے بیان کے لئے مبعوث ہوگا۔ جو تیرے مطیع و محسن باپ ( جد امجد) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تجھے دوسرے لوگوں کی طرح بتوں کی تعظیم کرنے سے منع کیا ہے۔( یعنی تُو اور لوگوں کی طرح بتوں کی تعظیم مت کرنا) ۔‘‘ اس کے بعد آگے سیدہ آمنہ نے کچھ دیر خاموش رہ کرفرمایا :’’ہر زندہ شخص کو مرنا ہے، ہر نئی چیز پرانی ہو جاتی ہے اور بڑی عمر کو پہنچنے والے کے لئے فنا ہے۔ میں فوت ہونے والی ہوں اور میرا ذکر باقی رہے گا۔ میں نے بھلائی ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ) چھوڑا ہے۔ میں نے ایک پاک بچے کو جنم دیا ہے۔‘‘ اس کے بعد سیدہ آمنہ کا انتقال ہو گیا۔ راوی کہتی ہیں:’’ پھر ہم نے ایک آواز سنی جو کہہ رہی تھی :’’ہم اُس نوجوان خاتون( سیدہ آمنہ) پر روتے ہیںجو نیکو کار اور امانت دار تھیں۔ حسن و جمال ، پاک دامن اور وقار والی تھیں۔ حضرت عبداللہ کی زوجہ ٔ مبارکہ تھیں اور باوقار نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی والدہ ہیں۔ وہ نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم) مدینہ منورہ میں صاحب منبر ہوں گے۔ آپ ( سیدہ آمنہ) اپنی قبر مبارک میں جا گزیں ہوگئیں۔‘‘ وہیں مقامِ ابواء میں سیدہ آمنہ کو دفن کر دیا گیا۔

دادا حضرت عبد المطلب کی کفالت میں

سیدہ آمنہ کے انتقال کے بعد اُن کی خادمہ اُم ایمن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر مکہ مکرمہ آئیں اور سیدہ آمنہ کے انتقال کی خبر دی۔ حضرت عبدا لمطلب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے پہلے اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہودی اور عیسائی علماء سے سن چکے تھے اور تمام نشانیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھ چکے تھے۔ اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دادا کی خاص توجہ کا مرکز بن گئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے با برکت ہونے کا حضرت عبد المطلب کو پورا احساس تھا۔ اس لئے جب کوئی بہت مشکل کام ہوتا تھا تو اسمیں اپنے پیارے پوتے صلی اللہ علیہ وسلم کو شریک کر لیتے تھے اور وہ کام آسانی سے مکمل ہو جایا کرتا تھا۔

حضرت عبدالمطلب کی بے قراری

ایک مرتبہ حضرت عبدالمطلب کے اونٹ گم ہو گئے تھے۔ آپ نے اپنے تمام بیٹوں کو بھیجا مگر وہ ناکام واپس آئے۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک سات برس کے لگ بھگ یا کچھ ماہ زیادہ تھی۔ حضرت عبد المطلب نے اپنے پوتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹوں کی تلاش میں بھیجا کیوں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے واقف تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس آنے میں کچھ دیر ہو گئی تو حضرت عبد المطلب بہت بے قرار ہو گئے اور سب کچھ بھول کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی کی دعائیں مانگنے لگے۔ جب اور زیادہ دیر ہو گئی تو حضرت عبدالمطلب خانہ کعبہ کے پاس آئے اور رو رو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں طواف کرتے ہوئے دعا مانگنے لگے :’’ اے اللہ !میرے شہسوار اور نور ِ نظر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو لوٹا دے۔ اے رب کریم ! اسے بھیج دے، اپنے نا چیز بندے پر احسان کر ۔‘‘ وہ مسلسل دعاکرتے رہے، یہاں تک کہ اُن کے بیٹوں نے آکر اُنھیں بتا یا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اونٹوں کو تلاش کر کے لے آئے ہیں۔

حضرت عبدالمطب بہت عزت کرتے تھے

حضرت عبدالمطلب اپنے پوتے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت خیال رکھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ حضرت عبد المطلب مکہ مکرمہ کے سب سے بڑے سردار تھے۔ اسی لئے خانہ کعبہ کے زیر سایہ آپ کے لئے مسند بچھائی جاتی تھی اور آپ کا کوئی بیٹا یا قریش کا کوئی بھی سردار ادب کی وجہ سے آپ کے ساتھ اس مسند پر نہیں بیٹھتا تھا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تشریف لاتے تھے تو اس مسند پر آپ کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی چچا یا کوئی قریشی سردار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسند سے اتارنے کی کوشش کرتا تو حضرت عبد المطلب فرماتے :’’میرے بیٹے کو رہنے دو، اسے مسند سے نہ ہٹائو، اللہ کی قسم ! میرے بیٹے کی بہت بڑی شان ہے۔ ‘‘پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ بٹھا لیتے اور پُشت مبارک پر ہاتھ پھیرتے رہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معصومانہ حرکتیں دیکھ کر مسکراتے اور خوش ہوتے تھے۔

عیسائی عالم نے پہچان لیا

اللہ تعالیٰ نے اپنی آسمانی کتابوں میں بار بار اور اتنی تفصیل سے سرورکونین صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرمایا ہے کہ ہر یہودی اور عیسائی عالِم ( احبار اورراہب) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی طرح پہچانتا تھا۔ بلکہ بہت سے یہودی اور عیسائی عالموں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کرنے اور نشانیاں بتانے کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا تھا ۔ وہ لوگ ہر سمجھ دار آدمی سے’’ اس آخری رسول‘‘ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کا ذکر کرتے رہتے تھے اور اُن کی نشانیوں کو بتاتے رہتے تھے۔ ایسے ہی ایک عیسائی عالم سے حضرت عبد المطلب کے تعلقات تھے اور وہ اکثر آپ کے پاس آتا رہتا تھا اور آپ کو بتاتار ہتا تھا کہ توریت اور انجیل میں ’’ایک ایسے نبی ‘‘(صلی اﷲ علیہ وسلم)کا ذکر ہے جس کی تمام صفات اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں بہت تفصیل سے بیان فرمائی ہے۔’’ وہ نبی‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم )حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولادمیں سے ہوگا۔ اب’’ اُس نبی‘‘ ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے ظاہر ہونے کا زمانہ بہت قریب ہے۔ ایک دن وہ عیسائی عالم حضرت عبد المطلب سے بیٹھا باتیں کر رہا تھا کہ اچانک سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ حضرت عبدالمطلب نے بڑے پیار سے سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑا اور اپنے بازو میں بٹھا لیا۔ وہ عیسائی عالم سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو غور سے دیکھتا رہا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں سرخ ڈوروں کو دیکھا، پھر پشت مبارک پر’’ مہر نبوت ‘‘دیکھی تو بے ساختہ بول اٹھا :’’ اے عبدالمطلب ! یہی’’ وہ آخری نبی ‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہے، بتائو یہ تمہارا کیا لگتا ہے؟‘‘ انھوںنے جواب دیا:’’یہ میرا بیٹا ہے۔‘‘ وہ بولا :’’یہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ ہماری کتاب میں اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ آخری نبی ’’یتیم ‘‘ہوگا۔ حضرت عبد المطلب نے فرمایا:’’یہ ’’یتیم‘‘ ہی ہے اور یہ میرا پوتا ہے۔‘‘ یہ سن کر وہ عیسائی عالم بولا:’’ اس کی حفاظت کرو،کیوں کہ بہت سے لوگ اس سے دشمنی کریں گے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ ‘‘حضرت عبدالمطلب نے قریب بیٹھے اپنے بیٹوں سے کہا :’’سُن رہے ہو، اپنے بھتجے کا خیال رکھنا، تاکہ کوئی دشمن اسے نقصان نہ پہنچا سکے۔‘‘

حضرت عبدالمطلب کا انتقال

حضرت عبدالمطلب اسی طرح بڑے پیار و محبت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پر ورش کرتے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک لگ بھگ آٹھ برس ہوئی تو حضرت عبدالمطلب کا بھی آخری وقت آگیا۔ اپنے آخری وقت میں انھوں نے تمام بیٹوں کو وصیت کی کہ وہ ہر طرح سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا خیا ل رکھیں گے اور ابو طالب کی کفالت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا،کیوں کہ ابو طالب اور حضرت عبداللہ سگے بھائی تھے۔ یعنی دونوں حضرت عبد المطلب کی ایک ہی بیوی کے بیٹے تھے۔ اسی لئے انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب کو ہی سونپا اور فرمایا :’’میرے مرنے کے بعد اپنے بھتیجے کو تنہائی کا احساس نہ ہونے دینا، اپنی اولاد سے بڑھ کر شفقت دینا۔ ہر آڑے وقت میں اس کے لئے جان لڑا دینا اور ہر میدان میں اس کی مدد کرنا۔‘‘ اس کے بعد حضرت عبدالمطلب کا انتقال ہو گیا۔

ابو طالب کے گھر برکتوں کی بارش

ابو طالب اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر اپنے گھر آگئے اوراُن کے گھر میں بھی برکتوں کی اسی طرح بارش ہونے لگی جیسی سیدہ حلیمہ رضی اﷲعنہا کے گھر ہوتی تھی۔ ابو طالب اپنے تمام بھائیوں میں سب سے غریب تھے۔ اسکے باوجود وہ اپنے بھتیجے کے ہر آرام کا خیال رکھتے تھے۔ امام فخر الدین رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ ابو طالب کہتے تھے:’’ مجھے میرے بھتیجے (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات سے حیرانی ہوتی تھی۔ ہم لوگ کھانے سے پہلے اور بعد میںاللہ کا نام نہیں لیتے تھے ۔لیکن میرا بھتیجا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کھانے سے پہلے بسمہ اللہ الاحد (اللہ کے نام سے جو ایک ہے) کہتا تھا اور کھانے کے بعد الحمد اللہ کہتا تھا۔ میرے بھتیجے نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ہے اور نہ ہی کبھی میں نے اسے کھل کر ہنستے ہوئے دیکھا ہے اور نہ ہی کبھی اس نے کھیل کود میں وقت ضائع کیا ہے۔

سب کا پیٹ بھر جاتا

بچپن ہی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم قناعت پسند تھے اور خود سے کھانے کی فرمائش کبھی نہیں کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم صبح اٹھ کر زم زم کے کنویں پر جاکر پانی پی لیتے تھے ۔ پھر جب ہم کھانے کے لئے بلاتے تو فرماتے تھے۔ مجھے کھانے کی خواہش نہیں ہے۔‘‘ ابو طالب اور ان کی اولاد اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر کھانا کھاتے تھے تو کھانا ختم ہوجاتا تھا ۔ لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے تو سب کا پیٹ بھر جاتا تھا اور کھانا ختم نہیں ہوتا تھا۔ابو طالب ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ رکھتے تھے۔ یہ رغبت اتنی بڑھی کہ چچا بھتیجے کو ایکدوسرے سے محبت ہوگئی۔ ابو طالب اکثر کہتے تھے:’’ اے میرے بھتیجے تو بہت بابرکت ہے ۔‘‘صبح کو جب دوسرے بچے اٹھتے تو آنکھوں میں کیچڑ بھری ہو تی تھی، بال بکھرے ہوتے تھے۔ مگرحضور صلی اللہ علیہ وسلم جب سوکر اٹھتے تھے تو بالوں میں تیل لگا ہوتا تھااور کنگھی کی ہوتی تھی اور آنکھوں میں سرمہ لگا ہوتا تھا۔

اللہ کی خاص رحمت

ابن عسا کر نے جلہمہ بن عرفطہ سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں:’’ میں مکہ مکرمہ (تجارتکے سلسلے میں ) گیا تو وہاں قحط پڑا ہوا تھا اور لوگ بارش کے لئے ترس گئے تھے۔ ہر کوئی اپنے بتوں سے دعا مانگ کر تھک چکاتھا۔ ایسے میںایک شخص نے مکہ مکرمہ والوں سے کہا :’’ ہمارے بڑے سردار کے پاس چلو۔‘‘ تمام لوگ ابوطالب کے پاس آئے اور کہا :’’اے ابوطالب قحط نے مکہ مکرمہ کو لپیٹ میں رکھا ہے، ہم اور ہمارے اہل وعیال کی بھکمری کا وقت آگیا ہے۔ آپ بارش کے لئے دعا کریں۔‘‘ ابو طالب سب کو لیکر خانہ کعبہ کی طرف چلے۔ ان کے ساتھ ایک نو عمر لڑکا بھی تھا۔‘‘ راوی کہتے ہیں۔’’ اس لڑکے کو دیکھکر ایسا لگتا تھا جیسے سورج بادلوں میں سے نکل رہا ہو۔ ابو طالب نے اس بے انتہا خوبصورت اور بہت ہی روشن چہرے والے لڑکے کو خانہ کعبہ کی دیوار سے پیٹھ لگا کر کھڑا کردیا۔اس جمیل و شکیل لڑکے نے دعا کے لئے اپنے ہاتھ اٹھا دیئے۔ آسمان پر بادلوں کا نام و نشان نہیں تھا، لیکن اسکے ہاتھ اٹھتے ہی بادل آکر جمع ہونے لگے اور ابھی اس بے انتہا حسین لڑکے کے ہاتھ اوپر ہی اٹھے کہ موسلا دھار بارش ہونے لگی ۔ ابو طالب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس واقعہ کے بعد کہتے تھے :’’ وہ روشن چہرے والا جس کے چہرئہ انور (کے صدقے) میں بارش عطاکی جاتی ہے۔ وہ یتیموں کو پناہ دینے والا ہے اور بیوائوں کا سہارا ہے۔

بحیریٰ راہب (عیسائی عالم )کا واقعہ

اس سے پہلے بھی ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام آسمانی کتابوں میں انتہائی تفصیل سے اور باربار اپنے’’ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا ذکر کیا ہے اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی نہیں بلکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا بھی ذکر کیا ہے اور بہت تفصیل سے کیا ہے۔ اسکے علاوہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام علیھم السلام سے وعدہ لیا اور انھیںحکم دیا کہ اپنی اپنی امتوں کو میرے’’ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کے بارے میں بتاتے رہنا۔ اسلئے ہر نبی اور ہر رسول نے سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بہت تفصیل سے بتایا تھا۔ جس وقت سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے، اس وقت صرف دو قومیں یہودی اورعیسائی ایسی موجود تھیں جو اپنے پاس آسمانی کتاب رکھنے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ حالانکہ ان دونوں قوموں نے اپنی اپنی کتاب توریت اور انجیل میں بہت سی ملاوٹ کردی تھی۔ لیکن اس ملاوٹ کے باوجود ان کتابوں میں سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر موجود تھا اور بہت سے یہودی علماء اور عیسائی علماء’’ اس آخری رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کی نشانیوں کا ذکر اپنی اپنی کتابوں میں پڑھ کر ان علاقوں میں آکر آباد ہوگئے۔جن علاقوں میں’’اُن آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کے آنے کی امید تھی۔ مثال کے طور پر مدینہ منورہ کے آس پاس جو یہودی قبائل تھے، اُن کے آباء و اجداد اِسی اُمید پر مدینہ منورہ آکر آباد ہو گئے تھے کہ’’ وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ ہجرت کر کے یہیں آئیں گے اور ہم اُن پر ایمان لا کر کامیابیاں حاصل کریں گے۔ اِسی طرح بحیریٰ راہب ( عیسائی عالم) نے بھی اپنی کتاب میں پڑھا تھا کہ’’ وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘جب سفر کریں گے تو فلاں مقام پر فلاں درخت کے نیچے آرام فرمائیں گے یا ٹھہریں گے۔ اسی لئے بحیریٰ راہب نے اپنا گرجا گھر ( عیسائیوں کی عبادت گاہ) اُس درخت کے سامنے بنائی اور’’ اُس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کا انتظار کرنے لگا کہ جب بھی’’ وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘آئیں گے۔ میں ان کی خدمت کروں گا اور خدمت کر کے آخرت کی کامیابی حاصل کروں گا۔

رسول اللہ ﷺ کا منتظر بحیریٰ راہب

ابو طالب بہت محبت اور لگن سے اپنے پیارے بھتیجے صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ ریکھ اور پرورش کر رہے تھے۔ اس طرح چار سال گزر گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک لگ بھگ بارہ برس ہو گئی۔ قریش کا ذریعۂ معاش تجارت تھا اور اس سلسلے میں وہ اکثرملک شام ، یمن اور حبشہ کا سفر کرتے رہتے تھے۔ ابو طالب نے بھی ملک شام کے تجارتی سفر کی تیاری کی اور سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر ملک شام کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ ابو طالب نے بصریٰ پہنچ کر اُس کے مضافات میں قیام کیا۔ جس جگہ مکۂ مکرمہ کے قریش کا قافلہ رکا تھا، اس کے سامنے ایک عیسائی عالم ( راہب) کا صومعہ ( گرجا گھریا عبادت گاہ) تھا ۔ اُس راہب کا نا م جرجیس ( جر جیوس ) یا سر جیوس تھا اور اس کا لقب بُحیریٰ تھا۔ وہ زُہد ، تقویٰ اور علم میں بلند مقام والا تھا۔ اُس نے برسوں پہلے اپنی عبادت گاہ بنائی تھی۔ زیادہ وقت عبادت میں مصروف رہتا تھا اور بہت کم لوگوں سے بات کرتا تھا۔ اس نے انجیل میں’’ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کی تعریف و توصیف اور حالات پڑھے ہوئے تھے اور یہ بھی پڑھا تھا کہ’’ اُن آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا گزر اس طرف سے ہوگا اوروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منتظر تھا۔ اسے امید تھی کہ اس جگہ پر اسے ضرور اللہ تعالیٰ کے ’’آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کا دیدار ہوگا اور اگر وہ اعلانِ نبوت کر چکے ہوں تو اُن پر ایمان لائے گا اور اگر نبوت و رسالت سے سرفراز نہیں ہوئے ہوں گے یعنی کم عمر ہوں گے تو ان کی خدمت کر کے اپنی آخرت سنوار لے گا۔

بُحیریٰ نے قافلے والوں کی دعوت کی

اس سے پہلے بھی مکہ مکرمہ والے اکثر اس جگہ قیام کرتے تھے۔ لیکن بحیریٰ نے کبھی ان کی طرف توجہ نہیں کی تھی اور نہ ہی کبھی ان لوگوں سے بات چیت کرنے کے لئے آیا تھا۔ لیکن اس مرتبہ تو مکہ مکرمہ کے قافلے والوں کو بہت زیادہ حیرانی ہو گئی کہ بحیریٰ اس مرتبہ خود چل کر قافلے والوں کے پاس آیا اور پوچھا:’’ آپ لوگ کہاں سے آرہے ہو؟‘‘ انھوں نے بتایا :’’ ہم حرم شریف ( مکۂ مکرمہ) سے آئے ہیں۔‘‘ اُس کا چہرہ خوشی سے کھلا ہوا تھا اور وہ متجسس نگاہوں نے ایک ایک کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے پوچھا :’’قافلے کا سردار کون ہے؟ ‘‘ ابو طالب آگے بڑھے اور کہا:’’میں اس قافلے کا سردار ہوں۔ ‘‘بحیریٰ نے اُن سے کہا :’’ تم تمام قافلے والوں کی میری طرف سے دعوت ہے۔‘‘ قافلے والے حیران ہو گئے۔ اُن میں سے ایک شخص نے پوچھا:’’ اس سے پہلے ہم کئی مرتبہ یہاں قیام کر چکے ہیںلیکن آپ نے کبھی ہماری دعوت نہیں کی، اب ایسا کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ بحیریٰ راہب نے جواب دیا:’’ میں اپنی عبادت گاہ کی کھڑکی میں بیٹھا مکہ مکرمہ کی طرف سے آنے والے راستے کی طرف دیکھ رہا تھا کہ آپ لوگوں کا قافلہ پہاڑی پر نمودار ہوا اور پہاڑی سے نیچے گھاٹی میں اترنے لگا اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گھاٹی کے تمام درخت ، پیڑ پودے اور پتھر قافلے کو سجدہ کر رہے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ اس قافلے میں ’’وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘سفر کر رہے ہیں۔ جن کا ذکر اور تعریف اور نشانیاں ہماری کتاب انجیل میں بیان کی گئی ہیںاور ان ہی کے انتظا رمیں برسوں سے میں یہاں رہ رہا ہوں۔‘‘

بادل اور درخت کا سایہ

اس کے بعد بحیرہ راہب متلاشی نگاہوں سے ہر ایک کو دیکھنے لگا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کو چرانے گئے ہوئے تھے۔ قافلے کے تمام افراد کو غور سے دیکھنے کے بعد بحیریٰ نے کہا:’’ کیا اس قافلے کے تمام افراد یہاں موجود ہیں؟ ‘‘ اسے بتایا گیا:’’ ایک نو عمر لڑکا اونٹوں کو چرانے گیا ہوا ہے۔‘‘ بحیریٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کرنے لگا۔ اس کی بے چینی اور بے تابی قافلے والوں کو حیران کر رہی تھی۔ آخر کار رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہوئے دکھائی دیئے، اُن کے اوپر ایک چھوٹا سا بادل سایہ کئے ہوئے تھا۔ بحیریٰ نے رحمت العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور بولا :’’دیکھو ! اُن پر ایک بادل کا ٹکڑا سایہ کئے ہوئے ہے۔‘‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم قریب آئے تو دیکھا کہ تمام لوگ پہلے ہی درخت کے سائے میں جگہ لے چکے ہیں اور اب سایہ میں کوئی جگہ باقی نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دھوپ میں ہی ایک طرف بیٹھ گئے۔ بیٹھتے ہی درخت کی شاخیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھیں اور سایہ کر دیا۔ بحیریٰ راہب نے کہا :’’ دیکھو درخت نے کس طرح ان کے اوپر سایہ کر دیا ہے۔ ‘‘تب قافلے والوں نے یہ دونوں واقعہ دیکھا تو انہیں حیرت ہوئی اور انھوں نے کہا :’’ واقعی ہم نے ابھی تک غور نہیں کیا تھا۔‘‘

بحیریٰ راہب نے خدمت کی

بحیریٰ راہب نے تمام قافلے والوں کو دعوت دی تھی۔ تمام قافلے والے دعوت میں شریک ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیاتھاکہ ہم اُن کا کھانا لے کر آجائیں گے۔ بحیریٰ ہر ایک کا جائزہ لے رہا تھا اور استقبال کر رہا تھا۔ جب تمام لوگ آگئے تو اس نے پوچھا:’’ تمہارے ساتھ جو خوب صورت روشن چہرے والا نو عمر لڑکا تھا وہ کہاں ہے؟ ‘‘تمام لوگوں نے جواب دیا :’’ہم نے اسے سامان کی حفاظت کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ ‘‘ اس نے کہا :’’یہ دعوت کا انتظام میں نے صرف اس خوب صورت روشن چہرے والے لڑکے کے لئے کیا ہے۔ سامان کی حفاظت میرا خادم کر ے گا۔ تم اسے لے آئو۔‘‘ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو بحیریٰ راہب خود آگے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے لگا اور اپنے ہاتھوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلانے لگا اور ساتھ ساتھ جائزہ بھی لیتا جا رہا تھا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اُس آخری رسول کی تمام نشانیاں دیکھیںجو اس کی مقدس کتاب میں لکھی ہوئی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے فارغ ہوئے تو بحیریٰ نے کہا:’’ اے مبارک لڑکے! میں تم سے کچھ سوال کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ ٹھیک ہے۔‘‘

بُتوں سے نفرت

جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کرنے کی اجازت دے دی تو بحیریٰ نے پوچھا :’’ میں تمہیں لات و عُزّیٰ کی قسم دیتا ہوں ‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً اس کی بات کاٹ کر ناگواری سے فرمایا:’’ اِن بتوں کی مجھے قسم نہ دیں،جتنی نفرت مجھے بتوں سے ہے کسی اور چیز سے نہیں ہے۔‘‘ ( مکۂ مکرمہ کے لوگوں نے بہت سے بت خانۂ کعبہ کے اندر اور باہر رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے دو بڑے بتوں کے یہ نام تھے اور بحیریٰ جانتاتھا کہ مکۂ مکرمہ کے لوگ ان کو اہمیت دیتے ہیں۔ اس لئے اس نے ان بتوں کی قسم دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان بتوں سے نفرت ظاہر کرنے پر اس کی کتاب میں لکھی ہوئی یہ بات بھی سچ ثابت ہوئی کہ’’ وہ آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘بتوں سے نفرت کرے گا اور انھیں توڑ دے گا۔

یہ لڑکا’’ رحمت اللعالمین ‘‘ہے

جب بحیریٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بتوں سے اتنی نفرت دیکھی توکہا :’’پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم )کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیکر عرض کرتا ہوں کہ آپ میرے سوالوں کا سچ سچ جواب دیں گے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں تمہارے ہر سوال کا صحیح جواب دوں گا۔‘‘ پھر اس نے مختلف سوال کئے اور جواب سنا اور تمام نشانیوں کی تحقیق کی اور’’ مہر نبوت ‘‘کو بھی دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر بولا:’’ یہ لڑکا تمام عالموں کا سردار ہے اور اللہ رب العالمین کی طرف سے تمام عالموں کا رسول مبعوث ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے تمام عالمین کی طرف رحمت بنا کر بھیجے گا۔ ‘‘

اِس لڑکے کی حفاظت کرو

اتنا کہنے کے بعد بحیریٰ نے پوچھا :’’یہ لڑکاکس کے ساتھ ہے؟ ‘‘ ابو طالب نے کہا :’’میرے ساتھ ہے۔‘‘ اُ س نے کہا:’’ اس سے آپ کا کیا رشتہ ہے ؟‘‘ابو طالب نے کہا :’’ میر ا بیٹا ہے۔‘‘ اس نے کہا :’’ یہ نہیں ہو سکتا، یہ لڑکا یتیم ہونا چاہیئے۔ ‘‘ انھوں نے کہا :’’یہ میرا بھتیجا ہے لیکن بیٹے سے زیاد ہ پیارا ہے۔ ‘‘یہ سن کر بحیریٰ نے کہا :’’اس لڑکے کی حفاظت کرو، اگر بنی اسرائیل ( یہودیوں ) نے اس لڑکے کو دیکھ لیا تو پہچان لیں گے اور قتل کر نے کی کوشش کریں گے۔ آپ کے اس بھتیجے کی بہت بڑی شان ہوگی ،انھیں لے کر جلدی اپنے وطن لوٹ جائیں ۔ ‘‘یہ سن کر ابو طالب سفر کی تیاری کرنے لگے اور بحیریٰ اُن کی مدد کرنے لگا۔

اس مہینے’’ وہ آخری نبی ‘‘سفر پر نکلنے والا ہے

بحیریٰ سفر کی تیاری میں ابوطالب کی مدد کر رہا تھا۔ اسی وقت اس نے کچھ سوار دیکھے جو رومی حکومت(سلطنت روم) کی طرف سے آرہے تھے۔ بحیریٰ نے انھیں پہچان لیا کہ یہ رومی سپاہی ہیں۔ وہ آگے بڑھا اور رومی سپاہیوں سے بولا:’’ آپ لوگوں کا ادھر کیسے آنا ہوا؟‘‘ انھوں نے بتایا:’’ یہودی علماء اور عیسائی علماء نے بتایا کہ’’ وہ آخری نبی‘‘( صلی اللہ علیہ وسلم) جس کا توریت اور انجیل میں ذکر ہے، وہ اس مہینے سفر پر نکلنے والا ہے۔ اس لئے رومی حکومت نے ہر طرف اس کی تلاش میں سپاہی بھیجے ہیں اور ہم لوگ اس طرف آئے ہیں ۔ ‘‘بحیریٰ نے کہا :’’اچھا یہ بتائو !جس کام کا اللہ تعالیٰ نے ارادہ بنا لیا ہو ، کیا اس کو کوئی روک سکتا ہے؟‘‘ رومی سپاہیوں نے کہا:’’نہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ ‘‘(چونکہ رومی سپاہی عیسائی تھے) تو بحیریٰ نے اُن سے وعدہ لیا کہ اگر ’’وہ آخری نبی ‘‘انھیں مل جائیں تو انھیں نقصان نہیں پہونچائیں گے۔انھوں نے وعدہ کیا۔ اس کے بعد ابو طالب جلدی جلدی اپنا سامان فروخت کرکے اور ضروری اشیاء لے کر مکہ مکرمہ واپس آگئے۔ لگ بھگ سیرت کی ہر کتاب میں بحیریٰ راہب کا واقعہ موجود ہے۔ ان تمام میں الگ الگ حصے ہیں۔ ہم نے ان سب کو جوڑ کر ایک مربوط واقعہ کی شکل میں پیش کر نے کی کوشش کی ہے۔

اگلی کتاب

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بچپن کا ذکر مکمل ہوا۔ اب انشاء اللہ آپ کی خدمت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت سے پہلے کے حالات پیش کریں گے۔

D N A Mein Allah ki Nishaniyaan ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں

 D N A Mein Allah ki Nishaniyaan   ڈی این اے میں اللہ کی نشانیاں